مسلم سربراہ کانفرنس ۔ وقت کا اہم تقاضہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
گزشتہ ہفتے سعودی مملکت کے فرمانروا شاہ فہد کے ساتھ حکومت پاکستان کے ایک وفد کی ملاقات کے حوالے سے یہ خبر اخبارات میں شائع ہوئی ہے کہ شاہ فہد مسئلہ کشمیر پر اسلامی سربراہ کانفرنس بلانے والے ہیں۔ معلوم نہیں اس خبر کی حقیقت کیا ہے لیکن جہاں تک اسلامی سربراہی کانفرنس کا اجلاس طلب کرنے کی ضرورت ہے اس سے انکار یا صرفِ نظر کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔
کشمیری حریت پسند جس جرأت و استقلال کے ساتھ حصولِ آزادی کے لیے اپنے خون کی قربانی دے رہے ہیں اور افغان مجاہدین کے گیارہ سالہ کامیاب جہادِ آزادی کو آخری مراحل میں جس طرح سازشوں کے ذریعے ناکامی میں بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے اس کا تقاضا ہے کہ مسلم سربراہ سر جوڑ کر بیٹھیں اور افغانستان و کشمیر کے ساتھ ساتھ فلسطین، آذربائیجان، مورو، ایریٹیریا، اراکان (برما) اور وسطی ایشیا کی مسلم ریاستوں میں ابھرنے والی آزادی کی تحریکات کے حوالہ سے اپنے اجتماعی کردار کا تعین کریں۔
یہ درست ہے کہ مسلم ممالک کے بیشتر موجودہ حکمرانوں کے شخصی اور گروہی مفادات استعماری قوتوں کے ساتھ وابستہ ہیں اور وہ اس وقت اس دوراہے پر کھڑے ہیں کہ عالم اسلام میں آزادی، غلبۂ اسلام اور دینی بیداری کے بڑھتے ہوئے رجحانات کا ساتھ دیں یا مسلم ممالک کے موجودہ فرسودہ انتظامی، سیاسی اور اقتصادی ڈھانچوں کے تحفظ کی ناکام تگ و دو میں لگے رہیں۔ لیکن مسلم حکمرانوں کو ایک بات نوٹ کر لینی چاہیے کہ عالم اسلام اب خواب غفلت سے بیدار ہو رہا ہے اور اگر ان حکمرانوں نے بیداری اور آزادی کی ان لہروں کے مخالف سمت چلنے کی کوشش کی تو تاریخ میں ان کا یہ جرم کبھی معاف نہیں ہوگا۔
اس پس منظر میں اسلامی سربراہ کانفرنس کے پلیٹ فارم پر جمع ہو کر مسلم حکمران اگر اپنے مثبت اور مؤثر کردار کا تعین کرتے ہیں تو نہ صرف افغانستان، کشمیر، فلسطین اور دیگر خطوں کے مظلوم مسلمان ان کے شکر گزار ہوں گے بلکہ انہیں اپنی گزشتہ غلطیوں اور کوتاہیوں کی تلافی کا راستہ بھی مل جائے گا۔
مسلم اجتماعیت کے ناگزیر تقاضے
مولانا ابوالکلام آزاد
جناب ابو سلمان شاہجہانپوری کی تصنیف ’’تحریک نظم جماعت‘‘ سے ایک انتخاب۔
ترتیب و انتخاب: مولانا سراج نعمانی، نوشہرہ صدر
۱۹۱۶ء کے لیل و نہار قریب الاختتام تھے جب اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے یہ حقیقت اس عاجز پر منکشف کی اور مجھے یقین ہو گیا کہ جب تک یہ عقدہ حل نہ ہو گا ہماری کوئی سعی و جستجو کامیاب نہ ہو گی۔ چنانچہ اسی وقت سے سرگرم سعی و تدبیر ہو گیا (ص ۳۱)۔
۱۹۱۶ء کی بات ہے کہ مجھے خیال ہوا کہ ہندوستان کے علماء و مشائخ کو عزائم و مقاصدِ وقت پر توجہ دلاؤں، ممکن ہے چند اصحابِ رشد و عمل نکل آئیں۔ چنانچہ میں نے اس کی کوشش کی لیکن ایک شخصیت کو مستثنٰی کر دینے کے بعد سب کا متفقہ جواب یہی تھا کہ یہ دعوت ایک فتنہ ہے ’’اِئْذَنْ لِّیْ وَلَا تَفْتِنِّیْ‘‘۔ یہ مستثنٰی شخصیت مولانا محمود الحسن دیوبندیؒ کی تھی جو اَب رحمتِ الٰہی کے جوار میں پہنچ چکی ہے (ص ۵۴)۔
۱۹۱۴ء میں جب میں نے ہندوستان کے بعض اکابر علماء و مشائخ کو عزم و سعی کی دعوت دی، بعض سے خود ملا اور بعض کے پاس مولوی عبید اللہ سندھیؒ کو بھیجا تو اکثر نے بعینہٖ یہی بات کی تھی جو آپ (مولانا محی الدین قصوری) کہہ رہے ہیں کہ علماء و مشائخ کی اتنی بڑی تعداد ملک میں موجود ہے کسی نے بھی آج تک یہ دعوت نہیں دی، اب سواد اعظم کے خلاف یہ قدم کیوں اٹھایا جا رہا ہے؟ (ص ۵۴)
پروگرام
۱۹۱۴ء سے ۱۹۱۸ء تک کے حوادثِ عالم کا سیلاب اگرچہ نہایت مہیب اور بہت مشکل تھا کہ ارادے اور فیصلے کی دیواریں اس کے مقابلے میں قائم رہ سکیں، عنایت الٰہی کی دستگیری سے میں نے اپنے ارادے اور عزم کو اس وقت بھی پوری طرح قائم و استوار پایا اور ایک لمحے کے لیے بھی میرے دل پر مایوسی کو قبضہ نہ ملا۔ واقعات کی خطرناکی اور ناکامی میرے دل و جگر کو چیرا دے سکتی تھی اور حوادث کی غم گینی اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر سکتی تھی لیکن وہ اس یقین و عزم کو نہیں نکال سکتی تھی جو اس کے ریشے ریشے میں بسا ہوا ہے اور صرف اسی وقت نکل سکتا ہے جب دل بھی سینے سے نکل جائے۔ وہ زمین کی پیداوار نہیں کہ زمین کی کوئی طاقت اسے پامال کر سکے، وہ آسمان کی روح ہے ’’تَتَنَزَّلُ عَلَیْھِمُ الْمَلَائِکَۃُ اَن لَّا تَخَافُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا‘‘ آسمان کی بلندیوں سے اتری ہے۔ پس نہ تو زمین کی امیدیں اسے پیدا کر سکتی ہیں اور نہ زمین کی مایوسیاں اسے ہلاک کر سکتی ہیں۔
۱۹۱۸ء کے اواخر میں میں رانچی کے ایک گوشۂ عزلت میں بیٹھا ہوا ایک نئی امید کی تعمیر کا سروسامان دیکھ رہا تھا اور گویا دنیا نے ایک دروازے کے بند ہونے کی صدائیں سنی تھیں مگر میرے کان ایک نئے دروازے کے کھلنے پر لگے ہوئے تھے ؎
تفاوت است میان شنیدن من و تو
تو بستن در، و من فتح باب می شنوم
۱۹۱۸ء کے رمضان المبارک کا پہلا ہفتہ اور اس کی بیدار و معمور راتیں تھیں کہ جب میں نے ان ہی ہاتھوں سے امیدوں اور آرزوؤں کے نئے نقشوں پر لکیریں کھینچیں (ص ۶۰)۔
یکم جنوری ۱۹۲۰ء کو جب مجھے چار سال کی نظربندی سے رہا کیا گیا تو میں اپنی آئندہ زندگی، زندگی کے کاموں اور طریق و اسلوب کی نسبت خالی الذہن نہ تھا اور نہ اپنے ارادے کے بہنے کے لیے کسی سیلاب کا منتظر تھا۔ میں نے ہمیشہ بہنے کی جگہ چلنے کی کوشش کی ہے ۔۔۔ میں نے فیصلہ کر لیا کہ آئندہ مجھے کیا کرنا چاہیئے اور میری مشغولیت کا عنوان و طریق کیا ہو گا (ص ۵۷)۔
نقشۂ کار
(۱) رفقاء و طالبین کی ایک جماعت کی تعلیم و تربیت
(۲) تصنیف و تالیف
(۳) جماعتی اعمال یعنی تنظیم جماعت
چنانچہ جنوری ۱۹۲۰ء میں جب میں نظربندی کے گوشۂ قید و بند سے نکلا تو دو سال پیشتر کا یہ نقشۂ عمل میرے سامنے تھا اور اس لیے نہ تو مجھے واقعات کی رفتار کا انتظار تھا نہ مزید غوروفکر کا، بلکہ صرف شغل عمل ہی شروع کر دینا تھا۔ میں نے آئندہ کے لیے جن امور کا ارادہ کیا تھا ان میں ایک بات یہ بھی تھی کہ رانچی سے نکلتے ہی کسی عزلت میں رفقاء و طالبین کی ایک جماعت لے کر بیٹھ رہوں گا اور اپنی زبان و قلم کی خدمات میں مشغول ہو جاؤں گا۔ تصنیف و تالیف کے علاوہ جو جماعتی اعمال پیشِ نظر تھے ان کے لیے بھی سیر و گردش اور نقل و حرکت کی ضرورت نہ تھی، قیام و استقرار ہی مطلوب تھا۔ چنانچہ اس بناء پر رہائی کے بعد سیدھا کلکتہ کا قصد کیا۔ اگرچہ تمام ملک سے پیغام ہائے طلب و دعوت آ رہے تھے اور ہر طرف نظربندوں کی رہائی پر ہنگامہ تہنیت و تبریک گرم تھا لیکن میں کہیں نہ جا سکا اور سب سے عذر خواہ ہوا (ص ۶۱)۔
مولانا آزاد کی دعوتِ اتحاد و تنظیم پر طبقاتی ردِعمل
جدید تعلیم یافتہ طبقے کا ردعمل
مولانا سید سلیمان ندوی مرحوم نے جمعیۃ علماء ہند کے اجلاس کلکتہ میں یہ خدشہ ظاہر فرمایا تھا کہ
’’تعلیم یافتہ حضرات کو شبہ ہے کہ علماء اس پردے میں اپنی کھوئی ہوئی وجاہت کو دوبارہ قائم کرنا چاہتے ہیں۔‘‘
ایک اور مقام پر لکھتے ہیں:
’’۱۹۸۰ء میں معارف میں اس تحریک کو اٹھایا گیا اور اصلاحات کے سلسلہ میں اس کو پیش کیا گیا۔ پھر ۱۹۲۰ء میں یورپ سے واپسی کے بعد چاہا کہ اس کو تمام ہندوستان کا مسئلہ بنا دیا جائے مگر اس عہد کی جدید تعلیم کے علمبرداروں نے اس کو کسی طرح نہ چلنے دیا۔‘‘ (ص ۱۰۳)
پیروں کا کردار
مولانا آزاد کے خلیفہ اور سندھ میں اجتماعیت کے داعی شاہ سائیں مرحوم نے سندھ کی حد تک سندھ پیروں اور مشائخ کو متحد اور متفق کرنے کے لیے اَن تھک کوشش کی جسے علی محمد راشدی کے الفاظ میں پڑھیئے:
’’شاہ سائیں کا خیال تھا کہ ان سادہ لوحوں (پیروں) کو انگریز مداری کے بندر کی طرح نچائے گا۔ انہیں عوامی مصلحت اور مقاصد کے خلاف استعمال کرے گا۔ پھر جب یہ سوا اور بدنام ہو جائیں گے تو ہاتھ کھینچ لے گا۔۔۔ وہ چاہتے تھے کہ پیروں کو سرکار اور عام لیڈروں کے چکروں سے نکال کر عوام کے قریب رکھا جائے اور آزادی کی جدوجہد اور عوامی زندگی میں ان سے کام لیا جائے۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ پیر سرکاری دلّال بن کر عوام سے دور، سیاسی بصیرت سے بے بہرہ، خدمت قومی سے معطل، اور مریدوں کی صرف نذر کو اپنی زندگی کا مقصد سمجھ لیں ۔۔۔ اپنی تحریک کی ناکامی پر افسوس کرتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ اس فرقے کو تو بھیک کی عادت پڑ گئی ہے اور سچے پیر انتقال کر گئے۔ ان کی جگہ گداگر بیٹھتے جا رہے ہیں۔ گداگروں کا کیا اخلاق ہوتا ہے، کسی دن بڑوں کی قبریں بھی بیچ دیں گے۔‘‘ (ص ۱۷۱)
علماء سو کا اعتراف
مولانا آزاد مرحوم اپنی تحریک کی ناکامی کا ذمہ دار علماء سو کے جمود اور وقت کی عدم مساعدت کو قرار دیتے ہیں۔ ایک خط میں لکھتے ہیں:
میں اپنے پندرہ سال کے طلب و عشق کے بعد وقت کی عدم مساعدت و استعداد کا اعتراف کرتا ہوں ۔۔۔ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ موجودہ طبقہ علماء سے میں قطعاً مایوس ہوں اور اس کو قوانین اجتماع کے بالکل خلاف سمجھتا ہوں کہ ان کے جمود میں کسی طرح کا تقلب و تحول پیدا ہو۔ (ص ۱۰۱)
مولانا آزاد مرحوم کی نظر میں قائد و امام کی خصوصیات
ایک صاحبِ نظر و اجتہاد دماغ کی ضرورت ہے جس کا قلب کتاب و سنت کے غوامض سے معمور ہو۔ وہ اصولِ شرعیہ کو مسلمانانِ ہند کی موجودہ حالت پر ان کے توطنِ ہند کی حدیث العہد نوعیت پر، ایک ایک لمحے کے اندر متغیر ہو جانے والے حوادثِ جنگ و صلح پر ٹھیک ٹھیک منطبق کر لے، اور پھر تمام مصالح و مقاصدِ شرعیہ و ملیہ کے تحفظ و توازن کے بعد فتوٰی جاری کرتا رہے۔ آج ایک ایسے عازم امر کی ضرورت ہے جو وقت اور وقت کے سروسامان کو نہ دیکھے بلکہ وقت اپنے سارے سامانوں سمیت اس کی راہ تک رہا ہو۔ مشکلیں اس کی راہ میں گردوغبار و خاکستر بن کر اڑ جائیں اور دشواریاں اس کے جولانِ قدم کے نیچے خس و خاشاک بن کر پس جائیں۔ وہ وقت کا مخلوق نہ ہو کہ وقت کے حاکموں کی چاکری کرے، وہ وقت کا خالق و مالک ہو اور زمانہ اس کی جنبشِ لب پر حرکت کرے۔ اگر انسان اس کی طرف سے منہ موڑ لیں تو وہ خدا کے فرشتوں کو بلا لے۔ اگر دنیا اس کا ساتھ نہ دے تو وہ آسمان کو اپنی رفاقت کے لیے نیچے اتار لے۔ اس کا علم مشکوٰۃ نبوت سے ماخوذ ہو۔ اس کا قدم منہاجِ نبوت پر استوار ہو۔ اس کے قلب پر اللہ تعالیٰ حکمتِ رسالت کے تمام اسرار و غوامض اور معالجہ اقوام و طبابت، عہد و ایام کے تمام سرائر و خفایا اس طرح کھول دے کہ وہ صرف ایک صحیفہ کتاب و سنت اپنے ہاتھ میں لے کر دنیا کی ساری مشکلوں کے مقابلے اور ارواح و قلوب کی ساری بیماریوں کی شفاء کا اعلان کر دے ’’وَمَا ذٰلِکَ عَلَی اللہِ بِعَزِیْز‘‘ (ص ۳۴)۔
موجودہ وقت کسی ایسے مردِ راہ کا طالب ہے جو صاحبِ عزم و امر ہو اور اس لیے نہ ہو کہ دوسروں کی چوکھٹ پر ہدایت و راہنمائی کے لیے سر جھکائے بلکہ دوسرے اس لیے ہوں تاکہ راہنمائی کے لیے اس کا منہ تکیں اور جب وہ قدم اٹھائے تو اس کے نقشِ قدم کو دلیلِ راہ بنائیں ۔۔۔ وہ اپنے اندر مصباح ہدایت کی روشنی رکھتا ہو جو باہر کی تمام روشنیوں سے بے پروا کر دے (ص ۲۹۷)۔ یہ کام صرف ایک صاحبِ نظر و اجتہاد کا ہے جس کو قوم نے بالاتفاق تسلیم کر لیا ہو۔ وہ وقت اور حالت پر اصولِ شریعت کو منطبق کرے گا۔ ایک ایک جزئیہ حوادث و واقعات پر پوری کاروانی اور نکتہ شناسی کے ساتھ نظر ڈالے گا۔ امت و شرع کے اصولی مصالح و فوائد اس کے سامنے ہوں گے۔ کسی ایک گوشے ہی میں ایسا مستغرق نہ ہو جائے کہ باقی تمام گوشوں سے بے پروا ہو جائے۔
؏ حَفِظْتَ شَیْئًا وَ غَابَتْ عَنْکَ اَشْیَآء
سب سے بڑھ کر یہ کہ اعمال مہمہ امت کی راہ میں منہاجِ نبوت پر اس کا قدم استوار ہو گا اور ان ساری باتوں کے بعد علم و بصیرت کے ساتھ ہر وقت، ہر تغیر، ہر حالت کے لیے احکامِ شرعیہ کا استنباط کرے گا (ص ۳۶)
کاش مجھ میں ایسی قوت ہوتی یا وہ شے موجود ہوتی جس کی مدد سے میں تمہارے مقفل قلوب کے پٹ کھول سکتا تاکہ میری آواز تمہارے کانوں میں نہیں بلکہ تمہارے دل میں سما سکتی اور تم اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھ سکتے (ص ۹۵)۔
جماعتی زندگی کی خصوصیات
کتاب و سنت نے جماعتی زندگی کے تین رکن بتائے ہیں:
(ا) تمام لوگ کسی صاحبِ علم و عمل پر جمع ہو جائیں اور وہ ان کا امام ہو۔
(ب) جو کچھ وہ تعلیم دے ایمان و صداقت کے ساتھ قبول کریں۔
(ج) قرآن و سنت کے ماتحت اس کے جو احکام ہوں ان کی بلا چون و چرا تعمیل و اطاعت کریں۔ سب کی زبانیں گونگی ہوں، صرف اسی کی زبان گویا ہو۔ سب کے دماغ بیکار ہو جائیں، صرف اسی کا دماغ کارفرما ہو۔ لوگوں کے پاس نہ زبان ہو نہ دماغ، صرف دل ہو جو قبول کرے، صرف ہاتھ پاؤں ہوں جو عمل کریں (ص ۳۰)۔
اجتماعیت کے قیام کے لیے شیخ الہند سے رابطہ
شیخ الہندؒ سے ملاقات
مولانا ابوالکلام فرماتے ہیں: حضرت مولانا محمود الحسنؒ سے میری ملاقات بھی دراصل اسی طلب و سعی کا نتیجہ تھی، انہوں نے پہلی ہی صحبت میں کامل اتفاق ظاہر فرمایا تھا اور یہ معاملہ بالکل صاف ہو گیا تھا کہ وہ اس منصب کو قبول کر لیں گے اور ہندوستان میں نظم جماعت کے قیام کا اندازہ کر لیا جائے گا۔ مگر افسوس ہے کہ بعض زود رائے اشخاص کے مشورے سے مولانا نے اچانک سفرِ حجاز کا ارادہ کر لیا اور میری کوئی منت سماجت بھی انہیں سفر سے باز نہ رکھ سکی (ص ۳۲)۔
شیخ الہندؒ کی تائید
مولانا عبد الرزاق ملیح آبادیؒ فرماتے ہیں:
’’میں نے شیخ الہندؒ سے (فرنگی محل لکھنؤ میں) تنہائی میں ملاقات کی۔ رسمی باتوں کے بعد ہندوستان میں مسلمانوں کی امامت کا تذکرہ چھیڑا۔ شیخ الہندؒ نے فرمایا، امامت کی ضرورت مسلّم ہے۔ عرض کیا، حضور سے زیادہ کون اس حقیقت کو جانتا ہے کہ اس منصب کے لیے وہی شخص موزوں ہو سکتا ہے جو زیادہ سے زیادہ ہوش مند، مدبر اور ڈپلومیٹ ہو، جس کی استقامت کو نہ تو کوئی تشویش متزلزل کر سکے نہ کوئی ترہیب۔۔۔ شیخ الہندؒ نے اتفاق ظاہر کیا تو عرض کیا کہ آپ کی رائے میں اس وقت امامت کا اہل کون ہے؟ یہ بھی اشارۃً کہہ دیا کہ بعض لوگ اس منصب کے لیے خود آپ کا نام لے رہے ہیں اور بحمد اللہ اہل بھی ہیں۔ شیخ بڑی معصومیت سے مسکرائے اور فرمایا، میں ایک لمحے کے لیے بھی تصور نہیں کر سکتا کہ مسلمانوں کا امام بنوں۔ عرض کیا کہ کچھ لوگ مولانا عبد الباری صاحب (فرنگی محلی) کا نام لے رہے ہیں۔ موصوف کا تقوٰی و استقامت مسلّم ہے مگر مزاج کی کیفیت سے آپ بھی واقف ہیں۔ شیخ نے سادگی سے جواب دیا، مولانا عبد الباری کے بہترین آدمی ہونے میں شبہ نہیں مگر منصب کی ذمہ داریاں کچھ اور ہی ہیں۔ عرض کیا، اور مولانا ابوالکلام آزاد کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ شیخ نے متانت سے فرمایا، میرا انتخاب بھی یہی ہے، اس وقت مولانا آزاد کے سوا کوئی شخص ’’امام الہند‘‘ نہیں ہو سکتا‘‘۔
مولانا مناظر احسن گیلانی لکھتے ہیں:
’’ایک دفعہ جیسا کہ میں نے سنا ہے لاہور میں دیوبند کی جماعت کے سربرآوردہ حضرات نے مولانا ابوالکلام آزاد کی بیعت کے ساتھ رضامندی کا اعلان کر دیا تھا۔ خیال آتا ہے کہ مولانا انور شاہ (کاشمیری)، مولانا شبیر احمد (عثمانی) اور مولانا حبیب الرحمٰن (دیوبندی) جیسی ممتاز ہستیوں کی طرف سے اس رضامندی کا اعلان کیا جا چکا تھا مگر اعلان سے آگے بات نہ بڑھی۔‘‘ (ص ۸۵)
شیخ الہند
مولانا مرحوم ہندوستان کے گذشتہ دور کے علماء کی آخری یادگار تھے، ان کی زندگی اس دور حرمان و فقدان میں علماء حق کے اوصاف و خصائل کا بہترین نمونہ تھی۔ ان کا آخری زمانہ جن اعمالِ حقہ میں بسر ہوا وہ علماء ہند کی تاریخ میں ہمیشہ یادگار رہیں گے۔ ستر برس کی عمر میں، جب ان کا قد ان کے دل کی طرح اللہ کے آگے جھک چکا تھا، عین جوارِ رحمت میں گرفتار کیا گیا اور کامل تین سال تک جزیرہ مالٹا میں نظربند رہے۔ یہ مصیبت انہیں صرف اس لیے برداشت کرنی پڑی کہ اسلام اور ملتِ اسلام کی تباہی و بربادی پر ان کا خدا پرست دل صبر نہ کر سکا اور انہوں نے اعدائے حق کی مرضات و ہوا کی تسلیم و اطاعت سے مردانہ وار انکار کر دیا۔ فی الحقیقت انہوں نے علماء حق و سلف کی سنت زندہ کر دی اور علماء ہند کے لیے اپنی سنت حسنہ یادگار چھوڑ گئے۔ وہ اگرچہ اب ہم میں موجود نہیں ہیں لیکن ان کی روحِ عمل موجود ہے اور اس کے لیے جسم کی طرح موت نہیں (۱۳۶)۔
شیخ الہندؒ کی فراست
جمعیۃ علماء ہند کا دوسرا سالانہ اجتماع ۱۹، ۲۰، ۲۱ نومبر ۱۹۲۰ء کو دہلی میں شیخ الہندؒ کی وفات سے ایک ہفتہ قبل ہوا تھا۔ صدارت شیخ الہندؒ کی تھی جبکہ ۵۰۰ سے زائد علماء نے اس میں شرکت کی تھی۔ اس اجتماع کا اہم مسئلہ امیر الہند کا انتخاب تھا۔ شیخ الہند اس انتخاب کے لیے ازحد بے چین تھے اور چاہتے تھے کہ یہ انتخاب اسی موقعہ پر کر لیا جائے۔ مولانا عبد الصمد رحمانی صاحب لکھتے ہیں کہ
’’وہ لوگ جو اس میں شریک تھے جانتے ہیں کہ اس وقت شیخ الہندؒ ایسے ناساز تھے کہ حیات کے بالکل آخری دور سے گزر رہے تھے، نقل و حرکت کی بالکل طاقت نہ تھی، لیکن اس کے باوجود ان کو اصرار تھا کہ اس نمائندہ اجتماع میں جبکہ تمام اسلامی ہند کے ذمہ دار اور اربابِ حل و عقد جمع ہیں، امیر الہند کا انتخاب کر لیا جائے اور میری چارپائی کو اٹھا کر جلسہ گاہ میں لے جایا جائے، پہلا شخص میں ہوں گا جو اس امیر کے ہاتھ پر بیعت کرے گا۔‘‘ (ص ۱۳۱)
امیر الہند کون؟
کتاب کے مرتب ابو سلمان شاہجہانپوری آغاز میں ہی جب شیخ الہندؒ کا ذکر مستقل باب میں کرتے ہیں تو اس سے پہلے ان کی یہ تحریر قاری کے سامنے آتی ہے، وہ لکھتے ہیں کہ
’’تحریک کے امیر کی حیثیت سے شیخ الہند کو پیش کیا گیا ہے۔ بلاشبہ تحریک کے داعی کی حیثیت اور تحریک کی بنیادی اور اہم شخصیت مولانا ابوالکلام آزاد کی تھی لیکن ہندوستان کی امارتِ شرعیہ کی ذمہ داری کے لیے مولانا آزاد کی نگاہِ انتخاب حضرت ہی پر پڑی تھی اور حضرت نے اسے قبول فرما لیا تھا، اس لیے امام الہند کی حیثیت میرے نزدیک شیخ الہند کی ہے۔ یہ دوسری بات ہے کہ بعد میں اپنی نازک صحت کی بنا پر اپنے تئیں حضرت نے اس ذمہ داری سے الگ کر لیا تھا اور مولانا آزاد پر اپنا اعتماد فرما دیا تھا۔‘‘ (ص ۱۰۸)
قرآنِ کریم میں تکرار و قصص کے اسباب و وجوہ
مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ
عرب کے لوگ اکثر مشرک و بت پرست تھے اور خداوند کی توحید اور انبیاء کی نبوت اور قیامت کے آنے کا بالکل انکار کرتے تھے اور ان میں سے بعض کچھ افراط و تفریط کرتے تھے، اس لیے قرآن کے اندر مذکورہ تینوں امور کا بکثرت ذکر آیا ہے نیز تکرار و قصص کے اور بھی کئی اسباب ہیں۔
سبب اول
یہ کہ قرآن مجید فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے بھی معجزہ ہے اس لیے ان میں ان قصص کو اللہ تعالیٰ نے بار بار ذکر کیا ہے، کہیں طویل اور کہیں مختصر، اور ہر جگہ ان کو بلاغت کے اعلیٰ درجہ پر رکھا اور پچھلی دفعہ سے زیادہ لطف مہیا کیا۔ یعنی اگر قرآن بشر کا کلام ہوتا تو اس بات سے عاری ہوتا (گویا یہ امر اعجازِ قرآن کی دلیل ہے)۔
سبب دوم
یہ کہ مخالفین کو صاف کہا گیا تھا کہ اگر تم کو کچھ شک ہو تو ایک ہی سورت کی مقدار ایسا کلام بنا کر دکھاؤ۔ تو احتمال تھا کہ وہ کہتے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو جو الفاظ آتے تھے ان کو اس نے استعمال کر لیا (یعنی اس کو اور الفاظ میں بیان کرنے سے قاصر ہے لہٰذا کلامِ الٰہی نہیں ہے)۔ یا یہ کہتے کہ ہر ادیب کا اندازِ بیاں جدا جدا ہوتا ہے، اگر ہم ایک کا انداز اپنا نہیں سکے تو کیا ہوا؟ (یعنی اس (محمدؐ) نے بھی ایک ہی طریقہ اپنایا ہے جو دوسرے ادیبوں سے جدا ہے، تو اگر ہم ایک ہی طریقہ نہ اپنا سکے تو کیا قیامت آن پڑی۔ لیکن قرآن کریم میں قصص کو مختلف اندازوں میں بیان کرنے سے رفع ہو گیا۔ یا یہ کہتے یہ قصہ ہے اور قصص میں بلاغت کا دائرہ تنگ ہوتا ہے اور اس نے ایک دفعہ اس کو جو بلاغت سے بیان کیا ہے سو اتفاقاً ہوا ہے ورنہ ایسا اور الفاظ میں بیان نہ کر سکے گا۔ لیکن جب تکرارِ قصص ظاہر ہوا اور اندازِ بیان میں تشتت واقع ہوا تو ان تینوں اعتراضات کی جگہ نہ رہی۔
سبب سوم
یہ ہے کہ بعض اوقات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم قوم مخالف کی شرارت اور ایذاء سے ملول ہو جاتے تھے۔ سورہ حجر میں ہے:
وَلَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّکَ یَضِیْقُ صَدْرُکَ بِمَا یَقُوْلُوْنَ۔ (آیت ۹۷)
ترجمہ: ’’اور ہم جانتے ہیں کہ آپ کا دل تنگ پڑتا ہے ان کی باتوں سے‘‘۔
لہٰذا اللہ تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تسلی کے لیے ان قصص کو نقل فرماتے ہیں۔ سورۂ ہود میں ہے:
وَکُلًّا نَقُصُّ عَلَیْکَ مِنْ اَنْبَآءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِہٖ فُؤَادَکَ وَجَآءَکَ فِیْ ھٰذِہِ الْحَقُّ وَ مَوْعِظَۃً وَّذِکْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ۔ (آیت ۱۲۰)
ترجمہ: ’’ہم آپ پر جتنے بھی قصے انبیاء کے بیان کرتے ہیں سو اس کے ساتھ ہم آپ کے دل کو مضبوط کرتے ہیں اور اس میں آپ کو حق بات ملی ہے اور مؤمنوں کے واسطے نصیحت‘‘۔
اس لیے اکثر مقامات پر وقت موجود کے مناسب اسی قدر نقل ہوتا ہے جو تسلی کے لیے کافی ہو اور کچھ نہ کچھ سابقہ ذکر زیادہ مذکور ہوتا ہے۔
سبب چہارم
یہ ہے کہ گزرے ہوؤں کا حال آنے والوں کے لیے نصیحت قبول کرنے اور عبرت پکڑنے کا وسیلہ ہوتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ اکثر جگہوں میں مسلمانوں کو نصیحت فرماتے ہیں اور منکرین کو عبرت دلاتے ہیں۔ جب مومنوں کو کافروں کے ہاتھوں سے اذیت پہنچتی ہے یا جب کوئی گروہ نیا نیا مسلمان ہوتا ہے تو ان قصوں میں سے کسی کا نقل کرنا مناسب حال ہوتا ہے تو ان کی نقل ظہور پذیر ہوتی ہے۔
(از ازالۃ الشکوک ج ۱ ص ۱۳۲ تا ۱۳۴)
انتخاب و تسہیل: حافظ محمد عمار خان ناصر
بعثتِ نبویؐ کے وقت ہندو معاشرہ کی ایک جھلک
شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر
کہا جاتا ہے کہ ہندوستان کی وہ بابرکت زمین ہے جس میں حضرت آدم علیہ السلام کا آسمان سے نزول ہوا تھا۔ گویا اس لحاظ سے ہندوستان کی زمین وہ اشرف قطعہ ہے جس کو سب سے پہلے نبیؑ کے مبارک قدموں نے روندا جس پر ہزارہا سال گزر چکے تاآنکہ آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا دور نزدیک ہوا۔ اس وقت سرزمینِ ہند میں بدکرداری، اخلاقی پستی اور دنارت کا یہ عالم تھا کہ مندروں کے محافظ اور مصلحینِ قوم بداخلاقی کا سرچشمہ تھے جو ہزاروں اور لاکھوں ناآزمودہ کار لوگوں کو مذہب کے نام اور شعبدہ بازی کے کرشموں سے خوب لوٹتے اور مزے سے عیش اڑاتے تھے (آر سی دت ج ۴ ص ۲۸۳)۔ راجوں اور مہاراجوں کے محلات میں بادہ نوشی کثرت سے رائج تھی اور رانیاں حالتِ خمار میں جامۂ عصمت و ناموس اتار ڈالتی تھیں (ایضاً ص ۳۴۳)۔ سڑکوں اور شاہراہوں پر آوارہ گرد اور جرائم پیشہ افراد کا ہر وقت مجمع لگا رہتا تھا (ایضاً ص ۴۶۹)۔
اس کا نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ کوئی شریف انسان اور خصوصیت سے باحیا عورتوں کا وہاں سے گزرنا وبالِ جان سے کم نہ تھا اور ہر وقت جان و عزت کا خطرہ درپیش رہتا تھا۔ دیوداسیوں اور عورتوں کی بداخلاقی اور جنسی جنون کی دل سوز حرکات اور حالات پڑھنے اور سننے سے بھی شرم محسوس ہوتی ہے اور کوئی شریف اور باحیا انسان ان کو پڑھ کر اپنے نفس کو آمادہ نہیں پاتا الّا یہ کہ دل پر جبر کر کے پڑھے تو اور بات ہے (ملاحظہ ہو سفرنامہ ابوزیدؒ ص ۱۳۰ اور احسن تقاسیم مقدسیؒ ص ۴۸۳)
جوا اس حد تک رائج تھا کہ سونے اور چاندی کے سکے اور زیورات کا تو کیا کہنا، عورتیں بھی جوئے میں ہاری جاتی تھیں اور ازدواجی تعلقات میں ایسی بے راہ روی اختیار کر لی گئی تھی کہ ایک ایک عورت کے کئی کئی شوہر ہوتے تھے۔ اور ان کی روحانیت کا یہ حال تھا کہ بعض فرقوں میں عورتیں مردوں کو اور مرد عورتوں کو ننگا کر کے ان کی شرمگاہوں کی پوجا کرتے تھے (ستیارتھ پرکاش سمولاس گیارہ ص ۳۶۷ طبع لاہور)۔ شاید وہ یہ خیال کرتے ہوں گے کہ شرمگاہ ہی دنیا کی جڑ اور منبع نسلِ انسانی ہے لہٰذا اس بابرکت اور کثیر المنفعت چیز کی پوجا کیوں نہ ہو؟ اور ایسے مردوں اور عورتوں کے ان کے نزدیک خاص القاب ہوتے تھے، چنانچہ لکھا ہے کہ
’’اور جب کسی عورت یا دیشیا کو یا کسی مرد کو ننگا کر کے اور ان کے ہاتھ میں تلوار کر ان کی جائے نہانی کی پرستش کرتے ہیں تو عورت کا نام دیوی اور مرد کا نام مہادیو رکھتے ہیں۔‘‘ (ستیارتھ پرکاش ص ۳۶۸)
شوہر کے مرنے پر بعض عورتوں کو خود ان کے باپ اور بھائی اعزہ و اقارب زندہ نذرِ آتش کر دیتے تھے اور اس شنیع کارروائی کو اپنی اصطلاح میں وہ ’ستّی‘‘ کہتے تھے۔ اور اس کی حکمت اور فلسفہ یہ بیان کرتے تھے کہ یہ عورت اپنے خاوند کے فراق کو گوارہ نہیں کر سکتی اور اس کی محبت و الفت میں اپنی جانِ عزیز کو اس پر قربان کر دینے کے لیے بطیب خاطر رضامند ہے۔ ممکن ہے بعض شوریدہ سر عورتیں اس قومی اور آبائی رسم کی وجہ سے اس کو قربانی ہی تصور کرتی ہوں مگر حتی الوسع موت کو کون پسند کرتا ہے؟ ان کی اس ظالمانہ رسم کا بعض مسلمان اور خدا رسیدہ صوفی شاعروں نے بھی تذکرہ کیا ہے، چنانچہ حضرت امیر خسروؒ یوں ارشاد فرماتے ہیں کہ ؎
خسروا در عشق بازی کم زہندو زن مباش
کز برائے مردہ می سوزند جان خویش را
اور جناب بیدل پشاوریؒ یوں کہتے ہیں کہ ؎
باتو میگویم مباش اے سادہ دل ہندو پسر
در طریق جاں سپاری کم زہندو دخترے
اور برہمنوں نے اپنی قلبی تسکین اور سہولت کے لیے یہ چند نفس پسند قوانین وضع کئے اور تراشے تھے:
- برہمن کو کسی حالت میں خواہ وہ کتنے ہی سنگین جرائم کا مرتکب رہ چکا ہو، سزائے موت نہیں دی جا سکتی۔
- کسی اونچی ذات کا مرد اگر کسی نیچی ذات کی عورت سے زنا کرے تو کوئی حرج نہیں۔
- کسی بودھ راہبہ تک کی عصمت دری کی سزا میں معمولی جرمانہ کافی ہے۔
- اگر کوئی اچھوت ذات کا شخص کسی اعلیٰ ذات والے کو چھو لے اور ہاتھ لگا دے تو اس کی سزا موت ہے۔
- اگر کوئی نیچی ذات والا اپنے سے اونچی ذات والے کو مارے تو اس کے اعضاء کاٹ دیئے جائیں، اور اگر اس کو گالی دے تو اس کی زبان قطع کر دینی چاہیئے، اور اگر اسے تعلیم دینے کا دعوٰی کرے تو گرم تیل اس کے منہ میں ڈالنا چاہیئے (آرسی دت کی قدیم ہندوستان ص ۳۴۲)
یہ اصول و ضوابط اور قوانین تھے اہلِ ہند کے جس میں اچھوت اقوام کے لیے خیرخواہی کا ادنٰی جذبہ اور ان کی ہمدردی کا ایک حرف بھی موجود نہ تھا۔ جو بزبانِ حال شاید برہمنوں کے ان خودساختہ ملکی اور قومی قوانین پر آنسو بہاتے ہوئے یہ کہتے ہوں گے ؎
تم جو دیتے ہو نوشتہ وہ نوشتہ کیا ہے
جس میں ایک حرفِ وفا بھی کہیں مذکور نہیں
امامِ عزیمت امام احمد بن حنبلؒ اور دار و رَسَن کا معرکہ
مولانا ابوالکلام آزاد
تیسری صدی کے اوائل میں جب فتنۂ اعتزال و تعمق فی الدین اور بدعۃ مضلۂ تکلم یا مفلسفہ والحراف از اعتصام بالسنہ نے سر اٹھایا، اور صرف ایک ہی نہیں بلکہ لگاتار تین عظیم الشان فرمانرواؤں یعنی مامون، معتصم اور واثق باللہ کی شمشیر استبداد و قہر حکومت نے اس فتنہ کا ساتھ دیا، حتٰی کہ بقول علی بن المدینی کے فتنۂ ارتداد و منع زکوٰۃ (بعہد حضرت ابوبکرؓ) کے بعد یہ دوسرا فتنۂ عظیم تھا جو اسلام کو پیش آیا۔ تو کیا اس وقت علماء امت اور ائمہ شریعت سے عالمِ اسلام خالی ہو گیا تھا؟ غور تو کرو کیسے کیسے اساطین علم و فن اور اکابر فضل و کمال اس عہد میں موجود تھے؟ خود بغداد علماء اہل سنت و حدیث کا مرکز تھا مگر سب دیکھتے کے دیکھتے رہ گئے عزیمۃ دعوۃ و کمال مرتبۂ وراثت نبوت و قیام حق و ہدایت فی الارض والامۃ کا وہ جو ایک مخصوص مقام تھا صرف ایک ہی قائم لامر اللہ کے حصہ آیا یعنی سید المجددین امام الصالحین حضرت امام احمد بن حنبلؒ۔
اپنے اپنے رنگ میں سب صاحب مراتب و مقام تھے لیکن اس مرتبہ میں تو اور کسی کا سانجھا نہ تھا کہ قیام سنت و دین خالص کا قیامت تک کے لیے فیصلہ ہونے والا تھا اور مامون و معتصم کے جبر و قہر اور بشر مریسی اور قاضی ابنِ ابی داؤد جیسے جبابرہ معتزلہ کے تسلط و حکومت نے علماء حق کے لیے صرف دو ہی راستے باز رکھے تھے۔ یا اصحاب بدعۃ کے آگے سر جھکا دیں اور مسئلہ خلقِ قرآن پر ایمان لا کر ہمیشہ کے لیے اس کی نظیر قائم کریں کہ شریعت میں صرف اتنا ہی نہیں ہے جو رسولؐ بتلا گیا بلکہ اس کے علاوہ بھی بہت کچھ کہا جا سکتا ہے اور ہر ظن کو اس میں دخل ہے، ہر رائے اس پر قاضی و امر ہے، ہر فلسفہ اس کا مالک و حاکم ہے ’’یفعل ما یشاء و یختار‘‘ ۔ اور یا پھر قید خانے میں رہنا، ہر روز کوڑوں سے پیٹا جانا اور ایسے تہ خانوں میں قید ہو جانا کہ ’’لا یرون فیہ الشمس ابدا‘‘ کو قبول کر لیں۔
بہتوں کے قدم تو ابتدا ہی میں لڑکھڑا گئے۔ بعضوں نے ابتدا میں استقامت دکھلائی لیکن پھر ضعف و رخصت کے گوشے میں پناہ گیر ہو گئے۔ عبد اللہ بن عمر القواریری اور حسن بن عماد امام موصوف کے ساتھ ہی قید کیے گئے تھے مگر شدائد و محن کی تاب نہ لا سکے اور اقرار کر کے چھوٹ گئے۔ بعضوں نے روپوشی اور گوشہ نشینی اختیار کر لی کہ کم از کم اپنا دامن تو بچا لے جائیں۔ کوئی اس وقت کہتا تھا ’’لیس ھذا زمان بکاء تضرع و دعا کدعاء الغریق‘‘ یعنی یہ زمانہ درسو اشاعت علوم و سنت کا نہیں ہے یہ تو وہ زمانہ ہے کہ بس اللہ کے آگے تضرع و زاری کرو اور ایسی دعائیں مانگو جیسی سمندر میں ڈوبتا ہوا شخص دعا مانگے۔ کوئی کہتا تھا ’’احفظوا السانکم دعا لجوا قلبکم و خذوا ما تعرفوا و دعوا ما تنکروا‘‘ اپنی زبانوں کی نگہبانی کرو، اپنے دل کے علاج میں لگ جاؤ، جو کچھ جانتے ہو اس پر عمل کیے جاؤ اور جو برا ہو اس کو چھوڑ دو۔ کوئی کہتا ’’ھذا زمان السکوت و ملازمۃ البیوت‘‘ یہ زمانہ خاموشی کا زمانہ ہے اور اپنے اپنے دروازوں کو بند کر کے بیٹھ رہنے کا۔
جبکہ تمام اصحابِ کار و طریق کا یہ حال ہو رہا تھا اور دین الخالص کا بقا و قیام ایک عظیم الشان قربانی کا طلب گار تھا تو غور کرو کہ صرف امام موصوفؒ ہی تھے جن کو فاتح و سلطان عہد ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ انہوں نے نہ تو دعاۃ فتن و بدعۃ کے آگے سر جھکایا نہ روپوشی و خاموشی و کنارہ کشی اختیار کی اور نہ بند حجروں کے اندر کی دعاؤں اور مناجاتوں پر قناعت کر لی بلکہ دین خالص کے قیام کی راہ میں اپنے نقش و وجود کو قربان کر دینے اور تمام خلف امت کے لیے ثبات و استقامت علی السنۃ کی راہ کھول دینے کے لیے بحکم ’’فاصبر اولو العزم من الرسل‘‘ اٹھ کھڑے ہوئے۔ ان کو قید کر دیا گیا۔ قید خانے میں چلے گئے۔ چار چار بوجھل بیڑیاں پاؤں میں ڈالی گئیں۔ پہن لیں۔ اسی عالم میں بغداد سے طرطوس لے چلے اور حکم دیا گیا کہ بلا کسی کی مدد کے خود ہی اونٹ پر سوار ہوں اور خود ہی اونٹ سے اتریں۔ اس کو بھی قبول کر لیا۔ بوجھل بیڑیوں کی وجہ سے ہل نہیں سکتے تھے، اٹھتے تھے اور گر پڑتے تھے۔
عین رمضان المبارک کے عشرہ اخیر میں، جس کی طاعت اللہ کو تمام دنوں کی طاعات سے زیادہ محبوب ہے، بھوکے پیاسے جلتی دھوپ میں بٹھائے گئے، اور اس پیٹھ پر جو علوم و معارفِ نبوت کی حامل تھی لگاتار کوڑے اس طرح مارے گئے کہ ہر جلاد دو ضربیں پوری قوت سے لگا کر پیچھے ہٹ جاتا اور پھر نیا تازہ دم جلاد اس کی جگہ لے لیتا۔ اس کو بھی خوشی خوشی برداشت کر لیا مگر اللہ کے عشق سے منہ نہ موڑا اور راہِ سنت سے منحرف نہ ہوئے۔ تازیانے کی ہر ضرب پر بھی جو صدا زبان سے نکلتی تھی وہ نہ تو جزع و فزع کی تھی اور نہ شور و فغاں کی، بلکہ وہی تھی جس کے لیے یہ سب کچھ ہو رہا تھا یعنی ’’القرآن کلام اللہ غیر مخلوق‘‘۔ اللہ اللہ یہ کیسی مقام دعوۃ کبرٰی کی خسروی و سلطانی تھی اور وراثۃ و نیابۃ نبوۃ کی ہیبت و سطوۃ کہ خود المعتصم باللہ، جس کی ہیبت و رعب سے قیصر روم لرزاں و ترساں رہتا تھا، سر پر کھڑا تھا، جلادوں کا مجمع چاروں طرف سے گھیرے ہوئے تھا اور وہ بار بار کہہ رہا تھا ’’یا احمد! واللہ انی علیک الشفیق، وانی لا شفق علیک کشفقتی علی ھارون ابنی و واللہ لئن اجابنی لا طلقن عنک بیدی ما تقول‘‘ یعنی واللہ میں تم پر اس سے بھی زیادہ شفقت رکھتا ہوں جس قدر اپنے بیٹے کے لیے شفیق ہوں، اگر تم خلق قرآن کا اقرار کر لو تو قسم خدا کی ابھی اپنے ہاتھوں سے تمہاری بیڑیاں کھول دوں۔
لیکن اس پیکر حق، اس مجسمۂ سنت، اس موید بالروح القدس، اس صابر اعظم کما صبر اولوالعزم من الرسل کی زبان صدق سے صرف ہی جواب نکلتا تھا ’’اعطونی شیئا من کتاب اللہ او سنۃ رسولہ حتٰی اقول بہ‘‘ اللہ کی کتاب میں سے کچھ دکھلا دو یا اس کے رسول کا کوئی قول پیش کر دو تو میں اقرار کر لوں۔ اس کے سوا میں کچھ نہیں جانتا ؎
چو غلام آفتابم ز آفتاب گویم
نہ شبم نہ شب پرستم کہ حدیث خواب گویم
اگر اس چراغ تجدید و مصباح عزیمۃ دعوۃ کی روشنی مشکوٰۃ نبوۃ سے مستمیز نہ تھی تو پھر یہ کیا تھا کہ جب معتصم ہر طرح عاجز آ کر قاضی ابن ابی داؤد وغیرہ علماء بدعت و اعتزال سے کہتا ’’ناظر و کلموہ‘‘ اور وہ کتاب و سنت کے میدان میں عاجز آ کر اپنے اوہام و ظنون باطلہ کو باسم عقل و رائے پیش کرتے کہ سر تا سر بونانیات ملعونہ سے ماخوذ تھے تو وہ اس کے جواب میں بے ساختہ بول اٹھتے ’’ما ادری ما ھذا؟‘‘ میں نہیں جانتا یہ کیا بلا ہے ’’اعطونی شیئًا من کتاب اللہ او من سنۃ رسولہ حتی اقول‘‘۔ اس تمام کائنات ہستی میں میرے سر کو جھکانے والی صرف دو ہی چیزیں ہیں۔ اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت، اس کے سوا نہ میرے لیے کوئی دلیل ہے نہ علم۔
امام موصوفؒ کو جب قید کر کے طرطوس روانہ کیا گیا تو ابوبکر الاحول نے پوچھا ’’ان عرضت علیک السیف تجیب؟‘‘ اگر تلوار کے نیچے کھڑے کر دیے گئے تو کیا اس وقت مان لو گے؟ کہا، نہیں۔ ابراہیم بن مصعب کوتوال کہتا ہے کہ میں نے کسی انسان کو بادشاہوں کے آگے احمد بن حنبلؒ سے بڑھ کر بے رعب نہ پایا۔ ’’یومیذ ما نحن فی عینیہ الّا کامثال الذباب‘‘ ہم عمال حکومت ان کی نظروں میں مکھیوں سے زیادہ وقعت نہیں رکھتے تھے اور یہ بالکل حق ہے۔ جن لوگوں کی نظروں میں جلالِ الٰہی سمایا ہو وہ مٹی کی ان پتلیوں کو، جنہوں نے لوہا تیز کر کے کاندھے پر ڈال رکھا ہے یا بہت سا سونا چاندی اپنے جسم پر لپیٹ لیا ہے، کیا چیز سمجھتے ہیں؟ ان کو تو خود اقلیمِ عشقِ الٰہی کی سروری و شاہی اور شہرستان صدق و صفا کا تاج و تخت حاصل ہے۔
ابوالعباس الرتی سے حافظ ابن جوزیؒ روایت کرتے ہیں کہ جب رقہ میں امام موصوف قید تھے تو علماء کی ایک جماعت گئی اور اس قسم کی روایت و نقول سنانے لگی جن سے بخوفِ جان تقیہ کر لینے کی رخصت نکلتی ہے۔ امام موصوف نے سب سن کر جواب دیا ’’کیف تضعون بحدیث جناب؟ ان من کان قبلکم کان ینشر احدھم بالمنشا رثم لا یصدر ذالک عن دینہ۔ قالوا فیئسنا منہ‘‘ یعنی یہ تو سب کچھ ہوا مگر بھلا اس حدیث کی نسبت کیا کہتے ہو کہ جب صحابہؓ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مظالم و شدائد کی شکایت کی تو فرمایا تم سے پہلے ایسے لوگ گزر چکے ہیں جن کے سروں پر آرا چلایا جاتا تھا اور جسم لکڑی کی طرح چیر ڈالے جاتے تھے مگر یہ آزمائشیں بھی ان کو حق سے نہیں پھرا سکتی تھیں۔ ابوالعباس کہتے ہیں کہ جب ہم نے یہ بات سنی تو مایوس ہو کر چلے آئے کہ ان کو سمجھانا بیکار ہے، یہ اپنی بات سے پھرنے والے نہیں۔
یہ جو میں بار بار کہہ رہا ہوں کہ عزیمۃ دعوۃ، عزیمۃ دعوۃ تو یہ ہے عزیمۃ دعوۃ اور یہ ہے وراثت و نیابت مقام ’’فاصبر کما صبر اولو العزم من الرسل‘‘ کا اور یہ ہے ان ایام فتن کا صبر اعظم و اکبر جن کی نسبت ترمذی کی روایت میں فرمایا ’’الصبر فی ھن کالقبض علی البحمر‘‘ تو یہی وہ لوگ ہیں جو اگر چاہیں تو گوشہ رخصت و بیچارگی میں امن و عافیت کے پھول چن سکتے ہیں لیکن وہ پھولوں کو چھوڑ کر دہکتے ہوئے انگارے پکڑ لیتے ہیں اور اسی لیے ان کا اجر و ثواب بھی ’’مثل اجر خمسین رجلاً یعملون مثل عملکم‘‘ کا حکم رکھتا ہے۔
مانا کہ ضعیفوں اور درماندوں کے لیے رخصت و گلوخلاصی کی راہیں بھی باز رکھی گئی ہوں لیکن اصحابِ عزائم کا عالم دوسرا ہے، ان کی ہمت عالی بھلا میدان عزیمۃ و اسبقیۃ بالخیرات کو چھوڑ کر تنگنائے رخصت و ضعف میں پناہ لینا کب گوارہ کر سکتی ہے؟ جوانانِ ہمت اور مردانِ کارزار اس ننگ کو کیوں قبول کرنے لگے کہ کمزوروں اور درماندوں کی لکڑی کا سہارا پکڑیں؟ جن کے لیے اس میں سلامتی ہے ہوا کرے گی مگر ان کے لیے تو ایسا کرنا ہمت کی موت ہے، ایمان کی پامالی ہے اور عشق کی جبینِ عزت کے لیے داغ ننگ و عار سے کم نہیں۔ ’’حسنات الابرار سیئات المقربین‘‘ رخصۃ و عزیمۃ کی تفریق اور اعلیٰ و ادنٰی کا امتیاز اصحابِ عمل کے لیے ہے نہ کہ اصحابِ عشق کے لیے۔ عشق کی راہ ایک ہی ہے اور اس میں جو کچھ ہے عزیمۃ ہی عزیمۃ ہے۔ ضعف و بیچارگی کا تو ذکر ہی کیا، وہاں رخصت کا نام لینا بھی کم از معصیت نہیں ؎
ملتِ عشق از ہمہ دین ہا جداست
عاشقاں را مذہب و ملّت خداست
ضرب تازیانہ کے لیے حکم دیا تو وہ علماء اہل سنت بھی دربار میں موجود تھے جو شدۃِ محن و مصائب کی تاب نہ لا سکے اور اقرار کر کے چھوٹ گئے۔ ان میں سے بعض نے کہا ’’من صنع من اصحابک فی ھذا لامر ما تصنع‘‘ خود تمہارے ساتھیوں میں سے کس نے ایسی ہٹ کی جیسی تم کر رہے ہو؟ امام احمدؒ نے کہا، یہ تو کوئی دلیل نہ ہوئی ’’اعطونی شیئا من کتاب اللہ و سنۃ رسولہ حتی اقول بہ‘‘۔ عین حالتِ صوم میں کہ صرف پانی کے چند گھونٹ پی کر روزہ رکھ لیا تھا تو تازہ دم جلادوں نے پوری قوت سے کوڑے مارے یہاں تک کہ تمام پیٹھ زخموں سے چور ہو گئی اور تمام جسم خون سے رنگین ہو گیا۔
خود کہتے ہیں کہ جب ہوش آیا تو چند آدمی پانی لائے اور کہا پی لو مگر میں نے انکار کر دیا کہ روزہ نہیں توڑ سکتا۔ وہاں سے مجھ کو اسحاق بن ابراہیم کے مکان میں لے گئے، ظہر کی نماز کا وقت قریب آ گیا تھا۔ ابن سماعہ نے کہا، تم نے نماز پڑھی حالانکہ خون تمہارے کپڑوں میں بہہ رہا ہے؟ یعنی دم جاری و کثیر کے بعد طہارت کہاں رہی؟ میں نے جواب دیا ’’قل صلی عمر وجرحہ یثعب دما‘‘ ہاں مگر میں نے وہی کیا جو حضرت عمرؓ نے کیا تھا، صبح کی نماز پڑھا رہے تھے اور قاتل نے زخمی کیا مگر اسی حالت میں انہوں نے نماز پوری کی۔
ابن سماعہ کے جواب میں حضرت امامؒ نے حضرت عمرؓ کی جو نظیر پیش کی تو یہ ان کی تسلی کے لیے بس کرتی تھی، مگر میں کہتا ہوں کہ جو خون اس وقت امام احمد بن حنبلؒ کے زخموں سے بہہ رہا تھا گر وہ خون ناپاک تھا اور اس کے ساتھ نماز نہیں ہو سکتی تو پھر دنیا میں اور کون سی چیز ایسی ہے جو انسان کو پاک کر سکتی ہے اور کون سا پانی ہے جو طاہر و مطہر ہو سکتا ہے؟ اگر یہ ناپاک ہے تو دنیا کی تمام پاکیاں اس ناپاکی پر قربان! اور دنیا کی ساری طہارتیں اس پر سے نچھاور۔ یہ کیا بات ہے کہ پاک سے پاک اور مقدس سے مقدس انسان کی میت کے لیے بھی غسل ضروری ٹھہرا مگر شہیدانِ حق کے لیے یہ بات ہوئی کہ ان کی پاکی شرمندۂ آب غسل نہیں ’’لم یصل علیھم ولم لیغسلھم‘‘ بلکہ ان کے خون میں رنگے ہوئے کپڑوں کو بھی ان سے الگ نہ کیجئے۔ ’’یدفنوا فی ثیابھم ودمائھم‘‘ اور اسی لباس میں گلگوں و خلعت رنگین میں وہاں جانے دیجئے جہاں ان کا انتظار کیا جا رہا ہے اور جہاں خون و عشق کے سرخ دھبوں سے بڑھ کر شاید اور کوئی نقش و نگار عمل مقبول و محبوب نہیں۔ ’’عند ربھم یرزقون۔ فرحین بما اٰتاھم اللہ‘‘ ؎
خونِ شہیداں راز آب اولی تر است
ایں گناہ از حد ثواب اولی تر است
اللہ اللہ! یہاں طہارتِ جسم و لباس کا کیا سوال ہے؟ امام احمد بن حنبلؒ نے اپنی تمام عمر میں اگر کوئی پاک سے پاک اور سچی سے سچی نماز پڑھی تھی تو یقیناً وہ وہی ظہر کی نماز تھی۔ ان کی تمام عمر کی وہ نمازیں ایک طرف جو دجلہ کے پانی سے پاک کی گئی تھیں، اور وہ چند گھڑیوں کی عبادت ایک طرف جس کو راہِ ثبات حق میں بہنے والے خون نے مقدس و مطہر کر دیا تھا۔ سبحان اللہ! جس کے عشق میں چار چار بوجھل بیڑیاں پاؤں میں پہن لی تھیں، جس کی خاطر سارا جسم زخموں سے چور اور خون سے رنگین ہو رہا تھا، اسی کے آگے جبینِ نیاز جھکی ہوئی! اسی کے ذکر میں قلب و لسان لذت یاب تسبیح و تحمید! اسی کے جلوۂ جمال میں چشمِ شوق وقف نظارہ و دید! اور اسی کی یاد میں روح مضطر محو سرشار عشق و خود فراموشی!
؏ یوں عبادت ہو تو زاہد ہیں عبادت کے مزے
امام موصوف کے لڑکے عبد اللہ کہتے ہیں کہ میرے والد ہمیشہ کہا کرتے ’’رحم اللہ ابا الھیثم اغفر اللہ لابی الھیثم‘‘ خدا ابو الہیثم پر رحم کرے، خدا ابوالہیثم کو بخش دے۔ میں نے ایک دن پوچھا، ابوالہیثم کون ہے؟ کہا جس دن مجھ کو سپاہی دربار میں لے گئے اور کوڑے مارے گئے تو جب ہم راہ سے گزر رہے تھے ایک آدمی مجھ سے ملا اور کہا مجھ کو پہچانتے ہو؟ میں مشہور چور اور عیار ابوالہیثم حداد ہوں۔ میرا نام شاہی دفتر میں ثبت ہے، بارہا چوری کرتے پکڑا گیا اور بڑی بڑی سزائیں جھیلیں۔ صرف کوڑوں کی ہی مار اگر گنوں تو سب ملا کر اٹھارہ ہزار ضربیں تو میری پیٹھ پر ضرور پڑی ہوں گی۔ با ایں ہمہ میری استقامت کا یہ حال ہے کہ اب تک چوری سے باز نہیں آیا جب کہ کوڑے کھا کر جیل خانے سے نکلا، سیدھا چوری کی تاک میں چلا گیا۔ میری استقامت کا یہ حال شیطان کی طاعت میں رہا ہے دنیا کی خاطر۔ افسوس تم پر اگر اللہ کی محبت کی راہ میں اتنی استقامت بھی نہ دکھا سکو اور دین حق کی خاطر چند کوڑوں کی ضرب برداشت نہ کر سکو۔ میں نے جب یہ سنا تو اپنے جی میں کہا اگر حق کی خاطر اتنا بھی نہ کر سکے جتنا دنیا کی خاطر ایک چور اور ڈاکو کر رہا ہے تو ہماری بندگی پر ہزار حیف اور ہماری خدا پرستی سے بت پرستی لاکھ درجہ بہتر ؏
منہ منہ سے اپنے آپ کو کہتا ہے عشق باز
اے روسیاہ تجھ سے تو یہ بھی نہ ہو سکا
مامون و معتصم اور الواثق نے جو کچھ کیا وہ معلوم ہے۔ جعفر المتوکل کا یہ حال ہے کہ اس کی خلافت بدعت و اربابِ بدعت کے زوال و خسران اور سنت و اصحابِ حدیث کے امن و عروج کا اعلانِ عام تھی۔ حافظ ابن جوزیؒ لکھتے ہیں کہ متوکل باللہ ہمیشہ اس فکر میں رہتا کہ کسی طرح پچھلے مظالم کی تلافی کرے۔ ایک بار اس نے بیس ہزار سکے بھیجے اور دربار میں بلایا۔ ایک بار ایک لاکھ درہم بھیجا اور سخت اصرار کیا کہ اس کو قبول کر لیجئے لیکن ہر مرتبہ امام موصوف نے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور کہا میں اپنے مکان میں اپنے ہاتھ سے اس قدر کشت کاری کر لیتا ہوں جو میری ضروریات کے لیے کافی ہے، اس بوجھ کو اٹھا کر کیا کروں گا۔ کہا گیا کہ اپنے لڑکے کو حکم دیجئے وہ قبول کر لیں۔ فرمایا وہ اپنی مرضی کا مختار ہے۔ لیکن جب عبد اللہ سے کہا گیا تو انہوں نے بھی واپس کر دیا۔ آخر مجبور ہو کر لانے والوں نے کہا کہ خود نہیں رکھنا چاہتے تو امیر المومنین کا حکم ہے قبول کر لیجئے اور فقراء اور مساکین کو بانٹ دیجئے۔ فرمایا میرے دروازے سے زیادہ امیر المومنین کے محل کے نیچے فقیروں کا مجمع رہتا ہے، فقیروں کو ہی دینا ہے تو وہیں دے دیا جائے۔ اس ہنگامے کی کیا ضرورت ہے؟ ایک مرتبہ اسحاق بن ابراہیم کے سخت اصرار سے دس ہزار درہم لے لیے تو اسی وقت مہاجرین و انصار کی اولاد میں تقسیم کر دیے۔ ان کے لڑکے راوی ہیں کہ جب خلیفہ متوکل ان کی تعظیم و تکریم میں حد درجہ غلو کرنے لگا تو انہوں نے کہا ’’ھذا امر اشد علٰی من ذلک، ذلک فتنۃ الدین وھذا فتنۃ الدنیا‘‘ یہ معاملہ تو گزشتہ معاملے سے بھی کہیں زیادہ میرے لیے سخت ہے، وہ دین کے بارے میں فتنہ تھا اور یہ فتنہ دنیا ہے۔
یعنی مصائب و محن کی آزمائش کہیں زیادہ پُراَمن ہے بمقابلہ آزمائش افیم دنیا و دعوۃ طمع و ترغیب کے۔ اور یہ بالکل حق ہے۔ کتنے ہی شہسواران ثبات و استقامت ہیں جو پہلے میدانِ آزمائش سے تو صحیح و سلامت نکل گئے مگر دوسری راہ سامنے آئی تو اول قدم ہی ٹھوکر لگی۔ حالانکہ مردِ کامل وہ ہے جس پر ’’یدعون ربھم خوفاً و طمعاً‘‘ کا مقام ایسا طاری ہو جائے کہ دنیا کا خوف اور دنیا کی طمع دونوں قسم کے حربے اس کے لیے بالکل بیکار ہو جائیں۔
مرسلہ: قاری قیام الدین الحسینی
مولانا آزادؒ کا سنِ پیدائش ۔ ایک حیرت انگیز انکشاف
دیوبند ٹائمز
خدا بخش لائبریری پٹنہ کی ریسرچ فیلو شائستہ خان نے اپنی ریسرچ کے ذریعے یہ حیرت انگیز انکشاف کیا ہے کہ امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد ۱۸۸۵ء میں پیدا ہوئے تھے جبکہ آج تک ان کی پیدائش کا سال ۱۸۸۷ء بتایا جا رہا ہے۔ شائستہ خان نے تحقیق کے دوران مولانا آزاد کا انہی کی تحریر میں لکھا ہوا ایک خط دریافت کیا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ۱۸۸۵ء کانگریس کا سال پیدائش بھی ہے اور شائستہ خان نے یہ دھماکہ اس وقت کیا ہے جب مولانا آزادؒ کے یومِ ولادت کی صدی تقریبات منائی جا رہی ہیں۔
خدا بخش لائبریری میں مولانا آزاد پر جو سیمینار منعقد ہوا تھا اس میں اپنا مقالہ پڑھتے ہوئے شائستہ خان نے یہ انکشاف کر کے حاضرین کو چونکا دیا۔ مولانا ابوالکلام آزادؒ نے اپنے ایک عزیز دوست یوسف رنجور (پٹنہ) کو لکھا تھا۔ رنجور کا تعلق پٹنہ کے اس صدیقی خاندان سے تھا جو جنگِ آزادی میں ہمیشہ پیش پیش رہا۔ یہ خاندان اس صدی کے شروع میں کلکتہ میں جا بسا تھا اور رنجور صاحب کو کلکتہ ہی میں مولانا خطوط لکھا کرتے تھے۔ رنجور کو مولانا نے جولائی ۱۹۰۳ء میں خط لکھا تھا جس میں انہوں نے اپنی پیدائش کی تاریخ ۱۳۰۳ھ بتائی ہے جو ۱۸۸۵ء یا ۱۸۸۶ء کے ابتدائی ماہ ہو سکتے ہیں۔
شائستہ خان مولانا آزادؒ کی سوانح لکھ رہی ہیں جس میں کئی نئے اور نہاں گوشوں کو اجاگر کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس خط سےمولانا آزادؒ کی والدہ کے انتقال کی صحیح تاریخ کا بھی پتہ چلتا ہے اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آزاد کی بہنوں کے صحیح نام کیا تھے۔ شائستہ خان نے دعوٰی کیا ہے کہ آج کل مارکیٹ میں کئی ایسی کتابیں فروخت ہو رہی ہیں جو مولانا آزادؒ کی لکھی ہوئی بتائی جا رہی ہیں حالانکہ عبد الرزاق صاحب ملیح آبادی نے ان کتابوں کو تحریر کیا تھا۔ شائستہ نے مولانا کے کئی ایسے تحریری نسخے اور دستاویزات تلاش کیے ہیں جن سے ان کی زندگی پر نئی روشنی پڑتی ہے۔
مولانا آزاد کا یہ خط کئی زاویوں سے حد درجہ اہمیت کا حامل ہے۔ اول تو یہ کہ مولانا نے اپنی سن پیدائش ۱۳۰۳ھ لکھی ہے۔ اپنی والدہ کا نام انہوں نے زینب لکھا ہے اور بہنوں کا خدیجہ، فاطمہ اور حنیفہ۔ مولانا نے اس خط میں یہ بھی لکھا ہے کہ ان کی والدہ ان کی بہنوں کی شادیاں ان کے (آزاد کے) چچازاد بھائیوں سے کرنا چاہتی تھیں جو مکہ میں مقیم تھے لیکن وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکیں۔ مولانا آزاد کو اس کا بے حد قلق اور رنج رہا۔
(بشکریہ دیوبند ٹائمز)
کیا فرعون مسلمان ہو گیا تھا؟
شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنیؒ
(امام الصوفیاء حضرت الشیخ محی الدین بن عربی قدس اللہ سرہ العزیز سے منسوب ایک قول میں دعوٰی کیا گیا ہے کہ فرعون نے جب غرق ہوتے وقت اللہ تعالیٰ پر ایمان کا اظہار کیا تو اس کا ایمان قبول ہو گیا تھا اور وہ شہادت سے ہمکنار ہوا۔ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمہ اللہ تعالیٰ ایک استفسار کے جواب میں اس دعوٰی کا تحقیقی جائزہ لیتے ہیں۔ ادارہ)
ایمانِ فرعون کے بارے میں جو کچھ شیخ اکبر رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے وہ جمہور کی رائے کے خلاف ہے۔ استدلال کی سخافت سے شبہ ہوتا ہے کہ غالباً یہ قول ان کا نہیں بلکہ جیسا بعض علماء کا قول ہے کہ ملاحدہ نے ان کی کتاب میں اپنی طرف سے زیادہ کر دیا ہے۔ بہرحال جو کچھ بھی ملّا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس مقالہ پر رد کے لیے ایک مستقل رسالہ تصنیف کیا ہے جس کو عرصہ ہوتا ہے، میں نے مدینہ منورہ زید شرفا میں دیکھا تھا، یہ نہیں معلوم کہ وہ چھپ گیا ہے یا نہیں۔
(۱) استدلال میں اولاً امراۃ فرعون رضی اللہ عنہا کا قول پیش کیا گیا ہے مگر یہ استدلال نہایت کمزور ہے۔ جس وقت یہ قول ان سے صادر ہوا جب تک وہ خود بھی ایمان نہیں لائی تھیں۔ پھر ان کا عالم الغیب ہونا یا امور مستقبلہ پر مطلع ہونا کسی وقت میں بھی تسلیم نہیں کیا جا سکتا اور نہ ان کا کشف و الہام کسی زمانے شرعی حجت ہو سکتا ہے، پھر کس طرح یہ قول قابلِ استدلال ہو سکتا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر محض ان کے قول کو نقل فرمایا ہے، اس کی تصحیح اور تصدیق نہیں فرمائی۔ یہ عادت اقوالِ صحیحہ اور باطلہ دونوں میں جاری ہے۔ نیز قرۃ العین ہونا محبوبیہ سے کنایہ ہے جو کہ ’’القیت علیک محبۃ منی‘‘ (اور ڈال دی میں نے تجھ پر محبت اپنی طرف سے) کا نتیجہ تھا۔ اس لیے ہر مومن اور غیر مومن کے اس زمانہ طفولیت میں حضرت موسٰی علیہ السلام محبوب اور قرۃ عین تھے۔ اس سے ایمانِ فرعون پر استدلال نہایت ہی کمزور ہے، بالخصوص جبکہ اس کے خلاف قواعد کلیہ اور آیات جزئیہ دونوں کھلے بندوں دلالت کر رہی ہوں۔
علیٰ ہذا القیاس اس کو آیت قرار دینا بھی اسلام پر دال نہیں۔ ہر وہ شے جس سے جناب باری عز اسمہ کے صفات و افعال و ذات پر کسی وجہ سے استدلال ہو سکتا ہو، وہ آیۃ ہو سکتی ہے۔ اس میں ذی روح ہونے کی بھی شرط نہیں ہے چہ جائیکہ اسلام مشروط ہو۔
قواعدِ کلیّہ شرعیہ جو کہ قطعی طور پر اس کے بطلان کے شاہد ہیں
فلما رأوا بأسنا قالوا اٰمنا باللہ وحدہ وکفرنا بما کنا بہ مشرکین فلم یک ینفعھم ایمانھم لما رأوا بأسنا سنۃ اللہ التی قد خلت فی عبادہ وخسر ھنا لک الکافرون (سورہ مومن ۸۴ و ۸۵)
(ترجمہ) ’’پھر جب انہوں نے دیکھ لیا ہماری آفت کو، بولے ہم یقین لائے اللہ اکیلے پر اور ہم نے چھوڑ دیں وہ چیزیں جن کو شریک بتلاتے تھے، پھر نہ ہوا کہ کام آئے ان کو یقین لانا ان کا جس وقت دیکھ چکے ہمارا عذاب، رسم پڑی ہوئی اللہ کی جو چلی آئی ہے اس کے بندوں میں اور خراب ہوئے اس جگہ لشکر۔‘‘
اس آیت سے قاعدہ کلیہ اور سنتِ الٰہی کا پتہ چلتا ہے کہ عذابِ الٰہی کے دیکھنے کے بعد ایمان معتبر نہیں۔ دوسری جگہ ارشاد ہے:
فلما احسوا بأسنا اذا ھم منھا یرکضون لا ترکضوا وارجعوا الٰی ما اترفتم فیہ ومساکنکم لعلکم تسئلون قالوا یا ویلنا انا کنا ظالمین فما زالت تلک دعواھم حتی جعلناھم حصیدًا خامدین (سورہ انبیاء ۱۲۔۱۵)
(ترجمہ) ’’پھر جب آہٹ پائی انہوں نے ہماری آفت کی تب لگے وہاں سے بھاگنے، مت بھاگو اور لوٹ جاؤ جہاں تم نے عیش کیا تھا اور اپنے گھروں میں شاید تم کو کوئی پوچھے، کہنے لگے ہائے خرابی ہماری ہم تھے گنہگار، پھر برابر یہی رہی ان کی فریاد یہاں تک کہ ڈھیر کر دیے گئے کاٹ کر بجھے پڑے ہوئے۔‘‘
دوسری جگہ ارشاد ہے:
فلولا کانت قریۃ اٰمنت فنفعھا ایمانھا الا قوم یونس لما اٰمنوا کشفنا عنھم عذاب الخزی فی الحیاۃ الدنیا ومتعناھم الی حین (سورہ یونس۹۸)
(ترجمہ) ’’سو کیوں نہ ہوئی کوئی بستی کہ ایمان لاتی پھر کام آتا ان کو ایمان لانا، مگر یونس کی قوم جب وہ ایمان لائی اٹھا لیا ہم نے ان پر سے ذلت کا عذاب دنیا کی زندگانی میں اور فائدہ پہنچایا ہم نے ان کو ایک وقت تک۔‘‘
الغرض عذاب کے دیکھنے کے بعد ایمان لانا نفع دیتا۔ اس قاعدے کلیے سے صرف قوم یونس علیہ السلام کو مستثنٰی قرار دیا گیا ہے جس کی وجہ یہ تھی کہ حقیقتاً ان پر عذاب نہیں آیا تھا بلکہ حضرت یونس علیہ السلام کی جلدبازی کی بنا پر صورتِ عذاب نمودار کی گئی تھی۔ ادھر حضرت یونس علیہ السلام پر اس جلدبازی پر متابات متعددہ وارد کیے گئے تھے۔ اس قاعدے کلیے کو سورہ نساء میں مندرجہ ذیل کلمات کے ساتھ مشرح فرمایا گیا ہے:
ولیست التوبۃ للذین یعملون السیئات حتی اذا حضر احدھم الموت قال انی تبت الاٰن ولا الذین یموتون وھم کفار اولئک اعتدنا لھم عذابا الیما۔ (سورہ النساء ۱۸)
(ترجمہ) ’’اور ایسوں کی توبہ نہیں جو کیے جاتے ہیں برے کام یہاں تک کہ جب سامنے آجاوے ان میں سے کسی کو موت تو کہنے لگا میں توبہ کرتا ہوں، اور نہ ایسوں کی توبہ جو کہ مرتے ہیں حالت کفر میں، ان کے لیے تو ہم نے تیار کیا ہے عذاب دردناک۔‘‘
جس نے صاف طور پر ظاہر کر دیا کہ موت حاضر ہو جانے کے وقت میں (جب کہ علاماتِ موت ظاہر ہو جائیں اور انسان کو عالمِ غیب کی اشیاء دکھائی دینے لگیں) توبہ مقبول نہیں ہے، نہ عذابِ دنیوی دور ہوتا ہے اور نہ عذابِ آخرت سے رستگاری ہوتی ہے۔ نیز ان آیات نے صاف طور پر یہ بھی ظاہر کر دیا کہ فرعون، جس نے ادراکِ غرق اور عذابِ الٰہی کے مشاہدے کے بعد ایمان کے کلمات کہے، وہ ایماندار عند اللہ اور عند الشرح نہیں ہوا اور اس کی توبہ مقبول نہیں ہوئی۔ ادراکِ غرق کا مرتبہ تو رویتِ عذابِ الٰہی اور رویت یاسِ خداوندی سے بعد کا ہے، جب کہ رویت ہی سے ایمان کا نفع دینا ممنوع ہو جاتا ہے تو ادراکِ عذاب سے بدرجہ اولٰی ممنوع ہو گا۔
حضرت موسٰیؑ کا فرعون اور فرعونیوں کے لیے بد دعا میں ارشاد فرمانا ’’فلا یومنوا حتی یروا العذاب الالیم‘‘ خود اس کے لیے شاہد عدل ہے۔ اگر ایسے وقت میں ایمان نافع ہوتا تو اس بددعا کے کوئی معنی نہیں تھے حالانکہ یہ دعا مقبول ہوئی اور فرمایا گیا ’’قد اجیبت دعوتکما‘‘ اور اسی بددعا کا بھی اثر تھا کہ فرعون نے مرتے وقت تک ایمان قبول نہ کیا۔ بہرحال ان آیات سے جو حکم اور قاعدۂ خداوندی مفہوم ہوتا ہے وہ نہایت قوی ہے اور ’’فصوص الحکم‘‘ میں جو استدلال ذکر کیا گیا ہے وہ اس کے مقابلے میں کوئی بھی وقعت اور قوت نہیں رکھتا۔ غور فرمائیے۔ فرعون کے متعلق آیاتِ خصوصیہ بھی جمہور ہی کی تائید کرتی ہیں۔ سورہ ہود میں فرمایا جاتا ہے:
ولقد ارسلنا موسٰی باٰیاتنا وسلطان مبین۔ الٰی فرعون وملئہ فاتبعوا امر فرعون وما امر فرعون برشید۔ یقدم قومہ یوم القیامۃ فاردھم النار وبئس الورد المورود۔ واتبعوا فی ھذہ لعنۃ و یوم القیامۃ بئس الرفد المرفود۔ (سورہ ہود ۹۶۔۹۹)
(ترجمہ) ’’اور البتہ ہم بھیج چکے ہیں موسٰی کو اپنی نشانیاں اور واضح سند دے کر فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس۔ پھر وہ چلے حکم پر فرعون کے اور نہیں بات فرعون کی کچھ کام کی۔ آگے ہو گا اپنی قوم کے قیامت کے دن پھر پہنچائے گا ان کو آگ پر، اور برا گھاٹ ہے جس پر پہنچے۔ اور پیچھے ملتی رہی اس جہاں میں لعنت اور دن قیامت کے بھی، برا انعام ہے جو ان کو ملا۔‘‘
آیت مذکورہ بالا ’’یقدم قومہ الخ‘‘ کے جملے پر غور کریں، اگر اس کا ایمان عند اللہ معتبر ہوتا تو دوزخ کے وارد کرنے میں وہ سب سے آگے آگے کیوں ہوتا اور دنیا و آخرت میں لعنت کیوں اس پر کی جاتی؟ بالخصوص صاحبِ فصوصؒ کے اس قول کی بنا پر
فقبضہ طاھر او مطھر الیس فیہ شیئ من الحیف لانہ قبضہ عند ایمانہ قبل ان یکتسب شیئا من الاثام والاسلام یجب ما قبلہ۔
’’فرعون دنیا سے طاہر اور مطہر مرا، اس کے اندر کوئی گناہ نہیں رہا، کیونکہ اس کی موت قبل اس کے کہ کچھ گناہ کرے ایمان کے ساتھ ہو گئی۔ اور اسلام ما قبل گناہوں کو محو اور قطع کر دیتا ہے۔‘‘
تو اس آیت کے کوئی معنی ہی نہیں رہتے اور بالکل ہی مناقظہ لازم آتا ہے۔
نوٹ: یہ تاویل کرنا کہ ضمیریں صرف ملاء کی طرف راجع ہیں فرعون اس میں داخل نہیں ہے، خلافِ عربیت اور خلافِ لسانِ عربی ہے۔ بالخصوص جبکہ ’’یقدم‘‘ اور ’’قومہ‘‘ کی ضمیر خصوصیت کے ساتھ فرعون ہی کی طرف راجع ہوتی ہے اس لیے آئندہ کی ضمیری مجموعہ کی طرف ہی عائد ہوں گی۔
نیز یہ تاویل کہ وہ اپنی قوم کو تو داخل فی النار کرا دے گا مگر خود داخل نہیں ہو گا، بالکل غلط ہے۔ اگر اس کا امر بالمعصیت معصیت نہیں رہا تھا اور اسلام نے حسبِ ارشاد ’’یجب ما قبلہ‘‘ گزشتہ کو محو کر دیا تھا تو پھر یہ جزا ’’یقدم قومہ الخ‘‘ کیوں دی گئی اور وہ اگواکار کیوں بنایا گیا؟ اور جب کہ وہ طاہر اور مطہر ’’لیس فیہ شیئ من الحیف‘‘ ہے تو قیامت میں یہ معاملہ کیوں ہے؟ ایسے لوگوں کے لیے تو ارشاد کیا گیا ہے ’’لا یسمعون حسیسھا‘‘ نیز دوزخ کی گرمی اور تغیظ زفیر شہیق وغیرہ مسیرۃ سبعین سنہ تک پہنچتی ہے، کیا اس ایراد قوم میں وہ خود عذاب میں مبتلا نہیں ہو گا؟ سورہ قصص میں ہے:
واستکبر ھو وجنودہ فی الارض بغیر الحق وظنوا انھم الینا لا یرجعون۔ فاخذناہ وجنودہ فنبذناھم فی الیم فانظر کیف کان عاقبۃ الظالمین۔ وجعلناھم ائمۃ یدعون الی النار ویوم القیامۃ لا ینصرون۔ واتبعناھم فی ھذہ الدنیا لعنۃ و یوم القیامۃ ھم من المقبوحین۔ (سورہ قصص۳۹۔۴۲)
’’اور بڑائی کرنے لگے وہ اور اس کے لشکر ملک میں ناحق، اور سمجھے کہ وہ ہماری طرف پھر کر نہ آئیں گے۔ پھر پکڑا ہم نے اس کو اور اس کے لشکر کو پھر پھینک دیا ہم نے ان کو دریا میں سو دیکھ لیا کیسا انجام ہوا گنہگاروں کا۔ اور کیا ہم نے ان کو پیشوا کہ بلاتے ہیں دوزخ کی طرف اور قیامت کے دن ان کو مدد نہ ملے گی۔ اور پیچھے رکھ دی ہم نے ان پر اس دنیا میں پھٹکار اور قیامت کے دن ان پر برائی ہے۔‘‘
ان آیات پر غور فرمائیے، اشک بار کی معصیت میں فرعون کی نسبت خاص طور پر ذکر کی گئی اور پھر مابعد کی ضمیریں مجموعہ کی طرف عائد کی جا رہی ہیں۔ نیز ’’ائمہ یدعون الی النار‘‘ کا حقیقی مصداق خود فرعون ہے، اس کے ملا کے لوگ تو ثانیاً و بالعرض ہوں گے اور ان سب کو قیامت میں مقبوح فرماتے ہیں۔ کیا ایمان اور اس کے اثار کے ہوتے ہوئے یہ جزائیں مترتب ہو سکتی ہیں؟ آیت:
فوقاہ اللہ سیئات ما مکروا وحاق باٰل فرعون سوء العذاب۔ النار یعرضون علیھا غدوًا وعشیا ویوم تقوم الساعۃ ادخلوا اٰل فرعون اشد العذاب۔ (سورہ مومن۴۵۔۴۶)
’’پھر بچا لیا موسٰیؑ کو اللہ نے برے داؤں سے جو وہ کرتے تھے اور الٹ پڑا فرعون والوں پر بری طرح کا عذاب۔ وہ آگ ہے کہ دکھلا دیتے ان کو صبح اور شام، اور جس دن قائم ہو گی قیامت حکم ہو گا داخل کرو فرعون والوں کو سخت سے سخت عذاب میں۔‘‘
حضرت شیخؒ کی یہ تاویل کہ آلِ فرعون میں خود فرعون داخل نہیں ہے، قرآن کے محاورے کے خلاف ہے۔ فرمایا جاتا ہے ’’اعملوا اٰل داود شکرًا‘‘ (الآیۃ) میں بالاتفاق حضرت داؤدؑ مخاطب ہیں۔ اسی طرح آیت ’’ولقد اخذنا ال فرعون بالسنین‘‘ (الآیۃ) میں فرعون بھی بالاتفاق اس مواخذے میں داخل ہے۔ حضرت شیخ اکبرؒ بہت بڑے پائے کے بزرگ ہیں اور بہت بڑے محقق ہیں، اس لیے یہ قول یا تو درحقیقت ان کا ہے ہی نہیں بلکہ ان کی تصانیف میں ملاحدہ نے چھپا کر داخل کر دیا ہے جیسا کہ امام العارفین شیخ عبد الوہاب شعرانیؒ اور دیگر اکابر کے اقوال سے معلوم ہوتا ہے۔ اور اگر ان کا قول ہی ہو تو یقیناً اس میں ان سے خطا ہوئی ہے، وہ بڑے ہیں مگر معصوم نہیں ہیں، اس لیے جمہور کا قول صحیح ہے۔
حدیث قوی میں وارد ہے کہ اس کے اس قول کے وقت میں حضرت جبرائیلؑ نے دریا سے گارا نکال کر اس کے منہ میں بھر دیا کہ کہیں رحمتِ خداوندی اس کی نگرانِ کار نہ بن جائے ’’مخافۃ ان تدرکہ الرحمۃ‘‘ یہ فعل ان کا یقیناً بغض فی اللہ ہی کی بنا پر ہو سکتا ہے جو کہ اعلیٰ درجات ایمان میں سے ہے۔ مگر جو ہستی کہ ’’لا یعصون اللہ ما امرھم ویفعلون ما یؤمرون‘‘ کے مصادیق کی امام اور عند ذی عرش مکین مطاع اور امین ہو، بغیر مرضی خداوندی کب ایسا فعل اور عمل کر سکتی ہے۔ لہٰذا یہ جملہ تاوییلات غیر مرضی اور غیر قابلِ التفات ہیں، قدرتِ خداوندی میں کلام نہیں، واقعات سے بحث ہے، واللہ اعلم۔ رحمتِ الٰہی کی وسعت اور نصوص سے معلوم ہوتی ہے اسی پر منحصر نہیں ہے۔
دُشمنانِ مصطفٰی ﷺ کے ناپاک منصوبے
اور خلقِ محمدیؐ کی اعجاز آفرینیاں
پروفیسر غلام رسول عدیم
سچ کڑوا ہوتا ہے، یہ ہر دور کی مانی ہوئی حقیقت ہے۔ عرصۂ دہر میں جب بھی کوئی سچائی ابھری، ہر زمانے کے حق ناشناس لوگوں نے اس پر زبانِ طعن دراز کی بلکہ بسا اوقات مقابلے کی ٹھان لی۔ کیسے ممکن تھا کہ دنیا کی سب سے بڑی صداقت کا ظہور ہو اور وہ بغیر کسی پس و پیش کے تسلیم کر لی جائے۔ یہ صداقت سرزمینِ عرب سے ابھری تو ایک زمانہ اس کے درپے آزار ہو گیا۔ اپنے آپ کو منوانے کے لیے حقیقتِ ابدی کو مہینوں نہیں سالوں لگے تاہم
؏ حقیقت خود منوا لیتی ہے مانی نہیں جاتی
تئیس سال میں یہ عظیم صداقت مانی گئی اور اس شان سے مانی گئی کہ دنیا انگشت بدنداں رہ گئی
؏ فلک گفت احسن ملک گفت زہ
آفتابِ نبوت جلوۂ طراز ہوا تو اس کی جلوہ ریزیوں نے ایک عالم کو منور کر دیا مگر اس چمکتے اجالے میں بھی بعض شیرہ چشم اسلاف کی اندھی تقلید، ہوائے نفس اور سوسائٹی کی رسومِ باطلہ کے اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں مارتے رہے۔ صرف یہی نہیں کہ وہ اس تیرگی میں بھٹک رہے تھے بلکہ وہ اس خورشیدِ جہاں تاب کو اپنی پھونکوں سے بجھانے پر اتر آئے تھے۔ ان عقل کے اندھوں کو کیا معلوم تھا کہ
؏ پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
یریدون لیطفؤوا نور اللہ بافواھھم واللہ متم نورہ ولو کرہ الکافرون (الصف ۸)
(وہ (کفار) چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے مونہوں سے بجھا دیں (درآنحالیکہ) اللہ اپنے نور کو مکمل کر کے رہے گا خواہ یہ بات کافروں کو ناگوار ہی کیوں نہ گزرے۔)
سرورِ عالمؐ کی مکی زندگی کے تیرہ برس میں کفار و مشرکین نے انتہائی کوشش کی کہ وہ نخلِ اسلام کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکیں، جب آقائے دو جہاںؐ نے مدینے کو مستقر بنایا تو یہود و منافقین نے اپنی ناپاک سازشوں سے شجرِ اسلام کے استیصال میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا۔ وہ بے بصر نہیں جانتے تھے کہ اس درخت کے مالی نے اسے ہر طرح کی آندھیوں اور طوفانوں سے محفوظ و مصون رکھنے کا عہد کر رکھا ہے
انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحٰفظون۔ (الحجر ۹)
(ہم نے یہ نصیحت اتار دی ہے اور بے شک ہم اس کے نگہبان ہیں۔)
کج فکر معاندین اس نکتے کو سمجھنے سے قاصر تھے کہ جب ایک عظیم الشان انسان کو مامور کیا جا رہا ہے تو کیا اس انسانِ کامل کو دشمنوں کے قبضے میں دے کر اس کی ماموریت کو معرضِ خطر میں ڈال دیا جائے گا۔ دشمنوں کا مامور من اللہ کو ہلاک کرنا اصل میں اللہ کی ماموریت کو کھلا چیلنج ہے، اس لیے آمر نے مامور کی حفاظت کی پوری پوری ذمہ داری کا اعلان فرما دیا
واللہ یعصمک من الناس۔ (المائدہ ۶۷)
(اور اللہ آپ کو لوگوں سے محفوظ رکھے گا)۔
اسی فکری نارسائی کی بنا پر کبھی ایسا ہوا کہ ایک شخص نے انفرادی سطح پر سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے خاتمے کی کوشش کی جیسے مکی دور میں عقبہ بن ابی معیط نے حضورؐ کے گلے میں چادر لپیٹ کر اس زور سے بل دیا کہ گردن مبارک بھنچ گئی۔ قریب تھا کہ دم گھٹ جائے، اتنے میں صدیق اکبرؓ آ پہنچے، عقبہ کو دھکے دے کر الگ کیا اور یہ آیت پِڑھی:
اتقتلون رجلا ان یقول ربی اللہ وقد جاءکم بالبینات (مومن ۲۸)
(کیا تم ایسے شخص کو مار ڈالتے ہو جو یہی تو کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے اور وہ تمہارے پاس روشن دلائل لے کر آیا ہے۔)
کبھی آپ کو گرفتار کر کے اعدائے اسلام کے قبضے میں دینے کی کوشش بھی کی گئی اور یہ گرفتاری جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی تھی جیسے سفرِ ہجرت میں سراقہ بن مالک بن جعشم نے تعاقب کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گرفتار کرنا چاہا۔ شعبِ ابی طالب میں تین سال کی محصوری پورے معاشرے کی طرف سے ہلاکتِ رسولؐ ہی کا ایک حربہ تھا۔ لیکن ان تخریبی سرگرمیوں اور اسلام دشمن کارروائیوں میں سب سے زیادہ گھناؤنے اور مکروہ جرم وہ تھے جو سرورِ کائنات کے قتل کے ناپاک منصوبوں کی صورت میں ظاہر ہوئے۔ ادھر دشمنانِ بداندیش قتل کے منصوبے سوچتے، سازشی میٹنگیں ہوتیں، قاتلانہ حملے کیے جاتے، ادھر شانِ رحمۃ للعالمین اور زیادہ نکھر کر سامنے آتی۔ خنجر بدست قاتل خلقِ محمدیؐ کے گھائل ہو کر لوٹتے۔ شکاری خود شکار ہوتے اور کارکنانِ قضا و قدر پکار اٹھتے
؏ لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا
پہلا منصوبہ
کتبِ سیرت میں یہ واقعات بکھرے پڑے ہیں۔ ان سطور میں انہیں اجزائے پریشاں کو یکجا کیا جا رہا ہے۔ ابھی کوئی چالیس مرد اور گیارہ عورتیں حلقہ بگوش اسلام ہوئی تھیں۔ نبوت کا چھٹا سال تھا۔ ایک روز جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کی چیرہ دستیوں اور مسلمانوں کی کمزوری کے پیشِ نظر بارگاہِ ایزدی میں دعا کی
اللھم اید الاسلام بابی الحکم بن ھشام او بعمر بن الخطاب۔
دعا درِ اجابت تک پہنچی۔ ادھر عمر بن خطاب (جو اس وقت تک مسلمانوں کے سخت دشمن تھے) کی بہن فاطمہ اور بہنوئی سعید بن زید مشرف باسلام ہو چکے تھے۔ عمر اس راز سے واقف نہ تھے، وہ تلوار لٹکائے ہوئے کوہِ صفا کے دامن میں دارِ ارقمؓ کی طرف اس ارادے سے چلے کہ آج محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی زندگی کا خاتمہ کرنے جاتا ہوں۔ راستے میں نعیمؓ بن عبد اللہ سے ملاقات ہوئی۔ یہ بھی درِپردہ مسلمان ہو چکے تھے، تیور دیکھ کر نیت کا فتور بھانپ گئے، پوچھا کہاں کا ارادہ ہے؟ عمر نے مدعا بیان کیا۔ نعیم بولے، پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر تم یہ کام کر بھی گزرے تو کیا بنی عبد مناف تمہیں یونہی زندہ چھوڑ دیں گے۔ دوسرے یہ کہ پہلے اپنے گھر کی خبر تو لو، تمہاری بہن اور بہنوئی حلقہ بگوش اسلام ہو چکے ہیں۔ عمرؓ کے غیض و غضب کی انتہا نہ رہی، فورًا لوٹے، بہن کے گھر آئے، اندر سے تلاوتِ کلامِ الٰہی کی آواز سنائی دی، دروازہ کھٹکھٹایا تو انہوں نے حضرت خباب بن الارتؓ کو الگ کر دیا، اوراق چھپا لیے۔ عمر نے آ کر پوچھا تو یہ طرح دے گئے، اس پر وہ بہنوئی پر پل پڑے، بہن بیچ میں آئیں تو ان کو بھی لہولہان کر دیا۔ پانی سر سے گزر گیا تو دونوں میاں بیوی نے کھل کر کہہ دیا
قد اسلمنا و اٰمنا باللہ ورسولہ فاصنع بذالک۔
’’ہم تو مسلمان ہو گئے ہیں اللہ اور اس کے رسولؐ پر ایمان لا چکے ہیں، آپ سے جو کچھ ہو سکے کر دیکھیئے۔‘‘
اب عمرؓ پسیجے، دل کی دنیا بدل چکی تھی، منصوبۂ قتل خاک میں مل گیا۔ قبولیت ِاسلام کا میلان دکھایا، آیاتِ الٰہی سننے کی فرمائش کی۔ بہن نے غسل کروا کر کپڑے بدلوائے، حضرت خباب بن الارتؓ بھی نکل آئے، اس سوز سے قرآن پڑھا کہ عمرؓ کی تقدیر پلٹ گئی۔ سورہ حدید تلاوت کی جا رہی تھی۔ ساتویں آیت پر ہی جب ’’امنوا باللہ ورسولہ‘‘ تک پہنچے تو عمر جنہیں فاروقِ اعظم بننا تھا بے اختیار پکار اٹھے
اشھد ان لا الٰہ الا اللہ واشھد ان محمدا رسول اللہ۔
تھوڑی ہی دیر بعد عمرؓ مرادِ رسولؐ بن کر سرِ تسلیم خم کیے دارِ ارقم ؓ کی جانب بڑھ رہے تھے۔ سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم چند اصحابؓ کی معیت میں یہیں تشریف رکھتے تھے۔ حضراتِ حمزہؓ، ابوبکرؓ، علیؓ اور دیگر شائقینِ اولین خدمتِ اقدس میں حاضر تھے۔ شمشیر بدست قاتل پیغامِ نبوی (قرآن) کا گھائل ہو چکا تھا۔ کسی نے بند دروازے سے جھانک کر دیکھا، سہمے ہوئے انداز میں عرض کیا، یا رسول اللہ! عمرؓ آ رہا ہے۔ حمزہؓ بولے، اگر خیر کی نیت سے آیا ہے تو آنے دو ورنہ اس تلوار سے اس کا سر قلم کر دیں گے۔ یہ آن پہنچے۔ اجازت ملی، اندر آ گئے۔ سرورِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے زور سے چادر کھینچ کر آنے کا سبب دریافت فرمایا۔ سر نیہوڑائے ہوئے عمرؓ بولے
یا رسول اللہ جئتک لاؤمن باللہ و برسولہ و بما جاء من عند اللہ۔
’’یا رسول اللہ! اللہ اور اس کے رسول اور قرآن پر ایمان لانے کی غرض سے حاضر ہوا ہوں۔‘‘
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نعرۂ تکبیر بلند کیا، فضائے مکہ نعرہ ہائے تکبیر سے گونج اٹھی، کعبے میں اذان و نماز کا اہتمام ہوا۔
دوسرا منصوبہ
سرزمینِ مکہ تخمِ ایمان کی نشوونما کے لیے زرخیز ثابت نہ ہوئی۔ وہ شاخِ ہاشمی جسے ایک روز برگ و بر پیدا کرنے تھے مکہ مکرمہ کی ناخوشگوار فضا میں پنپ نہ سکی تو ؎
عقیدۂ قومیت مسلم کشود
ازوطن آقائےؐ ہجرت نمود
نبوت کے تیرہویں سال اکثر مسلمان راہِ خدا میں اپنے گھر کو خیرباد کہہ کر کوئی پونے تین سو میل دور یثرب میں جا مقیم ہوئے تھے۔ قریش محسوس کر رہے تھے کہ ایک دن رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی مکہ چھوڑ دیں گے۔ اس خطرے کے پیشِ نظر مکہ کے پبلک ہال دارالندوہ میں ایک خصوصی اور ہنگامی اجلاس ہوا جس میں ایک بہت بڑی سازش کا منصوبہ بنایا گیا۔ اس میٹنگ میں ایک دو نہیں مکے کی غیر مسلم اکثریت کے سارے ہی نمائندے شریک تھے۔ دوسروں کے علاوہ قریش کے سات قبیلوں کے چودہ سربرآوردہ لیڈر پیش پیش تھے۔ ان کی تفصیل یوں ہے:
(۱) بنو نوفل سے طعیمہ بن عدی، جبیر بن مطعم، اور حوث بن عامر بن نوفل
(۲) بنو عبد الشمس سے عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، اور ابو سفیان بن حرب
(۳) بنو عبد الدار بن قصی سے نفر بن حارث بن کلدہ
(۴) بنو اسد بن عبد العزٰی سے ابو البختری بن ہشام، زمعہ بن اسود بن عبد المطلب، اور حکیم بن حزام
(۵) بنو مخزوم سے ابوجہل بن ہشام
(۶) بنو سہم سے منیہ بن حجاج اور منبہ بن حجاج
(۷) بنو حمح سے امیہ بن خلف
بھانت بھانت کی بولیاں بولی جانے لگیں، طرح طرح کی تجویزیں زیرغور آئیں، ایک بولا اسے زنجیروں میں جکڑ کر محبوس کر دیا جائے۔ اس پر ایک شیخ صورت ابلیس نے کہا بنی عبد مناف اور پیروانِ اسلام اسے چھڑا لیں گے۔ دوسرے نے مشورہ دیا کہ کیوں نہ اسے جلا وطن کر دیا جائے، پھر وہ جانے اور اس کا کام۔ اس پر پھر بڈھا ابلیس بولا، اس کی شیرینی بیان سے تو تم سب واقف ہو، جلاوطنی سے وہ پورے عرب میں معروف و مقبول ہو جائے گا۔ آخر الامر مخزومی گرگ باراں دیدہ ابوجہل بن ہشام کی یہ تجویز اتفاق رائے سے منظور ہوئی کہ تمام قبائل میں سے چند تجربہ کار تیغ زن چن لیے جائیں اور وہ یکبارگی محمدؐ پر ٹوٹ پڑیں۔ اس طرح بنو عبد مناف کو کسی ایک فرد یا قبیلے کی بجائے تمام قبائل سے ٹکر لینا پڑے گی، وہ ان سے لڑنا تو کیا دیت کا مطالبہ بھی نہیں کر سکیں گے، ان میں ان سے نپٹنے کی ہمت ہی نہیں، ان کے پیروکار بھی سب کو موردِ انتقام نہیں بنا سکیں گے۔
اللہ اللہ دارالندوہ میں یہ سازش کی جا رہی ہے اور رب ذوالجلال اس سازش کی ناکامی کا بھرپور اعلان فرما رہے ہیں:
واذ یمکر بک الذین کفروا لیثبتوک او یقتلوک او یخرجوک، ویمکرون ویمکر اللہ، واللہ خیر الماکرین (الانفال ۳۰)
(اور کفار جب آپؐ کے خلاف تدبیریں سوچ رہے تھے کہ آپ کو قید کر دیں یا قتل کر ڈالیں یا جلاوطن کر ڈالیں، وہ داؤ پر تھے اللہ ان کے داؤ کو غلط کر رہا تھا، اور اللہ چالوں کو سب سے بہتر ناکام بنانے والا ہے۔)
ادھر اس منڈلی نے یہ تجویز پاس کی، ادھر سرور عالمؐ نے باشارۂ وحیٔ الٰہی ہجرت کا ارادہ فرمایا۔ حضرت ابوبکرؓ کو ان کی درخواست پر شرفِ معیت بخشنے کے لیے پہلے ہی مطلع فرما دیا۔ عم زاد حضرت علیؓ سے ارشاد فرمایا، آج میری خضری سبز چادر اوڑھ کر میرے بستر پر سو رہنا اور صبح کے وقت یہ امانتیں ان کے مالکوں کے سپرد کر کے مدینے چلے آنا۔
جب رات کی تاریکی چھائی تو معاندینِ مکہ کی شمشیرباز ٹولی مجوزہ پروگرام کے تحت اپنی ڈیوٹی پر آن حاضر ہوئی۔ خانۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا محاضرہ کر لیا۔ سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم ایک تہائی رات گزرنے پر سورہ یس کی تلاوت کرتے ہوئے باہر نکلے۔ محاصرین پر گویا مدہوشی طاری ہو گئی، حضورؐ آیت پر پہنچے تو زبانِ مبارک سے یہ الفاظ نکلے:
وجعلنا من بین ایدیھم سدًا ومن خلفھم سدًا فاغشینھم فھم لا یبصرون (یس ۹)
(ہم نے ایک دیوار ان کے آگے کھڑی کر دی اور ایک دیوار ان کے پیچھے، ہم نے انہیں ڈھانک دیا ہے، انہیں اب کچھ نہیں سوجھتا)
ایک مٹھی خاک محاصرین کے سروں پر پھینکی اور باہر نکل آئے۔ حضرت ابوبکرؓ کے گھر پہنچے جو پہلے سے چشم براہ تھے، یہاں سے شہر مکہ سے جنوبی جانب غارِ ثور میں پہنچ گئے۔ یہ ناپاک منصوبہ بھی ناکام ہو گیا۔ کیوں نہ ہوتا، خدائے عزوجل نے اپنے محبوب کی محافظت کا خود بندوبست فرما دیا تھا۔
تیسرا منصوبہ
۱۷ رمضان المبارک ۲ھ کو میدانِ بدر میں کفر و اسلام کا پہلا معرکۂ کارزار گرم ہوا۔ مسلمانوں کو عظیم فتح ہوئی۔ قریش خائب و خاسر لوٹے۔ ان کے دل و دماغ میں شکست خوردگی کے بعد بغض وعناد کا الاؤ جل رہا تھا۔ کہاں غلامانِ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم پر جور و جفا کے پہاڑ توڑنا اور کہاں یہ ذلت آمیز ەزیمت
؏ہر شخص جل رہا تھا عداوت کی آگ میں
عمیر بن وہب اور صفوان بن اُمیہ بھی انہی معاندین اور آتشِ زیرپا لوگوں میں سے تھے جن کے لواحقین یا تو میدانِ بدر میں کام آئے یا بحالتِ اسیری تھے۔ دونوں بدر کے اگلے روز مکہ سے باہر ایک ویران جگہ میں ملے۔ صفوان کا باپ امیہ مقتولین بدر میں سے تھا اور عمیر کا بیٹا وہب مدینے میں بنی زریق کے رفاعہ بن رافع کا قیدی تھا۔ آتشِ غضب و عداوت میں جلتا ہوا عمیر بولا، اگر مجھ پر قرض نہ ہوتا اور مجھے اپنے اہل و عیال سے فراغت ہوتی تو میں مدینے جا کر محمدؐ کا کا سر قلم کر دیتا۔ صفوان جو قتلِ پدر کا زخم کھائے ہوئے پہلے ہی بھرا بیٹھا تھا، جھٹ بول اٹھا، میں تیرا قرض چکا دوں گا اور تاحیات تیرے بال بچوں کی کفالت کروں گا، تو یہ کام کر گزر۔ دونوں یہ باتیں مکمل تنہائی میں کر رہے تھے، چنانچہ رازداری کا عہد و پیمان ہوا۔ عمیر نے اپنی تلوار تیز کی اور سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کے ارادے سے مدینے کی راہ لی۔
مدینے پہنچا تو مسجد نبویؐ کے سامنے اونٹ بٹھایا۔ ادھر حضرت عمرؓ دوسرے مسلمانوں کے ساتھ فتح بدر کے بارے میں فضلِ خداوندی پر بات چیت کر رہے تھے۔ اونٹ کے بلبلانے سے عمیر کو دیکھا، دیکھتے ہی سمجھے کہ یہ شیطان بے سبب نہیں آیا، ضرور اس کی نیت میں فتور ہے۔ اس کی تلوار کے قبضے کو سنبھال گردن سے پکڑ کر بارگاہِ نبوت میں پہنچے۔ رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اسے چھوڑ دو۔ پھر اس سے آنے کا سبب دریافت فرمایا۔ بولا، اپنے بیٹے وہب بن عمیر کی رہائی کے لیے حاضر ہوا ہوں۔ پھر استفسار فرمایا، آمد کی اصل وجہ کیا ہے؟ پھر وہ ٹال گیا۔ اس پر بصیرتِ نبویؐ کا اعجاز رنگ لایا۔ فرمایا، کیا تم اور صفوان بن امیہ سنسان جگہ میں بیٹھے قریش کے اصحاب القلیب کی باتیں نہیں کر رہے تھے؟ پھر تو نے صفوان بن امیہ سے نہیں کہا تھا کہ اگر مجھ پر قرض کا بار نہ ہوتا اور اہل و عیال کا بار نہ ہوتا تو میں محمدؐ کو قتل کر دیتا اور اس نے ذمہ اٹھا لیا تھا۔ عمیر بول اٹھا ’’اشھد انک رسول اللہ‘‘ یا رسول اللہ ہم آپ کی سماوی خبروں کی تکذیب کیا کرتے تھے مگر یہ بات تو میرے اور صفوان کے علاوہ کسی تیسرے شخص کو معلوم نہ تھی، ’’فالحمد للذی ھدانی للاسلام‘‘۔
چوتھا منصوبہ
کعب بن اشرف یہودی جو مدینے میں سرورِ عالمؐ کا بدترین دشمن تھا، یہودیت کا پرجوش حامی و مبلغ تھا، بڑا قادر الکلام شاعر تھا، بدر میں مشرکین مکہ کی عبرت ناک شکست کے بعد مکے جا کر مقتولین بدر کے مرثیے پڑھ پڑھ کر مرد و زن کو رلاتا اور آمادۂ انتقام کرتا۔ واپس مدینے آیا تو سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف دریدہ دہنی کو اپنا شعار بنا لیا۔ نابکار جگہ جگہ ہجوِ رسولؐ کرتا۔ اس کے دل میں اس قدر بغض و عناد بھرا ہوا تھا کہ اس نے قصد کیا کہ چپکے سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرا دے مگر قرآن کے اس فیصلے ’’ولا یحیق المکر السیئ الا باھلہ‘‘ (بری چال چلنے والے ہی کو لے بیٹھتی ہے) کے مصداق خود ہی محمد بن مسلمہؓ کے ہاتھوں کیفر کردار کو پہنچا۔
پانچواں منصوبہ
حادثہ فاجقہ بئرمعونہ (صفر ۴ھ) کے بعد حضرت عمرو بن امیہؓ الضمری جب مدینے کی راہ میں ایک درخت کے نیچے آرام کر رہے تھے، قبیلۂ بنی عامر کے دو شخص اسی درخت کے نیچے آ کر ٹھہر گئے۔ عمرو بن امیہؓ شہدائے بئرمعونہ کے غم سے نڈھال بھی تھے اور بنی عامر کی قساوت پر غصے سے بھرے ہوئے بھی۔ انہوں نے ان دونوں کو دشمن جان کر موت گھاٹ اتار دیا حالانکہ حضورؐ ان دونوں کو جان کی امان دے چکے تھے۔ جب اس واقعہ کی اطلاع سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تو بئر معونہ میں اس قبیلے کے مظالم کے باوجود فرمایا ان کی دیت مجھے ادا کرنا ہو گی۔ قبیلۂ بنی عامر یہود کے قبیلۂ بن نضیر کا حلیف تھا۔ چنانچہ سرور عالمؐ یہود کے قبیلہ بنی نظیر میں اس غرض سے تشریف لے گئے کہ ان سے قبیلہ بنی عامر کے خون بہا کے بارے میں استفسار فرمائیں کہ ان کے ہاں دیت کا دستور ہے۔ حضورؐ کی تشریف آوری پر بنی نضیر نے اس سلسلے میں بظاہر مثبت رویے کا اظہار کیا اور کہا کہ جس طرح حضورؐ چاہیں اسی طریقے سے دیت ادا کر دیں۔
پھر یہ نابکار الگ ہوئے اور مشورہ کیا کہ اس سے اچھا موقع کیا ملے گا؟ حضورؐ دیوار کے قریب ہیں، کوئی دیوار پر چڑھ کر پتھر لڑھکا دے۔ بدبخت عمرو بن حجاش بن کعب نے اس کام کا بیڑا اٹھا لیا۔ وہ کوٹھے پر چڑھا ہی تھا کہ سرورعالمؐ نے فراستِ نبوی اور اطلاع غیبی سے معلوم کر لیا کہ دال میں کچھ کالا ہے۔ آپؐ اس جگہ سے فی الفور ہٹ گئے، اٹھے اور واپس مدینہ تشریف لے آئے۔ اس سفر میں حضرات ابوبکرؓ، عمرؓ اور علیؓ بھی شرف ہمسفری سے مشرف تھے۔ کعب بن اشرف کے ناپاک منصوبے کے بعد قتلِ رسولؐ کا یہ منصوبہ بھی خاک میں مل گیا۔
چھٹا منصوبہ
مشرکین مکہ غزوۂ احزاب ۵ھ تک اپنے کس بل دکھاتے رہے مگر اس جنگ نے ان کی سیاسی طاقت قریب قریب ختم کر دی۔ مگر اب مدینے کے یہودی اور منافق سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے بدترین دشمن تھے۔ کعب بن اشرف کے انفرادی اور بنی نضیر کے اجتماعی منصوبۂ قتل کے بعد یہود نے ایک اور منصوبہ بنایا۔ ۷ھ میں خیبر فتح ہوا۔ حضورؐ ابھی خیبر ہی میں تشریف رکھتے تھے کہ سلام بن مشکم یہودی کی بیوی زینب بنت الحرث نے پورے فتورِ نیت سے حضورؐ کی دعوت کی، بکری کا گوشت پکایا اور اس میں زہر ملا دیا۔ یہ تک معلوم کر لیا کہ حضورؐ بکری کے گوشت کا کونسا حصہ زیادہ پسند فرماتے ہیں۔ چنانچہ اس حصے کو زیادہ مسموم کر دیا۔ جب حضورؐ نے کھانا تناول فرمانے کے لیے دستِ مبارک بڑھایا تو اعجازِ نبوت کی اثر آفرینی سے گوشت کے زہریلا ہونے کا راز آپؐ پر منکشف ہو گیا، فی الفور کھانے سے دست کش ہو گئے۔ ایک روایت میں ہے کہ تھوڑا سا چکھا بھی تھا۔
ایک صحابی بشیر بن برا بن المعرور نے ایک لقمہ کھا لیا، کھانے سے فورًا ہاتھ اس لیے نہ کھینچا کہ حضورؐ کے سامنے سوء ادبی ہو گی، وہ موقع پر یا بروایت ایک سال بعد انتقال کر گئے۔ بعد میں حضورؐ نے اس عورت کو بلایا، پوچھنے پر عورت نے گوشت مسموم کرنے کا اقرار کر لیا۔ اس سازش کے اصل مجرموں سے، جو پس منظر میں رہے تھے، پوچھ گچھ کی گئی تو وہ بھی اس ارادۂ قتل کے معترف ہو گئے مگر ایک اچھا سا بہانہ تراش لیا کہ ہم نے ایسا بغرضِ امتحان کیا تھا کہ اگر آپ واقعی اللہ کے سچے رسول ہیں تو آپ کو خبر ہو جائے گی، مگر حقیقت یہ ہے یہ یہود کا خبثِ باطن اور عذرِ گناہ بد تر اَز گناہ تھا۔
ساتواں منصوبہ
سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم ایک روز ایک درخت کے سائے میں استراحت فرما رہے تھے، تلوار ایک شاخ کے ساتھ لٹکا دی تھی، غوث بن الحرت آیا اور چپکے سے تلوار سنبھال لی، بڑی گستاخی سے سرورِ عالمؐ کو بیدار کر کے کہا، اب تمہیں کون بچا سکتا ہے؟ آپؐ نے نہایت اطمینان سے فرمایا، اللہ! وہ رعبِ نبویؐ سے سہم کر گرا۔ حضورؐ نے تلوار سنبھال لی اور یہی سوال اس سے کیا۔ وہ حیرت زدہ رہ گیا، لرزنے لگا، آپؐ نے فرمایا، جاؤ میں بدلہ نہیں لیا کرتا۔
آٹھواں منصوبہ
ہجرت کا آٹھواں سال تھا مکہ فتح ہو گیا ’’جاء الحق و زھق الباطل ان الباطل کان زھوقا‘‘ (الاسراء ۸۱)۔ فضائے مکہ نعرہ ہائے تکبیر سے گونج رہی تھی، ۳۶۰ بت منہ کے بل گر کر ٹوٹ پھوٹ گئے تھے۔ فتح مکہ سے اگلے روز حضور صلی اللہ علیہ وسلم مصروفِ طواف تھے، ایک بداندیش فضالہ بن عمیر نے موقع دیکھ کر قتل کا منصوبہ بنایا۔ شاید اس وقت آپ اکیلے تھے، پوری طمانیت سے طواف فرما رہے تھے۔ فضالہ فتور بھری نیت سے قریب آیا، زبانِ نبوت سے نکلا فضالہ آتا ہے؟ عرض کیا، ہاں۔ فرمایا، تمہارے دل میں کیا ارادہ ہے؟ فضالہ بولا، ذکر الٰہی کر رہا ہوں۔ ملہم بالغیبؐ کے حسین چہرے پر تبسم کی کلیاں مہکیں اور یوں گویا ہوئے، اپنے لیے خدا سے معافی مانگو۔ اور ساتھ ہی اس جانِ رحمت نے اپنا دست مبارک فضالہ کے سینے پر رکھ دیا۔ فضالہ کہتے ہیں کہ مجھے اس قدر سکون و طمانیت ملی اور دل میں حضورؐ کی محبت اس درجہ موجزن ہوئی کہ آپؐ سے بڑھ کر میری نگاہوں میں کوئی چیز محبوب نہ رہی۔
اگلے ہی لمحے وہ دشمنِ جان عاشقِ زار رسولؐ بن کر حلقۂ اسلام میں داخل ہو چکا تھا۔ طواف سے فارغ ہو کر گھر کو چلا تو راہ میں اس کی معشوقہ ملی، پکاری، فضالہ! بات تو سنو۔ فضالہ نے سنی اَن سنی کرتے ہوئے جواب دیا، خدا اور اس کا رسول ایسی باتوں سے منع فرماتے ہیں۔
نواں منصوبہ
۹ھ میں جنگِ تبوک سے واپس ہو رہے تھے کہ منافقین نے قتلِ رسولؐ کا منصوبہ بنایا۔ تبوک سے واپسی پر یہ ٹولی آپس میں بڑی زہرناک گفتگو کر رہی تھی۔ باہمی مشورے سے طے یہ کیا گیا کہ جب رات کی تاریکی میں مسلمان پہاڑ سے گزر رہے ہوں تو حضورؐ کو عقبہ سے نیچے گرا کر ہلاک کر دیا جائے۔ بدبخت جلاس بن سوید نے کہا، آج رات ہم محمدؐ کو عقبہ سے گرائے بغیر نہ رہیں گے، چاہے محمدؐ اور ان کے ساتھی ہم سے بہتر ہی ہوں، مگر ہم لوگ بکریاں ہیں اور یہ ہمارے چرواہے بن گئے ہیں، گویا ہم بے عقل ہیں اور یہ سیانے۔ اس نے یہ بات بھی کہی کہ اگر یہ شخص سچا ہے تو ہم گدھوں سے بھی بدتر ہیں۔ ان میں حصن بن نمیر وہ شخص تھا جو صدقے تک کی کھجوریں لوٹ لے گیا تھا اور چور بھی تھا۔ منافق طعیمہ بن ابیرق نے کہا، آج کی رات جاگو تو سلامت رہو گے، تمہارا کوئی کام اس کے سوا نہیں ہے کہ اس شخص کو قتل کر دو۔ مرّہ نے کہا، بس ہم اگر اس ایک شخص کو قتل کر دیں تو سب کو اطمینان ہو جائے گا۔
یہ منافق تعداد میں کل بارہ تھے۔ اہلِ سیر نے ان کے نام گنوائے ہیں۔ ابو عامر جو راہب کہلاتا تھا اور حضرت حنظلہؓ (غسیل الملائکہ) کا باپ تھا، ان کا سردار تھا۔ (۱) عبد اللہ بن ابی (۲) سعد بن ابی سرح (۳) ابا خاطر الاعرابی (۴) عامر (۵) ابو عامر راہب (۶) جلاس بن سوید (۷) مجمع بن جاریہ (۸) ملیح الیتمی (۹) حصن بن نمیر (۱۰) طعیمہ بن ابیرق (۱۱) عبد اللہ بن عیینہ (۱۲) مرہ بن ربیع۔
منصوبۂ قتل یوں تھا کہ جب وہ سازش کر رہے تھے، سرِشام ہی سرورِ عالمؐ نے اشارۂ غیبی اور فراستِ نبویؐ سے ان کی بدنیتی کو بھانپ لیا۔ ارشاد فرمایا، جو کوئی وادی کے کشادہ راستے سے گزرنا چاہے ادھر چلا جائے، مگر خود گھاٹی (عقبہ) سے گزرنے کا ارادہ فرمایا۔ حضرت حذیفہؓ بن یمان ناقہ کو ہانک رہے تھے اور عمار بن یاسرؓ ناقۂ رسولؐ کی نکیل تھامے چل رہے تھے۔ رات تاریک ہو گئی تو یہ بارہ منافق نقاب پوش ہو کر حملہ آور ہوئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آہٹ پا کر حذیفہؓ سے ارشاد فرمایا کہ انہیں آگے آنے سے روکیں۔ حذیفہؓ نے مڑ کر ایک شخص کے اونٹ کی تھوتھنی پر ترکش مارا۔ وہ سمجھے کہ راز فاش ہو گیا۔ جلدی سے مڑے۔ ادھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ناقہ کو تیز ہانکنے کا حکم دیا۔ عقبہ سے سلامت گزر گئے۔ حذیفہؓ سے ان کے نام بیان فرمائے اور یہ بھی فرمایا کہ یہ مجھے قتل کرنا چاہتے تھے مگر عالمِ الغیب نے بروقت مجھے خبردار کر دیا۔
سیرت ابن ہشام میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کو ایک ایک منافق کو بلا کر اس سے استفسار فرمایا، کسی نے معذرت کی، کوئی شرم سے گڑ گیا، بعض مرتد ہو گئے۔ خالقِ کائنات نے انہی کی بابت قرآن کریم میں بدیں الفاظ تبصرہ فرمایا ’’وھمّوا بما لم ینالوا‘‘ (التوبہ ۷۴)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی گئی کہ آپؐ ہر قبیلے کو حکم دیں کہ وہ اپنے منافق کا سر کاٹ کر حضورؐ کی خدمت میں پیش کرے مگر شانِ رحمت للعالمینی آڑے۔ فرمایا، میں پسند نہیں کرتا کہ عربوں میں یہ چرچا ہو کہ محمدؐ نے کچھ لوگوں کو ساتھ لے کر اپنے دشمنوں پر غلبہ پایا پھر ان ساتھیوں کو قتل کر دیا۔ اس شانِ کرم، جانِ عفو اور سراپائے حلم نے ان خون کے پیاسوں کو معاف فرما دیا۔ جان کے بیریوں کو محبتِ فاتحِ عالم نے اپنا بنایا۔ عناد بھرے سینوں کو شفقت و رأفت سے معمور کر دیا۔
وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ حبیبہ سیدنا محمد واٰلہ وصحبہ و بارک وسلم۔
آزاد جموں و کشمیر ۔ پاکستان میں نفاذِ اسلام کے قافلے کا ہراول دستہ
ادارہ
آج سے ۴۲ سال قبل جب ہندوستان کی تقسیم کے فارمولے پر دستخط کیے گئے تو یہ ضابطہ بھی متفقہ طور پر طے کیا گیا کہ وہ ریاستیں جو انگریز کی عملداری میں شامل نہیں اور جن پر مستقل طور پر راجے اور دیگر حکمران حکمرانی کر رہے ہیں، ان میں جس ریاست میں ہندو اکثریت میں ہوں مگر حاکم مسلمان ہوں وہ ہندوستان میں شامل ہوں گی، اور جہاں جہاں مسلمان اکثریت میں ہوں اور حاکم ہندو ہو وہ پاکستان میں شامل ہوں گی۔ ہندوستان نے اپنی روایتی مکاری سے کام لیتے ہوئے اس اصول کی دھجیاں فضائے آسمانی میں بکھیر دیں اور یوں مناور، جوناگڑھ، حیدرآباد، گوا اور کشمیر پر قبضہ جما لیا۔
اکتوبر ۱۹۴۷ء میں جب وادیٔ کشمیر میں مہاراجہ ہری سنگھ کی عیاری اور ہندوستان کے غاصبانہ قبضہ کے خلاف کشمیر مجاہدین اٹھ کھڑے ہوئے اور قبائلی مسلمانوں نے ان کی مدد کے لیے وادی پر یلغار کی تو ہندوستان کی بزدل افواج کے پاؤں اکھڑ گئے۔ مجاہدین سری نگر کے ہوائی اڈے تک پہنچ گئے اور یہ حسین وادی آزادی سے چند قدم دور رہ گئی کہ بعض ناعاقبت اندیش لیڈروں نے ہندوستان کی چیخ و پکار پر جنگ بندی قبول کر لی اور اقوام متحدہ کے دامِ فریب میں آ کر نام نہاد رائے شماری کی قرارداد کو قبول کر لیا گیا۔ یوں ایک کروڑ بیس لاکھ مسلمانوں کو پھر سے غلامی کی زنجیروں میں دھکیل دیا گیا، تاہم وادی کا ایک حصہ جسے ایک تہائی حصہ قرار دیا جا سکتا ہے، ہندوستان کے پنجۂ استبداد سے آزاد کرا لیا گیا، اس آزاد حصے کو آج کل ’’آزاد جموں و کشمیر‘‘ کہا جاتا ہے۔
وادیٔ کشمیر کے لوگوں کو اسلام سے گہری محبت ہے اور بیشتر لوگ اسلامی احکام کے پابند ہیں۔ ۱۹۴۷ء سے ۱۹۷۲ء تک مختلف حکومتیں آزاد کشمیر میں برسرِ اقتدار رہیں اور اپنی اپنی بساط کے مطابق کسی حد تک ریاست کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کی مگر پاکستان کی وزارت اور کشمیر کے بزرجمہروں نے ان کی ایک نہ چلنے دی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ صحیح طریقہ سے اسلامی قوانین کی تنفیذ ناممکن ہو گئی۔
مجاہدِ اول سردار محمد عبد القیوم خان کا دورِ حکومت
۱۹۷۲ء میں سردار محمد عبد القیوم خان ایک منتخب حکمران کی حیثیت سے آزادکشمیر کی صدارت پر متمکن ہوئے اور اپنی جرأتمندانہ قیادت کے نتیجے میں وزارتِ امورِ کشمیر کی بالادستی سے نجات حاصل کی اور فوری طور پر ریاست کو صحیح اسلامی خطوط پر استوار کرنے کے لیے نظامِ افتاء کو ازسرِنو زندہ کیا جسے سابقہ حکومت نے مفلوج کر کے رکھ دیا تھا۔ تمام تحصیلوں اور اضلاع میں تحصیل مفتی اور ضلع مفتی مقرر کیے گئے۔ جیلوں میں مفتیوں کی اسامیاں تخلیق کی گئیں اور یوں اسلامی نظام کی طرف پیشرفت کا آغاز ہوا۔
نظامِ قضا کا قیام
۱۹۷۵ء میں ایک قانون کے ذریعے پوری ریاست میں اسلامی حدود نافذ کر دی گئیں اور چوری، زنا، ڈکیتی، قذف، شراب نوشی، قتل کے جرائم کے لیے شرعی سزاؤں کا نفاذ عمل میں لایا گیا۔ چونکہ پہلے سے جاری نظامِ عدالت انگریزی قوانین کے سند یافتہ ججوں پر مشتمل تھا اس لیے شرعی حدود کے نفاذ کے بعد ان حضرات کے لیے فیصلے کرنا ممکن نہ تھا۔ چنانچہ علماء کرام کو ان کے اصلی کام یعنی منصبِ قضا پر فائز کیا گیا اور ہر فوجداری عدالت میں سب جج (تحصیل قاضی) اور سیشن جج (ضلع قاضی) دو افراد پر مشتمل بینچ قائم کر دیے گئے۔ جہاں دینی علوم کے ماہر علماء کرام اور انگریزی قانون کے ماہر جج صاحبان مل کر انتہائی محبت، خلوص اور برابری کی بنیاد پر فیصلے کرتے ہیں اور کبھی بھی ججوں اور قاضیوں کے درمیان کوئی ٹکراؤ کسی احساسِ برتری یا کمتری کی بنیاد پر نہیں ہوا۔
قتلِ مرتد
اس سلسلہ میں بھی حکومتِ آزاد کشمیر نے اپنے اختیارات کی حد تک بے حد کوشش کی مگر اس وقت پاکستان میں برسرِ اقتدار گروپ نے قانونِ ارتداد نہ نافذ ہونے دیا۔ اور قارئین کو یاد ہو گا کہ آزادکشمیر اسمبلی نے ۱۹۷۴ء میں قادیانیوں کے خلاف جو قرارداد منظور کی تھی اس پر پاکستان کے اس وقت کے حکمرانوں کا کیا ردعمل تھا اور کس طرح آزادکشمیر کے منتخب صدر کی رہائشگاہ کو گھیرے میں لے لیا گیا تھا، اس تمام دباؤ کے باوجود اس وقت ’’مسلم کانفرنس‘‘ کی حکومت نے اسلامی قوانین نافذ کیے۔
دوسرا مرحلہ
آزادکشمیر کی منتخب حکومت بنوکِ شمشیر برطرف کر دی گئی اور یوں ۱۹۷۵ء کے اواخر سے لے کر ۱۹۸۵ء تک مختلف نامزد حکمران آزاد کشمیر پر حکمران رہے۔ مگر خدا کے فضل و کرم سے اسلامی قوانین جوں کے توں نافذ رہے اور کسی گروہ کو ان قوانین کے معطل کرنے کی ہمت نہیں ہوئی۔
۱۹۸۳ء کے بعد دوسرا مرحلہ آیا جب پھر مسلم کانفرنس بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئی اور سردار سکندر حیات کی سرکردگی میں حکومت تشکیل دی گئی۔ مجاہد اول سردار محمد عبد القیوم خان صدر منتخب ہوئے۔ مسلم کانفرنس حکومت کے اولین مقاصد میں یہ بات شامل تھی کہ جو کام ۱۹۷۵ء میں رہ گیا تھا اسے موجودہ چہار سالہ مکمل کیا جائے گا۔ چنانچہ اس چہار سالہ میں مزید اسلامی اقدامات کیے گئے۔ مڈل اور ہائی اسکولوں میں قراء کی تعداد میں اضافہ کیا گیا۔ آزاد جموں و کشمیر اسمبلی نے ۱۹۸۹ء کے سیشن میں متفقہ طور پر شریعت بل پاس کیا جس کے نتیجے میں ریاست کی تمام عدالتوں کو شریعت کے مطابق فیصلے کرنے کا پابند کر دیا گیا۔ عوام الناس کو یہ حق دیا گیا کہ وہ کسی بھی فیصلہ یا قانون کو خلافِ شریعت قرار دینے کے لیے شریعت کورٹ کی طرف رجوع کر سکتے ہیں۔
شعبۂ افتاء کا قیام
نظامِ قضا اور افتاء کو مستقل بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے قضاۃ کو عدلیہ کے تابع کر دیا گیا اور محکمہ امور دینیہ کے زیرانتظام شعبۂ افتاء کا قیام عمل میں لایا گیا۔ شعبۂ افتاء کا قیام ریاستی مسلمانوں کی اہم ضرورت تھی جس کے لیے حکومت نے اٹھارہ لاکھ روپے کی خطیر رقم منظور کی، اور ہر ضلع میں گریڈ ۱۸ کا ایک ضلع مفتی مقرر کیا گیا اور ہر تحصیل میں گریڈ ۱۷ کا تحصیل مفتی مقرر کیا گیا۔ اس طرح آزادکشمیر کی سولہ تحصیلوں میں سولہ علماء دین بطور تحصیل مفتی مقرر کیے گئے اور پانچ اضلاع میں پانچ علماء دین بطور ضلع مفتی مقرر کیے گئے۔
انتخاب
مجاہد اول سردار محمد عبد القیوم خان چونکہ بذات خود محکمہ افتاء کے قیام میں دلچسپی لے رہے تھے اس لیے انہوں نے مفتیوں کے انتخاب میں بھی بلند معیار کو ملحوظ رکھا۔ انہوں نے خود اپنی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی جس کے ارکان میں مولانا محمد یوسف (شیخ الحدیث دارالعلوم پلندری) اور مولانا سید مظفر حسین شاہ ندوی جیسے متبحر علماء دین شامل تھے۔ چنانچہ اس انتخابی کمیٹی نے تقریباً دو سو علماء میں سے ۱۶ کو بطور تحصیل مفتی منتخب کیا اور ضلع مفتی کے انتخاب کے لیے مصروف اور تجربہ کار علماء جو تعلیمی اعتبار سے اعلیٰ صلاحیتوں کے مالک تھے ان کو ضلع مفتی کے منصب کی پیشکش کی گئی۔ تحصیل مفتی صاحبان میں بعض حضرات نہ صرف درسِ نظامی کے فارغ التحصیل ہیں بلکہ مروجہ طریقۂ تعلیم میں ایم اے بھی ہیں۔ ضلع مفتی صاحبان میں اکثریت درسِ نظامی کے فارغ التحصیل بھی ہیں اور ساتھ ساتھ ایم اے، ایل ایل بی اور عرصۂ دراز تک منصبِ افتاء پر فائز رہنے والے علماء بھی ہیں، اور بعض غیر ملکی یونیورسٹیوں سے ایل ایل بی، ایل ایل ایم کی اسناد کے حامل ہیں۔
اس طرح اس دفعہ اس نئے اور تجدیدی شعبہ کے لیے نہایت قابل افراد کا انتخاب عمل میں لایا گیا۔ ان میں بعض لوگ ایسے ہیں جنہیں راقم کی رائے میں اگر شعبہ قضاء میں منتقل کر کے ان کی خدمات شریعت کورٹ کے سپرد کر دی جائیں تو وہ ہائیکورٹ، شریعت کورٹ، سپریم کورٹ میں زیادہ بہتر خدمات انجام دے سکتے ہیں۔
مفتیانِ کرام کے فرائض
حکومتِ آزاد کشمیر کی اسلامائزیشن کی پالیسی کے سلسلہ میں شعبۂ افتاء کے قیام کا اصل مقصد ریاست میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے عمل کو تیز کرنا ہے۔ سینئر مفتی حضرات کے مزید فرائض حسبِ ذیل ہوں گے:
(۱) دعوت و ارشاد، لوگوں میں تبلیغ دین، مجالس دینیہ کا انعقاد، محافلِ سیرت، مقابلہ ہائے حسنِ قراءت کا انعقاد، اتحادِ علماء اور باہمی اخوت یگانگت کا فروغ۔
(۲) ریاست میں نکاحوں کا سلسلہ خطرناک حد تک فتنہ و فساد کا باعث بن گیا تھا اور جھوٹے دعوؤں سے عدالتیں اٹ گئی تھیں۔ چنانچہ اس سلسلہ کو روکنے کے لیے حکومت نے نکاحوں کی رجسٹریشن کا قانون نافذ کیا۔ مفتی صاحبان کو رجسٹرار مقرر کیا گیا ہے جسے مجل (ضلع مفتی)، نائب مجل (تحصیل مفتی) کہا جائے گا۔
(۳) رمضان المبارک میں سرِ عام کھانے پینے پر پابندی کا ایکٹ ریاست میں پہلے ہی نافذ ہے۔ اس پر عملدرآمد کے اختیارات مفتیانِ کرام کو دیے گئے ہیں اور مسودۂ قانونی حکومت کے زیرغور ہے۔
(۴) احکامِ جمعہ پر عملدرآمد کے اختیارات بھی مفتی صاحبان کو دیے گئے ہیں۔
(۵) حکومتِ آزاد کشمیر نے ۱۹۷۲ء سے تمام سرکاری ملازمین کے لیے ہفتہ وار درسِ قرآن کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ پہلے درسِ قرآن پاک جمعرات کو ہوتا تھا، اب ہر سوموار کو دس سے گیارہ بجے تک تمام سرکاری ملازمین کی درس میں حاضری لازمی قرار دی گئی ہے۔ اور سیکرٹریٹ/ہائیکورٹ، ضلعی عدالتوں، تحصیلوں اور بڑے بڑے اداروں میں مفتی صاحبان اور مقامی علماء کرام درس دیتے ہیں۔ اس طرح ریاست کا اسلامی تشخص روز بروز اجاگر ہو رہا ہے اور اس کے مثبت نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔
دینی مدارس کی تنظیم
آزاد کشمیر میں سینکڑوں دینی مدارس کام کر رہے ہیں جن کی تنظیم و ربطِ باہمی کا کام بھی مفتی صاحبان کے سپرد کیا گیا ہے اور ان مدارس کی رجسٹریشن اور سرکاری امداد کے لیے سفارشات بھی مفتی صاحبان کی ذمہ داری ہو گی۔
غرضیکہ آزاد کشمیر کی موجودہ حکومت جناب مجاہد اول سردار عبد القیوم خان اور سردار سکندر حیات کی سربراہی میں اپنی بساط کے مطابق اَن تھک کام کر رہی ہے۔ اور اسی اسلامائزیشن کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اب مقبوضہ کشمیر کا مسلمان اس تعمیر و ترقی کو دیکھ کر ہندوستان کے غاصب حکمرانوں کے خلاف میدانِ کارزار میں نکل پڑا ہے اور اب وادیٔ کشمیر آگ اور خون کی لپیٹ میں ہے۔ مگر ہندو بنیئے کی گولیاں آزادی کے جذبے کو سرد نہیں کر سکتیں۔ خدا وہ دن جلد لائے جب وادیٔ کشمیر پر لا الٰہ الا اللہ کا پرچم لہرائے اور پوری وادی اسلامی قوانین کی برکات سے مالامال ہو۔ خدا پاکستان کے حکمرانوں کو بھی توفیق دے کہ وہ اس چھوٹی سی ریاست کی پیروی کریں۔
ایسٹر ۔ قدیم بت پرستی کا ایک جدید نشان
محمد اسلم رانا
عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ مسیحؑ تیسرے دن مُردوں میں سے جی اٹھے تھے۔ عیسائی اس واقعہ کی یاد میں جو تہوار مناتے ہیں اسے ایسٹر کہا جاتا ہے۔ پاکستان میں ایسٹر کو عیدِ قیامت مسیحؑ یا عید پاشکا بھی کہتے ہیں۔ عیسائیت کی تاریخ میں یہ سالانہ منایا جانے والا پہلا اور قدیم ترین تہوار ہے۔ رومن کاتھولک جریدہ رقمطراز ہے:
’’قیامت مسیحؑ کی عید کو انگریزی میں ایسٹر کہتے ہیں۔ انگریزوں کے مسیحی ہونے سے پہلے وہ لوگ موسمِ بہار کی دیوی مانتے تھے اور اس دیوی کا نام ایسٹر تھا۔ مسیحیوں نے اس دیوی کو بھلا دینے کے لیے موسمِ بہار میں آنے والی مسیحی عید کا نام ایسٹر رکھ دیا اور یوں لفظ ایسٹر کے نام تبدیل ہو گئے۔ موسمِ خزاں یا پت جھڑ میں درختوں کے پتے جھڑ جاتے ہیں اور وہ مُردہ سےمعلوم ہوتے ہیں، لیکن موسمِ بہار میں نئے پتے نکل آتے ہیں گویا درختوں میں پھر زندگی آجاتی ہے۔ اس مشابہت کی بنا پر مسیحؑ کے پھر زندہ ہونے کی عید کو ایسٹر کہنے لگے۔ یہ عید ۲۵ مارچ سے ۲۵ اپریل تک کسی اتوار کو منائی جاتی ہے۔‘‘ (پندرہ روزہ کاتھولک نقیب لاہور ایسٹر نمبر ۱۹۸۶ء)
تاریخِ کلیسا میں لکھا ہے:
’’لفظ ایسٹر، اوسٹارا سے نکلا ہے جو صبح کی روشنی یا موسمِ بہار میں سورج کی واپسی کی جرمن دیوی تھی۔‘‘ (نشر ۱۴۵)
یعنی قدیم بت پرستی موسمِ بہار کی دیوی ایسٹر کا تہوار منایا کرتے تھے۔ مسیحیوں نے ان کے زیراثر مسیح کے مر کر جی اٹھنے کی یاد کو ایسٹر کے نام سے منانا شروع کر دیا۔ اتفاق سے یہ دن بھی موسمِ بہار ہی میں آتا ہے۔ خرگوش زیادہ بچے پیدا کرنے کی وجہ سے موسمِ بہار کے مشابہ سمجھا جاتا تھا۔ مسیحی انڈے کو مسیحؑ کی قبر کے مماثل سمجھ کر ایسٹر کے دن خرگوش اور رنگے ہوئے یا سجائے ہوئے انڈے ایک دوسرے کو تحفتاً پیش کرتے یا ان سے کھیلتے ہیں۔ یہ دونوں رسوم بت پرست اقوام سے ماخوذ ہیں۔ تفصیلات کے لیے دیکھیں:
The Encyclopedia of Religion Editor in Chief Mircea Eliade 1987 Vol. 4 P. 558 Col. 1
ازروئے بائیبل یہودی مہینہ ابیب یا منسیان کی چودہ تاریخ کو مصلوب ہوئے تھے۔ یہودی مہینے چاند کے حساب سے ہوتے ہیں، تاہم سارے شمسی سال میں گردش نہیں کرتے۔ مخصوص یہودی تقویم کی وجہ سے ابیب کی چودھویں تاریخ ۲۱، ۲۲ یا ۲۵ مارچ سے ۲۱ یا ۲۵ اپریل کے درمیان پڑتی ہے۔ یہودی ماہ ابیب موسمِ بہار کے انگریزی مہینوں مارچ اپریل میں پڑتا ہے۔ (مختلف ممالک میں ایسٹر مختلف دنوں کو منایا جاتا تھا)۔ مذکورہ تاریخوں اور اتوار کا تعین صدیوں کی بحث و تمحیص اور سوچ بچار کے بعد کیا گیا تھا۔ پہلے یہ تہوار آٹھ دن منایا جاتا تھا۔ گیارہویں صدی کے بعد تین دنوں تک محدود رہ گیا۔ ایسٹر پہلے چالیس روزے رکھنے کا رواج مسیحی کلیسا کے دوسرے دور ۳۱۳ء تا ۵۹۰ء میں پڑا۔ (نشر ۱۱۹)
القصہ مسیحیوں نے سورج پوجا کے زیراثر بت پرستیوں کا یہ تہوار اپنا لیا تھا۔ البتہ کاتھولک نقیب کا یہ کہنا غلط ہے کہ ’’مسیحیوں نے اس دیوی کو بھلا دینے کے لیے موسمِ بہار میں آنے والی عید کا نام ایسٹر رکھ دیا‘‘۔ کیونکہ اگر ایسٹر دیوی کو بھلانا مقصود ہوتا تو اس عید کا نام پھر سے ایسٹر نہ رکھتے، مسیح کے نام سے موسوم کرتے۔ اس تمام بیان سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایسٹر مسیح کی یاد میں نہیں منایا جاتا بلکہ ایسٹر دیوی کی یاد کو تازہ رکھنے کی عید ہے۔
مسیحی مشنریوں کی سرگرمیاں اور مسلم علماء اور دینی اداروں کی ذمہ داری
محمد عمار خان ناصر
برصغیر میں فرنگی استعمار کے تسلط کے دوران عیسائی تبلیغی مشنریوں کا اس خطہ میں سرگرم عمل ہونا کسی سے مخفی نہیں ہے۔ پادری فنڈر نے، جو کہ ایک امریکن نژاد کیتھولک پادری تھا، ان مشنریوں کی تحریک میں خصوصی کردار سرانجام دیا۔ مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ کے ساتھ اس پادری کا زبردست مناظرہ ہوا جس میں اس نے بائبل میں تحریف وغیرہ کا اقرار مجمع عام کے سامنے کر لیا۔ لیکن عیسائی مشنریوں نے اپنے اس سنہری دور میں اہم کامیابیاں حاصل کیں اور اس طرح انگریز اپنے اصل مقصد کو پورا کرنے کے لیے اپنی پروردہ عیسائی مشنریوں کے قدم برصغیر میں جما کر چلا گیا۔
ان مشنریوں کی تبلیغ کے مختلف طریقہ کار ہیں جن میں سے ایک مؤثر ذریعہ ’’بائیبل کارسپانڈنس سکولز‘‘ کے عنوان سے بائیبل کی تشریح و توضیح پر مبنی لٹریچر عوام الناس تک پہنچانے کا ہے۔ اس ذریعہ سے آدمی کو آہستہ آہستہ گمراہی کی طرف دھکیلا جاتا ہے اور سادہ لوح اور دین سے بے بہرہ لوگ گمراہی کے اس عمیق گڑھے میں گرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ ہندوستان میں ان سکولز اور اداروں کی کارکردگی کے بارے میں ڈاکٹر اے ایم شرگون رقمطراز ہیں:
’’ایک اور کوشش جو بہت سے ممالک میں لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کر رہی ہے وہ بائیبل کارسپانڈنس کورس ہیں۔ ہندوستان میں یہ طریقہ اخباروں کے ذریعہ بشارتی کام سے شروع ہوا۔ اس کے اخبار ’’ہندو‘‘ اور دہلی کے اخبار ’’ہندوستان ٹائمز‘‘ میں مختلف مضامین اور اشتہار دیے گئے اور جن میں مذہب کے متعلق سوالات درج تھے اور مسیحیت کے بارے میں بھی کچھ نہ کچھ لکھا گیا اور پڑھنے والوں کو دعوت دی گئی کہ اگر وہ اس کے بارے میں کچھ اور دریافت کرنا چاہتے ہوں تو بائیبل کارسپانڈنس کورس میں شامل ہو جائیں۔ ’’ہندوستان ٹائمز‘‘ میں ایسٹر کے متعلق ایک اعلان کی وجہ سے ایک سو عرضیاں ان لوگوں کو وصول ہوئیں جو اس کورس میں شامل ہونا چاہتے تھے۔ ولور (Vilor) میں ڈاکٹر سٹینلی جونس کی میٹنگوں کے بعد ۴۵۰ درخواستیں وصول ہوئیں۔ یہ تحریک پھیلی اور زور پکڑتی گئی یہاں تک کہ اب یہ کورس ہندوستان اور سری لنکا میں تقریباً نو (۹) زبانوں میں دیے جا رہے ہیں۔ جنوبی ہندوستان کی کلیسا کے بشپ نیوبیگن (New Bagan) کہتے ہیں کہ مجھے کئی بائیبل کارسپانڈنس کورسوں کے بارے میں علم ہے، ان میں سے ایک کے تقریباً بارہ ہزار ممبر ہوں گے۔ یہ کورس بہت احتیاط سے تیار کیے جاتے ہیں اور اکثر اوقات مکمل ہونے کے لیے کئی کئی مہینے لگ جاتے ہیں۔ اگر کوئی طالب علم محض تجسس کی وجہ سے یہ کورس شروع کرے تو وہ اکثر اسے پورا نہیں کر سکتا، کہیں اگر وہ یہ تمام کورس ختم کر لے تو اس کی زندگی پر ضرور ایک گہرا اثر پڑے گا۔ ایسے ایک طالب علم نے حال ہی میں ہمیں لکھا ہے ’’میں ہندو تھا لیکن اب خداوند یسوع مسیح پر ایمان لے آیا ہوں اور بتسمہ پا لیا ہے‘‘۔ ایک اور چٹھی میں ایک ہائی سکول کے لڑکے نے کچھ اور کتابیں منگوائیں اور لکھا کہ امتحان ختم ہونے کے بعد میں ذاتی طور پر لکھنا چاہتا ہوں‘‘۔ یہ کورس بالکل ہی بائیبل سے لیے گئے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ یہ لوگوں کی توجہ انجیل کی طرف لگانے کا بہترین ذریعہ ہیں۔‘‘ (بشارت عالم میں بائیبل کا درجہ۔ مصنفہ اے ایم شرگون۔ مترجمہ مسز کے ایل ناصر ۔ مطبوعہ ۱۹۵۶ء ص ۲۰۹ و ۲۱۰)
پاکستان میں کم و بیش پندرہ بائیبل سکولز اپنے تمام تر اشاعتی و تبلیغی وسائل و ذرائع کے ساتھ مصروف العمل ہیں۔ ان کے سنٹرز یہ ہیں: فیصل آباد، لاہور، کراچی، ڈیرہ غازی خان، ڈیرہ اسماعیل خان، ملتان، شکارپور، راولپنڈی، ایبٹ آباد، لاڑکانہ، ملیرپور۔ اخبار میں اشتہار دیا جاتا ہے کہ ’’توریت، زبور اور صحائف الانبیاء کا مطالعہ کیجئے‘‘۔ اور کبھی ’’صحت و ہیلتھ‘‘ کے عنوان سے اشتہار ہوتا ہے۔ سادہ لوح قارئین میں بعض تو سرے ہی سے ان ناموں سے ناواقف ہوتے ہیں اور بعض جن کو معلوم ہوتا ہے کہ یہ کتب فلاں فلاں نبی پر نازل ہوئی تھی، وہ تجسس و تعجب کے ساتھ ساتھ ’’بائیبل سکولز‘‘ کو ایک علمی و تبلیغی ادارہ سمجھتے ہوئے فورًا لٹریچر طلب کرتے ہیں۔ لٹریچر میں انتہائی ذہانت سے صرف تبلیغی انداز روا رکھا جاتا ہے۔ بعض مختلف فیہ مسائل مثلاً ’’اسماعیل کی قربانی‘‘ تورات وغیرہ کے بارے میں نظریہ کا کھل کر اظہار نہیں کیا جاتا۔ ویسے بھی یہ ایسے مسائل ہیں جن سے عوام عموماً ناواقف ہوتے ہیں۔ چنانچہ قاری اور طالب علم یکطرفہ معلومات کے باعث لٹریچر کی تعلیم پر پوری طرح ’’راسخ‘‘ ہو جاتا ہے۔ خوبصورت اسناد اور عمدہ کتابیں بطور انعام حاصل کرنے والا طالب علم ’’جال‘‘ میں پھنس جاتا ہے۔ انجیل اور بائیبل عطا کرنے کے خوشنما وعدے تجسس کے مارے قاری کو کسی اور کام کا نہیں چھوڑتے۔ یہ بات واضح طور پر دیکھنے میں آئی ہے کہ مسلم عوام تو رہے ایک طرف بعض علماء بھی بائیبل کے بارے میں بڑے تجسس اور شوق کا شکار ہوتے ہیں اور بلاوجہ بائیبل کو اہمیت دیتے نظر آتے ہیں۔ ایسا شوق و ذوق عیسائیوں میں کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ ہم بجا طور پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ عیسائیت کے مطالعہ میں نوعمر حضرات بائیبل کو قارون کا خزانہ سمجھتے ہیں اور ناجائز طور پر اس کو قرآن پر ترجیح دیتے ہیں (معاذ اللہ) لیکن جیسے ہی وہ بائیبل کی اصلیت و حقیقت کو سمجھتے ہیں ان کا جوش و جذبہ جھاگ کی طرح بیٹھ جاتا ہے۔۔۔
مسلم علماء و قائدین اپنے اس عیار و مکار دشمن سے بے خبر ہیں یا اس کی سازشوں سے واقف ہوتے ہوئے بھی اس بارے میں بے حس ہیں۔ عوام کو کیا معلوم کہ بائیبل کیا ہے، اس کا مواد کیا ہے، اس کی تاریخ کیا ہے اور اس کا درجہ کیا ہے۔ ہر آدمی بنی اسرائیل کی تاریک تاریخ سے واقف نہیں ہو سکتا۔ مزید برآں مغربی ممالک کی امداد سے چلنے والے مشنری اداروں کے وظیفہ خوار شاطر اور مکار پادریوں کا گروہ ہر وقت دینِ اسلام کے خلاف سازشیں کرنے میں مصروف رہتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و منقبت کو سرِعام للکارا جاتا ہے جس کی تازہ مثال ۔۔۔ پادری برکت اے خان آف سیالکوٹ کی تصنیف ’’قیامت اور زندگی‘‘ ہے۔۔۔
’’کسی تحصیلدار کو سلام کرتے وقت کہیں گے کہ ڈپٹی کمشنر صاحب سلام! تو وہ تحصیلدار فورًا سمجھ جائے گا کہ اس سلام کرنے والے شخص نے میرا مذاق اڑایا ہے کیونکہ میں ڈپٹی کمشنر نہیں ہوں یہی حال ان لوگوں کا ہے جو اپنے دین کے بارے میں مبالغہ آمیزی کرتے ہیں کہ ہمارے ہادی نبیوں کے سردار ہیں، وہ محبوبِ خدا ہیں، وہ مقصودِ کائنات ہیں، وہ وجۂ تخلیق کائنات ہیں، وہ نبیوں کے سرتاج ہیں، وہ روزِ قیامت شفاعت کریں گے، سب نبی ان کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔ مبالغہ کی حد ہو گئی۔‘‘ (ص ۱۱)
۔۔۔ یہ صورتِ حال علماء کرام اور دینی جماعتوں و اداروں کی خصوصی توجہات کی متقاضی ہے اور یقیناً ہماری دینی و ملی غیرت کے لیے کھلا چیلنج ہے کہ اسلام کے نام پر بننے والے ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان میں مسلم اکثریت کی موجودگی میں آقائے نامدار فداہ ابی و امی صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں برسرِعام گستاخی کی جائے اور مسلم نوجوانوں کو گمراہ کرنے کے لیے منظم ادارے سرگرم عمل ہوں، علماء کرام سے بصد ادب گزارش ہے کہ اس سلسلہ میں اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں ورنہ نئی نسل کی گمراہی کی ذمہ داری عند اللہ و عند الناس انہی پر ہو گی۔
تہذیبِ جدید یا دورِ جاہلیت کی واپسی
حافظ محمد اقبال رنگونی
’’فرانس میں ۱۹۸۰ء کی دہائی کے دوران جنم لینے والے بچوں کی ایک چوتھائی تعداد شادی کے بغیر پیدا ہوئی۔ قومی شماریاتی ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق ۱۹۸۸ء میں غیر شادی شدہ والدین کے ہاں دو لاکھ تیس ہزار بچے پیدا ہوئے جو کہ کل پیدائش کا چھبیس فیصد ہے۔ ۱۹۸۰ء میں یہ تعداد ۹۱ ہزار تھی۔‘‘ (روزنامہ جنگ ۔ ۱۱ فروری ۱۹۹۰)۔
برطانیہ کی اخلاقی حالت دیکھیئے:
’’برطانیہ میں اب ہر چار میں سے ایک بچہ غیربیاہتا والدین کے ہاں پیدا ہوتا ہے۔ مرکزی دفتر شماریات نے برطانوی معاشرے کے بارے میں سالانہ سروے میں بتایا کہ غیربیاہتا جوڑوں کے ہاں پیدائش کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور اگر یہ اضافہ اسی شرح سے جاری رہا تو چند سال کے عرصہ میں برطانیہ میں پیدا ہونے والے تمام بچوں کے والدین غیر شادی شدہ ہوں گے۔‘‘ (روزنامہ جنگ ۔ ۱۵ فروری ۱۹۹۰ء)
برطانیہ میں بے غیرتی و بے شرمی کے مناظر اتنے عام ہیں کہ شرم و حیا کا نام لینا گویا ایک جرم ہو گیا ہے۔ عفت و عصمت کا تحفظ برطانوی معاشرہ میں ایک عجیب اور نرالا ہے اور جو کوئی اپنی عفت و عصمت کا تحفظ کرتا ہے اسے نادر خیال کیا جاتا ہے۔ ۹ مارچ کی رات برطانوی چینل ۱۲۷ میں ایک پروگرام دکھایا گیا جس کا موضوع ’’کیا مرد و عورت کا کنوارا ہونا ضروری ہے؟‘‘ تھا۔ اس پروگرام کے ایڈیٹر نے ملک کے اکثر نوجوانوں سے انٹرویو لیے۔ ہر ایک نے یہی بتایا کہ وہ شادی سے پہلے اپنے کنوارے پن سے محروم ہو چکے تھے۔ صرف یہی نہیں بلکہ اس بداخلاقی و بدکرداری کو بڑے فخریہ انداز میں سنا رہے تھے۔ ان تمام لوگوں کا کہنا تھا کہ شادی سے قبل کسی لڑکے اور لڑکی کے لیے کنوارہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ البتہ پروگرام میں صرف ایک لڑکی ایسی دکھائی گئی جو ۳۱ سال کی ہونے کے باوجود ابھی تک کنواری تھی اور ہر سال اپنے ڈاکٹر سے کنوارے پن کا سرٹیفکیٹ لیتی رہی ہے۔
علاوہ ازیں مانچسٹر ایوننگ نیوز ۲ فروری کی اشاعت میں خبر دیتا ہے کہ محکمہ صحت کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق اس وقت غیر شادی شدہ عورتیں زیادہ بچے پیدا کر رہی ہیں۔ ۱۹۸۸ء میں مانچسٹر کے ہسپتالوں میں جو بچے پیدا ہوئےہیں ان میں ۵۰ فیصد کنواری ماں سے پیدا ہوئے۔ مانچسٹر کے عیسائی پادری مسٹر سٹانلی بوتھ کلبورن نے اس پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ میں فیملی لائف کو بہتر بنانا ہو گا اور اس کے لیے شادی انتہائی ضروری ہے۔ چرچ آف انگلینڈ کے رہنماؤں نے لوگوں کو تعلیم و تبلیغ دینی شروع کی ہے کہ شادی کیجئے اور اس کے لیے ۴۰ پادری ان موضوعات پر تبلیغ کرنے نکلے ہیں۔
یورپی تہذیب کے اثرات نے جب ایشیائی اور اسلامی ممالک کو اپنی لپیٹ میں لیا اور یورپ کی اندھادھند تقلید ہونے لگی تو اس کا کتنا عبرتناک انجام سامنے آیا، اسے ایک رپورٹ میں دیکھیئے:
’’ایدھی ٹرسٹ کے بانی عبد الستار ایدھی کی اہلیہ نے اطلاع دی کہ پاکستان کے مختلف ایدھی سنٹروں کے ذریعے گذشتہ ماہ ۲۴۱ نوزائیدہ بچوں کی لاشیں ملی ہیں جنہیں دفنا دیا گیا۔ جبکہ گذشتہ ماہ کے دوران کراچی اور دیگر علاقوں سے ملنے والے ۳۲ زندہ نوزائیدہ بچوں اور بچیوں کو لاوارث سنٹر میں پہنچایا گیا۔ بیگم ایدھی نے کہا کہ اس تعداد سے پاکستان کے عوام کو اندازہ کرنا چاہیئے کہ اس طرح نہ جانے کتنے معصوم بچے اپنے ناکردہ گناہوں کی وجہ سے موت کی بھینٹ چڑھا دیے جاتے ہیں۔ بیگم ایدھی نے کہا کہ ایسے افراد جو اپنے ایک گناہ کو چھپانے کے لیے ان معصوموں کو قتل کر دیتے ہیں ان سے بار بار اپیل کی گئی ہے کہ خدارا وہ اپنے گناہ اور جرم کو چھپانے کے لیے قتل جیسے سنگین جرم کے مرتکب نہ ہوں بلکہ ان بچوں کو ہمارے سنٹروں میں دیں۔ انہوں نے کہا کہ اب تک ایسے چار ہزار بچے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے بے اولاد پاکستانی جوڑوں کے حوالے کیے جا چکے ہیں۔‘‘ (روزنامہ جنگ ۔ ۹ فروری ۱۹۹۰ء)
ایدھی ٹرسٹ کے ایک مختصر اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت ملک میں ہزاروں کی تعداد میں نوزائیدہ بچوں کو یا تو موت کی نیند سلا دیا جاتا ہے یا پھر کسی گلی کے کنارے بے یار و مددگار چھوڑ دیے جاتے ہیں۔ یہ سب کچھ اسلامی قوانین سے انحراف اور یورپی تقلید کے نتائج ہیں جس نے نہ صرف زنا جیسے خبیث جرم پر آمادہ کیا بلکہ معصوم نوزائیدہ بچوں کو قتل کرانے سے بھی دریغ نہ کیا۔ یورپ کی دنیا میں ایسے لوگوں کی کافی تعداد موجود ہے جو بغیر شادی کے بچے پیدا کر رہی ہے مگر انہوں نے اپنے بچوں کو قتل نہیں کیا۔ وہ تو کنواری ماں کے لقب سے ملقب ہو کر بے شمار منافع بھی حاصل کرتی ہیں لیکن اپنے ملک میں یورپ کی تقلید پر فخر کرنے والیوں کو کنواری ماں بننا پسند نہیں، بچوں کو اپنی گود میں رکھنا منظور نہیں۔ تقلید کرنی ہے تو پھر پوری تقلید کیجیئے تاکہ پتہ چلے کہ آپ تہذیبِ یورپ کے عاشق ہیں۔ ہم تو ایسی تہذیب کے بارے میں یہ ہی کہہ سکتے ہیں کہ ؎
اٹھا کر پھینک دو باہر گلی میں
نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے
دورِ جاہلیت کی واپسی
ایرانی نژاد برطانوی رپورٹر بضیوفت کو اسرائیل کے لیے جاسوسی کے جرم میں عراق نے موت کی سزا دے دی اور جاسوسی کرانے میں مدد کرنے والی برطانوی نرس کو ۱۵ سال کی قید کی سزا سنائی گئی۔ اس اعلان کے بعد برطانیہ اور یورپی پارلیمنٹ نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے سخت احتجاج کیا اور عراق کے اس اقدام کی سخت مذمت کی گئی۔
جہاں تک بضیوفت کے اسرائیلی جاسوس ہونے کا تعلق ہے، خود اس کے اعتراف کے بعد کسی اور شہادت کی ضرورت نہیں رہتی تاہم برطانیہ کے بعض ممبران پارلیمنٹ بھی اس کا اعتراف کرتے ہیں اور اسے ایک مجرم قرار دیتے ہیں حتٰی کہ برطانوی دارالعوام میں اس امر پر بھی بحث کی جا رہی ہے کہ بضیوفت خود ایک عادی مجرم ہے اور اس نے ایک برطانوی بینک کو بم کے ذریعے لوٹنے کی بھی کوشش کی تھی۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ برطانوی وزیراعظم اور دیگر وزراء سزائے موت کے خلاف اپنا احتجاجی بیان دے رہے ہیں۔ ہر ایک کی زبان پر یہ ہی جملہ جاری ہے کہ یہ مہذب دور ہے Civilized World اور ایسی دنیا میں اس قسم کی کارروائی پر سزائے موت کا حکم دے کر فورًا عمل کرنا عراق کا بدترین فعل ہے اور عراق ابھی تک دورِ جاہلیت میں ہے۔ برطانوی وزیراعظم کہتی ہیں کہ ’’عراقی حکومت کا یہ اقدام بربریت ہے جو دنیا کے تمام مہذب لوگوں کے خلاف ہے۔‘‘
اس واقعہ کے فورًا بعد برطانوی پریس اور ٹیلیویژن نے عراق کے خلاف ایک محاذ کھول دیا اور آپ جانتے ہیں کہ برطانوی پریس اور ٹیلیویژن اس معاملے میں کتنا ماہر ہے۔ چنانچہ عراقی صدر کے ظلم و ستم کی داستانیں باتصویر سامنے آنے لگیں اور یہ ثابت کر دکھا دیا گیا کہ عراق ایک ظالم ملک ہے اور اس کے اعلیٰ افراد وہاں کے باشندوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں۔
ہم اس وقت اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتے کہ بضیوفت کو جو سزائے موت سنائی گئی ہے وہ کس زمرے میں آتی ہے؟ جاسوسی کرنے کے جرم میں دنیا کے ممالک نے کیا سزا رکھی تھی اور آج کیا ہے؟ عراقی قانون میں اس کا کیا حکم ہے؟ امریکہ کیا کہتا ہے؟ روس نے کیا کیا ہے؟ اسرائیل کیا کرتا ہے؟ اور خود برطانیہ کی نظر میں کیا اہمیت ہے؟ قانون دان حضرات بخوبی اس سے واقف ہیں۔ ہم صرف برطانوی وزیراعظم اور دیگر وزراء کے اس دعوٰی پر کہ ’’آج کا دور ایک مہذب دور ہے‘‘ پر ایک سرسری نظر دوڑانا چاہتے ہیں تاکہ ہم دیکھ سکیں کہ واقعتاً دورِ حاضر مہذب دور ہے یا دورِ جاہلیت کا ایک عکس ہے جو صرف نام بدل کر یورپ کی دنیا میں داخل ہوا ہے۔
برطانوی مفکروں کے نزدیک تہذیب اور مہذب کا کیا معنٰی و مفہوم ہے؟ یہ ابھی تک واضح نہیں ہو سکا۔ اب آپ ہی دیکھیں کہ مندرجہ ذیل امور کو تہذیب اور مہذب دنیا کا نام دیا جا سکتا ہے؟
- یورپ میں ایک ایک دن میں ہزاروں غیر شادی شدہ والدین کے ہاں اولاد ہونا مہذب دنیا ہے؟
- یورپ میں لواطت پرستی کی نہ صرف اجازت بلکہ ترغیب، مالی تعاون، حوصلہ افزائی اور بڑے بڑے سنٹر کھولے جاتے ہیں۔
- یورپ میں ایک ۸ سالہ بچی سے لے کر ایک ۸۰ سالہ بوڑھی تک کی عصمت کا محفوظ نہ ہونا بھی تہذیب یافتہ دنیا کا کارنامہ ہے۔
- یورپ میں ۵ سالہ بچی سے لے کر ۹۵ سالہ بوڑھی پر مجرمانہ حملہ کر کے خون میں نہلا دینا بھی مہذب دور کا ایک ادنٰی کرشمہ ہے۔
- یورپ میں زنا، بے حیائی، بے شرمی اور اخلاقی زبوں حالی بھی مہذب دنیا کا تحفہ ہے۔
- یورپ میں شراب اور منشیات کا کثیر استعمال اور اس سے روحانی و جسمانی جرائم بھی تہذیبِ جدید کا پیدا کردہ ہے۔
- ماؤں کے پیٹ میں بچوں کو موت کی آغوش میں پہنچا دینا اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دینا اور اس کے لیے نت نئے طریقے ایجاد کرنا آج کی دنیا کا کمال ہے۔
- چوری، دن دہاڑے ڈکیتی، راہ چلتی بوڑھی عورت کو چاقو دکھا کر رقم لوٹ لینا، اسے زخمی کر دینا بھی دورِ حاضر کا ایک فیشن ہے۔
- با حیا اور عصمت و عصمت کا تحفظ کرنے والوں کو طرح طرح سے بے شرمی پر ابھارنا اور اس کے عنوان کی ترغیب دینا بھی تہذیب ہے۔
مولانا (الطاف حسین) حالیؒ نے دورِ جاہلیت کا جو نقشہ اپنی مسدس میں کھینچا ہے اگر دیکھا جائے تو آج کے دور پر بالکل صادق ہے۔ مولانا فرماتے ہیں ؎
بہائم کی اور ان کی حالت ہے یکساں
کہ جس حال میں ہیں اسی میں ہیں شاداں
نہ ذلت سے نفرت نہ عزت کا ارماں
نہ دوزخ سے ترساں نہ جنت کے خواہاں
لیا عقل و دیں سے نہ کچھ کام انہوں نے
کیا دینِ برحق کو بدنام انہوں نے
فرمائیے! دورِ جاہلیت اور مہذب دنیا میں کیا فرق رہا؟ نام کے بدلنے سے حقیقت تو نہیں بدلتی۔ درحقیقت یہ مہذب دور نہیں بلکہ دورِ جاہلیت ایک نیا عنوان لے کر سامنے آیا ہے۔
پاکستان میں نفاذ اسلام کی جدوجہد اور علماء کرام کی ذمہ داریاں
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
اسلامی جمہوریہ پاکستان کا قیام ۱۹۴۷ء میں ’’لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ کے اجتماعی ورد کی فضا میں اس مقصد کے لیے عمل میں آیا تھا کہ اس خطہ کے مسلمان الگ قوم کی حیثیت سے اپنے دینی، تہذیبی اور فکری اثاثہ کی بنیاد پر ایک نظریاتی اسلامی ریاست قائم کر سکیں۔ لیکن تینتالیس سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود دستور میں ریاست کو ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ کا نام دینے اور چند جزوی اقدامات کے سوا اس مقصد کی طرف کوئی عملی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ جبکہ تحریکِ آزادی اور تحریکِ پاکستان کے لاکھوں شہداء کی ارواح ہنوز اپنی قربانیوں کے ثمر آور ہونے کی خوشخبری کی منتظر ہیں۔
ایک اسلامی نظریاتی ریاست کی حیثیت سے ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ کی تشکیل کا تقاضا یہ تھا کہ فرنگی استعمار نے نوآبادیاتی مقاصد کے لیے اس خطہ میں جو سیاسی، قانونی، معاشرتی اور معاشی نظام مسلط کیا تھا اس پر نظرثانی کر کے اسے اسلام کے سنہری اور ابدی اصولوں کی بنیاد پر ازسرنو منظم و مرتب کیا جاتا۔ اور سرمایہ دارانہ نظام اور کمیونزم کی شکست کے اس دور میں ایک مثالی اسلامی معاشرہ قائم کر کے نہ صرف عالمِ اسلام بلکہ پوری دنیا کی ایک فلاحی اور عادلانہ نظام کی طرف راہنمائی کی جاتی۔ لیکن بدقسمتی سے ابھی تک ایسا نہیں ہو سکا اور پاکستان کو ایک اسلامی نظریاتی ریاست بنانے کا خواب تعبیر کی منزل سے کوسوں دور دکھائی دے رہا ہے۔
پاکستان کے عوام اسلام کے ساتھ سچی اور والہانہ وابستگی رکھتے ہیں اور یہاں کے دینی حلقوں کی جڑیں عوام میں مضبوط اور گہری ہیں لیکن اس کے باوجود نوآبادیاتی نظام کے خاتمہ اور اسلام کے عادلانہ نظام کے نفاذ کا مقصد تشنۂ تکمیل کیوں ہے؟ یہ سوال گہرے تجزیہ اور غور و فکر کا متقاضی ہے اور پاکستان کے دینی حلقوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس صورتحال کا حقیقت پسندانہ تجزیہ کر کے اس کی روشنی میں اپنے کردار اور طرزِ عمل کا جائزہ لیں اور روایتی طریق کار پر اڑے رہنے کی بجائے اجتہادی اور انقلابی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے نفاذِ اسلام اور غلبۂ شریعت کی جدوجہد میں اپنے کردار کا ازسرنو تعین کریں۔
یہ درست ہے کہ قیام پاکستان کے بعد ملک کی باگ ڈور ایسے طبقہ کے ہاتھ میں آئی جو فکری اور عملی طور پر اسلامی نظام کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں تھا اور اس کی تعلیم و تربیت نوآبادیاتی دور میں بدیشی آقاؤں کے مسلط کردہ تربیتی نظام کے تحت اور اسی کے مخصوص مقاصد کے لیے ہوئی تھی، اس لیے اس طبقہ سے شریعتِ اسلامیہ کے نفاذ کی توقع ہی عبث ہے۔
یہ بھی درست ہے کہ ایک نظام کی تبدیلی اور دوسرے نظام کے عملی نفاذ کے لیے جس اجتماعی فکری کام کی ضرورت تھی اس کا ہمارے ہاں فقدان رہا ہے۔ ہماری دینی تعلیم گاہوں میں اسلام کو ایک نظام کی حیثیت سے نہیں پڑھایا گیا اور اسلامی نظام کو عملاً چلانے کے لیے تربیت یافتہ افراد کار کی فراہمی کی طرف کوئی شعوری توجہ نہیں دی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ اس مقصد کے لیے کیے گئے چند جزوی اقدامات بھی عملدرآمد کی کسوٹی پر پورے نہیں اتر سکے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک کے سب سے مؤثر تین طبقوں سرمایہ دار، جاگیردار اور نوکر شاہی کے مفادات اسلامی نظام سے متصادم ہیں اس لیے ان کی اجتماعی قوت نفاذِ اسلام کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے جس کی موجودگی میں ملک کے اجتماعی نظام کی تبدیلی کوئی آسان کام نہیں ہے۔ لیکن یہ بات بھی شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ نفاذِ اسلام کی راہ میں ان تینوں بڑی رکاوٹوں کے وجود اور اس کے تسلسل کا سب سے بڑا سبب دینی حلقوں کی بے تدبیری، باہمی عدم ارتباط اور حقیقی مسائل سے بیگانگی کا طرزِ عمل ہے جس نے ان رکاوٹوں کے شجر خبیثہ کی مسلسل ۴۲ سال تک آبیاری کر کے اسے تن آور درخت بنا دیا ہے۔
پاکستان اہل السنۃ والجماعۃ کی غالب اکثریت کا ملک ہے، اہل السنۃ والجماعۃ کے تینوں مکاتب فکر دیوبندی، بریلوی اور اہل حدیث کے اکابر علماء نے تحریک پاکستان میں قائدانہ حصہ لیا ہے اور ایک پلیٹ فارم پر تشکیلِ پاکستان کے لیے جدوجہد کی ہے۔ اگر یہ تینوں مکاتبِ فکر قیام پاکستان کے بعد بھی اجتماعیت اور اشتراکِ عمل کے جذبہ کو برقرار رکھتے ہوئے:
- مشترکہ سیاسی دباؤ منظم کر کے نفاذِ اسلام کی راہ میں حائل طبقوں کا جرأت کے ساتھ سامنا کرتے،
- دینی درسگاہوں میں اسلام کو ایک اجتماعی نظام کی حیثیت سے پڑھا کر نفاذِ اسلام کے لیے افرادِ کار کی کھیپ تیار کرتے،
- اسلام دشمن لابیوں کی طرف سے اسلامی نظام کے بارے میں پھیلائے جانے والے شکوک و شبہات کے ازالہ کے لیے مشترکہ جدوجہد کرتے،
- اور باہمی اعتماد و اشتراک اور تعاون کے ساتھ قوم کو ایک مشترکہ نظریاتی قیادت فراہم کرتے
تو مذکورہ بالا رکاوٹوں میں سے کوئی ایک رکاوٹ بھی ان کی اجتماعی قوت کا سامنا کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھی۔ لیکن بدقسمتی سے دینی حلقے ایسا نہیں کر سکے بلکہ انہیں منصوبہ اور سازش کے تحت باہمی اختلافات و تعصبات کی ایک ایسی جنگ میں الجھا دیا گیا کہ گروہی تشخص اور انا کے سوا دین و دنیا کا کوئی اجتماعی مسئلہ ان کے ادراک و شعور کے دائرہ میں جگہ نہ پا سکا اور فرقہ وارانہ اختلافات میں ایک دوسرے کو پچھاڑنے کا ذوق ہی دینی جدوجہد کی معراج بن گیا۔ یہ دینی حلقوں کی بے توجہی، بے تدبیری، عدم ارتباط اور حقیقی مسائل سے اعراض ہی کے ثمرات ہیں کہ:
- معاشرہ بے حیائی، بے پردگی اور مغرب زدہ معاشرت کی آماجگاہ بن گیا ہے،
- قرآن و سنت اور چودہ سو سالہ اجماعی تعامل کے برعکس عورت کی حکمرانی مسلّط ہوگئی ہے،
- قومی پریس میں قرآن و سنت کے صریح احکام کے خلاف بیانات چھپ رہے ہیں،
- قرآنی احکام کو نام نہاد انسانی حقوق کے منافی قرار دیتے ہوئے اجتہاد کے نام پر قرآنی احکام کو مغربی ذوق کے مطابق تبدیل کرنے کی تجاویز کھلم کھل سامنے آرہی ہیں،
- اور ستم ظریفی کی انتہا یہ ہے کہ دینی تشخص کی حامل سیاسی جماعتیں بھی اسلامی نظام کی بات غیر اسلامی نظاموں کی اصطلاحات اور حوالوں سے کرنے پر مجبور ہیں۔
حالات کے اس حد تک بگڑ جانے میں اگر ذمہ داری کا تعین کیا جائے تو دینی حلقے اس میں سرفہرست ہیں اور جب تک اس ذمہ داری کا ادراک اور احساس اذہان و قلوب میں اجاگر نہیں ہوتا اس وقت تک اصلاحِ احوال کی کوئی صورت بھی ممکن اور قابلِ عمل نہیں ہے۔ پاکستان کو ایک اسلامی نظریاتی ریاست بنانے کی راہ میں حائل مذکورہ رکاوٹیں آج بھی لاعلاج نہیں ہیں اور ان کی قوت آج بھی دینی حلقوں کی اجتماعی قوت کے سامنے ناقابل شکست نہیں ہے۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ اہل السنۃ والجماعۃ کے تینوں مکاتب فکر کے علماء کرام گروہی تشخصات اور تعصبات کے دائرہ سے نکل کر باہمی اشتراکِ عمل کو فروغ دیں اور ایک ایسا فکری، علمی اور دینی پلیٹ فارم قائم کریں جو ان مسائل کے ادراک اور تجزیہ کے ساتھ ساتھ اجتماعی فکری راہنمائی اور مذہبی و عوامی حلقوں کی ذہن سازی کا کردار ادا کر سکے۔ اس پلیٹ فارم کا عملی سیاسی گروہ بندی سے کوئی تعلق نہ ہو اور وہ خالص دینی اور علمی بنیاد پر اجتماعی مسائل کا حل پیش کرتے ہوئے قوم کی راہنمائی کا فریضہ سرانجام دے۔ علماء کرام اس نوعیت کا پلیٹ فارم قائم کر کے جب عملاً آپس میں مل بیٹھیں گے تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ وہ قوم کو فکری انتشار اور سیاسی انارکی کی اس دلدل سے نکالنے کی کوئی راہ تلاش نہ کر سکیں جس نے اس وقت قوم کے ہر ذی شعور فرد کو پریشانی اور اضطراب سے دوچار کر رکھا ہے۔
دینی شعائر کے ساتھ استہزاء و تمسخر کا مذموم رجحان
شیخ التفسیر مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ
استہزاء کی بیماری اب یہود و نصارٰی سے نکل کر مسلمانوں میں بھی آ چکی ہے۔ مختلف موضوعات پر کارٹون بنانا، ڈرامے پیش کرنا، نمازیوں کا تمسخر اڑانا اور عبادت کو کھیل کے طور پر پیش کرنا اس کے سوا کیا ہے کہ دین کے ساتھ استہزاء ہے۔ حج جیسی بلند عبادت کو فلم کے طور پر پیش کرنا شعائر اللہ سے تمسخر ہی تو ہے۔ صدر ایوب کے زمانے میں روزنامہ مشرق میں پڑھا تھا کہ مظفر نرالا نامی فلم ایکٹر کے ہاں لڑکا پیدا ہوا تو اس نے اس بچے کے کان میں مرغ کی اذان دلوائی۔ نومولود کے کان میں اذان کہنا سنت ہے مگر اس شخص نے اس سنت کا مذاق اڑایا۔ اسی طرح لافنگ گیلری والوں نے ڈاڑھی کو استہزاء کا نشانہ بنایا ہے حالانکہ ڈاڑھی سنتِ انبیاءؑ ہے۔ جو خود تارکِ سنت ہے اسے خود کم از کم سنت کا مذاق تو نہیں اڑانا چاہیے۔
پہلی صدی ہجری کا واقعہ ہے کہ گورنر عباد خراسان کے سفر پر روانہ ہوا تو اس کے ساتھ ایک منہ پھٹ شاعر بھی تھا۔ چلتے وقت عباد کی لمبی ڈاڑھی خوب ہلتی تھی، اس پر شاعرنے مزاحیہ شعر کہہ دیا۔ گورنر کو علم ہوا تو اس نے شاعر کو سخت سرزنش کی اور اسے پانچ ماہ تک پنجرے میں بند رکھنے کی سزا دی۔ گورنر اگرچہ خود زیادہ عادل تو نہیں تھا لیکن اس نے ڈاڑھی کی توہین کو برداشت نہ کیا۔ وہ شعر یہ تھا:
الا لیت اللحی کانت حشیشًا
فنعلفھا خیـــول المسلمین
ترجمہ: ’’کاش یہ ڈاڑھیاں گھاس ہوتیں تو ہم انہیں مسلمانوں کے گھوڑوں کو کھلاتے۔‘‘
یہودیوں کا یہ خاص شیوہ ہے کہ وہ اسلام اور اہلِ اسلام کی تضحیک کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانتے دیتے۔ انہوں نے سیمسن اینڈ ڈیلائلہ کے نام سے پیغمبروں کی فلم بنا دی۔ کہیں حضرت سلیمان علیہ السلام کو فلم میں پیش کر دیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندوں کے ساتھ استہزاء ہے جو کہ بہت ہی قبیح حرکت ہے۔ بدر کی جنگ کو فلم کے ذریعے پیش کیا۔ ارکانِ حج فلمائے گئے اور لوگ خوش ہیں کہ یہ بہت اچھی چیز ہے اس سے ٹریننگ ہوتی ہے اہلِ اسلام کے لیے رغبت پیدا ہوتی ہے۔ مگر یہ سب یہود و نصارٰی کے نقشِ قدم پر شعائر اللہ کے ساتھ کھیلنے کے مترادف ہے۔ یہ کام خود مسلمان انجام دے رہے ہیں جو کہ دین کے ساتھ ٹھٹھا کرنے والی بات ہے۔
تو فرمایا کہ جب تم نماز کی طرف بلاتے ہو تو یہ اس کو ٹھٹھا اور کھیل بناتے ہیں ’’ذلک بانھم قوم لا یعقلون‘‘ یہ اس وجہ سے کہ یہ بے عقل لوگ ہیں۔ یہ اچھے اور برے میں تمیز کرنے کی اہلیت ہی نہیں رکھتے وگرنہ دنیا کا کوئی مذہب ایسا نہیں جو شعائر اللہ کی تعظیم نہ کرتا ہو۔ اذان، نماز، حج وغیرہ تو شعائر اللہ ہیں، ان کی بے حرمتی تو احمق لوگ ہی کر سکتے ہیں۔ دوسرے مقام پر فرمایا ’’من یعظم شعائر اللہ فانھا من تقوی القلوب‘‘ جو اللہ کے شعائر کی تعظیم کرتا ہے اس کا دل تقوٰی سے لبریز ہے۔ اور ظاہر ہے جو تمسخر کرے گا وہ تقوٰی سے بالکل عاری ہو گا۔
امریکہ اور کینیڈا کے یہودیوں نے اسلامی شعائر کو بہت حد تک تضحیک کا نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کپڑے پر کلمہ طیبہ پرنٹ کر دیا۔ ماچس کی ڈبیہ پر لکھ دیا تاکہ اس کی بے حرمتی ہو۔ قمیص کے پچھلے حصے پر آیت الکرسی چھاپ دی جو بیٹھنے کے وقت نیچے آجائے۔ ایک بدبخت نے اونٹ کا نام محمدؐ رکھ دیا۔ ایک انگریز نے حضرت علیؓ کو لنگور کے نام سے موسوم کیا۔ غرضیکہ یہ لوگ اسلام اور اہلِ اسلام کی توہین، تمسخر اور ٹھٹھا کرنے سے باز نہیں آتے اور مسلمان بھی ان کی دیکھا دیکھی اس روش پر چل نکلے ہیں، یہ بے عقل لوگ ہیں۔
شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کا اجلاس
شیخ الحدیث حضرت سرفراز خان صفدر کے تاثرات
ادارہ
شاہ ولی اللہ یونیورسٹی، اٹاوہ، جی ٹی روڈ، گوجرانوالہ کی انتظامیہ اور خصوصی معاونین کا ایک اہم اجلاس ۲۶ مارچ ۱۹۹۰ء مطابق ۲۸ شعبان المعظم ۱۴۱۰ھ شام پانچ بجے سائٹ آفس میں منعقد ہوا جس کی صدارت یونیورسٹی کے سرپرستِ اعلٰی شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر مدظلہ العالی نے کی۔ عصر کی نماز سائٹ آفس کے سامنے گراؤنڈ میں حضرت شیخ الحدیث مدظلہ کی امامت میں ادا کی گئی اور اس کے بعد مولانا زاہد الراشدی، الحاج میاں محمد رفیق، اور جناب محمد سلیم (آرکیٹیکٹ) نے شرکاء اجلاس کو منصوبہ کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔
مولانا زاہد الراشدی نے بتایا کہ گذشتہ پانچ سال کے دوران زمین کی خریداری اور دیگر انتظامی، تعمیری اور اشاعتی امور پر اب تک کم و بیش انتالیس لاکھ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں جس کے تحت اس وقت ساڑھے بتیس ایکڑ (دو سو ساٹھ کنال) زمین حاصل کرنے کے علاوہ آفس بلاک کی تعمیر مکمل کی جا چکی ہے اور پہلے تعلیمی بلاک کی کھدائی کا کام مکمل ہو گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ سارے اخراجات اصحابِ خیر کے تعاون سے پورے کیے گئے ہیں اور اس سلسلہ میں کسی قسم کی سرکاری گرانٹ نہ لینے کا بنیادی پالیسی کے طور پر فیصلہ کیا گیا ہے۔
الحاج میاں محمد رفیق (صدر انتظامیہ) نے بتایا کہ اٹاوہ ریلوے کراسنگ سے شاہ ولی اللہ یونیورسٹی تک ڈسٹرکٹ کونسل نے جس پختہ سڑک کی منظوری دی تھی اس کا کام شروع ہو چکا ہے اور چند روز تک مکمل ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ گوجرانوالہ کے مخیر احباب نے ہمارے ساتھ اس مشن میں جو مخلصانہ تعاون کیا ہے اس کی برکت سے ہم اس مرحلہ تک پہنچے ہیں اور اب تعلیمی بلاک کی تعمیر کا کام شروع ہو چکا ہے، اس لیے احباب کو پہلے سے زیادہ بڑھ چڑھ کر تعاون کرنا چاہیئے اور اس کارِ خیر میں زیادہ سے زیادہ حصہ لینا چاہیئے۔
یونیورسٹی انتظامیہ کے خازن الحاج شیخ محمد یعقوب نے بتایا کہ اس وقت ہمارے پاس تقریباً تین لاکھ روپے کی رقم موجود ہے جبکہ تعمیری پروگرام کو مکمل کرنے کے لیے اس سے کہیں زیادہ رقم کی ضرورت ہے۔ جناب محمد سلیم (آرکیٹیکٹ) نے بتایا کہ پہلا تعمیری بلاک، جس کی بنیادوں کی کھدائی ہو چکی ہے، دو منزلہ ہو گا جس میں اٹھارہ کلاس رومز اور اساتذہ کے پندرہ کمرے ہوں گے۔ یہ بلاک تقریباً ستر لاکھ روپے کی لاگت سے ایک سال میں مکمل ہو گا۔ انہوں نے یونیورسٹی کے ماسٹر پلان اور تعلیمی بلاک کے بارے میں تفصیلات بیان کیں اور اس سلسلہ میں شرکاء اجلاس کے سوالات کے جوابات دیے۔
شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جمعیۃ اہل السنۃ والجماعۃ کے عہدہ داروں، اراکین اور معاونین کو شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کے منصوبہ میں مرحلہ وار پیشرفت اور تعمیری کام کے باقاعدہ آغاز پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کی تعمیر آج کے دور کی ایک اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید علوم اور زبانوں سے علماء کا واقف ہونا ازحد ضروری ہے کیونکہ موجودہ دور میں دنیا بھر میں تمام طبقات تک اسلام کا پیغام پہنچانا اس کے بغیر ممکن نہیں ہے۔
حضرت شیخ الحدیث مدظلہ نے اپنے دورۂ برطانیہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مجھے چند سال قبل برطانیہ کے مختلف شہروں میں جانے کا موقع ملا اور متعدد برطانوی باشندوں سے بات چیت ہوئی، ایک انگریز نے مجھ سے پوچھا کہ آپ نے برطانیہ کے معاشرہ کو کیسا پایا ہے؟ میں نے جواب دیا کہ یہاں جسم کے لیے تو ہر قسم کی سہولت مہیا کی گئی ہے لیکن روح کے لیے کوئی اہتمام نہیں کیا گیا۔ اس بات سے اس نے اتفاق کیا۔ یہ گفتگو ترجمان کے ذریعے ہوئی کیونکہ میں انگریزی زبان سے واقف نہیں۔ اس موقع پر مجھے محسوس ہوا کہ اگر مجھے انگریزی زبان سے واقفیت ہوتی تو میں اسلام کی زیادہ بہتر انداز میں ترجمانی کر سکتا تھا۔ یہ ہمارے اندر کمی ہے جس کا ہمیں احساس کرنا چاہیئے اور شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کے قیام کا ایک مقصد اس کمی کو دور کرنا بھی ہے۔
حضرت شیخ الحدیث نے اصحابِ ثروت پر زور دیا کہ وہ اس اہم مشن کی طرف خصوصی توجہ دیں اور اس منصوبہ کی تکمیل کے لیے انتظامیہ سے بھرپور تعاون کریں۔
شریعت کا نظام اس ملک میں اک بار آنے دو
سرور میواتی
وطن میرا ہوا آزاد اب آزاد ہوں میں بھی
مجھے اپنے وطن میں جشنِ آزادی منانے دو
غلامی کے گذشتہ مرثیے پڑھنے سے کیا حاصل؟
کھلے دل سے ترانے مجھ کو آزادی کے گانے دو
منافع بے ملاوٹ حسبِ مرضی مل نہیں سکتا
مجھے بے خوف ہر خالص کو ناخالص بنانے دو
گھریلو تربیت میں بھی نہ ہو جائے کہیں غفلت
بلاناغہ حسیں چہروں کو ٹی وی پر دکھانے دو
برات اب آنے والی ہے یہاں میرے بھتیجے کی
درِ مسجد پہ بے چون و چرا باجا بجانے دو
بلا رشوت ملازم کا گزارا ہو نہیں سکتا
انہیں مِن فضلِ رَبی کی کمائی سے بھی کھانے دو
یہ آزادی کے رسیا بیٹھ کر کھانا نہیں کھاتے
یہ چوپائے کھڑے ہو کر ہی کھاتے ہیں تو کھانے دو
وہ دو شیزائیں دیکھو بیٹھ کر جانے لگیں بس میں
ہمیں بھی سیٹ پر ان کے مقابل بیٹھ جانے دو
لٹا کر اپنا سب کچھ تب کہیں جا کر بنا ممبر
مزے مجھ کو بھی عیشِ جاودانی کے اٹھانے دو
رہیں محروم کیوں اس نعمتِ عظمٰی سے مولانا
انہیں مادام کی دُھن میں نئی نعتیں سنانے دو
مٹھائی، کھیر، حلوہ روز کھانا بن گئی فطرت
انہیں مسجد میں ہر ہفتہ کسی کا دن منانے دو
جھنجوڑا کارواں نے جب تو میرِ کارواں بولے
ابھی کچھ اور دن کم بخت گل چھرے اڑانے دو
جرائم بڑھتے جاتے ہیں کمی ہونے نہیں پاتی
رئیس الملک کے اغماض پر آنسو بہانے دو
یہ سب بیماریاں ہو جائیں گی یکم رفوچکر
شریعت کا نظام اس ملک میں اک بار آنے دو
آپ نے پوچھا
ادارہ
مروجہ جمہوریت اور اسلام
سوال: عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ اسلام نے سب سے پہلے جمہوری نظام پیش کیا۔ اس کی کیا حقیقت ہے؟ اور کیا موجودہ جمہوریت اسلام کے مطابق ہے؟ (محمد الیاس، گوجرانوالہ)۔
جواب: جمہوری نظام سے مراد اگر تو یہ ہے کہ حکومت اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ ہونا چاہیئے تو یہ اسلام کی روح کے عین مطابق ہے۔ مسلم شریف کی ایک روایت کے مطابق جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے حکمران کی تعریف یہ فرمائی ہے کہ
’’تمہارے اچھے حکمران وہ ہیں جو تم سے محبت کریں اور تم ان سے محبت کرو، اور برے حکمران وہ ہیں جو تم سے بغض رکھیں اور تم ان سے بغض رکھو، وہ تم پر لعنت بھیجیں اور تم ان پر لعنت بھیجو۔‘‘
اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ حکومت اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ ضروری ہے اور اس عوامی اعتماد کے اظہار کی جو صورت بھی حالات کے مطابق اختیار کر لی جائے اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں ہے۔
لیکن جمہوریت کا جو تصور آج کل معروف ہے اور جس میں عوام کے نمائندوں کو ہر قسم کے کُلّی اختیارات کا حامل سمجھا جاتا ہے، یہ اسلام کے اصولوں سے متصادم ہے۔ علامہ سید سلیمان ندویؒ نے ۱۴ مارچ ۱۹۲۶ء کو کلکتہ میں جمعیۃ العلماء ہند کے سالانہ اجلاس کے موقع پر اپنے خطبۂ صدارت میں اسلام اور مروجہ جمہوریت کے درمیان اصولی فرق کو ان الفاظ کے ساتھ واضح کیا ہے:
’’موجودہ جمہوریت اور اسلامی جمہوریت میں کچھ فرق بھی ہے۔ موجودہ جمہوریت کے لیے شریعتِ الٰہی سے واقفیت ضروری نہیں۔ اسلامی جمہوریت کی صدارت کے لیے دوسرے شرائط کے ساتھ شریعتِ الٰہی سے واقفیت ضروری ہے۔ دوسرا فرق یہ ہے کہ راویوں کی اکثریت اور قلت غلطی اور صواب کا معیار نہیں ہے، بلکہ کتاب و سنت سے قریب ہونا یا نہ ہونا صحت اور خطا کی پہچان ہے۔ اس کے لیے ضرورت ہے کہ ہمارے ارکانِ سلطنت جس طرح رومن لاء اور یورپین قوانین سے واقف ہیں وہ اسلامی قوانین سے بھی آگاہ ہوں، بلکہ وہ جس طرح قوانینِ یورپ کے ماہر ہیں اگر وہ اسلامی قانون اور اس کے مآخذ سے بھی آگاہ ہوں تو وہ خود علماء ہیں۔ ان کو تنگ خیال ’’ملاؤں‘‘ کی بھی شکایت نہیں رہے گی اور ان کو مذہب یا تمدن کی کشمکش سے نجات مل جائے گی۔‘‘
نواب سراج الدولہؒ کون تھا؟
سوال: تحریکِ آزادی کے حوالہ سے نواب سراج الدولہؒ کا ذکر اکثر مضامین میں ہوتا ہے۔ یہ بزرگ کون تھے اور تحریکِ آزادی میں ان کا کردار کیا ہے؟ (حافظ عزیز الرحمان، گکھڑ)
جواب: جب انگریز برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش میں اپنے قدم جمانے میں مصروف تھا، نواب سراج الدولہؒ بنگال کا حکمران تھا اور یہ پہلا حکمران ہے جس نے میدانِ جنگ میں انگریز کی قوت کو للکارا اور مقابلہ کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔ سراج الدولہ کو اس کے مرحوم والد علی وردی خان نے وصیت کی تھی کہ بنگال میں انگریزوں کو قدم جمانے کا موقع نہ دینا۔ چنانچہ سراج الدولہؒ نے اپنے والد کی جگہ حکمرانی کا منصب سنبھالتے ہی انگریزوں کو اپنے علاقہ میں قلعے اور مورچے توڑ دینے کا حکم دیا اور حکم نہ ماننے کی وجہ سے حملہ کر کے کلکتہ شہر لڑائی کے ذریعے انگریزوں سے چھین لیا۔
اس کے بعد پلاسی کے میدان میں نواب سراج الدولہؒ اور انگریزوں کے درمیان جنگ ہوئی جس میں سراج الدولہؒ کے سپہ سالار میر جعفر نے انگریزوں کے ساتھ سازباز کر کے سراج الدولہؒ سے غداری کی اور اس غداری کے نتیجے میں نواب سراج الدولہؒ ۲۹ جون ۱۷۵۷ء کو پلاسی کے میدانِ جنگ میں جامِ شہادت نوش کر گئے۔ اور اس طرح فرنگی استعمار کے خلاف یہ پہلا جہادِ آزادی تھا جو نواب سراج الدولہؒ کی قیادت میں پلاسی کے میدان میں لڑا گیا مگر میر جعفر کی غداری کی وجہ سے کامیاب نہ ہو سکا۔
حج بدل کون کرے؟
سوال: عام طور پر یہ مشہور ہے کہ جس شخص نے اپنا حج کیا ہو وہی دوسرے کی طرف سے حج بدل کر سکتا ہے۔ کیا شرعاً یہ ضروری ہے؟ (محمد سلیمان۔ لاہور)
جواب: امام شافعیؒ کے نزدیک حج بدل کے لیے یہ شرط ہے کہ وہی شخص دوسرے کی طرف سے حج بدل کر سکتا ہے جس نے پہلے اپنا حج کیا ہو مگر امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک یہ ضروری نہیں ہے اور ان کے نزدیک وہ شخص بھی دوسرے کی طرف سے حج بدل کر سکتا ہے جس نے پہلے اپنا حج نہیں کیا۔ البتہ علامہ شامیؒ (رد المحتار ج ۲ ص ۲۴۸) میں فرماتے ہیں کہ اختلاف سے بچنے کے لیے بہتر یہی ہے کہ حج بدل کے لیے اسی شخص کو بھیجا جائے جس نے اپنا حج کیا ہوا ہو۔
تعارف و تبصرہ
ادارہ
’’قرآن معجزۂ جاوداں‘‘
تصنیف: ڈاکٹر احمد دیدات
اردو ترجمہ: عنایت اللہ
صفحات ۱۲۴
ملنے کا پتہ: الکتاب والسنۃ لائبریری، چونیاں سٹی، ضلع قصور
جناب ڈاکٹر احمد دیدات مسیحیت کے موضوع پر عالمی شہرت کے حامل محقق اور مناظر ہیں۔ انہوں نے نامور عیسائی علماء کے ساتھ مناظروں میں اسلام کی حقانیت اور بائبل کے محرف ہونے پر ناقابل تردید دلائل و شواہد پیش کر کے اہلِ علم سے خراجِ تحسین وصول کیا ہے اور ان موضوعات پر متعدد کتابیں بھی تصنیف کی ہیں۔ زیرِ نظر کتابچہ میں ڈاکٹر احمد دیدات نے قرآن کریم کے معجزہ ہونے پر ریاضی کے حوالے سے بحث کی ہے اور اعداد و شمار کے فارمولوں کے ذریعے قرآن کریم کے اعجاز کے ایک نئے پہلو کو متعارف کرانے کی کوشش کی ہے۔
قرآن کریم بلاشبہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے بڑا معجزہ ہے اور اس کے اعجاز کے متنوع پہلوؤں پر بحث و تمحیص کا سلسلہ اہلِ علم کے ہاں صدیوں سے جاری ہے اور اعداد و شمار کے حوالہ سے یہ کوشش بھی اسی علمی بحث کا ایک حصہ ہے۔ لیکن ’’الشریعہ‘‘ کے گذشتہ شمارہ میں محترم جناب پروفیسر غلام رسول عدیم کے مفصل مضمون کے ذریعے ہم یہ بات واضح کر چکے ہیں کہ قرآن کریم کے ’’عددی اعجاز‘‘ کی یہ بحث بوجوہ محلِ نظر اور پُر از خطر ہے۔ بالخصوص اس کا یہ پہلو بطورِ خاص قابلِ توجہ ہے کہ ۱۹ کے عدد کے حوالہ سے قرآن کریم کے عددی اعجاز کی یہ بحث امریکہ کے ڈاکٹر رشاد خلیفہ نے شروع کی ہے جس کا محترم ڈاکٹر احمد دیدات نے زیرنظر رسالہ میں جابجا حوالہ دیا ہے اور قارئین کو ڈاکٹر رشاد خلیفہ کے مضامین کے مطالعہ کا مشورہ بھی دیا ہے۔ جبکہ ڈاکٹر رشاد خلیفہ کا اپنا حال یہ ہے کہ اس نے ۱۹ کے اسی عددی فارمولا کی بنیاد پر نہ صرف احادیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو غلط قرار دے کر معاذ اللہ انہیں ناقابلِ اعتبار ٹھہرایا ہے بلکہ قرآنِ کریم کی بعض آیات کو بھی الحاقی قرار دینے کی جسارت کر ڈالی ہے۔ پھر اسی پر بس نہیں بلکہ ڈاکٹر رشاد خلیفہ نے خود رسول ہونے کا دعوٰی کیا اور سالِ رواں کے آغاز میں قتل ہو گیا۔
اسی پس منظر میں ہمارے نزدیک قرآن کریم کے عددی اعجاز کی یہ بحث خطرات سے خالی نہیں ہے اور ہماری معلومات کے مطابق خود ڈاکٹر احمد دیدات بھی اس سے رجوع کر چکے ہیں۔ اس لیے جو ادارے یا حضرات اس قسم کے مضامین شائع کر رہے ہیں ان کے دینی جذبہ کا اعتراف اور احترام کرنے کے باوجود ہم انہیں مخلصانہ مشورہ دیں گے کہ وہ ’’عددی اعجاز‘‘ کے خوشنما کیپسول میں بند قرآنی آیات اور احادیثِ نبویؐ کے انکار کے اس زہر کو مزید پھیلانے سے گریز کریں۔ امید ہے کہ متعلقہ حضرات اور ادارے ہماری اس گذارش پر سنجیدگی کے ساتھ غور فرمائیں گے۔
’’شمالی علاقوں کی آئینی حیثیت اور مسئلہ کشمیر‘‘
منجانب: تنظیم تحفظ آئینی حقوق شمالی علاقہ جات
صفحات: ۲۸
ملنے کا پتہ: جامعہ اسلامیہ سیٹلائیٹ ٹاؤن اسکردو
گلگت، بلتستان، دیامر اور دیگر ملحقہ علاقوں پر مشتمل شمالی علاقہ جات کی آئینی حیثیت اس وقت قومی سیاسی حلقوں میں موضوع بحث ہے اور بعض حلقے مسلسل اس کوشش میں ہیں کہ شمالی علاقہ جات کو پاکستان کا باقاعدہ آئینی حصہ قرار دے کر پانچویں صوبے کی حیثیت دی جائے، جبکہ دوسرے حلقوں کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ یہ علاقہ تاریخی طور پر کشمیر کا حصہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے متعلقہ بین الاقوامی دستاویزات میں بھی شمالی علاقہ جات کو کشمیر کا حصہ تسلیم کیا گیا ہے۔ اس لیے اس خطہ کو آئینی طور پر پاکستان کا صوبہ قرار دینے سے مسئلہ کشمیر کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے گا۔ ان حلقوں کی تجویز یہ ہے کہ شمالی علاقہ جات کو آزادکشمیر کی اسمبلی اور حکومت میں نمائندگی دے کر آزاد کشمیر سپریم کورٹ و ہائیکورٹ کا دائرہ شمالی علاقہ جات تک وسیع کر دیا جائے تاکہ اس خطہ کے عوام کو سیاسی اور قانونی حقوق بھی حاصل ہو جائیں اور مسئلہ کشمیر کو بھی کوئی نقصان نہ پہنچے۔ زیرنظر رسالہ میں اس نقطۂ نظر کی تفصیل کے ساتھ وضاحت کی گئی ہے جس کا مطالعہ موضوع سے دلچسپی رکھنے والے حضرات کے لیے مفید ہو گا۔
’’مردِ مومن کا مقام اور ذمہ داریاں‘‘
از مولانا عبد القیوم حقانی
ناشر: مؤتمر المصنفین دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک پشاور
کتابت و طباعت عمدہ۔ صفحات ۳۶ قیمت ۵ روپے
زیرنظر رسالہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے فاضل استاذ اور معروف صاحبِ قلم مولانا عبد القیوم حقانی کی بعض تقاریر کا مجموعہ ہے جس میں انہوں نے موجودہ دور میں ایک باشعور مسلمان کی ذمہ داریوں اور اسلامی نظام کے مختلف پہلوؤں کی افادیت و ضرورت پر بحث کی ہے۔ نئے تعلیم یافتہ نوجوانوں میں اس رسالہ کی اشاعت و تقسیم بہت زیادہ مفید ہو گی۔
’’مقامِ نبوت کی عجمی تعبیر‘‘ کا تعاقب
افادات: استاذ العلماء مولانا عبد القیوم ہزاروی
ترتیب: مولانا حافظ عزیز الرحمٰن ایم اے ایل ایل بی
کتابت و طباعت عمدہ۔ صفحات ۸۰ قیمت ۱۲ روپے
ملنے کا پتہ: عبید اللہ انورؒ اکادمی، مین بازار، ٹیکسلا
حضراتِ صوفیائے کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے جہاں احسان و سلوک کے میدان میں مسلمانوں کے ایک بڑے حصہ کو اللہ رب العزت کے ذکر اور عبادت و مجاہدہ سے مانوس کر کے تزکیۂ نفس کی سنتِ نبویؐ کو ہر دور میں زندہ رکھا ہے وہاں فلسفہ و کلام کی جولانگاہ بھی ان کے رہوارِ فکر کے لیے غیرمانوس نہیں رہی اور انہوں نے وجودِ باری تعالیٰ اور تخلیقِ کائنات کے حوالہ سے ہونے والے فلسفیانہ مباحث کی سنگلاخ وادیوں میں بادہ پیمائی کر کے اسی زبان میں اسلامی عقائد کی جس کامیابی کے ساتھ تشریح کی ہے اس نے اسلامی عقائد کے خلاف مختلف حلقوں کی طرف سے ہونے والی فلسفیانہ یلغار کا رخ موڑ کر رکھ دیا ہے۔
حضرات صوفیائے کرام قدس اللہ اسرارہم نے فلسفہ کائنات پر بحث کے دوران مختلف فلسفیانہ مکاتبِ فکر کا سامنا کرتے ہوئے بعض مقامات پر انہی کی زبان اور اصطلاحات سے کام لیا اور متعدد نئی اصطلاحات بھی اختیار کی جو ان مباحث کو عام ذہنوں کے دائرہ میں لانے کے لیے ضروری تھیں۔ یہ اصطلاحات ان ذہنوں کے لیے اجنبی اور نامانوس ثابت ہوئیں جنہیں ان مباحث کی گہرائی اور اہمیت کا ادراک نہیں اور اور ظاہربین حضرات نے صوفیائے کرامؒ کی ان اصطلاحات کو موردِ طعن و اعتراض بنا لیا۔
گذشتہ دنوں جناب ابوالخیر اسدی نے ’’مقامِ نبوت کی عجمی تعبیر‘‘ کے نام سے ایک رسالہ میں یہی روش اختیار کی اور وحدت الوجود، حقیقت محمدیہ، نبوت ذاتی و عرضی اور قسم کے خالص علمی اور دقیق فلسفیانہ مباحث کے حوالہ سے برصغیر کے نامور متکلم، فلسفی اور صوفی حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کے بعض مضامین کو ہدفِ تنقید بنایا۔
زیرنظر رسالہ میں استاذ العلماء حضرت مولانا عبد القیوم ہزاروی مدظلہ العالی نے جناب اسدی کے ان اعتراضات کا علمی انداز میں جواب دے کر یہ واضح کیا ہے کہ مولانا نانوتویؒ اور دیگر صوفیاء کرامؒ پر اسدی صاحب اور اس قبیل کے دیگر حضرات کے اعتراضات میں کوئی وزن نہیں ہے۔ اہلِ علم کے لیے اس رسالہ کا مطالعہ خاصی دلچسپی کا باعث ہو گا۔
’’اللہ کی رحمت کا خزانہ‘‘
مرتب: حافظ نذیر احمد نقشبندی
ناشر: حبیب کلاتھ ہاؤس، ۲۰ خاکوانی کلاتھ مارکیٹ، گوجرانوالہ
کتابت و طباعت عمدہ۔ صفحات ۱۹۲
یہ قرآن کریم کی گیارہ سورتوں، نماز کے فضائل، حج و عمرہ کے فضائل اور طریقہ، درود شریف کے فضائل اور ذکر کی فضیلت اور مختلف اوقات کی مسنون دعاؤں کا خوبصورت مجموعہ ہے جسے خانقاہ سراجیہ مجددیہ کندیاں کے خادم خصوصی جناب حافظ نذیر احمد نقشبندی مجددی نے مرتب کیا ہے اور جناب شیخ خورشید انور، جناب شیخ محمد یوسف اور ان کے دیگر برادران نے اپنے والدین اور ہمشیرہ مرحومہ کے ایصالِ ثواب کے لیے شائع کیا ہے جو مذکورہ بالا پتہ کے علاوہ انور برادرز، مین بازار، وزیر آباد سے بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔
ذیابیطس کے اسباب اور علاج
حکیم محمد عمران مغل
ذیابیطس یعنی پیشاب میں شکر آنا، دمہ، فالج، جوڑوں کا درد، بواسیر خونی وغیرہ کے مریض آج کل کثرت سے دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ یہ امراض پہلے بھی تھے مگر حیرانگی اس بات کی ہے کہ جدید دور میں ایک ایک پہلو پر سینکڑوں مفکرین اور ڈاکٹرز یا سائنس دان غوروفکر کر رہے ہیں مگر یہ امراض ؏ ’’مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی‘‘ کی عکاسی کر رہے ہیں۔
ذیابیطس اور بلڈپریشر پچھلی دہائی سے پاکستان میں تیزی سے پھیلے اور بجائے ختم ہونے کے اپنے ساتھ ایک اور عذاب ایڈز کی شکل میں لائے۔ ذیابیطس کا ذکر قدیم کتب میں نہایت پاکیزگی سے ملتا ہے۔ قدماء نے کیمیا عقل اور فکر کی خوردبین سے اس کے ہر پہلو پر روشنی ڈالی ہے۔ اطباء قدیم کا یہ معینہ مسلک اور اسوہ حسنہ رہا ہے کہ انہوں نے ہر مرض کے سبب کو تفصیل سے مخلوقِ خدا کے سامنے پیش کیا پھر علامات کو لکھ کر بال کی کھال تک اتاری۔ مثلاً شکر کیونکر خارج ہوتی ہے۔ قدماء نے غدد لعابیہ، بانقراس، جگر اور دماغ کا خصوصیت سے ذکر کیا ہے۔ غدد لعابیہ کا یہ فائدہ ہے کہ جو غذا کھائی جاتی ہے اس سے نشاستہ کے اجزاء میں تبدیل ہو کر شکر کی صورت اختیار کر کے جزوِ بدن بننے کے قابل ہوتی ہے جسے مالٹوز کہا جاتا ہے۔ پھر یہ نشاستہ معدے سے ہوتا ہوا انتڑیوں میں پہنچتا ہے وہاں بانقراس سے تین قسم کے خمیر ملتے ہیں جس سے یہ باریک ترین رگوں (عروق یا ساریقا) کے ذریعے جگر میں پہنچ کر ایک قسم کی شکر میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اسے گلائی کوجن یا شکر انگوری کہتے ہیں۔
یہ شکر جگر میں جمع رہتی ہے اور بوقتِ ضرورت تھوڑی تھوڑی خون میں مل کر حرارت بدنی پیدا کرتی رہتی ہے۔ پھر اس شکر کا کچھ حصہ عضلات میں بھی موجود رہتا ہے مگر حرکت کی وجہ سے ایک گیس جسے کاربانک کہتے ہیں اور کچھ حصہ پانی کا بنتا ہے۔ اب پانی تو پسینہ کے ذریعے خارج ہو جاتا ہے اور گیس تنفس کے ذریعے خارج ہوتی رہتی ہے۔ اس طرح شکر کا یہ فارمولا بھی ذہن میں آیا کہ یہ پانی اور کاربن کا مرکب ہے۔ چنانچہ شکر کو لوہے کے برتن میں گرم کریں تو اس کا پانی جل کر اڑ جائے گا اور کوئلہ کاربن کی شکل میں رہ جائے گا۔ یہی عمل ہمارے بدن میں قدرت نے بانقراس کے ذمہ لگا دیا۔ بانقراس سے جو رطوبت نکلتی ہے خون میں شامل ہو کر اس کا نظام ٹھیک رکھتی ہے۔
چنانچہ بانقراس یا اس سے نکلنے والی ہارمون میں خرابی ہو گئی تو شکر گردوں سے آنی شروع ہو جاتی ہے۔ یہی عمل شوگر کہلاتا ہے۔ اگر جگر کا عمل خرابی سے دوچار ہو جائے تو بھی شوگر کا مرض لاحق ہو گا کیونکہ شکر انگوری یعنی گلائی کوجن کو جگر اپنے اندر جمع رکھتا ہے، جب جگر کا عمل خراب ہوا تو شکر براہ راست پیشاب سے خارج ہونا شروع ہو گی۔ دماغ کا ایک خاص مقام ہے جسے طب کی زبان میں بطن چہارم کہتے ہیں، اگر سوئی چبھوئی جائے تو شوگر آنا شروع ہو جاتی ہے۔ اس مقام کو شوگر پنکچر کہتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس مقام کا تعلق جگر کے ساتھ اعصاب کے ذریعے ملا ہوا ہے۔ اس حصہ میں چوٹ بھی لگنے سے شوگر آنا شروع ہو جاتی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ جگر کی رگیں کشادہ ہو کر جگر میں خون زیادہ پہنچتا ہے جس سے جگر اپنا کیمیائی عمل نہیں کر سکتا اور شوگر آنا شروع ہو جاتی ہے۔ کبھی جگر کلاہ گردہ یا امعا پر چوٹ لگ جائے تو بھی شکر آ جاتی ہے۔
اس کی پانچ بڑی علامات قدیم حکماء نے بیان فرمائی ہیں (۱) پیشاب کی کثرت (۲) شکر کا آنا (۳) پیاس کی شدت (۴) بھوک کی زیادتی (۵) جسم کا لاغر ہوتے جانا، اس کا انجام کارسل ہی ہوا کرتا ہے۔
غذا میں مواد شکریہ و نشاستہ موقوف کر دیں، ہر قسم کا گوشت خوب کھائیں۔ بقراط کا یہ زریں قول ہے کہ کسی عضو خاص کا استعمال اس عضو کو قوت بخشتا ہے چنانچہ ایلوپیتھی میں اسی اصول کے تحت انسولین کا انجکشن لگایا جاتا ہے جو بانقراس (لبلبہ) کے اجزاء سے تیار کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ طبِ یونانی اور ایلوپیتھی دونوں طبیں افیون کے مرکبات پر متفق ہیں اس لیے افیون کا جوہر کوڈبن قابل تعریف خیال کیا جاتا ہے مگر طب یونانی میں اس کا بالکل معمولی استعمال بتایا گیا ہے۔ یہی حال جامن کا ہے۔ ہم تو عصاری جامن استعمال کرتے ہیں، اسی کو ڈاکٹر حضرات ایکسٹریکٹ جمیل لیکوئیڈ کی شکل میں مریض کے لیے اکسیر خیال کرتے ہیں۔ ڈایابین کا جزو اعظم یہی جامن ہی ہے۔
ذیل میں ایک نسخہ جو ہمہ صفت موصوف ہے، خلقِ خدا کی بہبود کے لیے پیشِ خدمت ہے، بنائیں اور مخلوقِ خدا کو فائدہ پہنچائیں۔
(۱) ھو الشافی ۔ گلو خشک، برگ جامن، خستہ جامن، اصل السوس مقشر، صمغ عربی، کتیرا، تخم نیلوفر، گاؤ زبان، گل سرخ، گل ارمنی، انار کے پھول، تخم خشخاش سفید، صندل سفید، کشتہ قلعی، کشتہ مرجان، مردارید تاسفۃ۔ یہ تمام ایک ایک تولہ۔ افیون خالص دو ماشہ، سب کو سفوف بنا کر چھ ماشہ خوراک صبح یا شام ہمراہ پانی کھائیں۔
(۲) اگر فی الحال پیشاب کی زیادتی ہے اور شوگر کی بیماری ابتدائی حالت میں ہے تو صرف حرمل کا سفوف بنا کر (یعنی اس کے بیج) صبح شام تین تین ماشہ دودھ سے کھائیں۔ فوری طور پر پیشاب رک کر شوگر کو بھی افاقہ ہو گا۔
(۳) نامی گرامی اطباء یہ بوٹیاں استعمال کا کر فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ جامن، گرٹا ربوٹی، کریلا، بیہڑے، ہلدی، شہتوت کے پتے اور بوٹی سدا بہار۔
والدین اور اولاد کے باہمی حقوق
حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ
بچوں کی مناسب نشوونما کے لیے تربیت و پرورش کی مناسب تدبیر والدین کا فرض ہے۔ ان کی جسمانی صحت کو درست رکھنے کے لیے مناسب کھیل اور تفریح کا انتظام ہونا چاہیے۔ اور ان کو ایسے مواقع سے بچانا ضروری ہے جہاں مار پیٹ یا اعضاء کے ٹوٹنے اور ان کے ضائع ہونے کا غالب گمان یا وہمی احتمال بھی موجود ہو۔
پھر جب وہ سنِ تمیز کو پہنچ جائیں اور تعبیر پر قادر ہو جائیں تو سب سے پہلے ان کو فصیح و بلیغ زبان کی تعلیم دی جائے تاکہ ان کی زبان لکنت اور رکاوٹوں سے صاف ہو جائے۔ انہیں پاکیزہ اخلاق کا خوگر بنایا جائے اور ایسے آداب کی تعلیم دی جائے جو شرفاء اور سرداروں کے لیے مناسب ہیں۔ ذلت و مبانت اور تکبر و تعلّی دونوں کی افراطی و تفریطی طرفوں سے بچائے رکھیں۔ کھانے پینے، اٹھنے بیٹھنے، چلنے پھرنے اور بزرگوں کے سامنے گفتگو کے آداب و اخلاق سے ان کو آگاہ کریں۔
نصابِ تعلیم میں اس بات کا خیال رکھا جائے کہ بچوں کو ان علوم و فنون کی تعلیم دی جائے جو ان کے لیے معاش و معاد اور دین و دنیا دونوں میں فائدہ پہنچائیں۔
جب بچے حد بلوغ تک پہنچ جائیں تو ان کے دو حق والدین کے ذمہ واجب ہو جاتے ہیں۔ ایک یہ کہ انہیں حلال طریقے سے روزی کمانے کے لیے مناسب پیشے یا ہنر سکھائیں، اور دوسرا حق یہ ہے کہ ان کی شادی کرائیں۔
اولاد پر فرض ہے کہ وہ والدین کی خدمت کریں اور ان کی تعظیم بجا لانے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کریں۔ ان کی صوابدید پر عمل کریں اور کبھی ان کے سامنے اُف تک نہ کریں۔ حتی المقدور والدین کی نافرمانی سے بچنا چاہیئے۔
(البدور البازغۃ مترجم ۔ ص ۱۴۲)
سود کے خلاف قرآنِ کریم کا اعلانِ جنگ
حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ
قرآنِ کریم میں خلافتِ الٰہیہ کے قیام سے مقصد اس کے سوا کچھ نہیں کہ ایک ایسی قوت پیدا کی جائے جس سے اموال اور حکمت، علم و دانش دونوں کو لوگوں میں صرف کیا جائے اور پھیلایا جائے۔ اب سودی لین دین اس کے بالکل منافی اور مناقض ہے۔ قرآن کریم کی قائم کی ہوئی خلافت میں ربوٰ (سود) کا تعامل کس طرح جائز ہو سکتا ہے؟ اس کا جواز بھی ایسا ہی ہے جیسا کہ نور و ظلمت کا اجتماع۔ ربٰو سود خواروں کے نفوس میں ایک خاص قسم کی خباثت پیدا کر دیتا ہے جس سے یہ ایک پیسہ بھی خرچ کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ اگر یہ خرچ کرتے ہیں تو ان کے سامنے ’’اضعافًا مضاعفًا‘‘ (دوگنا چوگنا) نفع حاصل کرنا مقصود ہوتا ہے۔
علاوہ ازیں سود کی وجہ سے اقتصادیات میں جو فساد اور اخلاقِ فاضلہ کی تباہی اور بربادی اور فطرتِ انسانیہ میں بگاڑ اور لوگوں پر اقتصادی طور پر ضیق و تنگی پیدا ہوتی ہے، یہ اس قدر ظاہر باتیں ہیں جن کے بیان کی ضرورت نہیں۔ اس لیے قرآنِ عظیم نے سود کو روئے زمین سے مٹانے کا اعلان کیا ہے اور انسانیت کو اس کے لینے اور دینے والوں کے شر و ظلم سے چھڑانے کا اعلان کیا ہے۔
سب سے پہلے مواعظِ حسنہ کے ذریعے سودی کاروبار سے منع کیا ہے، اگر اس سے باز نہ آئیں اور متنبہ نہ ہوں تو ان کے ساتھ سخت لڑائی کا اعلان کیا ہے اور ایسے لوگوں کی سطح ارضی سے مٹانے کا چیلنج کیا ہے۔ اور قرآن کریم میں اس کی اساسی تعلیم بڑے محکم طریق پر دی ہے، ربٰو سے منع کیا گیا ہے، سود خواروں کے خلاف اعلانِ جنگ کیا ہے، لیکن پوری طرح رشد و ہدایت کے واضح ہونے کے بعد اور اس کی مضرتوں کو پوری طرح کھول کر بیان کر دینے کے بعد۔ یقیناً یہ رشد و ہدایت کے منافی اور خلاف ہے، اب اس کے خلاف جنگ جبر و اکراہ نہیں ہو گا بلکہ عین انصاف کا تقاضا ہو گا۔
(الہام الرحمٰن)