اپریل ۱۹۹۴ء

مسئلہ کشمیر پر قومی یکجہتی کے اہتمام کی ضرورتمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
بدعت اور اس کا وبالشیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر 
انسان کی دس فطری چیزیںشیخ التفسیر مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ 
مولانا سندھیؒ کا پچاس سالہ یومِ وفاتڈاکٹر ابو سلمان شاہجہانپوری 
ایسٹر سنڈے ۔ نظریات اور رسوم کا ایک جائزہمحمد یاسین عابد 
مشہد میں مسجد کی شہادتادارہ 
افریقہ میں عیسائی مشنریوں کی سرگرمیاںادارہ 
گستاخِ رسولؐ کے لیے موت کی سزا کا قانونادارہ 
میڈیا کی جنگ اور اس کے تقاضےادارہ 
ڈاکٹر سید سلمان ندوی کا دورہ برطانیہادارہ 
شاہ ولی اللہ یونیورسٹی گوجرانوالہ کی سالانہ تقریبادارہ 
تعارف و تبصرہمحمد عمار خان ناصر 
سیرت النبیؐ پر انعامی تقریری مقابلہادارہ 

مسئلہ کشمیر پر قومی یکجہتی کے اہتمام کی ضرورت

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

جنیوا کے انسانی حقوق کمیشن میں کشمیر کے حوالے سے پاکستان کی قرارداد کی واپسی ان دنوں قوم حلقوں میں زیر بحث ہے۔ یہ قرارداد مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے مظالم اور انسانی حقوق کی پامالی کی مذمت کے لیے پیش کی گئی تھی لیکن ووٹنگ سے قبل چین اور ایران کے کہنے پر واپس لے لی گئی۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ قرارداد کا مقصد مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنا تھا جو ووٹنگ کے بغیر حاصل ہوگیا ہے اور چین اور ایران جیسے دوست ممالک کے مشورہ کو نظر انداز کرنا مشکل تھا اس لیے قرارداد موخر کر دی گئی۔ جبکہ اپوزیشن کے راہنماؤں کا کہنا ہے کہ حکومت نے قرارداد واپس لے کر مسئلہ کشمیر کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے اور ان مجاہدین کشمیر کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے جو اس وقت مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے ظلم و تشدد کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔ حکومتی حلقوں اور اپوزیشن کی اس کشمکش سے قطع نظر بین الاقوامی پریس کا یہ تجزیہ بھی قابل توجہ ہے کہ قرارداد کے لیے جو محنت ضروری تھی پاکستان کی وزارت خارجہ اس کا اہتمام نہیں کر سکی حتیٰ کہ قرارداد کی حمایت میں مسلم ممالک سے روابط اور انہیں قائل کرنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی گئی جس کی وجہ سے انسانی حقوق کمیشن میں قرارداد کی منظوری کے امکانات مخدوش تھے اور پاکستان نے شکست سے بچنے کے لیے قرارداد کو واپس لینے یا موخر کرنے میں عافیت سمجھی ہے۔

بہرحال جو ہوا اس کے اسباب کچھ بھی ہوں اس سے مجاہدین کشمیر کو نقصان پہنچا ہے، پاکستان کی ساکھ مجروح ہوئی ہے اور بھارت کو یہ موقع ملا ہے کہ وہ اسے اپنی سفارتی فتح قرار دے کر پاکستان کو اپنی شرائط پر دوبارہ مذاکرات کی دعوے دے رہا ہے۔ اور اس بات میں بھی شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ پاکستان کی وزارت خارجہ اس سلسلہ میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہی ہے جس کا نوٹس قومی سطح پر لیا جانا ضروری ہے۔

اس مرحلہ پر چین اور ایران کا طرز عمل بھی سنجیدہ غور و فکر اور تجزیہ کا متقاضی ہے کہ یہ دونوں ملک مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے موقف کے ہمیشہ حامی رہے ہیں اور ان کی حمایت پاکستان اور کشمیری حریت پسندوں کے لیے تقویت کا باعث رہی ہے، لیکن اب انسانی حقوق کمیشن میں پیش کردہ قرارداد بھی انہی کے کہنے پر پاکستان کو واپس لینا پڑی ہے۔ اس کی یہ وجہ بھی ہو سکتی ہے کہ انہوں نے پاکستان کو واضح شکست سے بچانے کے لیے قرارداد واپس لینے کا مشورہ دیا ہو لیکن ہم اس مسئلہ کے ایک اور پہلو کو سامنے لانا بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ جب سے امریکی حلقوں کی طرف سے کشمیر یا اس کے ایک بڑے حصے کو خودمختار ملک کی حیثیت دینے کی تجویز سنجیدگی کے ساتھ سامنے آئی ہے اور کشمیر میں رائے شماری کے لیے بھارت یا پاکستان کے ساتھ الحاق کے علاوہ خودمختاری کا تھرڈ آپشن شامل کرنے پر زور دیا جا رہا ہے اس وقت سے یہ خدشات بڑھتے جا رہے ہیں کہ امریکہ دراصل خودمختار کشمیر کو اپنے فوجی اڈے کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے جس کا مقصد چین کے متوقع عالمی کردار سے نمٹنا ہے۔

اس صورتحال میں اگر مسئلہ کشمیر کے حوالہ سے چین کے طرز عمل میں تبدیلی آتی ہے تو اسے اس کے قومی مفادات سے الگ کر کے دیکھنا مناسب نہیں ہوگا۔ ایران کی صورتحال بھی اس سے مختلف نہیں ہے۔ ان حالات میں جبکہ ایک طرف مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین اور نہتے کشمیری عوام پر بھارتی افواج کے مظالم میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور دوسری طرف مسئلہ کشمیر کے حوالہ سے بین الاقوامی اور علاقائی طور پر دوست ممالک کی ترجیحات میں واضح تبدیلیاں دکھائی دے رہی ہیں، وزارت خارجہ کی سست روی اور مسئلہ سے نمٹنے کے لیے روایتی طرز عمل پر قناعت انتہائی تکلیف دہ بات ہے۔ اور اس سے زیادہ اذیت ناک بات یہ ہے کہ حکومتی پارٹیوں اور اپوزیشن نے مسئلہ کی نزاکت کا احساس کرنے اور مسئلہ کشمیر پر مشترکہ قومی موقف اختیار کرنے کی بجائے اس نازک قومی مسئلہ کو باہمی کشمکش اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا ذریعہ بنا لیا ہے۔

ہم حکومت اور اپوزیشن سے گزارش کریں گے کہ وہ اپنے اپنے طرز عمل پر نظر ثانی کریں اور مل بیٹھ کر مسئلہ کشمیر پر مشترکہ موقف اور پالیسی اختیار کریں تاکہ اہل پاکستان آزادیٔ کشمیر کے سلسلہ میں اپنی قومی ذمہ داریوں کو صحیح طور پر ادا کر سکیں۔

جناب محمد مسعود اظہر کی گرفتاری

ماہنامہ صدائے مجاہد کراچی کے مدیر جناب محمد مسعود اظہر کو گزشتہ دنوں سری نگر میں گرفتار کر لیا گیا۔ وہ باقاعدہ ویزا پر بھارت گئے تھے اور مقبوضہ کشمیر کے حالات کا جائزہ لینے کے لیے وہاں پہنچے ہی تھے کہ گرفتار کر لیے گئے اور مبینہ طور پر انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر یا دنیا کے کسی بھی خطہ میں حالات کا جائزہ لینا اور وہاں کی صورتحال سے اپنے قارئین کو باخبر رکھنا ہر صحافی کی پیشہ وارانہ ذمہ داری ہے اور کسی بھی صحافی کو اس کے اس حق سے محروم کرنا صحافت کے مسلمہ اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ ہم انسانی حقوق کے عالمی اداروں، مسلم حکومتوں اور بین الاقوامی پریس سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ پاکستانی صحافی محمد مسعود اظہر کی گرفتاری کا نوٹس لیں اور انہیں بھارت کی مسلح فورسز کے تشدد سے بچانے اور ان کی رہائی کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔

بدعت اور اس کا وبال

شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر

جوں جوں زمانہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور قرونِ مشہود لہا بلاخیر سے دور ہوتا جا رہا ہے، دوں دوں امورِ دین اور سنت میں رخنے پڑتے جا رہے ہیں۔ ہر گروہ اور ہر شخص اپنے من مانے نظریات و افکار کو خالص دین بنانے پر تلا ہوا ہے، اور تمام نفسانی خواہشات اور طبعی میلانات کو ایڑی چوٹی کا زور لگا کر دین اور سنت ثابت کرنے کا ادھار کھائے بیٹھا ہے، الا ما شاء اللہ، اور ایسی ایسی باتیں دین اور کارِ ثواب قرار دی جا رہی ہیں کہ سلف صالحینؒ کے وہم و گمان میں بھی وہ نہ ہوں گی، حالانکہ دین صرف وہی ہے جو ان حضرات سے ثابت ہوا ہے اور انہی کے دامنِ تحقیق سے وابستہ رہنے میں نجات منحصر ہے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح شرک و بدعت کی تردید فرمائی ہے اتنی تردید کسی اور چیز کی نہیں فرمائی، اور تمام بدعات اور مخترعات سے باز رہنے کی سختی سے تاکید فرمائی ہے اور خصوصاً وہ بدعات جو قیامت کے قریب رونما ہوں گی۔ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ
’’آخر زمانہ میں کچھ ایسے دجال اور کذاب ہوں گے جو تمہارے سامنے ایسی حدیثیں اور باتیں پیش کریں گے جو نہ تو تم نے سنی ہوں گی اور نہ تمہارے آبا و اجداد نے۔ پس تم ان سے بچو اور ان کو اپنے قریب نہ آنے دو تاکہ وہ تمہیں نہ تو گمراہ کر سکیں اور نہ فتنے میں ڈال سکیں۔‘‘ (مسلم ج ۱ ص ۱۰ و مشکوٰۃ ج ۱ ص ۲۸)
اور ان کی ایک اور روایت میں ہے:
’’تمہارے پاس وہ گھڑ گھڑ کر حدیثیں پیش کریں گے۔‘‘ (البدع والنہی عنہا، امام محمد بن وضاح قرطبی اندلسیؒ، ص ۲۷ طبع مصر)
اہلِ بدعت کے جتنے فرقے ہیں وہ اپنے مزعوم افعال کی بنیاد ایسی بے سروپا احادیث پر رکھتے ہیں جن کا معتبر کتب حدیث میں کوئی وجود نہیں، اور اگر کہیں ہے بھی تو محدثین نے ان کو ضعیف اور معلول قرار دیا ہوتا ہے۔ اور اہلِ بدعت ایسی ایسی بدعات آئے دن نکالتے رہتے ہیں کہ پہلے ان سے کوئی شناسا نہ تھا، اور جیسے جیسے قیامت نزدیک آتی رہے گی نئی نئی بدعات جنم لیتی رہیں گی اور سنتِ مظلومہ اٹھتی چلی جائے گی، فوا اسفاً۔ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ
’’جو نیا سال لوگوں پر آئے گا اس میں وہ کوئی نہ کوئی نئی بدعت گھڑیں گے اور سنت کو مٹا دیں گے حتٰی کہ بدعتیں زندہ کی جائیں گی اور سنتیں مٹ جائیں گی۔‘‘ (البدع والنہی عنہا، ص ۳۸)
یہ حدیث اگرچہ موقوف ہے لیکن حکماً مرفوع ہے اور یہ جو کچھ فرمایا بالکل بجا ہے۔
حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ
’’تمہاری کیا حالت ہو گی جبکہ تم پر فتنہ چھا جائے گا، اس فتنہ میں بچے بڑے ہوں گے اور عمر رسیدہ بوڑھے ہو جائیں گے۔ اور اپنی طرف سے ایک سنت گھڑی جائے گی جس پر عمل ہوتا رہے گا، جب اس کو بدلنے کی کوشش ہو گی تو کہا جائے گا ہائے سنت بدل دی۔ دریافت کیا گیا اے ابو عبد الرحمٰن! یہ کب ہو گا؟ فرمایا کہ جب تمہارے قاری زیادہ ہو جائیں گے اور فقیہ کم ہوں گے اور مال زیادہ ہو گا اور امین کم ہوں گے اور آخرت کے عمل کے بدلہ میں دنیا طلب کی جائے گی اور دین کا علم محض دنیا کمانے کا ذریعہ بن جائے گا۔‘‘ (البدع والنہی عنہا ص ۸۹)
اور ایک روایت میں آتا ہے کہ
’’آخر زمانہ میں جاہل عابد ہوں گے اور فاسق قاری ہوں گے۔‘‘ (الجامع الصغیر جلد ۲ ص ۲۰۶ طبع مصر)
حضرت ابن مسعودؓ کی روایت حکماً مرفوع ہے اور اس میں بدعت کے بعض اسباب کا خوب نقشہ کھینچا گیا ہے۔
حضرت معاذؓ بن جبل سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ
’’ایسا فتنہ برپا ہو گا جس میں مال زیادہ ہو جائے گا اور قرآن اس میں کھول کر پڑھا جائے گا۔ یہاں تک کہ مومن و منافق اور عورت و مرد اور چھوٹے اور بڑے تقریباً سبھی قرآن پڑھیں گے۔ سو ان میں ایک شخص آہستہ قرآن پڑھے گا تو اس کی پیروی نہیں کی جائے گی تو وہ کہے گا کہ کیوں میری بات نہیں مانی جاتی، بخدا میں بلند آواز سے قرآن پڑھوں گا، تو وہ چلّا چلّا کر قرآن پڑھے گا۔ پھر بھی لوگ اس کی طرف مائل نہ ہوں گے تو وہ الگ مسجد بنائے گا اور ایسی ایسی بدعت کی باتیں ایجاد کرے گا کہ قرآن و سنت میں نہ ہوں گی۔ تو تم ان سے بچو اور اس کو اپنے نزدیک نہ آنے دو کیونکہ اس کی یہ کارروائی بدعتِ ضلالہ ہو گی (تین مرتبہ یہ الفاظ فرمائے)۔‘‘ (البدع والنہی عنہا ص ۲۶)
اور یہ روایت ان سے ان الفاظ سے بھی مروی ہے:
’’قریب ہو گا کہ کہنے والا کہے گا کہ لوگ میری طرف مائل نہیں ہوتے حالانکہ میں بھی قرآن پڑھتا ہوں۔ کیوں یہ لوگ میری پیروی نہیں کرتے؟ یہاں تک کہ وہ ان کے لیے بدعت گھڑے گا تاکہ لوگ اس کی طرف مائل ہوں۔ سو تم اس کی بدعت سے بچنا کیونکہ اس کی کارروائی نری بدعتِ ضلالہ ہو گی۔‘‘ (ابوداؤد ج ۲ ص ۲۷۶)
الغرض بدعت اور بدعتی سے بچنے کی اشد تاکید آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرامؓ سے ثابت ہے۔ اور بدعت کی ایسی نحوست پڑتی ہے کہ دنیا میں توبہ کی توفیق نصیب نہیں ہوتی اور آخرت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے محرومی ہوتی ہے (العیاذ باللہ)۔ چنانچہ حضرت انس ؓ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ
’’بے شک اللہ تعالیٰ نے ہر بدعتی پر توبہ کا دروازہ بند کر دیا ہے۔‘‘ (البدع والنہی عنہا ص ۵۵ و مجمع الزوائد ج ۱۰ ص ۱۸۹)
ایک تو بدعت کی نحوست سے دل کی بصیرت اور نیکی کی استعداد مفقود ہو جاتی ہے اور دوسرے جب بدعتی بدعت کو دین اور کارِ ثواب سمجھے گا تو توبہ کیوں کرے گا؟ حضرت بکر بن عبد اللہؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ
’’میری شفاعت میری ساری امت کے لیے ثابت ہو گی مگر بدعتی کے لیے نہیں ہوگی۔‘‘ (البدع والنہی عنہا ص ۳۶)
صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ کبیرہ گناہ کے مرتکب کے لیے تو آپ کی شفاعت ہو گی لیکن بدعتی کے لیے نہیں ہو گی۔ اس سے معلوم ہوا  کہ شریعت میں بدعت کبیرہ گناہ سے بھی بدتر ہے، اللہ تعالیٰ سب مسلمانوں کو تمام گناہوں سے اور خصوصاً شرک و بدعت سے محفوظ رکھے۔



حضرت درخواستیؒ کی علالت

شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی دامت برکاتہم کافی عرصہ سے علیل ہیں اور ان دنوں کراچی کے ایک ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ احباب دعا فرمائیں کہ اللہ رب العزت حضرت مدظلہ کو صحت کاملہ و عاجلہ سے نوازیں اور ان کے وجود و برکات سے عالمِ اسلام کو تادیر مستفیذ ہونے کی توفیق دیں، آمین۔

انسان کی دس فطری چیزیں

شیخ التفسیر مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ

عن عمار بن یاسر ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قالہ ان من الفطرۃ (او الفطرۃ) المضمضۃ والاستنشاق و قص الشارب والسواک و تقلیم الاظفار وغسل البراجم ونتف الابط والاستحداد والاختتان والانتضاح۔
’’حضرت عمارؓ بن یاسرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، دس چیزیں فطرت میں سے ہیں (یا فطرت ان دس چیزوں پر بھی مشتمل ہے) کلی کرنا، ناک صاف کرنا، مونچھوں کو کاٹنا، مسواک کرنا، ناخنوں کو کاٹنا، ہاتھوں کی چنٹوں کو صاف کرنا، بغل کے بالوں کو اکھاڑنا، زیرناف بالوں کو صاف کرنا، ختنہ کرنا اور استنجا کرنا۔‘‘
فطرت سے مراد وہ حالت ہے جو بنی نوع انسان میں قدرتاً پائی جاتی ہے، تمام نبیوں کے طریق میں جاری رہی ہے اور خود نبیوں نے بھی ان کی تعلیم دی ہے۔ جب کوئی شخص اپنی فطرت پر قائم ہو گا تو وہ ان دس چیزوں پر ضرور عمل کرے گا:

(۱) المضمضہ

کُلّی، یعنی منہ میں پانی ڈال کر منہ کو صاف کرنا۔ انسان کھانا کھاتا ہے یا سو کر اٹھتا ہے تو منہ میں آلائش ہوتی ہے، اس کو صاف کرنے کے لیے کُلی کرنا سنت انبیاءؑ ہے۔

(۲) الاستنشاق

یعنی ناک جھاڑنا۔ ناک میں پانی ڈال کر اس کو اچھی طرح صاف کرنا بھی فطری امر ہے۔ اگر ناک صاف نہ ہو تو قرآن پاک کی تلاوت یا دیگر عبادات کی ادائیگی کے دوران خلل واقع ہوتا ہے۔ انسان عام گفتگو بھی اچھے طریقے سے نہیں کر سکتا۔ لہٰذا ناک کی صفائی بھی ضروری ہے۔ حضور علیہ السلام کا فرمان ہے کہ جب نیند سے بیداری ہو تو ناک میں پانی ڈال کر اس کو خوب جھاڑو۔ اس میں حکمت یہ ہے کہ رات کو جب سوتے وقت انسانی جسم کے تمام راستے بند ہو جاتے ہیں تو صرف ناک کا راستہ کھلا ہوتا ہے، لہٰذا شیطان اس میں گھس کر بیٹھ جاتا ہے اور رات بھر انسان کے دماغ میں وسوسے ڈالتا رہتا ہے۔ جب بیدار ہو کر آدمی ناک جھاڑتا ہے تو شیطان کا یہ اڈہ بھی ختم ہو جاتا ہے۔ یہ کام بھی نبیوں کی سنت اور فطرتِ انسانی میں داخل ہے۔

(۳) قص الشارب

مونچھوں کا کاٹنا بھی سنتِ انبیاءؑ ہے، ان کو کتروانا چاہیے۔ دوسری حدیث میں یہ الفاظ آتے ہیں کہ داڑھی کو بڑھاؤ اور مونچھوں کو کاٹو۔ لمبی مونچھیں مجوسیوں، یہودیوں اور ہندوؤں کی علامت ہیں، لہٰذا مسلمانوں کے لیے حکم ہے کہ ان کو کاٹو۔

(۴) السواک

یعنی مسواک کرنا۔ یہ منہ کو پاک کرنے والا عمل ہے جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔ عام نیکی کا اجر تو دس گنا ملتا ہے تاہم جو عبادت مسواک کرنے کے بعد کی جائے اس کا اجر ستر گنا بڑھ جاتا ہے۔ مسواک کی وجہ سے اللہ تعالیٰ پائیوریا وغیرہ جیسی بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے، گویا مسواک مادی لحاظ سے بھی مفید چیز ہے۔

(۵) تقلیم الاظفار

ناخنوں کا ترشوانا بھی فطری امور میں سے ہے۔ لمبے ناخنوں میں میل کچیل جمع ہو کر بیماریوں کا باعث بن سکتی ہے۔ ہفتہ عشرہ بعد ناخنوں کو ضرور کٹوا دینا چاہیے تاہم چالیس دن سے زیادہ کوتاہی نہیں ہونی چاہیے۔

(۶) غسل البراجم

ہاتھوں کی چنٹوں کو صاف کرنا۔ ان میں بھی بعض اوقات میل کچل جم جاتی ہے لہٰذا صفائی ضروری ہے کہ یہ بھی سنتِ انبیاءؑ اور فطری امر ہے۔

(۷) نتف الابط

یعنی بغلوں کے بالوں کو اکھاڑنا بھی فطرتِ انسانی میں داخل ہے۔ امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ اصل سنت تو یہی ہے لیکن میں اس کو برداشت نہیں کر سکتا۔ لہٰذا اگر ان بالوں کو اکھاڑنے میں دقت پیش آتی ہو تو استرے یا پاؤڈر وغیرہ سے صاف کر دینا بھی درست ہے۔

(۸) الاستحداد

زیرِ ناف مستورہ مقامات سے بالوں کو صاف کرنا بھی سنت ہے۔ یہ مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے ضروری ہے۔ اگرچہ عورتوں کے لیے بھی استرا وغیرہ استعمال کرنا جائز ہے تاہم اگر وہ پوڈر وغیرہ استعمال کریں تو بہتر ہے۔ دوسری روایت میں حضور علیہ السلام نے زیرِ ناف بالوں کی صفائی کے لیے چالیس دن کی تحدید فرمائی ہے کہ یہ بال اس عرصہ سے زیادہ دیر تک نہیں رہنے چاہئیں۔ اگر کوئی شخص بلاعذر چالیس دن سے زیادہ عرصہ تک بال صاف نہیں کرتا تو اس کی نماز مکروہ ہوتی ہے۔ البتہ بیمار آدمی یا جس کے اس حصہ جسم میں کوئی تکلیف ہو وہ مستثنٰی ہے۔

(۹) الاختتان

ختنہ کرنا بھی فطری امر اور سنتِ انبیاءؑ میں سے ہے۔ سب سے پہلے ابراہیم علیہ السلام نے ختنہ کیا اور آپ کے بعد یہ تمام انبیاءؑ کی سنت ہے اور ہماری امت میں بھی جاری ہے۔

(۱۰) الانتضاح

استنجا کرنا بھی ضروری ہے۔ عام حالات میں ڈھیلے سے اور اگر نجاست زیادہ ہو تو پانی استعمال کرنا واجب ہو جاتا ہے۔
یہ تمام امور سارے نبیوںؑ کی سنت میں داخل ہیں کیونکہ یہ انسان کی فطرت کا حصہ ہیں۔

مولانا سندھیؒ کا پچاس سالہ یومِ وفات

یادگار پروگرام کا منصوبہ ۔ چند مشورہ طلب امور

ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہانپوری

مولانا عبید اللہ سندھیؒ ہماری قومی زندگی کی ایک بلند پایہ شخصیت اور ملتِ اسلامیہ ہند و پاکستان کا سرمایہ افتخار تھے۔ انہوں نے لیلائے وطن کی آزادی کے عشق میں اور ملتِ اسلامیہ کی سرخروئی کے لیے وطنِ مالوف میں مقیم زندگی کے عیش و راحت کے مقابلے میں غربت اور جلاوطنی کی چوبیس سالہ زندگی کو قبول کیا تھا اور اس زندگی میں ہر طرح کے آلام و مصائب کو خندہ پیشانی کے ساتھ برداشت کر لیا تھا۔ وہ جنگِ آزادی کے سورما، انقلابی رہنما، بلند پایہ عالمِ دین، تفسیرِ قرآن میں ایک خالص دبستانِ فکر کے بانی تھے، اور اس دور میں امام ولی اللہ دہلویؒ کے علوم و معارف کے سب سے بڑے شارح اور محقق تھے۔ ان کے افکار کا سرچشمہ قرآنِ حکیم اور علوم و معارفِ ولی اللّٰہی تھے۔
وہ سیال کوٹ (پنجاب) کے ایک سکھ خاندان میں پیدا ہوئے تھے لیکن اسلام قبول کرنے کے بعد سندھ کے بزرگوں نے ان کے لیے سایۂ عاطفت فراہم کیا تھا۔ اس لیے ان کی محبت میں مولانا نے سندھ کو اپنا وطن بنا لیا تھا۔ اس طرح آبائی سندھی (Son of Soil) نہ ہونے کے باوجود وہ سندھ کے ایک نامور اور قابلِ فخر سپوت تھے۔ ان کی زندگی، افکار اور سیرت میں اہلِ وطن کے لیے ایک قابلِ تقلید نمونہ ہے۔ اسلام قبول کر لینے کے بعد انہوں نے مسلمانوں کی تہذیب و روایات اور تاریخ سے اپنا رشتہ جوڑ لیا تھا لیکن وہ جدید دور کے ایک اعلٰی دماغ، روشن خیال اور بلند فکر انسان بھی تھے۔
وہ مسلمانوں کی انفرادی زندگی کی اصلاح، فکر کی تربیت، اخلاق کی تہذیب، سیرت کی تشکیل، اور اجتماعی قومی زندگی کی تنظیم سے لے کر متحدہ انسانیت کے قیام تک کے لیے ایک جامع فکر کی حامل شخصیت تھے۔ ان کے انقلابی افکار میں ملک کی تعمیر و ترقی، قومی حکومت کے قیام، اور معاشی، اقتصادی، مذہبی فرقہ وارانہ مسائل کے حل کے لیے وقت کی سب سے بڑی رہنمائی پوشیدہ ہے۔ اس وقت پاکستان میں لسانی اور علاقائی قومیتوں کے بڑھتے ہوئے رجحانات، مذہبی جنون کے پھیلتے ہوئے زہر، لاقانونیت کے نشو و ارتقا پاتے ہوئے عفریت، علیحدگی پسندی کے پھیلتے ہوئے تباہ کن نظریات، اور بے دینی کے پھوٹ پڑنے والے فساد کا کوئی تریاق، اور بھوک، افلاس، جہالت اور ہر طرح کے علاقائی، صوبائی اور بین الملکی مسائل کا کوئی حل موجود ہے تو امامِ انقلاب مولانا عبید اللہ سندھی کے افکار ہیں۔
مولانا سندھی مرحوم کے افکار اور ان کی بنیاد پر سماجی اور قومی زندگی کی تشکیل ہی پاکستان کو ایک دینی اسٹیٹ رکھتے ہوئے تمام ملکی و قومی مسائل کو حل کر سکتی ہے اور اقوامِ عالم میں پاکستان کے بلند مقام کی ضمانت ثابت ہو سکتے ہیں۔ مولانا سندھی کے افکار کو اپنائے بغیر نہ طبقاتی کشمکش کا حل دریافت کیا جا سکتا ہے، نہ فرقہ واریت کے فتنے کا سدباب ممکن ہے، اور نہ پاکستان کے رفاہی و فلاحی مملکت کے نصب العین کا حصول ہی ممکن ہو سکتا ہے۔
انہی خیالات کے پیشِ نظر اس سال ۲۲ اگست ۱۹۹۴ء کو امامِ انقلاب مولانا سندھی کے پچاس سالہ یومِ وفات کی تقریب سے مرحوم کے عقیدت کیشوں اور ارادت مندوں نے عزم کیا ہے کہ مولانا سندھی کے افکار اور سرچشمۂ افکار قرآنِ حکیم اور علوم و معارف ولی اللّٰہی کے مطالعہ و تحقیق کے ایک نئے دور کا آغاز کیا جائے اور اس سلسلے میں:
(۱) مولانا عبید اللہ سندھی کے افکار، ان کے سرچشموں، مولانا مرحوم کے سوانح، سیرت اور خدمات کے پہلوؤں پر کتاب کی تالیف و تدوین کا انتظام کیا جائے۔
(۲) اخبارات و رسائل کی خصوصی اشاعتوں کا اہتمام کیا جائے۔
(۳) ملک کے تمام صوبوں کے مرکزی شہروں میں سیمیناروں اور مذاکروں کا انعقاد کیا جائے۔
(۴) مولانا عبید اللہ سندھی سے عقیدت اور ان کے افکار اور ان کے سرچشموں سے استفادے کا ذوق رکھنے والوں میں ربط پیدا کر کے ملک و قوم کی عملی خدمت کی ایک مستقل تحریک پیدا کر دی جائے۔
اس سلسلے میں پاکستان و ہندوستان کے تقریباً ایک سو روزناموں، ہفت روزوں اور ماہناموں کو اردو، انگریزی اور سندھی مضامین کی فراہمی کے انتظامات، نیز کراچی، حیدرآباد، لاہور، پشاور (اور کسی اور شہر میں بھی) سیمیناروں اور سمپوزیم (مذاکروں) کے انعقاد کے انصرامات، اور سندھی، اردو اور انگریزی زبانوں میں کتابوں کی اشاعت کے مسائل درپیش ہیں۔ تجویز یہ ہے کہ
(الف) مختلف شہروں میں جہاں امامِ انقلاب مولانا عبید اللہ سندھی کے معتقدین خاصی تعداد میں موجود ہوں، وہ باہم صلاح و مشورہ سے شہری/علاقائی، انتظامی کمیٹیاں تشکیل دے لیں۔
(ب) سیمینار اور مذاکرے جس شہر میں منعقد ہوں وہاں کی کمیٹیاں اپنے حالات و وسائل کے مطابق ان کا انتظام کریں۔
(ج) مولانا سندھی مرحوم کی یاد میں مقامی (شہری/علاقائی) اخبارات و رسائل کے خصوصی نمبروں اور کتابوں کی اشاعت کا انتظام کریں۔ ’’مولانا عبید اللہ سندھی نیشنل کمیٹی پاکستان‘‘ کے پیشِ نظر تین طرح کی تالیفات پیشِ نظر ہیں:
(۱) مولانا سندھی پر تالیفات،
(۲) مولانا سندھی کی تصنیفات، تراجم اور آثارِ علمیہ باقیہ،
(۳) مولانا سندھی کی یاد میں (دوسری شخصیات، ملی تحریکات اور علمی و فکری موضوعات پر) تصنیفات و تالیفات۔
(د) اس وقت تک مندرجہ ذیل تالیفات تیار ہو چکی ہیں اور صرف نظرِثانی میں اصلاح و ترمیم و اضافہ کا بہت تھوڑا کام باقی ہے۔

مولانا سندھی پر کتابیں

(۱) امام انقلاب مولانا عبید اللہ سندھی ۔ ایک مطالعہ (۲) تحریک ریشمی خطوط اور سندھ (۳) معارف عبید اللّٰہی ۔ ایک کتابیاتی جائزہ (۴) مولانا عبید اللہ سندھی اور دارالعلوم دیوبند سے ان کا اخراج ۔ پس منظر کے واقعات و شخصیات پر ایک نظر (۵) مولانا عبید اللہ سندھی ۔ شخصیت و سیرت (سندھی)

مولانا سندھی کے افادات

(۶) مولانا عبید اللہ سندھی کے سیاسی مکتوبات (۷) مولانا عبید اللہ سندھی کا انقلابی منصوبہ ۔ آزاد وطن کے بارے میں مولانا سندھی کا سروراجی پروگرام

مولانا سندھی کی یاد میں

(۸) شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی ۔ ایک سیاسی مطالعہ (۹) کلیاتِ شیخ الہند ۔ مولانا محمود حسن دیوبندی کے اردو، فارسی کلام کا مجموعہ۔
اس سلسلے میں اور بھی کئی چیزیں ہیں جو شائع کی جا سکتی ہیں۔ مذکورۃ الصدر میں ۱ تا ۵ اور نمبر ۷ مولانا عبید اللہ سندھیؒ اکیڈمی (کراچی) کی، نمبر ۶ ندوۃ المصنفین (لاہور) کی، اور ۸، ۹ مجلسِ یادگار شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی ؒ (کراچی) کی تالیفات ہیں۔ ان میں سے بیشتر کی اشاعت کا انتظام ہو گیا ہے۔
(ہ) پاکستان (اور ہندوستان) کے تقریباً سو اخبارات و رسائل کی خصوصی اشاعتوں کے لیے اردو، سندھی اور انگریزی کے قریباً چار سو مضامین کی فراہمی، ان میں کچھ مضامین کے مختلف زبانوں میں تراجم کروانے، ان کے فوٹو اسٹیٹ بنوانے اور انہیں ہر شہر کے اخبارات و رسائل کو ڈاک یا کارکنان کے ذریعے بجھوانے کے انتظامات کرنا ہیں۔
(ر) اگر کوئی صاحبِ قلم یا ناشر اپنے طور پر کوئی کتاب شائع کریں تو ان سے گزارش ہے کہ وہ مولانا عبید اللہ سندھیؒ نیشنل کمیٹی پاکستان کو اپنے عزم سے مطلع فرمائیں اور اپنی تصنیف و تالیف کے لیے نیشنل کمیٹی کا یادگاری صفحہ یا اس کا مضمون اور سلسلہ مطبوعات کا نمبر حاصل کر لیں تاکہ ان کے مساعی بھی اس یادگاری پروگرام سے مربوط ہو جائیں۔
(ز) امامِ انقلاب مولانا عبید اللہ سندھی کے پچاس سالہ یومِ وفات کے حوالے سے نیشنل کمیٹی کے پیشِ نظر بعض ضروری کاموں/تالیفات کی تکمیل ابھی باقی ہے۔
اس سلسلے میں:
(۱) انگریزی زبان میں ایک تصنیف، تالیف یا مجموعہ مضامین کی اشاعت ہونی چاہیے۔ یہ مضامین پہلے سے لکھے ہوئے مہیا ہو جائیں، نئے لکھوائے جائیں، یا اردو، سندھی سے ترجمہ کروا لیے جائیں۔
(۲) اردو، سندھی میں کئی اور اہم موضوعات پر بھی کتابیں آنی چاہئیں، ان میں سے چند یہ ہو سکتی ہیں:
(الف) مولانا عبید اللہ سندھی اور ان کے شیوخ و اساتذہ: اس کتاب میں سید العارفین حضرت امروٹی، حضرت دین پوری، حضرت شیخ الہند، حضرت گنگوہی، مولانا سید احمد، حافظ محمد احمد، میاں نذیر حسین، لکھنؤ اور رام پور وغیرہ کے بعض اساتذہ، پیر جھنڈا کے بعض بزرگ اور دیگر شخصیات جن سے استفادۂ دروس کا اعتراف اور ذکر مولانا سندھی نے عقیدت اور احترام کے ساتھ کیا ہے۔
(ب) مولانا سندھی اور ان کے معاصرین: اس کتاب میں مولانا سندھی کے تعلقات، افکار اور علمی، دینی، سیاسی ذوق کی ہم آہنگی کے حوالے سے ان اکابر شخصیات کا تذکرہ ہونا چاہیے: مولانا ابوالکلام آزاد، علامہ محمد اقبال، ڈاکٹر ذاکر حسین، اللہ بخش سومرو شہید، مولانا محمد صادق، مولانا حسین احمد مدنی، مولانا محمد علی، مسٹر محمد علی جناح، بعض غیر مسلم کانگریسی رہنماؤں (مثلاً سوبھاش چندر بوس، جواہر لال نہرو، گاندھی جی وغیرہ) کے علاوہ بعض اور شخصیات کو شامل کیا جا سکتا ہے۔
(ج) مولانا عبید اللہ سندھی اور ان کے تلامذہ: یہ بہت بڑا اور اہم موضوع ہے، اور اگر اس کے عنوان میں ’’اور ان کی علمی، دینی اور ملی خدمات‘‘ کا اضافہ کر لیا جائے تو یہ پی ایچ ڈی کے لیے ایک عظیم الشان موضوع قرار پائے گا۔ اس کتاب میں میرے علم اور سرسری مطالعے کے مطابق بہ ترتیبِ عہد اِن حضرات کا تذکرہ ہونا چاہیے:
(۱) ابتدائی دور کے تلامذہ: مولانا عبد القادر دین پوری، مولوی کمال الدین (بھرچونڈی)، مولوی محمد اکرم ہالانی، مولوی عبد الوہاب کولاچی، مولانا محمد (نہری)، پیر ضیاء الدین راشدی (پیرجھنڈا)، مولانا احمد علی لاہور، اور مولوی محمد علی و عزیز احمد (اخوان)، مولوی امید علی جیکب آبادی، مولانا عبد الرزاق بستی خیرا، مولانا عبد اللہ لغاری۔
(۲) دورانِ قیامِ دیوبند و دہلی کے تلامذہ: مولوی مظہر الدین شیرکوٹی، مولانا خواجہ عبد الحی فاروقی، مولوی انیس احمد، قاضی ضیاء الدین، پیر مصباح الدین اور دیگر حضرات۔
(۳) افغانستان کے قیام کے دور کے تلامذہ: ظہیر حسن ایبک، خوشی محمد، محمد وارث بٹ، شیخ عبد القادر، عبد النبی۔
(۴) تاشقند کے سفر کے دوران میں علامہ موسٰی جار اللہ نے بعدہ مولانا کے قیامِ مکہ کے زمانے میں استفادہ کیا۔
(۵) مکہ مکرمہ کے روز قیام کے تلامذہ: علامہ موسٰی جار اللہ، مولانا محمد طاہر پنج پیری، مولوی عبد الوہاب مکی، مرشد محمد نور مکی، شیخ عمر فاروق حبشی، مولوی عبد اللہ عمر پوری، مولوی محمد اسماعیل گودھروی، ایک نامعلوم الاسم، ایک انڈونیشی، شیخ محمد بن عبد الرزاق، داد شاہ بن ریحان الحق، پروفیسر محمد سرور، ڈاکٹر فیروز الدین، ایک برطانوی جاسوس جو دو سال تک قرآن پڑھتا رہا۔
(۶) وطن واپسی کے بعد کے تلامذہ: ان حضرات نے کراچی، پیرجھنڈا، لاہور، دہلی وغیرہ میں مولانا سندھی کے سامنے زانوئے ادب تہ کیا تھا: مولانا غلام مصطفٰی قاسمی، مولوی عسل محمد کاکے بوتو، مولانا عبد الحق ربانی، مولوی خلیل احمد، مولوی نور محمد نور، مولوی محمد وارث دل، مولوی شیخ عبد المجید امجد، مولوی عزیز اللہ جروار، میاں ظہیر الحق دین پوری، بشیر احمد لودھیانوی، مقبول احمد، غازی خدا بخش، پیر وہب اللہ شاہ راشدی، ڈاکٹر خواجہ عبد الرشید، مولوی دین محمد وفائی، مولوی محمود، مولوی عبد الغفور، مولوی محمد یوسف ندوی، مولانا عبید اللہ انور، قاضی مولوی عبد الرزاق، علامہ محمد صدیق بہاول پوری۔
(۷) غیر رسمی طور پر بھی مولانا سندھی کے درس و افادہ سے فیضیاب ہونے والوں کی ایک طویل فہرست ہے، مثلا: مولانا محمد اسماعیل غزنوی، مولانا غلام رسول مہر، مولانا سعید احمد اکبر آبادی، خواجہ عبد الوحید، سردار محمد امین خان کھوسو۔
اس کتاب میں ہر تلمیذ کو اتنی ہی جگہ ملنی چاہیے جتنی جگہ کا وہ اپنی تلمیذانہ حیثیت کے مطابق مستحق ہے۔ اس کتاب کی شخصیات کے حالات، ان کی تلمیذانہ حیثیت اور ان کے علمی و عملی کاموں پر نقد و تبصرہ میں متعدد حضرات حصہ لے سکتے ہیں۔ لیکن مجلسِ علمی (اکیڈمک کمیٹی) کسی صاحبِ قلم کے مضمون یا اس کے کسی حصے کو رد بھی کر سکتی ہے، اور اس کے مضمون کے صرف کسی حصے کو اس کی علمی کاوش کے اعتراف کے ساتھ لے سکتی ہے۔ کتاب کو متوازن اور ایک خاص ضخامت میں رکھنے کے لیے یہ ضروری ہے۔ البتہ اپنے طور پر شائع کرنے کے لیے ہر صاحبِ علم اور ناشر قطعاً آزاد ہو گا۔
اس پروگرام کو کامیاب بنانے اور اس موقع پر پاکستان اور ہندوستان میں ہونے والے تمام کاموں کو مربوط کرنے کے لیے نیشنل کمیٹی کو مولانا سندھی کے تمام عقیدت مندوں کے تعاون اور اربابِ وسائل اور اصحابِ عزائم و ہمم کی سرپرستی و رہنمائی کی ضرورت ہے۔ امامِ انقلاب مولانا سندھی مرحوم پر مصنفین اور مقالہ نگار اور ان پر تصنیفات و تالیفات شائع کرنے کے خواہشمند (ناشرین) حضرات بھی کمیٹی سے رجوع فرمائیں۔ کمیٹی کی جانب سے بھی اہلِ قلم اور اربابِ فکر و نظر سے رجوع کیا جائے گا۔
ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہانپوری
ڈائریکٹر مولانا عبید اللہ سندھی اکیڈمی پاکستان
آرگنائزر مولانا عبید اللہ سندھی نیشنل کمیٹی پاکستان
رابطہ کے لیے: 9/1 علی گڑھ کالونی، کراچی 75800

ایسٹر سنڈے ۔ نظریات اور رسوم کا ایک جائزہ

محمد یاسین عابد

ایسٹر مسیحی دنیا کا خاص تہوار ہے۔ مسیحی عقائد کے مطابق یسوع نے صلیب پر وفات پائی، جمعہ کے روز شام کو دفن ہوئے اور تیسرے روز اتوار کی صبح مردوں میں سے جی اٹھے (دیکھیے بالترتیب متی ۲۷: ۳۵ و ۶۰ اور لوقا ۲۴: ۵، ۶)۔ ایسٹر کا تہوار یسوع مسیح کے دوبارہ جی اٹھنے کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ پادری ایف ایس خیر اللہ لکھتے ہیں:
’’اس کی تاریخ ۲۲ مارچ اور ۲۵ اپریل کے درمیان ہوتی ہے، یعنی موسمِ بہار کے اس دن کے بعد جب دن اور رات برابر ہوتے ہیں (۲۱ مارچ)، اس کی تاریخ معلوم کرنے کا طریقہ یہ ہے، ۲۱ مارچ یا اس کے بعد جس تاریخ کو پورا چاند ہو، اس کے بعد کا پہلا اتوار ایسٹر ہو گا، لیکن اگر پورا چاند اتوار کے دن ہو تو اس سے اگلا اتوار ایسٹر ہو گا۔‘‘ (قاموس الکتاب ص ۱۰۸ کالم ۲)۔
چنانچہ اس سال ۳ اپریل کو ایسٹر منایا جا رہا ہے۔

عقیدہ کفارہ

عیسائی نظریات کے مطابق یسوع کے مصلوب ہونے کی بنا عقیدہ کفارہ پر ہے، انجیل میں ہے:
’’مسیح جو ہمارے لیے لعنتی بنا اس نے ہمیں مول لے کر شریعت کی لعنت سے چھڑایا کیونکہ لکھا ہے کہ جو کوئی لکڑی پر لٹکایا گیا وہ لعنتی ہے۔‘‘ (گلتیوں ۳: ۱۳)
بائبل کے قوانین کے مطابق کفارہ کا نظریہ بالکل باطل ہے۔
(الف) حضرت داؤد علیہ السلام خدا کے متعلق فرماتے ہیں:
’’اس کی کسی نعمت کو فراموش نہ کر وہ تیری ساری بدکاری کو بخشتا ہے۔‘‘ (زبور ۱۰۳: ۲، ۳)
اگر خدا توبہ کرنے والوں کی ساری گناہگاری اور بدکاری کو بخش دیتا ہے تو کفارے کی کیا ضرورت ہے؟ مزید فرمایا:
’’اس نے ہمارے گناہوں کے موافق ہم سے سلوک نہیں کیا اور ہماری بدکاریوں کے مطابق ہم کو بدلہ نہیں دیا، کیونکہ جس قدر آسمان زمین سے بلند ہے اسی قدر اس کی شفقت ان پر ہے جو اس سے ڈرتے ہیں۔‘‘ (زبور ۱۰۳ : ۱ تا ۱۱)
(ب) ایک کا گناہ دوسرے کے سر تھوپنے سے متعلق توریت میں ہے:
’’بیٹوں کے بدلے باپ مارے نہ جائیں، نہ باپ کے بدلے بیٹے مارے جائیں۔ ہر ایک اپنے ہی گناہ کے سبب سے مارا جائے۔‘‘ (استثنا ۲۴ : ۱۶ و ۲۔تواریخ ۲۵ : ۴ و یرمیاہ ۳۱ : ۱۹ و ۳۰ حزقی ایل ۱۸ : ۲۰ تا ۲۲)
(ج) انسان سے غلطیاں ہوتی رہتی ہیں جس کے لیے توریت میں مختلف طریقوں سے کفارہ ادا کر دینے کا حکم اور معافی مل جانے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی (دیکھیے گنتی ۱۵ : ۲۲ تا ۲۹ و احبار ۱۴ : ۲۰ و ۸ : ۳۴)۔ پھر عام کفارہ کا بھی قانون مقرر کیا:
’’اور یہ تمہارے لیے ایک دائمی قانون ہو کہ ساتویں مہینے کی دسویں تاریخ کو تم اپنی اپنی جان کو دکھ دینا اور اس دن کوئی، خواہ وہ دیسی ہو یا پردیسی جو تمہارے بیچ بود و باش رکھتا ہو، کسی طرح کا کام نہ کرے کیونکہ اس روز تمہارے واسطے تم کو پاک کرنے کے لیے کفارہ دیا جائے گا سو تم اپنے سب گناہوں سے خداوند کے حضور پاک ٹھہرو گے۔‘‘ (احبار ۱۶ : ۲۹ و ۳۰)
جب پوری قوم گناہوں سے پاک ہو گئی اور یہ دائمی حکم ٹھہرا اور ہر سال ایسا کرنے کو کہا پھر بھلا یسوع کو صلیب پر چڑھانے کی کیا ضرورت رہ گئی؟
(د) بائبل مقدس میں قانونِ خداوندی درج ہے کہ
’’شریر صادق کا فدیہ ہو گا اور دغا باز راست بازوں کے بدلہ میں دیا جائے گا۔‘‘ (امثال ۲۱ : ۱۸)
لہٰذا خدا نے بت پرست اقوام کو مار کر بنی اسرائیل کا کفارہ دیا:
’’میں نے تیرے فدیہ میں مصر کو اور تیرے بدلے کوش اور سبا کو دیا۔ چونکہ تو میری نگاہ میں بیش قیمت اور مکرم ٹھہرا اور میں نے تجھ سے محبت رکھی اس لیے میں تیرے بدلے لوگ اور تیری جان کے عوض امتیں دے دوں گا تو خوف نہ کرنا کیونکہ میں تیرے ساتھ ہوں۔‘‘ (یسعیاہ ۴۳ : ۳ تا ۵)
معلوم ہوا کہ کفارہ ایسے لوگوں کے لیے دیا جاتا ہے جو بیش قیمت اور مکرم ہوں، جن سے خدا کو محبت ہو اور جن کے ساتھ خدا ہو، اور کفارہ کے لیے ایسے لوگوں کو مارا جاتا ہے جو خدا کو پیارے نہیں، جو مکرم نہیں، جو شریر اور دغاباز ہوں اور خدا جن کے ساتھ نہ ہو۔ لہٰذا نصِ بائبل سے مسیح کا مصلوب ہونا درست نہیں کیونکہ یسوع راست باز تھا (متی ۲۷ : ۱۹، ۲۴ و لوقا ۲۳ : ۲۷ و اعمال ۳ : ۱۴)، نبی تھا (متی ۱۳ : ۵۷ اور ۱۴ : ۵ اور ۲۱ : ۱۱ و لوقا ۷ : ۱۶) اور سب سے بڑھ کر یہ کہ خدا اس کے ساتھ تھا (یوحنا ۸ : ۲۹) پھر بھلا خدا اپنے محبوب بندے کو ایسی موت کیوں دیتا جو باعثِ رسوائی ہو؟ (گلتیوں ۳ : ۱۳)
(ہ) خدا نے عہدِ عتیق میں وعدہ فرمایا تھا کہ مسیح موجودہ دنیا اور آخرت میں با آبرو اور مقربوں میں سے ہو گا، چنانچہ زبور میں ہے:
’’خداوند تیری تمام درخواستیں پورے کرے اب میں جان گیا کہ خداوند اپنے ممسوح کو بچا لیتا ہے۔‘‘ (زبور ۲۰ : ۵ و ۶)
لہٰذا جب یسوع نے انتہائی دلسوزی اور تضرع کے ساتھ رو رو کر مصلوبیت سے بچنے کے لیے خدا کے حضور دعائیں کیں (متی ۲۶ : ۳۶ تا ۳۹، مرقس ۱۴ : ۳۵) تو خدا کے فرشتہ نے نازل ہو کر آپ کو تسلی دی کہ بے فکر رہیں آپ مصلوب نہ ہوں گے (لوقا ۲۲ : ۴۳) چنانچہ آپ کی اشک بار دعائیں اور التجائیں قبول ہوئیں اور خدا نے آپ کو مصلوبیت سے بچا لیا (عبرانیوں ۵ : ۷) اور سالم کے بادشاہ ملک صدق کی طرح (عبرانیوں ۵ : ۱) طویل زندگی عطا فرمائی (عبرانیوں ۷ : ۳)۔ حضرت داؤد علیہ السلام یوں نبوت فرماتے ہیں:
’’اس نے تجھ سے زندگی چاہی اور تو نے بخشی بلکہ عمر کی درازی ہمیشہ کے لیے۔‘‘ (زبور ۲۱ : ۴)
خدا نے خود بھی فرمایا تھا کہ
’’وہ مجھے پکارے گا اور میں اسے جواب دوں گا، میں مصیبت میں اس کے ساتھ رہوں گا، میں اسے چھڑاؤں گا اور عزت بخشوں گا، میں اسے عمر کی درازی سے آسودہ کروں گا۔‘‘ (زبور ۹۱ : ۱۵ و ۱۶)
خدا وعدہ خلافی نہیں کرتا لہٰذا خدا نے آپ کو مصلوب ہونے سے بچا لیا۔ مصلوبیت سے بچنے کے لیے مسیح کی دعائیں، التجائیں، رونا اور گڑگڑانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ آپ کفارہ بن جانا نہ چاہتے تھے بلکہ خدا کے حضور دعاگو تھے کہ بدکاروں، گناہگاروں اور لفنگوں کو سزا دی جائے، چنانچہ زبور میں ہے:
’’ان کی آنکھیں تاریک ہو جائیں تاکہ وہ دیکھ نہ سکیں اور ان کی کمریں ہمیشہ کانپتی رہیں، اپنا غضب ان پر انڈیل دے اور تیرا شدید قہر ان پر آ پڑے، ان کا مسکن اجڑ جائے ۔۔۔۔ ان کے گناہ پر گناہ بڑھا اور وہ تیری صداقت میں داخل نہ ہوں۔‘‘ (زبور ۶۹ : ۲۳، ۲۷)
رومن کیتھولک بائبل میں یہ عبارت مزمور ۶۸ : ۲۴ تا ۲۹ میں ہے، اور حاشیہ میں اس مزمور کو یسوع مسیح کے الفاظ قرار دیا ہے۔ اب آپ غور فرمائیں کہ حضرت مسیح کس بے قراری سے مجرموں سے ظالموں کے لیے عذابِ الٰہی مانگ رہے ہیں بلکہ یہاں تک دعا کر رہے ہیں کہ وہ خدا کی صداقت کو سمجھ تک نہ سکیں کیونکہ جو سچے دل سے خدا کا طالب ہو وہ فلاح پاتا ہے (یرمیاہ ۲۸ : ۱۳) لیکن مسیح چاہتے تھے کہ گنہگار حق کو نہ پہچان پائیں ایسا نہ ہو کہ سیدھے راستے پر چلیں اور سزا سے بچ جائیں (یوحنا ۱۲ : ۴ و ۲، تھسلینیکیوں ۲ : ۱۱) اس لیے یہ کہنا غلط ہے کہ مسیح نے دنیا جہان کے پاپیوں، گنہگاروں، زانیوں، لفنگوں اور تلنگوں کے لیے صلیب پر چڑھ کر جان دے دی۔

واقعہ تصلیب

اب ذرا اناجیل میں مذکور واقعہ تصلیب کی حقیقت ملاحظہ فرمائیے:
زبور میں یہ بشارت دے دی گئی تھی کہ مسیح گرفتار نہ ہو سکیں گے بلکہ فرشتے آپ کو اٹھا کر آسمان پر لے جائیں گے کہ آپ کے مبارک قدموں کو ٹھیس  تک نہ لگے (زبور ۹۱ : ۱۰ تا ۱۲ و متی ۴ : ۶)۔ حضرت مسیح کو بھی خدائی وعدوں پر مکمل بھروسہ تھا لہٰذا آپ نے لوگوں کو بتا دیا تھا کہ تم سب اسی رات میرے متعلق شک میں مبتلا ہو جاؤ گے (متی ۲۶ و ۳۱)۔ اور فرمایا کہ جس طرح  یوناہ تین رات تین دن مچھلی کے پیٹ میں زندہ رہا اور لوگ مردہ سمجھتے رہے اس طرح وہ بھی تین رات تین دن زندہ سلامت ہوں گے اور لوگ آپ کو مردہ سمجھتے رہیں گے (متی ۱۲  ۳۹ و ۴۰)۔ مسیح نے اس واقعہ کو اپنا واحد معجزہ قرار دیا اور فرمایا کہ یہود اپنے گناہ میں مرتے اور آپ کو ڈھونڈتے رہیں گے لیکن ڈھونڈ نہ پائیں گے کیونکہ یہود کی رسائی وہاں تک نہیں۔ یہود زمین پر رہیں گے اور  آپ آسمان پر تشریف لے جائیں گے (یوحنا ۸ : ۲۱ تا ۲۴ و ۷ : ۳۳ و ۳۵)۔
خدا نے مسیح کو یہ معجزہ عطا فرمایا کہ آپ جب چاہتے اچانک لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہو جایا کرتے تھے (یوحنا ۸ : ۵۹ اور ۱۲ : ۳۶ اور ۱۰ : ۳۹ و لوقا ۴ : ۲۹ و ۳۰ اور ۲۴ : ۳۱) لہٰذا جب حواریوں نے مسیح کی خاطر اپنی نیند تک کی قربانی نہ دی (متی ۲۶ : ۴ و مرقس ۱۴ : ۳۸) اور پکڑنے والے پہنچ گئے تو حضرت مسیح اچانک غائب ہو گئے جیسا کہ بائبل مقدس میں ہے کہ شریر اپنی ہی شرارت سے گر پڑے گا ۔۔ صادق مصیبت سے رہائی پاتا ہے اور شریر اس میں پڑ جاتا ہے (امثال ۱۱ : ۵ تا ۸)۔ کیتھولک بائبل میں ہے کہ شریر اس کی جگہ میں آجاتا ہے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا صادق (مسیح) نے رہائی پائی اور شریر غدار یہوداہ اسکریوتی اسی مصیبت میں مبتلا ہو گیا اور معجزانہ طور پر مسیح کا ہم شکل بن گیا، جیسا کہ انجیل برنباس میں ہے:
’’تب اللہ نے ایک عجیب کام کیا پس یہوداہ بولا اور چہرے میں بدل کر یسوع کے مشابہ ہو گیا‘‘ (برنباس ۲۱۶ : ۳ و ۴) ’’پس سپاہیوں نے یہوداہ کو پکڑ لیا‘‘ (برنباس ۲۱۷ : ۱)

یہوداہ خوب رویا چلایا کہ وہ مسیح نہیں ہے لیکن اس کی کون سنتا تھا، تمام حواری جو سوئے پڑے تھے انہوں نے مسیح کے اچانک غائب ہو جانے اور یہوداہ کی شکل تبدیل ہو جانے کا منظر نہ دیکھا لیکن سپاہیوں اور یہوداہ اسکریوتی کے شور و غوغا کی وجہ سے جب ان کی آنکھ کھلی تو اپنے استاد یسوع کو گرفتار و پریشان پایا تو تمام حواری اپنے خیال کے مطابق یسوع مسیح کو گرفتاری کے عالم میں مار کھاتا پیٹتا چھوڑ کر بھاگ گئے (مرقس ۱۴ : ۵۰ و ۵۱ اور متی ۲۶ : ۵۲) ۔۔۔ مسیح نے فرمایا تھا کہ جب تم مجھے چھوڑ کر بھاگ جاؤ گے تو تب بھی میں اکیلا نہ ہوں گا بلکہ اللہ میرے ساتھ ہو گا اور میری حفاظت کرے گا (یوحنا ۱۶ :  ۳۲) پطرس جانتا تھا کہ مسیح غائب ہو چکے ہیں اور یہوداہ غدار پکڑا گیا ہے چنانچہ وہ فاصلہ رکھ کر پیچھے پیچھے ہو لیا کہ غدار یہوداہ اسکریوتی کا انجام اپنی آنکھوں سے دیکھے، کچھ لوگوں نے پطرس کو ملزم کا ساتھی قرار دیا تو پطرس نے گرفتار ہونے والے ملزم (یہوداہ اسکریوتی) پر لعنتیں بھیجیں اور اس کا ساتھی ہونے سے صاف انکار کر دیا (لوقا ۲۲ : ۵۷ و ۵۸ ، مرقس ۱۴ : ۲۶ تا ۷۱ ، متی ۲۶ : ۷۲ و ۷۳) اگر گرفتار ہونے والا یسوع ہوتا تو پطرس جیسا عظیم حواری اپنی گردن اتروا لیتا لیکن اپنے ہادی و مربی کا انکار نہ کرتا اور نہ ہی لعنت کرنے کی جرات کرتا۔ مصلوبیت کے وقت یہوداہ سمجھ گیا تھا کہ یسوع شکل تبدیل کیے اپنی پریشان ماں کے پاس کھڑا ہے کیونکہ حضرت مسیح کا یہ مشہور معجزہ تھا کہ بوقت ضرورت شکل تبدیل فرما لیا کرتے تھے (لوقا ۹ : ۲۹ اور ۲۴ : ۱۵ تا ۲۳ ، یوحنا ۲۰ : ۱۴ اور ۲۱ : ۴) چنانچہ مصلوب نے مقدسہ مریم کو پکار کر کہا کہ ’’اے عورت دیکھ تیرا بیٹا یہ ہے‘‘ (یوحنا ۱۹ : ۲۶ و ۲۷) اگر مصلوب ہونے والا یسوع ہوتا تو وہ ایسے وقت میں جبکہ ماں غم سے نڈھال تھی اس کو اے عورت کہہ کر تحقیر نہ کرتا اور مزید دکھی نہ کرتا۔

مسیحی حضرات کہتے ہیں کہ یسوع کے بعد مریم کا کوئی سہارا نہ تھا اس لیے آخری وقت میں اس نے بے سہارا ماں کو ایک شاگرد کے سپرد کیا۔ لیکن ہم عرض کریں گے کہ جبکہ یسوع جانتا تھا کہ اسے تیسرے روز جی اٹھنا ہے تو اسے اپنی ماں کو کسی کے حوالے کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ جی نہ اٹھنے کے بعد ہی کوئی انتظام کر دیا ہوتا بلکہ مصلوبیت سے پہلے ہی یہ کام کیا ہوتا کیونکہ انجیل کے مطابق یسوع کو سب کچھ پہلے ہی معلوم تھا (مرقس ۸ : ۳۱ ، متی ۱۶ : ۲۱) اور پھر یسوع کو ضرورت ہی کیا تھی کہ ماں کو ایک غیر محرم کے حوالے کر دیتا جبکہ مریم رشتے داروں والی تھی (لوقا ۱ : ۳۶) اور انجیل میں یہ بھی کہیں نہیں لکھا کہ یوسف نجار فوت ہو چکا تھا۔ عورت کے لیے شوہر سے بڑا اور کونسا سہارا ہو سکتا ہے؟ بالفرض مان لیا کہ یوسف فوت ہو چکا تھا لیکن ہم بر سبیل الزام کہتے ہیں کہ جب بھی مریم کو شاگرد کے ساتھ جانے کی کوئی ضرورت نہ تھی کیونکہ بقول انجیل مریم اور یوسف نجار کے اور بھی بیٹیاں تھیں اور یسوع کے سگے بھائی تھے، اس بات کو تقویت لفظ ’’پہلوٹھے‘‘ کے استعمال سے ہوتی ہے (لوقا ۲ : ۷)۔ متی ۱ : ۲۵ سے بھی یہی نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ یسوع کی پیدائش کے بعد میاں بیوی کا ازدواجی تعلق قائم ہوا۔ چوتھی صدی میں اس نظریہ کی حمایت ہل ویڈیس (Helvidius) نے کی، لیکن راہبانہ تحریک کے بڑھتے ہوئے اثر نے، جو مقدسہ مریم کی دائمی دوشیزگی کی قائل تھی، اسے ایک بدعت قرار دیا۔ پروٹسٹنٹ کلیسیا کا بڑا حصہ اس عقیدے کا حامی ہے (قاموس الکتاب ص ۱۶۰ کالم ۲)۔ یعقوب کے خط کے مصنف کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے: ’’پروٹسٹنٹ اعتقاد کے مطابق یہ یعقوب یسوع مسیح کا سگا بھائی تھا‘‘ (ایضاً ص ۱۱۵۰ کالم ۲ سطر آخری)۔ مزید لکھا ہے: ’’یسوع مسیح کے خاندان کے بارے میں جو حوالجات ملتے ہیں ان سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یسوع مسیح کے بعد مقدسہ مریم کے اور بچے بھی ہوئے (مرقس ۶ : ۳ ، متی ۱۲ : ۴۶ تا ۵۰)۔ پروٹسٹنٹ مسیحی یہ سمجھتے ہیں کہ اس کا انکار کرنے کی پشت پر وہ جذبہ کارفرما ہے جس کے تحت دوشیزگی کے مقابلہ میں شادی کو گھٹیا تصور کیا جاتا ہے (ایضاً ص ۱۱۵۱ کالم ۱)۔ پس اتنے سارے بیٹے بیٹیاں اور اتنا بڑا خاندان ہوتے ہوئے حضرت مریمؑ کو ایک نامحرم غیر شخص کے ساتھ جانے کی کیا ضرورت تھی؟ لہٰذا ثابت ہوا کہ مریم کے پاس کھڑا ہوا شخص یسوع ہی تھا۔

صلیب دے دینے کے بعد بھی جنونی یہودیوں کے دل سے مسیح دشمنی کی آگ سرد نہ ہوئی لہٰذا اسی رات یہودی قبر سے لاش چرا کر لے گئے اور رات کے اندھیرے میں ہی لاش کو مسخ کر کے باہر کھیت میں گرا دیا۔ اب یہوداہ کی لاش اپنی اصل شکل و صورت میں تھی لیکن لاش چرانے والے اندھیرے اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہچان نہ سکے، انہوں نے لاش کا سر کچل دیا اور پیٹ چاک کر کے انتڑیاں باہر نکال دیں، دن چڑھے جب لوگوں نے کھیت میں پڑی یہوداہ اسکریوتی کی مسخ شدہ لاش دیکھی تو مختلف قسم کی افواہوں نے جنم لیا۔ کچھ کا خیال تھا کہ وہ روپیوں کو مقدس میں پھینک کر چلا گیا اور جا کر اپنے آپ کو پھانسی دی (متی ۲۷ : ۵) لیکن بعض سوچتے تھے کہ اس نے کھیت میں خود کو کس طرح پھانسی دی؟ اور اگر پھانسی دی ہوتی تو اس کا سر کیسے پچک گیا اور اس کی انتڑیاں کیسے باہر آ گئیں؟ لہٰذا اکثر کا خیال تھا کہ اس نے بدکاری کی کمائی سے ایک کھیت حاصل کیا اور سر کے بل گرا اور اس کا پیٹ پھٹ گیا اور اس کی سب انتڑیاں نکل پڑی (اعمال ۱ : ۱۸)۔ لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ شہر سے باہر کھیت میں یہوداہ اتنی زور سے سر کے بل کیسے گرا کہ اس کا سر پچک جائے اور پیٹ پھٹ جائے اور سب کی سب انتڑیاں باہر نکل آئیں؟ سر کے بل گر جانے کی وجہ سے پیٹ کا پھٹ جانا اور وہ بھی اس طرح کے ساری کی ساری انتڑیاں باہر نکل آئیں محال عقلی ہے۔ لہٰذا یہ حقیقت کے زیادہ قریب ہے کہ یہوداہ چونکہ مصلوب ہوا اس لیے لوگوں نے کھیت میں پڑی لاش کو دیکھ کر پھانسی کے آثار پائے اور لاش کو مسخ کیا ہوا اور انتڑیاں نکلی ہوئی دیکھیں تو بعض نے سمجھا کہ یہ سر کے بل گرا ہے اور پیٹ پھٹ گیا۔ بعد میں اس کھیت کا نام ’’ہقل دما‘‘ یعنی خون کا کھیت مشہور ہو گیا (متی ۲۷ : ۷، ۸ و اعمال ۱ : ۹)

جمعہ کے روز صلیب دی گئی، دوسرے روز ہفتہ (سبت) تھا، اس روز یہودی کوئی کام نہیں کرتے (خروج ۲۰ : ۸ تا ۱۱ اور احبار ۲۳ : ۳ و لوقا ۲۴ : ۱) اس لیے کوئی مرد یا عورت قبر پر نہ گیا۔ تیسرے دن یعنی اتوار کو جب قبر کو خالی پایا گیا تو افواہ مشہور ہو گئی کہ یسوع مردوں میں سے جی اٹھا ہے، لیکن راسخ الاعتقاد مسیحی جانتے تھے کہ مسیح مصلوب ہی نہیں ہوا پھر جی اٹھنے کا قصہ ہی غلط ہے۔ چنانچہ مسیح شکل تبدیل کیے لوگوں کے درمیان پھرتے رہے لیکن لوگ آپ کو پہچان نہ پائے (لوقا ۲۴ : ۱۵ تا ۳۲ ، یوحنا ۲۰ : ۱۴ اور ۲۱ : ۴، مرقس ۱۶ : ۱۲)۔

لاش کو قبر سے چرا کر مسخ کر کے کھیت میں پھینکنے والے یہودی حیران تھے کہ جس کی لاش کو انہوں نے پیٹ چاک کر کے اور سر کچل کر کھیت میں پھینکا تھا وہ یسوع کی بجائے یہوداہ اسکریوتی نکلا، پھر یسوع کہاں گیا؟ لہٰذا انہوں نے بزرگوں کے ساتھ جمع ہو کر مشورہ کیا اور سپاہیوں کو بہت سا روپیہ دے کر کہا کہ یہ کہہ دینا کہ رات کو جب ہم سو رہے تھے اس کے شاگرد آ کر اسے چرا لے گئے، اور اگر یہ بات حاکم کے کان تک پہنچی تو ہم اسے سمجھا کر تم کو خطرہ سے بچا لیں گے، پس انہوں نے روپیہ لے کر جیسا سکھایا گیا تھا ویسا ہی کیا، اور یہ بات آج تک یہودیوں میں مشہور ہے اور گیارہ شاگرد کلیل کے اس پہاڑ پر گئے جو یسوع نے ان کے لیے مقرر کیا تھا اور انہوں نے اسے دیکھ کر سجدہ کیا (یعنی تعظیم بجا لائے جیسا کہ عام رواج تھا، مثلاً دیکھو دانی ایل ۲ : ۴۶ ، پیدائش ۳۷ : ۷ و ۱۱ ، متی ۱۸ : ۲۶ و ۲۷ ، سموئیل ۹ : ۸ ۔ عابد) مگر بعض نے شک کیا، یسوع نے پاس آ کر ان سے باتیں کیں (متی ۲۸ : ۱۲ تا ۱۸) اور پورے چالیس دن تک یسوع چپکے چپکے شاگردوں سے ملتا اور احکاماتِ شریعت سمجھاتا رہا۔ یوں شاگردوں پر ثابت کر دیا کہ وہ زندہ ہے مرا نہیں تھا (اعمال ۱ : ۳ و متی ۲۸ : ۹ و مرقس ۱۶ : ۱۴ و لوقا ۲۴ : ۳۶)۔

لہٰذا حواریوں کا ایمان پختہ ہو گیا کہ مسیح مصلوب نہیں ہوئے، چنانچہ پطرس نے اپنی انجیل میں یہی بیان کیا ہے اور ڈوسیٹی کی انجیل اور برنباس کی انجیل (یہ دونوں انجیلیں دوسری صدی عیسوی تک رائج تھیں) میں لکھا ہے کہ مسیح کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا گیا اور یہوداہ اسکریوتی کو مسیح کی جگہ مصلوب کیا گیا۔ ڈاکٹر کے ایل ناصر لکھتے ہیں کہ ۳۰۰ء کے باسیلائڈیز اور ناسٹک فرقوں کا بھی یہی عقیدہ تھا کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کو نہ قتل کیا گیا ہے اور نہ ہی مصلوب (ماہنامہ کلام حق بابت ماہ فروری ۱۹۸۹ء ص ۱۱ و ۱۲)

ایسٹر کا تہوار

قدیم دستاویزات و کتب کے مطالعہ سے ہمیں معلوم ہو جاتا ہے کہ سب سے پہلے مسیحی مصلوبیت اور ایسٹر کو نہیں مانتے تھے۔ ایسٹر کا مختصر تاریخی مطالعہ ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے:

ڈبلیو ای وائن بتاتے ہیں کہ

’’سن عیسوی کی تیسری صدی کے وسط تک کلیسیائیں مسیحی ایمان کے عقیدوں سے یا تو پھر گئیں یا (بگاڑ کر) ان کی نقل کی۔ برگشتہ کلیسیائی نظام کے اثر کو بڑھانے کے لیے غیر قوم لوگوں کے وسیلہ سے ان کی اصلاح کے بغیر ہی کلیساؤں کے اندر قبول کر لیا گیا اور ان کو زیادہ تر اپنے نشانوں اور علامتوں کے پابند رہنے دیا گیا۔‘‘ (بحوالہ ’’سچائی جو باعث ابدی زندگی ہے‘‘ ص ۱۴۳)

لہٰذا سورج پرست جب مسیحیت میں آئے تو اپنے ساتھ سورج دیوتا اور ایسٹر دیوی کی پوجا بھی ساتھ لے آئے اور اپنی رسوم کو مسیحی رسوم کا نام دیا۔ مشہور مسیحی جریدہ بیان کرتا ہے:

’’مسیحی ہونے سے پہلے وہ لوگ موسمِ بہار کی دیوی مانتے تھے اور اس دیوی کا نام ایسٹر تھا، مسیحیوں نے اس دیوی کو بھلا دینے کے لیے موسم بہار میں آنے والی مسیحی عید کا نام ایسٹر رکھ دیا اور یوں لفظ ایسٹر کے معنی تبدیل ہو گئے۔‘‘ (پندرہ روزہ کاتھولک نقیب لاہور ۔ ایسٹر نمبر ۱۹۸۶ء)

یعنی ایسٹر دیوی کے پجاری مسیحی ہوئے تو قیامت مسیح کی کہانی نے جنم لیا۔ رہا مسیحی جریدہ کا یہ کہنا کہ ’’موسمِ بہار میں آنے والی مسیحی عید کا نام ایسٹر رکھ دیا‘‘ تو یہ غلط ہے۔ کیونکہ جب صلیب کا واقعہ ہوا اس وقت سخت سردی کا موسم تھا نہ کہ موسمِ بہار، بلکہ اس موسم میں لوگ آگ تاپتے تھے۔ گرفتاری والی رات پطرس رسول بھی آگ تاپ رہا تھا اور سپاہی جاڑے کے سبب سے کوئلے دہکا کر تاپ رہے تھے (یوحنا ۱۸ و لوقا ۲۲ : ۸۸ و مرقس ۱۴ : ۶۷)۔ معلوم ہوا کہ صلیب کا واقعہ سخت سردی کے موسم غالباً وسط دسمبر میں پیش آیا ہو گا۔ پادری بشیر عالم نے لکھا ہے:

’’تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ بہت سی رسوم معہ ایسٹر کلیسیا نے بت پرستوں اور غیر اقوام سے مستعار لی ہیں۔ بظاہر Easter انگریزی نام لگتا ہے اور اس کی نسبت غالباً East یعنی مشرق سے ہو گی۔ سورج مشرق سے طلوع ہو کر یعنی جنم لے کر مغرب میں غروب ہو جاتا یعنی دفن ہو جاتا ہے، اور پھر مشرق سے جنم لیتا ہے۔ شاید مسیح کی موت اور موت سے زندگی کو کسی مبارک شخص نے ایسٹر (Easter) سے نسبت قائم کر لی ہو۔ بعض کے نزدیک کے نزدیک جرمنی لفظ Astarte سورج کی دیوی سے اس کی نسبت ہے اور جرمن زبان میں یہ لفظ اوسٹرین، اوسٹور،  آسٹو، ایشتار مختلف طریقوں سے مستعمل ہے۔ جن کا ماخذ ایک ہی ہے اور سب کے معنی نورسمیں، طلوع آفتاب، نئی پیدائش وغیرہ ہیں۔ کہنا یہ ہے کہ ایسٹر کی نسبت کہیں نہ کہیں سے East یعنی سورج سے جا ملتی ہے اور سورج کی پوجا کرنے والوں کی آج بھی دنیا میں کمی نہیں۔‘‘ (ماہنامہ قاصد جدید لاہور ص ۳ ۔ مارچ ۱۹۹۱ء)

ہر ایسٹر اتوار کے روز ہی منایا جاتا ہے، اس کی وجہ پادری بشیر عالم کے اس بیان سے عیاں ہے:

’’اتوار سورج کا دن ہے (یہ دن سورج کی عبادت کے لیے وقف تھا) جیسے بہت سے مسیحی مناتے ہیں ۔۔۔ اب یہ دن مسیح کے جی اٹھنے کی یاد میں منایا جاتا ہے‘‘ (قاصد جدید ص ۱۰ ۔ دسمبر ۱۹۹۲ء)

پادری صاحب مزید فرماتے ہیں:

’’توریم Phonician جن کا دارالخلافہ کارتھیج تھا، Ashtroth دیوی کے پجاری تھے جو سورج کی دیوی کہلاتی ہے۔ ان کے عقیدے کے مطابق یہ زرخیزی اور پیداوار اور نئی زندگی کی دیوی ہے۔ قدما ایشٹراتھ کو موسمِ بہار میں نئی زندگی کی عید سے منسوب کرتے تھے۔ اسی لیے انگریزی میں مقامِ طلوعِ آفتاب کو ایسٹ یا اوسٹ کہا جاتا ہے۔ پس اس سے یہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ ایسٹر کی نسبت سورج کی دیوی عستارات سے ہی ہے اور اس کا میلہ وغیرہ بھی بہار میں منایا جاتا تھا۔ چونکہ بہار سے پیشتر خزاں میں درخت بظاہر مردہ نظر آتے ہیں لیکن بہار انہیں نئی زندگی دیتی ہے، اس سے بھی مسیح کی موت اور قبر پر فتح کی نسبت عیاں ہے۔ عستارات دیوی جس کی نسبت سے ہمیں ایسٹر نام ملا ہے ۔۔۔ گو اس کا نام بگڑتے بگڑتے ایسٹر رہ گیا‘‘ (قاصد جدید ص ۳ تا ۴ ۔ مارچ ۱۹۹۱ء)

مذکورہ بالا اقتباسات سے ثابت ہوا کہ قیامت مسیح کی کہانی نے اس وقت جنم لیا جب سورج پرستوں نے مسیحیت کو قبول کیا۔ اس کی تصدیق جناب پادری بشیر عالم صاحب کے اس بیان سے بھی ہوتی ہے:

’’قسطنطین رومی فرمانروا بھی اسی دیوی کا پجاری تھا، بلکہ اس وقت کے دستور کے مطابق وہ اس ہیکل میں بطور سردار کاہن بھی تھا ۔۔ وہ ۔۔ مسیحیت کا حلقہ بگوش ہو گیا مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ عستارات کی محبت ساری عمر اس کے دل سے نہ گئی، اس نے مسیحیوں اور عستارات کے ماننے والوں کو متحد کرنے کے لیے حکماً کہا کہ ہفتہ وار عبادت اور قیامت مسیح اتوار کو منائی جایا کرے، آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ کس طرح عستارات ایسٹر کا لازم و ملزوم انگ  بن گئی۔‘‘ (ایضاً ص ۴ کالم ۲)

مزید تفصیلات پادری ایف ایس خیر اللہ صاحب کی زبانی ملاحظہ کیجئے:

’’اس کی بیوی کا نام عستارات دیوی تھا، ان کی پوجا کی رسومات میں گھناؤنے زناکاری کے عمل بھی شامل تھے۔ روایت کے مطابق تموز کو ایک جنگلی سور نے مار دیا تھا جب وہ اپنی بھیڑ بکریوں کی رکھوالی کر رہا تھا۔ اس کی بیوی اسے پاتال سے بچا کر نکال لائی۔ جب سردی کے موسم کے شروع میں درخت اور سبزہ سوکھ جاتا ہے تو خیال کیا جاتا ہے کہ یہ تموز کی موت کی علامت ہے، اور جب موسمِ بہار میں پودے پھر ہرے بھرے ہو جاتے ہیں تو سمجھا جاتا تھا کہ تموز جی اٹھا ہے ۔۔۔۔ تموز کا ذکر صرف حزقی ایل ۸ : ۱۴ میں ہے جہاں بتایا گیا ہے کہ کیسے ہیکل کے شمالی پھاٹک کے عین سامنے عورتیں بیٹھ کر تموز پر نوحہ کرتی تھیں ۔۔۔ اس دیوتا کا یونانی نام ادونیس Adonis تھا جو عبرانی اور فینیکی زبان کے لفظ سے نکلا جس کے معنی ہیں خداوند۔‘‘ (قاموس الکتاب ص ۲۶۲)

آپ غور فرمائیں، تموز کو ادونیس یعنی خداوند کہا جاتا تھا، عیسائیوں نے یسوع مسیح کو بھی یہی یعنی خداوند کہنا شروع کر دیا اور اسے الوہیت کا درجہ دیا۔ تموز کو جنگلی سور نے مار دیا اور وہ عالمِ ارواح میں اتر گیا لیکن پھر جی اٹھا۔ عیسائیوں نے اسی کہانی کو مسیح سے منسوب کر دیا کہ اسے یہودیوں نے صلیب پر چڑھا کر قتل کر دیا، یسوع بھی تین رات دن مردہ رہا اور پھر جی اٹھا۔ دونوں کا جی اٹھنا موسمِ بہار میں منایا جاتا ہے۔ تموز بھیڑیوں کی رکھوالی کرتا مارا گیا جبکہ یسوع اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کی گلہ بانی کرتے ہوئے۔ عورتیں اپنے خاوند تموز کا ماتم کرتی تھیں (حزقی ایل ۸ : ۱۴)۔ عیسائیوں نے اپنے مسیح خداوند کا ماتم کیا (مرقس ۱۶ : ۱) اسی طرح صلیب مسیحیت کی خاص علامت ہے۔ ڈبلیو ای وائن بتاتے ہیں کہ

’’صلیب کی ابتدا قدیمی کلدان (بابل) میں ہوئی اور یہ معبود تموز کی علامت میں استعمال ہوتی تھی کیونکہ یہ رمزی TAU یا T شکل کی تھی جو اس کے نام کا ابتدائی  حرف تھا۔ لہٰذا TAU یا T کے آرے ٹکڑے کو نیچے کر کے اسے مسیح کی صلیب کی جگہ قبول کر لیا۔‘‘ (سچائی جو باعث ابدی زندگی ہے ۔ ص ۱۴۳ و ۱۴۴)

مسیحیوں کے دیگر معمولاتِ زندگی میں بھی سورج پرستی کی جھلک نظر آتی ہے۔ مثال کے طور پر انہوں نے سبت کے احکامات کو پس پشت ڈال کر اتوار کو مقدس ٹھہرایا۔ پاسٹر پیز صاحب بتاتے ہیں کہ اتوار سورج کی عبادت کا دن ہے (قاصد جدید ص ۱۴ ۔ اپریل ۱۹۹۲ء)۔ کتاب ’’سچائی جو باعث ابدی زندگی ہے‘‘ کا مصنف لکھتا ہے کہ

’’آپ نے شاید یہ نوٹ کیا ہو گا کہ یسوع مسیح کی بعض تصویروں میں اس کے سر کے چوگرد روشنی کا گول گھیرا ہوتا ہے، یہ اولیا کا نورانی تاج یا نور کا ہالہ کہلاتا ہے۔ اگر آپ اس کے انگریزی لفظ نمبس Nimbus کو کسی انسائیکلوپیڈیا میں دیکھیں تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ قدیم مصری اور یونانی اور رومی لوگ اسے اپنی غیر قوم مذہبی صنعت میں استعمال کرتے تھے۔ یہ نورانی ہالہ بابلیوں کی سورج پرستی سے جا ملتا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ یہ بابلی معبودوں کی نمائندگی کرتا ہے۔‘‘ (ص ۱۴۶ ۔ مطبوعہ ریاستہائے متحدہ امریکا)

اور ایسٹر سے متعلق لکھا ہے:

’’مروجہ رسوم جو ابھی تک اس کی یادگاری کے عرصہ میں منائی جاتی ہیں وہ تاریخ کی اس شہادت کی کافی تصدیق کرتی ہے کہ اس کی سیرت بابلی ہے۔ گڈ فرائیڈے کے میٹھے کلچے جن پر کراس (صلیب) کا نشان بنا ہوتا ہے اور فصحی یا ایسٹر سنڈے کے رنگے ہوئے انڈے کلدانی (بابلی) مذہبی رسوم میں خوب نمایاں تھے، جیسے وہ اب نمایاں ہیں‘‘ (ایضاً ص ۱۴۹) ’’مسیحی دنیا کے خاص تہوار ایسٹر کو بائبل کے اندر کچھ حمایت نہیں ملتی، یہ غیر قوم اصل سے ہے اور اس لیے خدا کو ناپسند ہے‘‘ (ایضاً ص ۱۴۹)

آخر میں ہم پادری بشیر عالم صاحب کا مسیحیوں کے حق میں ایک مبنی بر انصاف قول نقل کر رہے ہیں:

’’انہوں نے کبھی بھی مسیحیت کو دل میں جگہ نہ دی، وہ سورج کی پوجا کرتے آئے تھے اور دوبارہ انہوں نے اسی کی پوجا شروع کر دی۔‘‘ (ماہنامہ قاصد جدید ص ۶ کالم ۱ ۔ بابت ماہ فروری ۱۹۹۳ء)’’


مشہد میں مسجد کی شہادت

ادارہ

ہمسایہ ملک ایران میں آج کل شہنشاہیت کے خاتمے اور نئے انقلاب کا جشن منایا جا رہا ہے جسے فجر کا نام دیا گیا ہے۔ جشن کے اس پُرمسرت موقع پر، جب ایرانی عوام انقلاب کی خوشیاں منا رہے ہیں، ایران کے عوام کی ایک بڑی تعداد جو سنی مسلک پر عمل پیرا ہے، اپنے گھروں پر کالے جھنڈے لہرانے اور اس مسجد کا سوگ منانے پر مجبور ہے جو ایران کے شہر مشہد میں ۱۳ جنوری کی رات حکومتِ ایران نے ظالمانہ انداز سے منہدم کر دی۔ ایک اطلاع کے مطابق اس مسجد کی جگہ، جو ایرانی رہنما خامنہ ای کے گھر کے نزدیک واقع تھی، اب ایک بڑا پارک بنایا جا رہا ہے۔
مسجد کی شہادت کے بعد پاکستان کا دورہ کرنے والے ایرانی سنی علماء کے ایک وفد نے بتایا کہ مشہد میں ڈھائی جانے والی یہ مسجد تقریباً ۶۰ سال قبل اور بعض روایات کے مطابق سو سال قبل تعمیر کی گئی تھی۔ برصغیر کے ایک مسلمان شیخ فیض احمد نے اس مسجد کے لیے جگہ فراہم کی تھی جس کی بنا پر یہ جامع مسجد فیض کے نام سے مشہور تھی۔ ۶۴ سال قبل شاہ کی اجازت سے اس مسجد کی توسیع کی گئی۔ اور ایران کے حالیہ انقلاب کے بعد ایرانی حکومت کی اجازت سے چھ ماہ قبل مسجد میں مزید توسیع کی گئی، لیکن بعد ازاں نئی توسیع کو ناجائز قرار دے دیا گیا۔
ایک اطلاع کے مطابق تین سال قبل بھی اس مسجد کو منہدم کرنے کے لیے حملہ کیا گیا تھا لیکن لوگوں نے مزاحمت کی جس کی بنا پر اسے ڈھانے کی کوشش میں ناکامی ہوئی۔ بعد ازاں مسجد کی کل زمین فروخت کر دینے کے لیے بھی دباؤ ڈالا گیا لیکن مسجد کی انتظامیہ نے مسجد کی زمین فروخت کرنے سے انکار کر دیا۔ چنانچہ ۳۱ جنوری کی رات اچانک سرکاری اہلکاروں نے مسجد کو گھیرے میں لے لیا اور یوں رات رات تقریباً سو سال پرانی مسجد صفحہ ہستی سے مٹا دی گئی۔ اس موقع پر مزاحمت کرنے والے تقریباً گیارہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ مسجد کا خادم اور مؤذن مزاحمت کی کوشش میں بلڈوزر سے کچلا گیا۔
مسجد کی جگہ پر بڑے بڑے درخت لا کر لگائے جا رہے ہیں اور پورے علاقے کو سرکاری اہلکاروں اور پاسدارانِ انقلاب نے گھیرے میں لے رکھا ہے۔ ایرانی حکومت یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ گویا یہاں کوئی مسجد نہیں تھی، حالانکہ مختلف اسلامی ممالک کے سفیر وہاں نماز پڑھ چکے ہیں۔ مسجد کی جگہ تیزی سے پارک بنایا جا رہا ہے اور وزارتِ اطلاعات نے مسجد کے انہدام کی خبر کو بیرونی ایجنسیوں کی سازش قرار دیتے ہوئے وقوعہ سے انکار کیا ہے۔ ایران کے اخبارات چونکہ مکمل طور پر ایرانی حکومت کے کنٹرول میں ہیں اس لیے اخبارات میں مسجد کے انہدام کی خبر شائع نہیں کی گئی لیکن بی بی سی، وائس آف امریکہ اور دیگر غیر ملکی ذرائع ابلاغ سے مسجد کے انہدام کی خبر نشر ہونے کے بعد پورے ایران میں احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے۔ ایران کے ان علاقوں میں جہاں سنی آبادی کی اکثریت ہے مثلاً ایرانی بلوچستان کے شہر سرادان، ایران شہر، خاش، چاہ بہار، نیک شہر، خراسان کے علاقے تربت جام، تربت حیدریہ، ترکمان صحرا، بندر عباس، کردستان اور زاہدان ہیڈکوارٹر میں مظاہرے اور احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔
ایرانی وفد نے بتایا کہ یکم فروری کو جامع مسجد فیض کے انہدام پر احتجاج کی غرض سے لوگ زاہدان کی جامع مسجد مکی میں جمع ہو رہے تھے، پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے انہیں دھمکیاں دی گئیں اور مسجد خالی کرنے کا حکم دیا گیا۔ لوگوں کی تعداد بڑھتی گئی تو رات ساڑھے دس بجے مکی مسجد پر حملہ کر دیا گیا اور فائرنگ سے تین افراد فوری طور پر شہید ہو گئے۔ یہ تین افراد مسجد کے اندر محراب میں تلاوت کر رہے تھے، فائرنگ سے مسجد کا مؤذن بھی زخمی ہو گیا۔ مسجد کی کھڑکیاں، دروازے اور شیشے توڑ دیے گئے، مدرسے پر بھی حملہ کیا گیا، امام مسجد مولانا عبد الحمید صاحب کے گھر کی تلاشی لی گئی اور وہاں موجود علماء سے بھی بدتمیزی کی گئی، سرکاری اہلکار جوتوں سمیت مسجد میں گھس گئے، تقریباً ڈیڑھ سو افراد اس پر موقع پر گرفتار کیے گئے جبکہ تین افراد ہلاک اور ستر افراد زخمی ہوئے تھے۔
پورے ایرانی بلوچستان میں اس واقعے کا شدید ردعمل ہوا اور اس ردعمل کے نتیجے میں پچیس افراد کو سڑکوں اور گلیوں میں ہلاک کیا جا چکا ہے جن میں پاسدارانِ انقلاب کی اکثریت ہے۔ گرفتاریوں کا سلسلہ ابھی جاری ہے، مکی مسجد میں مظاہرے کے لیے جمع ہونے والے نوجوانوں اور مسجد کے آس پاس موجود نوجوانوں کی ویڈیو فلموں کی مدد سے گرفتاری کی جا رہی ہے۔
مکی مسجد کے امام مولانا عبد الحمید نے اس واقعے کے بعد جناب خامنہ ای سے ملاقات کی اور پورے واقعے سے آگاہ کیا، جنہوں نے مولانا عبد الحمید کو اس امر کا یقین دلایا کہ مکی مسجد زاہدان کا جو کچھ نقصان ہوا ہے اسے پورا کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ توڑ پھوڑ کے باعث مسجد میں چند دن سے نماز نہیں ہو سکی۔ وفد نے بتایا کہ اگرچہ جامع مسجد مکی زاہدان کا نقصان پورا کرنے کا ایرانی حکومت نے وعدہ کیا ہے لیکن افسوسناک واقعے پر معافی نہیں مانگی جبکہ مسجد فیض کے بارے میں تو ایرانی حکومت بات کرنے پر آمادہ ہی نہیں ہے اور کہتے ہیں اسے بھول جاؤ۔
ایرانی وفد نے بتایا کہ ایران میں سنیوں کی تمام مساجد میں حکومتی اہلکار نماز اور خطبے میں شرکت کرتے ہیں اور ان خطبات کو ٹیپ کیا جاتا ہے تاکہ مساجد میں حکومت کے خلاف یا حکومتی فرقے کے خلاف یا اپنے مسلک کے حق میں کوئی بات نہ کی جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ پورے ایران میں کوئی کتاب، میگزین یا اخبار حکومت کی اجازت کے بغیر شائع نہیں کیا جا سکتا اور حکومت سنی مسالک کی کتابیں شائع کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔ علاوہ ازیں تمام اسکولوں میں خواہ سرکاری ہوں یا پرائیویٹ ایک ہی نصاب پڑھایا جاتا ہے اور اس میں شیعہ مذہب کی اسلامیات پڑھائی جاتی ہے۔ عدالتوں میں سنیوں کے ازدواجی اور دیگر معاملات زندگی کے بارے میں شیعہ مسالک کے قوانین کے مطابق فیصلے کیے جاتے ہیں۔ اصفہان، شیراز، تبریز، تہران وغیرہ میں سنیوں کو ایک مسجد بنانے کی بھی اجازت نہیں ہے اور نہ ہی سنیوں کو سرکاری ملازمتوں میں رکھا جاتا ہے۔
وفد نے بتایا کہ شاہِ ایران کے دورِ حکومت میں سنی شیعہ اختلافات کی بات کرنا ممنوع تھا اور مذہبی منافرت پھیلانے پر سخت سزا دی جاتی تھی۔ ۱۹۷۶ء میں وہاں کے اخبار کیہان کے ایک مضمون میں حضرت عثمان غنیؓ کی شان میں گستاخی کی گئی تو اسی زاہدان میں عوام مسلح ہو کر سڑکوں پر نکلے اور اخبار کے خلاف مظاہرہ کیا۔ ساواک کا نمائندہ آیا، فوج آئی اور رہنماؤں نے مذاکرات کیے، پھر اس شخص کو جس نے گستاخی کی تھی گرفتار کیا، اس موقع پر ایک گولی بھی نہیں چلائی گئی۔ لیکن انقلاب کے بعد ایران کے سنی عوام مجموعی آبادی کا تیس فیصد ہونے کے باوجود مذہبی سہولیات تک سے محروم کر دیے گئے ہیں۔
وفد نے کہا کہ اس بات کی ضرورت ہے کہ اس واقعے پر سخت احتجاج کرتے ہوئے حکومتِ ایران سے مسجد جامع فیض کی دوبارہ تعمیر کی درخواست کی جائے، بصورتِ دیگر یہ سلسلہ جاری رہا تو ایران میں سنیوں کی کوئی مسجد باقی نہیں رہے گی۔
(بشکریہ ’’تکبیر‘‘ کراچی)

افریقہ میں عیسائی مشنریوں کی سرگرمیاں

ادارہ

رابطہ عالمِ اسلامی مکہ مکرمہ کے زیر اہتمام شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق افریقہ میں، جہاں 610 ملین (61 کروڑ) کی کل آبادی میں مسلمانوں کی تعداد 332 ملین (33 کروڑ) ہے، عیسائی مشنریوں کی سرگرمیاں اپنے عروج پر ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت افریقہ میں:
  •  104000 پادری اپنے 93000 معاونین کے ساتھ مصروفِ عمل ہیں،
  • 500 یونیورسٹیاں/کالجز،  2595 سیکنڈری اسکول،  83900 پرائمری اسکول، اور  11130 روضۃ الاطفال عیسائیوں کی سرپرستی میں کام کر رہے ہیں اور ان اداروں میں تعلیم پانے والے مسلمان طلبہ کی تعداد 6 ملین (60 لاکھ) ہے۔
  • افریقہ کے مختلف ممالک میں چرچ کے زیر انتظام جو رفاہی ادارے کام کر رہے ہیں ان میں 600 ہسپتال، بیماروں کے لیے 120 گھر، بیواؤں کے لیے 85 گھر، اندھوں کے لیے 115 سکول،یتیموں کے لیے 265 گھر، اور 5112 ڈسپنسریاں شامل ہیں۔
  • مشنریوں کے زیر اہتمام 75 اخبارات و جرائد شائع ہوتے ہیں۔ ان میں سے ایک اخبار نے لکھا ہے کہ عیسائی مشنریاں افریقہ میں اپنی سرگرمیوں پر اب تک 32 ملین ڈالر (3 کروڑ سے زائد) خرچ کر چکی ہیں۔

(بشکریہ ’’العالم الاسلامی‘‘ مکہ مکرمہ ۔ ۲۱ فروری ۱۹۹۴ء / ۱۱ رمضان ۱۴۱۴ھ)


گستاخِ رسولؐ کے لیے موت کی سزا کا قانون

ڈاکٹر غلام محمد کا خط اور مولانا کوثر نیازی کا جواب

ادارہ

مکرمی جناب مولانا کوثر نیازی صاحب، چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان،
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مزاج گرامی؟
عرض ہے کہ کچھ دنوں سے پبلک لا کمیشن اور اسلامی نظریاتی کونسل کی طرف سے گستاخِ رسول کے لیے سزائے موت کے قانون پر نظرثانی اور ترمیم کی خبریں شائع ہو رہی ہیں، اس پر مذہبی حلقوں میں سخت بے چینی اور تشویش کی صورت پیدا ہو چکی ہے۔ توہینِ رسالت کا جرم کوئی معمولی جرم نہیں، اس لیے جہاں تک تحقیق کرنے اور کسی کو بلاوجہ مجرم بنانے کی بات ہے اس سے کسی مسلمان کو خوشی نہیں کہ خوامخواہ غیر مسلم افراد کو سزا دلوانے کے لیے جھوٹے مقدمات بنوا کر انہیں پریشان کیا جائے۔ مگر یہ بات بھی بڑی واضح ہے کہ پاکستان میں مسیحی اقلیت تمام غیر مسلموں کی نمائندگی کر رہی ہے، جس کے لیے مثالیں موجود ہیں۔
(۱) مسلمانوں نے شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ شامل کرنے کا مطالبہ کیا تو اس کے خلاف مسیحی اقلیت نے ملک بھر میں مظاہرے اور بھوک ہڑتالی کیمپ قائم کر کے قومی شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ کے اندراج میں رکاوٹ کھڑی کی۔
(۲) گستاخِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سزائے موت کے خلاف جے سالک اور دیگر عیسائی نمائندوں نے کہا کہ ہم اس پارٹی کو ووٹ دیں گے جو گستاخِ رسولؐ کی سزا کو ختم کرے گی۔ اور بعض جگہوں پر قرآن پاک کی بے حرمتی بھی کی گئی جس کی مثال گوجرانوالہ کے تھانہ کوٹ لدھا کے گاؤں رتہ دوہتڑ کا مشہور واقعہ جس میں مرکزی حکومت نے مسز رابن رافیل کی پاکستانی وزیراعظم سے ملاقات کے بعد امریکی دباؤ میں آ کر سیشن کورٹ اور ہائیکورٹ کی کارروائی میں مداخلت کر کے ملزمان کی ضمانت پر رہائی کروا لی اور مسیحی قوم اور امریکی سرکار کی وفا کا حق ادا کیا ہے۔ اب اس کی اپیل سپریم کورٹ میں کی گئی ہے (آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا)۔
جناب والا! ان حالات کے پیشِ نظر آپ سے درخواست ہے کہ اس قانون میں کسی قسم کی ترمیم کر کے نرمی پیدا نہ کی جائے، اس سے ایک بہت بڑا مسئلہ پیدا ہو گا جو پھر شاید آپ اور آپ کی حکومت سے کنٹرول نہ کیا جائے۔ مسلمان امریکہ کی خوشنودی نہیں اللہ کی خوشنودی کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ ملازمت کی اپنی مجبوریوں میں آپ نے کوئی تبدیلی کر دی تو سلمان رشدی جیسے لوگوں کی حوصلہ افزائی ہو گی اور پھر غازی علم دین شہید کا کردار ادا کرنے کے لیے بھی بہت لوگ اٹھیں گے (ان شاء اللہ)۔
ڈاکٹر غلام محمد
ڈپٹی سیکرٹری جمعیۃ علماء اسلام (پنجاب)
جامع مسجد شیرانوالہ باغ، گوجرانوالہ
محترمی ڈاکٹر صاحب!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
آپ کا خط مورخہ ۲۶ فروری ۱۹۹۴ء کو موصول ہوا۔ شکریہ۔
توہینِ رسولؐ کے بارے میں آپ کے جذبات قابلِ قدر ہیں اور وہی ہر مسلمان کے ہونے چاہئیں، ہم اس سلسلے میں جو بھی ترمیم یا اضافہ کریں گے وہ علمائے کرام کے مشورے سے کریں گے اور انشاء اللہ ایسا کرتے وقت اسلامی شریعت کی حدود کو کاملاً ملحوظ رکھا جائے گا۔
(کوثر نیازی)

میڈیا کی جنگ اور اس کے تقاضے

لندن میں ورلڈ اسلامک فورم کی فکری نشست

ادارہ

لندن (پ ر) میڈیا کے متعلق ’’ورلڈ اسلامک فورم‘‘ کا اجلاس ’’تحریکِ ادبِ اسلامی‘‘ کے کنوینر عادل فاروقی کی رہائشگاہ واقع (ہیرو، لندن) میں منعقد ہوا جس میں بڑی تعداد میں علماء، دانشور، صحافی، ادبا اور شعرا نے شرکت کی۔

برالٹن اسلامک سنٹر کے ڈائریکٹر پروفیسر عبد الجلیل ساجد نے کہا کہ مسلمانوں کو مغرب میں میڈیا کی جنگ بہت ہوشمندی اور تیاری سے لڑنی ہے۔ میڈیا کی فکری و ثقافتی یلغار نے ہماری نئی نسل کو پوری طرح اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔ الیکٹرونک میڈیا میں ابھی تک ہم کوئی پیشرفت نہیں کر سکے، اس لیے ورلڈ اسلامک فورم کو الیکٹرونک میڈیا کے ذریعے اسلام کے مثبت اور اتحادی پہلوؤں کو پیش کرنے کے لیے پروگرام ترتیب دینا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ الحمد للہ نارتھ امریکہ، ملیشیا، دبئی، مصر اور ساؤتھ افریقہ میں کچھ کام ہوا ہے، فورم اس کو سامنے رکھ کر اس سمت پیشرفت کرے۔
اسلامک کمپیوٹنگ سنٹر کے ڈائریکٹر مفتی برکت اللہ نے کہا کہ بدقسمتی سے ہمارے علمائے کرام کی بڑی تعداد جدید تقاضوں اور آج کے دور کی معاشرتی ضرورت کا شعور نہ ہونے کی وجہ سے ابھی تک اس کے جواز و عدم جواز کی بحث میں الجھی ہوئی ہے۔ وقت تیزی سے نکلا جا رہا ہے، پورا مغربی میڈیا اسلام کی صورت بگاڑنے، اسلام کو بدنام کرنے، فحاشی و بے حیائی پھیلانے، ذہنی انارکی، بے راہ کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ لیکن جب اس میڈیا کو بچوں کی تعلیم و تربیت میں مدد لینے، اسلام کی اشاعت اور اس کے متعلق غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے استعمال کی بات آتی ہے تو ہم اس کے جواز و عدم جواز کی بحث چھیڑ دیتے ہیں۔ آج ہم میں سے کون ہے جس کا گھر اس میڈیا کی یلغار سے محفوظ ہو؟ ہمیں سنجیدگی سے اسلامی حدود کو مدنظر رکھتے ہوئے  میڈیا کے صحیح استعمال کا پروگرام ترتیب دینا ہو گا۔
تحریکِ ادبِ اسلامی کے کنوینر عادل فاروقی نے کہا، ہمیں ربع صدی سے زائد اس ملک میں ہو گئے، ہم نے آج تک انگریزی زبان کے کتنے ادیب، صحافی اور شاعر پیدا کیے؟ ہمارے بچے دن رات پاپ میوزک، ٹی وی، ریڈیو میں ڈوبے ہوئے ہیں، اسلامی تشخص ختم ہوتا جا رہا ہے، ان کا مزاج یہاں کی سوسائٹی کی سانچے میں ڈھل رہا ہے، ہمیں اپنی نئی نسل کو تیار کرنا ہو گا کہ ادب و صحافت میں امتیاز پیدا کریں۔
ورلڈ اسلامک فورم کے سیکرٹری جنرل مولانا محمد عیسٰی منصوری نے کہا کہ جب ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اس ملک میں رہنا ہے اور بحیثیت مسلمان کے رہنا ہے تو ایسے اسلامی تشخص کے باقی رکھنے کی جدوجہد ہم پر فرض ہے۔ ہمیں میڈیا اور ذرائع ابلاغ کے صحیح استعمال کے متعلق پروگرام بنانا ہو گا۔ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے کہ کفر جس میدان میں اور جس انداز سے سامنے آیا، آپؐ نے اسی میدان میں اسے جواب دیا۔
غزوۂ خندق کے موقع پر آپؐ نے فرمایا کہ کفارِ مکہ سے اب ہماری جنگ اسلحہ کے میدان میں نہیں بلکہ شاعری کے میدان میں ہو گی۔ یاد رہے کہ شاعری اس دور کا میڈیا تھا جس کے ذریعے آناً فاناً خیالات و افکار پورے عرب میں  پھیل جاتے تھے۔ چنانچہ جلیل القدر صحابہ کرامؓ نے اس چیلنج کو قبول کر کے شاعری کے میدان میں کفر کا مقابلہ کیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ ان حضراتِ صحابہؓ نے اس فیلڈ میں بھی اسلام کی خدمت کا حق ادا کر دیا۔ اس طرح آج کا میڈیا صحافت ہے، ٹیلی ویژن اور سیٹلائٹ ہے، جو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بھڑکانے اور مشتعل کرنے میں لگا ہوا ہے۔ ہمیں اس میڈیا کو خیر اور اسلامی تعلیمات کو عام کرنے کے لیے استعمال کرنا ہو گا۔ 
مولانا منصوری نے کہا کہ ہمارے درسِ نظامی میں جو علوم و فنون پڑھائے جاتے ہیں: فلسفہ، علمِ کلام اور منطق وغیرہ، یہ فنون اس دور کے یونان و روم کے غیر اسلامی فنون تھے جو اسلام کی تیزرفتار اشاعت میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے استعمال کیے جا رہے تھے۔ اس دور میں علماء نے ان علوم و فنون کو سیکھا، ان میں کامل مہارت حاصل کی، ان سے غیر اسلامی افکار و خیالات کو الگ کیا، انہیں ازسرِنو مدون کیا، ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان علوم کو مسلمان بنایا، حتٰی کہ آج یہ سب علوم و فنون اسلامی علوم سمجھے جاتے ہیں۔ اسی طرح ہمیں آج کے ذرائع ابلاغ و میڈیا پر دسترس حاصل کرنا ہو گی، اسے خیر کے لیے استعمال کرنا ہو گا، بالفاظ دیگر اس میڈیا کو، اس ٹیلی ویژن اور سیٹلائٹ کو مسلمان بنانا ہو گا۔
آپ موجودہ میڈیا پر پابندی نہیں لگا سکتے البتہ اس کا صحیح استعمال کر سکتے ہیں۔ کسی شاہراہ پر نو انٹری کا بورڈ لگانے سے قبل آپ کو متبادل راستہ دینا ہو گا، ورنہ آپ کی بندش مؤثر نہیں ہو سکتی۔ اس طرح میڈیا کو حرام کہنے سے پہلے ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ اس کے صحیح اور مثبت استعمال کا ہم پروگرام بنائیں ورنہ یہ سیلاب بڑے بڑے دیندار، متقی پرہیزگار علماء اور مفتی صاحبان کی نسلوں کو بہا لے جائے گا۔
فورم پوری سنجیدگی سے جدید میڈیا کو تعلیمی مقاصد اور اسلام کی نشرواشاعت کے ذریعے کے طور پر استعمال کرنے کا پروگرام بنا رہا ہے۔ فورم نے اپنی جدوجہد سے علمائے کرام اور جدید طبقے کے دانشوروں کو یکجا کر دیا ہے، یہاں علماء بھی ہیں اور دانشور بھی، ادیب و صحافی بھی، ہم سب کو مل کر عصرِ حاضر کے اس چیلنج کو قبول کرنا ہے، جس طرح ہر دور میں ہمارے اسلاف نے کیا ہے۔ اس ضمن میں جلد ہی فورم کی طرف سے پروگرام پیش کیا جائے گا۔
اجلاس کے آخر میں مشہور شاعر و ادیب عبد الرحمٰن بزمی اور سلطان الحسن فاروقی اور عادل فاروقی نے اپنا تازہ نعتیہ کلام پیش کیا۔
(بشکریہ ’’جنگ‘‘ لندن ۔ ۲۶ جنوری ۱۹۹۴ء)

ڈاکٹر سید سلمان ندوی کا دورہ برطانیہ

مختلف اجتماعات سے فکر انگیز خطاب

ادارہ

عالمِ اسلام کی ممتاز علمی شخصیت علامہ سید سلیمان ندویؒ کے فرزند اور ڈربن یونیورسٹی (جنوبی افریقہ) میں شعبہ اسلامیات کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر سید سلمان ندوی نے گزشتہ ماہ ورلڈ اسلامک فورم کی دعوت پر برطانیہ کا پانچ روزہ دورہ کیا اور لندن، بولٹن، باٹلی، ڈیوزبری، لیسٹر اور دیگر شہروں میں متعدد اجتماعات سے خطاب کیا۔ ورلڈ اسلامک فورم کے سیکرٹری جنرل مولانا محمد عیسٰی منصوری بھی دورہ میں ان کے ہمراہ رہے۔
ڈاکٹر سلمان نے ان اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں اس سے پہلے بارہا برطانیہ آ چکا ہوں لیکن ہر مرتبہ میری آمد آکسفورڈ، کیمبرج اور اسلامک فاؤنڈیشن تک محدود رہی ہے۔ اس بار ورلڈ اسلامک فورم کی دعوت پر پہلی بار صحیح معنوں میں برطانیہ دیکھ رہا ہوں۔ مسلمانوں کے دینی ادارے، مساجد، علماء اور دانشوروں سمیت مختلف طبقات سے ملا ہوں، مجھے خوشی ہے کہ آپ حضرات نے یہاں ایمان کا چراغ جلا رکھا ہے۔
مغرب کی علمی و فکری برتری آج انسانیت کی تخریب کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ مغرب نے عالمِ اسلام پر اپنے خونی پنجے گاڑ رکھے ہیں اور مسلم حکمرانوں کو اسلام کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔ مصر، الجزائر، عالمِ اسلام میں حکمرانوں کی جنگ اسرائیل سے نہیں، یورپ سے نہیں، کفر سے نہیں، بلکہ ان لوگوں سے جاری ہے جو اللہ کا کلمہ بلند دیکھنا چاہتے ہیں، جو اللہ کے دین پر جینا اور اسے نافذ کرنا چاہتے ہیں، اور اس جرم میں ہر روز مسلم نوجوانوں کو قتل اور پھانسی دیے جانے کی خبریں آ رہی ہیں۔ ان مسلم نوجوانوں کا سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ وہ اسلام کو سربلند کرنا چاہتے ہیں۔
آپ حضرات کو یہاں مغرب میں مسلم ممالک سے کہیں بڑھ کر اسلام پر چلنے کی آزادی حاصل ہے۔ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ شاید اسلام کی نشاۃِ ثانیہ مغرب سے ہو، اس کے لیے آپ لوگوں کو پوری تیاری کرنی ہے۔ علمائے کرام کو چاہیے کہ انگریزی زبان میں پوری مہارت حاصل کریں، مغرب کی تاریخ کا مطالعہ کریں، نئی نسل سے براہ راست تعلق پیدا کریں۔ دین و دنیا کی تفریق اسلام کو زبردست نقصان پہنچا رہی ہے۔ مغرب کی پوری کوشش ہے کہ مسلمانوں میں دین و دنیا کی تفریق قائم رہے اور دو متوازی طبقے، جو ایک دوسرے سے متعلق ہوں، وجود میں آجائیں، اس طرح وہ نئی نسل کو نظریاتی فکری اعتبار سے اسلام سے کاٹ لے۔
انہوں نے کہا کہ آپ حضرات جن قوموں کے درمیان رہ رہے ہیں وہ اسلام کے متعلق شدید غلط فہمیوں میں مبتلا ہیں۔ اس لیے کہ عیسائیوں کے ساتھ مسلمانوں کا تعارف ہی میدانِ جنگ میں ہوا۔ صدیوں سے یورپ میں اسلام کو قتل و غارت گری، سفاکیت اور بے رحمی کے مذہب کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے۔ آپ حضرات کو اپنے کردار سے ثابت  کرنا ہے کہ اسلام امن و سلامتی کا مذہب ہے۔ اسلام دیگر مذاہب کی طرح ایک مذہب نہیں بلکہ ایک دین ہے۔ مذہب عبادت کی چند رسموں کا نام ہوتا ہے اور دین زندگی کے ہر شعبہ پر محیط نظامِ حیات ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں نے برطانیہ میں دیکھا کہ دینی مکاتب و مدارس کا نصاب و طرزِ تعلیم وہی چل رہا ہے جو ۷۰، ۸۰ سال پہلے برصغیر میں تھا۔ آپ حضرات کو چاہیے کہ اس ملک کے بیک گراؤنڈ (پس منظر)، آج کی معاشرتی ضرورتوں، اور یہاں کے بچوں کے مزاج و نفسیات کو مدنظر رکھتے ہوئے نصاب ازسرنو مرتب کریں۔
انہوں نے کہا کہ روس کی شکست و ریخت کے بعد مغرب نے اسلام کے خاتمہ کو اپنا مقصد بنا لیا ہے۔ مغرب کو آپ کی نمازوں سے خطرہ نہیں ہے، آپ جتنی چاہے مسجدیں بنا لیں۔ مغرب یہی چاہتا ہے کہ اسلام مسجد میں بند رہے۔ مغرب لرز رہا ہے خالد بن ولید کے اسلام سے، صلاح الدین ایوبی، طارق بن زیاد اور محمد بن قاسم کے اسلام سے، کیونکہ ان کا اسلام عبادات کی چند رسموں تک محدود نہیں تھا بلکہ زندگی کے ہر شعبہ پر محیط تھا۔
جب آپ حضرات نے یہاں رہنے کا فیصلہ کر لیا ہے تو اپنی نسلوں کو ایمان و اسلام پر پابند رکھنے کا انتظام کرنا آپ پر فرض ہے۔ انہوں نے کہا کہ بوسنیا میں لاکھوں مسلمانوں کے قتلِ عام پر مغرب خاموش تماشائی بنا رہا، ان ہیومن رائٹس کے علمبرداروں کی اسلام دشمنی بوسنیا میں پوری طرح عیاں ہے۔ فرانس کا صدر اور برطانیہ کے پرائم منسٹر کھلے الفاظ میں کہہ چکے ہیں کہ یورپ کے دل میں کسی مسلمان ریاست کو ہرگز برداشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں آپ کو اپنی بقا کی جنگ لڑنی ہے اور وہ جنگ ٹینک و میزائل سے نہیں، علمی و فکری محاذ پر لڑنی ہے۔ یہ اس وقت ہو گا جب آپ اپنی اولاد کو دینی و عصری تعلیم سے آراستہ کریں گے۔
ورلڈ اسلامک فورم کے سیکرٹری جنرل مولانا محمد عیسٰی منصوری نے ان اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پروفیسر سلمان ندوی فورم کے سرپرست اور بانی رہنماؤں میں ہیں۔ گزشتہ سال ساؤتھ افریقہ میں پروفیسر صاحب نے تجویز پیش کی تھی کہ یورپ کی سرزمین پر علمی و فکری کام کی ضرورت ہے۔ فورم نے بطور خاص دو مقاصد سامنے رکھے ہیں:
الحمد للہ ورلڈ اسلامک فورم دونوں محاذوں پر سرگرم عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی میڈیا اسلام اور مسلمانوں کی اتنی شرانگیز اور گھناؤنی تصویر پیش کر رہا ہے کہ اگر دنیا میں کہیں اسلام غالب ہو گیا تو انسانی حقوق، انسانی کلچر و تمدن اور انسانی ترقیات سب ختم ہو جائیں گی اور دنیا ظلم و تاریکی کے دور میں واپس لوٹ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈ اسلامک فورم نے میڈیا کے محاذ پر کام کرنے کے لیے ’’ویسٹ واچ اسٹڈی گروپ‘‘ تشکیل دیا ہے، فورم جلد ہی ملک کے مختلف شہروں میں تربیتی کورس شروع کر رہا ہے۔

شاہ ولی اللہ یونیورسٹی گوجرانوالہ کی سالانہ تقریب

ادارہ

شاہ ولی اللہ یونیورسٹی اٹاوہ جی ٹی روڈ گوجرانوالہ کی سالانہ تقریب ۴ فروری ۱۹۹۴ء کو بعد نمازِ جمعہ یونیورسٹی کیمپس میں منعقد ہوئی جس میں عالمی مجلسِ تحفظِ ختمِ نبوت کے سربراہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد مدظلہ العالی بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے، جبکہ دیگر مہمانانِ خصوصی میں سابق صوبائی وزیر چوہدری محمد اقبال ایم پی اے، جناب ایس اے حمید ایڈووکیٹ ایم پی اے، اور جناب عبد الرؤف مغل ایم پی اے شامل تھے۔ اور یونیورسٹی کے سرپرستِ اعلٰی شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر اور سرپرست حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی بھی علالت اور ضعف کے باوجود تقریب میں شریک ہوئے۔ تقریب کی صدارت شاہ ولی اللہ ٹرسٹ کے چیئرمین الحاج میاں محمد رفیق نے کی اور تعلیمی کونسل کے چیئرمین مولانا زاہد الراشدی اور ٹرسٹ کے سیکرٹری جنرل الحاج محمد اشرف شیخ کے علاوہ پروفیسر غلام رسول عدیم اور یونیورسٹی کے طلبہ حافظ عبد الجبار اور فیصل محبوب نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔
اس موقع پر سالانہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس سال شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کی طرف سے ایف اے کی پہلی کلاس نے گوجرانوالہ بورڈ سے امتحان دیا ہے اور امتحان دینے والے تقریباً تمام طلبہ پاس ہو گئے ہیں۔ اسی طرح درسِ نظامی کے فضلاء کی پہلی کلاس نے پنجاب یونیورسٹی سے بی اے کا امتحان دیا ہے اور اس میں بھی سب شرکاء پاس ہو گئے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ کالج میں اس وقت فرسٹ ایئر، سیکنڈ ایئر اور تھرڈ ایئر کی تین کلاسیں زیر تعلیم ہیں، جبکہ درسِ نظامی کے فضلاء کی ایک کلاس ایم اے اور دوسری کلاس بی اے میں زیر تعلیم ہے۔ تمام طلبہ یونیورسٹی کے ہاسٹل میں رہائش پذیر ہیں جن میں سے تقریباً بیس فیصد طلبہ فیس ادا کر رہے ہیں، جبکہ باقی تمام طلبہ کے اخراجات کی کفالت یونیورسٹی کے ذمہ ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ طلبہ کی رہائش کے لیے جگہ کی تنگی کے باعث دو سو طلبہ کے لیے ہاسٹل کی تعمیر شروع کر دی گئی ہے جس پر تقریباً اسی لاکھ روپے لاگت آئے گی اور اس کا سالِ رواں کے دوران مکمل ہونا ضروری ہے۔ اسی طرح سولہ کنال پر مشتمل وسیع جامع مسجد فضل کی تعمیر کا آغاز بھی ہو گیا ہے جس کی تعمیر کے اخراجات گوجرانوالہ کے معروف تاجر الحاج شیخ سراج الدین برداشت کر رہے ہیں جو اس سے قبل قائد اعظم ڈویژنل پبلک اسکول اور گلشن اقبال (پارک) میں بھی مساجد تعمیر کرا چکے ہیں۔
تقریب میں امتحانات میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ کو مہمانِ خصوصی حضرت مولانا خان محمد مدظلہ نے انعامات دیے۔
اس موقع پر حضرت مولانا خان محمد مدظلہ، حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر، اور حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی مدظلہ نے اپنے دستِ مبارک سے مسجد فضل کا سنگِ بنیاد رکھا اور یونیورسٹی کی جلد از جلد تعمیر اور مقاصد میں کامیابی کے لیے دعا فرمائی۔
تقریب میں شہر کے مختلف طبقات کے سرکردہ حضرات، علمائے کرام اور دانشوروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کے پروگرام پر مسرت کا اظہار کیا۔

تعارف و تبصرہ

محمد عمار خان ناصر

’’عمدۃ البیان فی احکام رمضان‘‘

مصنف: مولانا محمد اجمل خان
صفحات ۲۴۴ قیمت ۶۰ روپے
ناشر: مکتبہ اشاعتِ اسلام، جامعہ رحمانیہ، عبد الکریم روڈ، قلعہ گوجر سنگھ، لاہور
رمضان المبارک اللہ کی رحمتوں اور برکتوں کا خاص مہینہ ہے۔ سال بھر کی غفلت کے بعد اس مہینہ میں اللہ کے بندے اپنے پروردگار کے ساتھ اپنا تعلق دوبارہ جوڑتے اور پورا مہینہ اللہ کو راضی کرنے اور خاص اہتمام کے ساتھ اس کی عبادت کرنے میں گزارتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ بھی اس مہینہ میں اپنی رحمتوں کے خزانے کھول دیتے ہیں، بالخصوص عشرہ اخیرہ میں تو اس کی بے یاں رحمتیں اپنے عبادت گزار بندوں پر برس برس پڑتی ہیں۔
اس ماہِ مبارک میں  معمول کی عبادات کے علاوہ کچھ خاص عبادات بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے مقرر کی ہیں۔ دن کو روزہ، رات کو قیام، تراویح میں قرآن سننا اور سنانا، اعتکاف اور عشرہ اخیرہ کی طاق راتوں میں خصوصی عبادت کا اہتمام، یہ سب چیزیں اگر صحیح طریقے سے اور ان کی حکمت کو سمجھتے ہوئے ان پر عمل کیا جائے تو ’’تقوٰی‘‘ کے قالب میں ڈھالنے کے لیے بہترین ذرائع ہیں۔ یہ مبارک مہینہ اللہ تعالیٰ کی مرضی اور اس کی دی ہوئی ہدایات کے مطابق گزار لینا ایک مسلمان کے لیے واقعی نہایت خوشی اور مسرت کا موقع ہے۔ اس لیے رمضان کے اختتام پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ’’عید الفطر‘‘ منانے کا حکم دیا گیا ہے۔
زیرِ نظر کتاب رمضان المبارک کی انہی خاص عبادات کے احکام و مسائل، حکمتوں اور فوائد کے بیان میں نہایت جامعیت اور حسنِ ترتیب کے ساتھ لکھی گئی ہے۔ مصنف نے کتاب کے مضامین کو گیارہ حصوں میں تقسیم کیا ہے اور درج ذیل موضوعات کا بالترتیب احاطہ کیا ہے:
(۱) رمضان اور روزہ کے فضائل، فوائد اور دیگر معلومات (۲) روزہ کے مسائل (۳) سحری کے احکام (۴) افطاری کے احکام (۵) نمازِ تراویح کے فضائل اور تعدادِ رکعات (۶) رؤیتِ ہلال کے احکام (۷) لیلۃ القدر کا تعارف اور اس کی فضیلت (۸) اعتکاف کے مسائل (۹) نفلی روزوں کی تفصیلات اور احکام (۱۰) مکروہ اور حرام چیزوں کا بیان (۱۱) عید الفطر اور صدقۃ الفطر کے احکام و مسائل۔
کتاب خوبصورت جلد اور کمپیوٹر کمپوزنگ کے ساتھ عمدہ سفید کاغذ پر چھپی ہے اور طباعت کا معیار بھی اعلیٰ ہے۔ جدید تعلیم یافتہ لوگوں اور عوام الناس کے لیے اس کتاب کا مطالعہ بہت مفید ہے۔

’’حیاتِ امامِ اعظم ابوحنیفہؒ‘‘

مصنف: مولانا محمد اجمل خان
کتابت و طباعت عمدہ ۔ صفحات ۲۷۰ قیمت ۶۰ روپے
ناشر: مکتبہ اشاعتِ اسلام، لاہور
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ دنیائے فقہ و اجتہاد کی وہ عظیم المرتبت شخصیت ہیں کہ جن کی علمی خدمات اور فقہ و بصیرت کا اعتراف آپ کے معاصرین سے لے کر آج تک کے اکابر اہلِ علم نے ہمیشہ کیا ہے۔ مسلک و مشرب کا اختلاف رکھنے والے فقہاء اور اہلِ علم  نے بھی علمِ دین اور تقوٰی میں امام صاحب کے غیر معمولی مقام و مرتبہ کو تسلیم کیا ہے۔ ائمہ مجتہدین میں سے امام شافعی رحمہ اللہ کا یہ قول مشہور ہے ’’الناس فی الفقہ عیال علی ابی حنیفہؒ‘‘۔
بدقسمتی سے گزشتہ صدی کے دوران میں ہمارے اس برصغیر میں کچھ لوگ ایسے نمودار ہوئے جنہوں نے فقہ، بالخصوص فقہ حنفی اور امام اعظمؒ کی ذاتِ گرامی کو طعن و تشنیع اور گستاخانہ اعتراضات کا ہدف بنایا اور عوام الناس میں یہ ذہنیت پیدا کرنے کی کوشش کی کہ فقہ حنفی قرآن و سنت کے مقابلہ میں ایک الگ شریعت ہے اور اس کے واضع اول امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ گویا علمِ حدیث سے ناواقف اور عربیت سے کورے تھے۔ یہ طرزِ عمل، ظاہر ہے، ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے، جن کی اکثریت فقہ حنفی پر عامل تھی، ایک نہایت تکلیف دہ طرز عمل تھا۔ چنانچہ علمی سطح پر امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی ذاتِ گرامی کے حوالہ سے بحث و تحقیق کا ایک نیا محاذ کھل گیا۔
ہمارے نزدیک اہلِ علم کے لیے دلائل کے ساتھ کسی بھی رائے سے اختلاف کا راستہ کھلا ہے لیکن جن لوگوں نے دین کی تحقیق اور تشریح میں واقعتاً گراں قدر خدمات انجام دی ہیں ان کی خدمات کے اعتراف اور ان سے استفادہ کرنے سے گریز کی راہ بہرحال اہل علم کے شایان شان نہیں ہے۔ اس لیے امام اعظمؒ اور ان کے فقہی اجتہادات کے بارے میں جو لوگ بلاوجہ تعصب اور تنگ نظری کا شکار ہیں، ان سے ہماری گزارش ہے کہ اپنے طرزعمل پر نظرثانی کریں اور فقہ و حدیث کے اس عظیم المرتبت امام کو اس کا صحیح مقام دینے میں تعصب سے کام نہ لیں۔
زیرنظر کتاب میں امام صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت کے انہی پہلوؤں کو موزوں ترتیب کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ کتاب میں امام صاحبؒ کے حالاتِ زندگی، علم و فضل اور تقوٰی و دیانت کے بارے میں مستند معلومات درج ہیں اور اہلِ حدیث اور فقہاء کے تعریفی اقوال کے علاوہ فقہ حنفی اور امام صاحبؒ کے شاگردوں کے بارے میں بھی قیمتی معلومات کو جمع کیا گیا ہے۔ امام صاحب کی شخصیت سے درست واقفیت کے لیے اس کتاب کا مطالعہ مفید ہے۔

’’رسول ﷺ پر درود و سلام‘‘

مولف: مولانا احمد سعید دہلویؒ
صفحات ۱۶ ، ناشر: ادارہ جمیلیہ، سلامت پورہ، رائے ونڈ، لاہور
ایک مسلمان اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق زندگی گزارنے میں جہاں اللہ تعالیٰ کی توفیق اور عنایت کا محتاج ہے وہاں اللہ کے بھیجے ہوئے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی ممنونِ احسان ہوتا ہے کہ اللہ کی بھیجی ہوئی ہدایت اس تک اللہ کے رسولؐ ہی کے واسطے سے پہنچی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی عبادت اور شکرگزاری کے ساتھ ساتھ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیدت و محبت کا اظہار اور اللہ کے ہاں ان کی بلندی درجات کی دعا بھی ایک مسلمان کے لیے بالکل فطری امر ہے۔ اس کا طریقہ اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام بھیجا جائے۔ اس حکم کی تشریح میں خود آنحضرتؐ نے مختلف صحابہؓ کو درود کے مختلف الفاظ یاد کرائے اور درود پڑھنے کے مختلف مواقع بھی بتائے۔
درود سے متعلق علمی مباحث (فضائل و احکام وغیرہ) پر علماء نے مستقل تصانیف بھی لکھی ہیں۔ اس سلسلہ میں حافظ سخاویؒ کی ’’القول البدیع‘‘، علامہ ابن القیمؒ کی ’’جلاء الافہام‘‘، اور خاص فضائل کے موضوع پر شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحبؒ کی ’’فضائلِ درود شریف‘‘ اہلِ علم میں متداول ہیں۔
زیرِ نظر مختصر رسالہ میں درود شریف کے ۶۸ فضائل اور درود پڑھنے کے ۴۵ مواقع احادیث اور اہلِ علم کی کتابوں سے تتبع کر کے جمع کیے گئے ہیں۔ کتابوں کے حوالہ جات اور احادیث کی صحت و سقم بیان کرنے کا اہتمام بالکل نہیں کیا گیا۔ فضائل کی روایات کا عمومی حال معلوم ہی ہے اور اس رسالہ میں تو اصولِ شرعی کے مناقض بعض روایات بھی درج ہیں، مثلاً صفحہ ۱۰، ۱۱ پر یہ روایت ہے: ’’جو شخص درود بکثرت پڑھتا رہتا ہے اس سے اگر بعض فرائض میں بھی کوتاہی ہو جائے تو بازپرس نہ ہو گی۔‘‘
ہمارے نزدیک صحیح طریقہ یہ ہے کہ عوام الناس کے سامنے صرف صحیح اور مستند روایات بیان کی جائیں، اور اگر کہیں ضعیف روایت بیان کی جائے تو اس کے ضعف کی نشاندہی بھی کی جائے تاکہ عوام کو اہلِ بدع و ہوٰی کے پھیلائے ہوئے اناپ شناپ روایات کے جال سے نکالا جا سکے۔
رسالہ سفید کاغذ پر کمپوٹر کمپوزنگ اور عمدہ طباعت کے ساتھ چھپا ہے اور ایک روپے کا ڈاک ٹکٹ بھیج کر مفت منگوایا جا سکتا ہے۔

سیرت النبیؐ پر انعامی تقریری مقابلہ

ورلڈ اسلامک فورم کی طرف سے انعامات تقسیم کیے گئے

ادارہ

شاہ ولی اللہ یونیورسٹی گوجرانوالہ میں سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موضوع پر انعامی تقریری مقابلہ ۲۷ جنوری ۱۹۹۴ء کو منعقد ہوا جس میں شاہ ولی اللہ یونیورسٹی، مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ، مدرسہ اشرف العلوم گوجرانوالہ، اور جامعہ حقانیہ گوجرانوالہ کے نو طلبہ نے حصہ لیا۔ وفاقی وزارتِ تعلیم حکومتِ پاکستان کے شعبہ نصاب کے ڈپٹی ایڈوائزر جناب پروفیسر افتخار احمد بھٹہ بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوئے، جبکہ شاہ ولی اللہ ٹرسٹ کے چیئرمین الحاج میاں محمد رفیق نے تقریب کی صدارت کی اور پروفیسر عبد الستار غوری، پروفیسر غلام رسول عدیم اور حافظ خلیل الرحمٰن ضیا پر مشتمل پینل نے منصفین کے فرائض سرانجام دیے۔
طالب علم مقررین نے جناب رسالتماب صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کے مختلف پہلوؤں پر اچھے انداز میں روشنی ڈالی اور منصفین کی طرف سےمندرجہ ذیل مقررین کو اول، دوم، سوم اور چہارم درجہ پر انعامات کا مستحق قرار دیا گیا:
اول: مولوی عبد الکبیر برشوری (مدرسہ نصرۃ العلوم)
دوم: فیصل محبوب (شاہ ولی اللہ یونیورسٹی)
سوم: مولوی کفایت اللہ (جامعہ حقانیہ)
چہارم: مولوی عبد العزیز (مدرسہ اشرف العلوم)
کامیاب مقررین کو ورلڈ اسلامک فورم کی طرف سے بالترتیب پانچ سو روپے، چار سو روپے، تین سو روپے اور دو سو روپے کے انعامات دیے گئے جو مہمانِ خصوصی نے ان میں تقسیم کیے۔
اس موقع پر ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا زاہد الراشدی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مدارس اور کالجوں کے طلبہ میں دینی موضوعات پر تحریر و تقریر کا ذوق بیدار کرنے کے لیے فورم کی طرف سے مختلف اداروں میں اس قسم کے انعامی تقریری مقابلوں کا وقتاً فوقتاً اہتمام کیا جائے گا۔