حکومت اور دینی مدارس کی کشمکش کا ایک جائزہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
’’دینی مدارس، انسانی حقوق اور مغربی لابیاں‘‘ کے عنوان سے ’’الشریعہ‘‘ کی خصوصی اشاعت آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ ہم نے اس شمارے میں شامل کرنے کے لیے مضامین کے انتخاب میں اس ضرورت کو پیش نظر رکھا ہے کہ دینی مدارس کے خلاف مغربی لابیوں اور میڈیا کی موجودہ مہم کے پس منظر اور مقاصد کو آشکارا کرنے کے ساتھ ساتھ عصر حاضر کے تقاضوں کے حوالہ سے دینی مدارس کے نصاب و نظام میں ناگزیر تبدیلیوں اور تعلیم کے جدید ذرائع اور مواقع سے دینی تعلیم کے لیے استفادہ کے امکانات کا جائزہ بھی قارئین کے سامنے آجائے، تاکہ اس موضوع سے دلچسپی رکھنے اور اس محاذ پر کام کرنے والے حضرات کو زیادہ وسیع تناظر میں اپنے موقف، طریق کار اور ترجیحات کے تعین کا موقع مل سکے۔
اس کے ساتھ ہی ان سطور میں اس کشمکش پر ایک نظر ڈال لینا بھی مناسب معلوم ہوتا ہے جو دینی مدارس کی حیثیت، اسناد اور ان کے مستقبل کے بارے میں حکومتی حلقوں اور مدارس کے درمیان موجود ہے۔ جہاں تک حکومت کا تعلق ہے اس کی ہمیشہ سے یہ خواہش اور کوشش رہی ہے کہ ملک بھر کے پھیلے ہوئے ہزاروں دینی مدارس اگر سرکاری تحویل میں نہیں آتے تو کم از کم مالیاتی نگرانی اور امتحانات کے شعبوں میں ان پر ریاستی کنٹرول ضرور قائم ہو جائے۔ حکومتی حلقے اس کے لیے یہ دلیل دیتے ہیں کہ اس سے دینی تعلیم کے نظام میں یکسانیت پیدا ہوگی، فرقہ واریت کی شدت میں کمی آئے گی، مالی بدعنوانیوں کے الزامات سے مدرسین کے منتظمین محفوظ ہو جائیں گے، نصاب میں عصری علوم شامل ہونے سے علماء کی تعلیم کا معیار بہتر ہوگا اور امتحانات کا ایک معیاری نظام قائم ہو جائے گا۔جہاں تک ان مقاصد کا تعلق ہے ان کی افادیت سے کوئی باشعو رانکار نہیں کر سکتا لیکن حکومت کو اس مہم میں کامیابی اب تک حاصل نہیں ہوئی اور نہ ہی مستقبل قریب میں حاصل ہونے کا کوئی امکان نظر آتا ہے جس کے اسباب ہمارے نزدیک یہ ہیں:
ان واقعات سے دینی حلقوں کا یہ ذہن مزید پختہ ہوگیا ہے کہ دینی مدارس پر ریاستی کنٹرول سے حکمرانوں کا مقصد یہ ہے کہ یہ مدارس یا تو جامعہ عثمانیہ اوکاڑہ کی طرح بالکل ختم ہو جائیں اور اگر ختم نہیں ہوتے تو جامعہ عباسیہ بہاولپور کی طرح سرکاری تعلیمی نظام میں ضم ہو کر اسی کا حصہ بن جائیں۔ اس وجہ سے بھی دینی مدارس اور ان سے وابستہ دیندار عوامی حلقے مدارس پر ریاستی کنٹرول یا سرکاری محکموں سے کسی درجہ کے تعلق کا ’’رسک‘‘ لینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
حکومت پاکستان نے ایک دور میں دینی مدارس کی اسناد کو سرکاری سطح پر تسلیم کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور یونیورسٹی گرانٹس کمیشن نے دینی مدارس کی آخری سند (شہادۃ العالمیہ) کو ایم اے اسلامیات و عربی قرار دینے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا تھا جسے ملک کی بعض یونیورسٹیوں نے تسلیم کیا اور اس کی بنیاد پر فضلائے درس نظامی کو ایم اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی کرنے کے مواقع فراہم کیے۔ لیکن پنجاب یونیورسٹی اور محکمہ تعلیم کی نوکرشاہی نے اسے تسلیم نہ کیا اور اسے غیر مؤثر بنانے کی مسلسل تگ و دو ہوتی رہی۔ پنجاب یونیورسٹی نے اس سند کو تسلیم کرنے کے لیے پانچ سو نمبر کے بی اے کی شرط لگا دی لیکن یہ بھی محض رسمی کارروائی تھی کیونکہ خود ہم نے شاہ ولی اللہ یونیورسٹی گوجرانوالہ میں اس بنیاد پر فضلائے درس نظامی کو ۵۰۰ نمبر کا بی اے کا امتحان دلانے اور اس کے بعد ایم اے اور پی ایچ ڈی کرانے کا نظام بنایا جس کے تحت فضلاء کی دو کلاسوں نے بی اے کا امتحان دیا۔ پنجاب یونیورسٹی نے امتحان لیا، رزلٹ کارڈ جاری کیے لیکن ڈگری دینے سے انکار کر دیا جس سے شاہ ولی اللہ یونیورسٹی گوجرانوالہ کا درس نظامی کے فضلاء کو عصری تعلیمی نظام کے ساتھ ایڈجسٹ کرنے کے حوالے سے سارا منصوبہ فلاپ ہوگیا جبکہ اس کے بعد بھی دینی مدارس کی اسناد کے بارے میں حکومتی پالیسی کے تذبذب کی وجہ سے ابھی تک کوئی متبادل پروگرام نہیں طے پا سکا۔
اس سلسلہ میں محکمہ تعلیم کی بیوروکریسی کی پالیسی مکمل طور پر حوصلہ شکن چلی آ رہی ہے اور ہمارے ایک محترم دوست نے، جو ملک بھر کے انٹرمیڈیٹ بورڈ کے چیئرمینوں کی مشترکہ کمیٹی کے سیکرٹری رہے ہیں اور ایک دینی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں، سرکاری کرسی پر بیٹھے ہوئے ہم سے صاف کہہ دیا تھا کہ ’’مولوی صاحب! دینی مدارس کی اسناد کی سرکاری حیثیت کی بات آپ بھول جائیں۔ یہ ضیاء الحق کا ڈنڈا تھا جس کی وجہ سے ہم خاموش ہوگئے تھے اور کچھ دیر بات چل گئی تھی۔ اب اگر آپ ڈگری کی بات کرتے ہیں تو آپ کو سرکاری نظام کے تحت پراپرچینل آنا ہوگا ورنہ ڈگری وگری کی بات ذہن سے نکال دیں، ایسا کبھی نہیں ہوگا۔‘‘
یہی وجہ ہے کہ سرکاری کالجوں اور سکولوں میں ’’درس نظامی گروپ‘‘ کے نام سے وفاقی محکمۂ تعلیم کا وہ منصوبہ بھی شکوک و شبہات کی نذر ہوتا دکھائی دے رہا ہے جس کی تیاری میں محکمہ تعلیم کے ایسے افسران شامل ہیں جن کی دینداری اور دینی حمیت شک و شبہ سے بالاتر ہے۔ سرکاری کالجوں اور سکولوں میں ’’’درس نظامی گروپ‘‘ کے نام سے دینی تعلیم کا یہ پروگرام وفاقی وزارت تعلیم نے تیار کیا جسے انٹرمیڈیٹ بورڈوں کی مشترکہ کمیٹی کے اجلاس میں ملک بھر کے انٹرمیڈیٹ بورڈز کے چیئرمینوں نے منظور کر لیا اور میٹرک اور ایف اے کے درجہ تک نصاب کی تفصیلات طے کر کے اس کا باقاعدہ نوٹیفیکیشن بھی جاری کیا جا چکا ہے۔ اس نوٹیفیکیشن کا نمبر (F-۱-۲/۹۳-IF-II) ہے اور ۲۷ ستمبر ۱۹۹۴ء کو وفاقی وزارت تعلیم کے اسسٹنٹ ایجوکیشنل ایڈوائزر جناب محمد حنیف کے دستخطوں سے جاری ہوا ہے۔ اس کے مطابق میٹرک میں ۱۰۰ نمبر کی انگریزی، ۱۰۰ نمبر کی اردو، ۷۵ نمبر کا مطالعہ پاکستان، ۱۰۰ نمبر کی جنرل سائنس اور ۱۰۰ نمبر کی جنرل ریاضی کے ساتھ ۱۰۰ نمبر کا ترجمہ قرآن کریم (الفاتحہ تا النساء)، ۱۰۰ نمبر کی حدیث و سیرت، ۱۰۰ نمبر کی صرف و نحو (علم الصیغہ، شرح مائۃ عامل، ہدایہ النحو) اور ۷۵ نمبر کی فقہ (قدوری) شامل کر کے میٹرک کے ساڑھے آٹھ سو نمبر مکمل کیے گئے ہیں۔ جبکہ ایف اے میں نصاب کی تفصیل یوں ہے: انگلش ۱۰۰ نمبر، اردو ۱۰۰ نمبر، مطالعہ پاکستان ۵۰ نمبر، ترجمہ قرآن کریم (المائدہ تا الکہف) ۱۵۰ نمبر، حدیث اور اصول حدیث ۱۰۰ نمبر، فقہ ۱۰۰ نمبر، اصول فقہ ۱۰۰ نمبر، صرف و نحو ۱۰۰ نمبر، عربی ادب ۱۰۰ نمبر، منطق ۱۰۰ نمبر، تاریخ اسلام ۱۰۰ نمبر۔ اور اس طرح ایف اے کے گیارہ سو نمبر مکمل کیے گئے ہیں۔
اسی طرح ایک دائرہ میں وہ دینی مدارس شامل ہیں جنہوں نے درس نظامی کے ساتھ میٹرک، ایف اے اور بی اے کی ریگولر تعلیم اور امتحانات کو اپنے نظام میں شامل کر لیا ہے اور ’’نظامت تعلیمات اسلامیہ‘‘ کے نام سے ایک الگ وفاق قائم کر کے اس بنیاد پر کام شروع کر دیا ہے۔ اس وفاق کا ہیڈکوارٹر جامعہ منطور الاسلامیہ عیدگاہ لاہور چھاؤنی میں قائم ہے۔ ان حضرات نے اس مقصد کے لیے درس نظامی کے مروجہ نصاب میں تخفیف کی ہے جو بعض اہل علم کے نزدیک محل نظر ہے لیکن بہرحال ایک تجرباتی کام کا آغاز ہوگیا ہے۔ دوسرے حصہ میں وہ حضرات ہیں جو درس نظامی کے نصاب اور سکولوں کالجوں کے نصاب کو گڈمڈ کر دینے کے قائل نہیں ہیں اور سکول و کالج کے نصاب کو بنیاد بنا کر اس میں دینی تعلیم کو اس حد تک سمو دینا چاہتے ہیں کہ اس نصاب سے گزرنے والا طالب علم قرآن و حدیث سے استفادہ کی اہلیت حاصل کر سکے اور دین کے بارے میں ضروری معلومات رکھنے والا مسلمان ہو۔ اس کے ساتھ ہی وہ درس نظامی کے فضلاء کے لیے کسی ایسے نظام کے خواہشمند ہیں کہ ان میں سے ذہین اور باصلاحیت حضرات عصری تعلیم کے ضروری مراحل سے گزر کر قومی زندگی کے مختلف شعبوں میں داخل ہوں تاکہ عدلیہ اور انتظامیہ میں دینی تعلیم و تربیت سے بہرہ ور رجال کار کی کمی کا خلا کم سے کم کیا جا سکے۔ شاہ ولی اللہ یونیورسٹی گوجرانوالہ کے قیام کا بنیادی ہدف یہی ہے جو ابھی تجربات کے مد و جزر سے گزر رہی ہے۔
ہمارے نزدیک پروفیسر محمد طاہر القادری، ڈاکٹر اسرار احمد، پیر محمد کرم شاہ الازہری، مولانا محمد اکرم اعوان اور ان جیسے دیگر ارباب فکر و دانش کے قائم کردہ مختلف تعلیمی نظام اسی تیسرے عنصر کے دائرے میں شامل ہیں اور ان کے علاوہ بھی ملک بھر میں عربک سکولوں، اکیڈمیوں اور اداروں کا ایک وسیع سلسلہ دن بدن بڑھ رہا ہے۔ اور اگر ان سب کے درمیان مفاہمت و مشاورت کا کوئی نظام قائم ہو جائے تو قومی سطح پر ایک مستقل نظام تعلیم کا مضبوط نیٹ ورک سامنے آسکتا ہے۔
آخر میں ہم ایک اور عنصر کی نشاندہی بھی ضروری سمجھتے ہیں اور وہ دینی مدارس کے وہ فضلاء ہیں جو وفاق ہائے دینی مدارس کی اسناد کی نیم دلانہ سرکاری حیثیت کی بنیاد پر سرکاری سکولوں اور کالجوں میں گئے، وہاں مسائل کا شکار ہوئے، ماحول میں اپنے لیے اجنبیت محسوس کی، سرکاری اہل کاروں کے ہاں دوسرے درجے کے ملازمین قرار پائے اور اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے ایسوسی ایشنیں قائم کر لیں۔ یہ حضرات دینی مدارس کے فضلاء ہیں، دینی تعلیم و تربیت سے بہرہ ور ہیں، ملازمت کے حوالہ سے دینی مقاصد اور مشنری جذبہ رکھتے ہیں لیکن مشکلات اور رکاوٹوں کا شکار ہیں۔ مختلف شہروں میں ان کی تنظیمیں قائم ہیں، گزشتہ ماہ ڈیرہ غازی خان میں ایسے ہی دوستوں کی ایک تنظیم ’’رابطہ فضلائے اسلامی‘‘ کے کنونشن میں ہمیں بھی شرکت کی دعوت دی گئی۔ اس کے کنوینر مولانا محمد ادریس (پوسٹ بکس ۵۴ ڈیرہ غازی خان) ہیں اور فضلائے درس نظامی کو متحد و منظم کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں۔ کنونشن میں ہم نے دینی مدارس کے بارے میں بہت سی گزارشات کیں جن کا ایک حصہ اس مضمون میں آگیا ہے۔ اور یہ بھی گزارش کی کہ اس رخ پر کام کرنے والے فضلاء کی تنظیموں کو باہمی مشاورت و رابطہ کے ساتھ ملکی سطح پر اپنا کوئی مشاورتی نظام قائم کرنا چاہیے۔ اب پھر ان سطور میں ہم اس گزارش کو دہرا رہے ہیں کہ دینی مدارس کے فضلاء کی مختلف شہروں میں کام کرنے والی تنظیمیں قومی سطح پر اپنا کوئی نظام قائم کر سکیں تو یہ نہ صرف ان کے حقوق و مفادات کے تحفظ کے لیے مفید بات ہوگی بلکہ عمومی دینی جدوجہد میں بھی وہ ایک مؤثر اور فعال عنصر کے طور پر شریک ہو سکیں گے۔
یہ ہے ایک ہلکا سا نقشہ قومی زندگی میں دینی تعلیم کے سلسلہ میں مختلف سطحوں پر پائی جانے والی فکری و عملی کشمکش کا جس کا قارئین کے سامنے آنا ضروری تھا۔ اور ان معروضات کا اختتام ہم اس گزارش پر کر رہے ہیں کہ دینی تعلیم کے لیے کام کرنے والے حضرات جس رخ پر بھی کام کریں اور جو طریق کار بھی اپنائیں یہ ان کی صوابدید کی بات ہے لیکن باہمی رابطہ و مشاورت کی فضا ضرور قائم کریں، اس سے ان کے کام کی افادیت اور وزن دونوں میں اضافہ ہوگا اور وہ معاشرہ میں دینی تعلیم و تربیت کے فروغ کے مشترکہ مقصد میں زیادہ اعتماد اور دلجمعی کے ساتھ پیش رفت کر سکیں گے۔
تعلیمِ کتاب و حکمت: سنتِ نبویؐ
شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ
مفتی محمد جمیل خان
(دورۂ جنوبی افریقہ کے موقع پر دارالعلوم زکریا جوہانسبرگ کی جامع مسجد میں طلبہ سے شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم کا خطاب)
انبیاء کرام علیہم السلام کا درجہ دنیا میں سب سے بڑا ہے اور انبیاء کرام میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا درجہ سب سے زیادہ اور اس کے بعد حضرت ابراہیم خلیل اللہ کا ہے۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیت اللہ کی تعمیر فرمائی تو اللہ تعالٰی سے بہت سی دعائیں فرمائیں۔ ان میں سے ایک دعا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے متعلق ہے۔ اس دعا کے ضمن میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے آپؐ کی ذمہ داریوں کی نشاندہی بھی فرمائی۔ یہی وجہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک حدیث میں ارشاد فرماتے ہیں: میری اس دنیا میں تشریف آوری کی تین وجوہات ہیں:
(۱) میں حضرت ابراہیم خلیل علیہ السلام کی دعا کا ثمرہ ہوں،
(۲) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت کا نتیجہ ہوں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا تھا میرے بعد ایک پیغمبر تشریف لائیں گے جن کا اسم گرامی احمد ہو گا۔ بخاری شریف میں ایک حدیث ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں، میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں عاقب ہوں۔ اور عاقب کا معنی ہے کہ جس کے بعد کوئی اور نہ ہو۔
(۳) تیسری وجہ: میں اپنی والدہ کے سچے خواب کی تعبیر ہوں۔ میری والدہ نے خواب دیکھا تھا کہ ان کے پیٹ سے ایک روشنی نکلی جس نے شام کے محلات کو روشن کر دیا۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعا میں فرمایا، اے اللہ! میری اولاد میں ایک رسول بھیج جو ان کو تیری آیات پڑھ کر سنائے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے یہ حکم عطا فرمایا کہ وہ قرآن مجید کی آیات تلاوت کریں، لوگوں کو سنائیں تاکہ وہ صحیح معنوں میں قرآن مجید کی تلاوت کر سکیں اور ان کو پاک و صاف کرے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا مقصد لوگوں کا تزکیہ نفس تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالٰی علیہم کو پاک و صاف کیا اور پھر حکم دیا کہ جو ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی اتباع کرے گا وہ ہدایت پر ہو گا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا، نجات کا راستہ کون سا ہے؟ آپ نے فرمایا جس پر میں اور میرے صحابہ رضی اللہ عنہم ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا شکر و انعام ہے کہ اس نے ہمیں انسان بنایا اور پھر مزید احسان کہ ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جیسا پیغمبر عطا فرمایا اور اس کا امتی بنایا۔ کروڑ بار شکر ادا کیا جائے کم ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا دنیا میں سب سے بڑی دولت ہے۔ ہمیں یہ دولت گھر بیٹھے مل گئی، اس لیے قدر نہیں ہے۔ پوری دنیا اور آسمان سب کے سب ملک بھی ایمان کی قیمت ادا نہیں کر سکتے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تزکیہ نفس کی ذمہ داری امت کے اوپر رکھی گئی ہے۔ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اپنا تزکیہ نفس کریں۔ قرآن مجید میں ہماری دو ذمہ داریاں رکھی گئی ہیں۔ اے ایمان والو، بچاؤ اپنے آپ کو جہنم سے اور اپنے اہل کو۔ آج ہم ایک ذمہ داری تو پوری کرتے ہیں، اپنے آپ کو جہنم سے بچاتے ہیں لیکن اپنی اولاد کی اور اپنے اہل کی فکر نہیں کرتے۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہمارے بچے کی دنیا اچھی ہو جائے، اس کا کاروبار اچھا ہو جائے، اس کا اچھا گھر بن جائے، وہ دنیا میں محتاجی اور ذلت سے بچ جائے، اس کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو، اس کے لیے مقدور جدوجہد اور کوشش کرتے ہیں، لیکن اس کو جہنم کی آگ سے بچانے کے لیے کچھ نہیں کرتے۔
آج دنیا میں اگر کسی میں ذرا برابر بھی انسانیت ہے، کسی بھی انسان کو آگ میں جلتا ہوئے دیکھے تو آگ بجھانے کی کوشش کرتا ہے، لیکن ہم مسلمان دیکھ رہے ہیں کہ ہماری اولاد جہنم کا ایندھن بن رہی ہے لیکن ہمیں ان کی فکر نہیں۔ اگر آج آپ نے اپنی اولاد کی دین کی حفاظت نہیں کی تو یہ بے دین یا کافر ہو جائے گی تو اس کا وبال آپ پر پڑے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے، اس سے اس کی رعایا، اولاد، بیوی، والدین، بہن، بھائی، عزیز و اقارب کے بارے میں سوال ہو گا۔ ایک فریضہ اپنے کو جہنم سے بچانے کا تو پورا کر رہے ہیں۔ دوسرا فریضہ اولاد اور اہل کو جہنم سے بچاؤ، اس میں کوتاہی کر رہے ہیں۔ یہ کسی طور مناسب نہیں۔ جب نماز کے لیے آؤ تو اپنی اولاد کو بھی مسجد میں لاؤ، ان کی قرآن مجید کی تعلیم کا انتظام کرو، ان کو مسائل سے آگاہ کرو، تاکہ تمہارے بعد یہ تمہارے لیے صدقہ جاریہ بن جائے۔
دوسرا فریضہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم امت کا تزکیہ نفس کرتے ہیں۔ تیسرا فریضہ، قرآن مجید کی تعلیم دیتے ہیں۔ قرآن مجید کی تعلیم دینا بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمہ داری تھی۔ صحابہ کرام عربی دان تھے، قرآن مجید کا ترجمہ سمجھتے تھے لیکن قرآن مجید کی آیات کا مطلب کیا تھا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کے بغیر سمجھ میں آنا مشکل ہے۔ اسی لیے ہمارا عقیدہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث شریفہ قرآن مجید کی تفسیر ہیں۔
قرآن مجید کی آیت ’’من يعمل سوءًا يجز بہ‘‘ جب نازل ہوئی تو خلیفہ اول سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا، یا رسول اللہ! ہم میں کون ایسا ہے جو کوئی نہ کوئی برائی نہ کرتا ہو تو سب کو بدلہ دیا جائے گا تو پھر ہم کیسے عذاب سے بچیں گے۔ انہوں نے یجز بہ سے قبر کا عذاب مراد لیا، اس وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی پریشانی کا اظہار کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، ابوبکر! تمہارے سر میں کبھی درد نہیں ہوتا، تم کو کبھی تکلیف نہیں ہوتی؟ انہوں نے فرمایا، ہوتی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اس آیت میں یہ مراد ہے کہ جو برائی کرتا ہے، دنیا میں ان تکالیف کی صورت میں اس کو بدلہ دے دیا جاتا ہے۔
تعلیمِ کتاب سے اس قسم کی تعلیم مراد ہے۔ اور حکمت کی تعلیم دیتے ہیں۔ حکمت سے مراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتیں ہیں۔ نماز، روزہ اور دیگر عبادات کے مسائل اور اخلاقِ حسنہ کی تعلیم، اخلاقِ رزیلہ سے بچنے کی تلقین۔ یہ سب حکمت میں داخل ہے اور اس حکمت کی جب تک آپ نے وضاحت نہیں فرمائی، اس کا سمجھنا بہت مشکل ہے۔ دو مثالیں ہیں اس سے اس کی وضاحت کرتا ہوں۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، جس کے دل میں رائی کے برابر بھی کبر ہوگا وہ جنت میں داخل نہ ہوگا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بہت پریشان ہوئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا، یا رسول اللہ ! ہم میں سے کون شخص ایسا ہے جو یہ نہ چاہتا ہو کہ اچھے سے اچھے کپڑے پہنے، بالوں کو خوبصورت بنائے، اچھے جوتے پہنے، تو ہم سب اس حدیث کا مصداق بن گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، نہیں، تکبر یہ ہے کہ انسان حق کو قبول نہ کرے اور دوسرے انسان کو حقیر سمجھے۔ ایک حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، انسان کے جسم میں ۳۶۰ جوڑ ہیں اور ہر جوڑ کے شکرانے کے طور پر ضروری ہے کہ وہ روزانہ ایک ایک صدقہ کرے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بہت زیادہ پریشان ہو گئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے کس کی اتنی استطاعت ہے کہ اتنے زیادہ صدقہ کرے، ہمارے پاس تو کچھ نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، مال دینا بھی صدقہ ہے لیکن صدقہ کی دوسری اقسام بھی ہیں جو ہر شخص دے سکتا ہے۔ سبحان اللہ کہنا صدقہ ہے، الحمد للہ کہنا صدقہ ہے، اللہ اکبر کہنا صدقہ ہے، مسلمان کو سلام کرنا صدقہ ہے، مسلمان سے خندہ پیشانی سے ملنا صدقہ ہے، اور اگر تم چاہتے ہو کہ ۳۶۰ صدقے ایک وقت میں ادا کر دو تو چاشت کے وقت دو رکعت ادا کرو ۳۶۰ صدقے ادا ہو جائیں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال تزکیہ نفس، تلاوتِ کتاب اللہ ، تعلیمِ کتاب اللہ، تعلیمِ حکمت کی ذمہ داری اب امت پر ہے، اس کی ادائیگی کا اہتمام کرنا چاہیے۔
اجتماعی اجتہاد کی ضرورت اور اس کے تقاضے
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
(’’بنوں فقہی کانفرنس‘‘ منعقدہ ۱۷ و ۱۸ اپریل ۱۹۹۶ء کے لیے لکھا گیا۔)
الحمد للہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علیٰ جمیع الانبیاء والمرسلین خصوصاً علیٰ سید الرسل خاتم النبین وآلہ واصحابہ اجمعین۔
المرکز الاسلامی بنوں کے سربراہ برادرم مولانا سید نصیب علی شاہ صاحب زید مجدہم کا شکر گزار ہوں کہ ان کی عنایت سے ’’بنوں فقہی کانفرنس‘‘ میں اہل علم و فکر کے اس اجتماع کے سامنے کچھ طالب علمانہ گزارشات پیش کرنے کا موقع ملا۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر دیں، کانفرنس کو کامیابی سے نوازیں اور کچھ مقصد کی باتیں شرکائے کانفرنس کے گوش گزار کرنے کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا الہ العالمین۔
شاہ صاحب موصوف گزشتہ دنوں فقہی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دینے کے لیے اپنے معزز رفقاء کے ہمراہ گوجرانوالہ تشریف لائے تو ان کے پاس کانفرنس میں پیش کیے جانے والے مضامین و مقالات کے مجوزہ عنوانات کی فہرست میں سے ایک عنوان کا میں نے خود انتخاب کیا جو فہرست کے مطابق یوں تھا: ’’تقلید و اجتہاد کی حدود کا تعین اور اجتماعی اجتہاد کے تصور کا علمی جائزہ‘‘۔ لیکن جب قلم و کاغذ سنبھالے خیالات کو مجتمع کرنا چاہا تو محسوس ہوا کہ یہ ایک نہیں دو الگ الگ عنوان ہیں اور ہر عنوان اپنی جگہ مستقل گفتگو کا متقاضی ہے۔ اس لیے ان میں سے ثانی الذکر کا انتخاب کرتے ہوئے اسے ’’اجتماعی اجتہاد کی ضرورت اور اس کے تقاضے‘‘ کی شکل دے کر اس پر کچھ معروضات پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔ اور گفتگو کے آغاز سے پہلے ایک وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ یہ گزارشات کسی علمی تحقیق و مطالعہ پر مبنی نہیں ہیں اور نہ ہی خود کو اس کا اہل سمجھتا ہوں بلکہ یہ اس وقت دنیا بھر میں تیزی کے ساتھ آگے بڑھنے والی نظریاتی اور تہذیبی کشمکش کی فضا میں نفاذِ اسلام کی جدوجہد کے ایک نظریاتی کارکن کے احساسات و تاثرات ہیں جو کسی علمی ترتیب کے بغیر آپ حضرات کے سامنے آرہے ہیں اور انہیں اسی پس منظر میں سماعت فرمانے کی آپ سب بزرگوں سے استدعا ہے۔
معزز شرکائے کانفرنس! اجتہاد احکامِ شرعیہ کے چار بنیادی مآخذ میں سے ہے جسے قرآن کریم میں ’’لعلمہ الذین یستنبطونہ منہم‘‘ کی صورت میں بیان فرمایا گیا ہے اور جناب سالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبلؓ کی طرف سے ’’اجتھد برایی‘‘ کے عزم کے اظہار پر ان کی حوصلہ افزائی اور تصویب فرما کر اسے سند توثیق بخشی ہے۔ پھر یہ جناب نبی اکرمؐ پر نبوت و رسالت کے مکمل اور ختم ہونے کا ناگزیر تقاضا بھی ہے کہ قیامت تک وحی کے عدمِ نزول کے دور میں پیش آنے والے واقعات و مسائل کا وحی کے ساتھ رشتہ قائم رکھنے کی کوئی صورت ضرور موجود ہو تاکہ نسل انسانی ان امور میں وحی الٰہی کی راہنمائی سے محروم نہ رہے۔ چنانچہ جناب رسول اکرمؐ پر مکمل ہوجانے والی آسمانی وحی اور قیامت تک نسل انسانی کو پیش آنے والے مسائل و مشکلات کے درمیان اسی علمی ارتباط کا نام ’’اجتہاد‘‘ ہے جس کی بدولت اسلام دنیا کے ہر خطہ، نسل اور زمانہ کے لوگوں کے لیے ایک قابل عمل بلکہ واجب العمل نظام حیات کی حیثیت رکھتا ہے۔
اجتہاد کا یہ عمل جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں شروع ہوگیا تھا لیکن نبی اکرمؐ کے اجتہادات کو چونکہ وحیٔ الٰہی کی تائید یا سکوت کی صورت میں خود وحی الٰہی کا درجہ حاصل ہے اس لیے اصطلاحی معنوں میں اجتہاد کا آغاز حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دور سے شمار کیا جاتا ہے جو اس وقت سے مسلسل جاری ہے اور قیامت تک جاری رہے گا۔ اجتہاد کے بارے میں ایک بات تسلسل کے ساتھ کہی جا رہی ہے کہ پہلی تین یا چار صدیوں کے بعد اجتہاد کا دروازہ علماء نے بند کر دیا تھا جس کی وجہ سے اس کے بعد سے کوئی مستقل مجتہد سامنے نہیں آرہا، لیکن یہ غلط فہمی علوم و فنون کی تشکیل و تدوین کے فطری مراحل سے بے خبری کا نتیجہ ہے ورنہ اجتہاد کا دروازہ کسی دور میں بند نہیں ہوا اور تمام تر کمزوریوں کے باوجود یہ عمل آج بھی جاری ہے۔ البتہ اجتہاد کے اصول و قواعد کی ترتیب و تدوین کا باب ضرور بند ہوا ہے اور یہ ایک منطقی اور فطری عمل ہے۔ دنیا میں مختلف علوم و فنون کے آغاز، تشکیل اور ترقی و کمال کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ایک بات سب میں مشترک نظر آتی ہے کہ انسانی معاشرہ کی کوئی نہ کوئی ضرورت، مناسبت رکھنے والے ذہن میں داعیہ پیدا کرتی ہے جو رفتہ رفتہ ذوق کی صورت اختیار کر جاتا ہے۔ پھر کچھ عرصہ تک اس ذوق کا انفرادی اظہار ہوتا ہے اور مختلف جہات سے سامنے آنے والا یہ ذوق بتدریج ایک علم اور فن کی صورت اختیار کر جاتا ہے، یہی صورتحال ’’اجتہاد‘‘ کے ساتھ بھی پیش آئی۔ اجتہاد ایک شرعی ضرورت تھی جس نے اجتہادی صلاحیت سے بہرہ ور ذہنوں میں داعیہ پیدا کیا، کچھ عرصہ تک اس ذوق کا انفرادی اظہار ہوتا رہا، پھر اصول و ضوابط وضع ہوئے، استنباط و تطبیق کے قواعد ترتیب پائے، مختلف شخصیات کی طرف سے وضع کردہ اصول و قواعد نے توافق و تقابل کے مراحل سے گزرتے ہوئے رفتہ رفتہ ایک باضابطہ علم کی حیثیت اختیار کر لی اور متعدد فقہی مکاتب فکر وجود میں آگئے۔
اس پس منظر میں مجتہدینِ مطلق یا مستقل مجتہدین جو اجتہاد کے اصول و قواعد وضع کرتے ہیں، ان کے ظہور کا دور وہی تھا جب بنیادی قواعد و ضوابط تشکیل پا رہے تھے۔ اور اس دور میں بیسیوں مستقل مجتہدین سامنے آئے اور انہوں نے اپنے فقہی حلقے قائم کیے جن میں سے چار، یا ظواہر کو شامل کر کے پانچ مکاتب فکر کو امت نے قبول کر لیا اور باقی فقہی حلقے فطری عمل کے مطابق تاریخ کی نذر ہوگئے۔ اس کے بعد کسی مستقل مجتہد کی ضرورت باقی نہیں رہی اور اس علم کے بنیادی قواعد و ضوابط کی تشکیل و ترتیب کا باب بند ہوگیا۔ بالکل اسی طرح جیسے مثلاً علم نحو کے قواعد و ضوابط کی ترتیب کا ایک دور تھا، اس دور میں مختلف ائمہ نے قواعد و ضوابط وضع کیے جو قیامت تک اس علم کی بنیاد بن گئے۔ اب ان بنیادی قواعد و ضوابط کے دائرے میں رہتے ہوئے ان کی تشریح و تعبیر، ترمیم و اضافہ اور اضافی قواعد کی تدوین کا دروازہ ہمیشہ کے لیے کھلا ہے اور ہر باصلاحیت کا حق ہے کہ وہ اس جولانگاہ میں اپنے رہوارِ فکر کو جہاں تک اس کے بس میں ہو دوڑاتا چلا جائے، لیکن اگر وہ نحو کے بنیادی قواعد مثلاً ’’الفاعل مرفوع والمفعول منصوب والمضاف الیہ مجرور‘‘ کو تبدیل کرنے کی خواہش کا اظہار کرے گا تو کوئی ذی ہوش شخص اسے یہ حق دینے کے لیے تیار نہیں ہوگا۔ اس لیے اگر علوم و فنون کی تشکیل و تدوین کے مسلمہ اصولوں کی روشنی میں اجتہاد کے بنیادی قواعد و ضوابط کے وضع و تدوین کا باب بند ہوا ہے تو اسے علماء یا فقہاء نے بند نہیں کیا بلکہ اس کے پیچھے فطری عمل اور تاریخ کا تسلسل کارفرما ہے۔
معزز شرکائے محفل! اصل مسئلہ اجتہاد کے باب کا کھلا ہونا یا بند ہو جانا نہیں بلکہ آج کے دور میں انسانی معاشرہ کو درپیش مسائل اور اجتہادی عمل کے درمیان پائی جانے والی وہ خلیج ہے ہو ہر باشعور شخص کو واضح طور پر نظر آرہی ہے اور ہر شخص اپنے ذوق اور ذہن کے مطابق اس کی تعبیر کر رہا ہے۔ اس خلیج کا باعث اجتہاد کی بندش نہیں بلکہ اجتہاد کے جاری و ساری عمل کو صحیح طور پر استعمال میں نہ لانا ہے۔ اور میری ناقص طالب علمانہ رائے میں مسائل حاضرہ اور اجتہادی عمل کے درمیان پائی جانے والی خلیج کے اہم اسباب یہ ہیں:
- اب سے تیرہ صدیاں قبل اسلامی اعتقادات پر یونانی فلسفہ کی یلغار کے دور میں ہمارے علماء نے اس فلسفہ کی ماہیت اور مضرات کا صحیح طور پر بروقت ادراک کر لیا تھا اور اس سے کماحقہ واقفیت حاصل کر کے اسی کی زبان میں اس کے توڑ اور مقابلہ کی فضا پیدا کر دی تھی جس کی وجہ سے یونانی فلسفہ اسلامی اعتقادات پر حملہ میں کامیابی حاصل نہ کر سکا۔ مگر اب سے کم و بیش دو سو برس پہلے سائنسی ایجادات و انکشافات، صنعتی ترقی اور مغرب کے لادینی فلسفۂ حیات کی بیک وقت پیش رفت کے موقع پر ہمارے علمی ادارے اس سہ جہتی یلغار کی نوعیت اور نفع و نقصان کا صحیح طور پر اندازہ نہ کر سکے اور رازیؒ، غزالیؒ، ابن رشدؒ اور ابن تیمیہؒ کی طرح مخالف فلسفہ کا برابر کی سطح پر مقابلہ کرنے کی بجائے دفاعی پوزیشن اختیار کر لی۔ جس کا نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے کہ مغرب کا فلسفہ لادینیت امت مسلمہ کے مختلف طبقات کے ذہنوں میں غیر شعوری ارتداد کی کمین گاہیں قائم کرنے میں کامیاب ہو چکا ہے۔ اگر اس دوران ہمارے علمی ادارے اور دینی مراکز سائنسی علوم، صنعت و حرفت اور مغربی فلسفہ سے واقفیت اور اس کی تعلیم کے دروازے بند نہ کر لیتے اور خوداعتمادی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہی علوم کے ہتھیاروں کو ان سے مقابلہ کے لیے اختیار کرتے تو آج مغرب کا لادینی فلسفہ مسلمانوں کے اعتقادی، نظریاتی، قانونی، معاشرتی اور تہذیبی ڈھانچے کے لیے اس قدر کھلا چیلنج نہ بن پاتا۔
- کوئی نظام جب تک معاشرہ میں نافذ العمل رہتا ہے، معاشرہ کی بدلتی ہوئی صورتحال پر نظر رکھنا اور نئے پیش آمدہ مسائل اور قانون میں مطابقت پیدا کرتے رہنا قانون اور اس سے متعلق اداروں کی ذمہ داری ہوتا ہے۔ مگر بیشتر مسلم ممالک پر استعماری قوتوں کے تسلط کے دور میں یہ صورت قائم نہ رہ سکی۔ ان ممالک کے قانون و نظام بدل گئے، قضا کا منصب افتا کی صورت اختیار کر گیا اور اسلامی احکام و قوانین پر عمل کی حیثیت ایک اختیاری عمل کی سی رہ گئی۔ جس کی وجہ سے معاشرہ کی ضروریات کا جائزہ لینا اور قانون کے ساتھ ان کی تطبیق کی صورتیں پیدا کرنا قضا و حکم سے تعلق رکھنے والے افراد اور اداروں کی ذمہ داری نہ رہا بلکہ یہ ذمہ داری عام مسلمان کو منتقل ہوگئی کہ وہ کسی معاملہ میں شرعی حکم معلوم کرنا چاہتا ہے تو کسی مفتی سے دریافت کر لے۔ اس ’’تنزل‘‘ نے احکام و قوانین کی اجتماعیت کا تصور مجروح کر دیا، انفرادیت اور محدود سوچ اجتہادی عمل پر غالب آگئی اور معاشرہ کے اجتماعی مسائل و مشکلات کو اجتہاد کے ذریعے حل کرنے کا کوئی مربوط نظام باقی نہ رہا۔
- دورِ غلامی میں دینی مدارس اور ان کے نظامِ تعلیم کا بنیادی ہدف اسلامی عقائد، دینی علوم اور مسلم معاشرت کا تحفظ تھا جس میں انہیں نمایاں کامیابی حاصل ہوئی اور برصغیر میں دینی مدارس کے ہاتھوں فکری اور تہذیبی شکست مغربی فلسفہ کے علمبرداروں کے لیے ابھی تک سوہانِ روح بنی ہوئی ہے، لیکن بنیادی ہدف چونکہ تحفظ تھا اس لیے دینی مدارس کے نصاب و نظام کی ترجیحات اسی ’’تحفظ‘‘ کے گرد گھومتی رہیں۔ اور معاشرہ میں شرعی احکام و قوانین کی تطبیق و تنفیذ ان کے اہداف میں نہیں تھی اور نہ ہی دور غلامی میں اس کے بارے میں سوچا جا سکتا تھا اس لیے فطری طور پر تطبیق و تنفیذ سے متعلقہ اجتہادی عمل دینی مدارس کی ترجیحات میں جگہ نہ پا سکا، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ دینی مدارس سے فارغ ہونے والے علماء کی غالب اکثریت اجتہاد کی اہمیت و ضرورت، معاشرہ میں اس کے حقیقی کردار اور اس کی صلاحیت و استعداد کے تقاضوں سے یکسر بے خبر ہے۔
اجتہاد کا عمل اس دوران بند نہیں ہوا بلکہ اس کا دائرہ محدود ہوگیا تھا۔ مختلف مکاتب فکر کے بڑے بڑے دارالافتا اس دوران جو کام کرتے رہے اس کا بیشتر حصہ اجتہاد کے زمرہ میں آتا ہے۔ لیکن معاشرہ میں شرعی احکام و قوانین کی تطبیق و تنفیذ کا عمل اجتہاد کے دائرے میں شامل نہ رہا اور مغربی فلسفۂ حیات کی ہمہ جہتی یلغار کا صحیح طور پر ادراک نہ کرتے ہوئے اس کے مقابلہ کے لیے بروقت پیش بندی کی ضرورت محسوس نہ کی گئی جس کی وجہ سے مسائلِ حاضرہ اور اجتہادی عمل کے درمیان وہ خلیج نظر آرہی ہے جس نے نہ صرف اصحابِ فکر و نظر کو مسلسل پریشان کر رکھا ہے بلکہ مسلم ممالک بالخصوص پاکستان میں اسلامی نظام کے عملی نفاذ میں ایک بڑی رکاوٹ کی حیثیت بھی اختیار کیے ہوئے ہے۔
حاضرینِ مکرم! اجتہاد کے عنوان پر گفتگو کرتے ہوئے ایک اور سوال کا جائزہ لینا بھی ضروری معلوم ہوتا ہے اور وہ ہے اجتہاد کی اہلیت کا مسئلہ جس نے علمائے دین اور جدید اہل دانش کے درمیان باقاعدہ ایک تنازعہ کی صورت اختیار کر لی ہے۔ مفکر پاکستان علامہ محمد اقبالؒ کے بعض خطبات کا سہارا لیتے ہوئے ان کے فرزند جسٹس (ر) ڈاکٹر جاوید اقبال اور ان کے ساتھ قانون دانوں کا ایک طبقہ یہ موقف اختیار کیے ہوئے ہے کہ علمائے کرام چونکہ آج کے علوم و فنون اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے مسائل اور ان کے اسباب و نتائج سے براہِ راست واقف نہیں ہوتے اس لیے ان میں اجتہاد کی اہلیت نہیں ہے اس لیے اجتہاد کا یہ حق پارلیمنٹ کو منتقل ہوجانا چاہیے۔ جبکہ علمائے کرام کا موقف یہ ہے کہ فقہاء نے شرعی اجتہاد کے لیے جن علوم کی مہارت کو شرط قرار دیا ہے مثلاً (۱) قرآن کریم (۲) سنتِ رسولؐ (۳) اجماع امت (۴) اقاویل سلف (۵) علوم عربیت ، چونکہ پارلیمنٹ اور دیگر آئینی ادارے ان علوم سے آگاہی نہیں رکھتے اس لیے ان کے لیے اجتہاد کا حق تسلیم کرنے سے تحریفِ دین کا دروازہ کھل جائے گا۔
ہماری ناقص رائے میں ان دونوں موقفوں کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لینے کی ضرورت ہے کیونکہ اجتہاد کے مسلمہ اصولوں کے مطابق مجتہد کے لیے ماخذ اور محل دونوں کے ساتھ اجتہادی درجہ کی واقفیت ضروری ہے۔ ماخذ سے مراد وہ علوم شرعی ہیں جن سے آگاہی کو فقہاء نے اجتہاد کے لیے شرط ٹھہرایا ہے، او رمحل سے مراد اس شعبہ زندگی کے مروجہ قواعد و ضوابط، روایات اور عرف ہے جس سے متعلقہ مسئلہ درپیش ہے۔ ماخذ اور محل سے کماحقہ آگاہی اور ان دونوں کے درمیان تطبیق کی صلاحیت کے تین اجزا سے اجتہاد کا عمل ترتیب پاتا ہے۔ اور اس اجتماعی تناظر میں دیکھا جائے تو دونوں طبقوں کے موقف کی واقعاتی بنیاد کسی نہ کسی حد تک ضرور موجود ہے اور ان میں سے کسی ایک کو یکسر نظر انداز کر دینا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہوگا۔
جدید اہلِ دانش کا خیال ہے کہ زمانے کے حالات، متعلقہ شعبۂ زندگی کے قواعد و روایات اور عرف سے آگاہی اصل ہے جبکہ قرآن کریم کے تراجم و تفاسیر، احادیث کی شروح و تراجم اور فقہی احکام کے ذخیرے اردو زبان میں وافر مقدار میں میسر ہونے کی وجہ سے ماخذ سے عدم واقفیت کا خلا کسی حد تک پر کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ہمارے خیال میں یہ بات درست نہیں ہے کیونکہ مطالعہ کا علم کسی بھی علم کی باقاعدہ تعلیم کا متبادل تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ اور کسی بھی علم میں لٹریچر کی فراوانی اور عام افراد کی اس تک رسائی کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ لٹریچر تک رسائی رکھنے والے شخص نے محض اس بنیاد پر اس علم میں اس درجہ کی مہارت بھی حاصل کر لی ہے جو کسی بھی علم میں اجتہادی عمل کے لیے ضروری سمجھی جاتی ہے۔ آج ملک میں بہت سے افراد ایسے مل جائیں گے جن کا آئین و قانون کا مطالعہ اور ان کی تشریح کی صلاحیت متوسط درجہ کے وکلاء سے زیادہ ہے لیکن ملک کی کوئی عدالت ایسے کسی شخص کو کسی آئینی اور قانونی معاملہ میں رائے کا باقاعدہ حق دینے کے لیے تیار نہیں ہوگی۔ یہ اصول اور ضابطہ کی بات ہے جس سے کسی شعبۂ زندگی میں انحراف نہیں کیا جا سکتا۔
دوسری طرف علمائے کرام کا یہ طرز عمل بھی محلِ نظر ہے کہ محل سے ناواقفیت یعنی متعلقہ مسئلہ کے ’’مالہ و ما علیہ‘‘ اور اس کے حوالہ سے مروجہ عرف و روایات سے عدمِ آگاہی کے خلا کو متعلقہ شعبہ کے کچھ افراد سے پوچھ گچھ کے ذریعے پر کرنے پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ اور حالات زمانہ اور مروجہ عرف و روایات سے اس درجہ کی ’’عملی ممارست‘‘ کو ضروری نہیں سمجھا جا رہا جو کسی زمانے میں ہمارے فقہاء کا طرۂ امتیاز ہوتی تھی۔ مثال کے طور پر نماز میں لاؤڈ اسپیکر کے جواز اور عدم جواز کی بحث پر ایک نظر ڈال لیجئے جس میں طویل بحث و مباحثہ کے بعد کسی حتمی نتیجہ تک پہنچنے میں ہمیں کم و بیش ربع صدی کا وقت لگا۔ اور اگر اس کے اسباب کا تجزیہ کریں گے تو سب سے بڑا سبب وہی لاؤڈ اسپیکر کے تکنیکی معاملات سے عملی ممارست کا فقدان قرار پائے گا جس نے ہمیں ربع صدی تک تکنیکی بحث میں الجھائے رکھا۔
اس کے ساتھ مسئلہ کا یہ پہلو بھی قابل توجہ ہے کہ علمائے کرام کے لیے زندگی کے تمام شعبوں کے ساتھ اس درجہ کی عملی ممارست کو شرط قرار دینا اور انہیں اس کے لیے مجبور کرنا بجائے خود محلِ نظر ہے۔ یہ تخصصات کا دور ہے، ماخذ کے اعتبار سے سب علوم شرعیہ پر یکساں مہارت رکھنے والے حضرات کا ملنا ہی مشکل ہوتا جا رہا ہے اور اگر محل کے لحاظ سے مختلف شعبہ ہائے زندگی کے اطوار و عرف سے واقفیت کو بھی ساتھ شامل کر لیا جائے تو بات اور زیادہ پیچیدہ ہو جائے گی۔ قدیم فقہاء نے ماخذ کے لحاظ سے تو ’’تجزی فی الاجتہاد‘‘ کے عنوان سے اس کا حل پیش کیا تھا کہ ایک شخص ایک شعبہ میں اجتہاد کی اہلیت سے بہرہ ور ہے اور دوسرے شعبہ میں نہیں ہے، تو یہ صورت جمہور فقہاء کے نزدیک قابل قبول ہے۔ اور اگر ’’تجزی فی الاجتہاد‘‘ کو محل کے نقطۂ نظر سے بھی تسلیم کر لیا جائے تو معاملات میں توسع اور تنوع کا دائرہ مزید پھیلتا چلا جائے گا۔
حضراتِ محترم! اصحابِ فکر و نظر نے اس مشکل کا حل ’’اجتماعی اجتہاد‘‘ کی صورت میں تجویز کیا ہے۔ اور یہ کوئی نئی تجویز نہیں ہے بلکہ امام اعظم ابوحنیفہؒ کے طرزِ اجتہاد کا احیا ہے جس میں فقہاء اور ماہرین کی ایک بڑی جماعت مشاورت اور اجتماعی بحث و مباحثہ کی صورت میں مسائل کے استنباط و استخراج کے مراحل کو تکمیل تک پہنچاتی تھی۔ اور اسی اجتماعی اجتہاد کے ذریعے مستنبط ہونے والے احکام و مسائل فقہ حنفی کا بنیادی ذخیرہ ہیں۔ اس لیے آج ضرورت اس امر کی ہے کہ امام اعظمؒ کے طرزِ اجتہاد کو زندہ کرتے ہوئے اہلِ علم اور ماہرین کی ایک ایسی کونسل قائم کی جائے جو نہ صرف یہ کہ غیر سرکاری ہو بلکہ اقتدار کی کشمکش اور گروہی سیاست کی ترجیحات سے بے نیاز اور بالاتر ہو۔ اس میں دینی علوم کے مختلف شعبوں کے چوٹی کے ماہرین کے ساتھ ساتھ زندگی کے مختلف شعبوں سے عملی تعلق رکھنے والے تجربہ کار ماہرین کو بھی شریک کیا جائے اور باہمی بحث و تمحیص اور اجتماعی مشاورت کے ذریعے مسائلِ حاضرہ کا حل تلاش کیا جائے۔
آخر میں مسئلہ کے ایک اور پہلو کا ذکر بھی مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہ دور جہاں علم و فن کے لحاظ سے تخصصات میں تقسیم در تقسیم کے عمل سے گزر رہا ہے وہاں معاشرت کے تخصصات و امتیازات دن بدن کم ہوتے جا رہے ہیں۔ انسانی معاشرہ نیشنلزم کا حصار توڑ کر انٹرنیشنل ازم کی طرف عازمِ سفر ہے۔ فاصلے سمٹتے جا رہے ہیں اور انسانی زندگی تیزی کے ساتھ ایک مشترک بین الاقوامی معاشرت (گلوبل ویلج) کی طرف بڑھ رہی ہے۔ ان حالات میں ہمیں اجتہاد کی اہلیت کی شرائط میں (۱) ماخذ سے آگاہی (۲) محل سے واقفیت (۳) اور تطبیق کی صلاحیت کے ساتھ ساتھ (۴) بین الاقوامی رجحانات سے شناسائی کی شرط کا اضافہ بھی کرنا ہوگا، اور اجتماعی معاملات میں بین الاقوامی امور کے ماہرین کے علم و تجربہ سے استفادہ کرنا ہوگا۔ کیونکہ اسی صورت میں ہم مستقبل کے انسانی معاشرہ اور اجتہاد کے اسلامی اصولوں کے درمیان وہ حقیقی رشتہ جوڑ سکیں گے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اہمیت کا پہلے سے زیادہ احساس دلا رہا ہے۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔
جدید نظریاتی چیلنج اور علمائے کرام
مولانا محمد عیسٰی منصوری
موجودہ دور کا سب سے بڑا مسئلہ ان افکار و نظریات کا ہے جو اس زمانہ میں مذہب کی جگہ لے چکے ہیں۔ اسلام ایک واضح فکر و عقیدہ کا نام ہے جو اپنی سادگی، حقانیت، فطرت اور عقلِ سلیم کے عین مطابق ہونے کی وجہ سے اپنے اندر زبردست کشش و قوت رکھتا ہے۔ دشمنانِ اسلام ہمیشہ اسلام کی دعوت و فکر کی طاقت سے خوفزدہ رہے۔ یورپ صلیبی جنگوں کے بعد یہ حقیقت سمجھ چکا تھا کہ اسلام کو نہ نظریہ و فکر کے میدان میں شکست دی جا سکتی ہے اور نہ عسکری میدان میں، اس صدیوں کے غور و فکر مطالعہ و تحقیق کے بعد مسلمانوں کو رام کرنے کے لیے ایسا راستہ اختیار کیا جس سے مسلمان اپنی پوری تاریخ میں نا آشنا تھے۔ اسلام کے شاطر دشمنوں نے خلافِ اسلام افکار و نظریات کو خوشنما بنا کر جدید انداز میں اس طرح مسلمانوں کے دل و دماغ میں اتار دیا کہ جن کے قبول کرنے کے بعد خودبخود اسلام کی صداقت و حقانیت میں شکوک و شبہات پیدا ہو کر انسان اسلام کی بنیادی صداقتوں اور اسلامیات سے بے گانہ ہو جاتا ہے۔
اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ کسی بھی پہلو سے اسلام کا کھلم کھلا حریف بننے کے بجائے مذہب کا ایسا تصور پیش کر دیا جائے اور اس پر چاروں طرف سے ایسے افکار و نظریات کی یلغار کر دی جائے جو اسلام کے بنیادی عقائد و نظریات کو متزلزل کر دے، اور مسلمان کو اس بات کا شبہ تک نہ ہو کہ وہ اسلام کی مخالف سمت میں جا رہا ہے۔ کیونکہ دشمن اس حقیقت سے بخوبی واقف تھا کہ مسلمان اپنے مذہب کے بارے میں انتہائی ذکی الحس واقع ہوا ہے، اور اسلام کی چھوٹی چھوٹی بات کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کرنا اس کے لیے معمولی چیز ہے۔ اس لیے گزشتہ ڈیڑھ دو صدی سے اس کا حملہ ایک ایسی سمت سے ہو رہا ہے جس سے پوری تاریخ میں مسلمان ناواقف رہے ہیں۔ انہیں اس بات کا احساس تک نہیں ہوتا کہ وہ آہستہ آہستہ اسلام سے بیگانہ ہو کر ایسے افکار و نظریات کو اپنا چکے ہیں جس کے نتیجے میں انسان اسلام کے بنیادی عقائد و افکار سے بیگانہ ہو جاتا ہے۔ یہ خاموش فکری حملہ گزشتہ صدیوں کے دوران عالمِ اسلام پر یورپ کی عسکری و سیاسی ساخت کے پس پشت تعلیم، جدید افکار کے نام پر اسلام سے تصادم کیے بغیر اس خاموشی سے داخل ہو گیا کہ مسلم علماء و مفکرین کو عرصہ تک اس کا احساس تک نہیں ہو سکا کہ اس سے کتنی تباہی آئی ہے۔
اب بھی مغرب کی یلغار برابر جاری ہے، اس کی تکنیک اور طریقہ واردات یہ ہے کہ وہ براہ راست یا بالواسطہ اسلام کے مقابلہ پر نہیں آتا اور نہ صراحتاً اسلام کی تردید کرتا ہے، بلکہ بظاہر اسلام سے بالکل لاتعلق و اجنبی نظر آتا ہے اور اسلام سے اس طرح قطع نظر کرتا ہے گویا وہ جانتا ہی نہیں کہ یہ سب کچھ اسلام کے عین ضد اور مقابل ہے۔ وہ علم و تحقیق، عقلی استدلالات، اور جدید نظریات کے نام پر انسان اور کائنات کی ایسی تشریح و توضیح کرتا ہے جس سے خدا، رسالت و آخرت اور سرے سے مذہب کی کوئی گنجائش و ضرورت نہیں رہی۔ کسی مسلمان کو ذرہ برابر شک نہیں ہوتا کہ ان افکار و نظریات کا قائل ہوتا اور تسلیم کرنا اسلام کے انکار کو مستلزم ہے۔
عالمِ اسلام یورپ کی سائنسی و ٹیکنالوجی ترقی اور دیگر عصری علوم کے میدان میں اس کی متواتر کامیابیوں اور سبقت سے مرعوبیت کے سبب علم و عقل کی اور شریعت کی کسوٹی پر کسے بغیر ان اوہام و خرافات کو علم و عقل، شعور و آگہی اور ترقی کے نام پر قبول کر چکے ہیں۔ جب مسلمان ان افکار و نظریات کو اختیار کرتا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ وہ علم و آگہی، ترقی یافتہ نظریات، اور جدید فلسفوں کو اختیار کر رہا ہے۔ اس طرح یہ خلافِ اسلام باطل افکار اس طرح قبول کر لیے جاتے ہیں کہ ان کے دل میں اس بات کی کھٹک تک نہیں ہوتی کہ ان کے قبول کرنے سے اسلام کی نفی ہو رہی ہے۔ غرض یہ بات حرف بحرف صحیح ہے کہ اس پیمانے پر اس نوعیت کا فتنہ جسے بجا طور پر ایک جدید ارتداد کہا جا سکتا ہے، اسلام کی پوری تاریخ میں کبھی رونما نہیں ہوا۔
اس ماڈرن ارتداد کی تکنیک اور طریقہ واردات سے عام مسلمان تو کجا، ہمارے مذہبی رہنما اور علمائے کرام تک اتنے بے خبر اور ناواقف ہیں کہ انہیں اس کی اتنی بھی فکر نہیں ہوتی جتنی گزشتہ زمانہ میں چند مسلمانوں کے عیسائی یا ہندو ہو جانے سے ہوتی تھی۔ معلوم ہوتا ہے وہ اس طوفان کی زہرناکی، منفی اثرات، گہرائی و گیرائی کا کماحقہ شعور و احساس نہ کر سکے۔ علم و جدید فکر کی اس نظریاتی یلغار کو بجا طور پر جدید ارتداد کہا جا سکتا ہے۔
مذاہب اور ارتداد کی تاریخ کا بہ نظر غائر مطالعہ بتاتا ہے کہ کسی معاشرہ میں ارتداد دفعتاً نہیں آتا بلکہ اس کے اثرات تدریجاً رونما ہوتے ہیں۔ پہلے باطل نظریات و افکار سے دل و دماغ متاثر ہوتا ہے، اسلام کے بنیادی عقائد و تصورات سے اعتماد متزلزل ہوتا ہے، ایمانیات میں شکوک و شبہات در آتے ہیں، پھر اس کے اثرات عمل پر پڑتے ہیں، اجتماعی معاملات (اقتصادیات، سیاست، نظم و نسق اور قانون) میں اسلام ناقابل عمل نظر آتا ہے۔ پھر عبادت، نماز، روزہ وغیرہ میں ضعف اور اضمحلال پیدا ہوتا ہے۔ اس کے آخر میں زبان پر بھی آتا ہے۔ یعنی لسانی سے پہلے قلبی و عملی ارتداد آتا ہے۔
اب مغرب کے جدید تکنیک و طریقہ واردات نے یہ سہولت بھی مہیا کر دی ہے کہ زبان پر لانے کی ضرورت ہی نہیں۔ اس کے نزدیک مسلم معاشروں میں داخل رہ کر ہی اس کی بہترین خدمت انجام دی جا سکتی ہے۔ پہلے زمانہ میں جب کوئی مسلمان کسی باطل مذہب کے اثرات قبول کرتا تھا تو ضروری تھا کہ وہ کسی گرجا یا مندر میں جا کر شدھی یا بپتسمہ کی رسمی کارروائی سے گزرے۔ گلے میں صلیب ڈالے یا ماتھے پر قشقہ لگائے۔ اس کے بعد وہ مسلمانوں کی جماعت سے علیحدہ ہو جاتا اور اسلام سے اس کی دشمنی آشکارا ہو جاتی اور دوسرے مسلمان اس کی طرف سے ہوشیار اور چوکنا ہو جاتے۔ لیکن اسلام پر یہ نیا حملہ کسی مذہب کے نام پر نہیں بلکہ علم و عقل، شعور و آگہی، فلسفہ و نظریات کے نام پر ہوا ہے اور اس نے اپنے پرستاروں کو اجازت دے رکھی ہے کہ وہ اسلام کے بنیادی عقائد و افکار و نظریات سے الگ ہو کر بھی مسلمانوں کے معاشرہ میں مسلمان بن کر رہیں، ان ہی میں شادی بیاہ کریں، دوستی، رشتہ داری، میل ملاپ اور کھانے پینے کے تعلقات قائم رکھیں۔ کبھی کبھی رسمی طور پر ان کی عبادات (جمعہ، عیدین) میں بھی شریک ہوں۔ ان لوگوں کو مسلم معاشرہ میں ان کے تمول اور تعلیم و سیاست میں امتیاز کی وجہ سے خصوصی عزت و توقیر کا مستحق سمجھا جاتا ہے اور سوسائٹی میں امتیازی درجہ دیا جاتا ہے، وہ بڑی شان و شوکت سے مسلم گھرانوں میں شادی رچاتے ہیں، مرنے کے بعد بڑے بڑے مجمع ان کا جنازہ پڑھتے ہیں، مسلمانوں کے قبرستان میں دفن ہوتے ہیں۔
یہ اسلام کے ماڈرن مرتد فقط اپنی ذات تک ہی ایسی راہ اختیار نہیں کرتے جو اسلام کے بالکل برعکس سمت میں جاتی ہے، بلکہ آگے بڑھ کر یہ حضرات تعلیم و سیاست میں ممتاز ہونے کی وجہ سے سیاست و حکومت، کونسلوں اور اسمبلیوں، وزارتوں اور اعلیٰ عہدوں پر فائز ہو کر اور اونچی اونچی کرسیوں پر براجمان ہو کر مسلمانوں کے اعلانیہ نمائندے کہلاتے ہیں۔ بلکہ ان کے حساس ترین اور کلیدی مسائل کو اپنے نظریات و صوابدید کے مطابق طے کرتے ہیں۔ دشمنانِ اسلام (یہود و نصاری، ہنود) سے سیاست و حکمرانی، ثقافت و کلچر، اقتصادیات و تجارت، تعلیم و آرٹ کے حوالہ سے قریبی تعلق رکھتے ہیں۔ بیرونی اسلام دشمن طاقتیں انہیں اپنا نمائندہ بنا کر جوش و خروش سے ان کا استقبال کرتی ہیں کیونکہ فی الحقیقت یہ لوگ اپنی بڑی طاقتوں کا کام کر رہے ہوتے ہیں۔ مغربی میڈیا انہیں مسیحا بنا کر پیش کرتا ہے اور بڑی طاقتیں ان کے واسطے سے ترقی و خوشحالی کے نام پر مسلم ملکوں اور معاشروں میں اپنی پالیسیاں، نظریات، ثقافت و کلچر پوری آزادی و سہولت سے نافذ کرتی ہیں۔ اور ان لوگوں کے واسطے سے مسلم ملکوں کی اقتصادیات، تجارت، تعلیمی و تمدنی مراکز، معاشرت، غرض ہر ہر میدان میں اپنا اثر و نفوذ بڑھاتی جاتی ہیں۔
ان بیرونی طاقتوں کے لیے یہ راستہ براہ راست مسلم قوموں و ملکوں کو غلام بنا کر ان پر کنٹرول کرنے کی ہزاروں دقتوں اور پریشانیوں کی نسبت آسان و کم خرچ اور بے خطر نظر آتا ہے۔ جب کبھی یہ اسلام دشمن طاقتیں یہ دیکھتی ہیں کہ ان لوگوں میں کوئی اپنے عوام پر گرفت کھو چکا ہے اور اس کے واسطے سے اپنی تجارتی و معاشی، تہذیبی و تمدنی، فکری و نظریاتی پالیسیاں جاری رکھنی دشوار ہو گئی ہیں، یہ عام لوگ ان سے بیزار ہو کر اسلام کی طرف دیکھنے لگے ہیں، تو بڑی چابک دستی و ہوشیاری سے وہ اس مہرہ کو ہٹا کر دوسرا مہرہ لے آتی ہیں جو ان کی حسب ہدایت وقتاً فوقتاً اسلام بھی پڑھتا ہے اور ضرورت پڑے تو عمرے بھی کرتا ہے، ہاتھ میں تسبیح پکڑ لیتا ہے، پھر دوبارہ عالمی میڈیا (جس پر اسلام دشمن طاقتوں کی مکمل اجارہ داری ہے) اس کا امیج بنانے میں جت جاتا ہے۔ اس طرح مسلم قوم اور ملک اس دوسرے مہرے کے ساتھ چلنے لگتے ہیں۔
استعماری طاقتوں سے سیاسی آزادی حاصل کرنے کے بعد ہر مسلم ملک کی یہی مسلسل کہانی ہے کہ ان کے حکمرانوں اور سربرآوردہ طبقہ کے دل و دماغ پر قرآن اور محمدؐ کے بجائے مغربی افکار و نظریات کی حکمرانی رہی۔ مسلم دنیا کی بھاری اکثریت جو اسلام اور قرآن پر غیر متزلزل یقین و ایمان رکھتی ہے، وہ اپنی سادگی و سادہ لوحی سے یہ سمجھتی ہے کہ پہلے چند سال ملک کو معاشی استحکام و خوشحالی ہو جائے تو ہمارے حکمران خودبخود قرآن و سنت کی شاہراہ پر لے چلیں گے۔ اس خوش فہمی میں قوم ان کے قدم بقدم ساتھ چلتی رہتی ہے۔
مسلم ملکوں میں اگرچہ مغربی تہذیب و افکار کے نمائندوں کی تعداد ۲-۴ فیصد سے زیادہ سے زائد نہیں، مگر ان افراد کی طاقت اور وسعتِ اختیار کا یہ حال ہے کہ وہ سیاست و حکومت، تجارت و معیشت، تعلیم و ذرائع ابلاغ پر پوری طرح حاوی و قابض ہونے کی وجہ سے بآسانی اسلام کا درد و فکر رکھنے والی جماعتوں، تنظیموں اور علماء کو کچل دیتے ہیں۔ اور جدید ذرائع ابلاغ کے پراپیگنڈے کے زور پر انہیں علم و سائنس اور ترقی و خوشحالی کا دشمن ظاہر کر کے پیچھے دھکیل دیتے ہیں۔ دینی جماعتیں اور علماء ذرائع ابلاغ میں اپنا نقطۂ نظر تک پیش نہیں کر پاتیں اور اس گھناؤنے طریقے پر ان کی کردارکشی کی جاتی ہے کہ وہ دیوار سے لگ جاتے ہیں۔ اور اس سارے عمل میں انہیں بیرونی اسلام دشمن طاقتوں اور عالمی میڈیا کی بھر پور آشیر باد حاصل رہتی ہے۔ پھر اطمینان سے یہ لوگ اپنے بیرونی سرپرستوں اور آقاؤں کے مفادات پورے کرنے لگ جاتے ہیں۔
یہ بات پورے وثوق سے کی جا سکتی ہے کہ تاریخ میں اس سے پہلے کبھی اسلام کو اس صورت حال سے اور اس نوعیت کے فکری و نظریاتی حملہ سے سابقہ نہیں پڑا تھا۔ یہ فکری یلغار جتنی عام اور ہمہ گیر تھی، بظاہر اتنی ہی سادہ اور مذہب سے بے تعلق دکھائی دیتی تھی۔ بدقسمتی سے مذہبی طبقہ اور علمائے کرام گزشتہ کئی صدیوں سے علمی و فکری اعتبار سے دورِ زوال میں ہیں، انہوں نے خود اپنے اوپر علم و تحقیق و اجتہاد کے دروازے بند کر لیے ہیں۔ وہ قرونِ وسطی کی اُن لایعنی لفظی بحثوں کے امیر ہو کر رہ گئے ہیں جن کی اس دور میں کوئی افادیت و اہمیت باقی نہیں رہ گئی، خاص طور پر گزشتہ دو صدیاں عالمِ اسلام کے لیے انتہائی نکبت و ادبار، شکستگی و مایوسی، غلامی و غیروں کی نقالی میں گزری ہیں۔ ان میں علماء کا جمود و حالات سے بے خبری، عصری علوم سے ناواقفیت، جدید افکار و نظریات سے بے تعلقی اس انتہا کو پہنچ گئی تھی کہ وہ اپنے زمانہ کے تقاضوں کو سمجھنے کی بصیرت و شعور سے دور جا پڑے تھے۔ اس لیے وہ ان جدید افکار و نظریات کی چھان پھٹک کر کے انہیں قرآن و سنت اور علم و عقل کی میزان پر تولنے کے قابل نہیں رہ گئے تھے۔
اس طرح علمائے کرام اس نئے آنے والے فکری طوفان سے بڑی حد تک غافل اور بے خبر رہے۔ یہ حقیقت ہے کہ وہ اب تک اس نئے حملے کی نوعیت و گہرائی کو سمجھ نہیں پائے کیونکہ اسلام کے فکری نظام اور بنیادی عقائد پر تیشہ چلانے والے یہ کفریہ افکار و نظریات کسی مذہب کے نام پر نہیں بلکہ عقل و دانش اور جدید تھیوری و فلسفوں کے نام سے داخل ہوئے تھے۔ ان کے اثر و نفوذ کا یہ عالم ہے کہ کروڑہا مسلمان اس کی زد میں بہہ کر اسلام کی اساسیات اور بنیادی عقائد سے بیگانہ ہو گئے، اور خبر تک نہیں ہوئی کہ ماڈرن نظریات کے نام پر کتنی زبر دست تباہی ملتِ اسلامیہ میں آئی ہے۔
اس مسئلہ کی طرف نصف صدی پیشتر غالباً سب سے پہلے جدید طبقہ میں ڈاکٹر رفیع الدین صاحب مرحوم نے توجہ دلائی تھی اور طبقہ علماء میں مولانا مناظر احسن گیلانیؒ نے اس پر لکھا۔ ان کے بعد مفکر اسلام مولانا ابو الحسن علی ندویؒ نے دمشق سے نکلنے والے ’’اخوان المسلمین‘‘ کے آرگن رسالہ ’’المسلمون‘‘ میں ’’ردۃ جديدۃ‘‘ کے نام سے دو قسطوں میں ایک مضمون لکھا جس کا اردو ترجمہ اس وقت ’’الفرقان‘‘ میں مولانا عتیق الرحمٰن سنبھلی نے ’’نیا طوفان اور اس کا مقابلہ‘‘کے نام شائع کیا۔ اس کے بعد پھر مسلسل خاموشی ہے، حالانکہ مرض کی صحیح نشاندہی کے بعد اس عرصہ میں کئی علمی و تحقیقی ادارے جدید تعلیم یافتہ ذہنوں کو سامنے رکھ کر عصری اسلوب میں طاقتور لٹریچر اور جدید علمِ کلام کا پورا کتب خانہ وجود میں آ جانا چاہیے تھا۔
میں معذرت کے ساتھ پھر وہی بات کہوں گا کہ عالمِ اسلام کی سیاسی آزادی کے بعد بھی ہمیں علمی و فکری غلامی سے نجات نہ مل سکی۔ اس کی سب سے زیادہ ذمہ داری علمائے کرام پر عائد ہوتی ہے، ضرورت ہے کہ وہ اس خول سے باہر نکلنے کی جرأت کریں جو انہوں نے قرونِ وسطیٰ میں قرآن و سنت کی تعبیر و تفہیم کے لیے یونانی و اشراقی باطل افکار کا حصار اپنے گرد بنا رکھا ہے۔ اس طرح وہ اب تک ان لفظی موشگافیوں اور لایعنی فرسودہ افکار کے دھندلکے کی وجہ سے عصرِ حاضر کو نہیں دیکھ پا رہے ہیں، اور بزعم خود یہ سمجھ رہے ہیں کہ ارسطو و جالینوس، فارابی و بو علی سینا کے افکار و نظریات کی تردید سے انہیں خودبخود آج کے جدید افکار و نظریات کا بھی جواب مل جاتا ہے، اس لیے انہیں ان کے مطالعہ و تحقیق اور تجزیہ کی زحمت اٹھانے کی ضرورت نہیں۔ حالانکہ وقت کا تقاضا ہے کہ جدید نظریات سے آنکھیں چرانے کے بجائے جرأت سے ان کا سامنا کریں اور انہیں قرآن و سنت اور علم و عقل کی کسوٹی پر پرکھیں اور ان کا پوسٹ مارٹم کر کے ان سے غیر اسلامی اجزاء کو اس طرح خارج کریں جس طرح ان کے اسلاف نے تیسری صدی ہجری میں یونانی و اشراقی افکار کا کیا تھا۔
ہمارے نزدیک صورت حال کا حل صرف اور صرف یہ ہے کہ علمائے کرام اس فاصلہ کو ختم کریں جو گزشتہ کئی صدیوں سے ان کے اور نئی نسل کے درمیان، بلکہ زیادہ صحیح الفاظ میں ان کے اور عصری علوم و تقاضوں کے درمیان پیدا ہو گیا ہے۔ اور عصری علوم و افکارت بے خبری کو ختم کریں۔ موجودہ فکری و نظریاتی چیلنجوں سے نبرد آزما ہونے کے لیے ضروری ہے کہ یورپین زبانوں، سائنٹفک طرز تحریر، جدید ترین ذرائع ابلاغ، عصری تکنیک و اسلحہ سے پوری طرح واقف ہوں، اور قرونِ وسطیٰ کے فلسفہ اور منطق اور یونانی و ایرانی افکار کے ماحول سے باہر نکلیں جو اُس وقت ایک وقتی ضرورت کے تحت اختیار کیے گئے تھے۔ تو انہیں قرآن و سنت سے عصری گمراہیوں اور فکری چیلنجوں کا علمی و فکری میدان میں جواب دینے کی پوری رہنمائی ملے گی، اس لیے کہ قرآن و سنت ہر ہر دور کی کجی و بے راہ روی اور فکری و نظریاتی ضلالت و گمراہی سے نکل کر شاہراہِ علم و حقیقت، فوز و کامرانی پر گامزن کرنے کے لیے بالکل کافی ہے، شرط یہ ہے کہ دل و دماغ کے دروازے کھلے رکھے جائیں۔
دینی مدارس، پس منظر اور مقاصد و خدمات
مولانا حافظ صلاح الدین یوسف
سوویت یونین کے بکھر جانے اور روس کے بحیثیت سپر طاقت کے زوال کے بعد امریکہ واحد سپر طاقت رہ گیا ہے جس سے اس کی رعونت میں اضافہ اور پوری دنیا کو اپنی ماتحتی میں کرنے کا جذبہ مزید توانا، بالخصوص عالم اسلام میں اپنے اثر و نفوذ اور اپنی تہذیب و تمدن کے پھیلانے میں خوب سرگرم ہو گیا ہے۔ نیوورلڈ آرڈر (نیا عالمی نظام) اس کے اسی جذبے کا مظہر اور عکاس ہے۔
امریکہ کے دانش ور جانتے اور سمجھتے ہیں کہ ان کی حیا باختہ تہذیب کے مقابلے میں اسلامی تہذیب اپنے حیاء و عفت کے پاکیزہ تصورات کے اعتبار سے بدرجہا بہتر اور فائق ہے۔ اس لیے یہ اسلامی تہذیب ہی اس کے نئے عالمی نظام اور اس کی عالمی چودھراہٹ کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے، اسے ختم یا کمزور کیے بغیر وہ اپنا مقصد اور عالمی قیادت حاصل نہیں کر سکتا۔ چنانچہ اس نے اسلامی تہذیب و تمدن کو ختم کرنے کے لیے اپنی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ یہ مذموم کوششیں ویسے تو ایک عرصے سے جاری ہیں اور مختلف جہتوں اور محاذوں سے یہ کام ہو رہا ہے، بعض محاذوں پر اس کی پیش قدمی نہایت کامیابی سے جاری ہے، مثلاً
- حقوقِ نسواں کے عنوان سے مسلمان عورتوں میں اپنے مذہب سے نفرت و بیگانگی اور بے حیائی و بے پردگی کی اشاعت، جس میں وہ بہت کامیاب ہے۔ چنانچہ سعودی معاشرے کے علاوہ بیشتر اسلامی ملکوں کی مسلمان عورتوں کو اس نے اسلامی تعلیمات کے بالکل برعکس پردے کی پابندی سے آزاد اور حیاء و عفت کے اسلامی تصورات سے بے نیاز کر دیا ہے۔
- مخلوط تعلیم کا، مخلوط سروس اور مخلوط معاشرت کا فتنہ، اور مساواتِ مرد و زن کا مغربی نظریہ ہے جو ہر اسلامی ملک میں اسلام کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔ گویا اس محاذ پر بھی مغرب کی سازشیں اپنا رنگ دکھا رہی ہیں۔
- نرسری سے لے کر کالج اور یونیورسٹیوں کی سطح تک نصابِ تعلیم میں لارڈ میکالے کی وہ روح کار فرما ہے جو اس انگریزی نظام تعلیم کا موجد تھا اور جس نے کہا تھا کہ ’’اس سے ایسا طبقہ پیدا ہو گا جو خون اور رنگ کے اعتبار سے ہندوستانی، مگر خیالات اور تمدن میں انگریز ہو گا۔‘‘ یہ بات اس نے ۱۸۳۴ء میں کہی تھی جب متحدہ ہندوستان انگریزوں کے زیرنگیں تھا، لیکن آزادی کے بعد بھی چونکہ یہی نصابِ تعلیم بدستور جاری ہے، اس لیے خیالات اور تمدن میں انگریز بننے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ انگریزی زبان کے تسلط اور برتری سے بھی وہ اپنے مذکورہ مقاصد حاصل کر رہا ہے اور ہم نے اس کی زبان کو بھی سینے سے لگا رکھا ہے۔ اور یوں اس کے استعماری عزائم اور اسلام دشمنی بلکہ اسلام کش منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں اس کے دست و بازو بنے ہوئے ہیں۔
- اقتصاد و معیشت میں بھی ہم نے اس کی پیروی اختیار کر رکھی ہے اور سودی نظام کو، جو لاکھوں کے لیے مرگِ مفاجات کا حکم رکھتا ہے، ہم نے اسے مکمل تحفظ دیا اور اسے ہر شعبے میں بری طرح مسلط کیا ہوا ہے، جس کی وجہ سے اقتصادی ناہمواری عروج پر ہے۔ امیر امیر تر اور غریب غریب تر بنتا جا رہا ہے۔ نو دولتیوں کا ایک ایسا طبقہ الگ معرض وجود میں آچکا ہے جو پوری طرح مغربیت کے سانچے میں ڈھل چکا ہے۔ اس کا رہن سہن، بود و باش، طور اطوار حتیٰ که لہجہ و زبان تک سب کچھ مغربی ہے، وہ اسی مغربی تہذیب کا والہ و شیدا اور پرستار ہے اور اس کے شب و روز کے معمولات مغربی معاشرے کے عین مطابق ہیں۔
- سیاست و نظمِ حکومت میں بھی ہم نے جمہوریت کو اپنایا ہوا ہے، جو مغرب ہی کا تحفہ ہے۔ یہ پودا مغرب میں ہی پروان چڑھا، وہاں کی آب و ہوا شاید اسے راس ہو، لیکن اسلامی ملکوں کے لیے تو جمہوریت اسلام سے محروم کرنے کی ایک بہت بڑی سازش ہے، جس کے دام ہم رنگ زمین میں بیشتر اسلامی ملک پھنس چکے ہیں۔ کچھ تو اس کی ’’برکت‘‘ سے اسلامی اقدار و روایات سے بالکل بیگانہ ہو چکے ہیں، جیسے ترکی ہے۔ کچھ سخت جان ہیں تو وہاں اسلامی اقدار اور مغربی اقدار میں سخت کشمکش برپا ہے۔ برسراقتدار حکمران مغربی تہذیب و تمدن کو مسلط کرنے پر تلے ہوئے ہیں، جب کہ اسلامی تہذیب سے محبت کرنے والا ایک گروہ اس کے خلاف مزاحمت کر رہا ہے۔ تاہم عوام کی بہت بڑی اکثریت بیشتر اسلامی ملکوں میں دینی جذبہ و احساس اور شعور سے محروم ہونے کی وجہ سے الناس علیٰ دین ملوکہم کے تحت مغرب کی حیا باختہ تہذیب ہی کو اپنا رہی ہے۔
- ہماری صحافت بالخصوص روزنامے مغربی ملکوں کے روزناموں سے بھی زیادہ بے حیائی پھیلانے میں مصروف ہیں۔ یہ چند ٹکوں کی خاطر مسلمان عورت کو روزانہ عریاں اور نیم عریاں کر کے پیش کرتے ہیں تاکہ عوام کی ہوس پرستی اور جنسی اشتہا کی تسکین کر کے ان کی جیبوں سے پیسے بھی کھینچے جائیں اور انہیں دولت ایمان سے بھی محروم کر دیں۔ ان غارت گرانِ دین و ایمان کو اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ ان مہ وشوں، سیمیں تنوں اور رہزنانِ تمکین و ہوش کی رنگین اور شہوت انگیز تصویروں سے عوام کے اخلاق و کردار کس بری طرح بگڑ رہے ہیں۔ بے حیائی اور بے پردگی کو کس طرح فروغ مل رہا ہے اور فحاشی کا سیلاب کس طرح ہر گھر کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔ انہیں صرف اپنی کمائی سے غرض ہے، اس کے علاوہ ہر چیز سے انہوں نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔
ان مایوس کن، ایمان شکن اور روح فرسا حالات میں صرف دینی تعلیم و تربیت کے وہ ادارے اور مراکز امید کی ایک کرن ہیں جنہیں دینی مدارس اور مراکز اسلامیہ کہا جاتا ہے۔ جہاں محروم طبقات کے بچے یا دینی جذبات سے بہرہ ور لوگوں کے نوجوان، دین کے علوم حاصل کر کے مسلمان عوام کی دینی رہنمائی بھی کرتے ہیں اور ان کی دینی ضروریات کا سروسامان بھی۔ ان کی وجہ سے ہی تمام مذکورہ شیطانی کوششوں کے باوجود اسلامی اقدار و روایات ایک طبقے کے اندر موجود ہیں، معاشرے کے اندر اسلامی تشخص کسی نہ کسی انداز سے زندہ ہے، اور اسلامی عبادات و شعائر کا احترام لوگوں کے دلوں میں ہے۔ اس لحاظ سے یہ دینی مدارس اپنی تمام تر کوتاہیوں، محرومیوں اور کسمپرسی کے باوجود جیسے کچھ بھی ہیں، اسلام کے قلعے اور اس کی پناہ گاہیں ہیں، دینی علوم کے سر چشمے ہیں، جن سے طالبانِ دین کسبِ فیض کرتے اور تشنگانِ علم سیراب ہوتے ہیں، اور دین کی مشعلیں ہیں جن سے کفر و ضلالت کی تاریکیوں میں ہدایت کی روشنی پھیل رہی ہے اور اس کی کرنیں ایک عالم کو منور کر رہی ہیں۔
ان کی یہ خوبی ہی دشمن کی آنکھ میں کانٹا بن کر کھٹک رہی ہے۔ اسلام دشمن استعماری طاقتیں جنہوں نے عالمِ اسلام کو مذکورہ حسین جالوں میں پھنسا رکھا ہے اور جو اسے اسلام کی باقیات سے بالکل محروم کر دینا چاہتی ہیں، اب ان کا ہدف اسلامی جماعتیں اور دینی مدرسے ہیں۔ اسلامی جماعتوں کو وہ بنیاد پرست اور دہشت گرد قرار دلوا کر انہیں ملکی سیاست سے باہر نکالنا چاہتی ہیں تاکہ انتخابات کے مرحلے میں بھی اسلام کا نام لینا جرم بن جائے۔ مسلمان سربراہوں کی حالیہ کانفرنس میں، جو کاسابلانکا میں ہوئی، وہ اس قسم کی ایک قرارداد پاس کروانے میں کامیاب بھی ہو گئی ہیں۔ اور اس کے بعد اب یہ استعماری طاقتیں عالمِ اسلام میں برسر اقتدار اپنی پٹھو حکومتوں کے ذریعے سے دینی مدرسوں کو بھی ان کے اصل کردار سے محروم کرنا چاہتی ہیں۔
چنانچہ مغرب کی آلہ کار حکومتیں اپنے مغربی آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے اب اس محاذ پر سرگرم ہو گئی ہیں، اور دینی مدارس کے خلاف بیان بازی کے بعد فرقہ واریت کی آڑ میں ان میں مداخلت کے لیے پر تول رہی ہیں، تاکہ انہیں ان کے اس تاریخی کردار سے محروم کر دیا جائے جو وہ ڈیڑھ دو صدی سے انجام دے رہے ہیں۔ اور یہاں سے بھی اسلام کے داعی و مبلغ، مفسر و محدث اور مفتی و فقیہ پیدا ہونے کی بجائے وہی مخلوق پیدا ہو جو کالج اور یونیورسٹیوں میں پیدا ہو رہی ہے، جس نے معاشرے سے اس کا امن اور سکون چھین لیا ہے، جو میڈونا اور مائیکل جیکسن کی پرستار ہے، اور اسلامی اقدار و روایات کے مقابلے میں مغربی اقدار و روایات کی شیدا اور اس کی تہذیب پر فریفتہ ہے۔
دینی مدارس: پس منظر اور مقاصد و خدمات
یہ مدارس دینی عربیہ، جن میں قرآن و حدیث اور ان سے متعلقہ علوم کی تعلیم دی جاتی ہے، صدیوں سے اپنے ایک مخصوص نظام و مقصد کے تحت آزادانہ دین کی خدمت سرانجام دے رہے ہیں۔ ان دینی مدارس کے پس منظر، غرض و غایت اور ان کی عظیم دینی خدمات سے ناواقف لوگ ان کے متعلق مختلف قسم کی باتیں بناتے رہتے ہیں۔ کبھی ان مدارس کو بے مصرف اور ان میں پڑھنے والے طلباء و علماء کو ’’یادگارِ زمانہ‘‘ کہا جاتا ہے، کوئی انہیں ملائے مکتب اور ابلہ مسجد قرار دیتا ہے، جو ان کی نظر میں زمانے کی ضروریات اور تقاضوں سے نا آشنائے محض ہیں، اور کوئی ’’اصلاح‘‘ کے خوشنما عنوان سے اور ’’خیر خواہی‘‘ کے دلفریب پردے میں باز و شکرے کے روایتی قصے کی طرح انہیں ان کی تمام خصوصیات سے محروم کر دینا چاہتے ہیں۔ اور اب ایک مخصوص گروہ کو سامنے رکھتے ہوئے، جن کا کوئی تعلق دینی مدارس سے نہیں ہے، انہیں ’’دہشت گرد‘‘ بھی باور کرایا جا رہا ہے۔ غرض یہ مدارس اور ان میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء ’’جتنے منہ اتنی باتیں‘‘ کے مصداق ہر کِہ و مِہ کی تنقید کا نشانہ اور اربابِ دنیا کے طعن و تشنیع کا ہدف ہیں، بلکہ اب بین الاقوامی استعمار کی خاص ’’نگاہِ کرم‘‘ بھی ان پر مبذول ہے۔
لیکن واقعہ یہ ہے کہ یہ مدارس اپنے مخصوص پس منظر اور خدمات کے لحاظ سے اسلامی معاشرے کا ایک ایسا اہم حصہ ہیں جس کی تاریخ اور خدمات سنہرے الفاظ سے لکھے جانے کے قابل ہے۔ ان میں پڑھنے پڑھانے والے نفوس قدسیہ نے ہر دور میں باوجود بے سر و سامانی کے دین اسلام کی حفاظت و صیانت کا قابل قدر فریضہ انجام دیا ہے۔ ان مدارس کے قیام کا پس منظر یہی تھا کہ جب حکومتوں نے اسلام کی نشر و اشاعت میں دلچسپی لینا بند کر دی، اور اسلامی تعلیم و تربیت میں مجرمانہ تغافل برتا، تو علمائے اسلام نے ارباب حکومت اور اصحاب اختیار کی اس کوتاہی کی تلافی یوں کی کہ دینی تعلیم و تربیت کے ادارے قائم کیے جو عوام کے رضا کارانہ عطیات اور صدقات و خیرات سے چلتے تھے۔
یہ دینی ادارے بالعموم سرپرستی سے محروم ہی رہے ہیں اور اس میں ان کے تحفظ و بقا کا راز مضمر ہے۔ بالخصوص برطانوی ہند میں، جب کہ انگریزوں نے لارڈ میکالے کے نظریہ تعلیم کے مطابق انگریزی تعلیم کو رواج دیا اور مسلمان عوام ملازمت اور دیگر مناصب و مراعات کے لالچ میں کالج اور یونیورسٹیوں کی طرف دیوانہ وار لپکے، اور دینی تعلیم اور دینی اقدار سے بے اعتنائی و بیگانگی برتنے لگے، تو علماء اور اصحابِ دین نے اس دور میں متحدہ ہندوستان کے قریہ قریہ اور گاؤں گاؤں دینی مدارس کا جال پھیلا دیا۔
انگریزوں نے اپنے مخصوص مقاصد کے لیے جس انگریزی نظام تعلیم کو نافذ کیا تھا، اس کے دو بڑے مقصد تھے: ایک دفتروں کے لیے کلرک اور بابو پیدا کرنا۔ دوسرا مسلمان کو اس کے دین اور اس کے شعائر و اقدار سے بیگانہ کر دینا۔ بدقسمتی سے دورِ غلامی کا یہ مخصوص نظامِ تعلیم اپنے مخصوص مقاصد سمیت تاحال قائم ہے۔ اسی لیے دینی مدارس کی ضرورت بھی محتاجِ وضاحت نہیں۔ بنا بریں علماء جب سے اب تک ان مدارس کے ذریعے سے دین کی نشر و اشاعت اور دینی اقدار و شعائر کی حفاظت کا فریضہ نا مساعدت احوال اور انتہائی بے سروسامانی کے باوجود سر انجام دے رہے ہیں۔ یہ انہی مدارس کا فیض ہے کہ ملک میں اللہ و رسول کا چرچا ہے، حق و باطل کا امتیاز قائم ہے، دینی اقدار و شعائر کا احترام و تصور عوام میں موجود ہے، اور عوام اسلام کے نام پر مرمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔
دینی مدارس کے اس پس منظر، غرض و غایت اور خدمات سے واضح ہو جاتا ہے کہ ان کے قیام کا مقصد ڈاکٹر، وکیل، انجینئر، صنعتکار اور کلرک و بابو پیدا کرنا نہیں بلکہ دینی علوم کے خادم، دینِ اسلام کے مبلغ و داعی، قرآن کے مفسر احادیث کے شارح، اور دین متین کے علم بردار تیار کرنا ہے۔ ان کا نصابِ تعلیم اسی انداز کا ہے جن کو پڑھ کر وارثانِ منبر و محراب ہی پیدا ہوتے ہیں، کیونکہ ان کا مقصد ایسے ہی رجال کار پیدا کرنا ہے، نہ کہ دیگر شعبہ ہائے زندگی میں کھپ جانے والے افراد۔ اس لیے بنیادی طور پر ان کے نصابِ تعلیم میں تبدیلی یا ان کی آزادانہ حیثیت میں تغیر دونوں چیزیں ان کے مقصدِ وجود کی نفی کے مترادف ہیں۔
نصابِ تعلیم میں بنیادی تبدیلی سے دینی مدارس سے فارغ ہونے والے طلباء نہ دین کے رہیں گے نہ دنیا کے۔ اگر کسی محدود سے مفاد کے ساتھ وہ دنیوی شعبے میں کھپنے کے لائق ہو بھی گئے تو بہرحال یہ تو واضح ہے کہ دینی علوم اور مذہبی تبلیغ سے ان کا رابطہ ختم ہو جائے گا، یا اگر رہے گا بھی تو اس انداز کا نہیں رہے گا جو اسلامی علوم کی نشر و اشاعت اور اس کی تبلیغ کے لیے مطلوب ہے۔ اس طرح ان مدارس سے دین کے وہ خدام تیار ہونے بند ہو جائیں گے جن کے ذریعے سے قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں، ائمہ و خطباء، حفاظ و قراء اور مدرسین و مولفین پیدا ہو رہے ہیں جن سے مختلف دینی شعبوں کی تمام ضروریات پوری ہو رہی ہیں۔
اگر نصابِ تعلیم کی تبدیلی سے یہی نتیجہ نکلا اور یقیناً یہ نکلے گا تو ظاہر بات ہے کہ دینی مدارس کی مخصوص حیثیت ختم ہو جائے گی اور وہ بھی عام دنیوی اداروں (اسکول، کالج، یونیورسٹی وغیرہ) کی طرح ہو جائیں گے۔ حالانکہ دنیوی تعلیم کے یہ ادارے پہلے ہی ہزاروں کی تعداد میں ہر چھوٹی بڑی جگہ پر موجود ہیں اور حکومت ان پر کروڑوں روپیہ خرچ کر رہی ہے۔ بنا بریں دینی مدارس کے نصاب میں بنیادی تبدیلی کے پیچھے خواہ کتنے ہی مخلصانہ جذبات اور خیر خواہانہ محرکات کار فرما ہوں، تاہم یہ جذبات و محرکات بالغ نظری کی بجائے سطحیت کا شاخسانہ ہیں اور اس سے دینی تعلیم اور دینی ضروریات کا سارا نظام تلپٹ ہو سکتا ہے۔ اور مختلف عنوانات سے اس میں مداخلت کرنے والوں کا مقصد بھی یہی معلوم ہوتا ہے۔ لا قدرھا اللہ۔
اسی طرح ان دینی مدارس کی آزادانہ حیثیت ختم کر کے ان کو سرکاری سرپرستی میں دے دینا بھی سخت خطرناک ہو گا۔ حکومتیں بدلتی رہتی ہیں، بالخصوص آج کل جب کہ کسی حکومت کو قرار و ثبات نہیں اور نظریاتی انتشار، فکری بے راہ روی اور مغربیت سے مرعوبیت عام ہے، ہو سکتا ہے ایک حکومت مخلص ہو اور وہ فی الواقع دینی مدارس کو اپنی سرپرستی میں لے کر دینی علوم کی زیادہ سے زیادہ نشر و اشاعت کرنا چاہتی ہو۔ لیکن اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ کل کلاں کو انتقالِ اقتدار کا مرحلہ آیا اور حکومت کسی دین دار آدمی کی بجائے کسی سیکولرسٹ، ابن الوقت اور ملحد کے ہاتھ میں آگئی تو وہ ان مدارس کو اپنے مخصوص مقاصد کے لیے استعمال نہیں کرے گا یا وہ ان کی دینی حیثیت کو تبدیل نہیں کرے گا۔ بنا بریں دینی اداروں کو سرکاری سرپرستی سے بچا کر رکھنا بھی ان کی دینی افادیت و حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ سرکاری سرپرستی کسی موقع پر ان کے لیے دست غیب کی بجائے دست اجل بھی ثابت ہو سکتی ہے، جس طرح ترکی میں مصطفیٰ کمال پاشا کے دور میں ہوا کہ دینی اداروں کا وجود بالکل ختم کر دیا گیا۔
اس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ اس محاذ پر حکومت کا سرگرم اور فکر مند ہونا صحیح نہیں۔ ہم حکومت سے عرض کریں گے کہ وہ دینی مدارس کو ان کے حال پر چھوڑ دے۔ یہ ٹھیک ہے کہ دینی اداروں میں بہت سی چیزیں اصلاح طلب ہیں، اس سے انکار نہیں، لیکن حکومت اس شعبے کو کم از کم اپنے اصلاحی اقدامات سے خارج کر دے۔ زندگی کے اور دیگر تمام شعبے سخت اصلاح طلب ہیں، حکومت اپنی توجہ تمام تر اس طرف مبذول کرے۔ اگر دینی تعلیم کے اہتمام کا زیادہ ہی شوق ہے تو وہ اپنا یہ مقصد اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے نصاب میں ضروری تبدیلی کر کے حاصل کر سکتی ہے اور حکومت کو یہ مقصد دنیوی تعلیم کے اداروں کی ہی اصلاح کر کے اور ان کے ذریعے سے ہی حاصل کرنا چاہیے۔ کیونکہ دینی ادارے، گو کتنے ہی اصلاح طلب ہوں، تاہم وہ ملک میں اخلاقی انار کی فکری بے راہ روی اور نظریاتی انتشار نہیں پھیلا رہے، جب کہ اسکول و کالج وغیرہ یہ کام بڑی سرگرمی سے انجام دے رہے ہیں، اس لیے اصل ضرورت اسکول و کالج اور یونیورسٹیوں کے نصاب میں تبدیلی، ان کے انتظامی معاملات میں دخل اندازی، اور ان کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنے کی ہے۔ نہ کہ دینی مدارس کے نصاب یا نظم و نسق میں دخل اندازی کی۔
دوسری طرف دینی مدارس کے ارباب انتظام اور مسند نشینان درس و افتاء سے بھی ہم عرض کریں گے کہ ان کی اصل پونجی اعتماد علی اللہ ہے۔ اب تک تو توکلاً علی اللہ ہی تمام دینی مدارس اپنا کام کرتے آئے ہیں اور انتہائی بے سر و سامانی کے عالم میں بھی انہوں نے دینی علوم کی خدمت کا علم سرنگوں نہیں ہونے دیا ہے، اور کچھ نہ ہونے کے باوجود اپنے دائروں میں بہت کچھ کیا ہے۔ اس موقع پر جب کہ حکومت ان کی ’’امداد‘‘ اور ’’سرپرستی‘‘ کے لیے کچھ پَر تول رہی ہے، بہت تدبر اور فراست سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ اور انہیں تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد ہی حکومت کی امداد و سرپرستی یا اس کی دخل اندازی کے قبول یا عدمِ قبول کا فیصلہ کرنا چاہیے۔ محض حکومت کی گرانٹ ہی (جس کی حلت بھی مشکوک ہے) ان کے لیے باعث کشش، یا دینی مدارس سے فارغ ہونے والے طلباء کا سرکاری اداروں میں ملازمت کی توقع ہی ان کا مرکزِ توجہ نہ ہو۔ بلکہ اصل چیز ان کی وہ تاریخی حیثیت ہے جس کی رو سے وہ آزادانہ طور پر دین و علم اور ملک و ملت کی خدمات سرانجام دیتے آئے ہیں اور بحمداللہ اب تک دے رہے ہیں۔ کسی عاجلانہ اقدام یا نافعانہ خواہش سے اگر وہ اپنے اس تاریخی کردار سے محروم ہو گئے تو یہ بہت بڑا المیہ ہوگا۔
اب ہم ان اعتراضات و شبہات کی طرف آتے ہیں جو دینی مدارس کے بارے میں مختلف اطراف سے سامنے آ رہے ہیں۔
دینی مدارس کے نصاب میں تبدیلی کا مسئلہ
ان میں سب سے اہم مسئلہ نصابِ تعلیم کا ہے۔ اس پر گفتگو کرنے والے اپنے اور بیگانے دوست اور دشمن دونوں قسم کے لوگ ہیں۔ بعض لوگ بڑے اخلاص سے دینی مدارس کے نصاب میں تبدیلی کا مشورہ دیتے اور اس میں تبدیلی کی خواہش رکھتے ہیں، لیکن ہم عرض کریں گے کہ نصاب میں بنیادی تبدیلی کے پیچھے چاہے کتنے ہی مخلصانہ جذبات ہوں، تاہم وہ دینی مدارس کے اصل مقاصد سے (جس کی وضاحت گزشتہ سطور میں کی جا چکی ہے) مناسبت نہیں رکھتی بلکہ وہ ان کے لیے سخت نقصان دہ ہوگی۔
نصاب کی تبدیلی کی دو صورتیں ہیں:
ایک تبدیلی کی صورت یہ ہے کہ دینی مدارس عربیہ کا نصاب معمولی سے فرق کے ساتھ سکول، کالج اور یونیورسٹی والا کر دیا جائے، ان کی ڈگریاں بھی میٹرک ایف اے، بی اے اور ایم اے کے برابر ہوں اور ان کے ڈگری یافتہ اصحاب سرکاری اداروں میں ملازمتیں کر سکیں۔
دوسری تبدیلی کی صورت یہ ہے کہ عصرِ حاضر کے فتنوں، تحریکوں اور ازموں کو سمجھنے کے لیے دینی مدارس کی صرف آخری کلاسوں میں بعض ضروری جدید علوم کی تدریس کا انتظام بھی کیا جائے، تاکہ ایک طرف دینی علوم کی تحصیل میں کوئی رخنہ نہ پڑے (جیسا کہ پہلی صورت میں یہ متوقع ہی نہیں، یقینی ہے) اور دوسری طرف علماء زیادہ مؤثر انداز اور زیادہ بہتر طریقے سے عصر ِحاضر کے فتنوں کا مقابلہ اور اسلام کا دفاع کر سکیں۔
پہلی تبدیلی کا مقصد اور نتیجہ علماء کے دینی کردار کا خاتمہ اور دینی مدارس کے مقصدِ وجود کی نفی ہے۔ اس سے دینی مدارس سے امام و خطیب، مصنف و مدرس اور دین کے مبلغ و داعی بننے بند ہو جائیں گے جو دینی مدارس کا اصل مقصد ہے۔ اور یہاں سے بھی کلرک، بابو اور زندگی کے دیگر شعبوں میں کھپ جانے افراد ہی پیدا ہوں گے جیسے دنیوی تعلیم کے اداروں سے پیدا ہو رہے ہیں۔ جب کہ دینی مدارس کے قیام اور ان کے الگ وجود کا مقصد شریعت کے ماہرین اور صرف دین اور دینی ضروریات کے لیے کام کرنے والے رجال کا پیدا کرنا ہے۔ اس اعتبار سے ان مدارس کی حیثیت تخصیصی شعبوں کی طرح ہے، جیسے میڈیکل کا، انجینئرنگ کا، معاشیات کا، اور دیگر کسی علم کا شعبہ ہے، ان میں سے ہر شعبے میں صرف اسی شعبے سے تعلق رکھنے والی تعلیم کا اہتمام ہوتا ہے، دیگر علوم کی تعلیم کی نہ صرف ضرورت نہیں سمجھی جاتی، بلکہ اسے اصل تعلیم کے لیے سخت نقصان دہ سمجھا جاتا ہے۔ لیکن یہ عجیب طرفہ تماشہ ہے کہ دین کی مخصوص تعلیم کے اداروں کے لیے دنیا بھر کے علوم کی تعلیم کو ضروری سمجھا جا رہا ہے۔ ان ھذا لشیءٌ عجاب۔
اور اگر مقصد دوسری قسم کی تبدیلی ہے تو اس سے یقیناً علمائے کرام کے کردار کو زیادہ مؤثر اور مفید بنایا جا سکتا ہے جس کے علماء اور اصحاب مدارس قطعاً مخالف نہیں ہیں، بلکہ حسبِ استطاعت بعض بڑے مدارس میں ان کا اہتمام بھی ہے اور اس میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ اس تبدیلی اور اہتمام سے دینی مدارس کا اصل نصاب متاثر نہیں ہوتا بلکہ اس کی تکمیل ہوتی ہے، اور اس سے دین اور اسلام کی برتری کا وہ مقصد ہی حاصل ہوتا ہے جو دینی مدارس کا اصل مقصد ہے۔
تبدیلی کی ایک بڑی حسین صورت یہ بھی تجویز کی جاتی ہے کہ جدید و قدیم تعلیم کا ایک ملغوبہ تیار کیا جائے تاکہ ایسے افراد پیدا ہوں جن میں قدیم و جدید کا امتزاج اور دونوں علوم میں ان کو مہارت ہو۔ یہ تصور یقیناً بڑا خوش کن اور مسرت آگیں ہے، لیکن واقعہ یہ ہے کہ یہ تجربہ کئی جگہ کیا گیا ہے لیکن کہیں بھی مبینہ مقصد حاصل نہیں ہو سکا۔ اس طرح کے اداروں سے فارغ ہونے والے نہ دین کے رہیں گے نہ دنیا کے۔ علومِ شریعت میں بھی وہ خام ہوں گے جس کی وجہ سے وہ دینی اور علمی حلقوں میں درخور اعتناء نہیں سمجھے جائیں گے، اور دنیاوی تعلیم میں بھی وہ ادھورے اور ناقص ہوں گے، اس لیے زندگی کے دوسرے شعبوں میں بھی ان کی کھپت مشکوک رہے گی۔ وہ آدھے تیتر اور آدھے بٹیر، یا نیم حکیم خطرہ جان اور نیم ملّا خطرہ ایمان ہی کا مصداق ہوں گے۔
علاوہ ازیں یہ نکتہ بھی قابل غور ہے کہ دینی مدارس تو اپنے مقاصد اور طاقت کے مطابق نونہالانِ قوم کی دینی تعلیم و تربیت اپنے اپنے دائروں میں کر رہے ہیں، جس سے قوم کی دینی ضروریات پوری ہو رہی ہیں، اور جس سے معاشرے میں دینی اقدار و روایات کا شعور اور احترام بھی موجود ہے (گو عمل میں کوتاہی کا سلسلہ بہت وسیع ہے جس کے دیگر عوامل و اسباب ہیں) گویا دینی مدارس سے وہ مقاصد حاصل ہو رہے ہیں جو ان کے قیام و وجود سے وابستہ ہیں۔ اس کے برعکس سکول و کالج اور یونیورسٹیاں ہیں، کیا ان میں تعلیم پانے والے بچے اور بچیاں اپنے مذہب کا صحیح شعور رکھتی ہیں؟ ان سے فارغ ہونے والی نسل کے ذہن میں اسلامی تہذیب و تمدن سے کوئی وابستگی ہے؟ وہ عمل اور نظریے کے اعتبار سے صحیح مسلمان ہیں؟
اگر جواب نفی میں ہے اور یقیناً نفی میں ہے تو کیا بحیثیت مسلمان ہونے کے ہماری حکومتوں کی اولین ذمے داری یہ نہیں ہے کہ وہ سب سے پہلے ان تعلیمی اداروں کے نصاب میں ایسی بنیادی تبدیلی کریں کہ ان میں تعلیم پانے والے بچے اپنے مذہب کا تو صحیح شعور حاصل کر سکیں، انجینئر ڈاکٹر، صحافی، ماہر معیشت، جو بھی بنیں، وہ ساتھ ساتھ مسلمان بھی رہیں، اسلام پر عمل کرنے کا جذبہ بھی ان میں توانا ہو۔ یہ ادارے تو اس کے برعکس مسلمانوں کی نوجوان نسل کو نامسلمان بنا رہے ہیں، انگریزی تہذیب کا والہ و شیدا بنا رہے ہیں اور مائیکل جیکسن اور میڈونا کا پرستار پیدا کر رہے ہیں۔
نصابِ تعلیم میں تبدیلی کی ضرورت تو ان اداروں میں ہے جہاں تعلیم کے نام پر مسلمانوں کی نسلِ نو کو اخلاق و کردار سے، حیاء و عفت سے، اور ایمان و تقویٰ سے محروم کیا جا رہا ہے۔ نہ کہ ان دینی مدارس کے نصاب میں جہاں کے فارغین بہت سی کوتاہیوں کے باوجود بہرحال اسلام کے احکام و فرائض کی پابندی کو ضروری سمجھتے ہیں، اخلاق و کردار کے زیور سے آراستہ ہیں، اور معاشرے کی ظلمتوں میں دین کی روشنی پھیلا رہے ہیں۔
فرقہ وارانہ تصادم اور نصاب
جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ ان کا نصاب فرقہ وارانہ ہے اور ان سے فرقہ وارانہ تصادم میں اضافہ ہو رہا ہے، اس لیے اس کے نصاب میں تبدیلی ضروری ہے۔ اس سلسلے میں ہماری گزارش یہ ہے کہ یہ نصاب صدیوں سے دینی مدارس میں پڑھایا جا رہا ہے اور علماء پڑھتے آ رہے ہیں۔ لیکن ان کے مابین اس طرح فرقہ وارانہ تصادم کسی دور میں نہیں ہوا جس طرح چند سالوں سے دیکھنے میں آرہا ہے۔ اگر یہ قصور نصابِ تعلیم کا ہوتا تو یہ تصادم تو ہر دور میں ہونا چاہیے تھا، پاکستان کے علاوہ دیگر اسلامی ملکوں میں بھی ہوتا، اور پاکستان میں چند سال قبل بھی ہوتا۔ لیکن اگر ایسا نہیں ہے، دیگر اسلامی ملکوں میں یہ تصادم نہیں ہے جب کہ دینی مدارس وہاں بھی ہیں، ان کا نصاب بھی تقریبا" وہی ہے جو پاکستان کے دینی مدارس کا ہے، اسی طرح پاکستان میں بھی اس تصادم کی تاریخ زیادہ پرانی نہیں ہے، بلکہ چند سالوں سے ہی یہ الم ناک صورت حال سامنے آ رہی ہے۔
اس سے صاف واضح ہوتا ہے کہ اس کا تعلق دینی مدارس کے نصاب سے نہیں ہے، بلکہ اس کے دیگر اسباب ہیں جو باخبر حضرات سے مخفی نہیں ہیں۔ حکومت اگر اس تصادم کے روکنے اور اس کے سدباب میں مخلص ہوتی تو یقیناً وہ اس کو روک سکتی تھی۔ جو دو گروہ آپس میں متصادم ہیں اور اس تصادم کے جو اسباب ہیں، حکومت ان دونوں باتوں سے آگاہ ہے۔ لیکن با خبر لوگوں کا کہنا تو یہ ہے کہ اس کے پس پردہ بھی اصل ہاتھ حکومت کا ہے۔ یہ متحارب گروہ حکومت کے زیر اثر ہیں، لیکن حکومت نے ان کو باہم کشت و خوں ریزی کی چھوٹ دے رکھی ہے۔ شاید اس میں کار فرما مقصد یہی ہو کہ حکومت اس طرح تمام دینی طبقوں کو متشدد اور متحارب و متصادم باور کرا کر ان سب کی آزادی و خود مختاری کو سلب کر لینا چاہتی ہے۔ ورنہ حکومت کے لیے دو فریقوں کو خونی تصادم سے روک دینا اور ان سے تمام اسلحہ برآمد کر لینا کوئی مشکل معاملہ نہیں ہے۔ اس لیے ہمیں اس بات سے اتفاق نہیں ہے کہ دینی مدارس کا نصابِ تعلیم فرقہ وارانہ تصادم کا اصل سبب ہے۔
تاہم اس حقیقت کا ہمیں اعتراف ہے کہ فرقہ واریت کے نقطہ نظر سے نصاب اصلاح اور نظرثانی کا محتاج ہے۔ یہ فرقے، قرآن کریم کی تعلیم ولا تفرقوا کے خلاف ہیں۔ اس لیے ان اسباب و عوامل کا تجزیہ کر کے، جو ان فرقوں کے معرضِ وجود میں آنے کا سبب ہیں، ان کے سدباب کے لیے مخلصانہ مساعی ہونی چاہئیں، جن میں نصاب پر نظرثانی بھی شامل ہے۔ تاہم یہ ایک الگ موضوع ہے جس کی تفصیلات کا یہ موقع نہیں۔ یہاں اس کی طرف اشارہ کرنے سے مقصود صرف یہ ہے کہ فرقہ واریت کے نقطہ نظر سے یقیناً اصلاح کی گنجائش ہے جس پر علماء کو ضرور سوچنا چاہیے اور اس کے سدباب کے لیے جو ممکن تدابیر ہوں، انہیں پورے اخلاص سے بروئے کار لانے کی سعی کرنی چاہیے تاکہ حکومت کو اس بہانے سے دینی مدارس میں مداخلت کا موقع نہ ملے۔
گو اس نصاب سے تصادم و تحارب تو نہیں ہوتا جیسا کہ عرض کیا گیا ہے تاہم فرقہ وارانہ ذہنیت ضرور فروغ پاتی ہے، جب کہ اسلام کا مطلوب اتحادِ امت ہے نہ کہ افتراقِ امت۔ ان فرقوں کو تقدس کا درجہ دے کر ان کی اصلاح کے لیے کوشش نہ کرنا اور باہم اتحاد و قربت کی راہیں تلاش نہ کرنا شرعی لحاظ سے پسندیدہ امر نہیں ہے۔ اس محاذ پر علماء کا جمود ایک مجرمانہ فعل ہے، جس کا ارتکاب کو صدیوں سے ہوتا آ رہا ہے، لیکن وہ بہرحال جرم ہے، جس کی اصلاح علماء کا فریضہ اور اس سے اعراض و گریز ان کی کوتاہی ہے۔
تشدد کی تربیت اور اسلحہ کی ٹریننگ — ایک خلط مبحث
بعض لوگ کہتے ہیں کہ مدارس میں تشدد کی تربیت اور اسلحہ چلانے کی ٹریننگ دی جاتی ہے۔ یہ ایک ایسا الزام ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ اگر کسی مدرسے میں ایسا ہوتا ہے تو حکومت کا آہنی پنجہ اس کو اپنی گرفت میں کیوں نہیں لیتا؟ اور حکومت اگر تمام تر وسائل کے باوجود کسی ایک مدرسے کا بھی سراغ نہیں لگا سکی جس میں اس قسم کی ٹریننگ دی جاتی ہو تو تسلیم کر لینا چاہیے کہ کسی بھی مدرسے میں ایسا نہیں ہوتا۔
تاہم اس کے ساتھ اس حقیقت کو ضرور پیش نظر رکھنا چاہیے کہ افغانستان میں روس کی جارحیت اور مداخلت کے بعد جو جہاد، افغانستان کی دینی جماعتوں نے شروع کیا، اس میں پاکستان کی دینی جماعتوں نے بھی حصہ لیا، دینی مدرسوں میں زیر تعلیم طلباء نے اس جہاد میں حصہ لیا اور بہت سے دین دار لوگوں نے بھی حصہ لیا۔ یہ حصہ مالی بھی تھا اور جانی بھی۔ یعنی پاکستان کی دینی جماعتوں اور دین دار لوگوں نے اپنا مال بھی جہاد افغانستان میں خرچ کیا اور اپنی جانیں بھی پیش کیں۔ اور جہاد میں حصہ لینے کے لیے اسلحہ کی ٹریننگ ناگزیر ہے۔ چنانچہ علماء و طلبائے دینی مدارس نے یہ ٹریننگ لی۔ لیکن کہاں؟ مدرسوں میں نہیں بلکہ افغانستان کے محاذوں پر مورچہ زن ہو کر اور وہاں قائم تربیتی کیمپوں میں، جہاں ہر وقت جان کا خطرہ رہتا تھا۔ چنانچہ جذبہ جہاد سے سرشار ان علماء و طلباء و اہل دین نے ٹریننگ کے ساتھ اور ٹریننگ کے بعد جہاد افغانستان میں حصہ لیا اور بہت سے علماء و طلباء اور نوجوان عروسِ شہادت سے ہم کنار ہوئے، اور افغانستان میں ان جہادی قوتوں کی حکومت کے قیام اور ان کی آپس میں خانہ جنگی کے بعد پاکستان کے یہ اہل دین اور جذبہ جہاد سے سرشار نوجوان کشمیر کے محاذ پر کشمیری مجاہدین اور حریت پسندوں کے ساتھ داد شجاعت دے رہے ہیں اور وہاں بھی متعدد پاکستانی جام شہادت نوش کر چکے ہیں۔
ظاہر بات ہے کہ یہ جنگی تربیت اور پھر عملاً اپنی جان ہتھیلی میں رکھ کر جہاد میں حصہ لینا، یہ بالکل الگ مسئلہ ہے، جو اگرچہ ایک واقعہ اور حقیقت ہے، مگر اس کا کوئی تعلق دینی مدارس میں اسلحے کی یا تشدد کی ٹریننگ سے نہیں ہے۔ کیونکہ کسی مدرسے میں بھی ایسی ٹریننگ نہیں دی جا رہی ہے۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ جہاد میں سرگرم یہ دینی طلباء اور نوجوان ملک میں فرقہ وارانہ تشدد اور تصادم میں قطعاً ملوث نہیں ہیں، ان میں ان کا ایک فی صد حصہ بھی ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ جو گروہ اس تصادم کا باعث ہیں، حکومت انہیں اچھی طرح جانتی ہے، لیکن اس کی مصلحتیں اسے ان پر ہاتھ ڈالنے سے روکے ہوئے ہے بلکہ حکومت ان کی محافظ اور پشتیبان بنی ہوئی ہے، تاکہ ان کی آڑ میں تمام دینی قوتوں پر وار کرنے کا جواز مہیا کیا جا سکے۔ ان متصادم گروہوں کو بنیاد بنا کر اگر محاذ جنگ پر قائم جنگی کیمپوں، تربیتی اداروں کو ختم کرنے کی مذموم کوشش کی گئی تو یہ دراصل جہاد سے مسلمانوں کو ہٹانے کی مذموم کوشش ہوگی جو امریکہ بہادر کو خوش کرنے کی ایک بدترین حرکت ہوگی۔ اس سے کشمیر کا موجودہ جہاد بھی سخت متاثر ہو گا اور ان مسلمانوں پر بھی ظلم عظیم جو اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے جہاد کے عظیم مشن کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ یہ نوجوان، دہشت گرد اور تشدد پسند نہیں، بلکہ اسلام کا عظیم سرمایہ ہیں ، جنہوں نے اپنی قربانیوں سے جہاد کے اس فراموش شدہ جذبے کو زندہ کیا ہے جو مسلمانوں کی عظمتِ رفتہ کی بحالی اور ان کی عزت و سرفرازی کا واحد ذریعہ ہے۔ اس سے مظلوم مسلمانوں کو کفار کے ظلم و ستم سے نجات دلائی جا سکتی ہے اور اس جہاد سے ہی امریکہ کے استعماری عزائم کو ناکام بنایا جا سکتا ہے، جیسا کہ اسی جہاد سے سوویت یونین کو پیوند خاک کیا گیا ہے۔
بیرونی امداد اور اس کی حقیقت
جہاں تک ’’بیرونی امداد‘‘ کا تعلق ہے، اس کے بارے میں بھی اصل حقیقت یہ ہے کہ اہلِ سنت کے تینوں مکاتبِ فکر کے کسی مدرسے کو بھی اس طرح بیرونی امداد نہیں ملتی جو اس کا متبادر مفہوم ہے۔ یعنی کوئی حکومت اپنے مخصوص مقاصد کے لیے انہیں امداد دے اور ان سے وہ کام لے جو وہ لینا چاہتی ہو۔ اس طرح کا بیرونی سہارا کسی بھی سنی مدرسے کو حاصل نہیں ہے۔ البتہ یہ بات ضرور ہے کہ دینی مدرسوں کو بیرونی امداد ملتی ہے اور وہ اسے لیتے اور استعمال کرتے ہیں۔ لیکن یہ بیرونی امداد بالکل ایسے ہی ہے جیسے ملک کے بہت سے رفاہی اداروں کو بیرونی امداد خالص انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ملتی ہے اور وہ اسے قبول کرتے ہیں۔
دینی مدرسوں کو بھی یہ بیرونی امداد یقیناً ملتی ہے لیکن کسی بھی دنیاوی یا سیاسی مصلحت کے لیے نہیں بلکہ صرف دین کی نشر و اشاعت اور اس کی تعلیم و تدریس کی غرض سے ملتی ہے۔ رفاہی اداروں کو تو پھر بھی بعض حکومتوں کی طرف سے بھی امداد ملتی ہے، لیکن دینی اداروں کو جتنی بھی امداد ملتی ہے، وہ کسی بھی حکومت سے نہیں ملتی، صرف ان افراد سے انفرادی طور پر ملتی ہے جو پاکستان ہی کے باشندے ہیں اور وہ اللہ کی رضا کے لیے اپنی زکوٰۃ و صدقات کا مصرف پاکستان میں تلاش کرتے ہیں اور اپنی معلومات کے مطابق مستحق اداروں کو اپنی امداد کرتے ہیں کہ پاکستان، ہماری نسبت غریب ملک ہے، اور وہاں دینی ادارے کسمپرسی کا شکار ہیں اور اپنے تعلیمی و تبلیغی مقاصد کی تکمیل کے لیے بجا طور پر امداد کے مستحق ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ پوری طرح تصدیق کرنے کے بعد تعاون کرتے ہیں۔ اور بعض عرب اہل دین تو خاص طور پر خود پاکستان آتے ہیں، ادارے کی کارکردگی کو دیکھنے اور مختلف ذرائع سے اس کی بابت تحقیق کرتے ہیں اور مطمئن ہونے کے بعد محض اللہ کی رضا کے لیے ان کی امداد کرتے ہیں۔ اس میں ایک فیصد بھی کوئی دوسری غرض شامل نہیں ہوتی، دینے والوں کے دل میں، نہ لینے والوں کے دل میں۔
اس طرح کی بیرونی امداد سے یقیناً پاکستان کے دینی ادارے فیض یاب ہو رہے ہیں اور اس سے خیر اور بھلائی کے بہت سے کام ہو رہے ہیں، یتیموں کی سرپرستی اور کفالت ہو رہی ہے، بہت سی جگہوں پر ہسپتال قائم ہیں جہاں غریبوں اور ناداروں کو علاج کی سہولتیں حاصل ہیں، اور دین کی تعلیم و تدریس اور تبلیغ و دعوت کا کام ہو رہا ہے۔ خود حکومت کے زیر سایہ اسلام آباد میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کیا ہے؟ کیا اس کے بیشتر اخراجات عرب حکومتیں مہیا نہیں کر رہی ہیں؟ فیصل مسجد کی تعمیر میں، جس میں یہ یونیورسٹی قائم ہے، جو اربوں روپیہ خرچ ہوا ہے، وہ کس نے مہیا کیا ہے؟ کیا وہ سعودی حکومت نے مہیا نہیں کیا؟ کیا سعودی حکومت نے اس سے کوئی سیاسی مفاد حاصل کرنے کی کبھی کوشش کی ہے؟ بعض ہسپتال حکومت کی سرپرستی میں عرب حکومتوں کے تعاون سے چل رہے ہیں، کیا انہوں نے کبھی کوئی سیاسی یا کسی اور قسم کا مفاد حاصل کیا ہے؟ نہیں، یقیناً نہیں۔ وہ یہ سارے کام صرف اللہ کی رضا کے لیے کر رہے ہیں۔
پھر آخر ’’بیرونی امداد‘‘ کے نام پر اس شور و غوغا کا کیا جواز ہے؟ جس کی حقیقت اس کے سوا کوئی نہیں جو ابھی مذکور ہوئی ہے۔ الحمد للہ اہل سنت کے مدارس نے اس بیرونی امداد کو، جو حکومت کی بجائے صرف افراد سے وصول ہوتی ہے، دینے والوں کی نیت کے مطابق دینی مقاصد پر ہی خرچ کی ہے اور کرتے ہیں۔ اس سے نہ اسلحہ خریدا جاتا ہے، نہ طلباء کو تشدد کی ٹریننگ دی جاتی ہے، نہ فرقہ واریت کو فروغ دیا جاتا ہے۔ اس امداد کو انہوں نے استعمال کیا ہے تو صرف اور صرف دین اور دینی مقاصد ہی کے لیے استعمال کیا ہے۔
البتہ اہل تشیع کا معاملہ اس سے مختلف ہے، ان کو بھی ایک ہمسایہ ملک سے امداد ملتی ہے، اور ہماری معلومات کے مطابق یہ امداد انفرادی طور پر نہیں، حکومت کی طرف سے ملتی ہے۔ اہل تشیع نے اس امداد کو جس طرح استعمال کیا ہے اور اس کے بل پر بعض مواقع پر انہوں نے تشدد، تصادم، دھمکیاں اور دھرنا مارنا وغیرہ کا جو راستہ اپنایا ہے، وہ یقیناً قابلِ غور ہے۔ اس میں یہ نکتہ تحقیق طلب ہے کہ اس ایرانی امداد میں للٰہیت کتنی ہے اور مخصوص مقاصد کی کار فرمائی اور فرقہ وارانہ تصادم و محاذ آرائی کتنی؟ اسلحے کی فراوانی بھی انہی کے ہاں ہے جو عام طور پر فساد کا باعث بنتی ہے۔ اہل سنت میں سے کسی کے پاس اسلحہ نام کی کوئی چیز ہی سرے سے نہیں ہے۔ اب اگر اہل سنت کے بعض لوگوں نے اس کا تھوڑا بہت اہتمام کیا ہے تو وہ صرف حکومت کے اس فرقے سے اغماض کی وجہ سے اپنے تحفظ و دفاع کی غرض سے ہے۔ اگر حکومت اس فرقے کو اسلحے سے پاک کر دے تو کوئی اہل سنت اپنے پاس اسلحہ رکھنے کا روادار نہیں ہوگا، جیسا کہ پہلے ہی وہ اس سے سخت بیزار ہے۔
آمد و خرچ کا حساب کتاب اور اس کا آڈٹ
جہاں تک دینی مدارس کی آمد و خرچ کے حساب کتاب کا تعلق ہے، اس کی بابت عرض ہے کہ تمام بڑے بڑے دینی مدرسے اور ادارے اپنا مکمل حساب رکھتے ہیں بلکہ سالانہ آڈٹ کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ حکومت کا منظور شدہ کوئی چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ یہ کام سرانجام دیتا ہے وہ اپنے آڈٹ کی رپورٹ دیتا ہے۔ اس اعتبار سے بھی ان کا کردار صاف اور بے غبار ہے، اگر ایسا نہ ہو تو لوگ انہیں کبھی اپنا تعاون پیش نہ کریں، لوگ اس اعتماد کے بعد ہی ان سے تعاون کرتے ہیں کہ ان کی دی ہوئی رقم صحیح مصرف پر ہی خرچ ہو رہی ہے اور ایک ایک پائی کا حساب ان کے ہاں موجود ہے۔
لیکن یہ دینی ادارے حساب کتاب میں حکومت کی مداخلت کے اس لیے خلاف ہیں کہ جس حکومت کے اپنے ہاتھ صاف نہیں ہیں، انہیں دوسروں کا حساب کتاب دیکھنے کا حق کیوں کر دیا جا سکتا ہے؟ حکومت پہلے زندگی کے دوسرے شعبوں میں اپنی صحیح کارکردگی پیش کرے، اہلِ ملک کے بارے میں اپنی خیر خواہی کا ثبوت مہیا کرے اور اپنی غیر جانبداری تسلیم کرائے تو پھر دینی مدارس بھی یقیناً ’’آں را کہ حساب پاک است، از محاسبہ چہ باک است‘‘ کے مصداق حکومت کا حقِ احتساب تسلیم کرنے کے لیے تیار ہوں گے۔
دینی مدارس کے خلاف عالمی استعمار کی سازش
موجودہ حالات میں تو وہ کسی طرح بھی اپنے معاملات میں حکومت کو دخل اندازی کا حق دینا پسند نہیں کرتے اور واقعتاً حکومت اس حق کی اہل بھی نہیں ہے۔ کیونکہ وہ بجا طور پر سمجھتے ہیں کہ دینی مدارس کے بارے میں حکومت کی ہاہاکار، یہ کسی کے اشارہ ابرو کا نتیجہ ہے۔ حکومت صرف اداکار ہے، ہدایت کار کوئی اور ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دینی مدارس کے بارے میں حکومت کے کارندوں کا شور و غوغا صرف پاکستان تک محدود نہیں ہے، بلکہ چونکہ یہ بین الاقوامی استعمار کی سازش کا ایک حصہ ہے اس لیے بیشتر ملکوں میں ان کے خلاف سرگرمیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
پاکستان کے ساتھ ہی ہندوستان ہے، جہاں پاکستان ہی کی طرح وہاں کے ہر شہر اور قصبے میں دینی مدارس کا جال پھیلا ہوا ہے اور وہاں بھی پاکستان کی طرح دینی مدارس ہی دین کی نشر و اشاعت اور اس کے تحفظ و بقا کا واحد ذریعہ ہیں، اس لیے وہاں متشدد ہندو تنظیمیں ان کے خلاف سرگرم ہو گئی ہیں۔ چنانچہ ۲۴ دسمبر ۱۹۹۴ء کو لکھنو میں ’’وشو ہندو پریشد‘‘ اور تشدد پسند ہندو تنظیموں کے تعاون سے ایک عظیم اجتماع ہوا جس میں اشتعال انگیز تقریروں کے ساتھ شعلہ بار پمفلٹ، فولڈر اور ہینڈ بل تقسیم کیے گئے۔ اس تقسیم کیے گئے ایک فولڈر میں حکومت ہند سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ
”دینی مدارس جو دہشت گردی، تشدد پسندی اور بنیاد پرستی کا گڑھ ہیں، جو قومی یکجہتی میں مانع ہیں، حکومت ان کے ساتھ کوئی نرمی کا معاملہ نہ کرے اور وہاں سے ان سرگرمیوں کو موقوف کرے جو مسلم قومیت کی انفرادیت کی بقاء و استحکام میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔‘‘
اس قسم کے نعرے بھی لگائے گئے کہ اگر ان مدارس سے حکومت نے مصالحانہ رویہ اختیار کیا تو ہم دیش کی اکھنڈتا اور مریادا کے لیے خود یہ فریضہ سر انجام دیں گے۔ (ماہنامہ ’’بانگ درا‘‘ لکھنؤ، جنوری ۱۹۹۵ء ص ۳)
دیکھ لیجئے، اس میں ان دینی مدارس کا ’’قصور‘‘ یہی بتلایا گیا ہے کہ یہ ’’مسلم قومیت کی انفرادیت کی بقاء اور استحکام کے ضامن ہیں‘‘۔ ان کا یہی ’’جرم‘‘ ہے جو عالمی استعمار کے لیے ناقابل برداشت ہے اور وہ اپنی پٹھو حکومتوں کے ذریعے سے ان پر کاری ضرب لگوانا چاہتا ہے۔ قاتلھم اللہ انیٰ یؤفکون۔
دینی مدارس، بنیاد پرستی اور انسانی حقوق
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
ماہنامہ الشریعہ جنوری ۱۹۹۵ء میں شائع ہونے والے مضمون کی مکرر اشاعت
برق گرتی ہے تو بیچارے ملاؤں پر
خورشید احمد گیلانی
موقر روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘ کی اشاعت ۱۸ اپریل میں ایک خبر شائع ہوئی ہے کہ
’’حکومت کے ایماء پر یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کے ذریعے تمام یونیورسٹیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ کسی ایسے طالب علم کو اعلیٰ تعلیم کے لیے داخلہ نہ دیں جو دینی مدارس کے تشکیل شدہ کسی بھی بورڈ کا سند یافتہ ہو۔ اس نوٹیفیکیشن کے مطابق دینی مدارس کی سند شہادۃ العالمیہ کو ایم اے عربی اور ایم اے اسلامیات کے مساوی تسلیم نہ کرے۔‘‘
حکومت کے اس انتہائی ناروا اور مکروہ فیصلے کی کوئی وجہ سمجھ نہیں آ رہی کہ ایسا کیوں کیا گیا؟ جو ممکنہ وجوہ سمجھ میں آسکتی ہیں، وہ یہ ہیں:
۱۔ حکومت کے متواتر اعلانات اور بیانات کہ ہم پاکستان کو بنیاد پرستوں کا گڑھ نہیں بنے دیں گے، اور دینی مدارس دہشت گردی کے اڈے ہیں۔ شاید اس بنا پر یہ فیصلہ کیا گیا۔
۲۔ دینی تعلیم کے معیار کا مسئلہ یعنی شہادۃ العالمیہ کی سند رکھنے والے علماء تعلیمی اعتبار سے وہ اہمیت نہیں رکھتے جو ایم اے اسلامیات اور ایم اے عربی والوں کی ہوتی ہے۔ شہادۃ العالمیہ کی سند تسلیم نہ کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے۔
۳۔ چونکہ یہ فیصلہ جنرل ضیاء الحق کے دور میں (۱۷ نومبر ۱۹۸۲ء) ہوا تھا اور موجودہ حکومت ضیاء دور کی ہر علامت، نشانی، حکم اور فیصلے کو مٹانے پر تلی ہوئی ہے، یہ فیصلہ بھی شاید اسی پس منظر میں کیا گیا ہے۔
جہاں تک پہلی وجہ کا تعلق ہے تو وہ اس لیے قابلِ فہم ہے کہ حکومت کا معیارِ تہذیب و تمدن اور مدارِ عقیدہ و اصول چونکہ اللہ و رسول ﷺ نہیں بلکہ مغرب ہے، حق صرف وہی ہے جسے مغرب حق سمجھے اور باطل وہ ہے جسے مغرب ٹھکرا دے، اچھی قدر وہی ہے جسے مغرب کی مہر لگی ہوئی ہو اور بری روایت وہ ہے جس پر یورپ کا ٹھپہ نہ ہو، چونکہ ’’بنیاد پرستی‘‘ کے لفظ سے یورپ اور امریکہ کو آج کل خاص طور سے سخت کھجلی مچتی ہے، اس لیے ہماری حکومت کو بھی اس لفظ سے بہت الرجی ہے۔
اور یہ کہ دینی مدارس دہشت گردی کے اڈے ہیں، یہ بات حقائق کی میزان میں تو کوئی وزن نہیں رکھتی اور نہ واقعات کے تناظر میں درست ثابت ہوئی ہے، تاہم مغرب اور امریکہ چونکہ بنیاد پرستی اور دہشت گردی کو ہم معنی اور جڑواں سمجھ رہے ہیں، اس لیے ہماری حکومت کی کیا مجال کہ وہ ان سے مختلف مفہوم نکالے، طنبورہ مغرب کے سر میں سر ملانا ہماری حکومتوں کا بہت پرانا شیوہ رہا ہے، لیکن اس واہمے کو جواز بنا کر دینی مدارس کے سند یافتہ لوگوں کو ایم اے کی ڈگری سے محروم کرنا اور مزید اعلیٰ تعلیم کے دروازے بند کر دینا سراسر حماقت ماب اور کراہت آمیز فیصلہ ہے۔ کیوں کہ واقعات کی دنیا میں یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ بنیاد پرستی ہو یا دہشت گردی، یہ سب اصطلاحات مغرب والوں نے محض خوئے بد را بہانہ بسیار کے مصداق اہلِ اسلام کو دبانے اور اپنی شرائط پر معاملہ طے کرنے کے لیے وضع کی ہیں، ورنہ ان کا اہل مغرب کے دماغ کے علاوہ خارج میں کہیں وجود نہیں، اپنے حق کے لیے لڑنا یورپ اور امریکہ کے نزدیک دہشت گردی اور دوسرے کی آزادی و استقلال اور خود مختاری پر دن دیہاڑے حملہ آور ہونا قیامِ امن ہے۔
آئے دن یورنیورسٹیوں اور کالجوں پر پولیس کے چھاپے پڑتے ہیں اور بے اندازہ اسلحہ برآمد ہوتا ہے مگر آج تک کسی دینی مدرسے سے (فی الواقع وہ دینی مدرسہ ہو، حکومت خواہ مخواہ کسی جگہ چھاپہ مار کر اسے دینی مدرسے کا نام نہ دے) دہشت گردی کے کوئی آلات اور تخریب کاری کے لوازم برآمد نہیں ہوئے۔
دوسری بات جو اس فیصلے کو جواز فراہم کر سکتی ہے، وہ یہ کہ مدارس کے فارغ التحصیل حضرات وہ تعلیمی معیار نہیں رکھتے جو ایم اے اسلامیات / عربی کے لیے ضروری ہے تو یہ مسئلہ خالصتاً فنی اور علمی ہے۔ اس میں کسی نوع کی سیاست کا دخل نہیں ہونا چاہیے۔ ظاہر ہے مدارس عربیہ کے مختلف امتحانی بورڈز ہیں، ان کا ایک اپنا نظام ہے اور الگ الگ ادارے ہیں، مثلاً وفاق المدارس، تنظيم المدارس، رابطہ المدارس وغیرہ۔ ان کے تحت سالانہ امتحانات ہوتے ہیں اور آخر میں جا کر شہادۃ العالمیہ کی سند جاری کی جاتی ہے اور اسی سند کو ایم اے (اسلامیات / عربی) کے مساوی قرار دیا گیا، اور اسی بنیاد پر بعض علماء کو تعلیمی اداروں میں ملازمتیں ملیں اور مزید اعلیٰ تعلیم (پی ایچ ڈی وغیرہ) کی سہولت اور اجازت دی گئی۔
اس کے لیے مناسب اور موزوں یہ ہے کہ مدارس کے تعلیمی معیار کی چھان بین کی جائے، امتحانات کا نظام درست کیا جائے، نہ یہ کہ سہولت واپس لی جائے۔ ویسے کالجوں اور جامعات کے علوم اسلامیہ اور عربی میں ایم اے کرنے والے حضرات سے ان دونوں مضامین میں مدارس کے فارغ التحصیل علماء کا معیار عمومی طور پر بلند اور بہتر ہوتا ہے، البتہ دونوں طرف سے کچھ اصحاب اس سے مستثنیٰٰ ہیں۔ ۸۲ ء سے اب تک متعدد علماء نے اسی سہولت کی بنیاد پر جامعہ پنجاب، جامشورو یونیورسٹی، جامعہ کراچی، اور گومل یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی، اور اس وقت بھی کئی علماء کے پی ایچ ڈی کے مقالے زیر ترتیب ہیں۔ یہ سب کچھ اس بات کا ثبوت ہے کہ ان لوگوں میں وہ اہلیت موجود ہے جو ایم اے کے لیے مطلوب اور پی ایچ ڈی کرنے کے لیے ضروری ہے، بنا بریں اس فیصلے کو اس تناظر میں دیکھ کر صادر کیا جائے۔
جس دن یہ خبر شائع ہوئی ہے، اسی روز صدر مملکت کا ایک خطاب بھی چھپا ہے جو انہوں نے مردان کے فضل حق کالج میں کیا کہ ’’روٹی، کپڑا اور مکان سے بھی بڑھ کر عوام کو تعلیم کی ضرورت ہے‘‘۔ نیز ’’مذہب ہمیں علم سیکھنے اور سکھانے کا درس دیتا ہے‘‘۔ یعنی ایک طرف تعلیم کی رغبت پیدا کرنے کا یہ عالم ہے اور دوسری طرف علم کے فروغ کے راستے میں یہ رکاوٹ ایک مخمصہ پیدا کرنے والی بات ہے، اور ساتھ ہی یہ کہ مذہب علم سیکھنے اور سکھانے کا درس دیتا ہے لیکن مذہبی تعلیم اربابِ حکومت کی نظر میں ایک فالتو چیز ہے جسے وہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔
جہاں تک تیسری وجہ کا تعلق ہے یعنی ضیاء الحق کے عہد کا ہر فیصلہ موجودہ حکومت کی آنکھ میں کانٹا بن کر کھٹکتا ہے، تو یہ وجہ بھی انتہائی بودی اور لغو ہے۔ اگر ضیاء صاحب کے خاص الخاص لوگوں کو بڑی خوشی بلکہ گرمجوشی سے قبول کیا جا سکتا ہے تو ایک بے ضرر سے دینی اور تعلیمی فیصلے پر اس قدر رد عمل کیوں کر مناسب کہا جا سکتا ہے، کیا کسی کو معلوم نہیں کہ قومی اسمبلی کے سپیکر کون ہیں؟ گورنر پنجاب کس کے دستِ راست رہے ہیں؟ متعدد وفاقی وزراء ضیاء الحق کی مجلس شوریٰ کی زینت بنے رہے، ان کی کابینہ میں رہے۔ اگر یہ سب کچھ قابلِ قبول ہے تو گلے کی پھانس صرف وہ فیصلہ ہے جس سے رجالِ دین کو ذرا سا فائدہ پہنچتا ہو؟
تعلیم کے فروغ میں الیکٹرانک میڈیا کا کردار
شکور طاہر
(۱۴ مارچ ۹۶ء کو مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں الشریعہ اکیڈیمی کی دوسری سالانہ تعلیمی کانفرنس میں پڑھا گیا۔)
جس طرح انسان اور انسانی معاشرے کی بقا، اپنی ذات اور دوسروں پر ظلم سے احتراز، قوانینِ فطرت کی پابندی اور عدل و انصاف، توازن اور اعتدال کے اصولوں پر کاربند رہنے میں ہے؛ اسی طرح فرد اور معاشرے کے ارتقاء، نشوونما اور تعمیر و ترقی کا انحصار بنیادی طور پر علم، معلومات و اطلاعات اور سوچ بچار کی صلاحیت اور پھر اس علم اور صلاحیت کو بروئے کار لانے پر ہے۔ جس طرح ظلم تخریب، انتشار، انحطاط اور اکائیوں، اداروں اور اقدار کی ٹوٹ پھوٹ اور بربادی کا باعث ہے؛ اسی طرح جہالت پسماندگی، تنزل، ذہنی افلاس اور قوتِ عمل سے محرومی کی بڑی وجہ ہے۔
دینِ فطرت اسلام نے انسان اور انسانی معاشرے کی بقا اور ترقی کے لیے ظلم اور جہالت کے خاتمے، اور عدل و انصاف اور علم کے فروغ پر زور دیا ہے، تاکہ انسان اپنی ذات اور اپنے گرد پھیلی ہوئی کائنات میں قدرت کی نشانیوں اور مظاہرِ فطرت پر غور و فکر کر کے حقیقی کامیابی، حق و صداقت اور اپنی بھلائی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔ یہی وجہ ہے کہ طلبِ علم کو فریضہ بھی قرار دیا گیا، مہد سے لحد تک تعلیم کی اہمیت بھی اجاگر کی گئی، اور حصولِ علم کے شوق کو فراواں کرنے کے لیے یہ بھی تلقین کی گئی کہ اگر علم کی خاطر چین جیسے دور افتادہ دیارِ غیر تک بھی جانا پڑے تو گریز نہ کیا جائے، اور غریب الوطنی اور سفر کی مشقت برداشت کر کے بھی تعلیم حاصل کی جائے۔
در حقیقت علم دو ہی ہیں: علم الادیان اور علم الابدان۔
پہلا علم اس لامتناہی کائنات میں انسان کی اپنی حیثیت کے ادراک اور خالقِ کائنات کے ساتھ اپنے تعلق اور رشتے کے شعور کا نام ہے؛ اور دوسرا علم انسان کا اپنی ذات کی مختلف پرتوں، اور دوسری جاندار اور نامیاتی اور غیر نامیاتی اشیا کے حقائق، کیفیات اور اثرات کو جاننا، اور ان دونوں کے باہمی تعامل کی حقیقت کو سمجھنا ہے۔ تا کہ جب وہ اپنی ذات اور اپنے ماحول پر پہلے علم کا عملی اطلاق کرے تو اسے کسی بھی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے بلکہ زندگی اس کے لیے سہل اور آسودہ ہو جائے۔ علم کی باقی شاخیں، شعبے اور مضامین، خواہ آپ انہیں فنون اور سائنس کا نام دیں، یا انہیں عمرانی (Social) اور طبیعی علوم کے خانوں میں بانٹ دیں، انہی دو بنیادی علوم کے خادم ہیں، تا کہ ان کی معاونت سے ان بنیادی علوم کے اسرار و رموز اور کمالات تک رسائی ہو سکے۔
حصولِ علم کا پہلا زینہ خواندگی ہے۔ وہی کلیدی لفظ (Keyword) اقراء جو خدا کے آخری پیغام کا نقطۂ آغاز ہے۔ اس وقت خواندگی سے عمومی مراد یہ لی جاتی ہے کہ انسان میں پڑھنے لکھنے کی تھوڑی بہت صلاحیت پیدا ہو جائے۔ تاہم، ماہرین اب خواندگی کی تعریف نئے سرے سے متعین کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چند الفاظ یا جملے پڑھ لینا اور چند حرف لکھ لینا خواندہ ہونے کے لیے کافی نہیں۔ ان کے نزدیک خواندگی کا بنیادی عنصر (Thoughtfulness) ہے، یعنی انسان کسی بھی معاملے پر غور و فکر کر کے اپنے مسائل کا تجزیہ کر سکے، اور اس تجزیے کی روشنی میں ان مسائل کے حل تک پہنچ سکے۔ گویا وہی چیز جسے ہمارے دین نے تفکر اور تدبر کا نام دیا ہے۔ تفکر، تدبر اور سوچ بچار اور غور و فکر کی یہ صلاحیت تعلیم سے ہی جلا پاتی ہے۔
تعلیم کا ایک انداز تو بلا واسطہ یا براہ راست (Direct) ہے، یعنی سیدھے سُبھاؤ کوئی کتاب یا مضمون پڑھایا جائے یا سبق دیا جائے، اس میں ایک رکھ رکھاؤ اور کسی حد تک تکلف کا ماحول ہوتا ہے اور پڑھنے والے اور پڑھانے والے میں شاگرد اور استاد کا رشتہ ہوتا ہے۔
لیکن تعلیم کا ایک دوسرا انداز یا طریقہ بھی ہے۔ وہ یہ کہ کتاب پڑھا کر جو چیزیں ذہن نشین کرانا تھیں، یا سبق کے ذریعے جو باتیں سمجھانا مقصود تھیں، وہی باتیں درسی ماحول کی بجائے بے تکلف دوستانہ ماحول میں، عام گفتگو اور بات چیت کے انداز میں، اشارے کنائے میں، ضرب الامثال اور حکایات کے سہارے، شعر و شاعری کے لطیف اسلوب سے، یا تمثیل کے پیرائے میں واضح کر دی جائیں۔ اس طرح عقل کی وہی بات جو کتاب یا درس کے ذریعے بتانا مقصود تھی، ہلکے پھلکے انداز میں مخاطب کے ذہن پر نقش کر دی جاتی ہے تاکہ وہ آئندہ زندگی میں اس سے کام لے سکے۔ تعلیم کا یہ بالواسطہ (Indirect) انداز ہے۔ اطلاعات اور معلومات کی فراہمی اس بالواسطہ تعلیم کا سب سے اہم پہلو ہے، کیونکہ روز مرہ کی یہی معلومات اور اطلاعات، علم میں بتدریج اضافے کا ذریعہ بنتی ہیں۔
بالواسطہ اور بلا واسطہ تعلیم کی یہ بات تو علم سکھانے اور معلومات بہم پہنچانے کے طریقے اور انداز کے حوالے سے تھی۔ فروغِ تعلیم کا ایک اور حوالہ ذرائع تعلیم کا بھی ہے۔ اس حوالے سے ذرائع تعلیم کو منضبط اور غیر منضبط، یا رسمی (Formal) اور غیر رسمی (Non-Formal) دو شعبوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ سکول، کالج، مکاتب اور مدارس رسمی ذرائع تعلیم ہیں؛ اور دوسرے سمعی، بصری اور معاون ذرائع، جو باضابطہ نظامِ تعلیم کے دائرے سے باہر ہوں، غیر رسمی ذرائع میں شمار کیے جاتے ہیں۔
ذرائع تعلیم کی یہ تقسیم اتنی جامد یا غیر لچک دار نہیں کہ انہیں ہمیشہ کے لیے دو جدا جدا خانوں میں مقید کیا جا سکے۔ ایک واضح فرق کے باوجود دونوں شعبوں کے ذرائع میں انتہائی قریبی رابطہ، ہم آہنگی اور اشتراک و تعاون ہے۔ اور غیر رسمی ذرائع رسمی ذرائع کی تکمیل، ان کے پیغام کی ترویج اور مقاصد کی تحصیل کا باعث ہیں۔
آج تعلیم اور خواندگی کے لحاظ سے وطنِ عزیز کی جو حالت اور مقام ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ تمام تر کوششوں اور بلند بانگ وعدوں کے باوجود ہمارے ملک کا شمار پسماندہ ممالک میں ہوتا ہے، اور تعلیم اور خواندگی کے لحاظ سے کئی ترقی پذیر قومیں بھی ہم سے بہت آگے ہیں۔ اس پسماندگی کی وجوہ کئی ایک ہیں۔ لیکن ایک بڑی وجہ جدید ذرائع، وسائل اور طریقوں سے ناواقفیت اور ان کی کم یابی یا عدمِ استعمال بھی ہے۔
عہدِ حاضر کو ذرائع ابلاغ یا میڈیا کا دور کہا جاتا ہے اور بجا طور پر کہا جاتا ہے کیونکہ ان ذرائع ابلاغ نے پوری دنیا کو سمیٹ کر یا آپس میں مربوط کر کے ایک گاؤں بنا دیا ہے۔ جہاں ہر گھرانہ اور ہر گھرانے کا ہر فرد دوسرے گھرانوں اور ان کے افراد کے بارے میں بہت کچھ جانتا ہے، اور جو کچھ نہیں جانتا اسے جاننے کا ہر وقت خواہش مند رہتا ہے۔ ان ذرائع ابلاغ میں الیکٹرانک میڈیا (Electronic Media) یعنی ریڈیو، ٹیلی ویژن، نشریاتی سیارے یا سیٹلائیٹ کمپیوٹر اور ان کے ہم قبیل ذرائع اور ان کے انصار و اعیان شامل ہیں۔
ریڈیو (Radio)
ریڈیو کو صوتی یا سمعی ذریعہ ابلاغ کہا جاتا ہے جو آواز کے جادو سے سننے والے کو مسحور کرتا ہے۔ اس صدی کے تیسرے عشرے میں الیکٹرانک میڈیا کا باقاعدہ آغاز ریڈیو نشریات سے ہوا تو کم و بیش ہر ملک میں ریڈیائی لہروں کے ذریعے پیغام کی ترسیل کے تین اساسی مقاصد قرار پائے: اطلاعات، تعلیم اور تفریح۔ ان میں سے پہلے دونوں مقاصد باہم منسلک اور مربوط ہیں۔ اطلاعات اور معلومات اگر تعلیم کی روح نہیں تو اس کے اعضا اور جوارح اور ممد و معاون ضرور ہیں۔ تعلیم کے لیے روزمرہ اطلاعات اور معلومات کی حیثیت وہی ہے جو انسان کے جسمانی نظام کے لیے لحمیات، معدنیات، حیاتین اور دوسرے قوت بخش اجزا کی ہے۔ درحقیقت اطلاعات اور معلومات بالواسطہ غیر رسمی تعلیم کا سب اہم اور مؤثر ذریعہ ہیں۔
دوسرے ملکوں کی طرح پاکستان میں بھی ریڈیو کا تنظیمی ڈھانچہ قائم ہونے کے کچھ عرصے بعد باضابطہ تعلیمی پروگرام شروع کر دیے گئے تھے۔ اس وقت ریڈیو پاکستان کے مختلف مراکز سے خالص تعلیمی پروگراموں کے علاوہ ایسے بالواسطہ پروگرام بھی پیش کیے جا رہے ہیں جن سے مختلف سماجی اور قومی مسائل کے بارے میں شعور بیدار اور احساس اجاگر ہو۔
ریڈیو کا دائرہ اثر اتنا وسیع ہے کہ اس دور میں کم ہی گھرانے ایسے ہوں گے جہاں ریڈیو نہ ہو۔ شہروں ہی میں نہیں، دیہات میں بھی ریڈیو عام ہے۔ اس عمومی مقبولیت کی بڑی وجہ یہ ہے کہ قیمت کے لحاظ سے ریڈیو دوسرے ذرائع ابلاغ سے کہیں ستا ہے، اور پھر اس کے لیے بجلی کی محتاجی بھی نہیں۔ بیٹری کے سیل (Cell) ڈالیں اور ریڈیو چلا لیں۔ ٹیلی ویژن کی طرح ریڈیو سننے کے لیے کہیں بندھ کر بیٹھنا نہیں پڑتا۔ چھوٹا سا ٹرانسسٹر جیب میں ڈالیں اور کہیں بھی چلے جائیں۔ وقت اور مصروفیات کی کوئی بندش نہیں، کسی بھی کام میں مصروف ہوں، ریڈیو کی آواز کان میں آتی رہتی ہے اور ذہن پر اپنے نقش چھوڑتی چلی جاتی ہے۔ انہی خصوصیات کی بنا پر ریڈیو کو مؤثر اور ہمہ گیر ذریعہ ابلاغ قرار دیا گیا ہے۔
آڈیو کیسٹ (Audio Cassette)
آڈیو کیسٹ اور ٹیپ ریکارڈر بھی صوتی یا سمعی ذریعہ ابلاغ کا حصہ ہیں۔ اثر آفرینی کے لحاظ سے آڈیو کیسٹ ریڈیو سے کم نہیں۔ سستا اتنا کہ چند پیالی چائے اور چند سگریٹ نہ پیے اور کیسٹ خرید لی۔ استعمال اتنا آسان کہ بچہ بھی لگا سکے- اور یہ سہولت سب سے بڑھ کر کہ آپ کچھ بھی کر رہے ہوں، کیسٹ کی آواز سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ ان خوبیوں اور اثر پذیری کی وجہ سے آڈیو کیسٹ تعلیمی معاون کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ نصابی کتابوں کو سمجھنے کے لیے تشریحی لیکچر درکار ہوں تو بھی، اور اگر کوئی غیر ملکی زبان سیکھنا چاہیں تو بھی آڈیو کیسٹ سے کام لیا جا ہے۔ یہ کیسٹ اس طرح زبان سکھاتے ہیں گویا کوئی اہلِ زبان استاد بڑی محنت کے ساتھ اس زبان کے قواعد، صَرف و نحو تراکیب، اور تلفظ سکھاتا اور لب و لہجہ سنوارتا ہو۔ یہی نہیں آڈیو کیسٹ پر کتابیں بھی دستیاب ہیں۔ جن لوگوں کو کتاب پڑھنے کی فرصت نہیں، وہ گاڑی میں آتے جاتے کتاب سن سکتے ہیں۔ یہ کتابیں کسی خاص موضوع تک محدود نہیں، کلاسیکی ادب ہو یا جدید فن پارے، شعری مجموعہ ہو یا نثری شاہکار، تاریخ ہو یا فلسفہ، سائنسی موضوعات ہوں یا اقتصادیات جیسا خشک مضمون، آڈیو کتابیں موجود ہیں۔
تعلیمی مقاصد کے لیے ان سمعی ذرائع کو استعمال کرتے وقت انسانی ذہن کی قوت انجذاب، دماغ کے مختلف حصوں کی ساخت اور کارکردگی، اور نفسیات کے تمام متعلقہ پہلوؤں کو سامنے رکھا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تعلیم سے سیکھنے کے عمل میں دماغ کا دایاں اور بایاں دونوں حصے استعمال ہوتے ہیں۔ انسانی دماغ کا بایاں حصہ تجزیے، تحلیل، حساب کتاب، اور منطقی نتائج اخذ کرنے کی فطری صلاحیت رکھتا ہے۔ جبکہ دایاں حصہ طبع زاد خیالات، جدت و ندرتِ فکر، موسیقی اور شاعری کا منبع سمجھا جاتا ہے۔ اگر دماغ کے ان دونوں حصوں کو اس طرح بیدار کیا جائے کہ ان کے درمیان توازن اور ہم آہنگی بھی برقرار رہے، اور دونوں حصے بیک وقت سیکھنے کے عمل میں بھی شریک ہوں، تو ذہن کی قوتِ جاذبہ بڑھ جاتی ہے، سیکھنے کی رفتار تیز ہو جاتی ہے، پڑھی یا سیکھی ہوئی بات نسبتاً زیادہ دیر تک یاد رہتی ہے، اور مسائل کا تجزیہ کر کے عقل و دانش کی روشنی میں ان کا حل تلاش کرنے کی صلاحیت کو نمو ملتی ہے۔ پڑھنے اور سیکھنے کے اسی عمل کو ملحوظ رکھتے ہوئے سمعی ذرائع ابلاغ کے لیے تعلیمی پروگرام یا ایسے پروگرام، جن سے بالواسطہ تعلیم ملے، ترتیب دیے جاتے ہیں۔
فلم (Film)
ریڈیو کا ہم عصر ایک اور ذریعہ ابلاغ فلم ہے۔ اس خالص تفریحی ذریعے کو بھی محدود پیمانے پر اطلاعات کی فراہمی اور تعلیم کے فروغ کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ زندگی اور اس کے مختلف پہلوؤں کی عکاسی کرنے والی ایسے معلوماتی فلموں کو دستاویزی فلموں کا نام دیا گیا۔ دستاویزی فلمیں ہر خیال ہر جذبے اور ہر موضوع پر مبنی ہیں اور نہایت پرکشش اور اثر انگیز ہوئی ہیں۔ جنگ کے دوران یہی فلم ایک مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال ہوئی اور اس کے ذریعے قومی نقطۂ نظر کی ترجمانی اور دشمن کے خلاف پراپیگنڈا کیا گیا تاکہ اپنے عوام کے حوصلے بلند رہیں اور دشمن قوم کو نفسیاتی زک پہنچائی جائے۔ زمانہ امن میں یہی ہتھیار سرمایہ داروں اور صنعت کاروں کے ہاتھ میں ہے جس کے ذریعے وہ اپنی مصنوعات کی تشہیر کر کے اپنے کاروبار کو ترقی دیتے ہیں۔
خالص پراپیگنڈے اور تشہیری اور دستاویزی فلموں کے علاوہ ایسی فلمیں بھی تیار کی جاتی ہیں جن کے ذریعے طلبہ کو نصابی تعلیم یا پیشہ ورانہ تربیت دی جائے۔ یہ تعلیمی (Instructional) فلمیں، کلاس روم میں استاد کے لیے ایک سمعی و بصری معاون اور لیبارٹری میں گائیڈ کا کام دیتی ہیں۔ بعض صنعتی ادارے بھی اپنے کارکنوں کو ہنر سکھانے، یا ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے تعلیمی اور دستاویزی فلموں سے کام لیتے ہیں۔
ٹیلی وژن (Television)
ہوا کی لہروں پر ریڈیو کی اجارہ داری کو ٹیلی ویژن نے ختم کیا۔ تقریباً پچاس سال پہلے امریکہ میں ٹیلی وژن کی نشریات کا آغاز ہوا۔ دیکھتے دیکھتے ہر ملک میں ٹیلی وژن کمپنیاں قائم ہو گئیں اور اس مؤثر تر ذریعہ ابلاغ نے چند سال کے اندر پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس ذریعہ ابلاغ کے اثر کی سب سے بڑی وجہ اس کا تصویری پہلو ہے۔ چین کی ایک قدیم کہاوت ہے کہ ’’ایک تصویر ہزار الفاظ سے زیادہ مؤثر ہوتی ہے‘‘۔ اس کہاوت کی سچائی کا ثبوت ٹیلی وژن ہے جس نے سمعی اور طباعتی ذرائع یعنی آڈیو اور پرنٹ (Print) میڈیا کی قوت کو یکجا کر دیا۔
دسمبر ۱۹۶۴ء میں پاکستان میں ٹیلی وژن نشریات کے آغاز کے کچھ عرصے بعد پاکستان ٹیلی وژن میں تعلیمی شعبہ قائم کر دیا گیا اور براہ راست اور بالواسطہ تعلیمی پروگرام پیش کیے جانے لگے۔ تاہم ان پروگراموں کی تعداد کم اور دورانیہ (Duration) محدود تھا۔ ۱۹۸۰ء کے عشرے میں ٹیلی وژن کے تعلیمی چینل پر کام شروع ہوا اور ساڑھے تین سال پہلے، نومبر ۱۹۹۲ء میں تقریباً تریسٹھ کروڑ روپے کی لاگت سے تعلیمی ٹیلی وژن کا پہلا مرحلہ مکمل ہوا۔ اس منصوبے کے لیے پچاس کروڑ روپے سے زیادہ رقم جاپان نے امداد کے طور پر دی تھی۔ اس منصوبے کے تحت اسلام آباد میں ایک تعلیمی ٹیلی وژن مرکز اور ملک کے مختلف علاقوں میں سولہ چھوٹے ری براڈ کاسٹ (Rebroadcast) سٹیشن قائم کیے گئے ہیں۔
پہلے مرحلے میں ملک کے چوبیس فی صد علاقے میں چھپن فی صد آبادی، یعنی ساڑھے چھ کروڑ افراد تک عام ٹیلی وژن کے ذریعے تعلیمی نشریات پہنچتی ہیں۔ دوسرے مرحلے میں لاہور اور کراچی میں دو نئے تعلیمی ٹیلی وژن مراکز اور اٹھائیس چھوٹے براڈ کاسٹ سٹیشن قائم کیے جائیں گے۔ اس طرح پاکستان کے چھہتر فی صد علاقے تک عام ٹیلی وژن سگنل کے ذریعے تعلیمی نشریات پہنچ سکیں گی، جس سے ملک کی پچانوے فی صد آبادی یعنی گیارہ کروڑ اسی لاکھ افراد مستفید ہوں گے۔
نشریاتی سیارے یعنی سیٹلائٹ کے ذریعے تعلیمی نظریات اس وقت بھی پاکستان کے علاوہ بتیس دوسرے ممالک کے کروڑوں افراد تک پہنچ رہی ہیں اور وہ تمام لوگ جنہوں نے ڈش (Dish) گا رکھی ہے، ان تعلیمی پروگراموں سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ تعلیمی چینل کی نشریات روزانہ تقریبا' سات گھنٹے ہوتی ہیں۔ جو پروگرام نشر کیے جاتے ہیں، ان میں مختلف مدارج کے نصابی موضوعات، سائنسی تجربات، کمپیوٹر، پیشہ ورانہ تربیت، فنی مہارت اور صنعت، کاروبار اور زراعت کے بارے میں بلا واسطہ تعلیمی پروگرام شامل ہیں۔ بالواسطہ تعلیمی پروگراموں میں ذہنی آزمائش کے مقابلے، مباحثے اور تقاریر اور دیگر معلوماتی اور دستاویزی پروگرام شامل ہیں۔ ٹیلی وژن کے بعض دوسرے پروگراموں میں بھی جو براہ راست تعلیمی افادیت نہیں رکھتے، معلوماتی پہلو ملحوظ رکھے جاتے ہیں۔
سمعی اور بصری ذرائع کا امتزاج اور ان کی مشترکہ قوت کا مظہر ہونے کی وجہ سے ٹیلی وژن کی اثر آفرینی بے پناہ ہے۔ سیٹلائٹ یا نشریاتی سیاروں نے ٹیلی وژن کی اس قوت میں اور بھی اضافہ کر دیا ہے۔ لیکن اگر اس قوت کو مفید انداز میں اور مثبت مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے تو اس کی ہلاکت آفرینی بھی بے پناہ ہے۔ یہ ایٹمی قوت کی طرح ہے جس کا قاعدے قرینے سے استعمال دنیا میں آسائشات اور خوشیوں کے پھول بھی بکھیر سکتا ہے اور بیمار انسانیت کو زندگی بھی بخش سکتا ہے، لیکن اس کا غیر ذمے دارانہ استعمال موت کی قہر سامانی کے سوا کچھ نہیں۔یا پھر اس کی مثال کثیر الاثر زہر جیسی ہے جسے اگر سوچ سمجھ کر طبی اصولوں کے مطابق اور حکمت کے ساتھ استعمال کیا جائے تو کار تریاقی کرتا ہے، اور اگر بغیر سوچے سمجھے نگل لیا جائے تو بد ترین موت کا باعث بنتا ہے۔
ٹیلی وژن کی تباہ کاریوں کی داستان صرف ہمارے معاشرے تک محدود نہیں، امریکہ جیسے مادر پدر آزاد معاشرے میں بھی جہاں بہت سی اخلاقی اقدار دم توڑ چکی ہیں، لوگوں کو شکایت ہے کہ ٹیلی وژن پروگراموں میں عریانی، فحاشی اور تشدد بہت ہے۔ ابھی پچھلے دنوں ایک مطالعے کے نتائج منظر عام پر آئے ہیں۔ امریکہ کے تیس ٹیلی وژن چینلز سے بیس ہفتے کی مدت کے دوران پیش کیے جانے والے دو ہزار سات سو پروگراموں کے تجزیے سے پتہ ہے چلا ہے کہ ستاون فی صد پروگراموں میں کسی نہ کسی حد تک تشدد کا عنصر تھا۔ ماہرین کے مطابق یہ تشدد اس طرح کا تھا جو بچوں کے ذہن پر اثر انداز ہو سکے اور انہیں بھی کسی نہ کسی صورت میں تشدد کی طرف راغب کرے۔
تاہم اب امریکی عوام نے عریانی اور تشدد کے خلاف تنقید اور شکایات کے مرحلے سے گزر کر ایک عملی قدم بھی اٹھایا ہے۔ وہاں ایک قانون منظور ہوا ہے جس کے تحت اگلے دو سال کے دوران ہر نئے ٹیلی وژن سیٹ میں ایک پرزہ لگا ہو گا جس کے ذریعے والدین کو ہر پروگرام کے بارے میں معلوم ہو سکے گا کہ وہ عربانی اور تشدد کے لحاظ سے کس درجے کا ہے۔ ٹیلی وژن چینل اپنے پروگراموں کی اس طرح درجہ بندی کریں گے جس سے پتہ چل سکے کہ پروگرام میں عریانی اور تشدد کا تناسب کیا ہے۔ اس طرح والدین کو یہ فیصلہ کرنے میں سہولت ہوگی کہ وہ کس پروگرام کو اپنے بچوں تک پہنچنے دیں اور کس پروگرام سے بچوں کو محفوظ رکھیں۔ یہ پرزہ جسے وی چپ (V-Chip) کا نام دیا گیا ہے، دراصل کمپیوٹر کا ایک پرزہ ہے اور یہ زیادہ مہنگا بھی نہیں۔ اس کی قیمت صرف ایک ڈالر ہو گی۔ یہ روش امریکہ سے چلی ہے تو پوری دنیا میں پھیلے گی اور ہمارے ہاں تو ضرور آئے گی۔ اس طرح کسی حد تک ٹیلی وژن کی تباہ کاری کے آگے چھوٹا موٹا بند باندھا جا سکے گا۔
وڈیو (Video)
ٹیلی وژن سے ملتی جلتی چیز وڈیو کیسٹ ہے۔ جس طرح سمعی ذریعہ ابلاغ کی حیثیت سے ریڈیو کے فوائد آڈیو کیسٹ سے لیے جا سکتے ہیں، اسی طرح بصری ذریعہ ابلاغ کی حیثیت سے ٹیلی وژن کے فوائد وڈیو کیسٹ سے مل سکتے ہیں۔ طالب علم نے اکیلے پڑھنا ہو، یا کلاس روم میں طلبہ کے پورے گروپ کو، دونوں صورتوں میں وڈیو کیسٹ بہت اچھے تعلیمی معاون کا کام دیتا ہے۔ ریموٹ (Remote)، ری پلے (Replay)، اور منظر کو ساکت (Still) کرنے جیسی سہولتوں کی بدولت وڈیو کی افادیت کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ اس وقت پاکستان میں لاکھوں لائسنس یافتہ اور غیر لائسنس یافتہ وی سی آر موجود ہیں۔ تا ہم اس حد تک اس مؤثر ذریعے سے کام نہیں لیا جا رہا جس حد تک استعداد موجود ہے۔
شہروں کے ہر گلی محلے اور اکثر و بیشتر دیہات میں گھریلو استعمال کے وڈیو کیمرے (VHS Cameras) اور کیمرا مین دستیاب ہیں جو عموماً شادی بیاہ اور دوسری سماجی تقریبات کی عکس بندی کرتے ہیں۔ سکول، کالج اور مکاتب ایسے وڈیو کیمروں اور وی سی آر سے فائدہ اٹھا کر اپنے تعلیمی پروگرام وضع کر سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے غیر سرکاری شعبے میں ایسی مجالس یا سٹڈی فورم (Study Forum) تشکیل دیے جاسکتے ہیں جو نصابی اور ہم نصابی سرگرمیوں کی وڈیو کیسٹ تیار کرنے اور اسے طلبہ کو دکھانے کا اہتمام کریں۔ ایسی تعلیمی سرگرمیوں سے وی سی آر کے غلط استعمال اور بھارتی فلموں اور بیہودہ پروگراموں سے بھی نوجوانوں کی توجہ ہٹے گی اور یہ ایک قومی خدمت ہوگی۔
فوٹوسٹیٹ اور فیکس
فروغِ تعلیم کے ضمن میں، فوٹو کاپی کرنے والی مشین اور فیکس (FAX) مشین کے کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پہلے جو کتابیں اور مضامین، یا ان کے اجزاء ہفتوں میں ہاتھ سے نقل ہوتے تھے، یا پریس میں چھپتے تھے، اب ان کی نقلیں فوٹو سٹیٹ مشین سے ہاتھوں ہاتھ مل جاتی ہیں۔ اور اگر یہ مضامین یا کتاب کا کوئی باب ایک جگہ سے دوسری جگہ درکار ہو تو فیکس کی سہولت موجود ہے۔ اِدھر صفحہ مشین پر رکھیں اور ٹیلی فون کا نمبر گھمائیں، اُدھر چند سیکنڈ میں نقل دستیاب۔ یہ دونوں مشینیں اب تعلیمی اداروں کی ضرورت بن چکی ہیں۔
کمپیوٹر
الیکٹرانک میڈیا میں سب سے زیادہ انقلاب آفرین چیز کمپیوٹر ہے۔ اس ایجاد نے نہ صرف زندگی کا چلن اور رفتار بدل دی ہے بلکہ انسانی تہذیب و تمدن اور ثقافتی رویوں پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ انسانی ذہن سے مشابہ یہ مشین صنعت و حرفت، تجارت، زراعت، طب، سائنس، ہوا بازی، جہاز رانی، امورِ مملکت، دفاع، اطلاعات و نشریات، تعلیم، غرض زندگی کے ہر شعبے میں انسان کی خدمت کے لیے سرگرم عمل ہے۔ اس کی صلاحیت اور افادیت کا اندازہ اس بات سے لگا لیجئے کہ عام کمپیوٹر انسان کے مقابلے میں دس لاکھ گنا تیزی سے کام کرتا ہے، اور (Super) پر کمپیوٹر ایک ارب گنا زیادہ تیزی سے۔ ریاضی کے جس پیچیدہ مسئلے کو انسان کاغذ اور قلم کی مدد سے سو سال میں حل کر سکتا تھا، وہ عام کمپیوٹر سے ایک دن میں اور سپر کمپیوٹر کے ذریعے ایک سیکنڈ میں حل کیا جا سکتا ہے۔ حال ہی میں سپر کمپیوٹر نے ایک انتہائی پیچیدہ مسئلہ ایک ہفتے میں حل کیا ہے۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ کاغذ قلم کے ذریعے اور جمع، تفریق، ضرب، تقسیم کے روایتی طریقوں سے یہ مسئلہ حل کرنے میں پندرہ ارب سال لگتے جو غالباً کائنات کے آغاز سے اب تک کی مدت ہے۔
دنیا میں اس وقت چار سو سے زیادہ ایسے پر کمپیوٹر موجود ہیں۔ کمپیوٹر تعلیم کے فروغ کا ایک ذریعہ بھی ہے اور بذاتِ خود تعلیم کا موضوع بھی ہے۔ طلبہ انفرادی سطح پر بھی کمپیوٹر سے استفادہ کر سکتے ہیں اور کلاس روم اور لیبارٹری میں بھی اس سے مدد لے سکتے ہیں۔ طالبعلم اپنے نوٹس (Notes) کمپیوٹر میں مرتب کر سکتا ہے، اپنی تحریر کی اصلاح اور تدوین کمپیوٹر کے ذریعے کر سکتا ہے، مارکیٹ سے اپنی ضرورت کی ڈسک (Disk) خرید کر اپنے علم میں اضافہ کر سکتا ہے، اور خالی ڈسک پر اپنی معلومات ذخیرہ کر سکتا ہے۔ آج طباعت، اشاعت اور نشریات کا زیادہ تر کام پرانی مشینوں کی بجائے کمپیوٹرز یا کمپیوٹر ٹیکنالوجی پر مبنی مشینوں سے کیا جاتا ہے۔
موڈیم (Modem)
اس کمپیوٹر کے ساتھ اگر ایک مشین موڈیم لگا دی جائے تو کمپیوٹر میں ذخیرہ کیا جانے والا مواد (Material) ایک جگہ سے دوسری جگہ اس طرح منتقل کیا جا سکتا ہے کہ مشین سے کاپی اترتے ہی اس سے چھپائی ہو سکتی ہے۔ مثلاً لاہور سے شائع ہونے والا کوئی اخبار اگر کراچی سے بھی اپنا ایڈیشن بیک وقت چھاپنا چاہے تو لاہور سے اس اخبار کے صفحات موڈیم کے ذریعے تھوڑے سے وقت کے اندر کراچی منتقل کر دیے جائیں گے اور وہاں بھی وہی اخبار بیک وقت چھپ سکے گا۔ اسی طرح مختلف سکول اور کتب بھی تعلیمی مقاصد کے لیے موڈیم سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
الیکٹرانک کلاس روم (Electronic Classroom)
الیکٹرانک ذرائع ابلاغ کی ان وسعتوں اور صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے ترقی یافتہ ممالک کے سکولوں اور کالجوں میں الیکٹرانک کلاس روم بنائے جاتے ہیں۔ ایسے کلاس رومز میں طلبہ کے پاس کمپیوٹر اور ان کے سامنے مائیکرو فون ہوتے ہیں۔ ایک طرف ریموٹ کنٹرول سلائیڈ پروجیکٹر یا ایسی مشین لگی ہوتی ہے جس کے ذریعے سکرین پر تصویریں، گراف اور نقشے دکھائے جا سکیں۔ اس کے ساتھ ہی دی سی آر لگا ہوتا ہے اور کمرے میں دو یا تین کیمرے بھی نصب ہوتے ہیں۔ ان سب مشینوں اور کیمروں کے بٹن استاد کے سامنے میز پر لگے ہوتے ہیں اور وہی انہیں کنٹرول کرتا ہے۔ استاد کے قریب ہی ٹیلی فون اور فیکس مشین ہوتی ہے۔
کلاس روم میں ہونے والی تمام کارروائی اس نظام سے منسلک تمام سکولز میں بیک وقت دیکھی جا سکتی ہے۔ ان میں سے کسی بھی سکول کے کسی بچے کو کوئی سوال کرنا ہو تو وہ فون یا فیکس کے ذریعے سوال کر سکتا ہے۔ جب استاد بچوں کا امتحان لیتا ہے تو ہر سکول کے بچے اپنا اپنا امتحانی پرچہ فیکس کے ذریعے استاد کو ارسال کر دیتے ہیں۔
الیکٹرانک کلاس روم کے دو بڑے فائدے ہیں : ایک تو یہ کہ طلبہ کو جدید ترین ذرائع سے تعلیم دی جاتی ہے، اور دوسرا یہ کہ جن سکولوں میں بعض مضامین کے اساتذہ موجود نہیں، وہاں طلبہ الیکٹرانک کلاس روم کے لیکچر سے فائدہ اٹھا کر وہ مضامین پڑھ سکتے ہیں۔
ملٹی میڈیا (Multi Media)
کمپیوٹر ٹیکنالوجی کا جدید ترین مرحلہ ملٹی میڈیا کا ہے جس میں کمپیوٹر، آڈیو، وڈیو، اور معلومات یا Digital Data کو یکجا کر دیا گیا ہے۔ اس طرح طالب علم آواز، بصری مواد اور کمپیوٹر کی صلاحیت سے بیک وقت فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ ٹیکنالوجی کی اس پیش رفت سے ویسے تو زندگی کے ہر شعبے میں کام لیا جا رہا ہے لیکن تعلیم کے فروغ میں اس کی خصوصی اہمیت ہے۔ حال ہی میں اس ٹیکنالوجی کو ایک نئی جہت ملی ہے۔ سائنس دانوں نے آواز، تصویر اور معلومات Data کو دبا کوٹ کر، یا Compress کر کے کم سے کم جگہ میں پیک کیا ہے اور اسے پیکٹ (Packet) ویڈیو کے نام سے پیش کیا ہے۔ اس طرح ملٹی میڈیا کے استعمال میں سہولت ہو گئی ہے۔ ایک منصوبے کے تحت اگلے چند سال کے دوران امریکہ کے زیادہ تر سکولوں کو پیکٹ وڈیو نظام کے ساتھ منسلک کر دیا جائے گا۔
الیکٹرانک پبلشنگ (Electronic Publishing)
تعلیم کے فروغ میں کمپیوٹر کے کردار کا غالباً سب سے روشن پہلو الیکٹرانک اشاعت یا پبلشنگ ہے۔ اب بڑی بڑی کتابیں، بلکہ کتابیں ہی نہیں پوری پوری لائبریریاں کمپیوٹر ڈسک پر دستیاب ہوں گی۔ بات کو واضح کرنے کے لیے ایک ہی مثال کافی ہے۔
کوئی دو سو سال پہلے برطانیہ کے شہر ایڈنبرا میں پڑھے لکھے لوگوں کی ایک انجمن بنی تھی جس نے مختلف موضوعات پر ایک قاموس ’’انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا‘‘ (Encyclopedia Britannica) کے نام سے مرتب کر کے شائع کی۔ وقفے وقفے سے اس کتاب پر نظر ثانی ہوتی رہی، اس کے موضوعات کا دائرہ وسیع ہوتا گیا اور ضخامت بڑھتی گئی۔ ۱۹۲۰ء میں اس کتاب کی اشاعت کے حقوق امریکہ کے شہر شکاگو کی ایک کمپنی نے حاصل کر لیے اور مختلف وقفوں سے یہ کتاب چھپتی رہی، لیکن اس کی اشاعت بتدریج کم ہوتی گئی۔ ۱۹۹۰ء میں بتیس ضخیم جلدوں پر مشتمل اس کتاب کے ایک لاکھ سترہ ہزار نسخے اور پچھلے سال صرف اکاون ہزار نئے فروخت ہوئے۔ لیکن پچھلے سال ہی ایک کمپیوٹر فرم نے سرمایہ لگا کر اس انسائیکلو پیڈیا کا الیکٹرانک ایڈیشن جاری کر دیا ہے۔ اس الیکٹرانک ایڈیشن میں پورا انسائیکلو پیڈیا یعنی اصل کتاب کی تمام جلدوں کے چار کروڑ چالیس لاکھ الفاظ شامل ہیں، اور کتاب کے متن کے ساتھ ساتھ ان کی تشریح اور سمعی و بصری معاونت کے لیے تصویریں، نقشے، ویڈیو اور آوازیں بھی شامل ہیں۔ عموماً ایک کتاب ہلکی پھلکی ڈسک پر جاری کی جاتی ہے جو بہت کم جگہ گھیرتی ہے۔ یوں سینکڑوں الماریوں کی جگہ پوری لائبریری ایک چھوٹے سے بریف کیس میں آجاتی ہے، اور علم کے اس ذخیرے کا وزن منوں یا ٹنوں میں نہیں، چند کلو گرام ہو گا۔
ڈیجیٹل ٹرانسمیشن (Digital Transmission)
علم کا ذخیرہ ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کے لیے ایک تکنیک معلومات کی برق رفتار منتقلی کی ہے۔ جب تار برقی یا ٹیلی گراف کا سلسلہ شروع ہوا تھا تو پیغام کا ایک ایک حرف مختلف صوتی اشاروں کے ذریعے ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچایا جاتا تھا۔ ذرا ترقی ہوئی تو ٹیلی پرنٹر کے ذریعے پیغامات نسبتاً تیز رفتاری سے منتقل ہونے لگے، یعنی حرفوں کی کھٹ کھٹ کی جگہ پورے لفظ، پھر پورے پورے جملے، اور پھر پورے پورے پیرا گراف منتقل ہونے لگے۔ ترقی کا اگلا مرحلہ یہ تھا کہ آپریٹر (Operator) کئی صفحوں کا پیغام ٹیلی پرنٹر (Tele Printer) پر ٹائپ کر کے محفوظ کر لیتا اور پھر جونہی وہ ٹرانسمیشن کے لیے مشین کا بٹن دباتا تو کئی صفحوں پر مشتمل پیغام چند لمحوں کے اندر دوسری جگہ منتقل ہو جاتا۔ اب ٹیکنالوجی کی نئی وسعتوں اور خاص طور پر بال جیسے باریک تار آپٹک فائبر (Optic Fiber) کے ذریعے یہ پیغامات بلکہ یوں کہئے کہ کتابوں کی کتابیں پلک جھپکتے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو سکتی ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کا ایک اور پہلو مطبوعہ معلومات ٹیلی وژن سکرین کے ذریعے ناظرین تک پہنچاتا ہے جسے ٹیلی ٹیکسٹ (Tele Text) کہتے ہیں۔
انٹرنیٹ (Internet)
الیکٹرانک میڈیا کی طلسماتی دنیا کا تازہ ترین شاہکار انٹرنیٹ ہے۔ انٹرنیٹ کو سمجھنے کے لیے ایک چھوٹی سی مثال پیش خدمت ہے۔
ہماری زمین نظامِ شمسی کا حصہ ہے۔ اس نظامِ شمسی میں کرۂ ارض کے علاوہ اور بھی کئی سیارے ہیں جو بیک وقت اپنے اپنے مدار میں، اور سورج کے گرد گھوم رہے ہیں۔ سورج جیسے اور اربوں ستارے ہیں جن کے گرد سیاروں کا جھرمٹ ہے۔ اربوں سیاروں اور ستاروں کے یہ سارے جھرمٹ مل کر ہماری کہکشاں (Galaxy) بنتے ہیں، جسے آسان کا Milky Way کہا جاتا ہے۔ اب تک کی معلومات اور تخمینوں کے مطابق کائنات میں ہماری کہکشاں جیسی تقریباً ایک کھرب کہکشائیں ہیں اور خالقِ کائنات کی تخلیق کا عمل اب بھی جاری ہے۔
انٹرنیٹ کی مثال کمپیوٹروں کی کائنات جیسی ہے۔ بہت سے کمپیوٹر مل کر ایک کہکشاں یا جال یعنی Network بناتے ہیں۔ اور بہت سی کمپیوٹر کہکشائیں جب بین الاقوامی سطح پر آپس میں مربوط ہو جاتی ہیں اور ایک بہت بڑا جال بن جاتا ہے تو اسے انٹرنیٹ کہتے ہیں۔ یوں سارے کمپیوٹر اس جال یا نظام کے ساتھ منسلک ہو سکتے ہیں اور ایک کمپیوٹر دنیا کے کسی بھی گوشے میں موجود دوسرے کمپیوٹر سے رابطہ قائم کر کے مطلوبہ معلومات لے سکتا ہے۔
اس وسیع و عریض جال یا کمپیوٹر نیٹ ورک کی داغ بیل اس طرح پڑی کہ پچیس سال پہلے امریکی محکمہ دفاع نے کچھ اس طرح کا انتظام کرنا چاہا کہ اگر امریکہ پر ایٹمی حملے میں محکمہ دفاع کا کمپیوٹر نظام تباہ بھی ہو جائے تو بھی فوجی ماہرین اور یونیورسٹیوں کے سائنس دان جنگی سرگرمیوں سے متعلق اپنا تحقیقی کام جاری رکھ سکیں۔ آہستہ آہستہ امریکہ کی مختلف یونیورسٹیوں، سرکاری محکموں اور بہت سے صنعتی اداروں کو نیٹ ورک سے منسلک کر دیا گیا۔ اس کمپیوٹر نظام کے لیے تکنیکی معاونت اور اخراجات بھی ان تعلیمی، سرکاری اور صنعتی اداروں نے برداشت کیے۔
جن سائنس دانوں کو اس کمپیوٹر جال یا انٹرنیٹ سے مفت استفادہ کرنے کی اجازت ملی، انہوں نے محسوس کیا کہ تحقیقی سرگرمیوں اور سرکاری کام نمٹانے کے علاوہ بھی یہ نظام کئی اور کام کر سکتا ہے۔ انہوں نے اس کمپیوٹر نظام کے ذریعے ایک دوسرے کو ذاتی پیغامات اور مراسلے بھیجنے شروع کر دیے۔ کمپیوٹر کے ذریعے اس طرح کی خط و کتابت کو الیکٹرانک ڈاک یا E-mail کہا جاتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کمپیوٹر استعمال کرنے والے دوسرے لوگوں نے بھی اس کمپیوٹر جال یا نظام کے ساتھ رابطہ کرنا شروع کر دیا اور یہ جال یوں وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا گیا۔ اس نظام کو استعمال کرنے والوں نے خود ہی اپنے ضابطے اور آداب وضع کر لیے اور نئے آنے والے کے لیے ان ضابطوں اور آداب کی پابندی لازمی قرار دی۔
انٹرنیٹ، ریڈیو اور ٹیلی وژن کی طرح یک طرفہ ذریعہ ابلاغ نہیں کہ ’’وہ کہیں اور سنا کرے کوئی‘‘ یہ تو دو طرفہ ابلاغ کا ذریعہ ہے جس کی بدولت آپ دنیا میں کسی بھی کمپیوٹر استعمال کرنے والے کے ساتھ ہم کلام ہو سکتے ہیں۔ اور اس کا طریقہ بھی آسان ہے۔ جس شخص کے پاس کمپیوٹر ہو، وہ کسی بھی کمپیوٹر نیٹ ورک سروس سے رابطہ کر سکتا ہے اور اس کے ذریعے انٹرنیٹ سے اپنی الیکٹرانک ڈاک منگوا بھی سکتا ہے اور بھیج بھی سکتا ہے۔ اسی طرح انٹرنیٹ کی آف لائین اور آن لائین سروس (Off Line / On Line Service) سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ انٹرنیٹ کے ذریعے ٹیلی فون رابطہ بھی ہو سکتا ہے اور دوسرے کمپیوٹروں سے معلومات اور دستاویزات بھی حاصل کی جا سکتی ہیں۔
مثلاً پاکستان میں کسی ڈاکٹر کو بلڈ پریشر کے بارے میں کسی پیچیدہ سوال کا جواب چاہیے تو وہ انٹرنیٹ کے ذریعے اس شعبے کے ماہرین سے رابطہ کرے گا، اور اگر اسے اپنے سوال کا تسلی بخش جواب نہیں ملتا تو وہ اپنے کمپیوٹر کے ذریعے اپنا سوال پھر انٹرنیٹ پر بھیج دے گا۔ بالکل ایسے جیسے کوئی بچہ بہتی ندی میں کاغذ کی ناؤ ڈال دے۔ یہ ناؤ جس پر سوال لکھا ہے، ندی میں تیرنے والے یا کنارے پر کھڑے کسی دوسرے بچے کے ہاتھ لگے اور وہ اس سوال کا جواب دے دے۔ اس طرح انٹرنیٹ سے منسلک کوئی بھی کمپیوٹر اس سوال کا جواب دے دے گا۔ یہ جواب مفت بھی ہو سکتا ہے اور وہ اس کا معاوضہ بھی طلب کر سکتا ہے۔ اس طرح کسی ملک کا کوئی تعلیمی ادارہ کسی بھی دوسرے ملک کے تعلیمی اداروں یا لائبریریوں سے رابطہ قائم کر کے اپنی مطلوبہ معلومات یا دستاویزات حاصل کر سکتا ہے، اور یوں علم کی ایک شمع سے دوسری شمع روشن ہوتی چلی جاتی ہے۔ اس وقت دنیا کے مختلف ملکوں میں کروڑوں افراد انٹرنیٹ سے استفادہ کر رہے ہیں۔
آن لائین پبلشنگ (On Line Publishing)
انٹرنیٹ کی آن لائین سروس کا دائرہ اتنا وسیع ہے کہ اب بہت سے جرائد انٹرنیٹ پر شائع ہوتے ہیں۔ صرف پچھلے سال امریکہ میں ڈیڑھ سو سے زیادہ ایسے رسالے شروع ہوئے جو انٹرنیٹ پر شائع ہوتے ہیں۔ یہ جرائد مختلف موضوعات پر ہیں۔ اگر خریدار چاہے تو انٹرنیٹ کے ذریعے اپنے کمپیوٹر پر یہ رسالہ خرید سکتا ہے۔ اخبار نویسی کی اس قسم کو انٹرنیٹ صحافت کا نام دیا گیا ہے۔
شاہراہ اطلاعات (Information Highway)
ملٹی میڈیا کی ان سہولتوں کو بڑی تیزی سے ترقی دے کر شاہراہِ اطلاعات تعمیر کی جا رہی ہے۔ معلومات کی ایسی شاہراہ جو دنیا کے ہر ملک اور ہر گوشے کو ایک دوسرے سے منسلک کر دے گی۔ ایسی شاہراہ جس پر اطلاعات کی چھوٹی بڑی لاکھوں سڑکیں اور کروڑوں راستے اور پگڈنڈیاں آملیں۔ یہ شاہراہ علم کے فروغ اور معلومات کے تبادلے کے لیے بھی استعمال ہوگی اور زندگی کے دوسرے شعبوں میں بھی اس سے فائدہ اٹھایا جائے گا۔ اندازہ ہے کہ اس شاہراہ کی بدولت صرف کیبل ٹیلی وژن کے پانچ سو چینل دستیاب ہوں گے۔ دفتری اور کاروباری امور نمٹانے، بنکوں سے پیسے نکلوانے، فضائی کمپنیوں سے سفر کے معاملات طے کرنے، دوستوں کے ساتھ گپ شپ، ڈاکٹر اور وکیل سے مشورہ کرنے، اور ثقافتی اور تفریحی سرگرمیوں کے لیے بھی یہ شاہراہ کام دے گی۔
الیکٹرانک میڈیا کے یہ سارے کمالات اور ان کی افادیت کے سارے امکانات آپ کے سامنے ہیں، اپنے نظریات اور مقاصد بھی آپ پر واضح ہیں، اور ان کے فکری، علمی اور عملی تقاضوں سے بھی آپ باخبر ہیں۔ اس پس منظر میں ان جدید ذرائع ابلاغ سے تعلیم کے فروغ میں کیا اور کس طرح کام لیا جا سکتا ہے؟ اس پر غور کرنے اور اقدامات تجویز کرنے کی ضرورت ہے۔
شرح خواندگی میں اضافہ اور دینی مراکز
پروفیسر غلام رسول عدیم
(۱۴ مارچ ۹۶ء کو مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں الشریعہ اکیڈیمی کی دوسری کا سالانہ تعلیمی کانفرنس میں پڑھا گیا۔)
صدر گرامی قدر اور سامعین کرام! علم و تعلیم کی فضیلت اور اہمیت کے بارے میں کسی دور میں بھی دو رائیں نہیں رہیں۔ جب سے انسان نے شعور کی آنکھ کھولی ہے انفرادی سطح پر بھی اور اجتماعی دوائر میں بھی تعلیم و تعلم کا عمل جاری رہا ہے۔
قرآنی مضامین میں علم اور اہلِ علم کی قدر افزائی خصوصی اہمیت کی حامل ہے۔ قرآن اہلِ علم کو رفیع الدرجات قرار دیتا ہے يرفع اللہ الذين آمنوا منكم والذين اوتوا العلم درجات ’’اللہ تعالیٰ تم میں سے ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور جن کو علم عطا کیا گیا بلند درجوں پر فائز کرے گا‘‘ (المجادلہ ۱۱)
قرآن استفهام انکاری کے انداز میں استفسار کرتا ہے ھل يستوى الذين يعلمون والذين لا يعلمون ’’کیا وہ لوگ جو علم رکھتے ہیں اور وہ لوگ جن کے پاس علم نہیں ہے، برابر ہو سکتے ہیں؟‘‘(الزمر ۹)
سب سے بڑھ کر یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان فیض ترجمان سے جو دعائیں ادا کرائی گئیں، پورے قرآن میں کسی ایک میں بھی بجز علم کے اضافہ و زیادت کے الفاظ نہیں ملتے، صرف علم ہی کو یہ شرف حاصل ہے کہ اس کے لیے کہلوا لیا گیا قل رب زدنی علما ’’اے میرے رب! مجھے مزید علم عطا فرما‘‘ (طہ ۱۱۴)
اگر فرموداتِ رسالتماب صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک نظر جائزہ لیں تو تعلیم و تعلم سے متعلق ہمیں بیش قیمت جواہر ریزے ملتے ہیں۔ طلبِ علم کے ضمن میں ارشاد ہوتا ہے من خرج فی طلب العلم فہو فی سبيل اللہ حتی يرجع ’’جو شخص علم کی تلاش میں نکلا وہ اللہ کے راستے میں ہے یہاں تک کہ واپس آ جائے‘‘ (ترمذی جلد ۲ ص ۹۳)
بمقابلہ عابد ایک عالم کی شان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا فضل العالم علی العابد كفضلی علیٰ ادناکم ’’عالم کی فضیلت عابد پر ایسے ہی ہے جیسے کہ میری فضیلت تم میں سے ادنیٰ آدمی پر‘‘ (ترمذی جلد ۲ ص ۹۸)
علم کی کمی کو آثارِ قیامت میں سے قرار دیا گیا: ان من اشراط الساعۃ ان يقل العلم (بخاری جلد ۱ ص ۱۸)
یہ ایک حقیقتِ ثابتہ ہے کہ آپؐ اُمّی تھے اور اُمّی ہونا آپ کا طرۂ امتیاز تھا، تاہم آپؐ نے تعلیم و تعلم کے ساتھ ساتھ تحریر و کتابت کی بھی حوصلہ افزائی فرمائی۔ بروایت ابی ہریرۃؓ جب ایک صحابئ رسول نے آپؐ سے خطبہ لکھوانے کی درخواست کی تو فرمایا اكتبوا لابی شاہ (ابو شاہ کو لکھ دو)۔ حضرت ابو ہریرہؓ نے عبداللہ بن عمروؓ کی برتری کو تحریر ہی کی وجہ سے فانہ يكتب ولا اكتب ’’وہ لکھ لیتے ہیں اور میں لکھتا نہیں ہوں‘‘ (بخاری ص ۲۲) کہہ کر تسلیم کیا۔
صدر گرامی مرتبت! یہ حقائق جو قرآن و حدیث کی روشنی میں علم و ضبطِ علم سے متعلق آپ کے سامنے رکھے گئے ہیں، اسلام کی علمی اساس اور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے علمی ذوق کا پتہ دیتے ہیں۔
آج ہم جس دور میں زندگی گزار رہے ہیں، وہ علمی جلالتوں اور فنی کمالات کا دور ہے۔ دنیا بھر کی یونیورسٹیوں میں جو علوم و فنون پڑھائے اور سکھائے جاتے ہیں، ان کا ایک اجمالی جائزہ بتاتا ہے کہ کچھ علوم طبیعی: فزکس، کیمسٹری، بیالوجی، فلکیات، جغرافیہ، علم طبقات الارض اور ان کی اَن گنت شاخیں ہیں۔ دوسری طرف علومِ معاشرت جیسے اقتصادیات، سیاسیات، عمرانیات، فلسفہ، نفسیات، انسانیات اور ان کی بہت سی شاخیں ہیں۔ علوم السنہ دنیا بھر کی ہزاروں زبانوں کے بڑے بڑے آٹھ خاندانوں کو محیط ہیں اور پھر ان کے علومِ آلیہ (Instrumental Learnings) الگ اپنی حیثیت رکھتے ہیں۔ دینی علوم جو اسلام، یہودیت، نصرانیت جیسے الہامی اور ہندو مت، بدھ مت، جین مت، زرشتی مذاہب اور تاؤازم جیسے غیر الہامی مذاہب پر مشتمل ہیں، مستقلاً فکری دھاروں کے رخ متعین کرتے ہیں۔ ان پر مستزاد جدید ٹیکنالوجی کے معرکے، جس نے مادے کو تبدلات کی بھٹی سے گزار کر انسان کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا ہے، جوہری توانائی اور الیکٹرانک کی نادرہ کاریوں نے تو محیر العقول معجزے کر دکھائے ہیں۔
لیکن حضرات یہ تصویر کا ایک رخ ہے جو بظاہر بڑا دل آویز ہے، مگر ہم ایک ایسے دوراہے پر کھڑے ہیں جہاں ایک طرف تو ابن آدم علم و حکمت اور دانش و بینش کے فلک الافلاک کو چھو رہا ہے۔ دوسری طرف اسی بنی نوع انسان کا ایک بہت بڑا طبقہ علمی وجاہت تو کیا معمولی نوشت و خواند سے بھی محروم ہے۔ ایسی بلندی، ایسی پستی! العجب ثم العجب ثم العجب!!! آج کی نشست میں ہم اسی ہولناک خلا کی نشاندہی کر کے پاکستانی معاشرے میں دینی مراکز کے حوالے سے چند تجاویز سامنے لائیں گے۔
صدر والا قدر! مجھے اجازت دیجئے کہ میں خواندگی کے بارے میں بھی کچھ عرض کرتا چلوں۔ خواندگی کا لفظ بظاہر محض پڑھنے کے معنی دیتا ہے۔ تاہم اس کا انگریزی متبادل لفظ Literacy ہے جو اپنی اصل کے اعتبار سے لاطینی Littera (انگریزی Letter) یعنی حروف تہجی سے ماخوذ ہے، یوں Literacy کے معنی بھی حرف شناسی کے ہیں۔ تاہم دور حاضر میں خواندگی یا Literacy محض پڑھنے تک ہی محدود نہیں رہی، اس میں لکھنا اور حساب کرنا بھی شامل کر لیا گیا ہے۔ اس موضوع پر انسائیکلوپیڈیا امریکانا کا مقالہ نگار لکھتا ہے:
Literacy is the ability to read and write. This ability or lack of it, illiteracy, can be defined in several ways. People can be called literate if they can read a few lines and sign their names. Many authorities feel that more realistic criterion involves writing useful letters, reading materials such as newspapers and dealing with business firms — that is, being functionally literate. Reducing illiteracy is one of the major tasks of education around the world.
معلوم ہوا کہ تعلیم (Education) کا ایک بہت بڑا کام ناخواندگی کو دور کرنا بھی ہے۔ حضرات! ناخواندگی دور کرنے کے ڈانڈے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور فرخ فال سے جا ملتے ہیں۔ امام بخاری اپنی شہرہ آفاق صحیح بخاری جلد اول کے ص ۷ا پر تفقہوا قبل ان تسودوا والی حدیث نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں قال ابو عبد اللہ قد تعلم اصحاب النبی بعد كبر سنہم۔ ظاہر ہے کہ کوئی شخص اپنی عمر رسیدگی میں جب جسمانی قویٰ بہت حد تک مضمحل ہو چکے ہوتے ہیں، وہ علمی شکوہ تو حاصل نہیں کر سکتا جو اوائل عمر سے حصولِ علم کے لیے کوشش کرنے والوں کو حاصل ہوتا ہے۔ یوں امام بخاریؒ کے اس قول سے خواندگی اور بالخصوص تعلیم بالغاں کی طرف واضح اشارہ ملتا ہے۔
حضرات! جہاں تک پاکستان کے تعلیمی مسائل کا تعلق ہے، ان کا تفصیلی تذکرہ اس مقالے کے موضوع سے خارج ہے۔ وہ تعلیمِ نسواں کا مسئلہ ہو یا پیشہ ورانہ اخلاق کا، طلبہ میں ضبط و نظم کے فقدان کا مسئلہ ہو یا معیارِ تعلیم کے انحطاط کا، تعلیم میں یکساں مواقع کی عدمِ فراہمی کا مسئلہ ہو یا تعلیم اور روزگار میں عدمِ توازن کا، وہ ترکِ تعلیم کے وجوہ ہوں یا ناخواندگی یا خواندگی میں کمی کا مسئلہ، ماہرین تعلیم میں یہ بات متفق علیہ ہے کہ خواندگی کا مسئلہ سب سے زیادہ گھمبیر بھی ہے اور سنگین بھی۔ پاکستان میں خواندگی کی شرح حیرت ناک ہی نہیں، اندوہ ناک حد تک کم ہے۔
ایک نظر ان اعداد و شواہد پر ڈالئے تو حقائق اظہر من الشمس ہو جائیں گے۔
سال — شرح خواندگی
۱۹۴۷ء — ۱۵٪ (قیامِ پاکستان کے وقت)
۱۹۵۱ء — ۴ء۱۶٪
۱۹۶۱ء — ۶ء۱۳٪
۱۹۷۲ — ۷ء۲۱٪
۱۹۸۱ء — ۲ء۲۶٪ (مردوں میں ۱ء۳۵٪ اور عورتوں میں ۱ء۱۶٪ ہے)
اگر پاکستان اور دنیا کے دوسرے ملکوں کا شرح خواندگی کے اعتبار سے موازنہ کیا جائے تو اندیشہ ناک حقائق سامنے آتے ہیں۔ صرف ایک سال ۱۹۸۸ء کے اعداد و شمار ملاحظہ کیجئے۔ پاکستان ۳۰ بز (ساتویں منصوبے کے تحت) یعنی ۷۰% عوام ناخواندہ ہیں قومی ترقی میں کیا حصہ لے سکیں گے۔
پاکستان — ۳۰٪ (ساتویں منصوبے کے تحت) یعنی ۷۰٪ عوام ناخواندہ ہیں، قومی ترقی میں کیا حصہ لے سکیں گے؟
بنگلہ دیش — ۱ء۳۳٪
بھارت — ۵ء۴۳٪
ایران — ۸ء۵۰٪
انڈونیشیا — ۷۴٪
ترکی — ۲ء۷۴٪
فلپائن — ۴ء۸۵٪
سری لنکا — ۱ء۸۷٪
تھائی لینڈ — ۹۱٪
عوامی کوریا — ۹۳٪
جاپان — ۳ء۹۹٪
یہ صرف ایشائی ممالک میں سے بعض کی جھلک ہے، مغربی دنیا سے اس سلسلے میں مقابلہ ہی نہیں۔
حضرات! اگر خواندگی میں کمی کے وجوہ کا جائزہ لیا جائے تو کئی اسباب سامنے آئیں گے جن میں سے چند یہ ہیں:
۱۔ آبادی میں روز بروز اضافہ: پاکستان کی آبادی ۳٪ سالانہ کے حساب سے بڑھ رہی ہے یعنی ۳۵ لاکھ بچوں کے لیے سالانہ تعلیمی سہولتیں مطلوب ہوتی ہیں۔ آبادی میں تو اضافہ ہو رہا ہے اور سکولوں کی تعداد میں اس شرح سے اضافہ نہیں ہو رہا۔
۲۔ تعلیم پر خرچ: یونیسکو (UNESCO) کی سفارش کے مطابق ترقی پذیر ممالک کو کم از کم مجموعی قومی آمدنی کا ۴٪ تعلیم پر خرچ کرنا چاہیے جبکہ پاکستان صرف ۲٪ خرچ کرتا ہے۔
۳۔ تعلیم کی اہمیت: چونکہ کثیر تعداد ناخواندہ افراد پر مشتمل ہے اس لیے وہ تعلیم کی اہمیت ہی کو نہیں سمجھتے۔
۴۔ پرائمری سکولوں میں داخلہ: پاکستان میں ۵ سے ۱۰ سال کی عمر کے بچوں کی تعداد کا صرف ۴۵٪ حصہ سکولوں میں داخلہ لے پاتا ہے۔ اس میں بھی ۶۶٪ لڑکوں اور ۳۳٪ لڑکیوں کو داخلہ ملتا ہے۔
۵۔ ترک تعلیم: ساتویں پانچ سالہ منصوبے کے مطابق ۶۴٪ بچے سکولوں میں داخلہ لیتے ہیں۔ باقی ۳۶٪ ناخواندگی میں اضافے کا باعث بنتے ہیں اور داخلہ لینے والوں میں ۵۰٪ پرائمری پاس کر کے تعلیم چھوڑ دیتے ہیں۔
۶۔ معاشی مجبوریاں: غریب والدین بالکل چھوٹی عمر میں بچوں کو کام پر لگا دیتے ہیں۔ وہ تعلیم سے یکسر محروم رہ کر ناخواندگی میں اضافے کا موجب بنتے ہیں۔
۷۔ ناقص منصوبہ بندی: تعلیمِ عام کے حکومتی منصوبوں میں انتظامی اور ناقص منصوبہ بندی کے بڑے بڑے خلا ہیں۔
حکومت نے بلاشبہ کسی حد تک خواندگی کی شرح بڑھانے کی طرف پیش رفت کی ہے مگر تاحال مقاصد حاصل نہیں ہو سکے۔ سہ پہری سکول، کچی آبادی پراجیکٹ، رضا کار معلم پراجیکٹ، مسجد سکول، محلہ سکول، نئی روشنی سکول، سپاہ تدریس پراجیکٹ جیسے منصوبے زیر عمل آئے مگر نتائج کچھ نہیں نکلے۔ سکولوں اور کالجوں میں بھی میٹرک، ایف اے اور بی اے کے طلبہ میں خاص منصوبے کے تحت یہ مہم چلائی گئی مگر وہی ’’ڈھاک کے تین پات‘‘۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ دینی مراکز اس سمت میں کیا رول ادا کر سکتے ہیں۔
حضرات! یہ بات تو آپ حضرات سے پوشیدہ نہیں کہ قرآن مجید کا آغازِ نزول ہی لفظ اقرا سے ہوتا ہے اور ن والقلم میں قلم کی عظمت کا اعتراف قسم کے لہجے میں صاف نظر آتا ہے۔ جہاں دینی مراکز کا فریضہ تہذیبی و تمدنی اقدار کا فروغ ہے، جہاں ان کا کام ہے کہ وہ اسلامی تراث کا احیا کریں، وہاں ان پر بہت بڑی ذمہ داری یہ بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے گرد و پیش میں ناخواندگی کا قلع قمع کر کے پورے ماحول کو علم و دانش اور تفقہ فی الدین کے نور سے جگمگا دیں۔ یہ مراکز منارہ ہائے نور ہیں مگر کتنی الم انگیز صورت حال ہے کہ انہیں کے سائے میں نوشت و خواند اور حرف شناسی سے بے بہرہ محروم القسمت بھی موجود ہیں۔
میری رائے میں:
(۱) دینی مراکز کے اساتذہ، جو علم و فضل کے کوہ ہائے گراں ہیں، اپنے طلبہ میں خواندگی کی اہمیت اجاگر کریں۔ وہ ان کے ذہن میں یہ نقش مرتسم کر دیں کہ وہ خود تو دینی علوم کے حصول کے لیے شبانہ روز محنت میں سرگرمِ عمل رہتے ہیں، انہیں اَن پڑھ لوگوں کی بھی خبر لینا چاہیے۔ کیونکہ ایسے لوگ دینی فرائض کو بوجوہ احسن ادا نہیں کر سکیں گے۔ یوں طلبہ میں ذہنی طور پر ایک مثبت فکر اور دلی طور پر ایک داعیہ پیدا کر دیا جائے کہ وہ اس میدان میں ناخواندگی اور جہالت کے خلاف سپاہی بن کر اٹھ کھڑے ہوں۔
(۲) دینی درسگاہیں ناخواندگی کے ازالے کے لیے جو اہم کام کر سکتی ہیں، وہ یہ کہ عامتہ الناس میں نوشت و خواند کی صلاحیت پیدا کرنے کے لیے کلاسوں کا اہتمام کریں۔ دینی مدارس کے طلبہ اپنی تعلیم سے کچھ وقت نکال کر ان ناخواندہ لوگوں کو تعلیم دیں۔ اپنے ٹائم ٹیبل میں اس کار خیر کے لیے گنجائش پیدا کریں۔
(۳) ہر طالب علم اپنی نجی حیثیت میں Each one teach one (ایک پڑھائے ایک) کے Slogan کے ساتھ ایک سال میں کم از کم ایک ناخواندہ فرد کو خواندگی کی حد تک با صلاحیت کر دے۔ وہ ناخواندہ افراد کو باور کرا دیں کہ نعم الانيس اذا خلوت كتاب۔
(۴) تشویق و ترغیب میں قدرے اجباری پہلو کو پیش نظر رکھتے ہوئے دینی مراکز کے مہتمم حضرات کسی طالب علم کو سند فراغ اس وقت جاری کریں جب وہ یہ ثابت کر دے کہ اس نے دورانِ سال میں کم از کم ایک ناخواندہ شخص کو پڑھنے لکھنے کے قابل بنا دیا ہے۔
(۵) دینی درسگاہوں کے طالب علم کچھ وقت کے لیے معاشرے کے مختلف طبقوں سے ارتباط پیدا کریں اور ناخواندہ افراد کو تلاش کر کے ان کو تعلیم دیں۔ اس تجویز سے دوہرے فائدے کا حصول ممکن ہے۔ جب وہ اپنے مخصوص اور محدود ماحول سے نکل کر خواندگی کے مراکز قائم کریں گے تو ایک تو وہ خواندگی میں اضافہ کر رہے ہوں گے، دوسرے اپنے زیر اثر افراد میں اپنے نقطہ نگاہ کا پرچار کر رہے ہوں گے۔ یوں تبلیغ و دعوت کا فریضہ بھی انجام پذیر ہو گا۔ اس ارتباط و اختلاط سے ایک اور فائدے کی بھی توقع کی جا سکتی ہے کہ دینی درسگاہوں کے طلبہ جو کئی سال دینی مرکز ہی میں گزار کر باہر نکلتے ہیں تو معاشرے میں اپنے آپ کو Unfit نہ سہی Misfit ضرور پاتے ہیں۔ یوں وہ معاشرے میں اپنے گرد و پیش کے محاسن و معایب سے خوب باخبر ہو سکیں گے۔ فارغ التحصیل ہونے کے بعد وہ انہیں لوگوں میں کامیاب زندگی گزار سکیں گے جن کی انہیں مستقبل میں رہنمائی کرناہے۔
(۶) حکومت نے بھی ناخواندگی کے خلاف کچھ منصوبے شروع کر رکھے ہیں مگر وہ انتظامی کمزوریوں اور روایتی حکومتی التوائی حیلوں کی نذر ہو رہے ہیں۔ اگر دینی مراکز کے اہل حل و عقد اس طرف توجہ فرمائیں تو ان حکومتی منصوبوں میں ہاتھ بٹا کر انہیں فعال بنا سکتے ہیں۔ دینی مراکز کے ارباب بست و کشاد اگر اپنے اندر قدرے لچک پیدا کر لیں تو ان کے پاس جو سرمایہ ہے، یعنی ان کے طالب علم، قوم و ملک کا سرمایہ افتخار بن سکتے ہیں۔
(۷) حکومت اور فلاحی ادارے بھی اس سمت میں اگر ان طلبہ کی خدمات لینا چاہیں تو وہ ان کی صلاحیتوں سے بھر پور فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اس کے لیے وہ انہیں فنڈ مہیا کر سکتے ہیں۔ اپنے وسائل کو بروئے کار لا کر دینی مراکز کے انتظامی، علمی، تعلیمی، تدریسی اور فکری پروگرام میں دخیل ہوئے بغیر وہ ان سے کام لے سکتے ہیں۔ اور یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ جس تڑپ، لگن اور خلوصِ نیت سے دینی مراکز کے خدا ترس اور تقویٰ شعار لوگ اس صلاحی و فلاحی کام میں حصہ لیں گے، دوسرے لوگ نہیں لے سکتے۔
حضرات! حرفِ آخر کے طور پر عرض کروں گا کہ اگر ان تجاویز پر عمل کیا جائے، یا ان کو زیر بحث لاکر مزید رائے زنی کر کے کوئی ٹھوس لائحہ عمل اختیار کر لیا جائے تو پاکستان میں افسوسناک شرح خواندگی میں حوصلہ افزا حد تک اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
دوسری سالانہ الشریعہ تعلیمی کانفرنس سے جسٹس (ر) محمد رفیق تارڑ کا خطاب
جسٹس محمد رفیق تارڑ
اس وقت وطنِ عزیز میں تعلیم کے دو نظام چل رہے ہیں۔ ایک نظام دینی مدارس کا ہے اور دوسرا دنیوی درسگاہوں کا جو آگے چل کر کئی حصوں میں تقسیم ہے جیسے انگلش میڈیم، اردو میڈیم، جاگیرداروں اور رؤسا کے بچوں کے سکول اور عام آدمی کے بچوں کے لیے تعلیمی ادارے وغیرہ۔ انگریز نے برصغیر کی حکومت مسلمانوں سے چھینی تھی اور ۱۸۵۷ء میں بھی مسلمان ہی جنگ آزادی کا ہراول دستہ تھے اس لیے فرنگی اسلام، اسلامی تعلیمات اور مسلمانوں کے خلاف شدید جذبات رکھتا تھا۔ اس پس منظر میں رسوائے زمانہ میکالے نے ایک شیطانی نظامِ تعلیم مرتب کر کے دعویٰ کیا کہ اس سے ایسا طبقہ پیدا ہو گا جو خون اور رنگ کے اعتبار سے ہندوستانی عمر خیالات و تمدن میں انگریز ہو گا۔ اس نظامِ تعلیم کے نفاذ سے دو مقاصد کا حصول اس کے پیش نظر تھا: دفتروں کے لیے کلرک پیدا کرنا، اور مسلمانوں کو ان کے دین سے بے گانہ کر کے دینی اقدار سے محروم کرنا۔
نظامِ تعلیم ہی کے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے ولیم ہنٹر نے اسلام اور اسلامی تعلیمات پر انتہائی رکیک حملے کیے اور نظامِ اسلام کا تمسخر اڑایا۔ نوآبادیاتی دور کے ڈیڑھ دو صدیوں پر محیط لمبے دورانیے میں فرنگی نے مسلمانوں میں اپنے کاسہ لیس، وطن فروش ٹوڈیوں کے خاندانوں کی اس طرح تربیت کی کہ وہ اپنی چال ڈھال، نشست و برخاست اور بود وباش میں آج تک مغربی معاشرہ کی ’’نقل مطابق اصل‘‘ ہیں اور وطن عزیز میں قیادت کا تاج گذشتہ ۵۰ برس سے انہیں خاندانوں کے افراد کے سروں پر سجتا چلا آرہا ہے۔ ٹوڈیوں کی اس نسل کے ذریعہ ایک طرف تو عصری نظامِ تعلیم کو بد سے بدتر شکل میں ڈھالا جا رہا ہے، اور دوسری طرف نیو ورلڈ آرڈر کے سب سے بڑے ہدف دینی مدارس پر یلغار اور مار دھاڑ کے ارادے بن رہے ہیں۔
گزشتہ دنوں اخبار میں ایک چھوٹی سی خبر تھی کہ بلوچستان میں ابتدائی جماعتوں کی کتاب سے حمد باری تعالیٰ نکال باہر کی گئی ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ایسا تو انگریز کے دور میں بھی نہیں ہوا تھا۔ ان دنوں ہر سکول میں پڑھائی شروع ہونے سے پہلے مختلف منظوم دعاؤں میں سے کوئی ایک دعا پڑھی جایا کرتی تھی جس میں تمام بچے خواہ ان کا تعلق کسی مذہب سے ہو، شریک ہوا کرتے تھے۔ ایک دعائیہ نظم کا بند اب تک یاد ہے جو یوں تھا:
بحر عصیاں کا کوئی کنارہ نہیں
غرق ہونے کو ہیں، کوئی چارہ نہیں
بے تیرے کوئی بھی سہارا نہیں
اپنی رحمت سے ہم سب کو مولا بچا
ہم ہیں بندے تیرے تو ہمارا خدا
یہ قریب قریب آیت مبارکہ ربنا ظلمنا انفسنا (وان لم تغفرلنا وترحمنا لنکونن) من الخاسرين کا ترجمہ ہے۔
فرنگی کے مسلط کردہ نظامِ تعلیم کے متعلق علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں:
اور یہ اہلِ کلیسا کا نظامِ تعلیم
ایک سازش ہے فقط دین و مروت کے خلاف
یہ نظام ہمیں اپنے ماضی سے کاٹتا اور طاغوت سے جوڑتا ہے:
انگریز کی تعلیم نے رکھا نہ کہیں کا
مذہب کا نہ ملت کا نہ دنیا کا نہ دیں کا
طفل میں بو آئے کیا ماں باپ کے اطوار کی
دودھ ڈبوں کا پیا تعلیم ہے سرکار کی
اس نظامِ تعلیم کی حامل اعلیٰ ترین یونیورسٹیوں کے فارغ التحصیل لوگ اس بد قسمت ملک پر حکمران ہیں، ہم حقوق اللہ اور حقوق العباد کے حوالہ سے ان کی کارکردگی کھلی آنکھوں دیکھ بلکہ بھگت رہے ہیں۔ یہ یہودیوں اور عیسائیوں کے مرتب کردہ نیو ورلڈ آرڈر کو آگے بڑھانے کی شرط پر اپنے اپنے عہدوں پر قائم ہیں۔ ان سے یا ان جیسے دوسرے تعلیم یافتہ سے نفاذ اسلام کی توقع ایسے ہی ہے جیسے تھوہر کے پودے سے انگور کے خوشوں کی لوگوں آرزو کرنا۔
جمہوریت ایک ایسا طاغوتی نظام ہے جو ایک چھٹے ہوئے بدمعاش اور شیخ الاسلام کی رائے کو برابر کا درجہ دیتا ہے، اور اب تو سونے پر سہاگہ ہونے کو ہے کہ قادیانیوں سمیت ہر غیر مسلم کی رائے دو مومنوں کے برابر کرنے کا اہتمام ہو رہا ہے۔ مغربی تعلیم یافتہ دانش ور یہ دلیل دیتے ہیں کہ پاکستان کو وجود میں لانے کے لیے تو جداگانہ انتخاب ضروری تھا مگر اس کے استحکام کے لیے مخلوط طریق انتخاب ضروری ہے۔ یعنی وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ بچے کی پیدائش تک تو ماں کی ضرورت تھی لیکن اس کی نشوونما اور اچھی پرورش کے لیے ماں سے مختلف یا متضاد شخصیت کی حامل خاتون زیادہ بہتر ہوگی۔
بریں عقل و دانش بباید گریست
کرہ ارض اسلام کے دورِ حکمرانی اور اس کی برکتوں سے ان شاء اللہ پھر مستفیض ہو گا مگر جمہوریت سے نہیں بلکہ اسلامی انقلاب کے ذریعہ۔ ویسا ہی پُرامن انقلاب جیسا مکہ معظمہ کے مظلوموں نے حضور سرور کائناتؐ کی قیادت میں ظلم و جور، جہالت، گمراہی اور بے راہ روی کی قوتوں کے خلاف برپا کر کے کرہ ارض کی تقدیر بدل دی تھی۔ ایسے انقلاب کے لیے امریکہ فرانس وغیرہ سے اسلحہ کی بھیک مانگنے کی نہیں بلکہ انسان سازی کی ضرورت ہے۔
جب اسلام کے خلاف ایک نئے نظامِ تعلیم کے ذریعے میکالے، ہنٹر اور ان کے گماشتے سازش کر رہے تھے تو اس وقت کے علماء حق نے مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کی قیادت میں انتہائی بے سروسامانی کے عالم میں جگہ جگہ دینی مدارس قائم کر کے اسلام کے تحفظ اور دفاع کا حق ادا کر دیا۔ اللہ تعالیٰ کی کروڑوں رحمتیں ہوں ان پر اور ان کے جانشینوں پر جو انسان سازی کا فریضہ انتہائی نامساعد اور ابتر حالات میں سر انجام دے رہے ہیں۔ ان کے زیر اہتمام چلنے والے دینی اداروں کی وجہ سے تمام طاغوتی سازشوں اور کوششوں کے باوجود اب بھی ملک کی بڑی بھاری اکثریت دینی اقدار سے جذباتی وابستگی اور محبت رکھتی ہے۔ اور وقت آنے پر جان تک کی قربانی سے بھی دریغ نہیں کرتی، اس لحاظ سے یہ دینی مدارس اسلام کے قلعے ہیں جن سے ہدایت کی روشنی پھیلتی اور ظلمت دم توڑتی ہے۔ دینی مدارس کا یہ کردار اسلام دشمن ابلیسی قوتوں کے دلوں میں کانٹے کی طرح کھٹکتا ہے اور وہ عالمِ اسلام میں اپنے گماشتوں کے ذریعہ انہیں ختم کرنے کے درپے ہیں۔
علامہ اقبال کی نظم ’’ابلیس کا فرمان اپنے سیاسی فرزندوں کے نام‘‘ اس صورت حال کی کتنی صحیح عکاسی کرتی ہے جس میں ابلیس اپنے سیاسی فرزندوں سے یوں مخاطب ہے کہ:
وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں ذرا
رُوحِ محمدؐ اس کے بدن سے نکال دو
فکرِ عرب کو دے کے فرنگی تخیّلات
اسلام کو حِجاز و یمن سے نکال دو
افغانیوں کی غیرتِ دیں کا ہے یہ علاج
مُلّا کو اُن کے کوہ و دمن سے نکال دو
اہلِ حرم سے اُن کی روایات چھِین لو
آہُو کو مرغزارِ خُتن سے نکال دو
اقبالؔ کے نفَس سے ہے لالے کی آگ تیز
ایسے غزل سرا کو چمن سے نکال دو!
ان شاء اللہ اسلامی انقلاب آئے گا اور ضرور آئے گا، اسے کوئی نہیں روک سکتا اور دینی ادارے اس کا ہراول دستہ ہوں گے۔ البتہ اس بات کی ضرورت ہے کہ دینی و عصری تعلیم کے درمیان فاصلوں کو کم کیا جائے اور ان اداروں کی حوصلہ افزائی کی جائے جو نئی نسل کے لیے دینی و عصری علوم کے متوازن امتزاج کے ساتھ ایک ایسے تعلیمی نظام کے تصور کو آگے بڑھا رہے ہیں جو ہماری دینی اور قومی ضرورتوں اور آج کی عالمی صورت حال میں ملّی تقاضوں سے ہم آہنگ ہو۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کوششوں کو بار آور کریں تاکہ ہم پاکستان کو صحیح معنوں میں ایک مثالی اسلامی ریاست کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کر سکیں، آمین، وما علینا الا البلاغ المبین۔
خیر مقدم
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر
دوسری سالانہ الشریعہ تعلیمی کانفرنس منعقدہ ۱۴ مارچ ۹۶ء بمقام مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ
نحمدہ و نصلی علی رسوله الكريم اما بعد!
معزز مہمانان گرامی و شرکاء محفل! السلام عليكم و رحمۃ اللہ وبركاتہ۔
ہمارے ملک میں دینی اور دنیاوی تعلیم کے جو دو نظام اس وقت رائج ہیں، ان کے بارے میں یہ بات اب مانی جا چکی ہے کہ وہ قومی سطح پر ہماری فکری، علمی، دینی اور دنیاوی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔
(۱) عصری تعلیم کی درس گاہوں میں جو نظام رائج ہے، اس کی بنیاد پچھلی صدی میں برصغیر کے انگریز حکمرانوں نے رکھی تھی۔ اس کی لادینی حقیقت اور اس کے پیش نظر استعماری مقاصد خود اس کے بنانے والوں نے واضح کر دیے تھے۔ اس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ اس قوم کو اس کی دینی بنیاد، علمی و فکری ورثے، اخلاقی اقدار اور تہذیب و معاشرت سے لاتعلق کر کے اس پر فرنگی فکر و تہذیب کی غلامی مسلط کر دی جائے۔ چنانچہ اہل نظر کی حقیقت شناس نگاہوں نے اسی وقت یہ محسوس کر لیا تھا کہ اہلِ کلیسا کا یہ نظام تعلیم ؏
ایک سازش ہے فقط دین و مروت کے خلاف
اہلِ فکر و دانش کی بحثوں کی روشنی میں جائزہ لیا جائے تو اس نظام کے تین بنیادی نقائص سامنے آتے ہیں:
پہلا یہ کہ یہ ایک خالص مادہ پرستانہ نظامِ تعلیم ہے جو اپنے طالب علموں کے ذہنوں میں ملحدانہ افکار و نظریات کی آبیاری کرتا اور ان کے خیالات کی اس طرح سے تشکیل کرتا ہے کہ وہ اگر خدا اور مذہب کا زبان سے انکار نہ بھی کر سکیں تو اپنی زندگی کے شب و روز میں انہیں کہیں کوئی جگہ دینے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ اسلامیات کی تعلیم جس مقدار اور جس انداز میں اس میں شامل کی گئی ہے، اس کی حیثیت ایک پیوند کی ہے جس سے طلبہ کے فکر و ذہن کو مسلمان بنانے اور انہیں دینی حقائق سے روشناس کرانے میں کوئی مدد نہیں مل سکتی۔
دوسرا یہ کہ اس نظام میں اردو اور انگریزی ذریعہ تعلیم کی تفریق؛ معاشرے کے مختلف طبقات کے لیے تعلیم، معیار اور ماحول کے لحاظ سے مختلف تعلیمی اداروں کے قیام؛ اور اس طرح کے دوسرے اقدامات کے ذریعے سے ملت کے افراد کو مختلف خانوں میں بانٹ دیا گیا ہے؛ اور ان کی سوچ، کردار، معاشرت اور اقدار میں اس قدر بُعد و تضاد پیدا کر دیا گیا ہے کہ جس کے بعد ان سے یہ توقع ہی نہیں کی جا سکتی کہ وہ ایک ’’ملتِ واحدہ‘‘ کے افراد بن کر رہ سکیں گے۔
تیسرا یہ کہ اس میں طلبہ کے اخلاق و کردار کی تہذیب اور ان کی تربیت کا سرے سے کوئی اہتمام نہیں۔ استاد یہاں محض انتقالِ علم کا ایک ذریعہ ہے، طلبہ اس کی سیرت اور کردار میں اپنے لیے کوئی نمونہ نہیں پاتے، اور نہ یہاں ان بنیادوں کا وجود ہے جن پر استاد اور شاگرد کے مابین شفقت اور احترام کا تعلق استوار ہو سکتا ہے۔
اس سے واضح ہے کہ رائج عصری نظامِ تعلیم افرادِ ملت کی تباہی اور ان کی علمی و اخلاقی پستی میں اضافہ کے سوا کوئی کردار ادا نہیں کر رہا۔
(۲) دوسری طرف دینی مدارس جس تعلیمی نظام کے تحت کام کر رہے ہیں، اس کے ذریعے سے قرآن و سنت اور ان سے متعلقہ دینی علوم کی تعلیم کا کام اگرچہ ایک حد تک انجام پا رہا ہے، لیکن انگریزی زبان اور عصری علوم سے لا تعلقی اور غلط تعلیمی ترجیحات کی بنا پر ان کا دائرہ اثر نہایت محدود ہے۔ اور یہاں سے فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ عصرِ حاضر کے علمی و عملی تقاضوں سے بالکل بے خبر اپنی ہی دنیا میں مگن ہیں۔ چنانچہ جدید عقلی دور میں دین کی تفہیم اور اس کے مطابق ایک نظریاتی اسلامی مملکت کی تشکیل میں یہ مدارس کوئی مؤثر کردار ادا نہیں کر رہے۔
قیامِ پاکستان کے بعد سے اب تک اس صورت حال کی اصلاح کے لیے مختلف حکومتوں کی طرف سے کاغذی سطح پر اگرچہ متعدد بار پیش رفت ہوئی ہے لیکن عملی طور پر کسی بہتری اور اصلاح کے آثار دور دور تک دکھائی نہیں دیتے۔ چنانچہ ایک عرصہ سے اس بات کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے کہ سرکاری سطح پر تعلیمی اصلاحات کے لیے جدوجہد کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ سطح پر پورے ملک میں ایسے تعلیمی ادارے قائم کیے جائیں جہاں طلبہ کو ان کی دینی و عصری ضروریات پر محیط معیاری تعلیم مہیا کی جائے اور ان کے اخلاق و کردار کی بھی بہتر تربیت کا اہتمام کیا جائے۔
چنانچہ اس مقصد کے لیے ملک کے مختلف حصوں میں اہلِ درد اپنے اپنے دائروں میں دینی و عصری تعلیم اور فکری و اخلاقی تربیت کے امتزاج کی بنیاد پر تعلیمی جدوجہد میں مصروف ہیں، اور گوجرانوالہ میں شاہ ولی اللہ یونیورسٹی، الشریعہ اکیڈیمی، اور الشریعہ پبلک اسکول کا قیام بھی انہی عزائم کا آئینہ دار ہے۔
اس کے ساتھ اس امر کی ضرورت بھی روز بروز بڑھتی جا رہی ہے کہ اس رخ پر کام کرنے والے اداروں اور شخصیات کے درمیان مفاہمت و مشاورت کا بھی وقتاً فوقتاً اہتمام ہو تاکہ ان مساعی کو زیادہ مفید اور بار آور بنایا جا سکے۔ گزشتہ سال اس غرض کے لیے الشریعہ اکیڈیمی مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ کے تحت شاہ ولی اللہ یونیورسٹی میں تعلیمی کانفرنس کا اہتمام کیا گیا تھا، اور اب آپ بزرگوں کو دوسری سالانہ الشریعہ تعلیمی کانفرنس میں شرکت کی زحمت دی گئی ہے، جس کا عنوان ’’خواندگی، تعلیم اور دینی اقدار کا فروغ‘‘ تجویز کیا گیا ہے۔
ہم آپ سب حضرات اور مہمانان گرامی کا خیر مقدم کرتے ہوئے تشریف آوری پر آپ کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور اس تعلیمی جدوجہد میں راہنمائی، مشاورت، تعاون اور خصوصی دعاؤں کے خواستگار ہیں۔
تعارف و تبصرہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
’’ماہنامہ نقیبِ ختمِ نبوت امیرِ شریعت نمبر ( جلد دوم)‘‘
ماہنامہ نقیب ختم نبوت (دار بنی ہاشم، مہربان کالونی، ملتان) اس سے قبل امیر شریعت حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاری نور اللہ مرقدہ کے حالات اور جدوجہد کے حوالہ سے امیر شریعت نمبر کی ایک ضخیم جلد پیش کر کے ملک بھر کے علمی و دینی حلقوں سے دادِ تحسین پا چکا ہے۔ اور یہ اس کی دوسری جلد ہے جو پونے چھ سو صفحات پر مشتمل اور عمدہ کتابت و طباعت اور مضبوط جلد کے ساتھ مزین ہے۔
تذکرہ حضرت شاہ جیؒ کا ہے اور لکھنے والوں میں ماسٹر تاج الدین انصاریؒ، شیخ حسام الدینؒ، آغا شورش کاشمیریؒ، مولانا مجاہد الحسینی، سید عطاء الحسن بخاری، حکیم محمود احمد ظفر، ملک اسلم حیاتؒ، پروفیسر خالد شبیر احمد، حافظ عبدالرشید ارشد، حفیظ رضا پسروری، اور جانباز مرزاؒ جیسے اہلِ قلم شامل ہیں۔
سید کفیل بخاری مبارک باد کے مستحق ہیں کہ وہ اپنے عظیم المرتبت نانا کے حالاتِ زندگی کی صورت میں تاریخ کے ایک ناقابلِ فراموش باب سے نئی نسل کی شناسائی کا اہتمام کر رہے ہیں۔
’’ماہنامہ البنوریہ (حضرت جیؒ نمبر)‘‘
ماہنامہ البنوریہ (جامعہ بنوریہ سائٹ کراچی) نے امیر تبلیغ حضرت مولانا انعام الحسن کاندھلوی نور اللہ مرقدہ کے حالاتِ زندگی اور خدمات پر خصوصی اشاعت کا اہتمام کیا ہے جو علامہ سید سلمان ندویؒ، حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی، مولانا سید محمد ثانی حسنیؒ، مولانا مفتی احمد الرحمانؒ، مولانا محمد یوسف لدھیانوی، مولانا وحید الدین خان، مولانا تقی الدین ندوی، مولانا محمد رابع حسنی، مولانا محمود الحسن اعظمی، مولانا شمس الحق ندوی اور مفتی محمد جمیل خان جیسے اصحابِ قلم کی نگارشات پر مشتمل ہے۔ اور حضرت جیؒ کے حالاتِ زندگی کے ساتھ ساتھ دعوت و تبلیغ کی عالمی تحریک کے اصول و طریق کار کے بارے میں بیش قدر معلومات کا احاطہ کیے ہوئے ہے، کم و بیش ساڑھے تین سو صفحات کے اس ضخیم نمبر کی قیمت ایک سو روپے ہے۔
’’معالم العرفان فی دروس القرآن (جلد ۱۷)‘‘
حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی دامت برکاتہم کے دروس قرآن کا سلسلہ جو ایک عرصہ سے جاری ہے اور ملک بھر کے علماء و خطباء ان سے مسلسل استفادہ کر رہے ہیں، یہ اس کی آخری کڑی ہے، اور اس کے ساتھ ہی قرآن کریم کے عام فہم ترجمہ و تشریح کا یہ سلسلہ مکمل ہو گیا ہے۔ یہ جلد سورۃ الواقعہ تا سورۃ التحریم پر مشتمل ہے جبکہ آخری پارہ کے دروس اس سے قبل شائع ہو چکے ہیں۔
حضرت صوفی صاحب مدظلہ کے ان دروس کی امتیازی خصوصیت ہے کہ قرآن کریم کے عام فہم ترجمہ و تشریح کے ساتھ فلسفہ ولی اللٰہی کے مطابق دورِ حاضر کے مسائل و مشکلات کا حل پیش کرتے ہیں، اور کفر و الحاد کے فتنوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کے زہر کا تریاق بھی ان میں موجود ہوتا ہے، جو اس دور میں عام پڑھے لکھے احباب اور علماء و مدرسین کے لیے بیش بہا ذخیرہ ہے۔
دروسِ قرآن کا مکمل سیٹ بیس جلدوں پر مشتمل ہے جس کا مجموعی ہدیہ اکتیس سو پچپن (۳۱۵۵) روپے ہے، اور مکتبہ دروس القرآن، مدرسہ نصرۃ العلوم، فاروق گنج، گوجرانوالہ سے طلب کیا جا سکتا ہے۔
’’تفسیر آیت النور‘‘
حضرت شاہ رفیع الدین محدث دہلویؒ کا رسالہ تفسیر ’’آیت النور‘‘ حضرت مولانا صوفی عبدالحمید سواتی مدظلہ کے مقدمہ و تحقیق اور حضرت مولانا حافظ عزیز الرحمٰن ایم اے کے اردو ترجمہ کے ساتھ اداره نشر و اشاعت مدرسہ نصرۃ العلوم فاروق گنج گوجرانوالہ نے شائع کیا ہے، جس کے بارے میں دور حاضر کے عظیم مفسر قرآن کریم حضرت علامہ شمس الحق افغانی کا ارشاد ہے کہ
’’زیر تقریظ رسالہ کو جو میں نے دیکھا تو اس سے میں نے استفادہ کیا جس کی بنا پر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ آیت نور کے متعلق تفاسیر کا جس قدر ذخیرہ موجود ہے، یہ چھوٹا سا رسالہ ان سب پر بھاری ہے۔‘‘
ایک سو کے لگ بھگ صفحات پر مشتمل اس رسالہ کی قیمت ۳۹ روپے ہے۔
’’سفرِ دیدہ نم‘‘
تحریکِ ختم نبوت کے باہمت راہنما حضرت مولانا تاج محمود رحمہ اللہ تعالیٰ کے فرزند و جانشین صاحبزادہ طارق محمود صاحب با ذوق دانش ور ہیں جو جہد و عمل اور تحریر و تقریر دونوں جگہ اپنے والد مرحوم کی روایات کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ ۹۴ء میں انہیں حرمین شریفین کی حاضری کی سعادت حاصل ہوئی تو انہوں نے اپنے مشاہدات و تاثرات کو قلمبند کر کے دیگر احباب کو بھی شریکِ جذبات کرنے کا اہتمام کر لیا۔ یہ صرف سفرنامہ نہیں بلکہ متعلقہ مقامات کے بارے میں معلومات کا ذخیرہ بھی ہے جو صاحبزادہ کے ذوق اور محنت کا آئینہ دار ہے۔ صفحات ۱۴۰، عمده کمپوزنگ و طباعت، خوبصورت مضبوط جلد، قیمت ۷۰ روپے، ملنے کا پتہ: مکتبہ ہفت روزہ لولاک، جامع مسجد محمود، ریلوے کالونی، فیصل آباد۔
’’تصوف و سلوک‘‘
پیر طریقت حضرت مولانا غلام حبیب نقشبندی قدس اللہ سرہ العزیز کے خلیفہ مجاز حضرت مولانا حافظ ذوالفقار احمد نقشبندی زید مجدہم نے اس کتاب میں علمِ تصوف کے تعارف اور تصوف و سلوک کے آداب و اسباق پر مشتمل معلومات کو ایک اچھی ترتیب کے ساتھ جمع کیا ہے، اور تصوف و سلوک کے بارے میں مختلف حلقوں کی طرف سے اٹھائے جانے والے شبہات و سوالات کا بھی جائزہ لیا ہے۔ صفحات ۲۳۲، کمپوزنگ و طباعت معیاری، خوبصورت مضبوط جلد، قیمت درج نہیں۔
’’خطباتِ دین پوری (جلد سوم)‘‘
پاکستان کے معروف خطیب حضرت مولانا عبد الشکور دین پوری رحمہ اللہ تعالٰی کے خطبات کے دو مجموعے اس سے قبل منظر عام پر آچکے ہیں، اور یہ ان کے خطبات کی تیسری جلد ہے جس میں عظمتِ قرآن، صحابہ کرامؓ کا عشقِ رسولؐ، شادی و نکاح، فاروقؓ و حسینؓ، موت و حقوقِ والدین، فکرِ آخرت، جہاد فی سبیل اللہ، اور کلمہ طیبہ جیسے اہم عنوانات پر مولانا دین پوری کے خطبات کو جمع کیا گیا ہے۔
خطبات کے مرتب مولانا قاری جمیل الرحمان اختر ہیں جو ان معلوماتی خطبات کو خوبصورت ترتیب کے ساتھ پیش کر کے خطباء کرام کا کام آسان کر رہے ہیں اور ان کی دعائیں لے رہے ہیں۔ صفحات پونے چار سو، عمدہ کمپوزنگ و طباعت، مضبوط جلد، قیمت ایک سو چالیس روپے، ملنے کا پتہ: جامعہ حنفیہ قادریہ، ۲۸۵ جی ٹی روڈ باغبانپورہ، لاہور۔
’’معارف التجويد‘‘
شعبہ تجوید معارفِ اسلامیہ اکادمی، گکھڑ ضلع گوجرانوالہ کے صدر مدرس قاری حبیب الرحمان ہزاروی صاحب نے زیر نظر کتاب میں تجوید کے مسائل و احکام مرتب کیے ہیں اور فنی مسائل کے ساتھ ساتھ قرآن کریم کی جمع و ترتیب اور قراء عشرہ کے تعارف کے بارے میں مفید معلومات بھی شامل کر دی ہیں۔ تجوید و قراءۃ کے نصاب کے لیے یہ ایک مفید کتاب ہے۔ صفحات ۱۳۰، قیمت درج نہیں، ملنے کا پتہ: ندوۃ المعارف، گکھڑ ضلع گوجرانوالہ۔
’’نصیر المنطق‘‘
یہ فنِ منطق میں اردو کا ایک مختصر اور جامع رسالہ ہے جو مدرسہ مطلع العلوم بنارس (انڈیا) کے استاد حضرت مولانا محمد یوسف عباسی پشاوری کی تالیف ہے اور مکتبہ شجاعت خان راحت آباد ڈاک خانہ فارسٹ کالج پشاور کی طرف سے فاضل نوجوان مولانا شمس الرحمان نعمانی نے شائع کیا ہے۔ ستر کے لگ بھگ صفحات کے اس رسالہ کی عام قیمت ۱۴ روپے جبکہ طلبہ کے لیے ۱۲ روپے ہے اور اسے جامعہ مظاہر العلوم جی ٹی روڈ گوجرانوالہ سے طلب کیا جا سکتا ہے۔
’’تحریفِ بائبل بزبانِ بائبل (حصہ انجیل متی)‘‘
مولانا عبد اللطیف مسعود بائبل کے مطالعہ کا خصوصی ذوق رکھتے ہیں اور بائبل ہی کی زبان میں بائبل کے تحریف شدہ ہونے پر مسلسل مقالات و مضامین پیش کرنے کے علاوہ ’’تحریفِ بائبل بزبانِ بائیل‘‘ کے عنوان سے تقریباً ایک ہزار صفحات کی ضخامت پر مشتمل ایک بیش قیمت اور معلوماتی کتاب بھی تالیف کر چکے ہیں۔ یہ کتاب ابھی کتابت کے مرحلہ میں ہے اور اس کا ایک حصہ انہوں نے زیر نظر رسالہ کی صورت میں الگ شائع کیا ہے جس میں انجیل متی کے حوالے سے بائبل کے تضادات اور تحریفات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ صفحات ۶۸، ناشر: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ڈسکہ۔ ملنے کا پتہ: جامع مسجد خضری، ڈسکہ ضلع سیالکوٹ۔
’’مسئلہ توحید قرآن مجید اور کتبِ سابقہ کی روشنی میں‘‘
مولانا عبد اللطيف مسعود نے زیر نظر رسالہ میں مسئلہ توحید کے مختلف پہلوؤں کی وضاحت کی ہے اور قرآن کریم کے ساتھ ساتھ کتبِ سابقہ کے حوالے اور عبارات پیش کر کے عقیدہ توحید کی اہمیت پر روشنی ڈالی ہے۔ صفحات ۳۶، ملنے کا پتہ: جامع مسجد خضریٰ، ڈسکہ ضلع سیالکوٹ۔
’’اسلامی انقلاب کی جدوجہد‘‘
ملک کے معروف دانشور ڈاکٹر محمد فاروق خان نے اسلام کی دعوت و تبلیغ اور دین کے غلبہ و نفاذ کے لیے کام کرنے والی مختلف تحریکات کے افکار و نظریات اور طریق کار کا جائزہ لیا ہے اور زیر نظر کتابچہ میں ان کی کوتاہیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ’’انقلاب کا صحیح لائحہ عمل‘‘ کے عنوان سے اپنا نقطہ نظر وضاحت کے ساتھ پیش کیا ہے۔ صفحات ۱۶۸، قیمت ۳۰ روپے، ناشر: المورد ۹۸/ای، ماڈل ٹاؤن، لاہور۔
’’جب حضور ﷺ آئے‘‘
محمد متین خالد صاحب باہمت اور خوش ذوق نوجوان ہیں جو ختم نبوت اور تحفظ ناموس رسالتؐ کے محاذ پر مسلسل سرگرم رہتے ہیں۔ زیر نظر کتاب میں انہوں نے جناب رسالت مآب ﷺ کی ولادت با سعادت کے بارے میں مختلف مکاتب فکر کے اکابر علماء کرام اور اصحاب قلم کی منتخب نگارشات کا ایک حسین گلدستہ پیش کیا ہے جو ان کی محبتِ رسولؐ کے عمدہ ذوق کا آئینہ دار ہے۔ صفحات ۲۲۴، خوبصورت مضبوط جلد، قیمت ایک سو پچاس روپے، ناشر: مکتبہ تعمیر انسانیت، اردو بازار، لاہور۔
موسم برسات میں ہیضہ سے بچاؤ کے لیے خصوصی تدابیر
حکیم عبد الرشید شاہد
جب کھایا پیا معدہ میں ہضم نہ ہو اور خراب ہو کر دست اور قے کے ذریعہ خارج ہونے لگے تو اسے سوء ہضم، بدہضمی اور تخمہ کا نام دیتے ہیں۔ ہاضمہ کی یہ خرابی ہر موسم، عمر اور ملک کے آدمی کو کبھی نہ کبھی ہوتی رہتی ہے اور اس کا علاج بھی آسان ہے۔
علامات
ہیضہ شروع ہوتے ہی پیٹ میں درد اور دست، قے جاری ہو جاتے ہیں۔ دستوں میں پہلے کھائی ہوئی چیزیں اور بعد میں چاولوں کی پیچ جیسا فضلہ خارج ہوتا ہے۔ قے ہو تو غذا کے بعد زرد اور سفید پے در پے آتی ہے۔ دوسرے درجے میں دست اور قے شدت اختیار کر لیتے ہیں۔ بے چینی اور پیاس کی زیادتی، ہاتھ پاؤں میں تشنج (کھچاوٹ)، اور پانی پیتے ہیں تو فورًا نکل جاتا ہے۔ تیسرے درجے میں خون ملا پانی قے کے ذریعے ظاہر ہونے لگتا ہے، آنکھیں اندر کو دھنس جاتی ہیں، بولنا مشکل ہو جاتا ہے۔
علاج میں قوتِ ارادی کو مضبوط کرنا ضروری ہے۔ مریض کو ہر دم تسلی دیں۔ کھلی ہوا میں رکھیں، تیمار داروں کا ہجوم نہ ہونے دیں، مریض کے بستر پر سبز پودینہ اور کافور رکھیں، ان کی خوشبو سے مریض کو بہت فائدہ ہوتا ہے۔
علاج
شدتِ پیاس میں برف کے ٹکڑے چوستے رہیں، غذا بالکل بند کر دیں۔ دست اور قے میں کمی ہونے پر بھوک ستائے تو یخنی، شوربہ، یا دال مونگ کا شوربہ پودینہ اور سبز ٹماٹر ملا کر پکائیں۔
ہو الشافی
(۱) چائے والی پتی کا قہوہ بنا کر نصف لیموں نچوڑ کر دن میں تین مرتبہ پلائیں، ان شاء اللہ پہلی خوراک سے ہی نمایاں فرق ہو گا۔
(۲) سبز پودینہ تولہ، زرشک شیریں ۲ تولہ، املی ایک چھٹانک، تین پاؤ پانی میں دو جوش دے کر چھان کر سرد کر کے میٹھا ملا کر گھونٹ گھونٹ پلاتے رہیں۔
(۳) کالی مرچ تولہ، نمک سیاه تولہ، ادرک تازه تولہ، الائچی بڑی تولہ، پودینہ خشک تولہ کوٹ چھان کر رکھ لیں۔ ہر گھنٹے کے بعد دوچنے کے برابر جوانوں کو اور چنے کے برابر بچوں کو دیں۔
نوٹ: اگر مریض کا جسم بالکل بے جان ہو گیا ہو تو دونوں بغلوں کے نیچے ایک پیاز چھیل کر نصف نصف رکھ دیں، پندرہ منٹ بعد نکال دیں، عجیب چیز ہے۔
دینی مدارس اور زمانے کے تقاضے
مولانا ابوالکلام آزادؒ
وہ تعلیم کہ جس تعلیم سے ملک کے بہترین مدبر، ملک کے بہترین منتظم، اور ملک کے بہترین عہدہ دار پیدا ہوتے تھے، آج ان ہی مدرسوں کو یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ یہ بالکل نکمے ہیں، ان مدرسوں سے نکلنے کے بعد مسجدوں میں بیٹھ کر یہ لوگ بس خیرات کی روٹیاں توڑ لیں۔ کتنے افسوس کی بات ہے۔ اس میں شک نہیں کہ جو لوگ ایسا سمجھتے ہیں، انہوں نے حقیقت کو نہیں سمجھا ہے، لیکن ہمیں یہ ماننا پڑے گا اور اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ ہم زمانے سے دور ہو گئے ہیں۔
میرے پاس ایک بہت ہی جچی تلی بہتر طریقے سے لکھی ہوئی ایک تحریر آئی کہ چونکہ آپ گورنمنٹ آف انڈیا کے صیغہ تعلیم میں موجود ہیں، تو کیا یہ توقع کی جائے کہ جو عربی فارسی علوم کے مدرسے موجود ہیں، جہاں سے بہتر سے بہتر مستند طلبا فارغ ہو کر ڈگریاں حاصل کر کے نکلتے ہیں، کون سی وجہ ہے کہ ان کے لیے ملک کی انتظامی زندگی میں وہ دروازے کھلے نہ ہوں جو انگریزی تعلیم کے حاصل کیے ہوئے اور پڑھے ہوئے لوگوں کے لیے ہیں؟ کون سی وجہ ہے کہ جس تعلیم کو حاصل کر کے فتح اللہ شیرازی اور ٹوڈرمل پیدا ہوتے تھے، آج اس تعلیم سے جو لوگ نکلے ہیں ان پر ملک کے انتظامی دروازے بندے ہوں؟
مجھے ان کے جواب دینے کی مہلت نہیں ہوئی۔ لیکن میں آپ سے کہتا ہوں کہ اس کا جواب اسی میں موجود ہے۔ آپ نے کبھی اس کی کوشش نہیں کی کہ آپ اپنے مدرسوں کو زمانہ کی چال کے ساتھ جوڑ سکیں۔ زمانہ چلتا رہا اور ترقی پر پہنچ گیا اور آپ وہیں رہے جہاں تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ آپ کی تعلیم کو زمانہ کی مانگوں سے کوئی رشتہ نہیں رہا۔ اور زمانہ نے آپ کے خلاف آپ کو نکما سمجھ کر فیصلہ کر دیا۔ زمانہ نے آپ کو بیکار سمجھا ہے، آپ کو نکما سمجھا ہے۔
مدرسہ میں عربی ان کو پڑھنا ہے تو یہ مجبوری ہے کہ کسی نہ کسی مولوی کو رکھ لیا، لیکن کوئی حقیقی وقعت آپ کے دل میں مولوی کی نہیں ہے۔ یہ کتنے افسوس کی بات ہے۔ آپ کے دل میں اس کی عزت ہونی چاہئے۔ تو میں آپ سے کہتا ہوں کہ اس کی تہ میں جو چیز ہے، وہ زمانے کی ناقدر شناسی ہے۔ ہم کو اپنی جگہ اس کے ساتھ یہ بھی جاننا چاہئے کہ ہمارا فرض تھا کہ ہم زمانے کے تقاضوں کا ساتھ دیتے، مگر ہم نے زمانے کا ساتھ نہیں دیا۔
(خطبات مولانا ابوالکلام آزادؒ)
دینی تعلیم کے مراکز اور آج کے تقاضے
شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنیؒ
خدا کا شکر ہے جمعیت علماء ہند کی اس تجویز کو مسلمانوں کی تائید حاصل ہوئی۔ ماتحت جمعیتوں نے جگہ جگہ شبینہ مکاتب قائم کیے۔ مرکزی جمعیت علماء ہند کی طرف سے تباہ شدہ اور پس ماندہ علاقوں میں مکاتب قائم کیے گئے۔ ترتیبِ نصاب کے لیے ایک تعلیمی کمیٹی بنائی گئی جس نے ابتدائی درجات کا ایسا نصاب مرتب کیا کہ اگر پانچ سال تک بچوں کو ایک گھنٹہ یومیہ تعلیم دی جائے تو بچہ تجوید و قراءت کے ساتھ قرآن کریم بھی ختم کر سکتا ہے اور حسبِ ضرورت عقائد، عبادات اور سیرت و اخلاق اور اسلامی تہذیب سے بھی پوری واقفیت حاصل کر سکتا ہے۔ اور اگر نصاب کی ہدایات پر حضرات اساتذہ عمل کریں تو بچہ کی اخلاقی اور مذہبی تربیت بھی کافی حد تک ہو سکتی ہے، لیکن اس جدوجہد کے باوجود کامیابی کی منزل بہت دور ہے اور اس کے لیے لا محالہ عام مسلمانوں اور اسلامی اداروں کے تعاون کی شدید ضرورت ہے۔
اس پر آشوب دور میں اگر جمعیت علماء ہند کی تمام شاخوں کی جدوجہد اور دوسرے اسلامی اداروں کے تعاون سے مسلمانوں میں اسلامی تعلیم کا مذاق پیدا ہو جاتا ہے، اور ہر ایک مسلمان اپنے فرض کو پوری طرح محسوس کرنے لگتا ہے کہ وہ ایک ’’معلم‘‘ ہے اور سید الانبیاء ﷺ کے ارشاد گرامی (بعثت معلما میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں) کو ہر ایک مسلمان اپنی زندگی کا لائحہ عمل قرار دینے لگتا ہے تو ملتِ اسلامیہ ہر ایک خطرہ سے محفوظ ہو جاتی ہے۔
حضرات کرام! ابتدائی مذہبی تعلیم کی جدوجہد کے ساتھ وہ تعلیمی مرکز اور علومِ شرقیہ کے کامیاب ادارے نظر انداز نہ ہونے چاہئیں جن کی جلیل القدر علمی خدمات ہماری تاریخ کا روشن باب بن چکی ہیں۔ یہ مسلمانوں کا گرانقدر سرمایہ ہیں اور ایک مقدس امانت ہیں جس کو ہمارے بزرگوں نے ہمارے سپرد کیا ہے۔ اس امانت کو محفوظ رکھنا اور اس سرمایہ کو ترقی دینا ہماری دینی و ملّی حمیت کا گراں بہا فرض ہے جو ایثار و اخلاص کا مطالبہ کرتا ہے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی پاک نہیں ہے کہ ایک زندہ جماعت ایثار میں کبھی کوتاہی نہیں کرتی۔ یؤثرون علیٰ انفسہم ولو كان بہم خصاصۃ (سورہ حشر)
ہمارے تعلیمی پروگرام کا ایک ضروری حصہ یہ بھی ہے کہ مسلمان اپنی ذمہ داری پر ایسے ابتدائی مدارس قائم کریں جن میں اردو زبان اور ابتدائی مذہبی تعلیم و تربیت کے ساتھ سرکاری پرائمری سکولوں کے تمام ضروری مضامین بھی نصاب میں شامل کیے جائیں۔
(خطبہ صدارت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ ۱۹۵۱ء، حیدر آباد، دکن)
انگریزی زبان اور علمِ نافع
شیخ التفسیر مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ
بے شک ہمارے ملک میں اردو زبان کو اس ملک کی ہمہ گیر زبان ہونا چاہئے اور اس کے مقابلہ میں انگریزی کو ثانوی درجہ حاصل ہونا چاہئے۔ انگریزی زبان کو بالکل نظر انداز کرنا اچھا نہ ہوگا کیونکہ اس وقت دنیا کی سب سے زیادہ ترقی یافتہ اور ہمہ گیر زبان میں بھی سائنسی علوم اور جدید انکشافات کی تعبیر و تشریح کا سوال جب بھی پیدا ہو گا انگریزی زبان کی ضرورت پڑے گی۔
تمدن جدید نے انسان کو از حد خود غرض، استحصال پسند، طامع اور بے رحم بنا دیا ہے۔ آرام طلبی اور تعیش نے انسانیت کو بہت ہی غلط راستے پر ڈال دیا ہے۔ انسان اصلی اور مصنوعی ضروریات میں فرق نہیں کر سکتا اور بہت سی مصنوعی خود ساختہ ضرورتوں کو اصلی اور بنیادی ضروریات کی طرح سمجھتا ہے۔ اب اس کا علاج بغیر عمل اور اخلاص اور پختہ ایمان و ایثار کے کیسے ہو سکتا ہے؟ تعلیم کا حال بھی اسی طرح ابتر ہے اور نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے دینی مدارس ہوں یا دنیاوی، کالج ہوں یا یونیورسٹیاں، بڑے چھوٹے تعلیمی اداروں میں پوری طرح شیطان گھسا ہوا ہے اور اس نے اپنا پورا تسلط جمایا ہوا ہے۔
ہماری ناقص رائے میں سب سے پہلے تو تعلیم اور صحت دونوں کی بنیاد دینی اقدار پر رکھنی ضروری ہے، اس لیے کہ خدا شناسی اور خود شناسی دونوں ضروری ہیں۔ ذہنی، دماغی اور روحی تطہیر کا ہونا ضروری ہے اور جب تک ہمارا مطمح نظر علمِ نافع کا حصول نہ ہو، اصلاحِ حال ناممکن ہو گا ’’اللھم انی اعوذ بک من علم لا ينفع‘‘ آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم کا فرمان مبارک ہے، اے اللہ! میں تیری ذات کے ساتھ پناہ چاہتا ہوں، دنیا میں اور عقبی میں جو علم ضرر رساں ہو، اس سے میں پناہ چاہتا ہوں۔