جون ۱۹۹۰ء

شریعت بل اور شریعت کورٹمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
نفاذِ شریعت ایکٹ ۱۹۹۰ءادارہ 
شاہ ولی اللہ یونیورسٹی — رپورٹ، پروگرام، عزائمادارہ 
امام المحدثین والفقہاء حضرت مولانا ابوحنیفہ نعمان بن ثابتؒالاستاذ محمد امین درانی 
مذاہب اہل السنۃ والجماعۃ کی تاسیس ایک نظر میںالاستاذ محمد امین درانی 
انسانی حقوق کا اسلامی تصورمولانا مفتی فضیل الرحمن ہلال عثمانی 
’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘ کی تفسیر اور پادری برکت اے خانمحمد عمار خان ناصر 
حفاظتِ قرآن کا عقیدہ اور پادری کے ایل ناصرمحمد عمار خان ناصر 
دو قومی نظریہ نئی نسل کو سمجھانے کی ضرورت ہےمولانا سعید احمد عنایت اللہ 
بھارت میں اردو کا حال و مستقبلبیگم سلطانہ حیات 
جہادِ آزادیٔ کشمیر اور پاکستانی قوم کی ذمہ داریادارہ 
مثیلِ موسٰی کون ہے؟محمد یاسین عابد 
نو سالہ ماںحافظ محمد اقبال رنگونی 
آپ نے پوچھاادارہ 
گنٹھیا ۔ جوڑوں کا درد یا وجع المفاصلحکیم محمد عمران مغل 
تعارف و تبصرہادارہ 
مکان کیسا ہونا چاہیئے؟حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ 
قرآنِ کریم کے ماننے والوں کا فریضہحضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ 
مسلمانوں کی قوت کا راز — خلافتشیخ التفسیر مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ 

شریعت بل اور شریعت کورٹ

قومی اسمبلی کی نازک ترین ذمہ داری

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

سینٹ آف پاکستان نے مولانا سمیع الحق اور مولانا قاضی عبد اللطیف کا پیش کردہ ’’شریعت بل‘‘ کم و بیش پانچ سال کی بحث و تمحیص کے بعد بالآخر متفقہ طور پر منظور کر لیا ہے۔ شریعت بل ۱۹۸۵ء میں پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا کے سامنے رکھا گیا تھا، اسے عوامی رائے کے لیے مشتہر کرنے کے علاوہ سینٹ کی مختلف کمیٹیوں نے اس پر طویل غور و خوض کیا اور اسلامی نظریاتی کونسل کے پاس بھی اسے بھجوایا گیا۔ شریعت بل کی حمایت اور مخالفت میں عوامی حلقوں میں گرما گرم بحث ہوئی، متعدد حلقوں کی طرف سے اس میں ترامیم پیش کی گئیں اور بالآخر ترامیم کے ساتھ شریعت بل کو متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں نفاذ اسلام کی جدوجہد کے حوالہ سے ۱۹۴۹ء میں قرارداد مقاصد کی منظوری اور ۱۹۷۳ء میں اسلام کو ملک کا سرکاری مذہب قرار دیے جانے کے بعد یہ تیسرا اہم ترین واقعہ ہے۔ اول الذکر دو اقدامات کے ذریعے ملک کی نظریاتی اور اسلامی حیثیت کے تعین کے ساتھ ساتھ اسلامی تعلیمات و احکامات کو قومی پالیسیوں کا سرچشمہ قرار دیا گیا تھا جبکہ شریعت بل ملک کے اجتماعی نظام میں اسلامی تعلیمات کے مطابق انقلابی عملی تبدیلیوں کا نقطۂ آغاز ہے۔

شریعت بل سینٹ سے منظور ہونے کے بعد اب قومی اسمبلی کے فلور پر آنے والا ہے اور اسے منظور کرنے کی ذمہ داری قومی اسمبلی کے ارکان کے لیے ایک کڑی آزمائش بن گئی ہے۔ ملک کے بعض حلقے اپنے گروہی مفادات اور مصلحتوں کی خاطر یقیناً شریعت بل کی منظوری میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کریں گے بلکہ ان کوششوں کا آغاز بھی ہوگیا ہے۔ لیکن قومی اسمبلی کے ارکان سے ہم یہ گزارش کریں گے کہ وہ گروہی، جماعتی اور طبقاتی مصلحتوں سے بالاتر ہو کر شریعت بل کے منظور شدہ مسودہ کا مطالعہ کریں اور ایک مسلمان کی حیثیت سے اپنے ضمیر کے مطابق اس کے بارے میں فیصلہ کریں کیونکہ شریعت اسلامیہ کی بالادستی ایک مسلمان کے ایمان و عقیدہ کا مسئلہ ہے اور اس کے لیے میدانِ حشر میں بارگاہِ ایزدی اور دربارِ مصطفویؐ میں جواب دہی کے مرحلہ سے بھی گزرنا ہوگا۔

نفاذ اسلام کے حوالہ سے شریعت بل کے علاوہ ایک اور اہم اور نازک مسئلہ بھی اس وقت قومی اسمبلی کے ارکان کے ضمیر کو دستک دے رہا ہے اور وہ ہے وفاقی شرعی عدالت کے دائرہ اختیار سے مالیاتی امور کو مستثنٰی رکھنے کا مسئلہ جو اس وقت قومی حلقوں میں سنجیدگی کے ساتھ زیربحث ہے۔ وفاقی شرعی عدالت کم و بیش دس سال قبل تشکیل دی گئی تھی اور اس کی ذمہ داریوں میں ملک میں رائج غیر اسلامی قوانین پر نظرثانی کا کام شامل تھا لیکن بعض دیگر قوانین کی طرح مالیاتی قوانین کو دس سال کے لیے وفاقی شرعی عدالت کے دائرہ اختیار سے مستثنٰی کر دیا گیا تھا۔ اور اس استثنا کی وجہ یہ بیان کی گئی تھی کہ اس دوران متبادل مالیاتی نظام ترتیب پا جائے تاکہ موجودہ غیر اسلامی سودی مالیاتی نظام کو یکلخت ختم کرنے کی صورت میں کوئی خلا پیدا نہ ہو اور مالیاتی نظام افراتفری اور ابتری کا شکار نہ ہو جائے۔ دس سال کی یہ میعاد جون ۱۹۹۰ء کے دوران ختم ہو رہی ہے جبکہ اسلامی نظریاتی کونسل ملکی اور بیرونی علماء اور ماہرین معیشت کی مشاورت اور راہنمائی سے سود سے پاک معاشی نظام کا مکمل خاکہ مرتب کر کے حکومت کے حوالے کر چکی ہے۔ لیکن حکومتی حلقوں کا یہ رجحان سامنے آرہا ہے کہ وہ وفاقی شرعی عدالت کے دائرہ اختیار سے مالیاتی امور کو مستثنٰی رکھنے کی مدت میں مزید اضافہ کر کے موجودہ سودی نظام کو برقرار رکھنے کی فکر میں ہیں، اس مقصد کے لیے ارکانِ اسمبلی کو ہموار کرنے کی مہم جاری ہے اور یہ مسئلہ بھی قومی اسمبلی کے سامنے آنے والا ہے۔

قومی اسمبلی کے ارکان کے سامنے اس مسئلہ کی وضاحت کی ضرورت نہیں ہے کہ سود کو قرآن کریم نے صراحتاً حرام قرار دیا ہے بلکہ سود کے لین دین کو خدا اور رسولؐ کے خلاف جنگ سے تعبیر کیا ہے۔ جبکہ موجودہ معاشی نظام کی بنیاد ہی سود پر ہے اور اسلام کے عملی نفاذ کے لیے ضروری ہے کہ ملک کے معاشی نظام کو سود اور اس جیسی خرابیوں سے یکسر پاک کر دیا جائے۔ اس لیے ہم قومی اسمبلی کے محترم ارکان سے گزارش کریں گے کہ وہ سود پر مبنی غیر اسلامی معیشت کو باقی رکھنے کی مہم کا ساتھ نہ دیں بلکہ اس بات پر زور دیں کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کی بنیاد پر سود سے پاک معاشی نظام کو ملک میں بلا تاخیر رائج کیا جائے۔

بہرحال شریعت بل اور شریعت کورٹ کے اختیارات کا مسئلہ ارکانِ اسمبلی کے ضمیر اور ایمان کے لیے چیلنج کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ اگر انہوں نے ان دو مسائل کے سلسلہ میں دین و ایمان کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے کردار کا تعین کیا تو ان کا یہ عمل دنیا و آخرت میں ان کی نیک نامی اور سرخروئی کا باعث ہوگا، اور اگر وہ جماعتی مصلحتوں اور گروہی و طبقاتی مفادات کے حصار سے خود کو نہ نکال سکے تو سود پر اصرار اور شریعت کی بالادستی سے انحراف کے اس بدترین قومی جرم پر خدا تعالیٰ کی طرف سے دنیاوی اور اخروی عذاب (العیاذ باللہ) کا سب سے پہلا اور بڑا ہدف وہی ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اس رسوائی اور ذلت سے پوری قوم کو پناہ میں رکھیں، آمین یا الٰہ العالمین۔

نفاذِ شریعت ایکٹ ۱۹۹۰ء

ادارہ

(سینٹ آف پاکستان نے مولانا سمیع الحق اور مولانا قاضی عبد اللطیف کا پیش کردہ ’’شریعت بل‘‘ پانچ سال کی طویل بحث و تمحیص کے بعد ۱۳ مئی ۱۹۹۰ء کو متفقہ طور پر ’’نفاذِ شریعت ایکٹ ۱۹۹۰ء‘‘ کے عنوان کے ساتھ منظور کر لیا ہے۔ یہ بل ۱۳ جولائی ۱۹۸۵ء کو ایوانِ بالا میں پیش کیا گیا تھا اور اس پر پانچ سال کے دوران متعدد کمیٹیوں نے کام کیا اور اسے سینٹ سیکرٹریٹ کی طرف سے عوام کی رائے معلوم کرنے کے لیے مشتہر بھی کیا گیا۔ بل میں مختلف حلقوں کی طرف سے متعدد ترامیم پیش کی گئیں اور ترامیم سمیت سینٹ نے بل کا جو آخری مسودہ متفقہ طور پر منظور کیا ہے اس کا متن درج ذیل ہے۔ ادارہ)
ہرگاہ کہ قراردادِ مقاصد کو، جو پاکستان میں شریعت کو بالادستی عطا کرتی ہے، دستور اسلامی جمہوریہ پاکستان ۱۹۷۳ء کے مستقل حصے کی حیثیت سے شامل کر لیا گیا ہے۔
اور ہر گاہ کہ مذکورہ قراردادِ مقاصد کے اغراض کو بروئے کار لانے کے لیے ضروری ہے کہ شریعت کے فی الفور نفاذ کو یقینی بنایا جائے۔ لہٰذا حسبِ ذیل قانون بنایا جاتا ہے۔

(۱) مختصر عنوان، وسعت اور آغازِ نفاذ

(۱) یہ ایکٹ نفاذِ شریعت ایکٹ ۱۹۹۰ء کے نام سے موسوم ہو گا۔
(۲) یہ پورے پاکستان پر وسعت پذیر ہو گا۔
(۳) یہ فی الفور نافذ العمل ہو گا۔
(۴) اس میں شامل کسی امر کا اطلاق غیر مسلموں کے شخصی قوانین پر نہیں ہو گا۔

(۲) تعریفات

اس ایکٹ میں، تاوقتیکہ متن سے اس سے مختلف مطلوب ہو، مندرجہ ذیل عبارات سے وہ مفہوم مراد ہے جو یہاں ترتیب وار دیا گیا ہے۔
(الف) ’’حکومت‘‘ سے مراد: (اول) کسی ایسے معاملے سے متعلق جسے دستور میں وفاقی قانون سازی کی فہرست یا مشترکہ قانون سازی کی فہرست میں شمار کیا گیا ہو، یا کسی ایسے  معاملے کے بارے میں جس کا تعلق ’’وفاق‘‘ سے ہو ’’وفاقی حکومت‘‘ ہے، اور (دوم) کسی ایسے معاملے سے متعلق جسے مذکورہ فہرستوں میں سے کسی ایک میں شمار نہ کیا گیا ہو، یا کسی ایسے معاملے کے بارے میں جس کا تعلق صوبے سے ہو ’’صوبائی حکومت‘‘ ہے۔
(ب) شریعت کی تشریح و تفسیر کرتے وقت قرآن و سنت کی تشریح و تفسیر کے مسلّمہ اصول و قواعد کی پابندی کی جائے گی اور راہنمائی کے لیے اسلام کے مسلّمہ فقہاء کی تشریحات اور آراء کا لحاظ رکھا جائے گا جیسا کہ دستور کی دفعہ ۲۲۷ شق (۱) کی تشریح میں ذکر کیا گیا ہے۔
(ج) ’’عدالت‘‘ سے کسی عدالتِ عالیہ کے ماتحت کوئی عدالت مراد ہے۔ اس میں وہ ٹربیونل یا مقتدرہ شامل ہے جسے فی الوقت نافذ العمل کسی قانون کی رو سے یا اس کے تحت قائم کیا گیا ہو۔
(د) ’’قراردادِ مقاصد‘‘ سے مراد وہ قراردادِ مقاصد ہے جس کا حوالہ دستور کے آرٹیکل ۲ (الف) میں دیا گیا ہے اور جس کو دستور کے ضمیمے میں درج کیا گیا ہے۔
(ز) ’’مقررہ‘‘ سے مراد اس ایکٹ کے تحت مقررہ قواعد ہیں۔
(د) ’’مستند دینی مدرسہ‘‘ سے مراد پاکستان یا بیرونِ پاکستان کا وہ دینی مدرسہ ہے جسے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن یا حکومت قواعد کے مطابق تسلیم کرتی ہو۔
(ھ) ’’مفتی‘‘ سے مراد شریعت سے کماحقہ واقف وہ مسلمان عالم ہے جو کسی باقاعدہ دینی مدرسہ کا سند یافتہ اور تخصیص فی الفقہ کی سند حاصل کر چکا ہو اور پانچ سال کسی مستند دینی مدرسہ میں علومِ اسلامی کی تدریس یا افتاء کا تجربہ رکھتا ہو، یا دس سال تک کسی مستند دینی مدرسے میں علومِ اسلامی کی تدریس یا افتاء کا تجربہ رکھتا ہو، اور جسے اس قانون کے تحت شریعت کی تشریح اور تعبیر کرنے کے لیے عدالتِ عظمٰی، کسی عدالتِ عالیہ، یا وفاقی شرعی عدالت کی اعانت کے لیے مقرر کیا گیا ہو۔

(۳) شریعت کی بالادستی

شریعت پاکستان کا اعلیٰ ترین قانون ہو گی اور اسے مذکورہ ذیل طریقے سے نافذ کیا جائے گا اور کسی دیگر قانون، رواج یا دستور العمل میں شامل کسی امر کے علی الرغم مؤثر ہو گی۔

(۴) عدالتیں شریعت کے مطابق مقدمات کا فیصلہ کریں گی

(۱) اگر کسی عدالت کے سامنے یہ سوال اٹھایا جائے کہ کوئی قانون یا قانون کا کوئی حکم شریعت کے منافی ہے تو عدالت، اگر اسے اطمینان ہو کہ سوال غور طلب ہے، ایسے معاملات کی نسبت، جو دستور کے تحت وفاقی شرعی عدالت کے اختیارِ سماعت کے اندر آتے ہوں، وفاقی شرعی عدالت سے استصواب کرے گی۔ اور مذکورہ عدالت مقدمہ کا ریکارڈ طلب کر سکے گی اور اس کا جائزہ لے سکے گی اور امرِ تنقیح طلب کا ساٹھ دن کے اندر اندر فیصلہ کرے گی۔
مگر شرط یہ ہے کہ اگر سوال کا تعلق کسی ایسے مسئلے سے ہو جو دستور کے تحت وفاقی شریعت کورٹ کے دائرۂ اختیار سے باہر ہو تو عدالت امرِ تنقیح طلب کو عدالتِ عالیہ کے حوالے کر دے گی جو اس کا ساٹھ دن کے اندر اندر فیصلہ کرے گی۔
مزید شرط یہ ہے کہ عدالت کسی ایسے قانون یا قانون کے حکم کی نسبت اس کے شریعت کے منافی ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں کسی سوال پر غور نہیں کرے گی جس کا وفاقی شرعی عدالت یا عدالتِ عظمٰی کی شرعی مرافعہ بینچ پہلے ہی جائزہ لے چکی ہو اور اس کے شریعت کے منافی نہ ہونے کا فیصلہ کر چکی ہو۔
(۲) ذیلی دفعہ (۱) کا دوسرا فقرہ شرطیہ وفاقی شرعی عدالت یا عدالتِ عظمٰی کی شرعی مرافعہ بینچ کی جانب سے دیے گئے کسی فیصلے یا صادر کسی حکم پر نظرثانی کرنے کے اختیار پر اثرانداز نہیں ہو گا۔
(۳) عدالتِ عالیہ خود اپنی تحریک پر، یا پاکستان کے کسی شہری، یا وفاقی حکومت، یا کسی صوبائی حکومت کی درخواست پر، یا ذیلی دفعہ (۱) کے پہلے فقرہ شرطیہ کے تحت، اس سے کیے گئے کسی استصواب پر اس سوال کا جائزہ لے سکے گی اور فیصلہ کر سکے گی کہ آیا کوئی مسلم شخصی قانون، کسی عدالت یا ٹربیونل کے ضابطۂ کار سے متعلق کوئی قانون، یا کوئی اور قانون جو وفاقی شرعی عدالت کے دائرۂ اختیار سے باہر ہو، یا مذکورہ قانون کا کوئی حکم، شریعت کے منافی ہے یا نہیں۔
مگر شرط یہ ہے کہ سوال کا جائزہ لیتے ہوئے عدالتِ عالیہ توضیح طلب سوال سے متعلقہ شعبہ کا تخصیصی ادراک رکھنے والے ماہرین میں سے، جن کو وہ مناسب سمجھے، طلب کرے گی اور ان کے نقطۂ نظر کی سماعت کرے گی۔ 
(۴) جبکہ عدالتِ عالیہ ذیلی دفعہ (۲) کے تحت کسی قانون یا قانون کے حکم کا جائزہ لینا شروع کرے اور اسے ایسا قانون یا قانون کا حکم شریعت کے منافی معلوم ہو، تو عدالتِ عالیہ
  • ایسے قانون کی صورت میں جو دستور میں وفاقی فہرست قانون سازی یا مشترکہ فہرست قانون سازی میں شامل کسی معاملے سے متعلق ہو، وفاقی حکومت کو
  • یا کسی ایسے معاملے سے متعلق کسی قانون کی صورت میں جو ان فہرستوں میں سے کسی ایک میں بھی شامل نہ ہو، صوبائی حکومت کو
ایک نوٹس دے گی جس میں ان خاص احکام کی صراحت ہو گی جو اسے بایں طور پر منافی معلوم ہوں، اور مذکورہ حکومت کو اپنا نقطۂ  نظر عدالتِ عالیہ کے سامنے پیش کرنے کے لیے مناسب موقع دے گی۔
(۵) اگر عدالتِ عالیہ فیصلہ کرے کہ کوئی قانون یا قانون کا کوئی حکم شریعت کے منافی ہے تو وہ اپنے فیصلے میں حسبِ ذیل بیان کرے گی۔
(الف) اس کی مذکورہ رائے قائم کرنے کی وجوہ۔
(ب) وہ حد جہاں تک ایسا قانون یا حکم بایں طور پر منافی ہے، اور
(ج) اس تاریخ کا تعین جس پر وہ فیصلہ نافذ العمل ہو گا۔
مگر شرط یہ ہے کہ ایسا کوئی فیصلہ اس میعاد کے گزرنے سے پہلے، جس کے اندر عدالتِ عظمٰی میں اس کے خلاف اپیل داخل ہو سکتی ہو، یا جبکہ اپیل بایں طور پر داخل کر دی گئی ہو، اس اپیل کے فیصلے سے پہلے نافذ العمل نہیں ہو گا۔
(۶) عدالتِ عالیہ کو اس دفعہ کے تحت اپنے دیے ہوئے کسی فیصلے یا صادر کردہ کسی حکم پر نظرثانی کرنے کا اختیار ہو گا۔
(۷) اس دفعہ کی رو سے عدالتِ عالیہ کو عطا کردہ اختیارِ سماعت کو کم از کم تین ججوں کی کوئی بینچ استعمال کرے گی۔
(۸) اگر ذیلی دفعہ (۱) یا ذیلی دفعہ (۲) میں محولہ کوئی سوال عدالتِ عالیہ کی یک رکنی بینچ یا دو رکنی بینچ کے سامنے اٹھے تو اسے کم از کم تین ججوں کی بینچ کے حوالے کیا جائے گا۔
(۹) اس دفعہ کے تحت کسی کارروائی میں عدالتِ عالیہ کے قطعی فیصلے سے ناراض کوئی فریق مذکورہ فیصلے سے ساٹھ دن کے اندر عدالتِ عظمٰی میں اپیل داخل کر سکے گا۔ مگر شرط یہ ہے کہ وفاق یا کسی صوبے کی طرف سے اپیل مذکورہ فیصلے کے چھ ماہ کے اندر داخل کی جا سکے گی۔
(۱۰) اس قانون میں شامل کوئی امر یا اس کے تحت کوئی فیصلہ، اس قانون کے آغازِ نفاذ سے قبل کسی عدالت یا ٹربیونل یا مقتدرہ کی طرف سے کسی قانون کے تحت دی گئی سزاؤں، دیے گئے احکام یا سنائے ہوئے فیصلوں، منظور شدہ ڈگریوں، ذمہ کیے گئے واجبات، حاصل شدہ حقوق، کی گئی تشخیصات، وصول شدہ رقوم، یا اعلان کردہ قابلِ ادا رقوم پر اثر انداز نہیں ہو گا۔ 
تشریح: اس ذیلی دفعہ کی غرض کے لیے ’’عدالت‘‘ یا ’’ٹربیونل‘‘ سے مراد اس قانون کے آغازِ نفاذ سے قبل کسی وقت کسی قانون یا دستور کی رو سے یا اس کے تحت قائم شدہ کوئی عدالت یا ٹربیونل ہو گی۔ اور لفظ ’’مقتدرہ‘‘ سے مراد فی الوقت نافذ العمل کسی قانون کے تحت قائم شدہ کوئی مقتدرہ ہو گی۔
(۱۱) کوئی عدالت یا ٹربیونل بشمول عدالتِ عالیہ کسی زیرسماعت یا اس قانون کے آغازِ نفاذ کے بعد شروع کی گئی کسی کارروائی کو محض اس بنا پر موقوف یا ملتوی نہیں کرے گی کہ یہ سوال کہ آیا کوئی قانون یا قانون کا حکم شریعت کے منافی ہے یا نہیں عدالتِ عالیہ یا وفاقی شرعی عدالت کے سپرد کر دیا گیا ہے، یا یہ کہ عدالتِ عالیہ نے اس سوال کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔ اور ایسی کارروائی جاری رہے گی اور اس میں امرِ دریافت طلب کا فیصلہ فی الوقت نافذ العمل قانون کے مطابق کیا جائے گا۔ بشرطیکہ عدالتِ عالیہ ابتدائی سماعت کے بعد یہ فیصلہ نہ دے دے کہ زیرسماعت مقدمات کو عدالت کے فیصلے تک روک دیا جائے۔

(۵) شریعت کے خلاف احکامات دینے پر پابندی

انتظامیہ کا کوئی بھی فرد بشمول صدر مملکت، وزیراعظم اور وزیراعلیٰ شریعت کے خلاف کوئی حکم نہیں دے سکے گا، اور اگر ایسا کوئی حکم دے دیا گیا ہو تو اسے عدالتِ عالیہ میں چیلنج کیا جا سکے گا۔

(۶) عدالتی عمل اور احتساب

حکومت کے تمام عمال دستور کے تابع رہتے ہوئے اسلامی نظامِ انصاف کے پابند ہوں گے اور شریعت کے مطابق عدالتی احتساب سے بالاتر نہیں ہوں گے۔

(۷) علماء کو جج اور معاونینِ عدالت مقرر کیا جا سکے گا

(۱) ایسے تجربہ کار اور مستند علماء جو اس قانون کے تحت مفتی مقرر کیے جانے کے اہل ہوں، عدالتوں کے ججوں اور معاونینِ عدالت کے طور پر مقرر کیے جانے کے بھی اہل ہوں گے۔
(۲) ایسے اشخاص جو پاکستان یا بیرون ملک اس مقصد کے لیے متعلقہ حکومت کے تسلیم شدہ اسلامی علوم کے معروف اداروں اور مستند دینی مدارس سے شریعت کا راسخ علم رکھتے ہوں، فی الوقت نافذ العمل کسی دیگر قانون میں شامل کسی امر کے باوجود، شریعت کی تشریح اور تعبیر کے لیے عدالت کے سامنے اس مقصد کے لیے وضع کیے جانے والے قواعد کے مطابق پیش ہونے کے اہل ہوں گے۔
(۳) صدر، چیف جسٹس عدالتِ عالیہ کے مشورے سے ذیلی دفعہ (۱) کی غرض کے لیے قواعد مرتب کرے گا، جن میں ججوں اور عدالتوں میں معاونینِ عدالت کی حیثیت سے تقرر کے لیے مطلوبہ اہلیت اور تجربہ کی وضاحت ہو گی۔
(۴) ایسے اشخاص جو بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد یا کسی دیگر یونیورسٹی سے قانون اور شریعت میں گریجویٹ یا پوسٹ گریجویٹ ڈگریاں رکھتے ہوں، فی الوقت نافذ العمل کسی دیگر قانون میں شامل کسی امر کے باوجود، اس غرض کے لیے حکومت کے وضع کردہ قواعد کے مطابق ایڈووکیٹ کی حیثیت سے اندراج کے اہل ہوں گے۔
(۵) اس دفعہ کے احکام کسی طور پر بھی قانون پیشہ اشخاص اور مجالسِ وکلاء سے متعلق قانون کے تحت اندراج شدہ وکلاء کے مختلف عدالتوں، ٹربیونلوں اور دیگر مقتدرات بشمول عدالتِ عظمٰی، کسی عدالتِ عالیہ، یا وفاقی شرعی عدالت میں پیش ہونے کے حق پر اثر انداز نہیں ہوں گے۔ 

(۸) مفتیوں کا تقرر

(۱) صدر، چیف جسٹس پاکستان یا چیف جسٹس وفاقی عدالت اور چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل کے مشورہ سے، جس طرح وہ مناسب تصور کرے، ایسے اور اتنے مفتیوں کا تقرر کرے گا جو عدالتِ عظمٰی، عدالتِ عالیہ، اور وفاقی شرعی عدالت کی شریعت کے احکام کی تعبیر و تشریح میں اعانت کے لیے مطلوب ہوں۔
(۲) ذیلی دفعہ (۱) کے تحت مقرر کردہ کوئی مفتی صدر کی رضامندی کے دوران اپنے عہدہ پر فائز رہے گا اور اس کا عہدہ فی الوقت کسی نائب اٹارنی جنرل برائے پاکستان کے برابر ہو گا۔
(۳) مفتی کا یہ فرض ہو گا کہ وہ حکومت کو ایسے قانونی امور کے بارے میں، جن پر شریعت کی تشریح و تعبیر درکار ہو، مشورہ دے۔ اور ایسے دیگر فرائض انجام دے جو حکومت کی طرف سے اس کے سپرد یا اس کو تفویض کیے جائیں۔ اور اسے حق حاصل ہو گا کہ اپنے فرائض کی بجا آوری میں عدالتِ عظمٰی اور عدالتِ عالیہ میں، جب کہ وہ اس قانون کے تحت اختیارِ سماعت استعمال کر رہی ہوں، اور وفاقی شرعی عدالت میں سماعت کے لیے پیش ہو۔
(۴) کوئی مفتی کسی فریق کی وکالت نہیں کرے گا بلکہ کارروائی سے متعلق اپنی دانست کے مطابق شریعت کے حکم بیان کرے گا، اس کی توضیح، تشریح و تعبیر کرے گا، اور شریعت کی تشریح کے بارے میں اپنا تحریری بیان عدالت میں پیش کرے گا۔
(۵) حکومتِ پاکستان کی وزارتِ قانون و انصاف مفتیوں کے بارے میں انتظامی امور کی ذمہ دار ہو گی۔

(۹) شریعت کی تدریس و تربیت

(۱) مملکت، اسلامی قانون کے مختلف شعبوں میں تعلیم و تربیت کے لیے مؤثر انتظامات کرے گی تاکہ شریعت کے مطابق نظامِ عدل کے لیے تربیت یافتہ افراد دستیاب ہو سکیں۔
(۲) مملکت، ماتحت عدلیہ کے ارکان کے لیے وفاقی جوڈیشنل اکادمی اسلام آباد اور اس طرح کے دیگر اداروں میں مسلّمہ  مکاتبِ فکر کے فقہ اور اصولِ فقہ کی تدریس و تربیت، نیز باقاعدہ وقفوں سے تجدیدی پروگراموں کے انعقاد کے لیے مؤثر انتظامات کرے گی۔
(۳) مملکت، پاکستان کے لاء کالجوں میں مسلّمہ مکاتبِ فکر کے فقہ اور اصولِ فقہ کے جامع اسباق کو نصاب میں شامل کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔

(۱۰) معیشت کو اسلامی بنانا

(۱) مملکت اس امر کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرے گی کہ پاکستان کے معاشی نظام کی تعمیر اجتماعی عدل کے اسلامی معاشی اصولوں، اقدار اور ترجیحات کی بنیاد پر کی جائے۔ اور دولت کمانے کے ان تمام ذرائع پر پابندی ہو جو خلافِ شریعت ہیں۔
(۲) صدر، اس قانون کے آغازِ نفاذ کے ساٹھ دن کے اندر ایک مستقل کمیشن مقرر کرے گا جو  ماہرینِ معاشیات، علماء اور منتخب نمائندگانِ پارلیمنٹ پر مشتمل ہو گا جن کو وہ موزوں تصور کرے، اور ان میں سے ایک کو اس کا چیئرمین مقرر کرے گا۔
(۳) کمیشن کے چیئرمین کو حسبِ ضرورت مشیر مقرر کرنے کا اختیار ہو گا۔
(۴) کمیشن کے کارہائے منصبی حسبِ ذیل ہوں گے:
(الف) معیشت کو اسلامی بنانے کے عمل کی نگرانی کرنا اور عدمِ تعمیل کے معاملات وفاقی حکومت کے علم میں لانا۔
(ب) کسی مالیاتی قانون، یا محصولات اور فیسوں کے عائد کرنے اور وصول کرنے سے متعلق کسی قانونی یا بنکاری اور بیمہ کے عمل اور طریقہ کار کو اسلام سے ہم آہنگ کرنے کے لیے سفارش کرنا۔
(ج) دستور کے آرٹیکل ۳۸ کی روشنی میں عوام کی سماجی اور معاشی فلاح و بہبود کے حصول کے لیے پاکستان کے معاشی نظام میں تبدیلیوں کی سفارش کرنا، اور
(د) ایسے طریقے اور اقدامات تجویز کرنا جن میں ایسے موزوں متبادلات شامل ہوں جن کے ذریعے وہ نظامِ معیشت نافذ کیا جا سکے جسے اسلام نے پیش کیا ہے۔
(۵) کمیشن کی سفارش پر مشتمل ایک جامع رپورٹ اس کے تقرر کی تاریخ سے ایک سال کی مدت کے اندر وفاقی حکومت کو پیش کی جائے گی اور اس کے بعد کمیشن حسبِ ضرورت وقتاً فوقتاً اپنی رپورٹیں پیش کرتا رہے گا، البتہ سال میں کم از کم ایک رپورٹ پیش کرنا لازمی ہو گا۔ کمیشن کی رپورٹ حکومت کو موصول ہونے کے ۳ ماہ کے اندر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں اور تمام صوبائی اسمبلیوں کے سامنے بحث کے لیے پیش کی جائے گی۔
(۶) کمیشن کو ہر لحاظ سے، جس طرح وہ مناسب تصور کرے، اپنی کارروائی کے انصرام اور اپنے طریقہ کار کے انضباط کا اختیار ہو گا۔
(۷) جملہ انتظامی مقتدرات، ادارے اور مقامی حکام کمیشن کی اعانت کریں گے۔
(۸) وزارتِ خزانہ حکومتِ پاکستان اس کمیشن سے متعلق انتظامی امور کی ذمہ دار ہو گی۔

(۱۱) ذرائع ابلاغِ عامہ اسلامی اقدار کو فروغ دیں گے

مملکت کی یہ ذمہ داری ہو گی کہ وہ ایسے مؤثر اقدام کرے جن کے ذریعے ذرائع ابلاغِ عامہ سے اسلامی اقدار کو فروغ ملے، نیز نشر و ابلاغ کے ہر ذریعہ سے خلافِ شریعت پروگرام، فحاشی اور منکرات کی اشاعت پر پابندی ہو گی۔

(۱۲) تعلیم کو اسلامی بنانا

(۱) مملکت اسلامی معاشرہ کی حیثیت سے جامع اور متوازن ترقی کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی تاکہ اس امر کو یقینی بنایا جا سکے کہ پاکستان کے نظامِ تعلیم و تدریس کی اساس اسلامی اقدار پر ہو۔
(۲) صدر مملکت اس قانون کے آغازِ نفاذ سے ساٹھ دن کے اندر تعلیم اور ذرائع ابلاغ کو اسلامی سانچہ میں ڈھالنے کے لیے ایک کمیشن مقرر کرے گا جو ماہرینِ تعلیم، ماہرینِ ابلاغِ عامہ، علماء اور منتخب نمائندگانِ پارلیمنٹ پر مشتمل ہو گا، جن کو وہ موزوں تصور کرے، اور ان میں سے ایک کو اس کا چیئرمین مقرر کرے گا۔ 
(۳) کمیشن کے چیئرمین کو حسبِ ضرورت مشیر مقرر کرنے کا اختیار ہو گا۔
(۴) کمیشن کے کارہائے منصبی یہ ہوں گی:
(الف) دفعہ ۱۱ اور اس دفعہ کی ذیلی دفعہ (۱) میں متذکرہ مقصد کے حصول کے لیے پاکستان کے تعلیمی نظام اور ذرائع ابلاغ کا جائزہ لے اور اس بارے میں سفارشات پیش کرے۔
(ب) تعلیم اور ذرائع ابلاغ کو اسلام کے مطابق ڈھالنے کے عمل کی نگرانی کرے اور عدمِ تعمیل کے معاملات وفاقی حکومت کے علم میں لائے۔
(۵) کمیشن کی سفارشات پر مشتمل ایک جامع رپورٹ اس کے تقرر کی تاریخ سے ایک سال کی مدت کے اندر وفاقی حکومت کو پیش کی جائے گی اور اس کے بعد کمیشن حسبِ ضرورت وقتاً فوقتاً اپنی رپورٹیں پیش کرتا رہے گا۔ البتہ سال میں کم از کم ایک رپورٹ پیش کرنا لازمی ہو گا۔ کمیشن کی رپورٹ حکومت کو موصول ہونے کے تین ماہ کے اندر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں اور تمام صوبائی اسمبلیوں کے سامنے بحث کے لیے پیش کی جائے گی۔
(۶) کمیشن کو ہر لحاظ سے، جس طرح وہ مناسب تصور کرے، اپنی کارروائی کے انصرام اور اپنے طریقہ کار کے انضباط کا اختیار ہو گا۔
(۷) جملہ انتظامی مقتدرات، ادارے اور مقامی حکام کمیشن کی اعانت کریں گے۔
(۸) وزارتِ تعلیم حکومتِ پاکستان اس کمیشن سے متعلق انتظامی امور کی ذمہ دار ہو گی۔

(۱۳) عمّالِ حکومت کے لیے شریعت کی پابندی

انتظامیہ، عدلیہ اور مقننہ کے تمام مسلمان ارکان کے لیے فرائضِ شریعت کی پابندی اور کبائر سے اجتناب لازم ہو گا۔

(۱۴) قوانین کی تعبیر شریعت کی روشنی میں کی جائے گی

اس قانون کی غرض کے لیے
(اول) قانونِ موضوعہ کی تشریح و تعبیر کرتے وقت، اگر ایک سے زیادہ تشریحات اور تعبیرات ممکن ہوں، تو عدالت کی طرف سے اس تشریح و تعبیر کو اختیار کیا جائے گا جو اسلامی اصولوں اور فقہی قواعد و ضوابط اور اصولِ ترجیح کے مطابق ہو، اور
(دوم) جب کہ دو اور دو سے زیادہ تشریحات و تعبیرات مساوی طور پر ممکن ہوں تو عدالت کی طرف سے اس تشریح و تعبیر کو اختیار کیا جائے گا جو اسلامی احکام اور دستور میں بیان کردہ حکمتِ عملی کے اصولوں کو فروغ دے۔

(۱۵) بین الاقوامی مالی ذمہ داریوں کا تسلسل

اس قانون کے احکام یا اس کے تحت دیے گئے کسی فیصلے کے باوجود اس قانون کے نفاذ سے پہلے کسی قومی ادارے اور بیرونی ایجنسی کے درمیان عائد کردہ مالی ذمہ داریاں اور کیے گئے معاہدے مؤثر، لازم اور قابل عمل رہیں گے۔
تشریح: اس دفعہ میں ’’قومی ادارے‘‘ کے الفاظ میں وفاقی حکومت یا کوئی صوبائی حکومت، کوئی قانونی کارپوریشن، کمپنی، ادارہ، تجارتی ادارہ اور پاکستان میں کوئی شخص شامل ہوں گے۔ اور ’’بیرونی ایجنسی‘‘ کے الفاظ میں کوئی بیرونی حکومت، کوئی بیرونی مالی ادارہ، بیرونی سرمایہ منڈی بشمول بینک، اور کوئی بھی قرض دینے والی بیرونی ایجنسی بشمول کسی شخص کے شامل ہوں گے۔

(۱۶) موجودہ ذمہ داریوں کی تکمیل

اس قانون میں شامل کوئی امر یا اس کے تحت کوئی دیا گیا فیصلہ کسی عائد کردہ مالی ذمہ داری کی باضابطگی پر اثر انداز نہیں ہو گا، بشمول ان ذمہ داریوں کے جو وفاقی حکومت یا کسی صوبائی حکومت یا کسی مالی یا قانونی کارپوریشن یا دیگر ادارے نے کسی دستاویزات کے تحت واجب کی ہوں یا اس کی طرف سے کی گئی ہوں، خواہ وہ معاہداتی ہوں یا بصورتِ دیگر ہوں، یا ادائیگی کے وعدے کے تحت ہوں۔ اور یہ تمام ذمہ داریاں، وعدے اور مالی پابندیاں قابلِ عمل، لازم اور مؤثر رہیں گی۔

(۱۷) قواعد

متعلقہ حکومت سرکاری جریدے میں اعلان کے ذریعے اس قانون کی اغراض کی بجاآوری کے لیے وضع کر سکے گی۔

شاہ ولی اللہ یونیورسٹی — رپورٹ، پروگرام، عزائم

ادارہ

گوجرانوالہ میں شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کے نام سے پرائیویٹ اسلامی یونیورسٹی کے قیام کا منصوبہ جو کچھ عرصہ پہلے تک محض ایک خواب نظر آتا تھا اب جمعیۃ اہل السنۃ کے باہمت راہنماؤں کی مسلسل محنت اور تگ و دو کے نتیجہ میں زندہ حقیقت کا روپ اختیار کر رہا ہے اور ’’شاہ ولی اللہ یونیورسٹی‘‘ کے لیے  نہ صرف جی ٹی روڈ پر گوجرانوالہ سے لاہور کی جانب اٹاوہ کے پاس دو سو ساٹھ کنال جگہ حاصل کر لی گئی ہے بلکہ اس پر تعمیر کا کام بھی شروع ہو چکا ہے۔ یہ ساری زمین قیمتاً خریدی گئی ہے اور اب تک زمین کی خریداری اور دیگر تعمیری و انتظامی اخراجات پر چالیس لاکھ روپے کے قریب رقم خرچ ہو چکی ہے جو گوجرانوالہ کے مخیر مسلمانوں کے تعاون سے حاصل ہوئی ہے۔
پرائیویٹ اسلامی یونیورسٹی قائم کرنے کا خیال سب سے پہلے جمعیۃ اہل السنۃ والجماعۃ گوجرانوالہ کے صدر الحاج میاں رفیق کے ذہن میں آیا جو شہر کے معروف صنعتکار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک ملک کے انتظامی اور عدالتی شعبوں میں اسلامی تعلیم و تربیت سے بہرہ ور افراد کلیدی عہدوں پر نہیں آئیں گے اس وقت تک نہ تو موجودہ نظام کی اصلاح ہو سکتی ہے اور نہ ہی اسلامی قوانین و اقدار کے نفاذ کی طرف کوئی عملی پیشرفت ممکن ہے، اس لیے ہمیں سکولوں، کالجوں اور دینی مدارس کے روایتی انداز سے ہٹ کر ایک ایسے نظامِ تعلیم کی بنیاد رکھنی چاہیئے جس کے ذریعے ایک طرف نئی نسل کو معیاری جدید تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ اسلامی تعلیم و تربیت سے آراستہ کیا جائے، اور دوسری طرف دینی مدارس کے فارغ التحصیل علماء کو جدید علوم اور ضروریات سے اس حد تک بہرہ ور کر دیا جائے کہ وہ ملک کے اجتماعی نظام میں بھی مؤثر طور پر  شریک ہو سکیں۔
میاں صاحب نے آج سے پانچ سال قبل اپنے رفقاء کے سامنے یہ تجویز پیش کی جسے قبول کر لیا گیا۔ شہر کی بزرگ علمی شخصیات شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر اور مولانا صوفی عبد الحمید سواتی کے سامنے تجویز رکھی گئی، انہوں نے بھی اسے پسند کیا اور اپنے بھرپور تعاون اور سرپرستی کا یقین دلایا۔ یونیورسٹی کے لیے مختلف نام سامنے آئے اور برصغیر پاک و ہند کے عظیم مفکر شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے نام پر اس تعلیمی ادارہ کا نام ’’شاہ ولی اللہ یونیورسٹی‘‘ تجویز کر لیا گیا۔ اس کے لیے جی ٹی روڈ پر لاہور کی جانب قلعہ چند بائیپاس چوک سے دو فرلانگ آگے ریلوے لائن کے ساتھ اٹاوہ میں تھوڑی تھوڑی کر کے بتدریج زمین خریدی گئی جو اب ساڑھے بتیس ایکڑ یعنی دو سو ساٹھ کنال ہو چکی ہے۔
شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کے تعلیمی نصاب اور نظام کی ترتیب کے لیے ممتاز علماء، وکلاء اور پروفیسر صاحبان پر مشتمل ’’تعلیمی کمیٹی‘‘ کام کر رہی ہے جس کے سربراہ مولانا زاہد الراشدی ہیں اور مولانا مفتی محمد عیسٰی، پروفیسر میاں محمد اکرم، پروفیسر غلام رسول عدیم، ڈاکٹر محمد اقبال لون، پروفیسر عبد الرحیم ریحانی، پروفیسر حافظ عبید اللہ عابد، قاری گلزار احمد قاسمی، مفتی فخر الدین عثمانی، ارشد میر ایڈووکیٹ اور میاں محمد عارف ایڈووکیٹ شامل ہیں۔ تعلیمی کمیٹی نے نظام اور نصاب کا جو خاکہ بنایا ہے اس کے مطابق مندرجہ ذیل شعبے رکھے گئے ہیں:
  • تعلیمی کام کا آغاز کالج سے کیا جائے گا جس میں میٹرک پاس طلبہ لیے جائیں گے اور انہیں چار سال میں بی اے کا مروجہ نصاب پڑھایا جائے گا۔ اس نصاب میں عربی اور اسلامیات کا کورس ازسرنو مرتب کیا جائے گا اور تمام تر نظام اقامتی ہو گا یعنی طلبہ کو ۲۴ گھنٹے یونیورسٹی میں رہنا ہو گا۔ اس ضمن میں تعلیمی کمیٹی کا ہدف یہ ہے کہ طالب علم چار سال میں اچھے نمبروں کے ساتھ بی اے پاس کرنے کے علاوہ عربی اور اسلامیات میں اس قدر مہارت حاصل کر لے کہ قرآن و سنت سے براہ راست استفادہ کی صلاحیت اس میں پیدا ہو جائے اور اس کے ساتھ ایسا تربیتی نظام رکھا جائے کہ وہ ایک سچا، با اخلاق اور با کردار مسلمان ثابت ہو۔
  • دینی مدارس کے طلبہ کے لیے دو شعبے رکھے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ دینی مدارس کے فارغ التحصیل علماء میں سے جو عمر اور ذہانت کے مطلوبہ معیار پر پورے اترتے ہوں انہیں پانچ سالہ کورس کے ذریعے مقابلہ کے امتحان کے لیے تیار کیا جائے گا تاکہ وہ سول سوروسز میں جا سکیں۔ اور جو فضلاء اس معیار پر پورے نہ اترتے ہوں انہیں انگریزی، تاریخ، پبلک ڈیلنگ اور دوسری ضروریات پر  مشتمل دو سالہ کورس کرا کے کسی ایک مضمون میں ایم اے کا امتحان دلایا جائے گا۔
  • گریجویٹ طلبہ کے لیے مختلف مضامین میں ایم اے کے امتحان کی تیاری کا اہتمام کیا جائے گا۔
  • فقہ، حدیث، تفسیر، تاریخ، ادب، عربی اور دیگر مضامین میں تخصص (سپیشلائزیشن) کی کلاسیں شروع کی جائیں گی۔
  • تاجروں، وکلاء اور ملازمت پیشہ طبقات کے لیے ان کی سہولت کے مطابق خصوصی اسلامی کورسز کا اہتمام کیا جائے گا۔
  • جب تک ’’شاہ ولی اللہ یونیورسٹی‘‘ کی اپنی اسناد ملکی اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم نہیں ہو جاتیں اس وقت تک امتحانات مروجہ سسٹم کے مطابق بورڈ اور پنجاب یونیورسٹی کے ذریعے دلوائے جائیں گے اور اسناد منظور ہو جانے کے بعد نیا  نظام وضع کیا جائے گا۔

یونیورسٹی کی تعمیر کے لیے آرکیٹیکٹس کی معروف فرم ’’سلیم ایسوسی ایٹس قرطبہ چوک لاہور‘‘ کے ساتھ باقاعدہ معاہدہ طے پا گیا ہے اور فرم نے یونیورسٹی کا ماسٹر پلان مرتب کر دیا ہے جس کے مطابق ایک انتظامی بلاک، چھ تعلیمی بلاک، دو ہوسٹل، ایک مسجد، تین اسٹاف کالونیاں، دو آڈیٹوریم، ایک بڑی لائبریری اور دیگر ضروریات کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ تمام تعلیمی بلاک دو منزلہ ہوں گے اور ہر بلاک میں اٹھارہ کلاس رومز اور اساتذہ کے پندرہ کمرے ہوں گے۔

اس وقت تک اٹاوہ ریلوے کراسنگ سے یونیورسٹی تک پختہ سڑک تعمیر ہو چکی ہے جس کے لیے ضلع کونسل کے چیئرمین رانا نذیر احمد ایم این اے نے خصوصی منظوری دی ہے اور آفس بلاک کی تعمیر بھی مکمل ہو گئی ہے جس میں ایک آفس، ایک میٹنگ روم اور تعمیری سامان کے دو گودام شامل ہیں۔ جبکہ پہلے تعلیمی بلاک کی بنیادوں کی کھدائی مکمل ہونے کے بعد بھرائی کا کام جاری ہے۔ آرکیٹیکٹ کے بتائے ہوئے اندازے کے مطابق ایک بلاک پر کم و بیش ستر لاکھ روپے خرچ ہوں گے اور ایک سال میں اس کی تعمیر مکمل ہو گی۔ جبکہ انتظامیہ کا پروگرام یہ ہے کہ سالِ رواں کے اختتام تک بلاک کی تعمیر مکمل کر کے جنوری ۱۹۹۱ء سے ایف اے کی کلاسوں کا باقاعدہ آغاز کر دیا  جائے گا، ان شاء اللہ العزیز۔

انتظامیہ نے یونیورسٹی کے تمام اخراجات اصحابِ خیر کے تعاون سے پورے کرنے کا عزم کر رکھا ہے اور بطور پالیسی یہ بات طے کر لی گئی ہے کہ کسی قسم کی سرکاری گرانٹ حاصل نہیں کی جائے گی، البتہ نصاب کی بہتری اور اسناد کی منظوری جیسے ضروری امور کے لیے حکومتی محکموں کا تعاون حسب ضرورت حاصل کیا جائے گا۔

گوجرانوالہ کے اصحابِ خیر کی دلچسپی اور تعاون حوصلہ افزا ہے اور نہ صرف یہ کہ اب تک خرچ ہونے والے چالیس لاکھ روپے کی کم و بیش ساری رقم گوجرانوالہ کے اصحابِ خیر نے فراہم کی ہے بلکہ آئندہ سال کے بجٹ کے لیے رمضان المبارک کے دوران انتظامیہ کے سرکردہ حضرات نے شہر کا دورہ کیا تو گوجرانوالہ کے زندہ دل شہریوں نے بھرپور تعاون کا اظہار کیا۔ مختلف حضرات نے تعلیمی بلاک میں اپنی طرف سے ایک ایک کمرہ بنانے کا وعدہ کیا ہے جبکہ کلاس روم کی تعمیر کا تخمینہ نوے ہزار روپے اور چھوٹے کمرہ کا تخمینہ پینتالیس ہزار روپے لگایا گیا ہے۔ بعض حلقوں نے یونیورسٹی میں مسجد کی تعمیر کا وعدہ کیا ہے جو آٹھ کنال کے رقبہ میں تعمیر کی جا رہی ہے اور بیشتر حضرات نے نقد فنڈ کی صورت میں معقول حصہ ڈالا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ایک بلاک کی تعمیر کے اخراجات میں سے نصف کا ٹارگٹ حاصل ہو چکا ہے اور بقیہ کے لیے مہم جاری ہے۔

یونیورسٹی کے انتظامات کے لیے ایک باقاعدہ ٹرسٹ بنایا جا رہا ہے۔ اس کی تشکیل کے لیے مختلف ٹرسٹ اداروں کے قواعد و ضوابط حاصل کیے گئے ہیں جن کی روشنی میں ’’شاہ ولی اللہ یونیورسٹی ٹرسٹ‘‘ کے اصول اور قواعد و ضوابط مرتب کیے جا رہے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ سالِ رواں کے اختتام تک ٹرسٹ کی باقاعدہ تشکیل مکمل ہو جائے گی۔

یونیورسٹی کا نظریاتی تعلق اہل السنۃ والجماعۃ سے ہے اور اس کے تمام مذہبی معاملات شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ اور ان کے عظیم علمی خاندان کی تعلیمات کی روشنی میں طے ہوں گے۔ اس کے علاوہ یونیورسٹی پر کسی فرقہ یا مذہبی مکتب فکر کی چھاپ نہیں ہو گی اور ’’شاہ ولی اللہ یونیورسٹی‘‘ فرقہ بندی کی مروجہ حدود سے بالاتر ہو کر قرآن و سنت، ائمہ اہل سنت اور خانوادۂ ولی اللّٰہی کی تعلیمات کی روشنی میں علمی اور دینی خدمت سرانجام دے گی۔

اس مہم میں جو حضرات پیش پیش ہیں ان میں سے مولانا زاہد الراشدی، الحاج میں محمد رفیق، میاں محمد عارف، بابو محمد شمیم، میر ریاض انجم، شیخ محمد یوسف وزیرآبادی، جناب ایس اے حمید، جناب عبد القادر پھلرواں، حاجی محمد رفیق، حاجی شیخ محمد صدیق، جناب علاء الدین، جناب شریف بیگ، میاں محمد اکرم، جناب محمد مشتاق، شیخ محمد اشرف، شیخ محمد ابراہیم طاہر، حاجی شیخ محمد یعقوب، شیخ شکیل احمد، پروفیسر غلام رسول عدیم، ڈاکٹر محمد اقبال لون، پروفیسر عبد الرحیم ریحانی اور حافظ عبید اللہ عابد بطور خاص قابل ذکر ہیں۔ جبکہ مولانا محمد سرفراز خان صفدر اور مولانا عبد الحمید سواتی بھرپور طریقے سے اس کی سرپرستی کر رہے ہیں۔ دونوں بزرگ کئی بار اٹاوہ تشریف لے جا چکے ہیں اور یونیورسٹی کے ابتدائی تعمیری کام کا آغاز بھی دونوں بزرگوں کی موجودگی میں ان کی دعاؤں کے ساتھ ہوا تھا۔ گذشتہ دنوں یونیورسٹی کے رفقاء کی ایک تقریب بھی شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر کی صدارت میں یونیورسٹی کی گراؤنڈ میں منعقد ہو چکی ہے جس سے خطاب کرتے ہوئے حضرت شیخ الحدیث نے اس بات پر بطور خاص زور دیا کہ علماء کرام کے لیے انگریزی زبان اور جدید علوم سے واقفیت ازحد ضروری ہے۔ انہوں نے اپنے دورۂ برطانیہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مجھے وہاں جا کر اس کا احساس ہوا کہ اگر میں انگریزی زبان سے واقف ہوتا تو کہیں بہتر طریقہ سے اسلام کی خدمت کر سکتا تھا۔

شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کے سائٹ آفس کے افتتاح کے موقع پر مکہ مکرمہ کے ممتاز عالم دین اور حرم پاک کے مدرس فضیلۃ الشیخ مولانا محمد مکی حجازی بھی تشریف لائے تھے اور دعا کے ساتھ یونیورسٹی کے سائٹ آفس کا افتتاح کیا تھا۔ اس موقع پر مولانا محمد مکی حجازی نے اس عظیم تعلیمی منصوبے کو سراہتے ہوئے کہا کہ عالم اسلام کے ایک عظیم مجدد اور مصلح امام ولی اللہ دہلویؒ سے منسوب یہ تعلیمی ادارہ ملتِ اسلامیہ میں ایک نئے فکری اور علمی انقلاب کا ذریعہ بنے گا۔

جمعیۃ اہل السنۃ کے سیکرٹری جنرل شیخ محمد اشرف نے ایک ملاقات میں یہ تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ امام کعبہ فضیلۃ الشیخ عبد اللہ السبیل مدظلہ تشریف لائیں اور اپنے دستِ مبارک سے یونیورسٹی کے کسی تعلیمی بلاک کا سنگِ بنیاد رکھیں۔ ان سے ہمارا رابطہ قائم ہے اور ان شاء اللہ العزیز بہت جلد ہم ان کی تشریف آوری پر میزبانی کی سعادت حاصل کر سکیں گے۔ صدر انتظامیہ الحاج میاں محمد رفیق اور سیکرٹری جنرل شیخ محمد اشرف نے شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کے لیے زمین کی خریداری اور تعمیری اخراجات کے سلسلہ میں حوصلہ افزا تعاون پر گوجرانوالہ کے شہریوں کا شکریہ ادا کیا ہے اور ان سے اپیل کی ہے کہ وہ اس تعاون کی رفتار میں اور اضافہ کریں اور مزید جوش و خروش کے ساتھ اس مہم میں شریک ہوں تاکہ ہم پروگرام کے مطابق پہلے تعلیمی بلاک کی تعمیر مکمل کر کے جنوری ۱۹۹۱ء سے ایف اے کی کلاسوں کا آغاز کر سکیں۔ 

امام المحدثین والفقہاء حضرت مولانا ابوحنیفہ نعمان بن ثابتؒ

الاستاذ محمد امین درانی

امام صاحبؒ کے پوتے عمر بن حماد بن ابی حنیفہؒ کے قول کے مطابق امام صاحبؒ کا نسب یوں ہے: ابوحنیفہ نعمان بن ثابت بن زوطی۔ زوطی اہلِ کابل سے تھے۔ انہوں نے کابل سے کوفہ ہجرت کی اور وہیں آباد ہو گئے۔ ان کے والد بزرگوار ’’ثابتؒ‘‘ پیدائشی مسلمان تھے۔ ثابتؒ کی ملاقات حضرت علی بن ابی طالبؓ سے کوفہ میں ہوئی تھی جب ثابتؓ کو ان کے والد زوطیؒ حضرت علیؓ کی خدمت میں لے گئے تھے، انہوں نے آپ کے لیے دعا کی۔
دوسری روایت آپ کے دوسرے پوتے اسماعیل بن حماد بن ابی حنیفہ سے ہے۔ ان کے قول کے مطابق امام ابو حنیفہ، نعمان بن ثابت بن نعمان بن المدزبان ہیں اور وہ فارس (ایران) کے رہنے والے تھے۔ وہاں سے ان کے دادا نے کوفہ ہجرت کی اور وہیں آباد ہوئے۔ (اخبار ابی حنیفہ و اصحابہ للصمیری)
ان دونوں اقوال میں تطبیق ایسی ہے کہ ’’زوطی‘‘ نعمان بن المدزبان کا لقب ہے۔ اس زمانے میں کابل پر اہلِ فارس حکمران تھے۔ کابل، فارس (ایران) کا محکوم علاقہ تھا تو کابل کو فارس میں شمار کر لیا گیا۔

ولادت

اکثر ائمہ سیرت و تاریخ کے اقوال کے مطابق امام ابوحنیفہ ۸۰ھ کو کوفہ میں پیدا ہوئے۔ صرف ائمہ حدیث میں محدث الحسن الخلال نے مشہور محدث زواد بن علیہ سے روایت کی کہ امام ابوحنیفہ ۶۱ھ کو پیدا ہوئے اور ۱۵۰ھ کو وفات پائی۔ تاریخِ وفات میں کوئی اختلاف نہیں سب کے نزدیک ۱۵۰ھ ہے، جس سال امام شافعیؒ کی ولادت ہوئی (مقدمہ جامع المسانید ص   ۲۱ ۔۔۔) دونوں روایتوں کے مطابق وہ قرنِ اول کے آخر میں پیدا ہوئے جو صحابہ کرامؓ کا زمانہ ہے۔ انہوں نے تدریسِ اسلام (تدریسِ حدیث و فقہ) قرنِ ثانی (دوسری صدی) میں کی جو تابعینؒ کی صدی ہے۔ صحابہ، تابعین اور تبع تابعین کی تینوں صدیوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہترین صدیاں (خیر القرون) فرمایا اور ان لوگوں کی افضلیت اور عدالت کی شہادت دی جو ان تینوں صدیوں میں ہوں۔

صحابہؓ سے ملاقات

امام ابوحنیفہؒ کے حاسدوں نے مختلف کتابوں میں لکھا ہے کہ آپؒ کے زمانے میں چار صحابہؓ موجود تھے۔ انس ؓ بن مالک بصرہ میں، عبد اللہ ؓ بن ابی کوفہ میں، سہلؓ بن سعد مدینہ منورہ میں، اور عامر بن واثلہؓ مکہ میں، اور کسی سے نہیں ملے۔ تابعینؒ سے ان کی ملاقات ہوئی اور وہ تبع تابعین میں سے ہیں (تاریخ امام ابو زہرۃ مصری) (آخر مشکوٰۃ)
مذکورہ بالا روایت غلط ہے اور اس کے مقابلے میں امام ذہبی نے الخطیب سے بحوالہ تاریخ بغداد نقل کیا ہے کہ وہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بصرہ میں ملے اور ان سے احادیث کی روایت کی۔ امام الصمیری نے (اخبار ابی حنیفہ ص ۴۰ میں) لکھا ہے، جب امام صاحبؒ پندرہ سال کے ہوئے تو آپ نے انس ؓ بن مالک کو بصرہ میں دیکھا اور ان سے روایت کی۔ ابوداؤد الطیالسیؒ نے امام ابوحنیفہؒ سے روایت کی، ابوحنیفہؒ نے فرمایا میں ۸۰ھ کو پیدا ہوا، صحابی رسول عبد اللہ بن انیس کوفہ آئے (۹۴ھ) اور میں چودہ سال کا تھا کہ میں نے ان سے یہ حدیث لی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ’’حبک الشیئ یعص و یعصم‘‘ (کسی چیز کی محبت آپ کو اندھا اور بہرا کر دیتی ہے)۔ (ص ۲۳ مقدمہ جامع المسانید)
بشر بن الولید قاضی نے امام ابو یوسفؒ سے روایت کی کہ مجھے امام ابوحنیفہؒ نے فرمایا، میں سولہ سال کا تھا اور حج کے لیے اپنے والد بزرگوار کے ساتھ گیا اور مسجد الحرام میں صحابیٔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم عبد اللہ بن الحارث بن جزی الزبیدی کے حلقۂ درس میں بیٹھا اور ان سے یہ حدیث سنی ’’من تفقہ فی دین اللہ کفاہ اللہ ھمہ ورزقہ من حیث لا یحتسب‘‘ جو اللہ کے دین میں مہارت حاصل کریں اللہ تعالیٰ اس کی پریشانی دور کرے گا اور اس کو وہاں سے روزی دے گا جو اس کے گمان میں نہ ہو۔
ایسے اور کئی واقعات سیرۃ و تاریخ و اسماء الرجال میں اس حقیقت کی شہادت کرتے ہیں کہ مشکوۃ المصابیح کے اسماء الرجال کے آخرمیں یا ابو زہرہؒ وغیرہ نے جو لکھا ہے وہ غلط ہے اور حقیقت کے خلاف ہے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ امام ابوحنیفہؒ تابعی ہیں۔ انہوں نے صحابہ کرامؓ کو دیکھا ان سے روایت کی۔ اس حقیقت کی تائید امام ابویوسفؒ کی اس روایت سے ہوتی ہے کہ جب امام ابوحنیفہؒ کے استاد حماد بن ابی سلیمانؒ نے امام صاحب سے کہا کہ حضرت انس ؓ بن مالک کا یہی فتوٰی ہے کہ سجدۂ سہو سلام کے بعد ادا کرنا  ہے۔ اس تحقیق کے لیے امام صاحب بصرہ تشریف لے گئے اور ان سے خود ہی مسئلہ سنا (اخبار ابی حنیفہ للصمیری ص ۵)۔
ہناد بن سری محدث نے امام ابوحنیفہ کی روایت واثلہ بن الاسقع صحابیؓ سے نقل کی اور محدث یحیٰی بن معین نے ابوحنیفہ کی روایت عائشہ بنت عجرو صحابیہؓ سے نقل کی۔ یہ ساری روایات صحیح ہیں اور ان روایات سے یہ حقیقت بخوبی عیاں ہوئی کہ امام ابوحنیفہؒ یقیناً تابعی ہیں۔

ابتدائی تعلیم

امام ابوحنیفہؒ نے قرآن مجید مشہور قاری امام القراءت عاصم بن ابی النجود الکوفی سے حفظ کیا۔ یہ بچپن کا زمانہ تھا۔ امام عاصمؒ نے خود اس کی شہادت کی۔ ’’اتیتنا صغیرًا و اتیناک کبیرًا‘‘ آپ ہمارے پاس چھوٹے آتے تھے اور ہم آپ کے پاس آپ کے بڑے ہونے پر آئے۔ امام عاصمؒ نے اپنے شاگرد ابوحنیفہؒ سے بعد میں احادیث اور فقہی مسائل کی روایت کی۔ امام عاصمؒ مشہور قاری حفصؒ کے استاد ہیں جن کی قراءت کی روایت سے ہم قرآن مجید پڑھتے ہیں۔ (ص ۳۰ س ۳ مقدمہ جامع المسانید)

تعلیمِ حدیث و فقہ

امام ابوحنیفہؒ نے چار ہزار ائمہ شیوخ التابعین سے حدیث و فقہ کی تعلیم حاصل کی اور اکثر حصۂ احادیث اپنے مشہور استاد حماد بن ابی سلیمانؒ سے روایت کی جو مدرسۂ کوفہ کے شیخ الحدیث تھے۔ 
ربیع بن یونس نے روایت کی کہ امام ابوحنیفہ خلیفہ ابو جعفر منصور عباسی کی خدمت میں گئے، عیسٰی بن موسٰی نے خلیفہ منصور سے کہا کہ آج ابوحنیفہ دنیا کا عالم ہے۔ خلیفہ منصور نے پوچھا، اے نعمان! آپ نے کن سے علم کیا؟ امام نے فرمایا عمرؓ بن الخطاب، علیؓ بن ابی طالب، عبد اللہؓ بن مسعود، اور عبد اللہؓ بن عباسؓ کے ساتھیوں سے علم حاصل کیا۔ عبد اللہ بن عباسؓ اپنے وقت کےبڑے عالم تھے (وہ خلیفہ منصور کے اجداد میں سے ہیں) خلیفہ منصور نے کہا، آپ معتمد انسان ہیں آپ پر (دین میں) بھروسہ کیا جا سکتا ہے‘‘۔ (مقدمہ جامع المسانید ص ۳۰ و ص ۳۱)

تدریس

امام حمادؒ بن ابی سلیمان کی وفات کے بعد علماء عراق کے بے حد اصرار پر امام ابوحنیفہؒ نے مدرسہ کوفہ میں احادیث کی تدریس شروع کی اور قرآن و سنت سے مستنبط فقہی احکام کی تعلیم دی۔ جلیل القدر تابعین آپ سے دینی مسائل میں فتوٰی لیتے تھے اور آپ پر اعتماد کرتے تھے۔ ہزاروں لوگوں نے امام ابوحنیفہؒ سے احادیث روایت کیں جن میں چند مشہور محدثین درج ذیل ہیں: (۱) عمرو بن دینار (۲) عبد اللہ بن المبارک (۳) داود الطائی (۴) یزید بن ہارون (۵) عباد بن العوام (۶) محمد بن الحسن الشیبانی (۷) ابو یوسف یعقوب بن ابراہیم الانصاری (۸) وکیع بن الجراح (۹) ہمام بن خالد (۱۰) سفیان بن عتیبہ (۱۱) فضیل بن عیاض (۱۲) سفیان الثوری (۱۳) ابن ابی لیلی (۱۴) ابن شبرمد (۱۵) قاری حمزہ بن حبیب (۱۶) آپ کے استاد امام القراء عاصم بن ابی النجود (۱۷) امام القراء نافع بن عبد الرحمٰن المدنی جو امام مالکؒ کے استاد ہیں (۱۸) اکیلے قاری عبد اللہ بن یزید نے امام ابوحنیفہ سے نو سو احادیث کی روایت کی۔ (ص ۲۹ جامع المسانید)۔امام شافعیؒ، امام احمدؒ بن  حنبل، امام بخاریؒ، امام مسلمؒ اوردیگر ائمہؒ حدیث نے آپ کے شاگردوں اور شاگردوں کے شاگردوں سے روایت کی۰
اتنی تعداد میں جلیل القدر ائمہ حدیث کی روایت امام ابوحنیفہؒ سے اس بات کی دلیل ہے کہ امام ابوحنیفہؒ نہ صرف فقیہ بلکہ امام المحدثین ہیں اور علمِ حدیث کے متبحر اور مستند اماموں میں سے ہیں۔ اور آپ کی کتبِ حدیث، احادیث کی ۱۵ مسندیں مع کتاب الاثار، جو امام محمد اور امام ابویوسف کی الگ کتابیں ہیں، دین کی اصحب کتب ہیں اور ان کا درجہ ان کتب حدیث سے اونچا ہے جو امام ابوحنیفہؒ کے بعد مرتب ہوئیں کیونکہ یہ روایات یا تو معتمد جلیل القدر تابعین سے ہیں یا براہِ راست اصحابؓ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ہیں۔ جو دوسری کتب حدیث کے رواۃ (جو غیر تابعین اور غیر صحابہ) ہیں ان سے زیادہ معتمد زیادہ افضل اور زیادہ ثقات ہیں اور ازراہِ انصاف اس حقیقت کے مطابق قران مجید کے بعد امام ابوحنیفہؒ کی کتب حدیث اصح الکتب ہیں۔ (امام بخاریؒ گیارہویں طبقہ کے محدث ہیں جبکہ امام ابوحنیفہؒ چھٹے طبقہ کے محدث ہیں)۔اور مقدمہ ابن خلدون کے ص ۳۸۸ پر جو درج ہے کہ امام ابوحنیفہؒ نے سترہ احادیث روایت کی ہیں یہ امام ابوحنیفہؒ کے حاسدوں کی ترجمانی ہے اور غلط بیانی کی انتہا ہے۔ اسی طرح خطیب بغدادی کے اقوال جو امام ابوحنیفہؒ کے خلاف ہیں وہ تعصب پر مبنی ہیں۔

علمی مجلسِ شورٰی

امام ابوحنیفہؒ نے ہزاروں شاگردوں میں سے چالیس ائمہ منتخب کیے جو مجتہدین تھے، ان کو علمی مجلسِ شورٰی کا ممبر بنایا جس کے سیکرٹری امام ابو یوسف تھے۔ امام ابوحنیفہؒ دینی مسئلہ اس مجلس میں پیش کرتے اور اپنے ان مجتہد ائمہ شاگردوں سے وہ احادیث اور آثار سنتے تھے، اور ایک ایک مہینہ اکثر اوقات مذاکرات طویل ہوتے تھے تب ہی کوئی بات تحقیق سے ثابت ہوتی تو امام ابو یوسفؒ اس کو درج کرتے تھے۔ دینی مسائل کی تحقیق کے لیے مجلسِ شورٰی کی تاسیس امام ابوحنیفہؒ کا ایک منفرد عمل ہے جو باقی ائمہ کرامؒ کو نصیب نہیں ہوا۔ امام ابوحنیفہؒ کہا کرتے تھے لوگوں نے مجھے دوزخ کے اوپر پل بنا دیا ہے، سارا بوجھ میرے اوپر ہے، اس لیے میرے ساتھیو! میری مدد کرو۔
امام ابوحنیفہؒ بشر ہیں، اگر کبھی خطا ہو جاتی تو یہ ائمہ کبار ان کو احادیث و آثار سنا کر حق کی طرف واپس کرتے۔  انہوں نے امام ابو یوسفؒ سے کہا، کوئی بات بغیر تحقیق درج نہ کریں، بغیر تحقیق والی بات اگر آج ہے تو کل اسے چھوڑ دوں گا اور اس سے رجوع کروں گا۔ یہ حقیقت اس بات کی شاہد ہے کہ حنفی مسائل اجماعی اور سو فیصد صحیح ہیں۔

مذہب حنفی کی تاسیس

کوفہ عراق کا اہم ترین شہر ہے۔ عراق کے فتح ہونے کے بعد حضرت عمرؓ بن الخطاب خلیفۂ دوم نے صحابہ کرامؓ میں سے حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کو کوفہ میں تعلیم و تدریس اور قضاء کے لیے منتخب فرمایا اور اس کا سبب یہ تھا کہ وہ اس وقت دینِ اسلام کے بہت بڑے فقیہ تھے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ مکہ مکرمہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم تھے اور مدینہ منورہ میں وصالِ نبویؐ تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم رہے۔ انہوں نے اپنی ساری زندگی سفر اور حضر میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گزاری۔ تمام احکام آپ کے سامنے نازل ہوئے۔ ناسخ و منسوخ کا علم سب سے زیادہ آپؓ کو ہوا کیونکہ باقی اصحابِ رسول کوئی نہ کوئی کام یا کاروبار کرتے تھے جبکہ عبد اللہ بن مسعودؓ کا پیشہ صرف خدمتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ اس لیے وہ دین کے بہت بڑے عالم اور فقیہ بنے اور اس خوبی کے تحت حضرت عمر فاروقؓ نے آپ کو مدرسہ کوفہ کا پہلا معلم مقرر فرمایا۔ عہدِ فاروقی میں حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کوفہ میں درس دیا کرتے تھے۔ عہدِ عثمانی میں مدینہ منورہ میں عبد اللہ بن مسعودٌ کی کمی محسوس کی گئی تو خلیفہ سومؓ نےآپ کو وہاں بلایا، پھر مسجد نبویؐ میں درس دیتے رہے اور وفات کے بعد جنت البقیع میں دفن ہوئے۔
حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کے بعد آپ کے شاگردوں حضرت علقمہ نخعی، مسروق الہمدانی، ابی قاضی شریح، اور ان کے شاگردوں کے شاگردوں ابراہیم النخعی، عامر الشعبی، حاد بن ابی سلیمان، پھر ان کے شاگرد امام ابوحنیفہ نعمان بن ثابت رضی اللہ عنہم نے عبد اللہ بن مسعودؓ کی وہ اسلامی تعلیم لوگوں کو سکھائی جو اس جلیل القدر صحابیؓ نے اپنی ساری زندگی میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دیکھی تھی۔ اور یہی اسلامی تعلیم مذہب حنفی کے نام سے مشہور ہوئی۔ مذہب حنفی کوئی نیا مذہب نہیں بلکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ دین ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمایا۔
امام ابوحنیفہؒ، عبد اللہ بن مسعودؓ کے قائم کردہ  مدرسے میں تدریسِ حدیث اور فقہ کیا کرتے تھے اور اس علمی خدمت کے ساتھ آپ اونی اور ریشمی کپڑوں کی تجارت کرتے تھے اور تجارت کا منافع اپنے شاگردوں اور دیگر محتاجوں پر خرچ کیا کرتے تھے۔ آپ نے تدریسِ اسلام پر کوئی اجر نہیں لیا۔ امام ابوحنیفہؒ نے جن چالیس اماموں کو تدوینِ فقہ اسلامی کے لیے منتخب کیا تھا ان میں سے چار امامؒ بہت مشہور ہوئے۔

(۱) امام بو یوسف یعقوب بن ابراہیم الانصاریؒ

(ولادت ۱۱۳ھ وفات ۱۸۲ھ) جن کی مشہور کتاب ’’مسائل الخراج‘‘ ہے جس میں اسلامی ٹیکس، صدقات اور مالی مسائل مذکور ہیں۔ انہوں نے امام ابوحنیفہؒ سے کتاب الآثار اور مسند فی الحدیث کی روایت کی۔امام شافعیؒ کی کتاب الأم کی آخیر ساتویں جلد ص ۸۷ سے ص ۱۵۰ تک امام ابو یوسفؒ کے علمی اقوال درج ہیں۔ وہ بتایا کرتے تھے کہ وہ انتہائی غریب و نادار تھے اور حدیث و فقہ کے شیدائی تھے۔ ان کے والد ابراہیم الانصاریؒ نے آپ سے کہا ابو حنیفہؒ کی روٹی مرغن ہے اور آپ کو مزدوری کی ضرورت ہے، اس لیے والد کی اطاعت کی خاطر ابوحنیفہؒ کے درس سے چند روز غیر حاضر رہے۔ جب حاضر ہوئے ان سے پوچھا کیوں غیر حاضری کی؟ امام ابویوسفؒ کے بتانے پر سبق کے آخیر میں آپ کو اشارہ کر کے سو درہم کی تھیلی دی اور حاضری کی تلقین کی۔ تھوڑے دنوں کے بعد پھر سو درہم دیے اور وقفہ وقفہ سے امام ابوحنیفہؒ آپ کو سو سو درہم دیا کرتے تھے، یہاں تک کہ امام ابو یوسفؒ غنی اور مالدار ہوئے (ص ۹۲ اخبار ابی حنیفہ للصمیری)۔
امام ابو یوسفؒ کہا کرتے تھے کہ دنیا کی کوئی مجلس امام ابوحنیفہؒ اور امام ابن لیلیؒ کی مجلسوں سے مجھے زیادہ پسند نہ تھی۔ میں نے ابوحنیفہؒ سے بڑا فقیہ اور ابن ابی لیلی سے بڑا قاضی نہیں دیکھا۔ امام ابو یوسفؒ نے فرمایا، میں امام ابوحنیفہؒ کی صحبت میں سترہ سال رہا، میں نہ عید الفطر اور نہ عید الاضحٰی میں ان سے غیر حاضر رہا سوائے اس صورت میں جبکہ میں بیمار تھا۔ آپ فرماتے تھے ہر نماز اور ہر عبادت کے بعد امام ابوحنیفہؒ کے لیے دعا کرتا رہتا۔ امام حماد بن ابی حنیفہ (امام الاعظم) فرماتے ہیں کہ میرے والد (امام ابوحنیفہؒ) کے دائیں طرف امام ابو یوسفؒ اور بائیں جانب امام زفرؒ تھے۔ مسائل میں ہر ایک دوسرے کے خلاف دلائل پیش کرتے رہے۔ صبح سے ظہر تک دونوں کا مناظرہ جاری تھا، جب ظہر کے لیے مؤذن نے اذان دی امام ابوحنیفہؒ نے اپنا ہاتھ امام زفرؒ کی ران پر مارا اور فرمایا اس شہر میں سربراہی کی امید نہ کر جہاں ابو یوسف موجود ہو۔ امام ابوحنیفہؒ نے امام زفرؒ کے خلاف امام ابو یوسفؒ کے حق میں فیصلہ دیا (اخبار ابی حنیفہ للصمیری ص ۹۵)۔
امام ابو جعفرؒ طحاویؒ نے فرمایا  میں نے ۔۔۔۔۔۔۔۔ محدث علی بن الجعدؒ نے فرمایا، امام ابو یوسفؒ نے ہمیں حدیث کی روایت کی۔ اس وقت لوگوں سے مجلس بھری ہوئی تھی، ایک آدمی نے پوچھا اے ابوالحسن (ابن ابی عمران) کیا آپ کو ابو یوسفؒ یاد ہیں؟ تو محدث علی بن الجعدؒ نے فرمایا جب آپ ابو یوسفؒ کا نام لیتے ہیں تو پہلے اشنان اور گرم پانی سے منہ دھو لیں۔ پھر فرمایا خدا کی قسم میں نے ابو یوسف کی طرح کوئی شخص نہیں دیکھا۔ ابن ابی عمرانؒ فرماتے ہیں کہ محدث علی بن الجعدؒ نے سفیان ثوری، حسن بن صالح، امام مالک، ابن ابی ذیب، لیث بن سعد اور شعبہ بن الحجاج جیسے اماموں رحمۃ اللہ علیہم کو دیکھا تھا، وہ سب پر ابو یوسفؒ کو ترجیح دیتے تھے (اخبار ابی حنیفہ ص ۹۶)

(۲) امام زفر بن الہذیذ بن قیس العنبریؒ

امام ابوحنیفہؒ کے شاگرد امام حسن بن زیاد الؤلؤی نے فرمایا کہ امام اعظمؒ کے دو شاگرد امام زفرؒ اور امام داود طائی گہرے دوست تھے۔ امام داود طائی نے عبادت کی طرف زیادہ توجہ دی جبکہ امام زفرؒ نے فقہ اور عبادت دونوں کی طرف زیادہ توجہ دی۔ امام زفرؒ امام ابوحنیفہؒ کے جوتوں قریب بیٹھتے تھے جبکہ امام ابو یوسفؒ آپؒ کے دائیں جانب بیٹھا کرتے تھے۔ امام وکیع بن الجراحؒ، جو امام ابوحنیفہؒ کے شاگرد اور امام شافعیؒ کے استاد ہیں، فرمایا کرتے تھے امام زفرؒ انتہائی پرہیزگار تھے، ان کا حافظہ بہت قوی تھا۔
امام محمد بن وہبؒ فرماتے ہیں کہ امام زفرؒ ابوحنیفہؒ کے ان دس اکابر شاگردوں میں سے ہیں جنہوں نے امام ابوحنیفہؒ کی نگرانی میں کتابیں تالیف کیں۔ اہلِ بصرہ کے علماء امام ابوحنیفہؒ کے تابع اس لیے ہوئے کہ بصرہ کے لوگ امام زفرؒ کے علم سے متاثر ہوئے اور آپ کے علم کو پسند کیا۔ امام زفرؒ نے فرمایا، میں نے یہ علم امام ابوحنیفہؒ سے حاصل کیا ہے تو اہلِ بصرہ احناف بنے۔
امام وکیع بن الجراحؒ نے فرمایا کہ امام ابوحنیفہؒ کی وفات کے بعد لوگ امام زفرؒ سے پڑھتے تھے اور بہت کم امام ابو یوسفؒ کی مجلس میں ہوتے تھے۔ امام زفرؒ ۱۵۸ھ میں فوت ہوئے تو آپ کے شاگرد بھی امام ابو یوسفؒ سے پڑھنے لگے (اخبار ابی حنیفہ للصمیری ص ۱۰۶)

(۳) امام محمد بن الحسن بن فرقد الشیبانیؒ

(ولادت ۱۳۲ھ وفات ۱۸۹ھ) آپ کی کنیت ابو عبد اللہ ہے۔ جس دن امام ابوحنیفہؒ دنیا سے رحلت کر گئے امام محمدؒ اس دن اٹھارہ سالہ نوجوان تھے۔ آپ نے فقہ حنفی کی باقی تعلیم امام ابو یوسفؒ سے حاصل کی۔ اس کے بعد امام سفیانؒ ثوری اور امام اوزاعیؒ سے پڑھا۔ پھر تین سال مدینہ منورہ میں امام مالکؒ سے مزید احادیث کی تعلیم حاصل کی۔ اور جب وہ درس و تدریس کے لیے بیٹھ گئے تو بڑے ائمہ کرام نے آپ سے تعلیم حاصل کی جس میں امام محمد بن ادریس الشافعیؒ بھی ہیں۔ امام شافعیؒ فرماتے ہیں جب امام محمدؒ بات کرتے تو سننے والا یہ گمان کرتا کہ قرآن مجید امام محمدؒ کی لغت (لہجہ) میں نازل ہوا ہے۔ 
آپ نے فقہ حنفی امام اعظم ابوحنیفہؒ اور امام ابو یوسفؒ سے حاصل کی اور عراقی فقہ کے کامل مستند فقیہ بنے۔ اس کے بعد آپ نے حجازی فقہ امام مالکؒ شیخ الحجاز سے حاصل کی۔ اس کے بعد فقہ اہل الشام کی مہارت اہلِ شام کے امام اوزاعیؒ سے حاصل کی۔ آپ کی علمی خدمات کی بدولت آپ کے شاگردوں میں امام شافعیؒ جیسے لوگ پیدا ہوئے اور وہی امام شافعیؒ امام احمدؒ بن حنبل، امام داود الظاہریؒ، امام ابو جعفر طبریؒ اور امام ابو ثور بغدادیؒ کے استاد بنے۔ اس لحاظ سےمذہب شافعی اور مذہب حنبلی دونوں مذہب حنفی کی شاخیں ہیں۔ اور فقہی مسائل میں اختلاف نے اگر امام محمدؒ، امام زفرؒ اور امام ابویوسفؒ کو مذہب حنفی سے نہیں نکالا تو یہ اختلاف امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ کو حنفیت سے کیسے نکالے گا؟ امام شافعیؒ فرماتے ہیں میں نے حلال و حرام، ناسخ و منسوخ میں امام ابوحنیفہؒ سے بڑا عالم نہیں دیکھا (اخبار ابی حنیفہ للصمیری ص ۱۲۳) اور فرمایا اگر لوگ فقہاء کے بارے میں انصاف کرتے تو وہ جان لیتے کہ انہوں نے محمد بن الحسنؒ جیسا فقیہ نہیں دیکھا (اخبار ابی حنیفہ للصمیری ص ۱۲۴)۔
یاد رہے کہ امام شافعی امام مالکؒ کے شاگرد بھی رہے ہیں اور اس کے باوجود وہ امام محمدؒ کو بے مثال امام سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معروف مصری محقق محمد ابوزہرہؒ نے اپنی کتاب اصول الفقہ مبحث المجتہدین میں لکھا ہے کہ قرنِ ثانی اور قرنِ ثالث کے کئی علماء کا  یہ ہی نظریہ ہے کہ امام محمدؒ بن الحسن الشیبانی اپنے استاذ امام مالکؒ سے بڑے فقیہ تھے اور فنِ حدیث میں ان کے اوپر سبقت حاصل کی۔ امام احمد بن حنبلؒ فرمایا کرتے تھے کہ میں نے دقیق مسائل امام محمد بن الحسن الشیبانیؒ کی کتابوں سے لیے (اخبار ابی حنیفہ للصمیری ص ۱۲۵)۔
امام محمد بن الحسن الشیبانی رحمۃ اللہ علیہ نے فقہ حنفی کو عام کرنے میں اہم خدمت کی اور انہوں نے کئی کتابیں تالیف کیں۔ فقہ میں آپ کی تالیفات دو قسم کی ہیں:

(۱) ظاھرالروایۃ

جن کتابوں کو ثقہ اور معتمد علماء جو عوام میں مشہور و معروف تھے انہوں نے امام محمدؒ سے روایت کیا وہ کتب ظاہر الروایۃ یا اصول کے نام سے موسوم ہیں۔ وہ چھ کتابیں ہیں:
(۱) المبسوط (الاصل) ۔ (۲) الجامع الکبیر (۳) الجامع الصغیر (۴) کتاب السیر الکبیر (۵) کتاب السیر الصغیر (۶) الزیادات۔
یہ کتب ظاہر الروایۃ، احادیث آثار (اقوال صحابہؓ اور اقوال تابعینؒ) پر مشتمل ہیں۔ علماء امت نے مذہب حنفی کو باقی مذاہب اہل السنۃ والجماعۃ سے زیادہ صحیح پایا اور اسے اختیار کیا۔ انہوں نے ان کتابوں کے شروح لکھے اور بعض علماء نے انہیں مختصر کیا جنہیں متونِ اربعہ کہتے ہیں:
(۱) کنز الدقائق (۲) مختصر الوقایہ (۳) مختصر القدوری (۴) المختار، جس کے مصنف عبد اللہ بن محمود موصلی الحنفی ہیں۔
یہ چاروں کتب علماء اہل السنۃ والجماعۃ کے نزدیک نہایت ہی مستند ہیں اور راقم الحروف کی رائے میں آخری کتاب ’’المختار‘‘ باقی تینوں کتب سے افضل اس لیے ہے کہ وہ مسائل میں امام ابوحنیفہؒ کے قول کو ذکر کرتا ہے اور پھر خود ہی اس کتاب کی شرح ’’والاختیار لتعلیل المختار‘‘ کے نام سے لکھی اور ہر مسئلہ کے لیے قرآن و حدیث سے دلیلیں لکھیں جس سے یہ بات واضح ہو گئی کہ امام اعظمؒ کا کوئی قول بھی بغیر دلیل کے نہیں ہے، اور یہ حقیقت بھی عیاں ہوئی کہ امام ابوحنیفہؒ رائے پر عمل نہیں کرتے بلکہ قرآن و حدیث سے حاصل شدہ علم کو امام ابوحنیفہؒ نے ’’رائے‘‘ سے تعبیر کیا۔ امام ابوحنیفہؒ نے کبھی کسی صحیح حدیث کو رد نہیں کیا بلکہ ضعیف حدیث کے لیے بھی قیاس چھوڑا۔ اس کی واضح مثال یہ ہے کہ نماز میں قہقہہ (زور سے ہنسنا) از روئے قیاس ناقض وضو نہیں کیونکہ انسانی جسم سے کوئی چیز خارج نہیں ہوتی، لیکن جیسے ہی امام ابوحنیفہؒ کو حدیث پہنچی، جو نماز میں زور سے ہنسا تو وہ نماز اور وضو لوٹائے، امام ابوحنیفہؒ نے قیاس چھوڑا اور فرمایا قہقہہ سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ جبکہ امام شافعیؒ نے اس حدیث پر عمل نہیں کیا کیونکہ یہ عقل کے خلاف ہے اور قیاس سے متصادم ہے۔

(۲) نادر الروایۃ

جن کتابوں کی روایت مشہور ثقہ علماء سے نہیں ہے وہ کتابیں نادر الروایۃ کہلاتی ہیں جن میں مشہور الامالی، الکیسانیات، الرقیات، اطعارونیات، الجرجانیات اور کتاب المخارج ہیں۔
امام محمد بن الحسنؒ انتہائی خوددار انسان تھے۔ ایک دن ہارون الرشید خلیفہ عباسی کے قصرِ خلافت میں تھے، خلیفہ باہر سے آئے، امام محمدؒ کے علاوہ تمام وزراء اور اہلِ دربار کھڑے ہوئے۔ کسی درباری نے ہارون الرشید سے تذکرہ کیا، آپ امام محمدؒ سے پوچھا۔ امام محمدؒ نے جواب دیا، آپ نے مجھے عالم مان کر قاضی مقرر کیا ہے، میں علم کی توہین نہیں کرتا اس لیے کھڑا نہیں ہوا، خلیفہ خاموش ہوا۔
(۵) امام الحسن بن زیاد الؤلؤی الکوفی
(المتوفی ۲۰۴ھ) امام ابوحنیفہؒ کے شاگردوں میں ایک بڑے محدث عالم ہیں، انہوں نے امام ابوحنیفہؒ سے مسند اور دوسری کتب، کتاب المجرد، کتاب ادب القاضی، کتاب الخصال، کتاب معانی الایمان، کتاب النفقات، کتاب الخراج، الفرائض، کتاب الوصایا کی روایت کی۔ انہوں نے محدث ابن جریحؒ سے بارہ ہزار احادیث کی روایت کی۔ امام یحیٰی بن آدمؒ فرماتے ہیں میں نے الحسن بن زیادؒ سے کوئی بڑا فقیہ نہیں دیکھا۔

مذاہب اہل السنۃ والجماعۃ کی تاسیس ایک نظر میں

الاستاذ محمد امین درانی

انسانی حقوق کا اسلامی تصور

مولانا مفتی فضیل الرحمن ہلال عثمانی

انسانی طرز عمل انفرادی اور اجتماعی زندگی میں کیا ہونا چاہیئے؟ قرآن کریم اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے جواب میں زندگی کی پوری اسکیم کا عملی نقشہ ہمارے سامنے رکھ دیتے ہیں۔
  • اس اسکیم کا ایک حصہ ہماری اخلاقی تعلیم و تربیت ہے جس کے مطابق افراد کی سیرت اور ان کے کردار کو ڈھالا جاتا ہے۔
  • اس اسکیم کے مطابق ہمارا معاشرتی اور سماجی نظام تشکیل پاتا ہے جس میں مختلف قسم کے انسانی تعلقات کو منضبط کیا جاتا ہے۔
  • اس اسکیم کا ایک حصہ ہمارے معاشی اور اقتصادی نظام کی شکل میں سامنے آتا ہے جس کے مطابق ہم دولت کی پیدائش، تقسیم، تبادلے اور اس پر لوگوں کے حقوق کا تعین کرتے ہیں۔
  • اور اس اسکیم کا ایک جز ہمارا سیاسی نظام ہے جس میں اس اسکیم کو نافذ کرنے کے لیے سیاسی اقتدار کی ضرورت ہے۔

اس پوری اسکیم کا بنیادی مقصد انسانی زندگی کے نظام کو معروفات پر قائم کرنا اور منکرات سے پاک کرنا ہے۔ یہ اسکیم سوسائٹی کے پورے نظام کو اس طرز پر ڈھالتی ہے کہ

  • خدا کی بنائی ہوئی فطرت کے مطابق ایک ایک بھلائی اپنی پوری پوری صورت میں قائم ہو، ہر طرف سے اس کو پروان چڑھنے میں مدد ملے اور ہر وہ رکاوٹ جو کسی طرح اس کی راہ میں حائل ہو سکتی ہے دور کی جائے۔
  • اسی طرح فطرتِ انسانی کے خلاف ایک ایک برائی کو چن چن کر زندگی سے نکالا جائے، اس کی پیدائش اور نشوونما کے اسباب دور کیے جائیں، جدھر جدھر سے  وہ زندگی میں داخل ہو سکتی ہے اس کا راستہ بند کیا جائے، اور اس سارے انتظام کے باوجود اگر وہ سر اٹھا ہی لے تو اسے سختی سے دبا دیا جائے۔
معروف و منکر کے متعلق یہ احکام ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی کے تمام گوشوں پر پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ اسکیم ایک صالح نظامِ زندگی کا پورا نقشہ دیتی ہے اور اس غرض کے لیے فرائض اور حقوق کا ایک پورا نظام ہے، ایک مکمل نقشہ ہے۔ ایک پوری اسکیم ہے جس کا ہر حصہ دوسرے حصہ کے ساتھ اعضائے جسمانی کی طرح جڑا ہوا ہے۔ اس اسکیم کا ایک حصہ انسانی حقوق کا چارٹر ہے۔ عرب کے نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ چارٹر اس وقت پیش کیا تھا جب نہ کسی اقوامِ متحدہ کا وجود تھا اور نہ انسان مادی ترقی کی اس معراج پر پہنچا تھا جہاں آج نظر آتا ہے۔

(۱) انفرادی حقوق

(۱) مذہبی آزادی

’’دین کے معاملے میں کوئی زبردستی نہیں ہے، صحیح بات غلط خیالات سے چھانٹ کر رکھ دی گئی ہے‘‘۔ (البقرہ ۲۵۶)
’’اگر تیرے رب کی مشیت یہ ہوتی تو سارے اہل زمین ایمان لے آئے ہوتے، پھر کیا تو لوگوں کو مجبور کرے گا کہ وہ مومن ہو جائیں؟‘‘ (یونس ۹۹)
یعنی حجت اور دلیل سے ہدایت و ضلالت کا فرق کھول کر رکھ دینے کا جو حق تھا وہ تو پورا پورا ادا کر دیا گیا ہے۔ اب رہا جبری ایمان، تو یہ اللہ کو منظور نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ خود ہی انسانوں کو ایمان لانے یا نہ لانے اور اطاعت اختیار کرنے یا نہ کرنے میں آزاد رکھنا چاہتا ہے۔ 

(۲) عزت کے تحفظ کا حق

’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، نہ مرد دوسرے مرد کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔ اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔ آپس میں ایک دوسرے پر طعن نہ کرو اور نہ ایک دوسرے کو برے القاب سے یاد کرو۔ ایمان لانے کے بعد فسق میں نام پیدا کرنا بہت بری بات ہے، جو لوگ اس روش سے باز نہ آئیں وہی ظالم ہیں‘‘۔ (الحجرات ۱۱)
ایک دوسرے کی عزت پر حملہ کرنا، ایک دوسرے کی دل  آزاری، ایک دوسرے سے بدگمانی درحقیقت ایسے اسباب ہیں جن سے آپس کی عداوتیں پیدا ہوتی ہیں۔ اور پھر دوسرے اسباب سے مل کر ان سے بڑے بڑے فتنے جنم لیتے ہیں۔ اسلام ہر فرد کی بنیادی عزت کا حامی ہے جس پر حملہ کرنے کا کسی کو حق نہیں ہے۔

(۳) نجی زندگی کے تحفظ کا حق

’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، بہت گمان کرنے سے پرہیز کرو کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں، اور تجسس نہ کرو‘‘۔ (الحجرات ۱۲)
یعنی لوگوں کے دل نہ ٹٹولو، ایک دوسرے کے عیب تلاش نہ کرو، دوسروں کے حالات اور معاملات کی ٹوہ نہ لگاتے پھرو، لوگوں کے نجی خطوط پڑھنا، دو آدمیوں کی باتیں کان لگا کر سننا، ہمسایوں کے گھر میں جھانکنا، اور مختلف طریقوں سے دوسروں کی خانگی زندگی یا ان کے ذاتی معاملات کی کھوج کرنا ایک بڑی بداخلاقی ہے جس سے طرح طرح کے فساد رونما ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر انسان کو اپنی نجی زندگی کے تحفظ کا حق دیا گیا ہے اور دوسروں کو اس میں دخل اندازی سے روکا گیا ہے۔

(۴) صفائی پیش کرنے کا حق

’’تم چھپا کر ان کو دوستانہ پیغام بھیجتے ہو حالانکہ جو کچھ تم چھپا کر کرتے ہو اور جو علانیہ کرتے ہو ہر چیز کو میں بخوبی جانتا ہوں‘‘۔ (الممتحنہ ۱)
یہ اشارہ بدری صحابی حضرت حاطبؓ بن بلتعہ کی طرف ہے۔ مشرکینِ مکہ کے نام ان کا ایک خط مکہ معظمہ پر حملہ کی خبر کے بارے میں پکڑا گیا تھا۔ مگر اس سنگین جرم کے باوجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو کھلے عام اپنی صفائی پیش کرنے کا پورا پورا موقعہ دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جرم کی نوعیت خواہ کچھ بھی ہو صفائی کا موقع دیے بغیر سزا دینا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور اسلام نے انسان کے اس بنیادی حق کی پاسبانی نازک سے نازک موقعہ پر بھی کر دکھائی ہے۔

(۵) اظہارِ رائے کی آزادی

قرآن مجید کی سورہ الشورٰی کی آیت ۳۸ میں فرمایا کہ وہ اپنے معاملات آپس کے مشورہ سے چلاتے ہیں۔ دوسری جگہ سورہ آل عمران کی آیت ۱۵۹ اس طرح ہے کہ:
’’(اے پیغمبرؐ!) ان کے قصور معاف کر دو، ان کے حق میں دعائے مغفرت کرو، اور دین کے کام میں ان کو بھی شریکِ مشورہ رکھو۔ پھر جب تمہارا عزم (مشورے کے نتیجہ میں) کسی رائے پر مستحکم ہو  جائے تو اللہ پر بھروسہ کرو۔‘‘
مشاورت اسلامی طرز زندگی کا ایک اہم ستون ہے۔ مشاورت کا اصول اپنی نوعیت اور فطرت کے  لحاظ سے اس کا متقاضی ہے کہ اجتماعی معاملات جن لوگوں کے حقوق اور مفادات سے تعلق رکھتے ہیں انہیں اظہار رائے کی پوری آزادی حاصل ہو، اور مشورہ دینے والے اپنے علم، ایمان اور ضمیر کے مطابق رائے دے سکیں۔

(۲) سماجی حقوق

(۱) انسانی مساوات

’’کسی مومن مرد اور کسی مومن عورت کو یہ حق نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملہ کا فیصلہ کر دے تو پھر اسے اپنے اس معاملہ میں خود فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل رہے‘‘۔ (الاحزاب ۳۶)
یہ مذکورہ آیت اس وقت نازل ہوئی تھی جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آزاد کردہ غلام اور منہ بولے بیٹے حضرت زیدؓ کے لیے اپنی پھوپھی زاد بہن حضرت زینبؓ بنت جحش سے نکاح کا پیغام دیا تھا۔ حضرت زینبؓ کو اپنے نسلی اور خاندانی فخر کے باوجود اس حکم کے سامنے سر جھکانا پڑا اور اس طرح نسلی امتیاز کے بت کو توڑ کر انسانی مساوات کا بہترین عملی نمونہ کاشانۂ نبوت سے سماج کے سامنے پیش کیا گیا۔

(۲) اجر و ثواب میں مرد و زن کی برابری

’’جو مرد اور عورتیں اللہ کو کثرت سے یاد کرنے والے ہیں، اللہ نے ان کے لیے مغفرت اور بڑا اجر مہیا کر رکھا ہے‘‘۔ (الاحزاب ۳۵)
یہ اسلام کی وہ بنیادی قدریں ہیں جنہیں ایک فقرے میں سمیٹ دیا گیا ہے۔ ان قدروں کے لحاظ سے مرد اور عورت کے درمیان دائرۂ عمل کا فرق تو ضرور ہے مگر اجر و ثواب میں دونوں مساوی ہیں۔

(۳) والدین کے لیے حسنِ سلوک

’’ہم نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرے‘‘۔ (العنکبوت ۸)
انسان پر مخلوقات میں سے کسی کا حق سب سے بڑھ کر ہے تو  وہ اس کے ماں باپ ہیں۔ صاف ستھرے سماج کے قیام کے لیے یہ ایک اہم چیز ہے۔

(۴) انسانی جان کی حرمت

’’اور جو اللہ کی حرام کی ہوئی کسی جان کو ناحق ہلاک نہیں کرتے‘‘۔ (الفرقان ۶۸)
ایک دوسری جگہ بلا خطا کسی کی جان لینے کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا ہے۔ انسانی جان کی حرمت سماج کے ان بنیادی حقوق میں سے ہے جس کے بغیر کوئی سماج زندہ نہیں رہ سکتا۔

(۵) ازدواجی زندگی

’’اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے بیویاں بنائیں تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی‘‘۔ (الروم ۲۱)
ایک پاکیزہ سماج میں یہ ضروری ہے کہ شادی کے قابل لوگ زیادہ دیر مجرد نہ رہیں تاکہ بلاوجہ کی شہوانی لہر سماج کی فضا کو زہرآلود نہ کر سکے۔ شادی کے نتیجے میں ایک دوسرے کے لیے سکون و اطمینان کے ساتھ مؤدت و رحمت وہ بنیادی چیز ہے جو انسانی نسل کے برقرار رہنے کے علاوہ انسانی تہذیب و تمدن کے وجود میں آنے کا ذریعہ بنتی ہے۔ اس کی بدولت گھر بنتا ہے، خاندان اور قبیلے وجود میں آتے ہیں، اور اس کی بدولت انسانی زندگی میں تمدن کا نشوونما ہوتا ہے۔ اس لیے ازدواجی زندگی ایک سماجی حق بھی ہے اور اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اپنی سنت اور طریقہ قرار دے کر اس کو عبادت کا تقدس بھی بخش دیا ہے۔

(۳) سیاسی حقوق

(۱) اسلام کے سیاسی نظام کی اولین دفعہ

’’اے ایمان لانے والو! اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسولؐ کی اور ان لوگوں کی جو تم میں سے صاحبِ امر ہوں‘‘۔ (النساء ۵۹)
قرآنِ مجید کی یہ آیت اسلام کے سیاسی نظام کی بنیادی اور اولین دفعہ ہے۔ اسلامی نظام میں اصل مطاع اللہ تعالیٰ ہے۔ اور رسول کی اطاعت اللہ کی اطاعت کی واحد عملی صورت ہے۔ رسولؐ ہی ایک مستند ذریعہ ہے جس سے ہم تک خدا کے احکام اور فرامین پہنچتے ہیں۔ اولی الامر کی اطاعت خدا اور رسولؐ کی اطاعت کے ساتھ مشروط ہے۔

(۲) عمومی اور مقصدی تعلیم

اسلام کے سیاسی نظام میں عمومی اور مقصدی تعلیم کا ایک بنیادی حق ہے۔ ارشاد ہے:
’’ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان کی آبادی کے ہر حصہ سے کچھ لوگ نکل کر آتے اور دین کی سمجھ پیدا کرتے اور واپس جا کر اپنے علاقہ کے باشندوں کو خبردار کرتے تاکہ وہ غیر مسلمانہ روش سے پرہیز کریں‘‘۔ (التوبہ ۱۲۱)

(۳) سیاسی ولایت کا حق

اسلام کے سیاسی نظام میں ولایت کا حق صرف ان باشندوں کو ہے جو اسلامی مملکت کی حدود میں ہوں۔ لیکن اخوت کا رشتہ بدستور ہے اور بین الاقوامی ذمہ داریوں نیز اخلاقی حدود کا پاس رکھتے ہوئے مظلوم کی امداد مسلم حکومت کی ذمہ داری ہے۔ قرآن مجید میں فرمایا گیا:
’’وہ لوگ جو ایمان تو لے آئے مگر ہجرت کر کے (دارالسلام میں) نہیں آئے تو ان سے تمہارا ولایت کا کوئی تعلق نہیں ہے جب تک کہ وہ ہجرت کر کے نہ آجائیں۔ ہاں اگر وہ دین کے معاملہ میں تم سے مدد مانگیں تو ان کی مدد کرنا تم پر فرض ہے، لیکن ایسی کسی قوم کے خلاف نہیں جس سے تمہارا معاہدہ ہو، جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھتا ہے‘‘۔ (الانفال ۷۲)

(۴) سیاسی سربراہ منتخب کرنے کا حق

اسلام کے سیاسی نظام میں اس کی بڑی اہمیت ہے کہ قوم کے معاملات چلانے کے لیے قوم کا سربراہ سب کی مرضی سے مقرر کیا جائے، اور وہ قومی معاملات کو ایسے صاحبِ رائے لوگوں کے مشورے سے چلائے جن کو قوم قابلِ اعتماد سمجھتی ہو، اور وہ اس وقت تک سربراہ رہے جب تک قوم خود اسے اپنا سربراہ بنائے رکھنا چاہے۔ یہ چیز ’’امرھم شورٰی بینھم‘‘ (الشورٰی ۳۸) کا ایک لازمی تقاضا اور سیاسی نظام کی ایک اہم دفعہ ہے۔ 

(۵) بے لاگ انصاف کا حصول

’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان انصاف کروں‘‘۔ (الشورٰی ۱۵)
اسلام کے سیاسی نظام میں بے لاگ اور سب کے لیے یکساں انصاف مہیا کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے جس میں کسی کے ساتھ کوئی زیادتی نہ ہو سکے۔

(۶) حقوق کی یکسانیت

بہترین نظام وہ ہے جس میں ہر ایک کے حقوق یکساں ہوں۔ یہ نہیں کہ ملک کے باشندوں کو گروہوں میں تقسیم کر کے کسی کو مراعات و امتیازات سے نوازا جائے اور کسی کو محکوم بنا کر دبایا، پیسا اور لوٹا جائے۔ اسلامی نظامِ حکومت میں نسل، رنگ، زبان، یا طبقات کی بنا پر کوئی امتیاز نہیں ہے۔ البتہ اصول اور مسلک کے اختلاف کی بنا پر سیاسی حقوق میں یہ فرق ہو جاتا ہے کہ جو اس کے اصولوں کو تسلیم کرے وہی زمامِ حکومت سنبھال سکتا ہے۔ قرآن مجید میں فرعون کی حکومت کی برائی ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے:
’’واقعہ یہ ہے کہ فرعون نے زمین میں سرکشی کی اور اس کے باشندوں کو گروہوں میں تقسیم کر دیا، ان میں سے ایک گروہ کو ذلیل کرتا تھا‘‘۔ (القصص ۴)

(۴) اقتصادی حقوق

(۱) قرآن کا معاشی نقطۂ نظر

’’تیرا رب جس کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ کرتا  ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے، وہ اپنے بندوں کے حال سے باخبر ہے اور انہیں دیکھ رہا ہے۔ اپنی اولاد کو افلاس کے اندیشے سے قتل نہ کرو، ہم انہیں بھی رزق دیں گے اور تمہیں بھی‘‘۔ (بنی اسرائیل ۳۰ و ۳۱)
قرآن مجید کا معاشی نقطۂ نظر، جو مذکورہ آیتوں سے واضح ہو جاتا ہے، یہ ہے کہ رزق اور وسائلِ رزق میں تفاوت بجائے خود کوئی برائی نہیں ہے، جسے مٹانا اور مصنوعی طور پر ایک بے طبقات سوسائٹی پیدا کرنا کسی درجہ میں بھی مطلوب ہو۔ صحیح راہِ عمل یہ ہے کہ سوسائٹی کے اخلاق و اطوار اور قوانینِ عمل کو اس انداز پر ڈھال دیا جائے کہ معاشی تفاوت کسی ظلم و بے انصافی کا موجب بننے کے بجائے ان بے شمار اخلاقی، روحانی اور تمدنی فوائد و برکات کا ذریعہ بن جائے جن کی خاطر ہی دراصل خالقِ کائنات نے اپنے بندوں کے درمیان یہ فرق و تفاوت رکھا ہے۔
کھانے والوں کو گھٹانے کی منفی کوشش کے بجائے افزائشِ رزق کی تعمیری کوششوں کی طرف انسان کو متوجہ کیا گیا ہے اور تنبیہ کی گئی ہے کہ اے انسان! رزق سانی کا انتظام تیرے ہاتھ میں نہیں ہے بلکہ اس پروردگار کے ہاتھ میں ہے جس نے تجھے زمین میں بسایا ہے۔ جس طرح وہ پہلے آنے والوں کو روزی دیتا رہا ہے بعد کے آنے والوں کو بھی دے گا۔ تاریخ کا تجربہ بھی یہی بتاتا ہے کہ دنیا میں کھانے والی آبادی جتنی بڑھتی گئی اتنے ہی معاشی ذرائع وسیع ہوتے چلے گئے۔

(۲) دولت کی گردش

’’تاکہ وہ تمہارے مالداروں ہی کے درمیان گردش نہ کرتا رہے‘‘۔ (الحشر ۷)
اس آیت میں اسلامی معاشرے اور حکومت کی معاشی پالیسی کا یہ بنیادی قاعدہ بیان کیا گیا ہے کہ دولت کی گردش پورے معاشرے میں عام ہونی چاہیے، ایسا نہ ہو کہ مال صرف مالداروں ہی میں گھومتا رہے، یا امیر روز بروز امیر تر اور غریب دن بدن غریب تر ہوتے چلے جائیں۔ اس مقصد کے لیے سود حرام کیا گیا، زکوٰۃ فرض کی گئی، مالِ غنیمت میں خمس مقرر کیا گیا، صدقات کی تلقین کی گئی۔ مختلف قسم کے کفاروں کی ایسی صورتیں تجویز کی گئیں جن سے دولت کے بہاؤ کا رخ معاشرے کے غریب طبقات کی طرف پھر جائے۔ میراث کا ایسا قانون بنایا گیا کہ ہر مرنے والے کی چھوڑی ہوئی دولت زیادہ سے زیادہ وسیع دائرے میں پھیل جائے۔ اخلاقی حیثیت سے بخل کو سخت قابلِ مذمت اور فیاضی کو بہترین صفت قرار دیا گیا۔ غرض وہ انتظامات کیے گئے کہ دولت کے ذرائع پر مالدار اور با اثر لوگوں کی اجارہ داری قائم نہ ہو اور دولت کا بہاؤ امیروں سے غریب کی طرف ہو جائے۔

(۳) ناپ تول میں کمی نہ ہو

’’وزن اور پیمانے پورے کرو، لوگوں کو ان کی چیزوں میں گھاٹا نہ دو‘‘۔ (الاعراف ۸۵)
انسان کے معاشی حقوق میں سے یہ بھی ہے کہ خریدار کو اس کے پیسے کے بدلے میں پوری اور بے میل چیز ملے۔ اسلام تجارت میں دیانت داری کو ایک پالیسی سے زیادہ ایک فرض کے طور پر ابھارتا ہے۔
(بشکریہ ماہنامہ دارالسلام، مالیر کوٹلہ)

’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘ کی تفسیر اور پادری برکت اے خان

محمد عمار خان ناصر

سیالکوٹ کے ایک مسیحی عالم ماسٹر برکت اے خان اپنی کتاب ’’تبصرہ انجیل برناباس‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’قرآن مجید میں جناب عیسٰی المسیح کی صلیبی موت کی منفی نہیں کیونکہ لکھا ہے کہ ’’اور تحقیق وہ (عیسٰی) البتہ علامت قیامت کی ہیں‘‘ (سورہ زخرف ۶۱) ترجمہ: شاہ رفیع الدین محدث دہلوی ۔۔۔۔ قیامت کے معنی ہیں دوبارہ زندہ ہونا۔ چنانچہ جب عیسٰی المسیح مصلوب تیسرے دن مردوں میں سے جی اٹھے تو یہ ان کی قیامت کی علامت اور نشان تھا۔ لہٰذا قیامت کے بارے میں شک کرنے والوں کو جناب عیسٰی المسیح کی زندہ مثال دے کر سمجھایا گیا کہ روزِ قیامت کے بارے میں شک نہ کرو۔ جس طرح عیسٰی المسیح مردوں میں سے جی اٹھے تھے اسی طرح روزِ قیامت تم بھی زندہ کیے جاؤ گے۔‘‘ (ص ۶۴)
(۱) پادری صاحب موصوف نے سورہ زخرف کی جو ۶۱ ویں آیت درج کی ہے اس کی تفسیر شیخ الاسلام علامہ عثمانیؒ کے قلم سے ملاحظہ کیجئے:
’’(مسیح کا) دوبارہ آنا قیامت کا نشان ہو گا۔ ان کے نزول سے لوگ معلوم کر لیں گے کہ قیامت بالکل نزدیک آ گئی ہے‘‘۔ (فوائد)
معلوم ہوا کہ یہ آیت کلمۃ اللہ المسیحؑ کی آمد ثانی سے متعلق ہے، اناجیل اربعہ کی مزعومہ قصۂ قیامت مسیح سے اس آیت کا دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ 
(۲) آیتِ مذکور میں اصل لفظ ’’الساعۃ‘‘ ہے جو اصطلاحی معنوں میں استعمال ہوا ہے، قیامت کا لفظ ترجمہ میں استعمال ہوا ہے۔ ’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘ عیسٰیؑ قیامت کی نشانی ہیں، قیامت کے قریب آئیں گے۔ اصل عربی لفظ کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے ہرگز نہیں کہا جا سکتا کہ یہاں قیامت سے مراد ’’تیسرے دن جی اٹھنا‘‘ ہے۔ علاوہ ازیں کس لفظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ قصہ باطلہ قیامت مسیح مشار الیہ ہے؟
(۳) آیت کریمہ میں مسیحؑ (کی آمد ثانی) کو قیامت کی علامت قرار دیا گیا ہے۔ اس کے برعکس پادری برکت صاحب لکھتے ہیں:
’’جب عیسٰی المسیح مصلوب تیسرے دن مردوں میں جی اٹھے تو یہ ان کی قیامت کی علامت اور نشان تھا۔‘‘
یعنی ’’قیامتِ مسیح‘‘ قیامت کا نشان ہے۔ اگر ایسا ہی ہے تو جبکہ قیامت مسیحؑ واقع ہو چکی ہے تو قرآن کریم میں حتمی الفاظ میں قیامت مسیح کو روزِ قیامت کی علامت قرار دینا کیسے جائز ٹھہرا کیونکہ آیت شریفہ میں پچھلے کسی قصہ کا ذکر نہیں ہے بلکہ آئندہ ظہور پذیر ہونے والی آمد ثانی کا ذکر ہے۔ پادری صاحب کے مفروضہ کے بموجب آیت میں قیامت مسیح کا ذکر ہے تو لازم آتا ہے کہ قیامت مسیح تاحال ظہور پذیر نہ ہوئی ہو بلکہ قریب قیامت ظاہر ہونی ہو۔
(۴) ’’اور بے شک عیسٰیؑ قیامت کی علامت ہیں۔ سو تم قیامت کے بارے میں شک نہ کرو‘‘۔
پادری صاحب لکھتے ہیں:
’’روزِ قیامت کے بارے میں شک نہ کرو جس طرح عیسٰی المسیح مردوں میں سے جی اٹھے تھے اسی طرح روزِ قیامت تم بھی زندہ کیے جاؤ گے۔‘‘
۔۔۔ یہ تو ٹھیک ہے کہ روز قیامت بارے شک کرنے والوں کو تنبیہ ہے لیکن اس کو مسیحؑ کے مردوں میں سے اٹھنے سے کیا ربط و علاقہ ہے؟ پادری صاحب آیتِ کریمہ سے قیامتِ مسیح اور صلیبی موت کا اثبات کرنے تو چل نکلے ہیں لیکن عربی زبان سے ناواقفی اور اصولِ تفسیر سے بے گانگی کے باعث اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے ۔۔۔
؏ اے بادِ صبا ایں ہمہ آوردہ تست

حفاظتِ قرآن کا عقیدہ اور پادری کے ایل ناصر

محمد عمار خان ناصر

حفاظتِ قرآن کا مسئلہ امتِ مسلمہ کا اجماعی عقیدہ ہے، کسی زمانے میں بھی کسی مسلمان عالم یا فاضل نے اس پر شک کی گنجائش نہیں دیکھی۔ البتہ روافض میں سے بعض کا یہ عقیدہ ہے کہ قرآن کریم اصلی حالت میں محفوظ نہیں رہا۔ اس مسئلہ کو اگرچہ اس گمراہ فرقہ کے بعض مشاہیر علماء نے دلائل کے ساتھ ثابت کرنے کی کوشش کی تاہم ان کا قول قطعاً بے دلیل و بے حجت ہے۔ دورِ حاضر کے مشہور ایرانی دانشور اور مصنف جناب مرتضٰی مطہری قرآن میں تحریف کے قائلین کو ’’متعصب یہودی اور عیسائی‘‘ قرار دیتے ہیں (دیکھئے ان کی کتاب ’’وحی و نبوت ص ۶۹)۔
عیسائی پادریوں کی ہمیشہ یہ کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح سے بائیبل محرف کو قرآن کے بالمقابل لایا جائے، یا پھر قرآن کریم کی عظمت و صداقت کے بارے میں شبہات ڈالے جائیں۔ چنانچہ اکثر لاٹ پادریوں نے خودساختہ مطالب اخذ کرتے ہوئے اور روایات کا تیاپانچہ کرتے ہوئے اس مسئلہ کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے ۔۔۔۔ پاکستان میں آج کل بالخصوص پادری صاحبان کے مجددین و محقققین اس مسئلہ پر خامہ فرسائی میں مصروف ہیں۔ انہی میں سے ایک صاحب گوجرانوالہ تھیولاجیکل سیمنری کے چیف اور مسیحی ماہنامہ ’’کلام حق‘‘ کے مدیر اعلیٰ پادری کے ایل ناصر ہیں جو ماہرِ اسلامیات و عربی دان ہونے کی خوش فہمی میں مبتلا ہیں اور اس کا ثبوت دینے کی کوشش میں ۔۔۔۔ اسلامی علوم کی مضحکہ خیز حد تک غلط تعبیر کے مرتکب بھی ہوئے۔ ۱۰ فروری ۱۹۹۰ء کو بذریعہ ڈاک ان کا ایک قلمی مقالہ موصول ہوا جو ۲۸ صفحات پر مشتمل ہے، اس میں نہ صرف پادری موصوف نے قرآن کریم کے متن کے ’’بچھا کچھا‘‘ ہونے کو قطعی نتیجہ قرار دیا بلکہ روایات سے یہ ثابت کرنے کی کوششِ نامراد کی کہ قرآن کریم کا متن محفوظ نہ رہا۔ جس کو پڑھ کر بے اختیار لبوں پر یہ شعر آگیا ؎
پھر آج آئی تھی اک مرجۂ ہوائے طرب
سنا گئی فسانے اِدھر اُدھر کے مجھے
آئیے پادری صاحب کی تحقیق کا مطالعہ بھی کریں۔
(۱) مختصرًا گزارش یہ ہے کہ قرآنِ کریم کا متن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لکھا جا چکا تھا، تاہم یکجا جمع و مرتب نہ تھا۔ حضورؐ کی وفات کے بعد جنگ یمامہ تک کسی کو یہ خیال نہ آیا کہ قرآن کریم جمع ہو جانا چاہیئے۔ حضرت عمرؓ نے جنگ یمامہ کے بعد حضرت ابوبکرؓ خلیفہ اور حضرت زید بن ثابتؓ کو راضی کیا کہ اس وقت اس کی ضرورت ہے۔ چنانچہ خلیفہ ابوبکرؓ نے زید بن ثابتؓ کے ساتھ پچھتر اصحابؓ کی جماعت مقرر کی جنہوں نے قرآن کریم کی ہر آیت کو دو دو گواہوں یعنی حفظ اور کتابت کےبعد یکجا جمع کیا۔ نہایت احتیاط کے ساتھ قرآن کریم کا مکمل متن ایک صحیفہ میں جمع کیا گیا۔ اس نسخہ میں منسوخ التلاوت آیات اور سبعۃ احرف بھی درج تھے۔
پھر حضرت عثمانؓ کے زمانے میں جب دیکھا گیا کہ مختلف قراءات کی وجہ سے، جن کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں جائز قرار دیا تھا، ملک میں بَداَمنی پھیلنے کاخدشہ ہے کیونکہ ہر کوئی اپنی قراءت کو درست کہتا تھا اور دوسرے کی قراءت کو غلط، تو حضرت عثمانؓ نے یہ کیا کہ مشاورت کے بعد قرآن شریف کی صرف ایک قراءت کو، جو کہ قریش کی تھی، مروّج کرنے کا حکم دیا۔ اس لیے یہ ضروری تھا کہ لوگوں کے پاس جو مختلف قراءت والے نسخے ہیں ان کو ختم کیا جائے کیونکہ اس کے بغیر بَداَمنی ختم نہ ہو سکتی تھی۔ لہٰذا حضرت عثمانؓ نے حضرت ابوبکرؓ والے مصحف سے قرآن کریم کو نقل کروایا اور حکم دیا کہ قریش کی قراءت نقل کی جائے۔ اس نسخہ میں منسوخ التلاوت آیات کو بھی نکال دیا گیا۔ اس نسخہ کی سات نقول مختلف مرکزی مقامات کو بھیج دی گئیں اور لوگوں سے باقی تمام نسخے لے کر جلا دیے گئے اور صرف ایک معتبر نسخہ رائج کر دیا۔
پادری صاحبان حضرت عثمانؓ کے اس کام کو تحریف قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ حضرت عثمانؓ نے اپنی مرضی کی آیات رکھ کر باقی کو ضائع کر دیا جو کہ دلیل سے معرا ہے۔ پادری ناصر حضرت ابوبکرؓ کے جمع قرآن کے ضمن میں لکھتے ہیں کہ:
’’قرآن شریف قاریوں کو زبانی یاد (حفظ) کرایا گیا تھا، بہت سے قاری قتل یمامہ میں شہید ہو گئے تھے۔ نامعلوم قرآن شریف کا کتنا حصہ کس کس قاری کے ساتھ ہمیشہ تلف ہو گیا۔‘‘
ہم عرض کرتے ہیں کہ پادری صاحب نے کم فہمی کا ثبوت دیتے ہوئے یہ سمجھا ہے کہ ہر قاری کو الگ الگ قرآن یاد تھا، یا ہر قاری کو پورا قرآن یاد نہیں تھا، تاہم اگر یہ تسلیم کر لیا جائے تو خود بائبل کا متن بھی پادری صاحب کے بقول ہی محفوظ نہیں رہتا۔ پادری برکت اپنی کتاب ’’صحت کتب مقدسہ‘‘ میں کہتے ہیں کہ:
’’قیاصرہ روم کی ایذا رسانیوں اور حوادث زمانہ کے دستبرد سے یہ ہزاروں نسخے نہ بچ سکتے تھے اور نہ بچے۔‘‘ (ص ۲۲۰)
پادری صاحب کی بیان کردہ عبارت کی روشنی میں یہی ثابت ہوتا ہے کہ بائیبل کا کافی حصہ ان  نسخوں کی صورت میں ضائع ہو گیا تھا۔
؏  لو دام میں اپنے خود صیاد آگیا
(۲) شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ تعالیٰ لکھتے ہیں کہ:
’’جب قرآن شریف مصحف میں یکجا ہو گیا، برسوں آپ (یعنی حضرت عمرؓ) اس کی تصحیح میں سرگرم رہے اور بارہا صحابہؓ سے اس کے متعلق مناظرے کیے۔ کبھی حق اس لکھے ہونے کے موافق ظاہر ہوتا اور آپ اس کو اسی حالت میں رہنے دیتے اور لوگوں کو اس کی مخالفت سے منع کر دیتے۔ اور کبھی اس کے خلاف ظاہر ہوتا، اس حالت میں آپ اس آیت کو چھیل ڈالتے اور اس کی جگہ پر جو حق ثابت ہوتا لکھ دیتے۔‘‘ (ازالۃ الخفا ج ۲ ص ۲۱۱)
اس پر پادری صاحب کا تبصرہ ملاحظہ فرمائیے:
’’مندرجہ بالا بیان کا مفہوم بالکل صاف ہے کہ جس مصحف کو زید بن ثابتؓ نے حضرت عمرؓ اور حضرت ابوبکرؓ کے حکم سے جمع کیا تھا اس مجموعۂ متن پر حضرت عمرؓ کو مطلق اعتبار نہ تھا اور آپ نے کئی برس اس متن کی اصلاح و ترمیم کی اور اس کی تصحیح میں آپ سرگرم رہے اور صحابہؓ سے متن کی صحت اور عدمِ صحت کے بارے میں مناظرے کرتے رہے۔‘‘ ۔۔۔
حیرت ہے کہ حضرت عمرؓ کے پرخلوص کام اور محنت کو پادری صاحب الٹا انہیں کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔ حضرت عمرؓ کی رضا اور مشورہ ہی سے وہ مجموعہ متن تیار ہوا اور پادری صاحب اسے ان کے نزدیک ناقابل اعتبار ٹھہرا رہے ہیں ؎
ہم وفا لکھتے رہے وہ دغا پڑھتے رہے
ایک نقطہ نے ہمیں محرم سے مجرم کر دیا
پادری صاحب نے فقط اپنی مرضی کا بیان چنا۔ ایسے واقعات اکا دکا اور بے ارادہ ہوئے تھے۔ شاہ صاحبؒ نے کتاب کے اسی صفحہ پر ان کی مثال کے طور پر دو واقعات بھی بیان فرمائے ہیں:
پادری صاحب کے دعوٰی کی حقیقت یہی ہے کہ انہوں نے تعصب کی نگاہ سے شاہ صاحب کے بیان کو پڑھا اور لکھا ہے ؎
خواہش کا نام عشق نمائش کا نام حسن
اہلِ ہوس نے دونوں کی مٹی خراب کی
پادری صاحب نے مقالہ کا نام ’’قرآن شریف کے متن کا تاریخی مطالعہ‘‘ رکھا ہے، اس لیے مختلف نسخہ جات کا تعارف بھی ذکر کیا ہے۔ چونکہ ہم ’’حفاظتِ قرآن‘‘ کے برخلاف پادری صاحب کے چیلنج کا سامنا کر رہے ہیں اس لیے ان تعارف و تبصرہ وغیرہ پر بالذات بحث نہیں کر سکتے۔ پادری صاحبان حضرت عثمانؓ کے دور میں جمع قرآن کو قرآن میں ردوبدل کا تاریخی واقعہ قرار دیتے ہیں لہٰذا قرآن پاک کو درحقیقت ’’تالیفِ عثمانی‘‘ کہتے ہیں۔ اس ضمن میں پادری صاحب موصوف رقم طراز ہیں:
’’کتب احادیث و تفاسیر و تواریخ سے ظاہر ہے کہ حضرت عثمانؓ نے سوا زیدؓ بن ثابت نوجوان کے کسی اور کو قرآن شریف کے متن کو جمع کرنے کے لیے شامل نہ کیا۔ حضرت عثمانؓ نے قرآن شریف کی تنزیل کو بدل ڈالا۔ آپ نے قرآن شریف کی سات قراءتوں کو مٹا ڈالا اور ایک قراءت قریش مقرر کر دی۔ باقی کل مصاحف اور اوراق وغیرہ جو حضرت محمد صلعم کے  زمانے میں لکھے گئے تھے اور حضرات شیخین کے زمانے تک محفوظ چلے آتے تھے اور تبرکات وحی تھے خود حضرت محمد صلعم نے اپنے کاتبوں سے لکھوایا تھا وہ قابلِ قدر اور قابلِ حفاظت تھے ان سب کو جلا دیا۔ حضرت عثمانؓ نے اس مہم میں تعاون نہ کرنے والوں پر بے حد سختی کی مثلاً عبد اللہ ابن مسعودؓ کے ساتھ، مروان بن حاکم نے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کا محنت شاکہ سے جمع کیا ہوا قرآن اور عرق ریزی سے تصحیح کیا ہوا قرآنی متن بھی جلا ڈالا۔‘‘
ہم بالترتیب پادری صاحب کے دعاوٰی کا مطالعہ کریں گے:
(۱) یہ کہنا کہ حضرت عثمانؓ نے زیدؓ بن ثابت کے سوا کسی کو جمع قرآن میں شامل نہ کیا تھا، سراسر غلط ہے حافظ سیوطیؒ امام بخاری کے حوالہ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ:
فامر زید بن ثابت و عبد اللہ بن الزبیر و سعید ابن العاص و عبد الرحمان بن الحارث بن ھشام فنخوھا فی المصاحف (الاتقان ج ص ۵۹)
ترجمہ: ’’حضرت عثمان نے زید بن ثابت، عبد اللہ ابن زبیر، سعید بن العاص اور عبد الرحمٰن بن حارث بن ہشام کو نسخہ کو نقل کرنے کا حکم دیا تو انہوں نے مصاحف میں نقل کیا۔‘‘
(۲) حضرت عثمانؓ پر قرآن شریف کی تنزیل کو بدل ڈالنے کا جو الزام پادری صاحب نے لگایا ہے وہ حقیقت سے سراسر متضاد ہے۔ اس بات پر تو اتفاق ہے کہ قرآن کریم کی موجودہ ترتیب نزولِ قرآن کے مطابق نہیں، لیکن یہ کسی انسان کا کارنامہ بھی نہیں کیونکہ جیسے جیسے وحی آتی جاتی تھی جبرئیل امین خدا تعالیٰ کی طرف سے ہدایات بھی دیتے تھے کہ اس آیت کو کون سی سورۃ میں کون سے نمبر پر رکھنا ہے۔ قرآن کریم کو اسی طرح حفظ کیا گیا اور اسی طرح نقل کیا گیا۔ پادری صاحب کی ہوشمندی دیکھیں کہ سات قراءتوں کے مٹ جانے پر بھی اصرار فرما رہے ہیں اور قراءت قریش کو بھی مان رہے ہیں ؎
بھری بزم میں راز کی بات کہہ دی
بڑا بے ادب ہوں سزا چاہتا ہوں
بہرحال یہ الزام بھی مفروضہ اور ناقابلِ اعتماد، سماع و افواہ پر مبنی ہے۔ علامہ ابن حزمؒ رقم طراز ہیں:
واما قول من قال ابطل الاحرف الستۃ فقد کذب من قال ذلک ولو فعل عثمان ذلک او ارادہ لخرج عن الاسلام ولما مطل ساعۃ بل الاحرف السبعۃ کلھا موجودۃ عندنا قائمۃ کما کانت مثبوثۃ فی القرآت المشہورۃ الماثورۃ (الملل والنحل ج ۲ ص ۷۸)
ترجمہ: ’’یہ کہنا کہ عثمانؓ نے چھ حرف (قراءتیں) مٹا دیے تو جو یہ کہتا ہے وہ جھوٹا ہے۔ اگر عثمانؓ ایسا کرتے یا ایسا کرنے کا ارادہ کرتے تو اسلام سے خارج ہو جاتے اور ایک ساعت بھی نہ ٹھہرتے۔ یہ ساتوں  حروف (قراءات) ہمارے پاس موجود ہیں اور جیسے تھے ویسے ہی قائم ہیں، مشہور و منقول و ماثور قراءتوں میں محفوظ و ثابت ہیں۔‘‘
پادری صاحب کو اسلامی علوم کی ہوا بھی لگی ہوتی تو اس قدر غلط بیانی نہ کرتے۔ بزعم خویش محقق بننے سے کچھ نہیں ہو جاتا اس کے لیے کچھ قابلیت چاہیئے۔
(۳) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خود لکھوائے ہوئے تبرکاتِ وحی اور قابلِ قدر و قابلِ حفاظت مصاحف و اوراق کے جلانے کا تذکرہ بالخصوص کہیں نہیں ملتا، اور اگر جلا بھی دیا تھا تو وہ سارے تبرکات حضرت ابوبکرؓ نے نقل فرما لیے تھے، اس میں کون سی قیامت آگئی؟ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کا ’’محنتِ شاکہ‘‘ سے جمع کیا ہوا قرآن بجنسہ ہمارے پاس موجود ہے۔ علماء نے جمع صدیقی اور جمع عثمانی میں یہ فرق بیان کیا ہے کہ جمع عثمانی میں منسوخ آیات اور سبعۃ احرف نہیں تھے کیونکہ سبعہ احرف کی اجازت ابتدائی دور اور حالات کے پیشِ نظر تھی اور بعد میں ان کی وجہ سے امت میں افتراق پیدا ہونے کا خدشہ تھا بلکہ تقریباً ہو چکا تھا۔
(۴) حضرت عبد اللہ ؓ ابن مسعود کے ساتھ سختی اس لیے کی کہ وہ صحابہ کرامؓ کے اتفاق کے برخلاف کام کر رہے تھے۔ اس وقت امت میں افتراق ایک بہت بڑا حادثہ ثابت ہوتا اور پھر حضرت عبد اللہ ؓ ابن مسعود نے اپنے موقف پر اصرار بھی نہیں کیا بلکہ رجوع فرما لیا تھا اور جمع قرآن کی مخالفت نہ کی تھی۔ حافظ ابن کثیر کی تاریخ میں لکھا ہے:
فاناب واجاب الی المتابعۃ و ترک المخالفۃ (البدایہ والنہایہ ج ۷ ص ۲۱۸)
ترجمہ: ’’عبد اللہ ابن مسعودؓ نے رجوع کر لیا اور پیروی کرنے اور مخالفت ترک کرنے کا وعدہ کیا۔‘‘
ابن سعد کہتے ہیں کہ دونوں بزرگوں میں صلح صفائی ہو گئی تھی اور دونوں نے ایک دوسرے کے لیے استغفار کیا تھا۔ (دیکھئے طبقات ابن سعد ج ۳ ص ۱۱۳)
اب ہم پادری صاحب کی پیش کردہ اس روایت پر بحث کریں گے جس کو انہوں نے نہ صرف موقع محل سے ہٹا کر بلکہ اس کی مسلم تفسیر سے علیحدہ من مانی تفسیر کر کے پیش کیا ہے۔ حضرت علامہ جلال الدین سیوطیؒ نے اپنی کتاب ’’الاتقان فی علوم القرآن‘‘ میں نسخ کی تیسری قسم ’’منسوخ التلاوت‘‘ کے تحت یہ روایت نقل فرمائی ہے:
عن ابن عمر قال لیقولن احدکم قد اخذت القراٰن کلہ و ما یدریہ ما کلہ قد ذھب منہ قراٰن کثیر ولکن لیقل قد اخذت منہ ما ظہر (ص ۲۵ ج ۲)
ترجمہ: ’’عبد اللہ ابن عمرؓ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی یہ کہے گا کہ میں نے سارا قرآن لے لیا ہے لیکن اس کو یہ معلوم نہیں کہ سارا قرآن کیا ہے۔ اس میں سے بہت سا حصہ چلا گیا ہے لیکن وہ یہ کہے کہ میں نے اس سے وہی چیز لی ہے جو کہ ظاہر ہوئی۔‘‘
اس پر پادری صاحب کے الفاظ ملاحظہ ہوں:
’’بعض لوگ حضرت ابن عمرؓ کے اس قول ’’قد ذھب منہ قراٰن کثیر‘‘ کی تاویل کرتے ہیں کہ اس سے مراد وہ آیات ہیں جو منسوخ التلاوت تھیں لیکن یہ تاویل بالکل غلط ہے کیونکہ اگر یہی تاویل مراد ہوتی تو ’’ذھب‘‘ کے عوض ’’نسخ‘‘ فرماتے اور پھر اس کو قرآن کثیر نہ فرماتے اور نہ اس پر افسوس کرتے کیونکہ منسوخ التلاوت آیات تو اس قابل نہیں کہ نکال دی جائیں۔ کیا کوئی شخص ایسا ہو گا کہ وہ اپنے ان اشعار یا عبارات پر افسوس کرتا ہو جن کو خود اس نے کاٹ دیا ہو یا نکال دیا ہو۔‘‘
اس مقام پر بھی ہم اس عبارت کا شق وار مطالعہ کریں گے:
(۱) یہ کہنا کہ ’’قرآن کثیر‘‘ سے مراد ’’منسوخ التلاوت‘‘ آیات ہیں، بعض کا نہیں بلکہ خود مصنف علیہ الرحمۃ کا قول ہے۔ آئیے دیکھیں کہ سیوطی اس روایت کو کس ضمن میں سمجھے ہیں:
الضرب الثالث ما نسخ تلاوتہ دون حکمہ ۔۔۔۔ وامثلۃ ھذا الضرب کثیرۃ قال ابوعبیدۃ حدثنا اسمٰعیل بن ابراھیم عن ایوب عن نافع عن ابن عمر قال ۔۔۔۔ (الاتقان ج ۲ ص ۲۴ و ۲۵)
ترجمہ: ’’(نسخ کی) تیسری قسم یہ ہے کہ تلاوت منسوخ ہو گئی ہو اور حکم باقی ہو، اور اس قسم کے نسخ کی مثالیں بہت ہیں (دلیل یہ ہے کہ ) ابوعبیدۃ نے کہا کہ ہمیں اسماعیل بن ابراہیم نے ایوب سے، اس نے نافع سے، اس نے ابن عمرؓ سے بیان کیا کہ انہوں نے فرمایا ۔۔۔‘‘
جب صاحبِ کتاب نے خود اپنی مراد واضح کر دی تو پادری کس برتے پر چیلنج کرتے پھر رہے ہیں ؎
وہ کہ خالی ہاتھ پھیلائے فضا میں رہ گئے
منتشر کچھ اس طرح ہستی کا شیرازہ ہوا
(۲) ’’ذھب‘‘ اس لیے فرمایا کہ منسوخ التلاوت آیات کا حکم باقی ہے فقط قراءت ممنوع ہے۔ اور منسوخ الحکم والتلاوت اور منسوخ الحکم دونوں قسموں میں حکم جو کہ مقصود ہے وہ فوت ہو چکا ہے اور اس قسم ثالث میں حکم باقی ہے۔ لہٰذا ’’نسخ‘‘ کی بجائے ’’ذھب‘‘ فرمایا کیونکہ اصل مقصود چیز منسوخ نہیں ہوئی ہے۔ یہ ہے ساری روایت کی حقیقت جس کو پادری صاحب نے ہوا بنا کر پیش کر دیا۔ قرآن کثیر فرما دیا تو کیا حرج ہوا؟ کوئی وجہ بھی تو بیان فرمائیں۔ باقی یہ کہنا کہ منسوخ التلاوت آیات اس قابل نہیں کہ نکال دی جائیں، یہ پادری صاحب کی نام نہاد علمیت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ جس کو خود منسوخ التلاوۃ کہہ رہے ہیں اس کو باقی رکھنے پر اصرار کا آخر معنٰی کیا ہے؟ نیز پادری صاحب کی حاشیہ آرائی دیکھئے کہ خواہ مخواہ افسوس اور غم ابن عمر رضی اللہ عنہ کے سر تھوپ رہے ہیں۔ نامعلوم کس جملہ یا کس لفظ سے انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے۔ پادری صاحب سے گزارش ہے کہ اپنی علمیت کے جوہر دکھاتے ہوئے اس کی وضاحت فرمائیں۔
قارئین! پادری صاحب کے ’’حفاظتِ قرآن‘‘ پر اعتراضات کو ملاحظہ کرنے اور ان کی صحت و سقم کو پرکھنے کے بعد ہم اس قطعی نتیجہ پر پہنچ چکے ہیں کہ قرآن شریف بحمدہ تعالیٰ اصل حالت میں نزول کے وقت سے لے کر ہم تک پہنچا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ پادری صاحب نے یہ نہیں کہا کہ حضرت عثمانؓ نے اپنی مرضی کی آیات بھی اس میں ڈال دی تھیں۔ اور یہ امر واقعہ ہے کہ حضرت عثمانؓ کے بعد کسی دور میں بھی اس کا کوئی ثبوت پادری صاحبان پیش کرنے سے عاجز ہیں۔ پھر یہ حقیقت کہ پادری صاحبان قرآن میں ادخال کا الزام نہیں لگاتے، اس بات پر شاہد ہے کہ قرآن کریم سابقہ کتب کے برخلاف تحریف سے قطعی محفوظ و مصئون ہے کیونکہ اگر قرآن شریف میں تحریف ممکن الوقوع ہوتی تو یہ صرف حضرت عثمانؓ کے دور کے ساتھ مخصوص اور صرف اخراج و ضیاع تک محدود نہ ہوتی۔ فلہٰذا اس امر کی حیثیت محض مفروضہ اور وہم و گمان سے زیادہ نہیں ہے۔۔۔۔

دو قومی نظریہ نئی نسل کو سمجھانے کی ضرورت ہے

مولانا سعید احمد عنایت اللہ

ایک ہی آدم حوا کی اولاد، ایک علاقہ کے باسی، ایک ہی بولی بولنے والے، ایک ہی رنگ و نسل بلکہ ایک ہی شکمِ مادر سے پیدا ہونے والے دو افراط کو نظریہ اور عقیدہ دو قومیں بنا دیتا ہے۔ ارشادِ ربانی ہے:
’’اللہ تعالیٰ کی بزرگ و برتر ذات نے تم کو پیدا کیا، تم میں کوئی مومن ہے کوئی کافر‘‘ (التغابن)
اسلامی اور غیر اسلامی عقیدہ کے حامل دو اشخاص کا دو قومیت میں تقسیم ہونا خدائی عمل ہے۔ ظاہر ہےکہ ایمان و توحید کے حامل کا قلب و کردار و اعمال و طبیعت و افتاد الغرض زندگی کے ہر شعبہ میں ایک مومن غیر مومن سے مختلف ہے۔ اس لیے کہ مومن کے لیے محور تو ذات حق تعالٰی ہے جن سے وہ زندگی کے ہر موڑ پر رشد و ہدایت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطہ سے حاصل کر کے قدم اٹھاتا ہے۔ وہ ہر ایک کی غلامی سے آزاد ہو کر مکمل طور پر ذاتِ برحق کی غلامی میں آجاتا ہے، پھر وہ اپنے آپ کو مکلف سمجھتا ہے کہ اپنے ماحول و سوسائٹی کو بھی اسی نظریہ کی دعوت پر پورے وثوق کے ساتھ دے کہ انفرادی اور اجتماعی حیات اسی  میں ہے۔ ارشادِ ربانی ہے:
’’اے ایمان والو! تم خدا اور رسولؐ کی مکمل اطاعت کو لازم پکڑو کہ اس میں تمہاری زندگی ہے۔‘‘
یہی وہ عظیم فکر تھی اور عالی نظریہ تھا جس نے برصغیر کے بسنے والوں، چاہے وہ سب علاقائی اور لسانی طور پر متحد تھے، دو قومیں بنا دیا اور ان کا جغرافیائی اتحاد نظریاتی اختلاف کے سامنے تارِ عنکبوت بن گیا۔ حضرت مجدد الف ثانیؒ، شاہ اسماعیل شہیدؒ، پھر تحریکِ خلافت کے روح رواں اور ہمارے مسلم زُعماء اسی نظریہ کے علمبردار تھے۔ برصغیر کے عوام کی مسلم اکثریت نے بھی اظہار کیا کہ مسلم اور ہندو ایک ساتھ ایک پرچم تلے زندگی نہیں گزار سکتے جبکہ ان کا عقیدہ، ایمان، تہذیب و تمدن الگ الگ ہے۔
مسلمانوں نے مسلم لیگ کے پرچم تلے قائد اعظم، لیاقت علی خان، مولانا شبیر احمد عثمانی، مولانا ظفر احمد عثمانی، مولانا ظفر علی خان اور اپنے دیگر زعماء (رحمہم اللہ) کی قیادت میں ایک ایسے خطۂ ارض کا مطالبہ کیا جہاں وہ اسلامی نظریات اور اصولوں کے مطابق زندگی بسر کریں۔ وہ اسلامی ثقافت کے مطابق نشوونما پائیں اور اسلام کے عدلِ عمرانی کے اصول پر آزادانہ طور پر عمل کر سکیں۔ اسی لیے تو پورے برصغیر میں ہر بوڑھے بچے، لکھے پڑھے، ان پڑھ کی وردِ زبان تھا:
’’پاکستان کا مطلب کیا، لا الٰہ الا اللہ‘‘
متحدہ ہندوستان کے وہ علاقے جہاں پر مسلمانوں کی آبادی اقلیت میں تھی اور انہیں یقین تھا کہ وہ پاکستان کے نقشے سے بعید ہیں وہ بھی اس مطالبے کے منوانے اور اس نظریاتی مملکت کے قیام کے لیے جہاد میں پیچھے نہ تھے۔ بلکہ ان کو تو قیامِ پاکستان کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑی، ان میں سے کچھ کو اپنے موطن و مولد کو چھوڑ کر ہجرت کا عظیم عمل کرنا پڑا اور خونی دریا عبور کر کے پاکستان پہنچے، کچھ وہیں مقیم رہے اور ہندو سامراج کے ظلم کا آج تک نشانہ بن رہے ہیں۔
مسلم قوم کی مالی و جانی اور بیش بہا قربانیوں کے صدقے وجود میں آنے والی ارضِ پاک کی حدود میں شریعتِ اسلامیہ کا نفاذ اس کا بنیادی حق اور باعثِ قیام ہے جس سے سرِمو انحراف ان تمام قربانیوں کو ضایع کرنے کے ساتھ ساتھ ان اکابر سے دھوکا اور اس رب العالمین سے غداری ہے جس کے نام کا کلمہ پڑھ کر اس کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ کس قدر ڈھٹائی ہے ان بے باک اور بدطینت افراد کی، چاہے وہ کسی بھی طبقہ یا کسی بھی سیاسی جماعت سے ہوں، جو آج قیامِ پاکستان کے مقصد کی کچھ اور تفسیر کر کے نظریاتی تحریف کے جرم کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ حالانکہ قائد اعظم نے اکتوبر ۱۹۴۷ء میں مملکت کے پہلے گورنر جنرل کی حیثیت سے اپنے خطاب میں انہوں نے یہ فرمایا:
’’پاکستان کا قیام جس کے لیے ہم گذشتہ دس سال سے مسلسل کوشش کر رہے تھے اب خدا کے فضل سے ایک حقیقتِ ثانیہ بن کر سامنے آ چکا ہے، لیکن ہمارے لیے اس آزاد مملکت کا قیام ہی مقصود نہیں تھا بلکہ یہ ایک عظیم مقصد کے حصول کا ذریعہ تھا۔ ہمارا مقصد یہ تھا کہ ہمیں ایسی مملکت مل جائے جس میں ہم آزاد انسانوں کی طرح رہ سکیں اور جس میں ہم اپنی اسلامی روشنی اور ثقافت کے مطابق نشوونما پا سکیں اور اسلام کے عدلِ عمرانی کے اصول پر آزادانہ عمل کر سکیں۔‘‘
دو قومی نظریے کے عظیم قرآنی تصور نے مختلف لسانی اور علاقائی انسانی مجموعوں کو ایک اور صرف ایک قوم بنا دیا، پھر ۱۹۴۷ء میں دنیا کے نقشے پر ایک عظیم اسلامی سلطنت کو وجود بخشا جس سے پورے عالم کے مسلمانوں کی بہت توقعات وابستہ تھیں اور ان کو دلی خوشی تھی کہ اسلام کے نام پر قائم ہونے والی یہ نئی ریاست اسلام کی نشاۃ ثانیہ اور ان کی عظمت رفتہ کو واپس لانے کا سبب بنے گی، مگر بدقسمتی سے برسراقتدار طبقہ کی اکثریت نظریہ پاکستان سے قلبی و ذہنی طور پر لاتعلق تھی پھر نظریہ دشمن عناصر کی ریشہ دوانیاں۔ اسی طرح عظیم مقصد سے انحراف نے حالات کو ۔۔۔ کہ ۱۹۷۱ء میں ملک دولخت ہو گیا اور اس عظیم حادثہ کے بعد بھی پاکستان کے اہلِ اقتدار نے نظریہ پاکستان کی عملی طور پر پاسداری کرنے کی بجائے اپنے اقتدار کی حفاظت میں تمام تر قوتوں کو صرف کر دیا تو علاقائی اور لسانی بنیادوں پر نئے فتنوں نے جنم لیا، مزید قومیتوں میں تقسیم ہونے کا احساس پیدا ہو گیا۔
کاش کہ ہماری آنکھیں کھل جائیں۔ اے کاش کہ ہم جان لیں، اہل اقتدار بھی اور عوام من حیث القوم کہ ہمارے معاشرے کی تمام خرابیوں کی جڑ اور ہمارے تمام حقوق کے استحصال کا موجب نظریۂ پاکستان سے عملاً انحراف ہے۔ اگر ہم وطن عزیز کو اس کا بنیادی حق دلا دیں اور اسلامی نظام کی تنفیذ سے کم کسی مطالبے کو تسلیم ہی نہ کریں تو ہماری تمام شکایتیں بھی دور ہو جائیں اور انفرادی اور اجتماعی مسائل کا  حل بھی بطریق احسن ہو۔ اپنے اسلاف کی ارواح کو سکون بخشیں، ہماری طرف سے ان کی خدمت میں خراجِ عقیدت پیش کرنے کی بہترین صورت یہی ہے۔ خدائے ذوالجلال سے کیے گئے وعدے کا ایفا بھی ہو جائے گا۔ قربانی دینے والوں کی قربانیوں کی بھی قدر ہو گی۔ آئندہ نسلوں کی بھی بہترین خدمت، جن کی اسلامی اصولوں پر نشوونما اور ذہنی فکری تربیت بھی مادی تربیت کے ساتھ ساتھ ہمارے ذمہ ہے۔ ان کی اصلاح سے ہم آرام سے رہیں گے اور عند اللہ ماجور ہی نہیں بلکہ ان کے عملی اور ذہنی بگاڑ پر ہم سے باز پرس ہو گی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
’’والد کی طرف سے اولاد کے لیے بہترین تحفہ اس کی اعلیٰ تربیت ہے۔‘‘
اولاد اور نئی نسلوں کو ان کے اس حق سے محروم رکھ کر نہ ہم اس دنیا میں پرسکون زندگی گزار سکتے ہیں نہ آخرت میں ان کے شر سے محفوظ رہیں گے۔ قرآن حکیم میں ہے، بگڑی ہوئی نسلیں اپنے بڑوں اور بزرگوں کے لیے اپنے سے دگنے عذاب کا مطالبہ پیش کریں گے کہ ان کی غلط روش نے اور ہماری تربیت میں کوتاہی نے ہمیں راہ راست سے دور رکھا اور ہم اپنی منزل نہ پا سکے۔ لہٰذا اس وقت نظریۂ پاکستان کی اہمیت کو بزرگ اپنی نئی نسلوں کے سامنے واضح کریں۔ نوجوانوں کو سمجھائیں، ہر ذی شعور اس کے لیے محنت اور کوشش کرے اور تعلیم و تربیت اور ابلاغ و اعلام کے جملہ وسائل کو اہلِ اقتدار اس عظیم مقصد کو سمجھانے کے لیے صرف کریں اور ہم پاکستانی بطور قوم نظریۂ پاکستان، اسلام کی عملی تنفیذ کے بغیر اپنے آپ کو سب سے بڑے حق سے محروم سمجھیں تاکہ نظریہ دشمن عنصر ہمارے ملک یا ہماری قوم کے لیے مزید پریشانیوں کا باعث نہ بن سکیں اور ہم اپنے احوال کو بھی سنوار سکیں۔

بھارت میں اردو کا حال و مستقبل

بیگم سلطانہ حیات

آپ کو یاد ہو گا کہ تقسیمِ ہند کے بعد اردو کا چلن سکولوں وغیرہ میں سرکاری طور پر ختم کر دیا گیا تھا اور پھر دستورِ ہند کی دفعہ ۳۴۳ کے تحت یہ طے پایا تھا کہ حکومتِ ہند کی سرکاری زبان ہندی ہو گی جو دیوناگری رسم الخط میں لکھی جائے گی، اور پھر ۱۹۵۱ء میں دفعہ ۳۴۵ کے تحت ہندی کو یو پی کی سرکاری زبان بنا دیا گیا اور اردو کے وجود کو نظرانداز کر دیا گیا۔ ہم اردو والوں نے پنڈت کشن پرشاد کول صاحب کی زیرقیادت دستخطی مہم کا آغاز کیا اور لسانی تعصب کی تلواروں کی چھاؤں میں دستخطی مہم کامیابی سے ہمکنار ہوئی تھی۔ وقت گزرتا گیا اور اردو کا کاروان چلتا رہا، اور جس ریاست میں اردو کا وجود سرکاری طور پر ختم ہو گیا تھا اس کو درجہ آٹھ تک ذریعۂ تعلیم بنانے کی اجازت مل گئی، اور اب ہماری مانگ ہے کہ دسویں درجہ تک اردو کو ذریعہ تعلیم تسلیم کر لیا جائے، اردو کورس کی کتابوں کو شائع کرنے کا ایسا بندوبست کیا جائے کہ وہ سیشن شروع ہونے سے پہلے پورے صوبے میں بآسانی دستیاب ہو سکیں وغیرہ۔
مگر ان مراعات کو عملی جامہ پہنانے میں جن دقتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے وہ کام کرنے والے ہی جانتے ہیں، یہ صرف ہمارے ساتھ حکومت ہی کا برتاؤ نہیں ہے، سرکاری دفتروں میں درخواست کے ساتھ ساتھ جانا پڑتا ہے تب جا کر کام ہوتا ہے۔ اردو والوں کے حالات کچھ زیادہ سخت ہیں مگر محنت اور لگن سے کام ہو جاتے ہیں۔ اس لیے سب اردو دوستوں سے اپیل ہے کہ حکومت نے اردو کو جو مراعات دی ہیں ان کو اپنے حلقوں میں بروئے کار لانے کی ذمہ داری اب اردو والوں کی ہے۔ اردو سے محبت کے معنی ہیں کہ اس کی عملی خدمت کی جائے۔
حکومت اردو کو دوسری سرکاری زبان تسلیم کرنے کے بعد اپنی ذمہ داریوں سے ایک حد تک سبک دوش ہو جائے گی اور اردو کا چلن دوبارہ شروع صرف اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ اترپردیش کے ہر گوشہ میں ان مراعات کو عملی جامہ پہنایا جائے۔
اس کے علاوہ ہماری مانگ یہ بھی ہے کہ ہر تحصیل میں کم از کم دو اردو میڈیم سکول سرکار اپنے خرچ سے چلائے۔ مگر اس میں قباحت یہ ہے کہ پھر وہ بھی ہمارے لیے ایک مسئلہ بن جائے گا، مثلاً بی ٹی سی (بیسک ٹیچرز سرٹیفیکیٹ) سینٹروں کو لیجئے، یہ بیسک ٹریننگ کالج (اردو) انجمن کی درخواست پر ٹیچروں کو اردو تعلیم دینے کے لیے وجود میں آئے تھے اور اب یہاں سب مضامین پڑھاتے ہیں سوائے اردو کے۔ ان کالجوں کی لائبریری کے لیے حکومت اب تک دو تین لاکھ روپے تو دے ہی چکی ہو گی مگر ایک پیسے کی بھی اردو کتابیں نہیں خریدی گئی ہیں۔ اگر ان میں سے کوئی کالج جن کی تعداد ۴ ہے، مجھے اپنے متعلقہ لائبریری میں کسی ایک سال کی مالی امداد سے اردو کی کتابوں کے خریدنے کی رسید اور کتابیں دکھا دے تو میں اپنا بیان واپس لے لوں گی اور معافی مانگ لوں گی۔
ان حالات کے پیشِ نظر ہمارا مطالبہ ہے کہ بی ٹی سی پاس شدہ ٹیچروں کو عام ٹیچر تصور کیا جائے اور اس میں محکمۂ تعلیم کو کوئی قباحت بھی نہیں ہو گی، صرف سائن بورڈ ہی تو بدلنا ہو گا۔ اس تمام جدوجہد سے بچنے کے لیے ہمارا مطالبہ ہے کہ ہر تحصیل میں کسی اچھے دو اردو مکتبوں یا پرائیویٹ اردو اسکولوں کو حکومت اپنا لے۔ ٹیچروں وغیرہ کی تنخواہ دے تاکہ حکومت کے تعاون سے یہ مکتب یا سکول اپنا معیارِ تعلیم بلند کر سکیں اور پھر جلد ہی ان کو اردو میڈیم ہائی سکول میں تبدیل کر دیا جائے۔
اس جگہ اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ صوبہ میں اس وقت ۸۱۴ گرانٹ یافتہ مکاتب ہیں اور ہم ان مکاتب کی کھوج کر رہے ہیں جن کو پہلے گرانٹ ملی تھی اور اب بند ہو گئی ہے تاکہ ان کی گرانٹ پھر سے جاری کرائی جا سکے۔ اس کے علاوہ ہم نے حکومت سے یہ بھی طے کیا ہے کہ ان امداد یافتہ مکاتب کا انتظام موجودہ ناظم صاحبان کے ہاتھ میں پہلے کی طرح رہے اور اگر حکومت کا دخل ذرا بھی ہوا تو اردو تعلیم کا مقصد فوت ہو جائے گا۔
اس کے علاوہ سرکاری جی او نمبر x17-110-59 / 10453 مورخہ ۲۱ اگست ۱۹۵۹ء کی رو سے اردو میں رجسٹریاں بیعنامہ بغیر ہندی ترجمہ لگائے جا سکتے ہیں اور اس پر عمل سب سے پہلے قاضی عدیل عباسی مرحوم ایڈووکیٹ نے بستی میں کیا اور جب تک وہ زندہ رہے اس پر عمل ہوتا رہا۔ میں قاضی صاحب کی مثال ادھر بار بار دے رہی ہوں تاکہ ہمارے وکیل صاحبان اس طرف توجہ فرمائیں اور عدالتوں و کچہریوں میں اردو کا چلن پھر سے عام ہو جائے۔ میں جانتی ہوں کہ اب یہ کام آسان نہیں ہے لیکن ہمیں اگر اپنی مادری زبان سے محبت ہے تو یہ کرنا ہو گا۔
ایک بڑی کامیابی انجمن کو یہ ہوئی، جس کو بروئے کار لانے کے لیے یو پی کے ہر کونے میں محبانِ اردو کو سرگرم عمل ہونا چاہیئے، وہ یہ کہ حکومتِ ہند پورے ملک میں جہالت کے خلاف ایک تعلیمِ بالغاں مہم چلاتی ہے، تامل، تلگو، بنگالی وغیرہ، غرضیکہ شیڈول ۸ میں شامل ہر زبان کے لوگ اس مہم میں شرکت کر رہے ہیں سوائے اردو کے، انجمن کی کوششوں سے اردو ڈائریکٹوریٹ سے ایک خط نمبر کیمپ/بسیک/زبان 3-2683-2780 مورخہ ۱۴ ستمبر ۱۹۸۹ء کو ہر بسیک شکشا ادھیکاری کے نام جاری ہو گیا ہے کہ وہ ۱۵ دن کے اندر اندر ڈائریکٹر اردو کو بتائیں کہ ان کے حلقے میں کس قدر اردو تعلیمِ بالغاں کی کلاسیں کھولی جا سکتی ہیں۔ ظاہر ہے بسیک شکشا ادھیکاری صاحبان اس طرف کچھ خاص توجہ نہ دے پائیں گے اس لیے یہ کام اب محبانِ اردو کا ہے کہ وہ بالغوں اور ان کے بچوں کے لیے اردو کلاسیں کھلوانے کے لیے بسیک شکشا ادھیکاری صاحبان کو خود ہی لکھ دیں کہ ان کے حلقے میں کن کن محلوں میں اندازًا کتنی کلاسیں ان پڑھ مردوں، عورتوں اور بچوں کی کھل سکتی ہیں۔ اس کے بعد چپ نہیں بیٹھنا ہے انہیں یاددہانی کرانا ہے۔ جی ایس اے اور ضلع کے تعلیم بالغان افسر سے بھی ملنا ہو گا (کہ) اس تجویز پر عمل کیا؟ مثلاً مجھے آج ہی اطلاع ملی ہے کہ لکھنؤ شاخ کے ایک سرگرم کارکن جناب جمال علوی نے اس تجویز پر عمل کیا اور بدقت تمام ان ضلع کے تعلیم بالغان افسر سے تعلیم بالغان کتابوں کے Kits دیئے مگر اس میں اردو کی کوئی کتاب نہیں تھی۔ اب اس کی شکایت بھی جناب نرائن دت تیواری جی سے کی جا رہی ہے۔ توقع ہے کہ جلد ہی اردو کا سیٹ Kits بھی تیار ہو کر اردو والوں کی خدمت کے لیے آجائیں گے، مگر ہر طرف سے اردو کٹ کی مانگ کی ضرورت ہے۔
یہ سب کام پورے صوبے میں عملی جامہ پہن سکتا ہے بشرطیکہ آپ حضرات خود دلچسپی لیں۔ اب وہ زمانہ گیا  جب کچھ مقامات پر انجمن کے کارکنوں نے ایک ایک سکول میں اردو جاری کرانے کے لیے پچیس تیس سال تک محنت کی ہے۔ اب تو ہر مقام کے اردو نواز حضرات کو سرگرمِ عمل ہونا چاہیئے۔ قالین پر بیٹھ کر غمِ اردو کو بیان کرنا بھی اپنا ایک مقام رکھتا ہے مگر اب وقت ہے عملی اقدام کا تاکہ حکومت کے نافذ کردہ قوانین کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔
مزید معلومات ’’ریاستی انجمن ترقی اردو‘‘ اترپردیش جی ۳/۴ رپورنک کالونی لکھنؤ سے حاصل کیجئے۔
(بشکریہ دیوبند ٹائمز)

جہادِ آزادیٔ کشمیر اور پاکستانی قوم کی ذمہ داری

مظفر آباد سے کشمیر کی ایک غیور بیٹی کا مکتوب

ادارہ

(کشمیری حریت پسند اس وقت فیصلہ کن جہادِ آزادی میں مصروف ہیں اور مہاجرین کی ایک بڑی تعداد بھارتی فوج کے مظالم سے تنگ آ کر سرحد عبور کر چکی ہے۔ آزاد کشمیر کا دارالحکومت مظفرآباد کشمیری مہاجرین کے سب سے بڑے کیمپ کی حیثیت اختیار کیے ہوئے ہے۔ کشمیری مہاجرین کے احوال اور جہادِ کشمیر کے بارے میں مظفر آباد سے ایک حساس اور غیور خاتون نے اپنے دو عزیزوں جناب شیخ خورشید انور اور جناب شیخ محمد یوسف کے نام مکتوب میں اپنے جذبات و احساسات کا اظہار کیا ہے اور پاکستانی قوم کو اس سلسلہ میں اس کے فرائض کی طرف توجہ دلائی۔ مکتوب کے چند حصے قارئین کی خدمت میں پیش کیے جا رہے ہیں۔ ادارہ)
اس وقت شہر میں کم از کم دس ہزار کشمیری لڑکے فروکش ہیں، ان کے قیام و طعام کا بندوبست بہرحال ہماری ذمہ داری ہے۔ لوگوں نے اپنے ڈرائنگ روم ان کے لیے خالی کیے ہوئے ہیں۔ محلوں میں خیمے بھی لگے ہوئے ہیں جہاں عارضی طور پر مجاہدینِ آزادی قیام پذیر ہیں۔ موجودہ حالات میں عوامی تعاون ہی بہترین حکمتِ عملی ہے۔ حکومت جتنا کر رہی ہے اتنا ہی مناسب ہے۔ ہم نے پاکستان کی ان شاء اللہ تکمیل بھی کرنی ہے اور پاکستان کو بچانا بھی ہے۔ اہلِ کشمیر پاکستان کے سچے عاشق ہیں۔ اب وہ اہلِ پاکستان کو اپنی آزادی کے لیے کسی مصیبت میں ڈالنا نہیں چاہتے۔ انہوں نے بھارت کی گردن پکڑی ہوئی ہے۔ اگر اس نے جھلّا کر پاکستان پر حملہ کیا تو ہم ایک ایک کر کے نثار ہو جائیں گے اور بھارت کا کچھ بھی باقی نہیں چھوڑیں گے۔
آپ کی تسلی کے لیے میں آپ کو یقین دلاتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان نوعمر مجاہدین کی اپنی خاص رحمت سے مدد فرما رہا ہے۔ معلوم ہوتا ہے ہمارے رب نے حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہماری نسبت کو قبول فرما لیا ہے اور گنہگار امتیوں کو ان کی دعاؤں کے سائے میں لے لیا ہے۔ گذشتہ ماہ ۴۴ لڑکوں کا قافلہ جن کی عمریں ۱۵ سے ۲۴ سال کے درمیان تھیں برفانی پہاڑ عبور کرتا ہوا سرحد کی طرف بڑھ رہا تھا کہ اچانک ان کی نظریں بھارتی فوجیوں پر پڑی، یہ لوگ برفباری میں محفوظ ہوتے ہیں لیکن یک لخت موسم صاف ہو گیا اور بھارتیوں کے سٹارز چمکتے ہوئے دکھائی دینے لگے۔ ان کے گروپ لیڈر نے مجھے بتایا کہ موت کو سامنے دیکھ کر ہم نے میدانِ بدر کی دعا دہرائی کہ اے اللہ! اپنے دین کی سربلندی کے لیے ہمیں دشمن سے نجات بخش۔ عین اسی وقت دھند چھا گئی اور ایک دوسرے کو دیکھنا بھی مشکل ہو گیا۔ ہم نے اسے تائید غیبی سمجھ کر رفتار دگنی کر دی۔ ابھی ایک پہاڑ پر چڑھنا باقی تھا، ہمارے حلق خشک ہو گئے اور زبانیں موٹی ہو گئیں۔ سب نے اپنے جوتوں میں پگھلی ہوئی برف سے لب تر کیے۔ سب کے پاؤں snow bits سے زخمی تھے لیکن ہم بڑھتے چلے گئے۔ ڈھائی گھنٹے دھند ہمارے اوپر سایہ فگن رہی اور جب ہم سرحد کے قریب پہنچے تو دھوپ نکل اچانک ہمیں فوجیوں کے سٹارز پھر چمکتے ہوئے دکھائی دیے۔ غالباً ہم بھٹک کر پکٹ کے قریب پہنچ چکے تھے۔ ہم اپنے سر بازوؤں میں چھپا کر الٹے لیٹ گئے تاکہ شہادت کی صورت میں ہمارے والدین ہمارے چہرے پہچان سکیں۔ اتنے میں فوجی بھاگتے ہوئے ہمارے قریب آئے اور جنت کی سی آواز آئی السلام علیکم Boys! You are welcome to Azad Kashmir
گذشتہ دنوں ڈیڑھ سو لڑکوں کا قافلہ سرحد عبور کر رہا تھا کہ یہ لوگ غلطی سے راستہ بھول کر بھارتی مورچوں پر پہنچ گئے۔ ان میں سترہ لڑکے بھدرواہ سے اباجی کی فیملی سے ہیں۔ بھارتی فوجیوں کو دیکھ کر انہوں نے ’’پاکستان زندہ باد اور اللہ اکبر کے نعرے بلند کیے‘‘۔ بھارتیوں نے سمجھا کہ آزاد کشمیر کے جوشیلے لڑکے پھر کوئی جلوس وغیرہ نکال کر سرحد عبور کر آئے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے وائرلیس پر پاکستانی آرمی کے میجر کو گالی دے کر کہا کہ تمہارے یہ لاڈلے پھر ادھر آ گئے ہیں انہیں واپس لے جاؤ ورنہ ہم فائر کھول دیں گے، انہوں نے سرحد کو کھیل بنا رکھا ہے۔ ہمارے میجر نے انتہائی منت سے گذارش کی کہ ہم انہیں خود سزا دے لیں گے، آج کل سکولوں کالجوں میں چھٹیاں ہیں اس لیے یہ شرارتیں کر رہے ہیں، ہم ان کی طرف سے معافی مانگتے ہیں۔ چنانچہ پاک آرمی کے جوان خود بھارتی مورچوں میں جا کر انہیں بحفاظت لے آئے۔ ہمیں اپنی بے مثال فوج کی دانشمندی اور بہادری پر فخر ہے۔ یہ مومن کی بصیرت اور علیؓ کے جگر سے سرحدوں پر چوکس اور ہر دم مصروف ہیں۔ ۱۱ فروری کو چکوٹھی بارڈر پر مظفر آباد کے لشکروں نے جو چیڑھ کے درخت پر پرچم لگایا تھا پاک فوج نے بھارتیوں کو یہ پرچم اتارنے کی جرأت نہیں کرنے دی کیونکہ یہ ہمارے بچوں نے اپنا خون دے کر لگایا تھا جو اب پوری آب و تاب سے لہرا رہا ہے۔
لبریشن فرنٹ کے کمانڈر انچیف ملک یسین کی خبر تو آپ نے ٹی وی پر سن لی ہو گی، اس بات کی تصدیق ہو گئی ہے کہ وہ سلامت ہیں اور محفوظ مقام پر مصروفِ جہاد ہیں۔ اول تو چار منزلہ عمارت سے چھلانگ لگا کر بچنا ہی محال ہے، پھر سری نگر کی کرفیوز زدہ سڑک پر آرمی کی حفاظت میں ایمبولینس سے فرار اور بھی ناممکن ہے لیکن اس صدی میں ایسا ہوا ہے اور یہ کسی معجزے سے کم نہیں۔
میں یہ سب باتیں آپ کو اس لیے لکھ رہی ہوں تاکہ آپ کو یقین آجائے کہ آپ لوگوں کی دعائیں ہمیں پہنچ رہی ہیں۔ پاکستانی قوم دنیا کی منفرد اور بے مثال قوم ہے۔ اگر قیادت قائد اعظم جیسی میسر آجائے تو اس قوم میں دنیا کی امامت کرنے کی تمام تر صلاحیتیں موجود ہیں۔ ۴۲ برس میں جو کچھ اس قوم کے ساتھ سلوک ہوا ہے اگر کسی اور کے ساتھ ہوا ہوتا تو پوری قوم پاگل ہو جاتی لیکن پاکستانیوں کے صبر و ہمت اور استقلال کی مثال نہیں ملتی۔ اللہ تعالیٰ نے اس سخت جان قوم سے ضرور کوئی خاص کام لینا ہے اسی لیے اس کی آزمائش بھی کڑی ہے۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے یورپ کے تربیت یافتہ مٹھی بھر خواص کو ہدایت دے اور ان کے دلوں میں رحم و خداخوفی بھر دے، یہ بے حیائی اور بے ایمانی ترک کر کے ملک سے کھیلنا چھوڑ دیں اور انتشار کا راستہ بدل لیں۔ ایک مضبوط اور متحد پاکستان اہلِ کشمیر اور اہلِ افغانستان کا ناقابلِ تسخیر قلعہ ہے بلکہ اسلامی بلاک کے خواب کی تعبیر ہے۔
کیا آپ دس کروڑ پاکستانیوں میں چار کروڑ بھی ایسے نہیں جو اپنے خرچے پر جمع ہو کر اسلام آباد جائیں اور حکمرانوں کی منت کریں کہ ہم اس وقت تک یہاں سے نہیں جائیں گے جب تک آپ میاں نواز شریف، نواب اکبر بگتی اور الطاف حسین کو دل سے تسلیم کر کے انہیں اپنا دوست سمجھنے کا اعلان نہیں کرتے۔ اسی طرح اتنے ہی لوگ میاں نواز شریف، نواب بگتی اور الطاف حسین کی خدمت میں حاضر ہو کر ان کا گھیراؤ کریں کہ آپ وفاقی حکومت کی اطاعت اور تعاون کا اعلان کریں۔ ایک خوبصورت جمہوری طرزِ عمل ہی اب نفرتوں کے زہر کا تریاق بن سکتا ہے۔ عوام کا شعور بیدار ہو تو حکمرانوں میں سیاسی پختگی خود ہی آجاتی ہے۔ بہتر ہے عوام لیڈروں کو ان کے حال پر چھوڑ دیں اور خود اپنا جمہوری حق استعمال کریں۔ قوم بیدار ہو تو سیاسی کاروبار کی دکانیں خودبخود بند ہو جاتی ہیں۔ ضمیروں کے سودے اور عوامی رائے کی خریدوفروخت تبھی ممکن ہے جب لوگ مایوسیوں کے گرداب میں پھنس جائیں اور اپنی قسمت کے فیصلے خود نہ کر پائیں۔ آپ لیڈروں کو ان کے حال پر چھوڑ کر خود موج در موج قافلہ در قافلہ اٹھیں اور حکمرانوں کو باور کرائیں کہ انہیں امریکی سفیرمسٹر رابرٹ اوکلے کے سامنے اپنی صفائیاں پیش کرنے کی بجائے آپ کے سامنے اپنا عہد نبھانا ہے اور ملک کے مفادات کی حفاظت کرنی ہے۔ اس وقت اللہ کا خوف اور اس کے احکامات کی پابندی کے علاوہ قومی جرأت و غیرت ہی ہماری آئندہ نسلوں کی آزادی اور سلامتی کی ضامن بن سکتی ہے۔ اپنا انفرادی اور مجموعی فرض ادا کریں۔

مثیلِ موسٰی کون ہے؟

اونٹ کے حوالے سے ایک دلچسپ بحث

محمد یاسین عابد

کراچی سے مبشر انجیل عبد اللہ مسیح نے سیالکوٹ کے پادری برکت اے خان کا رسالہ بعنوان ’’کون مثیلِ موسٰیؑ ہے‘‘ بھیجا جسے پڑھ کر پادری صاحب کی کج فہمی اور علم و عقل کے دیوالیہ پن سے آگاہی ہوئی۔ چنانچہ ص ۴۹ پر لکھتے ہیں:
’’کتابِ مقدس کے خداوند نے جن چوپایوں میں سے چار جانور حرام قرار دیے بزرگ موسٰی نے ان کی بابت توریت شریف میں لکھا ہے: تم ان کو یعنی اونٹ اور خرگوش اور سافان کو نہ کھانا کیونکہ جگالی کرتے ہیں لیکن ان کے پاؤں چرے ہوئے نہیں سو یہ تمہارے لیے ناپاک ہیں‘‘۔
خان صاحب مزید لکھتے ہیں:
’’مثیلِ موسٰی کے وکلاء کو چاہیئے کہ وہ ثابت کریں کہ مثیلِ موسٰی نے بھی ان چاروں جانوروں کو ناپاک اور حرام قرار دیا تھا اور ان کی لاشوں کو ہاتھ لگانے سے منع کیا ہے۔‘‘
صفحہ ۵۰ پر لکھا ہے:
’’پس جو شخص کسی حرام جانور کو حلال اور حلال جانور کو حرام قرار دیتا ہے وہ مثیلِ موسٰی نہیں ہو سکتا۔‘‘
جواباً عرض ہے کہ بائبل استثناء ۶:۱۴ میں ہے کہ
’’چوپایوں میں سے جس جس کے پاؤں الگ اور چرے ہوئے ہیں اور جگالی بھی کرتا ہو تم اسے کھا سکتے ہو۔‘‘
اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ اونٹ اس معیار پر پوتا اترتا ہے یا نہیں؟ یعنی (۱) جگالی کرنا (۲) پاؤں الگ اور چرے ہوئے ہونا۔

(۱) اونٹ جگالی کرتا ہے

اونٹ کے جگالی کرنے کا کسی کو بھی انکار نہیں۔ خود بائبل کا بیان ہے کہ ’’اونٹ کو کیونکہ وہ جگالی کرتا ہے‘‘ (احبار ۴:۱۱)۔ یعنی اونٹ کی جگالی پر مزید بحث کی چنداں ضرورت نہیں۔

(۲) اونٹ کے پاؤں

یہ امر روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ اونٹ کے کُھر (پاؤں) چرے ہوئے ہوتے ہیں۔ راقم الحروف نے خود کئی عیسائیوں کو ساتھ لے کر اونٹ کے پاؤں دکھائے تو ان کی بے بسی دیدنی تھی۔ بعض نے کہا کہ اونٹ کے تو صرف کھر چرے ہوئے ہیں نہ کہ پاؤں کا گوشت۔ جواباً عرض ہے کہ بائبل نے بھی کھروں کا چرا ہوا ہونا ہی مشروط ٹھہرایا ہے۔ چنانچہ ملاحظہ ہو استثناء ۶:۱۴ کی عبارت گورمکھی بائبل سے:
’’اتے پسوأں وچوں ہر اک پسو جہدے کھر پاٹے ہوئے ارتھات کھراں دے دو وکھو وکھ حصے ہون اتے اگالی کرن والا ہو وے۔‘‘
ثابت ہوا کہ پاؤں کا گوشت نہیں بلکہ کھروں کا چرا ہوا ہونا مشروط ہے۔ گائے، بھینس اور بکرے کے بھی کھر ہی چرے ہوئے ہوتے ہیں نہ کہ پاؤں کا گوشت۔ البتہ پاؤں کے درمیان گوشت میں بھی ہلکی سی گہرائی ہوتی ہے جو کہ اونٹ کے پاؤں میں بھی موجود ہے، جبکہ کھر علیحدہ علیحدہ دو حصوں میں تقسیم ہیں۔ یعنی اونٹ دونوں معیاروں پر پوتا اترتا ہے، جگالی بھی کرتا ہے اور اس کے کھر بھی چرے ہوئے ہیں۔ قارئین استثناء ۱۴: ۷۔۸ کے مذکورہ حوالہ کو پڑھ کر ’’بائبل مقدس کے خدا‘‘ کی علمیت کو داد دیں۔

مثیلِ موسٰی

واضح ہو کہ کتاب استثناء ۱۸:۱۸ میں موعود مثیلِ موسٰی نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ جبکہ عیسائیوں کے نزدیک وہ مثیل موسٰی بنی یسوع ہیں ۔۔۔ اب ہم پادری صاحب کا اعتراض لیتے ہیں جو کہ انہوں نے مسلمانوں پر کیا ہے کہ ’’وہ ثابت کریں کہ مثیلِ موسٰی نے بھی ان چاروں جانوروں کو ناپاک اور حرام قرار دیا تھا اور ان کی لاشوں کو ہاتھ لگانے سے منع کیا تھا‘‘۔ پادری صاحب! ’’خدا اور بزرگ موسٰی‘‘ کے قرار دیے ہوئے نہ صرف ان چاروں بلکہ تمام حرام جانوروں کو مسیحیوں کے ’’مثیلِ موسٰی یسوع‘‘ نے پاک ٹھہرایا ہے۔ دیکھو مرقس ۱۹:۷)۔ موجودہ مسیحیت کے بانی پولس کا قول ہے
’’جو کچھ قصابوں کی دکانوں پر بکتا ہے وہ کھاؤ اور دینی امتیاز کے سبب سے کچھ نہ پوچھو کیونکہ زمین اور اس کی معموری خداوند کی ہے اگر بے ایمانوں میں سے کوئی تمہاری دعوت کرے اور تم جانے پر راضی ہو تو جو کچھ تمہارے آگے رکھا جائے اسے کھاؤ اور دینی امتیاز کے سبب سے کچھ نہ پوچھو‘‘۔ (۱۔ کرنتھیوں ۱۰: ۲۵۔۲۷)
مسیحیوں کے مثیلِ موسٰی نے ان چاروں جانوروں کو کیا ہی خوب حرام اور ناپاک ٹھہرایا تھا جس کا مطالبہ مسلمانوں کے مثیلِ موسٰی سے کیا جا رہا ہے، یا للعجب! پادری صاحب! گلے میں لٹکی ہوئی صلیب پر ہاتھ رکھ کر کہیئے کیا اب بھی مسیح کو مثیلِ موسٰی مانتے ہو؟ جبکہ خود آپ کا ہی قول ہے ’’پس جو شخص کسی حرام جانور کو حلال اور حلال جانور کو حرام قرار دیتا ہے وہ مثیلِ موسٰی نہیں ہو سکتا‘‘۔ (کون مثیل موسٰی ہے ۔ ص ۵۰)
نہ علم نہ عقل نہ فہم نہ شعور
انہیں دیکھو کہ نازاں کس بات پہ ہیں


نو سالہ ماں

حافظ محمد اقبال رنگونی

ترکی میں ایک نو سالہ لڑکی نے ایک صحت مند بچے کو جنم دیا ہے۔ نو عمر ماں کے ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ زچہ و بچہ ٹھیک ہیں۔ اس لڑکی نے مغربی شہر افیاں میں آپریشن کے ذریعے لڑکے کو جنم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک انٹرنیشنل میڈیکل لٹریچر کی لسٹ کا تعلق ہے دنیا کی نو عمر ترین ماں کی عمر پانچ برس ہے، تاہم ترکی کے ریکارڈ کے مطابق اس سے قبل ملک کی نو عمر ماں کی عمر بارہ سال تھی۔ لڑکی کو جب ہسپتال لایا گیا تو وہ آٹھ ماہ کی حاملہ تھی۔ (جنگ لندن ۔ ۱۶ مارچ ۱۹۹۰ء)
قارئین کرام نے پہلے بھی یہ خبریں پڑھی ہوں گی کہ ماریلا ایلا نے نو سال کی عمر میں (جنگ ۔ ۱۰ اپریل ۱۹۸۶ء) اور مارتھا نے بھی نو سال کی عمر میں لڑکی کو جنم دیا تھا (ملت لندن ۔ ۲۱ جنوری ۱۹۸۹ء) اور مذکورہ خبر میں بھی یہ ہی ہے، پھر اس میں ’’نو عمر ترین ماں کی عمر‘‘ بھی پیشِ نظر رہے۔ یوں تو ماریا، مارتھا اور مذکورہ لڑکی کا دنیا کی کم سن ماں بن جانا ایک عجوبہ سے کم نہیں اور کئی لوگ اسے تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے لیکن یہ واقعہ خواہ کتنا ہی عجیب و غریب کیوں نہ ہو چونکہ وجود میں آ چکا ہے اس لیے ہر خاص و عام، دانشور و مفکر اس کی سچائی و اصلیت کا اعتراف کیے بغیر نہیں رہ سکتا اور کسی کی زبان پر یہ نہیں آتا کہ یہ کیونکر اور کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک نو سالہ لڑکی صحت مند بچے کو جنم دے دے۔ لیکن ہمارے معاشرے کے یہی عاقل و دانشور، مفکر و محقق کتبِ احادیث میں جب یہ پڑھتے ہیں کہ
ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم تزوجھا وھی بنت ست سنین و ادخلت علیہ وھی تسع و مکثت عندہ تسعا (صحیح بخاری ج ۲ ص ۷۷۱)
(ام المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہؓ کے ساتھ) نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح فرمایا جب آپؓ چھ سال کی تھیں اور جب آپؓ کی رخصتی ہوئی تو آپؓ نو سال کی تھیں اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت بابرکت میں نو سال رہیں)۔
تو ہمارے یہ دانشور و مفکر نہ صرف حضراتِ محدثین کو برا بھلا کہہ کر اپنے دل کی بھڑاس نکالتے ہیں بلکہ خود حدیث پاک پر سے بھی بے اعتمادی پیدا کرنے کے لیے کافی حد مصروفِ جہاد ہو جاتے ہیں حالانکہ نو دس سال کی عمر میں شادی کا ہونا کوئی معیوب نہیں۔ خود بانیٔ پاکستان جناب محمد علی جناح صاحب کے بارے میں لکھا ہے کہ
’’نو عمر جناح لگ بھگ ۱۵ سال کے تھے اور دلہن ۹۔۱۰ سال کی‘‘۔ (جنگ لندن ۔ ۳۱ مارچ ۱۹۹۰ء)
سو امر واقع یہ ہے کہ صحیح البخاری کی مذکورہ روایت جعلی اور موضوع نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مفسرین و محدثین فقہاء کرامؒ نے اس روایت کی روشنی میں بہت سے مسائل و احکام اخذ کیے جس سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ ان حضرات گرامی قدر کے نزدیک یہ روایت صحیح اور مبنی بر حقیقت ہے۔ لیکن برا ہو عقل کے ترازو پر ہر چیز تولنے والوں کا کہ انہوں نے جہاں اور بہت سے عقائد و مسائل پر طعن و تشنیع کے نشتر چبھوئے  انہیں میں سے ایک مسئلہ یہ بھی ہے۔ ان دانشوروں نے اس روایت کے انکار کے لیے یہ مفروضہ قائم کر دیا کہ نو سالہ لڑکی بالغ اور ماں کیسے بن سکتی ہے؟ لیکن جب یہی دانشور اخبارات کی زبانی اور تصاویر کی روشنی میں نو سالہ لڑکی کے نہ صرف بالغ ہونے بلکہ صحتمند بچے کو جنم دے کر ماں بن جانے کی خبر پڑھتے ہیں تو اسے تسلیم کرنے میں انہیں ذرا بھی جھجھک نہیں ہوتی۔ ’’یوں ہو سکتا ہے‘‘ کہہ کر اس کا برملا اعتراف کر لیتے ہیں، کسی قسم کا کوئی اشکال کوئی شرم و عار محسوس نہیں کرتے۔ نہ اخباری رپورٹوں کو کوسا جاتا ہے نہ مصوروں کو برا کہا جاتا ہے۔ مگر جب یہی بلکہ اس سے کم بات اگر کسی حدیث میں پڑھتے ہیں تو قیامت برپا ہو جاتی ہے، جی بھر کر گالیاں دی جاتی ہیں، حدیث کی اصلاح کا مشورہ دیا جاتا ہے، عجمی سازش کی رٹ لگائی جاتی ہے، ملا اور ملائیت کے خلاف ایک طوفانِ بدتمیزی برپا کر دیا جاتا ہے۔ 
آخر اس انکار کا مقصد کیا ہے؟ کیا بات ہے کہ اخبار کی خبر بلا چون و چرا مان لی جائے اور کتبِ احادیث کی تکذیب کر دی جائے؟ کیا اس کا صاف مقصد یہ نہیں کہ اہلِ اسلام کے قلوب سے احادیث اور محدثین کی عظمت و وقعت گرا دی جائے۔ مسائل و احکام میں من مانی کی اجازت دی جائے۔ اور قرآن کی تشریح میں ہر شخص کو آزاد کر دیا جائے۔ سوچئے اس کا انجام کیا ہو گا؟ اللہ سب کو عقلِ سلیم اور قلبِ صحیح نصیب فرما دے، آمین۔

آپ نے پوچھا

ادارہ

حضرت سعد بن عبادہؓ اور بیعت سیدنا صدیق اکبرؓ

سوال: عام طور پر تاریخ کی کتابوں میں آتا ہے کہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیعت سے انکار کر دیا تھا اور پھر آخر دم تک اپنے اس انکار پر قائم رہے تھے۔ اس کی کیا حقیقت ہے؟ (محمد معاویہ۔ کراچی)

جواب: جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد انصارِ مدینہ سقیفہ بنی ساعدہ میں جمع ہوئے اور انہوں نے جانشینِ رسولؐ کے طور پر حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے انتخاب کا فیصلہ کیا۔ بیعت کی تیاری ہو رہی تھی کہ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ وہاں پہنچ گئے اور انہوں نے صورتحال کو تدبر کے ساتھ سنبھال لیا۔ چنانچہ بحث و تمحیص کے بعد بالآخر حضرت ابوبکرؓ کو خلیفہ منتخب کرنے پر اتفاق رائے ہو گیا اور تمام حاضرین نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی۔ تاریخ کی بعض روایات میں آتا ہے کہ اس موقع پر حضرت سعد بن عبادہؓ نے بیعت سے انکار کر دیا تھا لیکن یہ روایات درست نہیں ہیں کیونکہ مشہور مؤرخ طبریؒ نے جہاں انکار کی روایات نقل کی ہیں وہاں ایک روایت میں یہ الفاظ بھی بیان کیے ہیں ’’فتتابع القوم و بایع سعد‘‘ کہ حاضرین نے حضرت ابوبکرؓ کے ہاتھ پر لگاتار بیعت کی اور سعدؓ نے بھی بیعت کی۔

اسی طرح امام احمد بن حنبلؒ مسند احمد میں سند صحیح کے ساتھ روایت نقل کرتے ہیں کہ جب حضرت ابوبکرؓ نے اپنے خطاب کے دوران جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد گرامی کا حوالہ دیا کہ ’’الائمۃ من قریش‘‘ حکمران قریش میں سے ہوں گے تو حضرت سعد بن عبادہؓ نے اس کی تصدیق کی اور فرمایا ’’فانتم الامراء و نحن الوزراء‘‘ پس تم امیر ہو گے اور ہم تمہارے وزیر ہوں گے۔ اس لیے بیعت صدیق اکبرؓ سے حضرت سعد بن عبادہؓ کے انکار کی روایات درست نہیں ہیں اور صحیح بات یہی ہے کہ دوسرے صحابہ کرامؓ کے ساتھ انہوں نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کے ہاتھ پر بیعت کر لی تھی۔

سرسید احمد خان اور جہادِ آزادی

سوال: ۱۸۵۷ء کے جہادِ آزادی میں سرسید احمد خان کا کردار کیا تھا؟ (حافظ محمد علی صدیقی ۔ لیہ)

جواب: ۱۸۵۷ء میں سرسید احمد خاں ضلع میرٹھ میں سرکاری ملازم تھے اور انہوں نے جہادِ آزادی کے دوران مسلمانوں کے خلاف انگریزی حکومت کا دل کھول کر ساتھ دیا۔ سرسید احمد خان نے ۱۸۵۷ء کے معرکۂ حریت پر ’’اسبابِ بغاوتِ ہند‘‘ کے نام سے ایک رسالہ لکھا جس میں اپنے بارے میں ایک انگریز افسر مسٹر جان کری کرافٹ کے مندرجہ ذیل ریمارکس نقل کیے:

’’تم ایسے نمک حلال نوکر ہو کہ تم نے اس نازک وقت میں بھی سرکار کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ اور باوجود کہ بجنور کے ضلع میں ہندو اور مسلمانوں میں کمال عداوت تھی اور ہندوؤں نے مسلمانوں کی حکومت کو مقابلہ کر کے اٹھایا تھا، جب ہم نے تم کو اور رحمت خان صاحب بہادر ڈپٹی کلکٹر کو ضلع سپرد کرنا چاہا تو تمہاری نیک خصلت، اچھے چال چلن اور نہایت طرفداری سرکار کے سبب ہندوؤں نے، جو بڑے رئیس اور ضلع میں نامی چودھری تھے، سب نے کمالِ خوشی اور نہایت آرزو سے تم مسلمانوں کا اپنے پر حاکم بنانا قبول کیا، بلکہ درخواست کی کہ تم ہی سب ہندؤں پر ضلع میں حاکم بنائے جاؤ۔ اور سرکار نے بھی ایسے وقت میں تم کو اپنا خیرخواہ اور نمک حلال نوکر جان کر کمال اعتماد سے سارے ضلع کی حکومت تم کو سپرد کی اور تم اسی طرح وفادار اور نمک حلال نوکر سرکار کے رہے۔ اس کے صلے میں اگر تمہاری ایک تصویر بنا کر پشت ہا پشت کی یادگاری اور تمہاری اولاد کی عزت اور فخر کو رکھی جاوے تو بھی کم ہے۔‘‘ (ص ۱۹۲)

یہ تو انگریز حکام کے تاثرات ہیں اور جہاد ۱۸۵۷ء کے بارے میں جس میں حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی، مولانا محمد قاسم نانوتوی، مولانا رشید احمد گنگوہی، حافظ ضامن شہید، مولانا سرفراز علی شہید، مولانا فضل حق خیرآبادی، مولانا رحمت اللہ کیرانوی، مولانا عبد القادر لدھیانوی، جنرل بخت خان اور سردار احمد خان کھرل رحمہم اللہ تعالیٰ جیسے مجاہدین شریک ہوئے، سرسید احمد خان کے اپنے تاثرات کیا تھے وہ خود سرسید احمد خان کے الفاظ میں ملاحظہ فرمائیے:

’’غور کرنا چاہیئے کہ اس زمانہ میں جن لوگوں نے جہاد کا جھنڈا بلند کیا ایسے خراب اور بدرویہ اور بداطوار آدمی تھے کہ بخدا شراب نوشی، تماش بینی اور ناچ رنگ دیکھنے کے کچھ دریغ ان کا نہ تھا۔ یہ کیونکہ پیشوا اور مقتدا جہاد کے کہے جا سکتے تھے۔ اس ہنگامہ میں کوئی بات بھی مذہب کے مطابق نہ ہوئی۔ سب جانتے ہیں کہ سرکاری خزانہ اور اسباب جو امانت تھا اس میں خیانت کرنا، ملازمین سے نمک حرامی کرنی، مذہب کی رو سے درست نہ تھی۔ صریح ظاہر ہے کہ بے گناہوں کا قتل علی الخصوص عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کا مذہب کے موجب گناہِ عظیم تھا۔ پھر یہ ہنگامۂ غدر کیونکر جہاد ہو سکتا تھا؟ ہاں البتہ چند بدذاتوں نے دنیا کی طمع اور اپنی منفعت اور اپنے خیالات پورا کرنے اور جاہلوں کو بہکانے کو اور اپنے ساتھ جمعیت کرنے کو جہاد کا نام لے دیا۔ پھر یہ بات بھی مفسدوں کی حرامزدگیوں میں سے ایک حرامزدگی تھی، نہ واقع میں جہاد‘‘۔ (ص ۹۳)

نشہ کی حالت میں مرنے والے کا جنازہ

سوال: جو شخص نشہ کی حالت میں مر جائے اس کا جنازہ پڑھنا چاہیئے یا نہیں؟ (عبد اللطیف ۔ گوجرانوالہ)

جواب: نشہ کرنا خواہ وہ کسی چیز سے ہو حرام ہے۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ’’کُلُّ مُسْکِرٍ حَرَامٌ‘‘ ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ نشہ کرنے والا شخص کبیرہ گناہ کا مرتکب اور فاسق ہے لیکن اس سے کافر نہیں ہوتا۔ اگر کوئی شخص اسی حالت میں مر گیا تو اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی۔ حضرت مولانا ظفر احمد عثمانیؒ اسی نوعیت کے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے امداد الاحکام جلد اول ص ۲۵ میں لکھتے ہیں کہ:

’’شراب کے نشہ میں مرنے سے ایمان زائل نہیں ہوتا، ایمان کفر سے زائل ہوتا ہے، اور یہ فعل کفر نہیں بلکہ معصیت کبیرہ ہے۔ پس یہ شخص مسلمان ہے اس کی نمااز جنازہ پڑھی جائے۔ البتہ زجرو توبیخ کے لیے عالم مقتدا اور امام جامع مسجد اس کی نماز نہ پڑھے، عام مسلمان نماز پڑھ کر دفن کر دیں۔ اگر بدونِ نماز کے دفن کیا گیا تو سب گنہگار ہوں گے۔‘‘

گنٹھیا ۔ جوڑوں کا درد یا وجع المفاصل

حکیم محمد عمران مغل

عربی زبان میں جوڑوں کے درد کو وجع المفاصل کہا جاتا ہے۔ اگر یہ جوڑ اپنا اپنا کام ٹھیک طرح سے کرتے رہیں تو انسانی زندگی نہایت پرسکون گزر سکتی ہے۔ صحت کا دارومدار بڑی حد تک جوڑوں کا ہی رہینِ منت ہے۔ اسی لیے امتِ مسلمہ کو ہر جوڑ کے بدلے میں روزانہ شکریہ ادا کرنے کی تعلیم بھی دی گئی ہے۔ خدانخواستہ اگر جوانی میں ہی اعصاب اور جوڑ کسی وجہ سے متاثر ہو جائیں تو پھر آپ جوان ہو کر بھی بوڑھے ہیں۔ جن حضرات کے اعصاب (پٹھے) اور جوڑ تندرست رہیں گے ان کی عمریں بھی زیادہ ہوں گی۔
طبِ اسلامی اور یونانی میں انسانی جوڑوں کے دردوں کو الگ الگ ناموں سے تعبیر کیا گیا ہے۔ مثلاً گھٹنوں کے درد کو وجع المفاصل، انگلیوں کے جوڑوں کے درد کو درد نقرس، سرین کے درد کو وجع الورک، پھر سرین سے شروع ہو کر نیچے ٹخنے تک ہونے والے درد کو عرق النساء کہا جاتا ہے۔ مطلق گھٹنے کے درد کو وجع الرکبہ بھی کہتے ہیں۔ حکماء مقتدمین اور طبِ اسلامی کے اصولوں کے مطابق اس مرض کے پانچ بڑے اسباب ہیں مگر ان پانچ اسباب کو سمجھنے کے لیے صرف ان دو حالتوں کو ہی سمجھ لینا کافی ہے:

(۱) وجع المفاصل حار

یعنی پہلے تیز بخار کے ساتھ جوڑ متورم ہو کر شدید درد پیدا ہو گا خصوصاً گھٹنے اور انگلیوں کا درد تڑپائے گا۔ وجہ غلبہ خون یا غلبہ صفرا ہو گا اور یہ غلبہ شراب نوشی، گوشت خوری، ہر وقت پرشکم رہنا، ورزش کا فقدان، موروثی استعداد، مٹھائی کا زیادہ استعمال کرنا، بارش میں اکثر بھیگتے رہنا، نمدار جگہوں پر بود و باش اختیار کرنا، بھیگے کپڑے دیر تک پہنے رکھنا، فساد ہضم، موسم کی تبدیلی، سخت جسمانی محنت، کسی ضرب یا چوٹ کا لگنا، متعدی امراض کا حملہ، ایسی جگہ رہنا جہاں یکایک ہوا مرطوب اور ٹھنڈی ہو جاتی ہے مثلاً ایئرکنڈیشن کمرے۔ مستورات کا حیض بند ہو جانا یا اولاد اس کثرت سے پیدا ہونا کہ پہلے بچے کا دودھ کا زمانہ ختم نہ ہوا ہو وغیرہ وغیرہ۔
وجع المفاصل حال اگر کافی عرصے تک رہے تو اس سے غلافِ قلب میں ورم پیدا ہو کر دل کے امراض کا مزید خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔ جدید اصطلاح میں بورک ایسڈ کا جمع ہونا بھی دریا کو کوزے میں بند کر دیا گیا ہے۔ یعنی وہ مادہ جسے گردے خون وغیرہ سے صاف نہ کر سکیں تو وہ جوڑوں میں جمع ہوتا رہتا ہے۔ زیادہ سہولت اور آسانی کے لیے عرض کرتا چلوں کہ اگر درد زیادہ اور تڑپا دینے والا ہو اور بخار بھی ہو تو درد کی جگہ سرخ اور رگیں خون سے پر ہوں گی تو اب غلبہ خون پر ہو گا۔ اس لیے خون کی خرابی اور خون کے نقائص کی طرف توجہ دیں۔ اگر درد شدید مگر جلن کے ساتھ ہو، بخار بھی لرزہ کے ساتھ بار بار لوٹے اور پھر چڑھے، منہ کا ذائقہ تلخ ہو تو غلبہ صفرا ہو گا۔

(۲) وجع المفاصل بارد

اس کی وجوہات جسم میں بلغم کی زیادتی یا خلط سودا کی زیادتی (یاد رہے کہ علم طب میں چار اخلاط کا خصوصیت سے ذکر ہے)، یا غلبہ ریاح، یا مذکورہ بالا اخلاط میں سے کسی خلط کا احتراق، یا وہ خلط اپنی تعریف پہ پوری نہ اتر سکے وغیرہ۔ وجع المفاصل بارد تقریباً پوری عمر پیچھا نہیں چھوڑتا۔ یہ درد سردی کے موسم میں بہ نسبت گرمی کے زیادہ ستاتا ہے اور پھر سردی کی راتوں کو تو اس کا مریض تارے گنتا رہتا ہے۔ البتہ دن کو سورج کی تپش سے سکون ملتا ہے۔
ایک درد اور بھی ہے جسے عرق النسا کہتے ہیں۔ عرق النسا ایک رگ کا نام ہے جو سرین کے نیچے سے نکل کر ران اور پنڈلی کی پچھلی جانب سے ٹخنے تک آتی ہے۔ یہ درد کبھی ایک ٹانگ کبھی دونوں میں ہوتا ہے، اس کی وجہ (نقرس) یعنی چھوٹے جوڑوں کا درد، یا وجع المفاصل کا پہلے سے ہونا، یا اس کا مریض رہنا، یا فساد خون، یا بدن میں آتشک کا مادہ (یاد رہے آتشک اور سوزاک موروثی امراض ہیں، یہ نسل در نسل چلتی ہیں اور آٹھویں، دسویں، بارہویں تک کی پشت کو بھی متاثر کر سکتی ہیں)، سرد جگہ اٹھنا بیٹھنا، قبض رہنا، پشت کے مہرے متاثر ہونا، یا پیڑو کا ماؤف ہونا وغیرہ وغیرہ۰

پرہیز اور علاج

چاول، گوشت ہر قسم، ماش کی دال، اروی مٹھائی اور میدہ کی بنی ہوئی ہر قسم کی اشیاء، ایئرکنڈیشن، برف کا استعمال، آئس کریم ہر قسم کی، رنگ برنگی بوتلیں اور شربت، برف میں لگی ہوئی بوتلیں اور تمام مصنوعی خوردنی اشیاء سے پرہیز کر کے کچھ دن اصل اور فطری زندگی کو اپنائیں اور قدرت خدا کا مشاہدہ کریں۔ ان شاء اللہ سو فیصد افاقہ ہو گا۔ جدید سائنس نے دنیا کو اتنا آرام دہ اور حسین بنا دیا ہے کہ ہر ایک اس کا دلدادہ ہو کر اپنی صحت برباد کر رہا ہے۔ دنیا کی حقیقت تو اسلاف نے یہ فرمائی تھی:
بڑی کافرہ سارحہ ہے یہ دنیا
بباطن خبیثہ بظاہر حسینہ
(۱) کسی بھی دواخانہ کی معمون سورنجان لے کر حسب ہدایت کھائیں، سو فیصد افاقہ ہو گا ان شاء اللہ۔
(۲) مجرب اور کم خرچ نسخہ: چھوٹی کالی بڑ کے پورے چار ٹکڑے کریں۔ کم یا زیادہ نہ ہوں، شرط ہے۔ چھ ماثریہ ٹکڑے رات ضروریات سے فارغ ہو کر منہ میں ڈال کر تازہ پانی سے نگل لیں اور چبانا بالکل نہیں، یہ بھی شرط ہے۔ پھر صبح سویرے اٹھ کر ایک پاؤ دودھ بکری یا گائے کا کچا پی لیں۔ پرانا درد ایک ماہ میں اور عام درد ایک ہفتہ میں بالکل ختم۔

تعارف و تبصرہ

ادارہ

’’نبویؐ لیل و نہار‘‘

تالیف: امام احمد بن شعیب النسائیؒ (المتوفی ۳۰۳ھ)
ترجمہ: مولانا محمد اشرف، فاضل نصرۃ العلوم گوجرانوالہ
خوبصورت و مضبوط جلد، کتابت و طباعت عمدہ ۔ صفحات ۶۷۰ قیمت ۱۳۰ روپے
ملنے کا پتہ: مکتبہ حسینیہ، قذافی روڈ، گرجاکھ، گوجرانوالہ
یہ کتاب امام نسائیؒ کی معروف تصنیف ’’عمل الیوم واللیلۃ‘‘ کا اردو ترجمہ ہے جس میں امام نسائی رحمہ اللہ تعالیٰ نے جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے شب و روز کے اذکار اور روزمرہ ضروریات کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات و ہدایات کو جمع فرما دیا ہے۔ امام نسائیؒ امتِ مسلمہ کے عظیم محدثین میں سے ہیں جن کی شہرۂ آفاق تصنیف ’’سنن نسائی‘‘ کو حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی چھ سب سے بڑی اور مستند کتابوں (صحاح ستہ) میں شمولیت کا درجہ حاصل ہے۔ اور امام نسائیؒ جیسے جلیل القدر محدث کا نام سامنے آ جانے کے بعد کتاب کی اہمیت اور افادیت کے بارے میں مزید کچھ کہنے کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی۔ 
مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے فاضل استاذ مولانا محمد اشرف نے انتہائی عرق ریزی کے ساتھ اس کتاب کا ترجمہ کیا ہے اور ہمارے مخدوم و محترم حضرت مولانا سید نفیس شاہ صاحب مدظلہ العالی کی تجویز پر اس کا نام ’’نبویؐ لیل و نہار‘‘ رکھا گیا ہے۔ کتاب عرصہ سے نایاب تھی، مولانا محمد اشرف علمی حلقوں کے شکریہ کے مستحق ہیں کہ انہوں نے ’’عمل الیوم واللیلۃ‘‘ کا اردو ترجمہ اصل متن کے ساتھ شائع کر کے اہلِ علم کو اس سے استفادہ کا موقع فراہم کیا ہے۔

’’تقویٰ باطنی کمال کا معیار‘‘

افادات: شیخ الاسلام مولانا محمد عبد اللہ درخواستی
مرتب: مولانا فضل الرحمٰن درخواستی
ناشر: جامعہ مخزن العلوم، عیدگاہ، خانپور، ضلع رحیم یار خان
حافظ الحدیث والقرآن حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی دامت برکاتہم ہمارے دور کی ان برگزیدہ علمی اور روحانی شخصیات میں سے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے علم و عمل کے متنوع کمالات سے نوازا ہے اور انہیں مخلوقِ خدا کے ایک بڑے حصہ کی ہدایت اور راہنمائی کا ذریعہ بنایا ہے۔ حضرت درخواستی مدظلہ نے درس و تدریس، وعظ و نصیحت، ذکرِ الٰہی اور علماء کی سیاسی قیادت کے محاذوں پر پون صدی سے زیادہ عرصہ تک متحرک کردار ادا کیا ہے اور اب بھی بڑھاپے، بیماریوں اور کمزوریوں کے باوجود اس سلسلہ کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا وعظ و خطاب کا اپنا ایک مخصوص انداز ہے جس میں جذب کا پہلو غالب ہوتا ہے اور وعظ و نصیحت کے بے باک انداز پر جذب کا یہ پرتو ہی ان کی امتیازی خصوصیت ہے جو ان کے عقیدت مندوں کے لیے کشش کا باعث بنتی ہے اور ان کے سامعین گھنٹوں ان کے سامنے محوِ کیف رہتے ہیں۔
زیرِنظر رسالہ حضرت درخواستی مدظلہ کے ایک خطاب پر مشتمل ہے جس میں انہوں نے تقوٰی کی حقیقت، متقین کی صفات، اور تقوٰی کے تقاضوں پر اپنے مخصوص انداز میں روشنی ڈالی ہے اور ان کے ہونہار فرزند مولانا فضل الرحمٰن درخواستی نے اسے مرتب کر کے انتہائی عمدہ کتابت و طباعت کے ساتھ رنگین آرٹ پیپر پر شائع کیا ہے۔ رسالہ کے صفحات ۳۸ ہیں اور جامعہ مخزن العلوم خانپور کے علاوہ البدر جنرل سٹور بازار سیدنگری گوجرانوالہ سے بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔

’’سوانح حیات مولانا غلام رسولؒ‘‘

مصنف: مولانا عبد القادر
ناشر: فضل بکڈپو، اردو بازار، گوجرانوالہ
صفحات ۱۸۰ قیمت ۱۸ روپے
قلعہ میاں سنگھ ضلع گوجرانوالہ میں ایک باکمال بزرگ مولانا غلام رسولؒ گزرے ہیں جن کا تعلق اہلحدیث مکتب فکر سے تھا لیکن روایتی انداز سے ہٹ کر وہ معتدل اور صوفی مزاج بزرگ تھے۔ حدیث میں حضرت میاں نذیر حسین دہلویؒ اور حضرت شاہ عبد الغنی محدث دہلویؒ کے شاگرد تھے۔ حق گو عالم تھے۔ ۱۸۵۷ء کے جہادِ آزادی میں شرکت کے الزام میں گرفتاری اور نظربندی کے مراحل سے بھی گزرے۔ صاحبِ نسبت تھے اور ان کی کرامات کا بھی دور دور تک شہرہ تھا۔ پنجابی، اردو اور فارسی کے شاعر تھے اور اپنے دور کے کی مقبولِ خلائق شخصیات میں سے تھے۔ ان کے فرزند مولانا عبد القادرؒ نے اپنے والدِ محترمؒ کے حالات کو اس کتابچہ میں جمع کیا ہے۔ اس قسم کے بزرگوں کے حالاتِ زندگی کا مطالعہ اصلاحِ نفس اور عبرت و نصیحت کے لیے انتہائی مفید ہے۔ 

’’زعیمِ ملت مولانا ہزارویؒ‘‘

مرتب: مولانا محمد سعید الرحمٰن علوی
صفحات ۲۰ کتابت و طباعت معیاری
ملنے کا پتہ: مکتبہ حنفیہ، اردو بازار، گوجرانوالہ
بزم شیخ الہند گوجرانوالہ نے گذشتہ سال مجاہد ملت حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی رحمہ اللہ تعالیٰ کی یاد میں ایک تقریب کا اہتمام کیا جس میں مولانا محمد سعید الرحمٰن علوی نے اپنے مخصوص انداز میں ایک مضمون پڑھا، یہ مضمون ان کی نظرثانی کے بعد زیرنظر رسالہ کی صورت میں شائع کیا گیا ہے۔
برصغیر کی تحریکِ آزادی اور پاکستان میں نفاذِ اسلام کی جدوجہد میں مولانا غلام غوث ہزارویؒ ایک زندہ اور متحرک کردار کا نام ہے۔ اس بے لوث اور فعال کردار کے مختلف زاویوں کو صحیح طور پر نئی نسل کے سامنے لانا نہ صرف ان کا بلکہ نئی نسل کا بھی حق ہے، اور مولانا علوی نے اپنے مضمون میں ایک حد تک کوشش بھی کی ہے لیکن مضمون پر ان کا مخصوص ناقدانہ رنگ غالب ہے، اگر اس کے ساتھ وہ معلوماتی مواد کا توازن بھی قائم کر لیتے تو مضمون کی افادیت بڑھ جاتی۔ بہرحال مولانا علوی اور بزم شیخ الہند تبریک و تحسین کے مستحق ہیں کہ اس نفسانفسی کے دور میں جبکہ بزرگوں کو بھول جانے کی روایت فیشن کا رنگ اختیار کر چکی ہے، انہوں نے مولانا ہزارویؒ کی یاد کو تازہ رکھنے کی کوئی صورت تو نکالی۔ فجزاہم اللہ احسن الجزاء۔

مکان کیسا ہونا چاہیئے؟

حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ

مسکن کے سلسلہ میں یہ ضروری ہے کہ وہ آدمی کو گرمی سردی کی شدت اور چوروں کے حملوں سے بچا سکے اور گھر والوں اور ان کے سامان کی حفاظت کر سکے۔ ارتفاقِ منزل کا صحیح مقصود یہی ہے۔ چاہیئے یہ کہ مسکن کی تعمیر میں استحکام کے توغل و تکلف اور اس کے نقش و نگار میں اسرافِ بے جا سے احتراز کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ مکان حد درجہ تنگ بھی نہ ہو۔ بہترین مکان وہ ہے جس کی تعمیر بلا تکلف ہوئی ہو۔ جس میں رہنے والے مناسب طور پر آرام و راحت کے ساتھ زندگی بسر کر سکیں۔ فضا وسیع و عریض ہو، ہوا دار ہو اور اس کی بلندی بھی متوسط درجہ کی ہو۔
مکان ہو یا دیگر ضرورتیں، ان سب کا مقصود تو یہ ہوتا ہے کہ پیش آمدہ ضرورتوں کو اس طور سے پورا کیا جائے جو طبعِ سلیم اور رسمِ صالح کے تقاضوں کے مطابق ہو۔ لیکن بدقسمتی سے بعض لوگ شاندار عمارتیں بنوانے میں ہوائے نفس کے تابع ہوتے ہیں اور ان کی تعمیر میں نفسانی خوشی محسوس کرتے ہیں اور ان کو مقصود بالذات چیز سمجھتے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس قسم کے لوگ نہ تو دنیا کی کد و کاوش سے نجات پا سکتے ہیں اور نہ انہیں فتنۂ قبر اور فتنۂ محشر سے نجات مل سکے گی۔ (البدور البازغۃ مترجم ص ۱۲۳)

قرآنِ کریم کے ماننے والوں کا فریضہ

حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ

ہم پر، جو قرآنِ کریم کو ماننے والے ہیں، قطعی طور سے لازم ہے کہ ہم تمام اقوامِ عالم کے سامنے ثابت کر دیں کہ انسانیت کے ہاتھ میں قرآنِ کریم سے زیادہ درست اور صحیح کوئی پروگرام نہیں۔ پھر ہم پر یہ بھی لازم ہے کہ جو لوگ قرآن کریم پر ایمان لا چکے ہیں ان کی جماعت کو منظم کیا جائے، خواہ وہ کسی قوم یا نسل سے تعلق رکھتے ہوں۔ ہم ان کی کسی اور حیثیت کی طرف نہ دیکھیں بجز قرآن کریم پر ایمان لانے کے۔ پس ایسی جماعت ہی مخالفین پر غالب آئے گی۔ لیکن ان کا غلبہ انتقامی شکل میں نہیں ہو گا بلکہ ہدایت اور ارشاد کے طریق پر ہو گا جیسا کہ والد اپنی اولاد پر غالب ہوتا ہے۔ اب اس نظام کے خلاف جو بھی اٹھ کھڑا ہو گا وہ فنا کر دینے کے قابل ہو گا۔ (الہام الرحمٰن)

دنیا سے ظلم کو دور کیا جائے، چاہے کسی شکل میں ہو۔ اور اسے دور کر کے قرآن کریم کی حکومت پیدا کی جائے۔ مثلاً ہمارے زمانے میں معاشی ظلم انتہا کو پہنچ چکا ہے اور یہاں عدمِ توازن کی وجہ سے عام لوگوں کی یہ حالت ہے کہ اکثر لوگ غذا نہ ملنے یا ناقص غذا ملنے کی وجہ سے مر رہے ہیں اور صحیح تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے اپنے انسانی فرائض ادا نہیں کر رہے اور نہ ادا کرنے کی قابلیت رکھتے ہیں۔ انہیں اس حالت سے نکال کر ایسے حالات پیدا کرنا کہ وہ فکرِ معاش سے نجات پا کر اللہ کی یاد میں لگ سکیں، ہر اس شخص کا فرض ہے جو قرآن کریم کی تعلیم کو مانتا ہے۔ (جنگِ انقلاب ص ۵۸۳)

مسلمانوں کی قوت کا راز — خلافت

شیخ التفسیر مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ

اس وقت دنیا میں پچاس کے قریب اسلامی حکومتیں ہیں مگر کوئی بھی اپنی رائے میں آزاد نہیں ہے۔ سب غیر مسلموں کے دستِ نگر ہیں، تمام اہم امور انہی کے مشورے سے انجام پاتے ہیں۔ جب سے خلافتِ ترکی کا خاتمہ ہوا ہے مسلمانوں کا وقار ختم ہو گیا ہے۔
شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ نے اپنے خطبہ میں لکھا ہے کہ مصر کا ایک انگریز اپنے ملازم سے کہہ رہا تھا کہ ہم تہارے خلیفہ سے بہت خائف ہیں، جب کوئی شکایت خلیفہ کے پیش ہوتی ہے وہ اس کے تدارک کی فورًا کوشش کرتے ہیں جس کی وجہ سے کفار کو ہزیمت اٹھانا پڑتی ہے۔ اگر خلافت کی طاقت نہ ہوتی تو ہم مسلمانوں کو بہت ذلیل کرتے۔
یہ اس وقت کی بات ہے جب خلافتِ اسلامیہ بالکل کمزور ہو چکی تھی۔ اور جب یہ اپنے عروج پر تھی تو کسی کو مسلمانوں کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی۔ اب حالات بالکل بدل چکے ہیں اور مسلمان ہر جگہ غیر مسلموں کے تختۂ مشق بنے ہوئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اب مسلمان اپنے مشن کو ترک کر چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب دنیا میں ان کو عزت کا کوئی مقام حاصل نہیں ہے۔ اب وہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی بجائے اغیار کے مشوروں کے سہارے پر چل رہے ہیں۔ کوئی معاملہ ہو، سیاسیات ہوں یا اقتصادیات، زراعت ہو یا تجارت، ہر چیز میں غیر مسلم دخیل ہیں۔ حتٰی کہ تہذیب اور فیشن بھی انہی کا اپنا لیا گیا ہے۔ وقار تو ان قوموں کا ہوتا ہے جو اپنے نظریے پر قائم ہوں۔
مسلمان جب تک اپنے مشن پر قائم رہے انہیں دنیا میں عزت و وقار حاصل تھا مگر اب ہم نے غیروں سے مشورے کر کے خود ان کو اپنا رازداں بنا لیا ہے۔ وہ ہمیں اچھا مشورہ کیسے دے سکتے ہیں؟ وہ تو ہمیشہ ہماری ٹانگ کھینچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ غیر اقوام کے ساتھ دلی دوستی قائم نہیں کرنی چاہیئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’ھانتم اولآء تحبونھم‘‘ اے ایمان والو! تم تو دوسروں سے محبت کرتے ہو ’’ولا یحبونکم‘‘ مگر وہ تم سے محبت نہیں کرتے۔ مطلب یہ کہ تم تو عیسائیوں، یہودیوں، انگریزوں اور امریکنوں کو اپنا رازدار بنا رہے ہو، ان کو مشیر بنا رکھا ہے، ان سے محبت بڑھا رہے ہو، مگر وہ تم سے دلی لگاؤ نہیں رکھتے۔ لہٰذا ان کے ساتھ تمہاری محبت یکطرفہ ہے۔
محبت ہمیشہ جانبین کی طرف سے ہونی چاہیئے۔ تالی دو ہاتھ سے بجتی ہے۔ لہٰذا صرف تمہاری طرف سے یکطرفہ محبت کوئی محبت نہیں، وہ تو اللہ، اس کے رسولؐ اور قرآن پاک کے شدید ترین دشمن ہیں ’’لتجدن اشد الناس عداوۃ للذین اٰمنوا الیھود‘‘ مسلمانوں کے حق میں سب سے زیادہ دشمن یہودی ہیں۔ اس کے بعد مشرکین اور نصارٰی کا نمبر آتا ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ صرف تمہاری طرف سے دوستی اور محبت اہلِ اسلام کے لیے لازماً نقصان کا باعث ہو گی۔