مسلم ممالک میں ریاستی جبر کا شکار دینی تحریکات
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
روزنامہ جنگ لاہور ۲۲ اکتوبر ۱۹۹۴ء کی ایک خبر کے مطابق مراکش کے دارالحکومت رباط میں ۴۱ مسلم ممالک کے وزرائے مذہبی امو رکی دو روزہ کانفرنس کے شرکاء نے ایک قرارداد کے ذریعہ مذہبی جنونیت اور کٹرپن کی مخالفت کی ہے اور اسلامی ممالک پر زور دیا ہے کہ اسلامی ثقافت کو فروغ دیں اور اسلام کی حقیقی تعلیمات کو پھیلائیں۔
مذہبی جنونیت اور کٹرپن کے خلاف کافی عرصہ سے منظم مہم چلائی جا رہی ہے جس میں مغربی ممالک کی حکومتیں، لابیاں اور ذرائع ابلاغ پیش پیش ہیں اور بنیاد پرستی کی مخالفت کے نام پر مسلم ممالک میں دینی بیداری اور اسلامی نظام کے نفاذ کی تحریکات کو ہدف تنقید بنا رہی ہیں، جبکہ مسلم ممالک کی حکومتیں اور سیکولر لابیاں بھی اس مہم میں ان کے ساتھ شریک ہیں۔ اس طرح عالمی سطح پر کمیونزم اور مغربی جمہوریت کی سرد جنگ کے خاتمہ کے بعد ایک نئی سرد جنگ کا آغاز ہوگیا ہے جس میں ایک طرف عالم اسلام کی دینی تحریکات ہیں جو مسلم معاشرہ میں قرآن و سنت کے احکام و قوانین کی مکمل عملداری کے لیے سرگرم عمل ہیں اور دوسری طرف دنیا بھر کی غیر مسلم اور مسلم حکومتیں اور لابیاں ہیں جو اسلامی بیداری کی تحریکات کو بنیاد پرست، جنونی اور کٹرپن کی حامل قرار دے کر ان کی مخالفت اور کردار کشی کا بازار گرم کیے ہوئے ہیں۔
عالم اسلام کی صورتحال یہ ہے کہ بیشتر مسلم ممالک میں دینی جماعتیں اور عوام اسلامی نظام کے نفاذ کی جدوجہد میں مصروف ہیں جنہیں سب سے زیادہ اپنے ملک کے مسلم حکمرانوں کی مخالفت کا سامنا ہے۔ اور بعض ممالک میں دینی تحریکات ریاستی جبر اور تشدد کا مسلسل نشانہ بنی ہوئی ہیں جن میں مصر، شام، تیونس اور الجزائر بطور خاص قابل ذکر ہیں۔ اور اب سعودی عرب میں سرکردہ علماء کرام اور ان کے رفقاء کی گرفتاریوں نے اس صورتحال کو اور زیادہ افسوسناک بنا دیا ہے۔ اس وقت تک حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق سعودی عرب میں الشیخ سلمان العودہ اور الشیخ سفر الحوالی جیسے سرکردہ علماء کرام صرف اس جرم میں پابند سلاسل ہیں کہ وہ عالم اسلام بالخصوص عرب ممالک پر امریکہ کی بالادستی کی مخالفت کر رہے ہیں اور بادشاہت کی بجائے قرآن و سنت کے مطابق شرعی حقوق کی بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ جبکہ شام میں علماء کی ایک بڑی تعداد جیلوں میں بند ہے اور بہت سے سرکردہ علماء کرام جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ اسی طرح مصر میں علماء اور دینی کارکنوں پر زندگی تنگ کر دی گئی ہے۔ اور الجزائر کی صورتحال تو عالمی ضمیر کے لیے چیلنج کی حیثیت اختیار کر گئی ہے جہاں اسلامی قوتوں نے تشدد اور طاقت کا راستہ اختیار کرنے کی بجائے الیکشن اور ووٹ کا راستہ اپنایا اور انتخابات میں اکثریت حاصل کر لی مگر ووٹ کے اس فیصلہ کو گولی کی قوت کے ذریعہ مسترد کر دیا گیا۔ جمہوریت اور انسانی حقوق کا شب و روز ڈھنڈورا پیٹنے والی مغربی حکومتیں اور لابیاں الجزائر کے عوام کے جمہوری فیصلہ اور انسانی حقوق کے کھلم کھلا پامالی پر نہ صرف خاموش تماشائی ہیں بلکہ اپنا وزن گولی اور طاقت کے پلڑے میں ڈالے ہوئے ہیں ۔
اس پس منظر میں جب ہم مسلم ممالک کے وزرائے مذہبی امور کو مذہبی جنونیت اور کٹرپن کی مخالفت میں متفق دیکھتے ہیں تو ہمیں وہ اسلام اور عالم اسلام کی تحریکات کے خلاف مغربی ممالک کی وکالت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ہم بذات خود نفاذ اسلام کی جدوجہد کو تشدد اور طاقت کے ذریعہ آگے بڑھانے کے حق میں نہیں ہیں اور منطق و استدلال اور رائے عامہ کی قوت کے صحیح استعمال کو ہی غلبۂ اسلام کے لیے صحیح اور محفوظ ذریعہ خیال کرتے ہیں۔ لیکن ہم رباط میں جمع ہونے والے وزرائے مذہبی امور سے یہ ضرور پوچھنا چاہتے ہیں کہ جب اسلام کے غلبہ و نفاذ کی پر امن تحریکات کا حشر الجزائر کی طرح ہوگا اور مسلم عوام کے اکثریتی فیصلہ کو گولی کی طاقت سے مسترد کر کے انہیں غیر اسلامی نظام کے تحت زندگی بسر کرنے پر مجبور کیا جائے گا تو اس ریاستی جبر کے ردعمل کو آخر کس طرح پر امن رکھا جا سکے گا؟ ہم دیانتداری کے ساتھ یہ سمجھتے ہیں کہ بعض مسلم ممالک کی دینی تحریکات میں اگر تشدد کا عنصر داخل ہوگیا ہے تو یہ ان ممالک کی حکومتوں کے ناروا طرز عمل اور ریاستی جبر کا فطری ردعمل ہے جس پر دینی تحریکات کو کوسنے کی بجائے ان مسلم ممالک کی حکومتوں کو اپنے طرز عمل پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔
مسلم ممالک کے حکمران نوشتۂ دیوار پڑھیں اور مغربی استعمار کی وکالت کرنے کی بجائے مسلم عوام کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے مغرب کے نوآبادیاتی استعماری نظام سے نجات اور قرآن و سنت کے نظام کے نفاذ کا اہتمام کریں، اور اپنے مغربی آقاؤں کی اس تاریخ کو یاد رکھیں کہ وقت آنے پر یہ ایران کے رضا شاہ پہلوی اور فلپائن کے مارکوس جیسے وفاداروں کی آہوں اور سسکیوں پر توجہ دینے کا تکلف بھی نہیں کیا کرتے۔
شاہ ولی اللہؒ، ایک تاریخ ساز شخصیت
ذوالفقار علی ایم اے
شاہ ولی اللہ وہ نادر روزگار شخصیت ہیں جن کی تعلیمات سے رہتی دنیا تک انسانیت مستفیض ہوتی رہے گی۔ انبیاء علیہم السلام کے بعد دنیا میں کم ہی ایسی شخصیات پائی گئی ہیں جن کے افکار نے دنیا سے اپنی حقیقت منوائی ہو۔ عالمِ اسلام میں آپ وہ پہلی شخصیت ہیں جنہوں نے شریعت کا فلسفہ مدون کیا اور عقائد و اعمال کی حکیمانہ تشریح کی اور اسرار و رموز کو اور کلی و جزوی احکام کو فلسفہ کے ساتھ اس طرح بیان کیا کہ شریعت با آسانی سمجھ آ جاتی ہے۔
آپ کے والد محترم شاہ عبد الرحیم بھی جید عالمِ دین تھے۔ فتاوٰی عالمگیری کی نظرثانی اور اصلاح کا کام آپ نے ہی کیا تھا اور مدرسہ رحیمیہ کے بانی آپ ہی تھے۔
شاہ صاحب کے صاحبزادوں نے بھی اپنے باپ اور دادا کی تقلید میں کام کرتے ہوئے نام پایا ہے۔ شاہ عبد العزیز، شاہ رفیع الدین، شاہ عبد القادر اپنے وقت کے مشہور مفسر و محدث ہوئے، جبکہ چوتھے بیٹے شاہ عبد الغنی خود تو مشہور نہ ہوئے مگر آپ کے صاحبزادے شاہ اسماعیل شہید نے سکھوں کے خلاف جہاد شروع کر کے ایک نئی تاریخ رقم کی اور بالاکوٹ میں شہید ہوئے۔
شاہ صاحب کے کارنامے
شاہ صاحب نے ۱۱۴۴ھ میں مکہ مکرمہ میں خواب دیکھا تھا جس میں آپ کو یہ بشارت دی گئی تھی کہ ہندوستان میں آپ کی مساعی جمیلہ سے مسلمانوں کے اندر پائے جانے والے مفاسد کا تدارک ہو گا اور دینی و سیاسی امامت آپ کو ملے گی۔
(۱) آپ نے سب سے پہلے قرآن مجید کا فارسی میں ترجمہ ’’فتح الرحمان‘‘ کیا۔
(۲) آپ نے تقلید کے بجائے اجتہاد کی راہ اپنائی۔
(۳) امت کے مختلف طبقات کی اصلاح کے لیے کوشش شروع کر دی۔
(۴) حدیث کے احیاء کے لیے مدرسہ رحیمیہ میں کام شروع کیا اور یہ مدرسہ برصغیر میں اولین دارالحدیث کہلایا۔
(۵) اسرائیلیات اور ضعیف روایات کو ترک کر کے کتاب و سنت پر عمل کرنے کی ترغیب دی۔
(۶) آپ نے فقہ میں اجتہاد کو ہر دور میں فرضِ کفایہ قرار دیا اور جامد و اندھی تقلید کی مذمت کی۔
(۷) مختلف فقہی مسالک میں صلح اور تطبیق پیدا کرنے کی کوشش کی، فقہا و صوفیا میں صلح کرائی، اور فقہائے محدثین کا ایک گروہ تیار کیا۔
(۸) آپ نے شیعہ و سنی اختلاف کو ختم کرنے کی بھی بھرپور کوشش کی۔ آپ نے عالی سنیوں کے تشدد اور شیعوں کی غلط فہمیوں کے ازالہ کے لیے ’’ازالۃ الخفا من خلافۃ الخلفا‘‘ تحریر کی۔
(۹) وحدت الوجود اور وحدت الشہود کے مسئلہ پر اختلاف کے سبب شریعت و تصوف میں تطبیق پیدا کی۔ آپ نے مذہب کی ’’رسوم‘‘ کے بجائے مذہب کی اصل روح پر زور دیا۔
سیاسی نظریات
شاہ صاحب نے اصلاحِ معاشرہ کے ساتھ ساتھ اہلِ سیاست کو بھی اصلاح کی ترغیب دی اور خود سیاست سے باہر رہ کر اہلِ سیاست کو متاثر کیا۔ آپ نے نجیب الدولہ کو سیاسی لحاظ سے مضبوط کیا اور اسلام کے دفاع کی ترغیب دی۔ آپ نے مرہٹوں کے بڑھتے ہوئے عزائم کو خاکستر کرنے کے لیے احمد شاہ ابدالی کو دعوت دی جس نے پانی پت کے میدان میں مرہٹوں کو شکست فاش دی۔ آپ مرکزیت اور متحدہ ہندوستان کے قائل تھے۔ اس کے لیے آپ نے تجاویز اور نیا دستور پیش کیا۔ آپ نے عدل و انصاف کے رائج کرنے اور تمام مسلمانوں کو یکساں حقوق عطا کرنے کے داعی تھے۔ کیوں نہ ہوتے کہ آپ کی رگوں میں فاروقی خون دوڑتا تھا۔
مخالفت و ابتلا
اہلِ حق کو مخالفت اور ابتلا کا جس طرح سامنا کرنا پڑتا ہے، شاہ ولی اللہ بھی اس سے نہ بچ سکے۔ قرآن مجید کے ترجمہ کرنے کے سبب شہر کے علماء آپ کے مخالف ہو گئے اور فتوٰی لگا کر قتل کرنے کے درپے ہو گئے۔ جامع مسجد فتح پور دہلی میں نماز پڑھ رہے تھے کہ بے پناہ ہجوم آپ پر چڑھ دوڑا، خوش قسمتی سے وہاں سے بچ نکلے۔ بعد میں حالات سے پریشان ہو کر مکہ مکرمہ چلے گئے، کچھ عرصہ بعد واپس آئے تو نجف علی خان نے ہاتھوں کو بے کار کروا دیا تاکہ کچھ لکھ نہ سکھیں۔
آپ نے اپنے پیچھے ۴۳ عدد مشہور و معروف کتب چھوڑیں اور چار عالم و فاضل بیٹے امت کو ترکے میں دیے۔
نئی نسل کی فکری اصلاح اور ذہنی تربیت کی اہمیت
ڈاکٹر محمود احمد غازی
(۶ اگست ۱۹۹۴ء کو اسلامک کلچرل سنٹر ریجنٹ پارک لندن میں ورلڈ اسلامک فورم کے دوسرے سالانہ تعلیمی سیمینار سے دعوۃ اکیڈمی اسلام آباد کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمود احمد غازی کا خطاب)۔
آج دنیائے اسلام جس افراتفری، بے مقصدیت اور انحطاط کا شکار ہے اس کی مثال ماضی کےکسی بحران میں نہیں ملتی۔ اسلامی تاریخ کی شاید ہی کوئی صدی ایسی گزری ہو جس میں مسلمانوں کو کسی بڑی آزمائش اور بحران سے دوچار ہونا نہ پڑا ہو، لیکن تاریخ شاہد ہے کہ مسلمان ہر آزمائش اور بحران میں سرخرو ہوئے اور بڑی کامیابی سے اس سے عہدہ برآ ہوئے۔یونانیوّں کے علوم و فنون کے استیلا اور غلبہ کا مسئلہ ہو، تاتاریوں کی یورش ہو، ہندوستان میں ہندو اساطیر کے زیر اثر غیر اسلامی تصوف کا عروج ہو، ان سب مسائل کا مسلمان اکابر و عوام نے بڑی کامیابی سے سامنا کیا۔ لیکن مغربی تہذیب کا غلبہ ایسا وسیع الاطراف اور کثیر الجہات بحران لے کر آیا ہے کہ جس سے عہدہ برآ ہونے کی کوئی صورت ابھی تک واضح نہیں ہوئی۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ ماضی کے سارے مسائل و مشکلات زندگی کے کسی ایک پہلو پر اثرانداز ہوتے تھے اور زندگی کے دوسرے پہلو اس سے محفوظ رہتے تھے۔ یونانیوں کے علوم کا فتنہ اہلِ علم کے ایک بہت ہی محدود طبقہ میں منحصر تھا، جس کی تعداد امت میں شاید ایک فی ہزار بلکہ ایک فی لاکھ بھی نہ ہو۔ امت کے بقیہ افراد اس سے بالکل لاتعلق اور بے زار رہے اور یوں اس فتنہ کے اثرات سے عام آدمی ذرہ برابر متاثر نہ ہوا۔ یہی حال بقیہ تمام بحرانوں کا ہوا۔ اس کے برعکس مغربی تہذیب و تمدن کا لایا ہوا بحران ہمہ جہت اور کثیر الاطراف ہے۔ اس کے نتیجہ میں مسلمان سیاسی طور پر کمزور، عسکری طور پر شکست خوردہ، معاشی طور پر محتاج، فکری طور پر غلام، تہذیبی طور پر مغرب کے طفیلی، اور تمدنی طور پر استعمار کے حاشیہ نشین بن کر رہ گئے ہیں۔ ان میں سے ہر پہلو دوسرے پہلو پر اثر انداز ہوتا ہے اور یوں صورتحال دن بدن بد سے بدتر ہوتی چلی جا رہی ہے۔
آج حالت یہ ہے کہ سیاسی کمزوری کے نتیجہ میں عسکری کمزوری پیدا ہو رہی ہے، اور عسکری کمزوری کا نتیجہ معاشی بدحالی اور اقتصادی غلامی کی شکل میں ظاہر ہو رہا ہے۔ اقتصادی غلامی سے ذہنی مرعوبیت پیدا ہو رہی ہے، جس سے فکری آزادی کے سارے تصورات مٹتے چلے جا رہے ہیں۔ اور جوں جوں فکری غلامی کی جڑیں گہری ہو رہی ہیں، ہم ثقافتی اور تہذیبی میدانوں میں تیزی سے مغرب کے حاشیہ نشین اور نقال بنتے جا رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ حاشیہ نشینوں اور نقالوں اور طفیلیوں میں سیاسی قوت پیدا ہو ہی نہیں سکتی۔
اس صورتحال میں یہ امر بڑا اہم ہے کہ کام کا آغاز کہاں سے ہو۔ گزشتہ پچاس ساٹھ سال کے دوران سارے ممکنہ نسخے آزمائے گئے ہیں لیکن صورتحال روز بروز ابتری کی طرف مائل ہے۔ مغرب کے سیکولر جمہوری نظام سے لے کر ترقی پذیر معاشیات کے سارے گر اپنائے گئے لیکن نتیجہ جو کچھ نکلا وہ سب کے سامنے ہے۔
حضرت امام مالکؒ نے بہت خوب فرمایا تھا ’’لا یصلح اٰخر ھذہ الامۃ الا بما صلح بہ اولھا‘‘۔ سرکاری دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے فکری اصلاح فرمائی، لوگوں کے ذہن بدلے، غلط تصورات اور عقائد کو لوگوں کے ذہنوں سے نکالا، اور پھر ایک ایک ایک کر کے دوسرے امور کی اصلاح فرمائی اور یوں ایک مکمل اسلامی زندگی وجود میں آئی۔
آج بھی آغازِ کار فکری اصلاح اور ذہنی تربیت ہی کے کام سے ہونا چاہیے، جس کے لیے سب سے پہلے تعلیم اور ابلاغ کے میدانوں میں کام کرنا ضروری ہے۔ جس طرح ہر دور کی ایک زبان، ایک عرف اور محاورہ ہوتا ہے، اسی طرح ہر دور کے علوم، فکری مسائل اور رکاوٹیں بھی الگ ہوتی ہیں۔ فکری اصلاح اور ذہنی تربیت کے کام میں ان کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ خود ہمارے فقہاء کرام نے فقیہ کے لیے فقیہ النفس اور فقیہ الاجتماع ہونا ضروری قرار دیا ہے۔
ان حالات میں تعلیم و تربیت کا نظام اور نصاب سب سے اہم مسئلہ کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ آج اہلِ علم کی ایسی نسل درکار ہے جو دورِ جدید کے علوم و مسائل اور معاصر افکار و حوادث پر گہری ناقدانہ بصیرت کے ساتھ ساتھ اسلامی علوم کے شناور ہوں۔ جس دور اور علاقہ میں اسلام کے نفاذ کی بات کی جائے گی، وہاں اس دور اور علاقہ کی ذہنی ساخت اور فکری الجھنوں کو سمجھے اور صاف کیے بغیر اسلام کی بات آگے نہیں بڑھ سکتی۔
بین الاقوامی یونیورسٹی کا قیام اسی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے عمل میں لایا گیا ہے۔ اس میں جدید علوم کے براہ راست تنقیدی مطالعہ کے ساتھ ساتھ اسلامی علوم، حدیث، تفسیر، فقہ، کلام وغیرہ میں مہارت پیدا کرائی جاتی ہے۔ یہ تجربہ بڑا حوصلہ افزا ہے اور اس کے ان شاء اللہ دیرپا اور انقلابی اثرات مرتب ہوں گے۔ لیکن یہ ایک طویل المیعاد کام ہے اور اس کے نتائج سامنے آنے میں وقت لگے گا۔ اس لیے فوری اور قلیل المیعاد نوعیت کے منصوبوں کے لیے دعوۃ اکیڈمی اور شریعہ اکیڈمی کے نام سے دو ادارے قائم کیے گئے ہیں جو مختصر دورانیے کے بہت سے تربیتی پروگرام پیش کرتے ہیں۔ ان اداروں کے زیرانتظام متعدد خط و کتابت کورسز بھی شروع کیے گئے ہیں جن میں اب تک بیس بائیس ہزار افراد گھر بیٹھے شرکت کر چکے ہیں۔ اب ان کا دائرہ بیرونی ممالک تک پھیلایا جا رہا ہے۔ اسلام کے لیے جگہ جگہ علاقائی مراکز قائم کیے جائیں گے۔ مجھے خوشی ہے کہ اس سلسلہ کا پہلا علاقائی مرکز ورلڈ اسلامک فورم کے زیر اہتمام نوٹنگھم میں شروع ہوا ہے۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالٰی اس کوشش کو کامیاب، مقبول اور با اثر بنائے۔
غیر اسلامی ماحول میں اسلامی تشخص
پروفیسر ڈاکٹر سید سلیمان ندوی
(۶ اگست ۱۹۹۴ء کو اسلامک کلچرل سنٹر ریجنٹ پارک لندن میں ورلڈ اسلامک فورم کے دوسرے سالانہ تعلیمی سیمینار سے شعبہ اسلامیہ ڈربن یونیورسٹی (جنوبی افریقہ) کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر سید سلیمان ندوی کا خطاب)
آپ حضرات نے جس زہریلے ماحول میں سکونت کا فیصلہ کیا ہے، اس میں اگر زہر کے اثرات سے بچنے کے لیے تریاق حاصل نہ کیا تو پھر آپ کے اسلامی تشخص کی موت یقینی ہے۔ آج کل تو مسلم ممالک میں بھی اسلامی ماحول کا قائم رکھنا محال ہو رہا ہے، چہ جائیکہ غیرمسلم ممالک میں۔ اس لیے اگر بحیثیت مسلمان کے یہاں رہنا ہے تو پھر اس کے لیے جدوجہد کرنی ہو گی، اس ماحول کے مناسب تعلیم و تربیت کا نظام قائم کرنا ہو گا۔
مجھے اس بات کا افسوس ہے کہ اس مجلس میں نوجوان یا اسکول و کالج کے طلبا موجود نہیں ہیں۔ جن کی تعلیم و تربیت کے نظام کے سلسلہ میں ہم گفتگو کر رہے ہیں، وہی لوگ یہاں موجود نہیں۔ جن کے مستقبل کا ہم فیصلہ کر رہے ہیں وہی لوگ جب یہاں موجود نہیں تو کس طرح اس کا نظم ہو گا۔
یہاں کی وہ نسل جو یہاں پیدا ہوئی ہے اس کی مادری زبان تو اب انگریزی ہے۔ آپ حضرات نے اگر ان سے انگریزی میں رابطہ نہیں کیا تو آپ کے اور ان کے درمیان کوئی رابطہ قائم نہ ہو گا۔ ہمارے علما اور مدرسہ کے معلمین کے لیے ضروری ہے کہ انگریزی سیکھیں۔ اللہ تعالٰی نے بھی اس کا اہتمام فرمایا کہ جو رسول بھی کسی قوم کی طرف مبعوث کیا اس قوم کی زبان کا علم بھی اس رسول کو دیا تاکہ قوم کو اس کی زبان میں تعلیم و ہدایت دیں۔ یہ تو معمولی سمجھ کی بات ہے کہ جن لوگوں سے بھی گفتگو کرنی ہے ان کی زبان سیکھنا پڑے گی۔ علما اور نوجوانوں کے درمیان فاصلہ و بُعد بڑھتا جا رہا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ نوجوان علما کی زبان نہیں سمجھتے اور علما نوجوانوں کی زبان نہیں سمجھتے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ اسلامی تعلیمات اور مدرسہ میں دینیات کے لیے انگریزی زبان کا اہتمام کیا جائے۔ یہ ایک حقیقت ہے اس کا سامنا کرنا ہو گا۔
جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کے ایک کان میں اذان اور ایک کان میں اقامت کہی جاتی ہے۔ اس عمل سے ماں باپ یہ ظاہر کرتے ہیں اور اللہ کے سامنے عہد کرتے ہیں کہ اس بچہ کو مسلمان رکھنا ہے اور یہ بچہ مسلمان ہے۔ پھر اس کے بعد والدین اس کا نام بھی عبد اللہ یا عبد المجید یا جلیل رکھتے ہیں۔ پھر اس عمل سے دوبارہ اس کا اظہار ہوتا ہے کہ جو نام ہم نے دیا ہے وہ اس بات کا اظہار کرتا ہے کہ یہ بچہ مسلمان ہے۔ یعنی اسلامی تشخص کے اظہار کا یہ بھی ذریعہ ہے۔ غرض اسلامی تشخص کے قیام کی بنیاد پیدائش کے وقت سے ہی پڑ جاتی ہے۔ اگر بچے کو مسلمان رکھنا ہے تو اس تشخص کو قائم رکھنے کے لیے اور اس کو قوی کرنے کے لیے بچوں اور نوجوانوں کی دینی و فکری تربیت اسلامی کرنی ہو گی۔
تعلیم و تربیت کی پہلی منزل وہ ہوتی ہے جب بچے کو پورا شعور نہیں ہوتا ہے اور بچہ بے چوں و چراں والدین کی بتائی ہوئی چیزوں کو قبول کر لیتا ہے اور اس کو صحیح سمجھتا ہے۔ اگر اس عمر کے بچہ کو یہ بتایا جائے کہ گدھا دراصل گھوڑا ہے تو وہ گدھے کو گھوڑا سمجھے گا لیکن شعور کے بعد فرق سمجھ جائے گا۔ بچوں کی تعلیم کا ایک دور وہ ہوتا ہے جب والدین بچہ کے ذہن میں اسلامی تعلیمات کو تکرار کر کے بٹھاتے ہیں، جس کو انگریزی میں Indoctrination کہتے ہیں۔ اس مرحلہ کے بعد بچے کا وہ دور آتا ہے جب وہ شعور حاصل کرتا ہے اور تعلیمات کو بے سمجھے بوجھے انڈوکٹریشن کے ذریعے قبول نہیں کرتا بلکہ سوالات کرتا ہے اور علمی الجھنوں کا حل طلب کرتا ہے۔ پھر یہی بچہ آگے بڑھ کر جوانی کی حدود میں قدم رکھتا ہے اور اسکول و یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے جاتا ہے۔ اب یہ نوجوان پہلی بار اسلامی لٹریچر کے مخالف لٹریچر کا مطالعہ کرتا ہے اور روزانہ غیر اسلامی ادب و تہذیب کا سامنا کرتا ہے۔ یہی وہ نازک مرحلہ ہے کہ اگر اس نوجوان کی صحیح اسلامی ذہنی و فکری تعلیم کی گئی تو راہ راست پر رہے گا ورنہ پھر ہاتھ سے نکل جائے گا۔
صرف تعلیم کافی نہیں، علم برائے علم بے کار ہے، جب تک کہ علم کے ساتھ اس کی صحیح ذہنی و فکری اسلامی تربیت نہ کی جائے۔ ذہن و فکر اور دل و نگاہ بدلنے کے لیے محنت کرنی پڑے گی۔ شاعرِ اسلام علامہ اقبال کے بقول ؎
خِرد نے کہہ بھی دیا لا الٰہ تو کیا حاصل
دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں
صحیح اسلامی ذہنی و فکری تعلیم کے لیے صرف صحیح نصاب کا ہونا کافی نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں بنیادی کردار معلّم و استاذ کا ہے۔ نصاب کیسا ہی کمزور و ناقص ہو، اگر استاذ کی فکر و عقیدہ صحیح ہے تو طالب علم کے ذہن و فکر کو بھی صحیح غذا پہنچے گی۔ اس لیے ضرورت ہے کہ اسلامی دینی تعلیم کے معلمین کے لیے بھی تعلیم و تربیت کا نظام قائم کیا جائے تاکہ وقت و ماحول کے تقاضوں کے مطابق بچوں اور نوجوانوں کی تعلیم و تربیت کا انتظام ہو سکے۔
اگر آپ حضرات نے اسلامی تشخص کے تحفظ کے لیے جدوجہد نہیں کی تو برطانیہ میں مسلمان بحیثیت مسلمان باقی نہیں رہیں گے، اور آئندہ کا مؤرخ برطانیہ کے مسلمانوں کے لیے وہی فیصلہ دے گا جو اسپین و سسلی کے مسلمانوں کے لیے دیا۔ مسلمان باقی نہیں ہوں گے لیکن اسلام یقیناً کسی نہ کسی گوشہ میں باقی رہے گا ؎
اپنی مِلت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمیؐ
نوجوانوں سے قریب ہونے کی ضرورت ہے، ان کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے، ان کو اپنے ساتھ لے کر چلنے کی ضرورت ہے۔ ایسے دلچسپ تعلیمی پروگرام بنائیں جو مسلم نوجوانوں کے ذہن و فکر کو مطمئن کر سکیں۔ اور ان سے رابطہ قائم کرنے کے لیے انگریزی سیکھیں اور ذریعۂ تعلیم بھی انگریزی کو بنائیں۔ آپ چونکہ برطانیہ میں ہیں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ انگریزی سیکھیں، اگر آپ عرب میں ہوں تو عربی ذریعۂ اظہار و تعلیم ہو گا۔ اگر جرمنی میں ہوں گے تو جرمن ذریعۂ ربط و تعلیم ہو گی۔ اگر آپ نے غفلت برتی تو یہ مسلم نوجوان ہاتھ سے نکل جائے گا۔ کہیں یہاں کا حال بھی اسپین و سسلی کا نہ ہو اور اقبال جیسے شاعر کو برطانیہ کے ساحل سے گزرتے ہوئے کہیں وہ نہ کہنا پڑے جو اقبال نے سسلی کے پاس سے گزرتے ہوئے کہا تھا ؎
دیکھ لے دل کھول کے اے دیدہ خوں نابہ بار
وہ نظر آتا ہے تہذیبِ حجازی کا مزار
ہندو صحائف میں جناب نبی اکرم ﷺ کے بارے میں پیش گوئیاں
داؤد عزیز
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام انبیاء اور رسولوں پر فضیلت کی چند اہم ترین وجوہات میں سے ایک یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب کے برعکس آنے والے تمام زمانوں اور اقوام کے لیے مبعوث فرمایا گیا تھا۔ ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء میں سے بیشتر، جن کا ذکر قرآن میں ہے، بنی اسرائیل سے تھے، جبکہ باقی اپنے اپنے زمانوں میں دنیا کے مختلف خطوں میں منصبِ رسالت سے سرفراز فرمائے گئے تھے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے کہ ’’ہم نے ہر قوم کی رہنمائی کے لیے پیغمبر بھیجے‘‘۔
یہ بات اہم ہے کہ تقریباً ہر نبی نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہمیت اور فضیلت کے مدنظر اپنی قوم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کے بارے میں آگاہ کیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اور دیگر مذہبی کتب میں تحریف کے باعث یہ پیش گوئیاں یا تو دھندلا گئیں اور یا پھر سرے سے ہی غائب کر دی گئیں۔ دنیا کے قدیم مذہبی صحائف میں یہ پیش گوئیاں ابھی بھی اہلِ نظر کے سامنے ہیں، لیکن اب چونکہ محض تراجم ہی دستیاب ہیں لہٰذا ان کو اتنا الجھا دیا گیا ہے کہ ایک عام ذہن کے لیے انہیں تلاش کرنا آسان کام نہیں رہا۔
مختلف زمانوں میں صاحبِ علم و نظر نے خاص طور سے اولڈ اور نیو ٹسٹامنٹ کو کھنگال کر تحریف شدہ کتب میں سے بھی چند پیش گوئیاں نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق دنیا کے سامنے رکھی ہیں، لیکن اتنی تحقیق کسی اور مذہب کی کتب کے بارے میں نہیں ہوئی۔ یہودی اور عیسائی مذاہب سے متعلق تحقیقات اگرچہ فطرت کے تقاضے کے عین مطابق ہیں کیونکہ قرآن کا بیشتر حصہ انہیں سے مخاطب ہے، لیکن دوسرے بڑے مذاہب کی کتب سے صرفِ نظر بھی دانائی نہیں جب کہ ان کے پیروکار بھی یہ دعوٰی کرتے ہوں کہ ان کی کتب بھی آسمانی کلام ہیں، حقیقت میں بائبل سے بھی پرانی مانی جاتی ہیں۔
ذرا غور فرمائیے کہ حیدرآباد دکن کے ضلع دولت پور میں ہزاروں برس قدیم اجنتا اور ایلورا کے غار ہیں جنہیں ہندو متبرک مانتے ہیں۔ ان میں ہزاروں سال پرانی تصاویر ہیں جو ہندومت کی چند دیومالائیں بیان کرتی ہیں۔ ان میں سے سولہواں غار ’’رنگ محل‘‘ کہلاتا ہے جس میں دشنو (خدا) کے دس اوتاروں (رسولوں) کی تصاویر بنی ہوئی ہیں۔ ان میں سے آخری یعنی دسویں اوتار کی صرف سواری کی تصویر ہے جس پر وہ بیٹھ کر آئے گا۔ یہ اس لیے کہ اس وقت ہندوؤں کے مطابق آخری اوتار کا ابھی ظہور نہیں ہوا تھا اور انہوں نے عالمِ کشف میں محض اس کی سواری دیکھی جسے تصویر میں محفوظ کر لیا۔ اس سواری کو وہ ’’کلکی دہان‘‘ یعنی کلکی اوتار کی سواری کہتے ہیں۔ یہ سواری اپنی شباہت میں ہوبہو مستند احادیث میں بیان کردہ سفرِ معراج کی سواری ’’براق‘‘ جیسی ہے۔ مزید یہ کہ کلکی اوتار کا مطلب ’’بت شکن‘‘ بنتا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی کے علاوہ کسی پر پورا نہیں اترتا۔ مزید تصدیق کے لیے مدراس سے جاری ایک انگریزی روزنامہ ’’دی ہندو‘‘ کا سرورق دیکھا جا سکتا ہے جس کے مونوگرام میں ہاتھی کے ساتھ ’’کلکی دہان‘‘ کی تصویر موجود ہے۔
ہندوؤں کا دعوٰی ہے کہ ان کے پاس موجود ’’وید‘‘ انسانی تاریخ میں سب سے پرانا کلام ہے۔ وہ یہ کلام براہ راست خدا سے منسوب کرتے ہیں جس میں ادل بدل کی کوئی گنجائش نہیں۔ اگرچہ وہ ذریعہ جس سے یہ کلام انسان تک پہنچا انہیں بھی نہیں معلوم، لیکن اپنے بقول یہ کلام ہزاروں سال سے ان کے سینوں میں محفوظ چلا آ رہا ہے اور اب سے محض دو صدیاں قبل ہی ان کو اکٹھا کر کے کتابی شکل دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں البیرونی، میکس ملر اور اے ڈیو بائیس کے نام اہمیت کے حامل ہیں جنہوں نے سالہا سال محنت کر کے سنسکرت سیکھی اور اس کالم کو کتابی شکل میں محفوظ کیا۔
اگرچہ اصل وید ایک ہی تھا لیکن آج چار وید ملتے ہیں۔ بعض ہندو محققین کے خیال میں چاروں میں سے ایک اصلی ہے، بعض چاروں ہی کو درست مانتے ہیں، اور بعض خیال کرتے ہیں کہ اصل وید چاروں میں تقسیم ہو کر موجود ہے۔ ہندومت کی باقی کتب جیسے ’’پران‘‘، ’’براہمن‘‘ وغیرہ ہیں وہ محض ویدوں ہی کی تفسیریں ہیں اور انہیں ہندو براہ راست آسمانی نہیں مانتے۔
ان چاروں ویدوں کے بغور مطالعہ سے ایسے ایسے مضامین سامنے آتے ہیں کہ عقل حیران رہ جاتی ہے۔ ان تمام مضامین میں سے محض سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہی اگر بیان کر دیا جائے تو باقی کے بارے میں کوئی وضاحت ضروری نہیں رہے گی۔ جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسمِ گرامی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہے، اور بہت سے صفاتی ناموں میں سے ایک احمد بھی ہے، تو انہی دو ناموں کے چند حوالے درج ذیل ہیں۔ ترجمہ سنسکرت سے اردو میں ہے کیونکہ وید سنسکرت ہی میں موجود ہے۔
(۱) ’’اے محبوب محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) میٹھی زبان والے، قربانی دینے والے، میں آپ کی قربانیوں کو وسیلہ بناتا ہوں۔‘‘ (رگ وید: کانڈ ۱، سوکت ۱۳ آیت ۳)
(۲) ’’عظیم محمد کی قوت میں اضافہ کے لیے اور پشان (ترجمہ مہدی) جو کہ عظیم حکمران ہے اس کی نعمت ہم بیان کرتے ہیں۔ اے کریم خدا، ہمیں تمام مشکلات سے نجات بخش اور مشکل راستوں سے ہمارا رتھ پار کرا دے۔‘‘ (رگ وید: ۱۔۱۸۔۱۹)
(۳) ’’میں نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو دیکھا ہے، سب سے زیادہ اولوالعزم اور مشہور جیسا کہ وہ جنت میں سب کے پیغمبر تھے۔‘‘ (رگ وید: ۱۔۱۸۔۱۹)
(۴) ’’وہ تمام علوم کا منبع احمد عظیم ترین شخصیت ہے۔ روشن سورج کی طرح اندھیروں کو دور بھگانے والا ہے۔ اس سراج منیر کو جان کر ہی موت کو جیتا جا سکتا ہے، نجات کا اور کوئی راستہ نہیں۔‘‘ (یجر وید: ۳۱۔۸)
(۵) ’’احمد نے سب سے پہلی قربانی دی اور سورج جیسا ہو گیا۔‘‘ (رگ وید: ۸۔۴، ۹۔۱۰)
(واضح رہے کہ قرآن کریم میں بھی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو سراجاً منیرا یعنی چمکتا سورج کہا گیا ہے۔)
ان حوالہ جات میں ’’محمد‘‘ ترجمہ ہے لفظ ’’نراشنس‘‘ کا، جس کا سنسکر میں مطلب ’’انتہائی قابلِ تعریف شخصیت‘‘ ہے۔ اور ’’احمد‘‘ سنسکرت میں ’’احمدت‘‘ لکھا جاتا تھا جس میں ’’ت‘‘ اضافی لگتا ہے۔
اس کے علاوہ رگ وید ۱۔۱۶۳۔۱ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ’’سمدرا دوت عربن‘‘ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ سنسکرت کی ڈکشنری کے مطابق ’’س‘‘ کا مطلب ’’ساتھ‘‘، ’’مدرا‘‘ کے معنی ’’مہر‘‘، اور ’’عربن‘‘ کے معنی ’’عرب‘‘ کے ہیں (ن اضافی آواز ہے)۔ پورا مطلب ’’مہر کے ساتھ عرب والا‘‘ بنتا ہے جو محض آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ویدوں میں موجود غالباً سب سے اہم پیش گوئی اتھرو وید میں موجود ہے۔ ترجمہ کے مطابق:
’’لوگو! سنو! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں کے درمیان مبعوث کیا جائے گا۔ اس مہابر کو ہم ساٹھ ہزار نوے (۶۰۰۹۰) دشمنوں سے پناہ میں لیں گے۔ اس کی سواری اونٹ ہو گی جس کے ساتھ بیس مادہ اونٹنیاں ہوں گی۔ جس کی عظمت آسمانوں کو بھی جھکا دے گی۔ اس عظیم رشی (بزرگ) کو ۱۰۰ دینار، ۱۰ مالائیں، ۳۰۰ گھوڑے اور ۱۰۰۰۰ گائیں دی گئی ہیں۔‘‘ (اتھرو وید: ۲۰۔۱۲۷، ۱، ۲، ۳)
ان منتروں کے ترجمے کی بابت پنڈت وید پرکاش اپادھیائے، جو اسلام پر عربی زبان سیکھ کر تحقیق کر چکے ہیں، اپنی کتاب ’’نراشنس‘‘ اور ’’انتم رشی‘‘ میں کئی ابواب کی سیر حاصل بحث کے بعد ثابت کرتے ہیں کہ ۱۰۰ دینار سے مراد اصحابِ صفہ، ۱۰ مالاؤں سے مراد عشرہ مبشرہ، ۳۳۰ گھوڑے غزوہ بدر کے مجاہدین، اور ۱۰۰۰۰ گائیوں سے مراد فتح مکہ کا لشکر ہے۔ راقم کے خیال کے مطابق ۶۰۰۹۰ دشمن غالباً آغازِ اسلام میں مشرکین کی تعداد ظاہر کرتے ہیں (واللہ اعلم بالصواب)۔
قصہ مختصر کہ چاروں ویدوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر اکتیس (۳۱) مرتبہ ’’نراشنس‘‘ کے نام سے مذکور ہے اور بیان کردہ خصوصیات سوائے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اور کسی پر کلّی یا جزوی پوری نہیں اترتیں۔
یہ تو تھا ویدوں کا حوالہ جنہیں ہندومت ’’سیدھا خدا سے اترا‘‘ مانتا ہے اور جس میں تحریف ممکن نہیں، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ویدوں کی تفسیروں میں بھی مذکور ہے جو ’’انسانی کلام‘‘ ہے۔ اس کی چند مثالیں ملاحظہ ہوں:
’’اسی دوران محمد نامی مقدس ملیچھ وہاں آئیں گے، اپنے ماننے والوں کے ساتھ ۔۔۔ راجا بھوج انہیں کہے گا، اے ریگستان کے باشندے، شیطان کو شکست دینے والے، معجزوں کے مالک ۔۔۔ تمہیں نمسکار ہے۔ مجھے پناہ میں آیا ہوا غلام سمجھو ۔۔۔ پتھر کی مورتی کی بابت محمد کہیں گے کہ یہ تو میرا جھوٹا کھا سکتی ہے اور ایسا ہی ایک معجزہ دکھا دیں گے۔ راجا بھوج بہت متعجب ہو گا اور ملیچھ دھرم میں اس کا اعتقاد ہو جائے گا۔‘‘ (بھوشیہ پران: ۳۔۳، ۵۔۱۶)
اصل سنسکرت میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جگہ لفظ ’’محامد‘‘ استعمال ہوا ہے۔ یہ بھی خیال رہے کہ قدیم سنسکرت میں ملیچھ غیر آریہ نسل کے لیے استعمال ہوتا تھا نہ کہ ناپاکی کے لیے، جیسا کہ اب رواج پا چکا ہے۔ انہی اشلوکوں سے تھوڑا آگے کہا گیا ہے کہ
’’رات میں خدا کا قاصد آ کر راجا بھوج کو بتائے گا کہ ختنہ کروانے والا، چوٹی نہ رکھنے والا، داڑھی رکھنے والا اور پاک جانوروں کو غذا بنانے والا ہی خدا کا مقرب بندہ ہے۔‘‘
قارئین کرام! اگر اتنے واضح اشارات کے باوجود ہندو اپنے اصل پیشوا کو نہیں پہچان پائے تو محض اس لیے کہ ہزاروں سالوں سے ہندومت کے اجارہ داروں نے عوام کے لیے سنسکرت سیکھنے کی ممانعت کر رکھی تھی، اور سوائے برہمن کے کوئی اور ہندو ان کتب کو ہاتھ لگانا تو درکنار سن بھی نہیں سکتا تھا۔ اب بھارت میں سنسکرت کو عام کیا جا رہا ہے تو یہ حیرت انگیز معلومات بھی عام ہو رہی ہیں۔ نئی بھارتی نسل اب ’’پنڈت‘‘ کے ’فتنوں‘‘ سے خوفزدہ نہیں ہے اور یہ زبان سیکھ رہی ہے۔ جبھی بعض ہندو طبقات نے اب ان قطعات کو چھپانا شروع کر دیا ہے جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے۔ بلکہ آریہ سماج نامی فرقہ تو سرے سے ہی ان کا انکاری ہو گیا ہے۔ گیتا پریس گورکھپور، جو مذہبی کتب کا سب سے بڑا پریس ہے، اب بھوشیہ پران کو پران ہی نہیں مانتا۔ لیکن سناتن دھرمی فرقہ جو کہ بھاری اکثریت میں ہے ان میں سے کچھ بھی چھوڑنے کو تیار نہیں ہے۔ ’’سچائی چھپ نہیں سکتی بناوٹ کے اصولوں سے‘‘ کے مصداق وہ دن دور نہیں جب ساری دنیا رسالتِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت سے آشنا ہو جائے گی۔
آہ! مولانا محمد عبد اللہ درخواستی نور اللہ مرقدہٗ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
جمعیۃ علمائے اسلام پاکستان کے امیر حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ گزشتہ روز طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کی عمر ۱۰۰ برس کے لگ بھگ تھی اور وہ ۱۹۶۲ء سے جمعیۃ علمائے اسلام پاکستان کے امیر چلے آرہے تھے۔ مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ جنہیں پاکستان کے دینی و علمی حلقوں میں حضرت درخواستیؒ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، عالم اسلام کی ممتاز علمی شخصیات میں شمار ہوتے تھے اور جناب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کے ساتھ بے پناہ شغف اور بے شمار احادیث زبانی یاد ہونے کے باعث انہیں حافظ الحدیث کے لقب سے پکارا جاتا تھا۔
حضرت درخواستیؒ کا تعلق ضلع رحیم یار خان کی بستی ’’درخواست‘‘ سے تھا جس کے باعث وہ درخواستی کہلاتے تھے۔ انہوں نے دینی تعلیم پہلے اپنے گاؤں میں اور بعد میں دین پور شریف میں حاصل کی جو اپنے وقت کے ولیٔ کامل اور مجاہدِ تحریک آزادی حضرت خلیفہ غلام محمد دین پوریؒ کا مرکز تھا اور اب بھی ان کا خاندان اس روحانی مرکز کو آباد رکھے ہوئے ہے۔ حال ہی میں جرمن وزارت خارجہ کے ایک سابق ڈپٹی سیکرٹری نے اپنی یادداشتوں میں اس تحریک آزادی کا ذکر کیا ہے جو شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ نے منظم کی تھی اور جس کے تحت جرمن، جاپان، ترک اور افغان حکومتوں نے مل کر برطانوی استعمار سے برصغیر پاک و ہند کی آزادی کے لیے مجاہدینِ آزادی کی عملی امداد کا اہتمام کرنا تھا۔ لیکن قبل از وقت منصوبہ کے انکشاف کے باعث یہ تحریک ناکامی کا شکار ہوگئی تھی۔ دین پور شریف اس تحریک کے اہم مراکز میں سے تھا اور حضرت خلیفہ غلام محمدؒ کو تحریک کے راہنماؤں میں نمایاں مقام حاصل تھا۔ حضرت درخواستیؒ بھی اس تحریک کے کارکنوں میں سے تھے اور کبھی کبھی اس دور کے واقعات مزے لے لے کر سنایا کرتے تھے۔ یہ ان کا طالب علمی کا دور تھا لیکن اپنے شیخ و مربی حضرت خلیفہ غلام محمدؒ کے حوالہ سے تحریک آزادی کے کاموں میں بھی شریک رہتے تھے۔
حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ بنیادی طور پر تعلیم و تربیت کے میدان کے بزرگ تھے، انہوں نے ساری زندگی قرآن کریم اور حدیث رسولؐ کا درس دیا اور لاکھوں تشنگان علوم کو علوم نبوت سے سیراب کیا۔ دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ روحانی تربیت اور ذکر اللہ کی تلقین ان کا خصوصی ذوق تھا اور بڑے بڑے علماء و مشائخ ان کی روحانی مجالس میں بیٹھنے کو سعادت سمجھتے تھے۔ حضرت درخواستیؒ کو میں نے سب سے پہلے ۱۹۶۰ء میں دیکھا جب وہ میرے حفظ قرآن کریم کی تکمیل پر ہمارے قصبہ گکھڑ ضلع گوجرانوالہ میں تشریف لائے اور میرا آخری سبق سننے کے ساتھ ساتھ ختم قرآن کریم کی تقریب سے ایمان افروز خطاب بھی فرمایا۔ اس کے بعد ان سے مسلسل تعلق رہا اور پھر وہ وقت بھی آیا کہ جمعیۃ علمائے اسلام کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات کی حیثیت سے ان کے ساتھ خلوت و جلوت اور سفر و حضر میں سالہا سال تک رفاقت نصیب رہی۔ اور میں اسے اپنے لیے توشۂ آخرت سمجھتا ہوں کہ جماعتی، دینی و سیاسی معاملات میں آخر وقت تک مجھے ان کا اعتماد اور شفقت حاصل رہی۔
حضرت درخواستیؒ کو حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کی وفات کے بعد علماء کرام نے اپنی امارت کے لیے منتخب کیا اور وہ نظام العلماء پاکستان کے امیر چنے گئے جو ایوب خان مرحوم کے مارشل لاء کے دور میں سیاسی جماعتوں پر پابندی کے باعث جمعیۃ علمائے اسلام کی جگہ مذہبی امور کی انجام دہی کے لیے قائم کی گئی تھی۔ اور پھر مارشل لاء کے خاتمہ کے بعد سیاسی جماعت کے طور پر جمعیۃ علمائے اسلام کی بحالی پر وہ اس کے امیر چنے گئے۔ ان کی امارت میں کام کرنے والوں میں مولانا مفتی محمودؒ، مولانا عبد الحقؒ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ، مولانا عبید اللہ انورؒ، مولانا سید گل بادشاہؒ، مولانا سید محمد شاہؒ امروٹی، اور مولانا مفتی عبد القیومؒ پوپلزئی جیسے اکابر علماء شامل رہے ہیں جو مجالس میں ان کے ساتھ دو زانو بیٹھتے اور ان سے راہنمائی کے طالب ہوتے۔
۱۹۷۶ء کی بات ہے کہ جمعیۃ علمائے اسلام کے ایک حلقہ کی طرف سے تجویز آئی کہ حضرت درخواستیؒ کی علالت اور ضعف کے باعث انہیں جمعیۃ کا سرپرست بنا دیا جائے اور مولانا مفتی محمودؒ کو امیر منتخب کیا جائے۔ شیرانوالہ لاہور میں جمعیۃ کی جنرل کونسل کے کھلے اجلاس میں مولانا مفتی محمودؒ نے اس تجویز کی شدید مخالفت کی اور کہا کہ حضرت درخواستیؒ کی موجودگی میں ہم کسی اور کی امارت کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے۔ یہ بات مولانا درخواستیؒ کی بزرگی اور راہنمائی پر اپنے دور کے اہل علم کے بھرپور اعتماد کا مظہر تھی اور ان کے علم و فضل کا اعتراف تھی۔
شدید علالت اور ضعف کے آخری چند سالوں کو چھوڑ کر حضرت درخواستیؒ پورے ملک میں متحرک رہتے تھے اور شاید ہی پاکستان اور بنگلہ دیش کا کوئی حصہ ایسا ہو جہاں انہوں نے بار بار علماء کے جلسوں اور پبلک اجتماعات سے خطاب نہ کیا ہو۔ وہ جہاں جاتے نفاذ اسلام اور تحفظ ختم نبوت کے لیے علماء اور کارکنوں کو تیار کرتے، ان سے کام کرنے کا عہد لیتے، نمایاں کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کے لیے ان کی دستار بندی کرتے اور دینی مدارس و مکاتب کے قیام کی طرف لوگوں کو توجہ دلاتے تھے۔ وہ ایک دن میں دس دس اجتماعات سے خطاب کرتے اور اس طرح مسلسل سفر میں رہتے تھے کہ میرا جیسا نوجوان کارکن بھی چند دن سے زیادہ ان کا ساتھ نہیں دے پاتا تھا۔ ان کی زندگی کا مشن پاکستان میں اسلامی نظام کا نفاذ، عقیدۂ ختم نبوت کا تحفظ اور قریہ قریہ دینی مدارس کا قیام تھا۔ وہ جہاں جاتے اور جس مجلس میں ہوتے ان کی گفتگو انہی مقاصد کے حوالہ سے ہوتی تھی۔ ان کا خطاب معروف معنوں میں سیاسی نہیں ہوتا تھا اور نہ ہی مربوط گفتگو کا مزاج تھا، لیکن اس روحانی اور علمی شخصیت کا کمال یہ تھا کہ لوگ گھنٹوں بیٹھے ان کی غیر مربوط گفتگو کی چاشنی سے محظوظ ہوتے رہتے۔ بسا اوقات ساری ساری رات گزر جاتی اور جب وہ تقریر کے بعد دعا سے فارغ ہوتے تو پتہ چلتا کہ فجر کی اذان کا وقت ہوگیا ہے۔ وہ جھوم جھوم کر احادیث رسولؐ کی تلاوت کرتے تو ایک عجیب سماں کی کیفیت ہوتی، خود بھی روتے اور ساتھ حاضرین کو بھی رلاتے۔ وہ خود کہا کرتے تھے کہ جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں کرتا ہوں اور ان کی احادیث سناتا ہوں تو مجھے وقت کا ہوش نہیں رہتا، یہ ان کے عشقِ رسولؐ کی علامت تھی۔
حضرت درخواستیؒ میرے مشفق امیر تھے، انہوں نے مجھے ہمیشہ اپنی شفقتوں اور اعتماد سے نوازا لیکن میں ان کے ساتھ اس سے زیادہ وفا نہ کر سکا کہ جمعیۃ علمائے اسلام میں دھڑے بندیوں کے کئی دور آئے مگر میں ان کے علاوہ کسی اور کو اپنا امیر نہ مان سکا۔ شاید یہی ایک بات آخرت میں ان کے ساتھ رفاقت کی وجہ بن جائے، آمین۔ آج میرا امیر مجھ سے جدا ہوگیا ہے اور میں وطن سے دور بہت دور گلاسگو کی مرکزی جامع مسجد میں بیٹھا آنسو بہا رہا ہوں اور ان الفاظ کے ذریعے اپنے دل کا غم ہلکا کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ اے کاش وقت کے یہ بے رحم فاصلے درمیان میں نہ ہوتے اور میں ان کی آخری زیارت سے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا کر سکتا۔ اللہ تعالیٰ انہیں جوارِ رحمت میں جگہ دیں اور کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔
مولانا محمد سعید الرحمان علویؒ اور دیگر مرحومین
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
میرے پرانے ساتھی اور معروف صاحب قلم مولانا محمد سعید الرحمان علویؒ گزشتہ روز اچانک حرکت قلب بند ہو جانے سے انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مرحوم مجلس احرار اور جمعیۃ علمائے اسلام کے بزرگ راہنما حضرت مولانا محمد رمضان علویؒ کے فرزند تھے۔ مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں کئی سال تک طالب علمی کے دور میں ان سے رفاقت رہی، بعض اسباق میں ہم سبق بھی تھے، مطالعہ و تحریر کا ذوق طالب علمی کے دور میں ہی نمایاں تھا اور فراغت کے بعد ہفت روزہ خدام الدین، ترجمان اسلام اور چٹان میں ایک عرصہ تک کام کرتے رہے۔ ان کے مضامین قومی اخبارات میں بھی شائع ہوتے تھے، حساس اور مضطرب دل کے حامل تھے اور اپنے احساس و اضطراب کا اظہار دوٹوک انداز میں کر دیا کرتے تھے۔ کئی برسوں سے جامع مسجد دارالشفاء شاہ جمال کالونی لاہور میں خطابت کے فرائض سر انجام دے رہے تھے، متعدد تحریکات میں حصہ لیا اور جمعیۃ علماء اسلام میں بھی ایک دور میں خاصے متحرک رہے۔ ان کا اس طرح اچانک دنیا سے منہ موڑ جانا بے حد صدمہ کا باعث ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائیں اور پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق سے نوازیں، آمین یا الٰہ العالمین۔
ان کے علاوہ پاکستان سے میری غیر حاضری کے دوران متعدد بزرگ داغ مفارقت دے گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان میں مندرجہ ذیل حضرات بطور خاص قابل ذکر ہیں:
- حضرت مولانا خالد عبد اللہ، خطیب مرکزی جامع مسجد مانسہرہ۔
- حضرت مولانا محمد طلحہ قدوسی، خطیب مرکزی جامع مسجد سیٹلائیٹ ٹاؤن گوجرانوالہ۔
- استاذ محترم حضرت مولانا غلام علی، گکھڑ، ضلع گوجرانوالہ۔
- صوفی محمد سلیم احرار، لاہوری دروازہ، گوجرانوالہ۔
- اہلیہ محترمہ مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمودؒ۔
- اہلیہ محترمہ جناب قاری نور الحق قریشی ایڈووکیٹ، ملتان۔
- اہلیہ محترمہ حضرت مولانا محمد اسماعیل قاسمی، سیالکوٹ۔
- حضرت مولانا حکیم محمود، گوجرانوالہ۔
- جسٹس مولانا ملک غلام علی، لاہور۔
- مولانا قاری ظہیر الدین اشرفی، گوجرانوالہ۔
- کمانڈر مولانا محمد داؤد شہید، گوجرانوالہ۔
- کمانڈر خالد محمود کراچوی، لاہور۔
اللہ تعالیٰ ان سب کی مغفرت فرمائیں، ان کی حسنات قبول کریں، سیئات سے درگزر کریں اور پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔
ریشمی رومال تحریک کا اصل نام برلن پلان تھا
پروفیسر اولف ثمل
لاہور (پ ل) ریشمی رومال تحریک کا اصل نام ’’برلن پلان‘‘ تھا جو ۱۵ اگست ۱۹۱۵ء کو کابل میں جرمنی اور ترکی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ ہندوستان کی آزادی کے اس منصوبے کی تشکیل میں راجہ مہندر پرتاب، مولانا برکت اللہ اور مولانا عبید اللہ سندھی نے اہم کردار ادا کیا تھا۔
یہ انکشاف جرمنی کی وزارتِ خارجہ کے ایک سابق ڈپٹی سیکرٹری اور برلن یونیورسٹی میں سیاسیات کے استاد پروفیسر اولف ثمل نے ایک خصوصی ملاقات میں کیا۔ پروفیسر اولف ثمل آج کل پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے ہیں اور ’’برلن پلان‘‘ پر کتاب لکھ رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ برلن پلان دراصل شیخ الہند مولانا محمود الحسن کے ذہن کی اختراع تھی۔ اس منصوبے کے تحت جرمنی، ترکی اور افغانستان کے علاوہ روس، چین اور جاپان کی مدد سے ہندوستان کو آزاد کروانا تھا۔ تاہم مولانا محمود الحسن صرف جرمنی، ترکی اور افغانستان کے حکمرانوں کو راضی کر سکے۔ اس پلان کے لیے مالی امداد کراچی کے تاجر حاجی عبد اللہ ہارون نے فراہم کی تھی، جبکہ مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا محمد علی جوہر، حکیم اجمل خان اور نواب وقار الملک نے بھی برلن پلان کے تحت بہت سا کام کیا۔
پروفیسر اولف ثمل کے مطابق:
- ۱۵ اگست ۱۹۱۵ء کو کابل میں ہونے والے اجلاس میں جرمن وزارتِ خارجہ کے
ایک افسر ڈاکٹر منیر بے، جرمن آرمی کے کیپٹن سینڈئر میئر، لیفٹیننٹ وان
ہیٹنگ اور کیپٹن دیگز کے علاوہ ترکی کی خلافتِ عثمانیہ کا ایک نمائندہ شامل
تھا۔ اس اجلاس میں طے پایا کہ جرمنی قبائلی علاقوں میں فوجی تربیت کے کیمپ
بنائے گا۔ نیز افغانستان کے راستے سے ساٹھ ہزار جرمن فوجی اور مالی امداد
بھی فراہم کی جائے گی۔ نتیجے میں سلطنتِ عثمانیہ نہ صرف جرمنی کی حمایت کرے
گی بلکہ سلطانِ ترکی برطانیہ کے خلاف اعلانِ جہاد کر دے گا۔ ترکی اور
افغانستان کو یہ ضمانت دی گئی کہ ان کے خلاف جارحیت کی صورت میں جرمنی اور
ہندوستان ان کا تحفظ کریں گے۔ اس اجلاس کے بعد ہندوستان کی
جلاوطن حکومت تشکیل دی گئی جس کا صدر راجہ مہندر پرتاب، وزیراعظم مولانا
برکت اللہ، وزیرخارجہ مولانا عبید اللہ سندھی، اور فیلڈ مارشل مولانا محمود
الحسن کو بنایا گیا۔
- ۲۶ مئی ۱۹۱۶ء کو عبید اللہ سندھی نے عبد الباری اور شجاع اللہ کو حتمی معاملات طے کرنے کے لیے جرمنی بھیجا لیکن روس میں ان دونوں کو گرفتار کر کے برطانیہ کے حوالے کر دیا گیا۔
- اس دوران کابل کے نواحی علاقے باغ بابر میں جرمن آرمی کے لیفٹیننٹ والکاٹ نے تربیت کیمپ قائم کر لیا، ایک روز وہ مجاہد بھرتی کرنے قبائلی علاقے میں آیا اور گرفتار ہو گیا، انگریزوں نے اسے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔
- مولانا عبید اللہ سندھی نے ریشمی رومالوں پر خفیہ پیغامات لکھ کر اپنے ساتھیوں کو ہندوستان بھیجے لیکن یہ رومال پکڑے گئے اور منصوبہ بے نقاب ہو گیا، سینکڑوں افراد گرفتار ہوئے۔
- کابل کا حکمران امیر حبیب اللہ خوفزدہ ہو گیا اور یوں منصوبہ دھرے کا دھرا رہ گیا۔
- ۱۹۱۷ء میں انقلابِ روس کے بعد لینن نے مولانا عبید اللہ سندھی کو ماسکو بلایا اور ہندوستان کی آزادی کے لیے تعاون کی پیشکش کی۔
- جرمنی نے بھی ایک دفعہ پھر رضامندی ظاہر کر دی لیکن کابل نے مدد سے انکار کر دیا۔
- پروفیسر الف ثمل کے مطابق حاکمِ جدہ نے مولانا محمود الحسن کو گرفتار کروا دیا تھا ورنہ یہ منصوبہ دوبارہ بھی شروع ہو سکتا تھا۔
- ۱۹۳۳ء میں ہٹلر نے برسراقتدار آ کر اپنی وزارتِ خارجہ کو حکم دیا کہ ہندوستانی علماء کے ساتھ دوبارہ رابطہ کیا جائے لیکن علامہ عنایت اللہ مشرقی کے علاوہ کسی سے رابطہ نہ ہوا۔
- پروفیسر اولف ثمل کا کہنا ہے کہ اگر کابل مدد کرتا تو نہ سلطنتِ عثمانیہ ختم ہوتی اور نہ ہی ہندوستان کو مزید تیس سال غلام رہنا پڑتا کیونکہ جرمنی، ترکی اور روس نے ہندوستان کو گھیرا ڈال لینا تھا۔
(روزنامہ جنگ، لندن ۔ ۱۶ اگست ۱۹۹۴ء)
مغربی مسلمانوں کے مسائل ۔ علماء کیلئے چیلنج
مولانا مجاہد الاسلام قاسمی
(بھارت کے ممتاز عالمِ دین اور آل انڈیا ملّی کونسل کے سربراہ حضرت مولانا مجاہد الاسلام قاسمی اگست ۱۹۹۳ء میں ورلڈ اسلامک فورم کے پہلے سالانہ سیمینار میں شرکت کیلئے لندن تشریف لائے اور سیمینار کے علاوہ بھی فورم کے زیراہتمام برطانیہ کے مختلف شہروں میں اجتماعات سے خطاب کیا۔ مولانا محترم نے اپنے سہ ماہی علمی و تحقیقی مجلہ ’’بحث و نظر‘‘ کے ۱۹۹۴ء کے پہلے شمارہ میں اس سفر کے بارے میں مندرجہ ذیل تاثرات کا اظہار فرمایا ہے۔ ادارہ)
ورلڈ اسلامک فورم کی دعوت پر میں ۱۴ اگست کو لندن پہونچا۔ مولانا عیسٰی منصوری اور مولانا زاہد الراشدی اس فورم کے روحِ رواں ہیں۔ موضوع تھا ’’یورپی مسلمانوں کی دشواریاں اور ان کا حل‘‘ اس موضوع پر تفصیلی خطاب ہوا۔ اس سفر میں بہت سی ممتاز شخصیتوں اور اداروں کی زیارت کا شرف حاصل ہوا اور متعدد شہروں میں جانا ہوا، لوگوں نے بے حد مشغول رکھا لیکن یہ مشغولیت بہت مبارک تھی اور کارِ دین کے لیے تھی۔
انگلستان میں مسلمان خاصی تعداد میں آباد ہیں جو مختلف اسلامی ممالک سے آ کر آباد ہو گئے ہیں۔ اصلاً یہ تلاشِ معاش میں آئے اور پھر یہیں کے ہو رہے۔ ترک ہیں، عرب ہیں، ہندوستانی، پاکستانی اور جنوبی ایشیا کے باشندے بکھرے ہوئے نظر آتے ہیں۔ کچھ مقامی انگریزوں نے بھی اسلام قبول کیا ہے جن کی تعداد بہت کم ہے۔ مسلمانوں میں جو بھی اجتماعی جدوجہد ہے وہ ان جغرافیائی خانوں میں تقسیم ہے۔ جغرافیائی حد بندیوں سے بالاتر ’’امت اسلامیہ‘‘ کی تشکیل یہاں کا خاص مسئلہ ہے۔ بہت کم ایسے مواقع ہیں جہاں کون کہاں کا ہے اور کون سے مسلک سے تعلق رکھتا ہے، ان سوالات سے اونچا اٹھ کر صرف کلمہ کی بنیاد پر امتِ اسلامیہ کو جمع ہونے کا موقع ملے۔ ورلڈ اسلامک فورم کی طرف سے منعقد ہونے والے سیمینار میں مسالک و فِرَق سے بالاتر ہو کر ’’مسلمانوں‘‘ کو جمع کرنے کی کوشش کی گئی تھی جو ایک حد تک کامیاب رہی۔
دوسری طرف ایک بڑا مسئلہ اس تہذیبی تضاد کا ہے جو مغرب میں آباد مسلمانوں کو درپیش ہے۔ مغربی تہذیب و معاشرت کی بنیادیں ہی کچھ اور ہیں۔ اور اسلامی تہذیب کی اساس کا تصور خیر و شر پر ہے جو وحیٔ الٰہی اور سنتِ نبوی پر مبنی ہے۔ یہ بھی واقعہ ہے کہ ہر علاقہ کے مسلمان اپنے اپنے علاقوں سے کچھ رسوم و روایات اور معاشرتی اقدار کے ساتھ مغرب میں منتقل ہوئے ہیں جو مسلمانوں کی تہذیب تصور کی جاتی ہے۔ جہاں تک مسلم معاشرہ کا تعلق ہے تو اس میں خواتین، جو جلد متاثر ہونے کی فطرت رکھتی ہیں، وہ مغرب کی غیر اسلامی تہذیب سے زیادہ متاثر نظر آتی ہیں۔ جو طبقہ دین دار مسلمانوں کا تصور کیا جاتا ہے ان کے اندر خواتین کی معاشرتی حالت بھی مغربی تہذیب سے زیادہ متاثر نظر آتی ہے۔
بہرحال یہاں کے علماء اور فقہاء کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج درپیش ہے اور وہ ہے کتاب و سنت کے منصوص احکام اور اسلام کی بنیادی تعلیمات کو محفوظ رکھتے ہوئے دین کی ایسی تعبیر و تشریح جو مغرب کی راہنمائی کا فریضہ انجام دے سکے۔ اس سلسلہ میں:
- مدارجِ احکام کا تعیّن،
- ان احکامِ فقہیہ کی شناخت جو اپنے اپنے زمانہ، عرف، اور مقامی حالات کی روشنی میں مستنبط کیے گئے ہیں اور جن میں ابدیت نہیں،
- اس طرح کے مسائل پر موجودہ حالات اور وقت کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے حرج و تنگی کا دور کرنا،
- معاشرہ کی واقعی مشکلات کا ازالہ،
- مقاصد اور وسائل کے فرق، سدِ ذرائع کے اصول، اور استحسان و استصلاح کے قواعدِ فقہیہ کی روشنی میں غور کرنا
ان کی ذمہ داری ہے تاکہ اسلام جو ہر زمانہ اور ہر ملک کے لیے ہے، اس کی وسعت، ہمہ گیری، اور ابدیت نمایاں ہو کر سامنے آ سکے۔
حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کی یاد میں لندن اور برمنگھم میں تقریبات
ادارہ
لندن
برصغیر پاک و ہند کے نامور انقلابی مفکر اور تحریکِ آزادی کے ممتاز راہنما مولانا عبید اللہ سندھیؒ کی یاد میں گزشتہ روز ساؤتھ آل لندن میں ورلڈ اسلامک فورم کے زیراہتمام ایک فکری نشست کا اہتمام کیا گیا جس کی صدارت فورم کے چیئرمین مولانا زاہد الراشدی نے کی۔ فورم کے سیکرٹری جنرل مولانا محمد عیسٰئ منصوری نے اس موقع پر بتایا کہ مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے پچاسویں سالِ وفات کے طور پر اس سال کے دوران پاکستان میں ان کی یاد میں مختلف تقریبات ہو رہی ہیں اور یہ نشست بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی تھی، اس سے مذکورہ بالا راہنماؤں کے علاوہ مولانا قاری تصور الحق، مولانا سید اسد اللہ طارق گیلانی، مولانا قاری محمد طیب عباسی اور علی قریشی نے بھی خطاب کیا۔
مولانا زاہد الراشدی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مولانا عبید اللہ سندھی کا تعلق پنجاب کے ایک غیر مسلم گھرانے سے تھا لیکن چونکہ ان کی تعلیمی اور تدریسی زندگی کا ایک بڑا حصہ سندھ میں گزرا، اور ان کی تعلیم و تربیت سندھ کے ایک عارف باللہ حضرت حافظ محمد صدیق آف بھرچونڈی شریف کے ہاتھوں میں ہوئی، اس لیے وہ سندھی کی نسبت سے مشہور ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا عبید اللہ سندھیؒ نے آج سے نصف صدی قبل ہمیں یہ سبق دیا تھا کہ
- علماء کرام جدید علوم اور تقاضوں سے آگاہی حاصل کریں،
- کالج کے طلبہ کو عربی گرامر کے ساتھ قرآن کریم کے ترجمہ کی تعلیم دی جائے،
- اور اسلام کو پوری انسانیت کے مذہب کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا جائے۔
آج جوں جوں وقت گزرتا جا رہا ہے ان باتوں کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے لیکن ہم ان کی طرف متوجہ نہیں ہو رہے۔
مولانا محمد عیسٰی منصوری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مولانا عبید اللہ سندھیؒ تحریکِ آزادی کے نامور رہنما تھے جنہوں نے جرمنی، جاپان اور ترکی کی خلافتِ عثمانیہ کے ساتھ مل کر ہندوستان کی آزادی کا منصوبہ بنایا اور ساری زندگی آزادی کی جدوجہد کے لیے بسر کر دی۔ انہوں نے کہا کہ مولانا سندھیؒ سادگی، قناعت اور مشقت برداشت کرنے میں اپنے دور کی سب سے ممتاز شخصیت تھے اور ایثار و قربانی میں اس دور کا کوئی دوسرا رہنما ان کا ہم پلہ نہیں ہے، انہیں دیکھ کر حضرت ابوذر غفاریؓ کی یاد تازہ ہو جاتی تھی۔ مولانا سندھیؒ کا موقف یہ تھا کہ اسلام پوری انسانیت کا مذہب ہے اس لیے اس میں دنیا کی تمام معاشرتوں کو اپنے اندر ضم کرنے کی صلاحیت موجود ہے، اور وہ علماء کو تلقین کیا کرتے تھے کہ وہ طرزِ معاشرت اور لباس جیسے معاملات پر سختی نہ کریں بلکہ بنیادی عقائد اور احکام کی طرف لوگوں کی توجہ دلائیں۔
مولانا قاری تصور الحق نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مولانا عبید اللہ سندھیؒ نے جس طرح اپنے استاذ شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کے ساتھ اطاعت اور وفاداری کا تعلق زندگی بھر نبھایا، اس میں ہمارے لیے سبق ہے کہ بڑوں کی بات ماننا اور ان کی اطاعت میں ہی برکت ہے، آج یہ جذبہ مفقود ہوتا جا رہا ہے جسے دوبارہ زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا سندھیؒ نے غیر مسلم گھرانے میں آنکھ کھولی مگر اپنے جذبہ اور شوق کے ساتھ اس مقام تک پہنچ کر سالہا سال تک مسجد حرام میں خانہ کعبہ کے سامنے بیٹھ کر علماء کو قرآن و حدیث کی تعلیم دیتے رہے، یہ ان کی سچائی اور بارگاہِ خداوندی میں قبولیت کی علامت ہے۔
مولانا سید اسد اللہ طارق گیلانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مولانا سندھیؒ کی زندگی مجاہدانہ خدمات سے بھری پڑی ہے اور یہ بھی ان کی خدمات کا حصہ ہے کہ جب برطانوی استعمار نے افغانستان پر تسلط قائم کرنا چاہا تو افغان قوم نے مولانا عبید اللہ سندھیؒ کی راہنمائی کے باعث جنگِ استقلال میں برطانوی استعمار کا راستہ روک دینے میں کامیابی حاصل کی جس کا اعتراف اس دور کے ایک مغربی دانشور نے یہ کہہ کر کیا کہ یہ کامیابی افغانستان کی نہیں عبید اللہ سندھیؒ کی کامیابی ہے۔
(بشکریہ روزنامہ جنگ، لندن ۔ ۱۹ ستمبر ۱۹۹۴ء)
برمنگھم
تحریکِ آزادیٔ ہند کے نامور رہنما اور انقلابی مفکر مولانا عبید اللہ سندھیؒ کی یاد میں گزشتہ روز مسجد طیبہ (واش وڈ ہیتھ، برمنگھم) میں ایک فکری نشست کا اہتمام کیا گیا جس کی صدارت ڈاکٹر اختر الزمان غوری نے کی اور اس سے ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا زاہد الراشدی، مرکزی جمعیۃ علماء برطانیہ کے نائب امیر صاحبزادہ امداد الحسن نعمانی، جمعیۃ علماء برطانیہ کے رہنما مولانا قاری تصور الحق، مولانا ارشد محمود، مولانا ضیاء الحسن طیب اور مولانا محمد قاسم نے خطاب کیا۔
مولانا زاہد الراشدی نے کہا کہ نئی نسل کو تحریکِ آزادی کے مجاہدین کی خدمات اور قربانیوں سے آگاہ کرنا ضروری ہے تاکہ اسے آزادی کی حقیقی قدر و قیمت اور اس کے تقاضوں کا احساس ہو اور وہ اس سلسلہ میں اپنی ذمہ داریوں کو صحیح طور پر سمجھ سکے۔ انہوں نے کہا کہ آزادیٔ ہند اور قیامِ پاکستان کے لیے علماء کی جدوجہد کو نظرانداز کر دیا جائے تو تاریخ کے دامن میں کچھ بھی باقی نہیں بچتا۔ مولانا عبید اللہ سندھیؒ تحریکِ آزادی کے عظیم جرنیل ہی نہیں بلکہ قرآن کریم کے مفسر اور بہت بڑے محدث تھے جن کے ہزاروں شاگرد مختلف مسلم ممالک میں قرآن و حدیث کی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔
دارالعلوم مدینہ بہاولپور کے مہتمم علامہ غلام مصطفٰی بہاولپوری نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مولانا سندھی سادگی، ایثار اور محنت کا اعلیٰ نمونہ تھے اور آج کے علماء کرام کو ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
ڈاکٹر اختر الزمان غوری نے کہا کہ علماء اور نوجوان نسل کے درمیان ذہنی فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں اور ان فاصلوں کو کم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ نئی نسل کو شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ، مولانا عبید اللہ سندھیؒ اور ان جیسے مجاہد علماء کی جدوجہد اور خدمات سے متعارف کرایا جائے، اور آج کے علماء اپنے کردار کو ان بزرگوں کی زندگیوں کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کریں۔
صاحبزادہ امداد الحسن نعمانی نے کہا کہ ہم اپنے اکابر کے مشن اور جدوجہد کو بھول کر فکری انتشار کا شکار ہوتے جا رہے ہیں اس لیے ضروری ہے کہ مجاہدینِ آزادی کی یاد کو زندہ رکھا جائے تاکہ ہم ان کے کردار سے رہنمائی حاصل کر سکیں۔
مولانا قاری تصور الحق نے کہا کہ مولانا عبید اللہ سندھی نے جس طرح اپنے مشن اور پروگرام کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں اور صلاحیتیں وقف کر دی تھیں اس کی مثال بہت کم ملتی ہے۔
(بشکریہ جنگ، لندن ۔ ۲۴ ستمبر ۱۹۹۴ء)
گلاسگو میں نظامِ شریعت کانفرنس
ادارہ
تحریکِ نفاذِ اسلام گلاسگو کے زیر اہتمام ۲۵ ستمبر ۱۹۹۴ء کو مسلم کمیونٹی ہال مرکزی جامع مسجد گلاسگو (برطانیہ) میں ایک روزہ نظامِ شریعت کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت تحریکِ نفاذِ اسلام کے امیر مولانا مفتی مقبول احمد نے کی جبکہ مختلف مکاتبِ فکر اور طبقات کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا زاہد الراشدی، جمعیۃ اتحاد العلماء پاکستان کے مرکزی نائب صدر علامہ عنایت اللہ گجراتی، جمعیۃ علماء اسلام بہاولپور ڈویژن کے امیر علامہ غلام مصطفٰی بہاولپوری، آل جموں و کشمیر جمعیۃ علماء اسلام کے نائب امیر مولانا قاری سعید الرحمٰن تنویر، جامع مسجد خضراء گلاسگو کے خطیب مولانا قاضی منظور حسین رضوی، اور تحریکِ نفاذِ اسلام کے سیکرٹری چوہدری محمد یعقوب نے کانفرنس سے خطاب کیا۔ صدر کانفرنس مولانا مفتی مقبول احمد نے قراردادیں پیش کیں جو متفقہ طور پر منظور ہوئیں اور تحریکِ نفاذِ اسلام کی مرکزی کونسل کے رکن حاجی محمد صادق نے نعتِ رسولِ مقبولؐ پیش کی۔
مولانا زاہد الراشدی نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں اسلامائزیشن کا عمل جو پہلے ہی بہت سست رفتاری کے ساتھ چل رہا تھا، اب تعطل کا شکار ہے، بلکہ کسی مزید پیشرفت کی بجائے پہلے سے کیے گئے اقدامات کو بھی ختم کرنے کی سازش ہو رہی ہے، جس کی ذمہ داری سب سے زیادہ دینی قیادت پر عائد ہوتی ہے جو اپنے خلفشار اور شخصیات کے ٹکراؤ کے باعث اسلام دشمن لابیوں کو آگے بڑھنے کا موقع دے رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ قیامِ پاکستان کے وقت جو نظام ہمیں ورثے میں ملا تھا وہ قطعی طور پر ناکام ہو گیا ہے اور ہمارے مسائل حل ہونے کی بجائے مزید الجھتے جا رہے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ نظام کی تبدیلی کے لیے سنجیدگی کے ساتھ محنت کی جائے۔ نظام کی تبدیلی کی بات ملک کے تمام سیاسی حلقے کر رہے ہیں اور اس پر تمام حلقوں کا اتفاق پایا جاتا ہے کہ موجودہ نظام ناکام ہو گیا ہے اور اس کی جگہ نیا نظام لانے کی ضرورت ہے، لیکن نئے نظام کے بارے میں بڑی سیاسی جماعتوں کا ذہن صاف نہیں ہے اور وہ اسلام کو بطور نظام قبول کرنے کی بجائے اس سلسلہ میں راہنمائی کے لیے مغرب کی طرف دیکھ رہی ہیں۔ حالانکہ صرف اور صرف اسلام ایک ایسا نظام ہے جو نہ صرف ہم مسلمانوں کے بلکہ پورے انسانی معاشرہ کے مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے سوا کسی اور نظام کا تجربہ مزید وقت ضائع کرنے اور قوم کو اور زیادہ پریشانیوں سے دوچار کرنے کے علاوہ کوئی نتیجہ پیدا نہیں کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہم مسلمان کی حیثیت سے قرآن و سنت کے تمام احکام قبول کرنے کے پابند ہیں، اور ہمیں یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ زندگی کے جس شعبے میں چاہیں قرآن و سنت کے احکام کو اختیار کر لیں اور جس شعبے میں نہ چاہیں انہیں ترک کر دیں۔ کیونکہ اللہ تعالٰی نے قرآن کریم میں خدائی احکام کو تقسیم کرنے والی قوموں کے لیے دنیا کی زندگی میں سخت ذلت اور رسوائی کی وعید سنائی ہے جس کا عملی مظاہرہ ہم اپنی قومی زندگی میں دیکھ رہے ہیں۔ پھر ہم نے بحیثیت قوم ایک عہد کر رکھا ہے کہ پاکستان کے نام پر الگ ملک ملنے کی صورت میں خدا تعالٰی اور اس کے آخری رسول کے احکام کی عملداری قائم کریں گے، لیکن پچاس برس سے ہم اس قومی عہد کی خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ جبکہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں واضح طور پر ارشاد فرمایا ہے کہ قومی عہد کی خلاف ورزی کرنے والی قوموں پر اللہ تعالٰی دشمنوں کو مسلط کر دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسلم ممالک میں اسلامائزیشن کی تحریکیں قیادت کے لیے پاکستان کی طرف دیکھ رہی ہیں، اور دنیا بھر کی اسلام دشمن لابیاں پاکستان سے خوفزدہ ہیں کہ یہی ایک ملک ہے جو دنیا میں خلافتِ اسلامیہ کے احیا اور اسلامی نظام کے دوبارہ نفاذ کی قیادت کر سکتا ہے، لیکن پاکستان کی دینی جماعتیں باہمی خلفشار اور گروہی بالادستی کی ترجیحات میں الجھ کر رہ گئی ہیں۔
مولانا زاہد الراشدی نے کہا کہ پاکستان میں نفاذِ اسلام کا مسئلہ اب پاکستان کا داخلی مسئلہ نہیں رہا بلکہ بین الاقوامی مسئلہ ہے کیونکہ پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ کو روکنے کی جنگ اب اسلام آباد میں نہیں بلکہ جنیوا اور نیویارک میں لڑی جا رہی ہے اور اس جنگ کی قیادت واشنگٹن اور لندن کر رہے ہیں۔ اسی طرح اقوامِ متحدہ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دیگر بین الاقوامی ادارے نفاذِ اسلام کی جدوجہد کے خلاف فریق بن چکے ہیں، اور وہ انسانی حقوق کے مغربی فلسفہ کو بطور ہتھیار استعمال کر کے نفاذِ اسلام کا راستہ روک دینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کی دینی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ صورتحال کی سنگینی کا احساس کریں اور اپنی صلاحیتوں اور توانائیوں کو یکجا کر کے ہوش مندی کے ساتھ نفاذِ اسلام کی جنگ لڑیں۔
انہوں نے مغربی ممالک میں مقیم مسلمانوں اور پاکستانیوں پر بھی زور دیا کہ وہ اس سلسلہ میں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور اسلام اور پاکستان کے خلاف مغربی لابیوں کی سرگرمیوں کے تعاقب اور اسلام اور پاکستان کے دفاع کے لیے منظم محنت کریں اور جرأت و حوصلہ کے ساتھ کام کریں، کیونکہ اگر نیویارک اور لندن میں رہنے والے یہودی صہیونیت اور اسرائیل کے لیے لابنگ کر سکتے ہیں تو مسلمانوں اور پاکستانیوں کو بھی اپنے دین اور وطن کے لیے لابنگ اور جدوجہد کرنے میں کوئی حجاب محسوس نہیں کرنا چاہیے۔
جمعیۃ اتحاد العلماء پاکستان کے مرکزی راہنما علامہ عنایت اللہ گجراتی نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام اور پاکستان لازم و ملزوم ہیں اور دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو اس کے اسلامی تشخص سے الگ نہیں کر سکتی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حکومت اور اپوزیشن دونوں میں سے کوئی بھی اسلام کے ساتھ مخلص نہیں ہے۔ ایک گروہ کی قیادت اسلامی قوانین کو وحشیانہ اور غیر انسانی قرار دیتی رہی ہے اور دوسرے گروہ کی قیادت مغربی آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے بنیاد پرست نہ ہونے کا واضح اعلان کر چکی ہے۔ اس لیے ان دونوں میں سے کسی ایک سے بھی اسلام کے نفاذ کے سلسلہ میں کوئی مثبت توقع نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت سب سے زیادہ ضرورت اتحاد اور اجتہاد کی ہے کہ علماء کرام فرقہ وارانہ اختلافات کو نظرانداز کرتے ہوئے متحد ہو جائیں اور اجتہاد کے ذریعے آج کے مسائل کا حل پیش کریں تاکہ وہ اسلامائزیشن کے سلسلہ میں قوم کی صحیح راہنمائی کر سکیں۔ حالات کچھ بھی کیوں نہ ہوں، ہمیں بہرحال نفاذِ اسلام کی جنگ لڑنی ہے اور دینی جماعتوں کو اس کے لیے شخصیات کے ٹکراؤ کے دائرہ سے نکل کر مشترکہ جدوجہد کا اہتمام کرنا ہو گا۔
مولانا سعید الرحمٰن تنویر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں اسلام نافذ نہ ہونے کی وجہ سے جہاں پاکستان میں لاقانونیت، غنڈہ گردی اور بدعنوانی کو فروغ حاصل ہوا ہے وہاں اس سے آزادیٔ کشمیر کی جنگ کو بھی نقصان پہنچا ہے اور پاکستان کی صورتحال کو دیکھ کر مجاہدینِ کشمیر کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دینی جماعتیں آج بھی متحد ہو جائیں تو اسلامی نظام نافذ ہو سکتا ہے۔
کانفرنس کی قراردادیں
مکمل نفاذِ اسلام کا مطالبہ
تحریکِ نفاذِ اسلام پاکستان (گلاسگو) کے زیراہتمام نظامِ شریعت کانفرنس کا یہ اجلاس اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلامی نظام کے عملی نفاذ میں مسلسل تاخیر پر سخت تشویش، اضطراب اور افسوس کا اظہار کرتا ہے، اور یہ سمجھتا ہے کہ نفاذِ اسلام کے تقاضے پورے نہ ہونے کے باعث نہ صرف قیامِ پاکستان کا مقصد ابھی تک ادھورا ہے بلکہ قومی زندگی فکری انتشار اور اخلاقی بے راہ روی کا شکار ہو گئی ہے۔ جس کے نتیجے میں بدعنوانی، نا اہلیت، رشوت، اور بددیانتی قومی زندگی کے ہر شعبہ میں تیزی کے ساتھ سرایت کرتی جا رہی ہے اور وطنِ عزیز جرائم اور لاقانونیت کی آماجگاہ بن کر رہ گیا ہے۔
یہ اجتماع اپنے اس یقین کا اظہار ضروری سمجھتا ہے کہ قرآن و سنت کی غیر مشروط بالادستی اور اسلامی نظام کے مکمل نفاذ کے بغیر قومی زندگی کو موجودہ خلفشار اور افراتفری کی دلدل سے نجات دلانا ممکن نہیں ہے۔
یہ اجتماع نفاذِ اسلام کے سلسلہ میں حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف دونوں کے طرزعمل پر قطعی عدمِ اطمینان کا اظہار کرتا ہے اور دینی قوتوں کے باہمی خلفشار کو نفاذِ اسلام کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہوئے ملک کی تمام دینی و سیاسی جماعتوں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ شریعتِ اسلامیہ کی بالادستی اور نفاذ کے سلسلہ میں اپنے نیم دلانہ طرز عمل اور گومگو کی پالیسی پر نظرثانی کریں اور قیامِ پاکستان کے حقیقی مقصد کی طرف عملی اور سنجیدہ پیشرفت کا اہتمام کریں۔
قومی اسمبلی کی آئینی کمیٹی سے اپیل
یہ اجلاس دستورِ پاکستان بالخصوص آٹھویں آئینی ترمیم کے بل پر نظرثانی کے لیے قومی اسمبلی کی قائم کردہ آئینی کمیٹی کے حوالہ سے ان اطلاعات پر تشویش کا اظہار کرتا ہے کہ آئین پر نظرثانی کا مقصد آئین کی اسلامی دفعات کو غیر مؤثر بنانا ہے تاکہ پاکستان کو ایک سیکولر مملکت بنانے کے لیے مغربی قوتوں کے تقاضوں کی تکمیل کی جا سکے۔
یہ اجلاس سمجھتا ہے کہ اگر دستورِ پاکستان کی اسلامی دفعات کو غیر مؤثر بنانے کی کوشش کی گئی تو یہ قیامِ پاکستان کے نظریاتی مقاصد کے ساتھ بے وفائی ہو گی، اس لیے قومی اسمبلی کی آئینی کمیٹی کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس سلسلہ میں اسلامیانِ پاکستان کے دینی جذبات کو ملحوظ رکھے اور نظرثانی کے کام کے دوران اسلامی دفعات کو غیر مؤثر بنانے کی بجائے دستور کی ان دفعات میں ترامیم تجویز کرے جو اسلام کے عملی نفاذ کی راہ میں رکاوٹ ہیں، تاکہ دستوری تضادات کو دور کر کے پاکستان میں قرآن و سنت کی عملداری کی راہ ہموار کی جا سکے۔
وحدتِ پاکستان کے خلاف سازشیں
یہ اجلاس وطنِ عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان کی وحدت کے خلاف مبینہ سازشوں پر تشویش کا اظہار کرتا ہے جن میں
- کراچی کو فری پورٹ بنانے کا منصوبہ،
- کشمیر کو خودمختار حیثیت دے کر امریکہ کا فوجی اڈہ بنانے کی تجویز،
- اور شمالی علاقہ جات کو کشمیر سے الگ کر کے ایک جداگانہ اسماعیلی ریاست بنانے کے پروگرام شامل ہیں۔
یہ اجلاس پاکستان کی حکومت، حزبِ اختلاف اور دینی و سیاسی جماعتوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وطنِ عزیز کی وحدت اور استحکام کے خلاف عالمی سطح پر سامنے آنے والی ان سازشوں کے بارے میں ملکی رائے عامہ کو اعتماد میں لیا جائے اور ان کے سدباب کے لیے مشترکہ طور پر مؤثر لائحۂ عمل اختیار کیا جائے۔
مجاہدینِ کشمیر کے ساتھ یکجہتی
یہ اجلاس کشمیر کی آزادی کے لیے قربانیوں کی ایک نئی تاریخ مرتب کرنے والے مجاہدین کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور پاکستان میں حکومت اور اپوزیشن کے موجودہ سیاسی خلفشار کو مجاہدینِ کشمیر کی جدوجہد کے لیے انتہائی نقصان دہ قرار دیتے ہوئے حکومت اور اپوزیشن کے لیڈروں سے مطالبہ کرتا ہے کہ باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مجاہدینِ کشمیر کی اخلاقی اور سیاسی امداد کے لیے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کیا جائے۔
قاہرہ کانفرنس کی تجاویز پر اظہارِ افسوس
یہ اجلاس اقوامِ متحدہ کی قاہرہ کانفرنس کی طرف سے
- شادی کے بغیر جنسی تعلقات کی حوصلہ افزائی،
- تعلیمی اداروں میں جنسی تعلیم کے فروغ،
- اسقاطِ حمل کے قانونی تحفظ، اور
- مانع حمل اشیاء کی کھلے بندوں فراہمی
کی تجاویز کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے انہیں مسلم معاشرت کی مذہبی بنیادوں پر براہ راست حملہ سمجھتا ہے اور حکومتِ پاکستان سمیت تمام مسلم حکومتوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ان تجاویز کو مسترد کرنے کا اعلان کریں۔
بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے اپیل
یہ اجلاس اسلام اور پاکستان کے بارے میں عالمی ذرائع ابلاغ اور بین الاقوامی لابیوں کے منفی پراپیگنڈا پر افسوس کا اظہار کرتا ہے، اور پاکستان کے داخلی اور نظریاتی معاملات کو انسانی حقوق کے نام نہاد مغربی فلسفہ کے سانچے میں ڈھالنے کی مہم کو ملتِ اسلامیہ کے مذہبی معاملات میں مداخلت تصور کرتا ہے۔ جس کی واضح مثال توہینِ رسالت کی سزا کے قانون، قادیانیت آرڈیننس، اور اسلامی قوانین کے خلاف مغربی لابیوں کا طرزعمل ہے۔
یہ اجلاس سمجھتا ہے کہ اس سلسلہ میں اسلام اور وطن عزیز پاکستان کا دفاع مغربی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کی ذمہ داری ہے اور انہیں اس کے لیے منظم فکری اور نظریاتی جدوجہد کرنی چاہیے۔
نیز یہ اجلاس مغربی ممالک میں مقیم پاکستانیوں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ اپنی نئی نسل کو اسلام اور اسلامی معاشرت کے ساتھ وابستہ رکھنے کی فکر کریں اور نوجوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کا اہتمام کریں تاکہ مسلمانوں کی نئی پود کے مذہبی تشخص کا تحفظ ہو سکے۔
تحریکِ نفاذِ اسلام پاکستان کی جدوجہد
نظامِ شریعت کانفرنس کے انعقاد کے ساتھ تحریکِ نفاذِ اسلام پاکستان گلاسگو اپنی جدوجہد کے باقاعدہ آغاز کا اعلان کرتی ہے۔ یہ پاکستان میں نفاذِ اسلام اور بیرون ملک اسلام اور پاکستان کے دفاع کی نظریاتی اور فکری جدوجہد ہو گی جو فرقہ وارانہ کشمکش، انتخابی سیاست اور حکومتی لابیوں سے بالاتر رہتے ہوئے شریعتِ اسلامیہ کی بالادستی کے لیے جاری رہے گی۔ یہ اجلاس ان مقاصد سے اتفاق رکھنے والے تمام مسلمانوں سے اس مقدس مشن میں دامے، قدمے، سخنے ہر طرح کے تعاون کی اپیل کرتا ہے۔
ورلڈ اسلامک کی مرکزی کونسل کا سالانہ اجلاس
رپورٹ، فیصلے اور قراردادیں
ادارہ
ورلڈ اسلامک فورم کی مرکزی کونسل کا اجلاس یکم اکتوبر ۱۹۹۴ء کو مسجد ابوبکر ساؤتھال لندن میں مولانا زاہد الراشدی کی زیرصدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ دو سالہ کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے آئندہ سال کے لیے کام کی ترتیب طے کی گئی اور فورم کے تنظیمی ڈھانچے پر نظرثانی کی گئی اور فورم کے تنظیمی ڈھانچے پر نظرثانی کی گئی۔
فورم کے سیکرٹری جنرل مولانا محمد عیسٰی منصوری نے گزشتہ دو سال کی کارگزاری رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اس دوران:
سالانہ تعلیمی سیمینار
لندن میں دو سالانہ تعلیمی سیمینار منعقد ہوئے جن میں مولانا خواجہ خان محمد، مولانا سید ارشد مدنی، مولانا مجاہد الاسلام قاسمی، پروفیسر ڈاکٹر سید سلمان ندوی، ڈاکٹر محمود احمد غازی، ڈاکٹر علامہ خالد محمود، پیر سید بدیع الدین راشدی، صاحبزادہ سلطان فیاض الحسن قادری، مولانا حافظ عبد الرحمٰن مدنی، سید طفیل حسین شاہ اور دیگر سرکردہ حضرات نے خطاب کیا۔
فکری نشستیں
لندن اور گوجرانوالہ میں متعدد فکری نشستیں منعقد کی گئیں جن میں شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر، جسٹس مولانا محمد تقی عثمانی، مولانا سعید احمد پالنپوری، افتخار اعظمی مرحوم، ڈاکٹر محمد شریف بقا اور دیگر اہلِ علم نے مختلف موضوعات پر خطاب کیا۔ لندن کی فکری و ادبی نشستیں تحریکِ ادبِ اسلامی کے تعاون سے منعقد کی گئیں۔
اسلامک ہوم اسٹڈی کورس
دعوۃ اکیڈمی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے تعاون سے یورپ کے مسلم نوجوانوں کے لیے اردو اور انگلش میں ’’اسلامک ہوم اسٹڈی کورس‘‘ کے نام سے خط و کتابت کورس شروع کیا گیا جس کا مستقل آفس مدنی مسجد نوٹنگھم میں کام کر رہا ہے اور ایک سالہ مطالعۂ اسلام کورس شروع ہو چکا ہے۔
قرآن کریم کا انگلش ترجمہ
مختلف ماہرین کے مشورہ سے قرآن کریم کے انگلش تراجم میں سے زبان و مواد کے لحاظ سے آسان ترجمہ کا انتخاب کر کے فورم کی طرف سے اس کے الگ ایڈیشن کی اشاعت کا اہتمام کیا گیا۔ یہ ترجمہ مدینہ یونیورسٹی کے استاذ پروفیسر الشیخ محمد تقی الہلالی اور ڈاکٹر محمد محسن خان کا ہے اور فورم کی طرف سے اس کا الگ ایڈیشن شائع ہو چکا ہے۔
دینی مکاتب کی جائزہ رپورٹ
برطانیہ میں کام کرنے والے دینی مکاتب کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے تجربہ کار اساتذہ کے مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا اور اس کی طرف سے ایک جائزہ رپورٹ پیش کی گئی۔
سیٹلائیٹ میڈیا
مغربی ذرائع ابلاغ اور لابیوں بالخصوص قادیانیوں کی طرف سے سیٹلائیٹ میڈیا کے ذریعے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف پراپیگنڈا کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے لندن میں میڈیا کے ماہرین کے سیمینار کا اہتمام کیا گیا جس میں ڈاکٹر اکبر ایس احمد مہمانِ خصوصی تھے۔ اس سیمینار کی تجاویز کی روشنی میں ویڈیو وژن انٹرنیشنل اور چاند ٹی وی کے نام سے کام کرنے والی دو فرموں سے اسلامی مقاصد کے لیے سیٹلائیٹ میڈیا کے استعمال کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔
قاہرہ کانفرنس
بہبودِ آبادی کے عنوان سے اقوامِ متحدہ کی قاہرہ کانفرنس کے فیصلوں اور مسلم معاشرہ پر ان کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے لندن اور برمنگھم میں ورلڈ اسلامک فورم کی دعوت پر مختلف مکاتبِ فکر کے علماء اور دانشوروں کے اجتماعات ہوئے جن میں اسقاطِ حمل، تعلیمی اداروں میں جنسی تعلیم، شادی کے بغیر جنسی تعلقات کی حوصلہ افزائی، ہم جنس پرستی کے قانونی تحفظ، اور مانع حمل اشیاء کی کھلے بندوں فراہم کو یقینی بنانے کے بارے میں قاہرہ کانفرنس کی تجاویز کے منفی اثرات کو اجاگر کیا گیا اور علماء کرام کو ان کے خلاف عملی جدوجہد کے لیے آمادہ کیا گیا۔
گستاخِ رسول کے لیے موت کی سزا
پاکستان میں گستاخِ رسول کے لیے موت کی سزا کے قانون کے خلاف مغربی لابیوں کے پراپیگنڈا اور امریکی حکومت کی مداخلت کے خلاف کراچی، لاہور، گوجرانوالہ اور ہری پور ہزارہ میں علماء کرام کے اجتماعات منعقد کیے گئے۔
ماہنامہ الشریعہ
فورم کا ترجمان ماہنامہ الشریعہ اس دوران گوجرانوالہ سے اردو زبان میں باقاعدگی کے ساتھ شائع ہوتا رہا۔
بیرونی دورے
فورم کے چیئرمین مولانا زاہد الراشدی نے اس دوران سعودی عرب، کینیا، ازبکستان اور افغانستان کا دورہ کیا۔ جبکہ سیکرٹری جنرل مولانا محمد عیسٰی منصوری نے بھارت، پاکستان اور پرتگال کا دورہ کیا اور فورم کے مقاصد کے حوالے سے مختلف اجتماعات میں شرکت کی۔
مرکزی دفتر
فورم کا مرکزی دفتر اس وقت لندن کے ختم نبوت سنٹر (۳۵ سٹاک ویل گرین) میں کام کر رہا ہے جبکہ فارسٹ گیٹ کے علاقہ میں مستقل ہیڈ آفس اور دینی مکتب کے قیام کے لیے عمارت کا سودا کیا گیا ہے جس کی رقم مہیا نہ ہو سکنے کی وجہ سے بروقت خریداری مکمل نہیں ہو سکی، تاہم اس سلسلہ میں سودے کی تکمیل کے لیے کوشش بدستور جاری ہے۔
مالی صورتحال
سیکرٹری جنرل نے فورم کے مالی حالات کے بارے میں اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے فورم کے قیام کے آغاز ہی میں بطور پالیسی یہ طے کر لیا تھا کہ
- ہم کسی مسلم حکومت کی لابی سے وابستہ نہیں ہوں گے
- اور مساجد میں چندہ کا مروجہ طریق کار بھی اختیار نہیں کریں گے
جس کی وجہ سے ہمیں اپنے کام کے لیے وسائل کی فراہمی میں خاصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اور اس وقت صورتحال یہ ہے کہ مرکزی دفتر کے لیے بلڈنگ کی خریداری کے سلسلہ میں ہمارے پاس تیرہ ہزار پونڈ کے لگ بھگ رقم موجود ہے، جبکہ دوسری طرف دیگر اخراجات کی مد میں ہم دس ہزار پونڈ سے زیادہ رقم کے مقروض ہیں۔ اور ہمارا کام چونکہ روایتی طرز کا نہیں ہے اس لیے اس کی افادیت اور اہمیت کی طرف سے اصحابِ خیر کو توجہ دلانے میں بے حد دشواری پیش آ رہی ہے۔
آئندہ پروگرام کی ترتیب
مولانا محمد عیسٰی منصوری نے آئندہ سال کے لیے فورم کے مجوزہ پروگرام کا مندرجہ ذیل خاکہ پیش کیا:
- مرکز کے لیے بلڈنگ کی خریداری کے کام کو مکمل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
- اسلامک ہوم اسٹڈی کورس کے پروگرام کو مزید توسیع دی جائے گی۔
- پرتگالی زبان میں قرآن کریم کے ترجمہ کی اشاعت کا اہتمام کیا جائے گا۔
- ماہنامہ الشریعہ میں انگلش صفحات کا اضافہ کیا جائے گا۔ اور لندن سے فورم کے ایک خبرنامہ کا اردو اور انگلش دو زبانوں میں اجرا کیا جائے گا۔
- فورم کا تیرا سالانہ تعلیمی سیمینار ۱۱ جون ۱۹۹۵ء کو لندن میں منعقد ہو گا۔
- جون ۱۹۹۵ء کے دوران لندن میں ائمہ مساجد اور خطباء کے لیے پندرہ روزہ تربیتی کورس کا اہتمام کیا جائے گا۔
- فکری نشستیں حسبِ معمول لندن اور گوجرانوالہ میں منعقد ہوتی رہیں گی۔
- مولانا زاہد الراشدی سعودی عرب کا اور مولانا محمد عیسٰی منصوری جنوبی افریقہ کا دورہ کریں گے۔
مرکزی کونسل نے گزشتہ کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مالی صورتحال کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا اور آئندہ سال کے مجوزہ پروگرام کی منظوری دی۔ اس کے علاوہ مرکزی کونسل نے آئندہ سال کے لیے فورم کے تنظیمی ڈھانچہ پر بھی نظرثانی کی جس کے مطابق فورم کے عہدہ دار درج ذیل ہوں گے:
سرپرست
| حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر (گوجرانوالہ، پاکستان) حضرت مولانا محمد عبد اللہ پٹیل (ترکیسر، گجرات، انڈیا) پروفیسر ڈاکٹر سید سلمان ندوی (ڈربن، جنوبی افریقہ) |
| چیئرمین | مولانا زاہد الراشدی (گوجرانوالہ، پاکستان) |
| ڈپٹی چیئرمین | مولانا مفتی برکت اللہ فاضل دیوبند (لندن، برطانیہ) |
سیکرٹری جنرل
| مولانا محمد عیسٰی منصوری (لندن، برطانیہ) |
ڈپٹی سیکرٹری
| مولانا سید اسد اللہ طارق گیلانی (ساؤتھال، لندن، برطانیہ) |
سیکرٹری دفتری امور
| الحاج عبد الرحمٰن باوا (لندن، برطانیہ) |
سیکرٹری تعلیم
| مولانا رضاء الحق (نوٹنگھم، برطانیہ) |
سیکرٹری میڈیا
| مولانا فیاض عادل فاروقی (لندن، برطانیہ) |
سیکرٹری رابطہ
| حافظ حفظ الرحمٰن تارا پوری (لندن، برطانیہ) |
سیکرٹری مالیات
| الحاج غلام قادر (لندن، برطانیہ) |
ارکان مرکزی کونسل
| مولانا ابوبکر سعید (لندن)، مولانا قاری عبد الرشید رحمانی (لندن)، مولانا محمد عمران خان جہانگیری (لندن)، مولانا منظور احمد الحسینی (لندن)، مولانا حافظ ممتاز الحق (لندن)، پروفیسر عبد الجلیل ساجد (برالٹن)، حافظ سعید احمد شاہ (ٹورانٹو)، جناب محمد اشرف (واشنگٹن)، مولانا محمد فاروق سلطان (کوپن ہیگن)، مولانا محمد سلیم دھورات (لیسٹر)، محمد سلیمان خان (لندن)، محمد انور شریف (لندن)، محمد اقبال روات (لندن)، محمد شفیق (لندن)، بیرسٹر یوسف اختر (لندن)۔
|
قراردادیں
- اجلاس میں ایک قرارداد کے ذریعے جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے امیر حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی ؒ اور ورلڈ اسلامک فورم کے سرپرست حضرت مولانا مفتی عبد الباقی ؒ کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ان کی ملی و دینی خدمات پر خراجِ عقیدت پیش کیا گیا اور ان کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔ نیز مولانا محمد عیسٰی منصوری کی والدہ محترمہ اور مولانا رضاء الحق کے والد محترم کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ان کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔
- ایک اور قرارداد میں سعودی عرب میں سرکردہ علماء کرام اور اہلِ دین کی گرفتاریوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس موقف کا اظہار کیا گیا کہ مسلم ممالک میں امریکی تسلط اور ناروا مداخلت کے خلاف کلمۂ حق بلند کرنا اور عوام کے لیے شریعتِ اسلامیہ کی بنیاد پر حقوق کا مطالبہ کرنا علمائے دین کی ذمہ داری ہے۔ اور جو علماء کرام اس سلسلہ میں جدوجہد کر رہے ہیں وہ کسی بھی ملک میں ہوں پورے عالمِ اسلام کی طرف سے تعاون اور حوصلہ افزائی کے مستحق ہیں۔ قرارداد میں سعودی حکومت سے اپیل کی گئی ہے کہ علماء کرام کی گرفتاریوں کا سلسلہ بند کیا جائے، گرفتار شدگان کو رہا کیا جائے اور ان کے جائز مطالبات کو منظور کیا جائے۔
- ایک اور قرارداد میں دنیا بھر کی مسلم حکومتوں سے اپیل کی گئی ہے کہ مغرب کے سیاسی و معاشی، سائنسی اور تہذیبی تسلط سے نجات حاصل کرنے اور مسلم ممالک میں خلافتِ راشدہ کی بنیاد پر مکمل اسلامی نظام نافذ کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
- ایک اور قرارداد میں اقوام متحدہ کی قاہرہ کانفرنس کی طرف سے تعلیمی اداروں میں جنسی تعلیم کے فروغ، شادی کے بغیر جنسی تعلیمات، ہم جنس پرستی کی حوصلہ افزائی، اور اسقاطِ حمل کے قانونی تحفظ کی تجاویز کو قرآن و سنت کی بنیادی تعلیمات کے منافی قرار دیتے ہوئے مسلم حکومتوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ان خلافِ اسلام تجاویز کو قبول نہ کرنے کا واضح اعلان کریں۔
اخبار و آثار
ادارہ
مولانا محمد عیسٰی منصوری کا دورۂ جنوبی افریقہ
ورلڈ اسلامک فورم کے سیکرٹری جنرل مولانا محمد عیسٰی منصوری ان دنوں جنوبی افریقہ کے دورہ پر ہیں۔ فورم کے سیکرٹری برائے تنظیمی امور مولانا محمد اسماعیل پٹیل بھی ان کے ہمراہ ہیں۔ انہوں نے فورم کے سرپرست ڈاکٹر سید سلمان ندوی، جمعیۃ علماء افریقہ صوبہ نٹال کے صدر مولانا محمد یونس پٹیل، اور دارالعلوم زکریا کے مہتمم مولانا شبیر احمد سلوجی کے علاوہ متعدد دیگر سرکردہ علماء کرام سے بھی ملاقاتیں کیں اور فورم کے مقاصد اور پروگرام کے حوالے سے ان سے تبادلہ خیال کیا۔
مولانا منصوری نے مختلف مقامات پر دینی اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام کی دعوت کو نسلِ انسانی کے تمام طبقوں تک پہنچانے اور اسلام کے بارے میں مختلف حلقوں میں پائے جانے والے خدشات و شبہات کے ازالہ کے لیے منظم اور سرتوڑ محنت کی ضرورت ہے اور علماء کرام کو اس کام کی طرف سنجیدگی کے ساتھ توجہ دینی چاہیے۔ مولانا منصوری نے علماء کرام، دانشوروں اور اصحابِ خیر سے اپیل کی کہ وہ ورلڈ اسلامک فورم کے مقاصد اور پروگرام کے لیے تعاون کریں اور اس جدوجہد کو منظم کرنے میں ہمارا ہاتھ بٹائیں۔
جمعیۃ اہلِ سنت گوجرانوالہ کا استقبالیہ
ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا زاہد الراشدی نے کہا ہے کہ پاکستان میں شریعتِ اسلامیہ کی بالادستی کی جنگ اسلام آباد میں نہیں بلکہ واشنگٹن، نیویارک، جنیوا اور لندن میں لڑی جا رہی ہے اور مغربی لابیاں اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور جنیوا کنونشن کی قراردادوں کی آڑ میں ’’انسانی حقوق‘‘ کے ہتھیاروں کے ساتھ اسلامی نظامِ حیات پر حملہ آور ہیں۔ وہ گزشتہ شب مسجد صدیقیہ سیٹلائیٹ ٹاؤن گوجرانوالہ میں جمعیۃ اہلِ سنت کی طرف سے دیے گئے استقبالیہ سے خطاب کر رہے تھے جو دورۂ برطانیہ سے واپسی پر ان کے اعزاز میں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ مغربی جمہوریت اور کمیونزم کے درمیان سرد جنگ کے خاتمہ کے بعد مغربی ذرائع ابلاغ اور لابیوں کا سب سے بڑا ہدف اسلام ہے اور ایک منظم سازش کے تحت اسلام کو سولائزیشن کے مخالف اور انسانی حقوق سے محروم کرنے والے مذہب کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ جس کا مقصد عالمی رائے عامہ کو اسلام سے متنفر کرنا اور مسلمانوں کی نئی نسل کو اسلام کے بارے میں شکوک و شبہات اور بے یقینی سے دوچار کرنا ہے۔ اس لیے اس محاذ پر ٹھوس فکری اور نظریاتی کام کی ضرورت ہے۔ اور ورلڈ اسلامک فورم اسی مقصد کے لیے جدوجہد کو منظم کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ خلافتِ راشدہ کی بنیاد پر اسلامی نظام کا صحیح تعارف دنیا کے سامنے پیش کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان کے علاوہ انڈونیشیا، ملیشیا، مراکش، مصر، ترکی، الجزائر، تونس اور دیگر مسلم ممالک میں اسلامائزیشن کی تحریکیں موجود ہیں اور مسلم ممالک کے حکمران اپنے ملک کے عوام اور اسلام کا ساتھ دینے کی بجائے مغربی حکومتوں کے ایجنٹ کا کردار ادا کر رہے ہیں اور متعدد ممالک میں اسلامائزیشن کی تحریکات ریاستی جبر کا شکار ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب میں بھی خلافتِ راشدہ اور قرآن و سنت کی بنیاد پر شرعی حقوق کی بحالی کے لیے علماء و مشائخ سرگرم عمل ہیں اور متعدد سرکردہ علماء اس جدوجہد کی وجہ سے گرفتار کر لیے گئے ہیں۔ اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ خلیج میں امریکہ کی نئی افواج کی آمد دراصل اس خطہ میں دینی بیداری کی تحریکات کو کچلنے اور مغربی مفادات کے لیے کام کرنے والی حکومتوں کے تحفظ کے لیے ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی دینی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ آنے والے حالات کا بروقت اندازہ کریں اور عالمِ اسلام کی صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے مسلم ممالک میں ریاستی جبر کا شکار بننے والی دینی تحریکات کا ساتھ دیں۔
استقبالیہ تقریب کی صدارت مولانا مفتی محمد عیسٰی خان گورمانی نے کی اور جمعیۃ اہلِ سنت کے راہنما مولانا حافظ گلزار احمد آزاد نے بھی خطاب کیا جبکہ علماء اور کارکنوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔
وفاقی وزارتِ تعلیم کا افسوسناک فیصلہ
ادارہ
وفاقی وزارتِ تعلیم کی طرف سے امسال فیڈرل بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن اسلام آباد کو مڈل اسٹینڈرڈ سالانہ امتحان کا انتظام سپرد کیا گیا تھا۔ بورڈ نے اپنے اکیڈمک سیل کے ذریعے مڈل سٹینڈرڈ کے امتحان کی پالیسی کے اعلان میں
- قرآن پاک ناظرہ اور عربی لازمی کو امتحان سے خارج کر دیا ہے۔
- جبکہ اسلامیات (لازمی) اور مطالعہ پاکستان کے نمبرات ۱۰۰ سے نصف کر کے ۵۰ کر دیے ہیں۔
فیڈرل بورڈ کے اس فیصلہ نے مسلم قوم کے نونہالوں کو قرآن کریم اور اس کی زبان عربی اور پاکستان سے متعلق معلومات سے ناآشنا کر کے اسلام دشمنی کا واضح ثبوت مہیا کر دیا ہے۔ جبکہ تین سال قبل وفاقی محتسب کی ہدایت پر وفاقی وزارتِ تعلیم نے ناظرہ قرآن کو سرکاری مدارس میں لازمی قرار دے کر امتحان کے ۴۰ نمبر مقرر کیے تھے۔
یہ کتنے دکھ اور افسوس کی بات ہے کہ جس ملک کی بنیاد نظریہ اسلام پر رکھی گئی ہے اس میں قرآن کی تعلیم کا کوئی انتظام نہیں۔ بنا بریں ہمارا مطالبہ ہے کہ
- مسلم قوم کے بچوں کو اسلام، قرآن اور نظریہ پاکستان سے بے بہرہ اور محروم نہ کیا جائے،
- قرآن اور اسلام کے خلاف سازش کرنے والے افسران سے بازپرس کی جائے،
- اور مڈل اسٹینڈرڈ کے امتحان کا اختیار بورڈ سے واپس لے کر ثانوی تعلیمی مدارس کو لوٹایا جائے، جیسا کہ ملک کے چاروں صوبوں میں ہے،
- نیز سرکاری مدارس میں قرآن کریم کی تعلیم کا معقول انتظام کیا جائے،
- اور عربی و اسلامیات کو یکجا کر کے بی اے کی سطح تک لازمی مضمون قرار دیا جائے۔
منجانب: مولانا قاری محمد نذیر فاروقی
سیکرٹری جنرل جمعیۃ اہلِ سنت اسلام آباد