ستمبر ۱۹۹۵ء

قادیانی امت کے سربراہ مرزا طاہر احمد کے نام کھلا خطمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
معجزہ کیا ہے؟پروفیسر غلام رسول عدیم 
مولانا عتیق الرحمٰن سنبھلی مدیر ’’الفرقان‘‘ لکھنؤ کا مکتوب گرامیمولانا عتیق الرحمٰن سنبھلی 
عیسائی دنیا کے عظیم پوپ کے نام کھلا خطمولانا محمد عیسٰی منصوری 
ورلڈ اسلامک فورم کی سرگرمیاںادارہ 
’’قرادادِ مقاصد بنام سپریم کورٹ آف پاکستان‘‘ادارہ 
دردِ معدہ اور اس کا سدبابحکیم عبد الرشید شاہد 
ڈاکٹر نصر حامد ابو زید کی ہرزہ سرائی اور قاہرہ فیملی کورٹ کا فیصلہادارہ 
چند اقتباساتحکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ 

قادیانی امت کے سربراہ مرزا طاہر احمد کے نام کھلا خط

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

جناب مرزا طاہر احمد صاحب

سربراہ قادیانی جماعت ۔ مقیم ٹل فورڈ، لندن

السلام علیٰ من اتبع الہدٰی

گزارش ہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس سال پھر اپنی سالانہ رپورٹ میں پاکستان میں قادیانی جماعت کے مبینہ انسانی حقوق کی پامالی کا ذکر کیا ہے اور متعدد قادیانیوں کے خلاف درج مقدمات کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے حکومتِ پاکستان کو اس کا ملزم ٹھہرایا ہے۔ میں اس خط کے ذریعے اسی اہم مسئلہ پر آپ سے مخاطب ہو رہا ہوں کیونکہ یہ مسئلہ اس وقت نہ صرف مسلمانوں اور قادیانیوں کے مابین تنازعہ اور کشیدگی میں شدت کا باعث بنا ہوا ہے بلکہ بین الاقوامی اداروں اور لابیوں کے ہاتھ میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ایک ہتھیار کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ اس لیے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس سلسلہ میں آپ کو حقائق و مسلمات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے آپ سے کوئی ایسا معقول طرز عمل اختیار کرنے کی اپیل کی جائے جو اس کشیدگی میں کمی کا باعث بن سکے اور فریقین اپنی بہترین توانائیاں اور صلاحیتیں اس محاذ آرائی پر صَرف کرنے کی بجائے انہیں مثبت مقاصد کے لیے استعمال میں لا سکیں۔

جناب مرزا صاحب! آپ کے دادا مرزا غلام احمد قادیانی نے آج سے ایک صدی قبل نبوت کا دعوٰی کیا تھا اور نئی وحی کے حوالے سے اپنی تعلیمات پیش کرنے کا آغاز کیا تھا، جسے امتِ مسلمہ کے تمام علمی و دینی حلقوں نے اسلام کے بنیادی عقیدہ ختم نبوت اور اس کی تیرہ سو سالہ اجماعی تعبیر سے انحراف قرار دیتے ہوئے قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا اور مرزا صاحب اور ان کے پیروکاروں کو دائرۂ اسلام سے خارج قرار دے کر ان سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کیا تھا۔ جبکہ دوسری طرف مرزا صاحب اور ان کے جانشینوں نے مرزا صاحب پر نازل ہونے والی مبینہ وحی الٰہی پر ایمان لانے کو ضروری گردانتے ہوئے ایمان نہ لانے والوں یعنی دنیا بھر کے مسلمانوں کو اپنا ہم مذہب تسلیم کرنے سے صاف انکار کر دیا تھا۔ اور اس طرح مسلمان اور قادیانی دونوں فریق اس نکتہ پر متفق ہوگئے تھے کہ دونوں گروہ ایک مذہب کے پیروکار نہیں ہیں بلکہ دونوں کا مذہب الگ الگ ہے اور ان میں مذہبی طور پر کوئی نقطۂ اتحاد موجود نہیں ہے۔ 

یہ ایک واقعاتی حقیقت ہی نہیں بلکہ مذاہبِ عالم کے درمیان ہزاروں سال سے کارفرما ایک مسلّمہ اصول بھی ہے جس کی بنیاد پر مذاہب ہمیشہ سے ایک دوسرے سے الگ شمار ہوتے چلے آرہے ہیں۔ لیکن قادیانی جماعت عملاً اس حقیقت اور اصول پر عمل پیرا ہونے کے باوجود خود کو مسلمان کہلانے پر اصرار کر کے اس اصول کی مسلسل خلاف ورزی کر رہی ہے جو مسلمانوں اور قادیانیوں کے مابین موجودہ تنازعہ اور کشیدگی میں اصل وجہ نزاع ہے۔

قادیانی جماعت کا کہنا ہے کہ چونکہ وہ قرآن کریم اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھتی ہے اس لیے اسے مسلمان کہلانے کا حق ہے۔ لیکن یہ موقف مذاہبِ عالم کے تاریخی تسلسل میں کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں ہے۔

آپ خود تاریخ پر نظر ڈال لیجئے۔ یہودی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نبوت اور توراۃ پر ایمان رکھتے ہیں، جبکہ عیسائی بھی ان دونوں پر ایمان رکھتے ہیں لیکن ان کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت اور انجیل کو بھی مانتے ہیں، اس لیے وہ حضرت موسٰیؑ اور توراۃ پر ایمان رکھنے کے باوجود یہودی نہیں کہلاتے بلکہ ایک الگ مذہب کے پیروکار شمار ہوتے ہیں۔ اسی طرح مسلمان حضرت موسٰیؑ اور حضرت عیسٰیؑ سمیت تمام انبیاء سابقین کی صداقت پر یقین رکھتے ہیں اور توراۃ، زبور اور انجیل سمیت تمام سابقہ کتب و صحائف کو سچا مانتے ہیں، لیکن چونکہ وہ ان سب کے بعد حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت اور قرآن کریم پر بھی ایمان رکھتے ہیں اس لیے وہ نہ یہودی کہلا سکتے ہیں نہ عیسائی، بلکہ ان دونوں سے الگ ایک نئے مذہب کے پیروکار تسلیم کیے جاتے ہیں۔

یہ مذاہبِ عالم کا تاریخی تسلسل ہے جس سے انکار ممکن نہیں ہے۔ اور مسلمانوں کا یہ موقف اسی تاریخی تسلسل کا حصہ ہے کہ قادیانی گروہ چونکہ مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت اور ان پر نازل ہونے والی مبینہ وحی پر ایمان رکھتا ہے اور اس پر ایمان کو اپنے مذہب میں شمولیت کی لازمی شرط قرار دیتا ہے اس لیے وہ حضرت محمدؐ اور قرآن کریم پر ایمان کے دعوے کے باوجود ملتِ اسلامیہ کا حصہ نہیں ہے بلکہ ایک الگ اور نئے مذہب کا پیروکار ہے۔

مذاہبِ عالم کے مسلّمہ اصول اور تاریخی تسلسل کے ساتھ ساتھ مختلف مذاہب کے درمیان جداگانہ شناخت اور پہچان کے نقطۂ نظر سے بھی ضروری ہے کہ قادیانی گروہ چونکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کو اپنا ہم مذہب تسلیم نہیں کرتا اس لیے وہ ان سے اپنی شناخت الگ کرے اور الگ نام اختیار کرنے کے علاوہ مذہبی علامات اور اصطلاحات بھی الگ وضع کرے، تاکہ دونوں کے درمیان جداگانہ تشخص اور امتیاز قائم ہو جائے اور کوئی فریق دوسرے کے حقوق پر اثر انداز نہ ہو سکے۔ 

یہی وجہ ہے کہ علمائے امت نے قادیانیوں کے بارے میں، اس بات سے قطع نظر کہ نبوت کے نئے دعوے داروں کے حوالہ سے جناب رسول اللہؐ اور صحابہ کرامؓ و خلفائے راشدین کے طرز عمل کی روشنی میں ایک اسلامی حکومت کی ذمہ داری کیا ہے، مفکر پاکستان علامہ ڈاکٹر محمد اقبالؒ کی تجویز پر صرف اس بات پر قناعت کر لی کہ مسلمانوں اور قادیانیوں کے درمیان جداگانہ مذہبی تشخص قائم کر دیا جائے، اور قادیانیوں کو مسلمانوں سے الگ ایک نئے مذہب کا پیروکار تسلیم کر لیا جائے۔ چنانچہ پاکستان میں قادیانیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دینے اور قانونی طور پر اسلام کا نام اور مسلمانوں کی مذہبی علامات و اصطلاحات کے استعمال سے روک دینے کے اقدامات کیے گئے۔ جنہیں آج قادیانیوں کے انسانی حقوق کی پامالی کا عنوان دے کر ملتِ اسلامیہ اور پاکستان کے خلاف مسلسل مہم چلائی جا رہی ہے۔

جناب مرزا صاحب! ’’انسانی حقوق‘‘ کے حوالے سے بھی دیکھا جائے تو اصل صورتحال اس سے مختلف ہے، کیونکہ مذہبی تشخص اور ملّی شناخت کے تحفظ کا حق دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کی طرح مسلمانوں کو بھی حاصل ہے۔ اور انہیں مسلّمہ طور پر یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی بھی ایسے گروہ کو اپنا نام استعمال نہ کرنے دیں اور اپنی مذہبی اصطلاحات و علامات کے استعمال سے روکیں جو ان سے الگ مذہب رکھتا ہے۔ اور وہ اپنا یہ جائز حق استعمال کر کے کسی پر زیادتی نہیں کر رہے اور نہ کسی کا کوئی حق پامال کر رہے ہیں۔ 

جبکہ اس کے برعکس قادیانی جماعت اپنے مذہب کو مسلمانوں کے مذہب سے الگ قرار دیتے ہوئے بھی اسلام کا نام اور مسلمانوں کی علامات و اصطلاحات کے استعمال پر اصرار کر کے مسلمانوں کی مذہبی شناخت کو مجروح کر رہی ہے، اور ان کے جداگانہ مذہبی تشخص کو پامال کر رہی ہے، جو دنیا بھر کے ایک ارب سے زائد مسلمانوں کے انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔ قادیانی جماعت کا یہ طرز عمل مذاہبِ عالم کے تاریخی تسلسل اور مذاہب کے درمیان فرق و امتیاز کے مسلّمہ اصول سے انحراف ہے اور مسلمانوں اور قادیانیوں کے درمیان موجودہ تنازعہ اور کشیدگی میں یہی اصل وجہ نزاع ہے۔

اس ضمن میں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ قادیانی جماعت کی دو معاصر تحریکوں کے طرز عمل کا بھی حوالہ دیا جائے:

ایک امریکہ کے سیاہ فام لیڈر آلیج محمد کی تحریک ہے جنہوں نے اسی صدی کے دوران اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا لیکن ساتھ ہی نبوت کا دعویٰ کر دیا اور نئی مبینہ وحی کے حوالے سے اپنی تعلیمات پیش کیں، جنہیں ظاہر ہے کہ مسلمانوں نے مسترد کر دیا۔ آلیج محمد کے پیروکاروں کی ایک بڑی تعداد آج بھی موجود ہے لیکن ان کے فرزند جناب وارث دین محمد نے حق کے واضح ہونے کے بعد اپنے باپ کے غلط عقائد سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے ملتِ اسلامیہ کے اجماعی عقائد کو قبول کرنے اور امت کے اجتماعی دھارے میں شامل ہونے کا اعلان کر دیا، اور آج وہ امریکہ میں صحیح العقیدہ مسلمانوں کے ایک بڑے گروہ کی قیادت کر رہے ہیں۔ 

اور دوسری تحریک ایران کے بابیوں اور بہائیوں کی ہے جس کے بانی محمد علی باب اور بہاؤ اللہ نے نبوت اور نئی وحی کا دعوٰی کیا لیکن ساتھ ہی مذاہبِ عالم کے مسلّمہ اصول کا احترام کرتے ہوئے اپنا نام اور مذہبی شناخت مسلمانوں سے الگ کر لی اور مسلمان کہلانے یا خود کو مسلمانوں کی صف میں شامل رکھنے پر اصرار نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ مذہب کے بنیادی اختلاف کے باوجود ان کے ساتھ مسلمانوں کا اس طرز کا کوئی تنازعہ موجود نہیں ہے جس طرح کا تنازعہ قادیانیوں کے ساتھ چل رہا ہے۔

جناب مرزا صاحب! یہ ایک نظر آنے والی واضح حقیقت ہے کہ مسلمانوں اور قادیانیوں کے درمیان موجودہ کشمکش کی اصل وجہ مذہب کا اختلاف نہیں بلکہ مذہبی اختلاف کے منطقی نتائج کو تسلیم نہ کرنا ہے۔ اور یہ امرِ واقعہ ہے کہ اسے تسلیم نہ کرنے کی تمام تر ذمہ داری قادیانی جماعت پر عائد ہوتی ہے کیونکہ مسلمانوں کا موقف بالکل واضح ہے کہ قادیانی گروہ کا مذہب مسلمانوں کے مذہب سے الگ ہے، اس لیے وہ مسلمانوں کا نام اور اصطلاحات استعمال کر کے اشتباہ پیدا نہ کرے، اور نہ ہی مسلمانوں کی مذہبی شناخت اور تشخص کو مجروح کرے، بلکہ اپنے لیے الگ نام اور علامات و اصطلاحات وضع کر کے اس کشیدگی کے خاتمہ کی طرف قدم بڑھائے۔

ان گزارشات کے ساتھ آنجناب سے یہ گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ ایک غلط اور غیر منطقی موقف پر ضد کر کے نہ خود پریشان ہوں اور نہ مسلمانوں کو پریشان کریں۔ بلکہ بہتر بات تو یہ ہے کہ جناب وارث دین محمد کی طرح غلط عقائد سے توبہ کر کے ملتِ اسلامیہ کے اجماعی عقائد کی بنیاد پر امتِ مسلمہ کے اجتماعی دھارے میں شامل ہو جائیں۔ آپ کے اس حقیقت پسندانہ فیصلہ کا پوری امتِ مسلمہ کی طرف سے خیرمقدم کیا جائے گا۔ اور اگر یہ آپ کے مقدر میں نہیں ہے تو بابیوں اور بہائیوں کی طرح اپنی مذہبی شناخت مسلمانوں سے الگ کر لیں اور پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ کا جمہوری فیصلہ قبول کر کے غیر مسلم اقلیت کا جائز اور منطقی کردار اختیار کر لیں۔ اس کے سوا کوئی تیسرا راستہ معقولیت اور انصاف کا راستہ نہیں ہے، اور نہ ہی آپ مغربی حکومتوں اور لابیوں کے سہارے کسی غلط اور نامعقول موقف کو مسلمانوں سے منوا سکتے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ یہ گزارشات آپ کو مثبت اور صحیح رخ پر سوچنے کے لیے ضرور آمادہ کر سکیں گی۔ 

والسلام علیٰ من اتبع الہدٰی۔

ابوعمار زاہد الراشدی
چیئرمین ورلڈ اسلامک فورم
خطیب مرکزی جامع مسجد، گوجرانوالہ، پاکستان

معجزہ کیا ہے؟

پروفیسر غلام رسول عدیم

اسی عنوان سے پروفیسر لیونیاں نے ایک پوری کتاب لکھی ہے : What is Miracle اس میں پروفیسر موصوف لکھتے ہیں:

 "معجزے کے مسئلے نے قدیم ترین ایام سے لے کر اس وقت تک انسانی ذہن کو مشغول رکھا ہے۔ انسان کو ہمیشہ معجزات پر اعتقاد رہا ہے بلکہ باوجود متعدد مشکلات کے وہ معجزات سے متعلق اپنے اعتقاد پر ثابت قدم رہا ہے۔ یہ اعتقاد اور یقین مذہب کا ایک اہم عنصر ہے۔ پیغمبر اور ہادیانِ دین اکثر معجزے دکھاتے رہے ہیں اور ان کی صداقت کی آزمائش ان کی معجزات دکھانے کی قدرت ہی سے ظاہر ہوتی ہے۔" 

یہ اقتباس ظاہر کرتا ہے کہ سوچنے سمجھنے والے دماغ اسلام سے باہر رہ کر بھی معجزے کے کسی نہ کسی طرح قائل رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ معجزہ ہے کیا؟ 

لغوی طور پر یہ لفظ عجز سے مشتق ہے جس کے معنی میں دو جہتیں بالکل واضح ہیں: (۱) عجز (کمزوری)  (۲) عجز کسی چیز کا پچھلا حصہ (مجمل اللغہ لابن فارس) 

اعجاز کے معنی کسی دوسرے کو عاجز اور بے بس کر دینا۔ انہم لا يعجزون (انفال ۵۹) ’’وہ عاجز نہیں کر سکتے" کمزور کرنا۔ کمزور سمجھنا۔ 

معجز کے معنی عاجز کر دینے والا شکست دینے والا- و من لا یجب داعى الله فليس بمعجز فی الارض (احقاف (۳۲) ’’جو اللہ کی طرف بلانے والے کی بات قبول نہ کرے، وہ زمین میں (خدا کو) عاجز کر دینے والا نہیں ہے۔‘‘

معجزه ایسی حقیقتِ ثابتہ یا امر ِواقعہ جو عاجز کر کے رکھ دے۔ و معجزہ النبی صلى الله عليه وسلم ما اعجز به الخصم عند التحدى و الهاء للمبالغه  (القاموس) ’’معجزہ وہ ہے جس سے آپؐ چیلنج کے وقت دشمن کو عاجز کر دیں۔ اس کے آخر میں تاء ماننے کے لیے ہے۔‘‘

دورِ جدید کے مشہور محقق مفتی محمد عبده (۱۸۴۹ء ۔ ۱۹۰۵ء) اپنی تفسیر المنار میں معجزے کے بارے میں لکھتے ہیں:

’’معجزے کے بارے میں سب سے زیادہ مشہور اور تحقیقی بات یہ ہے کہ اللہ تعالی اس کو اپنے عادی نظام کے خلاف صرف اپنی قدرت سے ظاہر فرماتا ہے تا کہ یہ بات ثابت کر دے کہ ’’نوامیس طبعیہ‘‘ خود اس کے محکوم ہیں، وہ ان کا محکوم نہیں۔ وہ جس طرح چاہے، ان میں تصرف کر سکتا ہے۔‘‘ (المنار جلد ۱ ص ۳۱۵)

مشهور سکاچ فلسفی ڈیوڈ ہیوم (۱۷۱۱ ۔ ۱۷۷۶) اپنی کتاب  Understanding Enquiry Concerning Human میں رقم طراز ہے:

’’معجزہ نام ہے قوانینِ فطرت کے خرق (خلافِ عادت ہونے) کا اور چونکہ یہ قوانین مستحکم اور اٹل تجربہ پر مبنی ہوتے ہیں، اس لیے معجزہ اتنا زبردست ثبوت ہے کہ اس سے بڑھ کر کسی تجربی ثبوت کا تصور ہی نہیں ہو سکتا۔ کیا وجہ ہے کہ ہم ان باتوں پر یقین رکھتے ہیں کہ تمام انسان فانی ہیں۔ آپ ہی آپ ہوا میں معلق نہیں رہ سکتا۔ آگ لکڑی کو جلاتی ہے اور پانی سے بجھ جاتی ہے۔ صرف یہی کہ یہ امور قوانینِ فطرت کے مطابق ثابت ہو چکے ہیں اور اب ان کا توڑنا بغیر قوانینِ فطرت کے توڑے یا بالفاظ دیگر بلامعجزہ ناممکن ہے۔‘‘

عقائد کی کتابوں میں ’’تمہید‘‘ ابو شکور سالمی ایک مستند کتاب ہے جس میں معجزے کی تعریف یوں ہے: 

وحد المعجزه ان يظهر عقيب السوال و الدعوى امر خارق للعاده من غير استحاله بجميع الوجوه ويعجز الناس عن اتيان مثله بعد الجهد و الاحتيال اذا كان لهم حذاقه و رزانه فی مثل ذالک۔
’’معجزے کی تعریف یہ ہے کہ سوال اور دعویٰ کرنے کے بعد ایسا خارق عادت واقعہ ظاہر ہو جو ہر حیثیت سے محال نہ ہو اور لوگ باوجود کوشش و تدبیر کے اس قسم کے معاملات میں پوری مہارت و بصیرت رکھتے ہوئے اس کے مقابلہ سے عاجز رہیں۔‘‘

اگر معجزے کے ان اجزائے ترکیبی کو سامنے کیا جائے جو فلاسفہ و متکلمین کی آراء کی صورت میں یا عقائد کی مختلف کتابوں میں معجزے کی تعریف کے سلسلے میں آتے ہیں (جن کی تفصیل کا یہ موقع نہیں) تو اجمالا" ان کا لب لباب یہ ہو گا: 

ا۔ معجزہ نبی سے ظہور پذیر ہوتا ہے، غیر نبی سے نہیں۔

۲۔ نبی سے بھی بعد از دعویٰ نبوت کی زندگی میں وقوع پذیر ہوتا ہے کیونکہ اگر کوئی خرقِ عادت واقعہ قبل از دعوائے نبوت ظہور میں آئے تو وہ اصطلاح میں ’’ارہاص‘‘ کہلاتا ہے، معجزہ نہیں۔ جس کے معنی دیوار پر پہلا ردہ رکھنے کے ہیں۔

۳۔ معجزہ ہمیشہ خارقِ عادت یا خلافِ عادت ہوتا ہے یعنی عام معمول سے ہٹ کر ظہور پذیر ہوتا ہے، اگر معمول کے خلاف نہ ہو تو معجزہ نہیں ہو گا۔

۴۔ بطور معجزہ ظاہر ہونے والے امور محال عادی ہوتے ہیں (عادتاً‌ ممکن نہیں کہ کوئی ایسا کر سکے)۔ محال عقلی (کہ عقل کے لیے انہیں ماننا ہی ناممکن ہو) نہیں ہوتے۔ زیادہ سے زیادہ وہ مستبعد عقلی (عقل کو ان کے ماننے میں خاصی دقت اٹھانا پڑتی ہو) ہو سکتے ہیں۔ یعنی بعید از عقل ہوتے ہیں، خلافِ عقل نہیں ہوتے۔ 

۵۔ کوئی غیر نبی پوری کوشش یا فنی مہارت سے "بمقابلہ نبی" ایسا کرنے پر ہرگز قدرت نہیں رکھتا۔ 

اگر کسی غیر نبی کے ہاتھ پر ایسا خلافِ عادت واقعہ ظہور پذیر ہو تو وہ کرامت کہلاتا ہے تا کہ یہ بات کھل کر سامنے آ جائے کہ نبی کے امتی پر فضلِ خداوندی سے محیر العقول واقعات ظہور پذیر ہو سکتے ہیں تو نبی کی اعجازی حیثیت کیا ہو گی۔ یوں غیر نبی کی کرامت نبی کی نبوت کے ابطال کے لیے نہیں، اثبات کے لیے ہوتی ہے۔ 

مطالعہ قرآن سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ جب بھی اللہ کے پیغمبروں نے اپنی پیغمبرانہ حیثیت منوانے اور پیغام الٰہی پہنچانے کے لیے لوگوں کے دل و دماغ کو بیدار کیا تو وہ لوگ جن کی عقل و فطرت میں بگاڑ نہیں تھا، فورً‌ا اس طرف متوجہ ہوئے اور پیغمبر پر ایمان لا کر قبول کر کے زمرۂ مومنین میں شامل ہو گئے۔ مگر بسا اوقات ایسا بھی ہوا کہ ان سے مطالبہ کیا گیا کہ اگر واقعی تم سلطنتِ خداوندی میں اس کے سفیر اور نمائندے کی حیثیت سے آئے ہو تو ایسا خارقِ عادت واقعہ پیش کرو جو عادی نظام کے خلاف ہو، جو اس امر کی دلیل ہو کہ تم واقعی اللہ کی طرف سے بھیجے گئے ہو۔ 

نبیوں کے مخاطبین اولین میں سے ایک قابلِ لحاظ تعداد سلیم الفطرت لوگوں کی ایسی رہی ہے جو انبیاء کرام کی پاکیزہ سیرتوں ہی کو دیکھ کر ان پر ایمان لاتی رہی ہے۔ حضرت عبد اللہ بن سلامؓ نے جو تورات و انجیل کے بہت بڑے عالم تھے، دیکھتے ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کہہ دیا ليس هذا بوجه کذاب (یہ کسی جھوٹے کا چہرہ نہیں ہو سکتا) اور فی الفور شرفِ ایمان سے مشرف ہو گئے ؎

در دل ہر امتی کز حق مزه است  
روئے و آواز پیغمبرؐ معجزه است 

تاہم معجزه طلب لوگوں میں سے اکثر ایسے تھے جو محض تفنن طبع کی خاطر معجزوں کا تقاضا کرتے یا پھر پیغمبر کا استہزا (مذاق اڑانا) مقصود ہوتا۔ انہیں معجزے بھی دکھا دیے جاتے تو بھی وہ تقلید ِآباء، معاشرتی رواجوں، خواہشاتِ نفسانی، اور ذاتی عناد کی وجہ سے اللہ کے رسولوں کے پیغام کو درخور اعتنا نہ سمجھتے۔ وہ پوری ڈھٹائی اور خیرہ چشمی سے معجزات کو سحر و کہانت کهہ کر کفر و شرک پر اڑے رہتے۔

اب جبکہ بابِ نبوت بند ہو چکا اور سلسلۂ نبوت و رسالت کی آخری کڑی کے طور پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم (فداہ ابی و امی) کو تا قیام قیامت مبعوث کر دیا گیا، اسلامی عقائد میں دراڑیں ڈالنے کے لیے اور نسلِ نو کو اسلام سے برگشتہ کرنے کے لیے مستشرقین اور ان کے ہم نوا انکارِ معجزہ کی راہیں تلاش کرنے میں اپنی توانائیاں کھپا رہے ہیں۔ انکارِ معجزہ کی وجوہات میں انسانی تحقیقات پر ضرورت سے زیادہ اعتماد اور مادہ پرستی کے ساتھ ساتھ غیر مسلموں سے مرعوبیت بھی شامل ہے۔ معجزے پر ایمان لانے کے لیے بنیادی شرط یہ ہے کہ خداوند قدوس کی قدرت و عظمت پر کامل ایمان ہو۔ اگر ایسا نہ ہو تو معجزے کو نہ ماننے کی کئی راہیں نکل سکتی ہیں۔

یہ ماننا ضروری ہے کہ خداوند عالم پورے عالم کا خالق بھی ہے، مدیر امور بھی، متصرف بالذات بھی ہے اور قانون بنانے والا بھی۔ جس قانون میں چاہے اپنی حکمت کے ساتھ تغیر کرنے پر قدرت بھی رکھتا ہے۔ معجزه دراصل اسی کی قدرت کا اظہار ہے۔ جو قانون بنا سکتا ہے، وہ اس میں کسی مصلحت کے تحت وقتی تغیر بھی کر سکتا ہے۔ جس خدا نے اشیاء میں تاثیریں اور خواص رکھے ہیں، وہ ان کی تاثیروں کو وقتی طور پر بدلنے، معطل کرنے، یا سلب کرنے کی بھی طاقت رکھتا ہے، کیونکہ معجزہ ہے ہی فعلِ خداوندی جو پیغمبر کے ہاتھ پر اس کی تصدیق و توثیق کے لیے ظہور پذیر ہوتا ہے۔ 

جان لینا چاہئے کہ معجزہ نبوت کی شرط نہیں، صاحبِ نبوت کی صداقت کی دلیل ہوتا ہے۔ معجزے میں پیغمبر کے ارادے کو نہیں ارادۂ خداوندی کو دخل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبر معجزه طلبی پر غیر مبہم الفاظ میں کہتے رہے ہیں انما الایات عند الله (معجزات اللہ کے پاس ہیں) و ما كان لرسول ان ياتی بايۃ الا باذن الله (حکمِ خداوندی کے بغیر رسول معجزہ پیش نہیں کرتے) معجزے میں رسول کی مہارت فنی کو دخل نہیں ہوتا، نہ یہ کوئی فن ہے۔ یہ تو رسول کی صداقت کی دلیل ہوتا ہے۔ ایک ساحر، شعبدہ باز وغیرہ اور نبی میں بنیادی فرق جان لیجئے۔

نبی اپنے فن کی بنیاد پر نہیں، خداوند عالم کی قدرت سے معجزہ دکھاتا ہے۔ شعبدہ باز اپنی فنی مہارت کا مظاہرہ کرتا ہے۔ نبی کا کردار بے داغ اور سیرت بڑی پاکیزہ ہوتی ہے۔ شعبدہ باز اور ساحروں کا کردار اکثر گھناؤنا ہوتا ہے۔ نبی معجزے کو اپنے ساتھ منسوب نہیں کرتا، قدرتِ خداوندی بتاتا ہے۔ ساحر اپنی مہارتِ فن کی ڈینگیں مارتا ہے۔ نبی معجزوں سمیت اپنے پورے پیغام کا کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا۔ ساحر شعبدہ بازی دکھا کر بھیک منگوں کی طرح اجرت چاہتا ہے۔ نبیوں نے ہمیشہ عظیم تہذیبوں اور عظیم تر تمدنوں کی بنیادیں رکھی ہیں۔ کسی ساحر نے آج تک کوئی تمدن پیدا نہیں کیا۔

نبی کے فیضان سے افراد کی سیرتیں قابلِ رشک ہوتی ہیں اور معاشروں کی بنیادیں مضبوط ہوتی رہی ہیں۔ اس کے برعکس ساحر خود بھی اور ساحروں کے ہوا خواہ بھی گھٹیا کردار اور پست ذہنیتوں کے لوگ رہے ہیں۔ نبیوں کی تعلیم آفاقی سچائیوں کی حامل ہوتی ہے جبکہ ساحروں کے اوہام اور مذموم فن کی بنیادیں بڑی بودی ہوتی ہیں جن سے کوئی معاشرہ تشکیل پذیر نہیں ہوتا۔ 

فی الجملہ ذہن نشین کر لینا چاہئے کہ معجزہ قدرتِ خداوندی کا کرشمہ ہوتا ہے۔ معجزے میں پیغمبر کی کسی طرح کوئی فنی مہارت نہیں ہوتی، البتہ وہ پیغمبر کی سچائی کی دلیل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ منکرین کی بے جا بلکہ بعض اوقات بیہودہ معجزہ طلبیوں پر پیغمبروں نے کبھی باتمکین خاموشی اختیار کی تو کبھی خندۂ تحقیر سے انہیں درخور اعتنا ہی نہ جانا۔ جب اللہ نے چاہا پیغمبروں کے ہاتھوں معجزات وقوع پذیر کروا کر انہیں اپنے دشمنوں پر غالب رکھا۔


مولانا عتیق الرحمٰن سنبھلی مدیر ’’الفرقان‘‘ لکھنؤ کا مکتوب گرامی

احیائے اسلام کی عالمی تنظیم ’’حزب التحریر‘‘ کے بارے میں

مولانا عتیق الرحمٰن سنبھلی

لندن ۲۴ جولائی ۹۵ء

محترم مولانا زاہد الراشدی صاحب (مدیر اعلیٰ الشریعہ گوجرانوالہ پاکستان)

السلام عليكم و رحمتہ اللہ

ایک ماہ کے قریب ہوا ’’حقوقِ انسانی‘‘ کے سلسلے میں آپ کا سرکلر الشریعہ کے چند شماروں کے ساتھ موصول ہوا تھا جس سے آپ کی برطانیہ میں آمد کا پتہ چلا۔ اس پر میں نے اپنی کتاب ’’طلاقِ ثلاثہ‘‘ کی ایک کاپی آپ کی خدمت میں لندن والے پتے پر ارسال کی تھی۔ سنا ہے کہ وہ آپ کو مل گئی ہے، مگر ساتھ ہی مولانا عیسیٰ منصوری نے یہ بھی بتایا کہ آپ کا مستقر اب نوٹنگھم ہو گیا ہے یعنی ملاقات کی امید اور بھی کم ہو گئی ہے۔

میں آغاز نومبر ۹۴ء سے امسال اپریل تک ہندوستان میں رہا۔ واپس آکر ڈاک میں الشریعہ کے کچھ شمارے بھی ملے۔ انہی میں سے ایک میں آپ کا ’’کلمہ حق‘‘ حزب التحریر کے بارے میں چھپا تھا۔ اس میں کچھ دوسرے علمائے کرام کے ساتھ آپ کی شیخ عمر بکری کے ساتھ جس نشست اور گفتگو کا ذکر ہے، اس کا بطور خبر تذکرہ میں گزشتہ سال ہی یہاں جنگ میں پڑھ چکا تھا جو میرے لیے بہت حیرت کا باعث ہوا تھا۔ بایں معنی کہ یہ صاحب جس انداز سے اس ملک میں خلافت کی تحریک چلا رہے ہیں، کیا اس کی مَضرت کی طرف آپ حضرات کا بالکل ہی دھیان نہیں گیا جو ان کو اعتماد کا ایسا زوردار سرٹیفکیٹ آپ نے عطا کر دیا! آپ کی اس خبر کے چند ہی دن بعد ان صاحب کا ایک مفصل انٹرویو جنگ نے شائع کیا تو میرا خیال تھا کہ اب آپ کی توجہ ان کی تحریک کی مضرت کی طرف ضرور مبذول ہو گئی ہو گی، مگر کلمہ حق پڑھ کر پتہ چلا کہ میرا اندازہ بالکل غلط تھا۔ اور ساتھ ہی یہ بھی تقاضا ہوا کہ اس سلسلے میں آپ کو بحیثیت مدیر الشریعہ ایک خط لکھ کر درخواست کروں کہ اگر کوئی حرج نہ ہو تو اسے الشریعہ میں ایک قاری کی رائے کے طور پر دے دیں۔

مگر اس کی نوبت نہ آسکی تھی کہ ابھی کوئی ڈیڑھ ہفتہ ہوا عمر بکری صاحب کے ساتھ میری خود ایک نشست ہو گئی اور اس نے اس تقاضے کو فریضے کے درجے میں پہنچا دیا۔ اب میں اسی نشست کے حوالے سے آپ سے کچھ عرض کرتے ہوئے درخواست کرتا ہوں کہ اسے الشریعہ میں دے دینے پر ضرور غور فرمائیں۔

غالباً‌ ۲۵ جون کی بات ہے۔ لندن سے باہر ایک دوست کی دعوت پر ان کے یہاں کے جلسے میں شرکت کے لیے جانا ہوا۔ وہاں حزب التحریر کا ایک اشتہار تقسیم ہوا جس میں ان کی تحریکِ خلافت کی طرف دعوت تھی۔ میں نے بھی ایک عدد لے لیا۔ اس کی ایک کاپی آپ کے لیے بھی منسلک کر رہا ہوں۔ اس کو پڑھ کر اندازہ ہوا کہ اب تک اس تحریک کی مضرت کا جو اندازہ تھا وہ بہت کم تھا۔ یہ خالص دینی نقطۂ نظر سے بھی فتنہ ہے، جبکہ اب تک صرف یہ خیال تھا کہ یہ یورپ میں اسلام اور مسلمانوں کی مصلحت کے خلاف ہے۔ میرے علم کے مطابق آپ انگریزی نہیں جانتے۔ یہ اگر صحیح ہے تو کسی انگریزی دان سے اس کو اردو میں سن لیں۔ مجھے امید ہے کہ آپ کا میری اس بات سے کوئی اختلاف نہ رہے گا کہ بے شک یہ دینی لحاظ سے ایک فتنہ ہے، بایں معنی کہ یہ لوگ حدیث اور قرآن کو اپنی ضرورت کے مطابق نهایت غلط طور سے استعمال کرنے میں کامل طور پر بے باک اور بے خوف ہیں۔ 

میں اس اشتہار کو پڑھ کر متفکر ہوا کہ کیا کیا جا سکتا ہے؟ اگلے ہی جمعہ کو اپنی مسجد پر ان لوگوں کا ایک اشتہار ملا جس میں بکری صاحب کے درسِ قرآن کے پروگرام کا اعلان تھا اور اس میں یہ وضاحت بھی درج تھی کہ مفسرینِ اہل سنت و الجماعت کے اصولوں کے مطابق۔ قدرتی طور پر فکر اور بڑھی۔ چنانچہ بکری صاحب سے مل کر گفتگو کرنے کا ارادہ کیا اور اگلے ہی ہفتے یہ ملاقات ہو گئی۔ میں نے یہ اشتہار پیش کر کے ان سے تصدیق چاہی کہ یہ انہی کا ہے، انہوں نے تصدیق کی۔ میں نے اس تمہید کے بعد کہ یہ تحریک فلاں وجہ سے اس ملک میں اسلام اور مسلمانوں کی مصلحت کے قطعاً‌ خلاف ہے اور سوچنا چاہئے کہ جس قوم نے عثمانی خلافت کو تباہ کیا اور جس کا ہاتھ آج بھی ہر مسلم ملک کے اندر اسلام کی سیاسی سربلندی کی روک تھام میں دیکھا جا سکتا ہے، وہ کیونکر نہایت بے فکری سے اس تحریک کو کھلے بندوں کام کرنے کا اپنے ملک میں موقع دے رہی ہے؟ اس سلسلے میں ان کی توجہ اشتہار کے ان حصوں کی طرف دلائی گئی جن میں خلیفہ کا کام یہ بتایا گیا ہے کہ وہ جنگ اور جہاد کے ذریعے دنیا میں اسلام کے پیغام کو پھیلائے گا۔ موصوف نے فرمایا کہ اس مضمون کا اشتہار تو ہم صرف مسلمانوں میں تقسیم کرتے ہیں۔  مطلب یہ ہوا کہ اس ’’احتیاط‘‘ کی بنا پر تحریک کے اس جنگجوانہ پہلو سے یہاں کی قوم اور حکومت بالکل بے خبر ہے اور بے خبر رہے گی۔ اللہ اللہ، سادگی کی یا مخاطب کو سادہ لوح سمجھنے کی بھی حد ہوتی ہے۔

الغرض اس تمہیدی گزارش کے بعد بکری صاحب کی توجہ اس حدیث مندرجہ کی طرف دلائی گئی کہ 

’’جو شخص اس حالت میں مرے گا کہ بیعت کا قِلادہ اس کی گردن میں نہ ہوگا، تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہوگی۔‘‘

عرض کیا گیا کہ یہ آدھی حدیث ہے، جو بے شک اس مطلب کے لیے مفید ہے کہ خلافت وجود میں لانے کی کوشش کرنی چاہئے تاکہ جاہلیت کی موت نہ مرنا پڑے، لیکن پوری حدیث پڑھئے تو اس کا کوئی تعلق اس مطلب سے نہیں نکلتا۔ بلکہ یہ اس صورت حال سے متعلق ہو جاتی ہے جبکہ آدمی خلیفۂ وقت کی بیعت سے دست کش ہو کر مرے۔ اور یہ اس مقصد کی اکیلی حدیث نہیں ہے، متعدد حدیثیں اس مضمون کی پائی جاتی ہیں جن کا مقصد ہر ممکن حد تک مسلمانوں کا سیاسی استحکام اور خانہ جنگی سے ان کی روک تھام ہے۔ مشکوٰۃ شریف میں پائی جانے والی ایسی سب حدیثوں کی فوٹو کاپی میں نے اپنے ساتھ لی ہوئی تھی جو ان کے سامنے رکھ دی۔ مگر میں آپ کو کیا بتاؤں کہ کس ہٹ دھرمی سے اس شخص نے اس فوٹو کاپی کا مقابلہ کیا! 

اسی طرح وہ حدیث کہ ’’اذا بویع الخليفتان فاقتلوا احدهما‘‘ (ایک خلیفہ کے مقابلے میں دوسرا آدمی خلافت کا دعویٰ کر کے کھڑا ہو جائے تو اس کو قتل کر دو۔) بھلا اس کا بھی خلافت کو وجود میں لانے کی جدوجہد سے کیا تعلق؟ آپ یقین فرمائیں گے کہ جب اول الذکر حدیث کے استعمال پر میرا اعتراض نہ تھما تو موصوف نے یہ دوسری پیش کر دی۔ یہ بھی زیرِ بحث اشتہار میں موجود ہے۔ 

میرے خیال میں ان کی اس روش سے ان کی اہل سنیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اور بھی جو حدیثیں آپ کو منسلکہ اشتہار  میں ملیں گی، وہ سب ایسی ہی قطعی غیر متعلق قبیل سے ہوں گی۔ 

کاش اس پر بھی بس ہو جاتی۔ اشتہار کا اختتام سورہ حج کی آیت نمبر ۴۰ و ۴۱ کے حوالے سے کیا گیا ہے۔ اس کا ترجمہ آپ خود ہی اصل آیت سے ملا لیں، خاص طور سے ۴۱ نمبر کا ترجمہ جس میں صلوٰۃ، زکوة، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سب کی تلخیص ’’استقامت علی الدین‘‘ کے الفاظ میں کر دی گئی ہے۔ آیت کے الفاظ ہیں :

الذين ان مكناهم فى الارض اقاموا الصلوٰۃ و اتوا الزكوٰۃ و امروا بالمعروف و نهوا عن المنكر … الخ۔
’’(یہ) وہ لوگ (ہیں) کہ اگر ہم ان کو ملک میں قدرت دیں تو وہ نماز قائم کریں، زکوٰۃ دیں، بھلے کا حکم دیں اور برے سے منع کریں۔‘‘

اس آیت کا جو ترجمہ انگریزی میں دیا گیا ہے، اس میں نہ نماز ہے نہ زکوٰۃ نہ امر بالمعروف نہ نہی عن المنکر، بلکہ اس سب کی جگہ یہ الفاظ ہیں: IN THEIR DEEN REMAIN CONSTANT (اگر ہم ان کو ملک میں اقتدار نصیب کریں تو وہ دین پر مضبوطی سے قائم رہیں)۔ آپ یقین کریں گے کہ جب میں نے اس شخص سے اس ترجمے کا جواز پوچھا تو اور بہت سی آئیں بائیں شائیں کے علاوہ آخری بات یہ تھی کہ صلوہ کے معنی کیا ہیں؟ دعا! ’’صلوہ علی النبی‘‘ دعا ہی تو ہے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔

تو یہ ہیں عمر بکری صاحب اپنے (منسلکہ) اشتہار اور اس گفتگو کی روشنی میں! کہ نہ صرف یورپ کے اس پروپیگنڈے کو جیتا جاگتا ثبوت مہیا کر رہے ہیں کہ اسلام کا احیا ایک خوفناک اور خونخوار طاقت کا احیا ہے، بلکہ ساتھ میں مسلمانوں کے دین کے لیے بھی وہ علامہ مشرقی والے فتنے سے کم نہیں ہیں۔ کیا اچھا ہو کہ آپ اس عریضے کے ساتھ منسلکہ اشتہار کا ترجمہ بھی شائع کریں۔

والسلام

خیر اندیش 

(عتیق الرحمٰن) دستخط


عیسائی دنیا کے عظیم پوپ کے نام کھلا خط

مولانا محمد عیسٰی منصوری

باسمه سبحانه

السلام علیٰ من اتبع الهدىٰ ۔ صحیح راہ پر قائم رہنے والوں پر سلامتی ہو۔ 

آپ بخوبی جانتے ہیں کہ یہ دنیا خیر و شر سے مرکب ہے، خالقِ کائنات نے ایک طرف انسان کا جسم اور مادی وسائل و اسباب دیے، دوسری طرف روح اور اس کی سیرابی کے لیے مذہب اور روحانی اسباب عطا کیے۔ مذہب دنیا میں انسان کے اندر کی حیوانیت پر روحانیت یا انسانیت کو غالب کرنے کے لیے وجود میں آیا تھا۔ آج دنیا میں جتنی انسانیت، ہمدردی، اخلاقِ فاضله، شرافت، خدا ترسی اور رحم و کرم ہے، وہ خدا تعالیٰ کے برگزیدہ پیغمبروں بشمول حضرت عیسیٰ و حضرت محمد علیهما السلام کی تعلیمات اور مساعی کی بدولت ہے۔ اگر انبیائے کرام علیہم السلام اور ان کی تعلیمات نہ ہوتیں تو دنیا کے انسان سب ہی انسان نما درندے بن چکے ہوتے۔

مذہبی طبقہ نہ صرف پیغمبروں کا وارث اور قائم مقام ہے بلکہ انسانیت، شرافت، اخلاقِ کریمانہ اور روحانیت کا نگہبان ہے۔ یہ دنیا کی بد قسمتی ہے کہ وہ مذہب سے دور ہو کر ہلاکت اور بربادی کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ آج کے حکمران و سیاست دان اپنی خود غرضی، حرص و طمع اور اقتدار و طاقت کے نشے میں اپنے پیدا کرنے والے خدا اور مذہب سے ہے نیاز اور لا تعلق ہو چکے ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ دنیوی حکمرانوں کے پاس مذہبی طبقہ سے بہت زیادہ طاقت، وسائل اور ذرائع ہیں، لیکن اس سے مذہبی طبقہ کی ذمہ داری ختم نہیں ہو جاتی۔ 

خاص طور پر عیسائیت کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ یہ مذہب شفقت اور رحم و کرم کا مذہب ہے، اور اس کی تعلیم یہ ہے کہ اگر کوئی ایک رخسار پر طمانچہ مارے تو دوسرا رخسار سامنے کر دو۔ عفو و درگزر کو اس مذہب کی بنیادی تعلیمات میں شمار کیا جاتا ہے۔ لیکن گزشتہ کئی سال سے آپ کے پڑوس میں چند سو میل کے فاصلے پر ایک پوری قوم کی نسل کشی ہو رہی ہے، لاکھوں انسانوں کو جانوروں کی طرح ذبح کیا جا رہا ہے، بوڑھوں، عورتوں اور بچوں تک پر درندگی کی انتہا کر دی گئی ہے، خاص طور پر نوجوان عورتوں اور بچیوں کے ساتھ ایسی حیوانیت ہو رہی ہے جس نے ہلاکو اور ہٹلر کے مظالم کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے، مگر آپ سمیت عیسائی دنیا کے مذہبی راہ نما جو روحانیت کے علمبردار اور انسانیت و شرافت، شفقت و اخلاق کے نگہبان سمجھے جاتے ہیں، اس طرح خاموش ہیں جیسے یہ سب کچھ ان کی منشا کے عین مطابق ہو رہا ہے۔ 

یہ مذہبی راہ نما جو کسی ایشیائی، افریقی یا مسلم ملک میں ایک عیسائی کی گرفتاری پر آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں، اور ایسا لگتا ہے کہ پوری انسانیت کا درد و غم صرف ان کے دلوں میں سما گیا ہے، نہ صرف مذہب و اخلاق اور انسانیت و شرافت کی دہائی دی جاتی ہے بلکہ ان ملکوں کی حکومتوں اور قوموں کو للکارا جاتا ہے۔ ابھی گزشتہ سال پاکستان میں سلامت مسیح اور رحمت مسیح کو اللہ تعالیٰ کے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں دریدہ دہنی کے جرم میں پاکستان کی عدالت نے سزا سنائی تو آپ سمیت ساری عیسائی دنیا کے مذہبی راہنما چیخ اٹھے۔ ساری دنیا کا پریس ان کی فریاد سے گونج اٹھا اور اس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا، لیکن یہاں یورپ کے قلب میں آپ کی نظروں کے سامنے ایک پوری نسل کو بے رحمی سے ذبح کیا جا رہا ہے، کان ناک کاٹے جا رہے ہیں، آنکھیں نکالی جا رہی ہیں اور صنف نازک کی رسوائی کے ہلاکو اور ہٹلر سے بھی بڑھ کر اذیت ناک طریقے اختیار کیے جا رہے ہیں، مگر ہمارے کان عیسائی دنیا کے کسی مذہبی راہنما کی زبان سے بوسنیا ہرزوگوینا کے مظلوم مسلمانوں کی ہمدردی میں دو بول سننے کے لیے ترس گئے ہیں۔

ہمیں یورپ کے حکمرانوں، سیاست دانوں اور میڈیا کاروں سے کوئی شکوہ نہیں، ان کی انسانیت و شرافت کو عرصہ دراز سے دنیا برابر دیکھ رہی ہے، ہمیں شکایت مذہب اور اس کے راہ نماؤں سے ہے، کیا عیسائی مذہب اتنا کھو کھلا ہو گیا ہے کہ اس کے علمبرداروں کے اندر سے انسانی و اخلاقی حس ختم ہو چکی ہے؟ یا عیسائیت قومیت اور رنگ و نسل کے بتوں کے سامنے سجدہ ریز ہو کر خدائے واحد کی بنائی ہوئی سب سے اشرف مخلوق کی ذلت و رسوائی سے اندھی بہری بن گئی ہے؟

یہ صحیح ہے کہ یورپ میں عرصہ دراز سے مذہب کو کاروبارِ زندگی سے نکالا جا چکا ہے اور اسے صرف چرچ اور پرائیویٹ زندگی تک محدود کر دیا گیا ہے۔ اگر میری صاف گوئی پر در گزر سے کام لیں تو یہ صورت حال بھی عیسائیت کے مذہبی راہ نماؤں کی ناعاقبت اندیشی کا نتیجہ ہے، جب انہوں نے علم و سائنس اور ٹیکنالوجی سے انکار کی راہ اختیار کی اور احتساب کی عدالتیں قائم کر کے بے شمار بے قصور انسانوں کو علمی و سائنسی نظریات کی بنیاد پر بھیانک سزائیں دے کر عیسائیت کو علم و سائنس کا دشمن ثابت کیا جس سے عام انسان مذہب سے متنفر ہو گیا۔

میں پھر معافی چاہوں گا کہ عیسائیت کے مذہبی راہنماؤں نے کل عیسائیت کو علم و سائنس کا دشمن بنا کر نقصان پہنچایا تھا اور آج انسانیت، شرافت، شفقت، رحم دلی اور اخلاقِ کریمانہ سے عاری و تہی دامن بتا کر عیسائی مذہب کو نقصان پہنچانے جا رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ عیسائیت کی تعلیمات و کردار بھی بدل گیا ہو اور اس کی تثلیث کے عناصر باپ، بیٹا اور روح القدس کی بجائے، ظلم و ستم، عیاری و مکاری اور درندگی و حیوانیت قرار پا گئے ہوں۔ کم از کم سربوں کے مجرمانہ کردار اور اس پر عیسائی دنیا کے مذہبی راہ نماؤں کی خاموشی پر تو یہی بات صادق آتی ہے۔ 

آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ کسی خطے میں چند ہزار یا چند لاکھ انسانوں کے ذبح کرنے سے کوئی مذہب ختم نہیں ہو جاتا، لیکن اس سے مجرموں اور ان کے خاموش پشت پناہوں کے اخلاقی دیوالیہ پن اور روحانی تہی دامنی کا ضرور اظہار ہوتا ہے، اور میں یہ بھی عرض کرنے کی جسارت کر رہا ہوں کہ یہ صورت حال عیسائی دنیا کے مذہبی راہ نماؤں کی کھلی اخلاقی شکست کی آئینہ دار ہے۔

یہ ضروری نہیں کہ مذہبی طبقہ کی حق پرستی، انسانیت دوستی اور ظلم کو ظلم کہنے سے یورپ کے مکار سیاست دان اپنے رویہ سے باز آجائیں، یا سرب اپنی حیوانیت چھوڑ دیں، اس لیے کہ خالق کائنات نے حیوانوں کو باز کرنے کا ضابطہ کچھ اور مقرر کیا ہے،  مگر آپ اخلاقی و انسانی فریضہ سے ضرور سبکدوش ہو جاتے اور عیسائیت داغدار ہونے سے بچ جاتی۔ کیونکہ صرف دنیا کے ایک ارب مسلمان ہی نہیں پوری تیسری دنیا آپ کے کردار کا جائزہ لے رہی ہے اور اس کا سب سے زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ وہ مذہب کے کھوکھلے پن کا تماشہ دیکھ رہی ہے۔

یہ بات دن بدن واضح ہوتی جا رہی ہے کہ بوسنیا ہرزوگوینا میں نہتے مسلمانوں کے قتل عام اور درندگی کے مجرم صرف سرب نہیں بلکہ امریکہ کا پریزیڈنٹ اور برطانیہ کا وزیراعظم بھی ان کے پشت پناہ ہیں، اور عیسائیت کا مذہبی طبقہ بھی اس صورت حال کا برابر کا ذمہ دار ہے جو یسوع مسیح کا جانشین سمجھا جاتا ہے اور مصلحت و مفاد سے بالاتر ہو کر سولی پر بھی سچی بات کہنا اس کی شناخت قرار دیا جاتا ہے۔ 

میں ایک بار پھر اس جسارت پر معافی کا خواستگار ہوں اور اس صورت حال میں آپ کے ارشادات کا متمنی ہوں کہ ’’مذہب اور روحانیت‘‘ کو اس المناک ترین بحران سے نکالنے کے لیے آپ کیا سوچ رہے ہیں؟

من جانب (مولانا) محمد عیسی منصوری

سیکرٹری جنرل ورلڈ اسلامک فورم

۷۲ ڈیلا فیلڈ ہاؤس، کرسچین سٹریٹ، لندن ای ون


ورلڈ اسلامک فورم کی سرگرمیاں

ادارہ


شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر کا دورۂ افریقہ و سعودی عرب

ورلڈ اسلامک فورم کے سرپرست شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم العالیہ گزشتہ ماہ کے دوران میں دو ہفتے کے دورے پر جنوبی افریقہ اور سعودی عرب تشریف لے گئے۔ ان کے سفر کی تفصیلات آئندہ شمارے میں شائع کی جائیں گی، ان شاء الله العزيز۔

حضرت مولانا محمد عبد اللہ پٹیل کا دورہ برطانیہ

ورلڈ اسلامک فورم کے سرپرست حضرت مولانا محمد عبد اللہ پٹیل مدظلہ العالی نے جولائی کا مہینہ برطانیہ میں گزارا۔ وہ کینیڈا سے واپسی پر لندن تشریف لائے اور کم و بیش ایک ماہ کے قیام کے بعد بھارت روانہ ہو گئے۔ انہوں نے مرکزی جامع مسجد بالہم لندن، جامع مسجد اپٹن لین لندن، اور مسجد نور لیسٹر میں ورلڈ اسلامک فورم کے زیراہتمام علمائے کرام کے اجتماعات سے خطاب کیا اور ان کے علاوہ مختلف شہروں میں دینی اجتماعات میں شرکت کی۔ 

مدنی مسجد نوٹنگھم میں انہوں نے اسلامک ہوم اسٹڈی کورس کے دفتر کا معائنہ کیا اور کورس کے بارے میں تفصیلات معلوم کیں۔ انہوں نے کورس کے اجراء پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے اس کی کامیابی کے لیے دعا فرمائی۔ مسجد نور لیسٹر میں اپنے خطاب کے دوران حضرت مولانا محمد عبد اللہ پٹیل مدظلہ العالی نے آج کے عالمی حالات کے تناظر میں علمائے کرام کو ان کی دینی و ملّی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی۔ مولانا موصوف کا یہ خطاب الشریعہ کے آئندہ شمارے میں قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ ورلڈ اسلامک فورم کے سیکرٹری جنرل مولانا عیسیٰ منصوری بھی اس دورہ میں مختلف مقامات پر ان کے ہمراہ رہے۔

فورم کا سالانہ سیمینار ۹ ستمبر کو ہو گا

ورلڈ اسلامک فورم کا سالانہ سیمینار ۵ اگست ۹۵ء کو اسلامک سنٹر سیلون روڈ انڈین پارک لندن میں منعقد ہونا طے پایا تھا اور مفکرِ اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی دامت برکاتہم نے اس میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی دعوت منظور فرمالی تھی، لیکن اگست کے آغاز میں ہی ان کی طبیعت زیادہ خراب ہو گئی اور لکھنؤ میں ان کے معالجین نے انہیں سفر سے روک دیا، اس لیے فورم کے سالانہ سیمینار کے التواء کا اعلان کر دیا گیا۔ اب یہ سیمینار ۹ ستمبر ہفتہ کو لندن میں ہو گا جس میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ اسلامیات کے سربراہ ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی مہمانِ خصوصی ہوں گے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔

مولانا زاہد الراشدی کی مختلف اجتماعات میں شرکت

ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا زاہد الراشدی نے گزشتہ ماہ کے دوران برطانیہ کے مختلف شہروں میں دینی اجتماعات میں شرکت کی۔ انہوں نے 

گلاسگو میں نظام شریعت کانفرنس

۲۹ جولائی کو مرکزی جامع مسجد گلاسگو (برطانیہ) میں تحریکِ نفاذِ اسلام پاکستان کے زیراہتمام نظامِ شریعت کا نفرنس منعقد ہوئی جس میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج جسٹس مولانا محمد تقی عثمانی نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ کانفرنس کی صدارت تحریکِ نفاذِ اسلام کے امیر مولانا مفتی مقبول احمد نے کی اور ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا زاہد الراشدی، یو کے اسلامک مشن کے مولانا سید طفیل حسین شاہ، مولانا قاضی منظور حسین اور دیگر علمائے کرام نے خطاب کیا۔ 

جسٹس مولانا محمد تقی عثمانی اور مولانا زاہد الراشدی نے ”نفاذِ اسلام کی راہ میں رکاوٹیں‘‘ کے عنوان پر تفصیلی خطاب کیا اور کہا کہ مغربی طرز سے مرعوبیت نفاذِ اسلام کی راہ میں سب سے بڑی فکری رکاوٹ ہے، اور علمائے کرام کو اس سلسلہ میں اسلامی نظام کی اہمیت و افادیت سے رائے عامہ کو روشناس کرنے کے لیے منظم محنت کرنی چاہئے۔

’’اسلامک ہوم اسٹڈی کورس‘‘ کے نئے سال کی تیاری

ورلڈ اسلامک فورم کے تحت مطالعہ اسلام کے سالانہ خط و کتابت کورس ’’اسلامک ہوم اسٹڈی کورس‘‘ کا پہلا سال مکمل ہو رہا ہے جس میں برطانیہ کے مختلف شہروں کے طلبہ و طالبات شریک ہیں، جبکہ مدنی مسجد نوٹنگھم میں کورس کے آفس نے نئے سال کی تیاری شروع کر دی ہے۔ یہ کورس اردو اور انگلش دو زبانوں میں ’’دعوۃ اکیڈیمی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد‘‘ کے تعاون سے شروع کیا گیا ہے اور اس کے دوسرے سال کی مدت کا آغاز اکتوبر سے ہو رہا ہے، ان شاء اللہ تعالٰی۔

حزب التحریر کے امیر الشیخ عمر محمد بکری سے ملاقات

ورلڈ اسلامک فورم کے راہ نماؤں مولانا زاہد الراشدی، مولانا محمد عیسیٰ منصوری اور مولانا قاری محمد عمران خان جهانگیری نے ۱۵ اگست ۹۵ء کو لندن میں حزب التحریر برطانیہ کے امیر الاستاذ عمر بکری محمد سے ملاقات کی اور ان کی نگرانی میں چلنے والے ’’الشریعہ کالج‘‘ کا معائنہ کیا۔ ’’الشریعہ کالج‘‘ میں مسلم نوجوانوں کو اصولِ دین (اصولِ تفسیر، اصولِ حدیث اور اصولِ فقہ) کی تعلیم دی جاتی ہے اور الاستاذ عمر بکری محمد نے اس سلسلہ میں اہل السنت والجماعت کے فقہی مذاہب کے اصولوں کے تعارف پر مشتمل ایک مفصل کورس تیار کیا ہے جو الشریعہ کالج میں پڑھایا جاتا ہے۔ 

فورم کے راہنماؤں نے حزب التحریر کے سربراہ سے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا اور انہیں ۱۳ اگست کو لندن میں ’’دعوتِ اسلام‘‘ کے لیے منعقد ہونے والی حزب التحریر کی کامیاب ریلی پر مبارک باد پیش کی۔ اس سے قبل الشیخ عمر بکری محمد نے ورلڈ اسلامک فورم کے سرپرست حضرت مولانا محمد عبد اللہ پٹیل مدظلہ العالی سے ان کی بھارت روانگی سے قبل ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور مختلف معاملات پر ان سے تبادلہ خیال کیا۔




بنیادوں کی طرف واپسی کا سفر

مغرب ایک طرف عالمِ اسلام کی دینی تحریکات کو ’’بنیاد پرست‘‘ قرار دے کر ان کے خلاف نفرت انگیز مہم چلا رہا ہے اور دوسری طرف ’’بنیادیں‘‘ خود اس کی مجبوری اور ضرورت بنتی جا رہی ہیں۔ برطانوی وزیر اعظم جان میجر نے دو سال قبل ’’بیک ٹو بیسکس‘‘ (Back to Basics)  ’’بنیادوں کی طرف واپسی‘‘ کا نعرہ لگایا تھا اور اب: 

’’وزیر اعظم جان میجر نے پالیسی ساز اداروں کو حکم دیا ہے کہ وہ ایسے خاندانوں کے لیے ۵ بلین پونڈ کا پیکج تیار کریں جن میں مرد کام کرتے ہیں لیکن بیویوں کو بچوں کی دیکھ بھال کے لیے گھر پر رہنا پڑتا ہے، منصوبہ کے تحت ایک اسکیم یہ ہے کہ کام نہ کرنے والی خواتین کو یہ حق دیا جائے کہ وہ اپنا پرسنل ٹیکس الاؤنس خاوندوں کے نام پر منتقل کریں جس سے انکم ٹیکس میں ۷۳ پونڈ ماہانہ کمی آسکتی ہے۔‘‘ (جنگ لندن ۱۲ جولائی ۹۵ء)

مغربی معاشرہ میں بیویوں کا بچوں کی دیکھ بھال کے لیے گھر پر رہنے کا تصور اور اسے حق تسلیم کرتے ہوئے اس کی حوصلہ افزائی بلاشبہ ’’بنیادوں کی طرف واپسی‘‘ کے سفر کا آغاز ہے جس کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ عالمِ اسلام کی دینی تحریکات بھی تو ’’بنیادوں کی طرف واپسی‘‘ کے لیے ہی جدوجہد کر رہی ہیں، ان کی ’’بنیاد پرستی‘‘ قابلِ اعتراض کیوں؟


’’قرادادِ مقاصد بنام سپریم کورٹ آف پاکستان‘‘

ادارہ

مصنف: سردار شیر عالم خان ایڈووکیٹ

ترجمه:  چودھری محمد یوسف ایڈووکیٹ

صفحات: ۴۸

ملنے کا پتہ: الشریعہ اکیڈمی، مرکزی جامع مسجد، گوجرانوالہ

قیمت: دس روپے

پیپلز پارٹی کے دوسرے دورِ حکومت کے دوران میں ۱۹۸۸ء میں بے نظیر صاحبہ وزیر اعظم کے مشورہ پر صدر مملکت نے دستور کے آرٹیکل ۴۵ کے تحت بے شمار قیدیوں کو موت، عمر قید اور دیگر سزاؤں کی معافی، تبدیلی اور تخفیف کے احکامات جاری کیے۔ ان احکامات کو لاہور ہائی کورٹ میں اس بنا پر چیلنج کیا گیا کہ یہ دستور کے آرٹیکل ۲۔الف  (مشمولہ قرارداد مقاصد) کے منافی ہونے کی وجہ سے باطل ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ نے اس موقف کو تسلیم کرتے ہوئے دستور کے آرٹیکل ۴۵ کو غیر موثر قرار دیا۔ حتمی تصفیے کے لیے معاملہ سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہوا تو اس نے اس نقطہ نظر کو مسترد کر دیا اور یہ قرار دیا کہ قرارداد مقاصد کو دستور میں کوئی فضیلت حاصل نہیں اور آرٹیکل ۲۔الف دستور کے دیگر آرٹیکلز کے مساوی درجہ میں ہے۔

سردار شیر عالم خان ایڈووکیٹ نے سپریم کورٹ کے اس فیصلہ (حاکم خان کیس، پی ایل ڈی ۱۹۹۲، سپریم کورٹ ۶۲۲) کا علمی اور تحقیقی جائزہ لیا، چودھری محمد یوسف ایڈووکیٹ نے اس کا اردو ترجمہ کیا اور الشریعہ اکیڈمی گوجرانوالہ نے اسے ’’قرارداد مقاصد بنام سپریم کورٹ آف پاکستان‘‘ کے عنوان سے کتابی صورت میں شائع کر دیا۔  

پاکستان میں اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں پر سنجیدہ اور علمی تنقید کی روایت موجود نہیں، اس لیے سپریم کورٹ کے فیصلے پر یہ سنجیدہ اور علمی تنقید حیرت کی نظر سے دیکھی جائے گی۔ اس تنقید کے چند پہلو ملاحظہ فرمائیے: 

’’حاکم خان کیس کے اثرات کا مزید جائزہ لیں تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ سپریم کورٹ نے سہولت کی راہ اختیار کی ہے۔ اس نے امرِ متنازعہ کو، جو بنیادی دستوری اہمیت کا حامل ہے، غیر طے شدہ تعطل کی شکل میں چھوڑ دیا ہے اور معاملے کو پارلیمنٹ کے لیے باقی رکھ دیا ہے۔ اس نے ایسا اس نیک تمنا کے ساتھ کیا ہے کہ کسی موقعہ پر قانون اور انصاف کی غرض کے لیے پارلیمنٹ شہری کی مدد کے لیے آئے گی۔ مگر اس راہ کا بھاری پتھر یہ ہے کہ پارلیمنٹ سپریم کورٹ کی سفارشات کی پابند نہیں ہے۔‘‘
’’معقولیت یہی ہے کہ اعلیٰ عدالت کی ذمہ داریاں بھی ان کے غیرمعمولی اختیار اور منصب کی مطابقت میں ہوں۔ یہ بھی ناگزیر ہے کہ حاکم خان کیس میں اٹھائے گئے نکات جیسے امور کو طے کرنے کے بارے میں عدالت بیدار ہو۔ اس بارے میں جارج میسن کے ریمارکس جو انہوں نے امریکی دستوری کنونشن میں جون ۱۸۸۷ء کو کہے تھے یاد آتے ہیں:  ’’جج قوانین کو سچے اصولوں اور تمام تر نتائج کے ماتحت دیکھنے کے عادی ہوتے ہیں‘‘(۹)۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ جج صاحبان کو ہمیشہ قانون کی پشت پر موجود حقیقی اصول اور ان کے تمام تر نتائج کا تجسس کرنا ہوگا۔ انہیں یہ احساس ہونا چاہیے کہ حاکم خان کیس میں طے کردہ فارمولا ایسے نتائج کا پیش خیمہ ہے جن کی گنجائش صرف ایسی اضطراری صورت میں ممکن ہے جب کہ کوئی دوسرا راستہ ہی باقی نہ ہو۔ عدالت کو ایسی صورت گری میں شریک نہیں ہونا چاہیے جو مستقل الجھاؤ، تعطل، اور قانونی اشتباہ بن کر رہ جائے۔ ایسی صورت میں دلدل اور بھی کٹھن ہو جاتی ہے جب صورت واقعہ یہ ہے کہ آرٹیکل ۲۔الف ناقابل ترمیم ہے۔‘‘
’’سپریم کورٹ کے فیصلے کی اہم بنیاد یہ مفروضہ ہے کہ آرٹیکل ۲۔الف وزن اور حیثیت میں دیگر دستوری دفعات کے برابر ہے۔ یہ واضح کیا جا چکا ہے کہ اس تعبیر کے نتائج لغو اور ہر لحاظ سے ناقابلِ قبول ہیں۔ اب میں مثبت پہلو سے بات شروع کرتا ہوں۔ تعبیر کے مسلّمہ اصولوں کے معیار پر سخت جائزہ کے بعد بھی آرٹیکل ۲۔الف کو دستورِ پاکستان کی انتہائی بنیادی اور فائق ترین دفعہ ماننا پڑتا ہے۔‘‘
’’اوپر کی بحث سے یہ واضح ہے کہ آرٹیکل ۲۔الف ایک ایسا قدم ہے جسے واپس نہیں لیا جا سکتا کیوں کہ یہ اقدام پاکستان کے قیام کی بنیاد کا آئینہ دار ہے۔ اس میں ایسے اصول اور اقدار درج ہیں جن کے بغیر پاکستان کے نظریہ کا تصور ہی ممکن نہ ہے۔ یہ پاکستان کے لیے شخصی آزادی کے مقابلے پر کہیں زیادہ لازمی ہیں۔ اس نقطہ نظر سے آرٹیکل ۲۔الف ناقابلِ ترمیم ہے۔‘‘
’’اس بارے میں لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ ہر لحاظ سے درست ہے۔ اس نے معاملے کی تہ تک پہنچ کر کمال بصیرت، اختصار اور جامعیت سے کام لیا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ جسے جسٹس شیخ ریاض احمد اور جسٹس ملک محمد قیوم نے قلمبند فرمایا، اس میں لکھا ہے: ’’ہم آرٹیکل ۲۔الف کو دیکھیں تو یہ ظاہر ہے کہ مقننہ نے خود قانونِ الٰہی کو برتر رکھتے ہوئے انسان کے بنائے ہوئے قانون کو اس کے ماتحت رکھا ہے۔ اگر ایسا ہے تو کیا کوئی جج قانونِ الٰہی کی پیروی سے انکار کر سکتا ہے جب کہ وہ اپنے حلف کے تحت اس کے تحفظ کا پابند ہے۔ آرٹیکل ۲۔الف موثر اور قابلِ نفاذ ہے تو اقتدارِ اعلیٰ عوام یا پارلیمنٹ کا نہیں بلکہ اللہ کا ہے۔ کیا ایسی صورت میں آرٹیکل ۲۔الف کی نفی کی کوئی صورت اختیار کی جاسکتی ہے؟ یہ امر قابلِ لحاظ ہے کہ آرٹیکل ۲۷۰۔الف دستور کی ہر دفعہ کو اس کے قابلِ نفاذ ہونے کے پہلو سے برابر اور باہم قائم قرار دیتا ہے، مگر اپنے اپنے وزن اور اہمیت کے تحت۔‘‘ ہائی کورٹ نے ایک لحاظ سے دستور کی ہر دفعہ کو اس معنی میں برابر قرار دیا ہے کہ یہ دستور کا حصہ ہے اور قابلِ نفاذ ہے۔ مگر ایک فرق بڑا واضح ہے کہ اگرچہ تمام آرٹیکلز موثر، باہم قائم ہیں، مگر اپنے اپنے وزن کے ساتھ۔ لہٰذا آرٹیکل ۲۔الف دستور کا جزو بنائے جانے کے بعد دوسرے آرٹیکلز کے مقابلے پر زیادہ وزن اور اہمیت کے ساتھ موثر اور قابلِ نفاذ ہے۔‘‘
’’قانونی دفعات کا وزن اور حیثیت ان کے متن اور نفسِ مضمون سے ہو سکتا ہے اور یہ ضروری نہیں کہ اس کے لیے لفظی صراحت سے ان کی برتری کا اظہار ہوتا ہو۔ ان دو پہلوؤں کو پیش نظر رکھنے کا ایک ہی نتیجہ ہے کہ آرٹیکل ۲۔الف اپنی غیر معمولی نوعیت کی بنا پر دیگر دستوری دفعات پر بالادست حیثیت رکھتا ہے۔ علاوہ ازیں کسی دفعہ کی کوئی تعبیر دستور کے بنیادی مقصد کو تقویت دینے اور موثر بنانے کی ہو سکتی ہے، نہ کہ اسے ختم کرنے کی۔ پاکستان میں دستور کا بنیادی مقصد اسلامی احکامات اور نظریہ کا نفاذ ہے۔ اس بارے میں حاکم خان کیس میں مسٹر جسٹس اے ایس سلام نے اپنے فیصلہ میں لکھا: ’’دستور ایک مربوط کل ہے، اس کے تمام آرٹیکلز کی تعبیر ایسے متوازن انداز میں کی جانی چاہیے کہ اس کی روح اور مقصد کو تقویت ملے۔‘‘ اس طرح جسٹس سلام کے مطابق دستور کا مقصد اور اس کی روح سب سے زیادہ اہم چیز ہے۔‘‘
’’ ان حالات میں اگر آرٹیکل ۴۵ آرٹیکل ۲۔الف سے متصادم ہے تو آرٹیکل ۴۵ کے تحت صدر کا سزاؤں کی معافی کا اقدام اس کے حلف کے بھی منافی ہو گا۔ مزید برآں قانون ساز اداروں کے تمام ارکان اسلامی نظریہ کے تحفظ کا حلف اٹھاتے ہیں لہٰذا یہ سوچا بھی نہیں جا سکتا کہ حلف کے منافی کسی اقدام کی اجازت دینا ان کا منشا ہو سکتا ہے۔ اس طرح آرٹیکل ۲۔الف اور حلف ایک مشترکہ عمل کے ذریعہ قانون سازی اور انتظامی دائرہ کو کنٹرول کریں گے۔‘‘
’’کسی قوم کا دستور اس کی آرزوؤں اور نظریات کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ جو اس کے تاریخی، ثقافتی، سماجی اور اقتصادی اقدار کو عام زندگی میں اداروں کی صورت میں منظم کرتا ہے۔ جدید دور میں پاکستان اولین مملکت ہے جو اس واضح اعلان کے ساتھ قائم ہوئی کہ اس میں اسلامی احکامات نافذ کیے جائیں گے۔ اس طرح قیامِ پاکستان ایک منفرد واقعہ ہے اور یہ فطری امر ہے کہ دستور میں اس کا بھر پور اظہار ہو۔ آرٹیکل ۲۔الف ہی واحد دستوری دفعہ ہے جو اس کا مظہر ہے۔ آرٹیکل ۲۔الف بہت سی امتیازی خصوصیات کا حامل ہے جو کسی دوسرے ملک کے دستور میں موجود نہیں۔ اس میں پہلی خاص بات یہ اعلان و استقرار ہے کہ حاکمیت اللہ تعالیٰ ہی کو حاصل ہے۔ اس طرح عوامی حاکمیت کے جدید مسلّمہ اصول کی نفی کر دی گئی ہے اور یہ تصور دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ حاکمیت مملکتِ پاکستان کو تفویض کی جس کا استعمال عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعہ ہوگا اور وہ اسے ایک مقدس امانت کے طور پر اللہ تعالیٰ ہی کی متعینہ حدود کے اندر استعمال کر سکیں گے۔ اس طرح حاکمانہ اختیار کی واضح طور پر تحدید کر دی گئی ہے۔‘‘
’’آرٹیکل ۲۔الف حاکمیت کے بارے میں مکمل اور جامع ہے۔ کیونکہ یہ حاکمیت کے سرچشمہ، اس کی کیفیت، حدود اور شرائط بیان کرتا ہے۔ اس آرٹیکل کی جامعیت بذات خود اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہ عملی نفاذ کے لیے وضع کی گئی ہے۔ اس طرح یہ محض استقراری نوعیت کی حامل نہیں ہو سکتی۔ مزید برآں دستور کے مجموعی اور بااحتیاط مطالعہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آرٹیکل ۲۔الف وہ واحد دستوری دفعہ ہے جو حاکمیت سے متعلقہ ہے۔ دیگر تمام دستوری دفعات اختیارات، حقوق اور فرائض سے متعلق ہیں۔ اس طرح یہ امر بالکل صاف اور سادہ ہے کہ تمام حقوق، اختیارات اور فرائض تصورِ حاکمیت ہی سے پھوٹے ہیں۔ چنانچہ اختیارات، حقوق اور فرائض بہرصورت حاکمیت کے ماتحت اور ذیل میں آئیں گے۔ آرٹیکل ۲۔الف کی زبان بھی اس بارے میں قطعی ہے کہ یہ محض خیالی نہیں بلکہ موثر طور پر نافذ کیے جانے کے ارادے سے وضع کیا گیا ہے۔‘‘
’’ہم اوپر بعض دستوری دفعات کے ناقابلِ ترمیم ہونے اور ہائڈنز کیس کے اطلاق کی بحث میں یہ واضح کر چکے ہیں کہ بعض دفعات کے اندر بغیر صراحت کے بھی ان کی برتر حیثیت واضح ہوتی ہے۔ اس استدلال کو مزید تقویت اس بات سے بھی ملتی ہے کہ دستور میں درج بنیادی حقوق کو دیگر تمام قانونی دفعات پر بالادستی حاصل ہے حالانکہ ایسا کہیں لکھا ہوا نہیں۔ اسی طرح آرٹیکل ۲۰۳۔ڈی، ۲۰۳۔الف کی اسلامی دفعات کو برتری حاصل ہے۔ آرٹیکل ۱۴۳ کی رو سے ہر وفاقی قانون صوبائی قوانین پر برتر ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ آرٹیکل ۸، ۱۴۳ اور ۲۰۳۔ڈی کے ذیل میں نہ آنے والی دستوری دفعات میں تصادم کی صورت میں کیا ہو گا؟ ایسی صورت میں امریکی دستور کے آرٹیکل ۶ میں یہ درج ہے کہ دستوری دفعات دیگر تمام قوانین پر غالب ہوں گی۔ مگر پاکستان کے دستور میں ایسی کوئی دفعہ درج نہ ہے۔ بہرحال دستور مملکت کا ایک نامیاتی قانون ہے جو تمام دوسرے قوانین کے لیے سرچشمہ ہے، لہٰذا اسے دیگر قوانین پر برتری حاصل رہے گی۔ مگر یہ بات اہم ہے کہ یہ برتری و بالادستی محض سیاق و سباق سے اخذ کی جاتی ہے۔ یہ استدلال آرٹیکل ۲۔الف پر صادق آتا ہے۔ آرنیکل ۲۔الف دیگر تمام قوانین بشمول دستوری دفعات کے لیے سرچشمہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ آرٹیکل ۲۔الف دیگر قوانین کے لیے میزانِ تصدیق ہے۔ کیوں کہ اگر یہ تعبیر اختیار نہ کی جائے تو نتیجہ تعبیری ابتری، الجھاؤ اور لغویت کا ختم نہ ہونے والا سلسلہ ہے۔‘‘
’’یہ دلچسپ بات ہے کہ پہلے ایک موقعہ پر سپریم کورٹ حاکم خان کیس سے بالکل مختلف فیصلہ دے چکی ہے۔ بی زیڈ کیکاؤس کیس (۲۹) میں سپریم کورٹ نے قرار دیا: ’’اسلام کے اصول سربستہ راز ہیں اور نہ ہی پیچیدہ اور ناقابلِ عمل۔ اسلامی قوانین ہر دور ہر مقام پر قابلِ نفاذ و عمل ہیں بشرطیکہ ان کی صحیح روح، فہم اور حالات کا پورا ادراک ہو۔‘‘ یہ واضح ہے کہ حاکم خان اور کیکاؤس کیس میں فیصلوں میں بُعد المشرقین ہے۔ سپریم کورٹ ملّی سوچ اور ضمیر کا آئینہ ہے۔ یہ توقع رکھی جاتی ہے کہ وہ من موج، تکون اور تضاد کا شکار نہیں ہو گی۔‘‘
’’یہ صورت حال الجھاؤ سے پُر، حیران کن، مضحکہ خیز اور انتہائی فضول ہونے کی بنا پر مشکل ہی سے اطمینان بخش کہی جا سکتی ہے۔ میں یہ کہنے کی جسارت کروں گا کہ مسئلے کی بنیاد جدید حالات میں اسلام کے غالب حیثیت کے بارے میں سکوت اور بعض صورتوں میں بین السطور خدشات، شبہات اور ذہنی تحفظات کا رویہ ہے۔ یہاں تک کہ یہ احساس بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ اگر اسلامی شریعت کلی طور پر نافذ کر دی گئی تو یہ مصیبت نہ بھی سہی انتشار کا باعث تو بہرحال ہو گی۔ جب تک ان شبہات اور اندیشوں کو دلیل کی قوت سے قطع نہیں کیا جائے گا، موجودہ صورت حال باقی رہے گی۔ اس بارہ میں موجودہ موضوع کی پابندیوں کی بنا پر اسلام کے بارے میں تفصیلی اظہار ممکن نہیں۔ اسلام ایک وسیع موضوع ہے۔‘‘
’’جملہ مباحث کا خلاصہ یہ ہے کہ قراردادِ مقاصد میں پاکستان کا نظریہ بیان ہوا ہے جو کہ قیامِ پاکستان کی بنیاد ہے اور ملّی عہد کی عکاس ہے جس کی رو سے پاکستان میں اسلامی قانون کا اجرا اور اسلامی سوسائٹی کا قیام لازمی ہے۔ اس کے دستور میں موثر جزو کے طور پر آرٹیکل ۲۔الف کے تحت شامل ہونے کے بعد خاص طور پر اس دستور میں شمولیت کے پس منظر کے لحاظ سے آرٹیکل ۲۔الف دستور کی دیگر تمام دفعات سے بالادست ہے۔ یہ ان کو کنٹرول کرنے والی ہے، اور بطور تصدیقِ عامہ کے اصول کے اس کی اس حیثیت سے انکار ممکن ہی نہیں۔ اس طرح آرٹیکل ۲۔الف کو بلند ترین مقام اور حیثیت حاصل ہے۔‘‘
’’اوپر کے مفصل تجزیہ کی روشنی میں آرٹیکل ۲۔الف کے موثر نفاذ سے اگر اسلامائزیشن کا عمل عدالتوں کے ذریعہ جاری رہتا ہے تو کسی اضطراب کی کوئی گنجائش نہیں۔ اس صورت میں آسمان نہیں کرے گا۔ اسلامی شریعت انتہائی مستحکم، منظم اور لچک دار نظام پر مشتمل ہے۔ اسے آہنی جیکٹ خیال نہیں کیا جانا چاہیے۔ یہ ایسا نظام ہے جس میں مقررہ حدود میں اعلیٰ اصولوں اور اقدار کے ماتحت حالاتِ زمانہ کو تعمیر و منضبط کیا جاتا ہے۔ ہم یہ بھی ظاہر کر چکے ہیں کہ قرآن و سنت کی روشنی میں اجتہاد میں عقل و استدلال کی زبردست اہمیت ہے۔ اگر اس کی اہمیت کو سمجھ لیا جائے تو تمام شکوک و شبہات اور اندیشے ختم ہو جائیں گے۔‘‘

سپریم کورٹ کے فیصلہ پر یہ تبصرہ اس قابل ہے کہ اسے بار بار اور بہ تمام و کمال پڑھا جائے۔

(بشکریہ ماہنامہ نوائے قانون، اسلام آباد)


دردِ معدہ اور اس کا سدباب

حکیم عبد الرشید شاہد

یہ ایک ایسا مرض ہے کہ اس کی تکلیف مریض کو ہر وقت بے چین اور ذہنی و روحانی کرب میں مبتلا رکھتی ہے۔ فی الحقیقت یہ ایک نہایت ہی تکلیف دہ مرض ہے۔ اگر اس کے علاج میں غفلت اور تساہل سے کام لیا جائے تو اس سے متعدد قسم کی خرابیوں اور تکلیفوں کے پیدا ہونے کا امکان ہے۔ مثال کے طور پر معدہ پر ورم ہو جاتا ہے اور قولنج ہونے کا بھی خطرہ ہوتا ہے۔ بعض لوگ معدہ میں میٹھا میٹھا درد ہونے کی صورت میں عام طور پر ایک ہنگامی اور معمولی نوعیت کی خرابی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں اور اکثر و بیشتر صورتوں میں اس کو معدے کی گرانی اور نقص ہضم سمجھتے ہوئے ہاضم قسم کے چورن اور نمکیات یا سوڈاواٹر پی لینا ہی کافی اور موثر علاج تصور کر لیتے ہیں۔ حالانکہ ایسی تمام تدابیر صحیح اور موثر ثابت نہیں ہو تیں۔ 

جاننا چاہیے کہ نظامِ معدہ کی صحت و تندرستی پر تمام جسم کی صحت کا دارومدار ہوتا ہے، اس لیے یہ شکایت رونما ہوتے ہی اس کے تدارک کی مناسب تدابیر اختیار کی جائیں۔ آج کل نئے نئے بازاری پکوانوں کا اور گھروں میں چسکے دار کھانے پکانے کا رجحان عام ہوتا جا رہا ہے جس کی وجہ سے پیٹ کی بیماریاں عام ہیں۔ 

معدے کے درد کے کئی اسباب ہو سکتے ہیں۔ غذا اگر معدہ میں فاسد ہو جائے یا ریاح کی غیر معمولی زیادتی ہو جائے تو معدہ کے معمولات میں ایسے تغیرات پیدا ہو جاتے ہیں کہ معدہ ان کو برداشت نہیں کر پاتا اور درد شروع ہو جاتا ہے۔ اگر بے احتیاطی یا لذیذ و چٹخارے دار ہونے کی صورت میں زیادہ مقدار میں کھانا کھا لیا جائے جیسا کہ اکثر شادی بیاہ کی دعوتوں میں ہوتا ہے، یا بادی اور ثقیل قسم کی غذا کھا لی جائے تو یہ بھی دردِ معدہ کا باعث بنتا ہے۔ ان حالات میں جی متلانے لگتا ہے، کھٹی ڈکاریں آنے لگتی ہیں، پیٹ میں کثرتِ ریاح سے اپھارہ پیدا ہو کر تناؤ ہو جاتا ہے اور کبھی کبھی قے بھی ہو جاتی ہے۔ پیٹ میں جلن اور کسمساہٹ ہوتی ہے۔ 

اس قسم کا درد جب فمِ معدہ (معدہ کا منہ) میں ہو تو مریض اور اس کے لواحقین زیادہ پریشان ہو جاتے ہیں کیونکہ اس حالت میں مریض بار بار اپنے دل پر ہاتھ رکھتا ہے جس سے گمان ہوتا ہے کہ شاید دل میں درد ہو رہا ہے، حالانکہ اس کا سبب فمِ معدہ کا دل کے قریب ہوتا ہے۔ اگر ریح کی وجہ سے ہو تو پسلیوں میں کھچاؤ پیدا ہو جاتا ہے۔ 

یہ معدہ اور پیٹ کے تمام عوارض صرف اور صرف ہماری غلط غذا کا نتیجہ ہیں۔ اس غلط غذا کے پیش نظر میں نے جب دیکھا کہ میرے پاس اکثر مریض معدے کے درد و جلن کے آتے ہیں تو خیال آیا کہ چلو آج شہر کی اندرونی طعام گاہوں کا جائزہ لیا جائے۔ چنانچہ اس غرض سے نکلا، شہر کے ایک ایک ہوٹل و ریڑھی سے پوچھتا رہا کہ بھائی کوئی سبزی پکائی ہے ؟ تو ہر ایک کا جواب منفی ملتا۔ ہر ریڑھی اور ہوٹل میں ہوتا کیا ہے؟ انڈے، چاول، روسٹ، تکے، کباب، اچار، کوفتے، شامی کباب وغیرہ۔ سارے کے سارے معدہ کے فعل کو پامال کرنے والے اسباب موجود پائے۔

سد باب 

معدہ کے لیے جو بھی دوا چاہے پھکی، معجون یا گولیوں کی شکل ہو اس میں نمکیات ڈالنے سے حتی الوسع پر ہیز کیا جائے۔ نہایت آسان اور بے ضرر نسخہ ملاحظہ فرمائیں:

هو الشافی۔

نسخه: 

گندھک آملہ سار ۲ توله، پودینہ خشک ۲ تولہ، اجوائن دیسی ۴ تولہ۔ 

خوراک بعد از طعام: 

دو دو ماشہ تین وقت نیم گرم پانی سے کھائیں۔ 

اس کے علاوہ قرایادینی نسخہ جات میں سے جوارش کمونی و جالینوس بھی مندرجہ بالا عوارض کے لیے فوری اثر ہیں۔

ڈاکٹر نصر حامد ابو زید کی ہرزہ سرائی اور قاہرہ فیملی کورٹ کا فیصلہ

ادارہ

قاہرہ کی فیملی کورٹ کے حج ڈاکٹر فاروق عبد الحلیم نے قرآن کریم کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والے قاہرہ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر نصر حامد ابو زید کو مرتد قرار دے کر اس کا نکاح فسخ قرار دیا ہے۔ یہ بات رابطہ عالم اسلامی کے جریدہ ہفت روزہ ’’العالم الاسلامی‘‘ مکہ مکرمہ نے ۷ اگست کی اشاعت میں بتائی ہے۔

’’العالم الاسلامی‘‘ کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر نصر حامد ابو زید نے اپنی متعدد تصانیف میں قرآن کریم کے بارے میں ہرزہ سرائی کی ہے اور اس کے کلامِ الٰہی ہونے سے انکار کے علاوہ قرآن کریم کو نعوذ باللہ خرافات اور داستانوں کا مجموعہ قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں ڈاکٹر ابو زید کی مختلف کتابوں کے اقتباسات دیے گئے ہیں، جن کے مطابق اس نے نعوذ باللہ یہ کہا ہے کہ ہمارے زوال کا بڑا سبب یہ ہے کہ 

’’ہم نے قرآن کو مقدس کتاب کا درجہ دے دیا اور خرافات کے غلام بن کر رہ گئے‘‘۔ 

اس نے لکھا ہے کہ 

’’ایک کتاب جو ایسے شخص نے لکھی ہے جو صحرا میں رہتا تھا، اونٹ، گھوڑے اور خچر کی سواری کرتا تھا، پندرہ صدیوں کے بعد ان لوگوں کے لیے کیسے قابلِ عمل ہو سکتی ہے جو جہازوں پر سفر کرتے ہیں؟‘‘

اس نے کہا کہ 

’’ہم نے عرب عصبیت میں خواہ مخواہ قرآن کو مقدس کتاب کا درجہ دے دیا، اس لیے قوم کو میرا مشورہ یہ ہے کہ اس کتاب کے تقدس کو ذہن سے نکال دیں اور اسے وہی حیثیت دیں جو عام طور پر کسی کے کلام کی ہوتی ہے۔‘‘

اس بدبخت نے جناب نبی اکرم صلى الله عليه وسلم کو ’’ساكن الصحراء‘‘ (صحراء نشین) کے نام سے یاد کرتے ہوئے لکھا ہے کہ 

’’اگر میری قوم ترقی کے منازل طے کرنا چاہتی ہے تو اسے چاہئے کہ وہ (نعوذ باللہ) صحرا نشین کی خرافات سے پیچھا چھڑائے۔‘‘

رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر ابو زید نے جنت، دوزخ اور قیامت سے بھی انکار کیا اور انہیں محض تخیلاتی چیزیں قرار دیا ہے۔ اس نے ایک جگہ لکھا ہے کہ نعوذ باللہ 

’’قرآن اور عقل کبھی ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے۔‘‘

اور اس نے یہ بھی (نعوذ باللہ) لکھا ہے کہ 

’’اس کتاب نے خرافات اور داستانوں کے سوا کچھ نہیں دیا۔‘‘

ڈاکٹر ابو زید کی اس ہرزہ سرائی کے خلاف قاہرہ کے علماء اور وکلاء کے ایک گروپ نے فیملی کورٹ سے رجوع کیا اور فیملی کورٹ کے جج ڈاکٹر فاروق عبد الحلیم نے اپنے تفصیلی فیصلہ میں ڈاکٹر ابو زید کو مرتد قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ابو زید کا نکاح فسخ ہو گیا ہے اور اس کی بیوی ڈاکٹر ابتہال یونس، ارتداد کی وجہ سے، اب اس کی بیوی نہیں رہی۔ یاد رہے کہ ڈاکٹر ابتہال یونس بھی قاہرہ یونیورسٹی کی پروفیسر ہیں۔ 

ڈاکٹر فاروق عبد الحلیم نے اپنے فیصلہ میں لکھا ہے کہ انہوں نے اس فیصلہ سے قبل حرم پاک کا سفر کیا اور طوافِ بیت اللہ کے دوران دعاؤں کے علاوہ استخارہ بھی کیا اور اس کے بعد قاہرہ واپس آکر یہ فیصلہ قلمبند کیا۔


چند اقتباسات

حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ

ترجمہ قرآن مجید کی ترتیب

’’قرآن شریف کا طرز عام مصنفین کے طرز پر نہیں ہے بلکہ محاورہ بول چال کا طرز ہے، نہ اس میں اصطلاحی الفاظ کی پابندی (ہے)۔ ناواقف لوگ اس کو عام تصانیف کے طریقہ پر منطبق کرنا چاہتے ہیں اس لیے سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس مضمون کو صاحبِ کشاف نے بھی لکھا ہے، اس لیے میں کہا کرتا ہوں کہ ضروری صَرف و نحو اور کسی قدر ادب پڑھا کر قرآن شریف کا سادہ پڑھا دینا مناسب ہے، کیونکہ کتبِ درسیہ کی تحصیل کے بعد دماغ میں اصطلاحات رچ جاتی ہیں، پھر طالب علم قرآن شریف کو اسی طرز پر منطبق کرنے لگتا ہے۔ اسی طرح پہلے قرآن شریف کا ترجمہ پڑھ کر پھر فنون ضرور پڑھے کیونکہ بعض مقاماتِ قرآنیہ بغیر فنون کے حل نہیں ہوتے۔‘‘

(کلام الحسن ص ۳۲ از حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ)

مروجہ قوانین داخلِ نصاب کیے جائیں

’’یہ میری بہت پرانی رائے ہے، اور اب تو رائے دینے سے بھی طبیعت افسردہ ہو گئی، اس لیے کہ کوئی عمل نہیں کرتا۔ وہ رائے یہ ہے کہ تعزیراتِ ہند کے قوانین اور ڈاک خانہ اور ریلوے کے قواعد بھی مدارسِ اسلامیہ کے درس میں داخل ہونا چاہئے، یہ بہت پرانی رائے ہے مگر کوئی مانتا اور سنتا ہی نہیں۔‘‘ 

(افاضات الیومیہ جلد شسشم ص ۴۳۵ از حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ)

مدارس کے طرزِ تعلیم میں ترمیم کی جائے

’’اہلِ مدارس طرزِ تعلیم میں کچھ ترمیم کریں۔ جیسے بعض متون بغیر شرح کے پڑھائی جاتی ہیں، اسی طرح جلالین سے پہلے قرآن مجید بھی بغیر کسی خاص تفسیر کے زبانی حل کے ساتھ پڑھایا جایا کرے۔ یا تو پورا قرآن پہلے پڑھا دیا جائے، یا ایسا کریں کہ مثلاً‌ ربع پاره اول خالی قرآن کریم میں پڑھا دیا جائے، پھر اسی قدر جلالین پڑھا دی جائے، اور مدرس اپنی سہولت کے لیے خواہ جلالین اپنے پاس رکھیں یا اور کوئی مبسوط تفسیر، تو طلبہ کو پڑھنے میں، اسی طرح یاد کرنے کی اور مطالعہ کر کے حل کرنے کی عادت پڑ جائے گی۔‘‘

(اصلاحِ انقلاب ص ۴۷ از حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ)