اپریل ۱۹۹۷ء

پچاس سالہ تقریبات اور ہمارا قومی طرزِ عملمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
خاندانِ ولی اللّٰہی کی دینی خدماتشیخ التفسیر مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ 
ولی اللّٰہی خاندان کی سیاسی جدوجہدمولانا نجم الدین اصلاحی 
امام ولی اللہ دہلویؒ اور ان کے دور کے سیاسی حالاتڈاکٹر محمد مظہر بقا 
ایسٹ انڈیا کمپنیپروفیسر غلام رسول عدیم 
ایسٹ انڈیا کمپنی نے اقتدار پر کیسے قبضہ کیامیڈیا 
ایسٹ انڈیا کمپنی کے ہاتھوں برصغیر کی معاشی تباہیشیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنیؒ 
برصغیر کی غلامی کا پس منظرڈاکٹر حافظ مبشر حسین 
بنگال کا آخری مسلمان فرمانروا نواب سراج الدولہ شہیدشاہکار اسلامی انسائیکلوپیڈیا 
ایسٹ انڈیا کمپنی کی یلغار کے سامنے آخری چٹان: سلطان ٹیپو شہیدؒشاہکار اسلامی انسائیکلوپیڈیا 
شہدائے بالاکوٹؒ اور ان کی جدوجہدشیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ 
آخری مغل تاجدار، بہادر شاہ ثانیشاہکار اسلامی انسائیکلوپیڈیا 
فرائضی تحریک اور حاجی شریعت اللہؒشاہکار اسلامی انسائیکلوپیڈیا 
فرنگی اقتدار کے بعد متحدہ ہندوستان دارالحرب ہے: حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کا ایک اہم فتویٰحضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ 
تعارف و تبصرہمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 

پچاس سالہ تقریبات اور ہمارا قومی طرزِ عمل

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قیام کی پچاس سالہ تقریبات کے موقع پر ۲۳ مارچ ۱۹۹۷ء کو اسلام آباد میں مسلم سربراہ کانفرنس منعقد ہوئی جس میں دنیا بھر کی مسلم حکومتوں کے سربراہوں اور ان کے نمائندوں نے شریک ہو کر عالم اسلام کے مسائل پر گفتگو کی اور پاکستانی قوم کو پچاس سالہ قومی زندگی مکمل ہونے پر مبارک باد دی۔ آزادیٔ وطن کے حوالہ سے پچاس سالہ تقریبات کا اہتمام بھارت میں بھی ہو رہا ہے جبکہ بنگلہ دیش نے انہی دنوں اپنے قیام کی پچیس سالہ تقریبات منائی ہیں۔

پاکستان کے قیام کو پچاس سال مکمل ہونے پر ملک بھر میں ہر سطح پر تقریبات کا اہتمام ہو رہا ہے اور مجالسِ مذاکرہ سے لے کر راگ و رنگ کی محفلوں تک کے انعقاد کا سلسلہ جاری ہے۔ لیکن ملک کا باشعور اور سنجیدہ شہری اس سوچ میں گم ہے کہ قیام پاکستان کے مقاصد کے حوالہ سے ہم نے ان پچاس سالوں میں کیا پیش رفت کی ہے اور تقریبات کا اہتمام کرنے والوں کا دھیان اس طرف کیوں نہیں جا رہا؟ برصغیر کی تقسیم اور مسلمانوں کے الگ ملک کے عنوان سے قیام پاکستان کا بنیادی مقصد اسلامی تہذیب کا احیا اور اسلامی معاشرہ کا قیام تھا جس کے لیے پاکستان کا مطلب کیا ’’لا الہ الا اللہ‘‘ کا نعرہ لگایا گیا اور اس نعرے کی گونج میں لاکھوں مسلمانوں نے تحریک پاکستان کو اپنے خون کا نذرانہ پیش کر دیا۔ لیکن نصف صدی کے دوران اسلامی تہذیب کے احیا اور لا الہ الا اللہ کی حکمرانی قائم کرنے کی طرف کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ حتیٰ کہ ابھی تک ہم اصولی اور دستوری طور پر قرآن و سنت کی غیر مشروط بالادستی اور اللہ تعالیٰ کی غیر مشروط حاکمیتِ اعلیٰ قبول کرنے کے لیے (نعوذ باللہ) تیار نہیں ہوئے۔ اور یہ دونوں بنیادی امور ہمارے ہاں دستور کی زبان میں جمہوری عمل اور جمہوری اداروں کی مرضی کے ساتھ مشروط ہیں کہ رائے عامہ اور اس کے نمائندہ جمہوری ادارے اللہ تعالیٰ کی حاکیت اور قرآن و سنت کی بالادستی کے جس پہلو کو قبول کر لیں وہ ملک میں دستور و قانون کا درجہ پا لیتا ہے اور جسے پارلیمنٹ میں ۵۱ فیصد رائے حاصل نہ ہو سکے وہ قرآن و سنت میں موجود ہوتے ہوئے بھی اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور و قانون میں جگہ نہیں پا سکتا۔ گویا اسلامی نظام کے نفاذ کے حوالہ سے ہم پچاس سال بعد بھی تذبذب اور بے یقینی کے اسی دوراہے پر کھڑے ہیں کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی غیر مشروط حاکمیت اور قرآن و سنت کی غیر مشروط بالادستی کو قبول کرنا بھی ہے یا نہیں!

دوسری طرف ملک میں وہ عناصر بھی موجود ہیں جن کا کہنا یہ ہے کہ قیام پاکستان کا مقصد اسلامی نظام کا نفاذ نہیں بلکہ مسلمانوں کی معاشی آزادی اور انہیں ہندو کی اقتصادی بالادستی سے نجات دلانا تھا، جبکہ لا الہ الا اللہ کا نعرہ صرف مسلمانوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے لگایا گیا تھا۔ اس نقطۂ نظر سے بھی پچاس سالہ تاریخ کا جائزہ لے لیا جائے تو ہم نے نصف صدی میں کوئی معرکہ سر نہیں کیا بلکہ ہندو کی معاشی بالادستی کے سائے سے نکل کر ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کی معاشی بالادستی کا شکار ہوگئے ہیں ۔ اور اب بھارت کے ساتھ آزاد تجارت کے نعرہ کے ساتھ ایک بار پھر ہندو کی معاشی بالادستی کی آغوش میں جانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ اور ستم کی بات یہ ہے کہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی معاشی بالادستی کو سایہ رحمت قرار دینے اور بھارت کے ساتھ آزاد تجارت کی صورت میں ہندو کی معاشی بالادستی کی طرف واپسی کی راہ ہموار کرنے میں وہی لوگ پیش پیش ہیں جنہیں اسلام قیامِ پاکستان کے مقصد کے طور پر ہضم نہیں ہو رہا اور وہ مسلمانوں کی معاشی آزادی اور خودمختاری کو ہی قیامِ پاکستان کا واحد مقصد قرار دینے میں اب تک عافیت محسوس کرتے چلے آرہے ہیں۔

ان حالات میں نئی نسل پریشان ہے اور اس کے ذہن پر بے یقینی اور تذبذب کے سائے گہرے ہوتے جا رہے ہیں جن سے اسے نجات دلانا دانشوروں کی ذمہ داری ہے، ورنہ ذہنی طور پر منتشر اور پراگندہ نسل سے ملک کے بہتر مستقبل کی امید کرنا خودفریبی کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔ اسی مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے ہم نے ملک بھر کے اہل علم و دانش اور دینی و فکری جرائد سے گزارش کی تھی کہ وہ نئی نسل کو آزادی کی جدوجہد کے مختلف مراحل، آزادی کے لیے اپنے بزرگوں کی خدمات اور قیام پاکستان کے نظریاتی و تہذیبی مقاصد سے روشناس کرانے کا اہتمام کریں تاکہ اس کی ذہنی پراگندگی میں کچھ کمی ہو اور وہ اپنے بزرگوں کی عظیم قربانیوں کو سامنے رکھتے ہوئے یقین اور حوصلہ کے ساتھ آگے بڑھ سکے۔ خدا کرے کہ ملک کے اہل علم و دانش ہماری اس استدعا کی اہمیت کا احساس کر سکیں۔

اس پس منظر میں مجلہ الشریعہ کی اس سال کی تین اشاعتوں کو پچاس سالہ تقریبات کے لیے مخصوص کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے تحت زیر نظر شمارہ میں برصغیر پر ایسٹ انڈیا کمپنی کے قبضہ اور اس کی معاشی لوٹ مار کے علاوہ اس کے دور میں ابھرنے والی مزاحمتی تحریکوں کے بارے میں ممتاز اہل قلم کی نگارشات پیش کی جا رہی ہیں۔ جبکہ جولائی کا شمارہ ’’تحریک آزادی میں علمائے حق کے کردار‘‘ اور اکتوبر کا شمارہ ’’تحریک پاکستان میں علمائے حق کا کردار‘‘ کے عنوانات پر پیش کیا جائے گا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔

زیر نظر شمارہ میں آپ کے سامنے آنے والی تحریریں نئی نہیں ہیں بلکہ ان میں سے بیشتر پہلے چھپ چکی ہیں لیکن موضوع کی مناسبت سے ہم نے ان کا انتخاب کیا ہے اور انہیں اس ترتیب کے ساتھ پیش کرنے کی کوشش کی ہے کہ قارئین برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش پر فرنگی استعمار کے تسلط کے مقاصد اور ایسٹ انڈیا کمپنی کی تباہ کاریوں سے واقف ہو سکیں۔ اور اس کے ساتھ ان لوگوں کی جدوجہد سے بھی آگاہ ہوں جو اس سیلاب کا راستہ روکنے کی کوشش کرتے رہے اور جنہوں نے اپنی جانوں پر کھیل کر اس خطہ کے باشندوں کو فرنگی حکمرانوں کی غلامی سے بچانے کی جدوجہد کی۔

آج ورلڈ بینک، آئی ایم ایف اور دیگر عالمی مالیاتی ادارے جس طرح پاکستان کی معیشت کو اپنے کنٹرول میں لینے کے لیے بتدریج آگے بڑھ رہے ہیں، اس کے پیش نظر بھی ’’ایسٹ انڈیا کمپنی‘‘ کے کردار کو اجاگر کرنے اور نئی نسل کو اس سے متعارف کرانے کی ضرورت ہے تاکہ اس بات کا تجزیہ کیا جا سکے کہ مغربی قزاقوں نے ان دو صدیوں کے دوران اپنے طریق واردات میں کیا تبدیلیاں کی ہیں اور پرانے شکاری کون سے نئے جال کے ساتھ اپنے شکار پر حملہ آور ہو رہے ہیں۔

ہمیں امید ہے کہ قارئین اس پروگرام کو پسند کریں گے اور صرف پسندیدگی پر اکتفا کرنے کی بجائے اسے کامیاب بنانے اور اس کی افادیت کے دائرے کو زیادہ سے زیادہ وسیع کرنے میں تعاون بھی فرمائیں گے۔


خاندانِ ولی اللّٰہی کی دینی خدمات

شیخ التفسیر مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ

ہندوستان میں خاندان شاہ ولی اللہؒ کی دینی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ یہ آپ کا خاندان ہی ہے جس نے قرآن پاک کے علم کو مقامی زبان میں پھیلایا۔ خود شاہ ولی اللہؒ نے سب سے پہلے ’’فتح الرحمٰن‘‘ کے نام سے قرآن پاک کا فارسی میں ترجمہ کیا اور اس کے ساتھ مختصر حاشیہ بھی تحریر کیا، اس کے علاوہ اس کا مقدمہ بھی لکھا۔ اصول تفسیر پر آپ کی کتاب ’’الفوز الکبیر‘‘ بے نظیر چیز ہے، قرآن پاک کو سمجھنے کے لیے راہنما کی حیثیت رکھتی ہے، اور آج بھی تمام دینی مدارس اور یونیورسٹیوں میں ایم اے (اسلامیات) کی جماعتوں کو پڑھائی جاتی ہے۔ فہم قرآن سے متعلق آپ نے نہایت بلند پایہ اصول مرتب کیے ہیں۔

آپ کے بڑے صاحبزادے حضرت شاہ عبد العزیزؒ نے قرآن پاک کے آخری دو پاروں اور سورۃ البقرہ کے نصف تک کی تفسیر فارسی زبان میں لکھی۔ آپ نابینا ہو گئے تھے اس لیے بولتے جاتے تھے اور آپ کے شاگردان رشید اس کو قلمبند کرتے تھے۔ اپنی وفات تک اس سے زیادہ تفسیر کا کام نہیں کر سکے۔ آپ ہفتہ میں ایک روز قرآن پاک کا درس بھی دیا کرتے تھے۔ یہ درس بھی لوگوں نے لکھے۔ آج کل طبع شدہ نسخے نہیں ملتے۔ تاہم قلمی نسخے کہیں موجود ہیں۔ واللہ اعلم۔

حضرت شاہ ولی اللہؒ کے دوسرے بیٹے شاہ رفیع الدینؒ نے قرآن پاک کا سب سے پہلا اردو ترجمہ کیا۔ یہ تحت اللفظ ترجمہ ہے جو عام پڑھا جاتا ہے۔ مختلف اشاعتی اداروں مثلاً‌ تاج کمپنی، انجمن حمایت اسلام وغیرہ نے اس ترجمہ کے بے شمار ایڈیشن شائع کیے ہیں۔ آپ قرآن پاک کا درس بھی دیا کرتے تھے جس کو آپ کے شاگردان نوٹ کر لیا کرتے تھے۔ آپ کی وفات کے چالیس پچاس سال بعد یعنی آج سے سوا سو سال پہلے صرف سورۃ البقرہ والا حصہ شائع ہوا جو کہ تفسیر رفیعی کہلایا۔

آپ کے تیسرے بیٹے شاہ عبد القادرؒ نے قرآن پاک کا بامحاورہ اردو ترجمہ کیا ہے، اس میں بعض مشکل الفاظ بھی آئے ہیں جو محاورتاً‌ استعمال ہوئے ہیں۔ حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاریؒ فرمایا کرتے تھے کہ اسیری کے دوران شاہ عبد القادرؒ کا اردو ترجمہ پڑھ رہا تھا کہ ’’اللہ الصمد‘‘ کا ترجمہ ’’نرادھار‘‘ نظر سے گزرا۔ چونکہ یہ ہندی زبان کا لفظ ہے۔ اس لیے میں اپنے سمجھ نہیں سکا۔ جیل میں موجود ایک بہت بڑے پنڈت سے میں نے اس لفظ کا معنی دریافت کیا تو وہ کہنے لگا تم کیوں پوچھتے ہو، پہلے بتاؤ کہ یہ لفظ کہاں آیا ہے؟ میں نے کہا پہلے تم اس کا معنی بتاؤ۔ چنانچہ اس پنڈت نے بتایا کہ نرادھار سنسکرت زبان کا لفظ ہے اور یہ اس ذات کے لیے بولا جاتا ہے جس کی طرف سب چیزیں محتاج ہوں اور وہ کسی کا محتاج نہ ہو۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ شاہ صاحبؒ نے ایسے ایسے عجیب و غریب مگر بالکل صحیح الفاظ اپنے ترجمہ میں استعمال کیے ہیں۔

آپ نے دہلی کی کنگ ایڈورڈ روڈ پر واقع اکبری مسجد میں بارہ سال اعتکاف کیا تھا۔ بعد میں اس مسجد کو انگریزوں نے نیست و نابود کر دیا۔ یہ ترجمہ آپ نے اسی اعتکاف کے دوران لکھا تھا، ساتھ تھوڑا تھوڑا حاشیہ بھی ہے۔ اس ترجمہ کو شیخ الہند حضرت مولانا محمود الحسنؒ نے نسبتاً‌ آسان زبان میں منتقل کیا ہے۔ اور یہ کام آپ نے مالٹا جیل میں اسیری کے زمانہ میں انجام دیا۔ شاہ صاحبؒ کے زمانہ میں اردو زبان بھی ابتدائی مراحل سے گزر رہی تھی اور اس میں ابھی اتنا تسلسل نہیں تھا۔ دو سال کے عرصہ میں اردو زبان کافی ترقی کر چکی تھی۔ لہٰذا شیخ الہندؒ نے شاہ صاحبؒ کے اردو ترجمہ کو آسان بنا دیا اور آج کل اس کی اشاعت عام ہے۔

حضرت شاہ ولی اللہؒ کے سب سے چھوٹے اور چوتھے بیٹے شاہ عبد الغنیؒ ہیں۔ آپ نے درس و تدریس کے ذریعہ تو دین کی بہت خدمت کی ہے مگر آپ کی کوئی مستقل کتاب نہیں ہے۔ البتہ آپ کے صاحبزادے شاہ اسماعیل شہیدؒ نے قلم اور تلوار دونوں سے جہاد کیا۔ آپ کی کتابیں بھی موجود ہیں۔ اور آپ نے انگریزوں اور سکھوں کے خلاف عملی جہاد میں بھی حصہ لیا اور پھر بالا کوٹ کے مقام پر جام شہادت نوش فرمایا۔

اورنگ زیب عالمگیرؒ

شاہ ولی اللہ ۱۷۰۳ء میں پیدا ہوئے جب کہ اورنگ زیب عالم گیرؒ ۱۷۰۷ء میں وفات پا گئے۔ یہ اپنے خاندان کے واحد بادشاہ تھے جنہوں نے پچاس سال تک ہندوستان پر حکومت کی۔ کابل سے لے کر برما تک کا وسیع علاقہ ان کی سلطنت میں شامل تھا۔ عالمگیرؒ کے انچاس سال تو لڑائیوں میں گزر گئے۔ انہیں صرف ایک سال امن و امان کا ملا۔ انہوں نے مغلیہ سلطنت کو مستحکم کرنے کی از حد کوشش کی مگر کامیاب نہ ہو سکے۔ آپ کی وفات کے بعد یکے بعد دیگرے کئی بادشاہ تخت نشین ہوئے، حضرت شاہ ولی اللہؒ نے دس بادشاہوں کو مسند اقتدار پر آتے دیکھا۔ مگر ان میں سے کوئی بھی لائق ثابت نہ ہوا۔ سلطنت کمزور ہوتی چلی گئی اور انگریزوں کو مداخلت کرنے کا موقع مل گیا اور آخر انہوں نے ہندوستان میں پاؤں جما لیے۔

اورنگ زیب عالم گیرؒ بڑے متدین آدمی تھے مگر انگریزوں نے انہیں خوب بد نام کیا۔ انہوں نے عالمگیرؒ کو ایک ظالم بادشاہ کی حیثیت سے دنیا کے سامنے پیش کیا۔ اور یہاں تک مشہور کیا کہ عالم گیر اس وقت تک ناشتہ نہیں کرتا جب تک ہزاروں ہندوؤں کو قتل نہیں کروا دیتا تھا۔ خدانخواستہ ایسا ہوتا تو ہندوستان میں کوئی ہندو باقی نہ رہتا۔ آپ نے پچاس سال حکومت کی اور ہندو دارالسلطنت دہلی میں بھی موجود تھے۔ آپ نے بعض سکھوں اور مرہٹوں کے ساتھ لڑائی کی کیونکہ شورش پسند تھے مگر آپ نے کسی پر ظلم نہیں کیا۔ شریعت کا پابند پکا سچا مسلمان تھا۔ جہاں حق و انصاف کا تقاضا ہوا اپنے بھائی کو معاف نہیں کیا۔ آپ کے بھائی نے شہزادی کے زمانہ میں ایک غریب شخص کے بچے کو ناحق قتل کر دیا تھا۔ وہ شہزادہ ہونے کی وجہ سے گرفت میں نہ آسکا۔ جب عالمگیرؒ کا دور آیا تو اس بچے کے باپ نے مقدمہ دائر کر دیا اور دادرسی چاہی۔ باقاعدہ مقدمہ چلا۔ قتل کا ثبوت فراہم ہوا اور پھر قصاص میں شہزادے کو سزائے موت ہوئی۔ عالمگیرؒ اس کردار کا آدمی تھا۔


ولی اللّٰہی خاندان کی سیاسی جدوجہد

مولانا نجم الدین اصلاحی

جاننے والے جانتے ہیں کہ ہر دور میں مسلمانوں کی مذہبی و سیاسی مشکلات کا علاج باوجود تقویٰ و طہارت شان حضرات علماء نے کیا ہے، کیونکہ علماء کسی خاص نسل یا خاص ملک کے لیے نہیں بلکہ تمام بنی نوع انسان کی خدمت کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔ اگر ایک آدمی کو اپنی تن پروری کے سوا کی فکر نہ ہو، اس کو ہم ذی عقل حیوان سے زیادہ حیثیت نہیں دے سکتے۔ جو شخص یا جماعت محض اپنا گھر بچانے کی فکر تو کرے، مگر دوسری قوموں کی بربادی پر ٹس سے مس نہ ہو، ایسے آدمی کو آدمی کہنا انسانیت کے قانون میں جرم ہے۔

حاملین قرآن اور مجاہدین نے قرآن کی روشنی میں انسانیت کی غیر طبعی تقسیم کو منسوخ کیا ہے اور تنگ خیالی کے طلسم کو توڑ کر فرض شناسی کے ایک وسیع عالم کی راہیں کھول دی ہیں۔ تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ خلیفہ عمر بن عبد العزیزؓ اور امام ابوحنیفہؓ اپنے اپنے زمانوں میں نہ صرف علم و فضل کے امام رہے بلکہ دینی سیاست کے مقتضیات کے مطابق دنیا کی رہنمائی اور حجروں سے نکل کر میدانوں کی جادہ پیمائی اور نبرد آزمائی ان کا اہم کارنامہ ہے۔ قاضی ابو یوسف کے دربار سے امام شعبی کا قیصر روم کی طرف سفیر ہو کر جانا، علامہ ابن حزم کا پانچویں صدی ہجری میں وزارت کے بار خطیر کو برداشت کرنا، شیخ عبد القادر جیلانی و ابن عربی کا باوجود استغراق و تبتل اپنے زمانے کے سلاطین کے احکامات پر تنقید کرنا، اور امت کی ضرورتوں کے پیش نظر زمین و آسمان کو ایک کر دینا، امام رازی اور خواجہ اجمیری کا غوری کے ساتھ اشتراک عمل کرنا، تاریخ کی اہم روداد ہے۔

دور کیوں جائیے، خود ہندوستان میں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کی ذات گرامی کو جو حیثیت ہر اعتبار سے حاصل ہے، وہ اب تک کسی عالم ربانی کو حاصل نہ ہو سکی۔ آپ کے ہم عصر سلاطین مغلیہ میں عالمگیر سے لے کر گیارہویں تاجدار شاہ عالم تک کا زمانہ آپ کی آنکھوں کے سامنے گزرا ہے اور کم و بیش احمد شاہ ابدالی کے سات حملے ہندوستان پر آپ ہی کی زندگی میں ہوئے ہیں۔ کیا آپ ایسے تارک دور میں گوشہ نشین ہو گئے تھے؟ ہرگز نہیں، بلکہ احمد شاہ ابدالی کا ہندوستان آنا، نجیب الدولہ کا امیر الامراء ہو جانا، سب شاہ ولی اللہ کی سیاسی بصیرت کا نتیجہ تھا۔

شاہ ولی اللہ دہلوی کے سیاسی مکتوبات کا دوسرا خط ارباب سیاست کو پڑھنا چاہیے کہ شاہ صاحب نے کس طرح سیاسی انتشار اور زوال کے اسباب پر روشنی ڈالی ہے اور سیاسی بصیرت کے ساتھ سمجھا اور سمجھایا ہے، شاہ صاحب ہی کا کام تھا کہ اس زمانہ کی مختلف سیاسی طاقتوں سے کام لے کر ہندوستان کی فضا سے سیاسی بد امنی، قتل و غارت گری، فتنہ اور مفسدانہ عناصر کی بیخ کنی میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا۔ بقول مولانا خلیق احمد نظامی، پانی پت کا میدان کارزار حقیقت میں شاہ ولی اللہ صاحب کا سجایا ہوا تھا۔ اگر سلطنت مغلیہ میں تھوڑی سی بھی جان ہوتی تو وہ جنگ پانی پت کے نتائج سے فائدہ اٹھا کر اپنے اقتدار کو ہندوستان میں پھر کچھ صدیوں کے لیے قائم کر سکتی تھی۔

اس کے ساتھ شاہ ولی اللہ اور احمد شاہ ابدالی، انگریزوں سے بے خبر نہ تھے بلکہ وہ خطرہ محسوس کر رہے تھے کہ کہیں مغل بادشاہ کے تساہل سے انگریزوں کو اپنا اقتدار قائم کرنے کا موقع نہ مل جائے، جس کے روک تھام کی تدبیریں کیں اور بہار سے شاہ عالم ثانی کا یہی بلانا اسی لیے تھا کہ وہ انگریزوں کے اثر سے نکل آئے اور دہلی آکر اپنی طاقت کا استحکام کر لے۔ یہ تھے حکیم الامت اور امام شریعت و طریقت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ۔

تحریک آزادئ ہند کا آغاز اور سیدنا حضرت شاہ ولی اللہؒ و شاہ عبد العزيزؒ

پوری صدی گزر جانے کے بعد یہ سوال پیدا ہوا کہ دارالاسلام ہندوستان پر جب انگریزی حکومت نے تغلب کیا تو سب سے پہلا کون شخص تھا جس نے قانون اسلام کی پیروی کرتے ہوئے ہندوستان کو دوبارہ دارالاسلام بنانے کی سعی کی؟ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ اورنگزیب کے بعد جب ہندوستان کی حکومت کو گھن لگنا شروع ہوا تو سیدنا شاہ ولی اللہؒ ہی نے پوری فراست ایمانی اور سیاست دانی کا ثبوت دیتے ہوئے اسباب و علل پر بحث فرمائی اور حکومت، امراء، وزراء اور سوسائٹی کے دوسرے طبقات کو مخاطب کر کے ایک پروگرام دیا، جس کا متن سیدنا سلیمان صاحبؒ کے الفاظ میں یہ ہے:

’’ہندوستان پر اللہ تعالیٰ کی بڑی رحمت ہوئی کہ عین تنزل اور سقوط کے آغاز میں شاہ ولی اللہؒ کے وجود نے مسلمانوں کی اصلاح و دعوت کا ایک نیا نظام مرتب کر دیا تھا۔‘‘ (مولانا سندھیؒ کے افکار و خیالات پر ایک نظر ص ۹)

اس متن کی شرح مولانا موصوف ہی سے سننے کے لائق ہے:

’’دلی میں اسلامی حکومت کا آفتاب جب غروب ہو رہا تھا تو اس کے مطلع سے اسلام کا ایک اور آفتاب طلوع ہو رہا تھا، یہ شاہ ولی اللہ دہلویؒ کا خانوادہ تھا۔ سچ یہ ہے کہ حضرت شاہ صاحبؒ کی پیشین گوئی کے مطابق اس کے بعد جس کو ملا اس دروازے سے ملا۔ ہندوستان میں رد بدعات کا ولولہ، ترجمہ قرآن پاک کا ذوق، صحاح ستہ کا درس، شاہ اسماعیلؒ اور مولانا سید احمد بریلویؒ کا جذبہ جہاد، فرق باطلہ کی تردید کا شوق، دیوبند کی تحریک، ان میں سے کون چیز ہے جس کا سررشتہ اس مرکز سے وابستہ نہیں۔‘‘ (حیات شبلی ص ۲۹۸)

چنانچہ ہم اوپر لکھ آئے ہیں کہ جب ہندوستان میں اورنگزیب کے بعد یہاں کی حکومت میں ابتری پیدا ہوئی تو حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے نہ صرف اس کو محسوس کیا بلکہ اس کے اسباب و علل پر بڑی دیدہ دری اور جامعیت کے ساتھ بحث کی، اور ان کی اصلاح کس طرح ہو سکتی ہے؟ اس کی طرف حکومت کو، امراء اور وزراء کو، عمّال اور سوسائٹی کے دوسرے طبقات کی توجہ دلائی۔ اور پھر آپ کے بعد شاہ عبد العزیزؒ کے زمانے میں دہلی کے حالات اور زیادہ بگڑے اور ’’حکومت شاہ عالم از دہلی تا پالم‘‘ کی مثل صادق نظر آنے لگی، انگریزوں کا اقتدار اور ان کا ظلم و ستم اور اس کے بالمقابل لال قلعہ کے بادشاہ کی طاقت وقوت کا اضمحلال روز افزوں ہو گیا، تو شاہ عبد العزیزؒ نے دہلی کے دارالحرب ہونے کا فتویٰ دے دیا۔ خاص دہلی کے متعلق ارشاد ہے:

’’دریں شہر حکم امام المسلمین اصلاً‌ جاری نیست و حکم رؤسا نصاریٰ بے دغدغہ جاری است و مراد از اجراء احکام کفر ایں ست کہ در مقدمہ ملک داری و بندوبست رعایا و اخذ خراج و باج و عشور اموال تجارت و سیاست قطاع الطریق و فصیل مقدمات و سزائے جنایات کفار بطور خود حاکم باشند ۔‘‘
ترجمہ: ’’امام المسلمین کا حکم اس شہر میں بالکل جاری نہیں ہے اور بڑے بڑے عیسائیوں کا حکم بے دغدغہ جاری ہے اور احکام کفر کے اجراء سے مقصد یہ ہے کہ ملک داری رعایا کا بندوسبت، خراج اور بلاج کا وصول کرنا، کسٹم ڈیوٹی لینا، رہزنوں کو سزا دینا، یہ تمام معاملات یہ لوگ خود ہی کرتے ہیں۔ (فتاویٰ عزیزی جلد اول ص ۱۶)

آگے چل کر فرماتے ہیں کہ:

’’کوئی مسلمان یا ہندو ان سے پروانہ امن لیے بغیر دہلی یا اس کے اطراف و جوانب میں نہیں آسکتا۔‘‘

اس فتویٰ سے دو باتیں روز روشن کی طرح واضح ہیں:

  1. حضرت شاہ صاحبؒ نے انگریزوں کے خلاف جو ظلم و ستم کی شکایت کی ہے، اس میں مسلمانوں کے ساتھ ہندوؤں کا ذکر کیا ہے کہ دونوں شہر دہلی اور اس کے نواح میں امن کا پروانہ حاصل کیے بغیر نہیں آسکتے۔ اس سے یہ صاف ظاہر ہے کہ شاہ صاحب انگریزوں کے مظالم سے صرف مسلمانوں کو نہیں بلکہ ہندوؤں کی بھی گلو خلاصی چاہتے تھے۔
  2. شاہ صاحب کسی ملک کے دارالاسلام ہونے کے لیے اس میں محض مسلمانوں کی آبادی کو کافی نہیں سمجھتے۔ بلکہ اس کے لیے یہ بھی ضروری جانتے ہیں کہ مسلمان باعزت طریقے پر رہیں اور ان کے شعائر مذہبی کا احترام کیا جائے۔ اس سے ثابت ہوا کہ اگر کسی ملک میں سیاسی اقتدار اعلیٰ کسی غیر مسلم جماعت کے ہاتھوں میں ہو لیکن مسلمان بھی بہرحال اس اقتدار میں شریک ہوں اور ان کے مذہبی شعائر کا احترام کیا جاتا ہو تو وہ ملک شاہ صاحب کے نزدیک قطعاً‌ دارالاسلام ہو گا اور از روئے شرع مسلمانوں کا فرض ہو گا کہ وہ اس ملک کو اپنا ملک سمجھ کر اس کے لیے ہر نوع کی خیر خواہی اور خیر اندیشی کا معاملہ کریں۔

اس فتاوی کی تائید علماء جونپور کے فتوے سے بھی ہوتی ہے جس کو مولانا طفیل احمد مرحوم نے ڈاکٹر ہنٹر کے حوالے سے لکھا ہے (ملاحظہ ہو مدینہ، ستمبر ۴۸ء)۔ اس فتوے کے بعد دو ہی راہیں رہ گئی تھیں، یا تو جہاد کیا جائے یا بصورت عدم استطاعت ہجرت اختیار کی جائے۔

۱۲۰۱ھ - ۱۲۴۶ھ — ۱۷۸۶ء - ۱۸۳۱ء

یہ بات بلا خوف تردید کہی جا سکتی ہے کہ حضرت سید احمد شہید بریلویؒ اور ان کے ساتھیوں نے جس دینی تجدید و انقلاب کی کوشش کی تھی، اس کی داغ بیل شاہ ولی اللہؒ اور شاہ عبد العزیزؒ نے بہت پہلے ڈال دی تھی۔ ان بزرگوں نے علم کو بنیادی حیثیت دی تھی اس لیے بہتوں کو ان کے کاموں کے سمجھنے میں غلط فہمی ہو گئی، حالانکہ بات صاف تھی کہ جو انقلاب صحیح علم کے بعد لایا جاتا ہے وہ بہت پائیدار اور ناقابل تسخیر ہوتا ہے۔ کیونکہ امامت، نیابت، خلافت، اصلاح و تجدد کا رشتہ ہمیشہ علم سے وابستہ رہا ہے، اور جو طبقہ گروہ علم کی صفت میں بڑھ جاتا ہے وہی کامیاب ہوتا ہے، اگرچہ اس کی کامیابی میں دیر بھی ہو جائے مگر وہ کامیاب کہا جائے گا۔

حضرت شاہ صاحبؒ کی دعوت نے ہندوستان میں فروغ حاصل کیا، چنانچہ نظری و مذہبی اور علمی اعتبار سے اس کی جڑیں مضبوط بنیادوں پر قائم رہیں، جن کو ہندوستان کا سیاسی انقلاب اپنی جگہ سے نہ ہلا سکا۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ شاہ صاحبؒ یا سید احمد شہیدؒ کی تحریک سیاسی حیثیت سے ناکام رہی، میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے یہ بات نیند میں کہہ دی ہے۔ ناکامی اصول کی خرابی کا نام ہے، جب اصول صحیح ہیں تو پھر ناکامی اور شکست کے کیا معنی؟ صحیح اصول کو نہ تو تاریخ میں کبھی شکست ہوئی ہے اور نہ ہوگی، کیونکہ افراد یا جماعت کی غلطی سے جو وقتی شکست ہو جایا کرتی ہے، اس کو تم اپنی بولی میں شکست کہہ لو مگر وہ شکست و ہزیمت ہے نہیں۔

اس فرق کو سمجھ لینے کے بعد یہ تاریخی حقیقت کبھی فراموش نہ کرنا چاہئے کہ حضرت سید احمد شہیدؒ کا مقصدِ جہاد ہندوستان سے ہندو اور مسلمانوں کو کمپنی بہادر کے اقتدار سے نجات دلانا تھا۔ مگر ہندوستان کی یہ بدقسمتی تھی کہ پنجاب کے مسلمانوں کی زبوں حالی سے رنجیت سنگھ سے مقابلہ کرنا پڑا اور بالاکوٹ میں شربت شہادت پی کر ملک کے اندر ایسی روح پیدا کر دی جو اب تک کام کر رہی ہے۔ انگریز بہادر سید صاحبؒ کے اس منصوبے سے خوف زدہ تھا اور جب معلوم ہو گیا کہ نزلے کا رخ سکھوں کی طرف ہے تو اس راہ میں سہولتیں بھی پیدا کر دیں۔ سید صاحبؒ کے مقصد کو نہ سمجھنے کی بنا پر بعض مدعیان اصلاح و تجدد کو دانستہ یا نادانستہ طور پر دھوکا ہوا۔ اور ایک الگ راہ پیدا کر کے امت کے اندر انتشار و تشتت کے ساتھ اکابر امت کے کاموں کی تحقیر و تذلیل بڑے پیمانے پر شروع کر دی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔

سید صاحبؒ کا اصل مقصد چونکہ ہندوستان سے انگریزی تسلط و اقتدار کا قلع قمع کرنا تھا، جس کے باعث ہندو اور مسلمان دونوں ہی پریشان تھے، اس بنا پر آپ نے اپنے ساتھ ہندوؤں کو بھی شرکت کی دعوت دی اور اس میں صاف صاف انہیں بتا دیا کہ آپ کا واحد مقصد ملک سے پردیسی لوگوں کا اقتدار ختم کر دینا ہے۔ اس کے بعد حکومت کس کی ہوگی، اس سے آپ کو غرض نہیں ہے۔ چنانچہ اس سلسلے میں سرحد ریاست گوالیار کے مدار المہام اور مہاراج دولت رائے سندھیہ کے وزیر اور برادر نسبتی راجہ ہندو رائے کو آپ نے جو خط تحریر فرمایا ہے، وہ غور سے پڑھنے کے قابل ہے۔ (ملاحظہ ہو یکم ستمبر ۴۸ء مدینہ بجنور)

(ماخوذ از دیباچہ مکتوبات شیخ الاسلام مولانا مدنیؒ)

امام ولی اللہ دہلویؒ اور ان کے دور کے سیاسی حالات

ڈاکٹر محمد مظہر بقا

مسلمانوں کی چودہ سو سالہ تاریخ میں بعض ایسی اہم شخصیتیں بھی پیدا ہوئی ہیں جنہوں نے اپنے زمانے کے عام رجحانات سے ہٹ کر اپنی روش علیحدہ بنائی ہے۔ انہی تاریخ ساز شخصیتوں میں سے ایک شاہ ولی اللہؒ بھی ہیں، رحمۃ اللہ علیہ وعلیٰ آباء و ابناء، جنہوں نے ’’فک کل نظام‘‘1 کی بشارت سے سرفراز ہو کر وجدانی اور فکری طور پر ایک ممتاز روش اختیار کی۔ شاہ صاحبؒ کی شخصیت کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ان کے زمانے کی سیاسی، معاشرتی اور علمی حالات کا اجمالی خاکہ سامنے ہو تاکہ اس زمانے کی عام روش اور شاہ صاحبؒ کی خاص روش کا امتیاز واضح ہو سکے۔

سیاسی حالات

شاہ صاحبؒ نے حسبِ ذیل گیارہ بادشاہوں کا زمانہ پایا2۔

(۱) عالمگیر، محی الدین محمد اورنگ زیب (یکم ذی القعدہ ۱۰۶۸ھ / ۳۰ جولائی ۱۶۵۸ء)

(۲) شاہ عالم (اول)، بہادر، قطب الدین محمد (۲۸ ذی القعدہ ۱۱۱۸ھ / ۳ مارچ ۱۷۰۷ء)

(۳) جہاندار شاہ، معز الدین (۱۹ محرم ۱۱۲۴ھ / ۲۸ فروری ۱۷۱۲ء)

(۴) فرخ سیر، معین الدین احمد (۲۳ ذی الحجہ ۱۱۲۴ھ / ۹ جون ۱۷۱۳ء)

(۵) رفیع الدین، شمس الدین محمد، ابوالبرکات (۸ ربیع الثانی ۱۱۳۱ھ / ۲۸ فروری ۱۷۱۹ء)

(۶) شاہ جہاں ثانی، شمس الدین محمد، رفیع الدولہ (۱۹ رجب ۱۱۳۱ھ / ۷ جون ۷۱۹اء)

(۷) محمد شاہ، روشن اختر، ناصر الدین (۲۵ ذی القعدہ ۱۱۳۱ھ / ۹ اکتوبر ۱۷۱۹ء)

(۸) احمد شاہ، بہادر، مجاہد الدین (۲۷ ربیع الثانی ۱۱۶۱ھ / ۲۷ اپریل ۱۷۴۸ء)

(۹) عالمگیر ثانی، عز الدین، محمد (۲ شعبان ۱۱۶۷ھ / ۵ جون ۱۷۵۴ء)

(۱۰) شاہ جہاں ثالث (۲۰ ربیع الثانی ۱۱۷۳ھ / ۳۰ نومبر ۱۷۵۹ء)

(۱۱) شاہ عالم ثانی، جلال الدین محمد (۴ جمادی الاولیٰ ۱۱۷۳ھ / ۲۵ دسمبر ۱۷۵۹ء)

بادشاہتوں میں انقلاب

شہنشاہ اورنگ زیب عالم گیر کی وفات سلطنت مغلیہ کے انحطاط اور ہندوستان کی سیاسی اور معاشرتی تباہ حالی کا نقطہ آغاز تھی۔ اورنگ زیب کی وفات کے وقت شاہ صاحب کی عمر تقریباً‌ چار سال تھی اور شاہ عالم ثانی کی حکومت کو ابھی تقریباً ڈھائی سال ہی گزرے تھے کہ شاہ صاحبؒ کا انتقال ہو گیا۔ اورنگ زیب اور شاہ عالم ثانی کے درمیان جتنے بادشاہ بھی گزرے ان میں سے پورے اختیار کے ساتھ اطمینان سے حکومت کا موقع کسی کو بھی میسر نہ ہوا، اور محمد شاہ کے سوا کوئی معتد بہ عرصہ تک بھی حکومت نہ کر سکا۔ بیشتر یا تو قید ہوئے یا قتل کیے گئے۔ جہاندار شاہ قتل ہوا، فرخ سیر اندھا کر کے قید اور پھر قتل کیا گیا۔ رفیع الدرجات چار ماہ بھی حکومت نہ کر سکا تھا کہ مرگیا۔ رفیع الدولہ کی حکومت بھی تقریباً‌ چار ماہ رہی۔ احمد شاہ اندھا کر کے قید کیا گیا اور عالمگیر ثانی قتل ہوا۔ اس تیزی کے ساتھ اور اس نہج پر بادشاہتوں کی تبدیلی سے یہ نتیجہ نکالنا غلط نہیں کہ یہ سلطنت مغلیہ کی جانکنی کا عالم تھا۔

مرکز کی کمزوری، اندرونی طوائف الملہ کی اور بیرونی حملوں کو دعوت دیتی ہے، چنانچہ مرکز دہلی کی کمزوری سے اندرون ملک صوبیداروں نے خودمختاری کا اعلان کر دیا۔ بنگال اور بہار پر علی وردی خان نے قبضہ کر لیا، اودھ پر برہان الملک اور صفدر جنگ قابض ہو گئے، روہیل کھنڈ اور دوآبے میں روہیلے اور بنگش متصرف ہو گئے، اور نظام الملک نے دکن میں اپنی حکومت قائم کر لی۔ مرہٹوں، جاٹوں اور سکھوں کو بھی سر اٹھانے بلکہ حکومتیں قائم کرنے کے مواقع مل گئے۔ بیرونی طاقتوں میں سے پہلے نادر شاہ اور اس کے بعد ابدالی نے حملے کیے اور بنگال میں انگریزوں نے قدم جما لیے۔

تورانی اور ایرانی امراء کی مخاصمت

غوریوں سے لودھیوں تک تمام حکمران خانوادے سنی حنفی تھے۔ مغل شہنشاہ ہمایوں کے بعد سے، جس نے سوریوں کے مقابلے میں ایرانیوں کی مدد سے فتح حاصل کی تھی، ہندوستان کی ملکی سیاست میں ایرانی دخیل ہو گئے۔ رفتہ رفتہ ان کا اقتدار بڑھا اور تورانی اور ایرانی دو مختلف بلکہ متحارب گروہ بن گئے اور ان کے باہمی نزاعات مرکز کو کمزور سے کمزور تر کرتے گئے۔ مولانا مناظر احسن لکھتے ہیں:

’’سارے فتنوں کی بنیاد اگر سچ پوچھئے تو ہندوستان میں بھی وہی مسئلہ رہا جس سے ہر جگہ حتیٰ کہ پہل صدی ہجری میں فتنوں کی ابتدا ہوئی تھی یعنی وہی شیعیت اور سنیت کا جھگڑا۔‘‘3

بقول جادو ناتھ سرکار ’’آخری مغلیہ دور کی تاریخ انہی دو گروہوں کے جنگ و جدال کی تاریخ ہے۔‘‘4

سادات بارہہ

سادات بارہہ نے فرخ سیر کے برسراقتدار آنے کے بعد سے محمد شاہی عہد تک سلطنت مغلیہ کو نو سال تک نقصان پہنچایا اور اپنا اقتدار بچانے کی کوشش کرتے رہے۔ انہوں نے تورانیوں کے مقابلے میں قوت اپنے ہاتھ میں رکھنے کے لیے مرہٹوں تک سے معاہدہ کیا۔ یہ وطناً‌ ایرانی نہ سہی، چونکہ مسلکاً‌ شیعہ تھے اس لیے ان کا سہارا بھی ایرانی گروہ کی تقویت کا سبب بنا اور ایرانیوں کی طاقت اتنی مستحکم ہو گئی کہ وہ عالمگیر ثانی تک دربار پر چھائے رہے۔5

روہیلے

روہیلے جو کابل و قندھار پر نادر شاہ کے تسلط کی وجہ سے ہندوستان میں پناہ لے کر رفتہ رفتہ دو آبہ میں روہیل کھنڈ بنا چکے تھے، انہوں نے خصوصیت کے ساتھ ابدالی کے حملہ کے بعد نجیب الدولہ روہیلہ کے امیر الامراء ہو جانے کی وجہ سے حکومت میں بہت دخل حاصل کر لیا تھا۔ بقول ہاشمی فرید آبادی ’’یہ ایک اور جنگ جو بے قابو عنصر تھا جس نے آئندہ سلطنت کی بوسیدہ عمارت کی اینٹیں اکھاڑنے اور اسے ملبہ کا ڈھیر بنانے میں حصہ لیا۔‘‘6

مرہٹہ تحریک

جنوبی ہند کی مرہٹہ تحریک، سیواجی کی سرکردگی میں ابتدا ہی سے سیاسی تحریک تھی۔ اس کا رخ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف تھا اور ان کا مقصد ہندوستان کو پراچین تہذیب کی طرف لے جانا تھا7۔ مرہٹوں نے اورنگ زیب کے بعد، جس نے پچیس سال کی کوشش میں ان کی مرکزیت ختم کر دی تھی، پھر سر اٹھایا۔ امراء نے باہمی عناد اور فریق مخالف کو شکست دینے کی خاطر مرہٹوں سے امداد لی، اس سے ان کے حوصلے اور بڑھے اور جنوب مغربی علاقوں پر قبضہ کر لینے کے بعد رفتہ رفتہ ان کا اقتدار دہلی کے گرد و نواح تک پہنچ گیا۔ انہوں نے اگست ۱۷۵۷ء میں جاٹوں کی مدد سے دہلی پر حملہ کیا اور نجیب الدولہ کو مجبور ہو کر صلح کرنی پڑی۔ پھر مرہٹوں نے اپریل ۱۷۵۸ء میں لاہور پر قبضہ کر لیا۔ ۹ ذی الحجہ ۱۱۷۳ھ (۳ اگست ۱۷۶۰ء) کو مرہٹوں کے سپہ سالار بھاؤ نے لال قلعہ پر قبضہ کر لیا اور شاہی حرم سرا کے ساتھ ساتھ سلطنت کے تمام کارخانے ان کے تصرف میں آگئے8۔ لیکن مغلیہ تخت پر بسواس راؤ کے بٹھائے جانے کو ابدالی سے جنگ کا فیصلہ ہونے تک ملتوی کر دیا9۔ بالآخر ابدالی نے ۱۴ جنوری ۱۷۶۱ء میں پانی پت کے میدان میں ان کا خاتمہ کیا۔ تقریباً‌ دو لاکھ مرہٹوں کے ساتھ ساتھ بھاؤ اور بیسواس راؤ بھی مارے گئے10۔

مرہٹوں کے حالات شاہ صاحبؒ کے قلم سے

مرہٹوں کے حالات بیان کرتے ہوئے شاہ ولی اللہؒ احمد شاہ ابدالی کو لکھتے ہیں:

’’غیر مسلموں میں ایک قوم مرہٹہ نامی ہے … ان کا ایک سردار ہے۔ اس قوم نے اطراف دکن میں کچھ عرصہ سے سر اٹھایا ہے اور تمام ملک ہندوستان پر اثرانداز ہے۔ شاہان مغلیہ میں سے بعد کے بادشاہوں نے عدم دور اندیشی، غفلت اور اختلاف فکر کی بنا پر ملک گجرات مرہٹوں کو دے دیا، پھر ناسمجھی اور غفلت کی وجہ سے ملک مالوہ بھی ان کے سپرد کر دیا اور ان کو وہاں کا صوبہ دار بنا دیا۔ رفتہ رفتہ قوم مرہٹہ قوی تر ہوتی گئی اور اکثر بلاد اسلام ان کے قبضہ میں آگئے۔ مرہٹوں نے مسلمانوں اور ہندوؤں دونوں سے باج لینا شروع کر دیا اور اس کا نام چوتھ (یعنی آمدنی کا چوتھا حصہ) رکھا۔ 
دہلی اور نواح دہلی میں مرہٹوں کا تسلط اس وجہ سے نہ ہو سکا کہ دہلی کے رؤسا بادشاہان قدیم کی اور یہاں کے وزراء اور امراء، امرائے قدیم کی اولاد ہیں۔ ناچار مرہٹوں نے ان لوگوں سے ایک گونہ مروت کا معاملہ کرتے ہوئے عہد و پیمان کر لیا اور رواداری کا سلسلہ جاری کر کے طرح طرح کی چاپلوسی سے دہلی والوں کو اپنی طرف سے امن و امان دے کر چھوڑ دیا۔ 
دکن پر بھی مرہٹوں کا قبضہ اس وجہ سے نہ ہو سکا کہ نظام الملک مرحوم کی اولاد نے بڑی بڑی تدبیریں کیں، کبھی مرہٹوں کے درمیان پھوٹ ڈلوا دی، کبھی انگریزوں کو اپنا رفیق بنا لیا، اور برہان پور، اورنگ آباد، بیجا پور جیسے بڑے بڑے شہروں پر نظام الملک کی اولاد قابض رہی۔ البتہ اطراف و نواحی کو مرہٹوں کے لیے چھوڑ دیا۔ المختصر سوائے دہلی اور دکن کے خالص طور پر مرہٹوں کا تسلط ہے۔ 
قوم مرہٹہ کا شکست دینا آسان کام ہے بشرطیکہ غازیان اسلام کمر ہمت باندھ لیں۔ حقیقت یہ ہے کہ قوم مرہٹہ خود قلیل ہیں لیکن ایک گروہ کثیر ان کے ساتھ ملا ہوا ہے۔ اس گروہ میں سے ایک صف کو بھی اگر درہم برہم کر دیا جائے تو یہ قوم منتشر ہو جائے گی اور اصل قوم اس شکست سے ضعیف ہو جائے گی۔ چونکہ یہ قوم قوی نہیں ہے اس لیے اس کا تمام تر سلیقہ ایسی کثیر فوج جمع کرنا ہے جو چونٹیوں اور ٹڈیوں سے بھی زیادہ ہو۔ دلاوری اور سامان حرب کی بہتات ان کے یہاں نہیں ہے۔ الغرض قوم مرہٹہ کا فتنہ ہندوستان کے اندر بہت بڑا فتنہ ہے۔ حق تعالٰی بھلا کرے اس شخص کا جو اس فتنہ کو دبائے11۔‘‘

سکھ تحریک

یہ تحریک شمال مغرب سے اٹھی۔ ابتداءً‌ یہ ایک مذہبی فرقہ تھا جس کے پہلے مرشد بابا نانک نویں صدی کے آخر اور دسویں صدی کے اوائل میں گزرے ہیں۔ شہزادہ خسرو کی امداد کی وجہ سے جہانگیر نے ان کے پانچویں گرو ارجن کے ساتھ سختی کی اور اسی وقت سے یہ فرقہ درویشی چھوڑ کر سیاست کے میدان میں نکل آیا۔ عالمگیر کے عہد میں گرو شیخ بہادر نے بغاوت کی اور مارے گئے12۔

گرو گوبند کے جانشین بندا بیراگی کے زمانے سے اس تحریک کی سیاسی سرگرمیوں میں بڑی شدت پیدا ہو گئی۔ اس نے سرہند سے لوٹ مار کا آغاز کیا اور اس پر قبضہ کرنے کے بعد سہارنپور اور سلطان پور تک کے پہاڑی علاقوں کو لوٹتا رہا۔ شہزادہ رفیع الشان نے اسے شکست دی اور بندا فرار ہو کر روپوش ہو گیا۔13

فرخ سیر کے زمانے میں بندا پھر نمودار ہوا اور نہتی رعایا پر پہلے سے زیادہ ظلم توڑے۔ بالآخر لاہور کے صوبیدار عبد الصمد خان تورانی نے اس کا قصہ تمام کیا14۔

مسلمانوں سے سکھوں کو بڑی دشمنی تھی۔ باواز بلند اذان نہیں ہونے دیتے تھے۔ مسجدوں کو اپنے تحت لے کر ان میں گرنتھ پڑھتے تھے اور اس کا نام مست گڑھ رکھتے تھے15۔

جاٹ

جاٹ دلی اور آگرہ کے درمیان آباد تھے اور متھرا اور دلی کی سڑک پر گویا ان کی عملداری تھی۔ عہد زوال میں وہ جب چاہتے اس سڑک کو ناقابل گزر بنا دیتے تھے۔ شاہ صاحبؒ کے ایک مکتوب16 میں جانوں کا حال تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔

جاٹوں کا حال شاہ صاحبؒ کے قلم سے

شاہ صاحبؒ احمد شاہ ابدالی کو جانوں کے حالات سے مطلع کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’غیر مسلموں کی ایک قوم جاٹ ہے جس کی بودوباش دہلی و آگرہ کے درمیان ہے۔ یہ دونوں شہر بادشاہوں کے لیے دو حویلیوں کے مانند رہے ہیں۔ مغل بادشاہ کبھی آگرہ میں رہتے تھے تاکہ ان کا دبدبہ اور رعب راجپوتانہ تک پڑے، اور کبھی دہلی میں فروکش ہوتے تھے کہ ان کی شوکت و ہیبت سہرند اور نواحی سہرند تک اثر ڈالے۔
دہلی اور آگرہ کے درمیان کے مواضعات میں قوم جاٹ کاشتکاری کرتے تھے۔ زمانہ شاہجہاں میں اس قوم کو حکم تھا کہ گھوڑوں پر سوار نہ ہوں، بندوق اپنے پاس نہ رکھیں اور اپنے لیے گڑھی نہ بنائیں۔ بعد کے بادشاہوں نے ان کے حالات سے غفلت اختیار کر لی اور اس قوم نے فرصت کو غنیمت جان کر بہت سے قلعے تعمیر کر لیے اور اپنے پاس بندوق رکھ کر لوٹ مار کا طریقہ شروع کر دیا۔ اورنگ زیب اس وقت دکن میں قلعہ بیجاپور کے فتح کرنے میں مشغول تھا۔ دکن ہی سے ایک فوج جاٹوں کی تادیب کے لیے اس نے روانہ کی اور اپنے پوتے کو فوج کا سردار مقرر کیا۔ رئیسان راجپوتانہ نے اس شہزادے کی مخالفت کی، لشکر میں اختلاف واقع ہوا، جاٹوں کی تھوڑی سی عاجزی پر اکتفا کر کے فوج شاہی واپس ہو گئی۔
محمد فرخ سیر کے زمانے میں اس جماعت کی شورش پھر جوش میں آئی۔ قطب الملک وزیر نے زبر دست فوجیں ان کی طرف بھیجیں، چورامن جو اس قوم کا سردار تھا، بعد جنگ صلح پر راضی ہو گیا، اس کو بادشاہ کے سامنے لائے اور تقصیرات کی معافی دلوائی، یہ کام بھی خلاف مصلحت عمل میں آیا۔
پھر عہد محمد شاہ میں اس قوم کی سرکشی حد سے تجاوز کر گئی اور چورامن کا چچازاد بھائی سورج مل اس جماعت کا سردار ہو گیا اور فساد کا راستہ اختیار کیا۔ چنانچہ شہر بیانہ، جو کہ اسلام کا قدیم شہر تھا اور جہاں پر علماء و مشائخ سات سو سال سے اقامت پذیر تھے، اس شہر پر قہراً‌ و جبراً‌ قبضہ کر کے مسلمانوں کو ذلت و خواری کے ساتھ وہاں سے نکال دیا۔ اس کے بعد سرکشی برابر بڑھتی گئی۔ بادشاہوں اور امیروں کے اختلاف و غفلت کی بنا پر کوئی بھی اس جانب متوجہ نہ ہوا۔ اگر بالفرض ایک امیر اس کی تنبیہ کا قصد کرے تو سورج مل کے کارکن دوسرے امرا کی جانب رجوع کرتے ہیں اور اس طرح بادشاہ کے مشورے کو پلٹ دیتے ہیں۔ پسر محمد شاہ کے عہد میں صفدر جنگ ایرانی نے خروج کیا اور سورج مل سے سازش کر کے پرانی دہلی پر حملہ کر دیا اور تمام باشندگان شہر کہنہ کو لوٹ لیا۔
پسر محمد شاہ نے شہر کے دروازوں کو بند کر کے جنگ توپخانہ شروع کی، محض خدا کے فضل سے صفدر جنگ اور سورج مل دو تین ماہ کے بعد ناکامیاب واپس ہوئے اور صلح و موافقت کی داغ بیل ڈالی۔ چونکہ بادشاہ کے آدمی جنگ سے تھک چکے تھے اس لیے انہوں نے صلح کو غنیمت شمار کیا، اس کے بعد سے سورج مل کی شوکت ترقی پا گئی۔ دہلی سے دو کوس کے فاصلہ سے لے کر آگرہ کے آخر تک طول میں اور میوات کی حدود سے فیروز آباد و شکوہ آباد تک عرض میں سورج مل قابض ہو گیا۔ کسی کی طاقت نہیں کہ اذان و نماز جاری کر سکے۔
ایک سال ہوا کہ قلعہ الور جو کہ تمام میوات کی خبر گیری کے لیے ایک جائے بلند تھی، سورج مل اس کو بھی اپنے قبضہ میں لے آیا۔ ارکان سلطنت میں سے کسی کی مجال نہ ہوئی کہ وہ اس کام سے روک دیتا۔
ہندوستان کے محصولات سات آٹھ کروڑ سے کم نہیں ہیں بشرطیکہ غلبہ و شوکت موجود ہو ورنہ ایک کوڑی بھی ملنی مشکل ہے جیسا کہ اس وقت دیکھا جا رہا ہے جس علاقہ پر جاٹ قابض ہیں، وہ ایک کروڑ روپیہ محصول کی جگہ ہے … جاٹوں کی شوکت کو درہم برہم کرنا بھی تدبیر کے نزدیک آسان کام ہے۔ انہوں نے جو علاقے اپنے قبضہ میں کر لیے ہیں، وہ ان کے نہیں ہیں بلکہ غصب کیے ہوئے ہیں۔ ان کے مواضع کے مالک ابھی تک زندہ موجود ہیں۔ اگر کوئی صاحب شوکت و عدالت بادشاہ مہربانی کا ہاتھ ان مالکوں کے سر پر رکھے تو وہ لوگ سورج مل کے مقابلے کے لیے اٹھ کھڑے ہوں گے۔‘‘17

جاٹوں کے ہاتھوں دہلی کے لوٹے جانے کا ذکر شاہ صاحبؒ نے اپنے ایک اور مکتوب میں بھی کیا ہے۔ حافظ جار اللہ (پنجابی) کو لکھتے ہیں:

’’دہلی میں ایک حادثہ عظیم واقع ہوا۔ قوم جاٹ نے دہلی کے شہر کہنہ کو لوٹا اور حکومت اس فساد و شرارت کو دفع کرنے سے عاجز رہی۔ انہوں نے مال لوٹے، عزت و ناموس کو برباد کیا، اور مکانات کو آگ لگائی۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے کو بمع اہل و عیال و مکانات کے ان کے دستِ ستم سے محفوظ رکھا … اور یہ لوٹ مار کا حادثہ اوائل رجب ۱۱۶۱ھ میں ہوا اور آخر شعبان تک باقی رہا18۔‘‘

نادر شاہ کا حملہ

مرکز کی کمزوری کی وجہ سے اندرون ملک تو طوائف الملوکی اور انتشار کی یہ حالت تھی، اور بیرونی حملوں کی صورت یہ تھی کہ نادر شاہ نے ۱۷۳۹ء میں حملہ کیا۔ صوبیداروں کی خودمختاری اور مرہٹہ سکھ اور جاٹوں کی سرکشی نادری حملہ کے بعد مرکز کی کمزوری ہی کا نتیجہ تھے۔ سید برادران کے خاتمہ کے بعد ایرانی گروہ کی حالت چونکہ کمزور پڑ گئی تھی اس لیے کہتے ہیں کہ انہوں نے نادر کو حملہ کی دعوت دی تھی19۔

نادر شاہ، محمد شاہی عہد میں ۹ ذی الحجہ کو دلی میں داخل ہوا۔ دوسرے دن عید الاضحیٰ کے خطبہ میں محمد شاہ کے ساتھ نادر شاہ کا نام آتے ہی شہر میں کہرام مچ گیا۔ شہریوں نے نادر شاہ کے سپاہیوں کے ساتھ کچھ بدسلوکی کی اور نادر کو قتل عام اور غارت گری کا موقع مل گیا۔ عید قربان کے تیسرے یا چوتھے روز نادر نے قتل عام کی چنگیزی سنت ادا کی۔ قتل عام تو آٹھ نو گھنٹے جاری رہا جس میں کم از کم تیس ہزار اور زیادہ سے زیادہ ایک لاکھ آدمی مارے گئے لیکن لوٹ مار کا سلسلہ کئی ہفتوں تک جاری رہا20۔ دلی کے شرفا نے نادر سے خوف زدہ ہو کر جوہر کی رسم کا ارادہ کر لیا تھا لیکن شاہ صاحبؒ نے انہیں واقعہ کربلا، اور اس کے مصائب کے باوجود اہلِ بیت کا جوہر جیسی کوئی غیر اسلامی حرکت نہ کرنا یاد دلا کر روکا۔21

نادر شاہی حالات شاہ صاحبؒ کے قلم سے

احمد شاہ ابدالی کو ہندوستان پر حملہ کی دعوت دیتے اور اسے نصیحت کرتے ہوئے شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں:

’’خدا سے پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ نادر شاہ کی طرح عمل ہو، کہ وہ مسلمانوں کو زیروزبر کر گیا اور مرہٹہ اور جاٹ کو سالم و غانم چھوڑ کر چلتا بنا۔ نادر شاہ کے بعد سے مخالفین قوت پکڑ گئے اور لشکر اسلام کا شیرازہ بکھر گیا اور سلطنت دہلی بچوں کا کھیل بن گئی۔ پناہ بخدا اگر قوم کفار اسی حال پر رہے اور مسلمان ضعیف ہو جائیں تو اسلام کا نام بھی کہیں باقی نہ رہے گا۔ ‘‘22

احمد شاہ ابدالی کے حملے

احمد شاہ ابدالی (وفات ۲۰ رجب ۱۱۸۶ھ / ۲۳ اکتوبر ۱۷۷۲ء) نے ۱۷۴۷ء سے ۱۷۶۹ء تک نو بار ہندوستان پر حملے کیے۔ ۱۷۶۰ء میں اس نے جو حملہ کیا اس کا سبب خود ہندوستان کے لوگوں کی دعوت تھی جو مرہٹوں سے تنگ آچکے تھے23۔ شاہ ولی اللہؒ نے بھی حملہ کی دعوت دی تھی24۔ شاہ صاحبؒ نے حملہ کی دعوت دیتے ہوئے ابدالی کو جو خط لکھا ہے وہ ان کے اعلیٰ سیاسی تدبر کی ناقابل انکار شہادت ہے۔ شاہ صاحبؒ نے اگرچہ اپنے خطوط میں احمد شاہ ابدالی کو یہ نصیحت بھی کی تھی کہ مسلمانوں کو لوٹا نہ جائے، لیکن واقعہ یہ ہے کہ اس کی فوجوں نے دہلی کا بلا امتیاز ہندو مسلم خوب لوٹا۔ شاہ صاحبؒ اس کا ذکر اپنے ایک مکتوب میں اس طرح کرتے ہیں کہ:

’’الحمد للہ کہ اس حادثہ عامہ میں عافیت نصیب ہوئی۔ اس محلہ کو معلوم نہیں ہوا کہ مخالف کی فوج آئی تھی یا نہیں۔ نہ تو لوٹ ڈالنے والوں کی لوٹ سے کوئی اذیت پہنچی اور نہ اس تاوان و جرمانہ (تعزیری ٹیکس) سے جو حویلیوں پر ڈالا گیا تھا، کوئی زیر بار ہوا۔ سابق میں عالمگیر نے جو کچھ کہہ دیا تھا کہ اس فتنہ میں تم کو سلامتی رہے گی، وہ بھی ظہور میں آیا۔ اکثر کی جائیدادوں کی سندیں (دستاویزیں) ضبط ہو گئیں مگر میری سند کہ دستخط کر کے مجھ کو واپس کر دی گئی ہے۔ اس وقت احمد شاہ ابدالی درانی جنگ جاٹ کی طرف متوجہ ہے، جو کچھ وقوع میں آئے گا بعد کو لکھا جائے گا۔ اہل شہر اپنے قتل ہونے سے تو محفوظ رہے لیکن دولت کا مادہ فاسدہ جن لوگوں کے مزاج میں پیدا ہو گیا تھا اس کا تنقیہ پورے طور پر ہو گیا۔ چنانچہ عبرت کی چیز ہے کہ لوگ جاہ و حشمت میں جس قدر زیادہ تھے، قید و ضرب کی سزا بھگتنے میں بھی وہی آگے آگے رہے، مگر جس کو اللہ تعالیٰ نے محفوظ رکھنا چاہا وہ محفوظ رہا25۔‘‘

انگریزوں کی عملداری

مختلف مذکورہ حالات کی وجہ سے مرکز اور مسلمانوں کی کمزوری کے نتیجہ میں ۱۱۷۰ھ / ۱۷۵۷ء میں سراج الدولہ کے مقابلہ میں میر جعفر کی غداری سے انگریزوں نے پلاسی کا معرکہ جیتا اور بنگال پر قابض ہو گئے۔

یہ تھے اس دور کے سیاسی حالات جنہیں شاہ ولی اللہؒ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور جن میں انہوں نے اپنی دینی بصیرت اور قوت تدبر سے کام لے کر تحفظ ملت اسلامیہ کی خاطر عملی حصہ بھی لیا۔


حواشی

  1. تفہیمات ج ۲ ص ۱۲۰
  2. راقم الحروف نے ان کی تاریخوں کے سلسلہ میں جیمس برگس کی کتاب The Chronology of Modern India پر اعتماد کیا ہے۔ صفحات ۱۰۴، ۱۴۹، ۱۵۳، ۱۵۴، ۱۶۰، ۱۶۰، ۱۸۸، ۱۹۷، ۲۱۲، ۲۱۳ بالترتیب۔
  3. الفرقان، شاہ ولی اللہ نمبر ص ۱۷۳، مناظر احسن
  4. Fall of the Moghal Empire v. 2 p. 2
  5. تاریخ مسلمانان پاک و بھارت ج ۲ ص ۲۵
  6. ایضاً‌ ج ۲ ص ۳۸
  7. الفرقان ص ۱۳۱
  8. سیر المتاخرین ج ۳ ص ۹۱۲
  9. تاریخ مسلمانان پاک و بھارت ج ۲ ص ۵۱
  10. ایضاً‌ ج ۲ ص ۳۸
  11. سیاسی مکتوبات، مکتوب دوم (ترجمہ) ص ۹۹۔۱۰۱
  12. تاریخ مسلمانان پاک و بھارت ج ۲ ص ۶، ۷
  13. ایضاً‌ ص ۸، ۹
  14. ایضاً‌ ج ۲ ص ۲۵
  15. حیات طیبہ ص ۱۳۱
  16. سیاسی مکتوبات (ترجمہ) ص ۱۰۴
  17. ایضاً‌
  18. ایضاً‌ ص ۱۵۳
  19. تاریخ مسلمانان پاک و بھارت ج ۲ ص ۲۸
  20. ایضاً‌ ص ۳۴۔۳۶
  21. الفرقان ص ۱۸۱، مناظر احسن بحوالہ ملفوظات
  22. سیاسی مکتوبات (ترجمہ) ص ۱۰۶
  23. سیر المتاخرین ج ۳ ص ۹۱۲
  24. سیاسی مکتوبات (ترجمہ) ص ۴۵۔۵۸
  25. سیاسی مکتوبات (مکتوب دوم) ترجمہ ص ۱۲۹، ۱۳۰


ایسٹ انڈیا کمپنی

پروفیسر غلام رسول عدیم

مشرق و مغرب کے تجارتی روابط تو صدیوں سے رہے ہیں۔ ایک زمانے میں مشرق سے سیاہ مرچ، چاول، کپاس، نیل، ادرک، گرم مسالے، ناریل، پوست اور گنا مغرب کو جاتے اور اونی کپڑا، تانبا، لوہا اور اون کی مصنوعات کی تجارت، اونٹوں، خچروں پر ایشیائے کوچک، ایران اور افغانستان کے راستے عمل میں لائی جاتی۔

پرتگیزی ایسٹ انڈیا کمپنی

مگر 1498ء میں جب پرتگالی جہاز ران واسکوڈے گاما راس امید کا چکر کاٹ کر ہندوستان کے مغربی ساحل پر کالی کٹ کی بندرگاہ پر اترا تو مغرب کے تجارتی رویوں میں خاصی تبدیلی آگئی۔ کالی کٹ کے راجہ زمورف (Zamoorau) نے شاہ پرتگال کے نام خیر سگالی اور تجارتی اموال کے تبادلے کا خط بھیجا تو اس سے راستہ اور بھی ہموار ہو گیا۔ اقتصادی منافع اور سیاسی استحکام کے لیے پرتگیزیوں نے مشرقی علاقوں میں اپنے حریف عرب تاجروں کو ہر طرح نیچا دکھانے کی کوشش کی۔ عرب تاجر افریقہ، ہندوستان، جزائر ملوکا اور چین تک مال لے کر بحیرہ احمر اور خلیج فارس کی راہ مصر، ترکی، ایران کے راستے یورپ میں مال لے جاتے۔ یہ پرتگیزیوں کے سب سے بڑے حریف تھے۔

اگلے سو سال میں پرتگیزی سوداگر مشرقی منڈیوں پر پوری طرح چھا گئے، مختلف مقامات پر قلعہ بندیاں کیں۔ تجارتی کوٹھیاں بنائیں اور خوب نفع کمایا۔ 1503ء میں کوچین میں پہلا قلعہ بنایا۔ 1510ء میں البقرق نے گوا (Goa) پر قبضہ کر لیا۔ جسے پرتگیزی مقبوضات کا صدر مقام بنا دیا گیا۔ 1511ء میں ملاکا پر قبضہ کیا۔ 1518ء میں کولمبو پر قابض ہوئے۔ 1522ء میں جزائر ملوکا پر قبضہ کیا۔ 1535ء میں دیو (Diu) میں قلعے کی تکمیل کی۔ 1559ء میں دمن پر قبضہ جما لیا۔ سولہویں صدی کے آخر میں وہ ملاکا اور ارمز جیسی آبناؤں میں اتنے با اختیار ہو گئے تھے کہ دوسری اقوام کو پاسپورٹ لینے پر مجبور کرنے لگے۔ کوئی دوسرا تجارتی قافلہ ان کی راہ داری کے بغیر گزر نہیں سکتا تھا۔

سترھویں صدی کے آغاز میں انگریز، ولندیزی اور فرانسیسی بھی اس میدان میں کود پڑے تاہم دوسرا دور ولندیزیوں کا ہے۔

ولندیزی ایسٹ انڈیا کمپنی

1600ء میں ولندیزیوں نے پرتگیزیوں کو جزائر ملوکا، انڈونیشیا، ملایا اور لنکا سے نکال باہر کیا اور بلا شرکت غیرے بحیرہ چین اور مشرق بعید کے تجارتی ناکوں پر قابض ہو گئے۔ اس کا بانی جان پیٹرزوں کوئن (Jaun, Pieterszoon Coen) بڑا زور دار آدمی تھا۔ 1669ء میں جب ولندیزی ایسٹ انڈیا کمپنی اپنے عروج پر تھی اس کے پاس 40 جنگی جہاز، 150 تجارتی جہاز، 10000 فوجی سپاہی تھے۔ 1602ء سے 1696ء تک کمپنی 12% سے %63 تک حصص پر منافع ادا کرتی۔ ہر بیس سال بعد کمپنی کے منشور کی تجدید کی جاتی۔ حکومت ہالینڈ کو اس سے بے پناہ اقتصادی منافع ہوئے۔

تاہم 18ویں صدی کے آتے آتے اندرونی خلفشار اور انگریزی و فرانسیسی قوتوں کے چڑھتے سیلاب کے سامنے ولندیزی بے بس ہو کر رہ گئے۔ 1724ء میں کمپنی کی اقتصادی حالت بے حد پتلی ہو گئی۔ 1798ء میں (Batavian Republic) جمہوریہ بٹاویہ (موجودہ انڈونیشیا) نے کمپنی کی تمام املاک کو اپنے قبضے میں کر لیا، یوں ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی ختم ہو گئی۔

فرانسیسی ایسٹ انڈیا کمپنی

1664ء فرانسیسی تجارتی مفاد پرستوں کے لیے ایک فال ثابت ہوا۔ اس سال شاہ فرانس لوئی چہار دہم (Luis xiv) کے وزیر مالیات جین بیپٹسٹ کولبرٹ (Baptiste Colbert) نے فرانسیسی ایسٹ انڈیا کمپنی قائم کی۔ پہلا تجارتی مرکز سورت میں قائم کیا گیا۔ 1676ء میں ساحل کارومنڈل پر مدراس کے جنوب میں پانڈیچری کی بندرگاہ کو سب سے اہم تجارتی مرکز بنایا گیا۔

1719ء میں سکاٹ لینڈ کے ایک سرمایہ کار جان لا (John Law) کے زیرسرکردگی امریکی اور افریقی نوآبادیاتی کمپنیوں کو ملا کر بڑی ہند کمپنی (Compagnie dee Indes) بنائی گئی۔ اگرچہ دوسرے ممالک میں یہ کمپنی فروغ نہ پا سکی تاہم ڈوما اور ڈویلے جیسے سربراہوں کی سرکردگی میں (1735ء سے 1754ء تک) ہندوستان میں کمپنی نے بے حد فروغ حاصل کیا۔ 1751ء میں انگریز جرنیل رابرٹ کلائیو نے ارکاٹ میں فرانسیسیوں کو شکست دے کر ان کی سرگرمیوں کو محدود کر دیا۔ تاہم 1716ء میں جب پانڈپچری انگریزوں نے چھین لیا تو کمپنی کی ہمت ٹوٹ گئی۔ 1769ء میں ایک فرانسیسی شاہی فرمان سے کمپنی کی سرگرمیاں معطل کر دی گئیں۔ 1785ء میں ایک نئی فرانسیسی کمپنی نے تجارتی حقوق حاصل کر لیے۔ مگر انگریزوں کی بڑھتی ہوئی طاقت کے سامنے اور انقلابِ فرانس کے پیش نظر 1794ء میں کمپنی توڑ دی گئی۔

انگریزی ایسٹ انڈیا کمپنی

برصغیر میں اگر کسی قوم نے سلب و نہب اور غصب و استحصال کی مکروہ مثالیں قائم کیں تو وہ انگریز تھے جو ’’آگ لینے آئی اور گھر والی بن بیٹھی‘‘ کے مصداق تدریجاً‌ تجارتی غرض سے اقتدار و حکومت تک پہنچے۔ اگرچہ مشرق کی طرف مغربی استحصالیوں کی نگاہیں ایسی لگیں کہ ان میں سے کوئی بھی پیچھے ہٹنا نہیں چاہتا تھا۔ ڈنمارک، جرمنی، سویڈن، پرتگال، سپین، ہالینڈ، فرانس، انگلستان سب نے للچائی ہوئی نگاہوں سے دیکھا، مگر آخر میں صرف انگلستان ہی میدان میں رہ گیا۔ پرتگیزی، ولندیزی، فرانسیسی اگرچہ مختلف ادوار اور مختلف مناطق میں تجارتی لوٹ مار کرتے رہے مگر انگریز ان سب سے بازی لے گیا۔ تجارت کو استعماری حربے کے طور پر استعمال کیا اور نوآبادیاتی استحصال سے عرصہ دراز تک برصغیر کا ظالم جونکوں کی طرح خون چوستا رہا۔

ملکہ الزبتھ (1558ء تا 1603ء) نے اپنی حکومت کے آخری ایام میں 31 دسمبر 1600ء میں ایک تجارتی کمپنی کو  The Governor and Comany of Merchants of England Trading to the East Indies کے نام سے اجازت نامہ دیا۔ کمپنی کا ایک گورنر اور 24 افسروں پر مشتمل بورڈ آف ڈائریکٹرز تھا، جو اس کے حصے داروں میں سے چنے جاتے تھے۔ انہوں نے ابتداءً‌ (11-1610ء) میں بمبئی میں ڈیرے جمائے۔

1609ء میں شاہ انگلستان جیمز اول (1603ء - 1625ء) کمپنی کو دوسری مغربی کمپنیوں بالخصوص ولندیزیوں، پرتگیزیوں اور فرانسیسیوں سے مقابلے کی اجارہ داری بخش دی۔

1639ء میں کمپنی میں راجہ چندر اگری سے مدراس خرید لیا اور ایک مضبوط قلعہ بنالیا جسے قلعہ سینٹ جارج (Fort Saint George) کہتے تھے۔

بمبئی انگریزوں سے پہلے پرگیزیوں کے پاس تھا۔ جیمز دوم (1685ء - 1688ء) نے 1662ء میں پرتگال کی شہزادی سے شادی کی تو شاہ پرتگال نے بمبئی بیٹی کو جہیز میں دیا۔ 6 سال بعد 1668ء میں شاہ نے بمبئی کا علاقہ کمپنی کو 10 پونڈ سالانہ کرائے پر دے دیا۔ یہ نہایت عمدہ بندرگاہ تھی۔ بعد ازاں سورت کے ساتھ ساتھ کمپنی نے بمبئی کو مضبوط تجارتی کوٹھی بنا لیا۔

جہاں تک کلکتہ کا تعلق ہے، کہا جاتا ہے شاہ جہاں (1627ء - 1658ء) کی بیٹی چراغ کے پاس سے گزری، لباس کے ساتھ جسم بھی جل گیا۔ سورت میں مقیم ایک انگریز ڈاکٹر کو بلایا جس نے کامیاب علاج کیا۔ شہنشاہانہ انداز میں ڈاکٹر سے پوچھا مانگو کیا مانگتے ہو۔ اس نے کہا میری قوم کو بنگال میں تجارتی مراعات دی جائیں۔ بادشاہ نے اجازت دے دی۔ انگریزوں نے دریائے گنگا کے دہانے پرہگلی میں فیکٹری (تجارتی مرکز) قائم کر لی۔ کچھ عرصہ بعد اگرچہ حکومتِ دہلی نے ان کی سرگرمیوں کو مشتبہ سمجھ کر اس فیکٹری کو بند کر دیا، مگر جلد ہی انگریزوں نے گنگا کے دہانے کے قریب تین گاؤں خرید لیے، جن میں ایک کالی گھاٹ تھا جو بعد میں کلکتہ کے نام سے مشہور ہوا۔ 1700ء میں یہاں فورٹ ولیم قائم کیا گیا۔ اس کے علاوہ مشرقی گھاٹ پر مدراس کے جنوب میں Saint David Fort بنایا اور ایک تجارتی مرکز بمقام مسولی پٹم بنا لیا گیا۔ ان مراکز کو انگریزی فیکٹریاں اور تجارتی کوٹھیاں کہتے تھے۔

(1650ء - 1655ء) میں کمپنی نے دوسری انگریز حریف کمپنیوں کو اپنے اندر مدغم کر لیا۔ چارلس دوم (1660ء - 1685ء) کے زمانے میں کمپنی کو بہت با اقتدار بنا دیا گیا۔ 1689ء میں مدراس، بنگال اور بمبئی کی پریزیڈنسیوں کی انتظامی تشکیلِ نو کی گئی۔ 1698ء میں حکومتِ انگلستان نے کئی دوسری تجارتی کمپنیوں کو اجازت دے دی کہ وہ ایک (New Company) بنا لیں۔ تاہم 1702ء میں برطانوی پارلیمنٹ نے ایک قانون بنا کر نئی اور پرانی دونوں کمپنیوں کو ملا کر Company of Merchants of England Trading to the East Indies کا نام دیا۔ اس مقصد کے لیے منشور میں ترامیم کی گئیں۔

جب رابرٹ کلائیو نے 1751ء میں فرانسیسیوں کو ارکاٹ میں شکست دے کر ان کی کمر ہمت توڑ دی تو انگریزی ایسٹ انڈیا کمپنی کی دھاک بیٹھ گئی۔ بنگال میں علی وردی خان کا بیس سالہ نواسہ سراج الدولہؒ اسلامی حکومتِ ہند کی نگاہوں کا مرکز تھا۔ اس نے انگریزوں کو کلکتہ میں قلعہ بندیوں سے روکا تو کمپنی نشہ دولت و اقتدار میں مست تو تھی ہی، بڑا متکبرانہ جواب دیا۔ اس پر مرشد آباد اور کلکتہ کے درمیان پلاسی کے مقام پر 23 جون 1757ء کو گھمسان کا رَن پڑا۔ میر جعفر غدار انگریز کمان دار لارڈ کلائیو کے ساتھ مل گیا۔ نواب سراج الدولہؒ کو شکست ہوئی۔ میر جعفر کے بیٹے میرن نے اپنے ناپاک ہاتھوں سے اسے جام شہادت پلایا۔ اس کے صلے میں میر جعفر کو مرشد آباد کا نواب بنا دیا گیا۔

جعفر از بنگال و صادق از دکن
ننگِ ملت، ننگِ دین ننگِ وطن

اس نے پلاسی کی جنگ میں کامیاب ہونے پر انگریزوں کو 20 پرگنے کا علاقہ بخش دیا۔ ٹیکس معاف کر دیے۔ اس غدار کو 1661ء میں حکومت سے ہٹا دیا گیا۔ اس کے داماد میر قاسم کو برسر اقتدار لایا گیا مگر وہ بھی انگریزی خواہشات زراندوزی پوری نہ کر سکا۔ اس نے شجاع الدولہ نواب اودھ اور دہلی کے مغل بادشاہ شاہ عالم ثانی (1759ء-1806ء) سے مدد طلب کی۔ بکسر کے مقام پر 1764ء میں میجر منرو اور اتحادی افواج (میر قاسم، شجاع الدولہ اور شاہ عالم) کے درمیان سخت معرکہ ہوا۔ جس میں اتحادیوں کو شکست ہوئی۔

ادھر کلائیو (1765-1767ء) بنگال کا گورنر بنا کر انگلستان میں دوبارہ بھیجا گیا۔ معاہدہ الٰہ آباد کے نام سے ایک معاہدہ ہوا۔ شجاع الدولہ کو اودھ واپس دے دیا گیا۔ مگر تاوانِ جنگ وصول کیا گیا۔ شاہ عالم کو دو آبہ (جمنا اور گنگا کا درمیانی علاقہ دے دیا گیا) 25 لاکھ سالانہ الاؤنس دیا جانے لگا۔ اس کے عوض شاہ عالم ثانی نے انگریزوں کو دیوانی کا حق دے دیا۔ یعنی بنگال، بہار، اڑیسہ کے سارے محاصل کمپنی وصول کرنے لگی۔ یوں ان تجارت کے بھیس میں سیاسی و معاشی استحصالیوں نے ہندوستان کی اقتصادی شہ رگوں پر اپنے خونی پنجے گاڑ دیے۔

ادھر پانڈیچری میں 1761ء میں فرانسیسیوں کو شکست دینے کی وجہ سے اب تاجروں کے بھیس میں انگریز غاصب پوری طرح ہمہ مقتدر بن بیٹھے تھے۔ 1773ء میں حکومت انگلستان نے انتظامی امور کی انجام دہی کے لیے اور ملک پر باقاعدہ حکومت کے لیے ایک گورنر جنرل کا تقرر کر دیا۔ وارن ہیسٹنگز (Warran Hastings) ہندوستان کا پہلا گورنر جنرل بنا۔ 1787ء میں انڈیا ایکٹ کی رو سے برطانوی حکومت میں ایک محکمہ قائم کر دیا گیا۔ اس محکمے کا کام یہ تھا کہ برطانوی حکومت کمپنی کے ہندوستانی معاملات کا سیاسی، فوجی اور مالی انتظام کرے۔ 1813ء میں حکومتِ برطانیہ نے کمپنی کی ہندوستانی تجارت کی اجارہ داری ختم کر دی۔ 1833ء میں چینی تجارت کی اجارہ داری بھی ختم کر دی گئی۔

1799ء تک کمپنی تجارتی مقاصد سے کہیں آگے گزر کر اپنے سیاسی مقاصد حاصل کر رہی تھی۔ جس قوت سے انگریز خوفزدہ تھا وہ میسور کی ریاست تھی، اس میں پے بہ پے چار جنگیں لڑی گئیں۔ پہلے سلطان حیدر علیؒ دین و وطن کی آبرو کے لیے برسرِ پیکار رہا۔ بعد ازاں اس کا عظیم فرزند فتح علی ٹیپوؒ نبرد نبرد آزما ہوا۔ میسور کی چوتھی جنگ میں انگریز نے بمبئی اور مدراس کی اپنی ساری عسکری طاقت سرنگا پٹم میں ڈال دی۔ جنرل ہیرس (Harris)،  جنرل ویلزلی (Wellsely) اور جنرل بیرڈ (Baird) نے اپنی تمام فوجی قوتیں جنگ میں جھونک دیں۔ 

بقول اقبال ’’ترکش ما را خدنگ آخرین‘‘ (سلطان فتح علی ٹیپوؒ) مردانہ وار لڑا۔ وہ عزم و ہمت کی تصویر بنے کھلا میدانِ جنگ چھوڑ کر سرنگا پٹم میں محصور ہوا مگر آخر لڑتے لڑتے جال جان آفریں کے سپرد کر دی۔ یہ کمپنی کی بہت بڑی کامیابی تھی۔ اسی دن انگریز جنرل پکار اٹھا تھا۔ ’’آج سے ہندوستان ہمارا ہے‘‘۔

1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد ہندوستان براہ راست تاجِ برطانیہ کے تحت آگیا۔ اور ساری حکومتی ذمہ داریاں برطانوی بادشاہت نے خود سنبھال لیں تو کمپنی کے 2400 فوجی ملازمین کو انگریزی فوج میں ضم کر دیا گیا۔ یکم جنوری 1874ء کو کمپنی مکمل طور پر ٹوٹ گئی اور  [1873] East Indies Stock Dividend Redemption Act کا نفاذ عمل میں لایا گیا۔

ایسٹ انڈیا کمپنی نے اقتدار پر کیسے قبضہ کیا

میڈیا

سیاسی حالات

اورنگ زیب کی سلطنت ایک وسیع علاقے پر محیط تھی۔ اس نے اپنی ساری عمر استحکامِ سلطنت کے لیے تگ و دو میں گزار دی۔ اس کوشش میں وہ جزوی طور پر کامیاب رہا اور سیاسی انتشار کسی قدر دب گیا۔ اورنگ زیب کے جانشین اس وسیع سلطنت کو استحکام دینے میں ناکام رہے، جس کے نتیجے میں مرکزی حکومت کا صوبوں کے انتظام میں عمل دخل کم ہو گیا۔

مرکزی حکومت کی انتظامی کمزوریوں کے باعث صوبوں میں سیاسی خلفشار میں اضافہ ہونے لگا۔ وہ گروہ جو اورنگ زیب کی فوجی قوت اور سیاسی بصیرت کے سامنے دم نہ مار سکتے تھے، انہوں نے اپنی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دیں۔ یہی نہیں، بادشاہ کے اپنے پروردہ جاگیردار اور امرا بھی اپنے اپنے مفادات کے حصول کے لیے سرگرم عمل ہو گئے۔ اس سے سلطنت کے ہر گوشے میں مرکز سے علیحدگی اور خود مختار ریاستوں کے قیام کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا ۔ اودھ، حیدر آباد، بنگال اور کئی علاقوں میں خود مختار مسلم ریاستیں قائم ہو گئیں۔ مرہٹوں نے جنوبی ہندوستان اور شمالی ہندوستان کے چند علاقوں پر اپنا سیاسی اثر قائم کر لیا۔ پنجاب میں سکھوں نے ایک وسیع خود مختار ریاست قائم کر لی۔

مرکزی حکومت سے علیحدگی کے بعد قائم ہونے والی ریاستوں میں جب وسعت پسندی کی خواہش نے غلبہ کیا تو ان کے درمیان مخاصمت شروع ہو گئی۔ اس صورت حال میں فوجی قوت کا یہ عالم تھا کہ پہلے جہاں بادشاہ کے طلب کرنے پر لاکھوں کا لشکر متحد ہو کر اس کی کمان میں آ جاتا تھا، اب اس قوت کی بڑی سے بڑی اکائی ایک ریاست کی مختصر فوج تک محدود ہو گئی تھی۔ بادشاہ کی قوت کا عالم یہ تھا کہ مغلیہ سلطنت کے آخری سالوں میں اس کا حلقہ اثر دہلی کے شاہی قلعہ تک محدود تھا۔

مذکورہ حالات اس بات کا ثبوت ہیں کہ اورنگ زیب کے بعد مغل قوت ٹوٹ پھوٹ کر کئی چھوٹی چھوٹی اکائیوں میں تقسیم ہو گئی تھی۔ یہ تمام اکائیاں آپس کی نا اتفاقیوں کے باعث کسی بھی خارجی خطرے کی صورت میں موثر دفاعی صلاحیت سے عاری تھیں۔ ایسے حالات کسی بھی خارجی قوت کے اثر و نفوذ کے لیے کارآمد ہو سکتے تھے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی جو اس وقت تک محض ایک تجارتی ادارہ تھی، نے اپنے مقاصد کو تبدیل کرنا شروع کر دیا۔ انہوں نے مقامی تضادات سے مکمل طور پر فائدہ اٹھایا۔ کمپنی نے مقامی ریاستوں کی باہم لڑائیوں کو ہوا دے کر ان کی قوت کو مزید کمزور کیا۔ اس سے مقامی گروہوں میں قوتِ مزاحمت ختم ہو کر رہ گئی۔

کمپنی بنیادی طور پر سامراجی عزائم کی حامل تھی، اور ان عزائم کے تحت اس کی خواہش تھی کہ ہندوستان کے تمام اہم وسائل پر اس کا تصرف قائم ہو جائے۔ ان وسائل کو انگلستان منتقل کر کے وہ وہاں کی صنعتی ترقی کے لیے استعمال کرنے کی خواہش مند تھی۔ کمپنی نے اہم پیداواری علاقوں پر قبضے سے اپنے عزائم کی پہلی اینٹ رکھی۔ کمپنی کے مقبوضات کا سن وار خاکہ حسبِ ذیل ہے۔

۱۷۹۲ء تک — بہار بنگال، مدارس اور گھورکھ پور

۱۸۳۵ء تک — یوپی، کرناٹک، میسور، وجیانگر، کیرالہ اور کولہا پور وغیرہ

۱۸۵۶ء تک — اودھ، برار، وسطی ہند، جھانسی، ناگپور، آسام، پنجاب، سندھ وغیرہ۔

ہندوستان میں اپنی مقبوضات بڑھانے کے سلسلے میں انگریزوں نے جو ہتھکنڈے استعمال کیے، ان میں درج ذیل اہم ہیں:

۱۔ مقامی راجاؤں کی باہمی لڑائیوں میں وہ کسی ایک کی پشت پناہی کر کے دوسرے کو شکست دے کر بے یار و مددگار کر دیتے۔ پھر اس کو آسانی سے اپنے زیر تسلط لے آتے۔ اس پالیسی پر عمل کر کے انہوں نے بنگال، میسور، سندھ، پنجاب، اودھ اور بہت سے دوسرے علاقوں کا الحاق1 کر لیا۔

۲۔ چونکہ کمپنی کا بنیادی مقصد ہندوستانی وسائل پیداوار اپنے استعمال میں لانا تھا، اس لیے انہوں نے مقامی سیاسی اور انتظامی ڈھانچے کو اپنی ضرورت کے تحت بدل دیا۔ اس حربے سے سابقہ سیاسی نظام اور اہم حکومتی گروہوں کو غیر موثر بنانا بھی ممکن ہو گیا اور سابقہ حکومتی گروہوں سے مزاحمت کا خطرہ بھی ٹل گیا۔ اس ضمن میں کئی قوانین پر عمل کیا گیا جن میں ایک کے تحت کسی بھی ریاست کے قدرتی وارثوں کو راجگی سے محروم کر دیا گیا۔ اس قانون کا براہ راست اثر ہندو ریاستوں پر پڑا۔ ان میں جھانسی اور کئی دوسری ریاستیں شامل تھیں۔

الحاق شدہ ریاستوں میں انگریزوں نے ’’امدادی نظام‘‘ کی ایک پالیسی بھی شروع کی۔ اس پالیسی کے تحت ان ریاستوں کو مجبور کیا جاتا تھا کہ وہ اپنے خرچ پر وہاں پر متعین انگریزی فوج کے انتظام کا ذمہ اٹھائیں۔ اگر کوئی ریاست اپنے مالی حالات کے باعث الحاق کرنے سے معذوری ظاہر کرتی تو اس ریاست کے علاقوں کو کمپنی کے حوالے کرنے پر زور دیا جاتا اور ان علاقوں کی آمدنی سے انگریزی فوج کے اخراجات پورے کیے جاتے تھے۔ کسی بھی ریاست میں انگریزی فوج کی موجودگی کا مطلب ہر لحاظ سے انگریزوں کی بالادستی کو قبول کرنا ہوتا تھا۔

معاشی حالات

قدیم زمانے میں ہندوستان اپنے کثیر وسائل اور پیداوار کے باعث خود کفیل رہا۔ داخلی طور پر پیداوری تقسیم غیر مساویانہ تھی اور کسان اور مزدور اپنے پیدا کردہ وسائل سے بہت کم حصہ حاصل کر پاتے تھے۔ ان کی پیداوار کا زیادہ حصہ حکومتی گروہ ہڑپ کر جاتے تھے۔ عام لوگ نہایت ادنیٰ معیارِ زندگی رکھتے تھے۔

اورنگ زیب کی وفات کے بعد سیاسی عدمِ استحکام سے اقتصادی بدحالی بھی پیدا ہوئی۔ اس سے عام کسانوں اور مزدوروں کی حالت تو غریبی سے بھی نچلی سطح پر چلی گئی، ساتھ ہی بادشاہوں کے دور میں خوشحال حکومتی گروہ بھی قلاش ہو گئے۔ اس ضمن میں تبدیلی اس طرح ہوئی۔

ا۔ بادشاہوں کی آمدنی میں کمی

بادشاہوں کی آمدنی کا سب سے اہم ذریعہ زرعی پیداوار پر محصول تھا۔ زرعی زمینوں پر جاگیرداروں کی وساطت سے کاشت کاری کروائی جاتی اور ان پر جاگیرداروں کا ہی تصرف ہوتا تھا۔ سلطنت میں کچھ اراضی براہ راست بادشاہ کے تصرف میں ہوتی تھی۔

نئی خودمختار ریاستوں کے قیام سے سلطنت کی اراضی میں کمی سے بادشاہ کی آمدنی کم ہوتی گئی۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب انہیں مکمل طور پر اپنے زیر تصرف زمین پر انحصار کرنا پڑا۔ مگر یہ زمینیں ان کی فوجی، انتظامی اور ذاتی ضروریات کے لیے کافی محاصل مہیا نہ کر سکتی ہیں۔ اس لیے انہوں نے ایسی زمینوں کو بااثر جاگیرداروں کو بیچ کر یا گروی رکھ کر اپنی ضروریات کو پورا کرنا شروع کر دیا۔ اس طرح انیسویں صدی کے وسط تک ان کی ملکیت محض شاہی قلعہ تک ہی محدود ہو گئی۔

اورنگ زیب کے بعد قائم ہونے والی ریاست کا ابتداء میں اپنے مقامی ذرائع آمدنی پر انحصار تھا۔ آپس کی لڑائیوں کے باعث ان کے فوجی اخراجات بڑھ گئے۔ چونکہ مقامی وسائل محدود تھے۔ اس لیے راجاؤں کو بڑے بڑے تاجروں اور ساہوکاروں سے قرضہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ یہ قرضہ انہیں منقولہ یا غیر منقولہ جائیداد رہن رکھ کر ہی ملتا تھا۔

بعد ازاں جب انگریزوں نے ریاستوں میں امدادی نظام اور دوسری پالیسیوں کو نافذ کرنا شروع کیا تو پہلے سے قرضے تلے دبی ریاستوں کا کچومر نکل گیا اور انہیں اپنی تمام جائیدادیں ساہوکاروں کے سپرد کرنا پڑیں۔

۲۔ ساہوکاروں کے ایک نئے گروہ کا غلبہ

۱۷۰۷ء سے ۱۸۵۷ء تک جو اقتصادی الٹ پلٹ ہوئی اس میں ایسٹ انڈیا کمپنی اور اس کے حلیف ساہوکاروں کو خوشحالی حاصل ہوئی۔ ہندو ساہوکاروں کا یہ گروہ ابتداء میں انگریزوں کے ایجنٹ کے طور پر کام کرتا تھا اور یہ مختلف علاقوں سے مصنوعات اکٹھی کر کے یا خود تیار کروا کے انگریزوں کے تجارتی مراکز تک پہنچاتا تھا۔ اس کام میں انہیں تجارتی فائدہ ہوا اور ساتھ ہی انگریزوں کی سرپرستی سے انہیں بینکاری (Banking) اور سرمایہ کاری (Financing) کے میدان میں بڑی کامیابیاں ہوئیں۔ اس سلسلے میں جگت سیٹھوں2 کے خاندانوں نے بڑی شہرت حاصل کی۔ ان کا مشرقی ہندوستان میں ہنڈی3 کا کاروبار تھا۔

۳۔ بے روزگاری

اٹھارہویں صدی کے وسط تک ہندوستان کی معیشت اپنی کمزور ترین حالت تک پہنچ چکی تھی۔ صوبائی خود مختاری اور چھوٹی چھوٹی ریاستوں کے قیام سے آبادی میں روزگار کے لیے نقل مکانی کا رجحان بڑھا۔ اس سے بڑے بڑے شہر اپنی تجارتی حیثیت کھو بیٹھے۔ ان شہروں کی منڈیاں ختم ہو گئیں۔ شمالی ہندوستان میں آگرہ ایک اہم منڈی تھا۔ یہاں ٹیکسٹائل کی مصنوعات کا بہت بڑا مرکز تھا۔ ۱۷۱۲ء تک اس کی یہ حیثیت ختم ہو گئی۔ اسی طرح دہلی اور مرشد آباد کی تجارتی منڈیوں میں مندے کے باعث شمالی ہندوستان کے صنعتی کاریگر اور دست کاریوں کے تاجر قلاش ہو گئے۔ پنجاب میں سکھوں کی شورش کے باعث لاہور کی طرف آنے والے تمام تجارتی راستے مخدوش ہو گئے تھے۔

ہندوستان کے شمالی مشرقی علاقوں، بنگال، بہار اور اڑیسہ میں مرہٹوں کی فوجی کارروائیوں کے باعث یہاں اجناس کی قلت ہو گئی۔ ان علاقوں میں موجود تمام زرعی اور صنعتی ذرائع پیداوار کا کام ٹھپ ہو گیا۔ یہاں ریشم اور سوت کے کاریگر اور تاجران محفوظ مقام کی تلاش میں مشرقی بنگال کی طرف بھاگ گئے۔ چھوٹی چھوٹی بے شمار ریاستوں کے قیام سے تجارتی مال کی نقل و حمل جگہ جگہ محصول دینے سے مال کی قیمت بہت زیادہ بڑھ جاتی جو خریداروں کی قوتِ خرید سے کہیں زیادہ ہوتی تھی۔ اس سے ریاستوں کے درمیان تجارت عملی طور پر نا ممکن ہو گئی تھی۔

ہندوستان کے زرعی میدان میں بھی حالات دگرگوں تھے۔ کمپنی کے نئے ٹیکسوں کے باعث مقامی زمینداروں نے اپنے کسانوں پر دن بدن محصول کی شرح بڑھانا شروع کر دی۔ اس ناقابلِ برداشت معاشی صورت حال میں بہت سے لوگوں نے شہروں کی طرف نقل مکانی شروع کر دی۔ شہروں میں آکر وہ نئی لگنے والی درمیانے درجے کی صنعتوں میں مزدور ہو گئے یا دوسرے شعبوں میں معمولی محنت مزدوری کا کام کرنے لگے۔ اس سے شہروں میں آبادی کا دباؤ بڑھنے لگا اور نئے معاشرتی رویے پیدا ہونے لگے۔

۴۔ کمپنی کے اقتصادی ہتھکنڈے

ان معاشی حالات میں سب سے زیادہ فائدہ ایسٹ انڈیا کمپنی کو حاصل ہوا۔ اس نے تمام ذرائع پیداوار کو اپنے کنٹرول میں کیا اور ہندوستانی سرمایہ پر اپنا تصرف قائم کر لیا۔ اس ضمن میں کمپنی نے جو ہتھکنڈے استعمال کیے ان کی تفصیل یہ ہے۔

۱۔ کمپنی نے اپنی تجارت کو تحفظ دینے کے لیے تمام انگریزی مصنوعات پر ڈیوٹی کم کر دی اور اس کے مقابلے میں مقامی مصنوعات پر بھاری ٹیکس عائد کر دیے۔ اس پالیسی سے مقامی مصنوعات کی پیداوار اور کھپت ختم ہو گئی اور انگریزی مصنوعات کی ہندوستان میں اجارہ داری قائم ہو گئی۔ کمپنی کو اپنی ہندوستانی تجارت سے جو سرمایہ حاصل ہوتا تھا، اس کی یہیں سرمایہ کاری کرنے کی بجائے اسے انگلستان منتقل کر دیا جاتا تھا۔ اس سے جہاں ایک طرف ہندوستانی معیشت اپنے سرمائے سے محروم ہو رہی تھی، وہیں ہندوستانی معیشت میں سرمایہ کاری اور وسعت کے امکانات محدود ہو گئے۔ ایسی صورتحال میں روزگار کے متوقع مواقع کم ہو گئے اور مقامی تاجروں، صنعت کاروں اور صنعتی مزدوروں کی ایک کثیر تعداد بے روزگار ہو گئی۔

۲۔ کمپنی کے قائم کردہ نظام میں تمام تر اہم اور کلیدی اسامیوں پر صرف اور صرف انگریزوں کو بھرتی کیا جاتا تھا۔ ان اہلکاروں کو انگلستان کی کرنسی میں بڑی بڑی تنخواہیں دی جاتی تھیں۔ اس سے مقامی معیشت پر دوہرے مضر اثرات مرتب ہو رہے تھے۔ ایک طرف مقامی لوگوں کو روزگار سے محروم رکھا جاتا تھا اور دوسری طرف کثیر سرمایہ تنخواہوں کی صورت میں باہر منتقل ہو جاتا تھا۔ چونکہ انگریز اہلکاروں کو ان کی نوکری کے دوران ان کی ضروریات کی تقریباً تمام اشیاء مہیا کی جاتی تھیں، اس لیے ان کو ادا کی جانے والی تنخواہیں عام طور پر ان کی بچت کی صورت میں ریٹائرمنٹ یا اس سے پہلے انگلستان منتقل کر دی جاتی تھیں۔ پنشن کی رقوم کی ادائیگی بھی انگلستان میں اُس ملک کی کرنسی میں ادا کی جاتی تھی۔

ہندوستان کی معیشت کی تباہی سے بے روزگاری ویسے ہی بہت زیادہ ہو رہی تھی۔ لوگ کوئی بھی کام کر کے اپنے بچوں کا پیٹ پالنے پر تیار تھے۔ اس دور میں بہت سے لوگ کسی بھی راجا کی فوج کے سپاہی بھرتی ہو جاتے تھے۔ بعد ازاں انگریزوں نے ایک پالیسی کے تحت جب ریاستوں کو مقامی طور پر فوج کی بھرتی کی ممانعت کر دی تو یکسر سینکڑوں لوگ بے روزگار ہو گئے۔ واضح رہے کہ یہ لوگ کمپنی کی ملازمت بھی نہ کر سکتے تھے۔

۳۔ تجارت اور صنعتوں پر کمپنی کی اجارہ داری قائم ہو جانے کی وجہ سے، کمپنی اپنی من مانی شرائط پر کاریگروں اور دست کاروں سے مال تیار کرواتی تھی۔ کمپنی کے ایجنٹ منڈی کے مقابلے میں نہایت کم معاوضے اور بہت کم وقت میں مصنوعات تیار کرنے کا کہتے تھے۔ کاریگر اس صورتحال میں سخت نالاں تھے مگر کمپنی کے سامنے اف تک نہ کر سکتے تھے۔ اگر کوئی کاریگر احتجاج کرتا تو اسے سخت سزائیں دی جاتی تھیں۔ چونکہ کاریگروں کا کوئی بھی پرسان حال نہ تھا، انہوں نے اپنے آپ پر مسلط ظلم کی اصل وجہ یعنی ان کے فن کو ہی ختم کر دینا مناسب سمجھا۔ صاف ظاہر ہے کہ ان کاریگروں کو ان کے اعلیٰ فن کی وجہ سے ہی کمپنی کے ظلم سہنا پڑتے تھے۔ اس ضمن میں بنگال کی مشہور ململ کے کاریگروں کا ردعمل بڑا افسوسناک تھا، انہوں نے اپنے انگوٹھے ہی کٹوا دیے جن سے وہ ململ تیار کرتے تھے۔ واضح رہے کہ ان انگوٹھوں سے ہی وہ اپنے روزگار بھی حاصل کرتے تھے۔ اس طرح ظلم سے نجات حاصل کرنے کے لیے ان کاریگروں نے اپنے روزگار کے ذریعے کو بھی ترک کر دیا۔

کاریگروں پر ظلم سے ایک اور پہلو جو سامنے آتا ہے، وہ کاریگروں کا صدیوں پرانے فن کو ترک کرنے سے متعلق ہے۔ اس سے نہایت اعلیٰ دست کاریوں کا فن بھی ختم ہونے لگا۔ کاریگروں نے اب کاشت کاری کو بطور پیشہ اختیار کرنا شروع کر دیا۔ کاشت کاری میں غیر ترقی دادہ طریقوں کے رواج کے باعث اس میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو کھپانے کی اہمیت اور گنجائش نہ تھی۔ اس سے عام لوگوں کے مسائل مزید بڑھ گئے اور وہ معاشی طور پر سخت پریشان ہو گئے۔

دیہات کی معاشی صورتحال کو بہتر کرنے کے لیے انگریزوں نے کسی طور پر کوئی بہتر پالیسی نہ اپنائی۔ ۱۷۹۳ء میں ’’دوامی بندوبست‘‘ کے نظام کو کچھ صوبوں میں نافذ کر دیا گیا تھا۔ اس نظام کے تحت زمینوں کی کاشت کی ذمے داری جاگیرداروں کے سپرد کر دی گئی۔ زمینداروں کو مستقل بنیادوں پر ایک رقم بطور مالیہ حکومت کو ادا کرنا ہوتی تھی۔ اس نظام میں حکومت کا براہ راست تعلق اور واسطہ زمینداروں تک محدود تھا۔ زمیندار اپنی مرضی سے کاشت کاروں سے رقم وصول کرتے، اور حکومتی مالیہ ادا کرنے کے بعد بقیہ رقم خود رکھ لیتے تھے۔ اس نظام میں یہ طے نہ کیا گیا تھا کہ زمیندار کسانوں سے زیادہ سے زیادہ کس قدر رقم وصول کریں۔ اس سے زمینداروں کو کھلی چھٹی مل گئی اور وہ کسانوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے لگے۔ بعض مقامات پر مالیے کا تعین، زمین کی پیداواری صلاحیت سے مطابقت نہ رکھتا تھا۔ ایسی جگہوں پر کسانوں کو دوہری دھار سے ذبح کیا جا رہا تھا۔

’’دوامی بندوبست‘‘ کے نفاذ اور اس کے تحت زمینداروں کو کھلی چھٹی دینے کا مقصد ان زمینداروں کی کمپنی کے لیے وفاداریاں حاصل کرنا تھا۔ مقامی زمیندار اپنے علاقے میں وہاں کی زندگی کے تقریباً‌ ہر شعبے میں اپنا اثر اور عمل دخل رکھتے تھے۔ ان کے علاقے میں کوئی شخص بھی ان کے سامنے دم نہ مار سکتا تھا۔ کمپنی نے اپنے طاقت اور اثر کو انہی زمینداروں کی معرفت دیہاتی علاقوں کے چھوٹے سے چھوٹے یونٹ تک پھیلایا۔

معاشرتی حالات

انگریز سامراج تھے، اس لیے انہوں نے ہندوستان پر سیاسی و انتظامی کنٹرول کے بعد یہاں کے سرمایہ اور تمام پیداواری ذرائع پر قبضہ کرنے پر اکتفا نہ کیا۔ سامراجیت میں چونکہ کوئی قوم کسی دوسرے ملک یا قوم کو اپنی طاقت اور چالبازوں سے اپنے اثر میں لاتی ہے، اس لیے اسے ہمیشہ مقامی لوگوں کی مزاحمت اور ردعمل کا خوف رہتا ہے۔ مقامی لوگوں کی قوتِ مزاحمت اور ان کے اداروں کو غیر موثر بنانے کے لیے سامراجی قوتیں معاشرتی سطح پر ایسا ماحول استوار کرتی ہیں جس میں مقامی لوگ ایک نفسیاتی خلفشار کا شکار کر دیے جاتے ہیں۔ ایسے میں وہ اپنے آپ سے، اپنے صدیوں پرانے ریت رواج، اور معاشرتی اداروں سے بے گانہ ہو جاتے ہیں۔ اس سے پوری قوم میں بے عملی کا ایک احساس پیدا ہو جاتا ہے اور ان میں زندگی کرنے کی قوت تک ختم ہو جاتی ہیں۔

انگریزوں نے اپنے سامراجی عزائم کے حصول میں معاشرتی سطح پر جو حربے اپنائے، ان میں سے چند ایک کا ذکر یہاں کیا جاتا ہے۔

۱۔ انگریزوں کو اعلیٰ ثقافت کے نمائندے کے طور پر پیش کرنا

انگریزوں نے اپنے رویوں اور پالیسیوں سے مقامی لوگوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ وہ مقامی لوگوں کے مقابلے میں ایک اعلیٰ تہذیب اور ثقافتی ورثے کے نمائندہ ہیں۔ ان کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ وہ ہندوستان میں اعلیٰ تہذیبی روایات کے فروغ کے لیے آئے ہیں۔ اس تاثر کے فروغ میں انگریزوں کا بنیادی مقصد زندگی کے ہر شعبے میں انگریز نسل اور اس سے وابستہ لوگوں کی برتری قائم کرنا تھا۔ مقامی لوگ جب ان لوگوں کی برتری کو تسلیم کر لیں گے تو وہ انہی لوگوں کے سیاسی، انتظامی، اور معاشرتی اقدامات کو بھی اعلیٰ سمجھتے ہوئے قبول کر لیں گے۔ اس طرح مجموعی طور پر معاملات حکومت انگریزوں کی مرضی کے مطابق چل سکیں گے۔

نسلی اور تہذیبی برتری کے اس نظریے کے تحت جو معاشرتی تبدیلیاں آئیں، ان میں انگریزوں کے حلیف ایک طبقے کا پیدا ہونا سب سے اہم تھا۔ یہ طبقہ انگریزوں کے حکومتی طبقے سے قرب پیدا کر کے ایک طرف تو ان سے مراعات حاصل کرنے کا خواہش مند تھا، تو دوسری طرف اپنی روایات سے اپنا تعلق توڑ کر اپنے آپ کو انگریزی اندازِ معاشرت کے رنگ میں ڈھالنا چاہتا تھا۔ انگریزوں کو بھی چونکہ ہندوستان میں اپنے ایک حلیف طبقے کی ضرورت تھی اس لیے انہوں نے اس طبقے کو مراعات بھی دیں اور انہیں اپنا سیاسی اور انتظامی اثر پھیلانے میں ایک آلہ کار کے طور پر استعمال کیا۔ بعد ازاں اسی طبقے نے مقامی روایات، لباس اور رسوم و رواج کے بارے میں کمتری کا احساس پیدا کرنے میں ایک مذموم کردار ادا کیا۔

انگریزی تہذیب کی برتری کو انگریزوں کی معاشرت کے حوالے سے اچھالا جاتا تھا۔ اس میں ان کی معاشرت میں استعمال ہونے والی اشیاء کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ اب کوئی بھی شخص اپنے آپ کو حکومتی طبقے سے قریب تر لانے یا ان سے ربط و تعلق کے اظہار کے لیے ایسی اشیاء اور لباس استعمال کرتا تھا، جیسا کہ انگریز خود کرتے تھے۔ اس نئے اندازِ معاشرت سے انگریزی مصنوعات کی مانگ بڑھنے لگی۔ عام لوگوں میں مقامی طور پر تیار کردہ چیزوں کے مقابلے میں انگلستان کی تیار کردہ اشیاء کو زیادہ بہتر اور پائیدار سمجھا جانے لگا۔ اس سے ’’ولایتی مال‘‘ کی کھپت بڑھی اور انگریزی صنعتوں کو فائدہ ہوا۔ اس تناظر میں نسلی برتری کے نظریے کو معاشی مفادات کے حصول کے لیے استعمال کیا گیا۔

ہر غاصب اپنی مفتوحہ قوم پر اپنی نسلی برتری ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کا مقصد سیاسی اور معاشی استبداد کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔ تاریخی طور پر یہ بات ثابت شدہ ہے کہ تہذیب اور ثقافت کا تعلق کسی بھی معاشرے کے حالات اور تاریخی ورثے سے ہوتا ہے، اور اس کی اصلیت کے لیے یہی عناصر بنیادی ہوتے ہیں۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک علاقے کی ثقافت اور تہذیب کے سرچشمے کسی دوسرے علاقے یا کسی دوسرے گروہ سے متعلق ہوں۔ چونکہ تہذیب اور ثقافت کی استواری اور تشخص میں وہاں کے خاص مزاج اور ورثے کا ہی اہم کردار ہوتا ہے، اس لیے کسی تہذیب یا ثقافت کی دوسری پر برتری یا کمتری ثابت کرنا حقیقت کے خلاف جانے کے مترادف ہے۔ کوئی تہذیب نہ تو اعلیٰ ہوتی ہے اور نہ ہی کم تر۔ رسم و رواج یا اندازِ معاشرت کی بجائے مادی ترقی اور ایجادات وغیرہ کو تقابل کے لیے ایک معیار سمجھا جا سکتا ہے۔ مادی ترقی سے کسی بھی معاشرے کی قوت بڑھتی ہے اور وہ اس ترقی سے دوسرے معاشروں کو متاثر بھی کر سکتا ہے۔

انگریزی تہذیب اپنی مادی ترقی کے اعتبار سے ہندوستانی تہذیب کے مقابلے میں بہتر مقام رکھتی تھی۔ انہوں نے اس برتری کو دوسرے ممالک اور علاقوں پر ایک آلہ استبداد کے طور پر استعمال کیا، اور اس سے ان علاقوں کے وسائل کو نہ صرف اپنے حق میں استعمال کیا بلکہ یہاں کی معاشرت کو ادنیٰ قرار دے کر یہاں کے بسنے والوں میں شدید نفسیاتی اور تہذیبی بحران پیدا کر دیا۔

۲۔ انگریزوں کی تعلیمی پالیسی

انیسویں صدی کے اوائل میں انگریزوں نے ہندوستان میں انگریزی تعلیم کو فروغ دینا شروع کر دیا۔ اس ضمن میں ان کی تیار کردہ پالیسی میں مقامی تعلیم اور اندازِ تربیت کو نہایت منفی انداز میں پیش کیا گیا۔ انگریزی کو ذریعہ تعلیم بنانے کے بارے میں لارڈ میکالے نے ۱۸۳۵ء میں جو رپورٹ پیش کی، اس میں لکھا ہے کہ:

’’انگریزی ادب کی ایک اوسط درجہ کی کتاب، ہندوستانی ادب کے تمام تر ذخیرہ کے مقابلہ میں ایک اعلیٰ مقام رکھتی ہے۔’’

۱۸۳۷ء میں فارسی زبان کی سرکاری حیثیت کو ختم کر کے انگریزی کو نافذ کر دیا گیا۔ ایسے اقدامات سے صدیوں پرانا نظام دھڑام سے نیچے گر گیا۔ نئے نظام کے تحت پرانے تعلیم یافتہ لوگ سرکاری طور پر اَن پڑھ قرار دے دیے گئے اور ان کی سرکاری اداروں میں ضرورت ختم ہو گئی۔ چونکہ ہندوستان کی اکثریتی آبادی انگریزوں کے قائم کردہ نظام میں بد سے بدتر زندگی گزارنے پر مجبور ہو رہی تھی، اس لیے ان کے دلوں میں انگریزوں کے لیے شدید نفرت بھی پل رہی تھی۔ وہ انگریزوں اور انگریزوں سے متعلق کسی بھی چیز کو سخت ناپسند کرتے تھے۔ ان حالات میں فوری طور پر نئے نظام کو قبول کرنا ان کے لیے مشکل تھا۔

نئے نظامِ تعلیم میں انگریزوں نے عیسائی مشنری سکولوں کے قیام کو فروغ دیا۔ ان سکولوں میں عیسائیت کی مذہبی کتب کا مطالعہ لازمی ہوتا تھا اور اسے نصاب کا اہم حصہ تصور کیا جاتا تھا۔ عام لوگ پہلے ہی انگریزوں سے متنفر تھے۔ وہ ایسے سکولوں سے وحشت زدہ ہونے لگے، کیونکہ انہیں صاف نظر آرہا تھا کہ اب ان کے مذاہب بھی محفوظ نہیں رہے ہیں۔ ایسے حالات میں خاص طور پر مسلمانوں میں شدید ردعمل ہوا اور مسلمان علماء نے ان سکولوں میں تعلیم کے خلاف فتوے جاری کر دیے۔ 

انہی ایام میں حکومت نے کسی بھی سرکاری نوکری کے لیے انگریزی تعلیم کی بنیادی سند کو لازمی قرار دے دیا۔ مسلمانوں کے لیے یہ صورتحال دوہری تلوار کی طرح تھی۔ اگر وہ انگریزی سکولوں میں تعلیم حاصل کرتے تو انہیں ان کے خیال کے مطابق اپنی ثقافت اور مذہب سے ہاتھ دھونا پڑتا تھا، وگرنہ دوسری صورت میں بے روزگاری کا زہر حلق سے اتارنا پڑتا تھا۔

۳۔ عیسائیت کی تبلیغ

ایسٹ انڈیا کمپنی کے دور میں عیسائیت کے فروغ کے لیے خصوصی کوششیں کی گئیں۔ ۱۸۳۷ء میں ایک خوفناک قحط میں یتیم ہونے والے مقامی بچوں کو عیسائی مشنریوں کے سپرد کر دیا گیا تاکہ وہ ان کی پرورش ایک عیسائی کے طور پر کریں۔ اس کے علاوہ عیسائی مشنری مقامی آبادی کی مالی مشکلات کو بھی عیسائیت کی تبلیغ کے لیے بطور ہتھیار استعمال کرتے تھے۔ 

ہندوؤں اور مسلمانوں کے مذہبی قوانین کے مطابق اگر کوئی شخص اپنا مذہب بدل لے تو وہ وراثت کے حقوق سے محروم ہو جاتا تھا۔ انگریزوں نے اس قانون کو بدل دیا اور تبدیلی مذہب سے قانونِ وراثت کو علیحدہ کر کے عیسائی مت کے فروغ کے لیے راہیں صاف کر دیں۔

(ماخوذ از ’’تاریخ پاکستان‘‘ مرتبہ پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ لاہور)


حواشی

(1) الحاق: وسعت پسندی میں عام طور پر دو پالیسیاں اپنائی جاتی ہیں۔ ایک کسی ریاست یا علاقے کا الحاق کرنا، اور دوسرا مکمل طور پر اس پر قبضہ کرنا ہو سکتا ہے۔ قبضے کی صورت میں کوئی بھی خارجی طاقت مقبوضہ علاقے کے تمام تر انتظامی، سیاسی و اقتصادی معاملات کا ذمہ سنبھال لیتی ہے۔ الحاق کی صورت میں خارجی طاقت خاص امور یا مفادات کے علاوہ باقی تمام معاملات مقامی سربراہ مملکت کے پاس رہنے دیتی ہے۔ 

انگریزوں نے ہندوستان میں اپنی وسعت پسندی میں عام طور پر الحاق کی پالیسی اپنائی۔ وہ کسی بھی ریاست کے حکمران کو اپنے مفادات کے تحت خاص شرائط ماننے پر مجبور کرتے اور وہاں پر اپنا نمائندہ مقرر کر دیتے تھے۔ بظاہر حکومتی معاملات کا ذمہ دار مقامی راجہ ہی ہوتا تھا مگر درحقیقت اس ریاست کے تمام وسائل پر انگریز نمائندے کا ہی حکم چلتا تھا۔ اس طریقے سے انگریز مقامی معاملات میں غیر ضروری طور پر الجھنے کی بجائے صرف اپنے مفادات کے شعبوں تک ہی اپنا عمل دخل محدود رکھتے۔ اس پر ان کی توجہ اور قوت غیر ضروری معاملات میں نہ بٹتی تھی۔

(2) جگت سیٹھ کا مطلب ہے دنیا کا ساہو کار۔ یہ ایک خطاب تھا جو دہلی کے بادشاہ نے ۱۷۲۳ء میں بنگال کے ایک بہت بڑے سیٹھ فتح چند کو دیا تھا۔ اس دور میں اس سیٹھ کی بینکاری کی شاخیں ڈھاکہ اور پٹنہ کے شہروں میں تھیں۔ ان کا مرکزی دفتر مرشد آباد میں تھا۔ اس زمانے کے انگریز اور مقامی مصنف جگت سیٹھوں کی بینکاری کو بینک آف انگلینڈ کے برابر قرار دیتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان سیٹھوں کی بینکاری کا دائرہ اور سرمایہ بہت وسیع تھا اور یہ حکومت کے مالی معاملات میں بھی اہم حصہ لیتے تھے۔ 

اس دور میں بنگال میں سونے اور چاندی کی خرید و فروخت، مرشد آباد میں ٹکسال کا قیام، صوبائی حکومت کے ایماء پر زمینداروں سے لگان وصول کرنا، اور تمام دولت کو دوسری کرنسیوں سے تبادلے کے بعد شاہی خزانے میں جمع کرانا، ان کے ذمے تھا۔ دوسرا جگت سیٹھ فتح چند کا پوتا مہتاب چند تھا۔ اس کے علی وردی خان والئ بنگال سے بڑے اچھے مراسم تھے۔ نواب سراج الدولہ نے اس کی مذموم کارروائیوں کی وجہ سے اس کی نہ صرف بے عزتی کی بلکہ اس کو دربار میں آنے سے روک دیا۔ سیٹھ مہتاب چند نے سراج الدولہ کے خلاف انگریزوں کی سازش میں نہ صرف حصہ لیا بلکہ مالی امداد بھی کی۔ سراج الدولہ کی موت کے بعد میر قاسم کے دربار میں اسے خاصی پذیرائی حاصل ہوئی مگر میر قاسم اس کی وفاداری کو مشکوک سمجھتا تھا۔ آخر کار اس نے جگت سیٹھ کو ۱۷۶۳ء میں مروا دیا۔ 

بعد میں بنگال میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکومت قائم ہونے پر سیٹھوں کا برا حال ہوا۔ کمپنی نے اس پر واجب الادا کروڑوں کے قرضوں کو سیٹھوں کو واپس لوٹانے سے انکار کر دیا۔ اس سے جگت سیٹھوں کے خاندان کو تیزی سے زوال آگیا۔ تاہم بعد کی نسلوں میں جگت سیٹھ کا خطاب چلتا رہا۔ ۱۹۱۲ء میں یہ خطاب بھی واپس لے لیا گیا۔

(3) ہنڈی (Bill of Exchange)، معاشیات کی اصطلاح میں اس سے مراد وہ غیر مشروط تحریری حکم نامہ ہے جس پر صرف اعتماد کی بنیاد پر کوئی فروخت کنندہ واجب الادا رقم لکھتا ہے۔ خریدار مقررہ وقت میں فروخت کنندہ کے کسی اور جگہ نامزد کردہ شخص یا ادارے سے رقم وصول کر لیتا ہے۔ ہنڈی دو قسم کی ہوتی ہے: ایک درشنی اور دوسری مدتی۔ درشنی ہنڈی کی رقم عند الطلب ادا کرنا پڑتی ہے، جبکہ مدتی ہنڈی کی رقم مقررہ میعاد کے بعد واجب الادا ہوتی ہے۔

ایسٹ انڈیا کمپنی کے ہاتھوں برصغیر کی معاشی تباہی

شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنیؒ

میرے معزز بزرگو! برطانوی قوم اور اشخاص میں اگرچہ نیک دل، انصاف پسند، انسانی سچی ہمدردی رکھنے والے، صادق الوعد، شریف النفس لوگ بھی ہیں مگر افسوس کہ عام لوگ بالخصوص اصحابِ اقتدار و حکومت مندرجہ ذیل اخلاق و اعمال کے مجسمے ہیں جس کو مسٹر جارج الین اینڈانو (Mr. George Alan Andano) نے کتاب میں بطور اقتباس شائع کرایا ہے:

’’موجودہ تمدن کا سارا لب لباب منافقت ہے لوگ اپنا عقیدہ ظاہر کرتے ہیں لیکن عملاً اپنی جانیں تک مال پر قربان کرتے رہتے ہیں۔ زبانوں پر آزادی کا دعوی رہتا ہے لیکن جو لوگ آزادی کے علم بردار ہوتے ہیں انہیں کو سزائیں ملتی ہیں۔ (دعویٰ مسیح کی پیروی کا ہے اور اطاعت مسولینی (Mussolini) وغیرہ کی کی جا رہی ہے) عزت کے الفاظ عصمت کے متعلق استعمال کیے جاتے ہیں لیکن عملی زندگیاں حرام کاری اور آتشک کے لیے وقف ہیں۔ زبانی داد سچائی کی دیتے ہیں لیکن عملاً اقتدار اور اختیار کی کرسیوں پر بددیانتوں کو ہی بٹھائے ہوئے ہیں۔ زبانوں پر اخوت کے نعرے ہیں لیکن جو بھائی ان کی جنگ یا وطنیت یا قومیت کے بدمستانہ جلوسوں میں شریک نہیں ہوتے ان کے لیے جیل خانہ ہے یا جلا وطنی یا بندوق کی گولیاں۔‘‘ (سچ نمبر ش 4 ص 246 جنوری ش 193)

بالخصوص ہندوستانیوں کے ساتھ تو ان کا معاملہ ہر زمانے میں نہایت شرمناک اور تعجب خیز رہا ہے۔ وارن ہیسٹنگز (Warren Hastings) لکھتا ہے:

’’انگریز ہندوستان میں آکر بالکل نیا انسان بن جاتا ہے، جن جرائم کی وہ اپنے ملک میں جرات کر ہی نہیں سکتا، ہندوستان میں اس کے ارتکاب کے واسطے انگریز کا نام جواز کا حکم رکھتا ہے۔ اس کو سزا کا خیال تک نہیں ہو سکتا۔‘‘

ٹمس سڈہسٹم لکھتا ہے:

’’میں ہمیشہ سے دیکھتا ہوں کہ بمقابلہ اور قوموں کے انگریز ممالک غیر میں سب سے زیادہ چیرہ دستی کرتے ہیں اور ہندوستان میں یہی واقعہ پیش آرہا ہے۔‘‘

مسٹر ہولٹ مکنزی (Mr. Holt Mackenzie) 1830ء میں لکھتا ہے:

’’یہ عمل نہایت حیرت انگیز ہے کہ ہندوستانیوں کے ساتھ نیک دلی انگریزوں کا برتاؤ بھی حقارت آمیز رہا ہے جو فی الحقیقت نہایت نیک نیت تھے کیونکہ جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے کسی حکومت کی مثال ایسی نہ ملے گی جس نے مکمل طور پر اپنے مطلق العنان جبروت کو سول انتظامات کے ذریعے سے (اگر اس کو سول کہہ سکتے ہیں) منوایا ہو جو درحقیقت حربی ہے۔‘‘

لارڈ میکالے (Lord Macaulay) لکھتا ہے:

’’زمانہ سابق کے تمام ایشیائی اور یورپین ظالموں کی غیر انصافیاں، سپریم کورٹ (عدالت عالیہ) کے انصاف کے مقابلہ میں برکت معلوم ہوتی ہیں۔‘‘

میلکم لوئس (Malcolm Louis) حج عدالتِ عالیہ مدراس و ممبر کونسل لکھتا ہے: 

’’ہم نے ہندوستانیوں کی ذاتوں کو ذلیل کیا۔ ان کے قانونِ وراثت کو منسوخ کیا۔ بیاہ شادی کے قواعد کو بدل دیا۔ مذہبی رسم و رواج کی توہین کی۔ عبادت خانوں کی جاگیریں ضبط کر لیں۔ سرکاری کاغذات میں انہیں کافر لکھا۔ امراء کی ریاستیں ضبط کر لیں۔ لوٹ کھسوٹ سے ملک کو تباہ کیا۔ انہیں تکلیف دے کر مال گزاری وصول کی۔ سب سے اونچے خاندان برباد کر کے انہیں آوارہ گرد بنا دینے والے بندوبست کیے۔‘‘ (ہندوستان کی سیاسی ترقی ص 3) 

سر تھامس منرو (Sir Thomas Munro) اپنی رپورٹ میں لکھتا ہے:

’’وضعِ قانون میں ان کا (ہندوستانیوں کا) کوئی حصہ نہیں اور قوانین کے عمل درآمد میں ان کو بہت کم دخل ہے۔ باستثناء چند نہایت چھوٹے عہدوں کے وہ کسی بڑے عہدے تک خواہ وہ فوجی ہوں یا سول، کسی بڑے عہدے تک نہیں پہنچتے، وہ ہر جگہ ایک ادنیٰ قوم کے فرد سمجھے جاتے ہیں، تمام فوجی اور دیوانی عہدے جو کچھ بھی اہمیت رکھتے ہیں اب یورپیوں کے قبضہ میں ہیں جن کا پس انداز روپیہ خود ان کے ملک کو چلا جاتا ہے۔‘‘ ( ح خ 1 ص 14)

لارڈ میکالے لکھتا ہے (Macaulay's Essays of Wareen Hastings):

’’ہندوستان کے لوگ انگریزوں کے مقابلہ میں اگرچہ بہت غریب ہیں تاہم جو تکلیف و تاخیر اور خرچ انگریزی قانون کی وجہ سے پیش آتا ہے، وہ اس کو ان نقائص کے مقابلے میں جو اس قانون کے غیر ملکی ہونے کی وجہ سے اس میں موجود ہیں، زیادہ اہم نہیں سمجھتے۔ ان کی فطرت، ان کی عزت، ان کے مذہب، ان کی عورتوں کی عفت کے قومی محسوسات کو اس بدعت کا سامنا کرنا پڑا۔ مال کی کارروائیوں میں پہلا قدم جو اٹھایا گیا وہ یہ تھا کہ مال گزاری کی بقایا میں لوگ گرفتار کیے جانے لگے۔ در آں حالیکہ معزز ہندوستانی کے لیے گرفتاری محض نظر بندی نہ تھی بلکہ بدترین ذاتی بے عزتی تھی۔ ہر مقدمہ کی ہر منزل پر حلف لیے جانے لگے۔ درآں حالیکہ معزز ہندوستانیوں کے نزدیک یورپ کے فرقہ کویکر سے (جو قسم کو معیوب سمجھتا ہے) یہ طریقہ زیادہ تکلیف دہ تھا۔ مشرقی ممالک میں معزز گھرانوں کے زنان خانہ میں غیر آدمی کا داخل ہوتا یا عورتوں کے چہرے کو دیکھ لینا ناقابل برداشت زیادتی سمجھی جاتی ہے اور اس کو موت سے بھی زیادہ خوفناک خیال کیا جاتا ہے اور جس کا انتقام صرف خونریزی سے لیا جا سکتا ہے۔ بنگال، بہار اور اڑیسہ کے نہایت معزز خاندانوں کو اس قسم کی بے عزتیوں کا سامنا ہوا۔ اگر ہمارے ملک میں دفعتاً‌ ایک ایسا قانون نافذ کر دیا جائے جو ہمارے لیے ایسا ہی نیا ہو جیسا کہ ہمارا قانون ایشیائی رعایا کے لیے ہے، تو یہ خیال کرنے کی بات ہے کہ ہمارے ملک کی اس وقت کیا حالت ہو جائے گی۔ اگر ہمارے ملک میں یہ قانون نافذ ہو کہ کسی شخص کی قسم کھا لینے سے کہ اس کا قرضہ ہم پر ہے، اسے یہ حق ہو جائے گا کہ وہ معزز اور مقدس ترین اشخاص اور پردہ نشین خواتین کی ہتک کر سکے، ایک افسر کے بید لگائے جا سکیں، ایک پادری کو کٹہرے میں ٹھونسا جا سکے، شریف عورتوں کے ساتھ اس طریقہ سے سلوک کیا جا سکے کہ جس کا نتیجہ واٹ ٹائلر (Watt-Tyler) جیسا بلوہ ہو (انگلستان میں 1381ء میں رچرڈ (Mr. Richard) نے ہر بالغ مرد اور عورت پر ایک نیا ٹیکس لگایا تھا جس کی مقدار ایک شلنگ فی کس تھی، اس پر کاشت کاروں نے عظیم الشان بلوہ کر دیا تھا۔ اس کا سردار واٹ ٹائر (Watt-Tyler) تھا) تو اس وقت ملک کی جو حالت ہو جائے گی اس کے تصور سے دل کانپتا ہے۔‘‘ الخ (ح خ 1 ص 16)

سر جان شور (Sir John Shore) 1833ء میں لکھتا ہے (اس کا تعلق بنگال سول سروس سے رہا تھا):

’’انگریزوں کا بنیادی اصول یہ رہا ہے کہ ہر صورت سے تمام ہندوستانی قوم کو اپنی اغراض کا غلام بنایا جائے، ان پر محصولات اتنے لگا دیے ہیں کہ اضافہ کی گنجائش نہیں چھوڑی ہے۔ یکے بعد دیگرے جو صوبہ ہمارے تصرف میں آیا ہے اس کو مزید وصولیابی کا میدان بنا لیا گیا ہے۔ اور ہم نے اس بات پر ہمیشہ فخر کیا ہے کہ دیسی والیانِ ملک جتنا وصول کرتے تھے اس سے ہماری آمدنی کس قدر زیادہ ہے۔ ہر وہ عہدہ و عزت اور منصب جس کو قبول کرنے کے لیے ادنیٰ سے ادنی انگریز کو آمادہ کیا جا سکتا ہے، ہندوستانیوں کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔‘‘ (ح خ 1 ص 27)

خلاصہ کلام یہ ہے کہ برطانوی قوم جو کہ 1600ء میں تجارت کرنے کے لیے ہندوستان میں آئی تھی اس نے آہستہ آہستہ وہ وہ وحشیت اور بربریت کے سفاکانہ طریقے اختیار کیے جو کہ نہ صرف ظلم و ستم کے انتہائی مظاہرات تھے بلکہ وہ انسانیت کے لیے بدنما اور شرمناک دھبے بھی تھے۔ یہ شرمناک اطوار 700ء سے 1757ء تک ننگے طور سے بذریعہ تجارت لوٹ کھسوٹ اور تسلط کی صورت میں ظاہر ہوتے رہے۔ چنانچہ 1766ء میں جماعت ڈائریکٹران نے رپورٹ میں لکھا کہ:

’’ہمارے نزدیک اندرونِ ملک کی تجارت سے جو کثیر دولت حاصل کی گئی ہے وہ انتہائی درجہ کے ظالمانہ اور جابرانہ طریقوں کے استعمال کا نتیجہ ہے اور جس کی نظیر کسی زمانہ اور ملک میں نہ ملے گی۔‘‘

لارڈ کلایو (Lord Clive) کہتا ہے:

’’رشوت خوری اور زیادہ ستانی کا منظر بجز بنگال کے کسی ملک میں دیکھا یا سنا نہیں۔‘‘

لارڈ میکالے لکھتا ہے:

’’اس طریقے سے بے شمار دولت بہت جلد کلکتہ میں جمع ہو گئی۔ درآں حالیکہ تین کروڑ انسان حد درجہ برباد کر دیے گئے۔ بے شک ان لوگوں کو مظالم میں رہنے کی عادت تھی۔ مگر وہ مظالم اس قسم کے نہ تھے۔ کمپنی کی چھوٹی انگلی انہیں سراج الدولہ کے چٹھے سے زیادہ معلوم ہوتی تھی۔‘‘

1762ء میں نواب بنگال نے انگریز گورنر کو مندرجہ ذیل الفاظ لکھے تھے:

’’کمپنی کے ملزمان رعایا اور سوداگروں کا مال چوتھائی قیمت پر لے لیتے ہیں اور اپنے ایک روپیہ کے سامان کی قیمت ان سے پانچ روپے وصول کرتے ہیں۔‘‘

لارڈ میکالے لکھتا ہے:

’’کمپنی کے عیوب میں محض ظلم ہی نہ تھا بلکہ ظلم سے ایسے خراب نتائج پیدا ہوتے تھے جیسا کہ دولت مند بننے کے بے اصول حرص سے پیدا ہوتے ہیں۔‘‘

انہیں کو سر ولیم ڈِگبی (Sir William Digby) پراسپرس برٹش انڈیا (British India Prosperous) میں مندرجہ ذیل الفاظ میں لکھتا ہے:

’’جو کمی 1901ء میں ہمارے طریقہ حکومتِ ہند میں دکھائی دیتی ہے جہاں تک کہ ہندوستانیوں کا تعلق ہے اور جو کچھ غیر معمولی غربت ہندوستانی براعظم میں پھیل رہی ہے وہ ہمارے اس طرزِ حکومت کا نتیجہ ہے جو نیک نیتی سے مگر غلطی سے پہلے شروع کی گئی اور اب تک بحال رکھی گئی وہ اصولِ حکومت تین قسم کے ہیں۔ اول تسلط بذریعہ تجارت یعنی ہندوستان کی دولت اعلانیہ سمیٹنا ننگے طور سے، 1700ء سے 1757ء تک۔‘‘

برطانوی قوم نے ابتداء ابتداء میں اگرچہ ایماندارانہ طریقے پر تجارت کی مگر فروغ ہونے پر وہ انسانیت کی حدود سے نکل کر درندے بن گئے اور جو کچھ نہ کرنا چاہیے تھا کر گزرے۔ یہاں تک کہ اس ہوسِ دولت نے حرصِ ملک گیری اور بادشاہت تک پہنچا دیا۔ اور 1757ء میں انہوں نے بدعہدیوں اور بے وفائیوں کی شرمناک صورت میں پلاسی کی جنگ چھیڑ دی اور غداروں کی ناپاک کارروائیوں کے ذریعے سے کامیاب ہو گئے۔ اب کیا تھا؟ لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم ہو گیا۔ چاروں طرف ظلم و استبداد کا شور مچ گیا، دولت سمیٹنے اور مظالم کا شکار کرنے میں کوئی ظاہرہ بھی حائل نہ تھا۔ ہر چیز پر اپنا قبضہ جما لیا گیا اور ہر طرح پر ہندوستانی خوشحالی اور فارغ البالی کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ دولت کے دریا انگلستان کو بہنے لگے اور افلاس و نکبت کی ہلاک کرنے والی آندھیاں ہندوستان پر چاروں طرف سے آنے لگیں۔

بروکس (Mr. Brooks) اس زمانے کے متعلق کہتا ہے:

’’یہ مالامال خزانے کروڑوں آدمیوں کی صدیوں کی کمائی انگریزوں نے ہتھیا کر لندن اسی طرح بھیج دی جس طرح روم نے یونان اور پولش کے خزانے اٹلی بھیج دیے تھے۔ ہندوستانی خزانے کتنے قیمتی تھے کوئی انسان بھی اس کا اندازہ نہیں کر سکتا۔ لیکن وہ کروڑوں اشرفیاں ہوں گی۔ اتنی دولت اس وقت کی مجموعی یورپین دولت سے بہت زیادہ تھی۔‘‘

سر جان شور کہتا ہے:

’’لیکن ہندوستان کا عہدِ زریں گزر چکا ہے۔ جو دولت کبھی اس کے پاس تھی اس کا جزوِ اعظم ملک کے باہر کھینچ کر بھیج دیا گیا، اس کے قوائے عمل اس بدعملی کے ناپاک نظام نے معطل کر دیے ہیں جس نے لاکھوں نفوس کی منفعت کو چند افراد کے فائدہ کی خاطر قربان کردیا۔‘‘

لارڈ میکالے کہتا ہے کہ:

’’دولت کے دریا انگلستان کو بہتے چلے جاتے تھے۔‘‘

سر جان سیلیون کہتا ہے:

’’ہمارا طرزِ حکومت اسفنج کے مانند گنگا کے دھارے سے ہندوستانیوں کی دولت کو چوس لیتا ہے اور دریائے ٹائمز کے کنارے نچوڑ دیتا ہے۔‘‘

صوبہ بنگال پر تسلط جمانے اور اس کی لوٹ کھسوٹ کے بعد ملک گیری کا مزے دار خون انگلستانی درندوں کے منہ ایسا لگا کہ یکے بعد دیگرے صوبہ جات ہند زیر تسلط لائے جانے لگے اور اس قبضہ اور تسلط میں کسی عہد و میثاق اور کسی قسم کے عدل و انصاف کا لحاظ نہیں رکھا گیا۔ جو کچھ بھی برطانوی اصحابِ اقتدار اور کمپنی کے گورنر اور حکام کر بیٹھیں وہی عدل تھا، وہی حق تھا، وہی رعایا پروری تھی، وہی انسانیت تھی۔ اسی زمانے کے متعلق دوسرے دور کا بیان کرتا ہوا سر ولیم ڈِگبی لکھتا ہے:

’’دوئم تسلط بذریعہ اطاعت بالجبر یعنی ہندوستان انگلینڈ کے لیے ہے۔ آغاز سے انجام تک یہ دور 1758ء سے 1832ء تک رہا۔‘‘

اس دور میں ایک طرف تو کمپنی اور اس کے ملازمین تجارت کرتے اور تاجرانہ حرص و آز کو ہر ہر طرح سے کامیاب بنانے کی کوشش کرتے تھے، اور دوسری طرف وہ مالکانہ اقتدار اور شاہانہ تسلط رکھتے تھے۔ سرجان شور 1787ء میں اپنی ایک یادداشت میں لکھتا ہے:

’’کمپنی کے لوگ ایک طرف تو تاجر اور دوسری طرف وہ حکمراں۔ اول الذکر حیثیت میں وہ ملک کی تجارت پر قابض ہیں اور ثانی الذکر حیثیت میں وہ مالگزاری وصول  کرتےہیں۔‘‘

نتیجہ یہ ہوا کہ ہندوستان بری طرح برباد و تباہ ہوا، اس کے تمام ذخائر چھین لیے گئے، اس کے تمام قدرتی چشمے اپنے تصرف میں لے لیے گئے، اس کی ہر قسم کی رفاہیت اور برتری بدتر بنا دی گئی۔ ان سب کارناموں کی تفصیل آپ حضرات کے سامنے پیش کرنا نہیں چاہتے اور نہ ہم اس مقام میں ان عہود و مواثیق کی تفاصیل لانا چاہتے ہیں جن کو گورنرانِ کمپنی ہندوستانی بادشاہوں اور نوابوں سے اس عرصہ کرتے رہے اور پھر یکے بعد دیگرے توڑتے اور ان کو پامال کرتے رہے۔ تاریخ ان بدعہدیوں اور سیاہ کارناموں سے بھری ہوئی ہے جن کو تاریخِ برطانیہ یا اس کے بڑے بڑے ذمہ دار اشخاص نے مرتب کر کے اعلان کیا اور پھر ان کو نہایت بے حیائی اور چالاکی سے شرمناک طریقہ پر توڑا اور پامال کیا۔

(ماخوذ از خطباتِ صدارت، مطبوعہ مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ)


برصغیر کی غلامی کا پس منظر

ڈاکٹر حافظ مبشر حسین

بحیرہ عرب کے اور بنگال سے لنکا تک کے پرانے تجارتی راستوں کو یورپی قزاقوں کے ہاتھوں ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا تھا۔ یورپی لٹیروں کا مشن یہ تھا کہ عربوں کی تجارت کو ختم کر کے برصغیر اور یورپ کے درمیان براہ راست تجارتی رابطہ قائم کیا جائے اور اپنے ملکوں کی تجارتی ضروریات خود پوری کی جائیں اور خود ہی منافع کمایا جائے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ برصغیر کی مصنوعات کے خریدار زیادہ تر صرف یورپی تاجر ہی رہ گئے تھے۔ اور ساحلی علاقوں کے دست کاروں، بالخصوص بنگال کے دست کاروں کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہ رہا تھا کہ وہ یورپی تاجروں سے رابطہ قائم کریں۔ یورپی کمپنیوں سے تجارت ملک کی معاشی ضرورت بن چکی تھی۔

یورپی تاجروں کو اپنی خریداری کی قوت کا احساس ہو گیا تھا۔ انہوں نے اپنی معاشی طاقت اور مقامی دست کاروں اور تاجروں کی معاشی کمزوری سے پوری طرح فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے کم سے کم قیمت پر مال خریدا بھی اور جب موقع ملا تو تھوڑی سی قیمت دے کر زبردستی چھینا بھی۔ کم سے کم قیمت پر خریدنا تو ہر خریدار کی خواہش ہوتی ہے لیکن اتنی کم قیمت دینا کہ دست کار خود ہی برباد ہو جائے ایک ظالم اور توسیع پسندانہ نظام کے پیدا کردہ گاہک ہی کر سکتے ہیں جنہیں ان کے نظام نے انسانی اقدار سے سراسر عاری کر دیا ہو۔ ۱۷۲۶ء میں میر قاسم نے ایسٹ انڈیا کے گورنر سے کمپنی کے ملازمین کی یوں شکایت کی:

’’کمپنی کے ملازمین ایک چوتھائی قیمت پر مال چھین کر لے جاتے ہیں۔ یہ رعیت پر جبر و تشدد کرتے ہیں۔ پانچ روپے کے مال کا ایک روپیہ دیتے ہیں۔‘‘

میر قاسم کے حساب کی کمزوری بھی ملاحظہ ہو! اسی زمانے میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے ملازمین نے دست کاروں سے ’’آئندہ سودے‘‘ کرنے شروع کیے۔ ان سودوں میں مال کی فراہمی کی تاریخیں اور قیمت درج ہوتی تھی۔ ان سودوں پر دستخط کرانے کے لیے کمپنی کے ملازمین کے ہاتھ میں کوڑے ہوتے تھے اور جبر و تشدد سے ہی اس ’’معاہدہ‘‘ پر عمل کراتے تھے۔ اس طرح دست کاروں کا مال کمپنی کے لیے وقف ہو جاتا تھا۔ وہ کسی اور کو مال نہیں بچ سکتے تھے۔

رفتہ رفتہ ایسٹ انڈیا کمپنی نے اہم ضروریات کی پوری تجارت کو اپنے قبضہ میں لے لیا۔ اس کے بعد اس نے ملکی ٹیکس کی وصولی میں حصہ بٹوایا۔ پھر اس نے مالیہ وصول کرنا شروع کیا۔ اس کے ملازمین نے خود بھی ذاتی تجارت شروع کی اور رشوت اور دوسری بدعنوانیوں کے ذریعے وہ لوٹ مچائی کہ جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ کمپنی کا جبر و تشدد ایک دم شروع نہیں ہوا تھا۔ نوابوں کے سامنے فرشی سلام کرنے والے غیر ملکی تاجر راتوں رات جابر و ظالم استحصالیے نہیں بن گئے تھے۔ اس عمل میں بیسیوں سال لگے اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہا جب تک کہ بنگال و بہار میں معاشی بربادی مکمل نہ ہو گئی، لاکھوں چرخے بند نہ ہو گئے، کھڈیاں خاموش نہ ہو گئیں اور بادشاہوں، نوابوں اور امرا کے خزانے لٹ نہ گئے۔

کمپنی نے تجارتی ظلم اور دھاندلی کے علاوہ دوسرے ذرائع سے بھی کروڑوں روپے کمائے۔ ایسا لگتا ہے کہ جس طرح تجارت انگریزوں کے لیے زندگی و موت کا معاملہ تھی، اسی طرح یہ مقامی نوابوں اور بادشاہوں کی معاشی اور سیاسی ضرورت پوری کرتی تھی۔ مقامی اربابِ حکومت یا ان کے سیاسی حریف انگریزوں سے تجارت جاری رکھنے کے لیے اپنا بہت کچھ انہیں سونپنے کے لیے تیار ہو جاتے تھے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ مراعات یافتہ بندگان عالی ازخود اپنی حکومت انگریز کو دینا چاہتے تھے، یا اپنی حکومت کے تحفظ کے لیے لڑائی نہیں کرتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ انگریز سے تجارت تو قائم رہے، وہ اس کا انتظام کرے اور متعلقہ معاملات خود ہی طے کرے، لیکن سیاسی اقتدار اس کا نہ ہو۔ تاریخی لحاظ سے یہ توقع احمقانہ بھی تھی اور ناممکن بھی۔ حکومت پیداواری نظام قائم رکھنے اور پیداوار کی تجارت کرنے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ سیاسی نظام معاشی نظام کے تابع ہوتا ہے۔ معاشی نظام سیاسی نظام کے تابع کبھی بھی نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا پیداوار اور تجارت کی راہ میں جو چیز بھی حائل ہو اس کو ہٹا دیا جاتا ہے، یہاں تک کہ حکومتوں کو بھی۔

برصغیر کی ساری دریائی اور بسری شاہراہوں پر جگہ جگہ محصول اور ٹیکس وصول کیے جاتے تھے۔ ٹیکس کی وصولی کی کارروائی سے نہ صرف مال کو منزل پر پہنچانے میں دیر ہوتی تھی بلکہ ناجائز وصولیاں بھی کی جاتی تھیں جو منافع میں کمی کا باعث ہوتی تھیں۔ جس طرح آج کل امریکی اور یورپی ٹھیکیدار مقامی حکومت سے بعض ٹیکس معاف کرا لیتے ہیں، اسی طرح ان دنوں انگریز بھی ٹیکس اور محصول معاف کرا لیتے تھے۔ ۱۷۱۷ء میں مغل بادشاہ نے تین ہزار روپے ماہوار کے عوض بنگال، حیدر آباد اور گجرات میں ایسٹ انڈیا کمپنی کو سارے واجب الادا ٹیکس اور دیگر واجبات معاف کر دیے۔ اسی تین ہزار کے اضافے کے عوض کمپنی کو کلکتہ میں اپنے علاقے میں توسیع کرنے کی اجازت دے دی گئی تاکہ وہ مزید کئی دیہات کو انگریز آبادی کے ساتھ ملا لے۔ علاوہ بریں بمبئی میں کمپنی کے جاری کردہ سِکے کو سارے ملک میں رائج الوقت سکہ تسلیم کیا گیا۔

انگریزوں نے تجارتی لوٹ کھسوٹ کے علاوہ روپیہ کمانے اور دولت جمع کرنے کے بے شمار طریقے ایجاد کیے ہوئے تھے۔ لوٹ مار اور وصولی کا کوئی طریقہ ایسا نہ تھا جو کمپنی کے ملازمین نے اختیار نہ کیا تھا۔ کمپنی کے سپاہی جب مقامی نوابوں کی پہرہ داری کرنے جاتے تھے تو وہ بھتہ وصول کرتے تھے جو ان کے خرچ سے بہت زیادہ ہوتا تھا۔ آج کل کے سرکاری ملازمین کی طرح اس وقت کے انگریز ملازمین بھی ’’ٹی اے‘‘ بناتے تھے۔ جب سپاہیوں کو دوسرے علاقوں میں جانا پڑتا تھا تو ڈبل بھتہ ملتا تھا۔ بھتہ نہ صرف سپاہی لیتے تھے بلکہ کمپنی کے بڑے بڑے افسر بھی لیتے تھے، حتیٰ کہ خود گورنر جنرل بھی۔

کمپنی کے ملازمین کی تنخواہیں آسمان سے باتیں کرتی تھیں۔ ۱۷۸۵ء اور ۱۷۹۳ء کے درمیان کمپنی کی انتظامیہ کے اخراجات اڑھائی لاکھ پونڈ سے بڑھ کر سوا نو لاکھ پونڈ ہو گئے تھے۔ ایک ہزار پونڈ ماہوار تنخواہ پانے والے ملازمین کی تعداد خاصی تھی۔ کمپنی کے ملازمین، ڈائریکٹر اور دوسرے سارے چھوٹے بڑے عہدے دار بہت رشوت خور اور بدعنوان تھے۔ انہوں نے انگلستان کی پارلیمنٹ کے بعض بااثر ممبروں کو خرید رکھا تھا۔ ان کا اثر اتنا زیادہ تھا کہ انگلستان کا وزیر اعظم کمپنی کو سرکاری ملکیت میں لینے کے نتائج سے ڈرتا تھا۔ کمپنی کے ملازمین کی تنخواہیں، رشوت، ذاتی تجارت کا منافع اور بھتہ وغیرہ برصغیر سے دولت منتقل کرنے کا ایک ذریعہ تھا۔ یہ ذریعہ قانونی تھا یا غیر قانونی، جہاں تک کہ برصغیر کا تعلق ہے دولت یہاں سے بہرصورت منتقل ہو جاتی تھی۔

اٹھارویں صدی میں انگلستان میں ہندوستان کی ’’سستی مصنوعات‘‘ کے خلاف احتجاج بہت زور پکڑ گیا کیونکہ مقامی نوزائیدہ صنعتوں کو ہندوستانی مال کی درآمد سے بہت نقصان ہو رہا تھا۔ یہ احتجاج دراصل ۱۶۹۶ء میں شروع ہوا تھا جب انگلستان کے دست کاروں نے ہندوستانی اور چینی مصنوعات کی درآمد کے خلاف بلوے کیے تھے۔ احتجاج کا یہ سلسلہ جاری رہا تا آنکہ ۱۷۰۰ء میں ایشیا سے ریشمی کپڑے اور پھول دار سوتی کپڑے کی درآمد پر پابندی عائد کر دی گئی۔ اس سے ہندوستان کے کاری گروں کی اجرتیں بہت کم ہو گئیں اور ان کی غربت میں بہت اضافہ ہو گیا۔ تاہم تجارتی مقابلہ پھر بھی جاری رہا۔ بنگال اور سورت کا سوتی کپڑا اتنا سستا ہوتا تھا کہ انگلستان کے جولاہے مقامی مارکیٹ میں ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے۔

چنانچہ اٹھارویں صدی کے اوائل میں پھر احتجاج ہوا جس کے پیش نظر حکومت نے پہلے تو ہندوستانی کپڑے کی درآمد پر ڈیوٹی لگائی اور پھر ۱۷۲۰ء میں ہندوستانی کپڑا پہننا قانونی طور پر جرم قرار دے دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستانی مصنوعات کی تجارت بند کر کے یہاں سے خام مال دھڑا دھڑ برآمد کرنا شروع کر دیا۔ اس طرح انگلستان کی پارچہ بانی کی صنعت کو بہت ترقی ہوئی اور وہ سوتی کپڑا درآمد کرنے کی بجائے برآمد کرنے لگا۔ ۱۷۸۶ء اور ۱۷۹۰ء کے درمیان انگلستان سے سوتی کپڑے کی برآمد میں پندرہ گنا اضافہ ہوا یعنی سوتی کپڑے کی برآمد بارہ لاکھ پونڈ سے بڑھ کر ایک کروڑ چوراسی لاکھ پونڈ تک پہنچ گئی۔

انیسویں صدی کا آغاز ہوا تو برصغیر کے ساحلی علاقوں میں مقامی تجارت بالکل تباہ ہو چکی تھی اور اس سے زراعت بھی بری طرح متاثر ہوئی تھی۔ مقامی تجارت کی تباہی کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ انگلستان میں صنعتی ترقی کے باعث ہندوستانی مصنوعات کی مانگ نہیں رہی تھی، اور دوسری وجہ یہ تھی کہ ایسٹ انڈیا کمپنی نے بزور قوت اپنی تجارتی اجارہ داری قائم کر لی تھی۔ کمپنی کی دست درازیوں اور فتوحات سے پہلے برصغیر میں مقامی تاجروں کی تعداد بہت زیادہ ہوتی تھی اور خریدار بھی کم نہیں ہوتے تھے۔ مارکیٹ میں انگریز، فرانسیسی، ولندیزی اور دوسرے غیر ملکی گاہک موجود رہتے تھے۔ جوں جوں وقت گزرتا گیا، انگریز کا اثر بڑھتا گیا اور دوسرے غیر ملکیوں کا اثر کم ہوتا گیا۔

بالآخر مارکیٹ میں صرف انگریز رہ گئے اور انگریزوں میں بھی خریدار ایک ہی تھا یعنی ایسٹ انڈیا کمپنی۔ اس کی اجارہ داری کو اس سے بڑی تقویت پہنچتی کہ مال لے جانے والے جہازوں پر بھی اس کی اجارہ داری تھی۔ صرف کمپنی کے جہاز ہی مال اٹھا سکتے تھے۔ اس طرح فروخت کنندہ اور خریدار کا دو طرفہ لین دین نہ رہا بلکہ یک طرف تجارت ہونے لگی، یعنی کہ خریدنے والا حسبِ مرضی جو دام دیتا تھا وہی بیچنے والے کو لینے پڑتے تھے۔ کمپنی کو اجارہ داری سے بہت فائدہ پہنچا۔ چنانچہ اس نے خام مال کی تجارت کے علاوہ بعض دوسری اشیاء کی تجارت کی اجارہ داری بھی حاصل کر لی۔ شورہ، نمک، افیون کی ساری تجارت کمپنی یا اس کے ملازمین کے ہاتھوں میں چلی گئی۔

کمپنی نے دولت جمع کرنے کے دوسرے راستے بھی اختیار کیے۔ اس نے افیون پر ڈیوٹی میں اضافہ کیا اور کاریگروں کو دوسرے یورپیوں کے لیے کام کرنے سے روکا۔ کمپنی نے ایک ایسا معاہدہ بھی کیا جس کی رو سے نمک پر ڈیوٹی ہندوستانی تاجروں سے چالیس فیصد لی جاتی تھی اور انگریزوں سے نو فیصد۔ بعد میں جب مقامیوں کا کاروبار بند ہو گیا تو ڈیوٹی ’’سب‘‘ کے لیے اڑھائی فیصد کر دی گئی، یعنی کہ انگریز تاجروں کو اس مال کی تجارت میں مزید نفع کی گنجائش دے دی گئی۔

تجارت بنگال کی جان تھی۔ جب اندرونی تجارت میں بھی انگریزوں کا دخل ہو گیا اور ان کے ساتھ اندرونی طور پر تجارت کیے بغیر زندگی ناممکن ہو گئی تو قومی زندگی کے ہر شعبے میں ان کا عمل دخل ہو گیا۔ مثلاً‌ مالیہ کی وصولی میں۔ اس سلسلے میں کمپنی کی دلچسپی محض اس کے ملازمین کے حرص اور طمع کی وجہ سے نہیں تھی۔ اس کی اصل وجہ یہ تھی کہ کمپنی کی ہندوستان کے خام مال میں دلچسپی بڑھ گئی تھی۔ انگلستان میں صنعتی دور کی ابتداء ہو چکی تھی۔ وہاں مشینیں ایجاد ہونی شروع ہو گئی تھیں۔ صنعتی خام مال برصغیر میں دستیاب تھا۔ لہٰذا خام مال کی ضرورت نے انگریزوں کو زمین کی طرف متوجہ کیا۔

زراعت کے نظام میں مالیہ کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ غریب کاشت کار کی پیداوار پر جاگیردار لٹیرے اور ان کے اہل کار اس طرح پڑتے تھے جیسے گوشت پر چیلیں۔ زرعی پیداوار پر بہت سے قانونی اور غیر قانونی ٹیکس تھے۔ غیر قانونی ٹیکسوں کا تذکرہ کیا جا چکا ہے۔ کسان سے قانونی طور پر جو کچھ وصول کیا جاتا تھا وہ مالیہ اور بٹائی کے نام پر ہوتا تھا۔ لیکن درحقیقت جو رقم حکومت کے خزانے میں یا ’’مالک‘‘ کی تجوری میں پہنچتی تھی وہ قانونی ٹیکس سے کہیں زیادہ ہوتی تھی۔ کسان ان وصولیوں کے بوجھ تلے بری طرح پس رہا تھا اور زراعت کو نقصان پہنچ رہا تھا۔

کمپنی کو نفع اندوزی کے لیے نہ صرف زرعی پیداوار میں دلچسپی تھی بلکہ وہ مالیہ کی وصولی میں بھی حصہ دار بننے کی خواہش مند تھی۔ چنانچہ شاہ عالم نے کلائیو کے مطالبہ کے پیش نظر بنگال کے نواب کی ’’دیوانی حیثیت‘‘ ختم کر دی اور صوبہ کی دیوانی بطور تحفہ ’’تا ابد‘‘ ایسٹ انڈیا کمپنی کو دے دی۔ شاہ عالم کی یہ بخشش محض کاغذی تھی کیونکہ بنگال کے عوام الناس نے تو پہلے ہی سے شاہی دیوان کو ’’کمپنی صاحب بہادر‘‘ کا نام دے رکھا تھا۔ آج کل بھی ہمارے ہاں کلکٹر اور ڈپٹی کمشنر کے نام کے ساتھ جو ’’صاحب بہادر‘‘ کا لقب لگایا جاتا ہے یہ کلائیو کے ماتحتوں کی بنگال و بہار کی کسان رعیت پر ظلم کی کارروائی میں دکھائی گئی ’’بہادری‘‘ کا ورثہ ہے۔

’’دیوانی‘‘ کے ذمے تین ٹیکسوں کی وصولی تھی۔ اول ’’مال‘‘ یعنی زمین کا مالیہ جس میں نمک کا مالیہ بھی شامل تھا۔ دوئم ’’سیر‘‘ یعنی کسٹم، چنگی، ٹول اور دریا عبوری کے ٹیکس۔ اور سوئم ’’بازی جامہ‘‘ یعنی جرمانے، جائیداد پر ٹیکس اور آبکاری کی وصولیاں۔ دیوانی کے ٹیکسوں کی وصولی کا نظام نہایت پیچیدہ تھا۔ اس کی پیچیدگی سے بھی مخصوص مفادات وابستہ تھے۔ ان کی پیچیدگی کی ذرا سی جھلک آج کل کے پٹواری کردار میں نظر آتی ہے۔ ’’دیوانی دیوانہ بنا دیتی ہے‘‘ اور ’’دیوانی مقدمہ جو جیتا، سو ہارا، اور جو ہارا سو مرا‘‘۔ یہ وہ ضرب الامثال ہیں جو اردو زبان میں پاکستان تک پہنچی ہیں۔ ایسٹ انڈیا کمپنی دیوان بن گئی اور اس نے محمد رضا خان کو نو لاکھ روپیہ سالانہ تنخواہ پر نائب دیوان مقرر کر لیا۔ اس تنخواہ سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دیوانی کی اہمیت کیا تھی۔

جب مغلیہ سلطنت کے زوال کی رفتار میں اضافہ ہوا تو اسی تناسب سے غریب کاشت کاروں پر ظلم و ستم میں بھی اضافہ ہوا۔ جو کچھ ان سے وصول کیا جاتا تھا اس کا بہت کم حصہ قانونی یا جائز ہوتا تھا۔ اور باقی غیر قانونی یا ناجائز کثیر رقم وصول کرنے والوں، اور ان وصول کرنے والوں سے وصول کرنے والوں کی تجوریوں میں جاتی تھی۔ مالیہ اور دوسرے ٹیکسوں کی وصولی کے حقوق جدی پشتی ہوتے تھے۔ یہ لوگ ظلم کرنے میں ماہر ہوتے تھے۔ مالیہ اور بٹائی کی شرحیں بہت زیادہ تھیں۔ اس لیے غریب کسان پر اتنا بوجھ پڑا کہ زرعی پیداوار میں بہت کمی ہو گئی۔ انگریز مورخین لکھتے ہیں کہ زمیندار اور قانون گو کے سینوں میں ساری زمین و ریاست کے ریکارڈ اور ٹیکسوں کی وصولی کے راز سربستہ تھے جن کو افشا کرانے کی کوشش میں بیسیوں سال لگے لیکن پھر بھی پوری طرح سے کامیابی نہ ہوئی۔ کلکٹری کا نظام اور اراضی کا ’’بندوبست‘‘ اس کوشش کا حصہ تھے۔ ۱۷۷۰ء میں مرشد آباد کا انگریز ریذیڈنٹ بیچر لکھتا ہے کہ

’’جب سے کمپنی کے پاس دیوانی آئی ہے عوام کی حالت بد سے بدتر ہو گئی ہے۔ یہ ملک انتہائی جابر سلطانوں کے زمانے میں بھی خوش حال تھا لیکن اب جب سے اس کے نظم و نسق کی ذمہ داری انگریزوں پر عائد ہوئی ہے یہ مکمل تباہی و بربادی کی طرف جا رہا ہے۔‘‘

ایسٹ انڈیا کمپنی نے برصغیر میں جو لوٹ مچائی اس میں لندن کی حکومت حصہ دار تھی۔ ۱۷۶۷ء کے بعد کمپنی لندن میں اپنی حکومت کو سالانہ چار لاکھ پونڈ ادا کرنے کی ذمہ دار تھی۔ یہ ادائیگی حکومت کی امداد سے بنگال و بہار پر قبضہ کرنے کے عوض میں ہوتی تھی۔ ذمہ دار انگریز لکھتے ہیں کہ اس طریقے سے انگلستان کی حکومت ہندوستان کی لوٹ مار میں حصہ دار بنی اور اس نے وہاں اپنے ریاستی حقوق منوائے۔

جن علاقوں سے انگریزوں کو بنگال کی طرح کا تجارتی فائدہ نہیں ہوتا تھا وہاں ان کی آمدنی کا ایک ذریعہ سود بھی ہوتا تھا۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ کرناٹک میں انگریزوں نے بظاہر کرائے کے فوجیوں کی حیثیت سے مقامی نواب کے لیے فرانسیسیوں سے لڑائی لڑی۔ نواب کے پاس اس لڑائی کے اخراجات پورے کرنے کے لیے پیسے نہیں تھے اس لیے پیسے انگریزی کمپنی کے ’’ملازمین‘‘ نے دیے۔ جب لڑائی ختم ہوئی تو نواب پر بائیس لاکھ روپے کا قرضہ تھا۔ سود پہلے تو تیس سے چھتیس فیصد سالانہ تھا لیکن بعد میں پچیس فیصد کر دیا گیا اور پھر پانچ سال بعد مزید کم کر کے دس فیصد کر دیا گیا۔

۱۷۸۳ء میں ایڈمنڈ برک نے، جو انگلستان کی پارلیمنٹ کا ایک بہت بڑا مقرر تھا اور عام طور پر صلح صفائی کی تلقین کرتا رہتا تھا، ایک تقریر کی جو بہت مشہور ہوئی۔ اس تقریر میں اس نے کہا:

’’تاریخ عالم میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکومت سے زیادہ رشوت خور اور تباہی خیز آمریت کی مثال نہیں ملتی۔ کوئی بادشاہ، نواب، یا نواب زادہ بڑا یا چھوٹا، ایسا نہیں ہے جو ہم سے ہندوستان میں ملا ہو اور ہم نے اسے بیچ نہ دیا ہو۔ ہم نے کوئی ایسا معاہدہ نہیں کیا جو توڑا نہ ہو اور کوئی نوابی یا ریاست ایسی نہیں ہے کہ جس نے ہم پر اعتبار کیا ہو اور ہم نے اسے برباد نہ کیا ہو۔‘‘

کمپنی کے ملازمین کے متعلق برک نے کہا:

’’طمع اور لالچ سے بھرپور، جوانی کے نشے میں ان کا ایسا تانتا بندھا ہوا ہے جیسے ایک کے پیچھے دوسری لہر آتی ہے۔ ہندوستانیوں کے لیے یہ لٹیروں کا لامتناہی سلسلہ چیلوں اور گدھوں کے غولوں کی طرح ہے جو ایسے مردہ شکار کے لیے آرہے ہیں جس کا گوشت پوست ختم ہوتا جا رہا ہے۔ ان کا شکار انگلستان آجاتا ہے اور ہندوستانیوں کی آہ و بکا اور نالہ و فریاد اس برساتی نالے کی طرح ہے جو سمندر میں جا کر ختم ہو جاتا ہے۔ کیا تم یقین کرو گے کہ ہمارے ان جوان سال ملازمین کا رویہ بادشاہوں کی طرح ہے؟ اگرچہ ان کے عہدوں کے نام سپروائزر، کلکٹر اور جج وغیرہ ہیں لیکن عملاً یہ جابر بادشاہ ہیں۔‘‘

انگریز لٹیرے تجارت اور قزاقی کے لیے آئے تھے۔ یہ سمندروں کے مالک تھے۔ سمندر میں ان کے سامنے کوئی طاقت نہیں ٹھہر سکتی تھی۔ انہیں جب دوسری قوموں کے بحری جہاز ملتے تھے تو وہ فوراً‌ لوٹ لیتے تھے۔ انہوں نے خشکی پر شروع میں ’’مراعات‘‘ حاصل کیں۔ جب تک مقامی حکمرانوں کے لیے بیرونی تجارت کی ضرورت نے معاشی دباؤ کی صورت اختیار نہیں کی تھی اس وقت تک ’’مراعات‘‘ ان کے رحم و کرم پر تھیں۔ رفتہ رفتہ بیرونی تجارت کی ضرورت نے معاشی دباؤ کی صورت اختیار کر لی تو مقامی سیاسی حکمران بیرونی خریداروں کے رحم و کرم کے متمنی ہو گئے۔ بادشاہوں اور نوابوں کے روبرو کورنش بجا لا کر تحفے پیش کرنے والے دیکھتے ہی دیکھتے نوابوں کے سرپرست اور بادشاہ کے محافظ بن گئے۔ سراج الدولہ کی شکست کے بعد جب میر جعفر کو ’’نواب‘‘ بنایا گیا تو اس نے کمپنی کو پندرہ لاکھ پونڈ دیے۔ اس رقم میں کلائیو کا ذاتی حصہ بھی تھا۔

ایک اندازے کے مطابق کمپنی اور اس کے ملازمین نے ۱۷۵۷ء سے ۱۷۸۰ء تک بنگال سے تقریبا" چالیس لاکھ پونڈ سٹرلنگ انگلستان بھیجے تھے۔ اس رقم میں میر جعفر اور میر قاسم کو بنگال کے تخت پر بٹھانے کی تقریبا" پچاس لاکھ روپیہ فیس بھی شامل تھی۔ ۱۷۶۵ء میں جب کمپنی نے بنگال و بہار کی دیوانی حاصل کر لی تو اس نے مالیہ کی ساری رقم سونے یا تجارتی مال کی صورت میں انگلستان بھیجنی شروع کر دی۔

انگریزوں نے پہلے تو غریبوں کو لوٹا۔ غریب تباہ ہوئے تو ان کے نواب بھی تباہ ہو گئے۔ پرجا تباہ ہوئے تو راجہ کیسے سلامت رہ سکتا تھا۔ نواب تباہ ہوئے تو ’’سونے کی چڑیا‘‘ ایڈمنڈ برک کے بقول ’’چیلوں اور گِدھوں‘‘ کا لقمہ بن گئی۔ بنارس کے راجہ چیت سنگھ، بیگمات اودھ، فیض اللہ خان اور دوسرے نوابوں اور مہاراجوں کو جس طرح لوٹا گیا اس کے قصوں سے تاریخ کے صفحات بھرے پڑے ہیں۔ ان میں سے بعض ’’وارداتیں‘‘ انگریزی عدالتوں اور پارلیمانی تفتیشوں کا مواد بھی بنیں۔ تاہم کمپنی کی لوٹ کی منتقلی کا سلسلہ اس وقت بند ہوا جب بقول شاعر

’’رہا کھٹکا نہ چوری کا دعا دیتا ہوں رہزن کو‘‘

۱۷۷۲ء میں انگریزوں کے زیر تسلط کئی علاقے تھے۔ بمبئی تھا جو انگریز بادشاہ سلامت کی ملکیت تھا۔ اسے یہ شہر پرتگال سے جہیز میں ملا تھا۔ بنگال میں انگریزوں کے پاس مدناپور، بردوان اور چٹاگانگ تھے۔ انہیں ان کا مالیہ معاف تھا۔ کلکتہ اور چوبیس پرگنہ کے علاقے میں کمیٹی کی حیثیت ’’زمیندار‘‘ کی تھی۔ نواب اس سے مالیہ وصول کرتا تھا۔ بنگال، بہار اوڑیسہ کے علاقے ایسے تھے جن کی ’’دیوانی‘‘ کمپنی نے حاصل کر رکھی تھی۔ مدراس میں انگریزوں کے محدود حقوق تھے جو انہوں نے ایک معاہدے کے تحت مقامی راجہ سے حاصل کیے تھے۔ اگلے ستر اسی سال میں کمپنی رفتہ رفتہ پورے ہندوستان کی مالک بن گئی۔ اتنے وسیع و عریض برصغیر پر کمپنی کی فتوحات کے مفصل ذکر کی ضرورت نہیں۔ البتہ اتنا ذکر غیر مناسب نہیں ہو گا کہ ۱۷۷۵ء میں کلائیو نے یہ رائے ظاہر کی تھی کہ مغلیہ سلطنت اس کے ہاتھ میں ہے اور برصغیر میں کوئی طاقت ایسی نہیں جو اس کا مقابلہ کر سکے۔ کلائیو کو یہ یقین تھا کہ فرانسیسی، ولندیزی یا کوئی بھی دوسری یورپی طاقت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی حیرت انگیز آسانی سے پورے برصغیر پر حاوی ہو گئی۔

سائنسی تجزیہ کیا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہندوستان کی غلامی کی بنیادی وجہ ملک کے معاشی زوال میں مضمر تھی۔ اورنگ زیب کے انتقال کے بعد اس کے بیٹوں میں خانہ جنگی ہوئی تو برصغیر کے سیاسی اتحاد کا شیرازہ بکھر گیا تھا۔ بہت سے شہزادوں، نوابوں، راجوں اور مہاراجوں نے دہلی سے ناطہ توڑ کر آزاد ریاستیں قائم کر لی تھیں۔ مہاراشٹر میں مرہٹے اور پنجاب میں سکھ طاقتور اور آزاد ہو گئے تھے اور جنوب میں حیدر آباد، میسور، کرناٹک کی آزاد ریاستیں قائم ہو گئی تھیں۔

اس طوائف الملوکی کی اصل وجہ یہ تھی کہ مغلوں نے جو جاگیر دارانہ نظام قائم کیا تھا، اس میں کوئی ترمیم و اصلاح نہ ہونے کے باعث اس کے پرخچے اڑ گئے تھے۔ ہر طرف سیاسی لاقانونیت اور معاشی افراتفری کا دور دورہ تھا۔ دیہاتی علاقوں میں کسان بغاوتیں کر رہے تھے اور شہروں میں لوٹ مار مچی ہوئی تھی۔ انگریزوں نے اس صورت حال میں دو تین اندرونی تضادات سے فائدہ اٹھایا۔ غریب کسانوں اور جاگیرداروں کے درمیان تضاد نے معاندانہ صورت اختیار کر لی تھی اور اس طرح جاگیرداروں کا اقتدار بہت کمزور ہو چکا تھا۔ دہلی کی مرکزی حکومت کمزور ہونے کے باعث علاقائی منصب داروں کے باہمی تضاد نے بہت شدت اختیار کر لی تھی اور وہ ایک دوسرے کے علاقے کو ختم کرنے کے لیے آپس میں لڑتے تھے۔ نیز تاریخی وجوہ کی بنا پر ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان تضاد کی نوعیت بھی دشمنانہ ہو گئی تھی۔

ایسٹ انڈیا کمپنی نے انڈونیشیا میں ولندیزیوں کے طریقے پر عمل کرتے ہوئے پہلے تو ہندوستانی سپاہیوں کی فوج بھرتی کی اور پھر متذکرہ تضادات سے فائدہ اٹھا کر پورے برصغیر کو ہندوستانیوں ہی کے ذریعے فتح کر لیا۔

یہ فتح عیسائیت کی فتح نہیں تھی بلکہ یہ فتح اس بورژوا جمہوری انقلاب کی فتح تھی جو سترہویں صدی میں انگلستان میں آچکا تھا۔ یہ شکست اسلام کی شکست نہیں تھی بلکہ اس جاگیرداری نظام کی شکست تھی جس نے حالات کے ساتھ بدلنے سے انکار کر دیا تھا اور جو ہر تبدیلی اور ترقی کی راہ میں حائل تھا۔ اس شکست میں تجارت کے زوال کا بھی بڑا حصہ تھا۔ بحیرہ عرب اور خلیج بنگال کے راستے کٹ جانے کے بعد انگریزوں کے ہاتھ میں تجارت کی اجارہ داری آگئی تھی، اور ان کے تعلقات براہ راست ہندوستان کی پیداواری طاقتوں یعنی دست کاروں اور کسانوں سے قائم ہو گئے تھے۔ جن علاقوں میں یہ تعلقات زیادہ بڑھے ان علاقوں کا سیاسی ڈھانچہ سب سے پہلے زمین پر آگرا۔ جن علاقوں سے انگریزوں کے تجارتی تعلقات نہیں تھے وہ انگریزوں کی جھولی میں سب سے آخر میں پڑے۔

مغلوں کے زوال پذیر جاگیردارانہ نظام اور انگریزوں کے ترقی پذیر صنعتی نظام کے درمیان تصادم میں اول الذکر کی ہار اور ثانی الذکر کی جیت ناگزیر تھی اور ایسا ہو کر رہا۔ نئے اور پرانے نظاموں کی ٹکر کے نتیجے میں معاشرت، ثقافت اور سیاست میں بنیادی تبدیلیاں آئیں۔ جاگیردار اور امراء اور ان کی رعیت کے درمیان، مراعات یافتہ مسلمان اقلیت اور محکوم ہندو اکثریت کے درمیان، ٹیکس وصول کرنے والی نوکر شاہی اور ٹیکس دینے والے عوام الناس کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا اور اس بنا پر ایک نئے معاشرتی عمل نے جنم لیا۔

برصغیر کے غریب عوام الناس کے لیے نئے حکمرانوں کا آنا کوئی بڑی بات نہیں تھی۔ قبل از میں بادشاہ اور صوبائی حکمران اکثر بدلتے رہتے تھے۔ لیکن معاشی نظام پرانا ہی رہتا تھا اور عوام الناس کی زندگی درہم برہم نہیں ہوتی تھی۔ انہیں معلوم نہ تھا کہ انگریز کا آنا محض ایک دوسرے بادشاہ کا آنا نہیں تھا۔ انگریز کے آنے کا نتیجہ معاشی نظام کی تبدیلی کی صورت میں نکلا اور یہ تبدیلی ہی برصغیر میں دوسری کئی قسم کی تبدیلیوں کی وجہ بنی۔

اگر نادر شاہ یا احمد شاہ ابدالی ہندوستان میں مغلوں اور مرہٹوں کی جگہ خود تخت پر بیٹھ جاتے تب بھی ایسٹ انڈیا کمپنی کے وجود سے جو معاشی تبدیلی شروع ہوئی تھی، اس کے دور رس سیاسی نتائج نکلتے، کیونکہ پرانے معاشرتی و معاشی نظام کی تباہی کے باعث سیاسی غلامی برصغیر کا مقدر بن چکی تھی۔ البتہ یہ ممکن تھا کہ برصغیر کی معاشی اور سیاسی شکست اس انداز میں نہ ہوتی جیسے کہ ہوئی، بلکہ اس طرح ہوتی جیسے کہ انیسویں صدی میں چین کی مانچو سلطنت کی ہوئی تھی۔

جب برصغیر کی دست کاری کی مصنوعات کی منڈیاں انگلستان کے صنعتی انقلاب کی وجہ سے غائب ہو گئیں، جب ہندوستان زرعی پیداوار کا درآمدی ملک بن گیا، اور جب یہ وسیع و عریض ملک چھوٹے سے انگلستان کے صنعتی مال کی منڈی بن گیا تو اس کی پس ماندگی یقینی ہو گئی۔ اس کے لیے اٹھارویں اور انیسویں صدی کے صنعتی انقلاب اور سرمایہ داری نظام پر مبنی ہمہ جہت ترقی کی گاڑی نکل چکی تھی۔

انگریزوں کی آمد سے پہلے روئی اور خام ریشم اور دوسری زرعی اشیاء دست کاروں کے ہاتھوں فروخت ہوتی تھیں اور ان سے تیار کردہ مال باہر بھیجا جاتا تھا۔ انگریزوں کے لیے خام مال کی منڈی بننے کے بعد مقامی معیشت نے یہ صورت اختیار کی کہ ہندوستان میں صرف خام مال پیدا کیا جائے اور اسے انگلستان بھیجا جائے اور انگلستان سے صنعتی مال درآمد کیا جائے۔ پہلا نظام اس نئے نظام سے ایسے ہی مختلف تھا جیسے گھوڑا گاڑی سٹیم انجن سے مختلف ہوتی ہے، یا جیسے تلوار رائفل سے مختلف ہوتی ہے۔ جس سیاسی طاقت نے دوسرا نظام پہلے نظام پر ٹھونسا، وہ سٹیم انجن اور رائفل کی طاقت تھی، تلوار اور گھوڑا گاڑی اس کے مقابلے میں نہیں ٹھہر سکتے تھے۔

(ماخوذ از ’’شاہراہِ انقلاب‘‘)

بنگال کا آخری مسلمان فرمانروا نواب سراج الدولہ شہید

شاہکار اسلامی انسائیکلوپیڈیا

اصل نام مرزا محمد تھا۔ اس کے نانا نواب علی وردی خان نے جو ان دنوں بنگال، بہار اور اڑیسہ کے ناظم اعلیٰ تھے، انہیں سراج الدولہ کا لقب دیا جس کے بعد وہ اپنے نام کی بہ نسبت لقب سے زیادہ مشہور ہوا۔ اس کی تعلیم و تربیت نہایت خوبصورت اور بہترین انداز سے ہوئی۔ نواب وردی علی خان کا اپنا کوئی بیٹا نہیں تھا اس لیے اس نے سراج الدولہ کی اپنی اولاد کی طرح پرورش کی۔

۱۱۶۱ھ / ۱۷۴۸ء میں سراج الدولہ کے باپ کو دربھنگے کے پٹھانوں نے مار دیا جس کے بعد علی وردی خاں نے اسے بہار کا ناظم مقرر کر دیا اور مرنے سے پہلے ہی سراج الدولہ کی ولی عہدی کا اعلان بھی ۹ اپریل ۱۷۵۶ء کو کر دیا۔

نواب علی وردی خان کی وفات کے بعد سراج الدولہ تخت نشین ہوتے ہی اپنے چچا صولت جنگ کے بیٹے شوکت جنت پر حملہ کرنے کے لیے تیار ہوا۔ شوکت جنگ ان دنوں پورینہ کا فوج دار تھا اور خود کو بنگال، بہار اور اڑیسہ کا ناظم سمجھتا تھا لیکن انگریز نے شوکت جنگ کی پشت پناہی کی، جس کے باعث سراج الدولہ نے فورٹ ولیم کی جانب ہی رجوع کیا۔ اس وقت تک یورپین لوگوں کو بنگال میں اپنے مقبوضہ علاقوں کی قلعہ بندی کا حق نہیں تھا۔ لیکن انگریزوں نے کلکتے کے قلعہ کو اپنے قبضہ میں لانے کے بعد وہاں فوجی نوعیت کے سخت انتظامات جاری رکھے۔ انہی دنوں ڈھاکہ کے دیوان کے بیٹے کرشن داس کو بھی انگریزوں نے اپنی پناہ میں رکھا ہوا تھا۔ حالانکہ اس پر سرکاری خزانہ سے ۵۳ لاکھ روپیہ خرد برد کرنے کا الزام تھا۔

نواب سراج الدولہ نے اس موقع پر فورٹ ولیم کے گورنر کے پاس اپنا ایلچی بھیجا اور مطالبہ کیا کہ فورٹ ولیم کونسل قلعہ بندی میں مزید اضافہ فوری طور پر روک دے، ’’مرہٹہ خندق‘‘ جو شہر کے اردگرد تیار کی گئی ہے، اسے بند کر دے اور کرشن داس کو واپس بھیج دے۔ لیکن انگریزوں نے اس کے یہ تینوں مطالبات ماننے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد نواب نے ہگلی کی بندرگاہ سے انگریزوں کے جہاز روانہ ہونے پر پابندی لگا دی اور فوج کے ایک دستے کو قاسم بازار فیکٹری کا محاصرہ کرنے کے لیے بھیج دیا جس نے اپنا کام احسن طریقے سے انجام دیا۔

۳ جون کو نواب سراج الدولہ خود بھی ہگلی کی بندرگاہ کے پاس پہنچ گیا۔ چنانچہ ورلبھ رام نے ولیم واٹس کو نواب کے سامنے پیش ہونے کے لیے خط لکھا جس کے بعد وہ سراج الدولہ کے پاس حاضر ہوا۔ نواب نے انگریزوں کی روش پر اسے سرزنش کی۔ اس پر واٹس نے مصالحانہ اختیار کیا اور نواب کے تمام مطالبات مان لیے۔ لیکن کمپنی نے ان مطالبات کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور ڈریک نے فوج کو تیار کر کے سکھ ساگر اور قلعہ تھانہ کی طرف بھیج دیا۔ اس فوج نے دونوں جگہ نواب کی فوجوں سے شکست کھائی۔

اس کے بعد ۱۶ جون کو نواب خود تیس ہزار سپاہیوں کی معیت میں فورٹ ولیم کے سامنے آگیا۔ دونوں فوجوں میں زبردست معرکہ ہوا۔ انگریزی دستے پسپا ہوئے اور انگریزوں نے اپنے بیوی بچوں کو جہاز پر سوار کرا کر فرار کرا دیا۔ خود ڈریک بھی بھاگ نکلا۔ اس کے بعد ڈریک کی جگہ ہال ویل نے لے لی، اور نواب کے ساتھ صلح کرنے کا اعلان کر دیا۔

چنانچہ ۲۰ جون کو انگریزوں کی تمام فوج نے ہتھیار ڈال دیے۔ اس طرح نواب سراج الدولہ کی فوجیں بآسانی فورٹ ولیم میں داخل ہو گئیں۔

فورٹ ولیم کی فتح حاصل کر چکنے کے بعد ۱۶ اکتوبر ۷۵۶اء کو سراج الدولہ نے راجہ رام نرائن کی مدد سے شوکت جنگ کو منہاری کے مقام پر شکست دی۔ اس جنگ میں شوکت جنگ مارا گیا۔ اس کے بعد سراج الدولہ کی فوجوں نے کلکتہ اور پورنیہ کا علاقہ بھی فتح کر لیا لیکن اندرونی اور بیرونی دشمنوں نے اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں۔ اسی دوران مدراس سے کرنل کلائیو اور واٹسن بری اور بحری فوج لے کر مختلف علاقوں پر قبضہ کرنے لگے۔ راجہ مانک رام نے بھی انگریزوں کے خلاف مزاحمت نہ کی۔ اس طرح انہیں کلکتہ پر قبضہ کرنے میں آسانی ہو گئی۔ جب نواب نے کلکتہ کا رخ کرنا چاہا تو میر جعفر، ورلبھ رام اور جگت سیٹھ جیسے غداروں نے انگریزوں کو خفیہ پیغامات پہنچانے شروع کر دیے۔ دوسری جانب سے احمد شاہ ابدالی کے حملے کی اطلاع بھی نواب کو پریشان کرنے کے لیے کافی تھی۔

چنانچہ نواب سراج الدولہ نے فروری ۱۷۵۷ء کو معاہدہ علی نگر پر دستخط کر دیے جس کی رو سے بنگال کے تمام مقبوضات دوبارہ کمپنی کو واپس مل گئے، اس کے علاوہ تاوان کے طور پر انگریزوں کو سکہ سازی اور قلعہ بندیوں کے حقوق بھی دے دیے۔ لیکن اس کے باوجود یہ صلح عارضی ثابت ہوئی اور پانچ ماہ کے بعد ہی یہ معاہدہ ختم ہو گیا۔ اس زمانے میں یورپ میں جنگ شروع ہو چکی تھی جو سات سال تک جاری رہی۔ انگریزوں نے نواب کی مرضی کے خلاف فرانسیسی مقبوضات پر خود قبضہ کرنا شروع کر دیا۔ اس کے بعد کچھ فرانسیسی نواب کے پاس پناہ کے لیے آگئے۔ جنہیں انگریزوں نے واپس مانگا، نواب نے انہیں دینے سے انکار کر دیا۔

اس دوران میں انگریزوں نے میر جعفر سے سازباز مکمل کر لی تھی۔ چنانچہ نواب کے ساتھ انگریزوں کی جنگ تقریباً‌ ناگزیر ہو چکی تھی اور ۱۳ جون کو کلائیو نے شمالی علاقوں پر حملہ کر بھی دیا۔ نواب سراج الدولہ نے کسی مزاحمت کے بغیر قتوہ انگریزوں کے حوالے کر دیے۔ نواب نے بھاگیرتی ندی کے پاس ہی ۵۰ ہزار پیدل، ۱۸ ہزار سوار فوج، پچاس توپوں کے ساتھ پڑاؤ ڈالے ہوئے تھا۔ فوج کا بیشتر حصہ غدارِ اعظم میر جعفر کے ماتحت تھا۔ نواب نے انگریزوں کی فوج کو گھیرے میں لے لیا لیکن گھیرے میں رہنے والی فوج میر جعفر کے ساتھ تھی جو خفیہ طور پر انگریزوں سے مل چکا تھا۔ اس لیے جنگ شروع ہوتے ہی بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ نواب کا معتمد اور حقِ نمک ادا کرنے والا ساتھی میر مدن لڑتے لڑتے شہید ہو گیا۔ شام تک نواب کو میر جعفر کی غداری کا بھی علم ہو گیا تھا، چنانچہ وہ اپنی جان بچا کر وہاں سے بھاگ نکلا اور مرشد آباد پہنچ گیا۔ میر جعفر نے انگریزوں کا استقبال کیا اور پلاسی کی یہ مشہور جنگ اپنے بھیانک انجام کو پہنچی۔ اس لڑائی کے بعد میر جعفر نے نواب سراج الدولہ کو گرفتار کر کے نہایت اذیتیں دے کر شہید کر دیا۔

(ماخوذ از شاہکار اسلامی انسائیکلوپیڈیا)


ایسٹ انڈیا کمپنی کی یلغار کے سامنے آخری چٹان: سلطان ٹیپو شہیدؒ

شاہکار اسلامی انسائیکلوپیڈیا

(۲۰ ذی الحج ۱۱۶۳ھ / ۲۰ نومبر ۱۷۵۰ء — ۲۹ ذی قعدہ ۱۲۱۳ھ / ۴ مئی ۱۷۹۹ء) 

ہندوستان کی سلطنت میسور کا آخری فرمانروا شیر میسور نواب حیدر علی کا بیٹا۔ تحریک آزادئ ہندوستان کا پہلا شہید۔ دیون ہلی کے مقام پر پیدا ہوا۔ والدہ کا نام فاطمہ فخر النساء تھا۔ حیدر علی نے نرینہ اولاد کی آرزو میں آرکاٹ کے مشہور بزرگ ٹیپو مستان دلی کے مزار پر دعا مانگی تھی۔ اس لیے بیٹے کا نام اسی بزرگ کے نام پر رکھا۔ کہا جاتا ہے کہ ٹیپو کا اصل نام فتح علی تھا، لیکن تاریخ سے اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ اس کا نام فتح علی تھا یا اس کی کنیت ابوالفتح تھی۔ البتہ اس کے ایک بیٹے کا نام فتح حیدر ضرور تھا۔

’’تاریخِ حمید خان‘‘ کے مصنف محب الحسن خان کی روایت کے مطابق ۱۷۶۷ء میں نظام دکن نے ٹیپو کو ’’فتح علی خان بہادر‘‘ کا خطاب دیا تھا۔ ’’نشانِ حیدری‘‘ کے مولف حسین کرمانی کے بقول حیدر علی نے ایک وفد ٹیپو کی سرکردگی میں دکن روانہ کیا تھا جہاں ٹیپو کو ’’نصیب الدولہ‘‘ کا خطاب ملا۔

بچپن ہی سے ٹیپو جری، محنت کش اور صاحبِ لیاقت تھا۔ اسلامی علوم کے علاوہ عربی، فارسی، انگریزی، فرانسیسی، اردو، تامل، کمنٹری جیسی زبانوں پر بہت جلد عبور حاصل کر لیا۔ نیز اس زمانے کے فنونِ سپہ گری شمشیر زنی تیر افگنی، نیزه بازی تفنگ اندازی، تیرا کی وغیرہ میں بھی کما حقہ مہارت حاصل کر لی تھی۔ اور سنِ بلوغ تک پہنچتے پہنچتے ٹیپو سلطان حرب و ضرب کے آداب اور رزم و پیکار کے انگریزی طریقوں سے بھی واقف ہو چکا تھا۔

۱۷۶۵ء میں ٹیپو سلطان فوجی زندگی میں پہلی بار ہمارے سامنے آتا ہے جب وہ حیدر علی خان کے ساتھ مالابار پر حملہ آور ہوتا ہے۔ یہاں اس نے صرف دو تین ہزار سپاہیوں کے ساتھ دشمن کے ایک بڑے لشکر کو حراست میں لے لیا، جس پر حیدر علی نے خوش ہو کر اسے اپنی محافظ فوج میں شامل کر لیا اور جاگیر عطا کی۔

۱۹ جون ۱۷۶۷ء کو ٹیپو سلطان مدراس اور اس کے مضافات پر چھاپے مار رہا تھا۔ اس وقت انگریز پہلی بار میسور میں حیدر علی پر حملہ آور ہوئے تھے۔ یہاں سے وہ واپس لوٹتے ہوئے ترماپور اور دانم باڑی کی تسخیر میں والد کا ہاتھ بٹاتا رہا۔ نیز آبنور کے محاصرے میں بھی شریک رہا۔

جب انگریزوں نے منگلور (بندر کوٹریال) پر قبضہ کر لیا تو ٹیپو سلطان کو ان کے مقابلے کے لیے بھیجا گیا۔ اس کے پیچھے پیچھے حیدر علی بھی وہاں پہنچا۔ یہاں انہوں نے عجب چال چلی۔ بیگار میں پکڑے بیس ہزار افراد کو لکڑی کی بندوقیں دے کر انگریزی توپ خانے کے سامنے کھڑا کر دیا اور خود ٹیپو سلطان مورچوں پر حملہ آور ہوا۔ اس محاذ پر فتح یابی کے بعد حیدر علی مدراس کی طرف روانہ ہو گیا اور ۴ اپریل ۱۷۶۹ء کو حکومتِ مدراس کو صلح نامہ پر مجبور کر دیا۔ اس سے دیسی ریاستوں میں کمپنی کا وقار گر گیا اور انہوں نے خود کو مضبوط اور مستحکم محسوس کیا۔

حیدر علی انگریزوں سے نمٹ کر واپس آیا تو مرہٹہ فوجیں ترمبک راؤ کی قیادت میں میسور کے دروازوں پر دستک دے رہی تھیں۔ ساونور اور کڑپہ کے سردار بھی ان کے ساتھ تھے۔ اس مرحلے پر ٹیپو سلطان کو حکم ملا کہ وہ مرہٹوں کی رسد کو تباہ کرے۔ چنانچہ اس نے مرہٹوں کے عقب میں موجود تمام کنوؤں اور تالابوں میں زہر ڈلوا دیا اور کھیت رونڈ ڈالے۔ اب حیدر علی نے بھی مرہٹوں کے عقب پر چھاپہ مارنا چاہا۔ مرہٹوں کو اس کا علم ہو گیا اور انہوں نے پلٹ کر جنگ شروع کر دی۔ مشیروں کی رائے کے خلاف حیدر علی سرنگا پٹم کی طرف فرار ہو گیا۔ اس افراتفری میں ٹیپو اپنے باپ سے جدا ہو گیا جس سے مرہٹوں نے فائدہ اٹھایا اور ٹیپو کی گرفتاری کا اعلان کر دیا جبکہ حقیقت اس کے برعکس تھی۔ ٹیپو دو دن جانثاروں کے ساتھ بھیس بدل کر سرنگا پٹم پہنچ گیا اور دونوں باپ بیٹا ایک ماہ تک وہاں محصور رہے۔ ترمبک راؤ تینتیسویں دن محاصرے سے تنگ آگیا اور وہاں سے اٹھ کر نجاور کی طرف چلا گیا۔

۱۷۷۲ء میں مرہٹوں کے پیشوا مادھو راؤ کی وفات کے بعد دربار پونا کی اندرونی کشمکش سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حیدر علی نے دریائے تنگ بھدر اور کرشنا کے درمیانی علاقے مرہٹوں سے چھین لیے۔ ان میں اکثر مہمات میں ٹیپو بھی شریک رہا۔

۱۷۸۰ء میں انگریزوں سے دوبارہ جنگ چھڑ گئی۔ حیدر علی اور سلطان ٹیپو نوے ہزار فوج کے ساتھ کرناٹک جا پہنچے۔ انگریز سپہ سالار ہیکٹر منرو کانجی ورم پہنچ کر کرنل بیلی کا انتظار کر رہا تھا جو سامانِ رسد و اسلحہ کے ساتھ گستور سے آرہا تھا۔ ٹیپو سلطان کو بہلی پر حملہ کرنے کے لیے بھیجا گیا۔ سلطان نے بیلی کو کانجی ورم سے پندرہ میل پرے بری طرح شکست دے کر قید کر لیا۔ بیلی کی شکست کے بعد اعتراف کیا گیا کہ یہ شدید ترین ضرب تھی جو ہندوستان میں انگریزی قوت پر لگی۔

ادھر حیدر علی نے منرو پر حملہ کرنے کے بجائے آرکاٹ کا محاصرہ کر لیا۔ ٹیپو بھی مدد کو پہنچا اور شہر فتح ہو گیا۔ پھر ٹیپو سلطان آبنور اور بعض دوسرے قلعے مسخر کر کے اگست ۱۷۸۱ء میں واپس آرکاٹ پہنچا۔ جہاں سے ۱۷۸۲ء میں اسے نجاور بھیج دیا گیا۔ یہاں اس نے کرنل بریتھویٹ کو شکست فاش دی۔

عقب سے خبر ملی کہ انگریزی فوجیں ساحل مالابار پہنچ رہی ہیں۔ چنانچہ سلطان فوراً‌ پلٹا اور پال گھاٹ کا محاصرہ کر لیا۔ انگریز اس کے پہنچنے سے پہلے ہی پال گھاٹ خالی کر کے پونانی پہنچ گئے۔ ٹیپو سلطان نے پونانی کا بھی محاصرہ کر لیا مگر ابھی وہ حملہ نہ کر پایا تھا کہ حیدر علی کے انتقال کی خبر ملی۔

حیدر علی نے ۷ دسمبر ۱۷۸۲ء کو وفات پائی۔ سرداروں نے فوراً‌ مہا مرزا خان کو ٹیپو سلطان کی طرف بھیج دیا اور میت کو غسل دے کر تابوت میں رکھا اور مناسب پہرے کے ساتھ کولار کی طرف بھیج دیا۔ نیز چھوٹے بیٹے عبد الکریم کو عارضی طور پر مسند نشین کر دیا۔

۱۱ دسمبر ۱۷۸۲ء کو ٹیپو سلطان کو خبر ملی اور وہ اسی وقت روانہ ہو گیا۔ ۲۵ دسمبر ۱۷۸۲ء کو وہ چمکور پہنچ گیا جہاں اس کا لشکر ٹھہرا ہوا تھا۔ اس نے تمام ماتمی رسوم کی ممانعت کر دی اور ۲۰ محرم ۱۱۹۷ھ / ۲۶ دسمبر ۱۷۸۲ء کو خاموشی کے ساتھ مسند نشینی کی رسم ادا ہوئی۔

تخت نشینی کے وقت سلطان کی سلطنت دکن میں شمالی طرف دریائے کرشنا، جنوبی سمت ریاست ٹراونکور، مشرق میں مشرقی گھاٹ، اور مغرب میں ساحلی سمندر تک پھیلی ہوئی تھی۔ آبادی، زرخیزی اور حسنِ انتظام کی بدولت یہ ایک شاندار سلطنت تھی۔ یہی وجہ ہے کہ انگریزوں کے علاوہ مقامی ہمسائے مرہٹے اور نظام حیدر آباد اس علاقے کو ہتھیا لینے کی فکر میں تھے۔ مگر دوسری طرف اس علاقے کا فرمانروا ایک ایسا سلطان تھا جو نہ صرف موروثی طور پر جری اور مجاہد تھا بلکہ دورِ شہزادگی میں بھی عزم و حوصلے اور تدبر کی داد لے چکا تھا۔

حکومت سنبھالتے ہی ٹیپو سلطان نے سب سے پہلا کام اپنی فوج کو منظم کرنے کا کیا۔ اس نے باقاعدہ رجمنٹیں مقرر کیں اور ماہوار تنخواہ مقرر کر دی۔ اس سے پہلے ہندوستان میں ماہوار تنخواہ کا تصور بھی نہ تھا۔ اس نے فرانسیسی افسروں کی خدمات حاصل کیں تاکہ فوج کو یورپی نمونے پر منظم کیا جا سکے۔ عام روایت کے مطابق ٹیپو سلطان کی باقاعدہ فوج ایک لاکھ کے قریب تھی۔

انگریزوں نے جنرل میتھیوز کی سرکردگی میں ازسرنو مالابار پر حملہ کر دیا اور بڈنور کے حاکم ایاز خان نے نہ صرف شہر و قلعہ بلکہ پورا صوبہ بڈنور اس شرط پر انگریزوں کے حوالے کر دیا کہ اس کی حکومت بدستور اس کی تحویل میں رکھی جائے۔ سلطان کو خبر ہوئی تو اس نے لطف علی بیگ کو دفاع کی غرض سے بھیجا۔ اس وقت تک انگریز ایاز خان سے سمجھوتے کے مطابق بڑے علاقے پر قابض ہو چکے تھے۔ لطف علی بیگ نے باقی علاقے کو بچانے کی کوشش کی لیکن انگریزوں کی قوت کے سامنے اس کی ایک نہ چلی۔ فتح کے بعد انگریزوں نے وہاں انتہائی دردناک مظالم روا رکھے۔

یہ خبریں سلطان تک پہنچیں تو وہ بگولے کی طرح اٹھا اور انگریزوں پر چھا گیا۔ اس نے ایک ہی حملے میں بڈنور پر قبضہ کر لیا۔ یہاں وہ بنگلور پہنچا اور اس کا محاصرہ کر لیا۔ انگریز جنرل کیمبل نے ۲ اگست ۱۷۸۳ء کو صلح نامہ پر دستخط کر دیے۔

ہر طرف سے شکست و ہزیمت اٹھا کر انگریزوں نے میسور میں سازشوں کا آغاز کر دیا۔ سرنگاپٹم میں ہندو راجا کو گدی پر بٹھانے کی سازش کرائی گئی۔ لیکن ٹیپو سلطان کی تدبیروں کے سامنے ان کی ایک نہ چلی اور نتیجتاً‌ ۱۱ مارچ ۱۷۸۴ء کو انگریزوں اور سلطان کے مابین ایک معاہدے پر دستخط ہو گئے جس کی رو سے فریقین نے مفتوحہ علاقے واپس کر دیے اور اسیرانِ جنگ چھوڑ دیے۔

انگریزوں سے فارغ ہو کر سلطان نے مرہٹوں اور نظام کے ساتھ اتحاد کی ہر کوشش کی لیکن اسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ ادھر نظام اور مرہٹوں کے درمیان اس امر پر اتفاق ہو گیا کہ میسور کی سابقہ ریاست چھوڑ کر باقی تمام سلطانی مقبوضات کو چھین کر باہم تقسیم کر لیا جائے۔ ایک جھڑپ کے بعد دونوں فروری ۱۷۸۷ء میں سلطان کے ساتھ صلح کر لینے پر مجبور ہو گئے۔ طے پایا کہ دونوں طاقتیں انگریزوں کے خلاف سلطان کو مدد دیں گی۔

اسی زمانے میں سلطان نے بادشاہ کا لقب اختیار کیا جسے دونوں ہمسایہ ممالک نے تسلیم کیا۔ خطبے میں مغل حکمرانوں کی جگہ اپنا نام شامل کرایا۔ نیا روپیہ جاری کیا۔ انتظامی معاملات درست کیے۔ نیا آئینِ حکومت نافذ کیا۔ سرنگاپٹم میں مسجد اعلیٰ کی تعمیر اختتام کو پہنچی۔ سن ہجری کی جگہ سن محمدی جاری کیا جو آغازِ نبوت سے شروع ہوتا تھا۔ مہینوں کے نئے نام رکھے اور ملک بھر میں مختلف صنعتیں جاری کروائیں۔

سلطان نے فرانس کے دستورِ جمہوریت سے متاثر ہو کر اس کا عملی نفاذ اپنے ہاں بھی کرنا چاہا اور دفاعی اور خارجی امور کے علاوہ دیگر تمام تر اختیارات مجلس وزراء کو سونپ دیے۔ جس کا میر (وزیر اعلیٰ) یعنی صدر الصدور میر صادق کو بنایا۔

۱۷۸۴ء میں سلطان نے عثمان خان کو سفیر بنا کر قسطنطنیہ بھیجا تھا۔ وہاں سے حوصلہ افزا جواب آیا تو غلام علی خان لنگڑے، شاہ نور اللہ، لطف علی بیگ، اور محمد حنیف کو ایک سفارت روانہ کیا۔ جسے قسطنطنیہ کے بعد فرانس اور پھر انگلستان بھی جانا تھا۔ مگر یہ سفارت صرف ترکی ہی سے واپس لوٹ آئی۔ سلطانِ ترک نے خلیفہ ہونے کی حیثیت سے ٹیپو سلطان کے لیے پروانہ سلطان بھجوایا۔ اسی طرح سلطان نے کریم خان زند حاکمِ ایران، زمان شاہ درانی حاکمِ افغانستان، اور شاہ فرانس کے پاس بھی الگ الگ سفارتیں بھجوائیں۔

اس وقت لارڈ کارنوالس گورنر جنرل بن کر ہندوستان آیا۔ اس نے آتے ہی تمام معاہدوں سے انحراف کرنا شروع کر دیا۔ اس نے اندازہ لگا لیا کہ ٹیپو سلطان کو شکست دیے بغیر انگریزی حکومت قائم کرنے کے خواب کی تعبیر حاصل کرنا ممکن نہیں۔ مگر فوجی و عددی برتری کے باوجود ابھی تک وہ سلطان کو شکست سے آشنا نہ کر سکے تھے۔ یہ دیکھ کر کارنوالس نے سازشوں کا ایک جال بچھانا شروع کر دیا۔

مرہٹوں اور نظام کے ساتھ انگریزوں کی گفت و شنید جاری تھی کہ ٹراونکور کے راجہ نے انگریزوں کی شہ پر سلطانی علاقے کوچین پر قبضہ کر لیا۔ اسی دوران میں ٹراونکور نے ولندیزیوں سے دو قلعے جیاکوٹہ اور کرنگانور خرید لیے جو دفاعی لحاظ سے میسور کی سرحد پر اہم حیثیت رکھتے تھے۔ کارنوالس نے اس سودے پر ناپسندیدگی کا اظہار بھی کیا تھا۔ اور ولندیزی گورنر نے بھی اس میں اپنی عدمِ واقفیت کا اظہار کیا۔

ان حالات میں ۱۴ دسمبر ۱۷۸۹ء کو جب سلطان نے اپنی سرحدوں کا جائزہ لیا تو اس نے ایک خط راجہ کو لکھا کہ دونوں قلعے اسے واپس دے دیے جائیں۔ نیز کوچین کا علاقہ بھی واپس کر دیا جائے۔ راجہ کے غیر ذمہ دارانہ جواب پر سلطان نے اس کی گوشمالی کرنے کے لیے کچھ فوج بھیجی، جس کے ساتھ راجہ کی فوجوں کی چھوٹی سی جھڑپ ہوئی۔

جولائی ۱۷۹۰ء میں مدراس کے گورنر نے کارنوالس کی ہدایت کے مطابق سلطان کو لکھا کہ جھگڑے کے تصفیہ کے لیے کمشنر مقرر کیے جائیں۔ سلطان نے اتفاق کیا اور کہا کہ بہتر ہے کمشنر اس کے پاس بھیج دیے جائیں۔ جب میڈوز گورنر بنا تو اس نے کمشنر بننے سے انکار کر دیا۔ سلطان نے اپنے سفیر بھیجنا چاہے تو اسے بھی نہ مانا اور کہلا بھیجا کہ صلح چاہتے ہو تو تاوان ادا کرو۔

بعد کے واقعات کچھ بھی ہوئے۔ یہ حقیقت ہے کہ انگریزوں نے ٹراونکور کے واقعہ کو بہانہ بنا کر تیسری بار میسور پر حملہ کر دیا۔ ابتدا میں جنرل میڈوز نے فوج کی کمان سنبھالی۔ اس نے جنوبی سمت سے میسور پر حملہ کر دیا۔ مئی سے دسمبر ۱۷۹۰ء میں سرنگاپٹم کا محاصرہ کر لیا۔ مگر چیچک پھوٹ پڑنے کی وجہ سے محاصرہ اٹھانے پر مجبور ہو گیا۔

ابھی کارنوالس محاصرہ اٹھا کر پلٹا ہی تھا کہ مرہٹے اس کی مدد کو آگئے۔ اور یوں فروری ۱۷۹۲ء میں اس نے دوبارہ سرنگاپٹم کا محاصرہ کر لیا۔ سامانِ رسد کی موجودگی میں اسے محاصرے کی طوالت کا کوئی خوف نہ تھا۔ ادھر سلطانی فوج ہر قسم کی کمک سے محروم ہو چکی تھی۔ یہ وہ وقت تھا جب انگریز چاہتے تو سلطان میسور کا خاتمہ کر سکتے تھے۔ مگر ٹیپو سلطان کا دبدبہ ان پر اس قدر طاری ہو چکا تھا کہ مسلمانوں کو مصالحت کا پابند بنانے ہی میں عافیت سمجھی۔

اس مصالحت میں طے پایا کہ:

ا۔ سلطان نصف سلطنت اتحادیوں (انگریز، مرہٹے اور نظام) کے حوالے کر دے۔

۲۔ تین کروڑ تیس لاکھ پگوڈے کی رقم تاوان دے۔ اس میں سے ایک کروڑ پینسٹھ لاکھ کی رقم فوری ادا کی جائے باقی رقم فی الفور ادا کر دی جائے۔

۳۔ تمام اسیرانِ جنگ رہا کر دیے جائیں۔

۴۔ معاہدے کی شرطیں پوری ہونے تک سلطان کے دو بیٹے بطور یرغمال اتحادیوں کے پاس رہیں۔

اس معاہدے سے سلطان پر سیاسی، معاشی اور انتظامی طور پر سخت ضرب لگی۔ اندازہ لگانے کی بات ہے کہ جس ملک کا مالیہ اڑھائی کروڑ ہو، وہ نصف ملک بھی ہاتھ دے اور تین کروڑ سے زیادہ تاوان بھی دے۔ اس کی معاشی حالت کیسی ہو جائے گی۔ اس کے باوجود سلطان نے ہمت نہ ہاری۔ اس کی اولوالعزمی میں کوئی فرق نہ آیا اور وہ پہلے سے کہیں زیادہ جفاکشی کے ساتھ انتظامِ سلطنت میں لگ گیا۔ سرکشوں کو سزا دی۔ وفاداری سے حلف لیا۔ زراعت کی حوصلہ افزائی کی اور فوج کو ازسرنو مستحکم کیا اور صرف پانچ ہی برس کی انتھک محنت سے ملکی معیشت کو سنبھالا دے دیا۔

اس دوران میں سلطان کی سیاسی اور فوجی سرگرمیاں بھی جاری رہیں۔ تجارت اور صنعت کے علاوہ اس نے فرانس کے ساتھ کئی فوجی معاہدے بھی کیے۔ اس وقت نپولین مصر فتح کر چکا تھا۔ اس نے جو خط ٹیپو سلطان کو لکھے، ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایران کے راستے ہندوستان آنا چاہتا تھا تاکہ یہاں انگریزوں سے نمٹ سکے۔

اس خط سے انگریز بھی آگاہ تھے۔ ابتداء میں تو وہ خاموش رہے مگر جب مرہٹوں اور نظام کی طرف سے انہیں مکمل معاونت کا یقین ہو گیا تو انگریز گورنر ولزلی نے سلطان کو تہدید آمیز خطوط لکھنے شروع کیے۔

سلطان کی دوربین نگاہیں دیکھ رہی تھیں کہ ہندوستان پر مسلمانوں کی حکومت ختم ہونے والی ہے۔ مسلمان آپس کی سرپھٹول کے باعث کمزور ہو چکے تھے اور سات سمندر پار کی ایک قوم اپنے پنجے اس سر زمین میں گاڑ رہی ہے۔ اگر اس قوم کا مقابلہ نہ کیا گیا تو بہت جلد ہندوستان جیسا زرخیز علاقہ انگریزوں کے قبضے میں چلا جائے گا جو یہاں سے دولت کو ہر روپ میں انگلستان پہنچا دیں گے۔

مگر افسوس کہ سلطان اپنے محل اور دربار میں ہونے والی سازشوں کو نہ سمجھ سکا۔ بزعم خود اس نے فرانسیسی طرز کی جمہوریت نیو ڈال دی۔ مگر یہ نہ دیکھا کہ یہ زمین بھی موزوں ہے یا نہیں۔ میر صادق، پورنیا اور قمر الدین خاں جیسے وزراء اختیارات کو ناجائز طور پر استعمال کرتے رہے تھے۔ وہ فوری فوائد کے لالچ میں درپردہ انگریزوں سے ملے ہوئے تھے اور حکومت کو مناصب کے بڑے بڑے عہدوں کی امید میں سلطان کا ہر راز ان تک پہنچا دیتے تھے۔

جب سلطان کے دل میں ان سازشوں کے متعلق شکوک کی جگہ گھیری تو اس نے تمام عہدے داروں کو مسجد اعلیٰ سرنگاپٹم میں بلا کر وفاداری اور ایمانداری کا حلف لیا۔ مگر اب کیا ہو سکتا تھا۔ انگریزوں کی سازشیں عروج پر پہنچ چکی تھیں۔ اور ولزلی سلطان کو جنگ کی دھمکی دے چکا تھا۔

جولائی ۱۷۹۸ء میں ولزلی نے جنرل ہیرس کو حکم دیا کہ سلطان سے گفت و شنید ختم کر دی جائے اور سرنگاپٹم کا محاصرہ کر لیا جائے۔ سلطان کو علم ہوا تو اس نے سفیر کے ذریعے بات چیت پر آمادگی ظاہر کی مگر اس کا جواب یہ ملا کہ اب جنرل ہیرس ہی سے بات چیت ہو سکتی ہے۔

فروری ۱۷۹۹ء میں جنرل ہارس نے پیش قدمی شروع کر دی۔ ۲۲ اپریل ۱۷۹۹ء کو اس نے سرنگاپٹم پر گولہ باری سے پیشتر مصالحت کا ایک مسودہ سلطان کی خدمت میں دستخط کرنے کے لیے بھیج دیا۔ جس میں انتہائی ذلت آمیز شرائط درج تھیں۔ یعنی نصف سلطنت چھوڑ دی جائے۔ دو کروڑ تاوان دیا جائے جن میں سے ایک کروڑ فوراً‌ ادا کیا جائے۔ چار بیٹے اور چار جرنیل بطور یرغمال دیے جائیں۔ یہ جواب چوبیس گھنٹے کے اندر مانگا گیا تھا۔

سلطان ایسی ذلت آمیز شرائط پر صلح نہ کر سکتا تھا۔ اس کا مقولہ تھا کہ ’’شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے‘‘۔ امید افزا جواب نہ ملنے پر جنرل ہیرس نے قلعہ پر گولہ باری شروع کرا دی۔ سلطان کی فوج نے اس گولہ باری کا پوری مستعدی سے جواب دیا۔ مگر سلطانی وزراء غداری کی قسم کھائے بیٹھے تھے، انہوں نے گولہ بارود میں مٹی اور سن ملوا دیا۔

مئی کی صبح انگریزی افواج نے سرنگا پٹم کے گرد موجود دریائے کاویری کا دو سو گز پاٹ پار کر کے فصیل کے ایک شگاف پر حملہ کیا۔ سلطان نے خود وہاں دفاعی فوج متعین کی تھی مگر عین اس وقت پورینا نے محافظ فوج کو تنخواہ تقسیم کرنے کے بہانے بلا لیا۔ یوں انگریزی فوج بلا تکلف اندر داخل ہو گئی۔

دوپہر کا وقت تھا ٹیپو سلطان مورچوں پر سے چکر لگا کر سائبان تلے آکر بیٹھا تھا۔ کھانا سامنے دھرا تھا۔ ابھی لقمہ اٹھایا ہی تھا کہ ایک جاں نثار سید غفار کے شہید ہونے کی اطلاع ملی۔ پتا چلا کہ انگریزی فوج قلعہ میں آگئی ہے۔ سلطان نے یہ کہہ کر کھانے سے ہاتھ اٹھا لیا ’’ہم بھی عنقریب جانے والے ہیں۔‘‘

اس وقت انگریزی فوج اندر آچکی تھی۔ سلطان ڈڈی دروازے کی طرف بڑھا، چند جاں نثار اس کے ساتھ تھے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ قلعہ سے باہر نکل کر کسی اور مقام پر پناہ لی جائے۔ لیکن میر صادق نے باہر نکل کر دروازہ بند کرا دیا اور خود شہر کی جانب روانہ ہو گیا۔ ایک جاں نثار نے اس کی غداری کو بھانپ لیا اور پیچھے دوڑ کر تلوار کے ایک ہی وار سے اس کی گردن اڑا دی۔

اب سلطان ہر طرف سے انگریزی فوج میں گھر چکا تھا۔ اس کے باوجود اس کی تلوار اپنے جوہر دکھا رہی تھی۔ سلطان کے دو زخم لگ چکے تھے۔ تیرے زخم نے نڈھال کر دیا۔ وفاداروں نے اٹھا کر پالکی میں ڈالنا چاہا لیکن ایک ہجوم نے انہیں پرے دھکیل دیا۔ سلطان زخموں سے چور زمین پر گر پڑا۔ ایک انگریز سپاہی نے آگے بڑھ کر اس کی بیش قیمت پیٹی اتارنا چاہی۔ ابھی سلطان میں زندگی کی رمق اور غیرت کا جوش باقی تھا۔ فوراً‌ تلوار کا وار کیا اور سپاہی کو کاٹ کر پرے پھینک دیا۔ ایک اور سپاہی یا شاید اسی سپاہی نے پستول کے وار سے سلطان کو شہید کر دیا۔

۵ مئی کو انگریزوں نے سلطان کی میت کو حیدر علی کے پہلو میں پورے اعزاز کے ساتھ دفن کر دیا۔ اس کی دو بیویاں تھیں اور بارہ بیٹے تھے جو اس کے بعد حراست میں لے کیے گئے۔

۶ مئی تک سرنگاپٹم میں لوٹ مار کا بازار گرم رہا۔ محل کے علاوہ عوام کے گھروں سے کروڑوں اربوں پونڈ مالیت کی اشیاء اٹھائی گئیں۔ ہزاروں لاکھوں افراد شہید ہوئے اور اس لوٹ مار کو روکنے کے لیے خود انگریز جرنیلوں نے اپنے کئی سپاہیوں کو پھانسی پر چڑھایا۔

اس وقت بڑا شہزادہ فتح حیدر سرنگاپٹم سے باہر تھا۔ اس کے ساتھیوں نے جنگ جاری رکھنے کا مشورہ دیا۔ مگر انگریزوں کے ساتھ ساتھ پورنیا نے تخت دلانے کا یقین دلایا۔ چنانچہ اس نے بھی ہتھیار ڈال دیے۔ بعد میں لارڈ ولزلی اپنے عہد سے پھر گیا اور سلطان شہید کے شہزادوں کو دو لاکھ چالیس ہزار پگوڈا کا وظیفہ دے کر میسور کی گدی پر قدیم راجا کے لے پالک بیٹے کو بٹھا دیا۔ شہزادوں کو پہلے ویلور میں نظر بند کیا گیا اور بعد ازاں کلکتے منتقل کر دیا۔

ٹیپو سلطان ایک بہت بڑا مجاہد اور پکا مسلمان تھا۔ نمازِ صبح کے بعد قرآن مجید کی تلاوت کرتا اور سارا دن باوضو رہتا۔ خود عالم تھا اور اہلِ علم کی قدردانی کرتا تھا۔ اس کا کتب خانہ ہندوستان کے بڑے کتب خانوں میں شمار ہوتا تھا۔ اس کے اوضاع اور اطوار پسندیدہ اور مثالی تھے۔ حیا داری کا یہ عالم تھا کہ حمام میں بھی کپڑا باندھ کر نہاتا۔ اس نے کبھی ایسا کپڑا نہ باندھا جس سے جسم شرعی حدود میں ننگا ہوتا یا جس میں نماز ناجائز ہوتی۔ آخری دور میں سبز رنگ کی دستار پہنتا تھا۔ مکروہات اور منہیات سے اس نے ہمیشہ پرہیز کیا۔

تمام فرامین پر اپنے ہاتھ سے بسم اللہ لکھتا اور نیچے دستخط کرتا۔ شجاعت اور بہادری میں اس کا کوئی ہم سر نہ تھا۔ شیر اس کا پسندیدہ جانور تھا۔ شاید اسی لیے انگریزوں نے اسے شیرِ میسور ہی کا لقب دیا تھا۔ اسلامی حمیت اس میں بدرجہ اتم تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ تعصب سے بھی پاک تھا۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ تھا کہ پورنیا جیسے ہندو اس کے وزراء میں شامل تھے۔

ٹیپو سلطان بے حد اختراع پسند تھا۔ سن محمدی، نئے سکوں، نئی وضع کے اسلحے، قواعد و ضوابط، وغیرہ کا اجراء اس کی اختراع پسندی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

اسے اپنی ریاست اور عوام سے بے حد محبت تھی اور ہمیشہ ان کی فلاح و بہبود میں لگا رہتا۔ اگرچہ اس کا زیادہ تر وقت میدانِ جنگ میں گزرا، اس کے باوجود اسے جتنا بھی وقت ملا، اسے اس نے عوام کی فلاح کے لیے صَرف کیا۔ کسانوں کو مالیہ معاف کیا۔ سرکاری زمین پٹے اور ملکیت پر کاشت کے لیے دی۔

تہذیب و تمدن کی ترقی کے لیے بہتر اقدامات کیے۔ اس سے پہلے ہندو عورتیں عام طور پر سر و سینہ کھولے پھرتی تھیں۔ اس نے حکم دیا کہ کوئی عورت کُرتے اور اوڑھنی کے بغیر باہر نہ نکلے۔

وہ مذہبی شعائر کا سختی سے پابند تھا۔ رمضان میں پورا ملک روزوں کا احترام کرنا۔ اس نے گدی نشینوں اور مجاوروں کو نذر و نیاز لینے سے منع کر دیا۔ نیز لوگوں کو اپنے سامنے احتراماً‌ جھکنے سے بھی منع کر دیا۔

حکومت کے لیے اس نے مختلف محکمے قائم کیے جو تعداد میں ننانوے تھے۔ ہر محکمے کا ایک امیر مقرر کیا۔ توشے خانے کو دو حصوں جنس اور نقد میں تقسیم کیا۔ بحریہ کا مستقل محکمہ قائم کیا۔ فوجی قواعد کے لیے کتاب لکھوائی، فنِ جہاز سازی پر توجہ دی۔ مقناطیسی پہاڑوں سے جہازوں کو بچانے کے لیے لوہے کی جگہ تانبے کے پیندے کا استعمال ٹیپو سلطان ہی کی ایجاد ہے۔

تجارتی و صنعتی ترقی کے لیے ہندوستان میں پہلا قدم ٹیپو سلطان ہی نے اٹھایا۔ ریشم کی صنعت اسی کی مرہونِ منت ہے۔ اسے گنے، گندم، جو اور پان کی کاشت سے خصوصی دلچسپی تھی۔ درختوں میں چیڑ، سال، ساگوان، سپاری، صندل اور ناریل لگانے پر زور دیتا تھا۔ شہتوت کے درختوں پر ریشم کے کیڑے پالنے کے لیے بڑے بڑے باغات لگوائے۔

ان تمام امور سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹیپو سلطان ایک ایسا مسلمان، غیور، مجاہد، باہمت، جری، قابل اور منتظم حکمران تھا جس کی مثال تاریخ بہت کم پیش کر سکے گی۔ مغلیہ سلطنت کے زوال کے بعد وہ جنگِ آزادی کا پہلا ہیرو اور پہلا شہید تھا۔ زندگی بھر وہ انگریزوں کا دشمن رہا اور اس نے ان کے غلبے سے ملک کو بچانے کے لیے مقصد کی خاطر جان دے دی۔ دشمن پر اس کا رعب اور دبدبہ اتنا تھا کہ عرصہ دراز تک انگریز مائیں اپنے بچوں کو ٹیپو کا نام لے کر ڈراتی رہیں۔

(ماخوذ از شاہکار اسلامی انسائیکلو پیڈیا)


شہدائے بالاکوٹؒ اور ان کی جدوجہد

شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

شاہ اسماعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ کے مختصر حالات

آپ ۱۲ ربیع الثانی ۱۱۹۳ھ کو دہلی میں پیدا ہوئے، نام محمد اسماعیل تھا۔ آپ حضرت شاہ عبد الغنی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفیٰ ۱۲۲۷ھ) کے بیٹے اور حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی ۱۱۷۶ھ) کے پوتے تھے۔

ایں خانہ ہمہ آفتاب است

والدہ ماجدہ کا نام بی بی فاطمہ تھا۔ آٹھ سال کی عمر میں آپ نے قرآن کریم حفظ کر لیا تھا۔ ابتدائی صَرف و نحو کی کتابیں آپ نے اپنے والد بزرگوار سے پڑھی تھیں۔ اور اس کے بعد منطق و معقول کی کتابیں بھی انہی سے پڑھیں اور ان سے فراغت کے بعد حدیث شریف حضرت شاہ عبد العزیز صاحب محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفیٰ ۱۲۳۹ھ) سے پڑھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو غضب کی ذہانت بخشی تھی۔ آپ اپنے تعلیمی دور میں مطالعہ اور تکرار کی طرف کم توجہ کرتے تھے۔ آپ کی توجہ شب و روز تیر اندازی، گولی چلانا، اور گھوڑے پر چڑھنا، ورزش اور جہاد کی تیاری میں صَرف ہوتی تھی۔ لیکن بایں ہمہ اساتذہ جب پڑھے ہوئے سبق کا امتحان لیتے تو حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ سب ساتھیوں سے الگ نکل جاتے تھے اور مشکل سے مشکل مقام میں بھی کبھی نہ رکتے، ان کی اس خداداد قابلیت پر ان کے تمام ساتھی رشک کرتے اور دنگ رہ جاتے تھے۔

سولہ سال کی عمر میں آپ فارغ التحصیل ہو گئے تھے، آپ پتلے دبلے اور متوسط قد کے تھے لیکن بڑے بہادر، دلیر اور جری تھے۔ مولانا شہید رحمۃ اللہ علیہ نے گھوڑے کی سواری میاں رحیم بخش صاحبؒ چابک سوار سے سیکھی تھی جو اپنے فن کے امام تھے۔ وہ پہلے کٹر بدعتی تھے۔ پھر مولانا شہیدؒ کے فیض صحبت سے پکے موحد ہو گئے تھے اور ان کے ساتھ پشاور کے گرد و نواح میں سکھوں کے ساتھ جہاد کرتے ہوئے بعمر سو سال شہید ہو گئے تھے۔ گو عمر زیادہ تھی لیکن نوجوانوں کی طرح باہمت طبیعت رکھتے تھے۔

جب مولانا شہید رحمۃ اللہ علیہ سپاہیانہ فنون کی تعلیم سے فارغ ہوئے تو دریا میں تیرنا سیکھا، تین چار سال تک اکثر اوقات دریا ہی میں رہتے تھے اور طلبہ کو سبق دریا کے کنارے پر آکر پڑھا دیتے تھے۔ اس کے بعد آپ نے پیدل چلنے اور دوڑنے کی مشق کی اور سخت گرمی کے زمانہ میں عین دوپہر کے وقت جامع مسجد دہلی کے سرخ پتھروں کے فرش پر گھنٹوں آہستہ آہستہ چلتے جس سے ابتدائی دور میں پاؤں پر آبلے پڑ گئے، کوئی کہتا یہ مجنوں ہے، کوئی کہتا اس کو کسی نے وظیفہ بتایا ہے اور یہ چلہ کرتے ہیں۔ لیکن اصل بات کچھ اور ہی تھی اور وہ جہاد کی تیاری تھی۔ اور اسی طرح سردی کا موسم معمولی کپڑوں میں گزار دیتے، جبکہ اکثر لوگ لحافوں اور گرم کپڑوں میں بھی سردی کا شکوہ کرتے رہتے۔ اور اسی طرح کم سونے کی مشق بھی خوب کی حتیٰ کہ بعض اوقات آٹھ آٹھ دس دس دن تک نہ سوتے تھے۔

ان تمام مشقوں کے ساتھ مولانا شہید رحمۃ اللہ علیہ نے وعظ کہنے اور لوگوں کی اصلاح بھی شروع کر دی۔ ان کے وعظ پر ہنگامے بھی ہوتے رہے اور قبر پرستوں نے ان کو قتل کروانے کے ناپاک ارادے بھی کیے مگر مشہور ہے کہ جس کو خدا رکھے اس کو کون چکھے۔ صحیح تصوف کے نہ صرف یہ کہ مولانا شہیدؒ قائل ہی تھے بلکہ انہوں نے بڑے بڑے جلیل القدر صوفیائے کرامؒ کی بڑی تعریف کی اور حقیقی تصوف اور سچے صوفیوں کی تعریف میں کتاب بھی تصنیف فرمائی جس کا نام ’’حقیقتِ تصوف‘‘ ہے۔ (اس کا تذکرہ مرزا حیرت دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے ’’حیاتِ طیبہ‘‘ ص ۱۱۶ طبع ادارہ ترجمان السنہ میں کیا ہے) اور خود حضرت سید احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ کے ہاتھ پر بیعت ہوئے جو اسی سلسلہ تصوف کی ایک کڑی ہے۔

سکھوں کے خلاف جہاد کا جذبہ

سکھوں کا بابا گرونانک جو قریب ۱۴۶۹ء میں قصبہ تلونڈی میں (جس کو اب نانکانہ کہتے ہیں) پیدا ہوا۔ مولانا شہید علیہ الرحمہ کے زمانہ میں اس کے ماننے والوں کا پنجاب میں بڑا زور تھا۔ رنجیت سنگھ کی حکومت تھی اور مختلف جگہوں سے سکھوں کی مسلمانوں پر زیادتیوں (مثلاً‌ اذان بند کر دینا، مسجدوں کو مسمار کر دینا، مسجد کو مسٹ گڑھ کہنا، مسلمان عورتوں کی آبرو سے کھیلنا وغیرہ وغیرہ) کی افواہیں اور خبریں دہلی میں پہنچتی رہتی تھیں۔ ان خبروں کی تصدیق کے لیے خود مولانا شہید رحمۃ اللہ علیہ تنِ تنہا انبالہ، پھر وہاں سے امرتسر پہنچے۔ مسلمانوں کی حالت ہی دگرگوں تھی۔ بے شمار کلمہ گو پیروں اور شہیدوں کی نماز پڑھتے تھے۔ پیر غیب کے نام پر روزے رکھتے تھے۔ حضرت کبیر رحمۃ اللہ علیہ کو اپنا نجات دہندہ مانتے تھے۔ حضرت شیخ فرید رحمۃ اللہ علیہ کو مشکل کشا مانتے تھے۔

ان ہی بدعقیدتیوں اور بدعملیوں کی نحوست یہ ہوئی کہ امرتسر کی دس فیصدی مسجدیں سکھوں کے قبضہ میں تھیں۔ بعض میں گھوڑے باندھتے اور بعض کو انہوں نے اپنا دفتر بنا رکھا تھا (معاذ اللہ)۔ اور سکھوں نے یہ حکم دے رکھا تھا کہ کوئی شخص بلند آواز سے اذان نہ کہے۔ اور بعض جگہ مسلمانوں کو مجبور کیا جاتا کہ بکرا ذبح کرتے وقت بجائے اللہ اکبر کے گورونانک کا نام لیں (معاذ اللہ تعالیٰ)۔ مسلمانوں کو یہ جرات ہی نہیں ہوتی تھی کہ شکستہ مسجد کی مرمت کر سکیں یا نئی مسجد بنا سکیں۔ سر دربار سکھ اسلام اور بانی اسلام صلی اللہ تعالیٰ علیہ و بارک وسلم (فداہ نفسی روحی) کو توہین آمیز الفاظ سے یاد کرتے تھے اور مسلمانوں کو ’’موسلا‘‘ کہتے تھے۔ سکھوں کے بچے، مسلمانوں کو دیکھتے ہی ’’سور دا بچہ‘‘ کہتے تھے۔

ایک موقع پر ملتان کے کچھ مظلوم مسلمان رنجیت سنگھ کے پاس اپنے ظالم حاکم کی شکایت لے کر پہنچے تو بجائے ان کی داد رسی کے گدھے کے بول سے ان کی داڑھیاں منڈوا کر اور سارا سامان چھین کر ان کو دربار سے نکال دیا۔ یہ بے چارے روتے ہوئے امرتسر پہنچے تو وہاں شیر سنگھ نامی سکھ نے ان مظلوموں کی عورتیں چھین کر انہیں شہر بدر کر دیا۔ اکثر مسجدوں میں سوار، کتے، گھوڑے اور بیل وغیرہ باندھے جاتے تھے۔ کوئی مسلمان گلے میں قرآن کریم نہ لٹکا سکتا تھا۔ اگر کوئی ناواقف ایسا کرتا تو وہ قید خانہ بھیج دیا جاتا تھا اور قرآن کریم کو زبردستی لے کر آگ میں ڈال دیا جاتا تھا (العیاذ باللہ تعالیٰ)۔

الغرض پورا پنجاب سکھا شاہی میں مبتلا تھا اور سکھوں کی چیرہ دستی یہاں تک بڑھ گئی تھی کہ بعض شہروں میں آٹھ آٹھ دس دس قرآن کریم روزانہ جلا دیے جاتے اور غریب مسلمانوں اور مزارعین پر یہ ظلم و ستم ہوتا کہ من مانے طریقہ پر ان کو محصول دینا پڑتا ورنہ ان کی بیویاں اور بچے سر عام بازار میں نیلام کر دیے جاتے۔ یہ سارے واقعات حضرت مولانا شہید علیہ الرحمہ نے امرتسر وغیرہ میں بچشم نم خود دیکھے اور موثق ذرائع سے سنے۔ اس قسم کے مظالم صوبہ سرحد میں بھی سکھوں نے جاری رکھے۔

چنانچہ یوسف زئی قبیلہ کے ایک پٹھان نے امرتسر میں مولانا شہید علیہ الرحمہ سے یہ ماجرا بیان کیا کہ ہماری بد بختی سے ہم آپس میں لڑ رہے تھے کہ سکھوں نے ہم پر حملہ کر کے ہماری عورتوں، نابالغ بچوں، بیمار مردوں کو بے رحمی سے قتل کر دیا اور بعض کو آگ میں زندہ جلا دیا۔ اور ہماری مسجدوں میں سور ذبح کیے۔ اس نے کہا کہ آپ میرے ساتھ پشاور جائیں تو یہ ساری کیفیت آپ کو بتا دوں۔ اس کی معیت میں مولانا شہید علیہ الرحمہ امرتسر سے لاہور تشریف لائے اور ایک سرائے میں ٹھہرے لیکن آگے نہ جا سکے۔ یہاں امرتسر سے بھی زیادہ مظالم سکھوں کے انہوں نے دیکھے اور وہاں جہالت اور پیر پرستی کا یہ عالم دیکھا کہ پیر پرست لوگ نماز میں بجائے اللہ اکبر کے ’’یا غوث اغثنی‘‘ کہتے تھے۔

پنجاب سے رنجیت سنگھ کے زمانہ میں تقریباً‌ ۳۵ فیصد مسلمان بھاگ کر انگریز کی علمداری میں چلے گئے تھے۔ رنجیت سنگھ اور دوسرے سکھوں کے گھروں میں کھلم کھلا مسلمان عورتیں تھیں۔ لاہور کی شاہی مسجد کے حجروں میں سکھوں کا اصطبل تھا۔ وضو کرنے کے حوض میں گھوڑوں کی لید ڈالی جاتی تھی۔ اذان و گاؤکشی بند تھی (معاذ اللہ تعالیٰ)۔

ان افسوس ناک اور سنگین واقعات کا حضرت مولانا شہید رحمۃ اللہ علیہ پر گہرا اثر ہوا اور انہوں نے دل میں عزمِ مصمم کر لیا کہ ان وحشی سکھوں سے ضرور انتقام لینا چاہیے تاکہ اسلام اور اہلِ اسلام کی سربلندی اور عظمت ظاہر ہو۔ یہ یاد رہے کہ دہلی سے لاہور کا یہ سارا سفر مولانا شہید علیہ الرحمہ نے پا پیادہ کیا اور قصبہ قصبہ گاؤں گاؤں پھر کر خود نہایت احتیاط سے حالات کا جائزہ لیا اور سکھوں کے بعض قلعوں کے نقشے بھی لیے۔ اس سفر میں پنجابی بولنے پر بھی خوب قدرت حاصل کر لی اور مسلمانوں کی اصلاح میں بھی دن رات منہمک رہے اور سب حالات کا جائزہ لے کر واپس دہلی تشریف لے گئے۔

مخلص رفقاء کی تلاش

حضرت مولانا شہید رحمۃ اللہ علیہ ایسے مخلص رفقاء کی جستجو میں تھے جو سکھوں کے خلاف جہاد میں ان کا کلی تعاون اور نصرت کریں۔ مشہور ہے ’’جوئندہ یا بندہ‘‘۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو حضرت سید احمد صاحب شہید رحمۃ اللہ علیہ (المتوفیٰ ۲۴ ذی قعده ۱۲۴۶ھ شہیداً‌) جیسے جاں نثار اور مصلح پیر مرحمت فرمائے جن کے دستِ حق پرست پر چالیس ہزار سے زیادہ ہندو مسلمان ہوئے۔ اور لاکھوں مسلمانوں کو گناہوں سے توبہ کی توفیق نصیب ہوئی۔ ان کے علاوہ لاکھوں افراد نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی۔

حضرت سید احمد صاحب شہید رحمۃ اللہ علیہ گو ظاہری علوم میں زیادہ دسترس نہیں رکھتے تھے، انہوں نے حضرت شاہ عبد العزیز صاحب محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ سے صرف قرآن و حدیث اور تفسیر کی مختصر تعلیم حاصل کی تھی مگر ربانی جلووں نے ان کے دل کو منور کر دیا تھا۔ حتیٰ کہ حضرت مولانا شاہ شہید علیہ الرحمہ جیسے متبحر اور بے بدل عالم ان پر فریفتہ ہو کر ان کے دستِ حق پرست پر بیعت کرنے پر مجبور ہو گئے۔

مزید برآں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک بہت بڑے جید عالم حضرت مولانا عبد الحئی صاحب برہانوی [بڈھانوی] رحمۃ اللہ علیہ (المتوفیٰ ۸ شعبان ۱۲۴۳ھ بمقام خہر سرحد) جیسے نڈر، جری اور دلیر مجاہد ان کو عطا فرمائے۔ حضرت مولانا شہید علیہ الرحمہ ان جیسے متعدد دیگر مخلص ساتھیوں کے ہمراہ ۱۲۴۱ھ میں براستہ راجپوتانہ، مارواڑ، سندھ، حیدر آباد، شکار پور، بلوچستان، قندھار، کابل پہنچے (کیونکہ براستہ پنجاب سرحد پہنچنا سکھا شاہی کی وجہ سے مشکل اور خلافِ مصلحت تھا) وہاں ایک بہت بڑے جید عالم اور پیر حضرت ملا محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو، جن کے لاکھوں مرید، شاگرد اور عقیدت مند تھے، جہاد کے لیے تیار کیا اور ان کی دعائیں اور معونت اور نصرت لے کر پشاور کا رخ کیا۔ اور ۲۰ جمادی الاولیٰ ۱۲۴۲ھ کو بمقام خویشگی سکھوں سے جہاد ہوا۔ ظاہری مناسب کچھ بھی نہ تھا، صرف اعلاء کلمۃ الحق اور شوقِ جہاد اور جذبۂ شہادت ہی اس کا باعث تھا۔ نو سو کے قریب مجاہدین اسلام تھے اور اپنے سے دس گنا حریف کے مقابلہ میں نکلے اور نبرد آزما ہوئے۔ اس معرکہ میں سات سو دشمن مارے گئے اور صرف سینتیس مسلمان شہید ہوئے۔ اس کے بعد موضع سیدو بستی میں مقابلہ ہوا جس میں بدھ سنگھ (برادر عم زاد رنجیت سنگھ) کی فوج کے دو ہزار سے زائد سکھ جہنم رسید ہوئے۔

پھر ان مجاہدین اسلام نے حضرو کے مقام پر سکھوں کے خلاف شب خون مارا جس میں بہت سا سامان غنیمت مجاہدین کے ہاتھ آیا۔ اس کے بعد میدان سیدو میں سکھوں سے مقابلہ ہوا مگر شیعہ مذہب کے دو سرداروں نذر محمد اور ولی محمد نے حضرت سید صاحب علیہ الرحمہ کے ہاتھ پر بیعت کرنے کے باوجود ان سے غداری کی اور کھانے میں زہر ہلاہل دے دیا۔ آٹھ دن تک حضرت سید علیہ الرحمہ بے ہوش رہے اور اس مکاری کی وجہ سے مجاہدین کی توجہ لڑائی سے ہٹا کر اپنے امیر لشکر کی عزیز زندگی کی طرف لگا دی اور یہ معرکہ بھی ناکام کر دیا۔ اسی موقع پر ایک اور شیعی سردار یار محمد نے یہ غداری کی کہ باوجود بیعت کرنے کے اپنے لنگڑے ہاتھی کے مہاوت کو تلقین کی کہ کسی طرح حضرت سید صاحب علیہ الرحمہ کو ہلاک کر دے۔ گو حضرت سید صاحب علیہ الرحمہ کو اللہ تعالیٰ نے محفوظ رکھا لیکن مسلمانوں کو اس معرکہ میں سخت جانی نقصان پہنچا۔

یہاں سے ناکامی کے بعد حضرت سید صاحبؒ کے حکم اور سردار حبیب اللہ خانؒ گڑھی (ضلع ہزارہ) کی استدعا پر ان کے لڑکے کو سکھوں کی قید سے چھڑانے کے لیے حضرت مولانا شہید علیہ الرحمہ کی مختصر سی جماعت کو ساتھ لے کر علاقہ بالائی پکھلی ڈنگلہ پہنچے، مٹھی بھر مجاہدین اسلام کا سردار ہری سنگھ نلوہ کے فوجی افسر سردار پھول سنگھ کی چار ہزار سے زیادہ مسلح اور آزمودہ کار فوج سے مقابلہ ہوا لیکن ان مجاہدین اسلام نے ان کے چھکے چھڑا دیے، باطل کی اس فوج نے مجاہدین اسلام کے سروں کو جھکانے کی بے حد کوشش کی مگر وہ باطل کے سامنے کب دبنے والے تھے۔ ان میں سے ہر ایک بزبان حال یہ کہتا تھا:

ستمگروں کے ستم کے آگے نہ سر جھکا ہے نہ جھک سکے گا
شعار صادق پہ ہم ہیں نازاں جو کہہ رہے ہیں وہیں کریں گے

اس موقع پر صرف سات مسلمان شہید اور گیارہ زخمی ہوئے اور تین سو سکھ مارے گئے اور پانچ سو زخمی ہو گئے۔ اس کے بعد گڑھی سنگاری سے نصف میل کے قریب جہاد ہوا، اس میں دو سکھوں کو بنفس نفیس حضرت مولانا شہید علیہ الرحمہ نے جہنم رسید کیا اور تیسرے سکھ کی گولی سے حضرت مولانا شہیدؒ کے ہاتھ کی انگلی اڑ گئی مگر اس درد و کرب میں بھی انہوں نے ہمت نہ ہاری اور اپنی تلوار ہاتھ میں لے کر اللہ اکبر کہہ کر سکھوں سے برسر پیکار ہوئے۔ نتیجہ میں سکھوں کے قدم اکھڑ گئے اور بفضلہٖ تعالیٰ یہ میدان بھی مسلمانوں کے ہاتھ رہا۔ اور سردار حبیب اللہ خان صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے لڑکے کو سکھوں سے نجات ملی۔

اس کے بعد حضرت مولانا شہید علیہ الرحمہ پھر مقام پنج تار پہنچ گئے جو مجاہدین اسلام کا یک گونہ مرکز تھا۔ پھر مولانا شہید اور حضرت سید شہید علیہما الرحمہ دونوں کی قیادت میں دریائے لنڈھ کے پار اتمان زئی میں جہاد ہوا۔ بارہ تیرہ سو کے قریب مجاہدینِ اسلام تھے اور مقابلہ میں چار ہزار رنجیت سنگھ کی فوج تھی۔ مگر غضب یہ ہے کہ ان میں زیادہ تر درانی مسلمان تھے جو لالچ میں آکر مسلمانوں کا مقابلہ کر رہے تھے۔ اس موقع پر حضرت شہید علیہ الرحمہ نے بڑی ہی بہادری سے کام لے کر شب خون مارا اور دشمن کے دو توپچیوں کی خود اپنے ہاتھ سے گردن اڑا دی اور اس حکمت عملی سے حملہ کیا کہ چار سو سے زائد لاشیں دشمن میدان میں چھوڑ کر بھاگ گیا۔ اور اللہ تبارک و تعالیٰ کے فضل و کرم سے حضرت مولانا شہید علیہ الرحمہ کا ایک آدمی بھی زخمی نہ ہوا اور اپنے مجاہدوں کو حضرت مولانا شہید علیہ الرحمہ نے یہ حکم دیا کہ چونکہ درانی مسلمان ہیں اس لیے جب تک ان میں سے کوئی شخص تمہارے مقابلہ میں ہتھیار نہ اٹھائے تم اسے کچھ نہ کہنا اور اگر ان میں سے کوئی گرفتار ہو جائے تو جو تم کھاتے ہو اسے بھی کھلاؤ اور جو لباس خود پہنتے ہوئے اسے بھی پہناؤ کیونکہ وہ بھی تمہارے مسلمان بھائی ہیں۔

حضرت مولانا شہید علیہ الرحمہ کے اس اعلان اور حسنِ معاملہ سے آگاہ ہو کر دو ہزار کے قریب سرداروں نے صدق دل سے بدعات سے تائب ہو کر احکام قرآنی پر عمل کرنے کا تحریری عہد کیا۔ ان لوگوں نے حضرت شہید علیہ الرحمہ اور آپ کے غریب الوطن مجاہدین کی بڑی مالی امداد کی۔ انہوں نے یہ التزام بھی کیا کہ وہ اپنی کمائی کا آٹھواں حصہ مجاہدین اسلام کو دیں گے۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا اور ان سرداروں کی وجہ سے عوام پر بھی بڑا اچھا اثر پڑا کہ وہ بھی توحید و سنت کے شیدائی بن گئے۔

لطیفہ: اس جہاد میں بعض درانی مسلمانوں نے تو مقابلہ کیا لیکن ایک وفادار ہندو نے جو حضرت مولانا شہید علیہ الرحمہ پر فریفتہ تھا (جس کا نام راجہ رام، قوم راجپوت، باشنده بیسواڑہ) تھا اس نے حضرت مولانا شہید علیہ الرحمہ کا ساتھ دیا اور بڑی پھرتی سے دشمن پر توپ سے گولہ باری کرتا رہا کہ دشمن کو قدم سنبھالنے مشکل ہو گئے۔

وبعدہ بمقام پنج تار جہاد ہوا۔ تقریباً‌ چھ ہزار فوج سکھوں کی تھی جس کی کمان رنجیت سنگھ کی طرف فرانسیسی جنرل اسوانٹورا کر رہا تھا لیکن اس موقع پر بھی اللہ تبارک و تعالٰی نے فتح و نصرت مجاہدین اسلام کو عطا فرمائی۔ اور یہ جنرل جو لاہور سے یہ عزم لے کر آیا تھا کہ میں سید احمد اور اسماعیل کو زندہ گرفتار کر کے رنجیت سنگھ کے دربار میں لاؤں گا، شکست فاش کھا کر بے نیل مرام لاہور واپس چلا گیا۔

اس کے بعد مجاہدین اسلام نے ایک غدار مسلمان خادی خان کے قلعہ ہنڈ پر حملہ کر کے ان غداروں کے خاتمہ کے بعد قلعہ پر قبضہ کر لیا۔ حاکم پشاور سلطان محمد خان نے سکھوں کے اکسانے پر مجاہدین کے مقابلہ کے لیے پانچ ہزار کی فوج ایک انگریز افسر کیول صاحب کو دے کر روانہ کیا۔ مولانا شہید علیہ الرحمہ کے ساتھ صرف ساٹھ آدمی تھے۔ ظاہر بات ہے کہ ساتھ آدمیوں کا مقابلہ پانچ ہزار سے کیا معنی رکھتا ہے؟ اس لیے مجبوراً‌ صلح کی گئی کہ ان سے اور ان کے ساتھیوں سے کوئی تعرض نہ ہوگا۔ انگریز افسر نے صلح نامہ پر دستخط کر دیے۔ مگر سلطان محمد خان نے غداری کی اور ان کو قید کر کے پشاور پہنچا دیا۔ اس کی اس غداری پر شرمسار ہو کر انگریز افسر اس کی ملازمت سے مستعفی ہو گیا۔

ان بے چاروں کو قلعہ میں بند کر دیا گیا۔ ایک دن سلطان محمد خان نے حضرت مولانا شہید علیہ الرحمہ کو سامنے لا کر پوچھا، جانتے ہو اب تمہارے ساتھ کیا سلوک ہو گا؟ آپ نے بے باکانہ جواب دیا، تیری شقاوت قلبی اور بے ایمانی سے یہی توقع ہے کہ ہمیں جام شہادت نصیب ہوگا جس کے ہم مدت سے متلاشی ہیں اور بڑے شوق سے اس کا انتظار کرتے ہیں۔ بقول شخصے

اتنا پیغام درد کا کہنا
جب صبا کوئے یار سے گزرے
کون سی رات آپ آئیں گے
دن بہت انتظار میں گزے

اس کے بعد ان کو پھر قلعہ میں بند کر دیا گیا اور سنگین پہرہ لگا دیا گیا۔ مگر ان عالی ہمت لوگوں نے ایک دن موقع پا کر سب قلعہ کی دیوار پر چڑھ گئے اور اوپر سے اندھیرے میں چھلانگیں لگا لگا کر دشمن میں خوف و ہراس پھیلا کر پنج تار پہنچے۔ حضرت سید احمد صاحب شہید رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے ساتھیوں کو اپنے ان ساتھیوں کی قید پر بے انتہا غمی تھی، مگر اس کے بعد اچانک ان کے آجانے سے خوشی کی بھی کوئی حد نہ تھی۔

اس کے بعد ریاست انب کے غدار پائندی خان سے مقابلہ ہوا جس نے پہلے یہ عہد کیا تھا کہ میں اپنی پوری ریاست میں قرآن و حدیث کے سارے احکام نافذ کروں گا مگر بعد کو غداری کر کے مجاہدین کے خلاف دو ہزار فوج لے کر حملہ آور ہوا، اور ایسی مار کھائی کہ دریائے اباسین کو عبور کر کے خدا جانے کہاں جا نکلا اور اللہ تبارک و تعالیٰ کے فضل و کرم سے خاصا رقبہ حضرت سید صاحب علیہ الرحمہ کی زیر حکومت آگیا جس میں قرآن و سنت کے مطابق احکام جاری کر دیے گئے۔ مقدمات و تنازعات کا فیصلہ قانونِ شرع کے مطابق ہونے لگا اور شریعت مطہرہ کے سامنے لوگوں کے سر جھک گئے اور محکمہ احتساب قائم کر دیا گیا۔ اس کا ایسا اثر ہوا کہ کوسوں تک ڈھونڈھنے سے بھی کوئی بے نماز نہیں ملتا تھا۔ ان علاقوں میں پنج تار، قلعہ لنڈھ اور اس کے تمام اضلاع زیدہ، تربیل، پھولڑہ وغیرہ وسیع اور سرسبز علاقے شامل تھے۔

رنجیت سنگھ کو اس کا سخت صدمہ ہو۔ اس نے مسلمانوں کو رشوتیں دے دے کر ان کو مجاہدین اسلام کے خلاف کیا اور پھر چار ہزار تازہ دم پیدل فوج اور ایک ہزار سوار اور چار توپ خانے اور بہت سا سامان حرب دے کر چتربائی پر حملہ کرنے کے لیے روانہ کیا۔ حضرت مولانا شہید علیہ الرحمہ ایک ہزار مجاہدین اسلام اور دو توپیں لے کر ان کے مقابلہ کے لیے نکلے اور ان کو مار بھگایا۔ سکھوں کی ہمتیں پست ہو گئیں، وہ اسماعیل کا نام سن کر ہی کانپ جاتے تھے اور یہ ایمانی رعب تھا جو کفار پر اللہ تعالیٰ نے طاری کر دیا۔

اس کے بعد آخری جہاد کے لیے حضرت سید احمد شہید اور حضرت مولانا شہید علیہما الرحمہ نے کشمیر میں سکھوں کا زور توڑنے کے لیے بالا کوٹ کا رخ کیا۔ رنجیت سنگھ نے شیر سنگھ کی سرکردگی میں سکھوں کی بیس ہزار فوج دے کر ان کے تعاقب کے لیے روانہ کیا اور یہ مجاہد بالاکوٹ ابھی پہنچے ہی تھے کہ سکھوں کا لشکر بھی آدھمکا۔ آٹھ نو سو مجاہدین کا بیس ہزار کے لشکر سے اور وہ بھی بے سروسامانی کی حالت میں کیا مقابلہ ہو سکتا تھا؟ لیکن بایں ہمہ جو حضرات جام شہادت کے لیے بے قرار تھے وہ ٹکر لیے بغیر کب رک سکتے تھے؟ خوب معرکہ کا جہاد ہوا اور بالآخر حضرت مولانا شہید علیہ الرحمہ نے (حضرت سید احمد شہید علیہ الرحمہ کے بعد) ۲۴ ذی قعدہ ۱۲۴۶ھ بمطابق ۱۸۳۱ء بوقت ظہر بالاکوٹ کے مقام پر سکھوں کے ہاتھوں جام شہادت نوش کیا۔ جس کی مدت سے ان کو آرزو تھی اور اپنے مالکِ حقیقی سے جا ملے۔

بالاکوٹ میں دریا کے کنارے پر جامع مسجد کے قریب مختصر سے قبرستان میں حضرت سید احمد شہید علیہ الرحمہ کی قبر ہے (اور عوام میں یہ بھی مشہور ہے کہ حضرت سید صاحبؒ کا باقی جسم اطہر تو یہاں مدفون ہے لیکن سر مبارک گڑھی حبیب اللہ خان میں دریا کے کنارے پر مدفون ہے۔ جہاں ایک مرقد پر اب بھی یہ لکھا ہے والعلم عند اللہ تعالیٰ۔

اور بالاکوٹ کے عقب میں شمالی مغربی قبرستان میں ایک پہاڑی نالے کے قریب بلند ٹیلہ پر مجاہد عظیم حضرت مولانا شاہ محمد اسماعیل شہید فی سبیل اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی قبر انور ہے۔

اللہ تبارک و تعالیٰ کی بے شمار و بے حساب رحمتیں ان پر (اور ان کے مخلص ساتھیوں پر) نازل ہوں جن کی ساری زندگی تحریری و تقریری و عملی جہاد میں گزری۔ شرک و بدعت کے مٹانے اور توحید و سنت کے احیاء میں ان حضرات نے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ جن کے ان مجاہدانہ کارناموں سے پورے ہندوستان و افغانستان اور قبائلی علاقوں میں توحید و سنت کی شمع آج بھی بحمد اللہ تعالیٰ روشن ہے۔ گو خود تو وہ قبر میں آرام فرما رہے ہیں مگر ان کا بہترین کارنامہ تاقیامت زندہ رہے گا۔ مگر صد افسوس کہ جو کچھ وہ چاہتے تھے وہ مقصد بتمامہ پورا نہیں ہو سکا۔ اور وہ اپنی آرزوئیں اور حسرتیں دل ہی میں لے کر چلے گئے۔ آہ ؎

لحد میں کون کہتا ہے اکیلا نعش حاتم کو
ہزاروں حسرتیں مدفون ہیں دریا کے پہلو میں

آخری مغل تاجدار، بہادر شاہ ثانی

شاہکار اسلامی انسائیکلوپیڈیا

(۲۷ شعبان ۱۱۸۹ھ / ۲۴ اکتوبر ۱۷۷۵ء — ۱۳ جمادی الاولیٰ ۱۲۷۹ھ / ۷ نومبر ۱۸۶۲ء) ابو المظفر سراج الدین محمد بہادر شاہ غازی، خاندانِ مغلیہ کا آخری بادشاہ اور اردو کا ایک بہترین شاعر اکبر شاہ ثانی کا دوسرا بیٹا جو لال بائی کے بطن سے تھا۔ اس کا سلسلہ نسب گیارہویں پشت پر شہنشاہ بابر سے ملتا ہے۔ دہلی میں پیدا ہوا۔

۱۱۵۲ھ / ۱۸۳۷ء کو قلعہ دہلی میں اس کی تخت نشینی کی رسم ادا کی گئی۔ اس کا اقتدار صرف لال قلعے یا قلعہ معلی دہلی کی چار دیواری کے اندر تک محدود تھا اور اس کی حیثیت ایسٹ انڈیا کمپنی کے ایک وظیفہ خوار کی سی تھی۔ کمپنی سے اسے ایک لاکھ روپیہ ماہانہ بطور وظیفہ ملتا تھا۔ اور دوسری جاگیروں اور شہر کے چند مکانات سے بادشاہ کی آمدنی ڈیڑھ لاکھ روپے سالانہ تھی۔

بعض معاملات کی بناء پر جن میں ولی عہدی کا بھی ایک اہم معاملہ تھا، بہادر شاہ اور انگریزوں کے درمیان عداوت پیدا ہو گئی تھی۔ تقریباً اسی زمانے میں ۱۱ مئی ۱۸۵۷ء میں میرٹھ کی ہندوستانی فوج نے انگریزوں سے نجات حاصل کرنے کے لیے عَلمِ آزادی بلند کیا اور انگریز افسروں کو تہ تیغ کر کے دہلی چلے آئے۔ یہاں آکر ان حریت پسندوں نے بہادر شاہ کو اپنا سربراہ بنا لیا اور انگریز کے خلاف معرکہ آراء ہونے کی تیاری کرنے لگے۔

بہادر شاہ چونکہ انگریزوں سے پہلے ہی نالاں تھے اور وہ یہ بھی سمجھتا تھا کہ اس کے انتقال کے بعد برائے نام بادشاہت کا عہد نامہ بھی ختم ہو جائے گا۔ چنانچہ اس نے مغلیہ خاندان کی عظمت پارینہ کے دوبارہ احیاء کے لیے اور ہندوستان کو غیر ملکیوں کے استحصال سے بچانے کے لیے ان حریت پسندوں کی قیادت کو قبول کر لیا اور ہندوستان کے تمام روساء اور والیان ریاست کو غیر ملکی حکمرانوں کو ملک بدر کرنے کے لیے متحدہ اقدامات کرنے کے لیے لکھا۔

بادشاہ کی اس دعوت پر بعض زمینداروں اور رئیسوں نے لبیک کہی اور بعض نے انگریزوں کا ساتھ دیا۔ اگرچہ بہادر شاہ کی بادشاہت کا دہلی میں اعلان کیا جا چکا تھا لیکن پھر بھی حریت پسند لشکریوں پر بادشاہ کا مکمل قبضہ نہیں تھا اور یہ فوج نوجوان شہزادوں اور بالخصوص مرزا مغل کے زیر اثر تھی۔ دہلی میں حریت پسندوں نے انگریزوں کا بڑی بہادری کے ساتھ مقابلہ کیا۔ غدارانِ وطن و قوم کے سبب وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ رہے۔

۶ ستمبر کو انگریزی فوج حریت پسندوں کو شکست دینے کے بعد دہلی پر قابض ہو گئی۔ مسلمان سپہ دار بخت خان بھاگ کھڑا ہوا اور بہادر شاہ نے مرزا الٰہی بخش کے بہکانے پر (جو شاہی خاندان ہی کا ایک فرد تھا لیکن درپردہ انگریزوں سے ملا ہوا تھا) بخت خان کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا۔ کیونکہ الٰہی بخش کے ساتھ مل کر انگریزوں نے یہ منصوبہ بنایا تھا کہ کسی طرح جلد سے جلد بہادر شاہ کو گرفتار کر لیا جائے تاکہ جنگِ آزادی کا خاتمہ ہو سکے۔ ورنہ بخت خان کی معیت میں بادشاہ دیر تک آزادی کی جنگ جاری رکھ سکتا تھا۔ چنانچہ بہادر شاہ نے مقبرہ ہمایوں میں پناہ لی اور انگریزوں نے اس کی اطلاع پاتے ہی مقبرے کا محاصرہ کر لیا۔

۲۲ ستمبر کو بہادر شاہ نے جان بخشی کے وعدے پر اپنے آپ کو انگریزوں کے حوالے کر دیا۔ انگریز میجر ہڈسن نے سوائے جوان بخت شہزادے اور زینت محل شہزادی کے باقی سب شہزادوں کو قتل کرا دیا اور سرجان لارنس نے بادشاہ کو ایک سال تک ذلت و خواری کے ساتھ قید رکھا۔ ۱۸۵۸ء میں لارنس نے بادشاہ پر بغاوت کا جھوٹا مقدمہ چلایا اور بالآخر ۷ اکتوبر ۱۸۵۸ء میں بہادر شاہ کو قید کر کے رنگون بھیجوا دیا گیا۔ بادشاہ کے ساتھ اس کی دو بیویاں، شہزادہ جواں بخت اور چند متعلقین کو رہنے کی اجازت دی گئی۔ بہادر شاہ نے رنگون ہی میں انتقال کیا اور وہیں دفن ہوا۔

مورخین اس بات پر متفق ہیں کہ مغل بادشاہوں میں بہادر شاہ زیادہ مہذب، شائستہ اور نیک تھا۔ بقول چارلس مٹکاف، وہ شہزادوں میں سب سے زیادہ قابل احترام اور سب سے زیادہ لائق شہزادہ تھا۔ اس کے دربار کی تہذیب سارے ملک کی تہذیب کے لیے ایک نمونہ سمجھی جاتی تھی۔ چونکہ بہادر شاہ میں تعصب نام کو نہ تھا، اس وجہ سے وہ ہر قوم و ملت کے لوگوں میں مقبول تھا۔

بہادر شاہ ایک اچھا شاعر تھا۔ تخلص ظفر تھا۔ محمد ابراہیم ذوق سے اصلاح لیتا تھا۔ مرزا غالب اس کے درباریوں میں سے تھے۔ اردو ادب میں بہادر شاہ ظفر کو ایک اہم مقام حاصل ہے۔ بہادر شاہ کا کلام بڑا پرسوز ہے اور خاص طور پر جو غزلیں اس نے اپنی جلا وطنی اور قید کے زمانے میں کہی ہیں بہت زیادہ پُردرد ہیں۔ شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ بہادر شاہ اعلیٰ درجے کا خطاط اور ماہر موسیقی بھی تھا۔ عمارتوں کی تعمیر اور باغوں کی ترتیب کے بارے میں اس کا ذوق سلجھا ہوا تھا۔ سارا دن لکھنے پڑھنے اور تلاوت کلام پاک میں گزارتا تھا۔ اس کی تصانیف میں ’’شرح گلستان‘‘ اور اردو کے چار دیوان بہت زیادہ مقبول ہیں۔

(ماخوذ از شاہکار اسلامی انسائیکلو پیڈیا)


فرائضی تحریک اور حاجی شریعت اللہؒ

بنگال میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے خلاف پہلی عوامی مزاحمتی تحریک

شاہکار اسلامی انسائیکلوپیڈیا

یہ بنگال کے مسلمانوں کا ایک فرقہ تھا۔ حاجی شریعت اللہ اس فرقہ کے بانی تھے۔ حاجی شریعت اللہ ۱۷۸۲ء میں ضلع فرید پوری کے ایک گاؤں بندر کھولہ میں پیدا ہوئے۔ وہ اٹھارہ برس کی عمر میں حج بیت اللہ کے لیے گئے اور وہاں شیخ طاہر السنبل الشافعی المکی سے وابستہ ہو کر تقریباً بیس برس تک اکتسابِ علم کرتے رہے۔

ڈاکٹر ٹیلر کے بیان کے مطابق حاجی صاحب قیام مکہ کے دوران وہابی تحریک سے کافی متاثر ہوئے۔ ۱۸۲۰ء میں وطن واپسی پر وہ ایک عالم اور مناظر کی حیثیت سے معروف ہو چکے تھے۔ گھر واپسی پر راستے میں ان کے قافلے کو ڈاکوؤں نے لوٹ لیا۔ اس لوٹ مار میں حاجی صاحب کی کتب اور تبرکات بھی ضائع ہو گئے۔ حاجی صاحب اس حادثہ سے دل برداشتہ ہو کر ان کے گروہ میں شامل ہو گئے۔ حاجی صاحب کی دینداری اور بلند کرداری کو دیکھ کر ڈاکوؤں کا گروہ تائب ہو کر ان کا پیرو ہو گیا۔

بنگال کے مسلمانوں کی حالت انگریز تاجروں اور ہندو زمینداروں کے ہاتھوں ناگفتہ بہ تھی۔ مسلمان ہندو تہذیب کے بیشتر اثرات قبول کر چکے تھے۔ حاجی صاحب نے خاموشی سے دیہات میں تبلیغ شروع کر دی اور مسلمانوں کو یہ تعلیم دی کہ وہ غیر اسلامی رسم و رواج ترک کر دیں۔ خدائے واحد کی بندگی کریں۔ آغاز میں حاجی صاحب کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن آہستہ آہستہ حاجی صاحب کے عالی کردار اور سادگی تعلیم سے متاثر ہو کر ڈھاکہ فرید پور اور باریسال کے دیہاتی مسلمان آپ کے ہمنوا بن گئے۔ کیونکہ اس تحریک میں فرائضِ دین کی پابندی پر زور دیا جاتا تھا اس لیے یہ ’’تحریکِ فرائضی‘‘ کے نام سے مشہور ہوئی۔ حاجی صاحب نے پیر اور مرید کی اصطلاحوں کو ترک کر کے استاد اور شاگرد کی اصطلاحیں جاری کیں۔ حاجی صاحب نے ہاتھ پر بیعت لینے کی رسم بھی ترک کر دی۔ وہ لوگوں کو گناہوں سے توبہ کی ترغیب دیتے اور نیکوکاری کی تعلیم دیتے تھے۔ اس بناء پر یہ لوگ ’’توبار‘‘ (توبہ کرنے والے) بھی کہلاتے تھے۔

تحریک کی مقبولیت اور لوگوں میں بھائی چارہ ہونے کے باعث ان میں جرات پیدا ہو گئی اور انہوں نے ہندوانہ عقائد و رسوم سے پہلو تہی شروع کر دی۔ مسلمانوں نے ہندوؤں کی طرف سے مقررہ کردہ درگا پوجا ٹیکس دینے سے صاف انکار کر دیا اور بیگار دینا بھی بند کر دیا۔ ان کی بہو بیٹیوں نے زمینداروں کے گھروں میں کام کاج چھوڑ دیا۔ اس سے ان میں منافرت اور غصہ پھیلنے لگا۔ انگریزوں کے مسلمانوں پر مظالم کی وجہ سے اس زمانے میں حاجی شریعت اللہ نے ہندوستان کو دارالحرب قرار دے کر مسلمانوں کو عیدین اور جمعہ کی نماز سے مستثنیٰ قرار دے دیا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی، ہندو اور زمیندار اس تحریک سے بہت خوفزدہ تھے۔ چھوٹے چھوٹے فسادات نے بڑھ کر ۱۸۳۱ء میں باقاعدہ شدت اختیار کر لی۔ مسلمانوں پر مقدمات قائم ہونے لگے۔ خود حاجی صاحب پر مقدمہ چلا مگر عدمِ ثبوت کی بناء پر سزا سے بچ گئے۔

حاجی صاحب کا کردار بے داغ تھا۔ وہ مخلص اور دیندار تھے۔ اسی لیے لوگ ان کو باپ کا درجہ دیتے تھے۔ بنگالی مسلمانوں خصوصاً‌ کسانوں اور کاشت کاروں کے دلوں پر آپ کا انمٹ اثر تھا جس نے ان میں بیداری اور ولولہ پیدا کر دیا تھا۔

۱۸۴۰ء میں حاجی صاحب کی وفات کے بعد اس فرقے کی قیادت ان کے بیٹے نے سنبھال لی جو دودھو میاں کے نام سے مشہور ہوئے۔ ملک کے سیاسی اور معاشی بحران سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے اپنا دائرہ کار پورے بنگال میں پھیلا دیا اور باقاعدہ بیعت لینی شروع کر دی۔ انہوں نے بنگال کو متعدد حلقوں میں تقسیم کر کے ان پر خلیفے مقرر کیے جو مقامی مریدوں کے باہمی تنازعات کا فیصلہ کرتے تھے اور دودھو میاں کو ہر وقت حالات سے باخبر رکھا کرتے تھے۔ خلیفہ مریدوں سے بیت المال کے لیے چندہ جمع کرتے جو بالعموم جنس کی شکل میں ہوتا۔ ہر مرید روزانہ ایک چٹکی چاول جمع کر کے رکھتا تھا۔ خلیفہ کے آدمی یہ امداد جمع کرتے تھے جسے ضرورت مندوں اور مسافروں میں تقسیم کر دیا جاتا۔ لوگ ٹیکسوں سے بچنے کے لیے جوق در جوق اس تحریک میں شامل ہونے لگے۔

اس زمانے کے سپرنٹنڈنٹ پولیس ویمپر کے بیان کے مطابق اس کے گرد کم از کم اَسی ہزار سرگرم کارکن تھے۔ اس تحریک کو ختم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔ دودھو میاں پر ۱۸۳۸ء میں لوٹ مار، ۱۸۴۱ء میں قتل اور ۱۸۴۴ء میں اغواء اور لوٹ مار کے مقدمات بنائے گئے مگر کسی نے ان کے خلاف گواہی نہ دی۔ اس لیے وہ ہر مقدمے سے بری ہو جاتے۔

۱۸۵۷ء میں تحریک آزادی کے دوران ان کو علی پور اور پھر فرید پور میں نظر بند کر دیا گیا۔ ۱۸۵۹ء میں جب وہ رہا ہوئے تو شدید بیمار تھے۔ اور ۲۴ ستمبر ۱۸۶۲ء کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ ان کے بعد تحریک کو ان کے تین بیٹوں میں سے کوئی صحیح جانشین نہ مل سکا جس کی بناء پر رفتہ رفتہ یہ تحریک ختم ہونے لگی۔ لیکن فرائضی تحریک نے بنگال کے مسلمانوں میں بیداری، دینی حمیت اور اپنے معاشرتی، معاشی اور سیاسی حقوق کے لیے جدوجہد کا جو جذبہ پیدا کیا، اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

(ماخوذ از شاہکار اسلامی انسائیکلوپیڈیا)


فرنگی اقتدار کے بعد متحدہ ہندوستان دارالحرب ہے: حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کا ایک اہم فتویٰ

حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ

سوال:

حضرات علمائے کرام اور مفتیان اسلام کی خدمت میں عرض ہے کہ بہت سے احکامِ شرعیہ اس پر موقوف ہیں کہ دارالاسلام اور دارالحرب میں امتیاز کیا جاوے جیسا کہ حضرات علماء پر مخفی نہیں۔

پس اس مسئلہ میں حضرات علمائے عصر کیا فرماتے ہیں کہ بلادِ ہندوستان جو آج کل ہر طرح سے نصاریٰ کے تسلط و حکومت میں ہیں، احکامِ شرعیہ میں ان کو دارالحرب قرار دیا جائے گا یا دارالاسلام؟ بینوا توجروا

الجواب:

پہلے یہ بات سمجھ لینا چاہیے کہ کسی ملک اور کسی شہر کے دارالاسلام یا دارالحرب ہونے کا مدار اس پر ہے کہ اس پر غلبہ اہلِ اسلام کا ہے یا کفار کا۔ بناءً‌ علیہ جو شہر مسلمانوں کے زیر حکومت ہے وہ دارالاسلام کہلائے گا جیسا کہ جامع الرموز میں ہے:

دار الاسلام ما يجرى فيہ حكم امام المسلمين وكانوا فيہ آمنین و دارالحرب ما خافوا فيہ من من الكافرين (انتہی)
’’دارالاسلام وہ ملک ہے جس میں مسلمانوں کے امام کا حکم چلتا ہو، اور مسلمان اس میں مامون ہوں۔ اور دارالحرب وہ ہے جس میں مسلمان کفار سے اپنے جان و مال کا خوف رکھتے ہوں۔‘‘

اور در مختار میں ہے:

سئل قارى الھدایۃ عن البحر الملح امن دارالحرب او الاسلام اجاب انہ لیس من احد القبیلتین لانہ لا قھر لا حد علیہ (انتہی)
’’قاری الہدایہ سے سمندر کے متعلق دریافت کیا گیا کہ وہ دارالحرب میں داخل ہے یا دار الاسلام میں، تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ دونوں میں سے کسی میں بھی داخل نہیں کیونکہ اس پر کسی کا (مکمل) قبضہ نہیں ہے۔‘‘

اس عبارت کے نقل کرنے سے ہماری غرض یہ ہے کہ کسی ملک کا دارالاسلام یا دارالحرب ہونے کا مدار صرف اسلام یا کفر کے غلبہ پر ہے۔ اور اگرچہ سمندر کے بارے میں قول راجح یہی ہے کہ وہ دارالحرب میں داخل ہے، لیکن ہر ایسے مقام کو جو اہلِ اسلام و کفار دونوں کا (برابر درجہ میں) مقہور ہو، دارالاسلام ہی کہا جائے گا۔ کیونکہ قاعدہ مشہور ہے ’’الاسلام یعلو ولا یعلیٰ‘‘ (یعنی اسلام غالب رہتا ہے مغلوب نہیں ہوتا) اسی کا مقتضی ہے۔ مگر اس مقام کو دارالاسلام اسی شرطِ مذکور کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ بعض حکامِ اسلام کا قبضہ اور تسلط اس جگہ ہو۔ ورنہ محض اس بناء پر کہ اس ملک میں مسلمان آباد ہیں یا وہ کفار کی اجازت سے شعائرِ اسلامیہ کو ادا کر سکتے ہیں، اس ملک کو دارالاسلام نہیں کہہ سکتے۔ کیونکہ کسی ملک میں محض مسلمانوں کے آباد ہونے اور باذنِ کفار شعائرِ اسلامیہ کو ادا کر سکنے کا کوئی اعتبار نہیں۔ اسی طرح کسی ملک میں کفار کا آباد ہونا یا شعائرِ کفر کا مسلمانوں کی اجازت یا ان کی غفلت سے وہاں ظاہر کرنا اس ملک کے دارالاسلام ہونے میں کوئی فرق پیدا نہیں کرتا۔ اس لیے کہ ان دونوں صورتوں میں غلبہ ان لوگوں کا نہیں پایا جاتا، اور مدارِ حکم غلبہ پر ہی ہے، محض وجود یا ظہور پر نہیں۔

یہی وجہ ہے کہ کفار اہلِ ذمہ دارالاسلام میں مسلمانوں کی اجازت سے آباد رہتے ہیں اور اپنے شعائر کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ مگر دارالاسلام اپنے حال پر دارالاسلام ہی رہتا ہے۔ اسی طرح مسلمان دارالحرب میں جاتے ہیں، اور اپنے شعائر کو بھی ظاہر کرتے ہیں۔ مگر صرف اتنی بات سے وہ ملک دارالحرب ہونے سے خارج نہیں ہو جاتا۔ کیا آپ نہیں دیکھتے کہ فخرِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ سے پہلے جب کہ مکہ مکرمہ دارالحرب تھا، عمرہ قضا میں صحابہ کرامؓ کی ایک بڑی جماعت کے ساتھ مکہ معظمہ تشریف لے گئے اور جماعت و نماز و عمرہ وغیرہ شعائرِ اسلام کو اعلام کے ساتھ ادا فرمایا اور اتنی بڑی جماعت آپ کے ساتھ تھی کہ کفار کو مقہور و مغلوب کر سکتی تھی۔

چنانچہ (عمرہ قضا سے پہلے) غزوہ حدیبیہ میں اس قدر لشکر کے ساتھ یہ عزم ہو چکا تھا کہ مکہ پر چڑھائی کر دی جائے۔ (مگر پھر جب واقعات کی تحقیق سے حضرت عثمان غنیؓ کے قتل کی خبر غلط ثابت ہوئی تو اس عزم کو چھوڑ دیا گیا۔ الغرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اس قدر لشکر اپنے ساتھ رکھتے تھے جو کفارِ مکہ کو مغلوب کر سکتا تھا) مگر چونکہ یہ (مکہ کا داخلہ) اور شعائرِ اسلام کا اظہار باذنِ کفار تھا اس لیے ان تین روز میں مکہ معظمہ کو بحکم دارالاسلام نہیں سمجھا گیا بلکہ وہ بدستور دارالحرب رہا۔ کیونکہ یہ قیامِ مکہ اور اظہارِ اسلام اجازت کی بناء پر تھا، غلبہ کی بناء پر نہ تھا۔

خلاصہ یہ ہے کہ قاعدہ کلیہ اس بات میں یہ ہے کہ دارالحرب وہ ہے جو مقہورِ کفار ہو، اور دارالاسلام وہ جو مقہورِ اہلِ اسلام ہو۔ (مثلاً‌ دارالکفار میں کفار یا دارالحرب میں مسلمان بلاغلبہ و قہر آباد ہوں)

اور جس ملک پر دونوں فریق (اہلِ اسلام اور کفار) کا تسلط ہو وہ بھی دارالاسلام ہی سمجھا جائے گا۔ اس قاعدہ اور اصل کلی کو اچھی طرح ذہن نشین کر لینا چاہیے۔ کیونکہ تمام مسائل متعلقہ اس سے نکلتے ہیں اور اس باب کی تمام جزئیات اسی اصل کلی پر دائر ہیں۔

دار الحرب پر مسلمانوں کا قبضہ

اس کے بعد ایک اور بات سن لینا چاہیے، وہ یہ کہ جو ملک اصل سے دارالحرب و دارالکفر تھا، پھر مسلمانوں نے اس پر غلبہ پا لیا اور احکامِ اسلامی کو وہاں جاری کر دیا، اس کے متعلق تمام علماء کا اتفاق ہے کہ وہ ملک اب دارالاسلام ہو گیا۔ کیونکہ اس میں مسلمانوں کا غلبہ اور قہر متحقق ہو گیا۔ اور اگرچہ کسی حیثیت سے کفارہ کا بھی کچھ غلبہ وہاں باقی ہو، تاہم بحکم ’’الاسلام يعلو ولا یعلیٰ‘‘ یہ ملک باتفاق دارالاسلام ہو گیا جیسا کہ پہلے اس کو واضح کر دیا گیا ہے۔

اور اس کے بعد یہ ظاہر کر دینا ضروری ہے کہ اگر مسلمانوں کا داخلہ اور احکامِ اسلامیہ کا اجراء اس ملک میں غلبہ کے ساتھ نہ ہو تو اس ملک کے دارالحرب ہونے میں کوئی فرق پیدا نہ ہوگا۔ ورنہ جرمن اور روس اور فرانس اور چین وغیرہ جو نصاریٰ یا بت پرستوں کے قبضہ میں ہیں، سب کے سب دارالاسلام کہلانے کے مستحق ہو جائیں گے۔ اور ساری دنیا میں کہیں دارالحرب کا نام و نشان نہ رہے گا۔ کیونکہ تمام ممالک کفار میں مسلمان باذنِ کفار احکامِ اسلامیہ کو ادا کرتے ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ دنیا کو بحالت موجودہ دارالاسلام قرار دینا بالکل باطل ہے۔

دار الاسلام پر کفار کا قبضہ

اور جو ملک یا شہر دارالاسلام تھا پھر سب پر کفار نے غلبہ کر لیا، اگر وہاں سے اسلام کا غلبہ بالکل زائل ہو گیا تو وہ ملک اب دارالحرب کے حکم میں ہو گیا۔ اور اگر کفار کا غلبہ تو ہوا مگر بعض حیثیات سے اس میں اسلام کا غلبہ بھی باقی ہے، تو اس کو اب بھی دارالاسلام ہی کہا جائے گا نہ کہ دارالحرب۔ اتنی بات پر سب ائمہ کا اتفاق ہے۔

البتہ اس میں کلام ہے کہ غلبۂ اسلام کے بالکل زائل ہو جانے کی حد کیا ہے۔ سو اس میں صاحبین یعنی امام ابویوسف و محمد رحمۃ اللہ علیہما فرماتے ہیں کہ جب کفار نے علی الاعلان احکامِ کفر کو جاری کر دیا، اور مسلمان اپنے غلبہ و قدرت سے بلا اجازت کفار احکامِ اسلام کو جاری نہیں کر سکتے تو غلبۂ اسلام بالکل مرتفع ہو گیا اور یہ ملک بحکم دارالحرب ہو گیا۔

البتہ اگر دونوں فریق یعنی اہلِ اسلام و کفار اپنے اپنے احکام کو اپنے اپنے غلبہ اور قدر سے علی الاعلان جاری کرتے ہوں تو ابھی تک اس سے غلبۂ اسلام بالکلیہ زائل نہیں ہوا اور اس ملک کو دارالحرب نہیں کہہ سکتے۔ اور جب کہ کفار اپنے احکام کو غلبہ و تسلط کے ساتھ علی الاعلان جاری کرتے ہوں اور مسلمان بلا ان کی اجازت کے اپنے احکام علی الاعلان جاری رکھنے پر قدرت نہ رکھیں تو وہاں غلبۂ اسلام بالکل مرتفع اور زائل ہو گیا۔

اور قیاس اسی کا مقتضی ہے جو حضرات صاحبین فرماتے ہیں، کیونکہ جب کفار اس طرح مسلط ہو گئے کہ احکامِ کفر اپنے غلبہ سے علی الاعلان جاری کرتے ہیں، اور اہلِ اسلام اس قدر عاجز و مغلوب ہو گئے کہ اپنے احکام جاری نہیں کر سکتے، اور احکامِ کفر کو جو کہ اسلام کے لیے عار اور ننگ ہیں دور نہیں کر سکتے، تو اب کون سا درجہ اسلام کا باقی ہے کہ اس ملک کو دارالاسلام کہا جائے؟ بلکہ اس صورت میں تسلط اور غلبۂ کفار انتہا کو پہنچ گیا اور یہ ملک بالفعل دارالحرب ہو گیا۔

آئندہ جو کچھ ہونا مقدر ہے وہ ہو رہے گا۔ مگر اس وقت اس کے دارالحرب اور مقہورِ کفار ہونے میں کوئی دقیقہ باقی نہیں رہا اور قدیم دارالحرب کی طرح کفار کا مغلوب و مقہور ہو گیا، جیسا کہ بالکل ظاہر ہے۔ لیکن امامِ اعظم ابوحنیفہؒ نے نظرِ دقیق سے بطور استحسان کے یہ فرمایا ہے کہ جب تک غلبۂ اسلام کے آثار میں سے کوئی چیز پائی جاتی ہے یا استیلاءِ کفار میں ایسا ضعف محسوس ہو کہ مسلمانوں پر اس کا زائل کر دینا مشکل نہ ہو، اس وقت تک اس ملک پر دارالکفر ہونے کا حکم نہیں کرنا چاہیے۔ اسی بناء پر امام اعظمؒ نے اس ملک کے دارالحرب ہونے کے لیے دو شرائط زائد فرما دیں:

شرطِ اول

یہ کہ جس دارالاسلام پر کفار نے تسلط کیا ہے، وہ درالحرب کے ساتھ متصل ہو۔ اس کے اور دارالحرب کے درمیان کوئی ملک یا شہر دارالاسلام حائل نہ ہو۔ کیونکہ اس طرح دارالحرب کے ساتھ اتصال اور دارالاسلام سے انقطاع کی وجہ سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اب یہ ملک پوری طرح سے کفار کے قبضہ میں چلا گیا اور تسلط اور غلبہ ان کا مستحکم ہو گیا، اور ان کے ہاتھوں سے چھڑانا اس کا مشکل ہو گیا۔

اور یہ مسئلہ اس کی نظیر ہے کہ اگر کفار مسلمانوں کے مال پر استیلا و تسلط کر لیں تو اس کی دو صورتیں ہیں:

ایک یہ کہ اس مال کو اپنے مُلک میں لے جا کر مکمل قبضہ کریں۔ اس صورت میں تو یہ مال ان کی مِلک میں داخل سمجھا جائے گا۔

اور دوسری صورت یہ ہے کہ ہنوز اس مال کو اپنے مُلک میں نہیں لے گئے اور احراز و قبضہ مکمل نہیں ہوا تو اس وقت تک اس کے مالک کی مِلک اس سے منقطع نہیں ہوئی، اور کفار کی مِلک میں داخل نہیں ہوا۔ جیسا کہ تمام کتبِ فقہ میں یہ مسئلہ طے شدہ ہے۔ ہدایہ میں ہے:

واذا غلبوا علیٰ اموالنا واحرزوھا بدارھم ملكوھا (انتہی)
’’اور جب کفار ہمارے اموال پر غالب آجائیں اور ان کو اپنے ملک میں لے جائیں تو وہ ان اموال کے مالک ہو جاتے ہیں۔‘‘

اور فرمایا ہے :

غیران الاستیلاء لا یتحقق الا بالاحراز بالدار لانہ عبارۃ عن الاقتدار علی المحل حالا ومالا۔
’’مگر استیلاءِ کفار اس وقت تک متحقق نہیں ہوتا جب تک وہ ان اموال کو اپنے مُلک میں نہ لے جائیں کیونکہ استیلاء کی حقیقت یہ ہے کہ کسی محل پر قبضہ بالفعل بھی ہو اور (بظاہر اسباب) وہ قبضہ باقی بھی رہ سکے۔‘‘

پس اسی طرح اگر کسی زمین یا کسی شہر پر کفار کا استیلاء و مکمل تسلط اس طرح ہو گیا کہ اس کا احراز دارالحرب کے ساتھ ہو گیا، اور احراز کی صورت زمین کے بارہ میں یہی ہو سکتی ہے کہ اس کا اتصال دارالحرب کے ساتھ ہو جاوے اور دارالاسلام سے منقطع ہو جاوے، تو اس صورت میں وہ مُلک بالکلیہ مقہورِ کفار ہو گیا۔ اور جب تک ایسا نہ ہو تو اس پر استیلاءِ اہلِ اسلام باقی سمجھا جائے گا۔ اگرچہ استیلاء و تسلط ضعیف ہی ہو اور بحکم ’’الاسلام یعلو ولا یعلیٰ‘‘ اس کا مقتضی یہ ہو گا کہ یہ ملک دارالاسلام باقی رہے۔

پس خلاصہ اس شرط کا بھی وہی غلبۂ کفار اور مغلوبیتِ اہلِ اسلام ہے جو ابتداء میں بطور قاعدہ کلیہ کے بیان کر دیا گیا ہے۔

شرطِ دوم

امام اعظمؒ کے نزدیک یہ ہے کہ حاکمِ اسلام نے جو امان مسلمانوں کو بسببِ اسلام کے اور کفار رعایا کو بسببِ ذمی ہونے کے دے رکھا تھا وہ امان زائل ہو جاوے، کہ کوئی شخص اس سابقہ امان کی وجہ سے اب اپنے جان و مال پر مامون نہ رہے۔ یعنی جیسا کہ حاکم مسلم کے امن دے دینے کی وجہ سے سب بے خوف تھے، کسی کو اس کی مجال نہ تھی کہ کسی کے جان و مال پر ظلم کرے۔ اور یہ ظاہر ہے کہ ایسا امن بدون حاکم مسلم کے غلبہ اور قوت و شوکت کے حاصل نہیں ہو سکتا۔ پس اب یہ امان باقی نہ رہے، بلکہ بے کار ہو جاوے، اور باعثِ امن صرف وہ امان ہو جو غالب آنے والے کفار اپنے قانون کے موافق دیں۔ پس ظاہر ہے کہ جب تک حاکم مسلم کے امن کی وجہ سے موذی کا خوف رفع ہوتا رہے تو غلبہ و شوکت اس حاکم مسلم کا باقی سمجھا جائے گا۔ اور جب یہ کچھ باقی نہ رہے بلکہ کافر متغلب کے امن ہی پر نظر رہ جائے تو امانِ اول زائل ہو گیا۔

خلاصہ یہ ہے کہ امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک علی الاعلان اجراء سے احکامِ کفر کے بعد جب یہ دو شرطیں بھی پائی جائیں، اس وقت من کل الوجوہ غلبۂ کفار مانا جائے گا، اور غلبۂ اہلِ اسلام کو زائل و مرتفع سمجھا جائے گا۔ اس وقت ناچار اس ملک پر دارالحرب ہونے کا حکم کیا جائے گا۔

اہلِ عقل کو اس سے بھی معلوم ہو گیا کہ اس قول کا مدار بھی صرف قہر و غلبہ پر ہے، جس کی توضیح ابتداء میں بضمن قاعدہ کلیہ کر دی گئی ہے۔

اس کے بعد فقہاء کی روایات و عبارات سننی چاہئیں کہ ان میں سے بعض سے بندہ کی تقریر مذکور کی دلیل حاصل ہو گی اور بعض سے اس مسئلہ کے متعلق روایات کی حقیقت واضح ہو جائے گی۔

عالمگیری میں ہے:

قال محمد فی الزیادات انما یصیر دارالاسلام دارالحرب عند ابی حنیفۃ بوجوہ احدہا اجراء احکام الکفر علیٰ سبیل الاشتہار و ان لا یحکم فیہا بحکم الاسلام والثانی ان تکون متصلۃ بدار الحرب لا یتخلل بینہما بلدۃ من بلاد الاسلام الثالث ان لا یبقی مسلم او ذمی آمنا بامانہ الاول الذی کان ثابتا قبل استیلاء الکفار للمسلم باسلامہ وللذمی بعقد الذمۃ وصورۃ المسئلۃ علیٰ ثلثۃ اوجہ اما ان یغلب اہل الحرب علی دار من دورنا او ارتد اہل مصر وغلبوا واجروا احکام الکفر او نقض اہل ذمۃ العہد وتغلبوا علیٰ دارہم ففی کل ہذا لا تصیر دار حرب الا بثلث شرائط وقال ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ ومحمد رحمۃ اللہ علیہ بشرط واحد لا غیر وہو اظہار احکام الکفر وہو القیاس (انتہی)
’’امام محمدؒ نے زیادات میں فرمایا ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک دارالاسلام کا دارالحرب ہوتا چند وجوہ پر ہے: ایک یہ کہ احکامِ کفر کا علی الاعلان جاری کرنا اس طور پر کہ اسلام کے احکام حکم نہ رہیں (یعنی ان کے مطابق فیصلے نہ کیے جائیں)۔ اور دوسرے یہ کہ وہ دارالحرب کے ساتھ متصل ہو جاوے۔ ان کے درمیان کوئی شہر دارالاسلام کا حائل نہ ہو۔ تیسرے یہ کہ کوئی مسلمان اور کوئی ذمی کافر اپنے اس امانِ سابق کے ساتھ مامون و محفوظ نہ رہ سکے جو اس کو غلبۂ کفار سے پہلے بحیثیت مسلمان یا بحیثیت عہدِ ذمہ کے حاصل تھا۔ اور صورت دار الحرب بننے کی تین ہیں: ایک یہ کہ اہلِ حرب ہمارے دارالاسلام پر غالب آجائیں۔ دوسرے یہ کہ (معاذ اللہ) کسی شہر کے مسلمان مرتد ہو کر شہر پر غالب آجائیں اور احکامِ کفر جاری کر دیں۔ تیسرے یہ کہ ذمی کافر جو مسلمانوں کی رعایا بن کر رہتے تھے، عہد شکنی کر کے باغی ہو جاویں اور دارالاسلام پر غالب آجائیں۔ لیکن ان تمام صورتوں میں دارالاسلام اس وقت تک دارالحرب نہ ہو گا جب تک تین شرطیں (مذکورہ) نہ پائی جاویں۔ اور امام ابو یوسفؒ و محمدؒ فرماتے ہیں کہ صرف ایک شرط متحقق ہونے سے دارالحرب کا حکم کر دیا جائے گا اور وہ شرط یہ ہے کہ احکامِ کفر کو علی الاعلان جاری کر دیں اور قیاس اسی کا مقتضی ہے۔‘‘ الخ

اور جامع الرموز میں ہے:

فاما صیرورتہا دارالحرب فعندہ بشرائط احدہا اجراء احکام الکفر اشتہاراً‌ بان یحکم الحاکم بحکمہم ولا یرجعون الیٰ قضاۃ المسلمین کما فی البحر والثانی اتصال بدار الحرب بحیث لا یکون بینہما بلدۃ من بلاد الاسلام ما یلحقہم المدد منہا۔ الخ
’’لیکن دارالاسلام کا دارالحرب ہو جانا، سو یہ امام اعظمؒ کے نزدیک تین شرطوں پر موقوف ہے: ایک اجراءِ احکامِ کفر علی الاعلان اس طرح کہ حکامِ وقت کفار کے حکم کو جاری کریں اور لوگ مسلمان قاضیوں کی طرف مراجعت نہ کر سکیں، جیسا کہ بحر الرائق میں مذکور ہے۔ دوسرے اس کا دارالحرب کے ساتھ ایسا متصل ہو جانا کہ کوئی شہر اسلامی شہروں میں سے درمیان میں حائل نہ رہے جس سے مسلمانوں کو مدد پہنچ سکے۔‘‘

جامع الرموز کی اس روایت سے دو امر واضح ہوئے:

اول یہ کہ احکامِ اسلام کے جاری کرنے سے مراد یہ ہے کہ غلبہ اور قوت کے ساتھ احکامِ اسلام جاری کیے جائیں (نہ کہ مطلقاً‌ ادائے جماعت و جمعہ باذنِ کفار) کیونکہ جامع الرموز کی عبارت میں ہے: ’’یحکم بحکمہم ولا یرجعون الیٰ قضاۃ المسلمین‘‘ یعنی قضاۃِ مسلمین کو کسی قسم کی شوکت وقعت نہ رہے کہ لوگ ان کی طرف رجوع کر سکیں۔ اسی طرح مسلمانوں کا دارالحرب میں احکامِ اسلام کا جاری کرنا اسی صورت میں اس کو دارالاسلام بنا سکتا ہے جب کہ یہ اجرا اور احکام علی الاعلان اپنے غلبہ و تسلط کے ذریعہ ہو جیسا کہ بالکل ظاہر ہے۔ بہرحال حکمِ اسلام اور حکمِ کفر دونوں بطریقِ غلبہ معتبر ہیں نہ کہ محض ادا بطریقِ اظہار۔

دوسری بات جامع الرموز کی عبارت سے یہ مستفاد ہوئی کہ دارالحرب کے ساتھ متصل ہونے کی جو شرط امام صاحبؒ کے نزدیک ضروری ہے، اس کا مطلب بھی وہی قوت و غلبہ ہے۔ کیونکہ دارالحرب کے ساتھ متصل ہو جانے کی صورت میں مسلمانوں کو مدد نہیں پہنچ سکتی ہے۔ بخلاف اس صورت کے کہ دارالحرب سے انقطاع ہو تو مسلمانوں کو استخلاص دارالاسلام میں پہنچنے کا احتمال قریب ہے۔ اس لیے ابھی تک قوتِ اسلام کو باقی سمجھا جائے گا۔

اور خزانہ المفتین میں ہے کہ کوئی دارالاسلام اس وقت تک دارالحرب نہیں بن سکتا جب تک کہ اس میں احکامِ کفر علی الاعلان جاری نہ ہو جائیں، اور وہ ملک دارالحرب کے ساتھ متصل نہ ہو جائے کہ اس کے اور دارالحرب کے درمیان کوئی شہر بلاد مسلمین میں سے باقی نہ رہے۔ اور یہ کہ کوئی مسلمان یا ذمی رعایا امانِ سابق کے ساتھ اب مامون و محفوظ نہ رہ سکے۔ بلکہ ہر مسلمان اور ذمی کو اس ملک میں بسر کرنا، بغیر امان دینے کفار کے، نہ ہو سکے۔ الخ

اور فتاویٰ بزازیہ میں ہے، سید امامؒ فرماتے ہیں کہ آج کل جو شہر کفار کے قبضہ میں ہے بلا شبہ وہ ابھی تک دارالاسلام ہیں کیونکہ ان میں احکامِ کفر ظاہر نہیں ہوئے بلکہ قضاۃ و حكام وہاں مسلمان ہیں۔

تو اب یہ دیکھنا چاہیے کہ عبارتِ مذکورہ میں ان شہروں کے دارالاسلام ہونے پر دلیل لائے ہیں کہ حکام و قضاۃ وہاں مسلمان ہیں جس کی وجہ سے احکامِ اسلام امن میں بدستورِ سابق باقی ہیں۔ دلیل میں یہ نہیں فرمایا کہ لوگ یہاں نماز پڑھتے ہیں اور جمعہ قائم کرتے ہیں۔ کیونکہ اجرائے احکام سے مراد وہی اجراء ہے جو بطور غلبہ و شوکت کے ہو، نہ یہ کہ اپنے دین کے مراسم و شعائر کو حاکم کافر کی رضا و اجازت سے ادا کیا جائے۔ اور در مختار میں ہے:

’’معراج الدرایہ میں مبسوط سے نقل کیا ہے کہ وہ شہر جو کفار کے قبضہ میں ہیں دارالاسلام ہیں دارالحرب نہیں۔ کیونکہ انہوں نے ان شہروں میں احکامِ کفر جاری نہیں کیے بلکہ وہاں ایسے حکام اور قاضی موجود ہیں جن کو مسلمانوں نے منتخب کر کے حاکم بنایا ہے اور وہ ان کی بضرورت و بلا ضرورت اطاعت کرتے ہیں۔ اور ہر ایسا شہر جس میں مسلمانوں کی طرف سے کوئی والی مقرر ہو اس کے لیے اقامتِ جمعہ و شعائرِ اسلامیہ اور حدود و قصاص اور احکام و قضاۃ کا مقرر کرنا سب جائز ہیں۔ کیونکہ ان پر امیر مسلم حاکم ہے۔ اور اگر خود کفار ہی نے کسی مسلمان کو حاکم بنا دیا تب بھی مسلمانوں کے لیے جائز ہے کہ اس کی زیر حکومت جمعہ وغیرہ قائم کریں اور مسلمانوں کے اتفاق و راضی سے قاضی بن سکتا ہے۔ اور (دارالحرب کے) مسلمانوں پر واجب ہے کہ کوئی والی مسلم تلاش کریں اور اپنے معاملات کا رجوع اس کی طرف کریں۔ (انتہی)‘‘

اور اسی معراج الدرایہ میں ہے کہ میں کہتا ہوں کہ اس سے یہ بھی ظاہر ہو گیا کہ ملک شام میں جو پہاڑ ’’ایتم اللہ‘‘ اور اس کے متعلقہ بعض شہر ہیں سب کے سب بلادِ اسلام ہیں کیونکہ ان کے حکام اگرچہ قوم دروز یا نصاریٰ ہیں لیکن وہ سب ہمارے مسلم حکام کے تابع ہیں اور ان کی طرف سے قضاۃ و حکام مقرر ہیں، اور چاروں طرف سے بلادِ اسلام ان کے اس طرح محیط ہیں کہ جب ہمارے حکام و اولوالامر چاہیں تو وہاں اپنے احکام نافذ کر سکتے ہیں۔ انتہی۔

ان دونوں روایتوں سے واضح ہو گیا کہ غلبۂ کفار کے بعد کسی ملک کے دارالاسلام باقی رہنے کے لیے جو اجراءِ احکامِ اسلام شرط ہے، اس سے یہی مراد ہے کہ بطریقِ غلبہ و شوکت احکامِ اسلام جاری ہو سکتے ہوں۔ اسی طرح دارالحرب میں احکامِ اسلام کا اجراء جب اس کے دارالحرب ہونے کو زائل کر سکتا ہے جب کہ یہ اجرائے احکام بطریقِ غلبہ و قوت ہو، نہ یہ کہ دارالحرب کا حاکم اپنی اجازت سے احکامِ اسلام جاری کرا دے۔

حاصل یہ ہے کہ امام اعظمؒ کے نزدیک مذکورہ سابقہ تینوں شرطوں سے اور صاحبین کے نزدیک شرطِ واحد یعنی اجراءِ احکامِ اسلام سے مقصود ایک ہی چیز ہے، یعنی وجودِ غلبہ اور قوت اگرچہ بعض وجوہ سے ہو۔ لیکن علماء اسلام میں کوئی شخص بھی اس کا قائل نہیں کہ کفار کے ملک میں اگر کوئی شخص ان کی صریح اجازت سے یا ان کی چشم پوشی کی وجہ سے شعائر اسلام کا اظہار کرے تو یہ ملک دارالاسلام ہو جائے گا۔ حاشا وکلا۔ کیونکہ ایسا خیال بالکل تفقہ سے دور ہے۔

حالتِ ہندوستان

اور جب یہ مسئلہ (کلی طور پر) متحقق ہو چکا تو اب ہندوستان کی حالت پر خود غور کر لیں کہ اس جگہ کفار نصاریٰ کے احکام کا اجراء کس قوت و غلبہ کے ساتھ ہے کہ اگر کوئی ادنیٰ کلکٹر یہ حکم کر دے کہ مساجد میں جماعت ادا نہ کرو تو کسی امیر و غریب کی مجال نہیں کہ ادا کر سکے۔ اور یہ جو کچھ ادائے جمعہ و عیدین اور عمل (بعض) قواعد شرطیہ پر جو کچھ ہو رہا ہے محض ان کے قانون کی وجہ سے کہ انہوں نے یہ حکم جاری کر دیا ہے کہ ہر شخص اپنے اپنے مذہب میں زاد ہے، کسی کو اس سے مزاحمت کا حق حاصل نہیں۔

اور سلاطینِ اسلام کا دیا ہوا امن جو یہاں کے رہنے والوں کو حاصل تھا اب اس کا کہیں نام و نشان نہیں۔ کون عقل مند کہہ سکتا ہے کہ ہمیں جو امن شاہ عالم نے دیا ہوا تھا آج بھی ہم اسی امن کے ذریعے مامون بیٹھے ہیں۔ بلکہ امنِ جدید کفار سے حاصل ہوا ہے اور اسی نصاریٰ کے دیے ہوئے امن کے ذریعہ تمام رعایا ہندوستان میں قیام پذیر ہے۔ لیکن اتصال بدار الحرب، سو یہ ممالک و اقالیمِ عظیمہ کے لیے شرط نہیں بلکہ گاؤں اور شہر وغیرہ کے لیے شرط ہے، جس کا مقصد صرف یہ ہے کہ وہاں سے مدد پہنچنا آسان ہے۔

اور اگر کوئی کہے کہ اگر شاہِ کابل یا شاہِ روم کی طرف سے مدد پہنچ جائے تو کفار کو ہندوستان سے نکال سکتے ہیں، مگر حاشا وکلا یہ بالکل صحیح نہیں بلکہ ان کا اخراج ہندوستان سے سخت مشکل ہے۔ بہت بڑے جہاد اور عظیم الشان سامانِ جنگ کو چاہتا ہے۔ بہرحال تسلط کفار کا ہندوستان پر اس درجہ میں ہے کہ کسی وقت بھی کفار کا تسلط کسی دارالحرب پر اس سے زیادہ نہیں ہوتا۔ اور شعائرِ اسلامیہ جو مسلمان یہاں ادا کرتے ہیں وہ محض ان کی اجازت سے ہے، ورنہ مسلمانوں سے زیادہ عاجز رعایا کوئی نہیں ہے۔ ہندوؤں کو بھی ایک درجہ کا رسوخ حکومت میں حاصل ہے، مسلمانوں کو وہ بھی نہیں۔ البتہ ریاست ٹونک اور رامپور اور بھوپال وغیرہ، کہ وہاں کے حکام باوجود مغلوبِ کفار ہونے کے اپنے احکام کو جاری رکھتے ہیں، ان کو دارالاسلام کہا جا سکتا ہے جیسا کہ درمختار وغیرہ کی روایاتِ سابقہ سے مستفاد ہوتا ہے۔ فقط واللہ سبحانہ تعالیٰ اعلم۔

بنده رشید احمد گنگوہی


(ماخوذ از تالیفاتِ رشیدیہ، مطبوعہ ادارہ اسلامیات لاہور)


تعارف و تبصرہ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

’’قرآن کریم مترجم‘‘

حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی دامت برکاتہم کے دروس قرآن ’’معالم العرفان‘‘ کے نام سے بیس ضخیم جلدوں میں شائع ہو کر علمی دینی حلقوں میں قبولِ عام حاصل کر چکے ہیں اور علماء و خطباء اس سے استفادہ کر رہے ہیں۔ حضرت صوفی صاحب مدظلہ نے ان دروسِ قرآن میں قرآن کریم کے اردو ترجمہ کے لیے عام لوگوں کی سہولت کی خاطر عام فہم انداز اختیار کیا ہے اور حضرت شاہ عبد القادر دہلویؒ، حضرت شیخ الہند مولانا محمود الحسن دیوبندیؒ اور دیگر اکابر کے اردو تراجم کو سامنے رکھ کر انہیں زیادہ مفید اور دل نشین بنانے کی کامیاب کوشش کی ہے۔

مکتبہ دروس القرآن، فاروق گنج، گوجرانوالہ نے یہ اردو ترجمہ قرآن کریم کے متن کے ساتھ الگ شائع کیا ہے جو نفسِ ترجمہ پڑھنے والوں کے لیے ایک اچھا تحفہ ہے۔ مگر کتابت، طباعت اور کاغذ کا معیار مکتبہ دروس القرآن کی سابقہ روایات سے مطابقت نہیں رکھتا، خدا کرے کہ دوسرے ایڈیشن میں اس کی تلافی ہو جائے۔

’’خطباتِ دین پوریؒ جلد چہارم‘‘

خطیبِ اہلِ سنت حضرت مولانا عبد الشکور دین پوریؒ کے خطبات کا یہ چوتھا مجموعہ ہے جسے ہمارے رفیق محترم مولانا قاری جمیل الرحمٰن اختر نے مرتب کیا ہے۔ اس مجموعہ میں مختلف دینی عنوانات پر مولانا مرحوم کے متفرق خطبات پیش کیے گئے ہیں جو معلوماتی اور عام فہم خطبات ہیں اور خطباء کرام کے لیے بطور خاص مفید ہیں۔ چار سو کے لگ بھگ صفحات، عمدہ طباعت اور مضبوط جلد کے ساتھ اس مجموعہ کی قیمت ڈیڑھ سو روپے ہے اور اسے جامعہ حنفیہ قادریہ مسجد امن، جی ٹی روڈ، باغبانپورہ، لاہور سے طلب کیا جا سکتا ہے۔

’’اشعار ہدایہ النحو‘‘

’’ہدایہ النحو‘‘ علمِ نحو کی ایک اہم کتاب ہے جو ہمارے درسِ نظامی کے نصاب میں شامل ہے۔ مولانا قاری شمس الرحمٰن نعمانی نے اس کتاب میں شامل اشعار کے الگ طور موضوع بحث بنایا ہے اور ان کے مطلب و مفہوم اور ترکیب وغیرہ کی وضاحت کی ہے جو طلبہ اور مدرسین دونوں کے لیے فائدہ کی چیز ہے۔ بیس صفحات کا یہ رسالہ مکتبہ شجاعت خان، راحت آباد، ڈاکخانہ فارسٹ کالج، پشاور سے طلب کیا جا سکتا ہے۔

’’مفید الطلاب فی خاصيات الابواب‘‘

یہ بھی مولانا قاری شمس الرحمٰن نعمانی کا تصنیف کردہ رسالہ ہے جس میں انہوں نے علمِ صرف کے معروف مبحث ’’خاصیاتِ ابواب‘‘ پر قلم اٹھایا ہے، اور مولانا سیف الرحمٰن قاسم مدرس مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ نے حاشیہ لکھ کر اس کی افادیت کو دو چند کر دیا ہے۔ یہ رسالہ ۴۸ صفحات پر مشتمل ہے اور مندرجہ بالا پتہ سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔