معزز ارکان سینٹ و قومی اسمبلی، اسلامی جمہوریہ پاکستان!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
گزارش ہے کہ ان دنوں قومی حلقوں میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کے حوالے سے مختلف امور زیر بحث ہیں۔ اخباری اطلاعات کے مطابق وفاقی کابینہ کی خصوصی کمیٹی دستور کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہے اور توقع کی جاتی ہے کہ پارلیمنٹ میں حکومت کی طرف سے چند روز تک آئینی ترامیم کا ایک نیا بل سامنے آنے والا ہے۔ اس موقع پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ زیر بحث امور کے بارے میں دینی نقطۂ نظر سے چند ضروری گزارشات آپ کی خدمت میں پیش کی جائیں تاکہ پاکستان کے اسلامی تشخص اور دستور پاکستان کی نظریاتی بنیاد کے تحفظ کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے آپ پورے شعور و ادراک کے ساتھ اس اہم بحث میں شریک ہو سکیں۔ امید ہے کہ یہ معروضات آپ کی سنجیدہ توجہ سے محروم نہیں رہیں گی۔
آٹھویں آئینی ترمیمی بل
آٹھویں آئینی ترمیمی بل کی منسوخی کے بارے میں بعض سیاسی حلقوں کی طرف سے زور دیا جا رہا ہے اور وجہ یہ بیان کی جا رہی ہے اس ترمیم کے تحت صدر مملکت کو قومی اسمبلی توڑنے کا غیر مشروط اختیار حاصل ہے جس کے استعمال کا نشانہ گزشتہ تین اسمبلیاں بن چکی ہیں اس لیے ضروری ہے کہ صدر کے ان خصوصی اختیارات پر نظر ثانی کر کے صدر اور وزیراعظم کے درمیان اختیارات کا توازن قائم کیا جائے۔
جہاں تک اختیارات کے توازن کا تعلق ہے اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن یہ بات پیش نظر رکھنا انتہائی ضروری ہے کہ آٹھویں ترمیم کے خاتمہ اور سابقہ پوزیشن کی بحالی سے یہ توازن قائم نہیں ہوگا بلکہ الٹ جائے گا۔ کیونکہ اس صورت میں وزیراعظم مطلق العنان اور صدر بے اختیار ہو جائے گا جو کہ سربراہ مملکت کے منصب اور وقار کے منافی ہے۔ اس لیے صدر اور وزیراعظم کے اختیارات میں حقیقی توازن کے قیام کے لیے اعتدال کی راہ اختیار کرنا ہی قومی مفاد کا تقاضہ ہے۔
آٹھویں آئینی ترمیم کے حوالہ سے یہ بات بھی ارکان پارلیمنٹ کے پیش نظر رہنا ضروری ہے کہ یہ ترمیم دراصل صدر جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم کے دورِ اقتدار میں ان کی طرف سے کیے جانے والے آئینی و قانونی اقدامات کو دستوری تحفظ فراہم کرنے کے لیے کی گئی تھی جن میں
- قراردادِ مقاصد کو دستور کا باقاعدہ حصہ بنانا،
- قذف اور زنا کی شرعی حد کا نفاذ،
- چوری اور ڈاکہ کی شرعی حد کا نفاذ،
- اسلامی قانون شہادت،
- زکوٰۃ و عشر آرڈیننس،
- احترام رمضان آرڈیننس،
- امتناع قادیانیت آرڈیننس،
- جداگانہ الیکشن کا قانون،
- اور وفاقی شرعی عدالت کا قیام شامل ہیں۔
ان اقدامات کو آٹھویں ترمیم کی وجہ سے دستوری تحفظ حاصل ہے اور اس ترمیم کے خاتمہ کی صورت میں یہ تمام امور کالعدم ہو جائیں گے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ نفاذ اسلام کی سمت ہونے والی اس پیش رفت کو بچایا جائے اور آٹھویں ترمیم کے عنوان سے کوئی غیر محتاط قدم اٹھانے سے گریز کیا جائے۔
پارلیمنٹ کی خودمختاری
دستور پاکستان کے حوالے سے پارلیمنٹ کی خودمختاری بحال کرنے کا مسئلہ بھی زیر بحث ہے اور پارلیمنٹ کی خودمختاری کے منافی آئینی دفعات کو ختم کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔ اس سلسلہ میں عرض ہے کہ ہم بحیثیت مسلمان اپنے ایمان و عقیدہ کی رو سے قرآن و سنت کے احکامات کو قبول کرنے کے پابند ہیں اور دستور میں شامل ’’قرارداد مقاصد‘‘ کی رو سے بھی خدا تعالیٰ کی حاکمیت اعلیٰ کو تسلیم کرتے ہوئے اس کی مقرر کردہ حدود اور قرآن و سنت کے احکام کی پابندی کی ضمانت دی گئی ہے جس کی روشنی میں پارلیمنٹ کی مطلق خودمختاری کے مغربی تصور کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ قرارداد مقاصد کے علاوہ پارلیمنٹ کو قرآن و سنت کے مطابق قانون سازی کا پابند بنانے والی آئینی دفعات اور وفاقی شرعی عدالت کا قرآن و سنت کے منافی قوانین کو کالعدم قرار دینے کا اختیار بھی پارلیمنٹ کی غیر مشروط بالادستی کی راہ میں حائل ہے۔ غالباً انہی دفعات کو غیر موثر بنانے کے لیے پارلیمنٹ کو قانون سازی کا غیر مشروط اختیار دینے کی دفعہ آئین میں شامل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو خدانخواستہ کامیاب ہوگئی تو پاکستان اور دستور پاکستان کی اسلامی نظریاتی حیثیت ختم ہو جائے گی اور پاکستان ایک سیکولر ریاست کی حیثیت اختیار کر جائے گا۔ اس لیے اس بارے میں انتہائی تدبر، احتیاط اور بیدار مغزی سے مجوزہ آئینی ترمیمات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
آئین کے تضادات
کہا جاتا ہے کہ آئین میں تضادات ہیں جنہیں دور کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ بات درست ہے کیونکہ آئین میں خدا تعالیٰ کی حاکمیت اور قرآن و سنت کی بالادستی کو تسلیم کیے جانے کے باوجود ایسے تحفظات موجود ہیں جو انگریزی دور کی منحوس یادگار نوآبادیاتی نظام کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ اس لیے دستور کے حوالہ سے اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ نوآبادیاتی نظام کو پناہ دینے والے دستوری تحفظات کی نشاندہی کر کے ان سے نجات حاصل کی جائے تاکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کو ایک صحیح عملی اسلامی ریاست کی شکل دی جا سکے اور مملکت خداداد میں ایک فلاحی اور اسلامی معاشرہ کا قیام ممکن ہو۔
امید ہے کہ آپ ان گزارشات کو سنجیدہ توجہ سے نوازیں گے، بے حد شکریہ۔
ابوعمار زاہد الراشدی
خطیب مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ
چیئرمین ورلڈ اسلامک فورم لندن
حضرت تمیم دارمیؓ (المتوفیٰ ۴۰ھ) سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ
’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دین خیر خواہی کا نام ہے۔ ہم نے کہا کس کی خیر خواہی؟ تو آپؐ نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی، اس کی کتاب، اس کے رسول، مسلمانوں کے حکام اور عام مومنوں کی خیرخواہی‘‘ (مسلم ج ۱ ص ۵۴)۔
صحیح ابو عوانہ (جلد ۱ ص ۳۷) میں ہے کہ آپ نے تین دفعہ ’’انما الدین النصیحۃ‘‘ کا جملہ دہرایا۔ اور اسی طرح ابوداؤد (جلد ۲ ص ۳۲۰) میں ہے۔
اس صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ نصیحت اور خیر خواہی دین ہے۔ اس حدیث کی شرح اور تفسیر میں علمائے اسلام نے جو کچھ بیان کیا ہے وہ بھی ملاحظہ کر لیں۔
امام ابو سلیمان احمد بن محمد الخطابی الشافعیؒ (المتوفیٰ ۳۸۸ھ) اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں کہ
’’اللہ تعالٰی کے لیے نصیحت کا معنی یہ ہے کہ اس کی وحدانیت کے بارے میں اعتقاد صحیح ہو اور اس کی عبادت میں نیت خالص ہو۔ اس کی کتاب کے حق میں نصیحت یہ ہے کہ اس کی کتاب پر ایمان لائے اور جو کچھ اس میں درج ہے اس پر عمل کرے۔ اس کے رسول کی نصیحت کا یہ مطلب ہے کہ اس کی نبوت کی تصدیق کرے اور جس چیز کا انہوں نے حکم دیا اور جس چیز سے منع کیا ہے اس سلسلہ میں ان کی اطاعت کرے۔ اور ائمہ مسلمین کی نصیحت یہ ہے کہ حق کی بات میں ان کی فرمانبرداری کرے اور جب وہ ظلم پر کمربستہ ہوں تو ان کے خلاف تلوار لے کر خروج نہ کرے (یعنی ویسے زبانی جہاد کرے)۔ اور عامۃ المسلمین کی نصیحت یہ ہے کہ ان کے مصالح میں ان کی رہنمائی کرے۔‘‘ (معالم السنن ج ۷ ص ۲۷ طبع مصر)
اس کا مطلب یہ ہو اکہ لفظ نصیحت ایک ایسا جامع لفظ ہے جو اللہ تعالیٰ کی ذات مقدس سے لے کر عامۃ المسلمین تک ہر مقام پر حسبِ حال چسپاں ہوتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نصیحت اور خیرخواہی کو دین فرمایا ہے۔
حافظ زین الدین ابوالفرج عبد الرحمٰن ابن رجب الحنبلیؒ (المتوفٰی ۶۹۵ھ) اس حدیث کی شرح میں امام تقی الدین ابو عمرو عثمان المعروف بابن اصلاح الشافعیؒ (المتوفٰی ۶۴۳ھ) سے نقل کرتے ہیں کہ
’’نصیحت للہ یہ ہے کہ اس کی وحدانیت کا اقرار کیا جائے اور صفات کمال و جلال کے ساتھ اس کو موصوف سمجھا جائے، اور جو صفات ان کے برعکس ہیں ان سے اس کی ذات کو منزہ سمجھا جائے، اور اس کی نافرمانی سے گریز کیا جائے، اور اس کی اطاعت کی پابندی کی جائے، اور کمال اخلاص کے ساتھ اس کی محبت کی جائے، اور اس کی رضا کے لیے دوسروں سے محبت اور عداوت کی جائے، اور جو کافر باللہ ہے اس سے جہاد کیا جائے، اور جو امور ان کے مشابہ ہوں اور ان جملہ امور کی طرف دعوت دینا اور ان لوگوں کو آمادہ کرنا وغیرہ۔
اور نصیحت لکتابہ یہ ہے کہ اس پر ایمان لایا جائے، اور اس کی تعظیم کی جائے، اور اس کو غلط تاویلات سے بچایا جائے، اور اس کی تلاوت کی جائے، اور اس کے اوامر و نواہی پر وقوف حاصل کیا جائے، اور اس کی آیات پر تدبر کیا جائے، اور اس کی طرف دعوت دی جائے، اور غالی لوگوں کی تحریف سے اس کی مدافعت کی جائے، اور ملحدوں کے طعن سے اس کو محفوظ کیا جائے۔
اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نصیحت اور خیرخواہی کا معنٰی بھی اس کے قریب قریب ہے کہ ان پر اور جو چیز وہ لے کر آئے ہیں اس پر ایمان لائے، اور ان کی توقیر و تعظیم کی جائے، اور ان کی اطاعت پر پابندی کی جائے، اور ان کی سنت کو زندہ کیا جائے، اور آپ کے دشمنوں سے عداوت کی جائے، اور جو لوگ آپ سے اور آپ کی سنت سے محبت کرتے ہیں ان سے محبت کی جائے، اور آپ کے طور و طریق اور آداب کی پیروی کی جائے، اور آپ کی آل اور آپ کے اصحاب سے محبت کی جائے، اور اس کی مانند اور چیزیں عمل میں لائی جائیں۔
اور ائمۃ المسلمین کی نصیحت کا یہ مطلب ہے کہ حق میں ان کی امداد اور اطاعت کی جائے، اور نرمی اور شفقت کے ساتھ ان کو حق پر چلنے کی یاددہانی اور تنبیہ کی جائے، اور ان کی مخالفت سے کنارہ کشی کی جائے، اور ان کے حق میں توفیق کی دعا کی جائے، اور دوسروں کو اس پر آمادہ کیا جائے۔
اور عامۃ المسلمین کے حق میں نصیحت کا یہ مطلب ہے کہ ان کے مصالح میں ان کی رہنمائی کی جائے، اور ان کو دین و دنیا کے امور کی تعلیم دی جائے، اور ان کی پردہ پوشی کی جائے، اور ان کی حاجت براری کی جائے، اور ان کی دشمنوں کے مقابلہ میں امداد و مدافعت کی جائے، اور ان کے ساتھ مکر و حسد سے اجتناب کیا جائے، اور ان کے لیے وہی کچھ پسند کیا جائے جو اپنے لیے پسند کیا جاتا ہے، اور وہی کچھ ان کے لیے ناپسند کیا جائے جو اپنے لیے ناپسند کیا جاتا ہے، اور جو دیگر امور اس طرح کے ہوں۔‘‘
(جامع العلوم والحکم ص ۷۰ طبع مصر)
اس تفصیلی عبارت میں بھی نصیحت کا مطلب و مفہوم خوب آشکارا کیا گیا ہے اور اعلٰی ذات سے لے کر ادنٰی مخلوق تک کی ہمدردی اور بہی خواہی کا طریقہ بتلایا گیا ہے۔ امام محی السنۃ ابو زکریا یحیٰی بن شرف النووی الشافعیؒ (المتوفٰی ۲۷۶ھ) ’’النصیحۃ لکتابہ‘‘ کی شرح میں یہ بھی تحریر فرماتے ہیں کہ
’’اور تلاوت میں اس کے حرفوں کو درستی کرنا، اور محرفین کی تاویل کی اس سے مدافعت کرنا، اور اس پر طعن کرنے والوں کے طعن کا رد کرنا، اور جو کچھ اس میں ہے اس کی تصدیق کرنا، اور اس کے احکام پر وقوف حاصل کرنا، اور اس کے علوم کو سمجھنا۔‘‘
اور ’’النصیحۃ لرسولہ‘‘ کی شرح میں ارقام فرماتے ہیں کہ
’’آپ کی رسالت کی تصدیق کرنا، اور تمام ان احکام پر ایمان لانا جو آپ (منجانب اللہ) لائے ہیں، اور آپ کے امر و نہی میں آپ کی اطاعت کرنا، اور آپ کی زندگی میں اور بعد از وفات مدد کرنا، اور آپ کے دشمنوں سے دشمنی کرنا، اور آپ کے دوستوں سے دوستی کرنا، اور آپ کے حق کو بڑا سمجھنا، اور آپ کی توقیر کرنا، اور آپ کے طریقہ اور سنت کو زندہ کرنا، اور آپ کی دعوت کو پھیلانا، اور آپ کی شریعت کی نشرواشاعت کرنا، اور آپ کی شریعت پر (ملحدین) کی تہمت کو دور کرنا۔‘‘
(نووی شرح مسلم جلد ۱ ص ۵۴)
ان اقتباسات کے پیشِ نظر دیگر امور کے علاوہ عامۃ المسلمین کی خیر خواہی اور ان کے رشد و ہدایت کی فکر دین ہے۔ کیونکہ جب صحیح دین اور قرآن و سنت کے مطابق اعمال ان کے سامنے پیش کیے جائیں گے اور غلط اور باطل امور کی نشاندہی کی جائے گی تو عوام کے حق میں یہ نصیحت اور خیرخواہی ہو گی۔ کیونکہ وہ اپنے عقائد و اعمال کو درست کریں گے اور راہ راست پر گامزن ہو کر تقرب خداوندی حاصل کریں گے اور عذابِ الٰہی سے نجات پائیں گے، اور ان کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نقشِ قدم پر عمل پیرا ہو کر دنیا و آخرت کی خوشیاں نصیب ہوں گی اور آپ کی مخالفت سے بچ کر آتش دوزخ سے رستگاری ملے گی، اور حضراتِ انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کا یہی محبوب مشغلہ تھا کہ وہ ہر وقت مخلوقِ خدا کی بھلائی اور ان کی خیرخواہی کو ملحوظ رکھتے تھے، اور ہر دور کے علمائے حق کا یہی فریضہ رہا ہے۔
(۳۱ اگست ۱۹۹۳ء کو اسلامک سنٹر (سیلون روڈ، اپٹن پارک، لندن) میں ورلڈ اسلامک فورم کے زیراہتمام سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عنوان پر جلسہ عام منعقد ہوا جس کی صدارت مولانا مفتی عبد الباقی نے کی اور مولانا زاہد الراشدی، مولانا منظور الحسینی، مولانا محمد عیسٰی منصوری اور مولانا عبد الرشید رحمانی کے علاوہ جسٹس مولانا محمد تقی عثمانی نے ’’سیرت النبی اور انسانی حقوق‘‘ کے عنوان پر درج ذیل مفصل خطاب کیا۔)
حضرات علمائے کرام، جناب صدر محفل اور معزز حاضرین! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ ہمارے لیے یہ بڑی سعادت اور مسرت کا موقع ہے کہ آج اس محفل میں، جو نبی کریم سرور دو عالمؐ کے مبارک ذکر کے لیے منعقد ہے، ہمیں شرکت کی سعادت حاصل ہو رہی ہے۔ اور واقعہ یہ ہے کہ نبی کریم سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر جمیل انسان کی اتنی بڑی سعادت ہے کہ اس کے برابر اور کوئی سعادت نہیں۔ کسی شاعر نے کہا ہے ؏
ذکرِ حبیب کم نہیں وصلِ حبیب سے
اور حبیب کا تذکرہ بھی حبیب کے وصال کے قائم مقام ہوتا ہے اور اسی وجہ سے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس ذکر کو یہ فضیلت عطا فرمائی ہے کہ جو شخص ایک مرتبہ نبی کریم سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجے تو اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے دس رحمتیں اس پر نازل ہوتی ہیں۔ تو جس مجلس کا انعقاد اس مبارک تذکرہ کے لیے ہو اس میں شرکت، خواہ ایک مقرر اور بیان کرنے والے کی حیثیت میں ہو یا سامع کی حیثیت میں، ایک بڑی سعادت ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اس کی برکات ہمیں اور آپ کو عطا فرمائے۔
تذکرہ ہے نبی کریم سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کا۔ اور سیرتِ طیبہ ایک ایسا موضوع ہے کہ اگر کوئی شخص اس کے صرف ایک پہلو کو بھی بیان کرنا چاہے تو پوری رات بھی اس کے لیے کافی نہیں ہو سکتی، اس لیے کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود باوجود میں اللہ جل جلالہ نے تمام بشری کمالات، جتنے متصور ہو سکتے تھے، وہ سارے کے سارے جمع فرمائے۔ یہ جو کسی نے کہا تھا کہ ؎
حسنِ یوسف دمِ عیسٰی یدِ بیضا داری
آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری
تو یہ کوئی مبالغے کی بات نہیں تھی۔ سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم اس انسانیت کے لیے اللہ جل جلالہ کی تخلیق کا ایک ایسا شاہکار بن کر تشریف لائے تھے کہ جس پر کسی بھی حیثیت سے، کسی بھی نقطہ نظر سے غور کیجئے تو وہ کمال ہی کمال کا پیکر ہے۔ اس لیے آپ کی سیرت طیبہ کے کسی پہلو کو آدمی بیان کرے، کس کو چھیڑے، انسان کشمکش میں مبتلا ہو جاتا ہے ؎
زفرق تا بقدم ہر کجا کہ مے نگرم
کرشمہ دامن دل مے کشد کہ جا اینجا است
اور غالب مرحوم نے کہا تھا ؎
کہ غالب ثنائے خواجہ بہ یزداں گذاشتیم
کاں ذات پاک مرتبہ دان محمد است
انسان کے تو بس ہی میں نہیں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف و توصیف کا حق ادا کر سکے۔ ہمارے یہ ناپاک منہ، یہ گندی زبانیں اس لائق نہیں تھیں کہ ان کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لینے کی بھی اجازت دی جا سکتی، لیکن یہ اللہ جل و جلالہ کا کرم ہے کہ اس نے نہ صرف اجازت دی بلکہ اس سے راہنمائی اور استفادے کا بھی موقع عطا فرمایا۔ اس واسطے موضوعات تو سیرت کے بے شمار ہیں لیکن میرے مخدوم اور محترم حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب، اللہ ان کے فیوض کو جاری و ساری فرمائے، انہوں نے حکم دیا کہ سیرتِ طیبہ کے اس پہلو پر گفتگو کی جائے کہ نبی کریم سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم انسانی حقوق کے لیے کیا راہنمائی اور ہدایت لے کر تشریف لائے؟ اور جیسا کہ انہوں نے ابھی فرمایا، اس موضوع کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت پوری دنیا میں پروپیگنڈا کا بازار گرم ہے کہ اسلام کو عملی طور پر نافذ کرنے سے ہیومن رائٹس مجروح ہوں گے، انسانی حقوق مجروح ہوں گے، اور یہ پبلسٹی کی جا رہی ہے کہ گویا ہیومن رائٹس کا تصور پہلی بار مغرب کے ایوانوں سے بلند ہوا اور سب سے پہلے انسان کو حقوق دینے والے یہ اہلِ مغرب ہیں، اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی تعلیمات میں انسانی حقوق کا معاذ اللہ کوئی تصور موجود نہیں۔
تو یہ موضوع جب انہوں نے گفتگو کے لیے عطا فرمایا تو ان کی تعمیلِ حکم میں اسی موضوع پر آج اپنی گفتگو کو محصور کرنے کی کوشش کروں گا۔ لیکن موضوع ذرا تھوڑا سا علمی نوعیت کا ہے اور ایسا موضوع ہے کہ اس میں ذرا زیادہ توجہ اور زیادہ حاضر دماغی کی ضرورت ہے، تو اس سلسلہ میں آپ حضرات سے درخواست ہے کہ موضوع کی اہمیت کے پیشِ نظر اور اس کی نزاکت کو مدِنظر رکھتے ہوئے ذرا براہ کرم توجہ کے ساتھ سماعت فرمائیں، شاید اللہ تبارک و تعالیٰ ہمارے دل میں اس سلسلہ کے اندر کوئی صحیح بات ڈال دے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے، جس کا جواب دینا ضروری ہے، کہ آیا اسلام میں انسانی حقوق کا کوئی جامع تصور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی روشنی میں ہے یا نہیں؟ یہ سوال اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ یہ اس دور کا عجیب و غریب رجحان ہے کہ انسانی حقوق کا ایک تصور پہلے اپنی عقل، اپنی فکر، اپنی سوچ کی روشنی میں خود متعین کر لیا کہ یہ انسانی حقوق ہیں، یہ ہیومن رائٹس ہیں اور ان کا تحفظ ضروری ہے۔ اور (پھر) اپنی طرف سے خودساختہ جو سانچہ انسانی حقوق کا ذہن میں بنایا اس کو ایک معیارِ حق قرار دے کر ہر چیز کو اس معیار پر پرکھنے اور جانچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پہلے سے خود متعین کر لیا کہ فلاں چیز انسانی حق ہے اور فلاں چیز انسانی حق نہیں ہے۔ اور یہ متعین کرنے کے بعد اب دیکھا جاتا ہے کہ آیا اسلام یہ حق دیتا ہے کہ نہیں دیتا؟ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حق دیا کہ نہیں دیا؟ اگر دیا تو گویا ہم کسی درجہ میں اس کو ماننے کے لیے تیار ہیں، اگر نہیں دیاتو ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ لیکن ان مفکرین اور دانشوروں سے اور ان فکر و عقل کے سورماؤں سے میں ایک سوال کرنا چاہتا ہوں کہ یہ آپ نے جو اپنے ذہن سے انسانی حقوق کے تصورات مرتب کیے، یہ آخر کس بنیاد پر کیے؟ یہ کس اساس پر کیے؟ یہ جو آپ نے یہ تصور کیا کہ انسانی حقوق کا ایک پہلو یہ ہے، ہر انسان کو یہ حق ضرور ملنا چاہیے، یہ آخر کس بنیاد پر آپ نے کہا کہ ملنا چاہیے؟
انسانیت کی تاریخ پر نظر دوڑا کر دیکھیے تو ابتدائے آفرینش سے لے کر آج تک انسان کے ذہن میں انسانی حقوق کے تصورات بدلتے چلے آئے ہیں۔ کسی دور میں انسان کے لیے ایک حق لازمی سمجھا جاتا تھا، دوسرے دور میں اس حق کو بے کار قرار دے دیا گیا، تیسرے کسی ماحول کے اندر، ایک خطے میں ایک حق قرار دیا گیا، دوسری جگہ اس حق کو ناحق قرار دے دیا گیا۔ تاریخ انسانیت پر نظر دوڑا کر دیکھیے تو آپ کو یہ نظر آئے گا کہ جس زمانے میں بھی انسانی فکر نے حقوق کے جو سانچے تیار کیے ان کا پروپیگنڈا، ان کی پبلسٹی اس زور و شور کے ساتھ کی گئی کہ اس کے خلاف بولنے کو جرم قرار دے دیا گیا۔
حضور نبی کریم سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت دنیا میں تشریف لائے تو اس وقت انسانی حقوق کا ایک تصور تھا اور وہ تصور ساری دنیا کے اندر پھیلا ہوا تھا اور اسی تصور کو معیار حق قرار دیا جاتا تھا، ضروری قرار دیا جاتا تھا کہ یہ حق لازمی ہے۔ مثلاً میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں کہ اس زمانے میں انسانی حقوق ہی کے حوالے سے یہ تصور تھا کہ جو شخص کسی کا غلام بن گیا تو غلام بننے کے بعد صرف جان و مال اور جسم ہی اس کا مملوک نہیں ہوا بلکہ انسانی حقوق، انسانی مفادات کے ہر تصور سے وہ عاری ہو گیا۔ آقا کا یہ بنیادی حق ہے کہ اپنے غلام کے گردن میں طوق ڈالے اور اس کے پاؤں میں بیڑیاں پہنائی جائیں۔ یہ ایک تصور تھا، آپ کو اس کے اوپر پورا لٹریچر مل جائے گا اس زمانے کے اندر جنہوں نے اسے Justify کرنے (جائز قرار دینے) کے لیے اور اس کو مبنی بر انصاف قرار دینے کے لیے فلسفے پیش کیے تھے۔ یہ دور کی بات ہے، اسے جاہلیت کا زمانہ کہہ لیجئے کہ چودہ سو سال پہلے کی بات ہے، لیکن ابھی قریب سو ڈیڑھ سو سال پہلے کی بات لے لیجئے جب جرمنی اور اٹلی میں فاشزم نے اور نازی ازم نے سر اٹھایا۔ آج فاشزم اور نازی ازم کا نام گالی بن چکا اور دنیا بھر میں بدنام ہو چکا لیکن آپ ان کے فلسفے کو اٹھا کر دیکھیے جس بنیاد پر انہوں نے فاشزم کا تصور پیش کیا تھا اور نازی ازم کا تصور پیش کیا تھا۔ اس فلسفے کو خالص عقل کی بنیاد پر اگر آپ رد کرنا چاہیں تو آسان نہیں ہو گا۔ انہوں نے یہ تصور پیش کیا تھا کہ جو طاقتور ہے اس کا ہی یہ بنیادی حق ہے کہ وہ کمزور پر حکومت کرے۔ اور یہ طاقتور کے بنیادی حقوق میں شمار ہوتا ہے اور کمزور کے ذمہ واجب ہے کہ وہ طاقت کے آگے سر جھکائے۔ یہ تصور ابھی سو ڈیڑھ سو سال پہلے کی بات ہے۔
تو انسانی افکار کی تاریخ میں انسانی حقوق کے تصورات یکساں نہیں رہے، بدلتے رہے۔ کسی دور میں کسی ایک چیز کو حق قرار دیا گیا اور کسی دور میں کسی دوسری چیز کو حق قرار دیا گیا۔ اور جس دور میں جس قسم کے حقوق کے سیٹ کو یہ کہا گیا کہ یہ انسانی حقوق کا حصہ ہے، اس کے خلاف بات کرنا زبان کھولنا ایک جرم قرار پایا۔ تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ آج جن ہیومن رائٹس کے سیٹ کو کہا جا رہا ہے کہ ان ہیومن رائٹس کا تحفظ ضروری ہے، یہ کل کو تبدیل نہیں ہوں گے؟ کل کو ان کے درمیان انقلاب نہیں آئے گا؟ اور کون سی بنیاد ہے جو اس بات کو درست قرار دے سکے؟
حضور نبی کریم سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا انسانی حقوق کے بارے میں سب سے بڑا کنٹریبیوشن (Contribution) یہ ہے کہ آپؐ نے انسانی حقوق کے تعین کی صحیح بنیاد فراہم فرمائی۔ وہ اساس فراہم فرمائی جس کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ کون سے ہیومن رائٹس قابلِ تحفظ ہیں اور کون سے ہیومن رائٹس قابلِ تحفظ نہیں۔ اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ اللہ علیہ وسلم کی راہنمائی اور آپ کی ہدایت کو اساس تسلیم نہ کیا جائے تو اس دنیا کے پاس، اس کائنات کے پاس کوئی بنیاد نہیں ہے جس کی بنیاد پر وہ کہہ سکے کہ فلاں انسانی حقوق لازماً قابلِ تحفظ ہیں۔
میں آپ کو ایک لطیفے کی بات سناتا ہوں۔ آج سے تقریباً ایک سال پہلے یا کچھ مدت زیادہ ہو گئی ایک دن میں مغرب کی نماز پڑھ کر گھر میں بیٹھا ہوا تھا تو باہر سے کوئی صاحب ملنے کے لیے آئے۔ کارڈ بھیجا تو دیکھا اس کارڈ پر لکھا ہوا تھا کہ یہ ساری دنیا میں ایک مشہور ادارہ ہے جس کا نام ایمنسٹی انٹرنیشنل ہے، جو سارے انسانی بنیادی حقوق کے تحفظ کا علمبردار ہے، اس ادارے کا ایک ڈائریکٹر پیرس سے پاکستان آئے تھے وہ ملنا چاہتے تھے۔ خیر میں نے بلا لیا، پہلے سے کوئی اپوائنٹمنٹ نہیں تھی، کوئی پہلے سے وقت نہیں لیا تھا، اچانک آگئے اور پاکستان کی وزارت خارجہ کے ایک ذمہ دار افسر بھی ان کے ساتھ تھے۔
آپ کو یہ معلوم ہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل وہ ادارہ ہے جو انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے اور آزادیٔ تقریر و تحریر کے لیے علمبردار کہا جاتا ہے اور پاکستان میں جو بعض شرعی قوانین نافذ ہوئے یا مثلاً قادیانیوں کے سلسلے میں پابندیاں عائد کی گئیں تو ایمنسٹی انٹرنیشنل کی طرف سے اس پر اعتراضات و احتجاجات کا سلسلہ رہا۔
تو یہ صاحب تشریف لائے، انہوں نے آ کر مجھ سے کہا کہ میں آپ سے اس لیے ملنا چاہتا ہوں کہ میرے ادارے نے مجھے سا بات پر مقرر کیا ہے کہ میں آزادیٔ تحریر و تقریر اور انسانی حقوق کے سلسلے میں ساؤتھ ایسٹ ایشیا کے ممالک کی رائے عامہ کا سروے کروں، یعنی یہ معلوم کروں کہ جنوب مشرقی ایشیا کے مسلمان انسانی حقوق، آزادیٔ تحریر و تقریر اور آزادیٔ اظہارِ رائے کے بارے میں کیا خیالات رکھتے ہیں اور وہ کس حد تک اس معاملہ میں ہم سے تعاون کرنے پر آمادہ ہیں۔ اس کا سروے کرنے کے لیے میں پیرس سے آیا ہوں اور اس سلسلے میں آپ سے انٹرویو چاہتا ہوں۔ ساتھ ہی انہوں نے معذرت بھی کہ کہ چونکہ میرے پاس وقت کم تھا اس لیے میں پہلے وقت نہیں لے سکا لیکن میں چاہتا ہوں کہ میرے چند سوالات کا آپ جواب دیں تاکہ اس کی بنیاد پر اپنی رپورٹ مرتب کر سکوں۔
تو میں نے ان صاحب سے پوچھا کہ آپ کب تشریف لائے؟ کہا کہ میں کل ہی پہنچا ہوں۔ میں نے کہا، آئندہ کیا پروگرام ہے؟ فرمانے لگے کہ کل مجھے اسلام آباد جانا ہے۔ میں نے کہا، اس کے بعد؟ کہا کہ اسلام آباد ایک یا دو دن ٹھہر کر پھر میں دہلی جاؤں گا۔ میں نے کہا کہ وہاں کتنے دن قیام فرمائیں گے؟ کہا، دو دن۔ میں نے کہا، پھر اس کے بعد؟ کہا کہ اس کے بعد مجھے ملائیشیا جانا ہے۔ تو میں نے کہا، کل آپ کراچی تشریف لائے اور آج شام کو اس وقت میرے پاس تشریف لائے، کل صبح آپ اسلام آباد چلے جائیں گے، آج کا دن آپ نے کراچی میں گزارا، تو آپ نے کیا کراچی کی رائے عامہ کا سروے کر لیا؟ تو اس سوال پر وہ بڑا سٹپٹائے۔ کہنے لگے اتنی دیر میں واقعی پورا سروے تو نہیں ہو سکتا تھا لیکن اس مدت کے اندر میں نے کافی لوگوں سے ملاقات کی اور تھوڑا بہت اندازہ مجھے ہو گیا۔ تو میں نے کہا، آپ نے کتنے لوگوں سے ملاقات کی؟ کہا کہ پانچ افراد سے میں ملاقات کر چکا ہوں، چھٹے آپ ہیں۔ میں نے کہا، چھ افراد سے ملاقات کرنے کے بعد آپ نے کراچی کا سروے مکمل کر لیا۔ اب اس کے بعد کل اسلام آباد تشریف لے جائیں گے اور وہاں ایک دن قیام فرمائیں گے، چھ آدمیوں سے وہاں پھر آپ کی ملاقات ہو گی۔ چھ آدمیوں سے ملاقات کے بعد اسلام آباد کی رائے عامہ کا سروے ہو جائے گا، اس کے بعد دو دن دہلی تشریف لے جائیں گے، دو دن دہلی کے اندر کچھ لوگوں سے ملاقاتیں کریں گے تو وہاں کا سروے آپ کا ہو جائے گا۔ تو یہ بتائیے کہ یہ سروے کا کیا طریقہ ہے؟ تو وہ کہنے لگے آپ کی بات معقول ہے، واقعتاً جتنا وقت مجھے دینا چاہیے تھا اتنا میں دے نہیں پا رہا۔ مگر میں کیا کروں کہ میرے پاس وقت کم تھا۔ تو میں نے کہا معاف فرمائیے، اگر وقت کم تھا تو کس ڈاکٹر نے آپ کو مشورہ دیا تھا کہ آپ سروے کریں؟ اس لیے کہ اگر سروے کرنا ہے تو پھر ایسے آدمی کو کرنا چاہیے جس کے پاس وقت ہو، جو لوگوں کے پاس جا کر مل سکے، لوگوں سے بات کر سکے، اگر وقت کم تھا تو پھر سروے کی ذمہ داری لینے کی ضرورت کیا تھی؟ تو کہنے لگے کہ بات تو آپ کی ٹھیک ہے لیکن بس ہمیں اتنا ہی وقت دیا گیا تھا اس لیے میں مجبور تھا۔
میں نے کہا، معاف فرمائیے مجھے آپ کے اس سروے کی سنجیدگی پر شک ہے، میں اس سروے کو سنجیدہ نہیں سمجھتا لہٰذا میں اس سروے کے اندر کوئی پارٹی بننے کے لیے تیار نہیں ہوں اور نہ آپ کے کسی سوال کا جواب دینے کے لیے تیار ہوں۔ اس لیے کہ آپ پانچ چھ آدمیوں سے گفتگو کرنے کے بعد یہ رپورٹ دیں گے کہ وہاں پر رائے عامہ یہ ہے۔ اس رپورٹ کی کیا قدر و قیمت ہو سکتی ہے؟ لہٰذا میں آپ کے کسی سوال کا جواب نہیں دے سکتا۔ وہ بڑا سٹپٹائے اور انہوں نے کہا کہ آپ کی بات ویسے ٹیکنیکلی صحیح ہے لیکن یہ کہ میں چونکہ آپ کے پاس ایک بات پوچھنے کے لیے آیا ہوں تو میرے کچھ سوالوں کا جواب آپ ضرور دے دیں۔ میں نے کہا نہیں، میں آپ کے کسی سوال کا جواب نہیں دوں گا، جب تک مجھے اس بات کا یقین نہ ہو جائے کہ آپ کا سروے واقعتاً علمی نوعیت کا ہے، سنجیدہ ہے اور علمی شرائط پوری کرتا ہے، تو میں اس سروے کے اندر کوئی پارٹی بننے کے لیے تیار نہیں ہوں، آپ مجھے معاف فرمائیں، میرے مہمان ہیں، میں آپ کی خاطر تواضع جو کر سکتا ہوں وہ کروں گا، باقی کسی سوال کا جواب نہیں دوں گا۔ میں نے کہا، بتا دیجئے اگر میری بات میں کوئی غیر معقولیت ہے تو مجھے سمجھا دیجئے کہ میرا موقف غلط ہے اور فلاں بنیاد پر غلط ہے۔ کہنے لگے بات تو آپ کی معقول ہے لیکن میں آپ سے ویسے برادرانہ طور پر چاہتا ہوں کہ آپ کچھ جواب دیں۔ میں نے کہا میں جواب نہیں دوں گا، البتہ آپ مجھے اجازت دیں تو میں آپ سے کچھ سوال کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا میں آپ سے اجازت طلب کر رہا ہوں اگر آپ اجازت دیں تو میں سوال کر لوں گا، اگر اجازت نہیں دیں گے تو میں بھی سوال نہیں کروں گا اور ہم دونوں کی ملاقات ہو گئی، بات ختم ہو گئی۔ کہنے لگے، نہیں آپ سوال کر لیجئے۔
تو میں نے کہا میں سوال آپ سے یہ کرنا چاہتا ہوں کہ آپ آزادیٔ اظہار ِ رائے اور انسانی حقوق کا عَلم لے کر چلے ہیں تو میں ایک بات آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ یہ آزادیٔ اظہارِ رائے جس کی آپ تبلیغ کرنا چاہتے ہیں اور کر رہے ہیں اور جس عَلم کو لے کر چلے ہیں، یہ آزادیٔ اظہارِ رائے Absolute یعنی مطلق ہے؟ اس پر کوئی قید کوئی پابندی کوئی شرط عائد نہیں ہوتی؟ یا یہ کہ آزادیٔ اظہارِ رائے پر کچھ قیود و شرائط بھی عائد ہونی چاہئیں؟ کہنے لگے میں آپ کا مطلب نہیں سمجھا۔ تو میں نے کہا، مطلب تو الفاظ سے واضح ہے۔ میں یہ آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ جس آزادیٔ اظہارِ رائے کی تبلیغ کرنا چاہتے ہیں تو کیا وہ ایسی ہے کہ جس شخص کی جو رائے ہو اس کا برملا اظہار کرے، اس کی برملا تبلیغ کرے، برملا اس کی طرف دعوت دے، اور اس پر کوئی روک ٹوک کوئی پابندی عائد نہ ہو؟ یہ مقصود ہے؟
اگر یہ مقصود ہے تو فرمائیے کہ ایک شخص یہ کہتا ہے کہ میری رائے یہ ہے کہ یہ دولت مند افراد انہوں نے بہت پیسے کما لیے اور غریب لوگ بھوکے مر رہے ہیں، لہٰذا ان دولت مندوں کے گھروں پر ڈاکہ ڈال کر اور ان کی دکانوں کو لوٹ کر غریبوں کو پیسہ پہنچانا چاہیے۔ اگر کوئی شخص دیانتدارانہ یہ رائے رکھتا ہو اور یہ رائے رکھ کر اس کی طرف تبلیغ کرے اور اس کا اظہار کرے، لوگوں کو دعوت دے کہ آپ آئیے اور میرے ساتھ شامل ہو جائیے۔ اور یہ جتنے دولت مند لوگ ہیں، روزانہ ان پر ڈاکہ ڈالا کریں گے، ان کا مال لوٹا کریں گے اور مال لوٹ کر غریبوں میں تقسیم کیا کریں گے؟ تو آپ ایسی اظہارِ رائے کی آزادی کے حامی ہوں گے یا نہیں؟ اور اس کی اجازت دیں گے کہ نہیں؟
کہنے لگے اس کی اجازت نہیں دی جائے گی کہ لوگوں کا مال لوٹ کر دوسروں میں تقسیم کر دیا جائے۔ تو میں نے کہا یہی میرا مطلب تھا کہ اگر اس کی اجازت نہیں دی جائے گی تو اس کا معنی یہ ہے کہ آزادیٔ اظہارِ رائے اتنی Absolute اتنی مطلق نہیں ہے کہ اس پر کوئی قید کوئی شرط کوئی پابندی عائد نہ کی جا سکے۔ کچھ نہ کچھ قید، شرط لگانی پڑے گی۔ کہنے لگے، ہاں کچھ نہ کچھ تو لگانی پڑے گی۔
تو میں نے کہا، مجھے یہ بتائیے کہ وہ قید و شرط کس بنیاد پر لگائی جائے گی اور کون لگائے گا؟ کس بنیاد پر یہ طے کیا جائے کہ فلاں قسم کی رائے کا اظہار کرنا تو جائز ہے اور فلاں قسم کی رائے کا اظہار کرنا جائز نہیں ہے؟ فلاں قسم کی تبلیغ جائز ہے اور فلاں قسم کی تبلیغ جائز نہیں ہے؟ اس کا تعین کون کرے گا اور کس بنیاد پر کرے گا؟ اس سلسلہ میں آپ کے ادارے نے کوئی علمی سروے کیا ہو اور علمی تحقیق کی ہو تو میں اس کو جاننا چاہتا ہوں۔ کہنے لگے کہ اس نقطۂ نظر سے پہلے ہم نے غور نہیں کیا۔ تو میں نے عرض کیا کہ دیکھیے! آپ اتنے بڑے مشن کو لے کر چلے ہیں، پوری انسانیت کو آزادیٔ اظہارِ رائے دلانے کے لیے، ان کو حقوق دلانے کے لیے، لیکن آپ نے بنیادی سوال نہیں سوچا کہ آخر آزادیٔ اظہارِ رائے کس بنیاد پر طے ہونی چاہیے؟ کیا اصول ہوں؟ کیا پرنسپلز ہوں؟ کیا شرطیں اور کیا قیود ہوں؟ تو کہنے لگے اچھا آپ ہی بتا دیجئے۔ تو میں نے کہا میں تو پہلے عرض کر چکا ہوں کہ میں کسی سوال جواب دینے بیٹھا ہی نہیں۔ میں تو آپ سے پوچھ رہا ہوں کہ آپ مجھے بتائیے کہ کیا قیود و شرائط ہونی چاہئیں اور کیا نہیں۔ میں نے تو آپ سے سوال کیا ہے کہ آپ کے نقطۂ نظر سے، آپ کے ادارے کے نقطۂ نظر سے کیا ہونا چاہیے؟
کہنے لگے میرے علم میں ابھی تک ایسا کوئی فارمولا نہیں ہے، ایک فارمولا ذہن میں آتا ہے کہ صاحب! ایسی آزادیٔ اظہارِ رائے جس میں Violence ہو جس میں دوسرے کے ساتھ تشدد ہو تو وہ نہیں ہونی چاہیے۔ میں نے کہا یہ تو آپ کے ذہن میں آیا کہ وائیلنس کی پابندی ہونی چاہیے، کسی اور کے ذہن میں کوئی اور بات بھی آ سکتی ہے کہ فلاں چیز کی آزادی بھی نہیں ہونی چاہیے۔ یہ کون طے کرے گا اور کس بنیاد پر طے کرے گا کہ کس قسم کی اظہارِ رائے کی کھلی چھٹی ہونی چاہیے، کس کی نہیں؟ اس کا کوئی فارمولا کچھ نہ کچھ معیار ہونا چاہیے۔ کہنے لگے، آپ سے گفتگو کے بعد یہ اہم سوال میرے ذہن میں آیا ہے اور میں اپنے ذمہ داروں تک اس کو پہنچاؤں گا اور اس کے بعد اس پر اگر کوئی لٹریچر ملا تو آپ کو بھیجوں گا۔ تو میں نے کہا ان شاء اللہ میں منتظر رہوں گا کہ اگر آپ اس کے اوپر کوئی لٹریچر بھیج سکیں اور اس کا کوئی فلسفہ بتا سکیں تو میں ایک طالب علم کی حیثیت میں اس کا مشتاق ہوں۔
جب وہ چلنے لگے، ان کو مجھ سے کوئی بات نہیں ملی تو اس وقت میں نے ان سے کہا کہ میں سنجیدگی سے آپ سے کہہ رہا ہوں، یہ بات مذاق کی نہیں ہے، سنجیدگی سے چاہتا ہوں کہ اس مسئلے پر غور کیا جائے، اس کے بارے میں آپ اپنا نقطۂ نظر بھیجیں، لیکن ایک بات میں آپ کو بتا دوں کہ جتنے آپ کے نظریات اور فلسفے ہیں، ان سب کو مدنظر رکھ لیجئے، کوئی ایسا متفقہ فارمولا آپ پیش کر نہیں سکیں گے جس پر ساری دنیا متفق ہو جائے کہ فلاں بنیاد پر اظہارِ رائے کی آزادی ہونی چاہیے اور فلاں بنیاد پر نہیں ہونی چاہیے۔ تو یہ میں آپ کو بتا دیتا ہوں اور اگر پیش کر سکیں تو میں منتظر ہوں۔ آج ڈیڑھ سال ہو گیا ہے کوئی جواب نہیں آیا۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ مجمل نعرے، یہ اجمالی نعرے کہ صاحب! ہیومن رائٹس ہونے چاہئیں، آزادیٔ اظہارِ رائے ہونی چاہیے، تحریر و تقریر کی آزادی ہونی چاہیے، یہ اجمالی نعرے، ان کی ایسی کوئی بنیاد جس پر ساری دنیا متفق ہو سکے اور جس کے بارے میں معقولیت سے کہا جا سکے کہ یہ ہے وہ بنیاد جو اس کو طے کر سکے، یہ کسی کے پاس نہیں ہے اور نہ ہو سکتی ہے۔ کیوں؟ اس واسطے کہ جو کوئی بھی یہ بنیادیں طے کرے گا وہ اپنی سوچ اور اپنی عقل کی بنیاد پر کرے گا۔ اور کبھی دو انسانوں کی عقل یکساں نہیں ہوتی، دو زمانوں کی عقلیں یکساں نہیں ہوتیں، دو گروپوں کی عقلیں یکساں نہیں ہوتیں، لہٰذا ان کے درمیان اختلاف رہا ہے، رہے گا، اور اس اختلاف کو ختم کرنے کا کوئی راستہ نہیں۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ انسانی عقل اپنی ایک لمیٹیشن رکھتی ہے، اس کی حدود ہیں، اس سے آگے وہ تجاوز نہیں کر پاتی۔
محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس پوری انسانیت کے لیے سب سے بڑا احسانِ عظیم یہ ہے کہ سرکار دو عالمؐ نے ان تمام معاملات کو طے کرنے کی وہ بنیاد فراہم کی ہے کہ کون سا حق قابلِ تحفظ ہے اور کون سا حق قابلِ تحفظ نہیں۔ اس کی واحد بنیاد یہ ہے کہ وہ ذات جس نے اس پوری کائنات کو پیدا کیا، وہ ذات جس نے انسانوں کو پیدا کیا، اسی سے پوچھو کہ کون سے انسانی حقوق قابلِ تحفظ ہیں اور کون سے انسانی حقوق قابلِ تحفظ نہیں؟ وہی بتا سکتا ہے، اس کے سوا کوئی نہیں بتا سکتا۔ اور اس ذات کے ساتھ، اس خالقِ کائنات کے ساتھ رشتہ جوڑا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ اور رشتہ جوڑا وحی کا، وہ مقام جہاں پر انسان کی عقل آ کر ناکارہ ہو جاتی ہے، بے کار ہو جاتی ہے، صحیح جواب نہیں دیتی، اس مقام پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وحی لے کر آتے ہیں اللہ جل جلالہ کی۔ اور وہ بتاتے ہیں کہ یہ ہے وہ بنیاد جس کی روشنی میں تم اپنے مسائل حل کر سکتے ہو۔
جو لوگ کہتے ہیں کہ پہلے ہمیں یہ بتاؤ کہ اسلام ہمیں کیا حقوق دیتا ہے، پھر ہم اسلام کو مانیں گے۔ میں نے کہا، اسلام کو تمہاری ضرورت نہیں۔ اگر اسلام کو اس وجہ سے ماننا کہ حقوق پہلے اپنے ذہن میں طے کر لیے کہ یہ حقوق جہاں ملیں گے وہاں جائیں گے، اور اس کے بعد پھر اسلام میں اس خاطر آتے ہو کہ یہ حقوق چونکہ اسلام میں مل رہے ہیں اس واسطے میں جا رہا ہوں، تو یاد رکھو اسلام کو تمہاری ضرورت نہیں۔ اسلام کا مفہوم یہ ہے کہ پہلے اپنی عاجزی، درماندگی اور شکستگی پیش کرو کہ ان مسائل کو حل کرنے میں ہماری عقل عاجز ہے اور سوچ عاجز ہے، ہمیں وہ بنیاد چاہیے جس کی بنیاد پر ہم مسائل کو حل کریں۔ جب آدمی اس نقطہ نظر سے اسلام کی طرف رجوع کرتا ہے تو پھر اسلام ہدایت و راہنمائی پیش کرتا ہے۔ ’’ھدًی لِلمتقین‘‘ یہ ہدایت متقین کے لیے ہے۔ متقین کے کیا معنی؟ متقین کے معنی یہ ہیں کہ جس کے دل میں طلب ہو، یہ ہو کہ ہم اپنی عاجزی کا اقرار کرتے ہیں، درماندگی کا اعتراف کرتے ہیں، پھر رجوع کرتے ہیں اپنے مالک اور خالق کے سامنے کہ آپ ہم بتائیے کہ ہمارے لیے کیا راستہ ہے۔ محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ پیغام لے کر آئے۔ لہٰذا یہ جو آج کی دنیا کے اندر ایک فیشن بن گیا کہ صاحب! پہلے یہ بتاؤ کہ ہیومن رائٹس کیا ملیں گے تب اسلام میں داخل ہوں گے، تو یہ طریقہ اسلام میں داخل ہونے کا نہیں ہے۔
سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اس امت کو پیغام دیا، دعوت دی تو آپ نے جتنے غیر مسلموں کو دعوت دی، کسی جگہ آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ اسلام میں آجاؤ تمہیں فلاں فلاں حقوق مل جائیں گے۔ بلکہ یہ فرمایا کہ میں تم کو اللہ جل جلالہ کی عبادت کی طرف دعوت دیتا ہوں ’’قولوا لا الٰہ الا اللہ تفلحون‘‘ یہ مادی منافع، مادی مصلحتوں اور مادی خواہشات کی خاطر اگر کوئی اسلام میں آنا چاہتا ہے تو درحقیقت اخلاص کے ساتھ صحیح راستہ تلاش نہیں کر رہا۔ پہلے وہ اپنی عاجزی کا اعتراف کرے کہ ہماری عقلیں ان مسائل کو حل کرنے سے عاجز ہیں۔
اور یاد رکھیے! یہ موضوع بڑا طویل ہے کہ عقلِ انسانی بیکار نہیں ہے، اللہ تعالیٰ نے جو ہمیں عقل عطا فرمائی یہ بڑی کارآمد چیز ہے۔ مگر یہ اس حد تک کارآمد ہے جب تک اس کو اس کی حدود میں استعمال کیا جائے، اور حدود سے باہر اگر اس کو استعمال کرو گے تو وہ غلط جواب دینا شروع کر دے گی۔ اس کے بعد اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک اور ذریعۂ علم عطا فرمایا ہے، اس کا نام وحی الٰہی ہے، جہاں عقل جواب دے جاتی ہے اور کارآمد نہیں رہتی، وحیٔ الٰہی اسی جگہ آ کر رہنمائی کرتی ہے۔
دیکھو! اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں آنکھ دی، کان دیے، یہ زبان دی۔ آنکھ سے دیکھ کر ہم بہت سی چیزیں معلوم کرتے ہیں، کان سے سن کر بہت سی چیزیں معلوم کرتے ہیں، زبان سے چکھ کر بہت ساری چیزیں معلوم کرتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کا اپنا ایک فنکشن رکھا ہے، ہر ایک کا اپنا عمل ہے، اس حد تک وہ کام دیتا ہے، اس سے باہر نہیں دیتا۔ آنکھ دیکھ سکتی ہے، سن نہیں سکتی، کوئی شخص یہ چاہے کہ میں آنکھ سے سنوں تو وہ احمق ہے۔ کان سن سکتا ہے دیکھ نہیں سکتا، کوئی شخص یہ چاہے کہ کان سے میں دیکھنے کا کام لوں تو وہ بے وقوف ہے، اس واسطے کہ یہ اس کام کے لیے پیدا نہیں ہوا۔ اور ایک حد ایسی آتی ہے جہاں نہ آنکھ کام دے رہی ہے نہ کان کام دے رہے ہیں نہ زبان کام دے رہی ہے۔ اس موقع کے لیے اللہ تعالیٰ نے عقل عطا فرمائی ہے کہ عقل انسان کی راہنمائی کرتی ہے۔
دیکھیے یہ کرسی ہمارے سامنے رکھی ہے، آنکھ سے دیکھ کر معلوم کیا کہ اس کے ہینڈل زرد رنگ کے ہیں، ہاتھ سے چھو کر معلوم کیا کہ یہ چکنے ہیں۔ لیکن تیسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ آیا خودبخود وجود میں آ گئی یا کسی نے اس کو بنایا؟ تو وہ بنانے والا میرے آنکھوں کے سامنے نہیں ہے، اس واسطے میری آنکھ بھی اس سوال کا جواب نہیں دے سکتی، میرا ہاتھ بھی اس سوال کا جواب نہیں دے سکتا، اس موقع کے لیے اللہ تعالیٰ نے تیسری چیز عطا فرمائی ہے جس کا نام عقل ہے۔ عقل سے میں نے سوچا کہ یہ جو ہینڈل ہے، یہ بڑے قاعدے کا بنا ہوا ہے، یہ خود سے وجود میں نہیں آ سکتا۔ کسی بنانے والے نے اس کو بنایا ہے۔ یہاں عقل نے میری راہنمائی کی ہے۔ لیکن ایک چوتھا سوال آگے چل کر یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کرسی کو کس کام (موقع) میں استعمال کرنا چاہیے، کس میں نہیں کرنا چاہیے؟ کہاں اس کو استعمال کرنے سے فائدہ ہو گا کہاں نقصان ہو گا؟ یہ سوال جو ہے اس سوال کا حل کرنے کے لیے عقل بھی ناکام ہو جاتی ہے۔
اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے ایک چوتھی چیز عطا فرمائی اور اس کا نام ہے وحیٔ الٰہی۔ وہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے وحی ہوتی ہے، وہ خیر اور شر کا فیصلہ کرتی ہے، وہ نفع اور نقصان کا فیصلہ کرتی ہے، جو بتاتی ہے کہ اس چیز میں خیر ہے اس میں شر ہے، اس میں نفع ہے اس میں نقصان ہے۔ وحی آتی ہی اس مقام پر ہے جہاں انسان کی عقل کی پرواز ختم ہو جاتی ہے۔ لہٰذا جب اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم آ جائے اور وہ اپنی عقل میں نہ آئے، سمجھ میں نہ آئے تو اس کی وجہ سے اس کو رد کرنا کہ صاحب! میری تو عقل میں نہیں آ رہا لہٰذا میں اس کو رد کرتا ہوں، تو یہ درحقیقت اس عقل کی اور وحیٔ الٰہی کی حقیقت ہی سے جہالت کا نتیجہ ہے۔ اسے سمجھ میں اس لیے نہیں آ رہا کہ اگر سمجھ میں آتا تو وحی آنے کی ضرورت کیا تھی؟ وحی تو آئی ہی اس لیے کہ تم اپنی تنہا عقل کے ذریعے اس مقام تک نہیں پہنچ سکتے تھے، اللہ تبارک تعالیٰ نے وحی کے ذریعے سے تمہاری مدد فرمائی۔ تو اس واسطے اگر عقل سے خودبخود فیصلہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ ایک حکم نازل کر دیتے بس کہ ہم نے تمہیں عقل دی ہے، عقل کے مطابق جو چیز اچھی لگے وہ کرو اور جو بری لگے اس سے بچ جاؤ۔ نہ کسی کتاب کی ضرورت نہ کسی رسول کی ضرورت نہ کسی پیغمبر کی ضرورت نہ کسی مذہب اور دین کی ضرورت۔ عقل دی اور اس عقل کے مطابق کام کرو۔ جب اللہ نے اس عقل دینے کے باوجود اس پر اکتفا نہیں فرمایا، رسول بھیجے، کتابیں اتاریں، وحی بھیجی، تو اس کے معنی یہ ہیں کہ تنہا عقل انسان کی راہنمائی کے لیے کافی نہیں تھی، اس کے بعد وحیٔ الٰہی اس لیے آئی۔
آج کل لوگ کہتے ہیں کہ صاحب ہمیں چونکہ اس کا فلسفہ سمجھ میں نہیں آیا لہٰذا ہم نہیں مانتے۔ تو وہ درحقیقت دین کی حقیقت ہی سے ناواقف ہیں، حقیقت سے جاہل ہیں، سمجھ میں آ ہی نہیں سکتا۔ اور یہیں سے ایک اور بات کا جواب مل جاتا ہے جو آج کل بڑی کثرت سے لوگوں کے ذہنوں میں پیدا ہوتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قرآن کریم نے چاند پر جانے کا کوئی طریقہ نہیں بتایا، خلا کو فتح کرنے کا کوئی فارمولا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں بتایا، یہ سب قومیں اس قسم کے فارمولے حاصل کر کے کہاں سے کہاں پہنچ گئیں اور ہم قرآن بغل میں رکھنے کے باوجود پیچھے رہ گئے، تو قرآن اور سنت نے یہ فارمولے کیوں نہیں بتلائے؟ جواب اس کا یہی ہے کہ اس لیے نہیں بتایا کہ وہ چیز تمہارے عقل کے دائرے کی تھی، اپنی عقل سے اور اپنے تجربے اور محنت سے جتنا آگے بڑھو گے اس کے اندر تمہیں انکشافات ہوتے چلے جائیں گے، وہ تمہارے عقل کے دائرے کی چیز تھی، عقل اس کا ادراک کر سکتی تھی۔ اس واسطے اس کے لیے نبی بھیجنے کی ضرورت نہیں تھی، اس کے لیے رسول بھیجنے کی ضرورت نہیں تھی، اس کے لیے کتاب نازل کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ لیکن کتاب اور رسول کی ضرورت تھی وہاں جہاں تمہاری عقل عاجز تھی۔ جیسے کہ انٹرنیشنل ایمنسٹی والے آدمی کی عقل عاجز تھی کہ بنیادی حقوق اور آزادیٔ تحریر و تقریر کے اوپر کیا پابندیاں ہونی چاہئیں، کیا نہیں ہونی چاہئیں۔
اس معاملے میں انسان کی عقل عاجز تھی، اس کے لیے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے۔ آپؐ نے بتایا کہ یہ حق ہے انسان کا جس کا تحفظ ضروری ہے، اور فلاں حق ہے جس کے تحفظ کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ تو اس لیے پہلے یہ سمجھ لو کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا انسانی حقوق کے سلسلے میں سب سے بڑا کنٹریبیوشن یہ ہے کہ انسانی حقوق کے تعین کی بنیاد فراہم فرمائی کہ کونسا انسانی حق پابندی کے قابل ہے اور کونسا نہیں۔
یہ بات اگر سمجھ میں آجائے تو اب سنیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا حقوق انسان کو عطا فرمائے۔ کن حقوق کو Recognize (تسلیم) کیا، کن حقوق کا تعین فرمایا اور پھر اس کے اوپر عمل کر کے دکھایا۔ آج کی دنیا میں ریکگنائز کرنے والے تو بہت، اور اس کا اعلان کرنے والے بہت، اس کے نعرے لگانے والے بہت، لیکن ان نعروں پر اور ان حقوق کے اوپر جب عمل کرنے کا سوال آ جائے تو وہی ڈھنڈورچی، جو یہ کہتے ہیں کہ انسانی حقوق قابلِ تحفظ ہیں، جب ان کا اپنا معاملہ آ جاتا ہے، اپنے مفاد سے ٹکراؤ پیدا ہو جاتا ہے تو دیکھیے پھر انسانی حقوق کس طرح پامال ہوتے ہیں۔
انسانی حقوق کا ایک تقاضا یہ ہے کہ اکثریت کی حکومت ہونی چاہیے۔ جمہوریت، سیکولر ڈیموکریسی۔ آج امریکہ کی ایک کتاب دنیا بھر میں بہت مشہور ہو رہی ہے ’’دی اینڈ آف ہسٹری اینڈ دی لاسٹ مین‘‘ آج کل کے سارے پڑھے لکھے لوگوں میں مقبول ہو رہی ہے، اس کی ساری تھیسس یہ ہے کہ انسان کی ہسٹری کا خاتمہ جمہوریت کے اوپر ہو گیا اور اب انسانیت کے عروج اور فلاح کے لیے کوئی نیا نظریہ وجود میں نہیں آئے گا۔ یعنی ختمِ نبوت پر ہم اور آپ یقین رکھتے ہیں، (لیکن ان کے خیال میں) اب یہ ختمِ نظریات ہو گیا کہ ڈیموکریسی کے بعد کوئی نظریہ انسانی فلاح کا وجود میں آنے والا نہیں ہے۔ ایک طرف تو یہ نعرہ ہے کہ اکثریت جو بات کہہ دے وہ حق ہے، اس کو قبول کرو، اس کی بات مانو، لیکن وہی اکثریت اگر الجزائر میں کامیاب ہو جاتی ہے اور انتخابات میں اکثریت حاصل کر لیتی ہے تو اس کے بعد جمہوریت باقی نہیں رہتی، پھر اس کا وجود جمہوریت کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔
تو نعرے لگا لینا اور بات ہے لیکن اس کے اوپر عمل کر کے دکھانا مشکل ہے۔ یہ نعرے لگا لینا بہت اچھی بات ہے کہ سب انسانوں کو ان کے حقوق ملنے چاہئیں، ان کو آزادیٔ اظہارِ رائے ہونی چاہیے اور لوگوں کو حقِ خودارادی ملنا چاہیے، اور یہ سب کچھ۔ لیکن جن لوگوں کا حقِ خودارادی پامال کر کے ان کے سر سے لے کر پاؤں تک ان کو جبر و تشدد کی چکی میں پیسا جا رہا ہے، ان کے بارے میں آواز اٹھاتے ہوئے زبان تھراتی ہے۔ اور وہی جمہوریت اور آزادی کے مناد، منادی کرنے والے، وہ ان کے خلاف کارروائیاں کرتے ہیں۔ تو بات صرف یہ نہیں ہے کہ زبان سے کہہ دیا جائے کہ انسانی حقوق کیا ہیں؟ بات یہ ہے کہ جو بات زبان سے کہو اس کو کر کے دکھاؤ۔ اور یہ کام کیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ آپ نے جو حق دیا اس پر عمل کر کے دکھایا۔
غزوۂ بدر کا موقع ہے اور حضرت حذیفہ بن یمانؓ اپنے والد ماجد کے ساتھ سفر کرتے ہوئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لیے مدینہ جا رہے ہیں۔ راستے میں ابوجہل کے لشکر سے ٹکراؤ ہو جاتا ہے اور ابوجہل کا لشکر کہتا ہے ہم تمہیں محمد (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس جانے نہیں دیں گے اس لیے کہ تم جاؤ گے تو ہمارے خلاف ان کے لشکر میں شامل ہو گے، ہمارے خلاف جنگ کرو گے۔ یہ بیچارے پریشان ہوتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لیے جانا تھا اور انہوں نے روک لیا۔ آخرکار انہوں نے کہا اس شرط پر تمہیں چھوڑیں گے کہ ہم سے وعدہ کرو۔ اس بات کا وعدہ کرو کہ جاؤ گے اور جانے کے بعد ان کے لشکر میں شامل نہیں ہو گے، ہم سے جنگ نہیں کرو گے۔ اگر یہ وعدہ کرتے ہو تو ہم تمہیں چھوڑتے ہیں۔ حضرت حذیفہؓ اور ان کے والدؓ نے وعدہ کر لیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صرف زیارت کریں گے، ان کے لشکر میں شامل ہو کر آپ سے لڑیں گے نہیں۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ گئے، جب کفار کے ساتھ جنگ کا وقت آیا۔ اور کیسی جنگ؟ ایک ہزار مکہ مکرمہ کے مسلح سورما اور اس کے مقابلے میں ۳۱۳ نہتے، جن کے پاس آٹھ تلواریں، دو گھوڑے، ستر اونٹ۔ آٹھ تلواروں کے سوا تین سو تیرہ آدمیوں کے پاس اور تلوار بھی نہیں تھی، کسی نے لاٹھی اٹھائی ہوئی ہے، کسی نے پتھر اٹھایا ہوا ہے۔ اس موقع پر ایک ایک آدمی کی قیمت تھی، ایک ایک انسان کی قیمت تھی۔ کسی نے کہا یا رسول اللہ! یہ نئے آدمی ہیں، آپ کے ہاتھ پر مسلمان ہوئے ہیں اور ان سے زبردستی معاہدہ کرایا گیا ہے، یہ وعدہ زبردستی لیا گیا کہ تم جنگ میں شامل نہیں ہو گے تو اس واسطے ان کو اجازت دے دیجئے کہ جہاد میں شامل ہو جائیں۔ اور جہاد بھی کونسا؟ یوم الفرقان، جس کے اندر شامل ہونے والا ہر فرد بدری بن گیا۔ جس کے بارے میں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کے سارے گناہ اگلے پچھلے معاف فرمائے ہیں۔ اتنا بڑا غزوہ ہو رہا ہے، حذیفہ بن یمانؓ چاہتے ہیں، دل مچل رہا ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شامل ہو جائیں۔
سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب یہ ہے کہ نہیں، ابو جہل کے لشکر سے وعدہ کر کے آئے ہو کہ جنگ نہیں کرو گے تو مومن کا کام وعدہ کی خلاف ورزی نہیں ہے، لہٰذا تم اس جنگ میں شامل نہیں ہو سکتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ میں شامل ہونے سے روک دیا۔ یہ ہے کہ جب وقت پڑے، اس وقت انسان اصول کو نبھائے۔ یہ نہیں کہ زبان سے تو کہہ دیا کہ ہم انسانی حقوق کے علمبردار ہیں اور ہیروشیما اور ناگاساکی پر بے گناہ بچوں کو بے گناہ عورتوں کو تہہ و بالا کر دیا کہ ان کی نسلیں تک معذور پیدا ہو رہی ہیں، اور جب جنگ کا اپنا وقت پڑ جائے تو اس میں کوئی اخلاق کوئی کردار دیکھنے والا نہ ہو۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانی حقوق بتائے بھی اور عمل کر کے بھی دکھایا۔ کیا حقوق؟ سنیے!
انسانی حقوق میں سب سے پہلا حق انسان کی جان کا حق ہے۔ ہر انسان کی جان کا تحفظ انسان کا بنیادی حق ہے کہ کوئی اس کی جان پر دست درازی نہ کرے ’’لا تقتلوا النفس التی حرم اللہ الا بالحق‘‘ کسی بھی جان کے اوپر دست درازی نہیں کی جا سکتی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دے دیا۔ اور کیا حکم دے دیا؟ کہ جنگ میں جا رہے ہو، کفار سے مقابلہ ہے، دشمن سے مقابلہ ہے، اس حالت میں بھی تمہیں کسی بچے پر ہاتھ اٹھانے کی اجازت نہیں، کسی عورت پر ہاتھ اٹھانے کی اجازت نہیں، بوڑھے پر ہاتھ اٹھانے کی اجازت نہیں۔ عین جہاد کے موقع پر بھی پابندی عائد کر دی گئی۔ یہ پابندی ایسی نہیں ہے کہ صرف زبانی جمع خرچ ہو، جیسا کہ میں نے ابھی بتایا کہ صاحب! زبانی طور پر تو کہہ دیا اور تہس نہس کر دیا سارے بچوں کو بھی اور عورتوں کو بھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جاں نثار صحابہ کرامؓ نے اس پر عمل کر دکھایا۔ ان کا ہاتھ کسی عورت پر نہیں اٹھا، ان کا ہاتھ کسی بچے پر نہیں اٹھا، ان کا ہاتھ کسی بوڑھے پر نہیں اٹھا، عمل کر کے دکھایا۔ یہ ہے جان کا تحفظ۔
مال کا تحفظ انسان کا دوسرا بنیادی حق ہے۔ ’’لا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطل‘‘ باطل کے ساتھ ناحق طریقے سے کسی کا مال نہ کھاؤ۔ اس پر عمل کر کے کیسے دکھایا؟ یہ نہیں ہے کہ تاویل کر کے، توجیہ کر کے مال کھا گئے کہ جب تک اپنے مفادات وابستہ تھے اس وقت تک بڑی دیانت تھی، بڑی امانت تھی، لیکن جب معاملہ جنگ کا آ گیا، دشمنی ہو گئی تو اب یہ ہے کہ صاحب تمہارے اکاؤنٹس منجمد کر دیے جائیں گے، تمہارے اکاؤنٹس فریز کر دیے جائیں گے۔ جب مقابلہ ہو گیا تو اس وقت میں حقوقِ انسانی غائب ہو گئے، اب مال کا تحفظ کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔
محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو مثال پیش وہ عرض کرتا ہوں۔ غزوہ خیبر ہے، یہودیوں کے ساتھ لڑائی ہو رہی ہے، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرامؓ کے ساتھ خیبر کے اوپر حملہ آور ہیں اور اس خیبر کے گرد محاصرہ کیے ہوئے ہیں۔ آنحضرتؐ کی آرمی پڑی ہوئی ہے خیبر کے قلعہ کے اردگرد، خیبر کے اندر ایک بے چارا چھوٹا سا چرواہا جو اجرت پر بکریاں چرایا کرتا تھا، اس کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ خیبر سے باہر آنحضرتؐ کا لشکر پڑا ہوا ہے تو جا کر دیکھوں تو سہی، آپؐ کا نام تو بہت سنا ہے محمدؐ، وہ کیا کہتے ہیں اور کیسے آدمی ہیں؟ بکریاں لے کر خیبر کے قلعے سے نکلا اور آنحضرتؐ کی تلاش میں مسلمانوں کے لشکر میں داخل ہوا۔ کسی سے پوچھا کہ بھائی محمدؐ کہاں ہیں؟ تو لوگوں نے بتایا کہ فلاں خیمے کے اندر ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ مجھے یقین نہیں آیا کہ اس خیمے کا اندر ،یہ کھجور کا معمولی سا خیمہ جھونپڑی، اس میں اتنا بڑا سردار اتنا بڑا نبی، وہ اس خیمے کے اندر ہے؟ لیکن جب لوگوں نے بار بار کہا تو اس میں چلا گیا۔ اب جب داخل ہوا تو سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے، جا کر کہا کہ یا رسول اللہ! آپؐ کیا پیغام لے کر آئے ہیں؟
آپؐ نے مختصرًا بتایا، توحید کے عقیدے کی وضاحت فرمائی۔ کہنے لگا اگر میں آپ کے اس پیغام کو قبول کر لوں تو میرا کیا مقام ہو گا؟ تو آنحضرتؐ نے فرمایا ہم تمہیں سینے سے لگائیں گے، تم ہمارے بھائی ہو جاؤ گے اور جو حقوق دوسروں کو حاصل ہیں وہ تمہیں بھی حاصل ہوں گے۔ کہنے لگا، آپ مجھ سے ایسی بات کرتے ہیں، مذاق کرتے ہیں، ایک کالا بھجنگ چرواہا سیاہ فام، میرے بدن سے بدبو اٹھ رہی ہے، اس حالت کے اندر آپ مجھے سینے سے لگائیں گے؟ فرمایا کہ ہاں ہم تہیں سینے سے لگائیں گے۔ کہا، یہاں تو مجھے دھتکارا جاتا ہے، میرے ساتھ اہانت آمیز برتاؤ کیا جاتا ہے، تو آپ یہ جو مجھے سینے سے لگائیں گے تو کس وجہ سے لگائیں گے؟ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اللہ کی مخلوق، اللہ کی نگاہ میں سب بندے برابر ہیں، اس واسطے ہم تمہیں سینے سے لگائیں گے۔ کہا کہ اگر میں آپ کی بات مان لوں، مسلمان ہو جاؤں تو میرا انجام کیا ہو گا؟ تو سرکار دو عالمؐ نے فرمایا کہ اگر اسی جنگ کے اندر مر گئے تو میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ تمہاری اس چہرے کی سیاہی کو تابانی سے بدل دے گا اور تمہارے جسم کی بدبو کو خوشبو سے بدل دے گا، میں گواہی دیتا ہوں۔ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ فرمایا، اس اللہ کے بندے کے دل پر اثر ہوا کہ اگر آپؐ یہ فرماتے ہیں تو ’’اشھد ان لا الٰہ الا اللہ واشھد ان محمدًا رسول اللہ‘‘ عرض کیا میں مسلمان ہو گیا اب جو حکم آپ دیں وہ کرنے کو تیار ہوں۔
سنیے! سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلا حکم اس کو کیا دیا؟ یہ نہیں دیا کہ نماز پڑھو، یہ نہیں دیا کہ روزہ رکھو، پہلا حکم یہ دیا کہ جو کسی کی بکریاں تم چرانے کے لیے لے کر آئے ہو یہ تمہارے پاس امانت ہیں، پہلے ان بکریوں کو واپس دے کر آؤ اور اس کے بعد آ کر پوچھنا کہ مجھے کیا کرنا ہے؟ بکریاں کس کی؟ یہودیوں کی۔ جن کے اوپر حملہ آور ہیں، جن کے ساتھ جنگ چھڑی ہوئی ہے، جن کا مالِ غنیمت چھینا جا رہا ہے۔ لیکن فرمایا کہ یہ مالِ غنیمت جنگ کی حالت میں چھیننا تو جائز تھا لیکن تم لے کر آئے ہو ایک معاہدہ کے تحت، اور اس معاہدے کا تقاضا یہ ہے کہ ان کے مال کا تحفظ، معاہدے کا تحفظ کیا جائے، یہ ان کا حق ہے لہٰذا ان کو پہنچا کر آؤ۔ اس نے کہا کہ یا رسول اللہ! بکریاں تو ان دشمنوں کی ہیں جو آپ کے خون کے پیاسے ہوئے ہیں اور پھر آپ واپس لوٹاتے ہیں؟ فرمایا کہ ہاں، پہلے ان کو واپس لوٹاؤ۔ چنانچہ بکریاں واپس لوٹائی گئیں۔
کوئی مثال پیش کرے گا عین میدانِ جنگ میں، عین حالتِ جنگ کے اندر انسانی مال کے تحفظ کا حق ادا کیا جا رہا ہو؟ جب بکریاں واپس کر دیں تو عرض کیا اب کیا کروں؟ فرمایا کہ نہ تو نماز کا وقت ہے کہ تمہیں نماز پڑھواؤں، نہ رمضان کا مہینہ ہے کہ روزے رکھواؤں، نہ تمہارے پاس مال ہے کہ زکوٰۃ دلواؤں، ایک ہی عبادت اس وقت ہو رہی ہے جو کہ تلوار کے چھاؤں کے نیچے ادا کی جاتی ہے، وہ ہے جہاد، اس میں شامل ہو جاؤ۔ چنانچہ وہ اس میں شامل ہو گیا۔ اس کا اسود راعی نام آتا ہے۔ جب جہاد ختم ہوا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ جنگ ختم ہونے کے بعد دیکھنے جایا کرتے تھے کہ کون زخمی ہوا، کون شہید ہوا، تو دیکھا کہ ایک جگہ صحابہ کرامؓ کا مجمع لگا ہوا ہے، آپس میں صحابہؓ پوچھ رہے ہیں کہ یہ کون آدمی ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا معاملہ ہے؟ تو صحابہ کرامؓ نے بتلایا کہ یہ ایسے شخص کی لاش ملی ہے کہ جس کو ہم میں سے کوئی پہچانتا نہیں۔ آپؐ نے قریب پہنچ کر دیکھا اور فرمایا تم نہیں پہچانتے، میں پہچانتا ہوں اور میری آنکھیں دیکھ رہی ہیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کو جنت الفردوس کے اندر کوثر و تسنیم سے غسل دیا ہے اور اس کے چہرے کی سیاہی کو تابانی سے بدل دیا ہے، اس کے جسم کی بدبو کو خوشبو سے تبدیل فرما دیا ہے۔
یہ بات کہ مال کا تحفظ ہو، محض کہہ دینے کی بات نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کر کے دکھایا ،کافر کے مال کا تحفظ، دشمن کے مال کا تحفظ، جو معاہدے کے تحت ہو، یہ مال کا تحفظ ہے۔
تیسرا انسان کا بنیادی حق یہ ہے کہ اس کی آبرو محفوظ ہو۔ آبرو کے تحفظ کا نعرہ لگانے والے بہت ہیں لیکن یہ پہلی بار محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ انسان کی آبرو کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ پیٹھ پیچھے اس کی برائی نہ کی جائے، غیبت نہ کی جائے۔ آج بنیادی حقوق کا نعرہ لگانے والے بہت، لیکن کوئی اس بات کا اہتمام کرے کہ کسی کا پیٹھ کے پیچھے ذکر برائی سے نہ کیا جائے؟ غیبت کرنا بھی حرام، غیبت سننا بھی حرام، اور فرمایا کہ کسی انسان کے دل کو نہ توڑا جائے۔ یہ انسان کے لیے گناہِ کبیرہ ہے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ افقہ الصحابہؓ حضورؐ کے ساتھ بیت اللہ شریف کا طواف فرما رہے ہیں، طواف کے دوران آنحضرتؐ نے کعبہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے بیت اللہ! تو کتنا مقدس ہے، کتنا مکرم کتنا معظم ہے۔ یہ الفاظ فرمائے، پھر عبد اللہ بن مسعودؓ سے خطاب کر کے فرمایا کہ اے عبد اللہ! یہ کعبۃ اللہ بڑا مقدس بڑا مکرم بڑا معظم ہے، لیکن اس کائنات میں ایک چیز ایسی ہے کہ اس کا تقدس اس کعبۃ اللہ سے بھی زیادہ ہے اور وہ چیز کیا ہے؟ ایک مسلمان کی جان، مال اور آبرو، کہ اس کا تقدس کعبہ سے بھی زیادہ ہے۔ اگر کوئی شخص دوسرے کی جان پر، مال پر، آبرو پر ناحق حملہ آور ہوتا ہے تو سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ وہ کعبہ کے ڈھا دینے سے بھی زیادہ بڑا جرم ہے، یہ نبی کریمؐ نے حق دیا۔
جو انسان کے بنیادی حقوق ہیں وہ ہیں جان، مال اور آبرو، ان کا تحفظ ضروری ہے۔ پھر انسان کو دنیا میں جینے کے لیے معاش کی ضرورت ہے، روزگار کی ضرورت ہے۔ اس کے بارے میں فرمایا، کسبِ معاش کا تحفظ۔ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انسان کا جو حق بتایا، کہا کسی انسان کو اس بات کی اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ اپنی دولت کے بل بوتے پر دوسروں کے لیے معاش کے دروازے بند کرے۔ نبی کریمؐ نے یہ اصول بیان فرمایا۔ ایک طرف تو یہ فرمایا جس کو کہتے ہیں ’’فریڈم آف کنٹریکٹ‘‘ معاہدے کی آزادی، جو چاہے معاہدہ کرو۔ لیکن فرمایا کہ ہر وہ معاہدہ جس کے نتیجے میں معاشرے کے اوپر خرابی واقع ہوتی ہو، ہر وہ معاہدہ جس کے نتیجے میں دوسرے آدمی پر رزق کا دروازہ بند ہوتا ہو، وہ حرام ہے۔ فرمایا ’’لا یبیع حاضر لباد‘‘ کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال فروخت نہ کرے۔ ایک آدمی دیہات سے مال لے کر آیا مثلاً زرعی پیداوار، ترکاریاں لے کر آیا شہر میں فروخت کرنے کے لیے تو فرمایا کہ شہری اس کا آڑھتی نہ بنے اس کا وکیل نہ بنے۔ بھائی کیا حرج ہے اگر دو آدمیوں کے درمیان آپس میں معاہدہ ہوتا ہے کہ میں تمہارا مال فروخت کروں گا، تمہارے سے اجرت لوں گا تو اس میں کیا حرج ہے؟ لیکن نبی کریم سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بتلایا کہ اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ جو شہری ہے وہ جب مال لے کر بیٹھ جائے گا تو احتکار کرے گا اور بازار کے اوپر اپنی موناپلی قائم کرے گا اجارہ داری قائم کرے گا۔ اس اجارہ داری قائم کرنے کے نتیجے میں دوسرے لوگوں پر معیشت کے دروازے بند ہو جائیں گے۔ اس واسطے فرمایا ’’لا یبیع حاضر لباد‘‘۔
تو کسبِ معاش کا حق ہر انسان کا ہے کہ کوئی بھی شخص اپنی دولت کے بل بوتے پر دوسرے کے لیے معیشت کے دروازے بند نہ کرے۔ یہ نہیں کہ سود کھا کھا کر، قمار کھیل کھیل کر، گیمبلنگ کر کر کے، سٹہ کھیل کھیل کر آدمی نے اپنے لیے دولت کے انبار جمع کر لیے اور دولت کے انباروں کے ذریعے سے وہ پورے بازار کے اوپر قابض ہو گیا۔ کوئی دوسرا آدمی کسبِ معاش کے لیے داخل ہونا چاہتا ہے تو اس کے لیے دروازے بند ہیں، یہ نہیں۔ بلکہ کسبِ معاش کا تحفظ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام انسانوں کا بنیادی حق قرار دیا اور فرمایا ’’دعوا الناس یرزق اللہ بعضھم ببعض‘‘ لوگوں کو چھوڑ دو کہ اللہ ان میں سے بعض کو بعض کے ذریعے رزق عطا فرمائیں گے۔ یہ کسبِ معاش کا تحفظ ہے۔ جتنے میں حقوق عرض کر رہا ہوں یہ نبی کریم سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے متعین فرمائے اور متعین فرمانے کے ساتھ ساتھ ان پر عمل کر کے بھی دکھایا۔
عقیدے اور دیانت کے اختیار کرنے کا تحفظ، کہ اگر کوئی شخص کوئی عقیدہ اختیار کیے ہوئے ہے تو اس کے اوپر کوئی پابندی نہیں کہ کوئی زبردستی جا کر مجبور کر کے اسے دوسرا دین اختیار کرنے پر مجبور کرے ’’لا اکراہ فی الدین‘‘ دین میں کوئی زبردستی نہیں، دین کے اندر کوئی جبر نہیں۔ اگر ایک عیسائی ہے تو عیسائی رہے، ایک یہودی ہے تو یہودی رہے، قانوناً اس پر کوئی پابندی عائد نہیں کی جا سکتی۔ اس کو تبلیغ کی جائے گی، دعوت دی جائے گی، اس کو حقیقتِ حال سمجھانے کی کوشش کی جائے گی، لیکن اس کے اوپر یہ پابندی نہیں ہے کہ زبردستی اس کو اسلام میں داخل کیا جائے۔ ہاں البتہ اگر ایک مرتبہ اسلام میں داخل ہو گیا اور اسلام میں داخل ہو کر اسلام کے محاسن اس کے سامنے آ گئے، تو اب اس کو اس بات کی اجازت نہیں دی جا سکتی کہ دارالاسلام میں رہتے ہوئے ہو اس دین کو برملا چھوڑ کر ارتداد کا راستہ اختیار کرے۔ اس واسطے کہ اگر وہ ارتداد کا راستہ اختیار کرے گا تو اس کے معنی یہ ہیں کہ معاشرے میں فساد پھیلائے گا اور فساد کا علاج آپریشن ہوتا ہے، لہٰذا اس فساد کا آپریشن کر دیا جائے گا اور معاشرے میں اس کو فساد پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ کسی کی عقل میں بات آئے یا نہ آئے، کسی سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔
میں پہلے کہہ چکا ہوں کہ ان معاملات کے اندر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنیاد فراہم فرمائی ہے، حق وہ ہے جسے اللہ مانے، حق وہ ہے جسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مانیں، اس سے باہر حق نہیں ہے۔ اس لیے ہر شخص عقیدے کو اختیار کرنے میں شروع میں آزاد ہے، ورنہ اگر یہ حکم نہ ہوتا، مرتد ہونے کی سزا کا حکم نہ ہوتا، مرتد ہونا جرم نہ ہوتا تو اسلام کے دشمن اسلام کو بازیچہ اطفال بنا کر دکھلاتے۔ کتنے لوگ تماشا دکھانے کے لیے اسلام میں داخل ہوتے اور نکلتے؟ قرآن کریم میں ہے، لوگ یہ کہتے ہیں صبح کو اسلام میں داخل ہو جاؤ اور شام کو کافر ہو جاؤ۔ تو یہ تماشا بنا دیا گیا ہوتا۔ اس واسطے دارالاسلام میں رہتے ہوئے ارتداد کی گنجائش نہیں دی جائے گی، اگر واقعتاً دیانتداری سے تمہارا کوئی عقیدہ ہے تو پھر دارالاسلام سے باہر جاؤ، باہر جا کر جو چاہو کرو، لیکن دارالاسلام میں رہتے ہوئے فساد پھیلانے کی اجازت نہیں۔
تو غرض موضوع بڑا طویل ہے لیکن پانچ مثالیں میں نے آپ حضرات کے سامنے پیش کی ہیں (۱) جان کا تحفظ (۲) مال کا تحفظ (۳) آبرو کا تحفظ (۴) عقیدے کا تحفظ (۵) کسبِ معاش کا تحفظ۔ یہ انسان کی بنیادی ضروریات ہیں۔ یہ پانچ مثالیں میں نے پیش کیں لیکن ان پانچ مثالوں میں جو بنیادی بات غور کرنے کی ہے وہ یہ ہے کہ کہنے والے تو اس کے بہت ہیں لیکن اس کے اوپر عمل کر کے دکھانے والے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے غلام ہیں۔
حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور کا واقعہ ہے کہ بیت المقدس میں غیر مسلموں سے جزیہ وصول کیا جاتا تھا۔ اس لیے کہ ان کے جان و مال و آبرو کا تحفظ کیا جائے۔ تو ایک موقعہ پر ضرورت پیش آئی بیت المقدس سے فوج بلا کر کسی اور محاذ پر بھیجنے کی۔ زبردست ضرورت داعی تھی۔ حضرت فاروق اعظمؓ نے فرمایا کہ بھائی بیت المقدس میں جو کافر رہتے ہیں ہم نے ان کے تحفظ کی ذمہ داری لی ہے، اگر فوج کو یہاں سے ہٹا لیں گے تو ان کا تحفظ کون کرے گا؟ ہم نے ان سے اس کام کے لیے جزیہ لیا ہے۔ لیکن ضرورت بھی شدید ہے۔ تو سارے غیر مسلموں کو بلا کر کہا کہ بھائی ہم نے تمہاری ذمہ داری لی تھی، اس کی خاطر تم سے یہ ٹیکس بھی وصول کیا تھا، اب ہمیں ضرورت شدید پیش آ گئی ہے جس کی وجہ سے ہم تمہارا تحفظ کماحقہ نہیں کر سکتے اور فوج کو یہاں نہیں رکھ سکتے لہٰذا فوج کو دوسری جگہ ضرورت کی خاطر بھیج رہے ہیں، تو جو ٹیکس تم سے لیا گیا تھا وہ سارا تم کو واپس کیا جاتا ہے، یوں ذمہ داری ادا کی جا رہی ہے۔
حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہ صحابی ہیں جن پر کہنے والے ظالموں نے کیسے کیسے بہتانوں کی بارش کی ہے، ان کا واقعہ ابوداؤد میں موجود ہے کہ روم کے ساتھ لڑائی کے دوران معاہدہ ہو گیا، جنگ بندی ہو گئی، ایک خاص تاریخ تک یہ طے ہو گیا کہ سیز فائر رہے گا، جنگ بندی رہے گی، کوئی آپس میں ایک دوسرے پر حملہ نہیں کرے گا۔ حضرت معاویہؓ بڑے دانشمند بزرگ تھے، انہوں نے یہ سوچا کہ جس تاریخ کو معاہدہ ختم ہو رہا ہے، اس تاریخ کو فوجیں لے جا کر سرحد کے پاس ڈال دیں کہ ادھر آفتاب غروب ہو گا اور تاریخ بدلے گی، ادھر حملہ کر دیں گے۔ کیونکہ ان کا خیال یہ تھا کہ دشمن کو یہ خیال ہو گا کہ جب جنگ بندی کی مدت ختم ہو گی، کہیں دور سے چلیں گے، چلنے کے بعد یہاں پہنچیں گے تو وقت لگے گا تو اس واسطے انہوں نے سوچا کہ پہلے فوج لے جا کر ڈال دیں۔ چنانچہ وہاں فوج لے جا کر ڈال دی اور ادھر اس تاریخ کا آفتاب غروب ہوا جو جنگ بندی کی تاریخ تھی اور ادھر انہوں نے حملہ کر دیا، روم کے اوپر یلغار کر دی۔ اور وہ بے خبر اور غافل تھے اس واسطے بہت تیزی کے ساتھ فتح کرتے چلے گئے، زمین کی زمین، خطے کے خطے فتح ہو رہے ہیں۔ جاتے جاتے جب آگے بڑھ رہے ہیں تو پیچھے سے دیکھا گھوڑے پر ایک شخص سوار دور سے سرپٹ دوڑا چلا آ رہا ہے اور آواز لگا رہا ہے ’’قفوا عباد اللہ قفوا عباد اللہ‘‘ اللہ کے بندو رکو! اللہ کے بندو رکو! حضرت معاویہؓ رک گئے، دیکھا کون ہے تو معلوم ہوا کہ حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ ہیں۔
حضرت عمرو بن عبسہؓ قریب تشریف لائے تو فرمایا ’’وفاء لا غدر‘‘ مومن کا شیوہ وفاداری ہے غداری نہیں۔ حضرت معاویہؓ نے فرمایا میں نے تو کوئی غداری نہیں کی، جنگ بندی کی مدت ختم ہونے کے بعد حملہ کیا۔ تو حضرت عمرو بن عبسہؓ نے فرمایا میں نے ان کانوں سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ’’من کان بینہ و بین قوم عھد فلا یحلنہ ولا یشدنہ حتی یمضی امدہ او ینبذہ علی سواء‘‘ کہ جب کسی قوم کے ساتھ معاہدہ ہو تو اس معاہدے کے اندر کوئی ذرا سا بھی تغیر نہ کرے، نہ کھولے نہ باندھے، یہاں تک کہ اس کی مدت نہ گزر جائے اور یا ان کے سامنے کھل کر بیان نہ کر دے کہ آج سے ہم تمہارے معاہدے کے پابند نہیں ہیں۔ اور آپ نے معاہدہ کے دوران سر پر فوجیں لا کر ڈال دیں اور شاید اندر بھی تھوڑا بہت گھس گئے ہوں، تو اس واسطے آپ نے یہ معاہدے کی خلاف ورزی کی اور یہ جو آپ نے علاقہ فتح کیا ہے یہ اللہ کی مرضی کے مطابق نہیں ہے۔
اب اندازہ لگائیے کہ حضرت معاویہؓ فتح کے نشے میں جا رہے ہیں، علاقے کے علاقے فتح ہو رہے ہیں، لیکن جب سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد سنا، ساری فوج کے لیے حکم جاری کر دیا کہ ساری فوج واپس لوٹ جائے اور مفتوحہ علاقہ خالی کر دیا جائے۔ چنانچہ پورا مفتوحہ علاقہ خالی کر دیا۔ دنیا کی تاریخ اس کی مثال نہیں پیش کر سکتی کہ کسی فاتح نے اپنے مفتوحہ علاقے کو اس وجہ سے خالی کیا ہو کہ اس میں معاہدے کی پابندی کے اندر ذرا سی اوچھ رہ گئی تھی، لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام تھے، انہوں نے یہ کر کے دکھایا۔
بات تو جتنی بھی طویل کی جائے ختم نہیں ہو سکتی لیکن خلاصہ یہ ہے کہ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانی حقوق کی بنیادیں فراہم کی ہیں کہ کون انسانی حقوق کا تعین کرے گا کون نہیں کرے گا۔ دوسری بات یہ ہے کہ آنحضرتؐ نے جو حقوق بیان فرمائے ان پر عمل کر کے دکھایا، حقوق ہی وہ متعین کیے گئے جن پر عمل کیا جائے، کہنے کے لیے نہیں۔
آج کہنے کے لیے ہیومن رائٹس کے بڑے شاندار چارٹر چھاپ کر دنیا میں تقسیم کر دیے گئے کہ جی یہ ہیومن رائٹس چارٹر ہیں، لیکن یہ ہیومن رائٹس چارٹر کے بنانے والے اپنے مفادات کی خاطر مسافر بردار طیارہ جس میں بے گناہ افراد سفر کر رہے ہیں، اس کو گرا دیں، اس میں ان کو باک نہیں ہوتا۔ اور مظلوموں کے اوپر مزید ظلم و ستم کے شکنجے کسے جائیں، اس میں کوئی باک نہیں ہوتا۔ ہیومن رائٹس اسی جگہ پر مجروح ہوتے نظر آتے ہیں جہاں اپنے مفادات کے اوپر کوئی زد پڑتی ہو اور جہاں اپنے مفادات کے خلاف ہو تو وہاں ہیومن رائٹس کا کوئی تصور نہیں آتا۔ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم ایسے ہیومن رائٹس کے قائل نہیں ہیں، اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی رحمت سے ہمیں اس حقیقت کو صحیح طور پر سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اور یہ جو باطل پروپیگنڈہ ہے اس کی حقیقت پہچاننے کی توفیق عطا فرمائے۔
یاد رکھیے کہ بعض لوگ اس پروپیگنڈے سے مرعوب ہو کر مغلوب ہو کر یہ معذرت خواہانہ انداز، ہاتھ جوڑ کر یہ کہتے ہیں کہ نہیں صاحب! ہمارے ہاں تو یہ بات نہیں ہے، ہمارے ہاں تو اسلام نے فلاں حق دیا ہے، اور اس کام کے لیے قرآن کو، سنت کو توڑ مروڑ کر کسی نہ کسی طرح ان کی مرضی کے مطابق بنانے کی کوشش کرتے ہیں، تو یاد رکھیے ’’ولن ترضٰی عنک الیہود ولا النصارٰی حتٰی تتبع ملتھم۔ قل ان ھدی اللہ ھو الھدٰی‘‘ جب تک اس پر نہیں آ جاؤ گے، اس اعتماد کے اوپر نہیں آجاؤ گے کہ کتنا ہی کوئی اعتراض کرے لیکن ہدایت تو وہی ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے عطا فرمائی، جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے، کبھی ان نعروں سے مرعوب نہ ہوں، کبھی ان نعروں سے مغلوب نہ ہوں، اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق نصیب فرمائے، واٰخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔
سوویت یونین کی شکست و ریخت کے بعد دنیا بھر میں پھیلے ہوئے کمیونزم کے تارو پود بکھرے تو اس عمل سے صومالیہ بھی متاثر ہوا جو افریقہ کا ایک مسلمان ملک ہے۔ آبادی ایک کروڑ سے زائد بیان کی جاتی ہے اور یہ ملک کئی اعتبار سے افغانستان سے مشابہت رکھتا ہے۔ اس لحاظ سے بھی کہ صومالیہ مشرقی افریقہ میں داخلہ کا دروازہ ہے اور اس کی بندرگاہ موغادیشو کو علاقہ میں کلیدی حیثیت حاصل ہے اور اس طور پر بھی کہ آبادی کی غالب اکثریت مسلمان ہے جس کی اسلام کے ساتھ وابستگی اس قدر گہری ہے کہ مسیحی تبلیغ کے مشنری ادارے اس خطہ کے مسلمانوں کو عیسائی بنانے میں واضح ناکامی محسوس کرتے ہوئے اپنے کئی مشن بند کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ پھر افغانستان کی طرح صومالیہ کا معاشرہ بھی قبائلی طرز کا ہے جس میں باہمی کشمکش بسا اوقات خانہ جنگی کی افسوسناک صورت اختیار کر لیتی ہے اور سب سے بڑھ کر صومالیہ کے علماء بھی ’’ہتھیار آشنا‘‘ ہیں اور حالیہ کشمکش میں ان کے کئی مسلح گروپ برسر پیکار ہیں۔
صومالیہ غلامی کے دور میں تین حصوں میں تقسیم تھا۔ ایک پر برطانیہ کی عملداری تھی، دوسرا حصہ فرانس کے قبضہ میں تھا، جبکہ تیسرے پر اٹلی کی آقائی کا پرچم لہرا رہا تھا۔ آزادی کے بعد برطانوی و صومالی لینڈ نے مشترکہ جمہوریت قائم کر لی جبکہ فرانسیسی صومالیہ بدستور الگ حیثیت رکھتا ہے۔ صومالیہ کا اکثر علاقہ بنجر ہے، کچھ حصہ کاشت ہوتا ہے، کیلا زیادہ پیدا ہوتا ہے، مویشیوں اور کھالوں کی تجارت بھی ہوتی ہے، اور اب کچھ معدنی ذخائر اور تیل کا سراغ لگا ہے جو ابھی تحقیقی و تجزیہ کے مراحل میں ہے۔
جہاد افغانستان کے ہاتھوں سوویت یونین کی پسپائی کے وقت صومالیہ پر سید بارے کی حکومت تھی جو بائیں بازو کے لیڈر اور مشرقی افریقہ میں روسی مفادات کے نگہبان کے طور پر متعارف ہیں۔ کلہ جب تک مضبوط رہا ان کی حکمرانی کا سکہ چلتا رہا مگر سوویت یونین کے منظر سے ہٹ جانے کے بعد سید بارے کے لیے بھی اقتدار کو برقرار رکھنا مشکل ہوگیا اور صومالیہ خانہ جنگی کی راہ پر چل پڑا۔ خانہ جنگی میں سید بارے کی فوج کے ایک بڑے افسر جنرل محمد فرح عدید اور علی محمد نے قوت پکڑی اور اقتدار کی کشمکش نے قبائلی خانہ جنگی کی صورت اختیار کر لی۔ خانہ جنگی نے ملک کی جو تھوڑی بہت پیداوار تھی اسے بھی متاثر کر دیا جس کے نتیجے میں قحط سالی اور بھوک نے صومالیہ کو لپیٹ میں لے لیا۔ کہا جاتا ہے کہ تین لاکھ کے لگ بھگ افراد اس خانہ جنگی اور قحط کی بھینٹ چڑھ گئے ہیں۔ اقوام متحدہ نے صومالیہ کے عوام کو خانہ جنگی اور قحط کے اثرات سے بچانے کے لیے مداخلت کا فیصلہ کیا اور مشترکہ فوج وہاں اتاری جس میں پاکستانی فوج کے دستے بھی شامل ہیں۔ اقوام متحدہ کی فوج کو صومالیہ میں جنرل فرح عدید کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا جن کا گروپ اس خانہ جنگی میں سب سے بڑے اور طاقتور گروپ کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ پاکستان کے فوجی دستوں سے بھی اس گروپ کی جھڑپ ہو چکی ہے جس کے نتیجے میں طرفین کے متعدد افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ جنرل عدید نے اقوام متحدہ کی فوج کی آمد کو صومالیہ کے معاملات میں امریکی مداخلت قرار دیتے ہوئے اس کی مزاحمت کی اور حالات پر اپنی گرفت قائم رکھنے میں کامیاب رہے۔ حتیٰ کہ اب امریکہ ان کا وجود تسلیم کرتے ہوئے مذاکرات کی میز پر ان سے مفاہمت کے لیے پیش رفت کر رہا ہے۔
اسی دوران صومالیہ کے مذہبی گروپ بھی متحد ہوگئے جو اس سے قبل الگ الگ متحرک تھے۔ یہ بھی مسلح کشمکش میں شریک ہیں اور اپنی پوزیشن کو بہتر بنانے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ ان کا ہدف یہ ہے کہ صومالیہ کو ایک اسلامی نظریاتی ریاست کی حیثیت دے دی جائے جبکہ فرح عدید ایک سیکولر اور قوم پرست راہنما ہیں۔ صومالیہ کے مذہبی گروپوں کا موقف یہ ہے کہ اس صورتحال میں پاکستانی فوج کے دستوں کا وہاں بھیجا جانا درست نہیں ہے بالخصوص ایسے حالات میں کہ پاک فوج کو صومالیہ کے مختلف گروپوں کے ساتھ تصادم کے لیے بقول ان کے ایک ایسی حکمت عملی کے تحت استعمال کیا جا رہا ہے جس سے پاکستان کے بارے میں صومالیہ اور افریقہ کے مسلمانوں کا محبت و اعتماد کا رشتہ کمزور ہو رہا ہے اور پاکستان کے بارے میں شکوک و شبہات جنم لے رہے ہیں۔ صومالیہ کے علماء اور دینی راہنماؤں نے اس سلسلہ میں پاکستان کی دینی جماعتوں کے قائدین کو پیغامات بھجوائے اور خطوط ارسال کیے کہ ان کے موقف سے آگاہی حاصل کی جائے اور ان کی مشکلات کو کم کرنے میں تعاون کیا جائے۔
اس پس منظر میں ۱۹ نومبر ۱۹۹۳ء کو جناب مجیب الرحمان شامی مدیر زندگی لاہور، مولانا عبد الرؤف ملک سیکرٹری جنرل متحدہ علماء کونسل، اور مولانا محمد مسعود اظہر سیکرٹری جنرل حرکۃ الانصار کے ہمراہ نیروبی جانے کا اتفاق ہوا جہاں ہمارا قیام تین روز تک رہا۔ نیروبی مشرقی افریقہ کے ملک کینیا کا دارالحکومت ہے جو صومالیہ کے جنوب میں واقع ہے اور صومالیہ کے داخلی حالات مخدوش ہونے کے باعث وہاں سے رابطہ کے لیے قریب ترین مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔ کینیا ہمارے ہاں چائے کے حوالہ سے متعارف ہے کیونکہ وہاں کی سب سے بڑی پیداوار چائے ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں استعمال ہونے والی کل چائے کا پچاس فیصد کے لگ بھگ حصہ کینیا سے آتا ہے۔ خط استوا کے قریب ہونے کی وجہ سے دن اور رات کا تناسب تقریباً سارا سال یکساں رہتا ہے اور سورج کے طلوع و غروب کے اوقات میں زیادہ فرق نہیں پڑتا۔ مگر سطح سمندر سے بلندی پر ہونے کے باعث گرمی زیادہ نہیں پڑتی، معتدل موسم رہتا ہے اور بارش بھی اکثر ہوتی رہتی ہے۔ اس لحاظ سے نیروبی کا موسم پسند آیا کیونکہ موسم کا سارا سال اعتدال میں رہنا اور دن رات کے اوقات کا توازن بھی قائم رہنا اس سے قبل کہیں اور دیکھنے میں نہیں آیا۔
کینیا کی آبادی دو کروڑ کے قریب ہے جس میں مسلمانوں کا تناسب تیس فیصد بیان کیا جاتا ہے۔ انڈیا اور پاکستان سے آکر بس جانے والے مسلمانوں کی تعداد بھی اچھی خاصی ہے۔ نیروبی کے وسط میں مغل طرز تعمیر کی جامع مسجد دیکھ کر بہت خوشی ہوئی، یہ وسیع مسجد ۱۹۲۵ء میں تعمیر ہوئی جس کے ساتھ ایک بڑا اسلامک سنٹر ہے جہاں مسلمانوں کی فلاح و بہبود اور تعلیم کے امور کی نگرانی کی جاتی ہے۔ وہیں فیصل آباد کے مولانا مطیع الرسول سے ملاقات ہوئی جو حضرت السید مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ کے شاگرد ہیں اور ایک عرصہ سے نیروبی میں مقیم ہیں بلکہ اب تو وہاں کے شہری ہیں اور مسلمانوں کی دینی تعلیم، دعوت اسلام اور نوجوانوں کے فلاحی امور کی طرف ہمہ تن متوجہ رہتے ہیں۔ نیروبی سے باہر بھی ایک تعلیمی ادارہ انہوں نے قائم کر رکھا ہے جو اپنے مقاصد کی طرف کامیابی کے ساتھ گامزن ہے۔ وقت کی کمی کے باعث وہ ادارہ نہ دیکھا جا سکا مگر اس کی کارکردگی کے بارے میں معلومات حاصل کر کے بے حد مسرت ہوئی۔
کینیا بھی ہماری طرح برطانوی استعمار کی نوآبادی رہا ہے اس لیے بود و باش اور عام طرز زندگی میں کچھ زیادہ فرق محسوس نہیں ہوا۔ البتہ عام زندگی اور دفتری زندگی میں نظم کی صورتحال ہم سے بہتر نظر آئی۔ کینیا کا سکہ شلنگ کہلاتا ہے۔ جس روز ہم وہاں پہنچے نیروبی ایئرپورٹ پر کرنسی کے تبادلہ میں ایک امریکی ڈالر کے عوض ۶۵ شلنگ ملے۔ گویا پاکستانی روپے کے مقابلہ میں کینیا کا شلنگ تقریباً نصف قیمت کا حامل ہے۔ پہلی رات ہمیں وسط شہر کے ایمبسڈر ہوٹل میں ٹھہرنا پڑا جس کا کرایہ پینتالیس ڈالر فی کمرہ تھا مگر دوسرے روز اپنے میزبانوں کے ساتھ رابطہ و ملاقات کی سہولت کے پیش نظر ملیمانی روڈ کے ہرن کورٹ ہوٹل میں منتقل ہوگئے جس کا کرایہ ۱۳ ڈالر فی کمرہ تھا۔ ہوٹل کچھ زیادہ معیاری نہ تھا مگر میزبانوں کے ساتھ رابطہ کی سہولت کے باعث ہم بقیہ دو دن وہیں ٹھہرے ۔
اس ہوٹل میں ایک پاکستانی نوجوان سے ملاقات ہوئی جو کافی دنوں سے وہاں قیام پذیر تھا۔ اس نے اپنے قیام کا مقصد کاروبار بتایا مگر معلوم ہوا کہ اس کے علاوہ اور پاکستانی نوجوان بھی ہیں جو بہت دنوں سے اس قسم کے ہوٹلوں میں مقیم ہیں۔ یہ وہ نوجوان ہیں جو امریکہ اور یورپ جانے کے شوق میں ٹریول ایجنٹوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں جو انہیں مختلف راستوں سے منزل مقصود تک پہنچانے کے لیے فن کا کمال دکھاتے ہیں۔ میں اس قسم کے نوجوان بڑی تعداد میں استنبول اور تاشقند میں بھی دیکھ چکا ہوں۔ ان میں سے بہت سے نوجوانوں کا یہ حال ہوتا ہے کہ ایجنٹ اپنے پیسے کھرے کر کے انہیں اسی قسم کے کسی درمیانی منزل پر چھوڑ کر رفوچکر ہو جاتے ہیں اور وہ ’’پائے رفتن نہ جائے ماندن‘‘ کے مصداق اپنی قسمت کو کوستے رہتے ہیں۔
ایمبیسڈر ہوٹل سے ملیمانی ہوٹل منتقل ہوتے وقت جس ٹیکسی سے ہم نے سفر کیا اس نے اپنے وطن کے ساتھ مشابہت کے احساس کو اور زیادہ اجاگر کر دیا۔ ٹیکسی شکل و صورت کے لحاظ سے برطانوی تھی کہ اسی قسم کی ٹیکسیاں وہاں چلتی ہیں۔ اسے دیکھ کر خیال ہوا کہ شاید اس معاملہ میں کینیا والے ہم سے کچھ آگے ہیں لیکن ٹیکسی میں بیٹھنے کے بعد اطمینان کی ایک لہر دل و دماغ پر چھا گئی کہ خیر ہے معاملہ اپنے جیسا ہی ہے۔ یعنی صرف اوپر کا خول اور باڈی انگلش تھا باقی سب کچھ اپنی طرح کا ہی تھا۔ ہمارے ٹیکسی میں بیٹھتے ہی ڈرائیور نے اردگرد کھڑے کچھ لوگوں کو اشارہ کیا اور وہ گاڑی کو دھکا دینے کے لیے متحرک ہوگئے۔ یہ ٹیکسی ہمارے اجتماعی نظام کی ہوبہو تصویر تھی کہ ظاہری ڈھانچہ مغربی طرز کا لیکن اندر سے پوری مشینری دھکا سٹارٹ۔ جبکہ دھکا لگانے والے بھی ورلڈ بینک کے ڈائریکٹروں کی طرح ہماری بے بسی پر ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرا رہے تھے، آپس میں اشارے کر رہے تھے اور ہمیں دھکا دے رہے تھے۔ خدا خدا کر کے گاڑی اسٹارٹ ہوئی لیکن چند قدم چلی اور اچانک رک گئی۔ معلوم ہوا کہ گاڑی میں تیل ہی نہیں تھا اور ڈرائیور کسی طرح ’’اللہ توکل‘‘ پٹرول پمپ تک پہنچ جانا چاہتا تھا مگر پٹرول پمپ سے چند قدم پیچھے ’’دوچار ہاتھ جبکہ لب بام رہ گیا‘‘ گاڑی نے آگے بڑھنے سے انکار کر دیا۔ ڈرائیور ٹیکسی سے اترا، ڈگی سے ایک خالی ڈبہ نکالا اور پٹرول پمپ کی طرف چل پڑا۔ وہاں سے پٹرول لا کر گاڑی میں ڈالا اور پھر دھکا سٹارٹ کے مرحلہ سے دوچار ہونا پڑا۔ دھکا لگانے والے یہاں بھی آسانی سے مل گئے ہمیں نہیں اترنا پڑا۔ مگر اب کیفیت یہ تھی کہ گاڑی میں ہم لوگ تشریف فرما تھے، کچھ لوگ گاڑی کو دھکا دے کر اسٹارٹ کرانے کی کوشش کر رہے تھے اور دونوں طرف چھوٹے چھوٹے افریقی بچے ساتھ ساتھ چلے جا رہے تھے جو اپنی زبان میں ہم سے سوال کر رہے تھے اور کچھ نہ ملنے پر ہمارا منہ چڑا رہے تھے، دانت نکوس رہے تھے اور عجیب و غریب اشارے کر رہے تھے۔ اس شان و شوکت کے ساتھ ہمارا جلوس نیروبی کے ایک کھلے بازار میں فرلانگ ڈیڑھ فرلانگ تو چلا ہی ہوگا مگر جب انگلش گاڑی نے ہم ایشیائیوں کو افریقہ میں ساتھ لے کر آگے بڑھنے سے انکار کر دیا تو ڈرائیور نے ایک اور ٹیکسی والے سے ہمارا سودا کر کے ہمیں اس میں منتقل کر دیا اور خدا خدا کر کے ہم ہرن کورٹ ہوٹل پہنچے۔ دوسری ٹیکسی بھی انگلش طرز کی تھی لیکن کچھ شریف النسل لگتی تھی اس نے پریشان کرنا مناسب نہیں سمجھا۔
اس کے بعد جتنے دن ہم وہاں رہے انگلش ٹیکسی سے واسطہ نہیں پڑا۔ جمعہ کی نماز ہم نے اسی جامع مسجد میں ادا کی جس کا ذکر پہلے ہو چکا ہے۔ امام صاحب نے مقامی زبان میں خطاب کیا۔ کینیا کی مقامی زبان سواحلی ہے لیکن انگریزی بھی سمجھی اور بولی جاتی ہے۔ امام صاحب کی زبان تو ہمیں سمجھ نہیں آرہی تھی البتہ گفتگو کا مفہوم ہم بخوبی سمجھ رہے تھے۔ ان کا موضوع عالم اسلام کی حالت زار تھا، انہوں نے فلسطین اور افغانستان کا ذکر کیا، عالم اسلام کے اتحاد کی ضرورت پر زور دیا اور مغربی ممالک کے تسلط و بالادستی سے نجات کے احساس کو اجاگر کرنے کی کوشش کی۔ مولانا مطیع الرسول کے دفتر میں امام صاحب سے ہماری ملاقات بھی ہوئی، اسلام کی بالادستی اور عالم اسلام کے اتحاد کا جذبہ رکھنے والے مخلص بزرگ ہیں اور ملت اسلامیہ کے احوال پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ نماز جمعہ کے بعد مسجد کے گیٹ پر کچھ پاکستانی احباب مل گئے۔ جناب مجیب الرحمان شامی ہمارے ملک کے معروف صحافی اور کالم نگار ہیں، روزنامہ جنگ میں ’’جلسہ عام‘‘ کے عنوان سے ان کا کالم قارئین کا وسیع حلقہ رکھتا ہے، نیروبی میں بھی انہیں دیکھ کر پہچاننے والوں کی کمی نہیں تھی۔ چنانچہ اس حوالہ سے متعدد حضرات سے ملاقات ہوئی جن میں پاک فوج کے ایک افسر بھی تھے۔ وہیں ڈاکٹر فاروق صاحب سے ملاقات ہوئی جو گوجرانوالہ میں ہمارے محلہ ایمن آبادی گیٹ کے رہنے والے ہیں اور ایک عرصہ سے نیروبی میں مقیم ہیں۔ ان کے ایک عزیز ریٹائرڈ میجر محمد علی بٹ چند روز قبل نیروبی میں ڈاکوؤں کے ہاتھوں قتل ہوگئے ہیں۔ یہاں قتل اور ڈاکہ زنی کی وارداتیں عام ہیں، راہ چلتے لوگوں سے سامان اور رقم چھین لینا عام معمول ہے۔ پولیس کے سپاہی بڑے بڑے ڈنڈے اٹھائے ہر وقت گھومتے رہتے ہیں مگر وارداتیں بھی ہوتی رہتی ہیں۔ محمد علی بٹ مرحوم نیروبی میں ایک ہوٹل چلا رہے تھے، شام کے وقت ہوٹل سے باہر نکلے تو ڈاکوؤں نے انہیں گولی مار دی اور گاڑی چھین کر فرار ہوگئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔
نیروبی میں ہماری ملاقات راؤ محمد اختر صاحب سے بھی ہوئی۔ یہ پاکستانی بزرگ ہیں جو ایک عرصہ سعودی عرب میں رہے ہیں اور اب نیروبی میں ہیں۔ رابطہ عالم اسلامی سے بھی تعلق ہے اور نیروبی میں ایک رفاہی ادارہ چلا رہے ہیں۔ انہوں نے ہماری واپسی کے روز اپنی رہائش گاہ پر پرتکلف دعوت کا اہتمام کیا اور پھر ایئرپورٹ پر چھوڑنے آئے بلکہ جہاز پر سوار ہونے تک ساتھ رہے۔ ان کا خصوصی ذوق مساجد کا قیام ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کینیا کی حکومت مسلمانوں کو مسجد کے لیے جگہ بلامعاوضہ دیتی ہے اور اس سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ کینیا کے مختلف حصوں میں مسجدیں بنا چکے ہیں۔ راؤ محمد اختر صاحب کے ساتھ ملاقات بڑی معلومات افزا رہی۔
پاک فوج کے بعض افسروں کے علاوہ صومالیہ کی مسلح تنظیموں کے نمائندوں، جامع مسجد نیروبی کے امام صاحب، اور صومالیہ کے معاملات میں دلچسپی رکھنے والے بعض عرب راہنماؤں سے بھی ملاقات ہوئی جن کے ساتھ صومالیہ کے حالیہ تنازعہ کے حوالے سے تفصیلی گفت و شنید ہوئی۔ ان ملاقاتوں اور سفر کے دیگر مشاہدات کے حوالہ سے کم از کم میرے تاثرات یہی ہیں کہ صومالیہ کے دینی حلقوں کے اس موقف کو بے وزن قرار دینا مشکل ہے کہ امریکہ نے صومالیہ میں اپنے مقاصد کے لیے اقوام متحدہ کی چھتری استعمال کی ہے اور پاک فوج کو جان بوجھ کر ایسا کردار دیا جا رہا ہے جس سے پاکستان اور افریقی مسلمانوں کے درمیان محبت کے رشتے کمزور ہوں اور شکوک و منافرت کی فضا قائم ہو۔ ان کے بقول امریکہ صومالیہ کے ذریعہ مشرقی افریقہ کو اپنی گرفت میں رکھنا چاہتا ہے، سوڈان اور ایتھوپیا کی اسلامی تحریکات کو دبانا چاہتا ہے، صومالیہ کو ایک نظریاتی اسلامی ریاست بننے سے باز رکھنا چاہتا ہے، اور متوقع تیل اور معدنی ذخائر کا کنٹرول حاصل کرنا چاہتا ہے۔ صومالیہ کے دینی راہنماؤں کا کہنا ہے کہ پاکستان اور اس کی فوج کو ان امریکی مقاصد کے لیے آلہ کار نہیں بننا چاہیے اور اپنے موجودہ کردار پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ صومالیہ کے دینی راہنماؤں کا یہ موقف سنجیدہ توجہ کا مستحق ہے اور حکومت پاکستان، حزب اختلاف اور مذہبی راہنماؤں کو اس صورتحال کا پوری متانت کے ساتھ جائزہ لینا چاہیے۔
ماسٹر عنایت اللہ صاحب تھانہ کوٹ لدھا کے گاؤں کوٹ لالہ کے رہنے والے ہیں، زمیندار خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، ۵۷ سال کے لگ بھگ ان کی عمر ہے، میٹرک، جے وی، ادیب اردو، عالم اردو، منشی فاضل اور ادیب پنجابی کی اسناد رکھتے ہیں اور گاؤں کے پرائمری سکول کے استاد ہیں۔ وہ حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ سے بیعت کا تعلق رکھتے ہیں، پابند صوم و صلوٰۃ اور خوفِ خدا انسان ہیں۔ مذہبی معاملات میں انتہائی پرجوش ہیں۔ ۱۹۵۳ء کی تحریکِ ختمِ نبوت میں حصہ لے چکے ہیں اور گاؤں میں دو دفعہ قادیانی لاشیں مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے میں رکاوٹ بن چکے ہیں اور ان کی وجہ سے ہی کوٹ لدھا میں قادیانیوں کو اپنا قبردستان مسلمانوں سے الگ کرنا پڑا۔ متعدد بار گرفتار ہو چکے ہیں اور ’’انجمن اصلاح اسیراں‘‘ کے صدر بھی رہے ہیں۔ علاوہ ازیں ان پر قادیانیوں کی طرف سے قاتلانہ حملہ بھی ہوا ہے، مقدمہ درج ہو گیا تھا لیکن حملہ آور قادیانی کے مسلمان ہو جانے پر انہوں نے اسے معاف کر دیا۔
تھانہ کوٹ لدھا کے گاؤں پھوکرپور کے ایک مسیحی رحمت مسیح ولد نانک مسیح جو تعلیم یافتہ ہے اور اردو انگلش پر اچھا عبور رکھتا ہے، اس کے ساتھ گاؤں کے مسلمانوں کا اکثر تنازعہ رہتا ہے۔ رحمت مسیح قرآن کریم کے اوراق کی بے حرمتی کے متعدد واقعات میں ملوث پایا گیا مگر علاقہ کے معززین کی مداخلت پر آئندہ محتاط رہنے کی یقین دہانی پر درگزر کر دیا گیا۔ رحمت مسیح مذکور سے علاقہ کے مسلمانوں کو یہ شکایت بھی رہی ہے کہ گرجا پر لاؤڈ اسپیکر لگا کر جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی کے بارے میں نازیبا گفتگو کرتا ہے۔ ایک بار تھانہ تک نوبت گئی، علاقہ کے معززین درمیان میں آگئے اور معاملہ رفع دفع کر دیا گیا۔ دوسری بار علاقہ مجسٹریٹ جناب محمد اسلم قاسمی تک معاملہ پہنچا، ان کے سامنے علاقہ کے پادری حضرات نے تحریری یقین دہانی کرائی کہ رحمت مسیح مذکور آئندہ محتاط رہے گا اور لاؤڈ اسپیکر بھی استعمال نہیں کرے گا، اس پر اسے پھر درگزر کر دیا گی، یہ واقعہ ۷ مارچ ۱۹۹۲ء کا ہے۔
رحمت مسیح مذکور کے گاؤں پھوکرپور سے ایک میل کے فاصلہ پر ’’رتہ دوہتڑ‘‘ نامی گاؤں میں سات آٹھ ماہ قبل یہ صورتحال پیش آئی کہ گاؤں کی جامع مسجد میں پرچیاں پھینکی جاتیں جن میں جناب رسالتماب صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں گستاخی بلکہ معاذ اللہ ننگی گالیاں درج ہوتیں لیکن کچھ پتہ نہ چلتا کہ یہ پرچیاں کون وہاں پھینکتا ہے۔ ۹ مئی ۱۹۹۳ء کو جامع مسجد کے خطیب حافظ محمد فضل حق اور ان کے دو ساتھیوں محمد بخش گوجر نمبردار اور حاجی محمد اکرم نے مبینہ طور پر تین افراد کو ایک دیوار پر اسی قسم کی گستاخانہ باتیں لکھتے ہوئے پکڑ لیا۔ یہ رحمت مسیح، منظور مسیح اور سلامت مسیح تھے جن میں آخر الذکر دونوں پکڑے گئے اور رحمت مسیح بھاگ گیا۔
گاؤں کے لوگ تھانہ گئے مگر پولیس نے مقدمہ درج کرنے میں لیت و لعل سے کام لیا، دونوں ملزموں کو تھانہ میں بند کر لیا گیا مگر پرچہ درج نہ ہوا۔ اس پر گاؤں کے لوگ کوٹ لالہ میں ماسٹر عنایت اللہ کے پاس گئے اور تعاون کی درخواست کی۔ ماسٹر عنایت اللہ نے علاقہ کے مسلمانوں کو جمع کیا اور تھانہ کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ علاقہ کے مسلمان واقعہ کے بارے میں باخبر ہوتے ہی تھانہ کے پاس جمع ہوتے گئے، انہوں نے تھانہ کا گھیراؤ کر لیا اور ٹریفک بلاک کر دی گئی جس پر پولیس نے مجبور ہو کر ۱۱ مئی کو پرچہ درج کیا، جس کے بعد دونوں گرفتار ملزم جیل بھیج دیے گئے۔ مگر رحمت مسیح روپوش ہو گیا اور اس کے بارے میں مشہور ہو گیا کہ وہ گوجرانوالہ کے ایک عیسائی ایم پی اے کے پاس ہے اور اسے امریکہ بھیجا جا رہا ہے۔ ماسٹر عنایت اللہ اور گوجرانوالہ کے علماء نے ضلعی حکام سے بات چیت کی اور بالآخر چند روز کے بعد رحمت مسیح کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ ملزمان کی طرف سے اپنی گرفتاری کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی جو جسٹس خلیل الرحمٰن نے ۲۰ جون کو خارج کر دی۔ اسی طرح ایڈیشنل سیشن جج گوجرانوالہ جناب پرویز چاولہ کی عدالت میں بھی ضمانت کی درخواست دائر کی گئی جو انہوں نے ۱۰ جولائی کو عدم پیروی کی بنا پر خارج کر دی۔
اس دوران گوجرانوالہ اور گاؤں رتہ دوہتڑ میں بیرون ملک سے افراد کی آمد شروع ہو گئی۔ ایک امریکی صحافی نے سیشن جج سے بھی ملاقات کی اور ضلعی حکام پر ملزمان کی رہائی کے لیے دباؤ ڈالنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ مبینہ طور پر امریکی سفارت خانہ کے افسران بھی متحرک ہو گئے اور گاؤں میں مختلف وفود گئے اور علاقہ کے سادہ عوام پر نفسیاتی دباؤ ڈالنے کی کوشش کی گئی۔ آل انڈیا ریڈیو نے ۱۱ جولائی اور پھر ۱۳ نومبر کو اس کیس کے بارے میں مفصل پروگرام نشر کیے جن میں ملزمان کی بے گناہی، توہین رسالت کے قانون پر تنقید اور ماسٹر عنایت اللہ کی کردارکشی کی گئی۔ بی بی سی نے ۲۹ نومبر کو اس قسم کا پروگرام نشر کیا، اس کے علاوہ متعدد جرائد میں کیس کے بارے میں مضامین کا سلسلہ چلتا رہا۔
لاہور سے عاصمہ جہانگیر ایڈووکیٹ، نعیم شاکر ایڈووکیٹ اور حنا جیلانی ایڈووکیٹ نے گوجرانوالہ آ کر ملزمان کی ضمانت کے لیے دوبارہ درخواست دائر کی جو ایڈیشنل سیشن جج جناب عبد الرشید خان کی عدالت میں لگی، انہوں نے ضمانت منظور کرنے سے انکار کر دیا، جس پر کہا گیا کہ تین ملزموں میں سے ایک سلامت مسیح نابالغ ہے اس لیے اس بنیاد پر اس کی ضمانت لی جائے۔ سلامت مسیح کی عمر کے بارے میں حافظ آباد چرچ کا ایک سرٹیفیکیٹ عدالت میں پیش کیا گیا جس کے مطابق اس کی عمر چودہ برس سے زائد بنتی ہے، جبکہ مدعیان اس سرٹیفکیٹ کو مبنی برحقیقت قرار نہیں دیتے اور ان کا کہنا ہے کہ سلامت مسیح نابالغ نہیں ہے اور اس کا فیصلہ میڈیکل معائنہ کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔ بہرحال اس بنیاد پر بالآخر ایڈیشنل سیشن جج مذکور کو سلامت مسیح کی ضمانت منظور کرنا پڑی۔
اس ضمانت کے سلسلہ میں اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق امریکی حکام اور پاکستانی حکومت کی طرف سے ضلع گوجرانوالہ کی انتظامیہ اور سیشن کورٹ پر مسلسل دباؤ بھی ڈالا گیا۔ چنانچہ روزنامہ مساوات لاہور ۸ نومبر ۱۹۹۳ء کی خبر کے مطابق امریکہ کی نائب وزیر خارجہ مسز رابن رافیل نے وزیراعظم پاکستان کے ساتھ مذاکرات میں یہ مسئلہ اٹھایا اور سیکرٹری خارجہ نے بتایا کہ سلامت مسیح کو ضمانت پر رہا کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔ جبکہ روزنامہ نوائے وقت لاہور ۲۴ نومبر ۱۹۹۳ء کی خبر کے مطابق امریکی حکام کے کہنے پر حکومتِ پنجاب کے ایک اعلیٰ افسر کو سلامت مسیح کی ضمانت کے انتظامات پر مامور کیا گیا اور سلامت مسیح کی ضمانت بھی گوجرانوالہ کی ضلعی انتظامیہ کے ایک عہدہ دار نے دی۔
سلامت مسیح کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ نابالغ ہے اور اَن پڑھ ہے، مدعیان ان دونوں باتوں کی تردید کرتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ وہ لکھ پڑھ سکتا ہے اور اس کے بالغ ہونے کی تصدیق بھی طبی معائنہ سے ہو سکتی ہے۔ مزید برآں مدعیان کے مطابق سلامت مسیح کے والد نے، جو کراچی میں رہتا ہے، متعدد تحریرات میں تسلیم کیا ہے کہ اس کے لڑکے نے یہ حرکت کی ہے، اس سے رحمت مسیح نے پیسے دے کر یہ حماقت کرائی ہے، اس لیے اس کے بارے میں نرمی کی جائے۔ مدعیان کا کہنا ہے کہ وہ تحریرات ضرورت پڑنے پر عدالت میں پیش کر سکتے ہیں۔
گوجرانوالہ کے علماء نے رتہ دوہتڑ کیس میں امریکی حکومت اور دیگر غیر ملکی لابیوں کی مداخلت کے باعث کیس کی منظم پیروی کے لیے ’’تحفظ ناموس رسالتؐ ایکشن کمیٹی‘‘ قائم کر لی ہے جس کے چیئرمین مولانا عبد العزیز چشتی اور سیکرٹری ڈاکٹر غلام محمد ہیں، جبکہ کمیٹی میں مولانا حکیم عبد الرحمٰن آزاد، مولانا محمد نواز بلوچ، مولانا محمد اعظم، مولانا عبید اللہ عبید اور دیگر علماء شامل ہیں۔ ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا زاہد الراشدی نے ’’رتہ دوہتڑ توہینِ رسالتؐ کیس‘‘ کے واقعات کی پبلک انکوائری کے لیے ریٹائرڈ سیشن جج جناب محمد افضل سہیل کی سربراہی میں تحقیقات کمیٹی قائم کر دی ہے جس میں دیگر ماہرین قانون اور علماء بھی شامل ہیں اور ممتاز مسیحی راہنما فادر روفن جولیس ایم این اے سے بھی کمیٹی میں شامل ہونے کی درخواست کی گئی ہے۔ یہ کمیٹی ماہِ رواں کے دوران اپنی رپورٹ مکمل کر لے گی اور اسے فورم کی طرف سے بین الاقوامی پریس اور دیگر متعلقہ اداروں کو بھجوایا جائے گا۔
اب تک اس کیس کی پیروی میں ’’عالمی مجلس تحفظِ ختم نبوت‘‘ علاقہ کے مسلمانوں اور ماسٹر عنایت اللہ کی معاون ہے اور اس سلسلہ میں مولانا حکیم عبد الرحمٰن آزاد، قاری محمد یوسف عثمانی اور حافظ محمد ثاقب پیش پیش ہیں۔ مجلس کے امیر حکیم عبد الرحمٰن آزاد کا کہنا ہے کہ ایکشن کمیٹی کی تشکیل کے بعد بھی کیس کے سلسلہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حسبِ سابق اپنا کردار جاری رکھے گی۔
ضلع گوجرانوالہ کے بزرگ عالم دین اور تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن مولانا حکیم نذیر احمدؒ ۲۲ نومبر ۱۹۹۳ء کو واہنڈو میں انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کی عمر اَسی برس تھی اور زندگی کا بیشتر حصہ انہوں نے دین کی تعلیم و تبلیغ میں بسر کیا۔ مولانا حکیم نذیر احمدؒ کی ولادت ۱۹۱۳ء میں واہنڈو میں ہوئی، زمیندار گھرانے سے تعلق تھا۔ دینی تعلیم انہوں نے ہنجانوالی نامی گاؤں میں مولانا حافظ عبد الغفور صاحب سے حاصل کی جو اس زمانہ میں علاقہ میں دینی تعلیم کا ایک بڑا مرکز شمار ہوتا تھا اور اس درسگاہ کا تعلق اہل حدیث مکتب فکر سے تھا۔ مولانا حکیم نذیر احمد نے اس کے بعد شیرانوالہ لاہور میں حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا اور انہی سے بیعت بھی کر لی اور پھر واہنڈو میں خطابت اور تدریس کی ذمہ داریوں میں منہمک ہوگئے۔ بے نیاز اور متوکل قسم کے بزرگ تھے، دینی خدمات کا سلسلہ پوری زندگی بے لوث طور پر کسی معاوضہ اور تنخواہ کے بغیر جاری رکھا۔ تھوڑی سی زمین تھی جس پر گزر بسر کرتے رہے۔
مولانا حکیم نذیر احمد نے واہنڈو کی جامع مسجد تعمیر کرائی اور اسی میں آخر وقت تک دینی خدمات سر انجام دیتے رہے۔ سماجی خدمات میں بھی پیش پیش رہے، قیام پاکستان سے پہلے علاقہ کی پنچایت کے رکن تھے اور علاقہ کی سربرآوردہ شخصیات میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ سابق صدر محمد ایوب خان مرحوم کے دور میں بی ڈی نظام کے تحت واہنڈو یونین کونسل کے چیئرمین بھی رہے۔ بے باک اور دبنگ قسم کے بزرگ تھے کسی کو خاطر میں نہ لاتے اور پورے وقار اور دبدبے کے ساتھ رہتے۔
حکیم صاحبؒ نے تحریک پاکستان میں شیخ الاسلام علامہ شبیر احمدؒ عثمانی کی راہنمائی میں سرگرم حصہ لیا اور علاقہ میں تحریک پاکستان کو منظم کرنے میں محنت کی۔ اس کا ذکر اکثر مجالس میں کرتے رہتے تھے کہ ہم نے مولانا شبیر احمدؒ عثمانی کے کہنے پر پاکستان بنانے کی جدوجہد میں حصہ لیا لیکن پاکستان بننے کے بعد اسلامی معاشرہ کے قیام اور اسلامی نظام کے نفاذ کی منزل حاصل نہ ہوئی۔ سیاسی طور پر جمعیۃ علمائے اسلام سے وابستہ تھے۔ ضلع گوجرانوالہ میں جمعیۃ علمائے اسلام کو منظم کرنے میں آپ کی خدمات قابل قدر ہیں۔ ایک عرصہ تک تحصیل گوجرانوالہ کے امیر اور پھر بعد میں ضلعی نائب امیر رہے۔ سیاسی و دینی تحریکات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ بھٹو مرحوم کے دور میں لاہور میں اس وقت کے گورنر جناب غلام مصطفیٰ کھر کے اقدامات کے خلاف بحالیٔ جمہوریت کی تحریک چلی اور متعدد سیاسی راہنماؤں اور کارکنوں نے گرفتاریاں پیش کیں۔ اس دور کی بات ہے کہ مولانا نذیر احمد مرحوم دو بار میرے پاس تشریف لائے کہ میں گرفتاری پیش کرنا چاہتا ہوں، میں نے بہت مشکل سے واپس بھیجا کہ آپ بزرگ ہیں گھر تشریف رکھیں، گرفتاریوں کے لیے ابھی ہمارے پاس بہت کارکن ہیں۔ ایک روز میں لاہور میں جمعیۃ کے مرکزی دفتر میں گیا تو وہاں بیٹھے ہوئے تھے کہ گرفتاری دینے کے لیے آیا ہوں۔ انہیں سمجھا بجھا کر واپس بھیجا۔ ایک بار جمعیۃ کا ضلعی اجلاس میرے پاس جامع مسجد گوجرانوالہ میں تھا، اتفاق سے اس روز بسوں کی ہڑتال ہوگئی اور اکثر ساتھی اجلاس میں نہ آسکے۔ میں اور ڈاکٹر غلام محمد صاحب بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک مولانا حکیم نذیر احمد پسینے میں شرابور تشریف لائے اور کہا کہ جمعیۃ کا اجلاس تھا اور مجھے بس نہیں ملی اس لیے سائیکل پر ہی آگیا ہوں۔ گویا انہوں نے گرمی کے موسم میں واہنڈو سے گوجرانوالہ تک تئیس میل کی مسافت سائیکل پر صرف اس جذبہ سے طے کی کہ اجلاس میں غیر حاضری نہ ہو۔ یہ احساس ذمہ داری کی ایک قابل تقلید مثال ہے۔
مولانا مرحوم اچھے حکیم تھے، ایک زمانہ میں واہنڈو کے بازار میں دکان بھی شروع کی۔ لوگوں کا اس قدر رجوع ہوا کہ اردگرد کے دیگر طبیبوں کے ڈیرے ویران ہوگئے۔ وہ اپنی اپنی شیشیاں بوتلیں اٹھا کر حکیم نذیر احمد صاحب کے پاس آئے اور کہا کہ ہماری دکانیں تو ویران ہوگئی ہیں آپ یہ شیشیاں اور بوتلیں بھی بیچ دیں۔ انہوں نے اسی روز دکان بند کر دی اور پھر اپنے مکان کی بیٹھک میں ہی تھوڑا بہت کام کرتے رہے۔ ان کے فرزند اور جانشین مولانا عطاء الرحمان کا کہنا ہے کہ ان کی عادت یہ تھی کہ جس وقت گھر کی ہانڈی کا خرچہ نکل آتا بیٹھک بند کر کے نکل جاتے۔
حکیم صاحب صاحب مطالعہ تھے، کتابیں جمع کرنے اور مطالعہ کرنے کا ذوق عمر بھر رہا۔ اکثر ان کے پاس نایاب کتابیں نظر آتیں، کئی کتابیں میں نے بھی ان سے حاصل کر کے مطالعہ کیں۔ متعدد اہل علم کے ساتھ ان کا تعلق تھا، مطالعہ کے لیے کتابوں کا تبادلہ کرتے رہتے اور اکثر اوقات مطالعہ میں مستغرق رہتے۔ پرانی طرز کے وضعدار بزرگ تھے، وضعداری اور وقار کے ساتھ دینی و سماجی خدمات میں مگن رہے۔ آخر میں شوگر کا عارضہ تھا مگر کوئی پروا کیے بغیر معمولات میں مصروف رہے۔ آخری دن بھی صبح معمول کے مطابق اٹھے، نماز ادا کی اور تھوڑی دیر کے بعد انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کے فرزند مولانا عطاء الرحمان نے اب ان کی جگہ خدمات سنبھال لی ہیں۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کریں اور ورثا کو صبر و حوصلہ کے ساتھ حسنات میں ان کی پیروی کی توفیق دیں، آمین یا رب العالمین۔
چوہدری محمد خلیل مرحوم
گجرات میں ہمارے پرانے بزرگ دوست چوہدری محمد خلیل گزشتہ دنوں انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کے ساتھ تعارف اس دور میں ہوا جب مولانا سید عنایت اللہ شاہ بخاری نے حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مسئلہ پر تفرد کی راہ اختیار کی اور اسے اپنے مواعظ و خطابات کا موضوع بنا کر جمہور علمائے امت کے خلاف فتوٰی بازی کی زبان استعمال کرنا شروع کر دی۔ تو ان کے ایک رفیق مولانا نذیر اللہ خان مرحوم نے ان سے علیحدگی اختیار کر کے مسجد حیات النبیؐ میں الگ ’’مورچہ‘‘ قائم کر لیا۔ چوہدری محمد خلیل مرحوم اس محاذ پر مولانا نذیر اللہ خان مرحوم کا دست و بازو بنے اور فعال ساتھی رہے۔
چوہدری صاحب دراصل مجلسِ تحفظ ختم نبوت کے کارکن تھے اور وہی محاذ ان کی سرگرمیوں کی سب سے بڑی جولانگاہ تھی۔ باضابطہ عالم دین نہیں تھے لیکن قادیانیوں کے بارے میں اس قدر معلومات اور گفتگو کا ملکہ رکھتے تھے کہ متعدد مناظروں میں قادیانی حضرات کو ان کے سامنے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے اپنے گھر کے قریب ختمِ نبوت کے عنوان سے مسجد اور مکتب قائم کیا اور عمر کا آخری حصہ اسی کی خدمت میں بسر کیا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے ضلعی امیر تھے اور جمعیۃ علماء اسلام کی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے، اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائیں اور پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق دیں، آمین یا رب العالمین۔