دفاعی بجٹ میں کمی، قومی خودکشی کے مترادف
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
ان دنوں عالمی طاقتوں اور اداروں کی طرف سے پاکستان کو مسلسل یہ مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ اپنے دفاعی اخراجات میں کمی کرے اور جدید ہتھیاروں کی تیاری سے گریز کرنے کے علاوہ فوج کی تعداد بھی گھٹائے۔ خود ہمارے بعض دانشور بھی اسی خیال کا اظہار کر رہے ہیں اور دلیل یہ دی جا رہی ہے کہ پاکستان کی اقتصادی ترقی اور خوشحالی کے لیے دفاعی اخراجات کو کم سے کم کرنا ضروری ہے۔ لیکن ایسا کرنے والے حضرات دو باتوں کو بھول جاتے ہیں یا جان بوجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔
- ایک یہ کہ پاکستان ایک اسلامی نظریاتی ریاست ہے اور اس ناتے سے اسے دنیا بھر کی اسلام دشمن قوتوں سے خطرہ ہے،
- دوسری یہ کہ پاکستان کا سابقہ بھارت سے ہے جس کی تنگ نظر ہندو اکثریت کے ساتھ مسلمانوں کی گزشتہ ایک ہزار برس سے مسلسل محاذ آرائی ہے۔ اور کشمیر کا مسئلہ حل ہوجائے تب بھی اس تاریخی پس منظر کے ہوتے ہوئے اس کشیدگی اور محاذ آرائی کا ختم ہونا ممکن نہیں ہے۔
ان تاریخی حقائق کے ہوتے ہوئے پاکستان کو دفاعی اخراجات میں کمی اور فوج کو گھٹانے کا مشورہ یقیناً پاکستان کی خیر خواہی نہیں ہے۔ پھر اسلامی نقطۂ نظر سے اس مسئلہ کا جائزہ لیا جائے تو یہ مشورہ اسلامی تعلیمات کے بھی یکسر منافی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ
’’دشمن کے مقابلہ میں جتنی قوت تمہارے بس میں ہو مہیا کرو تاکہ دشمن پر تمہارا رعب قائم رہے۔‘‘ (سورۃ الانفال)
گویا حکمِ خداوندی کا منشا یہ ہے کہ مسلمانوں کی دفاعی قوت اتنی ضرور ہونی چاہیے کہ دشمن کے مقابلہ میں طاقت کا توازن ان کے حق میں ہو کیونکہ اس کے بغیر دشمن پر رعب قائم ہونا اور دشمن کا مسلمانوں کی قوت سے مرعوب ہونا ممکن نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علمائے امت اس امر پر متفق ہیں کہ جدید ترین ہتھیاروں کی تیاری اور مکمل دفاعی ٹیکنالوجی کا حصول مسلمانوں کے دینی فرائض میں سے ہے اور اس معاملہ میں کوتاہی کر کے مسلمان حکومتیں اپنی شرعی ذمہ داری سے کوتاہی کی مرتکب ہو رہی ہیں۔
اس کے علاوہ قرآن کریم میں ایک اور مقام پر بھی اللہ رب العزت نے مسلمانوں کو اس معاملہ کی اہمیت کی طرف توجہ دلائی ہے جہاں یہ فرمایا گیا ہے کہ
’’اور اللہ کی راہ میں خرچ کرتے رہو اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔‘‘ (سورۃ البقرۃ)
اس آیت کریمہ کی تشریح میں امام ترمذیؒ نے صحیح سند کے ساتھ ایک واقعہ نقل کیا ہے جس سے ملک کی عمومی اقتصادی صورتحال اور دفاعی اخراجات کے درمیان توازن و تناسب کے سلسلہ میں اسلام کے مزاج اور ہدایات کا پتہ چلتا ہے۔ قصہ یوں ہے کہ معروف صحابی حضرت ابو ایوب انصاریؓ جو رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت مدینہ کے موقع پر مسجد نبویؐ اور اس کے ملحقہ حجروں کی تعمیر تک رسول اکرمؐ کے میزبان رہے، اور حضرت امیر معاویہؓ کے دور خلافت میں اس وقت کی ایک بڑی قوت سلطنت روما کے خلاف جہاد میں حصہ لینے کے شوق میں بڑھاپے اور ضعف کے باوجود اصرار کر کے لشکر میں شامل ہوئے، ان کی قبر رومی سلطنت کے دارالحکومت قسطنطنیہ (استنبول) میں ہے۔ وہ رومیوں کے خلاف جنگ کے دوران ایک محاذ پر تھے جہاں مسلمانوں اور رومیوں کا آمنا سامنا ہوا اور ایک پرجوش مسلمان مجاہد مسلمانوں کی صف سے نکل کر اکیلا ہی دشمن کی صفوں میں گھس گیا جس پر کسی صاحب نے قرآن کریم کی یہ آیت بلند آواز سے پڑھی ولا تلقوا بایدیکم الی التھلکۃ کہ اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ اس نوجوان نے اکیلے دشمن کی صفوں میں گھس کر غلطی کی ہے جو اس آیت کریمہ کی منشا کے خلاف ہے۔
حضرت ابو ایوب انصاریؓ بھی اس موقع پر موجود تھے انہوں نے لوگوں کی زبان سے اس آیت کریمہ کا حوالہ سن کر ان کو ٹوکا اور فرمایا کہ تم نے آیت کا مطلب صحیح نہیں سمجھا کیونکہ اس آیت کا مفہوم یہ نہیں ہے۔ بلکہ یہ آیت ہم انصار مدینہؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور اس میں ہمیں ایک غلط سوچ پر تنبیہ کی گئی ہے۔ پھر حضرت ابو ایوب انصاریؓ نے اس کا پس منظر یوں بیان فرمایا کہ جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو ہم انصار مدینہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر آپؐ کی نصرت و رفاقت میں مصروف ہوگئے۔ ہجرت کے دوسرے سال ہی غزوات کا سلسلہ شروع ہوگیا اور مسلسل چند برس ایسے گزرے کہ ہم اپنے کاروبار، کھیتی باڑی اور معاشی حالات کی طرف توجہ نہ دے سکے جس سے ہماری معاشی صورتحال ناگفتہ بہ ہوگئی۔ لیکن چند برسوں کے بعد جب مسلمان مضبوط ہوگئے اور کفار کی پے در پے شکستوں کے باعث کچھ استحکام کی صورتحال نظر آنے لگی تو بعض انصارؓ نے آپس میں مشورہ کیا کہ اب حالات خاصے بدل گئے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہماری اس طرح کی مدد کی ضرورت نہیں رہی اس لیے ہمیں جہاد کے معاملات سے تھوڑا سا صرف نظر کر کے اپنے معاشی حالات بہتر بنانے کی طرف توجہ دینی چاہیے اور کھیتی باڑی اور کاروبار کے معاملات کی طرف دوبارہ متوجہ ہونا چاہیے۔ اس پر آیت کریمہ نازل ہوئی کہ
’’اور اللہ کی راہ میں خرچ کرتے رہو اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔‘‘
اس لیے اس آیت میں ہم انصار مدینہ کو اس سوچ پر تنبیہ کی گئی ہے اور اس کا مطلب وہ نہیں ہے جو تم سمجھے ہو۔ آیت کریمہ کے مطابق ہلاکت کا راستہ یہ ہے کہ جہاد پر خرچ کرنے سے ہاتھ روک لیا جائے جس کا نتیجہ لازماً یہ ہوگا کہ مسلمانوں کی فوجی طاقت کمزور ہوگی اور طاقت کا توازن دشمن کے ہاتھ میں چلا جائے گا۔
حضرت ابو ایوب انصاریؓ کی اس وضاحت کے ساتھ یہ بات پوری طرح روشن ہو جاتی ہے کہ ایک اسلامی ریاست میں معاشی خوشحالی اور اقتصادی ترقی کے ساتھ فوجی اور دفاعی قوت کا توازن و تناسب اس طور پر قائم رکھنا ضروری ہے کہ دشمن کے مقابلہ میں فوجی قوت کا توازن بگڑنے نہ پائے۔ اس کے بغیر مسلمانوں کی فوجی قوت میں کمی کرنا قرآن کریم کی زبان میں ’’قومی خودکشی‘‘ کہلائے گا۔
اس پس منظر میں جب ہم آج پاکستان کو درپیش صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے خلاف عالمی سازشوں اور بھارت کی فوجی طاقت میں مسلسل اضافہ پر نظر ڈالتے ہیں تو یقیناً پاکستان کی فوجی قوت میں کمی کے مشورے وطن عزیز کے مفاد کے منافی دکھائی دیتے ہیں۔ بلکہ قرآن کریم کے مذکورہ بالا دونوں احکام یعنی وقت کی جدید ترین فوجی قوت کے حصول کا حکم اور فوجی اخراجات میں کمی کو ہلاکت کا راستہ قرار دینا ہماری فوجی اور دفاعی پالیسی کو واضح طور پر یہ رخ دیتے ہیں کہ ہم دفاع کے لیے ایٹمی قوت کے حصول کی کوشش کریں اور انصار مدینہؓ کی طرح ہر قسم کی تنگی ترشی اور معاشی نقصانات برداشت کرتے ہوئے پاکستان کو وقت کے تقاضوں کے مطابق ایک مستحکم اور ناقابل شکست فوجی قوت بنانے کی طرف توجہ دیں۔
قربانی، تقرب الی اللہ کا ذریعہ
شیخ التفسیر مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ
فلاح کا دوسرا اصول فرمایا ’’وانحر‘‘ یعنی قربانی کریں۔ ’’نحر‘‘ اونٹ کی قربانی کو کہتے ہیں۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضورؐ نے عید الاضحیٰ کے خطبے میں فرمایا، آج کے دن ہمارا سب سے پہلا کام یہ ہے کہ نماز پڑھیں ’’ثم نرجع فننحر‘‘ پھر پلٹ کر قربانی کریں گے۔ قربانی محض گوشت کھانے کا نام ہی نہیں بلکہ یہ تقرب الی اللہ کا ذریعہ ہے۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے ’’لن ینال اللہ لحومہا ولا دماءہا‘‘ اللہ تعالیٰ کے پاس قربانی کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا ’’ولکن ینالہ التقویٰ منکم‘‘ بلکہ تمہارا تقویٰ بارگاہِ رب العزت میں پہنچتا ہے۔ قربانی انسان کے عقیدۂ توحید کی علامت ہے۔ مشرکین اپنے معبودانِ باطلہ کے نام پر قربانی کیا کرتے تھے جو کہ شرک اور بہت بڑا جرم ہے۔ اس کے مقابلے میں ایک مومن اللہ کے نام پر قربانی دیتا ہے جس سے اس کے ایمان اور عقیدۂ توحید کا اظہار ہوتا ہے۔
’’وانحر‘‘ کا معنیٰ بعض نے نماز میں سینے کے نیچے ہاتھ باندھنا بھی کیا ہے، مگر یہ روایت ضعیف ہے۔ بعض نے اس کا معنیٰ سینہ قبلہ کی طرف پھیرنا کیا ہے، مگر یہ بھی ضعیف روایت ہے، اس مقام پر ’’وانحر‘‘ کا صحیح معنیٰ قربانی کرنا ہی ہے۔
قربانی کو اکثر ائمہ سنتِ موکدہ قرار دیتے ہیں۔ صرف ہمارے امام ابوحنیفہؒ اس کو واجب کہتے ہیں۔ قربانی نماز، حج، زکوٰۃ وغیرہ کی طرح فرائض میں تو داخل نہیں ہے، محض سنت موکدہ یا واجب ہے، مگر اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ قربانی کا اس کے وقت پر ادا کرنا تعلق باللہ درست کرنے کا اہم ترین ذریعہ ہے۔ انسان کے عقیدۂ توحید کا اظہار اسی عمل سے ہوتا ہے۔
یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ قربانی ’’بہیمۃ الانعام‘‘ یعنی پالتو جانور کی ہی ہو سکتی ہے۔ یہ چار قسم کے جانور ہیں جن میں اونٹ، بھیڑ، بکری، گائے، بھینس شامل ہیں۔ یہ جان کا بدل ہے اور قربانی کے لیے جانور بھی وہی ٹھہرائے گئے ہیں جن سے انسان عام طور پر مناسبت رکھتے ہیں اور ان سے فائدہ بھی اٹھاتے ہیں۔ ان کا گوشت، دودھ، چمڑا، چربی وغیرہ استعمال کرتے ہیں اور ان پر سواری بھی کرتے ہیں۔ زمین کی خدمت بھی انہیں جانوروں سے لی جاتی ہے جو انسان کے ساتھ رہتے ہیں اور ان کی خدمت کے لیے مقرر کیے گئے ہیں۔ لہٰذا قربانی بھی انہی جانوروں کی مقرر کی گئی ہے۔ یہ انسانی جان کا بدل ہے، کوئی شخص قربانی کے طور پر اپنی اولاد یا اپنے غلام کی قربانی نہیں کر سکتا، یہ حرام ہے۔ جان اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے، اللہ تعالیٰ نے اس پر کسی کو اختیار نہیں دیا۔
اگر کوئی شخص انسانی جان کی نذر مان لے، جیسے یوں کہے کہ میں بیٹے کی قربانی دوں گا، تو اس کے لیے بھی یہی حکم ہے کہ جانور کی قربانی کرے۔ انسانی جان کی قربانی نہیں ہو سکتی۔ ابھی آپ نے اخبارات میں پڑھا کہ راولپنڈی کے کسی شخص نے اپنے بیٹے کی قربانی کی نذر مانی اور پھر اسے ذبح کر دیا، اس کی ٹانگیں تو دفنا دیں مگر دوسرا گوشت دیگ میں پکا کر حضرت امام حسینؒ کی نیاز کے طور پر لوگوں کو کھلایا۔ دیکھو! یہ کتنا بڑا جرم اور حماقت ہے۔ نیاز دینے والے لوگ کہاں سے کہاں تک جا پہنچے۔ اول تو نیاز بغیر اللہ تعالیٰ کے ویسے ہی حرام ہے، اور پھر بیٹے کو ذبح کر دیا۔ بدبخت نے دوسرے لوگوں کو بھی اس جرم میں شریک کیا۔ ایسے لوگوں کو عبرتناک سزا ملنی چاہیے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیلؑ کی جان کا بدلہ بھی جانور ہی بھیجا تھا، اور اسے ذبح عظیم کے لقب سے یاد کیا۔ گویا قربانی کے لیے یہ عظیم دستور مقرر فرما دیا کہ انسانی کی قربانی قطعاً روا نہیں۔ ہندوؤں کے ہاں انسانی قربانی کا تصور پایا جاتا ہے، وہ اسے بلیدان کا نام دیتے ہیں۔ کبھی وہ انسان کو کالی دیوی کی بھینٹ چڑھاتے ہیں، کبھی کسی دیوتا کے نام پر بچوں کو ذبح کر دیتے ہیں، یہ سب ناجائز اور حرام ہے۔ قربانی صرف اللہ کے نام پر ہی ہو سکتی ہے اور وہ بھی پالتو جانور کی، کسی جنگی وحشی جانور کی قربانی نہیں ہو سکتی۔
اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا چارٹر اور اسلامی تعلیمات
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
(ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا زاہد الراشدی نے ۷ اپریل ۱۹۹۵ء کو مسجد صدیقیہ سیٹلائٹ ٹاؤن گوجرانوالہ میں فورم کی ماہانہ فکری نشست اور ۱۷ اپریل ۱۹۹۵ء کو مرکزی جامع مسجد شادمان لاہور میں مسلم ہیومن رائٹس سوسائٹی کی فکری نشست سے مندرجہ بالا موضوع پر تفصیلی خطاب کیا۔ دونوں خطابات کو یکجا ترتیب کے ساتھ شائع کیا جا رہا ہے۔ ادارہ)
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ آج ہماری گفتگو کا عنوان ہے ’’اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا چارٹر اور اسلامی تعلیمات‘‘ جس کے تحت ہم اس فکری اور نظریاتی کشمکش کا جائزہ لینا چاہتے ہیں جو اس وقت عالمی سطح پر انسانی حقوق اور ان کی تعبیر و تشریح کے حوالے سے جاری ہے۔
’’انسانی حقوق‘‘ آج کی دنیا میں سب سے زیادہ زیربحث آنے والا موضوع ہے اور یہ مغرب کے ہاتھ میں ایک ایسا فکری ہتھیار ہے جس کے ذریعے وہ مسلم ممالک اور تیسری دنیا پر مسلسل حملہ آور ہے۔ مغرب نے انسانی حقوق کے بارے میں اقوام متحدہ کے چارٹر کو مسلمہ معیار کا درجہ دے کر کسی بھی معاملہ میں اس سے الگ رویہ رکھنے والے تیسری دنیا اور عالم اسلام کے ممالک کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دینے کی مہم شروع کر رکھی ہے۔ اور اس سلسلہ میں اسے عالمی ذرائع ابلاغ کے ساتھ ساتھ عالم اسلام اور تیسری دنیا میں اپنی ہم نوا لابیوں کا بھرپور تعاون حاصل ہے جبکہ اس نظریاتی و فکری یلغار میں ملت اسلامیہ کے عقائد و احکام اور روایات و اقدار سب سے زیادہ مغربی دانشوروں، لابیوں اور ذرائع ابلاغ کے حملوں کی زد میں ہیں۔
اس کشمکش میں جب ہم اسلام کے عقائد و احکام پر مغربی دانشوروں کے حملوں کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں یہ یلغار عقائد و احکام اور معاشرت کے تمام شعبوں پر محیط نظر آتی ہے۔ اگر آپ گزشتہ ایک دہائی کے دوران پیش آنے والے واقعات کو سامنے رکھتے ہوئے حالات کا تجزیہ کریں گے تو آپ کو صورتحال کا نقشہ کچھ یوں نظر آئے گا۔
- سلمان رشدی کو مغربی ممالک اور ذرائع ابلاغ نے صرف اس ’’کارنامے‘‘ پر آزادیٔ رائے کا ہیرو بنا کر پیش کیا ہے کہ اس نے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کے ساتھ مسلمانوں کے بے پایاں عشق و محبت پر ضرب لگانے کی کوشش کی اور ملت اسلامیہ کے اس اجماعی عقیدہ کا دائرہ توڑنا چاہا کہ جناب رسول اللہؐ ہر قسم کے اختلاف، اعتراض اور تنقید سے بالاتر اور غیر مشروط اطاعت کا مرکز ہیں۔
- تسلیمہ نسرین صرف اس ’’جرأت رندانہ‘‘ پر مغرب کی آنکھوں کا تارا بن گئی ہے کہ اس نے قرآن کریم کے ناقابل تغیر و تبدل ہونے کے عقیدہ پر یہ کہہ کر ضرب لگانے کی کوشش کی کہ آج کے حالات کی روشنی میں قرآن کریم میں ترامیم کی ضرورت ہے۔
- معاشرتی جرائم کی اسلامی سزاؤں ہاتھ کاٹنے، سنگسار کرنے اور کوڑے مارنے کو انسانی حقوق کے منافی قرار دیا گیا ہے، پاکستان کی عدالت عظمیٰ میں مجرم کو کھلے بندوں سزا دینے کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی گردانا گیا ہے اور پاکستان میں برائے نام نافذ چند اسلامی تعزیری قوانین کو ختم کرنے کے لیے امریکہ کی طرف سے مسلسل دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔
- توہینِ رسالتؐ پر سزا کے قانون کو انسانی حقوق کے منافی قرار دیا گیا ہے اور اس قانون کے خاتمہ کے لیے دباؤ ڈالنے کے ساتھ ساتھ مغربی حکومتوں کی طرف سے توہین رسالتؐ کے مرتکب افراد کی حوصلہ افزائی اور پشت پناہی کا سلسلہ جاری ہے۔
- قادیانیت کو اسلام سے الگ مذہب قرار دینے اور قادیانیوں کو اسلام کا نام اور مسلمانوں کے مذہبی شعائر کے استعمال سے روکنے کے قانونی و آئینی اقدامات کو بھی انسانی حقوق کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے۔ اور قادیانیوں کو مظلوم قرار دے کر امریکہ کی طرف سے ان کے خلاف مذکورہ اقدامات واپس لینے پر زور دیا جا رہا ہے۔
- اسلام کے معاشرتی اور خاندانی نظام کو معاشرت کے موجودہ عالمی نظام کے منافی قرار دیا جا رہا ہے اور خاندانی زندگی کے بارے میں بیشتر مسلم ممالک میں مروجہ قوانین کو عالمی معیار کے مطابق بدل دینے کی تلقین کی جا رہی ہے۔ جس میں شادی کے لیے مذہب کی شرط کو ختم کرنے، آزادانہ جنسی تعلقات کے بھرپور مواقع کی فراہمی، ہم جنس پرستی کو قانونی طور پر تسلیم کرنے اور بن بیاہی ماؤں اور ناجائز بچوں کو سماجی تحفظ فراہم کرنے کے تقاضے شامل ہیں۔
- اسلام کے عقائد و احکام کے ساتھ مسلمانوں کی غیر مشروط اور وفادارانہ وابستگی کو ’’بنیاد پرستی‘‘ قرار دیا جا رہا ہے اور ایسی دینی تحریکات پر بھی ’’دہشت گردی‘‘ کا لیبل چسپاں کر کے انہیں عالمی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ مسلسل کردار کشی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جو متعدد مسلم ممالک میں اسلامی عقائد و احکام کے ساتھ وابستگی کی بنا پر ریاستی تشدد کا نشانہ بننے کی وجہ سے اپنے دفاع میں ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہوئی ہیں، یا غیر مسلم ممالک میں موجود مسلم اقلیتوں کی آزادی اور ان کے اسلامی تشخص کے تحفظ کی جدوجہد میں ان کا ساتھ دے رہی ہیں۔
یہ ہے ایک سرسری خاکہ مغرب کی طرف سے اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں سامنے آنے والے اعتراضات اور تقاضوں کا جو گزشتہ ایک عشرہ کے دوران منظم مہم اور مربوط نظریاتی جنگ کی شکل اختیار کر چکے ہیں اور جن کے سامنے مسلم ممالک کی بیشتر حکومتیں ’’سپر انداز‘‘ ہوتی چلی جا رہی ہیں۔ چنانچہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی وزیراعظم نے اپنے حالیہ دورۂ امریکہ کے دوران یہ کہہ کر مسلم حکمرانوں کے اسی رجحان کی نشاندہی کی ہے کہ وہ ’’انٹرنیشنلزم پر یقین رکھتی ہیں‘‘۔ اس انٹرنیشنلزم کا تصور مغرب کے نزدیک یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے منشور کو پوری دنیا کا مشترکہ دستور تسلیم کر کے تمام ممالک اقوام متحدہ کی بالادستی کے سامنے جھک جائیں، اور اقوام متحدہ کو کنفیڈریشن طرز کی مشترکہ حکومت قرار دے کر ساری دنیا ایک عالمی برادری کی شکل اختیار کر لے۔ گویا وہ مغرب جس نے گزشتہ ایک سو سال کے دوران نیشنلزم اور قومیت کے نام پر عالم اسلام کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کر کے خلافتِ عثمانیہ کے حصے بخرے کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے، اب انہی ٹکڑوں کو ’’انٹرنیشنلزم‘‘ کے نام پر وہ اپنی بالادستی میں ویسٹرن سولائزیشن میں ضم کرنے کے لیے کوشاں ہے اور اس اسکیم کے تانے بانے پوری طرح بنے جا چکے ہیں۔
معزز شرکاء محفل! اس نظریاتی معرکہ اور فکری جنگ میں بنیادی حیثیت اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر اور جنیوا انسانی حقوق کمیشن کے فیصلوں اور قراردادوں کو حاصل ہے۔ ’’انسانی حقوق کا چارٹر‘‘ متن ہے جبکہ جنیوا کنونشن کے فیصلے اور قراردادیں اس کی شرح ہیں جو اس نظریاتی جنگ میں مغرب کے ہاتھ میں ایک مضبوط ہتھیار کا کام دے رہی ہیں۔ مغرب کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی رکنیت اختیار کرنے والے تمام ممالک نے انسانی حقوق کے اس چارٹر پر دستخط کر کے اسے تسلیم کر لیا ہے اس لیے وہ اس کے پابند ہیں۔ اور جن ممالک میں اس چارٹر کے منافی قوانین نافذ ہیں وہ اس بین الاقوامی معاہدہ کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، اس لیے یہ ضروری ہے کہ تمام ممالک خواہ وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم اس عالمی معاہدہ کی پابندی کریں اور اپنے اپنے ملک میں رائج قوانین میں ترامیم کر کے انہیں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر کے ساتھ ہم آہنگ کریں۔
ہمیں مغرب کے اس موقف اور اس کی پشت پر کار فرما عزائم کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لینا ہوگا۔ محض جذباتی طور پر اسے مسترد کر دینے سے بات نہیں بنے گی اور ’’ہم نہیں مانتے‘‘ کا خالی نعرہ دنیا بھر کے ان اربوں انسانوں اور عالم اسلام کے ان کروڑوں مسلمانوں کو ہمارے موقف کے بارے میں مطمئن نہیں کر سکے گا جو ورلڈ میڈیا کی براہ راست زد میں ہیں اور جن کی آنکھوں اور کانوں کو اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں مغرب کے پراپیگنڈے کا روز مرہ سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہوگیا ہے کہ مسلم علماء، دانشور اور دینی ادارے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر اور جنیوا انسانی حقوق کنونشن کی قراردادوں اور فیصلوں کا علمی بنیاد پر جائزہ لیں اور مغرب کے اعتراضات و خدشات کا منطق و استدلال کے ساتھ سامنا کر کے انسانی حقوق کے حوالہ سے ملت اسلامیہ کا موقف سامنے لائیں۔ ہمیں انسانی حقوق کے بارے میں معروضی حالات اور انسانی معاشرہ کو درپیش مسائل کی روشنی میں اپنے موقف کا واضح طورپر تعین کرنا ہوگا اور اسے علم اور منطق و استدلال کی بنیاد پر افہام و تفہیم کے جذبہ کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کرنا ہوگا۔ ورنہ ہم اس خوفناک نظریاتی جنگ میں اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش نہیں ہو سکیں گے۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر اور اس کی تشریح میں جنیوا انسانی حقوق کنونشن کی قراردادوں اور فیصلوں کا جائزہ ہمیں دو مرحلوں میں لینا ہوگا۔
- پہلے مرحلہ میں ان دونوں کا گہری نظر سے مطالعہ کر کے اور بحث و مذاکرہ کے عمل سے گزر کر ان دونوں کے ان حصوں کی نشاندہی کرنا ہوگی جو ہمارے خیال میں اسلام کے عقائد و احکام سے متصادم ہیں اور جن کو قبول کرنے کی صورت میں ہمیں اپنے دینی عقائد، احکام اور معاشرتی اقدار سے دستبردار ہونا پڑتا ہے۔ انسانی حقوق کے چارٹر اور جنیوا کنونشن کی قراردادوں کے اسلام سے متصادم حصوں کی متعین طور پر نشاندہی کے بعد دنیا بھر کو وسیع پیمانے پر ان سے آگاہ کرنا ہوگا اور عالمی سطح پر ان کی تشہیر کرنا ہوگی تاکہ پوری دنیا کے اہل دانش ہمارے موقف کو اچھی طرح سمجھ سکیں۔
- جبکہ دوسرے مرحلے پر ہمیں علمی اور منطقی طور پر اسلام کے ان احکام و قوانین اور روایات و اقدار کی بہتری اور افادیت کو ثابت کرنا ہوگا جنہیں انسانی حقوق کے منافی قرار دیا جا رہا ہے اور جو اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر سے متصادم نظر آرہے ہیں۔
سامعین محترم! ان گزارشات کے بعد ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر پر ایک نظر ڈال لی جائے۔ چنانچہ بحث کے آغاز کے طور پر ہم اس چارٹر کے بعض حصوں کا ابتدائی اور سرسری طور پر جائزہ لینا چاہتے ہیں۔ یہ چارٹر اقوام متحدہ نے ۱۰ دسمبر ۱۹۴۸ء کو جاری کیا تھا اور اس وقت ہمارے سامنے اس کا اردو متن ہے جو اسلام آباد کے ماہنامہ ’’نوائے قانون‘‘ نے دسمبر ۱۹۹۴ء کے شمارے میں شائع کیا ہے۔ انسانی حقوق کے اس چارٹر کی ۳۰ دفعات ہیں اور اس میں اجتماعی زندگی کے کم و بیش تمام شعبوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔
چارٹر کے ابتدائی مطالعہ میں ہم نے اس کی چند دفعات گفتگو کے لیے منتخب کی ہیں جو ہمارے خیال میں بعض اسلامی قوانین و احکام کو انسانی حقوق کے منافی قرار دینے کا باعث بن رہی ہیں لیکن ان دفعات کو زیر بحث لانے سے پہلے چارٹر کی اعتقادی اور فکری بنیاد کو سمجھنا ضروری ہے۔ یہ چارٹر دراصل مغربی فلسفہ حیات اور ویسٹرن سولائزیشن کا نقطۂ عروج ہے جس کے پیچھے یہ سوچ کارفرما ہے کہ مذہب کا تعلق صرف عقیدہ، عبادت اور اخلاقیات سے ہے جس میں ہر انسان آزاد ہے کہ وہ عقیدہ، عبادت اور اخلاقیات میں جو رجحان چاہے اختیار کرے اور یہ اس کا ذاتی معاملہ سمجھا جائے جس سے ریاست یا کوئی اور اتھارٹی کسی قسم کا تعرض نہ کرے۔ البتہ انسانی زندگی کے اجتماعی معاملات مثلاً سیاست، قانون، ایڈمنسٹریشن، تجارت، زراعت، اور معیشت کے ساتھ مذہب کا کوئی واسطہ نہیں ہے اور ان امور میں ہر قوم اپنے اجتماعی یا اکثریتی رجحانات کے مطابق کوئی بھی نظام اختیار کر سکتی ہے اور وہ نظام مذہب کی کسی بھی قید یا چھاپ سے آزاد ہوگا۔
اسے اصطلاحی طور پر سیکولرازم سے تعبیر کیا جاتا ہے اور اسی سیکولر ازم کو قبول کرنے کا ہم سے تقاضہ کیا جا رہا ہے۔ سیکولرازم کا تاریخی پس منظر یہ ہے کہ یورپ میں بادشاہ، کلیسا اور جاگیردار کے اتحاد ثلاثہ نے جب غریب عوام پر زندگی کا دائرہ تنگ کر دیا اور بادشاہت اور جاگیرداری کے خلاف بے بس عوام کی بغاوت میں کلیسا اور پادری نے عوام کا ساتھ دینے کی بجائے بادشاہ اور جاگیردار کا ساتھ دیا تو عوامی انقلاب نے بادشاہت اور جاگیرداری کے ساتھ کلیسا اور پادر کی بساط اقتدار بھی الٹ کر رکھ دی اور مذہب کو اجتماعی زندگی سے بے دخل کر کے اس کا دائرہ کار کلیسا کی چار دیواری کے اندر محدود کر دیا۔ لیکن اس تاریخی پس منظر کے پہلو بہ پہلو ایک اعتقادی اور فکری بنیاد بھی ہے جو سیکولرازم اور مغربی جمہوریت کو نظریاتی قوت فراہم کر رہی ہے۔
حضرات مکرم! مغرب کے مادہ پرستانہ فلسفے کی بنیاد نظریہ ارتقاء پر ہے جس کا خاکہ کچھ اس طرح ہے کہ اس دنیا میں جو کسی پیدا کرنے والے اور چلانے والے خدا کے بغیر خود بخود وجود میں آگئی ہے، انسانی نسل حیوانی ارتقاء کا نتیجہ ہے جو کیچڑ سے جنم لینے والے کیڑے سے شروع ہو کر مختلف زمانوں میں شکلیں بدلتا ہوا انسان کی صورت اختیار کر گیا ہے اور یہ اس کی آخری اور حتمی شکل ہے۔ اسی طرح انسانی معاشرہ بھی ارتقائی عمل کا نتیجہ ہے جو جنگلوں اور غاروں سے شروع ہوا اور مختلف شکلیں بدلتا ہوا اور معاشرت کے مختلف طریقے، قوانین اور نظام آزماتا ہوا جمہوریت، سیکولرازم اور ویسٹرن سولائزیشن کی موجودہ شکل اختیار کر گیا ہے اور یہ انسانی معاشرت کی آخری اور مکمل شکل ہے جس میں اب مزید بہتری کا کوئی امکان نہیں ہے۔ گویا جس طرح نسلی اعتبار سے انسان آخری منزل میں ہے اور اب اس کے نئی کئی شکل اختیار کرنے کا امکان نہیں ہے، اسی طرح معاشرتی لحاظ سے بھی ویسٹرن سولائزیشن آخری منزل ہے اور اب اس سے بہتر کوئی معاشرتی ڈھانچہ سامنے آنے کا امکان نہیں ہے۔ اسے ’’اینڈ آف ہسٹری‘‘ سے تعبیر کیا جا رہا ہے اور مغربی دانشور اب ارتقاء کے عمل کے مزید آگے بڑھنے کے امکانات کو مسترد کرتے ہوئے مکمل تباہی کو انسانی زندگی کی اگلی منزل قرار دے رہے ہیں۔
اس طرح جب موجودہ انسانی معاشرہ نہ صرف انسانیت بلکہ پوری کائنات ارضی کی آخری، مکمل اور ترقی یافتہ شکل قرار پاتا ہے اور یہی کائنات وجود کا حاصل ہے تو خیر و شر کا آخری معیار بھی یہی ہے۔ اس لیے جسے یہ انسانی معاشرہ خیر قرار دے دے وہی خیر ہے اور جو اس معاشرہ کے نزدیک شر قرار پائے وہی شر ہے۔ اس کے علاوہ خیر اور شر کو ماپنے اور جانچنے کا کوئی اور پیمانہ موجود نہیں ہے جس کی بنیاد پر کسی چیز یاکام کے خیر یا شر ہونے کا فیصلہ کیا جا سکے۔
مگر اسلام اس تصور کو سرے سے قبول نہیں کرتا بلکہ اس کے برعکس قرآن و سنت پر یقین رکھنے والے ہر مسلمان کا عقیدہ ہے کہ یہ کائنات کسی حادثہ کی پیداوار نہیں ہے بلکہ اسے کائنات کے مالک و خالق اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے اور وہی اسے ایک نظم کے ساتھ چلا رہا ہے۔ اسی طرح انسانی نسل کسی ارتقائی عمل کا نتیجہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے اسے ایک مستقل مخلوق کے طور پر پیدا کیا ہے اور اشرف المخلوقات ٹھہرایا ہے۔ پھر انسانی زندگی کا ایک معاشرہ کی شکل اختیار کر جانا بھی خودرو ارتقائی عمل کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ قرآن کریم کے مطابق نسل انسانی کا پہلا فرد ’’حضرت آدم علیہ السلام‘‘ علم، قانون، شرم و حیا، لباس اور مکان کی سہولتوں سے بہرہ ور تھا۔ اس کے ساتھ ہی ہر باشعور مسلمان یہ عقیدہ بھی رکھتا ہے کہ نسل انسانی اس دنیاوی زندگی میں آسمانی ہدایات کی پابند ہے جو اس کے پاس اس کے خالق و مالک کی طرف سے حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کے ذریعہ آئی ہیں اور ان ہدایات کی آخری اور مکمل شکل جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات ہیں جن پر عملدرآمد زندگی کے اگلے اور آخری مرحلہ میں کامیابی کے لیے ضروری ہے۔ اسلامی تعلیمات میں انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ حاصل ہے لیکن اس تفصیل کے ساتھ کہ اس کے لیے ’’احسن تقویم‘‘ کا خطاب بھی استعمال کیا گیا ہے اور اسے ’’اسفل سافلین‘‘ کے مقام کا مستحق بھی قرار دیا گیا ہے۔
گویا انسان اور انسانی معاشرہ کی موجودہ شکل آخری اور حتمی نہیں ہے، یہ امتحانی گزرگاہ ہے جس سے گزر کر اگلی زندگی میں اسے ’’احسن تقویم‘‘ یا ’’اسفل سافلین‘‘ کی منزل سے ہمکنار ہونا ہے اور وہی اس کا ’’اینڈ آف ہسٹری‘‘ ہوگا۔ اس لیے موجودہ انسانی معاشرہ جب آخری اور حتمی منزل نہیں ہے تو اس کی سوچ اور عقل بھی خیر اور شر کا آخری معیار نہیں ہے بلکہ خیر اور شر کا حتمی معیار آسمانی وحی ہے جس کی مکمل شکل جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی صورت میں موجود ہے۔
معزز شرکائے محفل! یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر کی پہلی دفعہ میں تمام انسانوں کو آزادی اور حقوق کے ساتھ ساتھ تکریم میں بھی برابر قرار دیا گیا ہے جبکہ اسلام تمام انسانوں کو تکریم کا یکساں مستحق تسلیم نہیں کرتا۔ اس کا اصول ’’ان اکرمکم عند اللہ اتقاکم‘‘ ہے کہ جو اچھے کردار کا حامل ہے وہ تکریم کا مستحق ہے اور جس کا کردار انسانی اخلاق کے مطابق نہیں ہے وہ تکریم کا حقدار نہیں ہے۔
اس پس منظر میں چارٹر کی دفعہ ۵ کا جائزہ لیا جائے تو جرائم کی اسلامی سزاؤں کو غیر انسانی قرار دینے کی وجہ بھی سمجھ میں آجاتی ہے۔ دفعہ نمبر ۵ کا عنوان ہے ’’تشدد کا خاتمہ‘‘ اور اس میں کہا گیا ہے کہ:
’’کسی شخص کو تشدد اور ظلم کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا اور کسی شخص کے ساتھ غیر انسانی اور ذلت آمیز سلوک نہیں کیا جائے گا یا ایسی سزا نہیں دی جائے گی۔‘‘
گویا اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق کسی مجرم کو دی جانے والی سزا کا تشدد اور تذلیل کی آمیزش سے خالی ہونا ضروری ہے اور جس سزا میں ان میں سے کسی کوئی عنصر موجود ہوگا وہ انسانی حقوق کے منافی قرار پائے گی۔ اسی بنا پر ہاتھ کاٹنے، کوڑے مارنے اور سنگسار کرنے کی سزاؤں کو انسانی حقوق کے خلاف قرار دیا جا رہا ہے اور اسی بنا پر پاکستان کی عدالت عظمیٰ میں کسی مجرم کو کھلے بندوں سزا دینے کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے تعبیر کیا جا چکا ہے۔ جبکہ اسلام میں جرائم پر سخت سزاؤں کا مقصد ہی یہ ہے کہ مجرم کو نصیحت ہو اور دیکھنے والے اس سے عبرت پکڑیں۔
اس کے بعد چارٹر کی دفعہ ۱۶ پر ایک نظر ڈال لیجئے جس میں کہا گیا ہے کہ:
’’پوری عمر کے مردوں اور عورتوں کو نسل، قومیت یا مذہب کی کسی تحدید کے بغیر باہم شادی کرنے اور خاندان کی بنیاد رکھنے کا حق حاصل ہے۔ شادی، دوران شادی اور اس کی تنسیخ کے سلسلہ میں وہ مساوی حقوق رکھتے ہیں‘‘۔
اس دفعہ میں اسلامی تعلیمات کی رو سے چند باتیں غور طلب ہیں۔ پہلی بات یہ کہ ’’پوری عمر‘‘ سے کیا مراد ہے؟ کیونکہ اسلامی احکام میں شادی کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں ہے۔ دوسری بات یہ کہ ’’مذہب کی کسی تحدید کے بغیر‘‘ کا مطلب واضح ہے کہ کوئی مسلمان مرد کسی بھی غیر مسلم عورت سے اور کوئی مسلمان عورت کسی بھی غیر مسلم مرد سے شادی کر سکتی ہے جبکہ یہ اسلامی تعلیمات کے یکسر منافی ہے۔ تیسری بات یہ ہے کہ شادی کی تنسیخ کے سلسلہ میں دونوں کے مساوی حقوق کا تصور بھی اسلامی احکام کے خلاف ہے۔ کیونکہ اسلام نے طلاق کے بارے میں واضح ترجیحات قائم کی ہیں اور دونوں کو یکساں حقوق بہرحال نہیں دیے ہیں۔
اس کے سات چارٹر کی دفعہ ۲۵ کی شق ۲ کو بھی شامل کر لیں جس میں کہا گیا ہے کہ:
’’ماں اور بچے کو خصوصی توجہ اور مدد کا حق حاصل ہے۔ تمام بچے خواہ وہ شادی کے نتیجے میں پیدا ہوئے ہوں یا بغیر شادی کے پیدا ہوں یکساں سماجی تحفظ سے بہرہ ور ہونے کا حق رکھتے ہیں‘‘۔
اور ان دونوں دفعات کے ساتھ گزشتہ برس قاہرہ میں منعقد ہونے والی اقوام متحدہ کی بہبود آبادی کانفرنس کی سفارشات کو بھی سامنے رکھیں جن میں تمام ممالک سے تقاضہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے عوام کو آزادانہ جنسی اختلاط کے مواقع فراہم کریں، اسقاط حمل کی سہولتیں مہیا کریں، بن بیاہی ماؤں کو سماجی تحفظ سے بہرہ ور کریں اور ہم جنسی کو قانونی جواز کی سند عطا کریں۔
حضرات محترم! اب آپ ان تمام امور کے اشتراک کے ساتھ خاندانی زندگی سے متعلقہ قوانین کے بارے میں اس ’’عالمی معیار‘‘ کو سمجھنے کی کوشش کریں جسے اپنانے کی تمام ممالک کو تلقین کی جا رہی ہے اور یہ تقاضا کیا جا رہا ہے کہ اگر کسی ملک میں اس معیار کے خلاف عائلی قوانین نافذ ہیں تو وہ ان میں ترامیم کر کے انہیں اس عالمی معیار کے مطابق ڈھال لے۔
کم و بیش یہی صورتحال آزادیٔ ضمیر، آزادیٔ عقیدہ، آزادیٔ رائے اور آزادیٔ اظہار کے حوالہ سے انسانی حقوق کے مذکرہ چارٹر کی تصریحات کی بھی ہے جو چارٹر کی دفعہ ۱۸ اور ۱۹ میں ان الفاظ کے ساتھ بیان کی گئی ہیں:
’’ہر شخص کو آزادیٔ خیال، آزادیٔ ضمیر اور آزادیٔ مذہب کا حق حاصل ہے، اس حق میں اپنا مذہب اور عقیدہ تبدیل کرنے اور انفرادی و اجتماعی طور پر علیحدگی میں یا سب کے سامنے اپنے مذہب یا عقیدے کی تعلیم، اس پر عمل کرنے، اس کے مطابق عبادت کرنے اور اس کی پابندی کرنے کی آزادی کا حق شامل ہے‘‘۔
’’ہر شخص کو آزادیٔ رائے اور آزادیٔ اظہار کا حق حاصل ہے، اس حق میں بلا مداخلت رائے رکھنے کی آزادی اور بلا لحاظ علاقائی حدود کسی بھی ذریعے سے اطلاعات اور نظریات تلاش کرنے، حاصل کرنے اور انہیں دوسروں تک پہنچانے کی آزادی شامل ہے‘‘۔
ان دونوں دفعات پر ایک بار پھر غور کر لیجئے اور سلمان رشدی، تسلیمہ نسرین، پاکستان کے چند مسیحی گستاخان رسولؐ اور قادیانیوں سمیت ان تمام طبقوں اور گروہوں کے مبینہ حقوق کا جائزہ لیجئے جن کی پامالی کا ڈھنڈورا پیٹ کر مغرب کی حکومتیں اور ذرائع ابلاغ انسانی حقوق کے حوالہ سے مسلمانوں کے طرز عمل کو مسلسل ہدف تنقید بنا رہے ہیں۔
حضرات مکرم! بات زیادہ لمبی ہوتی جا رہی ہے اس لیے گفتگو سمیٹتے ہوئے یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر کی بعض دفعات کا ذکر کیا گیا ہے اور وہ بھی سرسری طور پر کسی لمبی بحث میں الجھے بغیر صرف اس غرض سے کہ ان اعتراضات و شبہات کی نوعیت کا کچھ اندازہ ہو جائے جو انسانی حقوق کے حوالہ سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مغرب کی طرف سے کیے جا رہے ہیں۔ تاکہ مغرب کے ان عزائم کو سمجھنا مشکل نہ رہے جو اس کشمکش میں اس کے اہداف کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ یہ ایک سرسری اور ابتدائی مطالعہ ہے جو علماء کرام اور دانشوروں کو مسئلہ کی سنگینی اور اہمیت کا احساس دلانے کے لیے ہے۔ اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ:
- علماء کرام اور اہل دانش اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر اور اس کی تشریح و تعبیر میں جنیوا انسانی حقوق کمیشن کی قراردادوں اور فیصلوں کا گہری نظر سے مطالعہ کریں اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ان کی ایک ایک شق کا تجزیہ کریں،
- اس پر بڑے دینی اداروں اور مدارس میں مذاکروں اور علمی بحث و مباحثہ کا اہتمام کیا جائے،
- قرآن کریم، حدیث نبویؐ اور فقہ کی تدریس و تعلیم میں اساتذہ ان موضوعات کو اپنی گفتگو کا حصہ بنائیں،
- اور اہل قلم قومی اخبارات اور دینی جرائد میں ان مسائل پر اظہار خیال کریں۔
لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ اس تمام تر گفتگو اور مباحثہ میں سیاسی نعرہ بازی اور مناظرانہ اسلوب سے گریز کرتے ہوئے خالصتاً علمی زبان اور منطقی و استدلالی انداز اختیار کیا جائے تاکہ ہم دنیا پر اسلام کی حقانیت، افادیت اور ضرورت کو واضح کرنے کے ساتھ ساتھ ملت اسلامیہ کی نئی نسل اور تعلیم یافتہ طبقہ کی غالب اکثریت کو غیر شعوری ارتداد سے بچا سکیں جو اسلام کے احکام و قوانین پر مغربی فلسفہ کے اعتراضات کے مسلسل یکطرفہ پراپیگنڈہ کا کوئی معقول جواب نہ پا کر دھیرے دھیرے اس کے دائرۂ اثر میں شامل ہوتے جا رہے ہیں۔ خدا کرے کہ علمی شخصیات اور دینی ادارے وقت کے اس سب سے بڑے چیلنج کا صحیح طور پر ادراک کر سکیں، آمین یا رب العالمین۔
اسلامائزیشن کی راہ میں بڑی رکاوٹیں، انگریز پولیس افسر کی نظر میں
ادارہ
قیام پاکستان کے بعد مغربی پنجاب کی حکومت نے عوام کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ایک محکمہ ’’محکمہ احیائے ملتِ اسلامیہ‘‘ کے نام سے قائم کیا جس کے تحت ایک علمی و فکری مجلہ ’’عرفات‘‘ کا آغاز ہوا۔ عرفات کے پہلے شمارہ میں مغربی پنجاب کی بارڈر پولیس کے کمانڈنٹ جناب ای این ایڈورڈز کا مندرجہ ذیل مراسلہ شائع ہوا جو عرفات کے مدیر جناب محمد اسد کے نام ہے اور ۱۰ فروری ۱۹۴۸ء کا تحریر کردہ ہے۔ مراسلہ نگار نے پاکستان میں اسلامائزیشن کے حوالے سے علمی و فکری رکاوٹوں کا جس خوبصورتی سے تجزیہ کیا ہے وہ ہمارے دینی راہنماؤں اور کارکنوں کے لیے بطور خاص قابل توجہ ہے۔ (ادارہ)
مکرمی اسد صاحب! -------- لاہور چھاؤنی ۔ ۱۰ فروری ۱۹۴۸ء
محکمہ احیائے ملتِ اسلامیہ کے متعلق آپ کا پمفلٹ دیکھ کر بڑی مسرت ہوئی اور میں نے بڑے غور و خوض سے مطالعہ کیا۔ میں سمجھتا ہوں آپ کا مقصد یہ بھی ہے کہ منجملہ دوسری باتوں کے رفتہ رفتہ مساجد اور مدارس کے ذریعے عامۃ الناس کی تربیت کریں، لہٰذا اس خیال کے پیش نظر چند باتیں آپ کی خدمت میں عرض کرتا ہوں:
آپ کو شاید خود بھی احساس ہو گا کہ جو لوگ دینی تعلیم و تربیت کے ایک باقاعدہ نظام کے ماتحت دنیا کو پھر اللہ کے راستے پر واپس لانے کے آرزومند ہیں، ان کے لیے دو خطرے ہیں:
- پہلا خطرہ وہ ردعمل ہے جو، ایسی حالت میں جب کسی ملت کو دینی اَحیا کے ایک زبردست دور سے گزرنا پڑے، ہمیشہ سامنے آ جاتا ہے۔ ذہنِ انسانی کی ترکیب ہی کچھ ایسی ہے کہ اس ردعمل سے بچنا محال ہے۔ دنیا کی ہر تہذیب کو اس سے سابقہ پڑا اور تاریخ کے ہر عہد اس میں ظہور ہوا۔ انگلستان ہی کو دیکھ لیجئے، عہد مابعد وکٹوریا کے اخلاقی انتشار میں یہ ردعمل صاف صاف نمایاں ہے، پھر چند صدیاں اور پیچھے چلے جائیے تو پیورے ٹن (Puritan) عہد کے خاتمے پر جو فسق و فجور پھیلا، اسی ردعمل کی بدولت۔ اس افراط و تفریط سے مفر کی بہرحال کوئی صورت نہیں، لہٰذا ناممکن ہے کہ پاکستان اس سے مستثنیٰ رہے۔
- دوسرا خطرہ ہے ان لوگوں کے غرور کا جو بعض کچی پکی علمی معلومات کی بنا پر اپنا شمار ’’اہلِ فکر‘‘ میں کرنے لگتے ہیں۔ بلکہ ہمیں کہنا چاہیے کہ اس استہزا طائفے کا طعن و تشنیع تو ابھی سے سننے میں آ رہا ہے۔ لہٰذا ظاہر ہے کہ موجودہ ریاست کی ازسرنو تعمیر میں، جب ہمیں اور زیادہ سختی اور درشتی سے کام لینا پڑے گا، تو اس قسم کے خام اور کچے پکے اہلِ فکر کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔
میرے نزدیک اس دوسرے خطرے کا امکان بہت زیادہ ہے۔ کیونکہ دنیا میں کوئی چیز اتنی خطرناک نہیں جتنی نیم علمی یا جہل مرکب۔ کتنے لوگ ہیں جن کو یہ معلوم ہے کہ اس زمانے کے اکابر سائنسدان مذہب کے حق میں ہیں؟ اور کتنے ہیں جو اس بات کو سمجھ کر اس کے نتائج کا اندازہ کر سکتے ہیں؟ اصل میں مشکل یہ ہے کہ عام تعلیم کا قدم سائنس کے اکتشافات اور تحقیق و تفتیش سے ہمیشہ پچاس برس پیچھے رہا۔
لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ آئندہ دس بیس برس میں بھی تعلیم یا اخبارات و رسائل کے ذریعے اس ملک میں عام طور سے جو معلومات پھیلیں گی، ان سے تشکیک اور بے یقینی کا وہی دور دورہ شروع ہو گا جس میں سردست یورپ مبتلا ہے۔ اور جو اَب کہیں جا کر انیسویں صدی کی ان مادی تعلیمات کو سمجھ رہا ہے جو اس زمانے کے علمائے طبعیات نے پھیلائی تھیں۔ حالانکہ جدید افکار و خیالات نے پھر سے خدا کی ہستی کو تسلیم کر لیا ہے، اور لطف یہ کہ خود زمانہ بھی اس امر کا متقضی ہے کہ ہم پھر بچوں کے سے بھولے پن کے ساتھ خدا پر اعتماد کرنا سیکھیں، جیسا کہ پہلے کبھی کیا کرتے تھے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ آیا پاکستان اس درمیانی زمانہ کی المناک صورتحال سے محفوظ رہ سکتا ہے؟ کیوں نہیں! بشرطیکہ وہ دونوں خطرات جن کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے ہمارے سامنے رہیں۔
پھر اسلام میں دو خوبیاں ایسی ہیں جن سے آپ کو اس کام میں بالخصوص مدد ملے گی:
- اول یہ کہ اس نے بچوں کے سے بھولے پن کے ساتھ رضائے الٰہی پر چلنا، جو واحد سرچشمہ حکمت و دانائی کا، مسلّمات میں سے ٹھہرایا۔ اور ایک مخصوص ضابطے کی مدد سے ذہن کو اس کی قبولیت پر آمادہ کیا۔
- ثانیاً اس کی تعلیمات صرف نج کی زندگی تک محدود نہیں، بلکہ حیاتِ اجتماعیہ کا ایک نظام بھی پیش کرتی ہیں۔
ممکن ہے آپ یہ کہیں کہ جب میں عیسائی ہوں تو ان باتوں کا اقرار کیوں کر رہا ہوں۔ یہ اس لیے کہ میرے نزدیک عیسائیت صرف ایک مسلکِ حیات ہے، یہ نہیں کہ ایک ہر لحظہ بڑھتی ہوئی روحانی زندگی کی تحریک کرے۔ لہٰذا وہ صرف اہلِ فکر یا ان لوگوں کا مذہب ہے جن کے شکم پُر ہیں، اور جن کے پاس اتنا وقت ہے کہ داخلی اور مجرد افکار کا لطف اٹھا سکیں۔ عیسائیت نے نفسِ انسانی کا بالکل خیال نہیں رکھا، یہی وجہ ہے کہ اس نے شر کی حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے بھی انسان کے بے بس دل و دماغ پر کوئی ایسا عملی ضابطہ عائد نہیں کیا، جس کی بدولت وہ خود اپنے ضمیر اور اپنی طبعیت میں نظم و ضبط و تہذیب و شائستگی کا جوہر پیدا کر سکتا۔
لہٰذا اپنے اس عقیدہ کے ماتحت کہ نوعِ انسانی کی مشعلِ نجات صرف اسلام کے ہاتھ میں ہے، کیونکہ وہ مذہب کے ایک عملی نظام، ایک روحانی ضابطے، اور اجتماعی غور و تفکر سب کو باہم جمع کر دیتا ہے۔ میری دلی آرزو ہے کہ اس کی قوتوں کے استحکام کی دل و جان سے کوشش کی جائے۔
لہٰذا گزارش ہے کہ ملت کی تعلیم و تربیت میں صرف مستقبل کا خیال رکھتے ہوئے کہیں موجودہ تخریبی دور سے اپنی آنکھیں بند نہ کر لیجئے گا۔ مسلمانوں کو اس غلطی سے بچتے رہنا چاہیے جو مسیحی اولیاء نے کی، یعنی اپنے وقت کی تحریکوں سے جان بوجھ کر اغماض، خواہ وہ علمی ہوں یا فلسفیانہ۔ اس سے بھی زیادہ اہم ایک گھٹیا سی مادیت کا وہ خطرہ ہے جو سائنس میں تھوڑی بہت شد بد رکھنے سے پیدا ہو جاتی ہے، اور جس سے غفلت نہیں برنی چاہیے۔
تاریخ بتلاتی ہے کہ جب کبھی نیم علمی کا تصادم مذہب سے ہوا، فتح ہمیشہ نیم علمی کی ہوئی۔ کیونکہ عام آدمی کا غورِ نفس مجبور کر دیتا ہے کہ ہم ان غیر مذہبی معلومات ہی کو ترقی کا مترادف قرار دیں جن سے وہ خود آگے نہیں بڑھ سکا۔ اہلِ مذہب نے اس حقیقت کو ہمیشہ نظر انداز کیا، اور اس سے زیادہ اور کسی بات سے اسے نقصان بھی نہیں پہنچا۔ یوں عام آدمی اپنے غرورِ نفس میں مبتلا رہے اور اربابِ مذہب اپنے۔ لہٰذا شیطان کو اس سے زیادہ مسرت کیا ہو سکتی تھی کہ دانائی جہالت سے آنکھیں پھیر لے۔
اندریں صورت آپ کے لیے صحیح طریق کار یہ ہو گا کہ جو کچھ کیجئے ان باتوں کا لحاظ رکھتے ہوئے کیجئے جو اس وقت عام علمی معلومات کے ذریعے پھیل چکی ہیں۔ پھر جب میں علمی معلومات کا نام لیتا ہوں تو اس کا اشارہ صرف علومِ طبعی (سائنس) کی طرف نہیں، بلکہ اخلاقی، معاشی اور فلسفیانہ علوم کی طرف بھی ہے۔ علم و حکمت کی تشریح بہرحال ضروری ہے، اس کے ظاہراً اور نادانی کے ’’اختلافات‘‘ کو، جن پر سطحی قسم کے انسان ہمیشہ کڑھتے رہتے ہیں، یونہی ٹال دینا اتنا اچھا نہیں، جتنا ان میں اور وحئ الٰہی کی تعلیمات میں مفاہمت پیدا کرنا۔ ہم علم و حکمت کے مراتبِ عالیہ سے بے پروا کیسے گزر سکتے ہیں؟ ہمیں چاہیے کہ اس کا دامن مذہبی تعلیمات سے جوڑ دیں، بلکہ اگر آپ پسند کریں تو یہ کہوں کہ خود علم و حکمت کو مذہب میں شامل کر لیں۔
یہ سب باتیں اپنی جگہ پر مسلّم ہیں اور مجھے یقین ہے کہ ان میں سے بعض آپ کے زیر غور آ چکی ہیں۔ اس سے پیشتر کہ میں ان کو ایک عام اور فرسودہ انداز میں آپ کے سامنے پیش کرتا، مجھے صرف یہ کہنا ہے کہ میں جو کچھ عرض کر رہا ہوں صرف اس اس مخلصانہ خواہش کی بنا پر کہ آپ کی کوششوں کو آج ہی نہیں، آگے چل کر بھی کامیابی ہو۔ ہماری عظمت کا دارومدار اس بات پر ہے کہ ہم کس حد تک شر کا استیصال کر سکتے ہیں؟ اور کیا شیطان سے لڑنے میں ویسے ہی زیرک اور ہوشیار ثابت ہوتے ہیں جیسا کہ خود وہ۔ لہٰذا خلقِ خدا کی تعلیم و تربیت میں ان لوگوں کی نفسیات ہی سے باخبر ہونا ضروری نہیں جن کی اصلاح کا ہم نے بیڑا اٹھایا ہے، ہمارا فرض ہے کہ اس سبق پر بھی زور دیتے رہیں جو تاریخ سے ہمیں ملتا ہے اور جس کے لیے ہمیں بڑی زبردست اور خوفناک قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔
اندریں صورت میں پھر عرض کروں گا کہ آپ تربیتِ عوام کے لیے جو لائحہ عمل مرتب کریں بڑی احتیاط، باربار کی نظرثانی، تنقیح اور تفحص سے کریں۔ بلکہ اگر ممکن ہو تو مساجد اور مدارس کا نصابِ تعلیم بھی اس میں شامل کر لیجئے۔ انسان کی نجات کا فریضہ خدا کے نیک بندوں کی انفرادی کوششوں پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ فریضہ کسی شخص کے زیر ہدایت اور ایک مرکزی نظام کے ماتحت ادا ہو۔
زیادہ آداب، تسلیمات اور اس امر کی معذرت کہ میں نے آپ کا اتنا وقت لیا، مجھے امید ہے کہ آپ کی کوششیں بارآور ہوں گی اور خدا ان کو برکت دے گا۔
توہین رسالتؐ پر موت کی سزا کا قانون اور حکمرانوں کی حیلہ سازیاں
ابو الانجم برلاس
توہینِ رسالتؐ کے مرتکب کو سزا سے بچانے کے لیے جو حیلے اختیار کیے جا رہے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جرم ثابت نہ ہونے پر مدعی کو دس سال تک قید کی سزا دی جائے گی۔ ہمارے ہاں عدلیہ کا کردار روز روشن کی طرح عیاں ہو چکا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں مخلص مسلمان بھی مدعی بننے سے ہچکچائیں گے۔ چنانچہ نئے نئے رشدی سامنے آتے رہیں گے۔ یہ شیطانی مکر و فریب کی پہلی مثال نہیں ہے۔
عباسی خلیفہ منصور جس نے امام ابوحنیفہؒ کو بھی درے لگوائے تھے، ایک دفعہ اپنی مذموم اقربا پروری کی خاطر اسی قسم کا حیلہ اختراع کیا تھا۔ عسکری کے ’’اوائل‘‘ میں ہے کہ ابن ہبرمہ بہت بڑا شرابی تھا۔ ایک دفعہ منصور کے پاس آ کر اس کی مدح سرائی میں کچھ اشعار پڑھے، منصور خوشی سے پھول گیا۔ پوچھا، کیا چاہتا ہے؟ شرابی نے کہا، آپ حاکمِ مدینہ کو لکھ دیجئے کہ جب وہ مجھے نشہ میں دیکھے تو مجھ پر حد جاری نہ کرے۔ منصور نے کہا، میں خداوند تعالیٰ کی حدود میں دخل اندازی نہیں کر سکتا۔ اس نے کہا، تو پھر میرے لیے کوئی حیلہ بنا دیجئے۔ چنانچہ منصور نے حاکمِ مدینہ کو لکھا کہ جب کوئی شخص ابن ہبرمہ کو نشہ کی حالت میں پکڑ کر لائے تو اسے لانے والے کو سو درے مارے جائیں، جبکہ ابن ہبرمہ کو قانونِ شرعی کے مطابق اَسی درے ہی مارے جائیں۔ اس حکم کے بعد اگر حاکم (عون) خود بھی اس کو نشہ کی حالت میں دیکھتا تو یہ کہہ کر صَرفِ نظر کر لیتا کہ کون اسے اَسی درے لگوانے پر خود سو درے کھائے!
تاریخ میں ہم دیکھتے ہیں کہ ان خلفاء کے ایسے کردار کے ردعمل میں اُس دور میں عدلیہ کے کردار کی ایسی روشن مثالیں قائم ہوئیں جو رہتی دنیا تک امت کے لیے مشعلِ راہ کا کام دیتی رہیں گی۔ آج بھی حکمرانوں کا وطیرہ وہی رخ اختیار کر رہا ہے، چنانچہ آج بھی امت کے دینی جذبات کے تحفظ کی ذمہ داری ہماری عدلیہ پر عائد ہوتی ہے۔ جب تک عدلیہ کا کردار مثالی نہیں ہوتا اسی طرح کے منفی حیلے ہتھکنڈے جنم دینے کے لیے حکمرانوں کو شہ ملتی رہے گی۔
اسلامی تاریخ اس بات کی گواہ ہے، جس نے بھی اسلامی شعائر کی توہین کی اور جن حلقوں نے ان کی سرپرستی کرنے کی کوشش کی، ان کے نام تاریخ کے سیاہ باب کی نذر ہو چکے ہیں۔ توہینِ رسالتؐ کا ارتکاب کرنے والا شخص دنیا اور اس کی عدالتوں سے تو محفوظ رہ سکتا ہے لیکن قہرِ خداوندی سے نہیں۔ رسول اسے کہتے ہیں جو خدا کی طرف سے بھیجا گیا ہو، اور خدا ہی اس کی حرمت کی حفاظت کرتا ہے۔ اس کے لیے کبھی غازی خدا بخش اور کبھی غازی علم الدین شہید وسیلہ بنتے ہیں۔
(بشکریہ روزنامہ خبریں لاہور ۲۱ اپریل ۱۹۹۵ء)
ملی یکجہتی کونسل پاکستان کا ضابطۂ اخلاق
ادارہ
پاکستان کے تمام مذہبی مکاتبِ فکر کے قائدین پر مشتمل ملی یکجہتی کونسل نے ۲۳ اپریل ۱۹۹۵ء کو لاہور کے ایک ہوٹل میں مولانا شاہ احمد نورانی کی زیرصدارت مرکزی اجلاس میں مذہبی مکاتبِ فکر کے درمیان ضابطۂ اخلاق کی منظوری دے دی ہے۔ اجلاس میں مولانا محمد اجمل خان، پروفیسر ساجد میر اور علامہ ساجد نقوی سمیت تمام مکاتبِ فکر کے سرکردہ مذہبی قائدین نے شرکت کی۔ جبکہ ضابطۂ اخلاق کا اعلان کونسل کے سربراہ مولانا شاہ احمد نورانی نے پریس کانفرنس میں کیا۔
ضابطۂ اخلاق میں کہا گیا ہے کہ اختلافات اور بگاڑ دور کرنے کے لیے ضروری ہے کہ تمام مکاتبِ فکر نظمِ مملکت اور نفاذِ شریعت کے لیے ایک بنیاد پر متفق ہوں۔ اس مقصد کے لیے ہم ۳۱ سرکردہ علماء کے ۲۲ نکات کو بنیاد بنانے پر متفق ہیں۔
ہم ملک میں مذہب کے نام پر دہشت گردی اور قتل و غارت گری کو اسلام کے خلاف سمجھتے ہیں۔ کسی بھی اسلامی فرقہ کو کافر قرار دینا یا کسی مکتبِ فکر سے متعلق شخص کو واجب القتل قرار دینا غیر اسلامی اور قابلِ نفرت فعل ہے۔
توہینِ رسالتؐ کے قانون میں تبدیلی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ توہینِ رسالتؐ کی سزا صرف موت ہے۔
عظمت ِصحابہؓ، عظمتِ اہلِ بیتؓ، عظمتِ ازواج ِمطہرات ایمان کا جزو ہے، ان کی تکفیر کرنے والا دائرۂ اسلام سے خارج اور ان کی توہین و تنقیص حرام اور قابلِ مذمت و تعزیر جرم ہے۔
ایسی ہر تقریر و تحریر سے گریز و اجتناب کیا جائے گا جو کسی بھی مکتبِ فکر کی دل آزاری اور اشتعال کا باعث بن سکتی ہے۔ شر انگیز اور دل آزار کتابوں، پمفلٹوں اور تحریروں کی اشاعت، تقسیم و ترسیل نہیں کی جائے گی۔ اشتعال انگیز اور نفرت انگیز مواد پر مبنی کیسٹوں پر مکمل پابندی ہو گی اور ایسی کیسٹیں چلانے والا قابل سزا ہو گا۔ دل آزار، نفرت انگیز اور اشتعال انگیز نعروں سے مکمل احتراز کیا جائے گا۔ دیواروں، ریل گاڑیوں، بسوں اور دیگر مقامات پر دل آزار نعروں اور عبارتوں پر مکمل پابندی ہو گی۔
تمام مسالک کے اکابرین کا احترام کیا جائے گا۔ تمام مکاتبِ فکر کے مقاماتِ مقدسہ اور عبادت گاہوں کے احترام و تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔ جلسوں، جلوسوں، مساجد اور عبادت گاہوں میں اسلحہ خصوصاً غیر قانونی اسلحہ کی نمائش نہیں ہو گی۔ عوامی اجتماعات اور جمعہ کے خطبات میں ایسی تقریریں کی جائیں گی جن سے مسلمانوں کے درمیان اتحاد و اتفاق پیدا کرنے میں مدد ملے۔ عوامی سطح پر ایسے اجتماعات منعقد کیے جائیں گے جن سے تمام مکاتبِ فکر کے علماء بیک وقت خطاب کر کے ملی یکجہتی کا عملی مظاہرہ کریں۔
مختلف مکاتبِ فکر کے متفقات اور مشترکہ عقائد و نکات کی تبلیغ اور نشر و اشاعت کا اہتمام کیا جائے گا۔ باہمی تنازعات کو افہام و تفہیم اور تحمل و رواداری کی بنا پر طے کیا جائے گا۔
ضابطۂ اخلاق کے عملی نفاذ کے لیے ایک اعلیٰ اختیاراتی بورڈ تشکیل دیا جائے گا جو اس ضابطہ کی خلاف ورزی کی شکایات کا جائزہ لے کر اپنا فیصلہ صادر کرے گا، اور خلاف ورزی کے مرتکب کے خلاف کاروائی کی سفارش کرے گا۔
حضرت شیخ الحدیث مدظلہ کا سفر ِبنگلہ دیش
ادارہ
بنگلہ دیش کے علماء کی ایک عرصہ سے خواہش تھی کہ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم کی بنگلہ دیش میں تشریف آوری ہو اور علماء و طلبہ کو ان سے استفادہ کا موقع ملے۔ حضرت شیخ الحدیث مدظلہ اس سے قبل متحدہ پاکستان کے زمانے میں ایک بار جمعیت علماء اسلام پاکستان کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے اجلاس میں شرکت کے لیے ڈھاکہ تشریف لے جا چکے ہیں۔ دسمبر ۱۹۹۳ء میں بھی ڈھاکہ کی عظیم الشان ختمِ نبوت کانفرنس میں شرکت کا پروگرام طے پا چکا تھا۔ ویزا اور سیٹ کی کنفرمیشن کے مراحل طے ہو چکے تھے، اور حضرت شیخ الحدیث مدظلہ اپنے فرزند اکبر مولانا زاہد الراشدی کے ہمراہ ڈھاکہ جانے کے لیے کراچی پہنچ چکے تھے کہ اچانک بنگلہ دیش حکومت کی طرف سے ختمِ نبوت کانفرنس کے انعقاد پر پابندی کی خبر کے باعث سفر کا پروگرام معطل کرنا پڑا۔ بعد میں بنگلہ دیش کے غیور مسلمانوں کے پرجوش احتجاج کے باعث حکومتی پابندی غیر مؤثر ہو گئی اور کانفرنس پورے جوش و خروش کے ساتھ منعقد ہوئی مگر حضرت شیخ الحدیث مدظلہ اور مولانا زاہد الراشدی اس میں شرکت نہ کر سکے۔
گزشتہ ماہ جامعہ اشرفیہ لاہور کے نائب مہتمم مولانا فضل الرحیم نے حضرت شیخ الحدیث مدظلہ سے رابطہ قائم کیا کہ بنگلہ دیش کے سب سے قدیمی دینی ادارہ مدرسہ معین الاسلام ہاٹ ہزاری چاٹگام کی صد سالہ تقریبات منعقد ہو رہی ہیں جس میں قدیم و جدید فضلاء کی دستاربندی ہو گی، اور وہاں کے علماء کی شدید خواہش ہے کہ اس موقع پر وہ تشریف آوری کی زحمت فرمائیں۔ اگرچہ ان کی عمر اور صحت کے لحاظ سے یہ سفر بظاہر مشکل تھا، اس لیے کہ حضرت شیخ الحدیث مدظلہ کی عمر اس وقت ہجری لحاظ سے چوراسی برس کے لگ بھگ ہے اور وہ گھٹنوں کے درد سمیت مختلف عوارض کا شکار ہیں۔ لیکن علماء کے اصرار کے باعث انہوں نے یہ دعوت قبول کر لی اور سرکردہ علماء کرام کے ایک وفد کے ہمراہ بنگلہ دیش تشریف لے گئے۔
مدرسہ معین الاسلام ہاٹ ہزاری کی صد سالہ تقریبات میں پاکستان سے شریک ہونے والے علماء کرام میں حضرت شیخ الحدیث مدظلہ کے علاوہ وفاق المدارس العربیہ کے سربراہ مولانا سلیم اللہ خان، جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کے سربراہ مولانا ڈاکٹر حبیب اللہ مختار، جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک کے نائب مہتمم مولانا انوار الحق، بادشاہی مسجد لاہور کے خطیب مولانا عبد القادر آزاد، جامعہ اشرفیہ لاہور کے نائب مہتمم مولانا فضل رحیم، سیالکوٹ کے بزرگ عالم دین مولانا حکیم عبد الواحد، اور مولانا قاری سیف اللہ اختر بطور خاص قابل ذکر ہیں۔ جبکہ مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے شعبہ حفظ کے استاذ قاری محمد عبد اللہ صاحب حضرت شیخ الحدیث مدظلہ کی رفاقت اور خدمت کے جذبہ کے ساتھ وفد میں شامل ہو گئے اور اپنے ذاتی خرچہ سے انہوں نے سفر میں رفاقت اختیار کی۔
پاکستانی علماء کا وفد ۸ اپریل کی شام کو ڈھاکہ پہنچا اور چونکہ اپوزیشن کی طرف سے پورے بنگلہ دیش میں ۹ اپریل سے چار روزہ ہڑتال کا اعلان تھا اس لیے تھوڑی دیر ٹھہر کر بذریعہ ٹرین چاٹگام روانہ ہو گیا۔ ڈھاکہ ایئرپورٹ پر مرکز اسلامی ڈھاکہ کے سربراہ مولانا شہید الاسلام نے اپنے رفقاء کے ہمراہ علمائے کرام کا خیرمقدم کیا اور ڈھاکہ میں قیام کے دوران مرکز اسلام ہی معزز مہمانوں کی قیام گاہ رہا۔
مدرسہ معین الاسلام ہاٹ ہزاری چاٹگام بنگلہ دیش کا سب سے قدیمی دینی مدرسہ ہے۔ ہاٹ ہزاری، چاٹگام سے دس بارہ میل کے فاصلہ پر ہے۔ اور مدرسہ معین الاسلام، جو بنگلہ دیش کے مدارس میں ام المدارس کہلاتا ہے، اپنے قیام کو لگ بھگ ایک صدی مکمل کر چکا ہے، ۱۰ اپریل سے اس کی صد سالہ تقریبات کا آغاز تھا جس میں قدیم و جدید فضلاء کی دستاربندی کا پروگرام بھی شامل تھا۔ لیکن اپوزیشن کی طرف سے چار روزہ ملک گیر ہڑتال کے باعث عوامی سطح پر اس طرز کا اجتماع نہ ہو سکا جو بنگلہ دیش کی روایات کا حصہ ہے۔ البتہ جن فضلاء کی دستاربندی ہونا تھی وہ ہڑتال کے خدشہ کے پیش نظر پہلے ہی وہاں پہنچ چکے تھے اور تقریباً تیس ہزار افراد کی دستاربندی اس اجتماع میں عمل میں لائی گئی۔ مدرسہ معین الاسلام کے مہتمم اس وقت مولانا احمد شفیع ہیں، جبکہ اس سال پانچ ہزار طلبہ مدرسہ میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں جن میں ایک ہزار کے قریب طلبہ دورۂ حدیث میں شریک ہیں۔
مدرسہ کی دو روزہ تقریبات میں شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر مدظلہ العالی کے علاوہ مولانا سلیم اللہ خان، مولانا عبد القادر آزاد، مولانا فضل رحیم، مولانا حکیم عبد الواحد، مولانا حبیب اللہ مختار، مولانا انوار الحق، مولانا قاری سیف اللہ اختر اور دیگر پاکستان علمائے کرام نے بھی خطاب کیا۔ جبکہ بھارت سے تقریبات میں شرکت کے لیے دارالعلوم دیوبند کے صدر مفتی حضرت مولانا مفتی محمود الحسن گنگوہی دامت برکاتہم تشریف لائے ہوئے تھے اور یہ تقریبات انہی کی سرپرستی میں منعقد ہوئیں۔
مدرسہ معین الاسلام ہاٹ ہزاری میں خطاب اور دستاربندی کے علاوہ حضرت شیخ الحدیث مدظلہ جامعۃ العربیۃ الاسلامیۃ جیری چاٹگام، اور مدرسہ مظاہر العلوم چاٹگام میں بھی تشریف لے گئے، اور ڈھاکہ میں واپسی پر مرکز اسلامی کے علاوہ مدرسہ عربیہ بنات الاسلام میر پور ۱۲ کا بھی معائنہ کیا جہاں چھ سو سے زائد طالبات دینی تعلیم حاصل کر رہی ہیں اور دورہ حدیث بھی ہوتا ہے۔ حضرت شیخ الحدیث مدظلہ نے بعض طالبات سے عبارت سن کر ان کی علمی استعداد پر مسرت کا اظہار کیا۔
۱۳ اپریل جمعرات کا دن حضرت شیخ الحدیث مدظلہ نے ڈھاکہ میں گزارا اور مرکزِ اسلامی کے مختلف شعبوں کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر مرکز اسلامی کے سربراہ مولانا شہید الاسلام نے، جو جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن کراچی کے فاضل ہیں، بتایا کہ مرکزِ اسلامی ایک تعلیمی اور رفاہی ادارہ ہے جس کے تحت نہ صرف بنگلہ دیش کے مختلف حصوں میں دینی مدارس و مکاتب کام کر رہے ہیں بلکہ خدمتِ خلق کا شعبہ بھی منظم طور پر سرگرمِ عمل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بنگلہ دیش میں مسیحی مشنریاں منظم طریقہ سے کام کر رہی ہیں اور ان کا کام عورتوں میں سب سے زیادہ ہے۔ عیسائی مشنریوں کا ہدف یہ ہے کہ دس سال میں بنگلہ دیش کو عیسائی اکثریت کا ملک بنا لیا جائے، اور وہ رفاہی اداروں اور امدادی کاموں کے ذریعے اپنے اثرات کو آگے بڑھا رہی ہیں۔ اس لیے علمائے کرام نے بھی اس نہج پر کام شروع کیا ہے اور اس وقت المرکز الاسلامی بنگلہ دیش کے ایک بڑے رفاہی ادارہ کی حیثیت اختیار کر چکا ہے جس کے پاس ۱۱ ایمبولینس ہیں اور ۷۵ بیڈ کا ہسپتال زیرتعمیر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ۱۹۹۱ء کے سیلاب میں امدادی کاموں کے لیے سب سے پہلے مرکز اسلامی کے کارکن سیلاب زدہ علاقوں میں پہنچے اور کم و بیش ایک کروڑ روپے کا سامان تقسیم کیا، اور متاثرین کے کیمپوں میں امدادی سرگرمیوں کے علاوہ چھ سو خاندانوں کو مکان تعمیر کر کے دیے، اور چار سو بیواؤں کی کفالت کی ذمہ داری قبول کی۔ انہوں نے بتایا کہ اس کام کے لیے ہم حکومت سے کوئی امداد نہیں لیتے بلکہ عوام کے تعاون سے اخراجات پورے کرتے ہیں اور سب سے زیادہ تعاون پاکستان کے مخیر حضرات سے حاصل ہوتا ہے۔
حضرت شیخ الحدیث مدظلہ نے مرکز اسلامی کی سرگرمیوں پر مسرت کا اظہار کیا اور ان مساعی کی کامیابی کے لیے دعا فرمائی، اور اس طرح بنگلہ دیش میں چھ روزہ قیام کے بعد ۱۴ اپریل کو صبح گوجرانوالہ واپس پہنچ گئے۔
ورلڈ اسلامک فورم کی سرگرمیاں
ادارہ
فضیلت الشیخ عبد الحفیظ مکی کی تشریف آوری
انٹرنیشنل اسلامک مشن کے سربراہ فضیلت الشیخ عبد الحفیظ مکی ۳۰ اپریل ۱۹۹۵ء کو حرکت الانصار کے سیکرٹری جنرل مولانا فضل الرحمٰن خلیل اور ناظم امورِ حرب مولانا عبد الجبار کے ہمراہ گوجرانوالہ تشریف لائے اور ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا زاہد الراشدی سے ملاقات کر کے انہیں حرکت الانصار کو خلفشار سے بچانے کے لیے اکابر علماء کی کامیاب مساعی کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر جمعیت علماء اسلام پاکستان سے متعلقہ بعض امور اور دیگر اہم مسائل بھی زیرغور آئے اور مذکورہ بالا راہنماؤں نے ان معاملات پر باہمی تبادلۂ خیال کیا۔
مولانا محمد عیسیٰ منصوری کا دورۂ بھارت
ورلڈ اسلامک فورم کے سیکرٹری جنرل مولانا محمد عیسیٰ منصوری نے گذشتہ ماہ کے دوران بھارت کے مختلف شہروں کا دورہ کیا اور دینی جماعتوں کے راہنماؤں سے ملاقات کر کے ان سے عالمِ اسلام سے متعلقہ مسائل پر تبادلۂ خیال کیا۔ اس موقع پر متعدد اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ علمائے کرام اور طلبہ کو آج کے حالات اور جدید نظریاتی فتنوں سے مکمل آگاہی حاصل کرنی چاہیے تاکہ وہ اسلام کا پیغام صحیح طور پر دنیا کے سامنے پیش کر سکیں۔ انہوں نے دینی مدارس کے تعلیمی نظام میں بہتری پیدا کرنے اور اس کے ساتھ ساتھ فکری اور اخلاقی تربیت کا مربوط نظام قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا، اور کہا کہ اس کے بغیر ہم وقت کے چیلنج کا سامنا نہیں کر سکیں گے۔ مولانا منصوری نے نئی دہلی سے فون پر فورم کے چیئرمین مولانا زاہد الراشدی سے رابطہ کیا اور انہیں اپنے دورہ کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔
مسلم ہیومن رائٹس سوسائٹی کی فکری نشست
مسلم ہیومن رائٹس سوسائٹی پاکستان کی فکری نشست ۱۷ اپریل ۱۹۹۵ء کو مرکزی جامع مسجد شادمان لاہور میں ایڈیٹر ماہنامہ ’’المذہب‘‘ جناب محمد اسلم رانا کی صدارت میں منعقد ہوئی جس میں مولانا زاہد الراشدی، مولانا عبد الرؤف فاروقی، ریٹائرڈ کرنل جناب محمد ایوب خان اور ریٹائرڈ ایئر کموڈر جناب طارق مجید نے خطاب کیا اور انسانی حقوق کے حوالے سے مغربی لابیوں کی مہم پر روشنی ڈالی۔
حزب التحریر کے راہنماؤں سے ملاقات
لندن سے حزب التحریر کے راہنما جناب عبد الحی گذشتہ ماہ کے دوران پاکستان تشریف لائے اور ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا زاہد الراشدی سے سیالکوٹ اور لاہور میں ملاقاتیں کیں۔ لاہور کی ملاقات میں جناب عبد الحی کے بعض دیگر رفقاء اور مسلم ہیومن سوسائٹی کے کنوینر مولانا عبد الرؤف فاروقی بھی شریک تھے۔ جناب عبد الحی نے مولانا قاضی محمد رویس خان سے بھی ملاقات کی۔ ان ملاقاتوں میں عالمِ اسلام کے مسائل کے علاوہ ورلڈ اسلامک فورم اور حزب التحریر کے درمیان مختلف امور پر باہمی تعاون کے مسائل پر بھی گفت و شنید ہوئی۔
جناب اقبال احمد خان کی تشریف آوری
عجمان متحدہ عرب امارات میں پاکستانی کمیونٹی کے سرگرم راہنما جناب اقبال احمد خان گذشتہ دنوں تشریف لائے، انہوں نے مولانا زاہد الراشدی سے ملاقات اور مختلف امور پر تبادلۂ خیالات کے علاوہ شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کا بھی معائنہ کیا اور اس عظیم تعلیمی منصوبے پر مسرت کا اظہار کیا۔
میٹرک کلاس کا آغاز
گزشتہ روز الشریعہ ایجوکیشنل ویلفیئر سوسائٹی کے زیر اہتمام الشریعہ اکیڈمی مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں میٹرک کی چار سالہ کلاس کا آغاز ہوا۔ یہ کلاس روزانہ چھ گھنٹے ہوتی ہے۔ اس میں طلبہ کو میٹرک کی مکمل تعلیم کے علاوہ عربی گرائمر کے ساتھ قرآن مجید کا ترجمہ پڑھایا جائے گا اور کمپیوٹر ٹریننگ دی جائے گی۔ کلاس میں اٹھائیس طلبہ شریک ہیں۔ افتتاحی تقریب میں سوسائٹی کے راہنماؤں میں مولانا زاہد الراشدی، جناب زین الدین، ڈاکٹر حافظ محمد الیاس، حافظ محمد یحیٰی میر، حافظ محمد عمار خان ناصر اور قاری عبید الرحمٰن ضیاء نے شرکت کی اور اس موقع پر کلاس کی کامیابی کے لیے دعا کی گئی۔
فورم کی ماہانہ فکری نشست
ورلڈ اسلامک فورم کی ماہانہ فکری نشست ۱۹ مئی بروز جمعۃ المبارک بعد نماز عصر مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں ہو گی جس میں سرکردہ علماء کرام اور دانشور جداگانہ انتخابات اور انسانی حقوق کے موضوع پر اظہارِ خیال کریں گے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔
مجاہدین کی عالمی تنظیم ’’حرکۃ الانصار‘‘
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
افغانستان میں مسلح روسی جارحیت کے بعد اس خطہ کے غیور علماء اور مسلمانوں نے جہاد کا آغاز کیا تو اس میں دنیا بھر کے غیرت مند مسلمانوں کے ساتھ پاکستان کے علماء اور دینی کارکنوں نے بھی پورے جوش و جذبہ کے ساتھ شمولیت اختیار کی۔ پاکستان کے دینی مدارس میں جہاد افغانستان کے لیے علماء اور طلبہ کو منظم کرنے کے کام کا آغاز فیصل آباد کے مجاہد عالم دین مولانا ارشاد احمد شہیدؒ نے کیا اور ’’حرکۃ الجہاد الاسلامی‘‘ کے نام سے مجاہدین کی جماعت تیار کی جس نے مختلف محاذوں پر افغان مجاہدین کے شانہ بشانہ جہاد میں عملی حصہ لیا۔ مولانا ارشاد احمد شہیدؒ کی شہادت کے بعد یہ جماعت دو حصوں میں بٹ گئی۔ مولانا سیف اللہ اختر کی قیادت میں ’’حرکۃ الجہاد الاسلامی‘‘ کے پلیٹ فارم پر کام ہوتا رہا اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی سربراہی میں ’’حرکۃ المجاہدین‘‘ منظم ہوگئی۔ دونوں جماعتوں نے افغانستان کے مختلف محاذوں کے علاوہ تاجکستان، کشمیر اور دیگر علاقوں میں جہاد میں پرجوش حصہ لیا۔ ان کے ذریعے ہزاروں علماء اور طلبہ نے جہاد کی تربیت حاصل کی، سینکڑوں نوجوانوں نے جام شہادت نوش کیا اور ملک کے دینی مدارس میں جہاد کی فضا قائم ہوگئی۔
دو سال قبل اکابر علماء کرام کی محنت سے دونوں جماعتوں میں اتحاد کی راہ ہموار ہوئی اور دونوں تنظیموں کے راہنماؤں نے حرکۃ الجہاد الاسلامی اور حرکۃ المجاہدین کی بجائے ’’حرکۃ الانصار‘‘ کے نام سے ایک نئے مشترکہ پلیٹ فارم پر کام شروع کر دیا جو اس وقت مقبوضہ کشمیر اور دیگر خطوں میں اپنی جرأت مندانہ جہادی سرگرمیوں کے باعث عالمی سطح پر متعارف ہے اور دینی بیداری کی مسلح تحریکات میں ایک باوقار اور منظم جماعت کے طور پر پہچانی جاتی ہے۔ کچھ عرصہ قبل چند غیر مطمئن دوست حرکۃ الجہاد الاسلامی کے دوبارہ احیاء کی طرف متوجہ ہوئے اور مولانا سیف اللہ اختر کی سربراہی میں اس سمت عملی پیش رفت کا آغاز ہوگیا تو اکابر علماء نے صورتحال کا بروقت نوٹس لیا اور مجاہدین کے اس وسیع حلقہ کو ایک نئے خلفشار سے بچا لیا۔ اس سلسلہ میں دو عظیم افغان کمانڈروں حضرت مولانا محمد ارسلان رحمانی اور حضرت مولانا جلال الدین حقانی کے ساتھ انٹرنیشنل اسلامک مشن کے سربراہ مولانا عبد الحفیظ مکی کی توجہات اور مساعی بطور خاص قابل ذکر ہیں۔ ان بزرگوں نے شبانہ روز کی محنت کے ساتھ حرکۃ الانصار اور نو تشکیل شدہ حرکۃ الجہاد الاسلامی کے راہنماؤں میں پیدا ہوجانے والی غلط فہمیوں کا ازالہ کرتے ہوئے ان سب کو حرکۃ الانصار کے پلیٹ فارم پر دوبارہ مجتمع کر دیا جس کے نتیجہ میں نہ صرف حرکۃ الانصار کی متفقہ قیادت کا چناؤ عمل میں آگیا ہے بلکہ نیا دستور اور مجلس شوریٰ بھی طے پا گئی ہے۔
ہم اس مثبت اور مبارک پیشرفت پر مولانا ارسلان رحمانی، مولانا جلال الدین حقانی، مولانا عبد الحفیظ مکی اور حرکۃ الانصار کے تمام راہنماؤں اور کارکنوں بالخصوص مولانا قاری سیف اللہ اختر اور مولانا فضل الرحمان خلیل کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کی بھرپور کامیابی کے لیے دعاگو ہیں، اللہم ربنا آمین۔