- ان پر تہمت لگانا قابلِ تعزیر جرم ہو گا۔
- ان کی غیبت مسلمان کی غیبت کی طرح حرام ہو گی۔
- عدالتوں میں مسلم اور غیر مسلم کی حیثیت برابر ہو گی۔
- ملک و قوم کے وفادار ثابت ہو جانے کی صورت میں مسلم حکام کی صوابدید کے مطابق سرکاری عہدوں پر فائز ہو سکیں گے۔
- طے شدہ شرائط کی خلاف ورزی نہ کی جائے گی۔
- ان کو بلند مکان بنانے کی اجازت ہو گی۔
- ان کا قومی لباس تبدیل نہ کیا جائے گا۔
- ان سے ان کی طاقت سے زیادہ کام نہیں لیا جائے گا۔
- جو ان کا نکاح وغیرہ کا معاملہ اپنے دین کے مطابق ہو چکا ہو، مگر اسلام کے خلاف ہو، تو وہ اسی پر برقرار رہیں گے، اگرچہ وہ مسلمان بھی ہو جائیں۔
- اگر کوئی غیر مسلم حکومت اسلامی حکومت کو جزیہ دینا قبول کرے تو ان کی حکومت قائم رہے گی اور مسلمان ان کی ہر طرح حفاظت کریں گے۔
- ان کے ملک میں فوج کشی نہ کی جائے گی۔
- ان سے کسی عام معاشرتی یا اخلاقی جرم کے سرزد ہو جانے کی صورت میں مسلمانوں کی ذمہ داری ختم نہ ہو گی۔
اسلام کے سنہری دور میں اقلیتوں کے حقوق
شمالی یمن اور مکہ معظمہ کے مشرق میں سات منزل کے فاصلہ پر نجران ایک وسیع ضلع کا نام ہے، جس کی لمبائی تیز سوار کی ایک دن کی مسافت کے برابر تھی، اور تہتر بستیوں اور ایک لاکھ بیس ہزار فوج پر مشتمل تھا (ابن کثیر ص ۳۷ ج ۱)۔ یہاں کئی صدیوں سے عیسائی آباد تھے۔ انہوں نے اپنی مذہبی اور اقتصادی زندگی اچھی طرح منظم کر لی تھی۔ وہ زراعت اور مختلف قسم کی صنعتوں سے واقف تھے، جیسے پارچہ بافی اور ہتھیار سازی۔ یہاں پر عیسائیوں کا ایک عظیم الشان کلیسا بھی تھا جس کو وہ کعبہ کہتے تھے اور حرمِ کعبہ کا جواب سمجھتے تھے۔ اس میں بڑے بڑے مذہبی پیشوا رہتے تھے جن کا لقب سید اور عاقب تھا۔ عیسائیوں کا کوئی مرکز اس کا ہمسر نہ تھا۔ یہ کعبہ تین سو کھالوں سے گنبد کی شکل میں بنایا گیا تھا، جو شخص اس کی حدود میں آجاتا تھا وہ مامون ہو جاتا تھا۔ اس کعبہ کے اوقاف کی آمدنی دو لاکھ سالانہ تھی (سیرت النبی ج ۲)۔
۹ھ یا ۱۰ھ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نجران کے عیسائیوں کو دعوتِ اسلام کا خط لکھا جس کو مفسر ابن کثیر نے نقل کیا ہے۔ خط ملنے کے بعد نجران کے عیسائیوں کا ایک ایک معزز و موقر وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم اور نجرانی عیسائیوں کے درمیان جو معاہدہ طے پایا، وہ بقول امام زہریؒ، کسی غیر مسلم قوم کے جزیہ دے کر مسلم حکومت کی رعایا بننے کا سب سے پہلا واقعہ ہے (ابن کثیر ج ۱ ص ۳۷۰)۔ اس کی تفصیلی رپورٹ جو مورخین نے دی ہے وہ اس طرح ہے:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
(۱) یہ وہ معاہدہ ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اہلِ نجران کے لیے تحریر کیا۔
(۲) کیونکہ وہ اس کی حکومت کی ماتحتی قبول کر چکے ہیں۔
(۳) معاہدہ کی رو سے ان کی تمام مملوکہ اشیا سیاہ و سفید، سرخ و زرد، پھل اور غلام، جو فیصلہ کے وقت ان کی ملکیت میں ہیں، ان کے لیے محفوظ کی جاتی ہیں۔
(۴) اس شرط پر کہ وہ سالانہ دو ہزار حلے (یمنی چادروں کے دو جوڑے)، ایک ہزار ماہ صفر میں اور ایک ہزار ماہ رجب میں، ادا کرتے رہیں گے۔
(۵) ہر حلہ کی قیمت ایک کامل اوقیہ (تقریباً بیس روپے) ہو گی۔
(۶) حلوں کی کمی بیشی کا حساب اوقیوں سے ہو گا۔ (یعنی دو ہزار اوقیہ کی قیمت کے حلے ہوں خواہ کم یا زیادہ)۔
(۷) جو اونٹ، گھوڑے یا زرہیں وہ دیں گے وہ بھی اسی حساب سے لی جائیں گی۔
(۸) اہلِ نجران کی ذمہ داری ہو گی کہ میرے فرستادہ ٹیکس وصول کنندہ لوگوں کی بیس دن کی مدت تک مہمانی کریں گے۔
(۹) یمن میں کوئی سازش یا بغاوت رونما ہو تو وہ ہمیں تیس گھوڑے، تیس اونٹ، تیس زرہیں عاریتاً دیں گے۔
(۱۰) میرے فرستادگان کو یہ لوگ جو اشیا عاریتاً دیں گے وہ تا ادائیگی ان چیزوں کے ضامن ہوں گے۔
(۱۱) نجران کے غیر مسلم باشندوں اور ان کے گرد و نواح کے لوگوں کے لیے اللہ و رسول کا ذمہ اور امان ہے۔
(۱۲) یہ ذمہ و پناہ ان کی جان، مذہب، زمین، مال اور عبادت گاہوں کے لیے ہے۔
(۱۳) ان کے حاضر و غائب کے لیے، ان کے کارواں اور قاصد کے لیے بھی پناہ ہے۔
(۱۴) ان تمام مذہبی شعائر میں، جن پر وہ اس وقت قائم ہیں، کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔
(۱۵) ان کے حقوق و مذہبی شعار اسی طرح باقی رہیں گے، ان میں کوئی تغیر و تبدل نہ ہو گا۔
(۱۶) ان کے سارے مذہبی عہدے باقی رہیں گے۔
(۱۷) ان کے کسی اسقف (لاٹ پادری) کو اس کے عہدے سے برطرف نہیں کیا جائے گا۔
(۱۸) ان کے کسی راہب کو رہبانیت سے الگ نہ کیا جائے گا۔
(۱۹) نہ کسی خادمِ کلیسا کو اس خدمت سے محروم کیا جائے گا۔
(۲۰) ان مذہبی پیشواؤں کے قبضہ میں جو تھوڑا بہت ہو گا وہ محفوظ رہے گا۔
(۲۱) ان پر جاہلیت کے زمانہ کے کسی خون یا عہد کی ذمہ داری نہیں ہے۔
(۲۲) ان کو فوجی خدمت پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔
(۲۳) ان سے عشر نہیں لیا جائے گا۔
(۲۴) ان کی زمین کو کوئی لشکر پامال نہ کرے گا۔
(۲۵) نہ جزیہ لینے کے لیے ان کو جمع کیا جائے گا، بلکہ محصل خود جا کر وصول کرے گا۔
(۲۶) کسی حق کے مطالبہ کی صورت میں ان کے ساتھ ایسا انصاف ہو گا کہ نجران میںٖ یہ لوگ نہ ظالم ہوں گے نہ مظلوم۔
(۲۷) جو ان میں سے سود کھائے گا وہ میری ذمہ داری و امان سے خارج ہو جائے گا۔
(۲۸) ان میں سے کوئی آدمی کسی دوسرے کے ظلم کی وجہ سے نہ پکڑا جائے گا۔
(۲۹) ان کے لیے اس امان نامہ میں جو کچھ ہے، اس پر اللہ تعالیٰ کی پناہ اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذمہ ہے، اس وقت تک کے لیے کہ اللہ کا حکم آئے۔
(۳۰) سب خیر خواہی برتیں اور ان حقوق کو ادا کرتے رہیں جن کا عہد کیا گیا ہے۔
(۳۱) ان پر کوئی ذرا برابر ظلم و زیادتی نہ ہو گی۔
گواہ شد
۱۔ ابو سفیان بن حرب
۲۔ غیلان بن عمرو
۳۔ مالک بن عوف
۴۔ اقرع بن حابس حنظلی، مغیرہ
(کتاب الخراج ص ۳۴۷، فتوح البلدان ص ۷۲، کتاب الاموال بحوالہ اسلام کا نظامِ امن)
معاہدہ پر ایک نظر
کسی قوم کے بنیادی حقوق چار چیزوں سے متعلق ہوتے ہیں: (۱) مذہب (۲) جان (۳) مال (۴) اور عزت۔ اس معاہدہ میں اہلِ نجران کی ان چاروں اشیا کی حفاظت کی ضمانت موجود ہے۔
اسلام مسلمان حکمرانوں میں غیر مسلم رعایا کے بارے میں جس دیانت و امانت کو چاہتا ہے اس کا اندازہ معاہدہ کی شق ۱۸ اور شق ۱۰ سے کیا جا سکتا ہے کہ ان کی جو چیز عاریتاً لیں اس کی واپسی کی ذمہ داری بھی لیں۔ نہ تو یہ اس چیز کو ضائع کر سکتے ہیں اور نہ واپسی کے وقت ان کو تکلیف دیں گے، بلکہ ان کے ہاں پہنچانے کا خود بندوبست کرنا ہو گا۔
پھر ان کے علاقہ میں جا کر زبردستی ان سے مہمانی نہیں کھا سکتے، اور یہ کہ معاہدہ میں مہمانی کا معاملہ طے ہو چکا ہو پھر معاہدہ ہونے کے باوجود مقررہ دنوں میں ان سے کھانا کھا سکیں گے، اس کے بعد اپنا انتظام کرنا ہو گا اور ان سے ان کی رضامندی کے بغیر ایک لقمہ کھانا بھی حرام ہو گا۔
چونکہ اس قوم نے اپنے مذہب کے چھوڑنے سے انکار کیا تھا، اس لیے معاہدہ میں ان کے مذہب و مذہبی شعار کی چیزوں کے تحفظ کو دوبارہ دوہرایا گیا ہے۔ ان کو عدل و انصاف مہیا کرنے اور ظلم و ستم نہ کرنے کا بھی متعدد بار یقین دلایا گیا ہے۔
ان کی عزت نفس کا اتنا احترام ملحوظ رکھا گیا ہے کہ جزیہ ادا کرنے کے لیے خود ان کو نہیں آنا پڑے گا بلکہ تحصیلدار خود ان سے جا کر وصول کرے گا۔ اور جزیہ کی وصولی کے بارے میں اتنی نرمی برتی گئی ہے کہ اصل طے شدہ جزیہ تو دو ہزار اوقیہ (چالیس ہزار روپے) سالانہ تھا مگر ازراہ سہولت یہ اختیار کیا گیا ہے کہ چاہیں تو اتنی قیمت کے دو ہزار حلے یا اونٹ، گھوڑے اور زرہ میں سے جو میسر ہو سکتے ہیں وہ دے دیں تاکہ نقدی کے نہ ہونے یا کم ہو جانے کی صورت میں جزیہ کی ادائیگی میں ان کو پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اور جو جزیہ کی مقدار مقرر کی گئی ہے ان کی آبادی اور آمدنی کے مقابلہ میں کوئی زیادہ نہیں۔ کیونکہ نجران کا علاقہ ۷۳ گاؤں پر مشتمل تھا تو اس لحاظ سے ایک گاؤں پر ایک ہزار روپے سالانہ سے بھی کم ٹیکس پڑتا ہے۔
پھر ان سب مراعات و حقوق کی تحریری دستاویز تیار کرنے کے باوجود ان کے مزید اطمینان و اعتماد کے لیے سب سے زیادہ جو وثوق و اعتماد کی چیز ہے یعنی ’’اللہ و رسول کی ذمہ داری‘‘ اس کی ضمانت دے کر اس پر صحابہ کرامؓ کے دستخط ثبت کرائے جاتے ہیں۔
سال یا چھ ماہ بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ۱۱ھ میں انتقال ہو گیا۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ خلیفہ ہوئے تو نجرانی عیسائیوں کا ایک وفد دستاویز کی توثیق کرانے اور اپنی وفاداری کا یقین دلانے کے لیے مدینہ آیا۔ حضرت صدیقؓ نے توثیق کر دی۔ دورِ فاروقی کے ابتدائی سالوں میں بھی یہی معاہدہ زیرعمل رہا، لیکن کچھ سال بعد ان لوگوں نے عہد شکنی کی۔
(۱) معاہدہ کی رو سے وہ سودی لین دین نہیں کر سکتے تھے مگر انہوں نے بڑے وسیع پیمانے پر سودی کاروبار شروع کر دیا تھا۔
(۲) اپنی مالی حیثیت مضبوط کرنے کے بعد کافی تعداد میں ہتھیار اور گھوڑے جمع کر کے یمن اور مدینہ منورہ پر حملہ کی تیاریاں کر رہا تھے کہ حضرت عمرؓ کو باوثوق ذرائع سے اس کی اطلاع ہو گئی۔
چونکہ یہ لوگ معاہدہ کے پابند نہ رہے تھے اور اسلامی سلطنت کے دارالحکومت مدینہ منورہ پر براہ راست حملہ کی تیاریوں اور سازشوں میں ملوث تھے، ان کی اسلامی حکومت سے بغاوت و غداری پایہ ثبوت کو پہنچ چکی تھی، اس لیے حضرت عمرؓ نے نجران اور اس کے آس پاس کے دیہی علاقہ کے گورنر یعلیؓ بن منیہ کو حکم نامہ بھیجا کہ ان کو شہر بدر کر دیا جائے یعنی ان کو نجران سے دوسرے شہروں میں منتقل کر دیا جائے۔ حسب الحکم یہ لوگ نجران سے شام و عراق کی طرف منتقل کر دیے گئے، کچھ شام میں جا کر آباد ہوئے اور اکثر عراق کے صوبہ کوفہ کے دیہاتوں میں سکونت پذیر ہوئے۔
آج اگر کسی حکومت کی ہم قوم و ہم مذہب رعایا کا یہ کردار ہوتا تو وہ اس کو غدار قرار دے کر قتل یا سزائے موت سے کم کسی سزا پر اکتفا نہ کرتی اور اگر کوئی شخص یہ مطالبہ کرتا کہ ان لوگوں کو صرف شہر بدر کر کے چھوڑ دیا جائے تو حکومت کی نگاہ میں اس شخص کی ملکی و قومی وفاداری مشتبہ ہو جاتی اور اس پر حکومت غداروں کی ہمنوائی، پشت پناہی کا فتوٰی صادر کر کے قابل گردن زنی قرار دے کر ساتھ ہی دھر لیتی۔ لیکن اسلامی حکومت کے تیسرے سربراہ عمر فاروقؓ کا اپنی باغی غیر مسلم رعایا (جس کے ماضی و حال کے بھیانک کردار سے اچھی طرح واقف ہیں) اس کے ساتھ طرزعمل بھی دیکھیے جو اقوامِ عالم کے لیے قابلِ رشک اور قابلِ تقلید ہے۔ ان کی اجتماعیت کو ختم کرنے ،ان کو اس مرکز و قلعہ کو توڑنے کے لیے صرف دوسرے شہروں میں منتقل کر دینے کی سزا تو تجویز کرتے ہیں مگر نہ وہ اس جرم کی وجہ سے معاہدہ کو کالعدم قرار دیتے ہیں، نہ قتل کرتے ہیں اور نہ کوئی دوسری اذیت پہنچاتے ہیں۔ پھر معاہدہ شکنی اور اس عظیم جرم کے ارتکاب کی وجہ سے ان کے مذہبی، جانی، مالی حقوق کا تحفظ بھی ضروری نہیں رہا تھا، اور اگر وہ تحفظ نہ کرتے تو یہ معاہدہ کی خلاف ورزی ہوتی اور نہ اصول دنیا کی۔
مگر اسلامی حکومت کے اس فرمانروا کی فراخدلی، وسعت، حوصلہ، اخلاقی بلندی اور انسانیت نوازی کو سلام کیجئے اور داد دیجئے کہ انہوں نے نجرانیوں کو شام و عراق کی طرف منتقل کرنے کے بعد شام و عراق کے گورنروں کو نہ صرف یہ کہ ان کی حفاظت کی طرف توجہ دلائی بلکہ ان کے پورے پورے حقوق ادا کرنے کے لیے نہایت تاکید کے ساتھ ہدایات بھیجیں، اور بطور ثبوت و سند کے خود نجرانیوں کو ایک دستاویز لکھ دی تاکہ یہ کسی علاقہ میں جائیں تو یہ دستاویز دیکھ کر وہاں کے گورنر سے حقوق طلبی کر سکیں۔
حضرت عمر فاروقؓ نے شام و عراق کے گورنروں کو اہلِ نجران کے متعلق اپنے خصوصی ایلچی کے ذریعے مندرجہ ذیل ہدایات جاری کیں، آپ نے لکھا:
’’بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
یہ دستاویز عمر امیر المومنین نے اہلِ نجران کے لیے لکھی ہے کہ ان میں سے جو کوئی اپنا گھر بار چھوڑ کر چلا جائے گا وہ خدا کی امان میں رہے گا۔ کوئی مسلمان اس کو نقصان نہیں پہنچائے گا اور اس عہد کا پوری طرح پاس کیا جائے گا جو پیغمبر محمدؐ اور ابوبکرؓ نے ان سے کیا تھا۔ واضح ہو کہ امرائے شام و عراق میں سے جس کے پاس نجران کے عیسائی جائیں گے، وہ ان کو کاشت کے لیے زمین دیں گے، اور جتنی زمین وہ جوت، بو لیں گے وہ صدقۃ لوجہ اللہ اور نجران میں چھوڑی ہوئی اراضی کے عوض ان کی ہو جائے گی۔ اس کو جوتنے، بونے اور اپنے تصرف میں رکھنے سے کوئی ان کے آڑے نہ آئے گا اور نہ ان کو کوئی نقصان یا ضرر پہنچائے گا۔ اگر کوئی ان پر ظلم و ستم کرے تو جو مسلمان موقع پر ہو اس کا فرض ہے کہ ان کی حمایت کرے، کیونکہ اسلام نے ان کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے۔ نئی جگہ آنے کے چوبیس ماہ تک جزیہ سے بھی ان کو معافی دی جاتی ہے، ان کے ساتھ نہ ظلم کیا جائے گا نہ زیادتی۔‘‘ (کتاب الخراج ص ۷۳، بحوالہ حضرت عمرؓ کے سرکاری خطوط ص ۱۱۸)
حضرت عثمانؓ کے دور تک کوفہ سے تقریباً چالیس میل دور مشرق میں نجرانیوں کی ایک دیہاتی بستی آباد ہو چکی تھی جس کا نام نجرانیہ تھا۔ مقامی طور پر مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہو گئی، ان کو وہاں سے نکالنے کے لیے مسلمانوں نے حضرت عثمانؓ سے شکایت کی، دوسری طرف ۲۷ھ میں ایک نجرانی وفد حضرت عثمانؓ سے ملا اور یہ شکایات پیش کیں:
(۱) یہ ماحول ہمارے موافق نہیں ہے، ہمیں ستایا اور ذلیل کیا جاتا ہے۔
(۲) ہمارے ہم وطنوں کے بکھر جانے کی وجہ سے اجتماعی آمدنی کم ہو گئی ہے، اس لیے چالیس ہزار روپے فراہم کرنے میں ہمیں دقت ہوتی ہے۔
حضرت عثمانؓ نے ان کی باتیں پوری توجہ اور ہمدردی سے سنیں اور ولید بن عقبہ گورنر کوفہ کو فرمان بھیجا، آپ نے لکھا:
’’بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
بندہ خدا عثمان امیر المومنین کی طرف سے ولید بن عقبہ کو سلام علیک۔ میں اس معبود کا سپاس گزار ہوں جس کے سوا کوئی دوسرا عبادت کے لائق نہیں۔
واضح ہو کہ اسقف (بشپ، لاٹ پادری) عاقب اور نجرانیوں کے اکابر، جو اس وقت عراق میں مقیم ہیں، مجھ سے ملے اور اپنی مشکلات کی شکایت کی، اور مجھے عمرؓ کی وہ تحریر دکھائی جس میں یمن میں متروکہ اراضی کے عوض نجرانیوں کو عراق اور شام میں اراضی دینے کا حکم دیا تھا۔ تم اس بدعنوانی سے بھی واقف ہو جو مسلمانوں نے ان کے ساتھ کی ہے۔ ان سب باتوں کے پیشِ نظر میں نے ان کے جزیہ میں سے تیس حلے (چھ سو روپے) کی تخفیف کر دی ہے۔ اور میں سفارش کرتا ہوں کہ ان کو وہ اراضی دے دی جائے جو عمرؓ نے ان کو عراق سے دلوائی تھی۔ اور اس کے علاوہ لوگوں کو اچھی طرح سمجھا دو کہ ان کے ساتھ ہمدردی سے پیش آئیں کیونکہ یہ ذمی ہیں جن کے ساتھ حسنِ سلوک کا ہم نے ذمہ لیا ہے۔ اس کے علاوہ میری ان لوگوں سے پرانی واقفیت بھی ہے، تم وہ تحریر خود بھی دیکھنا جو عمرؓ نے ان کو لکھ دی تھی اور جو وعدہ اس میں کیا گیا ہے اس کو پورا کرنا۔ پڑھنے کے بعد یہ تحریر نجرانیوں کو لوٹا دینا (تاکہ وقتِ ضرورت ان کے کام آئے) (والسلام)‘‘۔ (کتاب الخراج ص ۴۳، بحوالہ حضرت عثمانؓ کے سرکاری خطوط ص۱۳۳)
اسلامی حکومت کے اس چوتھے فرمانروا حضرت عثمانؓ کے عدل و انصاف، رعایا کے درمیان ’’مساوات‘‘ کا اس سے اندازہ کیجئے کہ ان کے پاس مسلمان بھی شکایت کرتے ہیں اور نجرانی عیسائی بھی۔ دونوں فریقوں کا مقدمہ جب سامنے آتا ہے تو عثمان غنیؓ مسلمانوں کی شکایت پر نہ عیسائیوں کو وہاں سے نکالتے ہیں اور نہ عیسائیوں کے مقابلہ میں مسلمانوں سے ترجیحی سلوک کرتے ہیں۔ بلکہ عیسائیوں کی درخواست سن کر ان کی دستاویز دیکھ کر ان کی مقبوضہ اراضی کو محفوظ کر دیتے ہیں، اور جو ابھی تک قبضہ میں نہیں آئی تھی اس کے قبضہ دلانے کے لیے آرڈر بھیجتے ہیں۔ ان مسلمانوں کی طرف سے کی گئی زیادتی و بدعنوانی کا سدباب کر کے ہمدردی، خیرخواہی اور حسنِ سلوک کے لیے اللہ و رسول اور مسلمانوں کی ذمہ داری یاد دلا کر ان کے ساتھ اپنی پرانی واقفیت و شناسائی کو بطور سفارش پیش کرتے ہیں۔