اپریل ۱۹۹۶ء

دینی حلقے اور قومی سیاست کی دلدلمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
نفاذ شریعت کی اہمیت اور برکاتشیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ 
تمام مکاتب فکر کے ۳۱ سرکردہ علماء کرام کے طے کردہ ۲۲ متفقہ دستوری نکاتادارہ 
خلافتِ اسلامیہ کے احیا کی اہمیت اور اس کے تقاضےمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
نفاذِ اسلام کی راہ روکنے کے لیے امریکی منصوبہ بندیوائس آف امریکہ 
عدالتِ عظمیٰ کی نوازشاتادارہ 
نفاذ شریعت کی جدوجہد اور مغربی ممالک میں مقیم مسلمانوں کی ذمہ داریاںمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
نفاذِ اسلام اور ہمارا نظامِ تعلیممولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
نفاذ شریعت ایکٹ کی خلافِ اسلام دفعاتادارہ 
شریعت بل کی دفعہ ۳ کے بارے میں علماء کرام کے ارشاداتمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
تحریک نفاذ فقہ جعفریہ ۔ نفاذ اسلام کی جدوجہد میں معاون یا رکاوٹ؟مولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
علماء اور قومی سیاستمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
دوسری سالانہ الشریعہ تعلیمی کانفرنسادارہ 
تعارف و تبصرہمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
قافلۂ معادمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
خربوزہحکیم عبد الرشید شاہد 
قراردادِ مقاصدادارہ 
۱۹۷۳ء کے دستور کی اہم اسلامی دفعاتمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 

دینی حلقے اور قومی سیاست کی دلدل

دینی سیاست کے علمبرداروں کے لیے لمحۂ فکریہ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ملکی سیاست میں حصہ لینے والی مذہبی جماعتیں اس وقت عجیب مخمصے میں ہیں اور ریگستان میں راستہ بھول جانے والے قافلے کی طرح منزل کی تلاش بلکہ تعین میں سرگرداں ہیں۔ مروجہ سیاست میں حصہ لینے کا فیصلہ کرتے وقت مذہبی جماعتیں یقیناًاپنے اس اقدام پر پوری طرح مطمئن نہ تھیں اور وہ خدشات وخطرات اس وقت بھی ان کے ذہن میں اجمالی طور پر ضرور موجود تھے جن سے انہیں آج سابقہ درپیش ہے لیکن ان کا خیال یہ تھا کہ مروجہ سیاست میں شریک کار بنے بغیر ملکی نظام میں تبدیلی کی کوشش نتیجہ خیز نہیں ہو سکتی اور مروجہ سیاست کی خرابیوں پر وہ مذہبی قوت اور عوامی دباؤ کے ذریعے سے قابو پانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اس لیے مذہبی جماعتوں نے مروجہ سیاست کی دلدل میں کود پڑنے کا رسک لے لیا لیکن آج ووٹ، الیکشن اور دباؤ کی مروجہ سیاست ان کے گلے کا ہار بن گئی ہے کہ نہ تو انہیں اس کے ذریعے سے دینی مقاصدکے حصول کا کوئی امکان نظر آ رہا ہے، نہ وہ اس سے کنارہ کش ہونے کا حوصلہ رکھتی ہیں، نہ اس مروجہ سیاست کے ناگزیر تقاضوں کا پورا کرنا ان کے بس کی بات ہے اور نہ ہی وہ قومی سیاست میں اپنے موجودہ مقام اور بھرم کو باقی رکھنے میں کام یاب ہو رہی ہیں اور صورت حال یہ ہے کہ قومی سیاست کی ریت دینی رہنماؤں کی مٹھی سے مسلسل پھسلتی جا رہی ہے اور قومی سیاست میں بے وقعت ہونے کے اثرات معاشرے میں ان کے دینی وقار ومقام کو بھی لپیٹ میں لیتے جا رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس صورت حال کا ٹھنڈے دل ودماغ کے ساتھ سنجیدہ تجزیہ کیا جائے اور ان اسباب وعوامل کا سراغ لگایا جائے جو ملکی سیاست میں مذہبی جماعتوں کی ناکامی کا باعث بنے ہیں تاکہ ان کی روشنی میں دینی سیاسی جماعتیں اپنے مستقبل کو حال سے بہتر بنانے کی منصوبہ بندی کر سکیں۔ 

جہاں تک قومی سیاست میں حصہ لینے او رمروجہ سیاسی عمل کے ذریعے سے ملکی نظام کی تبدیلی اور نفاذ اسلامی کی جدوجہد کا تعلق ہے، اس میں کلام نہیں ہے کہ تمام تر خدشات وخطرات کے باوجود آج بھی دینی جماعتوں کے سامنے اس کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے کیونکہ دینی حلقوں کا واحد ہدف نظام کی تبدیلی ہے۔ وہ موجودہ اجتماعی نظام کو غیر اسلامی سمجھتے ہیں جو یقیناًغیر اسلامی ہے اور دینی حلقے اس نظام کو ختم کر کے اس کی جگہ اسلام کا عادلانہ نظام نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ ظاہربات ہے کہ نظام کی تبدیلی کے دو ہی طریقے ہیں۔ ایک یہ کہ طاقت کے بل پر موجودہ نظام کو بیخ وبن سے اکھاڑ دیا جائے اور دوسرا یہ کہ رائے عامہ کو ساتھ ملا کر اس کے ذریعے سے نظام کی تبدیلی کے عمل کو آگے بڑھایا جائے۔

طاقت اگر موجود ہو اور کافرانہ نظام کا تحفظ کرنے والی طاقتوں سے نظام کی باگ ڈور چھین لینے کی سکت رکھتی ہو تو نظام کی تبدیلی کا یہ راستہ سب سے زیادہ موثر اور محفوظ ہے بلکہ شرعی اصولوں کی روشنی میں ایسی صورت حال میں طاقت کا استعمال دینی فریضہ کی حیثیت اختیار کر جاتا ہے۔ ہماری دلی دعا اور خواہش ہے کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کی دینی قوتوں کو ایسی طاقت فراہم کرنے کا شعور، حوصلہ اور مواقع نصیب فرمائیں۔ آمین یا رب العالمین۔ لیکن موجودہ حالات میں ایسی طاقت دینی قوتوں کے پاس موجود ہے نہ مستقبل قریب میں فراہم ہونے کے امکانات ہیں اس لیے متبادل اور محفوظ راستہ میسر آنے تک پاکستان کے دینی حلقوں کے پاس صرف یہی ایک طریقہ باقی رہ جاتا ہے کہ وہ مروجہ سیاسی عمل کے ذریعے سے ملکی نظام کی تبدیلی کی جدوجہد کرتی رہیں۔ البتہ قومی سیاست میں حصہ لینے والی دینی جماعتوں کو ان عوامل کا ضرور تجزیہ کرنا چاہیے جو اب تک سیاست میں ان کی ناکامی یا کمزوری کا باعث بنے ہوئے ہیں اور اسی ضمن میں بحث وتمحیص کے آغاز کے لیے چند گزارشات پیش کی جا رہی ہیں۔

ہمارے خیال میں دینی سیاسی جماعتوں کی ناکامی کی ایک وجہ یہ ہے کہ نفاذ اسلام کے لیے ان کا ہوم ورک نہیں ہے۔ ان کے بیشتر کارکنوں بلکہ رہنماؤں کو بھی نفاذ اسلام کے فکری اور عملی تقاضوں کا ادراک نہیں ہے اور نہ ہی ان نظریاتی اور واقعاتی رکاوٹوں سے آگاہی ہے جو نفاذ اسلام کی راہ روکے ہوئے ہیں۔ اس سلسلے میں جماعت اسلامی کے سوا کسی اور جماعت کے پاس رہنماؤں اور کارکنوں کی فکری، علمی اور عملی تربیت کا سرے سے کوئی نظام ہی موجود نہیں ہے اور جماعت اسلامی کے تربیتی نظام کی بنیادی بھی اجتماعی فکر کے بجائے شخصی فکر پر ہے جس سے مطلوبہ مقاصد حاصل نہیں ہو رہے اور نہ ہی وہ شخصی فکر دینی حلقوں کا اعتماد حاصل کر سکا ہے۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ دینی سیاسی جماعتوں نے یہ جانتے ہوئے بھی کہ ملک کی دو بڑی سیاسی قوتیں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نفاذ اسلام کے معاملہ میں یکساں سوچ اور طرز عمل کی حامل ہیں، صرف سیٹوں کے حصول، اخبارات میں کوریج اور سیاسی اہمیت میں وقتی اضافے کی خاطر انہی میں سے کسی کے ساتھ سیاسی وابستگی کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔ کوئی مذہبی جماعت پیپلز پارٹی کے ساتھ تمام تر طعنوں کو سہتے ہوئے بھی وقتی مفاد کی خاطر جا بیٹھتی ہے اور کوئی جماعت مسلم لیگ سے بارہا ڈسے جانے کے باوجود اسی بل میں پھر گھس جانے میں عافیت سمجھتی ہے۔ اس طرز عمل نے دینی سیاسی جماعتوں کے تشخص اور وقار کو جس بری طرح پامال کیا ہے، اس کے تصور سے بھی باشعور دینی کارکنوں کو جھرجھری آ جاتی ہے لیکن راہ نمایان گرامی منزلت اس قدر احساس پروف واقع ہوئے ہیں کہ ان کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ 

تیسری وجہ یہ ہے کہ مذہبی جماعتوں نے ابھی تک آپس میں مل بیٹھنے اور دینی حلقوں کے باہمی اتحاد کی ضرورت وافادیت کو محسوس نہیں کیا۔ کبھی کبھار عوامی دباؤ سے بے بس ہو کر وقتی طور پر مل بیٹھتے ہیں تو الیکشن میں بڑے سیاسی اتحادوں کی طرف سے سیٹوں کی سبز جھنڈی بلند ہوتے ہی سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر ادھر کو لپک پڑتے ہیں جبکہ ملتا وہاں سے بھی کچھ نہیں ہے۔ دینی سیاسی جماعتوں کے قائدین آج تک اس حقیقت کا ادراک ہی نہیں کر سکے کہ ان کی اصل قوت ان کے باہمی اتحاد میں ہے اور ان کے متحد ہونے کی صورت میں عوام نے انہیں کبھی مایوس نہیں کیا۔ پاکستان کے قیام کے بعد ملک کی دینی جماعتوں نے حقیقی سیاسی اتحاد کا مظاہرہ صرف ایک مرتبہ ۷۷ء میں کیا ہے اور اس کے ثمرات آنکھوں سے دیکھے ہیں۔ انہی ثمرات کی وجہ سے ملک کی حقیقی حکمران قوتوں نے ہمیشہ کے لیے یہ حکمت عملی طے کر لی ہے کہ پاکستان کے دینی حلقوں اور جماعتوں کو کبھی کسی عملی اور حقیقی سیاسی اتحاد کی منزل تک پہنچنے نہ دیا جائے۔

دینی سیاسی جماعتوں کی قومی سیاست میں ناکامی کی ایک وجہ ان کا فرقہ وارانہ تشخص اور ترجیحات بھی ہیں۔ ملک کی کوئی دینی سیاسی جماعت ایسی نہیں جو صرف ایک ہی مذہبی مکتب فکر کی نمائندگی نہ کرتی ہو۔ جماعت اسلامی نے اس دائرے سے نکل کر ہمہ گیر ہونے کا تصور دیا لیکن طریق کار ایسا اختیار کیا کہ عملاً ملک میں پہلے سے موجود مذہبی مکاتب فکر میں ایک نئے نیم مکتب فکر کا عنوان بن گئی۔ یہ بات طے شدہ ہے کہ ہماری دینی سیاسی جماعتوں کی تشکیل مذہبی مکاتب فکر کی بنیاد پر ہے اور ان کے ہاں کارکنوں کی تربیت، قیادت کے چناؤ اور پالیسیوں کے تعین کا دارومدار بھی فرقہ وارانہ ترجیحات پر ہے۔ پھر بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ ہمارے دینی تعلیمی اداروں میں کارکنوں کی تربیت کے لیے دوسرے مذہبی مکاتب فکر کے خلاف ان کی ذہن سازی کا جو معیار قائم کر دیا گیا ہے، لادین اور سیکولر لابیوں کے خلاف ان کی ذہن سازی اس کا دسواں حصہ بھی نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ دینی سیاسی جماعتوں کے کارکن سیکولر اور منافق سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل بیٹھنا تو اس قدر معیوب نہیں سمجھتے لیکن آپس میں دوسرے مذہبی مکاتب فکر کے کارکنوں کے ساتھ مل بیٹھنے میں ان کا حجاب بدستور قائم رہتا ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ جمعیت علماء اسلام پاکستان، جمعیت علماء پاکستان ، جمعیت اہل حدیث پاکستان، جماعت اسلامی اور دوسری دینی سیاسی جماعتوں کے قائدین کو انفرادی طور پر اور باہم مل بیٹھ کر ان اسباب وعوامل کا ضرور جائزہ لینا چاہیے اور ان منفی عوامل سے گلو خلاصی کے لیے ٹھوس حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے۔ ہماری رائے آج بھی یہی ہے کہ ملک کی دینی سیاسی جماعتوں کے سامنے ملکی نظام کو تبدیل کرنے اور نفاذ اسلام کے لیے مروجہ سیاسی عمل کے ذریعے سے جدوجہد ہی موجودہ حالات میں واحد راستہ ہے اور اگر وہ باہمی منافرت، بے اعتمادی اور فرقہ وارانہ ترجیحات پر قابو پاکر آپس میں حقیقی سیاسی اتحاد کی کوئی مستحکم بنیاد قائم کر سکیں تو نہ صرف مروجہ سیاست کی خرابیوں سے نجات حاصل کر سکتے ہیں بلکہ اسے دینی تقاضوں کے سانچے میں ڈھالنے کی سکت بھی ان میں موجود ہے۔

(جنوری ۱۹۹۲ء)

نفاذ شریعت کی اہمیت اور برکات

شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

نحمدہ ونصلی ونسلم علی رسولہ الكريم، اما بعد۔

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: للہ ملک السموات والارض کہ آسمانوں اور زمینوں کا ملک صرف اللہ تعالٰی کے لیے ہے کیونکہ وہی خالق وہی مالک اور وہی متصرف ہے، تو یہ بات فطرت اور انصاف کے خلاف ہے کہ اللہ تعالیٰ کو کماحقہٗ ماننے والوں کے ملک میں قانون کسی اور کا نافذ ہو۔ 

سب سے پہلے یہ سمجھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات گرامی سے بڑھ کر کوئی بھی علیم و خبیر نہیں اور اس سے زیادہ کوئی حکیم و رحیم بھی نہیں۔ اس نے جو احکام دیے ہیں سب حق اور صحیح ہیں اور کوئی بھی حکم مصلحت و حکمت سے خالی نہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ کی حکمتوں کو کیا جانیں؟ کیا پدی اور کیا پدی کا شوربا؟ اللہ تعالیٰ کو رحمٰن و رحیم اور حکیم تسلیم کر لینے کے بعد اس کا کوئی حکم بھی ظالمانہ، جابرانہ اور وحشیانہ نہیں نظر آئے گا۔ ایسا نظریہ صرف ان لوگوں کا ہو سکتا ہے جن کا اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں اور وہ مغربیت زدہ ذہن رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ڈاکہ، چوری، زنا، قذف وغیرہ جرائم کی واضح الفاظ میں سزائیں اور حدود بیان کی ہیں تاکہ کوئی کسی پر ظلم اور زیادتی نہ کرے اور امن و امان کے ساتھ ہر آدمی پر سکون زندگی بسر کر سکے۔ 

اگر یہ سزائیں نہ دی جائیں تو آج ہم اپنی آنکھوں کے ساتھ دیکھ رہے ہیں اور روزانہ ملکی اخبارات میں پڑھتے ہیں کہ نہ تو کسی کی جان محفوظ ہے، نہ مال محفوظ ہے اور نہ عزت و آبرو محفوظ ہے۔ ڈاکوؤں، چوروں اور بد معاشوں کا دور دورہ ہے اور وہ دندناتے پھرتے ہیں، اور جب پکڑے جاتے ہیں تو بڑی آسانی اور آنکھوں کے اشاروں سے مک مکاؤ ہو جاتا ہے، اور اگر کوئی قدرے اکڑ جائے تو اس کو پولیس مقابلہ میں ختم کر دیا جاتا ہے۔ کوئی محکمہ رشوت اور گھپلوں سے خالی نہیں، عوام ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں اور بعض تو پیٹ بھر کر کھانے سے بھی محروم ہیں۔ اور بلوں اور ٹیکسوں کی اتنی بھرمار ہے کہ عوام بیچارے سوئی گیس، بجلی، ٹیلیفون اور پانی وغیرہ کے بل ادا کرتے بھی بلبلاتے ہیں، اور حکمران طبقہ ہے جو صم بکم عمی کا مصداق ہے۔ عوام کی خیر خواہی کے لیے کسی کے کان پر جوں بھی نہیں رینگتی، اور ان کو حلال و حرام کی تمیز سے بالا تر ہو کر دولت جمع کرنے اور لوٹنے کھوٹنے کی فکر ہے۔ موت، قبر آخرت اور یوم الحساب کی فکر سے اکثریت بے نیاز ہے۔ اور سب کچھ اس ملک میں ہو رہا ہے جس کے حاصل کرنے کا مقصد ہی اسلام اور صرف اسلام تھا اور بچہ بچہ جانتا ہے کہ پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ۔ مگر صد افسوس ہے کہ اللہ تعالیٰ کے واضح اور صریح احکام کو رد کر کے امریکہ بہادر کی مرضی کو ترجیح دی جا رہی ہے جس پر ہر مسلمان درد مند ہے۔

میرے درد کی حقیقت میرے آنسوؤں سے پوچھو 
میرے قہقہوں کی دنیا میری ترجماں نہیں ہے

اسلام میں ظلم کا تصور بھی نہیں

مذہب اسلام نے کسی مرحلہ میں بھی کسی پر رتی برابر ظلم کو روا نہیں رکھا۔ خود ظلم کرنا تو درکنار، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ظالموں کے ساتھ میل جول بھی نہ رکھو۔ ارشاد ہے: 

ولا تركنوا الی الذين ظلموا فتمسكم النار وما لكم من دون اللہ من اولياء ثم لا تنصرون (پ ۱۳، ہود ۱۰) 
’’اور مت جھکو ان کی طرف جو ظالم ہیں پھر تم کو لے گی آگ اور کوئی نہیں تمہارا اللہ کے سوا مددگار پھر کہیں مدد نہ پاؤ گے (ترجمہ از شیخ الہندؒ)

اس کی تفسیر میں وہ بزرگ جس نے اپنے مبارک ہاتھوں سے پاکستان کا جھنڈا لہرایا تھا، شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد صاحب عثمانیؒ (المتوفی ۱۳۶۹ھ) فرماتے ہیں:

’’پہلے لا تطغوا میں حد سے نکلنے کو منع کیا تھا، اب بتلاتے ہیں کہ جو لوگ ظالم (حد سے نکلنے والے) ہیں ان کی طرف تمہارا ذرا سا میلان اور جھکاؤ بھی نہ ہو۔ ان کی موالات، مصاحبت، تعظیم و تکریم، مدح و ثنا، ظاہری تشبہ، اشتراکِ عمل ہر بات سے حسبِ مقدور محترز رہو، مبادا آگ کی لپیٹ تم کو نہ لگ جائے، پھر نہ خدا کے سوا تم کو کوئی مددگار ملے گا اور نہ خدا کی طرف سے کچھ مدد پہنچے گی۔‘‘ (فوائد عثمانیہ ص ۳۰۳ ف ۵)

آج ظالموں اور اللہ تعالٰی کے نافرمانوں کا جو تعاون ہو رہا ہے اور ان کی مدح و ثنا کے جو گیت گائے جا رہے ہیں جن کا ظاہر کچھ اور باطن کچھ اور ہے، وہ کسی بھی اہلِ حق اور منصف مزاج سے مخفی نہیں ہے۔

سفر کی سمت کا کوئی تعین ہو تو کیسے ہو؟ 
غبارِ کارواں کچھ، راستہ کچھ اور کہتا ہے

عورت کی حکمرانی (جو شرعاً‌ ناجائز ہے) میں جو قتل و غارت، گرانی اور ملکی فسادات برپا ہیں وہ بالکل ختم ہوتے دکھائی نہیں دیتے۔ یہ اللہ تعالی کی طرف سے ظاہری سزا ہے کہ قوم نے اپنے ووٹ کی گواہی اور شہادت سے نااہل لوگوں کو عوام پر حکمرانی کا حق دیا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: 

الا لہ الخلق والامر تبارك اللہ رب العالمين۔
’’ سن لو اسی کا کام ہے پیدا کرنا اور حکم فرمانا، بڑی برکت والا ہے اللہ جو رب ہے سارے جہان کا۔‘‘ (ترجمہ حضرت شیخ الہندؒ) 

مولانا شبیر احمد صاحب اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں: 

’’پیدا کرنا خلق ہے اور پیدا کرنے کے بعد تکوینی یا تشریعی احکام دینا امر ہے اور دونوں اسی کے قبضہ و اختیار میں ہیں۔ اس طرح وہ ہی ساری خوبیوں اور برکتوں کا سرچشمہ ہے۔‘‘ (فوائد عثمانیہ ص ۲۰۴) 

نفاذ شریعت کی برکات

دنیا و مافیہا کے تمام خزانوں کا خالق، مالک اور متصرف صرف اور صرف اللہ تعالٰی ہے اور سب کچھ اس کے قبضہ میں ہے۔ وہ جیسے چاہتا ہے ان میں تصرف اور تدبیر کرتا ہے۔ جب وہ راضی ہوتا ہے تو تمام اشیاء میں برکت ہی برکت ہوتی ہیں، اور جب وہ ناراض ہوتا ہے اور زمین میں گناہوں کی وجہ سے اس کی نافرمانی ہوتی ہے تو وہ ناراض ہو کر اپنی رحمت اور برکت روک لیتا ہے۔ حافظ عماد الدین ابو الفداء اسماعیل بن کثیر (المتوفی ۷۷۴ھ) مشہور مفسر ابو العاليہ (الریاحی رفیعؒ بن مہرانؒ المتوفی (۹۳ھ) ـ سے ظہر الفساد فہ البر والبحر (الایہ) کی تفسیر میں نقل کرتے ہیں: 

من عصی اللہ فی الارض فقد افسد فی الارض لان صلاح الارض والسماء بالطاعۃ ولہذا جاء فی الحدیث الذی رواہ ابو داؤد لحد یقام فی الارض احب الی اہلہا من ان یمطروا اربعین صباحاً‌  والسبب فی ہذا ان الحدود اذا اقیمت انکف الناس او اکثرہم او کثیر منہم عن تعاطی المحرمات واذا ترکت المعاص عن سبباً‌ فی حصول البرکات من السماء والارض و لہذا اذا نزل عیسی بن مریم علیہما السلام فی آخر الزمان یحکم بہذہ الشریعۃ المطہرۃ فی ذلک الوقت من قتل الخنزیوکسر الصلیب ووضع الجزیۃ وہو ترکہا فلا یقبل الا الاسلام او السیف فاذا اہلک اللہ فی زمانہ الدجال واتباعہ ویاجوج وموج قیل للارض اخرجی برکتک فیاکل من الرمانۃ الفئام من الناس ویستظلون بقحفہا ویکفی لبن اللقحۃ الجماعۃ من الناس وما ذالک الا ببرکۃ تنفیذ شریعۃ محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فکلما اقیم العدل کثرت البرکات والخیر ولہذا ثبت فی الصحیحین ان الفاجر اذا مات یستریح منہ العباد والبلاد والشجر والدواب وقال احمد بن حنبل حدثنا محمد والحسین قالا حدثنا عوف عن ابی مخذم قال وجد رجل فی زمان زیاد او ابن زیاد صرۃ فیہا حب یعنی من بر امثال النوی مکتوب فیہا ہذا نبت فی زمان کان یعمل فیہ بالعدل (تفسیر ابن کثیر ج ۳ ص ۴۳۵)
’’جس شخص نے زمین میں اللہ تعالی کی نافرمانی کی تو اس نے زمین میں فساد برپا کیا کیونکہ زمین و آسمان کی اصلاح اطاعت سے ہے، اور اسی لیے ابوداؤد کی حدیث میں آتا ہے کہ زمین پر شرعی طور پر ایک حد کا قائم کرنا زمین کے باشندوں کے لیے چالیس (۴۰) دن کی (مناسب) بارش سے زیادہ محبوب و بہتر ہے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جب حدود قائم کی جائیں گی تو لوگ یا ان میں سے اکثر حرام کاریوں سے رک جائیں گے اور گناہ ترک کر دیے جائیں گے تو آسمان و زمین کی برکات حاصل ہوں گی۔ اور یہی وجہ ہے کہ آخر زمانہ میں جب حضرت عیسیٰ بن مریمؑ نازل ہو کر اس پاکیزہ شریعت کے مطابق فیصلے صادر فرمائیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے اور صلیب کو توڑیں گے (اور یہود و نصاریٰ کی قوت ختم کر ڈالیں گے) اور جزیہ لینا موقوف کر دیں گے اور اسلام اور جہاد بالسیف کے بغیر کوئی چیز قبول نہیں کریں گے تو ان کے دور میں اللہ تعالی دجال اور اس کے پیروکاروں اور یا جوج ماجوج کو ہلاک کر دے گا اور زمین کو حکم ہوگا کہ اپنی برکات نکال۔ اس وقت ایک انار کو کئی گھرانے کھائیں گے اور اس کے چھلکے کے سایہ میں کئی لوگ بیٹھ سکیں گے، اور ایک اونٹنی کا دودھ لوگوں کی خاص جماعت کو کفایت کرے گا۔ اور یہ سب کچھ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے نفاذ کی برکت سے ہو گا۔ اور جب بھی عدل قائم کیا جائے اس کی برکات اور خیر زیادہ ہوتی ہے، اسی واسطے بخاری (ج ۱) اور مسلم (ج ۱ ص ۳۰۸) کی روایت میں آتا ہے کہ جب کوئی نافرمان مرتا ہے تو اس سے بندوں کو، شہروں کو، درختوں کو، اور جانوروں کو راحت حاصل ہوتی ہے۔ امام احمدؒ بن حنبلؒ فرماتے ہیں کہ ہم سے محمدؒ اور حسینؒ دو راویوں نے بیان کیا، وہ فرماتے ہیں کہ ہم سے عوفؒ نے بیان کیا، وہ ابو مخذمؒ  سے روایت کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ زیاد یا ابن زیاد کے زمانہ میں ایک تھیلہ ملا جس میں کھجور کی گھٹلیوں کے برابر (ایک گھٹلی کا وزن نو ماشے اور تولہ بھی نکلا ہے) گندم کا ایک ایک دانہ تھا۔ ان پر لکھا ہوا تھا کہ یہ اس زمانہ کے دانے ہیں جس میں عدل و انصاف پر عمل ہوتا تھا۔‘‘

ابو داؤد کی جس روایت کا حوالہ حافظ ابن کثیرؒ نے دیا ہے یہ روایت حضرت ابوہریرہؓ سے نسائی ج ۲ ص ۲۲۳ اور ابن ماجہ ص ۱۸۵ وغیرہ کتب حدیث میں موجود ہے۔ امام سیوطیؒ (المتوفی ۹۱۱ھ) فرماتے ہیں صحیح ہے (الجامع الصغیر ج ا ص ۱۸۷)۔ مادہ پرست اور ظاہر بین جنہوں نے اپنے قلوب و اذہان کو مغربی تہذیب و تمدن کے ہاں گروی رکھ دیا ہے، ان نفس الامری باتوں کا مذاق اڑائیں گے مگر اہل ایمان، اہل خرد اور پختہ عقیدہ رکھنے والے مسلمان ایسے واقعات کو بلا چون و چرا تسلیم کرتے ہیں اور ان شاء اللہ العزیز کرتے رہیں گے۔

وہی بالا ہیں دنیا میں جو اپنا نیک و بد سمجھیں 
یہ نکتہ وہ ہے جس کو اہلِ دل اہلِ خرد سمجھیں

عدل و انصاف کے دور کی تَر اور سنگترہ

جس زمانہ میں عدل و انصاف ہوتا تھا اس زمانہ میں سبزیوں اور پھلوں وغیرہ ہر چیز میں برکت ہوتی تھی۔ امام ابوداؤد (سلیمان بن اشعث السجستانیؒ (المتوفی ۲۷۵ھ) فرماتے ہیں کہ

شبرت قثاءۃ بمصر ثلاثۃ عشر شبرا و رایت اترجۃ علی بعیر قطعت وصیرت علی مثل عدلین (ابو داؤد ج ۱ ص ۲۲۶) 
’’میں نے مصر میں ایک تر کو ماپا تو وہ تیرہ (۱۳) بالشت لمبی نکلی اور ایک سنگترہ اتنا بڑا دیکھا کہ اس کو دو حصے کر کے ایک اونٹ پر دو طرف لادا گیا۔‘‘

 اللہ تعالیٰ کی قدرت سے کوئی چیز خارج اور بعید نہیں ہے۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات پر یقین رکھتے ہیں وہ اہلِ نظر ایسی چیزوں کے ماننے میں تامل نہیں کرتے۔ ضد، عناد اور حق سے انکار کا مخلوق کے پاس کوئی علاج نہیں ہے:

اے اہلِ نظر! ذوقِ نظر خوب ہے لیکن 
جو شے کی حقیقت کو نہ دیکھے وہ نظر کیا؟

عدل و انصاف کی برکت سے فقر و فاقہ اور ڈاکہ اور بدی مٹتی ہے

حضرت عدیؓ بن حاتم (المتوفی (۲۸ھ) فرماتے ہیں کہ میں آنحضرت صلی اللہ عليہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا کہ ایک شخص آیا اور اس نے فقر و فاقہ کا شکوہ کیا۔ اس کے بعد ایک دوسرا آیا اور اس نے ڈاکہ کا ذکر کیا۔ آپؐ نے فرمایا اے عدیؓ تو نے حیرہ دیکھا ہے؟ میں نے کہا کہ دیکھا تو نہیں لیکن اس کے بارے مجھے یہ خبری دی گئی ہے کہ حیرہ (کوفہ کے قریب ایک مشہور شہر تھا جس کو نعمان نامی شخص نے آباد کیا تھا) ہے۔ آپؐ نے فرمایا اگر تیری زندگی لمبی ہوئی تو تو ضرور دیکھے گا کہ اونٹ کے کجاوہ میں سوار عورت حیرہ سے چل کر کعبہ اللہ کا طواف کرے گی اور اللہ تعالی کے سوا اسے کسی کا خوف اور ڈر نہ ہو گا۔ حضرت عدیؓ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے دل میں کہا کہ بنو طے (حاتم طائی کا خاندان جو سخاوت میں مشہور تھا اور حضرت عدیؓ کا والد تھا) کے غنڈے بدمعاش اور ڈاکو اس وقت کہاں ہوں گے جنہوں نے شہروں میں فتنہ و فساد اور شرارت کی آگ جلا رکھی ہے؟ آپؐ نے فرمایا کہ اگر تیری زندگی طویل ہوئی تو کسریٰ (ایران کا بادشاہ تھا) کے خزانے ضرور فتح کیے جائیں گے۔ میں نے کہا کسریٰ بن ہرمز کے؟ آپؐ نے فرمایا ہاں کسریٰ بن ہرمز کے۔ پھر آپؐ نے فرمایا اگر تیری زندگی زیادہ ہوئی تو تو دیکھے گا کہ آدمی ہاتھ بھر کر سونا اور چاندی (زکوٰۃ اور صدقہ کے طور پر) لیے لیے پھرے گا مگر اسے کوئی لینے والا نہیں ملے گا۔ 

(پھر آگے حضرت عدیؓ نے فرمایا) میں نے آنکھوں کے ساتھ کجاوہ سوار عورت کو دیکھا کہ حیرہ سے چل کر بیت اللہ کا طواف کر رہی ہے اور اللہ تعالیٰ کے سوا اسے کسی کا خوف نہیں، اور کسریٰ بن ہرمز کے خزانوں کے فتح کرنے والوں میں، میں بھی شریک تھا۔ آگے فرمایا، اے سامعین! اگر تمہاری زندگی لمبی ہوئی تو تم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی صداقت بھی دیکھ لو گے کہ اوکھ (بک) بھرا ہوا مال بھی کوئی وصول نہیں کرے گا۔ (بخاری ج ا ص ۵۰۷ و ۵۰۸ و مختصراً‌ ج ا ص ۱۹۰) 

حافظ ابن حجر عسقلانیؒ (المتوفی ۸۵۲ھ) فلا يجد احدا يقبلہ کی شرح میں کہتے ہیں کہ

ای لعدم الفقراء فی ذلک الزمان تقدم فی الزکوۃ قول من قال ان ذٰلک عند نزول عیسی بن مریم علیہما السلام ویحتمل ان یکون ذالک اشارۃ الی ما وقع فی زمن عمر بن عبد العزیز وبذلک جزم البیہقی و اخرج فی الدلائل من طریق یعقوب بن سفیان بسندہ الی عمر بن اسید بن عبدالرحمن بن زید بن الخطاب قال انما ولی عمر بن عبدالعزیز ثلاثین شہرا الا واللہ ما مات حتی جعل الرجل یاتینا بالمال العظیم فیقول اجعلوا ہذا حیث ترون فی الفقراء فما یبرح حتی یرجع بمالہ یتذکر من یضعہ فیہ فلا یجدہ قد اغنی عمر الناس الخ (فتح الباری ج ۶ ص ۳۱۲ واللفظ لہ، والبدایہ والنہایہ ج ۵ ص ۶۴ لحافظ ابن کثیرؒ) 
’’فقراء اس زمانہ میں نہ ہوں گے اس لیے مال لینے والا بھی کوئی نہ پایا جائے گا۔ پہلے کتاب الزکوٰۃ میں ان حضرات کا قول بیان ہو چکا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ یہ کارروائی حضرت عیسی بن مریمؑ کے نزول کے بعد ہوگی، اور اس کا بھی احتمال ہے کہ اس میں اس کی طرف اشارہ ہو جو حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کے دور میں ہوا اور امام بیہقیؒ نے اس پر اعتماد کیا ہے اور اپنی کتاب دلائل النبوۃ میں یعقوبؒ بن سفیانؒ سے ان کی سند کے ساتھ عمرؒ بن اسیدؒ بن عبد الرحمٰن بن زیدؓ بن الخطاب سے روایت کی ہے کہ حضرت عمرؒ بن عبد العزیزؒ کو صرف تمہیں ماہ ہی خلافت کرنے کا موقع ملا لیکن بخدا ان کی اس وقت تک وفات نہیں ہوئی جب تک کہ آدمی (زکوٰۃ کا) کثیر مال لیے لیے پھرتا تھا اور کہتا تھا کہ اس مال کو جہاں مناسب سمجھو فقراء میں تقسیم کر دو اور اسی لگن میں وہ مصارف کو ڈھونڈنے اور تلاش کرنے میں لگا رہتا تھا مگر اس کو لینے والا کوئی نہ ملتا کیونکہ حضرت عمرؒ نے لوگوں کو مال دار کر دیا تھا تو وہ مال واپس لے کر گھر آ جاتا۔‘‘

 اس سے خلیفہ راشد و عادل حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کا عدل، حسنِ انتظام اور عوام کی خیر خواہی کا واضح ثبوت ملتا ہے کہ زکوٰۃ و صدقات کے وصول کرنے والوں کا ڈھونڈنے کے باوجود بھی نشان نہیں ملتا تھا اور دینے والے افسردہ ہو کر گھر کو واپس ہوتا۔ 

حافظ ابن حجرؒ ہی علامہ ابن التينؒ (عبد الواحدؒ بن التينؒ شارح بخاری کے حوالے سے لکھتے ہیں:

قال ابن التینؒ انما یقع بعد نزول عیسی بن مریم علیہما السلام حین تخرج الارض برکاتہا حتی تشبع الرمانۃ اہل البیت ولا یبقی فی الارض کافر اھ (فتح الباری ج ۳ ص ۲۸۲)
’’امام ابن التینؒ فرماتے ہیں کہ یہ کارروائی حضرت عیسی بن مریمؑ کے نزول کے بعد ہوگی جس وقت کہ زمین اپنی تمام برکات نکالے گی یہاں تک کہ ایک انار سے ایک گھرانا سیر شکم ہو جائے گا اور زمین میں کوئی کافر باقی نہ رہے گا۔‘‘

امام ابو عبید القاسم بن سلامؒ (المتوفی ۲۲۴ھ) اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں کہ حضرت معاذؓ بن جبل (المتوفی ۱۸ھ جن کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ۱۰ھ میں یمن کے ایک صوبہ کا گورنر بنا کر بھیجا تھا اور وہ حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت میں بھی یمن کے گورنر تھے) نے وہاں کے صدقات کا تیسرا حصہ مدینہ طیبہ ارسال کر دیا۔ حضرت عمر نے فرمایا: ولکن بعثنک لتاخذ من اغنیاء الناس فتردہا علی فقرائہم لیکن میں نے تو تجھے اس لیے (یمن) بھیجا تھا تاکہ تو اغنیاء سے مال لے کر ان کے محتاجوں پر تقسیم کرے۔ حضرت معاذؓ نے جواب دیا کہ یمن میں فقراء پر تقسیم کرنے کے بعد جو بچ گیا ہے، وہ مرکزی بیت المال میں جمع کرانے کے لیے ارسال ہے۔ دوسرے سال حضرت معاذؓ نے نصف صدقہ مدینہ طیبہ بھیج دیا۔ حضرت عمرؓ نے پھر وہی سوال کیا اور حضرت معاذ نے بھی پھر وہی جواب دیا۔ تیسرے سال حضرت معاذؓ نے یمن میں اپنے صوبے کا سارا صدقہ مدینہ طیبہ بھیج دیا۔ حضرت عمرؓ نے (غالباً‌ ذرا سختی سے)  سوال کیا تو حضرت معاذؓ نے جواب دیا کہ یمن کے لوگ (اسلام کے اقتصادی اور معاشی نظام کی بدولت) اس قدر خوشحال اور آسودہ ہو گئے ہیں کہ یہاں ایک شخص بھی اب ایسا نہیں رہا جس کو میں صدقہ دوں۔ (کتاب الاموال ص ۵۹۶)

صرف اس ایک واقعہ سے خلافت راشدہ کے سنہری دور کی برکات اور اسلام کے عادلانہ اور منصفانہ اقتصادی اور معاشی نظام کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پورے صوبہ میں ایک بھی فقیر و محتاج اور صدقات کا مصرف نہ رہا، اور اس سے لینے والوں کے ضمیر خودداری اور خدا خوفی کا اندازہ بھی ہو سکتا ہے۔ خدانخواستہ ہمارا زمانہ ہوتا تو غیر مستحق اور غیر مصرف لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلا پھیلا کر خود زکوٰتیں اور صدقات مانگتے اور سب کچھ ناجائز طور پر ہڑپ کر جاتے اور صدقات کی رقموں سے اپنی گلی نالی اور سڑک ٹھیک کرتے بلکہ الیکشن میں صرف کر دیتے۔ بہت قربانی اور ایثار سے کام لیتے تو ہسپتال اور برائے نام رفاہ عام کے کاموں کی عمارات اور مشینوں پر صَرف کر دیتے۔ 

راقم اثیم کہتا ہے کہ ان بظاہر مختلف اقوال میں کوئی تعارض نہیں ہے۔ اسلام کے عدل و انصاف اور اقتصادی نظام کی برکت سے حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کے دور میں ایسا ہو چکا ہے اور حضرت عیسیٰ کے نزول کے بعد بھی ضرور ایسا ہوگا۔ 

انار کی جس حدیث کی طرف اشارہ ہے وہ حضرت ابوہریرہؓ سے مرفوعاً  مروی ہے جس میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ 

ثم قال (ای اللہ تعالی) للارض انبتی ثمرک وردی برکتک فیومئذ یاکل العصابۃ من الرمانۃ ویستظلون بقحفہا ویبارک فی الرسل حتی ان اللقحۃ من الابل لتکفی الفئام من الناس واللقحۃ من البقر تکفی القبیلۃ واللقحۃ من الغنم تکفی الفخذ (الحدیث، مسلم ج ۲ ص ۴۰۲۔ ترمذی ج ۲ ص ۴۷۔ ابن ماجہ ص ۳۰۷- مستدرک ج ۴ ص ۴۹۳۔ قال الحاکم والذہبی صحیح علیٰ شرطہما) 
’’پھر اللہ تعالی زمین سے فرمائے گا اپنے پھل اگاؤ اور اپنی برکات لوٹاؤ، سو اس وقت ایک انار کو ایک جماعت کھائے گی اور اس کے چھلکے کے نیچے ایک جماعت بیٹھے گی اور دودھ میں برکت کرے گا حتیٰ کہ ایک اونٹنی کا دودھ لوگوں کی متعدد جماعتوں کو اور ایک گائے کا دودھ ایک قبیلہ کو اور ایک بکری کا دودھ ایک خاندان کو کافی ہوگا۔‘‘

اس صحیح اور صریح حدیث سے عدل کی برکت سے پھلوں اور دودھ وغیرہ تمام اشیاء میں برکت کا ثبوت ہے اور حضرت ابوہریرہؓ سے ایک اور مرفوع حدیث میں یوں آتا ہے:

فیدق الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الجزیۃ ویدعو الناس الی الاسلام فیہلک اللہ فی زمانہ المسیح الدجال ویقع الامنۃ علی اہل الارض حتی ترعی الاسود مع الابل والنمور مع البقر والذئاب مع الغنم ویلعب الصیبان بالحیات لا تضرہم فیمکث اربعین سنۃ ثم یتوفی ویصلی علیہ المسلمون (المستدرک ج ۲ ص ۵۹۵ - قال الحاکم والذہبی صحیح)
’’حضرت عیسٰیؑ صلیب توڑیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے اور جزیہ لینا بند کر دیں گے اور لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کے دور میں مسیح دجال کو ہلاک کرے گا اور زمین میں امن ہوگا یہاں تک کہ شیر اونٹوں کے ساتھ اور چیتے بیلوں اور گایوں کے ساتھ اور بھیڑیے بھیڑ بکریوں کے ساتھ اکھٹے چریں گے اور بچے سانپوں کے ساتھ کھیلیں گے، وہ ان کو کوئی ضرر نہ دیں گے اور حضرت عیسٰیؑ نازل ہونے کے بعد چالیس (۴۰) سال رہیں گے، پھر ان کی وفات ہوگی اور اہل اسلام ان کا جنازہ پڑھیں گے۔‘‘

عدل و انصاف کا اثر موذی حیوانات پر بھی ہوتا ہے

شیر چیتا اور بھیڑیا کیسے موذی درندے ہیں۔ عام آدمی تو ان کے نام سن کر ہی بد حواس ہو جاتا ہے اور بیچارے کے اوسان خطا ہو جاتے ہیں مگر جب زمین پر عدل و انصاف ہو تو نہ تو درندے کسی کو تکلیف دیتے ہیں اور نہ مال مویشی ان سے کتراتے ہیں۔ حضرت عیسٰیؑ کے نزول کے بعد عدل کے دور میں بچوں کا سانپوں سےکھیلنا اور بچوں کا ان سے نہ ڈرنا اور ان کا بچوں کو نہ کاٹنا صحیح احادیث کے حوالہ سے پڑھ چکے ہیں۔ حضرت عیسٰیؑ تو پیغمبر ہیں۔ رسول اور نبی کا درجہ تو بہت ہی بلند ہوتا ہے اور ان کی برکات بھی بے حد و بے حساب ہوتی ہیں۔ حضرت عمر بن عبد العزیزؒ جو صحابی بھی نہ تھے بلکہ تابعی تھے مگر خلیفہ راشد تھے، ان کے مبارک دور کے بعض تاریخی واقعات ملاحظہ فرمائیں:

(۱) الامام الفقیہ ابو محمد عبد اللہؒ بن مسلمؒ بن قتیبہ الدینوریؒ (المتوفی ۲۷۶ھ) اپنی کتاب الامامہ والسیاسہ میں نقل کرتے ہیں (ضروری نوٹ: بعض نام نہاد محققین نے الامامہ والسیاسہ کو امام ابن قتیبہ الدینوریؒ کی تالیف ماننے سے رکیک وجہ کی بنا پر انکار کیا ہے جیسے ثروت عکاشہ مصری وغیرہ، مگر ہمیں ان کی رائے سے اتفاق نہیں ہے):

وفد قوم من اہل المدینۃ الی الشام فنزلوا برجل فی اوائل الشام موسع علیہ تروح علیہ ابل کثیرۃ وابقار واغنام فنظروا الی شی لا یعلمونہ غیر ما یعرفون من غضارۃ العیش اذ اقبل بعض رعاتہ فقال ان السبع عدا الیوم علی غمنی فذہب منہا بشاۃ فقال الرجل انا للہ وانا الیہ راجعون ثم جعل یتاسف اسفاً‌ شدیداً‌ فقلنا بعضنا لبعض ما عند ہذا خیر یتاسف ویتوجع من شاۃ اکلہا السبع فکلمہ بعض القوم وقال لہ ان اللہ وسع علیک فما ہذا التوجع والتاسف قال انہ لیس مما ترون ولکن اخشی ان یکون عمر بن عبد العزیزؒ قد توفی الیلۃ واللہ ما تعدی السبع علی الشاۃ الا لموتہ فاثبتوا ذلک الیوم فاذا عمرؒ قد توفی فی ذلک الیوم (الامامہ والسیاسہ ج ۲ ص ۱۲۳ طبع مصر) 
’’مدینہ طیبہ سے کچھ لوگ بطور وفد کے ملک شام کی طرف روانہ ہوئے۔ شام کے ابتدائی حصہ میں ایک امیر آدمی کے ہاں ٹھہرے جس کے پاس کثیر تعداد میں اونٹ بیل اور گائیں اور بھیڑ بکریاں دن کو چر کر رات کو گھر آتیں۔ ان مہمانوں نے اس میزبان میں کوئی کمی نہ دیکھی، یہی دیکھا کہ اس کو آسودہ زندگی حاصل ہے۔ اسی حالت میں تھے کہ اس کے چرواہوں میں سے ایک آیا اور اس نے کہا کہ آج ایک درندے نے میری بکریوں پر حملہ کیا ہے اور ایک بکری لے گیا ہے۔ اس کے مالک نے انا للہ وانا اليہ راجعون پڑھا پھر بہت ہی سخت افسوس کرنے لگا۔ ہم میں سے بعض نے بعض سے کہا کہ اس شخص کے پاس کوئی خیر اور حوصلہ نہیں ہے۔ ایک بکری کے لیے ایسا افسوس اور غم کر رہا ہے جس کو درندہ کھا گیا ہے۔ بعض ساتھیوں نے اس سے گفتگو کی کہ اللہ تعالٰی نے آپ کو تو اتنی وسعت اور فراخی عطا فرمائی ہے، ایک بکری کے لیے اتنا غم اور افسوس کیوں؟ اس نے کہا کہ تم جو میری پریشانی دیکھ رہے ہو یہ بکری کی وجہ سے نہیں بلکہ مجھے خوف ہے کہ اس رات کہیں حضرت عمر بن عبد العزيزؒ وفات نہ پا گئے ہوں۔ بخدا درندے نے حملہ نہیں کیا مگر ان کی موت کے بعد ۔ انہوں نے تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ واقعی اسی دن حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کی وفات ہوئی۔‘‘

اس سے عیاں ہوا کہ عدل وانصاف کا اثر صرف انسانوں اور مکلف مخلوق تک ہی محدود نہیں بلکہ موذی قسم کے درندوں پر بھی اس کا اثر ہوتا ہے کہ عادل کے مرنے کے بعد ہی ان کو حوصلہ ہوا۔ 

(۲) حافظ ابن کثیرؒ سند کے ساتھ موسٰیؒ بن ایمن الراعیؒ سے نقل کرتے ہیں:

وکان یرعی الغنم لمحمد بن عیینۃ (وکان یرعی بکرمان) قال کانت الاسود والغنم والوحش ترعی فی خلافۃ عمر بن عبدالعزیزؒ فی موضع واحد فعرض ذات یوم لشاۃ منہا ذئب فقلت انا للہ وانا الیہ راجعون ما اری الرجل الصالح الا قد ہلک (البدایہ والنہایہ ج ۹ ص ۲۰۳) 
’’انہوں نے فرمایا کہ میں (علاقہ کرمان میں) محمدؒ بن عیینہ کی بکریاں چراتا تھا اور فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کی خلافت میں شیر، وحشی جانور اور بھیٹر بکریاں ایک ہی جگہ پر چرتی تھیں۔ ایک دن ایک بھیڑیا ایک بکری پر حملہ آور ہوا تو میں نے انا للہ وانا اليہ راجعون پڑھا اور کہا کہ میں یہی سمجھتا ہوں کہ مرد صالح فوت ہو گیا ہے۔‘‘

یعنی جس وقت تک خلیفہ راشد و عادل زندہ تھا، بھیڑیوں کو بھی بکریوں پر حملہ کرنے کی جرات نہ ہوتی تھی۔ علامہ ابن سعدؒ اپنی سند کے ساتھ موسٰیؒ بن اعین الراعیؒ کے حوالہ سے لکھتے ہیں: 

کان لمحمد بن ابی عیینۃ قال کنا نرعی الشاء بکرمان فی خلافۃ عمر بن عبد العزیزؒ فکانت الشاء والذئاب والوحش ترعی فی موضع واحد فبینا نحن ذات لیلۃ اذ عرض الذئب لشاۃ فقلنا ما نری الرجل الصالح الا قد ہلک (طبقات ابن سعدؒ ج ۵ ص ۳۸۷ طبع بیروت)
’’جو محمدؒ بن عیینہ کے چرواہے تھے، وہ کہتے ہیں کہ ہم کرمان میں حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کے دور خلافت میں بھیڑ بکریاں چراتے تھے۔ اس زمانہ میں بھیڑ بکریاں بھیڑیے اور وحشی جانور ایک جگہ چرتے تھے، اس حالت میں ہم تھے کہ ایک رات بھیڑیا بکری پر حملہ آور ہوا۔ ہم نے کہا کہ ہم یہی خیال رکھتے ہیں کہ نیک آدمی وفات پا گیا ہے۔’’

 آگے لکھا ہے کہ تحقیق کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ واقعی حضرت عمر بن عبد العزیزؒ اس رات وفات پاگئے تھے۔ یہ واقعہ حافظ ابن کثیرؒ نے بھی تھوڑے سے تغیر الفاظ کے ساتھ البدایہ والنہایہ ج ۹ ص ۲۰۳ میں نقل کیا ہے۔

الحافظ ابو نعیم احمدؒ بن عبد اللہ الاصبہانیؒ (المتوفی ۴۳۰ھ) اپنی سند کے ساتھ جسر القصابؒ (ميمون الكوفی ابوحمزۃ القصاب) کے حوالہ سے لکھتے ہیں: 

قال کنت احلب الغنم فی خلافۃ عمرؒ بن عبدالعزیزؒ فمررت براع وفی غنمہ نحو من ثلاثین ذئبا فحسبتہا کلابا ولم اکن رایت الذئاب قبل ذلک فقلت یا راعی ما ترجو بہذہ الکلاب کلہا؟ فقال یا بنی انہا لیست کلابا انما ہی ذئاب فقلت سبحان اللہ ذئب فی غنم لا تضرہا؟ فقال یا بنی اذا صلح الراس فلیس علی الجسد باس وکان ذلک فی خلافۃ عمر بن عبدالعزیزؒ (حلیہ الاولیاء ج ۵ ص ۲۵۵ طبع بیروت)
’’وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمرؒ بن عبد العزیزؒ کے دورِ خلافت میں بکریوں کا دودھ دوہیا کرتا تھا۔ میں نے ایک چرواہے کی بھیڑ بکریوں میں تیس (۳۰) بھیڑیے دیکھے مگر میں ان کو کتے سمجھا اور میں نے اس سے قبل بھیڑے نہیں دیکھے تھے۔ میں نے اس چرواہے سے کہا کہ اتنے کتوں سے تم کیا امید رکھتے ہو؟ اس نے کہا اے پیارے بیٹے! یہ کہتے نہیں یہ تو بھیڑیے ہیں۔ میں نے کہا سبحان اللہ بکریوں میں بھیڑے ان کو ضرر نہیں دیتے؟ اس نے کہا اے پیارے بیٹے! جب سر (یعنی بادشاہ)  درست ہو تو باقی جسم (یعنی رعیت) پر کوئی حرج نہیں۔ اور یہ واقعہ حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کے دورِ خلافت کا ہے۔‘‘

جب بادشاہ اور حکمران عادل ہوں تو پھر شیر، چیتے، ریچھ، وحشی جانور اور بھیڑیے بھی بھیڑ بکریوں کو کچھ نہیں کہتے۔ حضرت عمرؒ بن عبدالعزیزؒ کا عدل و انصاف اور دینی امور میں احتیاط تاریخِ اسلام میں سنہرے حروف سے مرقوم ہے۔ حضرت عمرؒ بن عبد العزیز کی خلافت دو سال اور پانچ ماہ تھی (طبقات ابن سعد ج ۵ ص ۴۰۷) اور پانچ ماہ سے بھی دس دن کم تھے (ايضاً‌ ج ۵ ص ۳۴۶) اور اس قلیل مدت میں انہوں نے خدا خوفی، موت، فکر آخرت اور احتیاط کو ہمیشہ پیش نظر رکھا۔ چند واقعات ملاحظہ ہوں:

(۱) جب رات کو وہ عوام اور پبلک کا کام کرتے تو بیت المال کا چراغ استعمال کرتے لیکن جب اپنا ذاتی اور گھریلو معاملہ اور گفتگو ہوتی تو اپنا ذاتی چراغ جلاتے۔ (طبقات ابن سعدؒ ج ۵ ص ۳۹۹)

(۲) ولید نے ان کو ایک نگینہ دیا تھا جو انہوں نے اپنی انگوٹھی میں لگا لیا تھا۔ جب خلافت کا بوجھ سر پر پڑا تو وہ نگینہ بھی واپس کر دیا اور فرمایا کہ ولید نے یہ مجھے ناحق دیا تھا۔ (البدایہ والنہايہ ج ۹ ص ۲۰۸)

(۳) ایک مرتبہ اپنے غلام کو تھوڑا گوشت دیا۔ وہ جلدی میں بھون لایا۔ فرمایا کہ اتنی جلدی میں بھون لائے؟ اس نے کہا کہ نادار مسلمانوں کے لیے جہاں مطبخ میں کھانا پکتا ہے میں اس میں بھون لایا ہوں۔ فرمایا کہ اس گوشت کو تو کھا، تو مستحق ہے۔ اس مطبخ میں میرا کوئی حق نہیں۔ (ایضاً‌ ص ۲۰۲) 

(۴) ایک دفعہ وضو کا پانی اس مطبخ کی آگ سے گرم کر کے دیا گیا تو حضرت عمرؒ بن عبد العزیزؒ نے ایک درہم کا ایندھن اس کے عوض میں وہاں بھیجا۔ (ایضاً‌) 

(۵) ریاحؒ بن عبیدہؒ کہتے ہیں کہ بیت المال کے خزانہ سے ایک دفعہ کستوری نکالی گئی اور ان کے سامنے رکھی گئی تو انہوں نے فوراً‌ اپنی ناک بند کر لی اس خوف سے کہ خوشبو نہ محسوس ہو۔ مجلس میں حاضر ایک شخص نے کہا امیر المومنین! اگر کستوری کی خوشبو سونگھ لیتے تو کیا نقصان ہوتا؟ تو فرمایا کہ کستوری سونگھنے کی ہی تو چیز ہے (میں کیوں استفادہ کروں)۔ (طبقات ابن سعد ج ۵ ص ۳۶۸)

حضرت عمرؒ بن عبد العزیزؒ نے اپنے حکام کو یہ لکھا:

ان اقامۃ الحدود عندی کاقامۃ الصلوۃ والزکوۃ (طبقات ابن سعد ج ۵ ص ۳۷۸) 
’’کہ بے شک حدود کا قائم کرنا میرے نزدیک ایسا ہی (ضروری) ہے جیسے نماز و زکوٰۃ کا ادا کرنا۔‘‘

اور یہ شرعی حدود کے اجرا کی برکت ہی تھی کہ بکریاں، بھیڑیں اور بھیڑیے اکٹھے رہتے تھے اور ملک میں زکوٰۃ لینے والا کوئی غریب نہیں ملتا تھا اور سب کی جانیں، اموال اور آبرو میں محفوظ تھیں۔ اور اگر اِس دور کے حکمرانوں کی طرح گھپلے بازی، رشوت ستانی، اقربا نوازی اور احکام شرع سے تنفر ہوتا تو پھر یہ برکات کہاں ہوتیں؟ اور آج ہم خالق اور خلق کے ساتھ وعدہ خلافی اور حدود و تعزیرات کے عدم اجرا کی وجہ سے ذیل کی مصیبتوں میں مبتلا ہیں جن کے ازالہ کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ 

حدود و تعزیرات اسلامی کو نافذ نہ کرنے کی نحوست 

اس سے قبل آپ نے احکامِ خداوندی اور حدودِ شرعیہ کے اجرا و نفاذ کی برکات ملاحظہ کیں، اب عدمِ اجراء کی نحوست بھی دیکھ لیں۔ حضرت عبد اللہؒ بن عمرؒ سے ایک طویل حدیث مروی ہے جس میں یہ الفاظ بھی ہیں:

فقال النبی صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم یا معشر المہاجرین خمس ان ابتلتیم بہن ونزل فیکم واعوذ باللہ ان تدرکوہن: 
(۱) لم تظہر الفاحشۃ فی قوم قط حتی یعملوہا الا ظہر فیہم الطاعون والاوجاع التی لم تکن مضت فی اسلافہم 
(۲) ولم ینقصوا المکیال والمیزان الا اخذوا بالسنین وشدۃ المونۃ وجور السلطان۔ 
(۳) ولم یمنعوا الزکوۃ الا منعوا المطر من السماء ولو لا البہائم لم یمطروا۔ 
(۴) ولم ینقضوا عہد اللہ وعہد رسولہ الا سلط اللہ علیہم عدوہم من غیرہم واخذوا بعض ما کان فی ایدیہم۔
(۵) وما لم یحکم ائمتھم بکتاب اللہ الا القی اللہ باسہم بینہم (الحدیث) (مستدرک ج ۴ ص ۵۴۰ قال الحاکم والذہبیؒ صحیح)
’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (جبکہ مجلس میں مہاجرین کی اکثریت تھی اور خلافت بھی انہیں کو ملنی تھی) اے مہاجرین کے گروہ! پانچ چیزیں ہیں جبکہ تم ان میں مبتلا ہو گے اور یہ تم پر وارد ہوں گی اور میں اللہ تعالی سے پناہ لیتا ہوں کہ یہ چیزیں تم میں ظاہر ہوں:
(۱) جب بھی کسی قوم میں بے حیائی ظاہر ہوگی اور وہ اس میں آلودہ ہوگی تو اس قوم میں طاعون کی بیماری اور ایسے درد ظاہر ہوں گے جو اس سے پہلے اس کے بڑوں میں نہ تھے اور 
(۲) جب وہ ماپ اور تول میں کمی کرے گی تو وہ مہنگائی، سخت تکلیف اور حکمرانوں کی طرف سے ظلم و جبر میں مبتلا ہوگی اور 
(۳) جب بھی (پوری) زکوۃ ادا نہیں کرے گی وہ خشک سالی کا شکار ہو گی، اگر حیوانات نہ ہوں تو اس قوم پر بارش نہ برسے اور 
(۴) جب بھی کوئی قوم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ کے ساتھ کیے ہوئے وعدے کو نظر انداز کرے گی تو اللہ تعالیٰ اس پر اس کے دشمنوں کو مسلط کرے گا اور وہ دشمن اس کے ملک کے بعض حصہ پر قبضہ کر لے گا اور 
(۵) جب حکمران طبقہ اللہ تعالیٰ کی کتاب (اور اس کے قانون) کو ترک کرے گا تو اللہ تعالی ان میں آپس کے اختلافات پیدا کر دے گا۔‘‘

اس صحیح حدیث کا ایک ایک حرف دیگر مسلمانوں کے ملکوں پر عموماً‌ اور پاکستان پر خصوصاً‌ فٹ آتا ہے جس کے بنانے کا مقصد ہی اسلام کا نفاذ تھا مگر صد افسوس ہے پاکستان بنانے والوں میں بغیر چند بھولے بھالے سادہ بزرگوں کے کوئی بھی اسلام کے نفاذ کے لیے مخلص نہ تھا، صرف بعض مصلحتوں کے پیش نظر ملک کا اقتدار ہی حاصل کرنا تھا۔ اور نصف صدی گزرنے کے باوجود بھی اسلام کے نفاذ کے لیے کوئی عملی قدم نہیں اٹھا اور عوام کو طفل تسلیوں میں الجھا دیا گیا۔ بعض سطحی ذہن رکھنے والوں کو جمعہ کی چھٹی کا مژدہ سنا کر خوش کیا گیا جبکہ بین الاقوامی یہودی کمپنی نے (یوم السبت) اپنے ہفتہ کے دن کی چھٹی بھی حکمران طبقہ سے منوا لی۔ اور نادان حکمرانوں کے ذریعہ رافضیوں کو زکوٰۃ اور عشر سے مستثنیٰ کر کے اہل اسلام کے دینی مدارس کو زک پہنچانے کی ناپاک سعی کی گئی۔ مگر اس سے کیا حاصل ہوا یا ہو گا یا ہو سکتا ہے؟ واللہ متم نورہ ولو کرہ الکافرون۔

نورِ خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن 
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا 

بحمد اللہ تعالیٰ باوجود شدید پابندیوں کے پہلے سے دینی مدارس بھی زیادہ ہیں، معلمین کی تعداد بھی زیادہ ہے، اور متعلمین بھی پہلے سے کہیں زیادہ ہیں۔ ان ناجائز پابندیوں کا اہلِ اسلام اور اہلِ حق پر کوئی اثر نہیں پڑا اور نہ ان شاء اللہ العزیز پڑے گا کیونکہ صادق و مصدوق صلی اللہ علیہ وسلم پاک زبان سے یہ الفاظ نکلے ہیں: 

ولن تزال ہذہ الامۃ قائمۃ علی امر اللہ لا یضرہم من خالفہم حتی یاتی امر اللہ (بخاری ج ا ص ۱۶) ’’
’’اور ہمیشہ یہ امت اللہ تعالیٰ کے دین پر قائم رہے گی قیامت تک اس کو کوئی مخالف ضرر اور نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔‘‘

اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے آج تک اور قیامت تک یہ ارشاد برحق و برقرار رہے گا دنیا کی کوئی طاقت اس کو ٹال نہیں سکتی۔

عدل و انصاف کی بدولت زمین و آسمان قائم ہیں

محرم ۷ھ میں جب خیبر فتح ہوا اور اللہ تعالیٰ نے آنحضرت کو وہاں کا ظاہری اقتدار عطا فرمایا تو آپؐ نے حضرت عبد اللہؓ بن رواحہ کو (جو غزوہ موتہ ۸ھ میں شہید ہو گئے تھے) محصل (زمینوں اور باغات کی پیداوار کا ٹیکس اور خراج وصول کرنے کے لیے) بنا کر بھیجا تاکہ وہ اندازہ اور تخمینہ لگا کر یہودیوں سے خراج وصول کر کے مدینہ طیبہ لائیں۔ تو خیبر کے یہودیوں نے

فجمعوا لہ حلیا من حلی نسائہم فقالوا ہذا لک وخفف عنا وتجاوز فی القسم فقال عبد اللہؓ بن رواحۃ یا معشر الیہود واللہ انکم لمن أبغض خلق اللہ الی وما ذلک بحاملی علی ان احیف علیکم فاما ما عرضتم من الرشوۃ فانما ہی سحت وانا لا ناکلہا فقالوا بہذا قامت السموات والارض (موطا امام مالک ۲۹۳ و معناہ موارد الضمان ص ۴۱۲)
’’ان کے لیے اپنی عورتوں کے زیورات میں کچھ زیور جمع کیے اور حضرت عبد اللہؓ بن رواحہ سے کہا کہ یہ آپ کے لیے (ہدیہ) ہے، ہمارے خراج اور ٹیکس میں تخفیف اور کمی کریں۔ انہوں نے فرمایا، اے یہود کے گروہ! بخدا تم اللہ تعالیٰ کی ساری مخلوق میں میرے نزدیک مبغوض تر ہو مگر یہ بغض مجھے اس پر آمادہ نہیں کرتا کہ میں تم پر زیادتی کروں۔ اور جو کچھ تم نے پیش کیا ہے، یہ رشوت اور حرام ہے اور ہم حرام نہیں کھاتے۔ یہود نے کہا کہ اسی عدل و انصاف کی بدولت آسمانوں اور زمینوں کا نظام قائم ہے۔‘‘

امام ابو جعفر احمدؒ بن محمدؒ بن سلامہ الطحاویؒ (المتوفی ۳۲۱ھ) اپنی سند کے ساتھ یہ روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہؒ بن رواحہ نے فرمایا:

یا معشر الیہود انتم ابغض الخلق الی قتلتم الانبیاء و کذبتم علی اللہ ولیس یحملنی بغضی ایاکم ان احیف علیکم الخ (طحاوی ج ا ص ۲۶۶) 
’’اے گروہ یہود! اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے تم مجھے زیادہ مبغوض ہو۔ تم نے حضرات انبیاء کرامؑ کو قتل کیا اور اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولا ( مثلاً‌ یہ کہ حضرت عزیزؑ اللہ تعالی کے بیٹے ہیں) لیکن تمہارے ساتھ میرا یہ بغض مجھے اس پر آمادہ نہیں کرتا کہ میں تم پر ظلم کروں۔‘‘

قرآن کریم کے ارشاد کے مطابق مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن یہودی ہیں لتجدن اشد الناس عداوۃ للذین آمنوا الیہود (الایہ) مگر مسلمانوں کے بد ترین دشمن بھی یہ کہنے اور ماننے پر مجبور ہیں کہ اسلامی عدل و انصاف سے ہی زمین و آسمان کا نظام قائم ہے۔ اگر یہ عدل نہ ہو تو اللہ تعالیٰ ناراض ہو کر نظامِ عالم کو تہ و بالا کر دے اور ہر جاندار کو موت کے گھاٹ اتار دے اور جو موت سے بھاگتے پھرتے ہیں ان کو بھی موت کا مزہ چکھا دے۔ 

نہ سمجھے تھے کہ اس جان جہاں سے یوں جدا ہوں گے 
یہ سنتے گو چلے آتے تھے اک دن جان جانی ہے


تمام مکاتب فکر کے ۳۱ سرکردہ علماء کرام کے طے کردہ ۲۲ متفقہ دستوری نکات

اسلامی مملکت کے بنیادی اصول

ادارہ

(یعنی ۲۲ متفقہ نکات) جنہیں پاکستان کے تمام اسلامی مکاتب فکر کے جید اور معتمد علماء کرام نے اپنے اجتماع منعقدہ کراچی بتاریخ ۱۲، ۱۳، ۱۴، ۱۵ ربیع الثانی ۱۳۷۰ھ مطابق ۲۱، ۲۲، ۲۳، ۲۴ جنوری زیر صدارت مفکر اسلام مولانا سید سلیمان ندویؒ اتفاقِ رائے سے طے کیا۔)



اسلامی مملکت کے دستور میں حسب ذیل اصول کی تصریح لازمی ہے:

  1. اصل حاکم تشریعی وتکوینی حیثیت سے اللہ رب العالمین ہے۔
  2. ملک کا قانون کتاب وسنت پر مبنی ہوگا اور کوئی ایسا قانون نہ بنایا جا سکے گا، نہ کوئی ایسا انتظامی حکم دیا جا سکے گا جو کتاب وسنت کے خلاف ہو۔
    (تشریحی نوٹ): اگر ملک میں پہلے سے کچھ ایسے قوانین جاری ہوں جو کتاب وسنت کے خلاف ہوں تو اس کی تصریح بھی ضروری ہے کہ وہ بتدریج ایک معینہ مدت کے اندر منسوخ یا شریعت کے مطابق تبدیل کر دیے جائیں گے۔
  3. مملکت کسی جغرافیائی، نسلی، لسانی یا کسی اور تصور پر نہیں بلکہ ان اصول ومقاصد پر مبنی ہوگی جن کی اساس اسلام کا پیش کیا ہوا ضابطہ حیات ہے۔
  4. اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ قرآن وسنت کے بتائے ہوئے معروفات کو قائم کرے، منکرات کو مٹائے اور شعائر اسلامی کے احیا واعلا اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری اسلامی تعلیم کا انتظام کرے۔
  5. اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانان عالم کے رشتہ اتحاد واخوت کو قوی سے قوی تر کرنے اور ریاست کے مسلم باشندوں کے درمیان عصبیت جاہلیہ کی بنیادوں پر نسلی ولسانی، علاقائی یا دیگر مادی امتیازات کے ابھرنے کی راہیں مسدود کر کے ملت اسلامیہ کی وحدت کے تحفظ واستحکام کا انتظام کرے۔
  6. مملکت بلا امتیاز مذہب ونسل وغیرہ تمام ایسے لوگوں کی لابدی انسانی ضروریات یعنی غذا، لباس، مسکن، معالجہ اور تعلیم کی کفیل ہوگی جو اکتساب رزق کے قابل نہ ہوں یا نہ رہے ہوں یا عارضی طو رپر بے روزگاری، بیماری یا دوسرے وجوہ سے فی الحال سعی اکتساب پر قادر نہ ہوں۔
  7. باشندگان ملک کو وہ تمام حقوق حاصل ہوں گے جو شریعت اسلامیہ نے ان کو عطا کیے ہیں، یعنی حدود قانون کے اندر تحفظ جان ومال وآبرو، آزادیٔ مذہب ومسلک، آزادیٔ عبادت، آزادیٔ ذات، آزادیٔ اظہار رائے، آزادیٔ نقل وحرکت، آزادیٔ اجتماع، آزادیٔ اکتساب رزق، ترقی کے مواقع میں یکسانی اور رفاہی ادارات سے استفادہ کا حق۔
  8. مذکورہ بالا حقوق میں سے کسی شہری کا کوئی حق اسلامی قانون کی سند جواز کے بغیر کسی وقت سلب نہ کیا جائے گا اور کسی جرم کے الزام میں کسی کو بغیر فراہمی موقع صفائی وفیصلہ عدالت کوئی سزا نہ دی جائے گی۔
  9. مسلمہ اسلامی فرقوں کو حدود قانون کے اندرپوری مذہبی آزادی حاصل ہوگی۔ انھیں اپنے پیرووں کو اپنے مذہب کی تعلیم دینے کا حق حاصل ہوگا۔ وہ اپنے خیالات کی آزادی کے ساتھ اشاعت کر سکیں گے۔ ان کے شخصی معاملات کے فیصلے ان کے اپنے فقہی مذہب کے مطابق ہوں گے اور ایسا انتظام کرنا مناسب ہوگا کہ انھی کے قاضی یہ فیصلہ کریں۔
  10. غیر مسلم باشندگان مملکت کو حدود قانون کے اندر مذہب وعبادت، تہذیب وثقافت اور مذہبی تعلیم کی پوری آزادی حاصل ہوگی اور انھیں اپنے شخصی معاملات کا فیصلہ اپنے مذہبی قانون یا رسم ورواج کے مطابق کرانے کاحق حاصل ہوگا۔
  11. غیر مسلم باشندگان مملکت سے حدود شرعیہ کے اندر جو معاہدات کیے گئے ہوں، ان کی پابندی لازمی ہوگی اور جن حقوق شہری کا ذکر دفعہ نمبر ۷ میں کیا گیا ہے، ان میں غیر مسلم باشندگان ملک اور مسلم باشندگان ملک سب برابر کے شریک ہوں گے۔
  12. رئیس مملکت کامسلمان مرد ہونا ضروری ہے جس کے تدین، صلاحیت اور اصابت رائے پر جمہور اور ان کے منتخب نمائندوں کو اعتماد ہو۔
  13. رئیس مملکت ہی نظم مملکت کا اصل ذمہ دار ہوگا، البتہ وہ اپنے اختیارات کا کوئی جزو کسی فرد یا جماعت کو تفویض کر سکتا ہے۔
  14. رئیس مملکت کی حکومت مستبدانہ نہیں بلکہ شورائی ہوگی، یعنی وہ ارکان حکومت اور منتخب نمائندگان جمہور سے مشورہ لے کر اپنے فرائض انجام دے گا۔
  15. رئیس مملکت کو یہ حق حاصل نہ ہوگا کہ وہ دستور کوکلاً یا جزواً معطل کر کے شوریٰ کے بغیر حکومت کرنے لگے۔
  16. جو جماعت رئیس مملکت کے انتخاب کی مجاز ہوگی، وہی کثرت آرا سے اسے معزول کرنے کی بھی مجاز ہوگی۔
  17. رئیس مملکت شہری حقوق میں عامۃ المسلمین کے برابر ہوگا اور قانونی مواخذہ سے بالاتر نہ ہوگا۔
  18. ارکان وعمال حکومت اور عام شہریوں کے لیے ایک ہی قانون وضابطہ ہوگا اور دونوں پر عام عدالتیں ہی اس کو نافذ کریں گی۔
  19. محکمہ عدلیہ، محکمہ انتظامیہ سے علیحدہ اور آزاد ہوگا تاکہ عدلیہ اپنے فرائض کی انجام دہی میں ہیئت انتظامیہ سے اثر پذیر نہ ہو۔
  20. ایسے افکار ونظریات کی تبلیغ واشاعت ممنوع ہوگی جو مملکت اسلامی کے اساسی اصول ومبادی کے انہدام کا باعث ہوں۔
  21. ملک کے مختلف ولایات واقطاع مملکت واحدہ کے اجزاء انتظامی متصور ہوں گے۔ ان کی حیثیت نسلی، لسانی یا قبائلی واحدہ جات کی نہیں، محض انتظامی علاقوں کی ہوگی جنھیں انتظامی سہولتوں کے پیش نظر مرکز کی سیادت کے تابع انتظامی اختیارات سپرد کرنا جائز ہوگا، مگر انھیں مرکز سے علیحدگی کا حق حاصل نہ ہوگا۔
  22. دستور کی کوئی ایسی تعبیر معتبر نہ ہوگی جو کتاب وسنت کے خلاف ہو۔

خلافتِ اسلامیہ کے احیا کی اہمیت اور اس کے تقاضے

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(۱۵ جنوری ۱۹۹۴ء کو ورلڈ اسلامک فورم کی ماہانہ فکری نشست جامع مسجد صدیقیہ سیٹلائیٹ ٹاؤن گوجرانوالہ میں جمعیت اہل سنت کے زیراہتمام منعقد ہوئی جس میں مولانا زاہد الراشدی نے مندرجہ ذیل خطاب کیا۔ مولانا حافظ گلزار احمد آزاد نے سیکرٹری کے فرائض سرانجام دیے۔ ادارہ الشریعہ)



بعد الحمد والصلوٰۃ۔ آج کی نشست کے لیے گفتگو کا عنوان طے ہوا ہے ’’خلافتِ اسلامیہ کا احیا اور اس کا طریق کار‘‘۔ اس لیے خلافت کے مفہوم اور تعریف کے ذکر کے بعد تین امور پر گفتگو ہوگی:

  1. خلافت کا اعتقادی اور شرعی پہلو کہ ہمارے عقیدہ میں خلافت کی اہمیت اور اس کا شرعی حکم کیا ہے؟
  2. خلافت کا تاریخی پہلو کہ اس کا آغاز کب ہوا تھا اور خاتمہ کب اور کیسے ہوا؟
  3. اور یہ سوال کہ آج کے دور میں خلافتِ اسلامیہ کے احیا کے لیے کون سا طریق کار قابل عمل ہے۔

خلافت کا مفہوم

سب سے پہلے یہ دیکھیں گے کہ خلافت کا مفہوم کیا ہے اور جب یہ لفظ بولا جاتا ہے تو اس سے مراد کیا ہوتی ہے؟ خلافت کا لفظی معنی ہے نیابت، یعنی کسی کا نائب ہونا۔

قرآن کریم نے خلافت کا لفظ سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام کے حوالہ سے نسل انسانی کے لیے استعمال کیا ہے جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا کہ ’’میں زمین میں خلیفہ بنانے والا ہوں‘‘ (البقرہ)۔ یہاں خلیفہ سے مراد حضرت آدمؑ اور ان کی نسل ہے۔ یعنی اس کائنات ارضی کا نظام اللہ رب العزت نے نسل انسانی کے سپرد فرمایا ہے اور وہ اس نظام کو چلانے میں اللہ تعالیٰ کی نائب ہے۔ خلیفہ کا لفظ قرآن کریم میں حضرت داؤد علیہ السلام کے بارے میں بھی بولا گیا ہے جو بنی اسرائیل کے پیغمبر اور بادشاہ تھے۔ چنانچہ اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں ’’اے داؤد! ہم نے تجھے زمین میں خلیفہ بنایا ہے، پس لوگوں میں حق کے ساتھ فیصلے کیا کر اور خواہش کی پیروی نہ کرنا‘‘ (ص)۔ بہرحال خلافت کا معنی نیابت ہے اور اس کا معنی یہ ہے کہ نسل انسانی اس کائنات ارضی میں خودمختار اور آزاد نہیں بلکہ نائب ہے جو اپنے دائرہ کار اور اختیارات میں مقرر کردہ حدود کا پابند ہوتا ہے۔

قرآن کریم نے اس مفہوم کو ایک اور انداز سے بھی بیان کیا ہے۔ جب حضرت آدمؑ اور حضرت حوا کو جنت سے زمین پر اتارا گیا تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ ’’تم دونوں زمین پر اتر جاؤ، پس ہماری طرف سے تمہارے پاس ہدایات آئیں گی، جس نے ان کی پیروی کی وہ غم اور خوف سے نجات پائے گا اور جس نے انکار کر دیا وہ آگ کا ایندھن بنیں گے‘‘ (البقرہ)۔ یہ بھی خلافت ہی کی ایک تعبیر ہے کہ نسل انسانی دنیا میں زندگی بسر کرنے کے لیے مطلقاً آزاد و خودمختار نہیں بلکہ آسمانی ہدایات کی پابند ہے جو حضرات انبیاء کرامؑ کے ذریعے سے نازل ہوتی رہی ہیں اور جو وحی کی صورت میں حضرت آدمؑ سے شروع ہو کر حضرت محمدؐ پر مکمل ہو گئی ہیں۔

جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد ارشادات میں خلافت کا لفظ استعمال کیا ہے۔ اور بخاری شریف کی ایک روایت کے مطابق اس کا پورا سسٹم یوں بیان فرمایا ہے کہ ’’بنی اسرائیل میں سیاسی قیادت انبیاء کرام علیہم السلام کے ہاتھ میں تھی، جب ایک نبی دنیا سے چلا جاتا تو اس کی جگہ دوسرا نبی آجاتا۔ اور میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے البتہ میرے بعد خلفاء ہوں گے‘‘۔ اس ارشاد گرامی میں جناب رسول اکرمؐ نے خلافت کو سیاسی قیادت اور حکمرانی کے معنی میں بیان فرمایا ہے اور یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ میرے بعد یہ سیاسی قیادت اور حکمرانی خلفاء کے ہاتھ میں ہوگی۔

یہی وجہ ہے کہ حضرت امام ولی اللہ دہلویؒ نے اپنی معروف کتاب ازالۃ الخفاء میں خلافت کی جو تعریف کی ہے اس میں خلافت کو جناب نبی اکرمؐ کی نیابت سے تعبیر کیا ہے۔ چنانچہ وہ ارشاد فرماتے ہیں کہ ’’خلافت اس اقتدارِ عمومی کا نام ہے جو معاشرہ میں اقامتِ دین کا اہتمام کرے، امن و امان کا بندوبست کرے، لوگوں کو انصاف فراہم کرے، احکامِ اسلام کے نفاذ کی ذمہ داری قبول کرے اور فریضۂ جہاد کی ادائیگی کا اہتمام کرے‘‘۔ اسی کے ساتھ حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ فرماتے ہیں کہ نیابتاً علی النبی کہ یہ اقتدارِ عمومی جناب نبی اکرمؐ کی نیابت کے طور پر ہوگا۔ گویا ہمارے ہاں خلافت کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کی سیاست، قیادت اور حکمرانی جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نائب کے طور پر کی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ خلیفۂ اول حضرت ابوبکر صدیقؓ کو ’’خلیفۃ رسول اللہ‘‘ کہا جاتا تھا جبکہ امیر المؤمنین کی اصطلاح ان کے بعد حضرت عمرؓ کے دور میں اختیار کی گئی۔

تاریخی کشمکش

اس موقع پر مناسب ہوگا کہ اس تاریخی کشمکش پر ایک نظر ڈال لی جائے جو نسل انسانی کے آغاز سے ہی خلافت اور انسانی ذہن کی کاوشوں کے درمیان شروع ہو گئی تھی اور اب تک پورے شدومد کے ساتھ جاری ہے۔ نسل انسانی کے آغاز سے اب تک انسانی معاشرہ پر جن قوانین اور ضابطوں کی حکمرانی رہی ہے وہ بنیادی طور پر دو طرح کے ہیں:

  1. ایک طرف وہ نظام ہائے حیات ہیں جنہیں خود انسانی ذہن نے تشکیل دیا اور مختلف صورتوں میں انسانی معاشرہ پر ان کی حکمرانی رہی۔ ان میں خاندانی بادشاہت بھی ہے اور شخصی ڈکٹیٹرشپ بھی، جماعتی آمریت بھی ہے اور طبقاتی بالادستی بھی۔ اسی طرح بعض قوموں کا خود کو حکمرانی کے لیے مختص کر لینا بھی اس میں شامل ہے۔ یہ سب نظام انسانی ذہن کی پیداوار ہیں، کہیں شخصی ذہن کارفرما ہے، کہیں اجتماعی ذہن دخل انداز ہے اور کہیں گروہی اور طبقاتی ذہن نے بالادستی قائم کر رکھی ہے۔ اور ان تمام مراحل سے گزرتے ہوئے اب انسانی ذہن مغربی جمہوریت اور سولائزیشن کی صورت میں اپنے نقطۂ عروج سے ہمکنار ہو چکا ہے جو ان تمام مرحلہ وار نظاموں کی ترقی یافتہ اور آخری شکل ہے۔ اور خود مغربی مفکرین کے بقول اب اس کے بعد انسانی ذہن سے اس سے بہتر کسی اور نظام کی توقع نہیں کی جا سکتی، جسے وہ ’’اینڈ آف ہسٹری‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔
  2. دوسری طرف وحی الٰہی پر مبنی نظام ہے جس کا آغاز حضرت آدمؑ سے ہوا اور حضرت محمدؐ پر نازل ہونے والی وحی کی صورت میں وہ نظام مکمل ہوگیا اور اس کی عملی تعبیر خلافتِ راشدہ ہے۔

یہ دونوں نظام مکمل ہو چکے ہیں، اپنی انتہا کو پہنچ چکے ہیں اور اب ان دونوں کے درمیان آخری راؤنڈ ہونے والا ہے، فائنل مقابلہ ہونے والا ہے، ان میں سے جو جیتے گا وہی انسانی معاشرہ پر حکمرانی کرے گا۔ یہ تاریخ کا فیصلہ ہے، تاریخ کا عمل ہے جسے کوئی بھی نہیں روک سکتا۔ ہمارا ایمان ہے کہ اس مقابلہ میں جیت اسلام کی ہوگی، خلافت کے نظام کی ہوگی، وحی الٰہی کی ہوگی اور جناب نبی اکرمؐ کے ارشاد کے مطابق اس مقابلہ کے بعد اسلام کا غلبہ ہوگا اور ایک وقت ایسا بھی آئے گا جب روئے زمین پر لا الہ الا اللہ پڑھنے والوں کے سوا کوئی موجود نہیں ہوگا۔ یہ بہرحال ہوگا اور جناب نبی کریمؐ کا ارشاد پورا ہو کر رہے گا لیکن اس سے قبل طویل کشمکش اور تاریخی ٹکراؤ کا آخری اور فیصلہ کن مرحلہ آنے والا ہے جس سے گزر کر ہم خلافت کے دو رمیں داخل ہوں گے۔

خلافت کا شرعی حکم

خلافت کے مفہوم اور تاریخی کشمکش کے تذکرہ کے بعد اب ہم اس کے شرعی حکم کی طرف آتے ہیں جسے فقہاء کرام نے وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے، بالخصوص امام ولی اللہ دہلویؒ نے اس پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ فقہاء کرام نے خلافت کے قیام کو واجب قرار دیا ہے اور امام ابن حجر مکیؒ نے اپنی کتاب ’’الصواعق المحرقہ‘‘ میں اسے ’’اہم الواجبات‘‘ فرمایا ہے یعنی تمام واجبات سے زیادہ واجب۔ ان کا کہنا ہے کہ حضرات صحابہ کرامؓ کے نزدیک یہ واجب اس قدر اہمیت رکھتا ہے کہ انہوں نے اسے جناب رسول اللہؐ کی تجہیز و تکفین سے بھی مقدم سمجھا اور حضورؐ کے وصال کے بعد پہلے خلیفہ کا انتخاب کیا پھر آنحضرتؐ کی تجہیز و تکفین سے فارغ ہوئے۔

حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے ازالۃ الخفاء میں اسے قیامت تک کے مسلمانوں کے لیے فرض کفایہ قرار دیا ہے، یعنی اگر دنیا کے کسی بھی حصہ میں خلافت کا نظام موجود نہ ہو تو دنیا بھر کے مسلمان گنہ گار قرار پائیں گے۔ حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ شرعاً خلافت کے قیام کے واجب ہونے پر تین دلائل پیش کرتے ہیں:

  1. پہلی دلیل یہ کہ جناب نبی اکرمؐ کی وفات کے بعد صحابہ کرامؓ کا سب سے پہلا اجماع خلافت کے قیام پر ہوا تھا اور انہوں نے جناب رسالت مآب کی تجہیز و تکفین سے بھی پہلے اس فریضہ کی ادائیگی کا اہتمام کیا۔
  2. دوسری دلیل کے طور پر وہ جناب نبی اکرمؐ کے اس ارشاد گرامی کو پیش کرتے ہیں کہ ’’جو شخص اس حالت میں مر گیا کہ اس کی گردن میں بیعت نہیں تو وہ جاہلیت کی موت مرا ہے‘‘۔ حضرت امام ولی اللہ دہلویؒ یہاں بیعت سے مراد خلافت کی بیعت لیتے ہیں اور اسے ہر مسلمان کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں۔
  3. اور ان کی پیش کردہ تیسری دلیل یہ ہے کہ جو کام کسی فرض کی ادائیگی کے لیے ضروری ہو وہ خود بھی فرض ہو جاتا ہے۔ مثلاً وضو بذات خود فرض نہیں ہے لیکن چونکہ نماز اس کے بغیر نہیں ہوتی اس لیے نماز کے لیے وضو کرنا بھی فرض ہے۔ اسی طرح مسلم معاشرہ میں ارکان اسلام کا قیام، جہاد کا اہتمام، قضا کے نظام کا قیام، امن قائم کرنا اور علوم اسلامیہ کا احیا سب فرائض ہیں اور ان فرائض کی ادائیگی خلافت کے قیام کے بغیر ممکن نہیں۔ اس لیے خلافت کا قیام بھی ان مقاصد کے لیے اسی طرح فرض ہے جس طرح نماز کے لیے وضو فرض ہے۔

خلافت کی سیاسی اہمیت

خلافت کے شرعی حکم کے ساتھ ساتھ اس کی سیاسی اہمیت کو بھی سامنے رکھنا ضروری ہے اور اس سلسلہ میں ایک واقعہ پیش خدمت کرنا چاہتا ہوں جو میں نے اپنے بعض اساتذہ سے سنا ہے۔ وہ یہ کہ جن دنوں تحریک آزادی کے عظیم راہنما شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ مالٹا جزیرے میں نظر بند تھے، ان کے ساتھ شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی بھی گرفتار تھے ، جبکہ ایک انگریز فوجی افسر بھی کسی جرم میں وہاں سزا کاٹ رہا تھا۔ یہ دور وہ تھا جب ترکی کی خلافت عثمانیہ جس نے کم و بیش پانچ سو سال تک عالم اسلام کی خدمت کی ہے آخری دموں پر تھی اور برطانیہ، فرانس اور اٹلی سمیت پورا یورپ اس خلافت کے خاتمہ کے لیے سازشوں میں مصروف تھا۔ ایک روز ملاقات میں مولانا مدنی نے اس انگریز فوجی افسر سے پوچھا کہ آپ لوگ ایک کمزور اور برائے نام سی حکومت کے پیچھے کیوں پڑے ہوئے ہیں اور خلافتِ عثمانیہ سے آخر آپ کو خطرہ کیا ہے؟ اس نے جواب میں کہا کہ بات اتنی آسان نہیں ہے جتنی آپ کہہ رہے ہیں۔ یہ درست ہے کہ خلافتِ عثمانیہ اس وقت ایک کمزور سی حکومت ہے جس کا رعب و دبدبہ اور قوت و شوکت قصہ پارینہ ہو چکی ہے لیکن ایک قوت اس کے پاس اب بھی باقی ہے اور وہ خلافت کا لفظ ہے اور امیر المؤمنین کی اصطلاح ہے۔ کیونکہ خلیفہ کے لفظ میں آج بھی اتنی طاقت ہے کہ اگر خلیفہ کی طرف سے دنیا کے کسی خطہ میں کسی کافر قوم کے خلاف جہاد کا اعلان ہو جائے تو دنیا بھر کے مسلمان نوجوانوں میں ہلچل مچ جاتی ہے اور ایک جذباتی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ ہم اس قوت سے خائف ہیں اور اسے ختم کرنا چاہتے ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ انگریز خلافتِ عثمانیہ کے خلاف سازش کر کے اسی قوت کو توڑنا چاہتے تھے اور اسے انہوں نے توڑ دیا جس کے بعد مسلمانوں کی سیاسی مرکزیت کا کوئی عنوان باقی نہیں رہا اور ہم انتشار و افتراق کا شکار ہوگئے۔

خلافت کا تاریخی پہلو

خلافتِ اسلامیہ کا ایک تاریخی پہلو بھی ہے جسے سامنے رکھنا ضروری ہے۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تیس سال خلافتِ راشدہ کا دور رہا جو خلافت کا مثالی دور ہے، اس کے بعد خلافتِ عامہ کا دور شروع ہوگیا۔ حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کا کہنا ہے کہ خلافت راشدہ کا دور تیس سال تک ہی چل سکتا تھا کیونکہ اس کے بعد ان کڑی شرائط کے حامل لوگ موجود نہیں رہے تھے۔ اس کے بعد خلافتِ عامہ کا دور ہے جس پر خلافتِ راشدہ کا اطلاق نہیں کیا گیا، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ خلافتیں غیر اسلامی تھیں بلکہ یہ خلافتیں بھی اسلامی تھیں جنہیں علماء امت نے ہر دور میں تسلیم کیا ہے، ان میں:

  1. بنو امیہ کی خلافت ہے جو حضرت معاویہؓ سے شروع ہوئی اور ۹۰ سال تک قائم رہی۔
  2. اس کے بعد اموی خلیفہ مروان ثانی سے عباسیوں نے خلافت چھین لی۔ اور اموی خاندان ہسپانیہ منتقل ہوگیا جہاں اس نے کم و بیش آٹھ سو سال تک خلافت کا پرچم لہرائے رکھا۔ جبکہ عباسیوں کی خلافت کا آغاز سفاح سے ہوا اور تقریباً پانچ سو برس تک اس کا تسلسل قائم رہا۔ حتیٰ کہ معتصم باللہ کے دور میں ہلاکو خان نے بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور بنو عباس کی خلافت کا خاتمہ ہو گیا۔
  3. اس کے بعد بنو عثمان نے خلافت کا پرچم اٹھایا، یہ ترک تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کے لیے چن لیا تھا۔ سلطان عثمان اولؒ نے خلافت کے قیام کا اعلان کیا اور انہی کے نام سے یہ خلافتِ عثمانیہ کہلائی۔ خلافت کا یہ دور بھی کم و بیش پانچ سو سال کو محیط ہے اور اس سلسلہ کے آخری خلیفہ سلطان عبد الحمید مرحوم ہیں جنہیں ۱۹۲۴ء میں جدید ترکی کے بانی مصطفیٰ کمال اتاترک نے جلاوطن کر کے خلافت کے خاتمہ کا اعلان کر دیا۔

جس زمانے میں یورپ ترکی کی خلافتِ عثمانیہ کے خاتمہ کے لیے بے چین تھا اور اس کی سازشیں منظر عام پر آرہی تھیں، ہمارے ہاں برصغیر پاک و ہند میں خلافت کی حمایت کے لیے ایک پرجوش تحریک اٹھی جو تحریک خلافت کے نام سے تاریخ کا یادگار حصہ ہے، لیکن مصطفیٰ کمال کے ہاتھوں خلافت کے خاتمہ کے بعد یہ تحریک خلافت بھی ٹھنڈی پڑ گئی۔ خلافتِ عثمانیہ کے خلاف یورپ کی سازشیں اب ایک ایک کر کے بے نقاب ہو رہی ہیں اور اس پر لٹریچر آرہا ہے کہ یورپ نے کس طرح خلافت عثمانیہ کے سقوط کی راہ ہموار کی، ترکی جیسے عالم اسلام کے بازوئے شمشیر زن کو سیکولر ازم کی طرف مائل کیا اور مسلمانوں کی سیاسی مرکزیت کا خاتمہ کر دیا۔

الغرض خلافت راشدہ کے تیس سالہ دور کے بعد حضرت معاویہؓ سے شروع ہونے والی خلافتِ عامہ ۳ مارچ ۱۹۲۴ء تک قائم رہی۔ اس دوران اچھے حکمران بھی آئے اور برے حکمران دیکھنا بھی عالمِ اسلام کو نصیب ہوئے لیکن مجموعی طور پر خلافت کا تسلسل بہرحال قائم رہا۔ بالخصوص بعض ادوار کی تمام تر خرابیوں کے باوجود خلافتِ عامہ کے اس تیرہ سو سالہ طویل دور میں عدالتی نظام کا ریکارڈ شاندار رہا ہے اور عدالتوں میں قرآن و سنت کے احکام پر عملدرآمد کا سلسلہ بلاخوف لومۃ لائم چلتا رہا ہے۔ اسی طرح جہاد کا تسلسل بھی ہر دور میں قائم رہا ہے جو دنیا میں مسلمانوں کے رعب و دبدبہ کا ذریعہ بنا رہا۔ اس دوران خلافت راشدہ کا دارالحکومت مدینہ منورہ اور کچھ عرصہ کے لیے کوفہ تھا۔ بنو امیہ کا دارالخلافہ دمشق رہا، بنو عباس نے بغداد کو دارالخلافہ بنایا، اور بنو عثمان کا دارالخلافہ قسطنطنیہ کی فتح کے بعد اسی تاریخی شہر میں ۱۹۲۴ء تک قائم رہا۔

خلافت کے احیا کی ضرورت

حضرات محترم! اب ہم اس نکتہ کی طرف آتے ہیں کہ آج کے دور میں خلافتِ اسلامیہ کے احیا کی اہمیت کیا ہے اور اس کے لیے عملی طریق کار کیا ہو سکتا ہے؟ خلافت کے احیا کی پہلی صورت تو یہ ہے کہ یہ ہمارا اجتماعی شرعی فریضہ ہے جس کی ادائیگی کے بغیر ہم دنیا بھر کے تمام مسلمان گناہ گار ہیں اور شرعی فرض کے تارک ہیں۔ پھر صرف اس ایک فرض کے تارک نہیں بلکہ خلافت کے ذریعے احکام اسلامی کے نفاذ، اقامت دین، جہاد اور شرعی قضا کے جو فرائض بجا لائے جا سکتے ہیں ہم ان کے بھی تارک ہیں اور ان سب فرائض کو نظر انداز کرنے کا بوجھ ہم پر ہے۔ اس کے علاوہ دنیا بھر کے مسلمانوں میں سیاسی وحدت اور مرکزیت کے قیام کا واحد ذریعہ صرف اور صرف خلافت ہے اور گزشتہ صدی کے تجربات نے واضح کر دیا ہے کہ سیاسی وحدت اور مرکزیت کے بغیر عالم اسلام تمام تر وسائل اور صلاحیتوں کے باوجود اپنا ایک مسئلہ بھی حل کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے، اس لیے آج عالم اسلام کا سب سے بڑا اور سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ خلافت کے احیا و قیام کی کوئی عملی صورت پیدا کی جائے۔

عملی طریق کار

خلافت کے انعقاد و قیام کی جو صورتیں فقہاء اسلام نے بیان کی ہیں وہ بنیادی طور پر پانچ ہیں:

  1. عام مسلمانوں کی رائے سے خلیفہ کا انتخاب کیا جائے جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کا انتخاب ہوا تھا۔
  2. خلیفۂ وقت کسی اہل شخص کو اپنا جانشین نامزد کر دے جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے حضرت عمر فاروقؓ کو نامزد کیا تھا۔
  3. خلیفۂ وقت کی نامزد کردہ خصوصی کمیٹی خلیفہ کا انتخاب کرے، جس طرح حضرت عثمان غنیؓ کا انتخاب عمل میں لایا گیا تھا۔
  4. مجلسِ شورٰی خلیفہ کو چنے، جیسے حضرت علیؓ چنے گئے تھے۔
  5. کوئی اہل شخص اقتدار پر بزور قوت قبضہ کر لے اور امت اسے قبول کر لے، جیسے حضرت حسنؓ کی بیعت کے بعد حضرت معاویہؓ کی خلافت پر امت کا اجماع ہوگیا تھا۔

آج کے حالات کو سامنے رکھتے ہوئے ان میں سے دوسرا، تیسرا اور چوتھا طریقہ تو سرِدست قابل عمل نہیں ہے کیونکہ اس وقت کوئی شرعی خلیفہ موجود نہیں ہے جو کسی کو نامزد کر سکے، خصوصی کمیٹی بنا سکے یا مجلس شورٰی قائم کر سکے۔ اس کے بعد پہلا اور پانچواں طریق کار ہی قابل عمل رہ جاتا ہے اور اس کی عملی صورت یہ ہوگی کہ کسی مسلمان ملک کی منتخب پارلیمنٹ اپنے ملک کے دستور پر نظرثانی کر کے شرعی بنیادوں پر خلافت کے احیا کا اعلان کرے اور عام آدمیوں کی رائے سے خلیفہ وقت کا انتخاب کیا جائے۔ یا کوئی طاقتور گروہ طاقت کے زور سے اقتدار پر قبضہ کر لے اور ان میں سے خلافت کے اہل شخص کو خلیفہ کے طور پر قبول کر لیا جائے۔ اس کے علاوہ فقہاء اسلام کی بیان کردہ صورتوں میں سے خلافت اسلامیہ کے احیا اور قیام کی کوئی اور صورت موجودہ حالات میں قابل عمل نہیں ہے۔

ایک اہم قابل توجہ نکتہ

اس مرحلہ میں ایک اہم نکتہ کی طرف توجہ دلانا ضروری سمجھتا ہوں کہ ۱۹۲۴ء تک خلافت کے جیسے کیسے تسلسل کو قبول کرنے کے باوجود ہمیں خلافت کے نظام کی تشکیل و تدوین میں خلافتِ راشدہ ہی کو معیار بنانا ہوگا۔ بعد کے خلافتی نظام اس بارے میں ہماری راہنمائی نہیں کر سکیں گے اور نہ ہی خلافت راشدہ کے اصولوں کی طرف براہ راست رجوع کیے بغیر ہم مغربی جمہوریت اور ویسٹرن سولائزیشن کا مقابلہ کر سکیں گے۔ حکومت کی تشکیل میں عام آدمی کا حصہ، حاکمِ وقت پر تنقید کا حق، آزادیٔ رائے اور خلیفہ وقت سے اپنا حق کھلے بندوں طلب کرنے کا جو معیار خلافت راشدہ کے دور میں قائم ہوا وہ آپ کو بعد کے ادوار میں نہیں ملے گا اور یہی معیار ہے جسے عملاً سامنے لا کر مغربی جمہوریت کے کھوکھلے پن کو ظاہر کیا جا سکتا ہے۔ بالخصوص دو معاملات میں خلافت راشدہ کے طرزعمل کو دوبارہ زندہ کرنا ہوگا:

  1. ایک حکومت کی تشکیل اور خلیفہ کے انتخاب میں عام آدمی کی رائے کی اہمیت، جسے حضرت عمرؓ نے بخاری شریف کی ایک روایت کے مطابق یوں بیان فرمایا کہ ’’خبردار! لوگوں کے مشورہ کے بغیر خلیفہ کی بیعت کا نام نہ لینا اور جس نے ایسا کیا اس کی بات کو قبول نہ کرنا‘‘۔
  2. اور دوسرا نظمِ مملکت چلانے میں لوگوں کے ساتھ مشاورت کا نظام، جس کا اہتمام خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور آپ کی سنت مبارکہ ہے کہ اجتماعی معاملات میں لوگوں کو مشاورت میں شریک کیا کرتے تھے، جیسا کہ بدر، احد اور احزاب کے غزوات کے حوالہ سے احادیث موجود ہیں۔ حتیٰ کہ غزوہ حنین کے قیدیوں کی واپسی کے سلسلہ میں مشاورت کے موقع پر لوگوں کی تعداد زیادہ ہونے کے باعث عرفاء یعنی لوگوں کے نمائندوں کے ذریعے سے ان کی رائے معلوم کر کے آنحضرتؐ نے فیصلہ فرمایا۔

اس لیے خلافت کا سیاسی نظام طے کرتے وقت ہمیں خلافت راشدہ کو مشعلِ راہ بنانا ہوگا، اسی صورت میں ہم آج کی دنیا کو مغربی جمہوریت سے بہتر نظام دے سکتے ہیں اور وقت کے چیلنج کا سامنا کر سکتے ہیں۔

حضراتِ محترم! میں آخر میں اس فکری نشست کے انعقاد پر جمعیت اہل سنت کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور آپ سب دوستوں سے اس دعا کی درخواست کے ساتھ اجازت چاہتا ہوں کہ اللہ رب العزت عالمِ اسلام کو خلافت کے حقیقی نظام سے ایک بار پھر بہرہ ور فرمائیں اور ہمیں اس کے لیے مؤثر اور نتیجہ خیز محنت کی توفیق دیں، آمین یا الہ العالمین۔


نفاذِ اسلام کی راہ روکنے کے لیے امریکی منصوبہ بندی

وائس آف امریکہ

ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی ’’قومی سلامتی کونسل‘‘ نے ۱۹۹۱ء کے دوران عالم اسلام اور مشرق وسطیٰ کے حوالہ سے ایک منصوبہ طے کیا تھا جو وائس آف امریکہ سے نشر ہوا اور روزنامہ جنگ لاہور نے ۱۵ جولائی ۱۹۹۲ء کو اس کا اردو ترجمہ شائع کیا۔ ربع صدی کے بعد اسے ارباب فکر و دانش کی خدمت میں اس گزارش کے ساتھ ایک بار پھر پیش کیا جا رہا ہے کہ اس امر کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ اس منصوبے پر عملدرآمد کی اب تک کی صورتحال کیا ہے اور اس وقت ہم کس مرحلہ سے گزر رہے ہیں۔ عملاً ہم کچھ کرنا چاہیں یا نہیں یا کچھ کر سکیں یا نہیں، کم از کم ہمیں اس حوالہ سے اپنی موجودہ صورتحال کا علم اور ادراک تو ہونا چاہیے۔ (راشدی)



1۔ مستقبل میں قیام امن کے نفاذ میں دیگر ممالک مثلاً فرانس، برطانیہ، اٹلی اور روس کو شامل کیا جانا چاہیے۔

2۔ ایران اور ترکی ایسے غیر عربی ممالک کو ان ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار کیا جانا چاہیے جنہوں نے ہمارے ساتھ مل کر عراق کے خلاف جنگ لڑی مثلاً خلیجی ریاستیں، مصر، شام اور مراکش۔

3۔ ایران اور عراق میں ہونے والے واقعات کے پیش نظر ہماری مستقبل میں سیاست یہ ہوگی کہ ایک ایسی فوج تیار کی جائے یا موجود رکھی جائے جو کسی بھی دوسری فوجی طاقت کا مقابلہ کر سکے، اس طرح اس منطقہ (مشرق وسطیٰ) میں طاقت کا توازن بھی قائم رہے گا۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوگا کہ کسی عرب ریاست یا ترکی یا ایران یا ایتھوپیا (حبشہ) کو (علاقہ کا پولیس مین بنا کر اسے یہ اجازت بھی دی جائے کہ وہ) امریکی مفادات کے لیے خطرہ بن سکے۔

4۔ خلیجی ریاستوں کی دفاعی طاقت (نہ کہ جنگی صلاحیت) کو بہتر بنایا جائے اور یہاں فوجی خدمات کو لازمی بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ملحوظ رکھا جائے کہ ان ریاستوں کے ہمسایہ ممالک میں سے کسی کو بھی فوجی اعتبار سے اس قدر طاقتور نہ بننے دیا جائے کہ وہ ان پر حملہ آور ہو سکے۔

5۔ جارحانہ اور مکمل تباہ کن جنگی ساز و سامان کی فروخت عربی اور اسلامی ممالک کو کرنا ہی پڑے تو درج ذیل امور کو مدنظر رکھنا ہوگا: 

(۱) ایسا اسلحہ زیادہ مقدار میں نہ دیا جائے۔ 

(۲) اس قسم کا اسلحہ نہ دیا جائے جو تیزی کے ساتھ حرکت میں لایا جا سکے یا ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جا سکے۔ 

(۳) فاضل پرزہ جات پوری مقدار میں نہ دیے جائیں۔ 

(۴) اس اسلحہ کا سودا پانچ عرب ریاستوں (غالباً سعودی عرب، عرب امارات، شام، مصر اور مراکش) کی نگرانی میں کیا جائے۔ 

(۵) بعض مخصوص اقسام کا اسلحہ فروخت نہ کیا جائے بلکہ کرایہ پر دیا جائے۔

6۔ شام، مصر اور بعض دوسری چھوٹی غیر عرب ریاستوں مثلاً ایران، ترکی اور ایتھوپیا کی معمولی نمائندگی کے اشتراک سے ایک مشترکہ امن فوج تیار کی جائے۔

7۔ خلیجی ریاستوں کی دولت جو ان پر حملوں کا سبب بنی ہوئی ہے، کی مناسب تقسیم ایک بینک برائے تعمیر کے ذریعے عمل میں لائی جائے گی مگر اس بینک کی اصل پالیسی امریکہ، برطانیہ اور فرانس وضع کریں گے۔ اس بینک کی نمایاں ترجیحات یہ ہوں گی: 

(۱) مشترکہ امن فوج کا کنٹرول سنبھالنا۔ 

(۲) ایسے ممالک میں بڑے منصوبوں کی تعمیر و تکمیل کے لیے فنڈ مہیا کرنا جو (مذکورہ بالا) مشترکہ فوج کے معاون ہوں مثلاً شام۔ 

(۳) اس طرح ان بعض غیر عرب ممالک میں ایسے منصوبوں کی تکمیل کے لیے فنڈات مہیا کرنا جو اس منطقہ میں امن کے لیے ایک بڑا رول ادا کر سکتے ہیں مثلاً ایران، ترکی اور حبشہ۔ 

(۴) بعض غیر اہم اور غریب حکومتوں مثلاً یمن، تیونس اور سوڈان کی مالی معاونت کرنا۔ 

البتہ ان حکومتوں کی اس طرح مدد کرتے وقت ان باتوں کو زیر غور رکھنا ہوگا: 

(الف) یہ مالی مدد صرف معمولی قسم کی تعمیر و ترقی کے لیے ہو۔ 

(ب) اس کے بدلے ان سے مضبوط تعلقات کی استواری کی توقع کرنا۔ 

(ج) اس مالی مدد کا مقصد ان حکومتوں سے امریکی پالیسی کی ہمنوائی حاصل کرنا ہوگا۔

8۔ تمام عرب ملکوں کے ایسے حکومتی نظاموں کی تبدیلی جو امریکی پالیسی سے مطابقت نہ رکھتے ہوں۔ اس منصوبہ کی بعض تفصیلات یوں ہوں گی:

(الف) خلیجی ریاستیں:

ان ریاستوں کے حکومتی نظام میں ردوبدل کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ یہ ہمیشہ امریکی پالیسی کی پرجوش حامی رہی ہیں اور رہیں گی۔ ان کے اس حکومتی نظام کو باقی رکھنا ہی امریکی مفادات کا تحفظ ہے۔ البتہ یہ کوششیں جاری رکھی جائیں کہ ان ریاستوں میں زمام اقتدار ایسے افراد کے ہاتھوں میں آئے جو مغرب کے تعلیم یافتہ ہیں اور ایسی کوششیں بھی کی جائیں جن کی بدولت ان ریاستوں کی مذہبی ثقافت کو بدل دیا جائے۔

(ب) دیگر ممالک:

(۱) شام: 

شام کے حکمران حافظ الاسد ہمیں قبول ہیں، انہیں اس منطقہ میں کام کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔ شام کو ترقی کے اس مقام پر لے جانا چاہیے جو حافظ الاسد کو اس خطہ کا مرد آہن بنا سکے کیونکہ انہوں نے (عراق کے خلاف جنگ میں) عملاً ثابت کر دیا ہے کہ ان پر اعتماد کیا جا سکتا ہے۔

(۲) مصر:  

اگرچہ مصر کی موجودہ قیادت نے (امریکی پالیسی کے اتباع میں) صحیح اور قابل قبول رویہ اختیار کیا لیکن یہ حکومت مصری رائے عامہ کو کنٹرول نہیں کر سکتی۔ لہٰذا ہمیں اس کے بارے میں جدید خطوط پر سوچنا ہوگا۔ دراصل جمال عبد الناصر اور انور السادات کے دور میں آزادیٔ رائے پر پہرہ لگا دیا گیا تھا جس کے جمہوریت پر منفی اثرات ظاہر ہوئے۔ اب ضروری ہے کہ مصر میں جمہوریت کو پھلنے پھولنے کا موقع دیا جانا چاہیے تاکہ ہر شخص آزادی کے ساتھ اپنی سرگرمیوں کو جاری رکھ سکے اور اسلامیین (بنیاد پرستوں) کو راہ سے ہٹانے کا یہی ایک طریقہ ہے۔

(۳) فلسطین اور اسلامی تحریکات: 

اسلام کے بڑھتے ہوئے اثر و نفوذ کو روکنے اور فلسطین کے قبضہ پر مسلمانوں کے (دینی، اخلاقی اور نفسیاتی) دباؤ کو کم کرنے کے لیے ان خطوط پر عمل پیرا ہونا ہوگا:

  • مسلمانوں کو ان کے فروعی اختلافات میں الجھا کر ایک دوسرے سے لڑانا تاکہ وہ اپنی طاقت کا آپ مقابلہ کرتے رہیں۔ جیسے مصر کے محمد الغزالی نے اسلام میں عورت کے مقام کے موضوع کو چھیڑ کر باہمی منافرت کی جنگ کو بھڑکایا۔
  • وہ خلیجی ریاستیں جو اسلامی شریعت کے نفاذ پر سنجیدگی سے عمل پیرا ہیں یا اس کے نفاذ کے بارے میں غور کر رہی ہیں، ان کی حکومتوں کو تبدیل کرنا۔ جب کوئی حکومت اسلامی شریعت کا نفاذ کرے، اس کے خاتمہ کے لیے پوری کوشش کرنا۔ مثلاً سعودی عرب میں شرعی حدود کا نفاذ ہے، اس لیے ان کے بعض شیوخ کو ورغلانا اور ان کی سرگرمیوں کو معطل کرنا چاہیے۔ اس طرح تمام اسلامی تحریکات اور مظاہر پر کاری ضرب لگانا ضروری ہے۔
  • جہاں اسلامی ذہن رکھنے والی حکومتوں کے بدلنے سے ایسے شرعی قوانین سے چھٹکارا حاصل ہو جائے گا وہاں یہ بات بھی قابل توجہ ہوگی کہ وہ علماء اسلام جو رائے عامہ پر اثر انداز ہو سکتے ہیں ان کے خیالات کی عوام تک رسائی میں رکاوٹیں کھڑی کرنا ہوں گی۔
  • حساس قسم کے حکومتی اداروں میں اسلامی ذہن رکھنے والوں کو ملازمت کے مواقع نہیں ملنا چاہئیں۔ یہ پالیسی صرف خلیجی ریاستوں تک ہی محدود نہ ہوگی بلکہ اس کا دائرہ کار تمام اسلامی ریاستوں تک بڑھانا ہوگا۔ اسلامی فکر کو آگے بڑھانے والوں کو تعلیم و تربیت اور ابلاغ عامہ کے ذریعے اپنے خیالات عوام الناس تک پہنچانے سے روکنا ہوگا۔ یہی وہ طریقہ ہے جس کی بدولت اسلام کی ترویج و ترقی کے لیے کام کرنے والوں کو رائے عامہ کو متاثر کرنے کا موقع ملتا ہے اور یوسف القرضاوی نے انہی ذرائع (تعلیم و تربیت اور ابلاغ عامہ) سے عوام الناس میں پذیرائی پائی۔ اسی طرح سعودی عرب میں مناع القطان نے اپنے اثرات چھوڑے ہیں۔
  • اسلامیین کو (ان کے اپنے ممالک میں بھی) اقتصادی اور اجتماعی معاملات میں نمایاں مقام پیدا کرنے سے باز رکھنا ہوگا، ورنہ وہ ان کے توسط سے اپنے ممالک سے باہر بھی اثر انداز ہوں گے۔

9۔ بہت ہی قابل توجہ معاملہ عرب اور مسلمان ممالک سے افرادی قوت کا خلیجی ریاستوں میں آنے کا ہے، اس کا روکنا نہایت ضروری ہے۔ ان کے مقابل افرادی قوت کا سری لنکا، فلپائن اور تھائی لینڈ سے لانا ضروری ہے کیونکہ ان ممالک سے لائی گئی غیر مسلم افرادی قوت اسلامی اعتقادات اور اقدار پر منفی اثرات چھوڑے گی۔ اگر ان تینوں ملکوں کی افرادی قوت ضرورت کا معیار یا مقدار پوری کرنے سے قاصر ہو اور دیگر ممالک (اسلامیہ اور عربیہ) سے لوگ منگوانا ہی پڑیں تو پھر یہ ضرور ملحوظ رکھنا ہوگا کہ وہ پاکستان یا بنگلہ دیش سے نہ ہوں۔ اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے ضروری ہوگیا ہے کہ دیگر (غیر مسلم) ممالک سے رابطہ کیا جائے (تاکہ بوقت ضرورت وہاں سے افراد بلائے جا سکیں)۔

10۔ ضروری ہوگیا ہے کہ (مسلم ممالک) کے نظام تعلیم اور ثقافت کو تبدیل کیا جائے اور ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے پروگراموں کا وقت بڑھایا جائے۔

11۔ اسلامی اور دینی جماعتوں مثلاً سلفی اور اخوانی کے مابین اختلافات کی حوصلہ افزائی کر کے انہیں زیادہ بڑھایا جائے۔

12۔ اسلامی فکر و کردار رکھنے والی حکومتوں مثلاً پاکستان اور سوڈان کو پسماندگی اور مشکلات کا شکار رہنے دیا جائے۔‘‘

(مطبوعہ روزنامہ جنگ لاہور ۔ ۱۵ جولائی ۱۹۹۲ء)

عدالتِ عظمیٰ کی نوازشات

ادارہ

O …  قرار داد مقاصد میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیتِ مطلقہ کا اقرار کرتے ہوئے مملکت و حکومت کو اس کی مقرر کردہ حدود کا پابند قرار دیا گیا ہے۔ یہ قرارداد مقاصد ہر دستور میں بطور دیباچہ شامل رہی ہے جبکہ جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم نے سپریم کورٹ کے تقویض کردہ اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے قرارداد مقاصد کو دستور کا واجب العمل حصہ قرار دے دیا تھا، جس پر ہائی کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلوں میں دستور کے قرار داد مقاصد سے متصادم حصوں کو غیر موثر قرار دے کر قرآن وسنت کی دستوری بالا دستی کی راہ ہموار کر دی۔ مگر سپریم کورٹ کے فل بنچ نے جسٹس ڈاکٹر نسیم حسن شاہ کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کی سماعت کرتے ہوئے قرار داد مقاصد کی ترجیحی حیثیت کے اصول کو مسترد کر دیا اور یہ فیصلہ صادر کیا کہ قرارداد مقاصد بھی آئین کی دوسری دفعات کے مساوی درجہ رکھتی ہے، اور آئین کی کسی دوسری دفعات کے ساتھ قرار داد مقاصد کے تصادم کی صورت میں عدالت عظمی خود کوئی فیصلہ کرے گی، یا زیادہ سے زیادہ پارلیمنٹ کو توجہ دلا سکے گی۔
O … سابق وفاقی وزیر قانون جناب ایس ایم ظفر نے قومی کشمیر کمیٹی کے دورہ یورپ کے موقع پر ہالینڈ میں پاکستانی سفارت خانے میں ایمنسٹی انٹرنیشل اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے یہ بتایا کہ
’’جدا گانہ نمائندگی کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے ایس ایم ظفر نے کہا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے آئین کی تشریح کرتے ہوئے یہ فیصلہ سنا دیا ہے کہ اقلیتوں کو اب دو دوٹوں کا حق ہو گا۔ وہ جنرل نشستوں پر بھی ووٹ ڈال سکیں گے اور براہ راست اپنے نمائندے بھی چن سکیں گے۔‘‘(روزنامہ جنگ لاہور، ۱۴ اپریل ۹۴ء)
O … اعلیٰ عدالتوں میں ایڈ ہاک ججوں کی تقرری کے بارے میں اپنے حالیہ تاریخی فیصلہ میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب سجاد علی شاہ نے وفاقی شرعی عدالت کو آئین کے بنیادی ڈھانچے کے لیے اّن فٹ قرار دے دیا ہے۔ جبکہ اس فیصلہ سے پیدا ہونے والی صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حکومت نے سپریم کورٹ کے شریعت ایپلٹ بنچ کے دو ایڈ ہاک ججوں جسٹس مولانا محمد تقی عثمانی اور جسٹس پیر محمد کرم شاہ از ہری کو فارغ کر کے شریعت ایپلٹ بنچ کو عملاً غیر موثر بنا دیا ہے۔

نفاذ شریعت کی جدوجہد اور مغربی ممالک میں مقیم مسلمانوں کی ذمہ داریاں

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(مدیر الشریعہ مولانا زاہد الراشدی ۱۹۹۰ء میں شمالی امریکہ کے دورہ کے موقع پر شکاگو بھی گئے جہاں انہوں نے ۲ دسمبر کو مسلم کمیونٹی سنٹر کے ہفتہ وار اجتماع سے ’’شریعت بل اور پاکستان‘‘ کے موضوع پر مندرجہ ذیل خطاب کیا۔)



بعد الحمد والصلوٰۃ۔ 

محترم بزرگو، دوستو اور قابل صد احترام بہنو! ابھی تھوڑی دیر قبل شکاگو پہنچا ہوں اور مجھے ہدایت کی گئی ہے کہ آپ حضرات کے سامنے پاکستان میں شریعت اسلامیہ کے نفاذ کی جدوجہد کے بارے میں کچھ معروضات پیش کروں۔ اس عزت افزائی پر مسلم کمیونٹی سنٹر کے ذمہ دار حضرات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے آپ سب احباب سے اس دعا کا خواستگار ہوں کہ اللہ رب العزت کچھ مقصد کی باتیں کہنے اور سننے کی توفیق دیں اور حق کی جو بات بھی علم اور سمجھ میں آئے، اللہ تعالیٰ اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا الہ العالمین۔

حضرات محترم! پاکستان کا قیام اس مقصد کے لیے عمل میں آیا تھا اور قیام پاکستان کی بنیاد اس امر کو ٹھہرایا گیا تھا کہ مسلمان ایک الگ قوم کی حیثیت رکھتے ہیں اور اپنے مذہب، اقدار و روایات اور نظریات و عقائد پر عمل درآمد کے لیے مسلمانوں کو الگ خطۂ زمین کی ضرورت ہے۔ اسی مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے ’’پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ‘‘ کے نعرے کے ساتھ یہ ملک قائم کیا گیا تھا۔ لیکن قیامِ پاکستان کو تینتالیس سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود ابھی تک ہم اپنے ملک کے نظام اور اجتماعی ڈھانچے کو اسلامی عقائد و احکام کے سانچے میں ڈھالنے کی منزل حاصل نہیں کر سکے۔ اور شریعتِ اسلامیہ کی بالادستی اور نفاذ کا جو خواب پاکستان کے قیام سے پہلے اس خطہ کے مسلم عوام نے دیکھا تھا وہ ابھی تک تشنۂ تعبیر ہے۔

اس سے پہلے کہ میں ان رکاوٹوں کا ذکر کروں جو پاکستان میں اسلام کے نفاذ اور شریعت کی بالادستی کی راہ میں حائل ہیں، نفاذِ شریعت کے حوالہ سے اس تدریجی پیش رفت سے آپ کو آگاہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں جس کی رفتار اگرچہ بہت سست ہے لیکن بہرحال ایک پیش رفت موجود ہے اور اس سلسلہ میں عملی کام ہوا ہے جسے آگے بڑھانے کی کوشش مسلسل جاری ہے۔

اس سلسلہ میں سب سے پہلا اور بنیادی کام ’’قراردادِ مقاصد‘‘ کی منظوری ہے جو ۱۹۴۹ء میں دستور ساز اسمبلی کے رکن حضرت علامہ شبیر احمدؒ عثمانی کی جدوجہد کے نتیجہ میں متفقہ طور پر پاس ہوئی۔ اس قرارداد میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیتِ اعلیٰ کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہوئے یہ طے کیا گیا ہے کہ عوام کے منتخب نمائندے خدا تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات کے دائرہ میں رہتے ہوئے ملک کا نظام چلائیں گے۔ یہ ایک اصولی فیصلہ تھا جس سے ملک کی نظریاتی بنیاد متعین ہوگئی اور اس امر کا فیصلہ ہوگیا کہ پاکستان سیکولر ریاست نہیں بلکہ نظریاتی اسلامی مملکت ہے۔ قراردادِ مقاصد اب تک نافذ ہونے والے ہر دستور میں شامل رہی ہے اور موجودہ آئین میں بھی، جو ۱۹۷۳ء کا دستور کہلاتا ہے، شامل ہے۔ لیکن اس قرارداد کی روشنی میں جو عملی اقدامات ہونا چاہیے تھے ان کی رفتار سست رہی بلکہ ایک لحاظ سے نہ ہونے کے برابر تھی۔

دوسرا مرحلہ ۱۹۷۳ء کے دستور کی تشکیل کا تھا۔ اس وقت دستور ساز اسمبلی میں مولانا مفتی محمودؒ، مولانا عبد الحقؒ، مولانا شاہ احمدؒ نورانی، پروفیسر غفور احمد اور ان کے رفقاء کی جدوجہد سے ایک اور اہم دستوری فیصلہ ہوگیا کہ اسلام کو پاکستان کا سرکاری مذہب قرار دے دیا گیا اور ملک میں نافذ قوانین کو اسلامی احکام کے سانچے میں ڈھالنے کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل کی تشکیل کے ساتھ اس کام کے لیے وقت کی ایک حد طے کر دی گئی۔

تیسرے مرحلے میں جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم کے دورِ اقتدار میں ہونے والے وہ اقدامات شامل ہیں جن کے تحت بعض شرعی قوانین کے نفاذ کے علاوہ وفاقی شرعی عدالت کا قیام عمل میں لایا گیا۔ وفاقی شرعی عدالت ممتاز علماء کرام اور جسٹس صاحبان پر مشتمل ہے اور اسے یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ ملک کے کسی بھی قانون کو قرآن و سنت کے منافی قرار دے کر حکومت کو قانون کی تبدیلی کا نوٹس دے سکتی ہے۔ اگرچہ دستوری دفعات، عدالتی نظام، مالیاتی قوانین اور عائلی قوانین کو وفاقی شرعی عدالت کے دائرہ اختیار سے مستثنیٰ قرار دے دیا گیا لیکن اس کے باوجود بہت سے امور شرعی عدالت کی دسترس میں تھے اور اس نے اس ضمن میں متعدد اہم فیصلے بھی کیے ہیں۔

چوتھا مرحلہ ’’شریعت بل‘‘ کے نفاذ کی جدوجہد کا ہے۔ شریعت بل سینٹ آف پاکستان کے دو ارکان مولانا سمیع الحق اور مولانا قاضی عبد اللطیف نے ۱۹۸۵ء میں پیش کیا تھا جس کے لیے گزشتہ پانچ سال سے جدوجہد اور بحث و تمحیص ہر سطح پر ہو رہی ہے۔ مختلف ایوانوں کے علاوہ قومی اخبارات اور عوامی حلقوں میں بھی اس کے بارے میں بہت کچھ کہا گیا ہے اور کہا جا رہا ہے۔ کچھ عرصہ قبل سینٹ نے شریعت بل کو متفقہ طور پر منظور کر لیا تھا لیکن قومی اسمبلی ٹوٹ جانے کے باعث یہ بل اس میں پیش نہ ہو سکا اور اب پھر سینٹ میں دوبارہ منظوری کے لیے زیر بحث ہے۔

حضراتِ گرامی! اس وقت شریعت بل کی تمام دفعات کی وضاحت کرنے کی تو گنجائش نہیں ہے کیونکہ وقت بہت مختصر ہے مگر بعض اہم دفعات کا تذکرہ ضروری ہے تاکہ آپ حضرات یہ سمجھ سکیں کہ اس بل کا بنیادی مقصد کیا ہے:

برادرانِ محترم! اس مختصر تعارف سے آپ کے ذہن میں یہ بات واضح ہوگئی ہوگی کہ شریعت بل کے نفاذ سے اصل مقصد کیا ہے۔ یہ دراصل نظام کی تبدیلی کی جدوجہد ہے اور خاص طور پر ملک کے عدالتی نظام کو اسلام کے سانچے میں ڈھالنے کی جنگ ہے جس میں اس وقت ہم مصروف ہیں اور آپ حضرات سے کامیابی کی دعاؤں کے ساتھ ساتھ تعاون اور حوصلہ افزائی کے بھی طلبگار ہیں۔

اب میں اس سوال کی طرف آتا ہوں جو آپ کے ذہنوں میں ضرور اٹھ رہا ہوگا کہ آخر اسلام کے نام پر بننے والے ملک اور مسلم اکثریت کے معاشرہ میں اس وقت شریعت بل پر آخر پانچ سال سے صرف بحث و تمحیص کیوں ہو رہی ہے اور یہ نافذ کیوں نہیں ہو جاتا؟ پھر یہ سوال بھی آپ حضرات کے ذہنوں کو پریشان کر رہا ہوگا کہ نفاذِ اسلام کے جن تدریجی اقدامات کا میں نے ذکر کیا ہے ان سب کے باوجود حالات میں تبدیلی کیوں نہیں آرہی اور عملاً اسلامی احکام و قوانین کا نفاذ اور کارفرمائی کیوں دکھائی نہیں دے رہی؟

ان سوالات کے جواب میں مناسب تو یہ تھا کہ ان رکاوٹوں کا تفصیل کے ساتھ ذکر اور تجزیہ کیا جاتا جو نفاذِ شریعت کی راہ میں حائل ہیں۔ لیکن وقت مختصر ہے اس لیے میں اس سلسلہ میں سب سے بڑی رکاوٹ کا حوالہ دینے پر اکتفا کروں گا جو تمام رکاوٹوں کا سرچشمہ ہے اور جس رکاوٹ کو راستہ سے ہٹانے کے لیے ہم گزشتہ تینتالیس سال سے اس کے ساتھ سر پھوڑ رہے ہیں۔ وہ رکاوٹ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں اجتماعی قیادت کی باگ ڈور جن عناصر کے ہاتھ میں ہے وہ نہ صرف مغربی تعلیم گاہوں کے تربیت یافتہ اور مغربی تہذیب و ثقافت سے مرعوب ہیں بلکہ اپنے معاشرہ میں مغربی نظریات و اقدار کی فکری اور تہذیبی نمائندگی کو مقصد زندگی سمجھے ہوئے ہیں۔ ویسٹرن میڈیا اسلام کے بارے میں جو شوشہ چھوڑتا ہے وہ ان کا منشور بن جاتا ہے۔ مغرب والے اگر نفاذِ اسلام کی جدوجہد پر بنیاد پرستی کی پھبتی کستے ہیں تو ہمارے یہ بھائی بھی بنیاد پرستوں سے لاتعلقی کے اظہار کو ضروری سمجھ لیتے ہیں۔ اور مغرب میں اگر اسلامی قوانین کو فرسودہ، وحشیانہ اور ظالمانہ کہا جاتا ہے تو ان لوگوں کی زبانیں بھی انہی الفاظ کا ورد کرنے لگتی ہیں۔

میرے محترم دوستو! آپ حضرات تو خود مغرب میں رہتے ہیں، یہاں کی قیادت اور میڈیا کا مزاج آپ سے بہتر کون سمجھ سکتا ہے؟ آپ کے سامنے سب کچھ ہوتا ہے، عالم اسلام کے خلاف یہاں سے جو سازشیں ہوتی ہیں آپ ان سے بے خبر نہیں ہیں اور آپ کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ پاکستان بلکہ تمام مسلم ممالک میں نفاذ شریعت کی تحریکات کو جن عناصر سے مقابلہ درپیش ہے ان کی پشت پر مغرب خود کھڑا ہے۔ یہ صرف پاکستان کی بات نہیں، جن دوسرے مسلم ممالک میں اسلام کی بالادستی اور شریعت کے نفاذ کی جدوجہد ہو رہی ہے، مصر میں، مراکش میں، انڈونیشیا میں، ملائیشیا میں، الجزائر میں، تیونس میں اور دیگر مسلم ممالک میں دینی بیداری کی تحریکات کام کر رہی ہیں اور نفاذ اسلام کی جدوجہد ہو رہی ہے، ان سب کا مقابلہ ایک ہی قسم کے طبقے سے ہے جو مغرب سے مرعوب ہے اور مغرب پوری طرح اس طبقہ کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ آپ حضرات یقیناً اس امر سے باخبر ہوں گے کہ امریکہ میں ایک باقاعدہ انسٹیٹیوٹ کام کر رہا ہے جس کا مقصد عالم اسلام میں دینی بیداری کی تحریکات کا کھوج لگانا، ان کے بارے میں معلومات حاصل کرنا اور انہیں ناکام بنانے کے منصوبے تیار کرنا ہے۔ اس انسٹیوٹ کی سربراہی امریکہ کے سابق صدر نکسن کے ہاتھ میں ہے جنہوں نے مسلم بنیاد پرستی کی تحریکات کے تعاقب کو اپنا مشن بنایا ہوا ہے۔ ہمارا مقابلہ ان قوتوں کے ساتھ ہے، ہماری رفتار اگرچہ بہت سست ہے لیکن قدم بہرحال آگے بڑھ رہے ہیں۔ ہم آپ سے دعا کے خواستگار ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں کام کی صحیح رفتار نصیب فرمائیں اور نفاذ شریعت کی جدوجہد میں کامیابی سے ہمکنار کریں، آمین یا الہ العالمین۔

حضراتِ محترم! ان گزارشات کے بعد ایک بات اور بھی آپ حضرات کی خدمت میں عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ وہ یہ ہے کہ آپ حضرات جو مغربی ممالک بالخصوص امریکہ میں آباد ہیں، عالم اسلام اور پاکستان میں نفاذ شریعت کی تحریکات کے حوالہ سے آپ پر کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور وہ کون سے عملی کام ہیں جو اس سلسلہ میں آپ کر سکتے ہیں؟ آپ کا کام صرف دعا کرنا اور نیک خواہشات کا اظہار کرنا نہیں بلکہ اس سے آگے بڑھ کر آپ کو عملی جدوجہد میں شریک ہونا چاہیے جس کی کئی صورتیں ہو سکتی ہیں:

بہرحال میں نے مسلم ممالک میں نفاذ شریعت کی تحریکات کے ساتھ مغربی ممالک میں رہنے والے مسلمانوں کی عملی وابستگی کی تین صورتیں عرض کی ہیں:

  1. آپ حضرات نفاذِ اسلام کی تحریکات کی زیادہ سے زیادہ سیاسی و اخلاقی مدد کریں۔
  2. مغربی ممالک میں اسلام کے خلاف کام کرنے والی منظم لابیوں کے منظم مقابلہ کا اہتمام کریں۔
  3. اس معاشرہ میں آپ کو جن شرعی قوانین پر عمل کرنے کا حق حاصل ہے ان کے نفاذ اور عملدرآمد کی کوئی عملی صورت ضرور نکالیں۔

اللہ رب العزت مجھے اور آپ سب کو شریعتِ اسلامیہ کی بالادستی اور نفاذ کی جدوجہد میں زیادہ سے زیادہ محنت کرنے کی توفیق دیں اور عالم اسلام کو شریعت کے نفاذ کی منزل سے جلد ہمکنار فرمائیں، آمین۔

وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین و صلی اللہ تعالیٰ علیٰ رسولہ محمد وآلہ واصحابہ اجمعین۔

نفاذِ اسلام اور ہمارا نظامِ تعلیم

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اسلامی جمہوریہ پاکستان کا قیام ایک صحت مند اور مثالی معاشرہ کی تشکیل کے لیے عمل میں لایا گیا تھا اور اس سلسلہ میں قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم سمیت بانیانِ پاکستان کے واضح اعلانات تاریخ کا انمٹ حصہ ہیں جن میں اسلام کے مکمل عادلانہ نظام کے نفاذ اور قرآن و سنت کی بالادستی کو پاکستان کی حقیقی منزل قرار دیا گیا ہے۔ لیکن بدقسمتی کی بات ہے کہ دنیا کے نقشے پر اس نظریاتی ملک کو نمودار ہوئے نصف صدی کا عرصہ گزرنے کو ہے مگر ابھی تک ہم اسلامی نظام کی منزل سے بہت دور ہیں بلکہ اب تو پاکستان کی نظریاتی حیثیت کو ختم کرنے اور اسے سیکولر ممالک کی صف میں شامل کرنے کے لیے عالمی قوتیں اور ان کی نمائندہ لابیاں پوری قوت کے ساتھ مصروفِ عمل نظر آتی ہیں۔ اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ جنوبی ایشیا بلکہ عالمِ اسلام کے حوالہ سے عالمی قوتوں کے ایجنڈے کا سب سے اہم نکتہ یہی مسئلہ بن گیا ہے کہ پاکستان اور پاکستانی قوم کو ہر قیمت پر اسلامی شناخت اور کردار سے محروم کر کے ویسٹرن سولائزیشن اور سیکولرازم کی پٹری پر چڑھا دیا جائے۔ تاکہ اسلام کے نام پر وجود میں آنے والا یہ ملک اسلام کی نشاۃِ ثانیہ، ملتِ اسلامیہ کی وحدت اور اسلامی فلاحی معاشرے کے احیا کے لیے کوئی کردار ادا نہ کر سکے۔

حالات کا اگر تھوڑی سی گہری نظر سے جائزہ لیا جائے تو اسلامی نظام کے نفاذ کے بارے میں ہمارا کم و بیش پچاس سالہ اجتماعی طرزِ عمل اس ضمن میں عالمی سیکولر قوتوں کے لیے حوصلہ افزائی کا باعث بنا ہے، اس لیے صرف انہی کو الزام دینے اور کوستے رہنے کی بجائے ہمیں اپنے قومی طرزِ عمل اور کردار کا بھی حقیقت پسندانہ جائزہ لینا چاہیے، اور ان اسباب کا کھلے دل کے ساتھ تعین اور اعتراف کرنا چاہیے جو ہماری قومی زندگی کو اس تذبذب اور دوراہے پر لانے کا باعث بنے ہیں۔ ہم پاکستان کے قیام کے بعد نصف صدی تک اسلامی نظام کی منزل کی طرف عملی پیشرفت کیوں نہیں کر سکے؟ وقت آگیا ہے کہ اس سوال کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لیا جائے اور قوم کا ہر طبقہ گریبان میں جھانک کر اپنے رویے اور کردار میں اس ناکامی کی جڑیں تلاش کرے تاکہ ہم گزشتہ کوتاہیوں کو سامنے رکھتے ہوئے اسلامی نظام کی منزل کی طرف پیشرفت کر سکیں۔

مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس مناسبت سے نفاذِ اسلام کے قومی سفر میں ’’نظامِ تعلیم‘‘ کے کردار پر ایک نظر ڈال لی جائے کیونکہ قوموں کی ذہنی نشوونما، فکری ارتقا اور تہذیبی ترقی میں نظام تعلیم کا رول سب سے اہم اور بنیادی ہوتا ہے۔ اور اس نقطۂ نظر سے جب ہم اپنے نظام تعلیم کا جائزہ لیتے ہیں تو ایک بات نکھر کر سامنے آتی ہے کہ اپنی پالیسیوں اور ترجیحات کے لحاظ سے نفاذِ اسلام کبھی ہمارے نظام تعلیم کے مقاصد میں شامل ہی نہیں رہا۔ اسلامی نظام کے نفاذ میں معاشرہ کے چار طبقات کا کردار سب سے اہم اور بنیادی ہوتا ہے: (۱) مقننہ (۲) عدلیہ (۳) انتظامیہ (۴) اور علماء کرام۔ آج کے دور میں کسی معاشرہ میں قرآن و سنت کے مطابق قانون سازی، قوانین کی تطبیق و تشریح، ان پر عملدرآمد اور ان معاملات میں علمی و فکری راہنمائی انہیں چار طبقات کا کام ہے۔ اور اگر ہم فی الواقع اسلامی اقدار و احکام کو معاشرہ میں رائج کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے ان طبقات کی تعلیم و تربیت، ذہن سازی اور کام کی نوعیت کے مطابق ان کی تیاری ناگزیر ہے، لیکن ہمارے ہاں صورتحال اس سے قطعی مختلف رہی ہے۔

مقننہ میں جانے والے افراد کی ایک بڑی تعداد اور عدلیہ و انتظامیہ کے تمام افراد ہمارے ریاستی نظامِ تعلیم کے تربیت یافتہ ہیں جسے عصری نظام تعلیم سے موسوم کیا جاتا ہے، جبکہ علماء کرام اس پرائیویٹ نظامِ تعلیم سے گزر کر آتے ہیں جسے دینی مدارس کا نظام تعلیم کہا جاتا ہے۔ اور یہ حقیقت ہمارا قومی المیہ ہے کہ اب تک دونوں نظام ہائے تعلیم نے اپنے تیار کردہ افراد کی تعلیم و تربیت کو نفاذِ اسلام کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ کی اکثریت کو دین کی ضروری تعلیم سے آراستہ نہیں کیا جا سکا اور علماء کرام کی اکثریت آج کے سسٹم اور نظام کو سمجھنے کی استعداد و صلاحیت سے بہرہ ور نہیں ہو سکی۔ یہی وجہ ہے کہ طبقاتی بُعد کے ساتھ ساتھ ذہنی منافرت اور فکری انتشار میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اس سب کچھ کی ذمہ داری ہمارے ان دو نظام ہائے تعلیم پر عائد ہوتی ہے۔ اور اس کا حل اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے کہ تعلیمی نظاموں کے اہداف اور ترجیحات پر نظرِثانی کے ساتھ ساتھ دینی و عصری تعلیم اور عملی و اخلاقی تربیت کے تقاضوں کو یکجا کر کے ایک نظام میں سمو دیا جائے۔

عصری علوم و فنون اور اسلامی تعلیمات کو یکجا کرنے کی سوچ نئی نہیں ہے اور علی گڑھ اور دیوبند کی طرح اس سوچ کی تاریخ بھی کم و بیش سوا صدی کو محیط ہے۔ ندوۃ العلماء لکھنو، جامعہ ملیہ دہلی اور جامعہ عباسیہ بہاولپور کے پیچھے یہی سوچ کارفرما تھی اور اب بھی ملک کے مختلف حصوں میں یہ سوچ تجربات کے مراحل سے گزر رہی ہے۔ لیکن اس حقیقت کا اعتراف کیے بغیر چارہ نہیں کہ ابھی تک اس سوچ کو قومی تحریک کی شکل نہیں دی جا سکی حالانکہ اس وقت سب سے زیادہ ضرورت ایک ایسے نظامِ تعلیم کی ہے جو نئی نسل کو آج کے ضروری علوم و فنون کی مہارت کے ساتھ ساتھ قرآن و سنت کی بنیادی تعلیمات اور دینی و اخلاقی تربیت سے پوری طرح آراستہ کر سکے، کیونکہ نصف صدی کی تاریخ نے ثابت کر دیا ہے کہ قومی زندگی کی گاڑی انہی دو پہیوں کے توازن کے ساتھ صحیح رخ پر آگے بڑھ سکتی ہے اور اگر ہم ان دونوں پہیوں کا باہمی توازن قائم نہ کر سکے تو قومی زندگی کو لڑکھڑاہٹ کی موجودہ کیفیت سے نکالنا ممکن نہیں ہوگا اور نہ ہی نفاذِ اسلام کی منزل تک سفر جاری رکھا جا سکے گا۔

نفاذ شریعت ایکٹ کی خلافِ اسلام دفعات

وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ

ادارہ

شریعت درخواست نمبر ۱۱۸ / ایل / ۱۹۹۱ ء درخواست دہندہ محمد اسماعیل قریشی نے وفاقی حکومت پاکستان بذریعہ سیکرٹری قانون و پارلیمانی امور اسلام آباد کے خلاف ۲۸ نومبر ۱۹۹۱ء کو دائر کی۔
شریعت درخواست نمبر ۱۲۳ / ایل / ۱۹۹۱ء درخواست دہندہ محمد اسماعیل قریشی نے وفاقی حکومت پاکستان بذریعہ سیکرٹری قانون و پارلیمانی امور اسلام آباد کے خلاف ۲۲ دسمبر ۱۹۹۱ء کو دائر کی۔
علاوہ ازیں شریعت درخواست نمبر ۱۴ / ایل / ۱۹۹۲ء منجانب ایم خالد فاروق بخلاف وفاقی حکومت پاکستان ۹ اپریل ۱۹۹۲ ء کو دائر ہوئی اور شریعت درخواست نمبر ۱۵ / ایل / ۱۹۹۲ء منجانب ایم خالد فاروق بخلاف وفاقی حکومت پاکستان ۹ اپریل ۱۹۹۲ء کو دائر ہوئی۔ 
مندرجہ بالا چاروں شریعت درخواستوں کی سماعت ۱۲ مئی ۱۹۹۲ء کو ہوئی، عدالت نے ان کا فیصلہ ۱۳ مئی ۱۹۹۲ء کو سنایا۔ ان چاروں درخواستوں کو ایک ہی فیصلہ کے ذریعے نمٹایا گیا۔ درخواستوں کی سماعت جسٹس ڈاکٹر تنزیل الرحمٰن چیف جسٹس، جسٹس ڈاکٹر فدا محمد خان، اور جسٹس میر ہزار خان کھوسو نے کی اور فیصلہ جسٹس ڈاکٹر تنزیل الرحمٰن نے لکھا۔ 
شریعت درخواست ۱۱۸ / ایل / ۱۹۹۱ء اور ۱۵ / ایل / ۱۹۹۲ء میں نفاذِ شریعت ایکٹ ۱۹۹۲ء کی دفعہ ۳ کی ذیلی دفعہ (۲) کو اس بنا پر چیلنج کیا گیا کہ یہ قرآن و سنت کے خلاف ہے۔ 
شریعت درخواست نمبر ۱۲۳ / ایل / ۱۹۹۱ء اور ۱۴ / ایل / ۱۹۹۲ء میں نفاذِ شریعت ایکٹ ۱۹۹۱ء کی دفعہ ۱۹ کو اس بنا پر چیلنج کیا گیا کہ یہ قرآن و سنت کے خلاف ہے۔ محمد اسماعیل قریشی نے اپنی درخواست میں کہا کہ اگرچہ نفاذ شریعت ایکٹ ۱۹۹۱ء کی مین دفعہ ۳ ذیلی دفعہ (۱) میں شریعت کو اعلیٰ قانون (سپریم لاء) قرار دیا گیا ہے، لیکن دفعہ ۳ کی ذیلی دفعہ (۲) نے موجودہ سیاسی نظام بشمول مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں) اور موجودہ حکومتی نظام کو شریعت کے اعلیٰ قانون کے تحت رکھنے سے انکار کر دیا ہے، حالانکہ ان کو احکام اسلام سے بالا نہیں رکھا جا سکتا۔ لہٰذا انفرادی اور اجتماعی طور پر اختیار کے استعمال کو اللہ کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دینا چاہیے۔ کیونکہ صرف اللہ ہی قانون دہندہ ہے اور قانون سازی کا مطلق اختیار اسی کو حاصل ہے۔ 
درخواست دہندہ نے درج ذیل نکات پر مشتمل وجوہ کی بنا پر دفعہ ۳ (۲) کو چیلنج کیا:
۱۔ قومی یا صوبائی اسمبلیاں یا حکومت آزادانه قانون سازی نہیں کر سکتے، نہ ہی وہ کسی ایسے قانون کو بدل سکتے ہیں، نہ اس میں ترمیم کر سکتے ہیں جو اللہ اور اس کے رسولوں نے دیے ہیں۔
۲۔ اگر حکومت، قومی یا صوبائی اسمبلیاں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کو نظر انداز کریں یا اس سے روگردانی کریں تو وہ احکامِ اسلام کی خلاف ورزی کریں گی۔ اس صورت میں ایک سیاسی ایجنٹ کی حیثیت سے اپنی اطاعت کرانے کا استحقاق کھو بیٹھیں گی۔ چونکہ دفعہ ۳ (۲) میں یہی صورت ہے، اس لیے دفعہ ۳ (۱) میں قرآن وسنت کو اعلیٰ قانون قرار دینے کا اعلان محض ایک فراڈ ہے، جو شریعت، دستور اور قانون کے ساتھ کیا گیا ہے اور دستور کی خلاف ورزی ہے۔
۳۔ دفعہ ۳ کی ذیلی دفعہ (۲) حکومت، قومی اور صوبائی اسمبلیوں کو مغربی جمہوریت کی طرز پر، جس میں اقتدار اعلیٰ پارلیمنٹ کو حاصل ہے، قانون سازی کا لامحدود اختیار دیتی ہے۔ 
۴۔ نفاذ شریعت ایکٹ دستور کے آرٹیکل ۲ (جس میں اسلام کو پاکستان کا سرکاری مذہب قرار دیا گیا ہے) اور آرٹیکل ۱۲ (جس نے قرارداد مقاصد کو دستور کا جزو اصلی بنا دیا ہے) کے احکام پر حاوی نہیں ہو سکتا۔ - 
۵۔ امام اعظم ابو حنیفہؒ نے اسلام کی تعریف کی ہے کہ اسلام اللہ کے احکام کی مکمل پابندی ہے۔
۶۔ شاہ ولی اللہؒ نے حجتہ اللہ البالغہ میں کہا کہ برسر اقتدار طاقت کے احکام مومنوں پر واجب الاطاعت نہیں رہیں گے اگر یہ احکام معصیت ہوں۔ یہ اصول رسول اللہ ﷺ کی ایک حدیث پر مبنی ہے۔
۷۔ مولانا ابو الاعلیٰ مودودیؒ نے قرآن کریم کا ایک اور اصول اپنی کتاب ’’اسلامی قانون اور دستور‘‘ میں بیان کیا ہے کہ کوئی شخص، جماعت، یا گروہ، بلکہ ریاست کی پوری آبادی مجموعی طور پر بھی اقتدار اعلیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتی۔ صرف اللہ ہی مقتدر اعلیٰ ہے، باقی سب اس کی رعایا ہیں۔
۸۔ ہارون خان شروانی، ایک سیاسی عالم، نے اپنی کتاب ’’مسلم سیاسی افکار اور نظام و نسق‘‘ میں کہا ہے کہ اللہ کا قانون اعلیٰ اور کائناتی تصور کیا جاتا ہے۔
درخواست دهنده ایم خالد فاروق نے بھی ایک شریعت درخواست ۱۵ / ایل / ۱۹۹۲ء میں نفاذ شریعت ایکٹ کی دفعہ ۳ کی ذیلی دفعہ (۲) کو اس بنا پر چیلنج کیا کہ یہ قرآن وسنت کے احکام کے خلاف ہے۔ درخواست دہندہ نے متعدد آیاتِ قرآنی اور احادیثِ نبویؐ کے حوالے دیتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا کہ یہ ذیلی دفعہ اللہ کی حاکمیت کی صاف طور پر نفی کرتی ہے۔ اسلام ایک مکمل ضابطہ ہدایت ہے اور سیاست کو اسلام کے دائرے سے خارج نہیں کیا جا سکتا۔ 
نیز محمد صلاح الدین بنام حکومت پاکستان (پی ایل ڈی ۱۹۹۰ء وفاقی شرعی عدالت ۱) کے فیصلہ میں عدالت ہذا موجودہ سیاسی نظام کے ایک جزو عوامی نمائندگی ایکٹ ۱۹۷۶ء کی دفعات ۱۳، ۱۴، ۳۸ (۴)سی، ۴۹، ۵۰ اور ۵۲ کو خلافِ اسلام ہونے کی وجہ سے کالعدم قرار دے چکی ہے۔ علاوہ ازیں ذیلی دفعہ زیر اعتراض آئین کے آرٹیکل ۲، ۱۲ اور ۲۲۷ (۱) کے منافی ہے۔ اور یہ ذیلی دفعہ اسی دفعہ کی ذیلی دفعہ (۱) کے موثر ہونے کے عمل کو کم کرتی ہے۔ 
درخواست دہندہ نے متعدد آیاتِ قرآنی اور احادیثِ رسول ﷺ سے اپنے موقف کو مضبوط بنایا۔
درخواست دہندہ مسٹر محمد اسمعٰیل قریشی نے اپنی شریعت درخواست نمبر ۱۲۳ / ایل / ۱۹۹۱ء میں نفاذ شریعت ایکٹ ۱۹۹۱ء کی دفعہ ۱۹ کو اس بنا پر چیلنج کیا کہ یہ دفعہ احکامِ اسلام کے خلاف ہے۔ قرآن وسنت میں سود کو واضح طور پر حرام قرار دیا گیا ہے، جب کہ اس دفعہ میں اس کی اجازت دی گئی ہے۔ درخواست دہندہ نے اپنے موقف کے حق میں متعدد قرآنی آیات اور احادیثِ رسولؐ پیش کیں۔ درخواست دہندہ نے دفعہ ۱۹ کو آئین کے آرٹیکل ۲، ۱۲، اور ۲۲۷ کے خلاف قرار دیا۔
درخواست دہندہ ایم خالد فاروق نے اپنی شریعت درخواست نمبر ۱۴ / ایل / ۱۹۹۲ء میں اسی دفعہ ۱۹ کو اس بنا پر چیلنج کیا کہ یہ احکامِ اسلام کے خلاف ہے۔ درخواست دہندہ نے متعدد آیات و احادیث کو اپنے موقف کے حق میں پیش کیا۔ نیز کہا کہ یہ دفعہ (دفعہ ۱۹) آئین کے آرٹیکل ۲، ۱۲ اور ۲۲۷ (۱) کے منافی ہے۔ کیونکہ آئین کے ان آرٹیکلوں میں قرآن وسنت کے اعلیٰ ترین ہونے کی ضمانت دی گئی ہے، جب کہ نفاذ شریعت ایکٹ ۱۹۹۱ء کی دفعہ ۱۹ اس حیثیت کو ختم کرتی ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ نفاذ شریعت ایکٹ ۱۹۹۱ء کی دفعہ ۳ (۲) آئین سے متصادم ہے، کیونکہ:
(۱) دفعہ ۳ (۲) نے پاکستان میں موجودہ سیاسی نظام کو شریعت کے اطلاق سے مستثنیٰ کر دیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن و سنت میں موجود احکام اسلام ملک کے سیاسی نظام کو منضبط نہیں کر سکیں گے ، جبکہ آئین نے اس نظام کو یہ استثناء نہیں دیا۔
(۲) آرٹیکل ۲۰۳ بی (سی) کی رو سے قانون کی تعریف میں نفاذ شریعت ایکٹ ۱۹۹۱ء شامل ہے، اس لیے وفاقی شرعی عدالت اور شریعہ اپیل پنج عدالتِ عظمیٰ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے، اور جو اختیار آئین نے دیا ہو اسے کوئی قانون چھین نہیں سکتا۔
عدالت نے نفاذ شریعت ایکٹ ۱۹۹۱ء کی دفعہ ۳ (۲) کو قرآن و سنت کے احکام کے خلاف قرار دیا۔ عدالت نے آیاتِ قرآنی المائده ۳، البقره ۸۵،  ۲۰۸ پر انحصار کیا اور ان آیات کی تشریح میں علامہ محمد اسد، سید ابو الاعلیٰ مودودی اور علامہ شبیر احمد عثمانی کی آراء کا حوالہ دیا۔ 
جہاں تک نفاذ شریعت ایکٹ ۱۹۹۱ء کی دفعہ ۱۹ کا تعلق ہے، عدالت نے قرار دیا کہ قرآن و سنت نے معاہدات کی پابندی پر بہت زور دیا ہے اور اس دفعہ میں گزشتہ معاہدات کی پابندی کا ذکر کیا گیا ہے، لیکن ان معاہدات میں وہ معاہدات شامل نہیں جو احکامِ قرآن وسنت کے خلاف ہوں۔ چونکہ ربا قرآن  و سنت کی رو سے حرام ہے، اس لیے ربا سے متعلق معاہدات کی پابندی ناجائز ہو گئی، لہٰذا دفعہ ۱۹ قرآن وسنت کے احکام کے منافی ہے۔ عدالت نے اس کے لیے قرآن وسنت سے متعدد دلائل کے حوالے دیے۔
نتیجتاً‌ شریعت درخواست ہائے نمبر ۱۱۸ / ایل / ۱۹۹۱ء، ۱۲۳ / ایل / ۱۹۹۱ء، ۱۴ / ایل / ۱۹۹۲ء اور ۱۵ / ایل ۱۹۹۲ء منظور کر لی گئیں اور نفاذ شریعت ایکٹ ۱۹۹۱ء کی دفعات ۳ (۲) اور ۱۹ کو احکامِ اسلام کے خلاف، جیسے کہ وہ قرآن و سنت میں مذکور ہیں، قرار دیا گیا۔ 
عدالت نے مقننہ کی رہنمائی کے لیے قرآن کریم کی حسب ذیل آیات کا حوالہ دیا: 
’’اور کسی مومن یا مومنہ کے لیے جائز نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول ﷺ ان کے لیے کوئی فیصلہ کر دے تو اپنی مرضی سے کوئی اور راستہ اختیار کرے۔‘‘ (الاحزاب : ۳۶)
’’اور جو کوئی اللہ کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلہ نہ دے وہی لوگ نافرمان ہیں۔‘‘ (المائدہ : ۵۰) 
(بشکریہ ’’نوائے قانون‘‘ اسلام آباد)

شریعت بل کی دفعہ ۳ کے بارے میں علماء کرام کے ارشادات

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

استفتاء

کیا فرماتے ہیں مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی قومی اسمبلی نے ’’شریعت بل‘‘ کے عنوان سے حال ہی میں ایک مسودہ قانون کی منظوری دی ہے جس کی دفعہ ۳ میں شریعت اسلامیہ کی بالادستی کو ان الفاظ کے ساتھ تسلیم کیا گیا ہے۔

’’شریعت یعنی اسلام کے احکام جو قرآن و سنت میں بیان کیے گئے ہیں، پاکستان کا بالادست قانون (سپریم لاء) ہوں گے بشرطیکہ سیاسی نظام اور حکومت کی موجودہ شکل متاثر نہ ہو۔‘‘ (بحوالہ جنگ لاہور ۱۹ مئی ۱۹۹۱ء)

وضاحت طلب امر یہ ہے کہ کیا کسی مسلم شخص یا ادارہ کے لیے شرعی احکام کی بالادستی کو مشروط طور پر قبول کرنے کی گنجائش ہے؟ اور اگر نہیں ہے تو مذکورہ بالا کارروائی کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ امید ہے کہ آنجناب خالصتاً شرعی نقطۂ نظر سے اس امر کی وضاحت فرما کر اپنی دینی و قومی ذمہ داری سے عند اللہ و عند الناس سبکدوش ہوں گے۔

المستفتی: ابوعمار زاہد الراشدی

ڈائریکٹر الشریعہ اکادمی مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ


جوابات

جامعہ اشرفیہ لاہور

گنجائش نہیں، یہ تو بالادستی نہیں توہین ہو رہی ہے جو گناہ ہے۔ شرعی حیثیت حرام ہونے کی ہے۔ (منجانب دارالافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور)

جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور

’’بشرطیکہ سیاسی نظام اور حکومت کی موجودہ شکل متاثر نہ ہو‘‘ کی قید بالکل غلط اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بغاوت کے مترادف ہے۔ اس قید کو لازماً حذف ہونا چاہیے۔ (از مولانا مفتی عبد اللطیف، جامعہ نظامیہ رضویہ اندرون لوہاری گیٹ لاہور)

دارالعلوم تعلیم القرآن راولپنڈی

قرآن و سنت کے مبینہ احکام کی بالادستی کو کسی شرط سے معلق کرنا غلط ہے اور گمراہی کی علامت ہے۔ (از مولانا قاضی حبیب الرحمان، مفتی تعلیم القرآن)

ہفت روزہ الاعتصام لاہور

اس دفعہ کے آخری الفاظ نے یقیناً قرآن و حدیث کی بالادستی کو ختم کر کے عملاً پارلیمنٹ کی بالادستی کو قائم کر دیا ہے۔ کہنے کو یہ ایک سطری عبارت ہے لیکن اپنے مفہوم و نتائج کے اعتبار سے نفاذ شریعت کی راہ میں سد سکندری اور کوہ ہمالیہ سے بھی بڑی رکاوٹ ہے۔ (از مولانا حافظ صلاح الدین یوسف)

سیال شریف

یہ شرط غلط ہے، اگر اس شرط کو قائم رکھا گیا تو فیصلہ جات بجائے شریعت اقدس کی اتباع میں دیے جانے کے سیاسی، حکومتی اور غیر شرعی صورتوں میں ہو کر نہ صرف اسلامی معاشرہ کو تباہ کیا جائے گا بلکہ شریعت اسلامیہ سے مذاق ہوگا۔ (از مولانا غلام اللہ)

مدرسہ انوار العلوم ملتان

قرآن و سنت کی بالادستی کو مشروط طور پر تسلیم کرنا کتاب و سنت کے ساتھ سنگین مذاق کے مترادف ہے۔ (از مولانا مفتی غلام مصطفیٰ رضوی)

جامعہ رحمانیہ لاہور

یہ شرط سیکولر ذہن کی عکاسی کرتی ہے جو قرآن و سنت کی بالادستی کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے لیکن اس سے انکار کا حوصلہ بھی نہیں رکھتا۔ کوئی مسلمان ایسی بات نہیں کر سکتا۔ (از مولانا محمد اجمل خان)

مدرسہ نجم المدارس کلاچی

وہ لوگ جنہوں نے اکثریت کے بل بوتے پر یہ شرط لگا دی ہے کہ موجودہ سیاسی نظام اور حکومت کی موجودہ شکل بہرصورت متاثر نہیں ہوگی، ان میں جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ سیاسی نظام اور اسلامی حکومت کی موجودہ شکل اسلام کے خلاف ہے اور اس کے باوجود یہ اسلام کے سیاسی نظام اور اسلامی حکومت کی تشکیلات سے بہتر ہے معاذ اللہ تو یہ عقیدہ اسلام کی نفی ہے اور اس عقیدے کے باوجود ان کا مسلمان ہونے کا دعویٰ الحاد اور زندقہ ہے۔ اور اگر یہ سمجھتے ہوں کہ اسلام کے خلاف تو ہے مگر ہم اسے اپنانے پر دنیوی مفادات وغیرہ کی بنا پر مجبور ہیں تو یہ فسق و فجور ہے اور ایسے لوگوں کے ہاتھ میں بہ اختیار خود زمام اقتدار دینا بالکل ناجائز ہے بشرطیکہ دوسرا ان سے نسبتاً کم درجہ کا فاسق ہو۔ (از مولانا قاضی عبد الکریم)

بیر شریف لاڑکانہ

اس سے ایمان ضائع ہوگا۔ (از مولانا عبد الکریم قریشی)

جامعہ مدنیہ لاہور

اس (شرط) کے یہ معنی ہیں کہ سیاسی نظام اور حکومت کی موجودہ شکل اصل الاصول ہے اور اسلام کے احکام ثابتہ من القرآن والحدیث اس کے تابع ہیں۔ جو احکام اسلام اس اصل الاصول سے متصادم ہوں گے وہ اس اصل الاصول سے منسوخ سمجھے جائیں گے۔ یہ صریح کفر ہے۔ ایک تو یہ کہ اسلام کو اپنے خود ساختہ قوانین کے تابع کیا گیا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اسلام بجمیع احکامہ اصل الاصول اور حکومت و سیاسی نظام کے جمیع خود ساختہ قوانین اس کے تابع ہیں۔ اس کے جو قوانین اسلام سے متصادم ہوں وہ کالعدم ہوں کیونکہ متصادم خود بڑی معصیت ہیں۔ اسلامی احکام پر کسی بھی دوسری چیز کو ترجیح دینا اور اسلام کے مقابلہ میں ان کو تسلیم کرنا عین کفر ہے۔ الاسلام یعلو ولا یعلی۔ (از مولانا مفتی عبد الحمید)

دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک

اس تسلیم کی لپیٹ میں جو دجل ہے اس کا سمجھنا سیاست دان لوگوں کا منصب ہے۔ میرے خیال میں یہ الفاظ معھودہ استثناء الکل من الکل کی طرح بہ ظاہر تسلیم اور اقرار ہے اور درحقیقت انکار اور فرار ہے۔ (از مولانا مفتی محمد فرید)

دارالعلوم تعلیم القرآن پلندری

ایک مسلمان کے لیے بطور عقیدہ کے تو شریعت کو سپریم لاء تسلیم کرنا لازمی ہے۔ اگر عملی طور پر اس سے کوئی کوتاہی ہوتی ہے تو وہ بھی سہوًا یا اضطرارًا صرف نظر کے لائق ہو سکتی ہے مگر عمدًا یہ بھی قابل مواخذہ ہوگی۔ (از مولانا محمد یوسف خان)

جامعہ محمدی شریف جھنگ

اسلامی احکام کو قبول کرنے کے لیے یہ شرط لگانا بالکل غلط ہے۔ احکام اسلام جو قرآن و سنت پر مبنی ہیں ان تمام کا تسلیم کرنا مسلمان پر علی اطلاق واجب ہے۔ اسلامی احکام کسی شرط کے ساتھ مشروط نہیں۔ (از مولانا محمد نافع)

مرکزی جامع مسجد گجرات

صورت مسئولہ صریح منافقت ہے اور قرآن و سنت کے آئین و قانون سے کھلی بغاوت ہے۔ (از مولانا سید عنایت اللہ شاہ بخاری)

مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ

شرعی احکام کی بالادستی کو مشروط طور پر قبول کرنا دراصل شریعت کی بالادستی سے انکار کے مترادف ہے اور الحاد و زندقہ اسی کو کہتے ہیں۔ (از مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان)

مرکزی جامع مسجد چکوال

مندرجہ دفعہ میں شریعت کی بالادستی کو مشروط کر کے اس کی بالادستی کی نفی کر دی گئی ہے اور معاملہ برعکس ہوگیا ہے۔ گویا کہ اصل بالادستی مروجہ سیاسی نظام اور حکومت کی موجودہ شکل کو حاصل ہے، العیاذ باللہ۔ (از مولانا قاضی مظہر حسین)

خدام الدین لاہور

حکومت نے دفعہ ۳ میں شرط عائد کر کے پورے شریعت بل پر بلڈوزر پھیر دیا ہے اور قرآن کریم کی واضح آیات کی روشنی میں ایسی شرط کفر کے مترادف ہے۔ (از مولانا حمید الرحمٰن عباسی)

جامع مسجد گلبرگ پشاور

اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن و سنت مغربی نظام سے متصادم ہونے کی صورت میں ملک کے لیے سپریم لاء نہیں۔ اس میں مغربی نظام کو قرآن و سنت پر فوقیت دی گئی ہے جو ظلم اور کفر کے مترادف ہے۔ (از پروفیسر محمد امین درانی)

تحریک نفاذ فقہ جعفریہ ۔ نفاذ اسلام کی جدوجہد میں معاون یا رکاوٹ؟

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی


ماہنامہ الشریعہ فروری ۱۹۹۰ء میں شامل مضمون کی مکرر اشاعت
مضمون ملاحظہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں


علماء اور قومی سیاست

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(ورلڈ اسلامک فورم کی ماہانہ فکری نشست اکتوبر ۱۹۹۳ء کو بعد نماز عشاء جامع مسجد صدیقیہ سیٹلائیٹ ٹاؤن گوجرانوالہ میں جمعیت اہل سنت کے زیراہتمام منعقد ہوئی جس میں فورم کے چیئرمین مولانا زاہد الراشدی نے ’’علماء اور قومی سیاست‘‘ کے موضوع پر مندرجہ ذیل خطاب کیا۔ ادارہ)



بعد الحمد والصلوٰۃ۔ میں سب سے پہلے جمعیت اہل سنت گوجرانوالہ کا شکر گزار ہوں کہ اس نے آپ حضرات سے ملاقات و گفتگو کا موقع فراہم کیا۔ مولانا حافظ گلزار احمد آزاد کے ساتھ آج کی اس گفتگو کے لیے ’’علماء اور قومی سیاست‘‘ کا موضوع طے ہوا ہے اور میں اس کے حوالہ سے کچھ ضروری گزارشات آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں۔ یہ معروضات بنیادی طور پر تین پہلوؤں پر مشتمل ہو گی:

  1. سیاست کے ساتھ علماء کا تعلق کیا ہے؟
  2. قومی سیاست میں اب تک علماء کا رول کیا ہے اور اس کے ثمرات و نتائج کیا ہیں؟
  3. آئندہ سیاسی محاذ پر علماء کے آگے بڑھنے کے امکانات کیا ہیں؟

جہاں تک علماء اور سیاست کے باہمی تعلق کا سوال ہے تو یہ بات بطور اصول پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ سیاست کے ساتھ علماء کا تعلق دینی اور نظریاتی بھی ہے اور عملی اور واقعاتی بھی۔ دینی اور نظریاتی تعلق یہ ہے کہ علمائے کرام اپنے منصب اور ذمہ داریوں کے لحاظ سے حضرات انبیائے کرام علیہم السلام کی نیابت و وراثت کی ذمہ داریاں سنبھالے ہوئے ہیں۔ اور بخاری شریف کی ایک روایت کے مطابق جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ:

’’بنی اسرائیل کی سیاسی قیادت انبیاء کرامؑ کرتے تھے، جب ایک نبی دنیا سے چلا جاتا تو دوسرا نبی اس کی جگہ آجاتا۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا بلکہ خلفاء ہوں گے۔‘‘

گویا سیاسی قیادت حضرات انبیاء کرامؑ کے منصبی فرائض میں شامل تھی اور چونکہ جناب نبی اکرمؐ اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبر ہیں اور ان کے بعد کسی نئے نبی نے نہیں آنا اس لیے ان کی سیاسی قیادت والی ذمہ داری خلفاء کو منتقل ہو گئی ہے۔ جبکہ اس وقت دنیا میں کسی جگہ بھی خلافت اسلامیہ کا نظام موجود نہیں ہے اس لیے جہاں دوسرے بہت سے امور میں علمائے کرام جناب نبی کریمؐ کی نیابت و وراثت کے ذمہ دار ہیں، امت کی سیاسی راہنمائی بھی وارثینِ نبوت ہونے کے حوالے سے علمائے کرام کے فرائض میں شامل ہے اور وہ اس بارے میں مسئول اور ذمہ دار ہیں۔

سیاست کے ساتھ علماء کے واقعاتی تعلق پر برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش کی تاریخ شاہد ہے۔ یہاں علمائے کرام نے امت مسلمہ کی سیاسی راہنمائی جس جرأت و استقلال کے ساتھ کی ہے وہ تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ حضرت مجدد الفؒ ثانی کو دیکھ لیجئے ! انہوں نے کس عزیمت و استقامت کے ساتھ اکبر بادشاہ کے خودساختہ ’’دینِ الٰہی‘‘ کے خلاف جدوجہد کی اور بالآخر اسے شکست دینے میں کامیاب ہوگئے۔ امام ولی اللہ دہلویؒ اور ان کے خانوادہ کی سیاسی جدوجہد پر ایک نظر ڈال لیجئے! حضرت شاہ ولی اللہؒ نے مسلمانوں کے گرتے ہوئے اقتدار کو کس طرح سہارا دینے کی کوشش کی اور ان کے بگڑے ہوئے نظام کی اصلاح کے لیے کیا کیا جتن کیے۔ مرہٹوں کے ہاتھوں مسلمانوں کی تباہی کے آثار دیکھ کر احمد شاہ ابدالیؒ کو آواز دی جس نے آکر پانی پت کے میدان میں مرہٹوں کا زور توڑا۔ پھر فرنگی اقتدار قائم ہونے پر شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ نے اس کے خلاف جہاد کا فتویٰ دیا اور انہی کی ہدایت و تربیت کے باعث سید احمد شہیدؒ اور شاہ اسماعیل شہیدؒ نے حریت کے لیے پہلا مسلح معرکہ بپا کیا۔ اس کے بعد ۱۸۵۷ء کے جہاد آزادی میں علماء نے قائدانہ کردار ادا کیا جس کے نتیجہ میں انہیں فرنگی کے وحشیانہ انتقام کا نشانہ بننا پڑا۔ پھر حضرت شیخ الہند مولانا محمود الحسن دیوبندیؒ کی تحریک ریشمی رومال، تحریک خلافت، جمعیت علماء ہند، مجلس احرار اسلام اور دیگر حوالوں سے آزادی کی جدوجہد میں علماء نے قربانیوں کی ایک تاریخ رقم کی۔

یہ ایک تاریخی تسلسل ہے جس کی تفصیل بیان کرنا اس وقت مقصود نہیں ہے، صرف یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اس خطۂ زمین میں جسے برصغیر کہا جاتا ہے، سیاسی جدوجہد اور تحریک آزادی میں علماء نے ایثار و قربانی کا جو شاندار حصہ ادا کیا ہے، ملت کا کوئی اور طبقہ اس بارے میں ان کی برابری کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ اور اس سلسلہ کی آخری کڑی تحریک پاکستان میں علامہ شبیر احمدؒ عثمانی، مولانا اطہر علیؒ، مولانا ظفر احمدؒ عثمانی، مولانا عبد الحامدؒ بدایونی اور مولانا ابراہیم میرؒ سیالکوٹی کی قیادت میں علماء کے ایک بہت بڑے طبقہ کا متحرک کردار ہے جس کے بغیر تحریک پاکستان کا تذکرہ مکمل نہیں ہو سکتا۔

الغرض سیاست کے ساتھ علماء کا تعلق دینی بھی ہے کہ امت مسلمہ کی سیاسی راہنمائی ان کے مذہبی فرائض میں شامل ہے، اور واقعاتی بھی ہے کہ ان کے اسلاف نے سیاسی محاذ پر جدوجہد اور قربانیوں کا ایک ایسا مربوط تسلسل قائم کیا ہے جس کے ساتھ عملی وابستگی قائم رکھے بغیر علماء اپنے ماضی قریب کے بزرگوں کے ساتھ بھی تعلق کا اظہار نہیں کر سکتے، اور یہی علماء اور سیاست کے باہمی تعلق کا سب سے زیادہ واضح اور روشن پہلو ہے۔

حضراتِ محترم! اب میں گفتگو کے دوسرے نکتہ کی طرف آتا ہوں کہ پاکستان کی قومی سیاست میں علماء کا اب تک کیا رول رہا ہے اور اس کے ثمرات و نتائج کیا ہیں؟ قیام پاکستان کے بعد سب سے پہلا مرحلہ اس مملکت خداداد کی نظریاتی حیثیت کے تعین کا تھا کیونکہ برصغیر کی تقسیم اور پاکستان کے نام سے ایک نئی مملکت کے وجود کا جواز ہی صرف یہ پیش کیا گیا تھا کہ مسلمان ایک الگ قوم ہیں اور ان کے لیے اپنے مذہب اور تہذیب و تمدن کے مطابق زندگی بسر کرنا ضروری ہے جو الگ وطن کے قیام کے بغیر ممکن نہیں۔ اسی نظریہ پر تحریک منظم ہوئی اور قیام پاکستان عمل میں آیا لیکن پاکستان قائم ہوتے ہی اس کی پہلی دستور ساز اسمبلی میں سیکولر دستور کی باتیں شروع ہوگئیں۔ یہ ایک نازک مرحلہ تھا اور افسوسناک صورتحال تھی جس کا سامنا اسمبلی کے اندر شیخ الاسلام علامہ شبیر احمدؒ عثمانی کو کرنا پڑا اور اسمبلی سے باہر مولانا مودودیؒ اور دیگر علماء نے اس فتنہ کا مقابلہ کیا اور بالآخر مولانا شبیر احمدؒ عثمانی دستور ساز اسمبلی میں ’’قراردادِ مقاصد‘‘ منظور کرانے میں کامیاب ہوگئے جس میں خدا تعالیٰ کی حاکمیت اعلیٰ کو تسلیم کرتے ہوئے حکومت اور پارلیمنٹ کے لیے یہ کردار متعین کیا گیا کہ وہ خدا تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود کے اندر رہتے ہوئے ملک کا نظام چلائیں گی۔ یہ پاکستان کی نظریاتی حیثیت کا تعین تھا جس نے طے کر دیا کہ پاکستان سیکولر نہیں بلکہ اسلامی ریاست ہے۔

اس کے بعد فرنگی کے خودکاشتہ پودے قادیانیت کی سازشوں کے خلاف تحریک ختم نبوت کا مرحلہ پیش آیا جس میں علماء اور عوام نے بے پناہ قربانیاں دیں۔ پھر ۱۹۵۶ء اور ۱۹۶۲ء کے دستور کے حوالہ سے مذہبی جماعتوں کی جدوجہد ہے۔ اور اس کے بعد ۱۹۷۰ء کے انتخابات میں قائم ہونے والی دستور ساز اسمبلی کا معرکہ ہے جس میں مولانا مفتی محمودؒ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ، مولانا عبد الحقؒ، مولانا محمد ذاکرؒ، مولانا شاہ احمدؒ نورانی، مولانا عبد المصطفٰی الازہریؒ، پروفیسر غفور احمد اور ان کے رفقاء کو ایک ایسی اکثریتی پارٹی کا سامنا تھا جو اسلام کو صرف مذہب کے خانے تک محدود رکھتے ہوئے سیاست میں جمہوریت اور معیشت میں سوشلزم کو اپنا مقصود و منزل قرار دیے ہوئے تھی۔ اس لیے انہیں یہ جنگ بڑی جرأت و استقامت کے ساتھ لڑنا پڑی، اسمبلی کی کاروائی کا بائیکاٹ ہوا اور اسمبلی سے باہر رائے عامہ کی قوت کو حرکت میں لانا پڑا اور اسٹریٹ پاور کو منظم کرنا پڑا تب کہیں جا کر ان راہنماؤں کو دستور کا قبلہ درست رکھنے میں کامیابی حاصل ہوئی۔ چنانچہ ۱۹۷۳ء کے دستور میں ملک کو اسلامی جمہوریہ پاکستان قرار دیتے ہوئے اسلام کو ملک کا سرکاری مذہب تسلیم کیا گیا اور ملک کے تمام قوانین کو قرآن و سنت کے سانچے میں ڈھالنے کا دستوری وعدہ قوم کے ساتھ کیا گیا۔ اس پر عملدرآمد ہوا یا نہیں، یہ الگ بات ہے، لیکن ملک کی اسلامی نظریاتی حیثیت کا تحفظ ہوگیا اور علماء اسمبلی میں اقلیت میں ہونے کے باوجود اپنی جدوجہد میں سرخرو ہوئے۔

یہاں ایک بات کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ علماء اس ملک میں کبھی انتخابی قوت نہیں رہے، اسمبلیوں میں علماء کا وجود نمائندگی کی حد تک محدود رہا ہے، ان کی اصل قوت ہمیشہ رائے عامہ اور اسٹریٹ پاور رہی ہے۔ اور یہ رائے عامہ کی قوت ہی تھی جس نے علماء کو اسمبلی میں تھوڑی تعداد میں ہونے کے باوجود اکثریت پر کامیابی دلائی۔ حتیٰ کہ مولانا مفتی محمودؒ جب صوبہ سرحد کے وزیراعلیٰ تھے اس وقت بھی ان کے پاس چالیس کے ایوان میں صرف چار یا پانچ سیٹیں تھیں لیکن اس کے باوجود وہ حکومت بنانے اور اس کی پالیسی کو کنٹرول کرتے ہوئے بعض اسلامی اصلاحات نافذ کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ ۱۹۷۳ء کے دستور کی تشکیل کا مرحلہ آپ کے سامنے ہے، اس کے بعد ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت میں بھی ایسا ہوا۔ اسمبلی میں علماء کی قوت تھوڑی تھی، چند ارکان تھے، لیکن اسمبلی سے باہر رائے عامہ کی قوت ان کی پشت پر تھی، اسٹریٹ پاور ان کے ساتھ تھی اس لیے انہیں اس محاذ پر بھی کامیابی ہوئی اور وہ قادیانیوں کو دستوری طور پر غیر مسلم قرار دلوانے میں کامیاب ہوگئے۔

پاکستان میں علماء اور دینی قوتوں کی حکمت عملی یہ رہی ہے کہ انہوں نے رائے عامہ کی قوت پر اپنی گرفت قائم رکھی ہے اور اسمبلی میں نمائندگی کی حد تک موجود رہے ہیں۔ اس حکمت عملی کے باعث انہیں قرارداد مقاصد، ۱۹۷۳ء کے دستور کی اسلامی دفعات اور ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت میں کامیابی حاصل ہوئی۔ لیکن اب کچھ عرصہ سے صورتحال تبدیل ہوتی جا رہی ہے بلکہ ہو چکی ہے۔ اسٹریٹ پاور ان کی گرفت میں نہیں رہی اور اتنی بڑی قیمت ادا کرنے کے بعد وہ اپنی انتخابی قوت میں بھی اضافہ نہیں کر پائے۔ انتخابی قوت جوں کی توں ہے بلکہ کچھ کم ہوئی ہے جبکہ رائے عامہ کی قوت ہاتھ سے نکل گئی ہے، یہ ایک بڑا المیہ ہے جس کے اسباب کا جائزہ لینا ہوگا۔

حضراتِ محترم! حقائق تلخ ہوتے ہیں اور میری یہ کمزوری ہے کہ دوٹوک بات کرنے کا عادی ہوں اس لیے میری کسی گزارش سے کسی دوست کو تکلیف پہنچے تو اس کے لیے پیشگی معذرت خواہ ہوں لیکن جس بات کو صحیح سمجھتا ہوں اسے نہیں چھپاؤں گا اور اپنے دل کا درد آپ حضرات کے سامنے ضرور رکھوں گا۔ اصل قصہ یہ ہے کہ ہم نے یعنی سیاسی راہنمائی کا فریضہ سرانجام دینے والے علماء نے اپنے موقف، پالیسی اور کردار پر اعتماد کی فضا قائم نہیں رہنے دی۔ پہلے یہ بات نہیں تھی، لوگ ہم سے اختلاف رکھتے تھے لیکن ہماری راست گوئی، استقامت اور دیانت پر اعتماد بھی کرتے تھے اور اسی اعتماد کے باعث ہمارا ساتھ دیتے تھے۔ لیکن جب سے ہم نے قلابازیاں کھانی شروع کر دی ہیں اعتماد کی یہ فضا ختم ہوتی جا رہی ہے۔ ہم آج ایک مسئلہ کے بارے میں کچھ کہہ رہے ہوتے ہیں تو ہمیں قطعاً یاد نہیں ہوتا کہ اسی مسئلہ کے بارے میں تین ماہ قبل اس سے کچھ مختلف بات ہم کہہ چکے ہیں، اور اس کا بھی اندازہ نہیں ہوتا کہ دو ماہ بعد شاید کچھ اور کہنا پڑ جائے۔ ان قلابازیوں نے ہمارا اعتماد مجروح کیا ہے۔ عام آدمی تو بے چارہ عام آدمی ہے خود ہمارے ورکر کو اکثر اوقات یہ سمجھنے میں دشواری پیش آتی ہے کہ وہ لیڈر کی کون سی بات کو اصل سمجھے اور کس بات کو وقتی حالات کا تقاضا قرار دے۔ پھر لابیوں کی سیاست نے ہمارے کردار اور دیانت پر بھی اعتماد قائم نہیں رہنے دیا۔ ہماری پہچان اب سعودیہ اور لیبیا کی لابیوں کے حوالے سے ہونے لگی ہے۔ اس صورتحال نے غریب کارکن اور نظریاتی ورکر کو پریشان کر کے رکھ دیا ہے، وہ اندر سے بکھر گیا ہے اور اس کا دل کرچی کرچی ہو کر رہ گیا ہے۔

’’شریعت بل‘‘ کا معرکہ تو آپ کو یاد ہوگا کہ اس کا حشر ہمارے راہنماؤں کے ہاتھوں کیا ہوا؟ شریعت بل کی بنیادی دفعہ قرآن و سنت کو ملک کا بالاتر قانون (سپریم لاء) قرار دلوانا تھا۔ یہ سامنے آیا تو اس کے پیش کرنے والے بھی علماء تھے اور سب سے پہلے اس کی مخالفت بھی علماء نے کی۔ اسے ’’شرارت بل‘‘ قرار دینے والے بھی علماء تھے۔ اکثر دینی جماعتوں کا ایک دھڑا شریعت کی بل کی حمایت اور ہر جماعت میں اس کا متوازی دھڑا شریعت بل کی مخالفت کر رہا تھا، ایک عرصہ تک لوگ یہ تماشا دیکھتے رہے۔ پھر خدا خدا کر کے ایک وقت آیا کہ تمام مذہبی جماعتیں شریعت بل پر متفق ہوئیں اور سینٹ نے شریعت بل کا متفقہ مسودہ منظور کر لیا۔ یہ پیپلز پارٹی کا دور تھا جس میں مسلم لیگ نے سینٹ میں اپنی اکثریت کے باعث اسے منظور کرا دیا لیکن قومی اسمبلی میں یہ بل مقررہ وقت کے اندر پیش نہ ہو سکا اور اس سے پہلے قومی اسمبلی ٹوٹ گئی۔ پھر مسلم لیگ کی اپنی حکومت آئی، اس نے خود سینٹ میں اپنے منظور کردہ شریعت بل کا تیاپانچہ کر کے رکھ دیا۔ اس نے سینٹ کا منظور کردہ شریعت بل مسترد کر دیا جس کی منظوری کے لیے سینٹ میں اسی مسلم لیگ کی پارلیمانی پارٹی نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ اب اپنی حکومت آنے پر مسلم لیگ نے قومی اسمبلی میں شریعت بل کا ایک نیا مسودہ پیش کر دیا جس میں شریعت بل کی بنیادی دفعات کو مسخ کر دیا گیا تھا۔ اس پر ملک کی تمام مذہبی جماعتوں کا اجلاس منصورہ میں ہوا، تمام جماعتیں شریک ہوئیں، حتیٰ کہ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ بھی شریک ہوئی اور سب نے مل کر متفقہ فیصلہ کیا مسلم لیگی حکومت کے پیش کردہ سرکاری شریعت بل پر بات نہیں ہوگی اور سینٹ کے منظور کردہ متفقہ شریعت بل کے لیے جدوجہد کی جائے گی۔ یہ فیصلہ تحریری شکل میں موجود ہے اور اس پر تمام مذہبی جماعتوں کے قائدین کے دستخط بھی موجود ہیں۔ لیکن عملاً کیا ہوا؟ ابھی اس فیصلہ پر ہونے والے دستخطوں کی سیاہی خشک نہیں ہوئی تھی کہ اسمبلی میں خود ان جماعتوں نے اس فیصلہ کی دھجیاں اڑا دیں۔ سرکاری شریعت بل پیش ہوا، صرف ایک جماعت کے ارکان اسمبلی نے اس مسودہ کا بائیکاٹ کیا جبکہ باقی تمام جماعتیں اس پر بحث میں شریک ہوئیں، رسمی اختلاف بھی کیا اور منظوری میں شرکت ہو گئی۔ اس سرکاری شریعت بل میں کیا ہے؟ سراسر کفر و ارتداد ہے اور اس میں وہ رسوائے زمانہ دفعہ بھی شامل ہے جس میں قرآن و سنت کی بالادستی سے ملک کے سیاسی نظام اور حکومتی ڈھانچے کو مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ شریعت بل کے سرکاری مسودہ کی پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد شریعت بل کی جدوجہد کا حشر یہ ہوا کہ اس جدوجہد کے دو ذمہ دار بزرگوں نے مسلم لیگ کے ووٹوں سے سینٹ کی ممبر شپ حاصل کر لی۔ ایک بزرگ وزارت مذہبی امور پر فائز ہوگئے اور ایک نے بھاگتے چور کی لنگوٹی سہی کے مصداق اسلامی نظریاتی کونسل کی رکنیت پر ہی قناعت کر لی۔ میں یہ تو کر سکتا ہوں کہ اس صورتحال پر اپنی رائے نہ دوں لیکن واقعات کی ترتیب کو بدلنا میرے بس کی بات نہیں ہے، نہ واقعات کے درمیان فاصلوں کو لمبا کر سکتا ہوں اور نہ ایک کارکن کو، جو پہلے سے زیادہ سیاسی شعور اور کھلی آنکھیں رکھتا ہے، واقعات کی اس ترتیب پر رائے قائم کرنے سے روک سکتا ہوں۔

حضراتِ محترم! یہ ہے میرے دل کا درد جسے میں نے آج آپ کے سامنے کھول کر رکھ دیا ہے اور اب میں آتا ہوں حالیہ انتخابات میں مذہبی جماعتوں کے رول کی طرف جو آج ملک کا سب سے اہم موضوع گفتگو ہے اور کم و بیش ہر مجلس میں اس پر اظہارِ خیال ہو رہا ہے:

اس کے بعد علماء سے توقع رکھنے کی کون سی بات باقی رہ گئی تھی؟ اور یہ بات بھی نہیں کہ میاں محمد نواز شریف نے یہ سب کچھ کسی مجبوری کے تحت کیا ہو بلکہ یہ سب کچھ ان کی پالیسی کا حصہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ الیکشن میں انہوں نے اسلام اور شریعت کا نام تک اپنی انتخابی مہم میں نہیں لیا۔ اس کے برعکس وہ یہ کہتے رہے کہ جو کچھ وہ کر رہے ہیں وہی اسلام ہے۔ اس کے علاوہ ان کے منشور میں، ان کی انتخابی تقریروں میں اسلام کے نفاذ کا، شریعت کی بالادستی کا اور قرآن و سنت کے احکام کی عملداری کا کہیں کوئی تذکرہ نہیں تھا۔ اس لیے اگر علماء نے اور مذہبی جماعتوں نے اس الیکشن میں نواز لیگ کا ساتھ نہیں دیا تو کوئی غلط کام نہیں کیا بلکہ اپنی ذمہ داری کو نبھایا ہے۔ اس کے برعکس اگر دینی جماعتیں اس ساری صورتحال کے باوجود الیکشن میں میاں محمد نواز شریف کا ساتھ دیتیں تو میرے نزدیک یہ دینی بے حمیتی کا مظاہرہ ہوتا۔

البتہ مذہبی جماعتوں کا اصل قصور کچھ اور ہے جس نے انہیں موجودہ مقام تک پہنچایا ہے اور وہ قومی سیاست میں عبرت کا عنوان بن کر رہ گئی ہیں۔ اس میں اور کسی کا کوئی قصور نہیں ہے، جو کچھ ہے سب مذہبی جماعتوں کا اپنا کیا دھرا ہے۔ میں اس الیکشن کے دوران ملک میں موجود نہیں تھا، جون کے آغاز میں برطانیہ چلا گیا تھا اور اکتوبر کے وسط میں واپس آیا ہوں لیکن الیکشن سے لاتعلق نہیں رہا، اپنا حصہ ادا کر کے گیا ہوں اور اسے اب آپ کے سامنے لانا چاہتا ہوں تاکہ ریکارڈ میں آجائے۔ پاکستان کی تاریخ یہ ہے کہ اس ملک کے عوام نے مذہبی قوتوں کو کبھی مایوس نہیں کیا لیکن اس وقت جب مذہبی قوتیں متحد ہو کر سامنے آئی ہیں۔ ایسا بار بار ہوا ہے کہ کسی دینی اور قومی مسئلہ پر مذہبی قوتیں متحد ہوئیں تو پوری قوم ان کی پشت پر آکھڑی ہوئیں۔ لیکن مذہبی جماعتیں متحد نہ رہ سکیں جس کی وجہ سے اب ان کے اکٹھے ہونے پر بھی لوگ آسانی سے اعتماد نہیں کرتے۔

اس سال جب جناب غلام اسحاق خان نے پہلی بار قومی اسمبلی توڑی اور میر بلخ شیر مزاری صاحب نے نگران وزیراعظم کی حیثیت سے ملک میں عام انتخابات کا اعلان کیا ہے تو میں پاکستان میں تھا۔ اس موقع پر لاہور میں متحدہ علماء کونسل کے دفتر میں مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ حضرات کا اجتماع ہوا، میں بھی اس میں شریک تھا۔ اس بات پر غوروخوض ہوا کہ الیکشن میں مذہبی قوتوں کو ایک پلیٹ فارم پر مجتمع کرنے کی کوئی صورت کی جائے۔ ہمارا تجزیہ یہ تھا کہ اگر مذہبی قوتیں متحد ہو کر ایک پرچم تلے اس الیکشن میں حصہ لیتی ہیں تو قومی اسمبلی میں بیس سے پچیس تک سیٹیں ان کے پاس ہوں گی، اس طرح توازن کی قوت ان کے ہاتھ میں ہوگی اور وہ حکومت سازی اور قانون سازی میں مؤثر کردار ادا کر سکیں گی۔ اور اگر وہ اس کے بعد اگلے الیکشن تک متحد رہنے کا کارنامہ سرانجام دے سکیں تو اگلے انتخابات میں فیصلہ کن پوزیشن حاصل کرنا بھی ان کے لیے مشکل نہیں ہوگا۔ اس تجزیہ کو بنیاد بنا کر ہم نے دینی جماعتوں کے قائدین سے ملاقاتیں کرنے کا فیصلہ کیا۔ سب سے پہلا وفد جو پندرہ سولہ ذمہ دار حضرات پر مشتمل تھا منصورہ میں جناب قاضی حسین احمد صاحب سے ملا۔ وفد نے متکلم کی ذمہ داری مجھے ہی سونپ دی اور میں نے قاضی صاحب موصوف کے ساتھ اپنے تعلقات کی گرم جوشی بلکہ ایک حد تک بے تکلفی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کسی تمہید کے بغیر کھلی کھلی گزارشات پیش کر دیں۔ جن کا خلاصہ یہ ہے کہ ہم چاہتے ہیں بلکہ قوم چاہتی ہے کہ مذہبی جماعتیں متحد ہو کر ایک پلیٹ فارم سے انتخاب میں حصہ لیں اور اس سلسلہ میں ہم آپ کے پاس یہ درخواست لے کر آئے ہیں کہ مہربانی فرما کر آپ پروٹوکول چھوڑ کر دینی جماعتوں کے قائدین کے پاس خود تشریف لے جائیں اور کسی عنوان سے بھی انہیں یکجا بٹھا کر اس اتحاد کے لیے مل جل کر کوئی عملی صورت نکالیں، اگر آپ فرمائیں تو ہم بھی اس کام لیے آپ کے ساتھ چلنے کو تیار ہیں۔ قاضی صاحب نے ہمارے موقف سے اصولی طور پر اتفاق کیا اور فرمایا کہ جماعت اسلامی کی مجلس شوریٰ ان دنوں اسی مسئلہ پر بحث کر رہی ہے اس کے لیے ایک کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جس کے اجلاس جاری ہیں، میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ اس کمیٹی کی رپورٹ آنے کے بعد آپ حضرات کو اعتماد میں لے کر اس سلسلہ میں حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ ہم قاضی صاحب موصوف سے یہ بات سن کر اطمینان کے ساتھ گھروں میں آگئے کہ اب اگلا مرحلہ قاضی صاحب کی طرف سے ہمیں اعتماد میں لینے کے بعد سامنے آئے گا لیکن چند ہی دنوں بعد قاضی حسین احمد صاحب کی طرف سے ’’پاکستان اسلامک فرنٹ‘‘ کے قیام کا اعلان سامنے آگیا جس کے لیے نہ کسی اور مذہبی جماعت سے مشورہ کی ضرورت محسوس کی گئی تھی اور نہ ہمارے ساتھ ہمیں اعتماد میں لینے کا وعدہ پورا کیا گیا تھا۔

پاکستان اسلامک فرنٹ کس طرح بنا، اسے آگے بڑھانے کے لیے کون سے طریقے اختیار کیے گئے اور الیکشن میں اس کا کیا حشر ہوا، یہ ایک الگ موضوعِ گفتگو ہے۔ لیکن اس مرحلہ میں اتنی گزارش ضرور کرنا چاہتا ہوں کہ میرے نزدیک قاضی صاحب کی اس حکمت عملی کے دو مقاصد تھے، ایک میں وہ کامیاب ہوئے ہیں جبکہ دوسرے میں انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ایک طرف انہوں نے میاں محمد نواز شریف کو یہ بتانا چاہا کہ میاں صاحب جماعت اسلامی کے بغیر وزیراعظم کے منصب تک نہیں پہنچ سکتے کیونکہ جماعت اسلامی میں زیادہ نشستیں حاصل کرنے کی نہ سہی لیکن مسلم لیگ کی پندرہ بیس سیٹیں خراب کرنے کی صلاحیت ضرور موجود ہے اور انتخابی نتائج گواہ ہیں کہ قاضی صاحب کو اس مقصد میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ جبکہ دوسری طرف قاضی صاحب کا مقصد مذہبی جماعتوں پر یہ واضح کرنا تھا کہ جماعت اسلامی ملک کی سب سے بڑی مذہبی قوت ہے اس لیے دوسری مذہبی جماعتیں جماعت اسلامی کے ساتھ برابر کی جماعتوں کی حیثیت کا اظہار نہ کریں بلکہ اسی کے پیچھے چل کر اپنا سیاسی مستقبل اس کے ساتھ وابستہ کر لیں۔ اس میں قاضی صاحب کو مکمل ناکامی ہوئی ہے اور ان کے تمام اندازے اور خوش فہمیاں نقش برآب ثابت ہوئی ہیں۔

قاضی حسین احمد صاحب کے علاوہ ہم اور رہنماؤں سے بھی ملے۔ مولانا عبد الستار خان نیازی سے ملاقات کی، مولانا فضل الرحمان سے ملے، مولانا سمیع الحق کی خدمت میں حاضری دی اور مولانا اعظم طارق کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا مگر مذہبی جماعتوں کو انتخابات کے لیے ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے کا کوئی دروازہ ہمیں کھلا دکھائی نہ دیا۔

حضراتِ محترم! اگر آپ اجازت دیں تو تھوڑی سی گھر کی بات بھی کر لوں۔ جمعیت علماء اسلام میرا گھر ہے اور گھر کے حوالہ سے بھی دل کے زخموں کو کریدنا چاہتا ہوں۔ مولانا عبد الحفیظ مکی ہمارے محترم دوست ہیں، شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا صاحبؒ کے خلیفہ مجاز ہیں اور مکہ مکرمہ میں رہتے ہیں۔ وہ مکہ مکرمہ سے تشریف لائے تو ہم دونوں اکٹھے مولانا فضل الرحمان اور مولانا سمیع الحق سے ملے اور جماعتی اتحاد کے لیے گزارش کی۔ دونوں کا جواب ایک ہی تھا، اندازِ بیان میں فرق ہو سکتا ہے لیکن مفہوم و مقصد ایک ہی تھا کہ جمعیت علماء اسلام کا اتحاد کوئی قابل عمل تجویز نہیں ہے۔ دونوں راہنماؤں سے ہماری دوسری گزارش یہ تھی جو میں نے ’’اضعف الایمان‘‘ کہہ کر ان کی خدمت میں پیش کی کہ کم از کم انتخابی نشستوں پر ہی مفاہمت کر لیں کیونکہ ۱۹۹۰ء کے الیکشن میں جمعیت کے دونوں دھڑوں کے باہمی مقابلہ کی وجہ سے کئی نشستیں ضائع ہو گئی تھیں۔ دونوں راہنماؤں نے اس پر اتفاق کیا کہ سیٹوں پر انتخابی مفاہمت ہو سکتی ہے اور ہم اس کے لیے کوئی عملی صورت ضرور اختیار کر لیں گے۔ لیکن بدقسمتی ہم پر غالب آگئی اور ایسا بھی نہ ہو سکا۔ میں اپنے جماعتی راہنماؤں کی سیاسی بصیرت کو آخر کن الفاظ سے تعبیر کروں کہ جو سیٹیں ۱۹۹۰ء کے الیکشن میں باہمی مقابلہ کی وجہ سے ضائع کی گئی تھیں، وہ اور ان کے ساتھ کچھ اور سیٹیں اس الیکشن میں بھی اسی گروہی کشمکش کی وجہ سے ضائع کر دی گئی ہیں۔ انتخابی نتائج کے مطابق اگر جمعیت کے دونوں دھڑے ہی انتخابی مفاہمت کر لیتے تو اس وقت قومی اسمبلی میں جمعیت کے پاس ایک درجن سے زائد نشستیں ہوتیں لیکن راہنماؤں کی شخصی انا اور دھڑے بندی کی ترجیحات نے غریب کارکنوں کی محنت اور آرزوؤں کا سربازار خون کر دیا ہے اور کوئی ان سے پوچھنے والا نہیں ہے۔

حضراتِ محترم! اب میں آخری نکتہ کی طرف آتا ہوں کہ آئندہ کیا ہوگا؟ اس سلسلہ میں دوٹوک بات عرض کرنا چاہوں گا کہ ہمیں ایک بات کا گہری سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لینا ہوگا کہ کیا ابھی ہم نے انتخابی سیاست کے میدان میں مزید کچھ عرصہ رہنا ہے؟ اگر رہنا ہے تو اس کے تقاضے پورے کرنا ہوں گے اور اس کا سب سے بڑا تقاضا یہی ہے کہ دینی جماعتیں شخصی انا اور گروہی ترجیحات کے حصار سے باہر نکلیں اور ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کرتے ہوئے متحد ہو کر دینی سیاست کا جداگانہ تشخص قائم کریں۔ اس کے سوا اب کوئی راستہ نہیں ہے اور اگر اب بھی دینی جماعتیں اپنی موجودہ روش پر قائم رہیں تو یہ بات نوٹ کر لیں کہ رائے عامہ اور اسٹریٹ پاور تو آپ کے ہاتھ سے پہلے ہی نکل چکی ہے، اگلے دو انتخابات میں رہی سہی انتخابی نمائندگی کا مسئلہ بھی صاف ہو جائے گا اور یورپ کے عیسائی پادری کی طرح پاکستان کے علماء کے لیے بھی اجتماعی زندگی کے معاملات شجر ممنوعہ بن کر رہ جائیں گے۔ حالات کا رخ اسی منزل کی طرف ہے اور کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے حالات کے سفر کو روکا نہیں جا سکتا۔ اور اگر ملک کی مذہبی جماعتیں اور دینی قائدین یہ نہیں کر سکتے اور ان کے لیے شخصی انا اور گروہی تحفظات دین و ملت کے ہر تقاضے سے بالاتر ہو چکے ہیں تو پھر خدا کے لیے انتخابی سیاست چھوڑ دیں، یہ آپ کے بس کا روگ نہیں ہے۔ اپنی رہی سہی قوت کو دھیرے دھیرے گمنامی کے سمندر میں دھکیلنے کی بجائے اس قوت سے کوئی اور کام لے لیں۔

انتخابی سیاست کوئی حرف آخر تو نہیں ہے، یہ ایک طریق کار تھا جو ہمارے اکابر نے اپنے وقت اور زمانہ کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے اختیار کیا تھا۔ یہ وحیٔ الٰہی نہیں ہے، جدوجہد کے اور بھی طریق کار ہو سکتے ہیں اور پھر یہ بات بھی سوچنے کی ہے کہ اس انتخابی سیاست کی خاطر ہمیں کہاں کہاں قربانی دینا پڑی ہے۔ ہمارے تعلیمی اداروں کی فضا مکدر ہو گئی ہے، تعلیمی نظام تباہ ہوگیا ہے، علمی استعداد کا بیڑہ غرق ہوگیا ہے، اخلاقی قدریں پامال ہو گئی ہیں اور نئی نسل کی تربیت اور ذہن سازی کے ناگزیر تقاضے غارت ہوگئے ہیں۔ اتنی بڑی قربانی کے ساتھ انتخابی سیاست کا راستہ اختیار کرنے کے بعد بھی ہم اگر اس کے تقاضے پورے نہ کر سکیں تو تف ہے ہماری سیاست پر اور نفریں ہے ہماری سیاسی بصیرت پر۔

حضراتِ محترم! میں انتخابی سیاست کا اب بھی مخالف نہیں ہوں بشرطیکہ اس کے تقاضے پورے کیے جائیں لیکن دینی جماعتوں اور قائدین کی موجودہ سیاسی روش کو سامنے رکھتے ہوئے دکھی دل کے ساتھ یہ عرض کر رہا ہوں کہ قائدین اگر اپنی اصلاح کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں تو انتخابی سیاست کا طوق گلے سے اتار دیں اور کارکنوں کو کھلا چھوڑ دیں کہ جس سیاسی جماعت میں ان کے سینگ سمائیں اس میں چلے جائیں۔ وہ اس کے سوا اور کیا کر سکتے ہیں؟ وقت گزرتا جا رہا ہے اور وہ وقت اب زیادہ دور نہیں ہے جب آپ کے ہاتھ میں یہ اختیار بھی باقی نہیں رہے گا اور وہ دن علماء کی سیاسی جدوجہد کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہوگا، اللہ تعالیٰ اس سے بچائیں، آمین۔

دوسری سالانہ الشریعہ تعلیمی کانفرنس

ادارہ

الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کی دوسری سالانہ الشریعہ تعلیمی کانفرنس ۱۴ مارچ ۹۶ء بروز جمعرات مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں انعقاد پذیر ہوئی۔ کانفرنس کی پہلی نشست کی صدارت الشریعہ اکادمی کے ڈائریکٹر جنرل مولانا زاہد الراشدی نے کی اور بزرگ عالم دین شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر نے خطاب کیا، جبکہ دوسری نشست کی صدارت مولانا مفتی محمد عیسی خان گورمانی نے کی اور سپریم کورٹ کے سابق حج جسٹس محمد رفیق تارڑ بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے، اور ان کے علاوہ مولانا زاہد الراشدی، پروفیسر غلام رسول عدیم، جناب شکور طاہر، پروفیسر عطاء الرحمن عتیق اور الحاج محمد اسلم رانا نے اس نشست سے خطاب کیا۔ کانفرنس میں شہر اور ضلع کے مختلف تعلیمی اداروں کے اساتذہ اور علماء کرام کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی اور گورنمنٹ ظفر علی خان ڈگری کالج وزیر آباد کے پروفیسر حافظ منیر احمد نے نظامت کے فرائض سر انجام دیے۔
کانفرنس کی پہلی نشست کا آغاز قاری احمد علی شاہد نے تلاوت کلام پاک سے کیا اور اس کے بعد الشریعہ اکادمی کے ڈائریکٹر حافظ محمد عمار خان ناصر نے معزز مہمانوں اور شرکاء کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ قومی مقاصد اور اسلامی معاشرہ کی تشکیل کے حوالہ سے مروجہ تعلیمی نظاموں کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے کیونکہ ریاستی نظامِ تعلیم اور دینی تعلیم دونوں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے مؤثر کردار ادا نہیں کر رہے، اور ان کی ترجیحات میں انقلابی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ دینی و عصری تعلیم کو یکجا کرنا وقت کا سب سے اہم تقاضا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں ملک کے مختلف حصوں میں تجربات کرنے والے اداروں اور شخصیات کو چاہیے کہ وہ اپنے تجربات اور جدوجہد کو مشاورت کے ایک مربوط نظام کے ساتھ منسلک کریں تاکہ اس جدوجہد کو ایک قومی تحریک کی شکل دی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ’’سالانہ الشریعہ تعلیمی کانفرنس‘‘ کے اہتمام کا مقصد بھی اسی احساس کو اجاگر کرنا ہے۔ 
شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت پوری دنیا میں مادی ترقی اور بدن کی آسائش کے لیے بہت کچھ ہو رہا ہے اور سائنسی علوم و فنون اس مقصد کے لیے وقف ہو کر رہ گئے ہیں، مگر روحانی سکون اور موت کے بعد آنے والی ابدی زندگی کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے اسباب و وسائل کی فراوانی اور سائنسی ترقی کے عروج کے باوجود انسانی معاشرہ اطمینان اور سکون سے محروم ہے اور انسان قلبی اطمینان اور ذہنی سکون کے لیے مصنوعی سہارے تلاش کرنے پر مجبور ہے۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلیمی نظام کے بنیاد بدن اور روح دونوں کی ضروریات پر رکھی جائے اور ذہنی سکون اور قلبی اطمینان کے لیے اللہ تعالیٰ اور اس کے آخری رسولؐ کی تعلیمات کی طرف رجوع کیا جائے۔ 
انہوں نے دینی خدمات کے حوالہ سے دینی مدارس کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دینی مدارس نے اسلامی علوم کی حفاظت و ترویج میں مجاہدانہ خدمات سرانجام دی ہیں لیکن اب چونکہ بین الاقوامی رابطوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور دنیا سمٹ رہی ہے اس لیے علماء کرام کو انگریزی اور دیگر بین الاقوامی زبانوں سے بھی واقف ہونا چاہے تاکہ وہ اسلام کی تعلیم و تبلیغ کا فریضہ زیادہ بہتر اور مؤثر طور پر سر انجام دے سکیں۔ انہوں نے اپنے جنوبی افریقہ اور برطانیہ کے اسفار کا حوالہ دیا اور کہا کہ ان اسفار میں انہوں نے محسوس کیا ہے کہ اگر وہ انگریزی زبان سے بھی واقف ہوتے تو وہاں کے لوگوں کو زیادہ بہتر طریقے سے اپنی بات سمجھا سکتے تھے اور مافی الضمیر کا زیادہ مؤثر اظہار کر سکتے تھے۔ 
انہوں نے علماء کرام کو تلقین کی کہ وہ گفتگو اور خطاب میں لوگوں کی ذہنی سطح اور ان کی کمزوریوں کا لحاظ رکھیں کیونکہ سختی کے ساتھ بات کرنا اور طنز و تشنیع کا انداز اختیار کرنا قرآن کریم کی تعلیم کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے فرعون جیسے باغی اور سرکش کے پاس حضرت موسٰیؑ اور حضرت ہارونؑ جیسے جلیل القدر پیغمبروں کو بھیجا تو انہیں یہ ہدایت کی کہ اس کے ساتھ نرمی سے بات کرنا شاید کہ وہ نصیحت قبول کر لے۔ 
کانفرنس کی دوسری نشست نماز ظہر کے بعد قاری ملک عبد الواحد کی تلاوت کلام پاک سے شروع ہوئی اور ماہنامہ المذاہب لاہور کے ایڈیٹر الحاج محمد اسلم رانا نے مسیحی مشنری تعلیمی اداروں کی کارکردگی پر تبصرہ کرتے ہوئے گفتگو کا آغاز کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسیحی تعلیمی ادارے بہتر معیار اور اچھے برتاؤ کے ذریعے ہمارے معاشرہ میں اثر و نفوذ بڑھا رہے ہیں اور اچھے اچھے گھرانے اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے مشنری اداروں کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ جبکہ یہ مشنری ادارے مسلمان بچوں کو مسیحیت کی طرف راغب کرنے یا کم از کم اپنے مذہب سے بے گانہ کر دینے کو اپنا مشنری ہدف بنائے ہوئے ہیں، اور اس مقصد کے لیے وہ بظاہر غیر محسوس انداز میں مختلف طریقوں سے کام لیتے ہیں۔ 
انہوں نے کہا کہ مسلمان خاندانوں کو اس صورت حال سے آگاہ کرنے کے لیے منظم جدوجہد کی ضرورت ہے لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ایسے اچھے اور معیاری تعلیمی ادارے بھی وسیع پیمانے پر قائم کیے جائیں تاکہ مسلمان خاندان اپنے بچوں کو مشنری اداروں میں بھیجنے کی ضرورت محسوس نہ کریں۔
 گورنمنٹ ڈگری کالج گوجرانوالہ کے پروفیسر غلام رسول عدیم نے ’’پاکستان میں خواندگی کی شرح اور دینی مراکزژژ کے موضوع پر مقالہ پیش کیا جس میں بین الاقوامی رپورٹوں کے حوالہ سے پاکستان میں خواندگی کے تناسب کا ذکر کرتے ہوئے دینی مدارس اور مراکز پر زور دیا گیا ہے کہ وہ بھی خواندگی کی شرح میں اضافہ کو اپنی ترجیحات میں مناسب جگہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ جناب رسول اللہ پر نازل ہونے والی وحی کا آغاز ہی ’’اقرا‘‘ کے لفظ سے ہوا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کا نقطۂ آغاز تعلیم ہے اور معاشرہ میں تعلیم اور خواندگی کا فروغ ہماری دینی ذمہ داری بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں خواندگی کی شرح افسوسناک حد تک ہے جس کا ایک سبب یہ ہے کہ جس رفتار سے آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے، اس کی مناسبت سے تعلیمی اداروں کی تعداد نہیں بڑھ رہی۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ قومی بجٹ میں تعلیم کے لیے جتنی رقم مختص ہونی چاہیے ، وہ نہیں ہو پاتی۔ اور تیسری وجہ یہ ہے کہ مروجہ تعلیمی نظام میں نا اہلی، کرپشن اور کام چوری نے راہ پالی ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ جتنا کام اس نظام سے لیا جا سکتا ہے وہ بھی پورا نہیں ہو رہا۔ 
انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے دینی مدارس و مکاتب لکھنے پڑھنے کی استعداد کی حد تک خواندگی کے فروغ کو اپنی ترجیحات میں دینی شامل کر لیں اور گرد و پیش کے مختلف طبقات کے لوگوں کو اپنے ہاں یہ سہولت فراہم کریں تو اس سے نہ صرف یہ کہ خواندگی کی شرح میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا بلکہ دینی مدارس کا حلقہ اثر بھی وسیع ہوگا اور وہ زیادہ لوگوں تک دین کا پیغام اور تعلیمات پہنچا سکیں گے۔ 
گورنمنٹ ڈگری کالج گوجرانوالہ کے پروفیسر عطاء الرحمٰن عتیق نے ’’اکیسویں صدی کے تعلیمی تقاضے‘‘ کے موضوع پر مقالہ پیش کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم نے عقلی علوم، دینی تعلیمات اور روحانی تربیت کے مراکز کو الگ الگ کر کے اسکول، مدرسہ اور خانقاہ کی تثلیث قائم کر رکھی ہے جو ہمارے مسائل کی اصل جڑ ہے۔ جبکہ ایک انسان کو صحیح معنوں میں انسان بنانے کے لیے ان تینوں تعلیمات کی یکساں ضرورت ہے۔ 
انہوں نے کہا کہ دنیا میں ترقی کے ذرائع، مادی وسائل اور علوم و فنون کی فراوانی کے باوجود مار دھاڑ، افراتفری اور اضطراب و بے چینی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ جو اس امر کا ثبوت ہے کہ اصل ضرورت انسان کو انسان بنانے کی ہے اور صحیح انسانی اخلاق و کردار سے آراستہ ہو کر ہی علوم، ترقی اور وسائل سے مثبت استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اکیسویں صدی کا سب سے بڑا تقاضا یہ ہے کہ ہم اسے صحیح انسان فراہم کریں، اور صحیح انسان فراہم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اسکول، دینی مدرسہ اور خانقاہ کی تثلیث کو ختم کر کے ان تینوں نظاموں کا یکجا کیا جائے اور ان کی خامیوں کو دور کر کے ان سے نئی نسل کی صحیح تعلیم و تربیت کا کام لیا جائے۔ 
پاکستان ٹیلی وژن اکیڈیمی اسلام آباد کے جناب شکور طاہر نے ’’فروغِ تعلیم میں الیکٹرانک میڈیا کا کردار‘‘ کے موضوع پر معلوماتی اور پرمغز مقالہ پیش کیا جسے مہمان خصوصی اور شرکاء نے بے حد سراہا۔ انہوں نے ریڈیو، ٹیلی وژن، آڈیو کیسٹ، ویڈیو کیسٹ، سیٹلائیٹ چینل، کمپیوٹر، انٹرنیٹ، ای میل، فیکس اور فوٹو اسٹیٹ مشین کے کردار اور طریق کار پر تفصیلی روشنی ڈالی اور شرکاء کانفرنس کو بتایا کہ الیکٹرانک میڈیا کے ان مختلف شعبوں کا دائرہ اثر کیا ہے اور وہ کس طریقہ سے لوگوں کے ذہنوں تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔ 
انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں یہ بات بالکل درست کی جاتی ہے کہ یہ میڈیا کا دور ہے اور کوئی گروہ، ادارہ یا قوم میڈیا کے ان ذرائع تک رسائی کے بغیر دنیا کے لوگوں تک اپنا پیغام اور پروگرام پہنچانے میں کامیابی حاصل نہیں کر سکتی۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ ان ذرائع کا ایک بڑا حصہ فحاشی کے فروغ اور دیگر غلط اور منفی مقاصد کے لیے استعمال ہو رہا ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ ذرائع بہت بڑے دائرہ میں تعلیمی مقاصد کے لیے بھی کام میں لائے جا رہے ہیں، بالخصوص ترقی یافتہ ممالک نے ان ذرائع کی مدد سے اپنے تعلیمی نظاموں کو بہت زیادہ مؤثر، آسان اور ہمہ گیر بنا لیا ہے۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے تعلیمی پروگراموں میں ان ذرائع سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کریں۔  انہوں نے کہا کہ میڈیا کے ان مؤثر ترین ذرائع کے منفی استعمال کی روک تھام کے لیے بھی یہ ضروری ہے کہ ان کے مثبت استعمال کو فروغ دیا جائے اور نئی نسل کی صحیح تعلیم و تربیت کے لیے انہیں مؤثر طور پر کام میں لایا جائے۔
ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا زاہد الراشدی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی کے بعد جب فرنگی حکمرانوں نے اس وقت کے مروجہ تعلیمی نظام کو مکمل طور پر تہہ و بالا کر دیا تھا تو دینی علوم کی حفاظت کے لیے دیوبند اور نئی تعلیم سے مسلمانوں کو آراستہ کرنے کے لیے علی گڑھ نے اس کردار کو ادا کیا تھا۔ اور علماء کرام نے مسلمانوں کے عقائد و اعمال اور دین و اخلاق کے تحفظ کے لیے دینی مدارس کا جال پھیلا دیا تھا جس کی وجہ سے فرنگی حکمران یہاں دینی علوم کو ختم کرنے کے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ 
جبکہ آج اسی طرز پر ورلڈ بینک، آئی ایم ایف، یونیسیف اور دیگر بین الاقوامی ادارے اس بات کی منصوبہ بندی کر چکے ہیں کہ پاکستان کے ریاستی نظام تعلیم میں اسلامی تعلیمات کے موجودہ حصے کو بے اثر بنا دیا جائے اور دینی مدارس کے نظام کی کردار کشی اور ان پر ریاستی تسلط کی راہ ہموار کر کے اسے مکمل طور پر سبوتاژ کر دیا جائے، جس کا علامتی آغاز بلوچستان کے پرائمری اسکولوں کے نصاب سے حمد باری کو خارج کرنے کے اقدام سے ہو چکا ہے۔ اور پاکستان میں امریکہ اور بین الاقوامی اداروں کی بڑھتی ہوئی مداخلت کے خلاف مزاحمتی قوتیں جس تیزی سے پسپا ہو رہی ہیں، اس کے پیش نظر استعماری قوتوں کا خیال یہ ہے کہ وہ ۱۸۵۷ء کی طرح اب بھی پاکستان میں دینی تعلیم کے نظام کو ختم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گی۔ 
انہوں نے دینی مدارس پر زور دیا کہ وہ اس صورت حال پر گہری نظر رکھیں اور آنے والے وقت میں نئی ذمہ داریوں کے لیے تیار رہیں کیونکہ استعماری قوتوں کے ان مذموم عزائم کی خدانخواستہ کامیابی کی صورت میں قوم کو دینی تعلیم کا متبادل نظام فراہم کرنے کا فریضہ مسجد کی چٹائی کو ہی سر انجام دینا ہو گا۔
مہمان خصوصی جسٹس (ر) محمد رفیق تارڑ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے بعد رسوائے زمانہ میکالے نے ایک شیطانی نظام تعلیم مرتب کر کے دعویٰ کیا کہ اس سے ایسا طبقہ پیدا ہو گا جو خون اور رنگ کے اعتبار سے ہندوستانی مگر خیالات و تمدن میں انگریز ہو گا۔ اس نظام تعلیم کے نفاذ سے دو مقاصد کا حصول اس کے پیش نظر تھا (۱) دفتروں کے لیے کلرک پیدا کرنا اور (۲) مسلمانوں کو ان کے دین سے بیگانہ کر کے دینی اقدار محروم کرنا۔ 
چنانچہ نوآبادیاتی دور کے ڈیڑھ صدیوں پر محیط لمبے دورانیے میں فرنگی نے مسلمانوں میں اپنے کاسہ لیس وطن فروش ٹوڈیوں کے خاندانوں کی اس طرح تربیت کی کہ وہ اپنی چال ڈھال، نشست و برخواست اور بودوباش میں آج تک مغربی معاشرہ کی نقل مطابق اصل ہیں، اور وطن عزیز میں قیادت کا تاج گزشتہ پچاس برس سے انہیں خاندانوں کے افراد کے سروں پر سجتا چلا آ رہا ہے۔ ٹوڈیوں کی اس نسل کے ذریعے ایک طرف تو عصری نظام تعلیم کو بد سے بد تر شکل میں ڈھالا جا رہا ہے، اور دوسری طرف نیو ورلڈ آرڈر کے سب سے بڑے ہدف دینی مدارس پر یلغار اور مار دھاڑ کے ارادے بن رہے ہیں۔ 
انہوں نے کہا کہ اس نظام تعلیم کی حامل اعلیٰ ترین یونیورسٹیوں کے فارغ التحصیل لوگ اس وقت اس بدقسمت ملک پر حکمران ہیں اور ہم حقوق اللہ اور حقوق العباد کے حوالہ سے ان کی کارکردگی کھلی آنکھوں دیکھ رہے ہیں بلکہ اسے بھگت رہے ہیں۔ یہ یہودیوں اور عیسائیوں کے مرتب کردہ نیو ورلڈ آرڈر کو آگے بڑھانے کی شرط پر اپنے اپنے عہدوں پر قائم ہیں۔ ان سے یا انہی جیسے دوسرے تعلیم یافتہ لوگوں سے نفاذ اسلام کی توقع کرنا ایسے ہی ہے جیسے تھوہر کے پودے سے انگور کے خوشوں کی آرزو کرنا۔ 
انہوں نے معاشرہ میں دینی مدارس کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دینی اداروں کی وجہ سے عام طاغوتی سازشوں اور کوششوں کے باوجود اب بھی ملک کی بڑی بھاری اکثریت دینی اقدار سے جذباتی وابستگی رکھتی ہے اور وقت آنے پر جان تک کی قربانی سے بھی دریغ نہیں کرتی۔ اس لحاظ سے دینی مدارس اسلام کے قلعے ہیں جن سے ہدایت کی روشنی پھیلتی اور ظلمت دم توڑتی ہے۔ دینی مدرسوں کا یہ کردار ابلیسی قوتوں کے دلوں میں کانٹے کی طرح کھٹکتا ہے اور وہ عالم اسلام میں اپنے گماشتوں کے ذریعے انہیں ختم کرنے کے درپے ہیں۔ 
انہوں نے کہا کہ آنے والا دور اسلام کا دور ہے اور اسلامی انقلاب بہرحال آئے گا جسے کوئی نہیں روک سکتا اور ان شاء اللہ یہی دینی مدارس اس کا ہر اول دستہ ہوں گے۔ جسٹس تارڑ نے اس بات پر زور دیا کہ دینی و عصری تعلیم کی یکجائی کو فروغ دیا جائے اور اس مقصد کے لیے کام کرنے والے اداروں کی حوصلہ افزائی کی جائے ۔

تعارف و تبصرہ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ماہنامہ ’’دینی صحافت‘‘ اسلام آباد

مدیر : سجاول خان رانجھا
ناشر : انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز، نصر چیمبرز، بلاک ۱۹، مرکز ایف سیون، اسلام آباد 
برصغیر کی اردو صحافت میں دینی جرائد کا سلسلہ بھی اردو صحافت کے آغاز ہی سے چلا آ رہا ہے اور مختلف ادوار میں ممتاز علمی شخصیات اور اداروں کے جرائد اردو صحافت میں وقیع حیثیت کے حامل رہے ہیں جن میں تہذیب الاخلاق، الہلال، معارف اور برہان جیسے علمی جرائد کا بطور خاص تذکرہ کیا جا سکتا ہے۔ 
قیام پاکستان کے بعد دینی جرائد کا دائرہ نوع اور توسیع کے لحاظ سے تو بہت پھیلا ہے لیکن مقصدیت اور معیار کے نقطۂ نظر سے معدودے چند جرائد ہی اس سمت سفر کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم غنیمت ہے کہ مختلف مکاتب فکر کے سینکڑوں جرائد اپنے اپنے نقطۂ نظر سے دین حق کا پیغام لوگوں تک پہنچانے میں مصروف ہیں اور میدان بالکل خالی نہیں ہے۔ 
ایک عرصہ سے اس امر کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ دینی جماعتوں، اداروں اور شخصیات کی طرف سے شائع ہونے والے جرائد کے درمیان رابطہ اور مفاہمت کی کوئی صورت پیدا ہو، تاکہ ان کی مساعی میں اجتماعیت کا رنگ ابھرے اور افادیت و مقصدیت میں اضافہ ہو۔ انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اسلام آباد نے دو سال قبل ماہنامہ ’’دینی صحافت‘‘ کا آغاز کر کے اس مقصد کی طرف اہم پیش رفت کی ہے۔ 
یہ جریدہ ملک بھر سے شائع ہونے والے دینی جرائد سے قارئین کو متعارف کراتا ہے اور عرق ریزی کے ساتھ ان کا مطالعہ کر کے اہم عنوانات پر ان کی آراء کا نچوڑ پیش کرتا ہے، جس سے دینی صحافت کے مجموعی موقف اور رجحانات سے آگاہی حاصل ہو جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ماہنامہ دینی صحافت نے مغربی نظریات و افکار کو وقت کی ضروریات کے مطابق قارئین کے سامنے لانے کا سلسلہ بھی جاری رکھا ہوا ہے جو دینی جرائد کی بھی ایک مفید خدمت ہے۔
گزشتہ دو سال کے دوران اس موقر جریدہ نے اپنے معیار اور افادیت کو بڑھانے کی جس طرح محنت کی ہے، اس پر جریدہ کی ادارتی ٹیم مبارک باد کی مستحق ہے۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ رب العزت دینی صحافت کو اپنے نیک مقاصد میں کامیابی سے ہمکنار کریں، آمین۔

’’حقوق العباد احادیث مطہرہ کے آئینے میں‘‘

یہ رسالہ ممتاز شاعر جناب سرور میواتی نے ترتیب دیا ہے اور ایک مخیر بزرگ حاجی محمد شریف مغل صاحب، الپائن انڈسٹریل کون لمیٹڈ، ۳۰۵ جی ٹی روڈ باغبانپورہ لاہور سے چھپوا کر اسے مفت تقسیم کر رہے ہیں۔ دو روپے کے ڈاک ٹکٹ بھیج کر یہ معلوماتی رسالہ منگوایا کا سکتا ہے۔ 

’’احادیثِ نماز‘‘

اس رسالہ میں مولانا محمد یوسف فقیر دہلویؒ نے نماز کے بارے میں احادیث کا ایک مجموعہ پیش کیا ہے۔ مدرسہ ناصر العلوم مانگا منڈی ضلع لاہور سے یہ رسالہ ایک روپے کے ڈاک ٹکٹ بھیج کر منگوایا جا سکتا ہے۔

’’خلاصہ مضامین سور القرآن‘‘

مولانا قاری حمید الرحمٰن صاحب خطیب جامع مسجد عمر فاروقؓ منگرال راولپنڈی نے قرآن کریم کے مضامین کا خلاصہ قلم بند کیا ہے اور ہر رکوع کا الگ الگ مفہوم بیان کیا ہے جس سے ایک عام قاری کے لیے بھی قرآن کریم کے مضامین کو سمجھنا آسان ہو گیا ہے۔ شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوری قدس اللہ سرہ العزیز کا اسلوب اختیار کیا گیا ہے اور زبان عام فہم ہے۔ بالخصوص جو حضرات رمضان المبارک میں تراویح کے دوران قرآن کریم کی قراءت کے ساتھ ساتھ اس کا خلاصہ بیان کرنے کا ذوق رکھتے ہیں، ان کے لیے یہ بیش بہا تحفہ ہے۔
صفحات ۷۰۲، کتابت و طباعت عمدہ، مضبوط جلد سے مزین، ناشر: السید انٹرپرائزز، الفضل مارکیٹ، ۱۷ اردو بازار لاہور ۵۴۰۰۰

’’خطبات سواتی (جلد دوم)‘‘

حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی دامت برکاتہم کے دروس اور خطبات اب ملک کے دینی و علمی حلقوں میں کسی تعارف کے محتاج نہیں رہے اور ہزاروں علماء و طلبہ ان سے استفادہ کر رہے ہیں۔ 
زیر نظر مجموعہ ’’خطباتِ سواتی جلد دوم‘‘ ہے جس میں محرم الحرام، صحابہؓ اور اہل بیتؓ سے عقیدت، رضائے الہٰی کے حاملین، امت کی مرکزی جماعتیں، آخرت میں ناکامی کے اسباب، اسلام کا نظام عفت و عصمت، اجتماعیت کی ضرورت و اہمیت، عقل معاش اور معاد، قرآن کریم سے اعراض کا نتیجہ، تقویٰ اور اس کے تقاضے، عید الفطر اور عید الاضحٰی جیسے اہم موضوعات پر حضرت صوفی صاحب مدظلہ کے گراں قدر خطبات شامل ہیں۔ صفحات ۴۱۶، کتابت و طباعت عمدہ، مضبوط جلد، قیمت ۱۱۰ روپے اور ملنے کا پتہ مکتبہ دروس القرآن فاروق گنج گوجرانوالہ۔

’’ماہِ فضل و کمال‘‘

جامعہ قاسم العلوم فقیر والی ضلع بہاولنگر کے بانی حضرت مولانا فضل محمد نور اللہ مرقدہ ملک کے بزرگ علماء میں سے تھے، جنہوں نے دینی تعلیمات کے فروغ اور عام مسلمانوں کے عقائد و اصلاح کے لیے سلف صالحینؒ کی طرز پر خلوص اور سادگی کے ساتھ محنت کی اور وہ بلا شبہ اپنے عظیم اکابر کا نمونہ تھے۔ جناب شاہ ابن مسعود قریشی نے اس مرد درویش کے حالاتِ زندگی اور دیگر ضروری متعلقات کو اس مجموعہ میں پیش کیا ہے۔ اس کے صفحات پانچ سو سے زائد ہیں اور قیمت ایک سو پچھتر روپے ہے جبکہ اسے القاسم اکیڈیمی ۲۸۵ جی ٹی روڈ باغبان پورہ لاہور سے طلب کیا جا سکتا ہے۔ 

’’چودہ میزائیل‘‘

مولانا منظور احمد چنیوٹی تحریک ختم نبوت کے سرگرم راہ نماؤں میں سے ہیں اور ان کی ساری زندگی فتنہ قادیانیت کے تعاقب میں گزری ہے، انہوں نے مختلف مراحل پر قادیانیت کے بارے میں مؤثر کتا بچے تحریر فرمائے جو قادیانیت کے دجل و فریب کو بے نقاب کرنے کا ذریعہ بنے۔ ان میں سے چودہ کتابچوں کو ایک مجموعہ کی شکل میں شائع کیا گیا ہے جو قادیانیت سے واقفیت حاصل کرنے کے لیے ایک قابل قدر ذخیرہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ صفحات ۴۰۸، کتابت و طباعت معیاری، مضبوط جلد، قیمت ۱۵۰ روپے۔ ملنے کا پتہ ادارہ مرکز یہ دعوت و ارشاد چنیوٹ پاکستان۔ 

’’تھوڑا جیہا ہس لو‘‘

شاعرِ اسلام الحاج سید امین گیلانی اور ان کے فرزند سید سلمان گیلانی کو قدرت نے شعر و ادب کے عمدہ ذوق کے ساتھ حق کی ترجمانی کے جذبہ سے بھی نوازا ہے اور ملک بھر کی دینی مجالس میں ان کا کلام اہل حق کے دلوں کو گرمانے کا باعث بنتا ہے۔ ان کے کلام کے متعدد مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔
زیر نظر مجموعہ سید سلمان گیلانی کے مزاحیہ کلام پر مشتمل ہے جو ان کی بے تکلفانہ مجلسی گفتگو کی طرح ہی بے ساختہ ہے۔ صفحات ۱۴۴ قیمت ۷۰ روپے، ملنے کا پتہ ادارة السادات شرقپور روڈ شیخوپورہ۔

’’حرمتِ متعہ‘‘

دورِ جاہلیت کے جن معاشرتی اقدار کو اسلام نے شرفِ انسانی کے منافی سمجھتے ہوئے مٹایا، ان میں ’’متعہ‘‘ بھی ہے۔ یعنی وقت مقررہ کے لیے معاوضہ پر کسی عورت کے ساتھ جنسی تعلقات کا استحقاق جو جاہلیت کے دور میں نکاح کی طرح جائز شمار ہوتا تھا، مگر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا اور وہ اسلام میں قطعی حرام پایا۔ اس کی حرمت پر اہلِ سنت کا چودہ سو برس سے اجماع چلا آ رہا ہے، البتہ اہل تشیع ابھی تک اس کے جواز پر اڑے ہوئے ہیں۔ 
جامعہ ابراہیمیہ سیالکوٹ کے مہتمم شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد علی جانباز نے اس مسئلہ پر فریقین کے موقف اور استدلال کا محققانہ جائزہ لیتے ہوئے اہل سنت کی حقانیت کو واضح فرمایا ہے۔ صفحات ۳۷۵، کتابت و طباعت عمدہ، مضبوط جلد، قیمت ۹۰ روپے۔ ملنے کا پتہ: شعبہ نشر و اشاعت جامعہ ابراہیمیہ، ناصر روڈ، سیالکوٹ۔

قافلۂ معاد

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

الشيخ جاد الحق على جاد الحقؒ

عالم اسلام کی ممتاز علمی شخصیت اور جامعہ ازہر کے سربراہ معالى الدكتور الشيخ جاد الحق علی جاد الحق گزشتہ دنوں انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مرحوم اسلامی دنیا کی محترم دینی شخصیت، متبحر عالم دین اور جامعہ ازہر کی باوقار روایات کے امین تھے۔ ’’الشریعہ‘‘ نے اکتوبر ۱۹۸۹ء میں اپنے سفر کا آغاز کیا تو اسلامی نظام کے نفاذ کے حوالہ سے راقم الحروف کے چند سوالات کے جواب میں ان کا تحریر فرمودہ مقالہ ہماری جدوجہد کے اس نئے دور کا نقطۂ آغاز بنا جو ان کے تبحر علمی اور وسعت نظر کا آئینہ دار ہے۔ ان کی وفات عالم اسلام کے دینی و علمی حلقوں کے لیے ناقابل تلافی نقصان ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے مغفرت فرمائیں اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں، آمین یا الہ العالمین۔ 

الشيخ محمد الغزالیؒ

عالم اسلام کی ایک اور ممتاز علمی شخصیت فضیلۃ الشيخ محمد الغزالی بھی گزشتہ دنوں رحلت فرما گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مرحوم اخوان المسلمون کے ابتدائی راہ نماؤں میں سے تھے اور ان کا شمار ممتاز اصحاب قلم اور محققین میں ہوتا تھا، ان کی تصنیفات و مقالات سے اسلامی دنیا ایک عرصہ تک استفادہ کرتی رہے گی۔ اللہ تعالیٰ انہیں جوار رحمت میں جگہ دیں اور اپنی رضا و خوشنودی سے نوازیں، آمین یا الہ العالمین۔ 

حکیم محمد سلیم چوہدری مرحوم

گوجرانوالہ کے معروف طبیب اور سماجی راہ نما حکیم محمد سلیم چوہدری گزشتہ روز انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مرحوم ہمارے اچھے دوستوں میں سے تھے۔ ان کا تعلق سیاسی طور پر پیپلز پارٹی سے تھا مگر تحریک ختم نبوت اور دیگر دینی تحریکات میں ہمیشہ دل چسپی لیتے اور سرگرم کردار ادا کرتے رہے۔ طب یونانی کی ترقی اور اطباء کی فلاح و بہبود کے لیے مسلسل سرگرم رہے اور اس مقصد کے لیے پاکستان طبی کانفرنس کی بنیاد رکھی۔ اللہ تعالی ان کی مغفرت فرمائیں اور پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق سے نوازیں، آمین یا الہ العالمین۔

خربوزہ

حکیم عبد الرشید شاہد

غذائیت سے بھرپور خربوزہ ایک عجیب پھل ہے جس کا گودہ، مغز اور چھلکا سب غذائی اور دوائی ضرورت کے کام آتے ہیں۔ خربوزہ، گرما، سردا سب ایک ہی خاندان کے پھل ہیں جو آب و ہوا کے اثر سے مختلف دلکش شکلوں میں ہمارے دستر خوان کی رونق بنتے ہیں۔ گرمی کے موسم میں جب مخلوق گرم لو کی تپش سے تربیتی اور بے قرار ہو جاتی ہے تو اس سے ستا، خوش مزہ اور تسکین دینے والا شاید ہی کوئی پھل مارکیٹ میں ہمیں مل سکے۔ جس طرح ایک ننھے سے بیج کے ذریعہ خربوزہ کی ہری بھری نازک شاخیں سیروں وزنی رنگا رنگ خوبصورت نقش و نگار والے متعدد پھل زمین پر پھیلا دیتی ہیں، اس کے استعمال سے بدنی خشکی دور ہوتی ہے، رگ پٹھوں کی قدرتی چک بحال ہوتی اور ہماری بھوک کو تسکین ہو جاتی ہے۔ 
میٹھا خربوزہ گرم تر، ترش سرد تر، اور پھیکا معتدل مزاج رکھتا ہے۔ تندرست معدہ اس کو ڈیڑھ دو گھنٹے میں ہضم کر لیتا ہے۔ رطوبت کی زیادتی کی وجہ سے ٹھنڈے مزاج بوڑھوں کو تین چار گھنٹے اس کے ڈکار آتے رہتے ہیں۔ آدھ سیر خربوزہ میں دو روٹیوں کے برابر غذائیت ہوتی ہے۔ خربوزہ معدہ، آنتوں اور غذا کی نالی کی خشکی دور کر کے ان میں رکے ہوئے زہریلے فضلات خارج کرتا ہے، قبض دور کرتا ہے اور بدن کا رنگ نکھارتا ہے۔ 
قدرت نے یورک ایسڈ اور دوسرے جمنے والے زہریلے فضلات پیشاب کے ذریعے خارج کرنے کی خاصیت بھی اس میں شامل فرمائی ہے۔ اس کا کثرت استعمال گردوں کو صاف کرتا ہے اور ان میں جمی ہوئی کثافتوں کو باہر نکال پھینکتا ہے۔ مثانہ، گردوں کی معمولی ریگ اور پتھری بھی اس کے ذریعہ خارج ہو جاتی ہے۔ 
نوجوان لڑکیوں میں پیٹرو کے مقام پر بوجھ، پیشاب کی جلن، سوزش اور خاص ایام کی خرابی دور کرنے کے لیے دوا بھی ہے اور لذیذ غذا بھی۔ روزانہ دو تین خربوزے ایک دو ماہ استعمال کرنے سے ایام کی خرابی دور ہونے کے علاوہ چہرہ کے داغ دھبے بھی صاف ہو جاتے ہیں۔ دودھ دودھ پلانے والی عورتوں میں اس کے استعمال سے دودھ کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ 
دردِ گردہ کے تڑپتے ہوئے مریض کو اس کے خشک چھلکے ایک تولہ، تین چھٹانک عرق گلاب میں ایک جوش دے کر چھان کر تین ماشہ نمک سیاہ ملا کر پلانا فوری تسکین کا باعث بنتا ہے۔ اس کا چھلکا ایک تولہ، ایک پاؤ گوشت میں پکاتے وقت ملا دینے سے گوشت جلدی گل جاتا ہے۔

قراردادِ مقاصد

ادارہ

۷ مارچ ۱۹۴۹ء کو پاکستان کے سب سے پہلے وزیر اعظم قائد ملت جناب لیاقت علی خان مرحوم نے ملک کی مجلس دستور ساز میں حسب ذیل قرارداد پیش کی۔ ۱۲ مارچ کو یہ قرارداد منظور کی گئی۔ یہ تاریخی قرارداد ’’قراردادِ مقاصد‘‘ کے نام سے مشہور ہے:

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ 
چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہی کُل کائنات کا بلا شرکتِ غیر حاکمِ مطلق ہے، اور اس نے جمہور کی وساطت سے مملکتِ پاکستان کو اختیارِ حکمرانی اپنی مقرر کردہ حدود کے اندر استعمال کرنے کے لیے نیابتاً‌ عطا فرمایا ہے، اور چونکہ یہ اختیارِ حکمرانی ایک مقدس امانت ہے، لہٰذا جمہورِ پاکستان کی نمائندہ یہ مجلسِ دستور ساز فیصلہ کرتی ہے کہ آزاد و خودمختار مملکتِ پاکستان کے لیے دستور مرتب کیا جائے: 
  • جس کی رو سے مملکت کے جملہ حقوق و اختیاراتِ حکمرانی جمہور کے منتخب کردہ نمائندوں کے ذریعے سے استعمال کرے۔ جس میں اصولِ جمہوریت و حریت و مساوات و رواداری اور عدلِ عمرانی کو، جس طرح اسلام نے ان کی تشریح کی ہے، پورے طور پر ملحوظ رکھا جائے۔
  • جس کی رو سے مسلمانوں کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ انفرادی و اجتماعی طور پر اپنی زندگی کو اسلامی تعلیمات و متقضیات کے مطابق، جو قرآن مجید اور سنتِ رسولؐ میں متعیّن ہیں، ترتیب دے سکیں۔ 
  • جس کی رو سے وہ علاقے جو فی الحال پاکستان میں داخل ہیں یا شامل ہو گئے ہیں، اور ایسے دیگر علاقے جو آئندہ پاکستان میں داخل یا شامل ہو جائیں، ایک وفاقیہ بنائیں، جس کے ارکان مقررہ حدودِ اربعہ و متعینہ اختیارات کے ماتحت خودمختار ہوں۔
  • جس کی رو سے بنیادی حقوق کی ضمانت دی جائے۔ اور ان حقوق و اخلاقِ عامہ کے ماتحت مساواتِ حیثیت و مواقع؛ قانون کی نظر سے برابری؛ عمرانی، اقتصادی اور سیاسی عدل؛ خیال، اظہار، عقیدہ، دین، عبادت اور ارتباط کی آزادی شامل ہو۔ 
  • جس کی رو سے اقلیتوں اور پسماندہ اور پست طبقوں کے جائز حقوق کے تحفظ کا وافی انتظام کیا جائے۔ 
  • جس کی رو سے نظامِ عدل کی آزادی کامل طور پر محفوظ ہو۔ 
  • جس کی رو سے وفاقیہ کے علاقوں کی صیانت، اس کی آزادی اور اس کے جملہ حقوق کا، جن میں اس کے بر و بحر اور فضائیہ پر سیادت کے حقوق شامل ہیں، تحفظ کیا جائے۔ 
تاکہ اہلِ پاکستان فلاح و خوشحالی کی زندگی بسر کر سکیں، اقوامِ عالم کی صف میں اپنا جائز اور ممتاز مقام حاصل کر سکیں، اور امنِ عالم کے قیام اور بنی نوع انسان کی ترقی و بہبودی میں کماحقہٗ اضافہ کر سکیں۔

۱۹۷۳ء کے دستور کی اہم اسلامی دفعات

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

قراردادِ مقاصد ۱۹۷۳ء کے دستور میں دیباچہ کے طور پر شامل کی گئی تھی جسے صدر جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم نے ۸۵ء میں آئین میں ترمیم کے صدارتی آرڈر کے ذریعہ آئین کا قابلِ عمل حصہ قرار دے دیا۔ 
دستور کی دفعہ ۲ میں اسلام کو پاکستان کا ریاستی مذہب قرار دیا گیا ہے۔ 
دفعہ ۳۱ کے تحت اس امر کو حکومت کی ذمہ داری قرار دیا گیا ہے کہ وہ ایسے اقدامات کرے جن سے پاکستان کے مسلمان انفرادی و اجتماعی زندگی قرآن و سنت کے مطابق گزار سکیں۔ انہیں قرآن و سنت کی تعلیمات اور عربی زبان کی تعلیم حاصل کرنے کی سہولتیں فراہم کی جائیں۔ اسلام کی اخلاقی تعلیمات کی پابندی اور اسلامی اتحاد کا اہتمام کیا جائے۔ زکوٰۃ و عشر، اوقاف اور مساجد کی مناسب تنظیم و انتظام کیا جائے اور قرآن کریم کی صحیح اشاعت کا تحفظ مہیا کیا جائے۔ 
۱۹۷۴ء میں ہونے والی آئینی ترمیم کے ذریعہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا ہے اور مسلمان کی آئینی تعریف متعین کی گئی ہے۔
وفعہ ۴۱ کے تحت صدر کے لیے مسلمان ہونا شرط قرار دیا گیا ہے۔ 
دفعہ ۲۲۷ کے تحت ضمانت دی گئی ہے کہ کوئی قانون قرآن و سنت کے منافی نہیں بنایا جائے گا، اور موجودہ تمام قوانین کو قرآن و سنت کے مطابق بنا دیا جائے گا۔ 
دفعہ ۲۲۸ کے تحت اسلامی نظریاتی کونسل کی تشکیل کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کا کام قوانین پر نظر ثانی کر کے ان کے خلافِ اسلام حصوں کی نشاندہی کرنا اور حکومت کو رپورٹ پیش کرتا ہے۔ کونسل ہر سال عبوری رپورٹ پیش کرے گی اور اپنی تشکیل کے بعد سات سال کے اندر تمام قوانین کے بارے میں حتمی رپورٹ پیش کرنے کی پابند ہوگی۔ کونسل کی رپورٹ متعلقہ اسمبلیوں میں پیش کر کے اس کے مطابق قانون سازی کی جائے گی۔
۷۹ ء اور ۸۰ء میں صدر جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم نے دو صدارتی احکامات کے ذریعہ آئین کی دفعہ ۲۰۳ میں ترمیم کر کے ’’وفاقی شرعی عدالت‘‘ تشکیل دی، جسے اختیار دیا گیا کہ وہ کسی بھی قانون کو قرآن و سنت کے منافی قرار دے کر حکومت کو اس میں ضروری ترمیم کے لیے کہہ سکتی ہے۔ مگر وفاقی شرعی عدالت کے دائرۂ اختیار سے آئین، عائلی قوانین، دستوری پروسیجر اور دس سال کے لیے مالیاتی قوانین کو مستثنٰی قرار دے دیا گیا۔