قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو سراسر سچائی اور حقانیت پر مبنی ہے اور دنیا کے کسی بھی مذہب اور گروہ کے حقیقت پسند افراد کے لیے قرآن کریم کے بیان کردہ حقائق سے انکار ممکن نہیں ہے۔ قرآن کریم سے قبل بھی مختلف انبیاء کرام علیہم السلام پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کتابیں نازل ہوئی ہیں جن میں بڑی اور مشہور تین ہیں: تورات، زبور اور انجیل۔ یہ کتابیں بھی قرآن کریم کی طرح سچی تھیں لیکن آج اپنی اصل صورت میں نہیں پائی جاتیں کیونکہ ان کے ماننے والوں نے ان میں لفظی و معنوی تحریف کر کے ان کی شکل و صورت کو بگاڑ دیا اور آج ان کے نام پر جعلی اور فرضی کتابیں عیسائیوں کے پاس ’’بائبل‘‘ کے نام سے موجود ہیں۔
ان کتابوں کے ضمن میں ہمارا یہ عقیدہ اور ایمان ہے کہ یہ سب کتابیں خدا تعالیٰ کی طرف سے سچے پیغمبروں پر نازل ہوئی تھیں اور ان میں بیان کردہ امور حقیقت اور سچائی سے عبارت تھے لیکن آج ان میں تحریف ہو چکی ہے اور وہ بعینہٖ محفوظ نہیں رہیں۔ علاوہ ازیں قرآن کریم کے نزول کے ساتھ ہی ان کتابوں کے احکام منسوخ ہو چکے ہیں اور قابلِ عمل نہیں رہے۔ قرآن کریم نے اسی معنی میں ان کتابوں کی تصدیق کی ہے لیکن بعض مسیحی علماء قرآن پاک کی طرف سے کتب سابقہ کی تصدیق کو غلط معنی پہنا کر موجودہ بائبل کو صحیح اور قرآن کریم کی تصدیق شدہ ثابت کرنے کی ناکام کوششوں میں مصروف ہیں۔ چنانچہ مسیحی پادری صاحبان کے اس گینگ کے معروف سرغنہ ڈاکٹر کے ایل ناصر نے اپنی کتاب ’’تصدیق الکتاب‘‘ میں جہاں مرزا ناصر احمد کے چیلنج کا جواب دیا ہے وہاں اس مسئلہ پر بھی سعیٔ لاحاصل کی ہے اور قرآن کریم کی آیات کی خودساختہ تعبیر و تشریح کی ہے، جبکہ اس غیر دیانتدارانہ روش کو خود مسیحی علماء نے بھی ناپسند کیا ہے۔
چنانچہ پادری ناصر صاحب کے ایک ہم نوا وکلف اے سنگھ صاحب رقم طراز ہیں:
’’تبلیغِ دین یہ نہیں ہے کہ دوسروں کے مسلّمات و عقاید یا کتب مقدسہ کی بلاتحقیق من مانی تفسیر کی جائے بلکہ یہ کہ اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کی جائیں۔ بے شک اپنے مذہب کی صداقت و تائید کے لیے دیگر کتب سماوی سے حوالے دینا جائز تو ہے لیکن درست تفسیر اور درست نیت کے ساتھ یہی مذہب کا مقصد ہے اور یہی تبلیغِ دین۔‘‘ (رسالہ ’’فارقلیط ص ۷)
اس عبارت میں وکلف صاحب نے وہ جاندار اصول بیان کیا ہے جس پر پادری صاحبان عمل پیرا نہیں ہو سکتے اور یہی رویہ کے ایل ناصر نے اپنی مذکورہ کتاب میں اپنایا ہے جیسا کہ آگے چل کر معلوم ہو گا۔ ہم ان کے پیش کردہ دلائل میں سے بعض ضروری دلیلوں کا جائزہ لینے سے قبل مندرجہ ذیل امور کی وضاحت ضروری سمجھتے ہیں:
امرِ اول
عیسائیوں میں دو فرقے مشہور ہیں: (۱) کیتھولک (۲) پروٹسٹنٹ۔اسی طرح یہودیوں میں ایک فرقہ اپنے مخصوص اعمال و عقائد کی وجہ سے معروف ہے یعنی فرقہ ’’سامریہ‘‘۔ پروٹسٹنٹ فرقہ اور عام یہودیوں کی بائبل ایک ہے اگرچہ تقسیم میں اختلاف ہے۔ اور کیتھولک بائبل میں سات کتابیں زائد ہیں جبکہ فرقہ سامریہ کی بائبل میں صرف سات کتابیں ہیں۔ یاد رہے کہ یہودی بائبل کے عہدنامہ جدید کو الہامی نہیں مانتے کیونکہ حضرت عیسٰیؑ کی نبوت کا انکارکرتے ہیں۔
اس وضاحت سے معلوم ہو جاتا ہے کہ بائبل اس وقت تین مختلف شکلوں میں موجود ہے۔ اب یہ پادری صاحب ہی جانتے ہوں گے کہ نبی کریمؐ کے زمانے میں کونسی بائبل موجود تھی، قرآن نے کس کی تصدیق کی؟ واضح رہے کہ پادری صاحب کیتھولک بائبل میں موجود سات زائد کتابوں کے الہام کے قائل نہیں ہیں اور فرقہ سامریہ باقی یہود کی بائبل کی تحریف مانتا ہے۔ (بحوالہ الملل والنحل لابن حزم الظاہریؒ)
امرِ دوم
اہلِ کتاب اور اہلِ اسلام کے درمیان اصول تنزیل میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ قرآن پاک کے مطابق تورات اسلام سے تختیوں پر لکھی لکھائی حضرت موسٰیؑ کو کوہِ طور پر ملی۔ انجیل کے بارے میں گو قرآن میں اس قسم کی تصریح نہیں ہے کہ وہ کس صورت میں ان کو ملی البتہ انجیل کے یکبارگی نازل ہونا قرآن سے معلوم ہوتا ہے جبکہ عیسائیوں کے نزدیک یہ اصول معتبر نہیں ہے۔ اسی بات کی وضاحت میں پادری برکت اے خان رقم طراز ہیں:
’’مسیحیوں کا ہرگز یہ عقیدہ نہیں ہے کہ آسمان پر سے لکھی ہوئی توریت کی کتاب، زبور کی کتاب، صحائف الانبیاء اور انجیل مقدس نازل ہوئی تھیں۔‘‘ (اصول تنزیل الکتاب ص ۹)
اور پادری طالب شاہ آبادی ’’سرچشمۂ قرآن‘‘ میں لکھتے ہیں کہ
’’ہم مسیحی کلامِ الٰہی کے کسی خاص زبان میں بصورت کتاب آسمان سے نازل ہونے کے قائل نہیں ہیں۔‘‘ (بحوالہ سہ ماہی ’’ہما‘‘ لکھنو ۔ ص ۴ ۔ اکتوبر دسمبر ۱۹۶۷ء)
اور وکلف اے سنگھ صاحب فرماتے ہیں کہ
’’دراصل حضور المسیح پر کوئی انجیل ہی نازل نہیں ہوئی جیسا کہ اہل اسلام میں مشہور ہے۔‘‘ (رسالہ ’’غلط فہمیاں‘‘ ص ۳۰)
مسیحی علماء کے ان اقوال سے واضح ہو چکا ہے کہ عیسائی تورات کے بارہ میں قرآن کے اصولِ تنزیل کو تسلیم نہیں کرتے۔ اب پادری ناصر صاحب بتلائیں کہ کیا انہوں نے یہ مان لیا ہے کہ ان کے پاس جو تورات ہے وہ وہی ہے جس کی تصدیق قرآن نے کی ہے؟
امرِ سوم
قرآن پاک اور موجودہ بائبل کے درمیان واقعات و عقائد اور بہت سے امور میں اختلاف ہے مثلاً:
(۱) قرآن کریم کی رو سے آدم علیہ السلام کو ان کی زلّت (لغزش) پر ان کی حیات میں ہی معافی مل گئی تھی جبکہ بائبل کہتی ہے کہ یہ گناہ اس وقت دھلا جب عیسٰیؑ المسیح نے سولی پر جان دے دی۔
(۲) قرآن مجید کے نزدیک حضرت موسٰیؑ سے قتل کا فعل عمدًا صادر نہیں ہوا تھا جبکہ بائبل کہتی ہے کہ انہوں نے پہلے ادھر ادھر چیک کیا کہ کوئی اور تو نہیں ہے اس کے بعد اس کو قتل کر کے ریت میں چھپا دیا۔
(۳) قرآن پاک میں نص صریح ہے کہ حضرت عیسٰیؑ مصلوب یا مقتول نہیں ہوئے جبکہ چاروں اناجیل کے آخر میں ’’واقعہ تصلیب‘‘ مذکور ہے۔ اس لحاظ سے قرآن پاک کو بائبل کا مصدق نہیں ہونا چاہیئے، حالانکہ پادری صاحب ابھی تک اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں۔
امرِ چہارم
قرآن حکیم کی تعلیم سراسر اخلاقی ہے اور بے حیائی اور گندگی سے بالکلیۃ محفوظ ہے۔ نہ تو اس میں انبیاء علیہم السلام کے کردار پر کوئی کیچڑ اچھالا گیا ہے اور نہ خدا تعالیٰ کے بارے میں ناقابلِ قبول اور رذیل تصور دیا گیا ہے۔ اس کے برعکس بائبل اس قسم کے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ یہاں ہم نمونے کے طور پر چند واقعات کے حوالجات تحریر کرتے ہیں:
- حضرت نوح ؑ کا شراب پی کر ڈیرے میں برہنہ ہونا۔ (پیدائش ۹ : ۲۰، ۲۱)
- حضرت لوط ؑ کا اپنی دو بیٹیوں سے زنا کرنا۔ (پیدائش ۱۹ : ۳۱ تا ۳۸)
- حضرت داؤدؑ کا اپنی پڑوسن سے زنا کرنا۔ (۲ ۔ سموئیل ۱۱ : ۲ تا ۵۲)
- حضرت سلیمانؑ کی بت پرستی۔ (۱۔ سلاطین ۱۱ : ۱ تا ۶)
- حضرت ہوسیعؑ کا خدا کے حکم سے ایک کنجری سے جماع کرنا۔ (ہوسیع ۱ : ۲، ۳)
- حضرت سمسونؑ کا اجنبی شہر میں ایک کسبی کے ساتھ شب باشی کرنا۔ (قضاۃ ۱۶ : ۱، ۲)
- حضرت یعقوبؑ کے لڑکے یہودا کا اپنی بہو سے زنا کرنا۔ (پیدائش ۳۸ : ۱۵ تا ۱۸)
- خدا کا ملول ہونا۔ (پیدائش ۶ : ۶)
- خدا کا کشتی میں ہار جانا۔ (پیدائش ۳۲ : ۲۳ تا ۳۲)
- خدا کا میدانِ جنگ میں شکست کھانا۔ (قضاۃ ۱ : ۱۹)
- خدا کا کرایہ پر استرا لے کر داڑھی مونڈنا۔ (یسعیاہ ۷ : ۲۰)
- خدا کا لڑکی کو پالنا اور اس پر عاشق ہونا۔ (حزقی ایل ۱۶ : ۱ تا ۴)
- خدا کی دو بدکار عورتوں سے یاری۔ (حزقی ایل ۲۳ : ۱ تا ۲۱)
- خدا کی کمزوری و بیوقوفی (کرنتھیوں ۱ : ۲۵)
یہ تمام حوالہ جات بائیبل کے تقدس کے ڈھول کا پول کھول کر رکھ دیتے ہیں۔ تو گویا پادری ناصر نے یہ دعوٰی کر کے کہ قرآن کریم بائبل کا مصدق ہے قرآن پاک پر صریح بہتان لگایا ہے۔
امرِ پنجم
قرآن پاک کے بارے میں ہمارا عقیدہ ہے کہ یہ لفظ بہ لفظ صحیح اور اصلی حالت میں بغیر کسی تغیر و تبدل کے ہم تک پہنچا ہے اور اس کی کوئی سورت یا آیت یا کوئی لفظ یا حرف ضائع نہیں ہوا۔ اس کے برعکس بائبل میں مختلف مقامات پر چند ایسی کتابوں کا ذکر ملتا ہے جو گم شدہ ہیں اور آج نہیں پائی جاتیں۔ یہاں پر ان کی کتابوں کی فہرست دی جاتی ہے۔
(۱) کتاب عہد نامہ موسٰیؑ (خروج ۲۴ : ۷)
(۲) کتاب جنگ نامہ موسٰیؑ (گنتی ۲۱ : ۱۴)
(۳) کتاب السییر (۲۔ سموئیل ۱ : ۱۸ ۔ ویشوع ۱۰ : ۱۳)
(۴) کتاب یاحو پیغمبر بن ضانی (۲۔ تواریخ ۲۰ : ۳۴)
(۵) کتاب شمعیاہ نبی (۲۔ تواریخ ۱۲ : ۱۵)
(۶) کتاب اخیاہ نبی (۲۔ تواریخ ۹ : ۲۹)
(۷) کتاب ناتن نبی (۲۔ تواریخ ۹ : ۲۹)
(۸) کتاب مشاہدات عید و غیب بینی (۲۔ تواریخ ۹ : ۲۹)
(۹) کتاب اعمال سلیمانؑ (۱۔ سلاطین ۱۱ : ۴۱)
(۱۰) کتاب مشاہدات یسعیاہ (۲۔ تواریخ ۳۲ : ۳۲)
(۱۱) کتاب اشعیاء بن عاموس (۲۔ تواریخ ۲۶ : ۲۲)
(۱۲) سموئیل نبی کی تاریخ (۱۔ تواریخ ۲۹ : ۲۹، ۳۰)
(۱۳) سلیمانؑ کی زبور (۱۔ سلاطین ۴ : ۳۲، ۳۳)
(۱۴) کتاب خواص نباتات و حیوانات سلیمانؑ کی (۱۔ سلاطین ۴ : ۳۲)
(۱۵) کتاب اقبال سلیمان (۱۔ سلاطین ۴ : ۳۲)
(۱۶) جادو غیب بین کی تاریخ (۱۔ تواریخ ۲۹ : ۲۹)
(۱۷) مرثیہ ہرسیاہ (۲۔ تواریخ ۳۵ : ۲۵)
(ماخوذ از ’’نوید جاوید‘‘ ص ۱۳۷ و ۱۳۸)
ہم پادری صاحب سے یہ پوچھنے کا حق ضرور رکھتے ہیں کہ یہ کتابیں کہاں گئیں اور کیوں گم ہوئیں اور نبی کریمؐ کے زمانے میں یہ بھی مروّج تھیں یا نہیں؟ اور کیا قرآن پاک نے ان کی تصدیق بھی کی ہے یا نہیں؟ چنانچہ وہ فرماتے ہیں کہ
(۱) یقرؤن الکتٰب من قبلک۔ (یونس ۹۴)۔ ترجمہ: ’’پڑھتے ہیں کتاب تجھ سے پہلے والی‘‘۔ میں الکتاب سے مراد (پوری) بائبل ہے اور اس سے موجودہ بائبل کی آنحضرت[ کے زمانے میں موجودگی کا پتہ چلتا ہے کیونکہ قراءت موجودہ و حاضر کتاب کی ہوتی ہے۔ (ملخصًا)
اس آیت میں ’’الکتاب‘‘ سے مراد پادری صاحب نے جو بائبل یعنی توریت، صحائف، زبور، اناجیل اور خطوط وغیرہ لیا ہے وہ غلط ہے، آیت کے سیاق و سباق سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہاں الکتاب سے مراد صرف توریت ہے نہ کہ ساری بائبل۔
(۲) کے ایل ناصر صاحب نے قرآن کریم کی آیت ’’من اھل الکتاب امۃ قائمۃ یتلون آیات اللہ‘‘ کو نقل کر کے ’’آیات اللہ‘‘ سے مراد بائبل لیا ہے اور کہا ہے کہ ’’امۃ قائمۃ‘‘ سے مراد وہ لوگ ہیں جو مراقبہ میں قابلِ نمونہ تھے۔ جبکہ اس آیت میں آیات اللہ سے مراد قرآن پاک ہے اور امۃ قائمۃ ایمان لانے والے اہلِ کتاب کو کہا گیا ہے، اور پادری صاحب نے حسبِ عادت تحریفِ معنوی کرتے ہوئے اس آیت کی غلط تفسیر کی ہے۔
(۳) سورہ نساء کی آیت ’’اٰمنوا باللہ ورسولہ والکتٰب الذی نزل علٰی رسولہ والکتٰب الذی انزل من قبل‘‘ کو نقل کر کے کہتے ہیں کہ بائبل پر ایمان لانا ضروری ہے اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ بائبل کتنی ضروری ہے۔ لیکن پادری صاحب نے غور نہ کیا کہ یہاں ’’الکتٰب‘‘ سے مراد اگرچہ تمام انبیاء کی کتابیں ہیں لیکن نزول کا لفظ بھی ساتھ مذکور ہے جس سے اہلِ اسلام کا وہ عقیدہ ظاہر ہوتا ہے جس کا پادری برکت صاحب نے سختی سے انکار کیا ہے یعنی توریت کا لکھی لکھائی خاص زبان میں نزول۔
(۴) سورہ مائدہ کی آیت ۶۸ یوں ہے ’’یا اھل الکتٰب لستم علٰی شیء حتٰی تقیموا التورٰۃ والانجیل‘‘ اس آیت کی وجہ سے پادری صاحب کا یہ استدلال باطل ہو جاتا ہے کہ ’’الکتٰب‘‘ سے مراد قرآن پاک میں بائبل ہے کیونکہ یہاں اہلِ کتاب کے مقابلے میں تورات اور انجیل کا لفظ لایا گیا ہے یعنی کتاب سے مراد توریت و انجیل ہے نہ کہ موجودہ بائبل، اور انجیل بھی وہ جو ایک تھی نہ کہ چار مختلف انجیلیں۔
یہ وہ آیات تھیں جن سے پادری صاحب نے بائیبل کا حضور[ کے زمانہ میں موجود و مروّج ہونا ثابت کیا ہے اور آپ نے دیکھا کہ انہوں نے بعض آیات کی تفسیر میں فاش غلطیاں کیں۔ ان کے علاوہ بھی انہوں نے متعدد آیات نقل کی ہیں۔ قرآنی آیات کو نقل کرنے کے بعد انہوں نے چند احادیث نقل کی ہیں جن سے انہوں نے بائیبل کا آنحضرتؐ کے زمانے میں موجود ہونا ثابت کیا ہے، آئیے ذرا ان پر بھی نظر ڈال لی جائے۔
پادری صاحب موصوف نے مشکٰوۃ شریف کے حوالہ سے صحیح بخاری کی ایک روایت نقل کی ہے جس میں ہے کہ اہل کتاب تورات کو عبرانی میں پڑھتے اور عربی میں اس کی تفسیر کرتے تھے۔
ہمارے نزدیک اس آیت سے موجودہ بائبل کا اس زمانے میں وجود کا استدلال کرنا جہالت ہے اور پادری صاحب خود بھی اس کتاب کے ص ۴۲ پر یہ تفسیر فرما چکے ہیں کہ تورات سے مراد پانچ صحیفے ہیں یعنی پیدائش، خروج، احبار، گنتی اور استثناء اور مسیحیوں کے نزدیک ان پانچ صحائف کو بائبل نہیں کہا جاتا۔ اسی طرح مشکٰوۃ ہی میں یہ روایت ہے کہ حضورؐ نے یہود و نصارٰی کے تورات و انجیل کے پڑھنے کی طرف اشارہ کیا ہے، اور دوسری حدیث یہ ہے کہ حضرت عمرؓ نے آنحضرتؐ کے سامنے تورات پڑھی تو حضورؐ ناراض ہوئے۔ جبکہ پادری صاحب ان احادیث سے جن میں توراۃ کا لفظ ہے یہ استدلال کر رہے ہیں کہ عبرانی بائبل اور عربی بائبل ہی موجود تھی۔ اور اسی طرح تورات سے مراد بائبل لیتے ہوئے انہوں نے چند آیات نقل کی ہیں جن میں خدا کی جانب حضرت موسٰیؑ کو کتاب دینے اور ان پر نازل کرنے کا ذکر ہے۔ اسی طرح وہ آیات بھی ذکر کی ہیں جن میں زبور اور انجیل کے بارے میں اتارنے اور انبیاء کو دینے کا تذکرہ ہے۔ الغرض پادری صاحب کی یہ کتاب غلطیوں اور خرافات کا مجموعہ ہے۔ کتاب کے ص ۵۱ تک تو قرآنی آیات کے بیان اور ان کی من مانی تفسیر کا سلسلہ جاری ہے جبکہ اس سے آگے انہوں نے چند روایات و اقوال کو نقل کر کے اپنے زعم میں چونکا دینے کی کوشش کی ہے۔
امام رازیؒ کی تفسیر کبیر اور امام سیوطیؒ کی تفسیر درمنشور سے انہوں نے چند روایات کو نقل کیا ہے جن میں صراحت ہے کہ توریت و انجیل کے حروف و الفاظ بدلے نہیں گئے۔ یہ بھی پادری صاحب کی مغالطہ نوازی ہے کیونکہ مفسرین کسی آیت کی تفسیر میں جو کچھ نقل کرتے ہیں وہ سب ان کے نزدیک صحیح نہیں ہوتا۔ مفسرین کا اسلوب یہ ہے کہ وہ کسی آیت کے ضمن میں جتنے اقوال ان کے علم میں ہوتے ہیں وہ سب نقل کر دیتے ہیں جو بعض اوقات متضاد بھی ہوتے ہیں۔ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کسی مفسر نے جو بات کسی آیت کی تفسیر میں نقل کی ہے وہ اس کے نزدیک صحیح بھی ہے۔ چنانچہ جناب محمد اسلم رانا اس کی وضاحت میں یوں لکھتے ہیں:
’’قرآن کریم کے قدیم مفسرین کسی مسئلہ پر لکھتے وقت موافق و مخالف دونوں اقسام کے اقوال بلا کم و کاست بیان کر دیتے تھے۔ وہ جس نظریہ کو درست سمجھتے اس کے دلائل زیادہ پھیلا کر لکھتے، بصورتِ دیگر اپنی رائے کا برملا اظہار آخر میں کرتے۔ تفاسیر میں غلط، صحیح، رطب، یابس، ہر قسم کے اقوال و آراء اور روایات مرقوم ہوتی ہیں۔ مفسر درج ضرور کرتا ہے لیکن ان سب کو صحیح نہیں سمجھتا۔‘‘ (طب و صحت ص ۱۴)
ہاں شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کا ایک قول پادری صاحب نے نقل کیا ہے، وہ یہ ہے:
’’اما تحریف لفظی در ترجمہ توریت و امثال آں بکار می بردند نہ دراصل توریت پیش ایں فقیہہ ایں چنیں محقق شد و ھو قول ابن عباسؓ‘‘۔ (الفوز الکبیر ص ۷)
ترجمہ: ’’تحریف لفظی تو توریت اور اس جیسی دوسری کتابوں کے ترجمہ میں کرتے تھے نہ کہ اصل توریت میں، میرے نزدیک یہی محقق بات ہے اور یہ ابن عباسؓ کا قول ہے۔‘‘
پادری صاحب نے ترجمہ سے مراد تفسیر لیا ہے اور شاہ صاحبؒ کے قول سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ صرف تحریف معنوی کے قائل ہیں حالانکہ شاہ صاحبؒ کا یہ مسلک نہیں ہے کیونکہ وہ خود دوسرے مقام پر ارشاد فرماتے ہیں:
’’ضلالت ایشاں تحریف احکام توریت بود خواہ تحریف لفظی باشد خواہ تحریف معنوی و کتمان آیات و افترا بالحاق آنچہ ازاں بآں۔‘‘
ترجمہ: ’’یہود کی گمراہی کا بیان یہ ہے کہ یہ توریت کے احکام کی تحریف کرتے تھے خواہ تحریف لفظی ہو خواہ معنوی (یعنی دونوں طریقوں سے) اور آیات (یعنی احکام) چھپاتے تھے اور وہ چیز اس میں الحاق کرتے تھے جو اس میں سے نہیں ہے۔‘‘
اور آگے جا کر فرماتے ہیں کہ
’’جواب اشکال اوّل برتقدیر تسلیم آنکہ کلام حضرت عیسٰی باشد نہ محرف آنست کہ لفظ ابن در زمان قدیم بمعنی محبوب و مقرب و مختار بودہ است۔‘‘ (ص ۱۰)
ترجمہ: ’’پہلے اشکال کا جواب اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ بیٹے کا لفظ حضرت عیسٰیؑ ہی کا ہے اور محرف نہیں ہے، یہ ہے کہ بیٹے کا لفظ پرانے زمانہ میں محبوب، مقرب اور پسندیدہ کے معنی میں ہوتا تھا۔‘‘
اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ پادری صاحب حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی طرف جس بات کو منسوب کر رہے ہیں وہ درست نہیں ہے۔ باقی رہی وہ عبارت جس میں ابن عباسؓ کا حوالہ ہے تو پادری صاحب کو یہ پتہ ہونا چاہیے کہ تورات جن الواح پر لکھی ہوئی اتری تھی ان میں تو تحریف ناممکن تھی یعنی ان میں الفاظ کی زیادتی اور کمی وغیرہ ممکن نہیں تھی، لہٰذا جب وہ اس کو دوسری زبانوں میں ترجمہ کرتے تھے تو تحریف لفظی کر دیا کرتے تھے اور یہی شاہ صاحبؓ کا مطلب ہے۔ پادری صاحب بتائیں کہ آپ کیتھولک کلیسا سے کیوں الگ ہوئے؟ کیونکہ ان کے پوپ اور پادری خود ہی سب کچھ کرتے تھے اور عوام کو کتاب مقدس پڑھنے سے روکتے تھے۔ آپ جو بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں کہ ہمارے پاس اصل عبرانی بائبل ہے تو ہمیں عبرانی زبان کو صحیح طور سے سمجھنے والوں کی تعداد گنوا دیں۔ اور ابن عباسؓ کی طرف بھی وہ قول منسوب نہیں کیا جا سکتا جو پادری صاحب شاہ ولی اللہؒ کے قول سے اخذ کیے بیٹھے ہیں کیونکہ بخاری شریف میں عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنھم سے یہ روایت موجود ہے:
ان عبد اللہ بن عباس قال یا معشر المسلمین کیف تسألون اھل الکتاب عن شیء وکتابکم الذی انزل اللہ علّی نبیکم احدث الاخبار باللہ محضًا لم یثب وقد حدثکم اللہ ان اھل الکتاب قد بدّلوا من کتب اللہ وغیروا فاکتبوا بایدیھم الکتب قالوا ھو من عند اللہ لیشتروا بہ شفًا قلیلًا اولا ینھاکم ما جاءکم من العلم ان مسألتھم ولا واللہ ما رأینا اجلًا منھم یسألکم عن الذی انزل علیکم۔ (بخاری ج ۲ ص ۱۱۲۲)
تو اس حدیث میں صراحت ہے کہ ابن عباسؓ نے لوگوں کو منع کیا کہ وہ اہلِ کتاب سے کوئی سوال نہ کریں کیونکہ قرآن کے مطابق انہوں نے تحریف و تبدیلی کی۔
قارئین! اس جامع بحث میں ہم نے پادری کے ایل ناصر کے اس دعوٰی کا تاروپود بکھیر دیا ہے کہ قرآن پاک موجودہ بائبل کا تصدیق کنندہ ہے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ ان کے پیش کردہ دلائل بھی جواب کے محتاج نہیں تھے لیکن ہم نے پادری صاحب کے پیش کردہ ضروری دلائل پر قلم اٹھایا تاکہ وہ خواہ مخواہ کی غلط فہمی میں مبتلا نہ رہیں۔ ہمارا مقصد قطعًا توریت و انجیل کی اہانت نہیں ہے کیونکہ قرآن مجید میں ان کتابوں کو نور و ہدایت کے القاب دیے گئے ہیں لیکن جیسا کہ مقالہ سے واضح ہے کہ پادری صاحب کے اس زعم کو ہم نے توڑا ہے کہ قرآن پاک موجودہ بائبل کی تصدیق کرتا ہے اور اس سلسلے میں ہم نے خالصتًا انصاف سے کام لیا ہے، فللہ الحمد لٰی ذٰلک۔
مرد اور عورت دونوں نسل انسانی کے ایسے ستون ہیں کہ جن میں سے ایک کو بھی اس کی جگہ سے سرکا دیا جائے تو انسانی معاشرہ کا ڈھانچہ قائم نہیں رہتا۔ اللہ رب العزت نے حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہا السلام کو اپنی قدرت خاص سے پیدا فرمایا اور ان دونوں کے ذریعے نسل انسانی کو دنیا میں بڑھا پھیلا کر مرد اور عورت کے درمیان ذمہ داریوں اور فرائض کی فطری تقسیم کر دی، دونوں کا دائرہ کار متعین کر دیا اور دونوں کے باہمی حقوق کو ایک توازن اور تناسب کے ساتھ طے فرما دیا۔
مرد اور عورت کے درمیان حقوق و فرائض کی اس تقسیم کا تعلق تکوینی امور سے بھی ہے جو نسل انسانی کی تخلیق کے ساتھ ہی طے کر دیے گئے ہیں اور ان میں انسان کوشش بھی کرے تو کسی قسم کی تبدیلی نہیں کر سکتا۔ مثلاً مرد کو اللہ تعالیٰ نے قوت و جاہ، جرأت و بہادری اور سختی و مضبوطی کا پیکر بنایا ہے جبکہ عورت اپنی جسمانی ساخت کے لحاظ سے اس کے برعکس ہے، اس میں ملائمت ہے، انفعال ہے، کمزوری ہے اور کسی مضبوط پناہ کے حصار میں رہنے کا فطری جذبہ ہے۔ یہ ایک ایسا واضح فرق ہے جو زندگی کے تمام افعال و احوال میں جاری و ساری نظر آتا ہے اور جسے کوئی منطق، کوئی سائنس اور کوئی خودساختہ معاشرتی فلسفہ تبدیل نہیں کر سکتا۔
نسل انسانی کی نشوونما کے لیے خالقِ کائنات نے مرد اور عورت کے جنسی ملاپ کو ذریعہ بنایا اور اس ملاپ کے تسلسل کو قائم رکھنے کے لیے دونوں میں محبت کا جذبہ پیدا کیا۔ مرد اور عورت کے درمیان محبت کے اظہار میں اللہ تعالیٰ نے مرد کی بالادستی اور عورت کے انفعال کے فطری فرق کو قائم رکھا اور ملاپ میں بھی مرد کو بالادستی بخشی۔ یہ بھی ایسا واضح اور محسوس فرق ہے جس کا نہ انکار کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی منطقی یا سائنسی فارمولا کے ذریعے اسے بدلا جا سکتا ہے۔
نسل انسانی کو بڑھانے کے مشترکہ عمل میں بھی اللہ رب العزت نے دونوں کے فرائض الگ الگ متعین کر دیے۔ عورت کے ذمے بچہ کے بوجھ کو پیٹ میں اٹھانا، پیدائش کے بعد اس کو گود میں لینا اور ہوش سنبھالنے تک اس کی تمام چھوٹی موٹی ضروریات و حوائج خود سرانجام دینا ہے۔ جبکہ مرد کو ان تینوں کاموں سے رب العزت نے آزاد رکھا ہے۔ ظاہر ہے کہ باقی امور اس کے ذمہ ہیں کہ وہ بچہ اور اس کی ماں کے اخراجات کا بوجھ اٹھائے گا، ان کی حفاظت و نگرانی کرے گا اور معاشرہ کے ساتھ ان کے رابطہ و تعلق کا ذریعہ بنے گا۔ یہ فرق اور تقسیم بھی ایسی ٹھوس ہے کہ تبدیلی اور تغیر کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
یورپی معاشرت نے عورت کی آزادی اور اس کے احترام کی بحالی کے نام سے اس فرق کو مٹانے کی سرتوڑ کوشش کی ہے لیکن اس کا نتیجہ اس کے سوا کچھ نہیں نکلا کہ عورت کی ذمہ داریوں اور فرائض میں اضافہ ہوگیا ہے۔ عورت خود کو بچے کی پیدائش اور پرورش کے بوجھ سے تو آزاد نہیں کرا سکی البتہ اخراجات کی کفالت کی ذمہ داری میں مرد کے ساتھ شریک ہوگئی ہے۔ اس طرح دنیا بھر میں یورپی معاشرت کے پیروکار مردوں نے مزید کسی ذمہ داری کا بوجھ اپنے اوپر لیے بغیر اپنی ذمہ داریوں کا نصف بوجھ بھی عورت پر ڈال دیا ہے اور ناقص العقل سادہ عورت آزادیٔ مساوات اور زندگی کی دوڑ میں کندھے سے کندھا ملا کر چلنے کے خوشنما اور دلفریب نعروں سے دھوکا کھا کر دوہری ذمہ داریوں کے چکر میں پھنس کر رہ گئی ہے۔
اسلام ایک فطری نظامِ حیات ہے جو اسی خالق و مالک نے عطا فرمایا ہے جس نے مرد اور عورت کے درمیان فرائض و حقوق کی تکوینی تقسیم کی ہے، اسی لیے اسلام کے شرعی اور قانونی احکام کی بنیاد بھی اس تکوینی تقسیم کے فطری تقاضوں پر ہے۔ اور اس وقت دنیا میں اسلام ہی ایک ایسا نظام ہے جو عورت اور مرد کے درمیان حقوق و فرائض کی شرعی اور قانونی تقسیم دونوں کے تخلیقی فرق اور تکوینی ذمہ داریوں کے عین مطابق کرتا ہے اور اس کے ذریعے ایک خوشحال، پرسکون اور پر امن معاشرہ کی ضمانت دیتا ہے۔ ورنہ بیشتر مروجہ معاشرتی اقدار کی بنیاد اس فطری اور تکوینی فرق سے فرار اور انحراف پر ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ فرق تو کسی سے مٹ نہیں پا رہا مگر اس سے انحراف اور فرار پر مبنی معاشرتی بے چینی، نفسیاتی پیچیدگیوں اور ذہنی الجھنوں میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
یورپی تہذیب و معاشرت نے آزادی اور مساوات کے نام پر جہاں عورت کو اس غلط فہمی میں ڈالا کہ ملازمت کرنا اس کا حق ہے، حالانکہ ملازمت حق نہیں ذمہ داری ہے، اسی طرح حکمرانی اور قیادت کو حقوق کی فہرست میں شامل کر کے عورت کو اس دوڑ میں بھی شریک کر دیا۔ جبکہ اسلام اس فلسفہ کو تسلیم نہیں کرتا، اسلام یہ کہتا ہے کہ گھر کے اخراجات فراہم کرنے کے لیے ملازمت کرنا حقوق سے نہیں بلکہ ذمہ داریوں سے تعلق رکھتا ہے، اور مرد اور عورت کے درمیان ذمہ داریوں کی فطری تقسیم میں یہ ذمہ داری مرد کے کھاتے میں ہے۔ اسی طرح حکمرانی اور قیادت کا شمار بھی حقوق میں نہیں بلکہ ذمہ داریوں اور فرائض میں ہوتا ہے اور اسلام عورت کے طبعی اور فطری فرائض اور ذمہ داریوں سے زائد کسی ذمہ داری اور فرض کا بوجھ اس کے نازک کندھوں پر نہیں ڈالنا چاہتا۔ یہی وجہ ہے کہ حکمرانی کی ذمہ داری مرد پر ڈالی گئی ہے اور عورت کو اس سے مستثنیٰ کر دیا گیا ہے۔ انسانی معاشرت کے اسلامی فلسفہ اور آج کے مروجہ نظریات میں یہی بنیادی فرق ہے کہ اسلام حکمرانی کو ذمہ داری قرار دیتا ہے جبکہ موجودہ سیاسی نظاموں نے اسے حقوق میں شامل کر کے اس خودساختہ حق کے لیے مختلف انسانی طبقات کو مسابقت کی دوڑ میں اس قدر الجھا دیا گیا ہے کہ حقوق و فرائض کے درمیان کوئی خطِ امتیاز باقی نہیں رہا۔
اس پس منظر میں جب ہم عورت کی حکمرانی کے بارے میں اسلام کے احکام پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں ان لوگوں کی منطق میں کوئی وزن دکھائی نہیں دیتا جو مغرب کی معاشرتی اقدار کو اپنے معاشرے پر منطبق کرنے کے شوق میں نہ صرف مرد اور عورت کے درمیان مساوات اور عورت کی نام نہاد آزادی کا پرچار کر رہے ہیں بلکہ اس کے لیے اسلام کے واضح احکام کو توڑ موڑ کر پیش کرنے اور انہیں خودساختہ معانی پہنانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ چنانچہ ان دنوں اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ایک خاتون کی حکمرانی کے حوالہ سے یہ بحث چل رہی ہے کہ شرعاً کسی عورت کو حکمران بنانا درست ہے یا نہیں۔ اس سلسلہ میں قرآن و سنت اور اجماع امت کی واضح تصریحات کے باوجود کچھ حضرات اس کوشش میں مصروف دکھائی دیتے ہیں کہ کہیں نہ کہیں سے عورت کی حکمرانی کے جواز میں دلائل کشید کیے جائیں تاکہ مغربی تہذیب و معاشرت کی پیروی کے شوق اور عمل کو شرعی جواز کی چھتری بھی فراہم کی جا سکے۔ اسی لیے یہ ضروری محسوس ہوا کہ عورت کی حکمرانی کے بارے میں شرعی احکام کو وضاحت کے ساتھ قارئین کے سامنے لایا جائے اور ان خودساختہ دلائل کی حقیقت بے نقاب کر دی جائے جو اس مسلمہ اجماعی مسئلہ کو مشکوک بنانے کے لیے مختلف حلقوں کی طرف سے پیش کیے جا رہے ہیں۔
اسلام میں کسی بھی مسئلہ کے شرعی ثبوت کے لیے مسلمہ اصول چار ہیں جنہیں دلیل کے طور ر پیش کیا جاتا ہے۔
- قرآن کریم
- سنتِ نبویؐ
- اجماع امت
- اجتہاد و قیاس
ہم ترتیب کے ساتھ اپنے اس دعویٰ کے ثبوت میں ان چاروں دلائل کو پیش کریں گے کہ کسی عورت کو حکمران بنانا شرعاً جائز نہیں ہے۔
(۱) قرآن کریم
اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں بہت سے مقامات پر مرد اور عورت کے درمیان حقوق و فرائض کی اس فطری تقسیم کو واضح کا ہے۔ ان سب آیات کریمہ کو اس موقف کے حق میں منطقی استدلال کے ساتھ پیش کیا جا سکتا ہے لیکن ہم ان میں سے دو آیات کریمہ کا حوالہ دیں گے۔
(1) حکمرانی کا تصور اسلام میں ’’خلافت‘‘ کا ہے کہ انسانی معاشرہ میں کوئی بھی حکمران خودمختار نہیں بلکہ حکمرانی میں خدا تعالیٰ کا نائب ہے۔ اصل حکمرانی اللہ تعالیٰ کی ہے اور انسان اس کا نائب ہے جو اپنی مرضی سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے احکام و قوانین کے مطابق انسانی معاشرہ پر حکومت کرتا ہے، اسی کا نام ’’خلافت‘‘ ہے۔ جب تک انبیاء کرام علیہم السلام کی تشریف آوری کا سلسلہ جاری رہا، خلافت کا یہ منصب زیادہ تر حضرات انبیاء کرامؑ ہی کے پاس رہا۔ چنانچہ امام بخاریؒ نے کتاب الامارۃ میں حضرت ابوہریرہؓ سے ایک روایت نقل کی ہے جس میں جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حقیقت کا اظہار یوں فرمایا ہے کہ
’’بنی اسرائیل میں سیاسی قیادت کا فریضہ انبیاء کرام علیہم السلام سرانجام دیتے تھے، جب ایک نبیؑ دنیا سے چلے جاتے تو دوسرے نبیؑ ان کی جگہ لے لیتے۔ لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا البتہ میرے بعد خلفاء ہوں گے۔‘‘
یعنی خلافت و حکومت دراصل انبیاء کرامؑ کی نیابت کا نام ہے اور اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں صراحت کر دی ہے کہ دنیا میں جتنے بھی پیغمبر بھیجے گئے وہ سب مرد تھے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْ اِلَیْھِمْ۔
’’اور ہم نے آپؐ سے قبل رسول بنا کر نہیں بھیجا مگر صرف مردوں کو جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے۔‘‘
اس لیے جب نبی صرف اور صرف مرد آئے ہیں تو ان کی نیابت بھی صرف مردوں میں ہی محدود رہے گی۔
(2) اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:
اَلرِّجَالُ قَوَّامُوْنَ عَلَی النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰەُ بَعْضَھُمْ عَلٰی بَعْضٍ۔
’’مرد حکمران ہیں عورتوں پر، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔‘‘
یہ آیت کریمہ اس بارے میں صریح ہے کہ جہاں مردوں اور عورتوں کا مشترکہ معاملہ ہوگا وہاں حکمرانی مردوں ہی کے حصہ میں آئے گی اور یہی وہ فضیلت ہے جو اللہ تعالیٰ نے مرد کو عورت پر عطا فرمائی ہے۔
اس آیت کریمہ کے بارے میں بعض حضرات کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ آیت کریمہ خاندانی احکام و قوانین کے سیاق و سباق میں ہے اس لیے اس سے مراد مطلق حکمرانی نہیں بلکہ خاندان کی سربراہی ہے جو ظاہر ہے کہ مرد ہی کے پاس ہے۔ لیکن ان کا یہ استدلال دو وجہ سے غلط ہے۔ ایک اس وجہ سے کہ عورت کی حکمرانی کے بارے میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے واضح ارشادات کی روشنی میں جب ہم اس آیت کریمہ کا مفہوم متعین کریں گے تو اسے خاندان کی سربراہی تک محدود رکھنا ممکن نہیں رہے گا بلکہ خاندان کی سربراہی کے ساتھ مطلق حکمرانی بھی اس کے مفہوم میں شامل ہوگی۔ یہ ارشادات نبویؐ ہم آگے چل کر نقل کر رہے ہیں۔ دوسرا اس وجہ سے کہ امت کے معروف مفسرین کرامؒ نے اس آیت کریمہ کی جو تفسیر کی ہے اس میں علی الاطلاق ہر قسم کی حکمرانی عورت کے لیے نفی کی ہے۔ چنانچہ حافظ ابن کثیرؒ اسی آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ:
ولھذا کانت النبوۃ مختصۃ بالرجال وکذلک الملک الاعظم وکذا منصب القضاء وغیر ذلک۔ (تفسیر ابن کثیر ج ۱ ص ۴۹۱)
’’اور اسی وجہ سے نبوت مردوں کے ساتھ مخصوص ہے اور اسی طرح حکومت اور قضا کا منصب بھی انہی کے لیے خاص ہے۔‘‘
حافظ ابن کثیرؒ کے علاوہ امام رازیؒ (تفسیر کبیر ج ۱۰ ص ۸۸)، امام قرطبیؒ (ص ۱۶۸ ج ۵)، علامہ سید محمود آلوسیؒ (روح المعانی ص ۵ ص ۲۳) اور قاضی ثناء اللہ پانی پتیؒ (مظہری ج ۲ ص ۹۸) نے اس آیت کی یہی تفسیر لکھی ہے۔ اور ان کے علاوہ بھی کم و بیش تمام مفسرین نے اس آیت کریمہ سے عورت کی حکمرانی کے عدم جواز پر استدلال کیا ہے۔
(۲) حدیث رسولؐ
جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بہت سے ارشادات میں اس امر کی صراحت کی ہے کہ عورت کی حکمرانی نہ صرف عدم فلاح اور ہلاکت کا موجب ہے بلکہ مردوں کے لیے موت سے بدتر ہے۔ ان میں سے چند احادیث ذیل میں درج کی جا رہی ہیں:
(1) امام بخاریؒ کتاب المغازی میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس بات کی خبر دی گئی کہ فارس کے لوگوں نے کسریٰ کی بیٹی کو اپنا حکمران بنا لیا ہے تو آنحضرتؐ نے فرمایا:
لَنْ یُّـفْلِحَ قَوْم وَّلَوْ اَمْرَھُمْ اِمْرَاَۃً۔
’’وہ قوم ہرگز کامیاب نہیں ہوگی جس نے اپنا حکمران عورت کو بنا لیا۔‘‘
(2) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’جب تمہارے حکمران تم میں سے اچھے لوگ ہوں، تمہارے مالدار سخی ہوں اور تمہارے معاملات باہمی مشورہ سے طے پائیں تو تمہارے لیے زمین کی پشت اس کے پیٹ سے بہتر ہے۔ اور جب تمہارے حکمران تم میں سے برے لوگ ہوں، تمہارے مال دار بخیل ہوں اور تمہارے معاملات عورتوں کے سپرد ہو جائیں تو تمہارے لیے زمین کا پیٹ اس کی پشت سے بہتر ہے۔‘‘ (ترمذی ج ۲ ص ۵۲)
(3) امام حاکمؒ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے اور اس کی سند کو امام ذہبی نے صحیح تسلیم کیا ہے کہ جناب رسول اکرمؐ کی خدمت میں مسلمانوں کا ایک لشکر فتح و نصرت حاصل کر کے آیا اور اپنی فتح کی رپورٹ پیش کی۔ آنحضرتؐ نے مجاہدین سے جنگ کے احوال اور ان کی فتح کے ظاہری اسباب دریافت کیے تو آپؐ کو بتایا گیا کہ کفار کے لشکر کی قیادت ایک خاتون کر رہی تھی۔ اس پر جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ھَلَکَتِ الـرِّجَالُ حِـیْنَ اَطَاعَتِ النِّسَآءَ۔ (مستدرک حاکم ج ۴ ص ۲۹۱)
’’مرد جب عورتوں کی اطاعت قبول کریں گے تو ہلاکت میں پڑیں گے۔‘‘
(4) علامہ ابن حجر الہتیمیؒ حضرت ابوبکرؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ جناب نبی اکرمؐ کی مجلس میں ملکہ سبا بلقیسؓ کا ایک دفعہ ذکر ہوا تو آنحضرتؐ نے فرمایا:
لَا یُـقْدِسَ اللّٰہؑ اُمَّـۃً قَادَتْـھُمْ اِمْـرَاَۃ۔ (مجمع الزوائد ج ۵ ص ۲۱۰)
’’اللہ تعالیٰ اس قوم کو پاکیزگی عطا نہیں فرماتے جس کی قیادت عورت کر رہی ہو۔‘‘
(5) امام طبرانیؒ حضرت جابر بن سمرۃؓ سے نقل کرتے ہیں کہ جناب نبی اکرمؐ نے فرمایا:
لَنْ یُّـفْلِحَ قَوْم یَمْلِکُ رَاْبَـھُمْ اِمْرَاَۃ۔ (مجمع الزوائد ج ۵ ص ۲۰۹)
’’وہ قوم ہرگز کامیاب نہیں ہوگی جن کی رائے کی مالک عورت ہو۔‘‘
(6) امام ابوداؤد طیاسیؒ حضرت ابوبکرؓ سے نقل کرتے ہیں کہ جناب رسالت مآبؐ نے فرمایا:
لَنْ یُّـفْلِحَ قَوْم اَسْنَدُوْا اَمْرَھُمْ اِلٰی اِمْرَاَۃٍ۔ (طیاسی ص ۱۱۸)
’’وہ قوم ہرگز کامیاب نہیں ہوگی جس نے اپنی حکمرانی عورت کے حوالہ کر دی۔‘‘
(7) امام ابن الاثیرؒ اس روایت کو ان الفاظ سے نقل کرتے ہیں:
مَا اَفْلَحَ قَوْم قَیِّمُھُمْ اِمْرَاَۃ۔ (النہایۃ ج ۴ ص ۱۳۵)
’’وہ قوم کامیاب نہیں ہوگی جس کی منتظم عورت ہو۔‘‘
(8) مسند احمد میں ہے:
لَنْ یُّـفْلِحَ قَوْم تَمْلِکُھُمْ اِمْرَاَۃ۔ (مسند احمد ج ۵ ص ۴۳)
’’وہ قوم ہرگز کامیاب نہیں ہوگی جس کی حکمران عورت ہو۔‘‘
(9) اہل تشیع کی معروف کتاب ’’مستدرک الرسائل‘‘ میں، جو الحاج مرزا حسین نوری طبرسی کی لکھی ہوئی ہے اور قم سے طبع ہوئی ہے، جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک روایت نقل کی گئی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہا السلام کو جنت سے نکلنے کا حکم دیا تو حضرت حوا کو مخاطب کر کے فرمایا کہ میں نے تمہیں ناقص العقل والدین بنایا ہے اور
لَمْ اَجْعَلْ مِنْکُنَّ حَاکِمًا وَّلَمْ ابْعَث مِنْکُـنَّ نَبِـیـًّا۔ (مستدرک الرسائل باب ان المراۃ لا تولی القضاء)
’’میں نے تم عورتوں میں سے کوئی حاکم نہیں بنایا اور نہ تم میں سے کسی کو نبی بنا کر بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘
یہاں حاکم نہیں بنایا کا معنیٰ یہ ہوگا کہ حاکم بننے کی اجازت نہیں دی، اس لیے جو عورتیں کسی دور میں حاکم بن گئی ہیں ان کی حیثیت وہی ہوگی جو نبوت کا دعویٰ کرنے والی عورتوں کی ہے۔
(10) اسی مستدرک الرسائل میں یہ روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن سلامؓ نے جناب رسول اللہؐ سے کچھ سوالات کیے، ان میں سے ایک سوال حضرت آدمؑ کی پسلی سے حضرت حواؑ کو پیدا کرنے کے بارے میں بھی تھا۔ سوال یہ تھا کہ حضرت حواؑ کو حضرت آدمؑ کے پورے وجود سے پیدا کیا گیا یا وجود کے کچھ حصہ سے بنایا گیا تو جناب سرور کائناتؐ نے فرمایا کہ
بَلْ مِنْ بَعْضِہ وَلَوْ خُلِقَتْ مِنْ کُلِّہ لَجَازَ الْقَضَاءُ فِی النِّسَآءِ کَمَا یَجُوْزُ فِی الرِّجَالِ۔
’’بلکہ حضرت حواؓ کو حضرت آدمؑ کے وجود کے بعض حصہ سے پیدا کیا گیا اور اگر انہیں پورے وجود سے پیدا کیا جاتا تو قضا کا منصب عورتوں کے لیے بھی اسی طرح جائز ہو جاتا جس طرح مردوں کے لیے جائز ہے۔‘‘
(11) اہل تشیع کے ہی ایک اور محقق الاستاذ الشیخ جعفر السبحانی اپنی کتاب ’’معالم الحکومۃ الاسلامیہ‘‘ میں، جو مکتبہ الامام امیر المومنین العامۃ اصفہان سے چھپی ہے، امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ جناب نبی اکرمؐ نے عورتوں کے بارے میں احکام بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ
وَلَا تَـوَلَّی الْقَضَآءِ۔ (المیزان ج ۱۸ ص ۹۳۔ معالم الحکومۃ الاسلامیہ ص ۲۷۷)
’’عورت قضا کے منصب پر فائز نہیں ہو سکتی۔‘‘
جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے ان واضح ارشادات کے بعد اس امر میں اب شک و شبہ کی کیا گنجائش باقی رہ جاتی ہے کہ شرعاً کسی عورت کے حکمران بننے کا کوئی جواز نہیں ہے۔
(۳) اجماع امت
قرآن و سنت کے بعد دلائل شرعیہ میں اجماع کا درجہ ہے اور چودہ سو سال سے امت مسلمہ کا اس پر اجماع و اتفاق چلا آتا ہے کہ عورت شرعاً حکمران نہیں بن سکتی۔
(1) خلفاء راشدین کے مبارک دور سے آج تک امت مسلمہ کا اجماعی تعامل اس امر پر ہے کہ کوئی عورت کسی خطہ میں مسلمانوں کی حکمران نہیں بنی۔ اس لیے ہمارے نزدیک امت کا یہ عمل صرف اجماع نہیں بلکہ ’’تواتر عملی‘‘ کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ عورت کو حکمران نہ بنانے کا یہ عمل اس قدر مسلسل اور متواتر ہے کہ چودہ سو سالہ تاریخ میں کہیں بھی اس کی قابل توجہ خلاف ورزی نظر نہیں آتی۔ بلکہ کسی موقع پر اگر جزوی طور پر اس کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو مسلمانوں نے اس پر گرفت کی ہے جیسا کہ نویں صدی ہجری کا ایک واقعہ تاریخ کی کتابوں میں مذکور ہے کہ مصر میں بنی ایوب خاندان کی ایک خاتون ’’شجرۃ الدر‘‘ حکمران بن گئی۔ اس وقت بغداد میں خلیفہ ابوجعفر مستنصر باللہؒ کی حکومت تھی، انہوں نے یہ واقعہ معلوم ہونے پر امراء کے نام تحریری پیغام بھیجا کہ
اعلمونا ان کان ما بقی عند کم فی مصر من الرجال من یصلح للسلطنۃ فنحن نرسل لکم من یصلح لھا اما سمعتم فی الحدیث عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہ قال لا افلح قوم ولوا امرھم امراۃ۔ (اعلام السناء ج ۲ ص ۲۸۶)
’’ہمیں بتاؤ اگر تمہارے پاس مصر میں حکمرانی کے اہل مرد باقی نہیں رہے تو ہم یہاں سے بھیج دیتے ہیں۔ کیا تم نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نہیں سنا کہ وہ قوم کامیاب نہیں ہوگی جس نے اپنا حکمران عورت کو بنا لیا۔‘‘
خلیفہ وقت کے اس پیغام پر ’’شجرۃ الدر‘‘ منصب سے معزول ہوگئی اور اس کی جگہ سپہ سالار کو مصر کا حکمران بنا لیا گیا۔
(2) امام بغویؒ (شرح السنۃ ج ۷۷) میں فرماتے ہیں کہ سب علماء کا اتفاق ہے کہ عورت حکمران نہیں بن سکتی۔
(3) امام ابوبکر بن العربیؒ (احکام القرآن ج ۳ ص ۴۴۵) حضرت ابوبکرؓ والی حدیث نقل کر کے فرماتے ہیں:
وھذا نص فی الامراۃ لا تکون خلیفۃ ولا خلاف فیہ۔
’’یہ حدیث اس بارے میں نص ہے کہ عورت خلیفہ نہیں بن سکتی اور اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے۔‘‘
(4) امام ولی اللہ دہلویؒ فرماتے ہیں:
اجمع المسلمون علیہ۔ (حجۃ اللہ البالغہ ج ۲ ص ۱۴۹)
’’مسلمانوں کا اس پر اجماع ہے۔‘‘
(5) امام الحرمین الجوینیؒ فرماتے ہیں:
واجمعوا ان المراۃ لایجوز ان تکونا اماما۔ (الارشاد فی اصول الاعتقاد ص ۲۵۹)
’’اور علماء کا اس پر اجماع ہے کہ عورت کا حکمران بننا جائز نہیں۔‘‘
(6) حافظ ابن حزمؒ امت کے اجماعی مسائل کے بارے میں اپنی معروف کتاب ’’مراتب الاجماع‘‘ میں فرماتے ہیں:
واتفقوا ان الامامۃ لا تجوز لامراۃ۔ (مراتب الاجماع ص ۱۲۶)
’’اور علماء کا اتفاق ہے کہ حکمرانی عورت کے لیے جائز نہیں ہے۔‘‘
(7) دورِ حاضر کے معروف محقق ڈاکٹر منیر عجلانی لکھتے ہیں کہ ہم مسلمانوں میں سے کسی عالم کو نہیں جانتے جس نے عورت کی حکمرانی کو جائز کہا ہو۔
فالاجماع فی ھذہ القضیۃ تام لم یشذ عنہ۔ (عبقریۃ الاسلام فی اصول الحکم ص ۷۰)
’’اس مسئلہ میں اجتماع اتنا مکمل ہے کہ اس سے کوئی بھی مستثنیٰ نہیں ہے۔‘‘
(8) پاکستان میں تمام مکاتب فکر کے علماء کرام نے ۱۹۵۱ء میں ۲۲ دستوری نکات پر اتفاق کیا اور ان میں حکومت کے سربراہ کے لیے مرد کی شرط کو لازمی قرار دیا۔
(۴) اجتہاد و قیاس
دلائل شرعیہ میں چوتھا درجہ اجتہاد اور قیاس کا ہے۔ اجتہاد اور قیاس کا اصل محل اگرچہ غیرمنصوص مسائل ہیں کیونکہ جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے انہی مسائل میں اجتہاد کی اجازت دی ہے جن میں قرآن و سنت کی واضح ہدایات موجود نہ ہوں۔ لیکن چونکہ قرآن و سنت کی تعبیر و تشریح اور ان سے احکام و مسائل کا استنباط بھی اجتہاد اور قیاس سے تعلق رکھنے والے امور ہیں اس لیے شاید کسی ذہن میں یہ شبہ پیدا ہو جائے کہ ممکن ہے فقہائے اسلام اور مجتہدین نے احکام و مسائل کے استنباط میں عورت کی حکمرانی کے لیے کوئی گنجائش کسی درجہ میں دیکھ لی ہو۔ لیکن یہ شبہ بھی وہم و تخیل سے زیادہ کچھ حقیقت نہیں رکھتا کیونکہ امت کے تمام مسلمہ فقہی مکاتب فکر کے مجتہدین نے اس امر کی صراحت کی ہے کہ حکمرانی کے منصب کے لیے دیگر شرائط کے علاوہ مرد ہونا بھی ضروری ہے اور عورت کے حکمران بننے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
فقہ حنفی
فقہ حنفی کی معروف و مستند کتاب ’’الدر المختار‘‘ اور اس کی شرح ’’رد المحتار‘‘ میں اس امر کی تصریح ہے کہ حکمران کے لیے دوسری شرائط کے ساتھ مرد ہونا بھی ضروری ہے اور
لا یصح تقریر المراۃ فی وظیفۃ الامامۃ۔ (شامی ج ۴ ص ۳۹۵، ج ۱ ص ۵۱۲)
’’عورت کو حکمرانی کے کام پر مقرر کرنا جائز نہیں ہے۔‘‘
فقہ شافعی
فقہ شافعیؒ کی مستند کتاب ’’المجموع شرح المہذب‘‘ میں لکھا ہے:
القضاء لایجوز لامراۃ۔
’’قضا کا منصب عورت کے لیے جائز نہیں ہے۔‘‘
فقہ حنبلی
فقہ حنبلیؒ کی مستند کتاب المغنی (ج ۱۱ ص ۳۸۰) میں ہے:
المراۃ لا تصلح للامامۃ ولا لتولیۃ البلد ان ولھذا لم یول النبی صلی اللہ علیہ وسلم ولا احد من خلفاء ولا من بعدھم قضاء ولا ولایۃ ولو جاز ذلک لم تخل منہ جمیع الزمان غالباً۔
’’عورت نہ ملک کی حاکم بن سکتی ہے اور نہ شہروں کی حاکم بن سکتی ہے۔ اسی لیے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی عورت کو مقرر نہیں کیا، نہ ان کے خلفاء نے کسی کو مقرر کیا اور نہ ہی ان کے بعد والوں نے قضا یا حکمرانی کے کسی منصب پر کسی عورت کو فائز کیا اور اگر اس کا کوئی جواز ہوتا تو یہ سارا زمانہ اس سے خالی نہ ہوتا۔‘‘
فقہ مالکی
فقہ مالکیؒ کی مستند کتاب ’’منحۃ الجلیل‘‘ میں نماز کی امامت، لوگوں کے درمیان فیصلوں، اسلام کی حفاظت، حدود شرعیہ کے نفاذ اور جہاد جیسے احکام کی بجا آوری کے لیے شرائط بیان کرتے ہوئے لکھا ہے:
فیشترط فیہ العدالہ والذکورۃ والفطنۃ والعلم۔
’’پس اس کے لیے شرط ہے کہ عادل ہو، مرد ہو، سمجھدار ہو اور عالم ہو۔‘‘
فقہ ظاہری
اہل ظاہر کے معروف امام حافظ ابن حزمؒ فرماتے ہیں:
ولا خلاف بین واحد فی انھا لاتجوز لامراۃ۔ (المحلی ج ۹ ص ۳۶۰۔ الملل ج ۴ ص ۱۶۷)
’’اور اس میں کسی کا اختلاف نہیں کہ حکمرانی عورت کے لیے جائز نہیں ہے۔‘‘
اہل تشیع
معروف شیعہ محقق الاستاذ الشیخ جعفر السبحانی لکھتے ہیں:
فقد اجمع علماء الامامیۃ کلھم علی عدم انعقاد القضاء للمراۃ وان استکملت جمیع الشرائط الاخریٰ۔ (معالم الحکومۃ الاسلامیۃ ص ۲۷۸)
’’امامیہ مکتب فکر کے تمام علماء کا اس امر پر اجماع ہے کہ قضاء کا منصب عورت کے سپرد کرنا جائز نہیں ہے اگرچہ اس میں دوسری تمام شرائط پائی جاتی ہوں۔‘‘
اہل حدیث
معروف اہلحدیث عالم قاضی شوکانیؒ حضرت ابوبکرؓ والی روایت کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
فیہ دلیل علی ان المراۃ لیست من اھل الولایات ولایحل لقوم تولیتھا۔ (نیل الاوطار ج ۸ ص ۲۷۴)
’’اس میں دلیل ہے کہ عورت حکمرانی کے امور کی اہل نہیں ہے اور کسی قوم کے لیے اس کو حکمران بنانا جائز نہیں ہے۔‘‘
جامعہ ازہر
عالمِ اسلام کے قدیم علمی مرکز جامعہ ازہر قاہرہ کے سربراہ معالی الدکتور الشیخ جاد الحق علی جاد الحق اور دیگر علماء ازہر کا متفقہ فتوٰی کویت کے معروف جریدہ ’’المجتمع‘‘ نے گزشتہ سال نومبر میں شائع کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ عورت کو حکمران بنانا شرعاً جائز نہیں ہے۔
دارالعلوم دیوبند
ایشیا کی سب سے بڑی اسلامی درسگاہ دارالعلوم دیوبند کے ترجمان ماہنامہ ’’دارالعلوم‘‘ نے نومبر ۱۹۸۹ء کے شمارہ میں مفتی دارالعلوم دیوبند مولانا مفتی حبیب الرحمٰن خیرآبادی کا مفصل فتوٰی شائع کیا ہے جس میں دلائل کے ساتھ واضح کیا گیا ہے کہ عورت کو حکمران بنانے کا کوئی شرعی جواز نہیں ہے۔
الشیخ بن باز
سعودی عرب کے مفتی اعظم معالی الشیخ عبد العزیز بن عبد اللہ الباز کا فتوٰی ہفت روزہ ’’تنظیم اہل حدیث‘‘ لاہور کے ۲۰ اکتوبر ۱۹۸۹ء کے شمارہ میں شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ
ان الاحکام الشرعیۃ العامۃ تتعارض مع تولیۃ النسآء الولایات العامۃ۔
’’شریعت کے عام احکام عورتوں کو حکمرانی کے معاملات سپرد کرنے کی نفی کرتے ہیں۔‘‘
الغرض عورت کی حکمرانی کے بارے میں علماء کا موقف قرآن و سنت اور اجماعِ امت کی روشنی میں اس قدر واضح اور مبرہن ہو کر سامنے آ چکا ہے کہ اب اس میں مزید کلام کی گنجائش نظر نہیں آتی اور نہ ہی اہلِ علم و دانش اور اصحابِ فہم و فراست کے لیے اس مسئلہ میں کسی قسم کا کوئی ابہام باقی رہ گیا ہے کہ قرآن و سنت کے صریح احکام اور امتِ مسلمہ کے چودہ سو سالہ تواتر عملی کی رو سے کسی مسلم ریاست میں خاتون کے حکمران بننے کا کوئی شرعی جواز نہیں ہے۔ البتہ اس موقف اور اس کے مطابق علماء کرام کی اجتماعی جدوجہد کے بارے میں مختلف شکوک و شبہات اور اعتراضات سامنے آ رہے ہیں جن کا ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ جائزہ لینا ہے۔
ملکہ سبا
یہ بات کہی جاتی ہے کہ قرآن کریم میں ملکہ سبا حضرت بلقیس رضی اللہ عنہا کا ذکر موجود ہے جو سبا کی حکمران تھیں اور جنہوں نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا تھا، اگر عورت کی حکمرانی ناجائز ہوتی تو ان کا ملکہ کی حیثیت سے قرآن کریم میں ذکر نہ ہوتا۔ لیکن جب ہم اس واقعہ کے حوالہ سے قرآن کریم کے ارشادات کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ اعتراض بے وزن نظر آتا ہے اس لیے کہ
- قرآن کریم نے ملکہ سبا کی حکومت کا جس دور کے حوالہ سے ذکر کیا ہے وہ ان کا کفر کا دور ہے اور قرآن پاک کا ارشاد ہے کہ وہ اس دور میں سورج کی پجاری تھیں۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کے ہاتھ پر مسلمان ہونے کے بعد ملکہ سبا کی حکومت کا کہیں تذکرہ نہیں ملتا۔
- حضرت سلیمان علیہ السلام نے ہدہد کے ہاتھ جو خط ملکہ سبا کو ارسال کیا تھا اس میں اسے مسلمان ہونے کی دعوت ان الفاظ میں دی تھی کہ اَلَّا تَعْلُوْا عَلَیّ وَاْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْن (النمل) ’’مجھ سے سرکشی نہ کرو اور مطیع ہو کر میرے پاس چلے آؤ‘‘۔ یہ دعوت ملکہ سبا اور اس کی قوم کو تھی اور اس دعوت کو قبول کرتے ہوئے ملکہ سبا ایمان لائی تھیں۔ اس لیے سرکشی نہ کرنے اور مطیع ہو کر چلے آنے کا مفہوم یہی تھا کہ اسلام قبول کرنے کے بعد ان کی الگ اور مستقل حکومت باقی نہیں رہی تھی۔
- اگر بالفرض اسلام قبول کرنے کے بعد ملکہ سبا کی حکومت باقی رہی ہو تو بھی ان کا یہ عمل ہمارے لیے حجت نہیں ہے کیونکہ بنی اسرائیل کے جو احکام اور واقعات قرآن میں مذکور ہوئے ہیں اور قرآن کریم نے مسلمانوں کو ان کے خلاف حکم دیا ہے تو وہ احکام باقی نہیں رہے بلکہ منسوخ ہو گئے ہیں۔ جیسا کہ ملا جیون رحمہ اللہ تعالیٰ نے اصولِ فقہ کی معروف کتاب ’’نور الانوار‘‘ میں صراحت کی ہے اور اسی بنیاد پر معروف مفسر قرآن علامہ آلوسیؒ نے ملکہ سبا کی حکومت کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’اس سے عورت کی حکمرانی کے جواز میں استدلال کرنا درست نہیں‘‘۔ (روح المعانی ج ۱۹ ص ۱۸۹)
ام المؤمنین حضرت عائشہؓ
یہ سوال بھی اٹھایا جاتا ہے کہ اگر عورت کی حکمرانی جائز نہ ہوتی تو ام المؤمنین حضرت عائشہؓ جنگِ جمل میں صحابہ کرامؓ کے ایک گروہ کی قیادت کیوں کرتیں؟ مگر یہ اعتراض بھی غلط اور بے بنیاد ہے اس لیے کہ
- ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے امارت اور حکمرانی کا کوئی دعوٰی نہیں کیا تھا اور نہ اس کے لیے جنگ لڑی تھی بلکہ وہ صرف حضرت عثمانؓ کے خون کے بدلہ کا مطالبہ لے کر میدان میں آئی تھیں، اس کے علاوہ ان کا کوئی مقصد نہیں تھا۔
- حضرت عائشہؓ کا یہ عمل ان کی اجتہادی خطا تھی جس پر خود ام المومنینؓ نے کئی بار پشیمانی کا اظہار فرمایا، مثلاً ’’طبقات ابن سعد‘‘ ج ۸ ص ۸۱ میں ہے کہ ام المومنینؓ جب قرآن کریم کی آیت کریمہ ’’وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُم‘‘ کی تلاوت کرتیں تو روتے روتے ان کا آنچل آنسوؤں سے تر ہو جاتا۔ اس آیت کریمہ میں ازواج مطہراتؓ کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ گھروں میں بیٹھی رہیں۔ اسی طرح امام مالکؒ (مستدرک ج ۴ ص ۸) میں نقل کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے وصیت فرمائی کہ انہیں وفات کے بعد جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روضۂ اطہر میں دفن نہ کیا جائے کیونکہ ان سے حضور علیہ السلام کے بعد ایک غلطی سرزد ہوئی تھی۔ علاوہ ازیں ’’مصنف ابن ابی شیبہ‘‘ ج ۱۵ ص ۲۷۷ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ قول منقول ہے کہ ’’اے کاش! میرے دس بیٹے مر جاتے لیکن میں یہ سفر نہ کرتی‘‘۔ اس لیے حضرت ام المومنین کے اس عمل کو دلیل بنانا درست نہیں ہے۔
فقہائے احناف
یہ اشکال پیش کیا جاتا ہے کہ فقہائے احناف عورت کو قاضی بنانے کے حق میں ہیں اس لیے عورت قاضی بن سکتی ہے تو حاکم کیوں نہیں بن سکتی؟ لیکن یہ کہنا بھی درست نہیں ہے اور اس سلسلہ میں فقہائے احناف کے موقف کو سمجھنے میں غلطی ہوئی ہے کیونکہ یہ فتوٰی علی الاطلاق فقہائے احناف نے نہیں دیا کہ عورت کو قاضی بنایا جا سکتا ہے بلکہ ان کا موقف یہ ہے کہ اگر کسی حاکم نے عورت کو قاضی بنا دیا ہے اور اس عورت نے قاضی کی حیثیت سے فیصلے کیے ہیں تو اس کے فیصلے ان مقدمات میں نافذ ہوں گے جن کا تعلق حدود و قصاص سے نہیں ہے، اور حدود و قصاص کے مقدمات میں اس کے فیصلے نافذ نہیں ہوں گے۔ چنانچہ علامہ شامیؒ ’’رد المحتار‘‘ ج ۴ ص ۲۹۵ میں صراحت کرتے ہیں کہ غیر حدود و قصاص میں عورت کی قضا نافذ ہو گی لیکن اس کو قاضی بنانے والا گنہگار ہو گا۔ اس لیے فقہائے احناف کے موقف کی عملی صورت یوں بنتی ہے کہ
- حدود و قصاص کے مقدمات میں عورت قاضی نہیں بن سکتی اور نہ ہی اس کے فیصلے نافذ ہوتے ہیں۔
- باقی ماندہ مقدمات میں بھی عورت کو قاضی بنانے والا گنہگار ہو گا لیکن اس کے فیصلے نافذ ہو جائیں گے۔
اس لیے فقہائے احناف کے اس موقف کو عورت کی حکمرانی کے جواز کے لیے دلیل بنانے کی بھی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
امام ابن جریر طبریؒ
مشہور مفسر قرآن امام ابن جریر طبریؒ کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے عورت کو قاضی بنانے کے جواز کا فتوٰی دیا تھا لیکن علامہ آلوسیؒ نے اس کی تردید کرتے ہیں اور ’’روح المعانی‘‘ ج ۱۹ ص ۱۸۹ میں فرماتے ہیں کہ امام ابن جریرؒ کی طرف سے اس فتوٰی کی نسبت درست نہیں ہے۔
حضرت تھانویؒ
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کا ایک فتوٰی بڑے شدومد کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے جو ’’امداد الفتاوٰی‘‘ میں موجود ہے اور جس میں بھوپال کی بیگمات کی نسبت کے حوالہ سے یہ فتوٰی دیا گیا ہے کہ عورت کو حکمران بنانا جائز ہے۔ لیکن اس فتوٰی کا سہارا لینا بھی بے سود ہے اس لیے کہ حضرت تھانویؒ نے اس فتوٰی سے رجوع کر لیا تھا جس کا ثبوت یہ ہے کہ
- اس فتوٰی میں ملکہ سبا کی حکومت کو استدلال کی بنیاد بنایا گیا ہے مگر حضرت تھانویؒ نے خود اپنی تفسیر ’’بیان القرآن‘‘ میں اس استدلال کو رد کر دیا ہے اور صراحت کی ہے کہ ہماری شریعت میں عورت کو بادشاہ بنانے کی ممانعت ہے۔ (بیان القرآن ج ۸ ص ۸۵)
- حضرت تھانویؒ نے آخری عمر میں ’’احکام القرآن‘‘ خود اپنی نگرانی میں تحریر کرائی جس کا سورۃ النمل والا حصہ حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ نے لکھا جو حضرت تھانویؒ کو پڑھ کر سنایا گیا اور ان کی منظوری سے شائع ہوا۔ اس میں دلائل کے ساتھ اس مسئلہ کی وضاحت کی گئی ہے کہ عورت شرعاً حکمران نہیں بن سکتی۔
عورت اور پارلیمنٹ
یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ خواتین کو پارلیمنٹ کی رکنیت دینے کے مسئلہ پر علماء نے مخالفت نہیں کی بلکہ خود علماء کی طرف سے بعض خواتین کو اسمبلیوں کا رکن بنوایا گیا، اس لیے جب عورت اسمبلی کی ممبر بن سکتی ہے تو اسی اسمبلی میں قائد ایوان کیوں نہیں بن سکتی؟ مگر یہ سوال بھی لاعلمی پر مبنی ہے کیونکہ اسمبلی کی رکنیت اور چیز ہے اور حکمرانی کے اختیارات اس سے بالکل مختلف ہیں۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات خلفاء راشدینؓ نے خواتین کو مشاورت میں شریک کرنے سے منع نہیں کیا بلکہ خود بھی متعلقہ امور میں عورتوں سے مشاورت کرتے رہے ہیں۔ اس لیے علمی اور عوامی دونوں امور میں عورت کو اسمبلی کی رکن کی حیثیت سے مشاورت میں شریک کیا جا سکتا ہے البتہ اس کے لیے پردہ کے شرعی احکام کی پابندی ضروری ہو گی مگر حکمرانی کے اختیارات عورت کے حوالے کرنے سے قرآن و سنت میں صراحت کے ساتھ منع کیا گیا ہے اس لیے اس کی گنجائش نہیں ہے۔
سربراہِ مملکت یا سربراہِ حکومت
یہ الجھن بھی پیش کی جا رہی ہے کہ قرآن و سنت میں عورت کو سربراہ مملکت بنانے کی ممانعت کی گئی ہے اور سربراہِ مملکت تو صدر ہوتا ہے جبکہ وزیراعظم سربراہِ حکومت ہوتا ہے، اس لیے اس ممانعت کا اطلاق صرف صدر پر ہوتا ہے وزیراعظم پر نہیں ہوتا۔ لیکن تھوڑے سے غور و فکر کے ساتھ یہ الجھن بھی ختم ہو جاتی ہے اس لیے کہ
- ابتدائے اسلام میں مملکت اور حکومت کی تقسیم کا کوئی تصور موجود نہیں تھا، سربراہِ مملکت اور سربراہِ حکومت کے عہدے ایک ہی شخصیت کے پاس ہوتے تھے اس لیے قرآن و سنت نے عورت کے حاکم ہونے کی جو ممانعت کی ہے وہ دونوں حیثیتوں کو شامل ہے، اور اگر ان دونوں حیثیتوں کو الگ الگ کر لیا جائے تو اس ممانعت کا اطلاق ہر ایک پر ہو گا۔ اس لیے اس اصول کے مطابق عورت نہ سربراہ مملکت بن سکتی ہے اور نہ ہی سربراہ حکومت کا منصب سنبھال سکتی ہے۔
- سربراہِ مملکت اور سربراہِ حکومت کی منصبی حیثیتوں کو الگ الگ کر کے بھی تجزیہ کیا جائے تو ممانعت کا پہلا مصداق سربراہِ حکومت کا منصب قرار پاتا ہے کیونکہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات جو اس ضمن میں محدثین نے روایت کیے ہیں ان میں یہ بات فرمائی گئی ہے کہ وہ قوم کامیاب نہیں ہو گی جس نے اپنے امر کا والی عورت کو بنا دیا۔ یا یہ فرمایا کہ جب تمہارے امور عورتوں کے سپرد ہوں گے تو تمہارے لیے زمین کا پیٹ اس کی پشت سے بہتر ہو گا۔ اب یہ دیکھ لیجئے کہ ’’امر‘‘ اور ’’امور‘‘ کا تعلق مملکت اور حکومت میں سے کس کے ساتھ ہے؟ ظاہر بات ہے کہ امور کا طے کرنا تو حکومت کا کام ہوتا ہے۔ اس لیے ان احادیث کی روشنی میں عورت کے لیے حکمرانی کی ممانعت کا مصداق سب سے پہلے سربراہِ حکومت ہے اور کسی عورت کے وزیراعظم بننے کا شرعاً کوئی جواز نہیں ہے۔
جمہوری عمل اور علماء
یہ اعتراض بھی سامنے لایا گیا ہے کہ پاکستان میں خاتون کا وزیراعظم کے منصب پر فائز ہونا جمہوری عمل کا نتیجہ ہے اور یہ وہی جمہوری عمل ہے جس میں خود علماء کی جماعتیں حصہ لیتی رہی ہیں اور اب بھی اس میں شریک ہیں، اس لیے جب علماء اس جمہوری عمل کو تسلیم کرتے ہیں اور خود اس میں حصہ لیتے ہیں تو اس کے نتائج کو تسلیم کرنے میں کیا رکاوٹ ہے؟ اس کے جواب میں عرض ہے کہ علماء نے کسی دور میں بھی آزاد جمہوری عمل کو تسلیم نہیں کیا اور نہ ہی اب وہ اسے قبول کرتے ہیں، بلکہ علماء نے جدوجہد کر کے
- ’’قراردادِ مقاصد‘‘ کی صورت میں جمہوری عمل کو قرآن و سنت کا پابند قرار دلوایا۔
- ۲۲ دستوری نکات کی صورت میں اسلامی اصولوں کے پابند جمہوری عمل کا تصور پیش کیا۔
- ۱۹۷۳ء کے دستور میں اسلام کو سرکاری مذہب قرار دینے اور قرآن و سنت کے خلاف کوئی قانون نہ بنائے جانے کی ضمانت کی دفعات شامل کرائیں۔
اس لیے جب علماء قیامِ پاکستان سے اب تک آزاد جمہوری عمل کو رد کرتے ہوئے قرآن و سنت کے دائرہ میں محدود جمہوری عمل کا پرچم اٹھائے ہوئے ہیں تو انہیں جمہوری عمل کے ہر اس فیصلے کو مسترد کرنے کا حق حاصل ہے جو قرآن و سنت کے احکام کے منافی ہو۔
دستور کی خلاف ورزی
بعض ذمہ دار حضرات کی طرف سے کہا گیا ہے کہ عورت کی حکمرانی کی مخالفت ملک کے آئین کی خلاف ورزی ہے اور اس پر سزائے موت بھی ہو سکتی ہے۔ لیکن ان حضرات کا یہ کہنا مغالطہ پر مبنی ہے بلکہ اگر دستوری دفعات کا تجزیہ لیا جائے تو خود عورت کو حکمران بنانا آئین کی خلاف ورزی قرار پاتا ہے کیونکہ دستور میں کسی عورت کو صدر یا وزیراعظم بنائے جانے کا جواز صریحاً مذکور نہیں ہے، زیادہ سے زیادہ یہ بات ہے کہ دستور اس بارے میں خاموش ہے۔ لیکن جب سے ’’قراردادِ مقاصد‘‘ کو دستور کا باقاعدہ حصہ بنایا گیا ہے آئینی طور پر اس بات کی پابندی ضروری ہو گئی ہے کہ قرآن و سنت کے خلاف کوئی فیصلہ یا حکم نافذ نہ کیا جائے۔ اس لیے جب عورت کو حکمران بنانا قرآن و سنت کی رو سے جائز نہیں ہے تو قراردادِ مقاصد کی روشنی میں خودبخود یہ پابندی ضروری ہو جاتی ہے کہ کسی عورت کو وزیراعظم نہ بنایا جائے۔ اس بنا پر عورت کی حکمرانی کی مخالفت آئین کی خلاف ورزی نہیں بلکہ عورت کو وزیراعظم بنانا ملک کے دستور کی خلاف ورزی قرار پاتا ہے۔
اس ضمن میں ایک اور نکتہ کی وضاحت ضروری ہے کہ ۱۹۷۳ء کے دستور کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کیونکہ عام طور پر یہ کہا جا رہا ہے کہ جب مولانا مفتی محمودؒ، مولانا شاہ احمد نورانی اور دیگر علماء نے اس دستور پر دستخط کر دیے تھے تو انہوں نے اسے اسلامی تسلیم کر لیا تھا اس لیے اس دستور کے مطابق جو کام ہو گا وہ اسلام کے مطابق ہی ہو گا۔ لیکن یہ سراسر مغالطہ ہے کیونکہ ۱۹۷۳ء کا دستور تیار کرنے والی دستور ساز اسمبلی میں جو ارکان تھے انہوں نے اس دستور پر غیر مشروط دستخط نہیں کیے تھے بلکہ طویل مذاکرات کے نتیجہ میں یہ آئینی ضمانت حاصل کی گئی تھی کہ ملک میں تمام قوانین کو سات سال کے اندر قرآن و سنت کے مطابق تبدیل کر دیا جائے گا۔ یہ ضمانت خود اسی آئین میں درج ہے اور اس ضمانت کے حصول کے بعد علماء نے آئین پر دستخط کیے تھے۔ اب بھی صورتحال یہ ہے کہ علماء ملک کے آئین و قانون کو اس طرح غیر مشروط ماننے کے لیے تیار نہیں کہ انہیں قرآن و سنت پر بالادستی حاصل ہو جائے بلکہ بالادستی قرآن و سنت کی ہے اور علماء کی تمام تر جدوجہد کا مرکزی ہدف یہی ہے کہ آئین و قانون کو قرآن و سنت کی بالادستی کا عملاً پابند بنایا جائے۔
محترمہ فاطمہ جناح کی حمایت
یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ جو علماء آج عورت کے حکمران بننے پر مخالفت کر رہے ہیں ان کی اکثریت نے ۱۹۶۴ء کے صدارتی انتخابات میں محترم فاطمہ جناح کی حمایت کی تھی۔ لیکن یہ بات بالکل خلاف واقعہ ہے کیونکہ اس وقت علماء کی تین بڑی جماعتیں تھیں۔ (۱) جمعیۃ علماء اسلام پاکستان جس کی قیادت مولانا عبد اللہ درخواستی، مولانا مفتی محمودؒ اور مولانا غلام غوث ہزارویؒ کر رہے تھے۔ جمعیۃ اہل حدیث پاکستان جس کی قیادت مولانا محمد اسماعیل سلفیؒ کے ہاتھ میں تھی۔ (۳) اور جمعیۃ العلماء پاکستان جس کے سربراہ صاحبزادہ سید فیض الحسنؒ تھے۔ ان تینوں جماعتوں نے باقاعدہ جماعتی فیصلوں کی صورت میں اعلان کیا تھا کہ چونکہ عورت کو ملک کا حکمران بنانا شرعاً جائز نہیں ہے اس لیے وہ محترمہ فاطمہ جناح کی حمایت سے قاصر ہیں۔
علماء پہلے کہاں تھے؟
یہ بات بھی کہی جا رہی ہے کہ علماء کو اچانک یہ بات سوجھی ہے کہ عورت کو وزیر بنانا درست نہیں ہے، اس سے قبل علماء خاموش رہے ہیں، ان کے سامنے دستور بنے ہیں اور ساری باتیں ہوتی رہی ہیں مگر علماء نے کبھی اس قسم کی مہم نہیں چلائی۔ اس سلسلہ میں گزارش ہے کہ یہ بھی محض مفروضہ ہے جو حالات اور واقعات کے تسلسل سے بے خبری کے باعث قائم کر لیا گیا ہے ورنہ
- جب قراردادِ مقاصد میں یہ بات طے کر دی گئی تھی کہ کوئی کام قرآن و سنت کے منافی نہیں ہو گا تو اس مسئلہ میں بھی علماء کے اطمینان کے لیے یہ بات کافی تھی۔
- اس کے باوجود تمام مکاتب فکر کے ۳۱ سرکردہ علماء نے ۱۹۵۲ء کے طے کردہ ۲۲ متفقہ دستوری نکات میں یہ طے کر دیا تھا کہ سربراہِ حکومت کے لیے مرد ہونا ضروری ہے۔
- ۱۹۷۳ء کا دستور جب دستور ساز اسمبلی میں زیربحث آیا تو شیخ الحدیث مولانا عبد الحقؒ (اکوڑہ خٹک) نے اس مسئلہ پر مستقل دستوری ترمیم پیش کی تھی جو دستور ساز اسمبلی کے ریکارڈ میں موجود ہے۔ اس پر مولانا مرحوم نے اسمبلی میں اپنے خطاب کے دوران دلائل کے ساتھ اس مسئلہ کو واضح کیا تھا کہ عورت کو حکمران بنانا شرعاً جائز نہیں ہے۔
- جنرل ضیاء الحق مرحوم کے دور میں وفاقی مجلس شورٰی نے آئینی ترامیم کے لیے محترم فدا محمد خان کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی تھی، اس کمیٹی کے رکن مولانا قاضی عبد اللطیف نے عورت کی حکمرانی کے مسئلہ کی وضاحت کی اور باقی ارکان کے نہ ماننے کی وجہ سے اپنا اختلافی نوٹ تحریر کرایا جو کمیٹی کے ریکارڈ میں موجود ہے۔
- حالیہ انتخابات کے بعد جب ایک خاتون کے وزیراعظم بننے کے امکانات واضح ہونے لگے تو جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے سیکرٹری جنرل مولانا سمیع الحق نے صدر جناب غلام اسحاق خان سے ملاقات کر کے ان پر مسئلہ کی شرعی پوزیشن واضح کی اور پورے ملک کے علماء کی طرف سے اتمام حجت کا فریضہ ادا کیا۔ اس لیے یہ بات کہنا غلط ہے کہ علماء اس سے قبل خاموش رہے ہیں اور اب ایک خاص پارٹی کی ضد میں اس کی وزیراعظم کی مخالفت کر رہے ہیں۔
قوتِ فیصلہ پارلیمنٹ کے پاس ہے
یہ بات بھی بعض حلقے پیش کر رہے ہیں کہ جمہوری نظام میں قوتِ فیصلہ پارلیمنٹ کے پاس ہوتی ہے اور وزیراعظم صرف ان فیصلوں کے نفاذ کا ذمہ دار ہوتا ہے اس لیے وزیراعظم پر اس مطلق حکمرانی کا اطلاق نہیں ہوتا جس کی نفی قرآن و سنت میں عورت کے لیے کی گئی ہے۔ لیکن یہ بات بھی اصول کے خلاف ہے اس لیے کہ
- اکثر جمہوری ممالک بالخصوص ترقی پذیر ممالک میں جمہوریت کی ہیئت کذائیہ یہ ہے کہ اکثریتی پارٹی پارلیمنٹ میں فیصلوں کا محور ہوتی ہے اور اکثریتی پارٹی کے فیصلوں کا محور اس کا لیڈر ہوتا ہے، اس لیے عملاً فیصلوں کی باگ ڈور بھی وزیراعظم کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔
- معروف مسلمان مفکر علامہ الماوردیؒ نے ’’الاحکام السلطانیہ‘‘ ص ۲۵ میں صراحت کی ہے کہ صرف (طے شدہ فیصلوں کو) نافذ کرنے والی وزارت اگرچہ کمزور وزارت ہے اور اس کی شرائط کم ہیں لیکن عورت کے لیے یہ وزارت بھی جائز نہیں ہے۔
بعد الحمد والصلٰوۃ۔
بزرگانِ محترم! قرآن شریف کی آل عمران کی تین آیتیں اس وقت میں نے تلاوت کیں۔ اس میں حق تعالیٰ شانہ نے حضرت مریم علیہا السلام کا ایک واقعہ ذکر فرمایا جس میں ملائکہ علیہم السلام نے حضرت مریم علیہا السلام کو خطاب فرمایا ہے۔ اس جلسہ کے منعقد کرنے کی غرض و غایت چونکہ عورتوں کو خطاب ہے اس لیے میں نے اس آیت کو اختیار کیا۔
واقعہ یہ ہے کہ عورتوں کے بھی وہی حقوق ہیں جو مردوں کے ہیں بلکہ بعض امور میں مردوں سے عورتوں کے حقوق زیادہ ہیں، اس لیے کہ بچوں کی تربیت میں سب سے پہلا مدرسہ ماں کی گود ہے، اسی سے بچہ تربیت پاتا ہے، سب سے پہلے جو سیکھتا ہے ماں سے سیکھتا ہے، باپ کی تربیت کا زمانہ شعور کے بعد آتا ہے، لیکن ہوش سنبھالتے ہی بلکہ بے ہوشی کے زمانے میں بھی ماں ہی اس کی تربیت کرتی ہے۔ گویا اس کی تربیت گاہ ماں کی گود ہے۔ اگر ماں کی گود علم، نیکی، تقوٰی اور صلاحیتوں سے بھری ہوئی ہے وہی اثر بچے میں آئے گا، اور اگر خدانخواستہ ماں کی گود ہی ان نعمتوں سے خالی ہے تو وہ بچہ بھی خالی رہ جائے گا۔
خشتِ اول چوں نہد معمار کج
کسی فارسی کے شاعر نے کہا ہے کہ جب عمارت کی پہلی اینٹ ہی ٹیڑھی رکھ دی جائے تو اخیر تک عمارت ٹیڑھی ہوتی چلی جاتی ہے۔ شروع کی اینٹ اگر سیدھی رکھ دی جائے تو اخیر تک عمارت سیدھی چلتی ہے۔ جس چیز کا آغاز اور ابتداء درست ہو جائے تو اس کی انتہا بھی درست ہو جاتی ہے۔ اس واسطے عورتوں کا مردوں سے زیادہ حق ہے اور ہم اسی حق کو زیادہ پامال کر رہے ہیں۔ مرد تو ہر جگہ موجود ہیں اور عورتوں کو سنانے کی کوئی صورت نہیں ہے۔ اگر عورتیں مردوں کے حکم سے آئی ہیں تو مردوں کا شکریہ، اور اگر ازخود آئی ہیں تو پھر ان کے دینی جذبہ کی داد دینی چاہیئے کہ ان کے اندر بھی ازخود ایک جوش و جذبہ ہے کہ دینی باتیں سیکھیں اور معلوم کریں۔ بہرحال سب سے زیادہ خوشی یہ ہے کہ ان کے اندر دین کی طلب ہے۔ اگر خود پیدا ہوئی تو وہ شکرئیے کی مستحق ہیں اور اگر طلب پیدا کی گئی ہے تو اس طلب کے پیدا کرنے والے بھی اور جنہوں نے اس کو قبول کیا وہ بھی شکرئیے کی مستحق ہیں۔ اس واسطے میں نے کہا مردوں سے عورتوں کا حق زیادہ ہے اس لیے کہ زندگی کی ابتداء انہیں سے ہوتی ہے۔
عورتوں کی قوتِ عقل
اس وجہ سے بھی کہ بچوں کا قصہ بعد میں آتا ہے، خود خاوند بھی عورت سے متاثر ہوتا ہے۔ عورتیں جب کسی چیز کو منوانا چاہتی ہیں تو منوا کے رہتی ہیں۔ وہ ضد کریں، ہٹ دھرمی کریں یا کچھ کریں خاوند کو مجبور کر دیتی ہیں۔ اس میں ایک پہلو جہاں عورتوں کے لیے عمدہ نکلتا ہے وہاں ایک بات کمزوری کی بھی نکلتی ہے۔ وہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
ما رایت من ناقصات عقل و دین اذھب للب الرجل الحازم من احدکن۔
(یعنی) یہ عورتیں ہیں تو ناقص العقل، ان کی عقل کم ہے، مگر بڑے بڑے کامل العقل مردوں کی عقلیں اچک کر لے جاتی ہیں، اچھے خاصے عقل مند بھی ان کے سامنے پاگل بن جاتے ہیں۔ جب وہ چاہتی ہیں کہ یہ ہو تو مرد ان کے سامنے مجبور ہو جاتے ہیں۔
ہمارے ہاں اور یہاں آپ کے ہاں بھی ایسا ہی ہو گا اس لیے کہ عورتوں کا مزاج سب جگہ ایک ہی ہے اور مردوں کی ذہنیت بھی ایک ہی ہے، البتہ تمدن کا فرق ہے۔ شادی بیاہ وغیرہ میں جو اکثر رسمیں ہوتی ہیں وہ رسمیں تباہ کن ہوتی ہیں۔ وہ دولت اور دین کو بھی برباد کرتی ہیں۔ جب مردوں سے پوچھا جاتا ہے کہ بھئی! کیوں ان خرافات میں پڑے ہوئے ہو؟ تم سمجھ دار اور عقل مند آدمی ہو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہو کہ دولت اور دین بھی برباد ہو رہا ہے تو کیوں ایسا کرتے ہو؟ کہ جی عورتیں نہیں مانتیں کیا کریں۔ گویا عورتیں حکّام ہیں، وہاں سے آرڈر جاری ہوتا ہے اور یہ غلام و رعایا ہیں ان کا فرض ہے کہ اطاعت کریں۔
تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہیں تو یہ ناقص العقل مگر اچھے بڑے عقل والوں کی عقلیں اچک کر لے جاتی ہیں اور انہیں بے وقوف بنا دیتی ہیں۔ تو جب عورت میں یہ قوت موجود ہے کہ عقل مند کو بھی بے وقوف بنا دیتی ہے اور اچھے بھلے مرد کو مجبور بنا دے، اگر وہ کسی اچھی چیز کے لیے مرد کو مجبور کرے گی تو مرد کیوں نہیں مجبور ہو گا؟
اگر کوئی عورت اپنے خاوند سے یوں کہہ دے کہ جناب سیدھی بات ہے آپ کا حکم واجب الاطاعت ہے، آپ خدا کی طرف سے میرے مربّی سب کچھ ہیں لیکن آپ نماز نہیں پڑھتے، جب تک آپ نماز نہیں پڑھیں گے میں بھی آپ کے حکم کی پابند نہیں ہوں۔ وہ جھک مارے گا ضرور پڑھے گا چاہے خدا کی نہ پڑھے بیوی کی ضرور پڑھے گا۔ جب عورتیں ضد کر کے دنیا کی بات منوا لیتی ہیں کوئی وجہ نہیں کہ دین کی بات نہ منوا لیں۔ عورتوں کی بدولت بہت سے خاندانوں کی اصلاح ہو گئی ہے، عورتوں نے ضد کی، مرد مجبور ہو گئے۔ ہمارے ہاں بعض خاندان ایسے تھے جو کچھ خرافات میں مبتلا تھے، اس واسطے کہ گھر میں دولت تھی، کہیں سینما کہیں تھیٹر وغیرہ، نماز کا تو کہیں سوال ہی نہیں، اتفاق سے عورت نہایت صالح اور دیندار گھرانے کی آگئی۔ چند دن اس نے صبر کیا، بعد میں اس نے کہا صاحب! یہ نبھاؤ بڑا مشکل ہے اس واسطے کہ رمضان آئے گا تو میں روزے سے رہوں گی اور تم بیٹھ کے کھانا کھاؤ گے اور پکانے پر مجھے مجبور کرو گے، میں پکانے کے لیے مجبور نہیں ہوں جہاں چاہے پکواؤ اس گھر میں یہ نہیں ہو گا۔ اس واسطے کہ اس بد دینی میں تمہاری اعانت کر سکوں یہ خود گناہ کی بات ہے۔ یا تو اپنا بندوبست کرو یا پھر ان خرافات کو چھوڑ دو۔ آخر مرد مجبور ہوئے، نماز روزے کے پابند ہو گئے اور ان میں بہت سی اچھی خصلتیں پیدا ہو گئیں۔ اس لیے سب سے بڑا مربّی تو عورت ہے جو گھر کے اندر موجود ہے اس کی تربیت سے آدمی کام لے۔
اس لیے اپنی بہنوں سے یہ خطاب ہے کہ جب وہ ایسا دباؤ ڈال سکتی ہیں کہ مرد ان کے سامنے مجبور ہیں تو جہاں دنیا کے لیے زیور، کپڑے لانے کے لیے، برتن لانے کے لیے، گھر بنانے کے لیے دباؤ ڈالتی ہیں، اگر دیندار گھر بنانے کے لیے دباؤ ڈالیں تو یقیناً وہ دیندار بنیں اور وہ اپنے خاوند کے لیے اصلاح کا ذریعہ بن جائیں گی۔ اس لیے ان کے دل میں نیکی، تقوٰی اور بھلائی کا جذبہ ہونا چاہیئے تاکہ خاوند پر بھی اس کا اثر پڑے۔ تو ایک عورت بچوں پر، خاوند پر اور کنبہ والوں پر بھی بہتر اثر ڈال سکتی ہے۔
عموماً سننے میں آیا ہے کہ خاندانوں میں جو جھگڑے اور تفریقیں پیدا ہوتی ہیں عورتوں کی بدولت پیدا ہوتی ہیں، ایک دوسرے کو اتار چڑھاؤ کر کے بدظن بنا دیتی ہیں۔ دو حقیقی بھائیوں میں لڑائی پیدا کر دیتی ہیں حتٰی کہ خاندانوں میں نزاع اور جھگڑے پیدا ہو جاتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر عورت نیک نہاد اور نیک طینت ہے تو بڑے بڑے جھگڑے ختم کرا دیتی ہے، خاندان مل جاتے ہیں۔ اور اپنی اس طاقت کو نیکی میں کیوں نہ خرچ کیا جائے برائی اور بدی میں کیوں خرچ کیا جائے؟ جب اللہ نے ایک طاقت دی ہے تو اس کو صحیح راستے پر خرچ کیا جائے۔
اس واسطے میں نے یہ آیت تلاوت کی تھی، اس میں خصوصیت سے عورتوں ہی کے واقعات کا ذکر ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ نے ایک بزرگ ترین بی بی کا ذکر فرمایا ہے۔ اور اس وجہ سے بھی اس آیت کے پڑھنے کی نوبت آئی کہ عورتوں کو یہ شکایت پیدا نہ ہو، جب خطاب کیا جاتا ہے مردوں ہی کو کیا جاتا ہے، قرآن مجید میں بھی اللہ نے مردوں ہی کو خطاب کیا۔ تاکہ یہ غلط فہمی ان کی رفع ہو جائے، جیسے مردوں کو خطاب کیا ہے عورتوں کو بھی کیا ہے، کہیں مرد و عورت دونوں کو ملا کر خطاب کیا ہے تاکہ یہ معلوم ہو کہ جو دین کی ترقی مرد کے لیے ہے وہی عورت کے لیے ہے، جیسے فرمایا:
اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمٰتِ وَالْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ وَالْقٰنِتِیْنَ وَالْقٰنِتٰتِ وَالصّٰدِقِیْنَ وَالصّٰدِقٰتِ وَالصّٰبِرِیْنَ وَالصّٰبِرٰتِ وَالْخٰشِعِیْنَ وَالْخٰشِعٰتِ وَالْمُتَصَدِّقِیْنَ وَالْمُتَصَدِّقٰتِ وَالصَّآءِمِیْنَ وَالصّٰئِمٰتِ وَالْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَھُمْ وَالْحٰفِظٰتِ وَالذَّاکِرِیْنَ اللہَ کَثِیْرًا وَالذَّاکِرٰتِ اَعَدَّ اللہُ لَھُمْ مَّغْفِرَۃً وَّاَجْرًا عَظِیْمًا (احزاب ع ۵ پ ۲۲)
’’مسلم مرد مسلم عورت، مومن مرد اور مومن عورت، عبادت گزار مرد اور عبادت گزار عورت، سچا مرد اور سچی عورت، صدقہ دینے والا مرد اور صدقہ دینے والی عورت، روزہ دار مرد اور روزہ دار عورت، حیا کا حفاظت کرنے والا مرد اور حیا کی حفاظت کرنے والی عورت، اللہ کا کثرت سے ذکر کرنے والا مرد اور کثرت سے ذکر کرنے والی عورت، ان کے لیے وعدہ دیا ہے کہ اللہ نے ان کے لیے مغفرت، اجر عظیم اور آخرت کے درجات تیار کیے ہیں۔‘‘
اس سے معلوم ہوا کہ دین کے راستہ پر چل کر جتنی ترقی مرد کر سکتا ہے وہی بعینہٖ عورت بھی کر سکتی ہے۔ اگر ایک مرد ولی کامل بن سکتا ہے تو عورت بھی ولی کامل بن سکتی ہے۔ اسلام میں جیسے مردوں میں اولیاء اللہ کی کمی نہیں ہے ویسے ہی عورتوں میں بھی اولیاء اللہ کی کمی نہیں ہے۔ اس بارے میں بڑی بڑی کتابیں لکھی گئی ہیں جن میں ان عورتوں کا ذکر کیا گیا ہے جو ولایت کے مقام کو پہنچی ہیں اور ولیٔ کامل گزری ہیں۔ ایک دو نہیں سینکڑوں ہزاروں کی تعداد میں ہیں۔ کہیں حضرت رابعہ بصریہؒ، کہیں رابعہ عدویہؒ، اور پھر صحابیاتؓ جتنی ہیں وہ تو ساری اولیائے کاملین میں سے ہیں۔ تو تابعین، تبع تابعین اور بعد کے لوگوں میں بڑی بڑی کامل عورتیں پیدا ہوئی ہیں۔ پھر ہر فن کے اندر پیدا ہوئی ہیں۔ محدث، مفسر، ادیب، شاعر اور مؤرخ بھی گزری ہیں۔ ان کی تصنیفات ہیں اور ہزاروں مرد ان سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اگر عورت دینی ترقی نہ کر سکتی تو یہ عورتیں کہاں سے پیدا ہو گئیں؟
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ پاک ہیں ان کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میری وحی کا آدھا علم میرے سارے صحابہؓ سے حاصل کرو اور آدھا علم تنہا عائشہؓ سے حاصل کرو۔ گویا عائشہ صدیقہؓ اتنی زبردست عالم ہیں۔ گویا نبوت کا آدھا علم صدیقہؓ کے پاس ہے، آدھا علم سارے صحابہؓ کے پاس ہے۔ صدیقہ عائشہؓ ایک عورت ہی تو ہے۔ تو عورت کو اللہ نے وہ رتبہ دیا کہ ہزارہا صحابہؓ ایک طرف اور ایک عورت ایک طرف۔ اس سے معلوم ہوا کہ جب عورت ترقی کرنے پر آتی ہے اتنی ترقی کر جاتی ہے کہ بہت سے مرد بھی پیچھے رہ جاتے ہیں۔ تو اللہ کی طرف سے عورتوں کی ترقی میں رکاوٹ نہیں ہے چاہے دنیا میں ترقی کریں یا دین میں، علم و فضل میں بھی برابر چل سکتی ہیں۔
آپ نے امام ابی جعفر صادقؒ کا نام سنا ہو گا جن کی کتاب ’’طحاوی شریف‘‘ جو حدیث شریف کی کتاب ہے مدارس میں پڑھائی جاتی ہے۔ یہ عورت کا طفیل ہے۔ امام طحاویؒ کی بیٹی نے حدیث کی کتابیں املاء کی ہیں۔ باپ حدیث اور اس کے مطالب بیان کرتے تھے، بیٹی لکھتی جاتی تھی، اس طرح کتاب مرتب ہو گئی۔ گویا جتنے علماء اور محدث گزرے ہیں یہ سب امام ابی جعفر صادقؒ کی بیٹی کے شاگرد اور احسان مند ہیں۔ یہ بھی ایک عورت تو تھی۔ اس لیے کوئی وجہ نہیں ہے کہ امام طحاویؒ کی بیٹی تو محدث بن سکے ہماری کوئی بہو بیٹی نہ بن سکے۔ وہی نسل ہے وہی چیز ہے وہی ایمان وہی دین ہے وہی علم آج بھی موجود ہے۔ توجہ اور بے توجہی کا فرق ہے۔ ان لوگوں نے توجہ دی تو عورتیں بھی ایسی بنیں کہ بڑے بڑے مرد بھی ان کے شاگرد بن گئے۔ آج توجہ نہیں کرتیں کمال نہیں پیدا ہوتا مگر صلاحیتیں موجود ہیں۔
عورت میں ترقی کی صلاحیت
بہرحال علماء اسلام نے ان بڑی بڑی عورتوں کا ذکر کیا ہے جو ولایت کے مقام تک پہنچی اور کامل ہوئی ہیں۔ ہاں البتہ کچھ عہدے اسلام نے ایسے رکھے ہیں جو عورتوں کو نہیں دیے گئے۔ وہ اس بنا پر کہ عورت کا جو مقام ہے وہ حرمت و عزت کا ہے، ایسا نہیں ہے کہ وہ اجنبی مردوں میں خلط ملط اور ملی جلی پھرے، اس سے فتنے پیدا ہوتے ہیں، برائیوں کا بھی اندیشہ ہے، اس لیے عورتوں کو ایسے عہدے نہیں دیے گئے جس سے فتنوں کے دروازے کھلیں، لیکن صلاحیتیں موجود ہیں۔ صلاحیت اس حد تک تسلیم کی گئی ہے کہ علماء کی ایک جماعت اس بات کی بھی قائل ہے کہ عورت نبی بن سکتی ہے، رسول تو نہیں بن سکتی لیکن نبی بن سکتی ہے۔
نبی اسے کہتے ہیں جس سے ملائکہ علیہم السلام خطاب کریں اور خدا کی وحی اس کے اوپر آئے۔ رسول اسے کہتے ہیں جو شریعت لے کر آئے اور خلق اللہ کی تربیت کرے۔ اس لیے تربیت کا مقام تو نہیں دیا گیا مگر ان کے نزدیک نبوت کا مقام عورت کے لیے ممکن ہے (۱)۔ حتٰی کہ ظاہریہ کی ایک جماعت اس کی قائل ہے کہ حضرت مریم علیہا السلام نبی ہیں، فرشتے نے خطاب کیا ہے۔ حضرت موسٰی علیہ السلام کی والدہ نبی تھیں اور فرعون کی بیوی حضرت آسیہ علیہا السلام جو ابتداء سے ہی مسلمان تھیں وہ نبوت کے مقام پر پہنچیں۔ تو نبوت سے بڑا عالم بشریت میں انسان کے لیے کوئی مقام نہیں ہے۔ خدائی کمالات کے بعد اگر بزرگی کا کوئی درجہ ہے تو وہ نبوت کا ہے اس سے بڑا کوئی درجہ نہیں۔ جب عورت کو یہ درجہ بھی مل سکتا ہے تو ظاہر بات ہے کہ عورت کی صلاحیت اتنی بڑھی ہوئی ہے کہ وہ سب مقام طے کر سکتی ہے البتہ رسول نہیں بن سکتی۔ اس لیے محبتِ خداوندی کا مقام پیدا ہو، اس مقام کی عورتیں بھی گزری ہیں جن کے جذبات کا یہ عالم ہے۔
عورتوں نے بڑے بڑے اولیائے کاملین کی تربیت کی ہے۔ حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ تابعی ہیں اور صوفیاء کے امام ہیں اور سلسلۂ چشتیہ کے اکابر اولیاء میں سے ہیں۔ ان کے واقعات میں لکھا ہے کہ حضرت رابعہ بصریہؓ ان کے مکان پر آئیں، کوئی مسئلہ پوچھنا تھا یا کوئی بات کرنی تھی۔ معلوم ہوا کہ حضرت حسن بصریؒ مکان پر نہیں ہیں، پوچھا کہاں گئے ہیں؟ معلوم ہوا کہ دریا کے کنارے پر گئے ہیں اور ان کی عادت یہ ہے کہ اپنا ذکر اللہ یا عبادت وغیرہ دریا کے کنارے پر کرتے ہیں۔ بعض اہل اللہ کا یہ طریقہ رہا ہے کہ انہوں نے ذکر اللہ کے لیے جنگلوں کی راہ اختیار کی یا پہاڑوں میں بیٹھ کر اوراد کرتے ہیں، اس میں ذرا یکسوئی زیادہ ہوتی ہے۔ اور دریا کے کنارے پر بیٹھنے کے بارے میں بھی صوفیاء لکھتے ہیں کہ قلب میں تاثیر زیادہ ہوتی ہے۔ مادی تاثیر اس لیے زیادہ ہوتی ہے کہ پانی کے کنارے پہنچ کر قلب میں فرحت زیادہ ہوتی ہے، جتنی فرحت اور نشاط پیدا ہو گا اتنا ہی قلب ذکر اللہ کی طرف مائل ہو گا۔ بنیادی اور باطنی وجہ اس کی یہ ہے کہ حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ چلتا ہوا پانی خود اللہ کی تسبیح کرتا ہے، اللہ کا نام لیتا ہے اور ذکر کرتا ہے۔ پانی کے ذکر کا اثر بھی انسان کے قلب پر پڑتا ہے تو اس کی طبیعت اور زیادہ ذکر اللہ کی طرف مائل ہو جاتی ہے، ان وجوہ کی بنا پر حضرت حسن بصریؒ اکثر دریا کے کنارے پر جا کر عبادت کرتے تھے۔
بہرحال رابعہ بصریہؒ کو معلوم ہوا کہ حسن بصریؒ اپنی عادت کے مطابق ذکر و عبادت کرنے کے لیے دریا کنارے پر گئے ہیں، یہ بھی وہاں پہنچ گئیں۔ وہاں جا کے یہ عجیب ماجرا دیکھا کہ حسن بصریؒ نے پانی کے اوپر مصلّٰی بچھا رکھا ہے اور اس کے اوپر نماز پڑھ رہے ہیں۔ نہ مصلّٰی ڈوبتا ہے نہ تر ہوتا ہے گویا کرامت ظاہر ہوئی۔ رابعہ بصریہؓ کو یہ چیز ناگوار گزری اور اسے اچھا نہ سمجھا کیونکہ یہ عبدیت اور بندگی کی شان کے خلاف ہے۔ بندگی کے معنی یہ ہیں کہ بڑے سے بڑا بزرگ لوگوں میں ملا جلا رہے۔ کوئی امتیازی مقام پیدا کرنا یہ ایک قسم کا دعوٰی اور صورۃ تکبّر ہے کہ میں سب سے بڑا ہوں اس لیے کہ تم وہ کام نہیں کر سکتے جو میں کر سکتا ہوں۔ گویا میں بڑا صاحبِ کرامت اور صاحبِ تصرف ہوں۔ زبان سے اگرچہ نہ کہے مگر صورتحال سے ایک دعوٰی پیدا ہوتا ہے اور اہل اللہ کے نزدیک سب سے بری چیز جو ہے وہ دعوٰی کرنا ہے اس لیے کہ اس میں تکبر اور کبر کی علامت ہے۔ اور ولایت کا مقام یہ ہے کہ تکبر مٹ کر خاکساری پیدا ہو، تو جس بزرگ میں تکبر یا کبر کی صورت بن جائے وہ بزرگ ہی کیا ہوا؟ حضرت رابعہؓ کو یہ چیز اس لیے ناگوار گزری کہ حسن بصریؒ بزرگوں کے امام اور وہ ایسی صورت پیدا کریں جس سے دعوٰی نکلتا ہو کہ میں بھی کوئی چیز ہوں، میں گویا بڑا کرامت والا ہوں، حسن بصریؒ کے لیے یہ زیبا نہیں تھا، یہ شانِ عبدیت کے خلاف ہے۔ بلکہ درپردہ گویا یہ دعوٰی ہے کہ میں خدائی اختیارات رکھتا ہوں کہ تم اسباب کے تحت مجبور ہو کر پانی پر کشتی سے جاؤ اور میں مجبور نہیں ہوں میں پانی پر ویسے ہی چل سکتا ہوں میرے پاس خدائی قوتیں موجود ہیں۔ جب یہ دعوٰی ہو گیا تو بزرگی کہاں رہی؟ اس واسطے یہ چیز اچھی نہ معلوم ہوئی۔ مگر چونکہ یہ بھی بزرگ ہیں تو انہوں نے اصلاح کی۔ اصلاح کس طرح کی؟ زبان سے کچھ نہ کہا عمل سے اصلاح کی۔ وہ اس طرح کہ انہوں نے پانی کے اوپر مصلّٰی بچھا رکھا تھا۔ انہوں نے یہ کیا کہ اپنے مصلّٰی کو ہوا کے اوپر اڑا کر اس کے اوپر نماز پڑھنی شروع کر دی۔ اب مصلّی ہوا کے اوپر لٹکا ہوا ہے اور نماز پڑھ رہی ہیں، حسن بصریؒ سمجھ گئے کہ مجھے ہدایت کرنی مقصود ہے فورًا اپنا مصلّی لپیٹا اور دریا کے کنارے پر آگئے۔ رابعہ بصریہؒ نے بھی ہوا سے مصلّٰی لپیٹا اور نچے آئیں اور آ کر دو جملے ارشاد فرمائے، وہ کتنے قیمتی اور زریں جملے تھے کہ دین و دنیا کی ساری نصیحتیں ان دو جملوں میں چھپی ہوئی تھیں۔ فرمایا اے حسن بصریؒ
بر آب روی خسے باشیٔ بر ہوا پری مگسے باشی
اے حسن بصریؒ! اگر تم پانی پر تیر گئے تو کوڑا کباڑ اور کچرا بھی پانی کے اوپر تیرتا ہے، یہ کوئی کمال کی بات نہیں ہے اور اگر رابعہ ہوا میں اڑی تو مکھیاں بھی تو ہوا میں اڑتی ہیں، یہ کوئی کمال کی بات نہیں ہے۔ اپنے نفس کو قابو میں کرو، اس پر کنٹرول حاصل کرو تاکہ صحیح معنٰی میں انسان بنو۔ انسان بننا کمال ہے مکھی بننا کمال نہیں ہے، آدمی بننا کمال ہے کوڑا کچرا بننا کمال نہیں ہے۔ اگر ہم ہوائی جہاز سے پچاس ہزار فٹ بلندی پر اڑ جائیں بے شک یہ بڑے کمال کی بات ہے مگر یہ حیوانیت کا کمال ہے انسانیت کا کمال نہیں ہے۔ اگر ہم ڈبکتی کشتی کے ذریعے سمندر کی تہہ تک پہنچ جائیں یہ بھی حیوانیت کا کمال ہے اس لیے کہ مچھلیاں بھی تو پہنچتی ہیں۔ آدمی سے ہم اگر مچھلی بن گئے تو کونسا کمال کیا؟ اسی طرح ہوا میں کرگسیں بھی اڑتی ہیں، اگر آدمی سے کرگس بن گئے تو کونسا کمال کیا، یہ حیوانیت کا کمال ہے انسانیت کا کمال نہیں ہے۔ انسانیت کا کمال یہ ہے کہ گھر میں بیٹھا ہوا ہو اور عرش پہ باتیں کر رہا ہو، اپنے مصلّٰی کے اوپر ہو اور خدا سے اسے نیاز حاصل ہو، معاملات وہاں سے چل رہے ہوں۔ وہ فرشی ہو مگر حقیقت میں وہ عرشی ہو، فرش پر بیٹھے ہوئے عرش کے اوپر مقام ہو۔ یہ سب سے بڑا انسانیت کا کمال ہے جس کو انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام نے سکھلایا۔
تو رابعہ بصریہ نے کتنی قیمتی بات کہی کہ حضرت حسن بصریؒ نادم اور شرمندہ ہوئے اور توبہ کی کہ میں آئندہ کبھی ایسا نہیں کروں گا۔ میں اسے بڑا کمال سمجھ رہا تھا مگر آپ نے میری آنکھیں کھول دیں۔ دیکھئے رابعہ بصریہ عورت ہے اور حسن بصریؒ مردوں کے امام ہیں۔ ایک عورت ایک مردِ کامل کو ہدایت کر رہی ہے اور اسے راستہ ہاتھ آجاتا ہے۔ اس لیے عورت اگر کمال پیدا کرنا چاہے تو وہ بڑے بڑے مردوں کی مربّی بن سکتی ہے۔
حضرت عائشہؓ، امت کی استاذ
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بڑے جلیل القدر صحابی ہیں، امت میں سب سے بڑے مفسر قرآن ہیں لیکن حضرت عائشہ ؓ کے شاگرد ہیں، علم زیادہ تر انہی سے سیکھا ہے۔ فتوے کی ضرورت ہوتی ہے تو عائشہ صدیقہ ؓ سے فتوٰی لیتے تھے۔ تو ابن عباسؓ ساری امت کے استاذ ہیں اور ان کی استاذ حضرت عائشہ ؓ ہیں۔ گویا حضرت عائشہ ؓ علوم و کمالات کے اندر پوری امت کی استاذ ہیں۔ بعض صحابہؓ حضرت عائشہ ؓ سے کہا کرتے تھے ’’ما ھٰذہٖ باَوّل برکتکم یا ال ابی بکر‘‘ اے آل ابی بکر یہ پہلی برکت نہیں۔ تمہاری تو اتنی برکتیں ہیں کہ امت احسان سے تمہارے سامنے سر نہیں اٹھا سکتی۔ اس لیے کہ حضرت عائشہ ؓ کے سوالات کرنے سے ہزاروں مسئلے کھلے ہیں، بڑی ذہین و ذکی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوالات ایسے کیا کرتی تھیں کہ دوسرے کی جرأت نہیں ہو سکتی تھی۔ جواب میں آپؐ علوم ارشاد فرماتے۔ یہ ساری امت پر احسان تھا، اگر وہ سوال نہ کرتیں تو علم نہ آتا۔
مثلاً حدیث میں ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ اگر کسی شخص کے تین بچے پیدا ہوں اور پیدا ہونے کے بعد دودھ پینے کی حالت میں گزر جائیں۔ برس، دن یا چھ مہینے کے بعد انتقال کر جائیں تو وہ تینوں ماں باپ کی نجات کا ذریعہ بنیں گے، شفاعت کریں گے اور اس طرح سے کریں گے گویا اللہ تعالیٰ کے اوپر اصرار کریں گے کہ ضرور بخشنا پڑے گا۔ حدیث میں ہے کہ ماں باپ کے لیے جہنم کا حکم ہو جائے گا کہ یہ سزا کے مستحق ہیں، جہنم کی طرف لے جائے جائیں گے، یہ تین بچے ملائکہ کے آگے آ کے سامنا روکیں گے کہ یہ ہمارے ماں باپ ہیں آپ ان کو کہاں لے کے جا رہے ہو؟ وہ کہیں گے کہ انہیں جہنم کا حکم ہے، بچے کہیں گے ہم نہیں جانتے یہ ہمارے ماں باپ ہیں، جیسے بچے کی ضد ہوتی ہے اسی طرح ضد کریں گے۔ وہ کہیں گے حکم خداوندی ہے، بچے کہیں گے ہو گا، اللہ نے ہمیں تو معصوم بنایا ہم انہیں نہیں جانے دیں گے ہمارے ہوتے ہوئے نہیں جائیں گے۔ ملائکہ علیہم السلام کو لوٹنا پڑے گا اور عرض کریں گے الٰہی! یہ بچے راستہ روک رہے ہیں جانے نہین دیتے۔ معلوم ہوتا ہے بچوں کی ضد کے آگے فرشتوں کی نہیں چلے گی۔ جیسے باپ اگر بادشاہ بھی ہو اور بچہ ضد کرے تو بادشاہ کو بھی بچے کی ماننی پڑتی ہے، اس کی حکومت کی ساری قوت دھری رہ جاتی ہے اسی طرح فرشتوں کی طاقت بھی رکھی رہ جائے گی اور وہ مجبور ہو جائیں گے بچے انہیں لوٹا دیں گے تو فرشتے عرض کریں گے کہ خداوند! آپ کا ارشاد تھا کہ انہیں جہنم میں ڈال دو یہ بچے روک رہے ہیں ضد کر رہے ہیں جانے نہیں دیتے۔ حق تعالیٰ فرمائیں گے ارے نادان بچو! تمہارے ان ماں باپ نے یہ برائی کی یہ برائی کی یہ گناہ کیا یہ معصیت کی یہ جہنم کے مستحق ہیں۔ یہ کہیں گے ہم نہیں جانتے انہوں نے کیا کیا یہ تو ہمارے ماں باپ ہیں اگر آپ کو انہیں جہنم میں ہی بھیجنا ہے تو ہمیں بھی بھیج دیجیئے۔ اب ظاہر ہے کہ معصوم تو جہنم میں نہیں بھیجے جائیں گے۔ اور اگر آپ نے ہمیں جنت میں بھیجنا ہے تو ہم انہیں بھی لے کے جائیں گے۔ حق تعالیٰ حجت کریں گے جواب دیں گے بچے وہاں بھی ضد کریں گے اخیر میں حق تعالیٰ فرمائیں گے، جاؤ ارے جھگڑالو بچو! ہمارا پیچھا چھوڑو، لے جاؤ ان ماں باپ کو جنت میں۔ چنانچہ ان کو جنت میں لے جائیں گے۔
یہ حدیث آپؐ نے صدیقہ عائشہ ؓ کو سنائی۔ اس پر صدیقہ عائشہ ؓ سوال کرتی ہیں کہ یا رسول اللہ! اگر کسی کے دو بچے اس طرح گزر جائیں؟ فرمایا دو کا بھی یہی حکم ہے۔ پھر سوال کیا اگر ایک بچہ گزر جائے؟ فرمایا ایک کا بھی یہی حکم ہے، حتٰی کہ فرمایا اگر کوئی حمل ضائع ہو جائے بشرطیکہ بچے میں جان پڑ گئی ہو اس کا بھی یہی حکم ہے کہ وہ اس طرح سے ضد کر کے اپنے ماں باپ کو بخشوائے گا۔
اب دیکھئے چھوٹا بچہ جب گزرتا ہے تو ماں باپ پر اور بالخصوص ماں پر کیا گزرتی ہے، اس کے تو وہ جگر کا ٹکڑا تھا، اس نے نو مہینے اسے اپنے پیٹ میں رکھ کے پالا ہے پرورش کیا تھا اور پیدا ہونے کے بعد جب گزر جاتا ہے تو باپ کو تو کچھ جلدی صبر بھی آجاتا ہے مگر ماں کو نہیں آتا۔ اس لیے کہ اس کے لیے تو ایسا ہے جیسے اس کے بدن کا ٹکڑا کٹ کے ضائع ہو جائے، تو ماں بہت زیادہ پریشان ہوتی ہے لیکن جب یہ حدیث سنے گی کہ یہ میری نجات کا سبب بنے گا تو شاید اسے خوشی پیدا ہو جائے کہ میرے لیے کوئی دکھ نہیں، اگر ضائع ہو گیا تو بلا سے ضائع ہو گیا میرے لیے تو جنت اور نجات کا سامان ہو گیا۔
اگر صدیقہ عائشہ ؓ یہ سوال نہ فرماتیں نہ اتنا علم کھلتا نہ اتنی آسانی پیدا ہوتی۔ ہم تو یہی کہتے کہ اگر تین بچے گزریں تو پھر جنت کا وعدہ ہے اور اگر دو یا ایک ہوا تو پھر جنت کا وعدہ نہیں۔ مگر صدیقہ عائشہ ؓ کے سوال کرنے سے معلوم ہوا کہ دو اور ایک کا بھی یہی حکم ہے بلکہ حمل ساقط ہو جائے تو اس کا بھی یہی حکم ہے بشرطیکہ روح پڑ گئی ہو۔ تو صدیقہ عائشہ ؓ کی ذہانت و ذکاوت اور سوال کرنے سے امت کے لیے کتنی بڑی آسانی پیدا ہو گئی کتنے راستے نکلے۔ تو عورتیں ایسی بھی گزری ہیں جنہوں نے ہزاروں مردوں کے راستے درست کر دیے اور ان کے لیے ہدایت کا سبب بن گئیں۔
عورت میں تحمل کی صلاحیت
شادی اور غمی ایسی چیز ہوتی ہے اس میں آدمی کچھ آپے سے باہر ہو جاتا ہے۔ زیادہ غم پڑے جب بھی پاگل سا ہو جاتا ہے۔ زیادہ خوشی آئے جب بھی آپے سے باہر ہو جاتا ہے۔ ایسے میں اگر کوئی سنبھال لے وہ بڑا محسن ہوتا ہے۔ اسلام میں ایسی بھی عورتیں گزری ہیں انہوں نے ایسے وقتوں میں مردوں کو سنبھالا حالانکہ مرد بہ نسبت عورت کے قوی القلب ہوتا ہے، عورت کا دل گو اتنا قوی نہیں ہوتا لیکن عورت میں سمجھ بوجھ اور دین و دیانت ہے تو بڑے بڑے قوی مردوں کو سنبھالنے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ حدیث میں واقعہ فرمایا گیا ہے کہ حضرت جابرؓ ان کا چھ سات برس کا بچہ بڑا ہونہار حسین و جمیل بیمار ہوا۔ اس زمانے کے مطابق دوا دارو کی گئی مگر بچہ اچھا نہ ہوا۔ ادھر حضرت جابرؓ کو اچانک سفر پیش آیا اور انہیں ضروری جانا پڑ گیا تو بیوی سے کہا کہ دیکھو مجھے مجبوری کا سفر پیش آ گیا میرا جانا ضروری ہے اور بچے کی حالت ایسی ہی ہے۔ ذرا دوا اور تیمارداری اچھی طرح سے کرنا اور میں جلدی آجاؤں گا، کوئی زیادہ دیر کے لیے مجھے نہیں جانا۔ یہ فرما کر حضرت جابرؓ چلے گئے۔
جب آنے کا دن ہوا تو بچے کا انتقال ہو گیا۔ آپؓ گھر میں تشریف لائے۔ اور بیوی کی دانش مندی، دیانت داری اور ہوشیاری یہ ہے، ورنہ کوئی اگر آج کی طرح کی بیوی ہوتی جب وہ دیکھتی کہ خاوند آ رہے ہیں تو وہ بڑا رونا شروع کر دیتی تاکہ معلوم ہو بڑا غم پڑا ہوا ہے۔ مگر دانشمند تھیں اس لیے حضرت جابرؓ کے آنے کا وقت ہوا تو اپنے کو سنبھالا اور صورت ایسی بنائی کہ اسے کوئی غم نہیں ہے اور بچے کو اندر لٹا دیا، اس کی لاش پر چادر ڈال دی۔ حضرت جابرؓ آئے تو جیسے عرب کا دستور ہے بیوی نے بڑھ کر استقبال کیا مصافحہ کیا اور اپنے خاوند کے ہاتھ چومے۔ حضرت جابرؓ نے آتے ہی پوچھا کہ بچہ کیسا ہے؟ کہا ’’الحمد للہ بعافیۃ و خیر‘‘ خدا کا شکر ہے عافیت میں ہے اور بڑی خیر ہے۔ غلط بات بھی نہیں کہی اس لیے کہ مرنے کے بعد بڑی عافیت و خیر ہوتی ہے۔ تو ایسا جملہ کہا کہ غلط بھی نہ ہو اور خاوند کو تسلی بھی ہو جائے۔ وہ بھی مطمئن ہو گئے۔ ان کے ہاتھ دھلائے کھانا کھلایا۔ اس لیے کہ آتے ہی صدمے کی خبر سنا دیتی ان پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑتا۔ پھر کہاں کا کھانا ہوتا، وہ اس کے سوگ میں لگ جاتے۔
کھانا کھلاتے کھلاتے کہا، میں آپ سے ایک مسئلہ پوچھنا چاہتی ہوں اس میں شریعت کا حکم کیا ہے؟ فرمایا پوچھو۔ کہا اگر کوئی شخص ہمارے پاس امانت رکھوائے اور اس کی میعاد مقرر کرے کہ برس دن کے لیے رکھواتا ہوں، برس دن کے بعد واپس لے لوں گا۔ تو شریعت کا اس مسئلہ کے بارے میں کیا حکم ہے؟ فرمایا، حکم کھلا ہوا ہے اس کو ٹھیک وقت پر ادا کرنا چاہیئے۔ (پوچھا) اگر امانت کے ادا کرتے ہوئے دل میں گھٹنے لگے اور دل نہ چاہے۔ فرمایا، دل میں گھٹنے کا حق کیا ہے، چیز دوسرے کی ہے، اپنی چیز پر آدمی گھٹے۔ جب دوسرے کی امانت ہے اور دلت مقرر تھا، اب اس نے مانگ لی تو گھٹنے اور غم کرنے کا کیا حق ہے؟ کہا، شریعت کا یہی مسئلہ ہے؟ فرمایا، ہاں مسئلہ یہی ہے۔ کہا، وہ بچہ جو تھا وہ امانت تھا، اللہ نے وہ سات برس کے لیے رکھوایا تھا، کل قاصد پہنچ گیا کہ امانت واپس کر دو، میں نے امانت واپس کر دی، تو ہمیں گھٹنے کا تو کوئی حق نہیں؟ فرمایا نہیں ہے اور بیوی کے ہاتھ چومے اور کہا خدا تجھے جزائے خیر دے، تو نے ایسی تسلی دی کہ مجھے بجائے غم کے خوشی ہے کہ ہم امانت ادا کر چکے اور بوجھ ہلکا ہو گیا۔
یہ عورتیں ہی تھیں جو اس طرح سے تسلی بھی دیتی تھیں۔ مگر یہ ان عورتوں کا کام تھا جن میں حوصلہ اور دین و دیانت کا جذبہ تھا۔ اور اگر عورتیں رواج کے مطابق چلیں تو آنکھوں میں نہ بھی آنسو ہوں گے مگر جب تعزیت کے لیے کوئی آئے تو بنا بنا کے رونا شروع کر دیں گی۔ دوسری آئیں وہ بھی رونا شروع کر دیں گی۔ تیسری آئیں وہ بھی۔ لیکن تحمل کی بات یہ ہے کہ روتے ہوؤں کو تھام لیا جائے، غم زدہ لوگوں کو تھام لیا جائے اور تسلی دی جائے، یہ کام کیا تو مرد کرتے ہیں مگر عورتیں بھی ایسے حوصلے کی گزری ہیں جنہوں نے مردوں کے غموں کو ہلکا کر دیا ہے۔
حضرت خدیجۃ الکبرٰیؓ کا پوری امت پر احسان
حضرت خدیجۃ الکبرٰی رضی اللہ عنہا نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے پہلی زوجہ پاک ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ ساری امت پر حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا احسان ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب پہلی مرتبہ وحی آئی اور عالم غیب سے پہلی بار سابقہ پڑا تو حضرت جبرائیل علیہ السلام کو آپؐ نے اصلی شکل میں دیکھا ورنہ انسانی صورت میں آتے تھے۔ صحابہؓ میں حضرت دحیہ کلبیؓ بہت خوبصورت اور حسین و جمیل صحابی تھے، ان کی شکل میں حضرت جبرائیل’ آیا کرتے تھے۔ صحابہؓ دیکھتے تھے کہ دحیہ بیٹھے ہوئے ہیں۔ ایک اِدھر ایک اُدھر۔ تو دو مرتبہ اصلی شکل میں حضور علیہ السلام نے دیکھا۔ ایک تو جب غار حرا میں سب سے پہلی وحی آئی ہے اس وقت اپنی اصلی شکل میں نمایاں ہوئے اور ایک معراج کی شب میں۔ اور یہ دیکھنا اس شان سے تھا کہ ان کے چھ چھ سو بازو ہیں، مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب تک جتنی فضا ہے سب ان کے بدن سے گھری ہوئی ہے، اتنا عظیم قدوقامت ہے کہ سر آسمان پر ہے، پیر زمین پر ہیں، موڈھے جنوب و شمال میں، چھاتی اور سینہ مشرق و مغرب میں ہے۔ گویا پوری فضا جبرائیل علیہ السلام کے بدن سے بھری ہوئی ہے۔ چہرہ سورج کی طرح چمک رہا ہے، ایک تاج بھی ان کے سر پر رکھا ہوا ہے جو سورج سے زیادہ روشن ہے اس سے شعاعیں پھوٹ رہی ہیں، اور ایک سبز رنگ کا کپڑا ہے جو ان کے بدن پر پڑا ہوا ہے۔ تو اتنی حسین و جمیل شکل مگر اتنی عظیم دیکھ کر ایک دفعہ آپؐ گھبرا گئے اور آپؐ کے اوپر ہیبت اور لرزہ طاری ہوا کیونکہ یہ پہلا موقع تھا کہ رجالِ غیب کو اس طرح سے دیکھا اور دیکھا بھی اتنی عظیم شکل میں۔ آپؐ گھبرا گئے اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا:
زملونی زملونی زملونی لقد خشیت علٰی نفسی۔
’’مجھے کمبل اڑھاؤ، کمبل اڑھاؤ، کمبل اڑھاؤ، مجھے ڈر ہے کہ اب میں زندہ نہیں رہوں گا میری جان نکل جائے گی۔‘‘
حضرت خدیجہؓ نے کہا، کیا واقعہ ہوا؟ آپؐ نے واقعہ بیان کیا تو حضرت خدیجہؓ نے تسلی دی اور فرمایا:
کلا واللہ لا یخزیک اللہ ابدًا۔ انک لتصل الرحم وتکسب المعدوم و تقری الضیف و تحمل الکل وتعین علیٰ نوائب الحق۔
’’خدا کی قسم، اللہ آپ کو کبھی ضائع نہیں کرے گا۔ صلہ رحمی، غریبوں کی مدد اور مہمان نوازی آپؐ کرتے ہیں، مسکینوں کو آپؐ پناہ دیتے ہیں، ساری دنیا کی خیر خواہی میں لگے ہوئے ہیں، ایسے بندوں کو اللہ ضائع نہیں کیا کرتا، آپ بالکل نہ گھبرائیں آپ کی جان نہیں جا سکتی۔‘‘
یہ تو زبان سے تسلی دی اور عمل یہ کیا کہ ہاتھ پکڑ کر ورقہ ابن نوفل کے پاس لے گئیں۔ یہ عرب کے لوگوں میں بہت بوڑھے اور ادھیڑ عمر کے تھے، مذہبًا نصرانی تھے اس لیے انجیل اور تمام آسمانی کتابیں لکھا بھی کرتے تھے اور ان کو یہ کتابیں یاد تھیں اور ان کے علوم سے واقف بھی تھے۔ مشرکین عرب یا خاندانِ قریش میں ایک یہ تھے جو اہلِ کتاب میں شامل ہوئے اور آسمانی کتابوں کے بڑے زبردست عالم ہوئے۔ حضرت خدیجہؓ حضورؐ کا ہاتھ پکڑ کر ان کے پاس لے گئیں کہ ان کے حالات کا صحیح پتہ وہ دے سکتا ہے جو عالم ہو اور دینی و تاریخی علوم سے واقف ہو۔ حضرت خدیجہؓ جب ان کے پاس پہنچیں اور کہا ذرا سنیئے یہ آپ کا بھتیجا کیا کہتا ہے؟ ’’اسمع لابن اخیک‘‘ اپنے بھائی کے بچے سے پوچھیئے یہ کیا کہہ رہا ہے۔ ’’یا ابن اخی ما ذرا ترٰی؟‘‘ میرے بھتیجے! کیا بات تم نے دیکھی؟ کیوں گھبرائے ہوئے ہو؟ آپؐ نے سارا واقعہ سنایا کہ میں اس طرح غارِ حرا میں بیٹھا ہوا تھا، ایسی شخصیت نمایاں ہوئی، یہ اس کی شکل تھی اور یہ اس نے مجھ سے خطاب کیا۔ ورقہ ابن نوفل نے کہا ’’ابشر ابشر‘‘ خوشخبری حاصل کرو، یہ وہ ناموس ہے جو موسٰی علیہ السلام کے پاس وحی لے کر آتا تھا اور دیگر پیغمبروں کے پاس آتا تھا۔ خدا نے تم کو اس امت کا پیغمبر بنایا ہے، جس کی خبریں سننے میں آ رہی تھیں وہ تھیں وہ تم ہی معلوم ہوتے ہو، اس لیے تم مت گھبراؤ، یہ تمہارے لیے بشارت ہے۔ اور کہا کہ کاش جب تم تبلیغ کا نام لے کر کھڑے ہو اور اسلام کی دعوت دو میں اس وقت زندہ ہوتا تو میں تمہاری مدد اور اعانت کرتا لیکن میں تو قبر میں پاؤں لٹکائے ہوئے ہوں۔ سو برس سے زیادہ عمر ہو چکی تھی، بڑے معمر اور بوڑھے تھے۔
آپ نے دیکھا کہ ایک ایسا کٹھن معاملہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش آیا، یہ معاملہ کوئی بدنی بیماری کا نہیں تھا کہ کوئی بخار آگیا ہو، کھانسی آگئی ہو، یہ روحانی معاملہ تھا اور روحانی معاملہ بھی وہ جو پیغمبروں سے پیش آتا ہے، کسی معمولی ولی کا بھی نہیں بلکہ نبی الانبیاءؐ کا معاملہ تھا۔ اس میں تسلی دینے کے لیے ایک عورت کھڑی ہوئی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا۔ ہمارے زمانے کی کوئی عورت ہوتی وہ گھبرا کے کہتی خدا جانے اب کیا ہو گا جلدی سے کمبل اڑھاؤ اور ایک واویلا شروع ہو جاتا۔ لیکن ان کا گھبرانا تو بجائے خود ہے، اس ذات اقدس کو تسلی دی جو پورے عالم کی سردار بننے والی تھی۔ ان کے دل کو تھامنے کی کوشش کی۔ قول سے الگ تھاما، عمل سے الگ تھاما۔ زبان سے یہ تسلی دی کہ آپ وہ نہیں ہیں کہ اللہ آپ کو ضائع کرے، آپ تو سرتاپا بزرگ ہی بزرگ خیر ہی خیر ہیں، عادت اللہ یہ ہے کہ ایسی ہستیوں کو اللہ کھویا نہیں کرتا۔ اور عمل یہ کہ ورقہ ابن نوفل کے پاس لے گئیں۔ یہ ایک عورت ہی تھیں جس کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینا درحقیقت اس پوری امت کو تسلی دینا ہے جو قیامت تک آنے والی ہے۔ گویا اکیلی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا پوری امت پر احسان ہے۔
میرے کہنے کا یہ مطلب ہے کہ عورتیں ایسی ایسی بھی گزری ہیں۔ اس لیے عورتوں کا یہ خیال کرنا کہ ہمارا کام تو بس اتنا ہے کہ گھر میں بیٹھ جائیں، کھانا پکا دیا، زیادہ سے زیادہ بچوں کے کپڑے سی دیے اور زیادہ ہوا ان کی تربیت کر دی، اس سے زیادہ ہم ترقی کرنے کے لیے نہیں ہیں۔ یہ میدان مردوں کا ہے۔ ولی بھی مرد بنے گا، امام بھی مرد بنے گا، مجتہد اور خلیفہ بھی بنے گا، ہم اس کام کے لیے نہیں ہیں۔ تم چاہو تو مجتہد، ولیٔ کامل بن سکتی ہو، اللہ کی طرف سے تمہارے ساتھ الہام کا معاملہ ہو کہ تمہارے اوپر الہام آئے، تم یہ بھی کر سکتی ہو۔ جو ایک بڑے سے بڑے ولی کا حال ہو سکتا ہے وہ ایک عورت کا بھی ہو سکتا ہے بشرطیکہ عورت توجہ کرے، مگر یہ توجہ نہیں کرتیں۔ یہ ساری بات میں نے اس لیے کہی ہے کہ یہ غلط فہمی رفع ہو جائے کہ عورت کے دل میں یہ کھٹک پیدا ہو گئی کہ ہم نہ دینی ترقی کے لیے ہیں نہ علمی ترقی کے لیے، اس کام کے لیے تو مرد ہیں۔
قصور مردوں کا ہے
اگر برا نہ مانا جائے تو میں کہوں گا کہ اس میں زیادہ قصور مردوں کا ہے۔ یہ خیال انہوں نے اپنے عمل سے پیدا کیا ہے۔ زبان سے تو کسی نے نہیں کہا ہو گا مگر غریب عورتوں کے ساتھ جو طریق عمل برتا گیا ہے کہ نہ ان کو تعلیم و ترقی دینے کا بندوبست نہ دین سکھلانے کا بندوبست۔ گویا عملاً زبانِ حال سے آپ نے انہیں باور کرا دیا کہ تم اس لیے پیدا ہی نہیں کی گئی ہو کہ دینی و اخلاقی ترقی کرو۔ یہ کچھ کریں گے تو ہم کریں گے اور ہم بھی افریقہ میں رہ کے نہیں کریں گے کوئی ہندوستان میں رہ کے ترقی کر لے تو کر لے ہم اس لیے پیدا ہی نہیں کیے گئے نہ ہماری عورتیں اس لیے پیدا کی گئی ہیں۔
جب آپ نے اپنے طرزِ عمل سے عورتوں کے راستے بند کر دیے ہیں تو ان غریب عورتوں کا کوئی قصور نہیں۔ یہ قصور اصل میں مردوں کا ہے اور قیامت کے دن ان مردوں سے باز پرس ہو گی کہ تم نے کیوں تربیت کی طرف توجہ نہیں کی؟ کیوں ان کو تعلیم نہ دی؟ حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ
’’کلکم راع و کلکم مسئول عن رعیتہ‘‘
تم میں سے ہر شخص بادشاہ ہے اور قیامت کے دن ہر بادشاہ سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا کہ اپنی رعیت کو کس طرح رکھا؟ آرام و سکھ سے رکھا یا تکلیف سے؟ صحیح تربیت کی یا نہیں کی؟ دین پر لگایا یا دین سے ہٹایا؟ تو فرمایا ہر گھر کا مرد بادشاہ ہے اور جتنے گھر میں رہنے والے ہیں وہ درحقیقت اس کی رعایا ہیں، اس کے زیر عیال ہیں۔ قیامت کے دن سوال ہو گا کہ گھر والوں کے ساتھ تم نے کس قسم کا برتاؤ کیا؟ ملک کا بادشاہ ہے تو پورا ملک اس کی رعیت ہے۔ قیامت کے دن اس سے پوچھا جائے گا کہ تو نے اپنی رعیت کو کس حال میں رکھا، اس کی آسائش کی خبر لی یا انہیں تکلیفیں پہنچائیں؟ ان کو آبرو بخشی یا انہیں بے آبرو اور بے عزت کیا؟ ان کو ایذا پہنچائی یا ان کی راحت رسانی کا سامان کیا۔
یہ ہر بادشاہ سے سوال ہو گا۔ استاذ سے اس کے شاگردوں کی نسبت سوال ہو گا کہ تیرے شاگرد تیرے حق میں بمنزلہ رعیت کے تھے، تو ان کا بادشاہ تھا، وہ تیری حکم برداری کرتے تھے، تو نے ان پر کیا کیا حکم چلایا؟ شیخ سے اس کے مریدین کی نسبت سوال ہو گا کہ مریدین بمنزلہ رعیت کے تھے، تو حکم کرنے والا تھا، تجھے منوانے کا مقام دیا گیا تھا اور وہ ماننے والے تھے، تو نے کیا کیا چیزیں منوائیں؟ تو نے ان سے دین منوایا یا بری چیزیں ان سے منوائیں؟ غرض ہر شخص سے سوال کیا جائے گا، تو آپ سے اور مجھ سے بھی سوال ہو گا۔ عورتوں کے بارے میں بھی سوال ہو گا کیونکہ وہ ہمارے زیرتربیت اور زیرعیال ہیں۔
رسول اللہؐ کی وصیت
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے زیادہ توجہ عورتوں کی طرف دی ہے حتٰی کہ عین وفات کے وقت جو آخری کلمہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے نکلا وہ یہ تھا کہ
’’اتقوا اللہ فی النسآء‘‘
اے لوگو! عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو، یہ امانتیں ہیں جو تمہارے سپرد کی کی گئی ہیں، ایسا نہ ہو کہ تم امانت میں خیانت کرو اور قیامت کے دن تم سے بازپرس ہو۔ یہ آخری کلمہ ہے جو عین وفات کے وقت فرمایا ہے وہ یہ تھا کہ عورتوں کی فکر کرو کہیں یہ ضائع نہ ہو جائیں، ان کو خراب نہ کر دیا جائے، ان کی تربیت نہ تباہ ہو جائے، ان کا دین نہ برباد ہو جائے اور دنیا نہ خراب ہو جائے۔ تو جس ذاتِ اقدس نے خود عورتوں کے بارے میں اتنی توجہ کی اس کی امت کا بھی فرض ہے کہ وہ توجہ کرے۔ حدیث میں ہے کہ
ان اکرم المؤمنین احسنکم اخلاقا الطفکم اھلا۔
تم میں سب سے زیادہ قابل تکریم وہ مسلمان ہے جس کے اخلاق پاکیزہ ہوں اور عورتوں، بیویوں کے ساتھ لطف و مروّت اور مدارت کا برتاؤ کرتا ہو۔ مطلب یہ کہ جو عورتوں کے ساتھ زیادتی اور سختی سے پیش آئے وہ قابلِ تکریم نہیں ہے، اس حدیث کا حاصل یہی ہے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے توجہ فرمائی اور پوری توجہ فرمائی اور عین وفات کے وقت آپؐ نے جو نصیحت ارشاد فرمائی وہ عورتوں کے بارے میں تھی۔ اس سے اندازہ کیجئے کہ امت کے لیے نبی اکرمؐ نے جہاں اتنا خیال کیا، امت کیا خیال کر رہی ہے؟ امت نے یہ کیا کہ طرزِ عمل سے باور کرا دیا کہ تم نہ دینی ترقی کے قابل، نہ دینی عمل کے قابل، یہ تمہارا کام ہی نہیں۔ بس تمہارا کام یہ ہے اگر تم غریب ہو تو گھر بیٹھ کے کھانا پکاؤ، اور اگر تم دولت مند ہو تو کھانا ملازمہ پکا لے گی، تم اچھے کپڑے پہن لیا کرو، بہترین زیور پہن لیا کرو اور جو جی میں آئے آرائش زیبائش کر لیا کر، بس قصہ ختم ہو گیا، زیادہ سے زیادہ یہ کیا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے بدنوں کو تو سنوار دیا لیکن دلوں کو بھی سنوارا ہے؟ بدن کی آرائش و زیبائش تو چند دن کی بہار ہے، یہ چند دن میں ختم ہونے والی ہے۔ خدا بھلا کرے بخار کا، تین دن میں بتلا دیتا ہے، ساری جوانی ڈھیلی پڑ جاتی ہے، اگر آدمی جوانی کے اوپر ناز کرے اور چہرے کی تازگی اور رونق پر اترائے تو تین دن کا بخار بتلا دیتا ہے کہ جوانی کی یہ حقیقت تھی۔ چہرے کی سرخی بھی ختم، منہ پر جھریاں پڑ گئیں اور تین دن میں بخار سے ایسا حال ہو گیا اور بخار نے بتلا دیا کہ سب سے بڑا مربّی اور ناصح میں ہوں، یہ بتلا دیتا ہے کہ جس کے لیے سارا سب کچھ کیا جا رہا ہے اس کی یہ قدر و قیمت ہے۔ اسی واسطے اہل اللہ نے اس کی خاص طور پر تاکید کی ہے کہ صورتوں کے حسن و جمال میں زیادہ مت گھسو، سیرت کے حسن و جمال کو دیکھو، اخلاق کی پاکیزگی کو دیکھو۔
مؤرخین لکھتے ہیں کہ ایک بزرگ کی خانقاہ میں اللہ اللہ سیکھنے کے لیے ہزاروں آدمی آتے تھے۔ ایک شخص آیا، ابھی بے چارہ نیا تھا، بزرگی نے اس کے دل میں گھر نہیں کیا تھا، شیخ سے بیعت ہوا۔ شیخ نے اسے اللہ اللہ بتا دی، اس نے بھی ذکر اللہ شروع کر دیا۔ اور طریقہ یہ تھا کہ خانقاہ میں جتنے مریدین ٹھہرے ہوئے تھے ان کا کھانا شیخ کے گھر سے آتا تھا۔ ایک باندی تھی جو کھانا تقسیم کر جاتی تھی۔ یہ مرید جو نووارد تھے، باندی انہیں کھانا دینے کے لیے آئی، باندی ذرا اچھی صورت کی تھی، ان کی طبیعت اس کی طرف مائل ہو گئی، اب جب وہ کھانا لے کے آئے یہ اسے گھورنا شروع کریں۔ شیخ کو پتہ چل گیا کہ یہ باندی کی صورت کی طرف مائل ہو گئے ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ وہ جتنا صورت و شکل میں الجھیں حقیقت اتنی کم ہو گی اور ذکر اللہ وغیرہ چھوٹ گیا، بس یہ نگاہ بازی رہ گئی، جب وہ آئے تو اسے گھور رہے ہیں، نہ اللہ کا نام اور نہ ذکر۔ عادت اللہ یہی ہے کہ بندہ صورتوں میں جتنا الجھتا ہے حقیقت سے اتنا ہی بے خبر بن جاتا ہے، جب صورت کے عشق میں مبتلا ہو گیا حقیقت کا عشق ختم ہو جاتا ہے۔ تو وہ صورت کے دیکھنے میں لگ گئے، اور جو حقیقت تھی اللہ اللہ کرنا اور یادِ خداوندی اس سے غفلت شروع ہو گئی۔
شیخ کو پتہ چل گیا کہ ہمارے مرید اس بلا میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ سبحان اللہ انہوں نے بڑی تدبیر سے علاج کیا، انہیں بلا کر یہ نہیں کہا کہ تم نے یہ کیا حرکت کی، ایسا مت کرو۔ بلکہ ایک تدبیر اختیار کی اور ہنسی کی تدبیر اختیار کی اور ان کی اصلاح بھی ہو گئی۔ وہ یہ کہ دستوں کی ایک دوا لا کر اس باندی کو کھلا دی، جمال گھوٹا یا کوئی دوسرا مسہل۔ صبح سے شام تک اسے بڑی تعداد میں دست آ گئے اور باندی کو یہ حکم دیا کہ ایک چوکی رکھ دی گئی ہے اس پر جا کر حاجت کرنا۔ وہ بیچاری ہر دست منٹ کے بعد جاتی۔ شام کو جب وہ چہرے کی سرخی باقی نہ رہی، ہڈی کو چمڑا لگ گیا، صورت دیکھو تو دیکھ کے نفرت آئے اور وہ جو گلاب سا چہرہ کھل رہا تھا وہ سب ختم ہو گیا، ایک زردی سے چھا گئی۔ شیخ نے اب اس کو کہا کہ اس مرید کے پاس کھانا لے کے جا اور تیرے ساتھ جو معاملہ کرے مجھے اس کی اطلاع دینا۔ اب وہ کھانا لے کے آئی تو انتظار میں بیٹھے رہتے تھے کہ کب وہ آئے اور میں اس کو گھوروں۔ اور اب جو آئی تو دیکھا کہ ہڈیاں نکلی ہوئیں، چہرے پر جھریاں پڑی ہوئیں، سرخی کے بجائے زردی چھائی ہوئی، انہیں بڑی نفرت پیدا ہوئی، کہا رکھ دے کھانا اور چلی جا جلدی سے یہاں سے، وہ بیچاری کھانا رکھ کے چلی گئی۔ شیخ سے اس نے جا کے یہ کہا، یہ اس نے کہا۔ اور کہا بجائے اس کے کہ مجھے دیکھے کہا چلی جا یہاں سے۔
شیخ سمجھ گیا کہ علاج ہو گیا۔ شیخ تشریف لائے اور اس مرید سے فرمایا کہ میرے ساتھ تشریف لے چلیئے۔ انگلی پکڑ کے لے گئے۔ وہ جو قدمچہ رکھا ہوا تھا جس میں کثیر تعداد دستوں کی نجاست بھری ہوئی تھی۔ فرمایا یہ ہے آپ کا معشوق، اسے لے جائیے۔ اس لیے کہ جب تک یہ باندی میں موجود تھا باندی سے محبت تھی، اب یہ نکل گیا اور تو کوئی چیز نہیں نکلی، آپ کو نفرت ہو گئی۔ معلوم ہوا اس باندی سے محبت نہیں تھی اس گندگی سے محبت تھی۔ اس گندگی کو احتیاط سے لے جائیے اور صندوق میں رکھیے، یہ آپ کا معشوق و محبوب ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ صورتوں کا عشق گندگی کا عشق ہے، سیرت کا عشق پاکیزگی کا عشق ہے، اعلیٰ ترین سیرت اخلاق ہیں، محبت کے قابل یہ چیز ہے۔
صورت نہیں سیرت
بلکہ دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ صورت کی خوبی فتنے پیدا کرتی ہے اور سیرت کی خوبی امن پیدا کرتی ہے۔ سب سے زیادہ خوبصورت حضرت یوسف علیہ السلام ہیں، حدیث میں فرمایا گیا
فاذا قد اعطی شطر الحسن۔
آدھا حسن اللہ نے ساری دنیا کو دیا اور آدھا حسن و جمال تنہا یوسف علیہ السلام کو عطا کیا۔ حضرت یوسف علیہ السلام اتنے بڑے حسین و جمیل تھے لیکن یوسف علیہ السلام پر جتنی مصیبتیں آئیں وہ صورت کے حسن کی وجہ سے آئیں۔ بھائیوں نے کنعان کے کنویں میں ڈالا، مصر کے بازار میں غلام بنا کر بیچے گئے، نو برس تک جیل خانہ بھگتا، یہ ساری صورت کی مصیبت تھی۔ اور جب مصر کی سلطنت ملنے کا وقت آیا اس وقت خود حضرت یوسفؑ نے کہا ’’اجلعنی علٰی خزآئن الارض‘‘ مجھے مصر کی سلطنت دے دو تو وجہ یہ نہیں بیان کی ’’انّی حسین جمیل‘‘ میں بڑا خوبصورت ہوں اس لیے مجھے بادشاہ بنا دو۔ بلکہ یوں فرمایا ’’اِنّیْ حَفِیْظ عَلِیْم‘‘ مجھے سلطنت بخش دو اس واسطے کہ میں عالم ہوں، میں جانتا ہوں کہ سلطنت کس طرح سے چلتی ہے، میں اپنے علم و کمال سے سلطنت چلا کے دکھاؤں گا۔ تو مصیبتوں کا جب وقت آیا تو حسن و جمال سامنے آیا۔ اور سلطنت ملنے کا وقت آیا تو اندرونی سیرت، علم و کمال سامنے آیا۔ اس لیے صورت کی خوبیاں فتنے میں مبتلا کرتی ہیں اور سیرت کی خوبیاں دنیا میں امن پیدا کرتی ہیں۔
میں اس پر عرض کر رہا تھا کہ اگر غریب گھرانے کی عورت ہے تب تو بڑے سے بڑا کام مردوں کی طرف سے کیا سپرد ہوتا ہے؟ یہ کہ کھانا پکا دے، گھر کی دیکھ بھال اور بچوں کی پال پرورش کر دے، اس کے فرائض ختم ہو گئے۔ اور اگر امیر گھرانے کی عورت ہے تو وہ بچوں کی دیکھ بھال نہیں کرے گی، وہ ملازمہ کرے گی، کھانا بھی وہ پکائے گی، ان کا کام یہ ہے کہ ذرا اچھے کپڑے پہن لیے، اچھا زیور پہن لیا، ذرا اور آزاد ہوئیں تو تفریح کے لیے بازار بھی ہو آئیں، یہ کام کر لیا اور زندگی کے فرائض ختم ہو گئے۔ آگے یہ کہ تمہاری سیرت کیسی ہے؟ تمہارا قلب کیسا ہے؟ اخلاق کیسے؟ اس میں علم ہے یا نہیں؟ آخرت کا تعلق ہے یا نہیں؟ اللہ کے سامنے جانے کا کچھ خطرہ تمہارے سامنے ہے یا نہیں؟ قبر و حشر میں کیا گزرے گی؟ انجام کیا ہو گا؟ اس کا کوئی ذکر نہیں، بس کھا لیا، پی لیا، عمدہ لباس پہن لیا، بہتر سے بہتر زیور پہن لیا اور فرائض ختم ہو گئے۔ یہ تو اللہ کے ہاں سوال ہو گا کہ تمہیں بادشاہ بنایا گیا تھا کیا اس لیے کہ رعیت کو اچھا کھلا دو، پہنا دو، اور ہم سے غافل کر دو؟ اس لیے تمہیں بادشاہ بنایا گیا تھا کہ مقصد کی طرف متوجہ کرو، وہ یہ کہ ہماری طرف متوجہ کرتے، جس کے لیے تمہیں دنیا میں بھیجا گیا ہے۔ یہ نہیں کیا تو تم سزا کے مستحق ہو۔
اس لیے میں سمجھتا ہوں اس میں عورتوں کا کوئی قصور نہیں، یہ سارا مردوں کا قصور ہے کہ نہ ان کی تعلیم کا بندوبست کرتے ہیں نہ ان کی تربیت کا۔ ان کی دلداری کا بڑے سے بڑا طریقہ ان کے ہاں یہ ہے کہ جو اُن کو خواہش ہو وہ پوری کر دو۔ کپڑے زیور دے دو بس فرض ختم ہو گیا۔ یہ نہیں کرتے کہ ان کے دل کو سنواریں، ان کی روح میں آراستگی پیدا کریں۔ کیا قیامت کے دن اس بارے میں ہم سے سوال نہیں ہو گا؟ کیا ہم سے پوچھا نہیں جائے گا؟ ضرور پوچھا جائے گا، ضرور پرسش ہو گی، اس جواب دہی کے لیے تیار ہو جانا چاہیے۔
اس کا نتیجہ یہ ہے کہ جب عورت کی گود علم و کمال سے خالی ہو گی تو بچے میں علم کہاں سے آئے گا؟ بچہ تو ماں کی گود سے علم حاصل کرتا ہے، وہاں جہالت ہے تو وہ بھی جاہل ہو گا۔ وہاں محض ظاہری ٹیپ ٹاپ کی خواہش ہے، بچے میں بھی یہی ٹیپ ٹاپ پیدا ہو گی، اسے بھی دل کے سنوارنے کی کوئی فکر نہیں ہو گی۔ اس پر مجھے ایک واقعہ یاد آگیا اور وہ بڑی عبرت کا واقعہ ہے۔ وہ اس کا ہے کہ اگر عورت دیندار بننا چاہے اور اس کو بنانا چاہیں تو بڑے بڑے آرام اور عیش میں رہ کر بھی دیندار بن سکتی ہے۔ اور بددین بننا چاہے تو فقر و فاقہ میں بھی بددین بن سکتی ہے۔ دین کے لیے یہ ضروری نہیں کہ آدمی بھک منگا بن جائے تو دیندار بنے گا اور اگر کوئی کروڑ پتی ہو گیا تو وہ دین دار ہو ہی نہیں سکتا۔ یہ غلط ہے۔ دیندار بننا چاہے تو کروڑ پتی بن کے بھی دیندار بن سکتا ہے اور نہ بننا چاہے تو فاقہ مست ہو پھر بھی بددین بن سکتا ہے، اس پر میں واقعہ عرض کر رہا ہوں۔
وہ یہ کہ کابل کے بادشاہوں میں امیر دوست محمد خان بہت دیندار بادشاہ گزرے ہیں۔ امیر امان اللہ خان مرحوم کے باپ امیر حبیب اللہ خان تھے اور حبیب اللہ خان کے باپ امیر عبد الرحمٰن تھے، ان کے باپ دوست محمد خان ہیں۔ ان کا زمانہ تھا۔ ان کے زمانے میں کسی دوسرے بادشاہ نے افغانستان کے اوپر حملہ کیا اور فوج لے کر چڑھ دوڑا۔ امیر صاحب کو اس سے صدمہ بھی ہوا اور دکھ بھی کہ ایک بادشاہ نے میری سلطنت پر حملہ کر دیا، ممکن ہے کہ بادشاہت بھی ختم ہو اور آنے والا ملک کو برباد کر دے۔ اسی فکر میں شاہی محل میں اندر تشریف لائے، ان کی بیگم کھڑی ہوئی تھیں، بیگم سے یہ کہا کہ آج ایسی خبر آئی ہے کہ کسی بادشاہ نے حملہ کیا ہے، میں نے اپنے شہزادے کو فوج دے کر بھیج دیا ہے تاکہ وہ جا کے دشمن کا مقابلہ کرے۔ بیگم نے کہا ٹھیک کیا اور گبھرائیے مت، اللہ آپ کی مدد کرے گا۔ غرض اپنے شہزادے کو فوج دے کر بھیج دیا کہ وہ دشمن کا مقابلہ کرے اور اس کو ملک میں نہ آنے دے اور اسے دور دھکیل دے، شہزادہ فوج لے کر چلا گیا۔ دوسرے دن امیر صاحب گھر میں آئے اور چہرے پر غم کا اثر، بیگم سے کہا کہ آج ایک بڑے صدمے کی خبر آئی ہے اور وہ یہ کہ میرا شہزادہ ہار گیا اس نے شکست کھائی، اور دشمن ملک کے اندر چڑھا ہوا آ رہا ہے اور میرا بیٹا شکست کھا کر واپس بھاگتا ہوا آ رہا ہے۔ مجھے اس کا بڑا صدمہ ہے، ملک بھی جا رہا ہے اور یہ بات بھی پیش آگئی۔ بیگم نے کہا یہ بالکل جھوٹی خبر ہے اور آپ اس کا بالکل یقین نہ کریں۔ اس نے کہا جھوٹی نہیں ہے یہ تو سرکاری پرچہ نویس نے اطلاع دی ہے، محکمہ سی آئی ڈی کی اطلاع ہے۔ بیگم نے کہا آپ کا محکمہ بھی جھوٹا ہے اور سی آئی ڈی بھی آپ کی جھوٹی ہے، یہ خبر غلط ہے ایسا نہیں ہو سکتا۔
اب امیر صاحب کہہ رہے ہیں کہ سلطنت کی باضابطہ اطلاع ہے، یہ گھر میں بیٹھ کے کہہ رہی ہے کہ خبر جھوٹی ہے۔ اس نے کہا کہ نہیں، یہ باضابطہ بھی بالکل جھوٹ ہے۔ امیر نے کہا کہ اب اس عورت سے بیٹھ کر کون جھک جھک کرے، وہی مرغے کی ایک ٹانگ، نہ کوئی دلیل نہ کوئی حجت، میں دلائل بیان کر رہا ہوں کہ محکمہ کی اطلاع اور ضابطہ کی خبر، اس نے کہا سب جھوٹے۔ اب اس سے کون بحث کرے۔ جیسے قرآن میں فرمایا گیا ہے:
اَوَمَن یُّنَشَّؤُا فِی الْحِلْیَۃِ وَھُوَ فِی الْخِصَامِ غَیْرُ مُبِیْنٍ۔
فرمایا کہ عورت میں کچھ عقل کی کمی ہوتی ہے، جب بحث ہوتی ہے تو وہی مرغے کی ایک ٹانگ ہانکتی رہتی ہے۔ اس کی وجہ یہ کہ یہ بچپن سے زیوروں کی جھنکار میں پرورش پاتی ہے۔ جب ابتداء ہی سے رات دن سونا چاندی دل میں گھس گیا تو علم اور کمال کہاں سے گھسے گا۔ ایک چیز گھس سکتی ہے، یا سونا گھس جائے یا علم۔ ذرا دودھ پینا چھوٹا تو اس کے کان میں سوراخ کر دیا تاکہ اس میں سونے کی بالی پڑ جائے اور ذرا بڑی ہوئی تو ناک میں سوراخ کر دیا تاکہ اس میں سونے کی بالی بھی ڈال دو اور زیادہ ہوا تو گلے میں سونے کا طوق ڈال دیا۔ ہاتھوں میں سونے کی ہتھکڑیاں ڈال دیں اور پیروں میں سونے کی بیڑیاں ڈال دیں۔ غرض سونے چاندی کی قیدی۔ اور واقعی اگر عورتوں سے یوں کہا جائے کہ تمہارے سارے بدن میں کیلیں ٹھونکی جائیں گی مگر وہ سونے کی ہوں گی، فورًا راضی ہو جائیں گی، جلدی کرو ٹھونک دو مگر کیل سونے چاندی کی ہونی چاہیئے۔ اس درجہ سونے اور چاندی کی محبت میں گرفتار ہیں کہ بدن چھدوانے کو تیار ہیں مگر سونا اور چاندی ہو۔ جب اس درجے پر بات ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے جو قرآن نے فرمایا ’’او من ینشؤا فی الحلیۃ وھو فی الخصام غیر مبین‘‘ وہ جو سونے اور چاندی میں نشوونما پاتی ہے اس کا نتیجہ یہ ہے کہ علمی قوت نہیں پیدا ہوتی، جب خاوند سے بحث ہوتی ہے، وہ تو حجتیں پیش کرتا ہے اور یہ وہی مرغے کی ایک ٹانگ ہانکتی ہے کہ نہیں یوں ہو گا۔
تو امیر صاحب نے دیکھا کہ بھئی میں حجت بیان کر رہا ہوں، سرکاری خبریں دے رہا ہوں، یہ کہتی ہے سب غلط ہیں۔ اب اس عورت سے کون بحث کرے، محل سرائے سے واپس چلے آئے۔ دوسرے دن بڑے خوش خوش آئے اور کہا مبارک ہو، جو تم نے کہا تھا بات وہی سچی نکلی۔ خبر یہ آئی ہے کہ میرا شہزادہ فتح پا گیا اس نے دشمن کو بھگا دیا اور وہ کامیابی کے ساتھ واپس آ رہا ہے۔ بیگم نے کہا الحمد للہ، اللہ تعالیٰ کا شکر ہے اس نے میری بات اونچی کی اور میری بات سچی کر دکھائی۔ امیر نے کہا، آخر تم کہیں کیسے معلوم ہوا تھا جو تم نے کل یہ حکم لگا دیا کہ میرا محکمہ بھی جھوٹا، سی آئی ڈی اور پولیس بھی جھوٹی، تو تمہیں کوئی الہام ہوا تھا؟ اس نے کہا مجھے الہام سے کیا تعلق، اول تو عورت ذات، پھر ایک بادشاہی تخت پر بیٹھنے والی، یہ بزرگوں کا کام ہے کہ انہیں الہام ہو، بھلا مجھے الہام سے کیا تعلق؟ میں ایک معمولی عورت۔ انہوں نے کہا، آخر تم نے اس قوت سے کس طرح کہہ دیا کہ سب بات غلط ہے اور واقعہ بھی وہی ہوا کہ وہ غلط ہی ثابت ہوئی۔ اس نے کہا، اس کا ایک راز ہے جس کو میں نے اب تک کسی کے سامنے نہیں کھولا اور نہ اسے کھولنا چاہتی ہوں۔
امیر نے کہا وہ کیسا راز ہے؟ اب امیر صاحب سر ہو گئے کہ آخر ایسا کونسا راز ہے جو خاوند سے بھی چھپا ہوا رہ جائے۔ اس نے کہا صاحب! کہ ایسی بات ہے کہ میں اس کو کہنا نہیں چاہتی۔ ’’الانسان حریص فی ما منع‘‘ مثل مشہور ہے کہ جس چیز سے روکا جائے اس کی اور زیادہ حرص بڑھتی ہے کہ آخر اس میں کیا ہو گا؟ تو امیر صاحب نے کہا کہ اب تو بتانا پڑے گا۔ جب بہت زیادہ سر ہو گئے تو اس نے کہا آج تک میں نے یہ راز چھپایا اب کھولے دیتی ہوں۔ وہ راز یہ ہے کہ مجھے اس کا کیوں یقین تھا کہ شہزادہ فتح پا کے آئے گا یا قتل ہو گا مگر شکست نہیں کھا سکتا، دشمن کو پیٹھ دکھا کے نہیں آ سکتا۔ یہ میرا یقین کس بنا پر تھا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب یہ میرے پیٹ میں تھا میں نے خدا سے عہد کیا تھا کہ اس نو مہینے میں ایک مشتبہ لقمہ بھی اپنے پیٹ میں نہیں ڈالوں گی، رزقِ حلال کی کمائی میرے پیٹ میں جائے گی۔ اس لیے کہ ناپاک کمائی سے خون بھی ناپاک پیدا ہوتا ہے اور ناپاک خون سے اخلاق بھی گندے اور ناپاک پیدا ہوتے ہیں تو میں نے عہد کیا اور نو مہینے اسے پورا کیا کہ لقمۂ حرام تو بجائے خود ہے میں نے کوئی مشتبہ لقمہ بھی پیٹ میں نہیں جانے دیا، خالص حلال کی کمائی سے پیٹ کو بھرا۔ ایک تو میں نے یہ عہد کیا، اس کو لازم رکھا اور اس پر عمل کیا۔
دوسری بات میں نے یہ کی کہ جب یہ پیدا ہو گیا تو ہزاروں دودھ پلانے والی ملازمات تھیں، میں نے اس کو انہیں نہیں دیا، اپنا دودھ پلایا، دودھ پلانے کا طریقہ یہ تھا، جب یہ روتا، میں پہلے وضو کرتی، دو رکعت نفل پڑھتی، اس کے بعد اسے دودھ پلاتی، دعائیں بھی مانگتی۔ تو ادھر تو اندر پاک غذا پھر اللہ کی طرف توجہ، غرض دودھ بھی پاک، اس سے پیدا ہونے والا خون بھی پاک، اور پاک خون سے پیدا ہونے والے اخلاق بھی پاک۔ اس لیے اس کے اندر بد اخلاقی نہیں ہو سکتی۔ پشت دکھلا کر آنا اور بزدلی کرنا یہ کمینے اخلاق میں سے ہے۔ شجاعت اور بہادری یہ پاکیزہ اخلاق میں سے ہے، جب اس کا خون پاک تھا تو یہ کیسے ممکن تھا یہ بزدل بنتا؟ یہ ممکن تھا یہ قتل ہو جاتا، شہید ہو جاتا۔ مگر یہ ممکن نہیں تھا کہ یہ پشت کے اوپر زخم کھا کر واپس آتا اور بزدلی دکھلاتا، جب اس کے خون میں ناپاکی نہیں تو اس کے افعال میں ناپاکی کہاں سے آئے گی؟ یہ وجہ تھی جس کی بنا پر میں نے دعوٰی کر دیا تھا کہ یہ ناممکن ہے کہ وہ شکست کھا کے آئے۔ ہاں آپ یہ کہتے کہ شہید ہو گیا ہے میں یقین کر لیتی کہ وہ قتل ہو گیا۔ اس بنا پر میں نے یہ دعوٰی کیا تھا آج میں نے یہ راز کھولا۔
آپ اندازہ کریں کہ امیر دوست محمد خان کی بیوی ایک اقلیم کی ملکہ ہیں ہزاروں فوجیں اور سپاہ، حشم و خدم اس کے سامنے ہیں اور وہ جب تختِ سلطنت پر بیٹھ کر اتنی متقی بن سکتی ہے تو ہماری بہو بیٹیاں معمولی گھرانے میں رہ کر کیوں نہیں متقی بن سکتیں؟ ہمارے پاس کون سی ایسی دولت ہے؟ ہم اگر لکھ پتی یا کروڑ پتی بنیں سارے افریقہ کے مالک تو نہیں ہو گئے، ہفت اقلیم کے بادشاہ تو نہیں ہو گئے۔ ایک ملکہ اور بادشاہ کی بیوی جب یہ تقوٰی دکھلا سکتی ہے تو میری بہنیں کیوں نہیں تقوٰی دکھلا سکتیں؟ میری بیٹیاں کیوں نہیں یہ تقوٰی دکھلا سکتیں؟ ان کے پاس تو اتنی دولت بھی نہیں کہ دولت کے قصہ سے کوئی وقت فارغ نہ ہو۔ فارغ وقت بھی ہوتا ہے۔ اس پر میں نے کہا تھا کہ اگر دیندار بننا چاہیں، عورت ہو یا مرد، کروڑ پتی بن کے بھی بن سکتا ہے، نہ بننا چاہے تو فاقہ زدہ ہو کے بھی دیندار نہیں بن سکتا، بددین رہے گا۔ یہ اپنے قلب پر موقوف ہے اور قلب میں یہ جذبہ جب پیدا ہو گا جب اس قلب کی تربیت کی جائے، اس کو تعلیم دی جائے، اس میں علم ڈالا جائے، اس میں اللہ کی عظمت پیدا کی جائے۔ اس میں حلال کی کمائی کی رغبت پیدا کی جائے، ناجائز باتوں سے بچنے کے جذبے پیدا کیے جائیں، تب قلب میں صلاحیت آئے گی، پھر جو اولاد تربیت سے پیدا ہو گی وہ صالحین میں سے ہو گی، وہ خودبخود تقوٰی و طہارت اور نفس کی پاکیزگی لیے ہوئے پیدا ہو گی۔
تو واقعہ یہ ہے کہ بنیاد عورت سے چلتی ہے مگر عورت کو بنانے کی بنیاد مردوں سے چلتی ہے۔ انجام کار ہماری اور آپ کی کوتاہی نکلتی ہے، ہماری بہنوں کا کوئی قصور نہیں۔
بچہ کی تربیت
یہ میں کوئی ان بہنوں کو خوش کرنے کے لیے نہیں کہہ رہا کہ بھئی آج فقط عورتوں کا جلسہ ہے اس لیے ایسی بات کہہ دوں جس سے وہ ناراض نہ ہوں۔ ایسا نہیں بلکہ امر حقیقت ہے کہ اگر ہم صحیح تربیت کریں، یہ ہمارا فرض ہے، چار پانچ برس کی بچی بے چاری کیا جانتی ہے جس راہ پر آپ ڈال دیں گے پڑ جائے گی۔
امام غزالیؒ فرماتے ہیں کہ پیدا ہوا بچہ اسی وقت سے تربیت کے قابل بن جاتا ہے۔ ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ جب چار پانچ برس کا ہو گا جب اس کو تعلیم و تربیت دیں گے، ایسا نہیں ہے، بلکہ امام غزالیؒ فرماتے ہیں کہ پیدا ہوتے ہی تربیت کا وقت آجاتا ہے، اس وجہ سے کہ بچہ مہینے بھر کا ہے اسے ظاہر میں کوئی عقل و شعور اور تمیز کچھ نہیں لیکن اس کے سامنے کوئی برا کلمہ مت کہو اور کوئی بری ہیئت بھی اس کے سامنے مت اختیار کرو، اس لیے کہ اسے ہوش تو نہیں مگر اس کا قلب ایسے ہے جیسے سفید کاغذ، آنکھ کے راستے جو ہیئت جائے گی وہ اس کے قلب کے اوپر جا کے چَھپ جائے گی۔ آپ برا کلمہ کہیں گے یا گالم گلوچ کریں گے وہ کان کے راستے سے جا کر اس کے دل پر چَھپ جائے گا، جب وہ ہوش سنبھالے گا تو وہی باتیں بکتا ہوا ہو گا۔
غرض تربیت وہاں سے شروع ہوتی ہے۔ ہم اس خیال میں رہتے ہیں کہ یہ بچہ ہے اسے کیا شعور ہے؟ جو چاہے اس کے سامنے کہہ دو اور جو چاہو کر گزرو، جو چاہو ہیئت بنالو، اسے کیا شعور؟ یہ درست ہے کہ اسے تمیز اور شعور نہیں ہے مگر یہ چیز کان آنکھ کے راستے سے جا کر دل پر چَھپتی ہے۔ تو امام غزالیؒ لکھتے ہیں کہ دودھ پیتے بچے کے سامنے بات بھی کرو تو تہذیب اور شائستگی کی کرو۔ کوئی بے جا بات مت کرو، وہ بے جا بات اس کے دل میں گھر کر جائے گی اور جب کوئی ہیئت دکھلاؤ تو بری ہیئت مت دکھلاؤ، اچھی ہیئت دکھلاؤ، آنکھ کے راستے سے وہی ہیئت اس کے دل پر چَھپے گی۔ اس بنا پر کہتے ہیں کہ تربیت پانچ برس کی عمر میں نہیں ہوتی، پیدا ہوتے ہی تربیت کا موقع آجاتا ہے۔
بچہ نقال ہوتا ہے
یہ جب ہو گا جب خود ماں باپ میں تقوٰی و پاکیزگی اور احتیاط موجود ہو گی۔ جتنی یہ پاکیزگی برتیں گے اتنی ہی پاکیزگی بچے کے قلب میں بھی پیدا ہو گی۔ یہی وجہ ہے کہ دیہات کے بچے عموماً گالیاں دیتے ہوئے بڑھتے ہیں، شہروں کے تہذیب یافتہ ہوتے ہیں، اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ دیہات میں خود ماں باپ گالیاں بکتے ہیں، بچے کے دل میں بھی وہی چَھپتی رہتی ہیں، شہر میں ذرا تہذیب کے کلمے ہوتے ہیں، وہ چَھپتے رہتے ہیں اس کا اثر پڑتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ شریعتِ اسلام نے آداب میں سے یہ رکھا ہے کہ پیدا ہوتے ہی بچے کے لیے سب سے پہلے بندوبست نہ روٹی کا کیا کہ اسے دودھ پلاؤ، نہ کپڑے کا کیا، خیر یہ بھی پہنا دے، پہلا بندوبست یہ کیا کہ اس کے (غسل دینے اور ظاہری آلودگی سے پاکی کے بعد) دائیں کان میں اذان دو اور بائیں کان میں تکبیر۔ اذان کہنا ایسا ہے جیسے دیوار کے سامنے کہے تو دیوار کو کیا خبر؟ تو یہی بات آتی ہے کہ اسے خبر تو نہیں ہے مگر کان کے راستے جب ’’اشھد ان لا الہ الا اللہ‘‘ پہنچے گا تو دل میں ’’اللہ اکبر‘‘ اللہ سب سے بڑا ہے یہ کلمہ جب پہنچے گا تو دل میں اس کی چھاپ لگ جائے گی۔ جب آپ ’’اشھد ان محمدًا رسول اللہ‘‘ کہیں گے دل پر رسالت پر ایمان لانا چَھپ جائے گا۔ جب ’’حی علی الصلٰوۃ‘‘ کہیں گے کہ آپ نماز کی طرف دوڑو، یہی جملہ چَھپ جائے گا۔ تو دائیں کان کو آپ نے توحید و رسالت، عمل صالح اور اللہ کی عظمت و بڑائی سے بھر دیا اور بائیں کان کو تکبیر سے بھر دیا۔ اس میں اللہ و رسولؐ اور دین کی عظمت دل میں بٹھلائی تو اذان و تکبیر ہو گئی۔
علماء لکھتے ہیں کہ اس اذان اور تکبیر کی نماز کونسی ہے؟ جو جنازہ کی نماز آپ پڑھیں گے اس کی یہ اذان و تکبیر ہے۔ دنیا میں آتے ہی اذان دی گئی، تکبیر بھی کہی گئی اور دنیا سے جاتے ہوئے جنازہ کی نماز پڑھی گئی۔ یہ اس کی اذان و تکبیر تھی تاکہ ایک مومن بچے کی ابتدا اور انتہا دونوں اللہ کے نام پر ہوں۔ تو اللہ اکبر سے زندگی شروع ہوئی اور اسی پر ختم ہو گئی۔ زندگی کا اول و آخر خدا کے نام سے چلا۔ اس کی بنا یہی ہے کہ ابتدا ہی جو اس کے دل میں چَھپے اللہ کا نام چَھپے، کوئی گالم گلوچ اور برا کلمہ نہ چَھپے۔
اب اگر آپ تربیت دیں گے تو دل میں پیدا ہوتے ہی بیچ تو آپ نے ڈال دیا۔ اب نماز کے لیے کہیں گے تو بیج موجود ہے اس میں پھل پھول لگنے شروع ہو جائیں گے، عملِ صالح شروع ہو جائے گا۔ ہاں خدانخواستہ تربیت نہ کی تو وہ جو بیچ ڈالا تھا وہ بھی ضائع ہو جائے گا۔ زمین میں آپ بیج ڈال دیں لیکن نہ پانی دیں نہ دھوپ سے بچائیں، بیج جل کر ختم ہو جائے گا۔ امید بھی نہیں رہے گی کہ اس میں کوئی درخت پیدا ہو۔ اس لیے بیج تو توحید و رسالت کا پیدا ہوتے ہی ڈال دیا جاتا ہے، آگے ماں باپ کو حکم ہے کہ ’’مروا صبیائکم اذا بلغوا سبعًا‘‘ بچوں کو نماز کا حکم دو، جب وہ سات برس کے ہو جاویں، اور مار کر پڑھاؤ جب وہ درس برس کے ہو جائیں۔ یہ گویا تربیت اور آبیاری ہے کہ بیج وہاں ڈالا تھا اب پانی دینا شروع کرو۔ دھوپ سے بچاؤ تاکہ وہ بیج پھل لائے اور درخت بن جائے۔ یہ تربیت ہو گی تو اس کے بچے اور بچیاں بھی مستحق ہیں، لڑکے اور لڑکیاں بھی۔ آگے ماں باپ قصوروار ہیں اولاد قصوروار نہیں ہے۔ اولاد جب قصوروار بنے گی جب وہ عاقل بالغ ہو۔ شریعت کا خطاب متوجہ ہو، پھر اس سے مؤاخذہ ہو گا۔ مگر ابتدائی تعلیم نہ دینے کا مواخذہ ماں باپ سے ہو گا کہ کیوں نہ تم نے صحیح راستے پر ڈالا؟ کیوں غلط راستے پر ڈالا؟
عورتوں کی صحیح تربیت کی ضرورت
تو اس کی ضرورت ہے کہ عورتوں کی تعلیم کا بھی صحیح طریق پر بندوبست کیا جائے مثلاً ہمارے ہاں یہ قدیم زمانے میں دستور تھا بلکہ اب بھی کچھ قصبات میں ہے کہ اسکول یا کالج نہیں قائم ہوتے بلکہ محلے میں جو بڑی بوڑھیاں ہیں اور وہ پڑھی لکھی ہوئی ہیں تو محلے کی بچیاں ایک گھر میں جمع ہو جاتی ہیں۔ وہ گھر کے کام کاج بھی کر رہی ہیں اور قرآن شریف بھی پڑھ رہی ہیں، ترجمہ بھی پڑھ رہی ہیں، مسئلے مسائل کے لیے ان کو بہشتی زیور پڑھایا جا رہا ہے، یہ ان کی گھریلو تعلیم ہو جاتی تھی۔ جب یہ چیز کم ہو گئی تو مدرسے کھلے، بچیاں وہاں پڑھنے چلی جاتی ہیں۔ بہرحال کچھ نہ کچھ اس کی طرف توجہ ہے۔ یہ نہیں کہ انہیں اپنے حال پر چھوڑ دو جیسے خودرو درخت ہوتے ہیں کہ جدھر کو ان کا جی چاہے چلی جائیں۔ بہرحال ان کو گھریلو تعلیم دی جائے، جو عورتیں قرآن شریف پڑھی ہوئی ہیں، یا اردو جانتی ہیں، یا انہیں اپنی زبان میں مسائل معلوم ہوں، یا کوئی کتاب ہے وہ پڑھائیں تاکہ ابتداء سے مسئلے مسائل کا علم ہو۔
اس لیے کہ شریعتِ اسلام نے علم کے سلسلے میں دو درجے رکھے ہیں۔ ایک درجہ ہر انسان پر مرد ہو یا عورت واجب ہے، اور ایک درجہ فرضِ کفایہ ہے کہ سو میں سے ایک ادا کر دے تو سو کے لیے کافی ہے۔
- وہ حصہ جو ہر ہر شخص پر واجب ہے وہ ضروریاتِ دین کا ہے کہ جس سے عقیدہ معلوم ہو جائے، اخلاق کا پتہ چل جائے، حقوق کی ادائیگی، ماں باپ، اولاد، رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے کیا حقوق ہیں، اللہ و رسولؐ کا کیا حق ہے؟ کچھ عبادت، کچھ معاشرت، کچھ اخلاق، کچھ اعتقادات، یہ سیکھنے تو واجب ہیں۔ خواہ مرد ہو یا عورت۔
- اور ایک ہے پورا عالم بننا، یہ ہر ایک کے اوپر فرض نہیں ہے، سو دو سو میں سے اگر ایک دو بھی عالم بن گئے تو سب کے لیے کافی ہے، ہاں ایک بھی نہیں بنے گا تو سب گنہگار ہوں گے۔
غرض فرضِ کفایہ کی یہ شان ہے کہ پوری قوم مل کر فرض کو چھوڑ دے تو پوری قوم گنہگار ہے لیکن اگر ایک فیصد کو عالم بنا دیا، عمل دکھلا دیا تو ساری قوم کے اوپر سے گناہ ہٹ گیا۔ تو ایک عرض عینی ہے یعنی ہر ہر شخص گنہگار، جو نہیں کرے گا وہی گنہگار ہو گا۔ اس لیے اتنا حصہ عورت اور مرد دونوں کے لیے ضروری ہے جس سے وہ یہ سمجھیں کہ اسلام کسے کہتے ہیں؟ ہم مسلمان کیوں ہیں؟ ہم پر کیا چیزیں فرض ہیں؟ ہم پر کیا ضروریات عائد ہوتی ہیں؟ عورت بھی اور مرد بھی اس کا حقدار ہے۔ اس کا سکھانا فرض ہے خواہ مرد اپنی بچیوں کو سکھلائیں یا مرد کسی ایک عورت کو پڑھا دیں۔ وہ عورت اور عورتوں کو تیار کر دے کہ وہ گھروں میں جا کے یا کسی ایک جگہ مدرسہ قائم کر کے ان بچیوں کو پڑھا دے۔ اس سے زیادہ کوئی قصہ نہیں، ذرا توجہ کی جائے تو یہ معاملہ باآسانی ہو سکتا ہے۔
رہا عالم بنانا، سب کے لیے عالم بننا ضروری نہیں ہے، نہ مردوں کے لیے اور نہ عورتوں کے لیے۔ قوم میں سے ایک دو بھی بن گئے یا باہر جا کے بن گئے، ہندوستان جا کے بن گئے، پوری قوم سے گناہ ہٹ گیا۔ اس عالم کا فرض ہے وہ اپنی قوم کی اصلاح کرے، جو ان کی دینی ضروریات ہیں انہیں پورا کرے۔ انہیں مسائل بتائے، فتوٰی دے، الجھنوں میں شرعی طور پر ان کی راہنمائی کرے، دل وساوس میں الجھ گئے ہوں تو فکر کا راستہ درست کرے، یہ اس کا فریضہ ہے۔
بہرحال مطلب یہ ہے کہ عورتیں بھی علم و اخلاق کی اتنی حقدار ہیں جتنے آپ حقدار ہیں، جتنا حصہ آپ پر ضروری ہے وہ ان پر بھی ضروری ہے، ان کی دیکھ بھال آپ کے ذمہ ہے، اگر آپ نہیں کرتے تو آپ سے مؤاخذہ ہو گا۔ اس واسطے یہ چند جملے میں نے عرض کیے تھے اور آیت یہ تلاوت کی تھی ’’وَاِذْ قَالَتِ الْمَلٰئِکَۃُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللہَ اصْطَفٰکِ وَطَھَّرَکِ وَاصْطَفٰکِ عَلٰی نِسَآءِ الْعٰلَمِیْنَ‘‘ ملائکہ علیہم السلام جب آئے اور انہوں نے حضرت مریم علیہا السلام سے خطاب کیا۔ یہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کی والدہ ماجدہ ہیں۔ نہایت مقدس اور پاک باز بی بی ہیں۔ حتٰی کہ بعض علماء ان کے نبی ہونے کے قائل ہیں، ان سے ملائکہ نے خطاب کیا اور کہا:
اے مریم! بشارت حاصل کر، اللہ نے تجھے منتخب کیا، تجھے پاکباز اور مقدس بنایا اور تیرے زمانے میں جتنی عورتیں ہیں ان سب پر تجھے فضیلت دی، بڑائی اور بزرگی دی، جب اللہ نے یہ انعام تجھے دیا اور برتر و برگزیدہ کر دیا تو تیرا کام یہ ہے ’’یٰمَرْیَمُ اقْنُتِیْ لِرَبِّکِ‘‘ اے مریم! اپنے پروردگار کے سامنے عبادت گزار بندی بن کے رہ ’’وَاسْجُدِیْ‘‘ سجدے اختیار کر ’’وَارْکَعِیْ مَعَ الرَّاکِعِیْنَ‘‘ اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کر۔ رکوع سے مراد نماز ہوتی ہے، جہاں رکوع کا لفظ آتا ہے وہاں نماز کا ذکر ہے، وہاں محض رکوع نہیں بلکہ پوری نماز مراد ہوتی ہے۔ مطلب یہ کہ نماز قائم کرو، عبادتِ خداوندی کو اپنا شعار اور اپنی طبیعت بناؤ
اس لیے میں نے یہ آیت پڑھی تھی کہ مریم علیہا السلام کتنی بڑی پارسا اور پاک بی بی ہیں، ان کو اللہ نے کتنا بڑا مقام دیا کہ فرشتوں نے ان سے خطاب کیا۔ یہ شرف کس کو حاصل ہوا؟ یہ بڑی قسمت کی چیز ہے، یہ ایک عورت کو شرف حاصل ہوا۔ اگر حضرت مریم علیہا السلام کو یہ شرف حاصل ہوا، ہماری بہو بیٹیوں کو کیوں نہیں ہو سکتا بشرطیکہ وہ بھی وہی کام کریں جو حضرت مریمؑ نے کیے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کی کچھ اور خصوصیات تھیں وہ ان کے ساتھ خاص تھیں لیکن جو بڑائی اور کمال اللہ نے دیا تھا اس کے دروازے اللہ نے کسی کے لیے بند نہیں کیے۔ مریم علیہا السلام اگر ولیٔ کامل بن سکتی ہیں تو ہماری عورتیں بھی ولیٔ کامل بن سکتی ہیں۔
نبوت کا بے شک دروازہ بند ہو گیا، نبی اب کوئی نہیں ہو سکتا، ایک ہی نبوت قیامت تک کے لیے کافی ہے، اس نبوت کے طفیل میں بڑے بڑے محدث، امام، مجتہد، اولیائے کاملین اور مجدّد پیدا ہوں گے۔ فیضان قیامت تک اسی نبوت کا کام کرتا رہے گا۔ گویا اتنی کامل نبوت ہے کہ اسے ختم کر کے کسی اور نبوت لانے کی ضرورت نہیں۔ جو مراتبِ نبوت تھے اسی ذات پر ختم کر دیے گئے۔ اب کوئی مرتبہ نبوت کا باقی نہ رہا جس کے لانے کے لیے کسی کو بھیجا جائے کہ اس پر یہ مرتبہ پورا کیا جائے۔ ایک ہی ذات پر سارے مراتب ختم ہو گئے۔ یہ وہی ذات ہے جس کی روشنی قیامت تک چلتی رہے گی۔ روشنی کو پہنچانے والے اللہ تعالیٰ ہزاروں آئینے پیدا کر دے گا کہ آئینہ آفتاب کے سامنے ہو گا اور عکس اندھیرے مکان میں ڈال دے گا۔ تو نبوت کا دروازہ تو بند ہو گیا مگر ولایت کا دروازہ بند نہیں ہوا۔ اس لیے اس نبوت کے نیچے رہ کر جو بڑے سے بڑا کمال مرد کو مل سکتا ہے وہ عورت کو بھی مل سکتا ہے۔
عورتیں مایوس نہ ہوں اور یہ نہ سمجھیں کہ علم وغیرہ تو مردوں کے لیے ہے، ہم صرف گھر میں بیٹھنے کے لیے ہیں۔ گھر میں ہی بیٹھ کر سب کچھ مل سکتا ہے اگر محنت کی جائے اور یہ توجہ کریں۔ اس واسطے میں نے یہ آیت تلاوت کی تھی اس کے تحت یہ تھوڑی سی تشریح عرض کی۔ خدا کرے ہمارے قلوب قبول کریں اور ہمارے دل مائل ہوں اور ہم حقوق کو پہچانیں۔ ہمیں اگر راعی بنایا گیا ہے تو ہم اپنی رعیت کی خبرگیری کریں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق عطا فرما دے، آمین۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔
عالیجاہ محمد کون تھا؟
سوال: امریکہ کے حوالے سے اکثر عالیجاہ محمد کا نام سننے میں آتا ہے۔ یہ صاحب کون ہیں اور ان کے عقائد کیا ہیں؟ (حافظ عطاء المجید، کبیر والا)
جواب: عالیجاہ محمد سیاہ فام امریکیوں کا ایک لیڈر تھا جس نے اپنے آپ کو مسلم راہنما کی حیثیت سے متعارف کرایا اور سفید فام امریکیوں کے خلاف سیاہ فام طبقہ کی روایتی نفرت کو بھڑکا کر اپنے گرد ایک اچھی خاصی جماعت اکٹھی کر لی، لیکن اس کے عقائد اسلامی نہیں تھے بلکہ اس نے اسلام کا لیبل چسپاں کر کے اپنے خودساختہ عقائد کو دنیا کے سامنے پیش کیا۔ ۱۹۳۵ء میں اس نے اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا اور مرزا غلام احمد قادیانی کی طرح پہلے ہلکے پھلکے دعاوی کے ساتھ لوگوں کا مانوس کیا اور پھر ۱۹۵۰ء میں نبوت و رسالت کا کھلا دعوٰی کر دیا۔
اس نے اسلام کے بنیادی احکام کو بدل دیا۔ تمام سفید چیزوں کو حرام قرار دیا۔ نماز کے بارے میں کہا کہ نماز کھڑے ہو کر دعا کرنے کا نام ہے۔ روزے دسمبر میں رکھنے کا حکم دیا۔ حج منسوخ کر کے شکاگو میں اپنے ہیڈکوارٹر پر آنے کو حج کا قائم مقام قرار دیا۔ اور عمومی چندہ کو زکٰوۃ کا نام دے دیا۔
عالیجاہ محمد نے سفید فام لوگوں کے خلاف اپنے پیروکاروں کا یہ ذہن بنایا کہ سفید فام شیطان کی اولاد ہیں اور کہا کہ حضرت آدم علیہ السلام سیاہ فام تھے اور ان کی ساری اولاد سیاہ فام ہے۔
عالیجاہ محمد کے ایک قریبی ساتھی اور دست راست مالکم ایکس نے سب سے پہلے اس کے جھوٹے مذہب سے بغاوت کی اور اہل السنۃ والجماعۃ کے عقائد اختیار کرنے کا اعلان کیا مگر ۱۹۶۵ء میں انہیں شہید کر دیا گیا۔ مالکم ایکس اب مالکم شہباز شہیدؒ کے نام سے متعارف ہیں اور ان کی یاد میں نیویارک میں ’’مالکم شہباز مسجد‘‘ تعمیر کی گئی ہے جو تبلیغِ اسلام کا معروف مرکز ہے۔
مکہ بازی کے سابق عالمی چیمپئن محمد علی کلے نے بھی ابتداء میں جب قبول اسلام کا اعلان کیا تو وہ عالیجاہ محمد کے پیروکار تھے لیکن جلد ہی مالکم شہباز شہیدؒ کے گروپ میں شامل ہو گئے اور اب وہ صحیح العقیدہ مسلمان ہیں۔
عالیجاہ محمد کی موت کے بعد اس کے فرزند وارث دین محمد بھی باپ کے عقائد سے منحرف ہو چکے ہیں اور صحیح العقیدہ مسلمانوں کے ایک بڑے گروپ کی قیادت کر رہے ہیں، جبکہ مالکم شہباز شہیدؒ کا ایک قریبی ساتھی لوئیس فرخان اسلام کے صحیح عقائد سے (معاذ اللہ) منحرف ہو کر اب عالیجاہ محمد کے گمراہ گروپ کی قیادت کر رہا ہے۔
اسلامی نظام میں نمائندگی کا تصور کیا ہے؟
سوال: کیا اسلامی نظام میں حکومت اور عوام کے درمیان نمائندوں کے کسی طبقے کا وجود ہے؟ اور اسلام میں اس کا تصور کیا ہے؟ (حافظ عبید اللہ عامر، گوجرانوالہ)
جواب: کسی مسئلہ پر عوام کی رائے کو صحیح طور پر معلوم کرنے کے لیے نمائندگی کا تصور اسلام میں موجود ہے۔ غزوۂ حنین کے بعد غنیمت کا مال تقسیم ہوا اور مفتوحین کی طرف سے اپنے قیدی واپس لینے کے لیے ایک وفد جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا تو چونکہ قیدی مجاہدین میں تقسیم ہو چکے تھے اس لیے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قیدیوں کی واپسی کے لیے مجاہدین کی رضا اور رائے معلوم کرنا چاہتے تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سب مجاہدین کو جمع کیا جن کی تعداد بارہ ہزار کے لگ بھگ تھی، ان سب کے سامنے مسئلہ پیش کر کے ان کی رائے طلب کی، سب نے اجتماعی آواز سے جواب دیا کہ ہمیں قیدیوں کی واپسی بخوشی منظور ہے لیکن جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اجتماعی جواب پر اکتفاء نہیں کیا اور ارشاد فرمایا کہ
انا لا ندری من اذن منکم فی ذٰلک ومن لم یاذن فارجعوا حتٰی یرفع الینا عرفاءکم امرکم۔ (بخاری ج ۲ ص ۶۱۸)
’’ہم نہیں جانتے کہ تم میں سے کس نے اجازت دی ہے اور کس نے نہیں۔ اس لیے تم سب (اپنے خیموں میں) واپس جاؤ حتٰی کہ تمہارے عرفاء تمہارا معاملہ ہمارے سامنے پیش کریں۔‘‘
چنانچہ مجاہدین اپنے خیموں میں چلے گئے اور عرفاء نے ان سے الگ الگ رائے معلوم کر کے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک اسے پہنچایا اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قیدیوں کی واپسی کا فیصلہ کیا۔
عرفاء ’’عریف‘‘ کی جمع ہے اور عریف عرب معاشرے میں ان لوگوں کو کہا جاتا تھا جو عوام کے مسائل سرداروں اور حکمرانوں تک پہنچاتے تھے۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف اس طبقہ کو اپنے فیصلہ کی بنیاد بنایا ہے بلکہ ایک موقع پر یہ بھی ارشاد فرمایا کہ
ان العرافۃ حق ولابد للناس من عرفاء رواہ ابوداؤد (مشکٰوۃ ص ۳۳۱)
’’عرافہ حق ہے اور لوگوں کے لیے عرفاء کا وجود ضروری ہے۔‘‘
اس لیے اسلامی نظام میں حکومت اور عوام کے درمیان ایک ایسے طبقے کے وجود اور اہمیت کو تسلیم کیا گیا ہے جو عام لوگوں کی نمائندگی کرتے ہوئے ان کے مسائل اور اجتماعی امور پر ان کی رائے حکومت تک پہنچا سکے۔
جمعیۃ العلماء ہند کب وجود میں آئی؟
سوال: جمعیۃ العلماء ہند کا قیام کب عمل میں آیا اور اس کے بنیادی مقاصد کیا تھے؟ (عبد الوحید بٹ، گکھڑ ضلع گوجرانوالہ)
جواب: ۲۲ نومبر ۱۹۱۹ء کو دہلی میں متحدہ ہندوستان کے سرکردہ علماء کرام کا ایک اجلاس مولانا عبد الباری فرنگی محلی کی زیرصدارت منعقد ہوا جس میں ’’جمعیۃ العلماء ہند‘‘ کے نام سے علماء کی ایک مستقل جماعت قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ مولانا مفتی کفایت اللہؒ کو جمعیۃ کا پہلا صدر اور مولانا احمد سعیدؒ کو ناظم منتخب کیا گیا۔ اس کے بعد جمعیۃ کا پہلا اجلاس عام ۲۸ دسمبر ۱۹۱۹ء کو امرتسر میں ہوا جس میں اس کے اغراض و مقاصد اور قواعد و ضوابط کی منظوری دی گئی۔ اور اغراض و مقاصد میں مسلمانانِ ہند کی دینی و سیاسی معاملات میں راہنمائی کے ساتھ ساتھ آزادیٔ وطن کو جمعیۃ کا بنیادی مقصد قرار دیا گیا۔
بنیاد پرست مسلمان کون ہیں؟
سوال: آج کل عام طور پر بعض راہنماؤں کے بیانات میں بنیاد پرست مسلمانوں کا تذکرہ کیا جاتا ہے، اس سے ان کی مراد کون لوگ ہیں؟ (مسعود احمد، لاہور)
جواب: ایک عرصہ سے عالمی اسلام دشمن لابیاں اس منظم کوشش میں مصروف ہیں کہ مسلمانوں کو ان کے بنیادی عقائد و احکام سے ہٹا کر جدید افکار و نظریات کے ساتھ مفاہمت کے لیے تیار کیا جائے اور مسلمانوں کے اندر ایک ایسی لابی منظم کی جائے جو جدید تعبیر و تشریح اور اجتہاد مطلق کے نام پر قرآن و سنت کے احکام کو نئے اور خودساختہ معنی پہنا سکے۔ مگر راسخ الاعتقاد مسلمانوں اور علماء کے سامنے ان کا بس نہیں چل رہا کیونکہ علماء کرام اس موقف پر مضبوطی کے ساتھ قائم ہیں کہ قرآن و سنت کی تعبیر و تشریح وہی قابل قبول ہے جو حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور امتِ مسلمہ کے چودہ سو سالہ اجماعی تعامل کے ذریعے ہم تک پہنچی ہے، اس سے ہٹ کر کی جانے والی کوئی بھی تعبیر سراسر الحاد اور گمراہی ہو گی۔
ان علماء اور راسخ العقیدہ مسلمانوں کو جو قرآن و سنت کی چودہ سو سالہ اجماعی تعبیر و تشریح پر سختی کے ساتھ قائم ہیں، اسلام دشمن لابیوں کی طرف سے مختلف خطابات و القابات سے نوازا جاتا ہے۔ اس سے قبل انہیں دقیانوسی اور رجعت پسند کہا جاتا تھا اور اب ان کے لیے ’’بنیاد پرست‘‘ کی نئی اصطلاح ایجاد کی گئی ہے۔