جولائی ۱۹۹۰ء

شریعت بل اور تحریک نفاذ شریعتمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
انسانی اجتماعیت اور آبادی کا محورشیخ التفسیر مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ 
خبرِ واحد کی شرعی حیثیتشیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر 
تعوذ اور قرآن مجیدمولانا سراج نعمانی 
’’شریعت بل‘‘ پر مختلف حلقوں کے اعتراضاتمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
عیسائی اور یہودی نظریۂ الہاممحمد اسلم رانا 
نسخ و تحریف پر مولانا کیرانویؒ اور ڈاکٹر فنڈر کا مناظرہمحمد عمار خان ناصر 
’’جمہوریت‘‘ — ماہنامہ الفجر کا فکر انگیز اداریہادارہ 
ہمارے دینی مدارس — مقاصد، جدوجہد اور نتائجمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
قرآنِ کریم اور سودحضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ 
تعارف و تبصرہادارہ 
آپ نے پوچھاادارہ 
برص ۔ انسانی حسن کو زائل کرنے والا مرضحکیم محمد عمران مغل 
عمل کا معجزہ حق ہے سکوت و ضبط باطل ہےسرور میواتی 
تعلیم کے دو طریقےحضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ 
دینی و عصری تعلیم کے امتزاج کیلئے چند تجاویزشیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنیؒ 

شریعت بل اور تحریک نفاذ شریعت

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ماہِ رواں کی سترہ تاریخ کو فلیش مین ہوٹل راولپنڈی صدر میں منعقدہ آل پارٹیز نفاذِ شریعت کانفرنس میں ’’شریعت بل‘‘ کو قومی اسمبلی سے منظور کرانے اور سودی نظام کی وفاقی شرعی عدالت کے دائرہ اختیار میں واپسی کو یقینی بنانے کے لیے پورے ملک میں تحریک نفاذ شریعت منظم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

’’آل پارٹیز نفاذِ شریعت کانفرنس‘‘ جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے سیکرٹری جنرل اور شریعت بل کے محرک سینیٹر مولانا سمیع الحق کی دعوت پر منعقد ہوئی جس سے مولانا عبد الستار خان نیازی، مولانا فضل الرحمان، مولانا محمد اجمل خان، مولانا محمد عبد اللہ، صاحبزادہ حاجی فضل کریم، مولانا معین الدین لکھوی، مولانا مفتی محمد حسین نعیمی، مولانا ضیاء القاسمی، مولانا قاضی احسان الحق، مولانا ضیاء الرحمان فاروقی، مولانا وصی مظہر ندوی اور دیگر سرکردہ علماء کرام کے علاوہ قومی شخصیات میں سے نوابزادہ نصر اللہ خان، جناب غلام مصطفیٰ جتوئی، میاں محمد نواز شریف، اقبال احمد خان، راجہ محمد ظفر الحق، جناب اعجاز الحق، پروفیسر غفور احمد اور جناب طارق محمود ایم این اے نے بھی خطاب کیا۔

’’شریعت بل‘‘ اس وقت قومی اسمبلی کے حوالے ہو چکا ہے اور وفاقی وزیر پارلیمانی امور خواجہ طارق رحیم کے ایک بیان کے مطابق اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں زیر بحث آنے والا ہے۔ اس مرحلہ پر ملک کے اہم سیاسی و دینی حلقوں کا یہ اتفاق و اشتراک بلاشبہ ایک نیک فال اور عوام کے دلوں کی آواز ہے۔ پاکستان کی تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی اہل دین نے متحد ہو کر کسی جدوجہد کا آغاز کیا ہے انہیں اہل سیاست کی حمایت بھی حاصل ہوئی ہے اور وہ جدوجہد میں کامیابی سے بھی ہمکنار ہوئے ہیں۔ اہل دین کا اتحاد ہمارے ملک کے بہت سے مسائل کا حل اور نفاذِ اسلام کی جدوجہد کی کامیابی کی کلید چلا آرہا ہے۔

ہم ’’تحریک نفاذِ شریعت‘‘ کے آغاز کے اس فیصلہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے دعاگو ہیں کہ اللہ رب العزت اہل دین کے اتحاد کو ملت کے لیے مبارک کریں اور اسے ملک میں شریعت اسلامیہ کی بالادستی کا ذریعہ بنائیں، آمین یا الہ العالمین۔


انسانی اجتماعیت اور آبادی کا محور

شیخ التفسیر مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ سے لے کر نزولِ قرآن کے ہزاروں سالہ دور میں عرب کے خطہ میں کوئی منظم حکومت نہیں تھی، یہاں پر قبائلی نظام رائج تھا۔ مصر، شام، روم، ایران اور ہندوستان وغیرہ میں تو باقاعدہ حکومتیں تھیں مگر جزیرہ نمائے عرب میں کوئی مرکزی تنظیم نہیں تھی۔ اس افراتفری اور نفسانفسی کے عالم میں بھی اللہ تعالیٰ نے حرم پاک کو لوگوں کے قیام اور بقا کا ذریعہ بنا رکھا تھا۔ سال بھر میں چار حرمت والے مہینوں کے دوران لڑائی بند رہتی تھی، قافلے بلا روک ٹوک سفر کر سکتے تھے، خوب تجارت ہوتی تھی اور لوگوں کو امن حاصل ہوتا تھا اور یہ سب کچھ بیت اللہ شریف کے احترام کی وجہ سے ہوتا تھا۔
یہاں پر لوگوں کے قیام سے مراد یہ ہے کہ اس محترم گھر کی وجہ سے لوگ قائم ہو سکتے تھے یعنی اپنی زندگی بسر کر سکتے تھے۔ اگر امن و امان کے یہ چار مہینے بھی لوگوں کو میسر نہ ہوتے تو جنگ و جدال اور لوٹ مار کی وجہ سے ہر قسم کا کاروبار، کھیتی باڑی اور تجارت ٹھپ ہو کر رہ جاتے اور لوگوں کو زندگی گزارنا محال ہو جاتا۔ قیام کا یہ معنی سورۃ نساء میں یوں بیان ہوا ہے ’’ولا توتو السفھاء اموالکم التی جعل اللہ لکم قیاما‘‘ اپنے مال بے وقوفوں کے سپرد نہ کرو، اللہ نے تمہارے لیے یہ گزران کا ذریعہ بنائے ہیں۔ بیت اللہ شریف بھی اسی لحاظ سے ذریعہ معاش ہے اور اس کی بدولت لوگ گزر اوقات کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا بھر کے لوگوں کو حکم ہے ’’وللہ علی الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلاً‘‘ کہ وہ صاحب استطاعت ہیں تو زندگی بھر میں کم از کم ایک دفعہ بیت اللہ شریف کا حج کریں۔
جب لوگ وہاں جاتے ہیں تو کعبہ شریف کا طواف کرتے ہیں، تلاوت کرتے ہیں، صفا و مروہ کی سعی کرتے ہیں اور قربانی کرتے ہیں۔ اور یہی چیزیں ہیں جن کی بدولت عازمینِ حج و عمرہ کو جسمانی، روحانی، علمی اور اخلاقی فائدے حاصل ہوتے ہیں۔ اس کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ حج میں بھی فرمایا ہے کہ حج کے موقع پر ’’لیشھدوا منافع لھم‘‘ لوگوں کو بہت سے فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ اس لحاظ سے بیت اللہ شریف کو لوگوں کے قیام یعنی گزران کے ذریعے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ جب تک وہاں عبادت ہوتی رہے گی طواف اور قربانی ہوتی رہے گی، نمازیں ادا ہوتی رہیں گی، دنیا بھی قائم رہے گی۔۔۔ اور جب یہ چیزیں ختم ہو جائیں گی تو دنیا قائم نہیں رہے گی۔ سورہ آل عمران میں بیان ہوا ہے ’’ان اول بیت وضع للناس للذی ببکۃ مبارکا‘‘ اللہ تعالیٰ کا اس سرزمین پر سب سے پہلا گھر یہی ہے جو لوگوں کی عبادت کے لیے مکہ معظمہ میں تعمیر کیا گیا اور یہ بڑی برکتوں والا گھر ہے۔
بعض احادیث میں آتا ہے  کہ حرم شریف میں ہر روز اللہ تعالیٰ کی ایک سو بیس رحمتیں نازل ہوتی ہیں جن میں سے ساٹھ طواف کرنے والوں کے لیے اور باقی ساٹھ دیگر عبادت گزاروں کے لیے  مخصوص ہیں۔ اللہ کی یہ خصوصی رحمتیں ہیں، دیگر مہربانیوں کے علاوہ ہیں۔ انہی کثرتِ فضائل کی وجہ سے دنیا  بھر سے لوگ کھینچ کھینچ کر آتے ہیں اور گزران کا ذریعہ بنتے ہیں۔
بیت اللہ شریف ظاہری طور پر بھی پوری کائنات کا مرکز ہے اور روحانی طور پر بھی۔ یہ اہل اسلام کا مرکز ہے، جب تک مسلمان اس کی مرکزیت کو قائم رکھیں گے خود انہیں دنیا میں مرکزی حیثیت حاصل رہے گی اور جب یہی مرکزیت ٹوٹ گئی تو مسلمان بھی دنیا میں ذلیل ہو کر رہ جائیں گے۔ مقامِ افسوس ہے  کہ اہلِ اسلام کی یہ مرکزیت ایک عرصہ سے ختم ہو چکی ہے جس کے نتیجے میں مسلمان ہر مقام پر ذلت کی علامت بن رہے ہیں۔ بیت اللہ شریف کو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی اصلاح، تکمیلِ اخلاق، روحانیت اور علومِ ہدایت کا مرکز  بنایا ہے۔ اسی سرزمین میں پیغمبر آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی نشاۃ ہوئی۔ قرآن کریم یہیں نازل ہوا۔ اسی بیت اللہ شریف کو ہمیشہ کے لیے نمازوں کا قبلہ مقرر کیا گیا، اسے حج و عمرہ کا مرکز بنایا گیا، لہٰذا یہ لوگوں کے قیام کا ذریعہ اور اللہ تعالیٰ کے شعائر میں سے ہے۔ اس کی شرف و عزت قربِ قیامت تک قائم رہے گی۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ پھر حبشہ کا موٹی پنڈلیوں والا ایک ظالم انسان اس پر حملہ آور ہو کر اسے گرا دے گا اور اس کے بعد جلدی قیامت برپا ہو جائے گی۔ اس لیے فرماتے ہیں کہ جب تک کعبہ شریف اور دیگر شعائر اللہ کی عزت و حرمت اور مرکزیت قائم ہے دنیا قائم ہے اور جب یہ نہ رہے گی تو دنیا بھی باقی نہیں رہے گی۔

خبرِ واحد کی شرعی حیثیت

شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر

ترتیب و تحریر: حافظ رشید الحق خان عابد
خبرِ واحد اگرچہ عقائد کے باب میں موجبِ علم نہیں لیکن عمل کے باب میں حجت ہے۔ چنانچہ شرح العقائد ص ۱۰۱ میں ہے کہ خبرِ واحد ظن کا فائدہ ہی دے گا بشرطیکہ اصولِ فقہ میں مذکورہ تمام شرائط اس میں موجود ہیں اور ان شرائط کے باوجود بنا بر ظنیت کے اعتقادیات میں اس کا کچھ اعتبار نہیں ہو گا۔ اور تقریباً اسی مفہوم کی عبارات شرح الموافق ص ۷۲۷، المسامرۃ ص ۷۸، اور شرح فقہ اکبر ملا علی ن القاریؒ ص ۶۸ میں بھی موجود ہیں۔ اور نبراس ص ۲۵۰ میں ہے کہ ظن کا اعتبار علمیات میں ہوتا ہے اور ظن کے ساتھ ثابت حکم واجب ہوتا ہے۔

خبرِ واحد کی حجیت پر قرآنِ کریم سے اختصارًا بعض دلائل

پہلی دلیل

حضرت موسٰی علیہ السلام سے خطأً جب ایک اسرائیلی (جس کا نام قاب یا فانون یا فلثیون تھا) قتل ہو گیا اور فرعون کی کابینہ نے حضرت موسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام کو قتل کرنے کی ٹھان لی تو ’’وَجَاء رَجُلٌ (فرعون کا چچا زاد جس کا نام عند الاکثر حزقیل و عند البعض حبیب یا شمعان اور بعد میں حضرت موسٰی علیہ السلام پر ایمان بھی لایا تھا) مِّنْ اَقْصَی الْمَدِیْنَۃِ یَسْعٰی قَالَ یَا مُوْسٰی اِنَّ الْمَلَاَ یَاْتَمِرُوْنَ بِکَ لِیَقْتُلُوْکَ فَاخْرُجْ اِنِّیْ لَکَ مِنَ النَّاصِحِیْنَ‘‘ (القصص ۲۰) حضرت موسٰیؑ نے صرف اس ایک آدمی کی بات پر اعتماد کرتے ہوئے مدین کی طرف روانگی اختیار فرمائی اور ظالم قوم سے نجات پائی۔ اگر ایک آدمی کی بات قابلِ اعتماد نہ ہوتی یا بالفاظِ دیگر اگر خبرِ واحد حجت نہ ہوتی تو حضرت موسٰی علیہ السلام اس پر اعتماد نہ کرتے۔ 

دوسری دلیل

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ کُلِّ فِرْقَۃٍ مِّنْھُمْ طَائِفَۃٌ لِّیَتَفَقَّھُوْا فِی الدِّیْنِ وَلِیُنْذِرُوْا قَوْمَھُمْ اِذَا رَجَعُوْا اِلَیْھِمْ لَعَلَّھُمْ یَحْذَرُوْنَ‘‘ (التوبہ ۱۲۲)۔
حضرت مجاہدؒ بن جبیرؒ تابعی فرماتے ہیں کہ طائفۃ کا لفظ ایک سے ہزار تک بولا جاتا ہے اور مسند عبد بن حمید میں حضرت ابن عباسؓ سے منقول ہے ’’قال الطائفۃ رجل فصاعدًا‘‘ کہ طائفہ کا لفظ ایک پر بھی اور زیادہ پر بھی بولا جاتا ہے (درمنشور ص ۲۵۵ ج ۳)۔ اور امام بخاری ص ۱۰۷۶ ج ۲ پر فرماتے ہیں کہ ایک آدمی کو بھی طائفہ کہہ سکتے ہیں کیونکہ ارشاد باری تعالٰی ہے ’’وَاِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُوْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا (الآیۃ) اگر دو آدمی آپس میں لڑائی کریں تو وہ بھی آیت کے لفظ طائفتان میں داخل ہوں گے۔ اور آخر میں فرمایا کہ اگر خبر واحد حجت نہ ہوتی تو نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنے ایک ایک امیر کو مختلف جہات میں کیوں بھیجتے؟
اس دلیل کا خلاصہ یہ ہوا کہ طائفہ یعنی ایک کی بات دینی اعتبار سے قوم کو عذابِ خداوندی سے ڈرانے کے لیے معتبر اسی وقت ہو سکتی ہے جبکہ خبرِ واحد حجت ہو کیونکہ اگر طائفہ کا اطلاق رجل پر نہ ہو تو دو آدمیوں کی لڑائی میں مصالحت کرانا آیت سے ثابت نہ ہو سکے گا اور امراء کو اکیلے اکیلے بھیجنا بیکار ثابت ہو گا۔

تیسری دلیل

ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’وَ اِذْ اَخَذَ اللہُ مِیْثَاقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتَابَ لَتُبَیِّنُنَّہٗ لِلنَّاسِ وَلَا تَکْتُمُوْنَہٗ‘‘ (آل عمران ۱۸۷)
امام علیؒ بن محمد المعروف بفخر الاسلام البزدویؒ (المتوفی ۴۸۲ھ) فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ میں تصریح ہے کہ اہلِ کتاب میں سے ہر آدمی حکمِ خداوندی کے بیان کرنے کا مکلف تھا اور کتمانِ علم اس پر حرام تھا کیونکہ اس امر کے وہ مکلف نہ تھے کہ سب کے سب اجتماعی شکل میں شرقاً و غرباً بیان کرنے کے لیے نکلتے۔ تو اس سے بھی خبرِ واحد کی حجیت ثابت اور واضح ہو گئی (محصلہ مقدمۂ فتح الملہم ص ۸)
رہا یہ شبہ کہ یہ حکم تو پہلی امتوں کے بارے میں ہے  جو کہ اہلِ کتاب تھے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ کتب اصولِ فقہ میں تصریح موجود ہے مثلاً نور الانوار ص ۲۱۶ میں ہے ’’وشرائع من قبلنا تلزمنا اذا قص اللہ ورسولہ من غیر نکیر الخ‘‘ تو وہ سب احکام ہمارے حق میں بھی حجت ہیں جو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی امتوں کے بلانکیر بیان فرمائے ہیں۔

بعض احادیث

حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ (المتوفی ۱۳۶۹ھ بعمر ۶۴ سال ایک ماہ بارہ دن) فرماتے ہیں کہ خبرِ واحد پر (بشرطیکہ اس کے راوی عادل ہوں) عمل کرنا عملیات میں واجب ہے کیونکہ تواتر کے ساتھ حضرات صحابہ کرامؓ سے خبرِ واحد پر عمل کرنا ثابت ہے اور بے شمار واقعات سے اس کا ثبوت ہے۔ مجموعی طور پر یہ واقعات حضراتِ صحابہ کرامؓ کے اجماعِ قولی کا فائدہ دیتے ہیں یا کم از کم اخبارِ آحاد پر ایجابِ عمل کے بارے میں اجماعِ قولی کی مثل ضرور ہیں۔ ان واقعات میں سے چند مشہور یہ ہیں:
(۱) حضرت ابوبکر صدیقؓ (م ۱۳ھ) کا وراثتِ جدہ کے مسئلہ میں حضرت مغیرہؓ بن شعبۃ (م ۵۰ھ) اور محمدؓ بن مسلمۃ (م ۴۳ھ) کی خبر پر عمل کرنا جیسے کہ ابوداؤد ص ۴۵ ج ۲ اور ابن ماجہ ص ۱۰۰ میں ہے۔
(۲) حضرت عمرؓ (م ۲۳ھ) کا مجوس سے جزیہ لینے کے بارے میں حضرت عبد الرحمٰنؓ بن عوف (م ۳۳ھ) کی خبر پر عمل کرنا (جیسا  کہ ابوداؤد ص ۷۵ میں ہے)۔ اور طاعون کی خبر کے بارے میں بھی انہی کی خبر پر عمل کرنا (جیسا کہ بخاری ص ۸۵۳ ج ۲ میں ہے)۔
(۳) حضرت عمرؓ کا ’’ایجاب غرہ فی الجنین‘‘ کے بارے میں حضرت حملؓ بن مالک ابن النابعۃ کی خبر پر عمل کرنا (ابوداؤد ص ۲۷۲ ج ۲)۔
(۴) نیز حضرت عمرؓ کا خاوند کی دیت سے عورت کی وراثت کے مسئلہ میں ضحاکؓ بن سفیان کی خبر پر عمل کرنا (جیسا کہ ابوداؤد ص ۵۰ ج ۲ و مؤطا مالک ص ۳۴۰ میں ہے)۔
(۵) حضرت عمرؓ کا انگلیوں کی دیت کے بارے میں حضرت عمروؓ بن حزم (م ۵۳ھ) کی خبر پر عمل کرنا (جیسا کہ نسائی ص ۲۱۸ ج ۲) میں حضرت  عمروؓ بن حزم کی طویل حدیث میں ہے کہ ہاتھ اور پاؤں کی ہر انگلی میں دس دس اونٹ ہیں۔ اس حدیث کی تخریج علامہ ابوالبرکات بن تیمیہؒ نے بھی منتقٰی الاخبار المنسلک مع نیل الاوطار ص ۶۱ ج ۷ میں کی ہے۔ قاضی شوکانیؒ نیل الاوطار ص ۶۴ ج ۷ میں فرماتے ہیں کہ حضرت عمرؓ سے مروی ہے کہ وہ جھنگلیا میں چھ اونٹ، اس کے ساتھ والی میں نو اونٹ، درمیانی میں دس اونٹ، سبابہ یعنی انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی میں بارہ اونٹ، اور انگوٹھے میں تیرہ اونٹ دیت دلانے کے قائل تھے۔ پھر حضرت عمرؓ سے اس بات میں رجوع بھی ثابت ہے۔
(۶) حضرت عمرؓ اپنے ہمسائے حضرت عتبانؓ بن مالک کی اخبار کا قبول کرنا (جیسے کہ بخاری ص ۱۹ اور ص ۳۳۴ ج ۱ کی طول حدیث ایلاء میں ذکر ہے کہ میں اور میرا ہمسایہ باری باری حضور علیہ السلام کی خدمت میں حاضری دیتے تھے۔ ایک دن وہ حاضر ہوتے اور وحی وغیرہ کی خبر لا کر مجھے بتاتے اور ایک دن میں حاضری دیتا اور آکر اس کو نئی خبر وغیرہ بتاتا)۔
(۷) حضرت ابنِ عمرؓ کا (م ۷۳ھ) مسح علی الخفین کے بارے میں حضرت سعدؓ بن ابی وقاص (م ۵۵ھ) اور حضرت عمرؓ کی خبر پر عمل کرنا (جیسے کہ مؤطا مالک ص ۱۲ میں ہے)۔
(۸) حضرت عثمانؓ کا متوفی عنھا زوجھا کی عدت کے دوران ’’قیام فی بیتھا‘‘ کے بارے میں حضرت فریعۃؓ بنت مالک بن منان کی خبر پر عمل کرنا (جیسے کہ ابوداؤد ص ۳۱۵ میں ہے)۔ اور اسی طرح تواتر سے ثابت ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اکیلے آدمی کو بھی تبلیغِ احکام کے لیے بھیجا کرتے تھے مثلاً حضرت معاذؓ بن جبل کا یمن بھیجنا جیسے کہ بخاری ص ۱۸۷ ج ۱ میں ہے۔
غرضیکہ اس کثرت سے اخبارِ آحاد پر عمل ذخیرۂ احادیث سے ثابت ہے کہ شمار میں نہیں آ سکتا۔ پھر اگر اخبارِ آحاد کا قبول کرنا واجب نہ ہوتا تو حضور علیہ السلام کا اکیلے اکیلے کو تبلیغِ احکام کے لیے بھیجنے کا کیا فائدہ تھا؟ (مقدمہ فتح الملہم ص ۷)

مزید چند حوالے

منجملہ ان احادیث سے حضرت براءؓ کی روایت بھی ہے جس کے آخر میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ نماز پڑھنے والوں میں سے ایک آدمی (حضرت عبادؓ بن نہیک) کسی مسجد کے قریب سے گزرے اور اہلِ مسجد رکوع میں تھے۔ حضرت عبادؓ کہنے لگے، بخدا میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ نماز مکہ کی طرف رخ کر کے پڑھ کر آیا ہوں۔ اہلِ مسجد اسی حالت میں کعبۃ اللہ کی طرف پھر گئے، جیسے کہ بخاری ص ۱۱ ج ۱ میں ہے۔
منجملہ ان احادیث سے حضرت براء اور عبد اللہؓ بن ابی اوفٰی کی روایت ہے جس میں ہے کہ ایک منادی (ابو طلحہؓ) نے آواز دی کہ ہنڈیوں میں جو کچھ پک رہا ہے انڈیل دو جیسے کہ بخاری ص ۶۰۷ ج ۲ میں ہے۔ 
ان احادیث میں حضرت انس ؓ بن مالک کی روایت بھی ہے کہ میں ابو طلحۃ (زیدٌ بن سہل م ۳۱ھ)، ابوعبیدہؓ (عامرؓ بن عبد اللہ م ۱۸ھ) اور ابیؓ بن کعب (م ۱۹ھ) کو فضیح شراب، جو کچی اور پکی کھجوروں سے تیار کی گئی تھی، پلا رہا تھا کہ اچانک ایک آنے والے نے کہا شراب حرام کر دی گئی ہے، تو حضرت ابو طلحہؓ فرمانے لگے کہ انسؓ اٹھ کر یہ شراب انڈیل دو، پس میں نے انڈیل دی (بخاری ص ۸۳۶ ج ۲)۔
امام دارقطنیؒ نے بھی دارقطنی ص ۴۹۰ ج ۲ میں اپنی مسند کے ساتھ حضرت انسؓ سے نقل کیا ہے کہ حضرت ابوطلحہؓ کے پاس ابیؓ بن کعب (م ۱۹ھ) اور سہل بن بیضاء تمر اور بسر کی، یا فرمایا کہ تمر اور رطب کی شراب پیتے تھے اور میں پلا رہا تھا۔ وہ اتنی تیز تھی کہ قریب تھا کہ ان کو مدہوش کر دیتی۔ پس ایک مسلمان آدمی گزرا اور کہا کہ تمہیں معلوم نہیں کہ شراب حرام کر دی گئی ہے۔ پھر انہوں نے کہا کہ انسؓ جو کچھ برتن میں ہے انڈیل دو۔ اور انہوں نے یہ نہیں کہا کہ ٹھہرو ذرا تحقیق کر لیں، بلکہ بلا تحقیق ہی صرف ایک آدمی کے کہنے پر انہوں نے کہا اور میں نے وہ انڈیل دی۔ محدث ابو عبد اللہؓ (جن کی نسبت یوں ہے عبید  اللہؒ بن عبد الصمدؓ بن المتہدی باللہؒ) فرماتے ہیں کہ بخدا یہ روایت خبرِ واحد کے موجب عمل ہونے پر دال ہے اور مقدمہ فتح الملہم ص ۸ میں ہے۔
امام فخر الاسلامؒ نے فرمایا کہ خبرِ واحد کے حجت ہونے کی عقلی دلیل یہ ہے کہ خبر راوی کے صدق کی موجودگی میں حجت ہو گی۔ اور خبر چونکہ صدق اور کذب دونوں کا احتمال رکھتی ہے لہٰذا راوی میں اخبار کی اہلیت کے بعد عدالت صدق کو ترجیح دے گی۔ اور فسق کذب کا مرجح ہو گا تو رجحانِ صدق کی بنا پر عمل واجب کہنا پڑے گا تاکہ خبرِ واحد عمل کے لیے حجت ہو۔ البتہ چونکہ غیر معصوم میں ایک گونہ سہو اور کذب کا احتمال موجود ہے اس لیے علم الیقین کا فائدہ نہ دے گی۔ اور عمل تو بغیر علم الیقین کے بھی صحیح ہے جیسے کہ قیاس پر غالب رائے کے ساتھ عمل کرنا صحیح ہے۔ اسی طرح گواہوں کی گواہی پر ظنِ غالب کے ساتھ حکام کا فیصلہ کرنا صحیح ہے۔ لہٰذا عادل کی خبر بھی علمِ ظنی کا فائدہ دے  گی اور عمل کے لیے اسی قدر علم کافی ہے۔ البتہ چونکہ علم کی اس قسم میں کچھ اضطراب بھی ہے لہٰذا یہ علم طمانیت سے کم درجہ رکھے گا۔ رہا خبرِ واحد سے علم الیقین کے حصول کا دعوٰی کرنا تو بالکل باطل ہے کیونکہ مشاہدہ صراحتاً اس کا رد کرتا ہے۔ باقی رہی خبر متواتر تو وہ یقین کا فائدہ دیتی ہے۔ مگر یہ یاد رہے کہ خبرِ واحد پر اگر امت کا عمل اور تلقّی بالقبول ہو تو پھر معاملہ جدا ہے۔ علامہ القاضی صدر الدین ابن ابی العزا الحنفیؒ فرماتے ہیں:
وخبر الواحد اذا تلقتہ الامۃ بالقبول عملاً بہ و تصدیقاً لہ یفید العلم (الیقینی) عند جماھیر الامۃ وھو احد قسمی المتواتر الخ (شرح عقیدۃ الطحاویۃ ص ۳۹۹ المکتبہ السلفیہ لاہور)
ترجمہ: ’’خبر واحد کو جب امت نے عملی طور پر قبول کیا ہو اور اس کی تصدیق کی ہو تو جمہور امت کے نزدیک وہ علمِ یقین کا فائدہ دیتی ہے اور یہ بھی متواتر کی ایک قسم (بن جاتی) ہے۔‘‘

تعوذ اور قرآن مجید

مولانا سراج نعمانی

تعوذ کی تشریح کرتے ہوئے حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی مدظلہ اپنے دروسِ قرآن میں فرماتے ہیں:
’’تعوذ کا معنی ہے خدا کی پناہ حاصل کرنا، تاکہ انسان شیطان کی شر سے بچ سکے کیونکہ انسان تو عاجز اور محتاج ہے اور شیطان کے شر سے بچنے کے لیے سب سے پہلے خدا کی پناہ حاصل کرنا ضروری ہے۔‘‘
تلاوتِ قرآنِ مجید سے پہلے تعوذ پڑھنا مسنون ہے تاکہ انسان کی زبان ان ناپاکیوں سے پاک ہو جائے جو لسانی اور قولی طور پر اس سے سرزد ہوئی ہوں۔ اسی لیے قرآنِ مجید میں حکم دیا گیا ہے کہ جب بھی قرآنِ مجید پڑھنے لگو تو اس سے پہلے تعوذ ضرور پڑھا کرو۔ ارشاد ربانی ہے:
فَاِذَا قَرَأْتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ۔ (النحل ۹۸)
’’پھر جب تو پڑھے قرآن تو پناہ مانگ اللہ کی شیطان مردود سے۔‘‘
کیونکہ شیطان ہر نیک کام سے روکنے کی کوشش کرتا ہے اس لیے نہ صرف ہمیں اس کا حکم دیا گیا بلکہ ہم سے پہلے مختلف انبیاء کرام علیہم السلام نے بھی اللہ کی پناہ میں آنے کی دعائیں مانگیں اور استعاذہ کیا۔ مثلاً نوح علیہ السلام نے جب اپنے بیٹے کے لیے دعا مانگی اور اللہ پاک نے اس دعا کو نامنظور کر دیا تو حضرت نوح علیہ السلام یہ فرمانے لگے:
قَالَ رَبِّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ اَنْ اَسْئَلَکَ مَا لَیْسَ لِیْ بِہٖ عِلْمٌ (ہود ۴۷)
’’کہا اے میرے پروردگار! بے شک میں پناہ لیتا ہوں تیری، یہ کہ سوال کروں تجھ سے وہ، جس کا علم مجھے نہیں۔‘‘
یوسف علیہ السلام کو جب زلیخا نے ورغلانا چاہا تو حضرت یوسف علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے استعاذہ حاصل کرتے ہوئے فرمایا تھا:
مَعَاذَ اللہِ اِنَّہٗ رَبِّیْ اَحْسَنَ مَثْوَایَ (یوسف ۲۳)
اور انہی یوسف علیہ السلام کو بنیامین کی جگہ دوسرے بھائی کو پیالے کی چوری کے سلسلے میں بھائیوں نے کچھ کہا تو حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا:
مَعَاذَ اللہِ اَنْ نَّاْخُذَ اِلَّا مَنْ وَّجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَہٗ (یوسف ۷۹)
’’پناہ ہے اللہ کی کہ لے لیں ہم سوائے اس شخص کے کہ پائی ہے ہم نے چیز اپنی اس کے پاس۔‘‘
موسٰی علیہ السلام سے بھی تعوذ کے کلمات قرآنِ مجید میں بیان کیے گئے ہیں جب بنی اسرائیل نے گائے کی قربانی کے حکم پر ٹال مٹول کی تو حضرت موسٰی علیہ السلام نے ان کے اقوال و افعال پر فرمایا:
اَعُوْذُ بِاللہِ اَنْ اَکُوْنَ مِنَ الْجَاھِلِیْنَ (البقرہ ۶۷)
پناہ لیتا ہوں اللہ کی کہ ہو جاؤں میں نادانوں سے‘‘۔
پھر جب فرعون کے دربار میں دعوتِ حق فرما رہے تھے تو اس وقت یہ فرمایا:
وَقَالَ مُوْسٰی اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَرَبِّکُمْ مِّنْ کُلِّ مُتَکَبِّرٍ لَّا یُؤْمِنُ بِیَوْمِ الْحِسَابِ (المؤمن ۲۷)
’’اور کہا موسٰیٗ نے بے شک میں نے پناہ پکڑی اپنے پروردگار کی تمہارے ہر متکبر سے جو ایمان نہیں لاتا یومِ حساب پر۔‘‘
وَاِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَرَبِّکُمْ اَنْ تَرْجُمُوْنِ (الدخان ۲۰)
’’اور بے شک میں نے پناہ پکڑی اپنے رب اور تمہارے رب کی اس سے کہ تم مجھے سنگسار کرو۔‘‘
حضرت مریم علیہا السلام کے پاس جب جبرئیل امین مردانہ شکل میں ظاہر ہوئے تو:
قَالَتْ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِالرَّحْمٰنِ مِنْکَ اِنْ کُنْتُ تَقِیًّا (مریم ۱۸)
’’کہنے لگی تحقیق میں پناہ پکڑتی ہوں رحمٰن کی تجھ سے اگر ہے تو پرہیزگار۔‘‘
اور انہی مریم علیہا السلام کی پیدائش کے وقت زوجۂ عمران نے کہا تھا:
وَاِنِّیْ اُعِیْذُھَا بِکَ وَذُرِّیَّتَھَا مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ (مریم ۳۶)
’’اور بے شک میں نے پناہ دی تیری اس کو اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے۔‘‘
اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی قرآن مجید میں مختلف مقامات پر استعاذہ کرنے کی تعلیم دی گئی۔ ایک جگہ فرمایا:
وَقُل رَّبِّ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ ھَمَزَاتِ الشَّیَاطِیْنِ o وَاَعُوْذُ بِکَ رَبِّ اَن یَّحْضُرُوْنَ (المؤمنون ۹۷ و ۹۸)
’’اور کہہ دیجیئے اے میرے پروردگار! میں تیری پناہ مانگتا ہوں شیطان کے وسوسوں سے۔ اور تیری پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ وہ (شیطان) حاضر ہوں میرے پاس۔‘‘
دوسری جگہ کفار اور منکرین کے برتاؤ کے جواب میں یہ تعلیم دی:
اِنْ فِیْ صُدُوْرِھِمْ اِلَّا کِبْرٌ مَّا ھُمْ بِبَالِغِیْہِ فَاسْتَعِذْ بِاللہِ (مومن ۵۶)
’’نہیں ہے ان کے سینوں میں مگر تکبر (لیکن) وہ اس تک نہیں پہنچ سکتے پس آپ اللہ کی پناہ مانگیئے۔‘‘
اسی طرح شیطانی وسوسوں سے بچنے کے لیے یہ تعلیم دی:
وَاِمَّا یَنْزَغَنَّکَ مِنَ الشَّیْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللہِ (الاعراف ۲۰۰)
’’اور اگر آپ کو کسی وقت شیطانی وسوسہ ابھارے اور آمادہ کرے تو آپ اللہ سے پناہ طلب کر لیا کیجئے۔‘‘
اسی طرح جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر شیطانی علوم کے ذریعے سحر کیا گیا تو فرمایا:
قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ (الفلق ۱)
’’کہہ دیجئے میں پناہ مانگتا ہوں صبح کے پروردگار کی۔‘‘
قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ (الناس ۱)
’’کہہ دیجئے میں پناہ مانگتا ہوں لوگوں کے پروردگار کی۔‘‘
معلوم ہوا کہ قرآن مجید آزادی و سرفرازی کا پیغام لایا۔ انسانوں کو غیر خدا کی محکومیت اور غلامی سے نکال کر ایک خدا کی پناہ حاصل کرنے کی تلقین کی ؎
یہ ایک سجدہ جسے توں گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات
لیکن ہم نے خدا کی پناہ حاصل کرنے کی بجائے زندہ، مردہ، یا بے جان وڈیروں کی پناہ حاصل کرنے میں فخر سمجھا اور ان کفار کے راستے پر چل نکلے جن کا ذکر قرآن مجید نے اس طرح فرمایا ہے:
وَاَنَّہٗ کَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ یَعُوْذُوْنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوْھُمْ رَھَقًا (الجن ۶)
’’اور یہ کہ کئی مرد انسانوں میں سے پناہ پکڑتے تھے جنات کی، تو زیادہ ہوا ان کا تکبر۔‘‘
کیا اب بھی خداوند کریم کے دروازے سے ہٹ کر کوئی چوکھٹ ایسی ہے جو اتنی ضمانت اور پناہ دے سکے۔ جب نہیں ہے اور یقیناً نہیں ہے تو پھر ہماری نگاہیں مشرق و مغرب کی طرف کیوں متوجہ ہو کر پتھرا رہی ہیں؟ یا ہمیں پناہ دینے والا معاذ اللہ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی نظر آگیا ہے؟
؏   کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے

’’شریعت بل‘‘ پر مختلف حلقوں کے اعتراضات

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

  1. سینٹ میں ’’نفاذ شریعت ایکٹ‘‘ کی منظوری
  2. پارلیمنٹ اور دستور
  3. عدالتیں اور قانون سازی
  4. شریعت بل اور فرقہ واریت
  5. ملائیت کی اجارہ داری
  6. خواتین کے حقوق
  7. اقلیتوں کی شکایت
  8. حکومت کا طرز عمل اور متوقع پالیسی
  9. شریعت بل اور تحریک نفاذ شریعت


سینٹ میں ’’نفاذِ شریعت ایکٹ‘‘ کی منظوری

پارلیمنٹ کے ایوان بالا سینٹ آف پاکستان نے ۱۳ مئی ۱۹۹۰ء کو ’’نفاذِ شریعت ایکٹ ۱۹۹۰ء‘‘ کے عنوان سے ایک نئے مسودہ قانون کی متفقہ طور پر منظوری دے دی ہے۔ یہ مسودہ قانون اسی ’’شریعت بل‘‘ کی ترمیم شدہ شکل ہے جو سینٹ کے دو معزز ارکان مولانا سمیع الحق اور مولانا قاضی عبد اللطیف نے ۱۹۸۵ء کے دوران سینٹ کے سامنے پیش کیا تھا اور اس پر ایوان کے اندر اور باہر مسلسل پانچ برس تک بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری رہا۔ سینٹ آف پاکستان نے شریعت بل کے مسودہ پر نظر ثانی کے لیے وقتاً فوقتاً مختلف کمیٹیاں تشکیل دیں اور سینٹ سیکرٹریٹ کی طرف سے اسے رائے عامہ معلوم کرنے کے لیے مشتہر بھی کیا گیا جس کے جواب میں پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد نے شریعت بل کی حمایت کرتے ہوئے اس کی منظوری پر زور دیا۔ جبکہ صدر پاکستان کی طرف سے شریعت بل کا مسودہ اسلامی نظریاتی کونسل کو بھجوایا گیا اور کونسل نے اس پر ایک مفصل رپورٹ پیش کی۔ ایوان سے باہر مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام نے ’’متحدہ شریعت محاذ‘‘ کے نام سے مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل دے کر شریعت بل کی منظوری کے لیے جدوجہد کی اور بالآخر ان تمام مراحل سے گزر کر شریعت بل متعدد ترامیم کے ساتھ ’’نفاذ شریعت ایکٹ ۱۹۹۰ء‘‘ کے نام سے سینٹ آف پاکستان نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔

دستوری طریق کار کے مطابق نفاذ شریعت ایکٹ کا یہ مسودہ اب پارلیمنٹ کے ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی میں زیر بحث آئے گا جسے سینٹ سے اس کی منظوری کے ۹۰ دن کے اندر اسے منظور یا مسترد کرنا ہے۔ اگر خدانخواستہ قومی اسمبلی نے اسے منظور نہیں کیا تو ارکان سینٹ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس پر دوبارہ غور کے لیے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا مطالبہ کریں۔ اس طرح قومی اسمبلی اور سینٹ کے ارکان مشترکہ اجلاس میں نفاذ شریعت ایکٹ کو منظور یا معاذ اللہ مسترد کرنے کا حتمی فیصلہ کر سکیں گے۔

۱۹۸۵ء میں جب شریعت بل کو سینٹ سیکرٹریٹ کی طرف سے رائے عامہ معلوم کرنے کے لیے مشتہر کیا گیا تو اس کی حمایت اور مخالفت میں قومی حلقوں میں بحث و تمحیص کا ایک طویل سلسلہ چل نکلا۔ بل کے حق اور اس کے خلاف بہت کچھ کہا گیا۔ جن طبقات نے شریعت بل کی اس وقت مخالفت کی ان میں سیاسی حلقے بھی تھے اور مذہبی عناصر بھی مگر مخالفت کی بیشتر وجوہ سیاسی تھیں۔ اور عام طور پر اسے اس پس منظر میں دیکھا جا رہا تھا کہ شاید اس کے پس پردہ حکومت وقت کے سیاسی مقاصد اور عزائم کارفرما ہیں۔ لیکن حکومت کی تبدیلی اور حالات کے پلٹا کھانے کے بعد شکوک و شبہات کے بادل رفتہ رفتہ چھٹنے لگے اور بالآخر مطلع اس حد تک صاف ہوگیا کہ سینٹ میں شریعت بل کی متفقہ منظوری کے بعد اس کے بارے میں قومی اخبارات میں دوبارہ بحث کا آغاز ہوا تو مخالفت میں وہ شدت نظر نہیں آرہی جو کچھ عرصہ قبل شریعت بل کا نام سامنے آتے ہی قومی اخبارات کی نمایاں سرخیوں کی زینت بن جایا کرتی تھی۔ بالخصوص شریعت بل کی مخالفت کرنے والے معروف مذہبی حلقوں مثلاً جمعیۃ علماء پاکستان، جمعیۃ اہل حدیث اور جمعیۃ علماء اسلام (فضل الرحمان گروپ) کی طرف سے اس کی حمایت کا اظہار حالات میں بہتر اور خوش آئند تبدیلی کا غماز ہے۔ اور اس امر کے آثار واضح ہو رہے ہیں کہ قومی اسمبلی سے شریعت بل کو منظور کرانے کے لیے ملک کے تقریباً سبھی مذہبی حلقے مشترکہ حکمت عملی اور جدوجہد کا راستہ اختیار کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ مگر اس کے باوجود قومی اخبارات میں نفاذ شریعت ایکٹ کے بارے میں ہونے والی بحث میں مخالفت کا پہلو ابھی تک نمایاں ہے اور اس کے خلاف بعض ایسے خدشات و شبہات کا اظہار کیا جا رہا ہے جن کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لینا ضروری ہے۔

ہمارے نزدیک نفاذ شریعت ایکٹ کے بارے میں قومی اخبارات میں ہونے والی بحث میں مخالفت کا پہلو نمایاں ہونے کی کچھ وجوہ ہیں جنہیں بہرحال پیش نظر رکھنا ہوگا۔

  1. سینٹ نے ترامیم کے ساتھ شریعت بل کا جو مسودہ منظور کیا ہے اسے قومی اخبارات نے تا دمِ تحریر شائع نہیں کیا۔ صرف ایک قومی اخبار نے اس کا مسودہ شائع کیا ہے لیکن وہ نہ صرف یہ کہ نامکمل ہے بلکہ اس میں وہ ترامیم بھی شامل نہیں ہیں جو سینٹ نے منظوری کے مرحلے میں آخری وقت اس میں سموئی ہیں۔ اس لیے ملک کی بیشتر آبادی کو یہ معلوم ہی نہیں کہ منظور شدہ مسودہ کیا ہے۔
  2. بیشتر قومی اخبارات اپنی طبقاتی وابستگیوں اور کچھ مخصوص ملکی و بین الاقوامی عوامل کے ہاتھوں اپنی پالیسی کو عملاً سیکولر رکھنے پر مجبور ہیں جس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے کہ شریعت بل یا شریعت سے متعلقہ کسی بھی امر کی مخالفت میں آنے والے بیانات و مضامین ان اخبارات میں نمایاں اور فل ایڈیشن جگہ پاتے ہیں جبکہ حمایت میں آنے والے بیانات و مضامین کو کسی ایک ایڈیشن میں غیر نمایاں جگہ ملتی ہے۔ اس طرح عوام کو دونوں طرف کا موقف اور دلائل برابر سطح پر معلوم کرنے کا موقع نہیں ملتا اور شرعی امور کے بارے میں عوام میں شکوک و شبہات اور تذبذب کی فضا قائم رکھنے کی پالیسی میں قومی اخبارات یا ان کو کنٹرول کرنے والی لابیاں کسی حد تک کامیاب رہتی ہیں۔
  3. شریعت بل کی حمایت کرنے والی لابیوں میں باہمی ربط و نظم کا فقدان ہے اور وہ اپنے موقف کو سائنٹیفک انداز میں رائے عامہ تک صحیح طور پر پہنچانے میں کامیاب نہیں ہیں جس کی وجہ سے ان کا موقف معقول اور منطقی ہونے کے باوجود دانشور اور تعلیم یافتہ طبقوں کے ذہنوں کے دروازوں پر دستک نہیں دے پاتا اور شکوک و خدشات کا ماحول بدستور قائم رہتا ہے۔

اس پس منظر میں ان شبہات پر ایک نظر ڈالنا مناسب معلوم ہوتا ہے جو قومی اخبارات میں شائع ہونے والے بعض بیانات میں ظاہر کیے گئے ہیں۔ مثلاً یہ کہ

پارلیمنٹ اور دستور

جہاں تک پارلیمنٹ اور دستور پر شریعت بل کی بالادستی کا تعلق ہے یہاں ایک ہلکا سا مغالطہ اور ہیرپھیر ہے جسے دور کرنا ضروری ہے۔ یہ بالادستی جس کو ہوّا بنایا جا رہا ہے ’’شریعت بل‘‘ کی نہیں بلکہ ’’شریعت‘‘ کی ہے کیونکہ شریعت بل تو خود اسی پارلیمنٹ کی منظوری کا محتاج ہے اور آئینی حدود کے اندر منظوری کے مراحل سے گزر رہا ہے۔ جب دستور اور پارلیمنٹ خود اس بل کو تخلیق کر رہے ہیں تو آخر بل کی ان دونوں پر بالادستی کیسے ہو سکتی ہے؟ بات بل کی نہیں بلکہ شریعت کی ہے جسے بل کی اوٹ میں متنازعہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ رہی بات شریعت کی تو اس میں کسی مسلمان کے لیے کلام کی گنجائش نہیں ہے کہ شریعت کو پارلیمنٹ اور دستور پر بہرحال بالادستی حاصل ہے۔

پاکستان ایک اسلامی نظریاتی ریاست ہے جس کا سرکاری مذہب اسلام ہے اور جس کی دستوری پالیسیوں کا سرچشمہ ’’قراردادِ مقاصد‘‘ ہے جو واضح طور پر خدا کی حاکمیت مطلقہ کی ضمانت دیتی ہے۔ اسی لیے ان دو دستوری بنیادوں کی موجودگی میں یہ تصور کہ دستور کی کسی دفعہ اور قرآن و سنت کے کسی حکم میں تعارض کے وقت پارلیمنٹ کو بالادستی حاصل ہوگی، نہ صرف مسلمان کے عقیدہ و ایمان کے منافی ہے بلکہ خود دستور کی نظریاتی بنیادوں سے متصادم ہے۔ اسی طرح پارلیمنٹ کی خودمختاری کا یہ تصور کہ وہ شریعت کی حدود اور قرآن و سنت کے احکامات کے دائرہ سے بالاتر ہو کر قانون سازی کا حق رکھتی ہے، یورپی جمہوریتوں میں تو یہ بات تسلیم کی جا سکتی ہے مگر اسلامی جمہوریہ پاکستان کی پارلیمنٹ کے بارے میں اس آزادی کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔ اس نظریاتی اسلامی ملک میں دستور اور پارلیمنٹ کو شریعت کے دائرہ کا پابند رہنا ہی پڑے گا ورنہ اسے اسلامی جمہوریہ پاکستان کہنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہ جاتا۔

پھر دستور اور پارلیمنٹ پر شریعت کو یہ بالادستی شریعت بل نے عطا نہیں کی بلکہ یہ بالادستی قراردادِ مقاصد کے ذریعے حاصل ہوئی جو پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی میں پاس ہوئی تھی اور جسے جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم نے موجودہ دستور کا باقاعدہ اور واجب العمل حصہ قرار دیا تھا۔ پارلیمنٹ اور دستور پر شریعت کو بالادستی دینے والی قراردادِ مقاصد کو منظور دستور ساز اسمبلی نے کیا تھا اور اسے دستور کا باقاعدہ حصہ سپریم کورٹ کے بخشے ہوئے اختیارات کے تحت جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم نے قرار دیا تھا۔ جبکہ شریعت بل اور نفاذ شریعت ایکٹ نے تو صرف اپنے جواز کے لیے اس کا حوالہ دیا ہے۔ چنانچہ نفاذ شریعت ایکٹ کا آغاز ہی ان الفاظ سے ہوتا ہے کہ

’’ہر گاہ کہ قراردادِ مقاصد کو، جو کہ پاکستان میں شریعت کو بالادستی عطا کرتی ہے، دستور اسلامی جمہوریہ پاکستان ۱۹۷۳ء کے مستقل حصے کی حیثیت سے شامل کر لیا گیا ہے اور ہرگاہ کہ مذکورہ قراردادِ مقاصد کے اغراض کو بروئے کار لانے کے لیے ضروری ہے کہ شریعت کے فی الفور نفاذ کو یقینی بنایا جائے، لہٰذا حسب ذیل قانون بنایا جاتا ہے۔‘‘

اس لیے اگر دستور اور پارلیمنٹ پر شریعت کی بالادستی (معاذ اللہ) قابل اعتراض ہے تو اس کی ذمہ داری اس شریعت بل پر عائد نہیں ہوتی بلکہ وہ پہلے سے موجود ہے۔ اور ۱۹۷۳ء کے دستور کو جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم کی ترامیم سمیت قبول کرنے والے تمام عناصر اس بالادستی کو تسلیم کرنے اور اس کا احترام کرنے کے بہرحال پابند ہیں۔

عدالتیں اور قانون سازی

یہ بات بھی محض ایک مغالطہ کے سوا کچھ نہیں کہ شریعت بل میں عدالتوں کو قانون سازی کے اختیارات دے دیے گئے ہیں، کیونکہ شریعت بل میں عدالتوں کے بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ یہ ہے کہ

اب اس میں دیکھیں کہ عدالتوں کو قانون سازی کا حق کہاں سے مل گیا ہے؟ بلکہ وہ تو پابند ہیں کہ مقدمات کا فیصلہ شریعت کے مطابق کریں جبکہ شریعت کے قوانین قرآن و سنت اور فقہ اسلامی کی صورت میں پہلے سے موجود ہیں۔ اب اگر کوئی عدالت کسی زیرسماعت مقدمہ کا فیصلہ قرآن و سنت کو سامنے رکھ کر کرتی ہے تو اس نے قانون وضع تو نہیں کیا کہ قانون پہلے سے موجود ہے، عدالت نے صرف اس کا اطلاق کیا ہے اور اس کی تعبیر و تشریح کی ہے۔ کوئی نیا قانون وضع کرنے اور کسی پہلے سے موجود قانون کی تعبیر و تشریح کر کے ایک وقوعہ پر اس کا اطلاق کرنے میں زمین و آسمان کا فرق ہے، اور یہ فرق ایسا نہیں جسے اعتراض کرنے والے حضرات سمجھتے نہ ہوں لیکن اس کے باوجود مسلسل مغالطہ دیا جا رہا ہے۔ شریعت بل نے کوئی قیامت نہیں ڈھائی بلکہ عدالتوں کو قوانین کی تعبیر و تشریح کے وہی اختیارات دیے ہیں جو دنیا کے ہر دستور اور ہر قانونی نظام میں عدالتوں کو حاصل ہیں اس لیے اس پر واویلا کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

شریعت بل اور فرقہ واریت

شریعت بل کے ذریعہ فرقہ واریت کے فروغ کا بھی واویلا کیا جا رہا ہے حالانکہ عملاً شریعت بل کے سینٹ سے منظور ہوجانے کے بعد ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی میں اضافہ ہوا ہے۔ اس لیے کہ مذہبی محاذ پر مولانا فضل الرحمان، مولانا شاہ احمد نورانی، پروفیسر ساجد میر اور مولانا عبد الستار خان نیازی کی جماعتیں، جو اس سے قبل شریعت بل کی مخالفت میں پیش پیش تھیں، اب اس کی حمایت کر رہی ہیں اور اہل السنتہ والجماعۃ کے تینوں مکاتب فکر دیوبندی، بریلوی اور اہل حدیث کا کوئی قابل ذکر حلقہ ایسا نہیں ہے جو شریعت بل کا اب مخالف ہو۔ اس لیے یہ کہنا حقیقت کے برعکس ہے کہ شریعت بل فرقہ وارانہ کشمکش میں اضافہ کا باعث ہوگا۔ البتہ اہل تشیع کے بعض انتہا پسند حلقوں کی طرف سے مخالفت کی آوازیں اٹھ رہی ہیں لیکن وہ بھی بل کے مندرجات سے پوری طرح واقف نہ ہونے کی وجہ سے ہیں، کیونکہ شریعت بل کی دفعہ نمبر ۲ شق (ب) میں شریعت کی تشریح و تعبیر کے طریق کار کے ضمن میں دستور کی دفعہ ۲۲۷ شق (۱) کا واضح طور پر حوالہ دیا گیا ہے جس میں پرسنل لاء میں اہل تشیع کے لیے ان کے فقہی مسلک کے مطابق قرآن و سنت کی تعبیر و تشریح کا حق تسلیم کیا گیا ہے، اور اسے شریعت بل میں بھی جوں کا توں برقرار رکھا گیا ہے اس لیے یہ واویلا بھی حقائق پر مبنی نہیں ہے۔

ملائیت کی اجارہ داری

بعض حلقے اس پروپیگنڈا میں مصروف ہیں کہ شریعت بل کے نفاذ سے ملا ازم ملک میں غالب ہو جائے گا اور ملائیت کی اجارہ داری قائم ہوگی۔ یہ بات بھی حقیقت کے برعکس ہے کیونکہ شریعت بل میں قرآن و سنت کے قوانین کے نفاذ اور شریعت کی تعبیر و تشریح کے تمام اختیارات اعلیٰ عدالتوں کو سونپ دیے گئے ہیں۔ جبکہ ان عدالتوں میں سے صرف وفاقی شرعی عدالت اور سپریم کورٹ کے شریعت ایپلٹ بنچ میں علماء کی نمائندگی ثانوی حیثیت سے موجود ہے۔ باقی عدالت ہائے عالیہ اور عدالت عظمیٰ میں علماء کرام سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔

قرآن و سنت کی تعبیر و تشریح کے استحقاق پر علماء کرام اگر اڑ جاتے تو یہ بات قابل فہم بھی تھی کیونکہ جن جج صاحبان نے قرآن و سنت کا باضابطہ علم حاصل نہیں کیا انہیں قرآن و سنت کی تعبیر و تشریح میں تیس تیس سال تک قرآن و حدیث اور فقہ کی تدریسی خدمات سرانجام دینے والے جید علماء پر ترجیح دینا کسی بھی طرح قرینِ قیاس نہیں ہے۔ لیکن یہ علماء کرام کا ایثار اور نفاذِ اسلام کے ساتھ ان کی والہانہ وابستگی کا اظہار ہے کہ وہ اپنے اس جائز حق سے عدالتوں کے حق میں دستبردار ہوگئے ہیں اور انہوں نے شریعت بل کے ذریعے صرف تعبیر و تشریح کے مسلمہ قواعد کی پابندی کی شرط لگا کر یہ حق بھی جج صاحبان کے سپرد کر دیا ہے۔ اور بلاشبہ اس مرحلہ میں علماء کرام نے اس روایتی کہانی والی ماں کا کردار ادا کرنا پسند کیا ہے جس میں ایک معصوم بچے کی دعوے دار دو ماؤں کے درمیان بچے کو دو ٹکڑے کر کے تقسیم کرنے کی بات کی گئی تو بچے کی حقیقی ماں نے معصوم بچے کی زندگی کی خاطر اپنے دعوے سے دستبردار ہو کر بچہ سوتیلی ماں کے حوالے کر دیا کہ اس طرح بچہ دو ٹکڑے ہونے سے تو بچ جائے گا۔ بالکل اسی طرح علماء کرام نے اپنا جائز اور منطقی استحقاق چھوڑ کر ایثار و قربانی کا جو مظاہرہ کیا ہے وہ نفاذِ اسلام کی تاریخ کا ایک روشن باب ہے اور اگر اس کے باوجود کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ شریعت بل کے نفاذ سے ملاؤں کی اجارہ داری قائم ہوگی تو اس کی اس بات کو کم عقلی یا عناد کے علاوہ اور کوئی عنوان نہیں دیا جا سکتا۔

خواتین کے حقوق

شریعت بل کے حوالہ سے خواتین میں یہ غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اس شریعت بل کے ذریعے عورتوں کے حقوق غصب ہو جائیں گے اور ان کی حیثیت کم ہو جائے گی۔ حالانکہ شریعت بل کے پورے مسودہ میں خواتین کے حوالے سے مثبت یا منفی کوئی ایک دفعہ یا شق موجود نہیں ہے۔ اور نہ ہی اعتراض کرنے والے حلقے شریعت بل کی کسی ایک دفعہ کی نشاندہی کر سکے ہیں جو ان کے بقول خواتین کے حقوق کے منافی ہے۔ ہاں اصولی طور پر تمام ملکی معاملات پر قرآن و سنت کے احکام کی بالادستی کی بات شریعت بل میں ضرور کی گئی ہے اور اس بارے میں کلام کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ خواتین کی عزت و احترام اور حقوق و مفادات کا تحفظ جس قدر شریعت اسلامیہ میں کیا گیا ہے اس کی کسی اور نظام میں مثال نہیں ملتی۔

اس حقیقت کو ہر مسلمان تسلیم کرتا ہے سوائے ان چند مغرب زدہ خواتین کے جن کے ہاں عورتوں کے حقوق کا تصور یہ ہے کہ پاکستان میں مغربی طرز کے معاشرہ کے فروغ میں کوئی رکاوٹ نہ ہو اور بے پردگی،جنسی انارکی اور اخلاق باختگی کی تمام مغربی اقدار بلا روک ٹوک پاکستان میں رائج ہو جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ سنجیدہ خواتین کی بیشتر تنظیموں نے مغرب زدہ عورتوں کے اس پراپیگنڈا کو مسترد کر کے شریعت بل کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے اور وہ خواتین میں مغربی لابیوں کے زہریلے پراپیگنڈا کے ازالہ کے لیے مسلسل سرگرم عمل ہیں۔

اقلیتوں کی شکایت

ہم یہ گزارشات مکمل کر چکے تھے کہ شاہدرہ لاہور سے ماہنامہ المذاہب کے مدیر محترم جناب محمد اسلم رانا کی طرف سے، جو مسیحیت کے ماہر اور اقلیتوں کے جائز حقوق کے تحفظ کے علمبردار ہیں، ایک مسیحی ماہنامہ شاداب میں شائع شدہ مضمون کی فوٹو کاپی ہمیں موصول ہوئی جس میں شریعت بل کے خلاف ایک لمبی تمہید کے بعد یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ

’’اگر اس بل کی منظوری ناگزیر ہی ہو جائے تو کم از کم اقلیتوں خصوصاً مسیحیوں کو دیگر شرعی آرڈیننس سمیت شریعت بل سے مستثنیٰ قرار دیا جائے اور ان کے تمام تر فقہی، مذہبی اور سماجی مسائل ملکی قوانین اور ان کے پرسنل لاز کے مطابق حل کیے جائیں اور شریعت بل کو وطن عزیز کے آئین پر کوئی فوقیت نہ دی جائے۔‘‘

اس سلسلہ میں گزارش ہے کہ جہاں تک پرسنل لاء کا تعلق ہے، شریعت بل کی دفعہ ۱ شق ۴ میں اس امر کی واضح طور پر صراحت کر دی گئی ہے کہ

’’اس (بل) میں شامل کسی امر کا اطلاق غیر مسلموں کے شخصی قوانین پر نہیں ہوگا۔‘‘

اس لیے اس ضمن میں کسی اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ البتہ تمام شرعی قوانین سے غیر مسلموں کو مستثنیٰ قرار دینے کا مطالبہ دوسرے لفظوں میں ہر غیر مسلم اقلیت کے لیے مستقل اور متوازی پبلک لاء کے نفاذ کا مطالبہ ہے جسے نہ تو قبول کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی عقل و انصاف کے کسی اصول پر پورا اترتا ہے۔ باقی رہی آئین پر شریعت کی بالادستی کی بات تو یہ غیر مسلموں کے سوچنے کی بات نہیں اور نہ ہی انہیں یہ حق دیا جا سکتا ہے کہ وہ اس قسم کے گمراہ کن مشورے دے کر مسلمانوں کے مذہبی امو رمیں مداخلت کریں اور انہیں گمراہ کرنے کی کوشش کریں۔

حکومت کا طرز عمل اور متوقع پالیسی

شریعت بل کی مخالفت میں اٹھنے والی آوازوں کا ایک نظر جائزہ لینے کے بعد یہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس سلسلہ میں حکومتی حلقوں کے طرز عمل پر بھی نگاہ ڈال لی جائے تاکہ ملک کے دینی حلقے اس کی روشنی میں اپنی جدوجہد کا دائرہ اور رخ متعین کر سکیں۔

جب تک شریعت بل کا مسودہ سینٹ کی مختلف کمیٹیوں میں زیر بحث رہا حکومت کی دلچسپی کا عالم یہ تھا کہ دو وفاقی وزراء وزیر قانون اور وزیر مذہبی امور ان کمیٹیوں میں شامل ہونے کے باوجود ان سے لاتعلق رہے، ایک دو اجلاسوں کے سوا وہ کسی میٹنگ میں شریک نہیں ہوئے۔ شاید ان کا خیال تھا کہ شریعت بل نے منظور تو ہونا نہیں اس میں وقت ضائع کرنے سے کیا فائدہ۔ حتیٰ کہ منظوری کے آخری مرحلہ میں وفاقی وزیر قانون اپنی تجویز کردہ ترامیم کو ایوان میں پیش کرنے کے لیے موجود نہیں تھے جس کی وجہ سے ان کی ترامیم مسترد ہوگئیں۔ مگر سینٹ میں شریعت بل کی متفقہ منظوری نے حکومتی حلقوں کو اضطراب انگیز حیرت سے دوچار کر دیا اور ایک دو دن کی ’’سکتہ نما‘‘ خاموشی کے بعد وفاقی وزراء نے وہی راگ الاپنا شروع کر دیا جو شریعت بل کے مخالفین کی طرف سے ایک عرصہ سے الاپا جا رہا ہے۔ اس طرح حکومت کا نقطۂ نظر واضح ہوگیا کہ وہ سینٹ میں شریعت بل کی منظوری پر بے حد مضطرب ہے اور یہ اضطراب اس کی آئندہ پالیسی کے رخ کو واضح کر رہا ہے۔

اس لیے یہ بات سمجھنا کچھ مشکل نہیں ہے کہ حکومت قومی اسمبلی میں شریعت بل کی منظوری کو روکنے کے لیے ہرممکن ذریعہ اختیار کرے گی۔ اس سلسلہ میں حکومت کی متوقع پالیسی پر نظر ڈالنے سے پہلے اس طریق کار کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے جس سے گزر کر یہ شریعت بل ملک میں باضابطہ قانون کی شکل اختیار کر سکے گا۔

آئینی ماہرین کے مطابق شریعت بل سینٹ سے منظور ہونے کی تاریخ سے ۹۰ دن کے اندر قومی اسمبلی میں پیش ہونا ضروری ہے۔ اگر کسی وجہ سے اس مدت کے دوران شریعت بل قومی اسمبلی کے ایجنڈے میں شامل نہ ہو سکا تو وہ خودبخود ختم ہو جائے گا جیسا کہ اس سے قبل سینٹ سے منظور ہونے والا نواں آئینی ترمیمی بل جو نفاذ شریعت ہی کے بارے میں تھا ۹۰ دن کے اندر قومی اسمبلی میں پیش نہ ہو سکنے کی وجہ سے ختم ہو چکا ہے۔ اگر اس دوران شریعت بل قومی اسمبلی کے ایجنڈے میں آگیا تو قومی اسمبلی اسی مدت کے دوران اسے منظور یا مسترد کرنے کی پابند ہے، اور وہ منظور یا مسترد کرنے کے علاوہ اس میں ترامیم بھی تجویز کر سکتی ہے۔

قومی اسمبلی میں شریعت بل مسترد ہونے کی صورت میں سینٹ کی طرف سے پارلیمنٹ یعنی سینٹ اور قومی اسمبلی کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے اور پھر مشترکہ اجلاس میں بل کو منظور یا مسترد کرنے کا فیصلہ ہوگا۔ جبکہ ترامیم کی صورت میں بل کا مسودہ دوبارہ سینٹ میں جائے گا اور سینٹ ازسرنو اس پر غور کرے گی۔

اس صورتحال میں شریعت بل سے نمٹنے کے لیے حکومتی حلقوں کی پالیسی کا جو نقشہ سامنے آتا ہے وہ کچھ اس طرح بنتا ہے۔

  1. حکومت کی پہلی کوشش یہ ہوگی کہ شریعت بل قومی اسمبلی میں مقررہ مدت کے اندر پیش نہ ہونے پائے تاکہ یہ بھی نویں آئینی ترمیم بل کی طرح اپنی موت آپ مر جائے۔ اس کی عملی صورت یہ ہوگی کہ قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے دوران تو اس میں بجٹ کے سوا اور کسی مسئلہ پر بحث نہیں ہو سکتی۔ بجٹ اجلاس جون کے آخر تک جاری رہے گا، اس کے بعد قومی اسمبلی کا اگلا اجلاس اس مدت کے گزر جانے کے بعد (جو ۱۱ اگست کو پوری ہو رہی ہے) طلب کیا جائے تاکہ مدت گزر جانے کی وجہ سے اس ایوان میں پیش کرنے کی نوبت ہی نہ آئے۔ لیکن اس حربے کا جواب موجود ہے کہ بجٹ اجلاس ختم ہوجانے کے بعد اپوزیشن ارکان اسمبلی کی طرف سے ریکویزیشن پر مقررہ مدت کے اندر اسمبلی کے اجلاس کا مطالبہ کیا جائے۔ اس صورت میں حکومت شریعت بل کو قومی اسمبلی میں زیر بحث لانے کی پابند ہوگی۔
  2. قومی اسمبلی میں بل کے پیش ہوجانے کے بعد حکومت کے پاس اسے ناکام بنانے کا دوسرا حربہ یہ ہوگا کہ اس میں ترامیم پیش کی جائیں تاکہ یہ سینٹ میں واپس جائے اور اس عل میں اتنی سست روی سے کام لیا جائے کہ سینٹ کے نصف ارکان کے دوبارہ انتخاب کا مرحلہ آجائے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ سینٹ میں آئی جے آئی (اسلامی جمہوری اتحاد) کی غالب اکثریت ہے اور اسی اکثریت کی وجہ سے شریعت بل پاس ہوا ہے۔ جبکہ مارچ ۱۹۹۱ء میں سینٹ کے نصف ارکان کی رکنیت ختم ہو رہی ہے اور ان کی جگہ نئے ارکان منتخب ہوں گے جن میں ظاہر ہے کہ سندھ اور سرحد سے پیپلز پارٹی کی اکثریت ہوگی اور پنجاب و بلوچستان سے بھی پی پی پی کچھ نہ کچھ نشستیں ضرور حاصل کرے گی جس سے سینٹ کی موجودہ شکل برقرار نہیں رہے گی۔ اس طرح سینٹ کے پاس کردہ شریعت بل کو سینٹ میں ہی مسترد کرنے یا ان میں من مانی ترامیم کے ذریعے اس کا حلیہ بگاڑنے کی راہ آسان ہو جائے گی۔ اس لیے وفاقی حکومت کے پاس شریعت بل کو ناکام بنانے کا واحد اور بظاہر کامیاب حربہ یہی ہے کہ ترامیم پیش کر کے اسے اس وقت تک مؤخر کیا جائے جب تک سینٹ میں پیپلز پارٹی کو واضح پوزیشن حاصل نہیں ہو جاتی اور پھر اس کے بعد اس کے ساتھ حسب منشا سلوک کر کے نفاذ شریعت کے ’’خطرہ‘‘ سے نجات حاصل کر لی جائے۔

ہمارا خیال یہ ہے کہ وفاقی حکومت قومی اسمبلی میں واضح اکثریت رکھنے کے باوجود شریعت بل کو مسترد کرنے کا راستہ اختیار نہیں کرے گی کیونکہ اس سے اس کی بدنامی کے علاوہ یہ خطرہ بھی ہوگا کہ سینٹ کی طرف سے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے مطالبہ کی صورت میں اگر متحدہ حزب اختلاف نے شریعت بل کی حمایت کا فیصلہ کر لیا تو قومی اسمبلی اور سینٹ کے مشترکہ اجلاس میں متحدہ حزب اختلاف کی اکثریت کی وجہ سے شریعت بل کے پاس ہونے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ اس لیے حکومت مسترد کرنے کی بجائے ترامیم کا راستہ اختیار کرے گی اور ترامیم پیش کرنے میں بھی حکومت کی ترجیحات یہ ہوں گی کہ ترامیم حزب اختلاف کی جماعتوں کی طرف سے آئیں تاکہ بل کی منظوری میں تاخیر کے ساتھ ساتھ یہ تاثر بھی نمایاں ہو کہ شریعت بل اپوزیشن کے حلقوں میں ابھی تک متنازعہ ہے اور حکومت اس تاخیر کو اپوزیشن کے کھاتے میں ڈال کر خود بدنامی سے بچ سکے۔ اگر اپوزیشن کی جماعتوں کی طرف سے ترامیم نہ آئیں تو حکومت آخری حربے کے طور پر اپنے فلور سے ترامیم پیش کرائے گی تاکہ مسئلہ کو کھینچ تان کر مارچ ۱۹۹۱ء تک لمبا کیا جا سکے۔

اس پس منظر میں حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی مذہبی اور سیاسی جماعتوں سے ہم انتہائی ادب کے ساتھ یہ گزارش کرنا چاہتے ہیں کہ وہ حکومت کے اس ’’دام ہمرنگ زمین‘‘ سے ہوشیار رہیں۔ بعض ذمہ دار حضرات کی طرف سے یہ عندیہ سامنے آیا ہے کہ وہ قومی اسمبلی میں شریعت بل زیر بحث آنے کے بعد اس میں ترامیم پیش کریں گے۔ ان حضرات کے خلوص اور شریعت بل کو زیادہ سے زیادہ بہتر بنانے کے جذبے سے انکار نہیں لیکن ترامیم پیش کرنے کا فائدہ حکومت کو ہوگا اور وہ اس طرح شریعت بل کو حزب اختلاف کے حلقوں میں متنازعہ ظاہر کرنے کے علاوہ مطلوبہ تاخیر حاصل کرنے میں پھر کامیاب ہو جائے گی جس کے بعد بات ترامیم پیش کرنے والے بزرگوں کے ہاتھ سے نکل جائے گی اور وہ شریعت بل کو قومی اسمبلی یا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں منظور کرانے کے آخری چانس سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔

شریعت بل کا یہ مسودہ بحث و تمحیص اور مسلسل ترامیم کے طویل مراحل سے گزر کر سامنے آیا ہے اس کے باوجود اس میں ترامیم کی گنجائش موجود ہے۔ اگر اس مسودہ کو مزید بہتر بنانے کے لیے تجاویز ہیں تو ان کی اہمیت سے انکار نہیں مگر انہیں ترامیم کی صورت میں پیش کرنا انتہائی پرخطر راستہ ہے جس پر چلنے کا رسک نفاذ شریعت سے دلچسپی رکھنے والے کسی بھی طبقہ کو نہیں لینا چاہیے۔ قانون میں ترمیم اس کی منظوری کے بعد بھی ہو سکتی ہے اور اس کی کمزوری کو دور کرنے کے لیے نیا مسودہ قانون بھی پیش ہو سکتا ہے۔ اس لیے اس وقت یہ مسودہ جیسا بھی ہے اسے اسی صورت میں قومی اسمبلی یا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے منظور کرانے کی جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے ورنہ پورا روپیہ وصول کرنے کی ضد میں بارہ آنے کی وصولی کا امکان بھی کھو بیٹھیں گے۔ اور سینٹ سے ایک دفعہ منظور ہوجانے کے بعد شریعت بل کو دوبارہ حکومتی چالوں کی بھینٹ چڑھانے کی بدنامی اور روسیاہی الگ حصے میں آئے گی۔

اس لیے ملک بھر کے دینی و سیاسی حلقوں سے ہماری مخلصانہ گزارش ہے کہ وہ اس صورتحال کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لیں اور شریعت بل کو حکومتی چالوں اور تاخیری حربوں سے بچا کر اسے قومی اسمبلی سے منظور کرانے کے لیے منظم جدوجہد کریں۔ ہمیں یقین ہے کہ اگر دینی حلقے اس مقصد کے لیے عوامی دباؤ منظم کرنے میں کامیاب ہوگئے اور ترامیم کے حوالے سے حزب اختلاف کی کوئی جماعت حکومتی چال کا شکار نہ ہوئی تو شریعت بل کو مقررہ مدت کے اندر قومی اسمبلی سے منظور کرانے کے سوا حکومت کے پاس کوئی چارہ کار نہیں رہے گا اور پاکستان کے قیام کے ۴۲ سال بعد ہم شریعت کو ملک کا سپریم لاء قرار دینے میں کامیاب ہو سکیں گے۔

شریعت بل اور تحریک نفاذ شریعت

ماہِ رواں کی سترہ تاریخ کو فلیش مین ہوٹل راولپنڈی صدر میں منعقدہ آل پارٹیز نفاذِ شریعت کانفرنس میں ’’شریعت بل‘‘ کو قومی اسمبلی سے منظور کرانے اور سودی نظام کی وفاقی شرعی عدالت کے دائرہ اختیار میں واپسی کو یقینی بنانے کے لیے پورے ملک میں تحریک نفاذ شریعت منظم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

’’آل پارٹیز نفاذِ شریعت کانفرنس‘‘ جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے سیکرٹری جنرل اور شریعت بل کے محرک سینیٹر مولانا سمیع الحق کی دعوت پر منعقد ہوئی جس سے مولانا عبد الستار خان نیازی، مولانا فضل الرحمان، مولانا محمد اجمل خان، مولانا محمد عبد اللہ، صاحبزادہ حاجی فضل کریم، مولانا معین الدین لکھوی، مولانا مفتی محمد حسین نعیمی، مولانا ضیاء القاسمی، مولانا قاضی احسان الحق، مولانا ضیاء الرحمان فاروقی، مولانا وصی مظہر ندوی اور دیگر سرکردہ علماء کرام کے علاوہ قومی شخصیات میں سے نوابزادہ نصر اللہ خان، جناب غلام مصطفیٰ جتوئی، میاں محمد نواز شریف، اقبال احمد خان، راجہ محمد ظفر الحق، جناب اعجاز الحق، پروفیسر غفور احمد اور جناب طارق محمود ایم این اے نے بھی خطاب کیا۔

’’شریعت بل‘‘ اس وقت قومی اسمبلی کے حوالے ہو چکا ہے اور وفاقی وزیر پارلیمانی امور خواجہ طارق رحیم کے ایک بیان کے مطابق اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں زیر بحث آنے والا ہے۔ اس مرحلہ پر ملک کے اہم سیاسی و دینی حلقوں کا یہ اتفاق و اشتراک بلاشبہ ایک نیک فال اور عوام کے دلوں کی آواز ہے۔ پاکستان کی تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی اہل دین نے متحد ہو کر کسی جدوجہد کا آغاز کیا ہے انہیں اہل سیاست کی حمایت بھی حاصل ہوئی ہے اور وہ جدوجہد میں کامیابی سے بھی ہمکنار ہوئے ہیں۔ اہل دین کا اتحاد ہمارے ملک کے بہت سے مسائل کا حل اور نفاذِ اسلام کی جدوجہد کی کامیابی کی کلید چلا آرہا ہے۔

ہم ’’تحریک نفاذِ شریعت‘‘ کے آغاز کے اس فیصلہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے دعاگو ہیں کہ اللہ رب العزت اہل دین کے اتحاد کو ملت کے لیے مبارک کریں اور اسے ملک میں شریعت اسلامیہ کی بالادستی کا ذریعہ بنائیں، آمین یا الہ العالمین۔

عیسائی اور یہودی نظریۂ الہام

محمد اسلم رانا

کہنہ مشق اور پرجوش عیسائی مبلغ پادری برکت اے خان ایک ریٹائرڈ سکول ماسٹر ہیں۔ دورانِ ملازمت سے ہی تبلیغی سرگرمیوں میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ ان کی اکثر و بیشتر تحاریر کے مخاطبین مسلمان ہوتے ہیں۔ چند برس پیشتر انہیں اعزازی طور پر پادری بنا دیا گیا۔ رسمِ تقدیس سیالکوٹ چھاؤنی کے قدیم وسیع اور خوبصورت ہولی ٹرنٹی کیتھیڈرل نامی گرجاگھر میں منعقد ہوئی۔ راقم بھی اس تقریب میں شامل تھا۔
مؤقر جریدہ ’’الشریعۃ‘‘ بابت اپریل ۱۹۹۰ء (صفحہ ۴۰ کالم اول) میں حافظ محمد عمار خان ناصر نے پادری مذکور کی کتاب ’’اصولِ تنزیل الکتاب‘‘ (صفحات ۵، ۶) کے مندرجہ ذیل الفاظ نقل کیے ہیں:
’’آسمان پر الہامی کتابوں کی موجودگی اور ان کی آیات کے لفظ بلفظ کسی خاص زمان میں نزول کا جو عقیدہ اہلِ اسلام کے درمیان مروّج ہے، کتابِ مقدس کے صحائف کے متعلق نہ یہودیوں میں اور نہ مسیحیوں میں ایسا عقیدہ کبھی مروّج ہوا ہے۔‘‘
عیسائیوں کی کتاب مقدس، بائبل، رومن کیتھولک عیسائیوں کے نزدیک ۷۲ اور (پادری صاحب کے) پروٹسٹنٹ فرقہ کے ہاں ۶۶ کتابوں پر مشتمل ہے۔ متنازعہ فیہ کتابوں کو اپوکریفہ کہتے ہیں۔ بائبل کی اکثر و بیشتر کتابوں کے مصنفین سن و مقام تحریر اور مخاطبین کا تحقیق کچھ پتہ نہیں۔ بس کتابوں کے مندرجات اور تاریخ کی مدد سے اندھیرے میں کچھ تیر چلائے جاتے ہیں۔

عیسائی نظریۂ الہام

سیدھے سادے چند الفاظ میں عیسائی نظریۂ الہام یہ ہے کہ عیسائی علماء کی کمیٹی جس کتاب کو قبول کر لے وہ الہامی، مقدس، مستند، خدا کا کلام اور مدارِ نجات ہے۔ بائبل کی مخصوص مسیحی کتابیں اسی طرح مسیحی علماء کی مختلف کونسلوں، کمیٹیوں اور مجلسوں نے پاس کی تھیں۔ اور یہ انتخاب بھی کوئی حتمی شے اور یقینی امر نہیں ہے۔ افریقن مشنری نہلز ایسی مجالس کا ذکر کر کے لکھتے ہیں:
’’ہم بھی ان سے اتفاق یا اختلاف کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔‘‘ (Christians Answer Muslims - By Gerhard Nehls - 1980, p 118)
یعنی فی زمانہ بھی مسیحی علماء کی کوئی کونسل بائبل کی کسی کتاب کو غیر مستند قرار دینے اور اس مجموعہ سے نکال باہر کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔ چند آراء پیشِ خدمت ہیں:
’’اراسمس کے خیالات پاک نوشتوں کے الہام اور مجموعے کے متعلق بالکل آزادانہ تھے۔ وہ مقدس یوحنا کے مکاشفہ (بائبل کی آخری کتاب۔ اسلم) کے الہامی ہونے سے منکر تھا۔‘‘
’’لوتھر بائبل کے صحیفوں پر اپنی ہی تمیز کے مطابق حکم لگاتا تھا۔ چنانچہ وہ مقدس ’’یعقوب کے خط‘‘ کے حق میں کہتا تھا کہ وہ تو ’’کوڑا یا بھوسہ‘‘ ہے کیونکہ یہ خط اس کے اس خیال سے کہ آدمی فقط ایمان کے ذریعے سے راست باز ٹھہرتا ہے اختلاف کرتا ہوا معلوم ہوتا تھا۔ اس کے نزدیک بائبل کے تمام صحیفے یکساں قدر و قیمت نہیں رکھتے۔ پولوس کی تحریرات کو وہ سب سے افضل سمجھتا تھا۔ اگرچہ اس کے بعض دلائل کی نکتہ چینی کرنے سے بھی نہیں جھجھکتا۔‘‘ (بائبل کا الہام ۔ مصنفہ ڈاکٹر جے پیٹرسن سمائتھ ڈی ڈی ۔ مطبوعہ ۱۹۵۲ء ص ۱۸، ۸۲)

یہودی نظریہ

یہودیوں کی کتابوں کو بھی ۹۰ء میں فلسطین کے مقام حمبنیا میں علماء یہود کی ایک کونسل نے مقدس قرار دیا تھا (میزان الحق ۔ مصنفہ پادری سی جی فانڈر ڈی ڈی ص ۹۶)۔ راقم الحروف کے محدود سے مطالعہ کے مطابق یہودی اپنی کتاب مقدسہ کے مصنفین اور الہام وغیرہ کے چکر میں نہیں پڑتے۔ البتہ تورات بارے ان کا نظریہ خاص ہے۔ ڈاکٹر سمائتھ لکھتے ہیں:
’’یہودیوں کے ربی (علماء۔ اسلم) لوگ موسوسی تحریروں (تورات کی مروجہ پانچ کتابوں۔ اسلم) کی ایسی عزت کرنے لگے کہ آخر کار یہ کہہ اٹھے کہ خدا نے خود آسمان سے یہ کتابیں لکھی ہوئی موسٰیؑ کے حوالہ کی تھیں۔ نہیں بلکہ یہ کتاب ایسی کامل اور ایسی صفات سے موصوف تھی کہ خود یہودا، خدائے قادر اس کے مطالعہ میں ہر روز تین گھنٹے صرف کیا کرتا تھا۔‘‘ (ایضًا ص ۵۰)
مطالعۂ بائبل کے ایک امریکی پروفیسر مارون اردلسن لکھتے ہیں:
’’بنیاد پرست یہودی فی زمانہ بھی یہی تعلیم دیتے ہیں کہ خدا نے کوہ سینا پر بالکل بنفس نفیس ظاہر ہو کر شریعت دی اس لیے تورات کے الفاظ خدائی ہیں اور مکمل طور پر قطعی ہیں۔‘‘ (A Lion Hand Book: The World's Religions: 1982 - p 292 col 1)
پادری گیرڈ نر تورات بارے یہودی عقیدہ بیان کرتے ہیں کہ
’’ہر لفظ اور ہر حرف میں یکساں الہام ہے۔‘‘ (الہام ۔ مصنفہ پادری کینن ڈبلیو ایچ ٹی گیرڈنر بی اے ۔ مطبوعہ ۱۹۵۸ء ص ۱۵)

عیسائی اختلاف

اب قارئین کرام فاضل پادری صاحب کے اس فرمودہ پر غور فرمائیں:
’’جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ موسٰیؑ پر توریت شریف ایک کتاب کی صورت میں آسمان سے نازل ہوئی تھی ان کی یہ بات خداوند کی کتاب مقدس کے اصول الہام کے سراسر خلاف ہے کیونکہ آسمان پر پہلے سے توریت کی کتاب کی موجودگی کو تسلیم کرنے کے بعد ہی اس توریت کی کتاب کے بزرگ موسٰیؑ پر آسمان سے نزول کا سوال پیدا ہوتا ہے۔‘‘
معزز پادری صاحب کی جانے بلا کہ مسلمانوں کے نظریۂ الہام پر حملہ کرتے کرتے انہوں نے یہودیوں کے منہ آجانا تھا جو کہ لکھی لکھائی تورات کا نزول ہی نہیں مانتے بلکہ اس کے بھی قائل ہیں کہ اللہ پاک روزانہ تین گھنٹے اس کی تلاوت کیا کرتا تھا۔ یاد رہے کہ تورات یہودی کتب مقدسہ (عیسائی بائبل کے پہلے حصہ) کی اصل الاصول ہے، یہودیوں کا سرمایۂ افتخار ہے، ان کی زندگی ہے۔ شریعتِ موسوی اسے ہی کہا جاتا ہے۔ اس کے اصل اور اولین ماننے والے یہودی ہیں۔ عیسائیوں کی تورات سے دلچسپی اور اس کا تقدس محضزبانی جمعخرچ تک ہی محدود ہے۔ عیسائی اس پر ہزار لعنت بھیجتے ہیں (گلتیوں ۳:۱۳)۔ موجودہ عیسائیت (دراصل پولوسیت) کی تو تعمیر ہی تورات کے قبرستان میں ہوئی ہے۔ یہودی تورات کی عظمت اور الہام بارے جو نظریہ جی چاہے رکھیں، عیسائیوں کو اسے چیلنج کرنے اور ان پر اپنا نظریہ ٹھونسنے کا کیا حق حاصل ہے؟

عیسائی اور لفظی الہام

یہودیوں کی تقلید کبھی عیسائی بھی لفظی الہام کا عقیدہ رکھتے تھے۔ ڈاکٹر سمائتھ کے الفاظ میں:
’’ہم نے بھی بائبل کے ساتھ ایسا ہی کیا ہے۔ ہم بھی قریباً اس کے حق میں بھی یہی سب باتیں کہہ گزرے ہیں۔ ہم موسٰی اور متی اور پولوس کے واسطے وہ حقوق طلب کرتے ہیں جو شاید کبھی ان کے وہم و خیال میں بھی نہیں آئے تھے۔ شاید ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم ان باتوں کو ان سے بہتر سمجھتے ہیں۔ مگر اس قسم کے باطل توہمات کے ذریعے ہم نے اس کتاب کی فطرتی حسن و خوبی کو گنوا دیا ہے اور ہم نے اس کتاب کو اپنی حماقت سے دشمنوں کے حملوں کے لیے نشانہ بنا دیا ہے کہ بچہ بچہ بھی اگر چاہے تو اس پر ملحدانہ حملہ کرنے کے لیے میدان کھلا پاتا ہے۔‘‘ (ص ۵۰)
قارئین کرام نوٹ فرمائیں کہ پادری صاحب کے دعوٰی کے قطعی برعکس ہم نے یہودیوں اور عیسائیوں دونوں اقوام میں لفظی الہام کا عقیدہ انہی کی زبان ثابت کر دیا ہے۔ اسے کہتے ہیں جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے۔ آئیں عیسائیوں کے نظریۂ الہام جسے پادری صاحب ’’خداوند کی کتاب مقدس کا اصول الہام‘‘ کہتے نہیں تھکتے، کی اصل ڈاکٹر سمائتھ ہی کے قلم سے معلوم کریں۔ موصوف لکھتے ہیں:
’’الہام کا خیال فقط یہودیوں اور مسیحیوں میں ہی محدود نہیں ہے۔ قدیم یونانی و رومی مصنف بھی اکثر ’’الٰہی جنون، یا ۔۔، یا خدا سے اٹھائے جانے، یا خدا سے الہام کیے جانے اور پھونکے جانے‘‘ کا ذکر کرتے ہیں۔ فنونِ شریفہ مثلاً سنگ تراشی یا مصوری اور شاعری کی لیاقت، پیشگوئی کی قدرت، عشق و محبت کا جوش اور لڑائی کا تہور، یہ سب باتیں ان فنون کے دیوتاؤں کی طرف منسوب کی جاتی تھیں جو اس وقت اس شخص پر قابو پائے ہوئے سمجھے جاتے تھے۔ یہی الفاظ اور خیالات بعد ازاں مسیحیوں کی مذہبی اصطلاحات میں بھی داخل ہو گئے اور لازمی طور پر ابتدائی کلیسیا کے تصوراتِ الہام پر بھی کسی درجہ تک اپنا اثر ڈالا۔‘‘ (ص ۹۵)
لیجئے ہمارے لیے عیسائی نظریہ سمجھنا آسان ہو گیا کہ
’’الہام کے معنی ہیں روح القدس کا نفخ یا پھونکنا تاکہ زیادہ روحانی کیفیت یا حالت یا زیادہ گرم جوشی اور گہری محبت پیدا کر دے اور خدا کے مقاصد و منشاء کا گہرا علم و فہم حاصل ہو یا دیگر قابلیتوں کو جن کے استعمال کی الہامی شخص کو اپنے منصبی کام کے سرانجام کرنے کے لیے ضرورت تھی زیادہ تیز اور طاقت ور کر دے۔‘‘ (ص ۹۰)
اب جس مجموعہ کتب کا کوئی سر منہ نہ ہو، اس میں عجیب و غریب اور ناقابلِ یقین و ایمان باتیں لکھی ہوں، اس کی   کتابیں انفرادی صوابدید کی زد میں ہوں، انہیں الہامی ماننے سے انکار کیا جا رہا ہو، ان کتابوں کے لفظی الہام کو کون مانے گا؟ ذرا ایک حوالہ مطالعہ فرمائیں۔ بائبل کی کتاب ایوب میں لکھا ہے:
’’اس کا ایوبؑ پر غصہ بھڑکا اس لیے کہ اس نے اپنے آپ کو خدا سے زیادہ صادق ٹھہرایا تھا اور اس کا غصہ تینوں دوستوں پر بھی بھڑکا اس لیے کہ ان کے پاس جواب نہ تھا اور انہوں نے خدا کو مجرم ٹھہرایا تھا‘‘۔ (ایوب ۳۳: ۲، ۳۔ رومن کیتھولک اردو ترجمہ بائبل۔ کلام مقدس مطبوعہ سوسائٹی آف سینٹ پال روما ۱۹۵۸ء)
چنانچہ عیسائیوں کو لفظی الہام کا نظریہ مجبورًا چھوڑنا پڑا کہ وہ بائبل کو ڈوبے لیے جا رہا تھا۔ ڈاکٹر سمائتھ بصد حسرت و یاس لکھ گئے:
’’پاک نوشتوں (بائبل کی کتابوں۔ اسلم) کے ہر ایک طرح کے تفصیلی امور میں کامل طور پر بے خطا ہونے پر اصرار کرنا فقط ایک غیر ضروری اور بے سند بات ہی نہیں ہے بلکہ اس کا ماننا الہام کے عقیدہ کو سخت معرض خطر میں ڈالتا ہے۔ بھلا بتاؤ تو ۔۔۔ فرانس کے مشہور مصنف اور فصیح البیان رینان کو کس چیز نے ملحد بنا دیا؟ یہی بات کہ الہام کے عقیدۂ سہو و خطا سے بریت کے عقیدہ کے ساتھ جکڑا ہوا تھا۔ چارلس بریڈلا کو کس چیز نے بائبل کا دشمن بنا دیا؟ یہ کہ پادری جس نے اسے مستقیم ہونے کے لیے تیار کیا اس نے اس ذی فہم لڑکے کے سوالات کو جو وہ الہام کے مسئلہ پر کرتا تھا اپنی تنگ خیالی کی وجہ سے زجر و توبیخ کے ساتھ رد کر دیا اور ان کا کچھ تسلی بخش جواب نہ دیا۔
ناظرین! آپ بھی کئی لوگوں سے واقف ہوں گے جن کا ایمان اسی قسم کی تعلیمات کے سبب سے زائل ہو گیا ہے۔ چند ماہ ہوئے خود میرے ذاتی تجربے میں بھی یہ امر آیا اور میں نے دیکھا کہ میرے ایک بڑے گاڑھے دوست کے ایمان پر اسی قسم کی غلط تعلیم نے پانی پھیر دیا۔ یقین جانو وہ لوگ بائبل کے نادان دوست ہیں جو الہام کو اس قسم کے سوالات کے ساتھ وابستہ کر رہے ہیں۔ جب مذہبی معلموں کی جماعت میں ایسے اشخاص موجود ہوں جو یہ کہیں کہ ایک ذرا سی غلطی کے ثابت ہونے سے بائبل کا الہامی ہونا مردود ٹھہرے گا جبکہ لفظوں کے صاف صاف معنوں کو کھینچ تان کر ذرا ذرا سے اختلافات کو تطبیق دینے کی کوشش کی جاتی ہے یا اس کے علمی امور کے متعلقہ باتوں کو زمانۂ حال کی تحقیقات اور دریافتوں سے ملایا جاتا ہے تو اس سے بائبل کو کچھ نفع حاصل نہیں ہوتا بلکہ الٹا اس کی جان عذاب میں پھنستی ہے۔ ایسی کتابوں کو پڑھ کر خواہ مخواہ یہ خیال پیدا ہو گا کہ گویا ہماری نجات کا مدار اسرائیلیوں کی ادنٰی علمی واقفیت کی صحت پر ہے یا یہ کہ ہمارا مذہب معرض خطر میں ہے۔‘‘ (صفحات ۱۴۶ ۔ ۱۴۷)
عیسائی نظریۂ الہام کی تشریح کی جا چکی ہے کہ عیسائی علماء کی کونسلوں کا مرہونِ منت ہے۔ پادری صاحبان جس کتاب کو مناسب سمجھیں ’’الہام‘‘ کا سرٹیفکیٹ عنایت فرما دیں۔ عملی صورت یہی ہے، باقی سب لفاظی ہے، آئیں بائیں شائیں کرنا اور حجتیں کاٹنا ہے۔ عیسائی اتنا اتراتے جو پھرتے ہیں کیا کوئی مائی کا لال عیسائیوں کا تسلیم شدہ ’’خداوند کی کتابِ مقدس کا اصولِ الہام‘‘ خداوند کی کتاب مقدس میں سے دکھا سکے گا؟ صاحبو! سجے سجائے ڈرائنگ روموں میں بیٹھ کر ’’خداوند کی کتابِ مقدس کے اصولِ الہام‘‘ کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملا دینا اور بات ہے جبکہ آب و گل کی اس بستی رستی دنیا میں ’’خداوند کی کتابِ مقدس کے اصولِ الہام‘‘ کو نباہنا اور ثابت کرنا اور بات۔
لگے ہاتھوں عیسائی بھائی یہ بھی بتا دیں کہ اگر انہوں نے نظریات کی بے آب و گیاہ وادیوں میں یونہی دھکے کھانے اور ٹامک ٹوئیاں مارتے پھرنا ہے تو پھر تثلیثِ اقدس کے دوسرے اقنوم مسیح خداوند کے اس قول کہ ’’دیکھو میں دنیا کے آخر تک ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں‘‘ (انجیل متی آیت آخر) اور تیسرے اقنوم روح القدس خداوند کا مسیحیوں کو تعلیم دینے اور رہنمائی کرنے کا مطلب کیا ہے؟ (مسیحی علم الٰہی کی تعلیم ۔ مصنفہ پادری لوئیس برک ہاف وکلف اے سنگھ ۔ مطبوعہ ۱۹۸۲ء ص ۱۳۶)۔ یارو! کچھ تو بولو، سانپ ہی کیا سونگھ گیا؟ جو کچھ تم نے بولنا ہے روح القدس تمہیں بتاتا کیوں نہیں  ہے؟ (مرقس ۳: ۱۱)


مئی کے شمارہ میں پادری فنڈر کو کیتھولک لکھا گیا ہے حالانکہ پادری صاحب پروٹسٹنٹ فرقہ سے متعلق تھے۔ اپوکریفہ کی بحث میں بقلم خود لکھتے ہیں ’’ہم پروٹسٹنٹ مسیحی عہدِ عتیق کی عبرانی کتبِ دین کو مانتے ہیں‘‘ (میزان الحق ص ۱۴۴)۔ امید ہے کہ یہ چند حروف بغرضِ تصحیح کافی رہیں گے۔‘‘

نسخ و تحریف پر مولانا کیرانویؒ اور ڈاکٹر فنڈر کا مناظرہ

محمد عمار خان ناصر

(یہ مناظرہ امام المناظرین مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ اور نامور عیسائی مناظر پادری ڈاکٹر سی جی فنڈر کے درمیان ۱۲۷۰ھ کے دوران آگرہ میں ہوا۔ مناظرہ اردو زبان میں ہوا تھا جو دستیاب نہیں ہو سکا۔ اس کے عربی ترجمہ کو سامنے رکھ کر اسے نئے سرے سے مرتب کیا گیا ہے۔ مناظرہ کے لیے پانچ موضوعات طے ہوئے تھے: (۱) نسخ (۲) تحریف (۳) تثلیث (۴) رسالتِ محمدیؐ (۵) حقانیتِ قرآن۔ مگر صرف دو دن پہلے دو موضوعات پر مناظرہ ہوا اور تیسرے دن پادری فنڈر یا ان کے کسی ساتھی کو سامنے آنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ ڈاکٹر وزیرخان مرحوم نے اس مناظرہ میں مولانا کیرانویؒ کی معاونت کی جو انگریزی کے اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے اور عیسائیت کے موضوعات پر خود بھی کامیاب مناظر تھے، جبکہ پادری فرنچ اس مناظرہ میں پادری فنڈر کے معاون تھے — ناصر)


مناظرہ کا پہلا دن

نسخ کی بحث

پہلے روز مناظرہ ’’نسخ‘‘ کے موضوع پر شروع ہوا اور پادری فنڈر نے یوں بحث کا آغاز کیا:’’حاضرین! یہ مباحثہ فاضل مولوی صاحب کی دعوت پر منعقد ہو رہا ہے اور میں نے اس کو انہی کی دعوت پر قبول کیا ہے ورنہ مجھے اس کا کوئی خاص فائدہ معلوم نہیں ہوتا۔ میرا ارادہ ہے کہ مذہب مسیحی کی حقانیت کے دلائل اہلِ اسلام کے آگے رکھوں۔ یہ مناظرہ نسخ، تحریف، تثلیث، اثباتِ نبوت محمد اور حقانیتِ قرآن پر ہو گا۔ پہلے تین مسائل میں بندہ مجیب اور مولوی صاحب معترض ہوں گے اور آخری دو مسائل میں اس کے برعکس۔‘‘
یہ کہہ کر فنڈر بیٹھ گئے، مولانا رحمت اللہ کھڑے ہوئے اور کہا:’’آپ نے اپنی کتاب میزان الحق باب اول فصل دوم میں دو باتیں لکھی ہیں جو صحیح نہیں ہیں:
اول: نسخہ مطبوعہ ۱۸۵۰ بزبان اردو کے صفحہ ۱۴ پر لکھا کہ ’’قرآن اور مفسرین کا دعوٰی ہے کہ جیسے زبور کے نزول سے تورات اور انجیل کے نزول سے زبور منسوخ ہو گئی اسی طرح انجیل بھی قرآن کی وجہ سے منسوخ ہو گئی ہے۔‘‘
دوم: صفحہ ۲۰ پر لکھا کہ ’’کسی محمدی کے پاس اس دعوٰی کی کوئی دلیل نہیں کہ زبور تورات کی ناسخ اور انجیل دونوں کی ناسخ ہے۔‘‘
آپ نے زبور کے نزول سے تورات کے منسوخ ہونے کا دعوٰی غلط طور پر اہلِ اسلام کی طرف منسوب کیا ہے۔ قرآن اور مفسرین میں سے کسی نے بھی ایسا نہیں کہا بلکہ اس کے برعکس ’’تفسیر عزیزی‘‘ میں بقرہ ۸۷ کے تحت لکھا ہے کہ ’’ہم نے موسٰیؑ کے بعد پے در پے پیغمبر بھیجے مثلاٍ یوشعؑ، الیاسؑ، الیسعؑ، سموئیلؑ، داوٗدؑ، سلیمانؑ، اشعیاءؑ، ارمیاءؑ، یونسؑ، عزیرؑ، خرقی ایلؑ، زکریاؑ، اور یحٰیؑ وغیرہ۔ تقریباً چار ہزر تھے اور سب کے سب شریعت موسوی کے ماتحت تھے اور ان کی بعثت سے مقصود شریعت موسوی کے احکام کا اجراء تھا جن پر بنی اسرائیل کی سستی اور کاہلی اور ان میں سے علماء سوء کی تحریفات کے باعث عملدرآمد نہ ہو رہا تھا۔‘‘
اور ’’تفسیر حسینی‘‘ میں لکھا ہے (تحت نساء ۱۶۳) ’’ہم نے داؤد کو ایک کتاب دی جس کا نام زبور تھا جو حمد و ثنا پر متضمن اور احکام و اوامر سے خالی تھی کیونکہ داؤد علیہ السلام شریعت موسوی ہی کے پیرو تھے۔‘‘ اور اسی طرح دوسری اسلامی کتب میں لکھا ہے۔
فنڈر: آپ انجیل کو منسوخ مانتے ہیں یا نہیں؟
مولانا: ہم انجیل کو ان معنوں میں منسوخ مانتے ہیں جن کا ہم ابھی ذکر کریں گے۔ فی الحال صرف یہ ہے کہ آپ نے دونوں عبارتیں اپنی کتاب میں غلط لکھی ہیں۔
فنڈر: یہ میں نے ان لوگوں سے سنی ہیں جن کے ساتھ مجھے بحث  و مباحثہ کا اتفاق ہوا ہے۔
مولانا: یہ کیسا انصاف ہے کہ آپ سنی سنائی باتیں قرآن اور مفسرین کی جانب منسوب کر دیتے ہیں؟ یہ یقیناً غلط ہے۔
فنڈر: ٹھیک ہے۔
مولانا: کیا آپ مسلمانوں کے ہاں اصطلاحی نسخ کے مفہوم سے واقف ہیں؟
فنڈر: بتائیں۔
مولانا: ہمارے نزدیک نسخ صرف اوامر و نواہی میں ہوتا ہے۔ چنانچہ تفسیر معالم التنزیل میں لکھا ہے کہ ’’النسخ یعترض علی الاوامر والنواھی‘‘ مطلب یہ ہے کہ قصص و واقعات یا امور عقلیہ قطعیہ (مثلاً یہ کہ اللہ موجود ہے) یا امور حسیہ (مثلاً دن کی روشنی اور رات کی تاریکی وغیرہ) میں نسخ نہیں ہو سکتا۔ اور امر و نواہی میں بھی تفصیل ہے۔ وہ یہ کہ ضروری ہے کہ اوامر و نواہی ایک ایسے حکم عملی کے ساتھ متعلق ہوں جس کے وجود و عدم دونوں کا احتمال ہو۔ پس حکم واجب مثلاً ایمان باللہ اور حکم ممتنع مثلاً شرک و کفر وغیرہ محل نسخ نہیں۔ اور عملی حکم جو احتمال وجود و عدم دونوں کا رکھتا ہو اس کی بھی دو قسمیں ہیں: (۱) مؤبد، یعنی وہ حکم جس کے کرنے یا نہ کرنے کا حکم ہمیشہ کے لیے ہو جیسے ’’ولا تقبلوا لھم شھادۃ ابدًا‘‘ (النور) میں متہمین کی شہادت کی عدم قبولیت! یہ بھی نسخ کا محل نہیں۔ (۲) غیر مؤبد، اس کی بھی دو قسمیں ہیں۔ (۱) مؤقت، یعنی وہ حکم جس کی مدتِ انتہا بیان کر دی گئی ہو۔ مثلاً ’’فاعفوا واصفحوا حتٰی یاتی اللہ بامرہ‘‘ (مائدہ) میں عفو کا حکم موقت ہے۔ اتہیان اللہ بالامر کے ساتھ یہ قسم محل نسخ کا نہیں جب تک کہ مقررہ وقت پورا نہ ہو جائے۔ (۲) غیر مؤقت، یعنی حکم مطلق، یہ محل نسخ کا ہے۔
اب نسخ کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالٰی جانتے تھے کہ یہ حکم مکلفین پر فلاں وقت تک باقی رہے گا پھر منسوخ ہو جائے گا۔ جب وہ وقت آ گیا کہ دوسرا حکم پہلے حکم کے مخالف بھیج دیا جائے، اس سے پہلے حکم کی انتہا معلوم ہو جاتی ہے۔ لیکن چونکہ پہلے حکم میں اس کے مقررہ وقت کا بیان نہیں تھا لہٰذا دوسرے حکم کے آجانے پر ہمارا ناقص ذہن یہ خیال کرتا ہے کہ یہ پہلے حکم کی تغییر ہے، حالانکہ فی الحقیقت یہ تغییر نہیں بلکہ اس کی انتہا کا مظہر ہے۔ اس کی مثال یوں سمجھئے کہ مالک غلام کو ایک خاص خدمت کرنے کا حکم دیتا ہے اور اس کے علم میں ہوتا ہے کہ اس سے یہ خدمت میں فلاں وقت تک لوں گا۔ جب وہ مدت گزر جاتی ہے تو مالک اس کو کوئی دوسری خدمت کرنے کا حکم دیتا ہے۔ یہ خادم کے گمان میں تغییر نہیں بلکہ دراصل اس کی پہلی خدمت کی انتہا کا بیان ہے۔ یا یوں سمجھئے کہ حاکمِ وقت اہلِ دربار کو گرمیوں کے موسم  میں حکم دیتا ہے کہ وہ صبح کے وقت حاضر ہوں اور اس کے اپنے ذہن میں یہ ہوتا ہے کہ میرا یہ حکم سردیوں کے آنے تک رہے گا، لیکن وہ درباریوں کو بتاتا نہیں۔ اس سے اہلِ دربار سمجھتے ہیں کہ یہ حکم ہمیشہ کے لیے ہے۔ پھر جب سردیاں آجاتی ہیں تو حاکمِ وقت اہلِ دربار کو کسی اور وقت میں آنے کا حکم دیتا ہے۔ درباریوں کے خیال میں میں یہ پہلے حکم کی تغییر لیکن حاکم کے مطابق حکمِ سابق کی انتہا کا بیان ہے۔
پس اہل اسلام کے ہاں نسخ اصطلاحی ایک ایسے حکمِ عملی کی مدت انتہا کے بیان  کو کہتے ہیں جو وجود و عدم دونوں کا محتمل ہو اور ہمارے خیال میں وہ ہمیشہ کے لیے ہو (حالانکہ دراصل ایسا نہ ہو)۔
فنڈر: اس لحاظ سے تمہارے نزدیک انجیل کا کون سا حکم منسوخ ہے؟
مولانا: مثلاً حرمتِ طلاق کا حکم۔ انجیل میں ہے کہ طلاق دینا حرام ہے، حالانکہ ہمارے نزدیک جائز ہے۔
فنڈر: کیا تمہارے نزدیک ساری انجیل منسوخ نہیں؟
مولانا: نہیں! کیونکہ انجیلِ مرقس میں لکھا ہے: ’’اے اسرائیل سن خداوند ہمارا ایک ہی خدا ہے اور تو خداوند اپنے خدا سے اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری عقل اور اپنی ساری طاقت سے محبت رکھ۔ دوسرا یہ ہے کہ تو اپنے پڑوسی سے اپنے برابر محبت رکھ ان سے بڑا اور کوئی حکم نہیں۔‘‘ (آیات ۲۹ تا ۳۱) ہمارے ہاں یہ دونوں حکم باقی ہیں۔
فنڈر: انجیل ہرگز منسوخ نہیں ہو سکتی کیونکہ مسیح نے کہا ہے ’’آسمان اور زمین ٹل جائیں گے لیکن میری باتیں ہرگز نہ ٹلیں گی۔‘‘ (لوقا ۲۱ : ۳۳)
ڈاکٹر وزیر خان (مولانا کے معاون خصوصی) : یہ قول عام نہیں ہے بلکہ ان امور کے ساتھ خاص ہے جن کا بیان مسیحؑ نے اس سے ماقبل کیا ہے۔
فنڈر: نہیں مسیح کا قول عام ہے خاص نہیں۔
ڈاکٹر صاحب: ڈی آئلی اور رچرڈمنٹ کی تفسیر انجیل متی ۲۴: ۳۵ کے ذیل میں دیکھئے، لکھا ہے ’’پادری بیرس صاحب کے نزدیک اس سے مراد یہ ہے کہ جن امور کی خبر میں نے تمہیں دی ہے وہ یقیناً واقع ہوں گے، اور دین استاین ہوب نے کہا ہے کہ مراد یہ ہے کہ اگرچہ آسمان اور زمین دوسری اشیاء کی بہ نسبت تغیر و تبدل کے قابل نہیں ہیں لیکن یہ بھی ایسے محکم نہیں ہے جتنا ان امور کا وقوع جن کی میں نے تمہیں خبر دی ہے۔ یہ دونوں زائل ہو جائیں گے لیکن میری بتائی ہوئی باتیں نہ ٹلیں گی بلکہ جو کچھ میں نے تمہیں ابھی بتا دیا ہے اس سے کچھ بھی متجاوز نہ ہو گا۔‘‘
فنڈر: ان دونوں کا قول ہمارے دعوی کے منافی نہیں کیونکہ وہ یہ نہیں کہہ رہے کہ میری انسانی واقعات کی بابت خبریں ٹل جائیں گی اور باقی نہ ٹلیں گی۔
ڈاکٹر صاحب: اس بات کا مذکورہ آیت سے کیا تعلق؟
فنڈر: نہیں! مسیح کا قول عام  ہی ہے۔
ڈاکٹر صاحب: ہم نے اپنے حق میں دو گواہ پیش کیے ہیں اور آپ ہیں کہ بے دلیل اپنی بات پر اڑے ہوئے ہیں۔
فنڈر: پطرس کے پہلے خط کے باب کی آیت ۲۳ یوں ہے: ’’کیونکہ تم فانی تخم سے نہیں بلکہ غیر فانی سے خدا کے کلام کے وسیلہ سے، جو زندہ اور قائم ہے، نئے سرے سے پیدا ہوئے ہو‘‘۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ خدا کا کلام ہمیشہ قائم رہے گا اور منسوخ نہیں ہو گا۔
مولانا رحمت اللہ: پرانے عہد نامہ کی کتاب یسعیاہ میں بھی یونہی لکھا ہے: ’’ہاں گھاس مرجھا جاتی ہے پھول کملاتا ہے پر ہمارے خدا کا کلام ابد تک قائم ہے۔‘‘ (۴۰: ۸)۔ اگر اس قول سے عدمِ نسخ ہی مراد ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ تورات کے احکام منسوخ نہیں ہوئے۔ حالانکہ ان میں سے کئی احکام شریعتِ عیسوی میں منسوخ ہوئے۔
فنڈر: ہاں تورات منسوخ ہے لیکن ہم تورات کی بات نہیں کرتے۔
مولانا: بھئی ہمارا مقصود یہ ہے کہ پطرس کا کلام بھی وہی مفہوم رکھتا ہے جو یسعیاہ کا۔ اور جب یسعیاہ کے قول سے عدمِ نسخ مراد نہیں تو پطرس کے قول سے کیسے ہو سکتا ہے؟
فنڈر: میں نے پطرس کا قول سند کے قول پر نقل کیا ہے، دلیل ہماری مسیح کا قول ہی ہے (یعنی یہ کہ میری باتیں ہرگز نہ ٹلیں گی)۔
مولانا: ہم پہلے دلیل دے چکے ہیں کہ وہ قول مخصوص ہے تاہم ’’نہ ٹلنے‘‘ سے مراد بھی عدمِ نسخ نہیں ہے۔ انجیل متی ۵: ۱۸ یوں ہے: ’’میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک آسمان اور زمین ٹل نہ جائیں ایک نقطہ یا ایک شوشہ توریت سے ہرگز نہ ٹلے گا جب تک سب کچھ پورا نہ ہو جائے‘‘۔ اگر نہ ٹلنے سے عدمِ نسخ ہی مراد ہے تو تورات کے احکام کیوں منسوخ ہوئے؟
فنڈر: ہم تورات کی بات نہیں کرتے۔
ڈاکٹر وزیر خان: آپ توریت کی بات کریں نہ کریں، ہمارے نزدیک دونوں عہد نامے برابر ہیں۔ نیز آپ نے اپنی کتاب میزان الحق باب اول فصل دوم میں لکھا ہے کہ انجیل اور عہد قدیم ہرگز منسوخ نہیں ہو سکتے۔
فنڈر: میں نے یہ بات وہاں لکھی ہے۔ یہاں پر میری بحث صرف انجیل میں ہے۔
ڈاکٹر صاحب: حواریوں نے اپنے زمانے میں تورات کے چار احکام (بتوں کی قربانیوں، خون، گلا گھونٹے ہوئے جانور، اور زنا کی حرمت) کے علاوہ تمام احکام منسوخ قرار دیے تھے یعنی صرف چار احکام باقی رہ گئے تھے۔ حالانکہ اب صرف زنا کی حرمت باقی رہ گئی ہے، باقی تین چیزیں تو اب آپ کے نزدیک حلال ہیں۔ کیا یہ انجیل میں نسخ نہیں؟
فنڈر: ان اشیاء کی حرمت ہمارے نزدیک مختلف فیہ ہے۔ بعض کے نزدیک منسوخ ہیں اور بعض کے نزدیک نہیں۔ لیکن بتوں کی قربانیوں کو ہم اب تک حرام کہتے ہیں۔
مولانا رحمت اللہ: آپ کو روا نہیں ہے کہ آپ بتوں کی قربانی کو حرام کہیں کیونکہ آپ کے مقدس بزرگ پولس نے کہا: ’’مجھے معلوم ہے بلکہ خداوند یسوع مسیح میں مجھے یقین ہے کہ کوئی چیز بذاتہ حرام نہیں لیکن جو اس کو حرام سمجھتا ہے اس کے لیے حرام ہے۔‘‘ (رومیوں ۱۴: ۱۴)۔ اور کہتا ہے کہ ’’پاک لوگوں کے لیے سب چیزیں پاک ہیں مگر گناہ آلودہ اور بے ایمان لوگوں کے لیے کچھ بھی پاک نہیں (ططس ۱: ۱۵)۔
فنڈر: (حیران ہو کر) ہمارے بعض علماء نے ان آیات کے پیشِ نظر ان اشیاء کی حلت کا فتوٰی دیا ہے۔
مولانا: مسیح نے حواریوں کو پہلے یہ حکم دیا: ’’غیر قوموں کی طرف نہ جانا اور سامریوں کے  کسی شہر میں داخل نہ ہونا بلکہ اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی بھیڑوں کی طرف جانا‘‘۔ (متی ۱۲: ۵، ۶)۔ اور کہا: میں اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی بھیڑوں کے سوا اور کسی کے لیے نہیں بھیجا گیا۔‘‘ (۱۵: ۲۴)۔ یعنی اپنی نبوت کو محدود قرار دیا لیکن بعد میں حکم دیا کہ ’’تم تمام دنیا میں جا کر ساری خلق کے سامنے انجیل کی منادی کرو۔‘‘ (مرقس ۱۶: ۱۵)
فنڈر: ہاں لیکن یہاں مسیح خود اپنے قول کا ناسخ ہے۔
مولانا: اس قدر تو ثابت ہو گیا کہ مسیح کے کلام میں نسخ جائز ہے اور اس نے خود اپنے قول کو منسوخ کیا۔ ہم کہتے ہیں کہ آسمانی باپ زیادہ قادر ہے کہ اپنے کلام کو منسوخ کرے کیونکہ انجیل میں قولِ مسیح ہے کہ ’’باپ مجھ سے بڑا ہے‘‘۔ (یوحنا ۱۴: ۲۸)۔ اور ہم بھی یہ کہتے ہیں کہ آسمانی باپ نے اپنے کلام کو منسوخ کیا نہ کہ حضرت محمدؐ نے بذاتِ خود۔ اور باقی آپ کا استدلال مسیح کے اس قول سے کہ ’’میری باتیں ہرگز نہ ٹلیں گی‘‘ تو ہم ثابت کر چکے ہیں کہ یہ قول خاص ہے۔ نیز ’’نہ ٹلنے‘‘ سے عدمِ نسخ مراد نہیں۔ اب اگر آپ اجازت دیں تو ایک اور خدشہ کی وضاحت بھی کر دوں جو آپ کے ایک قول کے بارے میں میرے ذہن میں موجود ہے۔
فنڈر: فرمائیں۔
مولانا: آپ نے اپنی کتاب میزان الحق باب اول فصل دوم میں لکھا ہے کہ ’’انجیل اور عتیق کی کتابوں میں نسخ کا دعوٰی دو وجہوں سے باطل ہے۔ اول: اگر نسخ کے فلسفہ کو مان لیا جائے تو لازم آئے گا کہ اولاً خدا نے اپنے ظن کے مطابق تورات کے ذریعے ایک اچھا و اعلٰی حکم دیا لیکن وہ اچھا ثابت نہ ہوا تو اس سے بھی افضل انجیل میں دیا لیکن وہ بھی اچھا ثابت نہ ہوا تو اس سے بھی افضل انجیل میں دیا۔ اس کا حال بھی پہلوں جیسا ہوا تو قرآن میں اس سے اعلٰی و افضل حکم دیا۔ اور اگر یہ مان لیا جائے تو العیاذ باللہ اللہ تعالٰی کی حکمت و قدرت کا بطلان لازم آئے گا اور خدا کا انسانی بادشاہ کی طرح ناقص العقل اور عدیم الفہم ہونا لازم آئے گا حالانکہ یہ صفاتِ الٰہی نہیں بلکہ انسانی ہیں۔ دوم: اگر یہ مان لیا جائے کہ خدا کا مقصودی حکم صرف قرآن میں پایا جاتا ہے تو لازم آئے گا کہ خدا نے پہلے جان بوجھ کر انسان کو ناقص اور بے فائدہ چیز دی اور یہ ذات باری تعالٰی کی نسبت محال ہے۔‘‘
آپ نے کہنے کو تو کہہ دیا لیکن مسلمانوں کے اصطلاحی نسخے کے پیشِ نظر یہ اعتراضات وارد نہیں ہو سکتے، البتہ پولس پر یہ الزام ضرور وارد ہوتا ہے کیونکہ اس نے کہا ’’پہلا حکم کمزور اور بے فائدہ ہونے کے سبب سے منسوخ ہو گیا۔‘‘ (عبرانیوں ۷: ۱۸)۔ اور کہتا ہے کہ ’’اگر پہلا عہد بے نقص ہوتا تو دوسرے کے لیے موقع نہ ڈھونڈا جاتا ۔۔۔ جب اس نے نیا عہد کیا تو پہلے کو پرانا ٹھہرایا۔ جو چیز پرانی اور مدت کی ہو جاتی ہے وہ مٹنے کے قریب ہوتی ہے۔‘‘ (عبرانیوں ۸: ۸۔۱۳)
ان آیات میں پولس نے تورات کو ضعیف، بے فائدہ، عیب دار اور مٹنے کے قریب پرانی و بوسیدہ بتایا ہے۔
فنڈر نے کوئی جواب نہ دیا۔
مولانا: میزان الحق کے یہ چند صفحات جو آپ نے نسخ کے رد میں لکھے ہیں یہ واجب الاخراج ہیں کیونکہ ان میں مذکور امور کو غلط طور پر ہماری طرف منسوب کیا گیا ہے۔
پانچ فرنچ (فنڈر کا معاون خصوصی): ہم نے گذشتہ مناظرہ میں کہا تھا کہ تورات کے احکام اس لیے منسوخ ہوئے کہ ان کی حیثیت مسیح کے مقابلہ میں سائے کی سی تھی، ان کا نسخ مناسب تھا کیونکہ مسیح نے ان کی تکمیل کی۔ البتہ وہ بشارات جو مسیح کے حق میں ہیں غیر منسوخ ہیں کیونکہ انجیل میں لکھا ہے: ’’کیونکہ شریعت جس میں آئندہ کی اچھی چیزوں کا عکس ہے اور ان چیزوں کی اصلی صورت نہیں ان ایک طرح کی قربانیوں ہے جو ہر سال بلاناغہ گزارنی جاتی ہیں پاس آنے والوں کا ہرگز کامل نہ کر سکتی ورنہ ان کا گذراننا موقوف نہ ہو جاتا؟ کیونکہ جب عبادت کرنے والے ایک بار پاک ہو جاتے تو پھر ان کا دل انہیں گناہگار نہ ٹھہراتا بلکہ وہ قربانیاں سال بہ سال گناہوں کو یاد دلاتی ہیں کیونکہ ممکن نہیں کہ بیلوں اور بکروں کا خون گناہوں کو دور کر دے اس لیے وہ دنیا  میں آتے وقت کہتا ہے کہ تو نے قربانی اور نذر کو پسند نہ کیا بلکہ میرے لیے ایک بدن تیار کیا۔ پوری سوختنی قربانی اور گناہ کی قربانیوں سے تو خوش نہ ہوا۔‘‘ (عبرانیوں ۱۰: ۱۔۶)
یعنی خدا شریعت پر راضی نہ تھا بلکہ شریعت صرف مسیح کی طرف اشارہ اور راہنما ہیں اور اس کی آمد پر ان کی تکمیل ہو گئی (۱)۔ چونکہ مسیح سے پہلے کی کتب میں مسیح کی جانب اشارہ پایا جاتا ہے اس لیے مسیح ان کا ناسخ ہو سکتا ہے لیکن انجیل میں کسی کی جانب ایسا کوئی اشارہ نہیں پایا جاتا لہٰذا انجیل کا ناسخ کون ہو سکتا ہے؟
ڈاکٹر وزیر خان: آپ نے یہ جو کہا ہے کہ کتبِ عہدِ عتیق میں مسیح کی بابت اشارہ و بشارت پائی جاتی ہے اس لیے مسیح ناسخ ہو سکتا ہے، اس لیے غلط ہے کہ مسیح کی آمد سے قبل بھی کچھ احکام منسوخ ہوئے ہیں۔
فرنچ: مثلاً کون سا حکم؟
ڈاکٹر صاحب: مثلاً ذبح کرنا ممنوع تھا (احبار باب ۱۷) لیکن پھر جائز ہو گیا (استثناء ۱۲: ۱۵۔۲۰۔۲۲)۔ اور مفسر ہورن نے اپنی تفسیر مطبوعہ ۱۸۲۲ء جلد اول ص ۶۱۹ پر اقرار کیا ہے کہ یہ حکم منسوخ ہوا ہے اور تصریح کی ہے کہ اس کا نسخ مصر سے خروج اور فلسطین میں دوخل کے درمیانی چالیس سال میں وقوع پذیر ہوا۔
فرنچ: خاموش صامت۔
ڈاکٹر صاحب: تاحال ہم نے امکانِ نسخ پر بحث کی ہے اور انجیل میں وقوعِ نسخ پر ہم اثباتِ رسالتِ محمدؐ کے موقعہ پر بحث کریں گے۔ فی الحال فقط امکانِ نسخ کو ثابت کیا ہے جس کا پادری صاحبان نے بالعموم اور پادری فنڈر صاحب نے بالخصوص میزان الحق میں انکار کیا ہے۔
فنڈر: ہاں ہمارے نزدیک بھی امکان و وقوع میں فرق ہے۔
اس پر نسخ کی بحث مکمل اور تحریف کی بحث شروع ہو گئی۔

تحریف کی بحث

مولانا رحمت اللہ نے کہا کہ ہمیں بتائیں کہ آپ کے نزدیک تحریف کس کو کہتے ہیں تاکہ ہم اس کے مطابق ثبوت مہیا کریں۔ فنڈر نے کوئی واضح جواب نہ دیا تو مولانا نے کہا، کیا آپ کا یہ عقیدہ ہے کہ پیدائش کی  کتاب سے لے کر مکاشفہ کی کتاب تک ہر ایک لفظ اور جملہ الہامی ہے؟
فنڈر: ہم ہر لفظ کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے کیونکہ ہمیں کاتب کی  غلطیوں کا اعتراف ہے۔
مولانا: میں سہوِ کاتب سے قطع نظر کرتا ہوں۔ دوسرے الفاظ کے بارے میں بتائیے!
فنڈر: ہم الفاظ کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔
مولانا: یوسی بیس مؤرخ نے اپنی کتاب کے باب ۱۸ میں کہا ہے کہ عیسائی عالم ’’جسٹن شہید نے طریفو یہودی کے ساتھ مناظرہ میں چند بشارات ذکر کر کے دعوٰی کیا ہے کہ یہودیوں نے ان کو کتب مقدسہ سے ساقط کر دیا ہے (۲)۔‘‘ اور مفسر والٹن نے اپنی تفسیر جلد سوم ص ۳۲ میں لکھا ہے ’’اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ عبارات جن کے کتب مقدسہ سے اسقاط کا دعوٰی جسٹن نے  طریفو کے ساتھ مناظرہ میں کیا تھا وہ جسٹن اور امینیوس کے زمانہ میں عبرانی و یونانی اور دیگر نسخوں میں موجود تھیں اگرچہ آج کل ان میں نہیں پائی جاتیں۔ خصوصاً وہ عبارت جس کے یرمیاہ کی کتاب میں مذکور ہونے کا دعوٰی جسٹن نے کیا تھا اور سلبر جیسی اور ڈاکٹر کریب نے لکھا ہے کہ جب پطرس نے اپنے پہلے خط کے باب ۴ کی آیت نمبر ۶ لکھی تو اس کے خیال میں یہ بشارت موجود تھی۔‘‘
اور مفسر ہورن اپنی تفسیر مطبوعہ ۱۸۲۲ء جلد ۴ ص ۶۲ پر لکھتا ہے کہ ’’جسٹن نے طریفو کے ساتھ مقابلہ میں دعوٰی کیا کہ غدرا نے لوگوں کو کہا تھا کہ ’’عید قسم کا کھانا ہمارے نجات دہندہ خدا کا کھانا ہے۔ پس اگر تم نے خدا کو اس کے کھانے سے افضل سمجھا اور اس پر ایمان لے آئے تو زمین ویران نہ رہے گی۔ اور اگر تم نے اس کی بات نہ سنی تو غیر قومیں تم سے استہزاء کریں گی اور تم خود اس کا سبب ہو گے۔ اور وائی ٹیکر نے کہا ہے کہ یہ عبارت غالباً عزرا ۶: ۲۲ اور ۶: ۲۱ کے درمیان کی تھی اور ڈاکٹر کلارک نے جسٹن کی تصدیق کی ہے۔‘‘
پس ان تمام عبارات سے ظاہر ہے کہ جسٹن یہودیوں کو تحریف کا ملزم گردانتا تھا اور ارمینیوس، کریب، سیلر جیسی، وائی ٹیکر، ای کلارک اور واٹسن وغیرہ اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ اور یہ عبارات اس وقت عبرانی و یونانی نسخوں میں موجود تھیں لیکن آج نہیں ہیں۔ یا تو جسٹن اپنے دعوٰی میں سچا ہے یا جھوٹا۔ اگر سچا ہے تو تحریف کا اثبات ہوتا ہے۔ اور اگر جھوٹا ہے تو ایک بڑا عیسائی عالم اپنی طرف سے عبارات اختراع کر کے ان کو کتبِ مقدسہ کا جزو قرار دیتا ہے۔
فنڈر: جسٹن ایک ہی آدمی ہے اور وہ بھول گیا تھا۔
مولانا: ہنری واسکاٹ کی تفسیر جلد اول میں تصریح ہے کہ ’’سینٹ آگسٹائن (مشہور عیسائی عالم و فلسفی) یہودیوں پر تحریف کا الزام لگاتا تھا کہ انہوں نے عبرانی نسخہ میں تحریف کی ہے اور جمہور علماء بھی یہی کہتے ہیں اور ان کا اتفاق ہے کہ یہ تحریف ۱۳۰ء میں کی گئی ہے۔
فنڈر: ہنری واسکاٹ کے کہنے سے کیا ہوتا ہے، ان کے علاوہ بھی کئی مفسرین ہیں۔
مولانا: انہوں نے اپنی نہیں جمہور علماء کی رائے بھی بیان کی ہے۔
فنڈر: مسیح نے کتب عہد عتیق کے حق میں شہادت دی ہے (۳) اور اس کی شہادت سے بڑی کوئی شہادت نہیں۔ چنانچہ انجیل یوحنا ۵: ۴۶ یوں ہے: ’’اگر تم موسٰی کا یقین کرتے تو میرا بھی یقین کرتے اس لیے کہ اس نے میرے حق میں لکھا‘‘۔ اور انجیل لوقا ۲۴: ۲۷ یوں ہے: ’’پھر موسٰی سے اور سب نبیوں سے شروع کر کے سب نوشتوں میں جتنی باتیں اس کے حق میں لکھی ہوئی ہیں وہ ان کو سمجھا دیں‘‘۔ اور انجیل لوقا ۱۶: ۳۱ یوں ہے: ’’اس نے اس سے کہا کہ جب وہ موسٰی اور نبیوں ہی کی نہیں سنتے تو اگر مردوں میں سے کوئی جی اٹھے تو اس کی بھی نہ مانیں گے۔‘‘
ڈاکٹر وزیر خان: تعجب ہے کہ آپ اسی کتاب سے استدلال کر رہے ہیں جس کی صحت و عدمِ صحت پر بحث ہو رہی ہے۔ جب تک اس کا کوئی فیصلہ نہیں ہو جاتا، اس کتاب سے آپ کا استدلال درست نہیں ہے۔ تاہم آپ نے جو آیات ذکر کی ہیں ان سے صرف اسی قدر ثابت ہوتا ہے کہ یہ کتابیں مسیح کے زمانہ میں موجود تھیں لیکن الفاظ کا تواتر اس سے ثابت نہیں ہوتا۔ اس کی تائید بیلی نے اپنی کتاب مطبوعہ ۱۸۵۰ء لندن قسم سوم باب شسشم میں کی ہے اور بیلی کی کتاب کو آپ نے اپنی کتاب ’’حل الاشکال‘‘ میں مستند شمار کیا ہے۔
فنڈر: اس مقام پر ہم بیلی کی بات نہیں مانتے۔
مولانا رحمت اللہ: اگر تم بیلی کی بات نہیں مانتے تو ہم تمہاری نہیں مانتے، ہم تو بیلی کی ہی مانتے ہیں۔
ڈاکٹر صاحب: یعقوب کے عام خط باب ۵ آیت ۱۱ میں ہے: ’’تم نے ایوب کے صبر کا حال تو سنا ہی ہے اور خداوند کی طرف سے جو اس کا انجام ہوا اسے بھی معلوم کر لیا‘‘۔ اس آیت میں ایوب کی کتاب کے حق میں شہادت دی گئی ہے (۴) لیکن اس کے باوجود اہلِ کتاب میں ہمیشہ جھگڑا رہا ہے کہ یہ ایوب نام کا کوئی شخص تھا بھی یا یہ محض ایک کہانی ہی ہے۔ مشہور یہودی عالم ربی ممانی دینہ اور عیسائی علماء ولکلرک، میکاملیس، سملر، اسٹاک وغیرہ اس کو باطل اور فرضی قصہ مانتے ہیں۔
فنڈر: ہمارے نزدیک یہ اصلی ہے اور اگر مسیح کی شہادت میں داخل ہے تو الہامی بھی ہے۔
ڈاکٹر صاحب: پولس، تلمیتھس کے نام اپنے دوسرے خط ۳: ۸ میں لکھتا ہے کہ ’’یاناس‘‘ اور ’’ویمپراس‘‘ نے موسٰی کی مخالفت کی۔ نامعلوم پولس نے یہ دونوں نام کہاں سے دیکھے، شاید جعلی کتاب سے کیونکہ توریت میں ان کا ذکر نہیں۔
فنڈر: ہماری بحث جعلی کتابوں میں نہیں ہے۔ میں نے مسیح کا قول عہد عتیق کی کتب کے حق میں نقل کیا ہے، جب تک انجیل کی تحریف ثابت نہیں ہو جاتی مسیح کی شہادت کافی و وافی ہے۔
مولانا رحمت اللہ: ہم دونوں عہدوں کے مجموعہ کی بات کرتے ہیں۔ ہمارے نزدیک دونوں ایک ہی ہیں۔ اگر فرق ہے تو آپ کے نزدیک۔ آپ ایک جزء کے حق میں دوسرے جزء سے استدلال ہمارے سامنے کیوں کرتے ہیں؟ جب تک آپ دونوں عہدوں کا محرف نہ ہونا ثابت نہ کر لیں تب تک آپ ان سے ہم پر دلیل نہیں لے سکتے۔
فنڈر: میں نے مسیح کا قول کتب عہد عتیق کے حق میں نقل کیا ہے، آپ انجیل کی تحریف کا اثبات کریں۔
ڈاکٹر وزیر خان: لیجئے! لکھا ہے: ’’پس سب پشتیں ابرہام سے داؤد تک چودہ پشتیں ہوئیں اور داؤد سے لے کر گرفتار ہو کر بابل جانے تک چودہ پشتیں ہوئیں۔‘‘ (انجیل متی ۱: ۱۷)۔ ان آیات میں دعوٰی ہے کہ گرفتار ہو کر بابل جانے سے لے کر مسیح تک چودہ پشتیں ہیں حالانکہ ذکر صرف تیرہ کا ہے۔
فنڈر: کیا ایسا تمام نسخوں میں ہے؟
ڈاکٹر صاحب: سب نسخوں میں ہے یا نہیں ہمیں علم نہیں لیکن یہ بہرحال غلطی ہے۔
فنڈر: غلطی اور چیز ہے اور تحریف اور۔
ڈاکٹر صاحب: اگر انجیل الہامی ہے تو اس میں غلطی کیسی؟ لازماً یہ تحریف کا نتیجہ ہے۔ اور اگر الہامی نہیں ہے تو؟
فنڈر: تحریف تب ہی ثابت ہو گی جب ایک آیت کا ۔۔۔۔ قدیم نسخہ میں فقدان یا وجود ہو اور جدید میں وجود یا فقدان۔
ڈاکٹر صاحب: یوحنا کے پہلے خط کے باب ۵ آیات ۷۔۸ کو پیش کیا (۵)۔
فنڈر: ہاں یہاں تحریف ہوئی ہے اور اسی طرح ایک دو اور جگہوں میں۔
جب جج سمتھ نے یہ سنا تو اس نے پادری فرنچ سے پوچھا کہ یہ کیا کہہ رہا ہے۔ تو پادری فرنچ نے جواب دیا کہ ان لوگوں نے ہورن وغیرہ کی کتابوں سے سات آٹھ جگہوں میں تحریف کا اقرار دکھایا ہے۔
پادری فرنچ: پادری فنڈر بھی چھ سات جگہوں میں تحریف کا وقوع مانتے ہیں۔
مولانا قمر الاسلام (خطیب مرکزی جامع مسجد آگرہ) نے ’’مطلع الاخبار‘‘ کے ایڈیٹر کو کہا کہ فنڈر کا یہ اقرار اخبار میں شائع کروا دو۔
فنڈر: ہاں لکھ لو۔ لیکن تحریف صرف اتنی ہی واقع ہوئی ہے اور اس سے کتب مقدسہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، ہاں اختلافِ عبارات کی وجہ سہوِ کاتبین ہے۔
ڈاکٹر: آپ کے بعض نے ڈیڑھ لاکھ اختلافات کا دعوٰی کیا ہے اور بعض نے تیس ہزار کا۔ آپ کس کو مانتے ہیں؟
فرنچ: صحیح یہ ہے کہ چالیس ہزار اختلافات ہیں۔
فنڈر: لیکن اس سے کتب مقدسہ کو کوئی نقصان نہیں ہوا۔ اہلِ انصاف آپ ہی انصاف کریں اور بار بار مفتی ریاض الدین صاحب سے انصاف کا تقاضا کرنے لگا۔
مفتی ریاض الدین: جب ایک وثیقہ میں کچھ حصہ جعلی ثابت ہو گیا ہے تو باقی کا بھی کوئی اعتبار نہیں رہا۔ اور جب آپ نے کتب مقدسہ کے بعض مقامات پر تحریف کا اقرار کر لیا ہے تو آپ کی کتاب کو کیسے معتبر مان لیا جائے؟ اس بات کو تبھی حاضرین سمجھتے ہیں۔ مثلاً جج اسمتھ صاحب آپ ہی بتائیے۔ لیکن اسمتھہ نے کوئی جواب نہ دیا۔ پھر مفتی صاحب نے کہا کہ جب دو مختلف عبارتیں پائی جاتی ہیں تو کیا آپ صحیح عبارت کو متعین کر سکتے ہیں؟
فنڈر: نہیں۔
مفتی صاحب: اہلِ اسلام کا دعوٰی بھی یہی ہے کہ یہ مروج مجموعہ کلام سارا کا سارا کلامِ الٰہی نہیں اور آپ نے بھی اس کا اقرار کر لیا ہے۔
فنڈر: مقررہ وقت سے نصف گھنٹہ زائد ہو گیا ہے، باقی بات کل ہو گی۔
مولانا رحمت اللہ: آپ نے سات آٹھ جگہ تحریف کا اقرار کیا ہے۔ کل ہم پچاس ساٹھ مقامات پر ثابت کریں گے انشاء اللہ، لیکن اگر آپ مزید بحث کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو تین باتیں ہماری ماننا پڑیں گی۔ (۱) ہم آپ سے بعض کتابوں کی سند متصل کا مطالبہ کریں گے وہ آپ کو بیان کرنا ہو گی۔ (۲) جب ہم عیسائی علماء کے اقرار کے ساتھ ۵۰ ۔ ۶۰ مقامات پر تحریف ثابت کریں گے تو یا آپ ان کو تسلیم کریں گے یا تاویل۔ (۳) جب تک آپ دونوں میں سے کوئی بات اختیار نہ کریں آپ ان کتب سے استدلال نہیں کریں گے۔
فنڈر: مجھے منظور ہے لیکن میں بھی آپ سے کل پوچھوں گا کہ محمدؐ کے زمانہ میں کونسی انجیل موجود تھی؟
مولانا: ٹھیک ہے۔
ڈاکٹر صاحب: اگر اجازت دیں تو مولانا ابھی بتا دیں۔
فنڈر: نہیں اب دیر ہو گئی ہے، کل سہی۔
اس پر مناظرہ کا پہلا دن اختتام کو پہنچا۔

مناظرہ کا دوسرا دن

پادری فنڈر کھڑا ہوا اور میزان الحق ہاتھ میں لے کر کچھ قرآنی آیات پڑھنے لگا لیکن عبارات کی بے حد غلطیاں کیں۔
مولانا اسد اللہ (قاضی القضاء): براہِ مہربانی ترجمہ پر اکتفا کریں، عبارات کے بدل جانے سے معانی میں خلل آتا ہے۔
فنڈر: معاف کرنا یہ ہماری زبان کا قصور ہے۔ لکھا ہے: ’’اور کہہ میں ایمان لایا اس کتاب پر جو اللہ نے اتاری اور مجھے حکم ہے کہ تمہارے درمیان انصاف کروں۔ اللہ ہمارا اور تمہارا رب ہے۔ ہمارے لیے ہمارے اعمال کی جزا ہے اور تمہارے لیے تمہارے اعمال کی۔ ہمارے تمہارے درمیان کوئی جھگڑا نہیں‘‘ (سورۃالشورٰی ۱۵)۔ سورۃ عنکبوت میں ہے ’’اہلِ کتاب کے ساتھ اچھے طریقہ ہی سے مجادلہ کرو، سوائے ان لوگوں کے جو ان میں سے ظالم ہیں اور کہو کہ ہم قرآن اور تمہاری جانب آنے والی کتابوں پر ایمان ائ۔ ہمارا اور تمہارا خدا ایک ہے اور ہم اسی کے تابعدار ہیں‘‘ (آیت ۴۶)۔ سورۃ المائدہ میں ہے ’’آج تمہارے لیے پاک چیزیں حلال کی جاتی ہیں۔ اہلِ کتاب کا کھانا تمہارے لیے حلال ہے اور تمہارا کھانا ان کے لیے‘‘ (آیت ۵)۔
پھر فنڈر نے کہا کہ یہ تو معلوم ہی ہے کہ اہلِ کتاب یہود و نصارٰی کو کہا جاتا ہے اور ان کو جو کتابیں ملی ہیں وہ تورات و انجیل ہیں (سورۃ آل عمران ۳۔۴) تو مذکورہ آیات میں کتاب اور اہلِ کتاب کا تذکرہ ہے۔ معلوم ہوا کہ تورات و انجیل آنحضرتؐ کے زمانہ میں موجود تھیں اور اہلِ اسلام نے ان کو تسلیم کر کے اپنا ہادی ٹھہرایا اور آنحضرتؐ کے عہد تک ان میں تحریف نہ ہوئی تھی۔
مولانا رحمت اللہ: ان آیات سے صرف اس قدر ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کلام زمان سابق میں نازل ہوا تھا اس پر ایمان لایا جائے اور تورات و انجیل زمانۂ سابقہ میں نازل ہوئی تھیں اور محمدؐ کے عہد میں موجود تھیں۔ لیکن یہ کسی طور سے ثابت نہیں ہوتا کہ زمانۂ محمدؐ تک ان میں تحریف نہ ہوئی تھی۔ جبکہ اللہ تعالٰی نے قرآن کریم میں بیشتر مواقع پر اہلِ کتاب پر تحریف کا الزام لگایا ہے۔ تو جیسے ہم قرآن کی رو سے تورات و انجیل کے کلام اللہ اور منزل من اللہ ہونے پر یقین رکھتے ہیں اسی طرح قرآن ہی کی رو سے ان میں تحریف کے وقوع پر بھی ایمان رکھتے ہیں۔ چنانچہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ اہلِ کتاب کی تصدیق یا تکذیب نہ کرو (صحیح بخاری کتاب التفسیر) کیونکہ ان کی تورات و انجیل محرف ہیں۔
فنڈر: آپ فی الوقت حدیث سے قطع نظر صرف قرآنی آیات  پیش کریں۔
مولانا: ان آیات سے یہی دو امور ظاہر ہوتے ہیں جن کا ذکر ہم نے ابھی کیا اور آپ نے ان کا اقرار بھی میزان الحق میں کیا ہے۔
فنڈر: سورۃ البینہ کی ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت سے پہلے تحریف نہ کی گئی تھی۔ ’’اہلِ کتاب میں سے کافر لوگ اور مشرکین دلیل آجانے سے قبل باز نہیں آئے، اللہ کا رسول مقدس اور صحیفوں کی تلاوت کرتا ہے۔ اس میں مضبوط کتابیں ہیں اور اہلِ کتاب تفرقہ باز دلیل آنے سے قبل نہ ہوئے‘‘ (آیات ۱۔۴)۔ اور فاضل آل حسن اپنی کتاب ’’الاستفسار‘‘ کے صفحہ ۴۴۸ پر لکھتے ہیں: ’’یعنی جب تک ان کے پاس نبی صلعم نہ آئے تھے اس وقت تک ایک موعود نبی پر اعتقاد رکھتے تھے اور اس بارے مختلف یا متفرق نہ ہوئے تھے‘‘۔ لہٰذا کہا جا سکتا ہے کہ تحریف و تبدیلی آنحضرت کے بارے میں بشارات کے اندر واقع نہ ہوئی تھی۔
مولانا: ان آیات کا مختار ترجمہ جمہور کے نزدیک یہ ہے جیسا کہ شاہ عبد القادر صاحب محدث دہلویؒ نے کیا ہے ’’نہ تھے اہلِ کتاب میں سے کافر اور مشرکین باز آنے والے (یعنی اپنے مذاہب، بری رسوم، فاسد عقائد سے مثلاً یہودیوں کا انکار نبوت عیسٰی اور عیسائیوں کا عقیدہ تثلیث وغیرہ) جب تک کہ ان کے پاس دلیل نہ آگئی۔۔۔۔ اور نہ تفرقہ کیا اہلِ کتاب نے (یعنی اپنے ادیان، بری رسوم اور فاسد عقائد میں اس طرح کہ بعض نے ان کو چھوڑ کر اسلام قبول کر لیا اور بعض بغض و عناد کے باعث قائم رہے) مگر دلیل آجانے کے بعد (یعنی رسول اللہ اور قرآن کے آجانے کے بعد)۔ اور اسی سورۃ کی پہلی آیت کے حاشیہ میں لکھتے ہیں: ’’حضرت سے پہلے سب دین والے بگڑ گئے تھے۔ ہر ایک اپنی غلطی پر مغرور۔ اب چاہیئے کہ کسی حکیم کے یا ولی یا بادشاہ عادل کے سمجھائے راہ پر آویں سو ممکن نہ تھا جب تک ایسا رسول نہ آوے عظیم القدر ساتھ کتاب اللہ کے اور مدد قوی کے کئی برسمیں ملک ملک ایمان سے بھر گئے‘‘ انتہٰی۔
پس ان آیات کا حاصل یہی ہے کہ اہلِ کتاب اور مشرکین رسول اللہ کے آنے سے پہلے اپنی بری رسوم سے باز نہ آئے تھے اور جس نے آپؐ کے آنے کے بعد مخالفت کی تو اس کی وجہ بغض و عناد ہے۔ لہٰذا آپ کا ان آیات سے مذکورہ استدلال کرنا صحیح نہیں ہے اور فاضل آل حسن کا جواب تنزلی ہے جیسا کہ وہ خود لکھتے ہیں: ’’اگر اس استدلال کی صحت تسلیم کر لی جائے تو صرف یہ ثابت ہو گا کہ ۔۔۔‘‘ یعنی اول تو آپ کا مزعومہ استدلال ہی صحیح نہیں۔ اگر صحیح بھی ہو تو صرف بشاراتِ نبویؐ میں ہی عدمِ تحریف متحقق ہو گی نہ کہ ہر صحیفہ کے ہر موضوع میں۔ علاوہ ازیں فاضل آل حسن نے ساری کتاب میں پکار پکار کر ان کتب کی تحریف کا اعلان کیا ہے۔
فنڈر: اب آپ بتلائیں کہ قرآن میں جس انجیل کا ذکر آیا ہے وہ کونسی انجیل ہے؟
مولانا: کسی ضعیف یا صحیح روایت سے اس کی تعیین ثابت نہیں کہ وہ انجیل متی کی ہے یا یوحنا کی یا کسی اور کی۔ اور ہمیں ان کی تلاوت کا حکم نہیں تھا اس لیے ہمیں معلوم نہیں کہ وہ کون سی انجیل تھی۔
فنڈر: (مناظرہ میں شریک انگریز حکام کی جانب اشارہ کرتے ہوئے) یہ سارے اہلِ کتاب بیٹھے ہیں ان سے پوچھیں کہ وہ کونسی انجیل تھی۔
ڈاکٹر وزیر خان: قرآن سے صرف یہ ثابت ہے کہ حضرت عیسٰیؑ پر ایک انجیل نامی کتاب نازل ہوئی تھی اور معلوم نہیں کہ وہ کون سی تھی۔ کیونکہ بہت سی اناجیل اس زمانے میں مشہور تھیں (۶) مثلاً انجیل برنابا اور انجیل برتوکا، واللہ اعلم کہ انجیل سے مراد ان میں سے کون سی انجیل ہے۔ اس زمانہ میں عیسائی فرقہ مانی کیز بھی تھا جو ان مشہور اناجیل کے مجموعہ کو تسلیم نہ کرتا تھا، اور ایک فرقہ یعقوبیہ بھی تھا جو حضرت مریمؑ کو خدا مانتا تھا شاید یہ ان کی انجیل میں لکھا ہو۔ اور قرآن میں کہیں سے ثابت نہیں ہوتا کہ اعمال کی کتاب خطوط اور مکاشفہ کی کتاب اس انجیل میں داخل تھیں یا نہیں۔
پادری فرنچ: تم ان کتابوں کو جن میں مسیح کے ارشادات درج نہیں ہیں تسلیم نہیں کرتے حالانکہ لودیسیہ کی کونسل نے مکاشفہ کی کتاب کے علاوہ باقی کتب کو مستند قرار دیا اور انہیں واجب التسلیم کہا اور ہمارے بڑے معتبر علماء مثلاً کلیمنس، انکسدر یانوس، ٹرٹولین، اوریجن وغیرہ نے مکاشفہ کی کتاب کو بھی مستند کہا ہے لیکن ہمارے پاس ان کتب کی سند متصل نہیں ہیں کیونکہ مسیحیت پر بڑے ظلم اور حملے ہوئے اور زیادہ تر یہ مذہب مشکلات میں ہی گھرا رہا۔
ڈاکٹر وزیر خان: یہ کلیمنس کس زمانہ میں تھا؟
فرنچ: دوسری صدی کے آخر میں۔
ڈاکٹر صاحب: کلیمنس نے مکاشفہ کی کتاب سے صرف دو فقرے نقل کیے ہیں لہٰذا صرف یہی ثابت ہوتا ہے کہ کلیمنس نے دوسری صدی کے آخر میں مکاشفہ کی کتاب کو یوحنا رسول کی تصنیف تسلیم کیا، لیکن اس سے پہلے بھی سند متصل نہ تھی اور تواتر لفظی تمام کتاب کا صرف دو فقروں سے ثابت نہیں ہوتا۔ اور باقی علماء ٹرٹولین وغیرہ اس سے بھی بعد کے ہیں، جبکہ اسی زمانہ میں علماء یہ بھی کہتے تھے کہ ’’سرن تھیسن‘‘ جو مشہور ملحد تھا مکاشفہ کی کتاب اس کی تصنیف ہے۔
فرنچ: ایک آدھ کی مخالفت سے کچھ نہیں ہوتا۔
ڈاکٹر: ہم ایک آدھ کی بات نہیں کرتے بلکہ کئی ایسے نام پیش کر سکتے ہیں جو اس کے مستند ہونے پر شبہ کرتے ہیں مثلاً پوسی بیس مورخ، سرل، یروشلم کی کلیسا اور لودیسیہ کی کونسل اور جیروم کے عہد میں بھی بعض کلیساؤں نے اس کو قبول نہیں کیا (۷)۔
فنڈر: یہ خروج عن المبحث ہے، ہم اس وقت اس انجیل کی بات کر رہے ہیں جو عہد ِ محمدؐ میں موجود تھی۰
مولانا رحمت اللہ: ہم نے اپنا موقف بیان کر دیا ہے۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ یہ اہلِ اسلام کا موقف نہیں ہے تو کوئی دلیل پیش کریں ورنہ اسی کو تسلیم کر لیں۔ ہمیں اقرار ہے کہ وحی الٰہی حضرت عیسٰیؑ پر نازل ہوتی تھی لیکن ہم یہ نہیں مانتے کہ وہ انجیل موجودہ عہد جدید ہے اور یہ کہ یہ تحریف سے پاک ہے۔ جبکہ حواریوں کا کلام ہمارے نزدیک قطعاً انجیل نہیں ہے بلکہ انجیل وہ کلام ہے جو حضرت عیسٰیؑ پر نازل ہوا (۸)۔ تخجیل من حرف الانجیل کے مصنف لکھتے ہیں ’’موجودہ اناجیل سچی انجیل نہیں ہیں جو رسولِ خدا کو دی گئی تھیں اور جو منزل من عند اللہ تھی۔‘‘ (باب دوم ص ۲۸)۔ پھر کہتے ہیں ’’اور سچی انجیل وہی ہے جو مسیحؑ نے سنائی‘‘ (ص ۲۹)۔ اور نویں باب میں عیسائیوں کے متعلق لکھتے ہیں ’’ان کو پولس نے اصلی دین سے پُرفریب دھوکہ سے ہٹا دیا۔ وہ جان چکا تھا کہ یہ ’’لائی لگ‘‘ قسم کے لوگ ہیں اور اس نے تورات کے احکام کو تھپڑ دے مارا‘‘ (ص ۱۲۹)۔ امام قرطبیؒ کتاب ’’الاعلام بما عند النصارٰی من الفساد والاوہام‘‘ باب سوم میں لکھتے ہیں ’’یہ کتاب جو آج کل نصارٰی کے پاس ہے جس کا نام انہوں نے انجیل رکھ چھوڑا ہے وہ انجیل نہیں جس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے کہ ’’وانزل التوراۃ والانجیل‘‘ (آل عمران ۳) (ص ۲۰۳)۔ اور اسی طرح اسلاف و اخلاف میں علماء نے تصریحات درج کی ہیں اور پھر کسی روایت سے یہ ثابت نہیں ہے کہ اقوال مسیح فلانی انجیل میں درج ہیں۔
لہٰذا ہم اس بات کی تعیین نہیں کر سکتے اور اناجیل اربعہ کی حیثیت اخبار آحاد کی سی ہے اور قرن اول کے مسیحیوں سے کوئی معتبر روایت منقول نہیں ہے۔ اس کے متعدد اسباب میں سے ایک سبب یہ بھی ہے کہ اس دور میں پوپ (پاپا) کا مکمل تسلط تھا اور انجیل پڑھنے کی عام اجازت نہ تھی لہٰذا بہت کم مسلمانوں نے اس کے نسخے دیکھے کیونکہ عرب کے گرد و نواح میں کیتھولک یا نسطوری فرقہ کے لوگ زیادہ تھے۔
پادری فرنچ: (غم اور غصے سے) تم نے ہماری انجیل پر ایک بہت بڑا الزام لگایا ہے۔ پوپ نے اس میں کچھ بگاڑ نہیں کیا (۹)۔
پادری فنڈر: حضرت عثمانؓ کے احراق قرآن کے قصے کو شد و مد سے بیان کرنے لگا۔
مولانا: آپ کے اعتراضات خارج از بحث ہیں لیکن اگر آپ نے کر ہی دیے ہیں تو جوابات بھی ملاحظہ کریں۔
فنڈر: جب آپ نے انجیل پر اعتراض کیا تو میں نے بھی جواب دیا۔ اب اصل مطلب کی طرف آئیں۔
مولانا: ہم نے شروع ہی سے یہ کہا ہے کہ ہمارے نزدیک عہدِ قدیم و عہدِ جدید ایک جیسے ہیں۔ ہم آپ سے ان کی بعض کتابوں کی سند متصل طلب کرتے ہیں۔
فنڈر: صرف انجیل کی بات کریں۔
مولانا: انجیل کی تخصیص لغو ہے، ہم پورے مجموعہ کی۔
فنڈر: خاموش صامت۔
پادری فرنچ نے ایک لمبا طومار نکالا اور پڑھنا شروع کیا۔  خلاصہ یہ ہے کہ ’’ہمارے علماء نے اختلاف عبارت تیس یا چالیس ہزار پائے ہیں لیکن یہ ایک نسخہ کی بجائے کثیر نسخہ جات میں ہیں۔ اگر ہم ان اختلافات کو تمام نسخوں پر تقسیم کریں تو ہر نسخہ کے حصہ میں چار سو یا پانچ سو آئیں گے۔ بعض غلطیاں بدعتیوں کے تصرفات سے بھی وقوع پذیر ہوئیں۔ ڈاکٹر کریساخ نے انجیل متی میں ۳۷۰ اغلاط پائیں۔ ۱۷ تو سخت ترین ہیں، ۳۲ اغلاط درمیانی اور باقی ہلکی پھلکی ہیں۔ ہمارے علماء نے ان اغلاط کو زیادہ تر مواضع میں درست کر دیا ہے۔ اور جس کا صرف ایک ہی نسخہ ہو اس کی تصحیح ناممکن ہے اور انجیل کے نسخے بکثرت موجود ہیں تو ان کی تصحیح ممتنع نہیں۔ تصحیح کے قواعد میں سے چند ایک درج ذیل ہیں:
اول: جب علماء نے دو عبارتوں کو مختلف پایا، ان میں سے ایک فصیح اور دوسری مشکل تھی تو انہوں نے مشکل کو صحیح قرار دیا کیونکہ احتیاط اور عقل و قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ شاید فصیح عبارت جعلی ہو۔ دوم: اگر ایک عبارت گرائمر کے لحاظ سے صحیح اور دوسری غلط ہو تو انہوں نے غلط کو صحیح اور صحیح آیت کو جعلی قرار دیا کیونکہ ہو سکتا تھا کہ وہ کسی ماہر قواعد نے داخل کر دی ہو۔ اور علماء نے ان اغلاط سے واقف کرانے کے بعد کہا کہ ان کے سوا کوئی غلطیاں نہیں ہیں اور اتنی اغلاط سے مقصود اصل کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا ہے۔ جیسا کہ ڈاکٹر کنکاٹ کہتا ہے کہ ہم ان محرف عبارات کو داخل رکھیں یا نکال دیں، مسیحی الٰہیات کو ان سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔
ڈاکٹر وزیر خان نے جواب دینا چاہا تو پادری فنڈر نے ان کو روک دیا اور جب بھی ڈاکٹر صاحب بولنے لگتے تو فنڈر ان کو روک دیتا۔
مفتی ریاض الدین: یہ ضروری ہے کہ پہلے تحریف کا معنی بیان کیا جائے پھر اس پر بحث کی جائے تاکہ حاضرین کے پلے بھی کچھ پڑے اور وہ صحیح طور سے بحث کو سمجھ سکیں۔
فنڈر نے کچھ کہنے کی کوشش کی تو مفتی صاحب نے کہا کہ یہ آپ کا کام نہیں بلکہ جو تحریف کا دعوٰی کرتے ہیں وہی اس کا معنی بیان کریں گے۰
مولانا رحمت اللہ: ہمارے نزدیک تحریف کا معنی یہ ہے کہ کلام اللہ میں کمی بیشی یا تبدیلی کی جائے۔ خواہ یہ شرارت اور  خباثت سے  کی گئی ہو یا اصلاح کی غرض سے۔ اور ہم دعوٰی کرتے ہیں کہ تحریف ان معنوں میں کتب مقدسہ کے اندر واقع ہے۔ اگر آپ انکار کرتے ہیں تو ہم دلائل دیں گے۔
فنڈر: ہمیں بھی سہو کاتب کا اعتراف ہے (۱۰)۔
مولانا: ہمارے نزدیک سہو کاتب یہ ہے کہ کاتب لام کے بجائے میم اور میم کی بجائے نون لکھ دیتا ہے۔ کیا آپ کے نزدیک بھی سہو کاتب سے مراد یہی ہے یا یہ کہ تحریف قصدًا، سہوًا، کمی بیشی اور تبدیلی سہوِ کاتب میں شامل ہیں؟ یعنی یہ کہ کاتب حاشیہ کی عبارت متن میں لکھ دیتا ہے یا عمدًا آیات کا اضافہ یا کمی کرتا ہے، یا کوئی چیز تفسیر کے طور پر الحاق کرتا ہے، یا ایک لفظ کو دوسرے لفظ سے بدل دیتا ہے۔
فنڈر: یہ تمام امور ہمارے نزدیک سہو کاتب کے ضمن میں آتے ہیں۔ یہ قصدًا ہوا ہو یا سہوًا، لا علمی سے یا غلطی سے۔ لیکن آیات میں ایسا سہو صرف پانچ یا چھ مقاموں میں ہے جبکہ الفاظ میں بے شمار۔
مولانا: جب زیادتی، کمی، تبدیلی، قصدًا یا سہوًا آپ کے نزدیک سہوِ کاتب میں شامل ہے اور سہوِ کاتب مقدسہ میں واقع ہے، تو اسی چیز کو ہم تحریف کہتے ہیں۔ پس ہمارے اور تمہارے درمیان صرف لفظی جھگڑا باقی رہ گیا ہے۔ یعنی ہم جس کو تحریف کہتے ہیں اسے آپ سہو کاتب کہتے ہیں۔ تو اختلاف صرف تعبیر میں ہے مسمی و معبر عنہ میں نہیں۔ مثال کے طور پر ایک آدمی نے چار فقیروں کو ایک درہم دیا۔ ایک رومی تھا، ایک حبشی، ایک ہندی اور ایک عربی۔ انہوں نے اس ایک درہم سے ایک ہی چیز خریدنی تھی جو سب کی پسند کی ہو۔ تو ایک ڈمی نے انگور کا نام اپنی زبان میں لیا۔ حبشی نے انکار کیا اور اپنی زبان میں کہا میں تو انگور ہی کھاؤں گا۔ تو ان چاروں میں نزاع لفظی ہے، مقصود سب کا ایک ہی ہے۔ اسی طرح تحریف اور سہو کاتب کا مسئلہ ہے۔ پھر مولانا نے بلند آواز سے مجمع کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، ہمارے اور پادری صاحب کے درمیان جھگڑا صرف لفظی ہے کیونکہ ہم جس تحریف کا دعوٰی کرتے ہیں پادری صاحب نے اسے قبول کر لیا ہے لیکن وہ اسے سہوِ کاتب کہتے ہیں۔
فنڈر: اس قسم کے سہو سے متن کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔
مولانا اسد اللہ صاحب (حیرانی سے): متن کیا چیز ہے؟
فنڈر (ناراض ہو کر): میں نے کئی دفعہ بتایا ہے اب کتنی بات بتاؤں؟ متن سے ہماری مراد الوہیت مسیح، تثلیث، کفارہ شافع اور یسوع مسیح کی تعلیمات ہیں۔
مولانا رحمت اللہ: تفسیر ہنری واسکاٹ میں بھی یہی لکھا ہے کہ مقصود اصلی میں کچھ بھی فرق ان اغلاط سے نہیں پڑا۔ لیکن ہم نہیں سمجھ سکے کہ جب تحریف ثابت ہو گئی ہے تو کیا دلیل ہے کہ اس سے کچھ فرق نہیں آیا۔ اور جب تحریف ہر قسم کی واقع ہوئی ہے تو کیا دلیل ہے کہ وہ نو دس آیات جن میں تثلیث کا ذکر ہے وہ تحریف سے محفوظ ہیں؟
فنڈر: متن کی تحریف تب ثابت ہو گی کہ تم کوئی قدیم نسخہ دیکھو، اس میں الوہیت مسیح کا  ذکر نہ ہو اور موجودہ نسخہ میں ہو، اور اس میں کفارہ مسیح کا تذکرہ نہ ہو اور موجودہ نسخہ میں ہو۔
مولانا: ہمارے ذمہ صرف یہ تھا کہ ہم اس مروجہ مجموعہ کا مشکوک ہونا ثابت کریں اور وہ ثابت ہو چکا ہے۔ اب آپ کی کتاب مشکوک ہے۔ ہاں آپ کا دعوٰی ہے کہ بعض مواضع تحریف سے پاک ہیں اور بعض محرف ہیں۔ تو یہ آپ کے ذمہ ہے کہ آپ ان بعض مواضع کی سلامتی اور صحت کو ثابت کریں۔ اب صرف ایک بات رہ گئی ہے جو جواب طلب ہے۔ وہ یہ کہ یہ سہوِ کاتب جو آپ کے ہاں مسلّم ہیں، کیا تمام نسخوں میں ہے؟
فنڈر: ہاں یہ سہو تمام نسخوں میں پایا جاتا ہے۔
اس پر پادری فرنچ نے اعتراض کیا تو فنڈر نے کہا کہ پادری فرنچ کی رائے بہتر ہے۔ قاضی القضاۃ مولوی محمد اسد اللہ نے کہا کہ آپ پہلے اعتراف کر چکے ہیں۔ فنڈر نے کہا، میں نے غلطی کی اور میں نے یقین سے نہیں کہا، شاید کہ ایک سہو عبرانی متن میں ہو اور یونانی میں نہ ہو۔
مولانا رحمت اللہ: اگر ہم بعض ایسے مقامات دکھلا دیں جہاں پر آپ کے مفسروں نے اعتراف کیا ہے کہ یہ جملہ پہلے زمانہ میں ایسا تھا لیکن اب تمہارے معتبر عبرانی متن میں ویسا نہیں ہے تو تم کیا کہو گے؟
فنڈر: اس سے متن کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔
ڈاکٹر وزیر خان: لا شک لا ریب مقصودِ اصلی میں خلل آئے گا کیونکہ جب اختلافات عبارات بہت ہیں، مثلاً ہم فرض کرتے ہیں کہ شیخ سعدی شیرازی کی کتاب ’’گلستان سعدی‘‘ کے مختلف نسخوں میں ایک مقام پر مختلف عبارات پائی جاتی ہیں، اس صورت میں ہم یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ سعدی کی اصل عبارت کون سی ہے۔ پس جب سینکڑوں نسخہ جات میں اختلاف ہے اور کسی کو کسی دوسرے پر ترجیح نہیں ہے تو مقصودِ اصل میں تغیر کا امکان ہے۔ اور ہمارے نزدیک انجیل، مسیحؑ کے اقوال منزل من اللہ سے عبارت ہے اور وہ مشتبہ ہو چکی ہیں۔
فنڈر: مجھے مختصر جواب دیں کہ آپ متن کو تسلیم کرتے ہیں یا نہیں؟ اگر آپ تسلیم کرتے ہیں تو مناظرہ آئندہ ہفتہ کو ہو گا کیونکہ ہم باقی مسائل میں اس کتاب (انجیل) سے استدلال کریں گے۔ ہمارے نزدیک عقل کتاب کی محکوم ہے نہ کہ کتاب عقل کی۔
مولانا رحمت اللہ: جب آپ کے اعتراف کے مطابق کتب میں تحریف ثابت ہو گئی تو بایں سبب یہ ہمارے نزدیک مشتبہ ہو گئیں۔ ہم نہیں مانتے کہ غلطیاں متن میں نہیں ہوئیں۔ آپ کو روا نہیں ہے کہ آپ ہم پر اس کتاب سے مناظرہ کے باقی مسائل میں استدلال کریں کیونکہ یہ ہمارے نزدیک حجت نہیں ہیں۔
فرنچ: تم نے یہ تحریفات و اغلاط ہماری تفاسیر سے نکالی ہیں گویا یہ مفسرین تمہارے نزدیک معتبر ہیں۔ تو انہوں نے بھی لکھا ہے کہ ان کے علاوہ اور مقامات میں غلطیاں نہیں ہیں۔
مولانا: ہم نے ان علماء کے اقوال الزاماً نقل کیے ہیں، ان کو معتبر مانتے ہوئے نہیں۔ اور پادری فنڈر نے اپنی کتاب میں بیضاوی اور زمحشری کے کچھ اقتباسات نقل کیے ہیں تو انہوں نے لکھا ہے کہ قرآن کلام اللہ ہے، محمد رسول اللہ ہیں۔ کیا آپ تسلیم کرتے ہیں؟
فنڈر: نہیں۔
مولانا: اسی طرح ہم بھی تمہارے مفسروں کی ساری باتیں نہیں مانتے۔
فنڈر: مجھے مختصر جواب دیں، ہاں یا نہیں میں۔
مولانا: نہیں! کیونکہ وہ متن جو آپ کے نزدیک مقصود اصل سے عبارت ہے وہ ہمارے نزدیک تحریف کے سبب سے مشتبہ ہو گیا۔ اور تم نے پہلے دن سات یا آٹھ جگہ تحریف اور چالیس ہزار اختلافاتِ عبارات کا اقرار کیا ہے جس کو آپ سہوِ کاتب کا نتیجہ قرار دیتے ہیں اور اسے ہم تحریف کہتے ہیں۔ اور ہمارا مقصود صرف یہی تھا کہ یہ مجموعہ مشکوک ثابت ہو جائے اور یہ بفضل اللہ تعالٰی ہو چکا ہے۔ متن کی عدمِ تحریف کا اثبات آپ پر لازم ہے۔ ہم تو دو ماہ تک بلا عذر حاضر ہیں مگر یہ ہے کہ یہ مجموعہ ہم پر حجت نہ ہو گا اور ان سے منقول دلیل ہم پر لازم نہ ہو گی۔ البتہ اگر تمہارے پاس باقی مسائل بارے کوئی دلیل ہو تو پیش کرو۔
اس کے ساتھ ہی مناظرہ کا دوسرا اور آخری دن اختتام کو پہنچ گیا۔



حواشی

(۱) پادری جے پیٹرسن اسمتھ لکھتے ہیں: ’’وہ (پولوس) یہ کہتا ہے کہ شریعت صرف ایک محدود وقت کے لیے تھی اس کا کام محض لوگوں کو مسیح کی بادشاہت کے لیے تیار کرنا تھا‘‘۔ (حیات و خطوط پولس مطبوعہ ۱۹۵۲ء ص ۸۲۔۸۳))
(۲) عصرِ حاضر کے ایک عیسائی مصنف کے قلم سے اس کا اعتراف ملاحظہ فرمائیے: ’’جوں جوں زمانہ گزرتا گیا پرانے عہد نامہ کی پیشین گوئیوں کا مجموعہ بڑھتا گیا۔ یہاں تک کہ بعض اوقات ان کے مسیح پر اطلاق میں تجاوز ہو گیا۔ ’’یوسطین شہید کا طریفو یہودی سے مکالمہ‘‘ اور ’’یہودیوں کے خلاف شہادت‘‘ اس قسم کے تجاویز کی مثالیں ہیں۔ جب کلیسا میں زیادہ تر یونانی زبان بولنے والے شریک ہونے لگے تو یہ شہادتیں ترجمہ ہفتادہ پر مبنی تھیں اور بعض اوقات یہ ترجمہ عبرانی سے نہیں ملتا تھا۔ وہ یہودی جن کی طرف ان شہادتوں کا اشارہ تھا یہ جواب دیا کرتے تھے کہ ’’یہ ترجمہ عبرانی سے بڑا ہی مختلف ہے‘‘ (طریفو نے یوسطین کو یہی کہا تھا) لیکن یونانی مسیحی یہ کہا کرتے تھے کہ ’’وہ پیشین گوئیاں جو مسیح کی آمد کے بارے میں ہیں ان میں یہودیوں نے دیدہ و دانستہ رد و بدل کر دیا ہے‘‘ (طلوع مسیحیت۔ مصنفہ ایف ایف بروس ایم اے ڈی ڈی ۔ مترجمہ اے ڈی خلیل بی اے بی ٹی ۔ مطبوعہ ۱۹۸۶ء ص ۸۱۔۸۲ ۔ شائع کردہ مسیحی اشاعت خانہ لاہور)
(۳) پادری طالب الدین لکھتے ہیں ’’وہ (یہودی) یسوع کو گنہگار سمجھتے تھے کیونکہ وہ ان کی ان رسومات سے اتفاق نہیں کرتا تھا جو انہوں نے اور ان کے آبا و اجداد نے کلامِ الٰہی پر اضافہ کر دی تھیں‘‘ (حیات المسیح مطبوعہ ۱۹۴۴ء ص ۱۵۴)۔ ایک دوسرے عیسائی عالم کے مطابق ’’مسیح اور اس کے شاگرد برابر طور پر یہودیوں کو کتبِ مقدسہ میں تحریف کے ملزم گردانتے تھے‘‘۔ (التوراۃ تاریخھا و غایاتھا ۔ ترجمہ سہیل میخائل دیب۔ طبع سادس ۱۹۸۲ء مطبوعہ بیروت ص ۷۸)
(۴) پادری جی ٹی مینلی لکھتے ہیں ’’مصنف کے بارے میں اول یہ بات جاننی ضروری ہے کہ آیا یہ کتاب حقیقی واقعات پیش کرتا ہے یا ڈرامہ ہے یا کچھ ایسی حیثیت رکھتی ہے کہ حقیقت اور تمثیل (ڈرامہ) کے بیچوں بیچ ہے۔ قدیم روایت میں اسے تاریخی کتاب تسلیم کیا گیا ہے۔‘‘ (ہماری کتب مقدسہ ۔ مطبوعہ ۱۹۸۷ء ص ۲۵۹)۔ پادری مینلی نے صرف ایک نظریہ کا ذکر کر کے اس کے حق میں شہادتیں پیش کی ہیں۔
(۵) ان آیات کو کریب، شولز، آدم کلارک، آگسٹائن اور ہورن نے الحاقی قرار دیا ہے یعنی یہ بعد میں داخل کی گئیں۔ تفصیلات اظہار الحق ج ۱ ص ۲۵۷ اور فنڈر نے اگلی سطر میں اعتراف کیا ہے۔
(۶) مسیحی مجلہ سہ ماہی ’’ہما‘‘ لکھنؤ (انڈیا) میں لکھا ہے ’’بے شک یہ صحیح ہے کہ مختلف اشخاص نے جعلی انجیلیں تحریر کر کے ان کے فروغ کی کوشش کی اور مسیحیت کے ابتدائی دور میں کئی انجیلیں وجود میں آگئیں۔‘‘ (اکتوبر دسمبر ۱۹۶۷ء ص ۴ کالم ۱ و ۲)۔ ان میں سے کم از کم ایک جعلی انجیل آنحضرتؐ کے عہد میں موجود تھی۔ (رسالہ تحریف انجیل و صحت انجیل از پادری ڈبلیو میچن ص ۵)
(۷) بشپ ولیم جی ینگ نے تاریخ کلیسا کی تازہ ترین تصنیف ’’رسولوں کے نقشِ قدم پر‘‘ کے صفحہ ۲۰۰ پر مستند اور زیربحث کتب کے بارے میں ایک نقشہ درج کیا ہے جس کے مطابق ’’جنوبی ہند کی سریانی کلیسا‘‘ مکاشفہ کی کتاب کو غیر مستند قرار دیتی ہے۔ یوسی بیس مورخ اور نصیین کی درسگاہ کے ہاں یہ کتاب زیربحث ہے۔ چار مزید مآخذ اس کے بارے میں خاموش ہیں یعنی اس کو غیر مستند قرار دیتے ہیں۔ پادری ایچ والر صاحب لکھتے ہیں کہ ’’اس کتاب کو رسولی تصنیف ماننے میں کچھ چیزیں درکار ہیں لہٰذا بعض مصنفین نے اس کتاب کے رسولی تصنیف ہونے پر شکوک ظاہر کیے‘‘۔ (تفسیر مکاشفہ مطبوعہ ۱۹۵۸ء ص ۷)۔ ’’کتاب کا پس منظر غیر یقینی ہے‘‘ (انجیل مقدس کا مطالعہ از فادر کارلسٹن ۔ مطبوعہ ۱۹۶۷ء ص ۱۳۶)
(۸) عیسائیوں کے موجودہ نظریہ الہام کے مطابق عیسٰیؑ پر کوئی خارجی کتاب نازل نہیں ہوئی تھی بلکہ انجیل کا لفظ ان کی آمد کی بشارت اور خوشخبری کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ سیالکوٹ کے پادری برکت اے خان نے اس موضوع پر ایک مستقل رسالہ ’’اصول تنزیل الکتاب‘‘ کے نام سے تصنیف کیا ہے۔
(۹) پادری لوئیس برک ہاف لکھتے ہیں: ’’رومن کیتھولک کلیسیا کی تعلیم یہ تھی کہ کتاب مقدس کا بذاتِ خود کوئی اختیار نہیں کیونکہ اس کا وجود کلیسیا کی طرف سے ہے‘‘ ۔۔۔۔ گو رومن کیتھولک کلیسیا پاک نوشتوں کی اہمیت اور افادیت کو مان لیتی ہے تاہم وہ اس کو قطعی ضروری نہیں سمجھتی۔ اس کلیسیا کی دانست میں یہ کہنا کہ پاک نوشتوں کو کلیسا کی ضرورت ہے، زیادہ صحیح ہے، بہ نسبت اس کے کہ کلیسا کو پاک نوشتوں کی ضرورت ہے‘‘ (مسیحی علم الٰہی کی تعلیم۔ مطبوعہ ۱۹۸۷ء ص ۷۲ و ۷۳)۔ قارئین خود فیصلہ کر لیں کہ اس صورتحال میں پوپ نے پاک نوشتوں کو کیا خاک اہمیت دی ہو گی۔
(۱۰) سہوِ کاتب اور کتبِ مقدسہ میں اغلاط کی اقسام کے لیے آرچ ڈیکن برکت اللہ کی تصنیفات ’’صحت کتب مقدسہ‘‘ حصہ دوم باب اول اور ’’قدامت و اصلیت انجیل اربعہ‘‘ جلد دوم ص ۲۳۹ ملاحظہ فرمائیں۔

’’جمہوریت‘‘ — ماہنامہ الفجر کا فکر انگیز اداریہ

ادارہ

ہر قوم اور ہر ملت کے اپنے مخصوص نظریات ہوتے ہیں۔ ان نظریات کی بنا پر ان کا اپنا سیاسی نظام وضع ہوتا ہے۔ پھر اس نظام کو چلانے کے لیے اداروں کی تشکیل کی جاتی ہے۔ امت مسلمہ کے سوا جتنی بھی اقوام اور نسلی گروہ دنیا  میں موجود ہیں انہوں نے اپنی اجتماعی زندگی گزارنے کے ضابطے اور اصول خود وضع کیے ہیں۔ ان کے  مطابق دساتیر بنائے گئے ہیں۔ ان پر وہ عمل پیرا ہیں۔ وہ اپنے اصولوں اور ضابطوں میں ترمیم و اضافہ بھی کرتے ہیں، ایک دوسرے کے تجربات سے بھی فائدہ اٹھاتے ہیں۔ مگر زیادہ تر اپنی زندگی کا ایسا لائحہ عمل اپناتے ہیں جس کے ذریعے وہ زندگی کے عیش و آرام کو زیادہ سے زیادہ حاصل کر سکیں اور ہوائے نفس کی بہتر تسکین کریں۔ چونکہ بہت ساری اقوامِ عالم نے مذہب اور روحانیت کو خیرباد کر دیا ہے یا کم از کم ان کی اجتماعی زندگی میں مذہب کی مداخلت ممنوع ہو چکی ہے اس لیے سیاسی، معاشی، معاشرتی اور دوسرے اجتماعی دائروں میں وہ عام انسانوں کے افکار، خیالات اور نت نئے بدلتے ہوئے نظریات کے مطابق اپنا لائحہ عمل بناتے رہتے ہیں۔ وہی ان کا دین اور وہی ان کا نظریۂ حیات ہے۔
مغربی اقوام نے بڑے تجربوں کے بعد ایک سیاسی نظام وضع کیا ہے۔ اس نظام کے لیے انہوں نے اپنے اپنے ملکوں میں جدوجہد کی، قربانیاں دیں، اپنے مذہبی پادریوں سے لڑائیاں لڑیں، رائے عامہ کو تبدیل کیا، نئی فکر اور نئے زاویے تجویز کیے۔ تاآنکہ مذہب اور مذہبی شخصیات کو ریاست کے معاملات سے ہمیشہ کے لیے خارج کر دیا۔ ریاست اور مذہب کی جدائی کا نظریہ مغربی طرزِ فکر کا بنیادی فلسفہ ہے۔ یہاں پہنچنے کے بعد خدا اور مذہب کا معاملہ کائنات کے اجتماعی امور سے کٹ جاتا ہے۔ یہ انسان کے اجتماعی معاملات سے بے دخل کر دیے جاتے ہیں۔ اب انسان خودمختار، مالک الملک، اور حاکمیتِ اعلٰی کا مظہر سمجھا جاتا ہے بلکہ اس کو اس کائنات کی سُپر قوت قرار دیا جاتا ہے۔ یہ تصور اور فلسفہ ہے ’’جمہوریت‘‘ کا جسے ایک سیاسی نظام کے طور پر مغربی اقوام نے وضع کر کے اپنایا ہے۔
’’جمہوریت‘‘ آنے کے بعد چرچ کی حاکمیت ختم ہو گئی، اب چرچ فقط چند مقدس مجسموں کے رکھنے کی جگہ قرار پائی۔ چرچ کی زیارت کرنا، مجسموں کے سامنے سر جھکانا، کچھ دعائیں اور گیت پڑھنا، نذر و نیاز دینا، پوپ پال کی بہتر خدمت کرنا اور دیگر اس قسم کی فضول اور لا یعنی رسومات کا بجا لانا مذہب اور روحانیت ٹھہرا۔ جمہوریت میں چونکہ رائے عامہ کی مرضی پر قوانین بنتے اور بدلتے ہیں، ان کی آراء پر حکومت قائم ہوتی اور ختم ہوتی ہے، اس لیے رائے عامہ کی تنظیم کے لیے سیاسی جماعتوں کا وجود لازمی قرار پایا۔ گویا سیاسی جماعتوں نے مذہب کی جگہ لے لی۔ پہلے معاشرہ کی تنظیم مذہب کرتا تھا اب اس کی جگہ سیاسی پارٹی نے لے لی۔ سیاسی پارٹیوں کی اس اہمیت نے معاشرے کے متمول اور دولتمند طبقے کو اس طرف متوجہ کیا کہ وہ پارٹیوں پر اپنا تسلط قائم کریں۔ یوں سیاسی پارٹیاں جاگیردار، سرمایہ دار، اور مالدار افراد کی لونڈیاں بن گئیں۔ یہ لوگ ان کے ذریعے رائے عامہ پر اثرانداز ہوتے رہے، ان کو اپنے حق میں استعمال کرتے رہے۔ نفسیاتی حربوں اور پروپیگنڈہ کے وسیع ہتھکنڈوں کے ذریعے عوام کا استحصال کیا جاتا رہا اور اس کا نام ’’جمہوریت‘‘ تجویز کیا گیا۔
مذہب اور سیاست کی جدائی کے اس فلسفہ سے کمیونزم نے بھی  جنم لیا۔ کمیونزم درحقیقت مغربی فکر و فلسفہ کی دوسری شاخ کا نام ہے۔ انہوں نے اپنے معاشی نظریہ میں بزعم خود یہ ترقی پسندانہ تصور دیا کہ پیدواری وسائل انفرادی ہاتھوں کے بجائے ریاست کے ہاتھوں میں ہونے چاہئیں تاکہ کوئی فرد کسی فرد کا استحصال نہ کر سکے۔ مگر انہوں نے اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا کہ اگر ریاست کے افراد (کمیونسٹ پارٹی) جن کے ہاتھوں میں پیداواری ذرائع ہوں گے اگر وہی استحصال کرنے لگیں تو ان کا احتساب کون کرے گا؟
چنانچہ مغربی فکر و فلسفہ کے زیرسایہ وضع کردہ یہ دونوں معاشی نظام، سرمایہ داری اور کمیونزم، آج عالمِ انسانیت کا پہلے سے زیادہ استحصال کر رہے ہیں۔ آج کا انسان ان دونوں نظاموں کے مظالم سے شدید اذیت میں مبتلا ہے۔
اُمتِ مُسلمہ آج مغربی اور مشرقی اقوام کے مقابلے میں اس پوزیشن میں ہے کہ اس کے پاس محفوظ شکل میں ’’خدائی ضابطۂ حیات‘‘ موجود ہے۔ اس کے ہاں اپنے آخری پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات، جو انسان کی انفرادی زندگی اور ریاستی امور سے متعلق ہیں، وہ محفوظ ہیں۔ نبوت کے معیار کے مطابق خلفاء راشدینؓ کی طرزِ حکومت کا نمونہ تقلید کے لیے دستیاب ہے۔ ایسے عظیم الشان دستورِ حیات اور قابلِ عمل تعلیمات کے ہوتے ہوئے یہ امت ہرگز اس بات کی محتاج نہیں کہ وہ اِدھر اُدھر نظر دوڑائے، دوسری اقوام کی طرف دیکھے، ان کے نظریات سے متاثر اور مرعوب ہو، ان کی تقلید کرنے پر اتر آئے۔ مگر اس کو بدنصیبی یا بدبختی ہی کہا جائے کہ آج یہ امت مسلمہ بھی سیاسی، معاشی، معاشرتی اور ثقافتی دائروں میں اقوامِ غیر کی نقالی کرنے پر چل پڑی ہے۔ وہ اپنے دینِ برحق اور اپنے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے مقابلے میں ان سیاسی اور معاشی نظاموں پر جان چھڑکتی ہے جو ان کے نظریات اور ایمان کے عین ضد ہیں۔
اسی جمہوریت کو ہی لے لیجئے کہ یہ سیاسی نظام مذہب اور سیاست کی جدائی پر منتج ہوتا ہے، جبکہ اسلام میں سیاست مذہب کا جزو لاینفک ہے۔ اسلام میں حاکمیتِ اعلٰی عوام کی بجائے خدا کو حاصل ہے اور سپر قوت عوام نہیں بلکہ ذاتِ ذوالجلال والاکرام ہے۔ قوانین سازی عوام کی مرضی پر نہیں خدا اور رسول کے ضابطوں کے مطابق ہوتی ہے۔ حکومت سازی میں عوام کی آراء کو گِنا نہیں، تولا جاتا ہے۔ جن کے لیے زیادہ ہاتھ کھڑے ہو گئے ان کو نہیں بلکہ اہل رائے کی تائید سے متقی اور باصلاحیت قیادت کو آگے لایا جاتا ہے۔ یہاں شخصی آمریت کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں ہوتی بلکہ نظریہ کی حکمرانی ہوتی ہے۔ سربراہِ مملکت کے لیے بھی نظریہ کی اطاعت کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ حکومتی عہدیداروں کو عدالت کے سامنے عام انسانوں کے برابر سمجھا گیا ہے۔ سربراہ کو رعایا میں سے ایک عام آدمی بلاک روک ٹوک احتساب کر سکتا ہے۔ اس عام آدمی کے اطمینان کے بعد ہی وہ حکومت کرنے کا اہل سمجھا جائے گا۔
اسلام میں انسانوں کی آزادی کا وہ تصور نہیں جیسا کہ مغرب میں دیا جاتا ہے جو کہ دراصل انسانوں کی آزادی ہیں بلکہ ان کا استحصال ہے۔ اسلام میں کسی فرد یا کسی اجتماع کی غلامی کا کوئی تصور موجود نہیں ہے۔ اسلامی نظامِ سیاست میں انسان کو فقط خداوند قدوس کا عبد قرار دیا گیا ہے، اس کے علاوہ وہ کسی کا بندہ نہیں ہے۔ حکومتی سربراہ کو عام زندگی میں کچھ بھی امتیازی اختیارات حاصل نہیں، وہ بھی عام رعایا کی طرح قانون میں برابر ہے اور اس کو عام انسانوں کی طرح اپنے شب و روز بسر کرنے چاہئیں۔ وہ اگر ریاستی وسائل سے کچھ زیادہ اختیارات استعمال کرتا ہے یا اپنی ذاتی زندگی کا معیار عام رعایا سے زیادہ رکھتا ہے تو وہ عادل سربراہ نہیں ہو گا اور عام مسلمان اس کو معزول کرنے کا حق رکھتے ہیں۔
ان حقائق کے پیشِ نظر اسلام کا اپنا ایک مستقل سیاسی نظام ہے جس کو نہ جمہوریت کہا جائے گا نہ اس پر اسلامی جمہوریت جیسی لغو اصطلاح استعمال کی جائے گی۔ اسلام کے معاشی تصورات پر سوشلزم کا اطلاق یا ان کو اسلامی سوشلزم سے تعبیر کرنا بھی جہالت اور منافقت کے سوا کچھ نہیں۔ عالمِ اسلام ایک طویل عرصہ سے اپنے سیاسی اور معاشی نظریات کو بھول چکا ہے۔ وہ بادشاہوں، آمروں اور ڈکٹیٹروں کو خلفاء کے نام سے پکارتا رہا اور تاریخ میں اسے اسی طرح یاد کرتا رہا۔ وسائلِ رزق پر حکمران خاندانوں کا تسلط رہا، وہی لوگ جاگیردار اور سرمایہ دار بنتے گئے اور ہم نے ذاتی ملکیت کے نام پر ان کو تحفظ دیا۔ اب یہ بات اسلام کے سر تھوپی جا رہی ہے کہ اسلام میں مطلق العنان حکمرانوں کا جواز بھی ہے اور اسلام جاگیرداروں کا بھی تحفظ کرتا ہے۔ مگر معاملہ قطعی طور پر اس کے برعکس ہے۔ اسلام کا معاشی اور سیاسی سسٹم فقط وہی ہے جو اسوۂ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میں موجود ہے اور جس کا عملی نمونہ خلفاء راشدینؓ کے دورِ حکومت میں ظاہر ہوا۔ اس کے بعد بنو امیہ، بنو عباس، فاطمیہ، سلجوقیہ، صفوی، عثمانی، غزنوی، غوری، مغل وغیرہ وغیرہ حکمرانوں کے ادوار میں جو کچھ ہوا وہ (سب کا سب) ہرگز اسلام نہیں ہے اور نہ ہی اسلام اس (سب) کا ذمہ دار ہے۔ یہ ’’مسلم‘‘ حکمرانوں کی عیاشیوں، بدمستیوں، فضول خرچیوں، اقتدار کی ہوس کے لیے قتل و غارت گری اور جنگ و جدل کا دور ہے، یہ پوری تاریخ حقیقی اسلام سے انحراف کی تاریخ ہے، الّا ما شاء اللہ۔
امت مسلمہ کالونیز دور سے گزر کر اب ایک نئے دور کا آغاز کر چکی ہے۔ اب اس دنیا میں نظریات کی جنگ ہے، دنیا نظریات کے تغلب سے فتوحات کرتی جا رہی ہے۔ اس وقت ہمیں اپنے فطری نظریہ ’’اسلام‘‘ کی طرف پورے شعور اور استقامت کے ساتھ آنا ہو گا۔ اس نظریہ کے ساتھ کامل وابستگی اختیار کرنی ہو گی۔ اس کے ساتھ اقوامِ غیر کے مسلط شدہ سیاسی نظاموں سے نجات حاصل کرنی ہو گی۔ مغرب کی سیاست، مغرب کی ثقافت اور مغرب کے فکر و فلسفہ کو مسترد کرنا ہو گا۔ کفر کے سیاسی غلبہ سے نجات کی یہی راہ ہے کہ ہمیں کفر کی سیاست اپنانے کی بجائے کفر کی سیاست سے برأۃ کا اعلان کرنا ہو گا۔ اب ہمیں کھل کر یہ کہنا ہو گا اور یہ بات ایمان کی علامت میں شمار ہو گی کہ ہم جمہوریت پر لعنت بھیجتے ہیں۔ ہم سرمایہ دارانہ معاشی نظام کو انسانیت کے لیے قاتل نظام تصور کرتے ہیں۔ ہم کمیونزم کو انسانی شرف و عزت کی توہین سمجھتے ہیں، ہم آمریت اور ڈکٹیٹرشپ سے کلی طور پر بیزار ہیں۔

ہمارے دینی مدارس — مقاصد، جدوجہد اور نتائج

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(ہمارے معاشرہ میں دینی مدارس کا کردار تاریخ ساز اہمیت کا حامل ہے اور ان اداروں نے بے سروسامانی اور مسلسل حوصلہ شکنی کے باوجود اپنے کردار کو جس استقامت و حوصلہ کے ساتھ نبھایا ہے وہ ملتِ اسلامیہ کی تاریخ کا ایک تابناک باب ہے۔ مگر کچھ پہلو ایسے بھی ہیں جن کے حوالے سے دینی مدارس کا کردار تشنہ ہے اور وقت کے تقاضوں اور اہلِ نظر کی توقعات سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تصویر کے دونوں رخ سامنے لائے جائیں اور حقائق کا بے لاگ تجزیہ کیا جائے۔ زیرِنظر مضمون میں تصویر کے روشن پہلو کی ایک ہلکی سی جھلک پیش کی گئی ہے۔ تصویر کے دوسرے رخ پر مدیر الشریعہ کا تجزیاتی مضمون آئندہ شمارے میں ملاحظہ فرمائیں۔ ادارہ)


دینی مدارس کے تعلیمی سال کا آغاز ہو چکا ہے اور ملک بھر کے دینی مدارس کے اساتذہ اور طلبہ سالانہ تعطیلات گزارنے کے بعد اپنے تعلیمی سفر کے نئے مرحلہ کا آغاز ماہِ گزشتہ کے وسط میں کر چکے ہیں۔ ملک کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے ان ہزاروں دینی مدارس کا تعلق مختلف مذہبی مکاتبِ فکر سے ہے اور ہر مذہبی مکتب فکر کے دینی ادارے اپنے اپنے مذہبی گروہ کے تشخص و امتیاز کا پرچم اٹھائے نئی نسل کے ایک معتد بہ حصہ کو اپنے نظریاتی حصار اور فقہی دائروں میں جکڑنے کے لیے شب و روز مصروف عمل ہیں۔

دینی مدارس کے موجودہ نظام کی بنیاد امدادِ باہمی اور عوامی تعاون کے ایک مسلسل عمل پر ہے جس کا آغاز ۱۸۵۷ء کے جہادِ آزادی میں مسلمانوں کی ناکامی کے بعد اس جذبہ کے ساتھ ہوا تھا کہ اس معرکۂ حریت کو مکمل طور پر کچل کر فتح کی سرمستی سے دوچار ہوجانے والی فرنگی حکومت سیاسی، ثقافتی، نظریاتی اور تعلیمی محاذوں پر جو یلغار کرنے والی ہے اس سے مسلمانوں کے ایمان و عقیدہ اور تہذیب و تعلیم کو بچانے کی کوئی اجتماعی صورت نکالی جائے۔ اس مقصد کے لیے سب سے پہلے دیوبند میں مدرسہ عربیہ (دارالعلوم دیوبند)، سہارنپور میں مظاہر العلوم اور مراد آباد میں مدرسہ شاہی کا آغاز ہوا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے پاکستان، بنگلہ دیش، بھارت اور افغانستان کے طول و عرض میں ان مدارس کا جال بچھ گیا۔ ان مدارس کے لیے بنیادی اصول کے طور پر یہ بات طے کر لی گئی کہ ان کا نظام کسی قسم کی سرکاری یا نیم سرکاری امداد کے بغیر عام مسلمانوں کے چندہ کی بنیاد پر چلایا جائے گا۔ تاریخ گواہ ہے کہ انتہائی سادگی اور قناعت کے ساتھ ان مدارس نے برصغیر کے مسلمانوں کی بے پناہ دینی و علمی خدمات سرانجام دیں۔

ان مدارس کے منتظمین اور اساتذہ کی ایک بڑی تعداد ایسے مردانِ باصفا کی تھی جو وقت کی رفتار کے ساتھ چلنے کا ارادہ کر لیتے تو دنیاوی زندگی کی سہولتیں اور آسائشیں بے دام غلام کی طرح ان کے دروازے پر قطار باندھے کھڑی نظر آتیں، لیکن غیور و جسور فقراء کے اس گروہ نے مسلمان کو مسلمان باقی رکھنے کے عظیم مشن کی خاطر نہ صرف ان آسائشوں اور سہولتوں کو تج دیا بلکہ اپنی ذاتی انا اور عزتِ نفس کی قیمت پر صدقات، زکوٰۃ و عشر اور ایک ایک دروازے سے ایک ایک روٹی مانگنے کے لیے اپنی ہتھیلیاں اور جھولیاں قوم کے سامنے پھیلا دیں۔ اور ہر قسم کے طعن و تشنیع اور تمسخر و استہزاء کا خندہ پیشانی کے ساتھ سامنا کرتے ہوئے انتہائی صبر و ثبات کے ساتھ ایک ایسے نظام تعلیم کی بنیاد رکھی جس نے برصغیر میں اسپین کی تاریخ دہرانے کی فرنگی خواہش اور سازش کا تار و پود بکھیر کر رکھ دیا۔ اور برطانوی حکمران بالآخر یہی حسرت دل میں لیے ۱۹۴۷ء میں یہاں سے بوریا بستر سمیٹنے پر مجبور ہوگئے۔

دینی مدارس کی جدوجہد کے نتائج و ثمرات کے حوالہ سے اگر معاشرے میں ان مدارس کے اجتماعی کردار کا تجزیہ کیا جائے تو تمام تر خامیوں، کوتاہیوں اور کمزوریوں کے باوجود اس کی شکل کچھ اس طرح سامنے آتی ہے کہ:

الغرض دینی مدارس کی یہ عظیم جدوجہد اور اس کے نتائج و ثمرات تاریخ کے صفحات پر اس قدر واضح اور روشن ہیں کہ کوئی ذی شعور اور منصف مزاج شخص اس سے انکار نہیں کر سکتا۔ اور یہ حقیقت ہے کہ فرنگی اقتدار کے تسلط، مغربی تہذیب و ثقافت کی یلغار اور صلیبی عقائد و تعلیم کی ترویج کے دور میں یہ مدارس ملی غیرت اور دینی حمیت کا عنوان بن کر سامنے آئے اور انہوں نے انتہائی بے سروسامانی کے عالم میں سیاست، تعلیم، معاشرت، عقائد اور تہذیب و ثقافت کے محاذوں پر فرنگی سازشوں کا جرأت مندانہ مقابلہ کر کے برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش کو اسپین بننے سے بچا لیا ۔ اور یہ بات پورے اعتماد کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ آج اس خطہ زمین میں مذہب کے ساتھ وابستگی اور اسلام کے ساتھ وفاداری کے جن مظاہر نے کفر کی پوری دنیا کو لرزہ براندام کر رکھا ہے، عالم اسباب میں اس کا باعث صرف اور صرف یہ دینی مدارس ہیں۔

قرآنِ کریم اور سود

حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ

قرآنِ کریم میں خلافتِ الٰہیہ کے قیام سے مقصد اس کے سوا کچھ نہیں کہ ایک ایسی قوت پیدا کی جائے جس سے اموال اور حکمت، علم و دانش دونوں کو لوگوں میں صرف کیا جائے اور پھیلایا جائے۔ اب سودی لین دین اس کے بالکل منافی اور مناقض ہے۔ قرآن کریم کی قائم کی ہوئی خلافت میں ربوٰا (سود) کا تعامل کس طرح جائز ہو سکتا ہے؟ اس کا جواز بھی ایسا ہی ہے جیسا کہ نور و ظلمت کا اجتماع۔ ربوٰا(سود) سود خواروں کے نفوس میں ایک خاص قسم کی خباثت پیدا کر دیتا ہے جس سے یہ ایک پیسہ بھی خرچ کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ اگر یہ خرچ کرتے ہیں تو ان کے سامنے اس کا ’’اضعافًا مضاعفًا‘‘ نفع حاصل کرنا مقصود ہوتا ہے۔
علاوہ ازیں سود کی وجہ سے اقتصادیات میں جو فساد اور اخلاقِ فاضلہ کی تباہی اور بربادی اور فطرتِ انسانیہ میں بگاڑ اور لوگوں پر ضیق و تنگی پیدا ہوتی ہے، یہ اس قدر ظاہر باتیں ہیں جن کے بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس لیے قرآنِ عظیم نے سود کو روئے زمین سے مٹانے کا اعلان کیا ہے اور انسانیت کو اس کے لینے دینے والوں کے شر و ظلم سے چھڑانے کا اعلان کیا ہے۔
سب سے پہلے مواعظِ حسنہ کے ذریعے سودی کاروبار سے منع کیا ہے۔ اگر اس سے باز نہ آئیں اور متنبہ نہ ہو تو ان کے ساتھ سخت لڑائی کا اعلان کیا ہے اور ایسے لوگوں کو سطحِ ارضی سے مٹانے کا چیلنج کیا ہے۔ اور قرآن کریم میں اس کی اساسی تعلیم بڑے محکم طریق پر دی ہے۔ ربوٰا سے منع کیا گیا ہے، سود خواروں کے خلاف اعلانِ جنگ کیا ہے، لیکن پوری طرح رشد و ہدایت کے واضح ہونے کے بعد اور اس کی مضرتوں کو پوری طرح کھول کر بیان کر دینے کے بعد جو کرے، یہ رشد و ہدایت کے یقیناً منافی ہے۔ اب اس کے خلاف جنگ یا کارروائی کرنا اکراہ نہیں ہو گا بلکہ عین انصاف کا تقاضا ہو گا۔ اسی طرح ایسی بڑی بڑی حکومتوں کو مٹانا اور منہدم کرنا ہے جو اس کے لیے منظم کی جاتی ہیں کہ سودی کاروبار کے ذریعے اموال کمائیں، ان کے خلاف خدا اور رسولؐ کی طرف سے اعلانِ جنگ ہے۔
(الہام الرحمٰن)

تعارف و تبصرہ

ادارہ

خطباتِ صدارت شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنیؒ

شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی نور اللہ مرقدہ برصغیر پاک و ہند بنگلہ دیش کی وہ نابغۂ روزگار شخصیت ہیں جنہوں نے علمی، روحانی اور سیاسی میدان میں ملک و قوم کی بے پناہ خدمت کی اور تحریکِ آزادی میں مؤثر اور فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ حضرت مدنیؒ نے سالہا سال تک مسجدِ نبویؐ میں روضۂ اطہر علٰی صاحبہا التحیہ والسلام کے سامنے حدیثِ رسولؐ کا درس دیا اور ہزاروں تشنگانِ علوم کو سیراب کیا۔ انہوں نے اپنے عظیم استاذ شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ کے ساتھ مالٹا کی قید کاٹی اور رہائی کے بعد متحدہ ہندوستان میں آزادیٔ وطن کی جدوجہد کی قیادت سنبھالی۔
جمعیۃ العلماء ہند اس خطہ کے حریت پسند علماء کی جماعت ہے جس نے آزادیٔ وطن کی خاطر مسلسل جدوجہد کی۔ اس عظیم کردار کی حامل جماعت کی قیادت مفتی اعظم حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ دہلویؒ اور شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کے ہاتھ میں تھی۔ جمعیۃ العلماء ہند کے سالانہ اجتماعات متحدہ ہندوستان کے علماء کرام کے ملک گیر نمائندہ اجتماع ہوتے تھے جن کے فیصلے اور خطباتِ صدارت قومی سیاست میں اپنی ایک مخصوص حیثیت رکھتے تھے۔ ان اجتماعات میں ملک کی نامور علمی اور قومی شخصیات کو صدارت کی زحمت دی جاتی اور ان کے خطبہ ہائے صدارت قومی سیاست اور تحریکِ آزادی میں فکری راہنمائی کا ذریعہ بنتے۔ جمعیۃ کے مختلف قومی اور علاقائی اجتماعات میں حضرت مدنیؒ نے بھی خطبات ارشاد فرمائے۔ ان کا اپنا ایک مخصوص انداز تھا اور جب وہ تاریخی حوالوں اور معاشی اعداد و شمار کے ساتھ آزادی کی اہمیت اور فرنگی حکمرانوں کے مظالم کو بے نقاب کرتے تو ان کے مضبوط دلائل کے سامنے فرنگی سازشوں کے تار و پود بکھر کر رہ جاتے۔
مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے مہتمم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی مدظلہ العالی نے حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کے گیارہ خطباتِ صدارت کو اس مجموعہ میں یکجا کر کے شائع کیا ہے جو ۱۹۲۱ء سے ۱۹۵۱ء تک جمعیۃ العلماء ہند کے تاریخی کردار کے ساتھ ساتھ اس دور کے حالات اور سیاسی پس منظر کی عکاسی کرتے ہیں۔ پانچ سو صفحات پر مشتمل یہ مجموعہ معیاری کتابت و طباعت کے ساتھ ادارہ نشر و اشاعت مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کی طرف سے شائع کیا گیا ہے اور اس کی قیمت ۸۰ روپے ہے۔

تسہیل الادب (جزء اول)

تالیف: مولانا سلیم اللہ خان
کتابت و طباعت عمدہ۔ صفحات ۱۱۰
ناشر: جامعہ فاروقیہ (پوسٹ بکس ۱۱۰۲۰) شاہ فیصل کالونی ۴ کراچی ۴۵
حضرت مولانا سلیم اللہ خان مدظلہ کا شمار ملک کے نامور اساتذہ میں ہوتا ہے جن کی زندگی کا بیشتر حصہ تعلیم و تدریس میں گزرا ہے۔ انہوں نے درجۂ اول کے طلبہ کے لیے ’’تسہیل الادب‘‘ کے نام سے یہ مجموعہ ترتیب دیا ہے جس کا جزء اول ہمارے سامنے ہے۔ اس میں نحو کے ضروری مسائل اور اصطلاحات کو مبتدی طلبہ کی ذہنی سطح کا لحاظ رکھتے ہوئے آسان انداز میں بیان کیا گیا  ہے۔ اور تمرینات کے ذریعے اس کی کوشش کی گئی ہے کہ طلباء کے اذہان مسائل کو اخذ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی عملی مشق بھی اچھے انداز سے کر سکیں۔ مبتدی طلبہ کے لیے اس قسم کے رسائل کی ضرورت بہت زیادہ ہے اور حضرت مولانا سلیم اللہ خان مدظلہ کی یہ کاوش اس سمت ایک اچھی پیشرفت ہے۔

امام اعظم  ابوحنیفہؒ کا نظریہ انقلاب و سیاست

از: مولانا عبد القیوم حقانی
کتابت و طباعت عمدہ۔ قیمت ۶ روپے صفحات ۶۸
ملنے کا پتہ: مؤتمر المصنفین، دارالعلوم حقانیہ، اکوڑہ خٹک ضلع پشاور
امام اعظم ابوحنیفہؒ اُمت مسلمہ کے عظیم المرتبت فقیہ اور مجتہد ہونے کے علاوہ اپنے وقت کے بلند حوصلہ سیاسی راہنما بھی تھے اور انہوں نے عباسی خلفاء کے مظالم اور بدعنوانیوں کو بے نقاب کرنے اور اصلاح و انقلاب کی تحریکات کی سرپرستی میں  نمایاں کردار ادا کیا۔ امام ابوحنیفہؒ نے نہ صرف عباسی خلیفہ ابوجعفر منصور کو اس کے دربار میں کھڑے ہو کر ان الفاظ سے للکارا کہ’’ تمہاری حکومت شرعی اور آئینی نہیں ہے، جب تم نے خلافت سنبھالی تو اس وقت اربابِ فتوٰی دو آدمی بھی تمہاری خلافت پر متفق نہیں تھے‘‘ بلکہ خلیفہ منصور کے خلاف حضرت زید بن علیؓ اور حضرت نفس زکیہؒ کی انقلابی تحریکات کو جہاد قرار دیتے ہوئے ان میں شرکت کو پچاس حج سے افضل بتایا اور ان کے حق میں باقاعدہ فتوٰی جاری کیا۔ 
امام اعظمؒ کی انقلابی سیاسی زندگی کا یہ پہلو عام طور پر بیان نہیں کیا جاتا جبکہ آج کے دور میں امام صاحبؒ کے سیاسی و معاشی افکار کو زیادہ سے زیادہ وضاحت اور اہمیت کے ساتھ سامنے لانے کی ضرورت ہے۔ ہمارے فاضل دوست مولانا عبد القیوم حقانی کا ذوق قابل تحسین ہے کہ انہوں نے اس کتابچہ میں امام اعظمؒ کے سیاسی افکار اور انقلابی جدوجہد کو اجاگر کرنے میں کامیاب کوشش کی ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر دیں اور ان کی اس کاوش کو علماء کرام میں سیاسی شعور کی بیداری کا ذریعہ بنائیں، آمین یا الٰہ العالمین۔
تنقید اور حقِ تنقید
از: مولانا محمد یوسف لدھیانوی
صفحات ۳۲ قیمت ۴ روپے
ملنے کا پتہ: سنی تحریک طلبہ، مدینہ بازار، ذیلدار روڈ، اچھرہ، لاہور
’’جماعتِ اسلامی‘‘ کی بنیاد اس کے دستور کی دفعہ ۶ کے حوالہ سے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی کو معیارِ حق اور تنقید سے بالاتر نہ سمجھنے پر رکھی گئی تھی اور بانیٔ جماعتِ اسلامی اور ان کے رفقاء نے اس فکری بنیاد پر اس قدر ثابت قدمی دکھائی کہ اس کے دفاع میں اہلِ سنت کے ساتھ مستقل محاذ آرائی کا بازار گرم کر لیا۔ جبکہ یہ دونوں باتیں اہل سنت والجماعت کے مسلّمات کے منافی ہیں اور اہل سنت کے نزدیک حضرات صحابہ کرامؓ نہ صرف معیارِ حق ہیں بلکہ طعن و تنقید سے بھی بالاتر ہیں۔
مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے بانیٔ جماعتِ اسلامی کے ایک عقیدت مند کے استفسار پر اپنے مفصل مکتوب میں اہلِ سنت کے اسی نقطۂ نظر کی وضاحت کی ہے اور تنقیدی فکر کی کجی کو دلائل کے ساتھ آشکارہ کیا ہے۔ مولانا لدھیانوی کے مکتوب کو سنی تحریک طلبہ کی طرف سے زیرنظر رسالہ کی صورت میں شائع کیا گیا ہے۔

آپ نے پوچھا

ادارہ

قادیانی اور مسئلہ کشمیر

سوال: عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ مسئلہ کشمیر پیدا کرنے میں قادیانیوں کا ہاتھ ہے، اس کی کیا حقیقت ہے؟ (حافظ محمد ایوب گوجرانوالہ)۔
جواب: یہ بات تاریخی لحاظ سے درست ہے اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب پاکستان کے قیام اور ہندوستان کی تقسیم کے ساتھ پنجاب کی تقسیم کا بھی فیصلہ ہو گیا تو پاکستان کے حصے میں آنے والے پنجاب کی حد بندی کے لیے ریڈکلف باؤنڈری کمیشن قائم کیا گیا جس نے متعلقہ فریقوں کا مؤقف معلوم کرنے کے بعد حد بندی کی تفصیلات طے کر دیں۔ اصول یہ طے ہوا تھا کہ جس علاقہ میں مسلمانوں کی اکثریت ہو گی وہ پاکستان میں شامل ہو گا اور جہاں غیر مسلموں کی اکثریت ہو گی وہ بھارت میں رہے گا۔
ضلع گورداسپور کی صورتحال یہ تھی کہ قادیانیوں کا مرکز ’’قادیان‘‘ اس ضلع میں تھا اور ان کی بڑی آبادی بھی یہیں تھی۔ اگر ان کی آبادی کو مسلمانوں کے ساتھ شمار کیا جاتا تو یہ علاقہ مسلم اکثریت کا علاقہ شمار ہوتا اور اگر انہیں غیر مسلموں کے زمرہ میں رکھا جاتا تو یہ غیر مسلم اکثریت کا علاقہ تھا۔ قادیانیوں نے باوجود اس کے کہ وہ خود کو مسلمان کہنے پر ابھی تک مصر ہیں اور اسلام کے نام پر اپنے جھوٹے مذہب کے فروغ میں مصروف ہیں، ریڈ کلف کمیشن کے سامنے اپنا مؤقف مسلمانوں سے الگ پیش کیا جس کی وجہ سے اس علاقہ کو غیر مسلم اکثریت کا علاقہ قرار دے دیا گیا اور اسے بھارت میں شامل کر دیا گیا۔ ضلع گورداسپور کی جغرافیائی صورتحال یہ ہے کہ اس وقت کشمیر کو بھارت سے ملانے والا واحد راستہ ضلع گورداسپور سے ہو کر جاتا تھا۔ اگر یہ ضلع پاکستان میں شامل ہوتا تو بھارت کے پاس کشمیر میں مداخلت کا کوئی زمینی راستہ نہیں تھا۔ اس طرح کشمیر بھارت کی دستبرد سے محفوظ رہتا۔
اس پس منظر میں یہ کہا جاتا ہے کہ قادیانیوں نے ریڈکلف کمیشن کے سامنے اپنا مؤقف مسلمانوں سے الگ پیش کر کے ضلع گورداسپور کو بھارت میں شامل کرنے کا موقع فراہم کیا جس سے بھارت کو کشمیر کے لیے راستہ ملا اور اس نے مداخلت کر کے کشمیر پر قبضہ کر لیا۔ اس لحاظ سے کشمیر اور اہلِ کشمیر کی موجودہ غلامی اور مصائب کی ذمہ داری قادیانیوں پر عائد ہوتی ہے۔

خارجی گروہ کب پیدا ہوا؟

سوال: خارجی گروہ کسے کہتے ہیں اور اس کا آغاز کب ہوا تھا؟ (محمد اسلم، اسلام آباد)
جواب: امیر المؤمنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان جنگ صفین کے درمیان مصالحت کی بات چلی اور دونوں لشکروں نے جنگ بندی کر کے حضرت ابو موسٰی اشعریؓ اور حضرت عمرو بن العاصؓ کو مصالحتی گفتگو کے لیے ثالث مقرر کر لیا تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے لشکر کا ایک حصہ ان کے اس فیصلہ پر ناراض ہو کر الگ ہو گیا۔ اس وقت ان کی تعداد کم و بیش بارہ ہزار تھی اور ان کا موقف یہ تھا کہ حکم صرف خدا کا ہے اور دو انسانوں کو حکم اور فیصل مقرر کر کے فریقین نے کفر کا ارتکاب کیا ہے۔ چنانچہ ان لوگوں نے حضرت علیؓ کی بیعت توڑ کر عبد اللہ بن وہب الراسبی کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔
حضرت علیؓ نے مختلف صحابہ کرامؓ کے ذریعے اور براہ راست ان کو سمجھانے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن وہ اپنی ضد پر قائم رہے بلکہ حضرت علیؓ کے مقابلہ پر لشکر جمع کرنا شروع کر دیا۔ چنانچہ نہروان کے مقام پر حضرت علیؓ کے لشکر سے ان کی جنگ ہوئی جس میں خوارج کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے بعد کسی علاقہ پر اس گروہ کا تسلط تو نہ رہا لیکن ایک مذہبی فرقہ کی حیثیت سے اس کا وجود کافی عرصہ تک قائم رہا۔
ان کے عقائد میں یہ بات نمایاں تھی کہ کبیرہ گناہ کے ارتکاب سے مسلمان کافر ہو جاتا ہے۔ اسی طرح حضرت علیؓ کی تکفیر اور توہین میں یہ لوگ نمایاں تھے۔ آج دنیا میں خوارج کا کوئی منظم فرقہ موجود نہیں ہے لیکن حضرت علیؓ اور اہلِ بیتؓ کے بارے میں غیر  متوازن نظریات کے حامل افراد کو الزاماً خارجی کہہ دیا جاتا ہے۔ 

متعہ اور امام مالکؒ

سوال: متعہ کسے کہتے ہیں اور کیا اہلِ سنت کے کسی امام کے نزدیک متعہ جائز ہے؟ (عبد الحمید، لاہور)
جواب: مرد اور عورت کے درمیان عمر بھر کے لیے ازدواج کا جو عقد ہوتا ہے وہ شرعاً نکاح کہلاتا ہے اور ازدواج کی شرعی شکل ہے۔ لیکن اگر اسی عقد کی مدت متعین کر دی جائے تو اسے متعہ کہا جاتا ہے۔ مثلاً یہ کہ اتنے دن کے لیے یا ماہ کے لیے یا سال کے لیے نکاح کیا جائے۔  مدت خواہ ایک گھنٹہ ہو یا پچاس سال، جب نکاح میں مدت طے کر دی جائے تو وہ متعہ بن جاتا ہے۔ جاہلیت کے دور میں متعہ بھی ازدواج کی جائز صورتوں میں شمار ہوتا تھا لیکن جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرام قرار دے دیا اور اسلام میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
اہلِ تشیع اس کے جواز کے قائل ہیں مگر اہلِ سنت کے نزدیک متفقہ طور پر حرام ہے اور کوئی امام بھی اس کے قائل نہیں ہیں۔ بعض فقہاء نے حضرت امام مالکؒ کی طرف متعہ کے جواز کی نسبت کی ہے لیکن یہ درست نہیں ہے۔ کیونکہ خود حضرت امام مالکؒ متعہ کی حرمت کے قائل ہیں اور مؤطا امام مالک میں انہوں نے متعہ کی حرمت پر روایات بھی نقل کی ہیں۔

بے نماز کی قربانی

سوال: ایک شخص نماز روزہ کی پابندی نہیں کرتا مگر زکوٰۃ اور قربانی ادا کرتا ہے، کیا اس کو اس عمل کا ثواب ہو گا؟ (حافظ محمد سعید، گوجرانوالہ)
جواب: اگر وہ نماز روزہ کا منکر نہیں ہے تو وہ مسلمان ہے۔ جو نیک عمل کرتا ہے اس پر اسے ثواب ملے گا اور جن فرائض کا تارک ہے اس پر اسے گناہ ہو گا اور وہ اس کے ذمہ واجب الادا رہیں گے جب تک کہ ان کی قضا نہ کر لے۔ 

برص ۔ انسانی حسن کو زائل کرنے والا مرض

حکیم محمد عمران مغل

اس مرض کو عوام اپنی زبان میں سفید داغ، پھلبہری، چٹاک وغیرہ بھی کہتے ہیں۔ یہ سفید داغ جسم پر نمودار ہوا کرتے ہیں جسے طبی زبان میں برص کہا جاتا ہے۔ رفتارِ زمانہ کے ساتھ اس مرض میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ دیہاتیوں کی نسبت شہر میں رہنے والے کچھ زیادہ ہی اس کے گھیرے میں آ رہے ہیں۔ اس مرض کا خاص سبب تو عصبی خرابی ہے۔ جگر کی خرابی اور کمزوری کے ساتھ معدہ کی فاسد رطوبتیں بھی اس مرض میں اضافہ کا موجب بنتی ہیں۔ اس کے علاوہ جدید تہذیب کی کچھ خاص رسمیں اور عادات بھی اس میں اضافہ کر رہی ہیں۔ مثلاً شہروں میں دودھ دہی کی دکان پر آپ کھڑے ہیں اور دودھ پینے کی خواہش پیدا ہوئی۔ دودھ والے نے فورًا کھولتے دودھ میں برف ملا کر ٹھنڈا کر کے آپ کی خدمت میں پیش کر دیا اور آپ نے کھڑے کھڑے پی لیا۔ ایک تو کھڑا ہو کر پینے سے جگر میں کمزوری پیدا ہوئی، پھر دودھ میں وہ تازہ ہوا یا آکسیجن جذب نہ ہو سکی جو قدرتی طور پر عام ہوا میں رکھنے سے ہو سکتی تھی۔ چنانچہ ایسا دودھ لازمی بلغم کی کثرت کا باعث بنے گا۔ چنانچہ تمام بازاری آئس کریم اور قلفیوں کا یا دودھ کی مصنوعات کا یہی حال ہے۔ اس سے جو بلغم پیدا ہو گا اس میں خون بننے کی صلاحیت نہیں ہوا کرتی (کچی بلغم تقریباً سارا خون ہی ہوا کرتا ہے)۔
ہمارے جسم میں قدرت نے بہت سی قوتیں پیدا کی ہیں، ان میں سے ایک قوت کا نام قوتِ ممیزہ ہے، یہی قوت بلغم سے خون بناتی ہے مگر وہ بلغم اپنی تعریف پر پورا اترتا ہو۔ ایسے خواتین و حضرات جن کا جگر اور معدہ اکثر خراب رہتا ہو اور مزاج بھی بلغمی ہو تو ان میں اس مرض  کو قبول کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رہتی۔ اس کے علاوہ زیادہ سرد غذائیں، چاول، بادی اشیاء اور کئی کئی دنوں کی پکی ہوئی غذا جسے فریج میں رکھ دیا گیا ہو کھانے سے بھی یہ مرض پیدا ہو سکتا ہے۔ یا پھر ایسی غذا جس میں بلی، چوہا، چھپکلی منہ مار جائے، یا پیتل تانبے کے برتن میں کھانا کھانا جبکہ اسے قلعی نہ کرائی گئی ہو۔ گوشت کھا کر اوپر سے دودھ پینا، گلی سڑی باسی مچھلی کھانا، مٹھائی یا فروٹ کھا کر پانی پینا اور پہلی غذا پوری طرح ہضم نہ ہو اوپر سے اور ٹھونس لینا، یہ تمام اسباب اس مرض کو دعوت دیتے ہیں۔ مخلوقِ خدا کی بہتری کے لیے حکماء متقدمین نے ایک نصیحت فرمائی ہے ؎
جب بھوک لگے تب کھاؤ
کچھ بھوک رہے ہٹ جاؤ
اور یہ نصیحت علاج کے ساتھ سونے پر سہاگہ کا کام دیتی ہے۔ شروع میں باریک باریک دانے نکلتے ہیں جو پھیل کر سفید داغ کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ اسی طرح کا ایک مرض اور بھی ہے جسے بہق ابیض کہتے ہیں۔ مگر برص میں رنگت  سفید اور جلد چکنی ہو گی۔ بعض دفعہ یہ مرض جلد سے ہوتا ہوا ہڈی تک چلا جاتا ہے۔ وہاں کا بال بھی سفید ہو جاتا ہے اور سوئی چبھونے سے خون کی بجائے زردی مائل پانی نکلتا ہے۔ اب علاج ذرا دیر سے ہو گا۔ یاد رکھیں کہ طبِ یونانی اور اسلامی میں دس دس سال کے مریض شفایاب ہوئے ہیں۔

علاج

سب سے پہلے بسیار خوری اور نازک مزاجی کو ختم کر کے صبح شام سیر کریں اور کوشش کریں کہ کام کاج سے پسینہ خوب خارج ہو کیونکہ ؎
اچھی نہیں نزاکتِ احساس اس قدر
شیشہ اگر بنو گے تو پتھر بھی آئے گا
قابض اور تمام بادی اشیاء سے پرہیز اور تمام ایسی اشیاء جن کی رنگت سفید ہو بالکل بند کر دیں۔ احقر نے اس اصول کے تحت کامیاب علاج کیا ہے:
(۱) کھانے کے بعد صبح شام چھ ماشہ جوارش جالینوس ہمراہ تازہ پانی یا عرق بادیان۔ جگر کی اصلاح کے لیے کسی بھی دواخانہ کی کوئی سی دوا کھائی جا سکتی ہے۔
(۲) اجمود تازہ چار ماشہ صبح نہار منہ تازہ پانی سے کھائیں اور روزانہ سوا ماشہ اضافہ کرتے کرتے آٹھ ماشہ تک کریں۔ اب آٹھ ماشہ ایک ماہ تک کھائیں۔ ان شاء اللہ برص بیخ و بن سے اکھڑ جائے گا، برف کا قطعی پرہیز ہونا چاہیئے۔

عمل کا معجزہ حق ہے سکوت و ضبط باطل ہے

سرور میواتی

وطن کی خستگی وجہِ شکستِ بربطِ دل ہے
وطن کی اس تباہی میں ’’انا‘‘ کا ہاتھ شامل ہے
چمن کی رونقیں سب نذرِ صَرصَر ہوتی جاتی ہیں
نہ شادابی گلوں میں ہے نہ گل بانگِ عنادل ہے
شکستہ جام و مینا خشمگیں ساقی سبو خالی
یہ بزمِ ذی شعوراں ہے کہ دیوانوں کی محفل ہے
امنگیں مرثیہ خواں ہیں تمنائیں ہیں پژ مُردہ
حُدی خواں گنگ بیچارہ نہ ناقہ ہے نہ محمل ہے
تلاطم خیز دریا ہے سفینے کا خدا حافظ
ہے نوآموز کشتی باں نہاں نظروں سے ساحل ہے
جمالِ آشتی سے ہے مزاجِ یار بے گانہ
رعونت اُس بتِ طنّار کی فطرت میں شامل ہے
نہ ہو جائیں کہیں دہلیز و در ہی نذرِ ہنگامہ
نہ یہ گرنے پہ آمادہ نہ وہ جھکنے پر مائل ہے
دلِ نازک میں ہو پیدا کہاں سے ہمتِ مرداں
انانیت کی جب اس راہ میں دیوار حائل ہے
ہوا کا رخ پلٹ دے ہمت و تدبیر سے سرور
عمل کا معجزہ حق ہے سکوت و ضبط باطل ہے

تعلیم کے دو طریقے

حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ

لوگوں کو خیر و بھلائی کی تعلیم دینے والے کو دو مختلف طریقوں سے تعلیم دینی پڑتی ہے: ایک یہ کہ لوگوں کو ان باتوں کی تعلیم دے  جو ان کے اخلاق کو درست کریں، اور اقامتِ خیر اور رائے سلیم پر مبنی معاشرتی زندگی بالخصوص ارتفاقِ ثانی و ثالث کے نظام کو اس طریقہ سے قائم کرنے میں مدد دیں جو رائے صواب کے مطابق ہو۔ دوسرے یہ کہ ان کو ان باتوں کی تعلیم دے جن کے ذریعے وہ خدائے بزرگ و برتر کا قرب حاصل کریں اور دارِ آخرت میں ان کی نجات و سعادت کے باعث ہوں۔
ایک دوسری تقسیم کے مطابق خیر کی تعلیم دو طریقوں سے دی جا سکتی ہے:
 (۱) جن باتوں کے ذریعے ان کی دنیا سنورتی ہے اور جن باتوں سے ان کو بارگاہِ الٰہی میں تقرب حاصل ہوتا ہے ان تمام باتوں کی تعلیم دینا، جو زبانی وعظ و تذکیر کے ذریعے بھی دی جا سکتی ہے اور قلم و تحریر کے ذریعے بھی ان مسائل کی اشاعت کی جا سکتی ہے۔
(۲) ان کے باطن میں پاکیزہ حالت پیدا کر دینا جس کو سکینہ اور طمانیتِ قلب کہا جاتا ہے اور جس کی تشریح ہے کہ آدمی کا دل ہر وقت آخرت کی طرف متوجہ رہتا ہے۔ دارِ غرور یعنی دنیا سے اعراض اور بے تعلقی پیدا ہوتی ہے، نیز ان امور سے بھی لا تعلقی کی کیفیت پیدا ہوتی ہے جو دنیاوی زندگی سے نفس کی کُلّی وابستگی کے ذرائع ہیں۔ یہ پاکیزہ حالت معلم کبھی تو مؤثر پند و نصیحت کے ذریعے پیدا کرتا ہے اور کبھی اپنی پاکیزہ مجلس و صحبت اور روحانی توجہ کے ذریعے پیدا کرتا ہے۔
معلم ان دونوں میں سے جو بھی قسم یا طریقۂ تعلیم اختیار کرے اس کے لیے لازمی شرط یہ ہے کہ وہ خود عادل و منصف مزاج اور کامل ترین نمونۂ اخلاق ہو، اور آخرت کی نجات و سعادت کو دنیا اور دنیا کی عیش و عشرت پر ترجیح دینے والا ہو۔
(البدور البازغۃ مترجم)

دینی و عصری تعلیم کے امتزاج کیلئے چند تجاویز

شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنیؒ

(شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمہ اللہ تعالیٰ نے ۲۸۔۲۹ مارچ ۱۹۳۷ء کو علی گڑھ میں آل انڈیا مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کی پچاس سالہ جوبلی کے موقع پر شعبہ مدارس اسلامیہ سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دینی مدارس کے طلبہ کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اپنے خطبۂ صدارت میں مندرجہ ذیل تجاویز پیش فرمائیں جو نصف صدی سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود اپنی افادیت و اہمیت کے لحاظ سے سنجیدہ توجہ کی متقاضی ہیں — ادارہ)
(۱) کچھ کچھ معتد بہ وظائف ان طلبہ کے لیے مقرر کیے جائیں جو عربی سے فراغت حاصل کرنے کے بعد انگریزی پڑھنا چاہیں۔ اور علٰی ہذا القیاس انگریزی مدارس کے ان فارغ شدہ طلبہ کے لیے بھی، جو عربی پڑھنا چاہیں، ان کے لیے بھی وہ وظائف امدادیہ جاری کیے جائیں۔ 
(۲) جس طرح مولوی فاضل وغیرہ کے سند یافتہ صرف زبانِ انگریزی میں گورنمنٹی امتحانات میں شرکت حاصل کر کے کامیابی حاصل کر سکتے ہیں، اسی طرح مسلم یونیورسٹی اپنے یہاں ایسے قوانین بنائے جن کے رو سے عربی مدارس کے فارغ شدہ طلبہ صرف انگریزی زبان کے امتحان میں شامل ہو سکیں۔ ان کے لیے تعلیم کا مستند انتظام کیا جائے کہ ایف اے کے بعد وہ بی اے کا امتحان دے سکیں۔
(۳) عربی مدارس کے طلبہ کے لیے ریلوے وغیرہ سے وہ تمام مراعاتیں ملنی چاہئیں جو انگریزی مدارس کے طلبہ یا ایڈگرفتہ مدارس کے طلبہ کو ملتی ہیں۔ ایجوکیشنل کانفرنس مستند مدارس عربیہ کی ایک فہرست تیار کرے جس کو گورنمنٹ بھی تسلیم کرے۔
(۴) قانون کے امتحانوں میں انگریزی زبان دانی کی شرط نہ رکھی جائے۔ امتحانات ملکی زبانوں میں ہوں۔ علمی استعداد شرط کی جائے مگر حسبٍِ مراتب جن امتحانوں کے لیے میٹرک، انڈر گریجویٹ یا گریجویٹ کی شرط ہے وہ رکھی جائے۔ اور اسی درجہ کے عربی استادوں کو بھی کافی سمجھا جائے۔ عربی نصاب میں اس کے لیے مدارج قائم ہو سکتے ہیں اور بعض ضروری چیزوں کا نصاب میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
(۵) کورٹ کی لینگوئج بدل دی جائے۔ اگر فورًا ہائیکورٹ کی زبان بدلی نہ جا سکے تو وہ انگریزی ہی رہنے دی جائے لیکن دوسرے تمام کورٹوں کی زبان لازمی طور پر بدل دی جائے۔
(۶) رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ میں عربی کی اسناد کو بھی ملازمت کے لیے کافی سمجھا جائے۔
(۷) اوقاف کے تمام ذمہ دار عہدوں کے لیے عربی اور مذہبی تعلیم کی تکمیل ضروری سمجھی جائے اور شرط کر دی جائے۔
(۸) محکمہ منصفی اور ججی (صدارتِ اعلٰی) کے لیے، جس میں قضاء شرعی اور تقسیمِ وراثت وغیرہ کی ضرورت پڑتی ہے، مذہبی تعلیم کی سند ضروری قرار دی جائے۔
(۹) مسلمانوں کو محکمہ قضاء حسبِ طلب عطا کیا جائے جس کا مطالبہ عرصہ دراز سے مسلمان کر رہے ہیں۔
(۱۰) آرٹ اور صنعت کی تعلیم میں عربی تعلیم کے سند یافتوں کو شرکت کا موقع دیا جائے۔
(۱۱) محکمہ ہائے انہار، زراعت، تجارت کی تعلیمات میں عربی تعلیم یافتوں کو شریک کیا جائے۔
(۱۲) یونیورسٹیوں کے وہ طلبہ جو عربی پڑھتے ہیں تھوڑے تھوڑے دنوں کے لیے کسی عربی دینی مدرسہ میں جا کر قیام کیا کریں اور عربی کی اعلٰی تعلیم سے استفادہ کریں۔