مالاکنڈ ڈویژن میں نفاذ شریعت کی جدوجہد
اور دینی جماعتوں کی افسوسناک سردمہری
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مالاکنڈ ڈویژن اور باجوڑ ایجنسی میں نفاذ شریعت کا مطالبہ طاقت کے بل پر وقتی طور پر دبا دیا گیا ہے اور عوام کو ان کے مطالبات پورے کرنے کا وعدہ کر کے سردست خاموش کر دیا گیا ہے لیکن وہاں سے آنے والی خبروں کے مطابق چنگاری اندر ہی اندر سلگ رہی ہے اور اس کے کسی بھی وقت دوبارہ بھڑک اٹھنے کے امکانات موجود ہیں۔ اس خطہ کے غیور مسلمانوں کا مطالبہ یہ ہے کہ انہیں شریعت کا قانون دیا جائے، قرآن و سنت کے مطابق اپنے تنازعات کے فیصلے کرانے کا حق دیا جائے، اور پیچیدہ نوآبادیاتی عدالتی نظام کی بجائے سادہ، سہل الحصول اور فوری انصاف کے اصول پر مبنی اسلامی عدالتی نظام دیا جائے۔ یہ مطالبہ نہ تو آئین کے منافی ہے کہ ملک کا آئین اپنے شہریوں کو اسلامی قوانین کے نفاذ کی ضمانت دیتا ہے، اور نہ ہی غیر منطقی و اجنبی مطالبہ ہے کیونکہ بحیثیت مسلمان ہم قومی زندگی کے تمام شعبوں میں اسلامی احکام و قوانین پر عملدرآمد کے پابند ہیں اور پاکستان کا قیام ہی اس مقصد کے لیے عمل میں لایا گیا تھا ۔
شریعت کا مطالبہ کرنے والوں کے خلاف ریاستی طاقت کے اندھادھند استعمال کا جواز یہ پیش کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے ہتھیار اٹھا لیے تھے اور ریاستی سسٹم کو چیلنج کر دیا تھا۔ لیکن یہ دلیل پیش کرنے والے اس بات کو بھول رہے ہیں کہ اول تو ہتھیار اس خطہ کے لوگوں کی روز مرہ کی زبان ہے، اور دوسرا یہ کہ انہیں یہ زبان بولنے پر مجبور بھی ریاستی سسٹم نے ہی کیا ہے کہ ان کے ساتھ وعدے کر کے بھلا دیے گئے، یقین دہانیاں کرا کے نظر انداز کر دی گئیں اور معاہدے کر کے توڑ دیے گئے۔ اس لیے انہوں نے احتجاج کے لیے وہی زبان استعمال کی جو وہ جانتے تھے۔ ان کا یہ احتجاج ملک کے خلاف نہیں، ملکی نظام کے خلاف ہے۔ انہوں نے ملک سے علیحدگی کا اعلان نہیں کیا بلکہ ملک کے اندر رہتے ہوئے ملک کے آئین کی طرف سے دی گئی ضمانت کو پورا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس لیے ان کی جدوجہد کو بغاوت سے تعبیر کرنا درست نہیں ہے۔
نفاذ شریعت کا مطالبہ کرنے والوں کے طریق کار سے اختلاف کی گنجائش کے باوجود اس جدوجہد کی حمایت اور پشت پناہی ملک کی دینی قوتوں کی ذمہ داری ہے۔ اس حوالہ سے ملک کی دینی جماعتوں اور نفاذ شریعت کی دعوے دار قوتوں کا کردار قطعی طور پر غیر تسلی بخش رہا ہے، وہ ذہنی تحفظات کے خول میں بند رہیں اور اخباری بیانات کے ذریعہ اس ’’جہاد‘‘ میں شرکت کر کے مطمئن ہوگئیں کہ انہوں نے اپنا فرض ادا کر دیا ہے۔ اس طرز عمل نے عوام کی مایوسی میں اضافہ کیا ہے جو ہمارے نزدیک بہت بڑا نقصان ہے۔ دینی جماعتوں کے قائدین کو مل بیٹھنا چاہیے اور شمال سے اٹھنے والی نفاذ شریعت کی جدوجہد کو صحیح رخ پر آگے بڑھانے کے لیے مشاورت اور راہنمائی کا اہتمام کرنا چاہیے تاکہ مالاکنڈ ڈویژن اور باجوڑ ایجنسی کے غیور مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے ساتھ ساتھ قومی سطح پر نفاذ شریعت کی جدوجہد کو منظم کرنے کی راہ ہموار ہو۔
جہاں تک مالاکنڈ ڈویژن اور باجوڑ ایجنسی میں تحریک نفاذ شریعت کے پس منظر، مطالبات اور تازہ ترین صورتحال کا تعلق ہے، راقم الحروف اس سلسلہ میں حالات کا براہ راست جائزہ لینے کے لیے چند روز تک خود وہاں جا رہا ہے اور اس کی تفصیلی رپورٹ ’’الشریعہ‘‘ کے اگلے شمارہ میں قارئین کی خدمت میں پیش کر دی جائے گی، ان شاء اللہ تعالیٰ۔
اسلامی نظامِ تعلیم و تربیت میں ذرائع ابلاغ کا کردار
محمد صلاح الدین
(۶ اگست ۱۹۹۴ء کو اسلامک کلچرل سنٹر (ریجنٹ پارک، لندن) میں ورلڈ اسلامک فورم کے دوسرے سالانہ تعلیمی سیمینار سے مدیر ہفت روزہ تکبیر جناب محمد صلاح الدین کا خطاب)
دنیا میں اور تاریخ کے کسی عہد میں ایسا کوئی انسانی معاشرہ کہیں نہیں پایا گیا جس کی زندگی کسی نہ کسی نظامِ فکر و عقیدہ پر مبنی نہ رہی ہو، اور جس میں اس فکر و عقیدہ کے اظہار و ابلاغ کی کوئی نہ کوئی صورت موجود نہ رہی ہو۔ انسانی زندگی کا آغاز تخلیقِ آدمؑ کے واقعہ سے ہوا، آدمؑ کے پیکرِ خاکی میں جان پڑتے اور شعوری زندگی کے آغاز ہوتے ہی دو صفات کا ظہور ہوا۔ ایک اپنے خالق کی موجودگی کا احساس و اعتراف، اور دوسرے اس کے عطا کردہ علم کے اظہار کے لیے قوتِ گویائی۔ اس موقع پر اللہ تعالٰی، آدمؑ اور فرشتوں کے درمیان جو تبادلۂ خیال ہوا اس میں گفتگو (Dialogue) پہلا ذریعۂ ابلاغ (Medium of Communication) بنی۔
حضرت آدمؑ اور حضرت حواؓ کے جوڑے کی صورت میں جنت کے اندر جس معاشرتی زندگی کا آغاز کیا گیا اس کے لیے جائز اور ناجائز، حلال اور حرام، مباح اور ممنوع، اور معروف اور منکر کی صراحت پر مبنی ایک ضابطۂ حیات دیا گیا اور اقدار (Values) کا شعور بخشا گیا۔ ابلیس کے ساتھ کشمکش کا آغاز انہی اقدار کے تحفظ کے سلسلہ میں ہوا۔ گویا انسان کو جو پہلا چیلنج درپیش ہوا وہ جان اور مال کے تحفظ کا نہ تھا، اقدارِ حیات کے تحفظ کا تھا۔ اور اس میں ناکامی نے اسے جنت کی راحتوں اور نعمتوں سے محروم کر کے اس کانٹوں بھری دنیا میں لا پھینکا۔ اور یہاں بھی شرط یہ عائد کی گئی کہ انہی اقدار کی حفاظت میں کامیابی حاصل کی تو جنتِ گم گشتہ دوبارہ تمہارا مسکن بن سکتی ہے، اور اس میں ناکام رہے تو پھر جہنم کی آگ میں ہمیشہ جلتے رہنا تمہارا مقدر ہو گا۔ سورہ بقرہ کی آیات ۳۱ تا ۳۵ کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیے:
’’ہم نے آدمؑ سے کہا کہ تم اور تمہاری بیوی دونوں جنت میں رہو اور یہاں بفراغت جو چاہو کھاؤ مگر اس درخت کا رخ نہ کرنا ورنہ ظالموں میں شمار ہو گے۔ آخر کار شیطان نے ان دونوں کو اس درخت کی ترغیب دے کر ہمارے حکم کی پیروی سے ہٹا دیا اور انہیں اس حالت سے نکلوا کر چھوڑا جس میں وہ زندگی بسر کر رہے تھے۔ ہم نے حکم دیا کہ اب تم سب یہاں سے اتر جاؤ۔ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہیں ایک خاص مدت زمین میں ٹھہرنا اور وہیں گزر بسر کرنا ہے۔ اس وقت آدمؑ نے اپنے رب سے چند کلمات سیکھ کر توبہ کی جس کو اس کے رب نے قبول کر لیا کیونکہ وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ ہم نے کہا کہ تم سب یہاں سے اتر جاؤ، پھر جو میری طرف سے کوئی ہدایت تمہارے پاس پہنچے تو جو لوگ میری اس ہدایت کی پیروی کریں گے ان کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہو گا، اور جو اس کو قبول کرنے سے انکار کریں گے اور ہماری آیات کو جھٹلائیں گے وہ آگ میں جانے والے ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔‘‘
ان آیات سے واضح ہو جاتا ہے کہ اولین انسان نے اس دنیا میں جہل کی تاریکی میں نہیں بلکہ علم و شعور کی روشنی میں اپنی زندگی کا آغاز کیا تھا۔ اور اس کے ساتھ ہی انسان کے لیے دشمنی کا جذبہ لے کر ابلیس بھی یہاں نازل ہوا تھا۔ اب ان کے درمیان ازل سے جو جنگ چلی آ رہی ہے اور جو ابد تک جاری رہے گی، وہ یہ ہے کہ ابلیس انسان کو احکامِ الٰہی کی پابندی و پیروی کی راہ سے ہٹانے پر لگا ہوا ہے، اور انسان وحی کے ذریعے ملنے والی ہدایت کی روشنی میں اطاعت و فرمانبرداری کی زندگی بسر کرنے کی جدوجہد کر رہا ہے۔ تاریکی اور روشنی کے درمیان اس کشمکش کا ذکر قرآن حکیم نے ان الفاظ میں کیا ہے:
’’جو لوگ ایمان لاتے ہیں اللہ ان کا حامی و مددگار ہے اور وہ ان کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لاتا ہے، اور جو لوگ کفر کی راہ اختیار کرتے ہیں ان کے حامی و مددگار طاغوت ہیں وہ انہیں روشنی سے نکال کر تاریکیوں کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں یہ آگ میں جانے والے لوگ ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔‘‘
ان آیات سے یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ اسلامی اقدار سے ہماری مراد کیا ہے۔ اسلامی اقدار زندگی کی وہ قدریں ہیں جو ہمیں وحی کے ذریعے بھیجی جاتی رہیں اور جن کی تکمیل آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے کی گئی۔
قدر درحقیقت انسانی اعمال و کردار کی جانچ پرکھ کے پیمانوں کا نام ہے۔ دنیا کی تمام ٹھوس، مائع، گیس اور دیگر مادی اشیاء کے طول و عرض، وزن اور حجم وغیرہ کے لیے ہم مختلف اوزان و پیمانہ جات استعمال کرتے ہیں۔ قدر (Value) وہ پیمانہ ہے جس سے ہم انسان کے کردار کی صفات کو ناپتے اور اس کے بارے میں اچھا یا برا ہونے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ یہ ایک مرکزِ حوالہ (Point of Reference) یا ایک کسوٹی ہے جس کے ذریعے کردار کا وزن اور کھراپن جانچا جاتا ہے۔
کوئی انسانی معاشرہ اچھے یا برے کی تمیز یا صحیح اور غلط کے شعور سے عاری نہیں ہوتا۔ یہ برے بھلے کی تمیز اخلاقی اقدار ہی کے حوالے سے کی جاتی ہے۔ یہ اقدار کہاں سے آئی ہیں اور کس طرح انسان کے شعور و ادراک کا حصہ بنی ہیں؟ اس کے بارے میں فلسفیوں کا دعوٰی تو یہ ہے کہ یہ انسانی شعور کے ارتقاء کا نتیجہ ہیں۔ مگر قرآن حکیم ہم پر واضح کرتا ہے کہ یہ انسان کی فطرت کا لازمی حصہ ہیں اور اس کی تخلیقی اسکیم کا بنیادی جزو ہیں۔ جب یہ کہا گیا کہ ’’ہم نے آدمؑ کو تمام اشیاء کے نام سکھائے‘‘ (البقرہ ۳۱) تو اس سے مراد محض تعارفِ اشیاء نہیں۔ خواصِ اشیاء، زندگی میں ان کی حیثیت و اہمیت، زندگی سے ان کے تعلق، انسانی زندگی پر ان کے برے اور اچھے اثرات، اور ان کے استعمال سے متعلق جائز و ناجائز اور حلال و حرام کی حدود، سب ہی اشیاء کے نام سکھانے کے مفہوم میں شامل ہیں۔
انسان کو جس احسن تقویم پر پیدا کیا گیا وہ بہترین جسمانی ہیئت و ساخت ہی تک محدود نہیں، اس کا شعوری وجود بھی اس میں شامل ہے۔ تخلیقِ آدم کے بعد ہدایتِ آدم کا جو اہتمام نزولِ وحی کی صورت میں کیا گیا اس میں انبیاءؑ، ان کے ساتھ اتاری جانے والی کتب اور معجزات کے علاوہ ایک چیز میزان بھی ہے۔ سورہ الحدید میں ارشاد ہوا:
’’ہم نے اپنے رسولوں کو صاف صاف نشانیوں اور ہدایات کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں۔‘‘ (الحدید ۲۵)
یہ میزان جو لوازماتِ عدل میں شامل کی گئی ہے، تاجر کی ترازو نہیں ہے۔ بلکہ وہ میزانِ خیر و شر ہے جو انسان کے نفس میں نصب کر دی گئی ہے۔ اسے ہم ضمیر بھی کہتے ہیں۔ یہ ایک ناخواندہ فرد کے اندر بھی اسی طرح کام کرتی ہے جس طرح کسی عالم اور فاضل کے اندر۔ یہ ہر لمحہ ایک ایک نیت، ارادے، عزم اور عمل کے بارے میں فیصلہ کرتی اور قلب و ذہن پر دستک دے کر ٹوکتی جاتی ہے کہ نیت و ارادہ درست اور عدل پر مبنی ہے یا غلط اور ظلم پر مبنی؟ کوئی عمل خیر کے پیمانوں پر پورا اترتا ہے یا شر اور فساد کے زمرے میں آتا ہے؟ نفسِ انسانی کے اندر پیوست یہی وہ میزان ہے جس کے بارے میں سورۃ الشمس میں اللہ تعالٰی نے اپنی ذات اور دس اشیاء پر مشتمل طویل ترین قسم کھا کر ارشاد فرمایا ہے کہ:
’’اور نفسِ انسانی کی اور اس ذات کی قسم جس نے اسے ہموار کیا اور پھر اس کی بدی اور اس کی نیکی و پرہیزگاری اس پر الہام کر دی۔ یقیناً فلاح پا گیا وہ شخص جس نے نفس کا تزکیہ کیا، اور نامراد ہوا وہ جس نے اسے کچل کر دبا دیا۔‘‘
ان آیات سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ قرآن نے نیکیوں کو ’’معروف‘‘ اور برائیوں کو ’’منکر‘‘ کیوں کہا ہے۔ ان اصطلاحات سے صاف پتہ چلتا ہے کہ دنیا کے کسی بھی گوشے میں آباد اور کسی بھی عہد میں زندگی بسر کرنے والا انسان، خواہ وہ مسلمان ہو یا غیرمسلم، پڑھا لکھا ہو یا اَن پڑھ، فطرتاً نیکی اور بدی کا ایک مشترکہ شعور رکھتا ہے۔ دیانت، امانت، عدل، احسان، تحمل، بردباری، شفقت، محبت، شجاعت، پاکیزگی اور صداقت کو ہر انسانی معاشرے میں اقدارِ خیر کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔ اور بے ایمانی، خیانت، ظلم، زیادتی، بے صبرے پن، چھچھورے پن، عداوت، قساوت، بزدلی، غلاظت، جھوٹ اور دھوکے بازی کو ہر جگہ شر اور ممنوعات میں شمار کیا گیا ہے۔ اس سے یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ جنہیں ہم اسلامی اقدار کہتے ہیں وہ درحقیقت انسانی اقدارِ اخلاق ہیں۔
خیر و شر میں تمیز اور ان کے ترک و اختیار پر قدرت ہی وہ بنیادی صفت ہے جو انسان کو دوسری ذی حیات مخلوقات سے ممتاز کرتی اور اسے اشرف المخلوقات کے بلند مرتبے پر فائز کرتی ہے۔ اس کی وجہ سے انسان ایک اخلاقی وجود قرار پاتا ہے۔ جبکہ دوسری تمام مخلوقات جبلی کردار کے تابع ایک لگے بندھے ضابطے کے مطابق زندگی گزارتی ہیں۔ انسان کا یہ اخلاقی وجود ہی ہے جس کی تعلیم و تربیت، تزکیہ و رہنمائی اور حفاظت و سلامتی کے لیے انبیاءؑ کو مبعوث کیا گیا، کتابیں نازل کی گئیں، صحیفے اتارے گئے، اور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے اس تعلیم و تزکیہ کی تکمیل کی گئی۔ حضور اکرمؐ کے مشن کا تعارف کراتے ہوئے قرآن حکیم ہمیں بتاتا ہے کہ:
’’ہم نے تمہارے درمیان خود تم میں سے ایک رسولؐ بھیجا جو تمہیں ہماری آیات سناتا ہے، تمہارا تزکیہ نفس کرتا ہے، تمہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے، اور تمہیں وہ باتیں سکھاتا ہے جو تم جانتے نہ تھے۔‘‘ (البقرہ ۱۵۱)
گویا تزکیۂ نفس اور تطہیرِ اخلاق ہی وہ اصل کام ہے جس کے لیے حضور اکرمؐ اور آپ سے قبل کے تمام انبیاءؑ کو مبعوث فرمایا گیا۔ معمارِ حرم ابو الانبیاء حضرت ابراہیمؑ نے اسی کام کے لیے دعا فرمائی تھی کہ:
’’اے ہمارے رب! ان لوگوں میں خود انہی کے درمیان سے ایک رسولؐ اٹھائیو جو انہیں تیری آیات سنائے، ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دے، اور ان کا تزکیۂ نفس کرے، تو بڑا مقتدر اور حکیم ہے۔‘‘ (البقرہ ۱۲۹)
اس مقتدر اور حکیم ہستی نے حضرت ابراہیمؑ کی دعا قبول فرمائی اور اس سے قبل کی محولہ بالا آیت میں، جو اَب دعا کے طور پر حضور اکرمؐ کی بعثت کا ذکر، عین اسی مشن کا صراحت کے ساتھ کیا جس کی تمنا حضرت ابراہیمؑ نے ظاہر فرمائی تھی۔ خود حضورؐ نے اپنی زبانِ مبارک سے اپنا تعارف کراتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ انما بعثت لاتمم مکارم الاخلاق ’’مجھے مکارمِ اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہے‘‘۔ ایک اور حدیث میں یہی بات ان الفاظ میں کہی گئی ہے بعثت لاتمم حسن الاخلاق ’’مجھے حسنِ اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہے‘‘۔ یعنی تعمیرِ اخلاق کا جو کام حضرت آدمؑ سے لے کر حضرت عیسٰیؑ تک مختلف انبیاء کرامؑ کرتے چلے آ رہے ہیں، میں اس کی تکمیل کے لیے مبعوث کیا گیا ہوں۔
اس پورے پس منظر میں اسلامی اقدار کے فروغ و تحفظ کا مطلب یہ ہے کہ نبی آخر الزمان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانی معاشرے کو اخلاق کی جس بلند سطح پر پہنچایا اور چھوڑا تھا، وہ ہمارا آئیڈیل رہے۔ اور خود حضورؐ کی ذاتِ اقدس جسے قرآن نے اسوۂ حسنہ قرار دیا، ہماری نگاہوں کا مرکز بنی رہے۔ اسے مسلم معاشرے میں قیامت تک کے لیے مرکزِ حوالہ (Point of Reference) بنا دیا گیا ہے۔ اور آپؐ کے بعد مستقبل میں آنے والی تمام اسلامی حکومتوں کے لیے ایک مستقل لائحۂ عمل بھی طے کر دیا گیا ہے جو چار بنیادی نکات پر مشتمل ہے:
’’یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کو ہم زمین میں اگر تمکن و حکومت عطا کریں تو یہ نماز قائم کریں گے، زکٰوۃ ادا کریں گے، نیکی کا حکم دیں گے اور بدی سے روکیں گے۔‘‘
یہ لائحۂ عمل اسلامی ریاست میں تمام ذرائع ابلاغ کی سمت اور ان کے مقصد کا تعین کر دیتا ہے۔ ابلاغ کے معنی پھیلانے اور پہنچانے کے ہیں۔ اسلام نے طے کر دیا کہ پھیلانے اور پہنچانے کی چیز صرف معروف ہے۔ یہ ان ذرائع کا ایجابی اور فروغی (Positive and Promotive) کردار ہے۔ ان کا سلبی (Negative) اور دفاعی (Defensive) یا حفاظتی (Protective) کردار یہ ہے کہ منکرات کو دبانے اور مٹانے کا فریضہ انجام دیں۔ اسلامی اقدار پر جس سمت سے کوئی حملہ ہو اس کا منہ توڑ جواب دیں۔ گویا فروغِ خیر اور انسدادِ شر ان کا بنیادی کام ہے۔ ان ذرائع کو بالعموم رسمی (Formal) اور غیر رسمی (Informal) میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ تعلیم کو رسمی، اور دیگر تمام سمعی و بصری ذرائع کو جو نظامِ تعلیم کے دائرہ سے باہر واقع ہوں غیر رسمی ذرائع شمار کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ تقسیم کسی بین الاقوامی اصول یا ضابطہ پر مبنی نہیں ہے۔
سیکولر معاشروں میں نظامِ تعلیم اور اخبارات و جرائد، ریڈیو، ٹیلیویژن اور دوسرے ذرائع میں باہم کوئی ربط و تعلق نہیں ہوتا۔ مذہب اور سیاست کی دوعملی کے زیراثر نظامِ تعلیم اور ذرائع ابلاغ بھی دو مختلف دائروں میں گردش کرتے نظر آتے ہیں۔ لیکن ایک نظریاتی ریاست میں رسمی اور غیر رسمی ذرائع کے درمیان ایک ربط و ہم آہنگی پائی جاتی ہے، بڑی حد تک یک رنگی دکھائی دیتی ہے۔ جو کچھ نصابی کتب کے ذریعے کلاس روم میں پڑھایا جاتا ہے اسی کی تعلیم لٹریچر، اخبارات و جرائد، ریڈیو اور ٹیلیویژن کے پروگراموں کے ذریعے دی جاتی ہے۔ تناقص اور تضادات سے مجموعی فضا کو محفوظ رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کردار سازی میں تعمیر و تخریب کا عمل ساتھ ساتھ نہیں چلتا۔ معاشرہ جس فلسفۂ حیات پر قائم ہے اسے ہر ذریعۂ ابلاغ ذہن میں بٹھانے اور کردار و عمل کا جزو بنانے کی بڑی مربوط اور منظم کوشش کرتا ہے۔ اسی کے نتیجے میں کردار کی یکسانیت اور فکر کی یکجہتی ابھرتی اور افرادِ قوم کو متحد کرتی اور ایک دوسرے کا معاون بنا دیتی ہے۔
اسلام بھی اپنے زیرِ اقتدار معاشرے میں تمام ذرائع ابلاغ کو مسلمانوں کی انفرادی و اجتماعی زندگی ’’صبغۃ اللہ‘‘ یعنی اللہ کے رنگ میں رنگ دینے پر مامور دیکھنا چاہتا ہے۔ اسلامی اقدار ایک اعلٰی اخلاقی کردار کا جزو اور اس کی تشکیل کا ذریعہ ہیں۔ یہ اسی صورت میں پروان چڑھ سکتی ہیں جب آنکھوں کے اشارے ہوں یا جسم کی حرکات، قلم اور برش کی نوک ہو یا کیمرے کی آنکھ، ریڈیو کی آواز ہو یا ٹی وی اسکرین، اخبارات کے صفحات ہوں یا رسالوں کے ٹائیٹل، افسانے اور ناول ہوں یا ڈرامے اور نغمے، خبروں کے متن ہوں یا ان کی سرخیاں، ان سب پر معروف اور منکر کا قرآنی ضابطۂ اخلاق نافذ ہو۔ اور رسمی و غیر رسمی تمام ذرائع ابلاغ اس مقصد کے تابع ہوں جس کی خاطر انبیاءؑ کو مبعوث کیا گیا۔ یعنی تعمیر و تکمیلِ اخلاق اور تزکیۂ نفس۔ خالص تفریحی پروگرام بھی اس سے مستثنٰی نہ ہوں۔ آخر عہدِ نبویؐ، دورِ خلافتِ راشدہ، اور بعد کے زمانوں میں زندگی کی تمام سرگرمیاں لطائف، تفریحات اور جمالیاتی اظہار کی مختلف صورتوں سے خالی نہیں تھیں، وہ جاری و ساری رہی ہیں۔ پھر آج اسے خارج از امکان کیوں سمجھ لیا گیا ہے؟
جس طرح ایک بد اخلاق شخص تطہیرِ اخلاق اور تزکیۂ نفس کا کام انجام نہیں دے سکتا، اسی طرح بے مہار ذرائع ابلاغ سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ اسلامی اقدار کے فروغ و تحفظ کا کام انجام دے سکیں۔ اس نے خود ان ذرائع کے لیے ایک ضابطۂ اخلاق مقرر کیا ہے جس کی پابندی کے بغیر وہ مثبت اور تعمیری کردار ادا نہیں کر سکتے۔ اس ضابطۂ اخلاق کے چند بڑے بڑے اصول یہ ہیں:
(۱) حق گوئی
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، انصاف کے علمبردار اور خدا واسطے کے گواہ بنو، اگرچہ تمہارے انصاف اور تمہاری گواہی کی زد خود تمہاری اپنی ذات یا تمہارے والدین اور رشتے داروں ہی پر کیوں نہ پڑتی ہو، فریقِ معاملہ خواہ مالدار ہو یا غریب، اللہ تم سے زیادہ ان کا خیر خواہ ہے، لہٰذا تم اپنی خواہشِ نفس کی پیروی میں عدل سے نہ ہٹو، اگر تم نے لگی لپٹی بات کہی یا سچائی سے پہلو بچایا، تو جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ کو اس کی خبر ہے۔‘‘ (النساء ۱۳۵)
(۲) شہادتِ حق
’’اور شہادت ہرگز نہ چھپاؤ، جو شہادت چھپاتا ہے اس کا دل گناہ سے آلودہ ہے، اور اللہ تمہارے اعمال سے بے خبر نہیں ہے۔‘‘ (البقرہ ۲۸۲)
(۳) کتمانِ حق سے گریز
’’باطل کا رنگ چڑھا کر حق کو مشتبہ نہ بناؤ اور جان بوجھ کر حق کو چھپانے کی کوشش نہ کرو۔‘‘ (البقرہ ۴۲)
’’اس شخص سے بڑا ظالم کون ہو گا جس کے ذمہ اللہ کی طرف سے ایک گواہی ہو اور وہ اسے چھپائے، اللہ تمہاری حرکات سے غافل تو نہیں ہے۔‘‘ (البقرہ ۱۴۰)
(۴) صاف اور سیدھی بات
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، صاف اور کھری بات کیا کرو۔‘‘ (الاحزاب ۷۰)
(۵) بھلی بات
’’اور لوگوں سے ہمیشہ بھلی بات کیا کرو۔‘‘ (البقرہ ۸۳)
(۶) دعوت بطریق احسن
’’اپنے رب کے راستے کی طرف دعوت دو حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ اور لوگوں سے مباحثہ کرو ایسے طریقے سے جو ہر لحاظ سے بہترین ہو۔‘‘ (النحل ۱۲۵)
(۷) بہترین انسدادی تدبیر
’’برائی کو اس طریقے سے دفع کرو جو تمہارے نزدیک بہترین ہو۔‘‘ (المومنون ۹۶)
(۸) بدی کے بدلے نیکی
’’نیکی اور بدی یکساں نہیں ہیں، تم بدی کو اس نیکی سے دفع کرو جو بہترین ہو، تم دیکھو گے کہ تمہارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی ہے وہ جگری دوست بن گیا ہے۔‘‘ (حم السجدہ ۴۱)
(۹) امر بالمعروف، نہی عن المنکر
’’تم میں سے کچھ لوگ تو ایسے ضرور ہونے چاہئیں جو نیکی کی طرف بلائیں بھلائی کا حکم دیں اور برائیوں سے روکتے رہیں۔‘‘ (آل عمران ۱۰۴)
(۱۰) احترامِ آدمیت
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، نہ مرد ایک دوسرے کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں، اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں، آپس میں ایک دوسرے پر طعن نہ کرو اور نہ ایک دوسرے کو برے القاب سے یاد کرو۔‘‘ (الحجرات ۱۱)
(۱۱) غیبت سے گریز
’’اور تم ایک دوسرے کی برائی پیٹھ پیچھے نہ کیا کرو۔‘‘ (الحجرات ۱۲)
(۱۲) بدگمانی سے پرہیز
’’گمان کرنے سے پرہیز کیا کرو کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔‘‘ (الحجرات ۱۲)
(۱۳) خواتین کے معاملے میں خصوصی احتیاط
’’جو لوگ پاک دامن بے خبر مومن عورتوں پر تہمتیں لگاتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی گئی ہے اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔ وہ اس دن کو نہ بھول جائیں جب ان کی اپنی زبانیں اور ان کے اپنے ہاتھ پاؤں ان کے کرتوتوں کی گواہی دیں گے۔ اس دن اللہ انہیں بھرپور بدلہ دے گا جس کے وہ مستحق ہیں اور انہیں معلوم ہو جائے گا کہ اللہ ہی حق ہے سچ کو سچ کر دکھانے والا۔‘‘ (النور ۲۳ تا ۲۵)
(۱۴) شرطِ تحقیق
’’اس وقت تم کیسی سخت غلطی کر رہے تھے جب تمہاری ایک زبان سے دوسری زبان اس جھوٹ کو لیتی چلی جا رہی تھی اور تم اپنے منہ سے وہ کچھ کہے چلے جا رہے تھے جس کے متعلق تمہیں کوئی علم نہ تھا، تم اسے ایک معمولی بات سمجھ رہے تھے جبکہ اللہ کے نزدیک یہ ایک بڑی بات تھی۔‘‘ (النور ۱۵)
’’اور اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو۔ ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو بے جانے بوجھے نقصان پہنچا دو اور پھر اپنے کیے پر پچھتاؤ۔‘‘ (الحجرات ۶)
(۱۵) نجی زندگی کا تحفظ
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اپنے گھروں کے سوا دوسروں کے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو جب تک گھر والوں سے اجازت نہ لے لو اور گھر والوں پر سلام نہ بھیجو، یہ طریقہ تمہارے لیے بہتر ہے، توقع ہے کہ تم اس کا خیال رکھو گے۔ پھر اگر وہاں کسی کو موجود نہ پاؤ تو داخل نہ ہو جب تک کہ تمہیں اجازت نہ مل جائے، اور اگر تم سے کہا جائے کہ واپس چلے جاؤ تو واپس ہو جاؤ، یہ تمہارے لیے پاکیزہ طریقہ ہے۔‘‘ (النور ۲۷، ۲۸)
(۱۶) کھوج کرید سے گریز
’’اور تجسس نہ کیا کرو اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے، کیا تمہارے اندر کوئی ایسا ہے جو اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے؟ دیکھو تم خود اس سے گھن کھاتے ہو۔‘‘ (الحجرات ۱۲)
(۱۷) فحاشی اور بے حیائی سے گریز
’’جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمان لانے والے گروہ کے اندر فحاشی پھیلے، وہ دنیا اور آخرت میں دردناک سزا کے مستحق ہیں۔‘‘ (النور ۱۰۹)
’’اور فحاشی کے قریب ہرگز نہ پھٹکو خواہ وہ کھلی ہو یا چھپی۔‘‘ (انعام ۱۵۱)
’’اے بنی آدم! ایسا نہ ہو کہ شیطان تمہیں پھر اسی فتنے میں مبتلا کر دے جس طرح اس نے تمہارے والدین کو جنت سے نکلوایا تھا اور ان کے لباس ان کے جسم سے اتروا دیے تھے تاکہ ان کی شرمگاہیں ایک دوسرے کے سامنے کھولے، وہ اور اس کے ساتھی تمہیں ایسی جگہ سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھ سکتے، ان شیاطین کو ہم نے ان لوگوں کا سرپرست بنا دیا ہے جو ایمان نہیں لاتے۔‘‘ (الاعراف ۲۷)
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، شیطان کے نقشِ قدم پر نہ چلو، جو کوئی اس کی پیروی کرے گا وہ اسے فحاشی اور بدی پھیلانے کا حکم دے گا۔‘‘ (النور ۳۱)
(۱۸) نیکی میں تعاون
’’نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے سے تعاون کرو۔‘‘ (المائدہ ۲۰)
(۱۹) بدی میں عدمِ تعاون
’’اور جو گناہ اور زیادتی کے کام ہیں ان میں کسی سے تعاون نہ کرو، صرف اللہ سے ڈرو، اس کی سزا بہت سخت ہے۔‘‘ (المائدہ ۲۰)
(۲۰) مذہبی دل آزاری سے گریز
’’یہ لوگ خدا کو چھوڑ کر جن معبودوں کو پکارتے ہیں انہیں گالیاں نہ دو۔‘‘ (الانعام ۱۰۸)
(۲۱) اظہارِ خیال میں شائستگی
’’اہلِ کتاب کے ساتھ بحث نہ کرو مگر احسن طریقے سے۔‘‘ (العنکبوت ۴۶)
یہ ضابطۂ اخلاق قرآنی آیات سے مرتب کیا گیا ہے۔ اس میں احادیث نبویؐ اور اقوالِ خلفائے راشدینؓ و صحابہ کرامؓ کو بھی شامل کر لیا جائے تو ایک نہایت مفصل اور جامع ضابطہ مرتب کیا جا سکتا ہے، جس کی حدود میں کام کرنے والے ذرائع ابلاغ ہی اسلامی اقدار کے فروغ و تحفظ کے ضامن بن سکتے ہیں۔ یہ بات کہ اسلام کن اقدار کا فروغ و ابلاغ چاہتا ہے اور کن چیزوں کا انسداد و سدباب، کوئی تحقیق طلب مسئلہ نہیں ہے، مسلمانوں کا بچہ بچہ اور خواندہ و ناخواندہ فرد اس سے بخوبی واقف ہے، مسئلہ صرف یہ ہے کہ ذرائع ابلاغ کو ان کا تابع اور پابند کیسے بنایا جائے؟
اس وقت اپنے کنٹرول کے لحاظ سے ذرائع ابلاغ تین دائروں میں منقسم ہیں: سرکاری دائرہ، نجی ادارتی دائرہ، اور نجی انفرادی دائرہ۔
- ریڈیو، ٹیلیویژن اور حکومت کے زیراہتمام شائع ہونے والے تمام اخبارات و جرائد سرکاری کنٹرول میں ہیں۔
- نجی اداروں کے تحت شائع ہونے والے اخبارات و جرائد پالیسی کے لحاظ سے اپنے مالکان کے کنٹرول میں ہیں۔
- تیسرا دائرہ جو سرکاری کنٹرول سے یکسر آزاد ہے یا آزاد رکھا گیا ہے، نجی کاروبار اور نجی رجحانات و میلانات اور ذوق و پسند کا وہ دائرہ ہے جس میں وی سی آر اور سمعی و بصری کیسٹوں، تصاویر اور کارڈوں کی فراوانی ہے اور جس نے اخلاقی زوال و انحطاط کو پستی کی انتہا پر پہنچا دیا ہے۔ ہمارے گھروں میں اسلامی اقدار و اخلاق کی تباہی اور فحاشی و بے شرمی کے فروغ میں ان ذرائع ابلاغ کا کردار سب سے نمایاں اور انتہائی تشویشناک ہے۔ بظاہر یہ ذرائع ’’ذرائع ابلاغ‘‘ (Mass Communication) کی تعریف میں نہیں آتے لیکن ان کا دائرہ گھر سے نکل کر چونکہ محلہ کی سطح پر دراز ہو چکا ہے اور ایک ایک فلم کو دیکھنے والوں کی تعداد سینما گھروں کے تماش بینوں کی تعداد کے مساوی ہو گئی ہے اس لیے یہ انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی ذریعہ ابلاغ بن چکا ہے۔ اور پورے معاشرے کی اجتماعی صورت گری میں اس کے اثرات بہت ہمہ گیر ہیں، اس لیے اسے نجی دائرہ تک محدود سمجھنا درست نہیں ہے۔ ہم اپنے شہروں، قصبوں اور دیہات میں اگر آڈیو اور ویڈیو کیسٹوں کی دوکانوں کا سروے کریں، ملک میں وی سی آر کی مجموعی تعداد معلوم کریں اور ان کے سامعین و ناظرین کی تعداد جان سکیں تو ہمیں اندازہ ہو گا کہ معاشرے پر اس کی گرفت کتنی وسعت اختیار کر چکی ہے اور بچوں، جوانوں، بوڑھوں، عورتوں اور مردوں کے کردار، ذہنی رویوں اور رجحانات و میلانات میں ان کے ذریعے کتنی بڑی تبدیلی آ چکی ہے۔
مسلم معاشرے کے لیے اس وقت سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ سرکاری کنٹرول میں کارفرما ذرائع ابلاغ ہوں یا نجی اداروں اور انفرادی دائروں میں کام کرنے والے ذرائع ابلاغ، ان سب پر اباحیت پسند اور رند پرست طبقے کا قبضہ ہے۔ جس کے نزدیک اخلاقی اقدار کوئی اہمیت نہیں رکھتیں بلکہ یہ اقدار اس کے سیاسی، معاشی اور معاشرتی مفادات کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ خام مال اور مشینری کی حد تک سو فیصد اور مواد کی حد تک ہمارا ۴۰ فیصد انحصار بیرونی ممالک پر ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ مغربی ثقافت اور تہذیب کے اثرات ایک سیلاب کی صورت میں ہمارے معاشرے کو اپنی زد میں لیے ہوئے ہیں۔ ہمارا نظامِ تعلیم اور خاندان کے تربیتی مراکز اپنی اثر انگیزی کھو بیٹھے ہیں۔ اسلامی اقدار کی آبیاری کے لیے جو سازگار ماحول اور رسمی و غیر رسمی ذرائع ابلاغ کا مربوط، ہم آہنگ اور یکجہت تعاون درکار ہے، وہ مفقود ہے۔
اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہمیں مختصر المیعاد اور طویل المیعاد اہداف کے تعین کی ضرورت ہے:
- مختصر المیعاد اہداف میں ایک ایسی تحریکِ مزاحمت کی ضرورت ہے جو فحاشی اور عریانی کے خلاف تسلسل کے ساتھ جاری رکھی جا سکے۔ اور حکومت، صحافتی و طباعتی اداروں، ناشروں اور کاروباری اداروں پر پورا دباؤ ڈال کر انہیں راہ راست پر لانے کے لیے مجبور کر سکے۔ اور محلہ محلہ میں تطہیرِ اخلاق کی مہم چلا سکے۔
- طویل المیعاد اہداف میں اس برسراقتدار گروہ سے نجات پانا شامل ہے جو فحاشی و عریانی کا محافظ و سرپرست اور اسلامی اقدار کی پامالی کا اصل ذمہ دار ہے۔ یہ تبدیلیٔ حکومت اور صالح افراد کے ہاتھوں میں زمامِ اقتدار کی منتقلی کا مسئلہ ہے۔ یہ بات اچھی طرح ذہن نشین ہو جانی چاہیے کہ اسلامی اقدار کے فروغ و تحفظ کے لیے ہم ذرائع ابلاغ کو محض وعظ و تلقین سے اپنا قبلہ درست کر لینے پر آمادہ نہیں کر سکتے۔
سنی شیعہ کشمکش کے اسباب و عوامل
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
تحریک جعفریہؒ پاکستان اور سپاہ صحابہؓ پاکستان کے درمیان کشمکش نے مسلح تصادم کی جو صورت اختیار کر لی ہے، اس سے ملک کا ہر ذی شعور شہری پریشان ہے۔ دونوں جانب سے سینکڑوں افراد اب تک اس مسلح تصادم کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ اور ارباب اختیار فرقہ واریت کے خاتمہ کے عنوان سے اس کشمکش پر قابو پانے کا بار بار عزم ظاہر کرتے ہیں، مگر اس کی جڑیں معاشرہ میں اس قدر گہرائی تک اتر چکی ہیں کہ بیخ کنی کے لیے ان تک رسائی مشکل سے مشکل تر ہوتی جا رہی ہے۔ اس لیے ضروری محسوس ہوتا ہے کہ اس کشیدگی کے اسباب و عوامل کا کھلے دل و دماغ کے ساتھ تجزیہ کیا جائے اور سنجیدہ عمومی بحث و مباحثہ کے ذریعہ اس کے محرکات کا کھوج لگا کر اس مقام تک پہنچا جائے جہاں سے اس کشمکش کے سوتے پھوٹتے ہیں۔ تاکہ ان کو بند کرنے کی کوئی صورت نکالی جا سکے۔
یہ کشمکش اور تصادم جو عملاً سپاہ صحابہؓ پاکستان اور تحریک جعفریہؒ پاکستان کے درمیان ہے، دراصل شیعہ سنی کشمکش کا شدت پسندانہ اظہار ہے۔ اور شیعہ سنی کشمکش کی تاریخ بہت پرانی ہے جس کا آغاز پہلی صدی ہجری کے اختتام سے قبل ابتدائی شکل میں ہوگیا تھا۔ اور رفتہ رفتہ اس نے ملت اسلامیہ میں عقائد و نظریات کے لحاظ سے دو واضح متحارب گروہوں کی صورت اختیار کر لی۔ قارئین کی معلومات کے لیے دونوں گروہوں کے اعتقادات میں چند بنیادی فرق واضح کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔
- اہل سنت کے نزدیک موجودہ قرآن کریم ہی اصلی اور مکمل قرآن کریم ہے جو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے خلفاء راشدینؓ نے مرتب شکل میں امت کو دیا تھا۔ اس میں کسی قسم کا کوئی رد و بدل نہیں ہوا۔ اہل تشیع کے نزدیک یہ قرآن کریم مکمل نہیں ہے بلکہ ان کے بقول اس میں رد و بدل ہوا ہے۔ جبکہ اصل قرآن کریم امام غائب کے پاس ہے جو اپنے وقت پر اسے لے کر ظاہر ہوں گے، اس وقت تک مصلحتاً موجودہ قرآن کریم کو ہی بطور قرآن پڑھنا اور پیش کرنا بامر مجبوری درست ہے۔
- اہل سنت کے نزدیک جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے اور آپؐ کا ساتھ دینے والے سب لوگ صحابہ کرامؓ ہیں۔ ان میں مہاجرین، انصار اور اہل بیت سمیت تمام طبقات شامل ہیں۔ یہ سب لوگ اہل ایمان ہیں، سب کے ساتھ عقیدت و محبت رکھنا ضروری ہے اور سب کے سب ہدایت کا ذریعہ اور معیار ہیں۔ جبکہ اہل تشیع کے نزدیک اہل بیتؓ کے سوا باقی لوگ لائق اعتبار نہیں ہیں، بلکہ انہیں اہل ایمان میں شامل کرنا بھی درست نہیں ہے۔ اور اہل بیتؓ سے مراد بھی جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان اور کنبہ کے سب افراد نہیں بلکہ صرف حضرت خدیجہؓ، حضرت علیؓ، حضرت فاطمہؓ اور ان کی اولاد ہے۔ جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دیگر ازواج مطہرات اور اولاد اہل تشیع کے نزدیک اہل بیت میں شامل نہیں ہے۔
- اہل سنت کے نزدیک قرآن کریم کے بعد سنت رسولؐ دین کا دوسرا بڑا ماخذ اور سر چشمہ ہے۔ اور سنت سے مراد وہ تمام روایات و احادیث ہیں جو صحابہ کرامؓ کے کسی بھی فرد سے صحیح سند کے ساتھ منقول ہیں۔ جبکہ اہل تشیع بھی سنت رسولؐ کو دین کا ماخذ مانتے ہیں، مگر ان کے نزدیک حدیث و سنت صرف وہی ہے جو اہل بیتؓ سے منقول ہے۔ اور ان کے علاوہ مہاجرینؓ، انصارؓ، ازواج مطہراتؓ اور دیگر صحابہ کرامؓ سے منقول روایات اہل تشیع کے نزدیک سنت میں شامل نہیں ہیں۔
- اہل سنت کے نزدیک جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد چونکہ وحی کا سلسلہ بند ہو چکا ہے، اس لیے کوئی شخصیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایسی نہیں ہے جس کی رائے میں خطا کا احتمال نہ ہو۔ اور کسی دلیل اور بنیاد کے بغیر اس کی بات بہر صورت واجب العمل ہو۔ جبکہ اہل تشیع کے نزدیک اہل بیتؓ کے ۱۲ امام معصوم عن الخطا ہیں اور ان کی رائے اور قول کو وہی حیثیت حاصل ہے جو پیغمبر کی وحی کو حاصل ہوتی ہے۔
- اہل سنت کے نزدیک خلفاء راشدین کی واقعاتی ترتیب ہی اصلی اور جائز ترتیب ہے۔ یعنی پہلے خلیفہ حضرت ابوبکرؓ، دوسرے حضرت عمرؓ، تیسرے حضرت عثمانؓ، اور چوتھے حضرت علیؓ ہیں۔ اور ان کے درمیان فضیلت و رتبہ کی ترتیب بھی یہی ہے۔ جبکہ اہل تشیع کے نزدیک جناب نبی اکرم کے بعد خلافت حضرت علیؓ کا حق تھا جو انہیں نہیں دیا گیا۔ اس لیے پہلے تین خلفاء کی خلافت جائز نہیں ہے بلکہ ان کی حیثیت غاصبین اور ظالمین کی ہے۔
چنانچہ ان واضح اور بنیادی اختلافات کے ہوتے ہوئے دونوں میں سے کسی کے لیے بھی دوسرے فریق کو بطور مسلمان قبول کرنا ممکن نہیں تھا۔ اور اس کا واضح اظہار دونوں فریقوں کی بنیادی کتابوں اور اساسی تعلیمات میں موجود ہے۔ لیکن اس کے باوجود ایک دوسرے کو برداشت کرنے کی حد تک تعلقات اہل سنت اور اہل تشیع کے درمیان صدیوں سے قائم چلے آرہے ہیں جو حالات کی ضرورت کی تحت بسا اوقات مشترکہ معاملات میں باہمی تعاون کی صورت بھی اختیار کر جاتے ہیں۔
اس پس منظر میں وطن عزیز پاکستان میں شیعہ سنی تعلقات کا جائزہ لیا جائے تو ماضی کے حوالہ سے ان میں حوصلہ افزائی کا پہلو نمایاں دکھائی دیتا ہے اور بہت سی دینی تحریکات میں سنی اور شیعہ قائدین ایک پلیٹ فارم پر جدوجہد کرتے دکھائی دیتے ہیں:
- تحریک آزادی میں مجلس احرار اسلام کی جدوجہد ایک مستقل باب کی حیثیت رکھتی ہے اور اس میں امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ ، مولانا حبیب الرحمن لدھیانویؒ ، مولانا سید محمد داؤد غزنویؒ ، اور صاحبزادہ سید فیض الحسنؒ کے ساتھ مولانا مظہر علی اظہر بھی صف اول کے لیڈروں میں شامل ہیں جو شیعہ تھے اور ایک عرصہ تک احرار کے سیکرٹری جنرل رہے ہیں۔
- تحریک پاکستان میں قائد اعظم محمد علی جناح کا شیعہ ہونا کسی سے مخفی نہیں ہے۔ مگر علامہ شبیر احمد عثمانیؒ ، مولانا عبد الحامد بد ایونیؒ ، اور مولانا محمد ابراہیم سیالکوٹیؒ جیسے اکابر علماء نے ان کی قیادت میں قیام پاکستان کی جنگ لڑی ہے۔
- تحریک ختم نبوت میں امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ ، مولانا سید ابوالحسناتؒ ، مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ ، مولانا سید محمد داؤد غزنویؒ ، اور مولانا خواجہ خان محمد کے ساتھ سید مظفر علی شمسی اور علامہ غضنفر کراروی جیسے شیعہ راہنماؤں کی محنت بھی شامل ہے۔
- قیام پاکستان کے بعد اسلامی دستور کے لیے ۲۲ دستوری نکات مرتب کرنے والے ۳۱ سرکردہ علماء کرام میں علامہ سید سلیمان ندویؒ ، مولانا عبد الحامد بد ایونیؒ ، مولانا محمد داؤد غزنویؒ ، اور مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ کے ساتھ ممتاز شیعہ راہنما حافظ کفایت حسن اور مولانا مفتی جعفر حسین بھی شریک تھے۔
اس لیے یہ بات پورے شرح صدر کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ اعتقادی اختلافات کی شدت اور سنگینی کے باوجود پاکستان میں اہل سنت اور اہل تشیع کے درمیان ایک دوسرے کو برداشت کرنے اور مشترکہ معاملات میں باہمی تعاون کچھ عرصہ پہلے تک قائم رہی ہے۔ اور اہل سنت نے اپنی واضح اکثریت کے ہوتے ہوئے بھی اہل تشیع کو قومی معاملات میں شریک کرنے حتیٰ کہ دینی تحریکات کی قیادت کی صف میں شامل کرنے میں بھی بخل سے کام نہیں لیا۔ لیکن اب یہ فضا قائم نہیں رہی اور جہاں قومی سطح پر فرقہ وارانہ کشیدگی کے مسلح تصادم کی صورت اختیار کر جانے کی شکل میں اس کے نقصانات سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں، وہاں تحریک نفاذ اسلام کے ایک نظریاتی کارکن کی حیثیت سے میں اپنے اس دکھ کا اظہار ضروری سمجھتا ہوں کہ اس سے نفاذ اسلام کی جدوجہد کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ اور اسلامی جمہوریہ پاکستان میں، جہاں سیکولر حلقوں کو کبھی نفاذ شریعت کے مطالبہ کو فرقہ وارانہ قرار دینے میں کامیابی نہیں ہوئی تھی، ’’شریعت بل‘‘ کے بارے میں تحریک جعفریہ کے جداگانہ موقف کے باعث نفاذ شریعت کو فرقہ واریت کا باعث قرار دینے کا ہتھیار سیکولر حلقوں کے ہاتھ میں ایسا مضبوطی کے ساتھ آیا ہے کہ بے چارے شریعت بل کے سر عام پرخچے اڑ گئے۔
سوال یہ ہے کہ باہمی برداشت اور مشترکہ معاملات میں تعاون کی یہ فضا آخر تبدیل کیسے ہوئی؟ اور وہ کون سے عوامل ہیں جنہوں نے اہل سنت اور اہل تشیع کے راہنماؤں کو تحریک پاکستان، تحریک ختم نبوت، مجلس احرار اسلام اور ۲۲ نکات کی ترتیب و تدوین کی فضا سے نکال کر ایک دوسرے کے خون کا پیاسا بنا دیا ہے؟ اس سوال کا ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ جائزہ لینا ضروری ہے۔ اور اب وقت آگیا ہے کہ اہل سنت اور اہل تشیع دونوں کے سنجیدہ راہنما ان عوامل کا سنجیدگی سے تجزیہ کریں۔ اور تحریک جعفریہؒ اور سپاہ صحابہؓ کے مسلح تصادم کو ملک گیر سطح پر شیعہ سنی خانہ جنگی کی صورت اختیار کرنے سے روکنے کے لیے اپنے علم و دانش کو استعمال میں لائیں۔ اسی جذبہ اور درد دل کے ساتھ شیعہ سنی کشمکش کے موجودہ شدت پسندانہ اظہار کے اسباب و عوامل کے بارے میں ہم اپنا نقطہ نظر پیش کر رہے ہیں۔ اور ہمارے نزدیک حالات کو شدت اور سنگینی کے اس مقام تک لے جانے میں تین باتوں کا دخل سب سے زیادہ ہے۔ اور بد قسمتی سے تینوں باتوں کی ذمہ داری بنیادی طور پر اہل تشیع پر عائد ہوتی ہے۔
ان میں سے پہلی بات یہ ہے کہ اہل تشیع نے قومی معاملات میں جداگانہ موقف، مطالبات اور حقوق کی جدوجہد شروع کی اور تعلیمی اداروں میں اپنے لیے جداگانہ نصاب تعلیم کے ساتھ ساتھ قانونی نظام میں اپنی فقہ کے الگ نفاذ کا مطالبہ کر دیا۔ یہ دونوں مطالبات نہ صرف یہ کہ غیر منطقی اور غیر حقیقت پسندانہ تھے بلکہ ان مطالبات نے شیعہ اور سنی آبادی کے درمیان دوئی اور منافرت کی ایک واضح لکیر کھینچ دی۔ جس کے نتائج و ثمرات آج ہمارے سامنے ہیں۔ جہاں تک نصاب تعلیم کا تعلق ہے، اہل تشیع کی یہ شکایت بجا تھی کہ چونکہ سکولوں میں اسلامیات کا نصاب ملک کی اکثریت اہل سنت کے معتقدات کو سامنے رکھ کر بنایا گیا ہے، اس لیے ان کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ لیکن اس کا آسان حل یہ تھا کہ اسلامیات کا یہ نصاب شیعہ طلبہ کے لیے اختیاری قرار دے دیا جاتا اور اہل تشیع اپنے بچوں کی مذہبی تعلیم کا اہتمام اپنی مذہبی درسگاہوں میں کرتے۔ لیکن اس پر اکتفا نہ کیا گیا اور سکولوں میں دو الگ الگ نصابوں کی بیک وقت تعلیم ضروری سمجھی گئی جس سے تعلیمی اداروں سے ہی اعتقادی محاذ آرائی کا آغاز ہوگیا۔ اسی طرح فقہ جعفریہ کے متوازی نفاذ کے مطالبہ نے بھی صورت حال خراب کی۔ جہاں تک پرسنل لاء اور شخصی قوانین کا تعلق ہے، اہل سنت نے کبھی اہل تشیع کے اس حق سے انکار نہیں کیا کہ ان کے شخصی معاملات ان کی فقہ کے مطابق ہوں۔ یہ ایک مسلمہ حق ہے جس کا اعتراف علماء کے ۲۲ نکات میں بھی کیا گیا ہے اور موجودہ دستور میں بھی انہیں یہ حق حاصل ہے۔ لیکن پوری کی پوری فقہ جعفریہ کے نفاذ کا مطالبہ عملاً ملک کے پبلک لاء میں دو متوازی نظاموں کے نظام کا مطالبہ ہے جو مسلمہ اصولوں کے منافی ہے۔ اور خود ایران میں بھی، جہاں شیعہ اکثریت ہے اور ولایت فقیہ کی مذہبی حکومت ہے، یہ طریق کار اختیار نہیں کیا گیا۔ ایرانی دستور کے مطابق ملک کا سرکاری مذہب اور پبلک لاء اکثریتی فقہ اثنا عشری جعفریہ کے مطابق ہے، اور اہل سنت کو صرف پرسنل لاء میں اپنی فقہ پر عمل کرنے کا حق حاصل ہے۔ مگر پاکستان میں اہل تشیع نے ایران سے الگ معیار اختیار کیا اور فقہ جعفریہ کے متوازی نظام کا مطالبہ کر کے جہاں سیکولر حلقوں کو موقع دیا کہ وہ نفاذ شریعت کو فرقہ وارانہ مسئلہ قرار دے کر اس کے خلاف مہم چلائیں، وہاں شیعہ اور سنی کے الگ الگ ہونے کے تصور کو اور زیادہ پختہ کر دیا۔
شیعہ سنی کشیدگی میں اضافہ کا دوسرا بڑا سبب شیعہ لٹریچر اور شیعہ مقررین کے خطابات میں حضرات صحابہ کرامؓ کے بارے میں توہین آمیز اور گستاخانہ جذبات کا برملا اظہار ہے۔ ازواج مطہراتؓ، خلفاء راشدینؓ اور دیگر صحابہ کرامؓ کے بارے میں اہل تشیع کے عقائد جو بھی ہوں، یہ ان کا اپنا معاملہ ہے۔ لیکن ایک ایسے معاشرہ میں جس کی اکثریت ان بزرگوں سے والہانہ عقیدت و محبت رکھتی ہو، ان کے بارے میں مخالفانہ جذبات کا اظہار ایک الگ مسئلہ ہے۔ پاکستان میں ایک محتاط اندازے کے مطابق اہل سنت کی تعداد ۹۵ فیصد ہے، اور وہ ازواج مطہراتؓ، خلفاء راشدینؓ، اور اہل بیت عظامؓ سمیت تمام صحابہ کرامؓ کے ساتھ محبت و عقیدت اور ان کے احترام کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں۔ اس حقیقت کے ادراک کے باوجود یہ بھی حقائق ہیں کہ اہل تشیع کے ذمہ دار حضرات کی کھلی بندوں تقسیم ہونے والی کتابوں اور رسالوں میں ان قابل احترام ہستیوں کے بارے میں گستاخانہ مواد موجود ہوتا ہے۔ بہت سے شیعہ مقررین کھلے خطابات میں ان بزرگوں کے بارے میں توہین آمیز باتیں کہہ جاتے ہیں اور درجنوں ایسے واقعات ہو چکے ہیں جن میں صحابہ کرامؓ اور خلفاء راشدین کے پتلے کھلے عام جلا کر ان کے خلاف نفرت کا اظہار کیا گیا ہے۔ یہ صورت حال آخر کس حد تک برداشت ہو سکتی ہے؟ اہل سنت کی یہ مجبوری ہے کہ وہ ان باتوں کا جواب برابر کی سطح پر نہیں دے سکتے۔ کیونکہ اہل تشیع کے اس سطح کے بزرگ یعنی حضرات ائمہ اہل بیتؓ خود اہل سنت کے بھی قابل احترام بزرگ ہیں اور ان کے خلاف کوئی بات کہنا اہل سنت کے نزدیک اسی طرح ناقابل برداشت جرم ہے جیسے حضرات صحابہ کرامؓ کی توہین ناقابل برداشت ہے۔ اس لیے اہل سنت کی طرف سے ان باتوں کا رد عمل کئی گنا زیادہ شدت اختیار کر کے اپنے سامنے کے اہل تشیع کے مقابل آجاتا ہے۔ جو بہرحال کشیدگی اور اشتعال میں اضافہ کا سبب بنتا ہے۔
شیعہ سنی کشیدگی میں اضافہ کا تیسرا بڑا سبب اہل تشیع کے ماتمی جلوس ہیں جو اہل تشیع کے نزدیک عبادت کا درجہ رکھتے ہیں، مگر اہل سنت انہیں جائز نہیں سمجھتے۔ جہاں تک امام حسینؓ اور خانوادہ نبوت کی کربلا میں شہادت اور ان کی مظلومیت کا تعلق ہے، اہل سنت کے جذبات بھی اس معاملہ میں اہل تشیع سے کم نہیں ہیں اور وہ اپنے جذبات غم، صدمہ اور محبت کا اپنے انداز میں اظہار کرتے ہیں۔ لیکن غم کے اظہار کا جو طریقہ ماتمی جلوسوں کی صورت میں اہل تشیع کی طرف سے رواج پا گیا ہے وہ اہل سنت کے نزدیک نہ صرف یہ کہ درست نہیں بلکہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے منافی ہے۔ اہل سنت کو اس بات پر کوئی اعتراض نہیں ہے کہ اہل تشیع اپنے جذبات غم کا اظہار اپنے طریقے سے کریں، بشرطیکہ وہ ان کے گھروں کی چار دیواری اور عبادت گاہوں میں محدود ہو۔ اور اس کا دائرہ اہل سنت کے گھروں اور آبادی تک وسیع نہ کیا جائے۔ سوال یہ نہیں کہ اہل تشیع کو اپنے مذہب کے مطابق ماتم کرنے کا حق ہے یا نہیں؟ وہ تو طے شدہ حق ہے، اس سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا۔ مسئلہ یہ ہے کہ اس کا دائرہ کار اہل تشیع تک محدود رہنا چاہیے اور ان لوگوں تک وسیع نہیں ہونا چاہیے جو اسے جائز نہیں سمجھتے۔ کیونکہ کوئی بھی ایسا اجتماع یا جلوس ان لوگوں کے درمیان لے آیا جائے جو مذہبی طور پر اسے جائز نہ سمجھتے ہوں، بہرحال کشیدگی پیدا کرتا ہے اور اس کشیدگی کے المناک مظاہرے کئی بار ہم اپنے ملک کے بازاروں اور سڑکوں پر دیکھ چکے ہیں۔
یہ ہیں وہ چند بنیادی اسباب جنہوں نے پاکستان میں شیعہ سنی تعلقات کو باہمی برداشت اور تعاون کی فضا سے نکال کر محاذ آرائی اور مسلح تصادم کے راستے پر ڈال دیا ہے۔ ہم سپاہ صحابہؓ پاکستان کی پالیسی اور طریق کار سے متفق نہیں ہیں اور اس کا اظہار سپاہ صحابہؓ کے قائدین کے ساتھ روبرو گفتگو کے علاوہ پبلک بیانات میں بھی کئی بار کر چکے ہیں۔ لیکن ہمارے نزدیک سپاہ صحابہؓ اس رد عمل کا نام ہے جو اہل تشیع کے مذکورہ بالا طرز عمل کے نتیجہ میں فطری طور پر نمودار ہوا ہے۔ اور ری ایکشن کی شدت اور تلخی کتنی ہی ناگوار کیوں نہ ہوں، اس کی ذمہ داری بہرحال اس ’’عمل‘‘ پر عائد ہوتی ہے جو اس رد عمل کو جنم دیتا ہے۔
اسباب و عوامل کے تجزیہ کے بعد ضروری ہے کہ شیعہ سنی تعلقات کے مستقبل کے بارے میں کچھ گزارشات پیش کر دی جائیں۔ ہمارے نزدیک شیعہ سنی تعلقات کو مستقبل میں منفی شاہراہ پر گامزن رکھنے یا مثبت رخ دینے کا اختیار بھی اہل تشیع کے سنجیدہ راہنماؤں کے پاس ہے۔ اگر شیعہ قیادت یہ سمجھتی ہے کہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کو بریک لگانا ضروری ہے اور باہمی برداشت اور تعاون کی سابقہ فضا کی بحالی ملک و قوم اور خود شیعہ آبادی کے لیے مفید ہے تو ابھی اس کے دروازے بند نہیں ہوئے۔ اور اس منزل گم گشتہ کے حصول کے لیے سنجیدگی کے ساتھ پیش رفت کی جا سکتی ہے۔ بلکہ ذاتی طور پر خود ہمارا جی چاہتا ہے کہ تحریک نفاذ شریعت اور تحریک ختم نبوت میں اہل تشیع کا سابقہ رول بحال ہو۔ لیکن اس کے لیے شیعہ قیادت کو جداگانہ فقہ کے نفاذ اور ہر چھوٹی بڑی بات میں جداگانہ تشخص کے اظہار کا راستہ ترک کر کے علماء کے ۲۲ متفقہ دستوری نکات کی پوزیشن پر قومی دھارے میں واپس آنا ہوگا۔ ناموس صحابہؓ کے تحفظ اور ماتمی جلسوں کے بارے میں اہل سنت کے قیادت کے ساتھ اعتماد کی فضا بحال کرنا ہوگی۔ اور اہل سنت کے مذہبی جذبات کے احترام کا عملاً یقین دلانا ہوگا۔ اور اگر شیعہ قیادت اس پوزیشن پر واپسی کو مشکل خیال کرتی ہے اور قومی دھارے سے الگ جداگانہ تشخص، موقف اور مطالبات کی راہ پر چلتے رہنا اس کے نزدیک ناگزیر امر ہے تو اس کے منطقی تقاضوں سے آنکھیں بند کر کے ایسا کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ مگر اہل سنت اس پوزیشن میں بھی اہل تشیع کے ساتھ تعلقات کار کا از سر نو تعین کرنے کے لیے تیار ہوں گے جس کے لیے ہمارے نزدیک سب سے بہتر معیار ایرانی دستور ہے۔ اور ہم اہل سنت اور اہل تشیع کے راہنماؤں کے سامنے یہ تجویز پیش کریں گے کہ:
- آئندہ مردم شماری شیعہ سنی بنیادوں پر کرا کے دونوں کی آبادی کا صحیح تناسب معلوم کر لیا جائے تاکہ باہمی حقوق کا تعین عملاً ممکن ہو جائے۔
- ایران کے دستور میں اکثریت اور اقلیت کے لیے جو دائرہ مقرر کیا گیا ہے، اسے معیار تسلیم کر کے پاکستان میں دستوری ترامیم کے ذریعہ اسے مکمل طور پر نافذ کر دیا جائے۔
- آبادی کے صحیح تناسب کے مردم شماری کے ذریعہ تعین کے بعد فوج اور سول کی ملازمتوں اور اسمبلیوں کی نمائندگی کے لیے اسی بنیاد پر تناسب طے کر دیا جائے تاکہ کوئی فریق دوسرے کے حقوق پر اثر انداز نہ ہو سکے۔
ہمیں امید ہے کہ ملک کے سنجیدہ اہل دانش ان تجاویز کا ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ جائزہ لے کر بڑھتی ہوئی شیعہ سنی کشمکش کی روک تھام کے لیے موثر کردار ادا کریں گے۔
کنعان سے مصر تک
بائبل کے داخلی تضادات پر دلچسپ بحث
محمد یاسین عابد
(۱)
بائبل مقدس میں ہے کہ ’’تارح ستر برس کا تھا جب اس سے ابرام اور نحور اور حاران پیدا ہوئے‘‘ (پیدائش ۱۱ : ۱۲) یہ بات خاصی حیران کن ہے کہ تارح کی عمر پہلے سے تیسرے بیٹے کی پیدائش تک ستر برس ہی رہی۔ حالانکہ ابرام، نحور اور حاران تینوں جڑواں بھائی نہ تھے۔ پھر بھلا ابرام کی پیدائش سے شروع ہو کر نحور اور حاران کی پیدائش تک تارح کی عمر کا مسلسل ستر برس ہی رہنا کیونکر ممکن ہے؟ تارح کے تینوں بیٹوں کا جڑواں نہ ہونا مسیحی علماء نے بھی تسلیم کیا ہے (دیکھئے قاموس الکتاب از پادری ایف ایس خیر اللہ صفحہ ۳۱۶ کالم ۱ مقالہ حاران)۔ بہرحال یہ ثابت ہوا کہ ابرام کی ولادت کے وقت تارح کی عمر ستر برس تھی۔ تارح کی کل عمر ۲۰۵ برس ہوئی (پیدائش ۱۱ : ۳۲) یعنی تارح کی وفات کے وقت ابرام کی عمر ۱۳۵ = ۷۰ - ۲۰۵ (ایک سو پینتیس) برس تھی۔ ادھر پیدائش ۱۲ : ۴ میں لکھا ہے’’اور ابرام جب حاران سے روانہ ہوا، پچھتر برس کا تھا‘‘۔ ابرام کے حاران سے روانہ ہونے کا یہ واقعہ بائبل کی بیان کردہ تفصیل کے مطابق اپنے باپ تارح کی وفات کے بعد کا ہے۔ اب ابرام جو کہ باپ کی فوتگی کے وقت ۱۳۵ برس کا تھا، بعد میں اس کی عمر ۶۰ برس کم ہو کر ۷۵ برس کیسے رہ گئی؟ اس سوال کا جواب ہم مسیحی پادریوں پر چھوڑتے ہیں۔
(۲)
اور جب ابرام سے ہاجرہ کے اسمٰعیل پیدا ہوا تب ابرام چھیاسی برس کا
تھا (پیدائش ۱۶ : ۱۶) ابرام ۹۹ اور اسمٰعیل ۱۳ برس کا تھا جب دونوں باپ بیٹے کا
ختنہ ہوا اور خدا نے ابرام کا نام ابرہام رکھا (ایضاً ۱۷ : ۱ تا ۲۷) ابرہام کی عمر ۱۰۰ برس تھی جب اضحاق پیدا ہوا (ایضاً ۲۱ : ۵) اضحاق ۶۰ برس کا تھا جب یعقوب پیدا ہوا (ایضاً ۲۵ : ۲۶) یعنی یعقوب کی ولادت کے وقت ابرہام کی عمر۱۶۰ = ۱۰۰ + ۶۰ برس تھی۔ ابرہام کی کل عمر ۱۷۵ برس ہوئی (ایضاً ۲۵ : ۷) یعنی ابرہام کی وفات کے وقت یعقوب کی عمر ۱۵ = ۱۶۰ - ۱۷۵ برس تھی۔
اضحاق کی کل عمر ۱۸۰ برس ہوئی (ایضاً ۳۵ : ۲۸ و ۲۹) یعنی اضحاق کی وفات کے وقت یعقوب کی عمر ۱۸۰ ۔ ۶۰ = ۱۲۰ برس تھی۔ اور جب بنی اسرائیل مصر گئے تو یعقوب کی عمر ۱۳۰ برس تھی (ایضاً ۴۷ : ۹) یعنی اضحاق کی وفات سے مصر جانے تک دس برس کا عرصہ ہے۔ لیکن بائبل مقدس کے بغور مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اضحاق کی وفات سے بنی اسرائیل کے مصر جانے تک کا عرصہ اس سے طویل ہے، اس کی تفصیل درج ذیل ہے۔
بائبل مقدس کے مطابق روبن کے اپنی ماں بلہاہ ۔۔۔ کے بعد یعقوب فدان ارام سے قریب اربع یعنی مبرون میں اپنے باپ اضحاق کے پاس آیا تو اضحاق نے ۱۸۰ برس کی عمر میں وفات پائی (پیدائش ۳۵ : ۲۲ تا ۲۹) جب عیسو ۴۰ برس کا تھا تو اس نے بیری حتی کی بیٹی یہودتھ اور ایلون حتی کی بیٹی بشامتھ سے بیاہ کر لیا تھا (ایضاً ۲۶ : ۳۴) اب اضحاق کی موت کے بعد جبکہ عیسو کی عمر ۱۲۰ برس عیسو نے تین شادیاں اور کیں، ایک تو اپنی سالی سے یعنی پہلی بیوی ایلون حتی کی بیٹی شامتھ کی بہن عدہ سے، پھر اس کے بعد حوی صبعون کی نواسی اور عنہ کی بیٹی ابیلسامہ سے نکاح کیا اور پھر حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی صاحبزادی بشامہ سے نکاح کیا (پیدائش ۳۶ : ۱ تا ۳) ظاہر ہے عیسونے یہ تینوں نکاح کئی کئی برس کے وقفہ سے کیے ہوں گے۔ بعد ازاں ان عورتوں سے عیسو کی کافی اولاد پیدا ہوئی (ایضاً آیات ۴ تا ۴۳) بائبل گواہ ہے کہ ۱۲۰ برس کا آدمی چلنے پھرنے کے قابل نہیں رہتا (استثنا ۳۱ : ۲) ہم حیران ہیں کہ عیسو ۱۲۰ برس کا ہو کر شادیاں کرنے لگا؟ اگر اضحاق کی فوتگی کے دوسرے ہی روز عیسو نے تینوں نکاح کر لیے ہوں (جو کہ ناممکن ہے) اور اسی روز تینوں بیویاں حاملہ ہو گئی ہوں تو عدہ سے الیفزا اور بشامہ بنت اسمٰعیل سے رعوایل اور ابیلسامہ سے یعوس پیدا ہونے تک کم از کم نو ماہ کا عرصہ درکار ہے (پیدائش ۳۶ : ۴ و ۵) یعوس کی پیدائش کے روز ہی اگر ابیلسامہ پھر حاملہ ہو گئی ہو تو یعام کی پیدائش تک مزید ۹ ماہ کا عرصہ ہے، اور اگر یعام کی پیدائش کے روز ہی ابیلسامہ پھر حاملہ ہوئی ہو تو اضحاق کی موت سے قورح کی پیدائش تک کم از کم ۲ برس تین ماہ کا عرصہ ہے (ایضاً ۵) اس کے بعد عیسو اپنے بھائی یعقوبؑ کو کنعان ہی میں چھوڑ کر خود بیویوں اور بچوں کو ساتھ لے کر دوسرے ملک (کوہ شعیر) میں جا بسا (ایضاً ۶ تا ۸) وہاں عیسو کے بیٹے جوان ہوئے اور ان کی شادیاں ہوئیں، شادی کے وقت اگر عیسو کے بیٹے الیفیز کی عمر کم از کم ۱۴ برس بھی تسلیم کر لی جائے تو یکے بعد دیگرے الیفیز کے بیٹوں تیمان، اومر، صفو، جعتام، قنز، عمالیق کی پیدائش تک کم از کم اٹھارہ برس چھ ماہ کا عرصہ بنتا ہے (ایضاً ۱۰ تا ۱۹) اور اگر عمالیق کی پیدائش کے دن ہی یوسفؑ کو بیچا گیا ہو تو اضحاق کی موت سے لے کر یوسفؑ کے بیچے جانے تک مدت کم از کم ۲۰ = ۲ + ۱۸ برس تو ضرور ہی ہے۔
حضرت یوسف علیہ السلام کے مصر پہنچ جانے کے بعد یہوداہ نے حیرہ نامی ایک عدلامی دوست کی مدد سے سوع کنعانی کی بیٹی سے بیاہ کر لیا اور یکے بعد دیگرے عیر، اونان، سیلہ پیدا ہوئے (ایضاً ۳۸ : ۱ تا ۵) اگر یوسف کے بیچے جانے کے روز ہی یہوداہ نے بت سوع سے بیاہ کر لیا ہو (۱۔تواریخ ۲ : ۳) تو پہلوٹھے عیر کی پیدائش تک کم از کم ۹ ماہ کا عرصہ ضروری ہے۔ عیر کم از کم ۱۶ برس کا ہو گا جب اس کی شادی تمر سے ہوئی (پیدائش ۳۸ : ۶) پھر کافی عرصہ بعد خدا نے نامعلوم گناہ کی پاداش میں عیر کو مار ڈالا (ایضاً ۳۸ : ۷) تمر اور عیر نے اگر کم از کم ۳ ماہ بھی ازدواجی زندگی گزاری ہو تو اضحاق کی موت سے عیر کی موت تک ۳۷ برس ہوئے۔ عیر کی موت کے بعد تمر کی شادی عیر کے چھوٹے بھائی اونان سے کر دی گئی (ایضاً ۳۸ : ۸) اسلامی قوانین میں نکاح ثانی کے لیے بیوہ کو کم از کم ۳ ماہ تک عدت میں رہنا پڑتا ہے۔ اللہ جانے عیر کی وفات کے کتنی دیر بعد تمر اونان کی بیوی بنی ہو گی لیکن خدا نے اونان کو بھی قتل کر دیا کیونکہ وہ خاندانی منصوبہ بندی پر عمل کرتا تھا (ایضاً ۳۸ : ۸ تا ۱۰) عیر کی بیوگی اور اونان کی زوجیت میں رہنے کا عرصہ کم از کم ایک برس تو ضرور ہی ہو گا۔ یوں اضحاق کی موت سے اونان کی موت تک کم از کم ۳۸ برس کا عرصہ ہے، اس سے کم ناممکن ہے۔ اونان کی ہلاکت کے بعد یہوداہ نے تمر کو سمجھایا کہ اس کا تیسرا بیٹا ابھی نابالغ ہے لہٰذا توسیلہ کے بالغ ہونے تک اپنے باپ کے گھر بیوگی کی زندگی بسر کر (ایضاً ۳۸ : ۱۱) چھوٹا سا بچہ سیلہ بھی آخر کار بالغ ہو گیا لیکن تمر سیلہ سے بیاہی نہ گئی۔ تب تمر نے بڑے مکر و فریب سے اپنے سسر یہوداہ سے زنا کروایا اور حاملہ ہو کر فارص کو جنم دیا (ایضاً ۳۸ : ۱۳ تا ۳۰) بقول بائبل مقدس کے یہی وہ فارص ہے جس کی اولاد سے حضرت داؤدؑ و سلیمانؑ اور یسوع مسیحؑ پیدا ہوئے (روت ۴ : ۸ تا ۲۲ ، ۱۔تواریخ ۳ : ۵ ، متی ۱ : ۳ و ۶ و ۱۶) سیلہ کی نابالغی سے بالغ ہونے تک ایک طویل عرصہ لگا، کیونکہ اونان کی وفات سے کافی عرصہ بعد یہوداہ کی بیوی بت سوع مر گئی (پیدائش ۳۸ : ۱۲) اس کے بعد سیلہ کی بلوغت اور یہوداہ کے تمر سے زنا کا واقعہ مرقوم ہے۔ اونان کی وفات کے بعد سیلہ کے بالغ ہونے اور بت سوع کے مرنے اور اس کے بعد سسر یہوداہ کے بہو تمر سے زنا کے نتیجہ میں فارص کے پیدا ہونے تک کم از کم چھ برس کا عرصہ تو ضرور ہی ہے۔ قارئین حساب لگا کر دیکھ لیں وہ چھ برس سے کم کا اندازہ نہ لگا سکیں گے۔ چنانچہ اضحاق کی وفات سے فارص کے پیدا ہونے تک کا عرصہ کم از کم ۴۴ = ۲ + ۳۸ برس کا عرصہ ضروری ہے۔
پھر فارص جوان ہوا، اس کی شادی ہوئی اور دو بیٹے حصرون اور حمول پیدا ہوئے۔ یہی حصرون اور حمول مصر میں آمد کے وقت حضرت یعقوبؑ کے ساتھ تھے (ایضاً ۴۶ : ۱۲) اگر فارص کی شادی ۱۶ برس کی عمر میں بھی تسلیم کر لی جائے تو اضحاق کی موت فارص کی شادی تک کا عرصہ ۶۰ = ۱۶ + ۴۴ برس کا عرصہ کم از کم ہے۔ اگر شادی کے روز ہی فارص کی بیوی حاملہ ہو گئی ہو تو حصرون کی پیدائش تک ۹ ماہ کا عرصہ ضروری ہے اور اسی روز دوبارہ حاملہ ہو جائے تو فارص کی شادی سے حمول پیدائش تک ڈیڑھ برس کا عرصہ ضروری ہے۔ اور اگر حمول کی پیدائش کے روز ہی بنی اسرائیل مصر پہنچ گئے ہوں تو اضحاقؑ کی وفات سے بنی اسرائیل کی مصر میں آمد تک کم از کم ۱۶ برس ۶ ماہ کا عرصہ ضروری ہے۔ یہ عرصہ ہم نے پوری کوشش کر کے کم از کم بیان کیا ہے اس سے کم ممکن ہی نہیں۔ چلیے ہم یہ عرصہ مزید ڈیڑھ برس کم تسلیم کر لیتے ہیں یعنی ۶۰ برس۔ لیکن بائبل مقدس کہتی ہے کہ صرف ۱۰ برس میں یہ سب کچھ ہو گیا۔
’’معالم العرفان فی دروس القرآن‘‘ ۔ جلد ۱۳ و ۱۴
ادارہ
افادات: حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتی (بانی مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ)
مرتب: حاجی لعل دین (ایم اے علومِ اسلامیہ)
ناشر: مکتبہ دروس القرآن، فاروق گنج، گوجرانوالہ
قیمت: ۲۳۰ روپے (جلد ۱۳)، ۲۰۵ روپے (جلد ۱۴)
تفسیرِ قرآن اگر ایک کارِ سعادت ہے تو ایک امرِ دشوار بھی ہے۔ اس میں ذرا سی اعتقادی و نظریاتی لغزش مفسر کو اخروی نعمتوں سے محروم بھی کر سکتی ہے اور قاری کو گمراہی کی دلدل میں بھی دھکیل سکتی ہے۔ اسی لیے جہاں علم و فہم کی ضرورت ہے وہاں اعتدال و دیانت بھی ناگزیر ہے تاکہ کمال احتیاط پیدا ہو سکے۔ اور یہ احتیاط اسی صورت میں ممکن ہے کہ فکری آزادی اور نظریاتی بے راہ روی کے اس نازک دور میں قرآن پاک کے نظریاتی اصولوں کا تسلسل و تواتر کسی مقام پر ٹوٹنے نہ پائے۔ وہی نظریاتی تسلسل مقصدِ نزولِ قرآن کی اصل روح ہے، اس کے بغیر زبان و کلام کی ادبیت و روانی سے آراستہ تفاسیر ایک بے روح و بے جان ڈھانچہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ کیونکہ قرآن پاک کا درسِ اخوت اسی صورت میں قائم رہ سکتا ہے کہ اس کے ماننے والوں کے درمیان زنجیری ربط قائم رہے، کوئی کڑی کسی مقام پر ٹوٹنے نہ پائے، اور یہ زنجیری ربط اس وقت تک ممکن نہیں جب تک نظریاتی تسلسل قائم نہ ہو۔ اسی نظریاتی تسلسل کے حوالہ سے امتِ مسلمہ کا صدیوں پر محیط یہ زنجیری ربط اس قدر اہمیت کا حامل ہے کہ اسلام دشمن قوتوں کی ظاہری و باطنی کاوشیں اس ربط میں دراڑیں ڈالنے میں ناکام و نامراد رہیں۔ بے شمار فقہی اختلافات اور فروعی تنازعات کے باوجود اصولی نظریاتی وحدت بدستور موجود ہے، اور یہی وہ معیارِ حقیقت ہے جس کے ذریعے نظریاتی آزاد خیالیوں کی راہ میں بند باندھے جا سکتے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ عصرِ حاضر کے جدید مسائل میں اجتہاد اور ریسرچ کی اشد ضرورت ہے لیکن اس کے لیے قدیم و متواتر اصولوں سے انحراف و صرفِ نظر بھی قرینِ انصاف نہیں۔ دورِ جدید کے مغربی تہذیب سے مرعوب جدت پسند طبقہ نے نظریاتی قدامت پسندی کے خلاف جو خطرناک یلغار کر رکھی ہے وہ امتِ مسلمہ کو اس کے روشن و بے نظیر ماضی سے کاٹنے کی ایک خوفناک سازش ہے، اور مغرب کا میڈیا اسی طبقہ کی معاونت کے لیے پوری طرح سرگرمِ عمل ہے۔ صورت و کردار کے حوالہ سے تو امت کا کثیر حصہ اپنے ماضی سے کٹ ہی چکا ہے، اب اعتقاد و افکار کے حوالہ سے بھی اسے اکابر و اسلاف سے دور کرنے کی سازشیں ہو رہی ہیں۔ شکل و صورت کے اعتبار سے تو مسلم و غیر مسلم کی تفریق پہلے ہی تقریباً مٹ چکی ہے، فکر و اعتقاد کی تبدیلی سے مسلمان کے اندر جو ’’جدید مسلمان‘‘ برآمد و نمودار ہو گا اس کے زہریلے اثرات نسلوں کی تباہی و بربادی کا باعث بن سکتے ہیں، اور جدت پسندی کے یہ سب فتنے ان لوگوں کے اٹھائے ہوئے ہیں جن کے بارہ میں اکبر الٰہ آبادی مرحوم فرماتے ہیں کہ ؎
انہوں نے دین کب سیکھا ہے جا کر شیخ کے گھر میں
پلے کالج کے چکر میں مرے صاحب کے دفتر میں
تفسیرِ قرآن کے لیے جہاں نظریاتی تسلسل ضروری ہے وہاں طرزِ بیان میں عام فہمی بھی ناگزیر ہے تاکہ علمی انحطاط کے اس دور میں نیم خواندہ اور غیر تعلیم یافتہ حضرات بھی با آسانی اس سے استفادہ کر سکیں۔ زیرِ نظر تفسیر چونکہ حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتی مدظلہ (تلمیذِ رشید شیخ الاسلام حضرت حسین احمد مدنی نور اللہ مرقدہ) کے معمول کے عوامی دروس ہی پر مشتمل ہے اس لیے اس میں وہ لفظی دشواریاں نہیں ہیں، بلکہ ہر طبقہ اور ہر سطح کے لوگ اس سے با آسانی استفادہ کر سکتے ہیں۔ اگرچہ متعدد مقامات پر شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، حجۃ الاسلام حضرت (مولانا محمد قاسم) نانوتوی، اور امام انقلاب حضرت (مولانا عبید اللہ) سندھی رحمہم اللہ تعالٰی کے مضامین و اصطلاحات پر بھی بحث موجود ہے، لیکن ان کو بھی سادہ اور عام فہم انداز میں بیان کیا گیا ہے، اور ثقل موجود بھی ہے تو بہت کم مقامات پر، اس لیے مجموعی اعتبار سے یہ تفسیر ہر سطح کے لوگوں کے لیے مفید ہے۔ اس میں یہ خوبی بھی ہے کہ جدید مسائل پر حسبِ ضرورت بحث موجود ہے۔ اس تفسیر کی جلد ۱۳ اور جلد ۱۴ ہمارے پیشِ نظر ہے۔
جلد ۱۳
جلد ۱۳ میں سورۃ الفرقان، الشعراء، النمل، القصص، العنکبوت اور الروم کی تفسیر ہے۔
الفرقان سولہ دروس پر مشتمل ہے جس میں کمالِ عبدیت، نزولِ قرآن، نبی کی امتیازی حیثیت، معترضین کا تصورِ رسالت، اشتراکیت کے نظریۂ مساوات کا رد، سلطنتِ خداوندی کی خصوصیات، قانون کی پابندی، فلسفۂ جہاد، اس کے مقاصد اور اس کی اقسام، مشاہداتِ قدرت، استوٰی علی العرش کا مفہوم، برجوں اور سیاروں کی اہمیت و حیثیت، عباد الرحمٰن کے اوصاف، اور سماعِ موتٰی وغیرہ مضامین پر بحث کی گئی ہے۔
الشعراء انیس دروس پر مشتمل ہے جس میں اممِ سابقہ کے حالات، شاعری کی مجموعی اعتبار سے قباحتیں، اور شعراء حقہ کا تذکرہ کے عنوانات پر بحث موجود ہے۔
النمل سترہ دروس پر مشتمل ہے جس میں علم کی اہمیت، انبیاءؑ کی وراثت، سلیمان علیہ السلام کے واقعات کی تفصیل، سرکش اقوام کی ہلاکت، سماعِ موتٰی، سماعِ انبیاءؑ اور مناظرِ قیامت وغیرہ مضامین پر بحث کی گئی ہے۔
القصص انیس دروس پر مشتمل ہے جس میں طبقاتی کشمکش، تکمیلِ مشن کی بنیادی ضروریات، ولادتِ موسٰیؑ کے تفصیلی واقعات، مناقبِ صحابہ کرامؓ، روافض کی گمراہی، ایران کا غیر اسلامی شیعہ انقلاب، خمینی کے کفریہ عقائد، مشاہداتِ عالم، نبوت ایک وہبی منصب، اور کفار سے عدمِ تعاون وغیرہ مضامین پر بحث کی گئی ہے۔
العنکبوت بارہ دروس پر مشتمل ہے جس میں احتساب، والدین سے حسنِ سلوک، صالحین کی رفاقت، شرک کی ممانعت، ماحول کی درستگی، سرکش اقوام کی ہلاکت، فواحش و منکرات سے روک تھام، ہجرت کا حکم اور اس کی فرضیت، ذخیرہ اندوزی سے اجتناب، خاندانی منصوبہ بندی کی ممانعت، دنیا کی ناپائیداری اور مجاہدہ کی مختلف صورتیں وغیرہ مضامین زیربحث ہیں۔
الروم تیرہ دروس پر مشتمل ہے جس میں ایران پر روم کی جنگی برتری کی نبویؐ پیشگوئی، روم کے عروج و زوال کے واقعات، قماربازی کی ممانعت، زمین کی آبادکاری، جنسی تقسیم (مرد و عورت) کے اعتبار سے انسان کی تخلیق، افزائشِ نسل پر غور و تدبر کی دعوت، زبانوں کا اختلاف، آسمان کی قدرتی اور زمین کی مصنوعی بجلی کے فوائد و نقصانات، ایٹمی صلاحیت کا حصول، ٹیکنالوجی کی تیاری، نظامِ غلامی اور اس کا خاتمہ، فرقہ بندی اور اس کی مذمت، سود کی ممانعت، زکوٰۃ کی برکت، فساد کے اسباب اور اس کے نقصانات، دعا کی حجیت، وسیلہ کی جائز و ناجائز اقسام، سماعِ موتٰی، انسانی زندگی کے مختلف ادوار، خلافتِ راشدہ اور بعد کا دورِ انحطاط، جہالت کی اقسام اور اس کے نقصانات وغیرہ مضامین پر بحث کی گئی ہے۔
جلد ۱۴
جلد ۱۴ میں سورۃ لقمان، السجدۃ، الاحزاب، سبا، فاطر، یس، اور الصافات کی تفسیر شامل ہے۔
لقمان دس دردس پر مشتمل ہے جن میں مادی و روحانی نعمتیں، نماز کی اہمیت اور اس پر استقامت، جائز و ناجائز کھیلوں کی تقسیم، ناچ اور گانے کو فنونِ لطیفہ میں شامل کر کے عریانی و فحاشی کو فروغ دینے کی سازش، رقص و سرود کے بڑھتے ہوئے رجحان سے پیدا ہونے والی اخلاقی قباحتیں، قوالی کی شرائط اور حلال و حرام کی صورتیں، حدیث جبریلؑ کی روشنی میں ایمان کا مفہوم اور اس کے اجزاء، تخلیقِ جبال کے مقاصد، حکمت کی تعریف اور لقمان حکیم کی حکیمانہ باتیں، حقوقِ والدین، مدتِ رضاعت اور جمہور کا مسلک، حجیتِ تقلید، آخرت میں احتساب کا عمل، فرضیتِ نماز اور اس کی اجتماعیت کے فوائد، صبر کی ترغیب، تکبر کی ممانعت، چال میں میانہ روی، آواز میں پستی، آباؤ اجداد کی اندھی تقلید کے نقصانات، توحید کے درجات، صبر و شکر کی منزل، اور مفاتح الغیب علومِ خمسہ وغیرہ عنوانات پر بحث کی گئی ہے۔
السجدۃ چھ دروس پر مشتمل ہے جس میں ملحدانہ نظام کی طرف مراجعت کے نقصانات، مشرکانہ و موحدانہ شفاعت کا فرق، اللہ تعالٰی کی صفات مختصہ حکمتِ ولی اللّٰہی کی روشنی میں، حواسِ خمسہ اور اعضائے رئیسہ کی نعمت، امامت کا مدار ہدایت پر، ظلم و ناانصافی کا سبب حکمرانوں کی عوامی معیارِ زندگی پر فوقیت، اور مسلمانوں کی محرومی کے اسباب وغیرہ مضامین پر بحث ہے۔
الاحزاب پچیس دروس پر مشتمل ہے جس میں پیغمبرِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم و توقیر اور شرفِ خاتم الانبیاءؐ، دینی معاملات میں سودے بازی کی ممانعت، فلسفۂ ولی اللّٰہی کی روشنی میں چار اعدائے دین تعلیماتِ امامِ انقلابؒ کی روشنی میں، مروجہ سیاست کی بے اعتدالیوں کے اسباب، علمِ تشریح الاعضاء کی روشنی میں انسانی اعضاء کی تعداد، مسئلۂ ظہار، متبنی بیٹے کا حکمِ شرعی، نبی کا امت سے تعلق اور امت پر اس کے حقوق، ازواجِ مطہراتؓ کا امت سے رشتہ، میثاقِ انبیاءؑ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت، غزوۂ خندق کے واقعات اور انعاماتِ الٰہیہ، مدارِ نجات اسوۂ حسنہ، یہودِ مدینہ کی عہد شکنی اور ان کی سرکوبی، فتحِ خیبر، واقعہ ایلاء اور ازواجِ مطہراتؓ کی استقامت، امہات المومنین کا مقام، اتقاء اور تبرج جاہلیت سے گریز کا حکم، پردہ کا حکمِ شرعی اور اس کی حدود و قیود، اہلِ بیت کی طہارت اور اہلِ بیتؓ کی تعریف، مومنین و مومنات کے اوصاف، عقیدہ ختم نبوت، جھوٹے مدعیانِ نبوت اور مرزا قادیانی آنجہانی، ذکرِ الٰہی کی فضیلت اور مقاصد، اوصافِ نبوت اور عقیدۂ حاضر و ناظر کی نفی، طلاق و عدت کے مسائل، عائلی قوانین کی تباہ کاریاں، اسلام اور غیر مذاہب کا تقابلی مطالعہ، تعددِ ازواج کی اجازت اور اس کی حکمت، دعوتِ ولیمہ کی مسنونیت، امہات المومنینؓ سے نکاح کی ممانعت اور اس کے اسباب، عقیدۂ حیات الانبیاءؑ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام پڑھنے کی فرضیت اور اس کے آداب و فوائد، خدا و رسول اور مومنین کی ایذا رسانی کی سزا، پردہ کا حکم و حکمت، موسٰی علیہ السلام کی ایذا رسانی، حملِ امانت، اس کی علت، اور اقوالِ مفسرینؒ کی روشنی میں امانت کی تعریف وغیرہ مضامین پر بحث کی گئی ہے۔
السبا تیرہ دروس پر مشتمل ہے جس میں داؤد علیہ السلام کے فضائل اور ان کے معجزات، معجزہ کی تعریف، معجزہ، کرامت اور استدراج میں فرق، سلیمان علیہ السلام کے معجزات، عملیات کے ذریعہ جنات کی تسخیر کا حکم، قومِ سبا کی تاریخی حیثیت، بلدۃ طیبہ کی تعریف، اقسامِ شرک، حضور علیہ السلام کی عالمگیر نبوت، عیسائی اور یہودی مشنریوں کے کارندے وغیرہ عنوانات زیربحث ہیں۔
الفاطر گیارہ دروس پر مشتمل ہے جس میں صفاتِ خداوندی، تخلیق و اوصافِ ملائکہ، عورت کے شرعی حقوق اور مغرب زدہ عورتوں کی بے راہ روی، شیطان کی وارداتِ اغوا اور اس سے بچنے کا طریقہ، حیوانی زندگی کی نشوونما کے وسائل، تخلیقِ انسانی کے مراحل، احتساب کی فکر، تزکیہ کی ضرورت، سماعِ موتٰی، خلافتِ ارضی اور فساد فی الارض کی حقیقت، نظامِ کائنات اور اس کا استحکام وغیرہ عنوانات زیربحث آئے ہیں۔
یٰس دس دروس پر مشتمل ہے جس میں قرآن پاک کی حقانیت اور مقصدِ نزول، تصدیقِ رسالت، بدعات کا رد فلسفۂ شاہ ولی اللہؒ کی روشنی میں، دین و استقامت کے ایمان افروز واقعات، گردشِ ایام اور فلکی نظام، رزق کی خدائی تقسیم کی حکمت، شعرگوئی کی جائز و ناجائز صورتیں وغیرہ مضامین پر بحث کی گئی ہے۔
الصافات دس دروس پر مشتمل ہے جس میں مقصدِ تخلیقِ نجوم، احوالِ آخرت اور انبیاء کرامؑ کی استقامت، ابراہیم علیہ السلام کے حالات و واقعات، عصمتِ انبیاءؑ، انبیاء کرامؑ کی خطاءِ اجتہادی اور مودودی صاحبؒ کی ضلالت و گمراہی وغیرہ مضامین پر بحث کی گئی ہے۔
مضامین کی محققانہ حیثیت و اہمیت کے علاوہ مرتب کا عنوان بندی کا ذوقِ سلیم بھی قابلِ داد ہے اور حاشیہ میں مسائل و واقعات کے حوالہ جات اس پر مستزاد ہیں۔ کاغذ، کتابت، طباعت اور ڈائی دار سنہری جلد مرتب و ناشر کے اعلٰی ذوق کے آئینہ دار ہیں۔ خدا تعالٰی اس تفسیر کو مفسر، مرتب اور معاونین کے لیے ذریعۂ نجات اور قارئین کے لیے ذریعۂ ہدایت بنائیں، آمین ثم آمین۔
رمضان
ادارہ
(۱) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین کو بیڑیاں پہنا دی جاتی ہیں۔‘‘ (متفق علیہ)
(کمپوزنگ جاری)