پاکستان کے داخلی معاملات میں امریکی مداخلت اور مسیحی رہنماؤں سے مخلصانہ گزارش
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
(فلیٹیز ہوٹل لاہور میں مدیر اعلیٰ الشریعہ کا پریس کانفرنس سے خطاب۔ ادارہ الشریعہ)
امریکی سینٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی نے ۱۹۸۷ء میں پاکستان کی فوجی و اقتصادی امداد کے لیے شرائط عائد کر کے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے خلاف جس نظریاتی اور اعصابی جنگ کا آغاز کیا تھا وہ اب فیصلہ کن مرحلہ میں داخل ہوگئی ہے۔ ان شرائط میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خاتمہ کے ساتھ ساتھ اسلامی قوانین نافذ نہ کرنے کی ضمانت، جداگانہ طرز انتخاب کی منسوخی، اور قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیے جانے کے اقدامات کی واپسی کے مطالبات شامل تھے، اور ان میں اب گستاخ رسولؐ کے لیے موت کی سزا کا قانون تبدیل کرنے کے تقاضہ کا اضافہ بھی ہوگیا ہے۔
امریکہ کی جانب سے ان شرائط اور مطالبات کا مقصد اسلام کے نام پر وجود میں آنے والے اس ملک میں اسلامی نظام کے عملی نفاذ کو روکنا، اسے اسلامی تشخص سے محروم کر کے ایک سیکولر ریاست کی حیثیت دینا، اور دفاعی طور پر کمزور اور بے بس بنا کر بھارت کے زیر اثر ممالک میں شامل کرنا ہے۔ ان شرائط و مطالبات کی تکمیل کے لیے امریکہ نہ صرف پاکستان کی فوجی و اقتصادی امداد کو روکے ہوئے ہے بلکہ عالمی ذرائع ابلاغ اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کے ذریعے سے پاکستان پر دباؤ میں مسلسل اضافہ کرتا جا رہا ہے اور پاکستان کے اندر مختلف طبقات بالخصوص اقلیتوں کو ابھار کر فکری انتشار پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ابھی چند روز قبل مسئلہ کشمیر کے حوالہ سے مغربی ممالک کا دورہ کرنے والے پاکستانی وفد کے سامنے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے جو مطالبات رکھے ہیں ان میں آٹھویں آئینی ترمیم کے خاتمہ، جداگانہ طرز انتخاب کی منسوخی، اور گستاخ رسولؐ کے لیے موت کی سزا کے قانون کی تبدیلی کا بطور خاص ذکر کیا گیا ہے۔
امریکہ اور اس کی ہمنوا دیگر مغربی قوتیں و لابیاں اس مقصد کے لیے انسانی حقوق کا نعرہ بطور ہتھیار استعمال کر رہی ہیں اور پاکستان میں ملک کے اسلامی تشخص کے تحفظ، دفاعی استحکام اور اسلامی قوانین کے نفاذ کے اقدامات کو نام نہاد ’’انسانی حقوق‘‘ کی خلاف ورزی قرار دے کر انہیں بلڈوز کر دینا چاہتی ہیں۔ انسانی حقوق کا یہ فلسفہ مغربی دنیا کا خودساختہ ہے جس کی تشکیل اور تشریح کے تمام اختیارات مغرب نے اپنے ہاتھ میں رکھے ہوئے ہیں جو اسلامی دنیا کے لیے قطعی طور پر ناقابل قبول ہے۔ کیونکہ ہم بحیثیت مسلمان اپنے انفرادی اور اجتماعی معاملات میں قرآن کریم اور جناب رسالت ماب صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کے پابند ہیں اور قرآن و سنت کے احکام کے خلاف کسی بھی فلسفہ کی بالادستی کو قبول کرنا اسلامی نظام کے اجتماعی کردار سے انحراف کے مترادف ہے۔ اس لیے ہم انسانی حقوق کے دائرہ کار کے تعین اور ان کی تشریح پر مغرب کی اجارہ داری کو قطعی طور پر مسترد کرتے ہیں اور امریکی حکومت اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطالبات کو اسلامیان پاکستان کے دینی معاملات اور مذہبی عقائد میں کھلی مداخلت قرار دیتے ہوئے ان کی شدید مذمت کرتے ہیں۔
اس پس منظر میں جبکہ امریکہ اور اس کے حواری اسلامی جمہوریہ پاکستان کے خلاف جنگ کے فیصلہ کن راؤنڈ کا آغاز کر چکے ہیں، پاکستان کے سیاسی و دینی حلقوں کا طرز عمل انتہائی افسوسناک اور مایوس کن ہے۔ ملک کی دونوں بڑی سیاسی قوتیں اقتدار کے حصول اور تحفظ کے لیے امریکہ کی خوشنودی کو ہر قیمت پر برقرار رکھنے کی خاطر ’’خود سپردگی‘‘ کی دوڑ میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش میں ہیں۔ جبکہ دینی حلقوں کے بیشتر قائدین نہ صرف صورتحال کی سنگینی کے احساس اور مسائل کے ادراک سے عاری ہو چکے ہیں بلکہ باہمی انتشار، بے اعتمادی اور غلط ترجیحات کے باعث عوام میں بد دلی اور مایوسی پھیلانے میں مصروف ہیں۔
ان حالات میں رائے عامہ کو امریکی عزائم کے خلاف بیدار کرنا اور پاکستانی عوام میں مذہبی آزادی اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا شعور اجاگر کرنا سب سے اہم قومی ضرورت اور دینی تقاضہ ہے۔ اسی مقصد کے لیے ورلڈ اسلامک فورم نے گروہی اور انتخابی سیاست سے الگ تھلگ رہتے ہوئے ملک کے مختلف شہروں میں علماء کرام اور دینی کارکنوں کے فکری اجتماعات کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ اس مقصد کے لیے کراچی میں ۲۶ دسمبر ۱۹۹۳ء کو اور گوجرانوالہ میں ۱۲ جنوری ۱۹۹۴ء کو علماء کنونشن منعقد ہو چکے ہیں۔ جبکہ اس سلسلہ کا تیسرا کنونشن ۱۸ اپریل ۱۹۹۴ء کو شیرانوالہ گیٹ ہری پور ہزارہ میں اور چوتھا کنونشن ۲۲ اپریل کو جامع مسجد انارکلی لاہور میں منعقد ہو رہا ہے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ مذہبی آزادی اور قومی خودمختاری پر یقین رکھنے والے ہر شہری سے گزارش ہے کہ وہ اس مہم میں شریک ہو اور ہمارا ہاتھ بٹائے۔
اس موقع پر ’’رتہ دوہتڑ توہین رسالتؐ کیس‘‘ کے حوالہ سے کچھ گزارشات ضروری معلوم ہوتی ہیں۔ یہ کیس جسے بی بی سی، وائس آف امریکہ، وائس آف جرمنی اور آل انڈیا ریڈیو کے مسلسل پراپیگنڈہ نے عالمی شہرت دے دی ہے اب اسلامیان پاکستان کے دینی جذبات اور محبت رسولؐ کی علامت بن چکا ہے۔ مگر حکومت پاکستان کا طرز عمل یہ ہے کہ امریکہ کے دباؤ کے تحت گستاخ رسولؐ کے لیے موت کی سزا کے قانون میں تبدیلی کی فکر کے ساتھ ساتھ اس کیس کے حوالہ سے بھی امریکہ کو ہر حال میں خوش رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے جو کہ انتہائی افسوسناک اور پاکستانی عوام کے مذہبی جذبات کی توہین کے مترادف ہے۔
اس ضمن میں مسیحی اقلیت کے مذہبی پیشواؤں کا طرز عمل بھی قابل افسوس ہے جو گستاخ رسولؐ کے لیے موت کی سزا کی مخالفت کر کے خود بائبل کے احکام سے انحراف کر رہے ہیں۔ کیونکہ بائبل میں انبیاء کرام علیہم السلام تو کجا مذہبی پیشوا کی گستاخی اور کتاب مقدس کے صندوق کی توہین پر بھی موت کی سزا کا حکم دیا گیا ہے۔ اس لیے مسیحی اقلیت کے مذہبی پیشواؤں کی طرف سے اس سزا کی مخالفت ناقابل فہم ہے۔ البتہ ان کے اس مطالبہ کی ہم حمایت کرتے ہیں کہ اس قانون میں جناب محمد رسول اللہؐ کے ساتھ دیگر انبیاء کرامؑ کا بھی ذکر کیا جائے۔ کیونکہ ہم مسلمان اللہ تعالیٰ کے کسی بھی سچے پیغمبر کی توہین کو اسی طرح ناقابل معافی جرم سمجھتے ہیں جس طرح جناب نبی اکرمؐ کی شان اقدس میں گستاخی جرم ہے۔ اسی طرح ہم مسیحی اقلیت کے اس مطالبہ کی بھی حمایت کرتے ہیں کہ اس قانون کے غلط استعمال کی روک تھام کے لیے کسی بھی مقدمہ کے اندراج سے قبل مجسٹریٹ کی انکوائری کو ضروری قرار دیا جائے۔ ہمیں اقلیتوں سے کوئی عناد نہیں ہے اور انہیں اس قانون کے غلط استعمال کی روک تھام کے لیے ہر جائز تحفظ فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن گستاخ رسولؐ کے لیے موت کی سزا اٹل ہے اور اس میں کسی قسم کی تبدیلی کو کسی قیمت پر برداشت نہیں کیا جائے گا۔
اس سلسلہ میں گستاخ رسولؐ منظور مسیح کے قتل کے الزام میں ماسٹر عنایت اللہ اور دیگر بے گناہ افراد کی گرفتاری بھی افسوسناک ہے اور ہم مسیحی اقلیت کے مذہبی پیشواؤں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ کسی گستاخ رسولؐ کی حمایت کر کے اپنی پوزیشن خراب نہ کریں اور نہ بے گناہ افراد کی گرفتاری کے لیے اپنی صلاحیتیں ضائع کریں۔ اگر مسیحی راہنما چاہیں تو ہم اس کے لیے تیار ہیں کہ رتہ دوہتڑ توہین رسالت کیس اور منظور مسیح قتل کیس کی انکوائری کے لیے ہائیکورٹ کے جج کی سربراہی میں کمیشن قائم کیا جائے جس میں تحفظ ناموس رسالت ایکشن کمیٹی کے نمائندے اور مسیحی مذہبی راہنما بھی شامل ہوں۔ اور یہ کمیشن دونوں کیسوں کے بارے میں تحقیقات کر کے حقائق کی نشاندہی کرے تاکہ اصل حالات پاکستانی عوام اور عالمی رائے عامہ کے سامنے واضح ہو سکیں۔
ان گزارشات کے ساتھ ہم حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ
- انسانی حقوق کے نام نہاد اور یکطرفہ مغربی فلسفہ کو مسترد کرنے کا اعلان کیا جائے،
- پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کا دوٹوک اعلان کیا جائے،
- گستاخ رسولؐ کے لیے موت کی سزا کا قانون تبدیل کرنے کا فیصلہ واپس لیا جائے،
- اور منظور مسیح قتل کیس میں گرفتار بے گناہ ماسٹر عنایت اللہ اور ان کے رفقاء کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔
مولانا نور محمد آف ملہو والیؒ / پیر بشیر احمد گیلانیؒ / مولانا عبد الرؤف جتوئیؒ
- گزشتہ دنوں حضرت مولانا نور محمد ملہو والی کا انتقال ہو گیا، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مرحوم بزرگ علماء میں سے تھے، نوے برس سے زیادہ عمر تھی، حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کاشمیریؒ کے تلامذہ میں سے تھے۔ ملہو والی ضلع اٹک میں طویل عرصہ تک تدریسی خدمات سرانجام دیتے رہے اور ان کے متعدد شاگرد مختلف علاقوں میں دینی خدمات میں مصروف ہیں۔
- سیالکوٹ کی بزرگ شخصیت پیر سید بشیر احمد گیلانیؒ رحلت فرما گئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مرحوم دینی تحریکات میں ہمیشہ پیش پیش رہے اور مذہبی جماعتوں کی ہمیشہ سرپرستی کرتے رہے ہیں۔
- عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا عبد الرؤف جتوئی کا بھی انتقال ہو گیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مرحوم انتہائی پرجوش مقرر اور انتھک کارکن تھے۔
اللہ تعالیٰ مرحومین کو جوارِ رحمت میں جگہ دیں اور پسماندگان کو صبرِ جمیل کی توفیق سے نوازیں، آمین۔
رسول اللہؐ کی محبت، ایمان کا اولین تقاضا
شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر
مومن کے صاف اور شفاف دل میں سب سے پہلے اور سب سے بڑھ کر خالقِ کائنات، منعمِ حقیقی اور رب ذوالجلال کی محبت ہوتی ہے۔ اس کے دل کے اس خانہ میں کسی اور کی محبت کے لیے مطلقاً کوئی جگہ اور گنجائش ہی نہیں ہوتی، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
والذین اٰمنوا اشد حب اللّٰہ۔ (البقرہ)
’’ اور وہ لوگ جو ایمان لائے ان کی سب سے بڑھ کر محبت اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہوتی ہے۔‘‘
اس کے بعد مومن کے دل میں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت گہرے سمندر کی موجوں کی طرح ٹھاٹھیں مارتی ہے، اور اس محبت کے مقابلہ میں مخلوق میں سے کسی بھی فرد کی محبت اور عقیدت کوئی حیثیت نہیں رکھتی اور نہ مومن اس کو قابلِ التفات ہی سمجھتا ہے۔ یہ محبت محض عشق و عقیدت کے درجہ کی نہیں بلکہ تصدیق و اذعان اور پختہ عقیدہ کی آخری حد ہے اور مدارِ ایمان اور باعثِ نجات ہے۔ اس محبت کا ظاہری طور پر اظہار آپ کی صحیح فرمانبرداری اور اطاعت سے ہوتا ہے، اور جس درجہ کی محبت دل میں موجزن ہوتی ہے اسی انداز کی اطاعت کا محب سے صدور ہوتا ہے۔
سیدنا حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ (المتوفٰی ۹۳ھ) سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
’’تم میں سے کوئی ایک شخص بھی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے ماں باپ اور اولاد اور تمام انسانوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔‘‘ (بخاری ج ۱ ص ۷ ۔ مسلم ج ۱ ص ۴۹)
اس صحیح حدیث شریف میں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مومن ہونے کے لیے ایک بنیادی شرط اور واضح علامت بیان فرمائی ہے کہ وہ آپ کی ذاتِ گرامی سے ماں، باپ، اہل و عیال اور تمام انسانوں سے بڑھ کر محبت کرے۔ اگر معاذ اللہ تعالیٰ ایسا نہیں تو وہ مومن نہیں ہو سکتا۔
سیدنا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ (المتوفٰی ۵۷ھ) کی روایت میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم میں سے کوئی ایک شخص بھی مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کے ہاں میں اس کے ماں باپ اور اولاد سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔‘‘ (بخاری ج ۱ ص ۷)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد قسم اٹھائے بغیر بھی بالکل سچا ہے مگر آپ نے یہ مضمون اور حکم موکد کرنے کے لیے قسم سے بیان فرمایا ہے۔
سیدنا حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ (المتوفٰی ۲۳ھ) کی روایت میں ہے:
’’حضرت عبد اللہ بن ہشام رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وبارک وسلم کے ساتھ تھے اور آپؐ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ حضرت آپ مجھے اپنے نفس کے بغیر ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں۔ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، اس وقت تک ایمان حاصل نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں تیرے نفس سے بھی زیادہ تجھے محبوب نہ ہو جاؤں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا، اب آپ مجھے اپنے نفس سے بھی زیادہ محبوب ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وبارک وسلم نے ارشاد فرمایا، ہاں عمر! اب بات بن گئی۔‘‘ (بخاری شریف ج ۲ ص ۹۸۱)
امام نووی الشافعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (المتوفٰی ۶۷۶ھ) سیدنا حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث کی شرح میں محدث ابن بطال رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے نقل کرتے ہیں کہ
’’بلاشبہ جس نے دن کو مکمل کر لیا تو وہ یہ جانتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حق اپنے ماں باپ، اولاد اور تمام انسانوں سے زیادہ موکد ہے، کیونکہ ہم آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہی کی بدولت دوزخ سے بچے اور ہم نے آپ ہی کی وجہ سے گمراہی سے ہدایت حاصل کی۔‘‘ (شرح مسلم ج ۱ ص ۴۹)
مومن کی نگاہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ کے غضب، اس کی ناراضگی، اور آتشِ دوزخ سے بچنے اور گمراہی کے گڑھے سے نکل کر راہِ ہدایت پر آجانے سے بڑھ کر اور کیا خوشی اور کامیابی ہو سکتی ہے؟ بلاشبہ ماں باپ اور اولاد سے بسا اوقات بڑے بڑے فوائد و منافع حاصل ہوتے ہیں لیکن گمراہی کے عمیق اور گہرے کنوئیں سے نکل کر ہدایت کے سرسبز و شاداب چمن میں آ جانا اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم کی آگ اور گوناگوں عذاب سے بچ جانا بہت بڑی سعادت اور اعلیٰ ترین کامیابی ہے، اور یہ امتِ مسلمہ کو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و بارک وسلم کی کوشش اور آپ ہی کی سعی سے حاصل ہوئی ہے۔ جب اتنی بڑی دولت آپ کے طفیل سے حاصل ہوئی ہے تو شرعی لحاظ سے تو ضروری ہے ہی، فطری طور پر بھی آپ سے محبت بہت ضروری ہے۔ اور یہ محبت تمام اعزہ و اقارب سے بڑھ کر آپ سے وابستہ ہونی لازم ہے۔ اور یہ محبت ایمان کی اصل الاصول بھی ہے اور مدار بھی۔ مخلوق میں باقی سب کا حق اس کے بعد ہے، مقدم صرف آپ ہی کا حق ہے، صلی اللہ علیہ و بارک وسلم۔
حضرت امام نووی رحمۃ اللہ علیہ ہی جلیل القدر شارح حدیث علامہ قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کرتے ہیں کہ
’’ایمان کی حقیقت سوائے اس کے مکمل نہیں ہو سکتی اور ایمان اس کے بغیر صحیح ہی نہیں ہو سکتا جب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قدر و منزلت کو اپنے ماں باپ اور اولاد اور محسن اور مہربان سب پر بلند کرنا متحقق نہ ہو جائے، اور جس شخص نے یہ اعتقاد نہ کیا اور اس کے علاوہ کچھ اور اعتقاد رکھا تو وہ مومن نہیں ہے۔‘‘ (ایضاً ص ۴۹)
اور اس کی وجہ ظاہر ہے کہ ماں باپ اور اعزہ و اقارب کے ساتھ محبت میں بالواسطہ یا بلاواسطہ نفس اور جسم کا تعلق ہوتا ہے لیکن جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت اور لگاؤ جسم اور روح دونوں کے ساتھ وابستہ ہے۔ جس کے نتیجہ میں جہاں مومن کا یہ جہاں بنتا ہے وہاں آخرت کا ابدی جہاں بھی صرف بنتا ہی نہیں بلکہ خوب اجاگر ہوتا ہے اور اسی پر موقوف ہے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ مومن کے دل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے جو نشاط و سرور اور وجد کی کیفیات پیدا ہوتی ہیں وہ ظاہری حسن و جمال کے شیدائی کو کب حاصل ہو سکتی ہیں، جو انسانوں اور حیوانوں سے آگے نکل کر بہتی ہوئی ندیوں اور لہلہاتے ہوئے مرغزاروں، چہچہاتی ہوئی چڑیوں، کھلے ہوئے شگفتہ و نیم شگفتہ پھولوں، وادیوں کے نشیب و فراز، دامنِ کوہ کی ابھرتی ہوئی بلندیوں، اور ڈھلتی ہوئی پستیوں کی جمالی تجلیوں میں تلاش کرتا ہے۔ اور اسی محبت کی وجد آفریں کیفیت کو دشمنانِ اسلام مسلمانوں کے حافظہ سے مٹانا چاہتے ہیں، لیکن وہ بجائے مٹنے کے ہر دم تازہ سے تازہ ہو کر ابھرتی رہتی ہے۔ سچ ہے ؎
مجھے پستیوں کا گلہ نہیں کہ ملی ہیں ان سے بلندیاں
میرے حق میں دونوں مفید ہیں کہ نشیب ہی فراز ہے
توہینِ رسول کفر اور قابلِ گردن زدنی ہے
فقہائے اسلام نے نہایت وضاحت سے یہ بات کتابوں میں لکھی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تنقیص و توہین اور سب و شتم اور تکذیب و عیب جوئی صریح طور پر کفر ہے۔ چنانچہ قاضی القضاۃ حضرت امام ابو یوسف یعقوب بن ابراہیم الحنفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (المتوفٰی ۱۸۲ھ) لکھتے ہیں کہ
’’جس شخص نے بھی مسلمان ہو کر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دی یا آپ کی تکذیب کی یا آپ پر کوئی عیب لگایا، آپ کی تنقیص کی تو بلاشبہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں کافر ہے اور اس کی بیوی اس سے بائن اور جدا ہو جائے گی، سو اگر وہ توبہ کر لے تو فبہا ورنہ اس کو قتل کیا جائے گا۔‘‘ (کتاب الخراج ص ۱۸۲)
اس سے بصراحت معلوم ہوا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ رفیع کو گالی دینا یا آپ کی تکذیب و عیب جوئی کرنا یا توہین و تنقیص کرنا خالص کفر ہر جس سے اس کی بیوی اس پر حرام ہو جاتی ہے۔
مشہور مالکی امام قاضی عیاض بن موسٰی بن عیاض رحمۃ اللہ علیہ (المتوفٰی ۵۴۴ھ) لکھتے ہیں کہ
’’حضرت امام محمد بن سحنون رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا کہ تمام علماء کا اس بات پر اجماع و اتفاق ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب و شتم کرنے والا اور آپ کی تنقیص کرنے والا کافر ہے، اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کی وعید اس پر جاری ہے۔ اور امت کے نزدیک اس کا حکم یہ ہے کہ اس کو قتل کر دیا جائے اور جو شخص اس کے کفر اور عذاب میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔‘‘ (الشفاء ج ۴ ص ۱۹۰ طبع مصر)
شیخ الاسلام ابن تیمیہ الحنبلی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (المتوفٰی ۷۲۸ھ) لکھتے ہیں کہ
’’قاضی عیاض رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا ہے کہ جو شخص بھی جناب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سب کرے، یا آپ کو عیب لگائے، یا آپ کی ذاتِ پاک، نسب یا دین یا آپ کی خصلتوں میں سے کسی خصلت میں کوئی عیب نکالے، یا کسی بھی شخص کو آپ کے متعلق سب و تنقیص یا بغض یا عداوت کے طور پر کوئی شبہ پیدا ہوا، تو وہ گالی ہی ہو گی اور ایسے شخص کا حکم وہی ہے جو گالی دینے والے کا ہے کہ اس کو قتل کیا جائے گا (جس کا انتظام اسلامی حکومت کرے گی)‘‘۔ (الصارم المسلول ص ۵۲۸ طبع دائرۃ المعارف حیدر آباد دکن)
یہ تمام عبارات اپنے مفہوم اور مضمون کے اعتبار سے بالکل واضح ہیں، مزید کسی توضیح و تشریح کی محتاج نہیں ہیں۔
سات چیزوں سے پناہ کی دعا
شیخ التفسیر مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ
عن ابی الیسر (رضی اللہ عنہ) ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کان یدعو بہؤلاء الکلم السبع: یقول اللھم انی اعوذبک من الھرم واعوذ بک من التردی اوعوذ بک من الغم والغرق والحرق و اعوذ بک ان یتخبطنی الشیطان عند الموت واعوذ بک ان اموت فی سبیلک مدبرا واعوذ بک ان اموت لدیغا۔ (مسند احمد، طبع بیروت، ج ۳ ص ۷۲۸)
حضرت ابو یسرؓ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان سات کلمات کے ساتھ دعا کیا کرتے تھے:
(۱) اللّٰھم انی اعوذ بک من الھرم
اے اللہ! میں تیری ذات کے ساتھ انتہائی بڑھاپے سے پناہ مانگتا ہوں۔ انسان عمر کے اس حصے میں پہنچ جائے جہاں چلنا پھرنا، کھانا پینا مشکل ہو جائے، حتٰی کہ عقل بھی ٹھکانے نہ رہے تو ایسی حالت سے پناہ مانگی گئی ہے۔
(۲) واعوذ بک من التردی
اے اللہ! میں کسی اونچی جگہ سے گر کر ہلاک ہونے سے بھی تیری پناہ پکڑتا ہوں۔ بعض اوقات انسان کسی پہاڑ کی چوٹی سے یا بلند عمارت سے گر پڑتا ہے یا کسی دیگر حادثے کا شکار ہو کر موت کی آغوش میں چلا جاتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بھی پناہ مانگی ہے۔
(۳) واعوذ بک من الغم
اے اللہ! میں تیری ذات کے ساتھ غم سے پناہ مانگتا ہوں۔ کوئی غم لاحق ہو جائے تو دل و دماغ پر نہایت منفی اثرات پڑتے ہیں اور انسان سخت پریشان ہو جاتا ہے۔ ابن ماجہ شریف کی روایت میں آتا ہے ’’الھم نصف الھرم‘‘ یعنی غم آدھا بڑھاپا ہوتا ہے۔ غم دنیا کا بھی ہوتا ہے اور دین کا بھی۔ حضور علیہ السلام کو دین کا غم تھا جس سے آپ پناہ مانگتے تھے۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا، مجھے سورۃ ہود، الشمس، کورت اور نبا نے بوڑھا کر دیا ہے۔ آپ کو دین کی اس قدر فکر تھی۔
(۴) والغرق والحرق
اے اللہ! میں تیری ذات کے ساتھ پانی میں ڈوب کر مرنے سے پناہ چاہتا ہوں۔ یہ بھی حادثاتی موت ہے جس کو پسند نہیں کیا گیا۔ اور آگ میں جل کر مرنے سے بھی پناہ چاہتا ہوں۔ یہ بھی بڑی تکلیف دہ موت ہے، اللہ اس سے بچائے۔
(۵) واعوذ بک ان یتخبطنی الشیطان عند الموت
اور اس چیز سے تیری پناہ چاہتا ہوں کہ موت کے وقت مجھے شیطان مخبوط الحواس بنا دے اور انسان ایمان کی دولت سے محروم ہو جائے۔ شیطان ہر انسان پر اس کے آخری وقت تک حملہ آور ہوتا رہتا ہے تاکہ اس کے ایمان پر ڈاکہ ڈال لے، لہٰذا حضور علیہ السلام نے اس چیز سے بھی پناہ مانگی ہے۔
(۶) واعوذ بک ان اموت فی سبیلک مدبرا
اے اللہ! میں تیری ذات کے ساتھ اس بات سے بھی پناہ چاہتا ہوں کہ میں تیرے راستے میں پشت پھیرنے والا بنوں۔ جب دشمن سے میدانِ جنگ میں مقابلہ ہو رہا ہو تو اس وقت پیٹھ پھیر کر بھاگنا سخت معیوب ہے کہ اس سے دوسروں کی بھی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ قرآن میں اللہ کا فرمان ہے کہ جہاد میں اگر دشمنوں کی تعداد اہل ایمان سے دگنی بھی ہو تو انہیں ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہیے اور بزدلی نہیں دکھانی چاہیے۔ ہاں اگر دشمن کی تعداد دو گنا سے بھی زیادہ ہو تو پھر مقابلے میں نہ آنے کی اجازت ہے۔
(۷) واعوذ بک ان اموت لدیغا
اے اللہ! کسی کیڑے مکوڑے کے کاٹنے سے مرنے سے بھی تیری پناہ چاہتا ہوں۔ بعض اوقات سانپ، بچھو وغیرہ کاٹ جاتے ہیں جس سے موت واقع ہو جاتی ہے۔ اس قسم کی اچانک موت سے پہلے انسان نہ کوئی کلام کر سکتا ہے نہ وصیت کر سکتا ہے، علاج معالجہ بھی بہت مشکل ہوتا ہے، لہٰذا ایسی موت سے بھی پناہ طلب کی گئی ہے۔
گستاخِ رسول کے لیے سزائے موت اور بائبل
محمد یاسین عابد
حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ اقدس ہی سے اہلِ اسلام میں گستاخِ رسولؐ کے لیے سزائے موت مقرر ہے۔ فقہ و حدیث کی کتابوں میں اس قانون کی وضاحت کے علاوہ علماء کرام نے اس موضوع پر مستقل کتب بھی رقم فرمائی ہیں جن میں علامہ ابن تیمیہؒ کی ’’الصارم المسلول علیٰ شاتم الرسول‘‘، علامہ تقی الدین السبکیؒ کی ’’السیف المسلول علیٰ من سب الرسول‘‘ اور علامہ ابن عابدین شامیؒ کی ’’تنبیہہ الولاۃ والحکام علیٰ احکام شاتم خیر الانام اواحد اصحابہ الکرام‘‘ اہلِ علم میں معروف و متداول ہیں۔ اس لیے شاتمِ رسولؐ کے لیے سزائے موت کے اثبات کے لیے ہمیں قرآن و حدیث کی روشنی میں مضمون مرتب کرنے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ البتہ کچھ عرصہ سے مسیحی حضرات کی طرف سے اس سزا کے خلاف مسلسل احتجاج و ہنگامہ جاری ہے، اس لیے ہم نے مناسب سمجھا کہ شاتمِ رسول کے لیے سزائے موت کا اثبات بائبل مقدس سے کر کے مسیحی حضرات کے سامنے رکھا جائے تاکہ وہ اپنا بلاوجہ احتجاج و ہنگامہ بند کریں۔
انجیل میں مسیحیوں کو حکومتی قوانین اور فیصلوں کی مخالفت سے باز رکھنے کے لیے بڑے سخت الفاظ میں وعید مرقوم ہے:
’’ہر شخص اعلیٰ حکومتوں کا تابعدار رہے کیونکہ کوئی حکومت ایسی نہیں جو خدا کی طرف سے نہ ہو اور جو حکومتیں موجود ہیں خدا کی طرف سے مقرر ہیں، پس جو کوئی حکومت کا سامنا کرتا ہے وہ خدا کے انتظام کا مخالف ہے اور جو مخالف ہیں وہ سزا پائیں گے۔‘‘ (رومیوں ۱۳ : ۱ و ۲۔پطرس ۲ : ۱)
مگر کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ پاکستانی مسیحی انجیل جلیل کی تعلیمات کو بھول کر تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ ۲۹۵سی کے خلاف بولتے نہیں تھکتے، بلکہ اکثر اوقات قانون شکنی کے مرتکب بھی ہوتے ہیں۔ مسیحی حضرات نے تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ ۲۹۵سی یعنی ’’گستاخِ رسولؐ کے لیے سزائے موت‘‘ کو ختم کرانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا ہے (دیکھیے مسیحی پندرہ روزہ شاداب لاہور، نومبر ۱۹۹۳ء)۔ حالانکہ بائبل مقدس سے نہ صرف شاتمِ رسولؐ کے لیے بلکہ رسول کے علاوہ دوسری مقدس ہستیوں کے گستاخ کے لیے بھی موت کی سزا ثابت ہے، ایسے میں مسیحیوں کا اس قانون کی مخالفت کرنا بائبل کی مخالفت کے مترادف ہے۔
کاہن و قاضی کے گستاخ کی سزا موت
بائبل کی کتاب استثنا میں ہے:
’’اگر کوئی شخص گستاخی سے پیش آئے کہ اس کاہن کی بات جو خداوند تیرے خدا کے حضور خدمت کے لیے کھڑا رہتا ہے یا اس قاضی کا کہا نہ سنے تو وہ شخص مار ڈالا جائے اور تو اسرائیل میں سے ایسی برائی کو دور کر دینا اور سب لوگ سن کر ڈر جائیں گے اور پھر گستاخی سے پیش نہیں آئیں گے۔‘‘ (استثنا ۱۷ : ۱۲ و ۱۳)
اگر حاکم و قاضی و کاہن کی شان میں گستاخی کی سزا موت ہے تو نبی، جو کہ لاکھوں کاہنوں اور قاضیوں سے افضل ترین ہوتا ہے، کی شان میں گستاخی کرنے والا کیونکر بچ سکتا ہے۔ اور گستاخانِ رسالتؐ کی پشت پناہی کرنے والے امرا سے متعلق بائبل میں ہے:
’’ان کے امرا اپنی زبان کی گستاخی کے سبب سے تہ تیغ ہوں گے۔‘‘ (ہوسیع ۷ : ۱۶)
’’حکومت کو ناچیز جانتے ہیں وہ گستاخ اور خود رای ہیں اور عزت داروں پر لعن طعن کرنے سے نہیں ڈرتے ۔۔۔ یہ لوگ بے عقل جانوروں کی مانند ہیں جو پکڑے جانے اور ہلاک ہونے کے لیے حیوان مطلق پیدا ہوئے ہیں۔‘‘ (۲۔پطرس ۲ : ۱۰ تا ۱۲ ، یو ایل ۲ : ۲)
توریت کے گستاخ کی سزا موت
پوری قوم بنی اسرائیل کے پاس توریت کا صرف ایک ہی نسخہ تھا۔ توریت ہر سات برس بعد عوام کو صرف ایک بار عید خیام کے روز پڑھ کر سنائی جاتی تھی (استثناء ۳۱ : ۹ تا ۱۱)۔ اس کے علاوہ توریت کا وہی واحد نسخہ ہمیشہ ایک لکڑی کے صندوق میں رکھا رہتا تھا۔ اس صندوق کو عہد کا صندوق کہا جاتا تھا (خروج ۲۵ : ۱۰ تا ۲۲)۔ کوئی شخص اگر بھول کر اس صندوق کو ہاتھ لگاتا تو اسے صندوق کی شان میں گستاخی سمجھ کر ہاتھ لگانے والے کو قتل کر دیا جاتا تھا۔ ایک دفعہ صندوق میں محض جھانک لینے کی گستاخی پر بیت شمس کے پچاس ۔۔۔ ستر آدمیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ ایک دفعہ مذکورہ بالا صندوق کو بیل گاڑی پر لاد کر لے جایا جا رہا تھا، بیل گاڑی کو عزہ ہانک رہا تھا کہ اچانک بیلوں نے ٹھوکر کھائی تو غیر ارادی طور پر عزہ کا ہاتھ مذکورہ صندوق کو لگ گیا، پھر کیا تھا، اسے عزہ کی طرف سے صندوق کی شان میں گستاخی قرار دے کر مار دیا گیا (۲۔ سموئیل ۶ : ۶ تا ۸)۔ صندوق مذکورہ کی مزید ہلاکت خیزیاں جاننے کے لیے ملاحظہ ہو ۱۔سموئیل ۵ : ۱ تا ۱۲۔
والدین کے گستاخ کی سزا موت
بائبل کے مطابق تو والدین کے گستاخ کی سزا بھی موت ہے۔ چنانچہ لکھا ہے:
’’جو باپ یا ماں کو برا کہے وہ ضرور جان سے مارا جائے۔‘‘ (انجیل متی ۱۵ : ۴)
میں مسیحی حضرات سے پوچھتا ہوں کہ کیا آپ لوگ انبیائے بائبل کو اپنے باپ سے بھی کمتر سمجھتے ہیں؟ حالانکہ سچ تو یہ ہے کہ اس شخص کا ایمان ہرگز قابلِ قبول نہیں جو والدین سے بھی زیادہ اپنے نبی کو عزیز نہ رکھتا ہو۔ جیسا کہ یسوع مسیح نے فرمایا تھا:
’’جو کوئی باپ یا ماں کو مجھ سے عزیز رکھتا ہے وہ میرے لائق نہیں۔‘‘ (متی ۱۰ : ۳۷ اور لوقا ۱ : ۲۶ و ۳۳)
صحیح بخاری میں سیدنا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سید الانبیاء حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
’’اس کی قسم جس کے قبضہ میری جان ہے، تم میں سے اس وقت تک کوئی بھی پورا ایمان دار نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے نزدیک اس کے بیٹے اور اس کے باپ سے زیادہ پیارا نہ ہو جاؤں‘‘ (مشارق الانوار مطبوعہ لکھنؤ ۱۲۸۶ھ بمطابق ۱۸۷۰ء حدیث ۱۵۳۹)
مسیحی بھائیو! اگر ماں باپ کے گستاخ کی سزا قتل ہے تو پھر اس عظیم الشان نبیؐ کی شانِ مبارک میں گستاخی کرنے والے کو کیوں قتل نہ کیا جائے؟
گستاخِ رسول کی سزا موت
حضرت داؤد علیہ السلام کا نبی اللہ ہونا انجیل سے ثابت ہے (عبرانیوں ۱۱ : ۳۲)۔ معون کے رہنے والے نابال نامی ایک شخص نے حضرت داؤدؑ کے متعلق گستاخانہ الفاظ ادا کیے کہ ’’داؤد کون ہے اور یسی کا بیٹا کون ہے؟‘‘ اس کی خبر جب داؤد نبیؑ کو ہوئی تو زبانِ نبوت سے شاتِم رسول کے لیے قتل کے احکامات یوں صادر ہوئے:
’’تب داؤد نے اپنے لوگوں سے کہا اپنی تلوار باندھ لو، سو ہر ایک نے اپنی تلوار باندھی اور داؤد نے بھی اپنی تلوار حمائل کی۔ سو قریباً چار سو جوان داؤد کے پیچھے چلے۔‘‘ (۱۔سموئیل ۲۴۵ : ۲ تا ۱۳)
کسی طرح گستاخِ رسول نابال کی بیوی ابیجیل کو خبر ہو گئی کہ اس کا شوہر گستاخِ رسول ثابت ہوا ہے اور زبانِ نبوت سے اس کے لیے سزائے موت کا حکم صادر ہوا ہے تو اس عورت نے بہت ہی منت سماجی کر کے حضرت داؤد کو نابال کے قتل سے روک لیا۔ لیکن خدا نے نابال کو دس دن کے اندر اندر مار دیا کیونکہ خدا کو ایک شاتمِ رسول کی زندگی ہرگز گوارہ نہیں (۱۔سموئیل ۲۵ : ۲ تا ۳۸)۔
قارئین کرام ملاحظہ فرما چکے ہیں کہ بائبل مقدس کے مطابق ماں باپ کا گستاخ واجب القتل ہے (خروج ۲۱ : ۱۶، متی ۱۵ : ۴ ، مرقس ۷ : ۱۰)۔ حاکم اور قاضی اور کاہن کا گستاخ بھی تہ تیغ ہونا چاہیے (استثنا ۱۷ : ۱۲ و ۱۳ ، ہوسیع ۷ : ۲۱۶ ، پطرس ۲ : ۱ تا ۱۲ ، یو ایل ۲ : ۲۰)۔ اور اللہ کے رسول کے گستاخ کی سزا بھی قتل ہے (۱۔سموئیل ۲۵ : ۲ تا ۳۸) جبکہ رسول عربیؐ کی شان پر کروڑوں سلاطین، قاضی و کاہن اور والدین قربان کیے جا سکتے ہیں۔
’’کلامِ حق‘‘ کا کلامِ حق
اس ضمن میں معروف مسیحی جریدہ ’’کلامِ حق‘‘ کا یہ بیان مسیحی حضرات کی انصاف اور دیانت کی طرف راہنمائی کرتا ہے:
’’ہم مسیحی قوم تعزیراتِ پاکستان دفعہ ۲۹۵سی یعنی گستاخِ رسولؐ کے مخالف نہیں۔ ہم صرف یہ درخواست کرتے ہیں کہ جو مسیحی اس الزام کے تحت پابندِ سلاسل ہیں یا آئندہ ہوں گے، ان کے لیے ایک خصوصی عدالتی کمیشن بنایا جائے جس کا سربراہ ہائی کورٹ کا جج ہو۔ مسلمان اور مسیحی قوم یا صوبائی نمائندے، مقامی انتظامیہ اور دونوں پارٹیاں مل کر غیر جانبدارانہ تحقیقات کریں اور اگر ملزم واقع مجرم ہو تو اس کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ بصورتِ دیگر رہا کیا جائے۔‘‘ (ماہنامہ کلامِ حق گوجرانوالہ ۔ صفحہ ۱۳ ۔ مارچ ۱۹۹۴ء)
اسلام کو دہشت گردی کے حوالہ سے بدنام کرنا غلط ہے۔ مسیحی رہنما
ادارہ
ویٹیکن سٹی میں ’’مسیحی مجلسِ مکالمہ بین المذاہب‘‘ کے شعبہ امورِ اسلامی کے سربراہ تھامس مائیکل نے کہا ہے کہ اسلام کو دہشت گردی کے حوالے سے بدنام کرنا ایک غلط عمل ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس طرح کے الزامات سے دنیا میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے تعلقات خراب ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کلیسا لوگوں کو یہ بات سمجھائے گی کہ ’’اسلامی دہشت گردی‘‘ نام کی کوئی چیز موجود نہیں ہے۔ ماضی میں عیسائیوں کی طرف سے کی جانے والی دہشت گردانہ کارروائیوں کو مسیحی دہشت گردی کا نام نہیں دیا گیا تھا۔ اسی طرح ہمیں مسلمانوں کی جانب سے کی جانے والی پرتشدد کارروائیوں کو اسلامی دہشت گردی کا نام نہیں دینا چاہیے۔
مسیحی مذہبی رہنما نے کہا کہ بعض لوگ غلطی سے اس خیال کی اشاعت کر رہے ہیں کہ اسلام ہمارا نیا دشمن ہے۔ ہمیں اس غلط فہمی کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ ہمیں ببانگِ دہل یہ کہنا چاہیے کہ اسلام ایک اعلیٰ اخلاقی زندگی کی دعوت دینے والا مذہب ہے۔
مسیحی رہنما نے کہا کہ دوسرے مذاہب کی طرح اسلام کو بھی غلط طور پر تشدد آمیز کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ ہندو، ہندومت کو استعمال کر رہے ہیں، اور اس سے پہلے صلیبی جنگوں میں مسیحی بھی یہی کچھ کر چکے ہیں۔
(بشکریہ ’’العالم الاسلامی‘‘ مکہ مکرمہ ۔ ۱۱ رمضان ۱۴۱۴ھ / ۲۱ فروری ۱۹۹۴ء)
مغربی فلسفہ کی یلغار اور دینی صحافت کی ذمہ داریاں
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
(۱۹ و ۲۰ اپریل ۱۹۹۴ء کو مارگلہ موٹل اسلام آباد میں دعوہ اکیڈمی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی طرف سے ’’اکیسویں صدی کا چیلنج اور دینی صحافت‘‘ کے عنوان سے دو روزہ سیمینار منعقد ہوا جس میں مختلف مذہبی مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے سرکردہ مدیران جرائد نے شرکت کی۔ ۱۹ اپریل کو سیمینار کے دوسرے اجلاس میں مولانا زاہد الراشدی نے مندرجہ ذیل مقالہ پیش کیا۔ اس نشست کی صدارت ادارہ تحقیقات اسلامی کے ڈائریکٹر محترم ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری نے کی۔)
مغرب کا مادی فلسفہ حیات جو سولائزیشن، انسانی حقوق، جمہوریت اور آزادی کے پر فریب نعروں کے ساتھ آج دنیا کے ایک بڑے حصے پر اپنی بالادستی کا پرچم اٹھائے ہوئے ہے، انسانی معاشرہ کے لیے کوئی نیا فلسفہ نہیں ہے بلکہ نسل انسانی کے آغاز سے چلے آنے والے اسی فلسفہ حیات کی ترقی یافتہ شکل ہے جسے قرآن کریم نے ’’ان یتبعون الا الظن وما تھوی الانفس‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔ یعنی وہ فلسفہ جو وحی الٰہی اور علم یقینی کے بجائے انسانی خواہشات و مفادات اور عقل و شعور کے حوالے سے نسل انسانی کی راہ نمائی کا دعوے دار ہے۔
انسانی معاشرہ میں آج تک جتنے قوانین، ضابطوں اور اصولوں کی حکمرانی رہی ہے وہ بنیادی طور پر دو حصوں میں تقسیم ہیں۔
- ایک حصہ ان اصولوں اور قوانین و ضوابط پر مشتمل ہے جن کی تشکیل خود انسانی ذہن کی ہے۔ شخصی آمریت، بادشاہت، طبقاتی حکمرانی اور جماعتی ڈکٹیٹرشپ کے مراحل سے گزرتے ہوئے انسانی ذہن آج سولائزیشن اور جمہوریت کے نام سے ارتقا کی آخری منزل سے ہمکنار ہو چکا ہے۔
- دوسرا حصہ اس نظام حیات کے تدریجی مراحل سے عبارت ہے جس کی بنیاد وحی الٰہی پر ہے اور جو حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہو کر مختلف مراحل طے کرتا ہوا جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی وحی پر مکمل ہوگیا ہے۔ جبکہ خاتم النبیین حضرت محمدؐ کا پیش کردہ نظام حیات قرآن و سنت اور خلافت راشدہ کی صورت میں موجود ہے۔
مغرب کا دانشور دنیا کو یہ نوید دے رہا ہے کہ انسانی معاشرہ کی فلاح و بہبود کے لیے انسانی ذہن جو کچھ سوچ سکتا تھا وہ سوچ چکا ہے اور اس کی کاوشوں کی معراج آج کے مغربی معاشرہ کی شکل میں دنیا کے سامنے ہے، اب اس سے آگے بڑھنا انسانی ذہن کے بس میں نہیں ہے، اس لیے اس سے بہتر کسی نظام حیات کی توقع انسانی ذہن سے نہیں کرنی چاہیے۔ مغربی دانشور کا یہ کہنا بالکل درست ہے لیکن درست ہونے کے باوجود نامکمل ہے اس لیے کہ مغربی دانشور کے سامنے صرف انسانی ذہن کی کاوشیں ہیں اور وحی الٰہی کے تدریجی مراحل یا تو اس کی نظروں سے اوجھل ہیں یا اس نے جان بوجھ کر اس حقیقت سے گریز اختیار کر رکھا ہے۔ جبکہ حالات کی اصل تصویر یوں ہے کہ ایک طرف انسانی ذہن کے تشکیل کردہ نظام ہائے حیات ہیں جن کی آخری اور ترقی یافتہ شکل مغربی فلسفہ و تہذیب کی صورت میں دنیا کے ایک بڑے حصے پر تسلط جمائے ہوئے ہے، اور دوسری طرف وحی الٰہی کا پیش کردہ نظام حیات ہے جس کا مکمل نمونہ خلافت راشدہ کی صورت میں انسانی تاریخ کا ایک ناقابل فراموش حصہ ہے۔ اب یہ دونوں نظام ہائے حیات اپنی کشمکش کے ایک فیصلہ کن دور میں داخل ہونے والے ہیں جس کی تیاریوں اور ریہرسل کے مناظر اس وقت بھی دنیا کے مختلف حصوں میں دیکھے جا سکتے ہیں۔
مغرب کا فلسفہ حیات اس فکر میں ہے کہ اس نے گزشتہ دو صدیوں کے دوران انسانی معاشرہ پر جو تسلط قائم کیا ہے وہ کمزور نہ ہونے پائے بلکہ اس کے دائرے میں وسعت پیدا ہو۔ جبکہ وحی الٰہی کی بنیاد پر تشکیل پانے والا نظام حیات دنیا بھر کے اہل دین کی خواہشات اور آرزوؤں کی گہرائیوں سے ابھر کر سطح ارض پر جلوہ نمائی کے لیے بے تاب ہے اور کھلی آنکھیں رکھنے والے دور افق پر طلوع سحر کے آثار دیکھ رہے ہیں۔
مغربی فلسفہ حیات جو خود کو سیکولرزم، جمہوریت، سولائزیشن، آزادی اور انسانی حقوق کے دلکش لیبلز سے مزین کیے ہوئے ہے انسانی زندگی کے ساتھ وحی الٰہی کے ایسے تعلق کو تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے جو انسانی معاشرہ کے کسی بھی اجتماعی دائرہ کے لیے حدود کار کا تعین کرتا ہو۔ اور وہ زندگی کے اجتماعی امور کے حوالہ سے انسانی عقل ہی کو آخری اور فیصلہ کن اتھارٹی قرار دے کر اجتماعی عقل کی خدائی کے سامنے سجدہ ریز ہے۔ یہ فلسفہ دراصل اس یورپ کا فلسفہ ہے جس نے کلیسا، بادشاہت اور جاگیرداری کے مشترکہ مظالم کی چکی میں صدیوں تک پستے رہنے کے بعد اس گٹھ جوڑ کے خلاف بغاوت کی اور بادشاہت اور جاگیرداری کے حق میں کلیسا اور پادریوں کے جانبدارانہ و ظالمانہ کردار سے متنفر و دلبرداشتہ ہو کر رد عمل کے طور پر مذہب اور وحی الٰہی کی رہنمائی سے ہی انکار کر بیٹھا۔
آج دنیا کے پانچ آباد براعظموں میں سے تین یعنی امریکہ، یورپ اور آسٹریلیا پر اس فلسفہ کی حکمرانی ہے۔ جبکہ ایشیا اور افریقہ میں تسلط قائم کرنے کے لیے اس کے پیروکار مسلسل ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔ اس کا پس منظر کچھ یوں ہے کہ یورپ کے باشندوں نے کولمبس اور واسکوڈی گاما کی صورت میں دنیا کے دوسرے براعظموں میں آباد اور داخل ہونے کے لیے جس مہم کا آغاز کیا تھا اس کے نتیجہ میں امریکہ اور آسٹریلیا میں یورپی آباد کار مقامی آبادیوں کو پیچھے دھکیل کر اپنا تسلط قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ آج ان دو براعظموں پر یورپی آباد کار ہی حکمران ہیں جبکہ اصل اور قدیمی آبادی کا ان ممالک کے اجتماعی نظام کے ساتھ کوئی تعلق باقی نہیں ہے۔ مگر افریقہ اور ایشیا نے یورپی آبادکاروں کو واپس جانے پر مجبور کر دیا جس کی وجہ سے یورپین حکمرانوں کو ان براعظموں میں اپنے مفادات کی حفاظت اور یورپی فلسفہ کی حکمرانی کے لیے ایک درمیانی نسل جنم دینا پڑی جو افریقہ اور ایشیا کے ممالک پر اس وقت حکمران ہے اور مغربی آقاؤں کی خواہشات و ہدایات اور اپنے ممالک کے عوام کے مفادات و نظریات کے درمیان سینڈوچ بن کر رہ گئی ہے۔ آج ہمارا اصل المیہ یہی حکمران طبقے ہیں جو جسمانی اعتبار سے ایشیائی اور افریقی ہیں مگر ذہن، سوچ اور تربیت کے لحاظ سے یورپین ہیں۔ ان حکمرانوں کے ذریعے سے افریقہ اور ایشیا کے عوام سے یورپین آبادکاروں کو قبول نہ کرنے کا انتقام لیا جا رہا ہے۔
عالمی تناظر سے ہٹ کر وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان کے حوالہ سے اس کشمکش کا جائزہ لیا جائے تو واقعات کی ترتیب کچھ یوں بنتی ہے کہ برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش پر برطانوی تسلط کے خلاف جنگ آزادی میں مسلمانوں نے فیصلہ کن کردار ادا کیا اور جنگ آزادی کے آخری مراحل میں اسلامی فلسفہ حیات کی حکمرانی کے لیے پاکستان کے نام سے الگ ملک کا مطالبہ کر کے تقسیم ہند کی راہ ہموار کی، اس طرح دنیا کے نقشہ پر پاکستان کا وجود نمودار ہوگیا۔ لیکن پاکستان کے قیام کے بعد اس وطن عزیز میں اسلامی فلسفہ حیات کی حکمرانی قائم کرنے کے بجائے مغربی فلسفہ کو ہی منزل قرار دے لیا گیا اور ملک میں مغربی جمہوریت اور سولائزیشن کی حکمرانی یا قرآن و سنت کی بالادستی کے لیے ایک طویل کشکش کا آغاز ہوگیا۔ اس کشمکش میں ایک طرف برطانوی حکمرانوں کی پیدا کردہ حکمرانوں کی دوغلی نسل ہے جو اپنی ہی طرح کا نظام پاکستان پر مسلط رکھنا چاہتی ہے اور اس کی پشت پر پورا مغرب اپنے تمام تر وسائل اور توانائیوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ جبکہ دوسری طرف وہ نظریاتی حلقے اور کارکن ہیں جو جنگ آزادی اور قیام پاکستان کے اصل مقاصد کو نگاہوں سے اوجھل کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ وہ جمہوریت، سیکولرزم، سولائزیشن، انسانی حقوق اور آزادی کے حوالہ سے پیش کیے جانے والے مغربی فلسفہ کو مسترد کرتے ہوئے قرآن و سنت کی غیر مشروط بالادستی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔
مغربی فلسفہ آج ہمارے معاشرے میں کس حد تک دخیل ہے اور اس کے پیروکار اسلامی فلسفہ حیات کو اجتماعی نظام سے بے دخل کرنے کے لیے کن کن مورچوں سے ہم پر حملہ آور ہیں؟ اس کے عملی نقشہ پر ایک نظر ڈال لینا مناسب معلوم ہوتا ہے، اس لیے واقعات کی ایک ترتیب پیش خدمت کی جا رہی ہے جس سے اس نقشہ کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔
- پاکستان کے دینی حلقوں کی جدوجہد کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت مطلقہ کا اعلان کرنے والی قرارداد مقاصد، اسلام کو سرکاری مذہب قرار دینے کی دفعہ، اور تمام قوانین کو قرآن و سنت کے سانچے میں ڈھالنے کی ضمانت دستور پاکستان میں شامل ہے۔ لیکن ان کے باوجود نوآبادیاتی نظام ملک میں تسلسل کے ساتھ موجود ہے اور اسے نہ صرف آ ئینی تحفظ حاصل ہے بلکہ جب بھی اس نظام کے کسی بنیادی حصہ کو اپنی جگہ سے ہلانے کی کوشش ہوتی ہے پورا اجتماعی نظام اس کی حفاظت کے لیے مستعد ہو جاتا ہے۔
- ۱۹۸۷ء میں امریکہ نے پاکستان کی فوجی و اقتصادی امداد کے لیے جو شرائط پیش کیں اور جن کے پورا نہ ہونے کے باعث یہ امداد بدستور بند چلی آرہی ہے، ان میں ایٹمی پروگرام ختم کرنے اور منشیات کو کنٹرول کرنے کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کے منافی قوانین نافذ نہ کرنے، اقلیتوں کے بارے میں امتیازی قوانین ختم کرنے، اور قادیانیوں کے جداگانہ تشخص کے لیے کیے گئے اقدامات کو رول بیک کرنا بھی شامل ہے۔ انسانی حقوق کے منافی قوانین سے مراد مغرب کی نظر میں سنگسار کرنے، ہاتھ کاٹنے، کوڑے لگانے اور مجرم کو کھلے بندوں سزا دینے کے قرآنی احکام ہیں جس کی قانونی تشریح کی ایک جھلک ہم پاکستان کی عدالت عظمیٰ میں گزشتہ دو سال کے دوران ہونے والی اس بحث کے حوالہ سے دیکھ چکے ہیں کہ مجرم کو کھلے بندوں سزا دینا انسانی حقوق کے منافی ہے۔ اسی طرح اقلیتوں کے بارے میں امتیازی قوانین سے مراد جداگانہ الیکشن کا قانون ہے جسے ختم کرانے کے لیے مغربی لابیاں اس وقت اپنا پورا زور صرف کر رہی ہیں۔
- قرآن و سنت کو ملک کا سپریم لاء قرار دینے کے لیے ’’شریعت بل‘‘ کے عنوان سے ملک گیر تحریک چلی۔ اس کے لیے تمام مکاتب فکر نے مشترکہ مہم کا اہتمام کیا، سینٹ آف پاکستان نے ایک مرحلہ پر اسے منظور بھی کر لیا لیکن قومی اسمبلی میں منظوری کے فیصلہ کن مرحلہ میں اس کا کیا حشر ہوا؟ یہ اسلامائزیشن کی تاریخ کا ایک دلخراش باب ہے۔ قرآن و سنت کی بالادستی کو سیاسی نظام اور حکومتی ڈھانچے کے متاثر نہ ہونے کی شرط کے ساتھ مشروط کر کے مغربی فلسفہ کی جے (بالادستی) کا اعلان کر دیا گیا۔ اور پاکستان میں متعین امریکی سفیر نے اس پر کھلے بندوں اطمینان کا اظہار کر کے ان زیر زمین کہانیوں پر مہر تصدیق ثبت کر دی جو شریعت بل کو سبوتاژ کرنے کے حوالہ سے امریکی سفارت خانہ کی درون خانہ سرگرمیوں کی نشاندہی کرتی ہیں۔
- قادیانیوں کو مسلمانوں سے الگ ایک نئی امت کی حیثیت دے کر ان کے جداگانہ تشخص کے تعین کے لیے کیے گئے آ ئینی و قانونی اقدامات پر مغربی لابیوں نے انسانی حقوق کے نام سے الگ شور مچا رکھا ہے۔ اور جنیوا میں انسانی حقوق کمیشن کی طرف سے ان اقدامات کو قادیانیوں کے انسانی حقوق کے منافی قرار دینے کے علاوہ یہ مسئلہ امریکی سینٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے ایجنڈے پر اس وقت بھی موجود ہے۔
- شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ کا اضافہ دستور پاکستان کے بعض بنیادی فیصلوں کا ناگزیر تقاضہ ہے لیکن مغرب کے مسلسل دباؤ نے اس کا راستہ روک رکھا ہے۔
- وفاقی شرعی عدالت نے سود سے تعلق رکھنے والے قوانین کو غیر شرعی قرار دے کر ان کے خاتمہ کے لیے وفاق پاکستان کو ایک متعین وقت دے دیا مگر یہ مغربی ممالک اور لابیوں اور ذرائع ابلاغ کا مسلسل پراپیگنڈا اور دباؤ ہی تھا جس نے حکومت پاکستان کو اس فیصلہ پر عملدرآمد سے روکا اور اس کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے پر مجبور کر دیا۔
- گستاخی رسولؐ دنیا کے ہر مذہب میں ناقابل معافی جرم ہے۔ خود بائبل میں مذہبی پیشوا کی توہین پر موت کی سزا کا حکم ہے اور اسلام بھی گستاخ رسولؐ کے لیے موت کی سزا کا قانون پیش کرتا ہے۔ لیکن جب سے پاکستان میں یہ قانون نافذ ہوا ہے مغربی ذرائع ابلاغ اور لابیاں اس کے خلاف مسلسل حرکت میں ہیں اور اسے انسانی حقوق کے منافی قرار دے کر ختم کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔ ابھی حال ہی میں مسئلہ کشمیر کے حوالہ سے مغربی ممالک کا دورہ کرنے والے پاکستانی راہ نماؤں کے وفد کو انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے تحریری طور پر جو مطالبات دیے ہیں ان میں آٹھویں آ ئینی ترمیم، جداگانہ انتخاب اور گستاخ رسولؐ کے لیے موت کی سزا کے قانون کا خاتمہ شامل ہے۔ بلکہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ان شرائط و مطالبات کو مسئلہ کشمیر کے ساتھ منسلک کر کے اس سلسلہ میں اپنے دباؤ کی شدت اور سنگینی میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔
- آٹھویں آ ئینی ترمیم کا خاتمہ مغربی لابیوں کی محنت کا ایک مستقل موضوع ہے جس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ یہ آ ئینی ترمیم وفاقی شرعی عدالت، جداگانہ الیکشن کے قانون، امتناع قادیانیت آرڈیننس، حدود آرڈیننس، اور دیگر اسلامی قوانین کو دستوری تحفظ فراہم کرتی ہے۔ اس ترمیم کے خاتمہ سے ان تمام امور کے خاتمہ کی راہ ہموار ہو جاتی ہے۔
- ذمہ دار حلقوں کا یہ انکشاف بھی صورتحال کی سنگینی کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ چند سال قبل ملک میں شروع کی جانے والی مسجد مکتب اسکیم کا تعلیمی پروگرام بھی امریکی دباؤ کے تحت ختم کیا گیا تھا اور اس کی وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ اس طرح نئی نسل مولوی کے زیر اثر آ کر بنیاد پرست ہو جائے گی۔
یہ ہے اس مسلسل اور مربوط محنت کی ایک جھلک جو ہمارے معاشرہ پر مغربی فلسفہ کی گرفت کو قائم رکھنے اور مستحکم کرنے کے لیے ایک عرصہ سے جاری ہے۔ اس محنت کے پیچھے امریکہ ہے، پورا مغرب ہے، بین الاقوامی ذرائع ابلاغ ہیں، انسانی حقوق کے نام پر کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیمیں ہیں، پاکستان میں نوآبادیاتی نظام کے محافظ طبقے ہیں، اسلامی نظام کے نفاذ سے اپنے مفادات کو خطرہ محسوس کرنے والے طاقتور گروہ ہیں، اور قومی زندگی کے مختلف اجتماعی شعبوں میں اہم حیثیت رکھنے والے افراد ہیں۔ ان سب کی مشترکہ تگ و دو کے اس نتیجہ کو ایک واقعی حقیقت کے طور پر قبول کرنے میں کسی ہچکچاہٹ سے کام لینے کی ضرورت نہیں ہے کہ دینی حلقے جو ۱۹۴۷ء کے بعد سے ۱۹۸۴ء تک اسلامائزیشن کے محاذ پر سست رفتار سہی مگر کچھ نہ کچھ پیش رفت کرتے دکھائی دے رہے تھے اب دفاعی پوزیشن پر آگئے ہیں۔ اور اس دفاعی لائن کے پیچھے بھی ان کی صفوں میں اشتراک و اتحاد نہیں ہے، ترتیب نہیں ہے، منصوبہ بندی نہیں ہے، مسائل کے ادراک و تجزیہ کا ذوق نہیں ہے اور ترجیحات کو درست کرنے کا احساس نہیں ہے۔
معافی کا خواستگار ہوں کہ اصل موضوع کی طرف آنے سے پہلے عالم اسلام اور پاکستان میں اسلامی نظام حیات اور مغربی فلسفہ کی کشمکش کا تعارف قدرے تفصیل کے ساتھ آپ حضرات کے سامنے لانا پڑا۔ لیکن جب مغربی فلسفہ کی یلغار کے حوالہ سے دینی صحافت کی ذمہ داریوں پر بحث مقصود ہے تو اس یلغار کے مالہ و ما علیہ پر ایک نظر ڈال لینا ضروری تھا۔ اس پس منظر میں دینی صحافت کی سب سے اہم اور بنیادی ذمہ داری یہ ہے کہ
- اسلامیت اور مغربیت کی کشمکش کے عالمی تناظر میں دنیا کے واقعات، حقائق، مسائل اور مشکلات کو سامنے لائے اور اپنے قارئین کو ان سے آگاہ کرے۔
- اسلام کے خلاف کام کرنے والی لابیوں اور تنظیموں کی نشاندہی کرے اور ان کے طریق واردات کو بے نقاب کرے۔
- انسانی حقوق کے حوالہ سے اسلامی احکام و قوانین پر کیے جانے والے اعتراضات و شبہات کا جائزہ لے کر علمی و تحقیقی انداز میں ان کا جواب دے۔
- مغربی تہذیب و فلسفہ نے انسانی معاشرہ کو جن پریشانیوں، مشکلات اور مسائل سے دوچار کر رکھا ہے، تجزیہ و تحقیق کے حوالہ سے ان کو سامنے لائے اور پورے اعتماد و حوصلہ کے ساتھ ان خرابیوں کو اجاگر کر کے رائے عامہ کو ان سے روشناس کرائے۔
- دینی حلقوں کے انتشار کو کم کرنے اور باہمی مشاورت و اشتراک عمل کو فروغ دینے کی کوشش کرے۔
- اپنے محدود دائرہ پر قناعت کرنے کے بجائے اسے وسعت دینے کا اہتمام کرے اور ان مقامات تک موثر رسائی کی راہ نکالے جو مغربی فلسفہ کی اس یلغار کو روکنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
- علماء کرام، خطباء، مبلغین اور دینی کارکنوں کی غالب اکثریت جو دینی مدارس میں فکری تربیت اور ذہن سازی کے فقدان کے باعث مذکورہ فکری و نظریاتی کشمکش اور اس کے تقاضوں سے بے خبر ہے، اس کی ذہن سازی اور فکری راہنمائی و تربیت کو اپنی ترجیحات میں بنیادی اہمیت دے۔
یہ سارے وہ کام ہیں جو موجودہ حالات میں دینی صحافت کی ذمہ داریوں کے ضمن میں آتے ہیں۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ دینی صحافت کا موجودہ ڈھانچہ اپنی ہیئت اور ترجیحات کے حوالہ سے ان امور کو اہمیت نہیں دے پارہا جس کی ضرورت ہے۔ اس امر کی مزید وضاحت کے لیے ضروری ہے کہ دینی صحافت کے موجودہ دائرہ کار پر بھی ایک نظر ڈال لی جائے۔ ہمارے ملک میں شائع ہونے والے دینی جرائد کو چار حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
- بعض جرائد مختلف دینی جماعتوں کے آرگن کے طور پر شائع ہوتے ہیں۔
- بعض جرائد اسلام کے حوالہ سے کام کرنے والی بعض شخصیات کے ترجمان ہیں۔
- بعض جرائد علمی اداروں کی نمائندگی کرتے ہیں۔
- اور بعض جرائد وہ ہیں جو مسالک اور مکاتب فکر کے حوالہ سے خدمات سر انجام دیتے ہیں۔
ظاہر بات ہے کہ ان کی ترجیحات بھی اپنے اپنے مقاصد کے حوالہ سے یقیناً مختلف ہیں۔ ایسے جرائد جو جماعت، شخصیت، ادارہ اور مسلک کی ترجیحات کے دائروں سے بے نیاز ہو کر عالم اسلام کی مشکلات و مسائل، مغربی فلسفہ کی یلغار، اسلامائزیشن کے تقاضوں اور سیکولر لابیوں کی سرگرمیوں کی بنیاد پر اپی ترجیحات کا آزادانہ تعین کر سکیں، ہمارے معاشرہ میں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اور جو چند ایک ہیں خود ہمارے دینی حلقوں کا رویہ ان کے ساتھ حوصلہ افزائی کا نہیں ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ دینی جرائد جن دائروں میں کام کر رہے ہیں وہ خدانخواستہ غیر ضروری ہیں۔ ہرگز نہیں بلکہ ان میں سے ہر کام کی ضرورت اپنے دائرہ میں مسلم ہے جس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا البتہ ترجیحات کا معاملہ مختلف ہے۔ اور میں بصد احترام یہ عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اسلام اور اسلامی تحریکات کے حوالہ سے مغربی فلسفہ اور لابیوں کی ہمہ جہت یلغار کو سامنے رکھتے ہوئے ہمارے دینی جرائد کی موجودہ ترجیحات مجموعی طور پر درست نہیں ہیں اور ہمیں ان پر بہرحال نظرثانی کرنی چاہیے۔
میں نے جب محترم ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب، ڈائریکٹر دعوہ اکیڈمی کی خدمت میں دینی جرائد کے مدیران کے اس سیمینار کے انعقاد کی تجویز پیش کی تھی تو میرے پیش نظر یہی بات تھی کہ ہمیں اپنی ترجیحات اور طریق کار پر باہمی مشاورت کے ساتھ نظر ثانی کرنی چاہیے اور کھلے دل و دماغ کے ساتھ ان امور کا جائزہ لینا چاہیے کہ عالم اسلام اور پاکستان کے حوالہ سے دینی صحافت سے ایک باشعور مسلمان کی توقعات کیا ہو سکتی ہیں؟ وہ توقعات اور ضروریات ہم کہاں تک پوری کر رہے ہیں؟ اس راستہ کی مشکلات اور رکاوٹیں کیا ہیں؟ اور ضروریات اور کام کے درمیان جو خلا دکھائی دے رہا ہے اس کو پر کرنے کے لیے ہم کیا کچھ کرسکتے ہیں؟ میں ڈاکٹر غازی صاحب اور ان کے رفقاء کا بے حد شکر گزار ہوں کہ انہوں نے میری اس تجویز کو قبول کیا اور اس سیمینار کا اہتمام کر کے دینی جرائد کے باہمی رابطہ و ملاقات کے کار خیر کا آغاز کر دیا۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر دیں اور ان کی اس کاوش کو قبولیت سے نوازتے ہوئے مثبت ثمرات سے بہرہ ور فرمائیں۔
اس موقع پر میں اپنی تجویز کا دوسرا حصہ سیمینار کے معزز شرکاء کی خدمت میں پیش کرنا مناسب سمجھوں گا جو دعوۃ اکیڈمی کے لیے نہیں بلکہ شرکائے سیمینار کے لیے ہے کہ مشاورت کو مستقل شکل دینے کی کوئی عملی صورت نکالنی چاہیے۔ میرا خیال ہے کہ اگر ہم مختلف مقامات پر سال میں دو تین دفعہ جمع ہو کر مسائل اور ضروریات کا جائزہ لے لیا کریں تو باہمی مشاورت اور رابطہ کی برکت سے ہمارے کام کی ترجیحات اور تربیت کو خودبخود صحیح سمت مل جائے گی اور ہم اپنے موجودہ کام کی افادیت میں کئی گنا اضافہ کر سکیں گے۔
اس مقصد کے لیے اگر کوئی ہلکی پھلکی سی سوسائٹی تشکیل دے لی جائے تو مناسب رہے گا۔ سوسائٹی سے میری مراد ٹریڈ یونین طرز کی کوئی ایسی تنظیم نہیں ہے جو حقوق و مفادات اور مراعات کی دوڑ میں معاصر تنظیموں کے ساتھ شریک ہو۔ بلکہ خالصتاً علمی و فکری قسم کی سوسائٹی کا قیام مقصود ہے جو دینی جرائد کے درمیان مفاہمت اور اشتراک کی فضا پیدا کرے، ایک اسٹڈی سرکل کے طور پر پیش آمدہ مسائل کا تجزیہ کر کے دینی جرائد سے وابستہ افراد کی بریفنگ اور راہنمائی کا فریضہ سر انجام دے اور باصلاحیت نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کر کے دینی صحافت میں اچھا لکھنے والے افراد کا اضافہ کرے۔ میں توقع رکھتا ہوں کہ شرکائے سیمینار طویل سمع خراشی پر معذرت قبول کرتے ہوئے میری گزارشات اور تجویز کو سنجیدہ توجہ سے نوازیں گے۔
محترم ڈاکٹر محمود احمد غازی، محترم محمد افتخار کھوکر، اور الدعوۃ اکیڈمی کے دیگر رفقاء کا ایک بار پھر شکریہ ادا کرتے ہوئے اس دعا کے ساتھ اجازت چاہتا ہوں کہ اللہ رب العزت ہمیں اخلاص نیت کے ساتھ توفیق عمل عطا کریں اور اسلام و عالم اسلام کو درپیش مسائل و مشکلات میں امت مسلمہ کو صحیح سمت راہنمائی کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔
امیر المومنین فی الحدیث امام محمد بن اسماعیل بخاریؒ
سید سلمان گیلانی
جامعہ انوار القرآن (آدم ٹاؤن، نارتھ کراچی) میں بخاری شریف کے اختتام کی سالانہ تقریب ۲۵ دسمبر ۱۹۹۳ء کو منعقد ہوئی۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم نے بخاری شریف کی آخری حدیث کا درس دیا۔ ان کے علاوہ مولانا محمد اجمل خان، مولانا فضل الرحمٰن، مولانا زاہد الراشدی، مولانا فداء الرحمٰن درخواستی، مولانا اکرام الحق خیری اور دیگر علمائے کرام نے بھی تقریب سے خطاب کیا، اور اس موقع پر شاعرِ اسلام سید سلمان گیلانی نے امام بخاری رحمہ اللہ تعالیٰ کے حضور مندرجہ ذیل منظوم نذرانہ عقیدت پیش کیا۔
امت پہ ترا کتنا ہے احسان بخاریؒ
یکجا کئے سرکارؐ کے فرمان بخاریؒ
قرآن کی تفسیرِ حقیقی ہیں احادیث
گویا ہیں احادیث بھی قرآن بخاریؒ
مسلمؒ ہو کہ ہو ترمذیؒ، داؤدؒ کہ ماجہؒ
ممتاز ہے ان سب میں تیری شان بخاریؒ
ہر قولِ نبیؐ، کانِ جواہر کا ہے مظہر
ہر حرف ترا لؤلؤ و مرجان بخاری
اللہ رے احادیثِ نبیؐ سے تری الفت
کی زیست اسی راہ میں قربان بخاریؒ
موضوع ہے کیا، کیا ہے ضعیف اور حسن کیا
کر لیتا تھا اک آن میں پہچان بخاریؒ
پڑھتے ہوئے کیوں لطف نہ عشاق اٹھائیں
محبوبِ دو عالمؐ کا ہے فرمان بخاریؒ
تجھ سے بڑا دنیا میں محدث نہیں کوئی
سب متفق اس پر ہیں مسلمان بخاریؒ
دنیا میں ہزاروں ہی مدارس ہیں کہ جن میں
صدیوں سے ہے جاری تیرا فیضان بخاریؒ
اس بات سے آگاہ ہیں سب غیر مقلد
سمجھے ہیں فقط پیر و نعمانؒ بخاری
احناف نے کی دہر میں تعلیمِ نبیؐ عام
احناف کا ہے دہر پہ احسان بخاریؒ
درخواستی کا عشقِ بخاری ذرا دیکھو
پیری میں بھی ہونٹوں پہ ہے ہر آن بخاری
اللہ شفا دے انہیں جلدی کہو آمین
اگر وہ پڑھائیں ہمیں سلمان! بخاریؒ
عالمِ اسلام کی قدیم ترین درسگاہ ۔ جامعہ الازہر مصر
ادارہ
مصر اسلامی اور دینی تعلیم کی ترویج و اشاعت اور ترقی کے لیے ہمیشہ سے اسلامی ممالک میں سرفہرست رہا ہے۔ اور اس مقصد کے لیے مصر میں مختلف تعلیمی اور دینی ادارے مصروفِ عمل ہیں، جن میں جامعہ الازہر سرفہرست ہے جس کی خدمات دنیا بھر میں معروف و مشہور ہیں۔ الازہر یونیورسٹی کا شمار دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹیوں میں ہوتا ہے۔۔۔ طلبا دنیا بھر سے آ کر اس یونیورسٹی سے تعلیم پا رہے ہیں جن کے تمام تعلیمی اخراجات و لوازمات بشمول اقامت، خوراک و پوشاک اور کتب وغیرہ مصری حکومت کے ذمہ ہیں۔
اس کے علاوہ الازہر یونیورسٹی کے چیدہ چیدہ علماء اور اساتذہ دنیا میں اسلام، قرآن و حدیث اور عربی زبان کی تعلیمات مختلف مسلم ممالک، یورپ اور امریکہ میں سرانجام دے رہے ہیں۔ اس وقت ۶۵ سے زیادہ مصری اساتذہ پاکستان میں انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد اور دیگر تعلیمی اداروں میں خدمات انجام دے رہے ہیں جن کے اخراجات مصری حکومت خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ ہزاروں لوگ الازہر یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے مختلف ممالک میں پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ علماء فخر سے خود کو الازہری کہلاتے ہیں۔ ان میں سے کئی رؤسا اسلامی ممالک کے سربراہ بھی ہیں۔
مصر کی اسلامی تعلیمات کی اہمیت اس بات سے بھی واضح ہو جاتی ہے کہ صدر حسنی مبارک ہر سال دو مقدس موقعوں پر یعنی عید میلاد النبی اور رمضان المبارک میں لیلۃ القدر کی مناسبت سے کانفرنس منعقد کرتے ہیں جن میں دنیا بھر سے نمایاں اسلامی خدمات رکھنے والے علماء کو شرکت کی دعوت دی جاتی ہے اور ان کی اسلامی خدمات کو سراہتے ہوئے صدر حسنی مبارک خود ایوارڈ عطا کرتے ہیں۔ پاکستان سے بھی ہر سال ان کانفرنسوں میں شرکت کے لیے ایک وفد بلایا جاتا ہے۔
اس سلسلہ میں مصری سفارت خانہ اسلام آباد کے پریس آفس نے اس مبارک مہینے کے تناظر میں ایک کتابچہ ’’شعاع الاسلام‘‘ کے عنوان سے جاری کیا ہے جن میں مصر کے چیدہ چیدہ علماء کے مقالات، جو اسلامی موضوعات پر مبنی ہیں، شائع کیے گئے ہیں تاکہ پاکستانی بھائی اس مبارک مہینہ میں ان دینی مقالات سے استفادہ کر سکیں۔ یہ اسلامی آب پارے ان موضوعات پر مبنی ہیں:
- رمضان کے روزے کی فضیلت
- جوہرِ توحید و اطمینان
- توحید مصدر علم
- ارکانِ اسلام (محمد ﷺ پیغمبر خدا)
- قرآن اور سائنس
- اسلامی عمل کا مقصد
- حکمت کی جڑیں (پیغمبرِؐ خدا کی حدیث)
- کام کی عظمت
- اسلام کی ازدواجی زندگی
- عمر ابن خطاب (حالاتِ زندگی)
- وغیرہ
حق تو یہ ہے کہ الازہر شریف کی دینی خدمات کو دنیا بھر کے مسلمانوں میں نہ صرف جانا اور پہچانا جاتا ہے بلکہ ایک اعلیٰ مقام دیا جاتا ہے۔
ورلڈ اسلامک فورم کی فکری نشستیں اور علماء کنونشن
ادارہ
لندن میں فورم کی فکری نشست
لندن میں ورلڈ اسلامک فورم کے اجلاس میں مقررین نے کہا ہے کہ کوئی بھی قوم میڈیا پر دسترس کے بغیر اپنے تشخص کی حفاظت نہیں کر سکے گی اور میڈیا کے ذریعے پھیلائی گئی غلط فہمیوں کا جواب دینے کے لیے علمی و فکری طور پر صلاحیت کی ضرورت ہے۔ آل گیٹ ایسٹ میں منعقدہ اجلاس میں بڑی تعداد میں علماء، دانشور، صحافی اور ادبا و شعرا نے شرکت کی۔ اسلامک کمپیوٹنگ سنٹر کے ڈائریکٹر مفتی برکت اللہ اور تحریکِ ادبِ اسلامی کے کنوینر عادل فاروقی نے ویسٹ واچ اسٹڈی گروپ کی رپورٹ پیش کی۔
مفتی برکت اللہ نے کہا کہ ہمیں ذرائع ابلاغ میں قیامت خیز تبدیلی و ارتقا کا چیلنج درپیش ہے۔ میڈیا ایک دو دھاری تلوار ہے، میڈیا پر دسترس کے بغیر کوئی قوم اپنے تشخص اور مفادات کی حفاظت نہیں کر سکتی۔ آج عالمی میڈیا پر صہیونی اس طرح قابض ہیں کہ تیسری دنیا کی اقوام تو کجا خود مغربی اقوام اور ان کے سیاستدان ان سے ہر وقت خائف رہتے ہیں۔
عادل فاروقی نے کہا کہ ذرائع ابلاغ کے حملوں کا جواب بذریعہ مراسلے، مضامین، تقاریر اور الیکٹرونک میڈیا کے دینے کے لیے تمام مساعی کو باہم مربوط کر کے گہری حکمت عملی وضع کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے فورم کی طرف سے لوکل اخبارات میں کام شروع کر دیا ہے۔
ختم نبوت سینٹر کے سربراہ عبد الرحمٰن یعقوب باوا نے کہا کہ قادیانیوں کے سربراہ مرزا طاہر احمد نے سیٹلائٹ پر اپنا دورانیہ بڑھا کر ایشیا کے لیے روزانہ دو گھنٹے اور یورپ کے لیے تین گھنٹے کر دیا ہے۔ اب اسلام کے نام پر گمراہ کرنے کی دعوت دنیا کے ۵۲ ممالک میں براہ راست دی جا رہی ہے۔ فورم اس کا جواب دینے کے لیے فوری طور پر اقدام کرے اور پروگرام مرتب کرے۔
انڈین مسلم فیڈریشن کے رہنما انور شریف نے سن رائز ریڈیو کی شانِ رسالت میں دریدہ دہنی کے خلاف قرارداد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک سن رائز ریڈیو نے نہ کوئی تلافی کی ہے نہ معذرت کی ہے، ہمیں احتجاج کے لیے مؤثر طریقہ اپنانا چاہیے۔
ورلڈ اسلامک فورم کے سیکرٹری جنرل مولانا محمد عیسٰی منصوری نے کہا کہ میڈیا کے ذریعے سے پھیلائی گئی غلط فہمیوں کا جواب دینے کے لیے علمی و فکری طور پر اہلیت و صلاحیت پیدا کی جائے۔ بدقسمتی سے ہماری سیاست ہو یا صحافت، احتجاجی بن کر رہ گئی ہے۔ یہاں آپ جس کسی لائبریری میں چلے جائیں، رشدی جیسے پچاسوں دریدہ دہنوں کی کتابیں اور مضامین نظر آ جائیں گے۔ ہم کب تک ان کے تعاقب اور جواب دینے میں اپنی توانائیاں ضائع کرتے رہیں گے۔ ہمیں عملی طور پر اس کی وجوہات اور اس کے پس پردہ عوامل کا جائزہ لینا ہو گا۔ یورپ کے علمی و فکری حملہ کا جواب یہ نہیں ہے کہ ہم صفائی پیش کرنے یا جواب دینے بیٹھ جائیں، بلکہ (آج کے حالات کے تناظر میں) ہمیں اسلام کے مثبت اور فلاحی پہلو پیش کرنے ہوں گے اور ہر شعبہ میں تحقیقی کام کرنے والے ماہرین تیار کرنے ہوں گے۔ اگر ہم سیرت کے روشن اور افادی پہلو پیش کر سکیں تو آپ دیکھیں گے کہ یہاں مغرب میں اسلام کو صحیح سمجھا جانے لگے گا۔
برالٹن اسلامک سنٹر کے ڈائریکٹر عبد الجلیل ساجد نے قرآن کے تراجم کے بارے میں مفصل اور تحقیقی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ۱۵۲۶ء سے اب تک کم و بیش دو ہزار کے قریب انگریزی زبان میں قرآن کے تراجم ہو چکے ہیں، جن کی اپنی اپنی خوبیاں تھیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انگریزی یا کسی یورپی زبان میں قرآن پاک کے صحیح ترجمہ کو سمونے کی اہلیت ہی نہیں ہے۔ اس لیے کہ قرآن کے پیش کردہ اصطلاحات و تصورات کے صحیح مفہوم ادا کرنے والے الفاظ کی تلاش کار دشوار ہے۔ بہرحال آج کل جو تراجم رائج اور شیڈول ہیں، ان کی بنیادی خامی یہ ہے کہ یا تو ان کی زبان مشکل، پرانی اور غیرمانوس ہے، اور اگر زبان کلاسیکی اور سہل و آسان ہے تو قرآنی مفہوم ادا کرنے سے قاصر ہے۔
مولانا عتیق الرحمٰن (سابق مدیر ہفت روزہ ندائے ملت لکھنؤ و ماہنامہ الفرقان) نے کہا کہ گزشتہ دنوں بھارت میں تین طلاقوں کے فقہی مسئلہ پر ہم نے ایک دوسرے کے بارے میں جو غیر شائستہ زبان استعمال کی اس سے سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ کیا یہی اسلام کی تعلیم و اخلاق ہے؟ مولانا نے کہا کہ ہمیں عہد کر لینا چاہیے کہ ہم کسی مسلم جماعت و طبقہ کے خلاف کسی حال میں سوقیانہ طرز اختیار نہیں کریں گے اور ہم یہ کام غیر مشروط طور پر کریں گے۔ یہ رویہ ہماری طرف سے شروع ہو جانا چاہیے۔ آپ اس کے مبارک اثرات دیکھیں گے کہ تھوڑے ہی عرصے میں سامنے والا بھی اس طرز کے اپنانے پر مجبور ہو گا۔
اس کے بعد مشہور شاعر سلطان الحسن فاروقی اور عادل فاروقی نے اپنا تازہ کلام پیش کیا۔ ممتاز ادیب و شاعر افتخار اعظمی (میڈن ہیڈ) نے، جو اپنی اچانک علالت کے سبب تشریف نہ لا سکے تھے، فون پر نظمیں سنائیں، جسے مولانا منصوری نے پڑھ کر سنایا۔
اجلاس میں خاص طور سے نظام الدین اتحاد المسلمین پاکستان کے کنوینر حافظ شریف، ورلڈ اسلامک کونسل کے سربراہ لیسٹر سے پروفیسر عبد الکریم مکی والا، ممتاز ماہر تعلیم مولانا اقبال اعظمی (لیسٹر)، ماسٹر افتخار احمد (لندن)، مولانا عبد الرحمٰن (لیسٹر)، جامعہ اسلامیہ لندن کے مہتمم مولانا مفتی مصطفٰی، ڈاکٹر خالد اسلامی اکادمی ہیرو کے پریزیڈنٹ عبد اللہ قریشی، فورم کے خزانچی الحاج غلام قادر، الحاج عمر بھائی، عبد اللہ، کشمیری رہنما محمد اثیم اور الحق پبلشرز کے ڈائریکٹر محمد صدیق ناز نے بھی شرکت کی۔ مولانا منصوری کی دعا پر اجلاس اختتام پذیر ہوا۔
(بہ شکریہ ’’جنگ‘‘ لندن ۔ ۲۰ فروری ۱۹۹۴ء)
گوجرانوالہ میں فکری نشست
مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں ورلڈ اسلامک فورم کی ماہانہ فکری نشست ۲۰ اپریل ۱۹۹۴ء کو بعد نماز عشاء مولانا زاہد الراشدی کی زیرصدارت منعقد ہوئی جس میں ماہنامہ المذاہب لاہور کے ایڈیٹر جناب محمد اسلم رانا نے اپنے حالیہ دورۂ بھارت کے تاثرات بیان کیے اور بھارتی مسلمانوں کی مظلومانہ حالت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ بڑھتی ہوئی ہندو انتہاپسندی کے تباہ کن اثرات سے مسلمانوں کو محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ عالمِ اسلام اس مسئلہ پر سنجیدگی سے توجہ دے اور بھارتی مسلمانوں کی جان و مال اور آبرو کے تحفظ کے لیے ٹھوس حکمتِ عملی اختیار کی جائے۔
مجلسِ تحفظ ختم نبوت گوجرانوالہ کے سیکرٹری جنرل علامہ محمد یوسف عثمانی نے اپنے دورہ امریکہ کے حوالہ سے امریکی ممالک میں مقیم مسلمانوں کے دینی حالات پر روشنی ڈالی اور کہا کہ ان ممالک میں مسلمانوں کی نئی نسل کے ایمان کو بچانے کے لیے سخت محنت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان بچوں کی دینی تعلیم کے لیے خاطر خواہ انتظام نہیں ہے جس کی وجہ سے نئی پود اسلام کے بنیادی عقائد اور احکام سے بھی بے خبر ہے۔ انہوں نے بڑے دینی اداروں سے اپیل کی کہ وہ اس صورتحال کی طرف توجہ دیں اور مغربی ممالک میں دینی تعلیم کا مناسب اہتمام کیا جائے۔
لاہور اور ہری پور میں علماء کنونشن
ورلڈ اسلامک فورم کے زیر اہتمام ۱۸ اپریل ۱۹۹۴ء کو جامع مسجد شیرانوالہ گیٹ ہری پور ہزارہ میں امریکی عزائم کے خلاف علماء کنونشن منعقد ہوا جس کی صدارت مولانا حکیم عبد الرشید انور نے کی اور مولانا قاری محمد بشیر، مولانا قاضی محمد طاہر الہاشمی، مولانا گل رحمان، جناب مطیع الرحمٰن اور دیگر حضرات نے خطاب کیا۔ جبکہ ہری پور اور اردگرد کے علماء کی ایک بڑی تعداد شریک ہوئی۔
۲۲ اپریل بروز جمعۃ المبارک بعد نماز عصر جامع مسجد (مولانا محمد ابراہیمؒ والی) انارکلی لاہور میں امریکی عزائم کے خلاف علماء کنونشن منعقد ہوا جس کی صدارت ماہنامہ الرشید کے مدیر جناب حافظ عبد الرشید ارشد نے کی اور اس سے ریٹائرڈ کموڈر جناب طارق امجد، مولانا عبد الرؤف فاروقی، مولانا میاں عبد الرحمٰن، جناب محمد اسلم رانا اور دیگر مقررین نے خطاب کیا اور لاہور کے مختلف حصوں سے علمائے کرام نے شرکت کی۔
ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا زاہد الراشدی نے ان کنونشنوں سے خطاب کرتے ہوئے عالمِ اسلام اور پاکستان کے بارے میں امریکہ کے منفی عزائم کا تفصیل کے ساتھ ذکر کیا اور علماء پر زور دیا کہ وہ ان عزائم کے حوالہ سے رائے عامہ کی راہنمائی کریں اور قومی خودمختاری اور مذہبی آزادی کے تحفظ کے لیے قوم کی جرأتمندانہ قیادت کے لیے آئیں۔
مقالاتِ سواتی (حصہ اول)
پروفیسر غلام رسول عدیم
مقالہ نگاری ایک نہایت وقیع فن ہے۔ اس میں مقالہ نگار حشو و زوائد اور طوالت اور اطناب سے بچ بچا کر نہایت اختصار و اجمال کے ساتھ اپنا مدعا بیان کرتا ہے۔ وہ لفظوں کے اسراف سے بچتا ہوا کم گوئی مگر نغز گوئی کے ساتھ اپنی بات کہتا ہے اور نہ صرف یہ کہ کہتا ہے بلکہ سے منواتا ہے۔ مقالہ ایک مدلل اور بادرکن تحریر ہوتی ہے۔ کسی موضوع پر کتاب لکھنا بھی ایک عمدہ کام ہے، مگر ایک جامع مقالے میں اپنے خیالات کو سمو دینا اور پھر اپنے نقطہ نظر کو بڑی چابک دستی سے دوسرے کے دل میں اتار دینا عمدہ تر کام بھی ہے اور مشکل تر بھی۔
اساطینِ علم و ادب نے اپنی سوچوں، حاصلِ مطالعہ اور وسعتِ علمی کو مقالہ نگاری کے ذریعے سے قارئین کے سامنے پیش کر کے بسا اوقات بڑی علمی اور دقیق کتابوں کے مطالعے سے بے نیاز کر دیا ہے۔ مقالاتِ شبلی، مقالاتِ سرسید، مقالاتِ حالی، مقالاتِ مولوی محمد شفیع، مقالاتِ شیرانی وغیرہ اس سلسلے کی نہایت عمدہ کڑیاں ہیں۔ بعض حضرات نے تو اپنے علمی سرمائے کو شعوری سطح پر جمع کر کے عوام کے لیے مفید مطلب بنا دیا ہے، مگر کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کے جواہر ریزے ادھر ادھر بکھرے ہوتے ہیں، اگر کوئی جوہری ان کو اکٹھا کر کے نظر فروزی کا سامان کر دے تو ان سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے، لیکن اگر وہ رشحاتِ قلم مختلف رسائل و اخبار ہی کی زینت رہیں تو مرور ایام کے ساتھ پردہ خفا میں چلے جاتے ہیں۔ یوں بسا اوقات وہ اہلِ علم کی نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔
بڑی خوشی کی بات ہے کہ ایسے ہی جواہر ریزوں کا ایک مجموعہ کتابی صورت میں زیرنظر ہے۔ یہ مجموعہ مقالات حضرت العلام استاذ الاساتذہ مولانا صوفی عبد الحمید سواتی کے گراں قدر مضامین پر مشتمل ہے۔ موصوف کے فرزند ارجمند حاجی محمد فیاض خاں سواتی مہتمم مدرسہ نصرۃ العلوم لائقِ تحسین ہیں کہ انہوں نے اپنے نامور بزرگوار کے قلم سے نکلے ہوئے ان جواہر پاروں کو مدون کر کے کتابی شکل دے دی۔ کتاب کے سرورق پر ’’حصہ اول‘‘ کی عددی ترکیب سے گمان غالب یہی گزرتا ہے کہ وہ مزید عرق ریزی کر کے رسائل و جرائد کی گرد جھاڑ کر بحرِ علم و حکمت کے اور بھی لولوئے لالا پیش کریں گے، اللہ تعالیٰ توفیق و ہمت ارزانی فرمائے۔
پیشتر اس کے کہ کتاب پر رائے زنی کروں، میں صاحبِ کتاب کے بارے میں ایک نہایت مختصر سا تعارف پیش کرنا چاہوں گا کیونکہ صاحبِ کتاب کی شخصیت کتاب کے ورق ورق میں پرتوفگن ہے۔
حضرت العلام سید الاساتذہ مولانا صوفی عبد الحمید سواتی عرصہ دراز تک مدرسہ نصرۃ العلوم کے مہتمم رہے ہیں۔ وہ اس دور کے ان فضلائے دیوبند میں سے ہیں جنہوں نے اکابر علمائے دیوبند سے کسب فیض کیا، برصغیر کی اس عظیم درسگاہ کے ممتاز اور نامور اساتذۂ دین و ادب کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا، اور اس عظیم علمی روایت کے پاسباں کی حیثیت سے برسوں سے وہ مسجد نور گوجرانوالہ میں علومِ دینیہ کے روشنی کے بلند مینار کی طرح اپنے ماحول کو جگمگا رہے ہیں۔ وہ ایک جید عالمِ دین اور جید تر معلّمِ علومِ اسلامیہ ہیں۔ ان کی فقہی بصیرت قابلِ اعتماد اور تقوٰی قابلِ رشک ہے۔ بڑے صاف گو اور حقیقت پسند ہیں۔ ان کا قلم تحقیق و تدقیق کے میدان میں بڑے بڑے نام نہاد محققین سے کہیں آگے ہوتا ہے۔ تحقیق ان کے ذوق کا خاصہ ہے تو عبارت فکر و نظر ان کی طبیعت کا رجحان۔ ان کے مزاج شناس اس حقیقت سے خوب باخبر ہیں۔
زیر نظر مقالات اسی صاحبِ قلم کے رشحاتِ خامہ اور شذراتِ فکر و نظر کا نتیجہ ہیں۔ کتاب کو ایک نظر دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ۳۱ مقالات پر مشتمل ہے، کچھ مضامین پہلی مرتبہ منصہ شہود پر آئے، کچھ ایسے ہیں جو مختلف بلند پایہ علمی و تحقیقی جرائد میں چھپ چکے ہیں، تفصیل یہ ہے:
#
|
نام رسالہ |
مقامِ اشاعت |
مقالہ
|
| (۱) |
الانوار
|
میر پور (آزاد کشمیر) |
توحید کے چند دلائل ملتِ حنیفیہ کی حقیقت |
| (۲) |
تبصرہ |
لاہور |
انسانیت کے چار بنیادی اخلاق (اخلاقِ اربعہ)
|
| (۳) |
ترجمانِ اسلام
|
لاہور |
حصولِ علم کے ضروری آداب علم اور اہلِ علم کا مرتبہ اسلام کے حدود و تعزیرات کا ولی اللّٰہی روشنی میں اجمالی تذکرہ
|
| (۴) |
الحق |
اکوڑہ خٹک
|
حضرت امامِ اعظم ابو حنیفہ ؒ کی چند وصیتیں (عربی سے اردو ترجمہ) اسلام میں حلال و حرام کا تشریعی فلسفہ ملتِ حنیفیہ کی حقیقت مسئلہ توسل پر ایک نظر
|
| (۵) |
خدام الدین
|
لاہور |
مقامِ صحابہؓ حضرت لاہوریؒ (حضرت لاہوریؒ نمبر)
|
| (۶) |
الرحیم |
حیدر آباد (سندھ)
|
کائنات میں جانداروں کی تخلیق حکمتِ ولی اللہ کے شارحین شہروں کی بربادی اور آبادی کے اسباب تحقیق وحدۃ الوجود اور وحدۃ الشہود (ترجمہ) وحدۃ الوجود اور وحدۃ الشہود میں تطبیق مسئلہ وحدۃ الوجود میں راہِ اعتدال
|
| (۷) |
الشریعہ |
گوجرانوالہ |
اللہ رب العزت کی زیارت کیسے ہو گی؟ خواب میں رسالتمآب کی زیارت حصولِ علم کے ضروری آداب علمے کہ راہِ حق ننماید جہالت است
|
| (۸) |
عزمِ نو
|
لاہور |
ایضاً |
وہ مضامین جو پہلی مرتبہ اسی کتاب کی زینت بنے ہیں، درج ذیل ہیں:
(۱) رسول اللہ کی بعثت کے مقاصد،
(۲) اسلام کا نظامِ عبادت و نظافت،
(۳) معہدِ علم و دین، مرکزِ صدق و یقین دارالعلوم دیوبند،
(۴) تمدن کے بگاڑ کے اسباب اور ان کا علاج،
(۵) انسانیت کی تکمیل کے لیے اخلاقِ اربعہ کی اہمیت،
(۶) فرقہ ناجیہ اور نوابت میں فرق،
(۷) فتنے کس طرح پیدا ہوتے ہیں اور ان کا علاج،
(۸) بحالتِ صوم انجکشن کا حکم،
(۹) اکابر علمائے دیوبند اور نظریہ وحدۃ الوجود،
(۱۰) مودودی صاحب کے بعض نظریات دین کے لیے نقصان دہ ہیں،
(۱۱) باب الرؤیا۔
کتاب کو ایک نظر دیکھنے ہی سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ موصوف کی تحریروں میں ولی اللّٰہی فکر مرکزی نقطے کی حیثیت رکھتی ہے۔ موصوف نہ صرف فکرِ ولی اللّٰہی کے ایک سرگرم داعی ہیں بلکہ جس گہرائی و گیرائی کے ساتھ انہیں اس فکر پر دسترس حاصل ہے بہت کم لوگ اس سے بہرہ مند ہیں۔ ان مقالات کا ایک خصوصی وصف یہ ہے کہ تحریر کی شستگی کے ساتھ ساتھ یہ مصنف کی معنی آفرینی، علمی نبوغ اور فکری راستی کا بھی پتہ دیتے ہیں۔ تحریر کہیں کہیں تو خالص عالمانہ ہے، خصوصاً ان مقالات میں جہاں مسئلہ وحدت الوجود اور مسئلہ وحدت الشہود زیربحث ہے۔ ایسے مقالات میں اگرچہ شعوری کوشش یہی رہی ہے کہ ان مفاہیم کو سریع الفہم بنایا جائے مگر موضوع کی نزاکت تقاضا کرتی تھی کہ زبان عامیانہ نہ ہو بلکہ عالمانہ ہو۔ یوں بعض اصطلاحات کوشش بسیار کے باوجود عسیر الفہم ہو گئی ہیں۔
حضرت صوفی صاحب اگرچہ ایک عظیم المرتبت مفسرِ قرآن ہیں، ان کے دروس کا سلسلہ جو معالمِ العرفان کی صورت میں سامنے آ رہا ہے ان کے تفسیری ذوق کا پتہ دیتا ہے، لیکن یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ ان کی تفسیر میں بھی فقہی رنگ نمایاں ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان کا تفقہ فی الدین اور رسوخ فی العلم دورِ حاضر میں انفرادی شان رکھتا ہے۔ زیر نظر مقالات میں تحقیقی مقالات کے ساتھ ساتھ فقہی مقالات اپنے موضوع پر حرفِ آخر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ’’بحالتِ صوم انجکشن کا حکم‘‘ اس ضمن میں آتا ہے۔
وہ دبستانِ دیوبند کے فیض یافتہ اور تربیت یافتہ ہیں، لہٰذا وہ اول تا آخر اس مکتبہ فکر کے نمائندہ ہیں۔ ان کی جملہ تحریریں اسی فکری جہت کی نمائندگی کرتی ہیں۔ ’’معہدِ علم و دین، مرکزِ صدق و یقین دارالعلوم دیوبند‘‘ ان کی اس عظیم درسگاہ و تربیت گاہ سے والہانہ شیفتگی اور گہری وابستگی کا مظہر ہے۔ حضرت صوفی صاحب کا ایک خاص مزاج ہے۔ وہ زہد و اتقا کے اس مقام پر فائز ہیں کہ بڑے بڑے نمائش کار پگڑی سنبھال کر ان کی منزلِ رفیعہ تک نگاہ ہی دوڑا سکتے ہیں۔ نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پروا کے مصداق وہ دنیا و مافیہا سے اپنی خودگری، خودگیری اور خودداری کی وجہ سے بے نیاز ہیں۔ نہ نمائش، نہ ریا، نہ تمنائے داد و دہش۔ تحقیق و تدقیق، علمی اندازِ فکر، فقہی تیقن، اور سب سے بڑھ کر قرآن مجید سے بے پناہ وابستگی ان کی سیرت کے محامد و محاسن ہیں۔
زیر بحث کتاب فی الجملہ اہلِ علم کے لیے نہایت کارآمد مواد پیش کرتی ہے اور عامۃ الناس کے لیے بھی بہت حد تک مفید ہے۔ تاہم چند باتیں جو دورانِ مطالعہ میں مجھے کھٹکتی ہیں وہ اگرچہ اس قدر لائقِ اعتنا تو نہیں مگر اس پائے کے جید عالم کی تحریر اگر ان فروگزاشتوں سے پاک ہوتی تو اور اچھا ہوتا۔ جہاں تک فکری سطح کا تعلق ہے، کتاب اس مقام پر ہے کہ اسے روشنی کا مینار کہنا چاہیے یا نشانِ منزل، مگر کسی مفہوم کو جو لباس پہنایا جائے وہ بھی اگر معنی کے قد پر راست آئے تو تحریر شاندار بھی ہو جاتی ہے اور جاندار بھی۔ اکثر لغزشیں تو وہ ہیں جن کا حضرت العلام سے کوئی تعلق نہیں مثلاً سہوِ کتابت یا پروف ریڈر کے کھاتے میں ڈالنی چاہئیں، چند ایک کی نشاندہی کرتا ہوں تاکہ آئندہ ایڈیشن میں غلط نامہ لگا لیا جائے۔
ص ۳۲۳ پر لفظ معتزلہ کو متزلہ لکھا گیا ہے۔
ص ۴۹ پر فی الیقظہ کو فی الیقضہ لکھا گیا ہے۔
ص ۱۰۹ پر قطب الرحی کو قطب الرجی لکھا گیا ہے۔
ص ۳۶۲ پر بے تکیف، بے تکلیف چھپ گیا ہے۔
ص ۲۳۱ پر خودرو کو خوددار لکھا گیا ہے۔
بعض مصرع وزن سے خارج ہیں یا غلط لکھ دیے گئے ہیں۔ یہی حال بعض اشعار کا ہے، اگرچہ بعض اشعار نہایت برمحل اور پرتاثیر ہیں، مثلاً ص ۹۸ پر یہ عربی شعر جو دارالعلوم کے اہلِ علم و نظر کے بارے میں ہے، بار بار گنگنانے کو جی چاہتا ہے ؎
اما الخیام فانھا کخیامھم
واری رجال الحی غیر رجالھا
ص ۹۰ پر ’’علمے کہ راہِ حق ننماید جہالت است‘‘ کو ’’علم کہ راہ حق ننماید‘‘ لکھا گیا ہے اور ص ۹۳ پر راہِ حق کو راہ بحق کر دیا گیا ہے۔
ص ۷۹ پر ’’اے از خود گریختہ‘‘ والا شعر غلط ہے۔ ’’اے کہ‘‘ زائد ہے، صحیح مصرع یوں ہے ’’از خود گریختہ اشیا چہ می جوئی‘‘۔
ص ۲۴۸ پر ہمہ آفاق کو ہمہ آفاقہا لکھا گیا، جو عروضی طور پر وزن سے باہر ہو جاتا ہے۔
ص ۱۳۰ پر ’’اسلام کے قانون حدود و تعزیرات کا ولی اللّٰہی روشنی میں اجمالی تذکرہ‘‘ کا عنوان اگر ’’اسلام کے قانونِ حدودِ تعزیرات کا فکرِ ولی اللّٰہی کی روشنی میں اجمالی تذکرہ‘‘ ہوتا تو میرے خیال میں بہتر ہوتا۔
ص ۴۸ پر ’’ممکن ہو سکتا ہے‘‘ روزمرہ کے مطابق درست نہیں، امکان اور سکنا ہم معنی ہیں۔ ’’ممکن ہے‘‘ یا ’’ہو سکتا ہے‘‘ درست ہے۔
ص ۸۰ پر اقبال کا شعر غلط نقل کیا گیا ہے، صحیح شعر یہ ہے ؎
اس دور میں سب مٹ جائیں گے ہاں باقی وہ رہ جائے
جو قائم اپنی راہ پہ ہے اور پکا اپنی ہٹ کا ہے
(بانگِ درا، ظریفانہ کلام)
ص ۱۱۸ اور ص ۱۷۰ پر اشعار سے پہلے مصرعے کی علامت ؏ استعمال کی گئی ہے جو درست نہیں۔
ص ۲۴۲ پر ’’مرفوع احادیث آتیں ہیں‘‘ نادرست ہے۔ صحیح ہے ’’آتی ہیں‘‘۔
ص ۴۵ پر درج کی گئی حدیث کا باضابطہ حوالہ نہیں دیا گیا اور ترجمے میں زیادت ہے۔ (کیونکہ وہ اس کا کوئی اچھا محمل نکالیں گے ورنہ تم پریشانی میں مبتلا ہو جاؤ گے) بین القوسین وضاحت تو ہے، ترجمہ نہیں۔ اگر ترجمہ ہے تو متن نہیں دیا گیا۔ یوں بھی اس میں لفظ ’’محمل‘‘ عوام کے لیے مشکل ہے، ’’مفہوم‘‘ بہتر تھا۔
ص ۳۵۴ پر (در نیابد حال پختہ ہیچ خام۔ پس سخن کوتاہ باید والسلام) کے ترجمے میں سقم ہے۔ ترجمہ لکھا گیا ہے ’’یعنی خام کار آدمی کا حال پختہ یا کامل نہیں ہو سکتا‘‘۔ حالانکہ ترجمہ یوں ہونا چاہیے ’’کوئی خام کار شخص کسی پختہ کار کے حال کو سمجھ نہیں سکتا۔‘‘۔ دریا فتن کے معنی فہمیدن و درک کردن (To perceive) کے ہیں۔
ایک چیز جو کھٹکتی ہے وہ یہ کہ ابتدائیے میں انگریزی الفاظ کا بے جا استعمال ہے۔ کبھی املا کے حروف غلط ہیں اور کبھی ویسے زبان نادرست ہے۔ اماکن و اشخاص کے ساتھ تلفظ کی درستی کے لیے اگر انگریزی الفاظ لکھ دیے جاتے تو مضائقہ نہ تھا مگر یہاں بے وجہ انگریزی اور وہ بھی غلط ہجوں کے ساتھ لفظ لکھے گئے ہیں۔ اس ضمن میں ص ۲۴۷، ص ۲۵۰، ص ۲۷۰، ص ۲۷۱، ص ۲۷۵ اور ص ۲۸۲ ملاحظہ ہوں۔
کتاب کے آخر میں ۱۰ خواب عربی زبان میں اور ۳۲ خواب اردو زبان میں ’’باب الرویا‘‘ کے عنوان سے مندرج ہیں۔ بلاشبہ ان خوابوں میں انبیا، اولیا، صلحا، اساتذہ اور علما کے تذکرے موجود ہیں لیکن مجھے اس باب کے شامل کرنے کی حکمت سمجھ میں نہیں آ سکی۔ حکما کے ہاں خواب کی تعریف یوں ہے کہ ’’سوتے میں نفس انسانی کی ایک حرکت یا نفس انسانی کی متعدد اشکال کی تصویر کا نام، جو مستقبل کے اچھے یا برے واقعات پر دلالت کرے‘‘ (کتاب الرؤیا، مترجمہ حنین بن اسحاق بحوالہ دائرہ معارف اسلامیہ)۔ جب ان خوابوں کی تعبیریں پیش نہیں کی گئیں تو عام قاری کو ان مشاہدات سے آگاہ کرنے میں مجھے کوئی فائدہ نظر نہیں آیا۔ یہ حضرت کے ذاتی تجربات و مشاہداتِ رویا ہیں، عوام کو ان سے کیا دلچسپی؟ کوئی معاند اگر انہیں خودستائی پر محمول کر کے غلط فہمی یا کج فہمی کا شکار ہو تو اسے کون روک سکے گا؟ جیسا کہ کئی خواب دیکھنے والوں کے ایسے خوابوں سے متعلق باتیں سننے میں آتی رہتی ہیں۔ نیز خواب کو کسی ماہر معتبر کے سوا کسی کے سامنے پیش ہی نہیں کرنا چاہیے، چہ جائیکہ ہر کس و ناکس کے سامنے الم نشرح کر دیا جائے۔
حرفِ آخر کے طور پر یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ کتاب مجموعی طور پر عوام و خواص ہر دو طبقوں کے فائدے کی ہے۔ واقعات و حقائق اور افکار و نظریات کو بلا کم و کاست پیش کر دیا گیا ہے۔ مصنف نے دوسروں کے نقطہ نگاہ کی تردید کے لیے ان کی عبارتیں من و عن دی ہیں، حتٰی کہ ایسی عبارتیں بھی جو مصنف کے اپنے حق میں زہرناک ہو کر رائے عامہ کو مسموم کر سکتی ہیں۔ ملاحظہ ہو ص ۱۱۷۔ اغیار کے ان اقتباسات کے من و عن نقل کرنے سے حضرت استاذ الاساتذہ کی دریا دلی اور عالی حوصلگی کا واضح ثبوت ملتا ہے۔
آئندہ ایڈیشن کے لیے دو تجویزیں بھی نذر قارئین ہیں:
(۱) کتاب کے آخر میں کتابیات کا حصہ اس شہ پارے کی قدر و قیمت میں کئی گنا اضافہ کر سکتا ہے۔
(۲) ترتیب کتاب میں اگر موضوعات کا لحاظ رکھا جاتا تو کتاب کے حسن میں حسین اضافہ ہوتا۔ مثلاً فکرِ ولی اللّٰہی، تنقید و تحقیق، اخلاقیات و فقہ و تدبر، اور اعلام و اماکن وغیرہ کو ایک نظم و ترتیب سے مرتب کیا جائے تو انسب ہو۔ امید ہے دوسرا حصہ بھی جلد منصہ شہود پر آئے گا۔
چلڈرن قرآن سوسائٹی لاہور
شیخ احمد مختار
چلڈرن قرآن سوسائٹی ۲۶ برس قبل ۱۹۶۷ء میں قائم ہوئی تھی۔ اس کے تخیل اور قیام کا سہرا خان بہادر محمد انعام اللہ خان مرحوم کے سر ہے۔ انہوں نے سوسائٹی کو اپنے خونِ جگر سے سینچا اور پروان چڑھایا۔ وہ بچوں کو طوطے اور جن بھوتوں کی کہانیوں کی بجائے احسن القصص قرآن مجید کے واقعات سنانے کے خواہشمند تھے۔ سوسائٹی نے اربابِ اقتدار اور نظامتِ تعلیم سے بھی مسلسل رابطہ قائم رکھا۔ سوسائٹی کی یہ کوشش بارآور ہوئی اور تمام سرکاری اور غیر سرکاری سکولوں میں قرآنِ حکیم کی ناظرہ تعلیم ۱۹۸۴ء میں لازمی قرار دی گئی اور بعض سپاروں کا ترجمہ بھی نصاب میں شامل کر دیا گیا تاکہ پڑھنے والوں کو قرآن مجید میں اللہ کے احکامات اور پیغام سمجھ میں آ سکیں۔
(۱) قرآن مجید کا آسان ترجمہ
سوسائٹی نے عوام کے لیے قرآن مجید کے بامحاورہ آسان اردو ترجمہ کے سپارے الگ الگ شائع کیے۔ یہ ملک میں بہت پسند کیے گئے اور لاکھوں کی تعداد میں قارئین کو پہنچ چکے ہیں۔ ایک صفحہ پر عربی متن ہے اور بالمقابل مکمل صفحہ اردو ترجمہ جلی الفاظ میں کمپیوٹر پر اعلیٰ معیار کا ٹائپ کیا گیا ہے۔ یہ انتہائی ارزاں ہیں۔ ۳۶ اور ۴۰ صفحات کے سپارے کی قیمت صرف ۲.۵۰ روپے ہے۔ مکمل قرآن کے ۳۰ سپارے ۷۵ روپے میں ملتے ہیں۔ یہ ترجمہ سوسائٹی کی مجلس عاملہ کے رکن ریٹائرڈ لفٹیننٹ کرنل ڈاکٹر محمد ایوب خان نے کیا ہے۔ سوسائٹی ان سپاروں کو مسجدوں، سکولوں اور عام گھروں میں پہنچانا چاہتی ہے تاکہ لوگ عربی متن کے ساتھ اردو ترجمہ بھی پڑھ سکیں اور قرآن حکیم کو سمجھ کر اس پر عمل پیرا ہو سکیں۔
اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اس کے احکامات پر عمل کرنے سے ہوتا ہے۔ احکامات کو سمجھنے کے لیے ترجمہ والے سپاروں کی زیادہ سے زیادہ تعلیم اور فروغ کی ضرورت ہے۔ ہم وطن مسلمان بھائیوں سے التجا ہے کہ وہ خود بھی سپارے حاصل کریں، ترجمہ سے سمجھ کر پڑھیں، اور اپنے دوست احباب کو بھی ان کے حصول اور بغور مطالعہ کی ترغیب دیں۔ اپنی جیب سے ہدیہ دے کر زیادہ تعداد میں سپارے حاصل کیجئے اور مسجدوں، سکولوں اور کالجوں میں مفت تقسیم کیجئے اور سب کو عربی متن کے ساتھ اردو ترجمہ پڑھنے، اس کو سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور دوسروں سے عمل کرانے کی ترغیب دیجئے۔
(۲) سوسائٹی کی مذہبی کتب
جب ہم بچے تھے تو رات کو سونے سے پہلے ہماری امی، دادی اور نانی ایسی کہانیاں سناتی تھیں جن سے دل میں مذہب سے محبت بڑھتی تھی، بہادری اور شجاعت کا جذبہ ابھرتا تھا، اور راہِ خدا میں جہاد کی تڑپ پیدا ہوتی تھی۔ لیکن اب زمانے نے عجیب کروٹ لی ہے اور معاشرہ اتھل پتھل ہو گیا ہے۔ آج کی مائیں، دادیاں اور نانیاں اپنے جگر گوشوں کو بڑے فخر کے ساتھ پریوں، جنوں اور جانوروں کی کہانیاں سناتی ہیں، یا بہت سا وقت ٹی وی کے پروگراموں کی نذر ہو جاتا ہے۔ چنانچہ بچوں کے دلوں میں خوف اور بزدلی کا تصور ابھرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری نئی پود مذہب سے مزید بیگانہ ہوتی جا رہی ہے۔
سوسائٹی نے زیر تعلیم بچوں کی اخلاقی تربیت پر توجہ دینے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ ماہرینِ تعلیم سے مشاورت کے بعد ایسی کتب شائع کرنے کا اہتمام کیا جن سے نفسِ مضمون قرآن و سنت کی روشنی میں اخلاقی تربیت ہو۔ کتب مرتب اور شائع کرتے وقت یہ امر بھی ملحوظ رکھا گیا کہ ہماری نئی پود کی اٹھان تعلیماتِ اسلامی پر اس طرح ہو کہ جب وہ میدانِ عمل میں اتریں تو سچے مسلمان اور پکے پاکستانی ہوں۔
سوسائٹی نے مختصر مدت میں اپنی یہ منزل بھی پا لی اور ۳۶ ایسی کتب شائع کیں جن کے مندرجات کی اساس صرف اور صرف قرآن و سنت ہے۔ ان کا کسی مسلک سے تعلق نہیں ہے۔ طلباء اپنی اسلامی تربیت کے تقاضے با آسانی پورے کر سکتے ہیں۔ ان میں سے ۲۴ عدد کتب چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور وفاق کے زیرانتظام علاقوں کے جملہ مدارس میں بطور معاون کتب منظور ہیں۔ تمام کتب افواج پاکستان کی لائبریریوں کے لیے اور ملک کے تمام اسکولز اور پبلک لائبریریوں کے لیے بھی منظور ہو چکی ہیں۔
(۳) رسالہ ’’ماہنامہ کوثر‘‘
چلڈرن قرآن سوسائٹی نے طلبا و طالبات کو معاشرے کے برے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے اپنی محدود بساط کے باوجود تگ و دو جاری رکھی ہے اور اس مقصد کے لیے بچوں کے لیے ماہنامہ کوثر جاری کیا ہے، جو حسنِ طباعت کے ساتھ ساتھ حسنِ معانی میں بھی شاہکار ہے۔ یہ ماہنامہ سکولوں کی لائبریریوں کے لیے منظور ہے۔ بچوں کے ذہن کو صاف ستھرا اور اسلامی رنگ سے مزین کرنے کے لیے اچھا کام سرانجام دے رہا ہے۔ یہ بچوں اور بڑوں کے لیے یکساں مفید اور مناسب ہے۔ اس میں مذہبی تعلیم کے علاوہ سائنسی مضامین، تاریخی واقعات، سوالنامے اور دیگر معلومات بھی دلچسپ طریقے سے شامل کی جاتی ہیں۔ اس کا سالانہ چندہ ۵۰ روپے ہے لیکن طلبا کے لیے رعایتی چندہ صرف ۳۰ روپے سالانہ ہے۔ رابطہ کے لیے: ڈاکٹر نسیم الدین خواجہ، ۷۲ عمر دین روڈ، وسن پورہ، لاہور۔
(۴) لائف ممبر سوسائٹی
سوسائٹی سے ہمدردی رکھنے والے اور اس کے مقاصد کے حصول میں مدد کرنے والے لائف ممبر بن سکتے ہیں۔ لائف ممبر فیس ۱۵۰ روپے ہے۔ لائف ممبروں کو ۳۶ عدد کتب قیمتی ۱۹۰ روپے بلامعاوضہ ان کے گھر پہنچائی جاتی ہے۔ ہمارے لائف ممبروں کی تعداد خدا کے فضل و کرم سے دو ہزار آٹھ سو ہو چکی ہے۔ لائف ممبر بنانے کا مطلب سوسائٹی کے مقاصد اور تبلیغِ دین کو وسیع تر کرنا ہے۔ سوسائٹی یہ مہم آپ کے تعاون کے بغیر سر نہیں کر سکتی۔ آپ اپنے حلقہ احباب میں زیادہ سے زیادہ تعداد میں لوگوں کو اور خصوصاً طلبا کو سوسائٹی کا لائف ممبر بننے کی ترغیب دیجئے اور ثوابِ دارین حاصل کیجئے۔ اس طرح وہ سوسائٹی کی کتب مفت حاصل کریں اور مطالعہ کا موقع حاصل کر سکیں گے۔ لائف ممبران کو سوسائٹی کی کتب کی خرید پر قیمت میں ۳۰ فیصد رعایت دی جاتی ہے۔ سوسائٹی کی کتب اصل لاگت سے کم قیمت پر فروخت کی جاتی ہیں اور خسارہ مخیر حضرات کے عطیات سے پورا کیا جاتا ہے۔
(۵) گلدستہ نماز
نماز باترجمہ کا ایک کتابچہ ’’گلدستہ نماز‘‘ جس میں نماز کے جملہ ارکان اور ۶ کلمے باترجمہ شامل کیے ہیں تاکہ نماز ادا کرتے وقت الفاظ کو سمجھا جا سکے اور اللہ تعالیٰ سے رشتہ قائم ہو سکے، مفت جاری کرتی ہے۔ ایک روپیہ ڈاک خرچ بھیج کر منگوائیے۔
(۶) سوسائٹی کی شاخیں
سوسائٹی نے ملک بھر میں شاخیں کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دردمندوں اور دین سے شغف رکھنے والوں سے درخواست ہے کہ اللہ کے نور کو گھر گھر پہنچانے کے لیے اپنے اپنے علاقہ میں سوسائٹی کی شاخیں کھولیں۔ قواعد و ضوابط مطبوعہ شکل میں دفتر سوسائٹی سے دستیاب ہیں۔
(۷) عطیات
سوسائٹی کے عطیات محکمہ انکم ٹیکس کے قانون کے مطابق انکم ٹیکس سے مستثنٰی ہیں۔ اداروں کو کتب / قرآن ایک ماہ کی مدت کے کریڈٹ پر دی جاتی ہیں۔ ہر شہر میں سوسائٹی کی برانچیں قائم کی جا سکتی ہیں، اس کے قواعد و ضوابط منگوا سکتے ہیں۔ اسی طرح ہر شہر میں کتب فروش، سوسائٹی کی کتب کی ایجنسی بھی حاصل کر سکتے ہیں، ان کو ۳۳ فیصد کمیشن دیا جاتا ہے۔
رابطہ کے لیے:
شیخ احمد مختار ۔ جنرل سیکرٹری چلڈرن قرآن سوسائٹی
۱۴ وحدت روڈ، آب پارہ مارکیٹ لاہور۔
توہینِ رسالتؐ کی سزا کا قانون اور قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
معزز اراکین خصوصی کمیٹی! سلام مسنون!
روزنامہ جنگ لاہور ۲۳ اپریل ۱۹۹۴ء میں شائع ہونے والی ایک خبر سے معلوم ہوا کہ قومی اسمبلی آف پاکستان نے گستاخِ رسولؐ کے لیے موت کی سزا کے حوالہ سے (۱) وزیر داخلہ جناب نصیر اللہ بابر (۲) وزیر قانون جناب اقبال حیدر (۳) وزیر امور بہبود آبادی جناب جے سالک (۴) مولانا محمد اعظم طارق ایم این اے (۵) مولانا شہید احمد ایم این اے (۶) مولانا عبد الرحیم ایم این اے (۷) جناب مظفر احمد ہاشمی ایم این اے (۸) فادر روفن جولیس ایم این اے اور (۹) جناب طارق سی قیصر ایم این اے پر مشتمل خصوصی کمیٹی قائم کی ہے جو اس قانون کے غلط استعمال کی روک تھام کے لیے سفارشات کرے گی۔
اس سلسلہ میں اس سے قبل ایمنسٹی انٹرنیشنل، وفاقی حکومت، اسلامی نظریاتی کونسل، ہیومن رائٹس کمیشن اور وفاقی لا کمیشن کے حوالہ سے مختلف خبریں اخبارات کی زینت بنتی رہی ہیں اور ان سب کو سامنے رکھتے ہوئے چند ضروری معروضات پیشِ خدمت کرنا ضروری سمجھتا ہوں:
- جہاں تک گستاخِ رسولؐ کے لیے موت کی سزا کو تبدیل کرنے کا مسئلہ ہے، اس قسم کی کوئی ترمیم اسلامیانِ پاکستان کے لیے قابلِ قبول نہیں ہو گی کیونکہ یہ شرعی سزا ہے اور اس میں تبدیلی یا تخفیف شرعی احکام میں تحریف کے مترادف ہو گی۔ مزید برآں ہولی بائبل کی مندرجہ ذیل آیات کی رو سے بھی مذہبی پیشوا اور کتابِ مقدس کی توہین کی سزا موت ہے، اس لیے مسیحی کمیونٹی کے لیے اس سزا پر اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں ہے (استثنا ۱۷ : ۱۲ و ۱۳ ، ہوسیع ۷ : ۱۶ ، پطرس ۲ : ۱۰ تا ۱۲ ، ۲۔سموئیل ۶ : ۶ تا ۸ ، ۱۔سموئیل ۵ : ۱ تا ۱۲)
- البتہ دیگر انبیاء کرام علیہم السلام کو اس قانون میں شامل کرنے پر کسی کو اعتراض نہیں ہو گا بلکہ اس کا خیرمقدم کیا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے کسی بھی سچے پیغمبر کی شان میں گستاخی ہمارے نزدیک یکساں جرم ہے۔
- اسی طرح اگر اس قانون کے غلط استعمال کی روک تھام کے لیے کسی بھی مقدمہ میں ایف آئی آر کے اندراج سے قبل مجسٹریٹ کی انکوائری کی شرط عائد کی جائے تب بھی کوئی مضائقہ نہیں ہے اور اس کا خیرمقدم کیا جائے گا۔
اس موقع پر معزز ارکان خصوصی کمیٹی اور ان کی وساطت سے قومی اسمبلی کے معزز ایوان کی خدمت میں یہ تجویز پیش کرنا چاہوں گا کہ رتہ دوہتڑ توہینِ رسالتؐ کیس اور منظور مسیح قتل کیس، جو اس وقت عالمی شہرت حاصل کر چکے ہیں، ان دونوں کیسوں کی انکوائری بھی ’’خصوصی کمیٹی‘‘ کرے اور اس سلسلہ میں ایک جامع رپورٹ سامنے لائی جائے جو ان دو کیسوں کے بارے میں عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف کیے جانے والے منفی پراپیگنڈا کا ازالہ کر سکے۔ مجھے یقین ہے کہ ان دو کیسوں کے بارے میں خصوصی کمیٹی کی رپورٹ نہ صرف عالمی سطح پر صحیح صورتحال کو سامنے لانے کا ذریعہ بنے گی بلکہ اندرون ملک بھی کشیدگی اور کشمکش میں کمی کا باعث ہو گی۔ امید ہے کہ معزز ارکان خصوصی کمیٹی ان معروضات کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لیں گے اور جواب سے آگاہ فرمائیں گے۔
نوٹ: اس عرضداشت کی کاپیاں قومی اسمبلی اور سینٹ کے دیگر اہم افراد کو بھی بھجوائی جا رہی ہیں۔
والسلام، ابوعمار زاہد الراشدی
چیئرمین ورلڈ اسلامک فورم
خطیب مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ
عمار خان ناصر اور ان کا ’’اختلاف‘‘
محمد دین جوہر
محترم عمار خان ناصر صاحب نے ۲۷ دسمبر (۲۰۲۳ء) کو اپنی فیس بک پوسٹ کے ذریعے اپنے والد گرامی سے ’’فکری علیحدگی‘‘ کی خبر مشتہر کی ہے۔ انہوں نے اس علیحدگی کو ’’درست سمت میں پیشرفت‘‘ قرار دیا ہے۔ ہر باپ اور بیٹے کے معاملات نجی حیثیت رکھتے ہیں لیکن اگر ان معاملات پر ’’فکر‘‘ مستزاد ہو تو وہ نجی نہیں رہتے اور علم کی اجتماعی سرگرمی سے متعلق ہو جاتے ہیں اور علمی امور میں دلچسپی کے حامل احباب ان پر اپنی رائے اور موقف کا اظہار کر سکتے ہیں۔ یہی وہ پہلو ہے جس کی وجہ سے عمار خان ناصر صاحب نے ان معاملات کو مشتہر کیا ہے۔ عمار خان ناصر صاحب کا موقف ہے کہ ان کی ’’فکری پوزیشن‘‘ شروع سے واضح رہی ہے اور اس مسئلے کے حل میں تاخیر ’’الشریعہ‘‘ کی طرف سے ہوئی ہے۔ پوسٹ سے یہ بھی ظاہر ہے کہ کسی موقف کی بجائے گروہی معاملات زیربحث ہیں۔ ان کے والد گرامی جس ’’مذہبی گروہ‘‘ سے روایتاً تعلق رکھتے ہیں عمار خان ناصر صاحب فکری کروٹیں بدلتے بدلتے اس سے مختلف گروہ میں شامل ہو گئے۔ اس طرح سے یہ پوسٹ ہمارے معاشرے میں علمی سیاست (knowledge politics) کی حرکیات کو بھی ظاہر کرتی ہے۔
عمار خان ناصر صاحب کی شناخت ایک دینی عالم کی ہے، اور وہ دیوبند کے مکتبِ فکر کو ’’اندر‘‘ سے جانتے ہیں۔ ان کا مکتبِ دیوبند سے الگ ہو کر المورد سے وابستہ ہو جانا ایک اہم واقعہ ہے، اور دیوبند کے لیے ایک بڑا دھچکا۔ ماضی میں متجددانہ فکر، روایت سے جڑے بہت سے اہلِ علم کے لیے کشش کی حامل رہی ہے اور وہ ایک ایک کر کے نئے کاروانوں کا حصہ بنتے رہے ہیں۔ مولانا مودودیؒ کی فکر بھی کبھی دیوبند کے ذہین افراد کے لیے ایک لبھاؤ رکھتی تھی، اور اب یہ حیثیت محترم غامدی صاحب کی فکر کو حاصل ہے۔ عمار خان ناصر صاحب نے اپنے فیصلے سے ایک مثال قائم کر دی ہے اور ذہین دیوبندی نوجوان اس کی پیروی کرنے کی طرف مائل ہوں گے۔ مدرسہ ڈسکورسز کی ’’دلکشی‘‘ اس پر مستزاد ہے اور بہت سے دیوبندی نوجوان اس میں پہلے ہی شمولیت اختیار کر چکے ہیں۔ عمار خان ناصر صاحب کا فیصلہ مکتبِ دیوبند پر ایک تبصرہ بھی ہے کہ اکابرانہ گرفت کمزور پڑ گئی ہے اور ذہین مذہبی افراد کو اس کی ’’فکر‘‘ کے بانجھ پن کا احساس ہو چلا ہے۔
اس پوسٹ میں ان مواقف کا صراحتاً ذکر نہیں کیا گیا جو راستوں کے الگ ہونے کا باعث بنے لیکن وہ معروف ہیں اور ان کے بارے میں فیصلہ قاری کے فہم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ میری عرض ہے کہ عمار خان ناصر صاحب اور ان کے والد گرامی میں اختلاف کا بنیادی سبب ’’مذہبی تجدد‘‘ ہے۔ محترم ابوعمار زاہد الراشدی صاحب خود کو ’’روایتی‘‘ (جیسا کہ اہلِ دیوبند کا اپنے بارے میں موقف ہے) مذہبی طبقے میں شامل سمجھتے ہیں جبکہ ان کا اپنے فرزندِ رشید کے بارے میں خیال ہے کہ اس نے المورد میں شامل ہو کر اس ’’روایت‘‘ سے بنیادی اختلاف کیا ہے اور جس کی وجہ سے ان کا ساتھ چلنا ممکن نہیں رہا۔ دوسری طرف المورد اور محترم جاوید احمد غامدی صاحب برصغیر میں مذہبی تجدد کی ’طاقتور‘ روایت کے ہم عصر اور بڑے نمائندے ہیں۔ اہلِ علم کے حلقوں میں یہ باور کیا جاتا ہے کہ تجدد اور روایت میں بہت ہی بنیادی نوعیت کے فروق ہیں اور یہ دونوں دین کو دیکھنے اور سمجھنے کے نہ صرف دو بالکل مختلف تناظر ہیں بلکہ ایک دوسرے کی ضد ہیں۔
مسلم معاشروں میں تجدد اور روایت کا تنازع ابھی تک لاینحل ہے یعنی یہ امر کہ تجدد کیوں غلط ہے اور روایت کیوں صحیح ہے ابھی تک علمی توسیط سے محروم ہے، اور صحیح غلط ہونے کا زیادہ تر انحصار ثقافتی پسند و ناپسند اور ’’صوابدیدی‘‘ فتاویٰ پر منحصر ہے۔ یہ مسئلہ اس وقت تک حل نہیں ہو سکتا جب تک ہم اس سوال کا براہ راست جواب دینے کے قابل نہیں ہو جاتے کہ ’’علم کیا ہے؟‘‘ اور ’’انسانی علم کی وحی سے کیا نسبتیں ممکنہ طور قائم کی جا سکتی ہیں؟‘‘ یہاں علم سے مراد جدید علم ہے کیونکہ تجدد ایک دینی تعبیر اور موقف کے طور پر استعماری اور استشراقی آمد کے بعد سامنے آیا اور یہ اپنی فہم میں جدید علوم کے روبرو ایک مستجاب (response) کی حیثیت رکھتا ہے۔
مذہبی تجدد کے سب سے بڑے اور ریڈیکل نمائندے آقائے سرسید ہیں، اور ان کی ’’فکر‘‘ میں مذہبی تجدد اپنے اولین قضایا اور genetic make-up کے ساتھ موجود ہے۔ اگرچہ آقائے سرسید کے ریڈیکل مواقف وقت کے ساتھ ہمارے علمی اور تعلیمی کلچر سے غیر متعلق ہو گئے لیکن ان کا متجددانہ علمی اور تہذیبی تناظر پوری قوت کے ساتھ باقی رہا اور بہت زیادہ ثمرآور ہوا۔ اس تناظر کے تحت سامنے آنے والی علمی اور فکری سرگرمیوں نے مذہب کو ایک چیستاں بنا دیا اور عصرِ حاضر میں مذہب اپنے وجودی اور تہذیبی مواقف میں منصۂ تاریخ سے اوجھل ہو گیا، اور علمی مباحث مذہب کے رسومیاتی اور قانونی پہلوؤں سے آگے نہ بڑھ سکے۔ اہلِ روایت بچارے ’’نئے فتنوں‘‘ کو غلط، غلط کہنے میں ایسے مگن ہوئے کہ نہ تجدد کی خبر رہی اور نہ ہدایت کو تہذیبی شان کے ساتھ نبھایا جا سکا۔ اہلِ روایت کے فہمِ مذہب میں بدعت کو مرکزیت حاصل ہو گئی یا رسومیات کو ہی مذہب سمجھ لیا گیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہم دین کے وجودی اور تہذیبی وسائل کو جدیدیت کے خلاف صف آرا کرنے کی کوئی استعداد پیدا نہ کر سکے۔
جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ اصل مسئلہ علم کا ہے۔ تاریخی عوامل علم اور اس کے تعینات پر گہرے طور پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ علم لمحہ بہ لمحہ تبدیل ہونے کا میلان رکھتا ہے۔ اگر انسان خود کو کائنات اور دنیا سے منفک کر کے ایک آزاد فاعل کی حیثیت سے ان پر غور و فکر کی کوشش کرے تو ’’معروضی‘‘ یعنی جدید سائنس جیسے علوم میں پیشرفت ہوتی ہے، اور ایسے علوم آغاز ہی سے کسری ہوتے ہیں اور کسی بڑے نتیجے پر نہیں پہنچاتے کیونکہ انسان ان میں سے خارج ہوتا ہے اور وہ کائنات اور دنیا کو ایک ’’کل‘‘ کے طور پر نہیں دیکھ پاتے۔ ایسے علوم مادیات سے آگے سفر نہیں کر سکتے۔ اگر انسان خود کو کائنات اور دنیا میں شامل کر کے ان پر ایک ’’کل‘‘ کے طور پر غور و فکر کرے تو ’’تعبیر‘‘ سے آگے نہیں بڑھ پاتا۔ تعبیری علوم بھی آخری تجزیے میں کسری ہی ہوتے ہیں کیونکہ کائنات اور انسان سے بننے والا ’’کل‘‘ انسان کی عقل اور تجربے کی سمائی سے زیادہ اور ناقابلِ فہم ہے۔ معروضی علوم حقائقِ اشیا تک رسائی نہیں پا سکتے اور تعبیری علوم اقدار کا مسئلہ سلجھانے میں قطعی ناکام رہتے ہیں۔ جدید علوم کی دونوں بڑی جہتوں سے عدمِ واقفیت ہمارے تہذیبی بحران کی اصل بنیاد ہے۔ ہمارے ہاں سائنسی علوم کی بنیاد گزار معروضی فکر کا تو کوئی نشان نہیں ملتا اور صوابدیدی تعبیری علوم کا مکمل غلبہ ہے اور ان کا نتیجہ بھی محض انتشار کی صورت میں برآمد ہوا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو گائے ذبح کرنے کا حکم دیا تھا۔ یہ حکم بین ہونے کی وجہ سے مخاطبین کی معلومیت اور بجا آوری کے لیے کافی تھا۔ لیکن مخاطبین کو امتثالِ امر کے بجائے الوہی حکم کی فہمی توضیحات و تصریحات میں زیادہ دلچسپی پیدا ہو گئی تھی۔ الوہی حکم تنزیہہ کا دنیا میں نزول و ورود ہے۔ ملکۂ وقوف سے پیدا ہونے والی تفہیم وہ اول حرکت ہے جو تنزیہہ کو تشبیہ بناتی ہے۔ فہم اور تفہیم کا موضوع یہ دنیا اور کائنات ہے، ہدایت نہیں ہے۔ اگر گائے کے بارے میں بنی اسرائیل کے اٹھائے گئے سوالات کا جائزہ لیا جائے تو ان میں بظاہر کوئی برائی نظر نہیں آتی، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان سوالات پر کوششِ انکار کی ہی ججمنٹ دی ہے، اور جو محلِ غور ہے۔ بنی اسرائیل نے جو سوالات اٹھائے وہ تفہیمی نوعیت کے تھے اور ان کی حیثیت شریعت سے چھٹکارے کی تزویرات سے زیادہ کچھ نہیں۔ ہمارے ہاں تجدد میں بھی یہی امر غالب آ گیا۔ مذہبی فکر کے شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ اس میں کارفرما دماغ امیبا (amoeba) سے شاید تھوڑا سا زیادہ ہو، لیکن اس دماغ کا اپنی فہم و تفہیم پر ناز اور اعتماد افلاطونی ہے۔ گزشتہ دو سو سال میں جو مذہبی اور متجددانہ فکر سامنے آئی ہے وہ بنی اسرائیل کے جیسے سوالات اٹھانے اور ان کے تعبیری جوابات تلاش کرنے سے پیدا ہوئی ہے۔
جدیدیت یعنی تہذیبِ مغرب، استعمار اور استشراق نے علم اور عمل کی بالکل ہی نئی اوضاع متعارف کرائیں اور جو غیر مغربی تہذیبوں کے لیے آج تک قابلِ فہم نہیں ہیں۔ خاص طور پر مسلم تہذیب شعور اور ارادے میں جس شکستِ فاش اور انہدام سے دوچار ہوئی اس کا بنیادی سبب ہی عصرِ حاضر میں ’’علم کیا ہے؟‘‘ کے سوال کا جواب نہ دے سکنا ہے۔ علم کا بنیادی فریضہ ’’دنیا‘‘ کو کسی نہ کسی تہذیبی تناظر میں قابلِ فہم بنانا ہے۔ ہمارے ہاں علم کی تعبیراتی (ہرمانیوٹیکل) جہت کو بروئے کار لایا گیا جبکہ علم کی علمیاتی (epistemological) اساس سے مکمل بے خبری چلی آتی ہے۔ اس میں متجددین اور اہلِ روایت ایک ہی جگہ کھڑے ہیں، کیونکہ ان کے ہاں ’’اصول‘‘ کے مباحث مکمل طور پر ختم ہو گئے ہیں۔ تجدد اور روایت نے جتنے بھی مفکرینِ اسلام پیدا کیے ہیں ان سب کا مقصد احیا لیکن ثمر انہدام رہا ہے۔ نام نہاد ہم عصر ’’فکرِ اسلامی‘‘ تمام کی تمام شریعت سے چھٹکارے کی تزویرات ہیں۔ فکر (thought) کا الوہی ہدایت سے کوئی براہ راست تعلق نہیں، بالواسطہ ضرور ہے۔ فکرِ انسانی اصلاً دنیا کی تفہیم کا ایک فلسفیانہ طریقۂ کار ہے اور الوہی ہدایت کے سامنے فکر بگھارنا اس کا انکار ہی ہے۔
اس بات کی کچھ تفصیل ضروری ہے۔ مغرب کے ہر انفرادی اور اجتماعی عمل اور ادارے کے پیچھے جدیدیت کی پیدا کردہ کوئی فکر کام رہی ہے۔ اپنے اولین قضایا (first postulates) سے آگے یہ فکر عقلی تشکیلات میں سامنے آتی ہے۔ یہ فکر بھلے سماجی اور سیاسی ہو، بھلے سائنسی اور ریاضیاتی ہو، یہ اپنے ہر ہر پہلو میں مادی ہے اور کسی بھی ماورائی ’چیز‘ کے لیے کوئی ذرہ بھر گنجائش نہیں رکھتی۔ دوسری طرف مسلم معاشروں میں ہر انفرادی اور اجتماعی عمل اور ’ادارہ‘ حکمِ الٰہی کی پاسداری سے وجود میں آیا ہے۔ مثلاً عبادات، معاشرت، افتا اور قضا کا نظام، زکٰوۃ، جہاد، مسجد، مدرسہ، وقف وغیرہ وغیرہ۔ ہمارے ہاں ’’مفکرینِ اسلام‘‘ کی فوج در فوج جدیدیت اور مغرب کے اسی تتبع میں پیدا ہوئی ہے تاکہ وہ مغرب کی ریس کرتے ہوئے نام نہاد فکرِ اسلامی سے اپنے ہاں اداروں کا قیام سامنے لا سکیں۔ فکرِ اسلامی دراصل شریعت سے نجات حاصل کرنے کے راستے بنانے کا نام ہے، اور ہمارے مذہبی مفکرین نے اصل کمال اسی میں حاصل کیا ہے، اور اس کمال میں اہلِ تجدد اور اہلِ روایت برابر کی دوڑ میں ہیں۔ جدید فکرِ اسلامی کی بنیاد پر سیاسی اور معاشی تو دور کی بات ہے، کوئی سماجی ادارہ بھی نہیں بنایا جا سکا۔ کچھ لوگوں کو یہ خوش فہمی ہے کہ ایسا نہیں ہے اور مثال کے طور پر کچھ اداروں کو پیش کرتے ہیں۔ اگر جدید فکر اور جدید اداروں سے کوئی واقفیت ہو تو فوراً اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ چربے سے بھی بدتر کوئی چیز ہے۔ ہم صرف یہ کرتے ہیں کہ سابقہ ’’اسلامی‘‘ کا لگا دیتے ہیں، مثلاً اسلامی بینکاری وغیرہ۔
جدیدیت اپنے فکر اور عمل میں اس قدر ہمہ گیر اور ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے کہ اس سے ایک بہت بڑا مسئلہ یہ پیدا ہوا ہے کہ جو چیزیں بظاہر اس کے خلاف نظر آتی ہیں وہ بھی اسی کی پیدا کردہ ہیں، مثلاً روایت اور اس کے تمام جدید تصورات جدیدیت ہی کے پیدا کردہ ہیں۔ جب ہم روایت یا روایتی یا اہلِ روایت کے الفاظ استعمال کرتے ہیں تو اس سے کچھ خاص مراد نہیں ہوتا اور ہر شخص اپنی صوابدید کے مطابق اس کا معنی سمجھتا ہے۔ ہمارے ہاں تجدد اور روایت علم کے جدید پیداواری ذرائع اور وسائل سے مطلق بے خبر چلے آتے ہیں اس لیے ان کے نفوذ سے خالی نہیں ہیں۔ ان دونوں کے ہاں ہرمانیوٹیکل یا تعبیری وسائل کو صوابدیدی طور پر بروئے کار لایا جاتا ہے اور ان کے مواقف اور اختلافات کی اہمیت مجھے ہمیشہ ایک جیسی ہی نظر آتی ہے۔
عمار خان ناصر صاحب کے فیصلے سے مکتبِ دیوبند کو ضرر کا اندیشہ ضرور ہے لیکن اپنے والد گرامی سے ان کا اختلاف کوئی بڑی فکری معنویت نہیں رکھتا۔ یہ کوٹ پینٹ اور شلوار قمیض کے جیسا اختلاف ہے، اور اگر مذہبی فتاویٰ سے یہ ثابت بھی کر دیا جائے کہ شلوار قمیض عین شرعی اور کوٹ پینٹ غیرشرعی ہے تو بھی ان نتائج سے ہمیں کوئی تہذیبی فائدہ ہونے والا نہیں ہے۔ ہاں زیب داستاں کے لیے مسالہ ضرور ملتا رہے گا۔