اسلامی بیداری کی لہر اور مسلم ممالک
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
روزنامہ جنگ لاہور نے ۲۰ فروری ۱۹۹۰ء کی اشاعت میں ہانگ کانگ کی ڈیٹ لائن سے ’’ایشیا ویک‘‘ کی ایک رپورٹ کا خلاصہ خبر کے طور پر شائع کیا ہے جس میں مغربی ممالک میں مسلمانوں کی آبادی اور ان کے مذہبی رجحانات میں روز افزوں اضافہ کو ’’مغرب میں اسلام کی خوفناک پیش قدمی‘‘ کے عنوان سے تعبیر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے چند اہم نکات درج ذیل ہیں:
- صدیوں قبل اسلام مغرب میں صلیبی جنگوں کے حوالے سے داخل ہوا تھا اور پھر نکل بھی گیا تھا لیکن اب اسلام مغرب میں عقیدہ کی تبدیلی، نقل مکانی اور شرح پیدائش میں اضافہ کے حوالہ سے پیش قدمی کر رہا ہے۔
- یورپ اور مغرب میں کمیونزم کا ہوّا ختم ہونے کے بعد اب اسلام کا ہوّا اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ اور نہ صرف مغربی یورپ کے ممالک میں مسلمان اپنا تشخص دریافت کر رہے ہیں بلکہ یوگوسلاویہ، بلغاریہ اور سوویت یونین میں بھی ایسا ہو رہا ہے جہاں مسلمان اور غیر مسلمانوں کے درمیان خونی تصادم کے واقعات روز مرہ کا معمول بن چکے ہیں۔
- گزشتہ دو دہائیوں میں امریکی مسلمانوں کی تعداد میں دو گنا اضافہ ہوا، مقامی مسلمانوں کی تعداد میں ۱۹۸۰ء کے بعد سے ۲۴ فیصد اضافہ ہوا اور آئندہ ۳۰ برس سے بھی پہلے مسلمانوں کی آبادی یہودیوں سے بڑھ جائے گی اور اس طرح مسلمان امریکہ میں دوسرے نمبر پر آجائیں گے۔ ڈیربورن کے شہر میں مسلمان آبادی کا دس فیصد حصہ ہیں جہاں سرکاری اسکولوں میں مسلمانوں کے تہواروں پر چھٹی کی جاتی ہے اور ہوٹلوں میں سور کا گوشت پیش نہیں کیا جاتا۔ کیلیفورنیا یونیورسٹی میں مسلمان طلبہ نے رمضان کے دوران کھانے کے الگ اوقات کا مطالبہ منوا لیا ہے۔
یہ ایک ہلکی سی جھلک ہے اس دینی بیداری کی جو مغربی ممالک میں مقیم مسلمانوں کے دل و دماغ میں کروٹ لے رہی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام اور کمیونزم کے ستائے ہوئے معاشروں میں اسلامی بیداری کی یہ لہر جہاں اسلام کی صداقت کی دلیل ہے وہاں عالمی معاشرے میں اسلام کے درخشاں مستقبل کی نوید بھی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جن ممالک میں مسلمان اکثریت میں ہیں اور نام نہاد مسلم حکومتیں بھی قائم ہیں، اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی اس عالمی لہر میں خود ان کا رخ کس جانب ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ملا اعلی میں ’’وان تتولوا یستبدل قوماً غیرکم‘‘ کے اٹل قانون پر عمل کا فیصلہ ہو چکا ہو اور ہم اپنے گروہی، طبقاتی، شخصی، نسلی اور علاقائی تشخصات و تعصبات کی بھول بھلیوں میں اندلس کی تاریخ دہرانے کے کردار پر ہی قناعت کر بیٹھیں۔
شاید کہ اتر جائے کسی دل میں مری بات
احادیثِ رسول اللہؐ کی حفاظت و تدوین
صحابہ کرامؓ اور تابعینؒ کی خدمات
شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر
بدقسمتی سے آج ایک ایسا طبقہ بھی موجود ہے جو خود کو مسلمان کہلاتا ہے اور بایں ہمہ احادیث کو مشکوک نگاہوں سے دیکھتا اور ان سے گلوخلاصی کے لیے طرح طرح کے بہانے تراشتا ہے۔ کبھی کہتا ہے کہ احادیث ظنی ہیں، کبھی کہتا ہے کہ وہ قرآن کریم سے متصادم ہیں، کبھی کہتا ہے کہ وہ عقل کے خلاف ہیں، کبھی کہتا ہے کہ احادیث دوسری تیسری صدی کی پیداوار ہیں، کبھی کہتا ہے کہ یہ عجمیوں کی سازش ہے، اور کبھی جعلی اور موضوع احادیث کو چن چن کر بلاوجہ درمیان میں لا کر ان کی وجہ سے صحیح احادیث پر برستا ہے، کبھی ان کے معانی میں کیڑے نکالتا ہے۔ الغرض مشہور ہے کہ ’’خوئے بدرا بہانہ ہائے بسیار‘‘۔
حافظ ابن تیمیہؒ نے بجا فرمایا کہ ہر زندیق اور منافق کا اس علم کو باطل کرنے کے لیے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو دے کر بھیجا ہے، یہ عمدہ ہتھیار ہے کہ وہ کبھی تو یہ کہتا ہے کہ ہمیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے پیغمبروں نے ایسا فرمایا ہے؟ اور کبھی کہتا ہے کہ ہم نہیں جانتے کہ اس سے ان کی مراد کیا ہے؟ اور جب ان کے قول اور اس کے معنی کے علم ہی کی پیغمبر سے نفی ہو گئی اور علم ان کی طرف سے حاصل نہ ہوا تو اس کے بعد احادیث (حضرات انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام) کے معارضہ سے مامون ہو کر زندیق اور منافق جو چاہتا ہے اپنی طرف سے کہتا ہے، کیونکہ اسلام کی سرحدیں ان دو تیروں سے محفوظ ہیں ( ایک الفاظِ حدیث اور دوسرا ان کے معانی)۔ اور پھر آگے لکھتے ہیں اگرچہ زبانی کلامی زندیق اور منافق حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی تعظیم و کمال کا اقرار بھی کرتا ہے (محصلہ نقص المنطق ص ۷۵ طبع القاہرہ) ۔ اور کبھی کہتا ہے کہ اگر احادیث حجت ہیں تو آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور حضرات صحابہ کرامؓ نے وہ کیوں نہیں لکھیں اور لکھوائیں؟ اور کبھی کہتا ہے کہ آپؐ نے اور حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے احادیث کو مٹانے کا حکم کیوں دیا تھا؟
یہاں ہمیں یہ عرض کرنا ہے کہ اہلِ عرب کو اللہ تعالیٰ نے بڑے قوی حافظے دیے تھے اور وہ کتابت سے زیادہ حفظ پر بھروسہ کرتے تھے اور کتابت کو چنداں وقعت نہ دیتے تھے اور نری کتابت پر اعتماد کو وہ ایک کم درجے کی حیثیت دیتے تھے۔ چنانچہ امام ابو عمر یوسفؒ بن عبد البر المالکیؒ (المتوفی ۴۶۳ھ) اس سلسلہ میں چند قیمتی باتیں نقل کرتے ہیں جو اہل عرب اور اربابِ ذوق کے لیے فائدہ سے خالی نہیں۔
(۱) قال اعرابی حرف فی تامورک خیر من عشرۃ فی کتبک (جامع بیان العلم ج ۱ ص ۶۹)
’’بدو کہتا ہے کہ ایک حرف جو تیرے دل میں محفوظ ہے ان دس باتوں سے بہتر ہے جو تیری کتابوں میں درج ہے۔‘‘
اندازہ لگائیں کہ عرب کا بدو کتابوں کا طومار دیکھ کر کس طرح مذاق اڑاتا تھا اور یہ فقرہ بدوؤں میں عام چلتا ہوا فقرہ تھا اور یہ محض اس لیے تھا کہ وہ دولتِ حفظ سے نوازے گئے تھے۔
(۲) مذھب العرب انھم کانوا مطبوعین علی الحفظ مخصوصین بذالک (جامع بیان العلم ج ۱ ص ۶۹)
’’عرب کا طریقہ ہی یہ تھا کہ حفظ کی دولت ان کی فطرت اور طبیعت میں پیوست تھی اور وہ اس دولت سے مختص تھے۔‘‘
اس عبارت سے ان کی فطری صلاحیت اور حفظ کے ساتھ اختصاص بالکل واضح ہے۔
(۳) قال الخلیل رحمہ اللہ تعالیٰ ؎
لیس العلم ما حوی القمطر
ما العلم الا ما حواہ الصدر
’’امام خلیل بن احمدؒ (المتوفی ۱۷۴ھ) فرماتے ہیں کہ علم وہ نہیں جو کاغذوں اور کتابوں میں درج ہے بلکہ علم وہ ہے جو سینہ میں محفوظ ہے۔‘‘
(۴) یونس بن حبیبؒ نے ایک شخص سے سنا (جامع بیان العلم ج ۱ ص ۶۹) ؎
استودع العلم قرطاسا فضیعہ
و بئس مستودع العلم القراطیس
’’یعنی اس نے علم کو کاغذ کے سپرد کر دیا اور علم کو ضائع کر دیا اور علم کا برا ظرف اور مکان کاغذ ہیں۔‘‘
(۵) منصور فقیہ فرماتے ہیں (جامع بیان العلم ج ۱ ص ۶۹) ؎
علمی معی حیث ما یممت احملہ
بطنی دعاء لہ بطن صندوقی
ان کنت فی البیت کان العلم فیہ معی
او کنت فی السوق کان العم فی السوقٖ
’’یعنی میرا علم میرے ساتھ ہی ہوتا ہے جہاں بھی میں قصد کرتا ہوں اسے اٹھائے پھرتا ہوں۔ میرا پیٹ علم کا برتن ہے نہ کہ صندوق کا پیٹ۔ اگر میں گھر میں ہوتا ہوں تو علم بھی میرے ساتھ گھر میں ہی ہوتا ہے اور اگر میں بازار میں ہوتا ہوں تو علم بھی میرے ساتھ بازار میں ہوتا ہے۔‘‘
(۶) ان حضرات کو اللہ تعالیٰ نے ایسا غضب کا حافظہ دیا تھا کہ غیر ارادی طور پر بھی وہ جو کچھ سن لیتے وہ بھی ان کے سینہ میں محفوظ رہتا۔ چنانچہ امام زہریؒ کا بیان ہے کہ
انی لامر البقیع فاسد اذانی مخافۃ ان یدخل فیھا شئ من الخنافوا اللہ ما دخل اذنی شئ قط خفیتہ۔ (جامع بیان العلم ج ۱ ص ۶۹)
’’میں بقیع کے پاس سے گزرتا ہوں تو اپنے کان بند کر لیتا ہوں اس ڈر کے مارے کہ میرے کانوں میں کوئی فحش قسم کے گانے نہ داخل ہو جائیں۔ بخدا کبھی کوئی چیز میرے کان میں داخل نہیں ہوئی کہ پھر وہ مجھے بھول گئی ہو۔‘‘
جن حضرات کو اللہ تعالیٰ نے ایسے غضب کے حافظے مرحمت فرمائے تھے وہ بھلا اپنے پیارے پیغمبر کی باتوں کو بھول سکتے تھے جب کہ آپؐ کے ایک بال کے متعلق حضرت عبیدہؒ (بن عمرو السلمانیؒ المتوفی ۷۲ھ) یہ فرماتے ہیں:
لان تکون عندی شعرۃ منہ احب الی من الدنیا و ما فیھا۔ (بخاری ج ۱ص ۲۹)
’’یعنی آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بالوں میں سے ایک بال بھی میرے پاس ہو تو دنیا و ما فیھا سے وہ مجھے زیادہ محبوب ہے۔‘‘
خیال فرمائیں کہ جو حضرات صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک بال مبارک کو دنیا و مافیھا سے بہتر سمجھتے تھے وہ آپؐ کی حدیثوں کو کس عقیدت و محبت کی نگاہ سے دیکھتے ہوں گے۔
(۷) امام ابن عبد البرؒ لکھتے ہیں کہ
ان العرب قد خصت بالحفظ کان احدھم یحفظ اشعار بعض فی سمعۃ واحدۃ وقد جاء ان ابن عباسؓ حفظ قصیدۃ عمر بن ابی ربیعۃ امن آل نعم انت عاد فبکر فی سمعۃ واحدۃ الخ۔ (جامع بیان العلم ج ۱ ص ۶۹ و ۷۰)
’’اہل عرب حافظہ کے ساتھ مختص تھے، ان میں ایسے بھی تھے جو ایک ہی دفعہ بعض کے اشعار سن کر یاد کر لیتے تھے اور حضرت ابن عباسؓ نے عمر بن ابی ربیعہ کا قصیدہ امن من آل الخ (یعنی کیا آل نعم سے توکل بہت ہی سویرے چلے گا الخ) ایک ہی دفعہ سن کر یاد کر لیا تھا (یہ قصیدہ تقریبًا ستر یا اسی اشعار پر مشتمل تھا)۔‘‘
(۸) امام شعبیؒ فرماتے ہیں:
ما کتبت سوداء فی بیضاء و ما استعدت حدیثًا من انسان۔ (طبقات ابن سعدؒ دارمی ص ۱۲۵ طبع دمشق و تہذیب التہذیب ج ۵ ص ۶۷)
’’یعنی میں نے کبھی سیاہی کے ساتھ کاغذ پر کچھ نہیں لکھا (سب سینے میں محفوظ کیا ہے) اور میں نے کبھی کسی انسان سے حدیث دہرانے کی خواہش نہیں کی۔‘‘
یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ جو دینی ذوق ان حضرات کو تھا وہ بعد والوں کو حاصل نہیں ہو سکا اور قرآن کریم کے بعد دین کا منبع حدیث شریف اور آثار حضرات صحابہؓ ہیں اور حفظ کی خداداد دولت بھی ان کو وافر نصیب تھی اور انہوں نے پوری ہمت اور استقلال کے ساتھ اس کا ثبوت بھی دیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا کوئی قول اور فعل بلکہ کوئی حرکت و ادا ان سے اوجھل نہ رہے تو پھر یہ کیسے متصور ہو سکتا ہے کہ اس کو محفوظ رکھنے کے سلسلے میں انہوں نے کسی بھی قسم کی کوئی کوتاہی کی ہو۔ اس دور کے مسلمانوں کی اکثریت قرآن کریم کے بعد احادیث کی حافظ ہوتی تھی۔ کسی کو کم اور کسی کو زیادہ حدیثیں ازبر ہوتی تھیں اور ہر مسلمان چلتی پھرتی سنت تھا۔
جب خیر القرون سے بُعد ہوتا گیا تو وہ برکات نہ رہیں جو ان مبارک قرون میں ہوتی تھیں اور علم و عمل کا وہ ذوق و شوق بھی کم ہوتا چلا گیا اور جید اور قابل اعتبار علماءِ ملت کو فکر ہوئی کہ کتب حدیث کی باقاعدہ تدوین کیے بغیر یہ قیمتی ذخیرہ محفوظ اور باقی نہیں رہ سکتا۔ اس لیے انہوں نے آنے والی نسلوں کے لیے حدیث کو کتابت کی شکل میں محفوظ رکھنا ضروری سمجھا اور ان کی اس نیک اور مخلصانہ کوشش اور کاوش سے حدیث کی تدوین ہوئی۔
الغرض کتابتِ حدیث تو دورِ زوال و انحطاط کی یادگار ہے اور اس دور کی کارروائی تو منکرینِ حدیث کے نزدیک قابلِ سند اور حجت ہے مگر صد افسوس ہے کہ دورِ کمال اور زمانۂ عروج کی ارفع و معتمد علیہ کارروائی ان کے نزدیک مشکوک ہے اور ان کا یہ عذر لنگ محض حدیث سے رستگاری کے لیے ہے کہ کلیتًا حدیث سے انکار کے بعد دین کی جو صورت ان کے ماؤف ذہن اور نارسا عقل میں آئے گی وہ دین تصور ہو گی ۔۔۔ اور جو کچھ بقول ان کے عقل کے خلاف ہو گا یا ان کے نفسِ امارہ پر شاق اور گراں گزرے گا تو وہ بزعم ان کے عجمیوں کی سازش ہو گی اور ناقابل اعتماد ذخیرہ ہو گا۔ اگر ان کے نزدیک کتابت ہی حجت اور قابل اعتبار حقیقت ہے تو ذیل کے ٹھوس اور مفصل حوالوں سے بخوبی اس کا اندازہ بھی ہو جائے گا کہ ان مبارک ادوار میں کتابت حدیث کی بھی کوئی کمی نہ تھی اور لکھنے والے باقاعدہ لکھا بھی کرتے تھے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک طویل ہدایت نامہ جس میں دین کی بنیادی باتوں کا تذکرہ ہے تحریر کروا کر اور مہر لگا کر بدست حضرت دحیہؓ بن خلیفہ ہرقل روم کو بھیجا تھا (بخاری ج ۱ ص ۴، مسلم ج ۲ ص ۹۷)۔ اور اسی طرح بنام کسرٰی شاہ ایران آپؐ کا دعوت نامہ جو بحرین کے گورنر المنذر بن ساوٰی کی وساطت سے آپؐ نے بھیجا تھا اس کا تذکرہ بخاری ج ۱ ص ۱۵ وغیرہ میں موجود ہے اور مسلم ج ۲ ص ۹۹ کی روایت میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کسرٰی، قیصر، نجاشی اور ہر جابر کو اللہ تعالیٰ (کے دین) کی طرف دعوت دیتے ہوئے خطوط لکھ کر بھیجے اور اس روایت میں نجاشی سے مراد وہ نجاشی نہیں جس کا جنازہ آپؐ نے پڑھایا تھا۔ ان کا نام اصحمہؓ تھا اور وہ مسلمان ہو چکے تھے اور اسی طرح دیگر بعض بادشاہوں اور مقتدر شخصیتوں کو آپ نے اسلام کے دعوت نامے بھیجے۔
حضرت ابو شاہ یمنی ؓ کی درخواست پر جو خطبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر ارشاد فرمایا تھا وہ آپؐ نے لکھوا کر ان کو دیا تھا اور اسی میں آپؐ کے صریح الفاظ ہیں ’’اکتبولا بی شاہؓ‘‘ کہ یہ ابو شاہؓ کو لکھ کر دو (بخاری ج ۱ ص ۲۲ و ج ۱ ص ۳۲۹ و مسند احمد ج ۲ ص ۲۳۸)۔
کتبِ حدیث و تاریخ اور سیر پر گہری نگاہ رکھنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ آپؐ کا حجۃ الوداع کا خطبہ کتنا طویل اصول و فروع کے اہم مسائل پر حاوی اور جامع و مانع تھا۔ اگر آپؐ کے ارشادات کا لکھنا ناجائز ہوتا تو آپؐ صاف طور پر فرما دیتے کہ لکھنے کی اجازت نہیں ہے اس کو صرف زبانی طور پر یاد رکھو اور نیز اگر آپؐ کے ارشادات حجت نہ ہوتے تو اولًا حضرت ابو شاہؓ کو ان کے لکھوا کر محفوظ رکھنے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی، و ثانیًا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود فرما دیتے کہ (معاذ اللہ) میری باتیں تو صرف مجمع کو جمع کرنے اور اس کو خوش کرنے کے لیے ہوتی ہیں اور یہ صرف دماغی اور ذہنی عیاشی ہے تم لکھنے کے بیکار کام کے پیچھے کیوں پڑے ہوئے ہو؟ غرضیکہ ہر حق جو اس سے حقیقت کو پا سکتا ہے اور یہ ایک خالص حقیقت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک زمانہ میں حضرات صحابہ کرامؓ کے جتنے اجتماعات ہوئے حجۃ الوداع کا اجتماع ان سب سے بڑا، نرالا اور آخری اجتماع تھا۔ اور ابن ماجہ ص ۲۲ کی روایت میں ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بے شمار انسان جمع تھے (بشر کثیر) اور سب یہ چاہتے تھے کہ آپؐ کی پیروی کریں اور آپؐ کے عمل جیسا عمل کریں اور یہی نیک جذبہ ان کو آپؐ کے گرد جمع کیے ہوئے تھا۔
حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت تک جن حضرات نے آپؐ سے حدیثیں سنیں اور آپؐ کو دیکھا جن میں مرد اور عورتیں سبھی شامل ہیں ان کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ تھی (اصابۃ فی تذکرۃ الصحابۃؓ ج ۱ ص ۳)
حضرت عبد اللہ بن عمروؓ (المتوفی ۶۳ھ) حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ میرے بغیر کسی کو اتنی حدیثیں معلوم نہیں ۔۔۔۔۔ (حضرت ابوہریرہؓ سے ۵۳۷۴ حدیثیں مروی ہیں) جتنی حضرت عبد اللہ بن عمروؓ کو معلوم ہیں کیونکہ وہ لکھ لیتے تھے اور میں نہیں لکھتا تھا (بخاری ج ۱ ص ۲۲ و ترمذی ج ۲ ص ۲۲۴ و دارمی ص ۶۷ و مستدرک ج ۱ ص ۱۰۵)۔ ایسا لگتا ہے کہ حضرت ابوہریرہؓ کا حدیثیں نہ لکھنے (اور نہ لکھوانے) کا واقعہ ابتدائی دور کا ہے، آخر میں حضرت ابوہریرہؓ سے کتابتِ حدیث کا ثبوت بھی ملتا ہے۔ چنانچہ حافظ ابن حجر الحسن بن عمروؒ بن امیہؓ سے سند کے ساتھ روایت نقل کرتے ہیں کہ وہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہؓ کے پاس ایک حدیث بیان کی گئی اور انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور اپنے گھر لے گئے اور انہوں نے ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثوں کی لکھی ہوئی کتابیں دکھلائیں اور فرمایا کہ یہ میرے پاس لکھی ہوئی ہیں۔
امام ابن عبد البرؒ فرماتے ہیں کہ ہمام کی روایت (جس میں عدم کتابت کا ذکر ہے) زیادہ صحیح ہے اور دونوں روایتوں میں جمع اور تطبیق بھی ممکن ہے۔ وہ یہ کہ آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دور میں وہ نہیں لکھتے تھے اور پھر بعد کے زمانہ میں لکھتے تھے (فتح الباری ج ۱ ص ۲۱۷)۔ حضرت ابوہریرہؓ کے ایک مجموعہ کا جو مروان نے حکمتِ عملی سے لکھوایا تھا اور جس میں بہت سی حدیثیں درج تھیں ذکر پہلے ہو چکا ہے اور ان کی کچھ احادیث کا مجموعہ حضرت ہمامؒ بن منبہؒ نے تیارکیا تھا جو صحیفۂ ہمامؒ کے نام سے احادیث میں مشہور ہیں، اس سے کچھ حدیثیں حضرت امام احمدؒ نے مسند ج ۲ ص ۳۴ تا ص ۳۱۸ میں نقل کی ہیں۔ حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں و صحیفۃ ہمام مشہورۃ (تہذیب التہذیب ج ۱ ص ۲۱۶) کہ ہمامؒ کا صحیفہ مشہور ہے۔ اور اسی طرح حضرت بشیر بن نہیکؒ نے بھی حضرت ابوہریرہؓ کی روایتوں کا ایک مجموعہ لکھا ہے اور پھر ان سے اس کی روایت کی اجازت بھی لی (کتاب العلل ترمذی ج ۲ ص ۲۳۹ و دارمی ص ۶۸)
مولانا عزیر گلؒ
تحریک شیخ الہندؒ کی آخری یادگار
عادل صدیقی
حضرت شیخ الہندؒ کے خادم خاص، انتہائی خطرناک اور جوکھم کی ذمہ داریوں کو سنبھالنے سے طبعًا مناسبت رکھنے والے، صوبہ سرحد اور آزاد علاقہ یاغستان میں وطنِ عزیز کی آزادی کا نعرہ بلند کرنے والے، رازداری اور بلند ہمتی کے پیکر جلیل، دوسروں کے لیے خدمت گزاری کا جذبہ رکھنے والے، دوسروں کو راحت اور خود تکلیف اٹھانے میں مسرت محسوس کرنے والے، حق رفاقت کے آداب نبھانے والے، ملکوتی شخصیتوں کے رازداں بننے کی پوری صلاحیت رکھنے والے، دورِ شباب میں ہی آزادیٔ وطن کی خاطر سر اور دھڑ کی بازی لگانے والے، انتہائی جری، بہادر اور غیرت مند، سوجھ بوجھ کے سمندر کے تیراک، صاف گوئی اور بے باکی میں لاجواب انسان حضرت مولانا عزیر گلؒ نے تقریباً ایک سو دس سال کی زندگی گزار کر اس دارفانی سے کوچ کیا۔ آپ کا انتقال اپنے آبائی وطن ایجنسی مالاکنڈ پشاور میں ہوا۔
سی آئی ڈی کی رپورٹ کے مطابق آپ کا وطن درگئی ہے لیکن آپ کا آبائی وطن زیارت کاکا صاحب (پشاور) تھا، البتہ آپ کے والد بزرگوار نے درگئی میں سکونت اختیار کر لی تھی۔ آپ نے ابتدائی تعلیم پشاور میں حاصل کی اور اس کے بعد آپ کو دین کی تعلیم کے حصول کے لیے دنیا کی شہرہ آفاق یونیورسٹی ’’مدرسہ دارالعلوم دیوبند‘‘ میں بھیجا گیا۔ آپ کا ابتداء میں ہی رابطہ حضرت شیخ الہندؒ سے ہو گیا تھا اور پھر یہ رشتہ اتنا مضبوط ہوا کہ زندگی بھر نہ ٹوٹا۔ مولانا عزیرگلؒ اپنی سادگی طبع کی وجہ سے اساتذہ کے حلقہ میں بے حد مقبول تھے۔
آپ نے جس دور میں پرورش پائی وہ ہندوستان میں انگریزوں کی سامراجی پالیسی کے خلاف علماء ہند اور بالخصوص علماء دیوبند کی جدوجہد کا زمانہ تھا۔ حضرت شیخ مولانا محمود حسنؒ نے انگریزوں کو ہندوستان سے نکالنے اور آزادی سے ملک کو ہمکنار کرنے کا نعرہ ایسے وقت بلند کیا جبکہ یہاں اس بات کو سوچنا مصائب اور موت کو دعوت دینا تھا۔ یہ انگریزوں کی سلطنت کا عروج تھا اور اس دور میں زمیندار اور امراء انگریزوں کے ساتھ ہو گئے تھے۔ ایسے دور میں انگریزوں کی مخالفت کرنا اور ملک کی آزادی کے بارے میں سوچنا ایسے ہی سرپھرے لوگوں کا کام ہو سکتا تھا جو باطن کی نگاہ رکھتے ہوں اور جن کی ملی غیرت ان کو انگریزوں کا غلام بننے سے روکتی ہو۔ چنانچہ حضرت شیخ الہندؒ سے درس حاصل کرنے کے دوران ان میں جذبۂ حب الوطنی کوٹ کوٹ کر بھر چکا تھا، پھر سونے پر سہاگہ یہ کہ آپ کو حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ جیسا رفیق ملا۔ چنانچہ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ تحریر فرماتے ہیں:
’’مولانا عزیر گل صاحب، حضرت شیخ الہندؒ کے خادم خاص ہیں۔ مشن کے ابتدا سے ممبر رہے اور نہایت مہتم بالشان اور خطرناک کاموں کو انجام دیتے رہے۔ صوبہ سرحد اور آزاد علاقہ یاغستان میں سفارت کی خدمات عظیم انہوں نے انجام دیں۔ عمومًا شیخ الہندؒ ان کو پہاڑی علاقوں میں اپنے ہم خیال اور ہمنوا لوگوں کے پاس بھیجا کرتے تھے۔ دشوار گزار اور خطرناک راستوں کو قطع کر کے نہایت رازادی اور ہمت و استقلال کے ساتھ بار بار آتے جاتے رہے۔ پہاڑی علاقوں اور ہولناک جنگلوں کو رات دن پیدل قطع کرتے رہے۔ حاجی ترنگ زئی اور علماء سرحد یاغستان اور دیگر خواتین کو آپ نے مشن کا ممبر بنایا۔ ان کے پاس پیغام اور خطوط پہنچانا، ان کو ہموار کرنا، ان کا اور مولانا عبید اللہ صاحب مرحوم کا فریضہ تھا جن کو ان دونوں حضرات نے اوقاتِ مختلفہ میں انجام دیا۔ باوجودیکہ سی آئی ڈی ان کے پیچھے لگی رہی مگر انہوں نے کبھی اس کا پتہ چلنے نہ دیا۔ باربار ان کو بھیس بدلنا پڑا اور انجان علاقوں سے گزرنا پڑا مگر نڈر ہو کر ان کو قطع کیا۔ ہر قسم کے خطرات میں بلاخوف و خطر اپنے آپ کو ڈالتے رہے۔‘‘
جب سلطنتِ برطانیہ نے حضرت شیخ الہندؒ کی تحریک سے واقفیت حاصل کی تو اس نے حضرت کو گرفتار کرنے کا پلان بنایا۔ جب اس طرح کی خبریں حضرت شیخ الہندؒ کو معلوم ہوئیں تو حضرت حجاز کے لیے روانہ ہو گئے۔ یہ وہ دور تھا کہ شریف حسین نے مکہ معظمہ میں سلاطین آل عثمان کی خلافت سے انکار کیا اور ترکی قوم کی تکفیر کا فتوٰی بہت سے علماء سے حاصل کیا۔ اس زمانے میں جب یہ فتوٰی حضرت شیخ الہندؒ کے پاس پیش کیا گیا تو آپ نے اس پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ ساری کارروائی انگریزوں کے ایماء پر ہوئی تھی اور اس کا ایک مقصد یہ تھا کہ شریف مکہ کو حضرت شیخ الہندؒ کے خلاف کھڑا کیا جا سکے اور پھر شریف حسین کے ذریعے حضرت شیخ الہندؒ کو گرفتار کیا جا سکے۔ اس سلسلہ میں حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ نے درمیان میں پڑ کر صلح صفائی کی کوشش فرمائی مگر یہ بے سود رہی۔ یہی نہیں سب سے پہلے حضرت حسین احمد مدنیؒ کو گرفتار کر لیا گیا۔ شریف مکہ کے پاس بہت سے تاجر پہنچے اور کہا کہ شیخ الہندؒ کی گرفتاری کا ارادہ ترک کر دیا جائے مگر شریف مکہ کے دل میں غبار تھا۔ اس نے کہا کہ انگریزوں سے دوستی قائم رکھنے کے لیے حضرت کی گرفتاری ضروری ہے۔ جب یہ معلوم ہوا تو حضرت شیخ الہندؒ کو چھپا دیا گیا مگر مولانا عزیر گلؒ سے، جو اس وقت شیخ الہندؒ کے ساتھ ہی وہاں گئے ہوئے تھے، حضرت شیخ الہندؒ کا پتہ دریافت کیا گیا اور یہ دھمکی دی گئی کہ اگر انہوں نے پتہ نہ بتایا تو ان کو گولی سے اڑا دیا جائے گا۔ حضرت شیخ الہندؒ کو جب یہ معلوم ہوا تو وہ خود ہی باہر آ گئے اور فرمایا کہ مجھے گوارا نہیں کہ میرے باعث میرے دوست کا بال بیکا ہو۔ احباب کے کہنے پر آپ نے احرام باندھا اور کہا کہ احرام باندھنے کی خاطر باہر گئے تھے مگر حضرت شیخ الہندؒ کو گرفتار کر لیا گیا۔ یہاں سے یہ حضرات جدہ بھیج دیے گئے اور وہاں سے مصر کے لیے روانہ کر دیے گئے اور ۱۵ فروری ۱۹۱۷ء کو وہاں سے یہ حضرات مالٹا چلے گئے جو سیاسی اور جنگی قیدیوں کا مرکز تھا۔
ہندوستان سے مکہ معظمہ کی روانگی، وہاں قیام اور پھر وہاں سے مالٹا میں قیدی بنا کر بھیج دینے کے دوران مولانا عزیرگلؒ حضرت شیخ الہندؒ کے رفیق خاص تھے۔ حضرت شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنیؒ تحریر فرماتے ہیں:
’’مولانا عزیر گل خادم خاص کو اپنے وطن جانا اور اپنے اکابر سے ملنا اور اجازت چاہنا ضروری تھا اس لیے ان کی واپسی کا انتظار فرمایا۔ قید کے دوران مولانا عزیر گل کا خیال تھا کہ ان کو پھانسی دی جائے گی۔۔۔۔۔ مولوی عزیر گل تو اپنی کوٹھڑی میں رہ کر اپنی گردن اور گلے کو پھانسی کے لیے ناپتے اور دباتے تھے کہ ذرا مہارت ہو جائے اور پھانسی کے وقت یکبارگی تکلیف سخت نہ پیش آئے اور تجربہ کرتے تھے کہ دیکھوں کس قسم کی تکلیف ہوتی ہے مگر سب کے دل مطمئن تھے گویا کہ نانی کے گھر میں آرام کر رہے ہوں۔‘‘
قید میں رہتے ہوئے مولانا عزیر گلؒ نے قرآن شریف حفظ کرنے کی کوشش کی اور ترکی زبان سیکھی۔ مولانا عزیر گل جس طرح دیوبند میں حضرت شیخ کے خادم خاص تھے، مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، اور اسارتِ مالٹا میں بھی خادمِ خاص رہے۔ دیوبند واپس آئے تو آپ کا مسکن وہ مکان تھا جس میں اس وقت حضرت شیخ الہندؒ کی بھانجی کی اولاد رہتی ہے۔ آپ کی شادی دیوبند میں سابق صدر مدرس فارسی مولانا محمد شفیع حسین کی بہن سے ہوئی تھی اور ان سے دو لڑکے ہیں، ایک کا نام محمد زبیر ہے جنہیں عبد الرؤف بھی کہتے ہیں، دوسرے کا نام محمد زہیر ہے، دو لڑکیاں ہیں جو صاحبِ اولاد ہیں۔
مولانا عزیر گلؒ کی وفات سے نہ صرف ایک عظیم مجاہدِ آزادی اس دنیا سے چل بسا بلکہ حضرت شیخ الہندؒ کی یادگار کی آخری کڑی بھی الٹ گئی ؏
خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را
(بشکریہ دیوبند ٹائمز)
مجھے قرآن میں روحانی سکون ملا
ایک نومسلم کنیڈین خاتون کے تاثرات
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
گزشتہ روز امریکہ سے ایک نومسلم خاتون ڈاکٹر مجاہدہ کے ہرمینسن گوجرانوالہ تشریف لائیں، ان کا سابقہ نام مارسیا ہے اور امریکی ریاست کیلی فورنیا میں سن ڈیگوسٹیٹ یونیورسٹی کے شعبہ مذہبی امور کی پروفیسر ہیں۔ان کے خاوند ملک محمد علوی ان کے ہمراہ تھے۔ علوی صاحب وزیر آباد ضلع گوجرانوالہ کے رہنے والے ہیں اور پندرہ سال سے امریکہ میں قیام پذیر ہیں۔ ڈاکٹر مجاہدہ پیدائشی طورپر کنیڈین ہیں اور ایک عرصہ سے امریکہ میں رہائش پذیر ہیں۔ موصوفہ نے کم وبیش دس سال قبل اسلام قبول کیا، عربی زبان سیکھی، ار دو اور فارسی سے بھی آشنائی حاصل کی،امام ولی اللہ دہلویؒ کے مذہبی نظریات پر برکلے یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی اور ان دنوں تذکرہ نویسی کے موضوع پر اپنے ایک مقالہ کی تیاری کے لیے سکالرشپ پر پاکستان آئی ہوئی ہیں۔ شاہ ولی اللہ دہلویؒ پر پی ایچ ڈی کے مقالہ کی تیاری کے دوران انہیں حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی صاحب مہتمم مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کی بعض تصانیف سے استفادہ کا موقع ملا اور اپنے دورۂ پاکستان کے موقع پر انہیں یہ شوق ہوا کہ حضرت صوفی صاحب مدظلہ سے براہ راست ملاقات کریں اور ان سے علمی استفادہ کریں۔
۱۷ فروری کو مدرسہ نصرۃ العلوم کی لائبریری میں ڈاکٹر مجاہدہ موصوفہ کی حضرت صوفی صاحب سے ملاقات ہوئی جس میں ملک محمد علوی صاحب اور راقم الحروف بھی شریک تھے۔ اس موقع پر حضرت صوفی صاحب نے ڈاکٹر مجاہدہ سے سوال کیا کہ آج کے دور میں جبکہ مسلمانوں کی اجتماعی حالت باعث کشش نہیں ہے انہیں اسلام کی طرف رغبت کیسے ہوئی اور انہوں نے کس چیز سے متاثر ہو کر اسلام قبول کیا؟ ڈاکٹر مجاہدہ نے جواب دیا کہ انہیں ایک عرصہ سے روحانی سکون کی تلاش تھی اور وہ روحانی طورپر ایک خلا محسوس کررہی تھی، روح کے لیے سکون کی تلاش میں انہوں نے متعدد سفر کیے، اس دوران جبکہ وہ سپین (اندلس) میں تھیں مراکش ریڈیو سے انہیں متعدد بار قرآن کریم کی تلاوت سننے کا موقع ملا اور انہیں محسوس ہوا کہ وہ جس روحانی سکون کی تلاش میں ہیں وہ اس کلام میں ہے۔ انہیں عربی زبان سے بھی دلچسپی تھی اس لیے انہوں نے قرآن کریم کا مطالعہ کیا اور قرآن کریم کے اس مطالعہ نے انہیں ہدایت کی منزل سے ہمکنار کردیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ایک موقع پر دہلی میں تھیں تو حضرت نظام الدین اولیاء رحمہ اللہ تعالٰی کے مزار پر گئیں وہاں انہوں نے ایک عجیب قسم کے روحانی سکون کی فضا محسوس کی جس سے انہیں تصوف اور سلوک سے دلچسپی پیدا ہوئی۔
ڈاکٹر مجاہدہ نے بتایا کہ انہوں نے شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی معروف تصنیف ’’حجۃ اللہ البالغۃ‘‘ کا انگلش میں ترجمہ شروع کیا ہے، ایک جلد کا ترجمہ وہ مکمل کرچکی ہیں اور دوسری جلد پر کام جاری ہے۔ نیز انہوں نے پی ایچ ڈی کے لیے حضرت شاہ ولی اللہؒ پر چوتھا مقالہ لکھا ہے جسے ’’حجۃ اللہ البالغۃ‘‘ کے انگلش ترجمہ کے مقدمہ کے طور پر شائع کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ انہوں نے انگلش میں حضرت شاہ ولی اللہؒ پر چند مقالات لکھے ہیں جو مختلف جرائد میں شائع ہوئے ہیں۔
حضرت صوفی صاحب مدظلہ کے ساتھ ایک گھنٹہ کی یہ نشست انتہائی معلوماتی اور ایمان افروز تھی۔ نو مسلم کنیڈین خاتون نے حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے فلسفہ اور جدوجہد کے مختلف پہلوؤں پرسوالات کیے جن پر حضرت صوفی صاحب مدظلہ نے تفصیلی روشنی ڈالی۔ ڈاکٹر مجاہدہ حضرت صوفی صاحب سے شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے فلسفہ اور کام پر گفتگو کر رہی تھیں اور میرا ذہن اس سوال کے گرد گھوم رہا تھا کہ اسے اسلام کا اعجاز کہاجائے یا شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی کرامت کہ اللہ رب العزت دہلی سے ہزارہا میل دور کیلی فورنیا کی ایک یونیورسٹی میں شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے فلسفہ اور تعلیمات کی اشاعت اور تعارف کا ایک ایسے دور میں انتظام کر رہا ہے جبکہ دنیا کا معاشرہ مغرب کے سرمایہ دارانہ نظام کی دی ہوئی مادرپدر آزادی اور کمیونزم کے مسلط کردہ اجتماعی جبر کی حشر سامانیوں سے تنگ آچکا ہے، اور کسی ایسے معتدل اور متوازن نظام کی تلاش میں ہے جو بے راہ روی اور جبر کے درمیان صراط مستقیم کی حیثیت رکھتا ہو۔ یہ نظام بلاشبہ اسلام کا عادلانہ نظام ہے اور اسے جس طرح انسانی معاشرے کے لیے اجتماعی نظام کے طورپر شاہ ولی اللہؒ نے پیش کیا ہے یقیناً وہی فلسفہ مغربی جمہوریت، کیپٹل ازم اور کمیونزم کا نظریاتی طور پر سامنا کر سکتا ہے اور وہ وقت قریب آگیا ہے جب ولی اللہی فلسفہ ایک زندہ اور متحرک قوت کے طور پر نظام اسلام کے احیاء ونفاذ کا ذریعہ بنے گا، ان شاء اللہ العزیز۔
ڈاکٹر مجاہدہ کو ’’شاہ ولی اللہ یونیورسٹی‘‘ کے منصوبہ سے آگاہ کیا گیا تو انہوں نے اس پر بے حد مسرت کا اظہار کیا اور اسے وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے اس کی کامیابی کی دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کی انتظامیہ کو اس منصوبہ کے لیے ان سے جس قسم کی تعاون کی ضرورت ہوگی وہ اس میں خوشی اور سعادت محسوس کریں گی۔
نظامِ خلافت کا احیاء
امت کے مسائل کا واحد حل
مولانا ابوالکلام آزاد
انتخاب و ترجمہ: مولانا سراج نعمانی، نوشہرہ صدر
(جناب ابو سلمان شاہجہانپوری کی کتاب ’’تحریکِ نظمِ جماعت‘‘ سے انتخاب)
اجتماعیت کا حکم
اسلام نے مسلمانوں کے تمام اعمالِ حیات کے لیے بنیادی حقیقت یہ قرار دی ہے کہ کسی حال میں بھی فرادٰی، متفرق، الگ الگ اور متشتت نہ ہوں، ہمیشہ موتلف، متحد اور کَنَفْسٍ وَّاحِدَۃٍ ہو کر رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن و سنت میں جابجا اجتماع و وحدت پر زور دیا گیا ہے۔ اور کفر و شرک کے بعد کسی بدعمل سے بھی اس قدر اصرار و تاکید کے ساتھ نہیں روکا جس قدر تفرقہ و تشتت سے۔ اور یہی وجہ ہے کہ اسلام کے تمام احکام و اعمال میں یہ حقیقت اجتماعیہ بمنزلہ مرکز و محور کے قرار پائی اور ۔۔۔۔اسی لیے نظمِ اقوامِ ملت کے لیے منصبِ خلافت کو ضروری قرار دیا گیا کہ تمام متفرق کڑیاں ایک زنجیر میں منسلک ہو جائیں۔ (ص ۲۴)
اعمال کی اقسام
اعمالِ شریعت دو قسم کے ہیں۔ انفرادی اور اجتماعی۔ انفرادی سے مقصود وہ اعمال ہیں جن کو الگ الگ ہر فرد انجام دے سکتا ہے جیسے نماز، روزہ۔ اجتماعی سے مقصود وہ اعمال ہیں جن کی انجام دہی کے لیے جماعت کا ہونا ضروری ہے، الگ الگ ہر فرد انجام نہیں دے سکتا جیسے جمعہ ۔۔۔ مثلاً جمعہ کے لیے صرف اتنا ہی کافی نہ ہو گا کہ ادائے جمعہ کا طریقہ بتلا دیا جائے بلکہ جماعت کا انتظام بھی کرنا چاہیئے تاکہ جمعہ عملاً انجام پا سکے۔ گویا پہلی قسم کے (انفرادی) (ناقل) اعمال کی تبلیغ کے لیے اس قدر کافی ہے کہ ان کے وجوب و عمل کا حکم دے دی جائے اور بتلا دیا جائے کہ لوگ اس طرح انجام دیں۔ لیکن دوسری قسم کے لیے اتنا ہی کافی نہیں ہے، حصول و قیام کا بھی انتظام کرنا چاہیئے کیونکہ انفرادًا وہ اعمال انجام نہیں پا سکتے جب تک جماعت کا انتظام نہ ہو جائے مثلاً جمعہ۔۔۔ (ص ۲۹۱)
ہندوستانی مسلمانوں کی حالت
دس کروڑ مسلمان جو کرۂ ارض میں سب سے بڑی یکجا اسلامی جماعت ہے ہندوستان میں اس طرح زندگی بسر کر رہی ہے کہ نہ تو اس میں کوئی رشتہ انسلاک ہے نہ وحدتِ ملت کا کوئی رابطہ ہے نہ کوئی قائد و امیر ہے۔ ایک انبوہ ہے ایک گلہ ہے جو ہندوستان کی آبادیوں میں بکھرا ہوا ہے اور یقیناً ایک حیاتِ غیر شرعی و جاہلی ہے جس میں پوری اقلیم مبتلا ہو گئی ہے۔
یہ ساری مصیبت اور نامرادی اس لیے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کا کوئی جماعتی نظام موجود نہیں جس کا انتظام شرعًا ان پر واجب تھا اور نہ ہدایتِ امت کے لیے کوئی صاحبِ امر و سلطان دماغ ہے۔ عہدِ جاہلیت کی سی ایک طوائف الملوکی اور جماعتی اختلافی و برہمی ہے جس میں چھ کروڑ انسان مبتلا ہیں۔ جماعتی زندگی کی اس معصیت کی وجہ سے فوز و فلاح کے تمام دروازے بند ہو گئے ہیں۔ موجودہ حالات میں ان کی جتنی صورتیں شرعًا ہو سکتی ہیں ان سب کے لیے پہلی چیز جماعت ہے۔ چونکہ جماعت مفقود ہے اس لیے کوئی راہ نہیں کھلتی اور خود سرکردگانِ کار حیران ہو کر ایک دوسرے سے پوچھ رہے ہیں کہ اب کیا کرنا چاہیئے۔ (ص ۲۱)بھیڑ اور جماعت میں فرق
پہلی چیز (بھیڑ) بازاروں میں نظر آتی ہے جب کوئی تماشا ہو رہا ہو۔ دوسری چیز جمعہ کے دن مسجدوں میں دیکھی جا سکتی ہے جب ہزاروں انسانوں کی منظم و مرتب صفیں ایک مقصد، ایک جہت، ایک حالت اور ایک ہی (امام) کے پیچھے جمع ہوتی ہیں ۔۔۔۔ شریعت نے مسلمانوں کے لیے جہاں انفرادی زندگی کے اعمال مقرر کیے ہیں وہاں ان کے لیے اجتماعی نظام بھی قرار دے دیا ہے۔ وہ کہتی ہے زندگی اجتماع کا نام ہے۔ افراد و اشخاص کوئی شے نہیں۔ جب کوئی اس نظام کو ترک کر دیتی ہے تو گو اس کے افراد فردًا فردًا کتنے ہی شخصی اعمال و طاعات میں سرگرم ہوں لیکن یہ سرگرمیاں اس بارے میں کچھ سودمند نہیں ہو سکتیں اور قوم ’’جماعتی معصیت‘‘ میں مبتلا ہو جاتی ہے۔ قرآن و سنت نے بتلا دیا ہے کہ شخصی زندگی کے معاصی کسی قوم کو یکایک برباد نہیں کرتے۔ اشخاص کی معصیت کا زہر آہستہ آہستہ کام کرتا ہے لیکن جماعتی معصیت کا غم ایسا تخمِ ہلاکت ہے جو فورًا بربادی کا پھل لاتا ہے اور پوری کی پوری قوم تباہ ہو جاتی ہے۔ شخصی اعمال کی اصلاح و درستگی بھی نظامِ اجتماعی کے قیام پر موقوف ہے۔ مسلمانانِ ہند جماعتی زندگی کی معصیت میں مبتلا ہیں اور جب جماعتی معصیت سب پر چھا گئی تو افراد کی اصلاح کیونکر ہو سکتی ہے؟ (ص ۳۰)
جماعتی زندگی کی معصیت
جماعتی زندگی کی معصیت سے مقصود یہ ہے کہ ان میں ایک جماعت بن کر رہنے کا شرعی نظام مفقود ہو گیا ہے۔ وہ بالکل اس گلے کی طرح ہیں جس کا انبوہ جنگل کی جھاڑیوں میں منتشر ہو کر گم ہو گیا ہو۔ وہ بسا اوقات یکجا ہو کر اپنی جماعتی زندگی کی نمائش کرنا چاہتے ہیں، کمیٹیاں بناتے ہیں، کانفرنسں منعقد کرتے ہیں لیکن یہ تمام اجتماعی نمائشیں شریعت کی نظر میں بھیڑ اور انبوہ کا حکم رکھتی ہیں، جماعت کا حکم نہیں رکھتی۔ (ص ۲۸)
دین کامل
اسلام کا اعلان ہے کہ دین کامل ہو چکا ’’اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِینْکَمُ‘ْ‘ اور دین کامل وہی ہے جو اپنے پیروؤں کی ہر عہد اور ہر حالت میں رہنمائی کر سکے۔ پس اگر اسلام مسلمانوں کو ایسے اہم اور بنیادی معاملے (اتفاق و اجتماعیت) میں یہ بھی نہیں بتلا سکتا کہ انہیں کیا کرنا چاہیئے؟ حتٰی کہ وہ مہینوں سرگرداں و حیران رہتے ہیں، پے در پے مشوروں کے جلسے کرتے ہیں، متحیر ہو کر ایک دوسرے کا منہ تکتے ہیں اور پھر مجبور ہوتے ہیں کہ کسی غیر شرعی تجویز پر کاربند ہونے کا اعتراف کر لیں تو اس سے بڑھ کر اسلام کی بے مائگی و تہی دستی اور نقصِ شریعت کا کیا ثبوت ہو سکتا ہے؟ (ص ۲۹۳)
یہ کیسی عجیب بات ہے کہ اسلام مسلمانوں کو روزانہ ضروریات و اعمال کی چھوٹی چھوٹی باتیں تک بتلا دے لیکن یہ نہ بتلا سکے کہ چھ کروڑ انسان اپنا ایمان کیونکر محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ پس اگر خلافت کا مسئلہ دینی مسئلہ ہے تو اس کی جدوجہد کی ہر منزل کے لیے شریعت کے احکام کو بھی بالکل اسی طرح صاف اور واضح ہونا چاہیئے جیسے ’’اَقِیْمُوا الصَّلوٰۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ‘‘۔ اگر کہا جائے کہ احکام ہم کو معلوم ہیں مگر ہندوستان میں ہماری حالت ایسی مجبوری اور بے بسی کی ہے کہ ان پر عمل نہیں کر سکتے۔ تو یہ مجبوری دو حالتوں سے خالی نہیں۔ یا واقعی ہے یا غیر واقعی۔ اگر واقعی نہیں ہے تو وہ عذر ہی نہیں اور واقعی ہے تو خدا کی شریعت عادلہ انسان کی فلاح و صلاح کے لیے ہے ۔۔۔۔ اس نے ہر حالت کے لیے حکم دیے ہیں اور ہر طرح کے عذروں کی پذیرائی کی ہے اور ہر قسم کے حالات و مقتضیات کی راہیں باز رکھی ہیں۔ طہارت کے لیے وضو کا حکم دیا ہے لیکن اگر عذر پیش آجائے تو معذور کے لیے تیمم کا حکم بھی موجود ہے۔ معذور کے لیے تیمم کا عمل ویسا ہی صحیح و کامل ہے جیسے غیر معذور کے لیے وضو۔ پس اگر ہندوستان میں مسلمانوں کو واقعی عذرات درپیش ہیں تو عذرات کی صورت میں بھی مثلِ حکمِ تیمم کے کوئی حکم ہونا چاہیئے۔ وہ حکم کیا ہے؟ اس کو بتلایا جائے اور (اس پر) عمل کرنا چاہیئے۔
مسلمان حکومت و سلطنت سے تہی دست ہو جائیں لیکن خدا کے لیے اسلام کو راہنمائی و ہدایت سے تہی دست ثابت نہ کرو۔ چھ کروڑ مسلمانوں میں ایک بھی خدا کا بندہ ایسا نہ رہا جو اسلام کے نورِ علم و ہدایت سے اس ظلمت و کورئ ملت کو دور کر سکے اور مسلمانوں کو یہ کہہ کر بلا سکے کہ ’’عَلٰی بَصِیْرَۃٍ اَنَا وَ مَنِ اتَبَعَنِیْ ‘‘۔ کیا اسلام کی قوتِ تعلیم و تربیت اب اس قدر نامراد ہو گئی ہے کہ نکموں کی اس پوری اقلیم میں ایک بھی کام کا انسان پیدا نہیں کر سکتی۔ کسی زمانے میں ہر دوسرا مسلمان راہنما ہوتا تھا، کیا اب پورے چھ کروڑ مسلمانوں میں ایک بھی ایسا شریعت دان نہیں جو ازروئے شریعت لوگوں کی راہنمائی کر سکے؟ ’’اَلَیْسَ مِنْکُمْ رَجُلٌ رَشِیْدٌ‘‘۔ (ص ۲۹۶)
وقت کا تقاضا
آج وقت کی سب سے بڑی اور ادائے فرضِ اسلامی کی سب سے نازک اور فیصلہ کن گھڑی ہے جو آزادیٔ ہند اور مسئلہ خلافت کی شکل میں ہمارے سامنے آ گئی ہے۔ ہندوستان میں دس کروڑ مسلمان ہیں۔۔۔فی الحقیقت احکامِ شرع کی رو سے مسلمانانِ ہند کے لیے صرف دو ہی راہیں تھیں اور اب بھی دو ہی راہیں ہیں۔ یا تو ہجرت کر جائیں یا نظامِ جماعت قائم کر کے ادائے فرضِ ملت کے لیے کوشاں ہوں۔ (ص ۲۸)
احکامِ شریعت پر کامل ۳۵ برس تک میں نے پوری طرح غور و خوض کیا اور اس ۳۵ سال کے عرصے میں شاید ہی کوئی دن ایسا ہو جس کی کوئی صبح کوئی شام اس فکر سے خالی گزری ہو۔ بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ واضع شریعت کا منشا یہ ہے کہ اس کے احکام یک جماعتی نظام کے تحت اجراء پائیں، لیکن مسلمانوں نے اس جماعتی نظام کی اہمیت کو نہیں سمجھا۔ (ص ۹۴)
حرکۃ المجاہدین کا ترانہ
سید سلمان گیلانی
۲۱ دسمبر ۱۹۸۹ء کو میونسپل کارپوریشن گوجرانوالہ کے جناح ہال میں منعقدہ افغانستان کے مختلف محاذوں پر جہاد میں شریک نوجوانوں کی تنظیم ’’حرکۃ المجاہدین‘‘ کے جلسۂ عام میں سید سلمان گیلانی نے یہ ترانہ پیش کیا۔
حرکۃ المجاہدین، آفرین و آفرین
عَلم اٹھا قدم بڑھا، نہ غیرِ حق سے خوف کھا
تیری مدد کرے خدا، خدا پہ تو بھی رکھ یقیں
حرکۃ المجاہدین، آفرین و آفرین
نہ کوئی عذرِ لنگ کر، تو کافروں سے جنگ کر
زمین ان پر تنگ کر، نہ مل سکے اماں کہیں
حرکۃ المجاہدین، آفرین و آفرین
لگا وہ ضرب کفر پر، اٹھا سکے نہ پھر وہ سر
مٹے گا ایک روز شر، کہ خیر کا ہے تو امیں
حرکۃ المجاہدین، آفرین و آفرین
نجیب سے نہ بات کر، اٹھ اس سے دو دو ہاتھ کر
رسید ایک لات کر، گرے گا یونہی یہ لعیں
حرکۃ المجاہدین، آفرین و آفرین
تو حوصلے بحال کر، تو کفر سے قتال کر
نہ کوئی قیل و قال کر، یہ سوچنے کی جا نہیں
حرکۃ المجاہدین، آفرین و آفرین
تو حق کی ترجمان ہے، تو دیں کی پاسبان ہے
جو تیرا نوجوان ہے، وہ جرأتوں کا ہے امیں
حرکۃ المجاہدین، آفرین و آفرین
حیات کیا ممات کیا، یہ پوری کائنات کیا
نہیں خدا کے ہاتھ کیا، تو پھر یہ کیوں چناں چنیں
حرکۃ المجاہدین، آفرین و آفرین
تو عہدِ رب پر رکھ نظر، کٹے جو راہِ حق میں سر
بہشت اس کا ہے ثمر، ہے صاف آیتِ مبیں
حرکۃ المجاہدین، آفرین و آفرین
کہاں غلط یہ بات ہے، خلیل تیرے ساتھ ہے
خدا کا تجھ پہ ہاتھ ہے، تو اس کے در پہ رکھ جبیں
حرکۃ المجاہدین، آفرین و آفرین
پیامِ حق سنائے جا، ترانہ میرا گائے جا
یہ کفر کو بتائے جا، کہ یہ ہے طرزِ مومنیں
حرکۃ المجاہدین، آفرین و آفرین
خدا کا لطف عام ہو، جہاں میں اونچا نام ہو
تجھے میرا سلام ہو، مجاہدین کی سرزمیں
حرکۃ المجاہدین، آفرین و آفرین
عیسائی مذہب کیسے وجود میں آیا؟
حافظ محمد عمار خان ناصر
عیسائیوں کی کتب مقدسہ کے مجموعہ کو ’’بائیبل‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ دو اجزاء میں منقسم ہے۔ ایک کو عہد نامہ قدیم (اولڈ ٹسٹامنٹ) اور دوسرے کو عہد نامہ جدید (نیو ٹسٹامنٹ) کہا جاتا ہے۔ اہلِ اسلام کے ایمان کے مطابق حضرت عیسٰی علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ نے ’’انجیل‘‘ نام کی ایک کتاب نازل کی تھی اس نے شریعت موسویٰ ؑ کے احکام میں تبدیلیاں کیں (سورہ آل عمران ۵۰)۔ آج کی اناجیل اربعہ (متی، لوقا، مرقس اور یوحنا) اور دیگر کسی بھی موجودہ انجیل کو ’’اصل انجیل‘‘ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ یہ تمام تحریریں حضرت مسیح ؑ کی سوانح عمری پر مشتمل ہیں۔ پادری ولیم میچن لکھتے ہیں کہ:’’اناجیل اربعہ ۔۔۔۔۔ میں جناب مسیح کی سوانح عمری اور تعلیم مرقوم ہے‘‘۔ (رسالہ تحریف انجیل و صحت انجیل ص ۵)
اور ’’المنجد فی الاعلام‘‘ کا عیسائی مصنف انجیل کا تعارف یوں کرواتا ہے:
والاناجیل مجموعۃ اعمال المسیح واقوالہ۔ (ص ۳۸)
’’اناجیل مسیح ؑ کے اقوال و اعمال (سوانح عمری) کا مجموعہ ہیں۔‘‘
ہمارا اعتقاد ہے کہ عیسائیوں کی موجودہ اناجیل قرآن کی تصدیق کردہ انجیل نہیں ہیں۔ مسیحیوں کے موجودہ عقائد حقائق سے بالکل مطابقت نہیں رکھتے۔ اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ ہم مذہب مسیحی ؑ اور اناجیل پر ایک نظر ڈال لیں۔
عیسائی مذہب کا بانی کون؟
عیسائیوں کا یہ دعوٰی غلط ہے کہ عیسائی مذہب کے بانی حضرت مسیح ؑ ہیں۔ درحقیقت اس مذہب کا بانی ’’پولوس‘‘ ہے۔ عہد جدید میں چودہ خطوط اس کے نام منسوب ہیں۔ یہ شخص ایک یہودی تھا جو کافی عرصہ عیسائیوں کو تکلیف اور ایذا دینے کے بعد حضرت مسیح ؑ پر ایمان لے آیا، یہ حضرت مسیح ؑ کا باقاعدہ شاگرد نہیں تھا۔ چنانچہ پادری جے جے لوکس اعتراف کرتے ہیں کہ:
’’وہ اور رسولوں کی مانند مسیح کے ساتھ نہیں رہا، نہ مسیح سے اوروں کی طرح تعلیم پائی، نہ دوسرے رسولوں کی طرح بلایا گیا‘‘۔ (کرنتھیوں کے پہلے خط کی تفسیر مطبوعہ ۱۹۵۸ تفسیر ص ۲)
اس صورتِ حال میں چاہیئے تو یہ تھا کہ وہ ایمان لانے کے فورًا بعد حضرت مسیح ؑ کے نائبوں کے پاس جاتا اور ان سے تعلیم و تربیت پاتا لیکن ہوا یہ کہ ایمان لانے کے فورًا بعد تین سال کے لیے عرب چلا گیا اور وہاں سے واپس آ کر یروشلم میں صرف پندرہ دن پطرس کے پاس رہا اور پھر تبلیغ کے لیے نکل کھڑا ہوا اور عوام میں بلند ترین مقام حاصل کرنے میں بہت جلد کامیاب ہو گیا۔ اپنی مقبولیت کے ضمن میں لکھتا ہے:
’’تم نے ۔۔۔۔ خدا کے فرشتہ بلکہ مسیح یسوع کی مانند مجھے مان لیا ۔۔۔۔ اگر ہو سکتا تو تم اپنی آنکھیں بھی نکال کر مجھے دے دیتے‘‘۔ (گلتیوں ۴: ۱۴ و ۱۵)
اب اس شخص نے کیا کیا؟ ایسے ایسے گمراہ کن عقائد مسیحیت میں داخل کر دیے جن کا کہیں سے ثبوت نہیں ملتا۔ الوہیت مسیح، موروثی گناہ، کفارہ وغیرہ کا ذکر سب سے پہلے اس کی تحریروں میں پایا جاتا ہے۔ پادری جے پیٹرسن اسمتھ کا یہ جملہ نہایت قابل غور ہے کہ
’’سب سے پہلے مسیحی صحیفے پولوس کے خطوط تھے‘‘ (حیات و خطوط پولس مطبوعہ ۱۹۵۲ء ص ۱۳۸)
اور اسی مصنف کی اس صفحہ پر تصریح ہے کہ پولوس کے خطوط لکھنے کا سلسلہ ۵۰ء میں شروع کیا جا چکا تھا اور ان کے الفاظ یہ ہیں کہ:
’’ہماری اناجیل میں سے ایک بھی کتاب اس وقت سے بیس سال تک ضبطِ تحریر میں نہ آئی‘‘۔ (ایضًا)
یہودیت ایک محدود اور نسلی مذہب تھا۔ حضرت عیسٰی ؑ کی بعثت کا مقصد صرف بنی اسرائیل کو ہدایت کرنا تھا، چنانچہ آپ کا فرمان انجیل متی میں یوں مرقوم ہے کہ:
’’میں اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے سوا اور کسی کے لیے نہیں بھیجا گیا‘‘۔ (۱۵: ۲۴)
یہ رہا اناجیل مروجہ اور مسیحی علماء کا موقف جو انجیل برنباس میں مرقوم ہے:
’’میں نہیں بھیجا گیا مگر صرف اسرائیل کی قوم کی جانب‘‘۔ (۲۱: ۲۱)
قرآن پاک نے فرمایا کہ آپ کی نبویت صرف بنی اسرائیل کے لیے تھی(آل عمران ۹)
مسیح ؑ نے اپنے شاگردوں کو حکم دیا کہ:
’’غیر قوموں کی طرف نہ جانا اور سامریوں کے کسی شہر میں داخل نہ ہونا بلکہ اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے پاس جانا‘‘۔ (متی ۱۰: ۶)
اور پادری لینڈرم لکھتے ہیں:
’’مسیح نے خود صرف بنی اسرائیل کے لیے کام کیا اور اپنی دنیاوی زندگی کے وقت اپنے شاگردوں کو صرف اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے پاس بھیجا‘‘۔ (مسیحی تعلیم کا خلاصہ مصنفہ پادری رابرٹ اے لینڈرم، مترجمہ پادری ولیم میچن، مطبوعہ ۱۹۲۶ء ص ۱۲۳)
ادھر پولوس نے دین مسیح کے نام پر غیر اقوام کو تعلیم دی۔
’’تم سب جتنوں نے مسیح میں شامل ہونے کا بپتسمہ لیا، مسیح کو پہن لیا، نہ کوئی یہودی رہا نہ یونانی، نہ کوئی غلام نہ آزاد، نہ کوئی مرد نہ عورت، کیونکہ تم سب مسیح یسوع میں ایک ہو‘‘۔ (گلتیوں ۳: ۲۶ و ۲۷)
جن غیر یہودیوں کو مسیح ؑ کتا (انجیل متی ب ۱۵) اور کتے کو ان سے افضل (انجلی برنباس ۲۲: ۲) بتا رہے ہیں وہ سب مسیح میں ایک ہو گئے، سارے امتیازات رفع ہو گئے۔ پادری واکر صاحب کا یہ قول بھی سند کو مضبوط تر کر دیتا ہے کہ:
’’مسیحی جماعت کے لیے خطرہ تھا کہ وہ محض ایک یہودی فرقہ نہ بن جائے لیکن پولس کی کوششوں سے عالمگیر کلیسیا بن گئی‘‘۔ (تفسیر بر اعمال کی کتاب، مطبوعہ ۱۹۵۹ء ص ۲۳)
ایک جانب تو پولس نے کلیسیا کو عالمگیر بنایا، دوسری جانب اس نے ایک اور گُل بھی کھلایا۔ مسیح علیہ السلام شریعت موسوی ؑ کے تابع تھے، بائیبل میں قول مسیح ہے:
’’یہ نہ سمجھو کہ میں توریت یا نبیوں کی کتاب کو منسوخ کرنے آیا ہوں۔ منسوخ کرنے نہیں بلکہ پورا کرنے آیا ہوں کیونکہ میں تم سے مسیح کہتا ہوں کہ جب تک آسمان اور زمین ٹل نہ جائیں ایک نقطہ یا ایک شوشہ توریت سے ہرگز نہ ٹلے گا جب تک کہ سب کچھ پورا نہ ہو جائے پس جو کوئی ان چھوٹے سے چھوٹے حکموں میں سے بھی کسی کو توڑے گا اور یہی آدمیوں کو سکھلائے گا وہ آسمان کی بادشاہی میں سب سے چھوٹا کہلائے گا لیکن جو اُن پر عمل کرے گا اور ان کی تعلیم دے گا وہ آسمان کی بادشاہی میں بڑا کہلائے گا‘‘۔ (انجیل متی ۵: ۱۷، ۱۸، ۱۹)
ایک جانب تو شریعت کی یہ فضیلت و منقبت، دوسری جانب پولس کہتا ہے کہ:
’’پہلا حکم (توریت یا شریعت) کمزور اور بے فائدہ ہونے کے سبب سے منسوخ ہو گیا‘‘۔ (عبرانیوں ۷: ۱۸)
پادری اسمتھ لکھتے ہیں کہ:
’’یہودی مسیحی (مختون لوگ) یہ سمجھتے تھے کہ مسیحیت درحقیقت یہودیت کی ایک بہتر اور پاک تر شکل ہے۔ عین اس موقع پر انقلاب پسند پولوس وارد ہوتا ہے۔ وہ یہ کہتا ہے کہ شریعت صرف ایک محدود وقت کے لیے تھی، اس کا کام محض لوگوں کو مسیح کی بادشاہت کے لیے تیار کرنا تھا‘‘۔ (حیات و خطوط پولس، مصنفہ پادری جے پیٹرسن اسمتھ، مترجمہ پادری ایس این طالب الدین، مطبوعہ ۱۹۵۲ء ص ۸۲، ۸۳)
ہم قارئین کے لیے پولس کے ان اقوال کو نقل کرتے ہیں جو اس نے شریعت کی ’’شان‘‘ میں کہے:
(۱) ’’جتنے شریعت کے اعمال پر تکیہ کرتے ہیں وہ سب لعنت کے ماتحت ہیں‘‘۔ (گلتیوں ۳: ۱۰)
(۲) ’’اب جو تم نے خدا کو پہچانا بلکہ خدا نے تم کو پہچانا تو ان ضعیف اور نکمی ابتدائی باتوں (شریعت) کی طرف کس طرح پھر رجوع کرتے ہو جن کی دوبارہ غلامی چاہتے ہو‘‘۔ (گلتیوں ۴: ۹)
(۳) ’’مسیح جو ہمارے لیے لعنتی بنا اس نے ہمیں مول لے کر شریعت کی لعنت سے چھڑایا‘‘۔ (گلتیوں ۳: ۱۴)
(۴) ’’ایمان کے آنے سے پیشتر شریعت کی ماتحتی میں ہماری نگہبانی ہوتی تھی اور اس کے ایمان کے آنے تک جو ظاہر ہونے والا تھا ہم اسی کے پابند رہے۔ پس شریعت مسیح تک پہنچانے کو ہمارا استاد بنی تاکہ ہم ایمان کے سبب سے راست باز ٹھہریں مگر جب ایمان آچکا تو ہم استاد کے ماتحت نہ رہے‘‘۔ (گلتیوں ۳: ۲۳ و ۲۴)
ختنہ کرانا شریعت کا ایک ناقابل تردید حکم تھا، خود مسیح کا ختنہ ہوا۔ پولس نے بھی اپنے مختون ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ پھر آج کل کے مسیحی ختنہ کے کیوں مخالف ہیں؟ دراصل وہ پولس کی پیروی میں مارے گئے۔ پولس کا فلسفہ ہے کہ
(۵) ’’اگر تم ختنہ کراؤ گے تو مسیح میں تم کو کچھ فائدہ نہ ہو گا‘‘۔ (گلتیوں ۵: ۲)
(۶) ’’تم جو شریعت کے وسیلہ سے راستباز ٹھہرنا چاہتے ہو مسیح سے الگ ہو گئے اور فضل سے محروم‘‘۔ (گلتیوں ۵: ۴)
(۷) ’’شریعت کے وسیلہ سے کوئی شخص خدا کے نزدیک راستباز نہیں ٹھہرتا کیونکہ لکھا ہے کہ راستباز ایمان سے جیتا رہے گا اور شریعت کو ایمان سے کچھ واسطہ نہیں‘‘۔ (گلتیوں ۳: ۱۱، ۱۲)
پیغامِ مسیح ؑ تو فقط یہودیوں کے لیے اور شریعتِ موسوی ؑ کی تبلیغ و اشاعت تھا۔ پولوس کے مذکورہ رویہ سے شاگردانِ مسیح ؑ اور پولوس کی راہیں جدا جدا ہو گئیں، پادری بلیکی لکھتے ہیں:
’’رسولوں کے زمانہ میں مسیحی کلیسیا کی تاریخ، جو شاخوں میں منقسم ہو جاتی ہے، ان میں ایک قوم یہود ہے اور دوسری غیر اقوام سے وابستہ ہے۔ یہودی تاریخ کی شاخ دوبارہ رسولوں سے علاقہ رکھتی ہے اور غیر قوموں کی تاریخ زیادہ تر پولوس کی حرکات سے وابستہ ہے۔ کتاب اعمال کا پہلا حصہ پہلی شاخ کا بیان قلمبند کرتا ہے اور باقی ماندہ حصہ دوسری شاخ کا‘‘۔ (تواریخ بائبل، مصنفہ پادری ولیم جی بلیکی ڈی ڈی، مترجمہ پادری طالب الدین، مطبوعہ ۱۹۵۵ء ص ۵۲۵)
اس ضمن میں انجیل برنباس کا بیان حسبِ ذیل ہے:
’’عزیزو! بے شک خدائے عظیم عجیب نے اس پچھلے زمانہ میں اپنے نبی یسوع مسیح کی معرفت ہماری خبر گیری اپنی بڑی مہربانی سے کی۔ ان آیتوں اور اس تعلیم کے بارہ میں جس کو شیطان نے تقوی کے نمائشی دعوے سے بہت سارے آدمیوں کو گمراہ بنانے کا ذریعہ ٹھہرا لیا ہے، وہ سخت کفر کی منادی کرنے والے ہیں۔ مسیح کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں اور ختنہ کرانے سے انکار کرتے ہیں جس کا خدا نے ہمیشہ حکم دیا ہے۔ ہر نجس گوشت کو جائز بتلاتے ہیں۔ یہ ایسے آدمی ہیں کہ ان کے شمار میں پولس بھی گمراہ ہوا۔ وہ کہ اس کی نسبت جو کچھ کہوں افسوس ہی سے کہتا ہوں۔ اس کی وجہ سے میں اس حق کو لکھ رہا ہوں جیسے کہ میں نے اس اثنا میں دیکھا ہے جب کہ میں یسوع کی رفاقت میں تھا۔ اور یہ اس لیے لکھتا ہوں تاکہ تم چھٹکارا پاؤ اور شیطان تم کو ایسا گمراہ نہ کرے کہ اس گمراہی سے تم خدا کا دین قبول کرنے میں ہلاک ہو جاؤ‘‘۔ (انجیل برناباس، مقدمہ آیت ۲ تا ۷)
اس اقتباس کے سیاق میں (اعمال ۱۵: ۳۶ تا ۴۱) اور (گلتیوں ۲: ۱۱ تا ۱۴) پڑھنے سے معلوم ہو گا کہ پولس برناباس اور پطرس کے درمیان غیر قوموں کے بارے میں جھگڑا تھا۔ مختصرًا یہ کہ برنباس اور پولس پہلے اکٹھے تبلیغ کے لیے جاتے رہے۔ ان کا ایک ساتھی ’’یوحنا مرقس‘‘ تھا، ایک سفر کے دوران یہ رستے ہی سے واپس آگیا۔ جب دوبارہ سفر کا موقعہ آیا تو لوقا بیان کرتا ہے کہ دونوں کے درمیان جھگڑا ہو گیا اور اس جھگڑے کی وجہ ’’یوحنا مرقس‘‘ تھا۔ برنباس اسے ساتھ لے جانا چاہتا تھا جبکہ پولس کا موقف یہ تھا کہ ہمیں ایک بے وفا شخص کو ساتھ نہ لے جانا چاہیئے۔ اس پر ان میں ایسی سخت تکرار ہوئی کہ ایک دوسرے سے جدا ہو گئے (اعمال ۱۵: ۳۹)۔ اس کے بعد اعمال کی کتاب میں برنباس کا ذکر کہیں نہیں ملتا۔ پادری جے پیٹرسن اسمتھ اس واقعہ کے ضمن میں لکھتے ہیں کہ وہ اس جھگڑے کے بعد کبھی نہ ملے (ایضًا ص ۹۰)۔
اخلاص اور اس کی برکات
الاستاذ السید سابق
ترجمہ و ترتیب: حافظ مقصود احمد
اخلاص یہ ہے کہ انسان کا قول، عمل اور ہر کوشش صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہو، اس کی رضا کے لیے ہو، اس کے قول و عمل میں طلبِ جاہ و مال یا ریا نہ ہو۔
اسلام میں اخلاص کی اہمیت
قرآن میں متعدد بار اخلاص کی طرف دعوت دی گئی ہے، فرمایا:
وما امروا الا لیعبدوا اللہ مخلصین لہ الدین۔ (البینہ)
’’اور ان کو یہی حکم ہوا کہ صرف اللہ ہی کی بندگی کریں۔‘‘
اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اعمال کی قبولیت کا مدار اخلاص ہی کو ٹھہرایا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (بروایت ابن ابی حاتم، عن طاووس ۔۔۔) ایک شخص آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ! میں حج کرتا ہوں اور مناسک کی ادائیگی کے وقت میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ لوگوں کو میرا ان مناسک کو ادا کرنا معلوم ہو جائے، وہ دیکھیں کہ میں یہ نیک اعمال کر رہا ہوں ۔۔۔ آپؐ نے سن کر کوئی جواب نہ دیا یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی:
فمن کان یرجوا لقاء ربہ فلیعمل عملًا صالحًا ولا یشرک بعبادۃ ربہ احدًا (الکہف)
’’پھر جس کو اپنے رب سے ملنے کی امید ہو وہ نیک کام کرے اور اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے۔‘‘
اخلاص کمالِ ایمان کی دلیل ہے
ابوداؤدؒ اور ترمذیؒ نے سند حسن کے ساتھ روایت کی ہے:
ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: من احب اللہ و ابغض للہ و اعطٰی للہ و منع للہ فقد اتکمل الایمان۔
’’جس نے اللہ کے لیے محبت کی اور اللہ کے لیے بغض رکھا، اسی کے لیے دعا اور اسی کی خاطر روکا، تو اس نے اپنے ایمان کو مکمل کر لیا۔‘‘
اللہ سبحانہ دلوں کو دیکھتے ہیں مظاہر اور اشکال کو نہیں دیکھتے۔ حضرت ابوہریرہؓ نے روایت کی ہے:
ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال ان اللہ لا ینظر الیٰ اجسامکم ولا الی صورکم ولکن ینظر الی قلوبکم۔ (مسلم)
’’اللہ تعالیٰ تمہارے جسموں اور تمہاری صورتوں کو نہیں دیکھتے بلکہ وہ تمہارے دلوں (کی نیتوں) کو دیکھتے ہیں۔‘‘
ابو موسٰی اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا، ایک آدمی اپنی بہادری کے اظہار کے لیے لڑتا ہے، ایک آدمی قومی حمیت کے تحت لڑتا ہے، ایک آدمی دکھاوے کے لیے لڑتا ہے، ان میں سے کون شخص راہِ خدا میں لڑ رہا ہے؟ آپؐ نے فرمایا، جو شخص اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے جہاد کرتا ہے وہ جہاد فی سبیل اللہ کرتا ہے یعنی جس کا لڑنا کلمہ حق کی سربلندی کے لیے ہو وہ مجاہد فی سبیل اللہ ہے۔ (بخاری و مسلم)
عمل کا معیار
کوئی عمل اس وقت تک عمل خیر نہیں کہا جا سکتا جب تک کہ اس کے کرنے میں نیت نیک نہ ہو اور خالص اللہ کے لیے نہ ہو کیونکہ ہر عمل کی ایک غایت ہوتی ہے اور غایت اولٰی ذاتِ باری تعالیٰ ہے۔ اللہ تعالیٰ سوائے خیر کے کسی کام کا حکم نہیں کرتا اور سوائے خیر کے کسی چیز کو پسند نہیں فرماتا۔ لہٰذا انسان کی تمام زندگی کا مقصد اپنے لیے اور تمام بنی نوع انسان کے لیے طلبِ خیر ہونا چاہیئے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول انما الاعمال بالنیات، وانما لکل امرئٍ ما نوی، فمن کانت ھجرتہ الی اللہ ورسولہ فھجرتہ الی اللہ ورسولہ ومن کانت ھجرتہ الی دنیا یصیبھا او امراۃ ینکحھا، فھجرتہ الی ما ھاجر الیہ۔ (بخاری و مسلم)
’’اعمال کا دارومدار نیت پر ہے۔ ہر آدمی کو اسی کا اجر ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔ لہٰذا جس نے اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہجرت کی تو اس کا اسے ثواب ملے گا اور اگر کسی نے کسی دنیاوی غرض کے لیے ہجرت کی تو اسے وہی کچھ ملے گا اور اگر کسی عورت کے لیے ہجرت کی (تو ہو سکتا ہے کہ) اس سے نکاح کر لے لیکن آخرت میں ان کا اجر مرتب نہ ہو گا۔‘‘
اخلاص کی قیمت
اخلاص اور نیک نیت سے انسان کو رفعت و بلندی عطا ہوتی ہے اور اس کو ابرار کی منازل پر لے جاتی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
طوبٰی للمخلصین: الذین اذا حضروا لم یعرفوا ۔۔۔ اذا غابوا لم یفتقدوا ۔۔۔ اولئک مصابیح الھدی تنجلی عنھم کل فتنۃ ظلماء۔ (رواہ البیہقی عن ثوبانؓ)
’’مخلصین کے لیے بشارت ہو، وہ لوگ کہ جب وہ کسی جگہ موجود ہوں تو کوئی انہیں جانتا نہ ہو، اور جب وہ کسی جگہ موجود نہ ہوں تو ان کی کمی محسوس نہ ہو، یہی لوگ ہدایت کے چراغ ہیں، انہی کی برکت سے انسان پر آئی ہوئی مصیبت ٹلتی ہے۔‘‘
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ تم سے پہلے لوگوں کا واقعہ ہے کہ تین آدمی سفر کے لیے نکلے، دورانِ سفر ایک غار میں پناہ کے لیے ٹھہر گئے، اچانک غار کے دہانے پر ایک بڑا پتھر گرا اور باہر نکلنے کا راستہ بند ہو گیا (پتھر اتنا بڑا تھا کہ ان کے زور لگانے کے باوجود نہ ہلا) پھرآپس میں مشورہ کیا اور کہا کہ یہ پتھر خدا ہی ہٹائے تو ہٹے گا، لہٰذا اپنے نیک اعمال کا واسطہ دے کر اس سے دعا کریں کہ ہمیں اس مصیبت سے نجات دے۔ ان میں سے ایک نے کہا، یا اللہ! میرے ماں باپ بہت بوڑھے تھے، میں کھانے پینے کی ہر چیز پہلے انہیں دیتا اور بعد میں اپنے بیوی بچوں کو کھلاتا، ایک دن ایسا ہوا کہ میں لکڑیاں اکٹھی کرنے کے لیے بہت دور نکل گیا، واپس لوٹا تو وہ سو چکے تھے، میں نے ان کے لیے دودھ دوہا اور لے کر ان کے پاس آیا تو دیکھا کہ وہ سو رہے ہیں، انہیں جگانا میں نے مناسب نہ سمجھا اور ان سے پہلے اپنے بچوں کو دینا بھی مجھے گوارا نہ ہوا حالانکہ وہ میرے قدموں میں بھوک کے مارے بلبلاتے ہوئے سو گئے۔ پیالہ ہاتھ میں پکڑے میں اسی طرح کھڑا رہا اور میرے ماں باپ سوتے رہے حتٰی کہ صبح ہو گئی اور وہ ازخود اٹھے اور دودھ پیا ۔۔۔۔ یا اللہ! اگر میرا یہ عمل خالص تیری رضا کے لیے تھا تو ہمیں اس مصیبت سے نجات عطا فرما۔ (قدرت خداوندی سے) پتھر تھوڑا سا سرک گیا لیکن نکلنے کی جگہ نہ بن سکی۔
دوسرا بولا، یا اللہ! میری ایک چچازاد بہن تھی جو مجھے تمام لوگوں سے زیادہ محبوب تھی (ایک روایت میں ہے کہ میں اس سے شدید محبت کرتا تھا جیسی ایک مرد کسی عورت سے کر سکتا ہے) میں نے اسے اپنے ڈھب پر لانا چاہا لیکن وہ ہر بار میری بات ٹال دیتی یہاں تک کہ اس پر قحط کی نوبت آ گئی۔ میں نے اسے ایک سو بیس دینار دیے اس شرط پر کہ وہ میری حاجت پوری کرے گی۔ وہ (بیچاری بامر مجبوری) میری بات مان گئی۔ یہاں تک کہ جب میں اس پر پوری طرح قادر ہو گیا تو کہنے لگی (اے اللہ کے بندے) خدا سے ڈر اور جس مہر کو اللہ تعالیٰ نے لگایا اس کو ناحق نہ توڑو (عقد شرعی کے بغیر ایسا مت کرو) میں فورًا اس سے علیحدہ ہو گیا حالانکہ وہ مجھے سب لوگوں سے زیادہ محبوب تھی اور جو سونا (بصورت دینار) اسے دیا تھا وہ بھی اسی کے پاس رہنے دیا۔ یا اللہ! اگر میرا یہ عمل خالص تیرے لیے تھا تو تو ہمیں اس مصیبت سے نجات عطا فرما، پتھر تھوڑا سا اور سرک گیا۔
تیسرے نے کہا، میں نے کچھ مزدور کام پر لگائے، سب کو میں نے مزدوری دے دی سوائے ایک مزدور کے جو مزدوری لیے بغیر ہی چلا گیا۔ میں نے اس کی رقم کاروبار پر لگا دی جس سے بہت زیادہ مال و دولت جمع ہو گیا، وہ کچھ عرصے کے بعد آیا اور اپنی مزدوری طلب کی۔ میں نے تمام اونٹ، گائے اور بھیڑ بکریاں اس کے سامنے کر دیں اور کہا کہ یہ سب تمہارے ہیں۔ اتنا مال دیکھ کر وہ کہنے لگا، اللہ کے بندے! میرے ساتھ مذاق مت کرو۔ میں نے کہا کہ یہ مذاق نہیں (بلکہ سب مال تمہارا ہے اور ساتھ ہی تمام ماجرا سنایا کہ میں نے تمہارا مال تجارت پر لگایا اور اس طرح یہ مال بڑھ گیا)۔ اس نے مال لیا اور چلا گیا اور کچھ بھی باقی نہ چھوڑا۔ یا اللہ! اگر میرا یہ عمل خالص تیری رضا کے لیے تھا تو تو ہمیں اس مصیبت سے نجات دے۔ چنانچہ وہ پتھر ہٹ گیا اور وہ (خوش خوش) نکل کر چلے گئے۔ (بخاری و مسلم)
جو شخص صفت اخلاص سے متصف ہو گا اسے کامیابی حاصل ہو گی۔ جس جماعت میں ایسے افراد ہوں گے اس جماعت میں خیر و برکات کا دور دورہ ہو گا، گھٹیا صفات اس میں معدوم ہوں گی۔ دنیاوی شہوات ان سے مرتفع ہوں گی۔ ملت میں اعلیٰ مقاصد کا حصول ان کا مطمع نظر ہو گا اور معاشرے میں امن و سلامتی عام ہو گی۔
یہ اخلاص ہی کی برکت تھی کہ صحابہؓ میں ریا، نفاق اور جھوٹ بالکل معدوم تھا۔ زندگی کے اعلیٰ مقاصد کا حصول ہی ان کا مقصدِ حیات تھا۔ تمام صحابہؓ اقامتِ دین، اعلاء کلمۃ اللہ، عدل و انصاف کو عام کرنے اور رضائے خداوندی کو اصل مقصود سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں حکومت و شوکت عطا فرمائی، دنیا کا مقتدا بنایا اور وہ تمام عالم کے سردار بن گئے۔
عمل میں اگر کچھ کمی بشری کمزوری کی وجہ سے رہ جائے تو اللہ تعالیٰ اخلاص کی برکت سے اس عمل کا پورا پورا اجر فرما دیتے ہیں۔ حضرت جابر بن عبد اللہؓ سے روایت ہے غزوۂ تبوک میں ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے، آپؐ نے فرمایا (ہم تو یہاں جہاد کر رہے ہیں لیکن) مدینہ میں کچھ ایسے بھی ہیں جنہوں نے کوئی سفر نہیں کیا کوئی وادی طے نہیں کی مگر (ثواب میں) وہ تمہارے ساتھ ہیں، انہیں مرض نے گھیر لیا (ورنہ نیت ان کی بھی جہاد کی تھی) ۔ اور ایک روایت میں ہے ’’مگر ثواب میں وہ تمہارے ساتھ شریک ہیں‘‘ (ابوداؤد اور ترمذی)۔
حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جو شخص نیند کے غلبہ کی وجہ سے سحری کو اٹھ کر نماز نہ پڑھ سکے اسے اللہ تعالیٰ نماز کا ثواب دیتے ہیں اور نیند پر اس کو صدقے کا ثواب ملتا ہے۔
سہل بن حنیفؓ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں:
من سأل اللہ الشھادۃ بصدق، بلغہ اللہ منازل الشھداء وان مات علی فراشہ۔
’’جو اللہ تعالیٰ سے شہادت کی دعا مانگے تو اللہ اسے شہداء کا مرتبہ عطا فرماتا ہے اگرچہ وہ اپنے بستر پر ہی کیوں نہ مرے۔‘‘
ریا اور بری نیت
جس طرح صفت اخلاص اور نیک نیت سے متصف ہونے سے انسان کو اعلیٰ مرتبہ نصیب ہوتا ہے اسی طرح سے ریاء سے متصف ہونے سے اور بری نیت کی وجہ سے انسان اسفل سافلین کے درجے میں جا گرتا ہے کیونکہ عمل کا اصل باعث اخلاقی عنصر ہے اور وہی رب تعالیٰ سبحانہ کی نظر کا محور ہے (یعنی اللہ تعالیٰ اسی اخلاقی عنصر کو دیکھتے ہیں، عمل کا درجہ ثانوی ہے) جیسے ایک حدیث ہے کہ حضرت ابوبکرۃؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب دو مسلمان تلواریں سونت کر آمنے سامنے آتے ہیں (اور نتیجے میں ایک قتل ہو جاتا ہے) تو قاتل اور مقتول دونوں دوزخی ہیں۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! قاتل کا دوزخی ہونا تو سمجھ میں آ گیا لیکن مقتول کیونکر دوزخی ہوا؟ آپؐ نے فرمایا، مقتول بھی تو اپنے مدمقابل کو قتل کرنے پر حریص تھا۔ (بخاری و مسلم)
غرضیکہ اپنے ساتھی کو قتل کرنے کا ارادہ بھی اسے دوزخ میں لے گیا۔ اللہ سبحانہ حساب تو نیتوں پر لیں گے خواہ وہ ظاہر کرے یا اسے چھپائے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے:
وان تبدوا ما فی انفسکم او تخفوہ یحاسبکم بہ اللہ (بقرہ ۲۸۴)
’’خواہ تم اپنے دل کی بات چھپاؤ یا اسے ظاہر کرو اللہ تعالیٰ تم سے حساب ضرور لیں گے۔‘‘
اسی فرمان باری تعالیٰ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث قدسی سے واضح فرمایا:
ان اللہ تعالیٰ کتب الحسنات والسیئات ثم بین ذلک۔ فمن ھم بحسنۃ فلم یعلمھا کتبھا اللہ عندہ حسنۃ کاملہ۔ وان ھم بھا فعملھاکتبھا اللہ عشر حسنات الی سبع مائۃ ضعف الی اضعاف کثیرہ۔ وان ھم بسیئۃفلم یعملھا کتبھا اللہ حسنۃ کاملۃ۔ وان ھم بھا فعملھا کتبھا اللہ سیئۃ واحدۃ۔ (رواہ البخاری و مسلم عن عبد اللہ بن عباس)
’’اللہ تعالیٰ نے نیکیوں اور بدیوں کو لکھا اور ہر ایک کو واضح کر دیا۔ پھر جس کسی نے نیکی کا ارادہ کیا لیکن اس نیکی پر عمل نہیں کیا تو اللہ تعالیٰ اس کے نامۂ اعمال میں ایک نیکی لکھ دیتے ہیں۔ اور اگر نیکی کا ارادہ کر کے وہ نیکی بھی کر گزرے تو اسے ایک نیکی کے بدلے دس سے لے کر سات سو گنا بلکہ اس سے بھی کئی گنا زیادہ اجر عطا فرماتے ہیں (یعنی اخلاص میں جتنی قوت ہو گی اتنا ہی اجر زیادہ ہو گا)۔ لیکن اگر برائی کا ارادہ کیا لیکن وہ برائی نہیں کی تو اس (اجتناب) پر بھی ایک کامل نیکی اس کے نامۂ اعمال میں لکھی جائے گی۔ اور اگر بدی کا ارادہ کر کے وہ گناہ بھی کر لیا تو صرف ایک گناہ ہی لکھا جائے گا۔‘‘
یعنی اگر برائی کا ارادہ کر کے خوفِ خدا اور اس پر ایمان کی وجہ سے برائی سے باز رہا تو عند اللہ یہ ایک نیکی گنی جائے گی، لیکن اگر وہ گناہ کسی خارجی سبب سے نہ کر سکا تو یہ کوئی نیکی نہیں لیکن اس پر بھی اسے خدا کا شکر کرنا چاہیئے کہ اس نے گناہ سے بچا لیا۔ مزید براں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ان اللہ تجاوز عن امتی عما حدثت بہ انفسھا۔
’’اللہ تعالیٰ نے میری امت کے لوگوں کے دلوں کے وسوسوں کو معاف فرما دیا ہے۔‘‘
ریا کی شان (اثر) یہ ہے کہ وہ بندے اور خدا کے درمیان حجاب بن جاتی ہے اور اسے حیوانوں کے زمرے میں لا شامل کرتی ہے، پھر اس کے نفس کا تزکیہ نہیں ہو پاتا۔ اس کا کوئی عمل مقبول نہیں ہوتا کیونکہ دکھلاوے کے کام کرنے والے کی نہ کوئی رائے ہوتی ہے نہ اس کا کوئی عقیدہ ہوتا ہے بلکہ وہ ’’گرگٹ‘‘ کی طرح ہوتا ہے کہ رنگ بدلتا رہتا ہے اور ہوا کے رخ پر چلتا ہے، عمل کی پختگی اس سے زائل ہو جاتی ہے۔ ریا کا مطلب ہے عبادات کے ذریعے جاہ و منزلت کا طلب کرنا اور اللہ سبحانہ نے اس سے بچنے اور اسے ترک کرنے کا صریحًا حکم فرمایا ہے کیونکہ اس سے انفرادی اور اجتماعی برائیاں پھیلتی ہیں، اس لیے فرمایا:
والذین یمکرون السیئات لھم عذاب شدید و مکر اولئک ھو یبور (فاطر ۱۰)
’’اور جو لوگ برائیوں کے داؤ میں ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے اور ان کا داؤ ہے ٹوٹے کا۔‘‘
اور جو لوگ برائی کے مکر کرتے ہیں یہی اہل الریاء ہیں اور ریاء منافقین کی صفت ہے جن کا مبداء و معاد پر ایمان نہیں اور نہ ہی وہ صالح عقیدہ پر یقین رکھتے ہیں۔ اللہ سبحانہ فرماتا ہے:
ان المنافقین یخادعون اللہ وھو خادعھم واذا قاموا الی الصلوٰۃ قاموا کسالیٰ یراءون الناس ولا یذکرون اللہ الا قلیلًا۔ (نساء ۱۴۲)
’’البتہ منافقین دغابازی کرتے ہیں اللہ سے اور وہی ان کو دغا دے گا اور جب نماز میں کھڑے ہوتے ہیں تو محض لوگوں کو دکھانے کے لیے بددلی سے کھڑے ہوتے ہیں اور اللہ کو یاد نہیں کرتے مگر بہت تھوڑا۔‘‘
اور عنقریب اللہ تعالیٰ اس دھوکہ دہی کا پردہ فاش کر دے گا اور یہ چھپانا اس آدمی کے لیے باعث ذلت و رسوائی بنے گا اور دکھلاوے کے لیے دھوکا دینے والے کی جگ ہنسائی ہو گی اور یہی اس کے دکھلاوے کی سزا ہو گی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’من سمع سمع اللہ و من یائی یرائی اللہ بہ‘‘۔جس نے دکھلاوے کے لیے کام کیا اللہ تعالیٰ یہ کام اس کے لیے باعث رسوائی بنا دے گا اور جس نے کوئی نیک کام اس نیت سے کیا کہ لوگوں کو معلوم ہو تو وہ اس کی عزت کریں تو اللہ تعالیٰ ایسے اسباب فرما دیں گے کہ لوگوں پر واضح ہو جائے گا کہ اس کی اصل نیت کیا تھی۔
اور ریا شرک ہی کی ایک قسم ہے جس سے عمل ضائع ہو جاتا ہے۔ محمود بن لبیدؓ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، میں تمہارے بارے میں جس چیز سے سب سے زیادہ ڈرتا ہوں وہ شرک اصغر ہے۔ صحابہؓ نے پوچھا یا رسول اللہ! یہ شرک اصغر کیا ہوتا ہے؟ فرمایا، ریاء۔ جب قیامت کے روز لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دے دیا جائے گا تو اللہ تعالیٰ (دکھلاوے کے لیے کام کرنے والوں کو) فرمائے گا جن لوگوں کو تم دنیا میں دکھا کر کام کرتے تھے ان کے پاس جاؤ، ذرا دیکھو تو تمہیں ان کے ہاں سے کوئی بدلہ ملتا ہے!
اسلام انسان سے یہ توقع رکھتا ہے کہ اس کا باطن اس کے ظاہر کی طرح ہو۔ اس کے رات کی سیاہی دن کی روشنی کی طرح ہو۔ جب ظاہر و باطن میں اختلاف ہو، قول اور فعل میں مطابقت نہ رہے، اور انسان خیر کی بجائے شر کو ترجیح دینے لگے تو سمجھ لو کہ یہ آدمی نفاق کی مرض میں مبتلا ہے۔ اب اس کے اندر حق کی علی الاعلان حمایت کا حوصلہ ختم ہو گیا ہے۔ جرأت و حوصلہ جو ایک مومن صادق کا طرۂ امتیاز ہے یہ اس سے یکسر محروم ہو جاتا ہے۔ امام بخاریؒ نے حضرت ابن عمرؓ کے بارے میں روایت کی ہے کہ لوگوں نے ان سے کہا کہ جب ہم بادشاہوں کے پاس جاتے ہیں تو ان سے ایسی باتیں کرتے ہیں جو ہم آپس میں نہیں کرتے۔ سن کر انہوں نے فرمایا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک میں ہم اسی رویے کو نفاق سمجھتے تھے۔
بعض لوگ دکھلاوے کے لیے ایسے کام کرتے ہیں کہ لوگوں میں ان کا خوب چرچا ہوتا ہے لیکن ان کا کام چونکہ خلوص پر مبنی نہیں ہوتا اس لیے اس پر نیک اثر بھی مرتب نہیں ہوتا۔ امام مسلمؒ نے حضرت ابوہریرہؓ کی حدیث نقل کی ہے، فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت کے روز سب سے پہلے جس شخص کا فیصلہ ہو گا وہ شہید ہو گا۔ اسے دربارِ خداوندی میں حاضر کیا جائے گا پھر سے سوال ہو گا: تو نے دنیا میں کیا کیا؟ وہ جواب دے گا میں نے تیری راہ میں جہاد کیا اور شہید ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تو نے جھوٹ بولا ہے، تو نے جنگ اس لیے لڑی کہ لوگ کہیں کہ فلاں بڑا بہادر تھا۔ چنانچہ لوگوں نے تیری تعریف کر دی (اب ہمارے ہاں تیرے لیے کچھ نہیں)۔ پھر اس کے متعلق فیصلہ صادر ہو گا اور وہ منہ کے بل دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔ پھر دوسرا شخص لایا جائے گا، اس نے علم سیکھا اور سکھایا ہو گا اور قرآن کا قاری ہو گا۔ اسے اللہ تعالیٰ کی نعمتیں یاد دلائی جائیں گی، وہ ان سب کا اعتراف کرے گا۔ پھر سوال ہو گا کہ ان نعمتوں کے بدلے میں تو نے کیا کیا؟ وہ کہے گا، میں نے علم سیکھا اور سکھایا اور تیرے قرآن کی تلاوت کی۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تو نے جھوٹ بولا ہے۔ تو نے تو اس لیے علم سیکھا کہ لوگ تجھے عالم کہیں، پس یہ کچھ کہا گیا اور تو نے قرآن اس لیے پڑھا کہ لوگ تجھے قاری کہیں اور یہ بھی کہا گیا (اب ہمارے پاس اس کا کچھ اجر نہیں) پھر اس کو حسب الحکم منہ کے بل دوزخ میں جھونک دیا جائے گا۔ پھر تیسرا شخص لایا جائے گا، اسے دنیا میں اللہ تعالیٰ نے رزق کی وسعت عطا فرمائی ہو گی۔ ہر قسم کا مال و دولت اسے میسر تھا۔ اللہ تعالیٰ اسے اپنی نعمتیں یاد دلائیں گے، وہ ان کا اعتراف بھی کرے گا، پھر سوال ہو گا، ان نعمتوں کے بدلے میں دنیا میں تو نے کیا کیا؟ وہ جواب دے گا، میں نے تیری رضا کے لیے ہر نیک کام کیا اور ان کاموں میں مال خرچ کیا۔ ارشاد ہو گا، تو جھوٹا ہے۔ تو نے خرچ اس لیے کیا تھا کہ لوگ کہیں کہ فلاں بڑا سخی ہے، پس یہ کچھ کہا گیا (اب تیرے لیے ہمارے پاس کچھ نہیں) پھر اسے حسب الحکم منہ کے بل دوزخ میں جھونک دیا جائے گا (اعاذنا اللہ منھا)۔
حدیثِ مذکورہ سے یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ اگر لوگ تعریف کریں گے تو عمل اکارت جائے گا بلکہ اگر کوئی کام نیک نیت اور اخلاص سے کیا جائے اور لوگوں کو اس کا علم ہو گا اور انہوں نے اس کی تعریف کی (اور اس تعریف پر اس کا اپنا مقصد نہیں تھا) تو اس کا عمل ضائع نہیں ہوگا خواہ ان کی یہ تعریف اسے بھلی ہی معلوم کیوں نہ ہو۔
ترمذیً نے ابوہریرہؓ سے روایت کی ہے، ایک شخص نے کہا ، یا رسول اللہ! ایک شخص لوگوں سے چھپا کر کوئی عمل کرتا ہے لیکن لوگوں کو اس کی اطلاع ہو جاتی ہے، اب وہ شخص اس بات پر خوش ہوتا ہے (تو کیا اس عمل کا اسے ثواب ملے گا؟) آپؐ نے فرمایا اسے دو ثواب ملیں گے، ایک تو چھپانے کا ثواب اور ایک ظاہر ہونے کا ثواب ’’لہ اجران، اجر السر و اجر العلانیۃ‘‘۔ بلکہ لوگوں کی یہ تعریف ایک قسم کی بشارت ہے جو دنیا میں اسے مل گئی۔ ’’کما قال صلی اللہ علیہ وسلم انتم شہداء اللہ علی الارض‘‘۔
امام مسلمؒ نے حضرت ابوذرؓ سے روایت کی ہے، میں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ایک شخص نیک عمل کرتا ہے اور لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں؟ تو آپؐ نے فرمایا، یہ مومن کے لیے دنیا میں ہی بشارت ہے۔
ریاء سے خوف
حضرت ابو موسٰی اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا اے لوگو! اس شرک سے ڈرو کیونکہ یہ چیونٹی کے قدموں کی آہٹ سے بھی زیادہ خفی ہے۔ ایک شخص نے پوچھا، پھر اس سے بچنے کا طریقہ کیا ہے؟ فرمایا یہ کہا کرو ’’اللھم انا نعوذ بک من ان نشرک بک شیئًا نعلمہ، ونستغفرک لما لا نعلمہ‘‘۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ریاء سے محفوظ فرمائے اور اخلاص کی نعمت سے نوازے، آمین۔
چاہِ یوسفؑ کی صدا
پروفیسر حافظ نذر احمد
آ رہی ہے چاہِ یوسفؑ سے صدا
دوست یاں تھوڑے ہیں اور بھائی بہت
ارضِ مقدس (فلسطین) کا یہ کنواں ’’چاہِ یوسفؑ‘‘ اور ’’چاہِ کنعان‘‘ دو ناموں سے مشہور ہے۔ یہ تاریخی کنواں کبھی کا خشک ہو چکا ہے۔ توریت مقدس کا بیان ہے کہ جب ننھے یوسفؑ کو کنویں میں گرایا گیا اس میں پانی نہ تھا لیکن اس کنویں کی عظمت اس کے پانی سے نہیں بلکہ حضرت یوسف علیہ السلام کے ساتھ ایک گونہ نسبت کے سبب سے ہے۔ چاہِ یوسفؑؑ کے محل و وقوع اور حالات و کوائف کے مطالعہ سے قبل ضروری معلوم ہوتا ہے کہ پہلے حضرت یوسف علیہ السلام کے حالات کا مطالعہ کر لیا جائے۔ چونکہ یہ کنواں انہی کی نسبت سے مشہور ہوا، ورنہ کنویں میں اور کوئی ایسی انفرادی خصوصیت نہیں جو اس کی شہرت کا باعث ہوتی۔
حضرت یوسف علیہ السلام
حضرت یوسف علیہ السلام نبی تھے، نبیؑ کے بیٹے تھے، نبیؑ کے پوتے اور نبیؑ کے پڑپوتے تھے۔ ان کے والد ماجد کا نام حضرت یعقوب علیہ السلام تھا، دادا کا نام حضرت اسحاق علیہ السلام، اور پڑدادا کا اسمِ مبارک حضرت ابراہیم علیہ السلام تھا۔ یہ خاندان ہی انبیاءؑ کا خاندان تھا۔ اس خاندان میں حضرت داؤدؑ، حضرت سلیمانؑ، حضرت موسٰیؑ اور حضرت عیسٰیؑ جیسے جلیل القدر نبی ہوئے ہیں، ان سب پر اللہ کا درود و سلام ہو۔
حضرت یوسف علیہ السلام کے گرامیٔ قدر والد حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب ’’اسرائیل‘‘ تھا۔ یہ عربانی لفظ ہے۔ اس کے معنی ہیں عبد اللہ یعنی اللہ کا بندہ۔ ان کے اسی لقب کی نسبت سے ان کی اولاد کو ’’بنی اسرائیل‘‘ کہا جاتا ہے یعنی اولادِ یعقوب ؑ۔ حضرت یوسف علیہ السلام کا زمانہ ۱۸۰۰ تا ۱۹۰۰ قبل مسیح ؑ متعین کیا گیا ہے۔ وطن جدون تھا۔ اس قصبہ کا دوسرا نام ’’الخلیل‘‘ ہے، کیوں نہ ہو ’’خلیل اللہ‘‘ کی اولاد کی نگری ہے۔ یہ بستی ارضِ مقدس کے مشہور شہر بیت المقدس کے قریب ہی واقع ہے۔ چار ہزار سال پرانی یہ بستی آج موجود ہے۔
حضرت یوسف علیہ السلام اپنی پیاری عادات، موہنی صورت اور عمر میں سب سے چھوٹے ہونے کے سبب سب کے منظورِ نظر تھے۔ خصوصًا حضرت یعقوب علیہ السلام کو اپنے اس بچہ سے بے پناہ محبت تھی۔ حضرت یوسفؑؑ کے بھائی ان سے جلنے لگے۔ یوں بھی بن یامین کے سوا ان کا کوئی حقیقی بھائی نہ تھا اور سوتیلے بہن بھائی اکثر رقابت کا شکار ہو جایا کرتے ہیں، پھر حضرت یوسفؑؑ کے خوابوں نے جلتی آگ پر تیل کا کام کیا۔ انہوں نے ننھی عمر ہی میں کچھ خواب دیکھے جو اُن کے روشن مستقبل کا پتہ دے رہے تھے۔ ان کی تعبیر سے سوتیلے بھائیوں کے دلوں میں حسد کی آگ اور بھڑکی۔
برادرانِ یوسفؑؑ کی سازش
یوسف علیہ السلام جیسے معصوم پیارے بھائی کے خلاف ان لوگوں نے ایک خوفناک سازش کی، سب مل کر باپ کے پاس گئے اور یوسفؑؑ کو جنگل ساتھ لے جانے کی اجازت مانگی۔ کہنے لگے ہم بھیڑ بکریاں چرائیں گے، شکار کریں گے، یوسفؑؑ ہمارے ساتھ کھیلیں گے، خوب تفریح رہے گی۔ حضرت یعقوبؑ کی دوربین نگاہیں گویا آنے والے حادثات کو دیکھ رہی تھیں، انہوں نے برادرانِ یوسفؑؑ کی درخواست قبول کرنے میں پس و پیش کیا لیکن بیٹوں کے مسلسل اصرار اور حفاظت کے پختہ وعدوں پر بادلِ نخواستہ راضی ہو گئے اور یوسفؑؑ کو ساتھ لے جانے کی اجازت دے دی۔
گھر سے نکل کر یہ لوگ دریائے اردن کے کنارے پہنچے۔ جنگل میں ’’دوتین‘‘ شہر کے قریب انہوں نے حضرت یوسفؑؑ کے قتل کا منصوبہ بنانا چاہا، روبن نے سخت مخالفت کی، اس نے مشورہ دیا کہ یوسفؑؑ کے خون سے اپنے ہاتھ نہ رنگیں اور اس کا خون اپنے ذمہ نہ لیں بلکہ کنویں میں دھکا دے دیں، ہو سکتا ہے کوئی راہ چلتا مسافر نکال کر یہاں سے دور لے جائے، اس طرح یہ کانٹا راستہ سے ہٹ جائے گا اور اس کا خون بھی سر نہ چڑھے گا۔ روبن کی تجویز ان کی سمجھ میں آگئی، پہلے انہوں ’’بوقلمونی قبا‘‘ یوسفؑؑ کے جسم سے زبردستی، پھر کنویں میں دھکا دے دیا۔ یہ قبا حضرت یعقوبؑ نے خاص طور پر ان کے لیے تیار کروائی تھی۔ یوسفؑؑ کو کنویں میں گرا کر وہ اپنی جگہ بالکل مطمئن ہو گئے، انہیں معلوم نہیں تھا کہ وہ آج جسے اپنی راہ کا کانٹا سمجھ رہے ہیں کل وہی ان کا محسن ہو گا اور پورے خاندان کو فقر و فاقہ سے نجات دلائے گا۔
چاہِ یوسفؑؑ کی تحقیق
قرآن مجید میں اس کنویں کا ذکر موجود ہے۔ عربی زبان میں کنویں کو ’’بیئر‘‘ اور ’’جُب‘‘ کہتے ہیں۔ چنانچہ قرآن مجید میں اس کنویں کے لیے لفظ ’’جُب‘‘ ہی آیا ہے، ارشاد ہے:
قال قائل منھم لا تقتلوا یوسف والقوہ فی غیابۃ الجب۔
’’ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا یوسفؑؑ کو قتل نہ کرو بلکہ اسے کنویں میں گرا دو۔ (سورہ یوسف ۱۰)
لفظ جُب کے دو معنی ہیں (۱) جڑ سے کاٹ دینا (۲) کنواں۔ یہاں یہ لفظ اپنے دوسرے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ دراصل جُب ایسے کنویں کو کہتے ہیں جس کی منڈیر اینٹوں وغیرہ سے باقاعدہ نہ بنائی گئی ہو اور اس کی گہرائی بہت زیادہ ہو۔ جس کنویں کی منڈیر اور دیواریں ہوں اسے عربی میں ’’بئیر‘‘ کہتے ہیں۔ (مفردات القرآن، راغب)
اس کنویں کا محل وقوع جاننے کے لیے ذرا اس کے گرد و پیش پر نظر ڈال لیجئے۔ بیت المقدس فلسطین کا مرکزی شہر ہے۔ ارضِ مقدس کے اس شہر سے کوئی پچیس میل کے فاصلے پر دریائے اردن بہتا ہے۔ یہ دریا اس قدر اہم ہے کہ اس کی نسبت سے پورے ملک کا نام ہی شرقِ اردن پڑ گیا۔ یہی وہ دریا ہے جس پر حضرت مسیح علیہ السلام نے اصطباغ (بپتسمہ) لیا تھا۔ دریائے اردن کے کنارے طبریہ سے دمشق کو جاتے ہوئے تقریباً بارہ میل کے فاصلے پر چاہِ یوسفؑؑ کا مقام آتا ہے۔ طبریہ فلسطین کا ایک تاریخی شہر ہے اور دمشق ملک شام کا دارالخلافہ ہے۔ طبریہ کے دوسری سمت فلسطین کی ایک دوسری قدیم ترین بستی ناصریہ واقع ہے اسے انگریزی میں Nazarath نزرات کہتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں حضرت مسیح علیہ السلام کی ولادت ہوئی تھی۔ اسی نسبت سے انہیں ’’مسیحِ ناصری‘‘ کہتے ہیں اور ان کے ماننے والے عیسائی اور مسیحی کے علاوہ ’’نصرانی‘‘ اور ’’نصارٰی‘‘ بھی کہلاتے ہیں۔
یہ کنواں آبادی سے دور جنگل بیابان میں تھا جیسا کہ بائبل کے اس بیان سے واضح ہے:
’’اور ان سے کہا خونریزی نہ کرو لیکن اسے کنویں ڈال دو جو بیابان میں ہے‘‘۔ کتاب پیدائش ۳۷: ۱۹، ۲۰)
اسی کتاب پیدائش کے باب ۳۷ کی آیت ۲۴ کا بیان ہے:
’’اسے پکڑ کر کنویں میں ڈال دیا۔ وہ کنواں سوکھا تھا، اس میں پانی کی بوند نہ تھی۔‘‘
ہمارے اکثر مفسرین کرام نے اس بیان سے اختلاف کیا ہے۔ چاہِ یوسفؑؑ کا تذکرہ مشہور سیاح ابن بطوطہ نے بھی کیا ہے۔ ابن بطوطہ نے اپنی سیاحت کے دوران اس کنویں کی زیارت کی تھی۔ ابن بطوطہ کے بیان کے مطابق یہ کنواں ایک رہگزر پر تھا اور اگلے وقتوں میں کنویں عام طور پر راستوں پر ہی بنائے جاتے تھے تاکہ مسافروں کو پانی کی سہولت رہے۔ چنانچہ قافلے عام طور پر کارواں سراؤں کے علاوہ کنویں پر ہی پڑاؤ ڈالتے تھے۔
مشہور مفسر امام النسفی نے اپنی کتاب ’’مدارک التنزیل‘‘ میں لکھا ہے کہ یہ کنواں حضرت یعقوبؑ کے گھر سے تین فرسخ یعنی تقریباً بارہ میل کے فاصلے پر تھا اور اس وقت کنویں میں پانی موجود تھا۔ چنانچہ بھائیوں نے جب حضرت یوسفؑؑ کو کنویں میں گرایا تو انہوں نے مینڈھ پر پناہ لی اور کنویں میں سیدھے کھڑے ہو گئے۔
حضرت یوسفؑؑ کنویں میں
جب بھائی یوسفؑؑ کو جنگل ساتھ لے کر چلے تھے انہوں نے باپ سے حفاظت کا وعدہ کیا تھا اور بڑی بڑی قسمیں کھائی تھیں لیکن نیت بد تھی اور ان کے وعدوں کی حیثیت ایک فریب سے زیادہ کچھ نہ تھی۔ وہ حضرت یوسفؑؑ کو کھیل کود اور شکار کے بہانے ’’دوتین‘‘ کے جنگل میں لے آئے جیسا کہ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں، انہوں نے یہاں پہنچ کر قتل کر ڈالنے کا پختہ ارادہ کر لیا، خدا بھلا کرے روبن کا کہ اس نے انہیں اس ارادہ سے روکا، اس کے سمجھانے پر انہوں نے کنویں میں گرا دینے کا فیصلہ کیا جیسا کہ ہم ابتداء میں کہہ چکے ہیں، پہلے انہوں نے حضرت یوسفؑؑ کی بوقلمونی قبا اتاری پھر اس سے باندھ کر کنویں میں دھکا دے دیا۔
حضرت یوسفؑؑ کی عمر کا یہ ابتدائی حصہ تھا۔ بائبل کی روایت کے مطابق اس وقت ان کا سن سترہ برس کا تھا (ملاحظہ ہو ’’توراۃ مقدس‘‘ کتاب پیدائش باب ۳۷ آیت ۳)۔ معلوم نہیں معصوم اور بے گناہ یوسفؑؑ کے دل پر اس وقت کیا گزری ہو گی؟ اور ان کے من میں کیا کیا خیال آئے ہوں گے؟ عین اس مایوسی اور غم کے عالم میں اللہ پاک نے انہیں تسلی دی جیسا کہ قرآن مجید کا ارشاد ہے:
’’ہم نے یوسفؑؑ کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ ہم ان بھائیوں کو یہ بات جتلائیں گے اس وقت ان کو پتہ بھی نہ ہو گا‘‘۔ (سورہ یوسف ۱۵)
چاہِ یوسفؑؑ پر قافلہ کا گزر
حضرت یوسفؑؑ کو کنویں سے نکالنے والا قافلہ کن لوگوں کا تھا؟ یہ مسافر کہاں سے آرہے تھے اور کدھر جا رہے تھے؟ یہ تمام سوال جواب طلب ہیں۔ ہو سکتا ہے اس وقت قافلہ کی آمد کو محض حسن اتفاق سمجھا جائے۔ نہیں، یہ اللہ کی مشیت تھی۔ قافلہ کو یہاں پہنچا کر یوسفؑؑ نبی کو بچانا مقصود تھا اور آگے چل کر ان کے ذریعے کئی قوموں کی تقدیر بدلنی تھی۔ اللہ تعالیٰ جب چاہتے ہیں اپنی قدرتِ کاملہ سے ایسے ’’حسنِ اتفاق‘‘ ظاہر کر دیا کرتے ہیں۔ اللہ کی رحمت سے انسان کو کسی حال میں مایوس نہیں ہونا چاہیئے۔ اس سلسلہ میں بائبل کا بیان ہے کہ جب بھائیوں نے ایک قافلہ اس طرف آتے دیکھا تو یوسفؑؑ کو فروخت کرنے کی سازش کی اور آپس میں یوں کہنے لگے:
’’آؤ اسے اسماعیلیوں کے ہاتھ بیچ ڈالیں کہ ہمارا ہاتھ اس پر نہ اٹھے کیونکہ وہ ہمارا بھائی اور خون ہے (سبحان اللہ کس برادرانہ شفقت کا مظاہرہ ہے) اس کے بھائیوں نے اس کی بات نہ مانی۔ مدیانی سوداگر ادھر سے گزرے تب انہوں نے یوسفؑؑ کو گڑھے سے کھینچ کر باہر نکالا اور اسے اسماعیلیوں کے ہاتھوں بیس روپیہ میں فروخت کر ڈالا اور وہ قافلے والے یوسف کو مصر لے گئے۔ جب روبن گڑھے پر آیا تو اس نے دیکھا کہ یوسفؑؑ گڑھے میں نہیں ہے تو اس نے اپنا پیرہن چاک کر ڈالا‘‘۔ (کتاب پیدائش ۴۷: ۲۷ تا ۲۹)
بائبل کے مندرجہ بالا حوالے میں جن لوگوں کو ’’مدیانی سوداگر‘‘ کہا گیا ہے ان سے حجاز (عرب) کے اسماعیلی عرب مراد ہو سکتے ہیں کیونکہ عبرانی زبان میں اسماعیلیوں کو مدیانی کہتے تھے۔ بعض اصحاب ’’مدیانی‘‘ کو ’’مدین‘‘ سے منسوب کرتے ہیں یعنی وہ علاقہ جو سعیر سے بحر احمر تک اور شام سے یمن تک پھیلا ہوا ہے۔ مدین کا علاقہ حجاز کہلاتا ہے (ملاحظہ ہو ’’ارض القرآن‘‘ ج ۲ ص ۴۷ تا ۴۹)۔ مختصر یہ کہ عرب تاجروں کا ایک قافلہ یمن کے دارالخلافہ صفا شہر سے مصر جا رہا تھا، قافلہ کے اونٹوں پر گرم مصالحہ اور ملبان وغیرہ لدا ہوا تھا، قافلہ والوں کی نظر جب خوبرو اور خوش اطوار یوسفؑؑ پر پڑی تو ان کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔ کلام پاک میں آتا ہے کہ وہ بے ساختہ پکار اٹھے ’’یا بشرٰی ھذا غلام‘‘ ارے واہ واہ! یہ تو ایک لڑکا نکل آیا‘‘۔ (سورہ یوسف ۱۲: ۱۹)
حضرت یوسفؑؑ کنویں سے باہر
قافلے والے ننھے یوسفؑؑ کو یہاں سے مصر لے گئے اور منہ مانگی قیمت وصول کر لی۔ ان کا خوش قسمت خریدار مصر کا باوقار حکمران تھا، اسے فرعون کے دربار میں بڑا مقام حاصل تھا۔ قرآن مجید میں اسے ’’عزیز مصر‘‘ کے لقب سے یاد کیا گیا ہے اور توراۃ مقدس میں اس کا نام فوطیفار بیان ہوا ہے، لکھا ہے:
’’مدیانیوں نے اسے مصر میں فوطیفار کے ہاتھ فروخت کر دیا۔ وہ فرعون کا ایک امیر اور لشکر کمانڈر تھا‘‘۔ (کتاب پیدائش ۳۷: ۳۹)
یوسف کا خریدار عزیزِ مصر لاولد تھا۔ میاں بیوی دونوں کو بچہ کی بے حد خواہش تھی مگر ان کا یہ ارمان پورا نہیں ہو رہا تھا۔ اس حسین و جمیل بچہ سے ان کے گھر میں بہار آ گئی۔ عزیزِ مصر (فوطیفار) کی بیوی کا نام نہ قرآن مجید میں مذکور ہے نہ توراۃ میں۔ البتہ اسرائیلی روایات میں وہ زلیخا کے نام سے مشہور ہے۔ یوسفؑؑ اس کے گھر میں پلے بڑھے اور جوان ہوئے۔ زلیخا کو ان سے محبت ہو گئی، اس نے انہیں اپنے دامِ محبت میں پھنسانا چاہا مگر وہ اس کے دامِ تزویر میں نہ آئے۔ جب اس نے دیکھا کہ اس کی کوئی بات انہیں اس طرف مائل نہیں کرتی تو اس نے کمرے کے دروازے بند کر لیے مگر پاکباز یوسفؑؑ پر اس کا یہ آخری داؤ بھی کارگر نہ ہوا، اللہ کریم نے ان کی حفاظت کی اور صاف بچا لیا۔
کنویں سے جیل کی کوٹھڑی تک
حضرت یوسفؑؑ کنویں سے ضرور نکل آئے تھے مگر قید و بند کی مزید سختیاں ابھی ان کے مقدر میں لکھی تھیں۔ ان کی پریشانیوں اور آزمائشوں کا دور ابھی باقی تھا۔ چنانچہ جب زلیخا اپنی کسی تدبیر کے ذریعے انہیں گناہ میں ملوث نہ کر سکی تو اس نے الٹا ان پر دست درازی کا الزام لگا دیا اور دھاندلی سے حضرت یوسفؑؑ کو جیل میں ڈلوا دیا۔ حضرت یوسفؑؑ پورے صبر و شکر کے ساتھ ایامِ اسیری بسر کرتے رہے، ان کی پُراثر شخصیت سے قیدی بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ وہ ان سے خوابوں کی تعبیریں پوچھتے اور حق و صداقت کا پیغام سنتے۔ اسی دوران بادشاہ نے ایک عجیب و غریب خواب دیکھا، کوئی درباری اس کی تعبیر نہ بتلا سکا، جیل کے آزاد شدہ ایک قیدی کو حضرت یوسفؑؑ کی یاد آ گئی۔ وہ ان کی بتلائی ہوئی کتنی ہی تعبیروں کی صداقت آزما چکا تھا، اس شخص نے بادشاہ کو یوسفؑؑ کا پتہ دیا۔
شاہی فرمان جاری ہوا کہ یوسفؑؑ کو رہا کر کے شاہی دربار میں بلایا جائے مگر انہوں نے جیل سے باہر آنے سے انکار کر دیا۔ فرمایا جب تک الزام سے بریت کا اعلان نہ ہو، رہائی کا کیا مطلب؟ لیکن الزام کی بنیاد ہی کیا تھی جس کی تحقیق کی جاتی۔ وہ تو محض دھاندلی تھی یا زیادہ سے زیادہ ملک کی ’’خاتون اول‘‘ کی عزت کو بچانے اور اس کی بات کو بالا رکھنے کی تدبیر تھی۔ بہرصورت حضرت یوسفؑؑ کی پاکدامنی اور پاکبازی کا اعلان کر دیا گیا اور وہ باعزت جیل سے باہر آگئے۔ اب یوسفؑؑ دربار کے ایک رکنِ رکین تھے۔ شاہی خزانے کی کنجیاں ان کی تحویل میں تھیں اور پورے ملک کی معاشی پالیسی ان کے ہاتھ میں تھی۔ ملک میں قحط پڑا تو غلہ کی فروخت اور تقسیم بھی انہی کے سپرد ہوئی۔
کنویں میں ڈالنے والے
کنعان میں قحط سے حالات بہت خراب ہو چکے تھے، لوگ فاقوں کے باعث بھوکے مر رہے تھے، مصری غلہ ان سب کی امیدوں کا سہارا تھا، یوسفؑؑ کو کنویں میں ڈالنے والے ’’برادرانِ یوسفؑؑ‘‘ بھی اس غلہ کی شہرت سن کر غلہ حاصل کرنے کے لیے چل پڑے۔ آج کا بھائی (جسے اپنے خیال میں) وہ ختم کر چکے تھے خزانوں کا مالک تھا اور نادانستہ اس کے سامنے سوالی بن کر آئے تھے۔ اپنی تمام تر ذہانت کے باوجود وہ حضرت یوسفؑؑ کو نہ پہچان سکے۔ حضرت یوسفؑؑ نے انہیں پہچان لیا مگر حقیقی بھائی کو درمیان میں نہ پایا۔ یوسفؑؑ نے اپنے دشمنِ جان بھائیوں کو خوب خوب غلہ دیا اور ہدایت کی اگر کوئی اور بھائی گھر ہے تو آئندہ اسے بھی ساتھ لانا اور زیادہ غلہ ملے گا۔
یہ لوگ گھر لوٹے، باپ کو سارا ماجرا سنایا، جو نوازشات ہوئی تھیں انہیں بڑھ چڑھ کر بیان کیا اور چھوٹے بھائی بن یامین کو ساتھ بھیجنے کی درخواست کی، اس کی حفاظت کے پختہ وعدے کیے، حضرت یعقوبؑ ان پر اعتبار کرنے کو تیار نہ تھے چونکہ بن یامین کے بھائی یوسفؑؑ کے بارہ میں بھی یہ لوگ ایسے ہی وعدے کر چکے تھے اور پھر کنویں میں گرا کر بہانہ بنایا تھا کہ بھیڑیا کھا گیا، لیکن قحط کے حالات نے اور کچھ ان کے اصرار نے مجبور کر دیا اور حضرت یعقوبؑ نے اجازت دے دی، اس طرح سب گیارہ کے گیارہ بھائی مصر کو چل دیے۔
حضرت یوسفؑؑ نے پہلے سے زیادہ نوازشات کیں اور خوب غلہ دیا مگر ملازمین کو ہدایت کر دی کہ بن یامین کے بورے میں چپکے سے غلے کا پیمانہ چھپا دیں، انہوں نے ایسا ہی کیا۔ جب یہ لوگ چلنے لگے تو منادی ہو گئی کہ سرکاری پیمانہ گم ہو گیا ہے جس کسی کے پاس پیمانہ ہو وہ واپس کر دے۔ ان سب نے لاعلمی کا اظہار کیا اور کہا کہ ہم چور نہیں ہیں کہ ایسا کرتے اور اگر ہم میں سے کسی سے پیمانہ برآمد ہو تو اسے قانون کے مطابق غلام بنا لیا جائے۔ تلاشی لی گئی اور بن یامین کے بورے سے پیمانہ برآمد ہو گیا۔ حضرت یوسفؑؑ نے قانون اور فیصلہ کے مطابق بن یامین کو روک لیا، اس طرح بھائی سے بھائی مل گیا۔ برادرانِ یوسفؑؑ بن یامین کے بغیر روتے دھوتے گھر کو لوٹے، باپ کی دنیا پہلے ہی سونی تھی، بن یامین کو نہ پا کر ان کے دل کی نگری بالکل ہی اجڑ گئی۔ انہوں نے بیٹوں کو دوبارہ مصر بھیجا، یہ لوگ حاضر ہوئے تو اس مرتبہ حضرت یوسفؑؑ نے راز سے پردہ اٹھایا، بولے، کچھ یاد ہے تم نے اس کے بھائی یوسفؑؑ کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا؟ حضرت یوسفؑؑ کے ان لفظوں نے ان کی آنکھیں کھول دیں۔ جس بھائی کو وہ کنویں میں گرا کر دل سے بھلا چکے تھے وہ آج ان کے سامنے تختِ حکومت پر جلوہ افروز تھا اور بڑے اختیارات کا مالک تھا۔ اسے پہچان کر ان کے ہاتھ پاؤں پھول گئے مگر حضرت یوسفؑؑ نے بڑے اطمینان سے فرمایا:
’’نہیں، آج تم پر کوئی الزام نہیں، اللہ تمہیں معاف کرے، وہ سب سے بڑا رحم کرنے والا ہے‘‘۔ (سورہ یوسف ۲۹)
ایک تمثیل
حضرت یوسف علیہ السلام اور حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ایک دوسرے سے بہت مماثلت رکھتی ہے۔ دونوں کی داستانِ حیات کا آغاز مصائب سے ہوتا ہے، اپنوں کے ہاتھوں مصائب، قید و بند، جلاوطنی اور ہجرت دونوں کے ہاں مشترک ہیں۔ کامیابی اور عروج کا انداز بھی ایک جیسا ہے اور آخر دونوں کے دشمن دست بستہ حاضر ہوتے ہیں اور ’’لاتثریب علیکم الیوم‘‘ (سورہ یوسف ۹۲) کا مزدۂ جانفزا سنتے ہیں۔ غالباً اسی لیے حضرت یوسفؑؑ کی داستانِ حیات کو قرآن مجید میں ’’احسن القصص‘‘ کہا گیا ہے ؎
قید میں یعقوب ؑ نے لی گو نہ یوسف کی خبر
لیکن آنکھیں روزنِ دیوارِ زنداں ہو گئیں
شمس الائمہ سرخسی رحمۃ اللہ علیہ
فقہ حنفی کے مستند شارح
ڈاکٹر حافظ محمد شریف
نام
ابوبکر محمد بن ابی سہل احمد، نہ کہ احمد بن ابی سہل، جیسا کہ بعض مغربی مصنفین کو غلط فہمی ہوئی ہے۔ چنانچہ براکلمان اور ہیفننگ اسی زمرے میں آتے ہیں۔
ولادت
متقدمین سوانح نگار آپ کی تاریخِ ولادت بیان نہیں کرتے، البتہ متاخرین میں فقیر محمد جہلمیؒ اور مولانا عبد الحی لکھنویؒ نے صراحت کی ہے کہ آپ ۴۰۰ھ کے دوران ’’سرخس‘‘ میں پیدا ہوئے۔ سرخس کے بارے میں نواب صدیق حسن خاںؒ فرماتے ہیں:
’’بفتحتین و سکون خاء معجمہ للبلد از خراسان است‘‘۔
اور مولانا عبد الحیؒ فرماتے ہیں:
السرخسی نسبۃ الی السرخسی بفتح السین و فتح الراء و سکون الخاء بلدۃ قدیمۃ من بلاد خراسان وھو اسم رجل سکن ھذا الموضع وعمّرہ و اتم بناء ذوالقرنین۔ (فوائد البیہ ص ۱۵)
یہ شہر تاریخ اسلام میں عرصۂ دراز تک بڑا مردم خیز رہا ہے۔ متعدد نامور فقہاء، طبیب، وزراء وغیرہ یہاں پیدا ہوئے۔ آج کل یہ شہر ایرانی روسی سرحد پر دونوں مملکتوں میں آدھا آدھا بٹا ہوا ہے۔ دریائے ہررود اس کے بیچ میں سے گزرتا ہے۔ (بحوالہ نذر عرشی مقالہ ڈاکٹر حمید اللہ ص ۱۲۱)
تعلیم و تربیت
دس سال کی عمر میں باپ کے ساتھ، جو تجارت پیشہ تھے، بغداد آئے۔ اس کے بعد شمس الائمہ عبد العزیز بن احمد بن نصر بن صالح الحلوانی البخاریؒ کی خدمت میں بخارا حاضر ہوئے۔ حلوانیؒ کے متعلق جمال عبد الناصر فرماتے ہیں:
ھو فقیہ الحنفیۃ کان امام اھل الرائ فی وقتہ ببخارا۔ صنف شرح المبسوط، نوادر فی الفروع والفتاوٰی، ادب القاضی لابی یوسف دفن بخاری ۴۴۸ھج۔
’’وہ احناف کے فقیہ تھے اور اپنے وقت میں بخارا اور اہل رائے کے امام تھے‘‘۔ (فروع الحنفیہ ص ۲۵۳)
حلوانی بخارا میں درس دیتے تھے۔ سرخسیؒ عرصۂ دراز تک ان کے درس میں حاضر ہوئے۔ سرخسیؒ نے اپنی شرح ’’السیر الکبیر‘‘ کے شروع میں صراحت کی ہے کہ میں نے حلوانی کے علاوہ شیخ الاسلام ابوالحسن علی بن محمد بن الحسین بن محمد الغدیؒ متوفی ۴۶۱ھ سے بھی کتاب مذکور کا درس لیا۔ نیز ان کے تیس استادوں میں ابو حفص عمر بن منصور البزار بھی ہیں، لیکن ان سے سرخسیؒ نے ’’السیر الکبیر‘‘ کا درس ان کے اس کی شرح لکھنے سے قبل لیا۔ مگر علامہ سرخسیؒ شمس الائمہ حلوانیؒ کے مشہور ترین و ممتاز ترین شاگرد ہوئے۔ آپ نہ صرف استاد کے درسگاہ ہی میں جانشین ہوئے بلکہ ان کے لقب ’’شمس الائمہ‘‘ کے بھی زبانِ خلق سے وارث قرار پائے۔
فقہی مقام و مرتبہ
فقہاء کے سات طبقات ہیں: (۱) مجتہدین فی الاصول (۲) مجتہدین فی المذہب (۳) مجتہدین فی المسائل (۴) اصحابِ تخریج (۵) اصحابِ ترجیح (۶) متمیزین بین الاقوی والقوی والاضعف والضعیف (۷) مقلدین محض۔
کمال پاشازادہؒ نے سرخسیؒ کو طبقۂ ثالثہ یعنی مجتہدین فی المسائل میں شمار کیا ہے جیسے ابوبکر خصافؒ، طحاویؒ، ابوالحسن الکرخیؒ، شمس الائمہ الحلوانیؒ، فخر الاسلام بزدویؒ، فخر الدین قاضی خاں صاحبؒ، ذخیرہ و محیط شیخ طاہر احمدؒ مصنف خلاصۃ الفتاوٰی، یہ سب حنفی ہیں جو امام کی مخالفت نہ اصول میں کرتے ہیں اور نہ فروع میں بلکہ امام کے قواعد سے ان مسائل کا استنباط کرتے ہیں جن میں امام سے کوئی روایت نہیں ہے۔
سند
فتاوٰی شامیؒ میں علامہ سرخسیؒ کی سند یوں درج ہے:
شمس الائمہ سرخسی عن شمس الائمہ الحلوانی عن القانی ابی علی النسفی عن ابی بکر محمد بن الفضل البخاری عن ابی عبد اللہ المزبونی عن ابی حفص عبد اللہ بن احمد بن ابی حفص الصغیر عن والدہ ابی حفص الکبیر عن الامام محمد بن حسن الشیبانی عن امام الائمہ سراج الامۃ ابی حنیفہ النعمان بن ثابت الکوفی عن حماد بن سلیمان عن ابراہیم النخعی عن علقمہ عن عبد اللہ بن مسعودؓ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم عن امین الوحی جبریل عن الحکم العدل جل جلالہ تعالیٰ و تقدست اسماءہٗ۔ (شامی ص ۴ ج ۱)
کرامات
(۱) مؤرخین لکھتے ہیں کہ جب آپ کو ظالم نے قید کر کے اوزجند کی طرف بھیجا تو راستہ میں جب نماز کا وقت آتا تو آپ کے ہاتھ پاؤں سے خودبخود بند کھل جاتے۔ آپ وضو یا تیمم کرکے پہلے اذان پھر تکبیر کہہ کر نماز شروع کر دیتے۔ اس وقت پہرے دار سپاہی دیکھتے کہ ایک جماعت سبز پوشوں کی آپ کے پیچھے کھڑی ہو کر نماز ادا کر رہی ہے۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوتے تو سپاہیوں کو کہتے آؤ تم مجھے باندھ لو۔ سپاہی کہتے خواجہ ہم نے تمہاری کرامت دیکھ لی ہے اب ہم تم سے ایسا معاملہ نہیں کرتے۔ اس پر خواجہ جواب دیتے کہ میں حکمِ خدا کا مامور ہوں پس میں اس کا حکم بجا لایا تاکہ قیامت کو شرمندہ نہ ہوں، اور تم اس ظالم کے تابعدار ہو پس چاہیئے کہ تم اس کا حکم بجا لاؤ تاکہ اس کے ظلم سے خلاص پاؤ۔
(۲) جب آپ شہر اوزجند پہنچے تو ایک مسجد میں مؤذن نے تکبیر کہی۔ آپ نماز پڑھنے مسجد میں داخل ہوئے، امام نے آستین کے اندر ہی ہاتھ رکھ کر تکبیر تحریمہ کہی، آپ نے پچھلی صف سے آواز دی کہ پھر تکبیر کہنی چاہیئے، امام نے پھر اسی طرح آستین میں ہاتھ رکھ کر تکبیر کہی۔ پس اس طرح تین دفعہ ردومدح ہوا، چوتھی دفعہ امام نے منہ پھیر کر کہا، شاید آپ امام اجل سرخسیؒ ہیں۔ آپ نے کہا، ہاں۔ امام نے کہا کہ تکبیر میں کچھ خلل ہے؟ آپ نے کہا کہ نہیں لیکن مردوں کے لیے ہاتھ آستین سے باہر نکال کر تکبیر کہنا سنت ہے، پس مجھ کو اس کے ساتھ اقتداء کرنے سے عار ہے جو عورتوں کی سنت کے ساتھ نماز میں داخل ہو۔
(۳) ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ طالب علم آپ سے اس کنویں پر جس میں آپ قید تھے سبق پڑھ رہے تھے۔ ایک طالب علم کی آواز آپ نے نہ سنی، پوچھا کہ وہ کہاں گیا ہے؟ ایک نے کہا کہ وہ وضو کرنے گیا ہے اور میں بسبب سردی وضو نہیں کر سکا۔ آپ نے فرمایا ’’عافاک اللہ‘‘ تجھے شرم نہیں آتی کہ اس قدر سردی میں تو وضو نہیں کر سکتا، حالانکہ مجھ کو تو طالبعلمی کے وقت بخارا میں ایک دفعہ عارضہ شکم لاحق ہوا تھا جس سے مجھے بہت دفعہ قضائے حاجت ہوئی، پس ہر دفعہ نالہ سے وضو کرتا تھا۔ جب مکان پر آتا تھا تو میری دوات بسبب سردی کے جمی ہوئی تھی، پس میں اس کو اپنے سینہ پر رکھ لیتا جب وہ سینہ کی گرمی سے حل ہو جاتی تو اس سے تعلیقات لکھتا تھا۔ (حدائق الحنفیہ ص۲۰۵)
تعلیمی رفقاء
دورِ تعلیم میں آپ کے رفقاء یہ تھے: (۱) شمس الائمہ ابوبکر زنجری (۲) محمد بن علی زنجری (۳) ابوبکر محمد بن حسین (۴) فخر الاسلام علی بن محمدبن حسین بزدوی (۵) صدر الاسلام (۶) ابوالسیر محمد بن محمد بزدوی کے بھائی (۷) قاضی جمال الدین (۸) ابو نصر احمد بن عبد الرحمان (۹) علی بن عبد اللہ الخطیبی رحمہم اللہ تعالیٰ۔
تلامذہ
علامہ سرخسیؒ کے تلامذہ میں مشہور بزرگوں کے اسماء گرامی یہ ہیں: (۱) علی بن حسین سغدی (۲) رکن الاسلام مؤلف مختصر مسعودی (۳) ابوالحسن سغدی مؤلف دراوی شرح سیر کبیر۔ سغد، سمرقند کے نواح میں ہے (۴) مسعود بن حسین (۵) عبد الملک بن ابراہیم مؤلف طبقات حنفیہ و شافعیہ (۶) محمود بن عبد العزیز اوزجندی (۷) رکن الدین خطیب (۸) مسعود بن حسین کتانی (۹) محمد بن محمد بن محمد رضی الدین سرخسی مصنف محیط (۱۰) عثمان بن علی بن محمد بن محمد بن علی ۴۴۵ھ تا ۵۵۲ھ (۱۱) حیرۃ الفقہاء عبد الغفور بن نعمان کردری (۱۲) ظہیر الدین حسین بن علی مرغنیانی (۱۳) ابوعمر عثمان بن علی بیکندی (۱۴) برہان الائمہ عبد العزیز بن عمر بن بازہ۔
تصانیف
علامہ سرخسیؒ کی جو کتب چھپ چکی ہیں ان میں سے (۱) المبسوط (۲) شرح السیر الکبیر (۳) کچھ حصہ شرح السیر الصغیر (۴) اصول فقہ للسرخسی (۵) شرح الزیادات۔ اور جو کتب مخطوطوں کی شکل میں محفوظ ہیں ان میں سے (۱) اشراط الساعۃ فی مقامات التیامہ (۲) شرح الجامع الکبیر (۳) شرح الجامع الصغیر۔ اور کچھ ناپید ہیں مثلاً (۴) شرح مختصر الطحاوی (۵) شرح نکت زیادات الزیادات۔ کشف الظنون میں ایک کتاب ’’الفوائد‘‘ کو بھی سرخسیؒ کی تالیف بتایا گیا ہے۔ ’’المبسوط‘‘ کا تعارف انشاء اللہ العزیز ایک مستقل مقالہ کی صورت میں الگ تحریر کیا جا رہا ہے۔ اس مضمون میں دیگر کتابوں کا مختصر تعارف درج ذیل ہے۔
شرح السیر الکبیر
اس کتاب کے متعلق ابن قطلوبغاؒ لکھتے ہیں:
’’ان کی ایک کتاب ’’شرح السیر الکبیر‘‘ دو ضخیم جلدوں میں ہے۔ یہ کتاب انہوں نے اپنے شاگردوں کو اس وقت املاء کرانا شروع کی جب وہ کنویں میں قید کاٹ رہے تھے۔ باب الشروط تک پہنچے تو رہائی ہو گئی اور امام سرخسیؒ آخری عمر میں فرغانہ چلے گئے جہاں کے حکمران امیر حسنؒ نے انہیں مقام و مرتبہ سے نوازا۔ پھر طلباء آپ تک وہاں پہنچے اور باقی ماندہ کتاب انہوں نے فرغانہ میں املاء کرائی‘‘۔ (بحوالہ کتاب التراجم ص ۵۳)
یہ دراصل امام محمد کی ’’السیر الکبیر‘‘ کی، جو قانون بین الممالک کی ایک اہم کتاب ہے جس کا یونیسکو کی جانب سے ترجمہ بھی ہو رہا ہے، شرح ہے۔ جو امام سرخسیؒ نے قید کے آخری دور میں املاء کرانی شروع کی۔ اسے دائرہ المعارف حیدر آباد نے ۱۴۰۸ صفحوں کی چار ضخیم جلدوں میں شائع کیا ہے اور اب ایک نیا ایڈیشن مصر میں بھی چھپ رہا ہے۔
سرخسیؒ کی کتاب الشروط تک جو چوتھی جلد کے ص ۶۰ سے شروع ہوتا ہے یعنی ۱۲۸۰ صفحات کے اختتام تک پہنچے تھے کہ بالآخر انہیں رہائی ملی۔ مابقی املاء کے ۳۲۸ صفحات انہوں نے مرغنیاں پہنچ کر دس دن میں مکمل کرائے۔ اس کتاب میں مصنف نے امام محمدؒ کے اصول و اساسات کے پیشِ نظر فقہی مسائل بیان فرمائے ہیں۔ اس کتاب میں جہاد و قتال اور صلح و جنگ کے طریقے، غیر مسلم اقوام سے تعلقات اور تجارت وغیرہ پر بحث کی گئی ہے۔ اسلام کے بین الاقوامی زاویۂ نگاہ کو معلوم کرنے کے لیے یہ کتاب بڑی ضروری ہے۔
شرح السیر الصغیر
یہ جامع الصغیر فی الفروع محمد بن حسن الشیبانی الحنفی المتوفی ۱۸۷ھ کی شرح ہے جس میں ۱۵۳۲ مسائل ہیں۔ ۱۷۰ اختلافی مسائل، ۲ مسائل میں قیاس و استحسان کا ذکر ہے۔ اس کتاب کے متعلق کہا گیا ہے:
لا یصلح المرء للفتوی ولا للقضاء الا اذا علم مسائلہ۔
’’کوئی شخص فتوٰی اور قضا کی صلاحیت نہیں رکھتا جب تک اس کتاب کے مسائل کا علم حاصل نہ کر لے۔‘‘
اس شرح کی بندہ کو تلاش تھی، الحمد للہ استاذ محترم حضرت مولانا عبد الحمید سواتی مدظلہ العالی نے نشاندہی فرما دی ہے کہ کندیاں شریف کے کتب خانہ میں اس کا نسخہ موجود ہے، یہ کتاب بھی امام سرخسیؒ نے قید کے دوران املاء کرائی۔
اصولِ فقہ
یہ کتاب چھپی ہوئی ہے اور بعض مدارسِ عربیہ میں داخلِ نصاب بھی ہے۔ یہ کتاب بھی آپ نے قید خانہ میں اس لیے املاء کرائی تھی تاکہ امام محمدؒ کی کتابوں کی شرح میں جو باتیں بیان کی گئی ہیں ان کے اصول اور اساسات معلوم ہو جائیں، یہ کتاب دو جلدوں میں احیاء المعارف حیدر آباد نے شائع کی ہے۔
صفۃ اشراط الساعۃ و مقامات القیامۃ
ایک زمانہ میں ان کے استاد حلوانیؒ نے اس کتاب پر درس کا سلسلہ شروع کیا۔ علامہ سرخسیؒ نے اس املاء کو قلمبند کیا۔ خوش قسمتی سے یہ کتاب محفوظ رہ گئی۔ بقول جناب ڈاکٹر حمید اللہ اس کا واحد نسخہ پیرس کے عمومی کتب خانہ میں عربی نمبر ۲۸۰۰ مجموعہ ورق ۴۴۲ ب تا ۴۶۵ ب ۲۱ سطروں والی بڑی تقطیع پر موجود ہے۔ اس کی تمہید کا ایک فقرہ ڈاکٹر حمید اللہ نے یوں نقل کیا ہے کہ:
سئل الامام شمس الائمہ الحلوانی عن مقامات القیامۃ و قیام الساعۃ ھل ورد فیھا حدیث صحیح؟ قال ورد ۔۔۔ وھذا الحدیث الواحد اسلم الاحادیث فی ذلک وھو ما حدثنی الفقیہ ابوبکر محمد بن علی سنۃ خمس و اربع مائۃ ۔۔۔
’’امام حلوانیؒ سے سوال کیا گیا کہ قیامت کی علامات کے بارے میں کیا کوئی صحیح حدیث وارد ہوئی ہے؟ فرمایا، ہاں، اور یہ ایک حدیث اس بارے میں تمام احادیث سے زیادہ سلیم ہے اور یہ وہ روایت ہے جو مجھ سے امام ابوبکر محمد بن علیؒ نے ۴۰۵ھ میں بیان کی۔‘‘
تاریخ سے یہ دقیق اعتنا سرخسیؒ نے اپنے استاد سے سیکھا جسے انہوں نے خود بھی جاری رکھا۔
شرح الجامع الکبیر
اس کا ایک حصہ مصر میں مخطوطے کی شکل میں موجود ہے۔
ان کے علاوہ سرخسیؒ نے امام محمدؒ کی کتاب زیادات اور زیادات الزیادات کی شرحیں بھی اسی قید خانہ میں املاء کرائیں۔ ان میں سے ’’زیادات الزیادات‘‘ احیاء المعارف حیدر آباد کی طرف سے چھپی ہے۔ علامہ سرخسیؒ نے ۴۹۰ نکتے بیان فرمائے اور قید میں املاء کرائے ہیں۔ پہلا جملہ اس کا ہے ’’الحمد لولی الحمد ومستحقہ‘‘۔
شرح مختصر الطحاوی
اس کتاب کا تفصیلی ذکر کہیں نہیں مل سکا۔ یہ نایاب کتاب ہے۔ البتہ سوانح نگاروں نے اس کا ذکر اپنی کتابوں میں کیا ہے۔ چنانچہ حاجی خلیفہؒ فرماتے ہیں ’’شرح مختصر الطحاوی فی خمسۃ اجزاء‘‘ (کشف الظنون ص ۱۶۲۸)
ابن قطلوبغاؒ نے بھی ایک جگہ ذکر کیا ہے کہ میں نے اس کتاب کا ایک حصہ دیکھا ہے (تاج التراجم ص ۵۲)۔ ان کتب کے علاوہ علامہ کی شرح النفقات للخصافؒ شرح ادب القاضی للخصاف، شرح ادب القاضی للخصاف کا ذکر مولانا ابو الوفا افغانی نے کیا ہے۔ نیز مختلف ابواب کی شکل میں بھی تحریری مواد کا ثبوت ملتا ہے جیسے کتاب السرقہ، کتاب الکسب، مگر وہ مبسوط ہی کا حصہ معلوم ہوتی ہیں۔
علامہ کی ان تمام کتب کی ایک مشترکہ خصوصیت یہ ہے کہ عموماً سرخسیؒ جب کبھی امام محمدؒ کی کسی ذاتی رائے کی توجیہہ کرتے ہیں تو فقہ کے اصول کلیہ سے استدلال کرتے ہیں۔ چنانچہ انسائیکلو پیڈیا آف اسلام میں سرخسیؒ سے متعلق مقالہ نگار ہیفننگ کو یہ تسلیم کرنا پڑا کہ سرخسیؒ اپنی اس کوشش کے باعث ممتاز ہیں کہ وہ قانون کے عام اساسات و اصول کلیہ کو نمایاں کرتے ہیں۔
قید و بند کی صعوبتیں
آپ بڑے حق گو تھے۔ آپ نے بادشاہ کے سامنے کلمۂ حق کہا جس سے وہ ناراض ہوگیا اور آپ کو قید کر دیا اور اوزجند میں ایک کنویں کے اندر بند کر دیا جس میں آپ مدت تک رہے۔ علامہ عبد الحیؒ فرماتے ہیں:
وھو فی الجب محبوس بسبب کلمۃ تصلح بھا الامراء۔
’’وہ کنویں میں ایک کلمۂ حق کی وجہ سے بند کر دیے گئے جس کے ذریعے وہ حکام کی اصلاح چاہتے تھے۔‘‘
اور سیر النبلاء میں حضرت ملا علی القاری کے حوالے سے لکھا ہے:
و فی طبقات القاری املا المبسوط نحو خمسۃ عشر مجلدا وھو فی السجن باوزجند محبوس بسبب کلمۃ کان فیھا من الناصحین۔
نیز تاج التراجم، الاعلام خیر الدین زرکلی، تاریخ الفقہ الاسلامی، مفتاح السوادہ میں بھی اسی سے ملتے جلتے الفاظ ہیں۔ لیکن اصل وجہ پر بہت کم روشنی ڈالی گئی ہے۔ انسائیکلو پیڈیا آف اسلام زیر لفظ ’’سرخسی‘‘ میں ہیفننگ نے لکھا ہے:
’’غالباً انہیں اس لیے قید کیا گیا کہ ام ولد کے نکاح کے متعلق انہوں نے حکمرانِ وقت کے فعل پر شرعی نقطۂ نظر سے اعتراض کیا تھا۔‘‘
لیکن بقول ڈاکٹر حمید اللہ یہ وجہ قابل قبول نہیں اس لیے کہ سارے مآخذ صراحت کرتے ہیں کہ ان کا یہ اعتراض رہائی کے بعد کا واقعہ ہے۔ دوسری وجہ قید کا حوالہ ڈاکٹر صاحب دیتے ہیں کہ استنبول کے ’’عمومی ترکی تاریخ‘‘ کے پروفیسر احمد ذکی ولیدی طوغان نے ایک مرتبہ ان سے زبانی گفتگو کے دوران یہ خیال ظاہر کیا تھا کہ اس زمانہ میں ابو نصر احمد بن سلیمان الکاسانی نامی ایک بدطینت شخص تھا۔ وہ قاضی القضاۃ پھر وزیر رہا۔ یہ سب کچھ اسی کا کیا دھرا تھا۔ اس طرح کا حوالہ خود مبسوط میں بھی آتا ہے اگرچہ نام کی تصریح نہیں۔
قال فی اخرہ ’’انتھی املاء العبد الفقیر المبتلی بالھجرۃ الحصیر المحبوس من جھۃ السلطان الخطیر باغراء کل زندیق حقیر‘‘۔
اس سلسلے میں مولانا مناظر احسن گیلانی مرحوم سابق صدر شعبۂ دینیات جامعہ عثمانیہ حیدرآباد دکن کا خیال شاید صحیح ہو۔ وہ لکھتے ہیں کہ اس زمانے میں صلیبی جنگوں کے باعث عالمِ اسلام میں بحران تھا اور ہر روز نئے نئے ٹیکس لگ رہے تھے اور بے پناہ مظالم ہو رہے تھے۔ سرخسیؒ نے بعض ٹیکسوں کو ناجائز قرار دیا۔ گویا ’’عدم ادائیگی محاصل کی تحریک‘‘ کی قیادت کی تھی۔ اس پر قید ناگزیر تھی اور ڈاکٹر صاحب نے سرخسیؒ کے ایک سوانح نگار محمود بن سلیمان الکفوی کا تائیدی حوالہ بھی دیا ہے۔
آپ کتنی مدت قید رہے؟ مبسوط اور دیگر کتب جو آپ نے قید میں املاء کرائیں کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ۴۶۶ھ سے ۴۸۰ھ تک قید میں رہے یعنی تیرہ چودہ سال کی مدت۔ آپ صرف کنویں ہی میں اتنی مدت نہیں رہے بلکہ آپ کی تصانیف سے یہ واضح ہوتا ہے کہ آپ مختلف وقتوں میں مختلف مقامات میں قید رکھے گئے۔ چنانچہ ڈاکٹر حمید اللہ صاحب بھی فرماتے ہیں:
’’ان سارے اقتباسات سے گمان ہوتا ہے کہ اولاً واقعی آپ کو ایک اندھے کنویں میں پھینک دیا گیا تھا، پھر ان کی ریاضت اور صبر سے متاثر ہو کر رفتہ رفتہ حالت میں اصلاحِ عمل آئی ہو گی اور ایک چھوٹے حجرے میں بند رہے۔ اس کے بعد کسی افسر اور معتمد حکومت کے مکان میں زیرنگرانی رکھے گئے اور دوبارہ قلعہ میں لائے گئے شاید اس لیے کہ ملک کی آئے دن کی جنگوں جھگڑوں میں دشمن انہیں نہ لے اڑیں یا برہمی کو کم کرنا مقصود تھا بالآخر رہا کئے گئے۔‘‘ (نذر عرشی ص ۱۲۵)
وفات سرخسیؒ
اعداد کے حساب سے آپ کی تاریخ وفات ’’شمس ملک اور مجتہد اولیاء‘‘ سے نکلتی ہے یعنی ۴۸۳ھ۔ بعض جگہ ’’فی حدود تسعین‘‘ اور بعض جگہ ’’حدود خمس مائۃ‘‘ کا ذکر ہے۔ علامہ خضریؒ آپ کا سنِ وفات ۴۸۲ھ اور نواب محمد صدیق حسن خان بھوپالی ۴۹۴ھ بیان کرتے ہیں۔ جبکہ تحفۃ الفقہاء میں ۴۳۸ھ تک بھی لکھا ہے جو بالکل غلط ہے، شاید کتابت میں بجائے ۸۳ کے ۳۸ لکھا گیا ہے۔ لیکن یہ سب مبہم اور تخمینی الفاظ ہیں۔ ابن قطلوبغا اور کفوی نے صراحت کی ہے ’’فخرج فی اخر عمرہ الی فرغانہ‘‘۔ اور خود علامہ سرخسیؒ کے بیان کے مطابق وہ ۴۸۰ھ میں علاقہ فرغانہ کے شہر مغنیان میں جا ٹھہرے تھے لہٰذا سالِ وفات ۴۸۳ھ زیادہ قرینِ قیاس ہے۔ مولانا عبد الحی نے ماہ جمادی الاولی کی بھی صراحت کی ہے اور ماخذ کشف الظنون ہے۔ مبسوط کے مخطوطوں میں بھی تاریخوں کا یہ اختلاف پایا جاتا ہے مگر بالآخر یہ تین تاریخیں ہی سامنے آتی ہیں، دو تخمینی اور ایک معین۔ ڈاکٹر حمید اللہ صاحبؒ نے بھی ۴۸۳ھ کو ترجیح دی ہے (نذرعرشی ص ۱۳۲)۔
عصرِ حاضر کی پیشانی پر کلنک کا ٹیکہ
حافظ محمد اقبال رنگونی
کچھ عرصہ سے ایڈز نامی بیماری نے دنیا بھر کے ڈاکٹروں اور مفکروں کو پریشان کر رکھا ہے۔ ہر مفکر اس کے سدباب کے لیے کوشاں ہے اور تحقیق اور ریسرچ کے ذریعہ اس پر قابو پانے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے۔ اس بیماری کے پیدا ہونے کی دوسری وجوہات سے قطع نظر تمام ڈاکٹروں کا متفقہ فیصلہ یہی ہے کہ لواطت پرستی اور غیر فطری عمل اس بیماری کو پیدا کرنے کا سبب ہے، اسی لیے تمام ہسپتالوں اور ٹی وی کے اشتہاروں میں خبردار کیا جاتا ہے کہ غیر فطری عمل سے اجتناب کیا جائے۔
لیکن انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ دوسری جانب اس بیماری کو وسیع کرنے کے پروگرام بھی تیار کیے جاتے ہیں جس عمل کو سب سے زیادہ خطرناک قرار دیا گیا تھا۔ برطانوی معاشرہ کے یہ ناسور اسی عمل کے پھیلاؤ کے لیے نہ صرف کوشش کرتے ہیں بلکہ اسے قانونی بنا کر اس کی مالی امداد کا بھی مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ انتہا تو یہ ہے کہ ۱۶ سال کی عمر کو غیر فطری حرکت کے لیے موزوں قرار دے کر سابقہ قانون کو ختم کرنے کے لیے بل بھی پیش کیا جاتا ہے۔ روزنامہ مرر ۴ اکتوبر ۱۹۸۹ء کی اشاعت میں لکھتا ہے کہ:
’’برائیٹن میں لیبر پارٹی کی کانفرنس کے موقعہ پر یہ مطالبہ پیش کیا گیا کہ ہم جنس پرستی کے لیے ۲۱ سال کی عمر کی قید ختم کر کے ۱۶ سال کر دی جائے۔ تقریباً پونے چار لاکھ ووٹ کے ذریعے یہ بات تسلیم کی گئی کہ عمر کا یہ امتیاز ختم کر دیا جائے۔ اس مطالبہ کو برطانوی ایم پی مسٹر کرس اسمتھ نے پیش کیا ہے۔‘‘
اس کانفرنس کو ختم ہوئے چند ہفتے بھی نہ ہونے پائے تھے کہ حزبِ اختلاف کے مشہور ایم پی ٹونی بین نے برطانوی دارالعوام میں بل بھی پیش کر دیا۔ مانچسٹر ایوننگ نیوز ۶ نومبر کی اشاعت میں لکھتا ہے کہ:
’’لیبر پارٹی کے ایم پی مسٹر ٹونی بین نے پارلیمنٹ میں ایک بل پیش کیا ہے جس کا مقصد ہم جنس پرستوں کے لیے عمر کی قید ختم کرنا ہے۔ لیبر پارٹی کی سالانہ کانفرنس کے موقع پر بھی تقریباً ۴ لاکھ لوگوں نے اس کے حق میں ووٹ دیے تھے اور یہ قانون پاس کیا تھا کہ جب لیبر پارٹی برسراقتدار آئے گی تو ایسا ہی کرے گی۔ لیبر پارٹی کے سربراہ حزب اختلاف کے قائد نیل کینک کو اس بل کے پیش کرنے کی وجہ سے سخت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ہے کیونکہ ٹونی بین نے بغیر کسی تبادلۂ خیال کے یہ بل پیش کر دیا تھا۔‘‘
ہمیں لیبر پارٹی کے سربراہ سے صرف یہ کہنا ہے کہ جب سالانہ کانفرنس کے موقع پر یہ مطالبہ پیش کیا تھا اور لاکھوں لوگوں نے اس کی حمایت کی تھی تو اب تبادلۂ خیال کیوں اور کیسا؟ اگر یہ موقف اور مطالبہ انتہائی بے حیا و فحش تھا تو اس وقت اس کے خلاف احتجاج کیا جاتا۔ انہیں چاہیئے کہ شرمندگی کے بجائے اعتراف و اقرار اور کھلے بندوں میدان میں آجائیں، اس لیے کہ اس حمام میں سب ہی ننگے ہیں کیا ایم پی اور کیا عوام۔
؏ بے شرموں کو شرم آئی خدا خیر کرے
لیبر پارٹی کے اس ذلیل موقف اور دوسرے بے حیاؤں کے مطالبات پر مانچسٹر شہر کی کونسل ایسے بدقماشوں کے لیے ایک عظیم ادارہ تعمیر کرنے میں مصروف ہو چکی ہے۔ مانچسٹر ایوننگ نیوز ۹ دسمبر ۱۹۸۹ء کی اشاعت میں خبر دیتا ہے کہ:
’’مانچسٹر شہر کی کونسل نے ۳ لاکھ پونڈ کی مالیت سے ایک ایسی عمارت بنانے کا فیصلہ کیا ہے جو ہم جنس پرستوں کے لیے مخصوص ہو گا۔ کونسل کی ایک ہم جنس پرست کونسلر مس ایڈورڈ کا کہنا ہے کہ مانچسٹر میں ہر ۲۰ عورتوں میں سے ایک اسی گروہ سے ہے اور یہ تعداد ہزاروں میں ہے۔ مالی کمیٹی کے چیئرمین کا کہنا ہے کہ اس خطیر رقم سے بننے والے سنٹر کی وجہ سے ایسے لوگ خطرے میں نہ رہیں گے بلکہ آزاد ہوں گے۔‘‘
اس خبر پر سوائے دو چار کے کسی نے نہ تو تبصرہ کیا ہے اور نہ ہی تنقید۔ اور جس نے تبصرہ کیا بھی تو صرف اسی بات پر کہ اتنی خطیر رقم سے ہسپتال اور سڑک، سکول اور اساتذہ کی تعداد میں اضافہ کرنا چاہیئے، بس اس سے زیادہ کسی نے تبصرہ کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی اس بات کا مطالبہ کیا کہ اس پر پابندی لگائی جائے۔ جس کا مطلب اس کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے کہ یورپی سوسائٹی میں شرم و حیا، عفت و عصمت نام کی کوئی چیز ہی نہیں۔ یہ تہذیب عصر حاضر کی پیشانی پر کلنک کا ٹیکہ نہیں تو اور کیا ہے؟ بدتہذیبی و بے حیائی کی حد تو یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو سرکاری تحفظ دیا جاتا ہے اور ایک رپورٹ کے مطابق باقاعدہ ان کی شادیوں کو تسلیم کیا جانے لگا۔ برطانوی اخبار ٹائم ۱۵ اکتوبر ۱۹۸۹ء کی یہ خبر پڑھیئے اور یورپی تہذیب کا تماشا دیکھئے۔ اخبار لکھتا ہے کہ:
’’ڈنمارک کی حکومت نے لواطت پرستوں کی شادی کو سرکاری تحفظ دینے کا اعلان کر دیا جو یکم اکتوبر ۱۹۸۹ء سے شروع ہو چکا ہے، اس تحفظ سے فائدہ اٹھا کر دو مردوں نے آپس میں شادی کی۔ اوف کارسن اور این لارسن نے جو ۴۲ سال کے ہیں نے بتایا کہ ہماری یہ شادی کوئی معمولی شادی نہ تھی بلکہ دنیا میں ہم پہلے دو ہیں جن کی شادی کو باقاعدہ حکومتی سطح پر تسلیم کیا گیا اور رجسٹرار کے دفتر سے شادی کا سرٹیفکیٹ بھی جاری کیا گیا۔ یہ شادی کوپن ہیگن کے ٹاؤن ہال میں مزید ۱۰ جوڑوں کے ساتھ رچائی گئی اور بڑے زور و شور سے اس کا اہتمام کیا گیا تھا۔ ان کا خیال ہے کہ آئندہ اس قسم کی شادی عبادت گاہوں میں بھی ہوا کرے گی اور چرچ بھی ایسی شادی کو تسلیم کرے گا۔ انہوں نے اخباری رپورٹر کو بتایا کہ آج کے بعد ہم اپنے دوست احباب اور عزیز و اقارب کو یہ کہہ سکیں گے کہ ہم دونوں قانونی طور پر شادی شدہ ہیں۔ اخبار کے مطابق یورپی ممالک کے تمام ہم جنس پرستوں نے اس خبر و قانون پر بے پناہ مسرت کا اظہار کرتے ہوئے اس بات کا اعادہ و مطالبہ کیا کہ یورپ کے دوسرے ممالک بھی اسے تسلیم کریں اور اس سلسلے میں یورپی پارلیمنٹ کے دروازے بھی کھٹکھٹائے جائیں گے۔‘‘
یورپی ممالک کے مفکروں، کونسلروں اور ایم پی کی طرف سے غیر اخلاقی حرکت کے نفاذ پر یہ اصرار ان کی بیمار ذہنیت کا پتہ دے رہی ہیں اور پورا معاشرہ عفت و عصمت، شرم و حیا، طہارت و پاکبازی کے معانی و مفاہیم سے بالکلیہ محروم ہو چکا ہے۔ اسی معاشرہ ہی کے وہ افراد ہیں جو رشدی کی شیطانیت کی حمایت میں مصروف و مشغول ہیں کیونکہ یہ حرام کاری اور خلاف وضع فطری عمل دونوں کے دلدادہ ہیں اور ہر اخلاقی امور کی مخالفت ان کا وطیرۂ زندگی بن چکا ہے۔ یہ لوگ فطرتِ سلیمہ اور اخلاقِ عالیہ کے تمام ضوابط سے نہ صرف محروم بلکہ شدت سے ان کی مخالفت کرتے ہیں۔ ایسے شیطانی افراد سے یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ فطرتِ سلیمہ اور اللہ کے دین کے معیار کو سامنے رکھیں گے۔
جب خدا کا تصور اور اس کے احکام کا پاس و لحاظ ختم ہو جائے، زندگی کو حیوانی بلکہ اس سے بھی بدتر طریقے پر گزارنے کا چلن عام ہو جائے تو پھر اخلاقی اقدار باقی نہیں رہتے۔ جب شہوات کی حکمرانی دل و دماغ پر مستحکم ہو جائے تو پھر شرافت، شرم و حیا کا دامن چھوٹ جاتا ہے اور بالآخر فطرت کی خلاف ورزی پر وہ سزا دی جاتی ہے جس سے بچنا ناممکن بن جاتا ہے۔ یہی وہ ایڈز ہے جو عذابِ الٰہی کی صورت میں ظاہر ہو کر ہر بے حیا پر اپنے پنجے گاڑ چکا ہے (العیاذ باللہ)۔
چرچ اور پادریوں کی اخلاقی زبوں حالی
مانچسٹر کے علاقہ برانزوک کے چرچ کی جانب سے یہ خبر ملی ہے کہ ہفتہ میں دو دن God and Sex کے عنوان پر درس دیا جائے گا۔ اس عنوان کے تحت زنا بالجبر، زنا بالرضا، ہم جنس پرستی، چھوٹے بچوں کے ساتھ غیر اخلاقی حرکات اور طلاق جیسے اہم موضوعات ہوں گے۔ علاوہ ازیں ویڈیو فلم بھی دکھائی جائیں گی اور ایک ماہر جنسیات کو بطور خاص مدعو کیا جائے گا۔ مارٹن گوڈر کا کہنا ہے کہ یہ موضوعات ہماری زندگی کا ایک حصہ بن چکے ہیں۔ جب خدا نے شہوت پیدا کی تو اس نے کوئی غلطی نہیں کی۔ خدا چاہتا ہے کہ ہم اس کی بنائی ہوئی قدرت سے خوب نفع لیں۔ اس کا کہنا ہے کہ جب مجھے اپنی گاڑی کے لیے بہتر سہولت حاصل کرنی ہو تو میں گاڑی بنانے والے کی ہینڈ بک دیکھوں گا۔ اسی طرح زندگی کا صحیح لطف حاصل کرنے کے لیے ہمیں اس کی کتاب یعنی بائبل دیکھنی ہو گی۔ اخبار نے اس پر یہ سرخی جمائی ہے Church Guide to Good Sex (مانچسٹر ایوننگ نیوز)
پادری صاحب کی اس بات سے تو شاید ہی کسی کو اختلاف ہو گا کہ یورپی تہذیب میں Sex کا موضوع بہت ہی سستا اور عام ہے۔ یہاں کے سکولوں میں اس موضوع پر لیکچر کے علاوہ فلم بھی دکھائی جاتی ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ لڑکی سکول جانے کی بجائے ہسپتال پہنچ جاتی ہے اور ’’کنواری ماں‘‘ کے نام سے یاد کی جاتی ہے کیونکہ اس تہذیب میں جو شخص جتنا بے حیا و بے شرم ہو گا اتنا ہی مہذب اور جدت پسند کہلاتا ہے اور کونسل سے لے کر حکومت تک اس کی حوصلہ افزائی میں پیش پیش رہتے ہیں۔ یہاں ایک عام آدمی سے لے کر ایم پی تک محبوبہ اور گرل فرینڈ رکھنے کو معیوب نہیں سمھجتا بلکہ بڑے بڑے ایم پی کے ناجائز تعلقات منظرِ عام پر آ چکے ہیں، اور برطانوی ٹیلی ویزن کی ایک مشہور و معروف خبرنامہ پڑھنے والی این دائمنڈ تو ناجائز بچے کی ماں بن کر بھی برطانوی ٹی وی پر پوری آن و بان سے موجود ہیں۔ مانچسٹر ایوننگ نیوز نے ۵ نومبر کی اشاعت میں بچوں کی اخلاقی حالت کا سروے کرنے کے بعد رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ سب بچوں کا خیال ہے کہ ان کے والدین کو اس جنس پرستی کے موضوع پر بتانا چاہیئے، اس کے بعد ٹیچرز کو بتانا چاہیئے، یوں تو دوست احباب، لٹریچر، رسالے سے بہت سی معلومات مل جاتی ہیں۔
اس کا نتیجہ روزانہ سنتے اور پڑھتے ہیں کہ کس خطرناک صورت میں نکلتا ہے، ہزاروں لڑکیاں کنواری مائیں بن جاتی ہیں، بے شمار بچوں میں بیماریاں پھیل جاتی ہیں، راہ چلتی ہوئی عورت کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور ایک ۸۰ سالہ بوڑھی عورت بھی ان کے ہوس کا شکار بن جاتی ہے، مگر حکومت اور برطانوی مفکرین مجبور اور بے بس ہیں کہ اس قسم کی غیر اخلاقی حرکتوں پر پابندی لگا سکیں۔ پادری صاحب اچھی طرح اس بات کو بھی جانتے ہوں گے کہ چرچ اور گرجاگھروں میں کیا کچھ ہوتا رہا اور ہوتا ہے۔۔۔۔
پادری صاحب کی خدمت میں صرف اتنا عرض کریں گے کہ چرچوں اور گرجاگھروں کو غیر اخلاقی حرکات کی آماجگاہ نہ بنائیں۔ یہاں Sex کے موضوعات پر درس دینے کے بجائے اخلاق و شرافت کے اصول سمجھائیں اور برطانوی حکومت کو مجبور کریں کہ وہ اس قسم کی تمام مخرب اخلاق و حیا سوز رسائل و جرائد، کتاب و فلم پر کڑی پابندی عائد کر کے خلافِ قانون قرار دے اور اس کے مرتکب کا خدائی قانون کی روشنی میں فیصلہ کرے تاکہ صحیح معنوں میں ایک اچھی سوسائٹی کہی جائے۔
اسلامی نظامِ تعلیم کے خلاف فرنگی حکمرانوں کی سازش
شریف احمد طاہر
مسلم قوم اس کرۂ ارض پر چودہ سو سال سے جاوداں ہے۔ اس کے سفر کا آغاز نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رہنمائی میں ہوا اور طاقت و توانائی خلفاء راشدینؓ، تابعینؒ، تبع تابعینؒ، علماء کرامؒ، مصلحینِ امتؒ اور صوفیائے عظامؒ سے حاصل ہوتی رہی۔ جب پرچمِ اسلام کو بنو امیہ نے اپنے ہاتھوں میں لیا تو انہوں نے اس کو چین اور اسپین تک لہرایا۔ فرانس (کوہ پارنیز) کی سرحدوں کو عبور کیا۔ کرۂ ارض کے مکینوں کو حیاتِ نو کا پیغام دیا اور علوم و فنون کی سرپرستی کی اور خلفاء بنو امیہ کا اسپینی دور علمی و سیاسی دونوں اعتبار سے عہدِ زریں کہلایا۔
جب یہ شمعٔ فروزاں بنو عباس کے ہاتھ میں آئی تو علوم و فنون کو جلا ملی، نئی نئی ایجادات ہوئیں، جدید اصول مرتب ہوئے، تجربہ گاہیں اور رصدگاہیں تعمیر ہوئیں، بیت الحکمت کی بنیاد پڑی، دارالترجمہ قائم ہوا، اور جو علوم و فنون سربستہ راز تھے اور جسے عیسائی دنیا گمراہی و ضلالت کا پلندہ تصور کرتی تھی اسے مسلمانوں نے نسخۂ کیمیا بنا کر پیش کیا جس سے خود عیسائیوں نے استفادہ کیا۔ بنو عباس نے اپنے دورِ عروج میں خود علمی، دینی، تمدنی اور ثقافتی ہر میدان میں دنیا کی رہنمائی کی۔
اور دورِ زوال جس میں طاقت و قوت کے محور ترک و یالمہ اور سلجوقی ترک بن گئے تھے، شمع کو روشن رکھا، علوم و فنون کو عام کیا، دینی احساس کو بیدار کیا۔ خاص طور سے ساحقہ، ملک شاہ سلجوقی اور اس کا وزیر نظام الملک طوسی اس میدان میں فائق اور عظیم صلاحیتوں کے مالک ثابت ہوئے۔ علم کی شمع روشن رکھنے کے لیے درسگاہیں بنوائیں، فضلاء اور ماہرین کے لیے مسندِ درس قائم کی، طلبہ کے لیے جدید طرز کی سہولتیں، قیام و طعام فراہم کیے، ان کے لیے وظائف مقرر کیے اور مدارس کا جال بچھا دیا۔
الحاکم بامر اللہ نے سب سے پہلا مدرسہ قائم کیا، پھر استاذ ابوبکر فورک کے لیے نیشاپور میں ایک مدرسہ تعمیر ہوا اور دوسرا مدرسہ بہیقیہ کے نام سے تعمیر ہوا جس کے مدرس اعظم ابوالقاسم اسفرائنی تھے اور اس میں امام الحرمین اور امام غزالیؒ کے استاذ اپنے والد کے انتقال کے بعد داخل ہوئے۔ محمود غزنویؒ نے دارالسلطنت غزنین میں مدرسہ قائم کیا اور فتوحاتِ ہند کا ایک قیمتی حصہ اس پر صرف کر دیا۔ جاگیریں وقف کیں، غزنویؒ کے بھائی امیر نصر بن سبکتگینؒ نے بھی نیشاپور میں مدرسہ بنایا جس کا نام سعیدیہ رکھا۔ اس کے بعد ہی نظام الملک نے مدارس کا جال بچھایا اور انہیں نظامیہ بغدادیہ کے ماتحت رکھا۔ ابو نصر صباغؒ، شیخ جمال الدین شیرازیؒ، علی بن مظفرؒ، امام عبد اللہ الحسین طبریؒ، قاضی ابو محمد شیرازیؒ، امام ابو حامد غزالیؒ اور ان کے چھوٹے بھائی احمد غزالیؒ جیسے حکماء اسلام اور ماہرین اس مدرسہ میں تدریس کے فرائض پر فائز رہتے، اس کے ماتحت نظامیہ کا ایک طویل جال بچھا دیا گیا۔ نیشاپور، اصفہانی، مرو، خوزستان، موصل، جزیرہ ابن عمرؓ، آئل، بصرہ، ہرات، بلخ، ملوس قابل ذکر ہیں جس میں ابوالمعالی امام الحرمین ابو حامد غزالیؒ، ابوالمعالی نیشاپوریؒ وغیرہ مسندِ درس پر سرفراز ہوئے۔
جامعہ ازہر کی تعمیر ہوئی، جامعہ قیروان کی اساس پڑی، جامعہ زیتونہ نے نہ مٹنے والے نقوش ثبت کیے۔ ان میں تفسیر، حدیث، فقہ، ادب، طلب، فلسفہ، کیمیا، علمِ نجوم، ریاضی اور جغرافیہ کی تعلیم ہوتی تھی مگر صلیبی حملوں نے اس تسلسل کو ناقابل ذکر نقصان پہنچا دیا اور ان مدارس کا رخ مغرب میں ترکی اور مشرق میں برصغیر کی طرف ہوا اور اس میں مملوک، خلجی، پٹھان، تغلق اور مغلوں نے ایک جوش اور ولولہ اور جمعیت دی اور علوم و فنون کی آبیاری کی۔
ان مدارس کی سرپرستی سیاسی تفوق رکھنے والے افراد کرتے تھے۔ مگر جب مسلمان سیاسی طور پر کمزور ہوئے تو یہ نظام ان اللہ کے مخلص بندوں کے ہاتھ میں آیا جنہوں نے اس کی سرپرستی علمی اور مالی دونوں طرح سے کی اور دینی مدارس کے نظام کی داغ بیل ڈالی اور نہ ختم ہونے والا سلسلہ قائم کیا۔ دینی تعلیم کا رواج ہوا، زبان کو استحکام حاصل ہوا، اسلامی ثقافت و دین کی حفاظت کرنے میں بڑی مدد ملی۔
پھر ایک ایسا دور آیا کہ اس برصغیر پر انگریز قوم نے حیلہ و بہانہ اور مکر و فریب سے قبضہ جما لیا تھا اور اس کے بعد اس نے جس جبر و استبداد اور ظلم و سفاکی سے یہاں حکمرانی کی ہے میں اس کی مختصر داستان آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں کہ گویا ؎
وسعتِ دل ہے بہت، وسعتِ صحرا کم ہے
اس لیے دل کو تڑپنے کی تمنا کم ہے
جبکہ انگریز قوم نے یہاں کی مسلم قوم کو اپنی روایات و ثقافت، تمدن و سیاست، اور ملی جوش و خروش سے اس حد تک نا آشنا کر دیا ہے جس کا رونا علامہ اقبال مرحوم نے یوں رویا ہے ؎
کتابیں دے کے مجھ سے تیغ و خنجر چھیننے والے
تیری تعلیم سے اچھا تھا جوشِ جنوں میرا
۱۸۵۷ء سے جب اس جابر و قاہر، ظالم و کافر اور مکار قوم نے اس ملک پر زبردستی تسلط جما لیا تھا اور یہاں کی دولت، سیاست، ثقافت، معیشت، قومیت تمام چیزوں کو تباہ کر دیا تھا، اس سلسلہ میں کس کس نقصان کا ذکر کیا جائے بلکہ
؏ تن ہمہ داغ داغ شد پنبہ کجا کجا نہم
پھر اس نے جہاں برصغیر کے لوگوں کی جان و مال، دین و مذہب، ضمیر و خمیر اور ذہن و دماغ سب کو نقصان پہنچایا اور مسلمان قوم کو بنیادی اور ذہنی طور پر ناکارہ کرنے کا پروگرام اور جو سامان اس نے مہیا کیا وہاں اس نے اس قوم کو وہ نظامِ تعلیم دیا جس سے ملک و قوم کی دینی و مذہبی کایا پلٹ گئی۔ جبکہ انگریزی اقتدار سے قبل یہاں دینی علوم و فنون کا رواج بھی زوروں پر تھا۔ اس ملک میں سکولوں اور دینی مدارس کا یہ حال تھا کہ اس وقت کے سرکاری گزٹ کے مطابق صرف متحدہ بنگال میں مسلمانوں کے دس ہزار مدارس تھے۔ ادھر مضافاتِ دہلی میں صبح الاعشٰی قلشندی کے حوالے سے ایک ہزار عربی مدارس تھے جن میں سے ایک مدرسہ شوافع کا تھا اور باقی تمام احناف کے تھے۔ اس طرح انگریز سیاح ڈاکٹر ہملٹن جب ۱۴۹۰ء میں سندھ آیا تو اس نے سفر نامہ بعہدِ اورنگزیب میں ٹھٹھہ جیسے قصبہ کے بارے میں لکھا ہے کہ یہاں مذہب اور فلسفے کا خوب چرچا ہے اور چار صد دارالعلوم ہیں۔
پھر جس وقت انگریز نے اس ملک میں اسلامی روایات اور علومِ دینیہ کے مراکز و مدارس کو مختلف تدابیر سے ختم کر دیا اور اپنا وہ مجوزہ نظامِ تعلیم رائج کر دیا جسے لارڈمیکالے نے تیار کر کے کہا تھا ’’ہماری سکولوں کالجوں میں انگریزی تعلیم کا مقصد ایسے نوجوان تیار کرنا ہے جو رنگ و نسل کے اعتبار سے ہندوستانی ہوں اور دل و دماغ سے انگلستانی ہوں‘‘۔ یہ آواز برسرِ اقتدار قوم کی آواز تھی، اس تعلیم سے ایسی نسلیں ابھرنی شروع ہو گئیں جو گوشت پوست کے لحاظ سے یقیناً ہندوستانی تھیں لیکن اپنے طرزِ فکر اور سوچنے کے رنگ ڈھنگ سے خالص انگریز ہی بن چکی تھیں۔ اس عیار و مکار قوم انگریز کے کیا ارادے تھے ان کے اپنے انداز میں ملاحظہ فرمائیں:
پادری جارج ای بوسٹ نے ’’پروٹسٹنٹ‘‘ فرقہ کی صد سالہ جوبلی میں یہ تقریر کی:
’’یہ زندگی کی جنگ ہے، ہمیں مسلمانوں پر فتح حاصل کرنی چاہیئے ورنہ وہ ہم پر فتح پا لیں گے۔ ہم کو عرب جانا چاہیئے، سوڈان جانا چاہیئے، وسط ایشیا کا سفر کرنا چاہیئے اور یہاں کے لوگوں کو عیسائی بنانے کا کام کرنا چاہیئے ورنہ مسلمان صحراؤں کو عبور کر کے آگ کی طرح پھیلیں گے۔‘‘
اور مستشرق مؤرخ دلفریڈ کائن ویل نے یوں لکھا ہے:
’’اسلام ہی پوری مغربی تاریخ اور مغرب کا واحد اور حقیقی حریف ہے۔ ہمیں یہ پتہ لگانا چاہیئے کہ اسلام کا مقابلہ کیوں سخت ہے اور ماضی میں کس طرح اسلام ایک خطرہ بن کر سامنے آیا تھا اور اب وہ تقریباً نصف مسیحی دنیا پر چھایا ہوا ہے۔‘‘
مشن سکول کے بانیوں اور پادری ولیم نے اپنے مشنری مرکز کو ہدایت دی:
’’اس نظامِ تعلیم کا اصل مقصد مسلمان علماء کے وقار کو مجروح کر کے ان کے خلاف مسلم معاشرے میں نفرت و حقارت کا جذبہ پیدا کرنا ہے۔‘‘
اور مشنریوں کے الفاظ میں:
’’جب تک رائے عامہ ان مذہب کے ٹھیکیداروں کے خلاف نہ ہو جائے تب تک ہندوستانیوں کے درمیان مسیح کو پیش کرنا ممکن نہیں۔‘‘
برطانیہ کے وزیراعظم مسٹر گلیڈسٹون نے دارالعوام میں قرآن ہاتھ میں لے کر تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ:
’’جب تک مسلمانوں کے پاس یہ ایسی ویسی کتاب موجود ہے ہم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔‘‘
اس کے بعد قرآن کی مزید (ناقابلِ تحریر و برداشت) توہین کی۔ ایسی خرافات اور اسلام کے خلاف تعلیوں کے بعد یہ گستاخ انگریز جس پہلے بحری جہاز میں سفر کر رہا تھا قرآن والے نے اس جہاز کا بیڑا فرعون کی طرح غرق کر دیا تھا۔ اور لارڈ کچز جیسے مشہور انگریز کی اسلامی دشمنی اور مسلمانوں سے عداوت تو ضرب المثل ہے۔ اسی واسطے حضرت شیخ الہند مولانا محمد حسینؒ فرمایا کرتے تھے کہ:
’’روئے زمین پر عیسائیوں اور انگریزوں سے بڑا کوئی دشمن ہمارا نہیں۔ اس لیے ہم بھی انگریز کے سب سے بڑے مخالف ہیں۔‘‘
اور وہی ہوا کہ ایک طرف تو اس انگریزی نظامِ تعلیم سے قوم و ملک کے اثر پذیر طبقہ کا ذہن اس طرح بنایا گیا جس طرح کہ منصوبہ تھا، اور دوسری طرف علماء پر عرصۂ حیات تنگ کیا گیا۔ ان کے ذرائع تعلیم اور تبلیغ اور مدارس کو برباد کیا گیا اور خاص طور پر ۱۸۵۷ء کے انقلاب میں حصہ لینے والے علماء میں سے جو باقی رہ گئے تھے ان کو نہایت بے رحمی سے ختم کیا گیا۔
۱۸۵۷ء کے جہادِ حریت کے بعد جب حضرات مجاہدین نے دیکھا کہ ملک ہاتھوں سے گیا اور یہ خطرناک سیلاب امڈ آیا تو اب ملت کے تحفظ اور دین کی بقاء اور اس کے استحکام کے لیے کوئی دوسرا محاذ قائم کرنا ضروری ہے، تو حضراتِ شیخین مولانا محمد قاسم نانوتویؒ اور مولانا رشید احمد گنگوہیؒ نے دارالعلوم دیوبند کی بنیاد رکھی اور لارڈ میکالے کے چیلنج کا مقابلہ کرنے اور ایشیا میں مسلمانوں کی عربی زبان کے احیاء، تہذیب و تمدن کے تحفظ، ملک میں دینی استحکام و دوام کے لیے مدارس، دارالعلوم اور جامعات کا نظام قائم کیا اور یہ نعرہ بلند فرمایا:
’’ہماری تعلیم کا مقصد ایسے جوان تیار کرنا ہے جو رنگ و نسل کے اعتبار سے ہندوستانی ہوں اور دل و دماغ کے لحاظ سے مسلمان ہوں جن میں اسلامی تہذیب و تمدن کے جذبات بیدار ہوں اور دین و سیاست کے اعتبار سے ان میں اسلامی شعور زندہ رہے۔‘‘
بلاشبہ دارالعلوم دیوبند ہندوپاک میں ہی نہیں بلکہ دیگر ممالک میں بھی تحفظ ناموس رسالتؐ و صحابہؓ اور بقائے اسلام کا ذریعہ ہے۔ علماء دیوبند کی جماعت مسلک حقہٗ کی ہمہ گیری کی وجہ سے ہر فتنہ کی مداخلت کے لیے سینہ سپر ہے۔ ان علماء نے ہر دور میں اعلاء کلمۃ الحق، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فرض ادا کیا ہے اور اسی اسلوب اور اسی رنگ ڈھنگ میں جس رنگ میں فتنہ نے سر اٹھایا۔ ان مدارس اور درسگاہوں نے مسلمانوں کے نشوونما، اسلامی تشخص کو برقرار رکھنے، اور قوم کو طاقت و توانائی دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ اور جب تک ان مدارس کو طاقت و توانائی ملتی رہے گی اور یہ پودا برگ و بار لاتارہے گا، مسلمانوں کو اپنا تشخص اور اپنی سالمیت برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔ اور ان مدارس ہی کے استحکام میں ان کا وجود، تشخص اور سالمیت مضمر ہے ؎
خودی میں ڈوب جا عامل یہ سرِِ زندگانی ہے
نکل کر حلقۂ شام و سحر سے جاوداں ہو جا
حدودِ شرعیہ کی مخالفت - فکری ارتداد کا دروازہ
مولانا سعید احمد عنایت اللہ
اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ حدود اور بھیانک معاشرتی جرائم، ڈکیتی، بدکاری، شراب نوشی اور قذف وغیرہ پر جو شرعی سزائیں خالقِ بشر نے مقرر فرمائی ہیں وہ پوری کائنات کے لیے سراسر رحمت ہیں۔ انسانی معاشرے میں قیامِ امن اور بشریت کی ہر دو صنف مرد و زن کی عزت و عصمت، ان کے مال و جان کی حفاظت کی ضامن ہیں، بلکہ انسانیت کے مقامِ شرافت و کرامت کی کفیل یہی حدود اللہ ہیں جن کے مبارک ثمرات کا اولین نتیجہ انسانوں کے اس دنیا میں مکمل تحفظ کی صورت میں ملتا ہے۔ ان سراپائے رحمت حدود کو دہشت گردی گرداننا کفرانِ نعمت اور صرف خدا رسول سے ہی بیزاری کا اعلان نہیں بلکہ انسانیت دشمنی اور خبثِ باطن اور ہوا پرستی کی ظاہر دلیل ہے۔
خصوصًا مملکتِ خداداد پاکستان جو صرف تنفیذِ شریعہ اسلامیہ کے لیے معرضِ وجود میں آئی۔ اس ملک میں حدود اللہ کے خلاف شر انگیزی وطنِ عزیز کی اساس کو ہلانا اور ارضِ پاک کے خلاف بغاوت کی ایک سازش ہے جس کی ابتدائی سزا یہ ہونی چاہیئے کہ پاکستانی شہریت کا حامل جو شخص اسلامی شریعت کے کسی پہلو پر طعن کرے اس سے پاکستانی شناختی کارڈ چھین لیا جائے اور پھر ملت و ملک کے اس باغی کا پورا محاسبہ کیا جانا چاہیئے۔
الحمد للہ تاسیسِ پاکستان کے آغاز سے ہنوز ہمارے عوام کی اکثریت اور ایوانوں کی غالبیت چاہے کسی جماعت سے وابستہ ہو اسلامی شریعت کی برتری پر غیر متزلزل یقین رکھتی ہے اور اپنی ملکی فلاح و بقا صرف اور صرف نظامِ اسلامی میں ہی جانتی ہے۔ کمی اس بات کی ضرور ہے کہ مسلم قومیت کا نظریہ جس کی عملی مشق کے لیے ہندوستان تقسیم ہوا اس کی عملی مشق کا موقع میسر نہ آسکا، اس کوتاہی کا ہر پاکستانی کو احساس ہے اور اس قصور کا ہر ذمہ دار کو اعتراف بھی ہے مگر اسلام سے بیزاری اور بغاوت یہ عوام اور حکمران ہر دو جہت سے ناقابلِ معافی جرم ہے اور رہا ہے۔
مگر ہمارے ملک میں چند افراد پر مشتمل ایک طبقہ فکری ارتداد کا بھی شکار ہے جو مغرب کو قبلہ و کعبہ جانتے ہوئے کبھی کبھی شرعی احکام کے خلاف بیزاری کا اظہار کرنے کی جرأت کرتا ہے اور حکومت کے بعض وزراء اور مشیر صاحبان بھی اس فتنے میں ان کے شریکِ عمل ہو کر نظریۂ پاکستان پر حملہ آور ہوتے ہیں، ان کا یہ عمل خدا تعالیٰ کے غضب عمومی کو دعوت دیتا ہے۔ اور دوسری طرف یہ طبقہ پاکستان کی اکثریت کی غیرتِ ایمانی کو چیلنج کرتا ہے، ساتھ ساتھ یہ مغرب کے ایجنٹ حکومت کی وسعتِ نظری کی بھی آزمائش کرتے ہیں کہ کس حد تک حکومتِ پاکستان دینِ اسلام اور نظریۂ پاکستان کے خلاف بغاوت کو برداشت کر سکتی ہے۔ ملک و ملت اور انسانیت کا دشمن یہ طبقہ جسدِ ملکی کے لیے وہ ناسور ہے جس کا فوری معالجہ ناگزیر ہے، پاکستانی مسلم معاشرے کی پیشانی پر سے اس بدنما داغ کا ازالہ نہایت ضروری ہے۔ شریعتِ مطہرہ کے کسی پہلو پر طعن کرنے والے اور نظریۂ پاکستان کے خلاف زہر اگلنے والے مفسد عناصر اعدائے اسلام کے کارندے ہیں۔ پاکستانی عوام اور حکومت کو ان کا محاسبہ کرنا ہو گا، آج نہیں تو مستقبل قریب میں انشاء اللہ تعالٰی۔ مذکور الصدر حضرات کی شر انگیزی کی ایک مثال پیش خدمت ہے۔ روزنامہ جنگ ۲۱ دسمبر کے شمارے میں پاکستان ویمنز رائٹس کمیٹی کراچی کے حوالہ سے تحریر ہے کہ:
’’(۱) بچے کی ولادت کے وقت شہریت کے فارم میں ’’باپ‘‘ کے لفظ کے ساتھ ’’ماں‘‘ کا اضافہ ہونا چاہیئے تاکہ پیدا ہوتے ہی ہر بچہ (چاہے اس کا نسب کچھ ہو) شہریت کا حق حاصل کر لے۔
(۲) عورت کو قانون شہادت برائے حدود میں مستثنٰی کرنے کے قانون میں ترمیم ہونی چاہیئے۔
(۳) زنا آرڈیننس معصوم افراد کی زندگیوں میں دہشت پیدا کر رہا ہے۔ـ‘‘
یہ ہیں بحالیٔ حقوقِ خواتین کی اختراعات و اقتراحات جن کی تحلیل کے طور پر عرض ہے کہ ایسی تجاویز پیش کرنے والے قرآن و سنت کی تعلیمات سے اگر بے بہرہ ہیں تو جان لیں کہ:
(۱) حق تعالیٰ شانہ نے تمام بشریت کو بنی آدم کا لقب دیا اور ان کو ان کے باپ کی طرف منسوب کیا۔ قرآن حکیم نے اولاد کو باپ کی طرف منسوب کرنے کی واضح ہدایت دیتے ہوئے ارشاد فرمایا ’’ادعوھم لاباءھم‘‘ اولاد کی نسبت ان کے باپوں کی طرف کرو۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’الولد للفراش وللعاھر الحجر‘‘ بچہ تو اپنے باپ کا ہے اور بدکار کے لیے پتھر ہیں۔ یہ بھی معلوم رہے کہ صرف لعان کی صورت میں بچہ ماں کی طرف منسوب ہو گا کہ نکاح کے بعد خاوند اپنی منکوحہ بیوی کے حمل کا انکار کر دے اور بیوی حلف کے ساتھ اس سے حمل پر اصرار کرے اور یہ بھی کہے کہ اگر اس کا خاوند سچا ہے تو اس (عورت) پر خدا کا غضب ہو۔ تو انکارِ نسب کی صورت میں بچہ ماں کی طرف منسوب ہو گا اور اس ماں کا وارث بھی ہو گا۔ ایسی کوئی صورت نہیں کہ بحالیٔ حقوق کے نام پر ترویج اور بدکاری کی اشاعت کی خاطر ایسے قانون وضع ہوں کہ شرم و حیا کا جنازہ نکل جائے۔
(۲) یہ بھی جاننا ضروری ہے کہ شہادت ایک مقدس خدائی فریضہ اور عظیم قومی امانت ہے۔ بعض احوال میں خدا تعالٰی نے صنفِ نازک پر کرم فرمائی کرتے ہوئے عورتوں کے اس کے تحمل سے اور کچھ دیگر حالات میں بعض اہم فرائض سے رخصتیں دے رکھی ہیں۔ خواتین کو مولا کریم کا شکرگزار ہونا چاہیے، عورت کے فطری ضعف کی شریعت میں کتنی رعایت رکھی گئی ہے، نہ یہ کہ کفرانِ نعمت کے طور پر عورت کا اصرار ہو کہ وہ ضرور اس بوجھ کو اٹھائے گی۔ یہ عین رحمتِ الٰہی ہے کہ عورت کو امامتِ صغرٰی یعنی نماز کی امامت اور امامتِ مملکت کی ذمہ داری کے تحمل سے مستثنٰی قرار دیا۔
(۳) اسی طرح اسلامی حدود پر غور کریں کہ بدکار کو کوڑے لگانا یا سنگساری، چور کا ہاتھ کاٹنا، ڈاکو کا ساتھ ہی پاؤں بھی کاٹ دینا یا قتل کرنا، قاتل کی گردن اتار پھینکنا، یہ سب دہشت گردی کے خلاف مبارک جہاد ہے اور جرائم کے انسداد کا ایک ایسا سہل نسخہ ہے جسے حکیمِ مطلق نے فطرتِ انسانی کے عین مطابق تجویز فرمایا ہے تاکہ یہ حدود مفسد عنصر کا قلع قمع کر کے پراَمن معاشرے کی تخلیق کرنے میں مدد دے سکیں۔ جن سے مظلوم کی دادرسی ہوتی ہے، مجرمین کے لیے مقامِ عبرت اور شریروں کو ان کے شر سے باز رکھ کر پراَمن انسانوں کی خدمت اور برکاتِ خداوندی کو حاصل کیا جاتا ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کسی حد کے نفاذ کی برکات چالیس سال کی بارش سے بھی بڑھ کر ہیں۔
تو مفسد عنصر کا قلع قمع انسانی معاشرے کے ساتھ عین رحمت ہے جس طرح کہ فاسد عضو کو مریض پر شفقت اور کمالِ رحمت کے تقاضہ سے کاٹ کر بقیہ جسد کو مامون و محفوظ بنایا جائے، اس میں کسی کی حق تلفی کیسے ہے؟ نہ مردوں کی، نہ عورتوں کی، بلکہ اقامتِ حدود میں تو صاحبِ حق کو اس کے حق کے دلانے کا تحفظ ہے۔ البتہ خدائی ضوابط کو موردِ طعن ٹھہرانا اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو خالق کے سراپا رحمت نظامِ حیات سے محروم رکھنا یہ خالق اور مخلوق دونوں کی حق تلفی ہے اور دوہرا ظلم ہے۔ اسی لیے ارشادِ ربانی ہے:
ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الظالمون۔ (المائدہ ۴۴)
’’جو خدا تعالیٰ کے نازل کردہ نظامِ حکومت کا نفاذ نہیں کرتے وہ ظالم ہیں۔‘‘
کیونکہ خدا تعالٰی کے حقِ اطاعت میں کوتاہی کر کے مخلوق کو اس کی رحمت سے محروم کر کے یہ ظالم اپنی ڈھٹائی سے خدا تعالٰی کے نزدیک فاسق بھی بن جاتے ہیں ’’ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الفاسقون‘‘ (المائدہ ۴۵)۔ اور شریعت مطہرہ کے نظام کو غیر صالح سمجھ کر منکر ہو جانے پر یہ کافر بھی گردانے جاتے ہیں ’’ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الکافرون‘‘ (المائدہ ۴۷)۔
انسان کے وضعی قوانین میں نقص اور خالقِ انسان کے وضع کردہ نظام میں کمال اور جامعیت بالکل اسی طرح بدیہی ہے جیسے کہ خالق و مخلوق میں فرق۔ نہ سمجھیں تو دونوں نظاموں میں تقابل کر لیں۔ بشری قوانین کی قیامِ امن میں عدم صلاحیت جاننے کے لیے اقوامِ عالم میں سب سے ترقی یافتہ ملک امریکہ کو دیکھ لیں کہ اعلیٰ اور جدید ترین مادی وسائل کی کثرت کے باوجود بداَمنی اور اخلاقی گراوٹ میں اسفل سافلین میں ہے۔ عفت و پاکدامنی کا تصور معدوم، دن دہاڑے قتل و غارت اور ڈکیتیاں معمولِ زندگی، کوئی شخص نقدی لے کر جیب میں چلنے کو یوں ہی سمجھتا ہے کہ ایٹم بم ہے جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔ جرائم کی کثرت سے مجرموں کے لیے بنائی گئی جیلوں میں گنجائش نہیں تو اب بحری جہازوں میں بند کر کے انہیں کھلے سمندر میں کھڑا کر دیتے ہیں۔
اس کے تقابل میں اسلام کے نظامِ حکومت اور اس کی حدود کے قیام سے پراَمن معاشرے کا صدیوں تک انسانوں نے تجربہ کیا اور آج بھی جن ممالک اسلامیہ میں شرعی سزائیں قائم شدہ کی جاتی ہیں ان میں امنِ عامہ کی حالت مشرق و مغرب میں قابلِ رشک ہے۔ کاش کہ ہم بھی پاکستان میں تنفیذِ شریعت کی عملی مشق کر کے اغیار کے لیے قابلِ تقلید بنتے۔ مگر پاکستانی معاشرے کے بعض افراد جو مادر پدر آزادی کے قائل ہیں اسلامی نظام کے خلاف ہمارے معزز معاشرے کے شرف و کرامت اور عفت کو ہم سے چھیننا چاہتے ہیں۔ چاہیئے تو یہ تھا کہ یہ اپنے مغربی آقاؤں کی حالت سے عبرت پکڑتے اور ان کی حالتِ زار پر رحم کے طور پر اور حق نمک خواری کی ادائیگی ان کو اسلام کے جامع نظامِ حکومت کو اختیار کرنے کی دعوت دے کر ان پر احسان کرتے۔ مگر کتنی بے حیائی اور باطل پر ڈھٹائی ہے کہ یہ لوگ الٹا بحالیٔ حقوق کے نام سے شریعتِ مطہرہ کے خلاف ہرزہ سرائی کریں۔ نہ خدا کا خوف مانع ہو نہ مسلم اکثریت کے غیظ و غضب کا ڈر، نہ حکومت کی طرف سے محاسبہ کی فکر۔
حکومت کا فریضہ ہے کہ فکری ارتداد کے حامل، وطن اور ملت کے ان غداروں کا شدید حساب لے، ورنہ پاک وطن کے غیور مسلمان ان کے محلوں، گلی کوچوں، ان کے گھروں اور دفتروں میں ان کا تعاقب کریں گے، پھر اسلام کے فدایان کی گرفت سے مغرب کے ان ایجنٹوں اور قومی ممبروں کو وہ نہ بچا سکیں گے۔
تعارف و تبصرہ
ادارہ
’’صحبتے با اہلِ حق‘‘
افادات: شیخ الحدیث مولانا عبد الحقؒ
ترتیب و تصنیف: مولانا عبد القیوم حقانی
کتابت و طباعت معیاری۔صفحات ۴۰۶ قیمت مجلد ۷۵ روپے
ناشر: مؤتمر المصنفین دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک ضلع پشاور
شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد الحق نور اللہ مرقدہ کا شمار ہمارے دور کے ان جلیل القدر بزرگوں میں ہوتا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے اسلام کی تبلیغ و اشاعت اور دینی علوم کی ترویج کے میدان میں افادۂ عام کا ذریعہ بنایا اور ملتِ اسلامیہ کے ایک بڑے حصے نے ان سے استفادہ کیا۔ حضرت مولانا عبد الحقؒ کا اٹھنا بیٹھنا اور اوڑھنا بچھونا ہی تعلیم و تبلیغ اور دعوت و ارشاد تھا اور ان کی عام اور نجی مجلسیں بھی علمی استفادہ سے بھرپور ہوتی تھیں۔ مولانا عبد القیوم حقانی نے اپنے شفیق استاذ کی ایسی ہی مجلسوں کے افادات کا احاطہ کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے اور ’’صحبتے با اہلِ حق‘‘ کے نام سے حضرت مولانا عبد الحقؒ کے متنوع ارشادات و فیوضات حسنِ ترتیب کے ساتھ جمع کر کے علوم و معارف کا ایک حسین گلدستہ بنا دیا ہے، اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر دیں اور علماء اور طلباء کو ان کی اس محنت سے فیضیاب ہونے کی توفیق بخشیں، آمین یا رب العالمین۔
’’کشمیر ۔ بارہ کروڑ انسانوں کی زندگی اور موت کا مسئلہ‘‘
تحریر: ریٹائرڈ بریگیڈیر محمد شفیع خان
ناشر: کشمیر اسٹڈیز سنٹر لاہور
صفحات: ۲۴ قیمت دس روپے
ملنے کا پتہ: انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز
کشمیر کا مسئلہ ۱۹۴۷ء سے پاکستان اور بھارت کے درمیان متنازعہ چلا آ رہا ہے اور بھارت اقوامِ متحدہ میں کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کو تسلیم کرنے کے باوجود انہیں عملاً یہ حق دینے کے لیے تیار نہیں ہے اور بھارت کی اس ہٹ دھرمی کے خلاف کشمیری حریت پسندوں کی جدوجہد مسلسل جاری ہے۔ مسئلہ کشمیر کے ساتھ پاکستانی عوام کی جذباتی وابستگی اظہر من الشمس ہے جس کا متعدد مواقع پر پرجوش اظہار ہوتا رہتا ہے لیکن مسئلہ کشمیر کے تاریخی پس منظر اور اس نازک مسئلہ کے بارے میں حقائق و واقعات سے واقفیت کا رجحان عام نہیں ہے جو ہماری ایک اجتماعی کمزوری ہے۔ جناب محمد شفیع خان نے اپنے اس مضمون کے ذریعے اس کمی کو پورا کرنے کی کوشش کی ہے۔ مسئلہ کشمیر کے بارے میں پائی جانے والی موجودہ بیداری کے ماحول میں اس کی زیادہ سے زیادہ اشاعت کی ضرورت ہے۔
’’سیرتِ سیدنا ابوہریرہؓ‘‘
مولف: حافظ محمد اقبال رنگونی
صفحات: ۱۴۴ قیمت ۱۲ روپے
ناشر: دارالمعارف الفضل مارکیٹ اردو بازار لاہور
سیدنا حضرت ابوہریرہؓ تاریخِ اسلام کی وہ عظیم شخصیت ہیں جنہوں نے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ اقدس پر بیعت کرنے کے بعد رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات و فرمودات کو ہی اپنا وظیفۂ حیات بنا لیا اور پھر اس ذوق اور محنت کے ساتھ فرموداتِ نبویؐ کو اپنے سینے میں محفوظ کیا کہ چند سال میں حدیث رسولؐ کے سب سے بڑے راوی کی حیثیت حاصل کر لی۔ حضرت ابوہریرہؓ کی زندگی طلبِ علم اور اشاعتِ دین سے عبارت ہے اور ان کے مجاہدات میدانِ عمل کے راہروؤں کے لیے بلاشبہ سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔
اسلامک اکیڈمی مانچسٹر برطانیہ کے ڈپٹی ڈائریکٹر مولانا حافظ محمد اقبال رنگونی نے انہی نشانہائے راہ کو اس کتابچہ میں یکجا کیا ہے اور حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود صاحب کے وقیع مقدمہ نے کتابچہ کی اہمیت و افادیت کو دوچند کر دیا ہے۔
’’مسلمان کسے کہتے ہیں؟‘‘
مؤلف: مولانا حافظ مہر محمد
صفحات: ۱۰۰ قیمت ۱۰ روپے
ناشر: جامعۃ العلوم الاسلامیۃ، ایف ٹو، میر پور، آزاد کشمیر
آج کے دور میں اس امر کی سب سے زیادہ ضرورت ہے کہ اسلام کے عقائد و اعمال اور اخلاقی احکام و مسائل کو عام فہم انداز میں مختصر طور پر تحریر کیا جائے تاکہ عام پڑھے لکھے لوگ اسلامی احکام و مسائل سے بآسانی واقفیت حاصل کر سکیں۔ مولانا حافظ مہر محمد نے اس ضرورت کے پیشِ نظر یہ رسالہ مرتب کیا ہے جو اپنے مقاصد کے لیے خاصا مفید ہے اور دینی معلومات کو عام لوگوں تک صحیح طور پر پہنچانے کے لیے اس کی زیادہ سے زیادہ اشاعت کی ضرورت ہے۔
’’ماہنامہ المذاہب لاہور‘‘
مدیر: جناب محمد اسلم رانا
زرتعاون: سالانہ چالیس روپے
خط و کتابت: ایڈیٹر ماہنامہ المذاہب، ملک پارک، شاہدرہ، لاہور
جناب محمد اسلم رانا کو اللہ تعالیٰ نے عیسائیت کے مطالعہ اور تحقیق و تجزیہ کے خصوصی ذوق سے نوازا ہے اور وہ ایک عرصہ سے مختلف جرائد و رسائل کے ذریعے اپنے اس ذوق کا اظہار کرتے آ رہے ہیں اور ان دنوں ماہنامہ ’’المذاہب‘‘ کے نام سے ایک مستقل ماہنامہ کی اشاعت کی ذمہ داری نباہ رہے ہیں۔ عیسائی مشنریاں مختلف عنوانات کے ساتھ اور متنوع پروگراموں کے ذریعے پاکستان کے سادہ لوح عوام کو اپنے جال میں پھنسانے کی جو مسلسل کوشش کر رہی ہیں ان سے عوامی اور دینی حلقوں کی بے خبری بلکہ بے حسی ایک مستقل المیہ ہے جو جناب محمد اسلم رانا کو بے چین کیے ہوئے ہے اور انہوں نے بے سروسامانی کے باوجود اس سلسلہ میں علماء اور عوام کو بیدار کرنے کا مشن سنبھال رکھا ہے۔
’’المذاہب‘‘ کے مضامین علمی اور تحقیقی ذوق کے آئینہ دار اور عیسائیت کے بارے میں معلومات افزا ہوتے ہیں۔ ہم علماء کرام اور طلبہ سے بالخصوص گزارش کریں گے کہ وہ ’’المذاہب‘‘ کے مطالعہ کو معمول بنائیں اور اس مشن میں جناب محمد اسلم رانا کی زیادہ سے زیادہ حوصلہ افزائی کریں۔
قافلۂ معاد
مولانا حق نواز جھنگوی شہیدؒ، مولانا محمد رمضان علویؒ
ادارہ
مولانا حق نواز جھنگوی شہیدؒ
انجمن سپاہِ صحابہؓ پاکستان کے سرپرست اعلیٰ اور تحفظِ ناموس صحابہؓ کے بے باک نقیب مولانا حق نواز جھنگویؒ ۲۲ فروری ۱۹۹۰ء کو جھنگ صدر میں اپنی رہائش گاہ کے دروازے پر سفاک قاتل کی گولیوں کا نشانہ بن کر جام شہادت نوش کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مولانا شہیدؒ جامعہ مدنیہ شورکوٹ کے سالانہ جلسہ میں شرکت کے لیے روانگی کی تیاری کر رہے تھے جہاں انہوں نے رات کی نشست سے خطاب کرنا تھا، اچانک آٹھ بجے کے قریب کسی نے دروازے پر گھنٹی دی، مولانا جھنگویؒ باہر آئے، مبینہ طور پر دو آدمی تھے جن میں سے ایک نے مولاناؒ سے گفتگو شروع کی جبکہ دوسرے نے ریوالور سے پے در پے فائر کر دیے۔ مکان کے سامنے گراؤنڈ میں شادی کی ایک تقریب تھی، انہوں نے شور کوٹ جانے سے قبل اس شادی میں بھی شریک ہونا تھا، فائر کی آواز سے لوگوں نے سمجھا کہ شادی کی خوشی میں نوجوان فائرنگ کر رہے ہیں، یہی اشتباہ حملہ آوروں کے لیے غنیمت ثابت ہوا اور وہ موقع سے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔ گولیاں مولانا جھنگویؒ کے سر، گلے اور پیٹ میں لگیں، وہ وہیں گر گئے۔ انہیں گرتا دیکھ کر اردگرد کے لوگ متوجہ ہوئے، علاقہ میں کہرام مچ گیا، مولانا شہیدؒ کو فورًا ہسپتال لے جایا گیا مگر ہسپتال پہنچنے سے قبل ہی وہ عروسِ شہادت سے ہمکنار ہوگئے۔
راقم الحروف اس روز شورکوٹ میں تھا، ظہر کے بعد جامعہ مدنیہ شورکوٹ کینٹ میں سالانہ جلسہ سے خطاب کیا اور حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود مدظلہ کے ہمراہ مغرب کی نماز جامعہ عثمانیہ شورکوٹ شہر میں ادا کی۔ نماز کے بعد جامعہ عثمانیہ کے مہتمم مولانا بشیر احمد خاکی کے ساتھ ان کے دفتر میں بیٹھے تھے کہ مولانا حق نواز جھنگویؒ کا فون آیا۔ مولانا خاکی کے علاوہ انہوں نے علامہ صاحب اور راقم الحروف سے بھی بات کی۔ کم و بیش سات بجے کا وقت تھا، یہ ہماری آخری گفتگو تھی جو فون پر ہوئی۔ مولانا جھنگویؒ نے جمعیۃ علمائے اسلام پاکستان کے اتحاد اور سنی کاز کی جدوجہد کو سیاسی پلیٹ فارم پر منظم کرنے کے سلسلہ میں مشاورت کے لیے گوجرانوالہ تشریف آوری کی خواہش کا اظہار کیا اور ہمارے درمیان آئندہ ہفتہ کے دوران کسی وقت مل بیٹھنے کی بات طے ہوئی۔ وہاں سے فارغ ہو کر علامہ خالد محمود صاحب اور راقم الحروف واپسی کے لیے بس اسٹاپ پر پہنچے تو بہت سے نوجوان سپاہِ صحابہؓ کا پرچم اڑھائے مولانا حق نواز جھنگویؒ کے استقبال کے لیے ان کے انتظار میں کھڑے تھے۔ ان نوجوانوں نے ہی جھنگ جانے والی ایک ویگن روک کر ہمیں سوار کرایا اور جب ہم جھنگ پہنچے تو یہ روح فرسا خبر اپنی تمام تر حشر سامانیوں سمیت ہماری منتظر تھی کہ عزیمت و استقامت کی شاہراہ کا یہ بلند حوصلہ مسافر شہادت کی منزل کو پہنچ چکا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔
نماز جنازہ اگلے روز جمعہ کی نماز کے بعد اسلامیہ ہائی سکول کی گراؤنڈ میں ادا کی گئی۔ حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی دامت برکاتہم نے نمازِ جنازہ پڑھائی اور جھنگ میں کرفیو کے اعلان اور چاروں طرف باہر سے آنے والوں کو روکنے کے لیے پولیس کی ناکہ بندی کے باوجود ملک کے مختلف حصوں سے عقیدت مندوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اخبارات کی رپورٹ کے مطابق یہ جھنگ کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ تھا۔ نمازِ جنازہ کے بعد مولانا حق نواز جھنگویؒ کے قائم کردہ جامعہ محمودیہ میں انہیں سپردِ خاک کر دیا گیا۔
جھنگ کے احباب کے مطابق چند روز قبل مولانا جھنگویؒ کو دوبئی سے ایک ٹیلی فون کال کے ذریعہ خبر دی گئی کہ انہیں قتل کرنے کی سازش ہو رہی ہے اور خفیہ ذرائع کے مطابق ۲۰ فروری سے ۲۵ فروری کے درمیان مولانا حق نواز جھنگویؒ، مولانا عبد الستار تونسویؒ اور مولانا منظور احمدؒ چنیوٹی کو قتل کرنے کے ایک منصوبہ کا انکشاف ہوا ہے۔ مولانا جھنگویؒ نے گزشتہ جمعہ کے خطبہ میں اس کا ذکر بھی کر دیا اور انتظامیہ کے نوٹس میں بات آگئی لیکن تقدیر کے فیصلوں کو کون ٹال سکتا ہے۔
آج مولانا حق نواز جھنگویؒ ہم میں نہیں ہیں، وہ اپنے عظیم مشن کی خاطر جان کا نذرانہ پیش کر کے خالقِ حقیقی کے حضور سرخرو ہو چکے ہیں۔ لیکن تحفظِ ناموسِ صحابہؓ کے جس مقدس مشن کی خاطر انہوں نے محنت کی اور قربانی و ایثار کی عظیم روایات کو زندہ کیا وہ مشن زندہ ہے اور جب تک یہ مشن زندہ ہے مولانا حق نواز جھنگویؒ کا نام، خدمت اور قربانی و ایثار کی روایات زندہ رہیں گی۔ ہم اس عظیم سانحہ پر انجمن سپاہِ صحابہؓ کے نوجوانوں، جھنگ کے شہریوں اور مولانا شہیدؒ کے اہلِ خاندان سے دلی تعزیت کرتے ہیں اور دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ مولانا شہیدؒ کے درجات بلند فرمائیں اور ان کے رفقاء، پسماندگان اور عقیدتمندوں کو صبر و حوصلہ کے ساتھ ان کا مشن جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائیں، آمین۔
مولانا محمد رمضان علویؒ
گزشتہ دنوں راولپنڈی کے ایک بزرگ عالم دین حضرت مولانا محمد رمضان علویؒ ٹریفک کے حادثہ میں زخمی ہونے کے بعد انتقال فرما گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مولانا علویؒ بھیرہ کے رہنے والے تھے، دارالعلوم دیوبند کے فاضل تھے۔ باپ دادا سے قرآن کریم کی خدمت کا ذوق ورثہ میں ملا تھا۔ ایک عرصہ سے راولپنڈی میں قیام پذیر تھے۔ امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے ساتھ خصوصی تعلق تھا۔ مجلس احرارِ اسلام میں طویل عرصہ رہے اور جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے ساتھ بھی کچھ عرصہ وابستگی رہی۔ ان دنوں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن تھے۔ خانقاہ سراجیہ شریف کندیاں کے ساتھ روحانی تعلق تھا اور جری، بے باک اور سرگرم عالم دین تھے۔ دینی اور قومی تحریکات میں ہمیشہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ان کی وفات سے ہم ایک شفیق، ہمدرد اور دردِ دل سے بہرہ ور مخلص بزرگ اور عالم دین سے محروم ہوگئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کریں اور ان کے فرزندان مولانا عزیز الرحمان خورشید، مولانا سعید الرحمان علوی، دیگر اہل خانہ اور لواحقین کو صبر جمیل کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔
آپ نے پوچھا
ادارہ
اسلام میں معاشی مساوات کا تصور
سوال: ایک طالب علم تنظیم (۱) خدا پرستی (۲) انسان دوستی اور (۳) معاشی مساوات کو اپنے بنیادی اصول قرار دیتی ہے۔ کیا معاشی مساوات کا تصور اسلام میں ہے؟ (نیاز محمد ناصر بلوچستانی)
جواب: معاشی مساوات کا معنٰی اگر تو یہ ہے کہ ایک معاشرہ کے تمام افراد ایک ہی جیسی زندگی گزاریں اور خوراک، لباس، رہائش، ملکیت، کاروبار اور دیگر معاملات میں ان میں کسی قسم کا کوئی تفاوت اور ترجیحات نہ ہوں تو یہ قطعی طور پر ایک غیر فطری تصور ہے جو نہ صرف یہ کہ اسلام کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے بلکہ عملاً بھی ناممکن ہے۔ ہر انسان ذہنی صلاحیت، قوتِ کار اور وسائل سے استفادہ کی استعداد کے لحاظ سے دوسرے سے مختلف ہے۔ اور یہ ممکن نہیں ہے کہ آپ اپنے چار یا پانچ لڑکوں کو ایک ایک ہزار روپے کی رقم دیں اور یہ توقع رکھیں کہ سب کے سب اس رقم کو ایک ہی مدت میں خرچ کریں گے، ایک ہی مصرف میں صرف کریں گے اور ایک ہی جیسے نتائج اور منافع حاصل کریں گے۔ یہ قطعی غیر فطری بات ہے اور اسلام میں اس کی گنجائش نہیں ہے۔ البتہ اسلام پیداوار کے قومی ذرائع سے استفادہ کا ہر شہری کو یکساں حق دیتا ہے اور قومی ذرائع سے استفادہ کے باب میں ترجیحات کا قائل نہیں ہے۔ ہاں اگر کوئی شہری اس حق کو استعمال کرنے میں اپنی ذہنی صلاحیت اور قوت کار کے لحاظ سے دوسروں سے بڑھ جائے تو یہ اس کی اپنی محنت اور صلاحیت کا ثمر ہے۔
جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت صدیق اکبرؓ کے دورِ خلافت میں بحرین سے بیت المال میں خاصا سامان اور دولت آئی، اس موقع پر حضرت عمرؓ نے یہ تجویز پیش کی کہ بیت المال سے وظائف اور اموال کی تقسیم میں ترجیحات قائم کی جائیں اور حضراتِ صحابہؓ کرام میں فضیلت کے جو درجات ہیں اس لحاظ سے تقسیم کے درجات قائم کیے جائیں۔ مثلاً بدری صحابہؓ کو سب سے زیادہ دیا جائے، پھر مہاجرینؓ کو، پھر تیسرے نمبر پر انصارؓ کو اور پھر بعد میں مسلمان ہونے والے حضراتؓ کا درجہ رکھا جائے۔ لیکن حضرت ابوبکرؓ نے یہ کہہ کر اس تجویز کو مسترد کر دیا کہ فضیلت کا تعلق آخرت سے ہے، اس کا ثواب زیادہ یا کم آخرت میں ملے گا ’’وھذہ معاش فالأسوۃ فیہ خیر من الاثرۃ‘‘ اور یہ معیشت ہے اس میں برابری ترجیح سے بہتر ہے۔ چنانچہ حضرت صدیق اکبرؓ اپنے دور خلافت میں اسی اصول پر عمل کرتے رہے لیکن جب حضرت عمرؓ خلیفہ بنے تو انہوں نے اس اصول کو بدل کر اپنی تجویز کے مطابق ترجیحات کی بنیاد پر وظائف کی تقسیم کا سلسلہ شروع کر دیا اور دس سالہ دور خلافت میں اسی طریق کار پر عمل کیا۔ البتہ آخری سال انہوں نے اس خیال کا اظہار کیا کہ تجربہ سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ بیت المال سے وظائف کی تقسیم کے بارے میں حضرت ابوبکرؓ کی رائے درست تھی اس لیے آئندہ سال سے میں موجودہ طریق کار کو ترک کر کے حضرت ابوبکرؓ کے طے کردہ اصول کے مطابق برابری کی بنیاد پر وظائف کی تقسیم کا نظام قائم کروں گا۔ لیکن اس کے بعد حضرت عمرؓ کی شہادت ہوگئی اور انہیں اپنے نظام پر نظرثانی کا موقع نہیں مل سکا۔
امام ابو یوسفؒ نے کتاب الخراج میں یہ ساری تفصیل بیان کی ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سرکاری اور قومی ذرائع پر تمام شہریوں کا حق یکساں ہے اور اس میں ترجیحات قائم کرنا بہتر نہیں ہے۔ البتہ یہاں زیر بحث مسئلہ کا ایک اور پہلو بھی ہے جسے نظر انداز کرنا شاید قرین انصاف نہ ہو۔ وہ یہ کہ صدیقی دور میں بیت المال سے وظائف کی تقسیم برابری کی بنیاد پر ہوتی رہی ہے اور فاروقی دور میں ترجیح کا اصول اپنایا گیا ہے۔ اگرچہ حضرت عمرؓ نے اس سے رجوع کا زبانی اظہار فرما دیا تھا لیکن اس کے بعد بھی ترجیحی اصول پر عملدرآمد کا تسلسل قائم رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دراصل دونوں اصول موقع محل کی مناسبت سے قابل عمل ہیں اور حالات کو سامنے رکھتے ہوئے ان میں سے کسی بھی اصول کو اپنایا جا سکتا ہے۔ اصل بات اجتماعی مفاد کی ہے، اگر کسی وقت حالات کا تقاضا قومی ذرائع پیداوار کی برابری کی بنیاد پر تقسیم کا ہو اور اجتماعی مفاد اس میں ہو تو ایک اسلامی حکومت اس اصول کو اپنا سکتی ہے، اور کسی دور میں اگر اجتماعی حالات کا تقاضا اس کے برعکس ہو تو دوسری صورت اختیار کرنے کی گنجائش بھی موجود ہے۔
دینی مدارس کا نصاب اور اکابر کا طرزعمل
سوال: آج مختلف اطراف سے دینی مدارس کے نصاب میں تبدیلی اور اس میں عصری علوم اور تقاضوں کو شامل کرنے کی آواز اٹھ رہی ہے جبکہ ہمارے اکابر نے ایسا نہیں کیا اور نہ ہی کسی بزرگ نے اس مقصد کے لیے کوشش کی۔ کیا موجودہ رجحان اکابر کے طرز عمل سے انحراف نہیں ہے؟ (منظور احمد، سمن آباد، گوجرانوالہ)
جواب: یہ کہنا کہ ہمارے اکابر نے دینی مدارس کے نصاب میں عصری تقاضوں کو شامل کرنے کی طرف توجہ نہیں دی ہے یا اسے پسند نہیں کیا، خلافِ واقعہ بات ہے۔ سب سے پہلے دینی مدارس اور عصری علوم کو اکٹھا کرنے کی بات شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ نے کی تھی اور اس کو عملی جامہ پہنانے کے لیے خود علی گڑھ تشریف لے گئے تھے۔ ندوۃ العلماء لکھنو کا قیام بھی اسی جذبہ کے تحت عمل میں لایا گیا تھا اور اسی مقصد کے لیے جامعہ ملیہ دہلی کی تشکیل ہوئی تھی۔ اس ضمن میں جمعیۃ العلماء ہند کی مندرجہ ذیل قرارداد بطور خاص اہمیت رکھتی ہے جو جمعیۃ کے تیرہویں عمومی اجلاس منعقدہ لاہور بتاریخ ۲۰ تا ۲۱ مارچ ۱۹۴۲ء میں شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کی زیر صدارت منظور ہوئی تھی۔ قرارداد کا متن یہ ہے:
’’جمعیۃ العلماء ہند کا یہ اجلاس مدارس عربیہ دینیہ کے مروجہ نصاب میں دورِ حاضر کی ضرورتوں کے موافق اصلاح و تبدیلی کی ضرورت شدت سے محسوس کرتا ہے اور مدارس عربیہ کے ذمہ دار حضرات اور تعلیمی جماعتوں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ ماہرین تعلیم کی ایک کمیٹی اس پر غور کرنے کے لیے باہمی مشورے اور تعاون سے مقرر کر کے ایک ایسا نصاب مرتب کرائیں جو دینی علوم کی تکمیل کے ساتھ ضروریات عصریہ میں بھی مہارت پیدا کرنے کا کفیل ہو، اور اس سلسلہ میں جمعیۃ العلماء ہند ارباب علم سے رائے لے کر اپنی صوابدید کے مطابق حتی الوسع جلد کوئی مؤثر اقدام کرے۔‘‘
اس سے واضح ہوتا ہے کہ درس نظامی کے نصاب میں عصری تقاضوں کے امتزاج کی ضرورت کا احساس ہمارے اکابر کو بھی تھا، صرف اتنی بات تھی کہ وہ تحریکِ آزادی میں مصروفیات کے باعث اس سمت کوئی نتیجہ خیز عملی پیش رفت نہیں کر سکے۔ اور اس سے یہ بھی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اگر ۱۹۴۲ء میں اس ضرورت کا احساس اس قدر شدت کے ساتھ تھا تو آج ۱۹۹۰ء میں اس کی اہمیت اور ضرورت میں کس قدر اضافہ ہو چکا ہوگا۔
وعظ و نصیحت کے ضروری آداب
حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ
(۱) وعظ و نصیحت کا پہلا رکن یہ ہے کہ واعظ سامعین کو ایسے عبرت انگیز واقعات سنائے جن کو سن کر دنیا کی بے ثباتی کا نقشہ آنکھوں کے سامنے آجائے، دنیا کی ہوس رانیوں سے دل بیزار ہو جائے، اور توشۂ آخرت جمع کرنے کا خیال دل میں جم جائے، اور نفسانی خواہشات کے درپے رہنے سے دل ہٹ جائے۔ لیکن قصص بیان کرتے وقت یا ترغیب و ترہیب کی روایات سناتے وقت یہ احتیاط رہے کہ کوئی جعلی قصہ یا موضوع روایت ذکر نہ کی جائے جیسے کہ اس عصر کے واعظین کرتے ہیں۔ کیونکہ یہ تو ہدایت و روشنی کی بجائے گمراہی و تاریکی سے زیادہ قریب ہے۔ یہ ترغیب و ترہیب اس انداز سے ہو کہ زمانہ کی گردش کی سرعت اور اس کے ایک نہج پر عدمِ ثبات کو اچھی طرح واضح کرے۔ اس طرح تذکیر و وعظ سے لوگوں کی جبروتی ذہنیت اور سرکشی پاش پاش ہو جاتی ہے۔
(۲) وعظ کا دوسرا رکن یہ ہے کہ واعظ لوگوں کو نظامِ شرعی کی پابندی کے فوائد اور اس کی خلاف ورزی کے مفاسد و نقصانات سمجھائے۔ معاشرتی زندگی میں نظام کے فوائد اور اس کی خلاف ورزی کے مفاسد بیان کرتے وقت ماوراء العقل کلیات بیان کرنے سے گریز کر کے زیادہ تر جزئیات اور فروعی باتوں کا ذکر کرے، اس طرز خطاب کا فائدہ زیادہ حاصل ہو گا۔
(۳) وعظ کا تیسرا رکن یہ ہے کہ اپنی تقریر و بیان میں دل نشین تشبیہات اور اثر آفرین استعارات اور اصنافِ سخن میں سے مجازات استعمال کرے، اور اپنے بیان میں ایسے بلند و عالی افکار و خیالات کو پیش کرے جو لوگوں کے دلوں کو تسلیم و رضا پر مجبور کریں۔ اسے چاہیئے کہ وہ مسلّمات اور مشہور روایات سے تمسک کرتا رہے۔
لوگوں کو بھلائی کی تعلیم دینے والے کو چاہیئے کہ وہ وعظ و تذکیر میں لوگوں کی سطح فہم کے مطابق بات کرے اور کلام کے دقیق و باریک مسائل میں الجھنے سے گریز کرے کیونکہ اس صورت میں یا تو وہ لوگوں کو سمجھانے کے لیے غلط بیانی سے کام لے گا اور اس سے لوگوں کے اذہان و قلوب منتشر ہوں گے، یا اگر اپنے علم کے مطابق ٹھیک ٹھاک بات کرے گا تو اس کے علم کا فائدہ مخاطبین کو حاصل نہ ہو گا۔ بہرحال یہ مسلّمہ امر ہے کہ وعظ و تذکیر کے سلسلہ میں مؤثر ترین طریقہ اور عوام پر پوری طرح اثر انداز ہونے والا طرز بیان منطقی استدلال نہیں بلکہ خطابیات ہے۔
(البدور البازغہ مترجم (ص ۱۹۳)
قرآنی احکام کا نفاذ آج بھی ممکن ہے
حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ
خلافت اور رئیس کے باب میں صحیح نظریہ یہ ہے کہ خلافت تین باتوں کی طرف تقسیم ہوتی ہے:
(۱) خلافت بغیر جماعت کے قائم نہیں ہو سکتی۔
(۲) رئیس صرف اس جماعت میں سے ہو سکتا ہے۔
(۳) رئیس کا انتخاب صرف یہ جماعت کر سکتی ہے۔
براہ راست اس کا انتخاب نہیں کر سکتے۔ کیونکہ یہ چیز بالآخر نزاع و تنازع و جھگڑا کا رخ اختیار کر لیتی ہے۔ ہمارے نزدیک اس معاملے کا صحیح رخ یہ ہے کہ جب اممِ مسلمہ سے کوئی امت یا جماعت ایسے آدمی کو آگے بڑھاتی ہے جو
(۱) کتاب اللہ کو سب سے زیادہ جاننے والا ہو۔
(۲) حضورؐ کے طور طریقوں اور آپؐ کی سنت و تعلیمات کو سب سے زیادہ جانتا ہو۔
(۳) خلفاء راشدینؓ کے حالات کو سب سے زیادہ جانتا ہو۔
(۴) ضرورت کے وقت مصلحتِ خاصہ کے مقابلہ میں مصلحتِ عامہ کو ترجیح دینے والا ہو۔ یعنی مصالحِ خاصہ کو مصالحِ عامہ کے مقابلہ میں زیادہ سے زیادہ قربان کرنے والا ہو۔
تو ایسا شخص مرکز میں اپنی امت کے لیے نمونہ (نمائندہ) ہو گا۔ اور جب اس قسم کے بہت سے نمائندے مرکز میں جمع ہوں تو ایک اچھی خاصی صالح جماعت مجتمع ہو جائے گی اور اقوام کی اجتماعیت بن جائے گی۔ اور یہ جماعت کتاب اللہ کے اوامر کی تنفیذ کے لیے مسئول ہو گی یعنی قرآن کریم کے قوانین جاری کرنا اس جماعت کی ذمہ داری ہو گی۔
اور قوم اگر ایسی نمائندہ جماعت نہ بنا سکی تو اس کی ایک ذرہ برابر بھی کوئی قدر و قیمت نہیں، خواہ وہ اپنے ماضی کی تاریخ کے پیشِ نظر ’’پدرم سلطان بود‘‘ کہنے والی ہو، یا اپنی باطل آرزوؤں میں مگن ہو۔ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ہندوستانی (پاکستانی)، افغانی، تورانی، عربی یہ سب لوگ شرعی سلطنت کو پسند کرتے ہیں لیکن ایسی حکومت تشکیل نہیں کر سکتے۔ باوجودیکہ اوامرِ قرآنیہ کی تنفیذ آج بھی کوشش کرنے پر اممِ مسلمہ سے ممکن ہے، لیکن اگر سعی و کوشش ہی نہ کی جائے تو پھر کس طرح ممکن ہو سکتا ہے کہ یہ اوامر نافذ ہوں۔ درحقیقت ان اوامر (شرعیہ) کی تنفیذ کے راستہ میں رکاوٹ اور مایوسی اور کوشش نہ کرنا، یہ مستبد سلاطین اور فاجر قسم کے ملوک اور ان کے معاون لوگوں اور عیش پسند علماء کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔
(الہام الرحمٰن ۳۰۰ ج ۱)
شہیدِ اسلام مولانا سید شمس الدین شہیدؒ نے فرمایا
ادارہ
’’افسوس کہ آج ہمارا یہ خطہ جس میں مسلمان بستے ہیں اس میں ہمارا قانون، ہمارا آئین اور ہمارا دن بھر کا اٹھنا بیٹھنا سب کچھ وہی ہے جو انگریز ہمارے اوپر مسلط کر گئے تھے۔ ہم آج بھی ان کے نقشِ قدم پر چل رہے ہیں۔ مگر افسوس کہ اگر ان کے نقش قدم پر بھی ہم صحیح طور پر چلتے تو آج کچھ نہ کچھ انصاف تو ہم میں ہوتا۔ ہم نے اپنے دین کو ترک کر دیا، اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نقشِ قدم پر چلنا ترک کر دیا، اپنے قانون کو ترک کر دیا، ہم نے سب کچھ فراموش کر دیا۔’’
(۱۱ جنوری ۱۹۷۳ء کو بلوچستان اسمبلی سے خطاب)
’’وہ آئین اور دستور اور وہ قانون جو کہ اللہ تبارک و تعالٰی کی طرف سے ہمارے پاس آیا ہے مسلمانوں کے فرائض میں ہے کہ سب سے پہلے اس آئین کو دیکھیں اور عمل پیرا ہوں کیونکہ وہ ہمارا حقیقی آئین ہے۔ وہ دستور ہے جو رب العزت کی طرف سے آیا ہوا ہے۔ یہ ہمارا مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ یہ مستقل آئین ہے، باقی دنیاوی آئین عارضی اور عبوری ہیں، یہ تو آتے جاتے ہیں۔‘‘
(۱۱ جنوری ۱۹۷۳ء کو بلوچستان اسمبلی سے خطاب)
’’جب دین کے نام پر لیے ہوئے پاکستان میں ہمارے حکمرانوں نے دین کو نافذ نہ کیا۔ اللہ تعالٰی سے کیا ہوا وعدہ پورا نہ کیا اور مسلسل ۲۵ برس تک اس کے حکموں کی نافرمانی کرتے رہے، تو پھر قوم و ملک پر اللہ تعالٰی کا عتاب نازل ہوا اور ہمارے ملک کا ایک بڑا حصہ بنگلہ دیش کے نام سے کٹ کر علیحدہ ہو گیا۔ بھارتی فوج نے مشرقی پاکستان کا سب کچھ لوٹا یا تباہ و برباد کر دیا۔ اور سب سے بڑی رسوائی یہ ہوئی کہ ہماری فوج نے دشمن کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے اور نوے ہزار سے زائد سویلین اور فوجی بھارت کے قیدی بن گئے۔ اس کے بعد حالات سے عبرت حاصل کرنی چاہیئے تاکہ دوبارہ ان سابقہ غلطیوں کا اعادہ نہ ہو جن کی وجہ سے ملک و قوم کو یہ دن دیکھنے پڑے۔‘‘
(۱۹ اکتوبر ۱۹۷۳ء کو شیرانوالہ گیٹ لاہور میں جمعۃ المبارک کے اجتماع سے خطاب)
’’ہماری اکثریت کو توڑنے کے لیے ہر حربہ اختیار کیا گیا۔ خود مجھے چیف منسٹری کا عہدہ پیش کیا گیا۔ مگر الحمد للہ میں نے جماعتی منشور، جمہوری اقدار اور اکابر کے ناموس کے پیشِ نظر اس کرسی کو لات مار دی۔ ایک ملاقات میں بھٹو صاحب نے مجھ سے کہا کہ آپ لوگ بڑے اچھے ہیں، با اصول اور دیانتدار ہیں، میں چاہتا ہوں کہ آپ جیسے لوگ میرے ساتھ آئیں اس لیے آپ نیپ کو چھوڑ کر میرے ساتھ تعاون کریں۔ میں نے جواب دیا کہ بھٹو صاحب! کیا ہم اقتدار کی خاطر نیپ سے معاہدہ توڑ کر بھی با اصول اور دیانتدار رہیں گے؟ اس پر بھٹو صاحب خاموش ہو گئے۔‘‘
(مدیر ہفت روزہ ترجمان اسلام لاہور سے خصوصی انٹرویو)
’’جس مقصد کے لیے ہم نے یہ پاکستان تعمیر کیا تھا اور جس مقصد کے لیے پاکستان بنا تھا آج وہ مقصد ہم اس ملک میں نہیں چلا رہے بلکہ الٹا اس مقصد اور اس کتاب اور اس اسلام پر وہ مظالم ہم ڈھا رہے ہیں کہ مخالفین اور اسلام اور دین کے دشمنان سے بھی وہ توقع نہیں کی جا سکتی۔‘‘
(شہادت سے چند روز قبل رحیم یار خان میں آخری تقریر)