اقوامِ متحدہ اور عالمِ اسلام
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
(۲۳ اکتوبر ۱۹۹۵ء کو فلیٹیز ہوٹل لاہور میں تحریک احیائے امت کے زیراہتمام ’’مسلم امہ اور اقوام متحدہ کا دوہرا معیار‘‘ کے عنوان پر سیمینار منعقد ہوا جس کی صدارت امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر قاضی حسین احمد نے کی۔ جبکہ ریٹائرڈ جنرل حمید گل، سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس نسیم حسن شاہ، صاحبزادہ پیر سید امین الحسنات، پیر اعجاز احمد ہاشمی اور دیگر دانشوروں کے علاوہ تحریک احیائے امت کے کنوینر صاحبزادہ سید خورشید احمد گیلانی اور ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا زاہد الراشدی نے بھی خطاب کیا۔ مولانا راشدی کے خطاب کا متن درج ذیل ہے۔ ادارہ الشریعہ)
۲۴ اکتوبر ۱۹۹۵ء کو اقوام متحدہ کا پچاسواں یومِ تاسیس منایا جا رہا ہے اور اس موقع پر عالمی سطح پر اقوامِ متحدہ کی پچاس سالہ تقریبات کا اہتمام کیا گیا ہے۔ اقوامِ متحدہ سے قبل بھی عالمی سطح پر اقوام کی ایک مشترکہ تنظیم ’’انجمنِ اقوام‘‘ کے نام سے موجود تھی جس کا مقصد مختلف ملکوں کے درمیان محاذ آرائی اور مسلح تصادم کے امکانات کو روکنا اور بین الاقوامی طور پر رواداری اور مفاہمت کی فضا کو فروغ دینا تھا۔ لیکن انجمن اقوام اس مقصد میں کامیاب نہ ہو سکی اور دوسری جنگ عظیم کی تباہ کاریوں کے بعد ’’اقوام متحدہ‘‘ کے نام سے ایک نئی عالمی تنظیم کا قیام عمل میں لایا گیا جو گزشتہ نصف صدی سے اقوام عالم کے درمیان مختلف شعبوں میں باہمی تعاون و مفاہمت کو فروغ دینے کے لیے اپنے پروگرام اور ترجیحات کے مطابق مصروفِ عمل ہے۔
اقوام متحدہ نے اپنے قیام کے بعد نصف صدی کے دوران جو خدمات سرانجام دی ہیں ان پر اس وقت پوری دنیا میں بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے، لیکن برادر مسلم ملک ملائیشیا کے وزیراعظم جناب مہاتیر محمد نے گزشتہ دنوں عالم اسلام کے بارے میں اقوام متحدہ کے طرزعمل کو ہدف تنقید بناتے ہوئے اس کی پچاس سالہ تقریبات کے بائیکاٹ کی بات کر کے اقوام متحدہ کی کارکردگی کے حوالہ سے بحث و مباحثہ کو ایک نیا رخ دے دیا ہے اور مسلم امہ کے ساتھ اقوام متحدہ کے تعلقات اور طرزعمل کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کا وسیع سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔
عالم اسلام کے ساتھ اقوام متحدہ کے طرزعمل کا جائزہ لینے کے لیے ہمیں گزشتہ نصف صدی کے دوران عالم اسلام کی داخلی صورتحال پر ایک نظر ڈالنا ہوگی اور ان توقعات کو پیش نظر رکھنا ہوگا جو معروضی حالات میں ملتِ اسلامیہ کو اقوام متحدہ سے فطری طور پر ہونی چاہیے تھیں۔ اقوام متحدہ جس وقت تشکیل و تنظیم کے مراحل طے کر رہی تھی اور انسانی حقوق کی سربلندی اور عالمی سطح پر انصاف اور رواداری کے فروغ کو اپنی منزل قرار دے کر سفر کا آغاز کر رہی تھی اس وقت عالم اسلام کے بہت سے ممالک استعماری قوتوں کی غلامی سے تازہ تازہ آزاد ہوئے تھے اور بعض مسلم ممالک ابھی آزادی کے لیے جانگسل جدوجہد کے مراحل سے گزر رہے تھے۔ جبکہ گزشتہ نصف صدی کے دوران عالم اسلام کے بیشتر ممالک آزاد ہو کر اپنی خودمختار حکومتیں قائم کر چکے ہیں مگر بہت سے ایسے علاقے بھی موجود ہیں جہاں مسلم اقوام آزادی اور خودمختاری کے لیے ابھی تک جدوجہد میں مصروف ہیں۔ اس دوران مسلم اقوام و ممالک کی سب سے بڑی ضرورت یہ تھی کہ وہ سیاسی، معاشی اور فوجی طور پر استحکام حاصل کریں، نوآبادیاتی دور کے غلامی کے اثرات سے نجات پائیں اور اقتصادی خودکفالت کے ساتھ ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہوں۔ جبکہ مسلم ممالک کو عرصہ دراز تک اپنی غلامی میں رکھنے والے ممالک، عالم اسلام میں اپنے اثرات کو قائم رکھنے اور مسلم ممالک کو سیاسی خودمختاری اور اقتصادی خودکفالت کی منزل سے روکنے کے لیے مسلسل مصروفِ کار چلے آ رہے ہیں، حتیٰ کہ مختلف مسلم علاقوں پر نوآبادیاتی تسلط قائم رکھنے والے استعماری ممالک برطانیہ، فرانس، ہالینڈ، پرتگال (اور اب روس بھی) اس مقصد کے لیے امریکہ کی زیرقیادت متحدہ محاذ قائم کر چکے ہیں کہ عالم اسلام ان کے دائرہ اثر سے نکلنے نہ پائے اور مسلم ممالک بدستور ان کی ریموٹ کنٹرول نوآبادیات بنے رہیں۔
اس حوالہ سے انسانی حقوق، انصاف اور مساوات کی علمبردار اقوام متحدہ سے بجاطور پر یہ توقع ہونی چاہیے تھی کہ وہ بیرونی تسلط قائم رکھنے اور اس سے آزادی حاصل کرنے کی اس کشمکش میں آزادی اور خودمختاری کی جدوجہد کرنے والی اقوام کا ساتھ دیتی۔ لیکن گزشتہ نصف صدی کا ریکارڈ گواہ ہے کہ اقوام متحدہ انصاف اور انسانی حقوق کی ان توقعات کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے، بلکہ موجودہ عالمی تناظر یہ ہے کہ مغربی ممالک اور عالم اسلام کے درمیان تسلط قائم رکھنے اور اس سے نجات حاصل کرنے کی یہ کشمکش واضح محاذ آرائی کی صورت اختیار کر چکی ہے جس میں مغربی ممالک کے اہداف و مقاصد متعین طور پر سامنے ہیں کہ:
- مسلم ممالک نظریاتی اور سیاسی اتحاد کی منزل کی طرف بڑھنے نہ پائیں۔
- ایٹمی ٹیکنالوجی اور جدید ترین حربی وسائل کو مسلم ممالک کی دسترس سے دور رکھا جائے۔
- امداد اور قرضوں کے نام پر مسلم ممالک کی معیشت کو جکڑ کر انہیں اقتصادی طور پر خودکفالت حاصل نہ کرنے دی جائے۔
- مغربی مفادات کی حفاظت کرنے والے مسلم حکمرانوں کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے اور مسلم ممالک کی نظریاتی قوتوں کو ’’بنیاد پرست‘‘ قرار دے کر انہیں اقتدار تک پہنچنے سے ہر حال میں روکا جائے۔
- عالم اسلام کے مذہبی اور تہذیبی تسلسل کو مبینہ ’’انسانی حقوق‘‘ سے متصادم قرار دے کر اس کے خلاف معاشرتی بغاوت کی حوصلہ افزائی کی جائے۔
یہ ساری تگ و دو عالم اسلام کو مغرب کا دست نگر بنائے رکھنے اور مسلم ممالک پر مغرب کے سیاسی و اقتصادی تسلط کو دوام دینے کے لیے ہے۔ اور اس کشمکش کے حوالہ سے اقوام متحدہ کے کردار کا حقیقت پسندانہ تجزیہ کیا جائے تو انسانی حقوق، اقوام عالم کے درمیان مساوات، آزادی اور عالمی سطح پر انصاف کے تمام تر دعوؤں کے باوجود اس کشمکش میں اقوام متحدہ مغربی استعمار کی مکمل طور پر حلیف بلکہ آلہ کار نظر آتی ہے۔ اس سے ہٹ کر گزشتہ نصف صدی کے دوران عالم اسلام کو درپیش واقعاتی مسائل و مشکلات کے حوالہ سے بھی اقوام متحدہ کی کارکردگی پر ایک نظر ڈال لی جائے:
- فلسطینی عوام کے مسلمہ انسانی حقوق اور بیت المقدس پر اسرائیل کے غاصبانہ قبضہ کے بارے میں اقوام متحدہ نے خود اپنی واضح قراردادوں کی نفی کرتے ہوئے عملاً اسرائیل کو تحفظ فراہم کیا اور اقوام متحدہ کی سردمہری اور مجرمانہ غفلت کی وجہ سے آج نسل پرست اسرائیل من مانی کر رہا ہے۔
- کشمیر میں کشمیری عوام کے حق خودرادیت کو واضح طور پر تسلیم کرنے کے باوجود اقوام متحدہ کشمیریوں کے قتل عام اور ان کے حقوق کی پامالی پر خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے اور انہیں خودارادیت کا مسلمہ حق دلانے کے لیے کوئی کردار ادا نہیں کر سکی۔
- بوسنیا میں مسلمانوں کے قتل عام پر اقوام متحدہ نے یہ کردار ادا کیا کہ ہتھیاروں کی فراہمی پر پابندی کے نام سے بوسنیا کی نوزائیدہ حکومت کو غیر مسلح کر دیا تاکہ سابق یوگوسلاویہ کے حربی وسائل پر پہلے سے قابض سرب فوج اطمینان کے ساتھ بوسنیا کے مسلمانوں کا قتل عام کر سکے۔
- چیچنیا میں مسلمانوں کے قتل عام پر اقوام متحدہ کو ایک لفظ کہنے کی توفیق نہیں ہوئی۔
- قازقستان میں روس کے ایٹمی تجربات کے دوران مبینہ طور پر ایک لاکھ سے زائد مسلمانوں کی المناک موت پر اقوام متحدہ مکمل خاموش ہے۔
- خلیج کی جنگ زرگری میں عراق کی فوجی قوت کو تباہ کر کے، تیل کی دولت کو مغربی ممالک کی تجوریوں میں منتقل کر کے اور خلیج پر مغربی ممالک کی افواج کو مسلط کر کے اقوام متحدہ الٹا عالم اسلام پر احسان جتلا رہی ہے کہ ایک مسلم ملک پر دوسرے مسلم ملک کے ہاتھوں ابتلاء آنے پر ہم نے کس چابکدستی اور تیز رفتاری کے ساتھ اپنا کردار ادا کیا ہے۔
- ان کے علاوہ صومالیہ اور آذربائیجان سمیت بہت سے دیگر خطوں کے مسائل کا حوالہ بھی دیا جا سکتا ہے جہاں اقوام متحدہ نے عالم اسلام کے بارے میں اپنے دوہرے معیار کا تسلسل قائم رکھا اور استعماری ممالک نے مسلم اقوام کے خلاف اپنے اہداف اقوام متحدہ کی چھتری تلے حاصل کیے۔
اور آخر میں اس نظریاتی اور فکری جنگ کا ذکر بھی نامناسب نہ ہوگا جو اقوام متحدہ کے نام پر بلکہ اس کے ذریعے اسلامی عقائد و نظریات کے خلاف لڑی جا رہی ہے اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر کو بنیاد بنا کر نہ صرف اسلام کے عقائد و احکام کو ہدف تنقید بنایا جا رہا ہے بلکہ مسلمانوں کے معاشرتی و خاندانی نظام کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ اس عنوان سے مغربی لابیاں اور عالمی میڈیا اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جو مسلسل مہم جاری رکھے ہوئے ہے اس کا نقشہ کچھ یوں ہے:
- معاشرتی جرائم کی قرآنی سزاؤں ہاتھ کاٹنے، کوڑے مارنے، قصاص میں قتل کرنے اور سنگسار کرنے کو انسانی حقوق کے منافی قرار دیا جا رہا ہے۔ جبکہ بائبل میں بھی جرائم کی یہی سزائیں بیان کی گئی ہیں۔
- آزادیٔ رائے کے نام پر خدا، رسول اور مذہب پر تنقید بلکہ گستاخی اور اہانت کے رجحانات کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے اور پورے عالم اسلام میں گستاخانِ رسولؐ کو مغرب کی طرف سے تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے جس کی واضح مثال سلمان رشدی، تسلیمہ نسرین اور مصر کے ڈاکٹر ابوزید کی صورت میں دنیا کے سامنے ہے۔
- نکاح و طلاق اور وراثت کے بارے میں مسلمانوں کے خاندانی مذہبی قوانین کو عالمی معیار اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر کے منافی قرار دے کر ان کی مخالفت کی جا رہی ہے۔
- ہم جنس پرستی، بغیر شادی کے بچوں کی ولادت اور آزادانہ جنسی تعلقات کو قانونی تحفظ دلانے کے لیے اقوام متحدہ کی عالمی کانفرنسیں مسلم حکومتوں پر دباؤ ڈال رہی ہیں۔
اور اس طرح عالم اسلام کے خلاف مغربی استعمار کی اعتقادی، فکری اور تہذیبی جنگ میں بھی اقوام متحدہ مغرب کی حلیف اور آلہ کار کا کردار ادا کر رہی ہے۔ ان حالات میں ملائیشیا کے وزیراعظم جناب مہاتیر محمد کی طرف سے اقوام متحدہ کی پچاس سالہ تقریبات کا بطور احتجاج بائیکاٹ کرنے کے نعرۂ مستانہ کا جائزہ لیا جائے تو وہ عالم اسلام کے بارے میں اقوام متحدہ کے پچاس سالہ طرزعمل کا فطری ردعمل اور ملتِ اسلامیہ کے دلی جذبات کا عکاس نظر آتا ہے۔ مگر بدقسمتی یہ ہے کہ بیشتر مسلم ممالک کے دارالحکومتوں میں جو لوگ اقتدار کی مسند پر فائز ہیں ان کی اکثریت خود مغرب کی نمائندہ اور اس کے مفادات کی محافظ ہے، ان سے ملتِ اسلامیہ کے جذبات کا ساتھ دینے کی توقع کرنا خودفریبی کے مترادف ہوگا۔ البتہ عالم اسلام کی دینی تحریکات اور علمی حلقوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس صورتحال کا ادراک کریں اور عالم اسلام کے خلاف مغربی استعمار کی نظریاتی، سیاسی اور تہذیبی یلغار کے پس منظر میں اقوام متحدہ کے طرزعمل کا حقیقت پسندانہ تجزیہ کر کے عالمی رائے عامہ کو اس سے باخبر کرنے کا اہتمام کریں۔
ورلڈ میڈیا، ملتِ اسلامیہ کے خلاف عالمی استعمار کا سب سے بڑا مورچہ
مولانا محمد عیسٰی منصوری
ورلڈ اسلامک فورم کے زیر اہتمام ’’ورلڈ میڈیا اور عالم اسلام‘‘ کے موضوع پر ایک سیمینار ۱۴ اکتوبر ۹۵ء کو برنر کلب کمرشل روڈ ایسٹ لندن میں منعقد ہوا، جس کی صدارت معروف قانون دان بیرسٹر محمد یوسف اختر نے کی، جبکہ میڈیا کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین اور اہل دانش کی ایک بڑی تعداد سیمینار میں شریک ہوئی۔ ورلڈ اسلامک فورم کے سیکرٹری جنرل مولانا محمد عیسیٰ منصوری نے سیمینار سے مندرجہ ذیل خطاب کیا، سیمینار کی مفصل رپورٹ ’’الشریعہ‘‘ کے اگلے شمارے میں ملاحظہ فرمائیں۔ (ادارہ)
صدر محترم!
مہمان خصوصی اور معزز سامعین! میں سب سے پہلے فورم کے میڈیا سیمینار میں آپ حضرات کی تشریف آوری پر تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے اپنی گوناگوں مصروفیات کے باوجود اپنا قیمتی وقت عنایت فرمایا۔
روس کی شکست و ریخت کے بعد مغرب سمجھ رہا ہے کہ اب دنیا میں مغرب کی بالادستی کی راہ میں واحد رکاوٹ اسلام ہے۔ اسے اس بات کا بھی خوف ہے کہ اگر دنیا کے کسی خطے میں اسلام اپنی صحیح ہیئت کے ساتھ نافذ ہو گیا تو کمیونزم کی طرح مغربی نظامِ حیات (ویسٹرن سولائزیشن) بھی ریت کی دیوار کی طرح ڈھے جائے گا۔ اس خوف سے مغرب دنیا کی اسلام دشمن طاقتوں کو ساتھ ملا کر اسلام کے مقابلہ پر صف آرا ہو گیا ہے۔ اس کے نزدیک اسلام پر کاری ضرب لگنے یا اسے ختم کرنے کا تاریخ میں ایسا سنہری موقع اس سے پہلے کبھی نہیں آیا۔ آج کے دور میں اسلام پر مغرب کا یہ حملہ ایک نئے رخ سے ہے جسے ہم میڈیا دار کہہ سکتے ہیں۔
درحقیقت آج کا دور میڈیا کا دور ہے۔ اس کی طاقت ایٹم بم سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ میڈیا لاکھوں کروڑوں انسانوں کے ذہن و دماغ جس طرف چاہے موڑ دیتا ہے۔ غور کیا جائے تو محسوس ہو گا کہ مغرب محض مؤثر اور طاقتور میڈیا کے ذریعے ہمارے ذہنوں پر حکومت کر رہا ہے۔ وہ میڈیا کے ذریعہ ہماری سوچ کو متاثر کرتا ہے اور منصوبے کے تحت اسے خاص رخ پر ڈالتا ہے۔ یہ دور جسمانی غلامی کا نہیں، ذہنی غلامی کا ہے۔ ماضی میں جب ضعیف قوموں کو غلام بنایا جاتا تھا، تجارتی مقاصد کے لیے کمزور ملکوں کی نوآبادی اور کالونی بنایا جاتا تھا، اس وقت مغرب نے ایشیا و افریقی عوام کو غلام بنایا تھا۔ اس دور میں آپ کو کہیں انسانی حقوق کا ذکر نہیں ملے گا کیونکہ انسانی حقوق کا فلسفہ مغربی استعمار کے مفادات کی نفی کرتا تھا۔ جب مغرب کی استعماری قوتوں کو آزادی کی تحریکوں کے آگے ہتھیار ڈال کر غلام ممالک سے رخصت ہونا پڑا تو اس کے ساتھ ہی انہیں ڈیماکریسی و جمہوریت اور انسانی حقوق کا خیال آگیا، تاکہ اس راہ سے بھی کمزور اقوام کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا موقعہ مل سکے۔
اب مغرب نئی تیاریوں اور نئے ہتھیاروں سے مسلح ہو کر سامنے آیا ہے۔ وہ جسم کے بجائے انسانی ذہنوں کو غلام بنانا چاہتا ہے۔ ذہنی غلامی، جسمانی غلامی سے کہیں زیادہ بدتر اور خوفناک ہوتی ہے۔ اور اس دور میں ذہن و فکر کو غلام بنانے کا سب سے مؤثر ذریعہ میڈیا ہے۔ اس وقت کا سب سے اہم مسئلہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مغربی میڈیا کی یلغار کا ہے۔ ادھر چند سالوں سے ہماری کمزوری اور بے حسی اور غفلت کے سبب میڈیا کے راستے بھارت کی دیومالائی تہذیب بھی حملہ آور ہو گئی ہے۔ شرک و بت پرستی جس کے تصور سے بھی ایک مسلمان کو کانپ جانا چاہئے تھا۔ اللہ کے آخری پیغمبر کا ارشاد ہے:
’’اے ابوذر! شرک تیرے نزدیک زندہ جلائے جانے اور جسم کے ٹکڑے کر دیے جانے سے زیادہ اشد اور خوفناک چیز ہو۔‘‘
اب ریڈیو، فلموں، ٹی وی پروگراموں اور سیٹلائٹ کے ذریعہ ہماری نئی نسلوں کے ذہن سے شرک و بت پرستی کی شناخت اور نفرت کھرچ کھرچ کر ختم کی جا رہی ہے۔ یہی نہیں مرزائی، قادیانی اسلام کے لبادے میں نئی نبوت کی دعوت اور ارتداد کی مہم پر سرگرم عمل ہو چکے ہیں۔ ہمیں نہ صرف میڈیا کے اس بے رحم حملے کو روکنا ہے بلکہ میڈیا کا متبادل فراہم کرنا، یہ وقت کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ جس پر بحیثیت مسلمان کے ہمارے وجود و بقا کا دارومدار ہے۔ اگر اب بھی ہم نے غفلت برتی تو تاریخ اور آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔
معزز حضرات!
اسلام کو ہر دور میں بڑے بڑے چیلنج کا سامنا رہا ہے مگر میں سمجھتا ہوں کہ اسلام پر چودہ سو سالہ دور میں اتنا نازک دور کبھی نہیں آیا۔ بلا شبہ تاتاریوں کا حملہ ایک بہت بڑا حملہ تھا، مگر اس کی نوعیت محض عسکری تھی اور چند ہی سالوں میں اسلامی تہذیب و علوم نے تاتاریوں کو دوبارہ فتح کر لیا تھا۔ اسی طرح اس صدی کے شروع میں کمیونزم کا حملہ ایک طاقتور فکری حملہ تھا، مگر اس کی نوعیت اصلاً اقتصادی تھی۔ یہ مغرب کے بے لگام سرمایہ دارانہ نظام کا ردعمل تھا۔ مگر آج مغرب کا فکری حملہ تاریخ کا سب سے بڑا حملہ ہے، جو ہمہ جہتی ہے۔ یہ حملہ فکری بھی ہے اور علمی بھی، اقتصادی اور معاشی بھی ہے، تمدنی و تہذیبی بھی، سیاسی بھی ہے اور عسکری بھی، اور دنیا کے چپہ چپہ کو محیط ہے۔ روئے زمین کا کوئی حصہ ایسا نہیں جو اس کی یلغار اور دستری سے محفوظ ہو۔
اسلامی تاریخ میں مغرب کے اس فکری حملے کی مماثلت کسی حد تک دوسری صدی ہجری میں یونانی علوم و فلسفے کی یلغار سے دی جا سکتی ہے، جب اسلام دنیا میں تیزی سے پھیل رہا تھا۔ یونانی علوم و افکار و فکر و فلسفہ کو اسلام کی تیز رفتار ترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ ان علوم کو ذہن و فکر کو الجھانے اور دلوں میں ایمان و ایقان کی جگہ تذبذب و شکوک کے کانٹ ہونے کے لیے استعمال کیا گیا، تاکہ اسلام پر سے اعتماد کو متزلزل کر دیا جائے۔ لیکن اس دور کا مسلمان علم میں آگے ہی آگے بڑھ رہا تھا اور مسلم علماء و مفکرین کا ہاتھ زمانے کی نبض پر تھا۔ انہوں نے وقت کے چیلنج کو قبول کیا اور یونانی علوم میں مہارت حاصل کی۔ ان افکار و نظریات و فلسفوں کا تنقیدی جائزہ لیا۔ ان سے غیر اسلامی اجزاء کو خارج کر کے ان علوم و فنون کو اسلام کا معاون و مددگار بنا دیا۔ حتیٰ کہ آج یہ اسلامی علوم و فنون سمجھے جا رہے ہیں۔ گویا دوسرے الفاظ میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے یونانی فلسفہ و فکر کو مسلمان بنایا۔ اگر گزشتہ چند صدیوں سے مسلمان پسماندہ نہ رہ گئے ہوتے اور علماء کا علم و سائنس اور دور سے رشتہ نہ کٹ گیا ہوتا تو وہ مغربی افکار و نظریات کا دقتِ نظر سے تنقیدی جائزہ لیتے، ان سے فاسد اور مضر اجزاء کو علیحدہ کر کے انہیں اسلام کا معاون بنا لیتے۔
حضرات!
اس کائنات میں انسانوں کی حقیقی تقسیم صرف ایک ہے اور وہ ایمان و کفر کی تقسیم ہے۔ ہر انسان مومن ہے یا کافر ہے۔ خالق کائنات کے نزدیک بھی، قرآن کے نزدیک بھی، تمام سماوی کتابوں کی رو سے بھی۔ آج بھی اور قیامت تک یہی سب سے بڑی اور قابلِ لحاظ تقسیم رہے گی۔ اس کے علاوہ دنیا میں انسانوں کی اور جتنی تقسیم ہے، خواہ ملکی علاقائی بنیاد پر ہوں، اور فوجی و نسلی بنیاد پر ہوں، یا لسانی بنیاد پر، یہ سب غیر حقیقی اور انسان کی خود ساختہ ہیں یا اس درجہ کی اہمیت نہیں رکھتی۔
جس طرح اسلام کا مقصد دنیا سے شرک و کفر کو مٹانا ہے، اسی طرح دنیائے کفر کا اولین مقصد اسلام اور مسلمان کو ختم کرنا ہے۔ چنانچہ آپ دیکھ رہے ہیں، یہود کی ذہانت و ذکاوت اور مغرب کے وسائل اور طاقت اور برہمن کی مکاری و عیاری اسلام دشمنی میں متحد ہو چکی ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جس سے آج ہم میں سے بہت سے حضرات آنکھیں چراتے ہیں اور خود فریبی میں رہنا چاہتے ہیں۔ لیکن حالات و واقعات اور قدرت کے تازیانے بار بار اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتے رہتے ہیں۔
میں آج کی نشست میں ایک بات کی طرف خاص طور سے توجہ دلانا چاہتا ہوں، جس کا مجھے گزشتہ چند دنوں میں کئی بار تجربہ ہوا۔ ہمارے بہت سے قابل احترام صحافی دوست ہر حالت میں غیر جانبداری کو اپنا طرہ امتیاز سمجھتے ہیں۔ یقیناً غیر جانبداری بہت بڑی خوبی ہے۔ قرآن مجید کی تعلیم ہے ’’لا يجر منكم شنان قوم علیٰ ان لا تعدلوا‘‘ کسی فرد یا قوم کی دشمنی و عصبیت تمہیں بے انصافی پر آمادہ نہ کرے۔ لیکن جہاں مسئلہ صحیح اور غلط کا ہو، حق و باطل کا ہو، ظالم و مظلوم کا ہو، وہاں غیر جانبداری سراسر ظلم ہے۔ وہاں اسلام کی تعلیم ہے کہ انسان غیر جانبدار نہیں بلکہ حق و صداقت کا طرفدار بنے۔ میں سمجھتا ہوں اس طرح کی اندھی غیر جانبداری مغربی فکر و تعلیم کی دین ہے۔ اور شاید اس کی ایک چال بھی کہ حق و باطل کے درمیان فرق و امتیاز کو ختم کر کے مسلمان کو غافل کر دیا جائے۔ لیکن آپ دیکھیں کہ مغرب غیر جانبداری کا ڈھونگ رچا کر ہر جگہ اسلام کے خلاف ڈنڈی مار دیتا ہے۔ جب اور جہاں اسلام کا مسئلہ آیا، مغرب کی جانبداری عیاں ہو جاتی ہے۔
اس کی ایک چھوٹی سی مثال پاکستان کے کمیشن برائے انسانی حقوق کی وہ رپورٹ ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں خواتین کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے بڑھنے کی وجہ اسلامی بنیاد پرستی کا رجحان ہے۔ اسے مغربی میڈیا نے خوب اچھالا ہے۔ آپ ذرا اس جملے کا تجزیہ کیجئے کہ اسلامی بنیاد پرستی کے رجحان کا کیا مطلب ہے؟ انسان کا مذہبی ہونا، شریعت کا پابند ہونا، جس شخص کو آخرت اور یوم الحساب کا خوف ہو، وہ ایسے فعل کا تصور بھی کر سکتا ہے؟ کجا یہ کہ دین داری کی وجہ اور سبب قرار دیا جانے، اور خواتین کے ساتھ زیادتی کے بڑھنے والے واقعات کا۔ میڈیا کا یہ ایک جملہ کتنا خوف ناک ہے۔ اس میں اسلام کا کیا تصور ذہنوں میں بٹھانے کی کوشش کی۔ میڈیا نے ایک چھوٹے سے جملے سے اسلام کے خلاف کس قدر زہر ذہن میں بھرنے کی کوشش کی ہے۔
حضرات !
آج کی نشست میں مغربی فکر کے متعلق ذرا وضاحت سے عرض کرنا چاہتا ہوں۔ یہاں صحافت اور میڈیا کے مختلف شعبوں کے ذمہ دار حضرات تشریف فرما ہیں۔ آپ حضرات کا شمار ملّت کے انتہائی با خبر لوگوں میں ہے۔ آپ سے زیادہ کون اس حقیقت کو جانتا ہے کہ اس وقت دنیا میں دو فکروں کا تصادم برپا ہے۔ ایک اسلامی فکر، دوسری مغربی فکر۔
مغربی فکر کا خلاصہ دو لفظوں میں دین و سیاست کی علیحدگی سے کیا جا سکتا ہے۔ مغرب کے نزدیک مذہب خالصتاً ً ایک نجی اور پرائیویٹ مسئلہ ہے۔ اس کے نزدیک مذہب کے حدود عقائد و عبادات پر ختم ہو جاتی ہے۔ اسے کسی اجتماعی مسئلہ میں دخل دینے کی اجازت نہیں ہے۔
جب کہ اسلام اس تفریق کا قائل نہیں ہے۔ وہ انسان کے ہر انفرادی و اجتماعی مسئلے میں رہنمائی کرتا ہے۔ فرد، معاشرہ، سیاست، معیشت، نظامِ حکومت، بین الاقوامی تعلقات تک کے احکام و فرائض دیتا ہے اور ضابطے مقرر کرتا ہے۔ وہ انفرادی و اجتماعی کسی مسئلے میں انسان کو بے لگام نہیں چھوڑتا۔
مغرب گاڈ (God) کو، مسیح کو، اور بائبل کو مانتا ہے مگر صرف اس حد تک کہ مسیح کو خدا کا بیٹا مان لینا ہی نجات کے لیے کافی ہے۔ باقی وہ مسیح کو، ان کی لائی ہوئی شریعت و کتاب کو، حتیٰ کہ مسیح کے باپ کو یہ حق دینے کے لیے تیار نہیں کہ وہ اجتماعی مسائل سیاست، معیشت و اقتصادیات، معاشرت، نظم و نسق، قانون میں دخل اندازی کرے۔
مغرب کے اس فکر و فلسفے کی جڑیں یورپ کی گزشتہ چار سو سالہ تاریخ میں پیوستہ ہیں۔ یورپ کے عوام ہزار ہا سال سے بادشاہت و مذہبی پادریوں کے ظلم کی چکی میں پس رہے تھے۔ سولہویں صدی عیسوی میں جب یہاں علم و سائنس اور ٹیکنالوجی کا دور شروع ہوا اور یورپ کا انسان بیدار ہونے لگا، اس نے قدرت کے مخفی خزانوں کا انکشاف اور اس کی تسخیر شروع کی۔ اس وقت یہاں کے مذہبی رہنماؤں نے اپنی عاقبت نااندیشی سے علم و سائنس سے انکار کی راہ اختیار کی۔ یورپ کے اس دور کی مذہب و سائنس کی کشمکش کی تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ یہاں کے مذہبی راہنماؤں نے احتساب کی عدالتیں قائم کر کے ہزارہا انسانوں کو ان کے علمی نظریات کی بنیاد پر، جیسے زمین کا گول ہونا، حرکت کرنا، یا اس میں کشش کا ہونا، اذیت ناک سزائیں دیں اور انہیں زندہ جلایا، سولی پر چڑھایا۔ پادریوں کے اس علم دشمن رول کی وجہ سے یہاں کے عوام کے دلوں میں مذہب کے خلاف ایک طرح کا عناد جڑ پکڑ گیا کہ مذہب علم و سائنس کا دنیاوی ترقی و بہبود کا دشمن ہے۔ میں مذہب کے خلاف اس بدگمانی میں یورپ کے اقوام کو بڑی حد تک معذور سمجھتا ہوں۔
توقع تھی کہ آہستہ آہستہ یہ زخم بھر جائے گا اور نفسِ مذہب کے خلاف جو نفرت و عناد پیدا ہو گیا ہے وہ وقت گزرنے کے ساتھ ختم ہو جائے گا۔ لیکن اس دوران یہاں ایک اور شاطر و عیار طبقہ سامنے آگیا جس نے اس وقت صورتحال سے فائدہ اٹھا کر مذہب دشمنی کی چنگاری کو ہوا دینی شروع کی، تا کہ مذہب دشمنی کی آگ پر اپنے مفادات کی روٹیاں سینک سکے، اور خدا و مذہب کی جگہ اپنا اقتدار قائم کر سکے۔ یہ طبقہ تھا نسل پرست صہیونیت اور یہاں کے اشرافیہ کا۔
یہ انسانیت کی بدقسمتی تھی کہ گزشتہ صدیوں میں دنیا کے بیشتر حصہ پر اور عالمِ اسلام پر یورپ کی حکمرانی رہی۔ اس نے تعلیم، ابلاغ اور تمام وسائل بروئے کار لا کر اس مغربی فکر کو ذہنوں میں اس طرح راسخ کر دیا کہ مسلم دنیا کا کوئی طبقہ اس کے اثر سے محفوظ نہ رہ سکا۔ حتیٰ کہ علماء کا طبقہ جن کا استعمار دشمنی اور اخلاص وطن کی راہ میں جہاد قربانی کا نہایت شاندار اور عظیم ریکارڈ ہے، وہ بھی غیر شعوری طور پر اس فکر کا شکار ہو گیا۔
چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ دینی مدارس و جامعات میں فقہ و حدیث کے درس میں استاد کا پورا زورِ بیان اور تحقیق عقائد و عبادات پر رہتی ہے۔ کتاب الطہارت سے کتاب الحج تک۔ زیادہ زور مارا تو کتاب النکاح و کتاب الطلاق۔ حالانکہ احادیث و فقہ کی انہیں کتابوں میں کتاب البیوع بھی ہے، کتاب الاجارہ، کتاب الامارہ بھی۔ کتاب المزارعہ بھی اور قضا، سیاست اور مملکت کے متعلق دیگر ابواب بھی۔ مگر ہم ان سے اس طرح گزر جاتے ہیں گویا یہ سب منسوخ ہو چکے ہیں۔
۱۸۵۷ء میں علماء نے جس دشمن کے خلاف جہاد شروع کیا تھا، ان کے بعد والوں نے اس کی فکر کو گلے لگا لیا۔ ایک عزیز نو مسلم دوست کا تجزیہ جو یہاں تشریف فرما ہیں، مجھے بہت پسند آیا۔ گزشتہ دنوں ایک ملاقات میں انہوں نے کہا کہ برصغیر میں ۱۸۵۷ء میں مسلم حکمرانوں اور علماء نے انگریز سے جو شکست کھائی تھی، اس وقت علماء نے محسوس کر لیا تھا کہ عسکری میدان میں انگریزی قوت کا مقابلہ نہیں ہو سکتا، اگر مزید میدان میں ٹھہرے تو انگریز کچل کر ختم کر دے گا۔ انہوں نے وقت کی حکمتِ عملی کے تحت دیوبند، گنگوہ جیسے چھوٹے چھوٹے قصبات میں دینی مراکز قائم کیے تاکہ جتنا دین بچایا جا سکے بچا لیا جائے۔ چنانچہ وہ دینی علوم و فنون، اسلامی معاشرت و تمدن، اور ایک مسلمان کا خدا و مذہب سے تعلق باقی رکھنے کی جدوجہد میں لگ گئے۔ اگرچہ ان کے پیش نظر افراد سازی اور بھرپور تیاری کر کے دوبارہ میدان میں آنا بھی تھا۔ مگر بعد کے حالات نے انہیں فرصت نہیں دی۔
ان علماء کے میدان چھوڑنے سے جہاں یہ فائدہ ہوا کہ ہندوستان دوسرا اسپین بننے سے بچ گیا، وہیں سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ علماء کا طبقہ زمانے سے کٹ گیا۔ علم و فکر کا قافلہ ۱۸۵۷ء میں جہاں تھا، یہ اب تک اسی بارڈر (سرحد) پر ہے۔ اس ڈیڑھ صدی میں علم و سائنس اور صنعت و ٹیکنالوجی نے جو بے مثال ترقی کی ہے، یہ اس سے بے بہرہ رہ گئے، جس کی وجہ سے زمانے کو سمجھنے کی بصیرت اور شعور گھٹتا چلا گیا۔ لیکن ہمیں اعتراف کرنا چاہیے، آج جتنا دین، علم باقی ہے حتیٰ کہ یہاں مغرب میں بھی مساجد و مدارس کا جال پھیلا ہوا ہے، یہ سب انہیں حضرات کی سعی و کاوشوں کا ثمر ہے۔
آج دنیا میں تصادم دو فکروں کا ہے، اور بظاہر مغربی فکر ہر طرح حاوی اور غالب توانا و طاقتور ہے۔ لیکن اہلِ بصیرت سے مخفی نہیں کہ مغربی فکر و تہذیب اپنی طبعی عمر پوری کر چکی ہے۔ عرصہ سے اس کا کھوکھلا پن نمایاں ہو چکا ہے۔ اس کے اندر انسانیت کو مزید کچھ دینے کی صلاحیت باقی نہیں رہی۔ بقول شاعر مشرق علامہ اقبال کے یہ تہذیب اپنے ہی خنجر سے خود کشی کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کے مفکرین اور دانش ور ہی نہیں، آپ کا پرائم منسٹر بھی بنیادوں کی طرف واپسی کی مہم چلانے پر مجبور ہے۔ کہاں تو اسلام کے خلاف بنیاد پرستی کی گالی وضع کی تھی، اور کہاں بنیادوں کی طرف واپسی کی مہم چل پڑی۔
علامہ اقبال نے یورپ کے آخری سفر سے واپس جاتے ہوئے فلسطین کے خطاب میں ایک فکر انگیز بات فرمائی تھی۔ آپ نے فرمایا تھا کہ پوری انسانیت کی آخری پناہ گاہ بالآخر اسلام ہی ثابت ہو گا، یہ بات مغرب جتنی جلد سمجھ لے اس کے لیے بھی بہتر ہے اور مشرق کے لیے بھی۔
ایک جگہ علامہ نے لکھا ہے کہ میں نے تاریخ کا گہری نظر سے مطالعہ کیا ہے، میں نے یہ عجیب بات دیکھی کہ جب کوئی نازک وقت آیا تو اسلام نے آگے بڑھ کر مسلمان کی حفاظت کی، مسلمان نے کبھی اسلام کی حفاظت نہیں کی۔
علامہ اقبال کہا کرتے تھے، اس دور کا مجدد کہلانے کا وہی شخص مستحق ہو گا جو اسلامی شریعت کی برتری ثابت کرے اور زندگی سے اس کا پیوند لگائے اور ثابت کرے کہ اسلامی قانون وضعی قانون اور انسانوں کے تمام تر خودساختہ قوانین سے آگے ہے۔ زمانے کی آگے کی چیز ہے، زمانہ اس سے آگے نہ بڑھ سکا۔
دنیا نے خواہ کتنی ہی ترقی کی ہو لیکن اسلامی قوانین اس کی راہنمائی کی اب بھی صلاحیت رکھتے ہیں، اس کے تمام سوالات کے جوابات دیتے ہیں، انسانی زندگی میں پیدا ہونے والے تمام مسائل کا حل ان کے اندر موجود ہے، ان میں ایک بالغ اور ترقی یافتہ زمانے اور معاشرے کی تنظیم کی بہترین صلاحیت ہے۔
حضرات !
اس وقت کا سب سے بڑا مسئلہ اور سب سے عظیم بحران یہ ہے کہ مغربی فکر و تعلیم نے اسلام پر جدید طبقے کے اعتماد کو متزلزل کر دیا ہے۔ آج کا تعلیم یافتہ انسان کہتا ہے کہ اسلام نے ایک زمانے میں بے شک اچھا کام کیا تھا، اچھا پارٹ ادا کیا تھا، اب زمانہ بدل گیا ہے، اس وقت زمانہ بہت ہی غیر ترقی یافتہ تھا، اب ماڈرن ہو چکا ہے، زمانہ بہت ترقی کر گیا ہے، اب اسلام اس زمانے کا ساتھ نہیں دے سکتا۔
یہ ہے وقت کا اہم مسئلہ۔ آپ کو یہ ثابت کرنا ہے کہ اسلام اس تنزل کے بعد بھی زمانے کو ہلاکت سے بچا سکتا ہے۔ اسلام اس دور کو راہ پر لگا سکتا ہے۔ اسلام اس زمانے کو مبارک بنا سکتا ہے۔ اسلام اس زمانے کو رہنے کا سلیقہ سکھا سکتا ہے۔ تعلیم یافتہ طبقہ کا اسلام پر اعتماد واپس لانا ہے۔ اسلام کی ابدیت پر، اس کی افادیت پر، اس کی صلاحیت پر یقین بحال کرنا ہے۔
میرا ۲۰ سالہ تجربہ ہے، ہم لوگ مکتب و مدرسہ میں ۶، ۷ سے سالہ بچے کو اسلام پڑھاتے ہیں۔ جب بچہ ۱۳، ۱۴ سال کی عمر میں مکتب سے فارغ ہو کر نکلتا ہے تو یہاں میڈیا اس کے ذہن کو اس طرح شکار کرتا ہے اور اس پر قبضہ کرتا ہے کہ چند سال میں جو کچھ اس نے مسجد و مدرسہ میں پڑھا تھا اس کا بڑا حصہ بھول چکا ہوتا ہے اور اس پر یہاں کا رنگ چڑھ جاتا ہے۔ ہماری مثال قرآن کی اس بڑھیا کی سی ہے، جو صبح سے شام تک چرخا کاتتی ہے اور شام کو اسے الٹا گھما کر خود برباد کر دیتی ہے۔ اسی طرح ہماری ساری دینی تعلیم و کوششوں پر یہاں کا میڈیا پانی پھیر دیتا ہے۔ ہم بچے کے ذہن، دماغ میں اسلام کی بنیادیں تعمیر کرتے ہیں اور میڈیا اسے مسمار کر دیتا ہے۔
مغرب کے میڈیا کا اسلام کے خلاف ایک مؤثر ہتھیار انسانی حقوق کا مسئلہ ہے جسے مغربی میڈیا نہایت عیاری سے اسلام کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔ نصف صدی پہلے تک جن لوگوں کے نزدیک کروڑوں انسانوں کی حیثیت حیوانوں سے زیادہ نہیں تھی، وہ اچانک انسانی حقوق کے ٹھیکیدار بن گئے۔ گویا پرانے شکاری اب نیا جال لے کر آئے ہیں۔ انسانی حقوق کی تعریف کیا ہے، اس کی حدود کیا ہیں اور وہ کہاں پامال ہو رہے ہیں؟ اس کا فیصلہ بھی امریکہ اور مغرب کرے گا تاکہ اس حوالے سے بھی مغرب کو کمزور ممالک کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کا موقع مل سکے۔ آپ فلسطین سے فلپائن تک، بوسنیا سے کشمیر تک، مغرب کے انسانی حقوق کی حقیقت کا تماشہ دیکھ رہے ہیں۔ آج کل مصر اور الجزائر میں ہزاروں بے قصور انسانوں کو جس طرح بے رحمی سے قتل کیا جا رہا ہے، اس پر مغربی میڈیا کی مجرمانہ خاموشی بہت کچھ بتا رہی ہے۔
مغرب کے انسانی حقوق کی حقیقت سمجھنے کے لیے ایک واقعہ عرض کرتا ہوں۔ پاکستان کے ممتاز دانش ور جناب ڈاکٹر صفدر محمود نے روزنامہ جنگ میں اپنا ایک دلچسپ واقعہ لکھا تھا۔ انہیں جون ۱۹۹۱ء میں ایک بین الاقوامی سیمینار میں شرکت کے لیے سان فرانسکو جانا پڑا ۔ سیمینار میں ایشیائی ممالک اسکالرز کے علاوہ مختلف امریکی یونیورسٹیوں سے بھی ممتاز پروفیسر صاحبان بلائے گئے تھے۔ وہ لکھتے ہیں کہ میں نے سیمینار کے آغاز سے ایک روز پہلے ٹی وی آن کیا تو ایک دلچسپ خبر سننے کو ملی۔ کیلی فورنیا کی ریاست میں جنگلات کے وسیع ذخیرے پائے جاتے ہیں۔ سال بھر تعمیرات کے لیے لکڑی کی کٹائی کا عمل جاری رہتا ہے۔ خبر یہ تھی کہ کٹائی کے دوران ماہرین جنگلات کو اچانک پتہ چلا کہ اس جنگل میں ایک الو صاحب نے اپنا ایک مستقل گھر بنا رکھا ہے۔ اور جب سے درختوں کی کٹائی کا سلسلہ شروع ہوا ہے، الو صاحب اداس رہنے لگے ہیں، الو کی اداسی کی خبر سے اس علاقے میں احتجاج ہوا اور کیلی فورنیا کی حکومت نے کٹائی روک دی۔ جس سے لکڑی کی قیمت میں اضافہ ہو گیا اور مکانوں کی تعمیر قدرے مہنگی ہو گئی۔
اگلے دن سیمینار کے دوران چائے کا وقفہ ہوا تو میں نے ممتاز امریکی پروفیسر صاحبان سے اس خبر کا تذکرہ کیا، وہ پہلے ہی اس سے آگاہ تھے، ان کے چہرے خوشی سے گلاب کی طرح کھل گئے، اس صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے میں نے یہ سوال داغ دیا کہ آپ نے ایک پرندے کی اداسی کی خاطر جنگل کی کٹائی روک کر لکڑی کی قیمت میں اضافہ برداشت کر لیا، لیکن چار ماہ قبل عراق کے بے قصور اور معصوم شہریوں پر بموں کی بارش کی جا رہی تھی اس پر یہاں کوئی احتجاج نہیں ہوا، کیا آپ کو ایک جانور ہزاروں مسلمانوں کی زندگی سے زیادہ عزیز ہے؟ وہ لکھتے ہیں، میرے سوال سے ان کے چہروں کے رنگ اڑ گئے۔ اس ایک واقعہ سے مغرب کے انسانی حقوق کی حقیقت کا اندازہ لگا کر سکتے ہیں۔
معاف کیجئے! بات کہاں سے کہاں تک پہنچ گئی۔ غرض اس دور کا سب سے بڑا چیلنج میڈیا ہے۔ اور یہ انسانیت کی بد قسمتی ہے کہ میڈیا کا مؤثر ترین اور طاقتور ہتھیار ان لوگوں کے پاس ہے جن کے پاس نہ انسانیت کے غم میں پڑنے والا دل ہے اور نہ اس کی بدنصیبی پر آنسو بہانے والی آنکھیں، نہ انسانیت کی بہبودی و تعمیر کا کوئی پروگرام۔ میڈیا کی عظیم طاقت تعمیر کی بجائے تخریب کے لیے، کردار و اخلاق سنوارنے کی بجائے بے حیائی اور اخلاقی قدروں کی پامالی کے لیے، انسانوں کی رہنمائی کے بجائے اسے راہ سے بھٹکانے کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔
اس وقت کا چیلنج اور تقاضا ہے کہ وہ لوگ جو خیر امت ہونے کے دعوے دار ہیں، جو انسانیت کے سب سے بڑے محسن اور بہی خواہ کی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ دنیا کے سارے انسان اللہ کی فیملی ہے، اور خدا کے نزدیک بہتر وہ ہے جو انہیں نفع اور فائدہ پہنچانے والا ہے، اور جو انسانیت کی تباہی اور بربادی کا غم رکھتے ہیں، آگے بڑھیں اور جس طرح ابھی میں نے عرض کیا تھا کہ آپ کے اسلاف نے دوسری صدی ہجری میں یونانی فکر و فلسفہ کا چیلنج قبول کر کے اسے اسلام کا معاون بنا لیا تھا، ان کے نقشِ قدم پر آپ آج کا چیلنج قبول کریں۔ اس میڈیا کو مسلمان بنائیں۔ اس صحافت کو ریڈیو، ٹی وی اور سیٹلائیٹ کو مشرف باسلام کریں۔ انہیں انسانیت کی تعمیر و بھلائی کے لیے استعمال کریں۔ علوم کی اشاعت، اخلاق کی تعمیر، کردار سازی اور بھٹکی ہوئی انسانیت کی راہنمائی کے لیے استعمال کریں۔
الحمد للہ یہاں میڈیا کے مختلف شعبوں کے ماہرین اور ذمہ دار تشریف فرما ہیں، میں ان سے درخواست کروں گا کہ اس چیلنج کو قبول کریں اور (ورلڈ اسلامک) فورم کی کوششوں میں تعاون و رہنمائی کریں۔ یہ کام صرف علماء یا کسی خاص طبقہ کا نہیں بلکہ ہر مسلمان کا ہے۔ یہ اس ملتِ بیضاء کی خصوصیت رہی ہے کہ جب اسلام نے پکارا تو مسلمانوں کے تمام طبقات نے دل و جاں کی بازی لگا دی۔ آپ کو مغربی فکر و میڈیا کا جواب اسی یورپ کی سرزمین پر دینا ہے۔
مغربی میڈیا کا متبادل فراہم کرنا مسلم دنیا کی ۵۰ سے زائد حکومتوں کی دینی قومی اور اخلاقی ذمہ داری تھی۔ مگر یہ حکومتیں اب تک کوئی خبر ساں ایجنسی تک قائم نہ کر سکیں۔ مغرب نے ہر جگہ اپنے آلہ کار مسلط کر رکھے ہیں۔ مراکش سے انڈونیشیا تک ہر جگہ ایک ’’حسنی مبارک‘‘ مسلط ہے جس کا کام مغرب کے مفادات کی نگہبانی، اپنی قوم کو ویسٹرن سولائزیشن کی بالادستی کے لیے تیار کرنا، اور مسلمانوں کی دینی حمیت و غیرت کو ختم کرنا ہے۔
ویسے تو ۲۰ سال سے مسلم ممالک کی تنظیم (OIC) کے ایجنڈے پر میڈیا سرفہرست ہے اور جدہ میں برس ہا برس سے اس کے لیے ایک عالیشان عمارت میں دفتر بھی قائم ہے۔ مگر اہلِ نظر جانتے ہیں کہ اس کا مقصد عالمِ اسلام کے لیے خبر رساں ایجنسی و سیٹلائیٹ کا قیام نہیں بلکہ مسلم دنیا میں اگر کوئی کام ہو رہا ہے تو اسے روکنا ہے۔ مسلم دنیا کے حکمران ہی نہیں، ان کے زیر اثر دینی تنظیموں تک کے لیے اسلام سے زیادہ مغرب کا وفادار و بہی خواہ ہونا ضروری ہے۔ کوئی شخص خواہ کتنا ہی قابل ہو جب تک ’’پرو امریکی‘‘ نہ ہو وہ رابطہ عالمِ اسلامی کا ممبر بن نہیں سکتا۔ اگر وہ دل میں اسلام اور مسلمانوں کا درد رکھتا ہے تو ڈاکٹر عبد اللہ عمر نصیف کی طرح علیحدہ کر لیا جائے گا۔ اس صورتحال کے پیش نظر (ورلڈ اسلامک) فورم کی کوشش ہے کہ میڈیا کی کوششیں مسلم حکومتوں کے اثر سے آزاد رہ کر کی جائیں۔ ہمارا مقصد کسی صدام، کسی قذافی، کسی شیخ، کسی خادم الحرمین کے لیے کام کرنا نہ ہو بلکہ صرف اللہ و رسول کی خوشنودی اور اسلام اور مسلمانوں کے لیے ہونا چاہیے۔
میں ایک بات واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ مغرب کے ۹۵ فیصد عوام کی اسلام سے کوئی لڑائی نہیں، یہ غریب خود منزل کی تلاش میں سرگرداں اور ایک مخصوص طبقے کے ستم کا شکار ہیں۔ یہ محبت و شفقت اور رحم کے مستحق ہیں بلکہ درحقیقت ہمارے لیے RAW میٹریل ہیں۔ انہیں میں سے آج کے عکرمہ بن ابی جہل، خالد بن ولید پیدا ہو سکتے ہیں۔ ان میں ہزار ہا یوسف اسلام اور یحیٰی، اسلام کے علمبردار بن سکتے ہیں۔
آخر میں پھر آپ حضرات کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے فورم کے اس سیمینار میں تشریف لا کر ہماری حوصلہ افزائی کی۔ اقبال کے اس شعر پر اپنی بات ختم کرتا ہوں ؎
معمار حرم باز بہ تعمیر جہاں خیز
از خواب گراں خواب گراں خواب گراں خیز
حضرت شیخ الحدیث دامت برکاتہم کا دورہ جنوبی افریقہ
مفتی محمد جمیل خان
دار العلوم زکریا جنوبی افریقہ کا سب سے بڑا مدرسہ ہے جو تعلیم، تربیت اور تعمیر ہر لحاظ سے مثالی ہے۔ حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا نور اللہ مرقدہ کے اسم گرامی سے منسوب یہ مدرسہ حضرت شیخ الحدیث کے حکم اور ایما پر قائم کرنے کا ارادہ کیا گیا۔ جب حضرت شیخ الحدیث ۱۹۷۵ء میں جنوبی افریقہ اعتکاف کے لیے تشریف لائے تو آپ نے اپنے خلفاء اور متعلقین علمائے کرام پر برہمی کا اظہار فرمایا کہ اتنے علمائے کرام کسی ملک اور خطہ میں موجود ہوں اور دینی مدرسہ قائم نہ ہو۔ علمائے کرام نے وعدہ کیا اور دعا کی درخواست کی۔
حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی دعا اور ترغیب نے جلد ہی اثر دکھایا اور اللہ تعالیٰ نے محدث العصر عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم مفسر کبیر عالم جلیل اخلاص کے پیکر علم و عمل کے منبع حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری نور اللہ مرقدہ اور ان کے شاگرد خاص جانشین مولانا بنوریؒ، امام اہل السنت فقیہ ملت تواضع و انکساری کے پیکر زہد و تقویٰ کے امام حضرت مولانا مفتی احمد الرحمٰن رحمۃ اللہ علیہ کے منظور نظر مولانا شبیر احمد سالوجی کے حصہ میں آئی اور دسمبر ۸۳ء میں دارالعلوم زکریا کے نام سے زکریا پارک لینیشا میں مدرسہ قائم کر دیا۔
مولانا بنوریؒ کا اخلاص، حضرت شیخ الحدیث نور اللہ مرقدہ کی دعائیں، مفتی احمد الرحمٰنؒ کے مشورے اور رفاقت، اور تمام اکابر کی توجہات نے اس مدرسہ کو بہت ہی قبولیت سے سرفراز فرمایا اور بہت ہی جلد اس نے ترقی کے منازل طے کیے اور اس وقت دنیا بھر کے بڑے مدارس میں اس کا شمار ہوتا ہے۔ حضرت مفتی احمد الرحمٰنؒ کے مشورے سے جب سے اس مدرسہ میں بنوری ٹاؤن کے استاد حضرت مولانا رضاء الحق تشریف لائے ہیں، مدرسہ نے علمی اعتبار سے بہت زیادہ بلندی حاصل کی ہے۔ حضرت مولانا رضاء الحق صاحب کو اللہ تعالیٰ نے علمی ثقاہت اور سادگی سے نوازا ہے۔ تخصص سے فارغ ہوتے ہی حضرت مولانا بنوریؒ نے بنوری ٹاؤن میں استاذ کی حیثیت سے تقرر فرما دیا۔ حضرت مفتی احمد الرحمٰن رحمۃ اللہ علیہ نے جو ہر کی قدر شناسی کی اور بڑی کتب کے ساتھ دار الافتاء میں بڑے اہم منصب پر فائز کر دیا۔ مولانا شبیر صاحب نے جب بخاری شریف کے لیے استاد طلب کیا تو مفتی صاحب نے ایثار کرتے ہوئے مولانا رضاء الحق کو دار العلوم زکریا بھیج دیا۔
اس مدرسہ کی ترقی میں جہاں ان حضرات کے اخلاص اور محنت و لگن کو دخل ہے، وہیں ان حضرات کی اکابر علمائے کرام سے محبت نے اس مدرسہ کو تمام اکابر کی توجہات کا مرکز بنایا ہوا ہے۔ حضرت بنوری رحمۃ اللہ علیہ کے طریقہ کے مطابق ان کی بھی خواہش رہتی ہے کہ بڑے بڑے اکابر علمائے کرام مدرسہ میں تشریف لاتے رہیں۔ حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا رحمۃ اللہ علیہ اور محدث العصر حضرت مولانا محمد یوسف بنوری نور اللہ مرقدہ تو چونکہ دار العلوم کے قیام سے قبل ہی انتقال فرما گئے تھے، اس لیے ان دونوں بزرگوں کی قدم بوسی سے تو یہ حضرات محروم رہے البتہ ان دونوں بزرگوں کی دعائیں شامل ہیں۔
ان کے بعد کے تمام اکابر جن میں حضرت مولانا مفتی محمود الحسن گنگوہیؒ، مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن ٹونکی، مولانا مفتی محمود رحمۃ اللہ علیہ، مولانا قاری محمد طیبؒ، مولانا محمد یوسف لدھیانوی، حضرت مولانا مرغوب الرحمٰن، حضرت مولانا اسعد مدنی، حضرت مولانا ارشد مدنی، مولانا محمد ادریس میرٹھی، حضرت مولانا مفتی احمد الرحمٰنؒ، حضرت مولانا صدیق احمد، حضرت مولانا جسٹس محمد تقی عثمانی، حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی، حضرت مولانا سعید احمد پالنپوری، حضرت مولانا عبد الستار تونسوی، مولانا محمد مالک کاندھلوی، مولانا مفتی زین العابدین، مولانا احمد خان پوری، شیخ الحدیث مولانا محمد یونس صاحب مظاہر العلوم سہارنپور، مولانا عبد اللہ کاپودروی، شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ صاحب، مولانا محمد حبیب اللہ مختار، الحاج بھائی عبد الوہاب، مولانا محمد پالنپوری، مولانا بدیع الزماں، حضرت الشيخ عبد الفتاح ابو غدہ، الشیخ ڈاکٹر عمر نصیف، الشيخ محمد علی صابونی، ائمہ حرمین الشيخ عبد اللہ السبیل، الشیخ صالح حمید، الشيخ علی عبد الرحمٰن الحذیفی، الشیخ ڈاکٹر محمد صیام امام مسجد اقصیٰ، مولانا محمد طاسین، مولانا فضل الرحمٰن، الشيخ مطیع الرسول، مولانا محمد مکی، مولانا عبد الحفیظ مکی، مولانا محمد طلحہ وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔
ان اکابر علمائے کرام کی تشریف آوری میں دارالعلوم کے مہتمم مولانا شبیر احمد اور شیخ الحدیث مولانا رضاء الحق کی محنت کو خاص دخل ہے۔ اس حوالے سے مولانا شبیر احمد سالوجی اور مولانا محمد ابراہیم بھامجی ۱۹۸۷ء میں شیخ الحدیث استاذ الاساتذہ حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر زید مجدہم کی خدمت عالیہ میں تشریف لے گئے اور ان کو جنوبی افریقہ اور دارالعلوم زکریا میں تشریف آوری کی دعوت دی۔ حضرت مولانا زید مجدہم نے حسبِ دستور عذر پیش کیا اور اپنی تعلیمی مصروفیات کو وجہ عذر بنایا۔ یہ حضرات مایوس تو ہوئے لیکن ہمت نہیں ہاری۔ بارہا حضرت کی خدمت میں درخواست پیش کرتے رہے، گزشتہ دنوں مولانا شبیر احمد سالوجی پاکستان آئے تو وہاں سے انہوں نے اس عزم کے ساتھ گوجرانوالہ کا سفر کیا کہ حضرت کو اس مرتبہ سفر پر راضی کرنا ہے۔ آخر کار حضرت مولانا نے مولانا شبیر احمد کے اخلاص اور محبت کے سامنے ہتھیار ڈال دیے اور سہ ماہی امتحان کے موقع پر ایک ہفتہ کا وقت دیا۔
کراچی پہنچنے پر حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی سے ٹیلی فون پر گفتگو فرماتے ہوئے حضرت مولانا نے سفر کے متعلق فرمایا:
’’سفر کا متحمل تو نہیں تھا، افریقہ کے مولانا شبیر احمد کے سالہا سال سے اخلاص کے ساتھ دعوت دینے پر مجبور ہو گیا۔ اس دفعہ انہوں نے ساتھ یہ لالچ بھی دی کہ واپسی میں عمرہ کی سعادت بھی حاصل ہو جائے گی۔ آخری عمر میں اس عمرہ کی سعادت کے حصول کے لیے یہ طویل سفر اختیار کر لیا ورنہ درس کی مصروفیت اور ضعف اس سفر کی اجازت نہیں دیتے۔‘‘
جمعرات ۶ جولائی کو حضرت زید مجدہم گوجرانوالہ سے پہلے لاہور تشریف لائے۔ ہوائی اڈے پر ’’اقراء روضۃ الاطفال‘‘ شاخ سیدنا معاذ بن جبلؓ نیو گارڈن ٹاؤن متصل مسجد باب المستجاب کلمہ چوک لاہور کے ناظمِ تعلیمات مولانا قاری شبیر احمد، ناظم الامور مولانا عبد الغفار، نگران جناب محمد قاسم ظہور نے کراچی کے لیے شام سوا چھ بجے بذریعہ ہوائی جہاز روانہ فرمایا۔ لاہور تک حضرت کے صاحبزادے مولانا عبد القدوس قارن بھی ہمراہ تھے۔
کراچی ایئرپورٹ پر حضرت کے دیرینہ خادم بھائی شمیم احمد شمسی استقبال کے لیے موجود تھے۔ حضرت ان کے گھر تشریف لے گئے۔ حضرت نے رات کو وہیں قیام فرمایا۔ برادرم عبد الرزاق خان حضرت کی خدمت میں تشریف لائے اور ٹکٹ اور پاسپورٹ وغیرہ دیتے ہوئے سفر کا نظم بتایا۔ الحمد للہ راقم الحروف کو معیت کی سعادت حاصل ہوئی۔
صبح چھ بجے حضرت کراچی ایئرپورٹ پر پہنچے اور گلف ایئر لائن کی پرواز سے ساڑھے ساتھ بجے پہلے ابو ظہبی اور پھر ابو ظہبی سے گیارہ پچپن پر جنوبی افریقہ کے دارالحکومت جوہانسبرگ کے لیے گلف کی ہی فلائٹ سے روانگی ہوئی۔ پاکستان اور جوہانسبرگ کے وقت میں تین گھنٹے کا فرق ہے۔ جوہانسبرگ کا وقت تین گھنٹے پیچھے ہے۔ سوا آٹھ گھنٹہ کی تقریبا" فلائٹ تھی، پاکستان کے وقت کے مطابق دس بجے ابوظہبی کے وقت کے مطابق نو بجے اور جوہانسبرگ کے وقت کے مطابق سات بجے جوہانسبرگ ایئر پورٹ پر پہنچے۔
ایئرپورٹ پر دارالعلوم زکریا کے مہتمم اور حضرت کے میزبان مولانا شبیر احمد سالوجی، دار العلوم زکریا کے شیخ الحدیث مولانا مفتی رضاء الحق صاحب، اساتذہ، مولانا سلیمان گھانجی، حافظ بشیر احمد صاحب وغیرہ نے استقبال کیا۔ وہاں سے رات نو بجے دارالعلوم زکریا پہنچے۔ دارالعلوم میں اساتذہ کرام جمع تھے ان سے ملاقات ہوئی۔ عشائیہ کا اہتمام تھا۔ نماز فجر دارالعلوم زکریا کی وسیع و عریض مسجد میں حضرت زید مجدہم کی امامت میں ادا کی گئی۔ نماز کے بعد حضرت نے تمام طلبائے کرام کو مختصر درس دیا۔
ہفتہ، اتوار افریقہ میں عام طور پر کاروبارِ زندگی اور تعلیم کی چھٹی ہوتی ہے۔ صرف بڑے مدارس اس سے مستثنیٰ ہیں۔ مولانا شبیر احمد سالوجی اور مفتی رضاء الحق صاحب کی رائے ہوئی کہ افریقہ کا مشہور جنگل کردکر پارک کی سیر کر لی جائے جہاں جانور آزادی کے ساتھ گھومتے ہیں اور انسانوں کے لیے حکم ہے کہ وہ گاڑیوں کے شیشے بند کر کے اس کی سیر کریں تاکہ جانوروں کی آزادی میں خلل نہ آئے اور انسانوں کو نقصان بھی نہ پہنچے۔ وہ پارک تقریباً ساڑھے تین کلو میٹر مدرسہ سے دور ہے۔ گیارہ بجے روانگی ہوئی۔ وائٹ ربور میں حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ اور خادم خاص مولانا محمد گاوری تشریف رکھتے ہیں۔ یہ خاندان علمائے کرام کا خادم ہے۔ مہمان نوازی ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ ان کو مولانا شبیر احمد صاحب نے اطلاع کرائی کہ وہ دوپہر کا سفری کھانا تیار کر کے افریقہ کی مشہور آبشار ’’صابی‘‘ کے علاقہ میں آجائیں۔ ۳ بجے آبشار پر پہنچے۔ خوبصورت مناظر کے درمیان یہ آبشار قدرت کی صناعی کا بہترین مظہر ہے۔ ایک گھنٹہ تقریباً یہاں گزارا۔ ۴ بجے مولانا سعید گاوری صاحب کی مسجد جامع مسجد وائٹ ربور میں واپسی ہوئی۔ عصر کی نماز ادا کی۔ مغرب کے بعد حضرت نے نمازیوں سے خطاب فرمایا۔
رات کا قیام وائٹ ربور کے اس مہمان خانہ میں ہوا جو گاوری خاندان نے علمائے کرام کے لیے مخصوص کیا ہوا ہے۔ تمام وسائل سے مزین مہمان خانہ خاندان کے بہترین ذوق کا مظہر ہے۔ نماز فجر ادا کر کے افریقہ کے مشہور جنگل کردکر پارک روانہ ہوئے، تقریباً ساڑھے چھ بجے پہنچ گئے۔ ۸۰ میل چوڑا، ساڑھے تین سو میل لمبا یہ جنگل اپنی اصلی حیثیت میں موجود ہے۔ بس سڑکیں بنا دی گئیں۔ گھنے جنگل میں ہرن، زیبرے، زرافے، بندر، جنگلی بھینسے، نیل گائے، شیر، ہاتھی اپنی اصلی حالت کے مطابق گھومتے پھرتے نظر آتے ہیں۔ اکثر لوگ شیر اور چیتے کو شکار کرتے ہوئے دیکھنے کے لیے کئی کئی دن گھومتے ہیں۔ دیگر جانور تو خوب نظر آئے البتہ شیر اور ہاتھی وغیرہ ہم لوگ نہ دیکھ سکے (پہلے سفر میں ان جانوروں کو گھومتے دیکھا تھا) دو بجے واپسی ہوئی اور رات نو بجے دار العلوم زکریا پہنچ گئے۔
بروز پیر نماز فجر کے بعد طلباء دارالعلوم زکریا سے مختصر خطاب فرمایا۔ بعد ازاں مولانا شبیر احمد کے گھر پر ناشتہ کا اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پر دارالعلوم کے شیخ الحديث مولانا رضاء الحق اور مہتمم مولانا شبیر احمد سالوجی نے درخواست کی کہ ہم نے تفسیر قرآن تو مختلف علمائے کرام سے حاصل کی لیکن ہماری خواہش ہے کہ چونکہ تفسیر میں آپ کو حضرت مولانا حسین علی صاحبؒ سے خصوصی تلمذ کا شرف حاصل ہے، آپ اجازت مرحمت فرما دیں تو ہمیں بھی یہ اعلیٰ نسبت حاصل ہو جائے گی۔ حضرت اقدس نے ان حضرات کی درخواست قبول فرماتے ہوئے خطاب کیا اور اجازت مرحمت فرمائی۔
بعد ازاں مولانا شبیر احمد سالوجی کی درخواست پر ان کی اہلیہ جو کہ ما شاء اللہ عالمہ ہیں، ان کو بھی تفسیر قرآن اور حدیث شریف کی اجازت مرحمت فرمائی اور ان کو تلقین کی کہ وہ عورتوں میں تفسیر قرآن کا سلسلہ شرع کریں اور عورتوں کو مسائل فقہیہ خصوصاً روز مرہ کے مسائل ضروریہ سے آگاہ کریں۔ صبح دس بجے بروز پیر حافظ محمد یوسف صاحب (جنہوں نے حضرت اقدس کے سفر کے اخراجات کی ذمہ داری اٹھائی) کی دکان دسترنگ تشریف لے گئے۔ ظہر کی نماز ان کی دکان پر ادا فرمائی اور اس کے بعد مختصر نصیحت فرمائی۔
بروز پیر بعد نماز مغرب دارالعلوم زکریا میں اساتذہ کرام اور طلباء دورہ حدیث و مشکوٰۃ کی درخواست پر حضرت نے بخاری شریف کی حدیث کا درس دیتے ہوئے حدیث کی اجازت مرحمت فرماتے ہوئے مختصر خطاب کیا۔
قبل ازیں دارالعلوم کے مہتمم مولانا شبیر احمد سالوجی نے شیخ الحدیث مفتی رضاء الحق اور دیگر اساتذہ کرام کی طرف سے حضرت اقدس کی دارالعلوم زکریا کے مہمان کی حیثیت سے تشریف آوری پر اظہار تشکر کرتے ہوئے اسے جامعہ کی روحانی اور مادی ترقی کے لیے ایک ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ۱۹۸۷ء سے ہماری خواہش تھی کہ ہمارے ادارے کو حضرت اقدس اپنی برکات سے منور فرمائیں تاکہ اساتذہ کرام اور طلباء آپ کی زیارت سے مشرف اور آپ کے علوم کی برکات سے مستفید ہو سکیں۔ لیکن حضرت اقدس اپنی تدریسی ضروریات اور تصنیفی مشغولیات کی وجہ سے ہماری دعوت قبول کرنے سے گریز فرماتے رہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت اقدس کی مصروفیات ایسی ہیں کہ آپ کی کہیں تشریف آوری معجزہ سے کم نہیں۔
زندگی کا ایک ایک لمحہ آپ نے علوم دین کی خدمت کے لیے وقف کیا ہوا ہے۔ تہجد کے وقت سے لے کر رات گیارہ بجے تک ایک مشین کی طرح مصروف عمل رہتے ہیں۔ بخاری شریف، ترمذی اور تفسیر قرآن کے اسباق آپ گزشتہ ۴۰ سال سے جامعہ نصرۃ العلوم میں پڑھا رہے ہیں اور بقول حضرت اس سالہا سال ایسے گزر گئے جس میں آپ نے ایک دن بھی تعلیم کا ناغہ نہیں فرمایا۔
۱۹۴۳ء سے آپ نے جو عمومی درس شروع فرمایا تھا اس میں اب تک آپ نو مرتبہ قرآن مجید تفسیر کے ساتھ مکمل فرما چکے ہیں اور دسویں مرتبہ درس قرآن جاری ہے۔ گزشتہ میں سال سے آپ ماہ شعبان المبارک اور ماہ رمضان المبارک میں علماء کرام کے لیے دورہ تفسیر قرآن کریم کا اہتمام فرماتے ہیں جس میں روزانہ آپ ایک نشست میں پانچ گھنٹے مسلسل درس دیتے ہیں تاکہ قرآن مجید کی تفسیر دو ماہ میں مکمل ہو جائے۔ ایک ہزار کے قریب علمائے کرام اس درس میں شرکت فرماتے ہیں۔
ہمارے مرشد اور استاد محترم محدث العصر حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ جب بھی حضرت اقدس کا تذکرہ فرماتے تو ’’ترجمانِ دیوبند‘‘ سے آپ کو خطاب فرماتے اور اکثر فرماتے ہیں: ’’عقائد اور تمام مسائل میں حضرت مولانا سرفراز خان صاحب ہماری طرف سے فرضِ کفایہ ادا کر کے ہماری ترجمانی فرماتے ہیں‘‘۔
مسئلہ حیاۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جب اہلِ حق کے درمیان اختلاف کی خلیج بڑھنے لگی تو حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ، حضرت مولانا شمس الرحمٰن افغانیؒ، حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ، حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ، حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ اور دیگر علمائے کرام نے یہ فیصلہ کیا کہ علمائے حق دیوبند کی طرف سے حضرت اقدس اس مسئلہ کی وضاحت فرمائیں۔ حضرت اقدس نے علمائے حق کی ترجمانی کرتے ہوئے ’’تسکین الصدور‘‘ کے عنوان سے مسئلہ کی مکمل تنقیح فرمائی اور اس طرح علمائے حق کا واضح موقف آنے کے بعد اختلافات دور ہو گئے۔
حضرت اقدس نے ’’مقامِ ابی حنیفہؒ‘‘ تحریر فرمائی تو مفتی اعظم پاکستان مولانا مفتی محمد شفیع رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: ’’میرا ارادہ اس موضوع پر لکھنے کا تھا لیکن آپ کی اس کتاب کے بعد اب اس موضوع پر لکھنے کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی‘‘۔
طلاقِ ثلاثہ پر آپ کے موقف کو مفتی محمد شفیع رحمۃ اللہ علیہ نے تفسیر معارف القرآن میں آپ کے نام اور حوالے کے ساتھ ’’الطلاق مرتان‘‘ کے ضمن میں ذکر فرما کر یہ واضح کر دیا کہ حضرت کا موقف علمائے حق دیوبند کا موقف ہے۔ اللہ تعالیٰ حضرت اقدس کی زندگی میں برکت عطا فرمائے اور ہمیں آپ کی برکات و فیوضات سے استفادہ کی توقع عطا فرمائے۔
بعد ازاں جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے فاضل مولانا محمد ابراہیم بھامجی کے مدرسہ کا سنگِ بنیاد رکھا۔ مولانا محمد ابراہیم بھامجی لینسیا میں ایک مدرسہ قائم کر رہے ہیں جس میں تین تا دس سال کے بچوں کی تعلیم و تربیت کا انتظام ہو گا۔ مدرسہ کے اخراجات کے لیے پٹرول پمپ اور سروس اسٹیشن قائم کر رہے ہیں۔ حضرت مولانا اور دیگر احباب نے گارا ڈال کر اس مبارک کام کا آغاز کیا۔ حضرت اقدس نے دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ اس جگہ کو دینی ادارے کے لیے قبول فرمائے۔
مولانا حبیب احمد نے اس موقع پر درخواست کی کہ حضرت، ہم مركز التوحید الاسلامی کے تحت گراہمبر کے علاقے میں کالوں کی آبادی میں کام کر رہے ہیں اور الحمد للہ کافی بچوں اور لوگوں کو اسلام کی دعوت دے کر مسلمان بنایا ہے۔ اگر آپ تشریف لے گئے تو ہمارے کام میں برکت ہو گی۔ حضرت نے درخواست قبول فرمائی اور وہاں تشریف لے گئے، چالیس کے قریب بچے دارالاقامہ میں قیام پذیر تھے۔ جبکہ مقامی بچوں کی تعداد کافی ہے جو کہ چھٹی کی وجہ سے اپنے گھروں کو چلے گئے تھے۔ دارالاقامہ اور درسگاہیں دیکھیں۔ مولانا حبیب احمد نے بتایا کہ ابتداء میں جب کام شروع کیا تو دو چار بچے تھے۔ ان کو بھی روزانہ گھروں سے لاتے تھے۔ آہستہ آہستہ لوگ متوجہ ہوئے۔ ایک سو سے زائد عورتیں مسلمان ہوئیں جن کی تعلیم و تربیت کا انتظام کیا گیا ہے۔ ایک سو سے زائد بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ چالیس بچے دارالاقامہ میں رہتے ہیں۔ مخیر حضرات کے تعاون سے کام چل رہا ہے۔ عورتوں اور بچوں کو راشن وغیرہ دے کر تعلیم کی طرف راغب کیا جاتا ہے۔ بچوں نے قرآن سنایا، ایک دو بچوں نے عربی میں مکالمہ کیا۔ ایک بچے نے عربی میں خطبہ دیا۔ حضرت اقدس کی تشریف آوری پر مصری استاد نے خوش آمدید کہتے ہوئے بچوں کو کہا کہ یہ تم بہت خوش قسمت ہو کہ پاکستان کی ایک عظیم شخصیت جن کی زندگی علم دین کی اشاعت سے تعبیر ہے، تمہارے پاس اتنے دور دراز سے تشریف لائی، آپ کی آمد ہمارے لیے خوشی اور مسرت کا باعث ہوئی۔ حضرت اقدس نے دعا فرماتے ہوئے فرمایا کہ الحمد للہ ان لوگوں میں کام کرنے کا بہت اجر ہے، ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان لوگوں کو جہنم سے نجات دلانے کے لیے جدوجہد کریں۔ اللہ تعالٰی شرف قبولیت سے نوازے اور آپ کی خدمات کو قبول فرمائے۔
جوہانسبرگ جنوبی افریقہ کا مرکزی شہر ہے۔ بڑے بڑے تجارتی مراکز اسی شہر میں ہیں۔ محمود میاں اس خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جنہوں نے حضرت مولانا انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت کی اور مجلس علمی قائم کی۔ ان سے ملاقات ہوئی، انہوں نے حضرت سے نصیحت کی درخواست کی، جس پر حضرت نے مختصر خطاب فرمایا۔
جناب احمد صاحب سے بھی ملاقات ہوئی، انہوں نے درخواست کی کہ جمعہ سے قبل میفیر کی جامع مسجد میں خطاب فرمائیں، جوہانسبرگ کے تمام تجار اس مسجد میں نماز ادا کرتے ہیں، ان شاء اللہ بہت مفید ہو گا۔ حضرت نے درخواست قبول فرمائی۔ نماز ظہر کے بعد جناب حاجی ابراہیم ڈابھیلیا کے مکان پر مستورات کا بیان تھا، حضرت اقدس نے تقریباً پون گھنٹہ بیان فرمایا۔ مستورات کے بیان سے فارغ ہو کر جمعیت علماء اسلام ٹرانسوال کے سیکرٹری، جنرل مفتی احمد الرحمٰن رحمۃ اللہ علیہ کے تلمیذ خاص مولانا ظہیر احمد راگی نے عصرانہ کا اہتمام کیا تھا، جس میں ایل ایم اے کے مہتمم مولانا محمد نانا بھائی، ممتاز تاجر غلام کاکا، مسلم اسکول کے استاد مولانا موسیٰ پانڈور، جمعیت علماء اسلام کے نائب امیر مولانا عبد الحئی کاکا، مولانا محمد ابراہیم بھامجی، دارالعلوم آزاد ول کے استاد مولانا عبد اللہ پایا نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ مولانا ظہیر احمد راہی نے حضرت اقدس کی افریقہ تشریف پر اظہارِ تشکر کرتے ہوئے کم وقت پر افسوس کا اظہار کیا اور خواہش ظاہر کی کہ اگر فارغ وقت میں زیادہ دن کے لیے تشریف لائیں تو جمعیت علماء افریقہ دارالعلوم زکریا کے تعاون سے دورۂ تفسیر قرآن کا اہتمام کرتے۔
مولانا ظہیر احمد راگی نے بتایا کہ الحمد للہ جمعیت علماء افریقہ کی مسلمانوں کے سلسلہ میں بہت خدمات ہیں۔ مساجد کا قیام، ایئر پورٹ میں بھی مسجد قائم کر دی گئی ہے، مسلم اسکول کا قیام، دینی مدارس سے تعاون، بینکوں میں بلاسود بینکاری کی سہولت، حلال گوشت مہیا کرنا، تمام اشیاء کے حلال ہونے کی سند جاری کرنا، اور دنیا بھر کے مسلمانوں کی امداد کرنا۔ اس سلسلے میں بوسنیا، افغانستان، کشمیر، برما، صومالیہ میں بہت زیادہ تعاون کیا۔ ملاوی، موزمبیق میں مدارس قائم کیے۔ کالوں کی آبادی میں مدارس کے قیام کے لیے جدوجہد، تاشقند، ماسکو میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے تعاون سے قرآن کی طباعت و تقسیم اور مساجد کا قیام سرفہرست ہے۔ دعا فرمائیں کہ جمعیت علماء افریقہ مسلمانوں کی خدمات میں اسی طرح مصروف رہے۔
حضرت اقدس نے جمعیت علماء افریقہ کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا کہ نوجوان علماء کرام بہت زیادہ خدمات انجام دے رہے ہیں اور افریقہ کا اسلامی ماحول مثالی ماحول ہے، تمام مسلمانوں کو اس کی اتباع کرنی چاہئے اور مسلمانوں کے وسائل کو دین کی تبلیغ و علومِ نبویہ کی اشاعت میں صَرف کرنا چاہئے تاکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت پوری طرح متوجہ ہو۔ عشائیہ کا اہتمام مولانا محمد موسیٰ پانڈور کے یہاں تھا جس میں مقامی علمائے کرام اور دارالعلوم زکریا کے مہتمم مولانا شبیر احمد سالوجی نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ بعد نماز عشاء لینسیا کی مسجد میں بیان تھا۔
بروز جمعرات ناشتہ کا اہتمام مولانا محمد سلیمان کی طرف سے تھا۔ ظہرانہ حافظ بشیر احمد کی طرف سے تھا، جبکہ عشائیہ مولانا مفتی محمد علی کی جانب سے تھا۔ جمعرات کو بعد نماز عشاء جمعیت علمائے ٹرانسوال کی جانب سے علمائے کرام کا اجتماع تھا، اس اجتماع میں حضرت اقدس نے تفصیلی بیان فرمایا۔ تقریباً ایک سو علمائے کرام نے حدیث شریف اور تفسیر قرآن کی اجازت طلب کی۔ حضرت اقدس نے علمائے کرام کو حدیث اور قرآن مجید کے درس دینے کی شرط پر اجازت مرحمت فرمائی۔ بروز جمعہ بعد نماز فجر درس قرآن کا سلسلہ شروع کریں گے۔ حدیث شریف کا درس بھی دیا کریں گے۔ علمائے کرام کے اعزاز میں دار العلوم زکریا کے مہتمم مولانا شبیر احمد سالوجی کی جانب سے ناشتہ کا اہتمام کیا گیا۔ جمعہ کے دن دار العلوم زکریا کے طلباء کا آخری پرچہ تھا اور اس کے بعد پندرہ دن کی چھٹیاں ہونی تھیں اس لیے حضرت اقدس نے نماز کی اہمیت اور عورتوں کی نماز کے متعلق مسائل بیان فرمائے۔
جمعہ کا دن حضرت کا مصروف ترین دن تھا۔ درس کے بعد مولانا محمد یونس دراجہ جو جمعیت علماء ٹرانسوال کے رکن ہیں، ان کے یہاں ناشتہ کا اہتمام تھا۔ ناشتہ کے بعد جمعیت علماء ٹرانسوال کے نائب امیر مفتی اعظم پاکستان مولانا مفتی ولی حسن رحمۃ اللہ علیہ کے تلمیذ خاص مولانا محمد عبد الحئی کاکا کے یہاں مختصر تقریب میں شرکت فرمائی۔ بعد ازاں مولانا شبیر احمد سالوجی کے ہمراہ جوہانسبرگ تشریف لے گئے، جہاں جامع مسجد ہیفیر میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرنا تھا۔ راستہ میں جمعیت علماء ٹرانسوال اور دارالعلوم زکریا کے خصوصی معاونین جناب احمد وید، جناب نذیر بڈھانی، جناب غلام کاکا کے کاروباری مراکز پر دعا کرائی۔ جامع مسجد ہیفیر جوہانسبرگ کی مرکزی خوبصورت مسجد ہے اور مسلمانوں کا بہت بڑا اجتماع اس مسجد میں جمعہ کو ہوتا ہے۔ نماز سے کافی پہلے ہی مسجد نمازیوں سے بھر گئی تھی۔ حضرت اقدس نے جمعہ کے اجتماع سے خطاب فرمایا۔
نماز کے بعد جمعیت علماء ٹرانسوال کے سیکرٹری مولانا ابراہیم بھام، مولانا محمد یوسف وغیرہ نے حضرت سے ملاقاتیں کیں اور اپنے کام کے لیے خصوصی دعائیں کروائیں۔ نماز کے بعد ممتاز تاجر محمود میاں نے ظہرانہ کا اہتمام کیا تھا جس میں علمائے کرام اور تجار حضرات نے شرکت کی اور حضرت والا سے خصوصی دعائیں فرمائیں۔ چونکہ رات کو حرمین شریفین روانگی تھی اس لیے جنوبی افریقہ کا آخری پروگرام تھا۔ جناب محمد اقبال دراجہ کے کاروباری مرکز پر دعا فرماتے ہوئے دار العلوم زکریا پہنچے اور سفر حرمین شریفین کی تیاری شروع کی۔
شیخ مطیع الرسول صاحب کی اطلاع کے مطابق انہوں نے حرمین شریفین کی زیارت کا ویزا لگوا کر پاسپورٹ اولمپک ایئرویز کے ایک انجینئر کے ذریعہ جنوبی افریقہ بھجوائے تھے، پاسپورٹ چھ بجے کے قریب ایئرپورٹ پہنچنے تھے اور حرمین شریفین کے لیے گلف ایئرلائن کی فلائٹ دس بجے تھی۔ اس لیے اطمینان تھا کہ روانگی ہو جائے گی۔ اس دوران حضرت اقدس سے ابوبکر چوغلے جو کہ حضرت مفتی احمد الرحمٰن رحمۃ اللہ علیہ کے خادم خاص تھے، اور اب افریقہ میں کالوں کی آبادی میں مولانا شبیر احمد سالوجی اور شیخ مطیع الرسول کی نگرانی میں کافی اچھا کام کر رہے ہیں، ملاقات کے لیے آئے اور اپنے کام کے لیے حضرت سے خصوصی دعا کرائی۔
شام سات بجے ایئر پورٹ گئے تاکہ پاسپورٹ وغیرہ وصول کریں، روانگی کے لیے سامان پیک کرا دیں، بعد ازاں حضرت ایئر پورٹ تشریف لے آئیں، لیکن ابھی افریقہ میں حضرت اقدس کی کچھ علمائے کرام سے ملاقاتیں اور کچھ جگہ بیان مقرر تھا۔ اللہ تعالیٰ نے دو دن مزید افریقہ میں ان کے لیے عجیب انداز میں انتظام فرمایا۔ پاسپورٹ لینے جب اولمپک ایئرویز پہنچے تو پاسپورٹ ندارد۔ معلوم ہوا کہ جس انجینئر کو پاسپورٹ دیے تھے وہ غلطی سے پاسپورٹ دینے کے بجائے واپس لے گیا۔ اب صبر کے سوا کوئی صورت نہیں، جہاز کا معلوم کیا تو پتہ چلا کہ اب اتوار کو فلائیٹ ہے۔ فوری طور پر اس پر بلنگ کرائی اور شیخ مطیع الرسول صاحب سے نیروبی رابطہ کر کے پوری تفصیلات سے آگاہ کیا۔ اللہ تعالٰی ان کو جزائے خیر عطا فرمائے، انہوں نے فوری طور پر دوسرے دن کی فلائیٹ سے پاسپورٹ ارسال کرنے کا بندوبست کر کے مطلع کیا۔
دار العلوم زکریا میں ہی تشریف فرما تھے۔ مولانا محمد ابراہیم بھامجی، مولانا محمد عبد الحئی کاکا، مولانا محمد موسیٰ پانڈور، مولانا یونس دراجہ، مولانا ابوبکر چوغلے، مولانا حبیب احمد مردانی وغیرہ کے ساتھ دار العلوم واپسی ہوئی۔ حضرت والا کو تفصیلات سے آگاہ فرمایا۔ صبر و تحمل کے پیکر حضرت نے فرمایا: مقدر کی بات کو کوئی نہیں ٹال سکتا، اللہ تعالیٰ خیر کا معاملہ فرمائیں۔
دارالعلوم زکریا میں امتحان ختم ہو گئے تھے اور مدرسہ میں دن کی تعطیل تھی، تمام طلباء اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے، فجر کی نماز جس میں روزانہ کئی صفیں ہوتی تھیں، آج صرف دس پندرہ افراد شریک نماز تھے، حضرت اقدس نے نماز کی امامت فرمائی اور اس کے بعد درس دیا۔
دوپہر کو حافظ بشیر احمد صاحب کے یہاں ظہرانہ کا اہتمام تھا۔ رات کو جامع مسجد موڈیم میں بیان تھا، برادرم احمد دید کی گاڑی میں مولانا شبیر احمد کے ساتھ بعد نماز عصر موڈیم کی طرف روانگی ہوئی۔ موڈیم میں جمعیت علمائے ٹرانسوال کے تعاون سے مسلم اسکول بھی ہے۔ جمعیت علماء کے صدر مولانا محمد عباس جناح اس کے نگران ہیں۔ یہ اسکول مسلمان بچوں کی تعلیم میں گراں قدر خدمات انجام دے رہا ہے۔ مغرب کی نماز کی امامت بھی حضرت اقدس نے فرمائی اور اس کے بعد نمازیوں سے خطاب فرمایا۔
پہلے پروگرام کے مطابق بروز جمعہ ساڑھے دس بجے جوہانسبرگ سے براستہ ابو ظہبی مسقط جدہ روانہ ہونا تھا، لیکن نیروبی سے مولانا مطیع الرسول نے بڑی محنت اور کوشش فرما کر سعودی عرب کا ’’زیارت ویزہ‘‘ لگوا کر اولمپک ایئر لائن کے ایک انجینئر کے ہاتھ سے پاسپورٹ روانہ کیا۔ وہ انجینئر جلدی میں پاسپورٹ دینا بھول گیا اور پاسپورٹ واپس لے گیا۔ اس طرح پروگرام کے مطابق اس فلائٹ سے جدہ روانگی نہ ہو سکی۔ دوسری فلائٹ براستہ ابو ظہبی بحرین جدہ اتوار کی صبح سوا نو بجے تھی۔ اس میں نشستیں مخصوص کرا دیں۔ نیروبی فون کر کے شیخ مطیع الرسول صاحب کو صورت حال سے مطلع کیا۔ انہوں نے انتہائی کوشش کر کے ہفتہ کے دن کینیا ایئر لائن کی فلائٹ سے پاسپورٹ دوبارہ روانہ کیے۔
مولانا مطیع الرسول صاحب حضرت اقدس مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمتہ اللہ علیہ کے تلمیذ خاص ہیں، بنوری ٹاؤن کے فضلاء میں سے ہیں، بعد ازاں ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر اور مولانا عبد اللہ کاکا خیل کے ہمراہ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے تعلیم حاصل کی۔ حضرت مولانا مفتی احمد الرحمٰن رحمۃ اللہ علیہ کے خاص رفیق ہیں۔ نیروبی میں دار الافتاء کی طرف سے مبعوث ہیں اور کینیا میں ان کی دینی خدمات قابل تحسین ہیں۔ گریسہ میں ایک بہترین اسکول و مدرسہ کالے مسلمانوں کے بچوں کے لیے شروع کیا ہے۔ اکابر علمائے کرام سے خصوصی تعلق ہے۔
حضرت اقدس کو چونکہ عمرہ پر جانا تھا اور اس وقت عمرہ کے ویزے بند تھے، اس لیے محنت کر کے زیارت کا ویزہ لگوایا۔ اللہ تعالی جزائے خیر عطا فرمائے۔ ۱۶ جولائی بروز اتوار صبح سات بجے دارالعلوم زکریا سے جوہانسبرگ انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی طرف روانگی ہوئی۔ روانگی سے قبل حضرت اقدس نے مولانا شبیر احمد سالوجی کے گھر ناشتہ کے بعد جمعیت علماء نٹال کے مولانا محمد یونس پٹیل صاحب کو ان کی درخواست پر اجازتِ حدیث شریف اور اجازتِ تفسیر قرآن مرحمت فرمائی۔ مولانا یونس پٹیل صاحب حضرت سے ملاقات کے لیے ڈربن سے تشریف لائے تھے۔
ایئر پورٹ پر حضرت کو رخصت کرنے کے لیے جمعیت علماء ٹرانسوال کے صدر مولانا محمد عباس جناح، نائب صدر مولانا محمد عبد الحئی کاکا، دار العلوم زکریا کے مہتمم مولانا شبیر احمد سالوجی، مولانا مفتی محمد علی، حافظ بشیر احمد، مسلم سکول آزاد ول کے استاد مولانا محمد موسیٰ پانڈور، لینسیا مسلم ایسوسی ایشن کے اساتذہ اور تمام علمائے کرام کے خادم خاص مولانا محمد ابراہیم بھامجی، مولانا حبیب احمد، مولانا محمد یونس، ڈاکٹر مسعود الحسن ٹونکی (حضرت مفتی اعظم پاکستان مولانا مفتی ولی حسن ٹونکی رحمۃ اللہ کے صاحبزادے)، مولانا ابوبکر چوغلے اور کئی علماء اور حضرات تشریف لائے۔ حضرت اقدس نے اس موقع پر دعا فرمائی اور تلقین کی کہ درس قرآن کریم کا سلسلہ شروع کیا جائے۔
حضرت نے تمام احباب خصوصاً مولانا شبیر احمد سالوجی، مولانا ابراہیم بھامجی اور مولانا محمد عبد الحئی کاکا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ حضرات نے بہت زیادہ تکلف اور تکلیف سے کام کیا، بہت اعزاز و اکرام فرمایا، اللہ تعالیٰ آپ حضرات کو جزائے خیر عطا فرمائے، آپ حضرات کا بہت بہت شکریہ۔
مولانا شبیر احمد سالوجی نے جواب میں عرض کیا: حضرت والا آپ کا بہت بہت شکریہ کہ آپ نے ہماری درخواست قبول فرمائی اور تعلیمی مصروفیت، درس تدریس، تصنیفی کام اور پیرانہ سالی کے باوجود تشریف لائے۔ ان شاء اللہ آپ کی تشریف آوری سے افریقہ میں قرآن مجید کے دروس کا خصوصی سلسلہ شروع ہو گا۔ ہماری درخواست ہے کہ آپ ایک مرتبہ ایک ماہ کے لیے تشریف لائیں، ہم علمائے کرام کو جمع کریں گے، وہ ایک دفعہ آپ سے تفسیر قرآن شریف پڑھیں تو ان شاء اللہ اس کے اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔ اس آخری گفتگو کے ساتھ ہی جنوبی افریقہ کے ایک ہفتہ کا دورہ اختتام پذیر ہوا۔
نوٹ: مولانا مفتی محمد جمیل خان نے حضرت شیخ الحدیث مدظلہ کے متعدد خطابات اس سفرنامہ کے ساتھ قلمبند کیے ہیں اور سعودی عرب کے سفر کی رپورٹ بھی مرتب فرمائی ہے، ہم اس کرم فرمائی پر ان کے شکر گزار ہیں۔ خطابات اور دورہ سعودی عرب کی رپورٹ ’’الشریعہ‘‘ کے آئندہ شماروں میں قارئین کی خدمت میں پیش کی جائے گی۔ ان شاء اللہ تعالٰی (اداره)
قافلۂ معاد
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا سید ابوذر بخاریؒ
امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ تعالیٰ کے فرزند و جانشین اور مجلس احرار اسلام کے قائد حضرت مولانا سید ابوذر عطاء المنعم شاہ بخاریؒ طویل علالت کے بعد گزشتہ دنوں ملتان میں انتقال فرما گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مرحوم حضرت امیر شریعت رحمہ اللہ تعالیٰ کے علمی و فکری جانشین تھے اور بلند پایہ عالم دین، دانشور، صاحبِ قلم اور منجھے ہوئے خطیب ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے عظیم باپ کی وضعداری، فقر و استغناء اور حق گوئی کی روایات کے بھی امین تھے، جو کساد بازاری کے اس دور میں جنسِ نایاب ہوتی جا رہی ہے۔
مولانا سید ابوذر بخاریؒ جو حافظ جی کے نام سے معروف تھے، مطالعہ اور معلومات کے حوالے سے اپنے دور کے چند گنے چنے افراد میں شمار ہوتے تھے، وہ کسی موضوع پر گفتگو کرتے تو گھنٹوں بے تکان بولتے چلے جاتے اور مستند معلومات کا انبار لگا دیتے۔ ان کی مجلس میں کبھی تھوڑی دیر کے لیے بیٹھنے کا اتفاق ہوتا تو مجلس سے اٹھنے کے بعد یوں محسوس ہوتا جیسے کسی بڑی لائبریری میں کچھ وقت گزار کر آئے ہیں۔ بے رحم سیاست کی آکاس بیل ان کی شخصیت کے گرد حصار قائم نہ کر لیتی تو قحط الرجال کے اس دور میں وہ اہلِ علم کے لیے استفادہ اور راہنمائی کا ایک بڑا مرکز اور مرجع ہوتے۔ مگر حوادثِ زمانہ کے تسلسل نے انہیں گوشہ نشینی اور علالت کی دیوار کے ساتھ لگا دیا۔
حافظ جیؒ کی وفات صرف بخاری خاندان اور مجلس احرار اسلام کے کارکنوں کے لیے نہیں بلکہ ہر اس شخص کے لیے باعثِ رنج و غم ہے جو علم دوستی، وضع داری اور بے باکی کی قدروں سے شناسائی رکھتا ہے۔ اللہ تعالی ان کی مغفرت فرمائیں، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں اور ان کے اہلِ خاندان اور عقیدت مندوں کو صبر و حوصلہ عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔
مولانا محمد اسحاق سندیلویؒ
ملک کے ممتاز عالم دین اور محقق حضرت مولانا محمد اسحاق سندیلویؒ گزشتہ دنوں انتقال فرما گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ ایک عرصہ تک ندوۃ العلماء لکھنؤ کے ساتھ منسلک رہے، پھر کراچی آگئے اور حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ کے علمی رفقاء میں شامل ہو گئے۔ محقق عالم تھے، تاریخ پر گہری نظر تھی، ساری زندگی تدریسی اور تحقیقی سرگرمیوں میں مصروف رہے۔ ان کی متعدد تصانیف منظر عام پر آچکی ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں عفو و درگزر سے نوازیں اور جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائیں۔
مولانا امیر حسینؒ
ہمارے ایک بہت پرانے دوست اور ساتھی مولانا امیر حسینؒ کا گزشتہ دنوں کوہلو والا میں انتقال ہو گیا، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کا تعلق مظفر آباد آزاد کشمیر کے علاقہ چناری سے تھا اور گزشتہ پینتیس برس سے گوجرانوالہ کی نواحی بستی کوہلو والا میں دینی خدمات سر انجام دے رہے تھے۔ بچوں کی دینی تعلیم کا ایک مدرسہ بھی انہوں نے قائم کیا جو اَب ان کی یادگار ہے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائیں اور پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق دیں، آمین یا رب العالمین۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی توجہ کے لیے
’’مسلمان لیڈر‘‘ کی اپیل پر واشنگٹن میں دس لاکھ کالے امریکیوں کا اجتماع
ادارہ
’’واشنگٹن (ریڈیو رپورٹ) امریکہ میں جرائم، منشیات، کالے اور گورے کے نسلی امتیاز کے خلاف مسلمان لیڈر لوئیس فرخان کی اپیل پر واشنگٹن میں دس لاکھ سیاہ فام امریکیوں کا تاریخ ساز اجتماع ہوا۔ وائس آف امریکہ کے مطابق ’’ملین مین مارچ‘‘ (لاکھوں مردوں کے مارچ) کی کال سیاہ فام مسلمانوں کی ملک گیر تنظیم ’’نیشن آف اسلام‘‘ کے سربراہ لوئیس فرخان کی تھی۔ اس اجتماع میں مسلمان، عیسائی اور دیگر مذاہب کے لوگوں نے شرکت کی۔ سب سے پہلے اذان دی گئی جس کا انگریزی میں ساتھ ساتھ ترجمہ کیا گیا اور پھر کارروائی کا آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا۔ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے لوئیس فرخان نے کہا کہ امریکہ اب بھی دو حصوں سیاہ فام اور سفید فام امریکہ میں بٹا ہوا ہے۔ انہوں نے سیاہ فام امریکیوں پر زور دیا کہ وہ اس نسلی امتیاز کو ختم کرنے کے لیے آگے بڑھیں۔ لوئیس فرخان یہودیوں کے سخت خلاف ہیں۔‘‘ (روزنامہ جنگ لاہور ۱۸ اکتوبر ۹۵ء)
لوئیس فرخان امریکہ کے آنجہانی سیاہ فام لیڈر آلیج محمد کے جانشین ہیں۔ آلیج محمد نے اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا اور ساتھ ہی یہ دعوی کر دیا کہ انہیں نبوت کا مقام حاصل ہے اور ان پر اللہ تعالی کی طرف سے وحی آتی ہے۔ آلیج محمد نے ’’نیشن آف اسلام‘‘ کے نام سے تنظیم قائم کی اور اپنے مذہب اور عقائد کا پرچار اسلام کے نام سے شروع کیا، جسے لوئیس فرخان آگے بڑھانے میں مصروف ہیں اور آلیج محمد کے جانشین کے طور پر اسلام کے نام پر ان عقائد و نظریات کو پھیلا رہے ہیں۔
کیا عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ، شعبہ تبلیغ مجلس احرار اسلام، اداره مرکزیہ دعوت و ارشاد چنیوٹ، یا تحفظ ختم نبوت کے لیے کام کرنے والی کوئی جماعت اس سلسلہ میں مسلمانوں کی راہنمائی کی طرف توجہ دے سکے گی؟
مسلمان طالبہ کا حجاب: فرانس کی ایک سول کورٹ کا تاریخی فیصلہ
ادارہ
ہفت روزہ عربی جریده ’’العالم الاسلامی‘‘ مکہ مکرمہ کی رپورٹ کے مطابق:
فرانس کے نانسی شہر کے سول کورٹ نے حکومتِ فرانس کو حکم دیا ہے کہ مراکشی مہاجر مسلم طالبہ سلوی آیت احمد کو، جسے سر پر دوپٹہ ڈالنے کی وجہ سے امتحان میں بیٹھنے سے روک دیا گیا، دس ہزار ڈالر جرمانہ ادا کرے۔ پندرہ سالہ سلوی احمد کے اسکول کی انتظامیہ نے گزشتہ جون میں سلوی کو محض اس جرم میں سالانہ امتحان میں شرکت کی اجازت نہیں دی تھی کہ اس نے انتظامیہ کے اس مطالبہ کو کہ سر پر دوپٹہ نہ ڈالے، ماننے سے انکار کر دیا تھا۔
باوجود اس کے کہ عدالت کا یہ فیصلہ نہایت منصفانہ اور عقل و منطق کے عین مطابق ہے، فرانس میں اس سے ہلچل مچ گئی۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ مسلم طالبات کے سرپرستوں اور والدین کی طرف سے ۱۹۸۹ء سے اب تک اس طرح کے سیکڑوں مقدمات فرانس کی مختلف عدالتوں میں دائر کیے گئے لیکن ابھی تک کسی فیصلہ میں دوپٹہ میں اسکول آنے کی اجازت نہ دینے کی وجہ سے حکومت فرانس پر جرمانہ عائد نہیں کیا گیا تھا۔ سلوی احمد، جو فرانس میں پیدا ہوئی، کے والدین مراکشی ہیں۔
اس کے اسکول کے اس فیصلہ کا نفاذ فرانس اکیڈمک کمیشن کی توثیق کے بعد ہی عمل میں آیا تھا۔ انتظامیہ نے سلوی کے اخراج اور امتحان سے محروم کر دینے کی قرارداد منظور کرتے ہوئے کہا وہ امن و سلامتی کے پیش نظر اس اقدام پر مجبور ہے۔ سلوی نے اسکارف سے سر اور بال چھپا کر اسکول کے اندرونی نظام کی خلاف ورزی کی ہے، وہ ورزش اور سائنس کے گھنٹوں میں بھی سر سے دوپٹہ نہیں ہٹاتی ہے۔
سلوی کے وکیل باسکل برنارڈ نے اپنی بحث میں اس نکتہ پر خاص طور پر توجہ مرکوز کی کہ اسکول کے اس فیصلہ سے سلوی اور اس کے سرپرستوں کو روحانی و نفسیاتی اذیت اور مالی خسارہ ہوا۔
سابق وزیر تعلیم مسٹر فرانسو نے ستمبر ۹۴ء میں تعلیمی اداروں کے اندر مذہبی مظاہر کی نمائش و اظہار پر پابندی عائد کر دی تھی۔ اس وقت سے اب تک فرانس کی عدالتوں نے مسلم طالبات (جنہیں سر پر دوپٹہ ڈالنے کے جرم میں تعلیم سے محروم ہونا پڑا) کے ۹۲ مقدمات کی سماعت کی۔ ۷۶ مقدمات کی سماعت عدالت نے مکمل کرلی ہے، جن میں سے ۴۴ میں اسکولوں اور کالجوں کے اس فیصلہ کو غلط قرار دیا گیا ہے، جبکہ ۳۰ میں فیصلہ کو حق بجانب کہا گیا ہے۔
(بشکریہ تعمیرِ حیات، لکھنؤ)