تحریک ولی اللہ کا موجودہ دور اور معروضی حالات میں کام کی ترجیحات
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
(یہ مضمون فکر ولی اللہی سے وابستہ نوجوان دانشوروں کی سوسائٹی ’’مجلس مشاورت‘‘ کی فکری نشست منعقدہ ۲۸ اپریل ۱۹۹۵ء بمقام مدرسہ قاسم العلوم شیرانوالہ گیٹ لاہور میں پڑھا گیا۔)
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ علماء حق کی وہ جماعت جس نے گزشتہ دو صدیوں کے دوران برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش میں دین اسلام کے تحفظ و بقا اور ترویج و اشاعت کی مسلسل جدوجہد کی ہے اور اسلامی عقائد و نظریات اور مسلم معاشرہ کو بیرونی اثرات سے بچانے کے لیے صبر آزما جنگ لڑی ہے، آج پھر تاریخ کے ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے اور عالمی سطح پر اسلام اور اسلامی معاشرت کے خلاف منظم اور ہمہ گیر انداز میں لڑی جانے والی ثقافتی جنگ علماء حق کی اس جماعت سے نئی صف بندی، ترجیحات اور حکمت عملی کا تقاضا کر رہی ہے۔
اس جماعت کو ہم امام ولی اللہ دہلویؒ کی جماعت کہہ لیں، اہل حق کی چودہ سو سالہ جدوجہد کے تسلسل کا ایک حصہ قرار دے لیں، یا ماضی قریب کے حوالے سے علمائے دیوبند کے نام سے منسوب کر لیں، یہ ایک ہی گروہ کے تعارف کی مختلف صورتیں ہیں۔ اس گروہ کے حال یا مستقبل کے بارے میں گفتگو کرنے سے قبل اس کی سابقہ جدوجہد کے دو اہم ادوار کا پس منظر کے طور پر ذکر کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔
- ایک دور وہ تھا جب جنوبی ایشیا کے اس مردم خیز خطہ میں ہندو تہذیب نے مسلم تہذیب و ثقافت کو اکبر اعظم کے دینِ الٰہی کے نام پر ہضم کرجانے کے لیے ہاتھ پاؤں مارے تو اس وقت کے علماء حق کے سرخیل حضرت مجدد الف ثانیؒ اس کے نتائج کی سنگینی کا بروقت اندازہ کرتے ہوئے اس کے سامنے ڈٹ گئے اور اپنی ایمانی قوت اور جرأت و استقامت کے ساتھ ہندو تہذیب کے اس خوفناک وار کو ناکام بنا دیا،
- اور دوسرا وہ دور ہے جب سات سمندر پار سے تجارت کے نام پر آنے والے انگریزوں نے اپنی تہذیب اور کلچر کو صنعتی اور تجارتی بالادستی کے زور پر اس سرزمین کے باشندوں پر مسلط کرنا چاہا تو امام ولی اللہ دہلویؒ کے جانشین شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ کی قیادت میں اس وقت کے علماء حق نے اس چیلنج کو قبول کیا اور کم و بیش ڈیڑھ سو برس کی مسلسل کشمکش کے بعد بالآخر اسلامی عقائد و نظریات اور تہذیب و ثقافت کو فرنگی استعمار کے چنگل سے بچانے میں کامیاب ہوگئے۔
یہی وجہ ہے کہ اسلامی عقائد و نظریات کی پختگی اور قدیم وضع کی اسلامی معاشرت کے آثار پوری دنیا میں اگر سب سے نمایاں کسی خطہ میں نظر آتے ہیں تو وہ یہی برصغیر ہے۔ اس سرزمین کے مسلم باشندوں کی یہی ’’بنیاد پرستی‘‘ پوری دنیا پر تسلط کا خواب دیکھنے والے نئے استعمار کے لیے ’’سوہانِ روح‘‘ بنی ہوئی ہے۔
اس پس منظر میں جب ہم اسلام اور ملت اسلامیہ کو درپیش نئے چیلنجز کو دیکھتے ہیں تو ہمیں حال یا مستقبل کی یہ جنگ بھی اسی کشمکش کا ایک حصہ اور اس کا آخری و فیصلہ کن دور نظر آتی ہے جس کا مقصد دنیا سے اسلامی تہذیب و معاشرت کا خاتمہ اور ویسٹرن سولائزیشن کی بالادستی کا قیام ہے۔ البتہ اس جنگ کا دائرہ وسیع ہوگیا ہے اور تکنیک بدل گئی ہے۔ پہلے دور میں مغربی استعمار نے ’’نیشنلزم‘‘ کے نام پر مسلمانوں کو ان کے مرکز خلافت سے محروم کیا، چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کیا اور ان کی پچاس سے زیادہ مستقل حکومتیں بنوا کر ان کے مفادات اور رجحانات کے دائروں کو الگ الگ کر دیا۔ اور اب دوسرے مرحلہ میں ’’انٹرنیشنلزم‘‘ کے نام پر ان چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کو ایک ایسے عالمی نظام میں جکڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس میں ان کے لیے ویسٹرن سولائزیشن کو قبول کرنے کے سوا کوئی چارۂ کار نہ رہے اور وہ مغرب کی بالادستی اور قیادت میں ایک نئے عالمی نظام میں ضم ہو کر اپنی نظریاتی اور تہذیبی شناخت سے محروم ہو جائیں۔
یہ جنگ اصل میں تہذیب و معاشرت کی بالادستی کی جنگ ہے جبکہ سیاسی اقتدار اور معاشی بالادستی اس جنگ کے لیے ہمیشہ موثر ہتھیار کا کام دیتے رہے ہیں۔ اس لیے آج بھی مغربی استعمار نے عالم اسلام کی پچاس سے زیادہ اکائیوں کی سیاست و معیشت کو اپنے کنٹرول میں رکھنے کی طرف سب سے زیادہ توجہ مبذول کر رکھی ہے۔ اور ماضی کی طرح آج بھی انہی ہتھیاروں کے ذریعے وہ اسلامی تہذیب و معاشرت کو جڑ سے اکھاڑ پھیکنے کے لیے بے تاب اور مضطرب دکھائی دے رہا ہے۔ اسلامی تہذیب و معاشرت کی سخت جانی گزشتہ ڈیڑھ ہزار برس سے پوری دنیا کے لیے مسئلہ بنی ہوئی ہے کیونکہ یہ تہذیب دنیا کے جس خطہ میں گئی ہے اس نے وہاں کے کلچر میں ضم ہونے سے انکار کر دیا ہے اور اپنے اثرات اس مضبوطی کے ساتھ قائم کیے ہیں کہ علاقائی تہذیبیں اس کے لیے خود بخود راستہ چھوڑتی چلی گئی ہیں۔ ہندو تہذیب جو مختلف تہذیبوں کو ہضم کرنے میں اپنی مثال نہیں رکھتی، اسلامی تہذیب کے سامنے عاجز آگئی ہے اور مغربی تہذیب جس نے امریکہ، آسٹریلیا اور افریقہ میں جا کر وہاں کی تہذیبوں کو الٹ پلٹ کر رکھ دیا ہے، اسلامی تہذیب و معاشرت کو ہضم کرنے میں ناکام ہوگئی ہے اور خود یورپ و امریکہ کی سوسائٹیوں میں اسلامی تہذیب و معاشرت کے بڑھتے ہوئے اثرات سے خوفزدہ دکھائی دیتی ہے۔
یہ تو ہے اس تاریخی کشمکش کا ایک نقشہ جو اب فیصلہ کن دور میں داخل ہوگئی ہے اور اس کو سامنے رکھتے ہوئے اس جماعت کے حالات پر بھی ایک نظر ڈال لینی چاہیے جس نے اس سے قبل ہر دور میں اس کشمکش میں امت مسلمہ کی فکری و عملی راہنمائی کی ہے اور جس سے امت کا سنجیدہ طبقہ آج بھی ماضی کی طرح جرأت مندانہ قیادت کی توقعات وابستہ کیے ہوئے ہے۔ جہاں تک ماضی کا تعلق ہے، تمام تر کمزوریوں اور کوتاہیوں کے باوجود مجموعی طور پر ولی اللہی جماعت کا کردار تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ کیونکہ مسلمانوں کے عقائد و افکار کے تحفظ کا میدان ہو، دینی علوم کی ترویج و اشاعت کا محاذ ہو، قرآن کریم اور مسجد کے ساتھ عام مسلمان کا تعلق قائم رکھنے کا مسئلہ ہو، یا عام معاشرتی زندگی میں بیرونی اثرات کی روک تھام کا شعبہ ہو، علماء حق کی جدوجہد ان سب کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اور بے سروسامانی اور کس مپرسی کے باوجود ان میں سے کسی محاذ پر انہوں نے پسپائی اختیار نہیں کی۔
مگر اس شاندار ماضی کے آئینے میں جب ہم حال پر نظر ڈالتے ہیں تو ظاہری صورتحال کو دیکھ کر ذہن و قلب کو ایک دھچکا سا لگتا ہے اور نئی عالمی جنگ میں دشمن کی تیاری، اس کے خوفناک ہتھیاروں اور لشکر جرار کے سامنے ہماری دینی قیادت کی بے بسی پریشانی اور اضطراب کا باعث بن جاتی ہے۔ اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس صورتحال کا کچھ سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لے لیا جائے۔
پاکستان کے حوالے سے اس وقت حالات کا عملی نقشہ کچھ یوں ہے کہ ملک کی عمومی مذہبی قیادت بالعموم اور علماء دیوبند یا ولی اللہی جماعت بالخصوص باہمی خلفشار اور انتشار کا شکار ہے۔ اس جماعت کی نظریاتی و عملی قوت یکجا ہونے کی بجائے چھوٹی چھوٹی ٹکریوں میں بٹ کر رہ گئی ہے، یہ ٹکریاں بھی نظریاتی اور فکری حلقے کم اور شخصی عقیدتوں اور وابستگیوں کے دائرے زیادہ دکھائی دیتے ہیں۔ کارکنان میں نعرہ بازی، سطحیت اور جذباتیت کا عنصر سنجیدہ مزاج اور علمی ذوق پر غالب آگیا ہے، جبکہ وسائل و سہولتوں کے حصول کی خاطر مختلف لابیوں کے ساتھ وابستگی نے مذہبی قیادتوں کو مفادات اور سہل پسندی کی دلدل میں الجھا کر رکھ دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رائے عامہ اور ملک کی مذہبی قیادت کے درمیان اعتماد اور مفاہمت کا وہ رشتہ کمزور تر ہوتا جا رہا ہے جو اس سے قبل مذہبی لیڈرشپ کی بات میں وزن اور قوت کی بنیاد ہوا کرتا تھا۔
ہمارے نزدیک اس صورتحال کے یہاں تک پہنچنے کے اسباب و عوامل میں تین امور سب سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔
- دینی جماعتوں اور علمی اداروں میں طلبہ اور علماء کی ذہن سازی اور فکری تربیت کا فقدان ہے جو انہیں وقت کے تقاضوں کا احساس دلا کر کسی مشن اور پروگرام کے لیے تیار کر سکے۔
- انتخابی سیاست کو، جو اس عظیم جدوجہد میں ہدف تک پہنچنے کے مختلف ذرائع میں سے ایک ذریعہ تھی، اس حد تک اوڑھنا بچھونا بنا لیا گیا ہے کہ وہ ذریعہ کی بجائے مقصد کا درجہ اختیار کر گئی ہے۔ اور یہ انتخابی سیاست جماعتوں اور ان کی قیادتوں کی تمام تر تگ و دو کا محور بن کر رہ گئی ہے۔
- ہم نے ماضی کی طرح نظریاتی اور تہذیبی کشمکش کے اس دور کو بھی مقامی اور ملکی سطح کی جنگ سمجھ لیا ہے اور اسی دائرہ میں اس کے لیے صف بندی اور حکمت عملی اختیار کرتے آرہے ہیں۔ اس حقیقت کو نظر انداز کر دیا ہے کہ اب یہ جنگ کسی ایک ملک کی نہیں بلکہ عالمی جنگ ہے جس کے لیے اسی سطح کی صف بندی، رابطوں، ترجیحات اور حکمت عملی کی ضرورت ہے۔
جبکہ آج مغربی استعمار اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اس عالمی جنگ میں جو تکنیک اختیار کیے ہوئے ہیں، مذہبی جماعتوں کے کارکن تو رہے ایک طرف، ان کی قیادتوں کی غالب اکثریت تک اس کے ادراک سے محروم ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ مغربی استعمار اور عالم اسلام میں ان کی ہمنوا قوتیں کسی بھی مسئلہ پر اطمینان کے ساتھ اپنا کام کر چکتی ہیں یا اس کے بیشتر مراحل سے گزر جاتی ہیں تو ہماری مذہبی قیادتوں کو کچھ کچھ احساس ہونے لگتا ہے۔ اور جتنی دیر میں وہ خود کو دفاع یا جواب کے لیے ذہنی طور پر تیار کر پاتی ہیں ’’چڑیاں کھیت چگ کر جا چکی ہوتی ہیں‘‘۔ دینی جماعتوں کی جدوجہد میں شریعت بل، شناختی کارڈ میں مذہب کے خانے کے اندراج، اور توہین رسالتؐ کے مرتکب افراد کی بیرون ملک روانگی اور پذیرائی کے واقعات اگرچہ ہمارے نزدیک ضمنی اور جزوی حوالے ہیں، لیکن ان سے ہماری مذہبی قیادتوں کی اس نفسیاتی صورتحال کا اندازہ بخوبی ہو جاتاہے جس کی طرف ہم نے ابھی اشارہ کیا ہے۔
ہمارا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ اصلاحِ احوال کی خواہش اور جذبہ رکھنے والوں کا سارا زور اس بات پر صرف ہو رہا ہے کہ قائدین اور کارکنوں کی اسی موجودہ کھیپ کو اس کام کے لیے تیار کر لیا جائے جس کے لیے ان کی تربیت نہیں ہوئی اور جو ان کی ذہنی سطح سے مختلف ہے۔ یہ بات فطرت کے خلاف ہے کیونکہ دو میل تک دوڑنے کی سکت رکھنے والے گھوڑے کو دس میل کی دوڑ میں شریک کیا جائے گا توا س کا حشر وہی ہوگا جو اس وقت ہماری مذہبی جماعتوں کا ہو رہا ہے۔ یا کسی مخصوص اسٹائل کی کشتی لڑنے والے پہلوان کو فری اسٹائل دنگل کے اکھاڑے میں کھڑا کیا جائے گا تو وہ اسی طرح عافیت کا گوشہ تلاش کرتا پھرے گا جیسے ہماری مذہبی لیڈرشپ تلاش کر رہی ہے۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ حقائق کا کھلے دل سے اعتراف کیا جائے اور زمینی حقائق کو تسلیم کر کے ان کی بنیاد پر آئندہ حکمت عملی اور ترجیحات طے کی جائیں۔
ان گزارشات کے بعد ہم ان دوستوں کی خدمت میں، جو خلوص دل کے ساتھ اس سلسلہ میں کچھ کرنے کے خواہش مند ہیں، یہ عرض کرنا چاہیں گے کہ معروضی حالات میں ولی اللہی جماعت کے کام اور کردار کو ازسرِنو منظم کرنے کے لیے ہمارے نزدیک چند امور انتہائی ضروری ہیں۔
- جو دینی جماعتیں اور علمی ادارے اس وقت اپنے اپنے دائرے میں کام کر رہے ہیں ان کے کام کی افادیت کو اپنے اپنے دائرہ میں تسلیم کرتے ہوئے ان سے تعاون کیا جائے۔ ان میں سے کسی کے کام کی نفی نہ کی جائے اور ہر ایک کے کام میں افادیت کا پہلو تلاش کر کے اسے اجاگر کرنے اور اس میں اس سے تعاون کرنے کی کوشش کی جائے۔
- ایک علمی و فکری سوسائٹی قائم کی جائے جس کی تشکیل کی بنیاد حالات کے ادراک، اہلیت، استعداد اور صلاحیت کار پر ہو۔ اور اصحابِِ خیر کھلے دل کے ساتھ اخراجات کے سلسلہ میں اس سے تعاون کریں۔ یہ سوسائٹی سیاسی اغراض سے بالاتر ہو، انتخابی سیاست سے قطعی طور پر لاتعلق رہے اور دینی جماعتوں اور علمی اداروں کے درمیان رابطہ کی خدمات سر انجام دے۔ یہ سوسائٹی دینی، علمی اور فکری سطح پر لابنگ، ہوم ورک اور پیپر ورک کا وہ خلاء پر کرے جو اس وقت دینی جماعتوں میں تکلیف دہ حد تک نمایاں نظر آرہا ہے۔ اور پیش آمدہ مسائل کے بارے میں حقائق اور معلومات کو یکجا کر کے دینی جماعتوں اور اداروں کی علمی و فکری راہنمائی کا اہتمام کرے۔
- اس وقت سب سے زیادہ ضرورت مختلف ممالک میں کام کرنے والی تحریکات کے درمیان ٹھوس علمی و فکری رابطے اور مشاورت کی ہے۔ کیونکہ عالم اسلام کے خلاف مغربی استعمار کی نظریاتی اور تہذیبی جنگ میں مسلمانوں کی صحیح لیڈرشپ اسی اجتماعی مشاورت اور رابطہ کے ذریعہ سامنے آسکتی ہے اور وہی لیڈرشپ ملت اسلامیہ کی صحیح طور پر قیادت کر سکتی ہے۔
- اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر اور انسانی حقوق و جمہوریت کے حوالہ سے عالمی معاہدات اور مغرب کے موقف کی تفصیلات کو سامنے رکھتے ہوئے امام ولی اللہ دہلویؒ کی تعلیمات کی روشنی میں اسلامی نظام حیات کی وضاحت کا اہتمام کیا جائے، ہر شعبہ زندگی سے متعلقہ مسائل و مشکلات کا تجزیہ کرتے ہوئے اسلامی احکام و تعلیمات کو آج کی زبان میں منظم طریقے سے سامنے لایا جائے، اور اسلامی احکام و تعلیمات کے بارے میں مغربی دانشوروں کے اعتراضات و شبہات کا منطق و استدلال کے ساتھ جواب دیا جائے۔
اس گفتگو کے آخر میں اس امر کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ میں خود کو انتخابی اور گروہی سیاست کے لیے قطعی طور پر ان فٹ سمجھتے ہوئے اس سے چند سال قبل کنارہ کشی اختیار کر چکا ہوں اور اس پر آخری دم تک قائم رہنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ البتہ علمی و فکری محاذ پر مغربی استعمار کے خلاف اس جنگ میں بدستور شریک ہوں اور اپنے وسائل و بساط کی حد تک کسی کوشش سے حتی الوسع گریز نہیں کر رہا۔ میں نے ایک اصول حتمی طور پر طے کر لیا ہے کہ سنجیدہ علمی و فکری کام میں ہر ایک کا خادم ہوں جبکہ گروہی کشمکش میں کسی کا ساتھی نہیں ہوں۔ اس دائرہ میں رہتے ہوئے اگر دوست مجھ سے کسی خدمت کا تقاضہ کریں گے تو مجھے اس میں خوشی ہوگی اور ہو سکتا ہے ایسا ہی کوئی عمل آخرت میں نجات کا ذریعہ بن جائے، آمین یا رب العالمین۔
دین کیلئے فقہاء کی خدمات
شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر
حضرت ابو موسیٰ الاشعری (المتوفی ۵۲ھ) سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے جو ہدایت و علم دے کر مبعوث فرمایا ہے، اس کی مثال ایسی ہے جیسے زور کی بارش جو زمین پر برسی ہو، اور
- زمین کا ایک وہ بہترین اور قابلِ زراعت ٹکڑا ہے جس نے پانی کو خوب جذب کر لیا، اور ساگ پات اور گھاس و چارہ بکثرت اگایا (جس سے انسانوں اور جانوروں کی اکثر ضرورتیں پوری ہو گئیں)،
- اور زمین کا ایک حصہ وہ ہے جو سخت ہے، اس سے کوئی چیز اگتی تو نہیں لیکن اس حصہ میں پانی خوب جمع ہو گیا، اور اس جمع شدہ پانی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو نفع بخشا کہ وہ خود بھی پیتے ہیں اور جانورں کو بھی پلاتے ہیں، اور کھیتی کو بھی سیراب کرتے ہیں،
- اور زمین کا ایک اور قطعہ ہے جو بالکل چٹیل ہے، نہ تو وہ پانی کو روک سکتا ہے، اور نہ گھاس و سبزہ اگانے کی صلاحیت اس میں موجود ہے۔
پھر ارشاد فرمایا کہ پس یہ مثال ہے اس شخص کی جس نے اللہ تعالیٰ کے دین میں فقاہت حاصل کی، اور اللہ تعالیٰ نے اس کو اس چیز سے نفع عطا فرمایا جو مجھے اللہ تعالیٰ نے دے کر مبعوث کیا ہے، جس کو اس نے سیکھا اور سکھلایا۔ اور مثال ہے اس کی جس نے ہدایتِ خداوندی کی طرف، جس کو میں لے کر آیا ہوں، مطلقاً سر ہی نہ اٹھایا۔‘‘
(بخاری ج ۱ ص ۱۸ و مسلم ج ۲ ص ۲۴۷ و مشکوٰۃ ج ۱ ص ۲۸)
آخری چٹیل زمین کی مثال تو ما و شما کی ہے کہ نہ تو محدث ہیں، نہ فقیہ کہ نہ روحانی بارش کو محفوظ رکھا اور نہ اس کو جذب کر کے اس سے کوئی خوشگوار نتائج ہی برآمد کیے۔
اور دوسری مثال محدثین کرامؒ کی ہے جنہوں نے حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی موسلا دھار بارش کو بحفاظت تمام اصلی شکل میں مَصون رکھا۔ لوگ آ کر ان سے اپنی علمی پیاس بجھاتے ہیں، لوگوں کو وہ مصفیٰ پانی پلا پلا کر سیراب کرتے ہیں۔ اپنے تو کیا جو غیر مسلم اور بیگانے اور ’’اولئک کالانعام‘‘ کا مصداق ہیں، ان کو بھی وحئ الٰہی کی بارش سے وہ سیراب کرنے کے درپے ہوتے ہیں، اور لوگوں کے دلوں کی اجڑی ہوئی بے آباد اور خشک کھیتیوں کو اس پانی کے ذریعہ سرسبز و شاداب کرنے کی فکر میں رہتے ہیں۔ غرضیکہ ’’فشربوا وسقوا وزرعوا‘‘ کے ایک ایک لفظ پر پورا عمل کرتے ہیں۔
اور پہلی مثال فقہاء کرامؒ کی ہے جن کے دلوں کی سرزمین ’’طائفۃ طیبۃ‘‘ کا مصداق ہے۔ اور وہ اپنے سینوں اور دلوں میں اس روحانی بارش اور وحئ الٰہی کو اچھی طرح جذب کرتے ہیں۔ اور اگرچہ وہ بارش اس قطعۂ ارضی پر اصلی شکل پر تو نہیں رہتی مگر اسی کی وجہ سے اس عمدہ زمین سے ساگ پات، گھاس اور اناج، سبزی و ترکاری، پھل اور پھول اور دیگر مختلف اجناس کی شکل میں متعدد چیزیں اگتی اور پیدا ہوتی ہیں۔ جن کو انسان بھی اور حیوان بھی استعمال کرتے اور اپنے مصرف میں لا کر اپنی مختلف قسم کی ضرورتوں کو پورا کرتے ہیں۔
اور ظاہر بات ہے کہ پانی بھی اپنے مقام میں اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے، مگر نرے پانی سے تمام ضرورتیں تو ہرگز پوری نہیں ہو سکتیں۔ اسی پانی کے ذریعے جب مختلف قسم کے سبزہ زار اور لہلہاتی ہوئی کھیتیاں معرضِ وجود میں آئیں گی تو اس سے جو فائدہ مرتب ہو گا وہ اظہر من الشمس ہے۔ اسی طرح فقہائے کرامؒ بھی اس وحئ الٰہی کو جذب کر کے اس سے سینکڑوں اور ہزاروں مسائل استنباط کرتے ہیں جن سے پوری دنیا کو عظیم فائدہ نصیب ہوتا ہے۔
اب اگر کوئی شخص زمین کے اس قطعہ پر یوں اعتراض اور حرف گیری کرے کہ اس نے تو پانی کو محفوظ ہی نہیں رکھا، یہ تو بڑی ناکارہ زمین ہے، تو اس اعتراض کی نقلی و عقلی دنیا میں ہرگز کوئی وقعت نہ ہو گی۔ بلکہ یہ کہنا عین انصاف ہے کہ اس زمین کی قدر و منزلت باقی حصوں سے بہت زیادہ ہے کیونکہ اس نے مختلف قسم کی ضروریات کی کفالت کی ہے، اور یہی حال فقہائے کرامؒ کی بے لوث خدمات کا ہے کیونکہ نصوصِ صریحہ تمام سعائل و نوازل کی جزئیات کے لیے ناکافی ہیں۔
خلفاء راشدینؓ کا طرز حکمرانی
محسن الملک نواب مہدی علی خانؒ
محسن الملک نواب مہدی علی خان مرحوم ان زعمائے ملت میں سے ہیں جنہوں نے ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں ناکامی کے بعد ملت اسلامیہ کو سہارا دیا اور علم و فکر کے میدان میں ان کی راہنمائی کی۔ وہ سرسید احمد خان مرحوم کے رفقاء میں سے تھے۔ زیر نظر مضمون میں انہوں نے خلفاء راشدین کے طرز حکومت پر بحث کی ہے۔ یہ مضمون ہم نے فیروز سنز کی مطبوعہ کتاب ’’جواہر پارے‘‘ (مرتبہ مقبول انور داؤدی مرحوم) سے اخذ کیا ہے۔ (ادارہ)
اسلام کو ہماری ذات سے دو قسم کا تعلق ہے۔ ایک متعلق عقائد کے، جس کو حکماً حکمتِ بالغہ یا کمالِ علمی کہتے ہیں۔ دوسرا متعلق اعمال کے، جس کو عقلاً قدرتِ فاضلہ اور کمال عملی سے تعبیر کرتے ہیں۔ پہلے امر کو، جو درحقیقت اصول ہے، کتاب و سنت نے ایسا صاف کر دیا ہے کہ اب کسی دوسرے سے پوچھنے بتلانے کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ مراتبِ توحید اور نبوت اور معاد کی کامل تشریح کر دی ہے۔ دوسرے امر کو، جو در حقیقت فروع ہے، اس کے اصول بھی تصریح کے ساتھ بیان کر دیے ہیں۔ اس لیے ہم کو اپنی دونوں باتوں کو کتاب و سنت سے ملانا چاہیے، تب معلوم ہوگا کہ کتنی باتیں ہم میں اسلام کی ہیں اور کتنی اس سے خارج، اور کون کون سا عمل ہمارا موافق اس کے ہے، اور کون سا مخالف۔
ہمارے حالاتِ دنیوی بھی مذہب کے تعلق سے آزاد نہیں ہیں بلکہ ہر معاملہ میں، خواہ وہ سیاستِ مدن سے متعلق ہو، خواہ اس کو حکمتِ منزل سے علاقہ ہو، ہم کو شریعت کی پابندی ہی لازم ہے۔ ہمارا تمدن اور معاشرت اور برتاؤ آزادانہ یعنی بلاقیدِ شریعت کے نہیں ہو سکتا۔ جو برتاؤ دنیاوی ہمارا ہو گا وہ بھی مذہبی ہو گا اور ہماری ہر بات اور ہر چال اور ہر فعل اور ہر عمل میں جلوہ اسلام کا چمکے گا۔ اگر وہ برتاؤ مطابق شریعت کے ہے تو وہ نورِ اسلام ہے، اور اگر مخالف ہے تو وہ داغِ اسلام۔
شریعت نے ہم کو رہبانیت کی تعلیم نہیں کی، جوگی ہونے کی اجازت نہیں دی بلکہ فرمایا ہے کلو من الطیبات واعملوا صالحا اس لیے اگر دل بیار اور دست بکار ہو تو عین ثواب ہے۔ شریعت نے دائرۂ معیشت کو تنگ نہیں کیا، زینتِ دنیا سے ممنوع نہیں گردانا۔ ہم سب مسلمان محرمات سے بچ کر اپنی زندگی کو نہایت آرام سے بسر کر سکتے ہیں۔ اور اپنی اوقات کو اور اپنے مال کو اگر اپنے بھائیوں کی بھلائی میں صرف کریں تو کسی عبادت میں اس سے زیادہ ثواب کے مستحق نہیں ہو سکتے۔ لیکن ہم نے اپنی بدبختی سے دین کو شرک و بدعت کے عقیدوں سے خراب اور دنیا کو غفلت اور جہالت کے سبب سے برباد کر رکھا ہے۔ نہ دین کے ہوئے نہ دنیا کے۔
گئے دونو جہاں کے کام سے ہم
نہ اِدھر کے ہوئے نہ اُدھر کے ہوئے
نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم
نہ اِدھر کے ہوئے نہ اُدھر کے ہوئے
جب ہم خلفائے راشدین کے اصولِ سیاست اور طریقِ معاشرت و اخلاق اور عادات اور چال چلن اور برتاؤ کو دیکھتے ہیں تو ہماری آنکھوں کے سامنے بہت سی عجیب و غریب چیزیں پھر جاتی ہیں اور بہت سے عقدے ہمارے حل ہو جاتے ہیں۔ اس لیے ہم کچھ مختصر سا حال خلفائے راشدین کی خلافت کا لکھتے ہیں، لیکن صرف ان باتوں کو جو کہ متعلق سیاست اور معاشرت کے ہیں، تاکہ اس سے فوائدِ ذیل حاصل ہوں۔
- اول معلوم ہونا ان کے اصولِ سیاست کا کہ وہ کیسے تھے اور کن قواعد پر مبنی تھے۔
- دوسرے ظاہر کرنا ان کے اخلاق و عادات کا کہ وہ کیسی صفائی اور سچائی اور راستی ہر معاملہ میں رکھتے تھے۔ اور غیر مذہب والوں سے کس طور سے پیش آتے تھے۔
- تیسرے ظاہر کرنا ان کے مختلف قواعدِ انتظامیہ کا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ موافق ضرورتِ وقت اور حالِ زمانہ کے اصول سیاست اور تمدن اور معاشرت کے مقرر کرنا، اور وقتاً فوقتاً ان میں اصلاح کرنا، اور نئے نئے ضابطے جو پہلے جاری نہ تھے منضبط کرنا، اور امورِ مفیدِ عام کے اجراء میں کوشش کرنا (بشرطیکہ کوئی نص کتاب و سنت سے اس کے منع اور حرمت پر نہ ہو) ان کے نزدیک بدعت نہ تھا۔
- چوتھے مخالفت ان سلاطینِ اسلامیہ کی شریعت سے جنہوں نے اپنی حرکاتِ ظالمانہ اور افعالِ جابرانہ سے اپنے بے جا تعصب اور غلط غضب کو سلطنت کے کاموں میں دخل دیا، اور ناجائز طور سے اپنے اختیاراتِ شاہی کو برتا اور اسلام کو بٹہ لگایا۔
- پانچواں واقف کرنا اپنے بھائی مسلمانوں کو ان کے پیشواؤں کے اخلاق اور عادات سے، اور ان کے قواعدِ انتظامیہ اور قوانینِ حکمیہ سے، تاکہ ان کو معلوم ہو کہ وہ امورات ِ انتظامِ سلطنت میں کیسی استعداد رکھتے تھے، اور وہ تہذیب و شائستگی کی ترویج میں کیسی سعی بلیغ کرتے تھے۔
پہلا اصول
پہلا اصول جس پر بنا خلافت کی تھی، اجتماع تھا۔ یعنی امام اور خلیفہ کا مقرر ہونا تمام امت اور رعیت کی مرضی پر موقوف تھا۔ قرابت اور رشتہ اور اِرث کو اس میں کچھ دخل نہ تھا۔ چنانچہ جب وقتِ وفات حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قریب ہوا تو لوگوں نے کہا کہ آپ اپنے بیٹے عبد اللہ کو اپنا جانشین کر دیجئے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، اس کا کچھ حق نہیں ہے۔
دوسرا اصول
دوسرا اصول خلیفہ کو آزادی اور خودمختاری کا حاصل نہ ہونا۔ امام اور خلیفہ اجرائے احکام اور انتظامِ اموراتِ سلطنت میں آزاد اور خودمختار نہ تھا، اور اپنی خواہشات اور ارادوں کو بلاقیدِ شریعت کے پورا کرنا کیسا، ظاہر بھی نہ کر سکتا تھا۔ کتاب و سنت کا پابند ہوتا تھا۔ چنانچہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے، جبکہ وہ خلیفہ مقرر ہوئے، جو پہلا خطبہ پڑھا وہ یہ تھا:
’’اے مسلمانو، میں آدمی ہوں ویسا ہی جیسے کہ تم ہو۔ نہ خطاؤں سے معصوم ہوں، نہ غلطیوں سے محفوظ۔ نہ تم سب سے بہتر اور اچھا ہوں۔ اس لیے تم میری خبرداری رکھنا۔ جو باتیں میرے خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کے موافق ہوں، ان میں میری تبعیت کرنا، اور جن میں مجھے لغزش کرتے ہوئے دیکھنا، سنبھالنا۔‘‘
تیسرا اصول
تیسرا اصول رعایا کو آزادی حاصل ہونا۔ سوائے شریعت کے احکام کے رعایا کو کسی قسم کے امام اور خلیفہ کی طرف سے پابندی نہ تھی۔ اور خلیفہ کو کسی پر کچھ اختیار، سوائے اس کے جو قانونِ شریعت سے جائز تھا، حاصل نہ تھا۔ بلکہ ذاتی معاملات میں خلیفہ خود مدعی اور خود مدعا علیہ ہوتا تھا۔ اور کوئی عامل اور والئ صوبہ اس اصول کی پابندی سے اپنے اختیارات کو ناجائز طور سے استعمال میں نہیں لا سکتا تھا۔
ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ ایک شخص نے دعویٰ کیا کہ فلاں حاکم نے مجھے بے قصور شرعی کوڑے مارے ہیں۔ حضرت عمرؓ نے بعد ثبوت کے اس حاکم کو سو کوڑے مارنے کا حکم دیا۔ عمرو بن عاصؓ نے سفارش کی تب جواب دیا کہ جب پیغمبر خدا علیہا التحیۃ والشاء اپنی ذات کو قصاص اور احکامِ شرعی سے مستثنیٰ نہیں سمجھتے تھے، تو پھر میں یا یہ کون ہیں؟
آزادی کا درجہ یہاں تک پہنچا تھا کہ اگر خلیفہ کسی شخص کو شرعی جرم میں ماخوذ کرتے یعنی بغیر ضابطہ معین کے، تو مجرم عذر کرتا اور اپنے آپ کو بچا لیتا۔ چنانچہ ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ رات کو مدینہ کا گشت کرتے کرتے ایک ایسے گھر کے پاس پہنچے کہ وہاں سے آواز گانے کی آتی تھی۔ وہ اس گھر کے اندر دیوار کی راہ سے گھس گئے، وہاں ایک عورت کو دیکھا کہ شراب رکھی ہوئی ہے اور وہ گاتی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو پکڑا، اس عورت نے کہا کہ میں نے اگر ایک گناہ کیا ہے تو تم نے تین جرم کیے ہیں:
- اول، خدا نے فرمایا ہے لا تجسسوا کہ تم تجسس نہ کرتے پھرو۔ سو تم نے تجسس کیا۔
- دوم، خدا نے فرمایا ہے لیس البر بان تاتوا البیوت من ظہورہا کہ دیوار کے پیچھے سے کسی مکان میں گھسنا اچھا نہیں ہے۔ اور تم دروازہ بند پا کر پشت مکان سے داخل ہوئے۔
- سوم، خدا فرماتا ہے لا تدخلوا بیوتا غیر بیوتکم کہ اپنے گھر کے سوا دوسرے کے گھر میں نہ جاؤ۔ اور تم بغیر میری اجازت کے چلے آئے۔
چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو چھوڑ دیا۔ حضرت عمرؓ باوجود اپنے زہد اور ورع کے کہ جس سے زیادہ خیال میں نہیں آ سکتا، عام لوگوں کو مباحات سے منع نہ کرتے تھے، اور کھانے پینے آرام کرنے میں وہ آزاد مطلق تھے۔ چنانچہ جب حضرت ابو عبیدہ بن جراحؓ نے انطاکیہ شہر کو فتح کیا، اور بہ سبب پاک صاف ہونے اس شہر کے اور اپنے عمدہ چیزوں کے مسلمانوں نے وہاں چند روز ٹھہرنے کا قصد کیا، تو انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ میں اس شہر میں ٹھہرنا پسند نہیں کرتا، ایسا نہ ہو کہ مسلمانوں کو اس کی آب و ہوا پسند آوے اور محبت دنیا کی ان پر غالب ہو جائے۔ بجواب اس کے حضرت عمرؓ نے لکھا کہ خدا نے پاک چیزوں کو حرام نہیں کیا، تم کیوں حرام کرتے ہو؟
چوتھا اصول
چوتھا اصول شورٰی۔ اس کی اصل قرآن مجید سے ہے کہ خدائے عالم نے فرمایا ہے کہ وشاورہم فی الامر فاذا عزمت فتوکل علی اللہ کہ جو کام پیش آئے اس میں صلاح مشورہ کرنا اور پھر عزم مصمم ہو جائے تو خدا پر بھروسہ کر کے اس کو شروع کرنا۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس اصول کا ہمیشہ لحاظ رکھا اور نہایت خوبی سے اس کی پابندی کی۔ جب وہ کوئی کام کرتے تو سب سے مشورہ اور صلاح کرتے اور پھر سب کو میزانِ عقل میں تولتے اور بعدہ ایک رائے پر نہایت استقلال سے قائم ہو جاتے۔ اسی واسطے تدبیرِ مملکت میں انہوں نے دھوکا نہ پایا اور ان کی سب تدبیریں مفید پڑیں۔
حضرت عمرؓ کو اس اصول کا یہاں تک لحاظ تھا کہ اگر کسی فروعی مسئلہ میں وہ نصِ صریح کتاب و سنت کی نہ پاتے تو وہ مشورہ کرتے۔ یہ چوتھا اصول بھی دوسرے اصول کا ثمرہ ہے، اس لیے کہ جب بادشاہ کو آزادی اور خودمختاری نہ ہو گی تو لامحالہ وہ صرف اپنی مرضی سے کام نہ کر سکے گا۔ اور اس کی ضرورت ان لوگوں سے پوچھنے کی ہو گی جو صائب الرائے ہوں۔ یہ اصول وہی ہے جو کہ اب تربیت یافتہ قوموں میں یورپ کی جاری ہے، جس کو باختلافِ لغت اور زبان کے کونسل کہتے ہیں۔
پانچواں اصول
پانچواں اصول خلیفہ کو ملک کی آمدنی کا سوائے حقِ معین کے اپنے صَرف میں نہ لانا۔ ملک کی آمدنی خواہ وہ جزیہ کی ہوتی ہو یا خراج کی یا عشر کی، وہ سب بیت المال میں جمع ہوتی۔ خلیفہ کو کسی قسم کا اختیار اس پر نہ تھا۔ صرف روزینہ یا تنخواہ مقرری کے سوا وہ کچھ نہ لے سکتے تھے۔ ابتدائے عہدِ خلافت میں حضرت صدیق اکبرؓ کو صرف کھانا کپڑا ملتا تھا۔ اور جب آمدنی زیادہ ہوئی تب وہ دو ہزار پانسو درہم ملنے لگے۔ اور حضرت عمرؓ بھی اپنی ذات کے واسطے صرف اس قدر لیتے جس قدر اور مہاجرین و انصار کو دیتے تھے۔
جو آمدنی ملک کی ہوتی وہ خزانہ میں جمع ہوتی۔ اور فوج کے سرداروں اور سپاہیوں اور مہاجرین و انصار کو اس سے مشاہرہ مقررہ، اور فقراء اور مساکین کو آذوقہ کافی دیا جاتا۔ اور بوقتِ ضرورت عام فائدہ کے کاموں میں صرف کی جاتی جس طرح پر کوفہ اور بصرہ وغیرہ شہروں کی آبادی اور عمارت میں، یا وقتِ ایامِ قحطِ مدینہ کے جس کا نام قحطِ مادہ ہے۔ غلہ کے باہر سے منگانے میں صَرف کی گئی ملک کی آمدنی سے جس طرح مسلمان فقراء و مساکین کو حصہ دیا جاتا، اسی طرح پر اہلِ کتاب وغیرہ کو۔ کچھ تخصیص مسلمانوں کی نہ تھی۔
ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ حضرت عمرؓ نے ایک بڈھے یہودی کو ایک جگہ سوال کرتے دیکھا اور وقتِ استفسار کے معلوم ہوا کہ جزیہ کے مطالبہ کے واسطے سوال کرتا ہے۔ اسی وقت اس کا ہاتھ پکڑ کر نہایت اخلاق سے اپنے گھر لائے اور کچھ اس کو دیا۔ اور جزیہ کے تحصیل کرنے والوں کو حکم دیا کہ اس کا اور اس قسم کے لوگوں کا خیال رکھنا، یہ کون سا انصاف ہے کہ اس کی جوانی کی کمائی تو ہم کھائیں اور بڑھاپے میں اس کو ذلیل کریں اور اس کی کچھ بھی خبر نہ لیں۔ اس لیے آئندہ ایسے لوگوں سے مطالبہ نہ کرو اور ان کو جزیہ سے معاف جانو۔ اور بیت المال کے داروغہ کو حکم دیا کہ خدا نے فرمایا ہے انما الصدقات للفقراء اور یہ بھی مساکینِ اہلِ کتاب سے ہیں اس لیے ان کو دینا چاہیے۔
چھٹا اصول
چھٹا اصول وقتِ لشکر کشی کے کسی ملک پر مراعات اور حسنِ سلوک کا لحاظ رکھنا اور کسی پر بے جا زیادتی نہ کرنا اور جہاں تک ممکن ہو نرمی سے پیش آنا۔ جب کسی ملک کے فتح کرنے کے لیے لشکر بھیجا جاتا تھا تو اس لشکر کے سردار کو جو احکام دیے جاتے تھے ان میں امورِ مفصلہ ذیل پر نہایت تاکید کی جاتی تھی:
- کوئی عورت اور لڑکا اور بڈھا اور ضعیف نہ مارا جائے۔
- کسی کا ناک کان نہ کاٹا جائے۔
- عبادت کرنے والے گوشہ نشین قتل نہ کیے جائیں، اور ان کے عبادت خانے نہ کھودے جائیں۔
- کوئی درخت پھل دار نہ کاٹا جائے، کوئی کھیت نہ جلایا جائے۔
- کوئی عمارت اور آبادی ویران نہ کی جائے۔
- کسی جانور، بکری، اونٹ وغیرہ کی کونچیں نہ کاٹی جائیں۔
- کوئی کام بغیر صلاح و مشورہ کے نہ ہو۔
- ہر ایک کے ساتھ طریقۂ انصاف اور عدل کا برتاؤ کیا جائے، کسی پر ظلم اور جبر نہ کیا جائے۔
- جو عہد و پیمان غیر مذاہب والوں سے کیا جائے، اس میں بے وفائی نہ کی جائے اور وہ ٹھیک ٹھیک وفا کیا جائے۔
- جو لوگ اطاعت قبول کریں اور جزیہ دیں ان کی جان و مال مسلمانوں کی جان و مال کے برابر سمجھی جائیں، اور ان کے دشمنوں سے ان کی حفاظت کی جائے، اور تمام معاملات میں ان کے احکام مثل مسلمانوں کے تصور کیے جائیں۔
- جب تک اسلام کے قبول کرنے کی دعوت نہ دی گئی ہو ۔۔ لڑنا نہ چاہیے۔
ان احکام پر غور کرنے سے ثابت ہوتا ہے کہ مقابلہ اور لشکر کشی کے وقت کیسی نیکی اور رحم اور نرمی کی رعایت کی جاتی تھی۔ اور غدر، فریب اور بدعہدی پر کس قدر تہدید ہوتی تھی۔ کوئی بادشاہ نیک سا نیک اور رحیم سا رحیم کیوں نہ ہو، لشکر کشی کے وقت اس سے زیادہ نرمی نہیں کر سکتا۔
ساتواں اصول
اموراتِ ریاست اور انتظامِ سلطنت کے عمدہ انصرام کے لیے لائق عہدہ داروں اور اہل کاروں کا منتخب کرنا، ان کو وقت مقرر کرنے کے ہدایات خاص کرنا اور ہمیشہ ان کی نگرانی رکھنا۔ جس عامل کو حضرت عمرؓ مقرر کرتے اس کو احکامِ ذیل سناتے اور اس کی تعمیل کی تاکید کرتے:
- جوبدار اور حاجب نہ رکھنا۔ کسی مستغیث کو آنے کی روک ٹوک کا ذریعہ پیدا نہ کرنا۔ گویا یہ حکم تھا کہ درِ عدالت کو ہر وقت کھلا رکھنا۔
- جب کوئی استغاثہ کرے اس کو سننا۔ اور مدعی سے گواہ عادل اور منکر سے قسم لے کر اس کو فیصلہ کرنا۔ جس شخص پر حدِ شرعی جاری نہ ہوئی ہو، یا جھوٹی شہادت میں مشہور نہ ہو، یا اس پر محبت اور وراثت کی تہمت نہ ہو، وہ عادل سمجھا جائے گا۔
- مقدمات کا جلد فیصلہ کرنا تاکہ ایسا نہ ہو کہ مدعی دیر کے سبب سے اپنا دعویٰ چھوڑ بیٹھے۔
- باہم مصالحہ اور رضامندی کو منظور کرنا، بشرطیکہ اس سے تحلیل حرام اور تحریم حلال نہ ہو۔
- متخاصمین پر سختی اور درشتی اور غصہ نہ کرنا۔
- رعب قائم رکھنا مگر نہ اتنا کہ وہ منجربہ جبر ہو۔ اور اخلاق و نرمی کرنا مگر نہ اس قدر کہ حکومت میں سستی اور بد رعبی ہو۔
- ہمیشہ عدل اور انصاف کرنا اور حق بہ حق دار پہنچانا۔
عدل اور انصاف پر یہاں تک حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا عمل رہتا تھا کہ وہ مسلمان اور کافر میں کچھ تفرقہ نہ کرتے تھے۔ چنانچہ سعید بن مسیبؓ سے منقول ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک یہودی اور ایک مسلمان مخاصمہ کرتے ہوئے آئے، اور ان کے نزدیک حق یہودی کا ثابت ہوا، اسی کے حق میں فیصلہ کیا۔ وہ یہودی اس عدل کو دیکھ کر مدح و ثنا کرنے لگا۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ جس طرح اپنے عاملوں کو تاکید کرتے تھے، اسی طرح رعایا کو بھی آگاہ کر دیا کرتے تھے کہ سوائے شریعت کے احکام کے کسی اعلیٰ سے اعلیٰ حاکم کو ادنیٰ سے ادنیٰ رعیت پر کچھ اختیار نہیں ہے کہ اگر کوئی عامل کچھ کسی پر جبر و زیادتی کرے میں اس کو اسی طرح مجرم سمجھوں گا جیسا کہ ادنیٰ رعیت کو سمجھتا ہوں اور اس کو سزا دوں گا۔ سب اپنی عزت اور جان اور مال میں سوائے احکامِ شرعی کے آزاد اور خودمختار ہیں اور حاکم اور رعیت سب برابر۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنے عاملوں کو خودمختار اور آزاد نہ ہونے دیتے تھے، ان کی نگرانی کرتے، ہمیشہ ان کی تبدیلی کیا کرتے۔ ان سے اگر خطا ہو جاتی تو معزول کر دیا کرتے۔ جواب دہی کے لیے دارالخلافہ میں طلب کرتے، بعض قصوروں میں ان پر جرمانہ کرتے۔
آٹھواں اصول
امورِ مملکت کے انتظام کی نظیر سے قوانین اور ضوابطِ جدید کا جاری کرنا، اور وقتاً فوقتاً موقع اور مصلحتِ وقت دیکھ کر اس کی اصلاح و ترمیم کرنا، بشرطیکہ کوئی نصِ صریح اس کی حرمت پر کتاب و سنت کی موجود نہ ہو۔
آج کل کے زمانہ میں جہاں کسی نے کوئی نئی بات کی، گو اس کو ثواب اور عذاب سے علاقہ نہ ہو، لوگ بدعت کہنے لگتے ہیں اور اس کو حرام اور منع بتلاتے ہیں، اور یہ نہیں جانتے کہ جس بات کو شرع نے حرام کر دیا ہے اس کو چھوڑ کر سب چیزیں مباح ہیں۔ اس لیے الاصل فی الاشیاء الاباحہ اور یہ نہیں سوچتے کہ ان امور میں جو کہ متعلق سیاست، مدن اور معاشرت کے ہیں، ہمیشہ اختلافِ زمانہ سے اختلاف ہوتا رہتا ہے۔ اور ان کا ترمیم کرنا اور ان میں اصلاح دینا ضروری ہو جاتا ہے۔ ان میں اسی قاعدہ کا لحاظ کرنا چاہیے جس کا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت میں کیا۔ یعنی محرماتِ منصوصہ کو چھوڑ کر ان باتوں کو اختیار کرنے میں، جو کہ ان کے زمانہ کے مناسب حال تھیں، کچھ ذرا سا بھی تامل نہ کیا، اور کسی نے اس کو بدعت نہ کہا۔
پہلا نیا کام جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کیا وہ دفتر اور کچہری کا مقرر کرنا اور لشکریوں اور ملازموں اور روزینہ والوں کا نام لکھا جانا اور ان کی تنخواہیں مقرر کرنا ہے۔ قبل حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے جو مالِ غنیمت کا آتا تھا، ویسا ہی تقسیم کر دیا جاتا تھا۔ نہ نام پانے والے کا، نہ تعداد اس مال کی لکھی جاتی تھی۔ مگر جب کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس قاعدہ میں ترمیم کی حاجت معلوم ہوئی تب مشورہ کیا۔ ولید ابن ہشامؓ نے کہا کہ میں نے پادشاہانِ شام کے ہاں دیکھا ہے کہ وہ دفتر رکھتے ہیں اور اس میں حساب کتاب تحریر رہتا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو پسند کیا۔ اور عقیل ابن ابی طالبؓ اور ورقہ بن نوفلؓ اور جبیر بن مطعمؓ کو بطور منشی کے مقرر کیا۔ اور سب کے نام لکھنے کا ان کو حکم دیا اور یہ کام حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ۲۰ھ محرم کے مہینے میں کیا۔
دوسرا کام جو انہوں نے کیا، وہ تاریخِ ہجری کا جاری کرنا ہے۔ اس کا پہلے ان کے رواج نہ تھا۔
تیسرا کام ان کا خزانہ کا مقرر کرنا ہے۔ جس کو ہماری اصطلاح میں بیت المال کہتے ہیں۔
چوتھا کام ان کی تقسیمِ اختیارات اور عہدوں کا ہے۔ اس سے پہلے جو کام ہوتا تھا وہ ایک ہی شخص کرتا تھا۔ مگر بخیال اس کے کہ اس میں چند قباحتیں نظر آئیں، اس کو بدل دیا اور تین قسم کے عہدہ دار مقرر کیے۔ ایک امیر جس کے متعلق انتظام کُل امورِ ریاست کا ہوتا ہے، اور جس کے اختیار میں فوج رہتی تھی۔ دوسرا قاضی کا کام انفصالِ خصومات اور تصفیۂ حقوق تھا۔ تیسرا تحویل دار جس کے سپردگی میں خزانہ رہتا تھا۔ اور ایک دوسرے کے کام سے کچھ تعلق نہ تھا۔
پانچواں کام ان کا جو سننے والوں کو متعجب کرتا ہے، مقرر کرنا قواعدِ خراج اور محصول کا۔ محصول لینے کے چند طریقے رکھے گئے تھے۔ ایک جزیہ، اگر وہ برضامندی دینے والے کے ٹھہرتا تو اس میں کمی بیشی نہ ہوتی، ورنہ بشرح مختلف لیا جاتا، مگر درہم ماہواری سے زایدہ نہیں۔ دوسرا محصولِ تجارتی پر، جس کی شرح یہ تھی: ذمیوں سے پانچ روپیہ سینکڑہ اور حربیوں سے دس روپے سینکڑہ، لیکن یہ محصول سالانہ ہوتا تھا۔ اگر وہ مال سال بھر میں چند مرتبہ آوے تو پھر کبھی اس سے نہ لیا جاتا تھا۔ اور اگر کوئی تحصیل کنندہ غلطی سے لیتا تو وہ واپس کر دیا جاتا، جیسا کہ ایک عیسائی تاجر کو پھیر دیا گیا۔ تیسرا محصول زمین کا۔ اس محصول کے اس وقت باقاعدہ مقرر ہونے پر لوگوں کو تعجب ہو گا کہ وہ فی جریب شرح مقرر پر بعد پیمائش اراضی کے اکثر جگہ لیا جاتا تھا۔ چنانچہ جب ملک عراق فتح ہوا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ اس زمین کی پیمائش کی جائے۔ چنانچہ عثمان بن حنیفؓ اور حذیفہ ابن یمانؓ اس کام پر مقرر ہوئے۔ بعد پیمائش کے معلوم ہوا کہ کل اراضی تین کروڑ ساٹھ لاکھ جریب ہے۔ اس پر موافق حیثیت پیداوار اراضی کے شرح مقرر کی گئی۔ اور یہ صرف عراق میں جاری نہیں ہوا بلکہ شام اور دیگر جزائر میں بھی اسی طور پر کیا گیا۔ لیکن سب مقبوضہ میں اس کا رواج نہ ہونے پایا۔ محصول کے تحصیل کرنے میں نہایت آسانی کا حکم تھا۔ اور تکلیفِ جسمانی دینے کی سخت ممانعت تھی۔ چنانچہ ایک مرتبہ خود حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے وقتِ مراجعتِ سفرِ شام کے دیکھا کہ ایک قوم کی قوم کو تحصیل کرنے والے محصول کے ستاتے ہیں۔ آپ نے ان کو چھڑا دیا اور فرمایا کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جو لوگ دنیا میں عذاب دیتے ہیں وہ قیامت میں عذاب کیے جائیں گے۔ جو ملک فتح کیا جاتا اور مصالحہ کیا جاتا تو یہ شرطیں عہد نامہ میں داخل ہوتیں (۱) خراج کی تفصیل (۲) جو مسلمان ان کے ملک میں گزرے اس کی تین روز تک مہمانی کرنا (۳) راہ بتلانا (۴) دشمنوں سے سازش نہ کرنا (۵) مجرم کو پناہ نہ دینا۔
چھٹا کام ان کا زمین کی آبادی میں سعی کرنا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حکم دیا تھا کہ جو زمین بنجر کو مزرعہ کرے وہ زمین اسی کی ہو جائے گی۔ غرض اس حکم سے یہ تھی کہ لوگ زراعت کرنے لگیں۔
ساتواں کام ان کا شہروں کی آبادی تھی۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس جگہ پر جہاں اب بصرہ شہر آباد ہے، بنیاد آباد کرنے کی ڈالی اور بصرہ کو آباد کیا۔ قبل اس کے وہ مقام ایسا تھا کہ جہاں جہاز اور کشتیاں عجم اور ہند کی لنگر کرتی تھیں۔ بنظرِ حفاظت ملک کے دشمنوں سے اور بنظرِ فائدۂ تجارت کے اس شہر کو آباد کیا اور وہاں ایک فوج کی چھاؤنی مقرر کی۔ دوسرا کوفہ بھی آباد کیا ہوا ان کا ہے۔ اس کے آباد کرنے کا یہ سبب ہے کہ جب مسلمان شہر مداین میں بہت سے ہو گئے تو وہاں کی آب و ہوا بگڑ گئی اور لوگ بیمار ہو گئے۔ تب سعد ابن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو عمدہ اور پھونس کے چھپر کا حکم دیا، لیکن پھر اس میں پختہ عمارت بنوانے کی اجازت دی۔
آٹھواں کام ان کا تجارت کی آزادی ہے۔ تمام لوگوں کو بِلحاظ مذہب اور دین کے تجارت کرنے کی اجازت تھی۔ بلکہ حربیوں کو حکمِ عام تھا کہ وہ مجاز ہیں کہ دارالاسلام میں آئیں اور مسلمانوں سے خرید و فروخت کریں۔ مدین شہر کے حربیوں نے درخواست کی کہ ہم کو عشر لے کر آنے کی اجازت ہو، چنانچہ ان کو اجازت دی گئی۔
جداگانہ انتخابات اور انسانی حقوق
ادارہ
ورلڈ اسلامک فورم کی ماہانہ فکری نشست ۱۹ اپریل ۱۹۹۵ء کو بعد نماز عصر مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں مولانا زاہد الراشدی کی زیرصدارت منعقد ہوئی جس میں متعدد رفقاء نے شرکت کی۔ جبکہ جناب محمد اقبال بھٹی ایڈووکیٹ، پروفیسر حافظ عبید اللہ عابد، راؤ مظفر حسین اور صدر نشست نے ’’جداگانہ انتخابات اور انسانی حقوق‘‘ کے عنوان پر اظہار خیال کیا۔
مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ بعض مخصوص لابیوں کی طرف سے پاکستان میں جداگانہ انتخابات کے قانون کو اقلیتوں کے انسانی حقوق کے منافی قرار دینے کی جو مہم جاری ہے وہ غیر حقیقت پسندانہ ہے۔ کیونکہ اقلیتوں کو ان کی آبادی کے تناسب سے اسمبلیوں میں جداگانہ نمائندگی کا حق ان کے سیاسی حقوق کے تحفظ کی علامت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے بعد برصغیر میں مسلمانوں نے اپنی سیاسی اور آئینی جدوجہد کا آغاز ہی جداگانہ تشخص اور جداگانہ انتخاب کے ذریعے علیحدہ نمائندگی کے مطالبات سے کیا اور اسی کے نتیجے میں پاکستان کا قیام عمل میں لایا گیا۔
مقررین نے کہا کہ جداگانہ انتخابات کی نفی قیامِ پاکستان کے سیاسی پس منظر اور دو قومی نظریہ کی نفی ہے جس کی پاکستان میں اجازت نہیں دی جا سکتی۔
مقررین نے کہا کہ پاکستان میں سنجیدہ مسیحی تنظیمیں اب تک جداگانہ انتخابات کا مطالبہ کرتی رہی ہیں، اور امرِ واقعہ یہ ہے کہ جداگانہ انتخابات کے ذریعے مسیحی اقلیت کو اسمبلیوں میں جس قدر نمائندگی حاصل ہے، مخلوط الیکشن میں وہ اس کے چوتھے حصے کا تصور بھی نہیں کر سکتی۔ لیکن بعض بین الاقوامی لابیوں کے اشارے پر چند ناعاقبت اندیش مسیحی لیڈر جداگانہ انتخابات کی مخالفت کر کے خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار رہے ہیں۔
مقررین نے کہا کہ جہاں تک سیاسی مفاد کا تعلق ہے ملک کی اسلامی مذہبی قوتوں کا مفاد اس میں ہے کہ مخلوط الیکشن ہوں کیونکہ اس صورت میں اقلیتوں کے اس قدر نمائندے اسمبلیوں میں آ ہی نہیں سکیں گے کہ وہ کسی مسئلہ میں مشکلات پیدا کر سکیں، یا ان کی آواز میں کوئی وزن ہو۔ لیکن اصول کا تقاضہ یہ ہے کہ مسیحیوں سمیت تمام اقلیتوں کو اسمبلیوں میں ان کی آبادی کے تناسب سے نمائندگی کا حق دیا جائے، اور ایسا کرنا الیکشن کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
مقررین نے کہا کہ مسیحی اقلیت کے بعض لیڈروں کی طرف سے جداگانہ الیکشن کی مخالفت دراصل مسیحیوں کا مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان کے اندر قادیانیوں کا اور عالمی سطح پر سیکولر لابیوں کا مسئلہ ہے، جس کے لیے یہ مسیحی لیڈر بلاوجہ استعمال ہو رہے ہیں، کیونکہ قادیانیوں نے اپنے بارے میں پاکستان کے دستور کا یہ فیصلہ ابھی تک تسلیم نہیں کیا کہ وہ مسلمانوں سے الگ ایک غیر مسلم اقلیت ہیں۔ اس لیے اگر وہ جداگانہ الیکشن کو تسلیم کر لیتے ہیں تو عملاً دستوری فیصلہ تسلیم ہو جاتا ہے اور وہ اقلیت کی پوزیشن میں چلے جاتے ہیں۔ جبکہ قادیانی خود کو اقلیت تسلیم نہیں کرتے اور وہ پاکستان کے دستور سے اس معاملہ میں منحرف ہیں۔ لیکن انہوں نے اس مسئلہ میں خود آگے آنے کی بجائے مسیحی اقلیت کے بعض لیڈروں کو ورغلا کر آگے کر دیا ہے اور خود پس منظر میں رہ کر جداگانہ الیکشن کے قانون کو ختم کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ کے اضافہ کی اصل زد قادیانیوں پر پڑتی ہے کیونکہ انہیں اس صورت میں خود کو غیر مسلم ظاہر کرنا پڑتا ہے جو ان کے جماعتی موقف کے خلاف ہے۔ لیکن انہوں نے یہاں بھی مسیحی لیڈروں کو استعمال کرنے کی حکمتِ عملی اختیار کی اور مسیحی جماعتوں نے شور مچایا کہ شناختی کارڈ میں مذہب کے خانے کا اضافہ ان کے بنیادی حقوق کے منافی ہے۔ حالانکہ دنیا کے کسی بھی خطہ میں کسی بھی شخص کے تعارف میں اس کے مذہب کا ذکر کر دیا جائے تو اس کا کوئی انسانی حق متاثر نہیں ہوتا، سوائے اس شخص کے جو اپنے مذہب کو جان بوجھ کر چھپانا چاہتا ہے اور اپنا مذہب چھپانے کو بھی اپنا حق قرار دیتا ہے۔ ورنہ کوئی بھی شخص جو اپنے مذہب پر سچے دل سے یقین رکھتا ہے اسے اپنے مذہب کے اظہار اور مذہب کے حوالے سے اپنے تعارف پر کوئی حجاب نہیں ہو سکتا، اور نہ ہی اس سے اس کا کوئی انسانی حق پامال ہوتا ہے۔
مقررین نے کہا کہ جداگانہ الیکشن کے خلاف چند مسیحی لیڈروں کی منفی مہم کی دوسری وجہ بین الاقوامی سیکولر لابیاں ہیں جنہیں پاکستان کی اسلامی نظریاتی حیثیت اور دستور پاکستان کی اسلامی دفعات پر اعتراض ہے۔ اور وہ پاکستان کے اسلامی تشخص اور دستور پاکستان کی اسلامی دفعات کو ختم کرا کے پاکستان کو ایک سیکولر ریاست بنانا چاہتی ہیں، اور وہ اپنے سیکولر مقاصد کے لیے پاکستان کی مسیحی تنظیموں کو استعمال کر رہی ہیں۔
مقررین نے کہا کہ پاکستان میں جداگانہ الیکشن کا قانون ختم کرنے سے جہاں قیامِ پاکستان کے سیاسی اور نظریاتی پس منظر کی نفی ہو گی وہاں اس خدشہ کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ انتخابات میں مذہب کا حوالہ ختم کرنے کے بعد صدر پاکستان اور وزیر اعظم جیسی کلیدی اسامیوں کے لیے مسلمان ہونے کی شرط بھی ختم کر دی جائے۔ اور پھر ہارس ٹریڈنگ کے روایتی طریقوں سے کام لیتے ہوئے کسی غیر مسلم کو صدر یا وزیراعظم کے منصب پر مسلط کر دیا جائے، جو پاکستان کے خلاف مغربی قوتوں کے عزائم کی تکمیل بہتر طریقے سے کر سکے۔
مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کی مذہبی اور سیاسی جماعتیں اور اہلِ دانش اس مسئلہ کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لیں اور رائے عامہ کی راہنمائی کرتے ہوئے اس سلسلہ میں صورتحال کا صحیح تجزیہ لوگوں کے سامنے پیش کریں۔ اور اس کے ساتھ سنجیدہ مسیحی لیڈروں سے رابطہ اور ملاقاتیں کر کے انہیں بھی یہ بات سمجھانے کی کوشش کی جائے کہ وہ عالمی سیکولر لابیوں اور پاکستان کی قادیانی اقلیت کے مفادات کے لیے استعمال نہ ہوں اور جداگانہ انتخابات کی مخالفت کر کے اسمبلیوں میں مسیحیوں کی آبادی کے تناسب سے نمائندگی کے مواقع کو ضائع نہ کریں۔
توہینِ رسالتؐ کی سزا کے قانون میں مجوزہ ترامیم کے بارے میں
گوجرانوالہ میں مجلسِ مذاکرہ
ادارہ
پاکستان سماجی اتحاد کے چیئرمین جناب محمد اکرم چوہان ایڈووکیٹ کی دعوت پر مختلف مکاتبِ فکر کے علماء کرام اور دانشوروں کا ایک اجتماع مجلسِ مذاکرہ کے عنوان سے ان کی رہائشگاہ ۱۹ گورونانک پورہ گوجرانوالہ میں یکم مئی ۱۹۹۵ء کو منعقد ہوا جس کی صدارت ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر چودھری جلیل احمد خان ایڈووکیٹ نے کی۔ مجلس مذاکرہ کا عنوان تھا ’’توہینِ رسالتؐ کی سزا کے قانون میں مجوزہ ترامیم اور دینی حلقوں کی ذمہ داریاں‘‘۔
مجلسِ مذاکرہ سے ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا زاہد الراشدی، مرکزی جمعیت اہل حدیث پنجاب کے امیر مولانا محمد اعظم، آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے راہنما سردار محمد عارف ایڈووکیٹ، جمعیت علماء پاکستان کے راہنما مولانا نصرت اللہ مجددی، جماعت مبلغین اہلِ سنت کے سربراہ مولانا محمد نواز بلوچ، تحریک منہاج القرآن کے راہنما مولانا رحمت اللہ نوری، اور جمعیت اہلِ حدیث کے راہنما مولانا محمد عمر فاروق نے خطاب کیا۔ جبکہ سابق صوبائی وزیر تعلیم جناب عثمان ابراہیم بار ایٹ لاء بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے۔ اور پاکستان سماجی اتحاد کے راہنما شیخ عبد الستار قادری نے اسٹیج سیکرٹری کے فرائض سرانجام دیے۔ مجلسِ مذاکرہ میں مذکورہ بالا راہنماؤں کے علاوہ مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔
جناب محمد اکرم چوہان ایڈووکیٹ نے مذاکرہ کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس کا تحفظ ہمارے ایمان کا تقاضہ ہے اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا کسی بھی سچے پیغمبر کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کر سکتے۔ یہ ہمارا ایمان ہے لیکن مغربی قوتیں ہمیں اس ایمان اور محبتِ رسولؐ سے محروم کر دینا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں گستاخئ رسولؐ پر موت کی سزا کا قانون موجود ہے لیکن حکومتِ پاکستان مغربی قوتوں کے دباؤ پر اس قانون میں ترامیم کر کے اسے غیر مؤثر بنا دینا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گستاخئ رسولؐ کے سلسلہ میں کسی اطلاع کے درست ثابت نہ ہونے پر اطلاع دینے والے کو دس سال قید کی سزا اور مقدمہ کے اندراج سے قبل ڈپٹی کمشنر کی انکوائری کی شرط عملاً توہینِ رسالتؐ پر موت کی سزا کو ختم کرنے کے مترادف ہے۔ کیونکہ موجودہ عدالتی سسٹم میں اس صورت میں کوئی شخص گستاخئ رسولؐ کے واقعہ کی اطلاع دینے کا حوصلہ نہیں کر سکے گا، اور توہینِ رسالتؐ کے مقدمہ کا اندراج صرف ایک ڈپٹی کمشنر کی صوابدید پر موقوف ہو کر رہ جائے گا۔ اس لیے حکومتِ پاکستان کی مجوزہ ترامیم کو کسی صورت میں قبول نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے علماء کرام اور وکلاء پر زور دیا کہ وہ اس سلسلہ میں اپنا کردار ادا کریں اور توہینِ رسالتؐ پر موت کی سزا کے قانون کو بے اثر بنانے کی اس سازش کو ناکام بنانے کے لیے منظم جدوجہد کریں۔
مولانا محمد اعظم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عقیدت و محبت ہمارے ایمان کی بنیاد ہے اور اس کے بغیر کسی شخص کا ایمان کامل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ توہینِ رسالتؐ پر موت کی سزا کا قانون شریعتِ اسلامیہ کا قانون ہے جس کو ختم کرنے یا غیر مؤثر بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اور علماء کرام اس سلسلہ میں کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔
مولانا محمد نواز بلوچ نے مجلسِ مذاکرہ میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں مغرب کے اثرات میں مسلسل اضافہ اور ہمارے مذہبی معاملات میں مغربی حکومتوں کی مداخلت کے حوالے سے علمائے کرام کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا چاہیے کیونکہ وہی اپنے فرائض کو صحیح طور پر ادا کر کے قوم کو اس بحران سے نکال سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علماء کرام کو گروہی انا اور فرقہ وارانہ کشمکش کے دائرے سے نکلنا ہو گا ورنہ وہ اپنا کردار صحیح طور پر ادا نہیں کر سکیں گے۔
مولانا رحمت اللہ نوری نے کہا کہ اصل ضرورت قوم میں وحدت کے جذبہ کو ابھارنے اور دینی غیرت کو بیدار کرنے کی ہے۔ اور یہ کام علماء کرام اور دانشور مل کر کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام اور پاکستان کے خلاف مغرب کی سازشوں کو بے نقاب کرنا وقت کا سب سے ہم تقاضہ ہے۔
مولانا نصرت اللہ مجددی نے کہا کہ علماء کرام نے اس سے قبل بھی جب اتحاد کا مظاہرہ کیا ہے، قوم نے ان کا ساتھ دیا ہے۔ اور اب بھی علماء کرام متحد ہو جائیں تو وہ بڑی سے بڑی طاقت کو شکست دے سکتے ہیں۔
مولانا محمد عمر فاروقی نے کہا کہ مسلمان سب کچھ برداشت کر سکتے ہیں لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کو برداشت نہیں کر سکتے، اس لیے حکومت کو مسلمانوں کے جذبات سے نہیں کھیلنا چاہیے۔
سردار محمد عارف ایڈووکیٹ نے کہا کہ مغربی قوتیں پاکستان کو اس کے اسلامی تشخص سے محروم کرنے کے لیے پوری طرح سرگرمِ عمل ہیں اور بے شمار لابیاں اس سلسلہ میں منظم کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مغرب والے ہم پر بنیاد پرست ہونے کا الزام لگاتے ہیں لیکن سلمان رشدی، تسلیمہ نسرین اور پاکستان کے گستاخِ رسول عیسائیوں کو جس طرح مغربی حکومتوں نے پذیرائی بخشی ہے اس سے پوری طرح اندازہ ہو جاتا ہے کہ اصل بنیاد پرست کون ہے۔
مہمان خصوصی جناب عثمان ابراہیم بارایٹ لاء نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت مغرب کی سرپرستی میں کام کر رہی ہے اور مغرب کے اثرات کو ہمارے معاشرہ میں پھیلانے کی کوشش میں مصروف ہے۔ اس لیے علماء اور دانشوروں کو چاہیے کہ وہ اس حکومت سے قوم کو نجات دلانے کے لیے جدوجہد کریں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکمرانوں کے کارناموں کی ذمہ داری میں وہ لوگ بھی برابر کے شریک ہیں جو اس حکومت کو برسراقتدار لانے کا باعث بنے ہیں۔ اس لیے عوام کو ان سے خبردار رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ فیصلہ اب عوام کے ہاتھ میں ہے اور عوام اگر اپنی رائے کا صحیح استعمال کریں تو موجودہ حکومت سے نجات حاصل کرنا مشکل نہیں ہے۔
مجلسِ مذاکرہ کے صدر جناب چودھری جلیل احمد خان ایڈووکیٹ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم جو باتیں یہاں کہہ رہے ہیں ان پر عمل بھی کریں، کیونکہ جناب رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا میں کامیابی عمل اور کردار کی بنیاد پر حاصل کی تھی، اور آپؐ نے اس بات کی تلقین فرمائی ہے کہ ہم جو کچھ زبان سے کہتے ہیں اس پر عمل کا اہتمام کریں۔
مجلسِ مذاکرہ سے ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا زاہد الراشدی نے تفصیلی خطاب کیا اور اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مغربی لابیوں کی مہم کا جائزہ لیتے ہوئے علمائے کرام اور دانشوروں پر زور دیا کہ وہ مغرب کے چیلنج کو سمجھنے کی کوشش کریں، جو کمیونزم کے ساتھ سرد جنگ کے خاتمہ کے بعد اسلامی تہذیب و معاشرت کے خلاف مورچہ زن ہو گیا ہے۔ اور ’’انسانی حقوق‘‘ کے نام پر نہ صرف اسلامی احکام و قوانین کا مذاق اڑایا جا رہا ہے بلکہ عالمِ اسلام میں مغرب پرست مسلمان حکومتوں کے ذریعے اسلامی معاشرت کے اثرات کو مٹانے کے لیے بھی پوری قوت صَرف کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سلمان رشدی، تسلیمہ نسرین اور پاکستان کے گستاخانِ رسولؐ کی پشت پناہی کر کے مغربی حکومتوں نے واضح کر دیا ہے کہ مغرب دراصل مسلمانوں کے خلاف عقیدہ کی جنگ لڑ رہا ہے، اور ملتِ اسلامیہ کو اس کے عقائد سے محروم کرنا چاہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی خوفناک نظریاتی جنگ ہے جس کا ادراک کرنا ضروری ہے کیونکہ مغربی حکومتیں اور لابیاں قادیانیوں اور گستاخانِ رسولؐ کی پشت پناہی کر کے صرف ہمارے عقیدۂ ختمِ نبوت اور محبتِ رسولؐ کو چیلنج نہیں کر رہیں بلکہ جرائم کی شرعی سزاؤں کو بھی وحشیانہ اور ظالمانہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اور نکاح و طلاق کے حوالے سے ہمارے مذہبی قوانین کو بین الاقوامی معیار کے منافی قرار دے کر انہیں تبدیل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم مغرب کی مہم کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لیں اور پورے حوصلہ، تدبر اور جرات کے ساتھ اس کے مقابلہ کا اہتمام کریں۔
تعارف و تبصرہ
ادارہ
’’خطباتِ سواتی‘‘
حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی دامت برکاتہم گذشتہ نصف صدی سے جامع مسجد نور مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں خطبات کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ اور شہر کا تعلیم یافتہ طبقہ خصوصیت کے ساتھ ان کے خطبات سے مستفید ہوتا ہے۔ دینی مسائل و احکام کی وضاحت، روزہ مرہ پیش آنے والے معاملات میں راہنمائی، اور باطل نظریات و عقائد کا رد ان خطبات کا خصوصی امتیاز ہے۔ حضرت صوفی صاحب مدظلہ کے دروسِ قرآن کریم اور دروسِ حدیث کے مرتب الحاج لعل دین ایم اے نے خطبات کو مرتب کرنے کا سلسلہ بھی شروع کر دیا ہے جو بلاشبہ علوم و معارف کے ایک خزینہ کو جمع کرنے کی کوشش ہے اور علماء و خطباء پر بہت بڑا احسان ہے۔
زیر نظر مجموعہ ’’خطباتِ سواتی‘‘ کی پہلی جلد ہے جس میں ۲۱ مئی ۱۹۸۲ء سے ۱۵ اکتوبر ۱۹۸۲ء تک کے ۲۲ خطباتِ جمعہ کو ترتیب کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ اور یہ خطبات واقعہ معراج النبیؐ، شبِ برات، رمضان المبارک، عید مبارک، اکل بالباطل، اونچی گھاٹی پر چڑھنا، آزادی اور غلامی میں امتیاز، یہودی عوام و خواص کی خرابیاں، آخرت کا گھر، شرائطِ بیعت، اور قربانی کا فلسفہ جیسے اہم موضوعات کا احاطہ کرتے ہیں۔ پہلی جلد پونے چار سو صفحات پر مشتمل ہے اور عمدہ کتابت و طباعت کے ساتھ مضبوط جلد سے مزین ہے۔ اسے مکتبہ دروس القرآن فاروق گنج گوجرانوالہ نے شائع کیا ہے اور اس کی قیمت صرف ۹۰ روپے ہے۔
’’پاکستان کی سیاسی جماعتیں اور تحریکیں‘‘
حافظ تقی الدین صاحب ہمارے محترم دوست ہیں، مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ کے سابق خطیب محدثِ پنجاب حضرت مولانا عبد العزیز سہالوی نور اللہ مرقدہ کے فرزند ہیں، اور پرانے سیاسی کارکن ہیں۔ انہوں نے سیاسی زندگی کا آغاز جمعیت علمائے ہند سے کیا اور پھر خدائی خدمت گار تحریک اور نیشنل عوامی پارٹی کے ساتھ زیادہ ذہنی لگاؤ کے باعث اس کیمپ میں منتقل ہو گئے اور ساری عمر وفاداری کے ساتھ وہیں گزار دی۔
حافظ صاحب موصوف نے مذکورہ بالا عنوان کے تحت اپنی یادداشتوں کو مرتب کر کے تاریخ کے حوالے کیا ہے اور اس پر اچھی خاصی محنت کی ہے۔ تاریخ کا بنیادی مواد اسی قسم کی یادداشتیں ہوتی ہیں۔ اور اس طرح انہوں نے مستقبل کے مؤرخ کے لیے اپنی یادداشتوں کا ذخیرہ پیش کر دیا ہے۔ اس مجموعہ میں تقسیمِ ہند سے قبل کی سیاسی تحریکات اور قیام پاکستان کے بعد کی سیاسی جماعتوں اور تحریکات کا تذکرہ ہے۔ لیکن یوں محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے محنت و مشقت کے باوجود زیادہ انحصار اپنی یادداشت پر ہی کیا ہے جس کی وجہ سے بہت سے مقامات پر واقعات کی ترتیب اور واقعیت معیاری نہیں رہی۔
مثلاً جمعیت علماء اسلام کے دورِ ثانی کے حوالے سے انہوں نے مولانا مفتی محمودؒ کی طرف سے ملتان میں بلائے گئے کنونشن کا ذکر کرتے ہوئے مفتی صاحب کو خیر المدارس کا مدرس لکھا ہے۔ کنونشن کے شرکاء میں مولانا احتشام الحق تھانویؒ کا نام شامل کر دیا ہے بلکہ انہیں جمعیت کا سیکرٹری جنرل لکھ دیا ہے۔ جبکہ مولانا غلام غوث ہزارویؒ کو مغربی پاکستان کا امیر قرار دیا ہے۔ اور کنونشن کا سن انعقاد ۱۹۵۴ء لکھا ہے۔ حالانکہ ان میں سے کوئی بات بھی درست نہیں ہے۔ اگر حافظ صاحب موصوف تھوڑی سی محنت واقعات کی ترتیب کو ریکارڈ کے حوالے سے درست کرنے پر صَرف کر لیتے تو ان کی اس کاوش کی افادیت دوچند ہو جاتی۔
بہرحال حافظ تقی الدین کی محنت قابلِ داد ہے اور دیگر سیاسی نظریاتی کارکنوں کے لیے اپنی یادداشتوں کو مرتب کرنے کی اچھی ترغیب ہے۔ چھ سو صفحات کی یہ ضخیم کتاب ’’فکشن ہاؤس ۱۸ مزنگ روڈ لاہور‘‘ نے شائع کی ہے اور اس کی قیمت تین سو روپے ہے۔
’’سید امین گیلانی کی تصانیف‘‘
الحاج سید امین گیلانی کا شمار ملک کے ممتاز شعراء میں ہوتا ہے اور وہ بزم سے زیادہ رزم کے شاعر ہیں۔ تحریک آزادی، تحریک ختم نبوت، تحریک نفاذ شریعت اور دیگر دینی و قومی تحریکات میں انہوں نے جس انداز میں لوگوں کے دلوں کو گرمایا اور برمایا ہے، وہ ان تحریکات کی تاریخ کا ایک مستقل باب ہے۔ گیلانی صاحب کے متعدد شعری مجموعے منظر عام پر آ چکے ہیں۔ اور اس کے علاوہ وہ اکابر علماء حق کے ساتھ رفاقت کے دنوں کی یادیں صفحۂ قرطاس پر منتقل کرنے کا بھی ذوق رکھتے ہیں اور ان کی یادداشتوں کے کئی مجموعے چھپ چکے ہیں۔ اس وقت ہمارے سامنے درج ذیل کتابچے ہیں:
(۱) ’’دو بزرگ‘‘
اس میں شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ اور حضرت مولانا شاہ عبد القادر رائے پوریؒ کے واقعات اور ان کے بارے میں یادداشتیں درج ہیں۔
(۲) ’’بخاریؒ کی باتیں‘‘
اس میں امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ تعالیٰ کے واقعات جمع کیے گئے ہیں۔
(۳) ’’صنم کدے میں اذان‘‘
یہ الحاج سید امین گیلانی کی نظموں کا مجموعہ ہے جن کے ذریعے وہ عام اجتماعات میں دینی حمیت کی جوت جگاتے رہے ہیں۔
یہ کتابیں ادارہ سادات، شرق پور روڈ، شیخوپورہ نے شائع کی ہیں۔
’’عبدہ و رسولہ‘‘
الحاج سید امین گیلانی کے فرزند سید سلمان گیلانی کو اللہ رب العزت نے ان کے والد محترم کا شعری ذوق منتقل کیا ہے اور وہ بالکل انہی کی طرز پر دینی و قومی اجتماعات میں توحید و رسالتؐ، ختمِ نبوت، مدحِ صحابہؓ اور اکابر علماء حق کی جدوجہد کے حوالے سے نغمے اور ترانے پیش کر رہے ہیں۔ زیر نظر مجموعہ ان کی نعتیہ نظموں پر مشتمل ہے جن میں جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور نذرانۂ عقیدت پیش کیا گیا ہے۔ یہ مجموعہ بھی ادارہ سادات، شرق پور روڈ، شیخوپورہ نے شائع کیا ہے۔
قافلۂ معاد
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا قاری محمد حنیفؒ ملتانی
ملک کے دینی حلقوں میں یہ خبر بے حد رنج و الم کے
ساتھ پڑھی جائے گی کہ معروف خطیب مولانا قاری محمد حنیفؒ ملتانی کا عید
الاضحیٰ کے روز ملتان میں انتقال ہوگیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ قاری
صاحب موصوف ملک کے مقبول خطباء اور واعظین میں شمار ہوتے تھے اور ایک عرصہ
تک مذہبی اسٹیج پر ان کی خطابت کا طوطی بولتا رہا ہے۔ جامعہ قاسم العلوم
ملتان کے فاضل اور شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمدؒ مدنی کے شیدائی
تھے۔ آواز میں سوز و گداز تھا، وہ اپنے مخصوص انداز میں مصائب صحابہؓ اور
قیامت کی ہولناکیوں کا ذکر کرتے تو بڑے بڑے سنگدل لوگوں کی آنکھیں بھیگ
جاتی تھیں۔ بلاشبہ ان کے مواعظ ہزاروں لوگوں کی اصلاح کا ذریعہ بنے اور خود
بصارت سے محروم ہونے کے باوجود وہ اپنے معتقدین کی ایک عرصہ تک راہنمائی
کرتے رہے۔
مولانا قاری محمد اظہر ندیم شہیدؒ
اسی طرح یہ خبر بھی بے حد صدمہ کا باعث ہے کہ لاہور میں ایک جواں ہمت
عالم دین مولانا قاری محمد اظہر ندیمؒ گزشتہ دنوں سفاک قاتلوں کی گولیوں کا
نشانہ بن کر جام شہادت نوش کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کا تعلق
سپاہ صحابہؓ سے تھا اور وہ متعدد دینی کتابوں کے مصنف تھے۔ انہوں نے مختلف
دینی تحریکات میں حصہ لیا اور انتہائی جوش و جذبہ کے ساتھ مذہبی کاموں میں
شریک ہوتے۔
اللہ تعالیٰ مرحومین کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کریں، ان کی حسنات کو قبولیت
سے نوازیں، سیئات سے درگزر فرمائیں اور پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق
دیں، آمین۔