اسلام، دہشت گردی اور مغربی لابیاں
سابق روسی صدر میخائل گورباچوف کا حقیقت پسندانہ تجزیہ
ادارہ
سابق سوویت یونین کے آخری صدر گورباچوف نے یورپ اور یورپ کے ذرائع ابلاغ کو اسلام اور مغرب کے درمیان ٹکراؤ کی فضا پیدا کرنے سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت دنیا کے امن و سلامتی کے لیے اسلام اور مسلمانوں کو خطرہ بتانے کی جو مہم چلی ہوئی ہے دراصل اس کے پیچھے ان شرپسند عناصر کا ہاتھ ہے جو یورپ کے ذرائع ابلاغ اور پالیسی ساز اداروں پر قابض ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ میڈیا اور بعض مغربی سیاستدانوں کے لیے اپنے افکار و نظریات اور عزائم کی تکمیل کے لیے عوام کی تائید حاصل کرنے کی غرض سے کسی خارجی دشمن کا ہوّا کھڑا کرنا ایک محبوب مشغلہ اور پسندیدہ عمل بنا ہوا ہے۔ انہوں نے اس سیاست کو تمام مذاہب و ادیان کے ماننے والوں کے درمیان باہمی میل جول اور آپسی تعلق و تعاون کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اسلام کو دشمن بنا کر پیش کرنے کی سیاست سے دنیا دو دینی اور مذہبی متحارب کیمپوں میں بٹ جائے گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا مشرق و مغرب کے درمیان سرد جنگ کے خاتمہ کے بعد ایک بار پھر ایسی جنگ میں داخل ہو گی جس میں ایک طرف اسلام ہو گا اور دوسری طرف یورپ۔
گورباچوف نے، جو اپنے عرب امارات کے دورہ کے موقع پر کثیر الاشاعت انٹرنیشنل ہفت روزہ ’’المسلمون‘‘ سے گفتگو کر رہے تھے، کہا کہ انسانی تہذیب و تمدن کے لیے اسلام اور مسلمان کبھی بھی خطرہ نہیں رہے ہیں، بلکہ انسانی تمدن اور انسانی علوم و فنون کی حفاظت و ترقی میں انہوں نے نہایت اہم رول ادا کیا ہے۔ یورپ کو یہ احسان کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ مسلمانوں نے اپنے دورِ عروج میں علم و تہذیب کو روشنی دی ہے۔
سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے گورباچوف نے کہا، یہ کہنا کہ اسلام دہشت گردی کی ہمت افزائی کرتا ہے اور دہشت گرد جماعتیں اس دینی شدت پسندی کا شاخسانہ ہیں جو مسلم معاشروں میں فروغ پا رہی ہے، ایسا کہنا حقیقت اور انصاف کے سراسر خلاف ہے۔ انہوں نے کہا، اسلام صلح و آشتی کا دین ہے، اس کی تعلیمات قوموں اور افراد کے مابین یگانگت و بھائی چارگی پر زور دیتی ہیں۔ انسانیت کی تاریخ میں وہ دن بہت مبارک تھے جب اسلام کی قدریں غالب تھیں۔ اس کے نتیجہ میں خوشحالی، امن و سلامتی، تہذیب و تمدن اور علم و فن کے قافلوں نے صدیوں کی مسافت طے کی ہے۔
گورباچوف نے ان کوششوں کی مذمت کی جو اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کی غرض سے بعض مغربی لیڈروں، جن کو میڈیا کا پورا تعاون حاصل ہے، کی طرف سے ہو رہی ہیں۔ انہوں نے اسے ایک خطرناک سیاست قرار دیتے ہوئے کہا، اس سے عظیم فتنہ جنم لے گا اور انسانی تاریخ پیچھے چلی جائے گی۔ انہوں نے سوال کیا کہ مسلمانوں کو کس منہ سے دہشت گرد کہا جا رہا ہے؟ جبکہ خود یورپ اور مسیحی دنیا کے بہت سے ممالک میں دہشت گردی ایک مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا، روز نئی دہشت گرد تنظیموں کا انکشاف ہوتا ہے جن کا تعلق مختلف مذاہب اور مختلف ممالک سے ہوتا ہے، لیکن کیا ان کی وجہ سے ان قوموں کو بھی دہشت گرد قرار دیا جائے گا جن سے ان کا تعلق ہے؟
(بشکریہ تعمیرِ حیات لکھنؤ)
رمضان المبارک، ارشاداتِ رسول ﷺ کی روشنی میں
ادارہ
- حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین کو بیڑیاں پہنا دی جاتی ہیں‘‘۔ (متفق علیہ)
- حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحابؓ کو خوشخبری دیتے ہوئے فرمایا: ’’تمہارے پاس رمضان کا یہ مبارک مہینہ آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس میں تم پر روزے فرض کیے ہیں۔ اس میں جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین کو بیڑیاں ڈال دی جاتی ہیں۔ اس میں ایک رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے، جو شخص اس رات کے خیر سے محروم رہا، اس کو ملا ہی کیا؟‘‘ (مسند احمد، نسائی، بیہقی)
- حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب رمضان کی پہلی رات شروع ہوتی ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، پھر ان میں سے کوئی دروازہ پورے مہینے بند نہیں کیا جاتا۔ اور دوزخ کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، پھر ان میں سے کوئی دروازہ پورے مہینے کھولا نہیں جاتا۔ اور سرکش جنات کو بیڑیاں ڈال دی جاتی ہیں۔ اور آسمان سے ایک پکارنے والا رات کو طلوعِ فجر تک پکارتا رہتا ہے کہ اے خیر کے طلبگار! آگے بڑھ۔ اور اے شر کے چاہنے والے! پیچھے ہٹ جا اور سنبھل جا۔ ہے کوئی معافی مانگنے والا کہ اسے معاف کیا جائے؟ ہے کوئی توبہ کرنے والا کہ اللہ اس کی توبہ قبول کرے؟ ہے کوئی دعا کرنے والا کہ اس کی دعا قبول کی جائے؟ ہے کوئی مانگنے والا کہ اسے عطا کیا جائے؟ اور اللہ تعالیٰ رمضان میں ہر شام افطاری کے وقت ساٹھ ہزار انسانوں کو آگ سے آزاد کرتے ہیں، پھر جب یوم الفطر (عید کا دن) آ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ (اس ایک دن میں) اتنے انسانوں کو آزاد کرتا ہے جتنے اس نے سارے مہینے میں آزاد کیے، ساٹھ ہزار انسان تیس مرتبہ۔‘‘ (بیہقی)
- حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تین اشخاص ایسے ہیں کہ جن کی دعا رد نہیں کی جاتی۔ ان میں سے ایک روزہ دار ہے جب تک کہ وہ روزہ افطار نہ کر لے۔‘‘ (مسند احمد، ترمذی، ابن حبان)
- حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہر عمل کا بدلہ ایک مقرر حد تک ہے، سوائے روزے کے، کیونکہ روزہ صرف اللہ کے لیے ہے اور وہی اس کا (بے حساب) اجر عنایت کرے گا۔‘‘ (بخاری، مسند احمد)
- حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص بحالتِ ایمان ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے، اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ اور جو شخص بحالتِ ایمان ثواب کی نیت سے لیلۃ القدر کا قیام کرے، اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔‘‘ (متفق علیہ)
- حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’قیامت کے دن روزہ اور قرآن آدمی کے لیے سفارش کریں گے۔ روزہ کہے گا اے رب! میں نے اسے کھانے پینے اور دیگر خواہشات سے دن بھر روکے رکھا، پس تو اس کے بارے میں میری سفارش قبول فرما۔ اور قرآن کہے گا اے اللہ! میں نے اسے رات کو سونے سے روکے رکھا، پس تو اس کے بارے میں میری سفارش قبول فرما۔ چنانچہ ان دونوں کی سفارش اس بندے کے حق میں قبول کی جائے گی۔‘‘ (مسند احمد، مستدرک حاکم، معجم طبرانی کبیر)
- حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’انسان کے ہر (اچھے) عمل کا بدلہ کئی گنا زیادہ دیا جاتا ہے۔ ایک نیکی کا بدلہ دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک یا اس سے بھی زیادہ جتنا اللہ چاہے دیا جاتا ہے۔ مگر (اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ) روزہ صرف میرے لیے ہے اور میں بذاتِ خود اس کا (بے حساب) اجر عطا کروں گا، کیونکہ اس بندے نے میرے لیے اپنا کھانا پینا اور خواہشات ترک کی رکھیں۔ اور روزے دار کے لیے دو خوشیاں مقدر ہیں: ایک تو جب وہ روزہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے۔ اور دوسری جب وہ (قیامت میں) اپنے رب سے ملاقات کرے گا تو (روزے کا اجر و ثواب پا کر) نہال ہو جائے گا۔ اور روزے دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کو کستوری کی خوشبو سے زیادہ پسند ہے۔ روزہ (جہنم سے بچاؤ کے لیے) ڈھال ہے، روزہ (جہنم سے بچاؤ کے لیے) ڈھال ہے۔‘‘ (متفق علیہ)
- حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تین آدمی ایسے ہیں کہ ان کے کھانے کا حساب نہیں ہو گا جب کہ وہ حلال ہو، ان میں سے ایک روزہ دار ہے۔‘‘ (بزار، طبرانی)
- حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تم میں کسی نے روزہ رکھا ہو تو نہ زبان سے کوئی بری بات کہے، نہ کوئی برا کام ہی کرے، اور اگر کوئی اس کے ساتھ گالی گلوچ یا لڑائی کی کوشش کرے تو وہ (اپنے نفس کو) یہ کہہ کر (جواب دینے سے روک دے کہ) میں روزے سے ہوں۔‘‘ (متفق علیہ)
- حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس نے جھوٹے قول و عمل اور گناہ کو نہ چھوڑا، اللہ تعالیٰ کو اس کے کھانا پینا بند کرنے سے کوئی غرض نہیں ہے‘‘ (بخاری، ابوداؤد، ترمذی، ابن ماجہ، مسند احمد)
- حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بہت سے (بے عمل) روزے دار ایسے ہیں کہ ان کو روزے سے سوائے بھوک اور پیاس کے کچھ حاصل نہیں ہوتا، اور بہت سے رات کو قیام کرنے والے (بے عمل) ایسے ہیں کہ ان کو رات کے قیام سے سوائے جاگنے کے اور کچھ حاصل نہیں ہوتا۔‘‘ (مسند احمد، ابن ماجہ)
- حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’روزہ ڈھال ہے، جب تک کہ اس کو توڑا نہ جائے۔ پوچھا گیا کہ روزے کو توڑنا کیسے ہوتا ہے؟ فرمایا، جھوٹ یا غیبت کے ساتھ۔‘‘ (نسائی، طبرانی فی الاوسط، ابن خزیمہ)
- آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس نے رمضان کا ایک روزہ کسی عذر کے بغیر چھوڑا تو وہ عمر بھر روزے رکھ کر بھی اس کا کفارہ ادا نہیں کر سکتا۔‘‘ (مسند احمد، ابو داؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ)
رمضان المبارک کی حکمتیں اور فضائل
حکیم عبد الرشید شاہد
جس طرح بعض موسموں کو بعض چیزوں سے مناسبت ہوتی ہے، جب وہ موسم آتا ہے تو ان چیزوں میں فراوانی نظر آتی ہے، اسی طرح رمضان کا مہینہ اللہ تعالیٰ کی جود و سخا کا مہینہ ہے۔ اس مہینہ میں اس کی جود و سخا بارش کی طرح برستی ہے۔ اس ماہِ مبارک میں انوار و تجلیات سایہ فگن ہوتی ہیں، رحمتوں اور برکتوں کی بارش ہوتی ہے، گناہ گاروں کے لیے اس میں سامانِ مغفرت ہے اور اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے نارِ جہنم کے مستحق بننے والوں کو آزادی کا پروانہ دیا جاتا ہے۔ اس ماہ میں ایمان و عمل کی بہار آتی ہے۔ گناہوں کی سیاہی سے زنگ آلود دلوں کی صفائی کا سامان کیا جاتا ہے۔ جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ ’’اے خیر کے طلب گار! آگے بڑھ، اے شر کے چاہنے والے! پیچھے ہٹ جا‘‘ کی صدائیں بلند ہوتی ہیں۔ سرکش شیاطین قید کر دیے جاتے ہیں۔ اس میں دن کو روزہ فرض کیا گیا تاکہ نفسِ امارہ کو اس کی خواہشات اور مرغوبات سے دور رکھ کر زیورِ تقویٰ سے آراستہ کیا جائے۔ اور رات کو قرآن کی تلاوت سے دلوں کو جِلا دینے کا حکم دیا گیا ہے۔
اس ماہِ مقدس میں اللہ تعالیٰ کی رحمت کس قدر بے پایاں ہوتی ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ اس ماہ میں نفل کا ثواب فرض کے برابر، اور ایک فرض کا ستر فرضوں کے برابر ملتا ہے۔ اس مہینہ کو ہمدردی اور خیر خواہی کا مہینہ قرار دیا گیا ہے کہ جب ایک شخص پورا دن بھوکا پیاسا رہتا ہے تو اسے ان فقراء اور مساکین کی حالت کا احساس ہوتا ہے جو نان شبینہ کے محتاج ہوتے ہیں اور کئی کئی دن فاقے میں گزارتے ہیں۔ ان کے لیے قدرتی طور پر اس کے دل میں ہمدردی پیدا ہو جاتی ہے۔
اس مہینہ کے پہلے حصہ کو رحمت، دوسرے کو مغفرت، اور آخری حصہ کو جہنم سے آزادی کا ذریعہ کہا گیا ہے۔ اس لیے ان تینوں حصوں میں اطاعت و عبادت سے اللہ کی رحمت و مغفرت اور جہنم سے آزادی کا پروانہ حاصل کرنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔ اور اس وعید سے بچنا چاہیے جس میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بد دعا کی اور حضرت جبریل علیہ السلام نے اس پر آمین کہی کہ ’’ہلاک ہو وہ شخص جو رمضان کا مہینہ پائے اور اپنی مغفرت نہ کرائے۔‘‘
اس ماہِ مبارک میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی ہدایت و رہنمائی اور تزکیہ و اصلاح کے لیے قرآن کریم کی صورت میں ایک نسخہ کیمیا امتِ محمدیہ علیٰ صاحبہا السلام والتحیہ کو عطا کیا۔ تاکہ اس کی رہنمائی میں یہ امت صراطِ مستقیم پر گامزن ہو اور اپنے اس مقصدِ زندگی کے حصول میں کامیاب وہ کامران ہو۔ قرآن کریم نے انسان کو اس کا بھولا ہوا سبق یاد دلایا، چنانچہ اس نعمتِ عظمیٰ کی شکرگزاری کے لیے اس ماہ میں روزہ، تراویح اور اعتکاف کی اہم عبادتیں رکھی گئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ روزے کا مقصد بھی واضح کر دیا گیا کہ بھوکا پیاسا رکھنا یا خواہشاتِ نفسانی سے روکنا مقصود نہیں، بلکہ اس کے ذریعے تقویٰ کے ساتھ متصف کرنا مقصود ہے۔
روزہ پورے سال کے ایک مہینے میں فرض کیا گیا ہے تاکہ معدہ اور مادہ کی شقاوت اور سختی دور ہو۔ کچھ دن مادیت پرستی میں تخفیف ہو اور نفسِ انسانی میں روحانیت اور ایمان کی اتنی مقدار شامل ہو جائے جس سے اس کی زندگی اعتدال پر آجائے۔ وہ نفسِ امارہ کا مقابلہ کر سکے اور رزق کی فراوانی کے باوجود بھوکا پیاسا رہ کر وہ لذت و نشان حاصل کر سکے جو انواع و اقسام کے لذیذ کھانوں سے حاصل نہیں ہو سکتی۔ اسی چیز کو قرآن کریم ’’تقویٰ‘‘ سے تعبیر کرتا ہے۔ ارشاد خداوندی ہے:
’’اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسے کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے، تاکہ تم متقی اور پرہیزگار بن جاؤ‘‘ (البقرہ)
علامہ ابن قیمؒ فرماتے ہیں‘
’’روزے سے مقصود یہ ہے کہ انسانی خواہشات اور عادات کے شکنجہ سے نفس آزاد ہو، اس کی شہوانی قوتوں میں اعتدال اور توازن پیدا ہو، اور وہ اس کے ذریعے سے سعادتِ ابدی کے گوہرِ مقصود تک رسائی حاصل کر سکے۔ بھوک اور پیاس سے اس کی ہوس کی تیزی اور شہوت کی حدت میں تخفیف پیدا ہو، اور یہ بات یاد آئے کہ کتنے مسکین ہیں وہ لوگ جو نان شبینہ کے محتاج ہوتے ہیں۔ وہ شیطان کے راستوں کو تنگ کر دے اور اعضا و جوارح کو ان چیزوں کی طرف مائل ہونے سے روک دے جن میں دنیا و آخرت دونوں کا نقصان ہو۔‘‘
دوسری جگہ لکھتے ہیں:
’’چونکہ دل کی اصلاح اور استقامت اللہ کی طرف چلنے اور جمعیتِ خاطر پر منحصر ہے، اور مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع پر اس کا مدار ہے۔ اس لیے پراگندہ خاطری اس کے حق میں سخت مضر ہے۔ کھانے پینے کی زیادہ مقدار، لوگوں سے میل جول، ضرورت سے زیادہ گفتگو، یہ تمام چیزیں جن سے دل منتشر ہوتا ہے اور جمعیتِ باطنی پر اثر پڑتا ہے، اور انسان اللہ تعالیٰ سے علیحدہ اور جدا ہو کر مختلف راستوں میں بھٹکنے لگتا ہے، ان باتوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی رحمت کا تقاضا تھا کہ اپنے بندوں پر روزہ فرض کرے اور اس کے ذریعے سے کھانوں کی زائد مقدار اور خواہشات کی زیادتی کا ازالہ ہو سکے۔ جس کی وجہ سے وصول الی اللہ سے محرومی ہو جاتی ہے، اور اس طرح وہ دنیا اور آخرت دونوں جگہ فائدہ اٹھا سکے۔‘‘ (زاد المعاد)
شاہ ولی اللہؒ اور اسلامی حدود
ڈاکٹر محمد امین
حضرت شاہ ولی اللہ الدہولی برصغیر کی اسلامی تاریخ ہی کے نہیں پورے عالم اسلام کے وہ مایہ ناز دانشور ہیں جنہوں نے اسلامی احکام کے اسرار و رموز اور حکمتوں کی بھرپور وضاحت کی ہے۔ ان کی تصنیف لطیف حجۃ اللہ البالغہ اپنی نوعیت کی ایک بے نظیر چیز ہے اور اپنے موضوع پر سند کا درجہ رکھتی ہے۔ اسلامی حدود کی حکمتوں کو بھی شاہ صاحب نے اپنی اس کتاب میں خوب نمایاں کیا ہے اور معاشرے پر ان کے پاکیزہ اور مفید اثرات کی تعریف کی ہے۔ بدقسمتی سے شاہ صاحب کی ایک عبارت کو سمجھنے میں علامہ شبلی سے معمولی تساہل ہوا، اور پھر جو شبلی نے نہیں کہا تھا وہ بھی بعض لوگوں نے ان کے سر منڈھ دیا، بلکہ اسے ہی علامہ اقبال کا موقف بھی قرار دے ڈالا، کیونکہ اقبال نے اپنے چھٹے خطبے میں شاہ ولی اللہ صاحب کی اسی عبارت سے استشہاد کیا تھا۔ لہٰذا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ شاہ صاحب کی مذکورہ عبارت کا دقتِ نظر سے جائزہ لیا جائے اور شبلی و اقبال کی آراء کی بھی تنقیح کی جائے تاکہ حقیقتِ حال واضح ہو سکے۔
شاہ ولی اللہؒ نے حجۃ اللہ البالغۃ کے سترہویں باب میں اس امر پر بحث کی ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت انسانیت ذہنی، روحانی اور تمدنی ارتقاء کے حوالے سے اس سطح تک پہنچ چکی تھی کہ اب ایک ایسی شریعت نازل کر دی جاتی جو سابقہ شریعتوں کی ناسخ ہوتی، اور اب یہی شریعت قیامت تک کے لیے نافذ العمل رہتی۔ چنانچہ وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جو شریعت نازل ہوئی وہ اپنے اندر یہ صلاحیت رکھتی تھی کہ وہ تاقیامت انسانوں کے مسائل حل کر سکتی۔ شریعتِ اسلامی میں یہ خوبی کیسے پیدا ہوتی ہے اور اس میں ناقابلِ تغیر اور قابلِ تغیر احکام کس حکمت کے ساتھ سموئے گئے ہیں اس پر بحث کرتے ہوئے شاہ صاحب لکھتے ہیں:
’’وھذا الامام الذی یجمع الامم علی ملۃ واحدۃ یحتاج الی اصول اخری غیر الاصول المذکورہ فیما سبق۔ منھا ان یدعو قوما الی السنۃ الراشدہ، ویزکیہم، ویصلح شانہم، ثم یتخذھم بمنزلۃ جوارحہ، فیجاحد اہل الارض، ویفرقہم فی الافاق، وھو قولہ تعالی کنتم خیر امت اخرجت للناس ۔۔۔۔۔ وذٰلک لان ھذا الامام نفسہ لا یتانی منہ مجاھدہ امم غیر محصورۃ، واذا کان کذلک وجب ان تکون مادۃ شریعتہ ما ھو بمنزلۃ المذھب الطبیعی لاھل الاقالیم الصالحۃ عربہم و عجمھم ثم ما عند قومہ من العلم والارتفاتات، ویراعی فیہ حالہم اکثر من غیرھم، ثم یحمل الناس جمیعا علی اتباع تلک الشریعۃ لانہ لاسبیل الی ان یفوض الامر الی کل قوم او الی ائمۃ کل عصر، اذ لا یحصل منہ فائدۃ التشریع اصلا، ولا الی ان ینظر ما عند کل قوم، ویمارس کلا منہم، فیجعل لکل شریعۃ، اذ الاحاطۃ بعاداتہم و ما عندھم علی اختلاف بلدانہم و تباین ادیانہم کالممتنع، وقد عجز جمہور الرواۃ عن روایۃ شریعۃ واحدۃ، فما ظنک بشرائع مختلفۃ، والاکثر انہ لا یکون انقیاد الاخرین الا بعد عدد و مدد لا یطول عمر النبی الیہا، کما وقع فی الشرائع الموجودہ الان فان الیہود والنصاری والمسلمین ما آمن من اوائلم الا جمع، ثم اصبحوا ظاھرین بعد ذلک فلا احسن ولا ایسر من ان یعتبر فی الشعائر والحدود والارتفاتات عادۃ قومہ المبعوث فیہم ولا یضیق کل التضییق علی الاخرین الذین یاتون بعد، ویبقی علیہم فی الجملۃ ۔۔۔ (۱)
’’اس رہنما (پیغمبر) کو، جو مختلف قوموں کو ایک ملت کی صورت میں جمع کرتا ہے، ایسے اصولوں کی ضرورت ہوتی ہے جو اول الذکر اصولوں سے مختلف ہوں (یعنی اس پیغمبر کے اصولوں سے جو کسی ایک قوم کی طرف مبعوث ہوا ہو)۔ جن میں سے ایک یہ ہے کہ وہ (پہلے) ایک قوم کو مخاطب کرتا اور اس کی تربیت و اصلاح کرتا ہے، اور پھر اس کے ذریعے سے دوسری قوموں کی اصلاح کی جدوجہد کرتا ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں کہا گیا ہے (کنتم خیر امت اخرجت للناس ۔۔۔ (اے مسلمانو!) تم وہ بہترین امت ہو جسے دوسرے لوگوں کی طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تم انہیں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا حکم دو اور ۔۔۔۔)۔ اس لیے (بھی) کہ یہ ایک فرد کے لیے ممکن نہیں ہے کہ وہ سارے عالم کی ذاتی طور پر اصلاح کرے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ اس پیغمبر کی شریعت ایسی ہو اور ایسے فطری مذہبی اصولوں پر مبنی ہو جو عرب و عجم سب کے لیے موزوں ہو، اور اس میں اس کی اولین مخاطب قوم کے علوم اور اعراف کو بھی ملحوظ رکھا گیا ہو۔ پھر سب لوگوں کو اسی ایک شریعت کی پیروی کا حکم دیا جائے۔ کیونکہ یہ تو ہو نہیں سکتا کہ ہر عہد کے لوگوں کو یہ چھوٹ دے دی جائے کہ وہ اپنے قوانین (شریعت) خود بنا لیں کہ اس سے تو شریعتِ الٰہی کا مقصد ہی فوت ہو جائے گا۔ اور نہ یہ ممکن ہے کہ ایسی شریعت میں ہر ایک قوم کے رسم و رواج کا لحاظ رکھا جائے اور (گویا) ہر قوم کے لیے الگ شریعت بنا دی جائے، کیونکہ ہر قوم دوسری سے الگ علاقائی اور مذہبی پس منظر رکھتی ہے۔ (اور ہر قوم کے لیے الگ شریعت مقرر کرنے والی بات اس لیے بھی ممکن نہیں ہے) کہ ایک شریعت کی روایت (بعد والی نسلوں تک اس کا صحیح طور پر پہنچانا) ہی مشکل ہے۔ چہ جائیکہ (ایک دین کے اندر) کئی شریعتوں کا روایت کیے جانا (جس سے معاملات خلط ملط ہو کر رہ جائیں گے) کیونکہ دوسری قومیں عام طور پر پیغمبر کی اپنی زندگی میں اس کی اطاعت قبول نہیں کرتیں۔ جیسا کہ موجودہ شریعتوں کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ یہودیوں، عیسائیوں اور مسلمانوں میں سے بھی (پیغمبر کی زندگی میں) کم ہی ایمان لائے اور (دوسری قوموں پر) غلبہ انہیں بعد میں حاصل ہوا۔ (ان حالات میں) بہترین اور آسان طریقہ یہی ہے کہ وہ (پیغمبر) شعائر (دینی)، حدود (اللہ) اور اجتہادی اداروں کی تشکیل میں (فطری مذہبی اصولوں کے علاوہ) اس قوم کی عادات کا ہی خیال رکھے جس میں وہ مبعوث ہوا ہے۔ اور بعد میں آنے والوں پر ان معاملات (یعنی جو اس خاص قوم کی عادات پر مبنی ہیں اور یونیورسل نوعیت کے نہیں) پر عمل میں سختی نہ کی جائے، اگرچہ بحیثیت مجموعی وہ ان پر لاگو ہی ہوں گے۔‘‘
اگرچہ قوسین میں دیے گئے الفاظ سے ترجمہ کافی واضح ہو گیا ہے لیکن شاہ صاحب کے مدعا کو مزید واضح کرنے کے لیے عرض ہے کہ ایک پیغمبر جو صرف ایک مخصوص قوم کی طرف نازل ہوتا ہے، اس کی شریعت میں اسی قوم کے احوال و اعراف کا خیال رکھا جاتا ہے۔ لیکن ایک ایسا پیغمبر جس کی شریعت کو قیامت تک کے لیے مختلف زمان و مکان میں رہنے والے لوگوں کے لیے نافذ العمل رہنا ہو، یہ نہیں ہو سکتا کہ اس کی شریعت میں صرف اولین مخاطب قوم کے احوال و اعراف کا خیال رکھا جائے، کیونکہ اگر ایسا ہو تو ایسی شریعت بعد میں آنے والے لوگوں کے لیے قابلِ عمل نہ رہے گی جو اس سے مختلف احوال و اعراف رکھتے ہوں۔ اس کا حل شارع یہ اختیار فرماتا ہے کہ اس پیغمبر کی شریعت کی بنیاد ان اصول و اقدار پر رکھی جاتی ہے جو انسان کی سعید فطرت اور طبعی انصاف پر مبنی ہوتی ہیں۔ جو نہ صرف پیغمبر کی اولین مخاطب قوم کی اقدار و اعراف پر مبنی ہوتی ہیں بلکہ ماضی میں بھی بحیثیت مجموعی (یعنی ضروری تفاصیل سے قطع نظر) ان پر عمل رہا ہوتا ہے، اور آنے والے وقتوں اور معاشروں کے لیے بھی وہ صالح ہوتی ہیں۔ اور یہی وہ اصول و اقدار ہیں جو شریعت کا بنیادی ڈھانچہ بناتی ہیں اور انہی پر شریعت کے اکثر احکام (عبادات و معاملات وغیرہ) مبنی ہوتے ہیں۔
رہے وہ معاملات جن میں زمان و مکان کی تبدیلی سے تغیر واقع ہو سکتا ہے تو یہاں شارع یہ حکیمانہ طریقہ اختیار فرماتا ہے کہ وہ ایسے امور میں محض پالیسی کے اصول بیان فرما دیتا ہے، اور تفصیلات ہر زمانے اور علاقے کے مسلمان اہلِ علم اور اہلِ حل و عقد پر چھوڑ دیتا ہے کہ وہ شریعت کے اصولوں کی روشنی میں ان تفصیلات کو طے کر لیں۔ تاہم ان دو بڑے دائروں سے بچ کر کچھ احکام ایسے بھی ہو سکتے ہیں جن میں پیغمبر کی اولین مخاطب امت اور اس کے خصوصی و مقامی احوال و ظروف کا ہی خیال رکھا گیا ہو۔ اور یہ ایسے احوال و اعراف ہوں جو آفاقی نوعیت کے نہ ہوں۔ ظاہر ہے کہ بعد میں آنے والی امتوں پر یہ احکام بعینہ نافذ نہ ہوں گے۔ اصولی طور پر تو یہ ان پر بھی لاگو ہوں گے لیکن ان کا جو جزء مقامی عرف پر مبنی ہو گا بعد میں آنے والوں کے لیے اس پر عمل ضروری نہ ہو گا کہ اس میں ان کے لیے تنگی ہے۔ جب کہ شریعت آسانی کی داعی ہے اور اس کی ضامن بھی۔ مزید وضاحت کے لیے تشریع کے ان تینوں دائروں کی ایک ایک مثال ملاحظہ ہو:
(۱) ان امور کی حفاظت کے لیے، جن کے بغیر کوئی معاشرہ قائم نہیں رہ سکتا اور نہ فرد اطمینان اور خوشی کی زندگی بسر کر سکتا ہے، شارع نے سخت سزائیں اپنی طرف سے مقرر کر دیں۔ جیسے جان کی حفاظت (قصاص)، مال کی حفاظت (قطع ید)، نسل و آبرو کی حفاظت (کوڑے اور رجم)، دین کی حفاظت (حدِ ارتداد)، اور عقل کی حفاظت (حدِ شرب خمر) وغیرہ۔ اب یہ ایسے امور ہیں جن کی حفاظت و حرمت کے بارے میں دو رائیں نہیں ہو سکتیں۔ ہر صاحبِ عقل یہ دیکھ سکتا ہے کہ اگر ان پانچ مقاصد کی حفاظت نہ کی جائے تو کوئی معاشرہ بھی قائم نہیں رہ سکتا۔ اس لیے ان مقاصد کی حفاظت کے لیے ہر زمانے میں اور ہر قوم میں سخت قوانین بنائے گئے۔
قرآن بتاتا ہے کہ ان مقاصد کے خلاف جرائم کی سزائیں پہلی قوموں میں بھی نافذ تھیں اور آج بھی ہم دیکھتے ہیں کہ ہر معاشرے نے ان امور کی حفاظت کے لیے سخت قوانین بنا رکھے ہیں۔ لہٰذا ان مقاصد کی حفاظت کے لیے شارع نے سزائیں خود مقرر فرما دیں۔ اور جب تک انسانی معاشرہ باقی ہے، یہ مقاصد بھی باقی رہیں گے، لہٰذا یہ سزائیں بھی باقی رہیں گی، اور شریعت نے ان سزاؤں میں جن مقداروں کا تعین کیا ہے وہ بھی ہمیشہ کے لیے باقی رہیں گی۔ یہ سزائیں ماضی میں بھی نافذ رہی ہیں، آج بھی نافذ ہونی چاہئیں، اور مستقبل میں بھی۔ کیونکہ ان کا تعلق ایسی اقدار اور ایسے مقاصد سے ہے جو عارضی نوعیت کے نہیں اور نہ ان کا تعلق کسی خاص معاشرے یا زمانے سے ہے۔
(۲) دوسرے دائرے کی مثال سیاسی نظام کی ہے۔ شارع نے اپنی سیاسی تعلیمات میں پالیسی کے بنیادی اصول تو بیان کر دیے لیکن اپنی رحمت و مہربانی سے تفصیلات کا تعین نہیں کیا، تاکہ بدلتے ہوئے زمان و مکان میں لوگ اپنی ضرورت کے مطابق تفصیلات کا تعین خود کر لیں۔ مثلاً شارع نے مسلمانوں کو سیاسی معاملات میں مشاورت کا حکم دیا لیکن مشاورت کی کوئی خاص شکل معین نہیں کی۔ فرض کیجئے کہ عہد رسالت مآبؐ میں کوئی خاص شکل معین کر دی جاتی تو یقیناً آج اس پر عمل ناممکن ہوتا۔ اس لیے لوگوں کو تنگی سے بچانے کے لیے شارع نے ایسے امور امت (کے اہلِ علم اور اہلِ حل و عقد) پر چھوڑ دیے کہ منصوص بنیادی اصولوں کی روشنی میں اپنے حالات و ضروریات کے مطابق تفصیلات کا تعین وہ خود کر لیں۔
(۳) تیسرے دائرے کی مثال دیت میں عاقلہ کا تصور ہے۔ عربوں میں دیت کا رواج تھا۔ اسلامی شریعت نے اسے باقی رکھا کیونکہ یہ انسانی فطرت اور طبعی انصاف کے اصولوں کے عین مطابق ہے کہ اگر کسی شخص سے بغیر ارادے کے انسانی جان کا ضیاع ہو جائے تو وہ متاثرہ خاندان کو مالی تاوان ادا کرے۔ لیکن دیت کے لیے عاقلہ کا تصور یہ ہے کہ اگر ملزم خود مالی تاوان ادا نہ کر سکے تو عاقلہ اس کی مدد کرے۔ عاقلہ وہ لوگ ہیں جن کے ساتھ ملزم اپنے معاشرتی اور معاشی مفاد میں بندھا ہوا ہے۔ عہدِ رسالت مآبؐ کے معاشرتی نظام میں عاقلہ قبائلی نظام تھا۔ آج کے پاکستانی معاشرے میں قبائلی نظام باقی نہیں رہا لہٰذا آج یہ ممکن نہیں ہے کہ ہمارے ہاں پائی جانے والی برادریاں اور خاندان ملزم کی جگہ دیت ادا کریں۔ ہمارے ہاں عاقلہ ڈرائیوروں کی یونین ہو سکتی ہے یا کوئی انشورنس کمپنی ہو سکتی ہے، اور کل کلاں کوئی دوسرا ادارہ ہو سکتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ عاقلہ کا حکم من حیث الجملہ باقی رہے گا، لیکن عاقلہ کون ہے؟ اس کا حکم زمان و مکان کے بدلنے سے بدل جائے گا۔
اس وضاحت کے بعد اب شاہ ولی اللہ صاحب کا موقف سمجھنے میں کوئی دقت باقی نہیں رہتی۔ جب وہ یہ کہتے ہیں کہ دینی شعائر، اسلامی حدود (حدود سے مراد یہاں حدود و تعزیرات والی اصطلاحی و شرعی حدود مراد نہیں، یعنی مقاصد حصولِ خمسہ کے لیے شارع کی طرف سے معین کردہ سزائیں قطع ید و رجم وغیرہ۔ بلکہ اس سے مراد وہ حدیں ہیں جو شریعت نے ہر معاملے میں قائم کی ہیں، یعنی یہ چیز جائز ہے وہ ناجائز ہے، یہ غلط ہے اور وہ صحیح ہے۔ مثلاً وضو کس وقت ٹوٹ جاتا ہے، روزہ کس وقت افطار کرنا چاہیے، حج کس چیز سے فاسد ہوتا ہے، حلال کمائی کب حرام ہوتی ہے وغیرہ۔ گویا یہاں حدود سے مراد وہ حدیں ہیں جو اسلام نے مختلف امور میں مقرر کی ہیں۔ یا دوسرے لفظوں میں یوں سمجھیے کہ یہاں اسلامی حدود سے مراد ہیں اسلامی احکام) اور معاشرتی و معاشی اداروں کی تنظیم کے لیے دی گئی تعلیمات کے وہ حصے جن کا تعلق ایسے مقامی احوال و اعراف سے ہو جو یونیورسل نوعیت کے نہ ہوں، ان پر بعینہ عمل بعد کے زمانے میں ضروری نہیں ہوتا، بلکہ وہ احکام اصولی طور پر تو باقی رہتے ہیں لیکن ان کے ایسے اجزاء کا تعین جو خالص مقامی اعراف و احوال پر مشتمل تھے، نئے سرے سے کر لیا جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسے امور کا تعلق احکام کے اس تیسرے دائرے سے ہے جس کا ہم اوپر ذکر کر چکے ہیں، اور یہ بھی واضح کر چکے ہیں کہ دین کے اکثر و بیشتر احکام کا تعلق پہلے اور دوسرے دائرے سے ہے۔ چند بچی کھچی چیزیں ہی اس تیسرے دائرے میں آتی ہیں۔
اسلامی تشریع کے حوالے سے شاہ ولی اللہ صاحب کا موقف سمجھنے کے بعد آئیے اب دیکھیں کہ علامہ شبلی کو شاہ صاحب کا موقف سمجھنے میں کیا تسامح پیش آیا؟ علامہ شبلی برصغیر کے مشہور عالم اور ادیب ہیں۔ ’’الکلام و علم الکلام‘‘ ان کی عظیم تصنیف ہے۔ الکلام میں ’’انبیاءؑ کی تعلیم و ہدایت کا طریقہ‘‘ کے عنوان سے انہوں نے ان اصول و قواعد کا ذکر کیا ہے جن پر انبیاءؑ کی تعلیمات مبنی ہوتی ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے چھ اصول بیان کیے ہیں، اور اس کے بعد یہ کہا ہے کہ ان اصولوں کا اطلاق اپنے عموم کے لحاظ سے ہر نبی کی تعلیم پر ہوتا ہے، لیکن اس نبی کا معاملہ ان سے مختلف ہوتا ہے جس کی شریعت کو ہمیشہ کے لیے باقی رہنا ہو۔ اور یہاں وہ شاہ ولی اللہ صاحب کا ذکر کردہ یہ اصول بیان کرتے ہیں کہ وہ احکام جو نبی کی اولین مخاطب قوم کے مقامی اور خصوصی احوال و اعراف پر مبنی ہوں، بعد کے زمانے میں ان کی بعینہ پیروی ضروری نہیں ہوتی بلکہ ان کی تفصیلات میں حسبِ ضرورت تغیر کر لیا جاتا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے شاہ ولی اللہ صاحب کی وہ عبارت نقل کی ہے جو ہم نے اس مقالے کے ابتدا میں درج کی ہے اور اس کا ترجمہ دیا ہے۔ اور اس کے بعد اس اصول پر یہ تبصرہ کیا ہے:
’’اس اصول سے یہ بات ظاہر ہو گی کہ شریعتِ اسلامی میں چوری، زنا، قتل کی جو سزائیں مقرر کی گئی ہیں ان میں کہاں تک عرب کی رسم و رواج کا لحاظ رکھا گیا ہے۔ اور یہ کہ ان سزاؤں کا بعینہا اور بخصوصہا پابند رہنا کہاں تک ضروری ہے۔‘‘ (۳)
اس کے باوجود کہ شبلی نے شاہ ولی اللہ صاحب کی عبارت میں لفظ ’’حدود‘‘ کا ترجمہ تعزیرات کیا ہے، ان کے مذکورہ بالا جملے مجمل بلکہ مبہم ہیں۔ انہوں نے واضح لفظوں میں یہ نہیں کہا کہ اسلامی حدود عربوں کے خالص مقامی اعراف پر مبنی تھیں، اور یہ کہ آئندہ زمانوں میں ان پر بعینہ عمل نہیں ہو گا۔ بلکہ وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ اس اصول کی روشنی میں یہ دیکھنا چاہیے کہ کیا اسلامی حدود ایسے مقامی اعراف و احوال پر مبنی تھیں جو خالص مقامی نوعیت کے تھے، اور یونیورسل شریعت کا جزو نہیں بن سکتے تھے؟ یا پھر اسلامی حدود ایسے اعراف پر مبنی تھیں جو یونیورسل نوعیت کے تھے اور وہ ہمیشہ کے لیے باقی رہنے والی شریعت کا جزو بن سکتے تھے؟
شبلی کے ان الفاظ سے پتہ چلتا ہے کہ وہ محض دعوتِ فکر دے رہے ہیں، کوئی فیصلہ نہیں کر رہے۔ اور ان الفاظ کا وہی مفہوم سمجھنا چاہیے جو شاہ ولی اللہؒ کا اور امت کے دیگر اہلِ علم کا موقف ہے۔ اور یہی سمجھنا اولیٰ ہے کیونکہ علامہ شبلی کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ حدود کے باب میں شاہ ولی اللہؒ کے موقف سے واقف نہ تھے (جو انہوں نے حجۃ اللہ البالغہ‘‘ ہی میں دوسری جگہوں پر وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے، یا یہ کہ خود علامہ شبلی کا موقف ساری امت سے الگ تھا اور وہ حدودِ اسلامی کو قابلِ تغیر سمجھتے تھے، تو یہ علامہ شبلی سے سوءِ ظن بلکہ ان پر محض ایک اتہام اور دعوٰی بلا دلیل ہے۔
تاہم علامہ شبلی سے یہاں یہ تسامح ضرور ہوا ہے کہ انہوں نے حدود کا ترجمہ تعزیرات کرنے کے باوجود مثال دیتے ہوئے یہاں حدود کو شرعی اور اصطلاحی حدود سمجھ لیا ہے، حالانکہ عبارت کا سیاق و سباق اس کا تقاضا کرتا ہے کہ یہاں حدود کو اسلامی احکام کے معنی میں لیا جائے (جیسا کہ علامہ اقبال نے کیا ہے) نہ کہ شرعی اور اصطلاحی حدود کے معنی میں۔
معروف اصطلاحی معنوں میں حدود سے مراد وہ سزائیں ہیں جو شارع نے خود مقرر کی ہیں اور جنہیں امت تبدیل نہیں کر سکتی۔ پھر یہاں علامہ شبلی کو یہ وضاحت بھی کرنی چاہیے تھی کہ شریعتِ محمدی کی یہ اضافی خوبی اس کی تشریع کا کوئی بنیادی اصول نہیں بلکہ، جیسا ہم نے پہلے ذکر کیا ہے، شریعتِ محمدی کے اکثر و بیشتر احکام تو تشریع کے پہلے دو دائروں پر مبنی ہیں۔ تیسرا دائرہ مختصر اور تنگ دائرہ ہے جس میں بہت کم احکام آتے ہیں۔ تاہم، ہماری ان ساری وضاحتوں کے باوجود اگر کوئی علامہ شبلی کے الفاظ کی اس توجیہ پر اصرار کرے کہ شبلی نے یہاں شاہ ولی اللہ صاحب کی یہ رائے بیان کی ہے کہ اصطلاحی حدود پر بعد کے ادوار میں عمل نہیں ہو گا، تو ہم اسے کہیں گے کہ وہ اصطلاحی اور شرعی حدود کے باب میں حجۃ اللہ البالغہ ہی میں بیان کیے گئے شاہ صاحب کے موقف کو جان لے تو شاید اس کا اطمینان ہو جائے۔
حجۃ اللہ البالغہ میں شاہ ولی اللہؒ شرعی حدود کی حکمتیں بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’جس معصیت کے ارتکاب پر شرع نے حد مقرر کی ہے وہ متعدد مفاسد پر مشتمل ہوتی ہے۔ مثلاً وہ کوئی ایسی معصیت ہو جو نظامِ تمدن میں خلل انداز ہونے کے علاوہ مسلمانوں کے لیے طمانیت اور سکونِ قلب کے زوال کا باعث ہو۔ لوگوں کے دلوں میں بار بار اس کے کرنے کا داعیہ پیدا ہوتا ہو، اور اس کے دو چار مرتبہ عمل میں لانے سے اس کی لت پڑ جاتی ہو، جس سے کہ پیچھا چھڑانا مشکل ہو جائے، کیونکہ اس کے اثرات اعماقِ قلب میں سرایت کر جاتے ہیں۔ اس قسم کی معصیت میں ایک خرابی یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ مظلوم جو اس کا نشانہ بنتا ہے، عموماً آپ اپنی حمایت کرنے سے عاجز ہوتا ہے۔ مزید برآں وہ ایک کثیر الوقوع ہوتی ہے۔ اس نوعیت کی معصیت کے لیے صرف عذابِ آخرت کی وعید و تہدید کافی نہیں بلکہ یہ نہایت ضروری ہے کہ اس کے ارتکاب پر اس دنیا میں بھی کوئی سخت عبرتناک سزا مقرر ہو، اور اس کا مرتکب اپنی سوسائٹی میں سخت نفرت کی نگاہ سے دیکھا جائے، تاکہ ان نتائج کے پیشِ نظر بہت کم اشخاص اس کے ارتکاب پر اقدام کرنے کی جرأت کر سکیں۔
اس کی ایک واضح مثال کسی محترم خاتون کی عصمت دری کرنا ہے۔ کیونکہ اس کا محرک صنفی خواہش کا غلبہ ہوتا ہے، اور صنفِ نازک کے حسن و جمال سے اس جذبہ کو تقویت حاصل ہوتی ہے۔ جیسے کہ ہم کہہ چکے ہیں یہ وہ برا فعل ہے جس کے ایک دو بار کرنے سے اس کا چسکا پڑ جاتا ہے۔ اس خاتون کے شوہر اور اس کے دیگر اقربا کے ماتھے پر اس کلنک کا بدنما ٹیکہ ہمیشہ کے لیے ثبت ہو جاتا ہے اور وہ کسی کو اپنا منہ دکھانے کے قابل نہیں رہتے۔ یہ ایک ایسا فعل ہے جس کو انسان کی فطری غیرت ہرگز گوارا نہیں کرتی، الاّ یہ کہ کسی کی فطرت مسخ ہو چکی ہو۔ علاوہ ازیں اس سے کئی قسم کے تنازعات پیدا ہوتے ہیں جس کا نتیجہ کشت و خون ہوتا ہے۔ اکثر یہ فعل قبیح فریقین کی رضامندی سے واقع ہوتا ہے اور اس کا محلِ ارتکاب عموماً کوئی پوشیدہ جگہ ہوتی ہے جو لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہو۔ اب اگر اس کے لیے شریعت میں سخت اور عبرتناک سزا مقرر نہ ہو تو اس فعلِ شنیع کے عام طور پر پھیل جانے میں ذرہ بھی شک نہیں‘‘ (۴)
اس کے بعد شاہ صاحب نے چوری، رہزنی، شراب خوری اور قذف کا ذکر کیا ہے اور ان جرائم کی سخت سزاؤں کی حکمتیں بیان کی ہیں۔ بعد ازاں شاہ صاحب نے حدود کے اس باب میں یہ لکھا ہے کہ یہ ایسے شنیع جرائم ہیں کہ سابقہ انبیاءؑ کی شریعتوں میں بھی ان کے لیے ایسی ہی سخت سزائیں مقرر تھیں۔ چنانچہ فرماتے ہیں:
’’ہم سے پہلے جو شریعتیں تھیں ان کا حکم یہ تھا کہ اگر کوئی شخص قتل کا مرتکب ہو تو اس کو قصاص کے طور پر قتل کر دیا جائے، زنا کی سزا رجم مقرر تھی، اور چوری کے ارتکاب پر مجرم کا ہاتھ کاٹا جاتا۔ یہ تینوں سزائیں انبیاء علیہم السلام کی شریعتوں میں متوارث چلی آتی تھیں۔ جملہ انبیائے سابقین کی شریعتوں میں ان جرائم کے لیے یہی سزائیں مقرر تھیں اور ان کی امتوں میں انہی احکام پر عمل درآمد ہوتا تھا۔ یہ حدود اور شرائع اس قابل تھے کہ شریعتِ محمدیہ میں بھی انہی کو برقرار رکھا جائے۔ اتنی بات ضرور ہے کہ شریعتِ ہٰذا نے ان کی مناسب اصلاح کی‘‘۔ (۵)
اس کے بعد شاہ صاحب نے لکھا ہے کہ ان سخت سزاؤں کو تبدیل کر کے ہلکی سزائیں مقرر کرنا دین میں تحریف ہے۔ اور یہ کہ حدود کی سزائیں بغیر کسی مداہنت کے سختی سے نافذ کرنی چاہئیں۔ چنانچہ فرماتے ہیں:
’’یہودیوں میں جب اپنی شریعت کی پابندی کے بارے میں تساہل آ گیا تو وہ ہر کہہ و مہ پر رجم کا، جو زنا کی شرعی سزا تھی، اجراء نہ کر سکے۔ اور انہوں نے اس کو تجبیہ اور تسحیم سے بدل دیا (یعنی مجرم کا منہ کالا کر کے اور گدھے پر سوار کر کے شہر کے بازاروں اور گلی کوچوں میں پھرانا)۔ یہ علماء یہود کی تحریف تھی‘‘ (۶)
آگے چل کر فرماتے ہیں:
’’حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی سخت تاکید فرمائی کہ حدودِ شرعیہ کی تعمیل اور اجراء میں کسی سے بھی مداہنت اور نرمی کا برتاؤ نہ کیا جائے بلکہ حکمِ شرعی کی موبمو تعمیل کی جائے۔ اغنیاء اور اصحابِ عز و جاہ کے ساتھ کسی قسم کی رو رعایت تشریعِ حدود کے منافی ہے، اور اس سے شرائعِ الٰہیہ کا ابطال اور ان کی بے وقعتی ہوتی ہے۔‘‘ (۷)
اب آئیے اقبال کی طرف۔ اقبال کی ’’تشکیلِ جدید الٰہیاتِ اسلامیہ‘‘ کے چھٹے خطبے کا موضوع اسلام کا حرکی تصور اور اجتہاد ہے۔ یہاں انہوں نے اسلامی قانون کے ماخذ پر بھی مختصر بحث کی ہے اور اس ضمن میں قرآن، سنت، اجماع اور قیاس پر گفتگو کی ہے۔ سنت کے ماخذِ قانون ہونے کی حیثیت سے جب وہ گفتگو کرتے ہیں تو کہتے ہیں:
For our present purposes, however, we must distinguish traditions of a purely legal import from those which are of a non-legal character. With regard to the former, there arises a very important question as to how for they embody the Pre-Islamic usages of Arabia which were in some cases left intact, and in others modified by the Prophet. It is difficult to make this discovery, for our early writers do not always refer to Pre-Islamic usages. Nor is it possible to discover that usages, left intact by express or tacit approval of the Prophet, were intended to be universal in their application. Shah Waliullah has a very illuminating discussion on the point. I reproduce here the substance or his view. The Prophetic method of teaching, according to Shah Waliullah, is that, generally speaking, the law revealed by a Prophet takes especial notice of the habits, ways, and peculiarities of the People to when he is specifically sent. The Prophet who aims at all-embracing principles, however, can neither reveal different principles for different people, nor leaves them to workout their own rules of conduct. His method is to train one particular people, and to use them as a nucleus for the building up of a universal Shariah. In doing so he accentuates the principles under lying the social life of all mankind, and applies them to concrete cases in the light of the specific habits of the people immediately before him. The Shariah values (Ahkam) resulting from this application (e.g. rules relating to penalties for crimes) are in a sense specific to that people; and since their observance is not an end in itself, they cannot be strictly enforced in the case of future generations".
(۳) اس عبارت کا ترجمہ نذیر نیازی صاحب نے یوں کیا ہے:
’’لیکن جہاں تک مسئلہ اجتہاد کا تعلق ہے، ہمیں چاہیے ان احادیث کو، جن کی حیثیت سر تا سر قانونی ہے، ان احادیث سے الگ رکھیں جن کا قانون سے کوئی تعلق نہیں۔ پھر اول الذکر کی بحث میں بھی ایک بڑا اہم سوال یہ ہو گا کہ ان میں عرب قبلِ اسلام کے اس رسم و رواج کا، جسے جوں کا توں چھوڑ دیا گیا، یا جس میں حضور رسالت مآبؐ نے تھوڑی بہت ترمیم کر دی، کس قدر حصہ موجود ہے۔ لیکن یہ وہ حقیقت ہے جس کا اکتشاف مشکل ہی سے ہو سکے گا، کیونکہ علماء متقدمین شاذ ہی اس رسم و رواج کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ہمیں تو شاید یہ بھی معلوم نہیں کہ جس رسم و رواج کو جوں کا توں چھوڑ دیا گیا، خواہ حضور رسالت مآبؐ نے اس کی بالصراحت منظوری دی، یا خاموشی اختیار فرما لی، اس پر کیا سچ مچ ہر کہیں اور ہر زمانے میں عمل کرنا مقصود تھا؟ شاہ ولی اللہ نے اس مسئلے میں بڑی سبق آموز بحث اٹھائی ہے۔ ہم اس کا مفاد ذیل میں پیش کریں گے۔‘‘
’’شاہ ولی اللہ کہتے ہیں انبیاء کا عام طریقِ تعلیم تو یہی ہے کہ وہ جس قوم میں مبعوث ہوتے ہیں ان پر اسی قوم کے رسم و رواج اور عادات و خصائص کے مطابق شریعت نازل کی جاتی ہے۔ لیکن جس نبی کے سامنے ہمہ گیر اصول ہیں، اس پر نہ تو مختلف قوموں کے لیے مختلف اصول نازل کیے جائیں گے، نہ یہ ممکن ہے کہ وہ ہر قوم کو اپنی اپنی ضروریات کے لیے الگ الگ اصولِ عمل متعین کرنے کی اجازت دے۔ وہ کسی ایک قوم کی تربیت کرتا اور پھر ایک عالمگیر شریعت کی تشکیل میں اس سے تمہید کا کام لیتا ہے۔
(یہاں شاہ صاحب کی عبارت سے ایک غلط فہمی کا اندیشہ ہے لہٰذا اس امر کی صراحت ناگزیر ہو جاتی ہے۔ قرآن پاک میں تو یہی عالمگیر شریعت نازل ہوئی جس کی طرف شاہ صاحب اشارہ فرما رہے ہیں۔ رہا اس کے اطلاق میں قوموں کے احوال اور خصائص کا مسئلہ، سو یہ قانون کا مسئلہ ہے، شریعت کا نہیں۔ قرآن پاک کا صاف و صریح ارشاد ہے: شرع لکم من الدین ما وصٰی بہ نوحا والذی اوحینا الیک و ما وصینا بہ ابراھیم و موسیٰ و عیسٰی ان اقیموا الدین ولا تتفرقوا فیہ (۸ الف)۔)
لیکن ایسا کرنے میں وہ اگرچہ انہی اصولوں کو حرکت دیتا ہے جو ساری نوعِ انسانی کی حیاتِ اجتماعیہ میں کارفرما ہیں، پھر بھی ہر معاملے اور ہر موقع پر عملاً ان کا اطلاق اپنی قوم کی مخصوص عادات کے مطابق ہی کرتا ہے۔ لہٰذا اس طرح جو احکام وضع ہوتے ہیں (مثلاً تعزیرات) ایک لحاظ سے اس قوم کے لیے مخصوص ہوں گے۔ پھر چونکہ احکام مقصود بالذات نہیں، اس لیے یہ بھی ضروری نہیں کہ ان کو آئندہ نسلوں کے لیے بھی واجب ٹھہرایا جائے۔‘‘ (۹)
اقبال نے یہاں یہ مسئلہ اٹھایا ہے کہ جو قوانین احادیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ماخوذ ہیں ان کے بارے میں آج تیقن سے یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ کسی خالص مقامی نوعیت کے عرف پر مبنی ہیں، یا پھر ایسے عرف پر مبنی ہیں جو یونیورسل نوعیت کا ہے، کیونکہ راویوں نے عام طور پر اس کو بیان کرنے کی طرف توجہ نہیں دی۔ اس لیے اس مسئلے کا حل یہی ہے کہ ان احکام کو (جن کے بارے میں خیال ہو کہ وہ یونیورسل نوعیت کے مقامی اعراف پر مبنی نہیں) آئندہ زمانے میں بعینہ نافذ نہ کیا جائے۔ یہاں حدود کا ترجمہ اقبال نے بجا طور پر احکام اور Sharia Values کیا ہے اور اس کے ساتھ ہی قوسین میں یہ بھی کہہ دیا ہے ’’مثلاً جرائم کی سزاؤں سے متعلق احکام‘‘۔ یہاں اگر ’’جرائم کی سزاؤں سے متعلق احکام‘‘ سے مراد تعزیری احکام ہیں، جیسا کہ اس کا ترجمہ نذیر نیازی صاحب نے کیا ہے، تو یہ بالکل صحیح ہے۔ کیونکہ تعزیری احکام مقصود اصطلاحی حدود ہیں تو اس پر وہی اعتراض وارد ہو گا جو اس سے پہلے ہم علامہ شبلی کے بارے میں بیان کر چکے ہیں۔ لیکن چونکہ اقبال نے یہاں حدود کا لفظ استعمال نہیں کیا اس لیے اسلامی حدود کا لفظ خواہ مخواہ اقبال کے سر کیوں منڈھا جائے؟
موضوع زیر بحث کی رعایت سے ہم یہاں احادیث کی شرعی حیثیت کے حوالے سے ایک ضروری بات کہنا چاہیں گے اور وہ یہ کہ احادیث، خواہ احکامی ہوں یا غیر احکامی، ہمارے لیے حجت ہیں۔ کسی حدیث کے بارے میں علمی اور فنی لحاظ سے تو یہ سوال اٹھایا جا سکتا ہے کہ وہ قولِ رسولؐ ہے یا نہیں، لیکن ایک دفعہ یہ ثابت ہو جانے کے بعد کہ یہ حکمِ رسولؐ ہے، اس کے حجت اور قابلِ اتباع ہونے کے بارے میں کوئی مسلمان سوال نہیں اٹھا سکتا۔ کیونکہ قرآن کی رو سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی حکم کی اطاعت سے انکار آج بھی اس طرح موجبِ گمراہی و کفر ہے جس طرح وہ حضورؐ کی زندگی میں تھا (۱۰)۔ قرآن اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ حضورؐ جو کچھ فرماتے ہیں وہ مبنی بر وحی ہوتا ہے، وہ اپنے پاس سے کچھ نہیں کہتے (۱۱)۔
پھر ساتھ یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ جب تک حضورؐ زندہ تھے اور آپؐ پر وحی آتی تھی تو یہ آپؐ کے احکام کے صحیح ہونے کی ضمانت تھی۔ خواہ وہ احکام وحی خفی پر مبنی ہوں یا آپؐ کے اجتہادات ہوں۔ کیونکہ اس صورت میں اگر آپؐ خدانخواستہ غلطی کرتے تو وحی کے ذریعے فورًا آپؐ کی تصویب کر دی جاتی۔ جیسا کہ قرآن مجید کی کئی آیات سے پتہ چلتا ہے کہ حضورؐ کے بعض افعال و احکام کو جب اللہ تعالیٰ نے آپؐ کے مرتبۂ کمال کے مناسب نہ سمجھا تو تنبیہ کر دی (۱۲)۔ اس سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ حضورؐ جب عربوں کے کسی ایسے عرف کو مسلمانوں کے لیے ایک آفاقی شریعت کے طور پر حکم فرماتے تھے تو اس کے پیچھے وحی کی سند موجود ہوتی تھی۔
مثلاً عربوں میں نکاح کے کئی طریقے مروج تھے۔ اب نبی کریمؐ نے نکاح کے جس طریقے کو پسند فرمایا اور وہ امت کو تعلیم فرمایا، وہ ہمیشہ کے لیے ساری امت کے لیے شریعت بن گیا، تو آج اس کے بارے میں یہ سوال نہیں اٹھایا جا سکتا کہ یہ تو عربوں کا طریقہ تھا، اور آج صدیوٖں بعد کسی غیر عرب معاشرے کے لیے یہ موزوں نہیں ہے۔ کیونکہ نکاح کا یہ طریقہ اگر یونیورسل شریعت کا جزو بننے کے لیے موزوں نہ ہوتا، جبکہ حضورؐ ایسا قرار دے چکے تھے، تو ضروری تھا کہ ۔۔۔۔۔۔۔ وحی کے ذریعے اللہ تعالیٰ اس کی تصحیح کر دیتے۔ لیکن چونکہ ایسی کوئی تصحیح نہیں کی گئی، لہٰذا آج یہ سوال ہی خارج از امکان ہے کہ آیا یہ محض مقامی نوعیت کے عرف پر مبنی ہونے کی وجہ سے خالص مقامی حکم تھا، یا ایسے عرف پر مبنی جو آفاقی نوعیت کا تھا۔
پھر یہ بھی ذہن میں رہے کہ جن معاملات کے بارے میں فقہ و اصولِ فقہ کے ماہرین نے یہ رائے ظاہر کی ہے کہ یہ مقامی نوعیت کے ہیں اور آفاقی نوعیت کے نہیں، ان کے بارے میں بھی یہ فیصلہ انہوں نے محض اپنی رائے سے نہیں دیا بلکہ احادیث کی داخلی شہادتوں پر دیا ہے۔ مثلاً کسی کے بارے میں انہوں نے یہ کہا ہے کہ یہ حضورؐ کا عمومی حکم نہیں بلکہ بطور حکمران کے آپؐ نے یہ انتظامی فیصلہ کیا ہے۔ مثلاً بنجر زمینوں کو آباد کرنے پر حقِ ملکیت حاصل ہونا۔ یا بطور قاضی کوئی فیصلہ دیا ہے مثلاً بیوی کو شوہر کے مال میں بغیر اجازت کفاف کی حد تک تصرف کا حق دینا۔ یا احکام کی نوعیت ہی بتا دیتی ہے کہ یہ کوئی مستقل حکم نہیں بلکہ عارضی حکم ہے، مثلاً حضورؐ کا یہ فرمان کہ ’’حکمران قریش سے ہوا کریں گے‘‘۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ قیامت تک ساری دنیا میں مسلمانوں کے حکمران صرف قریش ہی ہوں گے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت جزیرہ نما عرب میں قریش کو سیاسی بالادستی اور قوت حاصل تھی اور ان کی موجودگی میں کسی دوسرے قبیلے کو حکومت سازی کا اختیار دینا ایک ایسی بات ہوتی جو چل نہ سکتی بلکہ الٹا معاشرے کو نقصان پہنچاتی۔ اس کا یہ مطلب بھی لیا جا سکتا ہے کہ جب تک قریش کو عربوں میں یہ سیاسی قوت، رسوخ اور بالادستی حاصل رہے گی یہ ضروری ہے کہ حکمران انہی میں سے ہوں۔ لیکن اس حدیث کا یہ مطلب کسی نے بھی نہیں لیا کہ قیامت تک مسلمانوں کے حکمران قریشی ہوں گے اور نہ ہی امت کا اس پر عمل ہے۔
اور جیسا کہ ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ ایسے امور کا تعلق اسلام کے عمومی احکام سے نہیں بلکہ اکثر و بیشتر تشریع کے پہلے اور دوسرے دائرے میں آجاتے ہیں۔ اور اس تیسرے دائرے کی تنگنائے میں محض چند استثنائی احکام رہ جاتے ہیں۔ مثلاً فوجیوں میں تقسیمِ غنیمت، دیت میں عاقلہ کا تصور، بیوی کا شوہر کے مال میں بغیر اجازت تصرف، بنجر زمینوں کو آباد کرنے پر حقِ ملکیت، اور حکومت کا قریش میں محدود ہونا وغیرہ۔ یہی وہ چند احکام ہیں جو فقہاء نے عموماً اس ضمن میں بیان کیے ہیں۔
دینی علوم سے بے بہرہ جو دانشور شاہ ولی اللہ، علامہ شبلی، یا علامہ اقبال کی مذکورہ عبارات کے حوالے سے یہ کہتے ہیں کہ اتنی سخت اور وحشیانہ سزائیں تو اس وقت کے عرب بدوؤں کے لیے تھیں، آج کے ’’مہذب‘‘ معاشرے میں یہ نافذ نہیں کی جا سکتیں۔ وہ یہ نہیں جانتے کہ اس طرح کی اکثر و بیشتر سزائیں خود قرآن میں مذکور ہیں۔ یہ اصلاً حضور اکرمؐ کی مقرر کردہ نہیں کہ ان پر مقامی عرف ہونے کے حوالے سے تنقید کی جا سکے۔ چنانچہ دیکھیے قرآن میں مندرجہ ذیل سزائیں مذکور ہیں:
چوری کی سزا: ہاتھ کاٹنا (۱۳)
زنا (غیر محصن) کی سزا: ۱۰۰ کوڑے (۱۴)
قتلِ عمد کی سزا: قتل (۱۵)
قذف کی سزا: ۸۰ کوڑے (۱۶)
حرابے (ڈکیتی، خللِ امن) کی سزا: قتل یا سولی یا ہاتھ پاؤں کا کاٹنا یا ملک بدری (۱۷)
باقی رہیں زانی محصن کی سزا یا شربِ خمر اور ارتداد و توہینِ رسالتؐ کی سزا تو بلاشبہ یہ حضور ختمی المرتبتؐ سے ثابت ہیں جو اللہ کے مقرر کردہ شارع ہیں۔ لیکن اہلِ علم جانتے ہیں کہ یہ سزائیں بھی دراصل قرآن ہی سے مستنبط ہیں اور وحی خفی و جلی کی اتھارٹی کی وجہ ہی سے ہمارے لیے حجت ہیں۔
ہم یہ سمجھنے سے بھی قاصر ہیں کہ مغربی فکر و تہذیب اور قانون سے مرعوب یہ دانشور اسلامی سزاؤں کو سخت اور وحشیانہ کیوں کر کہتے ہیں۔ جب کہ ان کے قبلہ و کعبہ مغرب میں کیفیت یہ ہے کہ آج بھی امریکہ جیسے متمدن اور مہذب معاشرے میں ۵۱ جرائم ایسے ہیں جن کی سزا موت ہے (۱۸)۔ جب کہ اسلام میں تو صرف تین چار جرائم کی سزا شارع نے موت مقرر کی ہے۔
حواشی
(۱) حجۃ اللہ البالغہ ص ۹۳ مطبع الخیریہ بمصر طبع ۱۳۸۶ھ
(۲) آل عمران: ۱۱۰
(۳) الکلام و علم الکلام، شبلی نعمانی، ص ۱۱۵ طبع لکھنؤ ۱۹۲۶ء
(۴) حجۃ اللہ البالغہ، اردو ترجمہ مولانا عبد الرحیم، طبع قومی کتب خانہ، ص ۶۳۵، ۶۳۶
(۵) ایضاً ص ۶۳۸
(۶) ایضاً ص ۶۳۹
(۷) ایضاً ص ۶۶۰
(۸) Allama Mohammad Iqbal, the Reconstruction of Religious Thought in Islam, Published jointly by Iqbal Academy and Institute of Islamic Culture, Lahore, 1989 Edition p 136, 137
(۹) تشکیلِ جدید الٰہیاتِ اسلامیہ، ترجمہ نذیر نیازی، مطبوعہ بزمِ اقبال کلب روڈ لاہور، طبع سوئم مئی ۱۹۸۶ء، ص ۲۶۴ ۔ ۲۶۶
(۱۰) آل عمران ۳۲، النساء ۸۰، ۶۵، ۵۹، محمد ۳۳، الاحزاب ۳۶ وغیرہ
(۱۱) النجم ۳، ۴
(۱۲) التوبہ ۴۳، التحریم ۱، عبس ۱ ۔ ۱۰ وغیرہ
(۱۳) المائدہ ۳۸
(۱۴) النور ۲
(۱۵) البقرہ ۱۷۸
(۱۶) النور ۴، ۵
(۱۷) المائدہ ۳۲
(۱۸) "Times" July 22, 1991
(بشکریہ سہ ماہی ’’فکر و نظر‘‘ اسلام آباد)
انسانی حقوق کا مغربی تصور سیرتِ طیبہؐ کی روشنی میں
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
(۲۷ و ۲۸ نومبر ۱۹۹۴ء کو مظفر آباد میں حکومت آزاد کشمیر کے زیراہتمام منعقدہ سیرت کانفرنس میں پڑھا گیا)
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ صدر ذی وقار، معزز مہمان خصوصی اور قابل صد احترام شرکاء سیرت کانفرنس! جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے کہ اسلام کی دعوت اور پیغام کو مخاطب کی زبان میں اس کی ذہنی سطح اور نفسیات کے مطابق پیش کیا جائے۔ مکہ مکرمہ کے قریشی سردار جب جناب رسول اللہؐ کی دعوت توحید کے اثرات سے پریشان ہو کر جرگے کی صورت میں آنحضرتؐ کے پاس آئے اور پوچھا کہ آخر آپؐ کی دعوت کا مقصد کیا ہے اور آپ کیا کہنا چاہتے ہیں؟ تو رسول اکرمؐ نے ان کے مزاج و نفسیات اور ذہنی سطح کو سامنے رکھتے ہوئے یہ جواب دیا کہ
’’میں ایک ایسا کلمہ تمہارے سامنے پیش کر رہا ہوں کہ اگر تم اسے قبول کر لو تو عرب و عجم تمہارے تابع ہوں گے۔‘‘
جناب نبی اکرمؐ کو معلوم تھا کہ یہ لوگ غلبہ، قوت اور اقتدار کے سوا کسی اور زبان کو نہیں سمجھتے اس لیے آپؐ نے انہی کی زبان میں دعوت اسلام کے نتائج و فوائد سے انہیں آگاہ کیا۔ اور یہ بات خلاف واقعہ بھی نہ تھی اس لیے کہ اسلام کی دعوت کو قبول کرنے کے بے شمار نتائج و منافع میں سے ایک منفعت یہ بھی تھی۔ چونکہ سوال کرنے والوں کے ہاں اس منفعت کی اہمیت زیادہ تھی اس لیے آنحضرتؐ نے اسی کا حوالہ دے کر ان کے سوال کا جواب مرحمت فرمایا۔
اس پس منظر میں آج کے دور میں دعوتِ اسلام کی ضروریات اور تقاضوں کا جائزہ لیا جائے اور جناب رسالت مآبؐ کی سیرت طیبہ کو نسل انسانی کے سامنے پیش کرنے کے لیے ترجیحات پر غور کیا جائے تو ضروری معلوم ہوتا ہے کہ انسانی حقوق کے بارے میں قرآن کریم کی تعلیمات اور رسول اکرمؐ کے ارشادات و احکام کو زیادہ اہمیت کے ساتھ منظر عام پر لایا جائے۔ اور انسانی معاشرہ کو بتایا جائے کہ انسانی حقوق کے تعین اور تحفظ کا جو معیار اور دائرہ کار اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبر نے کم و بیش ڈیڑھ ہزار سال قبل دنیا کے سامنے پیش کیا تھا، انسانی عقل تدریج و ترقی کے تمام مراحل طے کرنے اور مختلف نظام ہائے زندگی کا تجربہ کرنے کے باوجود اس کا کوئی متبادل سامنے نہیں لا سکی، اور انسانی معاشرہ ایک بار پھر پریشانی اور اضطراب کے عالم میں اپنے مسائل و مشکلات کے حل کے لیے کسی مسیحا کے انتظار میں ہے۔
آج کی دنیا میں ’’انسانی حقوق‘‘ کی زبان سب سے زیادہ توجہ کے ساتھ سنی جانے والی زبان ہے، جبکہ ورلڈ میڈیا اور لابیوں نے اسے صرف زبان کی حد تک نہیں رہنے دیا بلکہ وقت کا موثر ترین ہتھیار بنا دیا ہے جو عالم اسلام اور تیسری دنیا کی اقوام کے خلاف مغرب کے ہاتھوں میں کامیابی کے ساتھ استعمال ہو رہا ہے۔ اور مغرب جسے چاہتا ہے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر اور جنیوا کنونشن کی قراردادوں کے شکنجے میں جکڑ کر انسانی حقوق کی چھری کے ساتھ ذبح کر دیتا ہے۔
حضراتِ محترم! مغرب انسانی حقوق کے حوالہ سے جتنے بلنگ بانگ دعوے کر لے، مگر انسانی حقوق اور فری سوسائٹی کے مغربی تصور پر مبنی سولائزیشن نے نتائج و ثمرات کے لحاظ سے آج جو روپ دھار لیا ہے اس نے خود مغربی دانش وروں کو حیران و ششدر کر دیا ہے اور مغربی معاشرہ میں جنسی انارکی اور فیملی سسٹم کی تباہی نے گورباچوف جیسے مدبر کو یہ لکھنے پر مجبور کر دیا ہے کہ ہم نے عورت کو گھر سے نکال کر غلطی کی ہے اور اب اسے گھر واپس لے جانے کا کوئی راستہ نظر نہیں آرہا۔
دراصل مغرب حقوق و فرائض میں توازن قائم رکھنے اور ان کے درمیان حد فاصل قائم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ جبکہ جناب رسول اللہؐ نے حقوق اور فرائض کو نہ صرف یکجا ذکر کیا بلکہ ان کے درمیان ایسا حسین توازن قائم کر دیا جو گاڑی کے دو پہیوں کی طرح انسانی زندگی کا یکساں بوجھ اٹھا سکتا ہے اور اسے لے کر کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ سکتا ہے۔ مگر مغرب نے حقوق و فرائض کو آپس میں گڈمڈ کر دیا اور ان کے درمیان کوئی خط امتیاز قائم نہ رہنے دیا جس کی وجہ سے انسانی معاشرہ ذہنی انتشار اور فکری انارکی کی آماجگاہ بن کر رہ گیا ہے۔ مثلاً
- اقتدار اور حکومت کو نبی اکرمؐ نے فرائض اور ذمہ داریوں میں شمار کیا ہے اور قدم قدم پر اس ذمہ داری کی نزاکت اور سنگینی سے خبردار کیا ہے۔ اس کا منطقی نتیجہ حکمرانوں میں احساس ذمہ داری اور خداخوفی کی صورت میں ظاہر ہوا اور لوگ اقتدار کی دوڑ میں شریک ہونے کی بجائے اس سے بچنے میں عافیت محسوس کرنے لگے۔ مگر مغرب نے اسے حقوق کی فہرست میں رکھ دیا اور اس حق کو حاصل کرنے کے لیے جو دوڑ لگتی ہے اس کے فوائد و نقصانات کا تناسب ہر ذی شعور پر واضح ہے۔
- محنت، مزدوری اور ملازمت کے ذریعے روزی کمانا اور اہل خانہ کی کفالت کرنا رسول اکرمؐ کی تعلیمات کی رو سے فرائض کا حصہ ہے اور ڈیوٹی ہے جو گھر کے سربراہ پر عائد ہوتی ہے۔ مگر مغرب نے پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں بے شمار افراد کے قتل ہوجانے کے باعث پیدا ہونے والے افرادی قوت کے خلاء کو پر کرنے کے لیے عورت کو گھر سے باہر لانے کی ضرورت محسوس کی تو ملازمت اور محنت و مزدور ی کی ڈیوٹی پر ’’حقوق‘‘ کا خوشنما لیبل چسپاں کر کے اس غریب کو ورغلا لیا۔ اور وہ ’’عقل کی پوری‘‘ بچہ جننے اور اس کی پرورش کرنے کی ڈیوٹی کے ساتھ ساتھ اسے کما کر کھلانے کی ڈیوٹی میں بھی شامل ہو کر خوش ہونے لگی کہ اب میں مردوں کے شانہ بشانہ ’’مساوی حقوق‘‘ سے بہرہ ور ہو گئی ہوں۔
- جناب رسول اللہؐ نے امر بالمعروف، نہی عن المنکر، اور حکومت کے غلط طرز عمل پر نقد و جرح کو فرائض میں شمار کیا ہے جو حزب اقتدار اور حزب اختلاف کی کسی تقسیم کے بغیر معاشرہ کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔ رسول اکرمؐ نے جابر سلطان کے سامنے کلمۂ حق بلند کرنے کو جہاد قرار دیا ہے او ریہ تعلیم دی ہے کہ جو شخص دیکھتے جانتے ہوئے بھی غلط کو غلط نہیں کہتا وہ شریعت کی نظر میں مجرم ہے۔ مگر مغرب نے آزادیٔ رائے اور حکومت کی غلط پالیسی پر اسے ٹوکنے کو فرائض کے زمرہ سے نکال کر حقوق کے دائرہ میں شامل کر لیا۔ اس کا ایک نتیجہ تو یہ نکلا کہ یہ ایک اختیاری امر بن گیا اور دوسرا نتیجہ یہ نکلا کہ ’’حقوق‘‘ کے تصور نے اقتدار اور اپوزیشن کی صف بندی کر دی جس نے پوری قوم کو دو حصوں میں تقسیم کر کے رکھ دیا۔
یہ چند مثالیں یہ بات واضح کرنے کے لیے پیش کی گئی ہیں کہ مغرب نے ’’حقوق و فرائض‘‘ کو خلط ملط کر کے انسانی معاشرہ کی گاڑی کے دونوں پہیوں کا توازن بگاڑ دیا ہے جس کی وجہ سے گاڑی مسلسل لڑکھڑاتی چلی جا رہی ہے۔ جبکہ جناب رسالت مآبؐ نے حقوق و فرائض میں توازن قائم کیا اور اس کا عملی نمونہ خلافت راشدہ کی صورت میں پیش کر کے دنیا کو دکھا دیا ۔
سامعین گرامی قدر! مغرب سے انسانی حقوق کے حوالہ سے دوسری بنیادی غلطی یہ ہوئی کہ حقوق کے تعین کا معیار قائم کرنے میں اس کی نگاہ انسانی معاشرے کی وسیع تر ضروریات کا احاطہ نہ کر سکی۔ مغرب نے حق کے تعین میں معیار یہ پیش کیا کہ ہر شخص کو اپنی مرضی پر عمل کرنے کا حق ہے، جب تک کہ دوسرے شخص کی آزادی متاثر نہ ہو۔ اس طرح مغرب نے حق و ناحق اور جائز و ناجائز کے تعین میں شخصی مفادات و ضروریات میں ہم آہنگی یا ٹکراؤ کو بنیاد بنایا اور اس سے آگے نسل انسانی اور انسانی معاشرہ کی اجتماعی ضروریات و مفادات تک اس کی نگاہ نہ جا سکی جس کا خمیازہ مغرب کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ مثلاً
- مرد و عورت کے اختلاط میں مغرب نے یہ تصور پیش کیا کہ جس درجہ کے اختلاط پر دونوں باہم رضامند ہوں، کسی تیسرے کو اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی قانون کو گرفت کرنی چاہیے۔ یہاں مغرب نے مرد اور عورت کی باہمی رضامندی تو دیکھ لی مگر پورے معاشرہ پر اس اختلاط کے اثرات کو نہ دیکھ سکا جس کے نتیجے میں کنواری ماؤں اور ناجائز بچوں کے تناسب میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور فیملی سسٹم تباہی کی آخری حدوں کو چھو رہا ہے۔ جبکہ جناب نبی اکرمؐ نے مرد و عورت کی اس باہمی رضامندی کو بھی جرم قرار دیا ہے جو معاشرے کے لیے منفی نتائج کا باعث بن سکتی ہو۔ اور مرد و عورت کے اختلاط اور میل جول کا ایک دائرہ قائم کر کے باقی ہر قسم کے میل جول سے منع فرما دیا ہے، کیونکہ کسی بھی عمل کے جائز ہونے کے لیے صرف اس عمل کے دو فریقوں کا رضامند ہونا کافی نہیں بلکہ انسانی معاشرہ کا اس کے منفی اثرات سے محفوظ رہنا بھی ضروری ہے۔ اور یہی بنیاد ہے اس توازن کی جو رسول اکرمؐ نے مرد و عورت کے تعلقات کے حوالہ سے قائم فرمایا ہے۔
- سود کے بارے میں مغرب نے کہا کہ جب سود لینے اور دینے والے آپس میں متفق ہیں تو کسی اور کو کیا اعتراض ہے؟ یہاں بھی مغرب نے دو افراد کی رضامندی کے محدود دائرہ کو بنیاد بنایا۔ جبکہ جناب رسالت مآبؐ نے معاشرہ پر مجموعی طور پر اس کے منفی اثرات کو سامنے رکھتے ہوئے اس کی حرمت کا اعلان فرمایا۔ اور آج سودی معیشت نے جس طرح پوری دنیا کو چند مخصوص گروہوں کی معاشی اجارہ دارہ کے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے وہ اسلامی تعلیمات کی صداقت اور جناب رسول اللہؐ کی خداداد فراست و بصیرت کی روشن اور کھلی شہادت ہے۔
ان گزارشات کا مقصد یہ ہے کہ جناب رسول اکرمؐ کی سیرت طیبہ کے حوالہ سے ہمیں آج کھلے دل و دماغ کے ساتھ انسانی حقوق کے مغربی تصور کا جائزہ لینا چاہیے اورا س کے وسیع تر پراپیگنڈہ سے مرعوب ہونے کی بجائے اس کے کھوکھلے پن کو تقابلی مطالعہ کے ساتھ سامنے لا کر اسلامی تعلیمات و احکام کو واضح کرنا چاہیے۔ تاکہ مشکلات و مصائب کے صحرا میں بھٹکتی ہوئی انسانیت کی اسوۂ حسنہ کے شفاف اور خوش ذائقہ سرچشمۂ حیات کی طرف راہنمائی کی جا سکے۔
حضرات گرامی قدر! مغرب اور انسانی حقوق کے حوالہ سے گفتگو چلی ہے تو مناسب معلوم ہوتا ہے کہ انسانی حقوق کے فلسفہ کی فکری بنیادوں سے ہٹ کر اس کے واقعاتی پہلوؤں پر بھی کچھ معروضات پیش کر دی جائیں۔ بالخصوص اس تضاد اور دوعملی کے پس منظر میں جو مغرب نے عالم اسلام کے بارے میں اختیار کر رکھا ہے۔ اور جس نے یہ بات پوری طرح واضح کر دی ہے کہ مغرب کے نزدیک ’’انسانی حقوق‘‘ کسی فلسفہ یا اصول کا نام نہیں بلکہ یہ محض ایک ہتھیار ہے جو اس نے مخالف اقوام پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے اختیار کر رکھا ہے، ورنہ
- مغرب جو ووٹ، الیکشن اور بیلٹ باکس کے تقدس کا علمبردار ہے اور غیر جمہوری حکومتوں کا اپنے ساتھ برابر کی سطح پر بیٹھنا گوار انہیں کرتا، الجزائر میں اسلامک سالویشن فرنٹ کی انتخابی کامیابی پر آتش زیرپا کیوں ہے؟ اور اسلامک فرنٹ کی جمہوری قوت کو کچلنے کے لیے الجزائر کی غیر جمہوری حکومت کی پشت پناہی کیوں کر رہا ہے؟
- آج اس مغرب کو بوسنیا کے خلاف سربوں کی جارحیت اور بوسنیا کے مسلمانوں کا گاجر مولی کی طرح کٹتے چلے جانا نظر نہیں آرہا؟ صرف اس لیے کہ جن کی عصمتیں لٹ رہی ہیں اور جن کی گردنیں کٹ رہی ہیں وہ مسلمان کہلاتے ہیں۔ جبکہ مغرب سلامتی کونسل کی اٹھک بیٹھک اور زبانی جمع خرچ کے ساتھ سربوں کی مکمل فتح کا انتظار بلکہ عملاً اس کے مقاصد کے حصول کے لیے راہ ہموار کر رہا ہے۔
- اس مغرب کو وادیٔ کشمیر میں گھر گھر بہنے والا خون نظر نہیں آرہا اور نہ حوا کی بیٹیوں کی دل فگار چیخیں مغرب کے کانوں تک پہنچ پا رہی ہیں۔ کشمیر میں انسانی حقوق کے ساتھ ہولی کھیلی جا رہی ہے مگر چونکہ مرنے والے مسلمان ہیں اور ان کے ساتھ مغرب کا کوئی مفاد وابستہ نہیں ہے اس لیے کشمیر کے حوالے سے مغرب کے کان اور آنکھیں بند ہیں، اور اس کے انسانی حقوق کے سارے کے سارے فلسفے مصلحتوں کے فریزر میں منجمد پڑے ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ کشمیر، بوسنیا، فلسطین اور اب چیچنیا کے خلاف روسی جارحیت کے حوالہ سے منافقانہ طرز عمل نے مغرب کے چہرے سے ’’انسانی حقوق‘‘ کا ریاکارانہ نقاب نوچ پھینکا ہے اور اس کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے کر دیا ہے جس کے بعد اس کے پیش کردہ ’’انسانی حقوق‘‘ کا ظاہری بھرم بھی قائم رہتا نظر نہیں آرہا۔
چنانچہ مسلم علماء اور دانشوروں کو چاہیے کہ وہ حوصلہ اور اعتماد کے ساتھ آگے بڑھیں اور دنیا کو منطق و استدلال کے ساتھ بتائیں کہ انسانی حقوق کا حقیقی فلسفہ اور متوازن نظام وہی ہے جو جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کے سامنے پیش فرمایا اور آج بھی انسانی معاشرہ کی فلاح و کامیابی اسی نظام کو اپنانے پر منحصر ہے۔
میں، مغرب اور مغرب پرست طبقہ
عمران خان
میں اس وقت سوچ میں پڑ جاتا ہوں جب میڈیا کا ایک مخصوص گروپ ایسے روایتی مغرب مخالف بنیاد پرست کے طور پر میری تصویر کشی کرتا ہے جو سیاسی قوت حاصل کرنے کے لیے پند و نصائح کر رہا ہے۔ یہ سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب شوکت خانم میموریل ٹرسٹ کے پہلے مرحلے کی تکمیل کے لیے آخری ۱۲ کروڑ جمع کرنے کی غرض سے مجھے عوام کے پاس جانا پڑا۔ اگر تاجر برادری اقتصادی بدحالی کی شکایت نہ کرتی، یا بال ٹمپرنگ کا تنازعہ کھڑا نہ ہوتا، تو مجھے ملک کے طول و عرض میں ۴۵ دن کا وعدہ کر کے عوام، دکانداروں اور طالب علموں، جو میری اصل قوت ہیں، سے مدد مانگنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ اس دورے کے دوران میں نے اپنے آپ کو طالب علموں کے لیے ایک مثالی کردار کے طور پر استعمال کیا تاکہ انہیں اپنی ثقافت پر فخر ہو اور انہیں قومی عزتِ نفس کا احساس دیا جائے۔ اس کام کے لیے میں نے ’’براؤن صاحب‘‘ کے کلچر پر حملہ کیا جو سامراجی باقیات اور ایک گہری جڑوں والے احساس کمتری سے نمو پذیر ہوا۔ میں نے اپنے نوجوانوں کو یہ احساس دینے کی کوشش کی کہ زندگی کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ جب تک آپ اپنی عزت نہیں کریں گے کوئی آپ کی عزت نہیں کرے گا۔
چنانچہ اگر ہمارا مغربیت پرست طبقہ مغربی ثقافت کی نقل کرتا ہے اور اپنے ہی لوگوں سے نالاں ہے تو وہ دنیا میں وقار حاصل کرنے کی توقع کیسے کر سکتا ہے؟ کسی حقیقی نمونۂ مصوری کی نقل چاہے کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو وہ ہمیشہ نقل ہی کہلائے گی۔ اگر ہم یہ فرض کریں کہ برطانوی اعلیٰ طبقہ عربوں کی طرح کا لباس پہننا شروع کر دے، ان کی زبان بولے، اور اپنی ثقافت کو تحقیر کی نظر سے دیکھے، اور اپنے ہم وطنوں کو ادنیٰ سمجھے تو ہم ان کے بارے میں کیا سوچیں گے؟ جب میں اپنے نوجوانوں سے کہتا ہوں کہ وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے انگلش کو بطور زبان سیکھیں لیکن انگریز بننے کی کوشش نہ کریں، تو میں انگلش یا مغرب پر حملہ نہیں کر رہا ہوتا بلکہ میں انہیں صرف عزتِ نفس کا احساس دلانے کی کوشش کر رہا ہوتا ہوں۔
میں نے مغرب میں زندگی کی ۲۰ بہاریں گزاریں، میں ان کی ثقافت کی کمزوریوں اور استحکام کو سمجھتا ہوں۔ میں ’’براؤن صاحبان‘‘ سے وہاں پر مختلف ہو جاتا ہوں کیونکہ میں انہیں اپنے سے برتر یا اپنا آقا نہیں سمجھتا۔ میرے خیال میں ان کے ساتھ ہمارا رشتہ آقا اور غلام کی بجائے پروفیسر اور طالب علم جیسا ہونا چاہیے۔ جیسے یورپی لوگوں نے مسلم اسپین کی یونیورسٹیوں سے علم سیکھا اور وہی علم ان کی نشاۃِ ثانیہ کا باعث بنا۔ اسی طرح ہمیں بھی مغرب سے انسانی حقوق، اہلیت، قابلیت اور صلاحیتوں کی قدر دانی کا وطیرہ سیکھنا چاہیے نہ کہ وی آئی پی کلچر۔
اس کے ساتھ ہمیں خدا کی بجائے مادیت کی پرستش جیسی کمزوریوں کو بھی جاننا چاہیے، اور خصوصاً خاندانی نظام کے ٹوٹنے کو جب جان میجر ’’اساس کی جانب مراجعت‘‘، یا جارج بش خاندانی اقدار کے بارے میں بات کرتے ہیں، تو دراصل وہ دونوں ہی خاندانی اکائی ٹوٹنے کے تباہ کن اثرات پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ میرے خیال میں جب ۱۹۶۰ء کی دہائی کی لذت پرستانہ جنسیت، منشیات، راک این رول کلچر، اور غیر اخلاقی پن کی تحسین شروع ہوئی تو خاندان کی اکائی ٹوٹ گئی۔ جبکہ وکٹورین انگلینڈ کے دوران برطانیہ خوفِ خدا رکھنے والا اخلاقی معاشرہ تھا۔
میں اپنی نوجوان نسل کو بتانا چاہتا ہوں کہ غیر اخلاقی پن میں اضافے کو ترقی کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ میری خواہش ہے کہ وہ بھی پاپ کلچر کی چکاچوند کے پس پردہ دیکھیں، جیسے میں دیکھتا ہوں، انہیں گمشدہ جذبوں کی ایک داستان ملے گی۔ میں پاکستانی خواتین کو بھی خبردار کرنا چاہتا ہوں کہ وہ بھی آزادئ نسواں کے درآمد شدہ تصورات کے بارے میں بات کرتے ہوئے تنقیدی رویہ اختیار کریں۔ انہیں اس بات کا احساس کرنا چاہیے کہ ماں، جو اسلام میں نہایت قابلِ عزت ہے، کے رتبے کی تحقیر کر کے آزادئ نسواں کی تحریکوں اور مردوں کی ہمسری کرنے کی کوشش نے مغرب میں خاندانی نظام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ کچھ مغربی خواتین کے مطابق سر پر چادر لینے کا مطلب عورت کی آزادی سلب کر لینا ہے، لیکن کیا اس وقت عورت کا استحصال نہیں ہوتا جب مصنوعات فروخت کرنے کے لیے اسے نیم عریاں ہو کر بل بورڈز پر جانا پڑتا ہے؟ اگر مختصر ترین کپڑے پہننا ہی ترقی ہے تو زمانہ قبل از تاریخ کی عورتیں کہیں زیادہ جدید تھیں، کیونکہ وہ بالکل برہنہ تھیں۔
اگر ہمارے مغربیت پرست طبقے ایسے احساس کمتری میں مبتلا نہ ہوتے، اور اسلام کے بارے میں ان کا علم ناکافی نہ ہوتا، تو ہو سکتا تھا کہ خاندان بحال کرنے کی لڑائی میں ہم مغربی معاشرے کی مدد کرنے کے قابل ہوتے۔ مشاہدہ سے یہ پتہ چلا ہے کہ بچوں کے ذہن پر طلاق کے کیسے خوفناک اثرات مرتب ہوتے ہیں، اور وہ تعلیم میں ان بچوں سے پیچھے رہ جاتے ہیں جو ایک مضبوط خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ جنوبی کوریا اور جاپان میں تعلیمی نتائج دنیا بھر میں سب سے بہتر ہیں، اور تحقیق سے پتہ چلا کہ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان ملکوں میں خواتین اعلیٰ بنیادی تعلیم یافتہ ہیں اور اس وقت تک گھروں ہی میں رہتی ہیں جب تک بچے سکول جانے کی عمر تک نہیں پہنچ جاتے۔
اگر ترقی کا راز کسی اجنبی ثقافت کی نقل کرنے میں مضمر ہے تو ترکی کو اس وقت سپر طاقت ہونا چاہیے تھا۔ اتاترک نے شاندار ماضی کے ساتھ ترکوں کے بندھن کو زیادہ مضبوط نہیں کیا، اور نتیجتاً اسے دوسرے درجے کی یورپی قوم بنا دیا گیا، حالانکہ بار بار درخواست کے باوجود آج بھی اسے یورپی براری میں شامل کرنے کے قابل نہیں خیال کیا جاتا۔ میں نے عزتِ نفس کے بارے میں بات کی ہے جس کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی۔ تاہم مغرب کی مخالفت کر کے بھی ترقی کرنا ممکن نہیں۔
شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال نے یہ عیاں کر دیا کہ پاکستانی عوام قومی مقاصد کی حمایت کریں گے۔ اور میں یہ واضح طور پر محسوس کرتا ہوں کہ ہمیں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا چاہیے۔ مجھے اس وقت شدید نفرت محسوس ہوتی ہے جب ہمارے بعض لیڈر یا اعلیٰ طبقہ یہ سمجھتا ہے کہ غیر ممالک کے تلوے چاٹ کر ہمیں کچھ امداد مل جائے گی اور ہم ترقی کر لیں گے۔ ہمیں بھارت کی جانب دیکھنا اور سمجھنا چاہیے کہ سرد جنگ کے دوران سوویت روس کا حامی ہونے کے باوجود مغرب اس کی مدد کر رہا ہے (اس کی تازہ ترین مثال ڈگلس ہرڈ کا بھارت کے حق میں حالیہ بیان ہے)۔ اس کی وجہ بھارت کی خود انصاری ہے۔ اگر ہم خود کو ذلیل کرنا چاہتے ہیں تو یہ مغرب کا قصور نہیں، دوستی تو برابری کی سطح پر ہوتی ہے، کیا کوئی گداگروں کو دوست بناتا ہے؟
مجھے یہ معلوم نہیں کہ میری روحانی وابستگی کی وجہ سے مخصوص حلقوں کو اتنی تشویش کیوں لاحق ہوئی ہے۔ علامہ اقبال کے تصورِ شاہین کی طرح میں یہ سمجھتا ہوں کہ اسلام کو گہرائی میں جا کر سمجھنے کے بعد میں اپنی ذاتی خواہشات پر قابو پانے کے قابل ہو گیا ہوں، اور یوں میری حقیقی اہلیت ظاہر ہو گئی ہے۔ ہم زندگی میں اپنی اہلیت کو محدود کر لیتے ہیں، ہم اس وقت تک اقبال کا شاہین نہیں بن سکتے جب تک ہماری دنیا ہماری ذاتی خواہشات کے تابع ہے۔ یہ خدا پر اعتقاد ہی ہے جو انسان کو ایک مثالیت پسند اور ناممکنات سے لڑنے کے قابل بناتا ہے۔ الحاد ظاہر پرستی کی جانب لے جاتا ہے جس کا نتیجہ قنوطیت کی صورت میں برآمد ہوتا ہے۔ ماضی میں کسی بھی مرحلے پر میں نے شاہین یا درویش ہونے کا دعوٰی نہیں کیا، صرف زندگی کی صحیح راہ دکھانے پر خدا کا شکر ادا کیا۔ میرا اسلام دوسروں کے نظریات کو برداشت کرتا ہے اور قرآن کی اس آیت پر یقین رکھتا ہے ’’دین میں کوئی زبردستی نہیں‘‘۔ اگر اسلام کو پھیلانا مقصود ہے تو اس کے لیے خود مثال بننا پڑے گا، جیسا کہ ہمارے محمد صلی اللہ علیہ وسلم یا برصغیر کے عظیم بزرگانِ دین نے کیا، جو عظیم انسان تھے۔ پاکستان کے مغربیت پرست آزاد رو ملحدوں کے لیے میرے پاس حقارت کے سوا کچھ نہیں، جو اسلام کے بارے میں بات کرنے والوں کو برداشت نہیں کرتے۔ اس کی وجہ ان کا احساسِ کمتری، درآمد شدہ خیالات اور رویے ہیں۔
آخر میں، میں مخصوص حلقوں کی جانب سے اپنی اس تصویر کشی کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں جس میں مجھے جنرل حمید گل کے ہاتھوں ایک روبوٹ کے طور پر پیش کیا گیا۔ جہاں تک جنرل حمید گل کا تعلق ہے تو میں ان کے بارے میں بہت اچھی رائے رکھتا ہوں۔ کیونکہ چار سال قبل کور کمانڈر ملتان کی حیثیت سے انہوں نے شوکت خانم میموریل ہسپتال کے لیے نہ صرف فنڈ جمع کرنے کا بندوبست کیا بلکہ اپنی ایک ماہ کی تنخواہ بھی بطور عطیہ دی۔ اگر افغانستان میں سوویت روس کے خلاف ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے جرمن انہیں ’’دیوارِ برلن کی اینٹ‘‘ قرار دے سکتا ہے، تو میں ان کا ہم وطن ہونے کے ناتے ان پر فخر کیوں نہیں کر سکتا؟ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں ان کے ہاتھوں استعمال ہو رہا ہوں۔
۱۹۸۷ء کے بعد سے مجھے مختلف سیاسی دھڑوں کے ہاتھوں استعمال ہونے کے متعدد مواقع میسر آئے۔ اگر میں نے ایسا کرنا ہوتا تو تب ہی کر لیتا۔ اور کیا میں اتنا کم عقل ہوں کہ یہ بھی نہیں سمجھتا کہ سیاست میں جانے کے لیے مجھے کسی کے سہارے کی ضرورت نہیں۔ خاص طور پر ’’فالتو سامان اٹھائے ہوئے لوگوں کی‘‘ یا جو خود میرے اوپر بوجھ بن سکتے ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ میں ایک ایسے سیاسی نظام میں شامل نہیں ہو سکتا جس میں کسی کو انتخاب لڑنے کے لیے بھاری رقم کی ضرورت ہو۔ میں امریکی نظام سے بھی متفق نہیں ہوں جہاں ایک سینٹر کو بھی انتخاب لڑنے کے لیے ۱۴ ملین ڈالر کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ بعد میں اسے یہ رقم پوری بھی کرنا ہے، عموماً اصولوں کی قربانی پر۔ میں پارلیمانی جمہوریت میں پارٹی سسٹم سے بھی پوری طرح مطمئن نہیں کیونکہ اس میں پارٹی ڈسپلن کے نام پر سچائی کو چھپانا یا عوام کو جھوٹ بتانا پڑتا ہے۔ اور یوں بھی جتنی عزت، محبت اور احترام، عوام کا اعتماد اور شناخت مجھے آج میسر ہے، کیا وزارتِ عظمیٰ کے بعد اس میں اضافہ ممکن ہے؟ کیا اس ملک میں کوئی ایسا وزیر اعظم تھا یا ہے جس کی اپیل پر لوگ اس طرح لبیک کہیں اور اپنے پیٹ کاٹ کر کروڑوں پیش کر دیں؟
چنانچہ میں فلاحی کاموں میں اپنے لوگوں کی خدمت کر سکتا ہوں، اور حکومتوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ وہ مجھ سے خوف کھانے کی بجائے میری مدد کریں۔ ’’براؤن صاحبان‘‘ کے لیے میں صرف یہ تنبیہ کرنا چاہتا ہوں کہ اگر مغربیت کا شکار اعلیٰ طبقے اور عوام کے درمیان حائل خلیج بہت زیادہ وسیع ہو گئی تو ہمیں الجیریا اور ایران کی صورتحال کو ذہن میں رکھنا چاہیے جہاں انقلابات بنیادی طور پر تو کلچرل تھے لیکن ان کا اظہار اسلام کی صورت میں ہوا۔
(بشکریہ روزنامہ جنگ، لاہور ۔ ۲۰ جنوری ۱۹۹۵ء)
ماہِ صیام
سرور میواتی
علتِ
عصیاں کی لے کر ادویہ ماہِ صیام
مرحبا
صد مرحبا لو آگیا ماہِ صیام
جس
قدر ممکن ہو اس کی میہمانی کیجئے
آگیا
قسمت سے مہمانِ خدا ماہِ صیام
طاعت
و زہد و ریاضت میں گزارو رات دن
مغفرت
کا لے کے مژدہ آگیا ماہِ صیام
خالقِ
کونین کی جانب سے ہر ہر خیر کا
دینے
آیا ہے صلہ صدہا گنا ماہِ صیام
اس
کی بدبختی پہ روتے ہیں زمین و آسماں
ذہن
سے اپنے دیا جس نے بُھلا ماہِ صیام
کذب
و غیبت سے لیا جس شخص نے دامن بچا
اس
کا دامن رحمتوں سے بھر گیا ماہِ صیام
پاک
کر لیں آنسوؤں سے دامن تر دامنی
دینے
آیا ہے ندامت کا صلہ ماہِ صیام
خالقِ
کونین کے الطاف و انعامات سے
ہے
بھرا از ابتدا تا انتہا ماہِ صیام
اک
شب قدر اس کی بہتر ہے ہزاروں ماہ سے
مصطفٰیؐ
کی ہے دعاؤں کا صلہ ماہِ صیام
جس
نے استغفار و توبہ میں گزارے روز و شب
کر
گیا دارین میں اس کا بھلا ماہِ صیام
مومنوں
کے دل میں بھر جاتا ہے آ کر ہر برس
طاعتِ
یزداں کا جوش و ولولہ ماہِ صیام
کوئی
لمحہ بھی نہ گزرے دیکھ بے یادِ خدا
دے
رہا ہے تجھ کو سرور یہ ندا ماہِ صیام
مدرسہ نصرۃ العلوم: تعارف، خدمات، ضروریات
ادارہ
مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ شہر میں قرآن و سنت، فقہ اسلامی اور دیگر دینی علوم و فنون اور اخلاقی تعلیم و تربیت کا ایک بڑا مثالی مرکز اور عظیم درسگاہ ہے جو شرک و بدعت، بے دینی، مغربیت کے ملعون الحاد و دہریت سے متاثرہ ماحول میں، نیز سرمایہ داری کے تکبر و تعیش اور اشتراکیت کی اباحیت و بے راہروی اور شرائع الٰہیہ سے انکار کے طوفانی فتنوں میں گھرے ہوئے گرد و پیش میں قرآن و سنت، خلفائے راشدینؓ، صحابہ کرامؓ، ائمہ دینؒ و سلف صالحینؒ، اولیائے امتؒ اور علماء حق کی روش پر اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے گزشتہ ۴۳ سالوں سے خدمت سر انجام دے رہا ہے۔ یہ دینی مرکز تمام متدین اور مخلص مسلمانوں سے جو قرآن و سنت اور صحابہ کرامؓ و سلف صالحینؒ کے طرز و فکر کو جاری رکھنے کی آرزو رکھتے ہیں، ایسے تمام اہلِ حق سے نصرۃ العلوم تعاون کا طلبگار ہے جس کی ابتدا سے آج تک مختصر روئیداد حسبِ ذیل ہے:
مدرسہ کا آغاز
آج سے ۴۳ سال قبل ۱۳۷۲ھ بمطابق ۱۹۵۲ء میں نہایت بے سروسامانی کی حالت میں محض اللہ رب العزت کے توکل پر والد محترم مفسر قرآن حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتی مدظلہ العالی (فاضل دارالعلوم دیوبند و فاضل دارالمبلغین لکھنؤ و فاضل نظامیہ طیبہ کالج حیدر آباد دکن) نے مدرسہ نصرۃ العلوم و جامع مسجد نور کی بنیاد رکھی۔
مدرسہ کے شعبہ جات
ابتدائی چند سالوں میں ابتدائی اور وسطانی تعلیم ہوتی رہی، اللہ تعالیٰ نے اس کو شرفِ قبولیت بخشا اور تھوڑے ہی عرصہ یعنی چار سال بعد ۱۹۵۶ء میں دورۂ حدیث کا آغاز ہوا تو اس وقت سے آج تک درسِ نظامیہ کی مکمل تعلیم ہوتی ہے، اور ساتھ ہی تجوید اور حفظِ قرآن کریم کی تعلیم بھی کافی وسیع پیمانہ پر ہوتی ہے، اور چوبیس (۲۴) سال سے بچیوں کے لیے شعبہ تعلیم النسواں کام کر رہا ہے جو پہلے پرائمری تک تھا اور اب مڈل تک ہو چکا ہے۔ اسی طرح بچوں کے لیے بھی انیس (۱۹) سال سے شعبہ تعلیم الاطفال کام کر رہا ہے۔ یہ پہلے پرائمری تک تھا اور اب مڈل ہو چکا ہے۔ ۱۹۸۶ء سے مدرسہ میں مقامی بچیوں کے لیے بھی قرآن پاک، تفسیر و حدیث اور ضروری درسِ نظامیہ کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔ ۱۹۷۶ء سے سالانہ تعطیلات، شعبان و رمضان میں دورۂ تفسیر کا آغاز ہوا اور آج تک اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے یہ سلسلہ بھی جاری و ساری ہے۔ دورۂ تفسیر قرآن کریم امام اہلِ سنت شیخ الحدیث والتفسیر حضرت مولانا محمد سرفراز خان صاحب صفدر مدظلہ پڑھاتے ہیں۔ ہر سال دورۂ حدیث شریف سے تقریباً ساٹھ ستر حضرات علماء کرام فارغ ہو کر سندِ فراغت حاصل کرتے ہیں۔
مدرسہ کی تعلیمی خدمات
اس لحاظ سے اب تک تقریباً ساٹھ ہزار (۶۰۰۰۰) سے زائد طلباء و طالبات نے مدرسہ نصرۃ العلوم میں تعلیم حاصل کی ہے، جن میں پاکستان کے علاوہ سعودی عرب، برطانیہ، چین، ایران، بنگلہ دیش، برما، افغانستان، ملائیشیا، بھارت، روس، مقبوضہ کشمیر، تھائی لینڈ، جنوبی افریقہ، آئی لینڈ، ترکی، تیونس، تاجکستان وغیرہ ممالک کے طلباء بھی کثیر تعداد میں تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔
مدرسہ میں مختلف شعبہ جات سے مکمل فراغت حاصل کرنے والوں کی تعداد درج ذیل ہے: دورۂ تفسیر (۴۴۰۰)، دورۂ حدیث (۱۰۲۱)، تجوید (۲۶۶)، حفظِ قرآنِ مجید (۲۵۲)، پرائمری لڑکے (۳۵۰)، پرائمری لڑکیاں (۴۳۰)، مڈل لڑکے (۳۰۰)، مڈل لڑکیاں (۴۸)، درسِ نظامی لڑکیاں ۱۶۲۔
اس وقت مدرسہ میں تعلیم حاصل کرنے والوں کی کل تعداد سولہ سو (۱۶۰۰) سے متجاوز ہے۔
مدرسہ کی عمارت
مدرسہ نصرۃ العلوم کی تین منزلہ عمارت ہے جس میں بیرونی طلباء کی اقامت کے لیے تقریباً پچاس (۵۰) کمرے ہیں اور دارالحدیث والتفسیر، دارالافتاء، دارالاہتمام، کتب خانہ، مہمان خانہ، باورچی خانہ اور مدرسہ میں مقیم طلباء کے اکٹھے کھانا کھانے کے لیے ایک وسیع ہال بھی تعمیر کیا گیا ہے۔ تعلیم الاطفال مڈل کے لیے تین منزلہ ایک مستقل عمارت ہے اور تعلیم النسواں مڈل کے لیے بھی ایک تین منزلہ عمارت ہے۔ اسی طرح تعلیم النسواں درسِ نظامی کے لیے بھی ایک مستقل عمارت ہے۔
داالافتاء
مدرسہ میں دارالافتاء کا شعبہ بھی ہے جس میں اس وقت دو فاضل مفتی صاحبان اندرون و بیرون ممالک سے آئے ہوئے سوالات کے جوابات میں فتاویٰ جاری کرتے ہیں۔ اب تک مدرسہ سے درج شدہ چھ ہزار (۶۰۰۰) فتوے جاری ہو چکے ہیں۔
ادارہ نشر و اشاعت
مدرسہ کے تحت ایک ادارہ نشر و اشاعت بھی ہے جس کے تحت اب تک اسی (۸۰) سے زائد علمی و تبلیغی کتب شائع ہو چکی ہیں۔ یہ کتب بہت مفید ہیں اور بعض کتب کے اب تک کافی ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔ شیخ الحدیث والتفسیر حضرت مولانا ابو الزاہد محمد سرفراز خان صاحب صفدر مدظلہ کی بیشتر علمی و تحقیقی کتب جو فرق باطلہ، ضالہ، مبتدعہ کے رد میں ہیں، ابتداءً ادارہ نشر و اشاعت مدرسہ نصرۃ العلوم سے ہی شائع ہوئی تھیں۔ ان کے علاوہ امام اعظم ابوحنیفہؒ، امام طحاویؒ، امام شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ، شاہ عبد العزیزؒ، شاہ رفیع الدینؒ، حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ، مولانا ابو الکلام آزادؒ، شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنیؒ، اور حضرت مولانا حسین علیؒ آف واں بچھراں جیسے اکابر اہلِ علم کی مختلف کتابوں کے تراجم، اور حضرت مولانا صوفی عبد الحمید صاحب سواتی مدظلہ، مولانا عبد القدیر محدث کیمبل پوریؒ، مولانا حافظ حبیب اللہ ڈیروی مدظلہ، مولانا ابوعمار زاہد الراشدی مدظلہ اور مولانا محمد فیاض خان سواتی کی تصنیفات بھی ادارہ نشر و اشاعت مدرسہ نصرۃ العلوم کے زیر اہتمام شائع ہو چکی ہیں۔ اکابر و اسلاف کی علمی و تحقیقی اور نایاب کتب کو شائع کرنے میں مدرسہ نصرۃ العلوم کو تمام مدارس پاکستانیہ پر فوقیت حاصل ہے۔ آئندہ بھی اس قسم کی کتب کی اشاعت ہمارے پروگرام میں داخل ہے۔ اسی سلسلہ میں امام شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ کی مشہور زمانہ تفسیر عزیزی فارسی کا بعض نایاب قلمی حصہ (تقریباً پانچ پارے از سورۃ المومنون تا سورۃ یس مکمل) بھی ادارہ نشر و اشاعت مدرسہ نصرۃ العلوم شائع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
لائبریری
مدرسہ میں ایک تین منزلہ لائبریری بھی ہے جس میں علماء و طلباء کے مطالعے کے لیے دس ہزار سے زائد کتابیں موجود ہیں۔
مدرسہ کا تعلیمی و انتظامی عملہ اور اخراجات
درس نظامی کے اساتذہ (۱۵)، حفظ و تجوید کے اساتذہ (۷)، شعبہ تعلیم الاطفال مڈل کے اساتذہ (۹)، شعبہ تعلیم النسواں مڈل کی معلمات (۹)، شعبہ تعلیم النسواں درس نظامی کی معلمات (۵)۔ ان کے علاوہ ناظم، محاسب، سفارت، باورچی، چوکیدار، ڈرائیور وغیرہ کے عملہ میں پچیس (۲۵) افراد کام کرتے ہیں۔ جبکہ مدرسہ کا کل عملہ ۷۰ افراد پر مشتمل ہے جن کا ماہانہ خرچ اوسطاً ڈیڑھ لاکھ (۱۵۰۰۰۰) روپے ہے۔ مدرسہ نصرۃ العلوم میں اڑھائی تین صد بیرونی طلباء کو مدرسہ سے دو وقت کھانا دیا جاتا ہے۔ کھانا تیار کرنے کے لیے ایک باورچی خانہ ہے جس میں تین باورچی اور ایک قصاب کام کرتا ہے۔ باورچی خانہ کا ماہانہ خرچ اوسطاً پچاس ہزار (۵۰۰۰۰) روپے ہے۔ کھانے کے علاوہ طلباء کرام کو نقد ماہانہ وظیفہ بھی دیا جاتا ہے جو کہ ماہانہ اوسطاً تیس ہزار (۳۰۰۰۰) روپے بنتا ہے۔ علاوہ ازیں ان طلباء کو تعلیم کے علاوہ رہائش کی سہولتیں، سالانہ دو جوڑے کپڑے اور کتب بھی عاریتاً فری مہیا کی جاتی ہیں، اور بیماری کی صورت میں طلباء کا علاج معالجہ بھی کرایا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے مدرسہ کا سالانہ خرچہ تقریباً پینتیس لاکھ (۳۵۰۰۰۰۰) روپے ہے جو محض اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور آپ حضرات کے پُرخلوص تعاون سے پورا ہوتا ہے۔ تاہم اب بھی وقت کی ناسازگاری، مہنگائی اور وسائل کی انتہائی کمی کے باعث بہت سی اہم ضرورتیں پوری نہیں ہو رہیں، مثلاً :
- تخصص فی التفسیر والحدیث والفقہ والافتاء والدعوۃ والارشاد کے لیے ایک الگ شعبہ۔
- مسلمانوں کی اجتماعی ضرورت کے لیے ایک ماہانہ جریدہ۔
- مدرسین کے لیے رہائش گاہیں۔
- اسباق کے لے درس گاہیں۔
- کتب خانے کے لیے حدیث و فقہ کی شروحات اور دیگر کتب۔
- تصنیف و تالیف اور نایاب کتب کی اشاعت کے لیے ایک الگ شعبہ۔
- بیرونی طالبات کے لیے ہاسٹل۔
یہ تمام امور وسائل کے قلیل ہونے کی وجہ سے تشنۂ تکمیل ہیں۔
تعارف و تبصرہ
ادارہ
دروس الحدیث
حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی دامت برکاتہم کو اللہ رب العزت نے حکمتِ ولی اللٰہی کی روشنی میں اسلامی عقائد و احکام کی وضاحت کا جو خصوصی ذوق عطا فرمایا ہے وہ اس دور میں دینی مطالعہ کے شائقین کے لیے نعمتِ خداوندی ہے، اور مدرسہ نصرۃ العلوم کے طلبہ اور گوجرانوالہ کے شہریوں کے علاوہ ملک بھر کے ہزاروں علماء کرام اور دیگر مسلمان اس چشمۂ فیض سے سیراب ہو رہے ہیں۔
حضرت صوفی صاحب مدظلہ کا درسِ قرآن کریم ’’معالم العرفان فی دروس القرآن‘‘ کی صورت میں مرتب ہو چکا ہے جس کی بیشتر جلدیں شائع ہو کر باذوق حضرات کے زیر مطالعہ ہیں۔ اور معالم العرفان کے مرتب الحاج لعل دین ایم اے نے اسی طرز پر حضرت صوفی صاحبؒ کے دروسِ حدیث کو مرتب کرنے کا سلسلہ بھی شروع کر دیا ہے۔ جامع مسجد نور مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں حضرت صوفی صاحب مدظلہ کا معمول رہا ہے کہ جب تک صحت نے اجازت دی ہے وہ نمازِ فجر کے بعد ہفتہ میں چار دن قرآن کریم اور دو دن حدیثِ نبویؐ کا درس دیتے رہے ہیں اور قرآن کریم کی طرح حدیث کی مختلف کتابوں کا بھی تسلسل اور ترتیب کے ساتھ درس ہوتا رہا ہے۔ یہ دروس ریکارڈ ہو چکے ہیں جنہیں الحاج لعل دین صاحب مرتب کر کے ’’دروس الحدیث‘‘ کے نام سے سامنے لانے کا عزم رکھتے ہیں۔ اس وقت ہمارے سامنے دروس الحدیث کی تین جلدیں ہیں جو ’’مسند امام احمد بن حنبل‘‘ کی ساڑھے چار سو سے زائد روایات پر مشتمل ہیں، جبکہ ان کی مجموعی ضخامت ایک ہزار صفحات کے لگ بھگ ہے اور تینوں جلدیں عمدہ کتابت و طباعت اور مضبوط جلد کے ساتھ مزین ہیں۔
حضرت صوفی صاحب مدظلہ کا اندازِ بیان عام مجالس میں سادہ اور عام فہم ہوتا ہے اور ان کی کوشش ہوتی ہے کہ دقیق علمی اور تحقیقی مباحث سے گریز کرتے ہوئے سامعین کو زندگی کے مختلف شعبوں کے بارے میں مسائل و احکام ذہن نشین کرائے جائیں۔ یہ رنگ دروس الحدیث میں بھی جھلکتا ہے جس کی وجہ سے یہ مجموعۂ احادیث علماء و خطباء کے ساتھ ساتھ عام پڑھے لکھے حضرات کے لیے بھی بھرپور افادیت کا حامل ہے۔
دروس الحدیث کی دو سو تیس صفحات پر مشتمل پہلی جلد کی قیمت پچھتر روپے، چار سو سے زائد صفحات پر مشتمل دوسری جلد کی قیمت نوے روپے، اور اسی ضخامت کی تیسری جلد کی قیمت بھی نوے روپے ہے، جو کاغذ اور کتابت و طباعت کے ہوشربا اخرجات کے اس دور میں بہت واجبی ہے اور ’’مکتبہ دروس القران مدرسہ نصرۃ العلوم محلہ فاروق گنج گوجرانوالہ‘‘ کے احباب کی طرف سے کسی منفعت کے بغیر دروس القرآن اور دروس الحدیث کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے عزم کا عملی اظہار ہے۔ (مدیر اعلٰی)
ریڈیائی تقریریں
تقاریر: مولانا کبیر الدین فاران مظاہری
ناشر: خلافتِ راشدہ اکادمی، اردو بازار، لاہور
صفحات: ۱۳۲
سیرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم، ارکانِ اسلام، روزہ، عید، قربانی، داستانِ کربلا، مذہب اور انسان، اور انصاف وغیرہ کے عنوانات پر یہ مولانا کبیر الدین فاران مظاہری کی ان تقاریر کا مجموعہ ہے جو مختلف اوقات میں انڈیا کے مختلف ریڈیو اسٹیشنوں سے نشر ہوتی رہیں۔ کتاب کی افادیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس پر مقدمہ مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی نے تحریر فرمایا ہے۔ مستند حقائق و واقعات پر مشتمل یہ مجموعہ دینی ادب میں ایک قابلِ قدر اضافہ ہے۔
آئینہ عملیات
مصنف: صوفی عزیز الرحمٰن پانی پتی
ناشر: اسلامی کتب خانہ لاہور
صفحات: ۲۶۴
عملیات و تعویذات کی بے شمار کتب مارکیٹ میں بک رہی ہیں جو پیشہ ور عاملوں کے لیے تو روپیہ کمانے کی مشین ہیں مگر عوام الناس کے لیے قطعی غیر سنجیدہ بلکہ نقصان دہ ہیں۔ کیونکہ عملیات کے لیے جن شرائط کی ضرورت ہے وہ اکثر و بیشتر مفقود ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے اثرات ظاہر نہیں ہوتے اور ان کی اعتقادی پوزیشن کمزور ہوتی ہے۔ اپنے مقام پر ان عملیات و تعویذات کی تاثیر سے انکار نہیں لیکن بہرحال یہ ہر ایک کے بس کی بات بھی نہیں۔ ایک طرف تو غلط مقاصد کے لیے ان کا استعمال بڑھ گیا ہے، اور دوسری طرف کتاب خریدنے والا ہر آدمی حُب اور دشمنی کے باب کھولے بیٹھا ہے۔
ان خطرات و نقائص کی بنا پر ہم عملیات و تعویذات کی کتب کے مارکیٹ میں لانے کے حق میں نہیں ہیں۔ ہاں البتہ وظائف و اوراد کی کتب میں کچھ مضائقہ نہیں۔ مذکورہ کتاب بھی عملیات کے موضوع پر ہے، بلاشبہ اس میں مستند و قابل اعتماد عملیات مذکور و منقول ہیں، لیکن بہرحال عوام خریدنے سے گریز کریں۔ البتہ کتاب کے صفحہ ۱۵ پر عملیات کے لیے جو قواعد منقول ہیں ان کو ملاحظہ کر لینے کے بعد اگر ان کی پابندی ممکن ہو تو بے شک خرید لیں۔
انتخابِ لاجواب (جلد اول)
مرتب: مولانا محمد امجد خان
ناشر: مکتبہ اشاعتِ اسلام، عبد الکریم روڈ، قلعہ گوجر سنگھ، لاہور
صفحات : ۲۴۰
یہ کتاب مولانا قاری محمد اجمل خان کے مرتبہ مضامین کا مجموعہ ہے جو ہفت روزہ خدام الدین اور ہفت روزہ ترجمان اسلام لاہور میں بالاقساط شائع ہو چکے ہیں۔ اس میں ایمان افروز واقعات بھی ہیں اور نصیحت آموز مشاہدات بھی۔ قرآنی و حدیثی وظائف و عملیات بھی ہیں اور طبی نسخہ جات بھی۔ مناقب و فضائل بھی ہیں اور اشعار و لطائف بھی۔ کتاب پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے اور ذہن و فکر میں انقلاب پیدا کرنے والی ہے۔
اسلامی احکام و اعمال کی حکمت
مولانا ابوالکلام آزادؒ
ہم دیکھتے ہیں کہ جب تک مجالس نہ ہوں، اجتماعات نہ ہوں، انجمنیں نہ ہوں، کانفرنسیں نہ ہوں، کوئی قومی عمل انجام نہیں پا سکتا، نہ اتحاد و تعاون کی برکت حاصل ہو سکتی ہے۔ پس ہم آج کل کے مجلسی طریقوں کے مطابق انجمنیں بناتے ہیں، کانفرنسیں منعقد کرتے ہیں، مگر ہم میں سے کسی کو بھی اس کا خیال نہیں آتا کہ اسی مقصدِ اجتماع و تعاون کے لیے اسلام نے پانچ وقت کی نماز با جماعت، جمعہ و عیدین، اجتماعِ حج کا حکم دیا ہے، اور اس کا نظام و قوام درہم برہم ہو گیا ہے، سب سے پہلے اسے کیوں نہ درست کر لیں!
ہم دیکھتے ہیں کہ جب تک کوئی قومی فنڈ نہ ہو، اس وقت تک قومی اعمال انجام نہیں پا سکتے، پس ہم نئے نئے فنڈ قائم کرتے ہیں۔ یہ ٹھیک ہے، مگر کاش کوئی یہ بھی سوچے کہ خود شریعت نے اسی ضرورت کو رفع کرنے کے لیے زکوٰۃ و صدقات کا حکم دیا ہے، اس کا نظم ٹھیک قائم ہے یا نہیں؟ اگر وہ قائم ہو جائے تو پھر کبھی کسی چندہ یا فنڈ کی ضرورت نہ ہو گی۔
ہم دیکھتے ہیں کہ قوم کی تعلیمِ عام کے لیے مجمع و محافل کی ضرورت ہے، ہم اس کے لیے نئی نئی تدبیریں کرنے لگتے ہیں، مگر کبھی یہ حقیقت ہمارے دلوں کو بے قرار نہیں کرتی کہ عین اسی مقصد سے شریعت نے خطبۂ جمعہ کا حکم دیا تھا، اور ہم نے اس کی برکتوں کا دروازہ اپنے اوپر بند کر لیا ہے۔
ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی قومی و اجتماعی کام انجام نہیں پا سکتا جب تک اس میں نظم و انضباط نہ ہو، اور یہ نہیں ہو سکتا جب تک اس کا کوئی رئیس و قائد مقرر نہ کیا جائے۔ پس ہم تیار ہو جاتے ہیں کہ جلسوں کےلیے صدر تلاش کریں، لیکن اگر یہی حقیقت شریعت کی ایک اصطلاح ’’امامت‘‘ کے لفظ میں ہمارے سامنے آتی ہے تو ہمیں تعجب و حیرانی ہوتی ہے اور اس کے لیے ہم تیار نہیں ہوتے۔
قافلۂ معاد
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
ملک
میں دہشت گردی اور تشدد کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور قیمتی
جانیں اس کی بھینٹ چڑھ رہی ہیں۔
- گزشتہ دنوں چیچہ وطنی ضلع ساہیوال کے معروف
عالم دین پیر جی عبد العلیمؒ رائے پوری اپنے ایک ساتھی کے ساتھ دہشت گردی
کا شکار ہو گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ پیر جی عبد العلیمؒ حق گو اور
بے باک عالم تھے، مجلسِ احرارِ اسلام کے راہنماؤں میں سے تھے اور بزرگ
عالمِ دین حضرت مولانا پیر جی عبد اللطیف رائے پوریؒ کے فرزند تھے۔
- اسی
طرح سپاہ صحابہؓ ضلع منڈی بہاؤ الدین کے سربراہ مولانا محمد اسلم عابدؒ
بھی دہشت گردی کا نشانہ بن گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔
- کراچی
میں متعدد مساجد کے باہر دہشت گردی کی فائرنگ سے درجنوں افراد جاں بحق ہو
گئے، جن میں ہمارے حقیقی پھوپھی زاد بھائی مولانا سید نور الحسن شاہؒ بھی
شامل ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔
- علاوہ ازیں سعودی عرب میں
ریاض کے قریب تمیر کے مقام پر جناب قاری فدا محمد ضیاء ٹریفک کے حادثہ میں
جاں بحق ہو گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ قاری صاحب مرحوم راقم الحروف کے
حفظِ قرآن کریم کے ساتھی تھے اور مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے سابق
مدرس تھے۔ ان کی نمازِ جنازہ مسجد نبوی میں ادا کی گئی اور انہیں جنت
البقیع میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔
اللہ تعالیٰ مرحومین کو جنت الفردوس میں جگہ دیں اور پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا الٰہ العالمین۔
یہ صحافتی اخلاق و دیانت کے منافی ہے
ادارہ
بحمد اللہ
تعالیٰ ’’الشریعہ‘‘ میں شائع ہونے والے مضامین علمی حلقوں میں پسند کیے
جاتے ہیں اور پاکستان و بھارت کے متعدد جرائد ان میں سے اہم مضامین کو اپنے
صفحات میں نقل کرتے ہیں جو ہمارے لیے مسرت و افتخار کی بات ہے، البتہ بعض
جرائد کے ذمہ دار حضرات مضامین نقل کرتے ہوئے الشریعہ کا حوالہ دینے کی
زحمت نہیں فرماتے جس پر ہم بجا طور پر شکوہ کا حق رکھتے ہیں۔ مگر لاہور سے
ایک دینی ادارے کے زیراہتمام شائع ہونے والے ماہوار جریدہ ’’روحِ منظور‘‘
نے جلد ۵ شمارہ ۱ (جنوری) میں ’’شیعہ سنی کشمکش‘‘ کے حوالہ سے ’’الشریعہ‘‘
کے مدیر اعلیٰ کا مضمون نقل کیا ہے اور مضمون نگار کے طور پر محمد یونس
حداد کا نام تصویر کے ساتھ شائع کر دیا ہے۔ ہم اسے ایک اتفاقی غلطی پر
محمول کرتے ہوئے جریدہ کے ذمہ داران کو توجہ دلانے پر اکتفا کر لیتے، لیکن
واقعہ یہ ہے کہ مذکورہ جریدہ کے اسی شمارے میں مدیر اعلیٰ الشریعہ کے مضمون
کے علاوہ درج ذیل تین مضامین بھی اصل مضمون نگاروں کے بجائے جعلی ناموں کے
ساتھ شائع کیے گئے ہیں:
(۱) ’’بھارت کا میزائل سازی کا جنون‘‘
کے عنوان سے ماہنامہ صدائے مجاہد اسلام آباد کے ایک گزشتہ شمارے میں شائع
ہونے والا مضمون ایم اے شیدا ایڈووکیٹ کے نام سے۔
(۲) ’’کس قیامت کے یہ بل۔۔۔‘‘ کے زیر عنوان ایک معاصر روزنامہ میں چھپنے والا کالم مسعود اختر قریشی کے نام سے۔
(۳)
اور ’’جہیز اور شادی کے فضول اخراجات‘‘ کے موضوع پر ماہنامہ اصلاحِ معاشرہ
لاہور میں شائع ہونے والا مضمون مولانا سرفراز احمد خان کے نام سے۔
اس
سے صاف واضح ہوتا ہے کہ مضامین کی چوری کا یہ عمل باقاعدہ اہتمام کے ساتھ
انجام دیا گیا ہے۔ یہ صریحاً صحافتی بددیانتی ہے جس پر ہم شدید احتجاج کرتے
ہیں اور یہ عرض کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ آئندہ ایسی حرکت کے اعادہ پر
قانون کا دروازہ کھٹکھٹانا ہمارے لیے ضروری ہو جائے گا۔
-
ادارہ
(۱) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے فرمایا ’’جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور
جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین کو بیڑیاں پہنا دی جاتی
ہیں۔‘‘ (متفق علیہ)
(کمپوزنگ جاری)