الشریعہ — دسمبر ۱۹۹۱ء

برسرِ عام پھانسی اور سپریم کورٹ آف پاکستانمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
قرآن و سنت کے دو محافظ طبقے: فقہاء اور محدثینشیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر 
مرکزیت، عالم سلام کی بنیادی ضرورتشیخ التفسیر مولانا صوفی عبد الحمید سواتی 
امام ولی الله دہلوىؒمولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی 
خصائصِ نبوتپروفیسر عبد الرحیم ریحانی 
ملک کا موجودہ سیاسی ڈھانچہ اور نفاذِ شریعتمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
پروفیسر یوسف جلیل کی دنیائے نحو و منطقمولانا رشید احمد 
ربوٰا کی تمام صورتیں حرام ہیں: وفاقی شرعی عدالت کا ایک اہم فیصلہروزنامہ جنگ 
رسول اکرمﷺ کی تعلیماتشری راج گوپال اچاریہ 
آپ نے پوچھامولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
آؤ طب پڑھیںحکیم محمد عمران مغل 
تعارف و تبصرہمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
اقتباساتادارہ 

برسرِ عام پھانسی اور سپریم کورٹ آف پاکستان

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

روزنامہ جنگ لاہور ۲۱ نومبر ۱۹۹۱ء کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان نے چکوال کے ایک نوجوان ظفر اقبال کو سرِ عام پھانسی دینے کے حکم پر عملدرآمد روک دیا ہے۔ اس نوجوان کو اغوا اور قتل کے جرم میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے سزائے موت سنائی ہے اور چکوال میں اسے سرِ عام پھانسی دی جانے والی تھی۔ سپریم کورٹ نے اس معاملہ کا از خود نوٹس لیتے ہوئے ’’برسرِ عام پھانسی‘‘ کو شہریوں کی عزتِ نفس مجروح کرنے کے مترادف قرار دیا ہے اور اپنے مذکورہ فیصلے میں کہا ہے کہ اس سے آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ فیصلے میں پھانسی کی اس سزا کو روکتے ہوئے کہا گیا ہے کہ آئندہ ہفتہ (۳۰ نومبر) کو اس کی باقاعدہ سماعت ہو گی۔
ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کا یہ اقدام اس پہلو سے باعثِ اطمینان ہے کہ عدالتِ عظمیٰ نے کسی اپیل کے بغیر اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے ایک شہری کی عزتِ نفس کو بچانے کے جذبہ سے ازخود کسی معاملہ کا نوٹس لیا ہے، جس سے شہریوں میں یہ احساس اور اعتماد پیدا ہو گا کہ ان کی عزت و ناموس اور حقوق کے محافظ اعلیٰ ادارے بیدار و متحرک ہیں۔ لیکن برسرِ عام پھانسی کو بنیادی حقوق کے منافی قرار دینا اسلامی نقطۂ نظر سے محلِ نظر ہے کیونکہ فقہاء اسلام نے جرائم کی سزاؤں کا فلسفہ یہ بتایا ہے کہ انہیں معاشرہ کے دیگر افراد کے لیے باعثِ عبرت بنا دیا جائے، جیسا کہ بدکاری کی سزا میں قرآن کریم کا واضح حکم موجود ہے کہ:
ولیشہد عذابھما طائفۃ من المومنین (النور)
’’اور ان کی سزا کے وقت مسلمانوں کی ایک جماعت موجود ہو۔‘‘
اس لیے بنیادی حقوق کا یہ تصور کہ سنگین جرائم کے مرتکب افراد کو بھی عزتِ نفس کا وہی تحفظ مہیا کیا جائے جو دوسرے شہریوں کو حاصل ہے، قرآنی تعلیمات کے مطابق نہیں ہے۔ بنیادی حقوق کا یہ تصور سراسر مغربی اور یورپی ہے اور اس تصور نے انسانی معاشرہ میں جرائم کی آبیاری اور پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس لیے ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ سے یہ توقع رکھنے میں حق بجانب ہیں کہ وہ اس معاملہ میں حتمی فیصلہ سے قبل قرآنی تعلیمات کو ضرور سامنے رکھے گی اور اس کا فیصلہ مغربی تصورات کی بجائے اسلامی تعلیمات پر مبنی ہو گا۔

قرآن و سنت کے دو محافظ طبقے: فقہاء اور محدثین

شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر

یہ بات کسی بھی خدا ترس، سنجیدہ مزاج اور با شعور مسلمانوں سے مخفی نہیں کہ عالم اسباب میں کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کی روایتی اور درایتی حیثیت سے حفاظت اور نگرانی حضرات محدثین کرامؒ اور حضرات فقہاء اسلامؒ ہی نے کی ہے۔ ان میں اگر ایک گروہ اور طائفہ نے الفاظ اور سند کی نگرانی کی ہے تو دوسرے حزب اور جماعت نے معانی اور مطالب کو محفوظ رکھا ہے۔ اگر ایک فرقہ نے راستہ اور چھلکا محفوظ رکھا ہے تو دوسرے نے منزل اور مغز کو محفوظ و مصئون کیا ہے۔ انہوں نے دینی بصیرت اور فرض شناسی کے جذبہ سے سرشار اور لبریز ہو کر انسانیت کی فلاح و بہبود، ہدایت و رشد، کامیابی و کامرانی کے لیے بڑی محنت اور مشقت سے، بڑی کوشش اور کاوش سے، بے انتہا جفاکشی اور تندہی سے کتاب وسنت اور توحید و رسالت کا نعرہ حق بلند کیا۔ حتی کہ ان کی سعئ بلیغ سے کتاب وسنت کا چرچا عام ہوا، پیروئ شریعت کا غلغلہ بلند ہو گیا اور کیوں نہ ہوتا ان کی نہایت اخلاص و دل سوزی سے پکار ہی صرف ایک پکار تھی کہ مسلمانو! صرف خدا کو پوجو، وہی تمہارا کارساز، حاجت روا، فریاد رس، مشکل کشا اور دستگیر ہے اور حضرت محمد رسول اللہﷺ کی اتباع اور پیروی کرو اور صرف آپؐ ہی کی پیروی میں نجات ہے۔ قرآن کریم کے ابدی احکام پر عمل کرو اور جناب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے صحیح ارشادات کے مطابق زندگی بسر کرو۔ انہوں نے اپنی عقل رسا سے نظام عالم کے نقشے بدل دیے۔ عجائبات عالم کے طلسم کشانی کے حیرت انگیز نظریے پیش کیے۔ ان کی دقیق اور عمیق نکتہ سنجیوں اور بلند خیالیوں کے پیچھے حسن علم کا بہترین نمونہ اور اعلیٰ اسوہ موجود ہے۔ انہوں نے انسانی اوہام و خیالات فاسدہ اور عقائد باطلہ کی زنجیروں کو کاٹ کر دریا برد کر دیا۔ انسانوں کی باہمی گتھی کو سلجھایا۔ انسانی معاشرت کا صحیح ترین خاکہ پیش کیا۔ ہمارے اعمال و اخلاق کا اعلیٰ نقشہ اور ہماری رُوحانی مایوسیوں اور ناامیدیوں کا کامیاب علاج تجویز کیا اور جو لوگ ایمان و عمل کے جوہر سے یکسر خالی تھے اور جو لوگ خرافات اور خیالات کی وادیوں میں بھٹکتے رہے ان کو علم وتحقیق کی دولت سے مالا مال اور تفحص و جستجو کے جوہر سے روشناس کیا۔
بنی نوع انسان کی حقیقی بھلائی، اعمال کی نیکی، اخلاق کی برتری، دلوں کی صفائی اور انسانی قویٰ میں اعتدال اور میانہ روی پیدا کرنے کی غرض سے کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کے معانی و مطالب کو نہایت آسان اور سہل کر دیا ہے اور نقلی احتجاج اور عقلی استدلال کا ایسا صحیح اور محیر العقول معیار قائم کیا جس سے دلوں کی تشفی کا اور باطل قسم کے شکوک اور شبہات کے ازالہ کا بہترین اور قابل قدر طریقہ اور راستہ متعین ہو جاتا ہے۔ جس سے مختلف انسانی طبقات ہر وقت اور ہر دور میں برابر استفادہ کر سکتے ہیں اور جس کی تعلیم و عمل کے لافانی سرچشمہ سے شاہ و گدا، منطقی و فلسفی، امیر و غریب، عالم و جاہل، مجاہد و قاضی سب برابر کا فیض پا رہے ہیں۔ ہمارے اجسام و ارواح کے لیے، ہمارے نفوس و قلوب کے لیے انہوں نے ایسے علوم و فنون ترتیب دیے جن سے دنیا کے صحیح تمدن اور بہترین و مکمل معاشرت کی تکمیل ہوئی۔ عقائد واعمال، معاملات واخلاق کے جوہر اجاگر ہو گئے۔ نیکی اور بھلائی ایوانِ عمل کے نقش و نگار ٹھہرے۔ خداو بندہ کا تعلق باہم مضبوط و مستحکم ہوا۔ یہ نفوس قدسیہ اپنے اپنے وقت پر آئے اور گزر گئے اور اس عالم فانی کی کس چیز کو ابدیت حاصل ہے؟ ان کی زندگیاں خواہ کتنی ہی مقدس ہوں، تاہم وہ دوام و بقا کی دولت سے سرفراز نہ تھیں۔ اس لیے آئندہ آنے والے انسانوں کے لیے جو چیز رہبر ہو سکتی ہے وہ ان کی زندگیوں کے تحریری اور روایتی و درایتی عکس اور تصویریں ہیں۔ پچھلے عہد کے تمام علوم وفنون، تحقیقات و خیالات، واقعات و حالات، افکار و حوادث کے جاننے کا واحد ذریعہ ان کی برگزیدہ ہستیاں ہیں۔ جن کی زندگی نوع انسان کی سعادت و فلاح، حسنِ کردار و ہدایت کی ضامن اور کفیل اور اس کے لیے قابل تقلید نمونہ ہے اور ہمیں ان کی اتباع و تقلید ہی سے اور ان کے نقش قدم پر چلنے کی برکت سے ہی ابدی نجات حاصل ہو سکتی ہے اور کتنی ہی سعید روحیں ہیں جنہوں نے اُن کی آواز پر لبیک اور خوش آمدید کہا، مگر خود غرضوں اور نفس پرستوں نے، خود فریبوں اور حرماں نصیبوں نے ان کی شان کو گھٹانے اور ان کی خدمات جلیلہ کو خاک میں ملانے کے لیے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا اور بیک جنبش قلم ان کو پیوند خاک کرنے کی ناکام سعی کی۔ افسوس
وہ لوگ تم نے ایک ہی شوخی میں کھو دیے
ظاہر کیے فلک نے تھے جو خاک چھان کے
الحاصل روایت و درایت کا، سند اور معنی کا، محد ثین اور فقہاء کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ کسی ایک سے بھی صرف نظر کرنے کے بعد کتاب اللہ اور سنت رسول اللہﷺ کا سمجھنا محال ہے اور احکام و معانی میں تو خاص طور پر حضرات فقہاء کرامؒ ہی کی رائے معتبر اور مستند ہو سکتی ہے۔ کیونکہ بقول امام اعمشؒ محدثین کرامؒ پنساری ہیں جن کے پاس طرح طرح کی قیمتی بوٹیاں (حدیثیں) موجود ہیں، مگر ان کے خواص و مزاج سے فقہاءِ اسلام ہی واقف ہو سکتے ہیں، جو طبیب اور ڈاکٹر ہیں۔ (کتاب العلم، ج ۲، ص۱۳۱)
اور حضرات فقہاء کرامؒ کی معانی اور مطالب میں اس بالا دستی اور فوقیت کو حضرات محدثین کرامؒ نے کھلے لفظوں میں تسلیم کیا ہے۔ چنانچہ حضرت امام ترمذی (المتوفی ۳۷۹ھ) صاحبِ جامع ایک حدیث کی تحقیق میں لکھتے ہیں کہ
”وكذلك قال الفقهاء وهم اعلم بمعانی الحدیث“ ( ترمذی، ج۱، ص۱۱۸)
 اور اسی طرح حضرات فقہاء کرامؒ نے کہا ہے اور وہی حدیث کے معانی کو بہتر جانتے ہیں۔
یہ تو عام حضرات فقہاء کرامؒ کا ذکر خیر تھا، لیکن علی الخصوص حضرات فقہاء احناف کثر اللہ تعالیٰ جماعتہم کے اجتہاد و تفقہ کا ہر دور اور ہر زمانہ میں جو شہرہ رہا ہے وہ کسی منصف مزاج اہل علم سے مخفی ہو سکتا ہے؟ مجموعی طور پر جس محنت و مشقت سے اور جس اخلاص و دیانت سے اور جس عزم و احتیاط سے اور جس متانت اور سنجیدگی سے قرآن کریم اور سنت رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی تشریح اور تفصیل انہوں نے کی ہے وہ صرف انہی کا حصہ ہو سکتا ہے۔ وہ آسمانِ علم و تحقیق کے چاند اور سماءِ فقہ و اجتہاد کے آفتابِ ماہتاب اور درخشندہ ستارے ہیں، جو اپنی چمک و دمک سے تاریک دنیا کو علم و تدقیق کی کرنوں سے منور اور روشن کرتے اور ابر رحمت بن کر جہالت کی خشک زمین کو سرسبز و شاداب کرتے رہے ہیں۔ مگر ہائے افسوس! جو ہستیاں دنیا سے جا چکیں، سو جا چکیں، جو باقی ہیں وہ مبارک اور برگزیدہ ہستیاں بھی ایک ایک کر کے اٹھتی جا رہی ہیں۔ اب وہ دور آنے والا ہے کہ جس میں نہ تو کوئی پلانے والا رہے گا اور نہ پینے والا ملے گا اور جو پینے کے لیے آئے گا وہ بصد افسوس یہ کہے گا ؎
تو جو رہا نہ ساقیا پینے کا کیا مزہ رہا
پینا نہ غم ربا رہا پی بھی تو میں نے پی نہیں

مرکزیت، عالم سلام کی بنیادی ضرورت

شیخ التفسیر مولانا صوفی عبد الحمید سواتی

مسلمانوں کی مرکزیت نہ ہونے کی وجہ سے دنیا میں ان کی حالت بہت کمزور ہے۔ ایک امید پیدا ہوئی تھی کہ پاکستان پوری دنیا کے لیے مرکز اسلام بن جاتا، مگر افسوس کہ اب تک مسند اقتدار پر آنے والے سربراہان میں سے کسی نے بھی اس کام کو اولیت نہیں دی۔ اسلام کا نام تو ہر آنے والے نے لیا، کیونکہ پاکستان کے پچانوے فی صد باشندے نسلی طور پر مسلمان ہیں اور اسلام کے دعویدار ہیں۔ تقسیم ملک کی وجہ سے مسلمان اس خطہ میں اکٹھے بھی ہو گئے ہیں۔ چنانچہ حکمران اسلام کا نام لینے پر اس لیے مجبور ہیں کہ عوام کی غالب اکثریت اسلام کے خلاف ایک لفظ تک سننا گوارا نہیں کرتی۔ مگر حاکمان وقت نے نفاذ اسلام کی ذمہ داری آج تک پوری نہیں کی۔ اب ہمارے افکار بھی مستعار ہیں، سیاست مغلوب ہے۔ کوئی اشتراکیت جیسے لعنتی نظام سے متاثر ہے اور کوئی امریکی اور برطانوی سرمایہ داری نظام کا گرویدہ ہے۔ یہ نظام بھی ملعون ہے کیونکہ اس نظام میں صرف دولت اکٹھی کی جاتی ہے، نہ تو ذرائع آمدنی کی حلت و حرمت کا خیال رکھا جاتا ہے اور نہ اخراجات پر کوئی پابندی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلم انڈسٹری، کھیلوں کے فروغ اور عمارات کی تعمیر پر بے دریغ روپیہ صرف کیا جاتا ہے۔ فرعون نے بڑے بڑے مینار تعمیر کر کے سرمایہ داری کا اظہار کیا تھا اور آج ہم بڑے بڑے سیکریٹریٹ، قصر صدارت اور اسمبلی ہالوں پر کروڑوں روپے خرچ کر کے عوام کی غربت کا مذاق اُڑا رہے ہیں۔ اس نظام کو تو اللہ نے اپنے آخری نبیﷺ کے ذریعے ختم کیا تھا، مگر آج وہی نظام سرمایہ داری پھر عود کر آیا ہے۔
نزول قرآن کے زمانے میں دو بنیادی نظام ہائے معیشت رائج تھے۔ اس وقت قیصر و کسریٰ کی دو سپر طاقتوں میں سے کسریٰ ایشیا اور یورپ کے کچھ حصے پر مسلط تھا جب کہ قیصر کی ماتحتی میں یورپ کا اکثر حصہ اور مشرق وسطی کے علاقے تھے۔ اس زمانے میں نظام معیشت بھی دو طرح کے تھے۔ ایک امریکہ اور برطانیہ جیسا نظام سرمایہ داری تھا، جس کے ذریعے ہر جائز اور ناجائز ذرائع سے دولت اکٹھی کر کے اسے من مانے طریقے پر خرچ کیا جاتا تھا۔ دوسری طرف اشتراکیت کا نظام تھا، جس میں خدا کا سرے سے انکار ہی کر دیا گیا تھا۔ آج بھی دین کا تمسخر اڑایا جاتا ہے اور اسے افیون سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس نظام میں شخصی ملکیت کو ختم کر کے تمام ذرائع پیداوار حکومت کی تحویل میں لے لیے جاتے ہیں۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت میں یہ بات تھی کہ ان دو نظاموں کو نبی عربیﷺ کے ذریعے ختم کر دیا جائے۔
شاہ صاحبؒ کی اصطلاح میں اباحیت یعنی حلال و حرام کا امتیاز دونوں نظاموں میں نہیں ہے۔ یہ صرف اسلامی نظام معیشت ہے جو حلال و حرام کی تمیز سکھاتا ہے، خدا تعالیٰ کی وحدانیت کا صحیح تصور پیش کرتا ہے، انبیاء علیہم السلام کی تعلیم کو واضح کرتا ہے۔ اشتراکیت کے برخلاف اسلام نے ذاتی ملکیت کو ختم نہیں کیا، کیونکہ یہ فطرت کے خلاف ہے۔ اسلام نے حق ملکیت کو تسلیم کیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ تفاوت درجات کو بھی مانا ہے۔ اسلام میں کسی مسلمان یا غیر مسلم کو بنیادی حقوق سے محروم نہیں رکھا جا سکتا۔ اسلام کا یہ زریں اصول ہے کہ ہر شخص کو مکان، لباس، خوراک، صحت اور تعلیم کے بنیادی سہولتیں ملنی چاہئیں۔ مگر یہ سب کچھ اسی وقت ممکن ہے جب مسلمانوں کو دنیا میں کہیں اجتماعیت حاصل ہو۔ جب مسلمانوں کو اپنے وسائل پر مکمل کنٹرول نہ ہو اور انہیں استعمال کرنے کی استعداد نہ ہو، اسلامی فلاحی نظام کیسے قائم کیا جا سکتا ہے؟
آج تو حالت یہ ہے کہ ہمارے تمام ترقیاتی پروگرام بیرونی ماہرین تیار کرتے ہیں۔ کہیں کھیل تماشے کی ترقی کے لیے سکیمیں بن رہی ہیں تو کہیں فلم انڈسٹری کو ترقی دی جا رہی ہے۔ سیر و سیاحت کی وزارتیں بنتی ہیں اور پھر ان پر کروڑوں روپے کے پلان غیر ملکی ماہرین تیار کرتے ہیں۔ اس انحطاط کی وجہ یہ ہے کہ عرب و عجم میں کہیں بھی مسلمانوں کو مرکزیت حاصل نہیں۔ برسر اقتدار لوگوں کو اپنے اقتدار کی فکر رہتی ہے کہ وہ قائم رہنا چاہیے، نام نہاد جمہوریت کے نام پر ہو یا مارشل لاء کے ذریعے سے، اسلام کا نام لینے سے اقتدار ملتا ہو یا سوشلزم کا پرچار کرنے سے۔ اسلام بہرحال ایسے تمام باطل نظاموں کے خلاف ہے۔

امام ولی الله دہلوىؒ

مولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی

نام و نسب

امام ولی اللہ محدث دہلویؒ کا نام قطب الدین احمد ہے جو کہ ولی اللہ کے نام سے مشہور ہیں۔ آپ کی کنیت ابو محمد اور ابو الفیاض ہے۔ ولی اللہ نام آپ کو والد محترم کی طرف سے ملا۔ آپ کا تاریخی نام عظیم الدین ہے اور آپ کا سلسلہ نسب یوں ہے جیسا کہ شاہ صاحبؒ خود فرماتے ہیں:
”سلسلہ نسب ایں فقیر بامیر المومنین عمرؓ بن الخطاب می رسد“ (امداد فی مآثر الاجداد)
شاہ صاحبؒ کا سلسلہ نسب والد کی طرف سے تیس واسطوں سے امیر المومنین حضرت فاروقؓ تک اور والد کی طرف سے سلسلہ نسب امام موسیٰ کاظمؒ تک پہنچتا ہے۔ تو اس لحاظ سے آپ عربی النسل اور فاروقی النسب ہیں۔ سلسلہ نسب یہ ہے: احمد بن عبد الرحیم بن وجیہ الدین شہید بن معظم بن منصور دہلوی الخ

ولادت

شاہ صاحبؒ کی ولادت اورنگ زیب عالمگیرؒ کی وفات سے چار سال قبل ۴ شوال ۱۱۱۴ھ بمطابق ۲۱ فروری ۱۷۰۳ء بروز بدھ بوقت طلوع آفتاب دہلی میں یو پی کے ضلع مظفر نگر کے قصبہ پھلت میں ہوئی جو کہ شاہ صاحبؒ کا ننہیال ہے۔

ابتدائی تعلیم

شاہ صاحبؒ خود فرماتے ہیں:
”جب میری عمر پانچ سال کی ہوئی تو فقیر مکتب میں داخل ہوا۔ ساتویں برس والد بزرگوار نے نماز پڑھوائی اور روزہ رکھنے کی تلقین فرمائی۔ اس سال ختنہ کی رسم بھی ادا ہوئی۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ اسی سال کے آخر میں میں نے قرآن عظیم (حفظ) کیا۔ دس سال کی عمر میں شرح ملا جامی پڑھی اور عام مطالعہ کی راہ میرے لیے کھل گئی۔ چودھویں برس میں میری شادی کر دی گئی اور اس معاملے میں والد بزرگوار نے بڑی عجلت سے کام لیا۔ پندرہ برس کا تھا تو میں نے اپنے والد کے دست مبارک پر بیعت کی اور تصوف کے اشغال میں لگ گیا اور اس میں خاص طور پر نقشبندی مشائخ کے طریق کو اپنا مقصود بنایا۔ اسی سال تفسیر بیضاوی کا ایک حصہ پڑھا۔ اس سال والد بزرگوار نے وسیع پیمانے پر کھانے کا انتظام کیا اور خواص و عوام کو دعوت دی اور اس موقع پر مجھے درس دینے کی اجازت دی۔ الغرض اپنی عمر کے پندرہویں سال اپنے ملک کے دستور کے مطابق جو ضرور ی علوم و فنون تھے میں ان سے فارغ ہو گیا۔ سترہ سال کا تھا کہ حضرت والدؒ رحمتِ حق سے جا ملاقاتی ہوئے۔ ان کی وفات کے بعد فقیر بارہ سال تک دینی اور علوم عقلیہ کی کتابیں پڑھاتا رہا اور ہرعلم میں فکر و غور جاری رکھا۔“ (الجزء اللطیف)

اخلاق و عادات

شاہ صاحبؒ کو قدرت نے ابتدا ہی سے حکیمانہ مزاج اور مومنانہ اخلاق کا حامل بنایا تھا۔ چنانچہ آپ بچپن ہی سے نرم خو، بردبار، منکسر المزاج، خوکش اخلاق، سنجیده، ستوده صفات، سیر چشم، محنتی، پاکیزه اطوار، فیاض، متقی، پرہیزگار، ملنسار اور متوکل علی اللہ تھے۔ اسی وجہ سے شاہ عبد الرحیمؒ اپنی ساری اولاد میں سے شاہ صاحبؒ کو سب سے زیادہ چاہتے تھے۔ اکثر اوقات خلوت و جلوت میں انہیں اپنے پاس بٹھاتے تھے اور بڑے پُرلطف لہجے میں فرمایا کرتے تھے کہ
”اے میرے بیٹے! میری دل میں بے اختیار یہ بات پیدا ہوئی ہے کہ ایک ہی دفعہ تمام علوم و فنون تمہارے دل میں ڈال دوں۔“
شاہ صاحبؒ کی جوانی بے داغ تھی۔ آپؒ کے مزاج میں عام جوانوں کی طرح تندی و تیزی نہیں تھی۔ حکیمانہ ژوب بینی اور عالمانہ کردار جوانی میں ہی پیدا ہو چکا تھا۔ شاہ صاحبؒ کو والد کی پاکیزہ تربیت نے سیر چشم، مستغنی المزاج اور متوکل علی اللہ بنا دیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ بیک وقت ایک حکیم، نکتہ شناس، صوفی باصفا، ایک مفسر، ایک فقیہ، ایک بے مثال صاحب طرز ادیب، انشاء پرداز، شاعر، سیاست دان، معقولی، مفکر، معاشیات کے ماہر، عمرانیات کے رمز آشنا، تاریخ کے غواص، مدبرانہ ذہن کے مالک، مجتہدانہ بصیرت کے حامل اور ایک کامل و اکمل انسان تھے۔

اولاد

شاہ صاحبؒ نے دو شادیاں کیں۔ ان کی پہلی بیوی سے ایک لڑکا محمد دہلوی پیدا ہوا، جس کی وفات ۱۳۰۸ء میں ہوئی (نزہۃ الخواطر)
اسی لڑکے کی وجہ سے شاہ صاحبؒ اپنی کنیت ابو محمد کرتے تھے۔ (الارشاد فی مہمات الاسناد)
پہلی بیوی کی وفات کے بعد دوسری بیوی سے شادی کی اور اس کے بطن سے چار صاحبزادے اور ایک صاحبزادی پیدا ہوئی۔ شاہ صاحبؒ کے سب سے بڑے صاحبزادے جو شاہ صاحبؒ کی وفات کے بعد ان کے جانشین بھی ہوئے وہ شاہ عبد العزیزؒ المتوفی ۷شوال ۹-۱۲۳۸ھ / ۱۸۲۴ ء ہیں۔ دوسرے صاحبزادے شاہ رفیع الدینؒ المتوفی ۶ شوال ۱۲۳۳ھ بمطابق ۱۸۱۷ء ہیں اور تیسرے صاحبزادے شاہ عبد القادر المتوفى ۱۹ رجب ۱۲۳۰ھ بمطابق ۱۸۱۴ء ہیں اور چوتھے صاحبزادے شاہ عبد الغنی المتوفی ۶ محرم ۱۲۹۶ ء ہیں اور ایک صاحبزادی امۃ العزیز ہیں۔

شاہ صاحبؒ کی خصوصیات

شاہ صاحبؒ کو اللہ تعالیٰ نے جن خوبیوں اور خصوصیات سے نوازا تھا ان خصوصیات کو شاہ صاحبؒ نے اپنی مختلف تصانیف میں تحدیث نعمت کے طور پر ذکر فرمایا ہے۔
۱۔ شاہ صاحبؒ کو قائم الزمان بنایا گیا۔
۲۔ آپ کو مجدد دین قویم بنایا گیا۔
۳۔ آپ کو خلعت فاتحیت عطا کی گئی اور آخری دور کا آغاز آپ کے ہاتھ سے کرایا گیا۔
۴۔ وصی ہونے کی وجہ سے آپ اللہ تعالٰی کی مرضیات کی تکمیل کے لیے آلہ جارحہ بنائے گئے۔
۵۔ آپ نے احکام شریعت کے اسرار و مصالح بیان فرمائے۔ شاہ صاحبؒ خود فرماتے ہیں۔
”ان تمام کے رموز و اسرار کا بیان ایک مستقل فن ہے جس کے بارے میں اس فقیر سے زیادہ وقیع بات کسی اور سے نہیں بن آئی ہے۔ اگر کسی کو اس فن کی عظمت و بلندی کے باوجود میرے بیان میں شبہ گزرے تو اسے شیخ عز الدین بن سلام المتوفی ۶۶۰ھ کی کتاب ”قواعد کبریٰ“ دیکھنی چاہیے، جس میں انہوں نے کسی قدر زور مارا ہے مگر پھر بھی وہ اس فن کے عشر عشیر تک نہیں پہنچ پائے۔“ (الجزء اللطیف)
۶۔ آپ کو سلوک طریقت الہام کیا گیا اور اپنے وہ طریق پیش کیا جو صوفیاء کے غلو سے پاک اور جادہ شریعت کا پابند تھا۔
۷۔ آپ نے سب سے پہلے علمائے معاصرین کی مخالفت کے باوجود قرآن کریم کا بلند پایہ ترجمہ کیا۔
۸۔ آپ نے حدیث کی حیثیات کا تعین کیا اور درس حدیث میں تحقیق کی بنیاد ڈالی۔
۹۔ آپ کو الجمع بین المختلفات کا خصوصی علم دیا گیا۔
۱۰۔ آپ کو جامعیت بخشی گئی۔
۱۱۔  آپ کو حکمت عملی یعنی تدبیر معاشیات، سیاسیات و عمرانیات کے شرعی اصول و ضوابط سمجھائے گئے اور کتاب و سنت و آثار صحابہؓ کے ساتھ ان کو تطبیق دینے کی توفیق بخشی گئی۔
۱۲۔  شاہ صاحبؒ فرماتے ہیں:
”مجھے ایک ملکہ عطا کیا گیا جس کی بدولت میں تمام عقائد و اعمال، اخلاق و آداب کے متعلق یہ تمیز کر سکتا ہوں کہ دین حق کی اصلی تعلیم جو آنحضرت ﷺ کی لائی ہوئی ہے وہ کیا ہے اور وہ کون سی باتیں ہیں جو بعد میں دین حنیف کے ساتھ چسپاں کر دی گئیں اور کس بدعت پسند فرقہ کی تحریف، غلو و افراط یا تہاون و تفریط کا نتیجہ ہیں۔“
۱۳۔  آپ کو علم المصالح و المفاسد اور علم الشرائع و الحدود دونوں دیے گئے۔ شاہ صاحبؒ خود فرماتے ہیں۔
”یہ وہ علم شریف ہے جس کے متعلق بیان کرنے اور اس کے اصولوں کو واضح کرنے نیز مسائل کی تطبیق میں مجھ پر کسی نے سبقت نہیں کی۔“
۱۴۔  آپ نے قدیم علمائے اہل سنت کے عقائد کو دلائل و براہین کی روشنی میں اس طرح ثابت کیا اور انہیں اس طرح معقولیوں کے شکوک و شبہات سے پاک کیا کہ اب ان پر مزید بحث کی گنجائش نہیں رہ گئی۔
۱۵۔  آپ کو کمالات اربعہ ابداع خلق، تدبیر اور تدلی (تجلی) کی حقیقت اور نفوس انسانیہ کی استعداد کا خصوصی علم عطا کیا گیا۔ مندرجہ بالا دونوں علوم شاہ صاحبؒ سے پہلے کسی عالم کو نہیں دیے گئے اور نہ کسی نے ان پر کما حقہ کلام کیا ہے۔

شاہ صاحبؒ نے دس بادشاہوں کا زمانہ پایا ہے

۱۔ اورنگ زیب عالم گیر
۲۔ شاه عالم بہادر شاه اول
۳۔ معز الدین جہاں دار شاه
۴۔ فرخ سیر 
۵۔ رفیع الدرجات 
۷۔ رفیع الدولہ
۸۔ محمد شاہ رنگیلا
۹۔ احمد شاه
۹۔ عالم گیر ثانی
۱۰۔ شاہ عالم ثانی

دار الحدیث کا قیام

مسلمان بادشاہوں کے دور حکومت میں جبکہ قاضی و مفتی ہونا ہی علماء کے لیے باعث افتخار تھا، فقہ، اصول فقہ، صرف و نحو، منطق و معانی، فلسفہ و تاریخ وغیرہ کو چھوڑ کر بھلا علمِ حدیث و تفسیر کی طرف کون توجہ کرتا۔ شیخ عبد الحق محدث دہلوی الحنفىؒ المتوفی ۱۰۵۲ء نے اپنے طور پر علم حدیث کی ترویج و اشاعت کی، لیکن ان کی آواز ظاہر پرست اور دنیا طلب علماء کے غوغائے بے ہنگام میں دب کر رہ گئی۔ سب سے پہلے باقاعدہ اور منظم طور پر علمِ حدیث و تفسیر کی اشاعت کا نظم مدرسہ رحیمیہ دہلی سے حضرت شاہ ولی اللہؒ کی رہنمائی میں کیا گیا اور باقاعدہ صحاح ستہ اور حدیث کی دیگر مرکزی کتب خصوصاً موطا امام مالکؒ کی تعلیم دی جانے لگی، جس سے تمام برصغیر کے علماء و عوام نے استفادہ کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج برصغیر پاک و ہند اور دیگر قریب کے دیار میں حدیث کا سبق پڑھنے والے طالب علم کی سند حدیث بحیثیت استاد حضرت شاہ ولی اللہؒ تک لازماً پہنچ جاتی ہے۔

مجدد

ہر صدی میں کوئی نہ کوئی مجددِ دین پیدا ہوا ہے، جس نے امت محمدیہؐ کے انسانوں کی رہبری کی ہے اور اسلام کی تبلیغ و نشر و اشاعت کے لیے سر توڑ کوششیں کی ہیں، جس کی پاداش میں انہیں سخت سے سخت مشقتیں اور صعوبتیں برداشت کرنی پڑی ہیں اور قید و بند سے دو چار ہونا پڑا ہے اور طرح طرح کے طعن و تشنیع کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ تو اس لحاظ سے شاہ صاحبؒ بارہویں صدی ہجری کے مجدد ہیں، جنہوں نے مسلمانوں کو ان کا بھولا ہوا سبق یاد دلانے کی ہر ممکن کوشش کی ہے اور اسلام کی سربلندی کی خاطر آخر دم تک سامراج کے مقابلہ میں سینہ سپر رہے۔ برصغیر پاک و ہند میں اسلام کے نام لیوا انہی کی قربانیوں اور کوششوں کی بدولت آج دم مار رہے ہیں۔ شاہ صاحبؒ نے جو گرانقدر تجدیدی کارنامے سرانجام دیے ہیں وہ رہتی دنیا تک امت مسلمہ کے لیے مشعل راہ ہیں۔ شاہ صاحبؒ نے اپنی ذات کے بارے میں اپنی مایہ ناز کتاب ”التفہیمات الالٰہیہ ص ۱۱۰-۱۱۲ ج ۱ میں ”وصی“ اور ”مجدد“ ہونے کا اشارہ فرمایا ہے۔

تدریس

شاہ صاحبؒ نے تفسیر، حدیث، فقہ، اصول فقہ، اصول تفسیر، اصول حدیث، منطق و کلام، سلوک و تصوف، طب و فلسفہ، لغت و معانی، ہندسہ و حساب، علم الحقائق و فن خواص اسماء و آیات اور صرف و نحو عرضیکہ ہر فن کی بیشتر اور مرکزی کتابیں سبقاً سبقاً پڑھیں اور پھر ان میں مکمل دسترس حاصل کی۔ شاہ صاحبؒ کی عمر کے سترھویں سال شاہ عبد الرحیمؒ نے ۱۲ صفر ۱۳۱۱ھ بمطابق ۱۷۱۸ء میں انتقال فرمایا۔ شاہ عبد الرحیمؒ نے مرض الموت کے دوران شاہ صاحبؒ کو بیعت و ارشاد کی اجازت بھی دی اور شاہ صاحبؒ پر مکمل اطمینان اور بھروسہ کرتے ہوئے دو بار یہ جملہ ارشاد فرمایا:
”یدہ کیدی“ (اس کا ہاتھ میرے ہاتھ کی طرح ہے۔)
والد کی وفات کے بعد شاہ صاحبؒ نے کم و بیش بارہ سال تک مدرسہ رحیمیہ کی مسند تدریس کو رونق بخشی اور طلباء و عوام کو علوم وفنون سے روشناس کرایا۔

حج

شاہ صاحبؒ ۱۱۴۳ ھ بمطابق ۱۷۳۱ ھ کو حج و زیارت سے مشرف ہوئے اور تقریباً دو سال حجاز مقدس میں رہے اور رجب ۱۱۴۵ھ بمطابق ۱۷۳۲ء کو اپنے وطن دہلی واپس ہوئے۔ (الجزء اللطیف)
شاہ صاحبؒ نے حج سے واپس آ کر دہلی میں تدریس و تبلیغ، اصلاح و تذکیر کے فرائض تقریباً تہائی صدی انجام دیے۔

وفات

شاہ صاحبؒ کی وفات ۲۹ محرم ۱۱۷۶ھ بمطابق ۱۷۶۲ء کو اکسٹھ سال تین ماہ پچیس دن کی عمر میں ہوئی اور دہلی میں مہندیوں کے قبرستان میں دفن ہوئے۔

تکمیلِ تعلیم

شاہ صاحبؒ نے ظاہری علوم مثلاً تفسیر، حدیث، فقہ، عقائد، کلام، منطق وغیرہ کی تعلیم تو اپنے والد محترمؒ سے پائی تھی، جنہوں نے اکثر کتب اپنے بھائی ابو الرضا محمد المتوفیٰ ۱۰۱۱ھ سے اور کچھ اعلیٰ کتابیں میر زاہد بن قاضی اسلم ہروی المتوفی ۱۱۱۱ھ سے پڑھی تھیں۔ میر زاہد معقولات کے متبحر عالم تھے، لیکن فقہ میں ان کو بہت کم دسترس حاصل تھی۔ شاہ صاحبؒ نے علم حدیث میں سے مشکوٰۃ المصابیح، شمائل النبیؐ اور کچھ حصہ بخاری شریف کا اس دور کے امام محمد افضل المعروف بہ حاجی سیالکوٹیؒ سے پڑھا۔ اس کے بعد شاہ صاحبؒ ۱۱۴۳ء کو حدیث کی تکمیل کے سلسلہ میں حرمین شریفین گئے اور وہاں زیادہ تر مدینہ منورہ میں ہی قیام پذیر رہے اور شیخ ابو الطاہر المدنی الشافعیؒ المتوفی ۱۱۴۵ھ سے حدیث کی تعلیم و اجازت اور جواہر خمسہ کی اجازت حاصل کی۔ شاہ صاحبؒ نے حجاز کے بیشتر محدثین کی خدمت میں زانوئے تلمذ ٹیکا اور حدیث کی اجازت حاصل کی، لیکن شاہ صاحبؒ کا سب سے بڑا استاد جس سے شاہ صاحبؒ کو معنوی مناسبت پیدا ہوئی وہ شیخ ابو الطاہرؒ ہی تھے۔ شیخ ابو الطاہرؒ بھی شاہ صاحبؒ کی تبحر علمی، ذکاوت و شرافت کے معترف تھے۔ چنانچہ وہ فرماتے تھے :
”یسند عنى اللفظ وكنت اصحح المعنى منہ“ (الیانع الجنی)
وہ (شاہ صاحبؒ) ہم سے لفظ کی سند لیتا ہے اور ہم اس سے معنیٰ کی تصحیح کرتے ہیں۔
شیخ ابو الطاہرؒ نے اپنے والد شیخ ابراہیم کردیؒ المتوفی ۱۱۰۱ء سے علمی استفادہ کیا جو کہ شافعی المسلک تھے اور شاہ صاحبؒ زیادہ تر اپنے والد شاہ عبد الرحیمؒ سے مستفید ہوئے جو کہ حنفی المسلک تھے۔ حسن اتفاق سے شیخ ابراہیم کردیؒ اور شاہ عبد الرحیمؒ کی ذہنیت متقارب تھی، کیونکہ دونوں کا سلسلۂ تلمذ جلال الدین دوانیؒ المتوفی ۹۲۸ء تک پہنچتا ہے۔ بنا بریں شاہ صاحبؒ کو شیخ ابو الطاہر مدنیؒ کی صحبت بہت موافق آئی۔ اسی لیے شاہ صاحبؒ شیخ ابو الطاہرؒ کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ
”شیخ ابو الطاہرؒ سلف صالحین کے تمام اوصاف مثلاً تقویٰ، عبادت، علمی شغف اور بحث و تمحیص میں انصاف پسندی سے متصف تھے۔ جب آپ سے کسی مسئلہ کے بارہ میں رجوع کیا جاتا توجب تک پورا غور و فکر اور کتابوں سے اس کی تحقیق نہ کر لیتے۔ آپؒ اس قدر رقیق القلب تھے کہ جب بھی کوئی اس طرح کی حدیث پڑھتے تو آنکھیں پرنم ہو جاتیں۔ لباس وغیرہ میں کوئی تکلف نہ برتتے۔ اپنے تلامذہ اور خدام سے بھی تواضع سے پیش آتے۔‘‘

تصانیف

شاہ صاحبؒ نے اپنے ۲۸ سالہ تصنیفی دور میں گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔ آپ کی تصانیف کی تعداد پچاس سے بھی بڑھی ہوئی ہے، جن کی تفصیل حسب ذیل ہے۔

قرآن کے موضوع پر

فتح الرحمٰن فی ترجمۃ القرآن (فارسی) الفوز الكبیر (فارسی) فتح الخبیر (عربی) فی قوانين الترجمہ (فارسی) تاویل الاحادیث فی رموز قصص الانبياء (عربی)

حدیث کے موضوع پر

المسویٰ شرح موطا (عربی) مصفیٰ شرح موطا (فارسی) اربعون حدیثاً مسلسلۃ بالاشراف فی غالب سندہا (عربی) الدر الثمین فی مبشرات النبی الامینؐ (عربی) النوادر من احادیث سید الاوائل والاواخر (عربی) الفضل المبين فی المسلسل من حديث النبی الامینؐ (عربی) الارشاد الی مہمات علم الاسناد (عربی) تراجم البخاری (عربی) شرح تراجم بعض ابواب البخاری (عربی) انتباہ فی سلاسل اولیا ء الله واسانید وارثی رسول اللهؐ (فارسی)

عقائد و کلام اور فقہ کے موضوع پر

حجۃ اللہ البالغہ (عربی) البدور البازغہ (عربی) انصاف فی بیان سبب الاختلاف (عربی) عقد الجيد فی احكام الاجتہاد والتقلید(عربی) السر المكتوم فی اسباب تدوين العلوم (عربی) قرة العین فی تفضيل الشیخین (فارسی) المقالۃ الوضحیۃ فی النصيحۃ والومیۃ (فارسی) حسن العقيده (عربی) المقدمۃ السنیہ (عربی) فتح الودود فی معرفۃ الجنود (عربی) مسلسلات (عربی) رسالہ عقائد بصورت وصیت نامہ (فارسی) جس کا اردو منظوم ترجمہ سعادت یار خان نے تصنیف رنگین کی صورت میں کیا ہے۔

تصوف کے موضوع پر

التفہیمات الالٰہیہ ( عربی، فارسی) فیوض الحرمین (عربی) القول الجمیل (عرب) ہمعات (فارسی) سطعات (فارسی) لمحات (عربی ) لمعات (فارسی) الطاف القدس (فارسی) ہوامع شرح حزب البحر (فارسی) الخیر الکثیر (عربی) شفاء القلوب (فارسی) كشف العين فى شرح الرباعيتين (فارسی) زہراوین (سورۂ بقرہ وآل عمران کی تفسیر) فیصلہ وحدة الوجود و الشہود (مکتوب مدنی عربی)

سیر و سوانح کے موضوع پر

سرور المحزون (فارسی) ازالۃ الخفاء عن خلافۃ الخلفاء (فارسی) انفاس العارفین (فارسی) اس کتاب میں یہ سات رسالے شامل ہیں: بوارق الولايۃ (فارسی) شوارق المعرفت (فارسی) امداد فی مآثر الاجداد (فارسی) النبذۃ الابريزیۃ فی اللطیفۃ العزيزیۃ (فارسی) العطیۃ الصمديۃ فی الانفاس المحمديہ (فارسی) انسان العین فی مشائخ الحرمین (فارسی) الجزء اللطیف فی ترجمۃ العبد الضعيف (فارسی)

مکتوبات کے سلسلہ میں

مکتوبات مع مناقب ابی عبدالله و فضیلت ابن تیمیہؒ (فارسی) مکتوب المعارف معہ ضمیمہ مکتوب ثلاثہ (فارسی) مکتوبات فارسی مشمولہ کلمات طیبات (از ابو الخیر بن احمد مراد آبادی) مکتوبات عربی مشمولہ حیات ولی (از حافظ رحیم بخش دہلوی) شاہ ولی اللہؒ کے سیاسی مکتوبات (از خلیق احمد نظامی)

نظم کے سلسلہ میں

اطیب النغم فی مدح سید العرب والعجم (عربی) نظم صرف میر (فارسی) دیوان اشعار (عربی ) جمع و ترتیب: شاہ عبد العزیز و شاہ رفیع الدینؒ۔
اس کے علاوہ رسالہ دانش مندی (فارسی) وغیرہ کتب شاہ صاحبؒ کی یادگار ہیں اور شہرہ آفاق کی حامل ہیں اور بعض تذکرہ نگاروں نے شاہ صاحبؒ کی کتب کے سلسلہ میں ان کی کتاب ذکر الیمون اور رسالہ کا بھی ذکر کیا ہے۔ ان کتب کے علاوہ بعض کتب شاہ صاحبؒ کی طرف منسوب ہیں جو حقیقت میں شاہ صاحبؒ کی تصانیف نہیں ہیں، بلکہ بعض فرقوں نے اپنے مفاد کی خاطر وہ کتب شاہ صاحبؒ کی طرف منسوب کی ہیں۔ جیسا کہ قرة العين فی ابطال شہادة الحسین، جنت العالیۃ فی مناقب المعاویۃ، تحفۃ الموحدين، بلاغ المبین، قول سدید، اشاره مستمره، رسائل اوائل اور فیما يجب حفظہ للناظر وغیرہ کتب شاہ صاحبؒ کی طرف منسوب ہیں اور ان میں سے اکثر کتب کو غیر مقلدین نے شاہ صاحبؒ کی طرف منسوب کیا ہے۔

قاتلانہ حملہ

شاہ ولی اللہؒ پہلے بزرگ ہیں جنہوں نے گیارہ سو برس کے بعد سرزمین ہندوستان میں قرآن کا فارسی زبان میں ترجمہ کیا۔ لیکن جب اس کی اشاعت ہوئی تو تہلکہ مچ گیا۔ کٹ ملاؤں نے سمجھ لیا کہ ہماری روزی کی عمارت ڈھا دی گئی، اب جہلاء کبھی قابو میں نہیں آئیں گے اور ہر بات پر بحث کرنے کو تیار ہوجایا کریں گے تو وہ کفر کے فتوے دینے کے بعد شاہ صاحبؒ کے جانی دشمن ہو گئے اور قتل کرنے پر تل گئے۔ ان کے اشارے پر چند بد معاش شاہ صاحبؒ کی تاک میں رہنے لگے۔ اس سازش کا آپ کو وہم و گمان بھی نہ تھا۔
ایک روز شاہ صاحبؒ عصر کی نماز مسجد فتح پوری میں پڑھ رہے تھے۔ ابھی آپ نے سلام پھیرا ہی تھا کہ دروازے پر شور و غل کی آوازیں آنے لگیں۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ آوارہ گردوں کی ایک جماعت حملہ آور ہونا چاہتی ہے۔ شاہ صاحبؒ کے ساتھ فقط چند خدام تھے اور یہ جماعت بڑی تعداد میں تھی۔ شاہ صاحبؒ نے چاہا کہ کھاری باؤلی والے دروازے سے نکل جائیں، مگر انہوں نے اس طرف آ کر گھیر لیا۔ شاہ صاحبؒ کے پاس ایک چھڑی تھی۔ آپ نے حملہ آوروں سے دریافت کیا کہ آخر آپ لوگ میرے قتل کے درپے کیوں ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ تو نے قرآن کا ترجمہ کر کے عوام کی نگاہ میں ہماری وقعت برباد کر دی، اگر یہی حالت رہی تو ہماری آئنده نسلوں کو کوئی ذرہ برابر وقعت نہیں دے گا۔ آپ نے نہ صرف ہمیں برباد کیا ہے بلکہ ہماری اولاد کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ اس پر آپؒ نے فرمایا کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ خدا تعالٰی کی عام نعمت کو چند افراد یا ان کی اولاد کے لیے خاص کر دیا جائے؟ کچھ رد و بدل رہی۔ قریب تھا کہ وہ کوئی بُرا اقدام کریں کہ شاہ صاحبؒ کے خدام نے تلواریں سونت لیں اور وہ اوباش جو اُن ملاؤں کے ساتھ تھے، تلواریں دیکھتے ہی بھاگ کھڑے ہوئے اور آپ سلامت گھر پہنچ گئے۔ (حیاۃ ولی)
شاہ صاحبؒ نے جب قرآن کا ترجمہ کیا تو شیعہ حکام کو بھی یہ بات ناگوار گزری کہ عوام قرآن سے واقف ہوں۔ دہلی میں نجف علی خان کا تسلط تھا جس نے شاہ ولی اللہؒ کے پہنچے اتروا کر ہاتھ بیکار کر دیے تھے تاکہ وہ کوئی کتاب یا مضمون نہ تحریر کر سکیں اور اسی نے مرزا مظہر جان جاناںؒ کو شہید کروا دیا تھا اور شاہ عبد العزیزؒ اور شاہ رفیع الدینؒ کو اپنے قلمرو سے نکال دیا تھا۔

احمد شاہ ابدالی کو حملہ کی دعوت

 جب ہندوستان پر طوائف الملوکی نے اس کا شیرازہ بکھیر دیا تھا تو شاہ صاحبؒ نے احمد شاہ ابدالی کو ہندوستان پر حملہ آور ہونے کی بڑی درد مندانہ اپیل کی تھی اور اس کار خیر میں ہاتھ بٹانے کے لیے دیگر بااثر امراء سے بھی خط و کتابت کی تھی۔ احمد شاہ ابدالی نے پانی پت کی آخری لڑائی میں مرہٹوں کے دانت کھٹے کردیے تھے اور ان کی ساری قوت کو پاش پاش کر کے رکھ دیا تھا۔ شاہ صاحبؒ نے احمد شاہ ابدالی کو لکھا کہ:
”عصر حاضر میں آپ سے زیادہ طاقت ور اور پُرشوکت کوئی اور بادشاہ موجود نہیں۔ آپ پر ہندوستان کی جانب قصد کرنا واجب ہے تاکہ مرہٹوں کی قوت ٹوٹے اور ناتواں مسلمان سکھ کا سانس لیں۔“ (شاہ ولی اللہؒ اور ان کے سیاسی مکتوبات)
اور ایک دوسری جگہ شاہ صاحبؒ احمد شاہ ابدالی کو تحریر فرماتے ہیں کہ
”میں اس سیہ کاری سے خدا کے حضور پناہ مانگتا ہوں جو نادر شاہ سے سرزد ہوئی۔ وہ مسلمانوں کا صفایا کرکے مرہٹوں اور جاٹوں کو زندہ سلامت چھوڑ کر لوٹ مار کر کے چلتے بنے اور نتیجہ میں قوت کفار کو فروغ حاصل ہوا، اسلامی لشکر زیر و زبر ہوا اور سلطنتِ دہلی بازیچۂ اطفال بن کر رہ گئی۔“ (شاہ ولی اللہؒ کے سیاسی مکتوبات)

شاہ صاحبؒ کا مسلک

شاہ صاحبؒ نے خود کو حنفی بتایا ہے۔ اس سلسلہ میں ان کی تصانیف سے چند اقتباسات ملاحظہ فرمائیں :
(۱) ”من جملہ ان کے ایک بڑا مسئلہ تقلید اور عدم تقلید کا ہے۔ اس امت کے تمام وہ علماء جن کو قابل استناد سمجھا جا سکتا ہے اس پر متفق ہیں کہ یہ چار مذہب (حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی) جو آج کل اسلامی دنیا میں مروج ہیں اور ہر ایک مذہب کے مسائل و احکام مدون صورت میں محفوظ اور موجود ہیں ان کی تقلید کرنا جائز ہے۔ اس تعلیم میں کئی ایک مصالح ہیں، خصوصاً آج کے زمانے میں جبکہ ہمتیں بہت ہی پست ہو گئی ہیں، لوگوں پر ہوائے نفسانی کا بھوت مسلط ہے اور ہر ایک اپنی ہی سمجھ اور اپنی ہی رائے پر نازاں ہے۔“ (حجۃ اللہ البالغہ)
(۲) ”جاننا چاہیے کہ ان چاروں مذہبوں کے اختیار کرنے میں ایک بڑی مصلحت ہے اور روگردانی کرنے میں بڑا فساد ہے۔“ (عقد الجيد فی احکام الاجتہاد والتقلید)
(۳) ”مجھ کو پہنچوا دیا رسول اللہﷺ نے کہ حنفی مذہب میں ایک بہت اچھا طریقہ ہے۔ وہ بہت موافق ہے اس طریقۂ سنت سے جو تنقیح ہو ا زمانہ بخاری اور اس کے ساتھ والوں کے۔“ (فیوض الحرمین)
(۴) ”پھر کھلا ایک نمونہ اس سے ظاہر ہوئی کیفیت و تطبیق سنت کے ساتھ فقہ حنفیہ کے اخذ کرنے سے ایک کے قول ثلٰثہ یعنی امام اعظم (ابوحنیفہؒ) اور صاحبین (ابو یوسفؒ و محمدؒ) سے اور کشف ہوئی تخصیص ان کی عمومات کی اور ان کے مقاصد کا وقوف اور اختصار۔“ ( فیوض الحرمین)
(۵) ”جب ایک عامی انسان ہندوستان اور ماوراء النہر میں رہنے والا ہو، جہاں کوئی عالم شافعی اور مالکی اور حنبلی اور ان کی کتب مذہبیہ میسر نہ آ سکتی ہوں تو اس پر واجب ہے کہ صرف حضرت امام ابو حنیفہؒ کے مذہب کی تقلید کرے اور ان کے مذہب سے علیحدہ ہونا اس کے لیے حرام ہے۔ کیونکہ وہ اس وقت شریعت کی رسی ہی اپنی گردن سے اتار کر مہمل بے کار رہ جائے گا۔“ (انصاف فی بیان سبب الاختلاف)
(۶) ایک رسالہ شاہ صاحبؒ نے اپنی آل و اولاد کے لیے بطور وصیت فارسی نثر میں لکھا تھا، جس کا منظوم ترجمہ سعادت یار خان رنگینؔ نے اپنی کتاب ”تصنیفِ رنگین“ کی صورت میں کیا ہے۔ جس کے باب ”بیان رسوماتِ خلق“ میں رنگین صاحب شاہ صاحبؒ کے مسلک کے بارے میں شاہ صاحبؒ کی عبارت کا منظوم ترجمہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں ؎
میرا مذہب ہے مذہب حنفی
 سب پہ روشن ہے یہ جلی و خفی
چاروں مذہب کو جانتا ہوں حق
لیکن بھاتا ہے مجھ کو اس کا نسق
شاہ صاحبؒ کے دھن ہندوستان میں چونکہ فقہ حنفی کو بے حد فروغ حاصل تھا اور شاہ صاحبؒ کے والد اور چچا بھی حنفی مسلک پر کاربند تھے اور ہندوستان کے لوگوں کے دلوں میں فقہ حنفی نے اس قدر ترقی، وسعت اور ہر دلعزیزی حاصل کر لی تھی گویا کہ یہ ان کا قومی مذہب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شاہ صاحبؒ کو بھی بذریعہ الہام یہ بات بتائی گئی کہ وہ فروعات (فقہی مسلک) میں اپنی قوم کی مخالفت نہ کریں۔ ( فیوض الحرمین)
شاہ صاحبؒ چونکہ مجتہد منتسب تھے، اس لیے انہوں نے بعض مسائل میں ترجیح دی۔ جس کو نہ سمجھتے ہوئے بعض نافہم افراد نے ان پر اعتراضات کی بوچھاڑ کر دی۔ حالانکہ ایسی ترجیحات تو توضیحات، تشریحات اور تفہیمات کے سلسلہ میں ہوتی ہیں، نہ کہ عقیدہ و مسلک میں۔ شاہ صاحبؒ کا عقیدہ وہی ہے جو اکابر و اسلاف کا ہے، اس بارے میں شاہ صاحبؒ نے خود تصریح فرمائی ہے۔ فرماتے ہیں:
”آگاہ رہو میں بری اور بیزار ہوں ہر ایسی بات سے جو اللہ تعالیٰ کی کتاب کی کسی آیت کے خلاف ہو یا سنت قائمہ کے خلاف ہو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے یا ان زمانوں کے علماء کے اجماع اور متفق علیہ خیالات کے خلاف ہو جن کی خبر دی گئی ہے اور مسلمانوں کی سواد اعظم یا جس کو جمہور مجتہدین نے اختیار کیا ہو۔ اگر اس قسم کی کوئی چیز میری تصانیف و تحریرات وغیرہ میں آگئی ہو تو وہ غلط ہی قرار دی جائے گی۔ اللہ رحم فرمائے اس پر جو ہم کو ہماری اس کوتاہی سے بیدار کرے گا۔“ (حجۃ اللہ البالغہ)
ظاہر ہے کہ یہ ایک ایسا معیار ہے جس کو کسی طرح نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور گمراہیوں سے بچنے کا یہی طریق ہے۔ اسی اصول پر خود شاہ صاحبؒ کے بعض شذوز کو ترک کیا گیا ہے اور بڑے بڑے علماء، مجتہدین، اصحاب بصیرت کی آراء شاذہ کو رد کر دیا گیا ہے۔ امام ابن ہمامؒ، امام ابن تیمیہؒ، امام قاسم نانوتویؒ اور گذشتہ ادوار کے تمام عبقری اور نابغہ حضرات کی آراءِ شاذہ کو مسلک و مذہب نہیں بنایا گیا۔ ان آراء سے صرف علمی تحقیقی طور پر استفادہ کیا گیا ہے۔

شاہ صاحبؒ کا پروگرام

۱۔ ”وسئلونی ما ذا حكم الله فی هذه الساعۃ قلت فك كل نظام“ ( فیوض الحرمین)
اور لوگوں نے مجھ سے دریافت کیا کہ اس وقت اللہ تعالی کا کیا حکم ہے؟ میں نے جواب دیا: ”تمام نظاموں کو توڑ دیا جائے۔“ یہ شاہ صاحبؒ کا ایک تاریخی خواب ہے۔
۲۔ اس کے بعد سب سے پہلے فکر کو پاک کرنا ضروری ہے، یعنی ایمان اور توحید کا پاکیزہ عقیدہ اختیار کرنا، رسالت اور قیامت پر یقین اوراسی عقیده پرمسکین نوازی کی بنیاد قائم کرنا۔
۳۔ تعلیم کو جبری اور لازمی بنانا۔
۴۔ ارتکازِ دولت کو روکنا۔
۵۔ تعیش کے اسباب کو مٹانا یا کم سے کم کرنا۔
۶۔ تقشف اور رفاہیت بالغہ کو ختم کرنا اور حالت متوسط کا قیام خوراک، رہائش، لباس، صحت، تعلیم کے لیے ایک متوسط حالت قائم کرنا، جس میں ہر طبقہ کے لوگ شریک ہو سکیں۔
۷۔ مال کے جمع اور خرچ کے قانون (حلال و حرام) کی پابندی کرنا۔
۸۔ تعیش والے پیشے اور حرام پیشوں کو ختم کرنا اور ممنوع قرار دینا اور تمام جائز اور مفید پیشوں کی حوصلہ افزائی کرنا اور پیشوں کی صحیح تقسیم کرنا۔
۹۔ اپنی جائز ضروریاتِ زندگی سے زائد اثاثہ، جائیداد اور مال کو رفاہ عامہ کے کاموں پر خرچ کرنے کے لیے جماعت کے نام منتقل کرنا۔
۱۰۔ جدید دنیا نے جن چیزوں میں مادی لحاظ سے ترقی کی ہے، اپنے ماحول اور حالات کے مطابق ان سے استفادہ کرنا۔
۱۱۔ مسلمانوں میں جب تک جہاد کا جذبہ رہا وہ ہر میدان میں غالب و فاتح رہیں گے۔ (حجۃ اللہ البالغہ)
امام ولی اللہؒ کے پیش کردہ نظام اجتماعیت و اقتصادیات، معاشیات یا نظامِ اخلاق و سیاسیات سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ شاہ صاحبؒ کے تمام فلسفہ کو پیش نظر رکھا جائے۔ صرف بعض چیزوں کو اختیار کر لینے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ شاہ صاحبؒ نے تمام انبیاءؑ کے آسمانی شرائع کو بالعموم اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کو اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب قرآن کریم اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ثابتہ اور اجتماعیات و سیاسیات میں خلفاءِ راشدینؓ کو مثال کے طور پر پیش کیا ہے اور اس پورے نظام کو شاہ صاحبؒ نے اپنی مایہ ناز کتب ازالۃ الخفاء، الخیر الكثیر، بدور بازغہ میں اور سب سے مکمل طریق پر تمام نظام کو حجۃ اللہ البالغہ میں پیش کیا ہے جو کہ سراسر زیادتی ہے۔ شاہ صاحبؒ نے قرآن و سنت، صحابہ کرامؓ و محدثین کے فرمان و ارشادات کے مطابق جو کامل نظام پیش کیا ہے یہ انسانی زندگی کے ہر ہر شعبہ پر محیط ہے، خواہ معاشرتی ہو یا اقتصادی، معاشی ہو یا سیاسی، اخلاقی ہو یا انقلابی، انفرادی ہو یا اجتماعی، غرضیکہ ہر پہلو اجاگر کرتا ہے۔
کارل مارکس کا نظام جسے غریب نوازی اور مسکین پروری کا نظام خیال کیا جاتا ہے اور جو اپنی ناکامی کی منزلوں کو چھو رہا ہے، جس کا عینی ثبوت روس میں اس کی ریاستوں کا آزاد ہونا ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ شاہ صاحبؒ کا نظام اس نظام کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے اور یہ مغربی جمہوری نظام ہے اور شاہ صاحبؒ اس کے داعی ہیں۔ حالانکہ یہ بالکل غلط ہے، کیونکہ کارل مارکس مئی ۱۸۱۸ء میں پیدا ہوا اور ۱۸۸۳ء میں فوت ہوا۔ اس کا اشتراکی مینی فیسٹو ۱۸۴۷ء میں شائع ہوا اور اس کی قائم کردہ پہلی انٹرنیشنل کانفرنس کا اجلاس ۱۸۶۴ ء میں منعقد ہوا، جس پر اس کے پروگرام کا پہلی مرتبہ تعارف کرایا گیا۔ اس حساب سے شاہ صاحبؒ پہلی انٹرنیشنل سے ایک سو دو سال پیشتر اور مارکس کے اعلانِ اشتراکیت کی اشاعت سے پچاسی برس قبل وصال فرما چکے تھے۔ پھر کیونکر شاہ صاحبؒ کا پیش کردہ نظام اشتراکی نظام سے مطابقت رکھ سکتا ہے اور شاہ صاحبؒ اس کے داعی ہو سکتے ہیں؟ اللہ تعالٰی ہم سب کو صحیح سمجھ نصیب فرمائے، آمین۔

خصائصِ نبوت

پروفیسر عبد الرحیم ریحانی

خصائصِ نبوت سے مراد وہ امتیازی خصوصیات ہیں جو اللہ رب العزت نے ختم الرسل حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور خاص مرحمت فرمائی ہیں۔ ان میں سے بعض وہ ہیں جو آپ کو سابقہ انبیاءؑ سے ممیز کرتی ہیں اور بعض وہ جو آپ کو امت مسلمہ سے ممتاز کرتی ہیں۔ مختلف احادیث صحیحہ میں ان کا ذکر موجود ہے۔ ہم اجمالاً ان کو بیان کرتے ہیں:
★صحیحین میں ایک روایت حضرت انسؓ سے مروی ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
”اقیموا صفوفکم و تراصوا فانی ارکم من وراء ظهری“
”اپنی صفوں کو سیدھا کرو اور قریب ہو کر کھڑے ہوا کرو۔ بے شک میں تم کو اپنی پشت کے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں۔“
★ بخاری ومسلم میں ایک اور روایت بھی حضرت انسؓ سے مروی ہے، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
”رکوع اور سجود کو قائم کرو، یعنی صحیح ادا کرو۔ پس اللہ کی قسم ہے میں تم کو اپنے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں۔“
★ ایک روایت میں آنحضرت ﷺ نے تواصل (مسلسل نفلی روزے بغیر افطاری کے رکھنا) سے منع فرمایا تو صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ خود تو ایسے مسلسل روزے رکھتے ہیں تو ارشاد فرمایا:
”ایکم مثلی ابیت عند ربی ھو یطعمنی و یسقین“
”تم میں سے کون ہے جو مجھ جیسا ہے؟ میں اپنی راتوں کو اپنے رب کے پاس گزارتا ہوں۔ وہ مجھے کھلاتے بھی ہیں اور پلاتے بھی۔“
★ حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے پانچ فضیلتیں ایسی عطا کی گئیں جو مجھ سے پہلے کسی کو عطا نہیں کی گئیں:
(۱) ایک ماہ کی مسافت سے رعب کے ساتھ مدد کیا گیا ہوں۔
(۲) میرے لیے ساری زمین مسجد اور پاکیزہ بنادی گئی ہے۔ میری امت میں سے جس پر نماز کا وقت آجائے وہ نماز پڑھ لے۔
(۳) میرے لیے غنائم (مال غنیمت) حلال کر دی گئیں، مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں ہوئی۔
(۴) مجھے حقِ شفاعت عطا کیا گیا ہے۔
(۵) پہلے نبی کسی خاص ایک قوم کی طرف مبعوث ہوتے تھے اور میں سب لوگوں کی طرف مبعوث ہوا ہوں۔
(۶) مسلم کی ایک روایت میں جوامع الکلم کا ذکر بھی موجود ہے، یعنی اللہ رب العزت نے مجھے مختصر مگر جامع بات کہنے کی استعداد نصیب فرمائی ہے۔
★ ترمذی اور دارمی میں ایک روایت ابن عباسؓ سے مروی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
”خبردار! میں اللہ کا حبیب ہوں، فخر سے نہیں کہتا۔ قیامت کے دن حمد کا جھنڈا اٹھانے والا ہوں اور فخر سے نہیں۔ آدمؑ اور دوسرے نبیؑ اس کے نیچے ہوں گے اور میں پہلا سفارش کرنے والا ہوں اور پہلا ہوں جس کی سفارش قبول کی گئی ہے اور فخر سے نہیں کہتا۔ اور میں پہلا ہوں جو جنت کے حلقے ہلاؤں گا، میرے لیے وہ کھولے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ مجھے اس میں داخل فرمائیں گے۔ میرے ساتھ فقراء مومن ہوں گے، میں فخر سے نہیں کہتا۔ میں اگلوں اور پچھلوں سے اللہ کے نزدیک معزز ترین ہوں، فخر سے نہیں کہتا۔“
★ بخاری اور مسلم کی ایک روایت میں ہے جس کے راوی حضرت ابو ہریرہؓ ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
”نبیوں میں سے کوئی نبی ایسا نہیں مگر اس کو اسی قدر معجزات عطا کیے گئے ہیں جس قدر لوگ اس پر ایمان لائے ہیں۔ میں جو دیا گیا ہوں وہ وحی ہے جو اللہ تعالیٰ نے میری طرف کی ہے۔ میں امیدوار کرتا ہوں کہ قیامت کے دن سب نبیوں سے زیادہ میرے تابعدار ہوں گے۔“
★ ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
”میری اور انبیاء کی مثال اس طرح سمجھو کہ ایک محل ہے، جس کی تعمیر نہایت عمدہ ہے۔ ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی گئی ہے۔ دیکھنے والے اس کے گرد گھومتے ہیں۔ اس کی عمدہ تعمیر سے متعجب ہوتے ہیں۔ مگر اس ایک اینٹ کی جگہ کی کمی محسوس کرتے ہیں۔ میں نے اس اینٹ کی جگہ پُر کر دی ہے۔ میرے ساتھ عمارت مکمل کر دی گئی ہے اور میرے ساتھ رسول ختم کر دیے گئے ہیں۔“ ایک روایت میں ہے کہ وہ اینٹ میں ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔“
★ اللہ رب العزت اپنے خاص لطف وکرم سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جنت کا سب سے اعلیٰ مقام یعنی مقام محمود عطا فرما دیں گے۔ یہ بات بھی خصائصِ نبوت میں سے ہے۔ اس کا ذکر قرآن حکیم میں بھی ہے:
”ومن اللیل فتھجد بہ نافلۃ لک عسی ان یبعثک ربک مقاما محمودا“
اذان کے بعد دعا میں بھی اللہ رب العزت کے اس وعدے کا ذکر موجود ہے۔ ”وابعثہ مقاما محمود ن الذی وعدتہ“ یعنی اے اللہ! آنحضرت صلی اللہ علیہ سلم کو وہ مقام محمود عطا فرما جس کا آپ نے ان سے وعدہ کیا ہے۔
★ ابوداؤد، نسائی اور ابن ماجہ کی ایک روایت میں ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ
”جمعہ کے دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو، اس لیے کہ جمعہ کا دن … کیا گیا ہے۔ اس دن فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور جو شخص بھی مجھ پر درود بھیجتا ہے وہ مجھ پر پیش کیا جاتا ہے، حتیٰ کہ وہ اس سے فارغ ہوتا ہے۔“ ابو درداءؓ کہتے ہیں کہ میں نے سوال کیا کہ کیا فوت ہونے کے بعد بھی آپ پر درود پیش کیا جاتا ہے؟ فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے زمین پرحرام کیا ہے کہ وہ انبیاءؑ کے اجسام کو کھائے۔ اللہ کے نبی زندہ ہیں اور ان کو رزق دیا جاتا ہے۔“
★ آپﷺ کا یہ فرمان بھی خصائص نبوت میں سے ہے:
”نحن الاٰخرون من اھل الدنیا والاولون یوم القیامۃ“
”یعنی ہم اہل دنیا میں سے آخری اور قیامت کے دن اول ہوں گے۔“
★ واقعۂ معراج بھی خصائصِ نبوت میں سے ہے۔ رات کے مختصر سے حصے میں مکہ سے مدینہ، مدینہ سے طور سینا اور طور سینا سے بیت اللحم جملہ انبیاء علیہم السلام کی جماعت، پھر سیڑھی کے ذریعہ آسمانوں کی طرف روانگی، آسمان اول مشاہدات کا مرکز بنا، برزخی زندگی کی کیفیات اور جہنم کا مشاہدہ، آدمؑ سے ملاقات، اسی طرح مختلف آسمانوں پر مختلف انبیاءؑ سے ملاقاتیں، ساتویں آسمان پر حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملاقات اور جنت کا مشاہدہ اور بیت المعمور پر فرشتوں کے طواف اور عبادت کا منظر، دیدارِ الٰہی، پھر شرف ہم کلامی، نمازوں کا تحفہ اور واپسی اور واقعات کی تصدیق بزبان ابو بکرؓ وغیرہ۔
★ حوض کوثر کا بیان بھی خصائص نبوت میں سے ہے۔ بخاری شریف میں ہے، حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ: 
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ایک مرتبہ میں جنت سے گزرا۔ اچانک میرا گزر ایک نہر پر ہوا، جس کے کنارے اندر سے خالی موتیوں سے بنے ہوئے تھے۔ میں نے کہا: اے جبرائیل! یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: یہ حوض کوثر ہے، جو آپ کے رب نے آپ کو عطا کیا ہے۔ اس کی مٹی مشک سے زیادہ خوشبو دار ہے۔“
ایک اور روایت میں ہے، فرمایا: 
”میرا حوض ایک مہینہ کی سیر کی مسافت ہے۔ اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید ہے۔ اس کی خوشبو مشک سے زیادہ ہے۔ اس کے آبخورے آسمان کے ستاروں کی مانند ہیں۔ اس میں سے جو ایک مرتبہ پیے گا اسے کبھی پیاس نہیں لگے گی۔“
ایک روایت میں ہے کہ صحابہ کرامؓ نے سوال کیا: ”اے اللہ کے رسول! اس روز آپ ہم کو پہچان لیں گے؟“ فرمایا: ”ہاں، تمہاری ایسی علامت ہوگی جو کسی امت کی نہیں ہو گی۔ تم میرے پاس سفید پیشانی اور سفید ہاتھ لے کر آؤ گے جو وضو کی نورانیت کے سبب ہوگا۔“
★ بخاری اور مسلم کی ایک طویل حدیث جو باب الشفاعۃ سے متعلق ہے، اس کے ابتدائی حصے کا تعلق بھی خصائص نبوت سے ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ 
”دوزخ کے درمیان پل صراط قائم کر دی جائے گی۔ رسولوں میں سے سب سے پہلے میں اپنی امت کو لے کر پل صراط کو عبور کروں گا۔“
حدیث مبارکہ میں ہے کہ قیامت کے دن ہر نبی کی زبان پر ”اللہم سلم سلم“ کے الفاظ ہوں گے، جبکہ آنحضرت ﷺ کی زبان مبارک پر ”یا رب امتی امتی“ کے الفاظ ہوں گے۔
★ قرآن حکیم کی وہ آیت بھی خصائص نبوت میں ہے جس میں اس بات کا ذکر ہے کہ ہم نے تمام سابقہ انبیاء سے اس بات کا عہد لیا تھا کہ اگر تم میں سے کسی کی زندگی میں میرے آخری پیغمبر حضرت محمد مصطفیٰﷺ تشریف لے آئیں تو تمہیں ان کی تصدیق کرنی ہوگی، ان پر ایمان لانا ہوگا اور ان کی مدد کرنی ہوگی۔

ملک کا موجودہ سیاسی ڈھانچہ اور نفاذِ شریعت

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اسلامک کونسل برائے ایشیا نے ۱۰، ۱۱ نومبر کو ڈریم لینڈ ہوٹل اسلام آباد میں نفاذِ شریعت سے متعلقہ مسائل و مشکلات پر غور و خوض کے لیے سرکردہ علماء کرام اور دانشوروں کا ایک مشاورتی اجتماع منعقد کیا جس میں شرکت کی دعوت راقم الحروف کو بھی موصول ہوئی۔ پہلے سے طے شدہ کچھ پروگراموں کے باعث اجتماع میں شرکت تو نہ ہو سکی البتہ زیر بحث امور کے بارے میں تحریری گزارشات کونسل کے سیکرٹری جنرل جناب خالد خواجہ کو مندرجہ ذیل عریضہ کے ذریعہ بھجوا دی گئیں (مدیر):

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
بگرامی خدمت جناب خالد خواجہ صاحب
سیکرٹری جنرل اسلامک کونسل برائے ایشیا، اسلام آباد
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔ مزاج گرامی؟
پاکستان میں نفاذِ شریعت کے عمل کے جائزے اور مستقبل کی حکمتِ عملی پر غور و خوض کے سلسلہ میں ۱۰، ۱۱ نومبر ۱۹۹۱ء کو اسلام آباد میں منعقد ہونے والے علماء کرام اور دانشوروں کے مشاورتی اجتماع میں شرکت کا دعوت نامہ موصول ہوا، یاد آوری و کرم فرمائی کا تہہ دل سے شکریہ! پہلے سے طے شدہ کچھ ضروری پروگراموں کے باعث اجتماع میں حاضری مشکل ہے، البتہ زیر بحث امور کے بارے میں چند گزارشات تحریری طور پر ارسال کر رہا ہوں، آئندہ کبھی موقع ہوا تو مشاورت میں براہ راست شرکت کی سعادت بھی حاصل کروں گا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔

(۱) موجودہ قانون سازی / دستور سازی میں پائی جانے والی خامیاں اور ان کا تدارک

ملک میں اب تک نافذ ہونے والے دساتیر میں اسلامائزیشن کے حوالہ سے جو پیشرفت ہوئی ہے اور نفاذِ اسلام کے حوالہ سے اس وقت تک جو قانون سازی ہوئی ہے، اس سارے عمل کو سامنے رکھتے ہوئے ایک بات پورے شرح صدر کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ ’’قرارداد مقاصد‘‘ سے لے کر ۱۹۷۳ء کے دستور کی اسلامی دفعات تک جتنی اسلامی شقیں مختلف دساتیر میں شامل ہوئی ہیں، کسی بھی دستور ساز اسمبلی کا اندرونی ماحول اور داخلی جذبہ ان دفعات کا محرک نہیں بنا، بلکہ ہمیشہ خارجی دباؤ کی بنا پر ہی انہیں شاملِ دستور کیا جاتا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسی دفعات کبھی بھی عملی، مؤثر اور ثمر آور دستوری دفعات کی حیثیت حاصل نہیں کر سکیں۔ یہی حال قانون سازی کے مختلف مراحل کا بھی ہے۔
اس لیے ہمیں سب سے پہلے اپنے ملک میں قائم ہونے والی دستور ساز اور قانون ساز اسمبلیوں کا اسلامائزیشن کے عملی تقاضوں کے پس منظر میں تجزیہ کرنا ہو گا۔ کیونکہ اسلامائزیشن کے لیے سازگار داخلی ماحول اور اندرونی جذبہ سے سرشار قانون ساز اسمبلی جب تک وجود میں نہیں آتی، خارجی دباؤ کے تحت کسی اسمبلی کی منظور کردہ کوئی بظاہر اچھی سے اچھی دفعہ بھی ملک میں نفاذِ اسلام کی محکم بنیاد نہیں بن سکتی۔
اس پس منظر میں اب تک تشکیل پانے والی دستور ساز اور قانون ساز اسمبلیوں کا جائزہ لیا جائے تو ان میں تین بنیادی خامیاں نظر آتی ہیں، جن کے باعث ایک صحیح اسلامی اسمبلی کا کردار حاصل کرنے میں ان میں سے کسی کو بھی کامیابی نہیں ہوئی:
  1. اسمبلی کی رکنیت کے لیے تعلیمی اہلیت کا کوئی معیار مقرر نہیں ہے۔ اور پارلیمنٹ میں پہنچنے والے اس شخص کے لیے، جسے دستور میں ترمیم کا اختیار حاصل ہے، جو قانون سازی کے اختیار سے بہرہ ور ہے، اور جس کے بارے میں یہ تقاضہ کیا جا رہا ہے کہ شرعی قوانین میں اس کے لیے اجتہاد کا حق تسلیم کیا جائے، اس کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ اردو عبارت لکھ پڑھ سکتا ہو، قرآن کریم سادہ ترجمہ کے ساتھ اس نے پڑھ رکھا ہو، اور قانون سازی کے مفہوم اور بنیادی تقاضوں سے اسے آگاہی حاصل ہو۔ یہ انتہائی ستم ظریفی اور قانون سازی کے عمل کے ساتھ کھلا مذاق ہے کہ اس اسمبلی کے عملہ میں ایک معمول چپراسی کے لیے تو تعلیم اور تجربہ کا ایک معیار مقرر ہے لیکن خود اسمبلی کے رکن کے لیے کسی سطح کی کوئی تعلیم ضروری نہیں ہے۔
  2. موجودہ طریقِ انتخاب انتہائی غلط ہے اور اس کے ذریعہ کسی نظریاتی، باشعور اور مطلوبہ صلاحیتوں سے بہرہ ور شخص کے لیے اسمبلی تک پہنچنا سرے سے ناممکن ہے۔ برادری، دھڑے، دولت، اسلحہ، غنڈہ گردی اور دھاندلی کے ذریعے جو لوگ پارلیمنٹ تک پہنچ پاتے ہیں یا پہنچ سکتے ہیں ان سے بدعنوانی، لوٹ کھسوٹ اور ہارس ٹریڈنگ کے سوا کسی اور عمل کی توقع ہی فضول ہے۔
  3. اسلامائزیشن کے لیے دستور سازی اور قانون سازی کا اب تک کا عمل مسلسل تضادات کا شکار ہے اور ان تضادات پر پردہ ڈالنے کے لیے ہم نے منافقت کا نقاب اوڑھ رکھا ہے۔ ایک طرف ہم جمہوریت کے نام پر اس نوآبادیاتی نظام سے چمٹے ہوئے ہیں جو برطانوی استعمار سے ہمیں ورثہ میں ملا ہے۔ اس نظام کے عدالتی، قانونی، معاشرتی، معاشی اور انتظامی ڈھانچوں میں ہم سرِمو عملی تبدیلی کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اور برطانوی استعمار کے چھوڑے ہوئے نظام پر شریعت کی خوشنما چادر ڈال کر ہم نفاذِ اسلام کا ثواب اور اعزاز بھی حاصل کرنے کے درپے ہیں۔ 
اس دو عملی اور تضاد نے ہمیں فکری اور اخلاقی طور پر تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ آخر ہمارے پاس اس تضاد کا کیا جواز ہے کہ
  • اللہ تعالیٰ کی بلا شرکت غیرے حکمرانی کی ضمانت دینے والی قراردادِ مقاصد بھی آئین کا حصہ ہے، اور اللہ تعالیٰ سے جنگ کے مترادف سود کو بھی اسی آئین نے تحفظ دیا ہوا ہے۔
  • دستور میں یہ ضمانت دی گئی ہے کہ پارلیمنٹ قرآن و سنت کے منافی کوئی قانون سازی نہیں بنا سکے گی، لیکن اسی دستور میں عائلی قوانین جیسے قرآن و سنت کے صریح منافی قوانین کو بھی تحفظ حاصل ہے۔
  • پارلیمنٹ ایک بل منظور کرتی ہے کہ قرآن و سنت ملک کا سپریم لاء ہوں گے، لیکن اس کے ساتھ ملک کے سیاسی نظام اور حکومتی ڈھانچے کو اس سے مستثنیٰ کرنے کی شرط بھی عائد کر دیتی ہے۔
یہ اور ان جیسے دیگر تضادات اسلامائزیشن کے حوالہ سے دستور سازی اور قانون سازی کے عمل میں ہمارے اجتماعی تشخص اور علامت کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ اور ان تضادات سے گلو خلاصی کرائے بغیر نفاذِ اسلام کی کوئی بھی کوشش خود فریبی کے سوا کچھ حقیقت نہیں رکھتی۔ اس لیے ہمارے خیال میں یہ ضروری ہے کہ
  1. دینی حلقوں کا ایک مشترکہ بورڈ پورے دستور کا تفصیلی مطالعہ کر کے تضادات کی نشاندہی کرے۔ اور دستور کو مکمل اسلامی حیثیت دلوانے کے لیے واضح، دوٹوک اور مکمل آئینی ترامیم مرتب کر کے ان کی منظوری کے لیے فیصلہ کن جدوجہد کی جائے۔
  2. موجودہ طریق انتخاب کی تبدیلی کی منظم جدوجہد کی جائے اور ارکان اسمبلی کی اہلیت کا تعلیمی و اخلاقی معیار مقرر کرنے کے ساتھ متناسب نمائندگی کی بنیاد پر انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا جائے اور اس کے لیے جدوجہد کی جائے۔

(۲) قانون سازی کے لیے وفاقی شرعی عدالت اور اسلامی نظریاتی کونسل کا مؤثر استعمال

اس ضمن میں گزارش یہ ہے کہ یہ دونوں ادارے اس حد تک ضرور مفید ہیں کہ وہ کسی قانون کی غیر اسلامی حیثیت کا تعین کر دیں، یا کونسل کے فورم سے مطلوبہ اسلامی قوانین کے مسودات مرتب کر کے پیش کر دیے جائیں۔ اس کے علاوہ موجودہ حالات میں ان اداروں کی افادیت کا اور کوئی عملی پہلو نہیں ہے۔ اور اپنے دائرے میں یہ دونوں ادارے اب تک خاصا مؤثر کام کر چکے ہیں، اصل مرحلہ ان کے فیصلوں کو دائرۂ عمل میں لانے کا ہے جس میں ان کا کردار ایک خاموش اور بے بس تماشائی کا رہ جاتا ہے۔

(۳) علماء اور دینی اداروں کے درمیان مؤثر رابطے کی ضرورت اور طریق کار

اسلامائزیشن کے عمل کی اصل اور بنیادی ضرورت یہی ہے لیکن بدقسمتی سے اسی ضرورت کا احساس دینی حلقوں میں سب سے کم پایا جاتا ہے۔ مختلف مکاتب فکر کے جو ادارے دینی و علمی بنیادوں پر کام کر رہے ہیں ان کی ترجیحات کی فہرست میں نفاذِ شریعت کے عمل کو آخری نمبر کا درجہ بھی حاصل نہیں ہے۔ اور جو دینی جماعتیں نفاذِ اسلام کے نعرہ پر قومی سیاست میں سرگرمِ عمل ہیں وہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کی بجائے مسابقت کے جذبہ کا شکار ہیں۔ اور اس مسابقت میں وہ اس حد تک آگے بڑھ چکی ہیں کہ اب دینی سیاسی جماعتوں کا مصرف مختلف سیاسی اتحادوں کے سٹیجوں کو رونق بخشنے اور سیاسی اکھاڑ پچھاڑ میں کسی نہ کسی کے حق میں استعمال ہونے کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔
ان حالات میں ہماری تجویز یہ ہے کہ مختلف مکاتب فکر کے دینی مدارس کے جو وفاق کام کر رہے ہیں، وہ انتخابی سیاست سے الگ رہتے ہوئے نفاذِ اسلام کے فکری کام اور اس کے لیے رائے عامہ کی ہمواری کو اپنے مقاصد میں شامل کریں اور تمام وفاقوں کا ایک مشترکہ بورڈ قائم کر کے اس کے ذریعے اس کام کو آگے بڑھایا جائے۔

(۴) موجودہ سیاسی نظام / ریاستی ڈھانچے کو نفاذِ اسلام کے لیے کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے؟

ہمارے خیال میں ملک کے دینی حلقوں نے اسی خوش فہمی میں چوالیس سال کا عرصہ ضائع کر دیا کہ موجودہ ریاستی ڈھانچے سے اسلامائزیشن کا کوئی کام لیا جا سکتا ہے، ہم فریب خوردگی کے اس دائرہ سے جتنا جلدی نکل سکیں بہتر ہو گا۔
والسلام
ابوعمار زاہد الراشدی
مدیر ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ

پروفیسر یوسف جلیل کی دنیائے نحو و منطق

مولانا رشید احمد

راولپنڈی کے بزرگ عالم مسیحیت پروفیسر یوسف جلیل نے مسیحی جریدہ ”کلام حق“ گوجرانوالہ بابت ماہ اکتوبر ۱۹۸۹ء میں زیر عنوان ”جعلی انجیل بربناس۔ استفسارات“ کچھ بے پر کی اُڑائی تھیں جن کا جواب راقم نے ماہنامہ ”المذاہب“ لاہور اگست ۱۹۹۰ء میں اختصاراً دیا اور الف لام کے بارے میں پروفیسر مذکور کے غایت درجہ کے سقیم خیالات کی اصلاح کی۔ لیکن صد افسوس کہ پروفیسر صاحب نے نہ صرف اپنی ”دنیائے نحو“ میں بند رہنے پر اصرار کیا، بلکہ علم نحو کی اس معروفِ عام بحث پر از روئے منطق اعتراضات پیش کر کے خلط مبحث کی قابلِ دید نمائش کی۔ (دیکھئے کلام حق، دسمبر ۱۹۹۰ء، ص ۱۲، بعنوان ”المسیح“)
ہمارا مقصد علماء مسیحیت کی روش کو واضح کرنا ہے کہ کس طرح وہ جہل مطلق کے باوصف علمیت کی اعلیٰ مسانید پر فائز ہونے کے مدعی ہوتے ہیں۔ پروفیسر مذکور لکھتے ہیں:
”علم النحو کی مشہور و معروف کتاب کا فیہ میں مولانا رشید احمد کی الف لام جنسی، الف لام عہد ذہنی، الف لام عہد خارجی کا کہیں ذکر نہیں، نہ اس کتاب میں کہا گیا ہے کہ الف لام ہوتا ہی تعریفی ہے، نہ اس میں الف لام استغراقی کو کثیر الافراد کہا گیا ہے اور پھر علامہ زمحشری کی المفصل میں بھی کہیں یہ امور بیان نہیں ہوئے جو مولانا رشید احمد نے بیان کیے ہیں۔“ (کلام حق، دسمبر ۱۹۹۰ء، ص ۱۲)

الجواب

علم النحو عربیت کا سب سے دقیق اور مشکل فن ہے، لیکن پروفیسر صاحب جو اغلباً اس فن کے باقاعدہ طالب بھی نہیں رہے، صرف کافیہ اور المفصل دیکھ کر ہی اپنے آپ کو ”اہل رائے“ خیال کر بیٹھے۔ ہم یہاں اختصاراً اس کا ثبوت کتبِ نحو سے پیش کرتے ہیں، تاکہ پروفیسر صاحب اپنی ”دنیائے نحو“ سے باہر بھی کچھ دیکھ سکیں۔

۱۔ الف لام

ابتدائی تقسیم کے لحاظ سے لام تعریف یا جنس کے لیے ہو گا یا عہد کے لیے۔ زمحشری ”المفصل“ میں لکھتے ہیں:
”فاما لام التعريف فهی اللام الساكنة التی تدخل على الاسم المنكور فتعرفه تعريف جنس كقولك اھلك الناس الدینار و الدرهم و الرجل خیر من المرأة أى هذان الحجران المعروفان من بين سائر الاحجار وهذا الجنس من الحيوان من بين سائر اجناسه أو تعريف عھد كقولك ما فعل الرجل وانفقت الدرهم فرجل و درهم معهودين بینک وبين مخاطبك“ (المفصل، بحث اللامات، لام التعريف)
پھر نحاۃ متاخرین نے لام جنس اور لام عہد ہر دو کی دو دو اقسام بتائی ہیں کہ تعریف یا ماہیت جنس کے لیے ہوگی یا استغراق افرادِ جنس کے لیے۔ ثانی کو لام استغراق کہا جاتا ہے اور لام عہد میں معہود یا ذہن میں ہو گا یا خارج میں، اول کو لام عہد ذ ہنی اور ثانی کو لام عہد خارجی کہتے ہیں۔ ابن عقیل لکھتے ہیں:
”والألف واللام المعرفة تكون للعهد كقولك لقيت رجلاً فاكرمت الرجل وقوله تعالى کما ارسلنا الى فرعون رسولا فعصى فرعون الرسول ولاستغراق الجنس نحو ان الانسان لفى خسرو علامتها ان يصلح موضعها ”كل“ ولتعريف الحقيقة نحو الرجل خير من المرأة اى هذه الحقيقة خير من هذه الحقيقة“ (شرح الفیہ ابن مالك، ص۵۵)
شرح ملا جامی میں ہے:
”وما عرف باللام العهدية او الجنسية او الاستغراقية (بحث العرفة)
ملا عبد الغفور اپنے مشہورو معروف حاشیہ میں اس عبارت کے ذیل میں لکھتے ہیں:
”فاللام فيه اما لتعريف الجنس نحو اهلك الناس الدينار و الدرهم واما لتعريف استغراق الجنس كقوله تعالى ان الانسان لفی خسر الا الذين أمنوا واما للعهد بان يذكر منكور ثم يعاد المنكور معرفاً کقوله تعالیٰ کما ارسلنا الى فرعون رسولاً فعصی فرعون الرسول اوبان یکون فی الذهن كقولك ادخل السوق اذا كان معهودة بينك وبين مخاطبك۔“
 شارح شرح جامی عبداللہ آفندی اسی مقام پر لکھتے ہیں:
”الف لام کی چار قسمیں ہیں۔ لام جنس، لام استغراق، لام عہد خارجی اور لام عہد ذہنی۔ 
لام جنس وہ ہے جو نفیس جنس اور اس کی ماہیت پر دلالت کرے، جیسے ”الرجل خير من المرأة“ 
لام استغراق وہ ہے جو افراد کے احاطہ پر دلالت کرے اور کوئی فرد اس سے مستثنیٰ نہ ہو، جیسے ”ان الانسان لفی خسر“ 
لام عہد خارجی وہ ہے جو خارج میں کسی معین چیز پر دلالت کرے، جیسے ”جاءنی رجل فاکرمت الرجل“ 
لام عہد ذہنی وہ ہے جو ذہن میں معین کسی چیز پر دلالت کرے، جیسے مالک غلام کو کہے: ”ادخل السوق واشتر اللحم“
بعض نحاة مثلاً عصام (تلمیذ جامیؒ) نے یہاں الگ راہ نکالی ہے۔ ان کے نزدیک تقسیم اس طرح ہے۔ یاتو تعریف سے اشارہ مفہوم لفظ ( جس پر الف لام داخل ہوا ہے) کی طرف ہوگا یا مفہوم لفظ کی کسی قسم کی جانب، ثانی کو وہ لام عہد خارجی کا نام دیتے ہیں۔ پھر اول میں یا تو اشارہ نفس جنس کی طرف ہوگا تو اس کو لام حقیقت کہتے ہیں یا با عتبار فرد کے، اس صورت میں اگر فرد غیر معین ہو تو لام عہد ذہنی ہے اور اگر ہر ہر فرد کے اعتبار سے ہو تو لام استغراق ہوگی۔ (دیکھئے حاشیہ شرح جامی، بحث الکلمۃ)
اس تفصیل کے ذکر کرنے سے یہ مقصود ہے کہ جزوی اختلاف کے بعد علماء نحو نے ہماری ذکر کردہ اقسام کو تسلیم کیا ہے اور کہیں بھی اس کا رد نہیں کیا۔ نیز پادری صاحب کی تقسیم کا کوئی بھی قائل نہیں، بلکہ انہوں نے لام مطلق کو مقسم بنا کر لام تعریف کو لام عہد ذہنی و۔ ۔ ۔ استغراق کا قسیم بنانے، لام جنس وعہد خارجی کے انکار اور لام استغراق کے کثیر الافراد ہونے سے انکار پر مشتمل جو عجیب ڈھانچہ بنایا ہے وہ نحاۃ کے ہاں بدعت سیئہ قبیحہ ہے۔ ذالک مبلغہم میں العلم۔ اگر پروفیسر کے پاس کوئی فنی استناد موجود ہے تو وه پیش کریں، دیده باید۔

۲۔ علم المنطق

علم النحو اور علم المنطق اپنے دائرہ کار، موضوع و مباحث کے لحاظ سے دو الگ الگ فن ہیں کہ زبان و ادب کو فکر و فلسفہ سے کوئی واسطہ ہے نہ ایک فن کے قواعد و جزئیات دوسرے فن کے مشمولات میں دخیل ہو سکتے ہیں۔ منطق کا موضوع معقولات ثانیہ اور نحو کا کلمہ و کلام۔ زبان کو گرامر سمجھا جاتا ہے نہ کہ مقدمات منطقیہ سے۔ چنانچہ اہل زبان اگر اظہارِ مدعا کے لیے قواعد وضع کرتے ہیں تو زبان کے فہم کے لیے وہی کارآمد ہوں گے۔ الف لام کا مبحث نحو سے متعلقہ ہے، لیکن محترم پروفیسر صاحب نے اپنی تمام تر بحث کا مدار منطق پر رکھا ہے، جس کی ظاہر ہے کہ معقول وجہ نہیں ہے۔ اسی لیے اپنے موقف کو کتب نحو سے ثابت کرنے کے بعد ہمارے لیے ان سے بحث کرنا بھی واجب نہیں ہے۔ لیکن اگر پروفیسر صاحب اپنے اس طرز عمل کا کوئی معقول جواز پیش کر سکیں تو ان دلائل کا بھی ہم محاسبہ کریں گے ان شاء اللہ العزیز۔ فی الحال جناب خلیلؒ سے معذرت کے ساتھ ؎
لو كنت تعلم ما اقول عذر تنی
او كنت تعلم ما تقول عذلتکا
لكن جهلت مقالتی فعذ لتنی
وعلمت انك جاهل فعذرتكا

ربوٰا کی تمام صورتیں حرام ہیں: وفاقی شرعی عدالت کا ایک اہم فیصلہ

روزنامہ جنگ

وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس جناب جسٹس ڈاکٹر تنزیل الرحمٰن، جناب جسٹس ڈاکٹر علامہ فدا محمد خان اور جناب جسٹس عبید اللہ خان پر مشتمل فل بنچ نے جمعرات کے روز سود سے متعلق ۲۲ قانونی دفعات کو قرآن و سنت کے خلاف اور کالعدم قرار دینے کا فیصلہ سنا دیا۔ وفاقی شرعی عدالت کے پریس ریلیز کے مطابق اس فیصلے کے ذریعے ۱۱۹ شریعت درخواستوں تین سود موٹو نوٹسوں کو نمٹا دیا گیا۔ عدالت نے ان دفعات کو ۳۰ جون ۱۹۹۲ء تک اسلامی احکام کے مطابق بنانے کی ہدایت جاری کر دی۔ بصورت دیگر یہ دفعات یکم جولائی ۱۹۹۲ء سے موثر نہیں رہیں گی۔ یہ دفعات حسب ذیل قوانین کی ہیں۔
 ۱۔ انٹریسٹ ایکٹ مجریہ ۱۸۳۹ء 
۲۔ گورنمنٹ سیونگ بنکس ۱۸۷۳ء
۳۔ نیگوشی ایبل انسٹرومنٹس ایکٹ ۱۸۸۱ء (قانون دستاویزات قابل بیع و شراع مجریہ ۱۸۸۱ء)
 ۴۔ لینڈ ریکوزیشن ایکٹ ۱۸۹۴ ء  
۵۔ دی کوڈ آف سول پروسیجر ۱۹۰۸ء (مجموعہ ضابطہ دیوانی مجریہ ۱۹۰۸ء)
۶۔ کو آپریٹو سوسائٹی رولز ۱۹۲۷ء
۷۔ کو آپریٹو سوسائٹی رولز ۱۹۲۷ء
 ۸۔ انشورنس ایکٹ ۱۹۳۸ء
۹۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان ایکٹ ۰۱۹۵۶ء
 ۱۰۔ ویسٹ پاکستان منی لینڈر آرڈی ننس ۱۹۶۰ء
۱۱۔ ویسٹ پاکستان منی لینڈرز رولز ۱۹۶۵ء
 ۱۲۔ پنجاب منی لینڈرز آرڈی ننس ۱۹۶۰ء
۱۳۔ سندھ منی لینڈرز آرڈی ننس ۱۹۶۰ء
 ۱۴۔ صوبہ سرحد منی لینڈرز آرڈی ننس ۱۱۹۶۰ء
۱۵۔ بلوچستان منی لینڈرز آرڈی ننس ۱۹۶۰ء
۱۶۔ ایگریکلچرل ڈلپمینٹ بینک آف پاکستان رو لز ۱۹۶۱ء (زرعی ترقیاتی بینک پاکستان قواعد مجریہ ۱۹۶۱ء)
۱۷۔ بینکنگ کمپنیز آرڈی ننس ۱۹۶۲ء
۱۸۔ بینکنگ کمپنیز رولز ۱۹۶۳ء
۱۹۔ بنکس (نیشنلائزیش) ( پے منٹ ان کمپنسیشنز) رولز ۱۹۷۴ء
۲۰۔ بینکنگ کمپنیز (ریکوری آف لونز) آرڈی ننس ۱۹۷۹ء
 ۲۱۔ پاکستان انشورنس کارپوریشن ایمپلائیز اویڈنٹ فنڈ ریگولیشن ۱۹۵۴ء
 ۲۲۔ جنرل فنانشل رولز آف دی سنٹرل گورنمنٹ مع ڈرائنگ اینڈ ڈسبرسنگ آفیسرز بک۔
شریعت درخواستوں کو نمٹانے کی غرض سے وفاقی شرعی عدالت نے ربوٰا کی تعریف، بینکوں کے نظام، افراط زر اور کرنسی کی قیمت میں کمی سے متعلق ایک سوالنامہ مرتب کیا اور اسے ملکی اورغیر ملکی ممتاز علماء کرام، اہل علم، ماہرین معاشیات اور بینک کاروں کو بھیجا گیا، تاکہ ان سوالات کے بارے میں ان کی آراء معلوم کی جا سکیں۔ عدالت کی جانب سے کی جانے والی درخواست پر متعدد اہل علم، ماہرین معاشیات، بینکاروں اور علماء نے عدالت کے سامنے اپنے دلائل پیش کیے۔ عدالت نے تمام پہلوؤں اور فاضل وکیل کی جانب سے اٹھائے جانے والے نکات کا قرآن و سنت کی روشنی میں جائزہ لیا اور اس نتیجہ پر پہنچی کہ بینک کا سود ربوٰا کے دائرے میں آتا ہے اور ربوٰا اپنی تمام صورتوں میں قطعاً حرام ہے، خواہ قرض پیداواری مقاصد کے لیے لیا گیا ہو یا صرفی مقصد کے لیے۔ قرآن کریم اور سنت کی تصریحات کے علاوہ مدت کے بالمقابل قرض میں منافع کے ربوٰا ہونے پر تمام امت کا اجماع ہے۔ اسلامی فقہ اکیڈیمی جو اسلامی ممالک کی تنظیم (او آئی سی) کے تحت ۱۹۸۳ء میں قائم ہوئی، اس نے ۱۹۸۵ء میں جدہ میں منعقد ہونے والے اپنے دوسرے اجلاس میں، جس میں تمام ممبر ممالک کی نمائندگی موجود تھی، فیصلہ دیا کہ بینک کا سود ربوٰا ہے جو قرآن کریم میں حرام قرار دیا گیا ہے۔ قرآن کریم کی آیات حرمتِ ربوٰا کے بارے میں بالکل واضح اور قطعی ہیں اور ان میں سود مفرد اور سود مرکب کا کوئی فرق نہیں ہے۔ رسول کریمﷺ سود کے راستوں کو بند کرنے اور تبادلہ اشیاء میں رونما ہونے والی ناہمواریوں کو ختم کرنے کے بارے میں بہت فکر مند تھے۔ اس موضوع پر بہت سی احادیث موجود ہیں اور رسول کریمﷺ نے اپنی حیات طیبہ میں اسلامی احکام کو بعینہٖ نافذ فرمایا۔
عدالت نے متشابہات کے اصل مفہوم کا جائزہ لیا اور وفاق اور صوبوں کی جانب سے پیش کی جانے والی اس دلیل پر غور کیا کہ ربوٰا متشابہات کے دائرے میں داخل ہے اور عدالت اس نتیجے پر پہنچی کہ یہ دلیل غلط اور غیر صحیح ہے۔ مسئلہ کی تطبیق جس کے بارے میں کہا گیا کہ نہضالا علماء کانفرنس مشرقی جاوا، انڈونیشیا نے اسے اختیار کیا ہے، قرآن و سنت میں موجود اسلامی احکام کے مطابق نہیں ہے۔ عدالت نے شریعت ایکٹ کے تحت قائم ہونے والے کمیشن کی ربوٰا سے متعلق سفارشات کے انتظار کو مناسب خیال نہیں کیا، کیونکہ یہ مسئلہ کافی عرصے سے حل طلب چلا آ رہا ہے، اس لیے عدالت نے ان درخواستوں کا فیصلہ کرنا اپنا فریضہ محسوس کیا۔
عدالت کا فیصلہ جناب چیف جسٹس نے تحریر کیا اور تین سو سے زائد صفحات پر مشتمل ہے۔ فیصلے میں فاضل وکیل برائے وفاقی حکومت اور دیگر مدعا علیہان کے دلائل اور ان کی جانب سے پیش کی جانے والی تحریری آراء کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے اور صرفی اور تجارتی مقاصد کے لیے دیے جانے والے قرضوں، انڈیکسیشن، افراط زر، کرنسی کی قیمت میں کمی اور مسئلہ سے متعلق دیگر پہلوؤں پر مفصل گفتگو کی گئی۔ نفع نقصان کی شراکت کے بارے میں اسلامی احکام بالکل واضح ہیں اور مضاربہ اور مشارکہ کے ضمن میں جو اصول بیان کیے گئے ہیں ان پر عمل کیا جانا چاہیے۔ فیصلے میں غیر سودی بینکاری سے متعلق متبادل تجاویز پر تفصیلی بحث کی گئی ہے۔ یہ بھی واضح کر دینا ضروری ہے کہ معاملے کی اہمیت اور سود کے مسئلے کے بہت دور رس اثرات کے مدنظر عدالت نے ماہرین معاشیات اور ماہرین بینکاری سے مدد حاصل کی اور مسئلے کا بڑی تفصیل سے اسلامی احکام کی روشنی میں جائزہ لیا۔ 
(بشکریہ ”جنگ“ راولپنڈی ۵ا نومبر ۱۹۹۱ء)


رسول اکرمﷺ کی تعلیمات

بھارت کے سابق گورنر جنرل شری راج گوپال اچاریہ کی نظر میں

شری راج گوپال اچاریہ

یہ نہایت مسرت بخش امر ہے کہ اب بھی میں دیکھتا ہوں کہ موجودہ تعلیم یافتہ مسلمان اپنی عبادت بعینہٖ اس طرح کرتے ہیں جیسے کہ ان کے مذہبی پیش رو کرتے تھے۔ یہ اور یہ چیز بے شک اعتقاد میں حسن اور ایمان میں استقامت پیدا کرتی ہے۔ جب کبھی بھی میں ان تمام چیزوں کا خیال کرتا ہوں تو میں یہ کہے بغیر نہیں رہ پاتا کہ اسلام میں کوئی ایسی چیز پوشیدہ ہے جس کی وجہ سے اہل اسلام آج تک اس پر قائم ہیں، جس کا ہندو مت میں فقدان ہے بلکہ وہاں تو بجائے اس کے کوئی ایسی چیز ہے جس نے انہیں ان اصول و قواعد کی پابندی کے بجائے ان کے چھوڑنے کی طرف مائل کر دیا ہے۔ اس ضمن میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ اسلام میں ایک غیبی قوت موجود ہے جس نے باوجود موجودہ تعلیم و تہذیب کے انہیں اپنی روش پر برقرار رکھا ہے۔ 
آپ تمام اصحاب کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور ان کی محبت اور عفو و درگزر کی پرزور سفارشی تعلیمات کا بغور مطالعہ کرنا چاہیے جنہیں انہوں نے وہاں پھیلایا جہاں کے لیے ان چیزوں کا نام بھی بالکل غیر مانوس تھا اور ان ذریعوں کو معلوم کرنا چاہیے جو انہوں نے اپنے گرد و پیش والوں کے لیے اختیار کیے تھے، جس کی وجہ سے وہ ایک بالکل نئی بامفید اور صداقت پر مبنی تہذیب کو نہایت آسانی اور تیزی کے ساتھ ہر طرف پھیلانے میں کامیاب ہوئے۔ جس کا اثر مغرب والوں نے بہت تیزی کے ساتھ قبول کیا اور جس سے وہ آج تک بدرجہ اتم مستفید ہو رہے ہیں۔ یہ اسلام اور تعلیمات محمدیؐ میں ایک خاص چیز تھی جو کسی دوسرے مذہب کا پیغمبر نہ لایا تھا، جس کی وجہ سے تمام عالم کو بہت قلیل عرصہ میں ان تمام خصوصیات سے مالا مال کر دیا گیا جن کی اسے شدید ضرورت تھی اور جن کے نہ ہونے کی وجہ سے دنیا بہت پیچھے پڑی ہوئی تھی۔
میں نے جہاں تک ممکن تھا اسلام اور محمدؐ کی زندگی کا مطالعہ نہایت شوق و عظمت کے جذبے کے ساتھ کیا تھا، لیکن پھر بھی میں اس کا یقین رکھتا ہوں کہ وہ ایک ایسا بحر محیط ہے جس کا عبور میرے امکان سے باہر ہے۔ میرا یہ خیال ہے کہ ہندوستان کے اکثر حلقوں میں محمدﷺ کی صحیح تفہیم نہیں ہوئی۔ اس سلسلہ میں ابھی بہت کچھ کام کیا جا سکتا ہے، جو ایک کارِ خیر ہوگا۔ اس کا بیڑہ اٹھانے کے بعد یہ بخوبی معلوم ہو جائے گا کہ میرا یہ خیال کہ محمد صلی الله علیہ وسلم کی صحیح تفہیم اکثر حلقوں میں مفقود ہے بالکل صحیح ہے۔ اس کے لیے ناقص معلومات اور خراب ذہنیتوں کو دور کر دیا جائے، تلوار کی ضرورت نہیں بلکہ ان کے سامنے واضح کر کے ہر حقیقت کو بیان کرنا چاہیے۔ بُرے خیالات قائم کر لینے اور بُرے برتاؤ سے پیش آنے سے کچھ نہیں ہوتا، سمجھنے اور سمجھانے اور ہر چیز کی گہرائیوں کو سمجھانے سے دماغوں کی اصلاح ہوتی ہے۔ ایک چیز کا ایک ہی ملک میں جب غلط مفہوم بھی لیا جا سکتا ہے تو یہ کیونکر ممکن ہے کہ دور دراز کے ممالک کے واقعات اور حالات کا صحیح اندازہ ہو سکے اور بعض حقیقت سے بعید چیزوں کا بھی یقین نہ کر لیا جائے۔
اس موجودہ مخالفت کا سبب مقامات کا اور واقعات کا اختلاف اور ہم خیال پڑوسیوں کا فقدان ہے۔ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم تقریباً چودہ سو سال دنیا میں موجود تھے اور وہ بھی ہندوستان سے ایک بالکل مختلف نوعیت کے ملک میں، اس لیے ان کی عرب کی زندگی کے حالات ان قوموں کی سمجھ میں اچھی طرح نہیں آ سکتے جو اس ماحول میں نہ تو خود رہ چکے ہوں اور نہ جن کے اسلاف ہی۔ بلکہ اس کے برعکس انہوں نے ہندوستان میں ترقی معکوس کے زمانہ میں پرورش پائی ہے، اس لیے یہی ایک صورت باقی رہ جاتی ہے کہ اول تو دوسروں کی غلط فہمیوں کو برداشت کرنے کی عادت ڈالی جائے اور ان میں تعلیم کے ذریعے ان چیزوں کو نکالنے کی کوشش کی جائے۔
میں اپنے دائرہ احباب میں ایسے بہت سے اچھے مسلمان پاتا ہوں جن کے ساتھ رہ کر میں اپنی زندگی کو ان قدیم مسلمانوں کی صحبت کے مشابہ سمجھنے لگا ہوں جن کے متعلق مجھے مطالعہ کے ذریعے کچھ علم ہوا ہے۔ آج سے اٹھارہ سال پہلے جب میں جیل خانہ میں تھا، اس وقت بھی میرے ساتھ دو نہایت اچھے عقائد کے مسلمان دوست تھے، جنہوں نے اس سلسلہ میں میری بہت زیادہ مدد کی۔ کوشش و محنت کر کے قرآن مجید کے نہایت اچھے ترجمے اور مفید تعلیمات میرے لیے بہم پہنچائیں، جنہیں میں کبھی بھول نہیں سکتا۔ 
(بشکریہ دیوبند ٹائمز، ۱۵ستمبر ۱۹۹۱ء)

آپ نے پوچھا

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

بغداد کا مدرسہ نظامیہ کب قائم ہوا؟

سوال: بغداد کا مدرسہ نظامیہ کا ذکر تاریخ میں آتا ہے۔ یہ کب قائم ہوا اور کس نے قائم کیا؟ (عبد الرحمٰن راولپنڈی)
جواب: نظام الملک طوسیؒ سلجوقی حکومت کا وزیر تھا۔ اس نے بغداد میں مدرسہ نظامیہ قائم کیا، جس کی تعمیر کا آغاز ذی قعدہ ۴۵۷ ء میں ہوا اور دو سال میں مدرسہ مکمل ہوا ۔ طوسیؒ نے اس مدرسہ کے اخراجات کے لیے چھ لاکھ دینار اور اپنی جاگیروں کا دسواں حصہ وقف کیا تھا۔ اس مدرسہ سے ہزاروں علماء نے فیض حاصل کیا، جن میں امام غزالیؒ، امام راغب اصفہانیؒ، علامہ زمحشریؒ اور علامہ شہرستانیؒ  جیسے سرکردہ بزرگ بھی شامل ہیں۔ شیخ سعدیؒ بھی اسی مدرسہ کے طالب علم رہے ہیں۔ کم و بیش چار سو سال تک اس ادارہ نے مسلمانوں کی دینی و علمی خدمات سر انجام دیں، پھر زمانہ کے حادثات کی نذر ہو گیا۔

نکاح نامے میں عورت کے لیے طلاق کا حق

سوال: اسلام میں طلاق کا حکم مرد کو ہے، لیکن اگر عورت نکاح کے وقت نکاح نامہ میں اپنے لیے طلاق کا حق لکھوا  لے تو کیا اسے طلاق کا حق حاصل ہو جائے گا؟ (محمد زاہد گوجرانوالہ)
جواب: ہاں، اگر نکاح نامے میں خاوند عورت کو طلاق کا حق تفویض کر دے تو عورت کو بھی طلاق کا حق حاصل ہو جائے گا اور آج کل نکاح ناموں میں تفویض طلاق کی شقیں اسی پس منظر میں ہیں۔

ملا جیونؒ کون بزرگ تھے؟

سوال: پرانے علماء میں ملا جیونؒ کا نام بھی سننے میں آتا ہے۔ یہ کون بزرگ تھے؟ (محمد طاہر  گوجرانوالہ)
جواب: ملا جیونؒ برصغیر کے نامور علماء میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کا نام احمد تھا، لکھنؤ کے قریب امیٹھی نامی قصبہ میں ۲۵  شعبان ۱۰۲۷ ء میں پیدا ہوئے۔ سات سال کی عمر میں قرآن کریم حفظ کیا اور پھر علوم متداولہ کی تکمیل کر کے ساری زندگی درس و تدریس میں گزار دی۔ اورنگ زیب عالمگیرؒ کے استاذ تھے اور فتاویٰ عالمگیری مرتب کرنے والے علماء میں شامل تھے۔ اصولِ فقہ پر ان کی مایہ ناز تصنیف ”نور الانوار“ درس نظامی کے نصاب میں شامل ہے۔ قرآن کریم کی احکام والی آیات کی بھی تفسیر لکھی ہے جو ”تفسیرات احمدیہ“ کے نام سے چھپ چکی ہے۔ ان کی وفات کا قصہ بھی عجیب ہے۔ وفات سے پہلی رات خواب میں دیکھا کہ آسمان سے ایک ستارہ ٹوٹ کر گر گیا ہے۔ صبح اٹھے تو فرمایا کہ آج کوئی بڑا عالم و فاضل اس جہان سے رخصت ہونے والا ہے۔ اسی روز آپ کا انتقال ہو گیا۔ ان کی تاریخ وفات ۸ ذی قعده ۱۱۳۰ھ ہے۔

کسی شخص کو شرعی مصلحت کی بناء پر جماعت سے روکنا

سوال: اگر کسی شخص کے مسجد میں آ کر  جماعت میں شامل ہونے سے خرابی کا اندیشہ ہو تو کیا اسے نماز میں آنے سے روکا جا سکتا ہے؟ (محمد نوید یونس گلیانہ ضلع گجرات)
جواب: فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ، ج۱، ص۱۱۵ میں حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمٰن صاحبؒ لکھتے ہیں کہ
”جو کہ حفظِ امن میں خلل انداز ہو اور باعثِ شر و فساد ہو اور عام نمازیوں کو تکلیف دہ اور ایذا رساں ہو اور اس کا فعل موجب اشتغال طبع ہو، اس کو جماعت سے روکنا قانون شرع کے مطابق ہے ۔ حدیثیں اور آثار اور اقوالِ فقہاء اس پر صاف دال ہیں۔“

آؤ طب پڑھیں

حکیم محمد عمران مغل

انسان کے پیدائش سے موت تک کے عرصہ کا احاطہ اطباء عظام نے چھ امور تک محدود کیا ہے، یعنی اگر زندگی میں ان چھ امور کو مدنظر رکھا جائے تو زندگی کے لمحات خوشگوار گزرتے جائیں گے، بصورت دیگر ان میں سے ایک بھی حد اعتدال سے کم و بیش ہو تو مرض کے پیدا ہونے کا سبب بنتا ہے۔ طبی اصطلاح میں ستہ ضروریہ کے نام سے پکارا اور پڑھا جاتا ہے، جو مندرجہ ذیل ہیں: (۱) ہوا (۲) ماکول و مشروب (کھانا پینا)۔ (۳) حرکت و سکون بدنی (۴) حرکت و سکون نفسانی (۵) نیند و بیداری (۶) استفراغ و احتباس۔
  1. ان میں پہلا درجہ ہوا کا ہے جو ہمیں چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہے۔ روح کی تعدیل کے لیے تازہ ہوا کی ضرورت ہر وقت رہتی ہے جو ہم سانس لے کر پوری کرتے ہیں۔ اطباء نے اسے رُوح کی غذا کہا ہے۔ جید ہوا وہ ہے جو صحت کی محافظ ہو۔ اگر آس پاس گندے پانی کے جوہڑ اور مردہ جانور، گلی سڑی ترکاریوں کے کھیت وغیرہ ہوں تو اس علاقہ کی ہوا ناقص صحت ہوگی۔
  2. ماکول و مشروب میں سر فہرست تازہ پانی ہی سے مراد ہے کیونکہ غذا کو رقیق اور سیال بناتا ہے۔ ۲۔ غذا کو پکانے اور تغیر پیدا کرنے کے لیے۔ ۳۔ بدنی حرارت کی حدت اور سوزش کو دور کرنے کے لیے۔ ۴۔ اعضاء کو تر رکھنے کے لیے۔ ۵۔ غذا کو اس قابل بنانے کے لیے کہ وہ باریک رگوں میں نفوذ کرنے کے قابل ہو جائے۔ (جس کی تشریح حسب مواقع ہو گی۔)
  3. حرکت و سکون بدنی: اس میں اعضاء حرکت کرتے ہیں۔ کبھی حرکت شدید، کبھی قلیل اور کمزور۔ اس حرکت کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ بدن کے مواد تحلیل ہو کر بذریعہ پسینہ و بول و براز خارج ہوتے رہیں۔ سکون غذا کے ہضم میں مدد کرتا ہے مگر زیادہ سکون سے رطوبات بدن میں جمع نہ ہونے پائیں۔
  4. غصہ، خوشی، لذت، ڈر، غم، شرمندگی کو حرکات نفسانی کہتے ہیں کیونکہ یہ حالتیں نفس میں پیدا ہوتی ہیں۔
  5. نیند و بیداری۔ یہ دونوں فعل زندگی کے قیام و بقا کے لیے ضروری ہیں۔ زندگی کے مشاغل کے لیے اگر بیداری ضروری ہے تو پھر آرام و راحت کے لیے نیند اس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔ نیند نہ کرنے سے قویٰ کمزور ہو جاتے ہیں جس کا نتیجہ موت ہے۔ نیند کو سکون اور بیداری کو حرکت سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ نیند میں تمام اعضاء ساکن ہو کر روح اندر کی طرف چلی جاتی ہے جس سے ہضم کا فعل اچھا ہو جاتا ہے۔ مگر بیداری میں روح باہر کی طرف رہنے سے تمام اعضاء میں حرکت جاری رہتی ہے یا انسان حرکت کرنے کے قابل ہوتا رہتا ہے۔ یہ یاد رکھیں کہ دن کا سونا بُرا ہے۔ اس سے بدن کی رنگت خراب ہوتی ہے، تلی کو نقصان پہنچتا ہے، منہ میں گندگی پیدا ہوتی ہے، دماضی قوتوں کو کمزور اور بدن کو سست کرتا ہے، مگر قیلولہ کرنا ضروری ہے۔
  6. استفراغ سے مراد بدن سے مواد کا خارج کرنا یعنی پیشاب، پاخانہ، قے، پسینہ وغیرہ۔ مواد کو روکنا احتباس کہلاتا ہے۔ ان دونوں کا اوسط درجہ پر ہونا ہی صحت کی علامت ہے۔ استفراغ کی زیادتی سے بدن میں خشکی اور ٹھنڈک پیدا ہوتی ہے اور احتباس سے سدے اور اخلاط میں عفونت اور گرانی پیدا ہوتی ہے۔

تعارف و تبصرہ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

’’تحریکِ کشمیر سے تحریکِ ختمِ نبوت تک‘‘

چودھری غلام نبی عالمی مجلسِ تحفظِ ختمِ نبوت کے سرکردہ حضرات میں شمار ہوتے ہیں۔ پرانے احراری ہیں۔ احرار راہنماؤں مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانویؒ، امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، مولانا داؤد غزنویؒ، چودھری افضل حقؒ، مولانا مظہر علی اظہرؒ، مولانا محمد علی جالندھریؒ، آغا شورش کاشمیریؒ، شیخ حسام الدینؒ، صاحبزادہ سید فیض الحسنؒ اور ماسٹر تاج الدین انصاریؒ جیسے مجاہدینِ آزادی کو قریب سے دیکھا ہے اور ان کے ساتھ مختلف تحریکات میں کام کیا ہے۔ احرار کے حوالہ سے برصغیر کی تحریکِ آزادی میں جو بے لوث، جری، ایثار پیشہ اور پرجوش سیاسی کارکن متعارف ہوئے اور جن کی ہیبت ایک عرصہ تک سیاسی حلقوں پر چھائی رہی، ان کی جرأت و جسارت کی آج کے دور میں ایک علامت ہیں۔
انہوں نے مختلف تحریکات کے حوالہ سے اپنی یادداشتوں کو زیر نظر کتاب کی صورت میں مرتب کرایا ہے۔ لیڈر اپنی یادداشتیں مرتب کرتے ہیں تو ذہنی تحفظات کی گہری دھند میں سے قارئین کو حقائق و واقعات کا اصل رخ تلاش کرنا پڑتا ہے، لیکن کارکن شاید ذہنی تحفظات کے سامنے ابھی اس قدر بے بس نہیں ہوئے، اس لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ چودھری غلام نبی نے اپنی یادداشتوں کے حوالہ سے واقعات کی جو تصویریں پیش کی ہیں وہ نسبتاً زیادہ واضح اور صاف ہوں گی۔
ساڑھے تین سو صفحات پر مشتمل یہ کتاب مکتبہ حقائق گوجرانوالہ نے معیاری کتابت و طباعت، سفید کاغذ، خوبصورت سرورق اور مضبوط جلد کے ساتھ شائع کی ہے اور اس کی قیمت ایک سو روپیہ ہے۔

’’شاہ حسن عسکری شہیدؒ اور تحریکِ آزادی کے عوامل و عواقب‘‘

۱۸۵۷ء کے جہادِ آزادی کے بعد جن سرکردہ حضرات کو فرنگی استعمار کی بے پناہ انتقامی کاروائی کا نشانہ بننا پڑا ان میں شاہ حسن عسکری شہیدؒ بھی شامل ہیں۔ انہیں فرنگی عدالت نے اس جرم میں موت کی سزا سنائی کہ انہوں نے بہادر شاہ ظفرؒ کے روحانی پیشوا کی حیثیت سے اسے جنگِ آزادی میں شرکت پر اکسایا، جنگِ آزادی کے جرنیل جنرل بخت خانؒ کو کامیابی کے لیے دعا دی، اور ایک امیر کو فوج مہیا کرنے کے لیے خط لکھا، اور پھر اس عظیم مجاہدِ آزادی کو ۱۵ شوال ۱۲۷۲ھ کو توپ کے منہ پر باندھ کر گولے سے اڑا دیا گیا۔
جناب سید اشتیاق اظہر نے حضرت شاہ حسن عسکری شہیدؒ کے حالاتِ زندگی، جہادِ آزادی میں ان کے کردار، اور ۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی کے اسباب و نتائج پر قلم اٹھایا ہے اور اس دور کی پوری تاریخ کو اس کتاب میں جمع کر دیا ہے۔ تین سو کے لگ بھگ صفحات کی یہ کتاب ’’میزانِ ادب، بی ۷۲ کے، خالد آباد، گلبہار کالونی، کراچی نے شائع کی ہے اور اس کی قیمت چالیس روپے ہے۔

’’مولانا فخر الحسن محدث گنگوہیؒ کی سوانح اور خدمات‘‘

دارالعلوم دیوبند سے فارغ التحصیل ہو کر سند پانے والے پہلے پانچ علماء کے گروپ میں شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ، مولانا محمد عبد الحقؒ ساکن پور قاضی، مولانا محمد عبد اللہ جلال آبادیؒ، اور فتح محمد تھانویؒ کے ساتھ مولانا فخر الحسن گنگوہیؒ بھی تھے جو بعد میں محدث گنگوہی کے لقب سے متعارف ہوئے۔ ان کا شمار اپنے دور کے بڑے علماء میں ہوتا تھا اور انہوں نے تدریس و تعلیم کے ذریعہ ایک مدت تک دینی خدمات سرانجام دیں۔ ابو داؤد شریف پر ان کے حاشیہ سے آج بھی اہلِ علم استفادہ کر رہے ہیں۔
محدث گنگوہیؒ کے نواسے جناب سید اشتیاق اظہر نے اپنے عظیم ناناؒ کے حالاتِ زندگی اور علمی و دینی خدمات کو اس کتاب میں مرتب کیا ہے۔ اور اس کے ساتھ دارالعلوم دیوبند کے ابتدائی دور کے بعض حالات اور حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کی خدمات و حالات کا ایک بڑا حصہ بھی اس میں شامل کر دیا ہے۔ کتابت بہت باریک ہے۔ طباعت بھی گوارا ہے۔ معلومات کے اتنے اہم ذخیرہ کو معیاری کتابت و طباعت کے ساتھ پیش کیا جاتا تو افادیت کئی گنا زیادہ ہوتی۔ دو سو صفحات کی یہ کتاب پینتیس روپے میں میزانِ ادب کے مذکورہ بالا پتہ سے طلب کی جا سکتی ہے۔

ماہنامہ ’’الاشرف‘‘ کراچی (صولتیہ نمبر)

کراچی سے مولانا محمد اسعد تھانوی کی زیر ادارت شائع ہونے والے ماہوار جریدہ ’’الاشرف‘‘ نے مدرسہ صولتیہ مکہ مکرمہ کی تاریخ اور حالات پر ایک خصوصی اشاعت کا اہتمام کا ہے۔ جس میں مدرسہ صولتیہ کے بانی اور تحریکِ آزادی کے نامور راہنما حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ کے حالات و خدمات، جہادِ آزادی میں ان کی شمولیت، عیسائی پادریوں کے تعاقب میں ان کی خدمات، اور پھر ہجرت، اور اس کے بعد میں مدرسہ صولتیہ کے قیام کے حالات پر معلوماتی مضامین شامل کیے گئے ہیں۔ ایک سو ساٹھ صفحات پر مشتمل اس خصوصی نمبر کی قیمت الگ درج نہیں ہے۔ البتہ ’’الاشرف‘‘ کا سالانہ زرخریداری ستر روپے اور فی شمارہ سات روپے ہے اور الاحمد مینشن ۱۳ بی گلشن اقبال کراچی سے شائع ہوتا ہے۔

ماہنامہ ’’نوائے قانون‘‘ (سود نمبر)

اسلامی قوانین اور ان سے متعلقہ مسائل و امور پر اسلام آباد سے ’’نوائے قانون‘‘ کے نام سے ایک ماہوار جریدہ گزشتہ دو سال سے شائع ہو رہا ہے جس کی ادارت کی ذمہ داریاں جناب ڈاکٹر عبد المالک عرفانی کے سپرد ہیں۔ ڈاکٹر صاحب موصوف کی قانون اور اس کے اسلامی تقاضوں پر گہری نظر ہے اور اسلامی نظریاتی کونسل میں قوانینِ اسلامی کی ترتیب و تدوین کے سلسلہ میں ان کی خدمات وقیع ہیں۔
زیرنظر شمارہ میں انہوں نے بڑی کاوش کے ساتھ سود اور اس سے متعلقہ امور پر ممتاز اصحابِ قلم کی نگارشات اور اسلامی نظریاتی کونسل کی بعض اہم رپورٹیں یکجا شائع کر دی ہیں، جن سے اس شمارہ کو ایک اہم دستاویز کی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔ یہ شمارہ ایک سو چالیس صفحات پر مشتمل ہے جس کی قیمت تیس روپے ہے۔ جبکہ نوائے قانون کا سالانہ زرخریداری ڈیڑھ سو روپے ہے اور اسے دفتر ماہنامہ نوائے قانون، کمرہ ۶، پہلی منزل، ہاشم پلازا، ایف ۸ مرکز، اسلام آباد سے طلب کیا جا سکتا ہے۔

’’الخلافۃ الاسلامیۃ ام الدیما قراطیۃ الغربیۃ؟‘‘

سابق وفاقی وزیر مذہبی امور مولانا سید وصی مظہر ندوی نے زیر نظر رسالہ میں مغربی جمہوریت اور خلافِ اسلامیہ کا تقابل کرتے ہوئے اس امر کی دلائل کے ساتھ وضاحت کی ہے کہ مسلم ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ مغربی جمہوریت کے تسلط سے نجات حاصل کر کے خلافتِ اسلامیہ کے احیاء و نفاذ کی جدوجہد کریں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے احیاء خلافت کی جدوجہد کے ضروری تقاضوں کا بھی ذکر کیا ہے۔ عربی زبان میں تحریر کردہ یہ رسالہ مکتبہ فروغ، شارع فاطمہ جناح، حیدر آباد سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔

اقتباسات

ادارہ

اخلاق محمودہ اور اخلاق ذمیمہ کا فرق

— از امام ولی الله دہلویؒ
کیا میں تمہیں اس قانون سے روشناس نہ کروں کہ کس طرح ایک ہی صفت مختلف حیثیتوں کے لحاظ سے محمود بھی ہو سکتی ہے اور مذموم بھی۔ بادشاہ اور فقیر دونوں مانگتے ہیں۔ بادشاہ اپنی رعیت سے مانگتا ہے اور بھکاری اپنی قوم کے اغنیاء اور مالداروں سے مانگتا ہے۔ ان دونوں میں خطِ فاصل قوت و غلبہ اور عجز و نیاز کی صفتیں ہیں۔ بادشاہ کا مطالبہ چونکہ قہر و غلبہ پر مبنی ہوتا ہے وہ قوم کا سردار کہلاتا ہے اور بھکاری مغلوب اور عاجز ہوتا ہے اس لیے فقیر سمجھا جاتا ہے۔
الحاصل حسن و قبح میں اس خط تمیز کو اصول و قانون کے طور پر یاد رکھو اور ان شکوک و شبہات سے بچو جو اخلاق محمودہ اور اخلاق ذمیمہ میں بظاہر التباس سے عوام الناس کے ذہنوں میں پیدا ہو جاتے ہیں۔ (البدور البازغہ مترجم، ص ۸۱)

جہاد:  انسانی اجتماعیت کی ضرورت

— از امام انقلاب مولانا عبید الله سندهیؒ
زمانہ حال کا یہ سب سے افسوسناک حادثہ ہے کہ عدم تشدد کو، جو انقلاب کی تیاری کے لیے بہترین ذریعہ ہے، سیاست کا لازمی اور دائمی جزء قرار دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ انسانی سیاست کی قطعی غیر طبعی ترجمانی ہے۔ قرآن حکیم اور اس کی بنیاد پر حکمت ولی اللّٰہی اس سے قطعاً انکار کرتے ہیں اور قرار دیتے ہیں کہ چونکہ انسان بہیمیت اور عقلیت، یا ملکیت سے مرکب ہے۔ یہ تصور نہیں کیا جا سکتا کہ انسان اجتماعی حیثیت سے اپنی ارتقائی زندگی کے کسی دور میں بھی بہیمیت سے علیحدہ ہو جائے گا۔ اس لیے جنگ اور قتال، جہاد جس کے ذریعہ سے ملکیت یا عقلیت بہیمیت پر غالب آتی رہے گی انسانی معاشرہ کا لازمی جزء رہے گا۔ انسانیت فقط عدم تشدد یا مصالحت سے کبھی ترقی نہیں کر سکتی، بلکہ ہمیشہ انقلاب سے آگے بڑھتی ہے، جس کے لیے تشدد اور عدم تشدد دونوں ضروری ہیں۔ (تفسیر سوره مزمل)

کفر کے درجات اور شرعی احکام

— مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ
آیت ”و من لم يحكم بما انزل الله فاولئک هم الکافرون“ سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص حکم منصوص کے خلاف حکم دے یا فیصلہ کرے وہ کافر ہے اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ یہی مذہب خوارج کا ہے۔ علماء اہل سنت یہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص حکم خداوندی کو حقیر یا غلط یا خلافِ مصلحت یا خلافِ تہذیب سمجھ کر اس کا انکار کردے اور قانونِ شریعت میں تغیر و تبدل کر کے اپنی طرف سے نیا حکم تجویز کرے، جیسا کہ یہود نے حکمِ رجم کے مقابلہ میں اپنی رائے سے ایک نیا حکم تیار کر لیا تھا تو ایسا شخص بلاشبہ کافر ہے اوراگر
دل میں حکم خداوندی کی تصدیق اور اس کی عظمت و حقانیت کا اعتراف موجود ہے اور محض غلبۂ نفس یا کسی دنیاوی مجبوری اور معذوری کی بنا پر بادلِ نخواستہ حکم خداوندی کے خلاف فیصلہ کر دے تو وہ کافر نہ ہو گا بلکہ فقط گنہگار ہوگا۔
جو شخص اعتقادی طور پر ”ما انزل الله“ کو حق جان کر اور حق مان کر پھر عملاً فیصلہ اس کے خلاف کرے تو ایسے شخص کو اصطلاح شریعت میں عملی کافر کہا جا سکتا ہے، نہ کہ اعتقادی کافر۔ یعنی اس کی عملی حالت کافروں جیسی ہے اگرچہ اعتقاد مسلمانوں جیسا ہے۔ اسی وجہ سے عبد اللہ بن عباسؓ سے منقول ہے کہ آیت ”فاولئک ھم الکافرون“ میں کفر سے وہ کفر مراد نہیں جو اس کو ملتِ اسلام سے خارج کر دے اور یہ ایسا کافر نہیں جیسے کوئی اللہ اور ملائکہ اور کتب اور رسل کا کافر ہو بلکہ یہ ”کفر دون کفر“ اور ”ظلم دون ظلم“ اور ”فسق دون فسق“ ہے۔ ”ولیس بالكفر الذی تذهبون الیہ“ یعنی کفر اور ظلم اور فسق کے درجات ہیں بعض کفر اعتقادی ہیں اور بعض عملی اور ہر ایک کا حکم جدا ہے۔ 

دیدہ دلیر واعظ

— حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ
ایک واعظ کی مجلس میں امام احمد بن حنبلؒ اور یحییٰ بن معینؒ شریک تھے۔ واعظ نے بہت سی احادیث غلط سلط امام احمد بن حنبلؒ کے حوالہ سے بیان کیں۔ یہ دونوں بزرگ ایک دوسرے کو دیکھ کر ہنستے رہے کہ کیا کہہ رہا ہے۔ جب وعظ ختم ہوا تو امام احمد بن حنبلؒ آگے بڑھے اور واعظ سے پوچھا کہ آپ احمد بن حنبل کو جانتے ہیں؟ تو کہا ہاں جانتا ہوں۔ پھر فرمایا۔ مجھے بھی جانتے ہیں؟ کہا: نہیں۔ امام صاحبؒ نے فرمایا میں ہی تو احمد بن حنبل ہوں۔ واعظ نے بڑی دلیری سے کہا کہ خوب کہا، آپ یہ سمجھتے ہیں کہ احمد بن حنبلؒ ایک آپ ہی ہیں۔ معلوم نہیں کتنے آپ جیسے احمد بن حنبلؒ دنیا میں موجود ہیں۔ (مجالس حکیم الامت تھانوی ص۲۶۸)

موجودہ دور کے اہل کتاب

— مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ
اہل کتاب سے وہ لوگ مراد ہیں کہ جو مذہباً اہل کتاب ہوں، نہ کہ وہ صرف قومیت کے لحاظ سے یہودی یا نصرانی ہوں، خواہ وہ عقیدۃً دہریہ ہوں۔ اس زمانہ کے نصاریٰ عموماً برائے نام نصاری ہیں ان میں بکثرت ایسے ہیں کہ جو نہ خدا کے قائل ہیں اور نہ مذہب کے قائل اور آسمانی کتاب کے قائل۔ ایسے لوگوں پر اہل کتاب کا اطلاق نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا ان کے ذبیحہ اور ان کی عورتوں سے نکاح کا حکم اہل کتاب کا سا نہیں ہوگا۔ 

حضرت نانوتویؒ کا اصولِ میزبانی

حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ
حضرت مولانامحمد قاسم نانوتویؒ مالدار مہمانوں کو معمولی کھانا اور غرباء کو عمدہ کھانا کھلاتے تھے۔ کسی نے وجہ پوچھی تو فرمایا کہ مہمان کو ایسا کھانا کھلانا چاہیے جو عموماً وہ نہ کھاتا ہو۔ (مجالس حکیم الامتؒ، ص۲۶۰)

فتویٰ کی اہلیت

امام مالک بن انسؒ نے فرمایا کہ میں نے فتویٰ دینا شروع نہیں کیا جب تک کہ میں نے ستر مشائخ سے دریافت نہ کیا کہ کیا آپ کے نزدیک مجھ میں فتوی دینے کی لیاقت ہے؟ تو سب نے فرمایا کہ ہاں! تب میں نے فتویٰ دیا۔ لوگوں نے عرض کیا کہ اے جناب! اگر وہ بزرگوار مشائخ آپ کو اس امر سے منع کر دیتے تو؟ امام مالکؒ نے کہا کہ اگر منع کر دیتے تو میں باز رہتا۔ (تلبیس ابلیس اردو، ص۱۶۴)