جنوری ۱۹۹۵ء

مالاکنڈ ڈویژن میں نفاذ شریعت کی جدوجہدمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
دینی مدارس، بنیاد پرستی اور انسانی حقوقمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
دینی مدارس کے نظام کی بہتری کے لیے تجاویزادارہ 
قافلۂ معادمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
جمعیت علماء اسلام کے دھڑوں کے درمیان اتحاد کی اپیلادارہ 

مالاکنڈ ڈویژن میں نفاذ شریعت کی جدوجہد

پس منظر، نتائج اور تقاضے

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

سوات ہمارے آباء و اجداد کا وطن ہے جہاں سے ہمارے بڑے کسی دور میں نقل مکانی کر کے ہزارہ کے وسطی ضلع مانسہرہ کے مختلف اطراف میں آباد ہوگئے تھے۔ اسی وجہ سے ہمارا تعارف سواتی قوم کے طور پر ہوتا ہے اور عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان صاحب زید مجدہم کے نام کے ساتھ سواتی کی نسبت مستقل طور پر شامل رہتی ہے۔ مگر مجھے زندگی میں اس سے قبل کبھی سوات جانے کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔ گزشتہ دنوں مالاکنڈ ڈویژن میں نفاذ شریعت کی جدوجہد کے حوالے سے اس خطہ کے حالات کا براہ راست جائزہ لینے کا داعیہ پیدا ہوا تو دو تین روز کے لیے سوات جانے کا پروگرام بن گیا اور ۱۰ دسمبر ہفتہ کی شام سے ۱۲ دسمبر پیر کی عصر تک ضلع سوات کے مختلف مقامات پر حاضری اور سرکردہ حضرات سے ملاقاتوں کا موقع ملا۔

اس دوران مینگورہ، سیدو شریف، خوازہ خیلہ، مٹہ اور بشام میں احباب کے ساتھ متعدد نشستیں ہوئیں، بالخصوص شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد الرحمان، شیخ الحدیث حضرت مولانا فضل محمد، مولانا قاری عبد الباعث، مولانا محمد زمان، مولانا قاری حبیب احمد، حاجی سلطان یوسف، مولانا احمد اور جناب محمد ابراہیم حقیقت پسند کے علاوہ ہائیکورٹ کے وکیل جناب بشیر محمد ایڈووکیٹ اور سرکاری حکام میں سے ایک ذمہ دار شخصیت کے ساتھ ملاقاتیں بہت سودمند رہیں اور تحریک نفاذ شریعت کے پس منظر اور حالات کو سمجھنے میں خاصی مدد ملی۔

آج سے ربع صدی قبل تک سوات، دیر اور چترال پاکستان کے اندر مستقل ریاستوں کی حیثیت رکھتے تھے۔ سوات میں والی، دیر میں نواب اور چترال میں مہتر صاحبان اپنی ریاستوں کے اندرونی نظم و نسق میں خودمختار تھے اور ان کا عدالتی نظام بھی اپنا اپنا تھا۔ سوات کی صورتحال یہ تھی کہ قضاء شرعی کا نظام قائم تھا اور قاضی صاحبان شرعی قوانین کے مطابق مقدمات کے فیصلے کرتے تھے۔ اگرچہ مرور زمانہ کے ساتھ قضا کے اس نظام میں رشوت اور سفارش کے جراثیم سرایت کر آئے تھے اور اس دور کے بہت سے قاضی صاحبان کے بارے میں اچھی روایات سننے میں نہیں آتیں، تاہم لوگوں کو سستا اور فوری انصاف مل جاتا تھا اور مقدمات کے فیصلوں کے لیے زیادہ دیر تک پریشان نہیں رہنا پڑتا تھا۔ بالخصوص قصاص کے مقدمات بروقت نمٹ جاتے تھے اور فریقین زیادہ عرصہ تک کھینچا تانی کے عذاب میں مبتلا رہنے سے بچ جاتے تھے۔ اس کے ساتھ مختلف علاقوں میں والی سوات کے انتظامی نمائندوں کو بھی عدالتی اختیارات حاصل تھے اور وہ علاقائی رواج کے مطابق مقدمات کا فیصلہ کرتے تھے۔

یہ سسٹم اس وقت تک رہا جب ۱۹۶۹ء میں سوات، دیر اور چترال کی الگ حیثیت ختم کر کے تینوں ریاستوں کو پاکستان میں ضم کر لیا گیا اور دستور پاکستان کے مطابق ملک کے انتظامی اور عدالتی ڈھانچوں کا دائرہ ان ریاستوں تک وسیع کر دیا گیا۔ پاکستان میں ضم ہوجانے کے بعد پاکستان کے انتظامی اور عدالتی ضوابط کا ان علاقوں پر اطلاق ہوا اور تینوں ریاستوں کو الگ الگ ضلع کی حیثیت دے کر وہاں ڈپٹی کمشنر، ایس پی اور سیشن جج مقرر کر دیے گئے۔ اس طرح پاکستان کا عدالتی نظام جو برطانوی نوآبادیاتی حکومت کا ورثہ ہے اور عرف عام میں انگریزی عدالتی نظام کہلاتا ہے سوات، دیر اور چترال کے تین نئے اضلاع پر بھی لاگو ہوگیا۔

غالباً ۱۹۷۵ء میں دیر میں جنگلات کی رائلٹی کے حوالہ سے ایک عوامی تحریک اٹھی جس نے حکومت کے خلاف مسلح تصادم کی شکل اختیار کر لی، اس تحریک کے مطالبات میں سابقہ عدالتی سسٹم کی بحالی کا مطالبہ بھی شامل تھا جس کے نتیجے میں مرحوم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے ’’فاٹا ریگولیشن‘‘ کے تحت اس خطہ میں ایک نیا عدالتی نظام نافذ کر دیا۔ یہ ریگولیشن مالاکنڈ ڈویژن کی حدود میں نافذ کیا گیا جس میں سوات، دیر اور چترال کے تین اضلاع کے علاوہ مالاکنڈ کا صوبائی حکومت کے زیرانتظام علاقہ بھی شامل ہے۔ اس عدالتی نظام میں فوجداری اور دیوانی دونوں قسم کے مقدمات میں ڈپٹی کمشنر کو کلیدی حیثیت حاصل تھی اور عدالتی افسران کے تقرر اور اپیلوں کی سماعت میں اس کے فیصلے حتمی شمار ہوتے تھے۔ وکلاء صاحبان نے اس عدالتی نظام کو بنیادی حقوق اور آئینی تحفظات کے منافی قرار دیتے ہوئے فاٹا ریگولیشن کو پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا اور ایک طویل جنگ لڑی جس کے نتیجے میں ہائیکورٹ نے فاٹا ریگولیشن کو غیر آئینی قرار دے دیا۔ یہ اس دور کی بات ہے جب جناب آفتاب احمد شیرپاؤ اپنے پہلے دور میں وزارت اعلیٰ کے منصب پر فائز تھے۔ ان کی حکومت نے ہائیکورٹ کا فیصلہ تسلیم کرنے کی بجائے اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا جس کی وجہ سے ’’فاٹا ریگولیشن‘‘ کا عدالتی سسٹم اس کے بعد بھی بدستور اس علاقہ میں قائم و جاری رہا۔

فاٹا ریگولیشن وکلاء کی طرح علماء اور دینی حلقوں کے لیے بھی قابل قبول نہیں تھا اور وہ بھی اسے ظالمانہ قرار دیتے ہوئے اپنے دائرہ میں اس کے خلاف جدوجہد کرتے رہے۔ مگر فاٹا ریگولیشن کے خاتمہ پر متفق ہونے کے باوجود اس کے بعد کے عدالتی نظام کے بارے میں دونوں کے اہداف الگ الگ تھے۔ وکلاء یہ چاہتے تھے کہ فاٹا ریگولیشن کے خاتمہ کے بعد اس خطہ میں وہی عدالتی نظام رائج ہو جو پاکستان کے دوسرے علاقوں میں آئین کے تحت کام کر رہا ہے۔ جبکہ علماء کرام اور دینی حلقے پاکستان کے عدالتی نظام کو انگریزی عدالتی نظام سمجھتے ہوئے اس کی بجائے خالصتاً شرعی نظام کے نفاذ کے خواہاں تھے۔ چنانچہ فاٹا ریگولیشن کے خلاف خلاف دونوں طبقوں کی جدوجہد جاری رہی تاآنکہ سال رواں کے آغاز میں بارہ فروری کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے فاٹا ریگولیشن کو غیر آئینی قرار دینے کے بارے میں پشاور ہائیکورٹ کے فیصلہ کی توثیق کر دی اور اس کے ساتھ ہی فاٹا ریگولیشن اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا۔

یہ وہ مرحلہ تھا جب مالاکنڈ ڈویژن میں ’’تحریک نفاذ شریعت محمدی‘‘ جو اس سے قبل بھی فاٹا ریگولیشن کے خاتمہ اور شرعی نظام کے نفاذ کے مطالبات کے ساتھ دھیرے دھیرے عوامی حلقوں میں آگے بڑھ رہی تھی، ایک نئے جوش و جذبہ کے ساتھ ابھری اور دیکھتے ہی دیکھتے اس نے علاقہ کی سب سے بڑی عوامی قوت کی حیثیت اختیار کر لی۔ اس تحریک کے قائد مولانا صوفی محمد ہیں جو عالم دین ہیں، ایک عرصہ تک جماعت اسلامی سے وابستہ رہے ہیں، ڈسٹرکٹ کونسل دیر کے چیئرمین بھی رہے ہیں، مگر گزشتہ سات آٹھ برس سے کسی بھی جماعت سے متعلق نہیں ہیں بلکہ مختلف دینی جماعتوں کے وجود اور ووٹ کی سیاست کو حرام اور نفاذ اسلام کی راہ میں بڑی رکاوٹ سمجھتے ہیں۔ ضلع دیر کی تحصیل لعل قلعہ میں دارالعلوم میران کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اور قدیم وضع کی متصلب دینی شخصیت کے حامل ہیں۔

مولانا صوفی محمد کی زیرقیادت تحریک نفاذ شریعت محمدی کا بنیادی مطالبہ یہ تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے تحت فاٹا ریگولیشن کے خاتمہ سے اس خطہ میں قانونی نظام کا جو خلا پیدا ہوا ہے اسے پاکستان کے مروجہ عدالتی نظام کے ذریعے نہیں بلکہ خالص شرعی عدالتی نظام کے ذریعے پر کیا جائے اور مالاکنڈ ڈویژن میں مکمل شرعی قوانین کا نفاذ عمل میں لایا جائے۔ اس مطالبہ پر اس علاقہ کے مسلمان جس طرح دیوانہ وار جمع ہوئے اور اپنا سب کچھ نفاذ شریعت کے ’’جہاد‘‘ کے لیے پیش کر دیا وہ ان غیور مسلمانوں کی دینی غیرت اور شریعت اسلامیہ کے ساتھ ان کی والہانہ وابستگی کا مظہر ہے۔ تحریک نفاذ شریعت محمدی میں مالا کنڈ ڈویژن اور باجوڑ ایجنسی کے عوام نے جو بے مثال قربانیاں دی ہیں ان کی تفصیلات ایک مستقل مضمون کی متقاضی ہیں اور مستقبل قریب میں مالاکنڈ ڈویژن کے دوسرے سفر کے بعد ان شاء اللہ قارئین کو ان سے آگاہ کیا جائے گا۔ تاہم اس موقع پر صورتحال کا صحیح اندازہ لگانے کے لیے یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ تحریک کی طرف سے روڈ بلاک کرنے کے فیصلے پر شدید سردی میں ایک محتاط اندازے کے مطابق تیس سے چالیس ہزار افراد مسلسل سات روز تک کھلی سڑک پر بستر ڈالے پڑے رہے، لوگوں نے اپنی جائیدادیں اور عورتوں نے اپنے زیورات بیچ کر نفاذ شریعت کے جہاد میں شرکت کے لیے اسلحہ خریدا۔ اور اس خطہ کے عوام نے تحریک میں شرکت کے لیے بالکل اسی جذبہ اور جوش و خروش کے ساتھ تیاری کی جس طرح کسی دور میں باقاعدہ جہاد میں شریک ہونے کے لیے تیاری کی جاتی تھی۔

تحریک نفاذ شریعت کا موجودہ دور سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد شروع ہوا، لوگ سڑکوں پر آئے، روڈ بلاک کیے گئے، بعض مقامات پر سرکاری فورسز کے ساتھ تصادم بھی ہوا، متعدد قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور مئی ۱۹۹۴ء کے دوران صوبائی حکومت نے وعدہ کر لیا کہ مالاکنڈ ڈویژن میں شرعی قوانین کا نفاذ عمل میں لایا جائے گا۔ غالباً اس مقصد کے لیے چار ماہ کی مدت بھی متعین کی گئی مگر مدت ختم ہونے کے بعد بھی جب نفاذ شریعت کے کوئی آثار نظر نہ آئے تو لوگ دوبارہ سڑکوں پر آگئے، پھر سڑکیں بند کر دی گئیں، کچھ سرکاری افسران یرغمال بنائے گئے، بعض مقامات پر تصادم میں ایک ایم پی اے سمیت درجنوں افراد جاں بحق ہوئے، ہوائی اڈے سمیت بہت سی سرکاری عمارتوں پر تحریک کے کارکنوں نے قبضہ کر لیا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ حکومت کو اپنا نظم و نسق بحال کرنے کے لیے فوج طلب کرنا پڑی۔

یہ نازک مرحلہ تھا جب دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ تحریک نفاذ شریعت محمدی کے بارے میں یہ تاثر دے رہے تھے کہ اس خطہ کے لوگوں نے شریعت کے نام پر پاکستان کے خلاف بغاوت کر دی ہے۔ اور بعض حلقے اس تاثر کو عام کرنے میں مصروف تھے کہ کشمیر سے توجہ ہٹانے کے لیے بھارتی ایجنسیوں نے مالاکنڈ ڈویژن میں یہ صورتحال پیدا کی ہے۔ ادھر علاقہ میں حالات کا منظر یہ تھا کہ تحریک کے ہزاروں کارکن مسلح تھے اور جہاد کے جذبہ کے ساتھ نفاذ شریعت کی جنگ لڑ رہے تھے۔ اس کیفیت میں جب امن و امان کی بحالی کے لیے فوج حرکت میں آئی تو سچی بات ہے کہ حساس دل لرزنے لگے اور مضطرب دلوں کے اضطراب میں کئی گنا اضافہ ہوگیا کہ پاکستان کی مسلح فوج اور تحریک نفاذ شریعت کے مسلح کارکن آمنے سامنے ہیں، خدا جانے نتائج کس قدر خوفناک ہوں گے۔ مگر بے ساختہ سلام عقیدت پیش کرنے کو جی چاہتا ہے تحریک نفاذ شریعت کے امیر مولانا صوفی محمد اور مسلح افواج کے علاقائی کمانڈر جنرل فضل غفور کو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی صحیح سمت راہنمائی کی اور ان دونوں نے کمال تدبر اور بصیرت کے ساتھ حالات کو اس طرح سنبھال لیا کہ پاکستان آرمی اور ملک کے دینی حلقوں کو آمنے سامنے تصادم کی کیفیت میں دیکھنے کے خواہشمند حلقوں کی آرزوئیں خاک میں مل گئیں۔

ہوا یوں کہ مولانا صوفی محمد نے حالات کی نزاکت اور سنگینی کا اندازہ کرتے ہوئے خود کو فوج کے حوالے کر دیا اور کہا کہ میں ہر طرح کا تعاون کرنے کو تیار ہوں مگر فوج اور عوام میں تصادم کسی صورت میں نہیں ہونا چاہیے۔ یہ تصادم فوجی حکام بھی نہیں چاہتے تھے چنانچہ مولانا صوفی محمد نے فوجی حکام کے ہمراہ تحریک کے مراکز کا دورہ کیا اور جس طرح ممکن ہوا انہیں سمجھا بجھا کر گھروں میں واپس کیا۔ مولانا صوفی محمد ویسے بھی تحریک نفاذ شریعت محمدی میں تشدد کے رجحانات کی ذمہ داری قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، ان کا کہنا ہے کہ افسران کو یرغمال بنانے اور گولی چلانے کے واقعات ان کی ہدایات اور مرضی کے بغیر ہوئے ہیں اور انہوں نے کھلم کھلا ان واقعات سے براءت اور بیزاری کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے کارکنوں کو اسلحہ او رجہاد کی ترغیب ضرور دی ہے لیکن جب تک حکومت پاکستان شریعت اسلامیہ کے وعدہ پر قائم ہے اور اس سے انکار نہیں کر دیتی اس وقت تک ہتھیار اٹھانے کا کوئی جواز نہیں ہے اور نہ ہی یہ ہتھیار اٹھانا جہاد کہلائے گا۔

الغرض کھلم کھلا تصادم کے خطرات ٹل جانے کے بعد تحریک نفاذ شریعت اور صوبائی حکومت کے درمیان مذاکرات کے نئے سلسلہ کا آغاز ہوا جس کے نتیجہ میں مالاکنڈ ڈویژن میں نفاذ شریعت کے لیے ایک معاہدہ طے پا گیا جو صوبائی سیکرٹری قانون جناب سلیم خان کے ایک تحریری مکتوب کے مطابق یوں ہے:

’’محترم حضرت مولانا صوفی محمد بن الحضرت حسن صاحب

السلام علیکم

آپ کو یاد ہوگا کہ ۲۲ نومبر ۱۹۹۴ء کو تیمرگرہ کے مقام پر صوبائی چیف سیکرٹری اور ہوم سیکرٹری اور آپ کے درمیان مالاکنڈ ڈویژن میں نفاذ نظام شریعت ریگولیشن ۱۹۹۴ء کے بارہ میں بات چیت ہوئی۔ اس ریگولیشن کے تحت شریعت کی تعریف نفاذ شریعت ایکٹ ۱۹۹۱ء کے مطابق کی گئی ہے۔ یعنی احکام اسلام قرآن و سنت کے مطابق اور اجماع اور قیاس کی روشنی میں۔ اس کے علاوہ تمام اسلامی قوانین کا اطلاق اس ریگولیشن کے تحت اس علاقہ میں کیا جائے گا۔ مزید کہ اسلامی قوانین پر عملدرآمد اسلامی عدلیہ کے نظام کے تحت کرنے کا بندوبست کیا جائے گا۔ اس سلسلہ میں قاضی صاحب کے منصب کو بھی عملی جامہ پہنایا جائے گا۔ ضلع قاضی کا منصب اس ریگولیشن میں شامل کیا گیا ہے۔

آپ نے ملاقات کے دوران اس بات پر زور دیا تھا کہ تحصیل قاضی کا کرنا اہم ضرورت ہے اور یہ کہ منصب قاضی پر فائز حضرات اسلامی فقہ پر دسترس رکھتے ہوں۔ حکومت نے غوروخوض کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کہ تحصیل قاضی منصب تسلیم کر لیا جائے، جن کے دائرہ اختیار میں دیوانی اور فوجداری دونوں اختیارات ہوں گے، اور یہ کہ اسلامی یونیورسٹی کے سند یافتہ لوگ قاضی کے منصب کے حقدار ہوں گے۔ اس کے لیے تقرری کے قوانین میں مناسب تبدیلی کی جا رہی ہے۔ قاضی صورۃً اور سیرۃً قرآن و سنت کے مطابق ہوگا۔ فوری اجرا کے لیے وہی عدالتی افسر قاضی کے منصب پر فائز ہوں گے جنہوں نے تسلیم شدہ شرعی کورس کیا ہوا ہو۔ قاضی کو وہ تمام اختیارات دیے گئے ہیں جن کی رو سے وہ پولیس اور انتظامیہ کو مقدمات اور معاملات کے شرعی فیصلہ کرنے میں اور جزا اور سزا کو عملی طور پر نافذ کرنے میں بروئے کار لا سکیں۔

مالاکنڈ ڈویژن میں قانونی خلا کو پر کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ میرا یقین ہے کہ مالاکنڈ ڈویژن کا پاٹا نفاذ نظام شریعت ریگولیشن ۱۹۹۴ء کے نئے مسودہ میں ہر وہ عنصر موجود ہے جس کی بنا پر یہ علاقہ امن و امان اور خوشحالی کا گہوارا بن سکتا ہے۔ آپ سے استدعا ہے کہ آپ اسی اخلاقی جرأت کا مظاہرہ کریں جس کی قوم کو آپ سے توقع ہے اور اس نظام کو عملی جامہ پہنانے میں معاونت فرمائیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ تجربہ و مشاہدہ کے بعد اگر تغیرات کی ضرورت پڑے گی تو اس کے لیے بھی مناسب اقدامات کیے جائیں گے۔

حکومت نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ یہی نظام، کہ جس کا اہتمام مالاکنڈ ڈویژن میں کیا جائے گا، کوہستان ضلع میں بھی بیک وقت نافذ کیا جائے گا۔ ‘‘

مولانا صوفی محمد امیر تحریک نفاذ شریعت محمدی کے نام صوبہ سرحد کے سیکرٹری قانون جناب سلیم خان کے اس مکتوب پر ان دونوں حضرات کے علاوہ صوبائی سیکرٹری داخلہ جناب ایوب خان کے دستخط بھی موجود ہیں۔ اور یہ مکتوب ۲۶ نومبر ۱۹۹۴ء کا تحریر کردہ ہے۔ اس کے چار روز بعد یکم دسمبر ۱۹۹۴ء کو گورنر سرحد نے مندرجہ ذیل ریگولیشن جاری کیا۔


مالاکنڈ ڈویژن نفاذ شریعت ریگولیشن ۱۹۹۴ء


پشاور (نمائندہ خصوصی) حکومت صوبہ سرحد نے مالاکنڈ ڈویژن میں نفاذ شریعت ریگولیشن کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے۔ اس آرڈیننس کے تحت ۲۲ قوانین مالاکنڈ ڈویژن میں نافذ کر دیے گئے ہیں جن میں ۱۴ جنرل ضیاء الحق مرحوم دور کے مرتب کردہ قوانین ہیں، ۶ نواز شریف دور میں تشکیل پا گئے تھے۔ جمعرات کے روز جاری ہونے والے نوٹیفیکیشن کے مطابق گورنر سرحد میجر جنرل (ریٹائرڈ) خورشید علی خان کے جاری کردہ ریگولیشن میں کہا گیا ہے کہ

نمبر ۱

  1. یہ ریگولیشن صوبائی انتظام کے تحت قبائلی علاقہ جات (نفاذ شریعت) ریگولیشن ۱۹۹۴ء کہلائے گا۔
  2. یہ چترال، دیر، سوات (جس میں کالام شامل ہے)، بونیر اور مالاکنڈ محفوظ علاقہ پر مشتمل مالاکنڈ ڈویژن کے صوبائی انتظام کے تحت تمام قبائلی علاقہ جات پر وسعت پذیر ہوگا۔
  3. یہ فورًا نافذ العمل ہوگا۔

نمبر ۲

اس ریگولیشن میں، تاوقتیکہ سیاق و سباق عبارت سے کچھ اور مطلب نہ نکلتا ہو، مندرجہ ذیل الفاظ کے معنی وہی لیے جائیں گے جو بذریعہ ہذا ان کے لیے بالترتیب مقرر کیے گئے ہیں، یعنی:

(ا) عدالت سے مراد مالاکنڈ ڈویژن میں فی الوقت نافذ العمل کسی قانون کے تحت قائم کردہ مجاز اختیار سماعت کی قانونی عدالت ہے۔

(ب) حکومت سے مراد حکومت شمال مغربی سرحدی صوبہ۔

(ج) عدالتی افسر سے مراد ہے کسی عدالت کی صدارت کے لیے باضابطہ طور پر متعین اور:

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ضلعی قاضی
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اضافی ضلع قاضی
سینئر سول جج اعلیٰ علاقہ قاضی
دیوانی سول جج علاقہ قاضی
دیوانی اور مجسٹریٹ علاقہ قاضی فوجداری

(د) معاونین قاضی سے مراد وہ اشخاص جن کا نام دفعہ ۶ کے تحت عدالت کی مرتبہ معاونین قاضی کی رواں فہرست میں درج ہوں۔

(ہ) مقررہ سے مراد ہے اس ریگولیشن کے تحت بنائے گئے قواعد سے مقرر کردہ۔

(و) جدول سے مراد ہے اس ریگولیشن سے منسلک کوئی جدول۔

(ح) شریعت سے مراد ہے قرآن پاک اور سنت میں منضبط اسلامی احکام۔

نمبر ۳: مالاکنڈ ڈویژن میں بعض قوانین کا اطلاق

  1. جدول کے خانہ ۲ میں مصرحہ قوانین، اسی شکل میں جیسے کہ اس ریگولیشن کے آغاز نفاذ سے فوری پیشتر شمال مغربی سرحدی صوبہ میں نافذ العمل ہیں، اور ممکنہ حد تک تمام قواعد نوٹیفیکیشن اور احکام جو ان کے تحت بنائے یا جاری کیے گئے ہوں، مذکورہ علاقہ میں نافذ العمل ہوں گے۔
  2. مذکورہ علاقہ میں نافذ العمل تمام قوانین، بشمول ذیلی دفعہ (۱) میں ذکر کردہ قوانین کا اطلاق (۲) مستثنیات اور ترمیمات کے تابع ہوگا جس کی وضاحت اس ریگولیشن میں کی گئی ہے۔

نمبر ۴: بعض قوانین کی موقوفی کار

اگر اس ریگولیشن کے آغاز نفاذ سے فوری پیشتر مذکورہ علاقہ میں کوئی ایسی دستاویز نافذ العمل تھی یا رواج یا معمول نافذ العمل تھا جسے قانون کا درجہ حاصل تھا، اور جو اس ریگولیشن کے ذریعہ مذکورہ علاقہ میں نافذ کیے جانے والے کسی قانون کے امور کے مماثل پائے جائیں، تو اس آغاز نفاذ کے ساتھ ہی وہ قانونی دستاویز، رواج یا معمول مذکورہ علاقہ میں بے اثر ہو کر موقوف ہو جائے گا۔

نمبر ۵: عدالت ہا، عدالتی افسران اور ان کے اختیارات و کارہائے منصبی

  1. قوانین پر عملدرآمد کے لیے مذکورہ علاقہ میں عدالتوں کے عدالتی افسران ان عہدوں سے موسوم ہوں گے جو جدول دوئم کے خانہ ۳ میں مصرحہ ہیں۔
  2. فوجداری یا دیوانی مقدمات کی کارروائی اور کارکردگی سے متعلق وہ تمام اختیارات، کارہائے منصبی اور فرائض جو کسی فی الوقت نافذ العمل قانون کے تحت شمال مغربی سرحدی صوبہ میں عدالتی افسران کو عطا کردہ، منتقل کردہ یا عائد کردہ ہیں، اوپر مذکور طور پر عہدوں سے موسوم عدالتی افسران استعمال کریں گے، سرانجام دیں گے اور بجا لائیں گے۔

نمبر ۶

  1. حکومت سرکاری گرانٹ میں اعلان کے ذریعے ان مقدمات کی درجہ بندی کرے گی جن میں عدالت ایک یا زیادہ معاونین قاضی کو عدالت کی مدد کے لیے اپنے ساتھ شریک کار کرنے کے لیے کہہ سکے گی۔
  2. ذیلی دفعہ (۱) کے مقصد کے لیے حکومت وقتاً فوقتاً ہر ضلع یا علاقہ کے لیے تیس کی حد تک ایسے اشخاص کی فہرست مرتب کرے گی جو دیانتداری کی شہرت رکھتے ہوں اور اچھے کردار کے مالک ہوں جو معاونین قاضی جانے جائیں گے۔

نمبر ۷: مصلح مقرر کرنے کا اختیار

جہاں اس ریگولیشن کے تحت قابل سماعت تنازعہ کے فریقین رضامند ہوں، تو عدالت اس کو شریعت کے مطابق تصفیہ کے لیے فریقین کی باہمی رضامندی سے مقرر کردہ ایک یا زیادہ مصلحین کے حوالے کر سکے گی۔

نمبر ۸: عدالتی افسران کا طریق عمل

  1. جدول دوئم میں مصرحہ عدالتی افسران کا طریق عمل اسلامی اصولوں کے مطابق ہوگا۔
  2. حکومت وقتاً فوقتاً ذیلی دفعہ (۱) کے مقاصد کے لیے ایسی تدابیر اختیار کرے گی جو وہ ضروری تصور کرے گی۔

نمبر ۹: عدالت اور اس کے دستاویزات کی زبان

عدالت کے تمام حکمنامہ جات اور کارروائی بشمول عرضی دعویٰ و جواب دعویٰ، شہادت، حکم، بحث و فیصلہ اردو میں درج کیے اور زیرعمل لائے جائیں گے۔

نمبر ۱۰: قواعد بنانے کا اختیار

حکومت اس ریگولیشن کے مقاصد کے حصول کے لیے قواعد وضع کر سکے گی۔

نمبر ۱۱: تنسیخ

  1. صوبائی انتظام کے تحت قبائلی علاقہ جات فوجداری قانون (خاص امور)، ریگولیشن ۱۹۷۵ء (شمالی مغربی سرحدی صوبہ ۱۹۷۵ء کا ریگولیشن اول) اور صوبائی انتظام کے تحت قبائلی علاقہ جات دیوانی طریقہ کار (خاص امور)، ریگولیشن ۱۹۷۵ء (شمال مغربی سرحدی صوبہ ۱۹۷۵ء کا ریگولیشن دوئم)، لہٰذا منسوخ کیے جاتے ہیں۔
  2. اس دفعہ کی ذیلی دفعہ (۱) کے تحت منسوخی یا دفعہ (۴) کے تحت کسی قانون، کسی قانونی دستاویز، رواج یا معمول کی موقوفی کے باوجود تنسیخ یا موقوفی جیسی بھی صورت ہو۔
    1. کسی ایسی چیز کا احیا نہیں کرے گی جو اس وقت نافذ العمل یا موجود ہو جب تنسیخ یا موقوفی عمل میں آئے۔
    2. قانون، قانونی دستاویز، رواج یا معمول کے سابقہ عمل یا ان کے تحت باضابطہ کیے ہوئے فعل یا برداشت کردہ نقصان کو متاثر نہیں کرے گی۔
    3. قانون، قانونی دستاویز، رواج یا معمول کے تحت حاصل شدہ کسی حق، پیدا شدہ کسی استحقاق یا عائد شدہ کسی وجوب یا ذمہ داری کو متاثر نہیں کرے گی۔
    4. قانون، قانونی دستاویز، رواج یا معمول کے خلاف کسی جرم کے ارتکاب کی بنا پر عائد شدہ کسی تاوان، ضبطی یا سزا کو متاثر نہیں کرے گی۔
    5. کسی حق، استحقاق، وجوب، ذمہ داری، تاوان، ضبطی یا سزا کی بابت تفتیش، قانونی کارروائی یا چارہ جوئی شروع کی جا سکے گی، جاری رکھی جا سکے گی یا نافذ کی جا سکے گی۔ اور کوئی ایسا تاوان، ضبطی یا سزا اس طرح عائد کی جا سکے گی گویا قانون، قانونی دستاویز، رواج یا معمول منسوخ نہیں ہوگیا تھا، یا جیسی صورت ہو، موقوفی سے بے اثر نہیں ہوگیا تھا۔

جدول اول: بحوالہ تمہید، دفعہ ۲ (د) اور ۳ (۱) / اسمائے قوانین:

مغربی پاکستان تاریخی مساجد و زیارت گاہ سرہ بہ محبوب آرڈیننس ۱۹۶۰ء (مغربی پاکستان ۱۹۳۰ء کا آرڈیننس پنجم)۔ (الف):

  1. مغربی پاکستان عائلی عدالت ہائے ایکٹ ۱۹۶۴ء (مغربی پاکستان ایکٹ سہ دہ و پنجم)
  2. مجموعہ طریق کار دیوانی (ترمیمی) ایکٹ ۱۹۷۶ء (۱۹۷۶ء کا پانزنودھم)
  3. شمال مغربی سرحدی صوبہ انسداد قمار بازی آرڈیننس ۱۹۷۸ء (شمال مغربی سرحد صوبہ ۱۹۷۸ء کا آرڈیننس)
  4. مجموعہ طریقہ کار دیوانی (ترمیمی) آرڈیننس ۱۹۸۰ء (۱۹۸۰ء کا آرڈیننس دہم)
  5. جرائم برخلاف جائیداد (نفاذ حدود) (ترمیمی) آرڈیننس ۱۹۸۰ء (۱۹۸۰ء نودھم)
  6. جرم زنا (نفاذ حدود) (ترمیمی) آرڈیننس ۱۹۸۰ء (۱۹۸۰ء کا آرڈیننس بیستم)
  7. جرم قذف (نفاذ حد) (ترمیمی) آرڈیننس ۱۹۸۰ء (۱۹۸۰ء کا آرڈیننس بیست و یکم)
  8. مجموعہ طریق کار دیوانی (ترمیمی) آرڈیننس ۱۹۸۰ء (۱۹۸۰ء کا آرڈیننس شش دہ و سوئم)
  9. احترام رمضان آرڈیننس ۱۹۸۱ء (۱۹۸۱ء کا آرڈیننس کا بیست و سوئم)
  10. وفاقی قوانین (نظر ثانی و تصدیق نامہ) آرڈیننس ۱۹۸۱ء (۱۹۸۱ء کا آرڈیننس بیست ہشتم)۔ تا حد صرف دوئم اور دفعہ ۱، ۳ اور اس کے جدول دوئم کے نکتہ ۱۵)
  11. جرائم خلاف جائیداد (نفاذ حدود) (ترمیمی) آرڈیننس ۱۹۸۲ء (۱۹۸۲ء کا آرڈیننس دوئم)
  12. زکاۃ و عشر (ترمیمی) آرڈیننس ۱۹۸۳ء (۱۹۸۳ء کا آرڈیننس ہفتم)
  13. زکاۃ و عشر (دوسری ترمیم) آرڈیننس ۱۹۸۳ء (۱۹۸۳ء کا آرڈیننس دہم)
  14. زکاۃ و عشر (تیسری ترمیم) آرڈیننس ۱۹۸۳ء (۱۹۸۳ء کا آرڈیننس بیست و ششم)
  15. قادیانی گروہ کے لاہوری گروہ اور احمدیوں کے خلاف اسلام (انسداد و سزا) آرڈیننس ۱۹۸۴ء (۱۹۸۴ء کا آرڈیننس بیستم)
  16. زکاۃ و عشر (ترمیمی) آرڈیننس ۱۹۸۴ء (۱۹۸۴ء کا آرڈیننس چہار دہ و پنجم)
  17. شمال مغربی سرحدی صوبہ (نفاذ مخصوص امور قانون کے) ایکٹ ۱۹۸۹ء (۱۹۸۹ء کا ایکٹ دوئم)
  18. مجموعہ طریق کار دیوانی (ترمیمی) ایکٹ ۱۹۸۹ء (۱۹۸۹ء کا چہارم)
  19. زکاۃ و عشر (ترمیمی) ایکٹ ۱۹۹۱ء (۱۹۹۱ء کا بیست و سوئم)
  20. نفاذ شریعہ ایکٹ ۱۹۹۱ء (۱۹۹۱ء کا دہم)
  21. پاکستان بیت المال ایکٹ ۱۹۹۲ء (۱۹۹۲ء کا یکم)
  22. مجموعہ طریق کار دیوانی (ترمیمی) ایکٹ ۱۹۹۲ء (۱۹۹۲ء کا چہارم)

جدول دوئم: بحوالہ دفعات ۲ (ج)، ۵ (۱)، و ۸ (۱): ترتیبی عدد

مالاکنڈ ڈویژن کے پاٹا کے علاوہ شمال مغربی سرحدی صوبہ میں عدالتی افسران کا عہدہ مالاکنڈ کے پاٹا میں عدالتی افسران کا عہدہ
۱ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج / ضلع قاضی
۲ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج / اضافی ضلع قاضی
۳ سینئر سول جج سول جج / علاقہ قاضی دیوانی
۴ سول جج سول جج / علاقہ قاضی دیوانی
۵ مجسٹریٹ مجسٹریٹ / علاقہ قاضی فوجداری

(بشکریہ روزنامہ نوائے وقت، راولپنڈی ۔ ۲ دسمبر ۱۹۹۴ء)

گورنر سرحد کے جاری کردہ اس ریگولیشن کا دائرہ کار مالاکنڈ ڈویژن تک محدود ہے مگر روزنامہ جنگ لاہور ۲۰ دسمبر ۱۹۹۴ء میں شائع شدہ کمشنر ہزارہ ڈویژن مسٹر ندیم منظور کی پریس کانفرنس کے مطابق ہزارہ کے ضلع کوہستان کو بھی اس ریگولیشن کے دائرہ میں شامل کر لیا گیا ہے اور وہاں اس کے مطابق اقدامات شروع ہوگئے ہیں۔

تحریک نفاذ شریعت کے مطالبات، عوام کی بے پناہ قربانیوں اور صوبہ سرحد کے سیکرٹری قانون کی تحریری یقین دہانی کے بعد گورنر سرحد کے جاری کردہ ’’نفاذ شریعت ریگولیشن‘‘ کا ایک بار پر مطالعہ کیجئے اور داد دیجئے بیوروکریسی کی اس چابکدستی پر کہ کس کمال ہوشیاری اور عیاری کے ساتھ نفاذ شریعت کے بنیادی تقاضوں کو گول کرتے ہوئے پاکستان کے دوسرے حصوں میں کار فرما وہی عدالتی سسٹم مالاکنڈ ڈویژن میں بھی نافذ کر دیا ہے جس کے نفاذ کے لیے کسی قسم کی جدوجہد کی ضرورت نہ تھی اور ’’فاٹا ریگولیشن‘‘ کے خاتمہ سے پیدا ہونے والے خلاء بالآخر اسی عدالتی سسٹم کے ذریعے پر ہونا تھا۔

یہ سسٹم تحریک نفاذ شریعت کا تقاضا نہیں تھا بلکہ تحریک تو دراصل اس سسٹم کو روکنے کے لیے شروع ہوئی تھی۔ مگر خدا سمجھے اس بیوروکریسی سے کہ جس عدالتی سسٹم کے نفاذ کو روکنے کے لیے تحریک نفاذ شریعت کے ہزاروں کارکن سڑکوں پر آئے اور جان و مال کی بے پناہ قربانی دی گئی، وہی عدالتی سسٹم ’’نفاذ شریعت ریگولیشن‘‘ کے نام پر نافذ کر کے ان لوگوں پر احسان جتلایا جا رہا ہے کہ دیکھو ہم نے تمہارا مطالبہ پورا کر دیا ہے، ممکن ہے کچھ دوست اس ریگولیشن کی پیچیدہ زبان کو نہ سمجھ پائیں اس لیے اس کا خلاصہ درج ذیل ہے۔

اس ریگولیشن کو اگرچہ مولانا صوفی محمد اور ان کے رفقاء نے قبول نہیں کیا مگر عملاً یہ ریگولیشن نافذ ہو چکا ہے اور تحریک نفاذ شریعت کے راہنماؤں کے ساتھ ’’مذاکرات‘‘ کا سلسلہ جاری ہے جس کا پلڑا ہمیشہ بیوروکریسی کے حق میں رہتا ہے۔ جبکہ صوبائی حکومت اپنے طور پر اس ریگولیشن کے ذریعے مالاکنڈ ڈویژن اور کوہستان میں ’’شریعت‘‘ نافذ کر کے سرخرو ہو چکی ہے اور اس کے بعد اس سے کسی مزید پیش رفت کی توقع فضول ہے۔

اس مرحلہ میں تحریک نفاذ شریعت کے حوالہ سے تین چار اہم باتوں کا ذکر ضروری سمجھتا ہوں:

  1. ایک یہ کہ میں نے یہ بات شدت کے ساتھ محسوس کی ہے کہ تحریک کے راہنماؤں کی اکثریت دین اور دینی علم میں پختہ کار ہونے کے باوجود قانون، ڈپلومیسی اور آئین کی وہ زبان نہیں سمجھتی جس زبان میں حکومت کے ساتھ معاملات طے پاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بیوروکریسی اپنی چالوں میں کامیاب ہو جاتی ہے۔ میرے لیے یہ بات انتہائی پریشان کن تھی کہ ۱۰ دسمبر سے ۱۲ دسمبر تک میری ملاقات تحریک نفاذ شریعت کی مجلس شوریٰ کے چار ذمہ دار حضرات سے ہوئی مگر ان میں سے کسی نے یکم دسمبر کو نافذ ہونے والے نفاذ شریعت ریگولیشن کا اس وقت تک مطالعہ نہیں کیا تھا بلکہ ان کے بقول یہ ریگولیشن شوریٰ کے اجلاس میں بھی نہیں پڑھا گیا تھا۔ یہ صورتحال اطمینان بخش نہیں ہے۔ تحریک کے لیڈروں ذمہ داری تھی کہ وہ پاکستان کے ان علماء سے رابطہ کرتے جو آئین و قانون اور ڈپلومیسی کی زبان کو سمجھتے ہیں اور صوبائی حکومت کے ساتھ معاملات طے کرتے وقت ان علماء سے راہنمائی حاصل کی جاتی۔
  2. دوسری بات یہ کہ وکلاء اور قانون دان طبقے کو مکمل طور پر اس مہم سے لاتعلق رکھنا بھی تحریک کے مفاد میں نہیں ہے اور نہ ہی اس تحریک کو طبقاتی کشمکش میں تبدیل کر دینا حکمت و دانش کا تقاضا ہے۔ وکلاء کی ایک بڑی تعداد اسلامی قوانین کا نفاذ چاہتی ہے اور شرعی عدالتی نظام کے حق میں ہے۔ ان سے رابطہ کرنا، انہیں تحریک میں شریک کرنا اور قانونی معاملات میں ان کی مشاورت اور راہنمائی سے استفادہ کرنا تحریک نفاذ شریعت کے ناگزیر تقاضوں میں سے ہے۔
  3. تیسری بات یہ ہے کہ تحریک کے دوران جزوی اور ضمنی باتوں پر اس قدر زور دینا کہ وہ تحریک کے ماٹو اور عنوان کے طور پر متعارف ہو جائیں، فائدہ کی بجائے نقصان کا باعث بن سکتی ہیں۔ مثلاً تحریک کے دوران اس بات پر اس قدر زور دیا گیا کہ تحریک کے ایک کارکن نے میرے سامنے فخر کے ساتھ ذکر کیا کہ اس نے مینگورہ میں پورا ایک دن گاڑی دائیں ہاتھ چلا کر انگریزی قانون کو پامال کیا۔ یہ کوئی ضروری بات نہیں ہے، اگر اس کی کوئی شرعی حیثیت ہے تو بھی بہت جزوی اور ضمنی درجہ کی ہے۔ اس قسم کی باتوں کو تحریک کا عنوان بنا دینا تحریک کے لیے بدنامی کا باعث بن جاتا ہے۔ اسی طرح ڈاڑھی کا ذکر بھی بار بار ہوتا ہے۔ ڈاڑھی سنت نبویؐ ہے جس کی اتباع اور احترام ہر مسلمان پر ضروری ہے، لیکن اسے بے احترامی سے بچانا اور استہزاء کا ہدف بننے سے روکنا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ ابھی چند روز قبل خبر آئی کہ تحریک نفاذ شریعت کے راہنماؤں کے تقاضے پر صوبائی حکومت ڈاڑھی والے افسران تلاش کر رہی ہے تاکہ انہیں مالاکنڈ ڈویژن میں تعینات کر سکے۔ ہمارے نزدیک یہ سنت رسولؐ کو مذاق کا نشانہ بنانے کے مترادف ہے کہ انتظامی اور عدالتی سسٹم تو وہی نوآبادیاتی رہے مگر کرسیوں پر ڈاڑھی والے افسران کو بٹھا دیا جائے تاکہ سارے سسٹم کی گندگی ان کی ڈاڑھیوں کے مقدس پردے میں چھپی رہے۔
  4. چوتھے نمبر پر تحریک کے قائدین کی خدمت میں یہ عرض کرنا بھی ضروری ہے کہ اس وقت پوری دنیا کی نظریں عالم اسلام کی دینی تحریکات پر لگی ہوئی ہیں۔ کیونکہ مغربی جمہوریت اور کمیونزم کی ناکامی کے بعد دنیا ایک نئے نظام کی تلاش میں ہے اور عقل سلیم انسانی فہم و دانش کو فطری طور پر اسلام کا عادلانہ نظام کی طرف متوجہ کر رہی ہے جس کی دعوت لے کر عالم اسلام کی دینی تحریکات اس وقت سامنے آرہی ہیں۔ اس مرحلہ پر اسلام دشمن لابیوں اور مغربی قوتوں کا پورا زور اس بات پر صرف ہو رہا ہے کہ عالم اسلام کی دینی تحریکات کی کوئی اچھی تصویر دنیا کے سامنے نہ آنے پائے بلکہ انہیں انسانی حقوق و اخلاق کے تصور سے عاری، تشدد پسند، طبقاتی بالادستی کے خواہاں اورا نسانی حقوق کے دشمن کے طور پر متعارف کرایا جائے۔ تاکہ انسانی معاشرہ ان لوگوں کے بارے میں کوئی مثبت سوچ اختیار نہ کر سکے۔

    اس تاثر سے خود کو بچانا ضروری ہے اور اس مقصد کے لیے ہمیں کسی اور طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات خلفاء راشدینؓ کی سنت ہمارے لیے کافی ہے۔ اگر ہم دور نبویؐ اور دور خلافت راشدہؓ میں لوگوں کو حاصل معاشرتی، سیاسی، عدالتی اور معاشی حقوق کا صحیح نقشہ اجاگر کر کے دنیا کو اس کی طرف دعوت دینے میں کامیاب ہو جائیں تو آنے والا دور نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں اسلام کے غلبہ و نفاذ کا دور ہو سکتا ہے۔ مگر اس کے لیے علم، دانش، تدبر اور حوصلہ کی ضرورت ہوگی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق سے نوازیں، آمین یا الہ العالمین۔

دینی مدارس، بنیاد پرستی اور انسانی حقوق

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

روزنامہ جنگ لاہور ۴ دسمبر ۱۹۹۴ء کے مطابق گورنر پنجاب چودھری الطاف حسین نے دینی مدارس کی کارکردگی پر کڑی نکتہ چینی کی ہے اور فرقہ وارانہ کردار کے حامل مدارس کی بندش کا عندیہ دیا ہے۔ اسی طرح بعض اخباری اطلاعات کے مطابق وفاقی وزارت داخلہ نے ملک میں نئے دینی مدارس کی رجسٹریشن اور پرانے مدارس کی رجسٹریشن کی تجدید کے لیے وزارت داخلہ سے پیشگی اجازت کی شرط عائد کر دی ہے، اور متعلقہ حکام کو ہدایت کر دی ہے کہ اس اجازت کے بغیر کسی نئے مدرسہ کو رجسٹرڈ نہ کیا جائے اور نہ ہی پہلے سے قائم کسی مدرسہ کی رجسٹریشن کی تجدید کی جائے۔ اس کے ساتھ ہی بہاولپور پولیس کے حوالہ سے یہ خبر شائع ہوئی ہے کہ حکام بالا کی ہدایت پر پولیس دینی مدارس کا سروے کر رہی ہے تاکہ اس الزام کی حقیقت معلوم کی جا سکے کہ بعض مدارس میں بچوں سے جبری بیگار لی جاتی ہے۔ علاوہ ازیں گزشتہ دنوں گوجرانوالہ میں وزیراعظم پاکستان کے ایک مشیر نے کسی مدرسہ کے بارے میں اخبارات میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کا ذکر کیا ہے کہ وہاں طلبہ کو زنجیروں سے باندھ کر قرآن کریم کی تعلیم دی جاتی ہے۔ ان کے بقول وزیراعظم نے اس سلسلہ میں انکوائری کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ اس کے علاوہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے بارے میں بھی یہ خبر سامنے آچکی ہے کہ اس نے پاکستان کے دینی مدارس میں طلبہ پر مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے حوالہ سے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

دینی مدارس کے بارے میں ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اس تحقیقات مہم کا پس منظر کیا ہے اور یہ سب کچھ کن مقاصد کے لیے کیا جا رہا ہے؟ اس سوال کا جائزہ لینے سے پہلے ضروری ہے کہ دینی مدارس کے موجودہ نظام پر ایک نظر ڈال لی جائے تاکہ اس کے مثبت اور منفی پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے دینی مدارس کے خلاف اس مہم کے مقاصد کو صحیح طور پر سامنے لایا جا سکے۔

دینی مدارس کا پس منظر

پاکستان، بنگلہ دیش اور بھارت کے طول و عرض میں لاکھوں کی تعداد میں پھیلے ہوئے دینی مدارس و مکاتب کا موجودہ نظام ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں مسلمانوں کی ناکامی کے بعد پیدا ہونے والے حالات کا نتیجہ ہے۔ اس سے قبل پورے برصغیر میں درس نظامی کا یہی نصاب تعلیمی اداروں میں رائج تھا جو مغل بادشاہت کے دور میں اس وقت کی ضروریات اور تقاضوں کو سامنے رکھ کر مرتب کیا گیا تھا اور جو اب بھی ہمارے دینی مدارس میں بدستور رائج چلا آرہا ہے۔ فارسی اس دور میں سرکاری زبان تھی اور عدالتوں میں فقہ حنفی رائج تھی۔ اس لیے درس نظامی کا یہ نصاب اس دور کی دفتری اور عدالتی ضروریات کو پورا کرتا تھا اور دینی تقاضوں کی تکمیل بھی اس سے ہو جاتی تھی۔ اس لیے اکثر و بیشتر مدارس کا نصاب یہی تھا اور تقریباً تمام مدارس سرکار کے تعاون سے بلکہ سرکار کی بخشی ہوئی زمینوں اور جاگیروں کے باعث تعلیمی خدمات سرانجام دیتے چلے آرہے تھے۔

۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں مسلمانوں کی ناکامی کے بعد جب دہلی کا اقتدار ایسٹ انڈیا کمپنی سے براہ راست تاجِ برطانیہ کو منتقل ہوا اور انگریزی حکومت قائم ہوگئی تو سرکاری زبان فارسی کی بجائے انگریزی کر دی گئی اور عدالتی نظام سے فقہ حنفی کو خارج کر کے برطانوی قوانین نافذ کر دیے گئے جس سے ہماری تعلیمی ضروریات دو حصوں میں منقسم ہوگئیں۔ دفتری اور عدالتی نظام میں شرکت کے لیے انگریزی تعلیم ناگزیر ہوگئی،اور دینی و قومی ضروریات کے لیے درس نظامی کے سابقہ نظام کو برقرار رکھنا ضروری سمجھا گیا جبکہ مدارس و مکاتب کا سابقہ نظام ختم کر دیا گیا۔علماء کی ایک بڑی تعداد جنگ آزادی میں کام آگئی، باقی ماندہ میں سے ایک کھیپ کالاپانی اور دیگر جیلوں کی نذر ہوگئی اور پیچھے رہ جانے والے لوگ شکست کے اثرات کو سمیٹتے ہوئے مستقبل کے بارے میں سوچنے میں مصروف ہوگئے۔ مدارس و مکاتب کے لیے مغل حکمرانوں کی عطا کردہ جاگیریں ضبط کر لی گئیں اور اس طرح ۱۸۵۷ء سے پہلے کا تعلیمی نظام مکمل طور پر تتربتر ہوکر رہ گیا۔

نئے حالات کو سامنے رکھتے ہوئے تعلیمی ضروریات کے دو حصوں میں تقسیم ہوجانے کے بعد اہل دانش نے مستقبل کی طرف توجہ دی۔ سرسید احمد خان مرحوم نے ایک محاذ سنبھال لیا اور دفتری و عدالتی نظام میں مسلمانوں کو شریک رکھنے کے لیے انگریزی تعلیم کی ترویج کو اپنا مشن بنا لیا، جبکہ دینی و قومی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے دینی تعلیم کا محاذ فطری طور پر علماء کرام کے حصہ میں آیا اور اس سلسلہ میں سبقت اور پیش قدمی کا اعزاز مولانا محمد قاسم نانوتویؒ اور ان کے رفقاء کو حاصل ہوا۔ سرسید احمد خان مرحوم اور ان کے رفقاء نے علی گڑھ میں انگریزی تعلیم کے کالج کا آغاز کیا اور مولانا محمد قاسم نانوتویؒ اور ان کے رفقاء نے دیوبند میں مدرسہ عربیہ کی بنیاد رکھی۔ اتفاق کی بات ہے کہ سرسید احمد خان مرحوم اور مولانا محمد قاسم نانوتویؒ دونوں ایک ہی استاد مولانا مملوک علی نانوتویؒ کے شاگرد تھے اور دونوں نے مختلف سمتوں پر تعلیمی سفر کا آغاز کیا جو آگے چل کر دو مستقل تعلیمی نظاموں کی شکل اختیار کر گئے۔ ابتداء میں سرسید احمد خان مرحوم کے انگریزی کالج اور مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کے مدرسہ عربیہ دونوں کی بنیاد عوامی چندہ اور امداد باہمی کے طریق کار پر تھی، لیکن بعد میں کالج اور اسکول کے نظام کو سرکاری سرپرستی حاصل ہوگئی اور رفتہ رفتہ پورا نظام سرکار کی تحویل میں آکر مصارف و اخراجات کے جھنجھٹ سے آزاد ہوگیا، جبکہ دینی مدارس سرکاری سرپرستی سے آزاد رہے جس کی وجہ سے انہیں اپنے اخراجات و ضروریات کے لیے ہر دور میں عوامی چندہ پر انحصار کرنا پڑا، اور آج بھی یہ صورتحال بدستور قائم ہے۔

دینی مدارس کے اس آزادانہ اور متوازی نظام کے بنیادی مقاصد درج ذیل تھے:

ان مقاصد کے حصول کے لیے ضروری تھا کہ یہ مدارس سرکار کے اثر سے آزاد رہیں اور ایسا تعلیمی نصاب و نظام اختیار کریں کہ ان کے تیار کردہ افراد صرف ان کے مقاصد کے خانہ میں فٹ ہو سکیں۔ اس بات کو زیادہ بہتر طور پر واضح کرنے کے لیے ایک واقعہ بیان کرنا مناسب سمجھتا ہوں جو میں نے مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ کے خطیب حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ کی زبانی سنا۔ ان کی روایت کے مطابق یہ اس دور کا واقعہ ہے جب دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کے فرزند مولانا حافظ محمد احمدؒ تھے۔ اس دور میں دارالعلوم کے فارغ التحصیل کچھ نوجوان حیدرآباد دکن کی ریاست میں ملازمتوں پر فائز ہوئے اور کارکردگی اور صلاحیت کے لحاظ سے دوسرے ملازمین سے بہتر ثابت ہوئے۔ مولانا حافظ محمد احمدؒ کے دورہ حیدر آباد کے موقع پر نظام حیدر آباد نے ایک ملاقات میں ان سے اس بات کا ذکر کیا اور خواہش ظاہر کی کہ اگر دارالعلوم دیوبند کے فضلاء ہر سال سارے کے سارے حیدرآباد بھجوا دیے جائیں تو نظام حیدر آباد انہیں ملازمتیں دیں گے اور دارالعلوم کے سالانہ اخراجات کا بار، نظام خود اٹھائیں گے۔ مولانا حافظ محمد احمدؒ نے دیوبند واپسی پر یہ پیشکش دارالعلوم کے صدر مدرس شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ کے سامنے بیان کی اور ان سے مشورہ طلب کیا۔ مولانا محمود حسنؒ نے خود کوئی مشورہ دینے کی بجائے حافظ محمد احمدؒ کو دارالعلوم دیوبند کے سرپرست حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کی خدمت میں بھیج دیا جو اس وقت بقید حیات تھے۔ انہوں نے مولانا حافظ محمد احمدؒ سے نظام حیدر آباد کی پیشکش کے بارے میں سن کر جو جواب دیا وہ حضرت مولانا مفتی عبد الواحد صاحب کے الفاظ میں یوں تھا:

’’بھاڑ میں جائے حیدرآباد کی ریاست! ہم اس ریاست کو چلانے کے لیے طلبہ کو نہیں پڑھا رہے۔ ہم تو اس لیے پڑھاتے ہیں کہ مسجدیں اور قرآن کے مکاتب آباد رہیں اور مسلمانوں کو نمازیں اور قرآن کریم پڑھانے والے ائمہ اور استاذ ملتے رہیں۔‘‘

یہی وجہ ہے کہ دینی مدارس میں انگریزی تعلیم کا داخلہ بند رہا اور علماء اور دینی طلبہ کو انگریزی تعلیم حاصل کرنے سے سختی سے منع کیا جاتا رہا۔ کیونکہ انگریزی تعلیم حاصل کرنے والے افراد لازماً سرکاری ملازمت کو ترجیح دیتے اور دینی مدارس سے فارغ ہونے والوں کی ایک بڑی کھیپ بھی اسی طرف منتقل ہو جاتی جس سے دینی مدارس کے قیام کا بنیادی مقصد فوت ہو جاتا۔ جبکہ دینی مدارس کے نظام کا آغاز کرنے والوں کے ذہن میں سب سے بڑا مقصد یہ تھا کہ ایسی کھیپ تیار ہو جو قرآن کریم کے مکاتب کو آباد رکھے۔ اس لیے حکمت عملی کے تحت عملاً ایسا طریقہ اختیار کیا گیا کہ دینی مدارس کے فارغ التحصیل حضرات مسجد و مدرسہ کے سوا کسی دوسری جگہ نہ کھپ سکیں۔ چنانچہ اس مقصد کے حوالہ سے یہ حکمت عملی کامیاب رہی اور اس کے نتیجہ میں برصغیر کے طول و عرض میں دینی مدارس و مکاتب کا جال بچھ گیا اور مساجد میں ائمہ و خطباء کی کھیپ بھی فراہم ہوتی رہی۔

دینی مدارس کے منتظمین نے ان مقاصد کے حصول کے لیے کیا کیا جتن کیے، یہ ایک الگ داستان ہے جس کی تفصیلات کی اس مضمون میں گنجائش نہیں ہے۔ تاہم اس قدر عرض کرنا ضروری ہے کہ انہوں نے سہولتوں کی زندگی ترک کر کے فقر و فاقہ اور تنگی و ترشی کی زندگی اختیار کی، لوگوں سے صدقات و خیرات مانگ کر مدارس کو آباد رکھا، بلکہ کچھ عرصہ پہلے تک تو محلہ کے ایک ایک گھر سے روٹیاں مانگنے کا سلسلہ بھی قائم رہا۔ اس لیے یہ بات بلا جھجھک کہی جا سکتی ہے کہ علماء کے اس طبقہ نے اپنی ’’عزت نفس‘‘ تک کی قربانی دے کر معاشرہ میں قرآن و حدیث کی تعلیم اور اسلامی عقائد و معاشرت کو برقرار رکھا۔ ورنہ عالم اسباب میں اگر یہ مدارس نہ ہوتے تو اسپین کی طرح برصغیر پاک و ہند میں بھی (نعوذ باللہ) اسلام ایک قصہ پارینہ بن چکا ہوتا۔ صدقہ و خیرات، گھر گھر سے مانگی ہوئی روٹیوں اور عام لوگوں کے چندوں کی بنیاد پر قائم ہونے والا دینی مدارس کا یہ نظام برطانوی استعمار کی نظریاتی، فکری اور تہذیبی یلغار کے مقابلہ میں مسلمانوں کے لیے ایک مضبوط حصار ثابت ہوا۔ اس نظام نے نہ صرف برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش کے مسلمانوں کے عقائد وافکار، معاشرت اور اسلامی علوم و فنون کی حفاظت کی بلکہ تحریک آزادی اور تحریک پاکستان کو نظریاتی راہ نماؤں اور کارکنوں کی کھیپ بھی فراہم کی جس میں مولانا محمود حسنؒ، مولانا عبید اللہ سندھیؒ، مولانا حسین احمدؒ مدنی، مولانا شبیر احمدؒ عثمانی، مولانا عبد الحامدؒ بدایونی، مولانا سید محمد داؤد غزنویؒ، سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اور ان کے ہزاروں رفقاء بطور خاص قابل ذکر ہیں۔

قیام پاکستان کے بعد دینی مدارس کا کردار

دور غلامی میں دینی مدارس کی حکمت عملی دفاعی تھی جس کے لیے انہیں بہت سے تحفظات اختیار کرنے پڑے، اور اگر وہ ان تحفظات کے بارے میں سختی نہ کرتے تو اپنے بنیادی مقاصد کی طرف اس قدر کامیابی کے ساتھ پیش رفت نہ کر پاتے۔ لیکن قیام پاکستان کے بعد صورتحال خاصی تبدیل ہوگئی اور آزادی کے حوالہ سے نئے تقاضے اور ضروریات سامنے آگئیں جن کے بارے میں دینی مدارس کی تمام تر مجبوریوں اور مشکلات کے باوجود بہرحال یہ کہنا پڑتا ہے کہ نئی ضروریات اور تقاضوں کو اپنے مقاصد میں شامل کرنے کے لیے وہ ابھی تک تیار نہیں ہوئے جس کے نقصانات قومی سطح پر بہت دیر تک محسوس کیے جاتے رہیں گے۔ قیام پاکستان کے بعد چاہیے تو یہ تھا کہ مساجد و مدارس کے لیے رجال کار کی فراہمی اور اسلامی علوم کی ترویج و تحفظ کی ذمہ داری ریاستی نظام تعلیم کے سپرد کر دی جاتی اور دینی مدارس کے الگ نظام کی ضرورت ہی باقی نہ رہتی۔ لیکن ریاستی نظام تعلیم نے اس ذمہ داری کو قبول کرنے سے انکار کر دیا، بلکہ ریاستی نظام تعلیم نے تو قیام پاکستان کے بعد آزادی اور ایک اسلامی ریاست کے مقاصد کے حوالہ سے اس قدر مایوس کیا کہ آزاد قوموں کی تاریخ اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔

قیام پاکستان کے بعد ریاستی نظام تعلیم کی ذمہ داری تھی کہ وہ:

لیکن ریاستی نظام تعلیم نے نہ صرف یہ کہ ان ذمہ داریوں کو قبول کرنے سے انکار کر دیا بلکہ عملاً یہ نظام سیکولر اور اسلام مخالف عناصر کی کمین گاہ ثابت ہوا۔ اور پاکستان میں اسلامی احکام و تعلیمات کی ترویج کو روکنے اور اس کی اسلامی حیثیت کو غیر مؤثر بنانے میں اس نظام تعلیم نے مضبوط مورچے کا کام دیا۔ جبکہ اس کے برعکس دینی مدارس نے جو ذمہ داریاں ۱۸۵۷ء کے بعد قبول کی تھیں ان پر وہ اب بھی پوری دل جمعی کے ساتھ گامزن ہیں اور ان کے طریق کار اور دائرہ عمل میں کوئی فرق نمودار نہیں ہوا۔ بلکہ اگر اس لحاظ سے دیکھا جائے کہ اسلامی علوم کی حفاظت و ترویج اور مساجد و مدارس کے لیے ائمہ و اساتذہ کی فراہمی کے لیے دینی مدارس کے کردار کا تسلسل کسی خلا اور تعطل کے بغیر بدستور قائم ہے تو ریاستی نظام تعلیم کے ساتھ تقابل کے تناظر میں دینی مدارس کا یہ کردار بڑے سے بڑے قومی اعزاز کا مستحق ہے۔ کیونکہ آج بھی ان دو مقاصد کے حوالے سے معاشرہ کی ضروریات یہی دینی مدارس پوری کر رہے ہیں اور اگر دینی مدارس اپنا یہ کردار چھوڑ دیں تو مساجد و مدارس کے لیے ائمہ و اساتذہ کی فراہمی اور اسلامی علوم کی ترویج و حفاظت کے شعبہ میں جو خلا واقع ہوگا وہ کسی باشعور شہری کے لیے قابل قبول نہیں ہو سکتا۔

دینی مدارس سے شکایات

دینی مدارس کے موجودہ کردار اور خدمات کے بارے میں عام طور پر شکایات کا اظہار کیا جاتا ہے اور شکوہ کرنے والوں میں ہم بھی شامل ہیں۔ لیکن ان شکایات اور دینی مدارس کی مشکلات کا حقیقت پسندانہ جائزہ لینا ضروری ہے تاکہ صحیح صورتحال سامنے آسکے۔

دینی مدارس کا نصاب تعلیم

دینی مدارس سے سب سے بڑی شکایت یہ کی جاتی ہے کہ ان کے نصاب میں آج کے علوم شامل نہیں ہیں اور وہ اپنے طلبہ کو انگریزی، ریاضی، سائنس، انجینئرنگ اور دیگر عصری علوم کی تعلیم نہیں دیتے۔ یہ شکایت ایسی ہے جسے نہ تو پوری طرح قبول کیا جا سکتا ہے اور نہ مسترد کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ جہاں تک عصری علوم کی مکمل تعلیم کا سوال ہے وہ نہ تو دینی تعلیم کے نصاب کے ساتھ پوری طرح شامل کی جا سکتی ہے اور نہ ایسا کرنا ضروری ہی ہے۔ شامل اس لیے نہیں کی جا سکتی کہ مستند اور پختہ عالم دین کا مقام حاصل کرنے کے لیے فارسی و عربی، صرف و نحو، قرآن و حدیث، فقہ و اصول فقہ، معانی و ادب اور منطق و فلسفہ جیسے ضروری علوم کا ایک مکمل نصاب ہے جسے پوری طرح پڑھے بغیر کوئی شخص ’’عالم دین‘‘ کے منصب پر فائز نہیں ہو سکتا۔ اور یہ نصاب اس قدر بھاری بھر کم ہے کہ اس کے ساتھ کسی دوسرے علم یا فن کے مکمل نصاب کو شامل کرنا ممکن نہیں ہے۔ اور اگر اس نصاب میں کمی کی جائے تو دینی علوم میں مہارت کا پہلو تشنہ رہ جاتا ہے۔ اور ضروری اس لیے نہیں ہے کہ یہ تخصصات اور اسپسلائزیشن کا دور ہے، اب ہر شعبہ کے لیے الگ ماہرین تیار ہوتے ہیں اور کسی ایک شعبہ کے ماہر کے لیے ضروری نہیں کہ وہ دوسرے شعبہ کی مہارت بھی رکھتا ہو۔ مثلاً کسی انجینئر کے لیے قطعی طور پر یہ ضروری نہیں کہ وہ میڈیکل سائنس کے علم سے بہرہ ور ہو، اور کسی ڈاکٹر کے لیے ضروری نہیں کہ اس نے انجینئرنگ کا علم بھی حاصل کر رکھا ہو۔ اسی طرح کسی عالم دین کے لیے بھی یہ ضروری نہیں کہ وہ میڈیکل سائنس ، انجینئرنگ یا کسی شعبہ کی مہارت بھی رکھتا ہو۔

تاہم ایک فرق ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ وہ یہ کہ جہاں تک کسی شعبہ میں پوری مہارت اور مکمل تعلیم کا تعلق ہے وہ تو کسی دوسرے شعبہ کے فرد کے لیے ضروری نہیں ہے، لیکن بنیادی اور جنرل معلومات ہر شعبہ کے بارے میں حاصل ہونی چاہئیں اور اس کی اہمیت و ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے جس طرح ہم یہ کہتے ہیں کہ کسی ڈاکٹر یا انجینئر کے لیے دین کا مکمل عالم ہونا ضروری نہیں مگر دین کی بنیادی معلومات و مسائل سے آگاہی ان کے لیے لازمی ہے تاکہ وہ اپنے شعبہ میں دینی احکام کے دائرہ کو ملحوظ رکھ سکیں، اسی طرح ایک عالم دین کے لیے ڈاکٹر یا انجینئر ہونا ضروری نہیں البتہ ان شعبوں کے بارے میں بنیادی معلومات علماء کو ضروری طور پر حاصل ہونی چاہئیں تاکہ وہ ان شعبوں کے افراد کی دینی راہنمائی صحیح طور پر کر سکیں۔

اسی طرح انگریزی آج کی بین الاقوامی زبان ہے، اسلام اور عالم اسلام کے خلاف صف آرا عالمی میڈیا کی زبان ہے اور پاکستان کی دفتری و عدالتی زبان ہے۔ اس لیے عربی کے ساتھ ساتھ انگریزی زبان سے کماحقہ بہرہ ور ہونا علماء کے لیے آج کے دور میں ضروری ہے۔ اس بنا پر ہم دینی مدارس کے نصاب تعلیم میں کسی بنیادی تبدیلی یا تخفیف کی حمایت تو نہیں کریں گے البتہ اس میں انگریزی زبان اور میڈیکل سائنس، جنرل سائنس، انجینئرنگ اور دیگر عصری علوم کے بارے میں بنیادی معلومات کی حد تک نصاب کے اضافے کو ضروری سمجھتے ہیں اور دینی مدارس کو اس طرف ضرور توجہ دینی چاہیے۔

اس سلسلہ میں دینی مدارس کی مشکلات کو سامنے رکھنا بھی ضروری ہے۔ مثلاً ان کی ایک بنیادی مشکل یہ ہے کہ جو طلبہ انگریزی یا دیگر عصری علوم سے آراستہ ہو جاتے ہیں اور سرکاری اسناد حاصل کر لیتے ہیں ان کی اکثریت مساجد یا دینی مدارس کی بجائے ملازمت کے لیے سرکاری اداروں کا رخ کرتی ہے جس کی وجہ سے مساجد و مدارس کو ضرورت اور معیار کے مطابق ائمہ، خطباء اور مدرس میسر نہیں آتے۔ ظاہر بات ہے کہ مساجد و مدارس میں مشاہروں اور دیگر سہولتوں کا مروجہ معیار کسی طرح بھی اس درجہ کا نہیں ہے کہ کوئی خطیب، امام یا مدرس اطمینان کے ساتھ ایک عام آدمی جیسی زندگی بسر کر سکے۔ پھر یہاں ملازمت کا تحفظ بھی نہیں ہے اس لیے جسے سرکاری ملازمت میں جانے کا راستہ مل جاتا ہے وہ لازماً ادھر کا رخ کرے گا اور مساجد و مدارس کے لیے رجال کار کے فقدان اور خلاء کا مسئلہ پریشان کن صورت اختیار کر جائے گا۔

اس موقع پر حضرت مولانا مفتی محمود صاحب قدس اللہ سرہ العزیز کے ساتھ ایک گفتگو کا حوالہ دینا شاید نامناسب نہ ہو۔ یہ اس دور کی بات ہے جب جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم نے وفاقی شرعی عدالت کے قیام کے بعد ضلع اور تحصیل کی سطح پر شرعی قاضی مقرر کرنے کا پروگرام بنایا تھا اور قاضی کورس کے لیے آرڈیننس کے نفاذ کی تیاری ہو رہی تھی۔ حضرت مولانا مفتی محمودؒ راولپنڈی کینٹ کے ملٹری ہسپتال میں زیر علاج تھے، میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس سلسلہ میں اپنی پریشانی کا اظہار کیا۔ مجھے پریشانی یہ تھی کہ پاکستان بھر میں ضلع اور تحصیل کی سطح پر مقرر کرنے کے لیے اس قدر تربیت یافتہ قاضی کہاں سے آئیں گے؟ اگرچہ اس زمانے میں بعض دینی اداروں نے قاضیوں کی تربیت کے لیے چار ماہ، چھ ماہ اور ایک سال کے کورس شروع کر رکھے تھے لیکن میں ان سے مطمئن نہیں تھا کہ قاضی بہرحال قاضی ہوتا ہے اور سال چھ ماہ کا کورس کسی شخص کو قاضی نہیں بنا سکتا۔ اور اگر ہم نے پاکستان میں قاضی کورس کا آغاز اس طرح کے نیم قاضیوں سے کیا تو اسلام کے عدالتی نظام کا پہلا تاثر ہی اپنے نتائج کے لحاظ سے نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔

چنانچہ میں نے مولانا مفتی محمودؒ سے سوال کیا کہ حضرت! یہ قاضی کہاں سے آئیں گے؟ مفتی صاحب نے جواب دیا کہ جن مدرسین نے دینی مدارس میں ہدایہ کی سطح تک کتابیں چار پانچ سال پڑھائی ہیں وہ نظام قضا کے مختصر کورس کے بعد قضا کا منصب سنبھال سکتے ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ میں اسے تسلیم کرتا ہوں لیکن پہلے یہ دیکھ لیجئے کہ ضلع اور تحصیل کی سطح پر قاضی مقرر کرنے کے لیے پاکستان کے اضلاع اور تحصیلوں کی تعداد کے مطابق اس سطح کے مدرسین مل جائیں گے یا نہیں؟ اور اگر ہمارے پاس اتنی تعداد میں اس معیار کے مدرسین مل بھی جائیں تو انہیں عدالتوں میں بھیج کر دینی مدارس میں ہدایہ کی سطح کی کتابیں کون پڑھائے گا؟ اس سوال کا جواب حضرت مولانا مفتی محمودؒ نے اپنے مخصوص انداز میں ٹال دیا لیکن میں نے ان کے چہرے کی سلوٹوں سے اندازہ لگا لیا کہ اس سوال نے خود انہیں بھی پریشان کر دیا ہے۔

دینی مدارس کو ابھی تک اپنے وجود کے تحفظ اور اپنے کردار کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے تحفظات کی فضا کا سامنا ہے اور وہ اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ اپنی تیار کردہ کھیپ کو دوسرے شعبوں کے حوالے کر کے اپنے کام کو جاری رکھ سکیں۔ اس لیے اگر دینی مدارس اپنے تیار کردہ افراد کو مسجد و مدرسہ تک محدود رکھنے کے لیے کچھ تحفظات اختیار کیے ہوئے ہیں تو ان کی اس مشکل کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

پھر ایک اور پہلو سے بھی اس مسئلہ کا جائزہ لینا مناسب ہوگا۔ وہ یہ کہ اس وقت پاکستان بھر کی مساجد میں امامت و خطابت کے فرائض سرانجام دینے والے افراد میں مستند و غیر مستند کا تناسب کیا ہے؟ اگر اس کا غیر جانبدارانہ سروے کیا جائے تو غیر مستند ائمہ و خطباء کا تناسب مستند حضرات سے کہیں زیادہ ہوگا۔ اور ہمارے ہاں مذہبی معاملات میں خرابیوں کی ایک بڑی وجہ یہی ہے جس کی طرف اکثر حضرات کی توجہ نہیں ہے۔ اور جو اہل دانش اس کا ادراک رکھتے ہیں وہ کسی فتوے کی زد میں آجانے کے خوف سے اس کا اظہار نہیں کرتے۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے جسے تسلیم کیے بغیر کوئی چارہ کار نہیں ہے اور اسلامی نظریاتی ریاست ہونے کے ناتے سے اسٹیٹ کی ذمہ داری ہے کہ جس طرح دوسرے شعبوں میں اَن کوالیفائیڈ افراد کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے کوالیفائیڈ افراد کی فراہمی پر زور دیا جاتا ہے ، امامت و خطابت اور دینی تعلیم کے شعبہ میں بھی اَن کوالیفائیڈ افراد کا تناسب کم سے کم کرنے اور بالآخر اسے ختم کرنے کی پالیسی اختیار کی جائے۔ اور جس طرح ملک میں عمومی خواندگی کا تناسب بہتر بنانے کے لیے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے اور ایک معقول بجٹ اس کام کے لیے مخصوص کیا جاتا ہے، دینی شعبہ میں کوالیفائیڈ افراد کا تناسب بڑھانے کے لیے دینی مدارس کی حوصلہ افزائی کی جائے اور قومی تعلیمی بجٹ میں ان کے لیے معقول حصہ مختص کیا جائے۔

ریاستی اداروں کے لیے رجال کار کی فراہمی

دینی مدارس سے دوسر ی شکایت یہ ہے کہ قیام پاکستان کے بعد ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے مختلف شعبوں بالخصوص عدلیہ میں مطلوبہ معیار کے رجال کار کی فراہمی کو دینی مدارس کے نظام نے اپنے مقاصد میں شامل نہیں کیا۔ یہ کام اگرچہ اصلاً ریاستی نظام تعلیم کا تھا لیکن ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ ریاستی نظام تعلیم نے اس سمت سوچنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی اور اس کے بعد اس خلا کو پر کرنے کے لیے لوگوں کی نظریں بہرحال دینی مدارس کی طرف اٹھتی ہیں۔ اگر دینی مدارس اپنے نصاب تعلیم کا ازسرنو جائزہ لے کر اسلام کو بطور نظام زندگی دوسرے مروجہ نظاموں کے ساتھ تقابل کے ساتھ پڑھانے کا اہتمام کرتے اور اجتماعی زندگی سے تعلق رکھنے والے حدیث و فقہ کے ابواب کو ضروری اہمیت کے ساتھ پڑھایا جاتا تو دینی مدارس سے فارغ ہونے والے علماء کرام اسلامی نظام کے نفاذ کی جدوجہد کے تربیت یافتہ اور شعوری کارکن ثابت ہوتے۔ اور اس کے ساتھ اگر تجارت، عدالت، انتظامیہ اور دیگر شعبوں کے افراد کے لیے ہلکے پھلکے کورسز تیار کر کے انہیں دینی مدارس کے تعلیمی دائرہ میں شریک کر لیا جاتا تو اسلامی نظام کے لیے رجال کار کی فراہمی کی ایک اچھی بنیاد مل سکتی تھی۔ لیکن ایسا نہیں ہوا اورا اس کے نتائج آج معاشرہ میں فکری انتشار اور اخلاقی انارکی کی صورت میں سب کے سامنے ہیں۔

مغربی لابیوں اور ورلڈ میڈیا کا چیلنج

دینی مدارس سے تیسری شکایت اسلام کے بارے میں مغربی لابیوں اور ورلڈ میڈیا کے منفی پراپیگنڈا کی صورت میں سامنے آنے والے چیلنج کو نظر انداز کرنے کی ہے۔ آج اقوام متحدہ کے چارٹر، جنیوا انسانی حقوق کمیشن کی قراردادوں اور بنیادی حقوق کے مغربی تصورات کے حوالہ سے اسلامی احکام اور قوانین کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ جرائم کی شرعی سزاؤں کو انسانی حقوق کے منافی قرر دیا جا رہا ہے، ارتداد اور توہین رسالتؐ پر قدغن کے بارے میں اسلامی قوانین کو آزادی رائے کے بنیادی حق سے متصادم کہا جا رہا ہے، اور دنیا میں کسی بھی جگہ اسلامی معاشرہ کے قیام کو قرون وسطیٰ کے ظالمانہ دور کی طرف واپسی سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔

اس چیلنج کا سامنا کرنے اور آج کی زبان میں اسلام کو انسانی حقوق کے علمبردار اور محافظ نظام کے طور پر پیش کرنے کے لیے لوگوں کی نظریں دینی مدارس اور اداروں کی طرف اٹھتی ہیں۔ اور عام مسلمان یہ توقع کرتا ہے کہ جس طرح دینی مدارس کے نظام نے برطانوی استعمار کے دور میں اعتقادی اور معاشرتی فتنوں کا دل جمعی سے مقابلہ کیا تھا، آج بھی وہ مغربی فلسفہ کی نئی اور تازہ دم یلغار کے سامنے خم ٹھونک کر میدان میں آئے گا۔ مگر چند استثناؤں کو چھوڑ کر دینی مدارس میں اس چیلنج کے ادراک کی فضا ہی سرے سے موجود نہیں جو بلاشبہ ایک بہت بڑا المیہ ہے۔

نیا دور اور ہمارا روایتی اسلوب

دینی مدرس سے چوتھی شکایت یہ ہے کہ انہوں نے اپنے اساتذہ اور طلبہ کو گفتگو اور مباحثہ کے نئے اسلوب اور ہتھیاروں سے روشناس نہیں کرایا۔ فتویٰ اور مناظرہ کی زبان قصہ پارینہ بن چکی ہے مگر دینی مدارس بلکہ ہمارے منبر و محراب پر بھی ابھی تک اسی زبان کا سکہ چلتا ہے۔ اخبارات پڑھنے والوں اور ٹی وی دیکھنے والوں کے لیے ہماری زبان اور اسلوب بیان دونوں اجنبی ہو چکے ہیں مگر ہم کوئی پروا کیے بغیر اسی ڈگر پر قائم ہیں، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اکثر و بیشتر دینی مجالس میں تعلیم یافتہ لوگوں کا تناسب دن بدن کم ہوتا جا رہا ہے۔

آج کی زبان منطق و استدلال کی زبان ہے، مشاہدات کی زبان ہے، کسی بھی مسئلہ کو اس کے پس منظر اور تنائج کے ساتھ پیش کرنے کی زبان ہے، اور انسانی حقوق کے حوالے سے گفتگو کی زبان ہے۔ مگر دینی مدارس کے اساتذہ اور طلبہ کی اکثریت اس زبان سے ناآشنا ہے اور ستم بالائے ستم کہ اچھا بولنے اور اچھا لکھنے والوں کا تناسب جو دینی حلقوں میں پہلے ہی بہت کم تھا، مزید کم ہوتا جا رہا ہے۔ انگلش اور عربی تو رہی ایک طرف، اردو زبان میں اپنے مافی الضمیر کو اچھی تحریر کی صورت میں پیش کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ایک پختہ کار عالم دین نے شکایت کی کہ فلاں قومی اخبار کو میں نے درجنوں مضامین بھجوائے ہیں ان میں سے ایک بھی شائع نہیں ہوا۔ میں نے اس اخبار کے ایڈیٹر سے بات کی تو انہوں نے جواب دیا کہ جو مضمون ہمیں پورے کا پورا ازسرنو لکھنا پڑے، اسے شائع کرنے کا تکلف ہم کس طرح کر سکتے ہیں؟

دینی و اخلاقی تربیت

دینی مدارس سے پانچویں شکایت یہ ہے کہ دینی اور اخلاقی تربیت کا جو ماحول کچھ عرصہ پہلے تک ان مدارس میں قائم رہا ہے، وہ ختم ہوتا جا رہا ہے اور گنتی کے چند اداروں کے سوا دینی مدارس کی اکثریت ایسی ہے جن میں طلبہ کی فکری، دینی اور اخلاقی تربیت کا نظام موجود نہیں ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ مدارس سے فارغ ہونے والے فضلاء کی اکثریت کے ذہنوں میں مشنری جذبہ کے طور پر کوئی واضح اور متعین مقصد زندگی نہیں ہوتا، اور اگر کسی کے ذہن میں کوئی مقصد ہو بھی تو اس کے مطابق اس کی تربیت نہیں ہوتی اور اس کے نقصانات بھی قدم قدم پر سامنے آرہے ہیں۔

معیاری اور غیر معیاری ادارے

دینی مدارس سے چھٹی شکایت یہ ہے کہ ان کا باہمی ربط و مشاورت کا نظام انتہائی کمزور ہے۔ پہلے تو بالکل نہیں تھا مگر کچھ عرصہ سے تمام مذہبی مکاتب فکر کے مدارس نے اپنے اپنے وفاق قائم کر لیے ہیں جو اگرچہ فرقہ وارانہ بنیادوں پر ہیں لیکن اپنے اپنے مکتب فکر کی حد تک انہوں نے باہمی ربط کا ایک نظام قائم کر لیا ہے جس سے امتحانات کی صورتحال بہتر ہوئی ہے اور کچھ دیگر فوائد بھی سامنے آئے ہیں۔ لیکن معاشرہ میں دینی مدارس کی کارکردگی اور اثرات کا دائرہ جس قدر وسیع ہے اس کے مطابق موجودہ ربط و نظم قطعی طور پر ناکافی ہے جس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ مدارس کے قیام میں کوئی منصوبہ بندی اور ترجیحات نہیں ہیں۔ جہاں جس کا جی چاہتا ہے ضروریات اور تقاضوں کو ملحوظ رکھے بغیر کسی بھی معیار اور سائز کا دینی ادارہ قائم کر لیتا ہے۔ اور چونکہ اوپر چیکنگ کا کوئی نظم موجود نہیں ہے اس لیے کارکردگی اور اخراجات کا دائرہ شخص واحد یا زیادہ سے زیادہ اس کے منظور نظر چند افراد تک محدود رہتا ہے۔ ان خودرو دینی مدارس میں ایک بڑی تعداد ایسے اداروں کی ہے جو تعلیمی اداروں کی بجائے ’’مذہبی دکانیں‘‘ کہلانے کے زیادہ حقدار ہیں اور ان میں مالی بدعنوانیوں کا سلسلہ دراز ہوتا جا رہا ہے۔

ضیاء الحق مرحوم کے دور میں سرکاری زکوٰۃ کا ایک حصہ دینی مدارس کے لیے مخصوص کیا گیا تو اس کے حصول کے لیے دنوں میں کئی مدرسے وجود میں آگئے۔ اور پھر سرکاری زکوٰۃ کی رقم حاصل کرنے کے لیے رشوت، سفارشات اور بدعنوانیوں کے جو دروازے کھلے انہوں نے دینی اداروں کو بھی دیگر سرکاری محکموں کی صف میں لاکھڑا کیا۔ اس حوالہ سے دینی مدارس کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

  1. ایک حصہ وہ معیاری دینی ادارے ہیں جنہوں نے سرکاری زکوٰۃ کی وصولی سے گریز کیا اور اپنی چادر کے دائرے میں پاؤں پھیلانے کے باوقار طریق کار پر گامزن رہے۔
  2. دوسرے نمبر پر وہ دینی ادارے ہیں جو اپنی کارکردگی اور معاملات میں دیانت اور اعتماد کے معیار پر پورا اترتے ہیں اور انہوں سرکاری زکوٰۃ وصول کر کے اسے صحیح مصرف پر صرف کیا۔
  3. اور تیسرے نمبر پر وہ مدارس ہیں جنہوں نے سرکاری زکوٰۃ وصول اور خرچ کرنے میں کسی دینی اور اخلاقی معیار کی پابندی کا تکلف گوارا نہیں کیا۔ بدقسمتی سے سرکاری ریکارڈ میں تیسری قسم کے مدارس کی فہرست زیادہ لمبی ہے اور دینی مدارس کے مجموعی نظام کے بارے میں سرکاری محکموں کی رائے قائم ہونے میں یہی فہرست بنیاد بن رہی ہے۔

پھر چند بڑے اور معیاری دینی مدارس کو چھوڑ کر اکثر و بیشتر دینی مدارس نے عوامی چندہ کے حصول کے لیے جو طریقے کچھ عرصہ سے اختیار کر لیے ہیں انہوں نے چندہ دینے والے اصحاب خیر کو پریشان کر دیا ہے اور اس سے مدارس کی نیک نامی اور اعتماد مجروح ہو رہا ہے۔ کراچی، فیصل آباد اور گوجرانوالہ جیسے کاروباری شہروں میں رمضان المبارک کے دوران مساجد اور دکانوں پر دینی مدارس کے سفیروں کی جو یلغار ہوتی ہے اور لوگوں کی توجہ زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کے لیے گفتگو کا جو اسلوب اختیار کیا جاتا ہے اس سے دینی اداروں کے اعتماد اور وقار کا گراف تیزی کے ساتھ نیچے جا رہا ہے۔ اس میں کوئی مبالغہ کی بات نہیں کہ کاروباری شہروں میں بہت سے دکاندار رمضان المبارک کے دوران سفیروں کی یلغار کے خوف سے خود اپنی دکانوں پر بیٹھنے سے کترانے لگے ہیں اور مساجد میں نمازوں کے بعد کھڑے ہو کر اپیل کرنے والے سفیروں کو اب نمازیوں نے ٹوکنا شروع کر دیا ہے۔

اس سلسلہ میں سب سے پریشان کن صورتحال پاکستان سے باہر لندن میں دیکھنے میں آتی ہے جہاں پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے مدارس کے سفراء نماز کے بعد کھڑے ہو کر اپنے مدرسے کے لیے اپیل کرتے ہیں اور پھر دروازے پر رومال بچھا کر بیٹھ جاتے ہیں جہاں نمازی گزرتے ہوئے پاؤنڈ اور سکے پھینکتے جاتے ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ میرے جیسے حساس دینی کارکن کی نظریں شرم سے زمین پر گڑ جاتی ہیں۔ ابھی چند ماہ قبل جنگ لندن میں ایک مسلم نوجوان کا مراسلہ شائع ہوا جس میں اس نے بتایا کہ برطانیہ میں پلنے بڑھنے والے مسلمان نوجوانوں کی اکثریت مساجد میں اس لیے نہیں آتی کہ ایک تو ائمہ اور خطباء کی زبان ان کی سمجھ میں نہیں آتی، دوسرے جن موضوعات پر وہ گفتگو کرتے ہیں ان سے انہیں کوئی دلچسپی نہیں ہے، تیسرے ہر نماز کے بعد کسی نہ کسی مدرسہ کا سفیر چندہ کے لیے کھڑا ہوتا ہے اور ان کے پاس ہر آدمی کو دینے کے لیے اتنے پیسے نہیں ہوتے۔ یہ صورتحال برطانیہ کی مساجد کی ہے جو ہزاروں میل دور اور اکثر مدارس کے سفراء کی دسترس سے باہر ہے۔ جب وہاں کا یہ حال ہے تو اپنے ملک کی مساجد کا کیا حال ہو سکتا ہے؟ اور قیاس کرنے کی ضرورت کیا ہے، سارا منظر تو ہم رمضان المبارک میں اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔ یہ بات نہیں کہ لوگ دینی مدارس سے تعاون نہیں کرتے اس لیے مدارس کو مجبورًا ایسے طریقے اختیار کرنا پڑتے ہیں۔ بیسیوں ایسے اداروں کو میں ذاتی طور پر جانتا ہوں جن کا سالانہ بجٹ لاکھوں سے متجاوز ہے اور بعض کا کروڑوں کی حدود میں قدم رکھ رہا ہے، وہ مدارس نہ سرکاری امداد لیتے ہیں اور نہ ہی ان کے سفیر اس طرح چندہ کے لیے گھومتے پھرتے ہیں مگر ان کا بجٹ صاحب خیر مسلمانوں کے تعاون سے باوقار طریقہ سے فراہم ہو جاتا ہے۔

سیکولر عناصر کا پراپیگنڈا

یہ ہے دینی مدارس کا ماضی اور حال جسے اب پاکستان کی وزارت داخلہ اور اس سے بڑھ کر بین الاقوامی سطح پر ایمنسٹی انٹرنیشنل اپنی تحقیقات اور سروے کی بنیاد بنا کر دنیا کو ان کی منفی تصویر دکھانے کے درپے ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کا تو یہ نظریاتی محاذ ہے، وہ ان مغربی حکومتوں اور لابیوں کی نمائندہ ہے جن کا موقف یہ ہے کہ اسلام آج کے دور میں بطور ’’نظام زندگی‘‘ قابل عمل نہیں ہے اور اسلامی احکام و قوانین انسانی حقوق کے منافی ہیں۔ اس لیے عالم اسلام میں دینی بیداری کی تحریکات کو ناکام بنانا ضروری ہے ورنہ قرون وسطیٰ کا وحشیانہ دور پھر واپس آسکتا ہے جس سے ویسٹرن سولائزیشن اور تہذیب و ترقی سب کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اس لیے مغربی حکومتیں اور ان کے مفاد میں کام کرنے والی لابیاں عالم اسلام میں دینی بیداری کے سرچشموں کو بند کرنا چاہتی ہیں، ان کی نظر میں پاکستان دنیا کا سب سے بڑا بنیاد پرست ملک ہے اور پاکستان کی بنیاد پرستی کا سرچشمہ دینی مدارس ہیں، اس لیے دینی مدارس کو غیر مؤثر بنانا اور عوام کے ساتھ ان کے اعتماد کے رشتے کو ختم کرنا ضروری ہے۔ اسی بنیاد پر علماء کرام اور دینی مدارس کی کردار کشی اور انہیں منتشر رکھنے پر کروڑوں ڈالر خرچ کیے جا رہے ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل اس مہم کو لے کر آگے بڑھنا چاہتی ہے اور پاکستان کے غیر معیاری اور برائے نام دینی مدارس کو بنیاد بنا کر ایک رپورٹ دنیا کے سامنے لانے کی کوشش کر رہی ہے جس میں دکھایا جائے گا کہ پاکستان کے دینی مدارس میں طلبہ کو آج کے تقاضوں سے بے خبر رکھا جاتا ہے، انہیں مارا جاتا ہے، زنجیروں سے باندھا جاتا ہے، ان سے جبری بیگار لی جاتی ہے، ان کی خوراک، رہائش اور صفائی کا معیار ناقص ہے، انہیں ان مدارس میں آزادی رائے اور دیگر بنیادی حقوق حاصل نہیں ہیں، انہیں جان بوجھ کر ناقص رکھا جا رہا ہے تاکہ وہ قومی زندگی کے کسی شعبے میں کھپ نہ سکیں، ان کے نام پر چندہ کر کے مدارس کے منتظمین کھا پی جاتے ہیں اور طلبہ کو انتہائی تنگی کی حالت میں رکھ کر خود عیش کی زندگی بسر کرتے ہیں اور ان مدرس میں طلبہ کو اسلحہ کی ٹریننگ دے کر دہشت گرد بنایا جا رہا ہے۔ یہ سب کچھ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی اس رپورٹ کا حصہ ہوگا جو اگلے سال جون تک منظر عام پر آرہی ہے اور اس کے لیے بطور خاص ایسے غیر معیاری مدارس کو سروے کی بنیاد بنایا جا رہا ہے جہاں یہ کچھ ہوتا ہے تاکہ رپورٹ پر ’’غیر حقیقت پسندانہ‘‘ اور ’’خلاف واقعہ‘‘ ہونے کا الزام عائد نہ کیا جا سکے۔ اس سروے مہم میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی کوئی ٹیم معیاری دینی مدارس میں نہیں جائے گی اور نہ ہی رپورٹ میں ان کا تذکرہ ہوگا۔ پاکستان کی وزارت داخلہ اور دیگر محکمے اس مہم میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کے معاون ہیں اور دینی مدارس کے خلاف اس مہم میں ان کے مقاصد بھی اس سے مختلف نہیں ہیں۔

آئندہ کے لیے لائحہ عمل

کسی بھی طبقہ کی کمزوریاں ہمیشہ اس کے خلاف دشمن کا ہتھیار بنتی ہیں اور دینی مدارس کے نظام سے نالاں قوتوں نے اس کے خلاف ان کمزوروں کو ہتھیار بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس لیے دینی مدارس اور دینی مدارس کے وفاقوں کو خوداحتسابی کا ایک مضبوط نظام قائم کرنا ہوگا اور اپنی کمزوریوں کو خود اپنے ہاتھوں دور کرنے کا اہتمام کرنا ہوگا۔ ورنہ یہ کمزوریاں ان کے خلاف صرف مغربی لابیوں کی پراپیگنڈا مہم کا ہتھیار نہیں ہوں گی بلکہ ان مدارس پر ریاستی کنٹرول کی مہم میں بھی معاون ثابت ہوں گی۔ اس لیے ہم دینی مدارس کے ارباب حل و عقد کی خدمت میں عرض کریں گے کہ

ہمیں امید ہے کہ دینی مدارس کے ارباب حل و عقد ان گزارشات پر ہمدردانہ غور فرما کر اصلاح احوال کی ضروری تدابیر اختیار کریں گے تاکہ دینی مدارس کا یہ نظام ماضی کی طرح مستقبل میں بھی اسلامی علوم کی حفاظت اور اسلامی معاشرہ کی تشکیل میں مفید اور مؤثر کردار ادا کر سکے۔

دینی مدارس کے نظام کی بہتری کے لیے تجاویز

مختلف مکاتبِ فکر کے دینی مدارس کے وفاقوں کا مشترکہ اجلاس

ادارہ

وطنِ عزیز میں مدارسِ دینیہ فی الحقیقت اسلام کا قلعہ اور مصالحِ امتِ مسلمہ کے تحفظ کی آخری امید ہیں، اور ضروری وسائل کی شدید کمی اور حکومت کی بے توجہی کے باعث یہ مدارس انتہائی کسمپرسی کے عالم میں ہیں۔ ان مدارس کے تعلیمی معیار کو بہتر بنانے اور مدارس کے مجموعی نظام کو ترقی دینے کی غرض سے متحدہ علماء کونسل پاکستان اور ’’ہیئۃ الاغاثہ الاسلامیہ العالمیہ‘‘ کے تعاون سے ایک ادارہ یعنی ’’ہیئۃ تنسیق المدارس الدینیہ باکستان‘‘ تشکیل دیا گیا ہے جس کے تحت ایک منصوبہ پر کام کا آغاز کیا جا رہا ہے۔
مدارس کے مسائل کا جائزہ لینے، نصاب، نظام اور معیارِ تعلیم بہتر بنانے اور مدارس کے مہتمین حضرات سے اس ضمن میں تجاویز اور سفارشات کے حصول کے لیے دو روزہ ورکشاپ کا اہتمام کیا گیا۔ ۲، ۳ نومبر ۱۹۹۴ء کو اسلام آباد میں مولانا مفتی ظفر علی نعمانی امیر متحدہ علماء کونسل پاکستان کی زیر صدارت یہ ورکشاپ منعقد ہوئی۔ جس میں تمام مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے وفاقات یعنی تنظیم المدارس (بریلوی)، وفاق المدارس (دیوبندی)، وفاق المدارس السلفیہ (اہل حدیث)، رابطۃ المدارس (جماعتِ اسلامی)، اور متحدہ علماء کونسل پاکستان کے اعلیٰ عہدیداران شریک ہوئے۔ یہ ورکشاپ دو روز تک اسلام آباد کے ایک خوبصورت ہوٹل میں نہایت خوشگوار فضا میں جاری رہی۔ پاکستان بھر سے آئے ہوئے مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام نہایت ہم آہنگی اور اعتماد سے اپنے اپنے مسائل اور تجاویز پیش کرتے رہے۔
اجلاس میں دینی مدارس میں پڑھائے جانے والے نصاب، تعلیمی معیار اور نظامِ امتحانات کو بہتر بنانے کے بارے میں تجاویز اور سفارشات پیش کی گئیں۔ دو دن کے غور و فکر کے دوران تین کمیٹیاں تشکیل دی گئیں، جن میں نصاب کمیٹی، امتحانات کمیٹی اور کمیٹی برائے غیر نصابی سرگرمیاں شامل تھیں۔ ان کمیٹیوں نے درج ذیل سفارشات پیش کیں جو متفقہ طور پر منظور کر لی گئیں:

نصاب کمیٹی

کمیٹی کا اجلاس جناب ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر کی زیرصدارت مورخہ ۳ نومبر ۱۹۹۴ء کو منعقد ہوا۔ آغاز مولانا حافظ فضل رحیم کی تلاوت سے ہوا۔ شرکاء درج ذیل تھے:
۱۔ سید مظفر حسین ندوی
۲۔ مولانا رفیق اثری (دارالحدیث محمدیہ، جلال پور بیروالہ، ملتان)
۳۔ مولانا حافظ فضل رحیم (جامعہ اشرفیہ، لاہور)
۴۔ مولانا حبیب الرحمٰن بخاری (جامعہ سلفیہ، اسلام آباد)
۵۔ جناب زاہد اشرف (جامعہ تعلیماتِ اسلامیہ، فیصل آباد)
۶۔ ڈاکٹر محمد سرفراز نعیمی (جامعہ نعیمیہ، لاہور)
۷۔ مولانا مختار احمد ضیاء
۸۔ الشیخ ابوعمار محمد غسان (ہیئۃ الاغاثہ الاسلامیہ العالمیہ، اسلام آباد)
۹۔ مولانا پیر سیف اللہ خالد، لاہور
۱۰۔ مولانا عبد الغفار حسن، اسلام آباد

سفارشات

۱۔ تمام وفاقوں پر مشتمل ایک وفاق قائم کیا جائے۔
۲۔ مدارس میں درجہ بندی قائم کی جائے۔
۳۔ ذی استعداد اصحابِ علم پر مشتمل ایک بورڈ تشکیل دیا جائے جو مروجہ دینی نصاب سے غیر ضروری کتب کے اخراج اور جدید مفید کتب کے اضافے کی نشاندہی کرے اور مطلوبہ کتب کی تدوین کرے۔
۴۔ معہد تدریب المعلمین کا قیام عمل میں لایا جائے۔
۵۔ عصری علوم کو مناسب مراحلِ تعلیم میں پڑھایا جائے۔
۶۔ شہادۃ عالمیہ کے لیے تحقیقی مقالے کو عربی زبان میں لازمی قرار دیا جائے۔
۷۔ عربی، اردو اور تحریر و تقریر کی مشق کا خصوصی اہتمام کیا جائے اور اس مقصد کے لیے جدید ذرائع سے استفادہ کیا جائے۔ بالخصوص جدید صحافت کے اصول طالب علم کو ذہن نشین کرائے جائیں۔ اس مقصد کے لیے فارغ التحصیل طلبہ کے لیے ایک سالہ نصاب تشکیل دیا جائے۔
۸۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ طلبہ کی دینی تربیت کا ٹھوس نظام وضع کیا جائے۔

امتحانات کمیٹی

اجلاس کی کارروائی مورخہ ۳ نومبر ۱۹۹۴ء کو ۱۱.۳۰ بجے ہوئی۔ تلاوتِ کلامِ پاک کے ساتھ باقاعدہ آغاز ہوا۔ شرکاء درج ذیل تھے:
۱۔ مولانا مفتی عبد القیوم ہزاروی (ناظمِ اعلیٰ تنظیم المدارس البریلویہ)
۲۔ مولانا غلام محمد سیالوی (کراچی)
۳۔ مولانا حافظ محمد امین (گوجرانوالہ)
۴۔ حافظ مسعود عالم (جامعہ سلفیہ، فیصل آباد)
۵۔ مولانا خورشید احمد گنگوہی (لاہور)
۶۔ مولانا محمد بن عبد اللہ (جامعہ سلفیہ، اسلام آباد)
۷۔ مولانا قاری محمد طاہر
۸۔ حافظ محمد منیب (اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد)
۹۔ مصباح الرحمٰن یوسفی (دعوۃ اکیڈمی، اسلام آباد)
تلاوتِ کلام پاک کے بعد چاروں مسلّمہ وفاقات کے امتحانی نظام کا جائزہ لیا گیا اور متفقہ طور پر طے کیا گیا کہ یہ نظام واقعی مثالی اور قابلِ عمل ہیں۔ ان نظاموں کو سراہا گیا۔ البتہ مزید اصلاح اور بہتری کے لیے درج ذیل سفارشات تجویز کی گئیں:

سفارشات

۱۔ شہادۃ عالمیہ کے تحریری امتحان کے بعد ایک منتخب ثقہ اور متبحر عالمِ دین طالب علم کا باقاعدہ انٹرویو اور اس کی علمی استعداد اور شخصی تعارف کے بارے میں جانچ پڑتال کرے۔ اور کامیابی یا سفارش کیے جانے کی صورت میں ہی سند جاری کی جائے۔
۲۔ عالمیہ کے امتحان میں مقالہ نویسی لازمی قرار دی جائے اور ایک ماہر استاذ کی نگرانی میں اس کو تیار کرایا جائے۔
۳۔ ثانویہ عامہ، خاصہ، عالیہ اور عالمیہ کے امتحانات مسلسل ہوں اور ہر زیریں امتحان میں کامیابی کے بعد ہی قریبی بالا امتحان میں بیٹھنے کی اجازت دی جائے اور کامیابی کے بعد وفاق سند جاری کرے۔
۴۔ امتحانات کے بارے میں جو قواعد و ضوابط وفاقات کے ہاں طے شدہ ہیں ان کی سختی سے پابندی کروائی جائے۔ اور نقل، دھوکہ، ناجائز سفارشات، پرچے آوٹ ہونے یا غلط مارکنگ کی سختی سے حوصلہ شکنی کی جائے اور مرتکبین کو قرار واقعی سزا دی جائے۔
۵۔ چاروں تسلیم شدہ وفاقات میں سے معتمد نمائندہ افراد پر مشتمل ایک مشترکہ بورڈ تشکیل دیا جائے جو جملہ امتحانات کی نگرانی کا فریضہ انجام دے۔

کمیٹی برائے غیر نصابی سرگرمیاں

کمیٹی کا اجلاس مولانا عبد المالک کی سربراہی میں منعقد ہوا جس میں درج ذیل علماء کرام نے شرکت فرمائی:
۱۔ مولانا فضل سبحان
۲۔ مولانا عبد الرحمٰن سلفی (جامعہ ستاریہ، کراچی)
۳۔ مولانا نعیم احمد (جامعہ تعلیماتِ اسلامیہ، فیصل آباد)
۴۔ مولانا فضل ربی
۵۔ مولانا عبد الرحمٰن راشد
۶۔ مولانا فضل ربی درانی
۷۔ مولانا عبد القیوم
۸۔ مولانا عبد الہادی (جامعہ اثریہ، پشاور)
۹۔ مولانا عبد الحئی ابڑو (اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد)
۱۰۔ الشیخ ابو الجود
۱۱۔ الشیخ محمد شکری الفیومی (المدرسۃ الاسلامیہ، دوبئی)
۱۲۔ پروفیسر عبد اللطیف انصاری نے سیکرٹری کے فرائض انجام دیے۔
مدارسِ علومِ دینیہ کے لیے قرار پایا کہ طلباء کو اپنی جملہ صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے پورے پورے مواقع فراہم کیے جائیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہر ادارے میں مختلف النوع مجالس اور سرگرمیوں کا اس طرح اہتمام کیا جائے کہ ہر طالب علم اپنی پسند اور فطری میلان و رجحان کے مطابق ان میں حصہ لے کر اپنی صلاحیتوں اور جذبوں کا اظہار کر سکے۔ ان سرگرمیوں کے انعقاد میں نظم و ضبط اور باقاعدہ کو پیش نظر رکھا جائے۔

سفارشات

۱۔ مدرسہ کے درس و تدریس کے نظامِ اوقات میں سب سے پہلے صبحی اجتماع کا انعقاد عمل میں لایا جائے جس کا دورانیہ ۱۵ منٹ سے ۳۰ منٹ ہو۔ اس اجتماع (مارننگ اسمبلی) میں مدرسہ کے تمام طلباء اور اساتذہ شامل ہوں گے۔ تلاوتِ قرآن پاک کے بعد حالاتِ حاضرہ، ملکی مسائل، شخصی حفظانِ صحت، اور دیگر موضوعات پر مشتمل باہمی مشاورت سے پورے سال کے لیے مستقل نصاب مرتب کیا جائے۔ اس اجتماع میں ملکی، عالمی حالات، حالاتِ حاضرہ، اسلامی تعلیمات، نظریہ پاکستان، اور اسلامی نظامِ حیات کے مختلف عنوانات پر اساتذہ کرام باری باری تقریر کریں اور وقتاً فوقتاً ممتاز علماء اور اکابرینِ ملت اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات کو بھی خطاب کی دعوت دی جائے۔
۲۔ ہر جمعرات کو درس و تدریس کے اوقات کے بعد بزمِ ادب کا اجلاس منعقد ہونا چاہیے، جس میں تمام طلبہ کی شرکت لازمی قرار دی جائے۔ اساتذہ میں سے ایک دو کو اس کا ذمہ دار نگران بنایا جائے۔
۳۔ پورے سال کے لیے موضوعات کی فہرست مرتب کی جائے۔
۴۔ ہر طالب علم کو بزم ادب کے پروگرام میں حصہ لینے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔
۵۔ بزمِ ادب میں حالاتِ حاضرہ، عالمِ اسلام کے مسائل، ملکی حالات اور اسلامی نظامِ حیات سے متعلقہ عنوانات پر طلبہ تقریر کریں یا مضامین پڑھیں۔ اور کم از کم ایک طالب علم عربی زبان میں ضرور تقریر کرے۔
۶۔ مہینہ میں کم از کم ایک اجلاس مدرسہ کے اساتذہ کا بھی ہونا چاہیے، جس میں گزشتہ ماہ کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا جائے۔
۷۔ مدرسہ کی تعمیر و ترقی کے امور پر تبادلہ خیالات کیا جائے۔ مختلف موضوعات پر تحقیق کے بارے میں مشاورت کی جائے۔
۸۔ مدرسہ کے تمام طلباء کو کم از کم چار ہاؤسز میں تقسیم کر دیا جائے۔ کسی استاد کو ہر ہاؤس کا انچارج بنا دیا جائے۔ ان ہاؤسز کے لیے ہر سال حسنِ قراءت، خطابت، تقریر مقابلے، سیمینارز، مباحثوں اور کھیلوں میں مقابلوں کا اہتمام کیا جائے۔ ہاؤسز کے درمیان دینی عنوانات پر ذہنی آزمائش، شعر و شاعری، بیت بازی کے مقابلے بھی منعقد کیے جائیں۔ ہر ہاؤس کا انچارج اپنے اپنے ہاؤس کے طلبہ کے حالات و کوائف کا ریکارڈ بھی رکھے۔
۹۔ روزانہ کم از کم ایک نماز کے بعد مختصر خطاب ہو۔ ایک طالب علم کے لیے تمام حاضرین کو خطاب کرنا ضروری قرار دیا جائے تاکہ کسی اجتماع سے خطاب کرنے کی جھجھک دور ہو جائے۔ یہ خطاب بھی روزانہ کسی نہ کسی استاد کی نگرانی میں ہو اور اس کے لیے موضوع کا تعین کیا جائے۔
۱۰۔ مہینے میں ایک نفلی روزہ رکھنے اور شب بیداری کا بھی گاہے بگاہے اہتمام ہونا چاہیے۔
۱۱۔ مدرسہ کی اعلیٰ جماعتوں کے طلباء پر مشتمل گروپ تشکیل دیے جائیں جن کو فقہ، حدیث اور تفسیر میں تحقیق کی تربیت دی جائے۔ تاکہ دن میں وہ لائبریری سے حوالہ جات تلاش کر کے متفقہ حل پیش کرنے کی صلاحیت حاصل کر سکیں۔
۱۲۔ تمام طلباء کو خوش نویسی اور کچھ طلبہ کو خطاطی اور کتابت کی تربیت بھی دی جائے تاکہ وہ اچھا لکھنے کی صلاحیت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ضرورت پڑنے پر مدرسہ کے لیے بینرز لکھ سکیں اور چاکنگ بھی کر سکیں۔
۱۳۔ وقتاً فوقتاً طلباء کے تعلیمی دوروں کا بھی اہتمام ہونا چاہیے۔ ملک کی مشہور جامعات کے حالات و کوائف رکھنے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔
نماز کے بعد چند منٹ کے لیے اورادِ مسنونہ کا اہتمام کیا جائے۔
۱۴۔ عصر سے مغرب کے دوران تمام مدارس میں کھیلوں، ریاضتِ جسمانیہ کا اہتمام کرنا چاہیے۔ تمام مدارس اپنے اپنے حالات کے مطابق کھیلوں میں جن کا چاہیں انتظام کریں لیکن اس امر کا خیال رکھیں کہ تمام طلباء ریاضتِ جسمانی اور کھیلوں میں حصہ لیں۔ مثلاً فٹ بال، والی بال، جوڈو کراٹے، کشتی، باڈی بلڈنگ، جمناسٹک، اتھلیٹکس، تیراکی، بنوٹ، نیزہ بازی، گھوڑ سواری وغیرہ۔ عصر سے مغرب کے دوران سول ڈیفنس، فائر فائٹنگ (آگ پر قابو پانا)، فرسٹ ایڈ، عسکری تربیت اور فنونِ حرب کی تربیت کا بھی اہتمام کیا جائے۔ اساتذہ کرام کی مشاورت سے ہم نصابی سرگرمیاں منظم کی جائیں اور علمی تبادلۂ خیالات کا اہتمام کیا جائے۔ علومِ دینیہ کے طلباء کے لیے لباس، یونیفارم مقرر ہونا چاہیے۔
اجتماع کے آخر میں ایک خصوصی قرارداد بھی منظور کی گئی جس میں حکومت کی طرف سے دینی مدارس کی رجسٹریشن پر پابندی عائد کرنے اور سکولوں میں عربی مضمون کی لازمی حیثیت ختم کرنے کی پرزور مذمت کی گئی اور حکومت سے ان اقدامات کی فوری واپسی کا مطالبہ کیا گیا۔
دو روزہ ورکشاپ میں جن علماء کرام اور اسکالر حضرات نے شرکت فرمائی، ان کے اسماء گرامی درج ذیل ہیں:
مولانا مفتی ظفر علی نعمانی (امیر متحدہ علماء کونسل پاکستان)
مولانا مفتی عبد القیوم ہزاروی (لاہور)
مولانا فضل الرحیم (جامعہ اشرفیہ، لاہور)
مولانا حبیب الرحمٰن شاہ بخاری (جامعہ سلفیہ، اسلام آباد)
مولانا محمد حنیف جالندھری (جامعہ خیر المدارس، ملتان)
مولانا غلام محمد سیالوی (کراچی)
ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر (جامعۃ العلوم الاسلامیہ، بنوری ٹاؤن، کراچی)
ڈاکٹر محمد سرفراز نعیمی (لاہور)
حافظ مسعود عالم (جامعہ سلفیہ، فیصل آباد)
مولانا زاہد الراشدی (شاہ ولی اللہ یونیورسٹی، گوجرانوالہ)
جناب زاہد اشرف (جامعہ تعلیماتِ اسلامیہ، فیصل آباد)
مولانا عبد المالک (دارالعلوم منصورہ، لاہور)
مولانا عبد الغفار حسن (سابق رکن اسلامی نظریاتی کونسل، اسلام آباد)
مولانا محمد عبد اللہ (جامعہ فریدیہ، اسلام آباد)
مولانا مظفر حسین ندوی (مظفر آباد)
پروفیسر عبد اللطیف انصاری (مظفر آباد)
پیر سیف اللہ خالد (لاہور)
مولانا عبد الرحمٰن سلفی (جامعہ ستاریہ، کراچی)
مولانا محمد رفیق اثری (دارالحدیث محمدیہ، ملتان)
مولانا عبد الہادی (پشاور)
ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری (ڈائریکٹر جنرل ادارہ تحقیقاتِ اسلامی، اسلام آباد)
مولانا عبد الرؤف ملک (سیکرٹری جنرل متحدہ علماء کونسل پاکستان)
پروفیسر محمد یحییٰ (ناظم ہیئۃ تنسیق مدارس دینیہ پاکستان)
مولانا نعیم احمد (فیصل آباد)
جناب سردار شاہ (کیبنٹ ڈویژن، اسلام آباد)
حافظ محمد عمار خان ناصر (الشریعہ اکیڈمی، گوجرانوالہ)
جناب محمد شکری احمد الفیومی (مدرسہ اسلامیہ، دوبئی)
الشیخ محمد غسان ابو عمار (مندوب ہیئۃ الاغاثہ الاسلامیہ العالمیہ، اسلام آباد)
اور متعدد علماء کرام۔
ورکشاپ کو کامیاب بنانے میں جن کارکنان اور حضرات کا بھرپور تعاون حاصل رہا ان کے اسماء گرامی یہ ہیں:
جناب علی احمد مہر۔ جناب مصباح الرحمٰن یوسفی۔ جناب عبد الحئی ابڑو۔ جناب محمود مہدی۔ جناب ایاد عدنان۔ جناب شبیر حسین۔ مولانا خورشید احمد گنگوہی۔ جناب احمد حسن۔ عبد الستار۔ محمد احسن۔ محمد عبد اللہ الغنی۔ اور محمد عارف۔
مولانا مفتی ظفر علی نعمانی (امیر متحدہ علماء کونسل پاکستان) کی دعا پر یہ دو روزہ ورکشاپ اختتام کو پہنچی۔

قافلۂ معاد

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

شہیدِ راہِ وفا محمد صلاح الدینؒ

وہ دن بلاشبہ پاکستان کی صحافتی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے جب ہفت روزہ تکبیر کراچی کے مدیر اعلیٰ محمد صلاح الدینؒ سفاک قاتلوں کی دہشت گردی کا نشانہ بنتے ہوئے جام شہادت نوش کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ محمد صلاح الدینؒ بے لاگ تجزیہ نگار اور بے باک قلمکار ہی نہیں بلکہ معاشرہ میں شر کی قوتوں کو چیلنج کرنے اور ظلم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر للکارنے والے بے خوف راہنما بھی تھے۔ انہوں نے لفافے، بریف کیس اور کلاشنکوف کے اس دور میں صحافت اور سچائی کے رشتے کو قائم کیا اور اسلام و پاکستان کے پرچم کو سربلند رکھا اور بالآخر اسی راہِ وفا میں اپنی جان کا نذرانہ بھی پیش کر دیا۔

راقم الحروف محمد صلاح الدین شہیدؒ کا پرانا قاری اور ان کی حق گوئی کا معترف رہا ہے۔ مختلف مجالس میں ان سے ملاقات بھی ہوتی رہی ہے مگر اسی سال اگست میں ان کے ساتھ چند روز کی رفاقت کا موقع ملا تو یہ بات مشاہدہ کا حصہ بنی کہ قلم کا محمد صلاح الدینؒ اور عمل کا محمد صلاح الدینؒ دونوں ایک ہی شخصیت ہیں۔ وہ اگست ۱۹۹۴ء میں ورلڈ اسلامک فورم کی دعوت پر چند روز کے لیے لندن تشریف لے گئے، فورم کے سالانہ تعلیمی سیمینار میں ’’اسلامی نظام تعلیم و تربیت میں ذرائع ابلاغ کا کردار‘‘ کے موضوع پر پرمغز مقالہ پیش کیا جو الشریعہ کے گزشتہ شمارے میں شائع ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ نوٹنگھم اور لیسٹر میں فورم کے زیراہتمام مختلف اجتماعات سے خطاب کیا۔ جنوبی افریقہ سے پروفیسر ڈاکٹر سید سلمان ندوی اور اسلام آباد سے ڈاکٹر محمود احمد غازی کے علاوہ ورلڈ اسلامک فورم کی طرف سے مولانا محمد عیسیٰ منصوری، مولانا مفتی برکت اللہ اور راقم الحروف بھی ان نشستوں میں شریک رہے۔ کسے خبر تھی کہ یہ یادگار ملاقاتیں زندگی کی آخری ملاقاتیں ثابت ہوں گی۔

آج کے دور میں جبکہ معاشرہ کے ہر طبقہ میں بھرم قائم رکھنے کے لیے ریڈی میڈ میک اپ کا سامان ہر وقت جیب میں رکھنا ضروری سمجھا جا رہا ہے اور شخصی زندگی اور قومی زندگی کے درمیان تفاوت کی دیوار کلچر کا حصہ بنتی جا رہی ہے، ایک ہی چہرے کے ساتھ سب سے نباہ کرنے والا ’’محمد صلاح الدین‘‘ یقیناً پرانے دور کی شرافت، وضع داری اور سچائی کی علامت بن گیا تھا جو بے قید امنگوں کے ساتھ اکیسویں صدی کی طرف بڑھنے والے مادر پدر آزاد جذبوں کے لیے ناقابل برداشت ہوگئی تھی۔

محمد صلاح الدین نے اسلامی اقدار کی سربلندی اور ملکی سالمیت اور قومی خودمختاری کی جنگ میں بے دلیل دشمن کو گولی کا سہارا لینے پر مجبور کر دیا جو ان کی اخلاقی فتح ہے۔ اور اگر راہِ وفا کے راہرو ’’اخلاقی فتح‘‘ کا یہ پرچم تھامے حوصلہ اور جرأت کے ساتھ آگے بڑھتے رہے تو اسے عملی فتح کی منزل سے ہمکنار کرنا بھی کچھ زیادہ مشکل نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ شہید کے درجات بلند فرمائیں اور اہل قلم کو ان کی طرح قلم کی آبرو کا تحفظ کرنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا الٰہ العالمین۔

حضرت مولانا مفتی جمیل احمد تھانویؒ

برصغیر کے نامور فقیہ حضرت مولانا مفتی جمیل احمد تھانویؒ گزشتہ دنوں ۹۲ برس کی عمر میں انتقال فرما گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ حضرت مفتی صاحب مرحوم، حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے تربیت یافتہ اور ان کے عزیز تھے۔ افتاء میں انہیں بلند مقام حاصل تھا اور اہلِ علم مشکل امور میں ان سے رجوع کرتے تھے۔ قیامِ پاکستان کے بعد سے جامعہ اشرفیہ لاہور کے شعبہ افتاء کے سربراہ تھے اور اپنے وقت کے اہل اللہ میں سے تھے۔

حضرت مولانا عبد الرؤفؒ

مدرسہ مفتاح العلوم (گھاس مارکیٹ، حیدر آباد، سندھ) کے شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد الرؤف بھی گزشتہ دنوں طویل علالت کے بعد انتقال فرما گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ حضرت مرحوم حافظ الحدیث مولانا محمد عبد اللہ درخواستی رحمۃ اللہ علیہ کے تلامذہ میں سے تھے اور انتہائی نیک دل، متواضع اور خدا ترس بزرگ تھے۔ انہیں دیکھ کر پرانے دور کے اہلِ علم و فضل کی یاد تازہ ہو جاتی تھی۔

ڈاکٹر عنایت اللہ نسیم سوہدرویؒ

ملک کے معروف دانشور اور طبیب ڈاکٹر حکیم عنایت اللہ نسیم سوہدرویؒ بھی گزشتہ ماہ کے دوران انتقال فرما گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مرحوم امام الہندؒ مولانا ابو الکلام آزادؒ اور بابائے صحافت مولانا ظفر علی خانؒ کے خوشہ چینوں میں سے تھے اور خود بھی ممتاز اصحابِ قلم میں شمار ہوتے تھے۔ اسلام دوست اور محبِ وطن دانشور تھے اور باعمل اور باکردار شخصیت کے حامل تھے۔

اللہ تعالیٰ مرحومین کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں اور پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا الٰہ العالمین۔

جمعیت علماء اسلام کے دھڑوں کے درمیان اتحاد کی اپیل

حضرت مولانا سرفراز صفدر اور حضرت مولانا یوسف خان کا مکتوب

ادارہ

اس وقت ملک کے حالات جو رخ اختیار کر رہے ہیں اور دینی اقدار کے خلاف جو سازشیں بین الاقوامی اور ملکی سطح پر منظم انداز میں آگے بڑھ رہی ہیں، ان کے پیشِ نظر اسلام کی سربلندی، ملکی سالمیت اور قومی خودمختاری کیلئے علماء حق کی جدوجہد کے تسلسل کو باقی رکھنے کی غرض سے اکابر اہلِ حق کی روایات کی امین اور علماء حق کی نمائندہ جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کا اتحاد وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے، اور ملک بھر کے علماء کرام اور جماعتی کارکنوں کے دلوں کی آواز ہے۔
اس لیے ہم جمعیۃ علماء اسلام کے دونوں دھڑوں کے ذمہ دار حضرات سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ خدا کے لیے وقت کی سنگینی کا احساس کریں اور باہم مل بیٹھ کر جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے کیلئے عملی اقدامات کریں۔ ہم اس سلسلہ میں جماعتی اتحاد کیلئے اپنے تعاون کا یقین دلاتے ہیں، اور دونوں جمعیتوں کے ذمہ دار حضرات سے فوری اور مؤثر پیش رفت کی اپیل کرتے ہیں۔
جماعتی اتحاد میں جو رکاوٹیں ہیں، انہیں دور کرنے کیلئے دونوں جمعیتوں کے ذمہ دار حضرات مل بیٹھ کر کوئی راستہ نکالیں اور اس کارِ خیر میں تاخیر نہ فرمائیں۔
نیز اس موقع پر اس امر سے بھی خبردار کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ جمعیت کے متحد نہ ہونے کی صورت میں پاکستان میں دینی جدوجہد کو جو بھی نقصان ہو گا، اس کی ذمہ داری دونوں جمعیتوں کے ذمہ دار حضرات پر ہو گی، اور وہ عند اللہ اور عند الناس اس ذمہ داری سے سرخرو نہیں ہو سکیں گے۔
ہمیں امید ہے کہ ذمہ دار اور متعلقہ حضرات اس کے مثبت جواب سے جلد نوازیں گے۔
اس سلسلہ میں دونوں جمعیتوں کے ذمہ دار حضرات سے رابطہ کیلئے ہماری طرف سے وفد تشکیل دیا جا رہا ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں اتحاد و اتفاق اور اپنی مرضیات پر چلنے کی توفیق عطا فرمائیں۔

دستخط شیخ الحدیث مولانا محمد یوسف خان
امیر آل جموں و کشمیر جمعیۃ علماء اسلام

دستخط شیخ الحدیث حضرت مولانا سرفراز خان صفدر
شیخ الحدیث نصرۃ العلوم گوجرانوالہ، پاکستان