جون ۱۹۹۴ء

گلگت بلتستان کا مسئلہ ۔ صدرِ پاکستان کے نام ایک عریضہمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
بدعت کے شبہ سے بھی بچنا چاہیےشیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر 
نماز کی ایک خاص دعاشیخ التفسیر مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ 
توہینِ رسالت کے قانون پر ماڈرن خواتین کا اعتراضڈاکٹر عبد المالک عرفانی 
خلافتِ اسلامیہ کے احیا کی اہمیت اور اس کے تقاضےمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
تدبر و حکمتِ عملی کی ضرورتمولانا محمد رابع حسنی ندوی 
اسلامی ریاست میں غیر مسلم اقلیتوں کے حقوقمولانا منیر احمد 
بائبل بے خطا اور بے عیب نہیںکیپٹن اسلم محمود 
آزادیٔ صحافت کے عالمی دن کے موقع پر گوجرانوالہ میں مجلسِ مذاکراہادارہ 

گلگت بلتستان کا مسئلہ ۔ صدرِ پاکستان کے نام ایک عریضہ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

بگرامی خدمت جناب سردار فاروق احمد لغاری صاحب، صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مزاج گرامی؟

گزارش ہے کہ کچھ دنوں سے قومی اخبارات میں وفاقی کابینہ کا ایک فیصلہ زیر بحث ہے جس کے تحت مبینہ طور پر گلگت اور اس سے ملحقہ شمالی علاقہ جات کو مستقل صوبہ کی حیثیت دی جا رہی ہے۔ اس سلسلہ میں چند حقائق کی طرف آپ کو توجہ دلانا چاہتا ہوں:

اس لیے آنجناب اور آپ کی وساطت سے حکومت پاکستان سے گزارش ہے کہ شمالی علاقہ جات کو مستقل صوبہ کی حیثیت دینے کے مذکورہ فیصلہ پر نظرثانی کی جائے اور کوئی بھی ایسی صورت اختیار کرنے سے مکمل گریز کیا جائے جو کشمیر کی وحدت اور کشمیری عوام کی جدوجہد کے لیے کسی بھی درجہ میں نقصان اور کمزوری کا باعث بن سکتی ہو۔

بے حد شکریہ، والسلام!

ابوعمار زاہد الراشدی

چیئرمین ورلڈ اسلامک فورم



مولانا قاری سید محمد حسن شاہؒ

علمی و دینی حلقوں میں یہ خبر انتہائی رنج و غم کے ساتھ سنی جائے گی کہ پاکستان کے ممتاز بزرگ قاری حضرت مولانا قاری سید محمد حسن شاہ صاحبؒ گزشتہ ہفتہ کے دوران مدینہ منورہ میں انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔
حضرت قاری صاحبؒ ہزارہ کے رہنے والے تھے، مستند عالمِ دین، ممتاز مجود اور حق گو خطیب تھے۔ ان کا شمار پاکستان میں علمِ تجوید و قراءت کی اشاعت و ترویج کرنے والے سرکردہ حضرات میں ہوتا ہے۔ ایک عرصہ تک لاہور میں علمِ تجوید کی تدریس کے فرائض سرانجام دیتے رہے اور ان کے شاگردوں کی ایک بڑی تعداد دنیا کے مختلف حصوں میں قرآنِ کریم کی تدریس و تبلیغ میں مصروف ہے۔ کچھ عرصہ قبل مدینہ منورہ چلے گئے تھے اور اس نیت سے وہاں قیام پذیر تھے کہ زندگی کے آخری لمحات مدینۃ الرسولؐ میں بسر ہو جائیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی آرزو پوری کر دی اور وہ بلد رسولؐ میں ہی اللہ تعالیٰ کو پیارے ہو گئے۔
اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائیں اور ان کی دینی و علمی خدمات کو قبول کرتے ہوئے بلند درجات سے نوازیں، آمین یا الٰہ العالمین۔

بدعت کے شبہ سے بھی بچنا چاہیے

شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر

قرآن و سنت کے محکم دلائل سے سنت اور بدعت کی حقیقت اور اس کا حکم واضح ہے۔ اس کے باوجود اگر کسی کم فہم کا شبہ باقی رہے یا عوام الناس، جو اس قسم کے مسائل میں دلائل کا موازنہ کر کے صحیح رائے قائم کرنے سے قاصر ہوں، تو ان کے لیے صحیح راہِ عمل یہی ہے کہ وہ ایسے مشکوک اور مشتبہ کام کے پاس ہی نہ جائیں۔ اور اگر کسی چیز کے بدعت، سنت یا مستحب اور مباح ہونے میں شبہ ہو تو اس سے بچنا ہی ان کے لیے راہِ عمل ہے۔ اور باتفاق علماء ان کے لیے یہی طریقہ صحیح رہنمائی کے لیے بالکل کافی ہے۔ چنانچہ حضرت وابصہؓ بن معبدؓ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
’’گناہ وہ ہے جو تیرے نفس میں کھٹکے اور تیرے دل میں تردد واقع ہو، اگرچہ لوگ (اور نام کے مفتی) تجھے فتوٰی بھی دے دیں۔‘‘ (رواہ احمد والدارمی، مشکوٰۃ ج ۱ ص ۲۴۲)
اور حضرت عطیہ السعدیؓ فرماتے ہیں کہ
’’جناب نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بندہ پرہیزگاروں کے رتبہ کو نہیں پہنچ سکتا تاوقتیکہ وہ چیزیں نہ چھوڑ دے جن میں کوئی حرج نہیں، اس لیے  کہ وہ ذریعہ بنتی ہیں ایسی چیزوں کا جن میں حرج ہے۔‘‘ (رواہ الترمذی و ابن ماجہ، مشکوٰۃ ج ۱ ص ۲۴۲)
حضرت معاذؓ بن جبل کو جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کا گورنر بنا کر بھیجا تو ارشاد فرمایا:
’’تم بغیر علم کے کوئی حکم اور فیصلہ ہرگز صادر نہ کرنا، اور اگر تم پر کسی چیز میں اشکال گزرے تو توقف کرنا حتٰی کہ تم اس کو اچھی طرح روشن پا لو، یا میری طرف خط لکھنا۔‘‘ (ابن ماجہ ص ۶)
حضرت نعمانؓ بن بشیرؓ (المتوفیٰ ۶۴ھ) روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی۔ ان دونوں کے درمیان کچھ چیزیں مشتبہ ہیں، ان کو بہت سے لوگ نہیں جانتے۔ سو جو شخص ان مشتبہات سے بچا تو اس نے اپنا دین اور عزت بچا لی، اور جو مشتبہات میں جا پڑا تو (گویا) وہ حرام میں جا پڑا، جیسے چراگاہ کے اردگرد جانوروں کو چرانے والا قریب ہے کہ چراگاہ میں جا پڑے۔‘‘ (بخاری ج ۱ ص ۱۳، ابن ماجہ ۲۹۶)
ان روایات سے آفتابِ نیم روز کی طرح یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ جن امور میں شبہ واقع ہو ان میں اپنے دین اور عزت کو صرف اسی صورت میں محفوظ رکھا جا سکتا ہے کہ ایسے کاموں میں انسان دخل ہی نہ دے اور ان پر عمل پیرا ہو کر ہرگز اپنی ابدی زندگی کو برباد نہ کرے اور خلقِ خدا کو گمراہ ہونے سے بچائے۔ خصوصاً ایسے کام جو کفر اور شرک و بدعت کا ذریعہ بنتے ہوں۔ اور یہ معاملہ صرف یہیں بس نہیں ہو جاتا بلکہ جناب نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے تردد اور اشتبا والے کاموں سے بچنے کا صریح حکم ارشاد فرمایا ہے۔ چنانچہ حضرت حسنؓ بن علیؓ (المتوفٰی ۵۰ھ) روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
’’وہ چیز چھوڑ دے جو تجھے تردد اور شبہ میں ڈالے، اور ایسی چیز اختیار کر جو تیرے لیے باعث تردد نہ ہو، کیونکہ خیر باعثِ اطمینان اور شر باعثِ شک ہے۔‘‘ (مستدرک ج ۲ ص ۱۲، قال الحاکمؒ والذہبیؒ صحیح)
یہ صریح اور صحیح حدیث بھی اس امر کو روشن کر دیتی ہے کہ جس چیز میں تردد اور شبہ ہو تو ایسی چیز کو چھوڑنا ہی ضروری ہے۔ کیونکہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی روشن سنتیں زندگی کے ہر شعبہ میں ہمارے پاس موجود ہیں، جن میں کسی قسم کا ادنٰی سے ادنٰی شک اور شبہ بھی نہیں ہے، اور وہی روشن سنتیں طمانیتِ قلب کا کافی سامان مہیا کر دیتی ہیں اور ان کی خلاف ورزی شک اور شبہ کے تاریک گڑھے میں ڈال دیتی ہے۔ 
احادیث میں اس کی تصریح آتی ہے کہ ’’کان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم یحب التیامن‘‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سرمہ لگانے، کپڑا پہننے، وضو کرنے میں، حتٰی کہ ہر کام میں داہنے پہلو سے شروع کرنے کو ترجیح دیتے تھے، لیکن حضرت عبد اللہؓ بن مسعود فرماتے ہیں کہ
’’تم میں سے کوئی شخص اپنی نماز میں شیطان کے لیے کچھ حصہ نہ ٹھہرائے بایں طور کہ نماز سے فارغ ہوتے وقت داہنی طرف سے ہی پھرنے کو اپنے اوپر لازم سمجھ لے، اس واسطے کہ میں نے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بسا اوقات بائیں طرف بھی مڑتے دیکھا ہے۔‘‘ (متفق علیہ، مشکوٰۃ ج ۱ ص ۷۸)
اس حدیث کی تفسیر اور تشریح میں مشہور محقق علامہ محمد طاہر الحنفیؒ (المتوفٰی ۹۸۶ھ) فرماتے ہیں:
’’جس کسی نے کسی مندوب اور مستحب چیز پر اصرار کیا اور اس کو عزیمت بنا لیا اور رخصت پر عمل نہ کیا تو گویا اس کو شیطان نے گمراہی کے راستہ پر ڈال دیا۔ کیا حال ہو گا اس شخص کا جو کسی بدعت اور بری چیز پر اصرار کرتا ہے۔‘‘ (مجمع البحار ج ؟ ص ۲۴۴)
اور یہی الفاظ علامہ طیبی الحنفیؒ (المتوفٰی ۷۴۳ھ) نے شرح مشکوٰۃ میں اور حضرت ملا علی قاریؒ نے مرقات ج ۲ ص ۱۴ میں تحریر فرمائے ہیں، جو اس امر کی واضح ترین دلیل ہے کہ بدعت اور منکر پر اصرار کرنا تو کجا رہا، اگر کوئی شخص امر مندوب اور مستحب پر یا رخصت پر بھی اصرار کرے گا تو وہ بھی شیطان کا پیروکار ہو گا اور اس کے اس فعل میں شیطان کا حصہ ہو گا۔ علامہ برکلی الحنفیؒ (المتوفٰی ۷۴۳ھ) لکھتے ہیں کہ
’’تم جان لو کہ بدعت کا کام کرنا ترکِ سنت سے زیادہ مضر ہے۔ دلیل یہ ہے کہ حضرات فقہاء کرامؒ نے فرمایا ہے کہ جب کوئی حکم سنت اور بدعت کے درمیان دائر ہو تو اس کا ترک کرنا ہی ضروری ہو گا۔‘‘ (طریقہ محمدیہ)
اور فتاوٰی عالمگیری میں ہے کہ
’’جو چیز سنت اور بدعت کے درمیان دائر ہو وہ چھوڑی جائے گی۔‘‘ (عالمگیری مصری، ج ۱ ص ۱۷۹)
علامہ شامیؒ لکھتے ہیں کہ
’’جب حکم سنت اور بدعت کے درمیان دائر ہو تو سنت کا ترک کرنا فعلِ بدعت پر مقدم ہو گا۔‘‘ (شامی ج ۱ ص ۶۰۰)
قاضی ابراہیم صاحب الحنفیؒ فرماتے ہیں:
’’جس کام کے بدعت اور سنت ہونے میں شبہ ہو اس کو چھوڑ دے، کیونکہ بدعت کا چھوڑنا ضروری ہے اور سنت کا ادا کرنا ضروری نہیں۔‘‘ (نفائس الازہار ترجمہ مجالس الابرار ص ۱۲۹)
شیخ عبد الحق محدث دہلویؒ لکھتے ہیں:
’’دہرچہ دراں شبہ بود توقف دراں لازم۔‘‘ (مکتوبات حضرت شیخ برحاشیہ اخبار الاخیار ص ۱۰۰)
بلکہ علامہ ابن نجیم الحنفیؒ لکھتے ہیں کہ
’’جو چیز بدعت اور واجب اصطلاحی کے درمیان دائر ہو تو لازم ہے کہ اس کو سنت کی طرح ترک کر دیا جائے۔‘‘ (بحر الرائق ج ۲ ص ۱۶۵)
یہ عبارات اس امر کا بین ثبوت ہیں کہ جب کوئی چیز ایسی ہو کہ اس میں سنت کے پہلو کے ادا کرنے سے بدعت لازم آتی ہو تو سنت کے پہلو سے صرفِ نظر کرتے ہوئے اس کو مطلقاً ترک کرنا ضروری ہو گا۔ اس لیے کہ اس کے ساتھ بدعت کا پہلو بھی تو شامل ہے۔ سنت تو خیر پھر سنت ہے، اگر کوئی چیز بدعت اور حضرات فقہاء کرام کے اصطلاحی واجب کے درمیان بھی دائر ہو تو اس کو بھی ترک کرنا لازم اور ضروری ہے کیونکہ اس سے فی الجملہ بدعت کی ترویج اور اشاعت کا اندیشہ ہے۔ اور بدعت اتنی قبیح ترین چیز ہے کہ شریعتِ مطہرہ اس کے وجود نامسعود تک کو گوارا نہیں کرتی، چہ جائیکہ اس کی نشرواشاعت کے ذرائع اور وسائل بہم پہنچائے۔ یہی وجہ ہے کہ بدعت کو ختم کرنے کے لیے مستحب، سنت اور حتٰی کہ واجب تک کی قربانی بھی گوارا کر لی جائے گی مگر بدعت کو ہرگز ہرگز فروغ نہ دیا جائے گا۔
اس کے بعد بھی اگر کوئی شخص دانستہ یا نادانستہ بدعت میں آلودہ ہونا چاہے تو اس کی مرضی، ہمارے لیے سنت کافی ہے اور ہمیں ان محدثات اور مزخرفات میں الجھنے کی مطلقاً ضرورت نہیں ہے۔ کہنے والے نے کیا ہی خوب کہا ہے ۔۔۔ ؎
و خیر امور الدین ما کان سنۃ
و شر الامور المحدثات البدائع
قارئین! اگر آپ کو صحیح معنی میں اللہ تعالیٰ سے لگاؤ اور جناب نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے عشق اور محبت ہے تو اس کا واحد طریق صرف یہ ہے کہ سنت کی اتباع کریں اور حضرات صحابہ کرامؓ، تابعینؒ اور تبع تابعینؒ کے نقشِ قدم پر چلیں۔ وہی عقائد و اعمال اختیار کریں جو انہوں نے اختیار کیے اور ان تمام عقائد اور اعمال سے احتراز کریں جن سے انہوں نے احتراز کیا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کے قول (جو درحقیقت مرفوع حدیث کے حکم میں ہے) کے مطابق مسجدوں میں بھی اجتماع ہو اور ایمان سے بھی محرومی ہو۔
’’حضرت ابن عمرؓ نے فرمایا کہ لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ وہ مسجدوں میں اکٹھے تو ہوں گے لیکن ان میں ایک بھی مومن نہ ہو گا۔‘‘ (مستدرک ج ۴ ص ۴۴۳، قال الحاکمؒ والذہبیؒ صحیح)
یہ وہی حضرت ابن عمرؓ ہیں جنہوں نے تثویب جیسی بدعت کی وجہ سے ایک مسجد ہی ترک کر دی تھی۔ الغرض اخلاص اور اتباعِ سنت کے ساتھ معمولی عبادت بھی مفید ہے، اور شرک اور بدعت کو دل میں جگہ دینے سے بڑی بڑی عبادت بھی اللہ تعالیٰ کے ہاں منظور نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اخلاص، عمل اور اتباعِ سنت کی توفیق عطا فرمائے، صرف اسی کی بارگاہ سے سب کچھ مل سکتا ہے۔

نماز کی ایک خاص دعا

شیخ التفسیر مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ

عَنْ اَبِیْ مِجْلَزٍ قَالَ صَلّٰی بِنَا عَمَّارٌ صَلَاۃً فَاَوْجَزَ فِیْھَا فَاَنْکَرْنَا ذٰلِکَ فَقَالَ اَلَمْ اُتِمَّ الرُّکُوْعَ وَالسُّجُوْدَ قَالُوْا بَلٰی قَالَ اَمَآ اِنِّیْ قَدْ دَعَوْتُ فِیْھَا بِدُعَآءٍ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَدْعُوْا بِہٖ ۔۔۔ الخ (مسند احمد طبع بیروت، جلد ۴ صفحہ ۲۶۴)
ابو مجلز حضرت عمار بن یاسرؓ کے شاگرد ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت عمارؓ نے ہمیں مختصر سی نماز پڑھائی۔ چونکہ یہ عام معمول سے ذرا زیادہ ہی ہلکی تھی تو شاگردوں نے عرض کیا  کہ حضور آپ نے اتنی مختصر نماز پڑھائی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ تم اسے اوپرا کیوں سمجھتے ہو؟ کیا میں نے رکوع و سجود پورا پورا ادا نہیں کیا؟ نماز کے شرکاء نے کہا کہ ہاں رکوع و سجود تو پورا پورا ادا کیا ہے، اس میں تو کوئی کمی نہیں آئی۔ پھر حضرت عمارؓ نے کہا کہ میں نے ان دو مختصر رکعتوں میں وہ دعا کی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز میں کیا کرتے تھے، اور وہ دعا یہ ہے:
اَللّٰھُمَّ بِعِلْمِکَ الْغَیْبَ وَ قُدْرَتِکَ عَلَی الْخَلْقِ اَحْیِنِیْ مَا عَلِمْتَ الْحَیٰوۃَ خَیْرًا لِّیْ وَتَوَفَّنِیْ اِذَا کَانَتِ الْوَفَاۃُ خَیْرًا لِّیْ اَسْئَلُکَ خَشْیَتَکَ فِی الْغَیْبِ وَالشَّھَادَۃِ وَکَلِمَۃَ الْحَقِّ فِی الْغَضَبِ وَالرِّضَا وَالْقَصْدَ فِی الْفَقْرِ وَالْغِنٰی وَلَذَّۃَ النَّظْرِ اِلٰی وَجْھِکَ وَالشَّوْقَ اِلٰی لِقَآئِکَ وَاَعُوْذُ بِکَ مِنْ ضَرَّآءٍ مُّضِرَّۃٍ وَّ مِنْ فِتْنَۃٍ مُّضِلَّۃِ اَللّٰھُمَّ زَیِّنَا بِزِیْنَۃِ الْاِیْمَانِ وَاجْعَلْنَا ھَدَاۃً مُّھْتَدِیْنَ۔
’’اے اللہ! تو غیبوں کا جاننے والا ہے، اور مخلوق پر تیری قدرت ہے۔ مجھے اس وقت تک زندہ رکھ جب تک کہ زندگی میرے لیے بہتر ہو اور مجھے اس وقت وفات دے جب کہ وفات میرے لیے بہتر ہو۔ اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ ظاہر و باطن میں میرے اندر خشیت پیدا کر دے، اور میں تجھ سے کلمہ حق کہنے کی توفیق بھی طلب کرتا ہوں، خواہ غصے کی حالت میں ہو یا خوشی کی۔ اے اللہ! میں تجھ سے تنگ دستی اور آسودگی دونوں حالتوں میں میانہ روی کی درخواست کرتا ہوں (کہ کہیں اسراف و تبذیر میں نہ پڑ جاؤں)۔ اے اللہ! مجھے اپنی ذات کی طرف دیکھنے کا لطف عطا فرما اور اپنی ملاقات کا شوق عطا فرما۔ میں نقصان دہ پریشانیوں اور تکلیفوں سے تیری ذات کے ساتھ پناہ چاہتا ہوں۔ اے اللہ! میں گمراہ کرنے والے فتنوں سے تیری ذات کے ساتھ پناہ چاہتا ہوں۔ اے اللہ! ہمیں ایمان کی زینت کے ساتھ مزین فرما دے اور ہمیں ہدایت دینے والے اور ہدایت یافتہ بنا دے۔‘‘
یہ دعا حضور علیہ السلام اکثر نوافل میں پڑھا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ دیگر بہت سی دعائیں بھی آپ سے منقول ہیں۔ فرائض ادا کرتے وقت بالخصوص جماعت کے ساتھ ادائیگی میں اختصار کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے، کیونکہ جماعت میں بعض بوڑھے، کمزور، ضعیف، حاجت مند لوگ بھی ہوتے ہیں جو زیادہ دیر تک قیام نہیں کر سکتے، لہٰذا ان کی رعایت بھی ضروری ہے۔ البتہ نوافل میں کوئی شخص جتنا چاہے طوالت اختیار کرے، یہ اس کی اپنی ہمت اور ذوق و شوق پر موقوف ہے۔

توہینِ رسالت کے قانون پر ماڈرن خواتین کا اعتراض

ڈاکٹر عبد المالک عرفانی

حال ہی میں اسلام آباد میں خواتین کی تیس تنظیموں کے نمائندگان (لیگل فورم) نے ان قوانین کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے جو خواتین کے حقوق کو (ان کے خیال میں) متاثر کرتے ہیں۔ ان کے مطالبات کا ہدف اسلامی قوانین (بشمول حدود قوانین اور ازدواجی معاملات سے متعلق قوانین) ہیں اور انہوں نے ان کی تنسیخ کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ خواتین کی یہ تنظیمیں مسلمان خواتین کی تنظیمیں ہیں اور وہ ان قوانین کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں جو خواتین کے حقوق کا تحفظ کرتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان ماڈرن اور مغرب زدہ خواتین (جو صرف نام کی مسلمان ہوتی ہیں) کا اصل مقصد خواتین کے حقوق کا تحفظ اور حصول نہیں بلکہ خود اسلام کی مخالفت ہے اور یہ مطالبات دراصل غیر مسلموں (عیسائیوں، یہودیوں، ہندوؤں اور قادیانیوں) کے مطالبات ہیں اور ان ماڈرن خواتین کی سرگرمیوں کو یہی غیر مسلم کنٹرول کر رہے ہیں۔
ہمارے اس شبہ کو اس امر سے تقویت ملتی ہے کہ ان مطالبات میں ایک مطالبہ یہ بھی ہے کہ توہینِ رسالت کا قانون منسوخ کیا جائے، حالانکہ توہینِ رسالت کے قانون کا خواتین کے حقوق سے دور کا تعلق بھی نہیں اور یہ مطالبہ صرف غیر مسلموں کا مطالبہ ہے، جسے ماڈرن اور مغرب زدہ خواتین کا نمائندہ فورم پیش کر رہا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ کوئی مرد اور کوئی عورت اس وقت تک مسلمان نہیں کہلا سکتی جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے والدین، بیوی یا خاوند یہاں تک کہ اپنی ذات سے بھی زیادہ محبت نہ کرے۔ اس صورت میں توہینِ رسالت کے قانون کی حمایت ہمارے ایمان کا جزوِ اصلی ہے۔
ہمارے ملک میں توہینِ عدالت کا قانون پوری قوت سے موجود ہے، جس میں ملزم کو اپنی صفائی پیش کرنے کا موقع نہیں دیا جاتا، یہاں تک کہ پاکستان کی اعلیٰ عدالتیں اس امر پر متفق ہیں کہ توہینِ عدالت کے ملزم کو اپنی صفائی پیش کرنے کا حق حاصل نہیں۔ اس کے باوجود کسی غیر مسلم اور کسی ماڈرن خاتون نے توہینِ عدالت کے قانون کو منسوخ کرنے کا مطالبہ نہیں کیا، جبکہ توہینِ رسالت کے قانون میں ملزم کو اپنی صفائی پیش کرنے کا پورا پورا حق حاصل ہوتا ہے، اس کے باوجود اسے منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
توہینِ رسالت (بار بار توہینِ رسالت کے الفاظ کا استعمال رسالت کے مقدس مقام کے بارے میں ہمارے جذبات کو مجروح کرتا ہے اور یہ الفاظ ہمیں شدت سے چبھ رہے ہیں لیکن ہم حقیقت حال کی وضاحت کی خاطر انہیں مجبورًا استعمال کر رہے ہیں) کا قانون امن عامہ کو قائم رکھنے کے لیے بھی ضروری ہے۔ اگر یہ قانون نہیں ہو گا اور ہر شخص کو رسالت ماب صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں توہین آمیز الفاظ استعمال کرنے کی اجازت دی جائے گی تو شمع رسالت کے پروانوں کو توہینِ رسالت کے ارتکاب کرنے والوں کی خبر لینے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔ ابھی ایک دن قبل ہی یہ صورت پیش آ چکی ہے کہ توہینِ رسالت کے مرتکب افراد پر بعض لوگوں نے فائرنگ کی اور ایک کو ہلاک اور دوسرے کو زخمی کر دیا گیا۔
اگر حکومت نے اس قانون کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کرنے والوں کی پذیرائی کی یا اس کی سزا میں کوئی رعایت برتی تو پورے ملک میں نقصِ امن کی صورت پیدا ہو جائے گی۔ اس وقت حکومت اس پوزیشن میں نہیں کہ نقضِ امن کی یہ صورت تحریک کی شکل اختیار کر لے تو اس سے عہدہ برآ ہو سکے۔ لہٰذا حکومت کو دوٹوک اعلان کرنا چاہیے کہ وہ ایسا مطالبہ کرنے والوں کی حمایت نہیں کرتی اور نہ ہی اس قانون میں کسی قسم کی کوئی ایسی ترمیم زیرغور ہے جو اس میں نرمی پیدا کرتی ہو۔
مسلمانوں کے عقیدے کی رو سے کسی بھی نبی کی توہین شدید سزا کی مستوجب ہے۔ اس وقت حکومتِ پاکستان اس قانون کے بارے میں معذرت خواہانہ اور مدافعانہ پوزیشن اختیار کیے ہوئے ہے۔ اگر حکومت دیگر انبیاء کے بارے میں بھی اس قسم کا قانون وضع کر دے (یعنی حضرت موسٰیؑ، حضرت ہارونؑ، حضرت داؤدؑ، حضرت سلیمانؑ، حضرت عیسٰیؑ اور دیگر انبیاء کرام کی توہین کرنے والے کے لیے وہی سزا مقرر کر دے جو قبل ازیں توہینِ رسالت کے لیے تجویز کی گئی ہے) تو عیسائیوں اور یہودیوں کے لیے اعتراض کی کوئی صورت باقی نہیں رہے گی۔ یہی دونوں اس مہم میں پیش پیش ہیں، ان کا اعتراض رفع ہونے پر اس مذموم مہم میں کوئی جان نہیں رہے گی اور حکومت کی درد سری ختم ہو جائے گی۔
(بشکریہ ماہنامہ نوائے قانون، اسلام آباد، مارچ ۱۹۹۴ء)

خلافتِ اسلامیہ کے احیا کی اہمیت اور اس کے تقاضے

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(۱۵ جنوری ۱۹۹۴ء کو ورلڈ اسلامک فورم کی ماہانہ فکری نشست جامع مسجد صدیقیہ سیٹلائیٹ ٹاؤن گوجرانوالہ میں جمعیۃ اہل سنت کے زیراہتمام منعقد ہوئی جس میں مولانا زاہد الراشدی نے مندرجہ ذیل خطاب کیا۔ مولانا حافظ گلزار احمد آزاد نے سیکرٹری کے فرائض سرانجام دیے۔ ادارہ)

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ آج کی نشست کے لیے گفتگو کا عنوان طے ہوا ہے ’’خلافتِ اسلامیہ کا احیا اور اس کا طریق کار‘‘۔ اس لیے خلافت کے مفہوم اور تعریف کے ذکر کے بعد تین امور پر گفتگو ہوگی:
  1. خلافت کا اعتقادی اور شرعی پہلو کہ ہمارے عقیدہ میں خلافت کی اہمیت اور اس کا شرعی حکم کیا ہے؟
  2. خلافت کا تاریخی پہلو کہ اس کا آغاز کب ہوا تھا اور خاتمہ کب اور کیسے ہوا؟
  3. اور یہ سوال کہ آج کے دور میں خلافتِ اسلامیہ کے احیا کے لیے کون سا طریق کار قابل عمل ہے۔

خلافت کا مفہوم

سب سے پہلے یہ دیکھیں گے کہ خلافت کا مفہوم کیا ہے اور جب یہ لفظ بولا جاتا ہے تو اس سے مراد کیا ہوتی ہے؟ خلافت کا لفظی معنی ہے نیابت، یعنی کسی کا نائب ہونا۔ قرآن کریم نے خلافت کا لفظ سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام کے حوالہ سے نسل انسانی کے لیے استعمال کیا ہے جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا کہ ’’میں زمین میں خلیفہ بنانے والا ہوں‘‘ (البقرہ)۔ یہاں خلیفہ سے مراد حضرت آدمؑ اور ان کی نسل ہے۔ یعنی اس کائنات ارضی کا نظام اللہ رب العزت نے نسل انسانی کے سپرد فرمایا ہے اور وہ اس نظام کو چلانے میں اللہ تعالیٰ کی نائب ہے۔ خلیفہ کا لفظ قرآن کریم میں حضرت داؤد علیہ السلام کے بارے میں بھی بولا گیا ہے جو بنی اسرائیل کے پیغمبر اور بادشاہ تھے۔ چنانچہ اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں ’’اے داؤد! ہم نے تجھے زمین میں خلیفہ بنایا ہے، پس لوگوں میں حق کے ساتھ فیصلے کیا کر اور خواہش کی پیروی نہ کرنا‘‘ (ص)۔ بہرحال خلافت کا معنی نیابت ہے اور اس کا معنی یہ ہے کہ نسل انسانی اس کائنات ارضی میں خودمختار اور آزاد نہیں بلکہ نائب ہے جو اپنے دائرہ کار اور اختیارات میں مقرر کردہ حدود کا پابند ہوتا ہے۔ قرآن کریم نے اس مفہوم کو ایک اور انداز سے بھی بیان کیا ہے۔ جب حضرت آدمؑ اور حضرت حوا کو جنت سے زمین پر اتارا گیا تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ ’’تم دونوں زمین پر اتر جاؤ، پس ہماری طرف سے تمہارے پاس ہدایات آئیں گی، جس نے ان کی پیروی کی وہ غم اور خوف سے نجات پائے گا اور جس نے انکار کر دیا وہ آگ کا ایندھن بنیں گے‘‘ (البقرہ)۔ یہ بھی خلافت ہی کی ایک تعبیر ہے کہ نسل انسانی دنیا میں زندگی بسر کرنے کے لیے مطلقاً آزاد و خودمختار نہیں بلکہ آسمانی ہدایات کی پابند ہے جو حضرات انبیاء کرامؑ کے ذریعے سے نازل ہوتی رہی ہیں اور جو وحی کی صورت میں حضرت آدمؑ سے شروع ہو کر حضرت محمدؐ پر مکمل ہو گئی ہیں۔ جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد ارشادات میں خلافت کا لفظ استعمال کیا ہے۔ اور بخاری شریف کی ایک روایت کے مطابق اس کا پورا سسٹم یوں بیان فرمایا ہے کہ ’’بنی اسرائیل میں سیاسی قیادت انبیاء کرام علیہم السلام کے ہاتھ میں تھی، جب ایک نبی دنیا سے چلا جاتا تو اس کی جگہ دوسرا نبی آجاتا۔ اور میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے البتہ میرے بعد خلفاء ہوں گے‘‘۔ اس ارشاد گرامی میں جناب رسول اکرمؐ نے خلافت کو سیاسی قیادت اور حکمرانی کے معنی میں بیان فرمایا ہے اور یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ میرے بعد یہ سیاسی قیادت اور حکمرانی خلفاء کے ہاتھ میں ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت امام ولی اللہ دہلویؒ نے اپنی معروف کتاب ازالۃ الخفاء میں خلافت کی جو تعریف کی ہے اس میں خلافت کو جناب نبی اکرمؐ کی نیابت سے تعبیر کیا ہے۔ چنانچہ وہ ارشاد فرماتے ہیں کہ ’’خلافت اس اقتدارِ عمومی کا نام ہے جو معاشرہ میں اقامتِ دین کا اہتمام کرے، امن و امان کا بندوبست کرے، لوگوں کو انصاف فراہم کرے، احکامِ اسلام کے نفاذ کی ذمہ داری قبول کرے اور فریضۂ جہاد کی ادائیگی کا اہتمام کرے‘‘۔ اسی کے ساتھ حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ فرماتے ہیں کہ نیابتاً علی النبی کہ یہ اقتدارِ عمومی جناب نبی اکرمؐ کی نیابت کے طور پر ہوگا۔ گویا ہمارے ہاں خلافت کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کی سیاست، قیادت اور حکمرانی جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نائب کے طور پر کی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ خلیفۂ اول حضرت ابوبکر صدیقؓ کو ’’خلیفۃ رسول اللہ‘‘ کہا جاتا تھا جبکہ امیر المؤمنین کی اصطلاح ان کے بعد حضرت عمرؓ کے دور میں اختیار کی گئی۔

تاریخی کشمکش

اس موقع پر مناسب ہوگا کہ اس تاریخی کشمکش پر ایک نظر ڈال لی جائے جو نسل انسانی کے آغاز سے ہی خلافت اور انسانی ذہن کی کاوشوں کے درمیان شروع ہو گئی تھی اور اب تک پورے شدومد کے ساتھ جاری ہے۔ نسل انسانی کے آغاز سے اب تک انسانی معاشرہ پر جن قوانین اور ضابطوں کی حکمرانی رہی ہے وہ بنیادی طور پر دو طرح کے ہیں:
  1. ایک طرف وہ نظام ہائے حیات ہیں جنہیں خود انسانی ذہن نے تشکیل دیا اور مختلف صورتوں میں انسانی معاشرہ پر ان کی حکمرانی رہی۔ ان میں خاندانی بادشاہت بھی ہے اور شخصی ڈکٹیٹرشپ بھی، جماعتی آمریت بھی ہے اور طبقاتی بالادستی بھی۔ اسی طرح بعض قوموں کا خود کو حکمرانی کے لیے مختص کر لینا بھی اس میں شامل ہے۔ یہ سب نظام انسانی ذہن کی پیداوار ہیں، کہیں شخصی ذہن کارفرما ہے، کہیں اجتماعی ذہن دخل انداز ہے اور کہیں گروہی اور طبقاتی ذہن نے بالادستی قائم کر رکھی ہے۔ اور ان تمام مراحل سے گزرتے ہوئے اب انسانی ذہن مغربی جمہوریت اور سولائزیشن کی صورت میں اپنے نقطۂ عروج سے ہمکنار ہو چکا ہے جو ان تمام مرحلہ وار نظاموں کی ترقی یافتہ اور آخری شکل ہے۔ اور خود مغربی مفکرین کے بقول اب اس کے بعد انسانی ذہن سے اس سے بہتر کسی اور نظام کی توقع نہیں کی جا سکتی، جسے وہ ’’اینڈ آف ہسٹری‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔
  2. دوسری طرف وحی الٰہی پر مبنی نظام ہے جس کا آغاز حضرت آدمؑ سے ہوا اور حضرت محمدؐ پر نازل ہونے والی وحی کی صورت میں وہ نظام مکمل ہوگیا اور اس کی عملی تعبیر خلافتِ راشدہ ہے۔
یہ دونوں نظام مکمل ہو چکے ہیں، اپنی انتہا کو پہنچ چکے ہیں اور اب ان دونوں کے درمیان آخری راؤنڈ ہونے والا ہے، فائنل مقابلہ ہونے والا ہے، ان میں سے جو جیتے گا وہی انسانی معاشرہ پر حکمرانی کرے گا۔ یہ تاریخ کا فیصلہ ہے، تاریخ کا عمل ہے جسے کوئی بھی نہیں روک سکتا۔ ہمارا ایمان ہے کہ اس مقابلہ میں جیت اسلام کی ہوگی، خلافت کے نظام کی ہوگی، وحی الٰہی کی ہوگی اور جناب نبی اکرمؐ کے ارشاد کے مطابق اس مقابلہ کے بعد اسلام کا غلبہ ہوگا اور ایک وقت ایسا بھی آئے گا جب روئے زمین پر لا الہ الا اللہ پڑھنے والوں کے سوا کوئی موجود نہیں ہوگا۔ یہ بہرحال ہوگا اور جناب نبی کریمؐ کا ارشاد پورا ہو کر رہے گا لیکن اس سے قبل طویل کشمکش اور تاریخی ٹکراؤ کا آخری اور فیصلہ کن مرحلہ آنے والا ہے جس سے گزر کر ہم خلافت کے دو رمیں داخل ہوں گے۔

خلافت کا شرعی حکم

خلافت کے مفہوم اور تاریخی کشمکش کے تذکرہ کے بعد اب ہم اس کے شرعی حکم کی طرف آتے ہیں جسے فقہاء کرام نے وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے، بالخصوص امام ولی اللہ دہلویؒ نے اس پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ فقہاء کرام نے خلافت کے قیام کو واجب قرار دیا ہے اور امام ابن حجر مکیؒ نے اپنی کتاب ’’الصواعق المحرقہ‘‘ میں اسے ’’اہم الواجبات‘‘ فرمایا ہے یعنی تمام واجبات سے زیادہ واجب۔ ان کا کہنا ہے کہ حضرات صحابہ کرامؓ کے نزدیک یہ واجب اس قدر اہمیت رکھتا ہے کہ انہوں نے اسے جناب رسول اللہؐ کی تجہیز و تکفین سے بھی مقدم سمجھا اور حضورؐ کے وصال کے بعد پہلے خلیفہ کا انتخاب کیا پھر آنحضرتؐ کی تجہیز و تکفین سے فارغ ہوئے۔ حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے ازالۃ الخفاء میں اسے قیامت تک کے مسلمانوں کے لیے فرض کفایہ قرار دیا ہے، یعنی اگر دنیا کے کسی بھی حصہ میں خلافت کا نظام موجود نہ ہو تو دنیا بھر کے مسلمان گنہ گار قرار پائیں گے۔ حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ شرعاً خلافت کے قیام کے واجب ہونے پر تین دلائل پیش کرتے ہیں:
  1. پہلی دلیل یہ کہ جناب نبی اکرمؐ کی وفات کے بعد صحابہ کرامؓ کا سب سے پہلا اجماع خلافت کے قیام پر ہوا تھا اور انہوں نے جناب رسالت مآب کی تجہیز و تکفین سے بھی پہلے اس فریضہ کی ادائیگی کا اہتمام کیا۔
  2. دوسری دلیل کے طور پر وہ جناب نبی اکرمؐ کے اس ارشاد گرامی کو پیش کرتے ہیں کہ ’’جو شخص اس حالت میں مر گیا کہ اس کی گردن میں بیعت نہیں تو وہ جاہلیت کی موت مرا ہے‘‘۔ حضرت امام ولی اللہ دہلویؒ یہاں بیعت سے مراد خلافت کی بیعت لیتے ہیں اور اسے ہر مسلمان کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں۔
  3. اور ان کی پیش کردہ تیسری دلیل یہ ہے کہ جو کام کسی فرض کی ادائیگی کے لیے ضروری ہو وہ خود بھی فرض ہو جاتا ہے۔ مثلاً وضو بذات خود فرض نہیں ہے لیکن چونکہ نماز اس کے بغیر نہیں ہوتی اس لیے نماز کے لیے وضو کرنا بھی فرض ہے۔ اسی طرح مسلم معاشرہ میں ارکان اسلام کا قیام، جہاد کا اہتمام، قضا کے نظام کا قیام، امن قائم کرنا اور علوم اسلامیہ کا احیا سب فرائض ہیں اور ان فرائض کی ادائیگی خلافت کے قیام کے بغیر ممکن نہیں۔ اس لیے خلافت کا قیام بھی ان مقاصد کے لیے اسی طرح فرض ہے جس طرح نماز کے لیے وضو فرض ہے۔

خلافت کی سیاسی اہمیت

خلافت کے شرعی حکم کے ساتھ ساتھ اس کی سیاسی اہمیت کو بھی سامنے رکھنا ضروری ہے اور اس سلسلہ میں ایک واقعہ پیش خدمت کرنا چاہتا ہوں جو میں نے اپنے بعض اساتذہ سے سنا ہے۔ وہ یہ کہ جن دنوں تحریک آزادی کے عظیم راہنما شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ مالٹا جزیرے میں نظر بند تھے، ان کے ساتھ شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی بھی گرفتار تھے ، جبکہ ایک انگریز فوجی افسر بھی کسی جرم میں وہاں سزا کاٹ رہا تھا۔ یہ دور وہ تھا جب ترکی کی خلافت عثمانیہ جس نے کم و بیش پانچ سو سال تک عالم اسلام کی خدمت کی ہے آخری دموں پر تھی اور برطانیہ، فرانس اور اٹلی سمیت پورا یورپ اس خلافت کے خاتمہ کے لیے سازشوں میں مصروف تھا۔ ایک روز ملاقات میں مولانا مدنی نے اس انگریز فوجی افسر سے پوچھا کہ آپ لوگ ایک کمزور اور برائے نام سی حکومت کے پیچھے کیوں پڑے ہوئے ہیں اور خلافتِ عثمانیہ سے آخر آپ کو خطرہ کیا ہے؟ اس نے جواب میں کہا کہ بات اتنی آسان نہیں ہے جتنی آپ کہہ رہے ہیں۔ یہ درست ہے کہ خلافتِ عثمانیہ اس وقت ایک کمزور سی حکومت ہے جس کا رعب و دبدبہ اور قوت و شوکت قصہ پارینہ ہو چکی ہے لیکن ایک قوت اس کے پاس اب بھی باقی ہے اور وہ خلافت کا لفظ ہے اور امیر المؤمنین کی اصطلاح ہے۔ کیونکہ خلیفہ کے لفظ میں آج بھی اتنی طاقت ہے کہ اگر خلیفہ کی طرف سے دنیا کے کسی خطہ میں کسی کافر قوم کے خلاف جہاد کا اعلان ہو جائے تو دنیا بھر کے مسلمان نوجوانوں میں ہلچل مچ جاتی ہے اور ایک جذباتی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ ہم اس قوت سے خائف ہیں اور اسے ختم کرنا چاہتے ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ انگریز خلافتِ عثمانیہ کے خلاف سازش کر کے اسی قوت کو توڑنا چاہتے تھے اور اسے انہوں نے توڑ دیا جس کے بعد مسلمانوں کی سیاسی مرکزیت کا کوئی عنوان باقی نہیں رہا اور ہم انتشار و افتراق کا شکار ہوگئے۔

خلافت کا تاریخی پہلو

خلافتِ اسلامیہ کا ایک تاریخی پہلو بھی ہے جسے سامنے رکھنا ضروری ہے۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تیس سال خلافتِ راشدہ کا دور رہا جو خلافت کا مثالی دور ہے، اس کے بعد خلافتِ عامہ کا دور شروع ہوگیا۔ حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کا کہنا ہے کہ خلافت راشدہ کا دور تیس سال تک ہی چل سکتا تھا کیونکہ اس کے بعد ان کڑی شرائط کے حامل لوگ موجود نہیں رہے تھے۔ اس کے بعد خلافتِ عامہ کا دور ہے جس پر خلافتِ راشدہ کا اطلاق نہیں کیا گیا، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ خلافتیں غیر اسلامی تھیں بلکہ یہ خلافتیں بھی اسلامی تھیں جنہیں علماء امت نے ہر دور میں تسلیم کیا ہے، ان میں:
  1. بنو امیہ کی خلافت ہے جو حضرت معاویہؓ سے شروع ہوئی اور ۹۰ سال تک قائم رہی۔
  2. اس کے بعد اموی خلیفہ مروان ثانی سے عباسیوں نے خلافت چھین لی۔ اور اموی خاندان ہسپانیہ منتقل ہوگیا جہاں اس نے کم و بیش آٹھ سو سال تک خلافت کا پرچم لہرائے رکھا۔ جبکہ عباسیوں کی خلافت کا آغاز سفاح سے ہوا اور تقریباً پانچ سو برس تک اس کا تسلسل قائم رہا۔ حتیٰ کہ معتصم باللہ کے دور میں ہلاکو خان نے بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور بنو عباس کی خلافت کا خاتمہ ہو گیا۔
  3. اس کے بعد بنو عثمان نے خلافت کا پرچم اٹھایا، یہ ترک تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کے لیے چن لیا تھا۔ سلطان عثمان اولؒ نے خلافت کے قیام کا اعلان کیا اور انہی کے نام سے یہ خلافتِ عثمانیہ کہلائی۔ خلافت کا یہ دور بھی کم و بیش پانچ سو سال کو محیط ہے اور اس سلسلہ کے آخری خلیفہ سلطان عبد الحمید مرحوم ہیں جنہیں ۱۹۲۴ء میں جدید ترکی کے بانی مصطفیٰ کمال اتاترک نے جلاوطن کر کے خلافت کے خاتمہ کا اعلان کر دیا۔
جس زمانے میں یورپ ترکی کی خلافتِ عثمانیہ کے خاتمہ کے لیے بے چین تھا اور اس کی سازشیں منظر عام پر آرہی تھیں، ہمارے ہاں برصغیر پاک و ہند میں خلافت کی حمایت کے لیے ایک پرجوش تحریک اٹھی جو تحریک خلافت کے نام سے تاریخ کا یادگار حصہ ہے، لیکن مصطفیٰ کمال کے ہاتھوں خلافت کے خاتمہ کے بعد یہ تحریک خلافت بھی ٹھنڈی پڑ گئی۔ خلافتِ عثمانیہ کے خلاف یورپ کی سازشیں اب ایک ایک کر کے بے نقاب ہو رہی ہیں اور اس پر لٹریچر آرہا ہے کہ یورپ نے کس طرح خلافت عثمانیہ کے سقوط کی راہ ہموار کی، ترکی جیسے عالم اسلام کے بازوئے شمشیر زن کو سیکولر ازم کی طرف مائل کیا اور مسلمانوں کی سیاسی مرکزیت کا خاتمہ کر دیا۔ الغرض خلافت راشدہ کے تیس سالہ دور کے بعد حضرت معاویہؓ سے شروع ہونے والی خلافتِ عامہ ۳ مارچ ۱۹۲۴ء تک قائم رہی۔ اس دوران اچھے حکمران بھی آئے اور برے حکمران دیکھنا بھی عالمِ اسلام کو نصیب ہوئے لیکن مجموعی طور پر خلافت کا تسلسل بہرحال قائم رہا۔ بالخصوص بعض ادوار کی تمام تر خرابیوں کے باوجود خلافتِ عامہ کے اس تیرہ سو سالہ طویل دور میں عدالتی نظام کا ریکارڈ شاندار رہا ہے اور عدالتوں میں قرآن و سنت کے احکام پر عملدرآمد کا سلسلہ بلاخوف لومۃ لائم چلتا رہا ہے۔ اسی طرح جہاد کا تسلسل بھی ہر دور میں قائم رہا ہے جو دنیا میں مسلمانوں کے رعب و دبدبہ کا ذریعہ بنا رہا۔ اس دوران خلافت راشدہ کا دارالحکومت مدینہ منورہ اور کچھ عرصہ کے لیے کوفہ تھا۔ بنو امیہ کا دارالخلافہ دمشق رہا، بنو عباس نے بغداد کو دارالخلافہ بنایا، اور بنو عثمان کا دارالخلافہ قسطنطنیہ کی فتح کے بعد اسی تاریخی شہر میں ۱۹۲۴ء تک قائم رہا۔

خلافت کے احیا کی ضرورت

حضرات محترم! اب ہم اس نکتہ کی طرف آتے ہیں کہ آج کے دور میں خلافتِ اسلامیہ کے احیا کی اہمیت کیا ہے اور اس کے لیے عملی طریق کار کیا ہو سکتا ہے؟ خلافت کے احیا کی پہلی صورت تو یہ ہے کہ یہ ہمارا اجتماعی شرعی فریضہ ہے جس کی ادائیگی کے بغیر ہم دنیا بھر کے تمام مسلمان گناہ گار ہیں اور شرعی فرض کے تارک ہیں۔ پھر صرف اس ایک فرض کے تارک نہیں بلکہ خلافت کے ذریعے احکام اسلامی کے نفاذ، اقامت دین، جہاد اور شرعی قضا کے جو فرائض بجا لائے جا سکتے ہیں ہم ان کے بھی تارک ہیں اور ان سب فرائض کو نظر انداز کرنے کا بوجھ ہم پر ہے۔ اس کے علاوہ دنیا بھر کے مسلمانوں میں سیاسی وحدت اور مرکزیت کے قیام کا واحد ذریعہ صرف اور صرف خلافت ہے اور گزشتہ صدی کے تجربات نے واضح کر دیا ہے کہ سیاسی وحدت اور مرکزیت کے بغیر عالم اسلام تمام تر وسائل اور صلاحیتوں کے باوجود اپنا ایک مسئلہ بھی حل کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے، اس لیے آج عالم اسلام کا سب سے بڑا اور سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ خلافت کے احیا و قیام کی کوئی عملی صورت پیدا کی جائے۔

عملی طریق کار

خلافت کے انعقاد و قیام کی جو صورتیں فقہاء اسلام نے بیان کی ہیں وہ بنیادی طور پر پانچ ہیں:
  1. عام مسلمانوں کی رائے سے خلیفہ کا انتخاب کیا جائے جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کا انتخاب ہوا تھا۔
  2. خلیفۂ وقت کسی اہل شخص کو اپنا جانشین نامزد کر دے جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے حضرت عمر فاروقؓ کو نامزد کیا تھا۔
  3. خلیفۂ وقت کی نامزد کردہ خصوصی کمیٹی خلیفہ کا انتخاب کرے، جس طرح حضرت عثمان غنیؓ کا انتخاب عمل میں لایا گیا تھا۔
  4. مجلسِ شورٰی خلیفہ کو چنے، جیسے حضرت علیؓ چنے گئے تھے۔
  5. کوئی اہل شخص اقتدار پر بزور قوت قبضہ کر لے اور امت اسے قبول کر لے، جیسے حضرت حسنؓ کی بیعت کے بعد حضرت معاویہؓ کی خلافت پر امت کا اجماع ہوگیا تھا۔
آج کے حالات کو سامنے رکھتے ہوئے ان میں سے دوسرا، تیسرا اور چوتھا طریقہ تو سرِدست قابل عمل نہیں ہے کیونکہ اس وقت کوئی شرعی خلیفہ موجود نہیں ہے جو کسی کو نامزد کر سکے، خصوصی کمیٹی بنا سکے یا مجلس شورٰی قائم کر سکے۔ اس کے بعد پہلا اور پانچواں طریق کار ہی قابل عمل رہ جاتا ہے اور اس کی عملی صورت یہ ہوگی کہ کسی مسلمان ملک کی منتخب پارلیمنٹ اپنے ملک کے دستور پر نظرثانی کر کے شرعی بنیادوں پر خلافت کے احیا کا اعلان کرے اور عام آدمیوں کی رائے سے خلیفہ وقت کا انتخاب کیا جائے۔ یا کوئی طاقتور گروہ طاقت کے زور سے اقتدار پر قبضہ کر لے اور ان میں سے خلافت کے اہل شخص کو خلیفہ کے طور پر قبول کر لیا جائے۔ اس کے علاوہ فقہاء اسلام کی بیان کردہ صورتوں میں سے خلافت اسلامیہ کے احیا اور قیام کی کوئی اور صورت موجودہ حالات میں قابل عمل نہیں ہے۔

ایک اہم قابل توجہ نکتہ

اس مرحلہ میں ایک اہم نکتہ کی طرف توجہ دلانا ضروری سمجھتا ہوں کہ ۱۹۲۴ء تک خلافت کے جیسے کیسے تسلسل کو قبول کرنے کے باوجود ہمیں خلافت کے نظام کی تشکیل و تدوین میں خلافتِ راشدہ ہی کو معیار بنانا ہوگا۔ بعد کے خلافتی نظام اس بارے میں ہماری راہنمائی نہیں کر سکیں گے اور نہ ہی خلافت راشدہ کے اصولوں کی طرف براہ راست رجوع کیے بغیر ہم مغربی جمہوریت اور ویسٹرن سولائزیشن کا مقابلہ کر سکیں گے۔ حکومت کی تشکیل میں عام آدمی کا حصہ، حاکمِ وقت پر تنقید کا حق، آزادیٔ رائے اور خلیفہ وقت سے اپنا حق کھلے بندوں طلب کرنے کا جو معیار خلافت راشدہ کے دور میں قائم ہوا وہ آپ کو بعد کے ادوار میں نہیں ملے گا اور یہی معیار ہے جسے عملاً سامنے لا کر مغربی جمہوریت کے کھوکھلے پن کو ظاہر کیا جا سکتا ہے۔ بالخصوص دو معاملات میں خلافت راشدہ کے طرزعمل کو دوبارہ زندہ کرنا ہوگا:
  1. ایک حکومت کی تشکیل اور خلیفہ کے انتخاب میں عام آدمی کی رائے کی اہمیت، جسے حضرت عمرؓ نے بخاری شریف کی ایک روایت کے مطابق یوں بیان فرمایا کہ ’’خبردار! لوگوں کے مشورہ کے بغیر خلیفہ کی بیعت کا نام نہ لینا اور جس نے ایسا کیا اس کی بات کو قبول نہ کرنا‘‘۔
  2. اور دوسرا نظمِ مملکت چلانے میں لوگوں کے ساتھ مشاورت کا نظام، جس کا اہتمام خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور آپ کی سنت مبارکہ ہے کہ اجتماعی معاملات میں لوگوں کو مشاورت میں شریک کیا کرتے تھے، جیسا کہ بدر، احد اور احزاب کے غزوات کے حوالہ سے احادیث موجود ہیں۔ حتیٰ کہ غزوہ حنین کے قیدیوں کی واپسی کے سلسلہ میں مشاورت کے موقع پر لوگوں کی تعداد زیادہ ہونے کے باعث عرفاء یعنی لوگوں کے نمائندوں کے ذریعے سے ان کی رائے معلوم کر کے آنحضرتؐ نے فیصلہ فرمایا۔
اس لیے خلافت کا سیاسی نظام طے کرتے وقت ہمیں خلافت راشدہ کو مشعلِ راہ بنانا ہوگا، اسی صورت میں ہم آج کی دنیا کو مغربی جمہوریت سے بہتر نظام دے سکتے ہیں اور وقت کے چیلنج کا سامنا کر سکتے ہیں۔ حضراتِ محترم! میں آخر میں اس فکری نشست کے انعقاد پر جمعیۃ اہل سنت کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور آپ سب دوستوں سے اس دعا کی درخواست کے ساتھ اجازت چاہتا ہوں کہ اللہ رب العزت عالمِ اسلام کو خلافت کے حقیقی نظام سے ایک بار پھر بہرہ ور فرمائیں اور ہمیں اس کے لیے مؤثر اور نتیجہ خیز محنت کی توفیق دیں، آمین یا الہ العالمین۔
(ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ ۔ جون ۱۹۹۶ء)

تدبر و حکمتِ عملی کی ضرورت

مولانا محمد رابع حسنی ندوی

موجودہ صدی کے وسط سے مسلمانوں کو اپنے دین اور اپنے ملی پیغام کی طرف توجہ دلانے کی جو کوششیں ہوئیں اور ان کو ان کا عزت و عظمت کا ماضی یاد دلانے کے لیے جو لکھا اور کہا گیا، اس کے یہ اثرات پڑے کہ مسلمانوں میں بیداری اور مِلی احساس و شعور کی ایک لہر اٹھی جو جگہ جگہ محسوس کی گئی، اور اس سے مستقبل میں اچھی توقعات قائم کی جانے لگیں۔ حتٰی کہ بعض کہنے والے کہنے لگے کہ اگلی صدی اسلام کی صدی ہو گی۔
چنانچہ جب ہجری تاریخ سے نئی صدی شروع ہوئی تو بڑا غلغلہ اٹھا کہ یہ صدی اسلام کی صدی ہے اور دنیا کی قیادت اب دیر سویر مسلمان کریں گے، یہ دیکھو فلاں جگہ بڑی دینی و ملی بیداری ہو رہی ہے، فلاں جگہ اتنے لوگ مسلمان ہو گئے ہیں، فلاں جگہ ایسی ایسی دینی تحریکیں چلنا شروع ہو گئی ہیں۔
عیسوی تقویم کو بنیاد بنانے والوں نے کہا کہ اکیسویں صدی آ رہی ہے، یہ اسلام کے عروج و غلبہ کی صدی ہو گی، یورپ ٹوٹ رہا ہے، اب دنیا کی قیادت مسلمان قومیں لیں گی، کسی نے ترکی کی طرف دیکھا، کسی نے پاکستان سے امید قائم کی، کسی نے مصر کی طرف، کسی نے لیبیا کی طرف، کسی نے سعودی عرب کی طرف اور کسی نے ایران کی طرف دیکھا، اور یہ دیکھنا ظاہری آثار و حالات کے لحاظ سے غلط بھی نہ تھا کیونکہ ان سب جگہوں پر بعض بعض قیادتوں نے بہت امید پیدا کر دی تھی۔
اس سلسلہ میں مسلمان صحافت نے بھی شور مچایا اور مسلمان تحریکوں نے بھی حصہ لیا، لیکن دیکھنے میں یہ آیا کہ مسلمانوں کا اس وقت مزاج کام کرنے سے زیادہ نام کرنے کا بن گیا ہے، وہ کام سے زیادہ کام کا تذکرہ، جدوجہد سے زیادہ جدوجہد کا اعلان، اور پروگرام پر عمل کرنے سے قبل اس کا بے تحاشا اعلان اپنا وطیرہ بنائے ہوئے ہیں۔ وہ اپنے مخالف کو اس کا مقابلہ کرنے سے قبل ہوشیار کر دیتے ہیں، اس کو شکست دینے کا اپنا طریقہ اور انداز کار بتا دیتے ہیں۔ مسلمانوں کی یہ کمزوری ایک بڑی کمزوری کہی جا سکتی ہے، لیکن یہ ایک نفسیاتی کیفیت بھی ہے کہ آدمی اپنی ترقی، توقع اور کامیابی کا چرچا کرتا ہے اور اپنی پریشانی کا تذکرہ بھی زور سے کرتا ہے۔
لیکن راہبرانِ ملت جو فہم و فراست میں بڑھے ہوئے ہیں، اس نفسیاتی کیفیت کو کنٹرول کر سکتے ہیں اور تذکرہ و چرچے کی اس خواہش کو دوسری طرف موڑ سکتے ہیں۔ اور وہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے ان حالات کا چرچا کیا جائے جن میں انہوں نے دنیا کو اخلاق و انسانیت کا درس دیا اور قوموں اور نسلوں کو حیوانی زندگی سے نکال کر انسانی زندگی میں داخل کیا:
  • انہوں نے مصیبت زدہ دنیا کو مصیبت سے نکالا،
  • غلاموں کو ان کی حقیر پوزیشن سے نکال کر دوستانہ و مساویانہ پوزیشن میں پہنچایا،
  • عورت کو ساز و سامان کی حیثیت سے نکال کر کامل انسانی حقوق کی مستحق اور رفیقہ حیات کا درجہ دیا،
  • بچیوں کو عار و ذلت کا سبب سمجھ کر زندہ دفن کر دینے سے بچا کر نعمت اور باعثِ اجر و ترقی سمجھنے کا ذریعہ بنایا،
  • انسان تو انسان ہے ہر ذی روح کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا سبق دیا،
  • مساواتِ انسانی کا ایسا سبق دیا کہ دیکھنے والے دیکھ کر ششدر رہ گئے اور اس دین کی خوبی اور اس ملت کی عظمت کو مان گئے، چنانچہ جوق در جوق اسلام میں داخل ہوئے اور پوری پوری قومیں مسلمان ہو گئیں۔
  • بھلا غور کیجئے کہ کہاں ایسی مثالیں ملیں گی کہ مسلمان فوجوں نے ایک علاقہ کو فتح کیا، علاقے والوں نے مسلمانوں کے خلیفہ سے شکایت کی کہ آپ لوگ کہتے ہیں کہ مسلمان اچانک حملہ نہیں کرتے، پہلے اپنی بات پیش کرتے ہیں، اس کے نہ ماننے کے بعد کہہ کر حملہ کر کرتے ہیں، اس فوج نے ایسا نہیں کیا۔ اس شکایت پر خلیفہ نے حکم دیا کہ مسلمان فوجیں مقبوضہ ملک چھوڑ دیں، واپس آجائیں اور پہلے دعوت اور پیغام پیش کریں اور صلح کے ذریعے معاملہ کو انجام دینے کی کوشش کریں، اس میں ناکامی کے بعد حملہ کریں۔ چنانچہ مسلمان فوجوں نے مقبوضہ ملک چھوڑ دیا اور اسلام کے بتائے ہوئے طریقہ پر عمل کیا، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پورا ملک اتنا متاثر ہوا کہ خود سے مسلمان ہو گیا۔
  • بھلا بتائیے کہ کس نے یہ تعلیم دی کہ تمہارے لیے ہر ذی حیات کے ساتھ سلوک کرنے میں اجر ہے، اور ایک پیاسے کتے کو پانی پلا دینے پر جنت چلے جانے کی بشارت دی اور ایک بلی کو کمرے میں بند کر کے مارنے پر آخرت کے عذاب کی خبر دی۔
  • بھلا بتائیے کہ یہ کس کے ہاں ملتا ہے کہ انتقال کے وقت نزع کی حالت میں یہ کہے کہ اپنے رب کی عبادت کرتے رہو اور اپنے غلاموں کے ساتھ حسنِ سلوک کرو۔
  • بھلا بتائیے کہ یہ کہاں ملتا ہے کہ مصر کے مسلمان حاکم کے لڑکے نے ایک مصری سے گھوڑدوڑ کے مقابلہ میں پیچھے آ جانے پر ایک کوڑا مار دیا۔ مصری نے خلیفۃ المسلمین سے شکایت کی۔ خلیفۃ المسلمین نے مصری حاکم کے لڑکے کو مع باپ کے طلب کیا اور مصری کے ہاتھ سے دونوں پر کوڑا چلوایا، اور حاکم سے کہا کہ تم لوگوں نے کیا انسانوں کو غلام بنا لیا ہے حالانکہ خدا نے ان کو آزاد پیدا کیا ہے۔ ذرا غور کیجئے، وہ اس زمانہ کی بات ہے جب دنیا کے متمدن ملکوں میں ،تہذیب و تمدن کے گہواروں میں غلاموں اور قیدیوں کو دعوتوں میں مہمانوں کی تفریح کے لیے جلایا جاتا تھا، اخلاق و انسانیت پر عمل کا اتنا بڑا فرق ہے۔
  • بھلا بتائیے یہ کہاں ملتا ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے ایک مہم میں مسلمانوں کے لشکر کا سربراہ اپنے سابق غلام کے نوجوان لڑکے کو بنا دیا، لشکر جانے سے قبل آپ کی وفات ہو گئی، آپ کے خلیفہ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے لشکر روانہ کرنا چاہا تو لوگوں نے کہا کہ اس لشکر میں بڑے بڑے عرب کے سردار ہیں، اگر اس نوجوان کے بجائے کسی بڑے سردار کو قائد بنا دیا جائے تو زیادہ مضبوط بات ہو گی۔ خلیفۃ المسلمین نے کہا کہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا اسی کو قائم رکھا جائے گا اور یہی نوجوان اور سابق غلام کے صاحبزادے ہی قیادت کریں گے۔ چنانچہ سب نے اطاعت کی اور انہی کی قیادت میں کام کیا اور کسی نے کوئی اعتراض نہ کیا۔
یہ واقعات اور ان کی اتباع میں مسلمانوں کی تاریخ میں سیکڑوں اور ہزاروں واقعات کیوں نہیں ہمارے اپنے چرچے اور تذکروں کا موضوع بنتے کہ غیر مسلم حضرات کے علم میں آئیں؟ جن کو جان کر وہ کہیں کہ مسلمان ویسا نہیں ہوتا جیسا ہم نے غلطی سے اب تک سمجھ رکھا تھا اور جیسا چند بے راہ مسلمانوں کے عمل سے ظاہر ہوتا ہے۔ اگر کوئی مسلمان چوری کر لیتا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اسلام نے چوری کی اجازت دی ہے، کوئی مسلمان کسی پر ظلم کرتا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ مسلمانوں کو ظلم کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
لیکن افسوس ہے کہ مسلمانوں کا پریس، ان کے جلسے، ان کے مظاہرے، یہ تو ظاہر کرتے ہیں کہ مسلمان اپنے حریفوں کو اس طرح زک دیں گے، اس طرح شکست دیں گے، لیکن اپنے مخالفوں اور حریفوں کے ذہنوں کو بدلنے کی نہ کرنے کے برابر کوشش کرتے ہیں۔ ان کے مخالفوں اور حریفوں نے مسلم دشمن پروپیگنڈے ہی کو سنا اور جانا ہے کہ مسلمان اپنے مخالف کو ظالمانہ طریقہ سے ختم کر دیتا ہے، اس کو صرف دادِ عیش دینے اور من مانی کرنے اور اخلاقی قوانین توڑنے سے ہی دلچسپی ہے، وہ اچھا شہری نہیں ہوتا، اچھا پڑوسی نہیں ہوتا، اچھا ساتھی نہیں ہوتا، وہ ناقابلِ اعتبار ہے، ناقابلِ برداشت ہے۔ بھلا بتائیے ان خیالات کے ساتھ مسلمانوں کے دشمن اور حریف مسلمانوں کے معاملہ میں کیا رویہ رکھیں گے؟
آج ساری دنیا میں مسلمانوں پر مصیبت آئی ہوئی ہے، ہر جگہ مسلمانوں کو اپنی مذہبی آزادی اور باعزت اسلامی زندگی کے لیے سخت جدوجہد کرنا پڑ رہی ہے، اور ان کی اس جدوجہد کو ہر جگہ پوری طاقت سے دبایا جا رہا ہے بلکہ بہت ظالمانہ طریقہ سے کچلا جا رہا ہے۔ یورپ ہو یا ایشیا یا امریکہ، ہر جگہ اسلام کے نام لینے والے مصیبت میں مبتلا کیے جا رہے ہیں، جیسے کہ کوئی خونخوار طاقت ابھرنے لگی ہو اور اس کو کچلنے کے لیے سب کے سب لگ جائیں۔ ضرورت ہے کہ اس مصیبت کے جتنے حصے کو ہم دعوت و وضاحت کے جائز و مؤثر طریقوں کے ذریعہ دور کر سکیں، اس سے دور کریں، اور جو وضاحت اور صحیح واقفیت کے بعد ہو اس کا پوری طاقت اور ہمت سے مقابلہ کریں۔
اس کے لیے اپنے عمل کو اور تعلق مع اللہ کو بھی درست کرنا ہو گا، اور مسلمانوں کے ایمان و اخلاق کو اسلام کی صحیح تعلیمات کے مطابق بنانے کے لیے دعوت و تربیت کے کام کو اصول و طریقہ کے مطابق سنجیدہ اور ٹھوس طریقہ سے کرنا ہو گا اور اس پر خاصا وقت صرف کرنا ہو گا۔ شور و پروپیگنڈے کو ضرورت کے مطابق رکھنا ہو گا، اس میں ہم کو جتنی کامیابی ہو گی، اتنی ہی اللہ کی طرف سے نصرت حاصل ہو گی اور کامیابی ملے گی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ’’وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِیْنَ‘‘ کہ سربلند تم ہی رہو گے اگر تم ایمان والے ہو۔ ہمیں ایمان کے تقاضے پورے کرنے ہوں گے تب ہی ہم کو سربلندی ملے گی۔
(بشکریہ ’’تعمیرِ حیات‘‘ لکھنؤ)

اسلامی ریاست میں غیر مسلم اقلیتوں کے حقوق

مولانا منیر احمد

(زیر نظر مضمون ہفت روزہ ترجمان اسلام لاہور کے اپریل/مئی ۱۹۷۷ء کے تین شماروں میں بالاقساط شائع ہوا تھا جسے موجودہ حالات کے تناظر میں بعض غیر ضروری حصوں کے حذف کے ساتھ قارئین الشریعہ کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ ادارہ)

اسلامی حکومت کے حکمرانوں کو اپنی رعایا کے ساتھ اسلام جس رواداری، حسنِ سلوک، نرم روی، انصاف پسندی، عدل گستری کا نہایت تاکیدی انداز میں پابند کرتا ہے، اس میں مسلم و غیر مسلم میں کوئی فرق و امتیاز روا نہیں رکھتا۔ بلکہ ان کو یہ سبق سکھاتا ہے کہ جیسے اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کے دروازے اہلِ اسلام اور غیر اہلِ اسلام یہودی، عیسائی، ہندو، سکھ سب پر کھلے رکھے ہیں، ہر ایک کو رزق، ہوا، پانی، روشنی اور آسمان و زمین کی بے شمار نعمتوں سے یکساں استفادے کا حق ہے، کسی کو کسی نعمت سے استفادہ کے حق سے محروم نہیں کیا، اسی طرح جو حکومت قانونِ الٰہی پر عمل پیرا ہو اس کا بھی یہ فرض ہے کہ وہ اس سنتِ الٰہیہ پر چل کر قرآن و حدیث کی روشنی میں عدل پر مبنی ایسا نظامِ حکومت قائم کرے جس میں مسلم و غیر مسلم کے امتیاز کے بغیر رعایا کے ہر فرد کو بنیادی حقوق اور بنیادی ضروریاتِ زندگی حاصل ہوں۔
اور اگر کوئی ایسا متعصب اور تنگ ظرف حاکم عہدۂ حکومت پر براجمان ہو جائے جو بے شک مسلمانوں کے حقوق تو پورے طور پر ادا کرتا ہے مگر غیر مسلم اقلیتوں کے حقوق کے بارے میں تغافل برتتا ہے، ان کی حق تلفی کرتا ہے، ان کو بنیادی حقوق میں مسلمانوں کے مساوی نہ رکھتا ہو، تو قرآن و حدیث اور خلفائے راشدین کے طرز عمل کی روشنی میں باوثوق طریقے سے یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ اس کو حکومت کرنے کا کوئی حق نہیں۔ اور خود مسلم رعایا پر یہ ضروری ہے کہ یا اس حاکم سے اقلیتوں کے حقوق دلوانے کی کوشش کرے یا پھر اس کو حکومت سے الگ کر دے۔ اور اگر مسلم رعایا ایسا نہیں کرتی بلکہ یہ بھی خاموش تماشائی کی حیثیت سے ان کے حقوق کی پامالی کا نظارہ کرتی ہے تو یہ حاکم اور اس کی مسلم رعایا دونوں گناہ کی زد میں آ جاتے ہیں۔

اسلامی حکومت کا امتیاز

اسلامی حکومت کا یہ ایک ایسا امتیاز ہے جو اس کو دیگر غیر مسلم حکومتوں پر فوقیت دیتا ہے کہ وہ اپنے ملک کی اس رعایا کو جو مذہبی شعائر، قومی رسم و رواج، تہذیب و ثقافت اور نسل و زبان کے اعتبار سے ہر طرح مسلم قوم سے جدا تشخص رکھتی ہے، اور ہے بھی اقلیت میں، وہ حقوق عطا کرتی ہے کہ آج کی ترقی یافتہ انسانی خدمت کی دعویدار غیر مسلم حکومتوں میں شاید وہ حقوق ان کی اپنی ہم قوم و مذہب رعایا کو بھی حاصل نہ ہوں۔ اور اگر کوئی حکومت فیاضی سے کام لے کر اپنی ہم قوم رعایا کو ضروری حقوق دے ہی دے تو اس سے اس حکومت میں قومی خدمت کا جذبہ تو بے شک معلوم ہو جاتا ہے، لیکن انسانی ہمدردی، خیرخواہی، اور انسانی خدمت کے جذبہ کے لیے معیار قومی خدمت نہیں بلکہ وہ طرزعمل ہے جو اس حکومت کا غیر قوموں کے ساتھ ہے۔ اور جب اس معیار پر ایک اسلامی حکومت کا غیر مسلم حکومتوں کے ساتھ موازنہ کر کے دیکھا جاتا ہے تو یقین ہو جاتا ہے کہ اسلامی حکومت کا مقصد صرف حقوقِ مسلم کی نگہبانی ہی نہیں بلکہ غیر قوموں کے حقوق کی حفاظت کی خاطر مسلمان کے جان و مال کی قربانی بھی اس کا فرض ہے۔

رعایا کے حقوق

کسی حکومت کی رعایا کے وہ حقوق اور ضروریات جن کا تحفظ حکومت کے ذمہ ہوتا ہے، بلکہ قیامِ حکومت کا مقصد قرار پاتا ہے، چار چیزوں سے متعلق ہوتے ہیں: (۱) مذہب، (۲) جان، (۳) مال، اور (۴) عزت و آبرو۔ ہر حکومت کا یہ فرض ہوتا ہے کہ وہ رعایا کے مذہب، جان، مال، اور عزت و آبرو کی حفاظت کرے۔ اسلامی حکومت بھی اپنی مسلم اور غیر مسلم رعایا کی ان چاروں چیزوں کی محافظ ہوتی ہے اور ان کے حقوق کا تحفظ کرتی ہے۔ انہی چار چیزوں کی حفاظت کرنے کے لیے محکمہ فوج، محکمہ پولیس، محکمہ عدالت، محکمہ مالیات، محکمہ تعلیم، اور محکمہ صحت کا قیام کر کے تقسیم کار کر دی جاتی ہے تاکہ مکمل طور پر یہ ذمہ داری پوری ہو سکے۔ ہم ذیل میں پہلے اجمالی طور پر غیر مسلم اقلیتوں کے مذہب، جان، مال اور عزت کی حفاظت سے متعلق قرآن و سنت اور فقہ اسلامی سے ماخوذ اسلامی دفعات پیش کرتے ہیں، اس کے بعد سیرتِ نبویؐ، عمل صحابہؓ اور تاریخی شواہد سے اس کا تفصیلی ثبوت فراہم کریں گے۔

(۱) حفاظتِ مذہب

  1. ان کے مذہب کو پورا تحفظ دیا جائے گا۔
  2. ان کو مذہبی رسوم کی ادائیگی میں پوری آزادی ہو گی۔
  3. اپنے بچوں کو اپنے مذہب کی تعلیم دینے کے لیے اپنے مکاتب کھول سکیں گے۔
  4. ان کے مذہب میں عیب جوئی یا طعنہ زنی نہیں کی جائے گی۔
  5. ان کو اجتماعی طور پر مذہبی تہوار منانے کی اجازت ہو گی۔
  6. مذہبی تہوار میں مسلم حکومت حتی الامکان ان سے تعاون کرے گی۔
  7. پادری، رہبان، گرجوں کے پجاری اور ان کے مذہبی پیشوا اپنے عہدوں پر قائم رہیں گے۔
  8. ان کی عبادت گاہیں نہ منہدم کی جائیں گی، نہ ان کو کوئی نقصان پہنچایا جائے گا۔
  9. عبادت گاہوں کے بوسیدہ ہو جانے کی صورت میں مرمت کر سکیں گے۔
  10. خاص اپنے شہروں میں بلا اجازت اور مسلمانوں کے شہروں میں باجازتِ حاکم نئی عبادت گاہیں تعمیر کر سکیں گے۔
  11. مسلمان حاکم ان کی عبادت گاہوں کے لیے جاگیریں وقف کر سکیں گے۔
  12. ان کی عبادت گاہوں کا پورا پورا احترام کیا جائے گا۔
  13. ان کی مذہبی کتابوں کی توہین نہ کی جائے گی۔
  14. تبدیلِ مذہب پر جبر قابلِ تعزیر جرم ہو گا۔
  15. ان کو مسلمانوں کی تعلیم گاہوں میں داخلہ کی اجازت ہو گی۔
  16. فیصلہ جات میں ان کو اختیار ہو گا کہ مسلمان قاضی سے یا اپنے مذہبی پیشوا سے فیصلہ کرائیں۔
  17. ان کے مسجد میں داخل ہونے پر پابندی نہ ہو گی۔

(۲) حفاظتِ جان

  1. ان کی جان مسلمان کی جان کی طرح محفوظ ہو گی۔
  2. ذمی کے قتل ہو جانے کی صورت میں قصاص لیا  جائے گا۔
  3. ان کے کسی عضو کو کاٹ دینے کی صورت میں بدلہ ہو گا۔
  4. ان کی دیت (خون بہا) مسلمان کی دیت کے برابر ہو گی۔
  5. جو مسلم رعایا کے لیے حفاظتی انتظامات کیے جائیں گے ان کے لیے بھی کیے جائیں گے۔
  6. ان پر کوئی دشمن حملہ آور ہو گا تو مدافعت کی جائے گی۔
  7. دشمن کے ہاتھ گرفتار ہو جانے کی صورت میں اس کی رہائی کی پوری کوشش کی جائے گی۔
  8. ذمی کو کسی غیر ذمی کافر کے بدلہ میں قتل نہ کیا جائے گا۔
  9. ان کو فوجی خدمت پر مجبور نہ کیا جائے گا۔
  10. ان کو علاج کے سلسلہ میں پوری سہولتیں حاصل ہوں گی۔

(۳) حفاظتِ مال

  1. ان کا مال محفوظ رہے گا۔
  2. ان کے تجارتی قافلے اور کارواں محفوظ رہیں گے۔
  3. ان کی زمین محفوظ رہے گی۔
  4. تمام چیزیں جو ان کے قبضہ میں تھیں بحال رہیں گی۔
  5. ان کا کوئی حق جو پہلے سے ان کو حاصل تھا زائل نہ ہو گا۔
  6. جو ان میں سے کما نہ سکے اور نہ اس کی کفالت کرنے والا کوئی موجود ہو تو بیت المال سے اس کو روزینہ ملے گا۔
  7. ان کا مارا ہوا حق واپس دلایا جائے گا۔
  8. ان کو اندرون ملک اور بیرون ملک تجارت کی اجازت ہو گی۔
  9. ذرائع ترقی میں وہ برابر کے حصہ دار ہوں گے۔
  10. انہیں اسلام کی حرام کردہ اشیا، جو ان کے مذہب میں حلال ہیں، اپنے ہم مذہب لوگوں کے ساتھ ان کے کاروبار اور استعمال کرنے کی اجازت ہو گی۔
  11. ان کو وہ تمام مالی حقوق حاصل ہوں گے جو اہلِ اسلام کو حاصل ہوں گے۔
  12. ان کا مال چوری کرنے پر ہاتھ کاٹا جائے گا۔
  13. جزیہ (ٹیکس) یا خراج (لگان) جو ان سے لیا جائے گا، اس کے لیے محصل کے پاس خود نہیں جانا پڑے گا۔
  14. ان کی عورتوں، بچوں، بوڑھوں، پاگل، بیمار، معذور، غلام، مریض، تنگ دست، افراد سے جزیہ یا خراج وصول نہیں کیا جائے گا، البتہ یہ لوگ حقوق رعایا میں برابر کے حق دار ہوں گے۔
  15. ان سے عشر وصول نہیں کیا جائے گا۔
  16. خراج یا جزیہ کی وصولی میں ناروا سختی نہیں کی جائے گی۔
  17. خراج یا جزیہ سال سے پہلے وصول نہیں کیا جائے گا۔
  18. طے شدہ مقدار سے زیادہ وصول نہیں کیا جائے گا۔
  19. ان کی حفاظت نہ کر سکنے کی صورت میں جزیہ واپس کر دیا جائے گا۔
  20. اگر محصل بروقت وصول کرنے کے لیے نہ پہنچا اور اس پر عرصہ گزر گیا تو سابقہ سالوں کا جزیہ ساقط ہو جائے گا۔
  21. مسلمان ہو جانے کی صورت میں جزیہ اور خراج معاف کر دیا جائے گا۔
  22. جو ذمی فوجی خدمت سر انجام دیں گے ان سے جزیہ نہ لیا جائے گا۔
  23. ان کے مردہ سے باقی ماندہ جزیہ یا خراج ساقط ہو جائے گا۔
  24. ذمیوں کے چوپایوں پر کوئی ٹیکس نہ ہو گا۔
  25. ان کی نقدی، سونا، چاندی اور زیورات پر کوئی ٹیکس نہ ہو گا۔
  26. ان پر خراج اور جزیہ کے علاوہ کوئی ٹیکس عائد نہ کیا جائے گا۔
  27. اپنی ملکیت کے تصرف میں وہ آزاد ہوں گے۔

(۴) حفاظتِ عزت

  1. ان پر تہمت لگانا قابلِ تعزیر جرم ہو گا۔
  2. ان کی غیبت مسلمان کی غیبت کی طرح حرام ہو گی۔
  3. عدالتوں میں مسلم اور غیر مسلم کی حیثیت برابر ہو گی۔
  4. ملک و قوم کے وفادار ثابت ہو جانے کی صورت میں مسلم حکام کی صوابدید کے مطابق سرکاری عہدوں پر فائز ہو سکیں گے۔
  5. طے شدہ شرائط کی خلاف ورزی نہ کی جائے گی۔
  6. ان کو بلند مکان بنانے کی اجازت ہو گی۔
  7. ان کا قومی لباس تبدیل نہ کیا جائے گا۔
  8. ان سے ان کی طاقت سے زیادہ کام نہیں لیا جائے گا۔
  9. جو ان کا نکاح وغیرہ کا معاملہ اپنے دین کے مطابق ہو چکا ہو، مگر اسلام کے خلاف ہو، تو وہ اسی پر برقرار رہیں گے، اگرچہ وہ مسلمان بھی ہو جائیں۔
  10. اگر کوئی غیر مسلم حکومت اسلامی حکومت کو جزیہ دینا قبول کرے تو ان کی حکومت قائم رہے گی اور مسلمان ان کی ہر طرح حفاظت کریں گے۔
  11. ان کے ملک میں فوج کشی نہ کی جائے گی۔
  12. ان سے کسی عام معاشرتی یا اخلاقی جرم کے سرزد ہو جانے کی صورت میں مسلمانوں کی ذمہ داری ختم نہ ہو گی۔

اسلام کے سنہری دور میں اقلیتوں کے حقوق

شمالی یمن اور مکہ معظمہ کے مشرق میں سات منزل کے فاصلہ پر نجران ایک وسیع ضلع کا نام ہے، جس کی لمبائی تیز سوار کی ایک دن کی مسافت کے برابر تھی، اور تہتر بستیوں اور ایک لاکھ بیس ہزار فوج پر مشتمل تھا (ابن کثیر ص ۳۷ ج ۱)۔ یہاں کئی صدیوں سے عیسائی آباد تھے۔ انہوں نے اپنی مذہبی اور اقتصادی زندگی اچھی طرح منظم کر لی تھی۔ وہ زراعت اور مختلف قسم کی صنعتوں سے واقف تھے، جیسے پارچہ بافی اور ہتھیار سازی۔ یہاں پر عیسائیوں کا ایک عظیم الشان کلیسا بھی تھا جس کو وہ کعبہ کہتے تھے اور حرمِ کعبہ کا جواب سمجھتے تھے۔ اس میں بڑے بڑے مذہبی پیشوا رہتے تھے جن کا لقب سید اور عاقب تھا۔ عیسائیوں کا کوئی مرکز اس کا ہمسر نہ تھا۔ یہ کعبہ تین سو کھالوں سے گنبد کی شکل میں بنایا گیا تھا، جو شخص اس کی حدود میں آجاتا تھا وہ مامون ہو جاتا تھا۔ اس کعبہ کے اوقاف کی آمدنی دو لاکھ سالانہ تھی (سیرت النبی ج ۲)۔
۹ھ یا ۱۰ھ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نجران کے عیسائیوں کو دعوتِ اسلام کا خط لکھا جس کو مفسر ابن کثیر نے نقل کیا ہے۔ خط ملنے کے بعد نجران کے عیسائیوں کا ایک ایک معزز و موقر وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم اور نجرانی عیسائیوں کے درمیان جو معاہدہ طے پایا، وہ بقول امام زہریؒ، کسی غیر مسلم قوم کے جزیہ دے کر مسلم حکومت کی رعایا بننے کا سب سے پہلا واقعہ ہے (ابن کثیر ج ۱ ص ۳۷۰)۔ اس کی تفصیلی رپورٹ جو مورخین نے دی ہے وہ اس طرح ہے:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
(۱) یہ وہ معاہدہ ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اہلِ نجران کے لیے تحریر کیا۔
(۲) کیونکہ وہ اس کی حکومت کی ماتحتی قبول کر چکے ہیں۔
(۳) معاہدہ کی رو سے ان کی تمام مملوکہ اشیا سیاہ و سفید، سرخ و زرد، پھل اور غلام، جو فیصلہ کے وقت ان کی ملکیت میں ہیں، ان کے لیے محفوظ کی جاتی ہیں۔
(۴) اس شرط پر کہ وہ سالانہ دو ہزار حلے (یمنی چادروں کے دو جوڑے)، ایک ہزار ماہ صفر میں اور ایک ہزار ماہ رجب میں، ادا کرتے رہیں گے۔
(۵) ہر حلہ کی قیمت ایک کامل اوقیہ (تقریباً بیس روپے) ہو گی۔
(۶) حلوں کی کمی بیشی کا حساب اوقیوں سے ہو گا۔ (یعنی دو ہزار اوقیہ کی قیمت کے حلے ہوں خواہ کم یا زیادہ)۔
(۷) جو اونٹ، گھوڑے یا زرہیں وہ دیں گے وہ بھی اسی حساب سے لی جائیں گی۔
(۸) اہلِ نجران کی ذمہ داری ہو گی کہ میرے فرستادہ ٹیکس وصول کنندہ لوگوں کی بیس دن کی مدت تک مہمانی کریں گے۔
(۹) یمن میں کوئی سازش یا بغاوت رونما ہو تو وہ ہمیں تیس گھوڑے، تیس اونٹ، تیس زرہیں عاریتاً دیں گے۔
(۱۰) میرے فرستادگان کو یہ لوگ جو اشیا عاریتاً دیں گے وہ تا ادائیگی ان چیزوں کے ضامن ہوں گے۔
(۱۱) نجران کے غیر مسلم باشندوں اور ان کے گرد و نواح کے لوگوں کے لیے اللہ و رسول کا ذمہ اور امان ہے۔
(۱۲) یہ ذمہ و پناہ ان کی جان، مذہب، زمین، مال اور عبادت گاہوں کے لیے ہے۔
(۱۳) ان کے حاضر و غائب کے لیے، ان کے کارواں اور قاصد کے لیے بھی پناہ ہے۔
(۱۴) ان تمام مذہبی شعائر میں، جن پر وہ اس وقت قائم ہیں، کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔
(۱۵) ان کے حقوق و مذہبی شعار اسی طرح باقی رہیں گے، ان میں کوئی تغیر و تبدل نہ ہو گا۔
(۱۶) ان کے سارے مذہبی عہدے باقی رہیں گے۔
(۱۷) ان کے کسی اسقف (لاٹ پادری) کو اس کے عہدے سے برطرف نہیں کیا جائے گا۔
(۱۸) ان کے کسی راہب کو رہبانیت سے الگ نہ کیا جائے گا۔
(۱۹) نہ کسی خادمِ کلیسا کو اس خدمت سے محروم کیا جائے گا۔
(۲۰) ان مذہبی پیشواؤں کے قبضہ میں جو تھوڑا بہت ہو گا وہ محفوظ رہے گا۔
(۲۱) ان پر جاہلیت کے زمانہ کے کسی خون یا عہد کی ذمہ داری نہیں ہے۔
(۲۲) ان کو فوجی خدمت پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔
(۲۳) ان سے عشر نہیں لیا جائے گا۔
(۲۴) ان کی زمین کو کوئی لشکر پامال نہ کرے گا۔
(۲۵) نہ جزیہ لینے کے لیے ان کو جمع کیا جائے گا، بلکہ محصل خود جا کر وصول کرے گا۔
(۲۶) کسی حق کے مطالبہ کی صورت میں ان کے ساتھ ایسا انصاف ہو گا کہ نجران میںٖ یہ لوگ نہ ظالم ہوں گے نہ مظلوم۔
(۲۷) جو ان میں سے سود کھائے گا وہ میری ذمہ داری و امان سے خارج ہو جائے گا۔
(۲۸) ان میں سے کوئی  آدمی کسی دوسرے کے ظلم کی وجہ سے نہ پکڑا جائے گا۔
(۲۹) ان کے لیے اس امان نامہ میں جو کچھ ہے، اس پر اللہ تعالیٰ کی پناہ اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذمہ ہے، اس وقت تک کے لیے کہ اللہ کا حکم آئے۔
(۳۰) سب خیر خواہی برتیں اور ان حقوق کو ادا کرتے رہیں جن کا عہد کیا گیا ہے۔
(۳۱) ان پر کوئی ذرا برابر ظلم و زیادتی نہ ہو گی۔
گواہ شد
۱۔ ابو سفیان بن حرب
۲۔ غیلان بن عمرو
۳۔ مالک بن عوف
۴۔ اقرع بن حابس حنظلی، مغیرہ
(کتاب الخراج ص ۳۴۷، فتوح البلدان ص ۷۲، کتاب الاموال بحوالہ اسلام کا نظامِ امن)

معاہدہ پر ایک نظر

کسی قوم کے بنیادی حقوق چار چیزوں سے متعلق ہوتے ہیں: (۱) مذہب (۲) جان (۳) مال (۴) اور عزت۔ اس معاہدہ میں اہلِ نجران کی ان چاروں اشیا کی حفاظت کی ضمانت موجود ہے۔
اسلام مسلمان حکمرانوں میں غیر مسلم رعایا کے بارے میں جس دیانت و امانت کو چاہتا ہے اس کا اندازہ معاہدہ کی شق ۱۸ اور شق ۱۰ سے کیا جا سکتا ہے کہ ان کی جو چیز عاریتاً لیں اس کی واپسی کی ذمہ داری بھی لیں۔ نہ تو یہ اس چیز کو ضائع کر سکتے ہیں اور نہ واپسی کے وقت ان کو تکلیف دیں گے، بلکہ ان کے ہاں پہنچانے کا خود بندوبست کرنا ہو گا۔
پھر ان کے علاقہ میں جا کر زبردستی ان سے مہمانی نہیں کھا سکتے، اور یہ کہ معاہدہ میں مہمانی کا معاملہ طے ہو چکا ہو پھر معاہدہ ہونے کے باوجود مقررہ دنوں میں ان سے کھانا کھا سکیں گے، اس کے بعد اپنا انتظام کرنا ہو گا اور ان سے ان کی رضامندی کے بغیر ایک لقمہ کھانا بھی حرام ہو گا۔
چونکہ اس قوم نے اپنے مذہب کے چھوڑنے سے انکار کیا تھا، اس لیے معاہدہ میں ان کے مذہب و مذہبی شعار کی چیزوں کے تحفظ کو دوبارہ دوہرایا گیا ہے۔ ان کو عدل و انصاف مہیا کرنے اور ظلم و ستم نہ کرنے کا بھی متعدد بار یقین دلایا گیا ہے۔
ان کی عزت نفس کا اتنا احترام ملحوظ رکھا گیا ہے کہ جزیہ ادا کرنے کے لیے خود ان کو نہیں آنا پڑے گا بلکہ تحصیلدار خود ان سے جا کر وصول کرے گا۔ اور جزیہ کی وصولی کے بارے میں اتنی نرمی برتی گئی ہے کہ اصل طے شدہ جزیہ تو دو ہزار اوقیہ (چالیس ہزار روپے) سالانہ تھا مگر ازراہ سہولت یہ اختیار کیا گیا ہے کہ چاہیں تو اتنی قیمت کے دو ہزار حلے یا اونٹ، گھوڑے اور زرہ میں سے جو میسر ہو سکتے ہیں وہ دے دیں تاکہ نقدی کے نہ ہونے یا کم ہو جانے کی صورت میں جزیہ کی ادائیگی میں ان کو پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اور جو جزیہ کی مقدار مقرر کی گئی ہے ان کی آبادی اور آمدنی کے مقابلہ میں کوئی زیادہ نہیں۔ کیونکہ نجران کا علاقہ ۷۳ گاؤں پر مشتمل تھا تو اس لحاظ سے ایک گاؤں پر ایک ہزار روپے سالانہ سے بھی کم ٹیکس پڑتا ہے۔
پھر ان سب مراعات و حقوق کی تحریری دستاویز تیار کرنے کے باوجود ان کے مزید اطمینان و اعتماد کے لیے سب سے زیادہ جو وثوق و اعتماد کی چیز ہے یعنی ’’اللہ و رسول کی ذمہ داری‘‘ اس کی ضمانت دے کر اس پر صحابہ کرامؓ کے دستخط ثبت کرائے جاتے ہیں۔
سال یا چھ ماہ بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ۱۱ھ میں انتقال ہو گیا۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ خلیفہ ہوئے تو نجرانی عیسائیوں کا ایک وفد دستاویز کی توثیق کرانے اور اپنی وفاداری کا یقین دلانے کے لیے مدینہ آیا۔ حضرت صدیقؓ نے توثیق کر دی۔ دورِ فاروقی کے ابتدائی سالوں میں بھی یہی معاہدہ زیرعمل رہا، لیکن کچھ سال بعد ان لوگوں نے عہد شکنی کی۔
(۱) معاہدہ کی رو سے وہ سودی لین دین نہیں کر سکتے تھے مگر انہوں نے بڑے وسیع پیمانے پر سودی کاروبار شروع کر دیا تھا۔
(۲) اپنی مالی حیثیت مضبوط کرنے کے بعد کافی تعداد میں ہتھیار اور گھوڑے جمع کر کے یمن اور مدینہ منورہ پر حملہ کی تیاریاں کر رہا تھے کہ حضرت عمرؓ کو باوثوق ذرائع سے اس کی اطلاع ہو گئی۔
چونکہ یہ لوگ معاہدہ کے پابند نہ رہے تھے اور اسلامی سلطنت کے دارالحکومت مدینہ منورہ پر براہ راست حملہ کی تیاریوں اور سازشوں میں ملوث تھے، ان کی اسلامی حکومت سے بغاوت و غداری پایہ ثبوت کو پہنچ چکی تھی، اس لیے حضرت عمرؓ نے نجران اور اس کے آس پاس کے دیہی علاقہ کے گورنر یعلیؓ بن منیہ کو حکم نامہ بھیجا کہ ان کو شہر بدر کر دیا جائے یعنی ان کو نجران سے دوسرے شہروں میں منتقل کر دیا جائے۔ حسب الحکم یہ لوگ نجران سے شام و عراق کی طرف منتقل کر دیے گئے، کچھ شام میں جا کر آباد ہوئے اور اکثر عراق کے صوبہ کوفہ کے دیہاتوں میں سکونت پذیر ہوئے۔
آج اگر کسی حکومت کی ہم قوم و ہم مذہب رعایا کا یہ کردار ہوتا تو وہ اس کو غدار قرار دے کر قتل یا سزائے موت سے کم کسی سزا پر اکتفا نہ کرتی اور اگر کوئی شخص یہ مطالبہ کرتا کہ ان لوگوں کو صرف شہر بدر کر کے چھوڑ دیا جائے تو حکومت کی نگاہ میں اس شخص کی ملکی و قومی وفاداری مشتبہ ہو جاتی اور اس پر حکومت غداروں کی ہمنوائی، پشت پناہی کا فتوٰی صادر کر کے قابل گردن زنی قرار دے کر ساتھ ہی دھر لیتی۔ لیکن اسلامی حکومت کے تیسرے سربراہ عمر فاروقؓ کا اپنی باغی غیر مسلم رعایا (جس کے ماضی و حال کے بھیانک کردار سے اچھی طرح واقف ہیں) اس کے ساتھ طرزعمل بھی دیکھیے جو اقوامِ عالم کے لیے قابلِ رشک اور قابلِ تقلید ہے۔ ان کی اجتماعیت کو ختم کرنے ،ان کو اس مرکز و قلعہ کو توڑنے کے لیے صرف دوسرے شہروں میں منتقل کر دینے کی سزا تو تجویز کرتے ہیں مگر نہ وہ اس جرم کی وجہ سے معاہدہ کو کالعدم قرار دیتے ہیں، نہ قتل کرتے ہیں اور نہ کوئی دوسری اذیت پہنچاتے ہیں۔ پھر معاہدہ شکنی اور اس عظیم جرم کے ارتکاب کی وجہ سے ان کے مذہبی، جانی، مالی حقوق کا تحفظ بھی ضروری نہیں رہا تھا، اور اگر وہ تحفظ نہ کرتے تو یہ معاہدہ کی خلاف ورزی ہوتی اور نہ اصول دنیا کی۔
مگر اسلامی حکومت کے اس فرمانروا کی فراخدلی، وسعت، حوصلہ، اخلاقی بلندی اور انسانیت نوازی کو سلام کیجئے اور داد دیجئے کہ انہوں نے نجرانیوں کو شام و عراق کی طرف منتقل کرنے کے بعد شام و عراق کے گورنروں کو نہ صرف یہ کہ ان کی حفاظت کی طرف توجہ دلائی بلکہ ان کے پورے پورے حقوق ادا کرنے کے لیے نہایت تاکید کے ساتھ ہدایات بھیجیں، اور بطور ثبوت و سند کے خود نجرانیوں کو ایک دستاویز لکھ دی تاکہ یہ کسی علاقہ میں جائیں تو یہ دستاویز دیکھ کر وہاں کے گورنر سے حقوق طلبی کر سکیں۔
حضرت عمر فاروقؓ نے شام و عراق کے گورنروں کو اہلِ نجران کے متعلق اپنے خصوصی ایلچی کے ذریعے مندرجہ ذیل ہدایات جاری کیں، آپ نے لکھا:
’’بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
یہ دستاویز عمر امیر المومنین نے اہلِ نجران کے لیے لکھی ہے کہ ان میں سے جو کوئی اپنا گھر بار چھوڑ کر چلا جائے گا وہ خدا کی امان میں رہے گا۔ کوئی مسلمان اس کو نقصان نہیں پہنچائے گا اور اس عہد کا پوری طرح پاس کیا جائے گا جو پیغمبر محمدؐ اور ابوبکرؓ نے ان سے کیا تھا۔ واضح ہو کہ امرائے شام و عراق میں سے جس کے پاس نجران کے عیسائی جائیں گے، وہ ان کو کاشت کے لیے زمین دیں گے، اور جتنی زمین وہ جوت، بو لیں گے وہ صدقۃ لوجہ اللہ اور نجران میں چھوڑی ہوئی اراضی کے عوض ان کی ہو جائے گی۔ اس کو جوتنے، بونے اور اپنے تصرف میں رکھنے سے کوئی ان کے آڑے نہ آئے گا اور نہ ان کو کوئی نقصان یا ضرر پہنچائے گا۔ اگر کوئی ان پر ظلم و ستم کرے تو جو مسلمان موقع پر ہو اس کا فرض ہے کہ ان کی حمایت کرے، کیونکہ اسلام نے ان کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے۔ نئی جگہ آنے کے چوبیس ماہ تک جزیہ سے بھی ان کو معافی دی جاتی ہے، ان کے ساتھ نہ ظلم کیا جائے گا نہ زیادتی۔‘‘ (کتاب الخراج ص ۷۳، بحوالہ حضرت عمرؓ کے سرکاری خطوط ص ۱۱۸)
حضرت عثمانؓ کے دور تک کوفہ سے تقریباً چالیس میل دور مشرق میں نجرانیوں کی ایک دیہاتی بستی آباد ہو چکی تھی جس کا نام نجرانیہ تھا۔ مقامی طور پر مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہو گئی، ان کو وہاں سے نکالنے کے لیے مسلمانوں نے حضرت عثمانؓ سے شکایت کی، دوسری طرف ۲۷ھ میں ایک نجرانی وفد حضرت عثمانؓ سے ملا اور یہ شکایات پیش کیں:
(۱) یہ ماحول ہمارے موافق نہیں ہے، ہمیں ستایا اور ذلیل کیا جاتا ہے۔
(۲) ہمارے ہم وطنوں کے بکھر جانے کی وجہ سے اجتماعی آمدنی کم ہو گئی ہے، اس لیے چالیس ہزار روپے فراہم کرنے میں ہمیں دقت ہوتی ہے۔
حضرت عثمانؓ نے ان کی باتیں پوری توجہ اور ہمدردی سے سنیں اور ولید بن عقبہ گورنر کوفہ کو فرمان بھیجا، آپ نے لکھا:
’’بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
بندہ خدا عثمان امیر المومنین کی طرف سے ولید بن عقبہ کو سلام علیک۔ میں اس معبود کا سپاس گزار ہوں جس کے سوا کوئی دوسرا عبادت کے لائق نہیں۔
واضح ہو  کہ اسقف (بشپ، لاٹ پادری) عاقب اور نجرانیوں کے اکابر، جو اس وقت عراق میں مقیم ہیں، مجھ سے ملے اور اپنی مشکلات کی شکایت کی، اور مجھے عمرؓ کی وہ تحریر دکھائی جس میں یمن میں متروکہ اراضی کے عوض نجرانیوں کو عراق اور شام میں اراضی دینے کا حکم دیا تھا۔ تم اس بدعنوانی سے بھی واقف ہو جو مسلمانوں نے ان کے ساتھ کی ہے۔ ان سب باتوں کے پیشِ نظر میں نے ان کے جزیہ میں سے تیس حلے (چھ سو روپے) کی تخفیف کر دی ہے۔ اور میں سفارش کرتا ہوں کہ ان کو وہ اراضی دے دی جائے جو عمرؓ نے ان کو عراق سے دلوائی تھی۔ اور اس کے علاوہ لوگوں کو اچھی طرح سمجھا دو کہ ان کے ساتھ ہمدردی سے پیش آئیں کیونکہ یہ ذمی ہیں جن کے ساتھ حسنِ سلوک کا ہم نے ذمہ لیا ہے۔ اس کے علاوہ میری ان لوگوں سے پرانی واقفیت بھی ہے، تم وہ تحریر خود بھی دیکھنا جو عمرؓ نے ان کو لکھ دی تھی اور جو وعدہ اس میں کیا گیا ہے اس کو پورا کرنا۔ پڑھنے کے بعد یہ تحریر نجرانیوں کو لوٹا دینا (تاکہ وقتِ ضرورت ان کے کام آئے) (والسلام)‘‘۔ (کتاب الخراج ص ۴۳، بحوالہ حضرت عثمانؓ کے سرکاری خطوط ص۱۳۳)
اسلامی حکومت کے اس چوتھے فرمانروا حضرت عثمانؓ کے عدل و انصاف، رعایا کے درمیان ’’مساوات‘‘ کا اس سے اندازہ کیجئے کہ ان کے پاس مسلمان بھی شکایت کرتے ہیں اور نجرانی عیسائی بھی۔ دونوں فریقوں کا مقدمہ جب سامنے آتا ہے تو عثمان غنیؓ مسلمانوں کی شکایت پر نہ عیسائیوں کو وہاں سے نکالتے ہیں اور نہ عیسائیوں کے مقابلہ میں مسلمانوں سے ترجیحی سلوک کرتے ہیں۔ بلکہ عیسائیوں کی درخواست سن کر ان کی دستاویز دیکھ کر ان کی مقبوضہ اراضی کو محفوظ کر دیتے ہیں، اور جو ابھی تک قبضہ میں نہیں آئی تھی اس کے قبضہ دلانے کے لیے آرڈر بھیجتے ہیں۔ ان مسلمانوں کی طرف سے کی گئی زیادتی و بدعنوانی کا سدباب کر کے ہمدردی، خیرخواہی اور حسنِ سلوک کے لیے اللہ و رسول اور مسلمانوں کی ذمہ داری یاد دلا کر ان کے ساتھ اپنی پرانی واقفیت و شناسائی کو بطور سفارش پیش کرتے ہیں۔

بائبل بے خطا اور بے عیب نہیں

کیپٹن اسلم محمود

۳ اپریل ۱۹۹۱ء کو اٹک کے جناب کیپٹن اسلم محمود نے ہمیں زیر نظر خط کی فوٹو کاپی بغرضِ اشاعت ارسال فرمائی اور لکھا کہ
’’انگلستان کی کیمبرج یونیورسٹی کے سڈنی سسکس (Sidney Sussex) کالج کے شعبہ دینیات کے سربراہ پال ہاکنز (Rev. Paul Hawkins) ہمارے کرم فرما ہیں، اور دینی شعبہ میں اگر تحقیق کے درمیان کوئی مشکل مقام آ جائے تو میں ان کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ مورخہ ۳۰ مئی کو انہوں نے میرے خط کے جواب میں ایک خط تحریر فرمایا جس کی فوٹو کاپی آپ کی خدمت میں ارسال کر رہا ہوں۔‘‘
ہم اس خط کی اشاعت میں اس قدر تاخیر پر جناب کیپٹن اسلم محمود صاحب اور اپنے قارئین سے معذرت خواہ ہیں۔ بہرحال، اصل خط کا عکس مع اردو ترجمہ کے قارئین کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ ترجمہ ادارہ کی طرف سے کیا گیا ہے جبکہ انجیل یوحنا کے متنازعہ پیراگراف سے متعلقہ حواشی کیپٹن اسلم محمود صاحب ہی کے ایک مضمون (’’انجیلِ مقدس میں ایک مسلمہ تحریف‘‘ شائع شدہ ماہنامہ المذاہب لاہور دسمبر ۱۹۸۹ء) سے ملخص کیے گئے ہیں۔
(مدیر)

’’ڈیئر کیپٹن محمود!
آپ کے خط مورخہ ۲۸ نومبر ۱۹۸۹ء کا شکریہ۔ آپ کو معلوم ہوا ہو گا میں مذکورہ بالا پتے پر منتقل ہو چکا ہوں، لیکن آخر کار آپ کا خط مجھ تک پہنچ گیا۔ 
میں نے یوحنا ۷ : ۵۳ تا ۸ : ۱۱ سے متعلق آپ کے سوال میں بہت دلچسپی لی ہے۔ کوئی  شخص حقیقتاً ان سوالات کے جواب سے آگاہ نہیں، لیکن غالباً یہ کہانی اس آزادانہ روایت کا ایک حصہ ہے جو اناجیل سے علیحدہ چند دہائیوں سے رائج الوقت تھی، جسے بعد میں یوحنا کی انجیل میں شامل کر دیا گیا۔ اس میں شبہ نہیں کہ یسوع کے متعلق کچھ ایسی کہانیں تھیں جن کی اشاعت کلیساؤں کے ذریعے سے بار بار ہوئی، لیکن ان کو اناجیل میں شامل نہیں کیا گیا۔ یہ کہانی (یعنی یوحنا ۷ : ۵۳ تا ۸ : ۱۱) اسی سلسلے کی ایک مثال ہے۔ یہ انجیل کے لاطینی اور یونانی نسخوں میں شامل ہے، اس لیے، باوجودیکہ یہ پہلی انجیل کا حصہ نہیں، اسے بہت جلد یوحنا کی انجیل میں شامل کر لیا گیا ہو گا۔ ہم نہیں جانتے کہ اس کا ذمہ دار کون تھا۔
بائبل کے صحائف کے بے عیب الہامی اور بے خطا ہونے سے متعلق آپ کے سوال کے بارے میں میں یہ کہوں گا کہ بائبل الہامی ہے لیکن بے خطا اور بے عیب یقیناً نہیں۔ یہ بالکل واضح بات ہے۔ نکتے کی بات، مجھے یقین ہے، یہ ہے کہ خدا انسانوں کے ذریعے سے کلام کرتا ہے اور انسان غلطیاں کرتے ہیں۔ لیکن خدا نے ابلاغ کا یہی طریقہ منتخب فرمایا ہے کہ وہ اپنے کلام اور انسانوں کے ذریعے سے ایسا کرے۔ اس لیے ہم کسی بھی صحیفے کو مطلقاً بے خطا نہیں مان سکتے۔ البتہ مجھے یقین ہے کہ یہ صحیفے الہامی ہیں اور ان کے ذریعے سے ہم خدا کو اپنے ساتھ کلام کرتا ہوا سن سکتے ہیں۔ میرے انداز نظر کے مطابق کم از کم یہی طریقہ ہے۔ مجھے امید ہے کہ یہ وضاحتیں آپ کے لیے دلچسپ ہوں گی اگرچہ بلاشبہ یہ ایک فرد کی آرا ہیں۔
مجھے امید ہے کہ آپ بخیریت ہوں گے اور میرا یہ خط بحفاظت آپ تک پہنچ جائے گا۔‘‘



اس پیرا گراف کے متعلق مزید آرا حسب ذیل ہیں:
بائبل و کلف کمنٹری میں اس موقع پر لکھا ہے:
’’نسخوں کی سند اس پیراگراف (بشمولیت ۵۳) کے حقیقی ہونے کے زبردست خلاف ہے۔ زبان بمشکل یوحنا کی ہے، تاہم کہانی سچی ضرور ہے۔ ابتدا میں چوتھی انجیل کے متن میں جگہ پا گئی۔‘‘
پادری سکافیلڈ اپنی ریفرنس بائبل میں لکھتے ہیں:
’’یہ آیات کچھ نہایت قدیم نسخوں میں نہیں ملتی ہیں۔ آگسٹین نے بتایا ہے کہ اس واقعہ کو مقدس کہانی کی کئی کاپیوں سے اس منافقانہ ڈر سے خارج کر دیا گیا تھا کہ اس سے بد اخلاقی کا سبق ملتا ہے۔‘‘
امریکن بائبل سوسائٹی، نیویارک کی شائع کردہ بائبل (جون ۱۹۷۸ء) میں اس پیراگراف پر یہ نوٹ لکھا ہے:
’’انتہائی قدیم اور معتبر ترین قلمی نسخوں میں یوحنا ۷ : ۵۳ تا ۸ : ۱۱ آیات موجود نہیں۔‘‘
آکسفورڈ بائبل (طبع ۱۹۸۱ء) میں ان آیات کو متن سے بالکل خارج کر دیا گیا ہے۔

آزادیٔ صحافت کے عالمی دن کے موقع پر گوجرانوالہ میں مجلسِ مذاکراہ

ادارہ

آزادیٔ صحافت کے عالمی دن کے موقع پر ۳ مئی ۱۹۹۴ء کو مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں ورلڈ اسلامک فورم کے زیر اہتمام ایک مجلس ِمذاکرہ کا اہتمام کیا گیا جس کی صدارت علامہ محمد احمد لدھیانوی نے کی اور علماء کرام اور دانشوروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ جبکہ گفتگو میں ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا زاہد الراشدی، گورنمنٹ کالج گوجرانوالہ کے شعبہ اردو کے استاذ پروفیسر غلام رسول عدیم، روزنامہ نوائے وقت کے گوجرانوالہ بیورو کے رکن جناب محمد شفیق، اور ممتاز صنعتکار الحاج ظفر علی ڈار نے حصہ لیا۔
پروفیسر غلام رسول عدیم نے اسلامی صحافت کے موجودہ کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ دینی جرائد کا معیار بہتر بنانے کی ضرورت ہے، اور اگر دینی رسالے طباعت اور ترتیب کے ساتھ ساتھ زبان و اسلوب کے لحاظ سے بھی جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہوں تو وہ معاشرہ میں اسلامی اقدار کی ترویج میں زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دینی جرائد کے مدیران اور کارکنان کو صحافت کی باقاعدہ تربیت حاصل کرنی چاہیے اور باہمی مشاورت و مفاہمت کو بھی فروغ دینا چاہیے۔ اسی طرح دینی جرائد کو دینی ترجیحات میں عالمِ اسلام کے مسائل و مشکلات اور قومی معاملات کو اولیت دینی چاہیے۔ انہوں نے اردو صحافت کی تاریخ پر بھی روشنی ڈالی اور سر سید احمد خان، مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا محمد علی جوہر، مولانا ظفر علی خان اور حمید نظامی (رحمہم اللہ تعالیٰ) کے صحافتی کردار کا تذکرہ کیا۔
مولانا زاہد الراشدی نے کہا کہ آزادیٔ صحافت کا مغربی تصور اسلامی اصولوں سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ کیونکہ اسلام زندگی کے دیگر شعبوں کی طرح صحافت کو بھی اخلاقی اقدار کا پابند بناتا ہے اور آزادی کے گرد حدود کا ایک واضح دائرہ کھینچتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک ظالم حکمرانوں کے خلاف کلمۂ حق بلند کرنے، ظلم کے خلاف جہاد اور اجتماعی معاملات میں اپنی رائے کو آزادانہ طور پر پیش کرنے کا تعلق ہے، اسلام نے ویسٹرن سولائزیشن سے صدیوں پہلے خلافتِ راشدہ کے دور میں اس کا واضح عملی نمونہ دنیا کے سامنے پیش کر دیا تھا، اور آج بھی اسلامی دنیا کے لیے آزادیٔ رائے کے حوالے سے وہی دور مشعلِ راہ ہے۔ مگر اس کے ساتھ ہی اسلام نے اشاعت و تبلیغ پر کچھ واضح قدغنیں بھی عائد کی ہیں۔ مثلاً قرآن کریم نے کہا ہے کہ معاشرہ میں فحاشی کی اشاعت کرنے والے عذابِ الیم کے مستحق ہیں، اسی طرح قرآن کریم نے شخصی اور گھریلو احوال کے تجسس سے روکا ہے، اور اس طرح کی پابندیوں کا اطلاق دیگر شعبوں کی طرح صحافت پر بھی ہوتا ہے۔
جناب محمد شفیق نے کہا کہ دینی صحافت میں کام کرنے والے اہلِ قلم کو الگ تشخص کے ساتھ ساتھ صحافت کے قومی دھارے میں بھی شریک ہونا چاہیے اور قومی اخبارات و جرائد میں لکھنے کا رجحان پیدا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ قومی صحافت کا دائرہ بہت وسیع ہے اور اس میں ایسے اصحابِ قلم کی ضرورت ہے جن کا دینی علم پختہ ہو اور جو دینی امور پر اعتماد کے ساتھ لکھ سکتے ہوں۔
الحاج ظفر علی ڈار صاحب نے کہا کہ ہم اجتماعی زندگی کے ہر شعبے میں اخلاقی پابندیوں سے آزاد ہوتے جا رہے ہیں، اس کے اثرات صحافت پر بھی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اخلاقی اور دینی لحاظ سے آج سے بیس سال قبل جو صورت حال تھی آج وہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم دینی اور اخلاقی پابندیوں کو قبول کیے بغیر زندگی کے کسی بھی شعبہ میں اصلاح نہیں کر سکتے، اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے دین کی طرف واپسی کریں اور اس کی عائد کردہ پابندیوں کے سامنے سرتسلیم خم کر دیں۔
صدر مجلس علامہ محمد احمد لدھیانوی نے کہا کہ قرآن کریم نے خبر کی قبولیت کے لیے تحقیق کو بنیاد قرار دیا ہے اور حکم دیا ہے کہ تمہارے پاس کوئی فاسق شخص خبر لائے تو اس خبر کو پھیلانے سے پہلے تحقیق کرو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ غیر مصدقہ خبر پوری قوم کے لیے باعث وبال بن جائے۔ قرآن کریم کے بیان کردہ اس اصول کو آج کی صحافتی زندگی میں زیادہ سے زیادہ اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافت کی تعلیم و تربیت میں قرآن و سنت کے بنیادی احکام اور ابلاغِ عامہ کے بارے میں اسلامی اصولوں کو شامل کرنا آج کا ایک اہم تقاضہ ہے، کیونکہ اسلامی تعلیمات و احکام سے آگاہی حاصل کر کے ہی ایک صحافی اپنی پیشہ وارانہ زندگی میں اسلامی اصولوں کے دائرہ کو ملحوظ رکھ سکتا ہے۔