دسمبر ۱۹۹۵ء

فوجی افسران کی گرفتاری اور سرکاری موقفمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
عالمِ اسلام کے مسائل، علمی و فکری تناظر میںاقبال احمد صدیقی 
شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر کا سفر حرمین شریفینمفتی محمد جمیل خان 
حضرت شیخ الحدیث مدظلہ کا دورہ کوئٹہ و قندھارمولانا عبد القدوس خان قارن 
ورلڈ اسلامک فورم کا دوسرا سالانہ میڈیا سیمینارادارہ 
تعارف و تبصرہمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
اشاریہ ماہنامہ الشریعہ جلد ۶ (۱۹۹۵ء)ادارہ 

فوجی افسران کی گرفتاری اور سرکاری موقف

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

پاک فوج کے بعض افسروں کی گرفتاری کے تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد وزیراعظم اور وزیر دفاع کے بیانات نے اس سلسلہ میں ملکی اور عالمی سطح پر ہونے والی بحث کو ایک نیا رخ دے دیا ہے اور حکومت کی مسلسل خاموشی سے پیدا ہونے والے شکوک و خدشات ختم ہونے کی بجائے مزید سوالات و شبہات کو جنم دینے کا باعث بن گئے ہیں۔ میجر جنرل ظہیر الاسلام اور بریگیڈیر مستنصر باللہ سمیت دو درجن کے لگ بھگ افراد اس وقت زیرحراست ہیں جن میں فوجی افسران کے علاوہ بعض علماء کرام بھی شامل ہیں۔ ان گرفتاریوں کے بارے میں مختلف حلقوں کی طرف سے جو قیاس آرائیاں اب تک سامنے آئی ہیں وہ کچھ اس طرح ہیں کہ:

یہ تو وہ قیاس آرائیاں ہیں جو مختلف حلقوں کی طرف سے ملکی اور بین الاقوامی پریس کے ذریعے سامنے آئی ہیں، لیکن وزیر دفاع جناب آفتاب شعبان میرانی نے سینٹ میں سینیٹر حافظ حسین احمد کے سوال پر سرکاری پالیسی کی وضاحت کرتے ہوئے جو کچھ کہا ہے اور بعد میں وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو نے بھی سینٹروں کے اعزاز میں دی گئی ایک دعوت میں گفتگو کرتے ہوئے اس کی تصدیق کی ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ:

’’یہ افسر ملک میں اسلامی انقلاب لانے کی سازش کر رہے تھے، انہوں نے کور کمانڈرز کی میٹنگ میں فوجی قیادت کو اور بعد میں صدر اور وزیراعظم کو قتل کر کے اقتدار پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا اور ملک میں نافذ کرنے کے لیے ’’خودساختہ شریعت‘‘ کا مسودہ بھی تیار کر لیا تھا۔‘‘

لیکن وزیردفاع نے ملک میں ’’مسلح اسلامی انقلاب‘‘ اور ’’اقتدار پر قبضہ‘‘ کی منصوبہ بندی کرنے والے افسروں سے جس اسلحہ کی برآمدگی ظاہر کی ہے وہ کسی کالج کے ہاسٹل پر قبضہ کرنے کے لیے بھی ناکافی ہے جبکہ وزیردفاع کا اصرار ہے کہ یہ افسران اس اسلحہ کے ذریعے ملک کی فوجی اور سیاسی قیادت کا صفایا کرنا چاہتے تھے۔ وزیردفاع کا کہنا ہے کہ ان افسروں پر فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا اور انہیں سزا ملے گی۔

جہاں تک فوجی عدالت میں مقدمہ کا تعلق ہے وہ فوج کا داخلی معاملہ ہے اور ہم اس کے بارے میں کوئی رائے نہیں دینا چاہتے۔ لیکن اسلام، کشمیر اور آنریبل امریکہ بہادر کا حوالہ سامنے آجانے کے بعد مجموعی تناظر میں یہ مسئلہ فوج کا داخلی مسئلہ نہیں رہا بلکہ پوری قوم کے جذبات و احساسات اس سے وابستہ ہوگئے ہیں اور وہ بجا طور پر حقائق سے براہ راست واقف ہونا چاہتی ہے۔ اس سلسلہ میں سب سے زیادہ قابل توجہ بات یہ ہے کہ ان فوجی افسران کی گرفتاری کے بعد قیاس آرائیوں یا سرکاری موقف کی صورت میں ان کے بارے میں جو کچھ کہا جا رہا ہے وہ سب یکطرفہ ہے اور اس سلسلہ میں ان کا اپنا موقف نہ اس وقت تک سامنے آیا ہے اور نہ موجودہ حالات میں اس کے سامنے آنے کی کوئی قابل اعتماد صورت موجود ہے۔ گرفتارشدگان کے بارے میں یکطرفہ اظہار رائے اور قیاس آرائیاں اس وقت اور زیادہ ذہنی الجھن کا باعث بن جاتی ہیں جب یہ بات سامنے آتی ہے کہ گرفتار فوجی افسران دینی رجحانات کے حامل اور محب وطن افراد ہیں۔ بالخصوص میجر جنرل ظہیر الاسلام وہ افسر ہیں جنہیں دہلی کے پاکستانی سفارت خانہ میں ڈیوٹی کے دوران بھارتی حکومت نے تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر وہاں سے نکال دیا تھا، ان کا قصور یہ تھا کہ انہوں نے پاکستان پر بھارتی حملہ کا منصوبہ قبل از وقت معلوم کر کے اس کی ساری تفصیلات پاکستان بھجوا دی تھیں اور پاکستان اس کی وجہ سے بھارتی جارحیت کا شکار ہونے سے بچ گیا تھا۔ جبکہ بریگیڈیر مستنصر باللہ کے بارے میں یہ بات ریکارڈ پر آچکی ہے کہ انہوں نے مجاہدین کشمیر کی امداد کے لیے اپنا ذاتی پلاٹ فروخت کر کے دس لاکھ روپیہ کا عطیہ کچھ عرصہ قبل دیا تھا۔

پھر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اسلحہ کی جو مقدار اور انقلاب کی منصوبہ بندی ان افسروں سے منسوب کی جا رہی ہے اگر وہ واقعی درست ہے تو پھر ان افسروں کی انکوائری سے زیادہ پاک فوج کے اس سسٹم کا ازسرنو جائزہ لینا ضروری ہو جائے گا جس کے تحت یہ افراد کرنل، بریگیڈیر اور میجر جنرل جیسے مناصب تک پہنچ گئے ہیں۔ کیونکہ اس طرح کی بچگانہ منصوبہ بندی کی توقع تو کسی کالج کے ان کھلنڈرے نوجوانوں سے بھی نہیں کی جا سکتی جو کوئی جاسوسی ناول پڑھ کر یا جاسوسی فلم دیکھ کر اپنے مخالفوں کے کیمپ پر قبضے کے منصوبے بنانے بیٹھ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کے بیشتر دینی حلقوں کے ساتھ ساتھ سینٹ اور قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈروں نے بھی سرکاری موقف کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ چنانچہ نوائے وقت لاہور ۲۱ نومبر ۱۹۹۵ء کے مطابق قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں محمد نواز شریف نے پشاور میں اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے گرفتار فوجی افسران کے بارے میں سرکاری موقف کو جھوٹ پر مبنی قرار دیا ہے۔ جبکہ ۱۵ نومبر کو سینٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر راجہ محمد ظفر الحق نے اس سلسلہ میں سرکاری موقف کو مسترد کرتے ہوئے گرفتار فوجی افسران کے خلاف کھلی عدالت میں مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا ہے۔

الغرض گرفتار فوجی افسران کے بارے میں وزیراعظم اور وزیر دفاع کے بیانات نے شکوک و شبہات کا ازالہ کرنے کی بجائے معاملہ کو مزید الجھا دیا ہے اور گرفتارشدگان کا موقف سامنے آئے بغیر ان کے بارے میں یکطرفہ قیاس آرائیوں اور بیانات نے انصاف کی رہی سہی توقعات کو بھی دھندلا کر رکھ دیا ہے۔ ان حالات میں انصاف کے مسلمہ تقاضوں کو پورا کرنے اور ملکی و عالمی رائے عامہ کو مطمئن کرنے کی اس کے سوا کوئی صورت باقی نہیں رہ جاتی کہ گرفتارشدہ فوجی افسران کو اپنا موقف اور پوزیشن واضح کرنے کے لیے ذرائع ابلاغ تک رسائی کے مواقع فراہم کیے جائیں، اور ان پر مقدمہ بے شک فوجی عدالت میں چلایا جائے لیکن ملک کے شہریوں اور اخبارات کے نمائندوں کو عدالتی کاروائی سننے اور اس سے رائے عامہ کو باخبر رکھنے کی اجازت دی جائے۔ ورنہ یکطرفہ پراپیگنڈا اور کسی بند عدالت کی کاروائی سے حکومت وقتی مقاصد حاصل کرنے میں تو شاید کامیاب ہو جائے لیکن ایسی کوئی کاروائی انصاف اور اخلاق کی عدالت سے جواز کی سند حاصل نہیں کر پائے گی۔

مصری سفارت خانہ میں دھماکہ

گزشتہ دنوں اسلام آباد میں مصری سفارت خانہ میں بم کے دو دھماکوں میں ڈیڑھ درجن کے لگ بھگ افراد جاں بحق ہوگئے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ مصر کی بعض تنظیموں نے اس کی ذمہ داری قبول کرنے کا اعلان کیا ہے، اور مصر میں حکومت اور دینی حلقوں کے درمیان جو کشمکش ایک عرصہ سے چلی آرہی ہے اس کے پیش نظر اس قسم کے دھماکے غیر متوقع نہیں ہیں۔

جہاں تک بم دھماکے کا تعلق ہے ہر ذی شعور اس کی مذمت کرے گا اور اس قسم کی وارداتیں مذمت ہی کی مستحق ہیں، لیکن اس کی آڑ میں پاکستان بھر میں علماء اور دینی کارکنوں کے خلاف وسیع پیمانے پر جن کاروائیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے اور وزیر داخلہ ریٹائرڈ بریگیڈیر نصیر اللہ بابر جس جارحانہ انداز میں رائے ونڈ کے تبلیغی اجتماع، دینی مدارس اور اسلام آباد کی بین الاقوامی یونیورسٹی کی کردار کشی کی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں وہ دینی حلقوں کو بہرصورت دبانے کی حکومتی خواہش کا آئینہ دار ہے۔

آنریبل امریکہ بہادر اور اس کی بہی خواہ بہت سی مسلم حکومتیں بلاشبہ عالم اسلام کے دینی حلقوں کی سرگرمیوں سے پریشان ہیں اور انہیں کنٹرول کرنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہی ہیں لیکن تاریخ کے دھارے کا رخ موڑنا کسی کے بس کی بات نہیں ہوتا، خدا کرے کہ یہ بات جلد ان کی سمجھ میں آجائے۔

عالمِ اسلام کے مسائل، علمی و فکری تناظر میں

اقبال احمد صدیقی

جناب اقبال احمد صدیقی ملک کے معروف دانش ور صحافی ہیں، ایک عرصہ تک ’’اخبار جہاں‘‘ کراچی کے مدیر رہے ہیں اور ملتِ اسلامیہ کے مسائل و مشکلات کے ادراک و احساس سے بہرہ ور ہیں۔ عالم اسلام کے مسائل کے حوالہ سے انہوں نے ’’الشریعہ‘‘ کے لیے مندرجہ ذیل مضمون ارسال کر کے ہماری حوصلہ افزائی فرمائی ہے، جس پر ہم ان کے شکر گزار ہیں اور آئندہ بھی کرم فرمائی کی امید رکھتے ہیں۔ (ادارہ)

اقوام کی ترقی اور زوال میں ایک حد تک اندرونی انتشار، نفاق انگیز سرگرمیاں یا لاشعوری کوتاہیاں شامل ہوتی ہیں، لیکن آج عالمِ اسلام پر تمام سامراجی اور لادینی عناصر نے یلغار کر دی ہے۔ مثلاً‌ وادی جموں و کشمیر، فلسطین خصوصاً‌ بیت المقدس، بوسنیا ہرزگوینا، مصر، سوڈان، الجزائر، چیچنیا، دوسری نوزائیدہ اور روسی (مسلم ریاستیں) اور افغانستان میں مسلمانوں کا خون بے دردی سے بہایا جا رہا ہے۔ راسخ العقیدہ مسلمانوں کو تو امریکہ میں تختہ دار پر لے جایا جا رہا ہے۔ 
قومیں جب تباہ ہونے لگتی ہیں، فسق و فجور کو ثقافت اور روایات تمدن کا درجہ دے دیا جاتا ہے، تو اس منطقی عمل سے پہلے اس قوم کے اربابِ اقتدار اور اربابِ علم بگڑ جاتے ہیں۔ در حقیقت تاریخی ماثر بصائر و عبر پر عمیق نظر رکھنے والے مسلمان محقق حضرات کی اکثریت اس قول پر متفق ہے۔ حتیٰ کہ اسلام کی ارفع و اعلیٰ حقانیت سے بے خبری اور چشم پوشی اختیار کرنے والے علم و عقل کی آویزش، نظریاتِ مستعار، اور افکارِ باطلہ کے گرداب میں پھنس کر رہ جاتے ہیں، اور ان میں سے بعض زیادہ خود فراموش اور خدا ناشناس لوگ بنی نوع انسان کے مجموعی مسائل کا حل فکری انحطاط کی اسی شکست و ریخت اور ’’محو تماشائے لب بام عقل‘‘ کے محدود دائرے میں ڈھونڈھنا شروع کر دیتے ہیں۔ جبکہ دل کش اختراعات اور مسلک ایجادات کے اس ’’عجائب گھر‘‘ سے انہیں کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ اگر کچھ نظر آتا ہے تو یہ کہ خس و خاشاک کا ایک ڈھیر، اور حدِ نگاہ تک محض ایک سراب۔
یہ کوئی محتاجِ انکشاف راز نہیں کہ ہم کہیں، نہ خبر میں، بلکہ بوجوہ صراحت جانتے ہیں کہ جہانِ آب و گل اپنے تمام تر رنگ و روشنی کے باوجود خیر و شر سے مرکب ہے۔ علم مومن کی میراث ہے، علمائے حق انبیاء کے وارث ہیں۔ دینِ حق کی صحیح شناخت، شعور اور ادراک رکھنے والے ہمارے علو مرتبت اسلاف کے قائم مقام ہیں۔ بلکہ اس میں شک نہیں کہ انسانی شرافت، نیک نفسی، اخلاقِ کریمانہ، اور دینی شعائر کے مؤثر ابلاغ کی ذمہ داری پوری کرنے والا یہ مذہبی طبقہ معاشرے میں شریعت اور طریقت کا رہبر نگہبان ہے۔ 
خصوصاً‌ ان ناموافق حالات، طلبِ جاہ و حشم، حرص و طمع، ذاتی مفاد پرستی، دوسروں کا حق غصب کرنے کے رجحانات عام ہونے کے اس ماحول میں نیکی، ایمان، حق و انصاف پر ثابت قدم رہنا اور دوسروں کے لیے تقلید و ترغیب کی مثال بننا بڑی قوت ارادی ہے۔ اور شومئی قسمت سے کوئی شخص مردِ حق آگاہ ہو کر بھی اپنے فاضل اساتذہ اور بلند مرتبہ اسلاف کی پیروی اور دینی عظمت و ایمانی استقامت سے کنارہ کش ہو کر محض انفرادی منفعت، کرسئ اقتدار، اربابِ اختیار کی خوشنودی میں اپنا دامن دنیاوی کثافت سے آلودہ کر رہا ہے تو وہ عملاًً‌ خسارے میں ہے۔ آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کے فیضانِ رحمت سے دوری اور آپؐ کے اسوۂ حسنہ سے دوری، بے گانگی، اس خود پرست، خدا ناشناس کی دینی بدنصیبی بھی ہے اور دنیا میں بھی سیاہی، ذلت اور تحقیر بالذات اس کے لیے نوشتۂ دیوار ہے۔ علمائے حق نے اپنی زندگی میں بڑے صبر آزما مصائب جھیلے لیکن محکوم اور کاسہ لیس بن کر شاہانِ وقت کی دہلیز پر سجدہ ریز نہیں ہوئے۔ 
علم و عقل کی پوری آویزش میں صرف اسلام کی حقانیت ارفع و اعلیٰ ہے۔ اور کلامِ ربانی کی حکمت آفرینی اور ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی اثر انگیزی اتنی مؤثر اور سحر خیز ہے کہ مبالغینِ اسلام پر اللہ رب العزت نے صرف ابلاغِ دینِ حق کا فرض چھوڑا ہے۔ ماضی کے دریچے گواہ ہیں کہ جب اللہ وحدہٗ لا شریک کے برگزیدہ بندے اور سید الانبیاء محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، صاحبِ قاب قوسین کے اسوۂ حسنہ کے پیروکار یعنی سرکار دو عالم کے غلام کرۂ ارض پر مشرق تا مغرب، شمال تا جنوب اسلام کا پیغامِ انقلاب لے کر پہنچے تو دور افتادہ ممالک میں بود و باش رکھنے والی اجنبی اقوام، دیس بدیس کے قبائل مختلف زبانیں بولنے والے امیر و غریب عوام و خواص نے ان علماء و مشائخ، مجاہدین اور صادقین کے روبرو اپنے آپ کو فرشِ راہ کر دیا۔ اور یوں جہل و کفر ایک خدا اور ایک رسولِ آخریںؐ اور دین کو مکمل کرنے والے صحیفۂ آسمانی قرآن کریم سے ناواقف معاشروں کی تاریکی میں صداقتِ اسلامی کا اجالا پھیل گیا، وہ توحید خداوندی کے دامن سے وابستہ ہو گئے۔
کلمہ گویانِ حق کے حسنِ کلام نے، ان کے لائے ہوئے پیغاماتِ اخوت و محبت نے، انصاف اور مساوات کی تعلیم نے، ہر نسلی، تمدنی اور روایاتِ کہن کے احساس برتری کو یکسر معدوم کر دیا۔ اور فاران کی چوٹی سے مدینہ منورہ کی فضاؤں سے بلند ہونے والی ایک آہنگ دل نشیں کی صدائے بازگشت جب بھی اور جہاں بھی پہنچی اور مجاہدین اور خدامِ اسلام بحر و بر کے طویل راستے طے کر کے بنی نوع انسان کے لیے با مقصد زندگی گزارنے کا صحیح شعور لے کر آئے۔ افکارِ باطلہ کی بساط خودبخود الٹ کر رہ گئی۔
سرد ترین قلوب کو گرما دینے والی یہی ولولہ انگیز اور پر تاثیر آواز بے شمار فضائل و محامد والے آتا جنت باب حضور رسالت پناہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جلیل القدر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین، تابعین، تبع تابعین، غازیان، مجاہدینِ اسلام، علمائے کرام، محدثین، فقہاء، مبلغین، مشائخ عظام کے ذریعہ ہر براعظم، ہر خطہ دشت و جبل، ہر صحرائی بستی، ساحل و آباد جزیرے اور ہر شاداب وادی میں گونجتی رہی، اذانیں بلند ہوتی گئیں، آفتابِ اسلامی کی شعاعوں سے اجالا پھیلتا گیا۔
آج نسلِ انسانی جس پر آشوب دور سے گزر رہی ہے۔ اس کے اہلِ نظر بڑے درد مندانہ لہجہ سے سوال کرتے ہیں کہ ایک زمانہ علمائے حق کا وہ تھا جب وہ خطیبانہ شان سے عوام و خواص کو مخاطب کرتے تھے تو ان کی اثر انگیز بات دلوں میں بلکہ رگ و پے میں اتر جاتی تھی، اور وہ اس اظہارِ خیال کے نفسِ مضمون کو حرزِ جاں بنا لیتے تھے ، حرف و معنی کے ساتھ شعوری طور پر اپنا لیتے تھے۔ اور یہ مناظر تو ہم نے خود دیکھے ہیں کہ نماز عشاء کے بعد خطاب شروع ہو کر اذانِ فجر تک چلا لیکن حاضرین میں سے کوئی اپنی جگہ سے اٹھ کر نہیں گیا۔
لیکن آج ایسا کیوں نہیں ہے۔ کوئی مسئلہ اجتماعی ہو یا معاشرتی اہمیت کا مسئلہ ہو، یا علمی اہمیت کا، وہ ظن و تخمین کی نذر ہو جاتا ہے۔ قومی اور نظریاتی موضوع کا راستہ مصلحت روکتی ہے۔ بعض اوقات اچھے خاصے معروف علماء اہلِ دانش اور مشہور اہلِ قلم، سماجی زعماء بلند آہنگی تو اختیار کرتے ہیں لیکن حق گوئی اور اخلاقی جرأت سے محروم ہونے کے سبب سچائی کا ابلاغ نہیں کر پاتے۔ وہ ابہام کا دامن پکڑ لیتے ہیں اور ان کی آوازیں گلوگیر ہو جاتی ہیں۔ صاف اور صریح بات یہ ہے کہ جن کو خوفِ خدا کا احساس نہ ہو، ملت سے زیادہ اپنا ذاتی مفاد عزیز ہو، منصب اور متوقع جاہ پرستی کی فکر لاحق ہو، ان کے وعظ و بیان میں نہ حلاوت اور جاذبیت باقی رہتی ہے، نہ دلوں میں گھر کر جانے والی تاثیر، جہاں سے فکری انقلاب برپا ہوتا ہے ۔ 
گویا وہی سوال بدستور قائم رہتا ہے کہ پھر کس کی نصیحت پر عمل کریں، کس مشعل کو ہاتھ میں لیں، کس اعتبار کا سہارا لیں۔ ایک خودنما عالم بے عمل ہو کر جہل و نفاق اختیار کر لیں، جب رہبر اور رہزن کا فرق مٹ جائے۔ پھر یہ تاویل پیش کی جائے کہ بعض مسائل خالص علمی نکات ہوتے ہیں، جنہیں سمجھنا سمجھانا محض خواص کا کام ہے، گویا دوسرے بے خبر اور بے تعلق رہیں۔ پھر ایک اور مشکل درپیش ہے کہ علم، عقل اور عشق کے خار مغیلاں میں ہمارا دامن ایسا الجھا ہے کہ پاسبانِ عقل کو تنہا چھوڑنے کا مشورہ بھی دیا جانے لگا ہے۔ جب کہ ثابت قدم وہ بھی ہیں:
بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق 
عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی
جہاں تک علم کی فضیلت، حصولِ علم کی افادیت اور علمِ نافع کی ترویج و ابلاغ کا تعلق ہے ملتِ اسلامیہ کے ہر فرد، مسلم معاشرے اور ہر اسلامی فلاحی ریاست کے لیے اس کا درجہ اور مرتبہ فرضِ عین کا ہے۔ جس سے نہ انکار ممکن ہے نہ صَرفِ نظر کی اجازت دی گئی ہے۔ پھر ہم اس فرض اور خدمتِ خلق سے محروم کیوں ہیں؟ قومی خزانے سے فروغِ علم ہی پر کم سے کم سرمایہ کیوں خرچ کیا جاتا ہے۔ آقائے دو جہاں امام الانبیاء حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فروغِ علم کی تاکید ان الفاظ میں فرمائی ہے:
’’تم مسلمانوں کو ان کی متاعِ گمشدہ یعنی (دولت ِعلم) عطا کر دو‘‘۔ (حدیث نبویؐ ماخوذ جامع صغیر دیلمی فی مسندہ)
اللہ کے محبوب پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور انداز سے خواندگی کے فوائد بیان فرمائے:
’’بہترین صدقہ یہ ہے کہ ایک مسلمان علم سیکھے اور پھر دوسرے مسلمان بھائی کو بھی سکھائے۔‘‘ (حدیثِ نبویؐ ترغیب و ترہیب) 
یہی سوال کہ اربابِ علم کی نت نئی اصطلاحات، ہلاکت خیز ایجادات، نظریاتی اختراعات اور بظاہر خوشحال لیکن عملاً زبوں حال اور دست و گریباں اقوامِ عالم کی صف میں مشرق و مغرب میں آج مسلمان کہاں کھڑے ہیں؟ 
ممتاز عرب اسکالر ڈاکٹر عبد الحلیم اویسی نے اپنے تحقیقی مقالے ’’العقل المسلم و تحلیات القرن الجدید‘‘ میں اب سے چند سال قبل کہا تھا، حالانکہ اس وقت ۲۱ویں صدی کی آمد آمد کا شور و غوغا اتنی شدت سے بلند بھی نہیں ہوا تھا، نہ ان اندیشوں، خطرات اور قیاس آرائیوں نے جنم لیا تھا، کہ ۲۱ویں صدی کے آغاز پر دنیا بھر کے ممالک بڑے پیمانے پر سیاسی، جغرافیائی اور ثقافتی تغیرات سے دو چار ہوں گے۔ ۱۹ویں صدی کی تہذیبی سرگرمیاں ایک مدفون تمدن قرار پائیں گی، اور بیشتر قوموں اور ملکوں کی سیاسی، سماجی شناخت اور خانہ جنگی بلکہ داخلی و خارجی سطح پر ہونے والی شکست و ریخت کی تاریخ ازسرنو مرتب کرنا ضروری ہو جائے گی۔ 
بہرحال اب بنی نوع انسان کو عقل دانش کے جس نقطۂ عروج اور مادہ پرستی میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی نوید ایک حسین خواب کے طور پر برملا سنائی جا رہی ہے، اس کے حقیقی نتائج فی الوقت نامعلوم ہیں۔ یا اس کا ٹھیک ٹھیک علم ۲۱صدی کے منصوبہ سازوں کو ہو گا۔ ہمارے سامنے تو مسئلہ جہل، اندھیرے اور بے خبری سے بچنے کا ہے۔ اس لیے علم درکار ہے۔
تقریباً یہی اضطراب اور کرب ہمیں مذکورہ بالا مقالے میں نظر آیا۔ فاضل عرب محقق کا نقطۂ نگاہ یہ ہے کہ نئی صدی ہجری کی ابتداء کرتے ہوئے عقلِ مسلم کے لیے یہ ضروری ہے کہ مستقبل کے چیلنج سے غافل نہ رہے جس کا اسے بہرحال سامنا کرنا ہے۔ اور ملتِ اسلامیہ کے لیے یہ زیادہ سخت امتحان ہے۔ چونکہ اس سے ایمانی قوتِ، ملّی غیرت، جذبۂ جہاد کی توانائی اور خشیتِ الٰہی کا شعور و احساس خدانخواستہ چھین لیا جائے تو بندہ مومن بالکل تہی دامن اور خس و خاشاک کا ڈھیر ہو کر رہ جاتا ہے۔ غیر مسلموں کے لیے تو مادی ترقی کافی ہے۔ 
اب مسلمانوں کی تمام تر توجہ اس نکتۂ ضرورت پر مرکوز ہے کہ آخر مسلمان جاہلیت، اقتصادی و سماجی پسماندگی، جمود، بے عملی اور ترقی یافتہ اقوامِ عالم کے دستِ نگر ہو کر کیوں رہ گئے ہیں؟ اقوامِ عالم کی پچھلی قطار میں کیوں کھڑے ہیں؟ کیا یہ بے تدبیری کا سانحہ ہے؟ 
راقم الحروف تلاشِ حق میں مصروف اس طبقۂ آگہی سے متفق ہے جو ایسی نام نہاد ترقی پسندی اور مادہ پرستی کی بیساکھی کے ذریعہ دنیا کی مالی و معاشی کایا پلٹ دینے کا دعویٰ کرنے والوں کو بیک جنبش قلم مسترد کر چکے ہیں، جن کا سارا آئیڈیل ازم خود کھوکھلے ستونوں پر کھڑا ہے، جن کے تصوراتِ حق و انصاف کی اخلاقی اقدار، اور جن کے عقائد روحانی وجدان سے خالی ہیں۔ وہ پرانے سودی مالیاتی اداروں، فلک بوس بینکوں، اور علاقائی ترقی کے پر فریب منصوبوں سے کشکول بردار پسماندہ اقوام کو بھیک تو دے سکتے ہیں لیکن خدا شناسی، حقیقی خالق و رازق، احترامِ انسانیت اور جذبۂ جہاد کا شعور نہیں دے سکتے۔
افسوسناک پہلو درماندہ حالات کا یہ بھی ہے کہ ہم عہدِ حاضر میں ارتکازِ دولت، جھوٹی شان و شوکت، اور تعیش پسندی کی مسابقت میں اتنے زیادہ مدہوش ہیں کہ اقوامِ عالم کی تاریخ و تمدن سے یہ عبرت حاصل کرنے کی فرصت بھی نہیں کہ جب کسی عہد یا نسل کی باگ ڈور جاہلوں، خود غرضوں، سچائی، انصاف اور احترامِ انسانیت کا خون بہانے والوں کے ہاتھوں میں آ جاتی ہے تو قومیں اپنی تہذیبی خصوصیات اور مذہبی شعائر کے تقدس کے ساتھ تباہ ہو جاتی ہیں۔ ان کا تشخص اور نام و نشان مٹ جاتا ہے۔ صرف اللہ تعالی کا حکم اور انبیائے صادقین کی رہنمائی اس تباہی کو روک سکتی ہے۔ 
اہلِ تحقیق حیرت زدہ ہیں کہ مسلمان کو جو علم عطا کیا گیا تھا، جو عقل و دانش دی گئی تھی، وہ کہاں ہے؟ وہی تو ایک (خوش نصیب انسان ہے) جس نے آسمان سے وحی پائی ہے۔ اور اس کے کان میں پہلی آواز آئی ہے کہ ’’اقرا‘‘ (پڑھ)۔ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ اس ایک لفظ نے علم و عقل کی دنیا کھول دی ہے۔ پہلی صدی کا دروازہ جس طرح اس لفظ نے کھٹکھٹایا تھا، آج پندرہویں صدی کے دروازے پر بھی وہ اسی طرح دستک دے رہا ہے۔ دعوتِ عام ہے کہ اس لفظ کے رموز پر پوری معنی آفرینی کے ساتھ غور کیا جائے۔ کیا یہ ویسا ہی بے عملی، پسماندگی، اور جاہلیت کا دور ہے جیسا اس وقت تھا، جبکہ حضرت جبرئیل علیہ السلام مکہ مکرمہ کی نواحی پہاڑی کے غارِ حرا میں پہلی اور عظیم ترین تعلیم لے کر نازل ہوئے تھے۔
اقرا باسم ربک الذی خلق (۱) علم الانسان ما لم يعلم (۵) (سورۃ العلق) اس پوری سورۃ اور آیاتِ ربانی کا ترجمہ و تفسیر نہایت سنجیدہ غور و فکر کا مستحق ہے، تاہم مرکزی نکتہ اس کا یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جو خزینۂ علم عطا کیا ہے، یا علم حاصل کرنے اور اس کی حکمتِ بلیغ عام کرنے کی ہدایت مضمر رکھی ہے، وہ کسی ایک موضوع یا علمی پہلو تک محدود نہیں، نہ مخصوص وقت اور زمانے کے لیے ہے۔ یہ تحفۂ خداوندی تو بنی نوع انسان کے لیے رنگ، خوشبو اور روشنیوں کی جگمگاہٹ لیے ہوئے ہے۔ اس میں شرط صرف ایک ہی ہے اور وہ یہ کہ ’’جو علم ہو اللہ کے نام کے ساتھ ہو‘‘۔ چونکہ اس طرح ہر جہت سے علم خدا شناسی کی افادیت پوری کرے گا۔ اور آخرت تک زادِ سفر کے ساتھ پہنچنے کے لیے پل کا کام دے گا۔ ہمارے اہلِ قلم، فکری و ادبی اور نظریاتی محاذ پر کام کرنے والے متواتر غافل رہیں گے تو ان کا دین باقی رہے گا نہ دنیا میں فلاح واپس آئے گی۔
ہمارے ہاں ماضی قریب و بعید میں دین و دنیا، عقیدہ و عبادات، موجود اور لاموجود تمدنوں، مقامِ عقل و خرد، معاشی اصول و افکار، فلسفۂ جہاد، فکرِ سیاسی، قرآنی احکام، حدیث، فقہ، اجتماعی نظم و ضبط، اور دوسرے بے شمار موضوعات پر علمائے متقدمین، محققین نے بے شمار بلند پایہ ضخیم کتابیں تصنیف کی ہیں۔ تالیف و ترجمہ کا کام بھی ہمارے لائق اکابر نے بہت خوب کیا ہے۔ انہیں اکابر و اسلاف کی نشانی عہدِ حاضر کے صحیح العقیدہ علمائے کرام، اساتذہ اور مشائخ باعمل پر آج پھر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ایمانی استقامت اور مومنانہ فراست سے کام لیتے ہوئے ملتِ اسلامیہ کو انحطاط اور زبوں حالی سے نکال کر گمشدہ عظمت واپس دلائیں۔ اور قیادت، امامت اور بے علمی و فکری رہنمائی کے پرچم کو تھام کر اللہ رب العالمین کو راضی کرتے ہوئے آگے چلیں۔ محض نعرے، محض وعدے، محض الزامات اور اختلافات ملتِ اسلامیہ کو کوئی اثاثہ نہیں دے سکیں گے۔

شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر کا سفر حرمین شریفین

مفتی محمد جمیل خان

جوہانسبرگ سے براستہ ڈربن ابوظہبی کے لیے روانگی ہوئی۔ نشستیں اس طرح مخصوص تھیں کہ ابوظہبی میں ایک گھنٹہ قیام اور وہاں سے بحرین میں تقریبا ۶ گھنٹہ کا قیام تھا۔ اس لیے بحرین میں مولانا محمد احمد خان بردار خورد مولانا مفتی محمد انور شاہ ناظم وفاق المدارس العربیہ پاکستان کو اطلاع دے دی۔ خیال تھا کہ بحرین کی بھی سیر ہو جائے گی۔ لیکن تقدیر میں بحرین کی سیر نہ تھی۔ جوہانسبرگ سے جہاز روانہ ہونے لگا تو پتہ چلا کہ ایئرکنڈیشنر کے نظام میں خرابی ہے۔ دو گھنٹہ جہاز کی اصلاح میں لگ گیا۔ جوہانسبرگ سے ڈربن پہنچے تو ایک گھنٹہ مزید تاخیر ہو گئی۔ اس طرح جہاز مقررہ وقت سے ۴ گھنٹہ تاخیر سے پہلی منزل ابوظہبی کے لیے روانہ ہوا۔ تقریباً سوا ایک بجے جہاز ابوظہبی اترا جبکہ بحرین کی فلائٹ ہونے گیارہ بجے روانہ ہو گئی تھی۔ 
ابوظہبی پہنچ کر دوبارہ نشستیں مخصوص کرائیں تو صبح دس بجے ابوظہبی سے بحرین کے لیے جہاز ملا۔ جبکہ جدہ کے لیے حسبِ سابق ۱۲ بج کر ۴۵ منٹ پر روانگی تھی۔ پروگرام کے مطابق رات بارہ بجے سے ۲ بجے تک مولانا محمد احمد خان، قاری عبد الحلیم، قاری محمد ہاشم اور دیگر کئی حضرات حضرت اقدس کا انتظار کرتے رہے۔ دو بجے رات جب یقین ہو گیا کہ اب ابوظہبی سے بحرین پہنچنا ممکن نہیں اور ابوظہبی میں ٹھہریں گے تو مایوس ہو کر چلے گئے۔ اللہ تعالیٰ ان کو اس محبت و اخلاص کا اپنی طرف سے بہترین بدلہ عطا فرمائے۔ 
رات ابوظہبی کے ایئرپورٹ ہوٹل میں قیام ہوا ۔ صبح دس بجے ابوظہبی سے روانہ ہو کر بحرین کے وقت کے مطابق دس بجے بحرین ایئرپورٹ پر پہنچے۔ یہاں تین گھنٹہ کا انتظار تھا۔ حضرت مولانا محمد احمد خان صاحب، قاری عبد الحلیم صاحب اپنے دو صاحبزادوں کے ہمراہ ٹرانزٹ لان میں پہنچ گئے اور حضرت اقدس سے ملاقات کی۔ حضرت اقدس نے دونوں حضرات کو خوب دعائیں دیں اور دونوں حضرات اور دیگر شاگردوں کی تفصیلات معلوم کیں۔ 
قاری عبد الحلیم صاحب حفظ و تجوید کے چند مدارس کے نگران کی حیثیت سے قرآن مجید کی اشاعت میں مشغول ہیں۔ قاری صاحب جامعہ اشرفیہ کے فاضل ہیں اور پندرہ سال حضرت اقدس کے پاس گکھڑ میں شعبہ حفظ و تجوید کے صدر مدرس کی حیثیت سے بہترین خدمات انجام دے چکے ہیں۔ 
مولانا محمد احمد خان جامعہ بنوری ٹاؤن کے فاضل ہیں، جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں تعلیم حاصل کی۔ جامعہ بنوریہ میں تخصص کے مشرف کی حیثیت سے ایک سال کام کیا اور دار الافتاء کی طرف سے بحرین تشریف لائے۔ بہترین دینی خدمت انجام دے رہے ہیں، کئی غیر مسلم ان کی تبلیغ سے اسلام کی دعوت قبول کر چکے ہیں۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کی اشاعت قرآن مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ کشمیر، بوسنیا اور دیگر مظلوم مسلمانوں کی امداد میں پیش پیش رہتے ہیں۔ 
دونوں حضرات کے کاموں کی تعریف کرتے ہوئے دعا فرمائی کہ اللہ خدمات جلیلہ کو قبول فرمائے۔ حضرت اقدس نے دونوں حضرات کی ملاقات کے لیے تشریف آوری پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے دعا فرمائی کہ اللہ تعالٰی جزائے خیر عطا فرمائے۔ 
۱۲ بج کر ۴۵ منٹ پر حرمین شریفین کی برکات کے حصول کے لیے جدہ کے لیے جہاز روانہ ہوا۔ جدہ ایئر پورٹ پر مولانا مزمل حسین کپاڈیا حضرت کو لینے کے لیے آئے تھے، ان کے ہمراہ مکہ مکرمہ روانگی ہوئی۔ اس طرح اس سفر مبارک میں حرم کعبہ میں میزبانی کا شرف مولانا مزمل کے حصہ میں آیا۔ مولانا مزمل حسین کپاڈیا جامعہ بنوری ٹاؤن کے فضلاء میں سے ہیں۔ حضرت مولانا مفتی ولی حسن ٹونکی مفتی اعظم پاکستان کے خصوصی تلامذہ میں ان کا نام سرفہرست ہے۔ حضرت مفتی ولی حسن صاحب کے ساتھ فتنہ انکارِ حدیث کے سلسلے میں کام کیا۔ اقراء روضۃ الاطفال کے بانیوں میں سے ہیں اور نائب مدیر کی حیثیت سے خدمت انجام دے رہے ہیں۔ آج کل کُلیہ شرعیہ کی تعلیم کے لیے جامعہ ام القریٰ تشریف لائے ہیں۔ 
دو دن طویل سفر تھا، حضرت کو تھکان زیادہ تھی، اس لیے عصر کے بعد آرام فرمایا۔ بعد نماز مغرب مولانا مزمل حسین کے ہمراہ حرم بیت اللہ روانگی ہوئی۔ حضرت اقدس جب بیت اللہ پہنچے تو چہرہ مبارک عجیب انبساط اور خوشی کا مظہر تھا، کسی کو گوہرِ مقصود مل جائے، اس قسم کی کیفیت آپ پر طاری تھی۔ معصوم چہرہ جب خوشی سے منور ہو تو دیکھنے والے کو بھی سرور محسوس ہوتا ہے۔ وقار اور طمانیت کے ساتھ آپ نے بیت اللہ پر نگاہ پڑنے کی دعا فرمائی۔ احرام کو اضطباع کے مطابق کیا۔ حجرِ اسود کے قریب پہنچ کر نیتِ طواف فرماتے ہوئے پیدل بیت اللہ کا طواف فرمایا۔ طواف کی تکمیل پر ملتزم پر حاضری ہوئی۔ کافی دیر آہ و زاری کے ساتھ دعا میں مشغول رہے۔ بعد ازاں مقام ابراہیم پر تشریف لائے، دو رکعت واجب طواف ادا کر کے دیر تک دعا میں مشغول رہے۔ حرم بیت اللہ اور حرم نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ کی دعا کا انداز ہی جدا تھا۔ ایک عجیب انداز میں آپ دعا فرماتے رہے۔ 
مقام ابراہیم سے جب سعی کے لیے صفا کی طرف چلے تو عشاء کی اذان کے لیے موذن نے اذان کے کلمات سے ندا دی۔ نماز عشاء ادا کر کے سعی شروع فرمائی۔ راقم نے اصرار کیا کہ گھٹنوں کی تکلیف کی وجہ سے چلنا آپ کے لیے دوبھر ہے۔ چند قدم کے بعد سانس پھول جاتا ہے جس سے دل اور بلڈ پریشر کی تکلیف کا اندیشہ ہے۔ اس لیے کرسی پر سعی کرا دیتا ہوں۔ فرمایا، کرسی کی اجازت معذور افراد کے لیے ہے اور میں چل کر سعی کر سکتا ہوں۔ آہستہ آہستہ سعی شروع فرمائی۔ ہر چکر کے بعد پاؤں میں شدید تکلیف ہو جاتی تھی اور کئی منٹ بیٹھ کر پاؤں کی مالش وغیرہ کی جاتی۔ ان تمام تکالیف کو برداشت کیا لیکن کرسی پر بیٹھ کر سعی کرنا قبول نہیں فرمایا، ایک گھنٹہ میں سعی مکمل ہوئی اور گھر واپس تشریف لائے۔ 
دوسرے دن منگل کو مولانا مزمل حسین صاحب نے مکہ مکرمہ میں مقیم پاکستانی علمائے کرام کو مدعو کیا تھا تاکہ حضرت کی زیارت بھی ہو جائے۔ اس عشائیہ میں: مولانا عبد القیوم گلگتی جو دارالعلوم کراچی کے فاضل اور ام القریٰ میں بحیثیت محقق خدمات انجام دے رہے ہیں، کئی کتابوں پر آپ نے بہت عمدہ تحقیق کی ہے۔  مولانا سیف الرحمٰن جو حضرت درخواستی رحمۃ اللہ علیہ کے نواسہ داماد اور حضرت مولانا حبیب اللہ گمانی کے تلمیذِ خاص، جامعہ اشرفیہ کے فاضل، اور مدرسہ صولتیہ میں استاد حدیث ہیں۔  مولانا علاؤ الدین افغانی جامعہ علومِ اسلامیہ بنوری ٹاؤن کے فاضل، اور حضرت بنوری رحمۃ اللہ علیہ کے تلمیذ خاص، مولانا حبیب اللہ گمانی اور مولانا مفتی احمد الرحمٰنؒ، مفتی ولی حسنؒ کے تربیت یافتہ، مدرسہ صولتیہ میں استاد حدیث۔ مولانا عبد الغفور سندھی جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کے فاضل، حضرت اقدس مولانا بنوری رحمۃ اللہ علیہ سے دوسری شادی کی نسبت سے قرابت دار، رابطہ عالم اسلامی میں محقق۔  مولانا عبد القیوم سندھی جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کے فاضل، حضرت مولانا محمد ادریس میرٹھی، مولانا مفتی ولی حسن ٹونکی، مفتی احمد الرحمٰن رحمۃ اللہ علیہ کے خصوصی تلمیذ، جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے فاضل، جامعہ ام القریٰ میں استاد، تجوید القرآن اور تجوید کی دو کتابوں کے مؤلف۔ مولانا عبید اللہ جامعہ اشرفیہ کے فاضل، جامعہ ام القریٰ کے فاضل اور ڈاکٹریٹ کے سند یافتہ۔ محترم جناب انجینئر عبد المنان جن کو حضرت اقدس مرشدی مولانا فقیر محمد رحمۃ اللہ علیہ اور مولانا فضل الرحمٰن اور دیگر علمائے کرام کی میزبانی کا شرف حاصل ہے۔  مکرم و محترم جناب حافظ عبد الستار حضرت شیخ کے متعلق خاص، علمائے کرام کے مکہ مکرمہ میں میزبان۔ عزیزم طاہر مکی جو حافظ عبد الستار کے صاحبزادے، مولانا عبد الحفیظ کے بھانجے اور حضرت مولانا مفتی محمود گنگوہی مدظلہ کے مرید خاص ہیں۔  برادرم محمد مسعود عبد الرزاق مرچنٹ قابل ذکر ہیں۔ 
حضرت اقدس سے علمائے کرام کی مختلف موضوعات پر گفتگو ہوئی۔ حضرت اقدس نے علمائے کرام کو تلقین کی کہ وہ اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ دین کی اشاعت میں صَرف کریں۔ بعد ازاں علمائے کرام کی نمائندگی کرتے ہوئے برادرم مولانا عبد القیوم سندھی نے حضرت اقدس سے درخواست کی کہ بخاری شریف کی چند احادیث سن کر اجازتِ حدیث مرحمت فرمائیں۔ حضرت نے پہلے بہت انکار فرماتے ہوئے کہا کہ آپ تمام علمائے کرام اور اہلِ علم ہیں۔ حرمِ کعبہ میں خدمتِ دین میں مصروف ہیں، مجھے زیب نہیں دیتا کہ میں آپ حضرات کو اجازت دوں۔ علمائے کرام حضرت اقدس کی تواضع سے بہت زیادہ متاثر ہوئے اور ان کے سامنے اپنے اکابر کی تصویر عملی شکل میں آگئی۔ بہرحال علمائے کرام کے اصرار پر حضرت نے اپنی دو سندوں کے مطابق اجازتِ حدیث اور اجازتِ تفسیر قرآن مرحمت فرمائی اور اپنے دستِ مبارک سے مولانا عبد القیوم سندھی کی فرمائش پر اجازتِ حدیث تحریر بھی فرما دی۔ 
نمازِ فجر حرمِ کعبہ میں ادا کی گئی۔ بعد نمازِ ظہر مولانا سیف الرحمٰن نے حضرت اقدس کے اعزاز میں ظہرانہ کا اہتمام کیا جس میں مدرسہ صولتیہ کے نائب مدیر مولانا محمد حلیم، مدرسہ صولتیہ کے مدرسین قاری محمد سراج اور عرب استاد مولانا علاؤ الدین افغانی، مولانا عبد القیوم سندھی وغیرہ نے شرکت کی۔ اس موقع پر بھی ان علمائے کرام نے جو گزشتہ شب موجود نہیں تھے، اجازتِ حدیث طلب کی، حضرت اقدس نے ان کو اجازت حدیث و تفسیر مرحمت فرمائی۔ 
حضرت اقدس نے محترم مولانا حلیم صاحب سے مدرسہ صولتیہ کے حالات معلوم کیے اور بہت خوشی کا اظہار کیا کہ جناب مولانا شمیم صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے بعد ان کے دونوں صاحبزادے مولانا محمد ہشیم اور مولانا محمد حلیم اپنے اکابر کی طرز سے مدرسہ کا انتظام جاری کیے ہوئے ہیں۔ حضرت نے مدرسہ کی ترقیات اور حاسدین کے شر سے حفاظت کی دعا مانگی۔ رات بعد نماز عشاء مولانا عبد الغفور سندھی کے گھر میں عشائیہ کا اہتمام تھا۔ 
جمعرات کو مدینہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم روانگی ہوئی۔ سیدھا مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے۔ ریاض الجنہ میں نوافل ادا فرما کر روضہ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام پیش فرمایا۔ کافی دیر اپنے محبوب و آقا سے راز و نیاز میں مصروف رہے۔ بعد میں روضہ اقدس اور امام کے داہنی طرف صف اول میں تشریف فرما ہو گئے۔ تلاوت کلام پاک میں تمام وقت گزارا ۔ ظہر کی نماز کے بعد حضرت کے پرانے شاگرد قاری محمد انور صاحب، قاری عبد العزیز نیازی محمد، مولانا مسعود صاحب تشریف لے آئے، انہوں نے حضرت سے درخواست کی کہ ان کے گھر میں آرام کے لیے تشریف لے جائیں۔ حضرت نے فرمایا کہ ایئرپورٹ جانے تک تو حرمِ نبوی میں ہی وقت گزارنا ہے، ایئر پورٹ جاتے ہوئے جس کا گھر راستہ میں ہو، وہاں کچھ دیر کے لیے چلے جائیں گے، لیکن چلنے میں دقت ہے، اس لیے ایسی جگہ ہو جہاں چلنا نہ ہو۔ 
جناب عبد العزیز نیازی صاحب نے کہا کہ حضرت میرے پاس دروازے تک آنے کا اجازت نامہ ہے، میں گاڑی باب السلام پر لے آؤں گا۔ عصر کی نماز سے پہلے الوداعی سلام کے لیے حاضری ہوئی۔ بعد نماز عصر قاری محمد انور مولانا عبد العزیز نیازی کے ہمراہ مولانا مسعود صاحب کی مسجد میں تشریف لے گئے۔ انہوں نے ظہرانہ اور عصرانہ کا مشترکہ اہتمام کیا ہوا تھا۔ وقت کی کمی کا گلہ کرتے ہوئے ان حضرات نے حضرت سے وعدہ لیا کہ آئندہ ان کے یہاں قیام فرمائیں گے۔ ایئرپورٹ تشریف لے گئے، شام سات بجے کی فلائٹ سے جدہ روانگی ہوئی۔ 
جدہ ایئرپورٹ پر عزیزم عامر سعید جو سعودی ایئر لائن میں ملازم ہیں، آئے ہوئے تھے۔ ان کے ساتھ ان کے گھر گئے۔ انہوں نے عشائیہ کا اہتمام کیا تھا۔ برادرم مولانا مزمل حسین کپاڈیا، صاحبزادہ مولانا عبد الباسط (جو پاکستان کے ہیں۔ اچھے عالم اور خطیب ہیں۔ جدہ کی مشہور مسجد میں امامت و خطابت کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ ان کے دروسِ قرآن جدہ کے مسلمانوں میں بہت مقبول ہیں۔ اردو نیوز میں قارئین کے مسائل کے فقہی جواب کا کالم بھی مقبولیت اختیار کر گیا ہے) نے بھی اس عشائیہ میں شرکت کی۔ رات عامر سعید کے یہاں قیام ہوا۔ 
صبح چھ بجے کراچی کے لیے براستہ ابوظہبی فلائٹ تھی۔ مزمل حسین کپاڈیا اور عامر سعید نے ایئرپورٹ کے تمام مراحل سے گزار کر حضرت اقدس اور راقم الحروف کو رخصت کیا۔ کراچی ایئر پورٹ پر مفتی خالد محمود جو جامعہ علومِ اسلامیہ بنوری ٹاؤن کے فاضل، مفتی اعظم پاکستان مولانا مفتی ولی حسن رحمۃ اللہ علیہ کے تلمیذ خاص، اقرا روضۃ الاطفال کے نائب مدیر، مولانا عبد الخالق ناظم لاہور اقراء روضۃ الاطفال شاخ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، برادرم عبد الرزاق، حاجی شمیم احمد شمسی جو کراچی میں حضرت اقدس کے میزبان ہیں، استقبال کے لیے تشریف لائے تھے۔ ان کے ہمراہ شمیم شمسی کے گھر پر تشریف لے گئے۔ رات کو برادرم عبد الرزاق نے عشائیہ کا اہتمام کیا تھا، اس میں مولانا مفتی نظام الدین شامزئی فاضل جامعہ فاروقیہ اور جو جامعہ علوم اسلامیہ تھا  بنوری ٹاؤن کے استاد حدیث و مشرف تخصص فی الفقہ، مقدمہ صحیح مسلم اور دیگر کئی کتابوں کے مؤلف ہیں۔ برادرم عزیزم محمد وسیم غزالی اقرا ڈائجسٹ کے منتظم، علمائے کرام کے خادم مفتی خالد محمود، محترم شمیم احمد شمسی نے شرکت کی۔ 
حضرت اقدس نے مفتی نظام الدین سے تدریس اور مالاکنڈ میں نفاذ شریعت محمدی کی تحریک سے متعلق معلومات حاصل کیں اور حضرت مفتی نظام الدین کی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کی ترقیات کے لیے دعا فرمائی۔ صبح بھائی شمیم صاحب کے یہاں ناشتہ کر کے حضرت مولانا مفتی نظام الدین، بھائی شمیم احمد، برادر عبد الرزاق اور راقم الحروف نے حضرت اقدس کو لاہور کے لیے رخصت کیا۔ برادرم مولانا عبد القدوس قارن کو اللہ تعالٰی جزائے خیر عطا فرمائے، لاہور ایئرپورٹ تشریف لائے اور حضرت اقدس بخیریت و عافیت بروز ہفتہ ایک بجے دو پر گکھڑمنڈی اپنے دولت خانہ پر پہنچ گئے۔

حضرت شیخ الحدیث مدظلہ کا دورہ کوئٹہ و قندھار

مولانا عبد القدوس خان قارن

۱۶ اکتوبر ۹۵ء کو مولانا عبد المالک صاحب ہزاروی نے بذریعہ فون شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم سے جامعہ قاسمیہ کلی دیبہ کوئٹہ کے جلسہ دستار بندی کے لیے تاریخ کا تقاضا کیا جو کہ حضرت نے منظور فرما لیا اور ۲۹ تا ۳۱ اکتوبر بروز اتوار پیر اور منگل کی تاریخیں دے دیں۔ 
۲۹ اکتوبر بروز اتوار لاہور ایئر پورٹ سے ۲ بج کر ۵۵ منٹ پر پی آئی اے کے طیارہ پر سوار ہوئے اور تقریباً سوا چار بجے کوئٹہ ایئر پورٹ پر پہنچے، وہاں ایئرپورٹ پر مولانا عبد المالک ہزاروی، مولانا عبد الغفور صاحب مہتمم جامعہ قاسمیہ، مولانا عبد المجید صاحب، مولانا حافظ خیر محمد صاحب اور حاجی محمد ابراہیم صاحب تقریباً‌ پندرہ گاڑیوں پر سوار ساتھیوں کے ہمراہ استقبال کے لیے موجود تھے۔ حضرت شیخ الحدیث صاحب کو دیکھ کر کوئٹہ ایئرپورٹ نعرہ ہائے تکبیر اور علماء دیوبند زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا۔ 
ایئرپورٹ سے جامعہ قاسمیہ پہنچے۔ وہاں مختصر قیام کے بعد جامعہ خیر المدارس گلی گل محمد پہنچے۔ وہاں مغرب کی نماز کے بعد حضرت شیخ الحدیث صاحب نے طلبہ اور علماء سے خطاب فرمایا اور شام کا کھانا وہیں کھایا۔ 
عشاء کی نماز پڑھ کر حاجی محمد ابراہیم صاحب کے ہاں گلی عالمو چمن روڈ پہنچے۔ رات کو وہاں قیام کیا۔ 
سوموار کو صبح کی نماز کے بعد حاجی محمد ابراہیم کی مسجد میں افغانستان کے زخمی طالبان سے پشتو میں خطاب فرمایا اور ان سے حالات معلوم کیے۔ اور وہاں مولانا محمد اختر صاحب جو کہ طالبان کے اہم عہدے دار تھے، انہوں نے اپنے رفقاء سمیت حضرت شیخ الحدیث دام مجدہم سے حاجی محمد ابراہیم کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور قندھار جانے کی پرزور دعوت دی۔ گوجرانوالہ واپسی کے ٹکٹ ۳۱ اکتوبر کے ہو چکے تھے مگر ان حضرات کے شدید اصرار پر سیٹیں کینسل کروا کر ۲ نومبر ۹۵ء جمعہ کے دن کی سیٹیں دوبارہ لی گئیں۔ 
سوموار کے دن ۱۱ بجے کے قریب جامعہ قاسمیہ میں دارالحدیث کا افتتاح کیا۔ جامعہ قاسمیہ کے شیخ الحدیث مولانا عبد القادر، جامعہ کے خطیب عزیز احمد صاحب اور ناظم حافظ عبد الرؤف اور شہر کے دیگر علماء اور معززین کی موجودگی میں طلبہ کو بخاری شریف کی ایک حدیث پڑھ کر روایتِ حدیث کی اجازت عنایت فرمائی۔ 
حاجی محمد ابراہیم صاحب اور مولانا عبد الغفور صاحب نے شہر کے اہم مقامات کی سیر کرائی اور پھر حاجی محمد ابراہیم کی رہائش گاہ میں آرام و طعام کے لیے تشریف لے گئے۔ 
ظہر کی نماز کے بعد جامعہ قاسمیہ کے جلسہ کی پہلی نشست شروع ہوئی اور عصر کی نماز کے بعد راقم الحروف نے مدارس عربیہ اور ان کی اہمیت کے موضوع پر معروضات پیش کیں۔ 
عشاء کی نماز کے بعد جلسہ کی دوسری نشست شروع ہوئی، مولانا عبد الکریم ندیم صاحب نے سیرت رسولؐ پر مفصل خطاب فرمایا۔ ان کے بعد حضرت شیخ الحدیث صاحب دام مجدہم نے حفاظ کی دستار بندی کی اور جلسہ سے خطاب فرمایا۔ 
جلسہ سے فارغ ہو کر حاجی محمد ابراہیم صاحب کی رہائش گاہ پر چلے گئے۔ رات کو وہاں آرام کیا اور صبح کی نماز اور ناشتہ سے فارغ ہو کر قندھار کے لیے روانہ ہوئے۔ لشکر محمدی طالبان کے امیر مولانا اختر محمد صاحب اپنے رفقاء سمیت اس قافلہ کے ہمراہ تھے۔ حضرت شیخ الحدیث صاحب دام مجدہم، حافظ عبد القدوس قارن، مولانا عبد الغفور صاحب، حافظ خیر محمد صاحب، مولانا عبد المجید صاحب، مولانا عبد المالک صاحب، حاجی محمد ابراہیم صاحب اور حاجی محمد عمر صاحب بھی اس قافلہ میں شریک تھے۔ یہ قافلہ چمن سے گزر کر پاک افغان سرحد پر پہنچا۔ 
وفد کے ذمہ دار حضرات نے ضروری کارروائی مکمل کروانے کے بعد افغانستان میں جانے کے لیے افغان گاڑیوں کا انتظام کیا اور پہلی چوکی بولاک پہنچے۔ وہاں طالبان نے اس قافلہ کا خیر مقدم کیا اور دوپہر کے کھانے اور چائے کا انتظام کیا۔ ظہر کی نماز بولاک میں ادا کی اور پھر قندھار کے لیے روانہ ہوئے۔ اور ٹریفک کا دائیں ہاتھ چلنا پاک افغان سرزمین کے درمیان پہلی تبدیلی محسوس کی گئی۔ 
مغرب کی نماز قندھار کے قریب برلبِ سڑک ادا کی اور پھر قندھار گورنر ہاؤس پہنچے۔ رات کو آرام کیا اور صبح تقریباً دس بجے لشکر محمدی طالبان کے سربراہ اور طالبان کے مفتوحہ علاقہ کے کنٹرولر مولانا محمد عمر صاحب اور گورنر قندھار مولانا محمد حسن صاحب سے گورنر ہاؤس میں ملاقات کی۔ اس دوران طالبان کے بہت سے راہنما شریک تھے۔ ملاقات کے دوران حضرت شیخ الحدیث دام مجدہم، مولانا عبد المجید اور مولانا عبد الغفور نے مختصر خطاب کیا اور بعض خدشات کا اظہار کیا جن کے جوابات طالبان کے راہنماؤں نے باحسن طریق دیے اور اس پروپیگنڈہ کی پر زور تردید کی کہ طالبان کی کوئی بیرونی حکومت مدد کر رہی ہے۔ ان حضرات نے واضح طور پر بتایا کہ پاکستان سمیت کوئی بھی طاقت طالبان کو نہ تو مدد دے رہی ہے اور نہ طالبان کے اسلامی حدود کے نفاذ اور شریعت کے قانون پر راضی ہے۔ ان حضرات نے ہرات کے لیے اصرار کیا اور جہاز کا انتظام کیا مگر ان حضرات کی مصروفیات کو دیکھ کر حضرت شیخ الحدیث دام مجدہم نے ہرات کے پروگرام کو تسلیم نہ کیا۔
گورنر ہاؤس میں بیرونی وفود کی آمد و رفت اور طالبان رہنماؤں سے ملاقات کا سلسلہ بدستور جاری تھا۔ بالخصوص روسی جہاز جو کہ اسلحہ لے کر کابل جا رہا تھا، اس کو قندھار ایئرپورٹ پر طالبان نے اتارا اور اس سے بھاری مقدار میں اسلحہ پر قبضہ کیا اور جہاز کے عملہ کو گرفتار کیا۔ اس عملہ کی رہائی کے لیے اقوام متحدہ کے نمائندے بار بار سربراہان سے مل رہے تھے اور عملہ کی رہائی کے عوض بھاری رقوم اور اسلحہ کی پیشکش کی گئی ہے۔ مگر ان حضرات کا اصرار تھا کہ روس کے افغانستان کے اندر داخل ہونے کے وقت سے لے کر اب تک ہزاروں افغانی روس کی مختلف ریاستوں میں قید ہیں، ان کو رہا کیا جائے اور ان کی لسٹ ان نمائندوں کو مہیا کی۔ 
افغان طالبان کے سربراہان کی مصروفیات کی وجہ سے دورہ مختصر کر کے جمعرات کو واپس کوئٹہ کے لیے روانہ ہوئے۔ اس دوران روسی جہاز جو کہ قندھار ایئرپورٹ پر کھڑا تھا، اس کو دیکھا اور دشمن سے چھینے گئے بھاری مقدار میں کارآمد و بے کار اسلحہ کو بھی دیکھا۔ طالبان لباس اور طبیعت کے لحاظ سے سادہ ہونے کے باوجود اپنے مفتوحہ علاقہ میں اخلاقی اثر اور مضبوط گرفت رکھتے ہیں۔ 
جمعرات رات دس بجے کے قریب کوئٹہ حاجی محمد ابراہیم کی رہائش گاہ پر پہنچے۔ وہاں پہلے سے موجود جید علمائے کرام بالخصوص شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد الغنی صاحب اور مولانا نور محمد صاحب وغیرہ انتظار کر رہے تھے۔ 
جمعہ کے دن صبح ناشتہ سے فارغ ہو کر حضرت شیخ الحدیث دام مجدہم کلی شابو میں ایک مدرسہ میں دستار بندی کے لیے تشریف لے گئے اور پھر جمعہ جامعہ قاسمیہ میں پڑھایا۔ جبکہ راقم الحروف نے جمعہ جامع مسجد اکبری میں پڑھایا اور جمعہ کی نماز سے فارغ ہو کر ایک مدرسہ میں چائے پی اور پھر وہاں سے گاڑیوں کے قافلہ کے ساتھ ایئرپورٹ پر پہنچے۔ 
کوئٹہ میں قیام کے دوران راقم الحروف نے مدرسہ مطلع العلوم بروری روڈ کے مہتمم اور جمعیت علمائے اسلام کے بزرگ راہنما حضرت مولانا عبد الواحد صاحب کی وفات پر ان کے فرزند اور دیگر حضرات سے تعزیت کی اور مولانا مرحوم کے لیے مغفرت کی دعا کی۔ 

ورلڈ اسلامک فورم کا دوسرا سالانہ میڈیا سیمینار

ادارہ

ورلڈ اسلامک فورم کا دوسرا سالانہ میڈیا سیمینار ۱۴ اکتوبر ۹۵ء کو ٹامبے ہال ایسٹ لندن میں زیرصدارت جناب بیرسٹر یوسف اختر منعقد ہوا۔ اس کے مہمان خصوصی بی بی سی ورلڈ سروس کے ڈائریکٹر جنرل جان بیرڈ کے نو مسلم صاحبزادے جناب محمد یحیٰی صاحب تھے۔ سیمینار میں برطانیہ کے ممتاز صحافی، دانشور، میڈیا کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین کے علاوہ علمائے کرام نے شرکت کی۔ 

ورلڈ اسلامک فورم کے سیکرٹری جنرل مولانا محمد عیسیٰ منصوری نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ روس کی شکست و ریخت کے بعد مغرب سمجھ رہا ہے کہ اب دنیا میں مغرب کی بالادستی کی راہ میں واحد رکاوٹ اسلام ہے۔ اسے اس بات کا خوف ہے کہ مستقبل قریب میں مغربی نظامِ حیات بھی روس کے کمیونزم کی طرح اسلام کے مقابلہ میں ریت کی دیوار کی طرح ڈھے جائے گا۔ اس خوف سے مغرب اسلام کے مقابلہ پر صف آرا ہو گیا ہے۔ مغرب نئی تیاریوں کے ساتھ اور نئے ہتھیاروں سے مسلح ہو کر سامنے آیا ہے۔ وہ جسم کے بجائے انسانی ذہنوں کو غلام بنانا چاہتا ہے۔  ذہنی غلامی جسمانی غلامی سے کہیں زیادہ بدتر اور خوفناک ہوتی ہے۔ اس دور میں ذہن و فکر کو غلام بنانے کا سب سے مؤثر ذریعہ میڈیا ہے۔ آج کا دور میڈیا کا دور ہے۔ اس کی طاقت ایٹم بم سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ میڈیا کروڑوں انسانوں کے ذہن و دماغ کو جدھر چاہتا ہے موڑ دیتا ہے۔ غور کیا جائے تو محسوس ہوگا کہ مغرب محض مؤثر اور طاقتور میڈیا کے ذریعہ ہماری سوچ کو متاثر کرتا ہے۔ آج کا سب سے بڑا مسئلہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مغربی میڈیا کی یلغار کا ہے۔ ہمیں نہ صرف میڈیا کے اس بے رحم حملے کو روکنا ہے بلکہ مغربی میڈیا کا متبادل فراہم کرنا وقت کا سب سے بڑا چیلنج ہے۔ 
انسانیت کی بدقسمتی ہے کہ میڈیا کا مؤثر ترین اور طاقتور ہتھیار ایسے لوگوں کے قبضے میں ہے جو اسلام کے بارے میں تعصب و عناد کا شکار ہیں۔ وہ عظیم طاقت کو تعمیر کی بجائے تخریب کے لیے، کردار و اخلاق کو سنوارنے کے بجائے بے حیائی اور اخلاقی قدروں کو پامال کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ آپ کو آج کے میڈیا کا چیلنج قبول کر کے، اس کے مختلف شعبوں میں مہارت و برتری حاصل کر کے انہیں انسانیت کی تعمیر، اخلاق کی تعلیم اور کردار سازی کے لیے استعمال کرنا ہے۔ الحمد للہ یہاں میڈیا کے مختلف شعبوں کے ماہرین تشریف فرما ہیں، میں ان سے درخواست کروں گا کہ وہ فورم کی میڈیا کی کوششوں میں رہنمائی و تعاون کریں۔

بی بی سی ورلڈ سروس کے ڈائریکٹر جنرل جان بیرڈ کے نومسلم صاحبزادے اور ممتاز اسکالر جناب محمد یحیٰی نے اپنے خطاب میں کہا کہ میڈیا ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ ہے۔ میڈیا کے ذریعہ مفید معلومات بھی دی جاتی ہیں اور منفی معلومات کے ذریعہ صحیح معلومات پر پانی بھی پھیرا جاتا ہے۔ میڈیا اور ٹیلی ویژن میں زبردست انقلاب آ رہا ہے۔  ٹیلیویژن کے موجودہ سسٹم کی عمر ۶۰ / ۷۰ سال سے زائد نہیں۔ جو تبدیلی آ رہی ہے اس میں الفاظ، آواز اور تصاویر کو تقسیم کر دیا جائے گا۔ جدید ٹیکنالوجی قسم قسم کے لامتناہی پروگرام دے گی۔ اس میں ہم اپنا مشورہ اور ردعمل بھی شامل کر سکیں گے۔ گویا ٹیلی ویژن، عنقریب ٹیلی فون کی طرح مکالمے کی شکل اختیار کر جائے گا۔ ایک کیبل کے ذریعہ فائبر آپٹکس کے ذریعہ جو انسانی بال سے زیادہ باریک ہو گا ۳۰۰۰۰ قسم کے پروگرام منتقل کیے جا سکیں گے۔ تھوڑے دنوں میں ٹیلی ویژن، کمپیوٹر، ریڈیو اور ٹیلی فون اکٹھے ہو جائیں گے، گویا ٹیلی ویژن ایک کمپیوٹر بن جائے گا اور جدید سسٹم کی قیمت بھی بہت کم ہوگی اور ٹیلی فون بل جتنا خرچہ آئے گا۔  آج کے ویڈیو سسٹم کی طرح ٹی وی پروگرام بھی چھوٹی کمپنیاں، ادارے اور افراد بنا سکیں گے۔ بی بی سی اور آئی ٹی وی کی اجارہ داری باقی نہیں رہے گی۔ اس کی جگہ مختلف معاشرتی ادارے و انجمنیں اپنے پروگرام بنا اور دکھا سکیں گے، اور امت کے مختلف حلقوں اور طبقوں کے لیے کم خرچ پر اپنا پروگرام پیش کر سکیں گے۔  کتابوں اور لائبریریوں کی بجائے ڈسک ہوں گی۔ گویا تمام اسلامی و دنیوی علوم ایک چھوٹی سی ڈسک پر جمع ہو سکیں گے جو مفت ہر جگہ بھیجی جا سکیں گی۔ آج کے انٹرنیٹ کی طرح ان پر کسی حکومت کا کنٹرول نہیں ہو گا۔ ان نئے نئے مواقع، نئی ٹیکنالوجی و ترقیات کو جانے بغیر مستقبل کی منصوبہ بندی نہیں کی جا سکتی۔ ہمارے پاس وہ پروگرام ہونے چاہئیں جو افرادِ امت اور انسانیت کو سیٹلائیٹ اور ہوا کے ذریعہ پیش کیے جا سکیں۔ 

جناب ابراہیم آدمانی نے ریڈیو رپورٹ پیش کی جو فورم کے ریڈیو شعبے کے ماہرین نے اسپیکٹرم اور برطانیہ کے دیگر ریڈیو کے ذمہ داروں سے تبادلہ خیال کے بعد مرتب کی تھی۔ 

ڈڈلی کے چاند ٹی وی کے ڈائریکٹر جناب جمیل نے سیٹلائیٹ رپورٹ پیش کی۔ انہوں نے بتایا کہ یورپ کے لیے سیٹلائیٹ کا لائسنس بھی حاصل کر لیا گیا ہے۔ 

فورم کے نائب صدر اور اسلامک کمپیوٹنگ سنٹر کے ڈائریکٹر مفتی برکت اللہ نے بھارت (بمبئی) کے سیٹلائیٹ کے ممتاز ماہر اور ویڈیو ویژن کے ڈائریکٹر جناب سلیم مرزا کا فیکس پڑھ کر سنایا اور ایک رپورٹ پیش کی۔ 

حزب التحریر کے رئیس جناب عمر بکری محمد نے کہا کہ اسلام اور حق کے خلاف میڈیا کا جہاد تخلیقِ آدمؑ سے چلا آ رہا ہے۔ دورِ نبوت میں کفارِ مکہ نے حضورؐ کے ساحر، کاہن اور مبتذل ہونے کا پراپیگنڈا کیا تھا۔ ہماری کوششیں نئی نسل کو انسانی اور فطری حوالے سے اسلام کی دعوت اور علم و دانش کے غلبے کی ہونی چاہئیں۔ یہود و نصاری نے پہلے بھی اللہ کی کتابوں میں تحریف کی اور اب بھی مغرب اسلام کو بددیانتی اور تحریف کے ساتھ پیش کر رہا ہے۔ 

ختم نبوت سنٹر لندن کے انچارج عبد الرحمن باوا، چبلنگلم کے مولانا عبد الرحمٰن چشتی، جمعیت العلماء برطانیہ کے قاری تصور الحق، جناب فیض اللہ خان، جناب عادل فاروقی اور مولانا عبد الرشید راوت نے تجاویز پیش کیں۔ 

صدر اجلاس اور مسلم لیگ کے سربراہ جناب بیرسٹر محمد یوسف اختر نے کہا کہ فورم نے میڈیا کے مختلف شعبوں کے ماہرین کو جمع کر کے بہت اچھی ابتداء کی ہے۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ علم اور خبر ہی انسان کے لیے وجہ شرف بنا ہے۔ اور قرآن نے حضرت سلیمانؑ کے واقعہ سے، جس میں ملکہ بلقیس کے تخت کو ہزار ہا میل سے پل بھر میں حاضر کر دیا گیا تھا، فاصلوں کے ختم ہو جانے کی طرف بلیغ اشارہ دیا تھا۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے دور کے ابلاغ و میڈیا کے ممکنہ ذرائع استعمال کیے۔ آپ کے اتباع میں ملتِ اسلامیہ کو بھی ذرائع ابلاغ پر دستری اور بالادستی حاصل کرنی ہو گی۔ میں وقت کے اس اہم کام کی طرف توجہ دلانے پر فورم کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ 

مولانا عمران خان جہانگیری کی دعا پر سیمینار اختتام پذیر ہوا۔


تعارف و تبصرہ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

’’مولانا ارشاد الحق اثری کا مجذوبانہ واویلا‘‘

فقہی اختلافات امت میں چودہ سو سال سے چلے آ رہے ہیں اور تعبیر و تشریح اور استنباط و استخراج کے مختلف اصولوں کے تحت فقہی مکاتبِ فکر کا وجود ایک مسلّمہ اور فطری حقیقت ہے۔ لیکن فقہائے امت اور اہلِ علم کا ہمیشہ سے یہ ذوق اور رویہ رہا ہے کہ اختلافِ رائے کے حق اور اس کے نتائج کا احترام کرتے ہوئے اپنے اپنے مذہب پر عمل پیرا ہونے کو ہی سلامتی کی راہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ 
البتہ گزشتہ ایک صدی کے دوران برصغیر پاک و ہند میں فقہی اختلافات کے اظہار کے حوالے سے یہ رویہ اور ذوق اپنے مقام سے محروم رہا ہے، اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ تقلید سے گریز کرنے والے حضرات نے اہلِ حدیث کے نام سے اپنا جداگانہ تشخص قائم کرنا چاہا تو اس تشخص و امتیاز کو جلد از جلد منظر عام پر لانے کے جذبہ نے جارحیت کا راستہ اختیار کر لیا۔ اور رفع یدین، فاتحہ خلف الامام اور آمین بالجہر بھر جیسے صدیوں سے چلے آنے والے مسائل میں فتویٰ بازی کے عصر نے راہ پا لی۔ چنانچہ ان مسائل میں احناف کے خلاف جارحانہ انداز میں مختلف کتابیں سامنے آئیں اور تحریری و تقریری مناظرہ بازی کا بازار گرم ہو گیا۔ 
اس پس منظر میں شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم نے احناف کے موقف کی علمی ترجمانی کا بیڑا اٹھا لیا اور ان اختلافی مسائل پر ان کی متعدد علمی و تحقیقی تصانیف نے احناف کے مذہب اور دلائل کی محققانہ وضاحت کے باعث اہلِ علم سے داد وصول کی۔ حضرت شیخ الحدیث مدظلہ کی ان تصانیف کے حوالے سے ممتاز اہلِ حدیث عالمِ دین مولانا ارشاد الحق اثری نے ان کی شخصیت کو موضوعِ بحث بنایا اور ’’مولانا سرفراز صفدر اپنی تصانیف کے آئینہ میں‘‘ کے عنوان سے ایک کتاب تحریر فرمائی۔ 
زیر نظر کتاب مولانا اثری کی اس تصنیف کا جواب ہے جو حضرت شیخ الحدیث مدظلہ کے فرزند اور مدرسہ نصرۃ العلوم کے استاذ حدیث برادر عزیز مولانا عبد القدوس قارن سلّمہ کی تحریر کردہ ہے اور اس میں انہوں نے مولانا اثری کے استدلالات اور طرز استدلال کا ناقدانہ جائزہ لیتے ہوئے اس کی حقیقت کو واضح کیا ہے۔ سوا تین سو صفحات پر مشتمل اس کتاب کی قیمت ساٹھ روپے ہے اور اسے مکتبہ صفدریہ نزد مدرسہ نصرۃ العلوم گھنٹہ گھر گوجرانوالہ سے طلب کیا جا سکتا ہے۔

’’میزان الحق‘‘

دیوبندی اور بریلوی مکاتبِ فکر میں علمِ غیب، حاضر و ناظر، مختار کل، نور و بشر اور ان جیسے دیگر اعتقادی مسائل پر ایک عرصہ سے بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے اور ان موضوعات پر سینکڑوں کتب و رسائل منظر عام پر آچکے ہیں۔ پیر جی سید مشتاق علی شاہ صاحب نے زیر نظر مجموعہ میں ’’دیوبندی بریلوی اختلافات کا شرعی فیصلہ‘‘ کے عنوان سے متعدد مفید رسائل کو یکجا کر دیا ہے، جن سے ان مسائل پر علمائے دیوبند کے موقف اور دلائل سے کافی حد تک آگاہی حاصل ہو جاتی ہے۔ ۴۲۸ صفحات کے اس مجموعہ کی قیمت ۱۵۰ روپے ہے اور یہ مکتبہ فاروقیہ ۸ گوبند گڑھ گوجرانوالہ سے طلب کیا جا سکتا ہے۔

’’فتویٰ دار الحرب، تاریخی و سیاسی اہمیت‘‘

برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش پر فرنگی استعمار کے تسلط اور ایسٹ انڈیا کمپنی کی عمل داری کے بعد امام ولی اللہ دہلویؒ کے جانشین حضرت شاہ عبد العزیزؒ نے ہندوستان کے دارالحرب ہونے کا فتویٰ دیا جو جنگِ آزادی کی بنیاد بنا اور علماء حق نے اس کی بنا پر مسلسل ڈیڑھ سو برس تک آزادی کی جدوجہد کی۔ محترم ڈاکٹر ابو سلمان سندھی نے یہ تاریخی فتویٰ اس کی سیاسی و تاریخی اہمیت کی وضاحت کے ساتھ شائع کیا ہے۔ صفحات ۲۸، قیمت درج نہیں، ملنے کا پتہ: مکتبہ شاہد ۱ /۹ علی گڑھ کالونی، کراچی ۷۵۸۰۰

اشاریہ ماہنامہ الشریعہ جلد ۶ (۱۹۹۵ء)

ادارہ


کلمہ حق


مالا کنڈ ڈویژن میں نفاذ شریعت کی جدوجہد: پس منظر، نتائج اور تقاضے مدیر اعلیٰ جنوری
اسلام، دہشت گردی اور مغربی لابیاں: میخائل گورباچوف کی نظر میں مدیر اعلیٰ فروری/مارچ
ملّی یکجہتی کونسل پاکستان مدیر اعلیٰ اپریل
دفاعی بجٹ میں کمی، قومی خودکشی کے مترادف مدیر اعلیٰ مئی
تحریک ولی اللہ کا موجودہ دور اور معروضی صورتحال میں کام کی ترجیحات مدیر اعلیٰ  جون
ملّی یکجہتی کونسل کی اپیل پر ملک گیر ہڑتال مدیر اعلیٰ جولائی
ورلڈ اسلامک فورم کی تین سالہ کارکردگی پر ایک نظر مدیر اعلیٰ اگست
مرزا طاہر احمد کے نام کھلا خط مدیر اعلیٰ ستمبر
حقوقِ نسواں اور خواتین کی عالمی کانفرنسیں مدیر اعلیٰ اکتوبر
اقوام متحدہ اور عالمِ اسلام مدیر اعلیٰ نومبر
فوجی افسروں کی گرفتاری اور سرکاری موقف مدیر اعلیٰ دسمبر

مغربی ذرائع ابلاغ اور عالمِ اسلام


میں، مغرب اور مغرب پرستہ طبقہ عمران خان فروری/مارچ
پاکستان کے دینی حلقے اور مغربی ذرائع ابلاغ مدیر اعلیٰ اگست
ورلڈ میڈیا، عالمِ اسلام کے خلاف عالمی استعمار کا سب سے بڑا مورچہ مولانا عیسٰی منصوری نومبر

دینی موضوعات


رمضان المبارک، ارشاداتِ رسولؐ کی روشنی میں   فروری/مارچ
رمضان المبارک کی حکمتیں اور فضائل عبد الرشید شاہد فروری/مارچ
آمدِ ماہِ صیام (نظم) سرور میواتی فروری/مارچ
سنتِ نبوی کی اہمیت و ضرورت مولانا سرفراز خان صفدر اپریل
قربِ قیامت کی نشانی، علم کا اٹھ جانا مولانا عبد الحمید سواتی اپریل
قربانی، تقرب الی اللہ کا ذریعہ مولانا عبد الحمید سواتی مئی
دین کے لیے فقہاء کی خدمات مولانا سرفراز خان صفدر جون
خلفائے راشدین کا طرزِ حکمرانی  نواب مہدی علی خان جون
معجزہ کیا ہے؟ پروفیسر غلام رسول عدیم ستمبر
علم محنت سے حاصل ہوتا ہے مولانا سرفراز خان صفدر اکتوبر

انسانی حقوق


انسانی حقوق کا مغربی تصور، سیرتِ طیبہؐ کی روشنی میں مدیر اعلیٰ فروری/مارچ
اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا چارٹر اور اسلامی تعلیمات مدیر اعلیٰ مئی
پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال مدیر اعلیٰ اگست

دینی مدارس / نصاب و نظامِ تعلیم


دینی مدارس، بنیاد پرستی اور انسانی حقوق مدیر اعلیٰ جنوری
دینی مدارس کے نظام کی بہتری کے لیے تجاویز   جنوری
علمائے کرام کی خدمت میں چند گزارشات مولانا نذیر احمد اپریل

قومی و ملّی مسائل


اپنے قومی تشخص کا احیا کیجئے عمران خان اپریل
اسلامائزیشن کی راہ میں بڑی رکاوٹیں ای این ایڈورڈز مئی
ہماری دینی صحافت بشکریہ تعمیر حیات اکتوبر
عالمِ اسلام کے مسائل علمی و فکری تناظر میں  اقبال احمد صدیقی دسمبر

ملکی مسائل


توہینِ رسالت کا قانون مئی
ملی یکجہتی کونسل کا ضابطۂ اخلاق مئی

علمی و فقہی مسائل


شاہ ولی اللہؒ اور اسلامی حدود ڈاکٹر محمد امین فروری/مارچ
غیر حنفی امام کے پیچھے نماز پڑھنے کا مسئلہ مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان جولائی

مطالعہ بائبل


بنی اسرائیل مصر میں محمد یاسین عابد اپریل

مکاتیب


مولانا محمد عبد اللہ کاپودروی کا مکتوب گرامی اگست
مولانا عتیق الرحمٰن سنبھلی کا مکتوب گرامی (دربارہ حزب التحریر) ستمبر
عظیم پوپ کےنام مولانا عیسیٰ منصوری کا کھلا خط نومبر

شخصیات


عظیم افغان کمانڈر مولانا نصر اللہ منصور عید محمد افغان اپریل

قافلہ معاد


مولانا مفتی جمیل احمد تھانوی، مولانا عبد الرؤف، ڈاکٹر عنایت اللہ نسیم سوہدروی جنوری
مولانا مفتی ولی حسن، مولانا نیاز محمد، مولانا محمد انذر قاسمی، حافظ سید مقصود میاں، جناب انوار احمد، پروفیسر محمد سرفراز اپریل
مولانا قاری محمد حنیف ملتانی، مولانا قاری محمد اظہر ندیم جون
حضرت جی مولانا انعام الحسن، حضرت مولانا غفران ہزاروی، مولانا عبد الرحیم آف شکرگڑھ، الحاج بابو عبد الخالق جولائی
مولانا سید ابوذر بخاری، مولانا محمد اسحاق سندیلوی، مولانا امیر حسن نومبر

تعارف


مدرسہ نصرۃ العلوم فروری/مارچ
دینی مدارس کا نیا وفاق، نظامتِ تعلیماتِ اسلامیہ پاکستان اپریل
الشریعہ ایجوکیشنل ویلفیئر سوسائٹی کا قیام اپریل

تعارف و تبصرہ


دروس الحدیث (مولانا صوفی عبد الحمید سواتی) مدیر اعلیٰ فروری/مارچ
ریڈیائی تقریریں (مولانا کبیر الدین فاران) ابوالحقائق چاریاری فروری/مارچ
آئینہ عملیات (صوفی عزیز الرحمٰن پانی پتی) ابوالحقائق چاریاری فروری/مارچ
انتخاب لاجواب (مولانا قاری محمد اجمل خان) ابوالحقائق چاریاری فروری/مارچ
خطباتِ سواتی (جلد اول) (مولانا صوفی عبد الحمید سواتی) مدیر اعلیٰ جون
پاکستان کی سیاسی جماعتیں اور تحریکیں (حافظ تقی الدین) مدیر اعلیٰ جون
دو بزرگ (مولانا لاہوریؒ اور مولانا رائے پوریؒ) (سید امین گیلانی) مدیر اعلیٰ جون
بخاریؒ کی باتیں (سید امین گیلانی) مدیر اعلیٰ جون
صنم کدے میں اذان (مجموعہ کلام سید امین گیلانی) مدیر اعلیٰ جون
عبدہ و رسولہ (مجموعہ کلام سید سلمان گیلانی) مدیر اعلیٰ جون
مغرب پر اقبال کی تنقید (پروفیسر عبد الغنی فاروق) پروفیسر غلام رسول عدیم جولائی
خطباتِ دین پوری (جلد اول و دوم) پروفیسر ظفر اللہ شفیق اگست
قراردادِ مقاصد بنام سپریم کورٹ آف پاکستان (سردار شیر عالم ایڈووکیٹ) بشکریہ ماہنامہ نوائے قانون ستمبر
تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء (مولانا اللہ وسایا) مدیر اعلیٰ اکتوبر
تحریکِ ختمِ نبوت ۱۹۷۴ء (تین جلدیں) مدیر اعلیٰ اکتوبر
امام ابوحنیفہؒ علامہ شعرانی کے علم و فضل کے آئینے میں (حافظ محمد اقبال رنگونی) مدیر اعلیٰ اکتوبر
رؤیتِ ہلال علم فلکیات کی روشنی میں (مولانا ثمیر الدین قاسمی) مدیر اعلیٰ اکتوبر
طلاقِ ثلاثہ اور حافظ ابن القیم (مولانا عتیق الرحمٰن سنبھلی) مدیر اعلیٰ اکتوبر
مولانا ارشاد الحق اثری کا مجذوبانہ واویلا (مولانا عبد القدوس قارن) مدیر اعلیٰ دسمبر
میزان الحق (پیر جی سید مشتاق علی شاہ) مدیر اعلیٰ دسمبر
فتویٰ دارالحرب: تاریخی و سیاسی اہمیت (ڈاکٹر ابوسلمان سندھی) مدیر اعلیٰ دسمبر

رپورٹیں


مولانا عیسیٰ منصوری کا دورۂ جنوبی افریقہ اپریل
مسلم ہیومن رائٹس سوسائٹی پاکستان کا قیام اپریل
مولانا عیسیٰ منصوری انڈیا کے دورے پر اپریل
مولانا زاہد الراشدی کا سفرِ حجاز اپریل
گوجرانوالہ میں ماہانہ فکری نشست اپریل
شاہ ولی اللہ یونیورسٹی میں مولانا راشدی کی نئی ذمہ داری اپریل
سالانہ الشریعہ تعلیمی کانفرنس اپریل
حضرت شیخ الحدیث مدظلہ کا سفر بنگلہ دیش مئی
مولانا عبد الحفیظ مکی کی گوجرانوالہ آمد مئی
مولانا محمد عیسیٰ منصوری کا دورۂ بھارت مئی
مسلم ہیومن رائٹس سوسائٹی کی فکری نشست مئی
حزب التحریر کے راہنماؤں سے ملاقات مئی
جناب اقبال احمد خان کی تشریف آوری مئی
میٹرک کلاس کا آغاز مئی
فورم کی ماہانہ فکری نشست مئی
توہین رسالت کی سزا کے قانون میں ترمیم پر گوجرانوالہ میں مجلس مذاکرہ جون
جداگانہ انتخابات اور انسانی حقوق کے موضوع پر فورم کی ماہانہ فکری نشست جون
فورم کے سالانہ سیمینار میں مولانا علی میاں کو بطور مہمان خصوصی دعوت جولائی
فورم کے چیئرمین کی مولانا نورانی، مولانا تقی عثمانی اور مولانا حبیب اللہ مختار سے ملاقات جولائی
مولانا راشدی کی لندن روانگی جولائی
مولانا راشدی کو امریکی ویزے سے انکار جولائی
برطانیہ میں ختم نبوت کانفرنسوں کے پروگرام جولائی
شیخ الحدیث مدظلہ کا دورۂ افریقہ و سعودی عرب ستمبر
مولانا محمد عبد اللہ پٹیل کا دورۂ برطانیہ ستمبر
فورم کے سیمینار میں ڈاکٹر طفیل ہاشمی کو بطور مہمان خصوصی دعوت ستمبر
مولانا راشدی کی مختلف اجتماعات میں شرکت ستمبر
گلاسگو میں نظامِ شریعت کانفرنس ستمبر
اسلامک ہوم اسٹڈی کورس کے نئے سال کی تیاری ستمبر
فورم کے وفد کی حزب التحریر کے امیر عمر بکری محمد سے ملاقات ستمبر
فورم کا تیسرا سالانہ سیمینار اکتوبر
فورم کا سالانہ اجلاس اکتوبر
مدنی مسجد نوٹنگھم میں سیرت النبیؐ پر نو روزہ پروگرام اکتوبر
اسلامک ہوم اسٹڈی کورس اکتوبر
مدنی مسجد نوٹنگھم کی دس سالہ تقریب اکتوبر
مرکزی جامع مسجد گلاسگو میں جلسہ اکتوبر
جمعیت علماء برطانیہ کی توحید و سنت کانفرنس اکتوبر
مولانا راشدی کی گوجرانوالہ واپسی اکتوبر
حضرت شیخ الحدیث مدظلہ کا دورۂ جنوبی افریقہ (تفصیلی رپورٹ) نومبر
دوسرا سالانہ میڈیا سیمینار دسمبر
شیخ الحدیث دامت برکاتہم کا سفر حرمین شریفین دسمبر
شیخ الحدیث دامت برکاتہم کا دورۂ کوئٹہ و قندھار دسمبر

امراض و علاج


یرقان حکیم عبد الرشید شاہد اپریل
الکیمیا حکیم عبد الرشید شاہد جولائی
درد معدہ اور اس کا سدباب حکیم عبد الرشید شاہد ستمبر
تبخیر معدہ حکیم عبد الرشید شاہد اکتوبر