ملی یکجہتی کونسل کی اپیل پر ملک گیر ہڑتال
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
ملی یکجہتی کونسل پاکستان کی اپیل پر ۲۷ مئی کو ملک بھر میں مکمل ہڑتال ہوئی اور اخبارات کی رپورٹ کے مطابق اس روز پورے ملک میں کاروبار زندگی معطل رہا۔ راقم الحروف کو جنگ کراچی کے اقراء میگزین کے انچارج مفتی محمد جمیل خان کے ہمراہ راہوالی، گکھڑ، کامونکی، مریدکے اور لاہور میں شاہدرہ، ماڈل ٹاؤن، گلبرگ، قصور روڈ اور دیگر مقامات پر جانے اور ہڑتال کی صورتحال کا جائزہ لینے کا موقع ملا اور یہ دیکھ کر اطمینان ہوا کہ کم و بیش ہر طبقہ کے لوگوں نے ہڑتال کی اپیل پر لبیک کہا ہے۔ نہ صرف کاروبار بلکہ ٹریفک بھی بند تھی اور ہر اہم مقام پر ملی یکجہتی کونسل کے کارکن اکا دکا چلنے والی گاڑیوں کو ہڑتال کی پابندی کی تلقین کے لیے کھڑے تھے۔ خود ہمیں بھی بعض مقامات پر روکا گیا مگر ہم یہ کہہ کر آگے بڑھ گئے کہ ہمارا تعلق صحافت سے ہے اور ہم ہڑتال کا جائزہ لے رہے ہیں۔
ہڑتال کی اس طرح کامیابی کے اسباب میں سب سے بڑا سبب تو یہ تھا کہ ملی یکجہتی کونسل کی صورت میں پاکستان کے عوام کو اپنی اس پرانی اور دلی خواہش کی تکمیل کی جھلک نظر آرہی تھی کہ دینی مکاتب فکر کے قائدین متحد ہو کر قومی معاملات میں راہنمائی کا فریضہ سرانجام دیں۔ اور دوسری بڑی وجہ پاکستان کے قومی و دینی معاملات میں امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کی بڑھتی ہوئی مداخلت سے ملک کے عوام ازحد پریشان ہیں اور اس کے خلاف کسی مضبوط ردعمل کا اظہار چاہتے ہیں۔ چنانچہ ناموس رسالتؐ کے تحفظ کے قانون میں حکومت کی طرف سے مجوزہ ترامیم کے خلاف ملی یکجہتی کونسل کی ہڑتال کی اپیل پر عوام نے متفقہ طور پر لبیک کہہ کر اس ردعمل کے اظہار کا آغاز کر دیا ہے۔
توہین رسالتؐ پر موت کی سزا کا قانون ان مسائل میں سے ایک ہے جو امریکہ اور دیگر مغربی حکومتوں کی مسلسل مداخلت کا شکار ہیں۔ جب سے پاکستان میں شانِ رسالتؐ میں گستاخی پر موت کی سزا کا قانون نافذ ہوا ہے مغربی حکومتوں اور لابیوں کا اضطراب و احتجاج بڑھتا جا رہا ہے اور حکومت پاکستان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ اس قانون کو منسوخ کیا جائے۔ جبکہ پاکستان کی رائے عامہ کو سامنے رکھتے ہوئے ایسا کسی بھی حکومت کے لیے ممکن نہیں ہے۔ اسی لیے حکومت پاکستان نے مغربی حکومتوں کو مطمئن کرنے کے لیے ایک درمیانی راستہ نکالنے کی کوشش کی کہ گستاخی رسولؐ پر موت کی سزا کو تو برقرار رکھا جائے لیکن مقدمہ کے اندراج کا طریق کار ایسا مشکل بنا دیا جائے کہ کسی گستاخ رسولؐ کو موت کی سزا تک پہنچانا عملاً ممکن نہ رہے۔ چنانچہ وفاقی کابینہ کے فیصلے کے حوالے سے یہ خبر سامنے آئی ہے کہ شانِ رسالتؐ میں گستاخی کے ارتکاب پر مقدمہ کا اندراج ڈپٹی کمشنر کی انکوائری کے ساتھ مشروط کر دیا جائے گا اور کسی پر توہین رسالتؐ کا غلط الزام لگانے والے شخص، یا اس شخص کو جس کا الزام پایہ ثبوت تک نہ پہنچ سکے، دس سال کی سزا دی جائے گی۔
یہ ترامیم اس قانون کو عملاً معطل کر دینے والی ترامیم ہیں اور اسی طرح کا حیلہ ہے جیسا تاریخ کی کتابوں میں عباسی خلیفہ منصورؒ کے حوالے سے مذکور ہے۔ مشہور مؤرخ عسکریؒ نے ’’اوائل میں لکھا ہے کہ منصور کے ایک شرابی دوست ابن شبرمہ کو شراب پینے پر بار بار کوڑے پڑنے لگے تو اس نے خلیفہ منصور سے مداخلت کی درخواست کی۔ منصور نے کہا کہ میں شراب نوشی کی شرعی سزا ۸۰ کوڑوں میں تو کوئی ترمیم نہیں کر سکتا، البتہ یہ حکم جاری کر دیتا ہوں کہ اگر کوئی شخص ابن شبرمہ کو شراب پینے کی حالت میں پکڑ کر حاکم کے پاس لائے تو ابن شبرمہ کو شریعت کے مطابق ۸۰ کوڑے ضرور لگائے جائیں مگر پکڑ کر لانے والے کو بھی سو کوڑے مارے جائیں۔ اس طرح خلیفہ منصور شرعی قانون میں مداخلت کے الزام سے بچ گیا مگر اس کے بعد کسی شخص کو ابن شبرمہ پر شراب نوشی کا الزام عائد کرنے کی جرأت نہ ہوئی۔
گستاخ رسولؐ کے لیے موت کی سزا کے قانون کے اندراج کے طریق کار میں وفاقی کابینہ کی تجویز کردہ ان ترامیم کو تحریک تحفظ ناموس رسالتؐ اور ملی یکجہتی کونسل نے مسترد کر دیا اور قوم نے ۲۷ مئی کو ہڑتال کی اپیل کی جس پر ملک بھر میں کاروبار زندگی معطل کر کے پاکستان کے عوام نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ اس مسئلہ پر دینی جماعتوں کے ساتھ ہیں۔ اس ہڑتال سے جہاں دینی جماعتوں کو یہ حوصلہ ملا ہے کہ اگر آج بھی وہ متحد ہو کر دینی معاملات میں قوم کی راہنمائی کے لیے میدان عمل میں نکلیں تو قوم انہیں مایوس نہیں کرے گی، وہاں پاکستان کے عوام نے مغربی حکومتوں اور لابیوں کو بھی یہ الارم دے دیا ہے کہ مغربی لابیاں اور ورلڈ میڈیا اسلامی احکام و قوانین کے خلاف جس قدر چاہیں پراپیگنڈا کر لیں اور دینی جماعتوں کی کردار کشی کی جو صورت بھی چاہیں اختیار کر لیں پاکستانی قوم دینی معاملات میں بہرحال اپنی دینی قیادت کے ساتھ ہے۔
البتہ اس ہڑتال کے حوالہ سے دو حلقوں کا ردعمل جو ہڑتال کے بعد سامنے آیا ہے، قابل توجہ ہے۔ ایک اقلیتی محاذ برائے مساوی حقوق کا جس کے چیئرمین ضیاء کھوکھر صاحب کا بیان جنگ لاہور میں ۲۸ مئی کو شائع ہوا ہے۔ اس بیان میں انہوں نے ۲۷ مئی کی کامیاب ہڑتال پر مذہبی و دینی جماعتوں کے راہ نماؤں کو مبارک باد پیش کی ہے اور ساتھ ہی تعزیرات پاکستان کی دفعہ سی ۲۹۵ کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اگر اس دفعہ کو ختم نہ کیا گیا تو ملک بھر کی مسیحی تنظیمیں ایک دن کی مکمل ہڑتال کریں گی۔ اب معلوم نہیں کہ کھوکھر صاحب ان دونوں متضاد باتوں میں سے سنجیدہ کس بات پر ہیں؟ کیونکہ دفعہ سی ۲۹۵ اسی قانون کا عنوان ہے جس میں توہین رسالتؐ پر موت کی سزا مقرر کی گئی ہے اور ملی یکجہتی کونسل کی ۲۷ مئی کی ہڑتال اسی قانون کے تحفظ بلکہ اس کے طریق کار تک میں تبدیلی کے امکانات کو مسترد کرنے کے لیے ہوئی ہے۔ مگر ضیاء کھوکھر صاحب اس دفعہ کے تحفظ کے لیے کی جانے والی ہڑتال کی کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے اسی قانون کے خاتمہ کے لیے ہڑتال کی دھمکی دے رہے ہیں۔ اب یا تو کھوکھر صاحب سی ۲۹۵ سے واقف نہیں ہیں یا انہیں ہڑتال کے مقاصد کا علم نہیں ہے، اگر وہ دونوں باتوں کو جانتے ہیں تو معلوم نہیں کہ اس بیان کے ذریعے وہ کس کو بے وقوف بنانے کی کوشش کر رہے ہیں؟
دوسرا ردعمل بعض مذہبی جماعتوں کے راہ نماؤں کی طرف سے سامنے آیا ہے جو کھوکھر صاحب موصوف کے بیان سے بھی زیادہ مضحکہ خیز ہے۔ روزنامہ جنگ لاہور ۲۹ مئی میں شائع شدہ ایک خبر کے مطابق لاہور میں بعض مذہبی تنظیموں کا اجلاس ہوا جس کے شرکاء میں قاضی عبد القدیر خاموش، منیر حسین گیلانی، علامہ ریاض الرحمان یزدانی، مولانا محمد اصغر فاروق، سید حیدر فاروق مودودی، صاحبزادہ سید سعید شاہ گجراتی اور علامہ سعید الرشید عباسی کے نام نمایاں ہیں۔ اس اجلاس میں منظور کی جانے والی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ
’’ملی یکجہتی کونسل کی سرگرمیوں کا مقصد ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنا ہے تاکہ حکومت اطمینان سے اقوام عالم کے ساتھ معاہدات کر کے ملک کو ایک فلاحی ریاست بنانے کا خواب شرمندۂ تعبیر نہ کر سکے۔‘‘
اجلاس میں ان ’’علمائے کرام‘‘ نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ ’’اسلام کو مولویت کی اجارہ داری سے نجات دلائی جائے‘‘۔ ہمارے خیال میں یہ علماء کرام اتنی بات کو صحیح سمجھے ہیں کہ ۲۷ مئی کی ہڑتال اقوام عالم کے ساتھ حکومت پاکستان کے ہونے والے معاہدات میں اطمینان کا عنصر غائب کرنے میں بہرحال کامیاب ثابت ہوئی ہے۔ لیکن اقوام عالم کے ساتھ مجوزہ معاہدات سے شاید یہ بزرگ خود بھی واقف نہیں ہیں ورنہ اتنے شرح صدر کے ساتھ ہڑتال کے کریڈٹ کو ڈس کریڈٹ میں تبدیل کرنے کا اہتمام نہ فرماتے- ان حضرات کو شاید یہ خبر نہیں کہ اقوام عالم ہم اہل پاکستان سے جن امور پر معاہدات چاہتی ہیں اور جن کے لیے میڈیا اور لابنگ کی پوری صلاحیتیں صرف کی جا رہی ہیں ان کا تعلق دو دستاویزات سے ہے۔ ایک دستاویز اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر پر مشتمل ہے جس کو من و عن قبول کرنے کا ہم سے مطالبہ کیا جا رہا ہے اور یہ کہا جا رہا ہے کہ ہم اپنے وہ تمام قوانین منسوخ یا تبدیل کر دیں جو انسانی حقوق کے اس چارٹر سے مطابقت نہیں رکھتے۔ اس چارٹر کی اب تک مغربی حلقوں کی طرف سے کی جانے والی تشریح کے مطابق :
- توہین رسالتؐ پر موت کی سزا کا قانون،
- ہاتھ کاٹنے، کوڑے مارنے، سنگسار کرنے، سولی دینے اور مجرم کو کھلے بندوں سزا دینے کے قوانین،
- قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے اور اسلام کا نام استعمال کرنے سے روکنے کے قوانین،
- اقلیتوں کو ان کی آبادی کے تناسب سے جداگانہ الیکشن کے ذریعہ نمائندگی دینے کا قانون، اور دیگر بہت سے اسلامی احکام و قوانین انسانی حقوق کے منافی ہیں اور اقوام عالم کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ان قوانین کا خاتمہ ضروری ہے۔
دوسری دستاویز گزشتہ سال قاہرہ میں اقوام متحدہ کے زیراہتمام منعقد ہونے والی عالمی بہبود آبادی کانفرنس کی قراردادیں اور فیصلے ہیں جن میں دنیا بھر کی حکومتوں سے کہا گیا ہے کہ وہ
- شادی کے بغیر جنسی تعلقات اور ناجائز بچے کے ساتھ ساتھ کنواری ماں کو بھی سماجی اور قانونی تحفظ فراہم کریں،
- ہم جنس پرستی (لواطت) کو قانونی تحفظ دیں،
- اور آزادانہ جنسی اختلاط اور مانع حمل اشیاء کی کھلے بندوں فراہمی کی ضمانت دیں۔
اس کے ساتھ ان علماء کرام کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ آج کل اقوام عالم کی طرف سے ہم پر شادی اور طلاق کے قوانین کو بین الاقوامی معیار کے مطابق تبدیل کرنے کے لیے بھی مسلسل دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ اور نکاح و طلاق کا بین الاقوامی معیار اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق یہ ہے کہ
’’پوری عمر کے مردوں اور عورتوں کو نسل، قومیت یا مذہب کی کسی تحدید کے بغیر باہم شادی کرنے اور خاندان کی بنیاد رکھنے کا حق حاصل ہے۔ شادی، دوران شادی اور اس کی تنسیخ کے سلسلہ میں وہ مساوی حقوق رکھتے ہیں۔‘‘ (دفعہ ۱۶ چارٹر انسانی حقوق اقوام متحدہ)
اس لیے یہ بات درست ہے کہ موجودہ حکومت ’’اقوام عالم‘‘ کی ان خواہشات اور تقاضوں کو پورا کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے اور ایسے معاہدات کے لیے بے چین ہے جو پاکستان کو اقوام عالم کے مزعومہ معیار کے مطابق ڈھالنے میں مفید ثابت ہو سکیں۔ لیکن ملی یکجہتی کونسل کی سنجیدہ جدوجہد اور اس کی اپیل پر ۲۷ مئی کو پاکستانی قوم کی طرف سے ملک گیر مکمل ہڑتال نے بہرحال اس پیش رفت میں رکاوٹ ڈال دی ہے۔ اور اب اس سمت آگے بڑھنے سے قبل حکومت اور اقوام عالم دونوں کو اپنی حکمت عملی اور ترجیحات کا ازسرنو جائزہ لینا ہوگا کیونکہ رائے عامہ کی قوت کو نظر انداز کرنا آج کے دور میں کسی کے بس کی بات نہیں رہی۔ یہ قومی اور دینی مقاصد کی طرف ایک مثبت اور مؤثر پیش رفت ہے جس پر ملی یکجہتی کونسل کے قائدین بجا طور پر مبارکباد اور تحسین کے مستحق ہیں۔
اجتہاد کی شرعی حیثیت
شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ
آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس بات سے بخوبی واقف تھے کہ انسانی ضروریات اور انسانی ماحول ایک حالت پر قائم رہنے والی چیز نہیں ہے، اور تمدنی ترقیات کے ساتھ ہی ساتھ انسانی ضروریات کا تبدیل ہونا ضروری امر ہے۔ لہٰذا آپؐ نے بہت سی فرعی باتوں سے متعلق خود احکام صادر فرمانے مناسب نہیں سمجھے، اور ان لوگوں کے فہم و فراست پر فیصلہ چھوڑ دیا ہے جو قرآن مجید کو اللہ تعالیٰ کی کتاب اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کا آخری پیغمبر مانتے اور کتاب و سنت کے اصولی احکام کو واجب التعمیل جانتے ہیں۔
کتاب و سنت کے قوانین کو لازمی اور قابلِ عمل جاننے والوں کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنے اجتہاد و تفقہ سے کام لیں اور کتاب و سنت کی روشنی میں ضروری اور ہنگامی قانون بنائیں۔ اس کو فقہ اور قیاس کہتے ہیں۔ اور مجتہد مصیب بھی ہو سکتا ہے اور مخطی بھی۔ لیکن اگر صاحبِ اجتہاد نے اپنی پوری طاقت اور وسعت صَرف کی اور مع ہذا اس سے غلطی ہو گئی، تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے بلکہ وہ ماجور ہو گا اور اللہ تعالیٰ کی رحمتِ بے پایاں سے ثواب کا مستحق ہو گا۔ چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ اور حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں:
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذا حکم الحاکم فاجتہد و اصاب فلہ اجران، واذا حکم فاجتہد واخطا فلہ اجر واحد۔ (بخاری ج ۲ ص ۱۰۹۲ و مسلم ج ۲ ص ۷۶ و مشکوٰة ج ۲ ص ۳۲۴)
’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب کوئی فیصلہ کرنے والا فیصلہ کرے اور اجتہاد کرتے ہوئے درست فیصلہ کرے تو اس کو دوہرا اجر ملے گا۔ اگر اس سے خطا سرزد ہو تو اس کو ایک ہی اجر ملے گا۔‘‘
اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کسی کی محنت اور مشقت کو ہرگز رائیگاں نہیں کرتا، تو اجتہاد کرتے وقت جو تکلیف اور کاوش مجتہد کو ہوئی ہے اللہ تعالیٰ اس پر اس کو ضرور ایک اجر مرحمت فرمائے گا۔ اور اصابتِ رائے کی صورت میں ایک اجر اجتہاد کا اور ایک اصابتِ رائے کا اس کو حاصل ہو گا۔ لیکن شرط یہ ہے کہ مجتہد صحیح معنی میں مجتہد ہو۔ ورنہ ’’القضاۃ ثلاثہ‘‘ کی حدیث میں اس کی تصریح ہے کہ جاہل آدمی کا فیصلہ اس کو دوزخ میں لے جائے گا (رواہ ابوداؤد، ابن ماجہ، مشکوٰۃ ج ۲ ص ۳۲۴)۔
اس صحیح روایت سے اجتہاد کا درست ہونا، اور خطا کی صورت میں مجتہد کا معذور بلکہ ماجور ہونا صراحت سے ثابت ہوا۔ صرف بطور تائید و شاہد کے حضرت معاذ بن جبلؓ (المتوفی ۱۸ھ) کی روایت بھی سن لیجئے۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو یمن کا گورنر بنا کر بھیجا تو اس وقت آپؐ نے حضرت معاذ سے فرمایا کہ
کیف تقضی اذا عرض لک قضاء؟ قال اقضی بکتاب اللہ۔ قال فان لم تجد فی کتاب اللہ؟ قال فبسنة رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ قال فان لم تجد فی سنة رسول اللہ؟ قال اجتہاد برایی ولا آلو۔ قال فضرب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علی صدرہ و قال الحمد للہ الذی وفق رسول رسول اللہ لما یرضی بہ رسول اللہ۔ (رواہ الترمذی و ابوداؤد والدارمی و مشکوٰة ج ۲ ص ۳۲۴)
’’تو کس طرح فیصلہ کرے گا جب تیرے سامنے کوئی جھگڑا پیش ہوا؟ حضرت معاذؓ نے عرض کیا کہ میں اللہ تعالیٰ کی کتاب کے موافق فیصلہ کروں گا۔ آپؐ نے فرمایا کہ اگر کتاب اللہ میں تجھے وہ بات نہ مل سکے؟ عرض کیا تو پھر سنتِ رسول اللہ کے موافق فیصلہ کروں گا۔ آپؐ نے فرمایا کہ اگر سنتِ رسول اللہ میں بھی نہ ہو؟ تو حضرت معاذؓ نے عرض کیا کہ میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا۔ یہ سن کر آپؐ نے فرمایا کہ الحمد للہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے قاصد کو اس چیز کی توفیق عطا فرمائی جس پر اللہ تعالیٰ کا رسول راضی ہے۔‘‘
حافظ عماد الدین ابن کثیر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (المتوفی ۷۷۴ھ) اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں: باسناد جید کما ہو مقرر فی موضعہ (تفسیر ج ۱ ص ۳) ۔ اس روایت کی سند عمدہ اور کھری ہے جیسا کہ اپنے موقع پر ثابت ہے۔
اس روایت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذؓ کے اس جواب پر کہ اجتہد برایی (کہ میں قیاس اور رائے سے کام لوں گا) اللہ تعالیٰ کا شکر ادا فرمایا اور اظہارِ مسرت کیا۔ جس سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ نے فروعی قوانین کو منجمد رکھنا پسند نہیں فرمایا بلکہ ضرورت کے پیش نظر ایسے قوانین کو استقرائی رکھنا چاہا ہے۔ تاکہ انسان کے قوائے دماغیہ کی نشوونما اور انسانی ترقیات میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو سکے۔
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ (المتوفی ۱۳ھ) کے پاس جب کوئی مقدمہ پیش ہوتا تھا تو کتاب اللہ اور سنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اس کو تلاش کرتے تھے، ورنہ اجتہاد سے کام لیتے تھے۔
ان ابابکرؓ اذا نزلت بہ قضیہ لم یجد لھا فی کتاب اللہ اصلاً ولا فی السنہ اثرا فقال اجتہد برایی فان یکن صوابا فمن اللہ وان یکن خطا فمنی واستغفر اللہ۔ (طبقات ابن سعد ج ۳ ص ۱۳۶)
’’حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس جب کوئی مقدمہ پیش ہوتا تھا تو کتاب اللہ اور سنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اگر ان کو اس کی وضاحت نہ ملتی تو فرماتے: میں اپنی رائے سے اجتہاد کرتا ہوں، اگر درست ہو گیا تو اللہ تعالیٰ کی عنایت ہو گی، ورنہ میری خطا ہو گی اور میں اللہ سے معافی چاہتا ہوں۔‘‘
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مشہور تابعی قاضی شریحؒ (المتوفی ۸۵ھ) کو خط لکھا۔ اس میں کتاب و سنت اور اجماع کے بعد خاص طور پر اجتہاد کرنے کا ذکر ہے۔ (دیکھیے مسند دارمی ص ۳۴ و مثلہ فی کنز العمال ج ۳ ص ۱۷۴)
اسی طرح حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ بھی اجماع کے بعد قیاس اور اجتہاد کرنے کا حکم دیا کرتے تھے (مسند دارمی ص ۳۴)۔ حضرت عبد اللہ بن عباس کا یہ معمول تھا کہ جب کتاب و سنت کے بعد حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ سے کوئی ثبوت نہ مل سکتا تو قال فیہ برایہ (مسند دارمی ص ۳۳ و مستدرک ج ۱ ص ۱۲۷ و قالا صحیح علی شرطہما) اپنی رائے سے کام لیتے تھے۔
الغرض جمہور اہلِ اسلام قیاسِ شرعی کو صحیح اور حجت تسلیم کرتے ہیں۔ چنانچہ نواب صاحب رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
’’جمہور از صحابہؓ و تابعین و فقہاء و متکلمین باں رفتہ کہ اصلے از اصولِ شریعت است استدلال میرود بداں بر احکام واردہ بسمع و ظاہریہ انکارش کردہ اند۔‘‘ (افادۃ الشیوخ ص ۱۲۲)
’’جمہور صحابہؓ و تابعینؒ اور فقہاء و متکلمین اس کے قائل ہیں کہ قیاس شریعت کے اصولوں میں سے ایک اصل ہے، اس کے احکام واردہ بسمع میں باقاعدہ استدلال صحیح ہے اور اہلِ ظاہر نے قیاس کا انکار کیا ہے۔‘‘
اہلِ ظاہر کو یہ غلط فہمی ہوئی کہ انہوں نے غلطی سے یہ سمجھا کہ غیر نبی کو یہ مقام کیسے حاصل ہو گیا کہ وہ دین کی باتوں میں دخل دے۔ اعتراض بظاہر بڑا معقول اور وزنی ہے مگر حقیقت سے بالکل دور ہے۔ اس لیے کہ موجبِ حکم مجتہد اور قائس کا قیاس و اجتہاد نہیں ہے، بلکہ موجب اصل میں وہی شرعی دلیل ہے جو قرآن کریم اور حدیث وغیرہ سے تعبیر کی جاتی ہے۔ مجتہد کا کام صرف اتنا ہے کہ مسکوت عنہ جزئی کی کڑی دلیلِ شرعی سے جوڑ دیتا ہے اور بس۔ چنانچہ مشہور فیلسوفِ اسلام علامہ ابن رشد ابو الولید محمد بن احمد (المتوفی ۵۹۵ھ) لکھتے ہیں:
واما القیاس الشرعی فھو الحاق الحکم الواجب لشی ما بالشرع بالشی الذی اوجب الشرع لہ ذٰلک الحکم او لعلہ جامعہ بینھما۔ (بدایة المجتہد ج ۱ ص ۳)
’’قیاسِ شرعی اس کو کہتے ہیں کہ جو حکم شریعت میں کسی چیز کے لیے ثابت ہو چکا ہو، اس حکم کو اس چیز کے اوپر بھی چسپاں کیا جائے جو مسکوت عنہ ہے۔ یا تو اس لیے کہ یہ اس کے مشابہ ہے، اور یا اس لیے کہ ان دونوں میں علت جامعہ مشترک ہے۔‘‘
نواب صاحبؒ اس کی تعبیر یوں کرتے ہیں:
’’و اما قیاس پس در اصطلاح فقہاء حمل معلوم بر معلوم است در اثبات حکم یا نفی او بامر جامع میان ہر دو از حکم یا صفت و اختارہ جمہور المحققین‘‘۔ (افادۃ الشیوخ ص ۱۲۱)
مولانا حافظ محمد عبد اللہ صاحب روپڑی لکھتے ہیں:
’’جب انسان کو کوئی مسئلہ قرآن و حدیث سے صراحتاً نہیں ملتا تو وہ قرآن و حدیث میں اجتہاد و استنباط کرتا ہے۔ اور وہ اجتہاد و استنباط قرآن و حدیث سے الگ نہیں کہلاتا۔ اسی طرح صحابی کے اس قول کو، جو اجتہاد و استنباط کی قسم سے ہو، اس کو قرآن وحدیث سے الگ نہ سمجھنا چاہیے بلکہ قرآن و حدیث میں داخل سمجھنا چاہیے۔‘‘ (بلفظہ ضمیمہ رسالہ اہل حدیث ص ۷)
اجتہاد کی اہلیت
یہ بات طے شدہ ہے کہ اجتہاد کے لیے چند نہایت ضروری شرطیں ہیں، جن میں وہ نہ پائی جا سکیں ان کی بات ہرگز حجت نہیں ہو سکتی۔ حتیٰ کہ صوفیاء کرامؒ کی باتیں بھی شرعاً کوئی حیثیت نہیں رکھتیں، الّا یہ کہ وہ شریعت کے موافق ہوں۔ چنانچہ علامہ قاضی ابراہیم الحنفی (المتوفی حدود ۱۰۰۰ھ) لکھتے ہیں:
’’اور جو عابد و زاہد اہلِ اجتہاد نہیں وہ عوام میں داخل ہیں۔ ان کی بات کا کچھ اعتبار نہیں۔ ہاں اگر ان کی بات اصول اور معتبر کتابوں کے مطابق ہو تو پھر اس وقت معتبر ہو گی۔‘‘ (نفائس الاظہار ترجمہ مجالس الابرار ص ۱۲۷)
’’مجالس الابرار‘‘ کی حضرت شاہ عبد العزیز صاحب محدث دہلویؒ نے بڑی تعریف کی ہے۔ حضرت مجدد الف ثانیؒ نے کیا ہی خوب ارشاد فرمایا ہے کہ
’’عملِ صوفیہ در حل و حرمت سند نیست۔ ہمیں بس است کہ ما ایشاں را معذور درایم و ملامت نہ کنیم و مر ایشاں را بحق سبحانہ و تعالیٰ مفوض داریم۔ اینجا قول امام ابوحنیفہؒ و امام ابو یوسفؒ و امام محمدؒ معتبر است، نہ عمل ابوبکر شبلیؒ و ابو حسن نوریؒ۔‘‘
’’صوفیاء کی بات حل و حرمت میں سند نہیں ہے۔ یہی کافی ہے کہ ہم ان کو ملامت نہ کریں اور ان کا معاملہ خدا کے سپرد کر دیں۔ اس جگہ حضرت امام ابوحنیفہؒ، امام ابو یوسفؒ اور امام محمدؒ کا قول معتبر ہو گا، نہ کہ ابوبکر شبلیؒ اور ابو حسن نوری جیسے صوفیاء کرام کا۔‘‘ (مکتوبات دفتر اول ص ۳۳۵ مکتوب ص ۲۲۶)
یہ بالکل ٹھیک ہے کہ دین کی تکمیل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ہو چکی تھی۔ مگر تکمیلِ دین کا یہ مطلب ہے کہ قواعد اور کلیاتِ دین پورے طور پر مکمل ہو چکے تھے۔ بعد کو پیش آنے والے واقعات اور حوادث کو ان اصول اور کلیات کے تحت درج کرنا، اور انہی جزئیات کو کلیات پر منطبق کرنے کا نام قیاس و اجتہاد ہے۔ لیکن بسا اوقات جزئیات کا کلیات میں داخل کرنا کسی خاص عارضہ کی وجہ سے بعض لوگوں پر مخفی رہ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فروعی مسائل میں فقہاء اسلام کا اختلاف رہا ہے۔ اور ایسے مواقع پر جو چیز اقرب الی الحق ہو، اس کو قبول کر لینا اور اس پر عمل کرنا نجات کے لیے کافی ہے۔ ہاں اگر قرآن وحدیث سے کوئی نص مل جائے، یا اجماع پر اطلاع ہو جائے، تو اس صورت میں قیاس سے رجوع کرنے میں ہرگز تامل نہیں ہونا چاہیے۔
(ماہنامہ الشریعہ جولائی ۱۹۹۵ء)
غیر حنفی امام کے پیچھے نماز پڑھنے کا مسئلہ
مولانا مفتی محمد عیسی گورمانی
(روزمرہ فقہی اختلافات پر بحث و تمحیص ’’الشریعہ‘‘ کے دائرۂ کار میں شامل نہیں ہے لیکن حضرت مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان نے زیرنظر مضمون میں دوسرے فقہی مذہب سے تعلق رکھنے والے امام کی اقتداء میں نماز پڑھنے کے مسئلہ پر اصولی بحث کی ہے، اس لیے ان کی خواہش پر اسے شائع کیا جا رہا ہے۔ ادارہ)
نمازِ وتر میں دو رکعتوں پر سلام نہ کرنا، تینوں رکعتیں ملا کر پڑھنا اسے صحابہ کرامؓ کی ایک جماعت نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، یہ امام اعظمؒ کا مذہب ہے۔ تہجد کی دو رکعتوں پر سلام کر کے تیسری رکعت کو اس سے ملا کر سب کو وتر بنا دینا شروع میں جائز تھا، مستقل طور پر وتر کی تین رکعتیں مقرر ہوئیں تو عملاً اس سے منع کر دیا گیا۔
جو امام نمازِ وتر میں سلام سے فصل کرتا ہو، ایسے امام کی اقتداء میں وتر پڑھے جائیں یا نہ؟ اس سلسلہ میں دو رائیں سامنے آئی ہیں:
(۱) مقتدی کی رائے میں سلام کرنے سے امام کی نماز ٹوٹ گئی اور وتر مکمل نہ ہوئے۔ لہٰذا ایسے امام کی اقتداء نہیں کرنی چاہیے۔ علامہ شامیؒ نے اسے اصح کہا ہے۔ متون فقہ اور فتاویٰ کی عبارات میں اس مسئلہ کی وضاحت اسی طرح ملتی ہے۔
(۲) ابوبکر رازیؒ نے کہا ہے: ’’جو امام وتر میں سلام سے فصل کرتا ہو، حنفی کو اس اقتداء جائز ہے۔ بقیہ ماندہ رکعت کو امام کی معیت میں ادا کرے۔ امام کے سلام نے مقتدی کو نماز سے نہیں نکالا (مقتدی کی نماز فاسد نہیں ہوئی( کیونکہ یہ ایک اجتہادی مسئلہ ہے۔‘‘ (فتح القدیر ج ۲ ص ۳۱۱ طبع مصر)
گویا ابوبکر رازیؒ اقتداء کے مسئلہ میں امام کی رائے کو معتبر سمجھتے ہیں۔ امام کی رائے میں یہ سلام افضل ہے، سلام فراغت نہیں، اس لیے وہ کہتے ہیں کہ ایسے امام کی حنفی کو اقتداء کرنا جائز ہے۔ نہایہ میں اس رائے کو قرین قیاس قرار دیا گیا ہے۔ (شامی ج ۱ ص ۵۶۳)
اس وقت ہمیں درپیش اختیاری حالات نہیں کہ ہم فتویٰ دیں: ’’سلام سے قطع کرنے والے کی اقتداء میں وتر نہ پڑھے جائیں، حنبلی امام کی بجائے حنفی کی اقتداء کی جائے‘‘۔ بلکہ صورتحال یہ ہے کہ غیر حنفی امام کی اقتداء کے بغیر چارہ کار نہیں۔ ایک طرف جماعت کے فوت ہونے اور ثواب سے محرومی کا اندیشہ ہے۔ دوسری طرف بالکل نماز کے ضائع ہونے کا فکر۔ بالخصوص جبکہ یہ مشکل حرمین شریفین میں پیش آئے۔ نیز فرض نماز اور تراویح امامِ حرم کی اقتداء میں ادا کر کے وتر کے لیے صفوں کے حلقوں کو توڑ کر اعراض کی شکل اختیار کر لینا، یہ ایک ہنگامی حالت ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس نادر الوقوع اور ہنگامی صورتحال کے بارے میں فقہائے احناف نے ہماری کیا راہنمائی فرمائی ہے؟
علامہ ابن عابدین شامیؒ اس سلسلہ میں علماء کی آراء کا حاصل ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں‘
ان الاقتداء بالمخالف المراعی فی الفرائض افضل من الانفراد ادتم مجید غیرہ والا فالا اقتداء بالموافق افضل (ج ۱ ص ۵۶۳)
’’جو امام فرائض میں مقتدیوں کی رعایت کرتا ہو، ایسے غیر حنفی امام کی اقتداء میں نماز ادا کرنا علیحدہ پڑھنے سے بہتر ہے۔ ورنہ اگر موافق مذہب کی امامت میسر ہو تو اس کی اقتداء افضل ہے۔‘‘
البحر الرائق کے حاشیہ میں شیخ زملی حنفی کے حوالے سے مزید لکھتے ہیں:
وکیف یکون الافضل ان یصلی منفردا مع وجود شافعی صالح تقی یراعی الخلاف بہ تحصل فضیلۃ الجماعۃ ما ۔۔ ان فقیہ نفس یقول بہ (ج ۲ ص ۴۶)
’’ایک صالح پرہیزگار شافعی عالم کی موجودگی میں جو خلافیات میں مقتدیوں کی رعایت کرتا ہو، جس کی بدولت جماعت کی فضیلت حاصل ہوتی ہو، الگ نماز پڑھنا کیسے افضل ہو گا؟ کسی فقیہ النفس عالم کے بارے میں مجھے اس قسم کا خیال نہیں جو یہ کہتا ہو۔‘‘
اب رہا یہ سوال کہ فرائض، جن کی پابندی امام پر ضروری ہے، ان سے کیا مراد ہے؟ اسی طرح وہ امام جو فرائض کے علاوہ واجبات اور سنن میں مقتدیوں کی رعایت نہ کرتا ہو، اس کا کیا حکم ہے؟ اس کے جواب میں علامہ شامیؒ یوں رقم طراز ہیں:
ای المرعاۃ فی الفرائض من شروط و ارکان فی تلک الصورۃ و ان لم یراع فی الواجبات والسنن کما ہو ظاہر سیاق کلام البحر (ج ۱ ص ۵۶۳)
’’اب امام جو حالیہ نماز میں فرائض یعنی شروط اور ارکان جیسے ضروری احکام کی پابندی کرتا ہو، اس کی اقتداء میں نماز جائز ہے، خواہ وہ واجبات اور سنن کی پابندی نہ کرتا ہو۔ جیسا کہ بحر الرائق کے سیاق سے ظاہر ہے۔‘‘
صورتِ مسئولہ میں جبکہ امام وتر میں سلام سے فصل کرتا ہے، اور یہ سلام بھی نماز سے فراغت کا سلام نہیں بلکہ سنت اور افضل سمجھ کر، تو اس میں کسی شرط یا رکن کا ترک لازم نہیں آتا۔ سنت کا، یا زیادہ سے زیادہ احناف کے نزدیک اس سے واجب کا ترک ہو گا۔ یہی قرینِ قیاس ہے، کیونکہ سہواً سلام کرنے میں شرط یا رکن چھوٹ جاتا تو نماز جاتی رہتی ہے، حالانکہ اس سے سجدۂ سہو کرنا پڑتا ہے اور یہ اس کے واجب ہونے کی علامت ہے۔
و ان توہم مصلی الظہر انہ اتمہا فسلم ثم علم انہ صلی رکعتین اتمہا و سجد للسہو (الشامی علیٰ ہامش البحر الرائق ج ۲ ص ۱۱)
’’اگر یہ خیال کر کے سلام کیا کہ اس نے ظہر کی چار رکعتیں پوری کر لی ہیں، پھر معلوم ہوا کہ اس نے ابھی دو رکعتیں پڑھی تھیں، تو دو اور رکعتیں پڑھے اور سجدہ سہو کرے۔‘‘
لہٰذا وتر میں سلام سے فصل کے باوجود حنفی کو غیر حنفی کی اقتداء جائز ہے۔ اس سے بلا حیل و حجت اس کے وتر ادا ہو جاتے ہیں۔ امام کے ساتھ سلامِ فصل نہ کرے، بغیر سلام کے اس کی معیت میں تیسری رکعت ادا کرے۔ اس لیے کہ ہمارے ہاں سلامِ فصل قطعی طور پر منسوخ ہے۔
مذکورہ بالا تفصیل کا حاصل یہ ہے کہ وتر میں سلامِ فصل کے باعث فقہاء حنفیہ نے غیر حنفی امام کی اقتداء سے منع کیا ہے۔ اور حنفی امام نہ ملنے کی صورت میں شروط اور ارکان کے علاوہ واجبات اور سنن میں رعایت نہ کرنے والے امام کی اقتداء کو جائز قرار دیا ہے۔ علیحدہ نماز پڑھنے کی بجائے نماز باجماعت کو اس صورت میں افضل تسلیم کیا ہے۔ جس سے اتنی بات عیاں ہو جاتی ہے کہ اختیاری اور عمومی حالات میں مسئلہ کا جواب اور ہے، غیر اختیاری اور مخصوص حال میں جواب کی نوعیت اس سے ذرا بدل جاتی ہے۔ ہر ایک جواب کا محمل ایک دوسرے سے جدا ہے۔
افادہ
ترکیوں کے دور میں حکومت میں جب شافعی امام حرمِ مکی میں پہلی امامت کرا لیتا تھا تو حنفیوں کو اس جماعت کی شرکت میں تردد پیدا ہوا۔ اول جماعت کی فضیلت کو پا لیا جائے یا اپنے حنفی امام کا انتظار کیا جائے؟
علامہ شامیؒ نے اس پر تفصیلی بحث کرتے ہوئے اپنا نقطۂ نظر ان الفاظ میں ثبت کیا ہے، جس سے ہمارے زیر بحث مسئلہ میں بھی کافی مدد ملتی ہے:
والذی یمیل الیہ القلب عدم کراہۃ الاقتداء بالمخالف ما لم بین غیر مراع فی الفرائض لان کثیرا من الصحابۃ والتابعین کانوا ائمۃ مجتہدین و ہم یصلون خلف امام واحد مع تباین مذاہبہم۔ (ج ۱ ص ۶۴ عکس مصری طبع کراچی)
’’دل کا میلان اس طرف ہے کہ مخالف مذہب کی اقتداء مکروہ نہیں ہے، جب تک وہ فرائض میں مقتدیوں کی رعایت کرتا ہو۔ بہت سے صحابہ اور تابعین فروعی مسائل میں الگ الگ ہونے کے باوجود ایک امام کی اقتداء میں نماز پڑھتے تھے۔‘‘
غیر حنفی علماء جن کی اقتداء میں ہم حرمین شریفین میں وتر پڑھتے ہیں، ذرا ان کی آراء بھی مطالعہ میں آجائیں تو بہتر ہو گا۔
مذہب حنبلی کے ترجمان شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ جن کو موجودہ وقت کے حنابلہ اور سعودی حکومت امام کا درجہ دیتی ہے، اس باب میں لکھتے ہیں:
و لو کان الامام یری استحباب شئی والمامومون لا یستحبونہ فترکہ لاجل الاتفاق والائتلاف کان قد احسن۔ مثال ذلک الوتر فان للعلماء فیہ ثلاثۃ اقوال: احدھہما انہ لا یکون الابثلات متصلۃ کالمغرب کقول من قالہ من اہل العراق۔ والثانی انہ لا یکون الا رکعۃ مفصولۃ عما قبلہا کقول من قال ذٰلک من اہل الحجاز۔ والثالث ان الامرین جائز ان کما ہو ظاہر مذہب الشافعی واحمد وغیرہما وہو الصحیح و ان کان ہولاء یختارون فصلہ عما قبلہ فلو کان الامام یری الفصل فاختار المامومون ان یصلی الوتر کالمغرب فوافقہم علی ذلک تالیفا لقلوبہم کان قد احسن۔ (مجموع فتاویٰ ج ۲۲)
’’امام ایک عمل کو مستحب سمجھتا ہے، مقتدی نہیں، امام ان کے اتفاق اور دلداری کی غرض سے اس عمل کو ترک کر دے تو اچھا ہے۔ اس کی مثال وتر میں سمجھ لیجئے۔ علماء کے اس میں تین قول ہیں: (۱) نمازِ مغرب کی طرح اس کی تین رکعتیں متصل ہیں۔ اہلِ عراق کی طرح کچھ لوگ اس کے قائل ہیں۔ (۲) دو رکعتوں سے جدا وتر ایک رکعت ہے، اہلِ حجاز کی طرح لوگ کچھ اس کے قائل ہیں۔ (۳) سلام سے فصل کرنا یا وصل کرنا دونوں جائز ہیں۔ جیسا کہ امام شافعیؒ اور امام احمدؒ کا ظاہر مذہب ہے اور یہ صحیح ہے۔ البتہ ان کے ہاں فصل کرنا ایک پسندیدہ عمل ہے۔ امام فصل بالسلام کا قائل ہو اور مقتدیوں کی پاس خاطر کر کے وہ فصل کی بجائے تین رکعتیں اکٹھی پڑھ لے اور وصل کرے تو یہ ایک اچھا عمل ہے۔‘‘
شیخ الاسلامؒ کے اس بیان سے ظاہر ہے کہ امام شافعیؒ اور امام احمدؒ کے ظاہر مذہب میں وسعت ہے۔ ان کے ہاں جواز اور عدمِ جواز کا مسئلہ نہیں بلکہ اولیٰ اور غیر اولیٰ کا ہے۔ یہی شیخ کا مطمح نظر ہے۔ بلکہ آپ نے تو اس حد تک اس میں اپنی فراخدلی کا مظاہرہ کیا ہے اور کہا ہے کہ امام کو چاہیے ’’مقتدیوں کے لیے فصل چھوڑ دے اور وصل کرے‘‘۔ والنعم ما قال الرومیؒ ؎
تو برائے وصل کردن آمدی
نے برائے فصل کردن آمدی
واللہ تعالیٰ اعلم و علمہ اتم و احکم۔
(ضمیمہ) وتر میں ائمہ کا اختلاف
امام اعظمؒ کے نزدیک وتر واجب ہیں اور دیگر ائمہ کے نزدیک سنت ِموکدہ۔ حجۃ اللہ میں ہے:
والحق ان الوتر سنۃ وہو اوکد السنن۔
’’وتر سنت ہیں اور دوسری سنتوں کی نسبت زیادہ موکد ہیں۔‘‘
مجموع فتاویٰ میں ہے:
تنازع العلماء فی وجوبہ فاوحبہ ابوحنیفہ و طائفہ من اصحاب احمد والجمہور لا یوجبونہ کمالک والشافعی واحمد لکن ہو باتفاق المسلمین سنۃ موکدۃ لا ینبغی لاحد ترکہ (ج ۲۳ ص ۸۸ طبع الریاض)
’’علماء نے وتر کے وجوب میں اختلاف کیا ہے۔ ابوحنیفہؒ نے واجب کہا، اسی طرح احمدؒ کے کچھ احباب نے۔ جمہور اس کے وجوب کے قائل نہیں جیسے مالکؒ، شافعیؒ اور احمدؒ، لیکن سب مسلمان اس کے سنتِ موکدہ ہونے پر متفق ہیں، کسی کو اس کا ترک کرنا روا نہیں۔‘‘
ایک شبہ اور اس کا ازالہ
حنفی کی غیر حنفی کے پیچھے نماز کیسے درست ہو گی؟ حنفی وتر کو واجب مانتا ہے اور غیر حنفی سنت، جبکہ مقتدی کی نماز امام کی نماز سے زیادہ قوی ہے۔
الدر المختار میں احناف کا مذہب یوں لکھا ہے:
صح اقتداء متنفل بمتنفل و من یری الوتر واجبا لم یراہ سنۃ۔ (علیٰ ہامش الشامی ج ۲ ص ۵۹۱)
’’امام اور مقتدی دونوں نفل ادا کر رہے ہوں تو یہ جائز ہے۔ اور وہ مقتدی جو وتر کو واجب سمجھتا ہے، اس شخص کی اقتداء کرے جو وتر کو سنت کہتا ہے، تو یہ جائز ہے۔‘‘
علامہ شامیؒ نے اس کی وجہ میں لکھا ہے:
ان ما اتی بہ کل واحد منہما ہو الوتر فی نفس الامر واعتقاد احدہما سنیۃ والاخر وجوبہ امر عارض لا یجوب اختلاف الفصلین۔ (ج ۱ ص ۵۱)
’’شافعی کی اقتداء میں حنفی نے جو نماز پڑھی ہے، دونوں کا مودیٰ اور مصداق وتر ہیں، اور حقیقت میں وہ ایک نماز ہے دو نہیں ہیں۔ ایک کا اسے سنت سمجھنا اور دوسرے کا واجب، یہ ایک عارضی امر ہے، فصل سنت اور فصل واجب میں اختلاف کا موجب نہیں ہے۔‘‘
علامہ شامیؒ کی اس تقریر و تعلیل سے ثابت ہوتا ہے کہ فصل سنت اور فصل واجب میں چنداں تفاوت نہیں بلکہ دونوں میں اتنا تقارب ہے کہ مقتدی اور امام کی نیت میں واجب اور سنت کے فرق سے بھی ان میں بُعد پیدا نہیں ہوتا۔
علامہ ابن نجیم مصریؒ نے البحر الرائق میں التجنیس لصاحب الہدایہ کے حوالے سے لکھا ہے:
وان الامام ان نوی الوتر وہو یراہ سنۃ جاز الاقتداء کمن صلی الظہر خلف من یری ان الرکوع سنۃ وان نواہ بنیہ التطوع لا یصح الاقتداء لانہ یصیر اقتداء المفترض بالمتنفل (ج ۲ ص ۴۰)
یعنی وتر کو جبکہ امام سنت اور مقتدی واجب سمجھتا ہو تو اس امام کی اقتداء جائز ہے جیسا کہ اس امام کی اقتداء میں نماز ظہر ادا کی جائے جو رکوع کو سنت سمجھتا ہو اور یہ جائز ہے۔ اور اگر امام وتر میں نفل کی نیت کرے تو اس کی اقتداء صحیح نہیں ہے، اس کی مثال ایسے ہو گی جیسے فرض نماز والا نفل والے کی اقتداء کرے۔
آہ! حضرت جی مولانا انعام الحسنؒ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
تبلیغی جماعت کے امیر حضرت مولانا انعام الحسن ۹ جون کو دہلی میں انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کی وفات کی خبر آناً فاناً دنیا بھر کے تبلیغی مراکز میں پہنچ گئی اور دنیا کے کونے کونے میں دعوت و تبلیغ کے عمل سے وابستہ لاکھوں مسلمان رنج و غم کی تصویر بن گئے۔ مولانا انعام الحسن کو تقریباً تیس برس پہلے تبلیغی جماعت کے دوسرے امیر حضرت مولانا محمد یوسف کاندھلویؒ کی وفات کے بعد عالمگیر تبلیغی جماعت کا امیر منتخب کیا گیا تھا۔ ان کی امارت میں دعوت و تبلیغ کے عمل کو عالمی سطح پر جو وسعت اور ہمہ گیری حاصل ہوئی وہ ان کے خلوص و محنت کی علامت ہے۔
دعوت و تبلیغ کا یہ عمل جو حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلویؒ نے کم و بیش پون صدی قبل میوات کے سادہ اور دین سے بے بہرہ مسلمانوں کو اسلام کی بنیادی تعلیمات سے آراستہ کرنے کے لیے شروع کیا تھا، آج عالم اسلام میں اسلامی تعلیمات کے فروغ اور دین کی بنیادی باتوں کی دعوت کی سب سے بڑی اور منظم جدوجہد کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ اور اس میں مولانا انعام الحسنؒ کی پر خلوص محنت کا بہت بڑا حصہ ہے۔ یہ جدوجہد سادہ اور فطری طریق کار پر مبنی ہے جس میں اعتقادی، فکری اور فقہی مباحث سے مکمل طور پر گریز کرتے ہوئے عام مسلمان کو کلمہ طیبہ، نماز، قرآن کریم اور سنت نبویؐ کے ساتھ جوڑنے کی فکر کی جاتی ہے۔ اور اس بات کی محنت کی جاتی ہے کہ آج کے مسلمانوں میں قرون اولیٰ والے مسلمانوں کے اوصاف و اعمال کو زندہ کیا جائے۔ تبلیغی جماعت کے اکابرین کا کہنا ہے کہ اگر ہمارے اندر قرونِ اولیٰ والے اعمال اور اوصاف زندہ ہو جائیں تو آج بھی انسانیت کو نجات کے راستے پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔ مولانا انعام الحسنؒ بھی انہی تعلیمات کے داعی تھے اور تبلیغی جماعت کے دیگر اکابرین کی طرح کوئی الگ اور امتیازی بات کرنے کی بجائے وہی اجتماعی بات کرتے تھے جو سب تبلیغی اکابر عام طور پر کرتے ہیں۔ لیکن ان کا خلوص، تقویٰ اور لہجہ کی سادگی اس قدر پرکشش تھی کہ عام لوگ ان کی گفتگو سننے کے لیے کھنچے چلے آتے تھے اور دین دار مسلمان ان کی زیارت اور ان کے ساتھ دعا میں شرکت کو اپنے لیے باعثِ سعادت سمجھتے تھے۔
مولانا انعام الحسنؒ کو تبلیغی حلقوں میں ’’حضرت جی‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔ رائے ونڈ میں نومبر کے دوران ہر سال منعقد ہونے والے عالمی تبلیغی اجتماع میں حضرت جی کی نصیحتیں سننے اور ان کے ساتھ دعا میں شریک ہونے کے لیے عام مسلمانوں کے ساتھ ساتھ بڑے علماء اور اہل اللہ بھی موجود ہوتے تھے اور دعا میں ان کے سادہ جملوں پر لاکھوں آنکھیں پرنم ہو جاتی تھیں۔ رائے ونڈ کے عالمی تبلیغی اجتماع کو یہ وسعت اور قبول عام بھی انہی کے دور میں حاصل ہوا کہ اسے حج بیت اللہ اور حرمین شریفین میں آخری عشرۂ رمضان المبارک کی حاضری کے بعد عالم اسلام کا سب سے بڑا سالانہ اجتماع شمار کیا جاتا ہے۔ اور اس اجتماع میں دنیا کے ہر خطہ اور براعظم سے تعلق رکھنے والے مسلمان نہ صرف شریک ہوتے ہیں بلکہ ان میں سے ہزاروں جماعتیں تشکیل پا کر دنیا بھر میں اسلام کی دعوت و تبلیغ کے لیے نکل کھڑی ہوتی ہیں جو کسی حکومت یا ادارے پر بوجھ بنے بغیر اپنے ذاتی خرچہ پر دین سیکھنے اور دین پر عمل کی دعوت دینے کے جذبہ کے ساتھ قریہ قریہ بستی بستی گھومتی ہیں۔
راقم الحروف کو رائے ونڈ کے سالانہ اجتماع کے موقع پر حضرت مولانا انعام الحسنؒ کے ارشادات سننے اور ان کے ساتھ دعا میں شرکت کا موقع کئی بار ملا لیکن زیارت نہ کر سکا۔ کیونکہ اتنے بڑے ہجوم میں اس قدر آگے گھسنا اور دھکم پیل کرنا میرے مزاج کے خلاف ہے، البتہ گزشتہ سال رب العزت نے یہ موقع بھی عنایت فرما دیا جب حضرت جیؒ ڈیوزبری برطانیہ میں یورپ کے سالانہ تبلیغی اجتماع میں شرکت کے لیے تشریف لائے۔ اس اجتماع میں شرکت کا مجھے بھی موقع ملا جو بلاشبہ مسلمانوں کا بہت بڑا اجتماع تھا اور ایک محتاط اندازے کے مطابق چالیس سے پچاس ہزار تک افراد اس میں شریک تھے۔ اجتماع کے بعد دہلی واپسی کے لیے ہیتھرو ایئرپورٹ پر پہنچے تو رخصت کرنے والوں میں راقم الحروف بھی شامل تھا۔ حضرت جیؒ معذوروں کی کرسی پر بیٹھے تھے، جسم پر کمزوری اور نقاہت کے آثار تھے مگر چہرے کا نور دیکھ کر خدا یاد آرہا تھا۔ اس موقع پر رخصت کرنے کے لیے آنے والے سینکڑوں مسلمانوں کے ساتھ انہوں نے مختصر دعا کرائی۔ کیا خبر تھی کہ اس مردِ درویش کی یہ پہلی زیارت ہی آخری زیارت ثابت ہوگی۔
آج حضرت جیؒ اپنے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے لاکھوں عقیدت مندوں،بلکہ کروڑوں بھی کہا جائے تو شاید مبالغہ نہ ہو، داغِ مفارقت دے کر اپنے خالق و مالک کے پاس جا چکے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائیں اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں، آمین یا الٰہ العالمین۔
مولانا محمد غفران ہزارویؒ
استاذ الاساتذہ حضرت مولانا رسول خان ہزاروی نور اللہ مرقدہ کے فرزند اور مولانا قاری عبد الرشید رحمانی، خطیب اسلامک سنٹر سیلون روڈ اپٹن پارک لندن کے والد گرامی حضرت مولانا محمد غفران ہزارویؒ گزشتہ دنوں مکہ مکرمہ میں انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔
ان کی عمر پچھتر برس تھی اور وہ دارالعلوم دیوبند کے فاضل تھے۔ کچھ عرصہ دارالعلوم اسلامیہ انارکلی لاہور میں تدریسی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ مولانا مرحوم رمضان المبارک کے دوران عمرہ کی ادائیگی کے لیے مکہ مکرمہ گئے اور وہیں ان کا انتقال ہوگیا، انہیں حرم پاک میں نماز جنازہ کے بعد جنت المعلیٰ میں سپرد خاک کر دیا گیا۔
اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائیں اور پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق سے نوازیں، آمین یارب العالمین۔
مولانا عبد الرحیمؒ آف شکرگڑھ
گزشتہ ماہ کے دوران شکرگڑھ کے ممتاز عالم دین مولانا ڈاکٹر عبد الرحیم انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ انہوں نے عملی زندگی کا آغاز مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ کی حیثیت سے کیا اور کافی عرصہ تک گوجرانوالہ میں رہے۔ بعد میں انہوں نے شکرگڑھ میں مدرسہ رحیمیہ تعلیم القرآن کے نام سے دینی ادارہ قائم کیا اور آخر وقت تک اس کے ذریعے سے دینی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ وہ اپنے علاقہ میں جمعیۃ علماء اسلام کے سرگرم راہنماؤں میں شمار ہوتے تھے اور انہوں نے تحریک ختم نبوت، تحریک نظام مصطفیٰ اور تحریک نفاذ شریعت میں سرگرم کردار ادا کیا۔ مرحوم ہمارے انتہائی مہربان اور بزرگ دوست تھے اور ہمیشہ اپنی شفقت سے نوازتے رہے۔
الحاج بابو عبد الخالقؒ آف جہلم
اسی دوران جہلم کے سرگرم جماعتی بزرگ الحاج بابو عبد الخالق بھی دارِ آخرت کو سدھار گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مرحوم عالمِ دین نہیں تھے لیکن جماعتی اور مسلکی خدمات کے حوالے سے ہمیشہ علماء کی صف میں شمار ہوتے تھے۔ ایک عرصہ تک جمعیۃ علماء اسلام کے ضلعی امیر رہے، ان کا دستر خوان علماء اور جماعتی احباب کے لیے ہر وقت بچھا رہتا تھا۔ حضرت درخواستیؒ سے خصوصی تعلق تھا اور حضرت بھی ان پر خصوصی شفقت فرمایا کرتے تھے۔ انتہائی نیک دل اور خداترس بزرگ تھے، ان کی وفات سے دو تین روز قبل کی بات ہے کہ اسلام آباد سے واپسی پر تھوڑی دیر کے لیے جہلم رکا تو ان سے ملاقات ہوئی اور بہت سے معاملات پر گفتگو بھی ہوئی، کسے خبر تھی کہ یہ آخری ملاقات ہوگی؟
سچی بات ہے کہ ڈاکٹر عبد الرحیم صاحب اور بابو عبد الخالق صاحب جیسے مخلص دوستوں اور کرم فرما ساتھیوں کی جدائی نے دنیا کی بے ثباتی اور بے وفائی کا احساس اور زیادہ گہرا کر دیا ہے، رہے نام خدا کا۔
اللہ پاک دونوں حضرات کی مغفرت فرمائیں، ان کی حسنات کو قبولیت سے نوازیں، سیئات سے عفو و درگزر سے کام لیں اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائیں، آمین یارب العالمین۔
’’مغرب پر اقبال کی تنقید‘‘
پروفیسر غلام رسول عدیم
اقبالیات کا موضوع اردو ادب کا معتد بہ حصے کو شامل ہے۔ اس موضوع پر لکھنے والوں کی بھی کمی نہیں۔ ہر سال علامہ اقبال کے سوانح حیات اور فکر و فن پر لکھا جاتا ہے۔ یہ عمل تواتر کے ساتھ جاری ہے اور اس تسلسل میں انقطاع یا اختتام کی کوئی وجہ بھی نہیں۔ اس لیے کہ علامہ اقبال کی فکری جہتیں علومِ معاشرت کے ساتھ ساتھ الہامی علوم اور الٰہیات سے بھی متعلق ہیں۔ وہ ایک شاعر اور مفکر کی حیثیت سے ایک ترشے ہوئے ہیرے کی طرح بو قلموں شخصیت کے مالک تھے۔ لہٰذا ان کی عظیم شخصیت کی مثقال سے انعکاس پذیری اور ان کے فکر کی مشکوۃ سے اپنے فانوسِ بصیرت کو جگمگانے کےلیے استینار ہر شخص کا علمی حق ہے۔
یہ ایک حقیقتِ ثابتہ ہے کہ اس وسیع ذخیرے میں کچھ مال تو آخور کی بھرتی سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا، اور کچھ محض چبائے ہوئے نوالوں کو پھر سے چبانے، نگلنے اور پھر اگلنے کے مترادف ہے۔ تاہم اقبالی ادب کے بعض جواہر ریزے سامنے آنے پر طبیعت میں فرحت بخش سرور اور نشہ انگیز کیف کا انداز پیدا ہوتا ہے۔ جی میں بے نام امنگ اور حوصلے میں ترنگ پیدا ہوتی ہے۔ یہ احساس بیدار ہوتا ہے کہ ؏ ’’ابھی اس بحر میں باقی ہیں لاکھوں لولائے لالا‘‘۔ تاہم شرط یہ ہے کہ غواص عمق شناع ہو۔
زیر نظر مختصر مگر جامع کتاب ’’مغرب پر اقبال کی تنقید‘‘ اس احساس میں تیقن اور اس اعتماد میں ثقاہت کی لو کو تیز کرتا ہے۔ ڈاکٹر پروفیسر عبد الغنی فاروق خاص تحقیقی و فکری منہاج رکھتے ہیں۔ ان کی علمی جستجو کا ایک خصوصی انداز ہے جو اس کتاب کے ورق ورق سے ظاہر ہوتا ہے۔ بات تو سامنے کی ہے اور اقبالیات کا ہر طالب علم جانتا ہے کہ زیر نظر موضوع بالکل بدعا من الموضوعات کی حیثیت نہیں رکھتا۔ ادھر ادھر بکھرا ہوا سہی مگر ہے ضرور۔ تاہم جس زاویہ نگاہ سے موصوف نے اس پر قلم اٹھایا ہے، فی الواقع اس میں جمالِ اختراع و ابداع بھی ہے اور حسنِ لیق و انشا بھی۔
وہ لوگ جن کی ساری توانائیاں اس بات کے ثابت کرنے میں صَرف ہو جاتی ہیں کہ علامہ تھے ہی مغرب کے خوشہ چیں اور ان کی فکر کے ڈانڈے اگر ملتے ہیں تو مغرب کے مفکرین کی فکر ’’فلک رس‘‘ سے ملتے ہیں، جن کے نزدیک اقبال کے پورے نظامِ فکر کو نٹشے، فشٹے، ہیگل، برگساں، دانتے جیسے فلاسفہ مغرب سے مستعار سمجھنا عین صواب بلکہ عین ثواب ہے۔ جو یہ سمجھتے ہیں کہ اقبال کی فکری تہیں ہی نہیں، وجدانی پرتیں بھی مغرب ہی کی ساختہ و پرداختہ ہیں۔ اور ان کا الٰہیاتی نظامِ فکر اپنی بافت کے اعتبار سے مشرقیت گریز اور مغرب زدہ ہے۔ یہ کتاب ایسے لوگوں کا دندان شکن جواب ہے۔
موصوف نے اس تالیف منیف میں جس بلند آہنگی اور زوردار طرح سے مدلل گفتگو کی ہے، اس سے ذہنوں کے جالے اتر جانے چاہئیں۔ وہ اپنے موقف کی صداقت پر بجا طور پر یقین رکھتے ہیں۔ غیر مبہم لفظوں اور دوٹوک جملوں میں بات کرتے ہیں۔ جب اپنے بیان کی تائید و توثیق کے لیے فکرِ اقبال سے استناد کرتے ہیں تو ان کی بات اتنی باوزن ہو جاتی ہے کہ اسے باور کیے بغیر چارۂ کار نہیں رہتا۔ ان کا استدلال منطقی، اندازِ بیان شستہ و رفتہ اور اسلوب شگفتہ ہے۔ دھلی دھلائی زبان میں بات کرتے ہیں۔ کھری کھری کہنے کے عادی ہیں۔ نہ خوفِ لومتہ لائم، نہ زمانہ سازی، نہ دل کا مطلب استعارہ و مجاز میں چھپانے کی عادت، تحریر نظر فروز ہے تو مفاہیم عبارت دل آویز۔جس حسن کاری سے وہ استخراجِ نتائج کرتے ہیں وہ لائق دید بھی ہے اور قابلِ داد بھی۔
انہوں نے محض اقبال کی شعری تخلیقات پر اکتفا نہیں کیا، علامہ کے نثری کارناموں، تحریروں، تقریروں، مکاتیب، ملفوظات سبھی سے اخذ و استفادہ کیا ہے۔ انہیں اپنے مقاصد و اہداف کے حصول کے لیے اس چابک دستی اور بانکپن سے استعمال کیا ہے کہ تشنگی کا احساس نہیں رہتا۔ مغربی تہذیب پر اقبال کی عمومی تنقید سے لے کر مغرب کے تصوراتِ وطنیت، مذہب و سیاست، سرمایہ داری و جاگیرداری، نظامِ تعلیم، آزادئ نسواں (بلکہ آزادہ روی نسواں)، آزاد خیال (بلکہ آوارہ خیال) مغرب پرستوں، قادیانیوں اور اشتراکیت پسندوں میں سے ایک ایک کو موضوعِ بحث بنا کر آخر میں یورپ کے مکمل زوال سے متعلق اقبال کے نقطۂ نگاہ کی وضاحت کی ہے۔
کتاب معنویت کی سطح پر حقائق سے لبریز ہے ہی، اس کی خوب کارانہ ظاہریت بھی مصنف کے ستھرے ذوق کی غماز ہے۔ ہر باب کے اختتام پر ماخذ و موارد کی نشاندہی ان کے ذوقِ تحقیق و تشخص کی آئینہ دار ہے، جسے نہ اہلِ نظر نظرانداز کر سکتے ہیں نہ تماشائی۔ یوں کتاب پکارے گلے اعلان کر رہی ہے کہ اقبال اس شاخِ نازک پر بننے والے آشیانے کو ناپائیدار سمجھتے ہیں اور اسے رہ گزر سیل بے پناہ میں خیال کرتے ہیں۔ اقبال کا یہ اظہار محض قیاسی، ظنی اور الَل ٹَپ نہ تھا، برسوں کی سوچ کا نتیجہ تھا۔ مدعی جس تہذیب اور جن فکری منابع کو اقبال کا سرچشمۂ فکر خیال کرتے ہیں، وہ انہیں بنگاہِ تنفر و استخفاف دیکھتے ہوئے آگے گزر جاتا ہے اور اعلان کر دیتا ہے کہ
برا نہ مان ذرا آزما کے دیکھ اسے
فرنگ دل کی خرابی خرد کی معموری
پھر وہ اپنے اصل مورد پر پہنچ کر پوری طمانیت سے کہتا ہے اور پورے زور سے کہتا ہے:
گر دلم آئینہ بے جوہر است
ور بحرفم غیر قران مضمر است
پردۂ ناموس فکرم چاک کن
ایں خیاباں راز خارم پاک کن
تنگ کن رخت حیات اندر برم
اہلِ ملت را نگہدار از شرم
روز محشر خوار و رسوا کن مرا
نے نصیب از بوسہ کن مرا
ڈاکٹر پروفیسر عبد الغنی فاروق ہمارے شکریے کے مستحق ہیں کہ انہوں نے اس موضوع پر نہ صرف بکھرے موتی تلاش کیے بلکہ فکرِ اقبال کے تناظر میں ان کو اس شان سے پرویا اور سجایا ہے کہ ان کی چھوٹ سے مغرب زدہ آنکھیں خیرہ ہوتی جاتی ہیں۔ میرا احساس ہے کہ یہ کتاب اس خیالِ باطل کی تردید کرنے میں بہت اہم کردار ادا کرے گی جس کے تحت بہت سے اقبالیات کے طالب علم فکرِ اقبال کا آخری سرا مغرب میں تلاش کرنے بیٹھ جاتے ہیں۔ انہیں اس تحریر سے معلوم ہو سکے گا کہ حکیم الامت اپنے دور میں شاید سب سے بڑے نقادِ مغرب تھے۔
اخبار و آثار
ادارہ
فورم کے سالانہ سیمینار میں مولانا علی میاں مہمانِ خصوصی ہوں گے
ورلڈ اسلامک فورم کی مجلسِ عاملہ کا اجلاس ۱۸ جون کو ختمِ نبوت سنٹر لندن میں مولانا زاہد الراشدی کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ سال کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ مولانا زاہد الراشدی نے دورۂ سعودی عرب اور مولانا محمد عیسیٰ منصوری نے جنوبی افریقہ، ری یونین، بھارت اور سعودی عرب کے دورے کی رپورٹ پیش کی۔ انہوں نے بتایا کہ لکھنؤ میں انہوں نے مفکرِ اسلام حضرت مولانا ابو الحسن علی ندوی دامت برکاتہم سے ملاقات کر کے انہیں فورم کی سرگرمیوں سے آگاہ کیا۔ جس پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے مولانا موصوف نے اگست کے دوران برطانیہ تشریف آوری کے موقع پر فورم کے پروگرام کے لیے وقت دینے کا وعدہ فرمایا ہے۔ چنانچہ اجلاس میں طے پایا کہ ورلڈ اسلامک فورم کا سالانہ سیمینار اگست میں منعقد ہو گا جس میں حضرت مولانا ابو الحسن علی ندوی مہمانِ خصوصی ہوں گے۔ سیمینار کی تاریخ اور جگہ کا اعلان مولانا موصوف کے ساتھ پروگرام کے تعین کے بعد جلد کر دیا جائے گا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔
اجلاس میں ’’اسلامک ہوم اسٹڈی کورس‘‘ کی رفتار کا بھی جائزہ لیا گیا جو ایک سال سے تسلسل کے ساتھ جاری ہے اور تین درجن کے لگ بھگ طلبہ اور طالبات کو اردو اور انگلش میں مطالعۂ اسلام کا کورس فراہم کیا جا رہا ہے۔
اجلاس میں طے پایا کہ عالمِ اسلام کو درپیش مسائل بالخصوص انسانی حقوق کے حوالے سے اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں عالمی ذرائع ابلاغ کے منفی پراپیگنڈا کو سامنے رکھتے ہوئے متعلقہ موضوعات پر برطانیہ کے مختلف شہروں میں مجالس مذاکرہ کا اہتمام کیا جائے گا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔
اجلاس میں تبلیغی جماعت کے امیر حضرت مولانا انعام الحسن کاندھلویؒ کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ان کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔
مولانا شاہ احمد نورانی، مولانا محمد تقی عثمانی اور مولانا حبیب اللہ مختار سے ملاقات
ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا زاہد الراشدی نے لندن جاتے ہوئے ۶ جون کو ایک روز کراچی میں قیام کیا اور ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے سربراہ مولانا شاہ احمد نورانی، سپریم کورٹ کے شریعت ایپلٹ بنچ کے رکن جسٹس مولانا محمد تقی عثمانی، اور جامعہ علومِ اسلامیہ بنوری ٹاؤن کے سربراہ مولانا ڈاکٹر حبیب اللہ مختار اور مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر سے ملاقات کی۔ اقراء ڈائجسٹ کے ایڈیٹر مولانا محمد جمیل خان، مولانا قاری محمد عثمان اور مولانا عزیز الحق ہزاروی بھی ان کے ہمراہ تھے۔
مولانا راشدی نے ان راہنماؤں سے انسانی حقوق کے حوالے سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف عالمی سطح پر ہونے والے منفی پراپیگنڈا سے پیدا شدہ صورتحال پر بات چیت کی اور اس بات پر زور دیا کہ علمی و دینی اداروں کو انسانی حقوق کے بارے میں دینی موقف کی وضاحت کا اہتمام کرنا چاہیے۔
انہوں نے جمعیت علماء اسلام کے راہنما مولانا حافظ عبد القیوم نعمانی سے ان کی والدہ محترم کی وفات پر تعزیت کی اور جامعہ عثمانیہ معین آباد لانڈھی کے مہتمم مولانا حافظ اقبال اللہ کی دعوت پر جامعہ میں علماء کرام کے ایک اجتماع سے خطاب کیا۔
مولانا راشدی لندن پہنچ گئے
ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا زاہد الراشدی ۷ جون کو لندن پہنچ گئے ہیں جہاں دو تین ماہ قیام کریں گے اور فورم کے سالانہ اجلاس کی صدارت کے علاوہ مختلف شہروں میں دینی اجتماعات سے خطاب کریں گے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ اس سال ان کا قیام اسلامک کلچرل سنٹر ویمبلی میں ہے جس کا ایڈریس درج ذیل ہے:
72 Harrow Road, Wembley Middx, U.K.
مولانا راشدی کو امریکی ویزے سے انکار
پاکستان میں امریکی سفارتخانے نے مولانا زاہد الراشدی کو امریکہ کا ویزا دینے سے ایک بار پھر انکار کر دیا ہے۔ انہیں جمعیت المسلمین واشنگٹن ڈی سی نے جولائی کے دوران مختلف دینی اجتماعات سے خطاب کی دعوت دی تھی، لیکن لاہور میں امریکی قونصل خانے نے باضابطہ دعوت نامہ کے باوجود ویزا دینے سے انکار کر دیا۔ مولانا راشدی اس سے قبل باقاعدہ ویزے پر ۱۹۸۷ء، ۱۹۸۸ء، ۱۹۸۹ء اور ۱۹۹۰ء میں چار بار امریکہ جا کر درجنوں اجتماعات سے خطاب کر چکے ہیں۔ لیکن گزشتہ دو سال سے امریکی سفارت خانہ انہیں ویزا دینے سے مسلسل انکار کر رہا ہے۔
مولانا راشدی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انہیں پاکستان کے قومی و دینی معاملات میں بڑھتی ہوئی امریکی مداخلت کے خلاف دینی حلقوں کو منظم کرنے کی مسلسل جدوجہد کی پاداش میں انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جو انسانی حقوق اور آزادئ رائے کے حوالہ سے امریکی پالیسی کے دوغلے پن کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس سلسلہ میں انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں سے رجوع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
برطانیہ میں ختمِ نبوت کانفرنسوں کے پروگرام
اس سال عالمی مجلس تحفظِ ختمِ نبوت کے زیر اہتمام سالانہ عالمی ختمِ نبوت کانفرنس ۶ اگست اتوار کو مرکزی جامع مسجد برمنگھم برطانیہ میں ہو گی۔ جبکہ ۳۰ جولائی اتوار کو سنٹرل مسجد وائٹ چیپل لندن میں اور ۱۳ اگست اتوار کو مرکزی جامع مسجد گلاسگو میں ختمِ نبوت کانفرنس منعقد ہو گی۔ ختمِ نبوت سنٹر لندن کے انچارج الحاج عبد الرحمٰن یعقوب باوا نے بتایا کہ ان کانفرنسوں کی صدارت عالمی مجلس تحفظِ ختمِ نبوت کے سربراہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد مدظلہ کریں گے اور ان میں مختلف ممالک کے سرکردہ علماء کرام اور دانشور خطاب کریں گے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔
الکیمیا
حکیم عبد الرشید شاہد
عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ ہر طبی رسالہ میں چند صفحے ’’الکیمیا‘‘ کے عنوان کے لیے وقف کیے جاتے ہیں اور بڑے لمبے لمبے لچھے دار الفاظ میں نسخہ جات کا اظہار کیا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں ہر ایک نسخہ کے آخر میں گارنٹی شدہ لفظ ’’مجرب‘‘ ضرور درج ہوتا ہے۔ معلوم نہیں ایسے نسخے کس جنم میں تجربہ کی کسوٹی پر پرکھے جاتے ہیں۔ میرے جیسے بھولے بھالے مبتدی جب نسخہ کے آخری الفاظ دیکھتے ہیں کہ ’’اس کے کرنے سے شمس گردد‘‘ یا ’’قمر گردد‘‘ تو بس جھٹ بازار میں جا کر اجزا خریدتے ہیں اور تجربہ شروع کر دیتے ہیں۔ خود گھر میں کھانے کو ایک دانہ تک نہ ہو اور خود اپنے جسم کے کپڑے ہی کیوں نہ فروخت کرنے پڑیں، ان کا خیال ہوتا ہے کہ بس اس نسخہ کے بنانے سے تمام مشکلات حل ہو جائیں گی، لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات اور ایک آنچ کی کسر ہی ہوتی ہے۔
گو علمِ کیمیا کے وجود کا انکار نہیں لیکن اس کے نام نہاد ماہر بھی عالم نہیں ہیں۔ اکثر رسائل میں سینکڑوں دعوے دار اپنے نسخے جات کو مجرب بیان کرتے ہیں اور اکثر تبادلہ کے لیے چیلنج دیتے ہیں۔ لیکن آج تک ان سینکڑوں دعوے داروں میں کوئی ایک ایسا نہیں دیکھا گیا جو امارت کو پہنچ سکا ہو۔ اگر ان ماہرینِ فن کی خدمت میں التماس کی جائے کہ بھائی براہ مہربانی فی سبیل اللہ ایک سال اپنے فن کے صدقے صرف ایک سیر ذہب تیار کر کے کسی مذہبی ادارہ یا مسجد کو وقف کر دو، اور اگر ایسا نہیں کر سکتے تو فی زمانہ بے روزگاری کو مدنظر رکھتے ہوئے ان غریبوں، مسکینوں پر خرچ کرو جو زمانہ کی نیرنگیوں سے تنگ آ کر آئے دن خودکشی کر رہے ہیں۔ اپنے فن مبارک کے طفیل خدمتِ خلق کر کے ثوابِ دارین حاصل کریں اور اپنے غریب و افلاس زدہ ملک کو مفلسی کے چنگل سے چھٹکارہ دلائیں، تو سب صاحبان فورًا چپ سادھ لیتے ہیں گویا کہ سانپ ہی سونگھ گیا ہے۔
اس میں شک نہیں کہ اس مبارک فن کی تلاش میں قرونِ اولیٰ کے لوگ بھی سرگردان رہے ہیں اور خاص کر اہالیانِ عرب نے بیش از بیش حصہ لیا ہے۔ بہرحال سب اس فن کو سرسبز کرنے والے اپنا اپنا راگ الاپ کر راہی ملک بقا ہوئے اور ہو رہے ہیں، گوہرِ مراد ہاتھ آنا تھا نہ آیا اور نہ ہی غنچۂ امید کھلا۔ اس لیے ضروری ہے کہ رسائل اس فن کے نسخہ جات کو درج کر کے غریب لوگوں کو گمراہ نہ کریں۔ یہ فن کوئی معمولی بچوں کا کھیل نہیں کہ کس و ناکس کو اس پر عبور حاصل ہو جائے۔ یہ ایک ذوالمنن کی قدرت کا کرشمہ ہے جسے چاہے عطا کرے۔ جس کے مقدر میں لکھا ہے وہی پائے گا۔ اگر دنیا میں علمِ کیمیا عام ہو جائے اور ہر اہل و نا اہل اس کا استاد بن جائے تو کارخانۂ قدرت درہم برہم ہو جائے۔