بلبلاتا ہوا انسانی معاشرہ
عقل و خواہش کی حکمرانی کا ڈراپ سین
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
اسلام دین فطرت ہے اور نسل انسانی کے لیے ان تعلیمات و ہدایات کی نمائندگی کرتا ہے جو خالق کائنات نے حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوات والتسلیمات کے ذریعے نازل فرمائی ہیں۔ قرآن کریم میں متعدد مقامات پر اس امر کی صراحت موجود ہے کہ قرآنی تعلیمات نئی نہیں بلکہ حضرات انبیاء کرامؑ پر نازل ہونے والی سابقہ وحی کی مصدق و موید اور اس کی مکمل ترین شکل ہیں۔ اسی طرح یہ بھی ایک مسلمہ تاریخی حقیقت ہے کہ انبیاء کرامؑ پر نازل ہونے والی کتابوں اور ان کی تعلیمات کا کوئی ذخیرہ اگر آج تاریخ کے ریکارڈ میں محفوظ ترین صورت میں موجود ہے تو وہ صرف قرآن کریم اور جناب رسول اکرمؐ کی سنت و سیرت ہے، اس لیے اس وقت دنیا میں آسمانی تعلیمات اور وحی الٰہی کی نمائندگی کا حق صرف اور صرف قرآن و سنت کو ہے۔ اور انسانی معاشرہ کی قیادت اور راہنمائی کے لیے وحی اور عقل کے درمیان جو معرکہ آخری اور فیصلہ کن دور میں داخل ہو چکا ہے اس میں عقلِ انسانی کی بنیاد پر تشکیل پانے والی سولائزیشن اور نظام ہائے حیات کا اصل مقابلہ قرآن و سنت سے ہی ہے۔
انسانی معاشرہ کی راہنمائی کے لیے عقل اور خواہشات کا ہمیشہ سے گٹھ جوڑ رہا ہے۔ خواہشات انسانی سوسائٹی میں باہمی ٹکراؤ کا باعث بنتی ہیں، فساد اور بد اَمنی کو جنم دیتی ہیں اور خرابیاں پیدا کرتی ہیں۔ جبکہ عقل ان خواہشات کی نگرانی اور کنٹرول کی دعویدار ہے، لیکن یہ ایسا کمزور نگران ہے جو خود کو خواہشات کے منہ زور گھوڑے کی پشت پر بے بس پا کر اکثر اوقات اپنے آپ کو بھی اسی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتا ہے اور یوں معاشرہ خواہشات کے خوفناک عفریت کے ہاتھوں فتنہ و فساد کی آماجگاہ بن کر رہ جاتا ہے۔ نسلِ انسانی کی تاریخ گواہ ہے کہ عقل کی کمزور لگام خواہشات کے منہ زور گھوڑے کو کسی دور میں بھی کنٹرول نہیں کر سکی اور انسانی خواہشات نے صرف اس وقت فطرت کے دائرے میں رہنا قبول کیا جب ان پر وحی الٰہی کی حکمرانی قائم ہوئی۔
وحی، عقل اور خواہشات کی طویل کشمکش کی پوری تاریخ پر نظر ڈال لیجئے، عقل کو انسانی خواہشات پر کنٹرول میں اسی وقت کامیابی ہوئی ہے جب اس نے وحی کی راہنمائی کو قبول کر کے اس کے معاون کے طور پر خواہشات کا مقابلہ کیا ہے۔ اور جب بھی عقل نے وحی الٰہی سے بے نیاز ہو کر انسانی خواہشات کا سامنا کرنے کی کوشش کی ہے اسے شکست اور رسوائی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا۔ آج کا انسانی معاشرہ اس کی مکمل تصویر پیش کر رہا ہے۔ عقل نے آزادی، مساوات اور سولائزیشن کے نام پر انسانی خواہشات کو قواعد و ضوابط کے ایک دائرے کا پابند کرنا چاہا اور آسمانی تعلیمات اور وحی کو ذاتی عقیدہ، عبادت اور اخلاق کے حصار میں بند کر کے زندگی کے اجتماعی شعبوں میں اس کی عملداری کو مسترد کر دیا، لیکن عقل کی اس تین صدیوں پر محیط جدوجہد کا نتیجہ کیا سامنے آیا؟ آج پوری دنیا میں انسانی معاشرے پر خواہشات کی حکمرانی ہے اور جس قوم، طبقہ، گروہ یا فرد کی رسائی طاقت اور عقل کے ہتھیاروں تک ہو جاتی ہے قاعدے، ضابطے، اصول، نظریات اور اخلاق اس کے نزدیک بے معنی ہو کر رہ جاتے ہیں۔
عقل کا اس کے سوا کوئی کردار باقی نہیں رہ گیا کہ وہ خواہشات کی حکمرانی کے لیے جواز کے دلائل پیش کرتی رہے اور وحشیانہ خواہشات کا شکار ہونے والے مظلوم انسانوں کو یہ کہہ کر تسلی دیتی رہے کہ چونکہ انسان کی ہر خواہش کا پورا ہونا اس کا حق ہے اور جس خواہش پر سوسائٹی کی اکثریت کا اتفاق ہو جائے اسے قانون کا درجہ حاصل ہوجاتا ہے، اس لیے ۴۹ فیصد کا کام صرف یہ ہے کہ وہ ۵۱ فیصد کی خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ بنیں اور خاموشی کے ساتھ انہیں پورا کرتے رہیں۔ قتل و غارت، لوٹ مار، بھوک، جہالت، نسل، زبان اور علاقہ کی بنیاد پر منافرت، کنواری ماؤں اور ناجائز بچوں میں مسلسل اضافہ، خاندانی زندگی کی تباہی، رشتوں کے تقدس کی پامالی اور عزت و عفت کی بے حرمتی کے جو مظاہر آج انسانی معاشرہ میں ہر طرف دکھائی دے رہے ہیں وہ کس کے پیدا کردہ ہیں؟ انہیں خواہشات نے جنم دیا ہے اور عقل انہیں جواز کے دلائل فراہم کرنے کے سوا کچھ نہیں کر سکی۔
عقل اور خواہشات کے گٹھ جوڑ نے وحی کو انسانی زندگی سے بے دخل کرنے کا جو ڈرامہ تین صدیاں قبل شروع کیا تھا وہ تکمیل کو پہنچ گیا ہے اور اس کا ڈراپ سین انسانی سوسائٹی کی صورت میں آج ہمارے سامنے ہے۔ قرآن کریم نے اس کشمکش کا ذکر چودہ سو برس قبل ان الفاظ سے کر دیا تھا ان یتبعون الی الظن وما تھوی الانفس ولقد جاءھم من ربھم الھدٰی (النجم) ’’یہ لوگ صرف ظن (انتہائے عقل) اور خواہشات کی پیروی کرتے ہیں حالانکہ ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے ہدایت آچکی ہے‘‘۔
اسلام عقل کے کردار اور ضرورت سے انکار نہیں کرتا بلکہ قرآن کریم نے بار بار غور و فکر اور تدبر کی دعوت دی ہے اور عقل کے استعمال کی تلقین کی ہے۔ اسلام حکمت و دانش کا دین ہے اور فقہ و اجتہاد اس کے بنیادی اصولوں میں شامل ہیں لیکن عقل کو حکمران کی نہیں بلکہ معاون کی حیثیت دی ہے۔ اور تاریخ گواہ ہے کہ عقل کو کبھی حکمران کا درجہ حاصل نہیں رہا، وہ اگر وحی کی معاون نہیں بنی تو اسے طاقت یا خواہشات کی چاکری کرنا پڑی ہے۔ قدرت نے اسے معاونت کے لیے پیدا کیا ہے اور وہ ہمیشہ وحی، طاقت یا خواہشات میں سے کسی کی معاون رہی ہے۔ اس لیے عقل کا صحیح کردار یہی ہے کہ وحی کے دائرے میں پابند ہو اور اس کے احکام کی تعمیل کے لیے معاونت کرے۔
اسلام خواہشات سے بھی انکار نہیں کرتا بلکہ وہ ترکِ خواہشات اور رہبانیت کو عبادت کا درجہ دینے کا روادار نہیں ہوا۔ اسلام نے انسان کی ہر فطری خواہش کو تسلیم کیا ہے اور اس کی تکمیل کا حق دیا ہے لیکن خواہشات کی بے لگامی کو اسلام قبول نہیں کرتا اور خواہشات کو آسمانی تعلیمات اور وحی الٰہی کی ہدایات کا پابند دیکھنا چاہتا ہے۔ کیونکہ اس پابندی کے بغیر خواہشات کو کنٹرول کرنے کی کوئی صورت ممکن نہیں ہے اور خواہشات کو کنٹرول کے دائرے میں رکھے بغیر معاشرہ میں امن و سلامتی کا قیام نہیں ہو سکتا۔ اسلام انسان پر خواہشات کی حکمرانی کا نہیں بلکہ خواہشات پر انسان کی حکمرانی کا قائل ہے۔ اور اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ جو انسان اپنی خواہشات پر کنٹرول نہیں کر سکتا وہ انسانی فطرت پر قائم نہیں رہا۔ اور خواہشات پر حکمرانی عقلِ محض کے ذریعے نہیں بلکہ وحی و عقل کے امتزاج اور توفیق الٰہی سے ہی قائم ہو سکتی ہے۔
آج انسانی معاشرہ کا سب سے بڑا مسئلہ بے لگام اور روز افزوں خواہشات پر کنٹرول حاصل کرنا ہے کیونکہ اس کے بغیر امن، خوشحالی، سلامتی اور سکون کا حصول ممکن نہیں ہے۔ گزشتہ تین صدیوں کے تلخ تجربہ نے یہ بات ایک بار پھر ثابت کر دی ہے کہ انسانی خواہشات کو کنٹرول کرنا عقلِ محض کے بس کی بات نہیں ہے۔ عقل کو زود یا بدیر وحی کے سائے میں آنا پڑے گا اور آسمانی تعلیمات کی بالادستی قبول کرنا ہوگی۔ اور انسانی تاریخ کے ریکارڈ پر یہ آسمانی تعلیمات صرف اور صرف قرآن و سنت کی تعلیمات کی صورت میں موجود ہیں جو وحی، عقل اور خواہشات کے خوبصورت امتزاج اور توازن کی علمبردار ہیں۔ عقلِ انسانی اس حقیقت کا جس دن ادراک کر لے گی وہ انسانی معاشرہ میں ایک صحت مند، خوشگوار اور فطری انقلاب کا یومِ آغاز ہوگا۔
انسانی اخلاق کی چار بنیادیں
حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ
ہمارے نزدیک شاہ ولی اللہؒ حکیم و صدیق ہیں جنہوں نے سارے ادیان، مذاہب اور شریعتوں کا اصلاً ایک ہونا ثابت کیا اور پھر ان بنیادی اصولوں کا تعین بھی کیا جو ہر دین کا مقصودِ حقیقی تھے اور ہر مذہب اور شریعت ان کو پورا کرنا اپنا فرض سمجھتی رہی۔ شاہ صاحب ’’ہمعات‘‘ میں لکھتے ہیں: اس فقیر پر یہ بات روشن کی گئی ہے کہ تہذیبِ نفس کے سلسلے میں جو چیز شریعت میں مطلوب ہے، وہ چار خصلتیں ہیں۔ حق تعالیٰ نے انبیاء علیہم السلام کو انہی چار خصلتوں کے لیے بھیجا۔ تمام ملل حقہ میں انہی چار خصلتوں کا ارشاد اور ان کے حاصل کرنے کی ترغیب و تحریص ہے۔ ’’بر‘‘ یعنی بھلائی انہی چار خصلتوں کا حاصل ہے اور گناہ سے مراد وہ عقائد و اعمال اور اخلاق ہیں جو انہی چار خصلتوں کی ضد ہیں۔
ان چار خصلتوں میں سے ایک طہارت ہے۔ اس کی حقیقت اور اس کی طرف میلان ہر سلیم الفطرت انسان کے اندر ودیعت کیا گیا ہے۔ یہ گمان نہ کر لینا کہ یہاں طہارت سے مراد محض وضو اور غسل ہے، بلکہ طہارت کا اصل مقصود وضو اور غسل کی روح اور ان کا نور ہے۔ جب آدمی نجاستوں میں آلودہ ہو اور میل کچیل اور بال اس کے بدن پر جمع ہوں، بول و براز اور ریح نے اس کے معدے میں گرانی پیدا کی ہو، تو ضروری اور لازمی بات ہے کہ وہ انقباض، تنگی اور حزن اپنے اندر پائے گا۔ اور جب وہ غسل کرے گا اور زائد بالوں کو دور کرے گا اور صاف لباس زیب تن کرے گا اور خوشبو لگائے گا تو اسے اپنے نفس میں انشراح، سرور اور انبساط کا احساس ہوگا۔ حاصل کلام یہ ہے کہ طہارت یہی وجدانی کیفیت ہے جو انس اور نور سے تعبیر کی جا سکتی ہے۔
دوسری خصلت اخبات (خدا تعالیٰ کے لیے خضوع) یعنی نهایت درجے کی عجز و نیاز مندی ہے۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ ایک سلیم الفطرت شخص جب طبعی اور خارجی تشویشوں سے فراغت کے بعد صفاتِ الہٰی، اس کے جلال اور اس کی کبریائی میں غور کرتا ہے تو اس پر ایک حیرت اور دہشت کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ یہی حیرت اور دہشت خشوع و خضوع یعنی نیاز مندی کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں ایک سوچنے والا انسان جب کائنات کی اس گتھی کو حل کرنے سے عاجز آ جاتا ہے، اور اس عجز اور افتادگی کی حالت میں وہ کسی اور قوت کے سامنے اپنے آپ کو بے دست و پا پاتا ہے، تو اس کی یہ بے دست و پائی اسے مجبور کرتی ہے کہ وہ اپنے سے بلند تر کسی اور قوت کو مانے۔ ایک سائنس دان نے اسے مادے سے تعبیر کیا ہے، فلسفی نے اسے عقلِ کُل مانا، اور مذہبی اسے خدا کہتا ہے۔ بہر حال انسان کہیں نہ کہیں اس کائنات کے سامنے اپنے آپ کو ضرور مجبور پاتا ہے اور یہی مجبوری اسے خضوع کی طرف لے جاتی ہے۔
تیسری خصلت سماحت (فیاضی) ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ نفس طلبِ لذت، حبِ انتقام، بخل اور حرص وغیرہ سے مغلوب نہ ہو۔ اس کے ذیل میں عفت، جدوجہد، صبر و عفو، سخاوت، قناعت اور تقویٰ تمام آ جاتے ہیں۔ شکاور فرج (شرمگاہ) کی خواہش کے قبول نہ کرنے کا نام عفت ہے۔ آسائش اور ترکِ عمل کی خواہش کو قبول نہ کرنے کا نام جدوج ہے، اور جزع و فزع (رونا پیٹنا) کو روکنا صبر ہے، اور انتقام کی خواہش کو دبانا عفو، اور خواہش بخل کو چھوڑ دینے کا نام سخاوت، اور حرص کو قبول نہ کرنا قناعت ہے، شریعت کی بنائی ہوئی حدوں سے تجاوز نہ کرنا تقویٰ ہے۔
چوتھی فصلت عدالت ہے۔ سیاسی اور اجتماعی نظاموں کی روح رواں یہی خصلت ہے۔ ادب، کفایت، حریت، سیاستِ مدنیہ اور حسنِ معاشرت وغیرہ سب عدالت کی شاخیں ہیں۔ اپنی حرکات و سکنات پر نگاہ رکھنا، عمدہ اور بہتر وضع اختیار کرنا اور دل کو ہمیشہ اس کی طرف متوجہ رکھنا ادب ہے۔ جمع اور خرچ، خرید و فروخت اور تمام معاملات میں عقل و تدبر سے کام لینا کفایت ہے۔ خانہ داری کے کاموں کو بخوبی انجام دینا حریت ہے اور شہروں اور لشکروں کا اچھا انتظام کرنا سیاستِ مدنیہ ہے۔ بھائیوں میں نیک زندگی بسر کرنا، ہر ایک کے حق کو پہچاننا اور ان سے الفت و بشاشت سے پیش آنا حسنِ معاشرت ہے۔
یہی چار اخلاق ہیں جن کی تکمیل سے انسانیت کو ترقی ملتی ہے اور ان کے چھوڑنے سے انسان قعرِ مذلت (ذلت کے گڑھے) میں گرتا ہے۔ اس دنیا میں جتنے بھی تمدن بنے، اور جس قدر بھی فکری ادارے قائم ہوئے، اور جو بھی شریعتیں معرضِ وجود میں آئیں، اگر ان کے پیشِ نظر انسانوں کو اٹھانا اور ان کی حالت کو درست کرنا تھا تو انہوں نے انہی چار اخلاق کو سنوارنے کی کوشش کی۔ اس سلسلے میں اسلام، عیسائیت اور یہودیت کا معاملہ تو بالکل ظاہر ہے، لیکن اگر چینی فلسفۂ اخلاق، ہندوؤں کے مذہبی فکر، ایرانیوں کے نظامِ حیات، یونانیوں کی حکمت، اور قدیم مصریوں کے مذہب کا بغور مطالعہ کریں تو آپ کو کسی نہ کسی صورت میں ان چار اخلاق کی درستی اور ان کی ضدوں سے بچنے کی تاکید ملے گی۔
ایرانی حکم بزر جمهر اقوال، افلاطون کا اپنی کتاب ’’ریاست‘‘ میں عدالت کو زندگی کی بنیاد ثابت کرنا، قدیم مصریوں کا مذہبی صحیفہ ’’کتاب الموتی‘‘ کے ارشادات، ہندوؤں کے ویدوں اور گیتا کا پُرحکمت کلام، اور چینیوں کے اخلاقی فلسفے ’’کنفوشس‘‘ کی تعلیمات، ان سب کا حاصل کم و بیش یہی تھا کہ انسانیت کے ان چار بنیادی اخلاق کو ترقی دی جائے، اور تمام رسول اس لیے مبعوث ہوئے اور تمام حق شناس حکیم اور صدیق اپنی اپنی قوموں کو یہی پیغام سناتے رہے۔
لہٰذا اگر ہم اس حقیقت کو سمجھ جائیں تو پھر مسلمانوں اور غیر مسلموں کے نظریہ اخلاق میں اصولی نزاع نہ رہے گا اور ہم میں فراخ دلی اور رواداری بھی پیدا ہو جائے گی۔ بے شک سماج کے چھوٹے طبقوں میں تو چپقلش موجود رہے گی، لیکن ایسے ہی جیسا کہ ایک ہی ملت کے مختلف فرقوں میں مخصوص رجحانات اور استعدادوں کی بنا پر ذہنی اور مذہبی اختلافات ہوتے ہیں، لیکن جہاں تک اصحابِ عقل و رُشد کا تعلق ہے، ان کو آفتابِ نبوت سے پھوٹی ہوئی شعاؤں اور حکیم کے دماغ سے نکلے ہوئے اخلاقی نظام میں فرقِ مراتب تو ضرور نظر آئے گا لیکن وہ دونوں کو ایک دوسرے کی ضد نہ سمجھیں گے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ صالح غیرمسلم اور صالح مسلمان ایک دوسرے کی خوبیوں کو بحیثیت انسان کے نظرِ انصاف سے جانچنے کے قابل ہوں گے۔
ہمارے خیال میں یہ تصور کُل بنی نوع انسان کو موجوہ خلفشار سے نکال سکتا ہے۔ ہر قوم کے عقل مند طبقوں کا رجحان اب اس طرف ہو رہا ہے اور وہ کوشش کر رہے ہیں کہ اپنے اپنے فکری نظاموں کو عالم گیر انسانیت کا ترجمان بنا کر پیش کریں۔ لیکن کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ وہ دین جو صحیح معنوں میں ساری انسانیت کا دین تھا، اور وہ کتاب جو کُل نوعِ انسانی کی ہدایت کی علمبردار تھی، اور وہ ملّت جس نے سب قوموں کو ایک بنایا اور جس کا تمدن ساری انسانیت کی ’’باقیات صالحات‘‘ کا مرقع تھا۔ وہ دین، وہ کتاب اور وہ ملّت اور اس کا تمدن ایک فرقے کی جاگیر بن گیا ہے، اور وہ لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ اس وسعت پذیر دور میں جس میں کہ کرہ زمین کی سب دوریاں سکڑ گئی ہیں، ملکوں، قوموں اور براعظموں کی سرحدیں سمٹتی جا رہی ہیں، ریل، جہاز، طیاروں اور ریڈیو نے سب انسانوں کو اپنی کہنے اور دوسروں کی سننے کے لیے ایک انسانی برادری میں بدل دیا ہے، اس زمانے میں ایسی تعلیم کو جو صحیح معنوں میں عالم گیر اور انسانی تھی، ایک گروہ اور جماعت میں محدود کر دینا کتنا بڑا ظلم ہے۔ معلوم نہیں مسلمان اسلام کو کب سمجھیں گے اور قرآن کے اصل پیغام کو کب اپنائیں گے؟
انسانی حقوق کا اسلامی تصور
مولانا مفتی فضیل الرحمٰن ہلال عثمانی
انسانی طرزِعمل انفرادی اور اجتماعی زندگی میں کیا ہونا چاہئے؟ قرآن کریم اور سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے جواب میں زندگی کی پوری اسکیم کا عملی نقشہ ہمارے سامنے دیتے ہیں۔
- اس اسکیم کا ایک حصہ ہماری اخلاقی تعلیم و تربیت ہے جس کے مطابق افراد کی سیرت اور ان کے کردار کو ڈھالا جاتا ہے۔
- اس اسکیم کے مطابق ہمارا معاشرتی اور سماجی نظام تشکیل پاتا ہے جس میں مختلف قسم کے انسانی تعلقات کو منضبط کیا جاتا ہے۔
- اس اسکیم کا ایک حصہ ہمارے معاشی اور اقتصادی نظام کی شکل میں سامنے آتا ہے جس کے مطابق ہم دولت کی پیدائش، تقسیم، تبادلے اور اس پر لوگوں کے حقوق کا تعین کرتے ہیں۔
- اور اس اسکیم کا ایک جز ہمارا سیاسی نظام ہے جس میں اس اسکیم کو نافذ کرنے کے لیے سیاسی اقتدار کی ضرورت ہے۔
اس پوری اسکیم کا بنیادی مقصد انسانی زندگی کے نظام کو معروفات پر قائم کرنا اور منکرات سے پاک کرنا ہے۔ یہ اسکیم سوسائٹی کے پورے نظام کو اس طرز پر ڈھالتی ہے کہ خدا کی بنائی ہوئی فطرت کے مطابق ایک ایک بھلائی اپنی پوری پوری صورت میں قائم ہو۔ ہر طرف سے اس کو پروان چڑھنے میں مدد ملے اور ہر وہ رکاوٹ جو کسی طرح اس کی راہ میں حائل ہو سکتی ہے، دور کی جائے۔ اسی طرح فطرتِ انسانی کے خلاف ایک ایک برائی کو چن چن کر زندگی سے نکالا جائے۔ اس کی پیدائش اور نشو و نما کے اسباب دور کیے جائیں۔ جدھر جدھر سے وہ زندگی میں داخل ہو سکتی ہے، اس کا راستہ بند کیا جائے اور اس سارے انتظام کے باوجود اگر وہ سر اٹھا ہی لے تو اسے سختی سے دبا دیا جائے۔
معروف و منکر کے متعلق یہ احکام ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی کے تمام گوشوں پر پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ اسکیم ایک صالح نظام زندگی کا پورا نقشہ دیتی ہے اور اس غرض کے لیے فرائض اور حقوق کا ایک پورا نظام ہے، ایک مکمل نقشہ ہے، ایک پوری اسکیم ہے جس کا ہر حصہ دوسرے حصہ کے ساتھ اعضائے جسمانی کی طرح جڑا ہوا ہے۔
اس اسکیم کا ایک حصہ انسانی حقوق کا چارٹر ہے۔ عرب کے نبی اُمیؐ نے یہ چارٹر اس وقت پیش کیا تھا جب نہ کسی اقوام متحدہ کا وجود تھا اور نہ انسان مادی ترقی کی اس معراج پر پہنچا تھا جہاں آج نظر آتا ہے۔
۱۔ انفرادی حقوق
(۱) مذہبی آزادی
لا اكراه فى الدين قد تبين الرشد من الغى (قرآن مجید سوره بقره آیت نمبر ۲۵۶)
’’دین کے معاملے میں کوئی زبردستی نہیں ہے، صحیح بات غلط خیالات سے چھانٹ کر رکھ دی گئی ہے۔‘‘
ولو شاء ربك لاٰمن من فى الارض كلهم جميعا افانت تكره الناس حتى يكونوا مومنین (سوره یونس آیت ۲۹)
’’اگر تیرے رب کی مشیت یہ ہوتی (کہ زمین میں سب مومن و فرماں بردار ہی ہوں) تو سارے اہلِ زمین ایمان لے آئے ہوتے، پھر کیا تو لوگوں کو مجبور کرے گا کہ وہ مومن ہو جائیں؟‘‘
یعنی حجت اور دلیل سے ہدایت و ضلالت کا فرق کھول کر رکھ دینے کا جو حق تھا، وہ تو پورا پورا ادا کر دیا گیا ہے۔ اب رہا جبری ایمان تو یہ اللہ کو منظور نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ خود ہی انسانوں کو ایمان لانے یا نہ لانے اور اطاعت اختیار کرنے یا نہ کرنے میں آزاد رکھنا چاہتا ہے۔
(۲) عزت کے تحفظ کا حق
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، نہ مرد دوسرے کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں، اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں، آپس میں ایک دوسرے پر طعن نہ کرو اور نہ ایک دوسرے کو برے القاب سے یاد کرو، ایمان لانے کے بعد فسق نام پیدا کرنا بہت بری بات ہے، جو لوگ اس روش سے باز نہ آئیں وہی ظالم ہیں۔‘‘ (سورہ حجرات، آیت ۱۱)
ایک دوسرے کی عزت پر حملہ کرنا، ایک دوسرے کی دل آزاری، ایک دوسرے سے بد گمانی در حقیقت ایسے اسباب ہیں جن سے آپس کی عداوتیں پیدا ہوتی ہیں اور پھر دوسرے اسباب سے مل کر ان سے بڑے بڑے فتنے جنم لیتے ہیں۔ اسلام ہر فرد کی بنیادی عزت کا حامی ہے جس پر حملہ کرنے کا کسی کو حق نہیں ہے۔
(۳) نجی زندگی کے تحفظ کا حق
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، بہت گمان کرنے سے پر ہیز کرو کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں اور تجسس نہ کرو۔‘‘ (سورہ حجرات، آیت ۱۲)
یعنی لوگوں کے دل نہ ٹولو، ایک دوسرے کے عیب تلاش نہ کرو، دوسروں کے حالات اور معاملات کی ٹوہ نہ لگاتے پھرو، لوگوں کے نجی خطوط پڑھنا، دو آدمیوں کی باتیں کان لگا کر سننا، ہمسایوں کے گھر میں جھانکنا، اور مختلف طریقوں سے دوسروں کی خانگی زندگی یا ان کے ذاتی معاملات کی کھوج کرنا ایک بڑی بد اخلاقی ہے جس سے طرح طرح کے فساد رونما ہوتے ہیں، اس لیے ہر انسان کو اپنی نجی زندگی کے تحفظ کا حق دیا گیا ہے اور دوسروں کو اس میں دخل اندازی سے روکا گیا ہے۔
(۴) صفائی پیش کرنے کا حق
’’تم چھپا کر ان کو دوستانہ پیغام بھیجتے ہو حالانکہ جو کچھ تم چھپا کر کرتے ہو اور جو علانیہ کرتے ہو، ہر چیز کو میں بخوبی جانتا ہوں۔‘‘ (سورہ ممتحنہ آیت ۱)
یہ اشارہ بدری صحابی حضرت حاطب بن بلتعہ کی طرف ہے۔ مشرکینِ مکہ کے نام ان کا ایک خط مکہ معظمہ پر حملہ کی خبر کے بارے میں پکڑا گیا تھا۔ مگر اس سنگین جرم کے باوجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو کھلے عام اپنی صفائی پیش کرنے کا پورا پورا موقعہ دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جرم کی نوعیت خواہ کچھ بھی ہو، صفائی کا موقع دیے بغیر سزا دینا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور اسلام نے انسان کے اس بنیادی حق کی پاسبانی نازک سے نازک موقعہ پر بھی کر دکھائی ہے۔
(۵) اظہارِ رائے کی آزادی
قرآن مجید کی سورہ شوریٰ کی آیت ۳۸ میں فرمایا کہ وہ اپنے معاملات آپس کے مشورے سے چلاتے ہیں۔ دوسری جگہ سورہ آل عمران کی آیت ۱۵۹ اس طرح ہے کہ:
’’(اے پیغمبر) ان کے قصور معاف کر دو، ان کے حق میں دعائے مغفرت کرو اور دین کے کام میں ان کو بھی شریک مشورہ رکھو۔ پھر جب تمہارا عزم (مشورے کے نتیجہ میں) کسی رائے پر مستحکم ہو جائے تو اللہ پر بھروسہ کرو۔‘‘
مشاورت اسلامی طرزِ زندگی کا ایک اہم ستون ہے۔ مشاورت کا اصول اپنی نوعیت اور فطرت کے لحاظ سے اس کا متقاضی ہے کہ اجتماعی معاملات جن لوگوں کے حقوق اور مفادات سے تعلق رکھتے ہیں، انہیں اظہارِ رائے کی پوری آزادی حاصل ہو اور مشورہ دینے والے اپنے علم، ایمان اور ضمیر کے مطابق رائے دے سکیں۔
۲۔ سماجی حقوق
(۱) انسانی مساوات
’’کسی مومن مرد اور کسی مومن عورت کو یہ حق نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملہ میں فیصلہ کر دے تو پھر اسے اپنے معاملہ میں خود فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل رہے۔‘‘ (سورہ احزاب آیت ۳۶)
یہ مذکورہ آیت اس وقت نازل ہوئی تھی جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آزاد کردہ غلام اور منہ بولے بیٹے حضرت زیدؓ کے لیے اپنی پھوپھی زاد بہن حضرت زینبؓ بنت جحش سے نکاح کا پیغام دیا تھا۔ حضرت زینبؓ کو اپنے نسلی اور خاندانی فخر کے باوجود اس حکم کے سامنے سر جھکانا پڑا اور اس طرح نسلی امتیاز کے بت کو توڑ کر انسانی مساوات کا بہترین عملی نمونہ کاشانۂ نبوت سے سماج کے سامنے پیش کیا گیا۔
(۲) اجر و ثواب میں مرد و زن کی برابری
’’جو مرد اور عورتیں اللہ کو کثرت سے یاد کرنے والے ہیں، اللہ نے ان کے لیے مغفرت اور بڑا اجر مہیا کر رکھا ہے۔‘‘ (سورہ احزاب آیت ۳۵)
یہ اسلام کی وہ بنیادی قدریں ہیں جنہیں ایک فقرے میں سمیٹ دیا گیا ہے۔ ان قدروں کے لحاظ سے مرد اور عورت کے درمیان دائرہ عمل کا فرق تو ضرور ہے مگر اجر و ثواب میں دونوں مساوی ہیں۔
(۳) والدین کے لیے حسنِ سلوک
’’ہم نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرے۔‘‘ (سورہ عنکبوت آیت ۸)
انسان پر مخلوقات میں سے کسی کا حق سب سے بڑھ کر ہے تو وہ اس کے ماں باپ ہیں، صاف ستھرے سماج کے قیام کے لیے یہ ایک اہم چیز ہے۔
(۴) انسانی جان کی حرمت
’’اور جو اللہ کی حرام کی ہوئی کسی جان کو ناحق ہلاک نہیں کرتے۔‘‘ (سورہ فرقان آیت ۲۸)
ایک دوسری جگہ بلا خطا کسی کی جان لینے کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا ہے۔ انسانی جان کی حرمت سماج کے ان بنیادی حقوق میں سے ہے جس کے بغیر کوئی سماج زندہ نہیں رہ سکتا۔
(۵) ازدواجی زندگی
’’اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے بیویاں بنائیں تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی۔‘‘ (سوره روم آیت ۲۱)
ایک پاکیزہ سماج میں یہ ضروری ہے کہ شادی کے قابل لوگ زیادہ دیر مجرد نہ رہیں تاکہ بلاوجہ کی شہوانی لہر سماج کی فضا کو زہر آلود نہ کر سکے۔ شادی کے نتیجے میں ایک دوسرے کے لیے سکون و اطمینان کے ساتھ مودت و رحمت وہ بنیادی چیز ہے جو انسانی نسل کے برقرار رہنے کے علاوہ انسانی تہذیب و تمدن کے وجود میں آنے کا ذریعہ بنتی ہے۔ اس کی بدولت گھر بنتا ہے، خاندان اور قبیلے وجود میں آتے ہیں، اور اس کی بدولت انسانی زندگی میں تمدن کا نشوونما ہوتا ہے۔ اس لیے ازدواجی زندگی ایک سماجی حق بھی ہے اور اللہ تعالیٰ کے آخری نبی نے اس کو اپنی سنت اور طریقہ قرار دے کر اس کو عبادت کا تقدس بھی بخش دیا ہے۔
۳۔ سیاسی حقوق
(۱) اسلام کے سیاسی نظام کی اولین دفعہ
’’اے ایمان لانے والو! اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی، اور ان لوگوں کی جو تم میں سے صاحبِ امر ہوں۔‘‘ (سورہ نساء آیت ۵۹)
قرآن مجید کی یہ آیت اسلام کے سیاسی نظام کی بنیادی اور اولین دفعہ ہے، اسلامی نظام میں اصل مطاع اللہ تعالیٰ ہے، اور رسول کی اطاعت اللہ کی اطاعت کی واحد عملی صورت ہے۔ رسول ہی ایک مستند ذریعہ ہے جس سے ہم تک خدا کے احکام اور فرامین پہنچتے ہیں۔ اولوالامر کی اطاعت خدا اور رسول کی اطاعت کے ساتھ مشروط ہے۔
(۲) عمومی اور مقصدی تعلیم
اسلام کے سیاسی نظام میں عمومی اور مقصدی تعلیم کا ایک بنیادی حق ہے۔ ارشاد ہے:
’’ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان کی آبادی کے ہر حصہ سے کچھ لوگ نکل کر آتے اور دین کی سمجھ پیدا کرتے اور واپس جا کر اپنے علاقہ کے باشندوں کو خبردار کرتے تاکہ وہ غیر مسلمانہ روش سے پر ہیز کریں۔‘‘ (سورہ توبہ آیت ۱۲۱)
(۳) سیاسی ولایت کا حق
اسلام کے سیاسی نظام میں ولایت کا حق صرف ان باشندوں کو ہے جو اسلامی مملکت کی حدود میں ہوں، لیکن اخوت کا رشتہ بدستور ہے۔ اور بین الاقوامی ذمہ داریاں نیز اخلاقی حدود کا پاس رکھتے ہوئے مظلوم کی امداد مسلم حکومت کی ذمہ داری ہے۔ قرآن مجید میں فرمایا گیا:
’’وہ لوگ جو ایمان تو لے آئے مگر ہجرت کر کے (دارالاسلام میں) نہیں آئے، تو ان سے تمہارا ولایت کا کوئی تعلق نہیں ہے جب تک کہ وہ ہجرت کر کے نہ آ جائیں۔ ہاں اگر وہ دین کے معاملہ میں تم سے مدد مانگیں تو ان کی مدد کرنا تم پر فرض ہے، لیکن ایسی کسی قوم کے خلاف نہیں جس سے تمہارا معاہدہ ہو۔ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھتا ہے۔‘‘ (سورہ انفال آیت ۷۲)
(۴) سیاسی سربراہ منتخب کرنے کا حق
اسلام کے سیاسی نظام میں اس کی بڑی اہمیت ہے کہ قوم کے معاملات چلانے کے لیے قوم کا سربراہ سب کی مرضی سے مقرر کیا جائے۔ اور وہ قومی معاملات کو ایسے صاحبِ رائے لوگوں کے مشورے سے چلائے جن کو قوم قابلِ اعتماد سمجھتی ہو۔ اور وہ اس وقت تک سربراہ رہے جب تک قوم خود اسے اپنا سربراہ بنائے رکھنا چاہے۔ یہ چیز امرهم شوریٰ بینهم (سوره شوریٰ آیت ۲۸) کا ایک لازمی تقاضا اور سیاسی نظام کی ایک اہم دفعہ ہے۔
(۵) بے لاگ انصاف کا حصول
’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان انصاف کروں۔‘‘ (شوریٰ آیت ۱۵)
اسلام کے سیاسی نظام میں بے لاگ اور سب کے لیے یکساں انصاف مہیا کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے جس میں کسی کے ساتھ زیادتی نہ ہو سکے۔
(۶) حقوق کی یکسانیت
بہترین نظام وہ ہے جس میں ہر ایک کے حقوق یکساں ہوں۔ یہ نہیں کہ ملک کے باشندوں کو گروہوں میں تقسیم کر کے کسی کو مراعات و امتیازات سے نوازا جائے اور کسی کو محکوم بنا کر دبایا، پیسا اور لوٹا جائے۔ اسلامی نظامِ حکومت میں نسل، رنگ، زبان یا طبقات کی بنا پر کوئی امتیاز نہیں ہے، البتہ اصول اور مسلک کے اختلاف کی بنا پر سیاسی حقوق میں یہ فرق ہو جاتا ہے کہ جو اس کے اصولوں کو تسلیم کرے وہی زمامِ حکومت سنبھال سکتا ہے۔
قرآن مجید میں فرعون کی حکومت کی برائی ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے:
’’واقعہ یہ ہے کہ فرعون نے زمین میں سرکشی کی اور اس کے باشندوں کو گروہوں میں تقسیم کر دیا، ان میں سے ایک گروہ کو ذلیل کرتا تھا۔‘‘ (قصص آیت ۴)
۴۔ اقتصادی حقوق
(۱) قرآن کا معاشی نقطۂ نظر
’’تیرا رب جس کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ کرتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے رزق تنگ کر دیتا ہے۔ وہ اپنے بندوں کے حال سے باخبر ہے اور انہیں دیکھ رہا ہے۔ اپنی اولاد کو افلاس کے اندیشے سے قتل نہ کرو، ہم انہیں بھی رزق دیں گے اور تمھیں بھی۔‘‘ (بنی اسرائیل آیت ۳۰ و ۳۱)
قرآن مجید کا معاشی نقطۂ نظر جو مذکورہ آیتوں سے واضح ہو جاتا ہے، یہ ہے کہ رزق اور وسائلِ رزق میں تفاوت بجائے خود کوئی برائی نہیں ہے، جسے مٹانا اور مصنوعی طور پر ایک بے طبقات سوسائٹی پیدا کرنا کسی درجہ میں بھی مطلوب ہو۔ صحیح راہِ عمل یہ ہے کہ سوسائٹی کے اخلاق و اطوار اور قوانینِ عمل کو اس انداز پر ڈھال دیا جائے کہ معاشی تفاوت کسی ظلم و بے انصافی کا موجب بننے کے بجائے ان بے شمار اخلاقی، روحانی اور تمدنی فوائد و برکات کا ذریعہ بن جائے جن کی خاطر ہی دراصل خالقِ کائنات نے اپنے بندوں کے درمیان یہ فرق و تفاوت رکھا ہے۔
کھانے والوں کو گھٹانے کی منفی کوشش کے بجائے افزائشِ رزق کی تعمیری کوششوں کی طرف انسان کو متوجہ کیا گیا ہے۔ اور تنبیہ کی گئی ہے کہ اے انسان رزق رسانی کا انتظام تیرے ہاتھ میں نہیں ہے بلکہ اس پروردگار کے ہاتھ میں ہے جس نے تجھے زمین میں بسایا ہے، جس طرح وہ پہلے آنے والوں کو روزی دیتا رہا ہے، بعد کے آنے والوں کو بھی دے گا۔ تاریخ کا تجربہ بھی یہی بتاتا ہے کہ دنیا میں کھانے والی آبادی جتنی بڑھتی گئی اتنے ہی معاشی ذرائع وسیع ہوتے چلے گئے۔
(۲) دولت کی گردش
’’تا کہ وہ تمہارے مالداروں ہی کے درمیان گردش نہ کرتا رہے۔‘‘ (سورہ حشر آیت ۷)
اس آیت میں اسلامی معاشرے اور حکومت کی معاشی پالیسی کا یہ بنیادی قاعدہ بیان کیا گیا ہے کہ دولت کی گردش پورے معاشرے میں عام ہونی چاہئے، ایسا نہ ہو کہ مال صرف مال داروں ہی میں گھومتا رہے، یا امیر روز بروز امیر تر اور غریب دن بدن غریب تر ہوتے چلے جائیں۔
اس مقصد کے لیے سود حرام کیا گیا ہے، زکوٰۃ فرض کی گئی، مالِ غنیمت میں خمس مقرر کیا گیا، صدقات کی تلقین کی گئی، مختلف قسم کے کفاروں کی ایسی صورتیں تجویز کی گئیں جن سے دولت کے بہاؤ کا رخ معاشرے کے غریب طبقات کی طرف پھر جائے۔ میراث کا ایسا قانون بنایا گیا کہ ہر مرنے والے کی چھوڑی ہوئی دولت زیادہ سے زیادہ وسیع دائرے میں پھیل جائے۔ اخلاقی حیثیت سے بخل کو سخت قابلِ مذمت اور فیاضی کو بہترین صفت قرار دیا گیا۔ غرض وہ انتظامات کیے گئے کہ دولت کے ذرائع پر مالدار اور بااثر لوگوں کی اجارہ داری قائم نہ ہو، اور دولت کا بہاؤ امیروں سے غریبوں کی طرف ہو جائے۔
انسانی حقوق کا عالمگیر اعلامیہ
ترجمہ : ابو صباحت
تمہید
ہر گاہ کہ نوع انسانی کے جملہ افراد کی فطری تکریم اور ان کے مساوی اور ناقابلِ انتقال حقوق دنیا میں آزادی، انصاف اور امن کی بنیاد ہیں۔
ہر گاہ کہ انسانی حقوق کو نظر انداز کرنے اور ان کے خلاف ورزی کرنے کا نتیجہ ایسے وحشیانہ اعمال کی صورت میں نکلا ہے، جنہوں نے انسانیت کے ضمیر کو روند ڈالا، اور یہ کہ اب باقاعدہ طور پر اس امر کا اعلان کر دیا گیا ہے کہ ایک عام آدمی کی سب سے بڑی تمنا ایک ایسی دنیا کی تخلیق ہے جس میں تمام انسان آزادئ رائے و عقیدہ سے اور خوف اور محتاجی سے آزاد زندگی سے لطف اندوز ہوں۔
ہر گاہ کہ اگر آخری چارۂ کار کے طور پر جبر اور استبداد کے خلاف انسان کو بغاوت پر اترنے کے لیے مجبور نہیں کرنا ہے، تو یہ ضروری ہے کہ قانون کی حکومت کے ذریعے انسانی حقوق کا تحفظ کیا جائے۔
ہر گاہ کہ یہ ضروری ہے کہ قوموں کے درمیان دوستانہ تعلقات کو فروغ دیا جائے۔
ہر گاہ کہ اقوام متحدہ کی اقوام نے منشور میں بنیادی انسانی حقوق پر، انسان کی تکریم و قدر و قیمت پر، اور مردوں و عورتوں کے مساوی حقوق پر اپنے ایمان کی توثیق کی ہے۔ اور تہیہ کیا ہے کہ سماجی ترقی اور بہتر معیارِ زندگی کو وسیع تر آزادی کے ساتھ فروغ دیا جائے۔
ہر گاہ کہ رکن ریاستوں نے باہم عہد کیا ہے کہ اقوام متحدہ سے تعاون کرتے ہوئے انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کا عالمگیر طور پر احترام اور ان کی پابندی کے عمل کو فروغ دیں گی۔
ہر گاہ کہ ان حقوق اور آزادیوں کے بارے میں عام مفاہمت انتہائی اہم ہے تاکہ اس عہد کو مکمل طور پر پورا کیا جائے۔
لہٰذا اب جنرل اسمبلی تمام اقوام کے لیے حصول کے عام معیار کے طور پر انسانی حقوق کے اس عالمگیر اعلامیہ کا اعلان کرتی ہے کہ ان حقوق اور آزادیوں کے لیے احترام کو فروغ دینے کے لیے بتدریج اقدامات کے ذریعے قومی اور بین الاقوامی سطح پر ہر فرد اور معاشرے کا ہر عضو، اس اعلامیہ کو ہمیشہ ذہن میں رکھتے ہوئے، تعلیم و تعلم کے ذریعے جدوجہد کرے گا۔ تا کہ اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے مابین اور ان کے زیر تسلط علاقوں میں بھی، ان کو عالمگیر طور پر اور مؤثر طریقے سے تسلیم کیا جائے اور ان کی پابندی کی جائے۔
مساواتِ انسانی
ا۔ تمام انسان آزاد اور تکریم و حقوق کے لحاظ سے برابر ہوتے ہیں، انہیں پیدائشی طور پر عقل اور ضمیر عطا کیا جاتا ہے، اور انہیں ایک دوسرے کے ساتھ برادرانہ سلوک کرنا چاہئے۔
عدمِ امتیاز
۲۔ ہر شخص کسی بھی قسم کے امتیاز جیسے نسل، رنگ، جنس، زبان، مذہب، سیاسی یا دیگر رائے، قومی یا معاشرتی اصل، جائیداد، پیدائشی یا کسی دیگر حیثیت کے بغیر، اس اعلامیہ میں مذکور تمام حقوق اور آزادیوں کا مستحق ہے۔
مزید برآں اگر کوئی ملک یا علاقہ حاکمانہ اختیار رکھتا ہو، یا کسی اور بین الاقوامی حیثیت کا مالک ہو، خواہ یہ ملک یا علاقہ آزاد ہو، یا اقوام متحدہ کے زیر انتداب ہو، یا غیر حکومت خود اختیاری میں ہو، یا محدوداً خودمختار ہو، تو ان سب سے تعلق رکھنے والوں میں سے کسی کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا۔
ذات اور آزادی کا تحفظ
۳۔ ہر شخص زندگی، آزادی اور اپنی ذات کے تحفظ کا حق رکھتا ہے۔
انسدادِ غلامی
۴۔ کسی شخص کو غلام کی حیثیت سے یا غلامی میں نہیں رکھا جائے گا، غلامی اور غلامی کی تجارت اپنی تمام صورتوں میں ممنوع ہوگی۔
تشدد کا خاتمہ
۵۔ کسی شخص کو تشدد اور ظلم کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔ اور کسی شخص کے ساتھ غیر انسانی اور ذلت آمیز سلوک نہیں کیا جائے گا، یا ایسی سزا نہیں دی جائے گی۔
فرد کی حیثیت سے شناخت
۶۔ ہر شخص ہر جگہ قانون کے سامنے ایک فرد کی حیثیت سے پہچانے جانے کا حق رکھتا ہے۔
قانونی مساوات
۷۔ قانون کی نظر میں سب مساوی حیثیت رکھتے ہیں اور کسی امتیاز کے بغیر مساوی قانونی تحفظ کا حق رکھتے ہیں، ان کو اس اعلامیہ کی خلاف ورزی کی صورت میں کسی امتیاز کے بغیر تحفظ حاصل ہے اور اس امتیاز پر اشتعال پیدا کرنے کی صورت میں بھی۔
مؤثر دادرسی
۸۔ دستور یا قانون نے جو بنیادی حقوق عطا کیے ہوں، ان کی خلاف ورزی کرنے پر متازه شخص کو مجاز قومی عدالتوں سے مؤثر دادرسی حاصل کرنے کا حق ہے۔
ناجائز جبس و جلا وطنی
۹۔ کسی شخص کو من مانے طور پر محبوس یا جلا وطن نہیں کیا جائے گا۔
منصفانہ سماعت
۱۰۔ ہر شخص مکمل مساوات کے ساتھ اس امر کا مستحق ہے کہ آزاد اور غیر جانبدار عدالت میں اس کے حقوق اور فرائض کے تعین میں اور اس کے خلاف فوجداری جرم میں منصفانہ اور کھلے بندوں سماعت کی جائے۔
دفاع کے لیے ضروری سہولتیں
۱۱۔ (۱) ہر شخص، جس پر کسی تعزیری جرم کا الزام لگایا جائے، اس امر کا حق رکھتا ہے کہ اسے اس وقت تک بے گناہ سمجھا جائے، جب تک کھلی عدالت میں قانون کے مطابق وہ قصور وار ثابت نہ ہو جائے، جب کہ اس عدالت میں دفاع کے لیے اسے ضروری سہولتوں کی ضمانت میسر ہو۔
(۲) کسی شخص کو ایسے فعل یا ترکِ فعل کی وجہ سے تعزیری جرم کا مجرم قرار نہیں دیا جائے گا، جو ایسے جرم کے ارتکاب کے وقت کسی قومی یا بین الاقوامی قانون کی رو سے تعزیری جرم کی حیثیت نہیں رکھتا تھا، نہ ہی اس سے شدید سزا دی جائے گی جو ارتکابِ جرم کے وقت اطلاق پذیر تھی۔
خلوت میں مداخلت
۱۲۔ من مانے طور پر کسی شخص کی خلوت، خاندان، گھر یا خط و کتابت میں مداخلت نہیں کی جائے گی، اور نہ ہی اس کی عزت اور شہرت پر کوئی حملہ کیا جائے گا۔ ہر شخص کو ایسی مداخلت یا حملے کے خلاف قانون کے تحفظ کا حق حاصل ہو گا۔
نقل و حرکت و رہائش کی آزادی
۱۳۔ (۱) ہر شخص کو اس کے ملک کے حدود میں نقل و حرکت اور رہائش کی آزادی کا
حق ہو گا۔
(۲) ہر شخص کو حق حاصل ہے کہ وہ بشمول اپنے ملک کے کسی ملک کو چھوڑ سکتا ہے
اور اپنے ملک میں واپس آ سکتا ہے۔
پناہ کا حق
۱۴۔ (۱) ہر شخص ایذا رسانی سے بچنے کے لیے دوسرے ملکوں میں پناہ لے سکتا ہے اور اس پناہ سے مستفید ہو سکتا ہے۔
(۲) یہ حق اس صورت میں استعمال نہیں ہو سکے گا جب غیر سیاسی جرائم کے نتیجے میں دی جانے والی اذیت جائز طور پر دی جائے، یا اقوام متحدہ کے مقاصد اور اصولوں کے خلاف افعال کے ارتکاب کے نتیجے میں دی جانے والی اذیت جائز طور پر دی جائے۔
قومیت
۱۵۔ (۱) ہر شخص کو کوئی قومیت اختیار کرنے کا حق حاصل ہے۔
(۲) کسی شخص کو اس کی قومیت سے من مانے طور پر محروم نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی اس کے قومیت تبدیل کرنے کے حق سے انکار کیا جائے گا۔
آزاد مرضی سے شادی
۱۶۔ (۱) پوری عمر کے مردوں اور عورتوں کو نسل، قومیت یا مذہب کی کسی تحدید کے بغیر باہم شادی کرنے اور خاندان کی بنیاد رکھنے کا حق حاصل ہے۔ شادی، دورانِ شادی اور اس کی تنسیخ کے سلسلے میں وہ مساوی حقوق رکھتے ہیں۔
(۲) شادی کے خواہش مند جوڑوں کی آزاد اور پوری مرضی سے ہی شادی کی جا سکے گی۔
(۳) خاندان معاشرے کا قدرتی اور بنیادی اکائی گروپ ہے اور معاشرے اور ریاست کی طرف سے تحفظ کا حق رکھتا ہے۔
جائیداد کا حصول
۱۷۔ (۱) ہر شخص کو خود اپنے لیے اور دوسرے کی شرکت کے ساتھ جائیداد حاصل کرنے کا حق حاصل ہے۔
(۲) کسی شخص کو من مانے طور پر اس کی جائیداد سے محروم نہیں کیا جائے گا۔
آزادئ ضمیر و آزادئ عقیدہ
۱۸۔ ہر شخص کو آزادئ خیال، آزادئ ضمیر اور آزادئ مذہب کا حق حاصل ہے۔ اس حق میں اپنا مذہب یا عقیدہ تبدیل کرنے، اور انفرادی اور اجتماعی طور پر علیحدگی میں یا سب کے سامنے، اپنے مذہب یا عقیدے کی تعلیم، اس پر عمل، اس کے مطابق عبادت کرنے اور اس کی پابندی کرنے کی آزادی کا حق شامل ہے۔
آزادئ رائے و آزادئ اظہار
۱۹۔ ہر شخص کو آزادئ رائے اور آزادئ اظہار کا حق حاصل ہے۔ اس حق میں بلا مداخلت رائے رکھنے کی آزادی اور بلا لحاظ علاقائی حدود کسی بھی ذریعے سے اطلاعات اور نظریات تلاش کرنے، حاصل کرنے، اور انہیں دوسروں تک پہنچانے کی آزادی شامل ہے۔
اجتماع و جماعت سازی
۲۰۔ (۱) ہر شخص کو پر امن اجتماع اور جماعت سازی کی آزادی کا حق حاصل ہے۔
(۲) کسی شخص کو کسی جماعت سے ملحق ہونے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔
حکومت اور ملازمت میں حصہ
۲۱- (۱) ہر شخص کو حق حاصل ہے کہ وہ براہ راست یا آزادی سے منتخب نمائندوں کے ذریعے اپنے ملک کی حکومت میں حصہ لے۔
(۲) ہر شخص کو اپنے ملک کی سرکاری ملازمتوں میں مساوی رسائی کا حق حاصل ہے۔
(۳) عوام کی مرضی حکومت کے اقتدار کی بنیاد ہوگی۔ یہ مرضی وقفے وقفے سے اور ایسے صحیح انتخابات کے ذریعے ظاہر کی جائے گی جو عالمگیر اور مساوی رائے دہندگی پر مبنی ہوں اور خفیہ یکساں آزاد رائے دہی کے طریقے پر عمل میں آئے گی۔
معاشرتی حقوق
۲۲۔ معاشرے کے رکن کی حیثیت سے ہر شخص کو معاشرتی تحفظ کا حق حاصل ہے۔ اور قومی کوششوں اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے اور ہر ریاست کی تنظیم اور ذرائع کے مطابق ایسے معاشی، سماجی اور ثقافتی حقوق، جو اس کی شخصیت کی تکریم اور آزاد نشوونما کے لیے ضروری ہوں، حاصل کرنے کا حق رکھتا ہے۔
روزگار
۲۳۔ (۱) ہر شخص کو کام، ملازمت کا آزادانہ انتخاب، کام کے منصفانہ اور موافق حالات اور بے روزگاری کے خلاف تحفظ کا حق حاصل ہے۔
(۲) ہر شخص کو بلا امتیاز مساوی تنخواہ اور مساوی کام کا حق حاصل ہے۔
(۳) ہر شخص جو کام کرتا ہے، ایسے منصفانہ اور موافق معاوضے کا حق رکھتا ہے جو اس کو اور اس کے خاندان کو زندہ رکھے، اسے انسانی تکریم کے قابل بنائے، اور اگر ضروری ہو، معاشرتی تحفظ کے دیگر ذرائع سے اس میں اضافہ کرے۔
(۲) ہر شخص اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ٹریڈ یونین بنانے اور اس میں شامل ہونے کا حق رکھتا ہے۔
آرام و تفریح
۲۴۔ ہر شخص آرام و تفریح کا حق رکھتا ہے، اس حق میں اوقات کار اور باتنخواہ موقت تعطیل کے بارے میں تحدید کا حق شامل ہے۔
بہتر معیارِ زندگی اور ماں و بچے کے حقوق
۲۵۔ (۱) ہر شخص کو ایسے معیارِ زندگی کا حق حاصل ہے جو اس کی اور اس کے خاندان کی صحت اور بہودی، بشمول غذا، لباس، رہائش، طبی دیکھ بھال، اور ضروری سماجی خدمات کے حصول کے لیے کافی ہو۔ اور وہ بے روزگاری، بیماری، معذوری، بیوگی پیرانہ سالی، یا اس کے اختیار سے باہر کے حالات میں واقع ہونے والی عدمِ روزگار کی دیگر صورت حال میں تحفظ کا حق رکھتا ہے۔
(۲) ماں اور بچے کو خصوصی توجہ اور مدد کا حق حاصل ہے۔ تمام بچے، خواہ وہ شادی کے نتیجے میں پیدا ہوں یا بغیر شادی کے پیدا ہوں، یکساں سماجی تحفظ سے بہرہ ور ہونے کا حق رکھتے ہیں۔
تعلیم
۳۶۔ (۱) ہر شخص کو تعلیم کے حصول کا حق حاصل ہے۔ تعلیم مفت ہوگی، کم از کم ابتدائی اور بنیادی سطح پر۔ ابتدائی تعلیم لازمی ہوگی، تکنیکی اور پیشہ ورانہ تعلیم عمومی طور پر میسر کی جائے گی، اور اعلیٰ تعلیم تک اہمیت کے مطابق یکساں طور پر ہر شخص کی رسائی ہوگی۔
(۲) تعلیم کا مقصد انسانی شخصیت کی مکمل نشوونما اور انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کے احترام کی پختگی کا حصول ہو گا۔ تعلیم تمام اقوام، نسلی اور مذہبی گروہوں میں مفاہمت، رواداری اور دوستی کو فروغ دے گی، اور قیامِ امن کے لیے اقوام متحدہ کی سرگرمیوں کو آگے بڑھائے گی۔
(۳) والدین کو اپنے بچوں کو دی جانے والی تعلیم کے انتخاب کا ترجیجی حق حاصل ہو گا۔
ثقافتی و تخلیقی حقوق
۲۷۔ (۱) ہر شخص کو آزادنہ طور پر معاشرے کی ثقافتی زندگی میں حصہ لینے، فنونِ لطیفہ سے حظ اٹھانے، اور سائنسی ترقی اور اس کے فوائد سے مستفید ہونے کا حق حاصل ہے۔
(۲) ہر شخص سائنسی، ادبی اور فنونِ لطیفہ کی تخلیقات، جس کا کہ وہ شخص خالق ہو، کے نتیجے میں ظاہر ہونے والے اخلاقی اور مادی فوائد کے تحفظ کا حق رکھتا ہے۔
حقوق کے حصول کے لیے سازگار حالات
۲۸۔ هر شخص ایسے معاشرتی اور بین الاقوامی نظم کا حق رکھتا ہے جس میں اس اعلامیہ میں مندرج حقوق اور آزادیوں کو پورے طور پر حاصل کیا جا سکے۔
حقوق کے سلسلے میں فرد کی ذمہ داری
۲۹۔ (۱) ہر شخص ایسے معاشرے کے قیام کا ذمہ دار ہے جس میں اس کی شخصیت کی آزاد اور مکمل نشوونما ممکن ہو۔
(۲) اپنے حقوق اور آزادیوں سے استفادہ کرتے ہوئے ہر شخص صرف ایسی پابندیوں کی متابعت کرے گا جو قانون کے ذریعے مقرر کی جائیں گی۔ اور ان قوانین کا صرف یہ مقصد ہوگا کہ دوسروں کے حقوق اور آزادیوں کے احترام کو تسلیم کرایا جائے، اور ایک جمہوری معاشرے میں اخلاق، نظمِ عامہ اور بہبودئ عامہ کے منصفانہ تقاضوں کو پورا کیا جائے۔
(۳) ان حقوق اور آزادیوں کو اقوام متحدہ کے مقاصد اور اصولوں کے خلاف کاموں میں استعمال نہیں کیا جائے گا۔
اعلامیہ ہذا کی تعبیر
۳۰۔ اس اعلامیہ میں کسی امر کی ایسی تعبیر نہیں کی جائے گی جس سے کسی ریاست، گروہ یا فرد کو یہ حق ملے کہ وہ اس میں شامل حقوق اور آزادیوں کو تباہ کرنے کے مقصد سے کوئی سرگرمی یا فعل انجام دے سکے۔
(بشکریہ ماہنامہ نوائے قانون اسلام آباد)
اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا چارٹر اور اسلامی تعلیمات
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
(ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا زاہد الراشدی نے ۷ اپریل ۱۹۹۵ء کو مسجد صدیقیہ سیٹلائٹ ٹاؤن گوجرانوالہ میں فورم کی ماہانہ فکری نشست اور ۱۷ اپریل ۱۹۹۵ء کو مرکزی جامع مسجد شادمان لاہور میں مسلم ہیومن رائٹس سوسائٹی کی فکری نشست سے مندرجہ بالا موضوع پر تفصیلی خطاب کیا۔ دونوں خطابات کو یکجا ترتیب کے ساتھ شائع کیا جا رہا ہے۔ ادارہ الشریعہ)
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ آج ہماری گفتگو کا عنوان ہے ’’اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا چارٹر اور اسلامی تعلیمات‘‘ جس کے تحت ہم اس فکری اور نظریاتی کشمکش کا جائزہ لینا چاہتے ہیں جو اس وقت عالمی سطح پر انسانی حقوق اور ان کی تعبیر و تشریح کے حوالے سے جاری ہے۔
’’انسانی حقوق‘‘ آج کی دنیا میں سب سے زیادہ زیربحث آنے والا موضوع ہے اور یہ مغرب کے ہاتھ میں ایک ایسا فکری ہتھیار ہے جس کے ذریعے وہ مسلم ممالک اور تیسری دنیا پر مسلسل حملہ آور ہے۔ مغرب نے انسانی حقوق کے بارے میں اقوام متحدہ کے چارٹر کو مسلمہ معیار کا درجہ دے کر کسی بھی معاملہ میں اس سے الگ رویہ رکھنے والے تیسری دنیا اور عالم اسلام کے ممالک کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دینے کی مہم شروع کر رکھی ہے۔ اور اس سلسلہ میں اسے عالمی ذرائع ابلاغ کے ساتھ ساتھ عالم اسلام اور تیسری دنیا میں اپنی ہم نوا لابیوں کا بھرپور تعاون حاصل ہے جبکہ اس نظریاتی و فکری یلغار میں ملت اسلامیہ کے عقائد و احکام اور روایات و اقدار سب سے زیادہ مغربی دانشوروں، لابیوں اور ذرائع ابلاغ کے حملوں کی زد میں ہیں۔
اس کشمکش میں جب ہم اسلام کے عقائد و احکام پر مغربی دانشوروں کے حملوں کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں یہ یلغار عقائد و احکام اور معاشرت کے تمام شعبوں پر محیط نظر آتی ہے۔ اگر آپ گزشتہ ایک دہائی کے دوران پیش آنے والے واقعات کو سامنے رکھتے ہوئے حالات کا تجزیہ کریں گے تو آپ کو صورتحال کا نقشہ کچھ یوں نظر آئے گا۔
- سلمان رشدی کو مغربی ممالک اور ذرائع ابلاغ نے صرف اس ’’کارنامے‘‘ پر آزادیٔ رائے کا ہیرو بنا کر پیش کیا ہے کہ اس نے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کے ساتھ مسلمانوں کے بے پایاں عشق و محبت پر ضرب لگانے کی کوشش کی اور ملت اسلامیہ کے اس اجماعی عقیدہ کا دائرہ توڑنا چاہا کہ جناب رسول اللہؐ ہر قسم کے اختلاف، اعتراض اور تنقید سے بالاتر اور غیر مشروط اطاعت کا مرکز ہیں۔
- تسلیمہ نسرین صرف اس ’’جرأت رندانہ‘‘ پر مغرب کی آنکھوں کا تارا بن گئی ہے کہ اس نے قرآن کریم کے ناقابل تغیر و تبدل ہونے کے عقیدہ پر یہ کہہ کر ضرب لگانے کی کوشش کی کہ آج کے حالات کی روشنی میں قرآن کریم میں ترامیم کی ضرورت ہے۔
- معاشرتی جرائم کی اسلامی سزاؤں ہاتھ کاٹنے، سنگسار کرنے اور کوڑے مارنے کو انسانی حقوق کے منافی قرار دیا گیا ہے، پاکستان کی عدالت عظمیٰ میں مجرم کو کھلے بندوں سزا دینے کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی گردانا گیا ہے اور پاکستان میں برائے نام نافذ چند اسلامی تعزیری قوانین کو ختم کرنے کے لیے امریکہ کی طرف سے مسلسل دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔
- توہینِ رسالتؐ پر سزا کے قانون کو انسانی حقوق کے منافی قرار دیا گیا ہے اور اس قانون کے خاتمہ کے لیے دباؤ ڈالنے کے ساتھ ساتھ مغربی حکومتوں کی طرف سے توہین رسالتؐ کے مرتکب افراد کی حوصلہ افزائی اور پشت پناہی کا سلسلہ جاری ہے۔
- قادیانیت کو اسلام سے الگ مذہب قرار دینے اور قادیانیوں کو اسلام کا نام اور مسلمانوں کے مذہبی شعائر کے استعمال سے روکنے کے قانونی و آئینی اقدامات کو بھی انسانی حقوق کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے۔ اور قادیانیوں کو مظلوم قرار دے کر امریکہ کی طرف سے ان کے خلاف مذکورہ اقدامات واپس لینے پر زور دیا جا رہا ہے۔
- اسلام کے معاشرتی اور خاندانی نظام کو معاشرت کے موجودہ عالمی نظام کے منافی قرار دیا جا رہا ہے اور خاندانی زندگی کے بارے میں بیشتر مسلم ممالک میں مروجہ قوانین کو عالمی معیار کے مطابق بدل دینے کی تلقین کی جا رہی ہے۔ جس میں شادی کے لیے مذہب کی شرط کو ختم کرنے، آزادانہ جنسی تعلقات کے بھرپور مواقع کی فراہمی، ہم جنس پرستی کو قانونی طور پر تسلیم کرنے اور بن بیاہی ماؤں اور ناجائز بچوں کو سماجی تحفظ فراہم کرنے کے تقاضے شامل ہیں۔
- اسلام کے عقائد و احکام کے ساتھ مسلمانوں کی غیر مشروط اور وفادارانہ وابستگی کو ’’بنیاد پرستی‘‘ قرار دیا جا رہا ہے اور ایسی دینی تحریکات پر بھی ’’دہشت گردی‘‘ کا لیبل چسپاں کر کے انہیں عالمی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ مسلسل کردار کشی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جو متعدد مسلم ممالک میں اسلامی عقائد و احکام کے ساتھ وابستگی کی بنا پر ریاستی تشدد کا نشانہ بننے کی وجہ سے اپنے دفاع میں ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہوئی ہیں، یا غیر مسلم ممالک میں موجود مسلم اقلیتوں کی آزادی اور ان کے اسلامی تشخص کے تحفظ کی جدوجہد میں ان کا ساتھ دے رہی ہیں۔
یہ ہے ایک سرسری خاکہ مغرب کی طرف سے اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں سامنے آنے والے اعتراضات اور تقاضوں کا جو گزشتہ ایک عشرہ کے دوران منظم مہم اور مربوط نظریاتی جنگ کی شکل اختیار کر چکے ہیں اور جن کے سامنے مسلم ممالک کی بیشتر حکومتیں ’’سپر انداز‘‘ ہوتی چلی جا رہی ہیں۔ چنانچہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی وزیراعظم نے اپنے حالیہ دورۂ امریکہ کے دوران یہ کہہ کر مسلم حکمرانوں کے اسی رجحان کی نشاندہی کی ہے کہ وہ ’’انٹرنیشنلزم پر یقین رکھتی ہیں‘‘۔ اس انٹرنیشنلزم کا تصور مغرب کے نزدیک یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے منشور کو پوری دنیا کا مشترکہ دستور تسلیم کر کے تمام ممالک اقوام متحدہ کی بالادستی کے سامنے جھک جائیں، اور اقوام متحدہ کو کنفیڈریشن طرز کی مشترکہ حکومت قرار دے کر ساری دنیا ایک عالمی برادری کی شکل اختیار کر لے۔ گویا وہ مغرب جس نے گزشتہ ایک سو سال کے دوران نیشنلزم اور قومیت کے نام پر عالم اسلام کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کر کے خلافتِ عثمانیہ کے حصے بخرے کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے، اب انہی ٹکڑوں کو ’’انٹرنیشنلزم‘‘ کے نام پر وہ اپنی بالادستی میں ویسٹرن سولائزیشن میں ضم کرنے کے لیے کوشاں ہے اور اس اسکیم کے تانے بانے پوری طرح بنے جا چکے ہیں۔
معزز شرکاء محفل! اس نظریاتی معرکہ اور فکری جنگ میں بنیادی حیثیت اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر اور جنیوا انسانی حقوق کمیشن کے فیصلوں اور قراردادوں کو حاصل ہے۔ ’’انسانی حقوق کا چارٹر‘‘ متن ہے جبکہ جنیوا کنونشن کے فیصلے اور قراردادیں اس کی شرح ہیں جو اس نظریاتی جنگ میں مغرب کے ہاتھ میں ایک مضبوط ہتھیار کا کام دے رہی ہیں۔ مغرب کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی رکنیت اختیار کرنے والے تمام ممالک نے انسانی حقوق کے اس چارٹر پر دستخط کر کے اسے تسلیم کر لیا ہے اس لیے وہ اس کے پابند ہیں۔ اور جن ممالک میں اس چارٹر کے منافی قوانین نافذ ہیں وہ اس بین الاقوامی معاہدہ کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، اس لیے یہ ضروری ہے کہ تمام ممالک خواہ وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم اس عالمی معاہدہ کی پابندی کریں اور اپنے اپنے ملک میں رائج قوانین میں ترامیم کر کے انہیں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر کے ساتھ ہم آہنگ کریں۔
ہمیں مغرب کے اس موقف اور اس کی پشت پر کار فرما عزائم کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لینا ہوگا۔ محض جذباتی طور پر اسے مسترد کر دینے سے بات نہیں بنے گی اور ’’ہم نہیں مانتے‘‘ کا خالی نعرہ دنیا بھر کے ان اربوں انسانوں اور عالم اسلام کے ان کروڑوں مسلمانوں کو ہمارے موقف کے بارے میں مطمئن نہیں کر سکے گا جو ورلڈ میڈیا کی براہ راست زد میں ہیں اور جن کی آنکھوں اور کانوں کو اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں مغرب کے پراپیگنڈے کا روز مرہ سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہوگیا ہے کہ مسلم علماء، دانشور اور دینی ادارے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر اور جنیوا انسانی حقوق کنونشن کی قراردادوں اور فیصلوں کا علمی بنیاد پر جائزہ لیں اور مغرب کے اعتراضات و خدشات کا منطق و استدلال کے ساتھ سامنا کر کے انسانی حقوق کے حوالہ سے ملت اسلامیہ کا موقف سامنے لائیں۔ ہمیں انسانی حقوق کے بارے میں معروضی حالات اور انسانی معاشرہ کو درپیش مسائل کی روشنی میں اپنے موقف کا واضح طورپر تعین کرنا ہوگا اور اسے علم اور منطق و استدلال کی بنیاد پر افہام و تفہیم کے جذبہ کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کرنا ہوگا۔ ورنہ ہم اس خوفناک نظریاتی جنگ میں اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش نہیں ہو سکیں گے۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر اور اس کی تشریح میں جنیوا انسانی حقوق کنونشن کی قراردادوں اور فیصلوں کا جائزہ ہمیں دو مرحلوں میں لینا ہوگا۔
- پہلے مرحلہ میں ان دونوں کا گہری نظر سے مطالعہ کر کے اور بحث و مذاکرہ کے عمل سے گزر کر ان دونوں کے ان حصوں کی نشاندہی کرنا ہوگی جو ہمارے خیال میں اسلام کے عقائد و احکام سے متصادم ہیں اور جن کو قبول کرنے کی صورت میں ہمیں اپنے دینی عقائد، احکام اور معاشرتی اقدار سے دستبردار ہونا پڑتا ہے۔ انسانی حقوق کے چارٹر اور جنیوا کنونشن کی قراردادوں کے اسلام سے متصادم حصوں کی متعین طور پر نشاندہی کے بعد دنیا بھر کو وسیع پیمانے پر ان سے آگاہ کرنا ہوگا اور عالمی سطح پر ان کی تشہیر کرنا ہوگی تاکہ پوری دنیا کے اہل دانش ہمارے موقف کو اچھی طرح سمجھ سکیں۔
- جبکہ دوسرے مرحلے پر ہمیں علمی اور منطقی طور پر اسلام کے ان احکام و قوانین اور روایات و اقدار کی بہتری اور افادیت کو ثابت کرنا ہوگا جنہیں انسانی حقوق کے منافی قرار دیا جا رہا ہے اور جو اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر سے متصادم نظر آرہے ہیں۔
سامعین محترم! ان گزارشات کے بعد ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر پر ایک نظر ڈال لی جائے۔ چنانچہ بحث کے آغاز کے طور پر ہم اس چارٹر کے بعض حصوں کا ابتدائی اور سرسری طور پر جائزہ لینا چاہتے ہیں۔ یہ چارٹر اقوام متحدہ نے ۱۰ دسمبر ۱۹۴۸ء کو جاری کیا تھا اور اس وقت ہمارے سامنے اس کا اردو متن ہے جو اسلام آباد کے ماہنامہ ’’نوائے قانون‘‘ نے دسمبر ۱۹۹۴ء کے شمارے میں شائع کیا ہے۔ انسانی حقوق کے اس چارٹر کی ۳۰ دفعات ہیں اور اس میں اجتماعی زندگی کے کم و بیش تمام شعبوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔
چارٹر کے ابتدائی مطالعہ میں ہم نے اس کی چند دفعات گفتگو کے لیے منتخب کی ہیں جو ہمارے خیال میں بعض اسلامی قوانین و احکام کو انسانی حقوق کے منافی قرار دینے کا باعث بن رہی ہیں لیکن ان دفعات کو زیر بحث لانے سے پہلے چارٹر کی اعتقادی اور فکری بنیاد کو سمجھنا ضروری ہے۔ یہ چارٹر دراصل مغربی فلسفہ حیات اور ویسٹرن سولائزیشن کا نقطۂ عروج ہے جس کے پیچھے یہ سوچ کارفرما ہے کہ مذہب کا تعلق صرف عقیدہ، عبادت اور اخلاقیات سے ہے جس میں ہر انسان آزاد ہے کہ وہ عقیدہ، عبادت اور اخلاقیات میں جو رجحان چاہے اختیار کرے اور یہ اس کا ذاتی معاملہ سمجھا جائے جس سے ریاست یا کوئی اور اتھارٹی کسی قسم کا تعرض نہ کرے۔ البتہ انسانی زندگی کے اجتماعی معاملات مثلاً سیاست، قانون، ایڈمنسٹریشن، تجارت، زراعت، اور معیشت کے ساتھ مذہب کا کوئی واسطہ نہیں ہے اور ان امور میں ہر قوم اپنے اجتماعی یا اکثریتی رجحانات کے مطابق کوئی بھی نظام اختیار کر سکتی ہے اور وہ نظام مذہب کی کسی بھی قید یا چھاپ سے آزاد ہوگا۔
اسے اصطلاحی طور پر سیکولرازم سے تعبیر کیا جاتا ہے اور اسی سیکولر ازم کو قبول کرنے کا ہم سے تقاضہ کیا جا رہا ہے۔ سیکولرازم کا تاریخی پس منظر یہ ہے کہ یورپ میں بادشاہ، کلیسا اور جاگیردار کے اتحاد ثلاثہ نے جب غریب عوام پر زندگی کا دائرہ تنگ کر دیا اور بادشاہت اور جاگیرداری کے خلاف بے بس عوام کی بغاوت میں کلیسا اور پادری نے عوام کا ساتھ دینے کی بجائے بادشاہ اور جاگیردار کا ساتھ دیا تو عوامی انقلاب نے بادشاہت اور جاگیرداری کے ساتھ کلیسا اور پادر کی بساط اقتدار بھی الٹ کر رکھ دی اور مذہب کو اجتماعی زندگی سے بے دخل کر کے اس کا دائرہ کار کلیسا کی چار دیواری کے اندر محدود کر دیا۔ لیکن اس تاریخی پس منظر کے پہلو بہ پہلو ایک اعتقادی اور فکری بنیاد بھی ہے جو سیکولرازم اور مغربی جمہوریت کو نظریاتی قوت فراہم کر رہی ہے۔
حضرات مکرم! مغرب کے مادہ پرستانہ فلسفے کی بنیاد نظریہ ارتقاء پر ہے جس کا خاکہ کچھ اس طرح ہے کہ اس دنیا میں جو کسی پیدا کرنے والے اور چلانے والے خدا کے بغیر خود بخود وجود میں آگئی ہے، انسانی نسل حیوانی ارتقاء کا نتیجہ ہے جو کیچڑ سے جنم لینے والے کیڑے سے شروع ہو کر مختلف زمانوں میں شکلیں بدلتا ہوا انسان کی صورت اختیار کر گیا ہے اور یہ اس کی آخری اور حتمی شکل ہے۔ اسی طرح انسانی معاشرہ بھی ارتقائی عمل کا نتیجہ ہے جو جنگلوں اور غاروں سے شروع ہوا اور مختلف شکلیں بدلتا ہوا اور معاشرت کے مختلف طریقے، قوانین اور نظام آزماتا ہوا جمہوریت، سیکولرازم اور ویسٹرن سولائزیشن کی موجودہ شکل اختیار کر گیا ہے اور یہ انسانی معاشرت کی آخری اور مکمل شکل ہے جس میں اب مزید بہتری کا کوئی امکان نہیں ہے۔ گویا جس طرح نسلی اعتبار سے انسان آخری منزل میں ہے اور اب اس کے نئی کئی شکل اختیار کرنے کا امکان نہیں ہے، اسی طرح معاشرتی لحاظ سے بھی ویسٹرن سولائزیشن آخری منزل ہے اور اب اس سے بہتر کوئی معاشرتی ڈھانچہ سامنے آنے کا امکان نہیں ہے۔ اسے ’’اینڈ آف ہسٹری‘‘ سے تعبیر کیا جا رہا ہے اور مغربی دانشور اب ارتقاء کے عمل کے مزید آگے بڑھنے کے امکانات کو مسترد کرتے ہوئے مکمل تباہی کو انسانی زندگی کی اگلی منزل قرار دے رہے ہیں۔
اس طرح جب موجودہ انسانی معاشرہ نہ صرف انسانیت بلکہ پوری کائنات ارضی کی آخری، مکمل اور ترقی یافتہ شکل قرار پاتا ہے اور یہی کائنات وجود کا حاصل ہے تو خیر و شر کا آخری معیار بھی یہی ہے۔ اس لیے جسے یہ انسانی معاشرہ خیر قرار دے دے وہی خیر ہے اور جو اس معاشرہ کے نزدیک شر قرار پائے وہی شر ہے۔ اس کے علاوہ خیر اور شر کو ماپنے اور جانچنے کا کوئی اور پیمانہ موجود نہیں ہے جس کی بنیاد پر کسی چیز یاکام کے خیر یا شر ہونے کا فیصلہ کیا جا سکے۔
مگر اسلام اس تصور کو سرے سے قبول نہیں کرتا بلکہ اس کے برعکس قرآن و سنت پر یقین رکھنے والے ہر مسلمان کا عقیدہ ہے کہ یہ کائنات کسی حادثہ کی پیداوار نہیں ہے بلکہ اسے کائنات کے مالک و خالق اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے اور وہی اسے ایک نظم کے ساتھ چلا رہا ہے۔ اسی طرح انسانی نسل کسی ارتقائی عمل کا نتیجہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے اسے ایک مستقل مخلوق کے طور پر پیدا کیا ہے اور اشرف المخلوقات ٹھہرایا ہے۔ پھر انسانی زندگی کا ایک معاشرہ کی شکل اختیار کر جانا بھی خودرو ارتقائی عمل کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ قرآن کریم کے مطابق نسل انسانی کا پہلا فرد ’’حضرت آدم علیہ السلام‘‘ علم، قانون، شرم و حیا، لباس اور مکان کی سہولتوں سے بہرہ ور تھا۔ اس کے ساتھ ہی ہر باشعور مسلمان یہ عقیدہ بھی رکھتا ہے کہ نسل انسانی اس دنیاوی زندگی میں آسمانی ہدایات کی پابند ہے جو اس کے پاس اس کے خالق و مالک کی طرف سے حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کے ذریعہ آئی ہیں اور ان ہدایات کی آخری اور مکمل شکل جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات ہیں جن پر عملدرآمد زندگی کے اگلے اور آخری مرحلہ میں کامیابی کے لیے ضروری ہے۔ اسلامی تعلیمات میں انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ حاصل ہے لیکن اس تفصیل کے ساتھ کہ اس کے لیے ’’احسن تقویم‘‘ کا خطاب بھی استعمال کیا گیا ہے اور اسے ’’اسفل سافلین‘‘ کے مقام کا مستحق بھی قرار دیا گیا ہے۔
گویا انسان اور انسانی معاشرہ کی موجودہ شکل آخری اور حتمی نہیں ہے، یہ امتحانی گزرگاہ ہے جس سے گزر کر اگلی زندگی میں اسے ’’احسن تقویم‘‘ یا ’’اسفل سافلین‘‘ کی منزل سے ہمکنار ہونا ہے اور وہی اس کا ’’اینڈ آف ہسٹری‘‘ ہوگا۔ اس لیے موجودہ انسانی معاشرہ جب آخری اور حتمی منزل نہیں ہے تو اس کی سوچ اور عقل بھی خیر اور شر کا آخری معیار نہیں ہے بلکہ خیر اور شر کا حتمی معیار آسمانی وحی ہے جس کی مکمل شکل جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی صورت میں موجود ہے۔
معزز شرکائے محفل! یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر کی پہلی دفعہ میں تمام انسانوں کو آزادی اور حقوق کے ساتھ ساتھ تکریم میں بھی برابر قرار دیا گیا ہے جبکہ اسلام تمام انسانوں کو تکریم کا یکساں مستحق تسلیم نہیں کرتا۔ اس کا اصول ’’ان اکرمکم عند اللہ اتقاکم‘‘ ہے کہ جو اچھے کردار کا حامل ہے وہ تکریم کا مستحق ہے اور جس کا کردار انسانی اخلاق کے مطابق نہیں ہے وہ تکریم کا حقدار نہیں ہے۔
اس پس منظر میں چارٹر کی دفعہ ۵ کا جائزہ لیا جائے تو جرائم کی اسلامی سزاؤں کو غیر انسانی قرار دینے کی وجہ بھی سمجھ میں آجاتی ہے۔ دفعہ نمبر ۵ کا عنوان ہے ’’تشدد کا خاتمہ‘‘ اور اس میں کہا گیا ہے کہ:
’’کسی شخص کو تشدد اور ظلم کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا اور کسی شخص کے ساتھ غیر انسانی اور ذلت آمیز سلوک نہیں کیا جائے گا یا ایسی سزا نہیں دی جائے گی۔‘‘
گویا اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق کسی مجرم کو دی جانے والی سزا کا تشدد اور تذلیل کی آمیزش سے خالی ہونا ضروری ہے اور جس سزا میں ان میں سے کسی کوئی عنصر موجود ہوگا وہ انسانی حقوق کے منافی قرار پائے گی۔ اسی بنا پر ہاتھ کاٹنے، کوڑے مارنے اور سنگسار کرنے کی سزاؤں کو انسانی حقوق کے خلاف قرار دیا جا رہا ہے اور اسی بنا پر پاکستان کی عدالت عظمیٰ میں کسی مجرم کو کھلے بندوں سزا دینے کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے تعبیر کیا جا چکا ہے۔ جبکہ اسلام میں جرائم پر سخت سزاؤں کا مقصد ہی یہ ہے کہ مجرم کو نصیحت ہو اور دیکھنے والے اس سے عبرت پکڑیں۔
اس کے بعد چارٹر کی دفعہ ۱۶ پر ایک نظر ڈال لیجئے جس میں کہا گیا ہے کہ:
’’پوری عمر کے مردوں اور عورتوں کو نسل، قومیت یا مذہب کی کسی تحدید کے بغیر باہم شادی کرنے اور خاندان کی بنیاد رکھنے کا حق حاصل ہے۔ شادی، دوران شادی اور اس کی تنسیخ کے سلسلہ میں وہ مساوی حقوق رکھتے ہیں‘‘۔
اس دفعہ میں اسلامی تعلیمات کی رو سے چند باتیں غور طلب ہیں۔ پہلی بات یہ کہ ’’پوری عمر‘‘ سے کیا مراد ہے؟ کیونکہ اسلامی احکام میں شادی کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں ہے۔ دوسری بات یہ کہ ’’مذہب کی کسی تحدید کے بغیر‘‘ کا مطلب واضح ہے کہ کوئی مسلمان مرد کسی بھی غیر مسلم عورت سے اور کوئی مسلمان عورت کسی بھی غیر مسلم مرد سے شادی کر سکتی ہے جبکہ یہ اسلامی تعلیمات کے یکسر منافی ہے۔ تیسری بات یہ ہے کہ شادی کی تنسیخ کے سلسلہ میں دونوں کے مساوی حقوق کا تصور بھی اسلامی احکام کے خلاف ہے۔ کیونکہ اسلام نے طلاق کے بارے میں واضح ترجیحات قائم کی ہیں اور دونوں کو یکساں حقوق بہرحال نہیں دیے ہیں۔
اس کے سات چارٹر کی دفعہ ۲۵ کی شق ۲ کو بھی شامل کر لیں جس میں کہا گیا ہے کہ:
’’ماں اور بچے کو خصوصی توجہ اور مدد کا حق حاصل ہے۔ تمام بچے خواہ وہ شادی کے نتیجے میں پیدا ہوئے ہوں یا بغیر شادی کے پیدا ہوں یکساں سماجی تحفظ سے بہرہ ور ہونے کا حق رکھتے ہیں‘‘۔
اور ان دونوں دفعات کے ساتھ گزشتہ برس قاہرہ میں منعقد ہونے والی اقوام متحدہ کی بہبود آبادی کانفرنس کی سفارشات کو بھی سامنے رکھیں جن میں تمام ممالک سے تقاضہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے عوام کو آزادانہ جنسی اختلاط کے مواقع فراہم کریں، اسقاط حمل کی سہولتیں مہیا کریں، بن بیاہی ماؤں کو سماجی تحفظ سے بہرہ ور کریں اور ہم جنسی کو قانونی جواز کی سند عطا کریں۔
حضرات محترم! اب آپ ان تمام امور کے اشتراک کے ساتھ خاندانی زندگی سے متعلقہ قوانین کے بارے میں اس ’’عالمی معیار‘‘ کو سمجھنے کی کوشش کریں جسے اپنانے کی تمام ممالک کو تلقین کی جا رہی ہے اور یہ تقاضا کیا جا رہا ہے کہ اگر کسی ملک میں اس معیار کے خلاف عائلی قوانین نافذ ہیں تو وہ ان میں ترامیم کر کے انہیں اس عالمی معیار کے مطابق ڈھال لے۔
کم و بیش یہی صورتحال آزادیٔ ضمیر، آزادیٔ عقیدہ، آزادیٔ رائے اور آزادیٔ اظہار کے حوالہ سے انسانی حقوق کے مذکرہ چارٹر کی تصریحات کی بھی ہے جو چارٹر کی دفعہ ۱۸ اور ۱۹ میں ان الفاظ کے ساتھ بیان کی گئی ہیں:
’’ہر شخص کو آزادیٔ خیال، آزادیٔ ضمیر اور آزادیٔ مذہب کا حق حاصل ہے، اس حق میں اپنا مذہب اور عقیدہ تبدیل کرنے اور انفرادی و اجتماعی طور پر علیحدگی میں یا سب کے سامنے اپنے مذہب یا عقیدے کی تعلیم، اس پر عمل کرنے، اس کے مطابق عبادت کرنے اور اس کی پابندی کرنے کی آزادی کا حق شامل ہے‘‘۔
’’ہر شخص کو آزادیٔ رائے اور آزادیٔ اظہار کا حق حاصل ہے، اس حق میں بلا مداخلت رائے رکھنے کی آزادی اور بلا لحاظ علاقائی حدود کسی بھی ذریعے سے اطلاعات اور نظریات تلاش کرنے، حاصل کرنے اور انہیں دوسروں تک پہنچانے کی آزادی شامل ہے‘‘۔
ان دونوں دفعات پر ایک بار پھر غور کر لیجئے اور سلمان رشدی، تسلیمہ نسرین، پاکستان کے چند مسیحی گستاخان رسولؐ اور قادیانیوں سمیت ان تمام طبقوں اور گروہوں کے مبینہ حقوق کا جائزہ لیجئے جن کی پامالی کا ڈھنڈورا پیٹ کر مغرب کی حکومتیں اور ذرائع ابلاغ انسانی حقوق کے حوالہ سے مسلمانوں کے طرز عمل کو مسلسل ہدف تنقید بنا رہے ہیں۔
حضرات مکرم! بات زیادہ لمبی ہوتی جا رہی ہے اس لیے گفتگو سمیٹتے ہوئے یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر کی بعض دفعات کا ذکر کیا گیا ہے اور وہ بھی سرسری طور پر کسی لمبی بحث میں الجھے بغیر صرف اس غرض سے کہ ان اعتراضات و شبہات کی نوعیت کا کچھ اندازہ ہو جائے جو انسانی حقوق کے حوالہ سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مغرب کی طرف سے کیے جا رہے ہیں۔ تاکہ مغرب کے ان عزائم کو سمجھنا مشکل نہ رہے جو اس کشمکش میں اس کے اہداف کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ یہ ایک سرسری اور ابتدائی مطالعہ ہے جو علماء کرام اور دانشوروں کو مسئلہ کی سنگینی اور اہمیت کا احساس دلانے کے لیے ہے۔ اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ:
- علماء کرام اور اہل دانش اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر اور اس کی تشریح و تعبیر میں جنیوا انسانی حقوق کمیشن کی قراردادوں اور فیصلوں کا گہری نظر سے مطالعہ کریں اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ان کی ایک ایک شق کا تجزیہ کریں،
- اس پر بڑے دینی اداروں اور مدارس میں مذاکروں اور علمی بحث و مباحثہ کا اہتمام کیا جائے،
- قرآن کریم، حدیث نبویؐ اور فقہ کی تدریس و تعلیم میں اساتذہ ان موضوعات کو اپنی گفتگو کا حصہ بنائیں،
- اور اہل قلم قومی اخبارات اور دینی جرائد میں ان مسائل پر اظہار خیال کریں۔
لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ اس تمام تر گفتگو اور مباحثہ میں سیاسی نعرہ بازی اور مناظرانہ اسلوب سے گریز کرتے ہوئے خالصتاً علمی زبان اور منطقی و استدلالی انداز اختیار کیا جائے تاکہ ہم دنیا پر اسلام کی حقانیت، افادیت اور ضرورت کو واضح کرنے کے ساتھ ساتھ ملت اسلامیہ کی نئی نسل اور تعلیم یافتہ طبقہ کی غالب اکثریت کو غیر شعوری ارتداد سے بچا سکیں جو اسلام کے احکام و قوانین پر مغربی فلسفہ کے اعتراضات کے مسلسل یکطرفہ پراپیگنڈہ کا کوئی معقول جواب نہ پا کر دھیرے دھیرے اس کے دائرۂ اثر میں شامل ہوتے جا رہے ہیں۔ خدا کرے کہ علمی شخصیات اور دینی ادارے وقت کے اس سب سے بڑے چیلنج کا صحیح طور پر ادراک کر سکیں، آمین یا رب العالمین۔
انسانی حقوق کے عالمگیر اعلامیہ پر ایک نظر
مولانا مفتی عبد الشکور ترمذی
انسانی حقوق کا عالمگیر اعلامیہ زیر نظر ہے، اس پر تبصرے کے لیے مختصر طور پر یہ گزارش ہے انسانی حقوق کی تفصیل سے پہلے کہ وہ کون کون سے ہیں اور ان میں سے کون سا حق صحیح ہے اور کون سا غلط؟ اصولی طور پر اس کا فیصلہ کرنا اور اس کی تعیین ضروری ہے کہ ان حقوق کی تعیین کا حق کس کو ہے اور ان کی تعیین کا معیار کیا ہے؟
عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ انسانی حقوق کی تعیین اور تفصیل عقلِ انسانی کے ذریعے ہو سکتی ہے اور یہی عقل ان انسانی حقوق کی تعیین کا معیار بن سکتی ہے۔ چنانچہ اسی کو معیار بنا کر انسانی حقوق کا ایک اعلامیہ اقوام متحدہ نے بھی جاری کر رکھا ہے، لیکن یہ معیار اور تعیینِ حقوق کا طریقہ خود عقل کے خلاف ہے، اس لیے کہ عقلِ انسانی میں خلقتًا بہت فرق ہے۔ کسی کی عقل کم اور کسی کی درمیانی درجہ کی اور کسی کی کامل درجہ کی ہوتی ہے، اور یہ بات مشاہدے سے بداہتاً معلوم اور ثابت ہے۔ خود اس کا فیصلہ کرنا بھی مشکل ہے کہ فلاں شخص کی عقل کس درجہ کی ہے؟ ہر شخص دعویٰ کر سکتا ہے کہ میری عقل کامل درجے کی ہے۔ جب عقلِ انسانی کے اندر خلقی اور فطری تفاوت پایا جاتا ہے تو اس کو حقوقِ انسانی کی تعیین کے لیے کیسے معیار بنایا جا سکتا ہے؟
اس لیے اسلامی تعلیمات کے مطابق انسانی حقوق کی تعیین کا حق تمام کائنات اور انسانوں کے خالق صرف اللہ رب العزت کو ہی ہے۔ اور جو حقوق اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے معین اور مقرر کر دیے ہیں انہی حقوق کے وہ جائز طور پر مستحق ہیں۔ اپنی طرف سے عقلِ انسانی کے تجویز کیے ہوئے حقوق، حقوق کہلانے کے ہی مستحق نہیں ہیں۔ اب اس تجویز کی بنیاد پر کسی کے حقوق کا تحفظ کرنا، ایسے حقوق کے تحفظ کا دعویٰ کرنا ہے جو درحقیقت حقوق نہیں ہیں بلکہ کسی عقلِ انسانی کی خود تراشیدہ اور من گھڑت تجویزیں ہیں، جن کو وہ دوسرے انسانوں پر بجبر نافذ کرنا چاہتا ہے، اور ان کو اپنی عقل کا تابع اور غلام بنا کر دوسروں سے اپنی عقل کی خدائی منوانا چاہتا ہے۔
ایسے حقوق جس کو عقلِ انسانی نے تجویز کیا ہو، اور یہ بھی معلوم نہ ہو کہ ان کو تجویز کرنے والی عقل کس درجہ کی ہے، ان کو بغیر چوں و چرا تسلیم کر لینا خود عقل کے خلاف ہے، اور خالقِ کائنات کے بجائے عقلِ انسانی کو خالق کا درجہ دینے کے مترادف ہے۔ مقصد یہ ہے کہ عقلِ انسانی اول تو خود محدود اور ایک حد پر جا کر ختم ہو جاتی ہے۔ دوسرے عقلوں میں باہم اختلاف اور تضاد پایا جاتا ہے، دو انسانوں کی عقل بھی برابر و مساوی نہیں ہوتی اور اس اختلاف کو مٹایا نہیں جا سکتا، یہ فطری اور خلقی ہوتا ہے۔ اس لیے وہ حقوق کے متعین کرنے کے لیے نہ صرف یہ کہ کافی نہیں بلکہ نہایت درجہ مضرت رساں اور باعثِ فساد ہے۔
اب صرف ایک ہی راستہ رہ جاتا ہے کہ وہ ذاتِ گرامی جس نے پوری کائنات کو پیدا کیا وہی ان کے حقوق بھی متعین کرے۔ وہی بتلائے کہ انسانی حقوق کون سے ہیں، اور ان کے تحفظ کا کیا طریقہ ہے۔ خالقِ کائنات کے بتلائے ہوئے حقوق اور ان کے تحفظ کے طریقے کو بلا چوں و چرا تسلیم کر لینا مخلوق پر اس کا حق ہے، ان کو تسلیم نہ کرنا خالق کی حق تلفی اور اس کی بغاوت ہے۔ اس لیے اللہ کو تسلیم کرنا عقل کا بھی تقاضا ہے۔ اور سطحی نظر سے دیکھنے والوں کو جو ان پر کچھ عقلی اشکالات پیش آتے ہیں وہ ان کی عقل کی کمی اور کج فہمی کی وجہ سے پیش آتے ہیں۔
یہ اللہ تعالی کا بڑا کرم اور احسانِ عظیم ہے کہ اس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے اپنے حقوق کے ساتھ انسانوں کے بلکہ حیوانات کے بھی حقوق متعین کر دیے۔ خدا اور رسول کے بتلائے ہوئے ان حقوق پر عمل کرنا امنِ عامہ کا ضامن ہے۔
حقوقِ انسانی کے دعوے دار عام طور پر خدا اور رسول کی مقرر کردہ سزاؤں کو سخت بتلاتے ہیں۔ اس اعلامیہ میں بھی اس کو ’’تشدد‘‘ کہا گیا ہے اور ان کو حقوقِ انسانی کے خلاف کہتے ہیں۔ مگر جن جرائم پر یہ سزائیں مقرر کی گئی ہیں ان کے ارتکاب سے اللہ تعالیٰ اور حقوقِ انسانی کی کتنی حق تلفی اور خلاف ورزی ہوتی ہے، اس پر غور نہیں کرتے۔ گویا جرائم پیشہ لوگوں پر رحم کے آنسو بہاتے ہیں، مگر جن لوگوں کی زندگی ان جرائم پیشہ لوگوں کی وجہ سے خطرے میں ہے، نہ ان کی جان محفوظ، نہ ان کا مال محفوظ، نہ ان کی عزت کا پاس۔ ان پر ہمارے ان عقل پرستوں کو رحم نہیں آتا۔
حقیقت یہ ہے کہ ایک مجرم پر ترس کھانا اور اس سے رحم کا معاملہ کرنا پوری انسانیت پر ظلم کرنے کے مترادف اور امنِ عامہ کو تباہ کرنے کا سب سے بڑا سبب ہے۔ اسی لیے جب حدودِ شرعیہ کے احکام قرآن کریم میں نازل فرمائے گئے تو ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ لاتاخذ كم بهما رافة فی دين الله (پ ۱۸) یعنی اللہ کی حدود جاری کرنے میں ان مجرموں پر ہرگز ترس نہ کھانا چاہئے۔ دوسری طرف قصاص کو عالمِ انسانی کے امن کی اساس قرار دیا۔ ولكم فی القصاص حيٰوة یا اولی الالباب (پ ۲)۔
واقعہ بھی یہی ہے کہ ایسی سخت اور عبرتناک سزا، جس کے نفاذ کے بعد اس کی ہیبت لوگوں کے دل و دماغ پر مسلط ہو جائے، اور اس جرم کے پاس جاتے ہوئے بھی بدن پر لرزہ پڑنے لگے، وہی سزا ہمیشہ کے لیے انسدادِ جرائم اور امنِ عامہ کا ذریعہ بنتی ہیں۔
اسلامی حدود کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والے، معلوم ہوتا ہے کہ وہ جرائم کا انسداد اور امنِ عامہ کا قیام چاہتے ہی نہیں۔ جن ممالک میں حدودِ شرعیہ نافذ کی جاتی ہیں، ان کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آجائے گی کہ وہاں چوری، ڈاکہ، بے حیائی کا نام نظر نہیں آئے گا۔ سعودی عربیہ کے حالات کا جائزہ لینے سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے۔
انسانی حقوق کے عالمگیر اعلامیہ میں دفعہ ۲۹ شق نمبر ۲ میں لکھا ہے:
’’اپنے حقوق اور آزادیوں سے استفادہ کرتے ہوئے ہر شخص صرف ایسی پابندیوں کی متابعت کرے گا جو قانون کے ذریعے مقرر کی جائیں گی۔ ان قوانین کا صرف یہ مقصد ہوگا کہ دوسروں کے حقوق اور آزادیوں کے احترام کو تسلیم کرایا جائے اور ایک جمہوری معاشرے میں اخلاق، نظمِ عامہ اور بہبودئ عامہ کے منصفانہ تقاضوں کو پورا کیا جائے۔‘‘
جب ان قوانین کا مقصد حقوق اور آزادیوں کے احترام کو تسلیم کرلیا جانا ہے، اور اخلاق، نظمِ عامہ اور بہبودِ عامہ کے منصفانہ تقاضوں کو پورا کیا جانا ہے، تو اسلامی شرعی سزاؤں پر اعتراض کا کیا موقع ہے؟ کیا قتلِ انسانی میں دوسرے کی جان کی حق تلفی، مال کی چوری، اور ڈاکہ میں دوسرے کی مالی حق تلفی، اور زنا میں دوسرے کی بے عزتی اور بے حیائی کا ارتکاب نہیں ہے؟ کیا اس سے معاشرے میں بد اخلاقی نہیں پھیلتی اور نظمِ عامہ میں خلل واقع نہیں ہوتا؟
اسی طرح مذہبِ اسلام سے ارتداد اور عقیدے کی تبدیلی سے کیا حقِ اسلام اور معاشرۂ اسلامی میں خلل اور نظمِ عامہ تباہ نہیں ہوتا؟
ہر شخص کو آزادء مذہب کا حق حاصل ہے، جو مذہب چاہے رکھے، کسی خاص مذہب کے اختیار کرنے پر کسی کو مجبور نہیں کیا جاتا۔ لا اکراہ فی الدین دین کے معاملے میں زبردستی نہیں کے یہی معنی ہیں۔ لیکن مذہب اسلام کو قبول کر لینے کے بعد پھر اس کو تبدیل کرنا یہ اسلام اور حکومتِ اسلام کی اہانت اور حق تعالیٰ کی بغاوت ہے۔ سرکاری اہانت اور بغاوت اس سزا کے لائق ہے کہ اس کو قتل کر دیا جائے، مگر اسلام کی رحمتِ عامہ نے صنفِ نازک عورت کو اس سزا سے مستثنیٰ کر کے حبسِ دوام کی سزا اس کے لیے تجویز کر دی۔
اعلامیہ میں اگر آزادئ ضمیر اور آزادئ عقیدہ (۱۸) کا یہ مقصد ہے کہ تبدیلئ مذہبِ اسلام اور ارتداد کا بھی حق ہے، تو قطعاً حقِ اسلام کے خلاف اور اس کی پائمالی ہے۔ علمائے اسلام کی اس پر تحقیقات اور ازالہ شبہات تفصیل کے ساتھ شائع ہو چکی ہیں۔
اسی طرح آزاد مرضی سے شادی (۱۶)، شادی میں مذہب کی شرط نہ ہونے سے مراد اگر یہ ہے کہ کافر اور مسلم کا نکاح آپس میں ہو سکتا ہے تو یہ بھی قرآنی حکم کے خلاف ہونے کے ساتھ معاشرتی حقوق کے بھی خلاف ہے۔ اس عنوان کے تحت یہ جو لکھا ہے کہ ’’اس کی تنسیخ کے سلسلہ میں وہ مساوی حقوق رکھتے ہیں‘‘ اس سے مراد اگر یہ ہے کہ طلاق کا اختیار مرد کی طرح عورت کو بھی حاصل ہے تو یہ قطعی طور پر خلافِ اسلام ہے اور معاشرے میں فساد کا سبب ہے اور مرد کے حق پر ڈاکہ ہے۔
خلاصه گزارش یہ ہے کہ حقِ انسانی وہ ہے جسے اللہ تعالٰی نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے مقرر فرما دیا ہے، کسی کی عقل کا چاہے، وہ شخصِ واحد ہو یا کوئی ادارہ ہو، مقرر کیا ہوا کوئی حق، حق نہیں ہوتا۔ وماذا بعد الحق الا الضلال۔
انسانی حقوق کے چارٹر کی بعض متنازعہ شقیں
مولانا مشتاق احمد
حق و صداقت کی ہمیشہ کفر و ضلالت سے ٹکر رہی ہے اور رہے گی، مسلمان جب تک دینِ اسلام کے تقاضوں کو سمجھتے اور ان پر عمل کرتے رہے، طاغوتی طاقتوں پر انہیں ہمیشہ غلبہ حاصل رہا، لیکن جیسے ہی مسلمانوں نے قرآن و سنت کو سمجھنا اور اس کے تقاضوں پر عمل کرنا چھوڑ دیا اور حرص و ہوس میں مبتلا ہو گئے، تب نفسانی خواہشات کی غلامی کے ساتھ ساتھ انہیں اغیار کی غلامی کا طوق بھی گلے میں ڈالنا پڑا۔ سامراجی طاقتوں نے مسلمانوں کو دام ہمرنگ زمیں میں ایسا پھنسایا اور ایسا میٹھا زہر کھلایا کہ مسلمان اسلامی فکر سے ہی محروم یا کمزور پڑتے چلے گئے۔ اس وقت بیشتر مسلم ممالک کے سربراہ سامراجی طاقتوں کے لیے فدویانہ جذبات رکھتے ہیں اور ان کے مفادات کی تکمیل کے لیے کام کرنا باعثِ فخر سمجھتے ہیں۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ ؎
مچھلی نے ڈھیل پائی ہے، لقمے پہ شاد ہے
صیاد مطمئن ہے کہ کانٹا نگل گئی
افسوس کا مقام ہے کہ مسلم ممالک نے بھی اقوام متحدہ کے اغراض و مقاصد اور چارٹر کو (جو سراسر سامراجی عزائم کی تکمیل کرتے ہیں) تقدس کا درجہ دے رکھا ہے۔ قاہرہ کانفرنس، بیجنگ کانفرنس وغیرہ عالمی کانفرنسوں میں مسلم ممالک کی پرجوش شرکت اور ان کے اختتام پر جاری کردہ اعلامیوں کی تکمیل کے وعدوں بلکہ ارادوں کو بے حمیتی کے سوا کیا نام دیا جا سکتا ہے؟
اقوام متحدہ کے منشور کی بعض شقوں پر تنقید سے کسی کو چیں بچیں نہیں ہونا چاہئے کیونکہ انسانی حقوق کے زیر بحث چارٹر میں یہ لکھا ہے:
’’ان حقوق اور آزادیوں کو اقوام متحدہ کے مقاصد اور اصولوں کے خلاف کاموں کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔‘‘
ہماری گزارش ہے کہ بالکل اسی طرح ہم مسلمانوں کو یہ کہنے کا حق ملنا چاہئے کہ
’’ان حقوق اور آزادیوں کو اسلام کے مقاصد اور اصولوں کے خلاف استعمال نہیں کیا جائے گا۔‘‘
یہ ہماری دینی حمیت کا تقاضا اور قرآن و سنت کی روح ہے، مسلمانوں کو اس حق سے محروم کرنا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
بنیاد ہی غلط ہے
اس چارٹر کی تمہید میں انسانی حقوق کے مرتب کرنے کی جو وجوہ لکھی ہیں، ان میں سے ایک شق یہ ہے:
’’ہرگاہ کہ اقوام متحدہ کی اقوام نے منشور میں بنیادی انسانی حقوق پر، انسان کی تکریم اور قدر و قیمت پر، اور مردوں و عورتوں کے مساوی حقوق پر، اپنے ایمان کی توثیق کی ہے اور تہیہ کیا ہے کہ سماجی ترقی اور بہتر معیارِ زندگی کو وسیع تر آزادی کے ساتھ فروغ دیا جائے۔‘‘
مردوں اور عورتوں کے مساوی حقوق کا نعرہ سراسر غیر اسلامی ہے اور غیر اسلامی نعرہ کی بنیاد پر ترتیب پانے والا منشور اسلامی کیسے ہو سکتا ہے؟ مرد و زن کے درمیان مساوات جاری کرنے سے یورپ جس جنم میں جل رہا ہے وہ کسی صاحبِ شعور پر مخفی نہیں۔ خاندانی نظامِ حیات تلپٹ ہو چکا ہے۔ زنا، چوری، ڈکیتی، قتل وغیرہ کی وارداتیں روز افزوں ہیں۔ اخلاقیات کا جنازہ نکل چکا ہے۔ جرائم کے یہ ’’تحفے‘‘ اب یورپ و امریکہ، اقوام متحدہ کی وساطت سے مسلم ممالک کو ارسال کرنا چاہتے ہیں بلکہ تدریجاً ارسال کر رہے ہیں۔
شادی کی آزادی
اس بارے میں دو شقیں ہیں:
’’پوری عمر کے مردوں اور عورتوں کو نسل، قومیت یا مذہب کی کسی تحدید کے بغیر باہم شادی کرنے اور خاندان کی بنیاد رکھنے کا حق حاصل ہے۔ شادی، دورانِ شادی اور اس کی تنسیخ کے سلسلہ میں وہ مساوی حقوق رکھتے ہیں۔‘‘
’’شادی کے خواہش مند جوڑوں کی آزاد اور پوری مرضی سے ہی شادی کی جا سکے گی۔‘‘
یہ دونوں شقیں سراسر غلط ہیں۔ اس فلسفہ کی بنیاد مرد و زن میں مساوات کے غیر اسلامی نظریہ پر رکھی گئی ہے۔ یہ بناء الفاسد علی الفاسد ہے۔ اسلام مسلمان مرد کو صرف مسلمان عورت یا کتابی عورت سے شادی کی اجازت دیتا ہے۔ اسی طرح مسلمان عورت صرف مسلمان مرد سے نکاح کر سکتی ہے۔ علی الاطلاق مذہب کی قید اٹھا دینا قطعاً درست نہیں ہے۔ کسی مسلمان مرد یا عورت کا مذہبِ اسلام کی قید اٹھا کر شادی کے جواز کا نظریہ رکھنا کفرِ محض اور قرآن مجید کا انکار ہے۔
اسلام شادی میں اگرچہ جبر کا قائل نہیں ہے، زوجین کی مرضی سے نکاح کرنا ضروری ہے، لیکن اس مرضی کو اتنی وسعت دینا کہ مذہب کا خیال ہی نہ رہے، بالکل غلط ہے۔
بدکاری کا تحفظ
اس شق کے الفاظ یہ ہیں:
’’ماں اور بچے کو خصوصی توجہ اور مدد کا حق حاصل ہے، تمام بچے خواہ وہ شادی کے نتیجہ میں پیدا ہوں یا بغیر شادی کے پیدا ہوں، یکساں سماجی تحفظ سے بہرہ ور ہونے کا حق رکھتے ہیں۔‘‘
یہ درست ہے کہ بچہ کو بہرحال سماجی تحفظ ملے گا کیونکہ ولدالحلال یا ولدالحرام ہونے میں اس کا کوئی دخل نہیں ہے۔ ہاں اس کا نسب ضرور مجروح ہو گا، لیکن اسلامی معاشرہ میں کسی عورت کو بغیر شادی کے بچہ پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اور اگر کوئی عورت ایسا کرتی ہے تو اسے اسلامی حدود کے تحت سزا ملے گی، ایسی بدکار عورت کو اسلام کوئی تحفظ فراہم نہیں کر سکتا۔
ثقافتی حقوق
اس کے تحت حسبِ ذیل دو شقیں ہیں:
’’ہر شخص کو آزادانہ طور پر معاشرے کی ثقافتی زندگی میں حصہ لینے، فنونِ لطیفہ سے حظ اٹھانے، اور سائنسی ترقی اور اس کے فوائد سے مستفید ہونے کا حق حاصل ہے۔‘‘
’’ہر شخص سائنسی، ادبی اور فنونِ لطیفہ کی تخلیقات، جس کا وہ خالق ہو، کے نتیجہ میں ظاہر ہونے والے اخلاقی اور مادی فوائد کے تحفظ کا حق رکھتا ہے۔‘‘
نسیم اللغات ص ۶۸۳ پر فنون لطیفہ کے یہ معانی لکھے ہیں:
’’جمالیات، مصوری، شاعری، رقاصی، موسیقی۔‘‘
اسلام میں مصوری، رقاصی و موسیقی ممنوع ہے۔ ماڈرن اسلام کے دعوے دار اور جدیدیت کے مدعی حضرات کی روش قابلِ توجہ نہیں ہے۔ اس بارے میں صرف متدین علمائے کرام کا فتویٰ قابلِ قبول ہے۔ اسلامی احکامات کی خلاف ورزی اگر ضرور ہی کرنی ہو تو گناہ سمجھ کر ہی کرنی چاہئے۔ انہیں قرآن و حدیث کا لبادہ پہنا کر تحفظ فراہم کرنے سے بچتا چاہئے کیونکہ اس سے ایمان ضائع ہونے کا خطرہ ہے۔
آزادئ مذہب کا حق
اقوام متحدہ کے چارٹر میں الفاظ یہ ہیں:
’’ہر شخص کو آزادئ خیال، آزادئ ضمیر اور آزادئ مذہب کا حق حاصل ہے۔ اس حق میں اپنا مذہب اور عقیدہ تبدیل کرنے اور انفرادی و اجتماعی طور پر علیحدگی میں یا سب کے سامنے اپنے مذہب یا عقیدے کی تعلیم، اس پر عمل، اس کے مطابق عبادت کرنے اور اس کی پابندی کرنے کی آزادی کا حق شامل ہے۔‘‘
اسلامی تعلیمات کی رو سے کسی غیر مسلم کو تو یہ حق حاصل ہے کہ وہ مثلاً عیسائی سے یہودی، یہودی سے کمیونسٹ، ہندو سے سکھ، مجوسی سے دہریہ ہو جائے، یا اللہ تعالٰی اگر توفیق دے تو مسلمان ہو سکتا ہے، لیکن یاد رکھیں کہ مسلمان ہونے کا مطلب اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے حلفِ وفاداری ہے اور ترکِ اسلام کا مطلب اللہ تعالٰی بغاوت ہے۔ ظاہر ہے کہ کوئی حاکم، اپنے ملازمین کو باغی ہونے اور بغاوت پر جمے رہنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔ اگر وہ سمجھانے پر بغاوت سے باز نہ آئیں تو ان کے لیے سزائے موت تجویز کی جاتی ہے۔
اسی طرح شریعتِ محمدیہ میں ہر شخص کو یہ آزادی حاصل ہے کہ مسلمان ہو یا نہ ہو، کوئی زبردستی نہیں ہے، لیکن مسلمان ہونے کے بعد جبکہ وہ خدا اور رسول اللہ سے حلف وفا داری اٹھا چکا ہے، اسے دینِ اسلام چھوڑ کر باغی ہونے کی اجازت ہرگز نہیں ہے۔ اگر وہ سمجھانے پر بھی باز نہیں آتا تو ایسے باغی کے لیے فرمانِ نبویؐ ہے من ارتد فاقتلوه جو دینِ اسلام سے پھر جائے اسے قتل کر دو (بخاری و مسلم)۔ اس لیے کسی مسلمان کو تبدیلی مذہب کی اجازت نہیں ہے۔
نیز یہ بھی ملحوظِ خاطر رہنا چاہئے کہ ایک اسلامی سلطنت میں غیر مسلم اقلیتی گروہ کو اپنی مرضی کے مطابق عبادت کرنے کا حق حاصل ہے۔ اس بارے میں اسلام خاصا فراخ دل ہے، حتیٰ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نجران کے عیسائیوں کو مسجد نبویؐ میں اپنے طریقہ پر نماز پڑھنے کی اجازت دی تھی (کتب سیرۃ)۔ لیکن کسی غیر مسلم کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ آزادئ رائے اور آزادئ اظہار کے نام پر مسلمانوں کو دعوت و تبلیغ اور مرتد بنانے کا کام شروع کر دے۔ یہ آزادئ اظہار نہیں بلکہ آزادئ اظہار کے نام پر مسلمانوں کے معاملات میں مداخلت ہے جو کسی طرح صحیح نہیں ہے۔
آزادئ رائے اور آزادئ اظہار کا حق
اس شق کے الفاظ یہ ہیں:
’’ہر شخص کو آزادئ رائے اور آزادئ اظہار کا حق حاصل ہے، اس حق میں بلا مداخلت رائے رکھنے کی آزادی اور بلا لحاظ علاقائی حدود کسی بھی ذریعے سے اطلاعات و نظریات تلاش کرنے، حاصل کرنے اور انہیں دوسروں تک پہنچانے کی آزادی شامل ہے۔‘‘
آج کے دور میں اسلام دشمن قوتیں آزادئ رائے، آزادئ اظہار کے نعروں کو مسلمانوں کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔ اس جدید فتنہ کے بارے میں اقبال مرحوم نصف صدی قبل ہی کہہ گئے تھے:
اس قوم میں ہے شوخی اندیشہ خطرناک
جس قوم کے افراد ہوں ہر بند سے آزاد
گو فکرِ خداداد سے روشن ہے زمانہ
آزادئ افکار ہے ابلیس کی ایجاد
آزادئ رائے و اظہار کے علمبرداروں سے ایک سوال ہے کہ آپ کی آزادئ رائے و اظہار سے مراد کیا ہے؟ اس آزادئ رائے و اظہار کے لیے کوئی شرائط و قیود بھی ہیں یا نہیں؟ اگر شرائط و قیود ہیں تو کیا ہیں؟ ظاہر ہے کہ کسی کو بھی مادر پدر آزاد قسم کی آزادئ رائے کا حق نہیں دیا جا سکتا۔ کسی بھی مہذب ملک میں آزادئ رائے و اظہار کے لیے حسبِ ذیل شرائط عائد کی جاتی ہیں (یاد رہے آزادئ اظہار میں آزادئ تقریر و تحریر اور تنظیم سازی کی آزادی شامل ہے):
۱۔ آزادئ رائے کو حکومت کے خلاف بغاوت پر اکسانے کے لیے استعمال نہ کرے۔
۲۔ ایسی کارروائیاں نہ کرے جس سے امنِ عامہ کا مسئلہ پیدا ہو۔
۳۔ اس سے لوگوں کا امن و سکون غارت نہ ہونا چاہئے۔
۴۔ کسی کے نجی معاملات میں مداخلت نہ کرے۔
۵۔ کوئی ایسی تنظیم نہ بنائے جو ملکی قوانین کے خلاف ہو۔
۶۔ ایسی تحریر و تقریر جس سے اکثریت کے جذبات مجروح ہوتے ہوں، اجتناب کرے۔
دنیا کے بیشتر ممالک میں مذکورہ شرائط کے ساتھ رائے و اظہار کی آزادیاں حاصل ہیں اور اسے انسانی حقوق میں شامل کیا جاتا ہے، اور مذکورہ شرائط کی خلاف ورزی کرنے والوں پر تعزیری قوانین نافذ کیے جاتے ہیں۔ لیکن اگر مسلمان ممالک میں سے کوئی ملک اپنی دینی و نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کے لیے شرائطِ مذکورہ کی خلاف ورزی کرنے والے کسی گروہ پر کوئی قدغن لگاتا ہے تو اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا جاتا ہے۔
تمہاری زلف میں پہنچی تو حسن کہلائی
تیرگی جو میرے نامہ سیاہ میں ہے
اس پر اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور وائٹ ہاؤس کے ذریعے مسلم ممالک پر دباؤ ڈالا جاتا ہے، ان کی اقتصادی و فوجی مدد بند کی جاتی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اسلام کا نام لینا، اسلام کی سرحدوں کا تحفظ کرنا مغرب و امریکہ کی نظر میں بہت بڑا جرم ہے، اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے الزامات اسی تعصب کا شاخسانہ ہیں۔
رقیبوں نے رپٹ لکھوائی ہے جا جا کے تھانوں میں
کہ اکبر خدا کا نام لیتا ہے اس زمانے میں
اس سوال کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ:
- مقبوضہ کشمیر میں آزادئ رائے و اظہار پر مکمل پابندی ہے، پاکستان پر لگائی جانے والی پابندیاں وہاں کیوں نہیں؟
- الجزائر میں امریکہ اور دیگر مغربی ممالک فوجی انقلاب کی پشت پناہی کیوں کر رہے ہیں؟ وہاں انتخابات کے نتائج کو کیوں ہائی جیک کیا گیا؟ کیا یہ آزادئ رائے و اظہار کے حق کی خلاف ورزی نہیں ہے؟
- مصر میں دینی تنظیموں پر طویل عرصہ سے پابندی ہے اور دینی رہنما پابند سلاسل ہیں جس کی وجہ سے وہ زیر زمین سرگرمیوں میں مشغول ہو گئے ہیں جو کہ بہر حال ناپسندیدہ ہے، اس سے اتفاق نہیں کیا جا سکتا، لیکن سوال یہ ہے کہ ان کو اس انتہا پسندی تک کس نے پہنچایا؟ ۲۰-۳۰ برس سے ان کے انسانی حقوق غصب ہو رہے ہیں لیکن عالمی طاقتیں خاموش تماشائی ہیں، آخر کیوں؟
- امریکہ کا لے پالک اسرائیل فلسطینیوں کے حقوق کئی برسوں سے غصب کیے بیٹھا ہے، اس پر کوئی پابندی نہیں بلکہ الٹا اس کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔
- بوسنیا اور برما میں ہزاروں مسلمان قتل اور لاکھوں دربدر ہو چکے ہیں، انسانی حقوق کے ٹھیکے دار وہاں کیا کر رہے ہیں؟
- در اصل امریکہ اور اقوام متحدہ کا مسلم ممالک کے لیے اور غیر مسلم ممالک کے لیے جدا جدا معیار ہے، جدا جدا ترازو ہیں۔ ہر مسلمان کو اس پر غور و فکر کرنا چاہئے اور ان کے دلکش نعروں والے پروگراموں کی اصلیت کا پتہ لگاتے رہنا چاہئے۔
حکومت اور ملازمت میں حصہ
اس عنوان کے تحت دو شقیں ہیں:
’’ہر شخص کو حق حاصل ہے کہ وہ براہ راست یا آزادی سے منتخب نمائندوں کے ذریعے اپنے ملک کی حکومت میں حصہ لے۔‘‘
’’ہر شخص کو اپنے ملک کی سرکاری ملازمتوں میں مساوی رسائی کا حق حاصل ہے۔‘‘
اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ اسلامی مملکت میں ہر شخص کو انتخاب میں حصہ لینے اور سرکاری ملازمت حاصل کرنے کا حق حاصل ہے، لیکن وہ عہدے جن سے اسلامی مملکت کے راز معلوم ہوتے ہوں یا دفاعی نوعیت کے حساس معاملات ہوں یا صدر، وزیر اعظم کا منصب ہو، اس پر کسی غیر مسلم کو فائز نہیں کیا جا سکتا۔
انسانی حقوق اور سیرتِ نبویؐ
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی
انسانی حقوق کا مغربی تصور سیرت طیبہؐ کی روشنی میں
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
(۲۷ و ۲۸ نومبر ۱۹۹۴ء کو مظفر آباد میں حکومت آزاد کشمیر کے زیراہتمام منعقدہ سیرت کانفرنس میں پڑھا گیا)
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ صدر ذی وقار، معزز مہمان خصوصی اور قابل صد احترام شرکاء سیرت کانفرنس! جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے کہ اسلام کی دعوت اور پیغام کو مخاطب کی زبان میں اس کی ذہنی سطح اور نفسیات کے مطابق پیش کیا جائے۔ مکہ مکرمہ کے قریشی سردار جب جناب رسول اللہؐ کی دعوت توحید کے اثرات سے پریشان ہو کر جرگے کی صورت میں آنحضرتؐ کے پاس آئے اور پوچھا کہ آخر آپؐ کی دعوت کا مقصد کیا ہے اور آپ کیا کہنا چاہتے ہیں؟ تو رسول اکرمؐ نے ان کے مزاج و نفسیات اور ذہنی سطح کو سامنے رکھتے ہوئے یہ جواب دیا کہ
’’میں ایک ایسا کلمہ تمہارے سامنے پیش کر رہا ہوں کہ اگر تم اسے قبول کر لو تو عرب و عجم تمہارے تابع ہوں گے۔‘‘
جناب نبی اکرمؐ کو معلوم تھا کہ یہ لوگ غلبہ، قوت اور اقتدار کے سوا کسی اور زبان کو نہیں سمجھتے اس لیے آپؐ نے انہی کی زبان میں دعوت اسلام کے نتائج و فوائد سے انہیں آگاہ کیا۔ اور یہ بات خلاف واقعہ بھی نہ تھی اس لیے کہ اسلام کی دعوت کو قبول کرنے کے بے شمار نتائج و منافع میں سے ایک منفعت یہ بھی تھی۔ چونکہ سوال کرنے والوں کے ہاں اس منفعت کی اہمیت زیادہ تھی اس لیے آنحضرتؐ نے اسی کا حوالہ دے کر ان کے سوال کا جواب مرحمت فرمایا۔
اس پس منظر میں آج کے دور میں دعوتِ اسلام کی ضروریات اور تقاضوں کا جائزہ لیا جائے اور جناب رسالت مآبؐ کی سیرت طیبہ کو نسل انسانی کے سامنے پیش کرنے کے لیے ترجیحات پر غور کیا جائے تو ضروری معلوم ہوتا ہے کہ انسانی حقوق کے بارے میں قرآن کریم کی تعلیمات اور رسول اکرمؐ کے ارشادات و احکام کو زیادہ اہمیت کے ساتھ منظر عام پر لایا جائے۔ اور انسانی معاشرہ کو بتایا جائے کہ انسانی حقوق کے تعین اور تحفظ کا جو معیار اور دائرہ کار اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبر نے کم و بیش ڈیڑھ ہزار سال قبل دنیا کے سامنے پیش کیا تھا، انسانی عقل تدریج و ترقی کے تمام مراحل طے کرنے اور مختلف نظام ہائے زندگی کا تجربہ کرنے کے باوجود اس کا کوئی متبادل سامنے نہیں لا سکی، اور انسانی معاشرہ ایک بار پھر پریشانی اور اضطراب کے عالم میں اپنے مسائل و مشکلات کے حل کے لیے کسی مسیحا کے انتظار میں ہے۔
آج کی دنیا میں ’’انسانی حقوق‘‘ کی زبان سب سے زیادہ توجہ کے ساتھ سنی جانے والی زبان ہے، جبکہ ورلڈ میڈیا اور لابیوں نے اسے صرف زبان کی حد تک نہیں رہنے دیا بلکہ وقت کا موثر ترین ہتھیار بنا دیا ہے جو عالم اسلام اور تیسری دنیا کی اقوام کے خلاف مغرب کے ہاتھوں میں کامیابی کے ساتھ استعمال ہو رہا ہے۔ اور مغرب جسے چاہتا ہے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر اور جنیوا کنونشن کی قراردادوں کے شکنجے میں جکڑ کر انسانی حقوق کی چھری کے ساتھ ذبح کر دیتا ہے۔
حضراتِ محترم! مغرب انسانی حقوق کے حوالہ سے جتنے بلنگ بانگ دعوے کر لے، مگر انسانی حقوق اور فری سوسائٹی کے مغربی تصور پر مبنی سولائزیشن نے نتائج و ثمرات کے لحاظ سے آج جو روپ دھار لیا ہے اس نے خود مغربی دانش وروں کو حیران و ششدر کر دیا ہے اور مغربی معاشرہ میں جنسی انارکی اور فیملی سسٹم کی تباہی نے گورباچوف جیسے مدبر کو یہ لکھنے پر مجبور کر دیا ہے کہ ہم نے عورت کو گھر سے نکال کر غلطی کی ہے اور اب اسے گھر واپس لے جانے کا کوئی راستہ نظر نہیں آرہا۔
دراصل مغرب حقوق و فرائض میں توازن قائم رکھنے اور ان کے درمیان حد فاصل قائم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ جبکہ جناب رسول اللہؐ نے حقوق اور فرائض کو نہ صرف یکجا ذکر کیا بلکہ ان کے درمیان ایسا حسین توازن قائم کر دیا جو گاڑی کے دو پہیوں کی طرح انسانی زندگی کا یکساں بوجھ اٹھا سکتا ہے اور اسے لے کر کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ سکتا ہے۔ مگر مغرب نے حقوق و فرائض کو آپس میں گڈمڈ کر دیا اور ان کے درمیان کوئی خط امتیاز قائم نہ رہنے دیا جس کی وجہ سے انسانی معاشرہ ذہنی انتشار اور فکری انارکی کی آماجگاہ بن کر رہ گیا ہے۔ مثلاً
- اقتدار اور حکومت کو نبی اکرمؐ نے فرائض اور ذمہ داریوں میں شمار کیا ہے اور قدم قدم پر اس ذمہ داری کی نزاکت اور سنگینی سے خبردار کیا ہے۔ اس کا منطقی نتیجہ حکمرانوں میں احساس ذمہ داری اور خداخوفی کی صورت میں ظاہر ہوا اور لوگ اقتدار کی دوڑ میں شریک ہونے کی بجائے اس سے بچنے میں عافیت محسوس کرنے لگے۔ مگر مغرب نے اسے حقوق کی فہرست میں رکھ دیا اور اس حق کو حاصل کرنے کے لیے جو دوڑ لگتی ہے اس کے فوائد و نقصانات کا تناسب ہر ذی شعور پر واضح ہے۔
- محنت، مزدوری اور ملازمت کے ذریعے روزی کمانا اور اہل خانہ کی کفالت کرنا رسول اکرمؐ کی تعلیمات کی رو سے فرائض کا حصہ ہے اور ڈیوٹی ہے جو گھر کے سربراہ پر عائد ہوتی ہے۔ مگر مغرب نے پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں بے شمار افراد کے قتل ہوجانے کے باعث پیدا ہونے والے افرادی قوت کے خلاء کو پر کرنے کے لیے عورت کو گھر سے باہر لانے کی ضرورت محسوس کی تو ملازمت اور محنت و مزدور ی کی ڈیوٹی پر ’’حقوق‘‘ کا خوشنما لیبل چسپاں کر کے اس غریب کو ورغلا لیا۔ اور وہ ’’عقل کی پوری‘‘ بچہ جننے اور اس کی پرورش کرنے کی ڈیوٹی کے ساتھ ساتھ اسے کما کر کھلانے کی ڈیوٹی میں بھی شامل ہو کر خوش ہونے لگی کہ اب میں مردوں کے شانہ بشانہ ’’مساوی حقوق‘‘ سے بہرہ ور ہو گئی ہوں۔
- جناب رسول اللہؐ نے امر بالمعروف، نہی عن المنکر، اور حکومت کے غلط طرز عمل پر نقد و جرح کو فرائض میں شمار کیا ہے جو حزب اقتدار اور حزب اختلاف کی کسی تقسیم کے بغیر معاشرہ کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔ رسول اکرمؐ نے جابر سلطان کے سامنے کلمۂ حق بلند کرنے کو جہاد قرار دیا ہے او ریہ تعلیم دی ہے کہ جو شخص دیکھتے جانتے ہوئے بھی غلط کو غلط نہیں کہتا وہ شریعت کی نظر میں مجرم ہے۔ مگر مغرب نے آزادیٔ رائے اور حکومت کی غلط پالیسی پر اسے ٹوکنے کو فرائض کے زمرہ سے نکال کر حقوق کے دائرہ میں شامل کر لیا۔ اس کا ایک نتیجہ تو یہ نکلا کہ یہ ایک اختیاری امر بن گیا اور دوسرا نتیجہ یہ نکلا کہ ’’حقوق‘‘ کے تصور نے اقتدار اور اپوزیشن کی صف بندی کر دی جس نے پوری قوم کو دو حصوں میں تقسیم کر کے رکھ دیا۔
یہ چند مثالیں یہ بات واضح کرنے کے لیے پیش کی گئی ہیں کہ مغرب نے ’’حقوق و فرائض‘‘ کو خلط ملط کر کے انسانی معاشرہ کی گاڑی کے دونوں پہیوں کا توازن بگاڑ دیا ہے جس کی وجہ سے گاڑی مسلسل لڑکھڑاتی چلی جا رہی ہے۔ جبکہ جناب رسالت مآبؐ نے حقوق و فرائض میں توازن قائم کیا اور اس کا عملی نمونہ خلافت راشدہ کی صورت میں پیش کر کے دنیا کو دکھا دیا ۔
سامعین گرامی قدر! مغرب سے انسانی حقوق کے حوالہ سے دوسری بنیادی غلطی یہ ہوئی کہ حقوق کے تعین کا معیار قائم کرنے میں اس کی نگاہ انسانی معاشرے کی وسیع تر ضروریات کا احاطہ نہ کر سکی۔ مغرب نے حق کے تعین میں معیار یہ پیش کیا کہ ہر شخص کو اپنی مرضی پر عمل کرنے کا حق ہے، جب تک کہ دوسرے شخص کی آزادی متاثر نہ ہو۔ اس طرح مغرب نے حق و ناحق اور جائز و ناجائز کے تعین میں شخصی مفادات و ضروریات میں ہم آہنگی یا ٹکراؤ کو بنیاد بنایا اور اس سے آگے نسل انسانی اور انسانی معاشرہ کی اجتماعی ضروریات و مفادات تک اس کی نگاہ نہ جا سکی جس کا خمیازہ مغرب کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ مثلاً
- مرد و عورت کے اختلاط میں مغرب نے یہ تصور پیش کیا کہ جس درجہ کے اختلاط پر دونوں باہم رضامند ہوں، کسی تیسرے کو اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی قانون کو گرفت کرنی چاہیے۔ یہاں مغرب نے مرد اور عورت کی باہمی رضامندی تو دیکھ لی مگر پورے معاشرہ پر اس اختلاط کے اثرات کو نہ دیکھ سکا جس کے نتیجے میں کنواری ماؤں اور ناجائز بچوں کے تناسب میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور فیملی سسٹم تباہی کی آخری حدوں کو چھو رہا ہے۔ جبکہ جناب نبی اکرمؐ نے مرد و عورت کی اس باہمی رضامندی کو بھی جرم قرار دیا ہے جو معاشرے کے لیے منفی نتائج کا باعث بن سکتی ہو۔ اور مرد و عورت کے اختلاط اور میل جول کا ایک دائرہ قائم کر کے باقی ہر قسم کے میل جول سے منع فرما دیا ہے، کیونکہ کسی بھی عمل کے جائز ہونے کے لیے صرف اس عمل کے دو فریقوں کا رضامند ہونا کافی نہیں بلکہ انسانی معاشرہ کا اس کے منفی اثرات سے محفوظ رہنا بھی ضروری ہے۔ اور یہی بنیاد ہے اس توازن کی جو رسول اکرمؐ نے مرد و عورت کے تعلقات کے حوالہ سے قائم فرمایا ہے۔
- سود کے بارے میں مغرب نے کہا کہ جب سود لینے اور دینے والے آپس میں متفق ہیں تو کسی اور کو کیا اعتراض ہے؟ یہاں بھی مغرب نے دو افراد کی رضامندی کے محدود دائرہ کو بنیاد بنایا۔ جبکہ جناب رسالت مآبؐ نے معاشرہ پر مجموعی طور پر اس کے منفی اثرات کو سامنے رکھتے ہوئے اس کی حرمت کا اعلان فرمایا۔ اور آج سودی معیشت نے جس طرح پوری دنیا کو چند مخصوص گروہوں کی معاشی اجارہ دارہ کے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے وہ اسلامی تعلیمات کی صداقت اور جناب رسول اللہؐ کی خداداد فراست و بصیرت کی روشن اور کھلی شہادت ہے۔
ان گزارشات کا مقصد یہ ہے کہ جناب رسول اکرمؐ کی سیرت طیبہ کے حوالہ سے ہمیں آج کھلے دل و دماغ کے ساتھ انسانی حقوق کے مغربی تصور کا جائزہ لینا چاہیے اورا س کے وسیع تر پراپیگنڈہ سے مرعوب ہونے کی بجائے اس کے کھوکھلے پن کو تقابلی مطالعہ کے ساتھ سامنے لا کر اسلامی تعلیمات و احکام کو واضح کرنا چاہیے۔ تاکہ مشکلات و مصائب کے صحرا میں بھٹکتی ہوئی انسانیت کی اسوۂ حسنہ کے شفاف اور خوش ذائقہ سرچشمۂ حیات کی طرف راہنمائی کی جا سکے۔
حضرات گرامی قدر! مغرب اور انسانی حقوق کے حوالہ سے گفتگو چلی ہے تو مناسب معلوم ہوتا ہے کہ انسانی حقوق کے فلسفہ کی فکری بنیادوں سے ہٹ کر اس کے واقعاتی پہلوؤں پر بھی کچھ معروضات پیش کر دی جائیں۔ بالخصوص اس تضاد اور دوعملی کے پس منظر میں جو مغرب نے عالم اسلام کے بارے میں اختیار کر رکھا ہے۔ اور جس نے یہ بات پوری طرح واضح کر دی ہے کہ مغرب کے نزدیک ’’انسانی حقوق‘‘ کسی فلسفہ یا اصول کا نام نہیں بلکہ یہ محض ایک ہتھیار ہے جو اس نے مخالف اقوام پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے اختیار کر رکھا ہے، ورنہ
- مغرب جو ووٹ، الیکشن اور بیلٹ باکس کے تقدس کا علمبردار ہے اور غیر جمہوری حکومتوں کا اپنے ساتھ برابر کی سطح پر بیٹھنا گوار انہیں کرتا، الجزائر میں اسلامک سالویشن فرنٹ کی انتخابی کامیابی پر آتش زیرپا کیوں ہے؟ اور اسلامک فرنٹ کی جمہوری قوت کو کچلنے کے لیے الجزائر کی غیر جمہوری حکومت کی پشت پناہی کیوں کر رہا ہے؟
- آج اس مغرب کو بوسنیا کے خلاف سربوں کی جارحیت اور بوسنیا کے مسلمانوں کا گاجر مولی کی طرح کٹتے چلے جانا نظر نہیں آرہا؟ صرف اس لیے کہ جن کی عصمتیں لٹ رہی ہیں اور جن کی گردنیں کٹ رہی ہیں وہ مسلمان کہلاتے ہیں۔ جبکہ مغرب سلامتی کونسل کی اٹھک بیٹھک اور زبانی جمع خرچ کے ساتھ سربوں کی مکمل فتح کا انتظار بلکہ عملاً اس کے مقاصد کے حصول کے لیے راہ ہموار کر رہا ہے۔
- اس مغرب کو وادیٔ کشمیر میں گھر گھر بہنے والا خون نظر نہیں آرہا اور نہ حوا کی بیٹیوں کی دل فگار چیخیں مغرب کے کانوں تک پہنچ پا رہی ہیں۔ کشمیر میں انسانی حقوق کے ساتھ ہولی کھیلی جا رہی ہے مگر چونکہ مرنے والے مسلمان ہیں اور ان کے ساتھ مغرب کا کوئی مفاد وابستہ نہیں ہے اس لیے کشمیر کے حوالے سے مغرب کے کان اور آنکھیں بند ہیں، اور اس کے انسانی حقوق کے سارے کے سارے فلسفے مصلحتوں کے فریزر میں منجمد پڑے ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ کشمیر، بوسنیا، فلسطین اور اب چیچنیا کے خلاف روسی جارحیت کے حوالہ سے منافقانہ طرز عمل نے مغرب کے چہرے سے ’’انسانی حقوق‘‘ کا ریاکارانہ نقاب نوچ پھینکا ہے اور اس کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے کر دیا ہے جس کے بعد اس کے پیش کردہ ’’انسانی حقوق‘‘ کا ظاہری بھرم بھی قائم رہتا نظر نہیں آرہا۔
چنانچہ مسلم علماء اور دانشوروں کو چاہیے کہ وہ حوصلہ اور اعتماد کے ساتھ آگے بڑھیں اور دنیا کو منطق و استدلال کے ساتھ بتائیں کہ انسانی حقوق کا حقیقی فلسفہ اور متوازن نظام وہی ہے جو جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کے سامنے پیش فرمایا اور آج بھی انسانی معاشرہ کی فلاح و کامیابی اسی نظام کو اپنانے پر منحصر ہے۔
(ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ ۔ فروری ۱۹۹۵ء)
مغربی میڈیا، انسانی حقوق، اسلامی بنیاد پرستی اور ہم
ڈاکٹر صفدر محمود
موجودہ دور میڈیا کا دور ہے۔ غور کیا جائے تو محسوس ہو گا کہ مغرب محض مؤثر اور طاقتور میڈیا کے ذریعے ہمارے ذہنوں پر حکومت کر رہا ہے۔ یہاں ہم سے مراد صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پاکستان جیسے وہ ممالک بھی اس فہرست میں شامل ہیں جہاں سیاسی شعور کا فقدان ہے، جہالت عروج پر ہے اور تعلیم یافتہ طبقہ ہر قسم کی راہنمائی کے لئے مغرب کی جانب دیکھتا ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ یہ ایک طرح سے ہمارے پڑھے لکھے طبقے کا احساسِ کمتری ہے کہ وہ مغرب کے ایجاد کردہ ہر لفظ، اصطلاح اور محاورے کو یوں قبول کر لیتا ہے جیسے یہ الہامی بات اور مقدس لفظ ہو۔ چنانچہ اس طرح مغربی میڈیا وقتاً فوقتاً نئے نئے شوشے چھوڑتا رہتا ہے جن کا مقصد ہماری سوچ کو متاثر کرنا اور ہماری فکر کو ایک خاص رخ پر ڈالنا ہوتا ہے۔
یاد رکھئے کہ یہ دور جسمانی غلامی کا نہیں، ذہنی غلامی کا ہے۔ ماضی میں جب ضعیف قوموں کو غلام اور کمزور ملکوں کو تجارتی مقاصد کے لئے کالونی بنایا جاتا تھا تو مغربی ممالک نے پسماندہ اقوام کی ایک بڑی تعداد کو اپنا غلام بنا رکھا تھا۔ اس دور میں انسانی حقوق کا کہیں ذکر نہیں تھا کیونکہ انسانی حقوق کا فلسفہ مغربی استعمار کے مفادات کے منافی تھا بلکہ مغربی استعمار کی نفی کرتا تھا۔ اس طرح مغربی ممالک صدیوں تک پسماندہ ممالک کو اپنی کالونیاں بنا کر ان کے وسائل کو اپنی صنعتی و تجارتی ترقی کے لئے استعمال کرتے رہے۔ اگر آپ لندن، پیرس اور روم جیسے خوبصورت شہروں کی بڑی بڑی شاہراہوں، عمارات اور صنعتی مراکز کی بنیادوں میں جھانکیں تو ان میں سے آپ کو اپنے بزرگوں کے خون اور پسینے کی خوشبو آئے گی۔
جب ان استعماری قوتوں کو آزادی کی تحریکوں کے سامنے ہتھیار ڈال کر غلام ممالک سے رخصت ہونا پڑا تو اس کے ساتھ ہی انہیں جمہوری اقدار اور انسانی حقوق کا خیال آیا۔ چنانچہ انسانی حقوق کے دفاع کے لئے عالمی سطح پر انجمنیں بنائی گئیں۔ کل تک انسانوں کو حیوانوں سے کم تر سمجھنے والے چند ہی برسوں میں انسانی حقوق کے ٹھیکے دار بن گئے۔ گویا پرانا شکاری نیا جال لے کر آگیا۔ اس وقت بعض ممالک میں یہ انجمنیں بہت مفید کام کر رہی ہیں لیکن لطف یہ ہے کہ جن ممالک میں اولادِ آدم کو مغربی اقوام کی ملی بھگت سے کچلا جا رہا ہے وہاں بھی انسانی حقوق کی انجمنین موجود ہیں جو بے کار ہیں اور غیر موثر ہیں۔
گزشتہ چند برسوں سے اولاد آدم کے انسانی حقوق کی حفاظت کی اجارہ داری امریکہ کے پاس ہے۔ ادھر مغربی میڈیا نے انسانی حقوق کو ایک آئیڈیالوجی بلکہ مذہب کا درجہ دے دیا ہے، جس سے امریکہ کو یہ استحقاق حاصل ہو گیا ہے کہ وہ کسی بھی ایسے ملک کے اندرونی معاملات میں دخل دے سکتا ہے بلکہ اسے دہشت گرد قرار دے کر سزا کا حقدار ٹھہرا سکتا ہے، جہاں انسانی حقوق پر زد پڑتی ہو۔ کس ملک میں انسانی حقوق پامال ہو رہے ہیں؟ اس کا فیصلہ بھی امریکہ ہی کرے گا۔ چنانچہ امریکہ عراق پر بمباری کر کے سینکڑوں معصوم شہریوں کو موت کی نیند سلا دے تو وہ انسانی حقوق کے حوالے سے درست اقدام قرار دیا جاتا ہے، لیکن بوسنیا میں ہزاروں معصوم مسلمان سربیائی ظلم کی بھینٹ چڑھ جائیں تو امریکہ کے ضمیر میں خلش نہیں ہوتی کیونکہ بوسنیا مسلمان ملک ہے۔ اسی طرح پاکستان اگر کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی اخلاقی مدد کرے تو وہ سزا کا مستحق ہے، لیکن بھارت اگر ہزاروں مسلمانوں کو گولی کا نشانہ بنا دے، اس سے چشم پوشی برتی جائے گی۔
انسانی حقوق کے حوالے سے مجھے ایک دلچسپ واقعہ یاد آیا۔ جون ۱۹۹۱ء میں ایک بین الاقوامی سیمینار کے ضمن میں مجھے سان فرانسکو جانے کا موقعہ ملا۔ اس سیمینار میں ایشیائی ممالک کے سکالرز کے علاوہ مختلف امریکی یونیورسٹیوں سے بھی ممتاز پرفیسر صاحبان بلائے گئے تھے۔ سیمینار کے آغاز سے ایک روز قبل میں نے ٹیلی ویژن آن کیا تو ایک دلچسپ خبر بمعہ تبصرہ سننے کو ملی۔ کیلی فورنیا کی ریاست میں جنگلات کے وسیع ذخیرے پائے جاتے ہیں۔ کیونکہ وہاں عمارات کی تعمیر میں لکڑی کا عمل جاری رہتا ہے۔ خبر یہ تھی کہ کٹائی کے دوران ماہرین جنگلات کو اچانک پتہ چلا کہ اس جنگل میں ایک الو صاحب نے اپنا مستقل ’’گھر‘‘ بنا رکھا ہے اور جب سے درختوں کی کٹائی کا سلسلہ شروع ہوا ہے الو صاحب اداس رہنے لگے ہیں۔ الو کی اداسی کی خبر سے اس علاقے میں احتجاج ہوا اور کیلی فورنیا کی حکومت نے جنگل کی کٹائی روک دی جس سے لکڑی کی قیمت میں اضافہ ہو گیا اور گھروں کی تعمیر قدرے مہنگی ہو گئی۔ میں نے یہ ساری خبر اور اس پر تبصرہ ٹیلی ویژین پر سنا اور گہری سوچ میں ڈوب گیا۔
اگلے دن سیمینار کے دوران چائے کا وقفہ ہوا تو میں نے ممتاز امریکی پروفیسر صاحبان سے اس خبر کا تذکرہ کیا۔ وہ پہلے ہی اس سے آگاہ تھے لیکن جب میں نے ان سے ذکر کیا تو ان کے چہرے خوشی سے گلاب کی مانند کھل گئے۔ اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے میں نے یہ سوال داغ دیا کہ آپ نے ایک پرندے کی اداسی کی خاطر جنگل کی کٹائی روک کر لکڑی کی قیمت میں اضافہ برداشت کر لیا لیکن چار پانچ ماہ قیل عراق کے معصوم شہریوں پر بموں کی بارش کی جا رہی تھی تو آپ کیوں خاموش رہے؟ کیا آپ کو ایک جانور مسلمان کی زندگی سے زیادہ عزیز ہے؟ میرے اس سوال سے چہروں کے رنگ اڑ گئے۔ اس ایک واقعے سے آپ امریکہ کی انسانی حقوق سے کمٹ منٹ کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔
بات یہاں سے چلی تھی کہ آج کا دور میڈیا کا دور ہے۔ میڈیا بد قسمتی سے یہودیوں کے قبضے میں ہے اور یہودیوں کا نشانہ بہر حال اسلام اور مسلمان ہیں۔ اب جب کہ مغربی ممالک غیر ترقی یافتہ ممالک سے بوریا بستر لپیٹ کر رخصت ہو چکے ہیں تو انہوں نے ان ممالک پر حکمرانی کا ایک نیا طریقہ وضع کیا ہے، اور وہ طریقہ ہے میڈیا کے زور پر ذہنوں پر حکومت کرنا۔ نصف صدی قبل جسمانی غلامی کا دور تھا جب کہ موجودہ زمانہ ذہنی غلامی کا زمانہ ہے۔ جسمانی غلامی بھی ہمارا مقدر تھی اور ذہنی غلامی بھی ہماری ہی قسمت کا حصہ ہے۔ سوچئے تو سہی کہ اس کی وجوہ کیا ہیں؟
اسی پس منظر میں مغربی میڈیا جب چاہتا ہے کوئی نئی اصطلاح اور کوئی نیا شوشہ چھوڑ دیتا ہے۔ دنیا کے بہترین رسائل جن میں ادبی تحقیقی اور سیاسی پرچے شامل ہیں، مغربی ممالک سے شائع ہو کر ساری دنیا میں پھیل جاتے ہیں۔ ان رسائل میں اکثر اوقات ایک خاص نقطہ نظر پیش کیا جاتا ہے جو مغربی دنیا کے مفادات کے عین مطابق ہوتا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ عالمی شہرت کے رسالے ٹائم، اکانومسٹ اور نیوزویک پر یہودی لابی غالب ہے۔ یہ رسالے ہر ہفتے بین الاقوامی سیاست پر تبصرے کرتے اور تجزیے شائع کرتے ہیں جنہیں ہم من وعن مقدس تحریر سمجھ کر یوں قبول کر لیتے ہیں کہ ان کے سیاق و سباق پر غور ہی نہیں کرتے۔ پھر ہر محفل میں ان کے حوالے دے کر حاضرین محفل کو متاثر کیا جاتا ہے۔ لطف یہ کہ خود حاضرین بھی ان تبصروں کو ٹائم اور نیوزویک کے حوالے سے حرف آخر سمجھ کر قبول کر لیتے ہیں۔
ہم نے کبھی یہ سوچنے کی زحمت نہیں کی کہ عراق ہو، ایران ہو یا بوسنیا، یہ رسائل اپنے تجزیوں میں ڈنڈی ضرور ماریں گے اور کسی نہ کسی طرح اسلام اور مسلمان سے اس طرح چنکی ضرور لیں گے کہ قاری کو محسوس بھی نہ ہو اور الفاظ اپنا کام بھی کر جائیں۔ عراق کویت جنگ اور انقلابِ ایران کے دوران ان رسائل نے اپنا بھرپور کردار سر انجام دیا اور عالمی رائے عامہ کو اپنی ضروریات کے سانچے میں ڈھالا۔
صرف میڈیا ہی کا کمال ہے کہ کوئی بھی اسلامی ملک اپنے موقف میں کتنا ہی حق بجانب کیوں نہ ہو، عالمی سطح پر معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اور وہ سربراہانِ حکومت جو مغربی مفادات کے خلاف کام کرتے ہیں انہیں تمسخر کا نشانہ بنادیا جاتا ہے۔ غور کیجئے تو محسوس ہو گا کہ یہ ایک طرح سے ہماری غلامانہ ذہنیت کی علامت ہے۔
کبھی کبھی یوں بھی ہوا ہے کہ جب کسی ناقابلِ قبول حکمران کو بدلنا مقصود ہوتا ہے تو میڈیا سے ہراول دستے کا کام لیا جاتا ہے، وہ اس طرح کہ مغربی میڈیا بڑی طاقتوں کی خفیہ ایجنسیوں کی ملی بھگت سے ایسے حکمرانوں کی ذاتی زندگی اور قومی کردار کے بارے میں من گھڑت کہانیاں شائع کرتا ہے، اور آزادئ اظہار کے نام پر ان شخصیات کی اس طرح کردار کشی کی جاتی ہے کہ نہ صرف عالمی سطح پر ان کا امیج خراب ہوتا ہے بلکہ خود ان ممالک کے عوام بھی اپنے حکمرانوں سے نفرت کرنے لگتے ہیں۔ آپ نے اکثر مشاہدہ کیا ہو گا کہ بڑی طاقتوں کے لئے ’’نا پسندیدہ حکمرانوں‘‘ کے بارے میں عجیب و غریب خفیہ داستانیں پھیلائی جاتی ہیں، جب کہ اپنے حواری اور پسندیدہ حکمرانوں کی ایسی حرکات چھپائی جاتی ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ موجودہ دور میں میڈیا کا کردار فیصلہ کن حیثیت اختیار کر گیا ہے، اور جو مقاصد ماضی میں فوجی یلغار سے حاصل کئے جاتے تھے وہ مقاصد اب میڈیا کی یلغار سے حاصل کئے جاسکتے ہیں۔
مغربی میڈیا کی مہربانی سے ایک مردہ اصطلاح میں جان ڈالی گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک متروکہ اصطلاح پوری دنیا میں مقبول ہو گئی۔ وہ اصطلاح ہے ’’فنڈامینٹلزم‘‘ یعنی ’’بنیاد پرستی‘‘۔ امریکہ اور انگلستان میں شائع شدہ انگریزی لغات کے مطابق فنڈامینٹلزم کا مطلب ہے:
’’عیسائیت کے پرانے اعتقادات پر یقین رکھنا۔‘‘
’’موجودہ عیسائیت جو سائنس سے متاثر ہے، اس کے مقابلے میں پرانی تعلیمات اور بائیل کے اصل الفاظ کو ماننا۔‘‘
عیسائیت میں تو بنیاد پرستی سمجھ میں آتی ہے، کیونکہ عیسائیت میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خاصی تبدیلی آئی ہے بلکہ خود بائبل بھی اصلی حالت میں موجود نہیں رہی، لیکن جہاں تک اسلام کا تعلق ہے ہمارا ایمان ہے کہ اسلام بدلا ہے نہ قرآن، اور نہ ہی قرآن قیامت تک بدلے گا۔ اسلام کے بنیادی عقائد وہی ہیں جو ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائے تھے۔ اگرچہ اسلام میں مذہبی فرقوں کی کمی نہیں لیکن اختلاف تفصیلات پر ہے نہ کہ بنیادی عقائد پر۔ چنانچہ اسلام میں دراصل بنیاد پرستی کا تصور اس طرح موجود نہیں جس طرح عیسائیت میں ہے۔ لیکن مغربی میڈیا نے اسلام میں بنیاد پرستی کی اصطلاح ایجاد کر کے ان مسلمانوں کو نفرت اور تضحیک کا نشانہ بنایا ہے جو عملاً مسلمان ہیں۔
میرے نزدیک اسلام میں بنیاد پرستی کا مطلب اسلام کے بنیادی عقائد پر عمل کرنا ہے، یعنی ہر وہ مسلمان جو نماز پڑھتا ہے، روزے رکھتا ہے، اور زکوۃ ادا کرتا ہے، اسے مغربی میڈیا بنیاد پرست مسلمان کہے گا۔ ہمارے ایک بزرگ دوست کے بقول اگر مسلمان نماز پڑھتا ہے تو وہ بنیاد پرست ہے لیکن اگر وہ تہجد پڑھتا ہے تو پھر وہ بہرصورت ’’دہشت گرد‘‘ ہے۔
کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ یہ اصطلاح چند برس قبل افغانستان کی جنگ کے حوالے سے استعمال ہونی شروع ہوئی، اور چند ہی برسوں میں اس نے دنیائے اسلام کو معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا۔ مغربی میڈیا نے نہایت ہوشیاری سے بنیاد پرستی کا مطلب جاہل، ترتی دشمن، دہشت گرد، دقیانوی اور کٹر نظریات کے مفہوم کے طور پر پیش کیا۔ بلکہ اس قدر زور و شور سے اس کا شور مچایا کہ ہر مسلمان ہاتھ باندھ کر کہنے لگا کہ حضور میں بنیاد پرست نہیں ہوں۔ حالانکہ بنیاد پرستی کا مطلب فقط اسلام کے بنیادی عقائد پر عمل کرتا ہے اور اس کا مطلب ہرگز دہشت گردی یا دقیانوسی نہیں۔ چنانچہ اب جب بھی کوئی مغربی صحافی اسلامی ممالک میں جاتا ہے اور سربراہان حکومت یا دوسری اہم ملکی شخصیات سے یہ سوال پوچھتا ہے کہ کیا آپ بنیاد پرست ہیں؟ تو جواب ملتا ہے کہ ہم بالکل بنیاد پرست نہیں، ہم اس پر لعنت بھیجتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم اسلام کے بنیادی اراکین پر یقین رکھتے ہیں نہ عمل کرتے ہیں۔
خود مغربی میڈیا بنیاد پرستی کا لیبل لگانے میں کس قدر انصاف سے کام لیتا ہے، اس کا اندازہ صرف اس ایک مثال سے لگائیے کہ جب تک گلبدین حکمت یار افغانستان میں روی قبضے کے خلاف لڑ رہا تھا جس سے امریکی مفادات حاصل ہوتے تھے، تو وہ جنگِ آزادی کا ہیرو تھا۔ لیکن جب روس کی شکست کے بعد اس نے امریکی لائن پر چلنے سے انکار کیا تو مغربی میڈیا نے اسے بنیاد پرست کمه کر مسترد کر دیا۔ گویا مغربی ممالک اپنے میڈیا کو ایک طرح سے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں جو ایٹم بم سے کم خطرناک نہیں ہے۔
مغربی میڈیا نے اسلامی بنیاد پرستی کے تصور کو جس طرح مسخ کیا ہے اور اس کا مفہوم بدل کر دنیائے اسلام کو معذرت خواہ بنا لیا ہے، اس کی ایک تازہ مثال پاکستان کے کمیشن برائے انسانی حقوق کی وہ رپورٹ ہے جس کا ایک حصہ بعض اردو اخبارات میں شائع ہوا ہے۔ مجھے یہ رپورٹ پڑھنے کا موقعہ نہیں ملا لیکن اس کے ایک فقرے نے مجھے چونکا دیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کمیشن نے اپنی رپورٹ میں اپنی تحقیق کی وضاحت کی ہو اور اپنے نتائج کے حق میں دلائل دیئے ہوں لیکن بہر حال یہ فقره قابلِ غور ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ میڈیا کس طرح اسلامی بنیاد پرستی کا حلیہ بگاڑ رہا ہے۔ اخبارات کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ
’’خواتین کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کی وجہ اسلامی بنیاد پرستی کا بڑھتا ہوا رجحان ہے۔‘‘
اب ذرا اس کا تجزیہ کیجئے کہ اسلامی بنیاد پرستی کے رجحان کا مطلب کیا ہے۔ اسلامی بنیاد پرستی کا مطلب انسان کا مذہبی ہونا اور شریعت کا پابند ہوتا ہے۔ گویا اس رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مذہب کا رجحان بڑھ رہا ہے جس کے سبب عورتوں سے زیادتی کے مقدمات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ غور کیجئے کہ کس قدر خطرناک ہے یہ بات۔
اس کے بر عکس ہم سمجھتے ہیں کہ صحیح اور سچا مسلمان، جسے عاقبت کا خوف ہو، جو شریعت کا پابند ہو، اور جسے یومِ حساب کا احساس ہو، وہ ایسا فعل کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا، کجا یہ کہ اس میں برائی کا رجحان بڑھے۔ اسی طرح وہ اسلامی ممالک جہاں اسلامی شرعی سزائیں نافذ ہیں اور جنہیں بنیاد پرستی کا طعنہ دیا جاتا ہے، ان معاشروں میں عورت جس قدر محفوظ ہے اس کا تصور بھی مغرب کے آزاد معاشرے میں نہیں کیا جاسکتا ۔ سعودی عرب میں عورتوں سے زیادتی کے واقعات بہت ہی کم ہوتے ہیں، جب کہ نیویارک میں ہر پانچ منٹوں کے بعد عورت سے زیادتی کی واردات رپورٹ ہوتی ہے۔ کیا امریکہ بھی بنیاد پرست ہے کہ وہاں عورتوں سے زیادتی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اگر ایسا نہیں تو مغربی ممالک میں تمام تر مادر پدر آزادی کے باوجود عورتوں سے زیادتی کے واقعات اتنی بڑی تعداد میں کیوں ہوتے ہیں؟
میں اسی پہلو پر مزید لکھ کر رپورٹ کے بارے میں غلط فہمیاں نہیں کرنا چاہتا۔ مقصد فقط یہ ثابت کرنا تھا کہ موجودہ دور میڈیا کا دور ہے، میڈیا کی لگام مغرب کے ہاتھ میں ہے، اور وہ میڈیا کے زور پر ہمارے ذہنوں پر چھایا ہوا ہے۔ بنیاد پرستی کا پراپیگنڈہ اس مہم کا حصہ ہے حالانکہ سچی بات یہ ہے کہ مغرب اسلام کے احیاء اور اسلامی ممالک میں عوامی سطح پر ابھرتی ہوئی مذہبی لہر سے خوف زدہ ہے، جس کا مقابلہ کرنے کے لئے مغربی میڈیا نے بنیاد پرستی کے خلاف محاذ کھول رکھا ہے۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ ہمارا پڑھا لکھا طبقہ مغرب سے اس قدر متاثر ہے کہ وہ مغربی نظریات، تصورات اور اصطلاحیں آنکھیں بند کر کے قبول کر لیتا ہے۔ گویا ہم نے مغرب سے جسمانی غلامی سے تو نجات کر لی ہے لیکن ذہنی غلامی سے نہیں۔ ذہنی غلامی سے نجات حاصل کرنے کے لئے بھی اسی طرح تحریکیں چلانے کی ضرورت ہے جس طرح ہم نے آزادی کے حصول کے لئے تحریکیں چلائی تھیں۔
(بشکریہ ’’جنگ‘‘ لاہور ۲۲ جنوری ۱۹۹۳ء)
حقوقِ نسواں اور خواتین کی عالمی کانفرنسیں
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
بیجینگ (چین) میں اقوام متحدہ کی چوتھی خواتین عالمی کانفرنس کا آغاز ہو چکا ہے جس میں خواتین کے حقوق اور مختلف معاشروں میں انہیں درپیش مسائل و مشکلات پر غور ہو رہا ہے اور ان کے حل کے لیے تجاویز تیار ہو رہی ہیں۔ گزشتہ سال قاہرہ (مصر) میں بھی اس نوعیت کی کانفرنس منعقد ہو چکی ہے جس کی منظور کردہ سفارشات اور تجاویز کو سامنے رکھتے ہوئے بیجنگ کی خواتین کانفرنس کے بنیادی اہداف و مقاصد کو سمجھنا مشکل نہیں ہے۔ اور یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ان کانفرنسوں کا اصل مقصد تیسری دنیا اور عالم اسلام کی خواتین کو معاشرتی لحاظ سے اس مقام اور حیثیت پر لانا ہے جو مغربی معاشرہ میں عورت کو حاصل ہے اور جسے خواتین کے حقوق کے حوالے سے آئیڈیل مقام قرار دیا جا رہا ہے۔
جہاں تک خواتین کے جائز حقوق اور ان کے صحیح اور شایان شان معاشرتی مقام و مرتبہ کا تعلق ہے تو یہ بات شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ دنیا میں اس وقت کسی جگہ بھی مجموعی طور پر خواتین کو معاشرہ میں وہ مقام و حیثیت حاصل نہیں ہے جو حوا کی ان بیٹیوں کا جائز اور فطری حق ہے۔ ہمارے نزدیک اس معاملہ میں مغرب کے ترقی یافتہ ممالک، تیسری دنیا کے ممالک، اور عالم اسلام کے ترقی پذیر و پسماندہ ممالک سب ہی تھوڑے بہت فرق کے ساتھ یکساں طور پر قصوروار ہیں۔ اس لیے اگر خواتین کی ان عالمی کانفرنسوں کا مقصد صرف یہ ہو کہ خواتین کے ساتھ ہونے والی معاشرتی ناانصافیوں کے خلاف آواز بلند کی جائے اور کسی سوسائٹی کا امتیاز کیے بغیر عورت کے جائز اور فطری معاشرتی مقام و مرتبہ کی بحالی کے لیے جدوجہد کی جائے تو یہ انتہائی خوش آئند بات ہوگی۔ اور اس صورت میں ملت اسلامیہ کے اہل علم و دانش کی بھی ذمہ داری ہوگی کہ وہ اس جدوجہد میں شریک ہوں اور اس کے حق میں عالم اسلام کی رائے عامہ کو ہموار کرنے کی کوشش کریں۔ لیکن قاہرہ کانفرنس کی سفارشات کا مقصد عورتوں کے حقوق و مقام کے تعین اور اس کے لیے جدوجہد کا نہیں بلکہ خواتین کے حوالے سے ویسٹرن سولائزیشن کو آئیڈیل اور معیار قرار دینے اور دنیا بھر کے انسانی معاشروں کو اس کی پیروی پر مجبور کرنے کا بن گیا ہے۔ یہ وہ دوراہا ہے جہاں تیسری دنیا اور عالم اسلام کے دانشوروں کا راستہ مغربی دانشوروں اور میڈیا کاروں سے الگ ہو جاتا ہے، اور وہ ان کانفرنسوں کو خواتین کے حقوق کی بحالی کی بجائے ویسٹرن سولائزیشن کی بالادستی قائم کرنے کی جدوجہد کا ایک حصہ قرار دے کر ان سے اختلاف کر رہے ہیں۔
عالم اسلام کی بدقسمتی یہ ہے کہ ایک آدھ کی جزوی استثنا کے ساتھ اس کے تمام ممالک پر ابھی تک دورِ غلامی کے اثرات کا غلبہ ہے اور عالمی استعمار کی مداخلت اور سازش کی وجہ سے مسلم ممالک کا معاشرتی نظام اسلامی اصولوں پر استوار نہیں ہو سکا۔ چنانچہ دنیا میں کہیں بھی اسلامی معاشرہ کا وہ مثالی ڈھانچہ موجود نہیں ہے جسے بطور نمونہ پیش کیا جا سکے۔ اس لیے مغربی میڈیا کار اس بات میں آسانی محسوس کر رہے ہیں کہ مسلم ممالک کے موجودہ معاشرتی ڈھانچوں کو اسلام کا نمائندہ قرار دے کر ان تمام ناانصافیوں اور حق تلفیوں کو اسلام کے کھاتے میں ڈال دیں جو ان ممالک میں سیاسی، معاشرتی، اور معاشی طور پر روا رکھی جا رہی ہیں۔ ورنہ جہاں تک حقوق کا تعلق ہے، معاشرے کے کسی طبقہ کو سامنے رکھ لیں، اس کے حقوق اور ذمہ داریوں میں اسلام نے جو توازن قائم کیا ہے دنیا کا کوئی دوسرا نظام اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ اور آج مغرب اپنی آزادی کی بے اعتدالیوں کے فطری نتائج دیکھنے کے بعد اسی توازن کی تلاش میں سرگرداں دکھائی دے رہا ہے۔
عورت ہی کو لے لیجیے، اسلام نے اسے معاشرہ میں بیٹی، بہن، بیوی، اور ماں کے طور پر شفقت، محبت، اور احترام کا مقام دیا۔ مگر ان چار جائز رشتوں سے ہٹ کر ’’پانچواں رشتہ‘‘ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا جو کہ آج ویسٹرن سولائزیشن کا طرۂ امتیاز ہے۔ اور جسے جائز تسلیم کرانے اور قانونی تحفظ دلانے کے لیے عالمی سطح پر خواتین کی کانفرنسوں کا اہتمام ضروری سمجھا جا رہا ہے۔ لیکن مغرب خود اس بارے میں کنفیوژن کا شکار ہے۔ ایک طرف مسٹر گورباچوف کا کہنا ہے کہ ہم نے عورت کو گھر سے نکال کر دفتر اور فیکٹریاں تو آباد کر لیں لیکن اپنا فیملی سسٹم تباہ کر لیا اور اب عورت کو واپس گھر لے جانے کا کوئی راستہ نظر نہیں آرہا۔ امریکہ کی خاتون اول مسز ہیلری کلنٹن نے اپنے دورۂ اسلام آباد میں کھلم کھلا کہا کہ امریکی معاشرے کا سب سے بڑا مسئلہ لڑکی کا کنوارپن میں ماں بن جانا ہے۔ اور برطانوی وزیراعظم جان میجر ’’بنیادوں کی طرف واپسی‘‘ (Back to basics) کا نعرہ لگا کر ان خواتین کی حوصلہ افزائی کے لیے پالیسیاں وضع کر رہے ہیں جو بچوں کی دیکھ بھال کے لیے گھروں میں رہنے کو ترجیح دیتی ہیں۔ لیکن اس سب کچھ کے ساتھ دوسری طرف مغربی دانشور ان خواتین کانفرنسوں کے ذریعے تیسری دنیا اور عالم اسلام کو اسی دلدل میں آگے بڑھنے کی دعوت بھی دے رہے ہیں جس سے نکلنا خود ان کے لیے مشکل تر ہوگیا ہے۔
اسلام کا ’’قصور‘‘ یہ ہے کہ اس نے عورت کو ان زائد ذمہ داریوں کا سزاوار نہیں ٹھہرایا جو اس کے فطری فرائض سے متصادم ہیں، اور بچے کی پیدائش و پرورش اور خانہ داری کے فرائض کے بعد معاشی کفالت کا بوجھ اس پر نہیں ڈالا۔ مگر مغرب نے معاشی کفالت کے لیے ملازمت اور محنت مزدوری کو ڈیوٹی اور فرائض کی فہرست سے نکال کر حقوق کی فہرست میں شامل کر دیا اور یوں معاشی مساوات کے پر فریب نعرے کے ساتھ عورت کو دوہری ذمہ داریوں کے شکنجے میں کس دیا۔ جبکہ بے چاری عورت خوش ہے کہ اس نے مرد کے برابر معاشرتی حقوق حاصل کر لیے ہیں۔ اب بیجنگ کانفرنس میں ایسی ہی آزادی اور حقوق حاصل کرنے کی کوشش ہو رہی ہے جس نے رشتوں کا تقدس ختم کر کے آزادی اور مساوات کے نام پر ایسے طرز معاشرت کی داغ بیل ڈالی اور مرد و عورت کے آزادانہ اختلاط کو فروغ دیا۔ جس کے منطقی اور فطری نتائج یہ ہیں کہ کنواری ماؤں اور ناجائز بچوں کے تناسب میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے، فیملی سسٹم تباہی کے دھانے پر کھڑا ہے، اور ماں باپ کی شفقت سے محروم بچوں میں نفسیاتی امراض روز مرہ سامنے آرہے ہیں۔ بلکہ اس لحاظ سے مغرب کی عورت انسانی معاشرہ کی مظلوم ترین عورت ہے کہ لڑکپن سے جوانی تک جب اسے تحفظ کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ جنسی ہوسناکیوں کا شکار گاہ بنتی رہتی ہے، اور جوانی ڈھل جانے کے بعد جب خدمت اور احترام اس کی ضرورت ہوتی ہے تو اسے اولڈ پیپلز ہوم میں دھکیل دیا جاتا ہے جہاں وہ سال کے ان مخصوص دنوں کے انتظار میں زندگی گزارتی ہے کہ کب اس کے جوان بیٹے اور بیٹیاں کاغذی پھولوں کا گلدستہ لیے اسے دیکھنے آئیں گے۔
گزشتہ سال قاہرہ میں ہونے والی خواتین کی عالمی کانفرنس میں جو سفارشات کی گئیں ان میں اسقاط حمل کو قانونی تحفظ دینے ، کنڈوم کی کھلم کھلا اور عام فراہمی کو یقینی بنانے، بن بیاہی ماں کو سماجی تحفظ فراہم کرنے، اور ہم جنس پرستی کو قانونی طور پر تسلیم کرنے کی سفارشات شامل ہیں۔ حالانکہ یہ وہی اسباب ہیں جنہوں نے مغربی معاشرہ کو رشتوں کے تقدس اور خاندانی نظام سے محروم کیا ہے۔ حتیٰ کہ گورباچوف، ہیلری کلنٹن، اور جان میجر جیسے لیڈر بھی اس تباہ کاری پر چیخ اٹھے ہیں۔ مگر عالم اسلام اور تیسری دنیا کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ ان اسباب کو اختیار کریں اور جنسی انارکی کی دلدل میں پھنس کر رشتوں کے تقدس اور خاندانی زندگی کو مغرب کی خواہشات پر قربان کر دیں۔
چنانچہ بیجنگ کی ’’عالمی خواتین کانفرنس‘‘ میں اقوام متحدہ کے پالیسی سازوں اور خواتین کے حقوق کی جنگ لڑنے والے اداروں و دانشوروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ خواتین کے حوالے سے اپنی مہم کے اہداف اور ترجیحات پر نظر ثانی کریں اور اسے ویسٹرن سولائزیشن کی بالادستی کی جنگ بنانے کی بجائے انسانی معاشرہ اور عالمی برادری میں خواتین کے جائز اور فطری مقام و حیثیت کے تعین اور اس کی بحالی کی جدوجہد کا درجہ دیں۔ لیکن اگر ’’بیجنگ کانفرنس‘‘ کی سفارشات و تجاویز کا تانابانا بھی ’’قاہرہ کانفرنس‘‘ کی سفارشات سے ہی بنا گیا تو ہمارے نزدیک یہ ساری تگ و دو عالم اسلام اور تیسری دنیا کو ان کے کلچر سے محروم کرنے، بالخصوص مسلم دنیا کو خاندانی زندگی کے بارے میں ان کے بنیادی مذہبی احکام سے منحرف کرنے کی عالمی مہم کا حصہ متصور ہوگی۔ اور عالم اسلام کے دینی ادارے اس قسم کی سفارشات و تجاویز کو مسلم معاشرہ میں نفوذ کا راستہ دینے کے لیے کسی صورت بھی تیار نہیں ہوں گے۔
پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سالانہ رپورٹ کا جائزہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
روزنامہ جنگ لندن ۸ جولائی کی ایک خبر کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں اپنی اس سال کی رپورٹ میں بھی توہین رسالتؐ کی سزا کے قانون اور قادیانیوں کو اسلام کا نام اور اسلامی اصطلاحات کے استعمال سے روکنے کو موضوع بحث بنایا ہے اور ان تمام قوانین کے ضمن میں درج مقدمات اور گرفتاریوں کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان میں قادیانیوں اور مسیحیوں کے انسانی حقوق کی پامالی کا تذکرہ کیا ہے۔
مغربی ذرائع ابلاغ اور بین الاقوامی تنظیمیں کسی ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے بارے میں رپورٹ کی تیاری میں کیا طریق کار اختیار کرتی ہیں، اس کی ایک جھلک حال ہی میں پاکستان میں چائلڈ لیبر کے استعمال کے حوالے سے مغربی میڈیا اور لابیوں کی مہم کے ضمن میں سامنے آچکی ہے جس میں بعض مناظر کو فلمانے کے لیے جعلی ماحول پیدا کرنے کے واقعات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اور یہ بات بھی منکشف ہو چکی ہے کہ بھارت کے تجارتی اداروں نے تجارتی مقاصد کے لیے اس مہم کے تانے بانے بنے اور مغربی میڈیا اور لابیاں اس میں ان کی شریک کار بنیں یا کم از کم اس مہم کے حق میں استعمال ہوئیں۔
اسی طرح جن دوستوں نے بی بی سی ۲ سے اس سال کے آغاز میں ’’ایسٹ‘‘ کے نام سے دکھائی جانے والی سیریز کے وہ حصے دیکھے ہیں جن میں پاکستان کے مذہبی حلقوں اور اداروں کی تصویر کشی کی گئی ہے، ان کے لیے اس تکنیک اور طریق واردات تک پہنچنا مشکل نہیں ہے جو پاکستان اور اس کے اسلامی تشخص کی تصویر خراب کرنے کے لیے مغرب کی لابیاں اور ذرائع ابلاغ ایک عرصہ سے استعمال کر رہے ہیں۔
مگر اس پس منظر سے قطع نظر ہم ان دونوں قوانین کا ایک سرسری جائزہ پیش کرنا چاہتے ہیں جو سالہا سال سے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سالانہ رپورٹوں کا موضوع ہیں اور جنہیں انسانی حقوق کے منافی قرار دیتے ہوئے ان کی تبدیلی پر مسلسل زور دیا جا رہا ہے۔ حتیٰ کہ چند ماہ قبل پاکستان کی امور کشمیر کمیٹی کے سربراہ نوابزادہ نصر اللہ خان کے دورۂ جنیوا کے موقع پر ایمنسٹی انٹرنیشنل نے انہیں پیش کی جانے والی یادداشت میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی اور انسانی جانوں کے ضیاع کو پاکستان میں قادیانیوں اور مسیحیوں کے انسانی حقوق کی مبینہ پامالی کے ساتھ جوڑ دیا تھا اور ان قوانین کی تبدیلی کا مطالبہ کیا تھا۔
جہاں تک قادیانیوں کی اسلام کے نام پر سرگرمیوں کی ممانعت کا تعلق ہے اس کی تفصیل یہ ہے کہ قادیانی گروہ ایک نئے مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی کا پیروکار ہے اور اپنے پیشوا کی ہدایات کو وحی الٰہی پر مبنی تسلیم کرتا ہے۔ جس کی وجہ سے دنیا بھر کے ایک ارب سے زائد مسلمانوں کے متفقہ فیصلہ کی رو سے یہ گروہ ملت اسلامیہ کا حصہ نہیں ہے اور قرآن کریم اور جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان کے دعوے کے باوجود بالکل اسی طرح مسلمانوں سے الگ ایک نئے مذہب کا پیروکار ہے۔ جس طرح حضرت موسٰی علیہ السلام اور توراۃ پر ایمان کے باوجود عیسائی صرف اس لیے یہودیوں سے الگ ایک نئے مذہب کے پیروکار سمجھے جاتے ہیں کہ وہ ایک نئے پیغمبر حضرت عیسٰی علیہ السلام اور ان کی وحی کو بھی تسلیم کرتے ہیں۔ یا حضرت موسیٰ اور حضرت عیسٰی علیہما السلام اور توراۃ و انجیل دونوں پر ایمان کے باوجود مسلمان ان دونوں سے الگ ایک نئے مذہب کے پیروکار کہلاتے ہیں کہ وہ قرآن کریم اور جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ایمان رکھتے ہیں۔
یہ آسمانی مذاہب کے درمیان ایک طے شدہ اصول ہے جس کے تحت سچ جھوٹ سے قطع نظر قادیانی گروہ مسلمانوں سے الگ ایک نئے مذہب کا پیروکار قرار پاتا ہے اور ان کے لازم ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے لیے نیا نام اختیار کرے اور مسلمانوں سے الگ نئی مذہبی اصطلاحات اور شعائر کو متعارف کرائے۔ مگر قادیانی گروہ اس مسلمہ حقیقت اور طے شدہ اصول کو قبول کرنے سے گریز کر رہا ہے اور اپنی نئی نبوت اور نئی وحی کو اسلام کے نام پر دنیا کے سامنے پیش کرنے پر مصر ہے۔ اس پر مسلمانوں کو اعتراض ہے اور اسی اعتراض کو دور کرنے کے لیے پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ نے ایک متفقہ آئینی ترمیم کے ذریعے قادیانیوں کو مسلمانوں سے الگ ایک غیر مسلم اقلیت قرار دیا ہے۔ اور اس کے بعد قادیانیوں کو اسلام کا نام اور اسلامی اصطلاحات کے استعمال سے قانوناً روکنے کا قانون بھی اسی آئینی فیصلے کا منطقی تقاضا اور اس پر عملدرآمد کی طرف پیش رفت ہے۔
یہ ہے مسلم قادیانی تنازعہ کا اصل پس منظر جس کی بنیاد قادیانیوں کو شہری حقوق دینے یا ان سے محروم کرنے پر نہیں بلکہ مسلمانوں اور قادیانیوں کے درمیان مذہبی امتیاز اور جداگانہ تشخص قائم کرنے پر ہے جو بہرحال دونوں کی مشترکہ ضرورت ہے۔ لیکن انتہائی حیرت اور تعجب کی بات ہے کہ قادیانی مبادیات کو تسلیم کرتے ہوئے ان کے منطقی نتائج کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی پر وحی نازل ہوئی تھی اور اس وحی پر ایمان نہ لانے کی وجہ سے دنیا بھر کے ایک ارب سے زائد مسلمان ان کے ہم مذہب نہیں ہیں، لیکن مسلمانوں اور قادیانیوں کے مذہب کو الگ الگ تسلیم کرتے ہوئے بھی وہ اپنے مذہب کے لیے الگ نام اور اصطلاحات اختیار نہیں کرنا چاہتے۔ صرف اس لیے کہ اشتباہ اور التباس کی فضا قائم رہے اور وہ اس سے فائدہ اٹھا کر ملت اسلامیہ میں انتشار پیدا کر سکیں۔
اس قسم کی صورتحال اس سے قبل ایران کے بہائیوں کے حوالہ سے بھی پیش آئی کیونکہ بہائی بھی مرزا محمد علی الباب اور بہاء اللہ شیرازی کی تعلیمات کا راستہ وحی الٰہی سے جوڑتے ہیں۔ لیکن انہوں نے قادیانیوں کی طرح دھوکے اور اشتباہ کو قائم رکھنے کا راستہ اختیار نہیں کیا بلکہ مذاہب کے مسلمہ اصول کا احترام کرتے ہوئے اپنے لیے الگ نام اختیار کیا اور مسلمانوں سے اپنی اصطلاحات اور تشخص کو الگ کر لیا جس کی وجہ سے ان کے ساتھ مسلمانوں کا قادیانیوں کی طرز کا کوئی تنازعہ نہیں ہے۔ حتیٰ کہ کسی مسلم پارلیمنٹ کو انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ اگر قادیانی گروہ بھی معروضی حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے بہائیوں کی طرح الگ نام اور الگ شناخت کا راستہ اختیار کر لے تو مسلمانوں اور قادیانیوں کے درمیان تنازعہ کی موجودہ کشیدگی اور منافرت ایک دوسرے کو برداشت کر لینے کی حد تک کم ہو سکتی ہے۔ ویسے بھی قادیانیوں کے لیے اصولی اور منطقی طور پر دو ہی راستے ہیں:
- یا تو وہ نئی نبوت اور نئی وحی کو چھوڑ کر ملت اسلامیہ کے اجتماعی دھارے میں واپس آجائیں،
- اور یا پھر اپنے لیے الگ نام اور الگ شناخت اختیار کریں۔
تیسرا کوئی راستہ بھی جائز اور معقول نہیں ہے اور جو راستہ انہوں نے اختیار کیا ہے وہ تنازعہ اور کشیدگی کا راستہ ہے جو اختیار بھی انہوں نے کیا ہے اور اس کے نتائج بھی انہی کو بھگتنا ہیں۔
مسلم قادیانی تنازعہ کے اس پس منظر میں اگر حقوق کی پامالی کا سوال کہیں پیدا ہوتا ہے تو وہ مسلمانوں کے حقوق کا ہے نہ کہ قادیانیوں کے حقوق کا۔ کیونکہ اپنی شناخت اور امتیاز کا تحفظ مسلمانوں کا حق ہے جو قادیانیوں کے غلط طرز عمل کی وجہ سے مجروح ہو رہا ہے۔ اس کشمکش میں اصل خطرہ مسلمانوں کو درپیش ہے کہ ان کا نام اور ان کی شناخت کا استعمال ایک ایسے گروہ کے لیے ہو رہا ہے جو ان کے وجود کا حصہ نہیں ہے اور ان سے الگ مذہبی وجود رکھتا ہے۔
اس لیے ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دیگر مغربی اداروں کو چاہیے کہ وہ اگر واقعی انصاف کے علمبردار ہیں تو اپنے طرزعمل پر نظر ثانی کریں اور واقعات کی یک طرفہ تصویر پیش کر کے اس پر فیصلے صادر کرنے کی بجائے مسلمانوں کے موقف او رمشکلات کا جائزہ لیں اور ان کے حقوق کے لیے بھی آواز اٹھائیں۔
یہی صورتحال توہین رسالتؐ کی سزا کے قانون کے بارے میں بھی ہے کہ واقعات کی یکطرفہ تصویر کو مسلسل سامنے لایا جا رہا ہے اور اس قانون کو تبدیل کرانے یا بے اثر بنانے کے لیے مغرب کے ذرائع ابلاغ، لابیاں بلکہ حکومتیں دباؤ ڈال رہی ہیں۔ اس سلسلہ میں یہ کہا جاتا ہے کہ قانون کا غلط استعمال ہو رہا ہے اس لیے اس میں تبدیلی ضروری ہے اور قانون کے غلط استعمال کے ثبوت کے طور پر رحمت مسیح اور سلامت مسیح کیس کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ حالانکہ امر واقعہ یہ ہے کہ اس کیس کے سلسلہ میں مغربی ذرائع ابلاغ نے اب تک جو کچھ کہا ہے وہ یک طرفہ ہے۔ دوسری طرف کا موقف کیس سے متعلقہ حضرات سے معلوم کرنے کی آج تک کسی مغربی تنظیم، حکومت یا نشریاتی ادارے نے زحمت گوارا نہیں کی۔ راقم الحروف ان افراد میں شامل ہے جو سیشن کورٹ کے فیصلے تک اس کیس کی پیروی میں مختلف سطح پر شریک رہے ہیں اس لیے اس حیثیت سے مندرجہ ذیل حقائق کو ریکارڈ پر لانا ضروری سمجھتا ہے کہ
- ہم نے مسیحی راہنما بشپ فادر روفن جولیس ایم این اے کو تحریری پیشکش کی کہ ہم ان کے ساتھ مل کر مشترکہ کمیٹی کی صورت میں اس کیس کی پبلک انکوائری کے لیے تیار ہیں لیکن انہوں نے پیشکش قبول کرنا تو کجا اس سلسلہ میں رجسٹرڈ خطوط کا جواب دینا بھی گوارا نہیں کیا۔
- وزیراعظم پاکستان کی طرف سے انکوائری کمیٹی کے اعلان پر ہم نے کمشنر گوجرانوالہ ڈویژن سے ملاقات کر کے ان سے درخواست کی کہ اس انکوائری میں ہمیں شریک کیا جائے تاکہ ہم اپنی معلومات کی بنیاد پر حقائق کو ریکارڈ پر لا سکیں۔ انہوں نے اس بات کا وعدہ کیا لیکن اس وعدہ کی تکمیل کی نوبت نہ آسکی۔
- قومی اسمبلی کے مسلم اور مسیحی ارکان پر مشتمل انکوائری کمیٹی اسمبلی کی طرف سے مقرر کی گئی تو ہم نے اس کا خیرمقدم کرتے ہوئے کمیٹی کے ارکان کو گوجرانوالہ تشریف لا کر براہ راست حالات کا جائزہ لینے کی دعوت دی مگر ایسا بھی نہ ہو سکا۔
- مغربی ذرائع ابلاغ اور تنظیموں کی متعدد ٹیمیں رپورٹ مرتب کرنے کے لیے گوجرانوالہ گئیں جن کی رپورٹیں سامنے آچکی ہیں لیکن ان میں سے کسی نے کیس کے مدعی اور اس کی پیروی کرنے والے علماء اور وکلاء سے رابطہ کی زحمت گوارا نہیں کی۔
ان حالات میں اس کیس کے بارے میں عالمی سطح پر جو یک طرفہ پراپیگنڈا ہوا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ اور سیشن کورٹ کی طرف سے ملزموں کو قانون کے مطابق سزائے موت سنانے کے بعد ہائی کورٹ میں جس تیز رفتاری کے ساتھ اپیل کے مراحل طے کیے گئے اور جو طریق کار اختیار کیا گیا اس کی روشنی میں ملزموں کی بریت، رہائی اور بیرون ملک روانگی پر کوئی تبصرہ کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ تاہم اس کیس کے حوالے سے قانون کے غلط استعمال کے سلسلہ میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کے الزام کو قطعی طور پر مسترد کرتے ہوئے گوجرانوالہ کے علماء کرام کی طرف سے یہ پیشکش دہرائی جاتی ہے کہ ہم اس کیس کے اصل حقائق کو سامنے لانے کے لیے مسلمان اور مسیحی راہنماؤں پر مشتمل مشترکہ انکوائری کمیٹی کے ذریعے آج بھی پبلک انکوائری کے لیے تیار ہیں، بشرطیکہ وہ معروف معنوں میں انکوائری ہو اور پہلے کی طرح انکوائری کے نام پر یک طرفہ کاروائی نہ ہو۔
پھر کسی قانون کے غلط استعمال کے امکان کو قانون کی تبدیلی کے لیے وجہ جواز قرار دینا بجائے خود محل نظر ہے۔ قوانین کا غلط استعمال تناسب کی کمی بیشی کے ساتھ دنیا کے ہر ملک میں ہوتا ہے لیکن کہیں بھی ایسے تحفظات اختیار نہیں کیے جاتے جو ضرورت کے وقت قانون کے صحیح استعمال کے امکان کو ہی مخدوش بنا دیں۔ کیونکہ جہاں قانون کے غلط استعمال کی روک تھام ضروری ہے وہاں اس کے صحیح استعمال کی ضمانت بھی قانون کا تقاضا ہوتا ہے۔ لیکن پاکستان میں توہین رسالتؐ کی سزا کے قانون کے نفاذ کے طریق کار میں تبدیلی کے لیے جو ترامیم تجویز کی گئی ہیں وہ اس معیار پر پورا نہیں اترتیں۔ ان ترامیم میں کہا گیا ہے کہ توہین رسالتؐ کے قانون کے تحت ایف آئی آر کا اندراج ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی پیشگی انکوائری کے ساتھ مشروط کر دیا جائے اور اگر مدعی اپنے الزام کے لیے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے اطمینان کے مطابق ثبوت فراہم نہ کر سکے تو اسے جھوٹے الزام کی سزا میں دس سال کے لیے قید کر دیا جائے۔ اس صورت میں قانون کے عملی نفاذ کے امکانات مخدوش ہونے کے ساتھ ساتھ قانون پر عملدرآمد کا انحصار کسی عدالتی سسٹم کی بجائے فرد واحد (ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ) کی صوابدید پر رہ جاتا ہے جو انصاف کے مسلمہ اصولوں کے منافی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان ترامیم کو پاکستان کی رائے عامہ نے مسترد کر دیا ہے اور ملی یکجہتی کونسل کی اپیل پر ۲۷ مئی ۱۹۹۵ء کو ملک گیر ہڑتال کر کے ان ترامیم کے خلاف عوامی فیصلہ صادر کر دیا ہے۔
ان گزارشات کے علاوہ دو اور پہلو بھی ایمنسٹی انٹرنیشنل کے پیش نظر رہنے چاہئیں:
- ایک یہ کہ قادیانیوں کو ملت اسلامیہ کا حصہ تسلیم نہ کرنے اور ان سے اپنے لیے الگ نام اور شناخت کا مطالبہ کرنے کا تعلق مسلمانوں کے مذہبی عقائد سے ہے۔ اسی طرح ناموس رسالتؐ کا تحفظ اور توہین رسالتؐ پر موت کی سزا بھی مسلمانوں کا مذہبی معاملہ ہے اور یہ صرف اسلام کا حکم نہیں بلکہ متعدد تصریحات کی رو سے بائبل نے بھی اللہ تعالیٰ کے کسی سچے پیغمبر کی توہین پر موت ہی کی سزا بیان کی ہے۔ اس لیے دنیا بھر کے ایک ارب سے زائد مسلمانوں سے مطالبہ کرنا کہ وہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے طے کردہ انسانی حقوق کا معیار پورا کرنے کے لیے اپنے مسلمہ مذہبی عقائد سے منحرف ہو جائیں، کسی بھی طرح قرین انصاف نہیں ہے۔ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل ایسا مطالبہ کر کے مسلمانوں کے مذہبی عقائد میں مداخلت کی مرتکب ہو رہی ہے۔
- دوسری بات پاکستان کے حوالہ سے ہے کہ یہ دونوں قوانین پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ کے منظور کردہ ہیں اور ان کے پیچھے رائے عامہ کا براہ راست دباؤ بھی موجود ہے جس کا اظہار ۲۷ مئی کو ایک بار پھر ہو چکا ہے۔ اس طرح ان قوانین کو منتخب پارلیمنٹ کی منظوری کے ساتھ ساتھ رائے عامہ کی پشت پناہی اور ملک کی اعلیٰ عدالتوں کی مکمل تائید حاصل ہے۔ اس لیے ان قوانین کی تبدیلی کا باہر سے مطالبہ کرنا رائے عامہ اور پارلیمنٹ کے فیصلوں کی توہین ہے جو مسلمہ جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کا موجودہ طرزعمل بلاشبہ جمہوری اقدار اور اصولوں سے انحراف کا نقشہ پیش کر رہا ہے۔
اس بنا پر ہم پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی اس سال کی رپورٹ کے ان حصوں کو حقیقت پسندانہ تسلیم نہیں کرتے جن کا تعلق اسلام کے نام پر قادیانیوں کی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون اور توہین رسالتؐ کی سزا کے قانون سے ہے۔ کیونکہ ہماری رائے میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ان معاملات میں جانبداری کا مظاہرہ کیا ہے اور اصل حقائق تک پہنچنے یا انہیں منظر عام پر لانے میں سنجیدگی سے کام نہیں لیا۔
حاجی عبد المتین چوہان مرحوم
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
ہمارے ایک پرانے دوست اور رفیق کار حاجی عبد المتین چوہان گزشتہ ماہ اچانک حرکت قلب بند ہو جانے سے انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ ہمارے پرانے جماعتی بزرگ حاجی محمد ابراہیم صاحب عرف حاجی کالے خان کے فرزند تھے۔ حاجی کالے خان جمعیت علمائے اسلام اور مدرسہ نصرۃ العلوم کے قدیمی معاونین میں سے ہیں اور حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ، والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر، اور عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی کے قریبی رفقاء میں شمار ہوتے ہیں۔
عبد المتین مرحوم کے ساتھ راقم الحروف کا تعلق حفظ قرآن کریم کے دور سے تھا جب ہم دونوں مدرسہ نصرۃ العلوم میں استاذ محترم حضرت قاری محمد یاسین صاحب مرحوم سے پڑھتے تھے۔ یہ غالباً سن ۱۹۵۸ء یا ۱۹۵۹ء کی بات ہے۔ عبد المتین مرحوم قرآن کریم یاد نہ کر سکے لیکن علمائے کرام اور جماعتی امور کے ساتھ ان کا تعلق آخر دم تک قائم رہا۔ حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ، حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ، اور حضرت سید نفیس شاہ صاحب کے ساتھ عقیدت و محبت کا خصوصی تعلق تھا اور جمعیت علمائے اسلام اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے کاموں میں بطور خاص دلچسپی کے ساتھ حصہ لیا کرتے تھے۔ طباعت و اشاعت کا خصوصی ذوق تھا، پوسٹرز، اسٹیکرز اور کارڈز کی اچھی سے اچھی طباعت کی کوشش کرتے اور ان کاموں پر اچھی خاصی رقم صرف کر دیتے۔
مجلس آرائی بھی عبد المتین مرحوم کا محبوب مشغلہ تھا، نجی محفلوں کا اہتمام بھی کرتے جہاں دوستوں میں گپ شپ ہوتی، بے تکلفی ہوتی اور ہنسی مزاح میں زمانے کی ستم ظریفیوں اور پریشانیوں سے تھوڑی دیر کے لیے نجات مل جاتی، جبکہ عمومی محافل کے لیے بھی کوشاں رہتے۔ ابھی وفات سے چند روز قبل مدرسہ اشر ف العلوم گوجرانوالہ میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے سیکرٹری جنرل قاری محمد یوسف عثمانی کے ساتھ مل کر ایک خوبصورت محفل حمد و نعت کا اہتمام کیا جس کے تذکرے خاصی دیر تک گوجرانوالہ کی محفلوں میں ہوتے رہیں گے۔ طبیعت ہنس مکھ تھی، ظرافت اور مزاح کے ہتھیاروں سے ہر وقت مسلح رہتے تھے، دوستوں کو نشانہ بنا کر لطف لیتے اور خود نشانہ بن کر محظوظ ہوتے، مزاج میں حد درجہ بے تکلفی تھی۔
بازار سید نگری گوجرانوالہ میں البدر جنرل اسٹور ان کی دکان ہے، کبھی کبھار مسائل و مصائب کے ہجوم سے طبیعت زیادہ پریشان ہوتی تو دکان پر ان کے پاس چلا جاتا اور چائے کی پیالی کے ساتھ گپ شپ اور ہنسی مزاح کے ایک چھوٹے سے دور میں طبیعت کی ساری پریشانی کافور ہو جاتی۔ اب تو دوستوں کی وہ محفل ہی اجڑ گئی ہے جہاں کبھی کبھار زمانے کی پریشانیوں سے بھاگ کر پناہ لے لیا کرتے تھے۔ اللہ مرحوم کی مغفرت فرمائیں، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں اور حاجی کالے خان صاحب اور ان کے خاندان کو صبر و حوصلہ کے ساتھ اس صدمہ سے عہدہ برآ ہونے کی توفیق دیں، آمین یا رب العالمین۔
معدے کی تیزابیت دور کرنے کے لیے موسمی کا ناشتہ
حکیم عبد الرشید شاہد
موسمی مالٹے کی خوش ذائقہ میٹھی قسم ہے، جو دنیا بھر میں شوق سے کھائی جاتی ہے، اس دل فریب پھل میں ۸۰ فیصد صاف پانی اور ۲۰ فیصد تک گوشت بنانے والے روغنی اور شاستہ دار اجزا کے ساتھ سوڈیم، پوٹاشیم اور فاسفورس کی آمیزش ہے۔ موسمی کا مزاج گرم اور تر ہے۔ ایک عمدہ غذا ہونے کے علاوہ یہ قبض کشا اور عمدہ پیشاب آور ہے۔ تین بڑی موسمی میں دو چپاتیوں کے برابر غذا ہے۔ معدہ میں داخل ہوتے ہی یہ معدی ہاضم مرطوبات کی تراوش بڑھا دیتی ہے اور معدہ کی تیزابیت دور کر دیتی ہے۔
آج کل گیس کی شکایت اکثر پائی جاتی ہے، ایک محتاط اندازے کے مطابق ستر فیصد آبادی ہاضمہ کی خرابی کا رونا روتی ہے، ریح اور بائے بادی کی وجہ سے اکثر اصحاب غذا کھا کر گھٹنوں تک کلیجہ جلنے کی شکایت کرتے ہیں اور دن بدن پیٹ بڑا ہونے کا تذکرہ کرتے رہتے ہیں۔ ایسے مریض جو آٹھ بجے تین موسمی ناشتہ کے طور پر کھا لیں، پانچ دن کے بعد ایک بجے بطور غذا استعمال فرمائیں اور کھانا حسب معمول جاری رکھیں ، مگر اس پھل کا رس، گودہ اور پتلا چھلکا، سوائے اوپر کے سخت زرد چھلکے کے سب چٹ کر جائیں، ان شاء اللہ شکم سیری کے علاوہ گیس کم، طبیعت ہلکی، پیٹ نرم اور پاخانہ با فراغت خارج۔
سونے سے پہلے چند روزه استعمال پر وزن بھی کم ہونا شروع ہو جائے گا۔ اکثر نوجوان بازاروں میں اس کا جوس شوق سے پیتے ہیں۔ صرف جوس پینے سے معدے کی تیزابیت دور ہوتی ہے، اور بدنی فضلات پیشاب کے ذریعے خارج ہو جاتے ہیں، مگر گودہ زود ہضم ہونے کے علاوہ دائمی قبض کا بے ضرر شافی علاج بھی ہے۔
ایک خاص نقطہ اور بھی عرض کرتا چلوں کہ جو حضرات اس کا جوس پیتے ہیں وہ اس کو غٹاغٹ حلق سے انڈیلنے کے بجائے اگر اس کو چائے کی طرح چسکی لگا کر پئیں گے تو فائدہ زیادہ ہو گا، اس لیے کہ چکی لگا کر پینے سے منہ کا لعاب زیادہ شامل ہو گا جو ہضم ہونے میں زیادہ مدد دے گا۔
جب جوڑوں میں یورک ایسڈ ہونے سے چھوٹے بڑے جوڑوں میں درد اور سوج ہو جائے تو سورنجاں شیریں، سنڈھ ، کالی مرچ برابر وزن کوٹ کر سفوف بنا کر تین سے چھ ماشہ روزانہ موسی پر لگا کر کھائیں، چند دنوں میں یورک ایسڈ پیشاب کے راستے خارج ہو گا۔ درد اور سوجن ٹھیک ہو گی،
موسمی کے بیج اور زرد کوڈی برابر وزن لے کر عرق گلاب میں ۲۵ گھنٹے کھرل کر کے سرمہ بنا کر رکھ لیں، آنکھوں میں لگا لیں تو جالا کٹ جائے اور نظر تیز ہو جاتی ہے۔
اس کا اوپر والا زرد چھلکا خشک کر کے آگ پر جلالیں، سیاہ رنگ کی جلی ہوئی راکھ ۳ ماشہ اور خالص شہد ایک تولہ میں ملا کر بار بار چائے ہے گلے کی خراش دور، کھانسی کافور اور بلغم باسانی خارج ہو کر سانس کی تنگی بفضل خدا دور ہو جاتی ہے۔
موسمی میں رطوبت زیادہ ہونے کی وجہ سے بعض ٹھنڈے مزاج والوں اور بوڑھوں کو اس کے استعمال سے بدن میں دردیں ہونے لگتی ہیں تو دردوں کی وجہ عوام الناس اس کو ٹھنڈا سمجھنے لگتے ہیں، حالانکہ اس کا مزاج گرم تر ہے، ایسے حضرات اس کو کھا کر دوپہر اجوائن دیسی اور پودینہ خشک کا قہوہ بنا کر پئیں تو بجائے نقصان کے بہت فائدہ ہو گا۔
’’الشریعہ‘‘ کا نیا دور
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
ماہنامہ الشریعہ نے اپنے سفر کا آغاز اکتوبر ۱۹۸۹ء میں کیا تھا۔ حالات کی نامساعدت کے باوجود محض اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے یہ جریدہ اپنی زندگی کے سوا چھ سال اور چھ جلدیں مکمل کر چکا ہے اور زیر نظر شمارہ سے ساتویں جلد کا آغاز ہو رہا ہے۔
اس دوران الشریعہ نے اسلامائزیشن، مغربی میڈیا اور لابیوں کی اسلام دشمن مہم کے تعاقب، اور عالمی استعمار کی فکری اور نظریاتی یلغار کے حوالے سے دینی حلقوں کی آگاہی و بیداری کے لیے اپنی بساط کی حد تک خدمات سرانجام دی ہیں۔ اور اہل علم و نظر کے ہاں پسندیدگی اور قبولیت کے روز افزوں رجحانات سے یہ اطمینان ہوتا ہے کہ ہمارا سفر صحیح سمت اور وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے، فالحمد للہ علٰی ذٰلک۔
البتہ اصحاب خیر و ثروت کے ہاں پذیرائی حاصل کرنے میں ہم کامیاب نہیں ہو سکے، اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ فکری و نظریاتی محاذ کی جدوجہد کو ہمارے ہاں ابھی دینی تقاضوں میں شمار نہیں کیا جاتا، اور اسی بنا پر فکری و نظریاتی محنت کو وہ وسائل حاصل نہیں ہو پاتے جو آج کے دور میں ناگزیر ضروریات کا درجہ حاصل کر چکے ہیں۔ وسائل و اخراجات میں ضروری تعاون کے فقدان اور الشریعہ کو بلامعاوضہ اور اعزازی طور پر حاصل کرنے کے عمومی ذوق کے ہاتھوں بے بس ہو کر اس سے قبل دو بار سائز اور صفحات میں کمی کی گئی تھی۔ اور اب اسی وجہ سے ایک اور تبدیلی کے ذریعے الشریعہ کو ماہوار جریدہ کی بجائے سہ ماہی مجلہ کی شکل دی جا رہی ہے، جس کا پہلا نمونہ زیر نظر مجلہ کی صورت میں آپ کے سامنے ہے۔ پروگرام کے مطابق سال میں الشریعہ کے چار شمارے (جنوری، اپریل، جولائی، اکتوبر) میں شائع ہوں گے۔ ہر شمارہ کم از کم ایک سو صفحات پر مشتمل ہو گا اور کسی ایک عنوان کے لیے مخصوص ہوگا۔ اس طرح سال کے مجموعی صفحات اور قیمت میں کوئی کمی نہیں ہوگی، البتہ وقفہ اشاعت بڑھ جائے گا اور متنوع مضامین کی بجائے ہر شمارہ میں کسی ایک عنوان پر منتخب مضامین پیش کیے جائیں گے۔
اس پروگرام کے مطابق الشریعہ کا اگلا شمارہ اپریل ۱۹۹۶ء کے آغاز میں قارئین کی خدمت میں پیش کیا جائے گا اور اس کا عنوان ’’پاکستان میں نفاذ شریعت میں ناکامی کے اسباب‘‘ ہو گا، ان شاء اللہ تعالٰی۔ امید ہے کہ احباب اس سلسلہ میں تعاون اور سرپرستی میں بخل سے کام نہیں لیں گے۔
دنیا و آخرت کی فلاح حضرت شاہ ولی اللہؒ کی نظر میں
حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ
حضرت شاہ ولی اللہ دنیا اور آخرت کی فلاح کا سارا دارو مدار ان چار بنیادی اخلاق کو قرار دیتے ہیں:
(۱) طہارت (پاکیزگی)
(۲) اخبات (اعلیٰ و برتر ذاتِ خداوندی کے حضور میں خشوع و خضوع)
(۳) سماحت (ضبط نفس)
(۴) عدالت
ان چار اخلاق میں مرکزی حیثیت عدالت کو حاصل ہے۔ کسی سوسائٹی میں عدل و انصاف قائم نہیں ہو سکتا جب تک رزق کمانے والی جماعتوں پر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالنے سے احتراز کلی نہ برتا جائے۔ نزول قرآن کے زمانے میں کسری و قیصر نے متمدن دنیا کے اکثر حصے کو اقتصادی پریشانی میں مبتلا کر کے اخلاق سے محروم کر دیا تھا، اس لیے قرآن عظیم کا سب سے بڑا مقصد یہ تھا کہ کسری و قیصر کا زور توڑ کر ایسا نظام نافذ کر دیا جائے جس سے اقوام عالم کو اس مصیبت سے نجات حاصل ہو۔