ورلڈ اسلامک فورم کی تین سالہ کارکردگی پر ایک نظر
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
افغانستان میں مجاہدین کے ہاتھوں روسی استعمار کی پسپائی اور عالمی سرد جنگ کے نتیجہ میں سوویت یونین کے خاتمہ کے بعد ملت اسلامیہ پوری دنیا میں ایک نئی صورتحال سے دوچار ہوگئی ہے۔ مغرب نے امریکی استعمار کی قیادت میں کمیونزم کے بعد اسلام کو اپنا سب سے بڑا حریف قرار دیتے ہوئے ملت اسلامیہ کے ان طبقوں کے خلاف اعلان جنگ کر دیا ہے جو اسلام کو اپنی شناخت قرار دیتے ہیں اور مسلم معاشرہ میں اسلامی اصولوں کی بالادستی اور حکمرانی کے لیے برسرپیکار ہیں۔
ویسٹرن سولائزیشن کی بنیاد انسانی معاشرہ کے اجتماعی معاملات میں مذہب کے کسی بھی عملی کردار سے انکار پر ہے۔ مغربی دانشور یہ سمجھتے ہیں کہ عالم اسلام کے کسی حصہ میں دینی اقدار کی بنیاد پر صحیح مسلم معاشرہ وجود میں آگیا تو وہ ویسٹرن سولائزیشن کے لیے حقیقی خطرہ ثابت ہوگا اور اضمحلال کی طرف تیزی کے ساتھ بڑھتا ہوا مغربی معاشرہ تازہ دم اسلامی سوسائٹی کا سامنا نہیں کر پائے گا۔ اسی خطرہ کے پیش نظر مغربی حکومتیں، لابیاں اور ذرائع ابلاغ انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ ایسے اقدامات میں مصروف ہیں جو عالم اسلام میں دینی تحریکات کی راہ میں رکاوٹ بن سکیں اور مسلم ممالک میں بے دینی کے اثرات کو مستحکم کر سکیں۔
مغربی دانشوروں کا خیال تھا کہ گزشتہ دو سو سال کے عرصہ میں مسلم ممالک پر مغربی ممالک کے تسلط کے دوران ان علاقوں میں آزاد خیالی اور تہذیب و ترقی کے نام پر مذہبی اقدار سے بے زاری کا جو بیج بویا گیا ہے اس کی فصل پک چکی ہے اور اب مذہبی حلقوں میں نئے رجحانات کا سامنا کرنے کی سکت باقی نہیں رہی۔ اسی طرح مغربی اہل دانش یہ سمجھتے ہیں کہ مختلف مسلمان ملکوں سے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد روزگار کی تلاش میں مغربی ممالک میں آبسی ہے، وہ یا ان کی آئندہ نسل مکمل طور پر مغربی سانچے میں ڈھل کر اپنے علاقوں میں مغربیت کے اثرات کی تقویت کا سامان فراہم کرے گی۔ لیکن مغربی دانشوروں کے یہ دونوں خیال غلط ثابت ہوئے ہیں اور جہاں مسلم ممالک میں دن بدن قوت پکڑتی ہوئی دینی بیداری کی تحریکات نے مغرب کی سیکولر لابیوں کی توقعات خاک میں ملا دی ہیں وہاں مغربی ممالک میں مقیم مسلمانوں میں اپنے دینی تشخص کو برقرار رکھنے کا روز افزوں احساس بھی مغربی دانشوروں کے لیے پریشان کن صورت اختیار کرتا جا رہا ہے ۔
اسلام دین فطرت ہے جس کی بنیاد وحی الٰہی پر ہے اور وہ محض چند عبادات یا اخلاقی ہدایات کا مجموعہ نہیں بلکہ انسانی معاشرہ کی تمام ضروریات پر محیط مکمل نظام حیات ہے جو انسانی معاشرہ میں اپنی ضرورت و افادایت کو فطری انداز میں اجاگر کرتا جا رہا ہے۔ جبکہ تکوینی طور پر بھی عالمی سطح پر رونما ہونے والی بعض تبدیلیاں اسلام کے ساتھ انسانیت کے مستقبل کا رشتہ جوڑتی دکھائی دے رہی ہیں ۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان قوتوں کی سرگرمیاں بھی بڑھتی جا رہی ہیں جو اسلام کا راستہ روک دینا چاہتی ہیں اور عالم اسلام کی دینی قوتوں کے خلاف فیصلہ کن محاذ آرائی کا آغاز کر چکی ہیں۔
ملت اسلامیہ کے ساتھ مغربی قوتوں کا معاملہ اس سے قبل بھی کبھی دوستانہ نہیں رہا لیکن روسی استعمار کے خلاف سرد جنگ کے دوران مسلم ممالک کے ساتھ بظاہر ہمدردانہ تعلق مغرب کی اپنی ضرورت تھا جو اس ضرورت کی حد تک اس دوران ضرور قائم رہا مگر اسی تعلق کے حوالے سے مغرب کو مسلم ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کو بڑھانے اور مسلم دارالحکومتوں میں اپنی گھاتیں قائم کرنے کا موقع بھی ملتا رہا ہے جو آج بھی مغربی مفادات کے لیے پوری کامیابی کے ساتھ استعمال ہو رہی ہیں اور دینی حلقوں کے مقابلے کے لیے ’’روبوٹ‘‘ کا کام دے رہی ہیں۔
روسی استعمار کا خاتمہ اور اس کے تسلط سے افغانستان اور وسطی ایشیا کی ریاستوں کی آزادی عالم اسلام اور مغربی استعمار کی مشترکہ ضرورت تھی جس کے لیے ایک عرصہ تک دونوں میں تعاون کی فضا قائم رہی۔ لیکن آج جبکہ مشترکہ دشمن سامنے سے ہٹ گیا ہے، عالم اسلام اور مغربی استعمار کے درمیان باہمی تعاون و مفاہمت کی مجبوری باقی نہیں رہی تو دونوں ایک دوسرے کے حریف کے طور پر آمنے سامنے کھڑے ہیں۔ اس میں مغرب کو یہ تفوق بہرحال حاصل ہے کہ وہ مستحکم ہے، منظم ہے، متحد ہے، اس کے وسائل مجتمع اور ترقی یافتہ ہیں اور اس کی ترجیحات طے شدہ ہیں۔ جبکہ عالم اسلام منتشر ہے، غیر مستحکم ہے، اپنے وسائل پر اس کا کنٹرول نہیں ہے، اس کی بیشتر حکومتیں مغرب کی ہمدرد یا اس سے مرعوب ہیں اور ترجیحات تو رہیں ایک طرف اس کے اہداف بھی واضح طور پر متعین نہیں ہیں۔ دوسرے الفاظ میں آپ اس صورتحال کو یوں بھی بیان کر سکتے ہیں کہ اسلام کی بالادستی کا راستہ روکنے کی اس جنگ میں مغرب کی مستحکم حکومتوں، منظم لابیوں اور ترقی یافتہ ذرائع ابلاغ کا مقابلہ مسلم ممالک کی حکومتوں سے نہیں بلکہ ان دینی تحریکات سے ہے جو اپنی اپنی جگہ پورے اخلاص کے ساتھ جدوجہد کر رہی ہیں۔ لیکن نہ ان تحریکات کے پاس اقتدار اور حکومت کے وسائل ہیں اور نہ وہ باہمی ربط و مشاورت اور مشترکہ قیادت سےبہرہ ور ہیں جو اس جنگ میں ان کے لیے اجتماعی حکمت عملی اور ترجیحات کا تعین کر سکے۔
مغرب اس جنگ کو بھی سرد جنگ کے دائرے میں محدود رکھے ہوئے ہے اور اسلحہ اور ہتھیار کا استعمال انتہائی اہم ضرورت کے بغیر اس کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔ بلکہ اس جنگ میں اس کے اصل ہتھیار تعلیم، میڈیا اور نفسیاتی حربے ہیں جن کے ذریعے وہ ملت اسلامیہ کی رائے عامہ کے ذہن کو کنٹرول میں رکھنا چاہتا ہے۔ تاکہ وہاں تک عالم اسلام کی دینی قوتوں کی رسائی نہ ہو سکے اور دنیا کی مسلم رائے عامہ کی عظیم قوت اسلامی اصولوں کی بالادستی اور ایک صحیح مسلم معاشرہ کے قیام کی طرف پیش رفت نہ کر سکے۔ اس مقصد کے لیے
- مغرب، ویسٹرن سولائزیشن کو انسانی معاشرت کا نقطۂ عروج قرار دے کر اس کی طرف پوری دنیا بالخصوص عالم اسلام کو دعوت دے رہا ہے،
- اسلامی احکام و قوانین کو انسانی حقوق اور سولائزیشن کے منافی قرار دے کر ان کے خلاف نفرت کی فضا قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے،
- اور عالم اسلام کی دینی تحریکات پر بنیاد پرست اور دہشت گرد کا لیبل چسپاں کر کے باقی دنیا کو ان سے دور رکھنے کی تگ و دو کر رہا ہے۔
اس صورتحال میں شدت کے ساتھ اس امر کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ عالمی سطح پر حالات کی تیز رفتار تبدیلی اور اس کے نتیجے میں سامنے آنے والے نئے تقاضوں اور ضروریات کی طرف دینی حلقوں کو متوجہ کرنے کے لیے منظم جدوجہد کی جائے۔ کیونکہ بدقسمتی سے آنے والے حالات کے رخ کا بروقت اندازہ کرنا اور اس کے تقاضوں کو محسوس کرنا ہمارے قومی مزاج کا حصہ نہیں بن سکا اور پہلی چار پانچ صدیوں کو چھوڑ کر ہر دور میں ملت اسلامیہ کو نئے تقاضوں کا احساس دلانے کے لیے اہل فکر و دانش کو خاصی چیخ و پکار کرنا پڑی ہے۔ جیسا کہ برصغیر کے معرف دانشور مفکر احرار چودھری افضل حق مرحوم نے قوموں کا مزاج بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ انگریز کوئی کام کرنے سے پہلے سالوں سوچتا ہے اور اس کی منصوبہ بندی کرتا ہے، ہندو مہینوں پہلے سوچتا ہے اور اس کے مثبت اور منفی پہلوؤں کا جائزہ لیتا ہے، جبکہ مسلمان کام کرتا جاتا ہے اور سوچتا جاتا ہے۔ اور برصغیر ہی کی ایک اور قوم کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ کام کرچکنے کے بعد سوچنے کی عادی ہے۔ مگر مغربی میڈیا کی فسوں کاری کی داد دینا پڑتی ہے کہ مسلمان کو اس مقام پر بھی نہیں رہنے دیا کہ وہ کام کرتے ہوئے بھی سوچ اور فکر سے کام لے سکے، چنانچہ یہ المناک صورتحال دیکھنا پڑ رہی ہے کہ کام ہو رہا ہے مگر کام کرتے ہوئے بھی اس کے سود و زیاں کے بارے میں سوچنے کی عادت بیدا رنہیں ہو رہی۔
مسلم ممالک میں دینی حلقوں اور جماعتوں کی کمی نہیں بلکہ بعض مقامات پر وہ ایک سے دو، اور دو سے تین ہوتی جا رہی ہیں۔ دینی ادارے مسلسل قائم ہو رہے ہیں، سوسائٹیاں بن رہی ہیں، اپنی اپنی بساط کے مطابق سب لوگ کام کر رہے ہیں اور وسائل، محنت اور خلوص کا فقدان بھی نہیں ہے۔ مگر جس چیز کا فقدان ہے وہ ہے: حالات کی تبدیلی کا احساس، نئے تقاضوں سے آگاہی، باہمی ربط و مشاورت کے ساتھ کام کرنے کی ترجیحات اور تقسیم کار کا تعین، اور مشترکہ اہداف کے لیے مشترکہ جدوجہد کا اہتمام۔
دینی اداروں اور تحریکات کی جدوجہد میں یہ خلا حالات کی تیز رفتار تبدیلی کے پس منظر میں اہل فکر و دانش کو زیادہ شدت کے ساتھ محسوس ہو رہا ہے اور یہی احساس ’’ورلڈ اسلامک فورم‘‘ کے قیام کا بنیادی محرک بنا ہے۔ ورلڈ اسلامک فورم کا قیام نومبر ۱۹۹۲ء کے دوران لندن میں عمل میں لایا گیا تھا جب لیٹن سٹون لندن میں الحاج غلام قادر کی رہائش گاہ پر چند اہل فکر جمع ہوئے، بزرگ عالم دین حضرت مولانا مفتی عبد الباقی رحمہ اللہ تعالیٰ کی صدارت میں اجلاس ہوا اور مندرجہ ذیل مقاصد کے لیے فورم کے قیام کا فیصلہ کیا گیا:
- اسلام کی دعوت اور اسلامی نظام کو جدید اسلوب اور زبان میں دنیا کے سامنے پیش کرنا۔
- اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مغرب کی سیکولر لابیوں اور ذرائع ابلاغ کی منفی مہم کا ادراک اور تعاقب۔
- جدید ترین ذرائع ابلاغ تک رسائی کی کوشش۔
- عالم اسلام کی دینی تحریکات اور اداروں کے درمیان رابطہ اور مشاورت کا فروغ۔
- مغربی ممالک میں مقیم مسلمان بچوں کی دینی تعلیم کے نظام کو بہتر بنانے کی جدوجہد۔
عام طور پر کسی نئے کام کے لیے نئی جماعت اور حلقے کا قیام ہمارے ہاں ضروری سمجھا جاتا ہے لیکن ہوتا یہ ہے کہ جماعت، حلقے یا ادارے کے قیام کے بعد توجہات اور صلاحیتوں کا بیشتر حصہ اپنے وجود کا احساس دلانے، دائرہ کو وسعت دینے اور جداگانہ تشخص کو برقرار رکھنے پر صرف ہو جاتا ہے، جبکہ اصل ہدف و مقاصد توجہات کا بہت کم حصہ حاصل کر پاتے ہیں۔ اسی لیے ورلڈ اسلامک فورم کے قیام کے ساتھ ہی یہ حکمت عملی اختیار کر لی گئی تھی کہ فورم کو مستقل جماعت یا فکری حلقہ کی شکل دینے کی بجائے ہم خیال دوستوں کی ایک سوسائٹی کے درجہ میں رکھا جائے گا اور جو ادارے، حلقے، جماعتیں اور گروہ مختلف محاذوں پر کام کر رہے ہیں انہی کو توجہ دلا کر اجتماعی مقاصد کی طرف پیش رفت کی کوشش کی جائے گی۔ گویا ورلڈ اسلامک فورم تمام علمی و دینی اداروں، جماعتوں اور حلقوں کا خادم ادارہ ہے جس کا کام وقت کے تقاضوں کو محسوس کرنا، ان کی نشاندہی کرنا اور متعلقہ اداروں کو ان کی طرف توجہ دلا کر ان کی بریفنگ کا اہتمام کرنا ہے۔ اس کے ساتھ تعلیم اور میڈیا کے شعبوں میں خصوصی توجہ دینے کا فیصلہ کیا گیا اور اس سلسلہ میں چند عملی اقدامات بھی کیے گئے جن کی تفصیل آگے آرہی ہے۔
کسی نئی جماعت یا سوسائٹی کے قیام کے بعد کام کو منظم کرنے کے لیے وسائل و اسباب کی فراہمی سب سے اہم مسئلہ ہوتی ہے جس کے لیے عام چندے یا مسلم حکومتوں سے رابطے کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے لیکن فورم کے لیے معروضی حالات میں ان میں سے کوئی طریق کار اختیار کرنا مشکل تھا۔ عام چندہ اس لیے کہ مساجد میں عمومی چندہ کے لیے جو طریق کار اختیار کیا جاتا ہے وہ ہمارے نزدیک باوقار صورت نہیں ہے اور کسی مسلم حکومت کے ساتھ رابطہ سے اس لیے گریز کیا گیا کہ عالم اسلام بالخصوص مغربی ممالک کے مسلمانوں میں مختلف مسلم حکومتوں اور لابیوں اور ان کے درمیان کشمکش کی جو صورتحال کافی عرصہ سے دیکھنے میں آرہی ہے اس کے پیش نظر کسی مسلم حکومت کی لابی سے وابستہ ہونا فورم کے بنیادی مقاصد سے مطابقت نہیں رکھتا اور اس قسم کی وفادارانہ وابستگی کے بغیر کوئی حکومت کسی ادارے سے تعاون کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے ہم نے یہ فیصلہ کر لیا کہ فورم کے کاموں کو ممبرشپ کی فیس اور اصحاب خیر کے تعاون سے آگے بڑھایا جائے گا مگر بدقسمتی سے ہم نہ تو زیادہ تعداد میں دوستوں کو ممبرشپ کے لیے آمادہ کر سکے اور نہ ہی اصحاب خیر کو اپنے پروگرام کی اہمیت سمجھانے میں ہمیں کامیابی ہوئی ہے۔ اس لیے اسباب و وسائل کا پہلو خاصا تشنہ ہے اور اس سلسلہ میں فورم مسلسل مقروض اور زیربار ہے۔ اس کے باوجود ورلڈ اسلامک فورم اپنے قیام کے بعد سے اب تک پونے تین سال کے عرصہ میں جو خدمات سرانجام دے سکا ہے اس کی رپورٹ پیش خدمت ہے۔
اسلامک ہوم اسٹڈی کورس
مغربی ممالک میں مقیم مسلمان بچوں اور بچیوں کو دینی معلومات سے آراستہ کرنے کے لیے انگلش اور اردو دو زبانوں میں خط و کتابت کورس ’’اسلامک ہوم اسٹڈی کورس‘‘ کے نام سے شروع کیا گیا ہے۔ اس کورس کے لیے اسباق دعوہ اکیڈمی انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد پاکستان نے فراہم کیے ہیں اور اس کے انتظامات ورلڈ اسلامک فورم کی نگرانی میں مدنی ٹرسٹ، مدنی مسجد نوٹنگھم برطانیہ کے سپرد ہیں جو مولانا رضاء الحق کی سربراہی میں انہیں حسن و خوبی کے ساتھ انجام دے رہا ہے۔
مطالعہ اسلام کا یہ ایک سالہ کورس گزشتہ سال شروع کیا گیا تھا جس میں تین درجن کے لگ بھگ طلبہ اور طالبات شریک ہیں اور اس سال اگست میں مکمل ہونے والا ہے۔ اس کے دفتری اور ڈاک کے اخراجات کے لیے تیس پونڈ سالانہ فیس رکھی گئی ہے اور اگلے سال کے کورس کا آغاز ستمبر میں ہونے والا ہے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔
قرآن کریم کا انگلش ترجمہ
مدینہ یونیورسٹی کے فاضل استاذ الشیخ تقی الدین الہلالی اور ڈاکٹر محمد محسن خان کا مرتب کردہ انگریزی ترجمہ قرآن کریم اپنی زبان اور حاشیہ میں مستند معلومات کے لحاظ سے علمی حلقوں میں پسند کیا گیا ہے۔ ورلڈ اسلامک فورم نے اس کا ایک ایڈیشن اپنی طرف سے شائع کیا ہے جو لاگت ہدیہ پر شائقین کو فراہم کیا گیا ہے اور اب قریب الاختتام ہے۔
فکری نشستیں
ورلڈ اسلامک فورم نے عالم اسلام کو درپیش مسائل کے بارے میں ماہانہ فکری نشستیں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا تھا جو اگرچہ پورے تسلسل کے ساتھ جاری نہیں رہ سکیں تاہم اس دوران لندن، اسلام آباد، کراچی، لاہور، گوجرانوالہ اور ہری پور ہزارہ میں بیس کے لگ بھگ فکری نشستوں کا انعقاد ہوا۔ ان نشستوں میں انسانی حقوق، توہین رسالتؐ کی سزا، عالم اسلام کے بارے میں امریکی عزائم، قاہرہ کانفرنس کے فیصلے اور دیگر اہم موضوعات پر خطاب کرنے والوں میں شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر، حضرت مولانا سعید احمد پالن پوری، حضرت مولانا عتیق الرحمان سنبھلی، حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی، حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی اور حضرت مولانا محمد عبد اللہ کاپودروی جیسی سرکردہ علمی شخصیات بھی شامل ہیں۔
سالانہ تعلیمی سیمینار
ورلڈ اسلامک فورم نے لندن میں بڑے پیمانے پر سالانہ تعلیمی سیمینار کے سلسلہ کا آغاز کیا۔ اس سلسلہ میں پہلا سالانہ سیمینار ۱۵ اگست ۱۹۹۳ء کو کانوے ہال ہالبورن لندن میں مولانا مفتی عبد الباقیؒ کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں بھارت کے ممتاز عالم دین حضرت مولانا مجاہد الاسلام قاسمی مہمان خصوصی تھے۔ جبکہ ان کے علاوہ ڈاکٹر علامہ خالد محمود، مولانا عبد اللہ کاپودروی، مولانا پیر سید بدیع الدین شاہ راشدی، صاحبزادہ پیر سید سلطان فیاض الحسن قادری، مولانا قاضی محمد رویس خان ایوبی اور مختلف مکاتب فکر کے دیگر علماء کرام اور دانشوروں نے خطاب کیا۔
جبکہ دوسرا سالانہ سیمینار ۶ اگست ۱۹۹۴ء کو اسلامک سنٹر ریجنٹ پارک لندن میں دعوہ اکیڈمی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمود احمد غازی کی صدارت میں منعقد ہوا جس سے ڈربن یونیورسٹی جنوبی افریقہ کے شعبہ اسلامیات کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر سید سلمان ندوی، دارالعلوم دیوبند کے استاذ الحدیث حضرت مولانا سید ارشد مدنی، لاہور سے ماہنامہ محدث کے مدیر مولانا حافظ عبد الرحمان مدنی، پاکستان کے شہید صحافی و دانشور محمد صلاح الدین مدیر تکبیر اور دیگر زعماء نے خطاب کیا۔
تعلیمی جائزہ رپورٹ
ورلڈ اسلامک فورم نے برطانیہ میں بچوں کی دینی تعلیم کے لیے کام کرنے والے مکاتب کے نظام اور نصاب کا جائزہ لینے کے لیے مکاتب کے سینئر اساتذہ کے درمیان مذاکرہ و گفتگو کا اہتمام کیا جس میں مکاتب کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے اسے مزید بہتر اور مفید بنانے کے لیے سفارشات اور تجاویز پر مشتمل ’’جائزہ رپورٹ‘‘ مرتب کی گئی۔ یہ رپورٹ مختلف اخبارات و جرائد میں شائع ہونے کے علاوہ پمفلٹ کی صورت میں بھی سامنے آچکی ہے اور متعدد مکاتب کو بھجوائی گئی ہے۔
ماہنامہ الشریعہ
الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ پاکستان کے علمی و فکری جریدہ ماہنامہ الشریعہ کو، جو اکتوبر ۱۹۸۹ء سے باقاعدگی کے ساتھ شائع ہو رہا ہے، ورلڈ اسلامک فورم کے قیام کے بعد فورم کے آرگن کی حیثیت دے دی گئی تب سے وہ فورم کے موقف اور سرگرمیوں کی اشاعت کی خدمات مسلسل سرانجام دے رہا ہے۔ ماہنامہ الشریعہ اردو زبان میں شائع ہوتا ہے اور دینی و علمی حلقوں میں بحمد اللہ تعالیٰ وقعت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ وسائل کی کمی اور کاغذ کی روز افزوں مہنگائی کے باعث اس کے سائز اور ضخامت میں کمی کرنا پڑی ہے لیکن بحمد اللہ تعالیٰ اس کی باقاعدگی اور تسلسل میں کوئی فرق نہیں آیا۔
سیٹلائیٹ میڈیا
سیٹلائیٹ میڈیا تک رسائی اور ملی مقاصد کے لیے اس کے استعمال کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے ورلڈ اسلامک فورم نے ۲۸ مئی ۱۹۹۴ء کو لندن میں میڈیا ماہرین کے ایک خصوصی مذاکرہ کا اہتمام کیا جس میں جناب ڈاکٹر اکبر ایس احمد مہمان خصوصی تھے۔ مذاکرہ میں سیٹلائیٹ چینل کے لیے ’’دیڈیو ویژن انٹرنیشنل‘‘ کے ڈائریکٹر جناب سلیم مرزا نے ورلڈ اسلامک فورم کی فرمائش پر ایک رپورٹ مرتب کی جس میں یورپ، مشرق وسطیٰ اور برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش پر محیط سیٹلائیٹ چینل کا پروگرام پیش کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ڈڈلی برطانیہ کے جناب محمد جمیل نے ’’چاند ٹی وی‘‘ کے نام سے رپورٹ مرتب کی ہے جس کا دائرہ کار یورپ ہے اور وہ یورپ میں مقیم مسلمانوں کے لیے پروگرام شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
ورلڈ اسلامک فورم نے برطانیہ اور پاکستان کے ماہرین سے ان دونوں رپورٹوں کے بارے میں مشورہ کیا ہے جس کے مطابق ان میں پیش کردہ پروگرام قابل عمل ہے مگر اصل مسئلہ سرمائے کا ہے۔ ہمارے خیال میں ایسا کوئی بھی پروگرام کسی حکومت کی امداد یا عوامی چندے کے ساتھ شروع کرنے کی بجائے تجارتی بنیادوں پر چلانا زیادہ مناسب اور قابل عمل ہوگا۔ اس لیے ایسے مسلمان تاجروں کی تلاش جاری ہے جو تجارتی بنیاد پر اس کام کو سنبھال سکیں۔ ورلڈ اسلامک فورم نے اس سلسلہ میں یہ پیشکش کی ہے کہ اسے پبلک لمیٹڈ فرم بنانے کی صورت میں حصص کی فروخت کی مہم میں فورم بھرپور طور پر شریک ہوگا۔
مختلف ممالک کے دورے
ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین ابوعمار زاہد الراشدی اور سیکرٹری جنرل مولانا محمد عیسیٰ منصوری نے فورم کے پروگرام سے اہل علم و دانش کو متعارف کرانے کے لیے برطانیہ کے مختلف شہروں کے مسلسل اسفار کے علاوہ بیرونی ممالک کے دورے بھی کیے۔ اس دوران مولانا راشدی نے سعودی عرب، ازبکستان، کینیا اور کابل کا دورہ کیا جبکہ مولانا منصوری نے بھارت، پاکستان، جنوبی افریقہ، ری یونین اور سعودی عرب کا دورہ کیا اور ان ممالک کے سرکردہ مسلمان راہنماؤں سے فورم کے پروگرام اور مقاصد کے بارے میں تبادلہ خیالات کیا۔ ان میں سے بیشتر اصحاب فہم و دانش نے فورم کے پروگرام سے اتفاق کرتے ہوئے اسے وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔
فورم کی سرپرستی
ورلڈ اسلامک فورم کے بانی، سرپرست جامع مسجد ویمبلڈن پارک لندن کے خطیب بزرگ عالم دین حضرت مولانا مفتی عبد الباقیؒ تھے جو ضعف اور علالت کے باوجود فورم کی عملی سرپرستی فرماتے رہے۔ ان کا ۱۴ اگست ۱۹۹۴ء کو انتقال ہوگیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اللہ تعالیٰ انہیں جوار رحمت میں جگہ دیں، آمین یا الہ العالمین۔ ان کے علاوہ فورم کو جن بزرگوں کی عملی سرپرستی حاصل ہے ان کے اسمائے گرامی یہ ہیں:
شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر، گوجرانوالہ، پاکستان۔
استاذ العلماء حضرت مولانا محمد عبد اللہ کاپودروی، ترکیسر، گجرات، انڈیا۔
پروفیسر ڈاکٹر سید سلمان ندوی، ڈربن یونیورسٹی، جنوبی افریقہ (ابن حضرت علامہ سید سلیمان ندویؒ)
علاوہ ازیں عالم اسلام کی ممتاز علمی شخصیت مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی اور دارالعلوم دیوبند کے مہتمم حضرت مولانا مرغوب الرحمان نے اپنے مکاتیب گرامی میں فورم کی سرگرمیوں پر جس اطمینان اور مسرت کا اظہار فرمایا ہے وہ فورم کے لیے گراں قدر اور حوصلہ بخش سرمایہ ہے۔
ویسٹ واچ گروپ
ویسٹرن سولائزیشن نے انسانی معاشرہ کے لیے جو اخلاقی اور نفسیاتی مسائل پیدا کیے ہیں ان کا دائرہ دن بدن وسیع ہوتا جا رہا ہے اور مادر پدر آزادی کے خوفناک نتائج نے خود مغربی دانشوروں کو پریشانی سے دوچار کر دیا ہے۔ چنانچہ مغربی معاشرت کے ان پہلوؤں کو سامنے لانا اور ان کے منفی نتائج سے لوگوں کو آگاہ کرنا بھی ورلڈ اسلامک فورم کے پروگرام میں شامل ہے۔ اس مقصد کے لیے ’’ویسٹ واچ اسٹڈی گروپ‘‘ کے نام سے ایک سرکل قائم کیا گیا ہے جس کے سربراہ فورم کے ڈپٹی چیئرمین مولانا مفتی برکت اللہ ہیں جبکہ معروف دانشور اور ادیب فیاض عادل فاروقی اس کے سیکرٹری ہیں۔ لیکن اس کام کے لیے مکمل دفتری سہولتیں ضروری ہیں اس لیے اسے سردست پوری طرح منظم نہیں کیا جا سکا البتہ آئندہ پروگرام میں اسے پوری طرح اہمیت دینے کا خیال ہے۔
فورم کا ہیڈ آفس
ورلڈ اسلامک فورم کے قیام کے بعد سے ختم نبوت سنٹر ۳۵ اسٹاک ویل گرین لندن میں اس کا رابطہ دفتر قائم ہے اور محترم الحاج عبد الرحمان باوا فورم کے دفتری امور کی نگرانی کر رہے ہیں۔ لیکن یہ انتظام عارضی ہے اور فورم کے لیے اپنا ہیڈ آفس ضروری ہے جس کے لیے ارادہ یہ ہے کہ کوئی ایسی جگہ حاصل کی جائے جہاں دفتری ضروریات اور سہولتوں کی فراہمی کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کا مکتب بھی قائم کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے فارسٹ گیٹ لندن میں گزشتہ سال ایک بلڈنگ کا سودا کر کے چند دوستوں کے تعاون سے ابتدائی رقم بھی ادا کر دی گئی تھی لیکن باقی رقم کے حصول کے لیے پیش رفت نہ ہو سکی جس کی وجہ سے ہم وہ بلڈنگ حاصل نہ کر سکے۔ فورم کے اپنے دفتر اور مرکز کا قیام فورم کی سب سے بڑی اور بنیادی ضرورت ہے جو اصحاب خیر کے فراخ دلانہ تعاون سے ہی پوری ہو سکتی ہے اور امید ہے کہ ان شاء اللہ العزیز ہم جلد ہی اس مقصد میں کامیابی حاصل کر سکیں گے۔
یہ ہے ورلڈ اسلامک فورم کی کم و بیش تین سالہ کارکردگی کی رپورٹ جو ماضی کی رپورٹ ہونے کے ساتھ ساتھ مستقبل کے عزائم کی آئینہ دار بھی ہے۔ اس سے بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ فورم کے بنیادی مقاصد و اہداف کیا ہیں اور انہیں کن خطوط پر آگے بڑھانے کا پروگرام ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ وہ ان مقاصد میں ہمارے لیے خلوص اور کامیابی کی دعا فرمائیں اور ضروری وسائل و اسباب کی فراہمی میں فراخدلانہ تعاون کے لیے ہاتھ بھی بڑھائیں کیونکہ اسباب کی اس دنیا میں کسی بھی کام کے لیے اللہ تعالیٰ کی مدد کے ساتھ احباب کا تعاون بھی ضروری ہے، امید ہے کہ احباب اس طرف ضرور توجہ فرمائیں گے۔
پاکستان کے دینی حلقے اور مغربی ذرائع ابلاغ
بی بی سی ۲ سے نشر کیے جانے والے ایک پروگرام کی تفصیل
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مغربی ذرائع ابلاغ ان دنوں عالم اسلام اور مسلمانوں کی جو تصویر دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہیں وہ ملت اسلامیہ کے اہل علم و دانش کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ بالخصوص پاکستان کے دینی حلقوں کو جس انداز میں عالمی رائے عامہ کے سامنے متعارف کرایا جا رہا ہے اس کا پوری سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
اس سلسلہ میں ہم قارئین کی خدمت میں معروف برطانوی نشریاتی ادارے ’’بی بی سی ۲‘‘ کے نشر کردہ ایک پروگرام کا خاکہ پیش کر رہے ہیں جس میں مختلف مذہبی پہلوؤں کے حوالے سے پاکستان کے دینی حلقوں کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ یہ پروگرام سال رواں کے دوران ’’ایسٹ‘‘ کے نام سے کئی حصوں میں نشر ہوا ہے اور لندن میں ہمارے ایک محترم دوست نے اس کے پہلے دو حصے ریکارڈ کر رکھے ہیں اور انہی کے ہاں ہم نے یہ پروگرام دیکھے ہیں۔ پروگرام کے پہلے حصہ کے نشر ہونے کی تاریخ ریکارڈ میں نہیں آسکی البتہ دوسرے حصہ کے نشر ہونے کی تاریخ ۱۸ اپریل ریکارڈ پر موجود ہے۔
پروگرام کا آغاز جھنگ سے کیا گیا ہے جس میں بعض عورتوں کو گندم کی کٹائی اور چھٹائی کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ جھنگ ایک پسماندہ علاقہ ہے جہاں شیعہ سنی کشیدگی کا ایک طویل پس منظر موجود ہے۔ اس کے بعد بی بی سی کا کیمرہ مین ہمیں سیدھا مولانا حق نواز جھنگوی شہیدؒ اور مولانا ایثار القاسمی شہیدؒ کی قبروں پر لے جاتا ہے، ان کی قبروں کی تختیوں کو نمایاں کر کے دکھایا گیا ہے، پھر اچانک ایک جلسہ کا منظر سامنے آجاتا ہے جس سے مولانا اعظم طارق خطاب کر رہے ہیں۔ پروگرام پیش کرنے والا مولانا موصوف کا بحیثیت ایم این اے تعارف کراتا ہے اور مولانا کے خطاب کے بعض حصے سنائے جاتے ہیں جن میں جناب آیت اللہ خمینی کی بعض عبارات کا حوالہ دے کر شیعہ کی تکفیر پر زور دیا گیا ہے اور ’’کافر کافر شیعہ کافر‘‘ کے پرجوش نعرے سنائے جاتے ہیں۔
اس کے بعد کیمرہ مین ہمیں ایک دینی درسگاہ میں لے گیا ہے جو اپنی عمارت اور گرد و پیش کے پس منظر میں کسی پسماندہ علاقے کی درسگاہ نظر آرہی ہے۔ درسگاہ کے ایک کمرے میں بہت سے چھوٹے بڑے طالب علم سوئے ہوئے ہیں جو اذان کی آواز سن کر اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور وضو خانہ کی طرف بھاگ رہے ہیں۔ ان میں سے متعدد طلبہ کے پاؤں میں زنجیریں ہیں اور وہ اسی حالت میں زنجیریں سنبھالتے ہوئے وضو کر رہے ہیں۔ پھر انہیں نماز پڑھتے ہوئے دکھایا گیا ہے، اتنے میں ایک غریب خاتون کیمرے کے سامنے آجاتی ہے جو اس مدرسہ میں پڑھنے والے بچے کو ملنے آئی ہے۔ اس بچے کو اپنی ماں سے مدرسہ سے باہر ایک کھلی جگہ میں ملتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ماں سے پوچھا گیا ہے کہ اس نے اپنے بچے کو اس مدرسہ میں کیوں بھیجا ہے؟ وہ جواب دیتی ہے کہ قرآن کریم حفظ کرانے کے لیے۔ دوسرا سوال ہوا کہ بچے کو کسی سکول میں کیوں نہیں بھیجا؟ ماں حسرت سے جواب دیتی ہے کہ مجبوری ہے کیونکہ اس کا باپ بیکار ہے اور گیارہ سال سے بیمار ہے اس لیے مجبوراً بچے کو اس درسگاہ میں بھیجا گیا ہے۔
اب کیمرہ مین ہمیں پھر درسگاہ کے اندر لے جاتا ہے جہاں بہت سے بچے استاذ کے سامنے بیٹھے سبق یاد کر رہے ہیں اور ایک بچہ بلند آواز سے سورۃ الرحمان کی تلاوت کر رہا ہے۔ پروگرام ریکارڈ کرنے والا بی بی سی کا نمائندہ مدرسہ کے منتظم سے انٹرویو کر رہا ہے اور اس بات کی وضاحت چاہتا ہے کہ بچوں کو زنجیروں سے کیوں باندھا گیا ہے؟ مدرسہ کے منتظم کا جواب یہ ہے کہ درجہ کتب میں تو ہمارے ہاں اس طرح کی سختی نہیں ہے وہاں طلبہ آزادی کے ساتھ پڑھتے ہیں لیکن حفظ قرآن کے شعبہ میں ہمیں سختی کرنا پڑتی ہے کیونکہ سختی کے بغیر بچے قرآن کریم یاد نہیں کر سکتے۔ زنجیروں سے باندھنے کے بارے میں درسگاہ کے منتظم کا کہنا ہے کہ ہم نے گزشتہ سال اساتذہ کی میٹنگ میں طے کیا تھا کہ کسی طالب علم کو زنجیر سے نہیں باندھا جائے گا لیکن جو بچے بھاگ جاتے ہیں اور والدین انہیں زبردستی پڑھانا چاہتے ہیں وہ اپنے بچوں کو زنجیروں کے ساتھ باندھنے پر مجبور کرتے ہیں۔ مدرسہ کے منتظم سے اس انٹرویو کے بعد درسگاہ کے طلبہ کو ایک ساتھ زمین پر بیٹھے کھانا کھاتے دکھایا گیا ہے اور وہ منظر بلاشبہ ایسا ہے جسے دیکھ کر مغربی دنیا کا کوئی شخص نفرت سے منہ پھیر لینے کے سوا کچھ نہیں کر سکتا۔
اب یہاں سے اچانک ہم ایسی جگہ پہنچ جاتے ہیں جہاں دینی مدرسہ کے طلبہ کو اسلحہ کی ٹریننگ لیتے دکھایا گیا ہے۔ ایک طالب علم کے ہاتھ میں رائفل ہے جسے وہ صاف کر رہا ہے۔ پروگرام پیش کرنے والا بتاتا ہے کہ ان طلبہ نے افغانستان میں اسلحہ کی ٹریننگ حاصل کی ہے اور کشمیر میں بھی اب یہ دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ اب سپاہ صحابہؓ کا ایک دفتر سامنے آجاتا ہے جس کے باہر مسلح گن مینوں کا پہرہ ہے اور اندر مولانا اعظم طارق اپنے رفقاء سمیت بیٹھے ہیں جن سے بی بی سی کا نمائندہ انٹرویو کر رہا ہے۔ انٹرویو کا بنیادی سوال یہ ہے کہ سپاہ صحابہؓ کے لیڈر شیعہ کے خلاف اس قدر اشتعال انگیز تقریریں کیوں کرتے ہیں؟ مولانا کا جواب یہ ہے کہ ہمارے اشتعال کے نتیجے میں دشمن اب دفاع پر مجبور ہوگیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہماری کوشش یہ ہے کہ پاکستان اور دیگر مسلم ممالک میں شیعہ کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ اس کے بعد مولانا اعظم طارق کو پھر ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے دکھایا گیا، پھر ایک جھلک زنجیروں سے جکڑے ہوئے طلبہ کی سامنے آتی ہے اور کسی ہسپتال میں شیعہ سنی تصادم کے نتیجے میں زخمی ہونے والوں کے زخم دکھا کر پروگرام کا پہلا حصہ ختم ہو جاتا ہے۔
پروگرام کے دوسرے حصے کا آغاز سلامت مسیح اور رحمت مسیح سے ہوتا ہے جو ضلع گوجرانوالہ کے مشہور زمانہ توہین رسالتؐ کیس کے ملزم ہیں۔ انہیں حوالات میں دکھایا گیا ہے اور وہیں ان سے انٹرویو ہوتا ہے۔ رحمت مسیح کہتا ہے کہ عدالت میں گواہوں نے اس کے بارے میں جھوٹ بولا ہے، اصل قصہ یہ ہے کہ ماسٹر عنایت اللہ جو قریب کے اسکول میں پڑھاتا ہے اس نے مسیحی بچوں کو اپنی کلاس میں پڑھانے سے انکار کر دیا تھا جس پر میں نے اسے وہاں سے تبدیل کرانے کی کوشش کی۔ اس پر ماسٹر عنایت نے مجھے دھمکی دی کہ میں تم سے نمٹوں گا اور یہ کیس ماسٹر عنایت نے اسی دشمنی میں ہمارے خلاف بنوایا ہے۔ اس کے نزدیک اصل کہانی یہ ہے کہ ہم گاؤں کے چودھریوں کے ماتحت نہیں رہتے تھے اور ان کے لڑکوں کے کام نہیں کرتے تھے اس لیے ہمیں اس جھوٹے کیس میں پھنسایا گیا ہے۔
اس انٹرویو کے بعد تحریک تحفظ ناموس رسالتؐ کے کارکنوں کو سروں پر پٹیاں باندھے مظاہرہ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اسی دوران سلامت مسیح اور رحمت مسیح کو سیشن کورٹ میں پیش ہونے کے لیے جاتے ہوئے دکھایا گیا ہے، عاصمہ جہانگیر ایڈووکیٹ مسلح پولیس کے پہرے میں ان ملزموں کو عدالت کی طرف لے جا رہی ہیں۔ دونوں ملزم ایک دوسرے کو صبر اور حوصلہ کی تلقین کر رہے ہیں۔ دوسرے منظر میں سیشن کورٹ سے سزائے موت کا فیصلہ سن کر ملزم باہر آرہے ہیں، ایک دوسرے سے گلے لگ کر رو رہے ہیں اور پھر انہیں پولیس کی بند گاڑی میں سوار کر کے روانہ کر دیا گیا ہے۔
اب بی بی سی کا نمائندہ ہمیں ہیومن رائٹس کمیشن پاکستان کے چیئرمین ریٹائرڈ جسٹس دراب پٹیل کے ہاں لے گیا ہے جنہوں نے اپنے مخصوص انداز میں توہین رسالتؐ پر موت کی سزا کے قانون کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ اس کے بعد جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم کو ایک طیارے سے اترتے دکھایا گیا ہے اور تبصرہ کرنے والا کہتا ہے کہ پاکستان میں مذہبی قوانین کا سلسلہ جنرل محمد ضیاء الحق نے شروع کیا تھا۔ پھر ہم ہیومن رائٹس کمیشن کی سیکرٹری جنرل عاصمہ جہانگیر ایڈووکیٹ کے دفتر میں پہنچ جاتے ہیں جو عملہ سمیت سلامت مسیح کیس میں سیشن کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرنے کی تیاری میں لگی ہوئی ہیں۔ اس دوران ان سے انٹرویو بھی ہوتا ہے اور وہ توہین رسالتؐ کی سزا کے قانون کے خلاف اپنے نقطۂ نظر کا اظہار کرتی ہیں۔
اس کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو کے پہلے دور حکومت میں اسلام آباد میں سلمان رشدی کے خلاف ہونے والے مظاہرہ کی جھلکیاں سامنے آجاتی ہیں۔ پھر وفاقی شرعی عدالت کا صدر دروازہ اور اس کے باہر لگا ہوا بورڈ دکھایا جاتا ہے، اس تبصرہ کے ساتھ کہ توہین رسالتؐ پر موت کی سزا کے قانون کے نفاذ کا فیصلہ اسی شرعی عدالت نے کیا تھا۔ اس کے بعد اسلام آباد میں ہونے والے ایک اور مظاہرہ کی جھلکی دکھائی دیتی ہے جو غالباً جماعت اہل سنت کی طرف سے راولپنڈی میں کیا جانے والا مظاہرہ ہے۔ پھر ہم عاصمہ جہانگیر ایڈووکیٹ کے آفس میں پہنچ جاتے ہیں جہاں ان کی رفیقہ کار حنا جیلانی ایڈووکیٹ سے انٹرویو ہوتا ہے۔ اس کے بعد نشریہ کے مطابق کیمرہ مین سیدھا جھنگ پہنچ جاتا ہے اور مسجد حق نواز شہیدؒ کے باہر گن مینوں کو پہرہ دیتے ہوئے دکھاتا ہے اور پھر مولانا اعظم طارق سے انٹرویو لیا جاتا ہے جس میں وہ توہین رسالت کیس میں سلامت مسیح اور رحمت مسیح کو سیشن کورٹ کی طرف سے دیے جانے والی سزائے موت کی تائید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر یہ سزا نہ دی جاتی تو لوگ ملزموں کے گھروں کو جلا دیتے اور ساری بستی نذر آتش کر دیتے۔
پھر ہم سیدھے رتہ دوہتڑ گاؤں میں پہنچتے ہیں جہاں سلامت مسیح اور رحمت مسیح کے گھروں کو تالے لگے ہوئے نظر آتے ہیں، بستی ویرانی کا منظر پیش کر رہی ہے، اس کی دیواروں پر ’’گستاخ نبیؐ کو پھانسی دو‘‘ کے نعرے درج ہیں۔ ایک طرف کچھ مکان آباد ہیں جن سے باہر کچھ عورتیں جمع ہیں جو مسلمانوں کے مطالبات اور سیشن کورٹ کے فیصلے کے خلاف مخصوص انداز میں اظہار جذبات کر رہی ہیں۔ ایک عورت مسلمانوں کو خوب جلی کٹی سنا رہی ہے، ایک بوڑھا خدا کی مرضی کہہ کر خاموش ہو جاتا ہے، پھر بتاتا ہے کہ رحمت مسیح اور سلامت مسیح کے خاندان اس بستی سے جا چکے ہیں مگر لوگ اب بھی ان کا پتہ معلوم کرنے کے لیے یہاں آتے ہیں تاکہ انہیں تلاش کر کے خاندان کے افراد کو مار سکیں۔
اب عیسائیوں کا ایک مذہبی جلوس سامنے آجاتا ہے جو ایک پادری کی قیادت میں مقامی گرجا گھر کی طرف جا رہا ہے اور پھر پروگرام پیش کرنے والے صاحب ہمیں یہ کہتے ہوئے ربوہ لے جاتے ہیں کہ توہین رسالتؐ کے سلسلہ میں زیادہ مقدمات احمدیوں کے خلاف ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی کی تصویر دکھائی جاتی ہے اور ان کے ایک قول کا بینر سامنے آتا ہے جس میں انہوں نے اس جملہ کو الہامی قرار دیا ہے کہ ’’میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچا دوں گا‘‘۔ ربوہ کی ایک عبادت گاہ میں ان کا مربی تقریر کر رہا ہے اور بتا رہا ہے کہ مسیح بن مریمؑ فوت ہو چکے ہیں۔ پھر ۱۹۷۴ء کی آئینی ترمیم کا حوالہ دیا جاتا ہے جس میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا ہے اور ۱۹۸۴ء کے صدارتی آرڈیننس کا ذکر ہوتا ہے جس کے تحت اسلام کا نام اور اس کے شعائر کے استعمال سے قادیانیوں کو قانوناً روک دیا گیا ہے۔ پھر ہمیں قادیانیوں کے آرگن ’’الفضل‘‘ کے دفتر لے جایا گیا ہے جہاں اس کے ایڈیٹر نسیم سیفی ’’الفضل‘‘ کی کاپیاں جوڑتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ پھر وہ انٹرویو دیتے نظر آتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ہمیں کہا جاتا ہے کہ تم مسلمان نہیں ہو، ہم اگر مسلمان نہیں تو پھر اور کیا ہیں؟ اب قادیانیوں کو ایک عبادت گاہ میں نماز پڑھتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
اس کے بعد ہم تحریک تحفظ ناموس رسالتؐ کے ایک اجلاس میں پہنچ جاتے ہیں جس میں مختلف مکاتب فکر کے علماء بیٹھے ہیں، پھر ایک قادیانی وکیل دکھایا جاتا ہے اور چند قادیانیوں کو کمرہ کے سامنے لایا جاتا ہے جن کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ ان کے خلاف مقدمات درج ہیں۔ اب ہم سیدھے سندھ پہنچتے ہیں جہاں ایک بستی میں قادیانیوں کے خلاف کام کرنے والے مقامی علماء سے سوال و جواب ہوتے ہیں۔ اس کے بعد مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی راہنما مولانا احمد میاں حمادی سے ایک مجلس میں انٹرویو ہوتا ہے جو بتاتے ہیں کہ ہم قادیانیوں کو آئین و قانون کا پابند دیکھنا چاہتے ہیں اور اسی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ اگر وہ آئین و قانون کے مطابق رہیں تو ہمارا ان سے کوئی جھگڑا نہیں۔ اب ایک دفعہ پھر ہم ربوہ میں ہیں، وہی نسیم سیفی صاحب کا دفتر ہے وہ الفضل کی کاپی جوڑ رہے ہیں اور الفضل پر حکومت کی طرف سے پابندی کا ذکر کرتے ہوئے امتناع قادیانیت کے صدارتی آرڈیننس کا حوالہ دیتے ہیں۔ ربوہ کا ایک بازار دکھایا جاتا ہے جہاں لوگوں کی آمد و رفت ہے، تانگے چل رہے ہیں اور ایک مسجد سے باہر نسیم سیفی اپنے ہاتھ میں ایک آیف آئی آر لہرا کر بتا رہے ہیں کہ اس میں ربوہ کی پوری آبادی کو ملزم ٹھہرایا گیا ہے اور اس کے تحت پولیس کسی بھی شخص کو کسی بھی وقت گرفتار کر سکتی ہے۔ اس کے بعد ربوہ کے قبرستان میں ہمیں لے جایا جاتا ہے جس میں قادیانی امت کے تیسرے سربراہ مرزا بشیر الدین محمود کی قبر کی لوح دکھائی جاتی ہے اور نسیم سیفی صاحب قبروں پر کچھ پڑھتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
اب ہمیں اسکرین پر پاکستان کے پاسپورٹ کے فارم کا ایک حصہ دکھایا جاتا ہے جس میں مسلمانوں کے لیے مرزا غلام احمد قادیانی کو جھوٹا قرار دینے کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔ ربوہ سے ہم گوجرانوالہ پہنچتے ہیں جہاں کے ایک محلہ کھیالی میں گزشتہ سال ایک حافظ قرآن فاروق کو چند شرپسندوں کی شرارت پر قرآن کریم کا گستاخ قرار دے کر شہید کر دیا گیا تھا۔ کیمرہ مین حافظ فاروق کا گھر دکھاتا ہے، پولیس چوکی کی حوالات کو سامنے لاتا ہے جہاں سے مشتعل ہجوم حافظ فاروق کو پولیس سے چھڑا کر لے گیا تھا، وہ روڈ دکھایا گیا ہے جہاں حافظ فاروق کو گھسیٹا گیا اور پھر سنگسار کر دیا گیا۔ حافظ فاروق کی اہلیہ اور خواہر نسبتی کا انٹرویو نشر کیا گیا ہے اور خواتین کو ان سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
اب ہم پھر سپاہ صحابہؓ کے گیسٹ ہاؤس کے سامنے ہیں جہاں گن مین کھڑے ہیں اور اندر مولانا اعظم طارق قومی اسمبلی میں پیش کردہ ناموس صحابہؓ بل کی وضاحت کر رہے ہیں۔ اس کے بعد کیمرہ مین ہمیں جلی ہوئی گاڑی دکھاتا ہے، ہسپتال میں زخمیوں کے پاس لے جاتا ہے اور مسجد میں بم پھٹنے کے بعد کا منظر پیش کرتا ہے اور پھر ہم ہیومن رائٹس کمیشن کے چیئرمین ریٹائرڈ جسٹس دراب پٹیل کے دفتر میں پہنچ جاتے ہیں جو اپنی گفتگو میں مسلمانوں کو تحمل اور بردباری سے کام کرنے کی تلقین کر رہے ہیں اور توہین رسالتؐ کی سزا کے قانون کے خلاف اپنے موقف اور جذبات کا اظہار کر رہے ہیں۔
اب ہم لاہور ہائیکورٹ کے سامنے ہیں جہاں رحمت مسیح اور سلامت مسیح کو سیشن کورٹ کی طرف سے دی جانے والی سزائے موت کے فیصلہ کے خلاف اپیل کی سماعت ہو رہی ہے۔ کورٹ سے باہر نوجوانوں کا مشتعل ہجوم ہے جو ’’عشق رسولؐ میں موت بھی قبول ہے‘‘ کے پرجوش نعروں کے ساتھ اپنے جذبات کا اظہار کر رہا ہے۔ ان نوجوانوں کو کھلے روڈ پر جماعت کے ساتھ نماز پڑھتے ہوئے بھی دکھایا گیا ہے اور جناب رشید مرتضیٰ ایڈووکیٹ کو نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے سامنے لایا گیا ہے۔ اتنے میں کورٹ کا فیصلہ سامنے آجاتا ہے، رحمت مسیح اور سلامت مسیح کو بری کر دیا گیا ہے اور کورٹ سے باہر نوجوانوں کا مشتعل ہجوم فیصلہ کے خلاف احتجاج کر رہا ہے۔ پھر ہم لاہور کے مرکز ختم نبوت مسجد عائشہؓ مسلم ٹاؤن میں پہنچ جاتے ہیں جہاں ایک اجلاس کا منظر دکھایا گیا ہے اور صوبائی اسمبلی کے رکن پیر سید عارف حسین شاہ آف حافظ آباد بی بی سی کی ٹیم کو انٹرویو دیتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ ہم ناموس رسالتؐ پر حملہ کسی صورت میں برداشت نہیں کر سکتے اور نہ ہی گستاخی کو انسانی حقوق میں شمار کرتے ہیں۔
اس کے بعد احتجاجی جلوس کی ایک جھلک دیکھ کر ہم پھر عاصمہ جہانگیر ایڈووکیٹ کا انٹرویو سن رہے ہیں جو مظاہرہ کرنے والوں کو بنیاد پرست اور دہشت گرد قرار دے کر بتا رہی ہیں کہ ان کی طرف سے اسلام کے نام پر ہمیں دھمکایا جا رہا ہے۔ پھر سلامت مسیح اور رحمت مسیح کو ایک گاڑی میں لے جایا جا رہا ہے اس کیفیت کے ساتھ کہ وہ گاڑی کے شیشوں کے پردے آگے کر کے اپنے اور اپنے چہروں پر پردہ ڈال کر باہر کے لوگوں سے چھپنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پروگرام پیش کرنے والا بتا رہا ہے کہ ان کے قتل کا فتویٰ صادر ہو چکا ہے اس لیے انہیں چھپا کر لے جایا جا رہا ہے اور پھر یہ کہہ کر پروگرام کا یہ حصہ مکمل کر دیا جاتا ہے کہ ’’اور قانون میں ابھی تک کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔‘‘
قارئین محترم! یہ ہے اس سال بی بی سی ۲ سے ’’ایسٹ‘‘ کے عنوان سے نشر ہونے والے پروگرام کے پہلے دو حصوں کا خاکہ جس میں پاکستان کے دینی حلقوں، مدارس اور جماعتوں کی تصویر عالمی رائے عامہ کے سامنے پیش کی گئی ہے۔ اس میں حقیقت اور افسانے کا تناسب کیا ہے اور مختلف واقعات کے حصے بخرے کر کے انہیں ازسرنو ایک خاص ترتیب کے ساتھ سامنے لانے کے پیچھے کیا مقاصد کارفرما ہیں؟ اس کا فیصلہ آپ خود کر لیں لیکن ایک بات ہم اس موقع پر عرض کرنا چاہیں گے کہ اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں اصل حالات سے بے خبر مغربی رائے عامہ اس نوعیت کے مسلسل پروگرام دیکھ کر اگر مسلمانوں کے دینی حلقوں کے بارے میں منفی تاثرات قائم کرتی ہے تو اس میں اس کا کچھ زیادہ قصور بھی نہیں ہے۔ یہ منظر جو شخص بھی خالی الذہن ہو کر دیکھے گا وہ منفی تاثرات سے خود کو نہیں بچا سکے گا۔ یہ صورتحال دینی جماعتوں اور ان کی قیادتوں کے لیے لمحہ فکریہ ہی نہیں ایک کھلا چیلنج بھی ہے۔ خدا کرے کہ ہمارے مذہبی راہنما اس چیلنج کا صحیح طور پر ادراک کرتے ہوئے عملی میدان میں اس کا سامنا کر سکیں۔
استاذ العلماء حضرت مولانا محمد عبد اللہ کاپودروی مدظلہ العالی (گجرات انڈیا) کا مکتوب گرامی
حضرت مولانا عبد اللہ کاپودروی
باسمہ تعالیٰ
۴ جولائی ۱۹۹۵ء
محترم المقام حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب زید مجدکم السامی۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
آنمحترم کا ارسال کردہ لفافہ موصول ہوا جس میں الشریعہ کے دو عدد: اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر کا اردو ترجمہ اور ورلڈ اسلامک فورم کی مختصر اور جامع رپورٹ شامل تھی۔ اس ذرہ نوازی کا تہہ دل سے مشکور ہوں۔ جزاکم اللہ خیرا۔
الشریعہ کے مئی ۱۹۹۵ء کے عدد میں انسانی حقوق کے چارٹر کے بارے میں آنمحترم کے اہم قیمتی افکار پڑھ کر خوشی ہوئی۔ آپ نے وقت کی ایک اہم ضرورت کی طرف متوجہ فرمایا ہے۔ انسانی حقوق کے لفظ کا آج کل جس طرح استعمال ہو رہا ہے اور اس خوبصورت عنوان کے پیچھے جس طرح باطل کو عام کرنے اور فسق و فجور کو فروغ دینے کی سعی کی جا رہی ہے، اس کے بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ’’کلمہ حق ارید بہا الباطل‘‘۔ اہل مغرب کی یہی تو عیاری ہے کہ اپنے مکروہ عزائم اور گھناؤنے کارناموں کو خوبصورت عنوانات کے ذیل میں اس طرح پیش کرتے ہیں کہ دنیا کی قومیں سر دھننے لگتی ہیں۔
امتِ مسلمہ انسانی حقوق کی سب سے بڑھ کر رعایت کرنے والی بلکہ انسان سے بڑھ کر جملہ جاندار کے حقوق کی علمبردار ہے۔ ضرورت ہے کہ علمائے اسلام انسانی حقوق کا چارٹر قرآن و حدیث کی روشنی میں تیار کریں اور اس کو دنیا کی مختلف زبانوں میں شائع کر دیں تاکہ مغرب کے اس پروپیگنڈا کا مثبت جواب ہو سکے جس کو آج کل بہت تیزی کے ساتھ پھیلایا جا رہا ہے کہ اسلام انسانی حقوق کی رعایت نہیں کرتا وغیرہ۔
انسانی حقوق کی اہمیت، اس کی بنیادیں، اس کے شرائط و قیود کو عصری اسلوب میں واضح کرنے کی ضرورت ہے۔ فرد کی آزادی پر اسلام نے جو قیود عائد کی ہیں اس کے فوائد اور مطلق آزادی کے نقصانات سے آگاہ کرنے کی بھی ضرورت ہے۔
آج بھی مغرب میں انسانی حقوق کو جس طرح پامال کیا جا رہا ہے اور مشرق و مغرب میں انسانی حقوق کے سلسلہ میں جو دو رخی حکمتِ عملی جاری ہے، اس کا بھی پردہ فاش کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک امریکی اور اسرائیلی کی موت پر انسانی حقوق کی آڑ میں شور کیا جاتا ہے مگر بوسنیا، چیچنیا میں ہزاروں بے گناہوں کے قتل پر بالکل خاموش تماشائی بن کر اسے انگیز کیا جاتا ہے۔ اس منافقت پر مغربی دانشوروں کو جھنجھوڑنے کی ضرورت ہے۔
چونکہ انسانی حقوق کی آڑ میں پورے اسلامی نظام کو برباد کرنے کی مہم چل رہی ہے اور مسلمان ملکوں کے مغرب پرست نام نہاد مسلم دانشور اور حکام کو اس کا آلہ کار بنایا جا رہا ہے، اس لیے انسانی حقوق کا اسلامی منشور جلد شائع کرنے کی شدید ضرورت ہے۔
اس موضوع پر مسلم علماء و دانشور جمع ہو کر جتنا جلد کوئی لائحہ عمل تیار کریں گے، وہ امت کے لیے سود مند ہو گا۔
مغربی ملکوں میں انسانی حقوق کی جہاں بھی خلاف ورزی ہو رہی ہو، اس پر نظر رکھنے کے لیے بھی کمیٹی بننی چاہیے اور اخبارات و دیگر وسائل اعلام کے ذریعہ دنیا کو بتایا جائے کہ مغرب میں کیا ہو رہا ہے۔
اکلاہما (امریکہ) میں بم کا دھماکہ ہوا اور انسانی جانیں ضائع ہوئیں جو قابل مذمت واقعہ ہے، مگر مغربی ذرائع ابلاغ نے فوراً ہی بغیر تحقیق کے اسلام اور مسلمانوں کو نشانہ بنایا اور کئی مسلمانوں کو دو روز تک پریشان کیا۔ اس پر خود امریکہ اور کینیڈا کے بعض اخبارات نے اداریے لکھے مگر اسلامی دنیا کی صحافت بالکل خاموشی کے ساتھ اس کو نظرانداز کرتی رہی۔
بہرحال آپ نے بروقت اس اہم مسئلہ پر اظہار خیال فرما کر علماء کو متوجہ فرمایا ہے۔ اس پر ناچیز مبارکباد پیش کرتا ہے۔ اللہ کرے اس مسئلہ کی اہمیت محسوس کر کے کوئی ٹھوس قدم اٹھایا جائے گا۔ واللہ الموفق وہو الہادی الیٰ طریق الصواب۔
والسلام،
احقر عبد اللہ کاپودروی
نزیل حال لندن
پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سالانہ رپورٹ کا جائزہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
روزنامہ جنگ لندن ۸ جولائی کی ایک خبر کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں اپنی اس سال کی رپورٹ میں بھی توہین رسالتؐ کی سزا کے قانون اور قادیانیوں کو اسلام کا نام اور اسلامی اصطلاحات کے استعمال سے روکنے کو موضوع بحث بنایا ہے اور ان تمام قوانین کے ضمن میں درج مقدمات اور گرفتاریوں کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان میں قادیانیوں اور مسیحیوں کے انسانی حقوق کی پامالی کا تذکرہ کیا ہے۔
مغربی ذرائع ابلاغ اور بین الاقوامی تنظیمیں کسی ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے بارے میں رپورٹ کی تیاری میں کیا طریق کار اختیار کرتی ہیں، اس کی ایک جھلک حال ہی میں پاکستان میں چائلڈ لیبر کے استعمال کے حوالے سے مغربی میڈیا اور لابیوں کی مہم کے ضمن میں سامنے آچکی ہے جس میں بعض مناظر کو فلمانے کے لیے جعلی ماحول پیدا کرنے کے واقعات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اور یہ بات بھی منکشف ہو چکی ہے کہ بھارت کے تجارتی اداروں نے تجارتی مقاصد کے لیے اس مہم کے تانے بانے بنے اور مغربی میڈیا اور لابیاں اس میں ان کی شریک کار بنیں یا کم از کم اس مہم کے حق میں استعمال ہوئیں۔
اسی طرح جن دوستوں نے بی بی سی ۲ سے اس سال کے آغاز میں ’’ایسٹ‘‘ کے نام سے دکھائی جانے والی سیریز کے وہ حصے دیکھے ہیں جن میں پاکستان کے مذہبی حلقوں اور اداروں کی تصویر کشی کی گئی ہے، ان کے لیے اس تکنیک اور طریق واردات تک پہنچنا مشکل نہیں ہے جو پاکستان اور اس کے اسلامی تشخص کی تصویر خراب کرنے کے لیے مغرب کی لابیاں اور ذرائع ابلاغ ایک عرصہ سے استعمال کر رہے ہیں۔
مگر اس پس منظر سے قطع نظر ہم ان دونوں قوانین کا ایک سرسری جائزہ پیش کرنا چاہتے ہیں جو سالہا سال سے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سالانہ رپورٹوں کا موضوع ہیں اور جنہیں انسانی حقوق کے منافی قرار دیتے ہوئے ان کی تبدیلی پر مسلسل زور دیا جا رہا ہے۔ حتیٰ کہ چند ماہ قبل پاکستان کی امور کشمیر کمیٹی کے سربراہ نوابزادہ نصر اللہ خان کے دورۂ جنیوا کے موقع پر ایمنسٹی انٹرنیشنل نے انہیں پیش کی جانے والی یادداشت میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی اور انسانی جانوں کے ضیاع کو پاکستان میں قادیانیوں اور مسیحیوں کے انسانی حقوق کی مبینہ پامالی کے ساتھ جوڑ دیا تھا اور ان قوانین کی تبدیلی کا مطالبہ کیا تھا۔
جہاں تک قادیانیوں کی اسلام کے نام پر سرگرمیوں کی ممانعت کا تعلق ہے اس کی تفصیل یہ ہے کہ قادیانی گروہ ایک نئے مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی کا پیروکار ہے اور اپنے پیشوا کی ہدایات کو وحی الٰہی پر مبنی تسلیم کرتا ہے۔ جس کی وجہ سے دنیا بھر کے ایک ارب سے زائد مسلمانوں کے متفقہ فیصلہ کی رو سے یہ گروہ ملت اسلامیہ کا حصہ نہیں ہے اور قرآن کریم اور جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان کے دعوے کے باوجود بالکل اسی طرح مسلمانوں سے الگ ایک نئے مذہب کا پیروکار ہے۔ جس طرح حضرت موسٰی علیہ السلام اور توراۃ پر ایمان کے باوجود عیسائی صرف اس لیے یہودیوں سے الگ ایک نئے مذہب کے پیروکار سمجھے جاتے ہیں کہ وہ ایک نئے پیغمبر حضرت عیسٰی علیہ السلام اور ان کی وحی کو بھی تسلیم کرتے ہیں۔ یا حضرت موسیٰ اور حضرت عیسٰی علیہما السلام اور توراۃ و انجیل دونوں پر ایمان کے باوجود مسلمان ان دونوں سے الگ ایک نئے مذہب کے پیروکار کہلاتے ہیں کہ وہ قرآن کریم اور جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ایمان رکھتے ہیں۔
یہ آسمانی مذاہب کے درمیان ایک طے شدہ اصول ہے جس کے تحت سچ جھوٹ سے قطع نظر قادیانی گروہ مسلمانوں سے الگ ایک نئے مذہب کا پیروکار قرار پاتا ہے اور ان کے لازم ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے لیے نیا نام اختیار کرے اور مسلمانوں سے الگ نئی مذہبی اصطلاحات اور شعائر کو متعارف کرائے۔ مگر قادیانی گروہ اس مسلمہ حقیقت اور طے شدہ اصول کو قبول کرنے سے گریز کر رہا ہے اور اپنی نئی نبوت اور نئی وحی کو اسلام کے نام پر دنیا کے سامنے پیش کرنے پر مصر ہے۔ اس پر مسلمانوں کو اعتراض ہے اور اسی اعتراض کو دور کرنے کے لیے پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ نے ایک متفقہ آئینی ترمیم کے ذریعے قادیانیوں کو مسلمانوں سے الگ ایک غیر مسلم اقلیت قرار دیا ہے۔ اور اس کے بعد قادیانیوں کو اسلام کا نام اور اسلامی اصطلاحات کے استعمال سے قانوناً روکنے کا قانون بھی اسی آئینی فیصلے کا منطقی تقاضا اور اس پر عملدرآمد کی طرف پیش رفت ہے۔
یہ ہے مسلم قادیانی تنازعہ کا اصل پس منظر جس کی بنیاد قادیانیوں کو شہری حقوق دینے یا ان سے محروم کرنے پر نہیں بلکہ مسلمانوں اور قادیانیوں کے درمیان مذہبی امتیاز اور جداگانہ تشخص قائم کرنے پر ہے جو بہرحال دونوں کی مشترکہ ضرورت ہے۔ لیکن انتہائی حیرت اور تعجب کی بات ہے کہ قادیانی مبادیات کو تسلیم کرتے ہوئے ان کے منطقی نتائج کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی پر وحی نازل ہوئی تھی اور اس وحی پر ایمان نہ لانے کی وجہ سے دنیا بھر کے ایک ارب سے زائد مسلمان ان کے ہم مذہب نہیں ہیں، لیکن مسلمانوں اور قادیانیوں کے مذہب کو الگ الگ تسلیم کرتے ہوئے بھی وہ اپنے مذہب کے لیے الگ نام اور اصطلاحات اختیار نہیں کرنا چاہتے۔ صرف اس لیے کہ اشتباہ اور التباس کی فضا قائم رہے اور وہ اس سے فائدہ اٹھا کر ملت اسلامیہ میں انتشار پیدا کر سکیں۔
اس قسم کی صورتحال اس سے قبل ایران کے بہائیوں کے حوالہ سے بھی پیش آئی کیونکہ بہائی بھی مرزا محمد علی الباب اور بہاء اللہ شیرازی کی تعلیمات کا راستہ وحی الٰہی سے جوڑتے ہیں۔ لیکن انہوں نے قادیانیوں کی طرح دھوکے اور اشتباہ کو قائم رکھنے کا راستہ اختیار نہیں کیا بلکہ مذاہب کے مسلمہ اصول کا احترام کرتے ہوئے اپنے لیے الگ نام اختیار کیا اور مسلمانوں سے اپنی اصطلاحات اور تشخص کو الگ کر لیا جس کی وجہ سے ان کے ساتھ مسلمانوں کا قادیانیوں کی طرز کا کوئی تنازعہ نہیں ہے۔ حتیٰ کہ کسی مسلم پارلیمنٹ کو انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ اگر قادیانی گروہ بھی معروضی حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے بہائیوں کی طرح الگ نام اور الگ شناخت کا راستہ اختیار کر لے تو مسلمانوں اور قادیانیوں کے درمیان تنازعہ کی موجودہ کشیدگی اور منافرت ایک دوسرے کو برداشت کر لینے کی حد تک کم ہو سکتی ہے۔ ویسے بھی قادیانیوں کے لیے اصولی اور منطقی طور پر دو ہی راستے ہیں:
- یا تو وہ نئی نبوت اور نئی وحی کو چھوڑ کر ملت اسلامیہ کے اجتماعی دھارے میں واپس آجائیں،
- اور یا پھر اپنے لیے الگ نام اور الگ شناخت اختیار کریں۔
تیسرا کوئی راستہ بھی جائز اور معقول نہیں ہے اور جو راستہ انہوں نے اختیار کیا ہے وہ تنازعہ اور کشیدگی کا راستہ ہے جو اختیار بھی انہوں نے کیا ہے اور اس کے نتائج بھی انہی کو بھگتنا ہیں۔
مسلم قادیانی تنازعہ کے اس پس منظر میں اگر حقوق کی پامالی کا سوال کہیں پیدا ہوتا ہے تو وہ مسلمانوں کے حقوق کا ہے نہ کہ قادیانیوں کے حقوق کا۔ کیونکہ اپنی شناخت اور امتیاز کا تحفظ مسلمانوں کا حق ہے جو قادیانیوں کے غلط طرز عمل کی وجہ سے مجروح ہو رہا ہے۔ اس کشمکش میں اصل خطرہ مسلمانوں کو درپیش ہے کہ ان کا نام اور ان کی شناخت کا استعمال ایک ایسے گروہ کے لیے ہو رہا ہے جو ان کے وجود کا حصہ نہیں ہے اور ان سے الگ مذہبی وجود رکھتا ہے۔
اس لیے ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دیگر مغربی اداروں کو چاہیے کہ وہ اگر واقعی انصاف کے علمبردار ہیں تو اپنے طرزعمل پر نظر ثانی کریں اور واقعات کی یک طرفہ تصویر پیش کر کے اس پر فیصلے صادر کرنے کی بجائے مسلمانوں کے موقف او رمشکلات کا جائزہ لیں اور ان کے حقوق کے لیے بھی آواز اٹھائیں۔
یہی صورتحال توہین رسالتؐ کی سزا کے قانون کے بارے میں بھی ہے کہ واقعات کی یکطرفہ تصویر کو مسلسل سامنے لایا جا رہا ہے اور اس قانون کو تبدیل کرانے یا بے اثر بنانے کے لیے مغرب کے ذرائع ابلاغ، لابیاں بلکہ حکومتیں دباؤ ڈال رہی ہیں۔ اس سلسلہ میں یہ کہا جاتا ہے کہ قانون کا غلط استعمال ہو رہا ہے اس لیے اس میں تبدیلی ضروری ہے اور قانون کے غلط استعمال کے ثبوت کے طور پر رحمت مسیح اور سلامت مسیح کیس کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ حالانکہ امر واقعہ یہ ہے کہ اس کیس کے سلسلہ میں مغربی ذرائع ابلاغ نے اب تک جو کچھ کہا ہے وہ یک طرفہ ہے۔ دوسری طرف کا موقف کیس سے متعلقہ حضرات سے معلوم کرنے کی آج تک کسی مغربی تنظیم، حکومت یا نشریاتی ادارے نے زحمت گوارا نہیں کی۔ راقم الحروف ان افراد میں شامل ہے جو سیشن کورٹ کے فیصلے تک اس کیس کی پیروی میں مختلف سطح پر شریک رہے ہیں اس لیے اس حیثیت سے مندرجہ ذیل حقائق کو ریکارڈ پر لانا ضروری سمجھتا ہے کہ
- ہم نے مسیحی راہنما بشپ فادر روفن جولیس ایم این اے کو تحریری پیشکش کی کہ ہم ان کے ساتھ مل کر مشترکہ کمیٹی کی صورت میں اس کیس کی پبلک انکوائری کے لیے تیار ہیں لیکن انہوں نے پیشکش قبول کرنا تو کجا اس سلسلہ میں رجسٹرڈ خطوط کا جواب دینا بھی گوارا نہیں کیا۔
- وزیراعظم پاکستان کی طرف سے انکوائری کمیٹی کے اعلان پر ہم نے کمشنر گوجرانوالہ ڈویژن سے ملاقات کر کے ان سے درخواست کی کہ اس انکوائری میں ہمیں شریک کیا جائے تاکہ ہم اپنی معلومات کی بنیاد پر حقائق کو ریکارڈ پر لا سکیں۔ انہوں نے اس بات کا وعدہ کیا لیکن اس وعدہ کی تکمیل کی نوبت نہ آسکی۔
- قومی اسمبلی کے مسلم اور مسیحی ارکان پر مشتمل انکوائری کمیٹی اسمبلی کی طرف سے مقرر کی گئی تو ہم نے اس کا خیرمقدم کرتے ہوئے کمیٹی کے ارکان کو گوجرانوالہ تشریف لا کر براہ راست حالات کا جائزہ لینے کی دعوت دی مگر ایسا بھی نہ ہو سکا۔
- مغربی ذرائع ابلاغ اور تنظیموں کی متعدد ٹیمیں رپورٹ مرتب کرنے کے لیے گوجرانوالہ گئیں جن کی رپورٹیں سامنے آچکی ہیں لیکن ان میں سے کسی نے کیس کے مدعی اور اس کی پیروی کرنے والے علماء اور وکلاء سے رابطہ کی زحمت گوارا نہیں کی۔
ان حالات میں اس کیس کے بارے میں عالمی سطح پر جو یک طرفہ پراپیگنڈا ہوا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ اور سیشن کورٹ کی طرف سے ملزموں کو قانون کے مطابق سزائے موت سنانے کے بعد ہائی کورٹ میں جس تیز رفتاری کے ساتھ اپیل کے مراحل طے کیے گئے اور جو طریق کار اختیار کیا گیا اس کی روشنی میں ملزموں کی بریت، رہائی اور بیرون ملک روانگی پر کوئی تبصرہ کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ تاہم اس کیس کے حوالے سے قانون کے غلط استعمال کے سلسلہ میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کے الزام کو قطعی طور پر مسترد کرتے ہوئے گوجرانوالہ کے علماء کرام کی طرف سے یہ پیشکش دہرائی جاتی ہے کہ ہم اس کیس کے اصل حقائق کو سامنے لانے کے لیے مسلمان اور مسیحی راہنماؤں پر مشتمل مشترکہ انکوائری کمیٹی کے ذریعے آج بھی پبلک انکوائری کے لیے تیار ہیں، بشرطیکہ وہ معروف معنوں میں انکوائری ہو اور پہلے کی طرح انکوائری کے نام پر یک طرفہ کاروائی نہ ہو۔
پھر کسی قانون کے غلط استعمال کے امکان کو قانون کی تبدیلی کے لیے وجہ جواز قرار دینا بجائے خود محل نظر ہے۔ قوانین کا غلط استعمال تناسب کی کمی بیشی کے ساتھ دنیا کے ہر ملک میں ہوتا ہے لیکن کہیں بھی ایسے تحفظات اختیار نہیں کیے جاتے جو ضرورت کے وقت قانون کے صحیح استعمال کے امکان کو ہی مخدوش بنا دیں۔ کیونکہ جہاں قانون کے غلط استعمال کی روک تھام ضروری ہے وہاں اس کے صحیح استعمال کی ضمانت بھی قانون کا تقاضا ہوتا ہے۔ لیکن پاکستان میں توہین رسالتؐ کی سزا کے قانون کے نفاذ کے طریق کار میں تبدیلی کے لیے جو ترامیم تجویز کی گئی ہیں وہ اس معیار پر پورا نہیں اترتیں۔ ان ترامیم میں کہا گیا ہے کہ توہین رسالتؐ کے قانون کے تحت ایف آئی آر کا اندراج ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی پیشگی انکوائری کے ساتھ مشروط کر دیا جائے اور اگر مدعی اپنے الزام کے لیے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے اطمینان کے مطابق ثبوت فراہم نہ کر سکے تو اسے جھوٹے الزام کی سزا میں دس سال کے لیے قید کر دیا جائے۔ اس صورت میں قانون کے عملی نفاذ کے امکانات مخدوش ہونے کے ساتھ ساتھ قانون پر عملدرآمد کا انحصار کسی عدالتی سسٹم کی بجائے فرد واحد (ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ) کی صوابدید پر رہ جاتا ہے جو انصاف کے مسلمہ اصولوں کے منافی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان ترامیم کو پاکستان کی رائے عامہ نے مسترد کر دیا ہے اور ملی یکجہتی کونسل کی اپیل پر ۲۷ مئی ۱۹۹۵ء کو ملک گیر ہڑتال کر کے ان ترامیم کے خلاف عوامی فیصلہ صادر کر دیا ہے۔
ان گزارشات کے علاوہ دو اور پہلو بھی ایمنسٹی انٹرنیشنل کے پیش نظر رہنے چاہئیں:
- ایک یہ کہ قادیانیوں کو ملت اسلامیہ کا حصہ تسلیم نہ کرنے اور ان سے اپنے لیے الگ نام اور شناخت کا مطالبہ کرنے کا تعلق مسلمانوں کے مذہبی عقائد سے ہے۔ اسی طرح ناموس رسالتؐ کا تحفظ اور توہین رسالتؐ پر موت کی سزا بھی مسلمانوں کا مذہبی معاملہ ہے اور یہ صرف اسلام کا حکم نہیں بلکہ متعدد تصریحات کی رو سے بائبل نے بھی اللہ تعالیٰ کے کسی سچے پیغمبر کی توہین پر موت ہی کی سزا بیان کی ہے۔ اس لیے دنیا بھر کے ایک ارب سے زائد مسلمانوں سے مطالبہ کرنا کہ وہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے طے کردہ انسانی حقوق کا معیار پورا کرنے کے لیے اپنے مسلمہ مذہبی عقائد سے منحرف ہو جائیں، کسی بھی طرح قرین انصاف نہیں ہے۔ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل ایسا مطالبہ کر کے مسلمانوں کے مذہبی عقائد میں مداخلت کی مرتکب ہو رہی ہے۔
- دوسری بات پاکستان کے حوالہ سے ہے کہ یہ دونوں قوانین پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ کے منظور کردہ ہیں اور ان کے پیچھے رائے عامہ کا براہ راست دباؤ بھی موجود ہے جس کا اظہار ۲۷ مئی کو ایک بار پھر ہو چکا ہے۔ اس طرح ان قوانین کو منتخب پارلیمنٹ کی منظوری کے ساتھ ساتھ رائے عامہ کی پشت پناہی اور ملک کی اعلیٰ عدالتوں کی مکمل تائید حاصل ہے۔ اس لیے ان قوانین کی تبدیلی کا باہر سے مطالبہ کرنا رائے عامہ اور پارلیمنٹ کے فیصلوں کی توہین ہے جو مسلمہ جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کا موجودہ طرزعمل بلاشبہ جمہوری اقدار اور اصولوں سے انحراف کا نقشہ پیش کر رہا ہے۔
اس بنا پر ہم پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی اس سال کی رپورٹ کے ان حصوں کو حقیقت پسندانہ تسلیم نہیں کرتے جن کا تعلق اسلام کے نام پر قادیانیوں کی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون اور توہین رسالتؐ کی سزا کے قانون سے ہے۔ کیونکہ ہماری رائے میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ان معاملات میں جانبداری کا مظاہرہ کیا ہے اور اصل حقائق تک پہنچنے یا انہیں منظر عام پر لانے میں سنجیدگی سے کام نہیں لیا۔
’’خطباتِ دین پوریؒ‘‘ (جلد اول و دوم)
پروفیسر ظفر اللہ شفیق
افادات: حضرت مولانا عبد الشکور دین پوریؒ
مرتب: قاری جمیل الرحمٰن اختر
ناشر: انجمن خدام الاسلام باغبانپورہ لاہور
قیمت:
تبلیغِ اسلام کے ذرائع میں ایک مؤثر ذریعہ خطابت ہے۔ تاریخِ اسلام کے ہر دور میں بڑے بڑے خطباء امت گزرے ہیں جنہوں نے خطابت کے ذریعے زندوں میں جوش اور مردہ دلوں میں نئی روپ پھونکی ہے۔ اس اخیر دور میں علماء اہل سنت میں سے چند مشہور خطیب گزرے ہیں جن میں امام انقلاب مولانا ابو الکلام آزاد، سحبان الہند مولانا احمد سعید دہلوی، حکیم الاسلام قاری محمد طیب، امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری، قاضی احسان احمد شجاع آبادی، مولانا احتشام الحق تھانوی رحمہم اللہ شامل ہیں۔ اسی سلسلہ الذہب کی ایک سنہری کڑی مولانا عبد الشکور دین پوریؒ ہیں۔
راقم الحروف کو آپ کے بہت سے خطبات سننے کی سعادت حاصل ہوئی ہے۔ آپ کی تقریر میں دریا کی سی روانی اور موجوں کا سا جوش و خروش ہوتا تھا۔ آپ رلاتے بھی تھے، ہنساتے بھی تھے۔ الفاظ کی بندش اور قافیہ جوڑنے میں آپ کا کوئی ثانی نظر نہیں آتا۔ آپ کی تقریر سے ایسے معلوم ہوتا تھا جیسے الفاظ و قوافی دست بستہ کھڑے کہہ رہے ہوں کہ ہم آپ کے لیے ہیں، آپ ہمیں جیسے چاہیں استعمال کریں۔ مولانا مرحوم دین کا درد رکھنے والے، متواضع اور منکسر المزاج انسان تھے، وفات کے بعد پردۂ خفا میں چلے گئے تھے، کہیں ان کا نام بھی سننے کو نہیں آتا تھا۔ اللہ بھلا کرے مولانا جمیل الرحمٰن اختر صاحب کا، انہوں نے مولانا کے خطبات شائع کر کے مولانا کا نام زندہ کر دیا ہے۔ ان خطبات کو پڑھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے مولانا سامنے کھڑے بول رہے ہیں۔
اس وقت ہمارے سامنے خطباتِ دین پوری کی دو جلدیں ہیں اور دونوں میں دس دس خطبات ہیں۔
پہلی جلد کے دس خطبات درج ذیل ہیں:
(۱) توحید باری تعالیٰ
(۲) سیرت النبی ﷺ
(۳) فضائل و مناقب سیدنا ابوبکرؓ
(۴) فضائل و مناقب حضرت عمر فاروقؓ
(۵) فضائل و مناقب حضرت عثمان غنی ؓ
(۶) فضائل و مناقب حضرت علیؓ
(۷) فضائل و مناقب حضرت ابوبکرؓ و حضرت حسینؓ
(۸) فضائل و مناقب حضرت عائشہؓ
(۹) فضائلِ علم و عمل
(۱۰) مناقب حضراتِ علماء دیوبند
دوسری جلد کے دس خطبات یہ ہیں:
(۱) توحید باری تعالیٰ اور حقوقِ والدین
(۲) حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادتِ باسعادت
(۳) حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت مبلغ
(۴) حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی عملی زندگی اور اہل سنت
(۵) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی معراج
(۶) فضائل خلفاء راشدینؓ
(۷) فضائلِ شبِ برات اور احترامِ والدین
(۸) روزہ کیا ہے؟
(۹) عظمتِ مسجد
(۱۰) فضائلِ قربانی
پہلی جلد کے شروع میں مولانا دین پوریؒ کی مختصر سوانح بھی درج کر دی گئی ہے۔ مولانا کے یہ خطبات عوام، ائمہ، خطباء اور طلباء کے لیے یکساں مفید ہیں۔ عمدہ کتابت و طباعت اور خوبصورت جلد سے مزین یہ دونوں جلدیں مناسب نرخ پر مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔