ستمبر ۱۹۹۰ء

خلیج کا آتش فشاںمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
علومِ حدیث کی تدوین — علماء امت کا عظیم کارنامہشیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر 
سرمایہ داری اور اسلامی نظامِ معیشتشیخ التفسیر مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ 
انبیاءؑ کے حق میں ذنب و ضلال کا مفہوممولانا رحمت اللہ کیرانویؒ 
ہمارے دینی مدارس — توقعات، ذمہ داریاں اور مایوسیمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
موجودہ طریقۂ انتخابات شرعی لحاظ سے اصلاح طلب ہےادارہ 
پردہ اور بائبلمحمد عمار خان ناصر 
آپ نے پوچھاادارہ 
تعارف و تبصرہادارہ 
جریان، احتلام اور سرعتِ انزال کے اسباب اور علاجحکیم محمد عمران مغل 
جہادِ افغانستان کے روس پر اثراتادارہ 
عیاشانہ زندگی کے خطرناک نتائجحضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ 
سوسائٹی کی تشکیلِ نو کی ضرورتحضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ 

خلیج کا آتش فشاں

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

کویت پر عراق کے جارحانہ قبضہ اور سعودی عرب و متحدہ عرب امارات میں امریکی افواج کی آمد سے یہ خطہ ایک ایسے آتش فشاں کا روپ اختیار کر چکا ہے جو کسی وقت بھی پھٹ سکتا ہے اور خلیج میں پیدا ہو جانے والی خوفناک کشیدگی کے حوالہ سے دنیا پر تیسری عالمگیر جنگ کے خطرات کے بادل منڈلا رہے ہیں۔

کویت دنیا کے امیر ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے اور اس کی کرنسی عراق کے قبضہ سے پہلے تک دنیا کی سب سے زیادہ قیمتی کرنسی رہی ہے لیکن صرف دو گھنٹے کے عرصے میں اس کے عراق کے قبضے میں آجانے سے یہ بات ایک بار پھر واضح ہو گئی ہے کہ مسلم ممالک جب تک اپنے وسائل کو دفاع و حرب کے لیے وقف نہیں کریں گے ان کی دولت ان کے کسی کام کی نہیں ہے، اے کاش کہ یہ نکتہ اب بھی عرب حکمرانوں کے ذہن میں آجائے۔

کویت پر عراق کا یہ جارحانہ حملہ بلاشبہ ایک آزاد اور خودمختار ملک کی آزادی کو سلب کرنے کا عمل ہے جو اقوام عالم کے مسلّمہ اصولوں کے منافی ہے اور اس کی جس قدر مذمت کی جائے کم ہے۔ لیکن عجلت اور گھبراہٹ میں امریکی فوجوں کو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں براجمان ہو جانے کا موقع فراہم کرنا بھی سنگینی میں اس سے کم نہیں ہے اور اس سلسلہ میں عالم اسلام میں پایا جانے والا اضطراب اور بے چینی بلاوجہ نہیں ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ اس موقع پر اسلامی سربراہ کانفرنس کا ہنگامی اجلاس طلب کر کے مشترکہ دباؤ کے ذریعے عراق کو کویت سے اور امریکہ کو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے فوجیں واپس بلانے پر مجبور کرنا انتہائی ضروری ہے۔ یہی ایک راستہ ہے جس کے ذریعے ہم خلیج کے آتش فشاں کو پھٹنے اور دنیا بھر میں تباہی پھیلانے سے روک سکتے ہیں۔

علومِ حدیث کی تدوین — علماء امت کا عظیم کارنامہ

شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر

آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے اقوال و افعال اور پیارے طریقوں کی حفاظت جس طرح اس امتِ مرحومہ نے کی ہے دنیا کی کسی قوم میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح جھوٹی اور غلط بات آپ کی طرف منسوب کرنے کی سختی سے تردید فرمائی ہے وہ اہلِ اسلام کے ہاں اظہر من الشمس ہے اور حدیث ’’من کذب علیّ متعمدا فالیتبوا مقعدہ من النار‘‘ متواتر احادیث میں درجہ اول پر ہے۔
آپ کے الفاظ کی نگرانی مہماتِ شریعت اور اساسی و بنیادی امور کے متعلق تو الگ رہی حتٰی کہ الفاظ کی بھی نگرانی ہوتی تھی۔ چنانچہ اس صحیح حدیث سے ہی بہت کچھ اخذ کیا ہو سکتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت براءؓ بن عازبؓ کو سونے کے وقت کی دعا بتلائی جس میں یہ الفاظ بھی تھے ’’ونبیک الذی ارسلت‘‘ (یعنی میں تیرے نبی پر بھی ایمان لایا جس کو تو نے بھیجا ہے)۔ حضرت براءؓ فرماتے ہیں کہ میں نے یہ دعائیہ کلمات آپؐ کو سنائے تاکہ ان میں غلطی نہ رہ جائے مگر میں نے یہ الفاظ پڑھ دیے ’’وبرسولک الذی ارسلت‘‘ تو آپؐ نے ارشاد فرمایا ’’لا، ونبیک الذی ارسلت‘‘ (بخاری ج ۱ ص ۳۸ و ج ۲ ص ۹۳۴)۔ یعنی وہی الفاظ پڑھو جو تمہیں بتلائے گئے ہیں۔ غور فرمائیں کہ جب دعا میں آپؐ نے الفاظ کی پابندی کا یہ سبق دیا ہے تو احکامِ دین اور بنیادی امور کے بارے الفاظ کی پابندی کا خیال کیسے نظرانداز کیا جا سکتا تھا؟
حضراتِ محدثین کرامؒ اور فقہائے عظام نے حدیث کی سند اور معنی کی حفاظت کے لیے تقریباً پینسٹھ علوم ایجاد کیے ہیں جن کی روشنی میں احادیث کی صحت و سقم اور معانی کی درستی اور نادرستی سے بخوبی آگاہی ہو سکتی ہے۔ ہم طلبۂ علم کی معلومات کی خاطر اصولِ حدیث کی چند کتابوں کا تذکرہ کرتے ہیں جس سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ اس امتِ مرحومہ نے کس محنت شاقہ سے اپنے محبوب پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام کی پیاری باتوں کی حفاظت کی ہے۔
سب سے پہلے فنِ اصطلاحِ حدیث میں قاضی ابو محمد حسنؒ بن عبد الرحمٰنؒ بن خلاد الرامہرمزی (المتوفی۲۶۰ھ) نے کتاب لکھی ہے جس کا نام ’’المحدث الفاصل بین الراوی والراعی‘‘ ہے۔ اس کے بعد متعدد علماء امت نے نظم و نثر میں اس فن پر طبع آزمائی فرمائی اور عمدہ و نفیس کتابیں لکھ کر عالمِ اسباب میں امتِ پر احسان کیا اور امت کو فائدہ پہنچانے میں ایک دوسرے پر مسابقت کی ہے۔ بعض مشہور کتابوں کے نام مع سنینِ وفاتِ مصنفین درج ذیل ہیں۔

کتب اصولِ حدیث اور شروحِ حدیث

اکثر کتب اصولِ حدیث اور شروحِ حدیث میں ان میں سے بعض مصنفین یا ان کی کتابوں کے نام آتے رہتے ہیں۔ لیکن اگر کتاب کا نام ہوتا ہے تو مصنف کا نام ساتھ نہیں ہوتا، اور اگر مصنف کا نام ہوتا ہے تو کتاب کا نام نہیں ہوتا، اور اگر دونوں کا نام ہو تو سنِ وفات کا ذکر ساتھ نہیں ہوتا اور طلبۂ علم کی تشنگی دور نہیں ہوتی۔ اس لیے بتوفیق اللہ تعالٰی و تائید ہم نے حتی الوسع ان سب باتوں کو ملحوظ رکھا ہے لیکن سنینِ وفات کی ترتیب ایک خاص مجبوری کی وجہ سے نظرانداز کر دی گئی ہے لیکن اس میں بھی اہلِ علم کے لیے انشاء اللہ العزیز خاص فائدہ ہو گا۔
نام کتاب نام مصنف تاریخ وفات
معرفت علوم الحدیث
امام ابو عبد اللہ محمدؒ بن عبد اللہ الحاکم
۴۰۵
مدخل امام ابو عبد اللہ محمدؒ بن عبد اللہ الحاکم ۴۰۵
المستخرج علٰی علوم الحدیث
حافظ ابو نعیم احمدؒ بن عبد اللہ الاصفہانیؒ
۴۳۰
الکفایۃ حافظ ابوبکر احمدؒ بن علی الخطیب البغدادیؒ
۴۶۳
الجامع لآداب الشیخ والسامع
حافظ ابوبکر احمدؒ بن علی الخطیب البغدادیؒ ۴۶۳
مالا یسع المحدث جہلہٗ
ابوحفص عمرؒ بن عبد المجید قرشیؒ
۵۸۰
الخلاصہ فی معرفۃ الحدیث
ابو محمد الحسینؒ بن عبد اللہ الطیبیؒ
۷۴۳
مقدمہ فی علم الحدیث
ابو الخیر محمدؒ بن محمد الجزریؒ
۸۳۳
تذکرۃ العلماء فی اصول الحدیث
ابو الخیر محمدؒ بن محمد الجزریؒ ۸۳۳
تنقیح الانظار فی علوم الآثار
سید محمد ابراہیم المعروف بابن الوزیرؒ
۸۶۰
بلغۃ الحثیث فی علوم الحدیث
یوسفؒ بن الحسنؒ بن عبد الہادی الدمشقیؒ
۹۰۹
المختصر فی مصطلح اہل الاثر
عبد اللہ الشنشوری الشافعی الفرضیؒ
۹۰۹
خلاصۃ الفکر فی شرح المختصر
عبد اللہ الشنشوری الشافعی الفرضیؒ ۹۰۹
اشرافات الاصول فی احادیث الرسول
محمدؒ بن اسحاق القونویؒ
۶۷۲
المختصر الجامع لمعرفۃ علوم الحدیث
سید شریف علیؒ بن احمد الجرجانیؒ
۸۱۶
ظفر الامانی فی مختصر الجرجانی
مولانا عبد الحی لکھنویؒ
۱۳۰۴
قصیدۃ الغرامیۃ
ابو العباس شہاب الدین احمد اللخمی الاشبیلیؒ
۶۹۹
شرح الغرامیۃ
ابوا العباس احمدؒ بن الحسین لقسمطینیؒ
۸۱۰
شرح الغرامیۃ
محمدؒ بن ابراہیم الخلیل التتائی المالکیؒ
۹۲۷
شرح الغرامیۃ
شمس الدین ابو الفضل محمدؒ بن محمدؒ الدسجی العثمانی الشافعیؒ
۹۴۷
شرح الغرامیۃ
یحیٰیؒ بن عبد الرحمٰن الاصفہانی الشہیر بالقرانی الشافعیؒ
۹۶۰
شرح الغرامیۃ
محمدؒ بن الامیر الکبیرؒ
۱۱۸۰
شرح الغرامیۃ
الحافظ القاسمؒ بن قطلوبغا الحنفیؒ
۸۷۸
حاشیہ نزہۃ النظر
الحافظ القاسمؒ بن قطلوبغا الحنفیؒ ۸۷۸
بیقونیۃ عمرؒ بن محمدؒ بن فتوح البیقونی الدمشقی الشافعیؒ
۱۰۸۰
شرح البیقونیۃ
شیخ محمدؒ بن صعدان الشہیر بجاد المولٰی الحاجری الشافعیؒ
۱۲۲۹
شرح البیقونیۃ عطیۃ الاجہوری الشافعیؒ
۱۱۹۰
شرح البیقونیۃ محمدؒ بن عبد الباقیؒ بن یوسف الزرقانیؒ
۱۱۲۲
العرجون فی شرح البیقون
نواب محمد صدیقؒ بن حسن خان القنوجیؒ
۱۳۰۷
البہجۃ الوضیۃ
علامہ الشیخ محمود نشابہؒ
۱۳۳۸
الاقتراح فی بیان الاصطلاح
محمدؒ بن علیؒ ابن دقیق العیدؒ
۷۰۶
الخلاصہ فی اصول الاثر
شرف الدین حسنؒ بن محمد الطیبیؒ
۸۱۶
التقاسیم والانواع
محمدؒ بن حبانؒ بن احمد الستبیؒ
۳۵۴
الثواب فی الحدیث
عبد اللہؒ بن محمدؒ بن جعفرؒ بن حیان الاصفہانیؒ
۔۔۔
الاعلام فی استیعاب الروایۃ عن الائمۃ الاعلام
علیؒ بن ابراہیم الغرناطیؒ
۵۷۷
المغنی فی علم الحدیث
عمرؒ بن بدرؒ بن سعید الموصلی الحنفیؒ
۶۲۲
جامع الاصول فی الحدیث
محمدؒ بن اسحاق القونویؒ
۶۷۲
المغیث فی علم الحدیث
احمدؒ بن محمدؒ بن الصاحبؒ
۷۸۸
المقنع فی علوم الحدیث
حافظ ابن الملقنؒ
۸۰۴
المنظومۃ فی اصول الحدیث
احمدؒ بن محمد الشمنی ؒ
۸۷۲
منیع الدر فی علم الاثر
محمدؒ بن سلیمان الکافیجیؒ
۹۷۸
الروض المکلل والورد المحلل
امام جلال الدین سیوطیؒ
۹۱۱
تدریب الراوی
امام جلال الدین سیوطیؒ ۹۱۱
قطر الدر
امام جلال الدین سیوطیؒ ۹۱۱
مقدمہ ابن الصلاح
تقی الدین ابو عمرو عثمانؒ بن الصلاحؒ
۶۴۹
مصباح الظلام
حسینؒ بن علی الحصنی الحصکفیؒ
۹۱۷
الدر فی مصطلح اہل الاثر
یونس الاثری الرشیدیؒ
۱۰۲۰
بغنیۃ الطالبین بمعرفۃ اصطلاح المحدثین
عبد الرؤفؒ بن تاج الدین المنادیؒ
۱۰۳۱
اليواقيت والدرر شرح شرح نخبة الفكر
عبد الرؤفؒ بن تاج الدین المنادیؒ ۱۰۳۱
التیقید والایضاح
زین الدین عبد الرحیم العراقی ؒ
۸۰۶
فتح المغیث
زین الدین عبد الرحیم العراقی ؒ ۸۰۶
النیۃ نظم الدر فی علم الاثر
زین الدین عبد الرحیم العراقی ؒ ۸۰۶
الافصاح بتکمیل النکت علیٰ ابن الصلاح
حافظ ابو الفضل احمدؒ بن علیؒ بن حجرؒ
۸۵۲
نخبۃ الفکر
حافظ ابو الفضل احمدؒ بن علیؒ بن حجرؒ ۸۵۲
نزہۃ النظر شرح نخبۃ الفکر
حافظ ابو الفضل احمدؒ بن علیؒ بن حجرؒ ۸۵۲
الباعث الحثیث
ابو الفداء عماد الدین اسماعیلؒ بن کثیرؒ
۷۷۴
النہل الروی فی حدیث النبوی
بدر الدینؒ بن جماعت الکنانیؒ
۷۳۳
زوال السرّح شرح المنظومۃ ابن فرعؒ
بدر الدینؒ بن جماعت الکنانیؒ ۷۳۳
النہج السومی فی شرح النہل الروی
عز الدین الکنانیؒ
۸۱۹
محاسن الاصطلاح فی تضمین نکت ابن الصلاح
سراج الدین ابو حفص عمرؒ بن رسلان البلقینی ؒ
۸۰۵
تقریب الارشاد
محی الدینؒ بن شرف النوویؒ
۶۷۶
نکت علی ابن الصلاح
بدر الدین محمد بہادر الزرکشیؒ
۷۹۴
نکت الوفیۃ شرح الالفیۃ
برہان الدین ابراہیم الینفاعیؒ
۸۵۵
شرح الالفیۃ
شیخ علیؒ بن احمدؒ بن مکرم الصعیدیؒ
۱۱۸۹
فتح الباقی شرح الفیۃ العراقی
قاضی ابو یحیٰی زکریاؒبن محمد الانصاری المصری الشافعیؒ
۹۲۸
قضاء الوطر من نزہۃ النظر
ابو الامداد ابراہیم اللقانی المالکیؒ
۱۰۴۱
شرح نخبۃ الفکر
علامہ سری الدینؒ بن الصائغ  ؒ
۱۰۶۶
نظم النخبۃ
شہاب الدین احمدؒ بن محمد الطوفیؒ
۸۹۳
شرح نخبۃ الفکر
کمال الدین الاسکندری المالکیؒ
۸۲۱
لقط الدرر
عبد اللہؒ بن حسین السمین العددیؒ (سنِ تالیف)
۱۳۰۹
شرح التقریب
برہان الدین القباقبی الحلبی المقدسیؒ
۸۵۱
مصطلاحات اہل الاثر
علیؒ بن السلطان الہروی القاری الحنفیؒ
۱۰۱۴
شرح شرح نخبۃ الفکر
کمال الدین محمدؒ بن محمدؒ ابن ابی الشریف المقدسیؒ
۹۰۵
بہجۃ النظر شرح شرح نخبۃ الفکر
ابو الحسن محمد صادقؒ بن عبد الہادی السندی الحنفیؒ
۱۱۳۸
العالی الرتبۃ فی شرح نظم النخبۃ
ابو العباس احمدؒ بن محمد الشمنی الحنفیؒ
۸۷۲
فتح المغیث فی شرح الفیۃ الحدیث
علامہ شمس الدین محمدؒ بن عبد الرحمٰن السخاویؒ
۹۰۲
سلک الدرر
محمد رضی الدین ابو الفضل الغزیؒ
۹۳۵
توضیح الافکار
محمدؒ بن اسماعیل الامیر الیمانیؒ
۸۴۰
عقد الدرر فی نظم نخبۃ الفکر
شیخ الاسلام ابی محمد عبد القادر القاضیؒ
۱۱۱۶
حاشیۂ شرح الفیۃ
برہان الدین عمرؒ بن ابراہیم البقاعیؒ
۸۸۵
کتاب التذکرۃ
سراج الدین عمرؒ بن الملقنؒ
۸۹۳
شرح شرح الفیۃ الحدیث
زین الدین عبد الرحمٰن بن ابی بکر العینیؒ
۸۹۳
شرح شرح الفیۃ الحدیث
ابراہیمؒ بن محمد الحلبیؒ
۹۵۵
شرح شرح الفیۃ الحدیث ابو الفداء اسماعیلؒ بن جماعۃؒ
۸۶۱
کوثر النبی
عبد العزیز فرہارویؒ صاحب النبراس
۱۲۳۹
قواعد التحدیث
جمال الدین القاسمیؒ
۱۳۳۲
توجیہ النظر الٰی اصول الاثر
العلامہ طاہرؒ بن احمد الجزائریؒ (سن تالیف)
۱۳۲۸
ان کے علاوہ محمدؒ بن النفلوطیؒ (المتوفٰی ۷۰۲ھ) اور علامہ ابن الجریریؒ (المتوفٰی ۸۳۳ھ) وغیرہ بے شمار حضرات نے اصولِ حدیث کے سلسلہ میں مختصر اور مطول کتابیں تصنیف کی ہیں جن کا احصار و شمار بھی نہیں کیا جا سکتا۔ جامع بیان العلم و فضلہ لابن عبد البرؒ (المتوفٰی ۴۶۳ھ)۔ شروط الائمۃ الخمسۃ للحازمیؒ (المتوفٰی۵۸۴ھ)۔ مقدمۂ فتح الباری لحافظ لابن حجرؒ۔ مقدمۂ عمدۃ القاری للعلامہ بدر الدین محمودؒ بن احمد العینی الحنفیؒ (المتوفٰی ۸۵۵ھ)۔ مقدمۂ شرح مسلم للنوویؒ۔ مقدمۂ نصب الرأیہ للعلامہ الزاہد الکوثری الحنفیؒ (المتوفٰی ۱۳۷۲ھ)۔ مقدمۂ فتح الملہم، مولانا شبیر احمد عثمانیؒ (المتوفٰی ۱۳۶۹ھ)۔ مقدمۂ تحفۃ الاحوذی، مولانا مبارکپوریؒ (المتوفٰی ۱۳۵۳ھ)۔ مقدمۂ اعلاء السنن، مولانا ظفر احمد عثمانیؒ (المتوفٰی ۱۳۹۴ھ)۔ مقدمہ معارف السنن، مولانا بنوریؒ (المتوفٰی ۱۳۹۷ھ)۔ مقدمہ فی بیان بعض مصطلحات علم الحدیث للشیخ عبد الحق محدث دہلویؒ (المتوفٰی ۱۰۵۲ھ)۔ الحطۃ فی ذکر الصحاح الستۃ للنواب صدیق حسن خانؒ۔ عجالۂ نافعہ و بستان المحدثین لشاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ (المتوفٰی ۱۲۳۹ھ)۔ مقدمہ حاشیۂ بخاری، مولانا احمد علی سہارنپوریؒ (المتوفٰی ۱۲۹۷ھ)۔ مقدمۂ بذل الجہود، مولانا خلیل احمد سہارنپوریؒ (المتوفٰی ۱۳۴۶ھ)۔ مقدمہ لامع الدراری، مولانا محمد یحیٰی کاندھلویؒ (المتوفٰی ۱۳۳۴ھ)۔ مقدمۂ اما فی الاحبار، مولانا محمد یوسف صاحبؒ (المتوفٰی ۱۳۸۴ھ)۔ مقدمۂ ترجمان السنۃ، مولانا محمد بدر عالم مدنیؒ (المتوفٰی ۱۳۸۵ھ)۔ مقدمہ انوار الباری شرح البخاری، مولانا سید احمد رضا بجنوری۔ ماتمس الیہ الحاجۃ، مولانا عبد الرشید نعمانی وغیرہ کتابیں اصولِ حدیث، اقسامِ حدیث، عللِ حدیث، اور احوالِ رجال وغیرہا اصولی بحثوں پر خوب روشنی ڈالتی ہیں۔
الغرض اصولِ حدیث کے پیشِ نظر جعل سازوں کے لیے جعلی حدیثیں تراش تراش کر عوام کے سامنے پیش کرنے کا چور دروازہ ہی بالکل بند ہو جاتا ہے اور بفضلہ تعالٰی تمام احادیث کو کتبِ حدیث میں ضبط کر دیا گیا  ہے۔ اور حضرت امام بیہقیؒ (الحافظ الجلیل ابوبکر احمدؒ بن الحسینؒ، المتوفٰی ۴۵۸ھ) کا یہ مقولہ ایک خالص حقیقت معلوم ہوتا ہے ’’من جاء الیوم بحدیث لا یوجد عند الجمیع لا یقبل منہ‘‘ (مقدمۂ ابن الصلاح ص ۱۰۰، فتح المغیث ص ۹۶، توجیہ النظر ص ۲۱۹)۔ یعنی جو شخص آج اگر کوئی ایسی حدیث پیش کرے جو محدثین کرامؒ کی کتابوں میں موجود نہیں تو وہ حدیث مقبول نہ ہو گی۔ لیکن صد افسوس ہے کہ منکرینِ حدیث کی طرح جعل سازوں پر احتیاط کے ایسے طرق اور سامانِ ہدایت کی موجودگی میں بھی کچھ اثر نہیں، کوئی نصیحت اور فہمائش ان کو کام نہیں دیتی، کتنا ہی سمجھاؤ پتھر پر جونک نہیں لگتی۔

ضعیف احادیث اور ضعیف روات پر مشتمل کتب

حضرات محدثین کرامؒ نے احادیث کو اصلی شکل میں محفوظ رکھنے کے لیے ضعیف روایات اور ضعیف روات کے بارے میں الگ تصانیف لکھی ہیں تاکہ آنے والی نسلیں ان سے استفادہ کر کے ضعیف احادیث اور ضعیف روات کی روایات سے اجتناب کر سکیں۔ اس سلسلہ کی کتب بھی بے شمار ہیں، چند مشہور یہ ہیں:
نام کتاب نام مصنف تاریخ وفات
کتاب الضعفاء الکبیر والصغیر
امام بخاریؒ
۲۵۶ھ
کتاب الضعفاء والمتروکین
امام نسائیؒ
۳۰۳ھ
کتاب الضعفاء
ابو اسحاق الجوزجانیؒ
۲۵۹ھ
کتاب الضعفاء ابو جعفر العقیلیؒ
۳۲۳ھ
کتاب الضعفاء ابو نعیم استرآبادیؒ
۳۲۳ھ
کتاب الضعفاء ابن عدیؒ (بارہ جلدوں میں)
۳۶۵ھ
کتاب الضعفاء ابو عبد اللہ البرقیؒ
۲۴۹ھ
کتاب الضعفاء ابو الفتح محمدؒ بن الحسین الازدیؒ
۳۷۴ھ

عللِ حدیث

اسانید اور متونِ حدیث میں بعض روات سے جو اغلاط و اوہام سرزد ہوئے ہیں ان کی نشاندہی کے سلسلہ میں بے شمار کتابیں موجود ہیں۔ حضرت امام بخاریؒ اور حضرت امام مسلمؒ اور حضرت امام ترمذیؒ کی علل کبیر و صغیر، کتاب العلل للدارقطنیؒ، کتاب العلل لابن ابی حاتمؒ، علل متناہیہ لابن الجوزیؒ وغیرہ کتابیں اس سلسلہ میں کافی مشہور اور علماء فن کے نزدیک معروف ہیں۔

کتبِ موضوعات

حضرات محدثین کرامؒ نے اپنی دانست اور صوابدید کے مطابق جعلی، موضوع اور من گھڑت روایات کو الگ کر کے کتب تصنیف کی ہیں تاکہ ان پر عمل کر کے امت گمراہ نہ ہو جائے، اور سنتِ صحیحہ سے ہٹ اور کٹ  کر خودساختہ راستوں پر نہ چل نکلے۔ اس سلسلے کی مشہور کتابیں یہ ہیں:
نام کتاب نام مصنف تاریخ وفات
موضوعات
ابن الجوزیؒ
۵۹۷ھ
مختصر الموضوعات
امام سفارینیؒ

رسالتان فی الموضوعات
رضی الدین صغانیؒ
۶۵۰ھ
الفواعد المجموعۃ فی الاحادیث الموضوعۃ
شیخ ابی عبد اللہ محمد شامیؒ

الفواعد المجموعۃ فی الاحادیث الموضوعۃ القاضی شوکانیؒ
۱۲۵۵ھ
الموضوعات الصریحۃ
عمرؒ بن بدرؒ

کتاب المغنی
حافظ ضیاء الدین موصلیؒ
۶۲۳ھ
کتاب الاباطیل
ابو عبد اللہ الحسین ہمدانیؒ
۵۴۳ھ
الؤلو المرصوع
محمدؒ بن خلیل قادقچیؒ
۱۳۰۵ھ
الکشف الالہٰی
محمد سندوسیؒ
۱۱۷۷ھ
اللالی المضوعۃ فی الاحادیث الموضوعۃ
جلال الدین سیوطیؒ
۹۱۱ھ
موضوعاتِ کبیرہ
ملا علی ن القاریؒ
۱۰۱۴ھ
الموضوع فی الحدیث الموضوع
ملا علی ن القاریؒ ۱۰۱۴ھ
تذکرۃ الموضوعات
علامہ محمدؒ بن طاہر الفتنی الحنفیؒ
۹۸۷ھ
قانون الموضوعات
علامہ محمدؒ بن طاہر الفتنی الحنفیؒ ۹۸۷ھ
الآثار المرفوعہ فی الاحادیث الموضوعۃ
مولانا عبد الحی لکھنویؒ
۱۳۰۴ھ
کشف الحثیث عمن رمی بوضع الحدیث
برہان الدین ابو الوفاء سبط ابن العجمیؒ
۸۴۱ھ
تنزیہ الشریعۃ المرفوعہ عن الاخبار الشنیعۃ الموضوعۃ
علامہ ابو الحسن علیؒ بن محمدؒ بن عراقؒ

ذخائر المواریث فی الدلالۃ علٰی مواضع الحدیث
علامہ عبد الغنیؒ بن جماعۃ النابلسیؒ
۱۱۴۳ھ

شانِ نزولِ حدیث

کسی بھی عقل مند کو یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ ہر متکلم کی بات کا کوئی نہ کوئی سبب ضرور ہوتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کا بھی اپنے مقام پر کوئی نہ کوئی سبب ضرور تھا۔ اس سلسلہ میں علامہ ابراہیمؒ بن محمدؒ بن کمال الدین الشہیر بابن حمزۃ الحسینی الحنفیؒ (المتوفٰی ۱۱۳۰ھ) کی کتاب ’’البیان والتعریف فی سبب درود الحدیث‘‘ تین جلدوں میں طبع ہو کر منصۂ شہود پر آ چکی ہے۔ جس میں پہلے حدیث کا ایک حصہ نقل کر کے کتبِ حدیث سے اس کا ماخذ بتاتے ہیں، پھر اس کی تصحیح اور تضعیف کا لحاظ کرتے ہیں، اور پھر اس کا سببِ درود بیان کرتے ہیں۔

بخاری کی احادیث کی تلاش

اہلِ علم کے ہاں یہ مقولہ مشہور ہے کہ ’’فقہ البخاری فی الابواب والتراجم‘‘ حضرت امام بخاریؒ ایک ایک حدیث کو کلاً یا بعضاً مختلف ابواب میں نقل کرتے ہیں۔ بسا اوقات بخاری کی احادیث کی تلاش میں خاصی دقت پیش آتی ہے۔ اس سلسلہ میں حضرت مولانا عبد العزیز سہالوی ثم گوجرانوالویؒ (المتوفٰی ۱۳۵۹ھ) نے ’’نبراس الساری فی اطراف البخاری‘‘ لکھ کر امت پر احسان کیا ہے جس سے آسانی کے ساتھ بیک وقت بخاری میں ایک ہی حدیث متعدد ابواب میں مل جاتی ہے۔

معانی الاحادیث

کتبِ حدیث میں بغیر مسند دارمی کے اور کوئی کتاب ایسی نہیں جس میں بظاہر مختلف اور متضاد قسم کی حدیثیں نہ آتی ہوں۔ ان کی جمع و تطبیق کے سلسلہ میں حضرت امام شافعیؒ کی اختلاف الحدیث، حضرت امام طحاویؒ (امام ابو جعفر احمد بن محمد بن سلامۃؒ) جو الامام العلامۃ اور الحافظ تھے (تذکرہ ج ۳ ص ۲۸) اور وہ علماء کی سیرت اور ان کی اخبار کو سب سے زیادہ جانتے تھے اور حضرات فقہاء کرامؒ کے تمام مذاہب کو جانتے تھے ’’کان عالما مجمیع مذاھب الفقہاء‘‘ (جامع بیان العلم ج ۲ ص ۷۸)، علامہ ابن حزم ابو محمد علیؒ بن احمدؒ (المتوفٰی ۳۲۱ھ) جو الامام العلامۃ الحافظ الفقیہ اور المجتہد تھے، امام طحاویؒ کی کتابوں کو صحت میں بخاری و مسلم وغیرہ کے ہم پلہ مانتے ہیں (تذکرہ ج ۳ ص ۳۲۸) کی شرح معانی الآثار اور مشکل الآثار، امام ابن قتیبہؒ (المتوفٰی ۲۷۶ھ) کی مختلف الحدیث، امام ابن عبد البرؒ کی تمہید اور اس کا ملخص استدکار اور کتبِ شروحِ حدیث اس قدر ہیں کہ ان کا آسانی سے شمار و احصار نہیں کیا جا سکتا۔
الغرض امتِ مرحومہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال کی حفاظت اور امت کے لیے ان کی تسہیل و تشریح کے لیے ایسے ایسے طریقے اختیار کیے ہیں جن سے زیادہ محتاط اور معقول طریقے انسان کے بس میں نہیں ہیں۔ اور یہ کوشش اور کاوش محض احادیث کو سندًا و متناً و مرادًا محفوظ رکھنے کے لیے ہے۔ مگر منکرینِ حدیث کو ان حقائق سے کیا واسطہ، وہ تو ان کاوشوں کو بازیچۂ اطفال سے تعبیر کریں گے
زمامِ کار اگر مزدور کے ہاتھوں میں ہو تو کیا
طریقِ کوہکن میں بھی وہی حیلے ہیں پرویزی

لغات الحدیث

اس فن میں متعدد کتابیں ہیں جن میں النہایہ فی غریب الحدیث لابن الاثیر (مجدد الدین ابی السعادات المبارکؒ بن محمد الجزریؒ المتوفٰی ۶۰۶ھ)۔ الفائق، علامہ جار اللہ محمود بن عمر الزمحشری (المتوفٰی ۵۳۸ھ)۔ المغرب للعلامہ ابی الفتح ناصر الدینؒ بن عبد السید الحنفی الخوارزمیؒ (المتوفٰی ۵۳۵ھ)۔ اور مجمع البحار للعالمۃ محمدؒ بن طاہرؒ وغیرہ معروف و مشہور کتابیں ہیں۔

سرمایہ داری اور اسلامی نظامِ معیشت

شیخ التفسیر مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ

حضور علیہ السلام نے اسلام کی دعوت پر ہرقل قیصرِ روم کو بھی خط لکھا تھا۔ جب یہ خط قیصر کو پیش ہوا تو اس نے حکم دیا کہ اگر عرب کا کوئی شخص مل جائے تو حاضر کیا جائے۔ ان دنوں غزہ میں ابوسفیان کی قیادت میں قریشِ مکہ کا ایک تجارتی قافلہ مقیم تھا۔ چنانچہ ابوسفیان کو ہرقل کے سامنے پیش کیا گیا اور ہرقل نے ان سے حضور علیہ السلام کے متعلق مختلف سوال کیے جن میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ جس مدعی نبوت کا خط مجھے پہنچا ہے اس کے اولین متبعین کمزور لوگ ہیں یا با اثر شخصیتیں؟ تو ابوسفیان نے کہا کہ نادار اور کمزور لوگ ہیں۔ اس پر ہرقل پکار اٹھا کہ ابتدا میں نبیوں کے پیروکار ضعیف لوگ ہی ہوتے ہیں، بڑے لوگ اس وقت ایمان لاتے ہیں جب ان کے لیے کوئی دوسرا راستہ نہیں رہتا۔ ہرقل کا یہ مقولہ سابقہ کتابوں کی تعلیم سے بھی معلوم ہوتا ہے۔ 
یعنی اللہ تعالیٰ نے یہاں پر یہ بات سمجھا دی ہے کہ مال و دولت یا جاہ و منصب پر اترانا غلط بات، اصل میں مدارِ عزت ایمان ہے نہ کہ جاہ و حشمت، اللہ کے ہاں باعزت وہ شخص ہے جو زیادہ متقی ہے جس کے اخلاق اچھے ہیں، نیکی اور پرہیزگاری جس کا شیوہ ہے۔ اور یہ صفات ان غربا و مساکین میں پائی جاتی ہیں مگر مالدار اور چوہدری قسم کے لوگ ان کو حقیر سمجھ رہے ہیں۔ فرمایا، اگر آپ ان کو اپنے سے دور کر دیں گے تو ناانصافوں میں شامل ہو جائیں گے۔
فرمایا ’’وَکَذٰلِکَ فَتَنَّا بَعْضَھُمْ بِبَعْضٍ‘‘ اور اسی طرح ہم نے آزمایا ہے بعض کو بعض سے۔ یعنی بعض آدمیوں کو ہم نے مال و دولت یا جاہ و حکومت دے کر آزمایا کہ یہ اپنے ماتحتوں یا کمتر لوگوں کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔ ان کو حقیر سمجھ کر حقارت آمیز سلوک کرتے ہیں یا ان کا احترام کرتے ہیں اور خوشدلی سے پیش آتے ہیں۔
اسی طرح مساکین کو عسرت میں مبتلا کر کے آزمایا ہے۔ سورہ فرقان میں موجود ہے ’’وَجَعَلْنَا بَعْضَکُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَۃً‘‘ ہم نے تمہارے بعض کو بعض کے لیے آزمائش بنایا ہے۔ اور اس کا مقصد یہ ہے ’’اَتَصْبِرُوْنَ‘‘ کیا تم صبر کرتے ہو؟ مقصد یہ ہے کہ غرباء کو غربت میں مبتلا کر کے آزمایا ہے کہ آیا یہ امراء کی امارت دیکھنے کے باوجود صبر کرتے ہیں؟ ’’وَکَانَ رَبُّکَ بَصِیْرًا‘‘ تیرا رب تو ہر چیز کو دیکھ رہا ہے۔ 
وہ امیر کو دولت دے کر آزماتا ہے کہ یہ مساکین کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے، اور غریب کو غربت دے کر آزماتا ہے کہ یہ کس حد تک صبر کرتا ہے۔ مگر مقامِ افسوس ہے کہ اس آزمائش میں دونوں طبقے ناکام رہے ہیں، نہ تو دولت مند غرباء کا خیال رکھتے ہیں اور نہ مساکین صبر سے کام لیتے ہیں۔
روس میں ۱۹۱۷ء کا انقلاب اسی امیر غریب کے سوال پر ہی آیا تھا جس کی بھینٹ تین کروڑ آدمی چڑھ گئے۔ امراء نے غرباء پر مظالم توڑے، ان کے حقوق ادا نہیں کیے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ غریبوں نے تحریک چلائی۔ دونوں گروہ بے دین تھے۔ غریبوں نے امیروں کو مردار کتوں کی طرح گھسیٹا۔ یہ غریبوں کو حقیر سمجھنے کا شاخسانہ تھا۔ نہ امیروں نے حقوق ادا کیے نہ غریبوں نے صبر کیا۔ جس کا نتیجہ کشت و خون کی صورت میں نکلا۔ شیخ سعدیؒ نے گلستان میں ایک ایسا عمدہ فقرہ کہا ہے جس کے متعلق لوگوں نے کہا کہ ہماری ساری کتابوں کے بدلے یہ ایک فقرہ ہمیں دے دیں۔ کہتے ہیں:
’’خواہندۂ مغربی در صف بزازان حلب میگفت اے خداوندِ نعمت اگر شمارا انصاف بود و مارا قناعت رسم سوال از جہاں برخاستے۔‘‘
’’ملک کے مغرب میں ایک محتاج نے بزازوں کی صف میں کھڑے ہو کر کہا، اے دولت کے مالکو! اگر تم میں انصاف اور ہم میں قناعت ہوتی تو دنیا میں کوئی بھی سوال نہ کرتا یعنی سوال کی رسم ہی برخواست ہو جاتی۔‘‘
ہم دونوں مجرم ہیں، تم میں سخاوت نہیں ہے اور ہم قناعت سے محروم ہیں، دولت کے ہوتے ہوئے تم مسکینوں کا خیال نہیں رکھتے اور ہم صبر سے عاری ہو چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پوری دنیا مصائب کا شکار بنی ہوئی ہے۔
یاد رکھنا چاہیئے کہ اسلام نے اعتدال اور میانہ روی کی تعلیم دی ہے۔ اسلام نے اس دولت کو لعنت کے برابر کہا ہے جس میں سے غریبوں کے حقوق نہ ادا کیے جائیں۔ ایسی دولت مندی باعثِ وبال ہے۔ ہاں اگر اپنے مال سے تمام فرضی، واجبی حقوق ادا کرتا ہے تو پھر یہ دولت جائز ہے۔ اگر حلت و حرمت کا امتیاز ختم ہو چکا ہے تو پھر یہ سرمایہ داری (Capitalism) ہے، اس کا حامی سرمایہ پرست ہے۔
اور دوسری طرف نفرت اور عداوت کا جذبہ پایا جاتا ہے کہ سرمایہ داروں کے پاس سرمایہ کیوں ہے؟ خواہ اس نے جائز ذرائع سے ہی کیوں نہ حاصل کیا ہو اور وہ تمام حقوق بھی کیوں نہ ادا کرتا ہو، مگر محض صاحبِ مال و دولت ہونا ہی گردن زدنی سمجھ لیا گیا ہے۔ یہ بھی غلط ہے۔ یہ لوگ نہ صرف سرمایہ داری کے خلاف ہوتے ہیں بلکہ آگے چل کر مذہب کے بھی خلاف ہو جاتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ سرمایہ داروں نے لوگوں کو الو بنانے کے لیے مذہب کی آڑ لے رکھی ہے۔
سوشلسٹ ملکوں میں یہی کچھ ہوا ہے۔ پہلے سرمایہ داروں کے خلاف آواز اٹھائی اور پھر آہستہ آہستہ مذہب کو ہی خیرباد کہہ دیا۔ ان کی بات کسی حد تک درست بھی ہے۔ اکثر و بیشتر اقتدار پسندوں، سرمایہ داروں اور ملوک نے مذہب کو غلط استعمال کیا ہے۔ البتہ کچھ اللہ والے ایسے بھی ہیں جنہوں نے ایسا نہیں کیا۔ اورنگزیب عالمگیرؒ بھی تو بادشاہ تھے، سلطان ناصر الدین التمشؒ بھی اسی سرزمین پر مسندِ اقتدار پر رہا ہے۔ اس کے پاس کابل سے لے کر برما تک حکومت تھی مگر دل میں خوفِ خدا رکھتے تھے۔ حضرت عمر بن عبد العزیزؒ جیسے بلند پایہ لوگ بھی تو ہوئے ہیں جن پر اقتدار کا نشہ غالب نہیں آیا اور جنہوں نے مستحقین کے حقوق ادا کرنے میں کبھی کوتاہی نہیں کی۔ لیکن یہ مذہب کا غلط استعمال تھا جس کی وجہ سے ملحدوں کو مذہب کے خلاف پراپیگنڈا کرنے کا موقع ملا۔ غرضیکہ یہ دونوں گروہ لعنتی ہیں۔
اسلام ہی وہ مذہب ہے جو اعتدال کا راستہ دکھاتا ہے۔ اگر ملک میں صرف حلال و حرام کی پابندی پوری طرح نافذ کر دی جائے تو لوگوں کو سکون حاصل ہو جائے۔ جو مال حرام ذرائع سے حاصل کیا جاتا ہے اس کا مصرف بھی حرام اور من مانے طریقے پر کیا جاتا ہے۔ کوئی پوچھنے والا نہیں کہ دولت حاصل کیسے کی اور اسے خرچ کس چیز پر کر رہے ہو۔ فضول خرچی قطعاً حرام اور تباہی کا باعث ہے۔ اس لیے سرمایہ داری اور اشتراکی نظامِ معیشت دونوں ملعون ہیں۔ صرف اسلام کا نظام ہی درست ہے جو دولت مندی کی حوصلہ افزائی اس وقت کرتا جب وہ جائز ذرائع سے حاصل کی گئی ہو اور اس میں سے تمام حقوق ادا کیے گئے ہوں۔ اگر جائز و ناجائز کی تمیز روا نہیں رکھی تو یہی سرمایہ داری ہے جو ملعون ہے۔

انبیاءؑ کے حق میں ذنب و ضلال کا مفہوم

مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ

اہلِ اسلام کے نزدیک انبیاءؑ کی عصمت عقلاً اور نقلاً ثابت ہے اور اس کی عقلی اور نقلی دلیلیں علم کلام کی کتابوں میں مرقوم ہیں۔ اور یہ بات بھی ان کے نزدیک ضروری اور مدلل ہے کہ جو لفظ لغت سے شرع میں منقول ہوئے ہیں مثلاً صلوٰۃ اور زکوٰۃ اور حج وغیرہا، جب خدا اور رسول کے کلام میں مستعمل ہوتے ہیں تو وہ ان کے معانی شرعیہ مراد لیتے ہیں۔ اور جب تک کوئی عقلی یا نقلی دلیل قطعی ایسی نہ ہو کہ معنے شرعی کے مراد لینے سے منع کرے تب تک وہی معانی مراد لیتے ہیں۔

ذنب

چنانچہ لفظ ذنب بھی شریعت میں جہاں کہیں انبیاء علیہم السلام کے حق میں واقع ہوا ہے تو زلّہ اور ترک اولٰی کے معنی میں آیا ہے۔ اور زل اس کو کہتے ہیں کہ شخصِ معصوم عبادت یا کسی امرِ مباح کے کرنے کا قصد کرتا ہے لیکن اس سبب سے کہ اس عبادت یا امرِ مباح کے ساتھ کوئی گناہ ملا ہوا ہوتا ہے تو بغیر قصد کے اس میں گر پڑتا ہے۔ جیسے راہ کا چلنے والا کبھی بغیر قصد کے پتھر سے ٹھوکر کھا کر یا کیچڑ کے سبب پھسل کر گر جاتا ہے، لیکن قصد راہ کا چلنا تھا نہ گر پڑنا۔ اور نبوت کے منصب کا لحاظ کر کے قول ’’حسنات الابرار سیات المقربین‘‘ کے موافق نبی کے اس ترک اولٰی پر ذنب کا اطلاق ہوتا ہے۔

ضلال

اور لفظِ ضلال قرآن کے اندر جہاں کفار کی مذمت میں واقع ہوتا ہے تو حق کی راہ سے گمراہ ہونے کے معنے میں آتا ہے، اور اگر ان کی مذمت میں نہیں ہوتا تو کہیں راہ بھولنے کے معنے میں آتا ہے جیسے سورہ قلم کی چھبیسویں آیت کے اندر ہے ’’فَلَمَّا رَاَؤْھَا قَالُوْا اِنَّا لَضَالُّوْنَ‘‘ یعنی پھر جب اس کو (یعنی باغ کو) دیکھا، بولے ہم راہ بھولے۔ اور کہیں ایسے رَل مِل جانے اور مخلوط ہو جانے کے معنی میں آتا ہے کہ جس میں تمیز نہ ہو سکے، جیسے سورہ سجدہ کی آیت میں ہے ’’وَقَالُوْا اَئِذَا ضَلَلْنَا فِی الْاَرْضِ اَئِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ‘‘ یعنی اور کہتے ہیں (قیامت کے منکر) کیا جب ہم رَل مِل گئے زمین (کی مٹی) میں کیا ہم کو نیا بننا ہے؟ اور ۔۔ بولتے ہیں ’’ضل الماء فی اللبن‘‘ یعنی پانی دودھ میں ایسا رَل مِل گیا کہ اس کی تمیز نہیں ہو سکتی۔ اور کہیں عشق اور محبت کی زیادتی کے سبب چوکنے کے معنے میں آتا ہے جیسا کہ سورہ یوسف کی آٹھویں آیت میں حضرت یوسفؑ کے بھائیوں کا قول ہے ’’اِنَّ اَبَانَا لَفِیْ ضَلَالٍ مُبِیْنٍ‘‘ یعنی البتہ ہمارا باپ صریح چوک میں ہے۔ یعنے یوسف اور اس کے بھائیوں سے زیادتی عشق اور محبت کے سبب۔ اور اسی سورہ کی تیسویں آیت میں مصر کی عورتوں کا زلیخا کے حق میں یہ قول ہے ’’اِنَّا لَنَرٰھَا فِیْ ضَلَالٍ مُّبِیْنٍ‘‘ یعنی ہم تو دیکھتے ہیں اس کو صریح بہکی ہوئی۔ یعنی یوسف کے عشق کے غلبہ کے سبب سے۔ اور اسی سورہ کی پچاسویں آیت کے اندر لوگوں کا قول حضرت یعقوبؑ کے حق میں ہے ’’قَالُوْا تَاللّٰہِ اِنَّکَ لَفِیْ ضَلَالِکَ الْقَدِیْمِ‘‘ یعنی لوگ بولے اللہ کی قسم تو اپنے اسی قدیم بہکنے میں ہے۔ یعنی یوسف کے عشق اور محبت کی زیادتی کے سبب ہے۔ اور کہیں اللہ کے حکموں سے واقف نہ ہونے کے معنے میں آتا ہے جیسے سورہ شعراء کی بیسویں آیت میں قول حضرت موسٰیؑ کا یوں منقول ہوا ہے ’’فَعَلْتُھَا اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّالِّیْنَ‘‘ یعنی کیا تو ہے میں نے وہ جبکہ تھا اس وقت نادانوں سے۔
پس اس آیت میں لفظ ضالین بمعنی جاہلین کے ہے اور اس معنے کو یہ بات بھی مؤید ہے کہ بعض قراءت میں ضالین کے لفظ کی بجائے جاہلین کا لفظ واقع ہے، اور اسی طرح ضلال کا لفظ یا جو اس سے مشتق ہے قرآن میں جہاں اور جگہ بھی واقع ہوا ہے اس مقام کے مناسب لیا جاتا ہے۔ اور سب جگہ کفر اور گمرہی کے معنی میں لینا محض گمراہی ہے۔ اور مسلمانوں کی شریعت سے واقف ہو کر یعقوب اور موسٰی علیہما السلام کے حق میں بمعنے کفر اور گمراہی کے کافر اور گمراہ کے سوا اور شخص نہیں کہہ سکتا، اور ایسا ہی انبیاء کے حق میں سمجھنا چاہیئے۔ اور عرب اس درخت کو جو جنگل میں اکیلا ہوتا ہے ضالّہ کہتے ہیں۔

ہمارے دینی مدارس — توقعات، ذمہ داریاں اور مایوسی

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ہمارے معاشرہ میں دینی مدارس کے کردار کے مثبت پہلو کے بارے میں کچھ گزارشات ’’الشریعہ‘‘ کے گزشتہ سے پیوستہ شمارے میں پیش کی جا چکی ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ فرنگی اقتدار کے تسلط، مغربی تہذیب و ثقافت کی یلغار اور صلیبی عقائد و تعلیم کی بالجبر ترویج کے دور میں یہ مدارس ملی غیرت اور دینی حمیت کا عنوان بن کر سامنے آئے اور انہوں نے انتہائی بے سروسامانی کے عالم میں سیاست، تعلیم، معاشرت، عقائد اور تہذیب و ثقافت کے محاذوں پر فرنگی سازشوں کا جرأتمندانہ مقابلہ کر کے برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش کو اسپین بننے سے بچا لیا۔ اور یہ بات پورے اعتماد کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ آج اس خطۂ زمین میں مذہب کے ساتھ وابستگی اور اسلام کے ساتھ وفاداری کے جن مظاہر نے کفر کی پوری دنیا کو لرزہ براندام کر رکھا ہے، عالمِ اسباب میں اس کا باعث صرف اور صرف یہ دینی مدارس ہیں۔ لیکن مناسب بلکہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ تصویر کے دوسرے رخ پر بھی ایک نظر ڈال لی جائے اور اربابِ فہم و دانش کی ان توقعات اور امیدوں کا مرثیہ بھی پڑھ لیا جائے جن کا خون ناحق ہمارے دینی مدارس کی اجتماعی قیادت کی گردن پر ہے۔ تفصیلات و فروعات تک گفتگو کا دائرہ وسیع کرنے کی بجائے ہم اپنی گزارشات کو صرف دو سوالات کے حوالے سے قارئین کی خدمت میں پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔

  1. جدید مغربی فلسفۂ حیات کے اثرات سے مسلمانوں کو محفوظ رکھنے کے لیے ہمارے دینی مدارس کا کردار کیا ہے؟
  2. اور مسلم معاشرے میں نفاذ اسلام کے ناگزیر علمی و فکری تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ان مدارس کا نظامِ کار اور حکمتِ عملی کیا ہے؟

ایک دور تھا جب یونانی فلسفہ نے عالم اسلام پر یلغار کی تھی اور عقائد و افکار کی دنیا میں بحث و تمحیص کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ اگر اس وقت عالمِ اسلام کے تعلیمی مراکز اور اہلِ علم یونانی فلسفہ کی اس یلغار کو وقتی طوفان سمجھ کر نظرانداز کر دیتے اور اپنے کان اور منہ لپیٹ کر اس کے گزر جانے کا انتظار کرتے رہتے تو اسلامی علوم و عقائد کا پورا ڈھانچہ فلسفۂ یونان کی حشر سامانیوں کی نذر ہو جاتا۔ لیکن علمائے اسلام نے اس دو رمیں ایسا نہیں کیا بلکہ یونانی فلسفہ کے اس چیلنج کو قبول کر کے خود اس کی زبان میں اسلامی عقائد و افکار کو اس انداز سے پیش کیا کہ یونانی فلسفہ کے لیے پسپائی کے سوا کوئی چارۂ کار نہ رہا اور اس کے بپا کیے ہوئے فکری اور نظریاتی معرکوں کے تذکرے آج رازیؒ، غزالیؒ، ابن رشدؒ اور ابن تیمیہؒ کی تصنیفات میں یادگار کے طور پر باقی رہ گئے ہیں۔

یورپ کے جدید فلسفۂ حیات کی یلغار بھی یونانی فلسفہ کے حملہ سے کچھ مختلف نہیں ہے۔ یہ فلسفۂ حیات جس نے انقلابِ فرانس کے ساتھ اپنا وجود تسلیم کرایا اور پھر یورپ کے صنعتی انقلاب کے زیر سایہ اپنا دائرہ وسیع کرتے ہوئے آج دنیا کے اکثر و بیشتر حصہ کو لپیٹ میں لے چکا ہے، خود کو انسانی زندگی کے ایک ہمہ گیر فلسفہ کے طور پر پیش کرتا ہے اور انسان کی پیدائش کےمقصد سے لے کر انسانی معاشرت کے تقاضوں اور مابعد الطبعیات کی وسعتوں تک کو زیر بحث لاتا ہے۔ ڈارون، فرائیڈ، نطشے اور دیگر مغربی فلاسفروں اور سائنس دانوں کی گزشتہ دو صدیوں پر محیط فکری کاوشوں اور نظریاتی مباحث کا خلاصہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ کلیسا کی بدکرداریوں اور مظالم کے ردعمل کے طور پر جنم لینے والے اس فلسفہ کو یورپ نے ایک مکمل فلسفۂ حیات کی شکل میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے اور اس کے ذریعے وہ دنیا میں موجود اسلام سمیت تمام فلسفہ ہائے حیات کو مکمل شکست سے دوچار کر کے فنا کے گھاٹ اتارنے کے درپے ہے۔

ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نے یورپ کی اس فکری یلغار کی ماہیت اور مقاصد کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی اور اسے محض اقتصادی اور سیاسی بالادستی کا جنون سمجھ کر اس انداز میں اس کا سامنا کرتے رہے اور اس کی فکری اور اعتقادی پہلوؤں کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا۔ یونانی فلسفہ کے در آنے سے ہمارے ہاں عقائد کے نئے مباحث چھڑ گئے تھے جنہیں علمائے اسلام نے اپنے فکری اور علمی مباحث میں سمو دیا اور ہمارے عقائد کی بیشتر کتابیں ان مباحث سے بھرپور ہیں۔ حتیٰ کہ دینی مدارس کے نصاب میں آج کے طلبہ کو بھی عقائد کے حوالے سے انہی مباحث سے روشناس کرایا جاتا ہے جو یونانی فلسفہ کی پیداوار ہیں اور جن میں سے زیادہ تر کا آج کے نئے فکری اور اعتقادی تقاضوں کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں ہے۔ لیکن جو اعتقادی اور فکری و تہذیبی مباحث یورپ کے فلسفۂ حیات نے چھیڑے ہیں، نہ ہماری عقائد کی کتابوں میں ان کا کوئی ذکر ہے اور نہ ہم طلبہ کو ان مباحث کی ہوا ہی لگنے دیتے ہیں۔

ڈارون کا نظریۂ ارتقا، انسان کے مقصدِ وجود میں کششِ جنسی کی محوری حیثیت کے بارے میں فرائیڈ کے تصورات، اجتماعی زندگی سے مذہب کی مکمل لاتعلقی اور غیر محدود فکری آزادی کا نعرہ آخر اعتقادی مباحث نہیں تو اور کیا ہیں؟ اور کیا انہی افکار و نظریات کا شکار ہو کر مسلمان کہلانے والوں کی ایک بڑی تعداد اسلام کے اجتماعی کردار سے منکر یا کم از کم مذبذب نہیں ہو چکی ہے؟ اس اعتقادی فتنہ کی روک تھام کے لیے ہمارے دینی مدارس کا کیا کردار ہے؟ ہمارے نصاب میں تفسیر، حدیث، فقہ اور عقائد کی کون سی کتاب میں یہ مباحث شامل ہیں او رہم اپنے طلبہ کو ان مباحث سے روشناس کرانے اور انہیں ان کے جواب کی خاطر تیار کرنے کے لیے کیا کر رہے ہیں؟

یہ وقت کا ایک اہم سوال اور دینی مدارس کی اجتماعی قیادت پر مسلم معاشرہ اور نئی نسل کا ایک قرض ہے جس کا سامنا کیے بغیر ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کی کوئی صورت ممکن نہیں ہے۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ فروعی اور جزوی مسائل ہمارے ہاں بنیادی اور کلیدی حیثیت اختیار کر گئے ہیں اور جو امور فکر و اعتقاد کی دنیا میں بنیاد کی حیثیت رکھتے ہیں ان کی ہماری نظر میں کوئی وقعت ہی باقی نہیں رہی۔ ہماری پسند و ناپسند اور وابستگی و لاتعلقی کا معیار جزوی مسائل اور گروہی تعصبات ہیں۔ ایک مثال بظاہر معمولی سی ہے لیکن اس سے ہماری فکری ترجیحات کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے، وہ یہ کہ ہمارے ایک دوست نے جنہوں نے ہمارے دینی ماحول میں تربیت حاصل کی ہے گزشتہ دنوں ایک بڑے سیاسی لیڈر کے بارے میں اپنے تاثرات کا اظہار یوں کیا کہ وہ بہت اچھا اور صحیح العقیدہ لیڈر ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ میں برسیوں اور عرسوں میں شریک ہونے کا قائل نہیں ہوں۔ ان سے عرض کیا گیا کہ وہ سیاسی لیڈر تو سیکولر نظریات کا قائل ہے اور اجتماعی زندگی میں نفاذ اسلام کو ذہنی طور پر قبول نہیں کرتا۔ اس کے جواب میں ہمارے دوست کا کہنا یہ تھا کہ یہ تو سیاسی باتیں ہیں، اصل بات یہ ہے کہ وہ عرسوں اور برسیوں کا مخالف ہے اس لیے وہ ہمارے مسلک کا ہے اور صحیح العقیدہ ہے۔ یعنی اسلام کے اجتماعی زندگی میں نفاذ کا مسئلہ ’’سیاسی‘‘ ہے اور عرسوں میں شریک ہونے یا نہ ہونے کا مسئلہ اعتقادی ہے۔ آخر یہ سوچ کہاں سے آئی ہے؟ کیا یہ ہمارے دینی مدارس کی غلط فکری ترجیحات کا ثمرہ نہیں ہے؟

اب آئیے دوسرے نکتہ کی طرف کہ نفاذ اسلام کے علمی و فکری تقاضوں کی تکمیل کے لیے ہمارے دینی مدارس کا کردار کیا ہے؟ جہاں تک نفاذ اسلام کی اہمیت کا تعلق ہے کوئی مسلمان اس سے انکار نہیں کر سکتا اور علمائے اہلِ سنت نے اسے اہم ترین فرائض میں شمار کیا ہے۔ بلکہ ابن حجر مکیؒ اور دیگر ائمہ نے اس کی تصریح کی ہے کہ نظام اسلام کے نفاذ کے لیے خلافت کا قیام ’’اہم الواجبات‘‘ ہے جسے حضرات صحابہ کرامؓ نے جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی تدفین پر ترجیح دی اور آنحضرتؐ کے جنازہ اور تدفین سے قبل حضرت ابوبکرؓ کا بطور خلیفہ انتخاب کیا۔ پھر برصغیر میں ہمارے اکابر کی جنگِ آزادی کا بنیادی مقصد بھی حصولِ آزادی کے بعد نظامِ اسلام کا غلبہ و نفاذ رہا ہے اور پاکستان کا قیام بھی لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے نعرہ پر شریعتِ اسلامیہ کی بالادستی کے لیے عمل میں آیا۔ لیکن اسلام کو ایک اجتماعی نظام کے طور پر ہمارے دینی مدارس میں نہ پڑھایا جا رہا ہے اور نہ طلبہ کی اس انداز میں ذہن سازی کی جا رہی ہے کہ وہ اسلام کا مطالعہ ایک نظام کے طور پر کریں۔ حالانکہ حدیث اور فقہ کی بیشتر کتابیں محدثین اور فقہاء نے اس انداز سے لکھی ہیں کہ ان میں اجتماعی زندگی کے تمام شعبوں کا الگ عنوان کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ عقائد، عبادات اور اخلاق کے علاوہ تجارت، خلافت، جہاد، دوسری اقوام سے تعلقات، صنعت، زمینداری، حدود و تعزیرات، نظامِ عمل، نظامِ عدالت، معاشرت اور دیگر اجتماعی شعبوں کے بارے میں حدیث اور فقہ کی کتابوں میں مفصل اور جامع ابواب موجود ہیں جن کے تحت محدثین اور فقہاء نے احکام و ہدایات کا بیش بہا ذخیرہ جمع کر دیا ہے۔ لیکن ان ابواب کی تعلیم میں ہمارے اساتذہ کی دلچسپی نہ ہونے کے برابر ہے اور ستم ظریفی کی انتہا یہ ہے کہ حدیث کی کتابوں میں ہمارے اساتذہ کے علم اور بیان کا سارا زور کتاب الطہارت اور صلوٰۃ کے جزوی مباحث میں صرف ہو جاتا ہے، جبکہ خلافت و امارت، تجارت و صنعت، جہاد، حدود و تعزیرات اور اجتماعی زندگی سے متعلق دیگر مباحث سے یوں کان لپیٹ کر گزر جاتے ہیں جیسے ان ابواب کا ہماری زندگی سے کوئی واسطہ نہ ہو یا جیسے ان ابواب کی احادیث اور فقہی جزئیات منسوخ ہو چکی ہوں اور اب صرف تبرک کے طور پر انہیں دیکھ لینا کافی ہو۔

حالانکہ ضرورت اس امر کی تھی کہ اجتماعی زندگی سے متعلق ابواب کو زیادہ اہتمام سے پڑھایا جاتا۔ قانون، سیاست، خارجہ پالیسی، جنگ اور معاشرت کے مروجہ افکار و نظریات سے اسلامی تعلیمات کا تقابل کر کے اسلامی احکام کی برتری طلبہ کے ذہنوں میں بٹھائی جاتی اور انہیں اسلامی افکار و نظریات کے دفاع اور اس کی عملی ترویج کے لیے تیار کیا جاتا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا اور اس اہم ترین دینی و قومی ضرورت سے مسلسل صرف نظر کیا جا رہا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے مدارس سے فارغ التحصیل ہونے والے علماء کی پچانوے فیصد اکثریت خود اسلامی نظام سے ناواقف اور جدید افکار و نظریات کو سمجھنے اور اسلامی احکام کے ساتھ ان کا تقابل کرنے کی صلاحیت سے محروم ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے جس کے اعتراف میں کسی حجاب سے کام نہیں لینا چاہیے اور اس کو تسلیم کرتے ہوئے اس کی تلافی صورت نکالنی چاہیے۔

آج نفاذ اسلام کی راہ میں ایک بڑی عملی رکاوٹ یہ بھی ہے کہ اس نظام کو چلانے کے لیے رجال کار کا فقدان ہے۔ اسلامی نظام کو سمجھنے والے اور اسے چلانے کی صلاحیت سے بہرہ ور افراد کا تناسب ضرورت سے بہت کم بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ اور یہ خلا آخر کس نے پر کرنا ہے؟ جس نظامِ تعلیم کو ہم لارڈ میکالے کا نظامِ تعلیم کہتے ہیں اس سے تو یہ توقع ہی عبث ہے کہ وہ اسلامی نظام کے لیے کل پرزے فراہم کرے گا۔ اور اگر دینی نظامِ تعلیم اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے کردار ادا نہیں کر رہا تو اسلامی نظام کے لیے رجالِ کار کیا آسمان سے اتریں گے؟

دینی مدارس کے اجتماعی کردار کے منفی پہلوؤں کے بارے میں بہت کچھ کہنے کی گنجائش موجود ہے بلکہ بہت کچھ کہنے کی ضرورت ہے لیکن ہم صرف مذکورہ دو اصولی مباحث کے حوالے سے توجہ دلاتے ہوئے تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام، دینی مدارس کی اجتماعی قیادت بالخصوص وفاق المدارس العربیہ، تنظیم المدارس اور وفاق المدارس السلفیہ کے ارباب حل و عقد سے گزارش کریں گے کہ وہ اس صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لیں اور یورپ کے لادینی فلسفۂ حیات کو فکری محاذ پر شکست دینے اور نفاذِ اسلام کے لیے رجال کار کی فراہمی کے حوالہ سے اپنے کردار کا ازسرنو تعین کریں۔ ورنہ وہ اپنی موجودہ کارکردگی اور کردار کے حوالہ سے نہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سرخرو ہو سکیں گے اور نہ ہی مؤرخ کا قلم ہی ان کے اس منفی کردار کو بے نقاب کرنے میں کسی رعایت اور نرمی سے کام لے گا۔

موجودہ طریقۂ انتخابات شرعی لحاظ سے اصلاح طلب ہے

وفاقی شرعی عدالت کا ایک اہم فیصلہ

ادارہ

وفاقی شرعی عدالت میں اوریجنل جیورسڈکشن۔

حاضر

عزت مآب جناب جسٹس گل محمد خان چیف جسٹس۔ عزت مآب جناب جسٹس ڈاکٹر مفتی شجاعت علی قادری۔ عزت مآب جناب جسٹس مفتخر الدین۔ عزت مآب جناب جسٹس عبادت یار خان۔ عزت مآب جناب جسٹس علامہ ڈاکٹر فدا محمد خان۔

شریعت درخواست نمبر ۱۳ ایل آف ۱۹۸۸ء

محمد صلاح الدین بنام حکومتِ پاکستان

شریعت درخواست نمبر ۱۸ آئی آف ۱۹۸۸ء

ملک محمد عثمان بنام حکومتِ پاکستان اور دیگر

شریعت درخواست نمبر ۲۶ آئی آف ۱۹۸۸ء

بیگم یاسمین رضا بنام حکومتِ پاکستان

شریعت درخواست نمبر ۴ کے آف ۱۹۸۸ء

عبد الرب جعفری بنام حکومتِ پاکستان

شریعت درخواست نمبر ۳ ایل آف ۱۹۸۹ء

بشیر احمد نوید بنام حکومتِ پاکستان

وکیل برائے درخواست گزار بسلسلہ شریعت درخواست نمبر ۱۳ ایل آف ۱۹۸۸ء

جناب خالد ایم اسحاق ایڈووکیٹ۔ مسٹر جاوید حسن ایڈووکیٹ

درخواست گزار بسلسلہ ایس پی نمبر ۱۹ آئی آف ۱۹۸۸ء

جناب حبیب الوہاب خیری ایڈووکیٹ

وکیل برائے درخواست بسلسلہ ایس پی نمبر ۳ ایل آف ۱۹۸۸ء

جناب محمد اعظم سلطان پوری ایڈووکیٹ

درخواست گزار

جناب صلاح الدین۔ جناب مجیب الرحمٰن شامی۔ جناب الطاف حسین قریشی۔ ملک محمد عثمان۔ بیگم یاسمین رضا۔ جناب بشیر احمد نوید۔ جناب عبد الرب جعفری۔

برائے وفاقی حکومت

حافظ ایس اے رحمٰن (اسٹینڈنگ کونسل برائے وفاقی حکومت)۔ جناب غلام مصطفٰی اعوان (اسٹینڈنگ کونسل برائے وفاقی حکومت)۔ جناب محمد اسلم جنجوعہ (اسسٹنٹ سیکرٹری شعبہ پارلیمانی امور، اسلام آباد)۔ جناب محمد اکرم (اسسٹنٹ سیکرٹری شعبہ پارلیمانی امور)۔ جناب طارق ایوب خان (سیکشن آفیسر وزارتِ داخلہ، اسلام آباد)

برائے حکومتِ پنجاب

سید افتخار حسین (اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل)۔ جناب نذیر احمد غازی (اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل)۔

برائے حکومتِ بلوچستان

جناب ایم یعقوب یوسف زئی (اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل)۔ جناب ایم شریف رکھسانی (اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل)۔ جناب محمد افضل (ڈپٹی سیکرٹری جنرل بلوچستان اسمبلی)

برائے حکومتِ سندھ

جناب کے ایم ندیم (اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل)۔ جناب عبد الوحید صدیقی (ایڈووکیٹ)

مشیرانِ عدالت اور علماء

مولانا گوہر رحمٰن۔ مولانا محمد طاسین۔ جناب ریاض الحسن نوری۔ مولانا صلاح الدین یوسف۔ ڈاکٹر محمد امین۔ ڈاکٹر احسن الحق۔ مولانا عبد الشہید۔ ڈاکٹر اختر سعید۔ ڈاکٹر نثار احمد۔ علامہ جاوید الغامدی۔

دیگر

جناب رفیق احمد باجوہ ایڈووکیٹ۔ جناب جی ایم سلیم ایڈووکیٹ۔ سید احمد حسنین ایڈووکیٹ۔ جناب رشید مرتضٰی قریشی ایڈووکیٹ۔ حاجی محمد معز الدین حبیب اللہ۔ جناب عبد الرشید۔ سید فدائے مہدی شاہ۔ شیخ مشتاق علی ایڈووکیٹ۔ جناب ایم اے شیخ ایڈووکیٹ۔ جناب ایم اے رشید صحافی۔ مولانا وصی مظہر ندوی۔ ڈاکٹر محمد یونس۔ صوفی محمد صدیق۔ ملک ظہور احمد۔ چوہدری محمد اقبال ایڈووکیٹ۔

تواریخ سماعت

لاہور میں ۲۱، ۲۲، ۲۳، ۲۸، ۲۹ اور ۳۰ مئی ۱۹۸۹ء۔ کراچی میں ۲۶، ۲۷ اور ۲۸ فروری ۱۹۸۹ء

فیصلہ

(۱) مندرجہ بالا شریعت درخواستیں، دستور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آرٹیکل ۲۰۳ ڈی کے تحت اس سوال پر فیصلہ کے لیے داخل کی گئی ہیں کہ پاکستان کا پورا نظامِ انتخابات غیر اسلامی، خلافِ شریعت اور معاشرے کے اس تصور کے برعکس ہے جو قرآن و سنت میں نظر آتا ہے۔ سیاسی جماعتوں کی تشکیل، انتخابی مہم، لوگوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے کنوینگ کا طریقہ، بالغ رائے دہی اور اس تمام عمل کے ذریعے بننے والے قانون ساز ادارے سب کے سب مکمل طور پر غیر اسلامی ہیں۔ لہٰذا اس پورے نظام کو کلیتاً ختم کر کے ’’قرارداد مقاصد‘‘ کے مطابق ایک نئے نظام سے تبدیل کیا جانا چاہیئے کیونکہ یہی ریاست کا وہ بنیادی پتھر ہے جو بانیانِ پاکستان کے ہاتھوں رکھا گیا تھا۔

یہ درخواستیں نومبر ۱۹۸۸ء کے عام انتخابات کے بعد جلد ہی داخل کر دی گئی تھیں۔ درخواست گزاروں کے مطابق انہوں نے ان خامیوں کے ازالے کے لیے احتجاج کا راستہ اختیار کر کے سڑکوں پر دھول اڑانے اور ملک کی سالمیت کے لیے خطرات پیدا کرنے کے بجائے اس عدالت سے رکوع کرنے کا پُراَمن طریقہ اختیار کیا ہے۔
(۲) عدالت کی جانب سے ان درخواستوں کے حوالے سے اطلاع نامے جاری کر کے عوام کو دعوت دی گئی ہے کہ ان میں سے جو بھی چاہے اس بحث میں حصہ لے اور ان سوالات پر قابل اجازت حدود کے اندر اپنے نظریات کا اظہار کرے جو ان درخواستوں میں شامل ہیں۔ یہ عام نوٹس نہ صرف ملک کے بڑے بڑے اخبارات میں شائع ہوئے بلکہ انفرادی طور پر ملک میں عدلیہ کے مشیروں اور اسلامی اسکالروں کو بھی بھیجے گئے۔ ان نوٹسوں کی تعمیل جوابدہ حکومتوں پر بھی کی گئی۔
(۳) ان کے جواب میں متعدد فضلاء ہمارے سامنے پیش ہوئے، ان میں صرف علماء اور مذہبی اسکالر ہی نہیں بلکہ ملک کے ایسے ممتاز وکلاء بھی شامل تھے جنہیں قانون کے پیشے میں اعتبار و احترام کا مقام حاصل ہے۔ ان کی آراء سے استفادے اور اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں عدالت کے مشیروں کو سننے کے بعد، اب ہمیں آئین میں بیان کردہ اپنے حدود کار کے مطابق ان درخواستوں کا فیصلہ کرنا ہے۔
دورانِ سماعت ہم نے اس بات کو پیشِ نظر رکھا ہے، اس بارے میں محتاط رہے ہیں اور اب پھر اسے دہراتے ہیں کہ کسی قانون یا ایسی رسم یا رواج کو، جو قانون کی طاقت رکھتا ہو، قرآن و اور سنت کی کسوٹی پر پرکھنے کے معاملے میں وفاقی شرعی عدالت کا دائرہ اختیار، آئین کے آرٹیکل ۲۰۳ بی شق سی کے ذریعے محدود کر دیا گیا ہے جس کی بنا پر ’’آئین‘‘ مسلم شخصی قوانین، ایک مالیاتی قانون اور کسی بھی عدالت کے طریقہ کار کا قانون ہماری چھان بین کے حدود سے خارج ہیں۔ ہمارے مقصد کے لیے قانون کی تعریف یوں کی گئی ہے:
’’(سی) ’’قانون‘‘ میں ہر ایسی رسم یا رواج شامل ہے جو قانون کا اثر رکھتا ہو مگر اس میں دستور شامل نہیں ہے۔‘‘
(۴) اس لیے یہ بات واضح ہے کہ ایسے معاملات میں جو آئین میں خاص طور پر نظامِ قانون کے طریقہ کار کے ڈھانچے اور موضوعات سے متعلق  ہوں وہ ہمارے دائرہ اختیار سے باہر ہیں اور ایسے معاملات میں ہم کوئی داد رسی کرنے سے قاصر ہیں۔
(۵) یہ استدلال کیا گیا تھا کہ ’’قرارداد مقاصد‘‘ آئین سے بالاتر ہے اور آئین کے اندر اس کی شمولیت، اوپر سے درج کی جانے والی تعریفی شق میں، اختیار کے استعمال پر عائد کی جانے والی پابندی کو تحلیل کرتی اور آئین سے متعلق امور کو بھی ہمارے سامنے قابلِ فیصلہ بناتی ہے۔ تاہم کیا یہ قرارداد، جو اَب دستور کا ایک حصہ بن چکی ہے، آرٹیکل ۲۰۳ کی شق سی میں عائد کی جانے والی پابندی کو واقعی ختم کرتی ہے؟ یہ بات ابھی غیر یقینی ہے۔ اور یہ بات بھی کیا یہ قرارداد، جو دستور کے تعارفی باب میں شامل ہے، عدالت کے ذریعے کلی طور پر قابلِ نفاذ ہے، بحث طلب ہے۔ مزید یہ کہ یہ دلیل صرف رفیق احمد باجوہ ایڈووکیٹ نے اپنے دلائل کے دوران اتفاقی طور پر پیش کی تھی۔ چونکہ اس سوال پر کوئی عام نوٹس جاری نہیں کیا گیا اور اس کو گہرائی کے ساتھ پرکھا نہیں جا سکا، اس لیے اس معاملے کو ہم کھلا چھوڑتے ہیں۔
(۶) آخر میں ہمارے لیے صرف وہ قوانین یا ان کے متعلقات رہ جاتے ہیں جو آئین کا حصہ نہیں بلکہ عام قوانین کے کنبے سے تعلق رکھتے ہیں، اور جنہیں آئین میں بیان کردہ مقاصد کے حصول کے لیے بنایا گیا ہے۔ اگر یہ قوانین قرآن و سنت کے خلاف پائے جائیں تو ہم انہیں ختم کرنے اور آئینی پابندیوں کے خلاف ورزی کیے بغیر ان میں ایسی اصلاحات تجویز کرنے کا اختیار رکھتے ہیں جن کے ذریعے انہیں شریعت کے تصور کے مطابق ڈھالا جا سکے۔
(۷) ان درخواستوں میں ہمارے مقصد سے متعلق قوانین مندرجہ ذیل ہیں:
(۸) یہ فیصلہ بہرکیف ’’عوامی نمائندگی کے قانون‘‘ ، ‘‘ ایوان ہائے پارلیمان اور صوبائی اسمبلیوں کے (انتخابی) حکم‘‘ اور ان کے مختلف حصوں سے بحث کرے گا، جنہیں درخواست گزاروں نے مذکورہ بالا درخواستوں میں چیلنج کیا ہے۔ یہ دونوں قوانین ایک ہی موضوع سے بحث کرتے ہیں اس لیے انہیں ساتھ ساتھ نمٹایا جا سکتا ہے۔
(۹) اب مناسب ہو گا کہ ان طویل مباحث اور دلائل کا خلاصہ یہاں درج کر دیا جائے جو سماعت کے دوران ہمارے سامنے پیش کیے گئے۔
(۱۰) یہ استدلال کیا گیا کہ پوری انتخابی مہم ایک سرکس یا میلے کے انداز میں چلائی جاتی ہے۔ ہر امیدوار کی پہلی ترجیح اپنی ذاتی کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا اور اپنے حریف امیدوار کی کردارکشی ہوتی ہے۔ منافقت اور فریب کا لبادہ اوڑھے ہوئے امیدوار ڈینگیں ہانک کر، شیخیاں بگھار کر، لالچ، دھونس، دھمکی اور جھوٹے وعدوں کے ہتھکنڈے استعمال کر کے، اپنی جھولی میں حتی الامکان زیادہ سے زیادہ ووٹ اکٹھا کرنے کے لیے، ایک ایک دروازے پر پہنچ کر ووٹروں کا تعاقب کرتا ہے۔ وہ تنخواہ یافتہ کارکنوں کی فوج حتٰی کہ بعض اوقات انتخابی مہم کے حربوں میں خصوصی طور پر تربیت یافتہ بیرونی ماہر بھی رکھتا ہے۔ امیدواروں کی بینروں، پوسٹروں اور پلے کارڈوں کے ذریعے بڑے پیمانے پر تشہیر کی جاتی ہے۔ مرسیڈیز، پجیرو اور ٹرکوں پر سوار کرائے پر حاصل کیے جانے والے ’’رضاکاروں‘‘ کے جلوس، سڑکوں پر محلے محلے اور گاؤں گاؤں نعرے لگاتے ہوئے گشت کرتے ہیں تاکہ اپنے امیدواروں کے لیے لوگوں کی حمایت حاصل کر سکیں۔ اور یہ سب کچھ امیدوار کی خواہش کے مطابق اس کے اپنے خرچ پر ہوتا ہے۔ حمایت حاصل کرنے کے لیے علاقائی، قبائلی، فرقہ وارانہ اور ایسے ہی دوسرے تعصبات کو استعمال کیا جاتا ہے۔ بعض اوقات ووٹ خریدنے کے لیے بڑی بڑی رقوم بھی ادا کی جاتی ہیں۔ بوگس ووٹنگ اور ایک ووٹر کی جگہ کسی دوسرے کا جعلی طور پر ووٹ ڈالنا، انتخابات میں ایک معمول کی بات ہے۔ بالآخر جو سب سے اونچے داؤ لگا کر یہ کھیل کھیلتا ہے وہ جیت جاتا ہے۔ 
شریعت کی رو سے بھلا کس طرح ان چیزوں کو جائز قرار دیا جا سکتا ہے؟ اور ایسے آسمان سے سیراب ہونے کے نتیجے میں رونما ہونے والی پیداوار کو آخر کس طرح ’’امیر‘‘ یعنی امتِ مسلمہ کے اعتماد کے اہل اور امین کا مقام دیا جا سکتا ہے؟ (جبکہ قرآن و سنت کے احکام یہ ہیں کہ):
’’اور ازراہ غرور لوگوں سے گال نہ پھلانا اور زمین میں اکڑ کر نہ چلنا کہ خدا کسی اِترانے والے خودپسند کو پسند نہیں کرتا۔‘‘ (لقمان ۱۸)
’’اور خدا ہی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بناؤ اور ماں باپ اور قرابت والوں اور یتیموں اور محتاجوں اور رشتہ داروں، ہمسایوں اور اجنبی ہمسایوں اور رفقائے پہلو (یعنی پاس بیٹھنے والوں) اور مسافروں اور جو لوگ تمہارے قبضے میں ہوں، سب کے ساتھ احسان کرو کہ خدا (احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے) تکبر کرنے اور بڑائی جتانے والے کو دوست نہیں رکھتا۔‘‘ (النساء ۳۶)
’’اے ایمان والو! خدا کے لیے انصاف کی گواہی دینے کے لیے کھڑے ہو جایا کرو اور لوگوں کی دشمنی تم کو اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ انصاف چھوڑ دو۔ انصاف کیا کرو کہ یہی پرہیزگاری کی بات ہے اور خدا سے ڈرتے رہو۔ کچھ شک نہیں کہ خدا تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے۔‘‘ (المائدہ ۸)
’’حضرت ابوموسٰیؓ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور میرے ساتھ میرے دو چچا زاد بھائی تھے۔ ان میں سے ایک بولا یا رسول اللہ! جو ملک اللہ نے آپ کو دیے ہیں ان میں سے کسی ملک کی حکومت ہمیں دے دیجئے، اور دوسرے نے بھی یہی کہا۔ آپؐ نے فرمایا، خدا کی قسم ہم کسی کو اس امر کا حاکم نہیں بناتے جو اس حکومت کی درخواست کرے اور نہ اس کو جو اس کی حرص کرے۔‘‘ (حوالہ صحیح مسلم ج ۳ ص ۲۳)
’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تم سب میں زیادہ جھوٹا ہمارے نزدیک وہی ہے جو حکومت طلب کرے۔‘‘ (ابوداؤد ج ۲ ص ۴۵۸)
’’ہم اس کو عامل مقرر نہیں کرتے جو اس کا ارادہ کرے۔‘‘ (کنزل العمال ج ۶ ص ۴۷۔ حدیث نمبر ۱۴۷۵۸ طبع بیروت)
(۱۱) دورانِ بحث کہا گیا کہ یہ قانون عہدے اور منصب کو شکار کرنے اور اسے جائز اور ناجائز ذرائع سے حاصل کرنے کے رجحان کو دبانے کے بجائے اس رویے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ جلتی پر تیل چھڑکنے کے لیے انتخابات پر بھاری رقوم کے خرچ کو ’’انتخابی مصارف‘‘ کا نام دے کر قانونی طور پر جائز قرار دے دیا گیا ہے۔ نتیجتاً تجوری اور تشہیر، چور بازاری، منشیات اور بلیک میلنگ کا کاروبار کرنے والوں کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے طاقتور ترین ہتھیار ثابت ہوتے ہیں۔ امانت دار، راست باز اور خدا ترس لوگ ایسے کھیل میں قسمت آزمائی کے لیے شریک نہیں ہو سکتے۔ یہ پورے کا پورا میکانزم اور نظام کلی طور پر اسلام کے احکام کے خلاف ہے۔
(۱۲) ایک سابقہ مقدمے کا حوالہ بھی دیا گیا جس میں مرحوم جسٹس بی زیڈ کیکاؤس اور دیگر افراد نے اس وقت کی وفاقی شرعی عدالت کے سامنے ایسے ہی اعتراضات اٹھائے تھے اور عدالت کے اس وقت کے سربراہ نے اپنے فیصلے میں اس سلسلے میں بعض سفارشات پیش کی تھیں۔ یہ فیصلہ پی ایل ڈی ۱۹۸۱ء ایف سی ایس (مسٹر بی زیڈ کیکاؤس بنام وفاقی حکومت پاکستان) میں درج ہے۔
(۱۳) یہاں وفاقی شرعی عدالت کے اس وقت کے سربراہ جناب جسٹس صلاح الدین احمد کے فیصلے کا ایک اقتباس پیش کرنا مفید ہو گا۔ فاضل جج نے عوامی نمائندگی کے قانون نمبر ۸۵ کے حوالے سے یہ تبصرہ کیا:
’’اس سوال کا ایک اور پہلو بھی ہے جو غور و خوض کا متقاضی ہے۔ پارلیمنٹ کو آئین کے آرٹیکل ۶۲ ڈی، ۶۳ (۱) (ای) اور ۱۱۳ کے تحت اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے ان فرائض اور ذمہ داریوں کو بھی ذہن میں رکھنا چاہیئے جو آئین اور اسلامی احکام کی رو سے اس پر عائد ہوتی ہیں۔ آئین میں دیے گئے یہ امور پارلیمنٹ کو مقننہ کے ارکان کی اہلیت اور نا اہلی کی شرائط میں اضافے کے لیے ایک صوابدیدی اختیار فراہم کرتے ہیں جبکہ ’’ایوان ہائے پارلیمان اور صوبائی اسمبلیوں کا (انتخابی) حکم مجریہ ۱۹۷۳ء‘‘ اور ’’عوامی نمائندگی کا قانون مجریہ ۱۹۷۶ء‘‘ وضع کرتے وقت پارلیمان آئین اور اسلامی احکام کے تحت عائد ہونے والے ان فرائض اور ذمہ داریوں کو یاد رکھنے میں ناکام رہی ہے، جیسا کہ ابھی واضح ہو گا۔
قومی اسمبلی اور سینٹ کا کام قانون سازی ہے۔ آئین، پالیسی سازی کے اصول فراہم کرتا ہے۔ آئین کے آرٹیکل ۲۹ کی رو سے ریاست کے ہر عضو اور ادارے اور ہر شخص کی، جو ریاست کے کسی عضو یا ادارے کی جانب سے فرائض انجام دے رہا ہو، یہ ذمہ داری ہے کہ جہاں تک یہ اصول اس کے ادارے کے وظائف سے متعلق ہیں، وہ ان کے مطابق عمل کرے۔ آرٹیکل ۳۰ کے تحت یہ فیصلہ کرنا کسی بھی عضو ریاست یا اس کی جانب سے فرائض انجام دینے والے شخص کی ذمہ داری ہے کہ دونوں میں سے کسی کی طرف سے بھی کیا جانے والا کوئی بھی اقدام آیا پالیسی کے اصولوں کے مطابق ہے؟ آرٹیکل ۳۱ کی رو سے مسلمانانِ پاکستان کو انفرادی اور اجتماعی طور پر اسلام کے بنیادی اصولوں اور اساسی تصورات کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالنے کے قابل بنانے کے لیے اقدامات کیے جانے چاہئیں۔ اور انہیں ایسی سہولتیں فراہم کی جانی چاہئیں جن کے ذریعے وہ قرآن و سنت کے مطابق زندگی کے مفہوم کو سمجھ سکیں۔‘‘
(۱۴) اس فیصلے کے بعد دستوری ترمیم کی گئی اور آئین کے آرٹیکل ۶۲، ۶۳ اور ۱۱۳، ۱۹۸۵ء کے صدارتی حکم نمبر ۱۴ سے بدل دیے گئے اور اسے ۲ مارچ ۱۹۸۵ء سے مؤثر قرار دیا گیا۔ وفاقی اور صوبائی قانون ساز اداروں کے ارکان کی اہلیت اور نا اہلی کی شرائط کا تعین ازسرنو کیا گیا۔ آئین کے آرٹیکل ۶۲ اور ۶۳ اب ان امیدواروں کی شرائطِ اہلیت کے بارے میں واضح طور پر بتاتے ہیں جنہیں ایوان ہائے پارلیمان اور صوبائی قانون ساز اسمبلیوں کے انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ (ملاحظہ کیجئے آرٹیکل ۱۱۳ دستورِ اسلامی جمہوریہ پاکستان)
(۱۵) اس مرحلہ پر ان آرٹیکلز کو یہاں بالتفصیل نقل کر دینا مناسب ہو گا:
۶۲۔ کوئی شخص مجلس شورٰی (پارلیمنٹ) کا رکن منتخب ہونے یا چنے جانے کا اہل نہیں ہو گا اگر
(الف) وہ پاکستان کا شہری نہ ہو۔
(ب) وہ قومی اسمبلی کی صورت میں پچیس سال سے کم عمر کا ہو اور اس اسمبلی میں کسی مسلم یا غیر مسلم نشست کے لیے، جیسی بھی صورت ہو، انتخاب کے لیے انتخابی فہرست میں ووٹر کی حیثیت سے درج نہ ہو۔
(ج) وہ سینٹ کی صورت میں تیس سال سے کمر عمر کا ہو اور کسی صوبے میں کسی علاقے میں یا جیسی بھی صورت ہو وفاقی دارالحکومت یا وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقہ جات میں جہاں سے وہ رکنیت چاہتا ہو بطور ووٹر درج نہ ہو۔
(د) وہ اچھے کردار کا حامل نہ ہو اور عام طور پر احکامِ اسلام سے انحراف میں مشہور ہو۔
(ہ) وہ اسلامی تعلیمات کا خاطر خواہ علم نہ رکھتا ہو اور اسلام کے مقرر کردہ فرائض کا پابند نیز کبیرہ گناہوں سے مجتنب نہ ہو۔
(د) وہ سمجھدار، پارسا نہ ہو اور فاسق ہو اور ایماندار اور امین نہ ہو۔
(ز) کسی اخلاقی پستی میں ملوث ہونے یا جھوٹی گواہی دینے کے جرم میں سزا یافتہ ہو۔
(ح) اس نے قیامِ پاکستان کے بعد ملک کی سالمیت کے خلاف کام کیا ہو یا نظریۂ پاکستان کی مخالفت کی ہو۔ مگر شرط یہ ہے کہ پیرا
(د) اور (ہ) میں مصرحہ نا اہلیتوں کا کسی ایسے شخص پر اطلاق نہیں ہو گا جو غیر مسلم ہو، لیکن ایسا شخص اچھی شہرت کا حامل ہو گا اور
(ط) وہ ایسی دیگر اہلیتوں کا حامل نہ ہو جو مجلس شورٰی (پارلیمنٹ) کے ایکٹ کے ذریعے مقرر کی گئی ہوں۰
۶۳۔ (۱) کوئی شخص مجلس شورٰی (پارلیمنٹ) کے رکن کے طور پر منتخب ہونے یا چنے جانے اور رکن رہنے کے لیے نا اہل ہو گا اگر
(الف) وہ فاتر العقل ہو اور کسی مجاز عدالت کی طرف سے ایسا قرار دیا گیا ہو، یا
(ب) وہ غیر برات یافتہ دیوالیہ ہو، یا
(ج) وہ پاکستان کا شہری نہ رہے اور کسی بیرونی ریاست کی شہریت حاصل کرے، یا
(د) وہ پاکستان کی ملازمت میں کسی منفعت بخش عہدے پر فائز ہو ما سوائے ایسے عہدے کے جسے قانون کے ذریعے ایسا عہدہ قرار دیا گیا ہو جس پر فائز شخص نا اہل نہیں ہوتا، یا
(ہ) اگر وہ کسی ایسی آئینی ہیئت کی ملازمت میں ہو جو حکومت کی ملکیت یا اس کے زیرنگرانی ہو یا جس میں حکومت تعدیلی حصہ یا مفاد رکھتی ہو، یا
(و) شہریت پاکستان ایکٹ ۱۹۵۱ء (نمبر ۲ بابت ۱۹۵۱ء) کی دفعہ ۱۴ ب کی وجہ سے پاکستان کا شہری ہوتے ہوئے اسے فی الوقت آزاد جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کا رکن منتخب ہونے کا نااہل قرار دے دیا گیا ہو، یا
(ز) وہ کسی ایسی رائے کی تشہیر کر رہا ہو یا کسی ایسے طریقے پر عمل کر رہا ہو جو نظریہ پاکستان یا پاکستان کے اقتدارِ اعلٰی، سالمیت یا سلامتی یا اخلاقیات، یا امن عامہ کے قیام یا پاکستان کی عدلیہ کی دیانت داری یا آزادی کے لیے مضر ہو۔ یا جو پاکستان کی مسلح افواج یا عدلیہ کو بدنام کرے یا اس کی تضحیک کا باعث ہو، یا
(ح) اسے کسی ایسے جرم کے لیے سزا یابی پر جس میں چیف الیکشن کمشنر کی رائے میں اخلاقی پستی ملوث ہو، کم از کم دو سال کے لیے قید کی سزا دی گئی ہو، تاوقتیکہ اس کی رہائی کو پانچ سال کی مدت نہ گزر چکی ہو، یا
(ط) اسے پاکستان کی ملازمت سے غلط روی کی بنا پر برطرف کر دیا گیا ہو، تاوقتیکہ اس کی برطرفی کو پانچ سال کی مدت نہ گزر گئی ہو، یا
(ی) اسے پاکستان کی ملازمت سے غلط روی کی بنا پر ہٹا دیا گیا ہو یا جبری طور پر فارغ خدمت ہونے کو تین سال کی مدت نہ گزر گئی ہو، یا
(ک) وہ پاکستان کی کسی آئینی ہیئت یا کسی ایسی ہیئت کو جو حکومت کی ملکیت یا اس کے زیرنگرانی ہو یا جس میں حکومت تعدیلی حصہ یا مفاد رکھتی ہو، ملازمت میں رہ چکا ہو، تاوقتیکہ اس کی مذکورہ ملازمت ختم ہوئے دو سال کی مدت نہ گزر گئی ہو، یا
(ل) اسے فی الوقت نافذ العمل کسی دیگر قانون کے تحت کسی بدعنوانی یا غیر قانونی حرکت کا مجرم قرار دیا جائے، تاوقتیکہ اس تاریخ کو جس پر مذکورہ حکم مؤثر ہوا ہو پانچ سال کا عرصہ نہ گزر گیا ہو، یا
(م) وہ سیاسی جماعتوں کے ایکٹ ۱۹۶۲ء (نمبر ۳ بابت ۱۹۶۲ء) کی دفعہ ۷ کے تحت سزا یاب ہو چکا ہو، تاوقتیکہ مذکورہ سزا یابی کو پانچ سال کی مدت نہ گزر گئی ہو، یا
(ن) وہ، خواہ بذاتِ خود یا اس کے مفاد میں یا اس کے فائدے کے لیے یا اس کے حساب میں یا کسی ہندو غیر منقسم خاندان کے رکن کے طور پر کسی شخص یا اشخاص کی جماعت کے ذریعے کسی معاہدے میں کوئی حصہ یا مفاد رکھتا ہو، جو انجمن امداد باہمی اور حکومت کے درمیان کوئی معاہدہ نہ ہو، جو  حکومت کو مال فراہم کرنے کے لیے اس کے ساتھ کیے ہوئے کسی معاہدے کی تکمیل یا خدمات کی انجام دہی کے لیے ہو۔ مگر شرط یہ ہے کہ اس پیرے کے تحت نا اہلیت کا اطلاق کسی شخص پر نہیں ہو گا
(اول) جبکہ معاہدے میں حصہ یا مفاد اس کو وراثت یا جانشینی کے ذریعے یا موصی لہ وصی یا مہتمم ترکہ کے طور پر منتقل ہوا ہو، جب تک اس کو اس کے اس طور منتقل ہونے کے بعد چھ ماہ کا عرصہ نہ گزر جائے۔
(دوم) جبکہ معاہدہ کمپنیات آرڈیننس ۱۹۸۴ء (نمبر ۴۷ مجریہ ۱۹۸۴ء) میں تعریف کردہ کسی ایسی کمپنی عامہ نے کیا ہو یا اس کی طرف سے کیا گیا ہو جس کا وہ حصہ دار ہو، لیکن کمپنی کے تحت کسی منفعت بخش عہدے پر فائز مختار انتظامی نہ ہو، یا
(سوم) جبکہ وہ ایک غیر منقسم ہندو خاندان کا فرد ہو اور اس معاہدے میں، جو خاندان کے کسی فرد نے علیحدہ کاروبار کے دوران کیا ہو، کوئی حصہ یا مفاد نہ رکھتا ہو۔ (تشریح) اس آرٹیکل میں ’’مال‘‘ میں زرعی پیداوار یا جنس جو اس نے کاشت یا پیدا کی ہو یا ایسا مال شامل نہیں ہے جسے فراہم کرنا اس پر حکومت کی ہدایت یا فی الوقت نافذ العمل کسی قانون کے تحت فرض یا وہ اس کے لیے پابند ہو۔
(س) وہ پاکستان کی ملازمت میں حسب ذیل عہدوں کے علاوہ کسی منفعت بخش عہدے پر فائز ہو، یعنی
(اول) کسی عہدہ جو ایسا کل وقتی عہدہ نہ ہو جس کا معاوضہ یا و تنخواہ کے ذریعے یا فیس کے ذریعے ملتا ہو
(دوم) نمبردار کا عہدہ خواہ اس نام سے یا کسی دوسرے نام سے موسوم ہو
(چہارم) کوہ عہدہ جس پر فائز شخص مذکورہ عہدے پر فائز ہونے کی وجہ سے کسی فوج کی تشکیل یا قیام کا حکم وضع کرنے والے کسی قانون کے تحت فوجی تربیت یا فوجی ملازمت کے لیے طلب کیے جانے کا مستوجب ہو۔ یا
(ع) اسے فی الوقت نافذ العمل کسی قانون کے تحت مجلس شورٰی (پارلیمنٹ) یا کسی صوبائی اسمبلی کے رکن کے طور پر منتخب ہونے یا چنے جانے کے لیے نااہل قرار دے دیا گیا ہو۔
۶۳۔ (۲) اگر کوئی سوال اٹھے کہ آیا مجلس شورٰی (پارلیمنٹ) کا کوئی رکن، رکن رہنے کے لیے نااہل ہو گیا ہے تو سپیکر یا، جیسی بھی صورت ہو، چیئرمین اس سوال کو فیصلہ کے لیے چیف الیکشن کمشنر کو بھیجے گا اور چیف الیکشن کمشنر کی یہ رائے ہو کہ رکن نا اہل ہو گیا ہے تو وہ رکن نہیں رہے گا اور اس کی نشست خالی ہو جائے گی۔
۱۱۳۔ آرٹیکل ۶۲ اور ۶۳ میں مندرج قومی اسمبلی کی رکنیت کے لیے اہلیت اور نا اہلیت کا کسی صوبائی اسمبلی کے لیے بھی اسی طرح اطلاق ہو گا گویا کہ اس میں ’’قومی اسمبلی‘‘ کا حوالہ ’’صوبائی اسمبلی‘‘ کا حوالہ ہو۔
(۱۶) رکنیت کی اہلیت اور عدمِ اہلیت کی یہ شرائط ’’ایوان ہائے پارلیمان اور صوبائی اسمبلیوں کے (انتخابی) حکم مجریہ ۱۹۷۷ء‘‘ کے آرٹیکل ۱۰ اور ۱۱، ’’۱۹۷۷ء کے صدارتی حکم نمبر ۵‘‘ اور ’’عوامی نمائندگی کے قانون مجریہ ۱۹۷۶ء‘‘ کی دفعہ ۹۹ میں بھی دہرائی گئی ہیں۔
(۱۷) درخواست گزاروں کی طرف سے آئین کے آرٹیکل ۶۳ کے ان ابتدائی الفاظ پر بڑا زور دیا گیا ہے کہ ’’کوئی شخص مجلس شورٰی (پارلیمنٹ) کا رکن منتخب ہونے یا چنے جانے کا اہل نہیں ہو گا اگر (الف) ۔۔۔ (ب) ۔۔۔ (ج) ۔۔۔
(د) وہ اچھے کردار کا حامل نہ ہو اور عام طور پر احکامِ اسلام سے انحراف میں مشہور ہو۔
(ہ) وہ اسلامی تعلیمات کا خاطر خواہ علم نہ رکھتا ہو اور اسلام کے مقرر کردہ فرائض کا پابند نیز کبیرہ گناہوں سے مجتنب نہ ہو۔
(د) وہ سمجھدار، پارسا نہ ہو اور فاسق ہو اور ایماندار اور امین نہ ہو۔
(ز) کسی اخلاقی پستی میں ملوث ہونے یا جھوٹی گواہی دینے کے جرم میں سزا یافتہ ہو۔
(ح) اس نے قیام پاکستان کے بعد ملک کی سالمیت کے خلاف کام کیا ہو یا نظریۂ پاکستان کی مخالفت کی ہو۔
(۱۸) یہ دلیل دی گئی کہ رکن شورٰی میں یہ صفات لازماً موجود ہونی چاہئیں۔ کسی امیدوار کی طرف سے اپنے آپ کو ان صفات کا (اعلٰی یا ادنیٰ درجہ میں) حامل ثابت کرنے میں ناکامی، پہلے ہی قدم پر اسے انتخابی عمل سے الگ کر دے گی اور یہ سوال ہی ختم ہو جائے گا کہ وہ کسی انتخابی نشست کے لیے مقابلہ کرنے کا اہل ہے۔
(۱۹) دلائل کا اصل زور اس پر تھا کہ ’’عوامی نمائندگی کا قانون‘‘ اور ’’ایوان ہائے پارلیمان اور صوبائی اسمبلیوں کا (انتخابی) حکم‘‘ کسی بھی مرحلے پر کوئی ایسا فورم فراہم کرنے میں ناکام ہیں جس کے ذریعے آئین کے آرٹیکل ۶۲،۶۳ اور ۱۱۳ میں دی گئی ہدایات کے تقاضوں کو مؤثر طور پر پورا کیا جا سکے۔ اس ناکامی نے ان آرٹیکلز کو عملاً بے جان بنا دیا ہے اور ناپسندیدہ افراد کے لیے شورٰی میں پہنچنے کا راستہ مہیا کر دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں ایسے افراد کا اجتماع وجود میں آتا ہے جو سورہ نساء کی آیت ۵۸ کے بالکل برعکس ہوتے ہیں۔ آرٹیکل ۶۲ اور ۶۳ کے تقاضوں کو پورا کیے بغیر ’’دارالندوہ‘‘ (مشرکین مکہ کی مجلس مشاورت) جیسی  کوئی چیز تو بن سکتی ہے مگر ’’دار ارقم‘‘ (نبی اکرمؐ اور صحابہؓ کی مشاورت گاہ) جیسی شورٰی جس کا تصور اسلام پیش کرتا ہے وجود میں نہیں آ سکتی۔ شریعت کی مطلوبہ صفات سے، جنہیں بڑی حد تک آرٹیکل ۶۲ اور ۶۳ میں یکجا کر دیا گیا ہے، محروم ارکان جو زندگی کے کسی بھی نظریے کے حامل اور کسی بھی دوسرے نظام کی قدروں کے مداح ہو سکتے ہیں، یقیناً شریعت کے مقرر کردہ معیار پر پورے نہیں اتر سکتے۔ اس پورے قانون کو شروع سے آخر تک پڑھ جائیے، کہیں بھی کوئی ایسی گنجائش نہیں ملے گی جس سے امیدواروں کی چھان پھٹک ممکن ہو سکے۔
(۲۰) دورانِ بحث کہا گیا کہ آئین کے آرٹیکل ۶۲ اور ۶۳ کو عوامی نمائندگی کے قانون کی دفعہ ۱۴ کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے تب بھی صورتِ حال میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ درحقیقت ان دونوں قوانین کا موضوعاتی مواد ہی ایک دوسرے سے میل نہیں کھاتا۔
(۲۱) درخواست گزاروں کی طرف اس دعوے کے ثبوت کے طور پر کہ اعتماد صرف ان لوگوں پر ظاہر کیا جانا چاہیئے جو اس پر پورا اترنے کی اہلیت رکھتے ہوں، اور یہ کہ اقتدار کے بھوکے افراد کو مسترد کر دینا چاہیئے اور صرف ان لوگوں کو چنا جانا چاہیئے جو منصب کے اہل ہوں، مندرجہ ذیل قرآنی آیات اور احادیث نبویؐ پیش کی گئیں:
’’خدا تم کو حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کی امانتیں ان کے سپرد کر دیا کرو اور جب لوگوں میں فیصلہ کرنے لگو تو انصاف سے فیصلہ کیا کرو، خدا تمہیں بہت خوب نصیحت کرتا ہے، بے شک خدا سنتا اور دیکھتا ہے۔‘‘ (النساء ۵۸)
’’کیا وہ لوگ جو علم رکھتے ہیں، بے علموں کے برابر ہو سکتے ہیں؟‘‘ (الزمر ۹)
’’جس سے مشورہ لیا  جائے اسے امانت دار ہونا چاہیئے۔‘‘ (سنن ابی داؤد ۔ باب فی المشورہ ج ۲ ص ۳۳۳ ۔ بیروت)
(۲۲) نا اہل لوگوں کو کوئی انتخابی عہدہ سپرد کر دینے کے جو نتائج ہو سکتے ہیں وہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث میں بیان کیے گئے ہیں:
’’حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں (ایک دن) نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجلس میں لوگوں سے کچھ بیان کر رہے تھے اس حالت میں ایک اعرابی آپؐ کے پاس آیا اور اس نے پوچھا، قیامت کب آئے گی؟ آپؐ نے فرمایا جس وقت امانت ضائع کر دی جائے تو قیامت کا انتظار کرنا۔ اس نے پوچھا کہ امانت کا ضائع کرنا کس طرح ہو گا؟ آپؐ نے فرمایا جب کام نا اہل لوگوں کے سپرد کیا جائے تو قیامت کا انتظار کرنا۔‘‘ (بخاری شریف ۔ جلد اول ص ۱۱۰)
(۲۳) عوامی نمائندگی کے قانون کی دفعہ ۱۴ کا حوالہ پیش کرتے ہوئے استدلال کیا گیا کہ یہ قانون اگر کچھ کرتا ہے ہے تو وہ صرف آئین کے آرٹیکل ۶۲ اور ۶۳ کے نفاذ میں رکاوٹ پیدا کرنا ہے۔ امیدوار کی اہلیت کے تعین کے سلسلے میں ریٹرننگ افسر کی مدد کے لیے لوگوں کو مدعو کرنے کے لیے بجائے اس آرٹیکل کو ’’اسکروٹنی‘‘ کا عنوان دے کر انہیں ’’شہادتِ حق‘‘ کی ذمہ داری کو ادا کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ اس چھان بین کے دوران ہونے والی کارروائی کی نوعیت قطعی سرسری ہوتی ہے۔ یہ صرف دفعہ ۱۳ کے تحت زر ضمانت کے سوال اور دفعہ ۱۳ میں دی گئی چند دوسری غیر اہم دفعات تک محدود ہے۔ دفعہ ۱۴ ذیل میں نقل کی جا رہی ہے:
’’۱۴۔ اسکروٹنی ۔۔۔۔
(۱) امیدوار، اس کے الیکشن ایجنٹس، مجوزین اور مویدین اور امیدواروں کی طرف سے اس سلسلے میں اجازت یافتہ ایک اور شخص سمیت یہ تمام لوگ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے دوران حاضر رہ سکتے ہیں اور ریٹرننگ افسر انہیں ان تمام کاغذات نامزدگی کی چھان بین کے لیے مناسب موقع دے سکتا ہے جو دفعہ ۱۳ کے تحت اس کے سپرد کیے گئے ہوں۔
(۲) ان افراد کی موجودگی میں جنہیں ذیلی دفعہ (۱) کے تحت چھان بین کے دوران حاضر رہنے کی اجازت ہے، ریٹرننگ افسر کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور کسی نامزدگی پر ایسے کسی شخص کی طرف سے ہونے والے اعتراض کا فیصلہ کرے گا۔
(۳) ریٹرننگ افسر خود اپنی تحریک یا کسی کی نشاندہی پر اس سرسری تفتیش کو جس طرح مناسب سمجھے گا انجام دے سکے گا اور کاغذات نامزدگی کو مسترد کر سکے گا اگر وہ مطمئن ہو کہ
(الف) امیدوار بحیثیت رکن منتخب ہونے کا اہل نہیں ہے۔
(ب) مجوز یا موید کاغذ نامزدگی پر دستخط کرنے کی مطلوبہ شرائط پوری نہیں کرتے (اضافہ بذریعہ حکم ۱۴ مجریہ ۱۹۸۸ء)۔
(ج) دفعہ ۱۲ یا دفعہ ۱۳ کی کوئی شرط پوری نہیں کی گئی ہے، یا
(د) مجوز یا موید کے دستخط اصلی نہیں ہیں (اضافہ بذریعہ حکم ۱۴ مجریہ ۱۹۸۸ء)
۔۔۔ تاہم ۔۔۔
 (۱) ایک کاغذ نامزدگی مسترد کر دیے جانے سے کسی امیدوار کی دوسرے کاغذ نامزدگی کی رو سے جائز قرار پانے والی نامزدگی مسترد نہیں ہو گی۔
(۲) ریٹرننگ افسر کسی کاغذ نامزدگی کو کسی ایسے نقص کے سبب جو بنیادی نوعیت کا نہ ہو، مسترد نہیں کرے گا۔ نام، انتخابی فہرست کے نمبر شمار اور امیدوار (یا مجوز یا موید) کے دوسرے کوائف سمیت ایسے نقائص میں چھوٹ دے سکے گا جو بعد میں درست کیے جا سکتے ہوں (حکم ۱۴، ۱۹۸۸ء)۔
(۳) ریٹرننگ افسر انتخابی فہرست کے مندرجات کے درست اور جائز ہونے کی تحقیق کرے گا لیکن کاغذ نامزدگی کو، انتخابی فہرست میں درج کسی ایسی بات کی بنیاد پر جس میں واضح غلطی یا نقص ہو، مسترد نہیں کرے گا۔
(۴) ریٹرننگ افسر ہر کاغذ نامزدگی پر منظور یا مسترد کرنے سے متعلق اپنا فیصلہ درج کرے گا اور مسترد کرنے کی صورت میں مختصرًا اس کا سبب بھی تحریر کرے گا۔
(۵) ذیلی دفعہ ۴ کے تحت ریٹرننگ افسر کے فیصلے کے خلاف کمشنر کے سامنے جو ہائیکورٹ کا چیف جسٹس ہو گا، اپیل کی جا سکے گی۔ کمشنر کے مشورے سے نامزد کردہ ہائیکورٹ کے جج کے سامنے بھی یہ اپیل کی جا سکے گی (بحوالہ حکم ۱۴، ۱۹۸۸ء)۔ اور کمیشن کی جانب سے اعلان کردہ وقت کے اندر سرسری سماعت کے بعد فیصلہ کر کے حکم جاری کر دیا جائے گا جو حتمی ہو گا۔
(۶) ایسی اپیل جو ذیلی دفعہ میں بیان کردہ مدت کے دوران نہ نمٹے، مسترد شدہ سمجھی جائے گی۔
(۷) ذیلی دفعہ ۵ کے تحت کسی اپیل کی سماعت کے لیے ریڈیو، ٹیلی ویژن یا اخبارات کے ذریعے کیے جانے والا دن اور وقت کا اعلان، دن اور وقت کے تعین کی اطلاع کے لیے کافی تصور کیا جائے گا۔‘‘
(۲۴) جانچ پڑتال کے مرحلے پر کسی مسلمان کو حاضر ہونے اور شہادت دینے سے روکنا، دراصل اسے ایسے تمام امیدواروں کے بارے میں آزادانہ اظہار رائے کے حق سے محروم کرنا ہے جو پانچ سال کی مدت کے لیے اس کے حلقہ انتخاب کی نمائندگی کے لیے منتخب کیے جا سکتے ہیں۔ کسی مسلمان کے لیے ایسی چھان بین کے دروازے بند کر دینے کا مطلب قرآن اور سنت کے درج ذیل احکام کی خلاف ورزی ہو گا۔
’’اے ایمان والو! خدا کے لیے انصاف کی گواہی دینے کے لیے کھڑے ہو جایا کرو اور لوگوں کی دشمنی تم کو اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ انصاف چھوڑ دو۔ انصاف کیا کرو کہ یہی پرہیزگاری کی بات ہے اور خدا سے ڈرتے رہو، کچھ شک نہیں کہ خدا تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے۔‘‘ (المائدہ ۸)
’’اے ایمان والو! انصاف پر قائم رہو اور خدا کے لیے سچی گواہی دو، خواہ اس میں تمہارا یا تمہارے ماں باپ اور رشتہ داروں کا نقصان ہی ہو۔ اگر کوئی امیر ہے یا فقیر تو خدا ان کا خیر خواہ ہے۔ تو تم خواہشِ نفس کے پیچھے چل کر عدل کو نہ چھوڑ دینا۔ اگر تم پیچ دار شہادت دو گے یا شہادت سے بچنا چاہو گے تو جان رکھو کہ خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے۔‘‘ (النساء ۱۳۵)
’’شہادت کو مت چھپانا، جو اس کو چھپائے گا وہ دل کا گناہگار ہو گا اور خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے۔‘‘ (البقرہ ۲۸۳)
(۲۵) ہم یہ کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے کہ عوامی نمائندگی کے قانون کی دفعہ ۱۴ جو امیدواروں کی اہلیت کو با معنی طور پر جانچنے پرکھنے کے لیے کوئی مناسب بندوبست اور سہولت فراہم نہیں کرتی اور انتخاب کرنے والے یعنی ووٹر کو چھان بین کے اس پورے عمل سے باہر رکھتی ہے، قرآن پاک اور نبی اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے خلاف ہے۔
(۲۶) آخر میں اس بات پر زور دیا گیا کہ یہ قانون عام انتخابات کے مرحلے میں، جہاں علاقے کے ووٹروں کے سامنے (جن کی تعداد دو لاکھ یا اس سے زائد ہوتی ہے) صرف یہ چھوٹا سا سوال ہوتا ہے کہ متعدد امیدواروں کے مجموعے میں سے کون کامیاب ہونے کی صورت میں ان کے لیے مفید ثابت ہو گا یا کوئی بھی نہیں ہو گا، نااہل لوگوں کے اوپر آنے کا راستہ صاف کرتا ہے۔ ووٹر جس معاشرے سے تعلق رکھتا ہے اس کے سماجی اور تعلیمی حالات کے پیش نظر اس بات سے کون انکار کر سکتا ہے کہ ایک ایسا شخص جس کی اہلیت صرف یہ ہے کہ وہ اس دنیا میں ۱۸ سال یا اس سے زائد عرصہ سے زندگی بسر کر رہا ہے، اپنی ذاتی پسند یا ناپسند کے سوا کسی اور چیز کو اپنے فیصلے کی بنیاد بنائے گا۔ یا اس کی رائے کو متاثر کرنے کے لیے دولت اور پروپیگنڈے کے بل پر جو انتخابی مہم چلائی جاتی ہے اس کی پیدا کردہ کشمکش اور دباؤ کے باوجود وہ کسی دیانت دار امیدوار کا انتخاب کر سکے گا۔ مزید یہ کہ ووٹر کے پاس نہ اتنا وقت ہوتا ہے نہ اسے ایسے ذرائع حاصل ہوتے ہیں جن سے وہ کسی نشست کے لیے مقابلہ کرنے والے تمام امیدواروں کی اہلیت کے بارے میں ضروری متعلقہ معلومات جمع کر سکے۔ یہ کہنا قطعی غیر معقول ہو گا کہ بالغ رائے دہی کے نظام میں ایک ایسے بیمار معاشرے سے تعلق رکھنے والا نوجوان، جہاں مطالعہ کا شوق رکھنے والے خال خال پائے جاتے ہیں اور خواندگی کا تناسب بمشکل ۲۵ فیصد ہے، کسی ایسے انتہائی مہارت کے حامل فورم کا متبادل ہو سکتا ہے جس کا مقصد شورٰی جیسے ادارے کی رکنیت کے امیدواروں کی صفات اور صلاحیتوں سے متعلق پیچیدہ سوالات کی مثبت شواہد اور ثبوت کی بنیاد پر تحقیق کرنا ہو۔
(۲۷) اس سلسلے میں حضرت عمرؓ کا طریقہ، جس پر انہوں نے اپنی شہادت سے پہلے عمل کیا، پیش کیا گیا۔ اس کی تفصیلات یوں بیان کی گئیں کہ اپنی وفات سے کچھ پہلے خلیفہ نے ایسے چھ اصحابؓ کی ایک فہرست بنائی جو اپنی خدا ترسی اور دیانت و امانت کے حوالے سے انتہائی اچھی شہرت اور امارت کے لیے متعین بنیادی اوصاف کے پوری طرح حامل تھے، خلیفہ کا انتخاب اس فہرست میں سے ہونا تھا۔ حضرت عمرؓ نے ہدایت کی کہ ان ناموں پر عام لوگوں کے سامنے بات کی جائے اور رائے عامہ کا رجحان معلوم کیا جائے۔ اس طرح سے وہ یہ جاننا چاہتے تھے کہ ان چھ مجوزہ اصحاب میں، جن میں سے کوئی بھی اس منصب کے حوالے سے اپنے اندر کوئی کمی نہیں رکھتا تھا، کون عام لوگوں میں سب سے زیادہ مقبول ہے؟ اس واقعے کو قدرے تفصیل سے نقل کر دینا دلچسپی سے خالی نہیں ہو گا۔
حضرت عمرؓ نے اپنے بعد چھ آدمیوں کو خلیفہ ہونے کے لیے نامزد کیا جو یہ تھے: حضرت عثمان بن عفان، حضرت علی بن ابی طالب، حضرت طلحہ بن عبید اللہ، حضرت زبیر بن العوام، حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہم۔ اور فرمایا ان چھ آدمیوں میں سے ایک کو خلیفہ کے لیے منتخب کیا جائے۔ حضرت عمرؓ کی وفات کے بعد ان چھ آدمیوں میں مشورے ہوتے رہے کہ ان میں سے ایک کو متفقہ طور پر نامزد کر دیا جائے اور باقی اس پر بیعت کر لیں۔ حضرت زبیر بن عوامؓ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ اور حضرت طلحہ بن عبید اللہؓ نے اپنے نام اپنی خوشی سے واپس لے لیے۔ پھر حضرت عبد الرحمٰن بن عوف، سرداروں کی رائے، مسلمانوں اور ان کے سرداروں کی رائے کو متفرق اور مجتمع طور پر ایک دوکہ اور اجتماعی رنگ میں پوشیدہ اور اعلانیہ طور پر اکٹھا کرنے لگے۔ حتٰی کہ آپ پردہ نشین عورتوں کے پردہ میں ان کے پاس گئے اور مدرسے کے لڑکوں اور مدینہ کی طرف آنے والے سواروں اور بدوؤں سے بھی تین دن و رات کی مدت میں دریافت کیا۔ مگر دو اشخاص نے بھی حضرت عثمانؓ بن عفان کے تقدم میں اختلاف نہ کیا۔
فجر کی نماز کے وقت حضرت عبد الرحمٰنؓ نے حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ کو اپنے پاس بلوایا اور دونوں کے ساتھ مسجد کی طرف چلے گئے، اور حضرت عبد الرحمٰنؓ نے وہ عمامہ پہنا ہوا تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہنایا تھا اور تلوار لٹکائی ہوئی تھی اور ’’الصلوٰۃ جامعۃ‘‘ کا اعلان کر دیا گیا اور مسجد لوگوں سے بھر گئی حتٰی کہ لوگوں کے لیے جگہ تنگ ہو گئی اور لوگ ایک دوسرے سے پیوستہ ہو گئے اور حضرت عثمانؓ کو لوگوں کے آخر میں بیٹھنے کو جگہ ملی۔ اس کے بعد حضرت عبد الرحمٰنؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر چلے اور طویل قیام کیا اور طویل دعا کی جسے لوگوں نے نہیں سنا۔ پھر آپ نے فرمایا، اے لوگو! میں نے پوشیدہ اور اعلانیہ تمہاری آرزو پوچھی ہے اور میں نے تم کو ان آدمیوں کے برابر کسی کو قرار دیتے نہیں دیکھا۔ یا حضرت علیؓ ہوں یا حضرت عثمانؓ ہوں۔ اے علی! میرے پاس آؤ۔ حضرت عبد الرحمٰنؓ نے ان کے ہاتھ کو پکڑ کر فرمایا کہ آپ کتاب اللہ اور اس کے نبی کی سنت اور حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کے فعل پر بیعت کرتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا، نہیں، بلکہ میں اپنی جہد و طاقت پر بیعت کرتا ہوں۔ پھر آپ نے حضرت علیؓ کا ہاتھ چھوڑ دیا اور فرمایا اے عثمان! میرے پاس آؤ۔ اور ان کا ہاتھ پکڑ کر وہی سوال کیا اور حضرت عثمانؓ نے جواب دیا، ہاں، اس کے بعد انہوں نے حضرت عثمانؓ کی خلافت کا اعلان کر دیا۔ اور حضرت علیؓ سمیت سب نے حضرت عثمانؓ پر بیعت کر لی۔ (خلاصہ تاریخ ابن کثیر ۔ اردو ترجمہ ج ۷ ص ۲۸۹ ۔ مطبوعہ کراچی)
اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ خلیفہ ؓ نے اس منصب کے لیے بنیادی اور اساسی صلاحیتوں اور اوصاف کی جانچ پڑتال کا معاملہ عام ووٹروں کی صوابدید پر نہیں چھوڑ دیا تھا۔
(۲۸) مذکورہ بالا قرآنی احکام کی روح، آئین کے آرٹیکل ۶۲ اور ۶۳ اور اس کے ساتھ خود عوامی نمائندگی کے قانون کی دفعہ ۹۹ میں بڑی حد تک سمو دی گئی ہے۔
(۲۹) یہ بات بڑے پرزور انداز میں کہی گئی کہ آئین میں قرآنی احکام کی شمولیت، لیکن ان کے نفاذ کے لیے بنائے جانے والے قانون میں ان قرآنی احکام اور آئینی تقاضوں سے صرفِ نظر، امت اور شریعت کے ساتھ ایک ظالمانہ مذاق ہے۔ شورٰی کی تشکیل کا بنیادی فلسفہ امت میں سے بہترین اور سب سے زیادہ متقی شخص کا انتخاب ہے جو اولوالامر کی حیثیت سے کام کر سکے، یا اولوالامر کا مشیر بن سکے۔ لفظ شورٰی کے لغوی معنی شہد کے چھتے سے شہد نکالنے کے ہیں۔ بھلا شہد کے چھتے کو تباہ و برباد کرنے کے لیے کیڑوں مکوڑوں کے حوالے کس طرح کیا جا سکتا ہے؟ بنیادی اہمیت کی بات یہ ہے کہ جانچ پڑتال کے مرحلے میں ارکانِ شورٰی کے بارے میں پوری تحقیق کی جاتی ہے اور صرف وہ لوگ ایوانِ مشاورت میں لائے جاتے ہیں جو اس منصب کے لیے پوری طرح موزوں پائے گئے ہوں۔ شورٰی کو ایسے لائق اور باصلاحیت افراد کا مرکز ہونا چاہیئے جن میں سے ہر ایک کو امت کے دو تین لاکھ افراد کی جانب سے قابلِ اعتماد ہونے کی سند مل چکی ہو۔
(۳۰) چونکہ آئین میں پہلے ہی شورٰی کے امیدواروں کی اہلیت کی یہ شرائط موجود ہیں اور ان کے نفاذ کے لیے طریق کار کے تعین کا معاملہ مقننہ پر چھوڑ دیا گیا ہے، لہٰذا آئین کے تقاضوں کی مؤثر طور پر تکمیل کے لیے متعلقہ قانون میں اس طرح ترمیم ہونی چاہیئے کہ یہ با معنی ہو سکے۔ ہر امیدوار کی اہلیت کو جانچنے کی خاطر پہلے کھلی عدالت میں تحقیقات کے لیے اعلٰی عدالتوں کے سابق یا برسرکار ججوں، یونیورسٹیوں کے ماہرینِ تعلیم اور اسلامی اسکالروں سمیت ممتاز افراد اور معززین پر مشتمل اسکریننگ کمیٹی یا ٹربیونل کی تشکیل عمل میں آنی چاہیئے، اور جو کوئی بھی شہادت پیش کر کے ٹربیونل یا اسکریننگ کمیٹی کی مدد کرنا چاہے اسے ایسا کرنے سے روکا نہیں جانا چاہیئے۔
(۳۱) درخواست گزاروں کا دوسرا حملہ ’’عوامی نمائندگی کے قانون مجریہ ۱۹۷۶ء‘‘ کی دفعہ ۵۲ پر تھا جو اس طرح ہے:
’’۵۲۔ الیکشن پٹیشن ۔۔۔
(۱) کوئی الیکشن اس وقت تک متنازعہ نہیں کہلائے گا جب تک اس کے بارے میں کسی امیدوار کی طرف سے پٹیشن داخل نہ کی جائے۔
(۲) سرکاری گزٹ میں کامیاب ہونے والے امیدواروں کے نام کی اشاعت کے بعد ساٹھ دن کے اندر اندر الیکشن پٹیشن کمشنر کو درخواست کے مصارف کے لیے ضمانت کے طور پر نیشنل بینک کی کسی بھی شاخ یا ٹریژری میں متعین کھاتے کے تحت کمشنر کے نام ایک ہزار روپیہ جمع کرانے کی رسید کے ساتھ پیش کر دینی چاہیئے۔‘‘
(۳۲) کہا گیا ہے کہ یہاں پھر اسلامی فکر کی اصل روح کو قتل کر کے مغرب کے سیاسی افکار کے تفنس کو ابھارا گیا ہے۔ منتخب امیدوار کو ووٹروں کا نمائندہ سمجھا جاتا ہے، ووٹر اس پر اپنے اعتماد کا اظہار کر چکے ہوتے ہیں، لہٰذا ان کے امین اور معتمد ہونے کی حیثیت سے اسے ہر ایسے شخص کے سامنے جوابدہ ہونا چاہیئے جس نے اس پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا ہو۔ لیکن یہ دفعہ اسے صرف اپنے حریف ہی کے مقابل رکھتی ہے کیونکہ صرف وہی اس کے خلاف انتخابی عذرداری داخل کر سکتا ہے۔ آخر ان ووٹروں کے لیے انتخابی نتائج کے تعلق سے کسی کردار کا انکار کیوں کیا جاتا ہے جن کا معتمد ہونے کا یہ امیدوار دعوٰی کرتا ہے اور انہیں اس کے خلاف آواز اٹھانے کے حق سے کیوں محروم کر دیا گیا ہے؟
(۳۳) شروع سے آخر تک اس عمل سے جو بات سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ جیسے یہ دو سیاسی جانوروں کی لڑائی ہو جس میں ووٹروں کے پورے مجمع کا کام محض تماشائی بنے رہنا اور مقابلے کے خاتمے پر صرف اس بات کا اعلان کرنا ہو کہ جیتنے والا کون ہے اور ہارنے والا کون۔ یہ صورت حال اس اصل مقصد ہی کو ختم کر دیتی ہے جس کی خاطر یہ پوری مشق کی جاتی ہے۔ اس طرح امانت اور امین کا معاملہ دو افراد کے درمیان ذاتی لڑائی کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
(۳۴) استدلال کیا گیا کہ سامنے آ کر بددیانت اور ناپسندیدہ امیدوار کو، جو ممکن ہے ناجائز ذرائع اختیار کر کے کامیاب ہو گیا ہو، بے نقاب کرنا ہر ایک کا حق ہونا چاہیئے۔ شاطر اور بارسوخ فاتح کے لیے شکست خوردہ امیدوار کو عدالت جانے سے روکنا اور یوں حلقہ انتخاب کے تین لاکھ ووٹروں کے سر پر سوار رہنا زیادہ مشکل نہیں ہو گا۔ آخر ایک ایسے شخص کو ان ووٹروں پر مسلط رہنے کی اجازت کیوں دی جائے جو اسے پسند نہیں کرتے۔
(۳۵) اس لیے ضروری ہے کہ ’’عوامی نمائندگی کے قانون مجریہ ۱۹۷۶ء‘‘ کی دفعہ ۵۲ میں اس طرح ترمیم کی جائے کہ تمام ووٹروں کو (اس امیدوار کے خلاف عدالتی کارروائی کا) بھرپور موقع مل سکے جو ان کے ٹکٹ پر پارلیمنٹ کے ایوان میں جا پہنچا ہو۔ کوئی امیدوار الیکشن پر اعتراض کرے یا نہ کرے، وہ انتخابی عذرداری داخل کرے یا نہ کرے، اس بات کو یقینی بنانا بہرحال ووٹر کا حق ہے کہ اس کی نمائندگی ایک دیانتدار آدمی کی جانب سے کی جا رہی ہے جس نے انتخاب بوگس ووٹنگ، ناجائز طریقوں یا اپنے حریفوں کے خلاف سازش کر کے نہیں بلکہ جائز ذرائع سے جیتا ہے۔ ہر ووٹر کو یہ حق مہیا کیے بغیر یہ دفعہ قرآن اور سنت کے خلاف رہے گی۔
(۳۶) اس دلیل کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ ارکانِ شورٰی کو، جنہیں ان ووٹروں کا امین ہونے کی حیثیت حاصل ہے جنہوں نے انہیں اوپر بھیجا ہے، مستقل طور پر اپنے رائے دہندگان کی نگرانی میں رہنا اور اپنے ہر اقدام کے لیے ان کے سامنے جوابدہ ہونا چاہیئے۔ کسی بھی وقت جب کوئی رکن کوئی غلط قدم اٹھائے تو ہر ووٹر کو اسے کھینچ کر اس سے وضاحت طلب کرنے کے قابل ہونا چاہیئے۔ یہ اختیار غیر محتاط اور کھلنڈرے ارکانِ شورٰی کے لیے ایک رکاوٹ اور سب کے لیے ایک انتباہ ہو گا کہ انہیں ہمیشہ ہر قدم ناپ تول کر اٹھانا ہے۔ اس دلیل کی تائید میں خلیفۂ اول حضرت ابوبکرؓ کا پہلا خطبہ اور حضرت عمرؓ کے واقعات پیش کیے گئے۔ ان دونوں کا یہاں نقل کر دینا فوری حوالے کے لیے سودمند ہو گا۔
حضرت ابوبکرؓ نے خلیفہ مقرر ہونے کے بعد اپنے پہلے خطبہ میں فرمایا:
’’اے لوگو! میں تمہارے اوپر حکمران مقرر کیا گیا ہوں، میں تم سے بہتر نہیں ہوں۔ اگر میں غلطی کروں تو تم اس کو درست کر دو، اور اگر میں اچھا کروں تو میری مدد کرو۔ سچائی امانت ہے، جھوٹ خیانت ہے۔ تم میں سے ضعیف میرے نزدیک قوی ہے یہاں تک کہ ان شاء اللہ میں اس کا حق دلوا دوں۔ تم میں جو طاقتور ہے وہ میرے نزدیک ضعیف ہے یہاں تک کہ میں اس سے حق وصول نہ کر لوں۔ کوئی قوم اللہ کے راستے میں جہاد چھوڑ دیتی ہے تو اللہ ان پر فقر مسلط کر دیتا ہے۔ برائیاں پھیل جاتی ہیں اور مصیبتیں آجاتی ہیں۔ میری اطاعت اس وقت تک کرو جب تک میں اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کروں۔ جب میں اللہ اور اس کے رسولؐ کی نافرمانی کروں تو تم پر میری اطاعت نہیں ہے۔ اب نماز کے لیے کھڑے ہو، اللہ تم پر اپنی رحمتیں نازل کرے۔‘‘ (مصنف عبد الرزاق ج ۱۱ ص ۳۳۶)
حضرت عمرؓ کی خلافت کے چند واقعات:
(۱) ایک شخص نے آپ سے بھرے مجمع میں کہا کہ عمرؓ خدا سے ڈرو۔ وہ بار بار اس جملہ کو دہرائے چلا گیا تو مجمع میں سے ایک شخص نے اس سے کہا کہ اب بس بھی کرو تم بہت کہہ چکے۔ حضرت عمرؓ نے اسے روکا اور کہا کہ نہیں اسے کہنے دو، اگر یہ ایسی بات نہ کہیں تو سمجھ لو کہ ان میں خیر کا ذرہ تک نہیں رہا، اور اگر ہم اسے نہ سنیں تو سمجھ لو کہ ہم میں خیر کی رمق تک نہیں رہی۔
(۲) ایک دن آپ نے برسر منبر کہا کہ صاحبو! اگر میں دنیا کی طرف جھک جاؤں تو تم کیا کرو گے؟ ایک شخص کھڑا ہو گیا، تلوار زمام سے نکالی اور کہا کہ ہم تمہارا سر اڑا دیں گے۔ آپ نے اسے آزمانے کے لیے کہا کہ کیا تو میری شان میں یہ بات کہتا ہے؟ اس نے نہایت سکون سے کہا کہ ہاں تمہاری شان میں۔ آپ نے فرمایا کہ الحمد للہ قوم میں ایسے لوگ موجود ہیں کہ اگر عمر بھی کج رو ہو جائے تو وہ اس کا سر اڑا دیں۔
اور یہ سر اڑا دینے کی بات تو خود آپ ہی نے انہیں بتائی تھی۔ ایک دفعہ آپ نے کہا کہ اگر خلیفہ ٹھیک ٹھیک چلے تو لوگوں کو چاہیئے کہ اس کی اطاعت کریں لیکن اگر وہ غلط راستہ اختیار کرے تو اسے قتل کر دینا چاہیئے۔ حضرت طلحہؓ پاس بیٹھے تھے انہوں نے کہا کہ آپ نے یہ کیوں نہ کہا کہ اگر خلیفہ ٹھیک نہ چلے تو اسے معزول کر دینا چاہیئے۔ آپ نے فرمایا، نہیں، قتل کر دینا، بعد میں آنے والوں کے لیے زیادہ عبرتناک ہو گا۔
(۳) یمنی چادریں آئیں تو آپ نے سب کو ایک ایک چادر دے دی۔ آپ منبر پر تشریف لائے اور حسبِ معمول مجمع سے کہا کہ ’’اسمعوا واطیعوا‘‘ سنو جو کچھ میں کہتا ہوں اور پھر اس کی اطاعت کرو۔ مجمع سے آواز آئی، ہم نہ تمہاری سنیں گے نہ اطاعت کریں گے۔ کہنے والے حضرت سلمان فارسیؓ تھے۔ سربراہ مملکت منبر سے نیچے اتر آئے اور کہا کہ ابو عبد اللہ کیا بات ہے؟ کہا عمر! تم نے دنیا داری برتی ہے۔ تم نے ایک ایک چادر تقسیم کی تھی اور خود دو چادریں پہن کر آئے ہو۔ فرمایا، عبد اللہ بن عمر کہاں ہیں؟ حاضر ہوں امیر المومنین! فرمایا، بتاؤ ان میں سے ایک چادر کس کی ہے؟ عرض کیا، میری ہے امیر المومنین! آپ نے حضرت سلمانؓ سے مخاطب ہو کر فرمایا ابو عبد اللہ! تم نے جلدی کی جو بات پوچھے بغیر احتجاج کر دیا، میں نے اپنے میلے کپڑے دھوئے تھے، باہر آنے کے لیے ایک چادر کافی نہیں تھی اس لیے میں نے (اپنے بیٹے) عبد اللہ سے چادر مانگ لی تھی۔ حضرت سلمانؓ نے کہا، ہاں اب کہیئے یا امیر المومنین! ہم سنیں گے بھی اور اطاعت بھی کریں گے۔ آپ خود اپنا یہ قول کیسے بھول سکتے تھے؟
(۳۷) ہماری رائے میں یہ انتہائی مناسب اور پسندیدہ بات ہے کہ اسکریننگ کمیٹی یا الیکشن کمیشن کو ایسی کسی بھی شکایت کو نمٹانے کا اختیار دیا جانا چاہیئے جو رکن شورٰی کی کسی بدعنوانی یا غیر اخلاقی رویے کو ریکارڈ پر لانے کے خواہشمند اس کے حلقۂ انتخاب کے کسی ممبر یا کسی دوسرے فرد کی طرف سے کی گئی ہو۔ اگر الزامات درست ثابت ہوں تو کمیٹی کو متعلقہ رکن کو نا اہل قرار دینے اور شورٰی کی نشست سے محروم کر دینے کا اختیار حاصل ہونا چاہیئے۔
(۳۸) اس کے بعد انتخابی مصارف سے متعلق نمائندگی کے قانون کے چھٹے باب کی دفعات ۴۸، ۴۹، ۵۰ اور ۵۱ کے مجموعے اور اسی قانون کی ڈپازٹ سے متعلق دفعہ ۱۳ پر سخت اعتراض کیا گیا۔ اس اعتراض کے دو پہلو تھے:
اولاً یہ استدلال کیا گیا کہ دفعہ ۴۹ کی شق ۲ کہتی ہے کہ ’’امیدوار کے سوا کوئی بھی شخص ایسے امیدواروں کے کسی انتخابی خرچ کا مجاز نہیں ہو گا‘‘۔ اس طرح لوگوں کے کسی گروپ یا سیاسی جماعت کو، جس نے آبادی کے وسیع تر مفاد میں کسی امیدوار کو کھڑا کیا ہو، کسی بھی انتخابی خرچ سے روک دیا گیا ہے۔ شریعت کے نقطۂ نگاہ سے الگ ہٹ کر دیکھا جائے تب بھی سوچ کے اس انداز سے زیادہ مکروہ اور کوئی بات نہیں ہو سکتی کہ ایک شخص اقتدار کے حصول کے لیے رقم خرچ کرے۔ آخر ایک دیانتدار اور بے غرض آدمی اس مقصد کے لیے کوئی بھی رقم کیوں خرچ کرے؟ ایک خود غرض اور عہدے کا حریص شخص ہی، اگر وہ قومی اسمبلی کی سیٹ کا بھوکا ہے تو ۵ لاکھ روپے اور اگر صوبائی اسمبلی کی نشست پر مطمئن ہے تو تین لاکھ روپے داؤ پر لگائے گا۔ یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ اقتدار کی طلب رکھنے والا کوئی شخص جو کرسیٔ اقتدار کی شکل میں اپنا مقصد حاصل کرنے کے لیے خطیر رقم خرچ کرنے پر تیار ہو، یقیناً بہت سی خودغرضانہ خواہشات رکھتا ہو گا۔ انسانیت کی خدمت اور عوام کی بہتری کے کسی احساس کے مقابلے میں لالچ اور اغراض کے جذبات اس کے دل میں کہیں زیادہ موجزن ہوں گے۔ اپنے انتخاب کے بعد اسے پہلی فکر ان نقصانات کو پورا کرنے کی ہو گی جو انتخابی مہم کے دوران اس نے برداشت کیے ہوں گے۔ یہ بات شریعت کے بالکل خلاف ہے کہ سرکاری منصب کو خدا ترسی اور اخلاص کے بجائے دولت اور وسائل کے بل پر حاصل کرنے کی چھوٹ دے دی جائے۔
(۳۹) اگر ایک امیدوار کو رائے دہندگان کے فیصلے پر پیسے کی قوت سے اثرانداز ہونے اور ان کی بیعت اور حمایت کو دولت سے خریدنے کی چھوٹ دے دی جائے تو ایک غریب آدمی، جو ہو سکتا ہے کہ خلوص اور تقوٰی کے لحاظ سے اس شخص سے ہزاروں گنا بہتر ہو لیکن اپنے حریف کے مقابلے میں ایسے مؤثر وسائل مہیا کرنے کی سکت نہ رکھتا ہو، کبھی بھی شورٰی میں پہنچ کر لوگوں کی خدمت کرنے کے اپنے جذبے اور اپنی آرزو کو پورا نہیں کر سکے گا۔
(۴۰) ہماری رائے میں دفعہ ۴۹ شریعت کے خلاف اور درج ذیل آیات و احادیث سے براہِ راست متصادم ہے:
’’اور رشتہ داروں اور محتاجوں اور مسافروں کو ان کا حق ادا کرو اور فضول خرچی سے مال نہ اڑاؤ کہ فضول خرچی کرنے والے تو شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے پروردگار (کی نعمتوں) کا کفران کرنے والا (یعنی ناشکرا) ہے۔‘‘ (الاسراء ۲۶ و ۲۷)
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو موسٰی اشعریؓ سے فرمایا، خدا کی قسم! ہم اس حکومت کے منصب پر ایسے شخص کو ہرگز مقرر نہیں کریں گے جو اس کا طالب ہو اور نہ کسی ایسے شخص کو جو اس کا حریص ہو۔‘‘ (بخاری، کتاب الاحکام ص ۱۰۵۸)
’’حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ہم اپنی حکومت کے کسی کام میں ایسے شخص کو استعمال نہیں کرتے جو اس کا ارادہ رکھتا ہو۔‘‘ (صحیح مسلم ج ۳ ص ۲۳ ۔ اردو ترجمہ مطبوعہ کراچی)
’’حضرت ابوبکرؓ سے ماثور ہے کہ آپؓ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے امارت کے بارے میں دریافت کیا تو حضورؐ نے جواب دیا، اے ابوبکر! وہ اس کے لیے نہیں ہے جو اس پر ٹوٹا پڑتا ہو، وہ اس کے لیے ہے جو اس سے بچنے کی کوشش کرے نہ کہ اس کے لیے جو اس پر جھپٹے۔ وہ اس کے لیے ہے جس سے کہا جائے کہ یہ تیرا حق ہے، نہ کہ اس کے لیے جو خود کہے کہ یہ میرا حق ہے۔‘‘ (قلقشندی صبح الاعشی ج ۱ ص ل ۲۴۰)
(۴۱) ہم یہ سفارش کرنے کی جرأت کر سکتے ہیں کہ جو امیدوار اسکریننگ کے عمل سے گزرنے کے بعد مقررہ معیارِ اہلیت کے مطابق قرار پائیں انہیں رائے دہندگان میں الیکشن کمیشن کی جانب سے الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے اور جہاں یہ ممکن نہ ہو وہاں دوسرے ذرائع سے متعارف کرایا جائے۔ ہر امیدوار کے لیے وقت مختص کیا جانا چاہیئے اور ہر امیدوار کے حامیوں اور مددگاروں کی باہمی گفتگو (پینل ڈسکشن) کے ذریعے امیدواروں کو رائے دہندگان سے متعارف کرایا جانا چاہیئے۔ ہر امیدوار کو ٹی وی سے اور جہاں یہ ممکن نہ ہو وہاں الیکشن کمیشن کے زیراہتمام منعقدہ عوامی اجتماعات کے ذریعے اپنے حلقۂ انتخاب کے ووٹروں سے براہ راست خطاب کا موقع فراہم کیا جانا چاہیئے۔
(۴۲) بعض پابندیوں کے ساتھ امیدوار کے حامیوں کو پوسٹروں کے ذریعے تشہیر کی اجازت بھی دی جا سکتی ہے۔ حامیوں کی جانب سے جاری کردہ پوسٹروں اور اسی نوعیت کی دیگر چیزوں میں صرف اس امیدوار کی خوبیوں اور صفات پر تبصرہ ہونا چاہیئے جسے انہوں نے اسمبلی کے لیے نامزد کیا ہو۔ اس مرحلے پر دوسرے امیدواروں کی کردار کشی کی قطعاً اجازت نہیں دی جا سکتی کیونکہ وہ سب بھی اسکریننگ کمیٹی کی جانب سے مطلوبہ معیار کے مطابق قرار دیے جا چکے ہوں گے۔ اگر حریف امیدوار کے دامنِ کردار پر کوئی داغ ہو تو اسے اسکریننگ کمیٹی کے سامنے ثابت کیا جانا چاہیئے، پریس میں شائع نہیں کرنا چاہیئے۔
(۴۳) عوامی نمائندگی کے قانون کی دفعہ ۹۹ کی شق (اے) کی ذیلی شق (کے) کے حوالے سے ایک اور اعتراض ۔۔۔۔ دلیل دی گئی کہ شورٰی کو قوم کے بہتر عنصر پر مشتمل ہونا چاہیئے۔ اہلِ دانش اور پختہ تجربے کے حامل افراد کو معاشرے کے ایک ایک گوشے سے چن کر شورٰی میں لایا جانا چاہیئے، یہ امت کے اہل الرائے ہوتے ہیں۔ لیکن جس چیز کو خوبی اور اہلیت قرار دیا جانا چاہیئے اسے ’’عوامی نمائندگی کے قانون‘‘ کی دفعہ ۹۹ کی شق (اے) کی ذیلی شق (کے) میں یا اسی کے مماثل ’’ایوان ہائے پارلیمان اور صوبائی اسمبلیوں کے  حکم مجریہ ۱۹۷۷ء‘‘ کی دفعہ ۱۰ کی شق ۲ کی ذیلی شق ۴ میں نا اہلیت کی فہرست میں رکھا گیا ہے۔ یہ حصہ فوری حوالے کے لیے ذیل میں درج کیا جا رہا ہے:
’’(کے) وہ پاکستان کی، یا آئین کی رو سے تشکیل پانے والے کسی ادارے، یا کسی بھی ایسے ادارے کی جو حکومتِ پاکستان کی ملکیت یا کنٹرول میں ہو، یا جس میں حکومت کا غالب حصہ یا مفاد ہو، ملازمت میں رہا ہو۔ سوائے اس کے کہ اسے ایسی ملازمت کو چھوڑے ہوئے دو سال کا عرصہ گزر چکا ہو۔‘‘
(۴۴) استدلال کیا گیا کہ اعلٰی عدالتوں کے سابق ججوں، جامعات کے پروفیسروں اور دوسرے دیانتدار اور تجربہ کار ریٹائرڈ سرکاری ملازموں کو، جو دفتر خارجہ یا بیرونی مشن میں خدمات انجام دے چکے ہوں، ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد کم از کم دو سال کے لیے نا اہل قرار دے دیا جاتا ہے۔ اس طرح ایسے افراد کے پاس بحیثیت رکن شورٰی اپنی صلاحیتوں اور مہارت و تجربے کے استعمال کا جو بہترین وقت ہوتا ہے اسے جبری رخصت کی نذر کر کے انہیں گھر کے اندر گوشۂ تنہائی میں بیٹھنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے، اور دو سال کے دوران ان کی فہم و فراست کی ساری تیزی زنگ آلود ہو کر کند ہو جاتی ہے۔ ہم ایسے پختہ کار اور مہارت یافتہ افراد کو شورٰی کی رکنیت کے لیے ناموزوں قرار دیے جانے کے اس رویے میں کوئی حکمت و دانش نہیں  پاتے۔ تاہم بدقسمتی سے اس کے خلاف اپنی رائے کے اظہار سے زیادہ کچھ کرنے کے قابل نہیں ہیں کیونکہ آئین کی دفعہ ۶۳ کی شق (کے) میں بھی اسے نا اہلی کی ایک وجہ کی حیثیت سے شامل رکھا گیا ہے اور آئین ہماری دسترس سے باہر ہے۔
(۴۵) بیلٹ کی رازداری سے متعلق دفعات کے پورے مجموعے خصوصاً دفعہ ۸۸ اور دفعہ ۸۹ کو بھی، جو بیلٹ کی رازداری کی شرط عائد کرتی ہے، قرآن و سنت کے خلاف ہونے کی حیثیت سے چیلنج کیا گیا ہے۔ معترضین کی دلیل یہ تھی کہ کسی شخص کے لیے ووٹ دینا دراصل شہادت دینا ہے اور ایک مسلمان کو اتنا جرأتمند ہونا چاہیئے کہ وہ خوف کے بغیر اور تعلقات سے بلند ہو کر سچی گواہی دے سکے۔ اس سلسلہ میں سورہ نساء کی آیت ۱۳۵ بھی پیش کی گئی:
’’اے ایمان والو! انصاف پر قائم رہو اور خدا کے لیے سچی گواہی دو، خواہ اس میں تمہارا یا تمہارے ماں باپ اور رشتہ داروں کا نقصان ہی ہو۔ اگر کوئی امیر ہے یا فقیر تو خدا ان کا خیر خواہ ہے۔ تو تم خواہشِ نفس کے پیچھے چل کر عدل کو نہ چھوڑ دینا۔ اگر تم پیچ دار شہادت دو گے یا شہادت سے بچنا چاہو گے تو جان رکھو کہ خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے۔‘‘ (النساء ۱۳۵)
(۴۶) تاہم یہ نوٹ کیا جانا چاہیئے کہ دفعات کا یہ مجموعہ دستور کے آرٹیکل ۲۲۶ میں ظاہر کی جانے والی قانون سازی کی ضرورت کی تکمیل کے لیے ہے۔ دستور کے اس آرٹیکل میں کہا گیا ہے کہ
آرٹیکل ۲۲۶ ۔۔۔ ’’آئین کے تحت تمام انتخابات خفیہ رائے دہی سے ہوں گے۔‘‘
(۴۷) مزید یہ کہ یہ کہنا مشکل ہے کہ ایک حق سے استفادے کے لیے اختیار کی جانے والی ایک احتیاطی تدبیر کو خود اس حق کو ختم کرنے کا ذریعہ بنایا جا سکتا ہے۔ یہ دفعات رائے دہی کے حق کے استعمال کے طریقے کو بیان کرتی ہیں۔ اس لیے رائے دہی کے اخفا کی دفعات برقرار رکھی جا سکتی ہیں لیکن اس حق کے استعمال کو منضبط کرنے کی شکل یا قاعدے کے ذریعے خود اس حق کو ختم کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ یعنی یہ کہ اگر ایک ووٹر غیر ارادی طور پر رازداری کے سخت قوانین کو پورا کرنے میں ناکام رہے تو اسے رائے دہی سے محروم نہیں کیا جانا چاہیئے اور اس کا ووٹ غیر درست قرار نہیں دیا جانا چاہیئے۔
(۴۸) اوپر کی تمام بحث کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عوامی نمائندگی کے قانون کی دفعات ۱۳، ۱۴، ۴۹، ۵۰ اور ۵۲ قرآن و سنت کے خلاف ہیں۔ رائے دہی کی رازداری سے متعلق دفعات ۸۸ اور ۸۹ برقرار رکھی جا سکتی ہیں لیکن دفعہ ۳۸ (۴) (سی) (۱۱) جس کے تحت ایک جائز ووٹ محض اس لیے گنتی سے خارج کر دیا جاتا ہے کہ ووٹر رازداری ملحوظ نہیں رکھ سکا، قرآن و سنت سے متصادم ہے (النساء ۱۳۵)۔ ’’عوامی نمائندگی کے قانون مجریہ ۱۹۷۶ء‘‘ اور ’’ایوان ہائے پارلیمان اور صوبائی اسمبلیوں کے (انتخابی) حکم مجریہ ۱۹۷۷ء‘‘ میں، اس فیصلے کے مطابق، صدرِ پاکستان کی جانب سے ۳۱ دسمبر ۱۹۸۹ء تک ترمیم کر دی جانی چاہیئے۔ ۳۱ دسمبر ۱۹۸۹ء کے بعد دفعات ۱۳، ۱۴، ۴۹، ۵۰، ۵۲ اور ۳۸ (۴) (سی) (۱۱) غیر مؤثر ہو جائیں گی۔

دستخط

جسٹس عبادت یار خان۔ چیف جسٹس گل محمد خان۔ جسٹس شجاعت علی قادری۔ جسٹس مفتخر الدین۔ جسٹس فدا محمد خان
اسلام آباد ۔ ۱۶ اکتوبر۱۹۸۹ء

نوٹ

وفاقی شرعی عدالت کے اس فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے اور سپریم کورٹ نے ابتدائی سماعت کے بعد وفاقی شرعی عدالت کے اس فیصلہ کو ان ریمارکس کے ساتھ عارضی طور پر معطل کر دیا ہے کہ چونکہ عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہو چکا ہے اور فیصلہ کے بعض پہلو تفصیلی بحث کے متقاضی ہیں جن کا فیصلہ انتخابات سے قبل نہیں ہو سکتا، نیز عدالتِ عظمٰی انتخابات میں مداخلت نہیں کرنا چاہتی، اس لیے وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ عارضی طور پر معطل کیا جاتا ہے۔ (مدیر الشریعہ)

پردہ اور بائبل

مسیحی مذہبی راہنماؤں کی توجہ کے لیے

محمد عمار خان ناصر

کلامِ الٰہی قرآن پاک میں ارشاد ہے:
یا ایھا النبی قل لازواجک وبناتک ونساء المؤمنین یدنین علیھن من جلابیبھن ذٰلک ادنٰی ان یعرفن فلا یؤذین وکان اللہ غفورًا رحیما۔ (الاحزاب ۵۹)
 ترجمہ: ’’اے پیغمبر! اپنی بیبیوں سے اور اپنی صاحبزادیوں سے اور دوسرے مسلمانوں کی بیبیوں سے بھی کہہ دیجیئے کہ (سر سے) نیچے کر لیا کریں اپنے تھوڑی سی اپنی چادریں اس سے جلدی پہچان ہو جایا کرے گی تو آزار نہ دی جایا کریں گی اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ (ترجمہ حضرت تھانویؒ)
مذکورہ آیت میں پردہ کا حکم دیا گیا ہے۔ حاشیہ پر علامہ عثمانیؓ لکھتے ہیں:
’’یعنی بدن ڈھانکنے کے ساتھ چادر کا کچھ حصہ سر سے نیچے چہرے پر بھی لٹکا لیویں۔ روایت میں ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے پر مسلمان عورتیں بدن اور چہرہ چھپا کر اس طرح نکلتی تھیں کہ صرف ایک آنکھ دیکھنے کے لیے کھلی رہتی تھی۔ اس سے ثابت ہوا کہ فتنہ کے وقت آزاد عورت کو چہرہ بھی چھپا لینا چاہیئے۔ لونڈی یا باندی کو ضرورتِ شدیدہ کی وجہ سے اس کا مکلف نہیں کیا کیونکہ کاروبار میں حرجِ عظیم واقع ہوتا ہے۔‘‘
حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں:
’’یعنی پہچانی پڑیں کہ لونڈی نہیں بی بی ہے، صاحبِ ناموس بدذات نہیں نیک بخت ہے تو بد نیت لوگ اس سے نہ الجھیں۔‘‘
ایک دوسرے مقام میں ارشاد ہے:
وقل للمومنات یغضضن من ابصارھن ویحفظن فروجھن ولا یبدین زینتھن الا ما ظہر منھا ولیضربن بخمرھن علی جیوبھن۔ (النور ۳۱)
ترجمہ: ’’اور (اسی طرح) مسلمان عورتوں سے (بھی) کہہ دیجیئے کہ (وہ بھی) اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کے مواقع کو ظاہر نہ کریں مگر جو اس (موقع زینت)  میں سے (غالباً) کھلا رہتا ہے (جس کے ہر وقت چھپانے میں ہرج ہے) اور اپنے دوپٹے اپنے سینوں پر ڈالے رہا کریں۔‘‘ (ترجمہ حضرت تھانویؒ)
الرجال قوامون علی النساء بما فضل اللہ بعضھم علٰی بعض۔ (النساء)
’’مرد حاکم ہیں عورتوں پر اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔‘‘
آیت مذکورہ میں جہاں گھریلو مسائل و معاملات میں مرد کی برتری کا حکم ملتا ہے وہاں سیاسی، قومی اور ملکی معاملات میں بھی صرف مرد کا حکمران ہونا مسلّم قرار پاتا ہے۔ چنانچہ ترجمان القرآن حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ’’الرجال قوامون‘‘ کی تفسیر ’’امرا‘‘ کے ساتھ کی ہے (تفسیر ابن جریر الطبریؒ ج ۵)۔ یہاں بھی عورت کو گھر کے اندر اور گھر سے باہر کے معاملات میں اس لیے مرد کے ماتحت رکھا گیا ہے کہ عورت میں کچھ فطری کمزوریاں ہیں۔ آنحضرتؐ نے فرمایا ’’النساء حبالۃ الشیطان‘‘ کہ عورتیں شیطان کا جال ہیں۔ عورت کی یہ صفت اس کے گھر سے باہر کے معاملات مثلاً حکومت و ولایت اور جہاد وغیرہ میں حقدار و مکلف نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ ہے۔
عورت کے لیے پردہ اور مرد کے تابع ہونے کا حکم کتبِ سابقہ میں بھی موجود ہے۔ بائبل سے چند حوالہ جات ملاحظہ ہوں:
’’پھر اس نے عورت سے کہا کہ میں تیرے دردِ حمل کو بہت بڑھاؤں گا تو درد کے ساتھ بچہ جنے گی اور تیری رغبت اپنے شوہر کی طرف ہو گی اور وہ تجھ پر حکومت کرے گا۔‘‘ (پیدائش ۳ / ۱۶)
’’ہر مرد کا سر مسیح اور عورت کا سر مرد اور مسیح کا سر خدا ہے ۔۔۔ اور جو عورت بے سر ڈھنکے دعا یا نبوت کرتی ہے وہ اپنے سر کو بے حرمت کرتی ہے کیونکہ وہ سرمنڈی کے برابر ہے۔ اگر عورت اوڑھنی نہ اوڑھے تو بال بھی کٹائے۔ اگر عورت کا بال کٹانا یا سر منڈانا شرم کی بات ہے تو اوڑھنی اوڑھے۔‘‘ (اول کرنتھیوں ۱۱ / ۶۰۳)
’’اے بیویو! اپنے شوہروں کی ایسی تابع رہو جیسے خداوند کی کیونکہ شوہر بیوی کا سر ہے جیسا کہ مسیح کلیسیا کا سر ہے اور وہ خود بدن کا بچانے والا ہے لیکن جیسے کلیسیا مسیح کے تابع ہے ویسے ہی بیویاں بھی ہر بات میں اپنے شوہر کی تابع ہوں۔‘‘ (افسیوں ۵ / ۲۲۔۲۴)
’’عورتیں حیادار لباس میں شرم اور پرہیزگاری کے ساتھ اپنے آپ کو سنواریں نہ کہ بال گوندھنے اور سونے اور موتیوں اور قیمتی پوشاک سے ۔۔۔۔ عورت کو چپ چاپ کمال تابعداری سے سیکھنا چاہیئے اور میں اجازت نہیں دیتا کہ عورت سکھائے یا مرد پر حکم چلائے بلکہ چپ چاپ رہے۔‘‘ (۱۔تیمتھیس ۲ / ۹۔۱۲)
’’اور متقی اور پاک دامن اور گھر کا کاروبار کرنے والی اور مہربان ہوں اور اپنے اپنے شوہر کے تابع رہیں۔‘‘ (۔۔۔ ۲ / ۵)
جہاں تک شرائع کا تعلق ہے بائبل عورت کو مکمل طور پر پردے کا پابند اور گھر تک محدود کر دیتی ہے لیکن عیسائیت کا قدیم مسکن مغرب بے پردگی اور آوارگی میں کچھ زیادہ ہی رسیاں تڑا گیا ہے۔ عیسائی مشنریاں عورت اور وہ بھی فحاشی اور عریانی سے مالامال جیسے خطرناک ہتھیار سے لیس ہیں۔ عورتیں ملک کے ہر محکمہ حتٰی کہ مذہبی راہنماؤں کے ساتھ بھی نوجوان سسٹرز اور ماوا میں تبلیغ کے بہانے مصروف العمل ہیں جو بائبل کے صریح فرامین کے خلاف ہے۔ تبلیغ کرنا عورت کو روا نہیں  ہے ۱۔تیمتھیس ۲ / ۱۲۰۹ سے یہ واضح طور پر منصوص ہے۔ اس بات کا مسیحی علماء کو بھی اقرار ہے کہ یورپ کی عورت آزادی میں حد سے بڑھ گئی ہے۔ چنانچہ پادری آر بسن لکھتے ہیں:
’’یہ قابل افسوس بات ہے کہ مغربی ممالک کی عورتیں جن کو حد سے زیادہ آزادی دی گئی ہے قدرت کے خلاف زندگی بسر کرتی ہیں۔‘‘ (حقوق و فرائض نسواں ۔ مصنفہ ڈاکٹر پادری جے ایچ آربسن ایم ڈی ۔ مطبوعہ ۱۹۲۸ء ص ۳۱)
مزید لکھتے ہیں:
’’مرد عورت سے زیادہ قدآور اور طاقتور ہوتا ہے لہٰذا وہ محنت و مشقت کے کاروبار کرنے کے زیادہ قابل ہوتا ہے اور اسی وجہ سے لازم ہے کہ وہ اپنی بیوی کی حفاظت کرے اور محنت و مشقت کا کام اپنے ذمہ لے۔ عورت کا کام مرد کے کام کی نسبت زیادہ مشکل اور نازک ہے اور اس کا اثر رگوں اور پٹھوں پر زیادہ ہوتا ہے۔ اگر ذرا عقل اور سمجھ کو استعمال کیا جائے تو معلوم ہو جائے گا کہ عورت کے ساتھ نہایت بے انصافی کی گئی ہے کہ جس حال کہ اس کی طاقت کو اس الٰہی مقصد کے لیے محفوظ رکھا جانا چاہیئے تھا کہ جس کے لیے وہ خلق کی گئی اس کو دنیا کے سخت اور کٹھن معاملات میں صرف کیا گیا ہے۔‘‘ (ص ۱۶)
اب یہ مشکل اور کٹھن کام نہیں تو اور کیا ہے کہ مغرب سے عورتوں کو دور دراز کے ممالک میں تبلیغ کے لیے بھیجا جاتا  ہے، انہیں گھر بار سے دور رکھا جاتا ہے اور نجانے کیا کیا بھاری ذمہ داریاں اس نازک وجود پر ڈالی جاتی ہیں۔ مسیحی مذہبی راہنماؤں سے گزارش ہے کہ بائبل کی تبلیغ کے سلسلہ میں کم از کم بائبل کے احکام کا لحاظ تو کر لیا جائے اور عورت کی بے پردگی، فحاشی اور عریانی کے خلاف عَلم جہاد بلند کیا جائے۔

آپ نے پوچھا

ادارہ

کیا حضرت عمرؓ نے احادیث بیان کرنے سے منع فرمایا تھا؟

سوال: منکرینِ حدیث کا کہنا ہے کہ حضرت عمرؓ نے اپنے دورِ خلافت میں احادیث کی روایت سے منع فرمایا تھا، اس کی کیا حقیقت ہے؟ (عبد الکریم، کوئٹہ)
جواب: یہ بات درست نہیں ہے اور جو روایات ایسی منقول ہیں ان کا مطلب ہرگز وہ نہیں ہے جو منکرینِ حدیث بیان کرتے ہیں، بلکہ اصل روایات کو ملاحظہ کیا جائے تو مطلقاً منع کرنے کا حکم ہمیں نہیں ملتا بلکہ اس میں روایات کو بکثرت بیان کرنے سے روکا گیا ہے۔ چنانچہ عراق کی طرف روانہ کردہ وفد کو حضرت عمرؓ نے حکم دیا کہ
’’فلا تصدوھم بالاحادیث فتشغلوھم جودوا القراٰن واقلوا الروایۃ عن رسول اللہ‘‘ (تذکرۃ الحفاظ للامام ذہبیؒ ج ۱ ص ۴)
ترجمہ: ’’انہیں (اہل عراق کو) احادیث کے ذریعے (قرآن سے) نہ روک دینا کہ تم انہیں (احادیث کے ساتھ ہی) مشغول کر دو۔ قرآن کو اچھا کر کے (پڑھو) اور (احادیث) بیان کرنا کم کر دو۔‘‘
اس کی وجہ حافظ ذہبیؒ یہ بیان کرتے ہیں کہ
وقد کان عمر من وجلہ ان یخطیٔ الصاحب علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یامرھم ان یقلوا الروایۃ عن نبیھم ولئلا یتشاغل الناس بالاحادیث عن حفظ القراٰن۔
ترجمہ: ’’عمرؓ نے اس خوف سے کہ رسول اللہ کی طرف بہتان منسوب ہو جائے گا، اصحابؓ کو حکم دیا کہ احادیث کی روایت کو کم کر دیں اور تاکہ لوگ قرآن کو چھوڑ کر احادیث کے ساتھ مشغول نہ ہو جائیں۔‘‘
علاوہ ازیں اگر حضرت عمرؓ کی مراد روایت حدیث سے مطلقاً منع کرنا ہوتی تو لازماً آپ خود بھی احادیث کی روایت نہ کرتے حالانکہ ایک قول کے مطابق حضرت عمرؓ سے ۵۳۷ احادیث مروی ہیں (تاریخ عمرؓ بن الخطاب للامام ابو الفرج جمال الدین ابن الجوزیؒ ص ۱۷۳)۔ پھر حضرت عمرؓ ایک عام راوی نہیں بلکہ پختہ کار محدث تھے۔ حافظ ذہبیؒ لکھتے ہیں:
وھو الذی من للمحدثین التثبت فی النقل۔ (تذکرہ ص ۶ ج ۱)
ترجمہ: ’’حضرت عمرؓ نے ہی محدثین کو نقلِ حدیث میں ثابت قدمی کی راہ بتلائی۔‘‘
حافظ ذہبیؒ نے چند واقعات نقل کیے ہیں جو منکرینِ حدیث کے دعوے کے ابطال پر حجتِ قاطعہ ہیں۔ یہاں پر ان میں سے ایک نقل کیا جاتا ہے: ابو موسٰی الاشعریؓ ایک دفعہ حضرت عمرؓ کے گھر آئے اور باہر کھڑے ہو کر تین دفعہ سلام کیا لیکن جواب نہ ملنے پر واپس ہو گئے۔ حضرت عمرؓ نے آدمی بھیج کر آپ کو بلوایا اور پوچھا کہ آپ واپس کیوں لوٹ گئے تھے؟ ابو موسٰیؓ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا اگر تین دفعہ سلام کرنے پر بھی جواب نہ ملے تو واپس لوٹ آیا کرو۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ ایک اور گواہ لاؤ ورنہ میں سزا دوں گا۔ تو ابو موسٰیؓ نے صحابہ میں سے ایک آدمی کو بطور گواہ کے پیش کر دیا یعنی حضرت عمرؓ نے ایک راوی کے ہوتے ہوئے (جو ثقہ بھی تھے) گواہ طلب کیا اور اس کے بعد انہیں اطمینان ہوا۔ الغرض منکرینِ حدیث کا مذکورہ دعوٰی بدلائل قاطعہ و براہین ساطعہ باطل ہے۔

امام ابن حجرؒ کون تھے؟

سوال: علمِ حدیث کے حوالہ سے ابن حجرؒ کا نام اکثر سننے اور پڑھنے میں آتا ہے۔ یہ بزرگ کون ہیں اور ان کا تعارف کیا ہے؟ (محمد احمد، گوجرانوالہ)
جواب: امام ابن حجرؒ کا نام احمد بن علی ہے اور آٹھویں، نویں صدی ہجری کے محدث ہیں۔ ۷۷۳ھ میں کنانۃ (عسقلان) کے مقام پر پیدا ہوئے پھر مصر چلے گئے۔ مسلکاً شافعی ہیں، تمام علوم و فنون خصوصاً‌ علمِ حدیث میں مہارتِ تامّہ رکھتے تھے۔
برع فی الحدیث و تقدم فی جمیع فنونہ (لحظ الالحاظ بذیل تذکرۃ الحفاظ ص ۳۸۱)
’’حدیث کے فن میں کامل اور دوسرے تمام فنون میں سب سے بڑھ کر تھے۔‘‘
وقد غلق بعدہ الباب و ختم بہ ھذا الشان (ص ۳۸۲)
’’آپ کے بعد اس پایہ کا کوئی محدث پیدا نہیں ہوا۔‘‘
ابن حجرؒ کی زیادہ تر تصنیفات علمِ حدیث اور اسماء الرجال پر ہیں۔ علمِ حدیث میں صحیح بخاری کی شرح ’’فتح الباری‘‘ ہر دور میں متداول اور متقدمین و متاخرین کا ماخذ رہی ہے۔ جبکہ علمِ رجال میں تہذیب التہذیب، تقریب التہذیب، لسان المیزان، الاصابۃ الدرر الکامنۃ اور دیگر کتب دوسری تمام کتبِ رجال سے بے نیاز کر دیتی ہیں۔ علاوہ ازیں تعلیقات و تخریجات سو (۱۰۰) سے بڑھ کر ہیں (ص ۳۸۱)۔ قریباً ایک ہزار مجالس میں املاء کروایا، متعدد مقامات پر تدریس کی اور بالآخر ذی الحجہ ۸۵۲ھ میں وفات پا گئے۔ ابن حجرؒ کے جنازہ کے موقع پر بارش ہو گئی تو کسی عقیدت مند نے کہا
قد کمبت السحب علی قاضی القضاۃ بالمطر
وانہدم الرکن الذی کان مشیدًا من حجر
’’قاضی القضاۃ کی وفات پر بادل بارش کے ساتھ روئے اور پتھر جیسا مضبوط عالم گر گیا۔‘‘

جاحظیہ کون تھے؟

سوال: جاحظیہ کون تھے اور ان کے عقائد کیا تھے؟ (محمد عبد اللہ، وہاڑی)
جواب: جاحظیہ، معتزلہ کی ایک شاخ ہیں۔ یہ لوگ عمرو بن بحرین الجاحظ کے پیروکار تھے جو معتصم باللہ اور متوکل علی اللہ عباسی خلفاء کے دور (دوسری صدی ہجری کے نصف اول) میں ایک بڑا عالم تھا۔ ان کے چند ایک عقائد کا یہاں تذکرہ کیا جاتا ہے جو جمہور معتزلہ سے جدا ہیں:
(۱) عقائد (علمِ الٰہی) بالکلیۃ ضروری ہیں اور ہر انسان ان کو طبعی طور پر جانتا ہے حتٰی کہ خدا اور نبی کا مفہوم بھی جانتا ہے۔
(۲) اہلِ جہنم کو جسمانی سزا نہیں ملے گی بلکہ آگ ان کو اپنے اندر جذب کر لے گی اور وہ آگ ہی بن جائیں گے۔
(۳) تمام صفاتِ باری تعالٰی (علم، حیات، ارادہ، قدرت، سمع، بصر وغیرہ) کے اصلاً منکر ہیں۔
(۴) خلقِ قرآن کے بارے میں اس حد تک معتقد تھے کہ ان کے نزدیک قرآن مرد اور عورت کی شکل بھی اختیار کر سکتا ہے۔
(الملل والنحل للامام الشہرستانیؒ ج ۱ ص ۹۱ ۔ ۹۴)

لفظ ’’فارقلیط‘‘ کیا ہے؟

سوال: فارقلیط کس زبان کا لفظ ہے اور اس کا معنی کیا ہے؟ (عبد الحفیظ، وزیر آباد)
جواب: فارقلیط یونانی لفظ ’’پیرکلوتوس‘‘ سے مقرب ہے اور اس کا معنی تعریف کیا ہوا یعنی ’’احمد‘‘ ہے۔ یہ لفظ انجیل یوحنا ۱۶ : ۷ ۔ ۱۵ میں بار بار استعمال ہوا ہے اور حضرت عیسٰیؑ نے آنحضرت کے بارے میں یہ لفظ استعمال کیا ہے۔ قرآن پاک میں بھی (الصف ۶) حضرت عیسٰی کی اس بشارت کو نقل کیا گیا ہے۔ عیسائی حضرات جہاں ان بشارات کے آنحضرتؐ پر اطلاق سے انکار کرتے ہیں اور ان کو روح القدس (اقنوم ثالث‘‘ کے لیے ماننے پر اصرار کرتے ہیں، اسی طرح اس لفظ کی تاویل میں کہتے ہیں کہ یہ یونانی زبان کے لفظ ’’پراکلی توس‘‘ سے مقرب ہے نہ کہ ’’پیرکلوتوس‘‘ سے اور ’’پراکلی توس‘‘ کا معنی ’’احمد‘‘ نہیں ہے۔ (فارقلیط از پادری وکلف اے سنگھ ص ۱۱ ۔ شائع کردہ مسیحی اشاعت خانہ لاہور)۔ تفصیلی بحث کے لیے دیکھئے ’’فارقلیط کون ہے؟‘‘ از مولانا بشیر الحسینی، شائع کردہ اسلامی کتب خانہ، علامہ بنوری ٹاؤن، کراچی نمبر ۵۔

تعارف و تبصرہ

ادارہ

’’روس کے ایک عظیم مجاہد امام شاملؒ‘‘

تصنیف: جناب محمد حامد
صفحات ۲۱۲ قیمت مجلد ۷۵ روپے۔ کتابت و طباعت معیاری
ملنے کا پتہ: الفلاح پبلشرز پوسٹ بکس ۳۱۲ ۔ ۲۱ فرسٹ فلور، مال پلازہ، دی مال، راولپنڈی صدر
ہماری روایتی کہانیوں میں ’’کوہ قاف‘‘ کا ذکر مہم جوئی اور تجسس خیزی کے محور کے طور پر کیا جاتا ہے اور بحیرۂ اسود اور بحیرۂ کیپسن کے درمیان شمال مغرب سے جنوب مشرق تک پھیلے ہوئے پہاڑوں کی یہ سرزمین جو قفقازاور کا کیشیا کے نام سے بھی متعارف ہے فی الواقع مہم جو اور باہمت لوگوں کا علاقہ ہے۔ روسی استعمار کی توسیع پسندی اور ہوسِ ملک گیری نے جب اپنے اردگرد کی اقوام پر جبرو تسلط کے پنجے گاڑے تو قفقازاور یا کوہ قاف کا یہ علاقہ بھی اس کی زد میں آیا اور اس خطہ کے غیور مسلمانوں نے ’’امام شامل‘‘ کی قیادت میں روسی توسیع پسندی کا آخر دم تک مقابلہ کر کے معرکہ ہائے حریت و استقلال کی عظیم تاریخ میں ایک روشن اور قابلِ تقلید باب کا اضافہ کیا۔
امام شاملؒ بنیادی طور پر نقشبندی سلسلہ کے ایک روحانی بزرگ تھے لیکن جیسا کہ تاریخ شاہد ہے کہ صوفیائے کرامؒ کی یہ خانقاہیں ہر دور میں دعوت و تبلیغ اور اصلاح و ارشاد کا مرکز ہونے کے ساتھ ساتھ دینی حمیت و غیرت کے سرچشمے اور حریت و جہاد کی تربیت گاہیں بھی رہی ہیں۔ امام شاملؒ نے اپنے علاقہ میں روسی افواج کے تسلط کے ساتھ ہی حریت و استقلال کا پرچم بلند کیا اور جہاد کے معرکے بپا کر کے ایک طویل عرصہ تک اس خطہ کو روسی استعمار کے مکمل قبضہ سے بچائے رکھا۔ گزشتہ صدی کے دوسرے ربع کے آغاز سے ساتویں عشرہ کے اختتام تک روسی افواج کے خلاف امام شاملؒ کی یہ گوریلا جنگ زارِ روس کی فوجوں کے لیے کس قدر تباہ کن ثابت ہوئی اس کا اندازہ ایک روسی جنرل ویلمینوف کے اس تبصرہ سے لگایا جا سکتا ہے کہ
’’ان مہمات میں روس کی فوجوں کا جو جانی نقصان ہوا اور جتنا عظیم لشکر ان کارروائیوں میں تہہ و بالا ہو کر رہ گیا اس کی مدد سے ہم جاپان سے لے کر ترکی تک علاقہ فتح کر سکتے تھے۔‘‘
اس امر کی ضرورت تھی کہ نئی نسل کو تاریخِ اسلام کے اس عظیم مجاہد کی جدوجہد اور قربانیوں سے متعارف کرایا جائے۔ جناب (ریٹائرڈ میجر) محمد حامد تبریک و شکریہ کے مستحق ہیں کہ انہوں نے زیرنظر کتاب کی صورت میں اس اہم ضرورت کو پورا کیا ہے۔ یہ کتاب جو امام شاملؒ اور ان کی جدوجہد کے بارے میں ایک مستند اور جامع تاریخ کی حیثیت رکھتی ہے، اردو کے علاوہ انگریزی، عربی اور سندھی زبانوں میں بھی چھپ چکی ہے۔ اور اس پر ریٹائرڈ میجر جنرل جناب فضل مقیم خان کے دیباچہ اور ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی کے پیش لفظ سے کتاب کی اہمیت دوچند ہو گئی ہے۔

’’سعدیات‘‘ ۔ مختصر انتخابِ کلامِ سعدیؒ

انتخاب و ترتیب: مولانا صوفی عبد الحمید سواتی
صفحات ۶۰ قیمت ۱۶ روپے۔ کتابت و طباعت عمدہ
ملنے کا پتہ: ادارہ نشر و اشاعت مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ
شیخ سعدیؒ کا شمار امتِ مسلمہ کے ممتاز مصلحین میں ہوتا ہے جن کے ادبی و اصلاحی جواہر پارے فارسی سے دوسری زبانوں میں ترجمہ ہو کر عالمی ادب کا حصہ بن چکے ہیں۔ بالخصوص گلستان، بوستان اور کریما ادب و اخلاق کے ایک لازوال سرچشمہ کی حیثیت سے آج بھی نسلِ انسانی کے ایک قابل ذکر حصہ کی تعلیم و اصلاح کا ذریعہ ہیں۔
حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی مدظلہ العالی نے گلستان، بوستان اور شیخ سعدیؒ کی دیگر تصنیفات میں سے ایک مختصر اور حسین انتخاب زیرنظر کتابچہ کی صورت میں پیش فرمایا ہے جو بلاشبہ اصحابِ ذوق کے لیے قابلِ قدر تحفہ ہے۔

ماہنامہ ’’راہ نمائے صحت‘‘ فیصل آباد ۔ خصوصی نمبر

مدیر اعلٰی: حکیم عبد الرحیم اشرف
صفحات ۲۲۶ قیمت ۲۰ روپے
زیراہتمام: اشرف لیبارٹریز (پرائیویٹ) لمیٹڈ ۔ ۶ کلومیٹر سرگودھا روڈ، فیصل آباد
مولانا حکیم عبد الرحیم اشرف ایک مخلص اور درد دل سے بہرہ ور دینی راہنما ہونے کے علاوہ ممتاز طبیب بھی ہیں اور طبی برادری میں انہیں ایک بزرگ راہنما کی حیثیت حاصل ہے۔ ان کی قائم کردہ اشرف لیبارٹریز ملک کے معروف دواساز اداروں میں شمار ہوتی ہے اور ماہنامہ راہ نمائے صحت فیصل آباد محترم حکیم صاحب موصوف کی زیرادارت طبِ اسلامی کی خدمت و ترجمانی کے مشن میں مصروف ہے۔
زیرنظر شمارہ ’’خصوصی نمبر‘‘ ہے جو ملک کے ممتاز اطباء حکیم عبد المالک مجاہدؒ، حکیم فضل الٰہیؒ اور حکیم مظفر احسنؒ کی خدمات اور طبی کارناموں کے تعارف و تذکرہ کے لیے شائع کیا گیا ہے اور اس میں ان تینوں بزرگوں کے بارے میں معلوماتی مضامین شامل ہیں۔
’’حی علی الفلاح‘‘
از: مولانا محمد فیاض خان سواتی
صفحات ۱۰۰ قیمت ۱۴ روپے۔ کتابت و طباعت معیاری
ملنے کا پتہ: ادارہ نشر و اشاعت مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ
حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی مہتمم مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ نے ’’نمازِ مسنون‘‘ کے نام سے مسائلِ نماز پر ایک ضخیم کتاب تصنیف فرمائی جس میں نماز سے متعلق کم و بیش تمام مسائل و احکام ترتیب کے ساتھ بیان کرنے کے علاوہ اختلافی امور پر احناف کے دلائل مثبت اور علمی انداز میں ذکر کر دیے۔ اس مثبت اور اصلاحی انداز کو ملک بھر میں سراہا گیا اور ’’نمازِ مسنون‘‘ کو علماء اور دیگر علیم یافتہ حلقوں میں پسند کیا گیا۔
گوجرانوالہ کے اہلِ حدیث عالم خواجہ محمد قاسم صاحب نے جو مناقشانہ مزاج اور مناظرانہ بحثوں میں خاصی شہرت رکھتے ہیں ’’حی علی الصلٰوۃ‘‘ کے نام سے ایک کتابچہ میں ’’نمازِ مسنون‘‘ کے مختلف دلائل کو رد کرنے کی کوشش کی جس پر حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی مدظلہ کے فرزند برادرم مولانا حافظ محمد فیاض خان سواتی مدرس مدرسہ نصرۃ العلوم نے زیرنظر رسالہ میں تعاقب کیا ہے اور دلائل کے ساتھ واضح کیا ہے کہ حضرت صوفی صاحب کے بیان کردہ دلائل درست ہیں اور خواجہ صاحب موصوف کے اعتراضات کی حیثیت کج بحثی کے سوا کچھ نہیں ہے۔

جریان، احتلام اور سرعتِ انزال کے اسباب اور علاج

حکیم محمد عمران مغل

حیوانات کی پیدائش کے ساتھ ہی قدرت نے بقائے نسل کے لیے توالد و تناسل کا سلسلہ قائم کیا ہے۔ اس میں ارزل ترین مخلوق سے اشرف المخلوق انسان تک سب مشترک ہیں۔ ہر جنس اپنی جسمانی ساخت، رسم و رواج، آب و ہوا، حالات، گرد و پیش کے تحت اس وظیفۂ حیات کو انجام دینے پر فطرتاً مجبور ہے۔ بعض ممالک میں جدید نسل کی رہنمائی کے لیے اسے تعلیم سے منسلک کیا گیا ہے لیکن ہمارے ہاں تمام جنسی کتب صرف ذہنی عیاشی تک ہی محدود ہیں ؎
اک وہ ہیں جنہیں تصویر بنا آتی ہے
ایک ہم ہیں کہ لیا اپنی بھی صورت کو بگاڑ
آج سے ایک دہائی پہلے لاہور سے جناب پروفیسر مظہر علی ادیب صاحب نے سکول کالج کی درسی کتب پر عالمانہ تنقید قوم کے سامنے پیش کی تھی۔ اندازہ لگایا گیا کہ بعض اسباق میں آدھے سے زیادہ مواد صرف عاشقی معشوقی پر تحریر کیا ہے جسے منسوخ کیا گیا۔ یعنی ہماری بے حسی کہ نئی پود کے ہاتھوں میں کیا مواد ہے ہمیں پتہ تک نہیں۔ نظامِ تعلیم کا یہ نتیجہ ہے کہ ایک عام معمولی نوجوان سے بھی پوچھیں تو وہ بی پی فلم کے متعلق اس تفصیل سے بتائے گا جیسے اس نے یہی کام کرنا ہے۔
قدرت نے ان مقاصد کے حصول کے لیے توالد و تناسل میں ایک لذت کی کیفیت پنہاں رکھی ہے تاکہ ہر ذی روح اور خصوصاً حیوان انسان برضا و رغبت متوجہ رہیں۔ اسی لذت کے متوالے زنا اور دیگر فواحشات کے دلادہ ہو کر اس کے عواقب و نتائج سے بالکل بے خبر اپنی زندگی کا چراغ وقت سے پہلے گل کر لیتے ہیں اور اکثریت غیر طبعی موت مرتی ہے۔ آسمانِ طب کے ماہتاب جناب جالینوس کا ارشاد ہے کہ انسان ایک چراغ ہے اور منی اس کا تیل ہے۔ جونہی یہ تیل ختم، زندگی کا کھیل بھی ختم۔ تیل کے اس چشمہ کو اپنے ہاتھوں خشک کرنے کے بعد انسان مصنوعی اشیاء اور وسائل کی جستجو میں لگ جاتا ہے مگر اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔ یہی وہ منحوس وقت ہوتا ہے جب میاں بیوی کی آپس میں توتکار ہوتی ہے جس کا بھیانک انجام اخبارات کے ذریعے خاندان میں جگ ہنسائی کا باعث بنتا ہے۔ اب بیوی مغلوب ہو گی نہ مرعوب ؎
صحت نہ ہو تو سیم و زر بیکار ہے
خوب رو بیوی پری پیکر بھی ہو تو خار ہے
آج کل جنسی حمام میں ہمارا معاشرہ اکثر ننگا نظر آتا ہے۔ ایک دفعہ ایک اخبار میں نوجوانوں نے خطوط لکھے کہ ہم جریان، احتلام کی بیماری میں اپنی زندگیاں تباہ کر رہے ہیں، ہماری مدد کریں۔ اس وقت ۹۸ فیصد نوجوان مبتلا تھے مگر آج ؎
شیاطیں نے چکر چلائے ہوئے ہیں
بڑے سے بڑے ورغلائے ہوئے ہیں
اللہ تعالیٰ نے جسمِ انسانی میں بہت سی قوتیں پیدا کر کے پھر ان کے لیے الگ الگ اعضا بھی پیدا کیے ہیں جن میں پوشیدہ اعظا انتہائی حساس ہیں۔ اگر یہ قوتیں ان اعضا سے مل کر اپنا اپنا فعل ادا کرتی رہیں تو انسان اپنی طبعی عمر سے لطف اندوز ہو سکتا ہے بشرطیکہ ان اعضا سے کوئی غیر فطری کام نہ لیا گیا ہو۔ اگر غیر فطری طریقہ سے ان میں کوئی نقص واقع ہو گیا تو پھر ارادے پست ہمت سست ہو کر نخلِ زندگی مرجھانے لگتا ہے۔ اور وہ قوت جو انسان کے مرنے کے بعد اس کا قائم مقام چھوڑنے کا باعث بنتی ہے جو انسان کو حیاتِ جاوید بخشتی ہے، اس کی زندگی کی یادگار قائم رکھتی ہے، اپنے ہاتھوں اس یادگار کے خوشنما پھولوں میں عاقبت نااندیشی کے کانٹے بو کر پھر نخلِ مردانگی کو قطع کرنے والے تبشوں یعنی جریان، احتلام وغیرہ سے تازیست خطرہ لگا رہتا ہے۔
اطباء متقدمین نے فرمایا ہے کہ ایک دفعہ کے انزال سے تین سے چھ ماشہ تک مادہ خارج ہوتا ہے۔ ہر وقت شہوت کے گھوڑے پر سوار رہنے والے سوچیں کہ کس قسم کی موت سے ان کا سامنا پڑے گا۔ آج کا لکھا پڑھا طبقہ درکنار ایک بالغ اَن پڑھ بھی ان اسباب سے خوب واقف ہے، اس لیے کہ جنسی بے راہ روی کے تمام لوازمات صرف چند پیسوں کے عوض پورے ملک میں دستیاب ہیں۔ طاؤس و رباب کی محفلوں کا سامان سب کے سامنے ہے، عیاں را چہ بیاں۔

جریان کے اسباب

آیوروید علماء نے اس کی بیس اقسام بیان فرمائی ہیں۔ پیشاب کرنے سے پہلے یا بعد میں منی کے قطرات خارج ہوتے ہیں۔
(۱) گرم اشیاء کا استعمال، منی کا پتلا ہونا، بلغمی رطوبت کی زیادتی، قوت ماسکہ اور قوت جاذبہ کا کمزور ہونا۔
(۲) دماغ، حرام مغز اور اعصاب میں فتور واقع ہو جائے تو بھی جریان وغیرہ کا عارضہ ہو گا جو بمشکل ٹھیک ہوا کرتا ہے۔
(۳) یہ اسباب خود تو جریان کا باعث نہیں بنتے لیکن جریان شروع ہونے کے بعد اس میں بہت ہی اضافہ کا باعث بنتے ہیں جیسے چائے قہوہ کی زیادتی کہ اس سے اعصاب اور گردے خشکی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ شراب نوشی، تمباکو نوشی، ان سے اعضا وقت سے پہلے اپنی افادیت کھو دیتے ہیں۔ کسی قسم کا بھی نشہ کرنے سے اعضا وقت سے پہلے کمزور ہو جاتے ہیں۔ اوندھے منہ سونا، مسلسل گندہ رہنا، دماغی محنت لگاتار ایک مدت تک کرنا، اور مقوی خوراک کا نہ ملنا، پیٹ میں کیڑوں کا ہونا، بدن کے فضلات کا اخراج نہ کرنا، ورزش یا سیر نہ کرنا۔

احتلام کے اسباب

عام آدمی کو ایک ماہ میں دو دفعہ احتلام ہو تو بالکل بجا ہے۔ اسی طرح بعض مزاجوں میں گرمی زیادہ ہوتی ہے اور وہ لوگ خوراک بھی نہایت قیمتی کھاتے ہیں، ایسے مزاجوں کو ہفتہ میں ایک دفعہ ہو جائے تو یہ کیفیت طبعی سی کہلائے گی۔ مگر متوسط طبقہ ایک ماہ میں دو دفعہ ہی شمار کرے۔ جریان کے تمام اسباب بھی احتلام کا باعث بنتے ہیں، البتہ بعض حالات میں معدہ اور دماغ اس کا خاص محور ہیں۔
دنیاوی زندگی میں جن خیالات اور حالات سے آپ کا واسطہ پڑتا ہے یا جو سوچ آپ رکھتے ہیں، نیند کی حالت میں بھی بالکل اسی طرح کے حالات سے دوچار ہوں گے۔ وجہ یہ ہے کہ نیند کی حالت میں دماغی قوتیں بالکل بیداری کی طرح کام کرتی رہتی ہیں۔ یہی قوت ہمیں خواب کے مزے سے آشنا کرتی ہے۔ یہ قوت عام حالات کو حسی جامہ پہنا کر حس مشترک کے سامنے پیش کرتی ہے اور بیداری میں شہوت کے دلدادہ نیند میں بھی شہوت سے ہمکنار ہو جاتے ہیں۔ اب قوتِ ممیزہ خواب کی حالت میں یہ فیصلہ نہیں کر پاتی کہ یہ صورت اصلی ہے یا نقلی، پس اس کے ساتھ ہی قوتِ شہوانی متحرک ہو کر انزال کا باعث بن جاتی ہے۔ عشقیہ ناول، غزلیں گانے، ماحول، عریاں تصاویر، مرد عورت کے ملاپ کا تصور ذہن میں رکھنا، آتشک یا سوزاک کی بیماری کا ہونا، یا مثانہ پیشاب سے پر ہونا اور سو جانا، اعضا تناسل کی کمزوری، نرم و نازک بستر کا استعمال، غدہ قدامیہ کی سوزش، رات کا کھانا دیر سے کھا کر فورًا سو جانا، اس کے اسباب ہوا کرتے ہیں۔

علاج اور پرہیز

تمام بادی اور میدہ کی اشیاء سے قطعاً پرہیز رکھیں۔ قبض کا خاص خیال رکھیں۔ رات کو پینے والی کوئی چیز نہ پیئں۔
(۱) کمرکس، اجوائن خراسانی، بیج بند۔ ایک ایک تولہ باریک کر کے ایک چنے کے برابر گولی یا سفوف صبح شام دودھ سے کھائیں۔
(۲) معجون آروخرما بازار سے خرید لیں۔ ایک تولہ میں ایک رتی کشتہ قلعی ملا کر چھ چھ ماشے صبح شام دودھ سے کھائیں۔
(۳) موچرس ایک تولہ، کشتہ صدف صادق چھ ماشہ۔ پہلے موچرس باریک کر کے بعد میں کشتہ ملا کر دو ماشہ سفوف صبح شام مکھن سے کھائیں۔
ان میں سے کوئی بھی نسخہ کھائیں ان شاء اللہ جریان، احتلام، سرعت انزال بالکل ختم ہو جاتے ہیں۔

طلا

تخم مولی ایک تولہ کو پانچ تولہ سرسوں کے تیل میں ۲۴ گھنٹہ کھرل کر کے رات کو خشفہ چھوڑ کر مل لیا کریں۔ صبح نیم گرم پانی سے دھو دیں۔ تمام نقائص ایک ماہ میں ختم۔

جہادِ افغانستان کے روس پر اثرات

ایک روسی صحافی کے تاثرات

ادارہ

قازقستان کے مفتی اعظم اور روسی پارلیمنٹ کے رکن مفتی محمد صادق یوسف کے ہمراہ پشاور کے دورے پر آئے ہوئے ممتاز روسی صحافی اور مسئلہ افغانستان پر ’’خفیہ جنگ‘‘ نامی کتاب کے مصنف مسٹر آر ٹی یون بورووک نے کہا ہے کہ افغانستان پر روسی حملہ وہاں کے دیہاتوں اور عوام پر نہیں بلکہ دراصل خود روسی نظریات و اقدار پر تھا، اس سے سوشلزم اور اسٹالن ازم ختم ہو گئے، لوگوں کا ان نظریات پر اب کوئی اعتماد نہیں رہا اور روسیوں نے تیس سال کے بعد دیکھا کہ انہوں نے جس ’’عورت‘‘ سے پہلے محبت کی تھی وہ فی الحقیقت کتنی بدصورت ہے اور اب ہماری یہ خوش فہمی باقی نہیں رہی کہ افغان جنگ ختم ہو گئی ہے کیونکہ یہ ختم ہونے کی بجائے دریائے آمو کو پار کر کے روس کے طول و عرض میں پھیل گئی ہے۔
پشاور سے واپسی پر روسی صحافی نے ’’جنگ‘‘ سے ایک طویل خصوصی انٹرویو میں افغانستان میں روسی مداخلت کے محرکات اور اس کے اثرات پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں روس کے کمیشن آف سنٹرل کمیٹی آف سپریم سوویت نے حسبِ روایت بعض ایسے افراد کو اس کارروائی کا ذمہ دار قرار دیا ہے جو اس دنیا میں نہیں ہیں، جن میں سابق سیکرٹری جنرل برزنیف، کے جی بی کے سابق سربراہ مسٹر آندروپوف، سابق وزیر دفاع مسٹر استی نوف، اور سابق وزیر خارجہ مسٹر گورمیکو شامل ہیں۔
مختلف سوالوں کے جواب دیتے ہوئے روسی صحافی نے کہا کہ مسٹر برزنیف انتہائی بوڑھے ہونے کے باعث اپنے طور پر یہ فیصلہ نہیں کر سکتے تھے اور غیر ملکی وفود سے چار پانچ منٹ سے زیادہ مسلسل مذاکرات نہیں کر سکتے تھے۔ انہیں صرف ماسکو کے گردونواح میں شکار کھیلنے سے دلچسپی تھی اور وہ اسی کو ترجیح دیتے تھے۔ افغانستان پر حملہ کرنے کے فیصلے کے ذمہ دار افراد افغانستان کے بارے میں خود کچھ نہیں جانتے تھے۔ ان کو اپنے نائبین نے گمراہ کیا، اس کے علاوہ دوسرے درجے سے کچھ اوپر کی افسر شاہی بھی اس کی ذمہ دار ہے۔
افغانستان پر حملے میں افغانستان کی پرچم پارٹی کے ببرک کارمل کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔ ببرک کارمل چیکوسلواکیہ میں سفیر تھا اور جیسا کہ اس نے مجھے بتایا کہ کارمل کو حفیظ اللہ امین کی جانب سے ہنگری میں اپنے قتل کیے جانے کا خدشہ تھا۔ اس نے سفارت چھوڑی اور ماسکو چلا گیا جہاں اس نے مسٹر برزنیف کو افغانستان میں فوجیں داخل کرنے پر قائل کیا۔
روسی صحافی مسٹر آر ٹی یون بورووک کے مطابق اس زمانے میں پرچم پارٹی کے بعض افراد نے مسٹر برزنیف سمیت بعض اہم روسی لیڈروں کو تحائف کی شکل میں بھاری رشوتیں دیں، جن میں برزنیف کے داماد اور سابق نائب وزیر داخلہ مسٹر چربانوف کا کیس خاصا مشہور ہوا جب اس کے ذاتی نوادرات میں سونے اور جواہرات کی اشیا ملیں۔ بعد ازاں افغانستان میں روسی مداخلت کے بعد پرچم پارٹی کے یہی افراد برسر اقتدار آئے، لیکن دنیا نے دیکھا کہ بعد میں ترہ کئی کو قتل کرا دیا جس نے برزنیف کو بالکل پاگل کر دیا اور اس موقع پر بعض عینی شاہدوں کے مطابق مسٹر برزنیف نے انتہائی غصے کے عالم میں کہا کہ ہمیں اس کتے کے بچے کو سبق سکھانا چاہیئے۔
افغانستان پر روسی حملے کے محرکات پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے روسی صحافی نے مزید بتایا کہ ۱۹۷۸ء سے قبل امریکی بہت ہی دلچسپ طریقے سے ماسکو کو یہ سمجھانے کی کوشش کر رہے تھے کہ افغانستان میں اسلامی بنیاد پرستوں کا قبضہ ہے اور اگر یہ لوگ وہاں برسر اقتدار آ گئے تو اس کے اثرات روس اور افغانستان کی سرحد پر واقع دریائے آمو نہیں روک سکے گا۔ اس طرح اسلامی بنیاد پرستی کے اثرات روسی علاقے وسط ایشیا کی معمان ریاستوں تک جا پہنچیں گے۔ روسی صحافی کے مطابق افغانستان میں فوجی مداخلت کا فیصلہ ۱۳ دسمبر ۱۹۷۹ء میں پولٹ بیورو کے ایک اجلاس میں کیا گیا تھا۔
روسی صحافی نے افغان جنگ کے اثرات کے بارے میں سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ یہ جنگ نہ صرف افغانیوں بلکہ روسیوں کے لیے بھی انتہائی خونریز اور نقصان دہ رہی اور گزشتہ دہائی کے آخری سالوں تک ہم اس غلط فہمی میں مبتلا رہے کہ ہمارا معاشرہ دنیا کا  بہترین معاشرہ ہے اور سوشلزم جادوئی چھڑی ہے جو مسائل کو چٹکی بجا کر حل کر دے گی۔ لیکن افغانستان میں ہم نے ۱۹۱۷ء کے اس نظام کے پرخچے دیکھے مگر سخت سنسرشپ کے باعث ہم اپنے محسوسات نہیں لکھ سکتے تھے۔ مسٹر گورباچوف کا ’’پریسٹرائیکا‘‘ اس جنگ ہی کی وجہ سے ۱۹۸۵ء میں جنگ کے دوران ہی شروع ہوا۔ ہم افغانستان میں جن قدروں کے ساتھ گئے تھے انہیں ساتھ لے کر واپس نہیں آئے۔ لوگ سوشلزم سے عاجز آ گئے ہیں، اب اس پر یقین نہیں کرتے اور اس نظام کے فیل ہو جانے کے بعد ایک خلا ہے جس میں روس کھو گیا ہے اور نہیں جانتا کہ کس سمت میں حرکت کرے۔
روسی صحافی نے کہا کہ روس میں اب نئی نسل کو جلد از جلد اقتدار میں آجانا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ روس اور دوسرے سوشلسٹ ممالک میں ایسے لوگ موجود ہیں جو مسٹر گورباچوف کے کام کے سلسلے میں مزید تیز رفتار پیش قدمی کرنا چاہتے ہیں تاہم مسٹر گورباچوف اب بھی روسیوں کی واحد امید ہے۔ ایک سوال کے جواب میں روسی صحافی نے بتایا کہ افغانستان میں تعینات روس کی آدھی سے زائد فوج حشیش کی عادی ہو چکی ہے جو ہمارے لیے ایک المیہ ہے۔
(روزنامہ جنگ لاہور ۔ ۲۹ جولائی ۱۹۹۰ء)


عیاشانہ زندگی کے خطرناک نتائج

حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ

بادشاہوں اور امیروں کی اس طرح عیاشانہ زندگی بسر کرنے سے بہت سے خطرناک امراض پیدا ہو گئے جو حیاتِ معاشری کے ہر شعبے میں داخل ہو گئے، اور یہ حالت ایسی ہمہ گیر ہو گئی کہ وبا کی طرح ساری مملکت میں سرایت کر گئی، اور اس سے نہ بازاری بچا اور نہ دیہاتی، نہ امیر محفوظ رہا نہ غریب، یہاں تک کہ ہر شخص اس کی خرابیاں دیکھ کر مگر علاج نہ پا کر عاجز آ گیا اور بے حد و نہایت مالی مصائب میں مبتلا ہوگیا۔
اس ہمہ گیر مالی مصیبت کا سبب یہ تھا کہ یہ سامانِ عیش کثیر دولت صرف کیے بغیر حاصل نہ ہو سکتا تھا، اور مالِ خطیر تاجروں وغیرہ پر نئے ٹیکس لگانے اور پہلے کے لگے ہوئے ٹیکس بڑھانے کے سوا حاصل نہ ہو سکتا تھا۔ پھر ان لوگوں کو طرح طرح سے تنگ کر کے ٹیکس وصول کیے جاتے تھے اور اگر ٹیکس دینے سے انکار کرتے تو ان کے خلاف فوجی کارروائی کی جاتی اور انہیں گرفتار کر کے طرح طرح سے عذاب دیا جاتا تھا۔ اور اگر وہ اطاعت شعاری کے ساتھ ٹیکس ادا کرتے رہتے تو ان سے ٹیکس وصول کرتے کرتے ان کو گدھوں اور بیلوں کے درجے پر پہنچا دیا جاتا جن سے آب پاشی، فصل کاٹنے اور گاھنے کا کام لیا جاتا ہے۔ اور جن کو صرف اس لیے زندہ رکھا جاتا ہے کہ ان سے حاجت براری کی جاتی ہے۔
اس تنگ حالی اور بے سروسامانی کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یہ عوام ٹیکس ادا کرنے اور اپنا اور اپنے بال بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے کمانے کے سوا اور کوئی کام کر ہی نہیں سکتے۔ چہ جائیکہ سعادتِ اخروی کے متعلق کچھ سوچ سکیں اور رفتہ رفتہ ان میں اس طرح فکر کرنے اور سوچنے کا مادہ ہی فنا ہو جاتا ہے۔ اور کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک ملک میں ایک شخص بھی ایسا نہیں رہتا کہ وہ مادی اسباب کے حصول سے اوپر نظر اٹھا کر غیر مادی کائنات کے اصولِ حیات کے مطابق بھی کوئی حرکت کر سکے۔
(حجۃ اللہ البالغۃ)

سوسائٹی کی تشکیلِ نو کی ضرورت

حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ

شاہ ولی اللہؒ ایک ایسے خاندان میں پیدا ہوئے جو گو خود بڑا صاحبِ مال و جائیداد نہ تھا لیکن شاہی اور جاگیردارانہ نظام کے بچے کھچے حصے کا وارث وہ ضرور تھا، اس لیے قدرتاً شاہ صاحب کے ہاں میانہ روی اور اعتدال ہے۔ آج میں اپنے نوجوانوں کو انقلاب کے اس درجے پر لانا چاہتا ہوں، موجودہ حالات میں جن سے آج ہم دو چار ہیں، انتہاپسندی بڑی خطرناک ہے اور پھر یہ مصلحتِ زمانہ کے بھی خلاف ہے، ہاں اگر کوئی اس سے آگے جانا چاہتا ہے تو میرا یقین ہے کہ قرآن اس کو اس منزل تک بھی لے جا سکتا ہے۔ میرے نزدیک آج اشتراکیت، جو اعلٰی فکر دینے کا دعوٰی کرتی ہے، قرآن کا فکر اس سے بھی بلند ہے، اس لیے قرآن آج بھی ترقی پسند انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہو سکتا ہے۔
شاہ ولی اللہؒ سلطنت کے امراء و اکابر کے ذریعے انقلاب لانا چاہتے تھے، اس میں وہ ناکام رہے لیکن ان کا انقلابی فکر ایک جماعت میں راسخ ہو گیا۔ ان کے بعد ان کے صاحبزادے شاہ عبد العزیزؒ نے قوم کے متوسط طبقے کو اپنا مخاطب بنایا اور ان کی تربیت کر کے مسلمانوں کی سلطنت کی گرتی ہوئی عمارت کو تھامنے کی کوشش کی، بالاکوٹ میں ان کی کوششوں کا جو انجام ہوا وہ سامنے ہے۔ اس کے بعد دہلی اور صادق پور (پٹنہ) سے دو تحریکیں شروع ہوئیں اور دونوں ناکام ہوئیں۔
اب وہ سوسائٹی جسے شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ تعالیٰ اور ان کے سلسلے کے بزرگ اصلاحی تدبیروں سے بچانا چاہتے تھے بالکل ٹوٹ چکی ہے۔ اب ضرورت ہے بالکل نئی سوسائٹی کی اور اس کی تشکیل میں میرے نزدیک ہمیں شاہ صاحب کے پیش کردہ عمومی اصولوں سے مدد مل سکتی ہے، ہمارے مخاطب اب عوام اور نچلے متوسط طبقے ہونے چاہئیں۔
(ملفوظات و طیبات مولانا سندھیؒ ۔ ص ۲۳۶)