’’ملی یکجہتی کونسل پاکستان‘‘
’’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘‘
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
جمعیت علماء اسلام کے راہنما سینیٹر مولانا سمیع الحق کی دعوت پر گزشتہ روز اسلام آباد میں ملک کی بڑی دینی جماعتوں کے سربراہوں کا اجلاس ہوا جس میں فرقہ وارانہ کشیدگی پر قابو پانے کے لیے ’’ملی یکجہتی کونسل‘‘ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ کونسل میں تمام شریک پارٹیوں کے سربراہ شامل ہیں جبکہ مولانا شاہ احمد نورانی کو کونسل کا سربراہ اور مولانا سمیع الحق کو سیکرٹری جنرل چنا گیا ہے۔
دینی جماعتوں کا کسی ایک پلیٹ فارم پر مجتمع ہونا اور ملکی و قومی امور میں مشترکہ موقف اور پالیسی اختیار کرنا اس ملک کے باشعور شہریوں کی دیرینہ آرزو ہے۔ اس آرزو کے پیچھے جہاں دین کے ساتھ لوگوں کی محبت اور اسلام کے غلبہ و بالادستی کی خواہش کارفرما ہے وہاں معروضی حالات میں اسلام، پاکستان اور پاکستانی قوم کو درپیش خطرات و مشکلات کے حوالہ سے دینی قوتوں کے کردار کا واضح طور پر نظر آنے والا خلاء بھی اس کا محرک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس اتحاد کا ہر سطح پر خیرمقدم کیا گیا ہے اور اس کی کامیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
اس وقت اسلامی جمہوریہ پاکستان کو بین الاقوامی اور ملکی سطح پر جس صورتحال کا سامنا ہے وہ انتہائی گھمبیر ہے۔ پاکستان کا اسلامی تشخص اور اس کے دستور کی نظریاتی بنیادیں ان عالمی قوتوں کو مسلسل کھٹک رہی ہیں جو کمیونزم کے خاتمہ کے بعد اسلام کو ویسٹرن سولائزیشن اور مغرب کی بالادستی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتی ہیں اور اسلامی قوتوں کو بنیاد پرست اور دہشت گرد قرار دے کر ان کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کی تیاریاں کر رہی ہیں۔ ان قوتوں کی خواہش اور کوشش یہ ہے کہ عالم اسلام بھی کھلے دل کے ساتھ مغرب کے مادہ پرستانہ فلسفہ، اجتماعیات سے مذہب کی لاتعلقی، اباحت مطلقہ پر مبنی فری سوسائٹی اور بے قید معاشرت کو قبول کر لے اور اسلام کی ان تعلیمات و احکامات سے آنکھیں بند کر لے جو ویسٹرن سولائزیشن کو قبول کرنے کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔
اس مقصد کے لیے اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا چارٹر اور اس کی تشریح میں جنیوا کے ہیومن رائٹس کمیشن کے فیصلے اور قراردادیں مغرب کے ہاتھ میں سب سے بڑا ہتھیار ہیں۔ اسلام کا جو حکم اور ضابطہ ان کی زد میں آتا ہے اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دے کر اس کے خاتمہ کے لیے پورے وسائل استعمال میں لائے جا رہے ہیں۔ چنانچہ اسلامی حدود و تعزیرات کو وحشیانہ قرار دینے، توہین رسالتؐ کی سزا کے قانون کو انسانی حقوق کے منافی گرداننے اور خاندانی زندگی کے بارے میں اسلامی احکام و قوانین کو بین الاقوامی معیار کے منافی قرار دے کر مسلم حکومتوں پر ان میں رد و بدل کے لیے زور دینے کی حالیہ کاروائیوں کا پس منظر یہی ہے اور ان کاروائیوں کا دائرہ دن بدن وسیع ہوتا جا رہا ہے۔
عالمی پریس کے ذریعے سامنے آنے والی بعض خبروں کے مطابق اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر انسانی حقوق کے چارٹر کے پرچم تلے اس وقت جو شعبے سب سے زیادہ توجہات اور سرگرمیوں کا مرکز ہیں وہ پرائمری تعلیم، خاندانی زندگی، خاندانی منصوبہ بندی، اور آزادیٔ رائے کے مغربی تصور کی بالادستی کے شعبے ہیں۔ اس سلسلہ میں مسلم ممالک پر مسلسل دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ
- پرائمری سطح تک کی تعلیم کے لیے وہ نصاب قبو ل کریں جو اقوام متحدہ نے دنیا بھر کے لیے یکساں نصاب تعلیم کے طور پر تیار کیا ہے۔
- نکاح، طلاق اور وراثت کے متعلق معاملات میں اقوام متحدہ کے چارٹر اور جنیوا کنونشن کی قراردادوں کو معیار تسلیم کر کے خاندانی زندگی سے متعلقہ قوانین میں ترامیم کریں۔
- آبادی میں اضافہ کی روک تھام کے نام پر جنسی تعلقات کی آزادی بلکہ جنسی انارکی کے قانونی تحفظ کا نظام قائم کریں۔
- رائے، تنقید، اختلاف اور اس کے اظہار کی مطلق آزادی کے تصور کو قبول کریں۔ خدا، رسول اور مذہب سمیت کسی بھی استثناء کو مسترد کرتے ہوئے اپنے قوانین کو اس کے مطابق ڈھالیں۔
دنیابھر کے دیگر مسلم و غیر مسلم ممالک کی طرح اسلامی جمہوریہ پاکستان بھی ان امور کے حوالہ سے اقوام متحدہ، امریکہ اور مغربی طاقتوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ کی زد میں ہے اور اس دباؤ کی شدت میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ دوسری طرف قومی معاملات کے ضمن میں پاکستان کے گرد سازشوں کا حصار جس طرح دن بدن تنگ ہوتا جا رہا ہے وہ بھی کسی باشعور شہری سے مخفی نہیں ہے۔
- کراچی بین الاقوامی سازشوں میں گھر کر رہ گیا ہے اور اسے ملک سے الگ کرنے کی باتیں کھلم کھلا ہو رہی ہیں،
- گوادر میں اومان کی وساطت سے امریکہ کے فوجی اڈے کے قیام کا معاملہ ابھی تک شکوک و شبہات کا شکا رہے،
- کشمیر کو خودمختار بنانے اور چین کے خلاف امریکی فوجی اڈے کے طور پر اس کے متوقع کردار کے خدشات اب کھل کر سامنے آگئے ہیں،
- پاکستان کا ایٹمی پروگرام منجمد ہونے کے بعد اب رول بیک کے خطرہ سے دوچار ہے،
- پاکستان کی مسلح افواج میں کمی کی باتیں ہو رہی ہیں،
- امریکہ پیشگی قیمت وصول کرنے کے باوجود پاکستان کو ایف سولہ طیارے اور دیگر متعلقہ فوجی ساز و سامان دینے کے لیے تیار نہیں ہے، اور
- ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے زیر کنٹرول پاکستان کا معاشی ڈھانچہ بے بسی اور لاچاری کی مجسم تصویر بنا ہوا ہے۔
اس صورتحال میں جبکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی قومی خودمختاری خطرے میں ہے، ملکی سالمیت پر سازشوں کے سائے گہرے ہوتے جا رہے ہیں، ملک کی نظریاتی اور اسلامی حیثیت کو ختم کرنے کے درپے قوتیں بتدریج آگے بڑھ رہی ہیں، اور اسلام اور عالم اسلام کے لیے پاکستان کے متوقع کردار سے اسے مکمل طور پر محروم کر دینے کے منصوبے تکمیل کے مراحل میں ہیں، ملک کے عام شہری کا اضطراب اور بے چینی نہ سمجھ میں آنے والی بات نہیں ہے۔ بالخصوص اس پس منظر میں کہ ملک کی دو بڑی سیاسی قوتوں مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی میں سے کوئی بھی خود کو اس چیلنج کا سامنا کرنے کا اہل ثابت نہیں کر سکی اور اقتدار کے منصب پر فائز ہونے کے بعد دونوں کی قیادت اور ارکان نے انتقام، لوٹ کھسوٹ اور نا اہلیت کے اظہار کے سوا کوئی کارنامہ سر انجام نہیں دیا۔
ان حالات میں ملک کے باشعور شہریوں اور بہی خواہوں کی نگاہیں فطری طور پر دینی قوتوں کی طرف اٹھتی ہیں کہ شاید یہاں سے قوم کو کوئی ایسی قیادت میسر آجائے جو ملک و قوم کی کشتی کو چاروں طرف سے بپھرے ہوئے طوفان سے سلامتی کے ساتھ نکال کر کامیابی کی منزل کی طرف گامزن کر سکے۔ لیکن دینی قوتوں کا خلفشار، ملک و قوم کے حقیقی مسائل کا عدم ادراک، اور قومی معاملات میں سنجیدہ دلچسپی کے فقدان ایسے موذی امراض ہیں جنہوں نے ملک کی دینی قیادت کو قومی سیاست کا عضو معطل بنا کر رکھ دیا ہے۔ اور سچی بات یہ ہے کہ قوم کی مایوسیوں میں اضافہ کرنے کی دوڑ میں ہماری دینی قیادت بھی سیاسی لیڈرشپ سےکسی طرح پیچھے نہیں ہے۔
اس پس منظر میں دینی جماعتوں کے سربراہوں کا مل بیٹھنا اور ’’ملی یکجہتی کونسل‘‘ کے نام سے ایک مشترکہ پلیٹ فارم قائم کرنا یقیناً امید کی ایک کرن ثابت ہو سکتا ہے بشرطیکہ یہ کونسل ماضی کے کئی مذہبی اتحادوں کی طرح محدود اور وقتی مقاصد کی اسیر ہو کر نہ رہ جائے اور اس کا دائرہ عمل دفتر، فائل، اخباری بیانات، اور وقتاً فوقتاً مل بیٹھنے کی رسمی کاروائیوں کا حصار توڑ کر عملی جدوجہد اور مسلسل ورک کے تقاضے پورے کر سکے۔ ’’الشریعہ‘‘ کے قارئین گواہ ہیں کہ ہم نے ان صفحات میں ہمیشہ اسی خواہش کا اظہار کیا ہے کہ دینی جماعتوں کے قائدین مل بیٹھیں، وقت کے مسائل اور تقاضوں کو سمجھیں، اقتدار کی سیاست اور گروہی سیاسی کشمکش سے بالاتر ہو جائیں، اسلام اور پاکستان کو مغرب کی طرف سے درپیش چیلنجز کا ادراک حاصل کریں، اور قیادت کی ترجیحات سے بے نیاز ہو کر ’’ٹیم ورک‘‘ کے ساتھ قوم کو متبادل اور متوازن نظریاتی قیادت فراہم کریں۔ اس لیے آج جب اس سمت سفر کا آغاز ہوا ہے تو ہم
بہت دیر کی مہرباں آتے آتے
کے شکوہ کے ساتھ ’’ملی یکجہتی کونسل پاکستان‘‘ کا خیرمقدم کرتے ہیں اور مکمل تعاون کا یقین دلاتے ہوئے یہ گزارش ضروری سمجھتے ہیں کہ اگرچہ کونسل کے قیام کا وقتی محرک شیعہ سنی کشیدگی کا مسلح تصادم کی شکل اختیار کر جانا ہے کیونکہ اسی نے قائدین کو بالآخر مل بیٹھنے پر مجبور کیا ہے لیکن خدا کے لیے کونسل کے دائرہ عمل کو صرف اس حد تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ عالم اسلام اور پاکستان کے مجموعی حالات کو سامنے رکھتے ہوئے دینی قیادت کی ذمہ داریوں کا جائزہ لیا جائے اور ان سے عہدہ برآ ہونے کے لیے عملی پیش رفت کا اہتمام کیا جائے تاکہ دینی جماعتیں معروضی حالات میں اسلام اور پاکستان کو درپیش چیلنجز کے حوالہ سے اپنا کردار صحیح طور پر ادا کر سکیں۔
ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہانپوری کی تشریف آوری
محترم ڈاکٹر سلمان شاہجہانپوری ملک کے معروف دانشور اور صاحبِ قلم ہیں
جو ایک عرصہ سے کراچی میں تحریکِ آزادی اور اکابر علماء حق کی جدوجہد کے
حوالے سے علمی و تحقیقی کام کر رہے ہیں۔ شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسنؒ،
حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ، اور حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کی
خدمات اور جدوجہد ان کا خصوصی موضوع ہے، اور وہ انتہائی خاموشی کے ساتھ ان
اکابر کی جدوجہد کے نقوش کو تاریخ کے صفحات پر اجاگر کرنے میں مگن ہیں۔
ڈاکٹر
صاحب موصوف گزشتہ دنوں جناب شبیر احمد میواتی کے ہمراہ گوجرانوالہ تشریف
لائے، ان کے اعزاز میں ورلڈ اسلامک فورم کی طرف سے فکری نشست کا اہتمام کیا
گیا تھا، مگر موسم کی خرابی کی وجہ سے وہ بروقت نہ پہنچ سکے، البتہ تشریف
آوری پر انہوں نے رات قیام فرمایا اور ان کے ساتھ بہت سے امور پر مفید
مشاورت ہوئی۔ آج کے دور میں جبکہ علم و تحقیق کا ذوق ماند پڑتا جا رہا ہے
اور سیاسی و گروہی مقاصد کے لیے تاریخ کو مسخ کرنے کا رجحان ترقی پذیر ہے،
ڈاکٹر صاحب جیسے اہلِ علم کا وجود غنیمت ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں صحت و عافیت
کے ساتھ اپنے مشن میں کامیابی سے ہمکنار فرمائیں، آمین۔
سنتِ نبویؐ کی اہمیت و ضرورت
شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر
جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سنت پر عمل پیرا ہونے اور اس کو مضبوطی سے پکڑنے کی اشد تاکید فرمائی ہے، اور اس کی پیروی نہ کرنے پر نہایت ناراضگی فرمائی ہے۔
(۱) حضرت عرباضؓ بن ساریہ (المتوفی ۷۵ھ) کی روایت میں اس کی تصریح ہے کہ آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’تمہارے اوپر لازم ہے کہ تم میری سنت کو اور ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کی سنت کو معمول بناؤ اور اپنی ڈاڑھوں کے ساتھ مضبوطی سے اس کو پکڑو، تم نئی نئی باتوں سے پرہیز کرو کیونکہ (دین میں) ہر نئی چیز بدعت ہے۔‘‘
(مستدرک ج ۱۱ ص ۹۶ ۔ قال الحاکمؒ والذہبیؒ صحیح)
یہ صریح روایت اس امر کو بیان کرتی ہے کہ ہر مسلمان پر یہ لازم ہے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اور حضرات خلفاء راشدین کی سنت کو خوب مضبوطی سے پکڑے اور اس کو اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ اور جملہ محدثات اور بدعات سے کنارہ کشی کرے کیونکہ ہر ایک بدعت گمراہی اور ضلالت ہے۔
(۲) حضرت عبد اللہؓ بن عباسؓ (المتوفی ۶۸ھ) سے روایت ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے جناب نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے یوں ارشاد فرمایا:
’’اے لوگو! میں نے تمہارے اندر دو چیزیں چھوڑی ہیں، اگر تم نے ان کو مضبوطی سے پکڑا تو ہرگز تم گمراہ نہ ہو گے، ان میں سے ایک کتاب اللہ اور دوسری سنتِ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) ہے۔‘‘
(مستدرک ج ۱ ص ۹۳)
(۳) حضرت عائشہ صدیقہؓ (المتوفاۃ ۵۷ھ) روایت کرتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’چھ قسم کے لوگ ہیں جن پر میں بھی لعنت بھیجتا ہوں، اللہ تعالیٰ بھی ان پر لعنت نازل کرے، ان میں سے ایک وہ شخص ہے جو میری سنت کو چھوڑ دے۔‘‘
(مستدرک ج ۱ ص ۳۶ ۔ قال الحاکمؒ والذہبیؒ صحیح)
(۴) حضرت انسؓ بن مالک (المتوفی ۹۳ھ) روایت کرتے ہیں کہ ایک خاص موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’جس شخص نے میری سنت سے اعراض کیا وہ میرا نہیں۔‘‘
(بخاری ج ۲ ص ۷۵۷)
اس سے بڑھ کر تارکِ سنت کی بدبختی اور کیا ہو سکتی ہے کہ رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم یہ ارشاد فرماتے ہیں کہ وہ میرا (امتی) نہیں ہے، گو وہ اپنے مقام پر آپ کا محب بنتا رہے مگر اس کی رائے کا کیا اعتبار ہے؟
(۵) حضرت حذیفہؓ بن الیمانؓ (المتوفی ۳۶ھ) جناب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا:
’’میرے بعد کچھ رہبر اور پیشوا ایسے ہوں گے جو میری سیرت پر نہیں چلیں گے اور میری سنت پر عمل نہیں کریں گے۔ ان میں کچھ ایسے لوگ کھڑے ہوں گے جن کے دل شیطانوں کے دل ہوں گے مگر شکل اور صورت انسانی ہو گی۔‘‘
(مسلم ج ۲ ص ۱۲۷)
اتباعِ سنت کے بارے میں کتبِ احادیث میں اس قدر ذخیرہ موجود ہے کہ آسانی کے ساتھ اس کا شمار نہیں ہو سکتا، مگر بطور نمونہ کے ہر عاقل کے لیے یہ پیش کردہ روایات کافی ہیں، لیکن جو عمداً غافل رہنا چاہتا ہے اس کے لیے دنیا میں کوئی علاج موجود نہیں ہے، ایسے شخص کے لیے فیصلہ یہی ہے کہ ’’نولہ ما تولیٰ‘‘۔
حضرت شاہ ولی اللہ صاحبؒ (المتوفی ۱۱۷۶ھ) لکھتے ہیں کہ میں کہتا ہوں کہ دین کا انتظام اس بات پر موقوف ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کا اتباع کیا جائے۔ (حجۃ اللہ ج ۱ ص ۱۷۰)
قربِ قیامت کی نشانی، علم کا اٹھ جانا
شیخ التفسیر مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ
امام بغویؒ نے حضرت عبد اللہ ابن مسعودؓ سے روایت نقل کی ہے کہ حضور علیہ السلام نے ارشاد فرمایا ’’لوگو! قرآن کو سیکھو اور اس پر عمل کرو قبل اس کے کہ اسے اٹھا لیا جائے‘‘۔
اس کی تفسیر میں قاضی ثناء اللہ پانی پتیؒ فرماتے ہیں کہ قرآن کے اٹھائے جانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ قرآن کے الفاظ اٹھا لیے جائیں گے بلکہ صحیحین کی روایت کے مطابق ’’ان اللہ لا یقبض العلم انتزاعا ولکن یقبض العلماء‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ علم کو لوگوں کے سینوں سے نہیں اٹھائے گا بلکہ نیک اور اچھے علماء کو اٹھا لے گا۔
جب دین کا صحیح علم رکھنے والے نہیں ہوں گے تو لوگ جاہلوں کو عالم، مفتی اور قاضی کا درجہ دیں گے۔ اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ لوگ بغیر علم کے فتوے دیں گے، خود گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے، اور اس طرح دنیا سے علم کو چھین لیا جائے گا۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ ایک موقع پر حضور علیہ السلام نے کوئی بات بیان کی اور پھر فرمایا کہ ایسا اس وقت ہو گا ’’حین ذہاب العلم‘‘ جب علم چلا جائے گا۔
حضور علیہ السلام کے ایک صحابی زیاد بن لبیدؓ نے عرض کیا کہ علم کیسے چلا جائے گا جبکہ ہم ان سے قرآن پڑھتے ہیں اور آگے دوسروں کو پڑھاتے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا: تیری ماں تجھے کم پائے زیاد، میں تو تجھے مدینے کا سمجھدار آدمی سمجھتا تھا مگر تم نے تو بے سمجھی کی بات کی ہے۔ کیا تم یہود و نصاریٰ کا حال نہیں دیکھتے؟ ان کے پاس کتابیں موجود ہیں مگر وہ ان پر عمل نہیں کرتے، ایسے علم کا کیا فائدہ؟ یہی ذہابِ علم ہے۔
ایک حدیث میں یہ الفاظ بھی آتے ہیں ’’تعلموا العلم‘‘ لوگو! علم سیکھو اور دوسروں کو بھی سکھاؤ۔ ’’تعلموا الفرائض‘‘ فرائض سیکھو اور دوسروں کو بھی سکھاؤ ’’فیقبض العلم‘‘ کیونکہ علم قبض کر لیا جائے گا اور فتنے برپا ہوں گے، جہالت برپا ہو گی، حتیٰ کہ دو آدمی ایک فریضہ میں جھگڑا کریں گے مگر ان کو بتلانے والا کوئی نہیں ہو گا۔ آپؐ نے یہ بھی فرمایا ’’انی امرء مقبوض‘‘ میں تمہارے درمیان ہمیشہ نہیں رہوں گا بلکہ مجھے بھی اٹھا لیا جائے گا۔
تو قاضی صاحبؒ فرماتے ہیں کہ علم چھن جانے کی صورت یہ ہو گی کہ سب سے پہلے لوگوں میں سے عمل اٹھا لیا جائے گا، ان سے عمل کی توفیق ہی سلب ہو جائے گی، جیسا کہ آج کل نظر آ رہا ہے۔ علم بہت ہے، کتابوں کی لائبریریاں بھری ہوئی ہیں، مگر عمل مفقود ہے۔ آپ دیکھ لیں، ہر سال سیرتِ طیبہ پر ہزاروں کتابیں شائع ہوتی ہیں، ان پر انعامات بھی تقسیم ہوتے ہیں، مگر کروڑوں کی آبادی میں ان کتابوں پر عمل کرنے والے دس آدمی بھی نہیں ملیں گے۔ تو حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کی روایت کے مطابق سب سے پہلے عمل کی توفیق سلب کر لی جائے گی، اس کے بعد اچھے اچھے علماء اٹھا لیے جائیں گے، اور تیسرا مرحلہ قربِ قیامت میں پیش آئے گا، لوگ سو کر اٹھیں گے تو علم کی کوئی بات سینوں میں محفوظ نہیں ہو گی، اور کتابوں کے حروف مٹ چکے ہوں گے۔
بنی اسرائیل مصر میں
بائبل کے داخلی تضادات پر دلچسپ بحث
محمد یاسین عابد
مصر میں آمد کے وقت بنی اسرائیل کی تعداد
پیدائش ۴۶ : ۸ تا ۲۷ کے مطابق مصر میں آمد کے وقت یعقوبؑ سمیت بنی اسرائیل کی تعداد ۷۰ تھی۔ حضرت یعقوبؑ کے کل ۱۲ بیٹے تھے جو کہ آپ کی دو بیویوں لیاہ اور راخل اور دو لونڈیوں زلفہ اور بلہاہ سے پیدا ہوئے۔
’’لیاہ کے بیٹے یہ تھے: روبن یعقوب کا پہلوٹھا اور شمعون اور لاوی اور یہوداہ اور اشکار اور زبولون۔ اور راخل کے بیٹے یوسف اور بن یامین تھے، اور راخل کی لونڈی بلہاہ کے بیٹے دان اور نفتالی تھے، اور لیاہ کی لونڈی زلفہ کے بیٹے جد اور آشر تھے۔‘‘ (پیدائش ۳۵ : ۲۳ تا ۲۶)
پیدائش ۴۶ : ۸ تا ۲۷ میں یعقوبؑ کے ۱۲ بیٹوں کی تمام اولاد کے نام درج ہیں۔ یعقوبؑ اور ان کی بیٹی دینہ کو ملا کر کل تعداد ستر بنتی ہے۔ خروج ۱ : ۵ میں لکھا ہے:
’’سب جانیں جو یعقوبؑ کے صلب سے پیدا ہوئیں، ستر تھیں۔‘‘
واضح ہو کہ یہاں یعقوبؑ کو شمار نہیں کیا گیا، اگر یعقوبؑ کو بھی شامل کر لیا جائے تو تعداد ۷۱ ہو جاتی ہے۔ لیکن اگر ہم انجیل شریف کا مطالعہ کریں تو تعداد میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔ چنانچہ لکھا ہے:
’’یوسف نے اپنے باپ یعقوب اور سارے کنبے کو، جو پچھتر جانیں تھیں، بلا بھیجا۔‘‘ (اعمال ۷ : ۱۴)
انجیل کی اس عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ یوسفؑ اور اس کے دونوں بیٹوں کو بھی شامل کر لیا جائے تو تعداد ۷۵ + ۳ = ۷۸ ہو جاتی ہے۔
بنی بن یامین کی تعداد
توراۃ کے مطابق بن یامین کے ۱۰ بیٹوں کو شامل کر کے بنی اسرائیل کی کل تعداد ۷۰ بنتی ہے (پیدائش ۴۶ : ۲۱)۔ لیکن ۱۔تواریخ ۸ : ۱، ۲ کے مطابق بن یامین کے بیٹوں کی تعداد پانچ عدد ہے۔ یوں بنی اسرائیل کی تعداد ۷۰ سے کم ہو کر ۶۵ رہ جاتی ہے۔ تعداد میں مزید کمی ہوتی ہے جب ہم ۱۔تواریخ ۷ : ۶ میں بن یامین کے بیٹوں کی کل تعداد صرف تین دیکھتے ہیں۔ یوں مصر میں آمد کے وقت بنی اسرائیل کی کل تعداد صرف ۶۳ بنتی ہے۔ اب نہیں معلوم کہ بنی اسرائیل کی تعداد ۶۳ تھی یا ۶۵ یا ۷۰ یا ۷۱ یا ۷۸؟
مصر میں قیام کی مدت
خدا نے ابرہام سے کہا:
’’یقین جان کہ تیری نسل کے لوگ ایسے ملک میں، جو ان کا نہیں، پردیسی ہوں گے اور وہاں کے لوگوں کی غلامی کریں گے اور وہ چار سو برس تک ان کو دکھ دیں گے۔‘‘ (پیدائش ۱۵ : ۱۳)
لیکن افسوس کہ بنی اسرائیل کو خدا کے وعدہ سے ۳۰ برس زیادہ مصریوں کی غلامی کرنا پڑی، جیسا کہ بائبل مقدس میں ہے:
’’بنی اسرائیل کو مصر میں بود و باش کرتے ہوئے ۴۳۰ برس ہوئے تھے اور ان چار سو تیس برسوں کے گزر جانے پر ٹھیک اسی روز خداوند کا سارا لشکر ملک مصر سے نکل گیا۔‘‘ (خروج ۱۲ : ۴۰، ۴۱)
وعدۂ برکت اور نزولِ شریعت کا درمیانی عرصہ
انجیل میں ہے:
’’جس عہد کی خدا نے پہلے سے تصدیق کی تھی اس کو شریعت چار سو تیس برس کے بعد آ کر باطل نہیں کر سکتی کہ وعدہ لاحاصل ہو۔ کیونکہ اگر میراث شریعت کے سبب سے ملی ہے تو وعدہ کے سبب سے نہ ہوئی، مگر ابرہام کو خدا نے وعدہ ہی کی راہ سے بخشی۔‘‘ (گلتیوں ۳ : ۱۶ تا ۱۸)
یعنی وعدۂ برکت اور نزولِ توراۃ کے درمیان ۴۳۰ برس کا عرصہ ہے۔ آئیے بائبل کی روشنی میں اس کا جائزہ لیتے ہیں۔ وعدۂ برکت کے وقت ابراہیمؑ کی عمر ۷۵ سال تھی (ایضاً ۱۲ : ۴)۔ ولادتِ اسحاقؑ کے وقت آپ کی عمر ۱۰۰ سال تھی (ایضاً ۲۱ : ۵)۔ یعنی وعدۂ برکت سے ولادتِ اسحاقؑ تک ۲۵ برس بنتے ہیں۔ ولادتِ اسحاقؑ سے ولادتِ یعقوبؑ تک ۶۰ برس کا عرصہ ہے (ایضاً ۲۵ : ۲۶)۔ یعنی وعدۂ برکت سے ولادتِ یعقوبؑ تک ۲۵ + ۶۰ = ۸۵ برس ہوئے۔ اور مصر میں بنی اسرائیل کی آمد کے وقت حضرت یعقوب علیہ السلام کی عمر ۱۳۰ برس تھی (پیدائش ۴۷ : ۹)۔ یعنی وعدۂ برکت سے مصر میں آمد تک ۸۵ + ۱۳۰ = ۲۱۵ برس بنتے ہیں۔ مصر میں قیام کی مدت، جیسا کہ اوپر گزرا، ۴۳۰ برس ہے۔ یعنی وعدۂ برکت سے لے کر مصر سے خروج تک ۲۱۵ + ۴۳۰ = ۶۴۵ برس بنتے ہیں۔
اس تفصیل کی رو سے انجیل کا یہ بیان کہ شریعت وعدۂ برکت کے ۴۳۰ سال بعد نازل ہوئی، غلط ٹھہرتا ہے، کیونکہ توراۃ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ نزولِ توراۃ کا سلسلہ بنی اسرائیل کے مصر سے خروج کے کافی عرصہ بعد شروع ہوا۔ بالفرض اگر یہ مان لیا جائے کہ خروج کے روز ہی شریعت کا نزول شروع ہو گیا تھا، تب بھی وعدۂ برکت اور نزولِ شریعت کے درمیان ۶۴۵ برس کا عرصہ بنتا ہے۔ وعدۂ برکت سے مصر میں آمد تک ۲۱۵ سال + مصر میں قیام کی مدت ۴۳۰ سال = ۶۴۵
اور اگر انجیل کا یہ بیان درست مان لیا جائے تو توراۃ کا یہ بیان غلط ٹھہرتا ہے کہ بنی اسرائیل مصر میں چار سو تیس برس رہے۔ اس صورت میں مصر میں ان کے قیام کا عرصہ ۲۱۵ برس ماننا پڑے گا، کیونکہ اوپر ہم یہ ثابت کر چکے ہیں کہ وعدۂ برکت سے مصر میں آمد تک کا عرصہ ۲۱۵ برس ہے۔ اس کے بعد شریعت کے نزول کے عرصہ (۴۳۰ برس) تک، مصر میں قیام کی مدت ۲۱۵ برس ہی بنتی ہے۔ چنانچہ توراۃ اور انجیل دونوں کے بیانات بیک وقت کسی طرح درست نہیں ہو سکتے۔
عمرام و یوکبد
حضرت موسٰی علیہ السلام کے والد کا نام عمرام اور والدہ کا نام یوکبد تھا (خروج ۶ : ۲۰)۔ یوکبد یعقوبؑ کے بیٹے لاوی کی بیٹی تھی جو مصر میں آمد کے بالکل تھوڑے عرصے بعد پیدا ہوئی تھی (گنتی ۲۶ : ۵۹)۔ گو کہ بائبل میں یہ تصریح نہیں کہ یوکبد اور عمرام کی پیدائش مصر میں آمد کے کتنی دیر بعد ہوئی، لیکن توراۃ کے بنظر عمیق مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یوکبد اور عمران کی پیدائش مصر میں آمد کے بعد جلد ہی ہو گئی تھی، کیونکہ یوسفؑ کے بیچے جانے سے کافی عرصہ قبل جب دینہ کی بے حرمتی کی گئی (پیدائش ۳۴ : ۱ تا ۳) تو شمعون اور لاوی نے اس طرح بدلہ لیا کہ
’’اپنی اپنی تلوار لے کر ناگہاں شہر پر آ پڑے اور سب مردوں کو قتل کیا، حمور اور اس کے بیٹے سکم کو بھی تلوار سے قتل کر ڈالا، اور سکم کے گھر سے دینہ کو نکال لے گئے، اور یعقوبؑ کے بیٹے مقتولوں پر آئے اور شہر کو لوٹا، اس لیے کہ انہوں نے ان کی بہن کو بے حرمت کیا تھا، انہوں نے ان کی بھیڑ بکریاں اور گائے بیل اور گدھے اور جو کچھ شہر اور کھیت میں تھا، لے لیے، اور ان کی سب دولت لوٹی اور ان کے بچوں اور بیویوں کو اسیر کر لیا اور جو کچھ گھر میں تھا سب لوٹ کھسوٹ کر لے گئے۔‘‘ (پیدائش ۳۴ : ۲۵ تا ۲۹)
صرف دو آدمیوں کا پورے شہر کو ملیامیٹ کر دینا، کھیتوں کو اجاڑ دینا، اتنی بڑی لوٹ کھسوٹ کر کے بچوں اور عورتوں کو اسیر کر لینا اس امر پر دال ہے کہ شمعون اور لاوی اس وقت بچے نہیں تھے بلکہ زبردست طاقت کے مالک جوان تھے، اور عورتوں کا اسیر کرنا ان کے شادی شدہ ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ اغلب ہے کہ شمعون اور لاوی اس وقت صاحبِ اولاد تھے، کیونکہ ان کی سب سے چھوٹی بہن دینہ بھی اس وقت پوری جوان تھی۔ حمور کے بیٹے سکم کی دینہ سے عشقیہ میٹھی میٹھی باتیں دینہ کے جوان ہونے پر دال ہیں (ایضاً ۳۴ : ۳)۔ اس لیے کئی گنا بڑا بھائی لاوی تو ضرور اس وقت بچوں والا ہو گا۔
اس واقعہ کے کافی عرصہ بعد بن یامین کی پیدائش اور راخل کی وفات ہوئی (ایضاً ۳۵ : ۱۸، ۱۹)۔ پھر اس کے بعد روبن کا اپنی ماں کے ساتھ زنا کا واقعہ پیش آیا (پیدائش ۳۵ : ۲۲)۔ اس کے کافی عرصہ بعد یوسفؑ کو فروخت کیا گیا (ایضاً ۳۷ : ۲۸ تا ۳۶)۔ اس کے بعد لاوی کے چھوٹے بھائی یہوداہ نے عدلامی حیرہ کی مدد سے سوع کنعانی کی بیٹی سے بیاہ کر لیا (ایضاً ۳۸ : ۱، ۲)۔ پھر یکے بعد دیگرے یہوداہ کے تین بیٹے (۱) عیر (۲) اونان (۳) سیلہ پیدا ہوئے۔ اغلب ہے کہ لاوی اس وقت تک بوڑھا ہونے کے قریب ہو گا۔ اس کے کافی عرصہ بعد عیر جوان ہوا اور اس کی شادی یسوع مسیحؑ کی مشہور دادی تمر سے ہوئی (پیدائش ۳۸ : ۶ ، متی ۱ : ۳ ، روت ۴ : ۱۲)۔ پھر تمرہ بیوہ ہوئی تو اسے اونان سے بیاہ دیا گیا۔ پھر کافی عرصہ بعد اونان بھی مر گیا۔ اس وقت تک سیلہ نابالغ تھا، جب سیلہ بالغ ہوا تو تمر نے اپنے سسر یہوداہ سے زنا کروا لیا اور فارص کو جنم دیا (پیدائش ۳۸ : ۱۳ تا ۳۰)۔ اس وقت تک یہوداہ کے دو بیٹے جوان ہو کر مر چکے تھے اور تیسرا سیلہ جو اونان کی موت کے وقت ابھی بچہ تھا (ایضاً) ۳۸ : ۱۱) وہ بھی جوان ہو چکا تھا۔
لہٰذا ضروری امر ہے کہ لاوی کے بیٹے (۱) جیر سون (۲) قہات (۳) صراری بھی صاحبِ اولاد ہوں گے، کیونکہ لاوی یہوداہ سے بھی بڑا تھا اور یہوداہ سے بہت دیر پہلے شادی شدہ تھا۔ اغلب ہے کہ فارص کی پیدائش تک قہات ضرور ہی جوان بلکہ شادی شدہ ہو گا اور لاوی بوڑھا ہو چکا ہو گا۔ پھر فارص بھی پل کر جوان ہوا، شادی شدہ ہوا، پھر یکے بعد دیگرے دو بیٹے حصرون اور حمول پیدا ہوئے (پیدائش ۴۶ : ۱۲)۔ مصر میں آمد کے وقت یہ حصرون اور حمول یعقوبؑ کے ساتھ تھے۔ یعنی ہجرتِ مصرت کے وقت لاوی خوب بوڑھا ہو چکا تھا۔ اس لیے گمان غالب یہی ہے کہ بوڑھے لاوی سے موسٰیؑ کی والدہ یوکبد کی پیدائش مصر میں آمد کے بعد جلد ہی ہوئی ہو گی (گنتی ۲۶ : ۵۹)۔ قہات جو کہ عیر اور اونان سے بھی بڑا تھا، مصر میں آمد کے وقت ادھیڑ عمر ہو گا۔ کنعان سے مصر آنے والے بنی اسرائیل میں قہات کے بیٹے عمرام کا کوئی ذکر نہیں۔ اس لیے ظاہر ہے کہ عمرام بھی اپنی پھوپھی یوکبد کا ہم عمر تھا۔ یعنی عمرام اور یوکبد کنعان سے مصر ہجرت والے سال پیدا ہوئے تھے۔
اس طرح اگر مصر میں بنی اسرائیل کے قیام کی مدت ۴۳۰ برس تسلیم کر لی جائے (خروج ۱۲ : ۴۰، ۴۱) تو موسٰیؑ کی ولادت کے وقت عمرام اور یوکبد کی عمر ۳۵۰ برس ماننی پڑے گی۔ کیونکہ حضرت موسٰی علیہ السلام ۸۰ برس کے تھے جب بنی اسرائیل نے مصر سے خروج کیا (خروج ۷ : ۷)۔ ادھر بائبل سے ثابت ہے کہ عمرام کی کل عمر ۱۳۷ تھی (خروج ۶ : ۲۰)۔ اور اگر مصر میں بنی اسرائیل کا قیام ۲۱۵ برس تسلیم کیا جائے (جیسا کہ گلتیوں ۳ : ۱۶ تا ۱۸ کی بحث سے ثابت ہوتا ہے) تو ولادتِ موسٰیؑ کے وقت عمرام اور یوکبد کی عمر ۲۱۵ - ۸۰ = ۱۳۵ برس بنتی ہے جو کہ بالکل ناقابل قبول بات ہے۔ کیونکہ بائبل کے مطابق نوے برس کی عورت اس قابل نہیں ہوتی کہ اس کے اولاد ہو (پیدائش ۱۸ : ۱۱)۔ اس لیے ماننا پڑے گا کہ ولادت ِموسٰیؑ کے وقت یوکبد جوان عورت تھی، زیادہ سے زیادہ ۴۰ برس کی۔
خروج ۲ : ۱ و ۲ پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ عمرام نے موسٰیؑ کی ولادت سے بالکل تھوڑی مدت پہلے اپنی پھوپھی یوکبد سے نکاح کر لیا تھا۔ ہارون اور مریم چونکہ موسٰی سے بڑے تھے اس لیے ولادت ِموسٰی سے تقریباً سات یا آٹھ برس قبل دونوں پھوپھی بھتیجے کا بیاہ ہوا ہو گا۔ اور پھر خروج ۲ : ۷ تا ۱۰ بھی یوکبد کے جوان ہونے پر دال ہے کیونکہ موسٰیؑ کی والدہ محترمہ فرعون کے گھر میں دایہ کے فرائض سر انجام دیتی تھیں (پیدائش ۲: ۷ تا ۹)۔ جوان عورت ہی زچہ ہونے کے ساتھ ساتھ دایہ کے فرائض بھی انجام دے سکتی ہے۔ اگر موسٰی کی پیدائش ۱۳۵ سالہ بوڑھی یوکبد سے معجزانہ بھی ہوئی ہوتی تو فرعون کی بیٹی موسٰیؑ کو دودھ پلانے کے لیے اتنی بوڑھی دایہ کو کیونکر قبول کر سکتی تھی؟ چنانچہ ماننا پڑے گا کہ ولادتِ موسٰیؑ کے وقت یوکبد زیادہ سے زیادہ ۴۰ برس کی جوان عورت تھی۔ مصر سے خروج کے وقت موسٰیؑ کی عمر ۸۰ برس تھی۔ اگر ولادتِ موسٰیؑ کے وقت یوکبد کی عمر ۴۰ برس بھی تسلیم کر لی جائے تو مصر میں بنی اسرائیل کے قیام کی مدت ۴۰ + ۸۰ = ۱۲۰ برس بنتی ہے۔
مفسر پادری رس ارون صاحب کی تحقیق کے مطابق حضرت موسٰی علیہ السلام کی ولادت حضرت یوسف علیہ السلام کی وفات کے ۶۴ برس بعد ہوئی (تفسیر کتاب پیدائش، ناشر مسیحی اشاعت خانہ لاہور، ص ۱۰)۔ حضرت یوسفؑ کی وفات تک بنی اسرائیل کے مصر میں قیام کی مدت ۷۰ برس تھی کیونکہ حضرت یوسفؑ کی ولادت کے وقت حضرت یعقوبؑ کی عمر ۹۰ برس تھی (قاموس الکتاب ص ۱۱۷۳ کالم ۲)۔ اور مصر میں آمد کے وقت حضرت یعقوبؑ کی عمر ۱۳۰ برس تھی (پیدائش ۴۷ : ۹)۔ یعنی مصر میں بنی اسرائیل کی آمد کے وقت یوسفؑ کی عمر ۱۳۰ - ۱۹۰ = ۴۰ برس تھی۔ یوسف کی کل عمر ۱۱۰ برس ہوئی (ایضاً)۔ یعنی یوسفؑ کی وفات تک مصر میں بنی اسرائیل کے قیام کی مدت ۱۱۰ - ۴۰ = ۷۰ برس بنتی ہے۔ لہٰذا ولادتِ موسٰیؑ تک مصر میں قیام کا عرصہ ۷۰ + ۶۴ = ۱۳۴ برس بنتا ہے۔ خروج کے وقت چونکہ موسٰیؑ کی عمر ۸۰ برس تھی اس لیے مصر میں آمد سے خروج تک ۱۳۴ + ۸۰ = ۲۱۴ برس کا عرصہ بنتا ہے۔
اپنے قومی تشخص کا احیاء کیجئے
عمران خان
برطانوی نوآبادیاتی نظام برصغیر میں اپنی بالادستی قائم کرنے کی ایک کوشش تھی جو یورپی سامراج نے ان نوآبادیاتی نظاموں سے (جس کا تجربہ فرانس کے تحت شمالی افریقہ کے ممالک، اور ہالینڈ کے تحت انڈونیشیا کے عوام کر رہے تھے) اپنی نوعیت کے اعتبار سے زیادہ مؤثر، گہرا اور دور رس نتائج کا حامل، اور سختی اور تشدد کے لحاظ سے نسبتاً کمتر درجے کا تھا۔ لیکن اس کے باوجود برطانوی نوآبادیاتی نظام نے اس خطے میں اپنے غلاموں کے ذہنوں پر پائیدار اثرات چھوڑے ہیں۔ چنانچہ آج پاکستان اپنے دورِ غلامی کے ناخوشگوار تجربات سے اتنے مختلف طریقوں سے چمٹا ہوا ہے کہ ہمارے شرفاء کو اس کا اندازہ تک نہیں، اور نہ ہی کبھی انہوں نے یہ جاننے کی پرواہ کی ہے کہ ’’تحقیق و تشویش‘‘ کا یہ فقدان دراصل خود بھی ہمارے عوام کی نوآبادیاتی نظام سے متاثرہ ذہنیت کا ورثہ ہے۔
یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی سرکاری زبان آج بھی انگریزی ہے، جس سے ہم ماضی کی ایک علامت سمجھ کر آسانی سے صَرفِ نظر کر جاتے ہیں، اور اس طرح ایک ایسی حقیقت سے چشم پوشی کر جاتے ہیں جس کا تجزیہ دقتِ نظر سے کیا جانا چاہیے۔ پاکستان کا معزز طبقہ انگریزی بولتا ہے، لندن اور نیویارک کی سیر کرتا ہے، مغربی لباس زیب تن کرتا ہے، وہاں کے تعلیمی اداروں میں داخلہ لینے کی آرزوئیں اس کے دل میں مچلتی رہتی ہیں۔ مختصر یہ کہ ہمارا اونچا طبقہ اس قدر وسیع المشرب بننے کی کوشش کرتا ہے جو ہمارے ان سابقہ آقاؤں کی خوشنودی کا باعث ہو، جو کچھ عرصہ قبل ہی یہ ملک چھوڑ کر گئے ہیں۔ یعنی وہی دو ہزار انگریز افسر جنہوں نے برصغیر کے چالیس کروڑ مقامی باشندوں پر حکومت کی۔
اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ انگریز ایک ایسا طبقہ پیدا کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں جو لارڈ کرومر کے الفاظ میں رنگ اور نسل کے اعتبار سے تو بے شک ہندوستانی میں ہو، لیکن انڈین سول سروس میں آنے کے بعد اپنے طور اطوار، مزاج، اور اندازِ فکر و نظر میں انگریز بن جائے۔ لیکن آج جو چیز ہمیں نوآبادیاتی تجربے کی کامیابی کی علامت دکھائی دیتی ہے، وہ دراصل اس احساسِ کمتری اور احساسِ ندامت کی غمازی کرتی ہے جو ہمارے سابق حکمران ہمارے ذہنوں پر مرتسم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ہمارے نوآبادیاتی تجربے نے جو انمٹ نقوش چھوڑے ہیں، انگریزی زبان اس کا صرف ایک نقش ہے۔
دوسری نشانی لباس ہے، چنانچہ ہمارے معززین یعنی گندمی رنگ کے صاحب لوگ نہ صرف اپنے سابق حکمرانوں کی زبان کی نقالی پر نازاں و فرحاں ہیں، بلکہ انہوں نے شلوار قمیص اور پگڑی سے بھی جان چھڑا کر تھری پیس سوٹ اور سفاری لباس اپنا لیا ہے جس کو برطانوی دور میں حکومت میں نچلے طبقے کے مقامی یعنی ’’کمی کمین‘‘ پہنتے تھے، اور کسی زمانے میں وہ ہمارے نوابوں اور مہاراجاؤں کا لباس ہوا کرتا تھا۔ اس کے برعکس ہمارے براؤن صاحبان کا ابھرتا ہوا طبقہ فوراً ٹائی اور پتلون پہننے لگا۔ یہ طبقہ مقامی لباس صرف ان مواقع پر استعمال کرنے لگا جو بالکل مقامی نوعیت کے ہوتے، مثال کے طور پر تمام افسر جو برطانوی عہد میں انڈین سول سروس میں شامل ہوتے، انہوں نے اپنے حکامِ بالا والا لباس پہننا شروع کر دیا۔ اسی طرح جو مقامی لوگ فوج اور پولیس میں شامل ہوئے انہوں نے بھی انگریزوں والی وردی پہننی شروع کر دی۔
اس طرح علامت کے طور پر ایک نئی طبقاتی تقسیم وجود میں آ گئی۔ جہاں تک نچلے عملے کا تعلق ہے جیسے چوکیدار، بیرے، یا اسی قسم کے وہ ملازم جو چھوٹے موٹے کام کرتے تھے، وہ مختلف قسم کا مقامی لباس استعمال کرتے جو شلوار قمیص اور پگڑی پر مشتمل ہوتا، اور یہی لباس ہمارے مقامی نوابوں اور جاگیرداروں کا تھا۔ اس طرح انگریزوں نے غیر ارادی طور پر نہ صرف ہمارے مقامی لباس کی ایک گونہ توہین کی بلکہ ہمارے مقامی نوابوں کو بھی ان کے نمایاں تشخص سے محروم کر دیا۔
اس طرح انگریزوں نے جو طبقاتی تقسیم متعارف کرائی وہ نہایت سادہ خطوط پر استوار تھی۔ وہ مقامی لوگ جنہوں نے زبان اور لباس میں آقاؤں کی تقلید کی، وہ شرفاء (ایلیٹ) کہلائے۔ جو تقلید نہ کر پائے وہ متروک و مردود قرار پائے۔ یہ متروک طبقہ لاہور اور دہلی جیسے شہروں کے پسماندہ علاقوں میں کسمپرسی کی حالت میں دھکیل دیا گیا، جبکہ مسابقت کی دوڑ میں ہمارے شرفاء (براؤن صاحب) نواحی کنٹونمنٹ میں نوتعمیر کوٹھیوں میں منتقل ہو گئے۔ تاہم انہوں نے ’’مقامیت‘‘ کا لبادہ پوری طرح تار تار نہیں کیا بلکہ مقامی تشخص کے ساتھ ان کا ارتباط ایسی ایک شعوری کوشش کی صورت میں رہا، جو ان کے لیے ایک طرح کی قابلِ نفرت چیز تھی۔ مختصر یہ کہ ہم اپنے آپ کو ایسے قدیم باشندے سمجھنے لگے جو جدید اور مہذب بننے کی کوشش میں وادی پرخار میں آبلہ پا ہو رہے ہوں۔
انگریز جس وقت ہندوستان کو ’’مہذب‘‘ بنانے میں مصروف تھے، اس دوران انہوں نے تہذیب کے بعض ایسے پہلوؤں کا گلا گھونٹنا شروع کر دیا جنہیں تازہ زندگی بخشنے کی ضرورت تھی۔ اس میں شک نہیں کہ کوئی تہذیب یا ثقافت ہر لحاظ سے مکمل نہیں ہوتی، اور اس کے بعض پہلو ایسے ہوتے ہیں جن کی اصلاح اور درستی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح ہماری تہذیب و ثقافت بھی اس سے مستثنیٰ نہیں تھی اور نہ اب ہے۔ تاہم انگریزوں نے ہماری ثقافت کے بعض ایسے پہلوؤں کو بہتر بنانے کا اہتمام کیا جن پہلوؤں کے صحیح یا غلط ہونے کا فیصلہ کرنا ہم پر چھوڑ دینا چاہیے تھا۔ اس طرح انہوں نے ہمیں قومی شعور و افتخار سے محروم کر دیا۔ چنانچہ ہم اصلاح کے لیے خودکار دائمی عمل سے گزرنے کی بجائے کورانہ تقلید کی دلدل میں کھو کر رہ گئے۔ حالانکہ اپنی اصلاح خود کرنے کا حق ہر معاشرے کو حاصل ہونا چاہیے۔
اس استحقاق سے محروم کیے جانے کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہم نے بسا اوقات اپنی عظیم ثقافت، ورثے اور تہذیب کی طرف دیکھنے اور اس کی اصلاح کی بجائے اسے مسترد کر دیا، اور اس طرز زندگی اور اس عمل کی نقالی شروع کر دی جو ہمارے لیے اجنبی تھا۔ اس کے نتیجے میں ہم ذہنی اور نفسیاتی خلفشار کا شکار ہو گئے ہیں، ایک لمحہ میں ہم انگریز بن جاتے ہیں اور دوسرے لمحے مسلمان، البتہ بالادستی انگریزی تشخص کو ہی حاصل ہوتی رہی۔ اگر کبھی کبھار ہم پر مقامی تشخص اجاگر کرنے کا دورہ پڑتا ہے تو وہ جلد ہی کورانہ تقلید، جو اَب ہمارے لیے ایک فطری عمل بن چکا ہے، کی دھند میں گم ہو کر رہ جاتا ہے۔ ہم اپنے ان راہنماؤں کا منہ تو چڑاتے ہیں جو نہ تو صاف ستھری انگریزی بول سکتے ہیں اور نہ ہی مغربی محاوارت اور روز مرہ کی سدھ بدھ رکھتے ہیں (اس سلسلہ میں فرائیڈے ٹائمز میں اتفاق نامہ خود تحقیری کے بہترین نمونے کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے) لیکن ہم اپنے ان راہنماؤں سے اغماض برتتے ہیں جو اردو بھی صحیح نہیں بول سکتے اور خود اپنے ہی وطن میں اجنبی بن چکے ہیں۔
آج جبکہ ہماری تیسری نسل قومی قیادت سنبھالنے کے لیے پر تول رہی ہے، ہماری ثقافتی پراگندگی کم تو کیا ہوتی بلکہ الٹا اس نے منافقتوں کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے، جن سے ہمارا معاشرہ سر تا پا آلودہ ہے۔ کسی ثقافت سے اس کی اچھی چیزیں اخذ کر لینا کوئی بری بات نہیں، البتہ ذہنی غلامی ضرور بری بات ہے۔ ہمارے سامنے اس وقت انتخاب کے لیے بہت سے راستے کھلے ہیں اور ایک ایسا ورثہ بھی ہمارے سامنے ہے جس پر قابو پانا مشکل ہے۔ لیکن تبدیلی کا جو عزم بتدریج آگے بڑھ رہا ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کا صحیح اور واضح تصور ہمارے ذہن میں ہو۔ اب تک تو ہم انتہاؤں کے درمیان لڑکھتے رہے ہیں، یا پھر ہم جن چیزوں میں سے صاف انتخابات کر سکتے تھے، ان کے بارے میں بھی گومگو کی کیفیت میں رہے ہیں۔
پاکستان کے بارے میں گورے اور کالے کے حوالے سے سوچنے کی بجائے ہمیں مغربی اور مشرقی تہذیب کے حسین امتزاج سے پیدا ہونے والے نظام کے مختلف پہلوؤں کا بغور جائزہ لینا چاہیے، کیونکہ
- اگر ہمیں نوآبادیاتی ادارے ہی برقرار رکھنا ہیں تو پھر ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ انہیں ایک جدید پاکستان کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے کس طرح بہتر بنا سکتے ہیں۔
- اگر ہمیں اپنے اندازِ حکومت میں اسلام کا نفوذ کرنا ہے تو پھر ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ ہم انسانی آزادی کو متاثر کیے بغیر ایسا کس طرح کر سکتے ہیں۔
- اسی طرح اگر ہمیں تحریر و تقریر میں انگریزی کو ہی برقرار رکھنا ہے تو پھر ہمیں سوچنا ہو گا کہ اس سے جو طبقاتی تقسیم پیدا ہوتی ہے اسے کس طرح مٹایا جائے۔
- اقتصادیات میں اگر سرمایہ داری ہی کو برقرار رکھنا ہے تو دیکھنا ہو گا کہ ہم بہتر منصفانہ معاشرہ تشکیل دینے کی جو خواہش رکھتے ہیں اس کے ساتھ موجودہ سرمایہ دارانہ نظام کو کیسے ہم آہنگ کیا جائے۔
یہ ایسے سوالات ہیں جن کا صرف ہمیں ہی سامنا نہیں بلکہ ان سب ممالک کو بھی یہی سوال درپیش ہیں جو نوآبادیاتی نظام کے تحت رہ چکے ہیں۔
پاکستان میں یہ تعمیری اور اصلاحی عمل اس وجہ سے شروع نہیں ہو سکا کہ ہم من حیث القوم اس عیاش اور دوسروں کا خون چوسنے والے کالے صاحب کو طویل عرصے سے برداشت کرتے چلے آ رہے ہیں، جس کے لیے جوں کا توں برقرار رہنا ہی فائدہ مند ہے۔ تاہم دوسروں کو مورد الزام ٹھہرانے کی بجائے ہمیں خود ہی اپنی اصلاح کا عمل شروع کر دینا چاہیے، اور یہ ایک ایسا عمل ہے جو خود اپنے اندر سے اور معاشرے کے اندر سے شروع کیا جا سکتا ہے۔
آئیں ہم صراطِ مستقیم کی تلاش میں نکلیں اور اس تلاش میں دوسروں سے راہنمائی حاصل کرنے کی بجائے خود اپنی کاوش سے اور اپنے شعور سے اپنے لیے سیدھا راستہ بنائیں، اور اس کے لیے ہمیں خارجی مثالوں سے انحراف بھی کرنا پڑے تو دریغ نہ کریں۔ یہ آسان کام نہیں، اور حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی کام جس کے لیے انسان جان کی بازی لگا سکتا ہے، آسان نہیں ہوتا۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ تعمیرِ ملت اور تشکیلِ تشخص کا کام ولولہ انگیز کام ہے۔ اور وہ چیز جسے ہم پسند نہیں کرتے اسے بہتر بنانے یا اسے یکسر تبدیل کرنے کے لیے کوشش تو بہرحال ہم کر ہی سکتے ہیں۔
علمائے کرام کی خدمت میں چند گزارشات
حضرت مولانا نذیر احمد
دینی مدارس کے متعلق حکومت کے عزائم اخبارات میں آپ ملاحظہ فرما چکے ہوں گے۔ تمام وفاقوں اور تنظیموں کی اپیل پر احتجاج کے پہلے مرحلے کے طور پر جمعوں میں احتجاجی بیانات ہو چکے ہیں۔ اس سلسلہ میں مزید اقدامات کی تجویز مرکزی تنظیموں کی قیادتیں کریں گی۔ سرِدست مجالس اور جمعوں کی تقریروں میں کیا انداز رکھنا چاہیے اس میں علمائے کرام اور خطبائے عظام دامت برکاتہم اپنے علم، دانش اور حکمت کے پیش نظر کسی رہنمائی کے محتاج نہیں، تاہم اذہانِ مبارکہ کو اس طرف متوجہ کرنے کے لیے بطور مشورہ بیانات کے چند عنوانات پیش خدمت کیے جاتے ہیں، جمعہ کی تقریروں میں اس طرف توجہ ہو جائے تو مفید ہو گا:
- ہمارا اصل سرمایہ رجوع الی اللہ تعالیٰ ہے۔ اوقاتِ مخصوصہ میں انفرادی و اجتماعی دعائیں بکثرت کی جائیں۔
- اپنے اپنے دائرہ اثر میں مدارس کو اکابر کے معیارِ تعلیم و تقویٰ پر لانے کے لیے مؤثر کردار ادا کیا جائے۔
- حکومت کے عزائمِ قبیحہ کے سد کے لیے بھرپور مساعی ضروری ہیں۔ اس سے بھی زیادہ یہ بات ضروری ہے کہ عوام اور مخیر طبقہ کے ذہنوں میں مدارس کی ضرورت، اہمیت اور عظمت بٹھائی جائے۔ مخالف طبقہ کی طرف سے جو اشکالات پیدا کیے جا رہے ہیں، اپنی اپنی وسعت کے مطابق تقریراً و تحریراً ان کے موقر جوابات دیے جائیں۔ عنواناتِ ذیل بھی اسی مقصد کے لیے پیش کیے جا رہے ہیں۔
- حافظ، قاری، عالم، مفتی، مناظر، امام، خطیب، صحیح مصنف، اور مدرس غرضیکہ دینی خدمات سرانجام دینے والی ہر شخصیت مدارس کی پیداوار ہے۔
- مناصبِ مذکورہ ملک و ملت اور اس عظیم اسلامی مملکت کی سب سے بڑی اور بنیادی ضرورت ہیں، جسے یہ مدارس اچھے نظم سے پورا کر رہے ہیں۔
- اعتقادی، نظریاتی، عملی، اخلاقی، معاشرتی اور معاملاتی اصلاحات کے لیے جتنی جماعتیں، ادارے، خانقاہیں اور افراد کام کر رہے ہیں، یہ سب انہی مدارس کے آثارِ حسنہ اور ثمراتِ طیبہ ہیں۔
- پورے عالم میں جذبۂ جہاد، اسلامی و ایمانی لہر، جس سے بڑی اسلام دشمن طاقتیں خوفزدہ ہیں، یہ انہی مدارس کے نتائج ہیں۔
- تمام دنیوی محکموں اور اداروں میں احساسِ ذمہ داری رکھنے والے سچے، دیانتدار، ضوابط کے پابند افراد کی نمایاں اکثریت انہی مدارس اور خانقاہوں سے نسبتِ استفادہ رکھنے والوں کی ہے۔
- ہمارے اکابر کے دور کے معیارِ تعلیم، تربیت اور تقویٰ کے اعتبار سے موجودہ مدارس میں بہت تقصیرات ہیں، لیکن حکومتی خرچ اور نظم سے چلنے والے اداروں سے امن و سکون، معیارِ تعلیم و تربیت، معیارِ حسنِ امتحانات وغیرہا کے اعتبار سے یہ مدارس اتنے اونچے ہیں کہ ان میں کوئی نسبت ہی نہیں۔
- مدارس اتنے بڑے صدقاتِ جاریہ ہیں جن کا سلسلہ اتنا طویل اور دراز اور شاخ در شاخ ہو جاتا ہے جس کی کوئی حد ہی نہیں۔ ایک عالم کی خدمات اس کے بلاواسطہ اور بالواسطہ شاگردوں اور متوسلین اور ہم نشینوں کی خدمات کا پھیلاؤ ہمارے تصور سے زیادہ ہے۔ جن لوگوں کے اخراجات سے پہلا عالم تیار ہوا تھا، یہ اس کی وسعتوں کے ثواب میں باقاعدہ شریک ہوں گے۔ دوسرے رفاہی کاموں میں حصولِ اجر کی یہ شان ہرگز نہیں ہے۔
- علومِ اسلامیہ کی نشر و اشاعت کے لحاظ سے تو یہ مدارس صدقہ جاریہ ہیں، ان میں صدقہ جاریہ کے اور بھی متنوع پہلو ہیں۔ درسگاہیں، دارالاقامے (ہاسٹل)، مطبع، وضو خانے، غسل خانے، کپڑے، کھانے پینے اور ادویات کا انتظام کرنا، یہ سب کچھ خدمتِ خلق اور تصدق اور رفاہِ عام کے پہلو ہیں، جن سے نفع اٹھانے والے اکثر اتقیاء، صلحاء اور عباد و زہار ہوتے ہیں۔ ایسے نیک دوسرے رفاہی اداروں سے استفادہ کرنے والوں میں کم ہوتے ہیں۔
- مدارس میں بھی اکا دکا باہمی کشمکش کے واقعات ہو سکتے ہیں اور ہوتے ہیں، لیکن اکثر بلکہ تقریباً سب مدارس اس بداَمنی اور بے سکونی کے دور میں دوسرے اداروں کی نسبت امن و سکون کے مرکز ہی نہیں بلکہ اس کے داعی اور علمبردار ہیں۔
- مدارس کے متعلق یہ خیال مجالس میں گردش کرتا رہتا ہے کہ اس سے ڈاکٹر، انجینئر وغیرہ پیدا نہیں ہوتے۔ اس کے متعلق عرض ہے کہ واقعی ایسے افراد پیدا ہیں ہوتے، لیکن یہ سوال جدید فنون کے اداروں پر بھی ہے۔ میڈیکل کالج سے صرف ڈاکٹر پیدا ہوتے ہیں، نہ وکیل بنتے ہیں نہ انجینئر بنتے ہیں، نہ ماہر معاشیات وغیرہ۔ اصل بات یہ ہے کہ آدمی متخصص (اسپیشلسٹ) کسی ایک ہی فن میں ہو سکتا ہے، اس کو کسی دوسرے فن کی طرف لگانا اس کے اصل فن میں اسے ناقص رکھنے کی اسکیم کے مترادف ہے۔ ایسے ہی علومِ اسلامیہ اپنے اندر جو اہمیت، ضرورت اور وسعت رکھتے ہیں، ان کو دوسری طرف لگانے کا مشورہ دینے کا منشا تو علومِ اسلامیہ کی اہمیت و ضرورت سے جہالت ہے، یا ان کو ان علوم میں ناقص رہنے کا مشورہ دینا ہے۔
دینی مدارس کا ایک نیا وفاق
نظامتِ تعلیماتِ اسلامیہ پاکستان
ادارہ
علم ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہے، علم کے ذریعے ہی انسان اپنے معبودِ حقیقی کی معرفت حاصل کرتا ہے اور خود اپنے آپ کو بھی پہچان سکتا ہے، بلکہ علم کی وجہ سے انسان کو باقی مخلوق حتیٰ کہ فرشتوں پر فضیلت حاصل ہوئی ہے۔ اور یہ کہنا کسی طرح بھی بے جا نہ ہو گا کہ علم کے بغیر خود انسان نامکمل رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ کے ہر دور میں علم کی ترویج و ترقی کے لیے ہر ممکن کوششیں بروئے کار لائی گئیں۔ خصوصاً اسلام نے تو اپنے تمام عقائد و تعلیمات کی بنیاد علم پر رکھی ہے۔ خود پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں اپنے متعلق ’’انما بعثت معلما‘‘ کا جملہ ارشاد فرمایا، وہاں ’’طلب العلم فریضۃ علیٰ کل مسلم‘‘ کہہ کر ہر مسلمان کے لیے حصولِ علم کو فرض قرار دیا۔ چنانچہ مسلمانوں نے علم کی اہمیت کو محسوس کیا اور پوری دنیا میں علم کی اشاعت کے لیے وہ کوششیں سرانجام دیں کہ تمام اقوام آج مسلمانوں کے اس سلسلہ کی مرہونِ منت ہیں۔ اب بھی مسلمان امت تعلیم و تعلم کے اس فریضہ کو بجا لانے میں پوری طرح مصروف ہے۔
تعلیم پاکستان میں
مملکتِ خداداد پاکستان میں اس وقت دو طرح کے تعلیمی نظام رائج ہیں:
(۱) قدیم دینی و عربی نصاب کی تعلیم کا محور و مرکز مساجد اور دینی مدارس ہیں، اور اس نظام نے یہاں دینی و اعتقادی ضروریات پوری کرنے کا فرض نبھایا، اور آج جو کچھ بھی دینی زندگی اور ایمانی حمیت یہاں موجود ہے، وہ اسی نظامِ تعلیم کا نتیجہ ہے۔ اخلاق و کردار اور ایمان و عمل میں جو رونقیں نظر آتی ہیں، وہ مساجد و مدارس کے ماحول میں ہونے والی مساعی کے دم قدم سے ہیں۔
(۲) جدید حکومتی نصابِ تعلیم کا مرکز سکول، کالج اور یونیورسٹیاں ہیں، اور اس نصاب نے ریاست کے امور چلانے والے افراد تیار کیے اور دنیوی شعبوں میں کام کرنے کی استعداد پیدا کی۔ اس حکومتی نصاب میں قرآن مجید ناظرہ کی تعلیم اور اسلامیات کی صورت میں کسی حد تک اسلامی عقائد و احکام کا ایک حصہ شامل ہے، لیکن یہ ایک مسلمان کی دینی ضروریات کے لیے ناکافی ہے۔ اس پر المیہ یہ ہے کہ اس حصہ کو عملاً تعلیم کے سلسلہ میں کوئی اہمیت نہیں دی گئی، جس کے نتیجہ میں جہاں ان اداروں میں تعلیم کا معیار انتہائی پست ہے، وہاں نقل اور ناجائز ذرائع سے امتحانی کامیابی کا حصول کوئی عیب نہیں رہا۔ اور ان اداروں میں نوجوان نسل کی تربیت اس انداز سے ہو رہی ہے کہ کلاشنکوف کلچر، گروپ بندی اور دوسری تمام اخلاقی خرابیوں نے ان درسگاہوں کے تصور کو بھی بھیانک بنا دیا ہے اور والدین انتہائی پریشان ہیں، لیکن ان کے سامنے تعلیم و تربیت کا ایسا کوئی متبادل نظام موجود نہیں جس پر وہ اپنی اولاد کے معاملہ میں اعتماد کر سکیں۔
مندرجہ بالا صورتحال اور پاکستان میں تعلیم کے دونوں نظاموں میں پائے جانے والے خلا کو پر کرنے کا ایک ہی ذریعہ ہے کہ کسی طرح ان دونوں نظاموں کی خوبیوں کو جمع کر دیا جائے، اور اس طرح ایسی نسل تیار کی جائے جو بیک وقت دینی تعلیمات سے آگاہ ہونے کے ساتھ جدید دور کے فنون سے بھی پوری طرح واقف ہو۔ اس سلسلہ میں مسلمان زعماء اور دردمند اکابر ہمیشہ کوشش میں مصروف رہے ہیں، لیکن یہ کوششیں انفرادی درجہ کی حامل تھیں، جبکہ اب ملک و ملت کی اس ضرورت کو پیش نظر رکھتے ہوئے دردمند علماء کے ایک اجلاس میں ان کوششوں کو اجتماعی شکل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اور اس کے لیے ’’نظامتِ تعلیماتِ اسلامیہ پاکستان‘‘ کے نام سے کام کرنے کا عزم کیا گیا اور طے کیا گیا کہ ایک ایسا نظامِ تعلیم اور نصاب وضع کیا جائے جس میں دونوں نصابوں کی اہم ضروریات ملحوظ رکھی جائیں۔ اور تعلیم و تربیت کا ایسا پروگرام طے کیا جائے جس کے ذریعے ایسی مسلمان نسل تیار ہو جو بیک وقت دینی تعلیم اور اخلاقی و روحانی تربیت بھی رکھتی ہو، اور انتظامی و ریاستی امور سرانجام دینے کی بھی پوری طرح اہل ہو۔
نظامت کے مقاصد
- دینی علوم اور عصری فنون پر مشتمل نصاب کی تدوین
- ملحقہ مدارس کے امتحانی اور تربیتی نظام کی نگرانی
- اعلیٰ اسلامی تعلیم و تربیت اور ملکی نظام میں اپنا کردار ادا کرنے کی حامل نسل تیار کرنے کی جدوجہد
- ایسے طریقۂ تدریس کا استعمال جس میں ایسے مبلغین اسلام تیار ہوں جو عربی، فارسی اور انگریزی زبان پر عبور رکھتے ہوں، اور پوری دنیا میں تبلیغِ دین کا فرض بھی ادا کر سکیں، اور عصرِ حاضر کے تمام الحادی اور غیر اسلامی فتنوں کا تعاقب کر کے اسلام دشمن تحریکوں کی سرکوبی کر سکیں۔
نظامت کا قیام اور عملی اقدام
- مندرجہ بالا مقاصد کے حصول کے لیے نظامتِ تعلیماتِ اسلامیہ پاکستان کے نام سے اس ادارہ کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔
- نظامت کا مرکزی دفتر جامعہ منظور الاسلامیہ، عید گاہ صدر روڈ، لاہور چھاؤنی میں قائم کیا گیا ہے۔
- حضرت مولانا محمد طیب صاحب حنفی کو نظامت کا امیر منتخب کیا گیا ہے، جبکہ مولانا عبد الرؤف فاروقی کو ناظمِ اعلیٰ نامزد کیا گیا ہے۔
- حضرت مولانا عبد الرحمٰن ظفر کی سربراہی میں تدوینِ نصاب کمیٹی نے پرائمری پاس طلباء کے لیے گیارہ سالہ نصاب ترتیب دیا ہے، جس میں ترجمۂ قرآن مجید، تفسیر، اصولِ تفسیر، حدیث، اصولِ حدیث، فقہ، اصولِ فقہ، عقائد، ادب، صرف، نحو اور منطق پر مشتمل دینی و قرآنی علوم کے ساتھ چھٹی سے بی اے تک کا حکومتی نصاب شامل ہے۔
- طے کیا گیا ہے کہ جو مدارس نظامت کے ساتھ الحاق کریں گے اور نظامت کا مرتب کردہ نصاب رائج کریں گے، ان کے امتحانات اور تعلیمی و تربیتی نظام کی نگرانی نظامت کرے گی، اور نتائج کے مطابق اسناد بھی جاری کرے گی۔
- نظامت نے طے کیا ہے کہ طلباء میں عربی و دینی علوم کی استعداد پیدا کرنے کے لیے فنون کی بعض ابتدائی کتابیں مرتب کر کے انہیں شائع کیا جائے۔
- نظامت نے طے کیا ہے کہ ملحقہ مدارس کا بنیادی مشن علومِ نبوت کی تعلیم و ترویج ہو گا اور وہ اسی مقصد کو اہمیت دیں گے، جبکہ حکومتی نصاب سے ریاستی امور اور تبلیغِ اسلام کے لیے صلاحیت پیدا کرنا مقصود ہو گا اور اسی درجہ میں اس کو اہمیت حاصل ہو گی۔
عظیم افغان کمانڈر مولانا نصر اللہ منصورؒ
عید محمد افغان
حضرت مولانا نصر اللہ منصور بن غلام محمد خان سہاکھ گاؤں زرمت کے علاقہ میں صوبہ پکتیکا میں ایک دیندار گھرانے میں پیدا ہوئے جس کو علاقہ کے لوگ فضل الرحمٰن کے گھرانے کے نام سے جانتے ہیں۔ ابتدائی تعلیم زرمت پکتیکا پغمان کے مختلف علاقوں میں حاصل کی اور جامعہ نور المدارس الفاروقیہ ولایت غزنی میں علومِ عالیہ کی تحصیل کے لیے داخل ہوئے اور ایسی علمی اور روحانی فضا میں تربیت پائی جہاں ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کی صدائیں بلند ہوتی تھیں اور قال اللہ جل جلالہ اور قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آوازیں آتی تھیں۔ اس جامعہ سے مولانا منصور شہیدؒ نے علومِ عالیہ تفسیر، حدیث، اصول، عقائد، کلام اور فقہ وغیرہ حاصل کیے۔ اس جامعہ کا شمار افغانستان کے بڑے مدارس میں ہوتا ہے۔ طالب علمی کے دور میں مولانا شہیدؒ ذہین و فہیم طلباء میں شمار ہوتے تھے۔
پڑھائی کے دوران ہی مولانا منصورؒ کا تعلق شیخ المشائخ المجددی نور اللہ مرقدہ سے ہو گیا اور تھوڑے ہی عرصہ کے بعد ان کا دل خوشی سے اصلاحِ باطن کی طرف مائل ہوا اور طیب خاطر سے شیخ مجددی نور اللہ مرقدہ کے حلقہ بگوش ہو کر شغف بالذکر کرنے لگے۔ ان کے شیخ معمولی شیخ نہ تھے بلکہ پورے افغانستان کے علماء اور عوام الناس کے شیخ الکل تھے۔ پس شیخ کی مبارک روحانی بیعت نے اس طالب علم کے اندر عجیب و غریب اثرات پیدا کر دیے جو ان کی آنے والی زندگی کے لیے سنگِ بنیاد کی حیثیت رکھتے تھے۔ اس دوران مولانا منصور شہیدؒ نے ’’جمعیت خدام الفرقان‘‘ کی بنیاد رکھی اور اس کے ساتھ ساتھ علمی مشاغل کو بھی برقرار رکھا۔ مولانا منصورؒ نے جمعیت کے لیے ایک منشور مرتب کیا۔ جمعیت وہ پہلی جماعت تھی جس نے اپنی تمام تر کوششیں روسی کمیونسٹوں کے خلاف وطنِ عزیز افغانستان میں صرف کیں، اور افغانستان کی جملہ مسلم جماعتیں اس عظیم جمعیت کے ساتھ متفق اور متحد تھیں۔ اور یہ جمعیت محمد اسماعیل مجددی، جنہوں نے محمود غزنویؒ کے پوتوں کو سرکش ظالموں کی سرکوبی کے لیے تیار کیا تھا، کی قیادت میں سرگرم عمل تھی۔
مولانا منصور شہیدؒ نے جامعہ نور المدارس سے فراغت حاصل کی اور ممتاز درجہ میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ اسلامی علوم سے فراغت کے بعد مولانا منصورؒ علم کے حقوق کی ادائیگی میں لگ گئے، یعنی دینی علوم کی تدریس اور تعلیم میں مصروف ہو گئے۔ کمیونسٹ روسی چونکہ افغانستان کے مختلف علاقوں میں کثیر تعداد میں تھے، لہٰذا انہوں نے اس بطلِ حریت کو ہر طرح کے حیلے کر کے قید کرنا چاہا۔ کیونکہ وہ روسی کمیونسٹوں کے گندے عزائم کے سامنے سدِ سکندری تھے۔ ان حالات میں انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم ’’ارض اللہ واسعۃ فتہاجروا فیہا‘‘ کو بسر و چشم قبول کیا۔ وطنِ عزیز کو خیرباد کہہ کر شاہی کوٹ چلے آئے جو کہ مجاہدینِ اسلام افغانستان کا مرکز اور معسکر تھا، اور وہاں پہنچ کر نوجوانوں کو اسلامی تعلیم کے ساتھ روسیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کرتے رہے۔ شاہی کوٹ میں تعلیم و تدریس کا سلسلہ بھی بے سروسامانی کے عالم میں خیموں میں جاری رہا۔ باوجود اس کے کہ کبھی کبھار تند ہوا سے خیموں کی رسیاں ٹوٹی جاتی تھیں، منصورؒ نوجوانوں کو روسیوں کے مقابلہ کے لیے بلند ہمتی کے ساتھ تیار کرتے رہے۔
روسی جارحیت کے کچھ ہی عرصہ بعد پاکستان کے علاقہ میران شاہ میں آگئے تاکہ اللہ تعالیٰ، اس کے دین اور مجاہدینِ اسلام کے دشمنوں کے مکروہ قید و بند تکالیف سے نجات حاصل کر کے ان کی بری تدابیر کا سدباب کیا جائے۔ روسی اگرچہ افغانستان کے مختلف شہروں اور صوبوں میں موجود تھے لیکن علماء اور عوام پر اپنا تسلط قائم نہ کر سکے، اور انہی دنوں منصور شہیدؒ نے اپنا نام تبدیل کر لیا تاکہ روسی سازشوں سے محفوظ رہیں۔
روسی کمیونسٹ انقلاب کے بعد جب تراکئی اور حفیظ اللہ امین کرسی اقتدار پر بیٹھے تو انہوں نے کمیونسٹ روسی نظام کو افغانستان کی سرزمین پر مسلط کرنا چاہا۔ علماء کرام اس نظام کے خلاف سرگرم عمل ہوئے تو حکومت نے علماء کو جیلوں میں بند کرنا شروع کر دیا۔ اسی پاداش میں منصورؒ کو بھی کابل جیل میں بند کر دیا گیا اور دوسرے مشائخ کو، مثلاً جمعیت خدام الفرقان جو کہ جہاد فی سبیل اللہ کے لیے بنائی گئی، اس جمعیت کے بانی مرشد المشائخ مجددی بن نور المشائخ اور حضرت مولانا فضل عمر مجددی کو بھی قید میں ڈالا گیا۔ تاہم کابل جیل کا جیلر منصورؒ کا ہم وطن تھا، چنانچہ اس نے مولانا شہید کو رہا کر دیا۔
اس کے بعد منصور شہیدؒ شیخ محمد بن محمدی کے ساتھ پاکستان آئے اور فقیہ العصر مولانا مفتی محمودؒ قدس سرہ سے مشاورت کی۔ ’’حرکت الانقلابیہ الاسلامیہ‘‘ کے نوجوانوں نے شریعت کے نفاذ کے لیے قربانیاں دیں تاکہ مذکورہ قیادت کے زیرسایہ افغانستان میں ایک اسلامی حکومت قائم ہو جائے۔ اس لیے کہ مسلمان مجاہدین کا مطمح نظر ایک ہی تھا کہ افغانستان میں دین کا پرچم سربلند ہو۔ اور حرکت کی انتھک کوششوں سے قریب تھا کہ روسی حکومت کا خاتمہ ہو جائے، لیکن روس نے تازہ دم فوج ’’جیش احمر‘‘ (Red Army) کو مجاہدین کی سرکوبی کے لیے بھیج دیا، لیکن حرکت کے نوجوانوں نے، جو کہ منصور شہیدؒ کی کمان میں لڑ رہے تھے، ڈٹ کر مقابلہ کیا اور دین کی سربلندی کے لیے خون کو بہایا اور ہزاروں علماء کرام نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔
ان مجاہدین میں سے سینکڑوں نے جام شہادت نوش کیا جن میں صوبہ پکتیکا کے حضرت مولانا پیر محمد الوقفی شہیدؒ، صوبہ پغمان کے مولوی عبد الرحیم الحنفی شہیدؒ، غزنی کے قاری عبد اللہ دانش شہیدؒ، ہلمند کے مولانا محمد نسیم شہیدؒ، زابل کے مولوی مدد خانؒ اور مولوی محمد موسیٰ کلیم شہیدؒ، اور کابل کے مولوی شفیع اللہ شہیدؒ شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو اپنے جور رحمت میں جگہ عطا فرمائے، آمین۔
اسی دوران پاکستان کے مرد مجاہد بطل حریت حضرت مولانا ارشاد احمد شہیدؒ نے ’’حرکت الجہاد الاسلامی العالمی‘‘ کی بنیاد ڈالی۔ یہ پہلے مرد مجاہد تھے جنہوں نے دین کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کیا اور کفر کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر اس کو لرزہ خیز کر دیا اور اسی کشمکش میں رب العالمین کا پڑوس حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ جب مولانا ارشاد شہیدؒ نے جہاد کی مہم شروع کی تو حضرت مولانا عبد الحق رحمہ اللہ تعالیٰ رئیس دارالعلوم الحقانیہ اکوڑہ خٹک سے مشورہ کیا۔ انہوں نے ارشاد شہیدؒ کو مولانا منصور شہیدؒ کی رفاقت اختیار کرنے کے لیے فرمایا اور ارشاد شہیدؒ کا منصور شہید سے بڑا گہرا تعلق تھا، اور حرکت الجہاد الاسلامی العالمی بھی منصور شہید کے زیر اثر برسرپیکار رہی ہے۔
منصور شہیدؒ حلیم الطبع اور نرم خو شخصیت کے حامل تھے اور فیصلہ کرنے میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور عمر بن عبد العزیزؓ کی اقتدا کرتے تھے۔ اس کی نمایاں مثال ایک واقعہ ہے کہ ان کی جماعت کے ایک ذیلی امیر نے گیارہ آدمیوں کو ناحق قتل کر دیا۔ منصور شہیدؒ نے مقتول کے ورثا اور عامۃ الناس کو جمع کیا تاکہ امیر سے قصاص لیا جائے۔ مجاہدین نے اصرار کیا کہ امیر کو قصاص میں قتل نہ کیا جائے ورنہ رسوائی ہو گی، اور اگر نہ چھوڑا گیا تو ہم تمہارا ساتھ چھوڑ دیں گے۔ منصور شہیدؒ نے فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو اختیار کرتا ہوں۔ چنانچہ انہوں نے حالات کی پروا کیے بغیر اللہ تعالیٰ کے احکام حدود کو مدنظر رکھتے ہوئے قصاص کا فیصلہ کر دیا۔
منصور شہیدؒ افغانستان کے جہاد ہی کے ذمہ دار نہ تھے بلکہ اتحاد اسلامی کے خصوصی رکن بھی تھے۔ اور افغانستان کی آزادی کے لیے کوشاں حرکت الانقلاب الاسلامیہ کے نائب رئیس بھی تھے۔ اس کے علاوہ سات متحدہ افغانی جماعتوں کے سیکرٹری بھی تھے۔ آزادئ افغانستان کے بعد حرکت الانقلاب الاسلامیہ کے نائب بن گئے اور زندگی کے آخری ایام میں مجلس الاعلیٰ للقضاء کے رئیس تھے اور گردیز کے والی بھی بن گئے۔ گویا منصور شہیدؒ تمام جماعتوں میں مشترک حیثیت رکھتے تھے۔
ظالم کمیونسٹوں نے منصورؒ کے خلاف سازش کی، وہ قافلہ کی صورت میں کابل سے گردیز کی طرف سفر کر رہے تھے کہ ان کی گاڑی میں نصب کیا جانے والا بم پھٹ گیا۔ منصور شہیدؒ کے ساتھی انجینئروں نے انہیں بتایا تھا کہ آپ اپنی گاڑی چھوڑ دیں، لیکن وہ نہ مانے، انہیں گمان بھی نہیں تھا کہ ان کے ساتھ یہ کچھ ہو جائے گا۔ منصور شہیدؒ کی گاڑی میں چھ محافظوں کے علاوہ ولایت لوگر کے مولوی ضبطو خان بھی موجود تھے جو کہ حرکت الانقلاب الاسلامیہ کے قائدین میں سے تھے۔ تھوڑی دیر چلنے کے بعد انہوں نے کسی چیز کی بدبو محسوس کی لیکن سمجھ نہ سکے کہ کیا چیز ہو سکتی ہے۔ گاڑی کو روکا، اترے اور دیکھا لیکن کسی چیز کو نہ پایا، چنانچہ سفر جاری رکھا۔ تھوڑی دیر کے بعد پھر گاڑی سے دھواں اٹھتا ہوا محسوس ہوا تو ارادہ کیا کہ گاڑی کو کسی پانی والی جگہ پر روک کر تفتیش کریں۔ مگر چند لمحوں بعد ہی بم پھٹ گیا اور گاڑی کے پرخچے اڑ گئے اور منصور شہیدؒ اپنے ساتھیوں سمیت جام شہادت نوش کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اللہ تعالیٰ ان کو ہماری اور تمام امتِ مسلمہ کی طرف سے جزائے خیر عطا فرمائے اور جنت نعیم میں ان کا ٹھکانہ بنائیں، آمین ثم آمین۔
قافلۂ معاد
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
حضرت مولانا مفتی ولی حسنؒ
پاکستان کے ممتاز مفتی اور فقیہ حضرت مولانا مفتی ولی حسن ٹونکیؒ گزشتہ ماہ طویل علالت کے بعد کراچی میں انتقال فرما گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مرحوم حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ کے معتمد رفقاء میں سے تھے اور انہوں نے طویل عرصہ تک جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی میں تدریس و افتاء کی خدمات سرانجام دیں۔ وہ ایک مشفق استاذ، بیدار مغز مفتی، اور حق گو عالمِ دین تھے اور ہمیشہ اعتقادی و معاشرتی فتنوں کے خلاف سرگرم عمل رہتے تھے۔
مولانا نیاز محمدؒ
جمعیۃ علماء اسلام کے سابق مرکزی ناظم اور بلوچستان کے سابق صوبائی وزیر مولانا نیاز محمد گزشتہ ماہ مکہ مکرمہ میں حرکت ِقلب بند ہو جانے سے انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کا تعلق زیارت کے علاقہ کواس سے تھا اور وہ جمعیۃ کے متحرک راہنماؤں میں شمار ہوتے تھے۔ راقم الحروف کے حالیہ سفرِ حجاز کے دوران مسجد حرام میں مولانا مرحوم سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے بڑے دردِ دل کے ساتھ جمعیۃ علماء اسلام کے معاملات کی اصلاح کے لیے کردار ادا کرنے کی طرف توجہ دلائی، مگر اس کے دو تین روز بعد جب کراچی پہنچا تو ’’جنگ‘‘ میں خبر پڑھی کہ مولانا نیاز محمدؒ کا مکہ مکرمہ میں حرکتِ قلب بند ہو جانے سے انتقال ہو گیا ہے۔
مولانا محمد انذر قاسمیؒ
جمعیۃ علماء اسلام کے ایک اور سرگرم راہنما اور سیالکوٹ کے متحرک عالم دین مولانا محمد انذر قاسمیؒ رمضان المبارک کے دوران جبکہ وہ نماز تراویح ادا کرنے کے بعد گھر جا رہے تھے، سفاک قاتلوں کی گولیوں کا نشانہ بنتے ہوئے جام شہادت نوش کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ ایک حساس و مضطرب دل کے حامل نوجوان عالم دین تھے، اور انہوں نے اپنی مختصر زندگی میں تحریک ختم نبوت اور تحریک نفاذ شریعت کے لیے جو گراں قدر خدمات سرانجام دیں وہ بلاشبہ نوجوان علماء کے لیے قابل تقلید اور لائق رشک ہیں۔ دینی معاملات میں ان کی مسلسل محنت و مشقت اور ان کی حق گوئی کی یادیں ایک عرصہ تک ان کی یاد دلاتی رہیں گی۔
حافظ سید مقصود میاںؒ
حضرت مولانا سید حامد میاں قدس اللہ سرہ العزیز کے چھوٹے فرزند حافظ سید مقصود میاں رمضان المبارک کے دوران جامعہ مدنیہ لاہور میں نماز تراویح میں قرآن سناتے ہوئے اللہ تعالیٰ کو پیارے ہو گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ ایک علمی خاندان کے ہونہار فرزند تھے۔
جناب انوار احمدؒ
مکتبہ مدنیہ اردو بازار لاہور کے جناب انوار احمد کو کسی شقی القلب قاتل نے ان کی دکان پر فائرنگ کر کے شہید کر دیا، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مرحوم مسلکی معاملات میں ہمیشہ سرگرم رہتے تھے اور قلبی احساس و جذبہ سے بہرہ و ر دینی کارکن تھے۔
پروفیسر محمد سرفرازؒ
سیالکوٹ کے بزرگ عالم دین حضرت مولانا حافظ منظور احمد سیالکوٹی کے فرزند پروفیسر محمد سرفراز گزشتہ دنوں تبلیغی چلہ لگانے کے بعد واپس آتے ہی لاہور میں انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون، وہ ایک صالح اور باعمل نوجوان تھے۔
ہم ان تمام مرحومین کی مغفرت اور بلندئ درجات کے لیے دعاگو ہیں اور پسماندگان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ مرحومین کو جوار رحمت میں جگہ دیں اور جملہ پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق ارزانی فرمائیں، آمین یا الٰہ العالمین۔
ورلڈ اسلامک فورم کی سرگرمیاں
ادارہ
مولانا محمد عیسیٰ منصوری کا دورۂ جنوبی افریقہ
ورلڈ اسلامک فورم کے سیکرٹری جنرل مولانا محمد عیسیٰ منصوری نے گزشتہ ماہ فورم کے سیکرٹری تنظیمی امور مولانا محمد اسماعیل پٹیل کے ہمراہ جنوبی افریقہ کا دورہ کیا اور مختلف شہروں میں علماء کرام اور دینی کارکنوں کے اجتماعات سے خطاب کیا۔
ڈربن میں جمعیت علماء نٹال کے سربراہ مولانا محمد یونس پٹیل کی طرف سے طلب کردہ علماء کرام کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مولانا منصوری نے علماء پر زور دیا کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں مغربی ذرائع ابلاغ کے منفی پراپیگنڈا کے اثرات کا جائزہ لیں اور اس سلسلہ میں اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں۔
انہوں نے کہا کہ مغربی ذرائع ابلاغ کمیونزم کی شکست کے بعد مسلسل یہ پراپیگنڈا کر رہے ہیں کہ اسلام انسانی حقوق کی راہ میں رکاوٹ ہے اور مسلم بنیاد پرستی سے عالمی امن اور مغربی تہذیب کو خطرہ ہے، اس لیے مسلم بنیاد پرستی کو کچلنے کے لیے مغربی حکومتیں اور لابیاں اپنا پورا زور صرف کر رہی ہیں۔ لیکن علماء کرام کے حلقوں میں ابھی اس چیلنج کو پوری طرح سمجھنے کی کوشش نہیں کی جا رہی، جس کا ملتِ اسلامیہ کو نقصان ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے اسلاف کی یہ روایت رہی ہے کہ انہوں نے دین اور قوم کو پیش آنے والے فتنوں سے ہمیشہ بروقت خبردار کیا ہے، اور ان کے مقابل میں ملت کی راہنمائی کی ہے، لیکن آج یہ روایت اپنے تسلسل سے محروم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ انہوں نے علماء کرام پر زور دیا کہ وہ ابلاغ کے جدید ذرائع سے بھرپور استفادہ کریں اور اسلام کی دعوت و تبلیغ کے لیے میدانِ عمل میں آئیں۔
انہوں نے کہا کہ اسلام دینِ فطرت ہے اور یہ صلاحیت صرف اسی میں ہے کہ وہ انسانی معاشرے کے پیچیدہ مسائل کو حل کرے، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ علماء کرام اسلام کے اجتماعی کردار کا ادراک حاصل کریں اور اسے دنیا کے سامنے آج کی زبان میں پیش کریں۔
مولانا منصوری نے جنوبی افریقہ کے متعدد شہروں میں جمعیت علماء افریقہ کے راہنماؤں اور دینی اداروں کے سربراہوں سے ملاقاتیں کیں اور فورم کے پروگرام پر ان سے تبادلۂ خیال کیا۔ انہوں نے ورلڈ اسلامک فورم کے سرپرست ڈاکٹر سید سلمان ندوی سے بھی ملاقات کی اور فورم کے آئندہ سال کے پروگراموں کے بارے میں ان سے صلاح مشورہ کیا۔
مسلم ہیومن رائٹس سوسائٹی پاکستان کا قیام
جامع مسجد خضراء سمن آباد لاہور کے خطیب مولانا عبد الرؤف فاروقی کی دعوت پر ۲۶ مارچ ۱۹۹۵ء کو چند اہل دانش کا ایک اجلاس ان کی رہائشگاہ پر منعقد ہوا جس میں ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا زاہد الراشدی نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ انسانی حقوق کے حوالے سے اسلامی احکام و عقائد کے خلاف مغربی ذرائع ابلاغ کے مسلسل پراپیگنڈا کا جائزہ لینے اور اسلامی تعلیمات کو صحیح طور پر سامنے لانے کے لیے ’’مسلم ہیومن رائٹس سوسائٹی پاکستان‘‘ کے نام سے علمی و فکری کام کا آغاز کیا جائے۔ چنانچہ مولانا عبد الرؤف فاروقی کو سوسائٹی کا کنوینر منتخب کیا گیا اور طے پایا کہ ۱۷ اپریل ۱۹۹۵ء بروز پیر بعد نماز عصر مرکزی جامع مسجد شادمان لاہور میں ایک فکری نشست ہو گی جس میں ممتاز علماء اور دانشور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر پر اظہار خیال کریں گے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔
مولانا محمد عیسیٰ منصوری انڈیا کے دورے پر
ورلڈ اسلامک فورم کے سیکرٹری جنرل مولانا محمد عیسیٰ منصوری ان دنوں انڈیا کے دورے پر ہیں، وہ بھارت کے مختلف شہروں میں سرکردہ علماء کرام سے ملاقاتیں کریں گے اور واپسی پر حرمین شریفین میں حاضری دیتے ہوئے اپریل کے آخر تک لندن پہنچیں گے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔
مولانا زاہد الراشدی کا سفرِ حجاز
ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا زاہد الراشدی نے گزشتہ ماہ ۱۱ فروری سے ۲۱ فروری تک حرمین شریفین میں حاضری دی اور مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور جدہ میں سرکردہ علماء کرام سے عالمِ اسلام کے مسائل پر گفتگو کی۔ فورم کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا سید اسد اللہ طارق گیلانی بھی ان دنوں لندن سے مکہ مکرمہ آئے ہوئے تھے، چنانچہ دونوں راہنماؤں نے ورلڈ اسلامک فورم کے پروگرام اور مقاصد کے حوالے سے سرکردہ حضرات سے ملاقاتیں کیں۔ واپسی پر مولانا زاہد الراشدی نے دو روز کراچی میں قیام کیا اور متعدد دینی اجتماعات میں شرکت کی۔
فورم کی ماہانہ فکری نشست
ورلڈ اسلامک فورم کی ماہانہ فکری نشست ۲۷ جنوری ۱۹۹۵ء کو بعد نماز عشا مسجد نور سیٹلائیٹ ٹاؤن گوجرانوالہ میں ہوئی جس کے لیے گوجرانوالہ کے سرگرم دوست حافظ نفیس الرحمٰن (حافظ الیکٹرک سٹور) نے دلچسپی اور محنت کے ساتھ احباب کو جمع کرنے کا اہتمام کیا۔ فکری نشست میں مولانا زاہد الراشدی نے دینی مدارس کے بارے میں مغربی ذرائع ابلاغ کے منفی پراپیگنڈا اور دینی مدارس کے مروجہ نصاب کے حوالے سے حکومتِ پاکستان کے مبینہ عزائم کا جائزہ پیش کیا اور حاضرین کے سوالات کے جوابات دیے۔
سال رواں میں فورم کی دوسری ماہانہ فکری نشست ۱۵ مارچ کو مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں مولانا مفتی محمد عیسیٰ گورمانی کی زیر صدارت منعقد ہوئی جس میں صدر اجلاس کے علاوہ مولانا زاہد الراشدی اور پروفیسر حافظ محمد شریف نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر کا ابتدائی جائزہ پیش کیا۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ اسلامی تعلیمات و احکام کے حوالے سے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر اور جنیوا کنونشن کی قرارداد کا تفصیل کے ساتھ جائزہ لینے کی ضرورت ہے، اور اس مقصد کے لیے دینی حلقوں اور اداروں کو منظم کام کرنا چاہیے۔
دریں اثنا فورم کی سالِ رواں کی تیسری ماہانہ فکری نشست ۷ اپریل بروز جمعہ بعد نماز عشا مسجد صدیقیہ بمبے براس سیٹلائیٹ ٹاؤن گوجرانوالہ میں منعقد ہو گی جس میں مولانا زاہد الراشدی ’’اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا چارٹر اور اسلامی تعلیمات‘‘ کے موضوع پر لیکچر دیں گے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ فکری نشست میں موضوع سے دلچسپی رکھنے والے احباب سے شرکت کی اپیل ہے۔
شاہ ولی اللہ یونیورسٹی میں مولانا راشدی کی نئی ذمہ داری
مولانا زاہد الراشدی نے، جو شاہ ولی اللہ یونیورسٹی اٹاوہ گوجرانوالہ کے سرپرست، ٹرسٹی، اور تعلیمی کونسل کے چیئرمین ہیں، ۱۱ مارچ سے یونیورسٹی کے ایڈمنسٹریٹر کی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں، اور وہ روزانہ صبح ساڑھے آٹھ سے ساڑھے گیارہ بجے تک (جمعہ کے علاوہ) یونیورسٹی آفس میں بیٹھتے ہیں۔
سالانہ الشریعہ تعلیمی کانفرنس
قاری عبید الرحمٰن ضیاء
یومِ پاکستان کے موقع پر ۲۳ مارچ ۱۹۹۵ء کو شاہ ولی اللہ یونیورسٹی اٹاوہ گوجرانوالہ میں الشریعہ اکیڈمی مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ کے زیر اہتمام ایک روزہ سالانہ ’’الشریعہ تعلیمی کانفرنس‘‘ منعقد ہوئی جس میں گوجرانوالہ شہر اور ضلع سے تعلیمی شعبہ سے تعلق رکھنے والے حضرات کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ کانفرنس کی صدارت شاہ ولی اللہ یونویرسٹی کے چیئرمین الحاج میاں محمد رفیق نے کی۔ جبکہ اس سے الشریعہ ایجوکیشنل ویلفیئر سوسائٹی کے چیئرمین مولانا زاہد الراشدی، جامعہ اسلامیہ کامونکی کے مہتمم مولانا عبد الرؤف فاروقی، معارفِ اسلامیہ اکادمی گکھڑ کے ڈائریکٹر قاری حماد الزہراوی، گورنمنٹ ڈگری کالج گوجرانوالہ کے پروفیسر غلام رسول عدیم، شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کے پرنسپل پروفیسر چودھری نصیر احمد، اور شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کے سال چہارم کے طالب علم فیصل محبوب نے خطاب کیا۔
الشریعہ ایجوکیشنل ویلفیئر سوسائٹی گوجرانوالہ کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر حافظ محمد الیاس نے سوسائٹی کا پروگرام پیش کیا اور گورنمنٹ ہائر اسکینڈری اسکول گوجرانوالہ کے استاذ سید احمد حسین زید نے اسٹیج سیکرٹری کے فرائض سرانجام دیے۔ اس موقع پر ڈاکٹر حافظ محمد الیاس نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ الشریعہ اکیڈمی گوجرانوالہ کے زیر اہتمام اس سال چار سالہ میٹرک کلاس کا آغاز کیا جا رہا ہے جس میں حافظ قرآن یا پرائمری پاس طلبہ کو چار سال میں میٹرک کا امتحان دلانے کے علاوہ عربی گرائمر کے ساتھ قرآن کریم کا ترجمہ پڑھایا جائے گا اور کمپیوٹر ٹریننگ دی جائے گی۔ جبکہ حافظ قرآن طلبہ کو تجوید کا کورس اور غیر حافظ طلبہ کو قرآن کریم ناظرہ اور آخری دو پارے حفظ کرائے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اگلے سال سے درس نظامی کی کلاس کا بھی آغاز کیا جائے گا جس میں طلبہ درس نظامی کے مکمل نصاب کے ساتھ ایف اے اور بی اے کے باضابطہ امتحانات بھی دیں گے۔
کانفرنس میں سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس محمد رفیق تارڑ نے بطور مہمان خصوصی شرکت کرنا تھی مگر جسٹس خلیل الرحمٰن خان کے فرزند کی حادثاتی وفات کی وجہ سے وہ تشریف نہ لا سکے، البتہ اسے موقع پر انہوں نے جو تحریری خطاب کرنا تھا، وہ ان کی طرف سے اسٹیج سیکرٹری نے کانفرنس میں پڑھ کر سنایا۔
جسٹس محمد رفیق تارڑ کا خطاب
بعد الحمد والصلوٰۃ! صدر محترم اور قابل احترام شرکائے محفل! میں الشریعہ اکیڈمی اور شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کے منتظمین کا شکرگزار ہوں کہ انہوں نے آج کی اس محفل میں شرکت اور آپ حضرات کے ساتھ گفتگو کی دعوت دی۔ اس بہانے مجھے شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کا موقع ملا اور یہ معلوم کر کے بے حد مسرت ہوئی کہ پرائیویٹ سیکٹر میں کسی سرکاری اور بیرونی امداد کے بغیر اتنا بڑا تعلیمی منصوبہ تعمیر و ترقی کے مراحل طے کر رہا ہے، جو گوجرانوالہ کے زندہ دل شہریوں کے دینی جذبہ اور شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کے منتظمین کے عزم و حوصلہ کی علامت ہے۔
حضرات محترم! تعلیم کے حوالے سے بہت کچھ کہنے کی ضرورت ہے اور قومی تعلیمی ضروریات اور مروجہ تعلیمی نظاموں اور نصابوں کے درمیان مسلسل عدم توازن نے ہمیں علمی اور فکری طور پر جس انتشار اور خلفشار سے دوچار کر دیا ہے اس کے تمام پہلوؤں پر تفصیلی بحث و تمحیص وقت کا اہم ترین تقاضہ ہے، کیونکہ کسی بھی قوم کی تعمیر و ترقی میں اس کا نظامِ تعلیم بنیادی اہمیت رکھتا ہے، اور بدقسمتی سے ہم حصولِ آزادی اور قیامِ پاکستان کے بعد سے اپنے نظامِ تعلیم کو قومی ضروریات اور تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی طرف کوئی سنجیدہ پیشرفت نہیں کر پائے۔ جس کے تلخ نتائج و ثمرات آج ہمارے سامنے ہیں اور پاکستان کا ہر باشعور شہری ملکی سالمیت، قومی وحدت اور ملک کی نظریاتی حیثیت کے بارے میں مجسم سوال بن کر رہ گیا ہے۔
شرکائے محفل! اسلامی جمہوریہ پاکستان کا قیام برصغیر میں مسلم قوم کے جداگانہ تشخص کی بنیاد پر اس عزم کے ساتھ عمل میں لایا گیا تھا کہ ملتِ اسلامیہ اللہ تعالیٰ اور اس کے آخری رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق اجتماعی زندگی بسر کر سکے، اور مسلم معاشرہ میں اسلامی احکام و اقدار کی عملداری ہو۔ اس کے لیے ضروری تھا کہ قیام پاکستان کے بعد پورے کے پورے تعلیمی نظام کو ازسرنو نظریاتی بنیادوں پر استوار کیا جاتا، تاکہ قومی زندگی کے ہر شعبہ میں تربیت یافتہ رجال کار فراہم ہوتے، اور پاکستان اپنے مقصدِ قیام کی طرف عملی پیشرفت کرتا۔ مگر ایسا نہ ہو سکا بلکہ ہمارا نظامِ تعلیم بدعنوانی، نا اہلیت اور بے مقصدیت کی آماجگاہ بن کر رہ گیا، جس کی وجہ سے ان نظریاتی تخریب کاروں کو تعلیمی نظام میں در آنے کا موقع ملا جو ربع صدی قبل پاکستان کو دولخت کرنے میں کامیاب ہونے کے بعد اب باقی ماندہ پاکستان کو لسانی، علاقائی، فرقہ وارانہ اور نسلی عصبیتوں کا شکار بنا کر پاکستانی قوم کو اس کے اسلامی تشخص کے رہے سہے اثرات سے بھی محروم کرنے کے درپے ہیں۔
حضرات مکرم! ان حالات میں کچھ اصحابِ خیر کا اس طرف متوجہ ہونا اور تعلیمی نظام کی اصلاح کے لیے سرگرمِ عمل ہو کر مسائل و مشکلات کی پروا کیے بغیر سفر کا آغاز کر دینا یقیناً امید کی ایک ایسی کرن ہے جو قوم کے بہتر مستقبل کے لیے نوید بن سکتی ہے۔ اور اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اصلاحِ احوال کے راستے ابھی مکمل طور پر بند نہیں ہوئے بلکہ اصحابِ عزم و ہمت اپنے ارادوں کو روبہ عمل لانے کا تہیہ کر لیں تو تذبذب اور مایوسی کی دلدل سے قوم کو نکالا جا سکتا ہے۔
ان گذارشات کے ساتھ الشریعہ اکیڈمی گوجرانوالہ کی طرف سے سالانہ ’’الشریعہ تعلیمی کانفرنس‘‘ کے آغاز اور حافظ قرآن و پرائمری پاس بچوں کے لیے قرآن کریم کے ترجمے اور کمپیوٹر ٹریننگ کے ساتھ میٹرک کلاس کے پروگرام کا خیرمقدم کرتا ہوں۔ اور دعاگو ہوں کہ اللہ رب العزت اس پروگرام کو کامیابی سے ہمکنار کریں اور اسے ملک بھر میں تعلیمی نظام کی اصلاح اور بہتری کا مؤثر ذریعہ بنائیں، آمین یا رب العالمین۔
الشریعہ ایجوکیشنل ویلفیئر سوسائٹی کا قیام
ادارہ
۲۳ مارچ ۱۹۹۵ء کو شاہ ولی اللہ یونیورسٹی میں الشریعہ اکیڈمی کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی سالانہ تعلیمی کانفرنس میں الشریعہ ایجوکیشنل ویلفیئر سوسائٹی کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر حافظ محمد الیاس نے مندرجہ ذیل خطاب کیا۔
نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم۔ اہلِ علم و دانش کے اس اجتماع سے مخاطب ہو کر کچھ معروضات پیش کرنا جہاں میرے لیے انتہائی فخر اور سعادت کی بات ہے، وہاں مجھے اپنی کم مائیگی کا احساس بھی دلاتا ہے، اس لیے گفتگو کو کسی تفصیل میں لے جائے بغیر صرف الشریعہ ایجوکیشنل ویلفیئر سوسائٹی کے قیام کے بارے میں آپ حضرات کی خدمت میں کچھ گزارشات پیش کرنے پر اکتفا کروں گا۔
محترم دوستو! آج ہم عالمی اور قومی سطح پر جس ذہنی اور معاشرتی افراتفری کا شکار ہیں، اس کی ایک بڑی وجہ ہمارے تعلیمی اور تربیتی نظام کا صحیح خطوط پر منظم نہ ہونا ہے، اور کم و بیش سب اہلِ علم و دانش اس بات پر متفق ہیں کہ تعلیم و تربیت کا نظام درست کیے بغیر ہم اپنی ملی و قومی زندگی میں اصلاح کے کسی عمل کو آگے نہیں بڑھا سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں فکر و احساس رکھنے والے حضرات تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے اپنے اپنے ذوق کے مطابق جدوجہد میں مصروف ہیں اور ہمارے شہر گوجرانوالہ میں شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کے نام سے عظیم تعلیمی منصوبہ بھی اسی سلسلہ کی ایک اہم کڑی ہے۔
شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کے منصوبے کے آغاز کے بعد سے ہی اس امر کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی تھی کہ تعلیمی نظام کی اصلاح اور دینی و عصری تعلیم کو یکجا کرنے کے اس پروگرام کو یونیورسٹی اور کالج کی سطح سے ہٹ کر اسکول کی سطح پر منظم کرنا بھی انتہائی صروری ہے۔ اور اسی مقصد کو پورا کرنے کے لیے الشریعہ ایجوکیشنل ویلفیئر سوسائٹی کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جس کے تحت الشریعہ اکیڈمی کو منظم طریقہ سے چلایا جائے گا۔
ہمارا پروگرام یہ ہے کہ اس سال ہم مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں کلاس کا آغاز کر رہے ہیں جو چار سال کی کلاس ہو گی اور اس میں حافظ قرآن یا پرائمری پاس طلبہ شریک ہو سکیں گے۔ ہم ان طلبہ کو چار سال میں میٹرک کا امتحان دلائیں گے، حافظ طلبہ کو تجوید کا کورس پڑھائیں گے، غیر حافظ طلبہ کو قرآن کریم ناظرہ کے ساتھ آخری دو پارے حفظ کرائیں گے، تمام طلبہ کو عربی گرائمر کے ساتھ قران کریم کا ترجمہ پڑھائیں گے اور کمپیوٹر کی ٹریننگ دیں گے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔
اگلے سال سے ہمارا پروگرام درسِ نظامی کی کلاس شروع کرنے کا ہے اور اس پروگرام کے تحت درس نظامی کا مکمل نصاب اس ترتیب کے ساتھ پڑھایا جائے گا کہ طلبہ دورہ حدیث تک پہنچنے سے پہلے میٹرک، ایف اے اور بی اے کا باضابطہ امتحان دیں اور اس کے بعد دورہ حدیث میں شریک ہوں۔
محترم حضرات! اس وقت ہماری تعلیمی سرگرمیاں مرکزی جامع مسجد شیرانوالہ باغ گوجرانوالہ میں جاری ہیں، اور اس سال میٹرک کی کلاس بھی وہیں ہو گی، جبکہ الشریعہ اکیڈمی کے باقاعدہ قیام کے لیے شاہ ولی اللہ ٹرسٹ نے ہمیں شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کے ساتھ چار کنال بطور عطیہ دی ہے جس کے لیے ہم ٹرسٹ کے چیئرمین الحاج میاں محمد رفیق اور ان کے رفقاء کے شکرگزار ہیں۔ ہماری کوشش یہ ہو گی کہ رمضان المبارک سے قبل ضرورت کے مطابق عمارت کی تعمیر کر کے اگلے تعلیمی سال کا آغاز اکیڈمی کی اپنی عمارت میں کریں، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ اس کے لیے ہم آپ سب دوستوں سے تعاون کے خواستگار ہیں۔ یہ تعاون مالی صورت میں بھی ہو سکتا ہے اور مشورہ اور راہنمائی کی صورت میں بھی، کیونکہ اس عظیم تعلیمی منصوبہ کی تکمیل کے لیے دونوں کی یکساں اہمیت و ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس منصوبہ کو خیر و کامیابی کے ساتھ مکمل کرنے کی توفیق سے نوازیں، آمین ثم آمین۔
آخر میں الشریعہ ایجوکیشنل ویلفیئر سوسائٹی کے عہدہ داروں اور ارکان کے اسماء گرامی سے آپ کو آگاہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں:
| سرپرست |
شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر |
|
| سرپرست |
حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی |
|
| چیئرمین |
مولانا زاہد الراشدی |
مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ |
| ڈپٹی چیئرمین |
جناب زین الدین |
شاہ ولی اللہ یونیورسٹی گوجرانوالہ |
| ڈپٹی چیئرمین |
جناب عثمان عمر ہاشمی |
پیپلز کالونی گوجرانوالہ |
| سیکرٹری جنرل |
ڈاکٹر حافظ محمد الیاس |
سیٹلائیٹ ٹاؤن گوجرانوالہ |
| ڈپٹی سیکرٹری جنرل |
ڈاکٹر فضل الرحمٰن |
گوجرانوالہ |
| رابطہ سیکرٹری |
حافظ محمد یحیٰی میر |
بازار تھانے والا گوجرانوالہ |
| سیکرٹری تعلیم |
حافظ محمد عمار خان ناصر |
مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ |
| سیکرٹری اطلاعات |
حافظ محمد شفیق |
گوجرانوالہ |
| رکن |
محمد عاصم بٹ |
گوجرانوالہ |
| رکن |
محمد لقمان میر |
گوجرانوالہ |
| رکن |
محمد تبسم شفیق |
گوجرانوالہ |
| رکن |
حافظ نفیس الرحمٰن |
گوجرانوالہ |
| رکن |
جناب فضل الرحمٰن چغتائی |
گوجرانوالہ |
یرقان
حکیم عبد الرشید شاہد
کیفیت
یرقان کے مریض کی آنکھیں زرد یعنی پیلی ہو جاتی ہیں۔ شدید حالت میں مریض کو ہر چیز زرد دکھائی دیتی ہے۔ سب سے پہلے پیشاب کا رنگ سرخی زردی مائل ہوتا ہے، پھر آنکھیں زرد ہو جاتی ہیں اور پاخانہ سفید رنگ کا آتا ہے۔
اسباب
موسم کی یکدم تبدیلی، گرمی خشکی کا بڑھ جانا، گرم خشک اشیا مثلاً تیز مسالادار بھنے ہوئے سالن، انڈے، ساگ، گوشت، بینگن، کریلے، مچھلی، ٹماٹر وغیرہ کا کثرت سے استعمال یرقان کا سبب بنتا ہے۔
علاج
حسبِ ذیل نسخہ بنا کر استعمال کریں:
نسخہ
قلمی شورہ ۲۰ تولہ، پھٹکڑی ۲۰ تولہ، ہیرا کسیس ۲۰ تولہ۔
تینوں کو ایک مٹی کی کوجی میں ڈال کر منہ اور ساری کوجی کو چکنی مٹی سے اچھی طرح بند کر لیں، اور خشک کر کے کوجی کو ۵ سیر اوپلوں کے درمیان رکھ کر آگ لگا دیں۔ صبح ٹھنڈا ہونے پر نکال کر کوجی کے ساتھ جو کچھ سرخی مائل تہہ جمی ہو، اتار لیں، اور اچھی طرح پیس کر محفوظ کر لیں۔
خوراک: ۳ ماشہ ہمراہ شربت زرشک ۷ تولہ حسبِ ضرورت پانی ملا کر استعمال کریں۔
شربت
زرشک ۵ تولہ، پھول گلاب ۵ تولہ، آلو بخارا ۵ تولہ۔ رات کو ۲ کلو پانی میں بھگو دیں، صبح آگ پر جوش دیں۔ جب پانی ایک کلو رہ جائے تو ہاتھوں کے ساتھ مل کر چھان لیں، اور پانی کو دوبارہ آگ پر رکھ کر ڈیڑھ کلو چینی ڈال کر شربت تیار کر لیں۔
امریکی طالبات کا سب سے بڑا مسئلہ
امریکہ کی خاتونِ اول کی نظر میں
ادارہ
امریکی خاتونِ اول مسز ہیلری کلنٹن (اپنے حالیہ دورہ پاکستان کے دوران) اسلام آباد کالج فار گرلز کی اساتذہ اور طالبات کے ساتھ گھل مل گئیں اور ان سے ایک گھنٹے سے زیادہ دیر تک بے تکلفانہ گفتگو کی۔ ہیلری کلنٹن نے طالبات سے ان کے مسائل دریافت کیے۔ طالبات نے دوستانہ انداز میں کلنٹن کی اہلیہ کو سب مسائل بتائے۔
فورتھ ایئر کی طالبہ نائیلہ خالد نے امریکی خاتونِ اول سے پوچھا کہ امریکی طالبات کا بنیادی مسئلہ کیا ہے؟ اس پر امریکہ کی خاتونِ اول نے کھل کر گفتگو شروع کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی طالبات کا مسئلہ تعلیم کی مناسب سہولیات کا فقدان ہے، تعلیمی اداروں میں فنڈز کی کمی کا مسئلہ ہے، مگر امریکہ میں ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہاں بغیر شادی کیے طالبات اور لڑکیاں حاملہ بن جاتی ہیں۔ اس طرح بے چاری لڑکی ساری عمر بچے کو پالنے کی ذمہ داری نباہتی ہے۔
ایک دوسری طالبہ وجیہہ جاوید نے کہا کہ اس مسئلہ کا حل کیا ہے؟ اس پر ہیلری کلنٹن نے کہا کہ اس مسئلہ کا حل یہ ہے کہ نوجوان لڑکے لڑکیوں کو، خواہ وہ عیسائی ہوں یا مسلمان، اپنے مذہب اور معاشرتی اقدار سے بغاوت نہیں کرنی چاہیے، مذہبی و سماجی روایات اور اصولوں کے مطابق شادی کے بندھن میں بندھنا چاہیے، اپنی اور اپنے والدین کی عزت و آبرو اور سکون کو غارت نہیں کرنا چاہیے۔ مسز ہیلری کلنٹن نے کہا کہ وہ اسلام اور عیسائیت کی شادی کے خلاف نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مذہبی روایات کا احترام کرتے ہوئے شادی ہوتی ہے اس لیے یہاں لڑکیوں کے مسائل کم ہیں۔
(روزنامہ جنگ لاہور ۲۸ مارچ ۱۹۹۵ء)
ایک ضروری عرضداشت
ملک کے دینی و سیاسی راہنماؤں، ارکانِ اسمبلی اور دیگر اربابِ حل و عقد کی خدمت میں
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مکرمی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔ مزاج گرامی؟
گزارش ہےکہ ملک میں سنی شیعہ کشیدگی میں مسلسل اضافہ اور دونوں طرف سے قیمتی افراد کے روز مرہ قتلِ عام نے ہر ذی شعور شہری کو پریشان اور مضطرب کر دیا ہے۔ اس مسلح تصادم کا دائرہ دن بدن وسیع ہوتا جا رہا ہے جو ملکی سالمیت اور قومی وحدت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہوگیا ہے کہ اس کشیدگی کی روک تھام کے لیے حقیقت پسندانہ بنیاد پر عملی اقدامات کیے جائیں۔ اس سلسلہ میں میری تجویز یہ ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج صاحبان پر مشتمل ایک عدالتی تحقیقاتی کمیشن مقرر کیا جائے جو کھلی تحقیقات کے ذریعے سنی شیعہ کشیدگی میں حالیہ برسوں میں اضافہ اور اس کے مسلح تصادم کی صورت اختیار کر جانے کے اسباب و عوامل کی نشاندہی کرے۔ اور ان اسباب و عوامل کو دور کر کے اس کشیدگی و اشتعال کی روک تھام کے لیے قومی سطح پر متفقہ عملی کارروائی کا اہتمام کیا جائے۔
اسی سلسلہ میں ایک اہم واقعہ کی طرف توجہ دلانا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ ۲۵ نومبر ۱۹۹۴ء کو لاہور میں تحریک جعفریہ کی عظمت اسلام کانفرنس میں شرکت کے بعد واپس جانے والی ایک بس پر کھاریاں کے قریب فائرنگ ہوئی جس میں متعدد افراد جاں بحق ہوگئے۔ یہ ایک انتہائی افسوسناک سانحہ ہے لیکن اس سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ اس کیس میں ضلع جہلم اور ضلع گجرات سے جمعیۃ علمائے اسلام، سپاہ صحابہؓ اور تحریک خدام اہل سنت کے ذمہ دار راہنماؤں مولانا قاری خبیب احمد عمر، مولانا قاری محمد اختر، مولانا عبد الغفور قاسمی، حافظ خالد محمود اور ان کے دیگر رفقاء کو مبینہ طور پر بلاوجہ ملوث کر دیا گیا ہے جن کے بارےمیں جہلم کے عام شہریوں کا تاثر یہ ہے کہ چونکہ گورنر پنجاب چودھری الطاف حسین کا تعلق جہلم شہر سے ہے اور چونکہ ان حضرات کا شمار چودھری صاحب موصوف کے سیاسی مخالفین میں ہوتا ہے اس لیے انہیں سیاسی دباؤ اور انتقام کے طور پر اس کیس میں ملوث کرایا گیا ہے۔ جیسا کہ بعد میں سامنے آنے والے متعدد شواہد نے اس کی تصدیق بھی کر دی ہے۔
کھاریاں بس فائرنگ کیس کے سلسلہ میں بعد میں گرفتار ہونے والے ایک گروہ نے پولیس کے ریکارڈ کے مطابق اعتراف جرم بھی کر لیا ہے لیکن اس کے باوجود مذکورہ بالا حضرات ابھی تک زیر حراست ہیں اور انہیں مقدمہ میں گنہگار ٹھہرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جبکہ مقدمہ کی تفتیش میں گرفتار شدگان کو انصاف کے معروف تقاضوں سے محروم رکھنے کے لیے مبینہ طور پر گورنر پنجاب انتظامیہ و پولیس پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ اس صورتحال کا فوری طور پر نوٹس لیا جائے۔ اس سلسلہ میں میری تجویز یہ ہے کہ ہائی کورٹ کے کسی جج کے ذریعے اس کیس کی کھلی تحقیقات کرائی جائے اور گورنر پنجاب کے خلاف جہلم کے شہریوں کے الزامات کی غیر جانبدارانہ انکوائری کے ذریعے اصل حقائق کو منظر عام پر لا کر انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں۔
آنجناب سے گزارش ہے کہ اس سلسلہ میں اپنا اثر و رسوخ بھرپور طور پر استعمال میں لا کر گجرات اور جہلم کے شریف شہریوں کو انصاف دلانے میں تعاون فرمائیں۔
بے حد شکریہ، والسلام
ابوعمار زاہد الراشدی
خطیب مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ
چیئرمین ورلڈ اسلامک فورم
۱۰ فروری ۱۹۹۵ء
ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہانپوری کی تشریف آوری
ادارہ
محترم ڈاکٹر سلمان شاہجہانپوری ملک کے معروف دانشور اور صاحبِ قلم ہیں جو ایک عرصہ سے کراچی میں تحریکِ آزادی اور اکابر علماء حق کی جدوجہد کے حوالے سے علمی و تحقیقی کام کر رہے ہیں۔ شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسنؒ، حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ، اور حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کی خدمات اور جدوجہد ان کا خصوصی موضوع ہے، اور وہ انتہائی خاموشی کے ساتھ ان اکابر کی جدوجہد کے نقوش کو تاریخ کے صفحات پر اجاگر کرنے میں مگن ہیں۔
ڈاکٹر صاحب موصوف گزشتہ دنوں جناب شبیر احمد میواتی کے ہمراہ گوجرانوالہ تشریف لائے، ان کے اعزاز میں ورلڈ اسلامک فورم کی طرف سے فکری نشست کا اہتمام کیا گیا تھا، مگر موسم کی خرابی کی وجہ سے وہ بروقت نہ پہنچ سکے، البتہ تشریف آوری پر انہوں نے رات قیام فرمایا اور ان کے ساتھ بہت سے امور پر مفید مشاورت ہوئی۔ آج کے دور میں جبکہ علم و تحقیق کا ذوق ماند پڑتا جا رہا ہے اور سیاسی و گروہی مقاصد کے لیے تاریخ کو مسخ کرنے کا رجحان ترقی پذیر ہے، ڈاکٹر صاحب جیسے اہلِ علم کا وجود غنیمت ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں صحت و عافیت کے ساتھ اپنے مشن میں کامیابی سے ہمکنار فرمائیں، آمین۔