ستمبر ۱۹۹۴ء

ورلڈ اسلامک فورم کا دوسرا سالانہ تعلیمی سیمینارادارہ 
مولانا سندھیؒ کا بچپن ۔ ولادت سے اظہارِ اسلام تکڈاکٹر ابو سلمان شاہجہانپوری 
مولانا سندھیؒ کے تلامذہ، افادات اور تحریراتشیخ التفسیر مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ 
مولانا سندھیؒ کی ایک تاریخی تقریرڈاکٹر ابو سلمان شاہجہانپوری 
کیا مولانا عبید اللہ سندھیؒ اشتراکیت سے متاثر ہوگئے تھے؟مولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
جشن یسوع ۔ لندن کی ایک مسیحی تقریب کا آنکھوں دیکھا حالمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
مرحوم افتخار اعظمی کی یاد میںادارہ 
افکارِ سندھیؒادارہ 
آہ! مولانا مفتی عبد الباقی ؒ و مولانا منظور عالم سیاکھویؒادارہ 

ورلڈ اسلامک فورم کا دوسرا سالانہ تعلیمی سیمینار

ادارہ

ورلڈ اسلامک فورم نے یورپ کے مسلم طلبہ اور طالبات کے لیے ’’اسلامک ہوم اسٹڈی کورس‘‘ کے نام سے خط و کتابت کورس کا آغاز کر دیا ہے اور دعوۃ اکیڈمی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمود احمد غازی نے مسلمانوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی نئی نسل کا نظریاتی اور عملی رشتہ اسلام کے ساتھ باقی رکھنے کے لیے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو اس کورس کے ساتھ وابستہ کریں۔
اس سلسلہ میں ورلڈ اسلامک فورم کا دوسرا سالانہ تعلیمی سیمینار اسلامک کلچرل سنٹر ریجنٹ پارک لندن میں منعقد ہوا جس میں مختلف مکاتبِ فکر کے علماء کرام اور دانشوروں نے مغربی ممالک میں مقیم مسلمانوں کے دینی مسائل اور نئی نسل کی تعلیم و تربیت کے تقاضوں پر اظہارِ خیال کیا۔
سیمینار کی پہلی نشست کی صدارت مکہ مکرمہ کے ممتاز عالم دین فضیلۃ الشیخ محمد مکی حجازی نے کی اور اس میں ڈاکٹر محمود احمد غازی بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے۔ جبکہ دوسری نشست کی صدارت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سربراہ مولانا خواجہ خان محمد نے کی اور دارالعلوم دیوبند کے استاذ حدیث مولانا سید ارشد مدنی بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے۔ سیمینار سے ہفت روزہ تکبیر کراچی کے مدیر محمد صلاح الدین، ڈربن یونیورسٹی جنوبی افریقہ کے شعبہ اسلامیات کے سربراہ ڈاکٹر سید سلمان ندوی، ماہنامہ محدث لاہور کے مدیر مولانا حافظ عبد الرحمٰن مدنی، مرکز اسلامی ڈھاکہ کے ڈائریکٹر مولانا روح الامین، مدرسہ صولتیہ مکہ مکرمہ کے استاذ مولانا سعید احمد عنایت اللہ، جمعیت اہلحدیث برطانیہ کے امیر ڈاکٹر صہیب حسن، پنجاب کے سابق وزیر قاری سعید الرحمٰن، اور ورلڈ اسلامک فورم کے راہنماؤں مولانا زاہد الراشدی، مولانا محمد عیسٰی منصوری، پروفیسر عبد الجلیل ساجد اور مولانا سید اسد اللہ طارق گیلانی کے علاوہ مولانا منظور احمد چنیوٹی، مولانا قاری سعید الرحمٰن تنویر، مولانا عبد الرشید ربانی، مولانا امداد الحسن نعمانی، قاری تصور الحق، دارالعلوم فلاح دارین (انڈیا) کے سربراہ مولانا محمد عبد اللہ پٹیل اور قاری عبد الرشید رحمانی نے خطاب کیا۔
ڈاکٹر محمود احمد غازی نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ
  • آج مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ تعلیم و تربیت کے نظام کو صحیح خطوط پر استوار کرنے کا ہے، کیونکہ اس کے بغیر ہم اپنی نسل کو وقت کے چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے تیار نہیں کر سکتے۔
  • انہوں نے کہا کہ ملتِ اسلامیہ نے ہر دور میں مخالف تہذیبوں کی یلغار کا کامیابی کے ساتھ سامنا کیا ہے اور یونانی فلسفہ، تاتاریوں اور ہندومت کے حملوں کے باوجود اپنے نظریات و افکار اور تہذیب و ثقافت کی حفاظت کی ہے۔ لیکن مغربی فلسفہ جس طرح مختلف جہات سے اسلامی عقائد و نظریات اور معاشرت پر حملہ آور ہوا ہے اس نے عالمِ اسلام کی تاریخ کا سب سے بڑا بحران پیدا کر دیا ہے، جس سے عہدہ برآ ہونے کے لیے مسلم دانشوروں اور علماء کو گہرے غور و فکر کے ساتھ منصوبہ بندی کرنا ہو گی۔
  • انہوں نے کہا کہ مغرب کے نظریات اور ثقافتی حملوں کے نتیجہ میں مسلمان سیاسی اور عسکری طور پر کمزور اور معاشی طور پر بدحال ہو چکے ہیں اور فکری غلامی کی جڑیں گہری ہوتی جا رہی ہیں، جس کی وجہ سے ہم مغرب کے حاشیہ نشین اور نقال بنتے جا رہے ہیں۔
  • انہوں نے کہا کہ حضرت امام مالکؒ نے فرمایا ہے کہ اس امت کے آخری حصہ کی اصلاح بھی اس طریقہ سے ہو گی جس طریقہ سے امت کے پہلے حصہ کی اصلاح ہوئی، یعنی ہمیں اصلاحِ احوال کے لیے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور طریق کار کو اپنانا ہو گا۔
  • انہوں نے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے لوگوں کے فکر و عقیدہ کی اصلاح کی تھی اور ان کی ذہنی تربیت کا اہتمام کیا تھا۔ اس لیے آج ہمیں بھی امتِ مسلمہ کے احوال کی اصلاح کے کام کا آغاز فکری تربیت اور ذہنی تطہیر سے کرنا چاہیے، کیونکہ ذہنی اور فکری تربیت اور اصلاح کی صورت میں ہی ایک اچھی قیادت مسلمانوں میں ابھر سکتی ہے۔
  • انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد نے انہی خطوط پر تعلیمی جدوجہد کا آغاز کیا ہے کہ جدید علوم کے ساتھ مسلم نوجوانوں کو قرآن و سنت کی تعلیمات اور اسلامی افکار و اخلاق سے آراستہ کیا جائے، چنانچہ ریگولر تعلیمی نظام کے علاوہ خط و کتابت کے ذریعہ بھی اسلامی تعلیمات کے متعدد کورس شروع کیے ہیں جن سے اب تک بیس ہزار سے زائد افراد گھر بیٹھے استفادہ کر چکے ہیں۔
  • انہوں نے کہا کہ یورپ کے مسلم طلبہ اور طالبات کے لیے مطالعہ اسلام کا ایک سالہ کورس بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے جو ورلڈ اسلامک فورم کے زیراہتمام شروع کیا گیا ہے اور اس کے لیے مدنی مسجد (گلیڈ سٹون سٹریٹ، فارسٹ فیلڈ، نوٹنگھم) میں دفتر نے کام شروع کر دیا ہے۔
جناب محمد صلاح الدین نے ’’اسلامی نظامِ تعلیم و تربیت میں ذرائع ابلاغ کا کردار‘‘ کے موضوع پر تفصیلی مقالہ پیش کیا جس میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ
  • مسلمانوں کو تعلیم و تربیت کے محاذ پر ابلاغ کے جدید ذرائع سے استفادہ کرنا چاہیے اور الیکٹرانک میڈیا کو کفر، باطل اور فحاشی کے لیے وقف نہیں کر دینا چاہیے۔ کیونکہ ذرائع محض ذرائع ہوتے ہیں، انہیں اگر اچھے مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے تو خیر کا ذریعہ بن جاتے ہیں اور برے کاموں کے لیے استعمال کیا جائے تو شر کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔
  • انہوں نے کہا کہ یہ دنیا وسائل کی دنیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے انسان کے اعمال کو وسائل سے وابستہ کیا ہے، لیکن آج ہم نے وسائل اور ذرائع کو دنیائے کفر کے لیے کھلا چھوڑ دیا ہے اور خود زندگی کے ہر شعبہ میں وسائل کے لیے کافر قوموں کے محتاج ہو کر رہ گئے ہیں۔
  • انہوں نے کہا کہ مسلم معاشرہ کے لیے اس وقت سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ ابلاغ کے تمام ذرائع، خواہ وہ سرکاری کنٹرول میں ہوں یا نجی ہاتھوں میں ہوں، ان سب پر اباحیت پسند اور زر پرست طبقے کا قبضہ ہے، جس کے نزدیک دینی و اخلاقی اقدار کوئی اہمیت نہیں رکھتیں بلکہ یہ اقدار اس طبقہ کے سیاسی، معاشرتی اور معاشی مفادات کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک ایسی تحریکِ مزاحمت شروع کی جائے جو مسلسل دباؤ ڈال کر ذرائع ابلاغ کا رخ صحیح کر سکے۔
ڈاکٹر سید سلمان ندوی نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سب سے زیادہ ضرورت نوجوانوں کی طرف توجہ دینے کی ہے کیونکہ انہی کی اصلاح سے معاشرہ میں کوئی خوشگوار تبدیلی آ سکتی ہے، اس لیے علماء اور دینی اداروں کو چاہیے کہ وہ نوجوانوں کو قریب لانے اور ان تک رسائی حاصل کرنے کے لیے مثبت طرز عمل اختیار کریں۔
مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ تعلیم و تربیت اور دعوت و ابلاغ میں لوگوں کی مشکلات اور ضروریات کا خیال رکھنا جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ جیسا کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کو، جو عربی زبان میں قریش کی لغت پر نازل ہوا، مگر جب دوسرے قبائل کے نئے مسلمان لوگوں کو قریش کی لغت پر قرآن کریم کی تلاوت کرنے میں دِقت پیش آئی تو ان کی اس وقت (کی ضرورت) کے پیش نظر انہیں دوسری مشہور لغات میں قرآن کریم پڑھنے کی اجازت دے دی۔ چنانچہ بعد میں حضرت عثمانؓ کے دور میں غیر عرب مسلمانوں میں اختلاف پیدا ہونے کے خدشہ کے پیش نظر اس گنجائش کو متفقہ طور پر ختم کر دیا گیا۔ اس لیے آج بھی ہمیں اسلام کی دعوت و تعلیم میں لوگوں کی ضروریات کا خیال رکھنا چاہیے اور تمام اقوام تک اسلام کا پیغام پہنچانے کے لیے حکمت و تدبر سے کام لینا چاہیے۔
مولانا محمد مکی حجازی نے کہا کہ مغرب کے فکر و فلسفہ کے مقابلہ میں کام کو منظم کرنے کی ضرورت ہے، لیکن اس سے مرعوب ہونے کے بجائے پوری جرأت و حوصلہ کے ساتھ اس کا سامنا کرنا چاہیے۔
مولانا حافظ عبد الرحمٰن مدنی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو محبت اور شفقت کے ساتھ اور ان کی نفسیات کو سمجھتے ہوئے اسلامی عقائد و احکام کے ساتھ مانوس کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ بچے میں میلان اور نقالی کا مادہ ہوتا ہے اور ماں باپ ان کے سامنے اخلاق و کردار کا اچھا نمونہ بن کر انہیں بہتر کردار کے سانچے میں ڈھال سکتے ہیں۔
مولانا قاری سعید الرحمٰن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلم نوجوان، جس نے مسلمان گھرانے میں پرورش پائی ہے، جس قسم کی خراب صورتحال سے بھی دوچار ہو، توحید اور رسالت کے عقیدہ سے منحرف نہیں ہو سکتا، مگر کلچر کے سیلاب میں جلدی بہہ جاتا ہے، اس لیے زیادہ ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوانوں کو اسلامی کلچر سے وابستہ رکھنے کی بھرپور محنت کی جائے۔
مولانا محمد عبد اللہ پٹیل نے علماء اور دینی اداروں پر زور دیا  کہ وہ دعوت اور تعلیم کے محاذ پر اپنے طریق کار کا ازسرنو جائزہ لیں اور آج کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے تعلیمی نظام کی اصلاح کریں تاکہ وہ نئی نسل کو اس کی مِلّی ذمہ داریوں کے لیے صحیح طور پر تیار کر سکیں۔
ورلڈ اسلامک فورم کے سیکرٹری جنرل مولانا محمد عیسٰی منصوری نے گزشتہ سال کی کارکردگی کی رپورٹ پیش کی اور بتایا کہ تعلیمی نظام کی اصلاح اور میڈیا کی جنگ میں عملاً شرکت کی اہمیت کا احساس اجاگر کرنے کے لیے جو محنت شروع کی تھی اس کے خاطر خواہ نتائج سامنے آ رہے ہیں اور اہلِ فکر و دانش بتدریج اس کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔
فورم کے چیئرمین مولانا زاہد الراشدی نے آئندہ سال کے پروگراموں کو اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اگلے سال کے دوران اسلامی تعلیمات کے خط و کتابت کورس ’’اسلامک ہوم اسٹڈی کورس‘‘ کے علاوہ میڈیا کے حوالے سے ایک سیمینار منعقد کیا جائے گا اور علماء و طلبہ کے لیے خصوصی تربیتی کورسز کا اہتمام کیا جائے گا۔ انہوں نے اہلِ خیر سے اپیل کی کہ وہ اس طرف متوجہ ہوں اور نئی نسل کی اصلاح و تربیت اور میڈیا کے چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے فورم کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔

مولانا سندھیؒ کا بچپن ۔ ولادت سے اظہارِ اسلام تک

ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہانپوری

(۱) ۱۸۸۷ء میں مولانا عبید اللہ سندھی نے، جب کہ ان کی عمر صرف پندرہ برس کی تھی، اسلام قبول کر لیا تھا۔ اس کے بعد کے واقعات کو مولانا نے اپنی مختصر خودنوشت میں، جو انہوں نے مکہ مکرمہ سے اپنی روانگی سے قبل مولانا غلام رسول مہر مدیر روزنامہ انقلاب لاہور کو اشاعت کے لیے بھیجی تھی، تحریر کر دیا تھا۔ مولانا سندھی کی یہ خودنوشت گو بہت مختصر ہے لیکن بہت اہم ہے۔
(۲) ان کے دورِ جلاوطنی کے زمانے کے حالات میں سب سے اہم تحریر وہ ہے جو ’’کابل میں سات سال‘‘ کے عنوان سے پروفیسر محمد سرور نے سندھ ساگر اکادمی لاہور سے شائع کی تھی۔
(۳) روس اور ترکی کے سفر، ماسکو اور استنبول کے قیام و مصروفیات اور پھر حجاز کے سفر اور قیامِ مکہ کے زمانے کے حالات میں مولانا سندھی کے قلم سے بہت اہم معلومات اور بعض اشارات ان کے خطوط، مقالات اور خطبات میں آئے ہیں۔
(۴) کابل کے سفر و قیام اور جلاوطنی کے خاتمے کے بعد وطن واپس آنے تک کے حالات کی تفصیلات کے تین اہم ماخذ اور ہیں:
(الف) ظفر حسن ایبک کی ’’آپ بیتی‘‘ جس کا نیا ایڈیشن ’’خاطرات‘‘ کے نام سے شائع ہوا ہے۔
(ب) اقبال شیدائی کی خودنوشت جو ’’انقلابی کی سرگزشت‘‘ کے عنوان سے روزنامہ امروز لاہور میں قسط وار شائع ہوئی ہے۔
(ج) مولانا عبد اللہ تھانوی کی تالیف ’’مولانا عبید اللہ سندھی کی سرگزشتِ کابل‘‘۔
(۵) وطن واپسی کے بعد کے حالاتِ زندگی کے ماخذ اخباروں کی خبریں اور رپورٹیں، مضامین اور مقالات کی شکل میں ہیں اور اپنی بازیافت کے لیے کسی باذوق صاحبِ ہمت کی منتظر ہیں۔
اس طرح مولانا سندھی کی سرگزشتِ حیات کے بنیادی اور ثانوی ماخذ تاریخ کی روشنی میں آجاتے ہیں۔ البتہ اسلام لانے سے پہلے کے واقعات تک ہماری رسائی نہیں ہوئی تھی۔ یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ اب اس دور کے اہم اور ضروری حالات بھی ہماری دسترس میں آ گئے ہیں۔ مولانا سندھی نے اپنے حالاتِ زندگی لکھنے شروع کیے تھے لیکن اس کا صرف ایک باب جو پانچ چھوٹی چھوٹی فصلوں پر مشتمل ہے، لکھا گیا تھا۔ یہ باب ’’ولادت سے اظہارِ اسلام تک‘‘ کے مختصر واقعات میں ہے، اور خاندان کے مختصر تعارف، ابتدائی ماحول، اسکول میں داخلے، تعلیم کے شوق، ریاضی کے مضمون سے دلچسپی، اور ۱۸۸۶ء میں جب مولانا ساتویں جماعت کے طالب علم تھے، کے تذکرے پر ختم ہو جاتا ہے۔
یہ حالات مولانا سندھی کے عزیز و شاگرد مولانا عزیز احمد کے پاس خود مولانا کے قلم سے لکھے ہوئے موجود تھے۔ ان سے مولانا سندھی کے ایک اور شاگرد اور عقیدت مند مولانا عبد المجید امجد نے نقل کر لیے تھے۔ مجھے ان کا فوٹو اسٹیٹ عزیزم ثناء اللہ سرور کی عنایت سے مل گیا۔ اس کے لیے میں مولانا امجد صاحب اور سرور سلّمہ دونوں کا شکرگزار ہوں۔
حضرت مولانا سندھی کے ابتدائی عمر کے حالات کا یہ واحد ماخذ ہے جو خود مولانا سندھی کے قلم سے یادگار ہے۔ یہ حالات ابھی تک نہ تو کسی کتاب میں شامل ہوئے ہیں، نہ کسی اخبار کی زینت بنے ہیں۔ امید ہے کہ یہ ارمغانِ علمی قارئین کرام کے لیے نہایت انبساط کا موجب ہو گا۔ اس تحریر کے مطالعے سے کئی اہم باتوں کی نشان دہی ہوتی ہے:
(۱) اسلام سے عدمِ تعصب اور رغبت کا پہلا بیج ’’تحفۃ الہند‘‘ سے بہت پہلے ماموں کے موازنۂ اسلام و ہندو مذہب سے ہو چکا تھا۔
(۲) اسی طرح انگریز سے نفرت اور آزادیٔ وطن کے جذبے کا بیج بھی دلیپ سنگھ سے انگریزوں کی نا انصافی اور شہیدِ وطن مولراج کے خاندان سے تعلقات کی بنا پر اس کی جاں نثاری کے تذکروں میں پڑ چکا تھا۔ اس تخم کی آبیاری کا سروسامان بھی اسی ماحول میں فراہم ہو گیا تھا۔
(۳) نصابی کتاب میں دو بلیوں اور بندر کی تصویر پر ماموں کا یہ فرمانا کہ یہ بلیاں ہندو اور مسلمان، اور بندر انگریز ہے، مولانا سندھی کے لیے ہزار درسِ آزادی سے بڑھ کر مؤثر اور دل نشین ثابت ہوا۔
اگر انہیں بچپن ہی میں یہ ماحول میسر نہ آجاتا تو ان کا اسلام قبول کرنا محض اتفاق اور قسمت کی یاوری سمجھا جاتا۔ بعد میں فکری ارتقا کے جو عوامل پیش آئے، مثلاً آبائی مذہب کے بجائے اسلام قبول کرنا، لاہور کے انقلابی مرکز کے بجائے دہلی، پنجاب کے میدانِ سیاست کے بجائے ہندوستان کا وسیع میدانِ سیاست، یا سکھ قوم کی آزادی کے بجائے تمام اقوامِ ہند کی آزادی کی جدوجہد، وہ ابتدائی ماحول اور ماموں کی وسعتِ قلب اور تربیت کا لازمی نتیجہ تھے۔
معلوم نہیں پہلا عنوان ’’بچپن کا زمانہ یعنی ابتدائی عمر کے حالات‘‘ خود مولانا مرحوم کے قلم سے ہے یا نہیں، لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ باب اول کا عنوان ’’ولادت سے اظہارِ اسلام تک‘‘ حضرت مولانا سندھی کے قلم ہی سے ہے۔
(۱۔ س۔ ش)

باب اول: ولادت سے اظہارِ اسلام تک

اللھم اہد قومی!

فصل اول

سیالکوٹ پنجاب کا مشہور تاریخی شہر ہمالیہ کے دامن میں پرفضا زرخیز میدان پر بستا ہے۔ اس کے دیہات میں پسرور کے قریب ایک گاؤں چہیاں والی ہے۔ یہی میرا مولد ہے۔
راجہ رنجیت سنگھ کے زمانے میں جسپت راؤ اس گاؤں کے متوسط الحال لوگوں میں شمار ہوتا تھا۔ ایک سناشی سنار جس قدر اچھا ہو سکتا ہے، ایسا ہی وہ سمجھا جاتا تھا۔ حکومت کے کارندوں اور عام لوگوں کا اس پر اعتماد تھا۔ اس کے پانچ بیٹے تھے۔ ان میں متوسط کا نام رام راؤ تھا، جو میرا باپ ہے۔ حکومت کی تبدیلی پر میرا والد اپنے خاندانی پیشہ ’’سناری‘‘ سے ہی اوقات بسر کرتا رہا۔ وہ اپنے تمام بھائیوں میں اپنے والدین کی خدمت میں بہت ممتاز تھا۔ میرا نانا ’’میر علی والہ‘‘ ضلع گوجرانوالہ کا رہنے والا ایک خاندانی سکھ تھا اور ہلو وال ضلع سیالکوٹ میں منتقل ہو چکا تھا۔ اس کی سب سے بڑی لڑکی ’’پریم کور‘‘ میری والدہ ہے۔ میرا والد میرے نانا کی دعوت پر رام راؤ سے رام سنگھ بن گیا تھا۔ میرے والد کا چچا زاد بھائی حاکم راؤ اپنے گاؤں کا پٹواری تھا اور میرے دو ماموں بھی پٹواری تھے۔ میری دو بہنیں تھیں جو میری پیدائش سے پہلے ایک گکھڑ میں اور دوسری بیگواں میں بیاہی گئی تھیں۔

فصل دوم

میرا دادا ابھی زندہ تھا کہ میرا والد فوت ہو گیا۔ اس کے مرنے سے تین مہینے بعد پھاگن کے اخیر عشرے میں جمعہ کی رات کو طلوعِ فجر سے دو گھڑی پہلے میری ولادت ہوئی۔ والدہ صاحبہ کے بتلائے ہوئے واقعات کو مختلف جنتریوں سے تطبیق دینے کے بعد محقق ہوا کہ وہ تاریخ ۱۲ محرم الحرام ۱۲۸۹ ہجری اور ۱۰ مارچ ۱۸۷۲ عیسوی جو ہمارے حساب سے ۸۷۲ ہندی ہوتا ہے۔ میں دو برس کا تھا کہ میرا دادا فوت ہو گیا۔ مجھے اس کی صورت ایک خاص واقعے میں یاد ہے۔1 اس کے بعد میری والدہ زیادہ تر اپنے والد کے پاس رہنے لگی۔ اس کے بعد دو سال کے اندر اندر نانا بھی فوت ہو گیا۔ اس وقت میرا ایک ماموں جھنگ کے محکمہ بندوبست میں کام کرتا تھا۔2 اور دوسرا جام پور ضلع ڈیرہ غازی خان میں پٹواری تھا۔ میری والدہ اور نانی جھنگ ہو کر جام پور پہنچیں۔ میری عمر اس وقت چار سال کی تھی۔ جس طرح نانا کے ساتھ شطرنج کھیلنا مجھے یاد ہے، اسی طرح جام پور میں ماموں جی کا فوجی قواعد سکھانا بھی نہیں بھولتا۔ ایک سال وہاں رہ کر والدہ اپنے گھر واپس آئی۔ وہ زیادہ عرصہ میری بہنوں سے دور نہیں رہ سکتی تھی۔ یہاں سال بھر سے زیادہ رہی۔ آخر میں سخت قحط پڑا اور میری والدہ پھر مجھے جام پور لے گئی۔

فصل سوم

میری چھ برس کی عمر تھی جب جام پور کے مڈل اسکول میں داخلہ ہوا۔ ۸۷۸ ہندی سے تین سال مسلسل پڑھتا رہا۔ ۸۸۱ (ہندی) کی مردم شماری میں، میں بھی کام کرتا رہا۔
اسی زمانے میں مجھے گرمکھی کی پہلی کتاب دی گئی۔ اگرچہ میں نے اس میں سے ایک حرف بھی نہیں پڑھا مگر اس میں ایک تصویر کہ ’’دو بلیوں کی روٹی بندر بانٹ رہا ہے‘‘ ضرور یاد ہے۔ مجھے ماموں نے بتلایا کہ یہ دو بلیاں ہندو اور مسلمان ہیں اور بندر انگریز ہے۔
اس کے بعد پھر والدہ اپنے گھر آئی اور دو سال ضلع سیالکوٹ کے مختلف دیہات میں دور و نزدیک رشتہ داروں سے ملانے کے لیے مجھے لے جاتی رہی۔ میں برادری کی غمی خوشی کی تقریبوں میں شریک ہوتا رہا۔ باوجود خورد سال ہونے کے بڑے بوڑھے بھی ایسی تعظیم سے پیش آتے جو میری والدہ کا حق تھا۔ میں اس کا خاص اثر طبیعت میں محسوس کرتا ہوں۔ اپنے ہم سن رشتہ داروں سے ممتاز رہنے کا خیال رہتا تھا۔
تھوڑے عرصے کے لیے جامکی کے مڈل اسکول کی چوتھی جماعت میں شامل رہا۔ اکثر اوقات دیہاتی مساجد کے ملاؤں سے فارسی کی کتابیں ضرور پڑھتا رہا۔ والدہ اس عرصے میں میرے لیے مناسب رشتہ تلاش کرتی رہی۔ جب اس میں کامیاب ہو گئی تو مجھے پھر جام پور بھیج دیا۔

فصل چہارم

اس زمانے کا ایک واقعہ قابل تحریر ہے۔ میرا چچا حاکم راؤ جب گاؤں کی چوپال (کچہری) میں بیٹھتا تو عام مجمع اس کے گرد جمع ہو جاتا۔ ایک دن میں بھی وہیں بیٹھا تھا کہ اس نے ہندو دھرم اور اسلام کا موازنہ کیا اور اسلام کو ترجیح دی۔ اس کی تقریر کا خلاصہ مجھے اچھی طرح یاد ہے:
’’ہندوؤں اور مسلمانوں میں طویل مناظرہ ہوا۔ بالآخر یہ فیصلہ ہوا کہ ایک ہندو اور ایک مسلمان کنویں میں چھلانگ لگائیں، جو سلامت رہا، اسی کا مذہب حق مانا جائے گا۔ پہلے ہندو کھڑا ہوا اور شری رام کو اپنی مدد کے لیے بلایا۔ اس کے کارندے آ رہے تھے کہ اس نے شری کرشن جی کو پکارنا شروع کر دیا۔ اس پر شری رام کے خادم واپس ہوئے۔ ابھی شری کرشن کے لوگ اس کی مدد کو نہیں پہنچنے پائے تھے کہ اس نے مہادیو کو پکارنا شروع کیا، اس لیے شری کرشن کی مدد بھی اسے نہ مل سکی۔ اسی طرح اپنے مختلف بزرگوں کو یکے بعد دیگرے مدد کے لیے بلاتا رہا۔ مگر جس وقت چھلانگ ماری اس وقت کوئی بھی اس کی امداد نہ کر سکا۔ اس لیے اس کے ہاتھ پاؤں ٹوٹ گئے۔ اس کے بعد مسلمان کھڑا ہوا، اس نے ایک اللہ کو زور سے پکارنا شروع کیا اور جھٹ کنویں میں کود پڑا، اللہ کے فرشتے اس کی مدد کو پہنچے اور اسے سلامت بچا لیا۔‘‘
جہاں تک مجھے یاد ہے، اسلام کی حقانیت پر یہ پہلی تقریر ہے جو میں نے سنی اور جس سے متاثر ہوا۔ رب زدنی علماً۔

فصل پنجم

اس دو سال کے توقف سے میرے ہم جماعت تو مارچ ۸۸۴ (ہندی) کو چھٹی جماعت میں تبدیل ہوئے اور میں دو مہینے محنت کر کے چوتھی جماعت کا امتحان دے سکا اور پانچویں جماعت میں شامل ہو گیا۔ یہاں سے میری طالب علمی کا زمانہ شروع ہوتا ہے۔ اسکول کا مقررہ کام میرے لیے مشکل نہیں تھا۔ فارسی پڑھنے اور یاد کرنے میں خاص محنت کرتا۔ باقی مضامین شروع سال میں چند ہفتے صرف کر کے یاد کر لیتا۔ پھر سارا سال فارغ رہتا۔ امتحان سے تھوڑی دیر پہلے کتاب پر سرسری نظر ڈال لینا کافی ہوتا۔ سب سے زیادہ دلچسپی مجھے ریاضی سے تھی۔ حساب، الجبرا، اقلیدس میں جس قدر بہتر اور اعلٰی  کتابیں ملتیں، ان کے حل کرنے میں مصروف رہتا، مشکل سوال حل کرنے میں خاص لذت محسوس کرتا۔ ’’مراۃ الاشکال‘‘ اقلیدس کے چار مقالوں کی شرح تھی، میں نے اس کے مشقی سوالات سارے کے سارے حل کر لیے تھے۔
۸۸۶ ہندی کو ساتویں جماعت میں تھا۔ قیصری جالندھر میں ایک حل طلب سوال چھپا:
ا+ب+ج=۶ د(۲)+ب(۲)+ح(۲)=۱۴  ا(۳) +ب(۳)+ح(۳)=۳۶
دوپہر کے بعد مدرسہ میں مجھے اخبار ملا۔ اپنے معمولی کاموں میں مصروف رہا۔ فقط فرصت کے لمحے اس کے حل پر صرف کرتا رہا۔ پھر بھی مغرب سے پہلے میں نے اخبار کے نام جواب بھیج دیا۔ دوسرے ہفتے میں میرے نام سے دو کالم میں چھپ کر آ گیا۔ میں اس خوشی کو نہیں بھولتا۔
اس کے بعد تاریخ اور قصوں، ناولوں میں طبیعت مسرور ہوتی۔ جو کتاب ملتی، جب تک ساری ختم نہ کر لیتا، چین نہ آتا۔ اس ضمن میں اخبار پڑھنا شروع کیا۔ ’’آفتاب پنجاب‘‘ ہفتہ وار3 مسلسل دیکھتا۔ ’’پنجابی‘‘4 اور ’’کوہ نور‘‘ کے پرانے فائل پڑھتا5۔ پھر ’’اخبار عام‘‘ دیکھنے لگا6۔
پنجاب کی تاریخ میں سکھوں کی حکومت سے زیادہ دلچسپی محسوس کرتا۔ اپنے سکھ ہونے پر فخر کرتا۔ بچپن میں عورتوں کے ساتھ دیوان مولراج کے عزیزوں کے گھر جاتا رہا ہوں7۔ اس لیے ان کے واقعات سے زیادہ متاثر ہوتا۔ حکومت پنجاب کی سالانہ رپورٹ اردو میں چھپتی تھی، اسے مفصل پڑھتا۔
’’راجہ دلیپ سنگھ‘‘ کو پنجاب واپس آنے کی اجازت ملی اور میرے ماموں رات کو یہ خبر لائے تو ہمارے گھر میں عید کی سی خوشی ہوئی کہ ’’ہمارے راجہ‘‘ آ رہے ہیں۔ دوسرے تیسرے ہفتے جب یہ خبر ملی کہ وہ عدن سے واپس کر دیے گئے تو ہمارے گھر میں ماتم کی صف بچھ گئی8۔
اگرچہ اس علمی شغف نے اچھا کھانے، اچھا پہننے کی خواہشات سے بے نیاز کر دیا تھا، پھر بھی سوسائٹی میں کوئی ایسی چیز نہیں نظر آتی جو گھر میں مجھے میسر نہ ہو۔ اعلٰی سوسائٹی میں میرا رابطہ تھا۔ جام پور کے سرکاری افسروں کی سوسائٹی میں بھی ایسے ساتھی ملے جن سے اعلٰی اس جگہ ممکن نہیں تھے۔ تحصیلدار، نائب تحصیلدار، منصف، پولیس افسر، پوسٹ ماسٹر سب ہندو تھے۔ اس اعلٰی سوسائٹی میں میرا تعارف عزت سے تھا۔ نائب تحصیلدار ہمارے قریب علاقے کا تھا۔ اس کے لڑکے ہمارے ساتھ پڑھتے تھے۔ ان سے اور ان کے گھر سے مساویانہ برتاؤ تھا اور یہی معاملہ سوسائٹی کے باقی افراد تحصیلدار، پولیس افسر، منصف، پوسٹ ماسٹر اور ڈاکٹر کے ساتھ تھا۔

حواشی

  1. مولانا سندھی نے فصل اول، دوم اور چند سطریں فصل سوم کی لکھ کر منسوخ کر دی تھیں اور دوبارہ شروع سے مسودہ لکھا تھا۔ منسوخ شدہ مسودے میں ہے کہ ’’نانا کے ساتھ شطرنج کھیلنا مجھے یاد ہے‘‘۔ یہاں ایک خاص واقعے سے اسی طرف اشارہ ہے۔ شطرنج کھیلنے کا ذکر چند سطروں کے بعد اس مسودے میں بھی آیا ہے۔
  2. شاید یہ ماموں بھی پٹواری ہی ہوں، منسوخ شدہ مسودے میں ہے کہ ’’میرے دو ماموں پٹواری تھے۔ ایک ضلع جھنگ میں مقرر تھا اور دوسرا جام پور ضلع ڈیرہ غازی خان میں متعین تھا۔‘‘
  3. ہفتہ وار آفتاب پنجاب لاہور سے جولائی ۱۸۷۳ء میں نکلنا شروع ہوا تھا۔ اس کے مالک بوٹا سنگھ نامی ایک سکھ اور ایڈیٹر مولوی نبی بخش تھے۔
  4. پنجابی اخبار بھی لاہور سے ہفتہ وار مارچ ۱۸۵۶ء سے نکل رہا تھا۔ اس کے ایڈیٹر محمد اکبر خان خاور تھے۔ بعدہ محمد مروان علی خان رعنا ہو گئے تھے۔
  5. کوہ نور لاہور کا مشہور ہفتہ وار اخبار تھا۔ منشی ہرسکھ رائے کے اہتمام میں جنوری ۱۸۵۰ء میں نکلنا شروع ہوا تھا۔
  6. اخبار عام لاہور (ہفتہ میں تین بار) پنڈت گولی ناتھ کی ادارت میں جنوری ۱۸۷۱ء میں نکلنا شروع ہوا تھا۔
  7. جنگِ آزادی ۱۸۵۷ء کا ایک مجاہد، ملتان کے مقابلے میں شکست کھائی، گرفتار ہوا اور پھانسی کی سزا پائی۔
  8. دلیپ سنگھ دانی چنداں کے بطن سے مہاراجہ رنجیت سنگھ کا بیٹا، مارچ ۱۸۴۹ء میں گدی سے معزول کیا گیا۔ ہزار پونڈ سالانہ وظیفہ دے کر انگلستان بھیج دیا گیا اور عیسائی بنا لیا گیا۔ ایک مصری خاتون سے شادی کر لی تھی۔ بعدہ اس نے عیسائیت ترک کر دی تھی۔ انگریزوں کا مخالف تھا۔ تقریباً ۱۸۸۰ء میں وطن لوٹ رہا تھا کہ عدن سے واپس کر دیا گیا۔ تقریباً ۱۸۹۰ء  میں انگلستان میں انتقال ہوا۔

مولانا سندھیؒ کے تلامذہ، افادات اور تحریرات

شیخ التفسیر مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ

مولانا عبید اللہ سندھیؒ کی طرف منسوب تحریریں اکثر وہ ہیں جو املائی شکل میں ان کے تلامذہ نے جمع کی ہیں۔ مولانا کے اپنے قلم سے لکھی ہوئی تحریرات اور بعض کتب بہت دقیق، عمیق اور فکر انگیز ہیں اور وہ مستند بھی ہیں، لیکن املائی تحریروں پر پورا اعتماد نہیں کیا جا سکتا اور بعض باتیں ان میں غلط بھی ہیں جن کو ہم املا کرنے والوں کی غلطی پر محمول کرتے ہیں، مولانا کی طرف ان کی نسبت درست نہ ہو گی۔ مولانا کا ذہنی پس منظر، فکر، ذہانت، قوتِ حدس بہت بلند تھی۔ ذہانت اور قوتِ حافظہ بھی بے مثال تھی اور ان کا ذہن قوتِ قدسیہ کا مالک تھا۔ دقیق اور مشکل ترین باتوں کی تہہ تک پہنچنا مولانا کا کمال تھا۔
مولانا کا انہماک اور توجہ زیادہ تر قرآن مجید کی طرف رہا ہے۔ مولانا نے زندگی کے کم و بیش پچاس سال قرآن کریم کے مطالعہ اور افہام و تفہیم میں بسر کیے تھے۔ بالخصوص امام ولی اللہؒ کی حکمت اور علوم و فلسفہ کی روشنی میں مشکلاتِ قرآن حل کرتے رہے، اور یہ کہ قرآن کے نظام اور اس کے قوانین کو عہدِ حاضر میں کس طرح سمجھا اور سمجھایا جا سکتا ہے۔ مولانا نے قرآن کریم کے پڑھانے میں بھی بہت وقت صرف کیا تھا اور آپ سے پڑھنے والے مختلف استعداد کے حضرات ہوتے تھے۔ کبھی بڑے ذہین و فطین ۔۔ قسم کے علماء ہوتے تھے اور بعض اوقات عام معمولی استعداد کے طلبا بھی شریک ہوتے تھے۔ جدید تعلیم یافتہ حضرات بھی ہوتے تھے اور قدیم درسِ نظامیہ کے فارغین بھی۔ مولانا کو خدا تعالٰی نے ایسی صلاحیت بخشی تھی کہ دوسرے عالی مرتبت علما چھ ماہ میں بھی اتنا قرآن کریم سے روشناس نہیں کرا سکتے تھے جتنا مولانا ایک ماہ میں کر دیتے تھے۔
مولانا سندھی سے پڑھنے والے اور استفادہ کرنے والے حضرات کی فہرست بہت طویل ہے۔ حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ نے مولانا سندھیؒ سے حدیث بھی پڑھی اور قرآن کریم بھی۔ اور پھر مولانا نے ان سے وعدہ لیا کہ ساری عمر قرآن کریم ہی پڑھاتے رہنا۔ مولانا لاہوریؒ نے آخر دم تک اس وعدہ کو کماحقہ پورا کیا۔ کم و بیش پانچ ہزار علما کو قرآن کی تفسیر پڑھائی اور عوام کو درسِ قرآن کے ذریعہ مستفید کیا جن کی تعداد بہت زیادہ ہے، اور خاص جماعتوں کو مشکوٰۃ شریف اور حجۃ اللہ البالغہ بھی پڑھاتے تھے، اور عوامی حلقوں کی اصلاح تو لاکھوں تک پہنچتی تھی۔
اسی طرح حضرت مولانا حکیم فضل الرحمٰن صاحبؒ نے بھی مولانا لاہوریؒ کے ساتھ ہی قرآن کی تفسیر مولانا سندھیؒ سے پڑھی تھی اور اس کے علاوہ مشکوٰۃ شریف بھی پڑھی تھی۔ تقریباً پچاس سال کے بعد بھی مولانا سندھیؒ کی تقریریں ان کو یاد تھیں۔ حکیم صاحب ایم بی بی ایس بھی تھے اور حکیم اجمل خان کے مایہ ناز تلامذہ میں سے تھے۔ طبیہ کالج دہلی میں پروفیسر تھے اور متعدد طبی کتب کے مصنف تھے۔ پھر حیدر آباد دکن میں نظامیہ طبی کالج کے وائس پرنسپل ہو گئے تھے۔ احقر نے اسی دور میں حکیم صاحب سے پڑھا تھا۔ حکیم صاحب مولانا سیف الرحمٰن ٹونکی کے بھانجے تھے۔ مولانا سیف الرحمٰن حضرت گنگوہیؒ کے ارشد تلامذہ میں سے تھے اور جنگِ آزادی میں انہوں نے بہت کام کیے، وہ بھی افغانستان میں مولانا سندھیؒ کے ساتھ تھے۔
مولانا سلطان محمود صاحبؒ سابق صدر مدرس فتح پوری دہلی بھی مولانا سندھیؒ کے تلامذہ میں سے تھے۔ انہوں نے بھی چند رسالے لکھے ہیں جن میں مولانا سندھیؒ کے افکار کو سمویا ہے اور اسی طرز پر قرآن کریم کی تعلیم بھی آخر تک دیتے رہے۔
مولانا عزیز احمد صاحبؒ برادر خورد مولانا احمد علی لاہوریؒ جو سفر کابل میں آپ کے ساتھ رہے، پھر مکہ مکرمہ میں بھی آپ کے ساتھ رہے، آپ کے خدمت گزار کے طور پر ہر وقت ساتھ رہتے تھے، انہوں نے خود بیان کیا تھا کہ قرآن کریم کے علاوہ شرح ملا جامی اور قطبی میں نے مولانا سے پڑھی تھی، حجۃ اللہ البالغہ بھی پڑھی تھی، اور کہتے تھے جب میں نے الخیر الکثیر مولانا سے پڑھنے کی کوشش کی تو اس میں کامیابی نہ ہو سکی، یہ بہت زیادہ مشکل تھی اور میں چونکہ قطبی سے آگے تعلیم مختلف وجوہات کی بنا پر جاری نہ رکھ سکا، اس الخیر الکثیر پڑھنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ مولانا عزیز صاحبؒ آخر تک مولانا سندھیؒ کے افکار و طریق کے حامل اور عامل رہے۔
مولانا خواجہ عبد الحئی فاروقی صاحبؒ بھی مولانا سندھیؒ کے تلامذہ میں سے تھے۔ انہوں نے بھی قرآنی افکار کے سلسلہ میں سورۃ بقرہ کی تفسیر الخلافۃ الکبرٰی اور آخری پارہ کی تفسیر رقم فرمائی ہے اور ان میں مولانا سندھیؒ کے افکارِ عالیہ سے مکمل استفادہ کیا گیا ہے۔ مولانا صبغت اللہ بختیاری مدراسیؒ نے بھی مولانا سندھیؒ سے استفادہ کیا تھا۔ مولانا قاری عبد الکریم ترکستانیؒ اور مولانا محمد طاہر آف پنج پیرؒ بھی مولانا سندھیؒ سے مکہ مکرمہ میں پڑھتے رہے ہیں۔ مولانا محمد طاہر نے مولانا سندھیؒ سے حجۃ اللہ البالغہ بھی پڑھی تھی اور اس کی تقریر بھی ضبط کی تھی۔ اسی طرح مولانا محمد عبد اللہ عمر پوریؒ بہاولپور والے فاضل دیوبند نے بھی مکہ مکرمہ میں مولانا سندھیؒ سے پڑھا تھا۔ علامہ محمد صدیق صاحب آف یزمان نے اور مولانا عبید اللہ انورؒ اور مولانا سعید احمد اکبر آبادیؒ نے بھی مولانا سندھیؒ سے استفادہ کیا تھا۔
آخری دور میں سب سے زیادہ مولانا غلام مصطفٰی قاسمیؒ نے مولانا سندھیؒ سے پڑھا اور فائدہ اٹھایا۔ مولانا قاسمی فاضل دیوبند اور جامع المعقول والمنقول مدرس عالم ہیں۔ آپ نے کئی کتابوں پر حاشیے بھی لکھے ہیں۔ قدوری کا حاشیہ اور اس کا عالمانہ مقدمہ تو بہت متداول ہے۔ آپ نے مولانا سندھیؒ کی مشہور کتاب التمہید بھی اپنے حاشیہ کے ساتھ شائع کروائی جو کہ بہت بڑا کام ہے۔ اور الخیر الکثیر کا اردو ترجمہ جو آپ نے مولانا سندھیؒ سے پڑھ کر ضبط کیا تھا وہ بھی شائع کرایا  ہے۔ اور امام ولی اللہؒ کی متعدد کتابیں بمع مقدمات و ضروری تشریحات کے شائع کرائی ہیں۔ پہلے الرحیم میں اور آج کل الولی میں آپ کے مضامین اور ادارتی نوٹ شائع ہوتے ہیں جو بہت قیمتی علمی و ضروری مواد پر مشتمل ہوتے ہیں۔ مولانا کچھ عرصہ رؤیتِ ہلال کمیٹی کے چیئرمین بھی رہے ہیں، بارک اللہ فی علمہ و مساعیہ و عمرہ۔
مولانا مقبول عالم لاہوری مرحوم اور غازی خدا بخش صاحبؒ بھی حضرت سندھیؒ سے استفادہ کرنے والے لوگوں میں شامل تھے۔
مولوی بشیر احمد بی اے لدھیانوی مرحوم بھی مولانا کے معتمد تھے اور انہوں نے مولانا کی متعدد تحریرات، جو قرآنی سورتوں پر مشتمل ہیں، شائع کرائی ہیں۔ تفسیر سورۃ فاتحہ، تفسیر سورۃ قتال، تفسیر سورۃ فتح، تفسیر سورۃ مزمل و مدثر، تفسیر سورۃ العصر، تفسیر سورۃ اخلاص اور تفسیر معوذتین۔ حجۃ اللہ البالغہ کا ترجمہ و تشریح ابتدائی سترہ ابواب تک، جو مولانا عبد اللہ لغاری صاحبؒ نے مولانا سندھیؒ سے مکہ مکرمہ میں ضبط کیا تھا، اس کو بھی مولانا بشیر احمد صاحب نے مرتب کر کے لاہور میں بیت الحکمت کی طرف سے شائع کیا تھا۔ اس کے علاوہ مولانا بشیر احمد صاحب کے پاس قطعات کا ترجمہ و تشریح جو مولانا سندھیؒ سے انہیں حاصل ہوئی وہ انہوں نے خود تو شائع نہیں کرائی بلکہ وہ مولانا سید محمد متین ہاشمی کو انہوں نے دی تھی، وہ انہوں نے شائع کرائی ہے۔ رسالہ محمودیہ جو مولانا سندھیؒ نے عربی اور فارسی میں ترتیب دیا تھا، اس کا ترجمہ بمع متن شیخ بشیر احمد صاحب لدھیانوی نے بیت الحکمت کی طرف سے شائع کیا۔ مولانا بشیر احمد صاحب مرحوم نے اور بھی بعض مضامین اس سلسلے میں لکھے تھے۔ مولانا بشیر احمد صاحب زندگی کا اکثر حصہ اسکول میں پڑھاتے رہے، علومِ دینیہ کی تحصیل باقاعدہ نہیں تھی، عربیت سے کچھ مناسبت تھی، مولانا سندھیؒ سے کافی استفادہ کیا تھا لیکن فلسفہ ولی اللّٰہی کی غامض باتوں کے سمجھنے کی اہلیت نہیں رکھتے تھے۔ احقر کے ساتھ مولانا بشیر احمد مرحوم کی متعدد بار ملاقات ہوئی تھی اور انہوں نے اس کا اقرار کیا تھا کہ مجھے افسوس ہے کہ میں درسِ نظامیہ کی تعلم حاصل نہ کر سکا، لیکن مولانا بشیر احمد مرحوم کی طبیعت میں استقامت تھی اور املائی تحریریں بھی ان کی اکثر محتاط ہیں۔
خلاصۃ القرآن کے نام سے جو ایک مختصر سا کتابچہ ہے، وہ بھی ایسا ہے کہ مولانا سندھیؒ جس قرآن کریم پر تلاوت کرتے تھے، تو مختلف سورتوں پر وہ کچھ اشارات نوٹ کر دیتے تھے، چنانچہ ان کو جمع کر کے اور ترتیب دے کر مولانا عزیز اللہ صاحب آف پنوں عاقل نے اسے شائع کرایا ہے۔ یہ کوئی مکمل نوٹس نہیں بلکہ اشاراتی زبان میں بعض باتیں بہت مغلق سی ہیں اور بعض مشتبہ بھی ہیں۔
المقام المحمود تفسیر پارہ عم مولانا عبد اللہ لغاری مرحوم نے مکہ مکرمہ میں مولانا سندھیؒ سے سن کر اردو زبان میں قلم بند کی تھی، وہ بھی ڈاکٹر عبد الواحد ہالی پوتا صاحب کے تقدیم و تصحیح کے ساتھ شائع کرائی گئی ہے۔ اس میں بھی بعض باتیں قابل گرفت ہیں جن کی ذمہ داری مولانا سندھیؒ پر نہیں بلکہ مولانا لغاریؒ اور مذکورین پر ہو گی۔
’’شاہ ولی اللہ اور ان کی سیاسی تحریک‘‘ یہ ایک مختصر سا مقالہ ہے جس کو مولانا سندھیؒ نے اپنے قلم سے تحریر فرمایا اور پھر اس کو مولانا نور الحق علویؒ سابق پروفیسر اوریئنٹل کالج لاہور نے مولانا سے سبقاً سبقاً پڑھ کر اس کے تشریحی حواشی بھی لگائے۔ مولانا نور الحق علویؒ مولانا شیخ الہندؒ کے تلامذہ میں سے تھے اور نہایت ذہین، کثیر المطالعہ اور ثقہ بزرگ تھے۔ امام ولی اللہؒ کی تحریک کو سمجھنے کے لیے یہ کتابچہ بہت قیمتی معلومات فراہم کرتا ہے۔ تحریک کے تمام ادوار اور اشخاص اور اصول اس میں واضح کیے گئے ہیں۔ امام ولی اللہؒ اور ان کے خاندان کے وہ تمام حضرات جو ان کے افکار و نظریات کے حامل تھے اور اس تحریک کو آگے بڑھانے والے اور اس کی تشریح و توضیح کرنے والے امام ولی اللہ کے بیٹے پوتے اور ان کے تلامذہ اور پھر ان کے اتباع اکابر علمائے دیوبند اور ان کی مساعی و جہود کے بارہ میں اس قسم کے معلومات کسی دوسری کتاب سے  ملنے مشکل ہوں گے۔ بعض حضرات کو اس کی بعض باتوں سے اختلاف بھی ہو سکتا ہے اور اس میں کوئی قباحت نہیں کیونکہ یہ بات ہر جماعت اور ہر فرد کے بارے میں ہو سکتی ہے، لیکن مجموعی طور پر یہ مقالہ بہت گراں قدر اور وقیع معلومات پر مشتمل ہے۔
مولانا قاری محمد طیب صاحبؒ (حکیم الاسلام) بھی مولانا سندھیؒ سے مستفید ہونے والوں میں سے تھے۔ آخری دور میں مولانا سندھیؒ نے قاری صاحب کو اپنے سامنے بٹھا کر حجۃ اللہ البالغہ کے چند خاص مقامات خود پڑھائے اور پھر ان کو مامور کیا کہ اس طرح حجۃ اللہ البالغہ کو پڑھاؤ۔ چنانچہ قاری صاحب آخری دور میں حجۃ اللہ البالغہ اسی طریقے پر پڑھاتے تھے۔ قاری صاحب کو جب پتہ چلا کہ مولانا سندھیؒ کی کتاب ’’التمہید‘‘ کسی بزرگ کے پاس موجود ہے تو انہوں نے اس کی نقل حاصل کی، چنانچہ قاری صاحب نے اس کتاب کے بارے میں اس طرح لکھا ہے:
’’التمہید لتعریف ائمۃ التجدید
یہ کتاب ایک تاریخی اور علمی و سیاسی مرقع ہے جو حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے افکارِ صالحہ کا ثمرہ ہے۔ اس کی جلد سے جلد طبع اور شائع ہونے کی ضرورت ہے۔ احقر نے بھی اس کی ایک نقل کتب خانہ دارالعلوم دیوبند کے لیے کرائی ہے۔
محمد طیب، مہتمم دارالعلوم دیوبند، حال وارد کراچی
۵ نومبر ۱۹۵۵ء‘‘
المقام المحمود، جو مولانا عبد اللہ لغاریؒ نے ضبط کی تھی، کچھ تو براہ راست مولانا سندھیؒ سے انہوں نے سن کر لکھی تھی اور کچھ بالواسطہ۔ اس کا ابتدائی حصہ ڈاکٹر منیر احمد مغل صاحب نے مرتب کیا ہے۔ مغل صاحب نے بڑی محنت اور تحقیق سے اس کو مرتب کیا ہے اور ڈاکٹر ہالی پوتہ سے بھی اس سلسلہ میں تعاون حاصل کیا ہے۔ ابتدا میں مقدمہ مضامین، مکمل فہرست اور مولانا سندھیؒ کے افکار و خیالات کا اجمالی تذکرہ، ان کی سوانح حیات اور تعلیمی سلسلہ اور دیگر اشغال اور کچھ سیاسیات پر بھی کلام کیا ہے۔ مولانا سندھیؒ کی عربی تصانیف کا ذکر بھی ہے اور پھر اس امالی کے مضامین کی سرخیاں بہت اچھے طریقے پر لگائی ہیں، لیکن تفسیری نکات میں بعض باتیں، جن کا ذکر مغل صاحب نے مولانا سندھیؒ کی نسبت سے کیا ہے، جیسے اذن اللہ کا مفہوم، گائے کو ذبح کرنے کا مفہوم، تلاوت کا مفہوم، بدی کا مفہوم، اور یوم الحساب سے مراد وغیرہ باتیں ایسی ہیں جو امام ولی اللہؒ کی حکمت اور ان کے طریق سے مناسبت نہیں رکھتیں اور نہ مولانا سندھیؒ کا منشا ہو سکتا ہے۔ مولانا سندھیؒ شاہ ولی اللہ اور مولانا شیخ الہندؒ کے طریق سے باہر نہیں نکلتے۔ یہ باتیں ایسی ہیں کہ املا کرنے والوں نے مولانا سندھیؒ کی تقریر کو یا تو سمجھا نہیں، یا اپنے ذہن کے مطابق کشید کیا ہے۔ یہ قابل اعتبار نہیں اور نہ لائق اعتنا ہیں۔ ڈاکٹر منیر صاحب مغل نے بہت سی جگہوں میں غلط سلط تفسیر بیان کی ہے اور یہ تاثر دیا ہے کہ گویا مولانا سندھیؒ کی بیان کردہ تفسیر ہے، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ ملاحظہ فرمائیں ’’فانظر الٰی حمارک‘‘ عزیر علیہ السلام کے واقعہ میں لکھتے ہیں: ’’اپنی سواری تلاش کر کے اس پر سوار ہو جاؤ‘‘۔ اور موت و حیات کا معنی مردہ قوموں کا زندہ ہونا کس قدر غلط تفسیر ہے۔ اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کے واقعہ میں پرندوں کے بارہ میں ’’فصرہن‘‘ کو صرف سدھارنے اور مانوس کرنے کے معنی پر محمول کیا ہے۔ امام رازیؒ نے تو صرف اصفہانی کا ایک مرجوح سا قول نقل کر دیا ہے اور ادھر جمہور مفسرین جو معنی بیان کرتے ہیں اس کو چھوڑ کر صرف مجازی معنی مراد لینے کی کیا ضرورت ہے۔ اور لطف کی بات یہ ہے کہ اس مقام پر مولانا سندھیؒ کی جو تقریر الہام الرحمٰن میں موسٰی جار اللہ صاحب نے نقل کی ہے وہ اس کے بالکل خلاف ہے۔ اس میں مولانا سندھیؒ فرماتے ہیں کہ جس نے ان آیات کی تاویل کی ہے اور ان کو معنی مجازی پر محمول کیا ہے اور یہ کہا ہے کہ یہ احیا حقیقی نہیں تھا بلکہ یہ تشبہ بالحیوٰۃ تھا، مولانا سندھیؒ فرماتے ہیں کہ اس کو ہم انبیاءؑ کے طریق سے بعید خیال کرتے ہیں، اگرچہ معنی مجازی مراد لینے والا اس تاویل سے کوئی فساد والا مطلب نہ لیتا ہو۔ مولانا فرماتے ہیں کہ اعادہ حیات ہم جب نباتات میں مشاہدہ کرتے ہیں تو اللہ تعالٰی کے حکم سے انسان کیوں زندہ نہیں ہو سکتے۔ (الہام الرحمٰن صفحہ ۳۱۲ ج ۱)

مولانا سندھیؒ کی تصنیفات

(۱) ’’رسالہ محمودیہ‘‘ جس کا تذکرہ پہلے ہو چکا ہے۔
(۲) ’’امام ولی اللہ دہلویؒ کی حکمت کا اجمالی تعارف‘‘۔ یہ نہایت مفید کتاب ہے جس میں مولانا سندھیؒ نے پہلے تمہیدی امور ذکر کیے ہیں جن میں علوم و فنون حاصل کرنے کے اصول و استعداد کے بارہ میں امام ولی اللہؒ اور ان کے اکابر و اسلاف اور اخلاف سب کے طرزِتکمیل کا ذکر کیا ہے۔ پھر قرآن کریم اور تفسیر کے متعلق قواعد و ضوابط اور ضروری باتیں اور مشکلاتِ قرآن کو حل کرنے کے طریقے اور تفسیر کے اہم ترین مباحث کا ذکر ہے۔ پھر تیسرے باب میں علمِ حدیث، اور حدیث بطور شرح قرآن، اور طبقات حدیث، اور حجیتِ حدیث کے دقیق علمی مباحث، اور کتبِ حدیث، اور محدثین کے اذہان و مراتب، اور امہات کتبِ حدیث کے اصولی مباحث ذکر کیے گئے ہیں۔ باب چہارم میں علمِ فقہ کا مفید ہونا اور بطور قانون نفاذ، عرب و عجم کے اذہان کا تفاوت، اور سلاطین کا رجحان، اور فقہ و حدیث میں تطبیق، اور امام ولی اللہؒ کا فقہ میں مقام، اور حنفی فقہ کی ترجیح کی دقیق وجوہات وغیرہ کا ذکر ہے۔ باب پنجم میں تصوف اور فلسفہ کا بیان ہے۔ اس کتاب میں جابجا مولانا نور الحق علویؒ کے نہایت مفید حواشی بھی ہیں۔
(۳) ۱۳۰۷ھ میں طالب علمی کے دور میں مولانا نے کتاب ’’مراصد الوصول الٰی مقاصد الاصول‘‘ تصنیف کی تھی جس کو مولانا شیخ الہندؒ نے پسند فرمایا تھا۔ (التمہید ۔ صفحہ ۱۰)۔
مولانا سندھیؒ کی مفید تصانیف، جن کا ذکر خود انہوں نے اپنی کتاب ’’التمہید‘‘ میں کیا ہے، یہ ہیں:
(۴) ’’تعلیق علٰی شرح معانی الآثار للطحاویؒ‘‘
(۵) ’’تعلیق علٰی فتح القدیر لابن الہمامؒ‘‘
(۶) ’’بلوغ المرام‘‘ کی شرح ’’فتح الاسلام لابواب بلوغ المرام‘‘ (چند ابواب کی شرح ہے)
(۷) ’’سفر السعادۃ لفیروز آبادی‘‘ کے کچھ حصہ کی شرح
(۸) ’’تخریج ما فی الباب للامام الترمذیؒ‘‘ کا کچھ حصہ
(۹) ’’غنیۃ الطالبین‘‘ کی احادیث کی تخریج
(۱۰) ’’تہذیب رفع الیدین للامام البخاریؒ‘‘
(۱۱) ’’تنسیق احادیث بدء الوحی من الجامع الصحیح للامام البخاریؒ‘‘
(التمہید ۔ صفحہ ۱۵)
(۱۲) مولانا کی کتاب ’’التمہید‘‘ عربی زبان میں تقریباً پانچ صد صفحات پر مشتمل ضخیم کتاب ہے، جس میں اسانید علمِ حدیث اور فقہ اور رجال کا ایسا مفید اور جامع تذکرہ ہے جو کسی اور کتاب میں شاید نہ مل سکے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ’’التمہید‘‘ کا مطالعہ بھی احقر نے کچھ تھوڑا بہت کیا ہے۔ ’’رسالت محمودیہ‘‘، ’’حکمت کا اجمالی تعارف‘‘ سے بھی بہت استفادہ کیا ہے، لیکن مولانا کی نمبر چار سے گیارہ تک کتب و رسائل احقر کو دستیاب نہیں ہو سکے۔ باقی مولانا کی املائی کتب و رسائل کا ذکر ہم پہلے کر چکے ہیں۔
(۱۳) مولانا کا ایک خطبہ جو آپ نے ۱۹۱۴ء میں کابل جانے سے پہلے دیا تھا ’’قرآن پاک کا مطالعہ کیسے کیا جائے‘‘ کے نام سے طبع ہوا ہے۔ ایک سو دس صفحات کا یہ رسالہ بہت مفید ہے اور قیمتی معلومات پر مشتمل ہے۔ قرآن کریم کے بعض حقائق کو سمجھنے کے لیے کلید کا درجہ رکھتا ہے۔ بالخصوص واقعات و قصص کی تشریح اور ان کا احکام و قوانین کے ساتھ انطباق بہت عمدہ طریق پر کیا گیا ہے۔
(۱۴) اس کے علاوہ مولانا کے چند خطبات بھی ہیں جو انہوں نے جلاوطنی سے واپسی کے بعد مختلف کانفرنسوں اور اجتماعات میں پڑھے تھے۔ ان میں چونکہ بعض خطبات بحالتِ بیماری اور سفر اور بعض دیگر ذہنی کوائف کی ناہمواری کی حالت میں لکھے گئے تھے، اس لیے ان میں بعض جگہ اضطراب سا معلوم ہوتا ہے، لیکن اکثر خطبات بہت عمدہ ہیں اور اجتماعیات سیاسیات کے سلسلے میں گراں قدر معلومات فراہم کرتے ہیں۔ مولانا کی بعض تحریریں مثلاً جمعات کا دو صفحہ کا مقدمہ اتنا عمدہ ہے کہ امام شاہ ولی اللہؒ کے اکثر حکیمانہ رسائل و کتب کو سمجھنے میں بہت ممد ہے اور اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ مولانا کا ذہنی تفوق اور علمی وسعت کس قدر زیادہ ہے۔

مولانا سندھیؒ کی ایک تاریخی تقریر

ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہانپوری

مولانا عبید اللہ سندھی مرحوم ۲۴ برس کی جلاوطنی کے بعد ۷ مارچ ۱۹۳۹ء کو کراچی کی بندرگاہ کیماڑی پر جہاز سے اترے تھے اور ان کے استقبال کے لیے اہلِ سندھ اور ملک کے منتخب اصحابِ فکر و تدبر کا جو جمِ غفیر بندرگاہ پر موجود تھا، مولانا نے اسے خطاب کیا تھا۔ یہ تقریر اس وقت کے اخبارات میں شائع ہوئی تھی لیکن ان کے متن نہایت غلط تھے۔ اس کا صحیح ترین متن یہاں پیش کیا جاتا ہے۔ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ مولانا نے اس تقریر میں فرمایا تھا کہ ’’اگر میں مر گیا اور میرے مرنے کے تین سال کے اندر انگریز ہندوستان سے نہ چلا جائے تو میری قبر پر آ کر کہنا کہ انگریز یہاں بیٹھا ہوا ہے‘‘۔ مولانا مرحوم ۱۳ اگست ۱۹۴۴ء کو فوت ہوئے اور تین سال کے اندر ۱۵ اگست ۱۹۴۷ء کو پورا برصغیر آزاد ہو گیا اور ثابت ہو گیا کہ ’’قلندر ہرچہ گوید دیدہ گوید‘‘۔
(ابو سلمان شاہ جہان پوری)
عزیزانِ گرامی!
۱۹۱۵ء میں مجھے میرے استاد حضرت شیخ الہندؒ نے افغانستان بھیجا تھا۔ آپ کے بزرگوں نے مجھے باہر بھیجا تھا۔ باہر رہ کر جو کچھ اسلام کی خدمت کر سکتا تھا، میں نے کی۔ میرے سامنے پہاڑ آئے، شکست کھا گئے، موت آئی، شکست کھا گئی۔ میں ان سپہ سالاروں کا رفیق رہا جنہوں نے دنیا کے بڑے بڑے معرکے سر کیے۔ آپ میری باتوں کو محض تاثرات یا عارضی ہیجانات کا نتیجہ نہ سمجھئے گا۔ میرے پیچھے تجربات کی دنیا ہے۔ میرے مشاہدات بہت وسیع ہیں۔ میں نے کھلی آنکھوں سے دنیا کو دیکھا ہے اور انقلابات اور ان کے اثرات و نتائج کا انقلاب کی سرزمینوں میں رہ کر مطالعہ کیا ہے۔ میں آپ سے کوئی بات چھپانا نہیں چاہتا۔ میرے افکار وقفِ عام ہیں۔ اب میں چراغِ سحری ہوں۔ چاہتا ہوں کہ مرنے سے پہلے اس پیغام کو ہندوستان کے نوجوانوں تک پہنچا دوں۔ اگر یہی حالات رہے تو مجھے خطرہ ہے کہ بنگال تقسیم ہو جائے گا۔ پہلے پہل اس انقلاب کی لپیٹ میں افغانستان آئے گا۔ 
میں انقلاب کا پیامبر بن کر ہندوستان لوٹا ہوں۔ وہ دن دور نہیں کہ برطانیہ اور امریکہ والوں کو اپنے آپ کو سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔ اس انقلاب کو قیامت سے کم نہ سمجھئے۔ میں نے بڑے بڑے علما کو، بڑے بڑے افراد کو دربدر بھیک مانگتے دیکھا ہے، غیرتوں کو لٹتے دیکھا ہے۔ یہ عالم گیر انقلاب ہے۔ ایک نہ ایک دن ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے کر رہے گا۔ دیوارِ چین ہو یا سدِ سکندری، یہ سب کو خس و خاشاک کی طرح بہا کر لے جائے گا۔ دنیا ایک نئے طوفانِ نوح سے دوچار ہوا چاہتی ہے۔ بادل گھر چکے ہیں، گھٹائیں برسنے کو ہیں۔ لیکن ہمارے علما ہیں کہ ان کی نظریں کتابوں تک محدود ہیں، وہ باہر کی دنیا کو دیکھنا نہیں چاہتے۔ ہمارے سیاستدان بڑی بڑی اسکیمیں بناتے ہیں جو ان کے اغراض و مصالح پر مبنی ہوتی ہیں۔ عوام کو انتہائی نچلے درجے پر رکھ چھوڑا ہے۔
قرآن حق ہے، انجیل حق ہے، توراۃ حق ہے۔ انجیل کو غلط رنگ میں پیش کرنے سے اگر عیسائی، اور توراۃ کو غلط رنگ میں پیش کرنے سے یہودی کافر ہو سکتا ہے، تو اس ملک کے مسلمان قرآن کو غلط رنگ میں پیش کرنے سے مسلمان کیسے رہ سکتے ہیں! اب انقلاب کی گھڑی سر پر آپہنچی ہے۔ سن لو اور سنبھل جاؤ! ورنہ مٹا دیے جاؤ گے۔
اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ کل ایک طبقہ قوت و اقتدار کا مالک تھا۔ کسان اور مزدور جو کماتے تھے ان کو کھانے کو نہ ملتا تھا، اور جو طبقہ ان کی کمائی پر رہتا وہ کمانا ذلت کا نشان سمجھتا۔ اس کا نتیجہ کیا نکلا؟ کماؤ طبقے پسماندہ ہوتے چلے گئے اور کھاؤ طبقے اخلاق سے گرتے گئے۔ اگر برکتیں پھیلتی تو سرمایہ دار اور جاگیرداروں کے محلوں میں۔ ذہنوں کو جلا ہوتی تو ان کے ذہنوں کو ہوتی۔ زمانہ مدتوں اسی طرح چلتا رہا۔ سرمایہ دار اور جاگیردار مزدوروں اور کسانوں پر ظلم ڈھاتے رہے۔ آگے چل کر مشینی دور آتا ہے۔ مزدوروں نے مشینوں پر قبضہ کر لیا، جاگیردارانہ نظام ختم ہو گیا۔ آج ان کا نعرہ ہے: ’’مزدور اور کسانو، اٹھو! یہ بڑی بڑی بلڈنگیں اور محلات تمہاری کمائی سے تعمیر ہوئے ہیں۔ یہ تمہارے ہیں۔ ان کے مالک تم ہو۔ اٹھو اور ان پر قبضہ کر لو۔ اور جو آڑے آئے اسے مٹا دو!‘‘
مسلمانو! اگر زندہ رہنا چاہتے ہو تو اس فلسفے کو قبول کرو جس کی ترجمانی امام ولی اللہ دہلویؒ نے کی ہے۔ اگر تمہارے امرا نے غربا کی خیرخواہی نہ کی تو تمہارا بھی وہی حشر ہو گا جو بخارا کے مسلمانوں کا ہو چکا ہے۔ بخارا کے اندر ایک ایک مدرسہ عربی کی یونیورسٹی تھا۔ ترکی کی جو سیاسی طاقت ہے، آپ کے ملک کی وہ سیاسی طاقت نہیں۔ جس انقلاب کے سامنے بخارا کی مذہبیت نہ ٹھہری، ترکی کی سیاست نہ ٹھہری، اس کے سامنے تم اور تمہاری یہ مسجدیں اور مدرسے کیسے ٹھہر سکتے ہیں۔ جب غریب کی جھونپڑی سے انقلاب اٹھتا ہے تو وہ امیر کے محل کو بھی پیوستِ زمین کر کے جاتا ہے۔ انقلاب آتا ہے تو نہ مسجدیں دیکھتا ہے، نہ خانقاہیں، نہ ایوان و محلات، سب کو اپنے ساتھ بہا لے جاتا ہے۔
اگر میں مر گیا اور میرے مرنے کے تین سال کے اندر انگریز ہندوستان سے نہ چلا گیا تو میری قبر پر آ کر کہنا کہ انگریز یہاں بیٹھا ہے۔ یاد رکھو! میں نے انگریز کی بیخ و بنیاد کو اکھیڑ دیا ہے، اب وہ ہندوستان میں نہیں رہ سکتا، عنقریب تم مجھے یاد کرو گے، میں اپنے معاملے کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔

کیا مولانا عبید اللہ سندھیؒ اشتراکیت سے متاثر ہوگئے تھے؟

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(مولانا عبید اللہ سندھیؒ قومی سیمینار منعقدہ کراچی (۱۰ و ۱۱ ستمبر ۱۹۹۴ء) کے لیے لکھا گیا۔)


یہ المیہ کم و بیش ہر بڑی شخصیت کے ساتھ پیش آتا ہے کہ اس کی تصویر کے لیے اس کے معتقدین اور ناقدین اپنے اپنے ذوق کے مطابق الگ الگ فریم اور خاکے طے کر لیتے ہیں اور پھر تصویر کو ان میں فٹ کرنے کی متضاد کوششیں بسا اوقات اصل چہرے کو دھندلا کر کے رکھ دیتی ہیں۔ مولانا عبید اللہ سندھیؒ بھی نادان دوستوں اور بے رحم ناقدوں کے اس طرز عمل سے محفوظ نہیں رہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس منفرد انقلابی مفکر کی وفات کو نصف صدی گزر جانے کے بعد بھی ہم اس کی فکر کو لے کر آگے بڑھنے کی بجائے تاریخ کے صفحات میں اسے تلاش اور دریافت کرنے کے مرحلہ میں ہی رکے ہوئے ہیں۔

ان سوالات کا جائزہ لینے سے قبل یہ دیکھنا ضروری ہے کہ ان کی جدوجہد اور تگ و تاز کن مقاصد کے لیے تھی اور انہیں اپنی محنت کے لیے جو ماحول اور میدان ملا اس میں وہ کن مشکلات اور رکاوٹوں سے دوچار ہوئے۔

مولانا عبید اللہ سندھیؒ کا ذاتی تعارف صرف اس قدر ہے کہ وہ ایک غیر مسلم گھرانے میں پیدا ہوئے، اسکول کی تعلیم کے دور میں دوستوں کی سوسائٹی اور بعض کتابوں کے مطالعہ سے اسلام سے متاثر ہوا، اسلام قبول کیا، گھر بار چھوڑا، اور ان کی قسمت یاوری کرتے ہوئے انہیں اپنے وقت کے عارف باللہ سید العارفین حضرت حافظ محمد صدیقؒ (بھرچونڈی شریف سندھ) کی خدمت میں لے گئی جہاں ان کے دل و دماغ اور شخصیت و کردار کو ایک ایسا سانچہ میسر آگیا جس میں ڈھل کر وہ اسلام کے غلبہ و نفاذ اور ملت اسلامیہ کی عظمت رفتہ کی بحالی کی اس تحریک میں ایک کارآمد پرزے کی طرح فٹ ہوگئے، جسے تحریک ولی اللٰہی کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ اس کے بعد مولانا سندھیؒ کا تعارف تحریک ولی اللٰہی کے ایک بے لوث کارکن اور باشعور راہنما کا تعارف ہے۔ اور یہی وہ پس منظر ہے جو مولانا عبید اللہ سندھیؒ کی اصل شخصیت سے ہمیں متعارف کراتا ہے۔

مولانا عبید اللہ سندھیؒ شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کے شاگرد اور دست راست تھے جو اپنے دور میں تحریک ولی اللٰہی کے قائد اور جنگ آزادی کے سرخیل رہے ہیں۔ انہی کی وساطت سے مولانا سندھیؒ امام ولی اللہ دہلویؒ کے فلسفہ، جدوجہد اور تحریک سے متعارف ہوئے اور پھر اسی کے لیے وقف ہو کر رہ گئے۔ انہوں نے تحریک ولی اللٰہی کے لیے فکری اور نظریاتی کام بھی کیا اور معروضی حالات میں اس تحریک کو آگے بڑھانے کے لیے جاں گسل محنت بھی کی۔ بلکہ اگر قربانیوں، محنت و مشقت اور ایثار کے حوالہ سے دیکھا جائے تو شاید ہی اس دور کا کوئی اور راہنما ان کا ہم پلہ ثابت ہو سکے۔

حضرت شیخ الہندؒ اور مولانا سندھیؒ کی جدوجہد کے مقاصد اور اہداف کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس فکری اور نظریاتی جنگ کے تاریخی تسلسل پر ایک نظر ڈال لی جائے جو مسلم معاشرہ کو بیرونی فلسفوں اور معاشرتوں کے حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے طویل عرصہ سے لڑی جا رہی ہے۔

  1. اس جنگ کا پہلا دور وہ تھا جب یونانی فلسفہ نے اسلامی عقائد پر یلغار کی اور مسلمانوں کے اعتقادی حصار کو توڑنا چاہا۔ مگر غزالیؒ، ابن رشدؒ اور ابن تیمیہؒ جیسی عبقری شخصیتیں سامنے آئیں اور یونانی فلسفہ ہی کی زبان اختیار کر کے اسی کے ہتھیاروں سے اس کا راستہ روک دیا۔
  2. دوسرے دور میں ہندو تہذیب و فلسفہ نے مسلم معاشرہ کو اپنے اندر ضم کر لینے کے لیے ہاتھ پاؤں مارے مگر حضرت مجدد الفؒ ثانی اور ان کے رفقاء کی صبر آزما جدوجہد نے ہندو فلسفہ و معاشرت کی قوت ہاضمہ کو ناکارہ بنا دیا۔
  3. جبکہ اس جنگ کا تیسرا مرحلہ یورپی فلسفہ و معاشرت کی یلغار کا ہے جسے حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے قبل از وقت محسوس کر لیا اور اس کا سامنا کرنے کے لیے ایک فکری اور علمی جدوجہد کی بنیاد رکھی دی جو آج تک اس معرکہ میں مسلمانوں کے لیے ڈھال بنی ہوئی ہے۔

مولانا عبید اللہ سندھیؒ جب حضرت شیخ الہندؒ کے معاون و مددگار کے طور پر اس تحریک میں شامل ہوئے تو یہ تحریک اس مرحلہ میں تھی کہ برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش پوری طرح انگریزی عملداری میں آچکا تھا اور اس کے خلاف جہاد بالاکوٹ، بنگال کی فرائضی تحریک، اور ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی سمیت تمام مزاحمتی تحریکیں وقتی طور پر ناکامی سے دوچار ہو چکی تھیں۔ مسلمانوں کی سیاست، تعلیم، معاشرت اور معیشت کے صدیوں سے چلے آنے والے ڈھانچے دہلی کے انگریز حکمرانوں کے ہاتھوں ٹوٹ پھوٹ چکے تھے اور شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ کارکنوں کی نئی کھیپ تیار کر کے بدیشی غاصبوں کے خلاف ایک نیا معرکہ بپا کرنے کی تیاریوں میں مصروف تھے۔

گزشتہ تین صدیوں کے دوران میں جب یورپی اقوام نے دنیا بھر کو غلام بنانے کے لیے چاروں طرف یلغار کی تو یہ تنہا انگریزوں کی یلغار نہ تھی بلکہ اس میں فرانسیسی، ولندیزی، پرتگیزی اور جرمن بھی شامل تھے۔ لیکن انگریز کی شاطرانہ چالوں کے سامنے ان میں سے کوئی بھی کامیاب نہ ہو سکا اور بالآخر یہ سب یکے بعد دیگرے سپرانداز ہوتے چلے گئے۔ حتیٰ کہ اس سلسلہ کا آخری سیمی فائنل بھی انگریزوں نے جیت لیا جو کمیونزم کے خلاف ’’کولڈ وار‘‘ کے نام پر چند سال قبل تک بپا رہا ہے۔ اور اب تمام مغربی اقوام امریکہ کی قیادت میں متحد ہو کر مسلمانوں کے ساتھ فائنل میچ کے لیے پوری طرح فارم میں ہیں۔

مگر جب شیخ الہندؒ نے اس صدی کے آغاز میں دہلی کے انگریز حکمرانوں سے دو دو ہاتھ کرنے کا پروگرام بنایا تو دنیا کا سیاسی منظر آج سے بہت مختلف تھا۔ ترکی کی خلافت عثمانیہ جو پانچ صدیوں تک مسلمانان عالم کی سیاسی وحدت و مرکزیت کی علامت سمجھی جاتی رہی ہے ابھی زندہ تھی، اور جرمن ایک توانا و طاقتور حریف کے طور پر انگریز قوم کا سامنا کر رہے تھے ، بلکہ انگریز دشمنی نے ترکوں اور جرمنوں کو ایک دوسرے کے قدرتی حلیف کی حیثیت دے رکھی تھی۔ ایسے حالات میں حضرت شیخ الہندؒ نے بھی ایک ہوشیار جرنیل کی طرح انگریزوں اور جرمنوں کی باہمی کشمکش سے فائدہ اٹھانا چاہا اور اس کے لیے منصوبہ بندی کی۔ اس کی تفصیلات مولانا سید محمد میاںؒ نے اپنی کتاب ’’تحریک شیخ الہند‘‘ میں انڈیا آفس لائبریری لندن میں محفوظ سرکاری دستاویزات کے حوالہ سے مرتب کر دی ہیں اور اب جرمن وزارت خارجہ کے ایک سابق ڈپٹی سیکرٹری اور برلن یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات کے استاذ پروفیسر اولف شمل کے حوالہ سے بھی منظر عام پر آئی ہیں۔ روزنامہ جنگ لندن ۱۶ اگست ۱۹۹۴ء کے مطابق پروفیسر اولف شمل کے بقول شیخ الہندؒ کی تحریک پر جرمن، ترک اور افغان حکومتیں ان کے ساتھ ایک ایسے معاہدہ پر متفق ہوگئی تھیں جس کا مقصد برصغیر میں انگریزی اقتدار کے خاتمہ کے لیے مشترکہ کارروائی کرنا تھا۔

اس جدوجہد کو ’’تحریک ریشمی رومال‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور یہ ’’تحریک شیخ الہندؒ‘‘ کے نام سے بھی متعارف تھی جبکہ پروفیسر اولف شمل نے اسے ’’برلن پلان‘‘ کا نام دیا ہے۔ مولانا عبید اللہ سندھیؒ اس کے روح رواں تھے اور جرمنوں، ترکوں اور افغانوں کے ساتھ مذاکرات و معاہدات میں ان کے کردار کو کلیدی حیثیت حاصل رہی ہے۔ لیکن یہ تحریک بوجوہ ناکام ہوگئی اور اسی دور میں عالمی سیاسی منظر بھی تبدیل ہوگیا۔ ترکی کی خلافت عثمانیہ کا خاتمہ ہوگیا، جنگ عظیم اول میں جرمن شکست کھا گئے، اور کمیونسٹ انقلاب کے بعد روس ایک نئے حریف کے طور پر انگریزوں کے سامنے آگیا۔ ان حالات میں جبکہ شیخ الہندؒ کے پلان کی ناکامی کے بعد اس تحریک کے کم و بیش سب ارکان دہلی کی انگریزی حکومت کے عتاب کا شکار ہو کر جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے جا چکے تھے اور مولانا عبید اللہ سندھیؒ تنہا جیل سے باہر رہ گئے تھے تو ایک موقع شناس اور مدبر سیاستدان کی حیثیت سے مولانا سندھیؒ کے لیے فطری راستہ یہی تھا کہ وہ انگریزوں کے نئے عالمی حریف ’’کمیونسٹ روس‘‘ کے ساتھ سلسلہ جنبانی کرتے۔ اور جس طرح ان کے استاذ حضرت شیخ الہندؒ نے انگریزوں اور جرمنوں کی کشمکش سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی تھی بالکل اسی طرح وہ انگریزوں اور روسیوں کی کشمکش سے فائدہ اٹھانے کی راہ نکالتے۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے ماسکو کا سفر کیا، وہاں کچھ عرصہ قیام کیا، کمیونسٹ لیڈروں سے ملاقاتیں کیں، کمیونسٹ انقلاب کا مطالعہ کیا اور مغربی سرمایہ داری اور کمیونزم کی کشمکش کے پس منظر میں روسی انقلاب کے بعض پہلوؤں پر کلمہ خیر بھی کہا۔

بس یہ ہے وہ پس منظر جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یار دوستوں نے مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے اشتراکیت سے متاثر ہونے کا مفروضہ قائم کر لیا اور اب تک آنکھیں بند کر کے اس لکیر کو پیٹے جا رہے ہیں۔ بدقسمتی سے مولانا سندھیؒ کے بعض خوشہ چین جنہوں نے اپنے استاذ کی پیروی میں کمیونسٹ انقلاب اور نظام کے مطالعہ کی زحمت تو اٹھا لی لیکن ان کی طرح فکری و نظریاتی توازن قائم نہ رکھ سکے، خود پر ’’لغزش پا‘‘ کا الزام زیادہ بوجھل سمجھتے ہوئے انہوں نے اسے اپنے استاذ کی طرف منتقل کر دینے میں عافیت محسوس کی اور یہ بات ناقدین کے بے رحم ہاتھوں میں پہنچ کر ایک نئے فکری معرکے کا عنوان بن گئی۔ ستم بالائے ستم کہ نادان دوستوں اور بے رحم ناقدوں میں سے کسی نے بھی خود مولانا عبید اللہ سندھیؒ سے ان کا موقف اور پوزیشن سمجھنے کی زحمت گوارا نہ کی جو اپنی جلاوطنی کے اختتام پر ہندوستان واپسی سے چند ماہ قبل اپنی خود نوشت میں یہ تحریر فرما رہے ہیں کہ

’’۱۹۲۲ء میں ترکی جانا ہوا، سات مہینے ماسکو میں رہا، سوشلزم کا مطالعہ اپنے نوجوان رفیقوں کی مدد سے کرتا رہا۔ چونکہ نیشنل کانگریس سے تعلق سرکاری طور پر ثابت ہو چکا تھا اس لیے سوویٹ روس نے اپنا معزز مہمان بنایا اور مطالعہ کے لیے ہر قسم کی سہولتیں بہم پہنچائیں۔ (یہ غلط ہے کہ میں لینن سے ملا، کامریڈ لینن اس وقت ایسا بیمار تھا کہ اپنے قریبی دوستوں کو بھی نہیں پہچان سکتا تھا)۔ میرے اس مطالعہ کا نتیجہ ہے کہ میں اپنی مذہبی تحریک کو جو امام ولی اللہؒ کے فلسفہ کی ایک شاخ ہے، اس زمانہ کے لادینی حملہ سے محفوظ کرنے کی تدابیر سوچنے میں کامیاب ہوا۔‘‘ (بحوالہ ’’میری زندگی‘‘ مولانا سندھیؒ ص ۱۲۔ مطبوعہ مجلس قاسم المعارف دیوبند)

مولانا عبید اللہ سندھیؒ کی ’’اس نص صریح‘‘ کے بعد بھی اگر کوئی صاحب ماسکو میں مولاناؒ کے قیام، سوشلزم کے مطالعہ اور برصغیر کی آزادی کے لیے روسی راہنماؤں کا تعاون حاصل کرنے کی کوششوں کو ’’اشتراکیت سے متاثر ہونے‘‘ کا عنوان دینے پر مصر ہیں تو انہیں رائے قائم کرنے کے حق سے نہیں روکا جا سکتا لیکن مولانا سندھیؒ کا دامن اس الزام سے بہرحال پاک ہے۔

مولانا سندھیؒ پر اشتراکیت سے متاثر ہونے کے الزام کا ایک اور انداز سے بھی جائزہ لے لیا جائے تو بہتر ہوگا۔ وہ یہ کہ کمیونزم اور کمیونسٹ انقلاب کے تین الگ الگ پہلو ہیں جنہیں سامنے رکھنا ضروری ہے

  1. کمیونزم کا اعتقادی پہلو جس کا تعلق خدا تعالیٰ کے انکار، مذہب سے نفرت اور اخلاقیات سے انحراف سے ہے،
  2. مغربی سرمایہ داری اور کمیونزم کے معاشی اصولوں کے تقابلی مطالعہ میں ترجیحات کا تعین،
  3. اور روسی انقلاب کے ابتدائی دور میں دنیا بھر کی تحریکاتِ آزادی کے ساتھ اس کا ہمدردانہ طرز عمل۔

جہاں تک اعتقاد و نظریات کا تعلق ہے مولانا سندھیؒ کا بڑے سے بڑا مخالف بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ ان کے ایمان و کردار اور عبادات و اخلاق میں آخر وقت تک کوئی ایسا جھول سامنے آیا ہو جسے کمزوری تو کجا رخصت کے دائرہ میں شامل کیا جا سکے۔ ان کا ایمان و عمل تو حضرت ابوذر غفاریؓ کی طرح عزیمت و استقامت کا ایمان و عمل ہے جس کے ساتھ سوائے رشک کے اور کوئی نسبت قائم نہیں کی جا سکتی۔ اور مولانا سندھیؒ خود اپنے ایمانی عزم کا اظہار ان الفاظ میں کر رہے ہیں کہ

’’ہم پر قطعی طور پر لازم ہے کہ ہم تمام اقوام عالم کے سامنے ثابت کر دیں کہ انسانیت کے ہاتھ میں قرآن کریم سے زیادہ درست اور صحیح کوئی پروگرام نہیں ہے۔ پھر ہم پر یہ بھی لازم ہے کہ جو لوگ قرآن کریم پر ایمان لا چکے ہیں ان کی جماعت کو منظم کیا جائے خواہ وہ کسی قوم یا نسل سے تعلق رکھتے ہوں۔ ہم ان کی کسی اور حیثیت کی طرف نہ دیکھیں بجز قرآن کریم پر ایمان لانے کے۔ پس ایسی جماعت ہی مخالفین پر غالب آئے گی لیکن ان کا غلبہ انتقامی شکل میں نہیں ہوگا بلکہ ہدایت اور ارشاد کے طریق پر ہوگا جیسا کہ والد اپنی اولاد پر غالب ہوتا ہے۔ اب اس نظام کے خلاف جو بھی اٹھ کھڑا ہوگا وہ فنا کر دینے کے قابل ہوگا۔‘‘ (الہام الرحمٰن بحوالہ ’’مولانا سندھیؒ کے علوم و افکار‘‘ از مولانا عبد الحمید سواتی ص ۱۷)

’’میرا یہ غیر متزلزل یقین اور عقیدہ ہے کہ اسلام کا مستقبل بڑا روشن اور شاندار ہے۔ بے شک اسلام پوری قوت اور توانائی کے ساتھ ایک بار پھر ابھرے گا لیکن خارج میں اس کا ڈھانچہ وہ نہیں رہے گا جو اس وقت ہے۔‘‘ (ذاتی ڈائری ص ۳۳)

’’میں مطمئن ہوں کہ اسلام کا احیاء نشاۃ ثانیہ میں دو اصولوں پر ہوگا

  1. اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے۔ اور جو آدمی ہماری اس بات پر متفق ہے وہ ہماری جماعت کا فرد ہوگا۔ یہی ایک کلمہ تمام امور کے لیے کفایت کرنے والا ہے۔
  2. سود کی قطعی حرمت اور اپنی پوری طاقت کے ساتھ اس کو روکنا اور سود کھانے والوں کے خلاف اعلان جنگ کرنا۔ مسلمان ان دونوں اصولوں پر عمل پیرا ہوئے بغیر کسی طرح زندہ نہیں رہ سکتے۔‘‘
  3. (بحوالہ مولانا سندھیؒ کے علوم و افکار ص ۲۴)

البتہ مولانا سندھیؒ نے مغربی سرمایہ داری اور کمیونزم کے تقابلی مطالعہ میں اپنی ترجیحات ضرور قائم کی ہیں جو ان امور پر اجتہادی نظر رکھنے والے ہر صاحب علم کا حق ہے۔ اس حوالہ سے مولانا سندھیؒ کے افکار اور ترجیحات سے اختلاف یا اتفاق دونوں کی گنجائش موجود ہے لیکن ایسے معاملات میں جن کا تعلق قرآن و سنت کی صریح نصوص سے نہیں، انہیں رائے قائم کرنے اور ترجیحات متعین کرنے کے علمی حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح مولانا سندھیؒ نے روسی انقلاب کے ابتدائی دور میں دنیا بھر کی تحریکات آزادی کے ساتھ اس کے ہمدردانہ رویہ کی تعریف کی ہے اور ہندوستان کی آزادی کے لیے اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش بھی کی ہے۔ یہ ایک فطری، نارمل اور معقول طرز عمل ہے جو ان جیسے حالات سے دوچار کسی بھی مجاہد آزادی کے لیے ناگزیر تھا۔ لیکن یہ ضروری نہیں کہ روسی انقلاب کے بارے میں مولانا سندھیؒ کے اس دور کے تاثرات کا اطلاق بعد کے ادوار پر بھی ہو جبکہ روس خود ایک استعمار کا روپ دھار چکا تھا اور مشرقی یورپ اور وسطی ایشیا کی اقوام کی آزادی غصب کر کے ان کے مذہب، ثقافت اور معاشرت کو ملیامیٹ کرنے کے درپے تھا۔

جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں رومیوں اور ایرانیوں کی باہمی جنگ کے حوالہ سے قرآن کریم نے بھی ایک موقع پر رومیوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ہے اور رومیوں کی کامیابی کو مسلمانوں کے لیے باعث فرحت قرار دیا ہے۔ لیکن یہ ایک وقتی بات تھی اور اس وقت کے معروضی حالات کے پس منظر میں تھی۔ اس کے چند سال بعد خود جناب رسول اللہؐ صحابہ کرامؓ کا لشکر جرار لے کر تبوک کے مقام پر جہاد کے لیے رومی لشکر کا انتظار کر رہے تھے۔

مولانا سندھیؒ نے اس دور میں روسی انقلاب کے بارے میں اگر کچھ تعریفی باتیں کی ہیں تو انہیں اس دور کے معروضی حالات کے پس منظر میں ہی دیکھنا ہوگا۔ ورنہ جہاں تک کمیونزم کے اعتقادی اور نظریاتی پہلوؤں کا تعلق ہے ان کے بارے میں مولانا عبید اللہ سندھیؒ کا نظریہ اور عقیدہ بھی وہی ہے جو اس دور کے دوسرے اہل علم کا ہے کہ وہ اس سے متاثر یا مرعوب ہونے کی بجائے پوری قوت سے اس کا ابطال کر رہے ہیں اور اس کے مقابلہ میں اسلام کی حقانیت کو ثابت کرنا چاہتے ہیں۔

ہم اپنی معروضات کا اختتام مولانا سندھیؒ کے اس ارشاد پر کر رہے ہیں جس کے بعد اس سلسلہ میں کسی وضاحت کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔

’’جو امت قرآن کریم کا پروگرام نہیں اپنائے گی وہ کبھی کامیاب نہیں ہوگی۔ مسلمان قرآن کی عالمی تنظیمی دعوت کا پروگرام لے کر اٹھے اور پھر وہ اپنی اس تنظیمی دعوت میں کامیاب ہوگئے اور یہ صرف پچاس سال کی مدت یعنی واقعہ صفین کی تحکیم تک ہوا۔ اب جب کوئی امت اپنی تنظیمی دعوت لے کر اٹھے گی تو وہ کبھی بھی کامیاب نہ ہوگی جب تک وہ قرآن کے پروگرام کو نہ اپنائے۔ ہم نے یہ بات تحقیق سے دریافت کی ہے اور موجودہ دور میں عالمی تحریکات کا مطالعہ کرنے کے بعد ہمارا ایمان اس بات پر پختہ ہوگیا ہے۔ لوگ بالعموم یہ جانتے ہیں کہ روسی انقلاب فقط ایک اقتصادی انقلاب ہے، ادیان اور حیات اخروی سے بحث نہیں کرتا۔ اور ہم ان روسیوں کے پاس بیٹھے ہیں اور ان کے افکار و خیالات ہم نے معلوم کیے ہیں اور ہم نے بتدریج اور آہستہ آہستہ نرمی اور لطافت سے امام ولی اللہؒ کا پروگرام جو انہوں نے حجۃ اللہ البالغہ میں پیش کیا ان روسیوں کے سامنے رکھا تو انہوں نے اسے نہایت ہی مستحسن خیال کیا اور ہم سے پوچھنے لگے کہ کیا کوئی جماعت اس وقت ایسی ہے جو اس پروگرام پر عمل کرتی ہو؟ جب ہم نے نفی میں جواب دیا تو انہوں نے بہت افسوس کیا اور کہنے لگے اگر کوئی جماعت اس پروگرام پر عمل کرنے والی ہوتی تو ہم ان کے ساتھ شریک ہو جاتے اور ہم بھی ان میں داخل ہو کر ان کا مذہب اختیار کر لیتے اور یہ بات ہمارے لیے آسان بنا دیتی ہماری ان مشکلات کو جنہوں نے ہمارے پروگرام کو کسانوں میں نافذ ہونے سے روک رکھا ہے۔ یہ ان روسیوں کی بات کا بلا کم و کاست اور بلا تحریف کے خلاصہ ہے۔ اس کے بعد مجھے یقین ہوا کہ یہ لوگ ہمارے قرآنی پروگرام کو قبول کرنے کی طرف مجبور ہوں گے اگرچہ ایک زمانہ کے بعد ہی کیوں نہ ہوں۔ ہم آج کے دور میں عالمی تحریکوں میں سے کسی تحریک کو ایسا نہیں پاتے کہ وہ قرآنی تعلیمات کے خلاف اور مناقض ہو، جس طرح انقلابی روس کی تحریک قرآنی پروگرام کے مناقض اور مخالف ہے اور باوجود اس کے کہ وہ بھی مجبور اور مضطر ہیں کہ قرآن اور اس کے پروگرام کی طرف رجوع کریں، باقی تحریکات کا کیا پوچھنا۔ اور اس چیز نے میرے ایمان میں زیادتی اور قوت پیدا کر دی ہے کہ ہدایت اور فلاح قرآن کے نزول کے بعد صرف قرآن کریم کے اتباع پر ہی موقوف ہے۔‘‘ (الہام الرحمٰن ص ۷۰ بحوالہ مولانا سندھیؒ کے علوم و افکار ص ۱۹)

جشن یسوع ۔ لندن کی ایک مسیحی تقریب کا آنکھوں دیکھا حال

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

۱۶ جولائی ۱۹۹۴ء کی بات ہے ورلڈ اسلامک فورم کے ایک وفد کو کچھ عرب دوستوں سے ملنا تھا۔ ملاقات کی جگہ لندن میں چیئرنگ کراس ریلوے اسٹیشن کے ساتھ اسی نام کے ہوٹل کے گیٹ پر طے تھی۔ وفد میں راقم الحروف کے علاوہ مولانا محمد عیسیٰ منصوری اور مولانا مفتی برکت اللہ شامل تھے۔ اتفاق سے عرب دوستوں کو پروگرام کے دن کے بارے میں غلط فہمی ہوگئی اور فون کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ ملاقات کے لیے تشریف نہیں لا سکیں گے۔ ہم تینوں کو باہمی گفتگو کے لیے مناسب جگہ کی تلاش ہوئی، وہیں لندن کی شہرہ آفاق نیشنل آرٹ گیلری ہے جس کے سامنے ایک کھلا میدان ہے جو ہر وقت سیرگاہ بنا رہتا ہے اور ویک اینڈ پر یعنی ہفتہ و اتوار کے دن چھٹی کی وجہ سے بہت رش ہوتا ہے۔ ہم نے سوچا کہ وہیں کسی بینچ پر بیٹھ کر باہمی گفتگو کر لیں گے اور پھر اپنے اپنے ٹھکانے کی طرف روانہ ہو جائیں گے۔

میدان میں پہنچے تو میلے کا سماں تھا، ایک طرف اسٹیج بنا ہوا تھا جس پر ایک گروپ موسیقی کے آلات سنبھالے گانے بجانے میں مصروف تھا جبکہ چاروں طرف خواتین و حضرات کا ایک ہجوم تھا جو آواز کے زیروبم کے ساتھ تھرکنے میں مگن تھا۔ ایک طرف کبوتروں کی ایک بڑی تعداد زمین پر دانہ چگنے میں محو تھی، عورتیں اور بچے اپنے ہاتھوں میں ان کے لیے دانہ لیے ادھر ادھر پھر رہے تھے اور ان کے اردگرد سینکڑوں کی تعداد میں کبوتر منڈلا رہے تھے۔ یہ کبوتر روزانہ اس جگہ لوگوں کے انتظار میں ہوتے ہیں اور لوگ ایک تفریحی مشغلہ کے طور پر جمع ہو کر انہیں دانہ ڈالتے رہتے ہیں۔ خیر ہم اس سارے منظر پر سرسری نگاہ ڈالتے ہوئے ایک بینچ پر بیٹھ کر اپنی گفتگو میں مصروف ہوگئے۔ دورانِ گفتگو ایک دو بار میری نظر بعض نوجوانوں کے ہاتھوں میں پکڑی ہوئی صلیب پر پڑی۔ حسب عادت چونکا کہ صلیب کا اس میلے کے ساتھ کیا جوڑ ہو سکتا ہے، غور سے دیکھا تو اکثر لوگوں کے ہاتھوں میں صلیب نظر آئی بلکہ ایک دو بڑی صلیبیں نمایاں طور پر نصب تھیں اور بیشتر لوگوں کے کپڑوں، جسموں اور چہروں پر مختلف رنگوں سے صلیب کے نشان بنے ہوئے تھے۔

زبان سے ناواقف ہونے کی وجہ سے میں اسٹیج پر ہونے والی گفتگو اور گانوں کا مفہوم سننے کے باوجود سمجھ نہیں رہا تھا اس لیے مولانا مفتی برکت اللہ صاحب کو اس طرف متوجہ کیا کہ اس میلے کے بارے میں مجھے بتائیں کہ یہ سب کچھ کیا ہو رہا ہے؟ مفتی صاحب نے اسٹیج کی طرف غور سے دیکھا اور چند لمحات اسٹیج پر ہونے والی گفتگو اور گانے کو سن کر فرمایا کہ یہ تو ان کی مذہبی تقریب ہے اور سب مذہبی جوش و جذبہ کے ساتھ اس تقریب میں شریک ہیں۔ تقریب کی کیفیت یہ تھی کہ اسٹیج پر ایک گروپ آلاتِ موسیقی سنبھالے ہوئے تھا، یہ لوگ کبھی گانے لگتے، کبھی ان میں سے کوئی شخص تقریر کے انداز میں گفتگو کرنے لگتا۔ لاؤڈ اسپیکر کی وجہ سے آواز کافی فاصلہ پر بھی سنائی دے رہی تھی۔ گانے کے چند بول جو ہماری سمجھ میں آئے اس قسم کے تھے

’’یسوع! ہم یہاں ہیں، اے یسوع! ہم تم سے محبت کرتے ہیں، ہمیں یسوع کی ضرورت ہے۔‘‘

اسی طرح مختلف بینر بھی میدان میں لگے ہوئے تھے جن پر اسی قسم کے سلوگن درج تھے۔ ایک پر لکھا تھا

’’یسوع کا پیغام محبت کا پیغام ہے۔‘‘

ایک گول اسٹیکر جو اکثر لوگوں نے کپڑوں اور چہروں پر چپکا رکھا تھا اور مختلف کارکن جگہ جگہ کھڑے ہو کر لوگوں کو یہ اسٹیکر لگا رہے تھے اس کا مضمون یہ تھا

THE UK NEEDS JESUS (برطانیہ کو یسوع کی ضرورت ہے)

بعض اوقات اسٹیج پر گائے جانے والے گانے کی دھن کے ساتھ تقریب کے اکثر شرکاء ناچنے لگ جاتے اور کچھ لوگوں کو باقاعدہ اس طرح کا ’’حال‘‘ پڑتا نظر آرہا تھا جیسے ہمارے ہاں قوالی کے موقع پر ہوتا ہے۔ مفتی برکت اللہ ازراہ تفنن کہنے لگے کہ یہ کچھ صوفی قسم کے عیسائی لگتے ہیں۔ میں نے بھی اسی وزن پر گرہ لگا دی کہ صوفی بھی چشتی طرز کے نظر آتے ہیں (صوفیائے کرام سے دلی معذرت کے ساتھ)۔ اسٹیج کے ایک طرف دو منزلہ بس کھڑی نظر آئی جس کی پیشانی پر مستقل طور پر لکھا تھا

THE MODERN JESUS ARMY (جدید مسیحی فوج)

یہ بس اسی آرمی کی تھی جس کے ساتھ مسیحی فوج کا ایک ٹرک اور ایک ویگن بھی کھڑی تھی۔ اسی دوران اسٹیج سے اعلان ہوا کہ یہ تقریب شام کو ایک اور میدان میں ہو رہی ہے جس سے اندازہ ہوا کہ یہ ایک متحرک مذہبی میلا ہے جو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتا رہتا ہے۔ ایک طرف کچھ لڑکیاں مختلف رنگ برتنوں میں گھولے بیٹھی تھیں اور لوگ اس رنگ سے اپنے کپڑوں، بازوؤں اور چہروں پر صلیب کے نشان بنوا رہے تھے۔ بعض لڑکیوں نے اپنے بال رنگے ہوئے تھے، بعض نوجوانوں کی پشت پر پورے پنجے کے نشان بھی تھے۔ ایک بچہ اپنے دونوں ہاتھ رنگ کر باپ کے کپڑوں پر ثبت کرنے کی پوری کوشش کر رہا تھا مگر باپ اس کے لیے تیار نہیں تھا۔

خیر اسی گہماگہمی میں مولانا عیسیٰ منصوری تو گفتگو سے فارغ ہو کر جلدی چلے گئے مگر راقم الحروف اور مولانا مفتی برکت اللہ نے اس مذہبی میلہ کے گرد ایک چکر لگانا مناسب سمجھا۔ اسٹیج کے قریب گئے تو ایک نیا منظر دیکھا کہ اسٹیج پر کھڑا ایک گروپ اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے بلند آہنگ نوحہ کے انداز میں پکار رہا تھا

’’اے یسوع! ہم یہاں ہیں‘‘۔

نوحے کا انداز دیکھ کر اپنے ہاں کے شیعہ ذاکروں کا منظر نگاہوں کے سامنے گھوم گیا۔ آگے بڑھے تو ایک چھوٹا سا اسٹال نظر آیا جس پر پمفلٹ اور کتابچے فروخت ہو رہے تھے۔ ایک ورقہ جس پر اس قسم کی تقریبات کا پروگرام درج تھا مفت تقسیم ہو رہا تھا۔ ایک طرف ایک بھاری بھر کم ملنگ دو چار حواریوں کے گھیرے میں مست بیٹھا تھا، اسے دیکھ کر اپنے محترم اور کرم فرما بزرگ جہلم کے حاجی عبد الخالق یاد آگئے۔ میں نے مفتی برکت اللہ صاحب کو آمادہ کیا کہ ان سے ہلکا پھلکا انٹرویو کر لیا جائے۔ قریب گئے تو ان کا ایک ساتھی بات کے لیے آگے بڑھا، اس سے پوچھا کہ یہ تقریب کیا ہے؟ اس نے بتایا کہ یہ ہماری مذہبی تقریب ہے جو ہم سال میں دو دفعہ کرتے ہیں اور یہ تقریبات بھی ہماری تبلیغ کا حصہ ہیں۔ ہمارے سوال پر انہوں نے بتایا کہ وہ عملی اور اجتماعی زندگی سے مذہب کی لاتعلقی پر خوش نہیں ہیں اور مذہب کو دوبارہ عملی زندگی میں لانے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

تھوڑی دیر مسیحیوں کے مذہبی میلے میں گھوم کر ہم نے واپسی کا فیصلہ کیا اور ٹیوب اسٹیشن کے گیٹ پر جدا ہونے لگے تو ایک خوبرو نوجوان لڑکی نے، جو یورپی لباس میں تھی اور سر اور ٹانگوں سے بے لباس تھی، ہمارے قریب آ کر ’’السلام علیکم‘‘ کہا۔ وہ میری طرف متوجہ تھی مگر میرے لیے زبان کا مسئلہ گفتگو میں رکاوٹ تھا۔ مفتی صاحب اس سے ہم کلام ہوئے تو اس لڑکی نے بتایا کہ وہ بوسنیا کی ہے اور پناہ گزین ہے۔ مفتی صاحب اسے سلام کہہ کر آگے بڑھ گئے اور بتایا کہ یہاں خانہ بدوشوں کی ایک مستقل قوم ہے جنہیں جپسی (gypsy) کہا جاتا ہے، ان لوگوں نے بوسنیا کے حالات سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے یہاں بھیک مانگنے کا اچھا خاصا ڈھونگ رچایا ہوا ہے اور یہ لڑکی بھی آپ سے کچھ مانگنے والی تھی، انہوں نے بوسنیا کے مظلومین کے نام پر اس قدر بھیک مانگی ہے کہ خود بوسنیا کے پناہ گزینوں کو اس پر احتجاج کرنا پڑا اور انہوں نے خاصی محنت کے ساتھ اس بات کی وضاحت کی کہ یہ بھیک مانگنے والے لوگ بوسنیا کے نہیں ہیں۔

مرحوم افتخار اعظمی کی یاد میں

ادارہ

(اردو کے ممتاز شاعر افتخار اعظمی گزشتہ دنوں لندن میں انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مرحوم ورلڈ اسلامک فورم کے مقاصد اور پروگرام کے ساتھ گہری دلچسپی رکھتے تھے اور وقتاً فوقتاً فورم کے پروگراموں میں شریک ہونے کے علاوہ گراں قدر مشوروں کے ساتھ راہنمائی کیا کرتے تھے۔ اللہ مرحوم کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے اور ان کے پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق سے نوازیں، آمین یا الٰہ العالمین۔ مرحوم کی زندگی کے آخری ایام میں فورم کی ایک فکری نشست ان کی زیرصدارت منعقد ہوئی جس میں انہوں نے بھی اظہار خیال فرمایا، اس نشست کی کارروائی مرحوم کی یاد کے طور پر شائع کی جا رہی ہے۔ ادارہ)

ورلڈ اسلامک فورم کا اجلاس بعنوان ’’قرآن اور ادبِ اسلامی‘‘ اردو عربی اکادمی النگٹن پارک میڈن ہیڈ (یوکے) میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت بزرگ شاعر و ادیب جناب افتخار اعظمی صاحب نے کی۔

مولانا عیسٰی منصوری

فورم کے سیکرٹری جنرل مولانا محمد عیسٰی منصوری نے کہا کہ تحریر اور بیان کی قوت عطیۂ خداوندی اور خدا کا انعام ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ ہم نے انسان کو پیدا کیا اور اس کو قوتِ گویائی عطا کی، اس بات کا سلیقہ دیا کہ اپنی بات کو واضح کر سکے۔ یہ ایک عظیم طاقت ہے جو تعمیر کے لیے بھی استعمال ہو سکتی ہے اور تخریب کے لیے بھی۔ بین الاقوامی تاریخ میں ایسا واقعہ اور ایسا دور بار بار آیا ہے جب متاثر کرنے والا اور طاقتور قلم گمراہ ہاتھوں میں پہنچ گیا تو اس سے ایسا ادب وجود میں آیا جس نے پورے معاشرے کو متاثر کیا۔ اس ادب سے جاہلیت کی دعوت کا کام لیا گیا۔ عقائد، اخلاق اور معاشرت میں گراوٹ، کج روی اور بگاڑ پیدا ہوا۔ روم و یونان کی تاریخ پڑھیں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ اس کے زوال میں بڑا حصہ اس ادب کا تھا جو لا دینیت کا ادب، نفس و شہوت پرستی کا ادب تھا۔ قرونِ وسطٰی کی تاریخ بتاتی ہے کہ قوموں کی تباہی و بربادی کا سب سے بڑا سبب یہ ہوا کہ قلم ان لوگوں کے ہاتھ میں آ گیا جو فساد کے داعی تھے۔ نفس و خواہشات کے غلام تھے، نہ انہیں انسانیت سے محبت تھی نہ خوفِ خدا تھا۔
یہ صرف مسلمانوں ہی کی نہیں بلکہ پوری انسانیت کی بدقسمتی ہے کہ آج پھر قلم، صحافت، پریس و میڈیا پر ان کا کنٹرول ہے جو اسلام سے شدید عناد رکھتے ہیں، اور اسلام کو رجعت پسندی، فرسودگی اور بنیاد پرستی سے تعبیر کر کے اسلام کے خلاف اتنی نفرت پیدا کر رہے ہیں کہ پڑھا لکھا آدمی اپنے آپ کو مسلمان یا اسلام پسند کہتے ہوئے شرمائے۔ عالمِ اسلام کے لیے آج کے دور کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ صحافت اور الیکٹرونک میڈیا میں امتیاز پیدا کرے۔ طاقتور اور مؤثر اسلوبِ تحریر حاصل کرے۔ مغربی میڈیا و پریس کا مقصد مغرب کے استیلا و غلبہ کو دوام بخشنا ہے۔ مغرب کا ہی دانشور، صحافی، مفکر و معلم مغربی غلبہ و تسلط کا نمائندہ ہے۔ اس میڈیا کے حملہ کا ہمارے پاس کیا جواب ہے؟ اسی مغربی میڈیا کے لیے ورلڈ اسلامک فورم نے کئی محاذوں پر کام شروع کیا ہے جس میں ایک شعبہ تحریکِ ادبِ اسلامی ہے۔ آپ کو مغرب کے اسلام دشمن میڈیا کا طلسم توڑنا ہے اور اس کے لیے بھرپور تیاری کرنی ہو گی۔ بقول علامہ اقبال نگاہ بلند، سخن دلنواز اور جان پرسوز درکار ہے۔ بلند نگاہ پیدا کرنے کے لیے بڑی محنت جانفشانی کی ضرورت ہے۔ علماء کو نہ صرف انگریزی و یورپین زبانوں کو سیکھنا ہو گا بلکہ جدید عصری علوم سے آراستہ ہونا ہو گا۔ زمانہ کے معیار و مذاق کو سمجھنا ہو گا، مطالعہ کو وسیع کرنا ہو گا، تحریر و تقریر کے معیار کو بلند کرنا ہو گا۔ ادب و صحافت میں امتیاز پیدا کرنا اس دور کی سب سے بڑی ضرورت ہے اور اس کے لیے ورلڈ اسلامک فورم کوشاں ہے۔

جناب افتخار اعظمی

بزرگ شاعر و ادیب جناب افتخار اعظمی صاحب نے کہا کہ قرآن کے نازل ہونے سے عربی زبان میں علوم کے سرچشمے پھوٹے۔ قرآن نہ آتا تو علمِ بیان پر کتابیں نہ آتیں، علمِ نحو و علمِ صرف پر کتابیں نہ آتیں۔ قرآن فصاحت و بلاغت اور علمِ بیان کا شاہکار ہے۔ علمِ بیان دراصل علمِ نقد و نظر ہے، علمِ تنقید ہے۔ بیان کے معنی نہاں کو واضح کرنا۔ جو ادیب اور شاعر اپنے مافی الضمیر کو واضح نہیں کر سکتا، ناقص ہے۔ علامہ حمید الدین فراہی نے فرمایا، ہر دماغ ایک کلیا (چھوٹا برتن) ہے اور قرآن ایک سمندر ہے جو کلیا میں ظرف کے مطابق سماتا ہے۔ قرآن نے عربوں کے ادبی لہجے کو وقار اور تمکن بخشی، قرآن نے عربی ادب کو ایک مثالی اسلوب عطا کیا، عربوں کو علوم و فنون سے مالامال کیا، انہیں دنیا کا استاذ و معلم بنا دیا۔ قرآن ان کے رگ و ریشے میں اتر گیا۔
قرآن کی بدولت اسلام ہمارے اندر نفوذ کیے ہوئے ہے اور ہماری روح میں ڈھل گیا ہے۔ کمیونزم کسی کی طرح میں نہیں ڈھلا اس لیے زوال پذیر ہو گیا۔ قرآن کا ادبی پہلو کمیونزم پیدا کر سکا نہ سرمایہ داری۔ آج کل ادب و شاعری کے نام پر اسلام کے خلاف محاذ قائم کیا جا رہا ہے۔ بھارت کے ترقی پسند شاعر سردار علی جعفر نے پچھلے دنوں اقبال کو چھوٹا فلسفی اور بڑا شاعر کہہ کر اپنے کمیونزم کی رحلت کی بھڑاس نکالی ہے۔ کمیونزم کی شکست و زوال کے بعد بھی ترقی پسند اسلام کے خلاف اپنی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اقبال کی شخصیت کو گرا کر لینن کے مجسمہ گرانے کا بدلہ لینا چاہتے ہیں۔ یہاں بھی ایک لابی سرگرم ہو گئی ہے، گزشتہ دنوں پروفیسر الف رسل نے کہا کہ اقبال بڑا شاعر نہیں ہے، اس کی شاعری محض مذہبی ہے۔ انہوں نے اس دعوے کی کوئی توجیہ، کوئی دلیل نہیں دی۔ معلوم نہیں ان کے نزدیک بڑے شاعر کو ناپنے کا کیا پیمانہ ہے۔ مجھے پروفیسر الف رسل کے اس بیان پر حیرت بھی ہوئی اور مسرت بھی۔ حیرت اس پر کہ ایک پروفیسر نے اتنی سطحی بات کہی، اور مسرت اس پر کہ خدا نے مجھے پروفیسر نہیں بنایا۔ پروفیسر الف رسل کے اس بیان کو روزنامہ جنگ، آواز، راوی اور پورے اردو پریس نے اس طرح چھاپا گویا کوئی اچھوتی نئی تحقیق پیش کی ہو۔
ڈاکٹر حمید اللہ (پیرس) نے کہا کہ اگر صبح کہر آلود ہو تو یہ مطلب نہیں کہ سورج طلوع نہیں ہوا۔ الف رسل کے دماغ پر کہر طاری ہے۔ مغربیت کا یہ کہر ہٹے گا تو انہیں اقبال کے سورج کا احساس ہو گا۔ بنارس یونیورسٹی کے ہندو فلسفہ کے پروفیسر مشہور آریہ سماجی عالم ہوش نارائن نے خود مجھ سے کہا کہ کالی داس سے ٹیگور تک ہندوستان کی تین ہزار سالہ تاریخ میں اقبال کے برابر کوئی خلاق اور معمارِ قوم پیدا نہیں ہوا۔ وہ مذہبی و سیاسی لیڈر نہ ہونے کے باوجود اپنے کلام اور شاعری کی بدولت ایک ملک و ریاست کا بانی بن گیا۔ اس کے اشعار کے سانچے میں ایک قوم ڈھل گئی۔ اگر مسلمان کچھ نہ پڑھیں صرف اقبال کو پڑھیں تو کافی ہے کیونکہ اقبال کا کلام قدیم و جدید دونوں فکر کا مرقع ہے۔ اقبال نے اپنے کلام میں فلسفہ، علمِ کلام اور جدید و قدیم علوم کو سمو کر جو شاعری پیش کی ہے اگر یہ اسلامی شاعری ہے تو پھر اسلامی شاعری سے بڑھ کر کوئی شاعری نہیں۔ اقبال نے صرف چند نعتیں یا اسلامی قصیدے نہیں کہے، بلکہ اسلام کا پورا نظریہ حیات اپنے کلام میں سمو دیا ہے۔
اسی طرح مفکرِ اسلام مولانا ابوالحسن علی ندوی کے استاذ خلیل عرب یمنی اور عبد الوہاب غزالہ نے کہا، امراء القیس، نابغہ، شوقی، محلل و متبنی جیسے قادر الکلام شعراء رکھنے کے باوجود عربوں نے اقبال جیسا شاعر پیدا نہیں کیا جس کی شاعری قرآن کی آئینہ دار ہو۔ قرآن کو کسی شاعر کے کلام میں ظہور میں چودہ سو سال لگے۔ کلامِ اقبال کو ہم ’’ہست قرآن در زبان ہندوی‘‘ کہہ سکتے ہیں۔ شیخ عبد الوہاب غزالہ نے کہا، تعجب ہے قرآن کا عکس عرب شاعری پر نہیں ایک ہندی شاعر کے کلام میں جھلکتا ہے۔
پروفیسر الف رسل نے اتنا بڑا دعوٰی کیا لیکن اس کی کوئی دلیل نہیں دی کہ اقبال کیوں بڑا شاعر نہیں۔ اگر وہ استدلال پیش کرتے تو ہم مل کر دلائل کا تجزیہ کرتے۔ اس دور میں اقبال کی شاعری اسلام کے احیا کی معاون ہے اور اقبال مغرب کا سب سے بڑا نقاد ہے۔ اس لیے مغربی دانشور اپنے تحت الشعور سے اسلام کے عناد کو، جو صلیبی جنگوں سے چلا آ رہا ہے، نہیں نکال سکے۔ ایک مخالف مغرب شاعر کو کوئی مغربی دانشور کیسے بڑا شاعر مان سکتا ہے، جبکہ وہ شاعر اسلام کا عاشق اور مغربی تہذیب و تمدن کا نقاد بھی ہو۔ یاد رہے کہ اقبال فرنگی تہذیب و سیاست کا مخالف ہے، مغربی علوم و عالمی علوم و فنون کا مخالف نہیں۔ پروفیسر الف رسل کا بیان اسلام کے احیا کے خلاف یورپی مغربی ذہن و فکر کا آئینہ دار ہے۔ مجھے تعجب و حیرت ہے کہ یہاں (برطانیہ میں) شعراء، ادباء، صحافی الف رسل کے بیان پر ساکت و دم بخود ہیں اور پورے اردو پریس و صحافت میں کوئی ردعمل نہیں ہوا۔

جناب نصر اقبال ڈار

ممتاز ادیب جناب نصر اقبال ڈار نے کہا کہ آج مغرب کی سپر طاقتیں اسلام سے خوفزدہ ہیں۔ روس کی شکست کے بعد مغربی میڈیا نے اسلام کا یہ ہوا کھڑا کیا ہوا ہے کہ اسلام مغرب کو نگل جائے گا۔ اسلامی احیا کے خدشہ کے پیش نظر مغرب کا تعصب دوبالا ہو گیا ہے۔ پروفیسر الف رسل کے بیان کو اسی پس منظر میں دیکھنا چاہیے۔

جناب انور نظام الدین

پاکستان سے آنے والے معزز مہمان اور تحریکِ اتحادِ اسلامی کے راہنما جناب انور نظام الدین صاحب نے کہا کہ مغرب نے ماضی میں اسپین میں جو کیا وہی آج بوسنیا میں کر رہا ہے۔ یورپ میں اسلام کا وجود مغرب کے لیے ناقابلِ برداشت ہے۔ اسلام کی اس مظلومیت کے عالم میں بھی مغربی میڈیا کے اسلام پر حملے مغرب کے کھوکھلے پن کی دلیل ہے۔

جناب عادل فاروقی

تحریکِ ادبِ اسلامی کے کنوینر جناب عادل فاروقی نے کہا، اقبال نے وسطِ ایشیا کی ریاستوں کے ایک ہونے کا خواب دیکھا تھا۔ فارسی زبان وسطی ایشیا میں اب بھی مقبول ہے۔ اقبال کا کلام ان کو نئی طاقت و توانائی دے سکتا ہے۔ شاید پروفیسر الف رسل اسی اندیشہ کی بنا پر اقبال کی اہمیت گھٹانا چاہتے ہیں۔ اقبال نے فرنگی تہذیب و تمدن اور اس کی انسانیت نوازی کا پردہ چاک کیا ہے، اور مغرب کے مکر و فریب اور گھناؤنے عزائم کو عریاں کیا ہے۔ یہ ایک فرنگی دانشور الف رسل کیسے گوارا کر سکتا ہے۔
اجلاس کے آخر میں کاؤٹری کے ممتاز عالمِ دین مولانا عبد الوہاب صدیقی کے انتقال پر جناب عادل فاروقی صاحب نے تعزیتی قرارداد پیش کی اور اجلاس میں ان کی مغفرت و رفع درجات کے لیے دعا کی گئی۔

افکارِ سندھیؒ

ادارہ

(ماہنامہ الشریعہ شمارہ ستمبر ۱۹۹۴ء میں مولانا سندھیؒ کے حوالے سے شائع ہونے والے شذرات)


’’دنیا میں اب تک جو انقلابات ہوئے ہیں، وہ سب کے سب جزوی انقلابات تھے۔ ان میں سے کوئی بھی ایسا انقلاب نہ تھا جو ساری انسانیت کو اپنے اندر لینے کی کوشش کرتا۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم آخری امامِ انقلاب ہیں، جن کی دعوت کل انسانیت کے انقلاب کے لیے ہے، اور آپؐ نے اس کا سب سے اچھا نمونہ حجاز میں قائم کر کے دکھا دیا، جسے دنیا اب تک اسی حیثیت سے جانتی ہے اور مانتی ہے۔ آپؐ کے انقلاب میں اس وقت کی مہذب قوموں کا بڑا حصہ آ گیا، اور سب کو انسانیت کی خدمت کے ایک نقطے پر جمع کر کے ان کے تعلقات ان کے خالق کے ساتھ درست کر دیے، بلکہ ان کے آپس کے تعلقات بھی ٹھیک کر دیے۔ اب جب کبھی کوئی جماعت جامع کُل قومی انقلاب پیدا کرنا چاہے گی، اسے آپؐ ہی کے پیچھے چلنا ہو گا۔ جو جماعت اس پروگرام کے خلاف کوئی اور پروگرام لے کر اٹھے گی، وہ یا تو سرے سے ناکام رہے گی یا صرف جزوی طور پر کامیاب ہو گی۔ چنانچہ فرانس، جرمنی، ترکی اور روس (وغیرہ) کے انقلابات اس اصول کی ظاہری مثالیں ہیں۔ یہ انقلاب سب انسانی ضرورتوں کو اپنے اندر نہیں لیتے، جس طرح حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیدا کیے ہوئے انقلاب نے لیا تھا۔‘‘ 

(دستورِ انقلاب ۔ ص ۱۴۹ و ۱۵۰)

’’مشاورت کا مسئلہ اسلام میں بہت بڑا مسئلہ ہے، لیکن اسلامی حکومتوں کو شورٰی سے خالی کر کے مطلق العنان انسان، جاہل حکمرانوں اور امیروں کا کھیل بنا دیا گیا۔ وہ مسلمانوں کی امانت (سرکاری خزانے) سے اپنی شہوت پرستیوں پر روپیہ صرف کرتے ہیں۔ وہ بڑی بڑی مصلحت کے مقابلے میں خیانتیں کرتے ہیں اور ان سے کوئی پوچھنے والا نہیں۔ اس قسم کی غلطیوں کا خمیازہ مسلمانوں کو صرف اس غلط تفسیر کی وجہ سے بھگتنا پڑا۔ ورنہ ہر ایک مسلمان ایک حاکم کے اوپر ننگی تلوار ہے اور وہ حاکم کیوں قانونِ الٰہی کی اطاعت نہیں کرتا؟ اگر وہ اطاعت نہیں کرتا تو کس بنا پر ہم سے اطاعت کا طلبگار ہوتا ہے؟ یہ طاقت مسلمانوں میں پھر سے پیدا ہو سکتی ہے اور اس سے ان کی جماعتی زندگی آسانی کے ساتھ قرآن کے مطابق بن سکتی ہے۔‘‘

(عنوانِ انقلاب ۔ ص ۱۲۶)


’’تنظیم و تبلیغ، تعلق باللہ کی استواری، غربا و مساکین کی باقاعدہ منظم خدمت، ظاہری و باطنی طہارت اور پاکیزگی کو اختیار کرنا، خیالات، افعال اور اخلاق کی طہارت کو اختیار کرنا، زرپرستی اور سرمایہ داری کی ہر شکل و صورت کو مٹانا، افراد و اشخاص کے تعلق کو اجتماعِ انسانی سے صحیح طریق پر قائم کرنا، انسان میں اپنے افکار و اعمال، افعال و کردار کی ذمہ داری کے احساس کو بیدار کرنا، ہر شخص کو اس قرآنی انقلاب میں حصہ لینے کے لیے اپنی ذمہ داری کو پورا کرنا، تمام عالم میں کُل قومی پیمانہ پر عدل و انصاف کو قائم کرنے کا پختہ عزم، یہ سب قرآنی تحریک و انقلاب کا مقصد ہے۔‘‘

(شاہ ولی اللہ اور ان کی سیاسی تحریک ۔ مولانا عبید اللہ سندھیؒ)


’’نام نہاد کمیونزم میں جس قدر مسکین نوازی ہے، اس سے کہیں زیادہ مسکین نوازی امام ولی اللہؒ کے فلسفے میں ہے، اور اس میں مزدور اور کاشتکار کے حقوق کا زیادہ خیال رکھا گیا ہے، لیکن اس کی بنیاد خدا کے صحیح اور صاف تصور پر ہے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ایک کارکن اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ اس زندہ تصور کے ساتھ گزارتا ہے کہ خدا تعالٰی اس کے سامنے ہے یا کم از کم یہ کہ خدا تعالٰی اسے دیکھ رہا ہے۔ وہ یہ تصور بھی ایک زندہ اور پائیدار شکل میں اپنے سامنے رکھتا ہے کہ اگر اس نے کم تولا یا کسی کے حق کو ناجائز طور پر پاؤں تلے روندا تو وہ دنیا میں بھی سزا پائے گا اور مرنے کے بعد بھی اسے خدا تعالٰی کے سامنے حاضر ہو کر اپنے عملوں کی جوابدہی کرنی ہو گی۔ امام ولی اللہؒ صاحب کی حکمت اسے یہ بھی سکھاتی ہے کہ قرآن حکیم پر عمل کرنے والے کارکن کو خدا تعالٰی کے سوا کسی سے اپنے عمل کا بدلہ لینا ضروری نہیں۔ انسان بے شک اس لیے پیدا ہوا ہے کہ دنیا میں قرآن حکیم کی حکومت بین الاقوامی درجہ پر چلائے، لیکن وہ اس حکومت کے ذریعے سے اپنے لیے یا اپنے خاندان کے لیے کوئی فائدہ حاصل کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ قرآن حکیم کی تعلیم کا نتیجہ یہ نکلا کہ صدیق اکبرؓ اور فاروق اعظمؓ کی حکومتیں بے نظیر ثابت ہوئیں اور آج تک دنیا ان کی مثال پیدا نہیں کر سکی۔ اب اس دور میں بھی امیر المومنین سید احمد شہیدؒ (۱۷۸۶ء۔۱۸۳۱) اور ان کے ساتھیوں نے انہی اصولوں پر اس نمونے کی حکومت پیدا کر کے ایک دفعہ پھر دکھا دی اور ثابت کر دیا کہ اس قسم کی حکومت پیدا کرنا ہر زمانے میں ممکن ہے۔ قرآن حکیم ماننے والوں کے لیے اس میں بہت بڑی عبرت اور ذمہ داری ہے۔‘‘

(عنوانِ انقلاب ۔ ص ۵۹)


’’یہ گھروندے جو تم نے بنا رکھے ہیں اور انہیں تم فلک الافلاک سے بلند سمجھتے ہو، یہ گھروندے زمانہ کے ہاتھ سے اب بچ نہیں سکتے۔ تمہارا تمدن، تمہارا سماج، تمہارے افکار، تمہاری سیاست اور تمہاری معاشرت سب کھوکھلی ہو چکی ہے۔ تم اسے اسلامی تمدن کہتے ہو، لیکن اس تمدن میں اسلام کا کہیں شائبہ بھی نہیں۔ تم مذہب کا نام لیتے ہو، لیکن یہ مذہب تمہاری ہٹ دھرمی کا نام ہے۔ مسلمان بنتے ہو تو اسلام کو سمجھو۔ یہ اسلام جسے تم اسلام کہتے ہو، یہ تو کفر سے بھی بدتر ہے۔ تمہارے امیر جاہ پرست ہیں، حکمران شہوات میں پڑے ہیں، اور غریب طبقے توہمات کا شکار ہو رہے ہیں۔ بدلو، ورنہ زمانہ تمہارا نشان تک بھی نہ چھوڑے گا۔ سنبھلو ورنہ مٹا دیے جاؤ گے۔‘‘

(مولانا عبید اللہ سندھیؒ از پروفیسر محمد سرور مرحوم ۔ ص ۳۷)


آہ! مولانا مفتی عبد الباقی ؒ و مولانا منظور عالم سیاکھویؒ

ادارہ

گزشتہ ہفتہ کے دوران ورلڈ اسلامک فورم کے سرپرست اعلیٰ اور ویمبلڈن پارک لندن کی جامع مسجد کے خطیب حضرت مولانا مفتی عبد الباقی انتقال فرماگئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ کافی عرصہ سے فالج کے مریض تھے اور وفات کے وقت ان کی عمر ساٹھ برس سے زائد تھی۔ مفتی صاحب مرحوم کا تعلق صوبہ سرحد پاکستان کے ضلع مردان سے تھا، وہ حضرت السید مولانا محمد یوسف بنوریؒ کے معتمد شاگردوں میں شمار ہوتے تھے اور ۱۹۷۰ء کے لگ بھگ مولانا بنوریؒ ہی کے ارشاد پر لندن آگئے تھے۔ اس لیے کہ یہاں کے مسلمانوں نے مولانا بنوریؒ سے ایسا عالم بھجوانے کی فرمائش کی تھی جس سے دینی و علمی مسائل میں راہنمائی حاصل کی جا سکے۔ مولانا مفتی عبد الباقی کو ان کے علم، تقویٰ اور دیانت و امانت کے باعث علمی و دینی حلقوں میں احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اور انہیں مفتی برطانیہ کی حیثیت حاصل تھی۔ مولانا مرحوم ورلڈ اسلامک فورم کے سرپرست تھے اور نومبر ۱۹۹۲ء میں فورم کا تاسیسی اجلاس انہی کی زیر صدارت منعقد ہوا تھا۔ بعد میں بھی علالت اور ضعف کے باوجود وہ فورم کے اجلاس میں شریک ہوتے رہے اور سرپرستی و دعاؤں سے نوازتے رہے۔
مولانا مرحوم کے معالج کے مطابق وہ وفات سے قبل مسلسل قرآن کریم کی تلاوت کرتے رہے اور اسی حالت میں اللہ کو پیارے ہوگئے۔ ان کی نماز جنازہ ویمبلڈن پارک کی مسجد میں تبلیغی جماعت برطانیہ کے امیر حاجی حافظ غلام محمد پٹیل صاحب نے پڑھائی جس میں علماء کرام اور دیگر طبقات کے مسلمانوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ جنازہ کے بعد انہیں مورڈن کے قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کریں، ان کی خدمات قبول فرمائیں، سیئات سے درگزر کریں اور پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔
اسی دوران آزاد کشمیر کے ایک بزرگ عالم دین حضرت مولانا منظور عالم سیاکھویؒ بھی نوٹنگھم برطانیہ میں انتقال فرما گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مرحوم میرپور آزاد کشمیر کی بزرگ علمی شخصیت حضرت مولانا محمد ابراہیم سیاکھویؒ کے فرزند اور ورلڈ اسلامک فورم کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا رضاء الحق کے والد گرامی تھے۔ ان کی ساری زندگی دینی علوم کی تدریس و تعلیم میں بسر ہوئی اور اب کچھ عرصہ سے نوٹنگھم میں قیام پذیر تھے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں جگہ دیں اور پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔