تحریک خلافت اور اس کے ناگزیر تقاضے
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
گزشتہ دنوں خلافت اسلامیہ کے احیا کے جذبہ کے ساتھ دو حلقوں کی طرف سے جدوجہد کا اعلان کیا گیا ہے۔ ایک طرف تنظیم اسلامی پاکستان کے سربراہ محترم جناب ڈاکٹر اسرار احمد نے ’’تحریک خلافت‘‘ بپا کرنے کا عزم کا اعلان کیا ہے اور دوسری طرف مولانا مفتی غلام مسرور نورانی قادری کی سربراہی میں مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام نے خلافت کی بحالی کے لیے علماء اور عوام کو منظم کرنے کا بیڑہ اٹھایا ہے۔
جہاں تک خلافت اسلامیہ کے احیا اور بحالی کا تعلق ہے یہ ایک انتہائی مبارک اور مقدس جذبہ ہے اور اسلام کے لیے مذکورہ بالا دونوں بزرگوں اور ان کے رفقاء کے خلوص میں بھی کوئی کلام نہیں ہے۔ لیکن کسی قسم کی فکری و علمی تیاری کے بغیر یکدم ’’خلافت‘‘ کے نام پر عوام کو مجتمع ہونے کی دعوت دینا ہمارے خیال میں قبل از وقت ہے جس کے فوائد و منافع سرِدست محل نظر ہیں۔ خلافت کے حوالے سے عوام بلکہ علماء اور سیاسی دانشوروں کی ذہن سازی کے بہت سے مراحل ابھی باقی ہیں، اور انسانی اجتماعیت کے جدید تقاضوں کے پس منظر میں دو چار بہت سخت مقامات ابھی موجود ہیں جنہیں کامیابی سے عبور کیے بغیر محض ’’احیائے خلافت‘‘ کے دعوے اور پرخلوص جذبات کے سہارے ان مراحل کے خلا کو پر نہیں کیا جا سکتا۔
خود ہمارا نقطہ نظر یہی ہے کہ ہمیں اپنا سیاسی نظام کے لیے درآمدی اصطلاحات کا سہارا اب ترک کر دینا چاہیے اور پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک کے سیاسی نظاموں کو خالص اسلامی سانچے میں ڈھالنے کی فکر کرنی چاہیے۔ لیکن اس کے لیے پہلے فکری اور عملی کام کی ضرورت ہے اور جدید سیاسی تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے ’’خلافت‘‘ کے ایک واضح ڈھانچے کی تشکیل ضروری ہے۔ اس کے بغیر خلافت کے مقدس نام پر کسی نئی تحریک کا نتیجہ بھی شاید نفاذِ اسلام کی اس جدوجہد سے مختلف نہ ہو، جسے ہم کوئی واضح ہدف، ترجیحات اور ترتیب طے کیے بغیر تینتالیس سال سے محض جذبات اور عقیدت کے سہارے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
امام محمد بن اسمعیل بخارى رحمہ الله
شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر
نام و نسب
طبقات الشافعیۃ الکبری (ص ۲ و ۳ ج ۲) اور تذکرۃ الحفاظ (ص ۱۲۲، ج۲) میں آپ کا نام و نسب یوں درج ہے: ”محمد بن اسمعیل بن ابراہیم بن المغیرة بن بردزبہ بن بذذبہ جعفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ“
بردزبہ مجوسی تھے۔ ان کے بیٹے مغیرۂ یمان جعفی والئ بخارا کے ہاتھ پر مسلمان ہوئے تھے۔ اسی نسبت سے جعفی مشہور ہوئے۔ یہ نسبت موالاۃ اسلام کی ہے۔
ولادت
امام بخاریؒ ۱۳ شوال ۱۹۴ھ بروز جمعہ بعد از نماز جمعہ پیدا ہوئے اور یہی قول راجح اور صحیح ہے۔ مادہ تاریخ ولادت ۱۹۴ھ صَدَقَ ہے۔
ابتدائی حالات
آپؒ کے والد ماجد اسماعیلؒ کی وفات آپ کی صغر سنی میں ہی ہو گئی تھی۔ لہٰذا آپ نے اپنی والدہ محترمہ کی تربیت و نگرانی میں ہی ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ آپ کو بچپن سے ہی علم کا بہت شوق تھا۔ مستزاد برایں آپ کی ذکاوت مفرطہ نے سونے پر سہاگہ کا کام کیا۔
طبقات (ج ۲ ص ۴) میں ہے: احمد بن مفضل بلخیؒ نے فرمایا کہ امام بخاریؒ بچپن میں نابینا ہو گئے تھے۔ ان کی والدہ نے خواب میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زیارت کی۔ حضرت ابراہیمؑ نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے تمہاری کثرت گریہ اور دعا کی وجہ سے تیرے بیٹے کی نظر لوٹا دی ہے۔ چنانچہ امام بخاریؒ صبح اٹھے تو بینا تھے۔“ اور اسی طبقات میں جبریل بن میکائیلؒ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ انہوں نے امام بخاریؒ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب میں خراساں پہنچا تو میری نظر ضائع ہو گئی، وہاں ایک آدمی نے خطمی لیپ کرنے کا کہا، چنانچہ ایسا کرنے پر بفضلہٖ تعالیٰ میری نظر واپس ہو گئی۔
آغاز تعلیم
حضرت امام بخاریؒ نے ۲۰۵ ھ میں سماعِ حدیث کا آغاز کیا اور امام ابن مبارکؒ کی تصانیف یاد کیں۔ چنانچہ طبقات (ص ۴، ج ۲) میں ابو جعفر محمد بن ابی حاتم الوراق کا قول ہے کہ میں نے امام بخاری سے تعلیم کی ابتدا کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ مکتب میں دس سے کم یا دس سال کی عمر میں ہی میرے دل میں حفظ حدیث کا شوق پیدا ہوا۔ حسب تصریح علامہ سبکیؒ (طبقات ص۲، ۳، ج ۲) و حافظ ابن حجرؒ (مقدمہ فتح الباری، ص ۲۵۰، ج ۲) امام بخاریؒ نے تعلیم کی خاطر ابتدائی سفر ۲۱۰ھ میں سولہ سال کی عمر میں شروع کیا اور ایک ہزار سے زائد اساتذہ سے حدیثیں لکھیں۔ (تذكرة الحفاظ ص ۱۲۳، ج ۲ و طبقات سبکی ص ۵، ج ۲)
یوں تو امام بخاریؒ کے ایک ہزار سے زیادہ اساتذہ تھے جیسا کہ بیان ہو چکا ہے اور علامہ ذہبیؒ نے تذکرۃ الحفاظ (ص ۱۲۳، ج ۲) میں خود امام بخاریؒ کا یہ مقولہ نقل کیا ہے: ”قال كتبت عن اكثر من الف رجل“ کہ میں نے ایک ہزار سے بھی زیادہ اساتذہ سے حدیثیں لکھی ہیں۔ البتہ چند مشہور اساتذہ و مشائخ کے نام یہ ہیں۔
مشائخ امام بخاریؒ
امام بخاریؒ کے مشائخ بخارا میں محمد بن سلام بیکندیؒ، محمد بن یوسف بیکندیؒ، عبد اللہ بن محمد المسندی، ابراہیم بن الاشعث و طائفۃ معہم۔
مشائخ بلخ میں سے مکی بن ابراہیم الحنفیؒ، ان کے علاوہ یحییٰ بن بشرؒ، زاہدؒ، قتیبہؒ و جماعۃ معہم ہیں۔
مشائخ مرو میں سے علی بن الحسن بن شقیقؒ، عبداقؒ و جماعۃ معہم ہیں۔
مشائخ نیشاپور میں سے یحییٰ بن یحییٰؒ، بشر بن الحکمؒ اور ان کے علاوہ اسحٰق مشہور ہیں۔
مشائخ ری میں سے حافظ ابراہیم بن موسی وغیرہ ہیں۔
مشائخ بغداد سے شریح بن النعمانؒ، عفانؒ اور ان کے علاوہ حضرات محدثین کرامؒ کا ایک گروہ اور معلیّٰ بن منصورؒ (تلمیذ ائمہ ثلاثہ احناف) وغیرہ ہیں۔
مشائخ بصرہ میں سے ابو عاصم النبیل الضحاکؒ، بدل بن المحبزؒ اور محمد بن عبد الله الانصاری الحنفیؒ (تلمیذ صاحبین) وغیرہ مشہور مشائخ ہیں۔
مشائخ کوفہ میں سے ابو نعیمؒ (تلمیذ ابی حنیفہؒ) طلق بن غنامؒ، حسن بن عطیہؒ، خلاد بن یحییٰؒ اور قبیصہؒ وغیرہ مشہور ہیں۔
مشائخ مکہ میں سے امام حمیدیؒ اور
مشائخ مدینہ میں سے عبد العزیز اویسیؒ اور مطرف بن عبد اللہؒ وغیرہ مشہور ہیں۔
ان کے علاوہ واسط، مصر، دمشق، قیساریہ، عسقلان اور حمص وغیرہ میں بھی بہت سے مشائخ سے حدیث سنی۔ بنا بر اختصار ان کے ذکر کے لیے یہاں گنجائش نہیں۔
تلامذہ امام بخاریؒ
امام بخاریؒ کے تلامذہ کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے۔ طبقات (ص۱۲۲، ج۲) وغیرہ میں مشہور تلامذہ یہ مذکور ہیں:
امام ابو زرعہؒ، ابو حاتمؒ، مسلمؒ، محمد بن نصر مروزیؒ، صالح بن محمد جزرةؒ، ابن خزیمہؒ، ابو العباس السراجؒ، ابنِ قریشؒ، محمد بن جمعہؒ، یحییٰ بن محمد بن صاعدؒ، ابو حامد بن الشرفیؒ وغیرہم اور امام بخاریؒ سے جامع صحیح کے سب سے آخری راوی منصور بن محمد بزدویؒ المتوفی ۳۲۹ھ ہیں اور امام بخاریؒ سے سماع حدیث کرنے والوں میں سب سے آخر میں وفات پانے والے ابو ظہیر عبد الله بن فارس البلخی المتوفی ۳۴۶ھ ہیں۔
وفات
امام بخاریؒ نے تیرہ دن کم باسٹھ سال کی عمر میں شوال المکرم کی پہلی شب (شب شنبہ) ٢٥٦ھ میں سمرقند سے دو فرسخ (چھ میل) کے فاصلہ پر خرتنگ میں وفات پائی۔ طبقات (ص۱۴، ج ۲) میں ہے کہ مادہ تاریخ حمید ۶٢ ہے۔ غالب بن جبریاںؒ نے کہا کہ امام بخاریؒ ہمارے ہاں چند دن ٹھہرے۔ سخت مریض تھے اور ابوحسان مہنب بن سلیم کے بیان کے مطابق امام بخاریؒ وفات کے وقت تنہا تھے۔ صبح کے وقت گھر میں فوت شدہ پائے گئے۔ مادہ تاریخ وفات نور ۲۵۶ ہے۔
تدفین
شنبہ کے روز عید الفطر کے دن ظہر کی نماز کے بعد خرتنگ میں مدفون ہوئے۔ طبقات (ص ۱۵، ج ۲) میں ہے کہ بعد از دفن قبر مبارک کی مٹی سے بہت تیز خوشبو کافی دن تک مہکتی رہی اور قبر سے آسمان تک سفید روشنی کے ستون دکھائی دیتے تھے، جس کو دیکھنے کے لیے لوگ بکثرت آتے جاتے اور تعجب کرتے تھے۔
اللہ رب العزت کی زیارت کیسے ہو گی؟
شیخ التفسیر مولانا صوفی عبد الحمید سواتی
افادات: امام ولی اللہ دہلویؒ، شاہ رفیع الدین دہلویؒ
ترجمہ و توضیح: مولانا صوفی عبد الحمید سواتی
أم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ (المتوفاة ۵۸ھ) اور حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ (المتوفی ۳۲ھ) ان آیات مبارکہ کو، جو سورہ النجم میں وارد ہوئی ہیں، حضرت جبرائیل علیہ السلام کے حق میں کہتے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رؤیت بصری کا انکار کرتے ہیں۔ حضرت ابوذر غفاریؓ (المتوفی ۳۲ھ) سے دونوں قسم کی روایتیں ثابت ہیں۔ ”ھو نور انی اراه“ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ آپ نے اپنے پروردگار کو دیکھا ہے؟ تو آپؐ نے فرمایا کہ وہ نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں۔ اور ابوذر غفاریؒ سے یہ روایت بھی ثابت ہے: ”رأیت نورا فسجدت“ کہ میں نے نور کو دیکھا اور میں اس کے سامنے سجدہ ریز ہو گیا۔
ام المؤمنین حضرت عائشہؓ اور حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کا استدلال درج ذیل آیات و احادیث سے ہے۔
(۱) ”ما کان لبشر ان يكلمہ اللہ الا وحیا او من ورائ حجاب او یرسل رسولا“ (زخرف)
کسی انسان اور بشر کی یہ حد و شان نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے براہ راست کلام کرے، بجز اس کے کہ یا تو وحی کے ذریعے یا حجاب کے پیچھے سے یا فرشتہ بھیج کر اس کے ذریعہ کلام کرتا ہے۔
(۲) ”لا تدركہ الابصار وھو یدرك الابصار وهو اللطیف الخبیر“ (انعام)
آنکھیں اس کو نہیں پا سکتیں اور وہ آنکھوں کو پا سکتا ہے اور وہ نہایت ہی باریک بین اور خیبر رکھنے والا ہے۔
(۳) ”ھو نور انی اراه“
وہ نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں؟
اور دوسرے حضرات کہتے ہیں کہ معراج کی شب قلب کے ساتھ بھی رؤیت ہوئی ہے جیسا کہ مفسر قرآن صاحب روح المعانی سید آلوسیؒ (المتوفی ۱۲۷۰ھ) وغیرہ نے کہا ہے کہ آپؐ کے قلب مبارک میں قوتِ ابصار بھی تھی۔ اور حضرت عبد اللہ بن عباسؓ (المتوفی۶۸ھ) رؤیت قلب (فؤاد) اور رؤیت بصر دونوں کے قائل ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ (المتوفی ۷۳ھ) اور امام حسن بصریؒ (المتوفی ۱۱۰ھ) اور دیگر حضرات بھی اسی کے قائل ہیں۔ بلکہ حضرت حسن بصریؒ تو قسم اٹھا کر کہتے تھے: حضرت محمدﷺ نے اپنے پروردگار کو دیکھا ہے اور حضرت عروہ بن زبیرؒ بھی اسی بات کو ثابت کرتے تھے۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا کہ کیا تم لوگ اس بات پر تعجب کرتے ہو کہ خلت حضرت ابراہیمؑ کے لیے ہو اور کلام حضرت موسیٰؑ کے لیے اور رؤیت حضرت محمدؐ کے لیے!
یہ حضرات ام المومنین عائشہؓ یہ اور عبد اللہ بن مسعودؓ کے استدلال کا یہ جواب دیتے ہیں کہ آیت ”ما کان لبشر ان يكلمہ اللہ“ یہ تو کلام کے بارے میں ہے نہ کہ رؤیت کے مطابق اور ”لا تدركہ الابصار“ میں ادراک کا ذکر ہے اور ادراک تو احاطہ کو کہتے ہیں اور وہ تو حق تعالی کے بارہ میں محال ہے، کیونکہ وہ خود محیط ہے نہ محاط۔ اور رؤیت آخرت میں تو تمام مومنین کے لیے ثابت ہے، جیسا کہ اس آیت مبارکہ میں ہے: ”وجوہ یومئذ ناضرۃ إلى ربها ناظرة“ (قيامت)
بہت سے چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے اور اپنے پروردگار کی طرف دیکھنے والے ہوں گے۔
اور علاوہ ازیں بکثرت احادیث صحیحہ میں اس کا ثبوت موجود ہے۔ اس کے برخلاف فرقہ معتزلہ، فرقہ مرجیہ، فرقہ خوارج، روافض اور بعض دیگر اہل بدعت اس کے منکر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر رؤیت ثابت ہو تو اللہ تعالیٰ کے لیے جہت اور مکان ثابت ہو گا اور یہ اس کی شان تنزیہ کے خلاف ہے۔ اہل السنۃ والجماعۃ رؤیت کے قائل ہیں، لیکن وہ کہتے ہیں کہ رؤیت بے کیف ہوگی۔ رؤیت کا تعلق اسباب سے بھی اور بغیر اسباب دونوں طرح ہو سکتا ہے۔ اللہ تعالی قادر مطلق ہے، جس طرح وہ اسباب سے رؤیت پیدا کرتا ہے اسی طرح بغیر اسباب کے بھی رؤیت کو پیدا کر سکتا ہے۔
مفسرین کرام کا ایک گروہ یہ بھی کہتا ہے کہ شب معراج میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو رؤیت باری تعالٰی حاصل ہوئی تھی، وہ عالم اسباب سے خارج تھی، کیونکہ وہ حظيرة القدس میں سدرۃ المنتہیٰ کے پاس واقع ہوئی تھی۔ وہ ناسوتی عالم میں نہیں واقع ہوئی، لہٰذا کوئی اشکال نہیں۔ (مظہری) اور یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت تھی۔ آپﷺ کے علاوہ تمام لوگوں کے لیے خواہ انبیاءؑ ہوں یا غیر انبیاء یہ بات ہے۔ جس طرح آپﷺ نے فرمایا: ”انکم لن تروا ربکم حتی تموتوا“ کہ تم لوگ اپنے پروردگار کو نہیں دیکھ سکتے جب تک مر کر دوسرے جہاں میں نہ پہنچ جاؤ۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا: ”لن ترانی“ وہ بھی مشروط تھا: ”فان استقر مکانہ فسوف ترانی“ جس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں اس مادی جہاں میں وہ قوت و طاقت نہیں جو دوسرے جہاں میں حاصل ہوگی۔ ”فبصرک الیوم حدید“ آج تمہاری نگاہ بہت تیز ہے۔ وہ سب چیزیں اب تمہیں نظر آ رہی ہیں جو مادی جہاں میں تم نہیں دیکھ سکتے تھے۔ اس آیت سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔
اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ جس طرح سورج کے دیکھنے میں دوپہر کے وقت جب ابر و گرد و غبار بھی نہ ہو تو کوئی چیز مانع نہیں ہو سکتی، اسی طرح چودھویں کے چاند کو دیکھنے میں بھی کوئی چیز حائل نہیں ہو سکتی، اسی طرح عالم آخرت میں رؤیت باری تعالی ہو گی۔
حضرت امام ولی اللہؒ اپنی کتاب ”الخیر الكثیر“ میں لکھتے ہیں کہ رؤیت (باری تعالی کو دیکھنے) کی حقیقت علم حضوری اور انکشاف تام ہے، یعنی کامل درجہ کا انکشاف ہے۔ یہ انکشاف کبھی ذات اقدس کا ہوتا ہے اور کبھی صفات عالیہ مقدسہ کا ہوتا ہے اور اس انکشاف کی کیفیت یہ ہے کہ انسان کا اپنا تقرر و تحقق جب مضمحل اور محو ہو جائے تو ایک ہی واحد صمد کی ذات اقدس رہ جاتی ہے۔ اس مادی جہاں میں جو ناقص عالم ہے توحید و انکشاف کا یہ درجہ کبھی مکمل نہیں ہوسکتا۔
اہل السنۃ والجماعۃ کے لیے آفریں ہے کہ انہوں نے وہی بات کہی ہے جو حق ہے اور واقعہ کے مطابق ہے کہ آنکھ کو بھی اس انکشاف کامل میں کسی نہ کسی طرح دخل ہے اور یہ بات ان کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع اور تقلید کی برکت سے حاصل ہوئی ہے۔
امام ولی اللہؒ (المتوفی۱۱۷۶ھ) یہ بھی فرماتے ہیں کہ بہت کچھ رد و قدح اور چھوٹی بڑی باتوں کو دیکھنے کے بعد ہمیں اس بات کا یقین حاصل ہوا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شب معراج میں اپنے رب تعالٰی کو اپنی ان ہی سر آنکھوں سے دیکھا ہے اور موسیٰ علیہ السلام نے اپنے کانوں سے اللہ تعالی کا کلام سنا ہے۔ ان باتوں پر تمہیں تعجب نہیں کرنا چاہیے، بلکہ ان کو تسلیم کر لینا چاہیے اور ان پر ایمان لانا چاہیے۔ ان باتوں کا انکار کرنا جہالت اور طیش ہو گا یعنی بے جا غصہ، عاجزگی اور درماندگی کی علامت ہوگی۔ (عربی، ص۱۳)
اس مسئلہ کو ذرا زیادہ وضاحت کے ساتھ حضرت شاہ رفیع الدین محدث دہلویؒ (المتوفی ۱۲۳۳ھ) نے اپنی بعض تحریروں (جوابات سوالات اثنا عشرہ فارسی) میں اس طرح بیان کیا ہے۔
سوال دوم: قیامت کے دن اللہ تعالٰی کی ملاقات اور رؤیت ہو گی یا نہیں ؟ اگر ہو گی تو کس طرح ہو گی، کیا تجلی ذات کی شکل میں یا تجلی صفات کی شکل میں؟
جواب: اس فقیر نے ایک رسالہ ”درر و دراری“ میں اس مسئلہ کی تفصیل لکھی ہے، جس کو اس مقام میں نقل کرنا باعث طوالت ہوگا، لیکن ہر حال اس کا مختصر سا بیان اس مقام میں لکھا جاتا ہے۔
اس سلسلہ میں مختصر بات یہ ہے جس پر اہل السنۃ و الجماعۃ کا اتفاق ہے کہ دیدار الٰہی جنت میں بے کیف ہو گا یعنی بغیر رنگ، شکل، بعد اور جہت کے ہو گا۔ اس مسئلہ کی توضیح اہل عقل اور اہل کشف کے محققین نے جس طرح بیان کی ہے وہ چند وجوہات پر ہے۔ چنانچہ حکمائے اسلام میں سے حکیم ابو نصر فارابیؒ (جس کو معلم ثانی بھی کہا جاتا ہے) اپنی کتاب ”نصوص“ میں لکھتے ہیں کہ کسی شے کا انکشاف کبھی جزی شخصی کے طریق پر ہوتا ہے اور کبھی کسی شے کا انکشاف وجوہ کلیہ سے ہوتا ہے، جبکہ عنوان ایک ہی شخص کا ہوتا ہے یا اشخاص کثیرہ ہوتے ہیں۔
اول (جزی شخص کے طریق پر انکشاف) کو رؤیت کہتے ہیں اور
ثانی (وجوہ کلیہ سے انکشاف ہو جبکہ عنوان شخص واحد کا ہو) کو معرفت کہتے ہیں اور
ثالث (وجوہ کلیہ سے انکشاف، جبکہ عنوان اشخاص کثیرہ ہوں) کو علم کہتے ہیں۔
جب تک نفس ناطقہ یا روح کا تعلق بدن کے ساتھ ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ انسان کا تعلق دوسری قسم (معرفت) کے ساتھ ہوتا ہے اور جب بدن سے روح الگ ہو جائے تو یہ معرفت ترقی کر کے درجہ اول تک پہنچ جائے گی اور اسی کو رؤیت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ (شاہ رفیع الدینؒ فرماتے ہیں کہ) اور یہ جو بیان کیا گیا ہے یہ ابو نصر فارابیؒ کے کلام کا مضمون ہے، عبارت کا ترجمہ نہیں۔
(اور شاہ رفیع الدینؒ فرماتے ہیں) کہ حضرت امام مجدد الف ثانیؒ (المتوفی ۱۰۳۴ھ) اس طرح فرماتے ہیں کہ جو جزم و یقین اور لذت مبصر (دیکھنے والا) اور باصرہ کو معائنہ کے وقت حاصل ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ کی قدرت تامہ کے ساتھ اس ذات مقدس کی بہ نسبت اسی طرح جزم دیقین اور لذت مبصر و باصرہ میں پیدا ہو جائے گی اور اس کو سوائے ابصار اور رؤیت (یعنی آنکھوں سے دیکھنے اور دیدار) کے کسی دوسری چیز سے نہیں تعبیر کیا جاسکتا۔ کیونکہ اس کے سوا کوئی بھی دوسری عبارت کمال انکشاف پر دلالت نہیں کرتی اور یہ کلام جو ہم نے نقل کیا ہے اس میں کچھ تھوڑا سا تغیر اور اصلاح بھی کی گئی ہے، کیونکہ مجدد صاحبؒ کے کلام شریف میں حصول جزم اور باصرہ کے اندر لذت کے الفاظ نہیں۔
شاہ رفیع الدینؒ فرماتے ہیں کہ علماء کا اتفاق ہے کہ رؤیت وہی ادراک قلبی ہے جو بتوسط حاسہ بصر حاصل ہوتا ہے، مجرد (محض) ادراکِ قلبی نہیں۔ ورنہ یہ بات فرقہ معتزلہ کے قول کے مطابق ہو جائے گی، کیونکہ وہ رؤیت کی یہی تاویل کرتے ہیں کہ قلبی ادراک اور یقین اور علم کا نام ہی رؤیت ہے۔
اور بعض دوسرے حضرات کے کلام سے مستفاد ہوتا ہے کہ مشاہدہ کرنے والے اور دیکھنے والے شخص کے اندر رؤیت کا تحقق اس وقت ہوتا ہے جب مرئی (یعنی دکھائی دینے والی چیز) کا عکس جلیدیہ (شفاف رطوبت جو آنکھ کے ڈھیلے میں بھری ہوئی ہوتی ہے) پر پڑتا ہے اور پھر یہاں سے مجمع النور تک پہنچتا ہے اور پھر وہاں سے حس مشترک میں پہنچتا ہے اور وہاں اس کے سامنے نفس ناطقہ، صورت خیالیہ، صورت و ہمیہ اور صورت عقلیہ تجرید کرتا ہے تو اس طرح رؤیت کا عمل مکمل ہوتا ہے، یعنی رؤیت حاصل اور متحقق ہوتی ہے اور اسی راستے سے صورت نزول کرتی ہے کہ علم عقلی یعنی جو علم عقل میں متحقق اور ثابت ہے وہ بواسطہ وہم اور خیال حس مشترک پر جب نزول کرتا ہے تو ابصار جیسی حالت حاصل ہوتی ہے۔ لیکن جب تک جلیدیہ تک نزول نہیں ہوتا اس وقت تک حقیقی ابصار یا رؤیت نہیں ہو سکتی۔
اور اس جہاں (عالم آخرت) میں جبکہ نفوس مقدسہ اور مطمئنہ ہو جائیں گے اور کمال درجہ کا اتصال مبداء کے ساتھ پیدا کر لیں گے تو اس ذات مقدس کی نورانی شعائیں قوت عقلیہ اور قوت دہمیہ پر پرتو افگن ہوں گی اور وہاں سے قوتِ خیال اور حس مشترک پر نزول کریں گی اور فیوض الٰہیہ کے شیوع (پھیلاؤ اور انتشار) کی وجہ سے قوت مدرکہ میں اور نیند (نوم) کے مواقع کے مرتفع ہونے کی وجہ سے اور حواس کے معطل ہونے کی بنا پر مجمع النور میں اور جلیدیہ میں بھی اس کی ریزش (یعنی نزول) ہوگا اور جس طرح خیالات اس مادی جہان (ناسوتی اور مادی جہان) میں جہت اور مکان میں نہیں ہوتے ان کے لیے جہت اور مکان کی ضرورت نہیں، اسی طرح وہ معاینہ، مشاہدہ اور رؤیت حقیقہ بھی کسی جہت اور مکان میں نہیں ہوگی۔
اور کچھ دوسرے حضرات نے کہا ہے کہ حدیث شریف میں جو کچھ رؤیت کے بارہ میں وارد ہوا ہے، اس سے جہت کی نفی اور لوازم جسمیت کے سلب پر اشارہ نہیں پایا جاتا۔ ہاں اس قدر ہے کہ وہ تجلی عیانی (مشاہداتی تجلی) اور صوری تجلی تمام مظاہر سے دو وجہ سے امتیاز رکھتی ہے۔ بہرحال تمام مخلوقات جو کہ جناب حق تعالیٰ کی صفات کے مظاہر ہیں (یعنی خدا تعالیٰ کی صفات کے فیض سے ہی ان کا ظہور و بقاء ہے) اس سے اس طرح امتیاز ہو گا کہ ذات اس مقام میں الوہیت کے عنوان سے ظاہر ہوگی اور باقی تمام مظاہر میں مخلوق اور انواع کائنات کے عنوان سے ظاہر ہوتی ہے۔ جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی آگ سے ندائے ”انا اللہ ولا الہ الا انا“ ظاہر ہوئی۔
اور دوسری وجہ امتیاز یہ ہے کہ تمام تجلیات صور یہ، خیالیہ اور حسیہ جو اس جہان سے وقوع پذیر ہوتی ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ذات مقدسہ کا ظہور اس مقام میں ان صورتوں سے بالکل مبائن اور دیگر صورتوں میں ہو گا جو کائنات کے اندر معلوم صورتوں میں ہوتا ہے اور عظمت و کبریا نور و بہا اور جمال وصفا کے ساتھ اس حد تک مقرون ہو گا اور اپنے کمالات ذاتیہ اور دیگر کمالات بھی اس کے ساتھ شامل ہوں گے، ایسے کہ نہایت ہی اکمل اور اشرف ناظر کے بھی وہم و عقل کے حوصلہ میں گنجائش نہ ہوگی اور ہرگز ان کو اپنے تصور میں نہیں لا سکے گا۔
اور اہل السنۃ نے جو اس جہاں کی رؤیت کو بے کیف لکھا ہے تو یہ دراصل فرقہ معتزلہ کے اشکالات کو رفع کرنے کے لیے کیا ہے، جس سے جسمیت کے لوازم ثابت ہوتے ہیں۔ لیکن جب تجلی کی حقیقت معلوم ہو جائے گی تو یہ جملہ اشکالات رفع ہو جائیں گے۔ (تجلیات کی پوری حقیقت اور ان کی تفصیلات شاہ اسمٰعیل شہیدؒ (المتوفی ۱۲۴۶ھ) کی کتاب ”عبقات مبحث تجلیات“ میں ملاحظہ کریں۔)
اور بایں ہمہ بعض اکابر یہ فرماتے ہیں کہ نفس کو شہودِ حق میں قوی استغراق کی وجہ سے کسی اور چیز کا احساس نہیں ہو گا۔ یعنی زمان، مکان، جہت اور اپنے وجود وغیرہ کسی چیز کا سوائے مشاہدہ کے احساس نہیں ہوگا اور اسی کو معائنہ اور رؤیت بے جہت و بے شکل و بے لوازم جسمیت کہا جاسکتا ہے اور دیکھنے اور مشاہدہ کرنے کی تفصیل بھی اسی طرح ہے کہ جس طرح یہ کہا جاتا ہے کہ میں نے بالکل صاف و صریح طور پر زید و عمر کو دیکھا ہے، حالانکہ زید و عمر کے بعض اعراض کے سوائے کچھ نہیں دیکھا، (یعنی اگر دیکھا ہے تو زید و عمر کا رنگ، شکل، قد اور ظاہری ہیئت وغیرہ ہی دیکھی، اس کے سوا کچھ نہیں دیکھا۔)
اور جب مشاہد یعنی دیکھنے والے اور مشاہدہ کرنے والے کے بارے میں تعبیر کی یہ چشم پوشی اور مسامحت روا ہوتی ہے اور ایک ایسے لفظ کے بارے میں کہ اس کا موضوع لہ لغوی لفظ رؤیت ہے جب یہ مسامحت برداشت کی جاتی ہے تو اس ذات اقدس کے بارہ میں جو انتہائی ترفع اور بلندی پر ہے کیا کوشش ہو سکتی ہے اور کس طرح التزام کیا جا سکتا ہے اس ذات محض کی کنہہ و حقیقت کے بارے میں جو کہ ادراک کے تعلق اور فہم سے معرا (منزہ) ہے کہ وہ قید احساس و ابصار میں واقع ہو سکتی ہے۔
لیکن یہ رؤیت خواص دعوام کے حق میں تین وجہ سے مختلف ہوسکتی ہے۔
۱۔ قرب وبعد کی وجہ سے۔ ۲۔ قلت وکثرت کی وجہ سے۔ ۳۔ صفات کی معرفت کی زیادتی اور کمی کی وجہ سے
ایسی معرفت جو دنیا میں حاصل کی جا سکتی ہے اور اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ اس بات میں شبہ نہیں کہ بدن ارضی کو روح حیوانی (نسمہ) کی نسبت سے ذات مقدسہ کے پانے میں حجاب بہت زیادہ ہے اور اسی طرح روح حیوانی کو بہ نسبت عالم مثال سفلی کے جو جنات و شیاطین کا مقام ہے یہ حجاب زیادہ ہے اور اسی طرح عالم مثال سفلی کو بہ نسبت عالم مثال علوی جو کہ ملائکہ مقربین کا مقام ہے۔ جو عالم مثال ترقی کرتا ہے تو اسی عالم کی صورت کو حاصل کرتا ہے اور بدن اس کا روح علویہ کا حکم پیدا کرتا ہے۔ جو چیز یہاں غیب ہوتی ہے وہاں شہادت ہو جاتی ہے۔
”واشرقت الارض بنور ربها“ (زمر)
جگمگا اور چمک اٹھی زمین اپنے رب کے نور سے۔
اور اعمال کے حقائق اور ملائکہ کے ہیکل (شکل و شباہت، وضع قطع) اور جنت و نار کے احوال معائنہ و مشاہدہ میں آجائیں گے تو لامحالہ اللہ تعالیٰ کی اعظم تجلیات جبکہ کارخانہ تدبیر اور قضاء و قدر کے فیضان اور نزول شرائع کی بنیاد اس پر ہے اور ملائکہ کا صدور امر و نہی بھی اس مقام سے ہے۔ یہ تمام اتصال نفس کے مراتب کے اعتبار سے عیاں و آشکارا اور تجلی افگن ہوگا اور جوارح و اعضاء بدن قویٰ کے تابع ہونے کی بنا پر ان تمام واردات کے لیے سواری بن جائیں گے، یعنی ان پر بھی اس کا ورود ہوگا تو یقین ہے کہ معائنہ بصری کی حالت حاصل ہو جائے گی۔ واللہ اعلم بالصواب
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کا ایک الہامی خواب اور ہماری اقتصادی مشکلات
ڈاکٹر محمود الحسن عارف
جنگِ خلیج کے بعد تیسری دنیا بالعموم اور اسلامی دنیا بالخصوص سخت افراتفری اور اضطراب و انتشار کی صورت حال سے بری طرح دو چار ہے۔ ہر ملک کو معاشی وسائل کی قلت کا اور ضروریات کی کثرت کا سامنا ہے۔ اس عالم گیر قلت و اضطراب کے پیچھے سب سے زیادہ جو عوامل کار فرما ہیں ان میں اقتصادی و معاشی مسائل کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ یہ اس لیے نہیں کہ خدانخواستہ پیٹ کا مسئلہ ہی انسانی زندگی میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے یا یہ کہ زمین کی پیداوار اور قدرت کے خزانوں میں کچھ کمی واقع ہو گئی ہے، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ دنیا کے قارونوں نے ”انسانی غذائی ضروریات“ کی تقسیم کا ایسا غیر منصفانہ اور ظالمانہ طریقہ اپنایا ہے جو قدرت کی فطری تقسیم کے یکسر خلاف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اصلاح احوال کی تمام تر کوششوں کے باوجود صورت حال نہ صرف جوں کی توں برقرار ہے بلکہ اس کی پیچیدگی میں بھی پہلے سے زیادہ اضافہ ہو گیا ہے اور اب انسان اس معاشی قتل گاہ میں اپنی خود کشی کے انتظار میں گھڑیاں گن رہا ہے۔
شروع شروع میں لوگوں کا گمان تھا کہ اصل مسئلہ ”پیداوار کی قلت“ کا ہے، لہٰذا اگر پیداوار کو بڑھا دیا جائے تو یہ معاشی مسئلہ خود بخود حل ہو جائے گا، مگر جب پیداوار سو سو گنا اور بعض شعبوں میں ایک ایک ہزار گنا تک بھی بڑھ گئی تب بھی صورت حال جوں کی توں رہی۔ اس پر پیداواری معاشیات Economics of Production سے توجہ ہٹا کر تقسیم معاشیات Economics of Distribution)) کی جانب مبذول کرائی گئی اور کہا گیا کہ چونکہ دولت اور ذرائع دولت کی تقسیم منصفانہ نہیں ہے اس لیے یہ فساد اور ہنگامہ ہے۔ مگر تقسیم معاشیات کے نفاذ پر پوری ایک صدی بیت جانے کے باوجود بھی اصلاح احوال کی کوئی امید پیدا نہیں ہوئی، بلکہ صورت حال پہلے سے بھی بدتر ہے۔
معاشیات کے قدیم نظام کی جگہ معاشیات خورد (Micro Economics) کو کھڑا کیا گیا، مگر تجارتی چکر (Trade Cycle) اور کساد بازاری نے اس نظامِ فکر کی بنیادیں ہلا دیں تو انسان نے معاشیات کلاں کا دامن تھاما۔ مگر نئی افراط زر (Affluence) کی ”بلائے بے درماں“ نے اس نظم معیشت میں دراڑیں ڈال دیں اور یہی خوش حالی درد سر بننا شروع ہوئی تو اب معاشیات کے طالب علم کسی نئے معاشی نظام کی طلب و جستجو میں ہیں۔ گویا یہ ایک گھن چکر ہے جس میں انسان ہر سطح پر پس رہا ہے اور گردش کر رہا ہے اور اس کا حال اس سے بہتر نہیں کہ
؏ ڈور کو سلجھا رہا ہے اور سرا ملتا نہیں
عالم اسلام کی حالت
اس معاشی گھن چکر میں یوں تو تمام دنیا بالخصوص تیسری دنیا کے ترقی پذیر ممالک پس رہے ہیں مگر ان میں بھی مسلم ممالک کی حالت زیادہ تشویشناک ہے۔ یورپ کی استعماری طاقتوں نے ایک ایک کر کے تمام مسلم ممالک کو اپنی امداد، اپنے قرضوں، اپنی سائنسی تکنیک اور اپنے اسلحہ کے جال میں اس طرح پھانس رکھا ہے کہ وہ تڑپنے سسکنے کے باوجود نہ تو سامراج کے اس آہنی جال کو توڑ سکے ہیں اور نہ ہی اس سے نکلنے کی کوئی اور تدبیر ہی کر پائے ہیں۔ اس پر طرفہ تماشا یہ ہے کہ وہ ہمارے پڑھے لکھے وزیروں اور ان کے بالیاقت سیکریٹریوں اور ان کے زیر اثر پنپنے والے بزعم خویش دانش وروں کو اس صورت حال سے بچنے کی اگر کوئی تدبیر سوجھتی بھی ہے تو وہ یہ کہ ہم یو رپ کے سامراجی نظام کو جوں کا توں اپنا لیں اور ان کے جابرانہ نظام کو خود پر مسلط کر لیں۔ گویا ہماری حالت اس بارے میں وہی ہے جو میر تقی میر کے اس شعر میں بیان ہوئی ہے ؎
میر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب
اُسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں
آج کوئی امریکہ و برطانیہ کے سرمایہ دارانہ نظام (Capitalism) کی بات کرتا ہے تو کوئی روس و چین کے سوشلزم (Socialism) اور کمیونزم (Communism) کو اپنانے کی تدبیر سمجھاتا ہے۔ الغرض اس ”طوطی خانے“ میں عجیب و غریب قسم کی بولیاں بولی جا رہی ہیں اور ہم لوگ اس قرآنی حکم کو فراموش کر بیٹھے ہیں کہ
”یایھا الذین امنوا لا تتخذوا الیھود والنصاری اولیاء بعضھم اولیاء بعض“ (المائدۃ)
اے ایمان والو! یہود و نصاریٰ کو اپنا دوست نہ بناؤ، وہ ایک دوسرے کے رفیق و ساتھی ہیں۔
دوسروں کو چھوڑ کر اس وقت صرف پاکستان کی اقتصادی حالت پر اگر ایک نظر ڈال لی جائے تو صورت حال کی صحیح تصویر نظر آسکتی ہے۔ پاکستان کے سابق وزیر خزانہ سرتاج عزیز کی ۱۹۹۰ء کی بجٹ تقریر کے مطابق پاکستان اس وقت قرضوں کی ادائیگی کے ضمن میں ہر سال اسی ارب روپے ادا کر رہا تھا۔ اب ۱۹۹۱ء میں صورت حال اس سے بھی زیادہ تشویش ناک ہو گئی ہے، جس سے پاکستان پر موجود قرضوں کی ضخامت کا اندازہ خود کیا جا سکتا ہے اور اب تو حال یہ ہو گیا ہے کہ پاکستان کو اپنے قرضوں کی ادائیگی کے لیے بھی بیرونی امداد کی ضرورت پیش آرہی ہے۔
پھر اسی پر بس نہیں، یورپین ممالک اور عالمی بنک پاکستان پر مسلسل معاشی دباؤ جاری رکھے ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں ہر روز پاکستانی کرنسی میں مسلسل کمی کی جا رہی ہے اور اس وقت کی حالت پہلے سے بھی بدتر ہے، کیونکہ اب تو بیرونی ممالک نے بھی قرض و امداد سے ہاتھ روک لیا ہے، جس کی بناء پر ملک کی اقتصادی حالت دگرگوں ہے۔
پھر پاکستان سمیت تمام اسلامی ممالک کی معیشت کو افراط زر، ادائیگیوں میں عدم توازن، بیرونی تجارت میں مسلسل خسارے، چور بازاری، ذخیرہ اندوزی، رشوت ستانی اور لوٹ کھسوٹ جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ علاوہ ازیں سود اور سودی نظام معیشت نے، جو اس وقت اقوام عالم کی معیشت کا جزو لا ینفک ہو کے رہ گیا ہے، ہماری قومی اور ملی زندگی اور ملی سوچ کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ اس نظام معیشت کے بل بوتے پر سرمایہ دارا اپنے سرمائے کے ذریعے امیر سے امیر تر ہو رہا ہے اور غریب شبانہ روز محنت اور مشقت کے باوجود دو وقت کی روٹی بھی پیٹ بھر کر نہیں کھا سکتا۔ ہر آنے والا دن ہمارے مسائل اور مصائب میں اضافہ کر رہا ہے۔ امریکہ نے عراق کو سرنگوں کرنے کے بعد عملاً تمام بلاد اسلامیہ پر اپنا تسلط قائم کر دیا ہے اور اس وقت جب دنیا اکیسویں صدی کے سورج کا بے تابی سے انتظار کر رہی ہے، مسلم امہ بے پروا اور غافل ہیں۔ بقول غالب:
اپنے ماضی سے بے خبر اور مستقبل سے بے پروا اپنے حال میں مگن ہے۔ ان کا خیال ہے کہ ہمارے دن خود بخود پھر جائیں گے اور دنیا میں از خود سبز انقلاب آ جائے گا، بقول غالب ؎
قرض کی پیتے تھے مئے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں
رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن
اصلاح احوال کی کوششیں اور ان کے نتائج
معاشیات کی ان گوناگوں خرابیوں اور برائیوں کے خاتمے کے لیے بظاہر اب تک کئی کوششیں کی جا چکی ہیں، مگر اس کے باوجود صورتحال بگڑی تو ہے مگر سنوری نہیں۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ دم توڑتی ہوتی انسانیت کو ”آب حیات“ اور ”اکسیر شفا“ کے نام پر جو دوا کھلائی جاتی ہے وہ بذات خود ”زہر ہلاہل“ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج مسلم امہ کی اس حالت پر
؏ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی
والا مصرعہ راست آتا ہے۔ لیکن کیا واقعی اسلام حالات حاضرہ کے مسائل کا چیلنج قبول کرنے سے قاصر ہے اور کیا فی الحقیقت اسلام کے پاس موجودہ مسائل و مصائب کا کوئی علاج موجود نہیں ہے؟ ہمارے خیال میں اسلام عصر حاضر کے تمام مسائل کا حل پیش کرنے کی پوری قدرت رکھتا ہے، مگر اس کا کیا علاج کہ ہمیں اپنے اس حاذق و ماہر طبیب سے دوا لیتے ہوئے شرم اور عار محسوس ہوتی ہے۔ اس پر اس کے سوا اور کیا کہا جا سکتا ہے کہ
؏ تفو بر تو اسے چرخ گردوں تفو
اسلام کا عادلانہ اور منصفانہ نظام معیشت ہے کہ جس پر عمل پیرا ہو کر تمام اقتصادی اور معاشی خرابیوں سے بچا جا سکتا ہے اور پھر لطف کی بات یہ ہے کہ اسلام کے اس اقتصادی نظام کو اپنانے کے نتیجے میں نہ تو سرمایہ دارانہ نظام کی ضرورت رہتی ہے اور نہ ہی رسوائے زمانہ سوشلزم و کمیونزم کی۔ یہ تمام نظام وقتی اور انتقامی جذبوں کی پیداوار ہیں، جبکہ اسلام کا عادلانہ نظام معیشت ہمہ گیر اور آفاقی بین الاقوامی نوعیت کا ہے۔
اسلام کا اقتصادی نظام کہاں ہے؟
مگر جب ہم اسلام کے اقتصادی نظام کا نام لیتے ہیں تو سننے والا فوراً یہ پوچھتا ہے کہ یہ اسلامی اقتصادی نظام کہاں ہے اور اسے کس طرح اپنایا جا سکتا ہے؟
یہ سوال اس لیے بھی زیادہ اہم ہے کیونکہ بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ چند چیزوں کے نام بدل دینے اور ان کو اسلامی برقعہ پہنا دینے سے اسلامی نظام قائم ہو سکتا ہے۔ بینک کے تمام سودی نظام کو ہماری حکومت نے اسی کلیے سے اسلامی بنا دیا۔ پہلے سود کو سود کہا تو جاتا تھا، اب سود پر اسلامی بینکاری یا نفع و نقصان میں شراکت کا لیبل لگا دیا گیا۔ پہلے ٹی وی پر عورتیں برہنہ سر ہوتی تھیں، اب انہیں اسلامی دوپٹہ اوڑھا دیا گیا۔ پہلے ہمارے حکمرانوں کے احکام غیر اسلامی ہوتے تھے، اب ان کے شروع میں بسم اللہ الرحمٰن الرحیم لکھنے کا حکم دے کر یک قلم انہیں اسلامی بنا دیا گیا۔ آج کے پڑھے لکھے اور ترقی یافتہ دور میں اس قسم کی مضحکہ خیز اور بچکانہ باتیں کرکے ہم نہ تو دنیا کو دھوکہ دے سکتے ہیں اور نہ حالات حاضرہ کے جبر سے بچ سکتے ہیں۔
بہرحال اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اگر ہمیں صدق دل سے اسلامی نظام معیشت کی تلاش ہے تو وہ ہمیں امام العصر شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کی تشریحات میں ملے گا۔
شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کا لافانی کردار
یہاں یہ وضاحت کر دینا ضروری ہے کہ شاہ صاحبؒ نے اس بارے میں جو کچھ لکھا اور بیان کیا ہے اس کی حیثیت صرف وضاحت اور تشریح کی ہے۔ اصل مآخذ ہمارے سامنے قرآن و سنت، اجماع امت اور قیاس ہی کے ہیں۔ اسلام کے ان مآخذ اربعہ کو ہر شخص ٹھیک طور پر نہیں سمجھ سکتا، اسی بناء پر ائمہ مجتہدین کی ہمیشہ ضرورت رہتی ہے۔ شاہ صاحبؒ بھی اپنے دور اور آئندہ آنے والے دور کے امام و مجتہد تھے۔ قدرت نے ان کو اس وقت میں پیدا کیا جب دنیا پرانے دور سے نکل کر مشینی دور میں داخل ہو رہی تھی۔ وہ ان دونوں ادوار کے سنگھم پر اس وقت تشریف لائے جب دنیا کو ان کی ضرورت تھی اور کائنات کی سائنسی بنیادوں پر تہذیب نو شروع ہونے والی تھی۔ اسی بنا پر انہوں نے خود کو اس دور کے امام و قائد کے طور پر پیش کیا۔ فیوض الحرمین کے چوالیسویں مکاشفے میں شاہ صاحبؒ فرماتے ہیں:
”میں نے خواب میں دیکھا کہ میں قائم الزمان ہوں۔ قائم الزمان سے میری مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب اس دنیا میں نظام خیر کو قائم کرنے کا ارادہ کیا تو اس نے اپنے ارادے کی تکمیل کے لیے مجھے بطور ایک طریق کار کے مقدر فرمایا۔“ (فیوض الحرمين، ص ٢٩۷)
شاہ صاحبؒ ۱۱۱۴ ھ / ۱۷۰۳ء میں اس وقت پیدا ہوئے جب درویش صفت بادشاہ عالمگیر (م۱۱۱۹ھ/ ۱۷۰۷ء) اپنی وسیع اور عظیم الشان سلطنت کو چھوڑ کر عالم آخرت کو سدھارنے والا تھا اور ۱۱۷۶ھ / ۱۷۶۲ ء میں اس وقت دہلی میں انتقال فرمایا جب مغلیہ حکومت آخری ہچکیاں لے رہی تھی۔ انہوں نے اپنی زندگی کے ایام ایک نہایت پر آشوب اور پرخطر دور میں بسر فرمائے، اس لیے ان کے ذہن میں حالات حاضرہ کی بڑی صحیح اور سچی تصویر تھی۔ پھر انگریزوں کے اقتدار و تسلط کی ابتدا بھی انہی کے دور میں ہوئی۔ اس حوالے سے شاہ صاحبؒ جدید استعمار سے بھی نابلد نہ تھے۔ پھر قدرت نے شاہ صاحبؒ کو ایسی فہم و بصیرت اور ذکاوت و فطانت سے نوازا تھا کہ وہ بڑی عمدگی کے ساتھ آنے والے حالات سے بھی پوری طرح واقف و آگاہ تھے۔ وہ اپنے نور بصیرت سے جانتے تھے کہ مسلمانان عالم پر کیسا کڑا وقت آنے والا ہے۔ لہٰذا انہوں نے نہایت بالغ نظری سے آنے والے حالات کا تجزیہ کیا اور پھر اپنی خوابیدہ قوم کو جگانے اور ان کی اصلاح کے لیے اسلام کے مختلف نظام ہائے حیات کی بہت خوبصورت اور جامع تشریح فرمائی۔
ہمارے مسائل کا ولی اللہی حل
حضرات! اب دیکھنا یہ ہے کہ امام العصرؒ نے ان مسائل کے حل کے لیے کیا فارمولا پیش کیا ہے؟ اس ضمن میں اصولی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ امام العصرؒ نے اسلامی تعلیمات کی اس طرح توضیح و تفصیل بیان فرمائی ہے کہ اس سے ہماری اقتصادی، معاشرتی، سماجی، سیاسی اور اخلاقی زندگی کا ہر مسئلہ بخوبی حل کیا جا سکتا ہے۔ تاہم اس عنوان پر امام العصرؒ نے جو کچھ تحریر فرمایا ہے اس کا ذکر تو تفصیل چاہتا ہے، جس کی یہاں ضرورت ہے اور نہ گنجائش، البتہ اس مختصر سی تحریر میں امام العصرؒ کے پیش کردہ اقتصادی نظام کے دو نکات کا ذکر مناسب ہوگا، جن کی حیثیت اس باب میں ”مبادیات“ کی سی ہے۔
فک كل نظام
امام العصرؒ کے ہاں اسلام کے اقتصادی نظام کا نقطہ آغاز یہ ہے کہ اسلامی اقتصادی نظام کو مکمل طور پر نئے سرے سے شروع کیا جائے۔ ان کے نزدیک اسلام کے اقتصادی نظام کی کسی دوسرے نظام کے ساتھ پیوند کاری ناممکنات میں سے ہے۔ ان کے نزدیک کسی گندی اور پلید شے کو ملمع چڑھا کر پاک بنایا جا سکتا ہے اور نہ اسلام کا برقع پہنانے سے کوئی چیز واقعی پاک اور طاہر ہو سکتی ہے۔
ان کے نزدیک رات رات ہے اور دن دن ہے۔ دو اور دو مل کر فقط چار بنتے ہیں، تین یا پانچ ہرگز نہیں۔ اس لیے ان کے نزدیک اسلامی نظام کی کسی اور ازم یا نظام کے ساتھ مصالحت و معاونت ممکن ہی نہیں ہے۔ اس کے بجائے وہ تم اس بات کے قائل ہیں کہ اسلامی نظام کا نفاذ اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک پوری شدت کے ساتھ باطل نظام کو کدال کے ذریعے ضرب کلیم لگا کر اسے چکنا چور اور ملیامیٹ نہ کر دیا جائے۔ چنانچہ انہوں نے اپنے ایک الہامی مکاشفے میں یہ مضمون بیان کیا ہے۔ وہ ”فیوض الحرمین“ کے چوالیسویں مکاشفے میں فرماتے ہیں:
”اسی دوران میں میں نے دیکھا کہ میں لوگوں کی ایک بڑی بھیڑ میں ہوں، جس میں رومی بھی ہیں اُزبک بھی اور عرب بھی ... میں نے دیکھا کہ یہ سب کے ساتھ میرے غضب ناک ہونے کی وجہ سے غصے میں بھرے ہوئے ہیں اور مجھ سے پوچھ رہے ہیں کہ اس وقت اللہ تعالی کا کیا حکم ہے؟ میں نے ان سے کہا ”فک کل نظام“ یعنی ہر (باطل) نظام کو توڑنا۔ وہ کہنے لگے کہ یہ کب تک؟ میں نے جواب دیا کہ جب تک تم یہ نہ دیکھ لو کہ میرا غصہ فرو ہو گیا ہے۔“ (فیوض الحرمین، ص ۲۹۸)
میرے نزدیک شاہ صاحبؒ کا مذکورہ بالا مکاشفہ مکمل طور پر الہامی ہے، جس کا نمایاں ثبوت یہ ہے کہ ان کے اس مکاشفے کے بعد واقعی دنیا کا ہر نظام ٹوٹا، مسلمان جو آدھی دنیا سے زیادہ پر حکمران تھے مقہور و معتوب ہوئے، یورپ جو صدیوں سے غفلت وبدمستی کے عالم میں تھا، اس صدی میں کروٹ لے کر اٹھا اور مسلمانوں سے ان کے مقبوضات اور بحر و بر کی حکومت چھین لی۔ سلطنت مغلیہ ایک قصہ پارینہ بنی، سلطنت عثمانیہ کا زوال اس زمانے سے شروع ہوا۔ نیپولین نے ۱۷۹۰ء میں اٹھ کر شہنشاہیت کا تختہ الٹ دیا اور مارٹن لوتھر ایک جرمن عالم نے ۱۵۵۳ء میں پاپائیت کی بساط لپیٹ دی، جس کے نتیجے میں عیسائیت کا ایک نیا روپ سامنے آیا، جس کے ماننے والے پروٹسٹنٹ Protestents)) کہلاتے ہیں۔ پروٹسٹنٹ درحقیقت برائے نام (قدیم) مذہب کو مانتے ہیں۔ انہوں نے مذہب کو انسان کا پرائیویٹ اور نجی معاملہ بنا دیا۔ یہ تمام تبدیلیاں شاہ صاحبؒ ہی کے زمانے میں رونما ہوئیں، لہٰذا شاہ صاحبؒ کا مذکورہ بالا فقرہ اس اعتبار سے بھی ایک الہامی فقرہ ہے۔
علاوہ ازیں اس فقرے میں ”تعمیر و اصلاح“ کے پروگرام کے لیے بھی لائحہ عمل موجود ہے، اس طرح کہ جب تک کسی باطل نظام کی تخریب مکمل نہ ہو، اس وقت تک اسلام کے عادلانہ نظام کی خشت اول کیسے رکھی جا سکتی ہے اور کیونکہ کسی بوسیدہ عمارت کی محض ایک دو اینٹیں اکھیڑ کر نئی لگا دینے یا پرانی عمارت پر نیا رنگ و روغن کر دینے سے عمارت نئی نہیں بن جاتی، بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ باطل نظام کے محل کی ہر اینٹ اکھیڑ دی جائے، ہر پتھر علیحدہ کر دیا جائے اور ہر دیوار مسمار کر دی جائے۔ اس لیے کہ جب تک ایسانہ کیا جائے اس وقت تک نفاذِ اسلام کا خواب کبھی بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ اس تناظر میں شاہ صاحبؒ کا مذکورہ بالا فقرہ قوانین فطرت سے بھی پوری طرح ہم آہنگ و ہم رنگ ہے، اس لیے کہ کسی عمارت کو بنانے کے لیے از سر نو اس کی تعمیر کی جاتی ہے، ورنہ بقول شیخ سعدی
؏ تا ثریامی رود دیوار کج
والی صورتِ حال پیدا ہو جاتی ہے۔
اس پس منظر میں جب ہم مسلم امہ بالخصوص وطن عزیز پاکستان کا نام لیتے ہیں تو یہاں واضح طور پر یہ نظر آتا ہے کہ اب تک ”اسلامی نظام“ کا پہلا تقاضا بھی پورا نہیں کیا گیا اور اب تک کی تمام تر کوششوں اور کاوشوں کا ماحصل یہ ہے کہ ”ملمع سازی اور برقع پوشی“ کے ذریعہ پرانے ہی نظام کو اسلامی ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو مفید ہونے کے بجائے اُلٹی نقصان دہ اور مضر ہے۔
اس کے برعکس اسلام کا مطالبہ یہ ہے کہ ہم ان سے پہلے اپنی آستینوں میں چھپے ہوئے بتوں کو ”ضربِ لا“ سے پاش پاش اور چکنا چور کریں، پھر اس پر ”الا اللہ“ کے نظامِ اسلام کی عمارت سازی کے کام شروع کریں اور جب تک ”لا“ کی ضرب نہ لگائی جائے اس وقت تک ”الا اللہ“ کے اثبات کی بنیا دیں کیسے استوار کی جا سکتی ہیں؟ یہی وجہ ہے کہ صدر ضیاء الحق سے لے کر نواز شریف تک کی تمام کوششوں اور کاوشوں کے باوصف فی الوقت پاکستان نفاذ اسلام سے بہت دُور ہے اور اب تک کی جانے والی تمام کوششیں نہ صرف نفاذ اسلام کے مقصد کا حاصل کرنے میں ناکام رہی ہیں، بلکہ ان کے نتیجے میں خرابی اور فساد میں کئی گنا زیادہ اضافہ ہوا ہے۔
مذہب و اقتصادیات کا باہم ربط و ضبط
گو مشرق و مغرب کے بہت سے فلاسفہ ایڑی چوٹی کا زور لگا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کر چکے ہیں کہ مذہب و اقتصادیات کا باہم کوئی تعلق نہیں ہے اور ہمارے ملک کے بھی بعض ترقی پسند دانشور ان کے ساتھ طبلے کی تھاپ پر رقص کرنے میں مصروف ہیں، مگر صورت حال یہ ہے کہ سوشلسٹ روس میں پون صدی کی تمام جابرانہ کوششوں کے باوجود ایک مرتبہ پھر بڑی تیزی سے مذہب کا احیاء ہو رہا ہے اور ان شاء اللہ یہاں کے مسلمان ماضی کی طرح مستقبل کی سیاست میں بھی عنقریب اپنی آزادی کے بعد اہم کردار ادا کریں گے۔ ”کمیونسٹ چین“ میں بھی اسلام زنده و توانا صورت میں موجود ہے۔ پولینڈ، چیکو سلواکیہ، یوگو سلادیہ، امریکہ، برطانیہ اور فرانس جیسے کٹر اسلام دشمن ممالک میں بھی اسلام کی تیزی سے اشاعت ہو رہی ہے، جس سے مذکورہ بالا نظریے کی تردید ہوتی ہے اور ثابت ہوتا ہے کہ پیٹ کے ساتھ مذہب کا بڑا گہرا رشتہ ہے۔ دونوں کو اگر ایک ساتھ ملحوظ نہ رکھا جائے تو اس کے خطرناک اثرات برآمد ہوتے ہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ مستقبل میں انسان کی بقاء اور نشوونما کے لیے جس طرح کے نظام کی ضرورت ہے وہ نظام صرف اسلام ہی پیش کر سکتا ہے اور اسلام کے اس نظام میں ”مذہب و معیشت“ کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ اسی لیے امام العصرؒ اسلامی اقتصادی نظام کے پہلو کو نمایاں کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک مذہب و اخلاق اقتصادیات کے بغیر اور اقتصادیات مذہب و اخلاق کے بغیر نامکمل اور ناتمام ہے۔
شاہ صاحبؒ کے نزدیک یہ نظامِ تکوینی انبیاءؑ کے لائے ہوئے تشریعی کے مطابق ہونا چاہیے۔ بلکہ اسے اس تشریعی نظام کے لیے ممد و معاون اور خادم بن کر اپنا رہنا چاہیے۔ ان کے نزدیک جب دونوں کے درمیان یہ ربط ٹوٹ جاتا ہے تو معاشیات و اخلاقیات دونوں کو شدید بحران سے واسطہ پڑتا ہے، جس کا اثر مذہب و اخلاق، عوام کی پرسکون زندگی، انسانوں کے باہمی رو ابط اور تہذیب و تمدن، الغرض زندگی کے تمام چھوٹے بڑے شعبوں پر پڑتا ہے اور انسانی زندگی مفلوج ہو کے رہ جاتی ہے۔ شاہ صاحبؒ کے نزدیک انسانوں کے اجتماعی اخلاق اس وقت بالکل برباد ہو جاتے ہیں جب کسی جبر سے ان کو کسی اقتصادی تنگی پر مجبور کیا جاتا ہے۔
ایک مقام پر شاہ صاحبؒ فرماتے ہیں:
”اسی طرح چونکہ انسان مدنی الطبع ہے اور اجتماعی زندگی کے بغیر وہ اپنے لیے لوازمِ حیات بہم نہیں پہنچا سکتا اور نظام تمدن کا قیام سراسر انسانوں کے باہمی تعاون پر موقوف ہے، اس لیے شرائع میں ان کو باہمی تعاون کا حکم دیا گیا اور یہ کہ معاشرے کا کوئی فرد بھی سوائے معقول عذر کے بیکار نہ رہے۔ ہر ایک آدمی اپنے لیے کوئی ایسا شغل اختیار کرے جو کسی نہ کسی شکل میں نظامِ تمدن کو بہتر صورت پر قائم رکھنے کے لیے مفید ہو۔“ (حجۃ اللہ البالغہ، جلد دوم)
شاہ صاحبؒ کا یہ نکتہ بھی آج کے مادی دور کے لیے بڑا اہم ہے۔ آج دنیا میں جتنے بھی اقتصادی اور معاشی نظام کام کر رہے ہیں، ان میں اس تلازم کو ملحوظ نہیں رکھا جاتا۔ آج انسان کو یہ تو بتایا جاتا ہے کہ آج کی سب سے بڑی ضرورت روٹی، کپڑا اور مکان ہے، مذہب نہیں یا پھر مذہب کی طفل تسلیوں سے مزدوروں کو سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کا زر خرید غلام بنا دیا جاتا ہے اور مذہب کے حوالے سے اس پر صبر و قناعت کی تلقین کی جاتی ہے۔ مگر ایک ایسے وقت میں جبکہ پیٹ میں کھانے کو کچھ نہ ہو، گھر میں بچے بھوک سے بلبلا رہے ہوں، مذہب کے نسوں سے لوگوں کو قابو نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح محض پیٹ بھر کر لوگوں کو کھانا کھلا دینے سے بھی ان کی بقا کا مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ اس لیے شاہ صاحبؒ کی تاکید یہ ہے کہ ایسا نظام معیشت ہو کہ جس میں ہر شخص کو کھانے کو روٹی، پہننے کو کپڑا اور رہنے کو مکان بھی ملے اور اس کے ساتھ ساتھ مذہب و اخلاقیات پر اسے کاربند رکھا جائے۔ یہی اسلامی نظام کی خصوصیت ہے۔
اناجیل کی اصل زبان اور ارامی اناجیل کی گمشدگی کے اسباب
پادری برکت اللہ
حضرت کلمۃ اللہ کی مادری زبان ارامی تھی۔ دور حاضرہ میں علماء اس امر پر متفق ہیں کہ آپ کی مادری زبان ارامی زبان کی دو شاخ تھی جو ”یہودی کنعانی “ کے نام سے موسوم ہے۔ یہ بولی مسیحی کنعانی سے ملتی جلتی ہے۔ ہم کو یہ بات بھی معقول نظر آتی ہے کہ حضرت ابن اللہ یونانی زبان سے بھی کچھ کچھ واقف تھے اور اس زبان کو بول بھی سکتے تھے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ نے اہل یہود یونانی زبان میں تعلیم دی تھی۔ کیونکہ آپ کے سامعین سب کے سب یہودی تھے، جن کی اور آپ کی مادری زبان ارامی تھی۔ اہل یہود ارض مقدس میں یہودی سامعین کے واسطے مذہبی امور اور تبلیغ کے لیے یونانی استعمال نہیں کرتے تھے اور نہ وہ ایسا کر سکتے تھے، کیونکہ یہود جیسے قوم پرست لوگوں کے لیے یہ ایک خلاف فطرت بات تھی۔ یہی وجہ ہے کہ مقدس پولوس نے یہودی ہجوموں سے ارامی میں بات کی تھی۔
اناجیل کی اصل زبان
چشم دید گواہوں کے بیانات صرف زبانی بیانات ہی نہ تھے جو نصف صدی سے زائد عرصے تک سینہ بسینہ ایک پشت سے دوسری پشت تک پہنچائے گئے تھے۔ یہ بیانات جو ارامی زبان میں تھے اناجیل اربعہ کے ماخذ تھے اور یہ ماخذ تحریری تھے کیونکہ حافظ کے لیے یہ ناممکن ہے کہ انجیلی بیان کے واقعات کو مسلسل طور پر ایسا حفظ کرے کہ نہ تو واقعات کی ترتیب میں فرق آئے اور نہ بیانات کے لفظوں اور فقروں میں اختلاف واقع ہو، اور کہ ان بیانات کے الفاظ اور فقرے ایسی صحت کے ساتھ سینہ بسینہ دو تین پشتوں تک حفظ رہے ہوں کہ حضرت کلمۃ اللہ کے کلام بلاغت نظام کی تمام خصوصیات اور۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وغیرہ محفوظ رہیں۔
پس اناجیل کے ماخذ ارامی زبان میں اناجیل کی تصنیف سے مدتوں پہلے احاطۂ تحریر میں آ چکے تھے اور اناجیل کے مصنفوں کے ہاتھوں میں تھے۔
چونکہ حضرت کلمۃ اللہ اپنے یہودی سامعین کو ارامی زبان میں تعلیم دیتے تھے اور انجیل نویسوں کے سامنے ماخذ ارامی زبان میں تھے اور وہ دورِ اولین یہودی مسیحی کلیساؤں کے لیے اپنی اناجیل کو تصنیف کر رہے تھے، پس یہ امر قدرتی ہے کہ وہ اپنی اناجیل کو ارامی زبان میں لکھتے۔
گذشتہ چالیس سالوں میں علماء کی تحقیق نے اس نتیجہ کو نہایت تقویت دی ہے کہ انا جیل پہلے پہل ارامی زبان میں لکھی گئی تھیں۔ یہ نظریہ ابتدا میں جے۔ ٹی۔ مارشل نے اکیس پوزیٹر ۱۸۹۱ ء تا ۱۸۹۳ء کے نمبر ون میں پیش کیا تھا۔ اس زمانے میں مسیحی فضلاء نے ارامی زبان کا ایسا وسیع مطالعہ نہیں کیا تھا۔ علماء کو ان دنوں میں اس حقیقت کا علم بہت کم تھا کہ آنخداوند کی بعثت سے قبل صدیوں پہلے ارامی اہل یہود کی ادبی زبان تھی اور عوام الناس کے لیے کتابیں ارامی زبان میں ہی لکھی جاتی تھیں۔ چنانچہ اہل یہود کی بعض کتابوں کی نسبت چالیس سال پہلے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ پہلے پہل وہ عبرانی یا یونانی میں لکھی گئی تھیں، لیکن اب یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ وہ پہلے پہل ارامی میں تصنیف کی گئی تھیں۔
ڈاکٹر برکت جیسے پائے کا عالم اناجیل کی نسبت کہتا ہے:
”یہ ایک حقیقت ہے کہ جہاں تک اناجیل کے نفس مضمون اور ذہنی فضا کا تعلق ہے وہ یونانیت کے اثر سے بالکل پاک ہیں اور بادی النظر میں وہ ارامی اصل کا ترجمہ معلوم دیتی ہیں۔ ان کے خصوصی موضوع اور بنیادی تصورات، جس کے گرد اناجیل کے تصورات گھومتے ہیں، سب کے سب کا تعلق خداوند کے زمانے سے ہے۔ مثلاً خداوند خدا کی بادشاہت، مسیح موعود کا تصور، عدالت کا دن، آسمان کا خزانہ، ابراہام کی گود وغیرہ سب کے سب یہودی تصورات سے متعلق ہیں اور رومی یونانی دنیا کے تصورات کا ان تصورات سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں۔ چنانچہ ہم کو اناجیل میں ”بقائے روح“ کا مسئلہ نظر نہیں آتا لیکن روز قیامت کا ذکر ملتا ہے۔ ہم کو نیکی کا یونانی فلسفیانہ معیار نہیں ملتا لیکن خدا کی راست بازی کا ذکر ہے۔ ہم کو تزکیۂ نفس کا نشان نہیں ملتا، لیکن گناہوں کی معافی کا تصور ہر جگہ موجود ہے۔ تمام اناجیل اربعہ میں کفر، شرک اور الحاد کے خلاف ایک لفظ بھی پایا نہیں جاتا۔ یہ امور ثابت کرتے ہیں کہ اناجیل اربعہ میں یونانیت کا شائبہ بھی نہیں پایا جاتا۔ تمام اناجیل میں ہر جگہ صرف یہودی فضا ہی ہے اور اناجیل نے اسی ارامی فضا میں ہی پرورش پائی ہے۔ “
پروفیسر سی۔ سی۔ ٹوری کا یہ نظریہ ہے کہ اناجیل اربعہ سب کی سب پہلے پہل ارامی زبان میں لکھی گئی تھیں، جن کا بعد میں یونانی زبان میں لفظی ترجمہ کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر ٹوری کوئی معمولی پایہ کا عالم نہیں ہے، بلکہ ارامی اور یونانی زبان کے ماہرین میں صف اول کا ماہر ہے۔ وہ ایک نہایت زبردست زبان دان اور ماہر علم اللسان ہے، جس کے علم کا لوہا تمام علماء مانتے ہیں۔ چنانچہ فوکس جیکسن اور کرسپ لیک کہتے ہیں:
”حق تو یہ ہے کہ ٹوری کی کتاب میں جو دلیل اناجیل کی زبان سے متعلق ہے وہ مستقل حیثیت رکھتی ہے اور جہاں تک اناجیل کے پہلے پہل ارامی زبان میں لکھے جانے کا تعلق ہے، اس کے نظریہ کے مخالفین تا حال کوئی قطعی جواب نہیں دے سکے۔ “
ڈاکٹر ولہاسن جیسے علماء (جو ارامی اور یونانی دونوں زبانوں کے ماہر ہیں) کی تصانیف ہر شخص پر اناجیل کے ان نکات کو ظاہر کر دیتی ہیں جو ان لوگوں سے چھپی رہتی ہیں جو دونوں زبانوں سے واقف نہیں ہوتے۔
چونکہ آنخداوند نے اپنے سامعین کو ارامی زبان میں مخاطب کیا تھا، پس اگر کوئی شخص آپ کے فرمودہ کلمات کا اصل مطلب جاننے کا خواہش مند ہے تو یہ لازم ہے کہ وہ یونانی ترجمہ کے الفاظ کے پردے کے پیچھے جائے اور اُن اصل ارامی الفاظ کو معلوم کرے جو آپ نے فرمائے تھے اور آپ کے خیالات کی طرزِ ادا کو جانے اور آپ کے زمانے کے خاص حالات اور کیفیات کا جائزہ لے۔ ان باتوں کا علم صرف یونانی ترجمہ سے نہیں ہو سکتا، کیونکہ وہ آخر ترجمہ ہے اور اصل نہیں ہے۔
ارامی اناجیل کی گمشدگی کے اسباب
ہم نے گذشتہ فصلوں میں فیصلہ کن اندرونی اور اس بیرونی شہادت سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ مقدس لوقا کی انجیل کے سوا تمام اناجیل اربعہ پہلے پہل ارامی زبان میں لکھی گئی تھیں۔ اندرونی شہادت ایسی صاف اور واضح ہے کہ اس میں کسی قسم کے شک کی گنجائش نہیں رہتی۔ بیرونی شہادت کے حق میں صدیوں کے مختلف علماء کے اقتباسات پیش کیے گئے ہیں، جن سے ظاہر ہے کہ یہ مصنف اس ایک بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ اناجیل ارامی زبان میں تھیں۔ یہ حقیقت ان عالم مصنفوں کے لیے بھی موجب حیرت تھی، کیونکہ ان کے زمانے میں ارامی نسخے ناپید ہو گئے تھے اور صرف یونانی اناجیل ہی ہر جگہ مروج تھیں۔
اس کے خلاف بعض محتاط نقاد یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ اناجیل اربعہ ہم تک یونانی زبان میں ہی پہنچی ہیں اور یہ سب قدیم اور جدید ترجمے یونانی متن سے ہی ترجمہ کیے گئے ہیں۔ ہم کو اب تک کوئی ایسا نسخہ دستیاب نہیں ہوا جس میں کسی ارامی الاصل انجیل کا جز بھی ہو اور کلیسیائی روایات میں ارامی الاصل اناجیل کا کہیں ذکر نہیں آتا۔
لیکن یہ دلیل منطقیانہ استدلال کے خلاف ہے۔ کسی شے کی گمشدگی یا ناپیدگی سے اس کا عدم وجود ثابت نہیں ہو سکتا۔ اگر کوئی چیز ہم کو دستیاب نہیں ہوئی تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ کبھی وجود میں ہی نہیں آئی تھی۔ مثلاً علماء اس امر کو قبول کرتے ہیں کہ مکابیوں کی پہلی کتاب عبرانی اصل کا یونانی ترجمہ ہے۔ اب یہ کتاب عبرانی میں موجود نہیں، لیکن اس سے یہ نتیجہ نہیں نکل سکتا کہ یہ کتاب پہلے پہل عبرانی میں نہیں لکھی گئی تھی۔
ایک اور مثال یہودی مورخ جوزیفیس کی کتاب ”تاریخ جنگ یہود“ ہے۔ یہ بات سب کو مسلم ہے کہ اس نے یہ کتاب ایسے لوگوں کے لیے ارامی زبان میں لکھی تھی جو ارامی پڑھتے لکھتے تھے۔ یہ لوگ نہ صرف کنعان کے یہود تھے بلکہ پارتھیا، بابل، عرب کے دور و دراز مقامات کے قبائل، فرات کے پار کے یہودی اور ادیابین کے باشندے تھے۔ تھیکرے ہم کو بتلاتا ہے کہ اس نے یہ کتاب رومی حکام کے ایماء پر لکھی تھی تاکہ پراپا غنڈا کے کام آئے۔ یعنی اس کتاب کا مقصد یہ تھا کہ مغربی ایشیا میں بغاوت اور فساد فرو ہو جائے۔ پر اب ارامی زبان میں یہ کتاب موجود نہیں ہے، لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ کتاب اس زبان میں کبھی لکھی ہی نہ گئی تھی۔
حق تو یہ ہے کہ کسی زمانے یا کسی صدی یا کسی زبان کی کتابوں کا محفوظ رہنا محض ایک اتفاقیہ امر ہوتا ہے۔ ہم آگے چل کر ان اسباب پر بحث کریں گے جن کی وجہ سے ارامی اناجیل کا رواج بند ہوگیا۔
ارامی اناجیل کے وجود کے خلاف ایک اور دلیل یہ دی جاتی ہے کہ اناجیل کے تمام مشکوک یونانی الفاظ کا ایسی ارامی زبان میں تا حال ترجمہ نہیں کیا گیا جو تمام علماء کے نزدیک مسلم ہو۔ لیکن یہ بھی کوئی معقول دلیل نہیں ہے۔ مثال کے طور پر ہم مکابیوں کی پہلی کتاب کو لیں جو عبرانی اصل کا یونانی ترجمہ ہے۔ جب علماء اس کتاب کے یونانی الفاظ کا دوبارہ عبرانی میں ترجمہ کرتے ہیں تو ظاہر ہو جاتا ہے کہ اصل عبرانی الفاظ کا ہر جگہ ایسا یقینی طور پر ترجمہ نہیں ہو سکتا جس کے سامنے سب علماء سرِ تسلیم خم کر دیں۔ حالانکہ عہد عتیق کے عبرانی متن کا سیپٹواجنٹ میں ترجمہ موجود ہے اور دونوں یونانی متن علماء کے سامنے موجود ہیں؛ تاہم ان کو تعین کرنا پڑتا ہے کہ سیپٹواجنٹ کے مترجمین کے سامنے عبرانی اصل متن کے کیا الفاظ تھے۔
یہ ایک تواریخی حقیقت ہے کہ پہلی صدی کی کنعانی تحریرات اب ناپید ہیں اور ہمارے پاس اس خاص زمانہ کی ارامی زبان کی کتب موجود نہیں، جس زمانہ میں اناجیل ارامی میں تصنیف کی گئیں۔ لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ اناجیل پہلے پہل ارامی میں لکھی ہی نہ گئی تھیں۔ ارامی زبان خداوند مسیح کے زمانہ سے مدتوں پہلے نشوونما پا کر ترقی کر چکی تھی اور اس کی خصوصیات ہر زمانہ میں اور ہر جگہ جہاں یہ زبان بولی جاتی تھی، قائم اور برقرار رہیں۔ چنانچہ دیگر زبانوں کی طرح ارامی زبان کے بھی مخصوص محاورات اور نحوی ترکیبیں وغیرہ فوراً پہچانی جا سکتی ہیں، خواہ وہ ترجمہ کی صورت میں ہی موجود ہوں۔ علاوہ ازیں اس معاملہ میں انکلوس اور یونتن کے تارگم جو انہوں نے انبیاء کی صحف مقدسہ پر لکھے ہیں بڑے کام کے ہیں۔ کیونکہ ان سے یہ پتہ چل جاتا ہے کہ پہلی صدی مسیحی میں ارض مقدس میں کس قسم کی ارامی زبان مروج تھی۔ اس کے علاوہ ہمیں ایک کتبہ دستیاب ہوا ہے جو ۴۴ قبل مسیح کا ہے اور خداوند کی پیدائش سے پہلے ہیرو دیس اعظم کے عہد کے یہودی کتبے ملے ہیں جن سے منجئ عالمین کے زمانہ کی ارامی زبان معلوم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
ان اعتراضات کی اصل وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ علماء صدیوں سے یہی مانتے چلے آئے ہیں کہ اناجیل کی اصل زبان یونانی ہے، لیکن اگر ہم اس نظریہ کو مان لیں تو اناجیل کی مشکلات بدستور قائم رہتی ہیں۔ کیونکہ جیسا ہم اپنی کتاب ”اناجیل اربعہ کی اصل زبان اور چند آیات کا نیا ترجمہ“ میں ثابت کر چکے ہیں۔
(۱) اگر بعض مقامات پہلے پہل یونانی میں لکھے گئے تھے تو ان کی سمجھ ہی نہیں آتی، لیکن جب ان کا ارامی زبان میں دوبارہ ترجمہ کیا جاتا ہے تو ان کے معانی روشن ہو جاتے ہیں۔
(۲) بعض الفاظ کو یونانی مترجم نے غلط اعراب دے کر یا غلط پڑھ کر ترجمہ کر دیا ہے، جس سے یونانی متن کا مطلب خبط ہو جاتا ہے۔
(۳) یونانی متن کے بے ڈھنگے اور غرائب محاورات اور نحوی ترکیبیں جو یونانی زبان کے خلاف ہیں۔
(۴) حروف جار اور افعال کی مختلف صورتوں کا استعمال جو بعض اوقات حیران کن ہو جاتا ہے، لیکن جب ان کا دوبارہ ارامی زبان میں ترجمہ کیا جاتا ہے تو دقت دور ہو جاتی ہے۔
پس یہ نظریہ کہ اناجیل پہلے پہل ارامی زبان میں لکھی گئی تھی صحیح ہے۔
مسیحی علم ادب جو ارا می زبان میں لکھا گیا تھا سب کا سب ضائع ہو گیا ہے۔ اس میں اناجیل کی نقلیں بھی شامل ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ وہ عدادت تھی جو یہودیوں اور مسیحی کلیسیا میں بڑھتی گئی تھی۔ ۶۰ء میں یہ خلیج ایسی وسیع نہیں ہوئی تھی۔ (اعمال ۲۸: ۲۰- ۲۲) اس زمانہ میں جیسا ہم اس باب کے شروع میں بتلا چکے ہیں یسوع ناصری کے شاگرد بھی وفادار یہودی شمار کیے جاتے تھے۔ (اعما ۲۲ باب) گو وہ بدعتی سمجھے جاتے تھے۔ ان کی ”اناجیل“ کو عزت و تکریم کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا، لیکن یروشلم کی تباہی نے یہ نقشہ پلٹ دیا۔ تب علمائے یہود نے اناجیل کے خلاف فتوے صادر کر دیے اور مسیحی کتابوں کو تباہ کر دیا۔ کیونکہ ان کو نہ صرف یہ اختیار حاصل تھا، بلکہ ان میں ایسا کرنے کی قدرت بھی تھی۔ طیطس کے ماتحت رومیوں نے رہا سہا ارامی لٹریچر برباد کر دیا، جس طرح اس سے پہلے مکابیوں کے زمانہ میں یونانیوں نے تباہ کر دیا تھا۔ (۱۔ مکابی ۱: ۵۶۔۵۸)
اہل یہود سے کہیں زیادہ یہودی مسیحی کلیسیا برباد، تباہ اور پراگندہ ہوگئی، کیونکہ کنعان کی بت پرست آبادی ان کو یہودی تصور کرتی تھی اور اہل یہود ان کو بدعتی، صلح جُو اور شکست پسند خیال کرتے تھے۔ چنانچہ ۶۶ء سے ذرا پہلے اہل یہود کے فسادات میں خداوند کا بھائی یعقوب، جو یروشلم کی کلیسیا کا سر تھا، شہید کر دیا گیا۔ پس یہ اغلب ہے کہ یروشلم سے مسیحیوں کی ایک بڑی تعداد اور گلیل کے بڑے شہروں سے (جہاں قوم پرست تند مزاج یہودی بستے تھے) یہودی مسیحی ۶۶ء سے پہلے بھاگ کر پراگندہ ہو گئے تھے۔
یہودی مسیحیوں کی پراگندگی نے اس رشتہ اور تعلق کو توڑ ڈالا جو غیر یہودی مسیحیوں میں اور ان روایات میں تھا، جن کا تعلق خداوند کے رسولی حلقہ اور چشم دید گواہوں سے تھا، جنہوں نے خداوند کے معجزات کو دیکھا تھا اور آپ کے کلمات طیبات کو سنا تھا۔
ارامی اناجیل کے ناپید ہونے کے اسباب میں نہ صرف یہودی مسیحیوں کی پراگندگی ہے، بلکہ اس سے بھی زیادہ اہم وجہ یہ تھی کہ کلیسیا میں غیر یہود کی اکثریت ہو گئی تھی اور یہ اکثریت روز بروز بڑھتی گئی تھی۔ آنخداوند اور آپ کے شاگرد ارامی بولنے والے سامی نسل کے یہودی تھے، لیکن دو پشتوں کے اندر اندر مسیحی کلیسیاؤں کی ایک بڑی اکثریت یونانی بولنے والی اور سلطنت روم کے شہروں میں رہنے والی ہو گئی، جس نے یونانی خیالات میں پرورش پائی تھی۔ قدرتاً ارامی انجیل کا نقل ہونا رفتہ رفتہ بند ہو گیا کیونکہ ان اناجیل کا یونانی زبان میں اس وقت تک ترجمہ ہو چکا تھا، جن کی نقلیں کثرت سے ہوتی گئیں۔ حتی کہ ایک وقت ایسا آیا جب ارامی اناجیل ناپید ہو گئیں اور صرف یونانی اناجیل کا ہی رواج ہو گیا اور ان یونانی اناجیل کے ترجمے مختلف ممالک کی زبانوں میں ہوگئے۔
(قدامت و اصلیت اناجیل اربعہ، جلد دوم کے مختلف مقامات سے ماخوذ)
اسلامی ممالک میں سائنس کی ترویج
محترمہ انجمن آراء صدیقی
سائنسی ٹیکنیکی علوم و فنون، آزادی و خود مختاری، قوم و ملت، عزت و ناموس، خوشحالی و آسودگی سب ایک ہی تصویر کے دو رخ ہیں۔ اس میں نہ تو کوئی شک کی گنجائش ہے نہ مبالغہ کہ عصر حاضر سائنسی کمالات و عجائبات کا دور ہے۔ تمام قوموں کے عروج و زوال کا پیمانہ سائنسی علوم و فنون کی ترقی و ترویج یا تنزلی و پستی ہے۔ اس لیے نہ صرف تعلیمی اداروں کو اس کی روشنی سے مزین و منور کر دینا چاہیے، بلکہ ملک کے ہر چھوٹے بڑے، خاص و عام شہری کو سائنسی علوم سے روشناس کرانا، ان کی انداز سوچ و فکر کو سائنٹیفک اصول پر استوار کرنا ملک و قوم کو فوری ترقی کی راہ پر گامزن کر دینے کے مترادف ہے۔ غور و فکر کی صحیح روش، فہم و ادراک، عقل و دانش کو صحیح خطوط پر تربیت کی جائے تاکہ قوم میں بلا جواز جذباتیت، توہمات اور سعی و کوشش کے بغیر صرف تقدیر پر بھروسہ کرنے اور اندھیرے میں ہاتھ پاؤں مارنے کے بجائے عقل و شعور کی روشنی میں صاف واضح نتائج اور اسباب و علل کا بحیثیت مجموعی ادراک حاصل ہو اور جذبۂ تحقیق و تسخیر کائنات سے سرشار ہو کر کسی کام کا بیڑہ اٹھانے کی صلاحیت واہلیت پیدا ہو سکے۔
اسی طرح انسان کے بیشتر مسائل، مسائل در مسائل میں تبدیل ہونے سے پہلے ہی حل ہو سکیں گے اور برادران ملت معاشرے میں وقتاً فوقتاً پھیلائی جانے والی ارادتاً یا سہواً گمراہ کن افواہوں اور قوم و ملک کو زک پہنچانے والے زہر قاتل پروپیگنڈے سے خود کو محفوظ اور مامون رکھ سکیں گے۔ انسان کی طبعی و نفسانی کمزوری، کج روی، تعصبات، انا، خواہش نفسانی اور خود غرضیوں کو بنیاد بنا کر پروپیگنڈے کی سائنسی اور تیکنیکی علم کی روشنی میں شرپسند عناصر یا مخصوص مفادات کے حامل حضرات ذاتی مفاد یا گروہی مفادات کی خاطر سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ، نقصان کو فائدے اور حقیقتاً فائدے کو نقصان میں بدل کر رکھ دیتے ہیں۔ ہار کو جیت اور جیت کو ہار میں بدلنے میں کمال درجہ مہارت رکھتے ہیں، اس طرز فکر کا سد باب کیا جا سکے گا۔ تربیت یافتہ ذہن کا عمل و کردار مکمل و جامع علم کی روشنی میں قطعی واضح اور مستند ہو گا۔ فی الوقت گرد و پیش میں لوگوں کے رویے میں جذباتیت اور لفاظی زیادہ، فعالیت کم یا ناپید ہے۔ یہ سائنٹیفک سوچ کے فقدان کی صریح علامت ہیں، جسے ختم کرنے کے لیے سائنسی ذہن کی تخلیق و ترویج وقت کی بے حد اہم اور اولین ضرورت ہیں۔
تاریخ کے اوراق شاہد ہیں کہ صدیوں پہلے جب پوری کائنات پر جہالت و گمراہی کی تاریک رات مسلط تھی، اسی گھپ اندھیرے اور رو سیاہ رات میں ملت اسلامیہ علم و آگہی کی شمع روشن کیے ہوئے دنیا کے بیشتر ممالک پر حکمران تھی اور ان کی راہنمائی کر رہی تھی۔ سائنسی علوم وفنون میں بھی اسے بے حد مستند و اعلیٰ وارفع مقام حاصل تھا۔ علم و فضل میں اس کی فوقیت و برتری کی پوری عالم انسانی معترف اور معتقد تھی۔ دنیائے علم وفن کے مشاق و اہل ذوق حضرات علم کی پیاس بجھانے کے لیے مختلف اسلامی یونیورسٹیوں کا رخ کیا کرتے تھے۔ کہاوت ہے کہ ”دیئے سے دیا جلتا ہے۔“ یورپ کے احیائے العلوم کی تحریک اسی شمع سے فروزاں ہوئی، جسے دست مسلم نے ہی فروزاں کیا تھا۔
مسلمانوں کی بے مثل تاریخی و قابل رشک، قابل ستائش و قابل تقلید کردار کو شاہانہ پرتکلف زندگی، فراوانی، سامان تعیش، خوشحالی اور آسودگی، غفلت فرائض منصبی، تن آسانی، ذمہ داریوں سے روگردانی، بے عملی، تحقیق و جستجو، جوش عمل کے فقدان، عمل پیہم سے عدم توجہی اور جذ بہ تسخیر کائنات سے تہی دستی نے انہیں زوال کے راستے پر ڈال دیا۔ صرف اسلاف کے کارناموں پر فخر و غرور، عیش وعشرت یہ سمجھ بیٹھے کہ وہ کسی کوشش و جدوجہد کے ہمیشہ دنیا میں حکمران اور ترقی یافتہ رہیں گے۔ اس طرح مسلمانوں نے تخلیق و تعمیر مسلسل کی صفت کو چھوڑ کر نہ صرف یہ کہ اپنی آزادی گنوا بیٹھے، بلکہ عزت و ناموس کو بھی برباد کر دیا۔ پورے جگ میں ذلیل و رسوا ہوئے۔ دنیا کے رہبر نے اپنی غلامی و تحقیر پر اپنی بے عملی سے مہر ثبت کر دی۔
اس کے برعکس مغربی اقوام نے مسلم تحقیق کے علوم و فنون سے استفادہ کرتے ہوئے انہیں ترقی دی۔ سائنس و ٹیکنالوجی کو فروغ دیا اور علمی و سیاسی اور دیگر متعدد حیثیتوں سے دنیا پر اقتدار قائم کر لیا۔ اسلامی حکومتوں کا عروج و زوال اور مغربی ممالک تنزلی کے بعد عروج و فروغ اس کہاوت کا مصداق ہے کہ سائنسی علوم و فنون کا فروغ قوموں کی عزت و وقار کا فروغ ہے۔ ملکوں کی آزادی اور ان کی عزت و ناموس ان کی علمی ترقی اور ان کے فروغ میں مضمر ہے۔ مسلم ممالک جو خود کسی زمانے میں ہر معاملے میں خود کفیل تھے، اب اپنی ضروریات میں بھی خواہ وہ سامان حرب ہو یا سامان تجارت، خوراک ہو یا کہ لباس، دوسروں کے دس نگر نظر آتے ہیں۔ موجودہ صورت حال میں اس کے سوا اور کوئی چارہ کار نہیں کہ گم کردہ روایت اور کھوئی ہوئی میراث کو حاصل کرنے کے لیے، ترقی یافتہ اقوام کی صف میں شامل ہونے کے لیے علم و فضل، سائنس و ٹیکنالوجی میں تحقیق و جستجو کو اپنا رہنما اصول بنایا جائے۔ سائنسی فکر کو ملک میں عام کرنا ہوگا اور اپنی عملی زندگی پر محیط کرنا ہوگا۔ دراصل علم و آگہی اور بامقصد عمل پیہم ہی انسان کو جانور سے ممیز کرتی ہے۔ بامقصد غور و فکر، عمل مسلسل اور جہد مسلسل ہی اس کی اپنی شناخت ہے اور کائنات کو گل و گلزار بنانے کا موجب۔
آہ! جناب ارشد میر ایڈووکیٹ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
ارشد میر ایڈووکیٹ پانچ اور چھ اکتوبر کی درمیانی شب اللہ تعالیٰ کو پیارے ہوگئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ خاصے عرصے سے ذیابیطیس کے مریض تھے اور سانس کی تکلیف بھی تھی لیکن ان کی وفات اتنی اچانک ہوئی کہ خبر سنتے ہی سناٹے کی سی کیفیت سے دوچار ہونا پڑا ۔ میر صاحب مرحوم میرے گنتی کے چند مخلص دوستوں میں سے تھے، تعلقات کی نوعیت دوستانہ سے بڑھ کر برادرانہ تھی، وہ میرے پڑوسی بھی تھے اور مقتدی بھی، مجھ پر قائم ہونے والے بیشتر مقدمات میں وکیل صفائی رہے اور اب شاہ ولی اللہ یونیورسٹی گوجرانوالہ کی تعلیمی کونسل کے رکن کی حیثیت سے اس عظیم تعلیمی منصوبہ کے شریک کار بھی تھے۔
یہ ربع صدی پہلے کا قصہ ہے، ریل بازار گوجرانوالہ میں موجودہ سفینہ مارکیٹ کی بالائی منزل میں ’’الخیام ہوٹل‘‘ ہوا کرتا تھا، اس ہوٹل میں ہر اتوار کو پچھلے پہر ایک ادبی محفل جمتی تھی جس کا اہتمام ’’مجلس فکر و نظر‘‘ کیا کرتی تھی۔ راقم الحروف ان دنوں مدرسہ نصرۃ العلوم میں زیر تعلیم تھا، لکھنے پڑھنے کے جراثیم اسی دور میں چپکے سے دماغ میں سرایت کر آئے تھے اور اسی وجہ سے اس ادبی محفل میں حاضری معمول بن گیا تھا۔ ارشد میر صاحب سے پہلا تعارف وہیں ہوا، وہ مجلس فکر و نظر کے سیکرٹری تھے اور پروگرام کا نظم انہی کے ہاتھ میں ہوتا تھا۔ پروفیسر اسرار احمد سہاروی، پروفیسر افتخار ملک مرحوم، پروفیسر عبد اللہ جمال، جناب ضیغم البھاکری، اثر لدھیانوی مرحوم، پروفیسر محمد رفیق چودھری، جناب ایزد مسعود ایڈووکیٹ اور دیگر ارباب دانش سے تعارف کا آغاز بھی وہیں سے ہوا اور راقم الحروف نے اپنا زندگی کا پہلا تحقیقی مقالہ ’’پروفیسر فلپ کے ہٹی کی کتاب ’’عرب اور اسلام‘‘ پر ایک تنقیدی نظر‘‘ کے عنوان سے مجلس فکر و نظر کی اسی ہفتہ وار ادبی محفل میں پڑھا۔ خالص مولویانہ وضع قطع اور لباس کے ساتھ اس محفل میں ایڈجسٹ ہونا ابتدا میں میرے لیے الجھن کا باعث بنا لیکن یہ ارشد میر صاحب مرحوم کا حوصلہ افزا طرز عمل اور بے تکلفانہ مزاج تھا جس نے الجھن اور جھجھک سے جلد نجات دلا دی اور پھر تعلقات کے ایک ایسے باب کا آغاز ہوا جس کی گہرائی کو ماپنے میں آج کے مروجہ پیمانے شاید ساتھ نہ دے سکیں۔
راقم الحروف کا تعلق علماء کے جس قافلہ سے ہے داروگیر، مقدمات اور نظر بندیاں اس کے ورثہ میں شامل ہیں۔ ایک دور میں قادیانیت کی مخالفت ناقابل معافی جرم تصور ہوتا تھا اور اکثر مقدمات اسی سلسلہ میں ہوتے تھے، پھر حکومت وقت کی مخالفت پر بھی وقتاً فوقتاً مقدمات کا نشانہ بننا پڑتا ۔گوجرانوالہ میں اس قسم کے مقدمات میں علماء کو میاں منظور الحسن ایڈووکیٹ مرحوم کی خدمات بلامعاوضہ حاصل رہتی تھیں جو ایک سینئر وکیل، شریف النفس انسان اور ایک اچھے سیاست دان تھے اور پیپلز پارٹی کی طرف سے قومی اسمبلی کے رکن بھی تھے۔ ارشد میر ایڈووکیٹ اس قسم کے مقدمات میں میاں صاحب مرحوم کے شریک کار ہوتے تھے، ان کی وفات کے بعد یہ معاملات میر صاحب ہی کے سپرد ہو گئے اور انہوں نے کمال خلوص کے ساتھ اس روایت کو نبھایا۔ مولانا منظور احمد چنیوٹی کے بعض مقدمات انہوں نے لڑے اور راقم الحروف کے درجنوں مقدمات میں ارشد میر مرحوم وکیل صفائی رہے۔ فیس کا تو خیر سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، ان کی کوشش یہ ہوتی تھی کہ کاغذات وغیرہ کا خرچ بھی علماء پر نہ پڑے۔ میر صاحب مرحوم مرکزی جامع مسجد شیرانوالہ باغ گوجرانوالہ کے پڑوسی تھے، جامع مسجد کے ساتھ ملحق مدرسہ انوار العلوم کی عقبی دیوار میر صاحب کے مکان کے ساتھ مشترک ہے۔ وہ جمعہ کی نماز اکثر جامع مسجد میں ادا کرتے تھے، نماز کے بعد جس روز فراغت ہوتی میرے کمرے میں آ جاتے، آدھ پون گھنٹہ مختلف مسائل پر گفتگو ہوتی اور چائے کا دور چلتا۔ ابھی گزشتہ جمعہ کو یہ محفل جمی تھی اور وہی ان کے ساتھ میری آخری ملاقات تھی۔
ارشد میر صاحب مرحوم کے صدقات جاریہ میں شاہ ولی اللہ یونیورسٹی بھی شامل ہے جس کی تعلیمی منصوبہ بندی اور مشاورت میں وہ ابتدا سے ہمارے شریک کار رہے ہیں۔ اس منصوبہ کے تحت جی ٹی روڈ پر اٹاوہ کے ساتھ دو سو ساٹھ کنال زمین خریدنے کے بعد ’’ابوبکر بلاک‘‘ کے نام سے ایک بلڈنگ تعمیر کی گئی ہے جس میں یکم ستمبر سے کالج کے فرسٹ ایئر کی کلاس کا آغاز ہو چکا ہے، اس کلاس میں بورڈ کا نصاب پڑھانے کے علاوہ عربی اور اسلامیات کی خصوصی تعلیم اور طلبہ کے ہمہ وقتی اقامتی نظام کے تحت ان کی نظریاتی، اخلاقی اور دینی تربیت کا پروگرام بھی شامل ہے۔ جبکہ دینی مدارس کے فارغ التحصیل طلبہ کو انگریزی، تاریخ، اردو ادب اور تقابل مذاہب کی تعلیمِ دینے کے لیے دو سالہ کو رس کا آغاز رمضان المبارک کے بعد کیا جا رہا ہے ، ان شاء اللہ العزیز۔ شاہ ولی اللہ ٹرسٹ اور یونیورسٹی انتظامیہ کے سر براہ شہر کے معروف صنعت کار الحاج میاں محمد رفیق آف الہلال انڈسٹریز ہیں جبکہ تعلیمی کونسل کے چیئرمین کی حیثیت سے تعلیمی امور کی نگرانی راقم الحروف کے ذمے ہے۔ ارشد میر صاحب مرحوم بھی تعلیمی کونسل کے رکن تھے اور تعلیمی نظام اور پروگرام کی موجودہ ترتیب میں ان کے مشوروں کا بہت بڑا حصہ ہے۔
گزشتہ جمعہ کی جس ملاقات کا سطور بالا میں ذکر ہوا ہے اس میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شاہ ولی اللہ یونیورسٹی میں ایک اچھی اور معیاری لائبریری قائم کی جائے جو اہل علم و دانش کے لیے کشش کا باعث بنے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ خود بھی اپنی وسیع لائبریری کی چھانٹی کر کے اس مقصد کے لیے کتابیں دیں گے اور دوسرے احباب سے کتابیں دلوانے کی بھی بھر پور کوشش کریں گے۔ لائبریری کا قیام تو ہمارے پروگرام میں شامل ہے اور اس کے لیے ایک ہال مخصوص کر دیا گیا ہے لیکن اسے ارشد میر ایڈووکیٹ جیسے باذوق اور کتاب شناس دوست کی نگرانی میں منظم کرنے کی خواہش اب ایک حسرت ہی رہے گی۔
میر صاحب مرحوم اچھے مزاح نگار تھے اور مجلسی زندگی میں بھی لطائف و ظرائف اور نکتہ آفرینی کے ذریعے اہل مجلس کو خوش رکھنا ان کا امتیازی وصف تھا۔ پنچابی ادب میں انہیں نمایاں مقام حاصل تھا اور ادبی محافل میں ان کی موجودگی نوخیز ادبیوں کے لیے حوصلہ افزائی کا باعث ہوتی تھی۔ پاکستان رائٹرز گلڈ کے سیکرٹری کی حیثیت سے ان کی ادبی خدمات مسلم ہیں اور اس کے ساتھ تحقیقی اور علمی مضامین بھی ان کی دسترس سے باہر نہ تھے۔ ،انہوں نے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے مزاح کے واقعات بڑی کاوش کے ساتھ مرتب کیے تھے اور ابھی آخری ملاقات میں انہوں نے بتایا کہ اسلام کے قانون شہادت پر بھی انہوں نے مفصل مضمون لکھا ہے جس کے بارے میں ان کی خواہش تھی کہ اسے ’’الشریعہ‘‘ میں شائع کر دیا جائے۔ راقم الحروف نے یہ مضمون شائع کرنے کا وعدہ کیا اور ’’الشریعہ‘‘ کی مجلس ادارت میں ان کا نام شائع کرنے کی اجازت مانگی جو انہوں نے دے دی۔ ان کا نام گزشتہ شمارہ میں شائع ہو چکا ہے لیکن یہ حسرت خدا جانے کب تک دل کی کسک بنی رہے گی کہ ’’الشریعہ‘‘ پابندی کے ساتھ پڑھنے والے اپنے بزرگ دوست کو یہ تازہ شمارہ ان کی زندگی میں پیش نہ کر سکا ۔ اللہ تعالی مرحوم کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کریں اور دنیا کی طرح آخرت میں بھی انہیں ہنسی مزاح سے بھرپور زعفران زار مجلسیں عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔
- حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے خلیفہ مجاز حضرت مولانا فقیر محمؒد کا گذشتہ دنوں پشاور میں انتقال ہو گیا۔ مرحوم انتہائی خدا رسیدہ اور مشفق بزرگ تھے اور پاکستان میں حضرت تھانویؒ کے آخری خلیفہ تھے۔
- حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی کی اہلیہ مکرمہ اور چچا محترم کا گذشتہ دنوں انتقال ہوگیا، انا للہ وانا الیہ راجعون۔
- اللہ تعالیٰ مرحومین کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کریں اور پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق سے نوازیں۔ آمین یا الہ العالمین۔
آپ نے پوچھا
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا محمد علی جوہرؒ کا قلندرانہ اعلان
سوال: مولانا محمد علی جوہرؒ نے گول میز کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ وہ ”غلام“ ہندوستان میں واپس جانے کے لیے تیار نہیں ہیں اور پھر ان کا انتقال ہو گیا تھا۔ اس واقعہ کی کچھ تفصیل بیان فرما دیں۔ محمد عبد الرؤف، راولپنڈی
جواب: برطانوی حکومت نے ۱۹۳۰ء میں ہندوستانی لیڈروں کی گول میز کانفرنس لندن میں طلب کی تھی، جس کا مقصد آئینی اصلاحات کے بارے میں اتفاق رائے حاصل کرنا تھا۔ کانگریس، جمعیۃ علماء ہند اور مجلس احرار اسلام نے گول میز کانفرنس کے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔ جبکہ جمعیت علماء ہند کے کچھ حضرات نے کانپور میں اجلاس کر کے ایک الگ گروپ قائم کیا اور کانفرنس میں شرکت کا فیصلہ کیا۔ اس گروپ کو جمعیت علماء کانپور اور مؤتمر اسلامی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور مولانا محمد علی جوہرؒ اسی کے نمائندہ کے طور پر لندن کی گول میز کانفرنس میں شریک ہوئے تھے۔ کانفرنس ۱۲ نومبر ۱۹۳۰ء کو شروع ہوئی اور مولانا جوہرؒ نے ۱۹ نومبر کو کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ تاریخی اعلان کیا تھا کہ میں آزادی کا پروانہ لیے بغیر اب ہندوستان واپس نہیں جاؤں گا۔ چنانچہ کانفرنس کے فوراً بعد وہ بیمار پڑ گئے اور ۴ جنوری ۱۹۳۱ء کو ان کا انتقال ہو گیا۔ مولانا محمد علی جوہرؒ کو ان کی وصیت کے مطابق بيت المقدس کے قبرستان میں دفن کیا گیا، جہاں بہت سے انبیاء کرام علیہم السلام کے مزارات ہیں اور سننے میں آیا ہے کہ مولانا جوہرؒ کی قبر سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قدموں میں ہے۔
مغرب کا وقت کتنا ہے؟
سوال: نماز مغرب کا وقت غروب آفتاب کے بعد کب تک ہوتا ہے ؟ ذوالفقار علی، لاہور
جواب: غروب آفتاب کے بعد افق پر سرخی پھیلتی ہے جسے شفق احمر کہتے ہیں۔ امام ابو یوسفؒ اور امام محمدؒ فرماتے ہیں کہ سرخی ختم ہونے تک مغرب کا وقت رہتا ہے، اس کے بعد نہیں۔ جبکہ امام ابوحنیفہؒ کا ارشاد ہے کہ سرخی کے بعد جو سفیدی کی لکیر افق پر چھاتی ہے اس کے ختم ہونے تک مغرب کا وقت باقی رہتا ہے۔ اس لیے احتیاط اس میں ہے کہ مغرب کی نماز سُرخی ختم ہونے سے پہلے پڑھ لی جائے، لیکن عشاء کی نماز سفیدی ختم ہونے کے بعد ادا کی جائے۔ تاکہ مختلف فیہ وقت سے بچا جا سکے۔
قسطنطنیہ کی فتح
سوال: قسطنطنیہ کی فتح کا ذکر احادیث میں آتا ہے۔ یہ کون سے ملک میں ہے اور کب فتح ہوا ؟ محمد زکریا فیصل آباد
جواب: ترکی کے سب سے بڑے شہر استنبول کا پہلا نام قسطنطنیہ ہے۔ یہ جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سلطنت روما کا پایہ تخت تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شہر پر حملہ کرنے والے سب سے پہلے لشکر کے لیے جنتی ہونے کی بشارت دی ہے۔ یہ حملہ حضرت امیر معاویہؓ کے دور میں ان کے فرزند یزید کی قیادت میں ہوا۔ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے جنت کی اسی بشارت کی وجہ سے بڑھاپے اور ضعف کے باوجود اس غزوہ میں شرکت کی اور اسی دوران وفات پائی۔ ان کا مزار استنبول میں آج بھی مرجع خلائق ہے۔
یہ شہر ترکوں کی خلافت عثمانیہ کے دور میں ۸۵۷ ھ مطابق ۱۴۵۳ء میں سلطان محمد فاتحؒ کے ہاتھوں فتح ہو کر اسلامی شہروں میں شامل ہوا اور ۱۹۲۴ء میں خلافت عثمانیہ کے خاتمہ تک مرکز خلافت رہا۔ خلافت عثمانیہ کے خاتمہ کے بعد ترکی کا دارالحکومت انقرہ کو بنا لیا گیا اور قسطنطنیہ کا نام تبدیل کر کے استنبول رکھ دیا گیا۔ استنبول ایک تاریخی شہر ہونے کے علاوہ حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے مزار اور اس کے توپ کاپی عجائب گھر میں مصحف عثمانی کی موجودگی کے باعث بھی باذوق سیاحوں کی دل چسپی کا مرکز ہے۔
قبض، کھانسی، نزلہ، زکام
حکیم محمد عمران مغل
گذشتہ اشاعت میں وبائی نزلہ یعنی انفلوئنزا پر ایک مفصل تحریر پیش کی تو اکثر حضرات نے فرمایا کہ ہمیں نزلہ، زکام کے ساتھ ہی جسم میں کھجلی، دردیں، تھکاوٹ اور قبض کی شکایات بھی پیدا ہو جاتی ہیں۔ کچھ نے فرمایا کہ ہم مستقل الرجی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ الرجی کا شکار تو عموماً وہ حضرات دیکھے گئے ہیں جن کی مختلف وجوہات پر قوت مدافعت کمزور ہوچکی ہو۔ تاہم اس پر ان شاء اللہ پھر کسی نشست میں عرض کروں گا، کیونکہ بذات خود یہ کوئی بیماری نہیں، صرف ہماری کوتاہ اندیشی سے معاشرہ میں جڑ پکڑ چکی ہے، جس میں فیشن کی بھرمار، غذائی عادات کی تبدیلی اور اعصابی نظام کا بگاڑ ہے۔ یہ ایک تمہید طولانی ہے، پھر بھی ایک نسخہ ہمہ صفت موصوف پیش کرتا ہوں جو آپ کو اوور ہال کر دیا کرے گا اور مذکورہ بالا تمام تکالیف سے ان شاء اللہ چھٹکارہ مل جائے گا۔
جسمِ انسانی میں جب خلطیں جمع ہو جاتی ہیں تو نکلنے کے لیے کچھ ذرائع اختیار کرتی ہیں، یہی ذرائع بیماریاں بن جاتی ہیں۔ جیسے نواصیر، نکسیر، بواسیر، بلغم کی کثرت، پیپ کا اخراج وغیرہ وغیرہ۔ ایک ہی دوا سے کئی خلطوں کو خارج کرنے کے لیے کچھ سادہ مگر نہایت زود اثر اور سستی ادویات سے اطباء عظام نے ہمیں تعلیم دی ہے۔ جیسے حنظل (تمبہ) اور سنامکی کہ ان سے تقریباً تین تین اخلاط بیک وقت خارج ہو جاتی ہیں۔
سنا ایک خود رو پودا ہے جو حجاز مقدس کے آس پاس پیدا ہوتا ہے، یہی سنامکی ہے۔ برصغیر میں آج سے ایک سو بیاسی سال پہلے لائی گئی تھی، جبکہ مصر کے علاقے میں باقاعدہ کاشت کی جا رہی ہے۔ سوڈان سے یہ مغربی ممالک کو بھیجی جا رہی ہے۔ وطن عزیز میں پنجاب اور سندھ میں کاشت ہو رہی ہے۔ جو فوائد میں کچھ کم ہے، مگر مسہل ضرور ہے۔ یہ دماغ کا تنقیہ کرتی ہے اور اخلاط ثلاثہ کا مخرج ہے۔ اس لیے درد کمر، عرق النساء، درد پہلو، وجع الورک، وجع المفاصل نویتی، بخار میں مستعمل ہے۔ کرم شکم کی قاتل، درد سر، درد شقیقہ اور مرگی میں بھی مفید مانی گئی ہے۔
علامہ حافظ ابن قیم رحمہ اللہ کا ارشاد ہے کہ اس کے مضراثرات بنفشہ اور منقیٰ کے ساتھ کھانے سے بالکل ختم ہو کر یہ اکسیر صفت نسخہ بن جاتا ہے۔
(۱) چنانچہ منقیٰ بنفشہ ستالکی تین تین ماشہ پاؤ ڈیڑھ پاؤ پانی میں جوشاندہ بنا کر پھر تھوڑا تھوڑا پیتے رہیں تو مذکورہ بالا امراض کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔
(۲) یا تین ماشہ پتے ڈنٹھل صاف کر کے ایک تولہ شہد کے ساتھ بھی شام یا رات کو استعمال کرنے سے یہی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
(۳) حکیم رازی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ سنامکی کے ساتھ شاہترہ استعمال کیا جائے تو جسم میں تمام زہریلے مادہ کو خارج کر دیتا ہے اور یہی نکتہ میں بھی آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں کہ اس کا مجھے بھی تجربہ ہو چکا ہے اور بھاری بھرکم جسم رکھنے والے خواتین و حضرات کے لیے تو نعمت سے کم نہیں۔ اسی نسخہ سے بعض دفعہ الرجی کا بھی صفایا ہو جاتا ہے اور جسم سے سوزش، خارش وغیرہ بھی نیست و نابود۔ مختصر بات یہ ہے کہ سنامکی کو تنہا استعمال میں نہ لائیں، سنامکی اپنے اندر بڑی کشش رکھتی ہے۔ اپنے معالج سے مشورہ کر کے دیکھیں کئی در کھلیں گے ان شاء اللہ۔
(۴) چوتھا نسخہ ملاحظہ فرمائیں۔ سنامکی ڈیڑھ ماشہ کو باریک کر کے گھر میں گلقند (یہ مصدقہ شدہ ہونی چاہیے) دو تولے میں ملا کر دودھ یا پانی سے کھلائیں تو ایک پاخانہ کھل کر آ جاتا ہے اور تمام فاسد مادے ختم ہو جاتے ہیں۔ تاہم اس کا دست آور حصہ بچہ کی ماں کے خون میں جذب ہو کر دودھ میں شامل ہو کر بچے کے پیٹ میں بعض دفعہ مروڑ پیدا کر دیتا ہے، تاہم اطباء عظام میں ایک چورن سینکڑوں سال سے مستعمل ہے جو کہ آیور ویدک میں لکھا ہے مگر چینی کے بغیر یہی چورن ایلوپیتھی میں بھی مستعمل ہے۔ یہ اس کی افادیت ہے۔ آیور ویدک طب میں اس کا نام مدھ دریچن چورن ہے۔ طب کے باغات سے تو آپ پھل کھاتے آئے ہیں اور کھاتے رہیں گے ان شاء اللہ آج آپ آیور وید طب کے درخت کا ایک پھل کھا کر دیکھیں تمام طبیں بھول جائیں گے۔ یہی چورن وہ تمام مائیں استعمال کرسکتی ہیں جن کی گودوں میں پھول سے نازک بچے اٹھکیلیاں لے رہے ہیں۔ اس کے استعمال سے ماں بچہ دونوں کی صحت ہمیشہ اچھی رہے گی۔ آم کے آم گٹھلیوں کے دام یہی تو ہے۔
نسخہ:
سنامکی، آملہ سار، ملٹھی، سونف، چینی پانچ اجزاء ہم وزن کو باریک کر کے شام کو چھ ماشہ سے ایک تولہ تک پانی سے کھائیں۔ میں نے آپ کی خدمت میں حکمت کی ایک ہی پوٹلی کھولی ہے، آپ علماء کرام اور مفسرین عظام یا محدثین کرام سے دریافت فرمائیں۔ ہر قسم کے غلیظ، ردی، فاسد مادوں پر بقول جناب پیر پگاڑہ صاحب جھاڑو پھیر دیتی ہے۔ علامہ ذہبیؒ، حضرت ابو ایوب انصاریؓ، حافظ ابن قیمؒ کے قیمتی خیالات ابھی باقی ہیں۔ ابن سیناؒ نے سنامکی کو دل کے امراض کے لیے، جوڑوں کے درد، جلدی امراض، خونی امراض کے علاوہ وہ جریان جس میں سفید رطوبت خارج ہوتی ہے (کہ یہ جریان کا مرض نہیں) میں استعمال کیا ہے۔ آپ اس کا چورن اپنے استعمال میں لا کر مستفید ہو سکتے ہیں۔ مثانہ اور پتھری کے امراض میں یہ چورن اپنا ثانی نہیں رکھتا۔ جواب کے لیے جوابی خط سے یاد فرمائیں۔
تعارف و تبصرہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
’’معالم العرفان فی دروس القرآن (سورۃ الانفال و سورۃ التوبۃ)‘‘
حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی مدظلہ کے دروسِ قرآن مرتب اور شائع ہو کر علماء اور جدید تعلیم یافتہ طبقہ کے لیے استفادہ کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ قرآنی علوم و معارف اور احکام و مسائل کو بیان کرنے میں حضرت صوفی صاحب کا انداز انتہائی سہل ہے اور امام ولی اللہ دہلویؒ کے علوم و فلسفہ کی روشنی میں جدید پیش آمدہ مسائل کا حل بھی پیش کرتے ہیں۔ اب تک بحمد اللہ تعالیٰ آخری دو پاروں کے مکمل دروس کے علاوہ شروع سے سورۃ الاعراف تک دروس چھپ چکے ہیں اور زیر نظر مجموعہ میں سورۃ الانفال اور سورۃ التوبۃ کے مکمل دروس کو یکجا کر دیا گیا ہے جو معالم العرفان کی آٹھویں جلد کے عنوان سے شائع کیا گیا ہے۔ قرآنی معارف و مسائل کے اس مفید تر ذخیرہ کو مرتب کرنے پر الحاج لعل دین ایم اے ہم سب کے شکریہ کے مستحق ہیں۔
آٹھویں جلد ۶۱۸ صفحات پر مشتمل ہے۔ معیاری کتابت و طباعت، عمدہ کاغذ اور مضبوط جلد کے ساتھ مزین اس جلد کا ہدیہ ۱۷۵ روپے ہے اور یہ مکتبہ دروس القرآن فاروق گنج گوجرانوالہ سے طلب کی جا سکتی ہے۔
’’ضعیف احادیث کی معرفت اور ان کی شرعی حیثیت‘‘
جناب غازی عزیر برصغیر کے نامور اہلحدیث بزرگ حضرت مولانا عبد الرحمٰن مبارک پوریؒ کے پوتے ہیں۔ الخبر سعودی عرب میں مقیم ہیں، علمِ حدیث پر گہری نظر رکھتے ہیں اور مختلف مشہور احادیث پر نقد و جرح کے حوالہ سے ان کے محققانہ مضامین متعدد دینی جرائد کی زینت بنتے رہتے ہیں۔ ’’الشریعہ‘‘ میں بھی ان کے بعض مضامین شائع ہو چکے ہیں۔
زیر نظر کتابچہ میں انہوں نے ضعیف احادیث کی شرعی حیثیت کو موضوعِ بحث بنایا ہے جو شروع سے ہی محدثین کے ہاں زیر بحث چلا آ رہا ہے، اور محدثین کی ایک بہت بڑی جماعت کا یہ موقف ہے کہ ضعیف حدیث عقائد و احکام کے باب میں تو حجت نہیں ہے لیکن فضائل کے زمرہ میں بعض شرائط کے ساتھ قابلِ قبول ہے۔ مصنف نے اس نقطۂ نظر سے اختلاف کیا ہے اور ضعیف احادیث کی معرفت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے اس موقف کی تائید کی ہے کہ ضعیف حدیث مطلقاً قابلِ قبول نہیں ہے۔
فاضل مصنف کے اس موقف اور ان کے دلائل سے اتفاق ضروری نہیں ہے، تاہم اس موضوع پر ان کی محنت و کاوش قابلِ داد ہے اور علومِ حدیث سے دلچسپی رکھنے والے حضرات کے لیے اس کتاب کا مطالعہ مفید اور معلومات افزا ہو گا۔ سوا دو سو صفحات پر مشتمل یہ کتابچہ فاروقی کتب خانہ، بیرون بوہر گیٹ، ملتان نے شائع کیا ہے اور اس کی قیمت ۴۸ روپے ہے۔
’’پیغمبرؐ آمن و آشتی اور اسلامی انقلاب‘‘
امیر تحریکِ خدامِ اہلِ سنت گوجرانوالہ ڈویژن مولانا حافظ عبد الحق خان بشیر نے اس مفصل مضمون میں اسلامی نظام کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے اور سرمایہ دارانہ نظام، جمہوریت اور سوشلزم کے ساتھ اسلام کا تقابل کرتے ہوئے امام ولی اللہ دہلویؒ کی حکمت و فلسفہ کی روشنی میں اسلامی انقلاب کے تقاضوں کی وضاحت کی ہے۔ اس رسالہ کی قیمت ساڑھے نو روپے ہے اور مدرسہ حیات النبیؐ، محلہ حیات النبیؐ، گجرات سے مل سکتا ہے۔
’’آئیے نماز پڑھیں‘‘
جامعہ دارالسلام مالیر کوٹلہ بھارت کے سربراہ مولانا مفتی فضیل الرحمٰن عثمانی برصغیر کے نامور بزرگ مولانا مفتی عتیق الرحمٰن عثمانیؒ کے فرزند ہیں اور ایک عرصہ سے مشرقی پنجاب میں مسلمانوں کی علمی دینی راہنمائی کے فرائض حسن و خوبی کے ساتھ سرانجام دے رہے ہیں۔ زیر نظر رسالہ میں انہوں نے نماز کے مسائل و احکام، ترتیب اور فضائل کو تعلیمی انداز میں بیان کیا ہے جو سکول و کالج کے طلبہ کی تعلیم کے لیے انتہائی مفید ہے۔ اس رسالہ کی قیمت چار روپے ہے اور اسے صدیقی ٹرسٹ نسیم پلازہ نزد لس بیلہ چوک نشتر روڈ کراچی سے طلب کیا جا سکتا ہے۔
ماہنامہ ’’ترجمانِ اہلِ سنت‘‘ لاہور
سنی تحریک طلبہ، تحریک خدام اہل سنت کی ذیلی تنظیم ہے جو حضرت مولانا قاضی مظہر حسین مدظلہ کی سرپرستی میں طلبہ کے محاذ پر کام کر رہی ہے۔ ماہنامہ ترجمان اہل سنت اس کا آرگن ہے جو مولانا حافظ عبد الحق خان بشیر کی زیرنگرانی شائع ہو رہا ہے۔ زیرنظر شمارہ مختلف معلوماتی مضامین پر مشتمل ہے۔ ایک پرچہ کی قیمت تین روپے ہے اور سالانہ زرخریداری ۳۶ روپے ہے۔ خط و کتابت مرکزی دفتر سنی تحریک طلبہ، مدرسہ حیات النبیؐ، محلہ حیات النبیؐ، گجرات کے پتہ پر کی جا سکتی ہے۔
’’عید میلاد کی تاریخی و شرعی حیثیت‘‘
یہ ہفت روزہ الاعتصام لاہور کے مدیر جناب حافظ محمد صلاح الدین یوسف کے ان مضامین کا مجموعہ ہے جو انہوں نے بارہ ربیع الاول کو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کے حوالہ سے منائی جانے والی ’’عید میلاد‘‘ کی شرعی حیثیت کے بارے میں مختلف اوقات میں تحریر کیے۔ ان مضامین میں دلائل کے ساتھ اس امر کی وضاحت کی گئی ہے کہ قرونِ اولیٰ میں اس عید کا کوئی وجود نہیں تھا اور مسلّمہ شرعی دلائل کی روشنی میں اس کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے۔ ملنے کا پتہ: مکتبہ ضیاء الحدیث، مصطفیٰ آباد، لاہور۔
’’انڈین یونین میں مسلمانوں کا مستقبل‘‘
اس رسالہ میں حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ اور حضرت مولانا ابو الکلام آزادؒ کے بعض مضامین کو یکجا کیا گیا ہے جو تحریکِ آزادی کے مختلف ادوار کے بارے میں ہیں اور بے حد معلومات افزا اور بصیرت افروز ہیں۔ جناب کریمی ابڑو نے الخادم المدنی اشاعت گھر، بڑا محلہ نصر پور تعلقہ ٹنڈو الہیار ضلع حیدر آباد، سندھ کی طرف سے یہ رسالہ شائع کیا ہے اور اس کی قیمت ۵ روپے ہے۔
لباس کے آداب
حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ
عقلائے روزگار کا اس پر اتفاق ہے کہ برہنگی عیب ہے اور لباس زینت ہے، اس لیے شرم گاہوں اور رانوں کو کھلا رکھنا بے شرمی ہے۔ سب سے افضل لباس وہ ہے جو سب اعضائے بدن اور تمام جسم کو چھپائے اور اس میں شرم گاہوں کو چھپانے والا کپڑا اس کپڑے سے جدا ہو جو باقی اعضائے بدن کو چھپانے کے لیے استعمال ہو اور لباس ایسا ہو کہ انسان اپنے ہاتھوں کو آزادانہ حرکت دے سکے اور اپنی ضروریات کو پورا کرتے وقت انہیں یہ محسوس نہ ہو کہ وہ گردن سے معلق اور بندھے ہوئے ہیں۔ مردوں کو ایسے کپڑوں سے احتراز کرنا چاہیے جو عشرت پرستی، بدمستی، بے راہ روی اور مسخرہ پن کا مظہر ہوں۔ جیسے ریشمی، ارغوانی اور زعفرانی کپڑے اور نہ اتنا چست کپڑا پہنیں جس سے جسم کا حجم نظر آ رہا ہو۔ (البدور البازعۃ مترجم، ص۱۲۲)
اللہ والوں کی صحبت کا اثر
حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ
اللہ کی خاص رحمت سے جس طرح ابتدائی عمر میں اسلام کی سمجھ آسان ہو گئی، اسی طرح کی خاص رحمت کا اثر یہ بھی ہے کہ سندھ میں حضرت حافظ محمد صدیق صاحبؒ (بھرچونڈی والے) کی خدمت میں پہنچ گیا جو اپنے وقت کے جنید اور سید العارفین تھے۔ چند ماہ میں ان کی صحبت میں رہا۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ اسلامی معاشرت میرے لیے اسی طرح طبیعت ثانیہ بن گئی جس طرح ایک پیدائشی مسلمان کی ہوتی ہے۔ حضرت نے ایک روز میرے سامنے اپنے لوگوں کو مخاطب فرمایا کہ عبید اللہ نے اللہ کے لیے ہم کو اپنا ماں باپ بنایا ہے۔ اس کلمہ مبارک کی تاثیر خاص طور پر میرے دل میں محفوظ ہے۔ میں انہیں اپنا دینی باپ سمجھتا ہوں اور محض اس لیے سندھ کو مستقل وطن بنایا یا بن گیا۔ میں نے قادری راشدی طریقہ میں حضرت ؒ سے بیعت کر لی تھی۔ اس کا نتیجہ یہ محسوس ہوا کہ بڑے سے بڑے انسان سے بھی بہت کم مرعوب ہوتا ہوں۔ (مولانا سندھیؒ کے علوم و افکار، ص ۲۱۸)