فروری ۱۹۹۰ء

عالمِ اسلام میں جہاد کی نئی لہرمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
سیرتِ نبویؐ کی جامعیتشیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر 
عصمتِ انبیاءؑ کے بارے میں اہلِ اسلام کا عقیدہحضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ 
علومِ قرآنی پر ایک اجمالی نظرمولانا سراج نعمانی 
سخت سزائیں اور کتب و اُمم سابقہمحمد اسلم رانا 
تحریک نفاذ فقہ جعفریہ ۔ نفاذ اسلام کی جدوجہد میں معاون یا رکاوٹ؟مولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
نصابِ تعلیم کی تشکیلِ جدید ۔ کیوں اور کیسے؟مولانا سعید احمد پالنپوری 
استحکامِ پاکستان کی ضمانتمولانا سعید احمد سیالکوٹی 
کیا حضرت عیسٰیؑ کی وفات قرآن سے ثابت ہے؟حافظ محمد عمار خان ناصر 
اقبالؒ — تہذیبِ مغرب کا بے باک نقادپروفیسر غلام رسول عدیم 
شہادت کا آنکھوں دیکھا حالعدیل احمد جہادیار 
آپ نے پوچھاادارہ 
تعارف و تبصرہادارہ 
زکٰوۃ کا فلسفہ اور حقیقتحضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ 
امام ولی اللہ کا پروگرام اور روسی انقلابحضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ 
شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کی تعمیر کا آغازادارہ 

عالمِ اسلام میں جہاد کی نئی لہر

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

جہاد افغانستان کے منطقی اثرات رفتہ رفتہ ظاہر ہو رہے ہیں کہ نہ صرف مشرقی یورپ نے روس کی بالادستی کا طوق گلے سے اتار پھینکا ہے بلکہ وسطی ایشیا کی ریاستیں بھی اپنی آزادی اور تشخص کی بحالی کے لیے قربانی اور جدوجہد کی شاہراہ پر گامزن ہو چکی ہیں اور فلسطین، کشمیر اور آذربائیجان کے حریت پسند مسلمان جذبۂ جہاد سے سرشار ہو کر ظلم و استبداد کی قوتوں کے خلاف صف آرا ہیں۔ جہاد کے اسی جذبہ سے کفر کی قوتیں خائف تھیں اور اسے مسلمانوں کے دلوں سے نکالنے کے لیے استعماری طاقتیں گزشتہ دو سو برس سے فکری، سیاسی اور تہذیبی سازشوں کے جال بن رہی تھیں لیکن اسلام کی زندہ و متحرک قوت اور جہاد کے ناقابل تسخیر جذبے نے افغانستان کی سنگلاخ وادیوں میں ایک ہی جھٹکے کے ساتھ اس سازش کا تار و پود بکھیر کر رکھ دیا ہے۔ فلسطین میں انتفاضہ کی تحریک فلسطینی مسلمانوں میں آزادی کی تڑپ کے وجود کا احساس دلا رہی ہے، کشمیری حریت پسندوں کی مسلح جدوجہد نے دنیا کو بھولا بسرا مسئلہ کشمیر پھر سے یاد دلا دیا ہے اور آذربائیجان میں روسی ٹینکوں کا نشانہ بننے والے غیور مسلمانوں نے اپنے خون کے ساتھ تاریخ کی یہ حقیقت ایک بار رقم کر دی ہے کہ مسلمان کو اس غفلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کچھ دیر کے لیے مغلوب تو کیا جا سکتا ہے لیکن اسے زیادہ دیر تک قابو میں رکھنا کسی بڑی سے بڑی طاقت کے لیے بھی ممکن نہیں ہے۔

حریت اور غیرت کے یہ شعلے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رہے ہیں مگر استبداد و استعمار کے علم بردار ان شعلوں کی تاب نہ لاتے ہوئے اپنا دامن بچانے کی فکر میں جہاد کی اس نئی عالمگیر لہر کے سرچشمہ ’’جہادِ افغانستان‘‘ کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں اور واشنگٹن، ماسکو اور اسلام آباد جہادِ افغانستان کے منطقی اور نظریاتی نتائج کو روکنے کے لیے گٹھ جوڑ کر چکے ہیں لیکن یہ ان کی بھول اور تاریخ کے عمل سے بے خبری ہے۔ جہاد افغانستان کے منطقی اور نظریاتی اثرات پوری دنیا کو حصار میں لے رہے ہیں تو کابل کو مصنوعی سہاروں کے ساتھ ’’اثر پروف‘‘ رکھنا آخر کب تک ممکن ہوگا؟ماسکو، واشنگٹن اور اسلام آباد کو اس حقیقت کا بالآخر ادراک کرنا ہوگا کیونکہ اب اس کے سوا اور کوئی راستہ باقی نہیں رہ گیا۔

سیرتِ نبویؐ کی جامعیت

شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر

دنیا میں جتنے بھی رسول اور نبی تشریف لائے ہیں ہم ان سب کو سچا مانتے ہیں اور ان پر سچے دل سے ایمان لاتے ہیں اور ایسا کرنا ہمارے فریضہ اور عقیدہ میں داخل ہے ’’لا نفرق بین احد من رسلہ‘‘۔ مگر اس ایمانی اشتراک کے باوجود بھی ان میں سے ہر ایک میں کچھ ایسی نمایاں خصوصیات اور کچھ جداگانہ کمالات و فضائل ہیں جن کو تسلیم کیے بغیر ہرگز کوئی چارۂ کار نہیں ہے۔ مثلاً‌ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جتنے انبیاء و رسل علیہم السلام تشریف لائے ہیں تو ان سب کی دعوت کسی خاص خاندان اور کسی خاص قوم سے مخصوص رہی۔ حضرت نوح علیہ السلام تشریف لائے تو اپنی دعوت کو صرف اپنی ہی قوم تک محدود رکھا۔ حضرت ہود علیہ السلام جلوہ افروز ہوئے تو فقط عاد کو خطاب کیا۔ حضرت صالح علیہ السلام مبعوث ہوئے تو محض قوم ثمود کی فکر لے کر آئے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی قوم کے پیغمبر تھے۔ حضرت موسٰی علیہ السلام بنی اسرائیل کو نجات دلانے کے لیے بھیجے گئے تھے۔ اور حضرت عیسٰی علیہ السلام تو بس بنی اسرائیل کی کھوئی بھیڑوں کی تلاش اور سراغ میں نکلے تھے۔ جب غیروں نے ان کے روحانی کمالات سے استفادہ کرنے کی اپیل کی تو انہوں نے جواب میں کہا ’’لڑکوں کی روتی لے کر کتوں کو ڈال دینا اچھا نہیں‘‘ (انجیل متی باب ۱۵ آیت ۲۶)
یہی وجہ تھی کہ ان پیغمبروں میں سے کسی ایک نے بھی اپنی قوم سے باہر نظر نہیں ڈالی لیکن جب رحمتِ خداوندی کی وہ عالمگیر گھٹا جو فاران کی چوٹیوں سے اٹھی تھی جس سے انسانیت و شرافت، دیانت و امانت، عدل و انصاف اور تقوٰی و ورع کی مرجھائی ہوئی کھیتیاں پھر سے سرسبز و شاداب ہو کر لہلہا اٹھیں، وہ قوم و جماعت، ملک و زمین، مشرق و مغرب، شمال و جنوب اور بر و بحر کی تمام قیدوں اور پابندیوں سے بالکل آزاد تھی۔ وہ بلا امتیاز وطن و ملت، بلا تفریق نسل و خاندان، بدوں تمیز رنگ و خون، بغیر لحاظ سیاہ و سپید اور بے اعتبار حسب و نسب تا قیامت پوری نسل انسانی کے لیے رحمتِ مہداۃ بن کر نمودار ہوئی اور رب ذوالاحسان نے خود آپ ہی کی زبان فیض رساں سے یہ اعلان کروا دیا کہ
قُلْ یَآ اَیُّھَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعًا (پ ۹ ۔ اعراف ۔ ع ۱۹)
’’آپ کہہ دیجیئے کہ اے لوگو! بے شک میں تم سب کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔‘‘
وہ ابرِ کرم اٹھا تو فاران کی چوٹیوں سے مگر سب روئے زمین پر پھول برساتا اور مژدۂ جانفزا سناتا ہوا چلا گیا اور پوری دھرتی کے چپہ چپہ پر خوب کھلکھلا کر برسا۔ دشت و صحرا نے اس سے آسودگی حاصل کی، بحر و بر اس سے سیراب ہوئے، چمنستانوں نے اس سے رونق پائی، اور ویرانوں کو اس کی فیض پاشی نے لعل و گوہر سے معمور کر دیا۔ اہلِ عرب اس سے مستفید ہوئے، باشندگان عجم نے اس سے اکتسابِ فیض کیا، یورپ نے اس کی خوشہ چینی کی اور ایشیا اس کا گرویدہ بنا۔ دنیا کے تمام گمراہوں کو وادیٔ ضلالت سے نکالنے کی اس نے راہنمائی کی اور آوارگانِ دشت غوایت کی رہبری کی اور نسل انسانی کے سب مایوس مریضوں اور ہر قسم کے ناامید بیماروں کو زود اثر تریاق اور نسخۂ شفا بخشا ؎
اتر کر جراء سے سوئے قوم آیا
اور ایک نسخۂ کیمیا ساتھ لایا
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت و رسالت صرف نسلِ انسانی ہی کے لیے نہیں بلکہ جنّات بھی اس امر کے مکلّف اور پابند ہیں کہ آپؐ کی نبوت و رسالت کا اقرار کر کے آپؐ کی شریعت پر عمل پیرا ہو کر اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور نجاتِ اخروی تلاش کریں۔ ثقلین (انس و جن) کا مکلف ہونا نیز جنات کا قرآن کریم کو غور و فکر سے سن کر اس پر ایمان لانا اور پھر جا کر اپنی قوم کو تبلیغ کرنا قرآن مجید میں مصرّح ہے اور عالمین کے مفہوم میں جنات بھی شامل ہیں اور قرآن کریم میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ آپؐ کو تمام جہانوں کے لیے نذیر بنا کر بھیجا گیا ہے ‘‘لِیَکُوْنَ لِلْعَالَمِیْنَ نَذِیْرً‌ا‘‘۔ اور خود جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ
ارسلت الی الاحمر والاسود قال مجاھد الانس والجن۔ (مستدرک ج ۲ ص ۴۲۴ قال الحاکمؒ والذھبیؒ علی شرطھما)
’’مجھے سرخ اور سیاہ کا رسول بنا کر بھیجا گیا ہے۔ حضرت مجاہدؒ فرماتے ہیں کہ سرخ سے انسان اور سیاہ سے جن مراد ہیں۔‘‘
جو مکارمِ اخلاق آپؐ کو خالقِ کونین کی طرف سے مرحمت ہوئے تھے اور جن کی تکمیل کے لیے آپؐ کو اس دنیا میں بھیجا گیا تھا وہ مکلّف مخلوق کی فطرت کے جملہ مقتضیات کے عین مطابق تھے اور جن کا مقصد صرف یہی نہیں تھا کہ ان کے ذریعے روحانی مریضوں کو ان کے بستروں سے اٹھا دیا جائے بلکہ یہ بھی تھا کہ اٹھنے والوں کو چلایا جائے اور چلنے والوں کو بسرعت دوڑایا جائے اور دوڑنے والوں کو روحانی کمال اور اخلاقی معراج کی غایۃ قصوٰی تک اور سعادتِ دنیوی ہی نہیں بلکہ سعادتِ دارین کی سدرۃ المنتہٰی تک پہنچایا جائے۔ اور ان کی نعمت فقط مریضوں کے لیے قوت بخش اور صحت افزاء نہ ہو بلکہ وہ تمام مکلف مخلوق کی اصل فطری اور روحانی لذیذ غذا بھی ہو۔ اور آپؐ کے مکارمِ اخلاق اور اسوۂ حسنہ نے وہ تمام ممکن اسباب مہیا کر دیے ہیں کہ خلقِ عظیم کی بلند اور دشوار گزار گھاٹی پر چڑھنا آسان اور سہل ہو گیا ہے۔ آپؐ کی بعثت کے اغراض و مقاصد میں سے ایک اہم مقصد یہ بھی تھا جیسا کہ آپؐ نے ارشاد فرمایا ہے کہ
انما بعثت لاتمم صالح الاخلاق و فی روایۃ مکارم الاخلاق (قال الشیخ حدیث صحیح ۔ السراج المنیر ج ۲ ص ۲۷)
’’مجھے تو اس لیے مبعوث کیا گیا ہے تاکہ میں نیک خصلتوں اور مکارمِ اخلاق کی تکمیل کروں۔‘‘
اور یہ ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ جس طرح دیگر انبیاء کرام علیہم السلام خاص خاص جماعتوں اور مخصوص قوموں کے لیے مصلح اور پیغمبر تھے اسی طرح ان کی روحانیت اور اخلاقی آئینے بھی خصوصی صفات اور اصناف کے مظہر تھے۔ مثلاً‌ حضرت نوح علیہ السلام مجرم اور نافرمان قوم کی نجات کے لیے باوجود قوم کی ایذا رسانی کے سعی بلیغ کی زندہ یادگار تھے۔ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام اخلاص و قربانی کی مجسم مثال تھے کہ انہوں نے اپنے اکلوتے اور عزیز ترین لختِ جگر کو خدا تعالیٰ کی خوشنودی اور رضاجوئی کے لیے اپنی طرف سے ذبح کر ہی ڈالا اور اس کے حکم کی تعمیل میں کسی قسم کی کوتاہی اور کمزوری نہ دکھائی، جس کی ایک ادنٰی اور معمولی سی برائے نام نقل آج بھی ہر صاحبِ استطاعت مسلمان اتارتا اور ’’سُنَّۃَ اَبِیْکُمْ اِبْرَاھِیْم‘‘ کی پیروی کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ یہ جدا بات ہے کہ ؎
تیری ذبح ذبحِ عظیم کی ہو مثیل کیوں کر خلوص میں
نہ خلیلؑ کا سا ہے دل تیرا نہ ذبیحؑ کا سا گلا تیرا
حضرت ایوب علیہ السلام صبر و رضا کے پیکر تھے، مصائب و آلام کے بے پناہ سیلاب بہہ گئے مگر وہ مضبوط پہاڑ کی طرح اپنی جگہ ثابت رہے۔ حضرت موسٰی علیہ السلام کی زندگی جرأت حق کا ایک اعلیٰ نمونہ تھی کہ فرعون جیسے جابر اور مطلق العنان بادشاہ کے دربار میں ساون کے بادلوں کی طرح گرج اور صاعقہ آسمانی کی طرح کڑک کر تہلکہ ڈال دیتے تھے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کی صبر آزما حیات یادگارِ دہر تھی کہ اپنے ہی بیٹوں کے ہاتھ سے پیارے یوسفؑ کے سلسلہ میں اذیت اور دکھ اٹھا کر ’’فَصَبْر جَمِیْل‘‘ فرما کر خاموش ہو گئے اور اندر ہی اندر آنسوؤں کے طوفان موجیں مارتے ہوئے ساحل امید سے ٹکراتے رہے اور ناامیدی کو قریب نہیں آنے دیا کہ
نگاہِ لطف کے امیدوار ہم بھی ہیں
حضرت یوسف علیہ السلام کی عفتِ مآب زندگی پاکدامن نوجوان کے لیے باعث صد افتخار ہے کہ انہوں نے ’’امراۃ عزیز‘‘ کی تمام مکّاریوں اور حیلہ جوئیوں کی استخواں شکن زنجیروں کی ایک ایک کڑی کو معاذ اللہ فرماتے ہوئے پاش پاش کر دیا۔ حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیہما السلام کی شاہانہ زندگی ان سب سے نرالی تھی کہ قبائے سلطنت اور عبائے خلافت اوڑھ کر مخلوقِ خدا کے سامنے ظہور پذیر ہوئے اور اس طریقہ سے عدل و انصاف کے مطابق ان کی خدمت کا عمدہ فریضہ انجام دیا۔ حضرت عیسٰی علیہ السلام توکل و قناعت، زہد و خودفراموشی کی ایک پوری کائنات تھے کہ زندگی بھر سر چھپانے کے لیے ایک جھونپڑی بھی نہیں بنائی اور فرمایا ’’اے لوگو! یہ کیوں سوچتے ہو کہ کیا کھاؤ گے؟ فضا کی چڑیوں کے لیے کاشتکاری کون کرتا ہے؟ اور ان کے منہ میں خوراک کون ڈالتا ہے؟ اے لوگو! تمہیں اس کی کیا فکر ہے اور تم یہ کیوں سوچتے ہو کہ کیا پہنو گے؟ جنگل کی سوسن کو اتنی دیدہ زیب پوشاک اور خوبصورت لباس کون پہناتا ہے؟‘‘
یہ تمام بزرگ اور مقدس ہستیاں اپنے اپنے وقت پر تشریف لائیں اور بغیر حضرت مسیح علیہ السلام سب دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ لیکن جب قصرِ نبوت اور ایوانِ رسالت کی آخری اینٹ کا ظہور ہوا جس کی انتظار میں دہر کہن سال نے ہزاروں برس صرف کر دیے تھے، آسمان کے ستارے اسی دن کے شوق میں ازل سے چشم براہ تھے، ان کے استقبال کے لیے لیل و نہار بے شمار کروٹیں بدلتے رہے، ان کی آمد سے محض کسرٰی کے محل کے چودہ کنگرے ہی نہیں بلکہ رسم عرب، شان عجم، شوکت روم، فلسفہ یونان اور اوجِ چین کے قصرہائے فلک بوس گر کر آن واحد میں پیوند زمین ہو گئے تو پورے کرۂ ارض کے لیے ایک عالم گیر سعادت اور ایک ہمہ گیر رحمت لے کر آئی۔ آپؐ کا وجود مقدس روحانیت کے تمام اصناف کی ایک خوشنما کائنات، اخلاق حسنہ کی ایک دلآویز جاذبیت اور رنگ برنگ گل ہائے اخلاق کا ایک پورا چمنستان تھا۔ امتِ مرحومہ کے لیے حضرت نوحؐ کی دلسوزی، حضرت ابراہیمؐ کی خلّت، حضرت ایوبؐ کا صبر، حضرت داؤدؐ کی مناجات، حضرت موسٰیؐ کی جرأت، حضرت ہارونؐ کا تحمل، حضرت سلیمانؐ کی سلطنت، حضرت یعقوبؐ کی آزمائش، حضرت یوسفؐ کی عفت، حضرت زکریاؐ اور حضرت یحیٰیؐ کی تقرب الٰہی کے لیے گریہ و زاری، اور حضرت مسیحؐ کا توکل، یہ تمام منتشر اوصاف آپؐ کے وجود مسعود میں سمٹ کر جمع اور یکجا ہو چکے تھے۔ سچ ہے کہ ؎
حسنِ یوسفؐ دمِ عیسٰیؐ یدِ بیضاداری
آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری
غرض کہ دیگر انبیاء کرام علیہم السلام میں سے ہر ایک کی زندگی خاص خاص اوصاف میں نمونہ اور اسوہ تھی مگر سرور دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اعلیٰ و ارفع زندگی تمام اوصاف و اصناف میں ایک جامع زندگی ہے۔ آپؐ کی سیرت مکمل اور آپؐ کا اسوۂ حسنہ ایک کامل ضابطۂ حیات اور دستور ہے۔ اس کے بعد اصولی طور پر کسی اور چیز کی سرے سے کوئی حاجت ہی باقی نہیں رہ جاتی اور نہ کسی اور نظام و قانون کی ضرورت ہی محسوس ہو سکتی ہے ؎
سب کچھ خدا سے مانگ لیا تجھ کو مانگ کر
اٹھتے نہیں ہیں ہاتھ مرے اس دعا کے بعد
  • اگر آپ بادشاہ اور سربراہِ مملکت ہیں تو شاہِ عربؐ اور فرمانروائے عالمؐ کی زندگی آپ کے لیے نمونہ ہے۔
  • اگر آپ فقیر و محتاج ہیں تو کمبلی والےؐ کی زندگی آپ کے لیے اسوہ ہے جنہوں نے کبھی دقل (ردی قسم کی کھجوریں) بھی پیٹ بھر کر نہ کھائیں اور جن کے چولہے میں بسا اوقات دو دو ماہ تک آگ نہیں جلائی جاتی تھی۔
  • اگر آپؐ سپہ سالار اور فاتح ملک ہیں تو بدر و حنین کے سپہ سالار اور فاتح مکہ کی زندگی آپ کے لیے ایک بہترین سبق ہے جس نے عفو و کرم کے دریا بہا دیئے تھے اور ’’لا تثریب علیکم الیوم‘‘ کا خوش آئند اعلان فرما کر تمام مجرموں کو آنِ واحد میں معافی کا پروانہ دے کر بخش دیا تھا۔
  • اگر آپ قیدی ہیں تو شعبِ ابی طالب کے زندانی کی حیات آپ کے لیے درسِ عبرت ہے۔
  • اگر آپ تارکِ دنیا ہیں تو غارِ حرا کے گوشہ نشین کی خلوت آپ کے لیے قابل تقلید عمل ہے۔
  • اگر آپ چرواہے ہیں تو مقام اجیاد میں آپؐ کو چند قراریط (ٹکوں) پر اہل مکہ کی بکریاں چراتے دیکھ کر تسکینِ قلب حاصل کر سکتے ہیں۔
  • اگر آپ معمار ہیں تو مسجد نبوی کے معمار کو دیکھ کر ان کی اقتداء کر کے خوشی محسوس کر سکتے ہیں۔
  • اگر آپ مزدور ہیں تو خندق کے موقع پر اس بزرگ ہستی کو پھاوڑا لے کر مزدوروں کی صف میں دیکھ کر اور مسجد نبویؐ کے لیے بھاری بھر کم وزنی پتھر اٹھا اٹھا کر لاتے ہوئے دیکھ کر قلبی راحت حاصل کر سکتے ہیں۔
  • اگر آپ مجرّد ہیں تو اس پچیس سالہ نوجوان کی پاکدامن اور عفت مآب زندگی کی پیروی کر کے سرورِ قلب حاصل کر سکتے ہیں جس کو کبھی کسی بدترین دشمن نے بھی داغدار نہیں کیا اور نہ کبھی اس کی جرأت کی ہے۔
  • اگر آپ عیال دار ہیں تو آپ متعدد ازواج مطہرات کے شوہر کو ’’انا خیرکم لاھلی‘‘ فرماتے ہوئے سن کر جذبۂ اتباع پیدا کر سکتے ہیں۔
  • اگر آپ یتیم ہیں تو حضرت آمنہ ؑ کے لعل کو یتیمانہ زندگی بسر کرتے دیکھ کر آپؑ کی پیروی اور تاسّی کر سکتے ہیں۔
  • اگر آپ ماں باپ کے اکیلے بیٹے ہیں اور بہنوں اور بھائیوں کے تعاون و تناصر سے محروم ہیں تو حضرت عبد اللہ  ؑ کے اکلوتے بیٹے کو دیکھ کر اشک شوئی کر سکتے ہیں۔
  • اگر آپ باپ ہیں تو حضرت زینبؓ، رقیہؓ، ام کلثومؓ، قاسمؓ اور ابراہیمؓ (وغیرہ) کے شفیق و مہربان باپ کو ملاحظہ کر کے پدرانہ شفقت پر آمادہ ہو سکتے ہیں۔
  • اگر آپ تاجر ہیں تو حضرت خدیجہؓ کے تجارتی کاروبار میں آپؐ کو دیانت دارانہ سعی کرتے ہوئے معائنہ کر سکتے ہیں۔
  • اگر آپ عابد شب خیز ہیں تو اسوۂ حسنہ کے مالک متورّم قدموں کو دیکھ کر اور ’’افلا اکون عبدً‌ا شکورً‌ا‘‘ فرماتے ہوئے آپؐ کی اطاعت کو ذریعۂ تقربِ خداوندی اختیار کر سکتے ہیں۔
  • اگر آپ مسافر ہیں تو خیبر و تبوک کے مسافر کے حالات پڑھ کر طمانیتِ قلب کا وافر سامان مہیا کر سکتے ہیں۔
  • اگر آپ امام اور قاضی ہیں تو مسجد نبوی کے بلند رتبہ امام اور فصل خصومات کے بے باک اور منصف مدنی جج کو بلاامتیاز قریب و بعید اور بغیر تفریق قوی و ضعیف فیصلہ صادر فرماتے ہوئے مشاہدہ کر سکتے ہیں۔
  • اور اگر آپ قوم کے خطیب ہیں تو خطیبِ اعظم کو منبر پر جلوہ افروز ہو کر بلیغ اور مؤثر خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے اور غافل قوم کو ’’انی انا نذیر العربان‘‘ فرما کر بیدار کرتے ہوئے ملاحظہ کر سکتے ہیں۔
الغرض زندگی کا کوئی قابل قدر اور مستحق توجہ پہلو اور گوشہ ایسا باقی نہیں رہ جاتا جس میں سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معصوم اور قابل اقتداء زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ، عمدہ ترین اسوہ اور اعلیٰ ترین معیار نہ بنتی ہو۔ پس اس وجودِ قدسی پر لاکھوں بلکہ کروڑوں درود و سلام جس کے وجود مسعود میں ہماری زندگی کے تمام پہلو سمٹ کر آجاتے ہیں اور ہماری روح کا ایک ایک گوشہ عقیدت و اخلاص کے جوش سے معمور ہو جاتا ہے جب ہم یہ خیال کرتے ہیں کہ دنیا کے لعل و گوہر کا جو پائیدار خزانہ تمام ارض و سماء اور بحر و بر چھان ڈالنے کے بعد بھی کسی قسمت پر جمع نہیں ہو سکتا تھا وہ انمول خزانہ امت مرحومہ کو اپنے پیارے نبیؐ کے اسوۂ حسنہ، اپنے برگزیدہ رسولؐ کی سنتِ صحیحہ اور اپنے مقبول رسولؐ کے معدنِ حدیث کی ایک ہی کان اور معدن سے فراہم ہو گیا ہے، اور قرآن کریم کے بعد ہماری تمام بیماریوں کا مداوا حدیث پاک میں علیٰ وجہ الاتم موجود ہے ؎
اصل دین آمد کلام اللہ معظم داشتن
پس حدیث مصطفٰی برجاں مسلّم داستن

عصمتِ انبیاءؑ کے بارے میں اہلِ اسلام کا عقیدہ

حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ

یہ ظاہر ہے کہ کوئی کسی کا مقرب جبھی ہو سکتا ہے جبکہ اس کی موافق مرضی ہو۔ جو لوگ مخالف مزاج ہوتے ہیں قربت و منزلت ان کو میسر نہیں آسکتی، چنانچہ طاہر ہے۔ مگر یہ بھی ظاہر ہے کہ اگر کوئی شخص یوسفِ ثانی اور حسن میں لاثانی ہو، پر اس کی ایک آنکھ مثلاً‌ کانی ہو تو اس ایک آنکھ کا نقصان تمام چہرہ کو بدنما اور نازیبا کر دیتا ہے۔ ایسے ہی اگر ایک بات بھی کسی میں دوسروں کے مخالف مزاج ہو تو ان کی اور خوبیاں بھی ہوئی نہ ہوئی برابر ہو جائیں گی۔ غرض ایک عیب بھی کسی میں ہوتا ہے تو پھر محبوبیت اور موافقت طبیعت و رضا متصور نہیں جو امید تقرب ہو، اس لیے یہ بھی ضرور ہے کہ انبیاء اور مرسل سراپا اطاعت ہوں اور ایک بات بھی ان میں خلافِ مرضی خداوندی نہ ہو۔
اسی وجہ سے ہم انبیاء ؑ کو معصوم کہتے ہیں اور اس کہنے سے یہ مطلب ہوتا ہے کہ ان میں گناہِ خداوندی کا مادہ اور سامان ہی نہیں کیونکہ ان میں جب ان میں کوئی صفت بری نہیں تو پھر ان سے برے افعال کا صادر ہونا بھی ممکن نہیں، اس لیے کہ افعال اختیاری تابع صفات ہوتے ہیں۔ اگر سخاوت ہوتی ہے تو داد دوہش کی نوبت آتی ہے، اور اگر بخل ہوتا ہے تو کوڑی کوڑی جمع کی جاتی ہے۔ شجاعت میں معرکہ آرائی اور بزدلی میں پسپائی ظہور میں آتی ہے۔ ہاں یہ بات ممکن ہے کہ بوجہ سہو یا غلط فہمی، جو گاہ بگاہ بڑے بڑے عاقلوں کو بھی پیش آجاتی ہے اور سوائے خداوند علیم و خبیر اور کوئی اس سے منزہ نہیں، کسی مخالف مرضی کام کو موافق مرضی اور موافق مرضی کو مخالف مرضی سمجھ جائیں، اور اس وجہ سے بظاہر خلاف مرضی کام ہو جائے تو ہو جائے (مثلًا اپنا مخدوم اپنے برابر بٹھلائے اور یہ بوجہ ادب برابر نہ بیٹھے) یا بوجہ عظمت و محبت مطاع ہی مخالفت کی نوبت آجائے گی، اس کو گناہ نہیں کہتے۔ گناہ کے لیے یہ ضرور ہے کہ عمدً‌ا مخالفت کی جائے۔ بھول چوک کو لغزش کہتے ہیں گناہ نہیں کہتے۔ یہی وجہ ہے کہ موقعہ عذر میں یہ کہا کرتے ہیں کہ میں بھول گیا تھا یا میں سمجھا نہ تھا۔ اگر بھول چوک بھی گناہ ہی ہوا کرتا تو یہ عذر اور الٹا اقرار خطا ہوا کرتا عذر نہ ہوا کرتا۔
جب یہ بات واضح ہو گئی کہ افعال تابع صفات ہیں تو اب دو باتیں قابلِ لحاظ باقی رہیں۔ ایک اخلاق یعنی صفات اصلیہ، دوسرے عقل و فہم۔ اخلاق کی ضرورت تو یہیں سے ظاہر ہے کہ افعال جن کا کرنا نہ کرنا عبادت اور اطاعت اور فرمانبرداری میں مطلوب ہوتا ہے، ان کا بھلا برا ہونا اخلاق کی بھلائی برائی پر موقوف ہے، اور اس سے صاف ظاہر ہے کہ اصل میں بھلی اور بری اخلاق و صفات ہی ہوتی ہیں۔ اور عقل و فہم کی ضرورت تو اس لیے ہے کہ اخلاق کے مرتبے میں موقع بے موقع دریافت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ افعال میں بوجہ بے موقع ہو جانے کے کوئی خرابی اوپر سے نہ آجائے۔ دیکھیے سخاوت اچھی چیز ہے لیکن موقع میں صرف ہونا پھر بھی شرط ہے، اگر مساکین اور مستحقین کو دیا جائے تو فبہا ورنہ، رنڈیوں اور بھڑووں کو دینا یا شراب خواروں اور بھنگ نوشوں کو عطا کرنا کون نہیں جانتا کہ اور برائیوں کا سامان ہے، وجہ اس کی بجز اس کے اور کیا ہے کہ بے موقع صرف ہوا۔
بالجملہ افعال ہر چند تابع صفات ہیں لیکن موقع بے موقع کا پہچاننا بجز عقلِ سلیم و فہمِ مستقیم ہرگز متصور نہیں۔ اس لیے ضرور ہے کہ انبیاء ؑ میں عقل کامل اور اخلاقِ حمیدہ ہوں۔ ظاہر ہے کہ جب اخلاقِ حمیدہ ہوں گے تو محبت بھی ضرور ہو گی کیونکہ خلقِ حسن کی بنا محبت ہی ہے، اور جب موقع اور محل کا لحاظ ہے اور عقلِ کامل موجود ہے تو پھر خدا سے بڑھ کر اور کونسا موقع سزاوار محبت ہو گا۔ مگر خدا کے ساتھ محبت ہو گی تو پھر عزمِ اطاعت و فرمانبرداری بھی ضرور ہو گا جس کا انجام یہی نکلے گا کہ ارادۂ نافرمانی کی گنجائش ہی نہیں اور ظاہر ہے کہ اسی کو معصومیت کہتے ہیں۔
(انتخاب: حافظ محمد عمار خان ناصر)

علومِ قرآنی پر ایک اجمالی نظر

مولانا سراج نعمانی

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے بکثرت فضائل و خصوصیات قرآن مجید بیان فرمائی ہیں، ان میں سے ایک جامع آیت کریمہ یہ بھی ہے، فرماتے ہیں:
یٰآ اَیُّھَا النَّاسُ قَدْ جَآءَتْکُمْ مَّوْعِظَۃُ مِّن رَّبِّکُمْ وَشِفَآءُ لِّمَا فِی الصُّدُوْر وَھْدً‌ی وَّرَحْمَۃُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ۔
’’اے لوگو تحقیق آ چکی تمہارے پاس نصیحت تمہارے پروردگار کی طرف سے اور شفا ہے جو کچھ دلوں میں ہے اور ہدایت ہے اور رحمت ہے واسطے ایمان والوں کے۔‘‘
گویا قرآن مجید کا پیغام تمام انسانوں کے لیے ہے، یہ پروردگار کی طرف سے نصیحت ہے، قلبی بیماریوں کے لیے شفا ہے، ہدایت ہے اور مومنین کے لیے رحمت ہے۔ قرآن مجید نزول سے قبل لوح محفوظ پر تھا، وہاں سے لیلۃ القدر میں آسمانِ دنیا پر نازل کیا گیا اور وہاں سے پھر وقتاً‌ فوقتاً‌ تئیس سال کے عرصے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوتا رہا۔ علی الترتیب ان کیفیات کا مطالعہ کیجئے۔

نزولِ قرآن

بَلْ ھُوَ قُرْاٰنُ مَّجِیْد۔ فِیْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظ (البروج پ ۳۰)
’’بلکہ وہ قرآن مجید ہے لوح محفوظ میں۔‘‘
شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰن (البقرہ پ ۲)
’’مہینہ رمضان کا وہ ہے جس میں اتارا گیا ہے قرآن مجید۔‘‘
اِنَّا اَنْزَلْنٰہُ فِیْ لَیْلَۃِ الْقَدْر (القدر پ ۳۰)
’’بے شک ہم نے نازل کیا ہے قرآن لیلۃ القدر میں۔‘‘
اِقْرَأ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَق (العلق پ ۳۰)
’’پڑھ اپنے پروردگار کے نام کے ساتھ جس نے پیدا کیا۔‘‘
یہ قرآن مجید نزول کے اعتبار سے دو ادوار میں مکمل ہوا۔ پہلا دور مکی کہلاتا ہے جس میں اصول و کلیاتِ دین اور اقوامِ سابقہ کے واقعات وغیرہ بیان کیے گئے ہیں۔ دوسرا دور مدنی کہلاتا ہے جس میں عموماً‌ مسلمانوں کو خطاب کر کے عبادات و معاملات سے متعلق احکام تفصیل سے بیان کیے ہیں۔ نزولِ قرآن کو وحی کہا جاتا ہے جو دو قسم کی ہوتی ہے۔ وحی متلو اور وحی غیر متلو۔ نزولِ وحی کے طریقے قرآن مجید میں مندرجہ ذیل بیان کیے گئے ہیں۔
وَ مَا کَانَ لِبَشَرٍ اَن یُّکَلِّمَہُ اللہُ اِلَّا وَحْیًا اَوْ مِن وَّرَآءِ حِجَابٍ اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا فَیُوْحِیَ بِاِذْنِہٖ مَا یَشَآءُ اِنّہٗ عَلِیُّْ حَکِیْم (الشورٰی پ ۲۵)
’’اور نہیں طاقت کسی شخص کی کہ بات کرے اس سے اللہ مگر وحی سے یا پردے کی آڑ سے یا بھیجے فرشتہ پیغام لانے والا، پس جی میں ڈالتا ہے اس کے حکم سے جو چاہتا ہے، تحقیق وہ بلند مرتبہ حکمت والا ہے۔‘‘

تدوینِ قرآن

قرآن مجید کی حفاظت اور تدوین دو طریقوں سے کی گئی۔ صدری حفاظت میں حفظ کے ذریعے حفاظت کی گئی، اور تحریری حفاظت میں کتابت کی صورت میں حفاظت کی گئی۔ حفظ کے بارے میں قرآن مجید میں بیان ہے کہ
بَلْ ھُوَ اٰیٰتُْ بَیِّنٰتُْ فِیْ صُدُوْرِ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ ، وَمَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَا اِلَّا الظّٰلِمُوْنَ (العنکبوت پ ۲۱)
’’بلکہ یہ روشن آیتیں ہیں ان لوگوں کے سینوں میں کہ دیے گئے ہیں علم، اور نہیں انکار کرتے ہماری آیتوں کا سوائے ظالموں کے۔‘‘
اس لیے پہلے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حفظ فرمایا اور پھر صحابہ کرامؓ کو حفظ کرایا۔
اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَہٗ وَقُرْاٰنَہٗ (القیامۃ پ ۲۹)
’’بے شک ہمارے ذمہ ہے اس کا جمع کرنا (تیرے دل میں) اور پڑھنا اس کا (تیری زبان سے)۔‘‘
سَنُقْرِئُکَ فَلَا تَنْسٰی (الاعلٰی پ ۳۰)
’’عنقریب ہم آپ کو پڑھائیں گے پھر آپ نہ بھولیں گے۔‘‘
اس کے بعد حضورؐ نے خدا کے حکم سے یہ قرآن مجید صحابہ کرامؓ تک پہنچایا۔
یَآ اَیُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ (المائدہ پ ۶)
’’اے پیغمبر پہنچا دے جو کچھ کہ اتارا گیا ہے آپ کی طرف۔‘‘
اُتْلُ مَآ اُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنَ الْکِتَابِ (پ ۲۱)
’’پڑھ جو کچھ وحی کی جاتی ہے تیری طرف کتاب میں سے۔‘‘
ان احکام پر حضورؐ کے عمل کو نقل کرتے ہوئے قرآن مجید میں ارشاد ہے:
یَتْلُوْا عَلَیْکُمْ اٰیٰتِنَا (پ ۲)
’’پڑھتا ہے تم پر آیتیں ہماری۔‘‘
قرآن مجید پڑھنے والوں کے لیے آداب بھی خود خداوند نے مقرر فرمائے۔
وَاِذَا قَرَأتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْم (النحل پ ۱۴)
’’پھر جب تو پڑھے قرآن تو پناہ مانگ اللہ کی شیطان مردود سے۔‘‘
وَاِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَہٗ وَاَنْصِتُوْا۔ (الاعراف پ ۹)
’’اور جب پڑھا جائے قرآن تو سنو اسے اور چپ رہو۔‘‘
یہ ادب بھی بتایا کہ پڑھتے ہوئے حلاوت، خوش الحانی اور رقت سے پڑھا جائے تاکہ کوئی دوسرا کلام اس کے مقابلے میں ایسی لذت پیدا نہ کرے اور آہستہ آہستہ پڑھے تاکہ آسانی سے یاد ہو جائے۔
وَرَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًا (المزمل پ ۲۹)
شاید اسی لیے سورتوں میں بھی تقسیم کیا گیا کہ حفظ میں آسانی ہو، اور تدریجًا تھوڑا تھوڑا نازل کیا گیا تاکہ صحابہ کرامؓ آسانی سے یاد کر سکیں۔
وَقُرْاٰنًا فَرَقْنٰہُ لِتَقْرَءَہٗ عَلَی النَّاسِ عَلٰی مُکْثٍ وَّنَزَّلْنَاہُ تَنْزِیْلًا (بنی اسرائیل پ ۱۵)
’’اور قرآن، جدا جدا کیا ہم نے اس کو، تاکہ پڑھے تو اسے لوگوں پر آہستگی سے، اور اتارا ہم نے اسے آہستہ آہستہ اتارنا۔‘‘
عربوں کا حافظہ ضرب المثل تھا، انہوں نے اسے بخوبی یاد کیا۔ اسی حفظ کے لیے ترغیب دیتے ہوئے نماز میں بھی قراءت فرض کی گئی تاکہ حفظ کا جذبہ پیدا ہو۔
اَقِمِ الصّلٰوۃَ لِدُلُوْکِ الشَّمْسِ اِلٰی غَسَقِ اللَّیْلِ وَقُرْاٰنَ الْفَجْرِ (بنی اسرائیل پ ۱۵)
’’قائم کر نماز سورج ڈھلنے سے رات کے اندھیرے تک اور پڑھ قرآن فجر میں۔‘‘
وَلَا تَجْھَرْ بِصَلٰوتِکَ وَلَا تُخَافِتْ بِھَا وَابْتَغِ بَیْنَ ذَالِکَ سَبِیْلًا (بنی اسرائیل پ ۱۵)
’’اور نہ بلند کر اپنی نماز میں (تلاوت کی آواز) اور نہ بہت آہستہ کر اسے، اور ڈھونڈ اس کے درمیان کا راستہ۔‘‘
انہی ترغیبات کی وجہ سے اکثر رات کو قرآن مجید کی تلاوت تہجد و نوافل میں کی جاتی ہے۔ خود حضورؐ تلاوت کی کثرت نوافل و تہجد میں فرمایا کرتے تھے۔
اِنَّ رَبَّکَ یَعْلَمُ اَنَّکَ تَقُوْمُ اَدْنٰی مِنْ ثُلُثَیِ اللَّیْلِ وَ نِصْفَہٗ وَثُلَثَہٗ وَطَائِفَۃُْ مِّنَ الَّذِیْنَ مَعَکَ (المزمل پ ۲۹)
’’بے شک رب تیرا جانتا ہے کہ تو کھڑا ہوتا ہے تقریباً‌ دو تہائی رات اور آدھی اور تہائی تک، اور ایک جماعت ان لوگوں کی جو تیرے ساتھ ہیں۔‘‘

مدارسِ قرآن

قرآن مجید سیکھنے کے لیے مساجد کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ خصوصًا مسجد نبویؐ میں اصحابِؓ صُفَّہ، جب کہ مستقل طور پر دینی مدرسہ مخرمہ بن نوفلؓ کے مکان پر دارالقراء کے نام سے مشہور تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعتِ عقبہ اولٰی کے موقع پر حضرت مصعب بن عمیرؓ کو تعلیم قرآن مجید کے لیے بھیجا تھا۔ ایک اور موقع پر ستر قاریوں کو اہل ِ نجد کی تعلیم کے لیے بھیجا جنہیں برمعونہ کے مقام پر شہید کیا گیا۔ یمن کے لشکر کے قاضی کی حیثیت سے حضورؐ نے حضرت معاذ بن جبلؓ کی تقرری کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ وہ لوگوں کو قرآن مجید کی تعلیم دیں بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مشہور حدیث مبارکہ ہے
خَیْرُکُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْاٰنَ وَعَلَّمَہٗ۔
’’تم میں سے بہترین وہ شخص ہے جو قرآن سیکھے اور اس کی تعلیم دے۔‘‘
انہی ترغیبات کی وجہ سے حضورؐ کی حیاتِ مبارکہ میں یہ حالت ہو گئی تھی کہ قرآن مجید کی تلاوت ہر گھر میں ہوا کرتی تھی۔
وَاذْکُرْنَ مَا یُتْلٰی فِیْ بُیُوْتِکُنَّ مِنْ اٰیٰتِ اللہِ وَالْحِکْمَۃِ (الاحزاب پ ۲۲)
’’اور یاد کیا کرو جو کچھ پڑھا جاتا ہے تمہارے گھروں میں اللہ کی آیتوں اور حکمت میں سے۔‘‘

کتابی حفاظت

چونکہ عرب عموماً‌ اَن پڑھ تھے، لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے جیسا کہ ارشاد ہے
ھُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیِّیْنَ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ (الجمعہ پ ۲۸)
’’وہ جس نے بھیجا اَن پڑھوں میں رسول انہی میں سے۔‘‘
اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی اُمّی تھے۔
اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ النَّبِیِّ الْاُمِّیَّ الَّذِیْ یَجِدُوْنَہٗ مَکْتُوْبًا عِنْدَھُمْ فِی التَّوْرَاۃِ وَالْاِنْجِیْلِ (اعراف پ ۹)
’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اُمّی نبی کی جسے پاتے ہیں لکھا ہوا اپنے پاس تورات و انجیل میں۔‘‘
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت مبارکہ کے وقت حالت یہ تھی کہ قریش مکہ میں صرف سترہ کاتبین تھے جو (۱) حضرت عمر بن الخطاب (۲) عثمان بن عفان (۳) علی بن ابی طالب (۴) ابوعبیدہ بن الجراح (۵) طلحہ (۶) ابو سفیان بن حرب بن امیہ (۷) معاویہ بن ابی سفیان (۸) یزید بن ابی سفیان (۹) ابان بن سعید بن العاص بن امیہ (۱۰) خالد بن سعید بن العاص (۱۱) حاطب بن عمرو العامری القریشی (۱۲) ابو سلمہ بن عبد الاسد مخعزومی (۱۳) عبد اللہ بن سعد بن ابی سرم العامری (۱۴) حویطب بن عبد العزٰی عامری (۱۵) جھیم بن ابی الصلت بن مخرقہ بن مطلب بن عبد مناف (۱۶) علاء بن حضرمی (۱۷) اور ابو حذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ رضی اللہ عنھم ہیں۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کتابی صورت کا ذکر فرماتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:
وَالطُّوْرِ ۔ وَکِتَابٍ مَّسْطُوْرٍ ۔ فِیْ رَقٍّ مَّنْشُوْرٍ (طور پ ۲۷)
’’قسم ہے طور کی۔ اور کتاب کی جو کھلی ہوئی ہے۔ کھلے ہوئے کاغذ پر۔‘‘
ن ۔ وَالْقَلَمِ وَمَا یَسْطُرُوْنَ (ن پ ۲۹)
’’قسم ہے قلم کی اور اس چیز کی جو لکھتے ہیں۔‘‘
حضرت ابو رافع  ؓحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں کہ
حَقُّ الْوَلَدِ عَلَی الْوَالِدِ اَنْ یَّعْلَمَہُ الْکِتَابَۃَ وَالسَّاحَۃَ وَالرَّمی۔
’’بیٹے کا باپ پر حق ہے کہ وہ اسے کتابت، تیراکی اور تیر اندازی سکھائے۔‘‘
حضورؐ کو تعلیمِ کتابت کا اتنا اہتمام تھا کہ غزوۂ بدر کے موقع پر غریب کفار کے لیے یہ فدیہ رکھا کہ وہ دس دس مسلمان بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھائیں۔ چنانچہ جب ہم کاتبینِ وحی پر نظر ڈالتے ہیں تو ان کی تعداد تقریبًا بیالیس نظر آتی ہے جو کہ شانے کی چوڑی ہڈیوں، تختیوں، کھجور کی شاخوں کے ڈنٹھل، سفید پتھر کے ٹکڑوں، رقاع کھال یا باریک جھلی یا کاغذ کے ٹکڑے قطع الادیم، چمڑے کے ٹکڑوں اور اونٹوں کی کاٹھیوں پر لکھا کرتے تھے۔ اس طرح قرآن مجید کو کتابی شکل میں محفوظ کرنے کی کوشش کی گئی باوجودیکہ حضورؐ لکھنا نہیں جانتے تھے۔
وَلَا تَخُطُّہٗ بِیَمِیْنِکَ اِذً‌الَّاْرتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ (العنکبوت پ ۲۱)
’’اور نہ ہی لکھتا تھا تو اپنے دائیں ہاتھ سے کہ اس وقت البتہ دھوکا کھاتے یہ جھوٹے۔‘‘
لیکن اس کے باوجود مکی دور میں ہی قرآن مجید کی کتابت عام ہو چکی تھی۔
فِیْ صُحُفٍ مُّکَرَّمَۃٍ ۔ مَرْفُوْعَۃٍ مُّطَہَّرَۃٍ ۔ بِاَیْدِیْ سَفَرَۃٍ ۔ کِرَامٍ بَرَرَۃٍ (عبس پ ۳۰)
’’عظمت والے صحیفوں میں ۔ بلند کیے گئے پاک کیے گئے ۔ لکھنے والے ہاتھوں سے ۔ بزرگ نیکو کاروں کے۔‘‘
دوسری جگہ فرمایا:
وَقَالُوْا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ اکْتَتَبَھَا فَھِیَ تُمْلٰی عَلَیْہِ بُکْرَۃً‌ وَّاَصِیْلًا (الفرقان پ ۱۸)
’’اور کہا انہوں نے یہ کہانیاں ہیں پہلوں کی، لکھ لیا ہے ان کو پھر وہ پڑھی جاتی ہیں اس پر صبح و شام۔‘‘
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے قبولِ اسلام والے واقعہ میں بھی ان کی ہمشیرہ نے ان کو قرآن مجید کے اوراق دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا:
لَسْتَ مِنْ اَھْلِھَا ھٰذَا کِتَابُْ لَّا یَمَسُّہٗ اِلَّا الْمُطَھَّرُوْنَ (بیہقی دلائل النبوۃ)
’’تو اس کا اہل نہیں ہے، یہ وہ کتاب ہے جسے نہیں چھو سکتے سوائے پاکیزہ لوگوں کے۔‘‘
قرآن مجید جب زیر کتابت تھا اس دور میں حضورؐ نے قرآن مجید کے علاوہ دیگر ہر قسم کی تحریرات کی ممانعت کر دی تھی تاکہ قرآن مجید کے ساتھ ان تفاسیر و حواشی یا احادیث کا اضافہ و اختلاط نہ ہو جائے۔ ایک دفعہ ارشاد فرمایا:
مَنْ کَتَبَ عَنِّیْ غَیْرَ الْقُرْاٰنَ فَلْیُمْحِہٗ۔
’’جس نے مجھ سے سوائے قرآن کے کچھ لکھا ہو تو اسے مٹا دے۔‘‘
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَکْتُبُ الْاَحَادِیْثَ فَقَالَ مَا ھٰذَا تَکْتُبُوْنَ؟ قُلْنَا اَحَادِیْثَ سَمِعْنَاھَا مِنْکَ قَالَ اَکِتَابً‌ا غَیْرَ اللہِ تُرِیْدُوْنَ؟ مَا اَضَلُّ مِمَّنْ قَبْلِکُمْ اِلَّا مَا اکْتَتَبُوْا مِنَ الْکِتَابِ مَعَ کِتَابَ اللہِ تَعَالیٰ (الحدیث)
’’آئے ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ہم احادیث لکھ رہے تھے تو فرمایا تم یہ کیا لکھ رہے ہو؟ ہم نے کہا احادیث جو ہم نے آپ سے سی ہیں۔ فرمایا کیا اللہ کی کتاب کے علاوہ کوئی کتاب تم چاہتے ہو؟ نہیں گمراہ ہوئے تھے تم سے پہلے مگر لکھتے تھے اور کتاب اللہ تعالیٰ کی کتاب کے ساتھ۔‘‘

تدوینِ قرآن

قرآن مجید چونکہ نزولی ترتیب کے مطابق نہیں، اس لیے جب تک قرآن مجید نازل ہوتا رہا اس وقت تک قرآن مجید کو صحیفہ کی شکل میں اکٹھا کرنا ممکن نہ تھا کیونکہ بیک وقت مختلف سورتوں کی آیات نازل ہوتی رہتی تھیں۔ حضورؐ کی وفات کے بعد سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے دورِ خلافت میں مختلف نوشتوں سے ہر سورت کی تمام آیات اکٹھی کی گئیں اور قرآن مجید کو مرتب کیا گیا۔
وَقَدْ کَانَ الْقُرْاٰنَ کُتِبَ کُلُّہٗ فِیْ عَھْدِ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لٰکِنْ غَیْرَ مَجْمُوْعٍ فِیْ وَضْعٍ وَاحِدٍ وَلَا مُرَتّب السُّوَرَ (الاتقان)
’’اور البتہ قرآن مجید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں پورا لکھا جا چکا تھا لیکن یکجا شکل میں نہ تھا اور نہ ہی سورتوں کو مرتب کیا گیا تھا۔‘‘
حضرت ابوبکر صدیقؓ نے حضرت زید بن ثابتؓ کی قیادت میں پچیس مہاجر صحابہؓ اور پچاس انصاری صحابہؓ سے قرآن مجید مرتب کرایا۔ اس کے بعد فتح آرمینیا کے موقع پر حضرت حذیفہ بن الیمانؓ نے مدینہ منورہ واپس پہنچ کر حضرت عثمانؓ کو مشورہ دیا کہ قرآن مجید کی قراءتیں ایک قراءت پر مجتمع کی جائے جس پر حضرت عثمانؓ نے صحابہ کرامؓ کے ذریعے ۲۴ھ آخر یا ۲۵ھ کے اوائل میں قرآن مجید کی کتابت مکمل کروائی اور اس کی سات نقلیں کرا کر کوفہ، شام، بحرین، بصرہ، یمن، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں رکھوائیں جن سے نقل شدہ قرآن آج تک دنیا میں صحیح کامل حالت میں موجود ہیں۔

علومِ قرآن

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے قرآنی علوم کو پانچ شعبوں میں تقسیم کیا ہے۔

(۱) علم الاحکام

جس میں فرائض و واجبات، حلال و حرام وغیرہ کا بیان ہے۔ اس علم کی تفصیل بیان کرنا فقہاء اور مجتہدین کا کام ہے۔

(۲) علم المناظرہ

اس میں یہود و نصارٰی، مشرکین اور منافقین سے مناظرہ ہے۔ ان پر بحث کرنا متکلمین کا کام ہے۔

(۳) علم تذکیر بآلاء اللہ

اس میں زمین و آسمان، رزق و عزت، انعاماتِ الٰہی و صفات الٰہی کا بیان ہے۔ ان پر بحث کرنا صوفیاء اور مشائخ کا کام ہے۔

(۴) علم تذکیر بایام اللہ

اس میں ان تاریخی واقعات کا ذکر ہے جن میں اللہ تعالیٰ نے اپنے فرمانبردار بندوں کو بطور انعام کامیاب فرمایا، یا سرکشوں اور نافرمانوں پر عذاب نازل کر کے انہیں عبرت کا سامان بنایا۔

(۵) علم تذکیر بما بعد الموت

اس میں موت اور موت کے بعد آنے والے واقعات، مسئلہ حشر نشر، حساب کتاب، میزان اور جنت و دوزخ کا بیان ہے۔ ان آخری دو علوم پر بحث کرنا واعظین کا طریقہ ہے۔

علومِ تفسیر قرآن

تفسیر لغوی طور پر فَسَّرَ بمعنی کشف سے ہے جیسا کہ قرآن مجید میں بھی ان ہی معانی میں ذکر کیا گیا ہے:
وَالصُّبْحِ اِذَا اَسْفَرَ (المدثر پ ۲۹)
’’اور صبح کی جب روشن ہو۔‘‘
وَلَا یَاْتُوْنَکَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئْنٰکَ بِالْحَقِّ وَاَحْسَنَ تَفْسِیْرً‌ا۔ (الفرقان پ ۱۹)
’’اور وہ نہیں لاتے آپ کے پاس کوئی مثال مگر ہم پہنچا دیتے ہیں آپ کے پاس ٹھیک بات اور اس سے بہتر کھول کر۔‘‘
جبکہ اصطلاح میں تفسیر سے مراد:
عِلْمُْ یُبْحَثُ فِیْہِ عَنْ مَعْنی نَظَمِ الْقُرْاٰن بِحَسْبِ الْقَوَانِیْنِ الْعَرَبِیَّۃِ وَالْقَوَاعِدِ الشَّرْعِیَّۃِ بِقَدَرِ طَاقَۃِ الْبَشَرِیَّۃِ۔
’’ایسا علم جس میں قرآن مجید کے الفاظ کے معنی پر عربی زبان کے قوانین اور شریعت کے قاعدوں کو پیش نظر رکھ کر انسانی طاقت کے مطابق بحث کی جاتی ہے۔‘‘
تاہم اپنی رائے اور سوچ سے تفسیر کرنے کی ممانعت ہے۔ کتاب اللہ کا جو مفہوم کتاب و سنت سے ثابت ہو گا اسے تفسیر کہیں گے اور اسی مفہوم کے موافق مسائل و معارف کے استنباط کو تاویل کہیں گے۔ شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ فرماتے ہیں کہ تفسیر میں تین چیزوں کی رعایت ضروری ہے۔
(۱) ہر کلمہ کو معنی حقیقی یا مجاز معروف پر محمول کرنا۔
(۲) سیاق و سباق کو ملحوظ رکھنا تاکہ کلام بے ربط نہ ہو۔
(۳) حضورؐ اور صحابہ کرامؓ کی تفسیر کے خلاف نہ ہو۔
اگر پہلی شرط فوت ہو گئی تو تاویل قریب ہے۔ اگر دوسری شرط فوت ہو گئی تو تاویل بعید ہے۔ لیکن اگر تیسری شرط فوت ہو گئی تو تحریف ہے اور کفر ہے۔ اسی لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مَنْ فَسَّرَ الْقُرْاٰنَ بِرَایِہٖ فَقَدْ کَفَرَ۔
’’جس نے قرآن کی تفسیر اپنی رائے سے کی تو تحقیق کافر ہو گیا۔‘‘

تفسیر کی ضرورت

اَفَلَا یَتَدَبّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰی قُلُوْبٍ اَقْفَالُھَا (محمد پ ۲۶)
قرآن مجید کے نزول کا مقصد بیان کرتے ہوئے تفسیر کی ضرورت یوں بیان فرمائی:
وَاَنْزَلْنَا اِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْھِمْ (النحل پ ۱۴)
’’اور اتارا ہم نے آپ کی طرف ذکر تاکہ سمجھائیں آپؐ لوگوں کو وہ جو اتاری گئی ہے ان کے لیے۔‘‘
اسی طرح حضورؐ کی بعثت کا مقصد بھی تعلیم کتاب اور حکمت و تفسیر ہی تھا۔
کَمَا اَرْسَلْنَا فِیْکُمْ رَسُوْلًا مِّنْکُمْ یَتْلُوْا عَلَیْکُمْ اٰیٰتِنَا وَیُزَکِّیْکُمْ وَیُعَلِّمُکُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکَمَۃَ وَیُعَلِّمُکُمْ مَّا لَمْ تَکُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ (بقرہ پ ۲)
’’جیسا کہ بھیجا ہم نے تم میں رسول تم ہی میں سے، پڑھتا ہے تم پر آیتیں ہماری اور پاک کرتا ہے تمہیں اور سکھاتا ہے تمہیں کتاب اور حکمت اور سکھاتا ہے تمہیں وہ جو تم نہیں جانتے۔‘‘
حضورؐ نے جو بھی تفسیر بیان فرمائی وہ سب اللہ ہی کی طرف سے ہوتی تھی۔
وَ مَا یَنْطِقُ عَنِ الْھَوٰی۔ اِنْ ھُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰی۔ (النجم ۲۷)

تفسیر کے لیے ضروری علوم

امام سیوطیؒ کے مطابق یہ پندرہ علوم مفسر کے لیے ضروری ہیں۔ (۱) لغت عربیہ (۲) علم نحو (۳) علم صرف (۴) علم اشتقاق (۵) علم معانی (۶) علم بیان (۷) علم بدیع (۸) علم قراءت (۹) علم اصول الدین (۱۰) علم اصول فقہ (۱۱) علم اسباب النزول والقصص (۱۲) علم ناسخ و منسوخ (۱۳) علم فقہ (۱۴) علم حدیث مع علم اسماء الرجال والاسناد (۱۵) اور علم الوھبی۔ جبکہ دیگر علماء کے نزدیک یہ علوم بھی ضروری ہیں (۱۶) علم کلام (۱۷) علم تاریخ (۱۸) علم جغرافیہ (۱۹) علم الزہد والرقاق (۲۰) علم الاسرار (۲۱) علم الجدل والخلاف (۲۲) علم السیرۃ (۲۳) علم الحقائق (۲۴) علم الحساب (۲۵) اور علم المنطق۔

تفسیری ادوار

  1. صحابہ کرامؓ کے دور میں خود جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تفسیر پوچھی جاتی تھی۔ یہ پہلا دور کہلایا۔
  2. حضورؐ کی رحلت کے بعد حضرت علیؓ اور ابن عباسؓ سے تفسیر پوچھی جاتی تھی۔ یہ دوسرا دور کہلایا۔
  3. تیسرے دورِ تابعین میں حضرت سعید بن جبیرؓ نے باقاعدہ کتابی شکل میں تفسیر لکھ کر عبد الملک بن مروان کے دربارِ خلافت میں بھیجی جو کہ آج تفسیر عطاء بن دینار کے نام سے مشہور ہے۔ ان کے علاوہ اس دور میں مجاہدؒ، عکرمہؒ، حسن بصریؒ، ضحاکؒ، اور قتادہؒ وغیرہ مشہور ہیں۔
  4. چوتھے دور میں کتب کی تدوین کے وقت پہلے سے رائج طریقے سے ہٹ کر تفسیری کتابوں کو علیحدہ تحریر کیا جانے لگا اور تفسیری اقوال کے لیے اسناد کی شرط ختم کر دی۔
  5. پانچویں دور میں جو عباسی خلافت سے شروع ہو کر آج تک چلا آ رہا ہے اس دور میں ہر ماہر فن نے اپنے فن کے انداز میں تفسیر لکھی۔ چنانچہ زجاجؒ نے اپنی تفسیر میں، واحدی نے البسیط میں، اور ابوحیان نے البحر المحیط میں نحوی مہارت کا ثبوت دیا۔ جبکہ امام رازی نے تفسیر کبیر میں علوم عقلیہ اور حکماء و فلاسفہ کے اقوال پیش کیے۔

مختصرً‌ا یہ کہ تفاسیر قرآن بنیادی طور پر چھ اقسام میں منحصر ہو گئیں۔

  1. فقہی تفاسیر: جن میں صرف ان آیات کی تفسیر کی گئی ہے جن سے مسائل مستنبط ہوتے ہیں، جیسے احکام القرآن۔
  2. ادبی تفاسیر: ان میں فصاحت و بلاغت کو پیشِ نظر رکھا گیا۔
  3. تاریخی تفاسیر: ان میں تاریخی واقعات کو پیشِ نظر رکھا گیا جیسے ابن عربیؒ اور ابو عبد الرحمٰن السلمیؒ کی تفاسیر۔
  4. نحوی تفاسیر: ان میں نحوی مباحث پیشِ نظر رکھے گئے جیسے اعراب القرآن للرازیؒ۔
  5. لغوی تفاسیر: جیسے مفردات القرآن للامام راغب الاصفہانیؒ۔
  6. کلامی تفاسیر: جن میں عقائد پر بحث کی گئی ہو جیسے امام رازیؒ کی تفسیر کبیر اور زمحشریؒ کی کشاف وغیرہ شامل ہیں۔

سخت سزائیں اور کتب و اُمم سابقہ

محمد اسلم رانا

مغرب زدہ افراد کا ایک طبقہ ہے جو اسلامی حدود کے نفاذ کا خواہاں نہیں ہے۔ اس کا خیال ہے کہ یہ اسلامی سزائیں سخت ہیں، غیر انسانی ہیں اور وحشیانہ ہیں۔ لیکن ظاہر بات ہے کہ یہ خیال و تاثر محض مغرب سے مرعوبیت اور مسحوریت کا نتیجہ ہے ورنہ اسلامی سزائیں جہاں نافذ ہوتی ہیں وہ معاشرہ جرم و گناہ سے تقریباً‌ پاک ہو جاتا ہے۔ علاوہ ازیں سخت سزائیں اسلام ہی نے مقرر نہیں کی ہیں بلکہ اسلام سے قبل آسمانی مذاہب میں بھی اسی نوعیت کی سزائیں تھیں اور یہ سزائیں آج تک ان کی مقدس کتابوں میں موجود ہیں جنہیں اہل مغرب (عیسائی اور یہودی) بھی مذہبی اور مقدس مانتے ہیں۔ اس ضمن میں کتبِ سابقہ کا ایک مختصر سا مطالعہ حسب ذیل ہے۔
کتب سابقہ کے ایک مروّجہ مجموعہ بائبل کی پہلی پانچ کتابیں تورات کہلاتی ہیں۔ یہودی ان کی بہت تعظیم کرتے اور قابلِ عمل سمجھتے ہیں۔ عیسائی بھی ان کی عظمت و تقدس کا ڈھنڈورا پیٹتے نہیں تھکتے۔ یہودی یا بنی اسرائیل حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد کو کہتے ہیں۔ ان کی مقدس کتابوں کی رو سے قومِ یہود خدا تعالیٰ کی برگزیدہ، چنیدہ، اپنی اور مقدس قوم ہے۔ یہ لوگ خدا کے فرزند ہیں، نبوت اور رسالت صرف اسی قوم کے لیے مخصوص ہے، غیر یہودی کتوں کی مثل ہیں، نجات کی بلاہٹ محض یہودیوں کے لیے ہے غیر اقوام کے لیے نہیں (پادری ڈملو کی تفسیر بائبل صفحہ ۸۵)۔
اس عظمت و بزرگی کے ساتھ ساتھ کتب مقدسہ سے یہ حقیقت بھی اظہر من الشمس ہے کہ یہودی ایک بڑی سرکش اور نافرمان قوم ہیں۔ ان کی سرکشی اور باغیانہ خصلتوں کے پیشِ نظر ان کی شریعت بھی بڑی سخت مقرر کی گئی تھی۔ مثلاً‌ ان کے ہاں ذبیحہ کا گوشت پہلے اور دوسرے دن تو کھایا جا سکتا تھا لیکن تیسرے دن کھانے کی ممانعت تھی۔ خلاف ورزی کی سزا جماعت سے کاٹا جانا تھی (کتاب احبار باب ۱۹ آیت ۸)۔ آتشیں قربانی کا گوشت یا اپنی سکونت گاہ میں پرند یا چرند کا خون کھانے (احبار باب ۷ آیت ۲۵) حائضہ کے ساتھ صحبت (احبار باب ۲۰ آیت ۱۸) اور کفارہ کے دن اپنی جان کو دکھ نہ دینے کی سزا بھی جماعت سے کاٹا جانا تھی (احبار باب ۲۳ آیت ۲)۔ جماعت سے کاٹے جانے کا مطلب یہ ہے کہ ایسا شخص بنی اسرائیل کے ساتھ خدا تعالیٰ کے وعدوں اور موعودہ برکتوں میں شامل نہیں رہتا، نامختون اور غیر قوم کا فرد شمار کیا جاتا ہے (پادری ڈملو کی تفسیر ص ۵۹)

سزائے موت

قاتل کا مارا جانا تو بآسانی سمجھ میں آتا ہے (احبار باب ۲۴ آیت ۱۸) لیکن زنا اور لواطت کی سزا بھی موت ہی ہے (احبار باب ۲۰) جانور سے جماع کرنے والا بھی جان سے مارا جائے (احبار باب ۲۰ آیت ۴۵) اگر کسی شخص کا بیل ماروکھنڈا ہو اور مالک اسے باندھ کر نہ رکھے اور وہ بیل کسی مرد یا عورت کو ٹکر مار کر اس کی جان لے لے تو بیل کو سنگسار کیا جائے، مالک کی سزا بھی موت ہے۔ جو کوئی کسی آدمی کو چرائے، خواہ وہ اسے بیچ ڈالے خواہ وہ اس کے ہاں ملے وہ قطعی مارا جائے (خروج باب ۲۱ آیت ۱۶) نقب زنی کرتے ہوئے چور کو اگر ایسی مار پڑے کہ وہ مر جائے تو اس کے خون کا کوئی جرم نہیں (خروج باب ۲۲ آیت ۲) توبہ توبہ وہ کتنی سخت شریعت تھی جس کے مطابق اگر کوئی شخص کاہن (یہودی مولوی) سے گستاخی سے پیش آئے یا قاضی کا کہا نہ مانے تو اسے بھی قتل کر دیا جائے (استثنا باب ۷ آیت ۱۲)

کوڑے

اگر لوگوں میں کسی قسم کا جھگڑا ہو اور وہ عدالت میں آئیں تاکہ قاضی ان سے انصاف کریں، تو وہ صادق کو بے گناہ ٹھہرائیں اور شریر کے خلاف فتوٰی دیں۔ اگر وہ شریر پٹنے کے لائق نکلے تو قاضی اسے زمین پر لٹوا کر اپنی آنکھوں کے سامنے اس کی شرارت کے مطابق اسے گن گن کر کوڑے لگوائے اور اسے چالیس کوڑے لگیں زیادہ نہیں (استثنا باب ۲۵ آیت ۱ تا ۳)

سنگساری

تورات میں کئی جرموں کی سزا سنگساری ہے۔ لکھا ہے جو خداوند کے نام پر کفر بکے ضرور جان سے مارا جائے۔ ساری جماعت اسے قطعی سنگسار کرے (احبار باب ۲۴ آیت ۱۶) اسی طرح جو شخص اور معبودوں سورج، چاند یا اجرام فلکی کی پوجا کرے اس کی سزا شہر کے پھاٹکوں سے باہر لے جا کر سنگسار کرنا ہے کہ وہ مر جائے (استثنا باب ۱۷ آیت ۶) ترغیبِ شرک کی سزا قتل ہے (استثنا باب ۱۲) تورات پڑھتے وقت قاری کے ذہن پر اس کے شرعی احکام کی سختی کا گہرا تاثر قائم ہوتا ہے اور انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ وہ مرد یا عورت جس میں جن ہو یا وہ جادوگر ہو تو وہ ضرور جان سے مارا جائے۔ ایسوں کو لوگ سنگسار کریں (احبار باب ۲۰ آیت ۲۷) ماں باپ کے نافرمان بیٹے کو شہر کے سب لوگ سنگسار کریں کہ وہ مر جائیں (استثنا باب ۲۱ آیت ۲۱) یہودی سبت کو مانتے ہیں یعنی ہفتہ کے روز کچھ کام نہیں کرتے۔ حرمتِ سبت کا حکم نیا نیا تھا، لوگ اس کی عظمت و اہمیت ابھی پوری طرح سمجھ نہیں پائے تھے۔ صحرا نوروی کے دنوں ایک یہودی سبت کے دن لکڑیاں اکٹھی کرتے پکڑا گیا، جماعت نے اسے پکڑ کر حوالات میں بند کر دیا اور حضرت موسٰی علیہ السلام نے بحکم الٰہی اسے لشکرگاہ سے باہر لے جا کر خود سنگسار کرایا اور وہ مر گیا (گنتی باب ۱۵ آیت ۳۶)

آگ میں جلانا

ہمارے بہت سارے معزز قارئین کے لیے یہ امر انتہائی عجیب اور اچنبھا معلوم ہو گا کہ تورات میں بعض جرائم کی سزا آگ میں جلانا بھی مقرر ہے۔ اگر کوئی شخص بیوی اور ساس دونوں کو رکھے تو تینوں جلا ڈالے جائیں۔ (احبار باب ۲۰ آیت ۱۴) کپڑا جتنا سفید ہو گا اس پر داغ اتنا ہی برا لگے گا۔ چنانچہ اگر کاہن کی بیٹی فاحشہ بن کر اپنے آپ کو ناپاک کرے تو وہ عورت آگ میں جلائی جائے کیونکہ وہ اپنے آپ کو ناپاک ٹھہراتی ہے (احبار باب ۲۱ آیت ۹)
تورات کے مذکورہ احکام پر باقاعدہ عمل کیا جاتا تھا۔ حضرت مسیح علیہ السلام کے زمانہ میں بھی زنا کی سزا سنگساری تھی (انجیل یوحنا باب ۸) ؟؟ کو شریعت کی مخالفت اور موسٰیؑ کی رسموں کو بدلنے کے الزام میں سنگسار کیا گیا تھا (کتاب اعمال باب ۶) صدیوں بعد فرانس میں جون آف آرک نامی نوجوان خاتون کو جادوگری کے الزام میں جلا دیا گیا تھا۔ تورات کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جرائم کی سرکردگی پر سزا کا مطلب برائیوں سے پاک معاشرہ کا قیام تھا۔ جب لوگوں کو معلوم ہو کہ فلاں جرم کرنے پر اتنی سخت سزا ضرور ملے گی تو وہ قانون شکنی سے باز رہیں گے اور سزا کے اجراء سے عبرت پکڑیں گے۔ نافرمان بیٹے کو سنگساری کے حکم کے بعد لکھا ہے کہ یوں تو ایسی برائی کو اپنے درمیان سے دور کرنا تب سب اسرائیلی ڈر جائیں گے۔ کچھ اسی طرح کے الفاظ کاہن کی شان میں گستاخی پر سزا دینے کے ضمن میں بھی وارد ہیں کہ سب لوگ سن کر ڈر جائیں گے اور پھر گستاخی نہیں کریں گے (استثنا باب ۱۷ آیت ۱۳)

ہندومت

مشہور ہندو قانون دان منّو کے دھرم شاستر میں ہندوؤں کی چاروں ذاتوں (برہمن، کشتری، ویش، شودر) کا بڑا لحاظ رکھا گیا ہے۔ اعلٰی ذات برہمنوں کو معمولی سزاؤں پر اکتفا کیا جاتا ہے، تاہم سخت سزاؤں کا تصور اپنی جگہ قائم ہے مثلاً‌ برہمن، کشتری، ویش کی عورت شوہر وغیرہ سے محفوظ ہو یا نہ اس سے زنا کرنے والے شودر کا عضو تناسل قطع کرنا، تمام دولت کو چھین لینا اور قتل کی سزا دینی چاہیئے۔ اگر وہ غیر محفوظ عورت سے جماع کرے تو اسے دونوں متذکرہ صدر سزائیں اور قتل کی سزا دینی چاہیئے (منو کا دھرم شاستر ادھیائے ۸ اشلوک ۳۷۴) جس عضو سے دوسرے کی چیز چرائے اسی عضو کو قطع کرنا چاہیے تاکہ پھر ایسا کام نہ کرے (۸ : ۳۳۴)
چند برس پیشتر بھارت کی ایک اعلیٰ عدالت نے نسوانی  مقدمات کے سلسلہ میں کوڑوں کی اسلامی سزا کی حمایت کی تھی۔ اگر جرم کو روکنا مقصود ہے تو پھر مجرم کے ساتھ چہلیں نہیں کی جانی چاہئیں۔ القصہ ہمیں اسلامی شریعت کو ببانگ دہل اپنانا چاہیئے اور ہرگز پرواہ نہیں کرنی چاہیئے کہ اس پر دنیا کیا کہے گی۔ بفضلہٖ تعالیٰ ہم حق پر ہیں (قرآن مجید سورہ یس آیت ۱۴) چنانچہ ہمیں حق پر ڈٹ کر دنیا والوں کی اٹکلوں کی طرف مطلق توجہ نہیں دینی چاہیئے۔ جن قوانین، اقدار اور امور و احکام نے ڈیڑھ ہزار برس پیشتر عالمِ انسانیت سے اپنی صداقت کی مہر لگوائی تھی اگر انہیں خلوصِ نیت سے آج بھی اپنایا جائے تو
آگ کر سکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا

تحریک نفاذ فقہ جعفریہ ۔ نفاذ اسلام کی جدوجہد میں معاون یا رکاوٹ؟

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ہفت روزہ زندگی کے ایک گزشتہ شمارہ (۱۵ تا ۲۱ دسمبر ۱۹۸۹ء) میں ’’ایران اور انقلاب ایران‘‘ پر بحث و تمحیص کے حوالہ سے کالاگوجراں سے جناب جعفر علی میر کا ایک مضمون شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے انقلاب ایران اور اس کے اثرات کے بارے میں اپنے تاثرات قلمبند کیے ہیں۔ راقم الحروف کو ۱۹۸۷ء میں پاکستانی علماء کرام، وکلاء، دانشوروں کے ایک وفد کے ساتھ ایران جانے اور وہاں گیارہ روزہ قیام کے دوران انقلابی راہنماؤں سے ملنے اور انقلاب کے اثرات و نتائج کا مشاہدہ کرنے کا موقع مل چکا ہے اور اس مشاہدے کے بارے میں میرے تاثرات قومی پریس کے ذریعے منظر عام پر آچکے ہیں۔ اسی لیے جناب جعفر علی میر کے مضمون کے اس عنوان نے مجھے چونکا دیا کہ ’’ایران کے سنیوں پر شیعہ قوانین نافذ نہیں ہے‘‘۔ کیونکہ یہ بات واقعات سے قطعاً مطابقت نہیں رکھتی۔ پھر مضمون کے اس حصے نے حیرت و استعجاب کو دوچند کر دیا کہ

’’نفاذ فقہ جعفریہ کا مطالبہ فقط اہل تشیع کے لیے کیا جاتا ہے اور تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کا موقف یہ ہے کہ ہر مسلک کے پیروکاروں کو ان کی اپنی فقہ کے مطابق عمل کرنے کی آزادی ہو جیسا کہ ایران میں ہے۔ وہاں اہل سنت کو مکمل آزادی ہے، ان کے مدارس دینیہ و مساجد موجود ہیں، پارلیمنٹ میں نمائندگی حاصل ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ایران کے کسی قانون کا اطلاق ان پر نہیں ہوتا۔‘‘

یوں محسوس ہوتا ہے کہ جناب جعفر علی میر صاحب ابھی تک خود ایران نہیں گئے ہیں اور اگر انہیں وہاں جانے کا موقع ملا ہے تو انہوں نے تصویر کا ایک ہی رخ دیکھنے پر اکتفاء کیا ہے اور دوسرے رخ پر نظر ڈالنے کی زحمت گوارا نہیں فرمائی، ورنہ ان کے تاثرات اس درجہ خلاف واقعہ اور یک طرفہ نہ ہوتے۔

جہاں تک انقلاب ایران کے سماجی و سیاسی اثرات اور علاقائی و عالمی سیاست میں انقلابی حکومت کے رول کا تعلق ہے اس پر زیر نظر مضمون میں کچھ عرض کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا اور نہ ہی عالم اسلام کے ساتھ ایران کی انقلابی حکومت کے تعلقات اور رویے کو زیر بحث لانا مقصود ہے۔ مگر جعفر میر صاحب کے مضمون کے عنوان اور مندرجہ بالا اقتباس کے حوالہ سے اور ایران میں اپنے گیارہ روزہ قیام کے مشاہدات کی روشنی میں مندرجہ ذیل دو پہلوؤں پر چند ضروری گزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں تاکہ اصل صورت حال قارئین کے سامنے آسکے۔

جہاں تک ایران میں مقیم اہل سنت کا تعلق ہے، اس بارے میں سب سے پہلے ان حقائق کا ادراک ضروری ہے کہ ایران کی مجموعی آبادی میں اہل سنت کا تناسب پچیس فیصد سے کسی طرح کم نہیں ہے۔ دو صوبوں بلوچستان اور کردستان بلکہ ایرانی ترکمانستان میں بھی اہل سنت کی واضح اکثریت ہے اور قابل توجہ بات یہ ہے کہ ایران کے چاروں طرف سرحدی علاقوں میں اہل سنت اکثریت میں ہیں جس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ صفیوں کے اقتدار سے قبل پورا ایران سنی اکثریت کا ملک تھا لیکن صفیوں نے طاقت کے زور سے لوگوں کو زبردستی شیعہ بنانے کا سلسلہ شروع کر دیا اور راسخ العقیدہ سنی مسلمان ان کے ظلم و جبر کی تاب نہ لاتے ہوئے وسطی ایران سے سرحدی علاقوں کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے اور اس طرح ایران کو بالجبر شیعہ ریاست بنا دیا گیا۔

مزید تفصیلات میں جائے بغیر میں ان مسائل کی نشاندہی کرنا ضروری سمجھتا ہوں جن کا اس وقت ایرانی اہل سنت کو سامنا ہے اور جن مسائل کے حل کے لیے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر کسی تحریک اور منظم حمایت کا وجود نہیں ہے جس سے اس طبقہ کی مظلومیت دوچند ہو جاتی ہے۔

  • ایرانی دستور کے ’’اصول کلی‘‘ میں اصل دوازدہم (بارہواں اصول) یوں درج ہے:

’’دین رسمی ایران، اسلام و مذہب، جعفری اثنا عشری است و ایں اصل الی الابد غیر قابل تغیر است و مذاہب دیگر اسلامی اہم از حنفی، شافعی، مالکی، حنبل و زیدی دار ای احترام کامل میباشند و پیر وان ایں مذاہب درانجام مراسم مذہبی طبق فقہ خود شاں آزادند و در تعلیم و تربیت دینی و احوال شخصیہ (ازدواج، طلاق، ارث، و وصیت) و دعاوی مربوط بہ آن در داد گاہ ہا رسمیت دارند و در ہر منطقہ کہ پیروان ہر یک ازیں مذاہب اکثریت داشتہ باشند مقدرات محلی در حدود و اختیارات شوراہا برطبق آں مذہب خواہد بود باحفظ حقوق پیرواں سایر مذاہب۔‘‘

ترجمہ: ’’ایران کا سرکاری دین اسلام اور سرکاری مذہب جعفری اثنا عشری ہے اور یہ اصل ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ناقابل تبدیل ہے۔ دیگر اسلامی مذاہب مثلاً حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی اور زیدی پوری طرح قابل احترام ہوں گے اور ان مذاہب کے پیروکار اپنی مذہبی رسوم کو اپنی فقہ کے مطابق بجا لانے میں آزاد ہوں گے اور دینی تعلیم و تربیت اور شخصی قوانین (نکاح، طلاق، وراثت اور وصیت یعنی پرسنل لاء) اور ان سے متعلقہ دعاوٰی کی سماعت کا عدالتوں میں قانونی حق رکھیں گے اور جن علاقوں میں ان میں سے کسی ایک مذہب کے پیروکاروں کی اکثریت ہوگی وہاں لوکل قوانین مجالس مشاورت کے دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے اپنے مذہب کے موافق بنا سکیں گے بشرطیکہ دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کے حقوق محفوظ ہوں۔‘‘

  • ایرانی دستور کی اصل یک صد و پانزدہم (دفعہ ۱۱۵) میں صدر مملکت کے لیے یہ ضروری قرار دیا گیا ہے کہ وہ ایرانی النسل اور دیگر شرائط کا حامل ہونے کے ساتھ ایران کے سرکاری مذہب (جعفری اثنا عشری) کا پیروکار ہو۔ اور اصل یک صد و بیست و یکم (دفعہ ۱۲۱) میں صدر ایران کے حلف نامہ میں اسے اس حلف کا پابند کیا گیا ہے کہ

’’پاسدار مذہب رسمی و نظام جمہوری اسلامی و قانون اساسی کشور باشم۔‘‘

ترجمہ: ’’میں ریاست کے سرکاری مذہب (جعفری اثنا عشری) جمہوری اسلامی نظام اور دستور کی پاسداری کروں گا۔‘‘

  • دستور کی دفعہ ۷۲ میں مجلس شوریٰ ملی (قومی اسمبلی) کو پابند کیا گیا ہے کہ

’’مجلس شوریٰ ملی نمی تواند قوانینی وضع کند کہ بااصول و احکام مذہب رسمی کشور یا قانون اساسی مغایرت داشتہ باشد۔

ترجمہ: ’’قومی اسمبلی ملک کے دستور اور سرکاری مذہب (جعفری اثنا عشری) کے منافی کوئی قانون نہیں بنا سکتی۔‘‘

ان واضح دستوری دفعات کی روشنی میں یہ بات طے ہے کہ ایران کا سرکاری مذہب شیعہ ہے۔ صدر ایران شیعہ مذہب کی پاسداری کا پابند ہے۔ قومی اسمبلی شیعہ مذہب کے خلاف کوئی قانون نہیں بنا سکتی۔ اور ملک کا عمومی قانون (پبلک لاء) جعفری اثنا عشری مذہب کے مطابق ہے جس کا اطلاق شیعہ سنی سب پر ہوتا ہے۔ اس لیے جناب جعفر علی میر کے اس ارشاد کو مبنی بر حقیقت کس طرح تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ ایران میں سنیوں پر شیعہ قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا۔

جناب جعفر علی میر کے مضمون کے جواب میں دوسری گزارش یہ ضروری سمجھتا ہوں کہ حالات و واقعات کے تسلسل نے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ ایرانی انقلاب کے اثرات پڑوسی ممالک بالخصوص پاکستان میں نفاذ اسلام کی تحریکات کے حق میں مثبت نہیں رہے اور ایرانی انقلاب سے پڑوسی ممالک کی نفاذ اسلام کی تحریکات کو وقتی طور پر جو توقعات وابستہ ہوگئی تھیں، نتائج ان کے برعکس سامنے آئے ہیں۔ راقم الحروف خود ان لوگوں میں سے ہے جنہوں نے ایران کی انقلابی قیادت سے واضح مذہبی اختلاف کے باوجود انقلاب ایران کا خیرمقدم کیا تھا اور اس کے حق میں خیرسگالی کے جذبات کا اظہار کیا تھا، صرف اس خیال اور جذبہ سے کہ عقائد کے اختلاف کے باوجود بہرحال ایران کا انقلاب ایک کامیاب مذہبی انقلاب ہے جو آج کے دور میں کمیونسٹ، سیکولر، اور مغربی جمہوریت کے پرستار سیاسی حلقوں پر ایک ضرب کاری ہے اور مذہبی اختلاف کے باوجود نفاذ اسلام کی جدوجہد میں ایران کی انقلابی قیادت کے تجربات سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ ہمیں یہ توقع تھی کہ انقلاب ایران کے بعد پاکستان کے شیعہ حلقے پہلے سے زیادہ جوش و خروش کے ساتھ نفاذ شریعت اسلامیہ کی جدوجہد میں ہمارے معاون ہوں گے اور ان کا مذہبی جوش و خروش ہمارے لیے تقویت کا باعث ہوگا۔ لیکن بدقسمتی سے ایسا نہ ہو ااور انقلاب ایران کے حوالے سے پاکستان میں جو نئی شیعہ تحریکات ابھریں انہوں نے اہل تشیع کے لیے الگ اور متوازی پبلک لاء کا مطالبہ کر کے نفاذ اسلام کی جدوجہد کو نظریاتی محاذ پر سبوتاژ کر کے رکھ دیا۔

انقلاب ایران سے قبل پاکستان کے شیعہ حلقے نفاذ اسلام کی جدوجہد میں کسی اصولی اختلاف کے بغیر ہمارے ساتھ تھے اور انہیں اس بات پر کوئی اعتراض نہیں تھا کہ ملک کا پبلک لاء ایک ہو۔ چنانچہ ۳۱ علماء کرام کے ۲۲ دستوری نکات میں مندرجہ ذیل اصول (نکتہ ۹) پر مولانا مفتی جعفر حسین اور مولانا مفتی کفایت حسین کے دستخط موجود ہیں کہ

’’مسلمہ اسلامی فرقوں کو حدود قانون کے اندر پوری مذہبی آزادی حاصل ہوگی۔ انہیں اپنے پیرؤوں کو اپنے مذہب کی تعلیم دینے کا حق حاصل ہوگا۔ وہ اپنے خیالات کی آزادی کے ساتھ اشاعت کر سکیں گے۔ ان کے شخصی معاملات کے فیصلے ان کے اپنے فقہی مذاہب کے مطابق ہوں گے اور ایسا کرنا مناسب ہوگا کہ ان کے قاضی یہ فیصلہ کریں۔‘‘

اس طرح سنی اور شیعہ دونوں حلقے اس امر پر متفق تھے کہ پبلک لاء ایک ہوگا اور شخصی قوانین (پرسنل لاء) میں مسلمہ اسلامی فرقوں کو اپنے اپنے مذہبی قوانین پر عمل کا حق حاصل ہوگا۔ لیکن ایرانی انقلاب کے بعد ’’تحریک نفاذ فقہ جعفریہ‘‘ کی بنیاد رکھ دی گئی اور مطالبہ یہ ہوا کہ پرسنل لاء میں نہیں بلکہ پورے قانونی نظام میں فقہ جعفریہ کو متوازی قانون کے طور پر نافذ کیا جائے۔ اس مطالبہ کے لیے تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے دو گروپ کام کر رہے ہیں اور دونوں خود کو انقلاب ایران کا نمائندہ قرار دیتے ہیں۔ دونوں گروپوں نے اس بنیاد پر سینٹ میں زیر بحث ’’شریعت بل‘‘ کی مخالفت کی۔ اور تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے میدان عمل میں آنے کا منطقی اور نظریاتی نتیجہ یہ سامنے آیا کہ شریعت اسلامیہ کی بالادستی اور نفاذ کا مطالبہ فرقہ وارانہ مطالبہ قرار دے دیا گیا۔

انقلاب ایران کے بعد اس حوالہ سے پاکستان میں ابھرنے والی شیعہ جدوجہد کا یہ کردار تاریخ میں اپنے منفی نتائج کے لحاظ سے ہمیشہ ناقابل فراموش رہے گا کہ سیکولر حلقوں کو نفاذ اسلام کی جدوجہد کے خلاف ایسا ہتھیار دے دیا گیا ہے جسے استعمال کرنے میں لادین عناصر اس سے قبل کبھی کامیاب نہیں ہو سکے تھے لیکن اب وہ اسے پوری مہارت اور کامیابی کے ساتھ استعمال کر رہے ہیں۔ اسلامی نظام کے نفاذ کی مخالفت میں سیکولر اور مفاد پرست عناصر پہلے بھی فقہی اختلافات اور فرقہ وارانہ کشمکش کا حوالہ دیا کرتے تھے اور یہ کہتے تھے کہ کس فرقے کا اسلام نافذ کیا جائے؟ لیکن علماء کے ۲۲ دستوری نکات ان کے اس پروپیگنڈے کا مسکت جواب تھے اور دستوری مسائل پر تمام مکاتب فکر کے متفقہ موقف کے سامنے سیکولر حلقوں کی یہ منطق بے اثر ثابت ہو جایا کرتی تھی۔ لیکن اب ایسا نہیں ہے کیونکہ جب ملک میں شریعت اسلامیہ کی بالادستی اور اسلامی قوانین کے نفاذ کے ساتھ ہی فقہ جعفریہ کے متوازی نظام کا مطالبہ کھڑا ہو جاتا ہے تو سیکولر عناصر کے ہاتھ میں ایک مضبوط ہتھیار آجاتا ہے کہ یہ فرقہ وارانہ مسئلہ ہے اور اس سے مذہبی مناقشت بڑھے گی اس لیے نفاذ اسلام کی طرف عملی قدم بڑھانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

یہ مسئلہ راقم الحروف نے ۱۹۸۷ء میں اپنے دورۂ ایران کے موقع پر معروف انقلابی راہنما جناب آیت اللہ جنتی کے سامنے پاکستانی وفد کی موجودگی میں پیش کیا تھا اور انہیں اس مشکل سے آگاہ کیا تھا کہ فقہ جعفریہ کے پبلک لاء کے طور پر متوازی نفاذ کے مطالبہ نے سیکولر حلقوں کے مقابلہ میں نظریاتی محاذ پر ہمیں کمزور کر دیا ہے۔ وفد کے ارکان گواہ ہیں کہ جناب آیت اللہ جنتی نے ہمارے موقف کو درست قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ پبلک لاء ایک ہی ہو سکتا ہے جو اکثریتی آبادی کی فقہ کے مطابق ہونا چاہیے، البتہ پرسنل لاء میں آپ اہل تشیع کو آزادی دیں۔ ہم نے عرض کیا کہ پرسنل لاء میں اہل تشیع کے جداگانہ حق سے ہم نے کبھی ایک لمحہ کے لیے بھی انکار نہیں کیا۔

آج بھی صورتحال یہ ہے کہ ہم پرسنل لاء میں اہل تشیع کا یہ حق تسلیم کرتے ہیں کہ انہیں اپنے مذہبی قوانین پر عمل کرنے کی آزادی ہونی چاہیے لیکن پبلک لاء ایک ہی ہو سکتا ہے۔ یہ دنیا بھر کا مسلمہ اصول ہے اور خود ایرانی دستور میں بھی اس اصول کو تسلیم کیا گیا ہے۔ اس لیے اہل تشیع کو اپنی اس جدوجہد اور موقف پر بہرحال نظر ثانی کرنی چاہیے کیونکہ اس کا فائدہ ملک کی لادین اور سیکولر قوتوں کے سوا کسی کو نہیں ہے۔

آخر میں جناب جعفر علی میر اور ان کے رفقاء سے عرض کروں گا کہ اہل سنت کے موقف میں کوئی ابہام، تضاد، یا نا انصافی نہیں ہے، وہ اپنے لیے وہی حقوق مانگتے ہیں جو ایران میں شیعہ اکثریت کو دستوری طور پر حاصل ہیں اور ان کا یہ مطالبہ بالکل حقیقت پسندانہ اور مبنی بر انصاف ہے کہ

امید ہے کہ تمام سنجیدہ شیعہ حلقے ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ ان مطالبات کا جائزہ لیں گے اور سیکولر حلقوں کی تقویت کا باعث بننے کی بجائے اپنے ملک کی اکثریتی آبادی کا ساتھ دیں گے۔

نصابِ تعلیم کی تشکیلِ جدید ۔ کیوں اور کیسے؟

مولانا سعید احمد پالنپوری

(یہ مضمون ’’نصابِ تعلیم میں تبدیلی کی ضرورت‘‘ کے موضوع پر منعقد ہونے والے ایک علمی اجتماع میں پڑھا گیا اور دارالعلوم دیوبند کے ترجمان ’’ماہنامہ دارالعلوم‘‘ میں شائع ہوا۔ ’’دارالعلوم‘‘ کے شکریہ کے ساتھ اسے قارئین ’’الشریعہ‘‘ کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ ادارہ)

نصابِ تعلیم کی تشکیلِ جدید کا مسئلہ بار بار اٹھتا رہتا ہے۔ اخبارات و مجلّات کی سطح سے لے کر عام محفلوں تک اس کا چرچا ہے۔ ہر شخص اپنی جگہ رائج الوقت نصابِ تعلیم میں تبدیلی کی ضرورت محسوس کرتا ہے۔ مگر ضرورت کیوں ہے؟ یہ بات ابھی تک منقح نہیں ہوئی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ پہلے اس نقطہ پر گفتگو کر لی جائے۔ یہ بات سب ہی حضرات جانتے ہیں کہ دینی تعلیم کے تین مرحلے ہیں اور دینی تعلیم دینے والے اداروں کے مقاصد مختلف ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ پہلے تعلیم کے مراحل اور اداروں کے مقاصد سے بحث کر لی جائے، اس کے بعد ہی کوئی لائحہ عمل تجویز کیا جا سکتا ہے۔

تعلیم کے مراحل

دینی تعلیم کے تین مراحل ہیں:

پہلا مرحلہ

پہلا مرحلہ ابتدائی تعلیم کا ہے جو مکاتیب کی تعلیم سے متعارف ہے۔ مکاتیب دو طرح کے ہیں۔ ایک وہ مکاتیب ہیں جن کے ساتھ اسکول کی تعلیم کا موقعہ فراہم ہے۔ دوسرے وہ مکاتیب ہیں جن کے ساتھ یہ سہولت نہیں ہے۔ پہلی قسم کے مکاتیب کا نصابِ تعلیم خالص دینی ہونا چاہیئے اور بہت مختصر ہونا چاہیئے۔ علومِ عصریہ کی اس میں آمیزش نہیں ہونی چاہیئے ورنہ بچوں پر ایک طرف تو تعلیم کا دوہرا بوجھ پڑے گا، دوسری طرف بے ضرورت مضامین کی تکرار ہو گی جس کا نتیجہ انتشار ذہنی کے سوا کچھ نہ ہو گا۔ اور دوسری قسم کے مکاتیب کا نصابِ تعلیم ایسا ہونا چاہیئے کہ وہ دین کی تعلیم کے ساتھ اسکول کی تعلیم کی بھی مکافات کر سکے۔ اس میں ضروری زبانوں کی تعلیم کے علاوہ علومِ عصریہ کی بھی بھرپور رعایت ہونی چاہیئے تاکہ نونہالانِ قوم، اگر ان کو آگے تعلیم کا مزید موقع نہ بھی مل سکے تو بھی وہ دینداری کے ساتھ اپنے دنیوی کام نکال سکیں۔ اور اگر مکاتیب سے نکل کر وہ بچے عصری درسگاہوں میں جانا چاہیں تو بھی ان کو کسی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

دوسرا مرحلہ

دوسرا مرحلہ ثانوی تعلیم کا ہے، اس مرحلہ میں زیادہ تر فارسی اور کچھ ابتدائی عربی پڑھائی جاتی ہے۔ اس مرحلہ میں داخل ہونے سے پہلے خود بچے کو یا اس کے اولیاء کو یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ اب اس کو کونسی راہ اختیار کرنی ہے۔ عصری تعلیم کی یا دینی تعلیم کی؟ چنانچہ مکتب میں تعلیم حاصل کرنے والے بچے اس دوسرے مرحلے میں دو حصوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں۔ بڑی تعداد عصری تعلیم کا رخ کرتی ہے اور بہت معمولی مقدار دینی تعلیم کا عزم کرتی ہے۔
مدارس ثانویہ کے علاوہ عصری درسگاہیں بھی فارسی بحیثیت زبان پڑھاتی ہیں۔ دونوں تعلیموں کا مشترکہ مقصد یہ ہے کہ فارسی سے اردو میں مدد لی جائے کیونکہ اردو میں فارسی کے نہ صرف لغات مستعمل ہیں بلکہ تراکیب بھی رائج ہیں، بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہے کہ کلاسیکل اردو فارسی کے سانچے میں ڈھلی ہے اس لیے ادبیاتِ اردو سے کماحقہٗ استفادہ فارسی زبان کی مہارت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔
اور عصری درسگاہوں اور مدارسِ اسلامیہ کی فارسی کی تعلیم کا ایک دوسرے سے مختلف مقصد یہ ہے کہ عصری درسگاہیں فارسی کو بحیثیت ایک زبان کے پڑھاتی ہیں تاکہ طلباء اس سے اقتصادی فائدہ حاصل کر سکیں، اور مدارسِ اسلامیہ میں فارسی پڑھانے کا مقصد یہ ہے کہ درجاتِ عربی کی جو ابتدائی کتابیں فارسی زبان میں ہیں ان سے استفادہ ممکن ہو سکے۔ نیز فارسی زبان میں بزرگوں کا چھوڑا ہوا جو عظیم ورثہ ہے اس سے فیض حاصل کیا جا سکے۔ مقصد کا یہ اختلاف قدرتی طور پر دونوں کی راہیں مختلف کر دیتا ہے۔ چنانچہ عصری درسگاہوں کے فارسی نصاب کا رخ جدیدیت کی طرف ہوتا ہے کیونکہ ان کے لیے وہی مثمر برکات ہے، اور مدارسِ اسلامیہ کے فارسی نصاب کا رخ قدامت کی طرف ہوتا ہے کیونکہ ان کے لیے وہی مفید ہے۔ جدید فارسی پڑھا ہوا طالب علم قدیم لٹریچر نہیں سمجھ سکتا۔ الغرض نیا نصاب مرتب کرتے وقت نقطہائے نظر کا یہ اختلاف ملحوظ رکھنا ضروری ہے ورنہ شاید نیا نصاب یکساں طور پر قابل قبول نہ ہو سکے۔

تیسرا مرحلہ

تیسرا مرحلہ اعلٰی تعلیم کا ہے جسے تہائی تعلیم بھی کہہ سکتے ہیں۔ یہ تعلیم عربی میں دی جاتی ہے اور مدارسِ اسلامیہ کا اصل کام یہی تعلیم دینا ہے۔ مدارسِ اسلامیہ کے علاوہ یہ تعلیم دیگر مختلف ادارے بھی دیتے ہیں اور عصری درسگاہوں میں بھی اس کا انتظام ہوتا ہے۔ عربی تعلیم کی بنیادی قسمیں دو ہیں۔ لسانی اور دینی۔
بعض ادارے تو عربی کو صرف ایک زبان کی حیثیت سے پڑھاتے ہیں۔ عصری درسگاہوں میں جو عربی کے ڈیپارٹمنٹس ہیں وہ اسی غرض کو سامنے رکھ کر قائم کیے گئے ہیں۔ بعض بڑے مدارس میں تکمیلِ ادب عربی یا تخصص فی الادب العربی کے نام سے جو شعبے ہیں ان کا بھی بنیادی مقصد یہی ہے۔ محض عربی زبان پڑھنے کا مقصد ظاہر ہے کہ محض اقتصادی پہلو ہے اور یہ ایک اچھی بات ہے۔ نیز اگر طالب علم چاہے تو اپنی عربی دانی سے دینی فائدہ بھی حاصل کر سکتا ہے مگر ایسے لوگوں کی تعداد بہت کم ہے۔
دوسرے وہ ادارے ہیں جو دین کو مقصود بنا کر عربی کی تعلیم دیتے ہیں۔ اسی لیے وہ عربی زبان و ادب کے ساتھ دیگر علومِ اسلامیہ کو بھی اپنے نصاب میں جگہ دیتے ہیں۔ یہ ادارے چار قسم کے ہیں:
(۱) وہ عصری درسگاہیں جن میں عربی دینیات کے شعبے قائم ہیں۔
(۲) وہ بورڈ جو عربی تعلیم کے امتحانات کا نظم کرتے ہیں۔
(۳) وہ دینی درسگاہیں جن کے پیشِ نظر دین کی تعلیم کے ساتھ کسی درجہ میں طلبہ کی اقتصادیات کا پہلو بھی رہتا ہے۔ یہ تینوں قسم کے ادارے مقصد میں متحد ہیں۔
(۴) وہ مدارسِ اسلامیہ جن کے پیشِ نظر صرف دین کے تقاضے ہیں، کوئی دوسرا مقصد ثانوی درجہ بھی اس کے پیشِ نظر نہیں ہے یا نہیں ہونا چاہیئے۔ یہ ادارے مقصدِ تعلیم میں پہلے تینوں قسم کے اداروں سے مختلف ہیں۔
جب ان اداروں کے اغراض و مقاصد مختلف ہیں تو ایک نصابِ تعلیم سب کی ضرورتیں پوری نہیں کر سکتا۔ مقصد میں اشتراک یا اتحاد کے بغیر سب کو ایک روش پر ڈالنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ یہ اجتماع نقطہائے نظر کا اختلاف سامنے رکھ کر ہی نصابِ تعلیم پر نظرثانی کرے ورنہ محنت شاید رائیگاں جائے۔

نصابِ تعلیم پر نظرِثانی کیوں ضروری ہے؟

اس کے بعد اس سوال کا جواب دینا ضروری ہے کہ آخر نصابِ تعلیم پر نظرثانی کیوں ضروری ہے؟ وہ کیا اسباب و عوامل ہیں جو تبدیلی چاہتے ہیں؟ جہاں تک میری ناقص معلومات کا تعلق ہے لوگوں کے ذہنوں میں اس کے پانچ وجوہ ہیں جو درج ذیل ہیں:
(۱) واقعہ یہ ہے کہ تعلیم، خواہ دینی ہو یا دنیوی، دن بدن کمزور پڑتی جا رہی ہے۔ آزادی سے پہلے تک صورتحال یہ تھی کہ ہائی اسکول پاس کرنے والے طالب علم کی استعداد آج کے گریجویٹ سے بہتر ہوتی تھی۔ اس وقت کا کافیہ، شرح جامی پڑھا ہوا طالب علم آج کے فاضل علومِ اسلامیہ سے بہتر صلاحیتوں کا مالک ہوتا تھا۔ یہ تعلیم کی زبوں حالی زعمائے قوم، دردمندانِ ملّت اور ماہرینِ تعلیم کی نیند حرام کیے ہوئے ہے۔ یہ سب حضرات سمجھتے ہیں کہ اس ابتری کا سبب نصابِ تعلیم کی فرسودگی ہے، اس لیے جب تک نصابِ تعلیم نہیں بدلا جائے گا موجودہ صورتحال نہیں بدلے گی۔ لیکن یہ خیال کچھ زیادہ مبنی برحقیقت نہیں ہے۔ مجھے اپنے استاذ حضرت علامہ محمد ابراہیم بلیاوی قدس سرہ (سابق صدر المدرسین دارالعلوم دیوبند) کا ارشاد یاد ہے کہ
’’تعلیم میں مؤثر تین عوامل ہیں: (۱) طالب علم کی محنت (۲) استاذ کی مہارت (۳) نصاب کی خوبی۔‘‘
مگر اب طالب علم تو آزاد ہیں، ان کی کسی کوتاہی کی نشاندہی کرنا بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنا ہے۔ رہے اساتذہ تو وہ زبردست ہیں، ان کی کمی ان کو کون سمجھا سکتا ہے۔ اب رہ جاتا ہے بے زبان نصاب، چنانچہ لوگ اسے کان پکڑ کر کبھی اِدھر کرتے ہیں کبھی اُدھر، مگر اس سے مسئلہ حل نہیں ہوتا۔
(۲) زمانہ بلاشبہ ترقی پذیر ہے۔ علوم و فنون بھی ترقی کرتے ہیں اور کتابیں بھی بہتر سے بہتر وجود میں آتی رہتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ مفید سے مفید تر کو اختیار کیا جائے تاکہ تعلیم کا بہتر سے بہتر نتیجہ نکلے۔ نصاب پر نظرثانی کرنے کی یہ وجہ نہایت معقول ہے۔ ضروری ہے کہ یہ اجتماع نصاب کی تشکیلِ جدید میں اس بات کو ملحوظ رکھے تاکہ نئی مفید چیزوں سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
(۳) زمانہ تغیر پذیر بھی ہے۔ چنانچہ زمانہ کے حالات کے ساتھ ساتھ ذہنیت بھی بدلتی ہے۔ ماضی بعید میں لوگ عقلیت پسند تھے اور معقولات سے بہت دلچسپی رکھتے تھے۔ مگر اب محسوسات کا دور شروع ہو گیا ہے، ہر شخص ہر چیز مشاہدہ سے سمجھنا چاہتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ بدلے ہوئے حالات کو پیشِ نظر رکھ کر نصابِ تعلیم میں تبدیلی کی جائے۔ نظرثانی کی یہ وجہ بھی کسی درجہ میں معقول ہے مگر اس کا اثر براہِ راست علومِ عصریہ پر پڑتا ہے۔ مدارسِ اسلامیہ میں جو علوم و فنون پڑھائے جاتے ہیں ان کی بنیادی قسمیں دو ہیں۔ ایک علومِ آلیہ یعنی وہ علوم جو دین فہمی کے لیے ذرائع کا کام دیتے ہیں۔ مثلاً‌ نحو، صرف، لغت، منطق وغیرہ۔ دوسرے علومِ عالیہ یعنی وہ علوم جو مقصود بالذات ہیں جیسے قرآن کریم، احادیث شریفہ اور فقہِ اسلامی۔ پہلی قسم کے علوم میں مفید سے مفید تر کو اختیار کیا جانا چاہیے اور مدارسِ اسلامیہ میں یہ عمل برابر جاری ہے۔ مگر دوسری قسم کے علوم پر تغیر زمانہ کا کوئی اثر نہیں پڑتا، وہ اپنی جگہ محکم ہیں اس لیے ان پر نظرثانی کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
(۴) نصابِ تعلیم پر نظرثانی کا ایک سبب وہ بھی ہے جس کی طرف اس مجلسِ مذاکرہ کے دعوت نامے میں اشارہ دیا گیا ہے یعنی فارسی اور عربی کے رائج الوقت مختلف نصابوں پر نظرثانی اس لیے ضروری ہے تاکہ فارغ شدہ حضرات کو ملک میں مناسب ملازمت مل سکے، یا وہ دوسری غیر دینی درسگاہوں میں بھی تعلیم حاصل کر سکیں۔ نظرثانی کی یہ بنیاد صرف ان اداروں کے نصابوں پر نظرثانی کا جواز فراہم کرتی ہے جن کا بنیادی مقصد طلبہ کی اقتصادیات ہیں، یا جن کے پیشِ نظر کسی درجہ میں اقتصادی پہلو بھی ہے۔
رہے وہ مدارسِ اسلامیہ جن کا بنیادی مقصد ایسے افراد تیار کرنا ہے جو دین کا صحیح فہم رکھتے ہوں، بالفاظ دیگر وہ قرآن و حدیث پر ماہرانہ نظر رکھتے ہوں اور علومِ اسلامیہ کی گہرائی میں پہنچ کر رموز و اسرار نکال سکتے ہوں، وہ حقیقی معنی میں دین کے نبض شناس ہوں اور ان میں دین کو ہر دور کے حالات پر منطبق کرنے کی صلاحیت ہو، یا کم از کم ایسے افراد تیار کرنا مقصد ہے جو مسلمانوں کی دینی قیادت کریں یعنی ان کی روزمرہ کی دینی ضرورت پوری کریں جسے بے باک لوگ ’’ملا گیری‘‘ کہتے ہیں، مگر وہ یہ حقیقت بھول جاتے ہیں کہ مسجد و مکتب کی یہ خدمت موجودہ ہندوستان میں مسلمانوں کی بنیادی ضرورت ہے، اگر یہ خدامِ دین نہ ہوں تو مسلمانوں کی نمازِ جنازہ پڑھانے والا بھی کوئی نہ رہے۔
اور جس طرح یہ مدارسِ اسلامیہ حکومتِ وقت کے تعاون سے بے نیاز ہو کر صرف مسلمانوں کے تعاون سے کام کرتے ہیں، ضروری ہے کہ یہ فضلاء بھی حکومت کی ملازمت سے صرفِ نظر کر کے مسلمانوں کے فراہم کردہ روزگار پر قناعت کریں تاکہ وہ صحیح معنٰی میں دین کی خدمت انجام دے سکیں۔ ورنہ تجربہ شاہد ہے کہ جو فضلاء نیم سرکاری اداروں میں ملازمت کر لیتے ہیں وہ صرف عبد المال ہو کر رہ جاتے ہیں اور ان میں خدمتِ دین کا کوئی جذبہ باقی نہیں رہتا۔
الغرض اس قسم کے مدارسِ اسلامیہ کے نصابِ تعلیم پر نظرثانی کرنے کے لیے بنیاد جواز فراہم نہیں کرتی کیونکہ ان اداروں کا مقصد ملازمت یا دنیا نہیں ہے، نہ دوسرے مدرسوں میں تعلیم حاصل کرنا ہے۔ ہاں مجھے اس سے انکار نہیں ہے کہ ایک دو فیصد فضلاء ایسے ہو سکتے ہیں جو فراغت کے بعد عصری درسگاہوں کا رخ کرتے ہیں جو پوری مدتِ تعلیم میں یا تو اپنا مقصدِ زندگی متعین نہیں کر پاتے یا دنیا ہی کے مقصد سے دینی تعلیم حاصل کرتے ہیں، یا ان کی روشنیٔ طبع ان کے لیے آفت ثابت ہوتی ہے، یا شیطان ان کو راہ سے بھٹکا دیتا ہے۔ ایسے معدودے چند حضرات کی وجہ سے مدارسِ اسلامیہ اپنی غرض و غایت نہیں بدل سکتے۔
البتہ یہ مدارسِ اسلامیہ بھی اپنے مقصد کو پیشِ نظر رکھ کر اپنے نصاب پر نظرثانی کی ضرورت محسوس کرتے ہیں، مستقبل قریب میں دارالعلوم دیوبند ان شاء اللہ اس سلسلہ میں کوئی اجتماع بلائے گا اور اپنے نصاب میں ضروری اصلاح کرے گا۔
(۵) نصاب پر نظرثانی کی ضرورت بعض لوگ اس لیے بھی محسوس کرتے ہیں کہ موجودہ نصاب میں بہت دقیق کتابیں ہیں جو طلبہ کی گرفت میں نہیں آتیں، ایسی کتابیں بدل کر ان کی جگہ آسان کتابیں رکھنی چاہئیں تاکہ طلباء کو نصاب سے خاطرخواہ فائدہ حاصل ہو۔ یہ بات ایک حد تک معقول ہے۔ اگر ان کتابوں کا نعم البدل وجود میں آگیا ہو تو ضرور ان کو اختیار کر لینا چاہیئے۔ لیکن اگر ان کا بدل نہ ہو تو محض دشوار ہونے کی وجہ سے ان کتابوں کو نکال دینا عقل مندی نہیں ہے بلکہ اس بات پر غور کرنا چاہیئے کہ آخر یہ کتابیں اب مشکل کیوں معلوم ہوتی ہیں؟ دشواری کے دو ہی سبب ہو سکتے ہیں۔ یا تو طالبِ علم کی استعداد اس کتاب سے فروتر ہے، یا استاذ تفہیم میں ناکام ہے۔ اور دونوں ہی باتوں کا حل ممکن ہے۔

نصاب پر نظرثانی کیسے کی جائے؟

اس طویل سمع خراشی کا حاصل یہ ہے کہ فارسی اور عربی کا ملک میں کوئی ایک نصاب رائج نہیں ہے بلکہ مختلف النوع نصاب زیر تعلیم ہیں۔ نیز اداروں کے مقاصد میں بھی اشتراک یا اتحاد نہیں ہے اور نہ ممکن ہے۔ اس لیے نصاب پر نظرثانی کرنے کی بہتر صورت یہ ہے کہ ہر نقطۂ نظر کے حاملین الگ الگ سر جوڑ کر بیٹھیں اور سب سے پہلے وہ اسباب متعین کریں جو تبدیلی کا سبب ہیں۔ پھر اس کی روشنی میں نصاب پر نظرثانی کریں۔ اور اگر یہ بات ممکن نہ ہو، اس وجہ سے کہ تمام نقطہائے نظر کی اس مجلس میں بھرپور نمائندگی نہیں ہے، تو پھر اس اجتماع کو سب سے پہلے یہ طے کرنا ہو گا کہ اس کا دائرہ کار کیا ہو؟ اور اسی کی روشنی میں کام آگے بڑھایا جائے۔ اللھم وفقنا لما تحب و ترضٰی۔

استحکامِ پاکستان کی ضمانت

مولانا سعید احمد سیالکوٹی

’’استحکامِ پاکستان‘‘ یہ ایک جاذبِ نظر و فکر ترکیب ہے جس کے وسیع تر مفہوم میں مملکتِ خداداد پاکستان کی داخلی اور خارجی حفاظت و امن کی کفالت ہے۔ اس پُرمغز عبارت کے ناجائز استعمال سے یہ ایک پُرفریب ترکیب بن گئی کیونکہ وطنِ عزیز میں اربابِ حکم کی طرف سے قوتِ اقتدار ہمیشہ پاکستانی عوام کی خدمت و خوشحالی اور وطن کے داخلی اور خارجی استحکام کے بجائے حکمران فرد یا حکمران پارٹی کے طولِ اقتدار اور ذاتی اغراض و مصالح کی تکمیل و حصول کے لیے استعمال ہوتی رہی ہے۔
استحکامِ پاکستان درحقیقت ایک عظیم مقصد ہے جو ہر محبِ وطن پاکستانی کی نہیں بلکہ امتِ اسلامیہ کے ہر فرد کی، پاکستانی ہو یا غیر پاکستانی، تمنا و آرزو ہے۔ استحکامِ پاکستان کی درست تشریح اور اس کے حصول کا ذریعہ کیا ہے؟ استحکام سے مراد تو داخلی امن، اخوت و محبت، وحدتِ قومیت کا ایسا تصور جو علاقائی اور لسانی تعصبات سے پاک ہو اور خارجی طور پر وطن کی سرحدوں کا محفوظ و مامون ہونا ہے۔ اور اس مقصد کے حصول کا راستہ بالکل واضح اور مختصر ہے اور وہ اس نظریہ کا عملی نفاذ ہے جس کے لیے پاکستان معرضِ وجود میں آیا۔
تحریکِ پاکستان کے شریک زعماء کے وردِ زبان یہی کلمہ تھا ’’پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الٰہ الّا اللہ‘‘۔ یہ عظیم کلمہ بندوں اور ان کے رب کے درمیان ایک عہد ہے جس کا تقاضا ہے کہ زندگی کے ہر شعبے میں شریعتِ اسلامیہ کا مکمل نفاذ ہو۔ یہ اہلِ پاکستان کا خدا تعالیٰ کے ساتھ ایسا اقرار ہے اور ان کا قومی فریضہ ہے جس کی رو سے ان کے ملک میں کسی اجنبی نظامِ حیات کی ہرگز ہرگز درآمد کرنے کی اجازت نہیں نہ اس کی گنجائش ہے، کہ ان کے پاس ان کے رب کا بنایا ہوا کامل و مکمل نظامِ حیات، جو بشری نقائص سے پاک و صاف ہے، موجود ہے۔ بلکہ قومی طور پر ان کا فرض ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے نظام کے باغی کو پاکستان کا باغی قرار دیں اور اجنبی نظام کو درآمد کرنے والے کو ملک و قوم کا دشمن قرار دیں جو ان کے ملک کی جڑوں کو کھوکھلا اور بنیادوں کو ہلانا چاہتا ہے، ان کی قومی وحدت کو پارہ پارہ کرنا چاہتا ہے۔ کیونکہ شریعتِ مطہرہ کا مکمل نفاذ ہی بانیانِ پاکستان اور مجاہدینِ آزادی کا اصل ہدف اور ان کے جہاد اور تحریک کی روح تھا۔ اسی اعلیٰ اور متحد مقصد کی خاطر بنگالی، سندھی، بلوچی، سرحدی اور پنجابی یکجان ہوئے اور ہمارے عقیدہ و ایمان کے لاکھوں بھائیوں نے ہجرت کا عظیم عمل سرانجام دیتے ہوئے مال و جان کی قربانی دی۔ سب کے دلوں کی دھڑکن ’’لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ تھی اور یہ مہاجرین و انصار ایک ایسے وطن میں ایک قوم بن کر بس گئے جسے وہ اسلام کا قلعہ اور عالمگیر عدلِ اسلامی کا مظہر دیکھنا چاہتے تھے۔
تقسیم ہندوستان سے کچھ اور پیچھے چل کر دیکھیں تو انگریزی حکومت کے خلاف جہادِ آزادی کرنے والے مسلم مجاہدین کا مقصود بھی اسی برصغیر کے خطہ میں ایک ایسی سرزمین کا حصول تھا جو ہر غیر اسلامی تسلّط سے پاک ہو، اس ارضِ پاک میں خدا رسول کی پاک شریعت کا نفاذ ہو۔ الحمد للہ کہ قیامِ پاکستان کی تحریک اور انگریزی اور ہندو تسلط سے آزادی حاصل کرنے والے مجاہدین کی کوششیں بارآور ہوئیں اور برصغیر میں ارضِ پاک مملکتِ خداداد پاکستان معرضِ وجود میں آگئی۔ خدائے ذوالجلال نے مختلف افراد اور جماعتوں کو اس خطۂ پاک میں زمامِ اقتدار دے کر اس امانت کو ان کے سپرد کیا، اور یہ ان سب کے لیے خدائی آزمائش تھی کہ وہ اس میں کیسے تصرف کرتے ہیں؟
ہر صاحبِ اقتدار خدا کے نام پر حلف اٹھا کر اس ملک کے استحکام کے وعدہ پر قسم اٹھاتا اور اقتدار سنبھالتا رہا۔ ان اربابِ حکم کے ہاتھوں شریعت خداوندی کا نفاذ ہو جاتا تو نہ خدا تعالیٰ کے ساتھ بدعہدی ہوتی، نہ مجاہدینِ آزادی سے بے وفائی، نہ قومی وحدت کو دھچکا لگتا، اور نہ ہی مشرقی پاکستان کے انفصال کا عظیم المیہ پیش آتا، نہ صوبائی تعصبات اور لسانی فسادات جنم لیتے۔ متحدہ ہندوستان کے وقت آخر اسی نظریہ نے ہی سب کو اخوت کے رشتہ میں جوڑا تھا۔ ہماری قومی وحدت اور ہمارے وطن کے استحکام کا ضامن اور عظیم پاکستان کی روح و جاں یہی نظریہ تھا اور ہے۔ اس سے انحراف اور اربابِ حکم کی خدا رسول کے ساتھ عہد شکنی کے نتیجہ میں ہم نہ صرف برکاتِ سماویہ و ارضیہ سے محروم ہوئے بلکہ اپنی قومیت اور شناخت اور خود اپنے آپ کو بھول گئے۔ ارشاد ربانی ہے:
’’تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جو خدا کو فراموش کر بیٹھے اور جس کی سزا ان کو خود فراموشی کی صورت میں ملی۔‘‘
جس کا لازمی نتیجہ داخلی خلفشار اور دیگر وہ حالات ہیں آج جن کا سامنا ہم کر رہے ہیں۔۔۔ ہمارے اربابِ حکم محض اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے ’’استحکامِ پاکستان‘‘ کا لفظ استعمال کرتے ہیں جس سے مراد صرف ان کی ذات یا ان کی حکمران جماعت کو تحفظ ہوتا ہے۔ اس کے لیے مختلف قوانین بھی وضع کرتے ہیں اور ملکی تحفظ کی آڑ میں اپنی کرسی اور مفادات کا تحفظ کرتے رہے ہیں۔ ان کی کوششیں صرف اپنی خدمت اور چند افراد کے ساتھ تعاون تک منحصر ہو جاتی رہی ہیں۔
اربابِ حکم کے سامنے خدا تعالیٰ کی شریعت سے انحراف ہوا، اجنبی نظریات کا پرچار ہوا بلکہ بعض تو خود اس کی دعوت کے علمبردار بن گئے، ملک میں اندرونی خلفشار ہوا، بیرونی طور پر اس کی حدود کو غیر محفوظ و مامون کہہ دیا گیا، اور خود حکمران بھی اس عملِ شر میں شریک پائے گئے۔ اگر شریعت مطہرہ کا نفاذ ہوتا، اسلامی عالمگیر عدالت کے تحت ملک کی سیاست و معاملات کو طے کیا جاتا، اندرون ملک قانونِ خداوندی اور حدود اللہ کی حفاظت کی جاتی، تو پاکستان ایک مثالی رفاہی مملکت بنتا، نہ معاشی پریشانی نہ داخلی خلفشار دیکھا جاتا۔ کیونکہ اسی کلمہ مبارک ’’لا الٰہ الّا اللہ‘‘ نے انہیں متحد کیا تھا اور مشرق و مغرب ایک جھنڈے تلے جمع ہوئے تھے۔ یہی کلمہ ان کے داخلی و خارجی، اقتصادی اور سیاسی تحفظ کا یقیناً‌ ضامن تھا اور آج بھی ہے۔
اہلِ وطن عزیز اور اربابِ حکم آج بھی خدا تعالیٰ سے سابقہ گناہوں پر معافی مانگ کر تجدیدِ عہد کر سکتے ہیں۔ خدا تعالیٰ کے اس خطۂ زمین پر صرف اور صرف اسی کی قائم کردہ شریعت کا مکمل نفاذ اس کو صحیح معنوں میں پاکستان (پاک سرزمین) بنا سکتا ہے۔ ان شاء اللہ اقامتِ شریعت کے سبب ہی ہم آسمانی اور زمینی برکات سے مستفیذ ہو سکتے ہیں۔ ارشاد ربانی ہے:
’’اگر یہ لوگ خدا کی نازل شدہ شریعت کو قائم کرتے تو آسمان و زمین کی نعمتوں سے مالامال ہوتے۔‘‘
اگر کوئی خدائی وعدہ پر یقین نہ کرے تو اس تناظر میں ہم سعودی عرب کو بطور مثال پیش کر سکتے ہیں جہاں کا امن مشرق و مغرب میں مثالی ہے اور جس کی رفاہیت کی نظیر کسی ملک میں نہیں ہے۔ ذرا ماضی کو پلٹ کر دیکھیں تو موجودہ حکومت سے پہلے جزیرہ عرب میں بداَمنی کا دور دورہ تھا، غربت و افلاس کا یہ عالم کہ چند ٹکوں کی خاطر حجاج و زائرین کی جان تک ضائع کر دی جاتی تھی بلکہ بقول شخصے اگر کسی کو گولی کا نشانہ بنانے کے بعد اس سے مال نہ ملتا تو افسوس اس بات پر ہوتا کہ ایک گولی کا خسارہ ہو گیا۔ مگر اللہ کی حدود کے قیام اور شریعتِ مطہرہ کے نفاذ کے بعد خدا تعالیٰ نے اپنی رحمتوں کے دروازے کھول دیے اور اقتصادی خوشحالی اور داخلی امن و امان کا یہ عالم کہ دنیا کی تمام متمدن اور ترقی یافتہ قومیں یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہیں کہ قانونِ خداوندی ہی اللہ کی سرزمین میں امن و امان کا واحد ضامن ہے۔ کیونکہ سعودی عرب میں مغرب و مشرق کی دیگر قوموں کے مقابلہ میں جرائم کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے جس کا مشاہدہ ہر حاجی، زائر اور یہاں پر مقیم ہر شخص کرتا ہے اور تمنا کرتا ہے اور اپنے اربابِ حکم سے یہ پوچھتا ہے کہ کیوں ہمارے پاک وطن کو استعماری نظامِ حیات کی نحوستوں سے نجات نہیں دی جاتی؟ کیوں اسلام کے عادلانہ نظام کو اپنا کر ہمیں برکاتِ ارض و سماء سے مستفیض نہیں ہونے دیا جا رہا؟
پاکستان کے محبِ اسلام عوام اور ان کے پیارے دین کے نفاذ کے درمیان جو لوگ آڑ ہیں وہ صرف خدا رسول کے ہی نہیں بلکہ پاک سرزمین اور اس کے مخلص عوام کے بھی دشمن ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ یہ قوم ایک بنے، یہ قوم خوشحال ہو، یہ قوم خدا رسول کی محبوب بن کر اس کے خزانوں کی وارث بنے، اور ان کے ملک میں داخلی استحکام ہو اور اقتصادی رفاہیت ان کو میسر آئے۔
استحکامِ پاکستان کا ایک پہلو تو یہ تھا کہ داخلی امن اور اقتصادی خوشحالی کی ضمانت اور کفالت صرف اور صرف نظریۂ پاکستان کے عملی نفاذ میں پنہاں ہے۔ اب خارجی طور پر ملک کے سرحدوں کی حفاظت اور اطراف کے اعداء سے ملک کو مامون و محفوظ کرنے کا مسئلہ ہے جو استحکامِ وطن کا لازمی جزء ہے۔ اس سلسلہ میں یہ بات ہمارے ایمان کا حصہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے امتِ مسلمہ کی عظمت جہاد کو قرار دیا۔ اس جذبہ کو مسلمانوں کے دلوں سے نکالنے کے لیے اعداءِ اسلام نے بہت کوششیں کیں، جھوٹے نبی تک کو جنم دیا کہ امت کو شیطانی وحی کے ذریعے یہ درس دیا کہ جہاد کو بھلا دیں۔ اس دجل کا توڑ الحمدللہ اہلِ اسلام نے پورے طور پر کیا اور ادھر حق تعالیٰ شانہٗ نے اس دور میں جہادِ افغانستان کی شکل میں امتِ اسلامیہ کو عموماً‌ اور پاکستانی قوم کو خصوصاً‌ اس درس کی علمی مشق کا موقع فراہم کیا تاکہ اعداءِ اسلام پر اپنی عظمت کی دھاک بٹھانے کے ساتھ ساتھ پاک سرزمین کے استحکامِ خارجی کا عمل بھی مکمل کیا جا سکے۔ لہٰذا ایک سرحد پر اپنے افغان بھائیوں کے جہاد میں اشتراک اور ان کی مکمل کامیابی تک ہمارا تعاون اس جہت سے وطنِ عزیز کے خارجی استحکام کے مترادف ہے۔ جو فرد یا جماعت اس فریضہ میں کوتاہی کرتا ہے وہ اگر ایک طرف ایک اہم دینی فریضہ کی ادائیگی میں کوتاہی کرتا ہے ایک اہم دینی فریضہ کا تارک یا منکر ہے تو دوسری طرف پاکستان کے استحکام کا بہی خواہ نہیں۔
ملک کے خارجی استحکام کا تعلق ایک سمت سے جہادِ افغانستان ہے تو دوسری طرف مسئلہ کشمیر ہے۔ ہمارے عقیدہ و ایمان کے کشمیری بھائی جو عرصۂ دراز سے ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں جنہوں نے اپنی حریت کی تحریک کا آغاز اس جذبہ کے تحت کیا ہے کہ بقائے زندگی قربانی کا دوسرا نام ہے۔ اپنے ان بھائیوں کے ساتھ عملی تعاون حتٰی کہ وہ اپنے فطری انسانی حقِ حریت کو پا لیں، اہلِ پاکستان کا ان حریت پسندوں سے تعاون اور ان کے جہاد میں اشتراک استحکامِ پاکستان کی ہی ایک کڑی ثابت ہو گا، ان شاء اللہ العزیز۔
الغرض اندرون ملک شریعتِ مطہرہ کا نفاذ اور بیرون ملک اپنے مظلوم اور مجاہد بھائیوں سے تعاون امتِ اسلامیہ کی وہ خدمت ہے جس کے ثمرات سے پوری امتِ اسلامیہ کا سر اگر فخر سے بلند ہو گا تو سب سے پہلے ’’استحکامِ پاکستان‘‘ جیسے مقدس الفاظ، پُرمغز عبارت، اور وسیع تر مفہوم کی حامل ترکیب کی درست شرح کی تکمیل بھی ہو گی۔ خوش قسمت ہے وہ حکمران شخصیت، یا حکمران جماعت، یا اربابِ سیاست جن کے ذریعے نظریۂ پاکستان کی حفاظتِ عملی ہو۔ اور بہت ہی مبارک ہاتھ ہیں وہ ہاتھ جن کے ذریعے شریعتِ مطہرہ کا مکمل نفاذ ہو۔ تاکہ خدائے ذوالجلال سے کیا ہوا عہد پورا ہو اور وہ ذاتِ عالی اس کے بدلہ میں اپنے وعدہ کو پورا فرماتے ہوئے ہمارے لیے رحمتوں کے دروازے کھول دیں، اور ہمارے مجاہدینِ آزادی اور تحریکِ پاکستان میں شریک زعماء کی ارواح مطمئن ہوں، اور قربانی دینے والوں اور وطن کے بہی خواہوں کی آنکھوں میں ٹھنڈک پیدا ہو اور وہ امن و امان، رفاہیت اور وحدتِ ملّی کا مشاہدہ کر لیں۔
’’ان تنصر اللہ ینصرکم ویثبت اقدامکم‘‘ اگر تم اللہ کے دین کا ساتھ دو گے تو وہ ذاتِ عالی تمہاری نصرت کرے گی اور تمہارے قدم جما دے گی۔ اور اگر تم انحراف کرو گے تو تمہارے عوض ایسی قوم لے آئے گی جو تمہاری طرح نہ ہو گی۔

کیا حضرت عیسٰیؑ کی وفات قرآن سے ثابت ہے؟

حافظ محمد عمار خان ناصر

جب روح اللہ، کلمۃ اللہ حضرت عیسٰی المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ذکر کسی جماعت، حلقے یا مجلس میں ہوتا ہے تو ان کی حیات و وفات کی متنازعہ حیثیت اور اس سے متعلقہ بحث طلب امور کا زیربحث آجانا ایک لازمی امر ہے خصوصًا یہ کہ کیا حضرت مسیحؑ نے رفع الی السماء سے قبل وفات پائی یا کہ نہیں۔ چنانچہ یہ مسئلہ عیسائی اور مسلم حضرات کے درمیان ہمیشہ سے متنازعہ ہے اور تب تک رہے گا جب تک کہ (اہلِ اسلام کے عقیدہ کے مطابق) حضرت عیسٰیؑ نزول کے بعد صلیب کو نہیں توڑ دیتے (بخاری جلد اول ص ۴۹۰ باب نزول عیسٰی ابن مریمؑ)۔
ازروئے قرآن حضرت عیسٰیؑ کی وفات قبل از رفع ثابت نہیں ہو سکتی بلکہ قرآن پاک نے اس کی شدت سے نفی کی ہے۔ چنانچہ سورہ المائدہ میں ہے
وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَاصَلَبُوْہُ
یعنی انہوں نے نہ تو ان کو قتل کیا اور نہ سولی دی۔
جبکہ عیسائی پادری صاحبان کہتے ہیں کہ سورہ آل عمران کی مندرجہ ذیل آیت سے عیسٰیؑ کی وفات قبل از رفع ثابت و متحقق ہے
اِذْ قَالَ اللہُ یَا عِیسٰی اِنّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَ رَافِعُکَ
جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے عیسٰیؑ میں تجھے پورا (یعنی روح و بدن سمیت) لینے والا ہوں یعنی تجھے اپنے آسمان کی جانب اٹھانے والا ہوں۔
عیسائی پادری ’’متوفی‘‘ سے حضرت عیسٰی علیہ السلام کی وفات ثابت کرتے ہیں لیکن ان کا یہ دعوٰی درست نہیں ہے کیونکہ اس آیت سے قطعًا یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حضرت عیسٰیؑ نے آسمان پر جانے سے قبل موت کا مزہ چکھا بلکہ علامہ آلوسیؒ (المتوفی ۱۲۷۰ھ) کی تصریح ہے کہ
فالکلام کنایۃ عن عصمتہ من الاعداء۔ (روح المعانی ج ۱ ص ۱۵۸)
’’پس کلام کنایہ ہے اس سے کہ وہ دشمنوں (کی سازش) سے بچ گئے۔‘‘
اور علامہ نیشاپوریؒ ’’غرائب القرآن‘‘ میں آیت توفی کے تحت فرماتے ہیں:
یا عیسٰی انی متوفیک الی متمم عمرک و عاصمک من ان یقتلک الکفار الآن بل ارفعک الی سمائی واصونک من ان یتمکنوا من قتلک۔ (ج ۳ ص ۲۰۶)
’’اے عیسٰی! بے شک میں تجھے پورا لینے والا ہوں یعنی تیری عمر کو پورا کرنے والا ہوں اور تجھے اس سے بچانے والا ہوں کہ کفار اب تجھے قتل کر دیں بلکہ میں تجھے اپنے آسمان کی طرف اٹھاؤں گا اور تجھے بچاؤں گا اس سے کہ یہ (یہودی) تجھے قتل کر سکیں۔‘‘
صاحبِ کشاف (زمحشریؒ) اور صاحبِ مدارک کی رائے میں متوفی بمعنی مستوفی اجلک کے ہے۔ چنانچہ ان دونوں تفسیروں میں صراحت ہے کہ:
’’ممیتک حتف انفک لا قتیلا بایدیہم۔ (کشاف ج ۱ ص ۳۶۶ و مدارک ج ۱ ص ۲۵۵)
’’میں تجھے تیری طبعی موت ماروں گا، ان کے ہاتھوں تو قتل نہ ہو گا۔‘‘
قاضی ثناء اللہ پانی پتیؒ اس مسئلہ پر بحث کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ
والظاھر عندی ان المراد بالتوفی ’’ھو الرفع الی السماء بلا موت‘‘۔ (مظہری ج ۲ ص ۵۶)
’’میرے نزدیک یہی ظاہر ہے کہ توفی سے مراد آسمان کی طرف بغیر موت کے چڑھ جانا ہے۔‘‘

امام قرطبیؒ کی رائے بھی یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عیسٰیؑ کو بغیر وفات اور نیند کے اٹھا لیا (قرطبی بحوالہ روح المعانی)۔

قدماء مفسرینؒ میں سے امام ابن جریر طبریؒ اس آیت کے تحت متعدد اقوال نقل کر کے فرماتے ہیں:

واولی ھذہ الاقوال بالصحۃ عندنا قول من قال معنی ذلک انی قابضک من الارض ورافعک الی۔ (طبری ج ۳ ص ۲۰۴)

قرآن کریم کے علاوہ احادیث و روایات سے بھی حضرت عیسٰیؑ کا بغیر موت کے عروج ثابت ہے۔ چنانچہ صاحب روح المعانی روایت نقل کرتے ہیں کہ

قال رسول اللہ للیھود ان عیسٰی لم یمت وانہ راجع الیکم قبل یوم القیامۃ۔ (روح المعانی ج ۱ ص ۱۵۸)

’’رسول اللہؐ نے یہود سے فرمایا کہ بے شک عیسٰیؑ نہیں مرے اور بے شک وہ تمہاری طرف قیامت کے دن سے پہلے لوٹنے والے ہیں۔‘‘

الغرض علماء نے توفی کے مختلف معانی بیان کیے ہیں لیکن کسی کے قول سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حضرت عیسٰیؑ نے قبل از رفع وفات پائی۔ ہاں عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک روایت تفاسیر میں ملتی ہے جس میں متوفیک کا معنی ممیتک کیا گیا ہے لیکن علامہ آلوسیؒ اور علامہ نیشاپوریؒ نے اس کو ’’قیل‘‘ کے ساتھ نقل کیا ہے جس سے اس کا ضعف معلوم ہوتا ہے۔ لیکن ہمارے خیال میں اس صورت میں بھی کوئی قباحت لازم نہیں آتی کیونکہ ضروری نہیں کہ موت رفع سے پہلے متحقق ہو حتٰی کہ حضرت قتادہؒ کی رائے یہ ہے کہ آیت میں تقدیم و تاخیر ہے اور تقدیر یوں ہے:

انی رافعک الی و متوفیک یعنی بعد ذلک۔

یہ قول تفاسیر میں منقول ہے (دیکھئے روح المعانی ج ۱ ص ۱۵۸ و درمنشور ج ۲ ص ۳۶ و ابن کثیر ج ۱ ص ۳۶۶)۔ اور یہ قول عین عرب کے محاورے اور لغت کے مطابق ہے جیسا کہ نحو اور اصول فقہ کی معتبر کتابوں میں تصریح ہے کہ ’’واو‘‘ ترتیب کے لیے نہیں ہے۔ چنانچہ اس جگہ کافیہ کی عبارت مع شرح ملّا جامی کے مرقوم ہوتی ہے:

فالواو للجمع مطلقا لا ترتیب فیھا فقولہ لا ترتیب فیھا بین المطعوف والمطعوف علیہ بمعنی انہ لا یتمم ھذا الترتیب منھا وجودً‌ا او عمدً‌ا۔

اور اصولِ فقہ کی مشہور کتاب نورالانوار میں ہے:

فالواو لمطلق العطف من غیر تعرض لمقازتہ ولا ترتیب یعنی ان الواو لمطلق الشرکۃ۔

اسی طرح ’’المنجد‘‘ میں جو کہ ایک کیتھولک عیسائی کی تصنیف ہے لکھا ہے ’’معناھا مطلق الجمع‘‘۔

اس کے علاوہ متن متین اور حسامی کے علاوہ متعدد تفاسیر میں بھی یہ قاعدہ قرآنی بیان کیا گیا ہے اور رضی میں بادلائل بحث کے ساتھ ثابت کیا گیا ہے کہ واو ترتیب کے لیے نہیں ہے۔ اس لیے ’’متوفیک و رافعک‘‘ میں اگر توفی معنی موت لیا جائے تو بھی اس کا رفع سے پہلے ہونا ضروری نہیں ہے اور اس سے رفع الی السماء سے پہلے حضرت عیسٰیؑ کی وفات پر استدلال درست نہیں ہے۔ لیکن اس معقول تاویل کے باوجود مفسرینؒ نے اس کو پسند نہیں فرمایا جیسا کہ اوپر گزر چکا کہ آلوسیؒ اور نیشاپوریؒ نے اس کو ’’قیل‘‘ کے لفظ کے ساتھ نقل کیا ہے۔ تو اس طرح یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ قرآن پاک سے حضرت عیسٰی علیہ السلام کی وفات ثابت نہیں ہے اور جو لوگ مذکورہ عقیدہ رکھتے ہیں قرآن پاک نے ان کے بارے میں فیصلہ سنا دیا ہے:

مَا لَھُمْ بِہٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ۔

اقبالؒ — تہذیبِ مغرب کا بے باک نقاد

پروفیسر غلام رسول عدیم

مہینوں اور سالوں میں نہیں صدیوں اور قرنوں میں کسی قوم میں کوئی ایسی شخصیت جنم لیتی ہے جس کے لیے نسلِ انسانی عمروں منتظر رہتی ہے اور جب وہ شخصیت منقہ شہود پر جلوہ گر ہوتی ہے تو صدیوں اس کی یاد ذہنوں کو معنبر رکھتی، سوچوں کو اجالتی، فکر کی آبیاری کرتی اور دلوں کو گرماتی اور برماتی رہتی ہے ؎
عمر ہا در کعبہ و بت خانہ می نالد حیات
تاز بزمِ عشق یک دانائے راز آید بروں

یہاں پیغمبرانِ الٰہی خارج از بحث ہیں کہ وہ چیدہ اور برگزیدہ ہوتے اور منصبِ اصطفاء و اجتباء پر فائز ہوتے ہیں، وہ از خود دعوتِ فکر و عمل لے کر نہیں اٹھتے مگر ان کے پاس اپنے بھیجنے والے کی طرف سے ایک بنا بنایا پروگرام ہوتا ہے اور وہ خود بھی بنے بنائے آتے ہیں، اپنی ریاضت و اکتساب سے نہیں بنتے، بھیجنے والے کی مرضی ہے کہ وہ کس کو کس خطہ میں کن لوگوں کی طرف اور کس زمانے میں بھیجے، وہ ایک طرف مامور من اللہ ہوتے ہیں تو دوسری طرف آمر بامر اللہ، خالق کے مطیع، مخلوق کے مطاع، خلیق کے قائد، خالقِ کائنات کے منقاد۔ بات ان شخصیات کی ہو رہی ہے جو الٰہی پروگرام ان معنوں میں رکھتے جن معنوں میں فرستادگانِ الٰہی رکھتے ہیں بلکہ وہ جنہیں خالقِ کائنات دل و دماغ کی بہترین صلاحیتوں سے نوازتا ہے اور پھر ان سے خلق کی اصلاح و فلاح کا کام لیتا ہے۔ ان کا علمی بلوغ، ان کی فکری جولانیاں، ان کی مثبت اور توانا سوچ ایک عالم کو گمراہی اور عملی بے راہروی سے نکال کر جادۂ مستقیم پر لگا دیتی ہے۔

علامہ اقبالؒ کی عظیم شخصیت ایسے ہی اساطینِ عالم میں سے ایک ہے جو درماندہ پا بہ گل ہجوموں کو منظم گروہوں کی شکل دے کر جادہ پیمائی کا شعور بخشتے ہیں۔ اقبال نے بھی اس بلند آہنگی سے اور سوزِ دروں سے حدی خوانی کی۔ صدیوں کے مسافر لمحوں میں منزل شناس ہوتے نظر آئے۔ یہ وہ کارواں تھا جو بطحا کی وادی سے نکلا اور اطرافِ عالم میں ہر چہار جانب پھیل گیا۔ حدودِ برصغیر میں پہنچا تو آٹھویں صدی عیسوی کا آغاز ہو چکا تھا۔ آٹھویں صدی عیسوی سے لے کر انیسویں صدی عیسوی تک برصغیر کی سیادت و قیادت اس جاں سپارگروہ کے ہاتھ میں رہی۔ گردش ایام اور زندگی کے نشیب و فراز نے اسے کبھی فرمانروائی کی مسندِ بالا پر بٹھایا تو کبھی پستی و زوال کے عمیق غاروں میں دھکیل دیا۔

۷۱۳ء میں محمد بن قاسمؒ نے سندھ و ہند میں اسلام کا پھریرا لہرا کر عقائد باطلہ اور توہمات میں جکڑے ہوئے سماج کو فکر و نظر کی آزادی بخشی۔ بعد ازاں منصورہ اور ملتان میں اسلامی حکومت قائم ہوئی۔ اگرچہ اس کا اثر و نفوذ زیادہ دور تک نہ پھیل سکا اور وہ برصغیر کے شمال مغربی حدود و ثغور سے آگے نہ بڑھ سکی تاہم تین سو سال بعد روشنی کا ایسا سیلاب امڈا کہ شمالی دروں کی راہ آنے والے غزنیوں اور غوریوں نے اس کفرستانِ ہند میں غلغلۂ توحید سے دیومالائی اور اساطیری ضعیف الاعتقادی کا تاروپود بکھیر کر رکھ دیا۔

جب ۱۲۰۶ء میں برصغیر میں حکومتِ اسلامیہ کے اصل بانی سلطان قطب الدین ایبک نے دہلی کو مستقل مستقر بنا کر گجرات، کاٹھیاوار، کالنجر اور بنگال تک یلغار کی تو اس امر کا یقین ہو گیا کہ اب صدیوں تک برصغیر میں اسلام کا پرچم لہراتا رہے گا۔

۱۷۰۷ء میں اورنگزیب عالمگیر کی وفات کے بعد اگرچہ ۱۸۵۷ء تک کوئی ڈیڑھ سو برس تک اسلامی حکومت قائم رہی مگر فی الجملہ یہ دور برصغیر کے مسلمانوں کے لیے انحطاط اور تنزل کا دورِ نافرجام تھا۔ سیاسی افراتفری، معاشرتی ناہمواری اور اقتصادی بدحالی نے مسلمانوں کی عظمت کو گئے دن کا قصہ بنا کر رکھ دیا۔ سات سمندر پار سے آنے والے سفید فام مگر سیاہ دل فرنگی کی دسیسہ کاریوں نے مسلمان سے حمیت و غیرت چھین کر اسے تملق و مداہنت کا خوگر بنا دیا۔ اس دور میں بعض دھڑکتے دل والے مصلحین نے وقت کی نبض پر ہاتھ رکھا، مسلمانوں کو ان کی اسلامی عصبیت سے آگاہ کیا، ان میں حضرت شاہ ولی اللہؒ، سید احمد بریلویؒ، شاہ اسماعیل شہیدؒ، سر سید احمد خانؒ، حاجی شریعت اللہؒ، اور تیتومیرؒ جیسے جہد آمادہ پیکرانِ حریت نے فضا میں ایمان و ایقان کی سرمستیاں بکھیر دیں اور مسلمانانِ برصغیر کو خودشناسی کا درس دیا۔

لیکن سچی بات تو یہ ہے کہ مسلمان اس حد تک پستیوں میں اتر چکے تھے کہ اب ان کا تنزل کی اتھاہ گہرائیوں سے ابھرنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور نظر آتا تھا۔ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی نے مسلمانوں کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ یوں بیسویں صدی کے آتے آتے مسلمان اس درکِ اسفل تک پہنچ چکے تھے کہ انہیں انگریزی استیلاء سے نجات دلانے کے لیے اعجازِ مسیحائی رکھنے والی ایسی سحر اثر شخصیت کی ضرورت تھی جو اسے اپنی شناخت کرا سکے۔ نہ صرف عرفانِ ذات بخشے بلکہ یہ باور کرائے کہ تم انہیں اسلاف کے وارث ہو جنہوں نے قیصر و کسرٰی کی عظیم سلطنتوں کو پامال کر کے رکھ دیا تھا۔ جن کے گھوڑوں کی ٹاپوں سے کوہ و صحرا لرزتے تھے، جو ان بلاخیر طوفانوں سے بڑھ کر تھے جن سے دریاؤں کے دل ہل جاتے تھے، اور جن کی یلغاروں سے کوہ پائرنیز کے اس پار ایسا ارتعاش پیدا ہوا کہ مدتوں یورپی اقوام اس کے اثرات محسوس کرتی رہیں۔

اب وقت آن پہنچا تھا کہ وہ عیسٰی نفس غلاموں کے لہو کو گرمائے اور کبوتر کے تن نازک میں شاہیں کا جگر پیدا کر دے۔ چنانچہ بیسیوں صدی نے بڑھ کر اس مسیحا نفس کا استقبال کیا۔ سچ ہے کہ جب تاریکیاں گہری ہو جائیں تو ٹمٹماتا ہوا دیا بھی قندیل بن کر جگمگاتا ہے لیکن اگر واقعی فانوس روشن کر دیا جائے تو اس کی امواجِ نور سے یقینًا تاریکیاں کافور ہو جائیں گی اور پورا ماحول نور میں نہا جائے گا۔ وہ فانوس فروزاں ہوا، تیرگی چھٹی، وہ رجلِ عظیم آیا، اس نے ناقۂ بے زمام کو سوئے قطار کھینچا۔ انبوہ خفتہ کو اپنی بانگِ درا سے جگایا، عروق مروۂ مشرق میں زندگی کا خون دوڑا دیا۔ اس شان سے صورِ اسرافیل پھونکا کہ صدیوں کی مردہ روحیں زندگی کی توانائیوں سے سرشار ہو کر انگڑائیاں لینے لگیں، کارواں کو پھر سے منزل کی طرف گامزن ہونے کا حوصلہ ملا۔

اس رجل رشید کی بوقلموں شخصیت میں یوں تو ایک بیدار مغز سیاستدان کا تدبر، ایک حلیم و بردبار انسان کا جگر، ایک عظیم و جلیل شاعر کا تنوع، اور ایک عظیم تر فلسفی کا ماورائی ادراک تھا مگر حقیقت یہ ہے کہ اقبال کی حقیقی وجہ مجدد شرف اور اصلی اثاثہ وہ اندازِ نظر ہے جس نے اسے ذاتی حیثیت سے اٹھا کر کائناتی فکر کا مالک بنا دیا۔ اس نے ایک خوابِ غفلت میں سوئے ہوئے ہجوم کو جگایا اور منظم جماعت کی صورت دے دی۔ قوم کا وہ تصور دیا جس سے مغرب نابلد تھا ؏

خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمیؐ

اقبال سے پہلے سرسید احمد خان کے عظیم رفقاء میں حالی نے قومی سوچ کی نیو اٹھائی مگر حالی کی آواز میں اس قدر دھیماپن تھا کہ اکثر لوگوں نے سنی اَن سنی کر دی۔ بلاشبہ اس آواز میں سوز تھا مگر گھن گرج نہ تھی، خلوص تھا مگر محدودیت کے ساتھ دردمندی تھی۔ مگر نوحہ و بکا کی لے میں یوں حالی کی قومی فکر مایوسیوں کی نذر ہو گئی۔ وہ ایک گہرے کنویں کی طرح تھی جو کبھی تہہ کے چشموں کے ابلنے سے جوش تو مارتا ہے مگر اس میں سمندر کی طغیانی اور تلاطم انگیز موجوں کی روانی نہیں آسکتی۔ نتیجہ یہ نکلا حالی کی گریہ و زاری یاس خیزیوں تک آ کر رہ گئی۔ تاہم یہ شیونِ قومی اکارت نہیں گیا۔ اقبال نے حالی کی رکھی ہوئی نیو پر ایک فلک بوس ایوان کھڑا کر دیا۔ حالی علومِ جدیدہ سے ناواقفیت کی بنا پر گہرائی کے باوجود گیرائی سے محروم رہے۔ آفاقی وسعت کے فقدان کے باوجود اقبال نے حالی کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا ؎

طوافِ مرقد حالی سزد ارباب معنی را
نوائے او بجانہا افگند شورے کہ من دانم

حالی کے زمانے میں اس شور کو زیادہ نہیں سنا گیا مگر اقبال نے نوائے حالی سے تحریک پا کر فضا میں غلغلہ اندازی کا سامان پیدا کر دیا۔

اقبال کے مجدد شرف کا سب سے بڑا سبب یہی ہے کہ اس نے مشرق و مغرب کو پڑھا، پڑھا ہی نہیں خوب کھنگالا، اس قدر جانچا اور آنکا کہ اپنی مشرقیت کو مغربیت کی زد میں نہ آنے دیا۔ پچھلی دو صدیوں سے عمومًا اور عصرِ حاضر میں خصوصًا مغرب نے اپنے مادی استیلاء اور ظاہری وسائلِ حیات سے پوری دنیا کو خیرہ کر دیا ہے۔ جدید سائنسی پیشرفت اور ٹیکنالوجی نے ہر سطح بیں کے دل میں مغربیت کے علمی بلوغ و نبوع کا نقش جما دیا۔ جو شخص ایک بار لندن کی ہوا کھا آیا فرنگی فکر کا پرستار پایا گیا۔ جس نے پیرس کی ہموار اور گداز سڑکوں پر گھوم پھر لیا اسے دلّی کے وہ کوچے اجنبی سے لگنے لگے جن کے بارے میں شاعر نے کہا ؎

دِلّی کے نہ تھے کوچے اوراقِ مصوّر تھے
جو شکل نظر آئی تصویر نظر آئی

جس شخص نے نیویارک کی ایوے نیوز میں مٹر گشت کر لیا اس نے جانا گویا وہ فردوسِ بریں کی سیر کر آیا۔ اب لاہور کی ٹھنڈی سڑک پر چلتے ہوئے اسے الجھن محسوس ہونے لگی۔ زبانِ حال ہی سے نہیں زبانِ قال سے پکار اٹھا  ؏

افرنگ کا ہر قریہ ہے فردوس کی مانند

مگر زمانہ معترف ہے کہ اقبال ۱۹۰۵ء میں انگلستان گیا، کیمبرج کے محققینِ عصر اور نامورانِ دہر سے خوشہ چینی کی، ان عمائد علم و فضل سے استفادہ کیا جو علوم و فنون میں ماہرانہ دستگاہ ہی نہیں سند کا درجہ رکھتے تھے۔ جرمنی پہنچا، تحقیق و تدقیق اور علم و حکمت کی پرخار وادیوں میں آبلہ پا دیوانوں کی طرح قدم فرسائی کی۔ بلادِ فرنگ میں سہ سالہ قیام کے دوران میں بلا کی سردی میں بھی سحرخیزی کا التزام رکھا ؎

زمستانی ہوا میں گرچہ تھی شمشیر کی تیزی
نہ چھوٹے مجھ سے لندن میں بھی آدابِ سحر خیزی

ایک طرف علم و آگاہی کے جواہر ریزے سمیٹے تو دوسری طرف مغرب کے تمدن کو محققانہ و ناقدانہ نگاہ سے دیکھا۔ سطح بینوں کی طرح نہیں، اندر جھانک کر ان کے آدابِ زیست کا بغور جائزہ لیا۔ ان کے آدابِ معاشرت کے محاسن و معائب پر نگاہ ڈالی، ان کی سیاسی فکر پر پہروں غور کیا، فرنگی اقوام کی مذہبی سطحیت اور دین بیزاری کو آنکا اور پرکھا۔ ان کے اقتصادی نظام کا بغور مطالعہ کیا، غرض ان کے تمدنی نظام کے ایک ایک جزئیے کا استیعابًا مطالعہ کیا۔

اب وہ موقع پرست اور بیرونِ در تک رہنے والا نہ تھا، درونِ در کے ہنگاموں سے بھی باخبر تھا۔ لہٰذا اس کے سینے میں اس تمدن کے خسارت اندوز پہلوؤں کے خلاف لاوا پکتا رہا۔ فرنگی حضارت اور مغربی تہذیب جس پر  مغرب کو خود بہت ناز تھا اور اوپری نظروں سے دیکھنے والے اہلِ مشرق بھی اس پر تحسین کے ڈونگرے برساتے تھے، اقبال کی نظر میں یہ ملمع کاری تھی۔ اس نے کئی موقعوں پر اس تہذیب کے خلاف گہرے معاندانہ جذبات کا اظہار بھی کیا۔

سیاسی فکر میں اقبال نے یورپی تصورِ قومیت کو نہایت ناپسندیدہ اور مکروہ پایا، اس نے اس تصور کو بنی آدم کے حق میں زہرناک خیال کیا۔ چنانچہ پانچ چھ سال بعد دنیا نے کھلی آنکھوں اس نظریے کی تباہ کاریاں بھی دیکھ لیں جبکہ ۱۹۱۴ء میں جنگِ عظیم اول چھڑ گئی اور وہ ۱۹۱۸ء تک جاری رہی جس میں نسلِ انسانی کا اس بڑے پیمانے پر وحشیانہ قتل ہوا کہ دنیا کی تاریخ میں کبھی پہلے اتنی خوں ریزی نہ ہوئی تھی جس کے نتیجے میں آئندہ جنگ کو روکنے کے لیے ’’لیگ آف نیشنز‘‘ کا بے سود قیام عمل میں لایا گیا۔ اقبال نے My Country Right Or Wrong کے انسانیت انسانیت کش نظریے کا سختی سے نوٹس لیا۔ اس نے یورپ کے رنگ، نسل، وطن اور زبان کے عناصر چہارگانہ پر مبنی معیارِ قومیت کو ٹھکرا دیا۔

اقبال نے تہذیب مغرب کی قباحتوں کو بروقت محسوس کر کے ان کے خلاف اس وقت اظہارِ خیال کر دیا تھا جب سلطنتِ انگلشیہ کے حدود وثغور اس قدر پھیلے ہوئے تھے کہ آسٹریلیا، ایشیا، افریقہ اور امریکہ کے وسیع علاقے ان کے زیرفرمان تھے اور کہنے والے سچ کہتے تھے کہ حکومتِ برطانیہ کی قلمرو میں سورج غروب نہیں ہوتا۔ اقبال نے ۱۹۰۷ء میں بڑی حوصلہ مندی سے سچی بات کر دی، فرمایا:

دیارِ مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زرِ کم عیار ہو گا
تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گی
جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہو گا

ملاحظہ کیجیئے کہ کس حزم و تیقن سے اقبال سطوتِ رفتار دریا کے انجامِ نافرجام کی خبر دے رہے ہیں؎

دیکھ لو گے سطوتِ رفتارِ دریا کا مآل
موجِ مضطر ہی اسے زنجیر پا ہو جائے گی

یوں بلا خوفِ تردید کہا جا سکتا ہے کہ اقبال کے مجدد شرف کا راز اس کے اس عظیم کارنامے میں پوشیدہ ہے کہ اس نے مسلم قوم کی کو ملّی تعرف و توسم دیا، قومی شناخت دی، اسے وہ درد عطا کیا جس میں ان کی دو صدیوں کے مرضِ غلامی سے شفایاب ہونے اور پریشاں نظری سے نجات پانے کا مداوا تھا۔

دل توڑ گئی ان کا دو صدیوں کی غلامی
دارو کوئی سوچ ان کی پریشاں نظری کا

ایک طرف اس قوم کو اس کا تابناک و شاندار ماضی یاد دلایا تو دوسری طرف مغرب کی چکاچوند کو جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری  کہہ کر تہذیبِ نو کے منہ پر پورے زور سے تھپڑ رسید کیا۔

نظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیبِ حاضر کی
یہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے

علمی اور فکری سطح پر مغرب کے ڈھول کا پول کھولا، شخصی زندگی میں مغرب زدہ طبقے اور لندن پلٹ لوگوں کے برعکس درویشانہ انداز رکھا۔ تہذیبِ مغرب کا ذرا برابر اثر قبول نہیں کیا بلکہ ’’بانگِ درا‘‘ سے لے کر ’’ارمغانِ حجاز‘‘ تک ان کا سارا اردو اور فارسی کلام پڑھ جائیے، آپ کو معلوم ہو گا کہ ان کا دل دھڑکتا تھا تو اسلامی غیرت سے، ان کی آنکھ دیکھتی تھی تو دیارِ حجاز کا فردوس نظر نظارہ، اور ذہن سوچتا تھا تو قرآنی نقطۂ نگاہ سے۔ بلاشبہ علومِ شرق و غرب پڑھ لیے مگر بایں ہمہ اسے روح میں درد و کرب اترتا دکھائی دیتا ہے ؎

پڑھ لیے میں نے علومِ شرق و غرب
روح میں باقی ہے اب تک درد و کرب

آخر اس کا علاج وہ رومی کے جامِ آتشیں اور قرآن کے پیامِ انقلابِ آفریں کے سوا کہیں نہیں پاتا۔ یورپ سے واپسی پر بجائے مغرب زدگی کے اس نے اپنے افکار کے قرآنی ہونے کا دعوٰی کر دیا اور یہ دعوٰی اس بلند آہنگی سے کیا کہ معلوم ہونے لگا کہ عمر بھر اس نے قرآنی فکر کے پرچار کی ٹھان لی ہے۔ وقت نے ثابت کر دیا کہ ۱۹۱۴ء میں اس کا یہ دعوٰی ۱۹۳۷ء تک اس طرح سوزِ دروں میں ڈھل گیا کہ اس کے کلام کا حرف حرف سرزمین طیبہ کے لیے مچلتے ہوئے جذبات اور گداز عطوفتوں کی آماجگاہ بن گیا۔ آخری مجموعۂ کلام کا نام بھی اسی مناسبت سے ’’ارمغانِ حجاز‘‘ رکھا۔ اسرارِ خودی میں اس دعوٰی کا رنگ، ڈھنگ اور آہنگ ملاحظہ فرمائیے اور پھر سوچیئے کہ سوچ کا یہ دھارا آئندہ سالوں میں کن تلاطم خیزیوں اور گرداب انگریزیوں کا مظہر ہے۔

گر دلم آئنۂ بے جوہر است
گر بحرفم غیر قرآں مضمر است
پردۂ ناموس فکرم چاک کن
ایں خیاباں راز خارم پاک کن
تنگ کن رخت حیات اندر برم
اہل ملّت را نگہ دار از شرم

اور آخری شعر میں تو قیامت ہی ڈھا دی ہے ؎

روز محشر خوار و رسوا کن مرا
بے نصیب از بوسۂ پا کن مرا

اواخر عمر میں تو اس کی دردمندی کا کوئی ٹھکانہ ہی نہیں رہتا۔ ذرا سی ٹھیس پر ابگینے کی طرح پھوٹ بہتا ہے۔ عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے کلام میں حیات آفرینی کے وہ داعیے بھر دیے ہیں اور جذب و رقّت کے وہ طوفاں اٹھائے ہیں کہ ہر لمحہ وارفتگی و سرگشتگی کے بند ٹوٹ ٹوٹ پڑے ہیں۔ ذرا اس سیلاب بلاخیز کا انداز دیکھیئے:

شبے پیش خدا بگریستم زار
مسلماناں چرا زارند و خوارند
ندا آمد نمی دانی کہ ایں قوم
دلے دارند و محبوبے ندارند

تصور ہی تصور میں سفرِ حج درپیش ہے، مکہ سے مدینۃ الرسولؐ کو روانگی کے وقت صحرائے عرب کی مسافتوں کو

سحر با ناقه گفتم نرم تر رو
که راکب خسته و بیمار و پیر است
قدم مستانه زد چنداں که گوئی
بپایش ریگ ایں صحرا حریر است
 ملخصًا کہا جا سکتا ہے کہ اقبال کی کثیر الجہات شخصیت کو جس پہلو سے دیکھا جائے وہ ایک ترشا ہوا بوقلموں ہیرا ہے۔ وہ شاعر ہے، وہ سیاست دان ہے، وہ قانون دان ہے، وہ ماہر اقتصادایت ہے، وہ مفکر  ہے، وہ مصلح ہے، وہ ایک ایسا عالم ہے جس نے علم و ادب کے سرچشموں سے اپنی تشنہ لبی کا سامان کا ہے۔ اس کے کمالات علمی و اصلاحی کا ہر پہلو امتیازی شان کا حامل ہے مگر اس کا سب سے بڑا سرمایۂ حیات اور وجۂ فضیلت و عظمت یہ ہے کہ اس نے مغرب کی ظاہری چمک چمک کی قلعی کھول کر رکھ دی۔ مسلمان قوم کو چودہ صدیوں کی دوری کے باوجود قرنِ اوّل کی دل کش اور دل گداز فضاؤں میں لے گیا۔ تہذیبِ جدید اور تمدنِ مغرب کے بودے کن کو ظاہر کیا۔ فلسفۂ خودی کا خوبصورت تصور دے کر اسلامی فکر کی توانائی اور اسلامی تمدن کے عملی مظاہر کا تفوق کھول کر بیان کیا۔ اور سب سے بڑھ کر یہ بتایا کہ اسلامی فکر میں روح عمل اتر ہی نہیں سکتا جب تک سرکارِ دو جہاںؐ کی ذات والا کو محورِ حیات نہ مان لیا جائے اور اس پیغمبرِ اعظم و آخر سے رابطۂ محبت اس درجہ استوار نہ کر لیا جائے کہ دنیا جہاں کی نعمتیں ہیچ نظر آنے لگیں۔ کیوں نہ ہو سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی تو فرمایا:
لَا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتٰی اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِن وَّالِدِہٖ وَ وَلَدِہٖ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ۔ (بخاری و مسلم)
’’تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اس کے والد، اولاد اور سب لوگوں سے محبوب تر نہ ہو جاؤں۔‘‘
دوسرے شعراء و مصلحین پر یہی وجۂ امتیاز اقبال کے مجدد شرف کی علت نمائی ہے ؎
بمصطفٰی برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
اگر بہ او نہ رسیدی تمام بولہبی است

شہادت کا آنکھوں دیکھا حال

کمانڈر عابد فردوسیؒ، حاجی عمران عدیلؒ، مطیع الرحمانؒ اور رفقاء

عدیل احمد جہادیار

افغانستان کے شہر خوست کے جنوب کی طرف واقع پہاڑی سلسلہ میں طورہ غاڑہ کے قریب ایک غار میں بڑی بڑی پگڑیوں والے کچھ لوگ بیٹھے تھے۔ غار کے باہر ہر دس پندرہ منٹ کے بعد ایک ڈاٹسن یا جیپ آ کر رکتی اور اس میں سے کچھ افراد نکل کر غار کی طرف بڑھتے۔ ان لوگوں کو دیکھ کر غار کے باہر کھڑے کلاشنکوفوں سے مسلح پہرہ دار ان کو راستہ دے دیتے۔ ڈاٹسنوں اور جیپوں میں آنے والے حضرات خوست جنوبی کے افغان مجاہدین کے کمانڈر تھے اور یہ سب یہاں پر دشمن پر حملہ کرنے کی پلاننگ کرنے کے لیے اکٹھے ہو رہے تھے۔ اسی اثنا میں ایک نیلے رنگ کی ڈبل سیٹر ڈاٹسن اور ایک سرخ پک اپ ڈاٹسن غار کے قریب آ کر رکی۔ ڈبل سیٹر سے لانبے قد کی بڑی سی پگڑی باندھے ایک پر رعب شخصیت نمودار ہوئی۔ یہ خوبصورت چہرے اور گھنی داڑھی والے بزرگ خوست جنوبی کے ہردلعزیز اور تحصیل درگئی کے فاتح مولانا پیر  محمد روحانی صاحب تھے۔ ان کے ساتھ ان کے باڈی گارڈوں کا ایک دستہ بھی تھا۔ سرخ ڈاٹسن پر حرکت الجہاد الاسلامی کی حربی کونسل کے نائب صدر اور کمانڈر نصر اللہ منصور لنگڑیال صاحب تھے۔
مولانا پیر محمد کی آمد پر شورٰی کی کارروائی شروع ہوئی، یہ شورٰی تحصیل درگئی کی فتح (جو کہ مولانا پیر محمد صاحب کی قیادت میں فتح ہوئی تھی) کے بعد اب خوست شہر پر ایک اجتماعی حملہ کرنے کا پروگرام بنانے کے لیے ہو رہی تھی۔ اس شورٰی میں افغانستان میں جہاد کرنے والی تمام تنظیموں کے سرکردہ افراد شرکت کر رہے تھے۔ اتحادِ اسلامی کی طرف سے مولانا پیر محمد روحانی (امیر عمومی قرارگاہ جنوبی)، حزبِ اسلامی (خالص) کی طرف سے مولانا طور، حزبِ اسلامی (حکمت یار) کی طرف سے انجینئر فیض محمد، دیگر کماندانوں میں بادشاہ گل، کمانڈر ڈاکٹر نصرت اللہ، حرکت الجہاد الاسلامی کی طرف سے کمانڈر نصر اللہ لنگڑیال شرکت کر رہے تھے۔
مختلف مشوروں کے بعد طے پایا کہ ۲۹ ستمبر بروز جمعہ کو حملہ کیا جائے اور پہلے حملہ میں شیخا میر علاقہ داری اور اس کی اردگرد کی پوسٹوں پر حملہ ہو اور ان کی فتح کے بعد اس سے آگے واقع پوسٹوں پر یورش کی جائے۔ اس میں اسلحہ کی تقسیم، توپوں کے نصب کرنے کی جگہ اور اہداف بھی زیرغور آئے اور پھر ان کی تقسیم اور توپ خانہ کے اہداف بھی مقرر کیے گئے۔ حملہ ۲۹ ستمبر کی صبح فجر کے وقت شروع ہونا تھا۔ پہلے دو گھنٹے توپ خانہ نے گولہ باری کرنی تھی پھر ایکشن گروپ نے حملہ کرنا تھا۔ ایکشن گروپ میں ہر کمانڈر چالیس چالیس آدمی دے رہا تھا، یہ سب طے کرنے کے بعد سب اپنے اپنے مراکز کی طرف روانہ ہو گئے۔
۲۸ ستمبر ۱۹۸۹ء نسبتًا گرم دن تھا۔ تحصیل درگئی (جو کہ فتح ہو چکی ہے) کی بستی کے سرے پر واقع اونچے پہاڑوں کی ڈھلوان کی طرف جہاں چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں واقع ہیں وہاں ایک بڑے لاغاٹ (برساتی نالے) کے دائیں ہاتھ ایک پہاڑی کی کھوہ میں دو خیمے لگے ہوئے تھے، یہ خیمے حرکت الجہاد الاسلامی کا عارضی مرکز تھے۔ یہ مرکز یشرا میں اس جگہ پر واقع تھا جہاں سے ایک سڑک نیچے میدان خوست کو جاتی ہے اور ایک علاقہ باڑی کی طرف جاتی ہے۔ ایک خیمے میں مجاہدین جمع تھے اور کماندار نصر اللہ لنگڑیال صاحب جنگ کے لیے مجاہدین کا چناؤ کر رہے تھے۔ چونکہ مولانا پیر محمد اور حرکت کا مرکز ایک ہی ہے اس لیے جنگ کے لیے بیس ساتھی حرکت کے ہونے تھے اور بیس مولانا پیر محمد صاحب کے۔ جناب کماندار صاحب نے مجاہدین سے کہا کہ وہ ساتھی ہاتھ کھڑا کریں جو جہانداد غنڈ کی پہلی فتح یا دوسری فتح میں شامل رہے ہیں۔ موجود ساتھیوں کی اکثریت ان جنگوں میں حصہ لے چکی تھی اس لیے بہت سے ساتھیوں نے ہاتھ کھڑے کر دیے۔ 
کماندار صاحب ساتھیوں کا چناؤ کرنے لگے اور مجاہد ظہیر کاشمیری سے کہا کہ وہ ساتھیوں کے نام لکھیں۔ انیس ساتھیوں کے جب نام لکھے جا چکے تو اب ایک ساتھی کا نام رہ گیا۔ کماندار صاحب کشمکش میں تھے کہ کس کا نام لکھیں کہ ایک ساتھی نے کہا کہ بھائی عمران عدیل کا نام تو آپ نے لکھا نہیں، وہ جہانداد غنڈ کی پہلی فتح میں شریک تھے اور انہوں نے ہی سب سے پہلے غنڈ کے اندر داخل ہو کر نعرہ فتح مارا تھا اور اذان دی تھی۔ کماندار صاحب نے پوچھا عمران کہاں ہے؟ تو ساتھیوں نے کہا کہ وہ باہر ہیں۔ کماندار صاحب نے ظہیر کاشمیری سے کہا کہ اس کا نام بھی لکھو۔ تشکیل مکمل ہوئی تو کماندار صاحب نے جنگ کے بارے میں ہدایات دیں اور ان سے کہا کہ گروپ کمانڈر عابد فردوسی صاحب! آپ جنگ کے امیر ہوں گے اور ساتھیوں سے کہا کہ اپنی مکمل تیاری کر لیں کسی وقت بھی روانگی کا آرڈر مل سکتا ہے اور رائفلوں وغیرہ کو صاف کر لیں اور کارتوس وغیرہ بھائی رحمت سے لے لیں۔
اس کے بعد تمام ساتھی اپنی اپنی تیاری کرنے لگے، کئی ساتھی غسل کرنے اور نئے کپڑے پہنے لگ گئے اور بعض ساتھی اپنی رائفلیں صاف کرنے لگے، ہر مجاہد میں جوش اور ولولہ کا ایک نیا منظر دکھائی دے رہا تھا۔ بھائی احسان اللہ کاشمیری غسل کر رہے تھے، راقم نے ان کے پاس جا کر کہا کہ بھائی احسان کیوں شہید یا زخمی ہونے کا سامان کر رہے ہو تو انہوں نے کہا کہ اسی لیے ہی تو آئے ہیں۔ راقم نے یہ جملہ مذاق میں اس لیے کہا تھا کہ اکثر محاذ پر دیکھنے میں آیا ہے کہ جو ساتھی اہتمام کے ساتھ تیار ہو کر جاتے ہیں یعنی غسل کر کے اور سر پر تیل لگا کر پگڑی باندھ کر آنکھوں میں سرمہ ڈال کر اور کپڑوں پر خوشبو لگا کر دلہا بن کر جب جاتے ہیں تو ان شہادت کے متوالوں کی مراد بر آتی ہے اور اللہ تعالیٰ پھر ان کو اپنی بارگاہ میں قبول کر لیتے ہیں، شہادت یا زخمی ہونے کے لیے یہ ضروری نہیں بلکہ یہ تو محاذ کا ایک مشاہدہ ہے۔
۲۸ ستمبر عشاء کے وقت مولانا پیر محمد روحانی صاحب تشریف لائے، ان کے ہمراہ تقریباً‌ تیس مجاہدین تھے اور دو گاڑیاں ان کے ہمراہ تھیں۔ تمام ساتھی چلنے کے لیے تیار تھے۔ ایک ڈاٹسن لیے ظہیر کاشمیری بھی موجود تھے۔ انہوں نے اس گاڑی پر مجاہدین کو باڑی پہنچانا تھا۔ مولانا پیر محمد روحانی صاحب نے ساتھیوں کو کچھ ہدایات دیں اور چلنے کا حکم فرمایا۔ تمام ساتھی ڈاٹسن پر سوار ہونے لگے۔ ڈاٹسن پر سامان بھی کافی لدا ہوا تھا اس لیے تمام ساتھیوں کا اس میں سمانا مشکل ہو رہا تھا اس لیے بھائی شبیر سے کہا گیا کہ وہ جیپ بھی تیار کریں اور کچھ ساتھیوں کو اس پر لے جائیں۔ جیپ بھی تیار کر لی گئی اور پھر تمام ساتھی ایک دوسرے سے ملنے لگے، اور جانے والے ساتھی اور رہ جانے والے ساتھی ایک دوسرے سے کہا سنا معاف کروانے لگے۔ آخر تمام ساتھی دعا کے بعد مرکز سے روانہ ہوئے۔
رات بے حد سیاہ تھی اور آسمان کہیں کہیں سے ابر آلود تھا۔ دور نیچے میدان میں دشمن کی توپیں اور مشین گنیں چل رہی تھیں۔ دشمن تمام دن اور رات اس خوف سے کہ کہیں مجاہدین اچانک اس پر حملہ نہ کر دیں اپنی پوسٹوں کے اردگرد مسلسل توپیں اور گنیں چلاتا رہتا ہے۔ اب جس جگہ سے مجاہدین نے باڑی کی طرف جانا تھا وہ راستہ تھا تو چھپا ہوا لیکن اگر رات کے اندھیرے میں یہاں گاڑیوں کی ہیڈ لائٹیں روشن کی جاتیں تو گولہ باری اور بمباری کا شدید خطرہ تھا۔ اس وقت بھی ایک طیارہ نیچے میدان میں جہاں والیم پوسٹ پر (جو کہ فتح ہو چکی ہے) اتحادِ اسلامی اور حرکت کے مجاہدین موجود تھے بمباری کر رہا تھا۔ راستہ بہت خطرناک تھا اس لیے کہ اردگرد دشمن نے بارودی سرنگیں بچھا رکھی تھیں۔ یہ راستہ بھی کماندار نصر اللہ لنگڑیال نے دیگر مجاہدین کے ساتھ مل کر بنایا تھا۔
خیر رات تین ساڑھے تین بجے کے قریب مجاہدین باڑی پہنچ گئے۔ یہاں پر کچھ دیر آرام کرنے کے بعد مجاہدین کے گروپوں کو ملا کر تشکیل کی گئی۔ حملہ علاقہ داری شیخامیر اور اس کے اردگرد کی پوسٹوں پر تھا۔ اسی طرح شہر خوست کے شمال مغرب کی طرف سے بھی دوسرے مجاہدین نے حملہ کرنا تھا۔ مجاہدین آرام کرنے کے بعد دشمن کی طرف چل پڑے۔ رات کا وقت تھا اور ان لوگوں کو اسی اندھیرے میں دشمن کے نزدیک ہونا تھا۔ ان مجاہدین کو سفر کی وجہ سے نیند کا موقع بھی نہیں ملا تھا لیکن یہ اللہ کے سپاہی محمد عربیؐ کے غلام جانیں ہتھیلیوں پر رکھ کر دشمن کی طرف بڑھنے لگے۔ انہوں نے دشمن کے بالکل نزدیک پہنچ کر مورچے سنبھالنے تھے اور اس کے بعد پھر مجاہدین کے توپ خانے نے دشمن پر گولہ باری کرنی تھی اور اس طرح اس توپ خانے نے مجاہدین کی پیش قدمی کے ساتھ اردگرد کی دوسری پوسٹوں کو مصروف کرنا تھا۔
ان مجاہدین نے نمازِ فجر راستہ میں ادا کی اور پھر دشمن سے نزدیک ہونے لگے حتٰی کہ دشمن سے دو اڑھائی سو میٹر کے فاصلہ پر پہنچ گئے۔ یہاں پہنچ کر یہ لوگ رک گئے کیونکہ ریکی گروپ (ترصد گروپ) کے مطابق آگے بارودی سرنگیں تھیں، ان کے یہاں پہنچنے کے کچھ دیر بعد مجاہدین کے توپ خانے سے اکا دکا میزائل اور توپ کے گولے فائر ہونے لگے۔ آہستہ آہستہ جب میزائل اور گولے ہدف پر لگنے لگے تو پھر ایک دم اکٹھے بارہ بارہ میزائل چھوڑے جانے لگے۔ اسی طرح توپوں کے گولے بھی چلنے لگے۔ ابھی سورج طلوع نہیں ہوا تھا کہ مجاہدین کی طرف سے فائر ہونے کے بعد دشمن کی طرف سے بھی ٹینک کے گولے اور BM13 میزائل فائر ہونے لگے۔ اسی طرح شہر خوست کے شمال مغرب میں بھی یہی حال تھا۔ ادھر گولے چل رہے تھے میزائل پھٹ رہے تھے اور یہاں ایکشن گروپ کے ساتھی ایک دوسرے کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف تھے اور کئی ساتھی ذکر اللہ میں مشغول تھے۔ کسی ساتھی مجاہد کے چہرے سے ایسا محسوس نہیں ہو رہا تھا کہ وہ خوفزدہ یا پریشان ہے۔
اسی اثنا میں اس ایکشن گروپ کے عمومی کمانڈر نے ایک مجاہد کو بارودی رسی ڈالنے کو کہا۔ مجاہدین اس وقت ایک لاغاٹ (برساتی نالہ) میں بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ مجاہد اپنے دو تین دیگر ساتھیوں کے ساتھ بارودی رسی، جو کہ مائن فیلڈ (بارودی سرنگ) کو ناکارہ کرتی ہے، لے کر اس برساتی نالے کے سرے پر چڑھا تو ایک زور دار دھماکہ ہوا، اس مجاہد کا پاؤں مائن پر آ گیا تھا اور وہ دھماکہ مائن پھٹنے کا تھا۔ مائن پر پاؤں آنے کی وجہ سے اس مجاہد کا پنڈلی کے قریب سے پاؤں کٹ گیا اور وہ زخمی ہو گیا۔ زخمی کو فورً‌ا نیچے لاغاٹ میں لایا گیا اور مرہم پٹی کی گئی۔ اس وقت اس کو پیچھے منتقل کرنا مشکل تھا اس لیے اس کو یہیں پر لٹا دیا گیا۔ مجاہدین اور دشمن کی طرف سے گولہ باری ایک دوسرے پر شدید سے شدید تر ہوتی جا رہی تھی۔ خوست کے اس علاقے میں ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے آگ سی لگ گئی ہو۔
دونوں طرف سے گولہ باری ہو رہی تھی کہ اتنے میں ایک میزائل مزاحمتی گروپ والے مجاہدین کے درمیان گرا اور پھر دھوئیں اور مٹی کا ایک بادل سا چھا گیا۔ جب یہ دھواں اور مٹی کچھ کم ہوئے تو ایک لرزہ خیز منظر سامنے تھا۔ ابھی کچھ دیر پہلے جو مجاہدین ٹھیک ٹھاک تھے ان میں سے کئی اب خاک و خون میں لت پت تھے۔ ابھی مجاہدین سنبھلنے بھی نہیں پائے تھے کہ یکے بعد دیگرے دو میزائل اور مجاہدین کے درمیان میں آ کر لگے، پھر تو ہر طرف ایک کہرام سا مچ گیا۔ ہر طرف زخمی اور شہید پڑے تھے۔ پہلے ہی میزائل سے حرکت کے دو مجاہد گروپ کمانڈر عابد فردوسی اور بھائی عمران عدیل شہید ہو گئے۔ دوسرے میزائل سے بھائی مطیع الرحمٰن بھی شہید ہو گئے۔ لاغاٹ میں ہر طرف خون ہی خون تھا، وہ نالہ جو کبھی پانی سے بہتا تھا اب بلامبالغہ شہیدوں اور زخمیوں کے لہو سے بہہ رہا تھا۔ میزائل لگنے سے پینتیس کے قریب مجاہدین شہید اور پچاس کے قریب زخمی ہو گئے تھے۔
اب دشمن پر حملہ تو کیا نہیں جا سکتا تھا اس لیے جو ساتھی بچ گئے تھے انہوں نے زخمیوں اور شہیدوں کو پیچھے منتقل کرنا شروع کر دیا۔ ان شہیدوں اور زخمیوں کو منتقل کرنا بھی کوئی آسان بات نہ تھی جیسے ہی مجاہدین زخمیوں اور شہیدوں کو نکالنے لگے دشمن کی پوسٹوں کے برجوں پر نصب مشین گنیں گرجنا شروع ہو گئیں اور پھر طیارے بھی بمباری کے لیے پہنچ گئے لیکن اس سب کے باوجود مجاہدین نے ہمت نہ ہاری اور ایک ایک کر کے تمام شہیدوں اور زخمیوں کو پیچھے منتقل کر لیا گیا۔ حرکت کے تین مجاہدین زخمی ہوئے تھے جن میں احسان اللہ کشمیری اور بھائی نیاز (متعلم مدرسہ امدادیہ فیصل آباد) کو کافی شدید زخم آئے تھے۔ ان کو باڑی ہی کے راستے میرانشاہ بھیج دیا گیا اور شہداء کو گاڑیوں میں لاد کر مرکز یشرا لایا گیا۔
ہر ساتھی غمگین تھا اور زبانِ حال سے کہہ رہا تھا کہ کاش یہ ساتھی شہید نہ ہوتے بلکہ میں ان کی جگہ شہید ہو جاتا۔ شہداء میں

بھائی عمران عدیل شہید اور بھائی عابد فردوسی شہید کو ان کے گھروں میں پہنچانے کا انتظام کیا گیا۔ شہید عابد فردوسی کے ساتھ راقم نے ان کے گھر فیصل آباد جانا تھا اور بھائی شہید عمران عدیل کے ساتھ بھائی سید احمد صاحب نے جانا تھا۔ میرانشاہ سے ہم اکٹھے بنوں تک گئے۔

جب یہ حضرات جنگ کے لیے جا رہے تھے تو بھائی عمران عدیل مجھ سے ایک عجیب طرح سے ملے اور فرمایا عدیل بھائی! کہا سنا معاف کر دینا۔ حالانکہ اور ساتھی بھی مجھے جاتے ہوئے ملے اور انہوں نے بھی تقریباً‌ یہی الفاظ کہے تھے لیکن جب بھائی عمران نے یہ الفاظ کہے تو نجانے کیوں میرے دل نے کہا کہ یہ ضرور شہید ہوں گے۔ اور جنگ والے دن میں اکثر ان کی سلامتی کی اور زندگی کی دعا مانگتا رہا لیکن ہوتا تو وہ ہے جو اللہ کو منظور ہوتا ہے۔

بنوں پہنچ کر میں نے عمران شہید والی گاڑی رکوائی کیونکہ اب ہمارے راستے جدا جدا تھے، میں نے تابوت کھولا تو ایک نہایت ہی اچھی خوشبو محسوس کی۔ میں نے ان کی پیشانی پر ہاتھ رکھا اور پیشانی پر سے ان کے بال ہٹائے تو مجھے ان کی پیشانی، باوجود ان کے ۱۲ گھنٹے پہلے شہید ہونے کے، گرم محسوس ہوئی۔ اللہ اللہ، جب ان کو اٹھا کر یشرا مرکز میں ہم لائے تھے تو بھی اس وقت ان سے اور دوسرے دونوں شہداء سے خوشبو آ رہی تھی۔ یہ خوشبو اور گرم ماتھا یہ کہہ رہے تھے کہ ؎

بنا کردند خوش رسمے بخاک و خون غلطیدن
خدا رحمت کند ایں عاشقاں پاک طینت را

آپ نے پوچھا

ادارہ

اشتراکیت کا فلسفہ کیا ہے؟

سوال: اشتراک کا فلسفہ کیا ہے اور یہ سب سے پہلے کس نے پیش کیا؟ (محمد غفران، اسلام آباد)۔
جواب: اشتراک کا فلسفہ یہ ہے کہ چونکہ دنیا میں انسانوں کے درمیان زیادہ تر جھگڑے زمین، مال اور عورت کی وجہ سے ہوتے ہیں اس لیے یہ تینوں چیزیں کسی کی شخصی ملکیت نہیں ہو سکتیں بلکہ یہ تینوں تمام انسانوں کے درمیان کسی تعیین کے بغیر مشترک ملکیت ہیں۔ یہ فلسفہ سب سے پہلے پارسیوں (مجوسیوں) کے ایک راہنما مزدک نے پیش کیا اور کہا کہ ایک شخص جو کچھ کماتا ہے وہ اس کی ذاتی ملکیت نہیں بلکہ سب لوگوں کی مشترک ہے۔ اسی طرح کوئی عورت کسی مرد کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ ہر مرد ہر عورت سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
ظہورِ اسلام کے بعد اسی فلسفہ کو عباسی خلیفہ معتصم باللہ کے دور میں بابک خرمی نے دوبارہ پیش کیا اور زن، زر اور زمین کو مشترک ملکیت قرار دے کر اس کا پرچار شروع کر دیا لیکن خلیفہ معتصم باللہ نے اسے قتل کرا دیا۔ موجودہ دور میں انفرادی ملکیت کی نفی کا یہ فلسفہ منظم شکل میں سب سے پہلے کارل مارکس نے پیش کیا اور اسے ’’کمیونزم‘‘ کا نام دیا۔ روس، چین اور مشرقی یورپ کے اشتراکی انقلاب اسی فلسفہ پر برپا ہوئے لیکن کہیں بھی کارل مارکس کا فلسفہ اصلی شکل میں نافذ نہ کیا جا سکا بلکہ ’’سوشلزم‘‘ کے نام سے اس کے قریب قریب ایک جبری نظام ان ممالک پر مسلط کر دیا گیا مگر وہ بھی اب دم توڑ رہا ہے۔

ام المؤمنین سیدہ عائشہؓ اور معراجِ جسمانی

سوال: بعض حضرات کی طرف سے یہ کہا جاتا ہے کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی معراج جسمانی کی قائل نہ تھیں، اس کی کیا حقیقت ہے؟ (عبد الغفور، اوکاڑہ)
جواب: یہ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہتان ہے کیونکہ خود حضرت عائشہؓ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی معراج کا واقعہ روایت کرتی ہیں اور فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سدرۃ المنتہٰی کے پاس حضرت جبریل علیہ السلام کو اصلی شکل میں دیکھا تھا۔ اصل بات یہ ہے کہ صحابہ کرامؓ میں اس امر پر اختلاف تھا کہ معراج کے اس سفر میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی بلاحجاب زیارت کی ہے یا نہیں؟ حضرت عائشہؓ اس کی قائل نہیں تھیں اور ان کا ارشاد یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سدرۃ المنتہٰی کے پاس اللہ تعالیٰ کی نہیں بلکہ حضرت جبریل علیہ السلام کی اصلی شکل میں زیارت ہوئی تھی، جیسا کہ صحیح مسلم ج ۱ ص ۹۸ میں یہ روایت منقول ہے۔
باقی رہی بات معراج جسمانی کی تو جب حضرت عائشہؓ سدرۃ المنتہٰی تک جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لے جانے، جبریل علیہ السلام کو اصلی صورت میں دیکھنے اور اللہ تعالیٰ کی بے حجاب زیارت نہ ہونے کا موقف پیش کر رہی تھیں تو ان کی طرف معراج جسمانی کے انکار کی نسبت کیسے درست ہو سکتی ہے؟

ربوہ کا معنٰی کیا ہے؟

سوال: بعض علماء کی طرف سے ربوہ کے نام کی تبدیلی کا مطالبہ کیا جاتا ہے، ربوہ کا معنٰی کیا ہے اور اس مطالبہ کا پسِ منظر کیا ہے؟ (عبد السلام، فیصل آباد)
جواب: ربوہ عربی زبان میں اونچے ٹیلے کو کہتے ہیں اور قرآن کریم میں حضرت مریم علیہا السلام اور حضرت عیسٰی علیہ السلام کے حوالہ سے ’’ربوہ‘‘ کا لفظ مذکور ہے کہ ’’وَاٰوَیْنَاھُمَآ اِلٰی رَبْوَۃٍ‘‘ ہم نے ان دونوں کو اونچے ٹیلے پر جگہ دی۔ مرزا غلام احمد قادیانی کا چونکہ دعوٰی یہ ہے کہ وہ خود عیسٰی بن مریم ہے اور احادیث رسولؐ میں مسیحؑ اور عیسٰیؑ کی دوبارہ تشریف آوری کی جو بشارت دی گئی ہے وہ اس کے بارے میں ہے، اس لیے قیامِ پاکستان کے بعد قادیانیوں نے ایک سازش کے تحت اپنے نئے ہیڈکوارٹر کا نام ’’ربوہ‘‘ رکھ دیا تاکہ ناواقف لوگ جب قادیانیوں کے ہیڈکوارٹر ربوہ کا نام قرآن کریم میں دیکھیں گے اور حضرت عیسٰی علیہ السلام کے حوالہ سے ربوہ کا تذکرہ ہو گا تو مرزا غلام احمد قادیانی کے بارے میں دھوکہ کا شکار ہو جائیں گے۔
چنانچہ عملًا ایسا ہو بھی رہا ہے۔ افریقی ممالک میں جہاں قادیانیوں کی سرگرمیوں کا دائرہ بہت وسیع ہے، جب علماء اسلام وہاں جا کر قادیانیت کی تردید کرتے ہیں تو بہت سے سادہ لوح لوگ ان سے جھگڑتے ہیں کہ ’’ربوہ‘‘ کا ذکر تو خود قرآن کریم میں ہے، تم اس کی تردید کیوں کرتے ہو؟ اسی وجہ سے علماء اسلام حکومتِ پاکستان پر اس بات کے لیے زور دیتے ہیں کہ ربوہ کا نام سرکاری طور پر تبدیل کر دیا جائے کیونکہ یہ نام بیرون ملک بہت زیادہ لوگوں کی گمراہی کا باعث بن رہا ہے۔

قیامِ پاکستان اور جمعیۃ علماء اسلام

سوال: عام طور پر مشہور ہے کہ علماء دیوبند نے تحریک پاکستان کی مخالفت کی تھی، یہ کہاں تک درست ہے؟ (عبد الکبیر، مانسہرہ)
جواب: یہ بات درست نہیں ہے کیونکہ آل انڈیا جمعیۃ علماء اسلام نے باقاعدہ جماعتی حیثیت سے تحریک پاکستان میں حصہ لیا تھا۔ اس جمعیۃ کا قیام ۱۹۴۵ء میں عمل میں لایا گیا تھا اور شیخ الاسلام حضرت علامہ شبیر احمد عثمانیؒ کو اس کا سربراہ منتخب کیا گیا تھا۔ چنانچہ ان کی قیادت میں علماء کی ایک بہت بڑی تعداد نے تحریک پاکستان میں سرگرم کردار ادا کیا۔ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے تحریکِ پاکستان کی بھرپور حمایت کی۔ علامہ شبیر احمد عثمانیؒ نے صوبہ سرحد کے ریفرنڈم کے موقع پر صوبہ سرحد کا تفصیلی دورہ کر کے رائے عامہ کو پاکستان کے حق میں ہموار کیا۔ جبکہ حضرت مولانا ظفر احمد عثمانیؒ نے سلہٹ کا تفصیلی دورہ کر کے وہاں کے عوام کو مسلم لیگ اور پاکستان کی حمایت کے لیے آمادہ کیا۔
یہی وجہ ہے کہ قیامِ پاکستان کے بعد مسلم لیگی زعماء نے کراچی میں حضرت علامہ شبیر احمد عثمانیؒ اور ڈھاکہ میں حضرت مولانا ظفر احمد عثمانیؒ کے ہاتھوں سب سے پہلے پاکستان کے قومی پرچم کے لہرانے کا اہتمام کیا جو تحریکِ پاکستان میں ان کی خدمات اور جدوجہد کا اعتراف تھا۔

تعارف و تبصرہ

ادارہ

’’تحریف کے یہ مجرم‘‘

تالیف: حافظ محمد اقبال رنگونی
صفحات: ۱۵۲ ۔کتابت و طباعت معیاری
ناشر:ادارہ الہلال اسلامک اکیڈمی، مانچسٹر، برطانیہ
قرآن کریم سے قبل نازل ہونے والی آسمانی کتابوں توراۃ، زبور اور انجیل میں ان کے پیروکاروں نے لفظی اور معنوی تحریف کر کے انہیں اپنی اصل شکل میں باقی نہیں رہنے دیا اور آج بائیبل کے نام سے ان کتابوں کا جو مجموعہ مختلف زبانوں میں شائع کیا جاتا ہے اس کا بیشتر حصہ ان تحریفات، ترامیم اور اضافہ جات پر مشتمل ہے جو مختلف ادوار میں عیسائی علماء نے وقتی مصلحتوں اور اغراض کے تحت ان مقدس کتابوں میں شامل کر دیے ہیں۔
یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا انکار کسی کے بس کی بات نہیں اور تاریخی حقائق اس حقیقت کا مکمل طور پر ساتھ دے رہے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود بعض عیسائی علماء موجودہ بائیبل کو وحی الٰہی ثابت کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں اور مغالطہ آفرینی اور فریب کاری کے ذریعے اپنے عقیدت مندوں کو مطمئن کرنا چاہتے ہیں۔ علماء اسلام نے ہر دور میں عیسائی دانشوروں کی اس فریب کاری کا پردہ چاک کیا ہے اور اس موضوع پر متعدد قابلِ قدر تصانیف موجود ہیں۔
زیرنظر کتابچہ بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے جو اسلامک اکیڈمی مانچسٹر کے ڈپٹی ڈائریکٹر مولانا حافظ محمد اقبال رنگونی کی تصنیف ہے۔ حافظ صاحب موصوف اسلامک اکیڈمی مانچسٹر کے ماہنامہ ’’الہلال‘‘ کے مدیر ہیں، انہوں نے ’’الہلال‘‘ میں بائیبل کے محرف ہونے پر ایک مضمون لکھا جس کے جواب میں اولڈھم برطانیہ کے پادری سٹیون مسعود صاحب نے ایک رسالہ میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ موجودہ بائیبل اصلی ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ رنگونی صاحب نے زیرنظر کتابچہ میں پادری صاحب موصوف کے دلائل کا تجزیہ کیا ہے اور ان کے مغالطوں کے تاروپود بکھیرتے ہوئے ناقابلِ تردید دلائل کے ساتھ ایک بار پھر یہ بات واضح کر دی ہے کہ موجودہ بائیبل اصلی نہیں ہے اور نہ ہی تورات، انجیل اور زبور میں سے کوئی آسمانی کتاب اس وقت اصلی حالت میں دنیا میں موجود ہے۔

’’ہدایہ علماء کی عدالت میں‘‘ (حصہ اول)

مصنف: مولانا حبیب اللہ ڈیروی
ناشر: مکتبہ عزیزیہ، دال بازار، منڈی لوہاراں، گوجرانوالہ
صفحات: ۲۵۶ ۔کتابت و طباعت معیاری۔ قیمت ۳۶ روپے
ہدایہ فقہ حنفی کی مستند اور معروف کتاب ہے جس میں فقہ حنفی کے مسائل کو نقلی اور عقلی دلائل کے ساتھ واضح کیا گیا ہے اور صاحبِ ہدایہ نے اس میں استدلال و استنباط کا ایسا منفرد اسلوب اختیار کیا ہے جس نے ہدایہ کو دنیائے اسلام میں قانونِ اسلامی کے ایک اہم ماخذ کی حیثیت دے دی ہے۔ اور نہ صرف علماء اسلام بلکہ غیر مسلم ماہرینِ قانون بھی اسلامی قوانین کی تعلیم و تشریح کے لیے ہدایہ سے استفادہ ضروری سمجھتے ہیں۔ مگر ہمارے بعض دوست جن کا ذہن صاحبِ ہدایہ کے استدلال کی گہرائی اور لطافت تک رسائی حاصل نہیں کر پاتا وقتًا فوقتًا ہدایہ کے مختلف مسائل پر اعتراض اور اس کے معائب و نقائص کی تلاش میں مصروف رہتے ہیں۔
اس سلسلہ میں حال ہی میں گوجرانوالہ کے ایک دوست نے ’’ہدایہ عوام کی عدالت میں‘‘ کے نام سے ہدایہ پر اپنے اعتراضات کا مجموعہ شائع کیا ہے جس کا جواب مولانا حبیب اللہ ڈیروی نے زیرنظر کتابچہ کی صورت میں دیا ہے اور دلائل کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ ہدایہ پر کیے جانے والے اکثر اعتراضات کم فہمی یا عناد پر مبنی ہیں جن کا حقیقت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔

’’کمیونزم کا فتنہ‘‘

از: مولانا محمد اسحاق صدیقی
ناشر: صدیقی ٹرسٹ، نسیم پلازا، نشتر روڈ، کراچی
صفحات: ۳۶  قیمت: ایک روپیہ
’کمیونزم‘‘ ایک جدید سیاسی اور معاشی نظام کا نام ہے جو یورپ کے سرمایہ دارانہ و جاگیردارانہ نظام کے مظالم کے ردعمل کے طور پر ابھرا اور طبقاتی کشمکش کے حوالہ سے کمزور طبقات و اقوام کو لپیٹ میں لیتے ہوئے مختلف ممالک میں انقلاب کا عنوان بن گیا۔ لیکن اس کی بنیاد چونکہ خدا کے انکار اور اجتماعی جبر کے غیرفطری فلسفہ پر تھی اس لیے زیادہ دیر نہیں چل سکا اور اب بتدریج فکری اور سیاسی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہا ہے۔
زیر نظر رسالہ میں مولانا محمد اسحاق صدیقی نے کمیونزم کے غیر فطری فلسفہ کا پس منظر واضح کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے نقائص کی نشاندہی کی ہے اور اسلام کے ساتھ اس کے فرق و اختلاف کے اظہار کے علاوہ کمیونسٹ تحریک کے مقاصد اور طریقِ کار پر بھی روشنی ڈالی ہے۔

’’اصلی شادی کارڈ‘‘

مرتب: خواجہ محمد اسلام
ملنے کا پتہ: تبلیغی کتب خانہ، اردو بازار، لاہور
صفحات: ۷۲ ۔ کتابت و طباعت عمدہ
خواجہ محمد اسلام بھلے بزرگ ہیں جو دینی عنوانات پر اصلاحی و تبلیغی کتب و رسائل کی طباعت و اشاعت کا اہتمام کرتے ہیں اور انہیں مختلف حلقوں تک پہنچانے کے لیے پبلسٹی کے بھرپور ذرائع استعمال میں لاتے ہیں۔ انہوں نے مختلف زبانوں میں ’’موت کا منظر‘‘ شائع کی اور اس کی اس انداز میں تشہیر کی کہ اس کا شمار دنیا کی کثیر الاشاعت کتابوں میں ہوتا ہے بلکہ خود خواجہ صاحب موصوف کے لیے بھی یہ کتاب تعارف کا حوالہ بن گئی ہے۔
زیرنظر رسالہ میں خواجہ صاحب مسلم معاشرہ کی خواتین سے مخاطب ہوئے ہیں اور انتہائی سادہ اور عام فہم زبان میں یہ بات سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ ایک مسلمان عورت کے حقوق اور ذمہ داریاں کیا ہیں اور اس کی زندگی کس انداز سے بسر ہونی چاہیے۔ ’’اصلی شادی کارڈ‘‘ کا ایک ایڈیشن انتہائی خوبصورت سنہری ٹائٹل کے ساتھ بھی شائع کیا گیا ہے جس کے بارے میں خواجہ صاحب کی خواہش یہ ہے کہ لوگ شادی کے موقع پر مروّجہ رنگین اور مزین شادی کارڈوں کی بجائے اس کتابچہ کے ٹائٹل پر پروگرام چھپوا کر عزیزوں کو بھجوائیں تاکہ خوبصورت شادی کارڈ کا شوق بھی پورا ہو جائے اور اصلاح و دعوت کا ثواب بھی حاصل ہو۔ بہرحال یہ ایک اچھا جذبہ و کوشش ہے جس کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیئے۔

زکٰوۃ کا فلسفہ اور حقیقت

حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ

عبادت کا ایک طریقہ زکٰوۃ ہے۔ زکٰوۃ کی حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے معبود کی خوشنودی کی خاطر مال و دولت خرچ کرنے کی تکلیف برداشت کرنے کو تیار ہو جائے۔ اس طرح معبود کی خاطر غلاموں کو آزاد کرنا اور ذبیحہ کی قربانی دینا بھی زکٰوۃ کے ملحقات میں سے ہیں۔ جب آدمی کو کوئی تکلیف ومصیبت پیش آتی ہے اور اس کو دور کرنے کے لیے اپنے معبودِ حقیقی کی طرف گھبرا کر رجوع کرتا ہے تو پہلے بارگاہِ اقدس میں صدقہ یا اعتاق یا قربانی پیش کرتا ہے۔
زکٰوۃ کی بہترین صورت یہ ہے کہ وہ اموال میں حق معلوم اور حصہ مقرر ہو، یا شرع اس کی تحدید و تعیین کرے۔انسان کے اموال و املاک میں بنیادی چیزیں یہ ہیں:
  1. نقدین (سونا چاندی)
  2. مویشی
  3. اشیاء تجارت، اور
  4. زراعت اور کھیتی باڑی
ان اموال میں نصاب کا تعین بھی ضروری ہے جس کی مقدار اتنی قلیل بھی نہ ہو جس کے نکالنے میں تکلیف و حرج ہو، اور نہ اتنی زیادہ ہو کہ لوگوں کے پاس اس مقدار کے نصاب کا اکٹھا ہو جانا بہت نادر ہو۔ اسی طرح میعاد کا بھی خیال رکھنا چاہیئے، اس میں  بھی اوسط میعاد ملحوظ رکھنی ہو گی۔ یہ سب کچھ اس  لیے ضروری ہے کہ صاحبِ مال سے زکٰوۃ لینے کا کام آسان ہو جائے اور اس کے فوائد زیادہ سے زیادہ رہیں۔
(البدور البازغۃ مترجم ص ۳۰۸)

امام ولی اللہ کا پروگرام اور روسی انقلاب

حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ

لوگ بالعموم یہ جانتے ہیں کہ روسی انقلاب فقط ایک اقتصادی انقلاب ہے، ادیان اور حیاتِ اخروی سے بحث نہیں کرتا۔ ہم ان روسیوں کے پاس بیٹھے ہیں اور ان کے خیالات و افکار ہم نے معلوم کیے ہیں اور ہم بتدریج اور آہستہ آہستہ نرمی اور لطافت سے امام ولی اللہؒ کا پروگرام، جو انہوں نے حجۃ اللہ البالغۃ میں پیش کیا، ان روسیوں کے سامنے رکھا تو انہوں نے اسے نہایت ہی مستحسن خیال کیا اور ہم سے پوچھنے لگے کہ کیا کوئی ایسی جماعت اس وقت ہے جو اس پروگرام پر عمل کرتی ہو؟ جب ہم نے نفی میں جواب دیا تو انہوں نے بہت افسوس کیا اور کہنے لگے کہ اگر کوئی جماعت اس پروگرام پر عمل کرنے والی ہوتی تو ہم ان کے ساتھ شامل ہو جاتے اور ہم بھی ان میں داخل ہو کر ان کا مذہب اختیار کر لیتے، اور یہ بات ہمارے لیے آسان بنا دیتی ہماری ان مشکلات کو جنہوں نے ہمارے پروگرام کو کسانوں میں نافذ کرنے سے روک رکھا ہے۔
یہ ان روسیوں کی بات کا بلا کم و کاست اور بغیر تحریف کے خلاصہ ہے۔ اس کے بعد یقین ہوا کہ یہ لوگ ہمارے قرآنی پروگرام کو قبول کرنے کی طرف مجبور ہوں گے اگرچہ ایک زمانہ کے بعد ہی کیوں نہ ہو۔ ہم آج کے دور میں عالمی تحریکوں میں سے کسی تحریک کو ایسا نہیں پاتے کہ وہ قرآنی تعلیمات کے خلاف اور مناقض ہو جس طرح انقلابی روس کی تحریک قرآنی پروگرام کے مناقض اور مخالف ہے۔ اور باوجود اس کے وہ بھی مجبور اور مضطر ہیں کہ قرآن اور اس کے پروگرام کی طرف رجوع کریں، باقی تحریکات کا کیا پوچھنا! اور اس چیز نے میرے ایمان میں زیادتی اور قوت پیدا کر دی کہ ہدایت و فلاح قرآن کے نزول کے بعد قرآن کے اتباع پر ہی موقوف ہے۔
(الہام الرحمٰن ص ۷۰)

شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کی تعمیر کا آغاز

ادارہ

بحمد اللہ تعالیٰ جمعیۃ اہل السنۃ والجماعۃ گوجرانوالہ کے زیراہتمام شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کے پہلے تعمیری بلاک کی تعمیر کا کام شروع ہو گیا ہے۔ شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کے لیے جی ٹی روڈ پر لاہور کی جانب اٹاوہ کے ساتھ بتیس ایکڑ زمین خریدی گئی ہے اور تعلیمی کمیٹی کی طرف سے دیے گئے پروگرام کے مطابق آرکیٹیکٹس کی مشہور فرم ندیم ایسوسی ایٹس نے ماسٹر پلان تیار کر لیا ہے جس کی منظوری جمعیۃ اہل السنۃ والجماعۃ کی مجلسِ شورٰی کے اجلاس میں دے دی گئی ہے جو گزشتہ دنوں نائب صدر جناب بابو شمیم احمد کی رہائش گاہ پر الحاج محمد رفیق کی زیرصدارت منعقد ہوا۔ اس ماسٹر پلان کے مطابق سردست پہلے دو منزلہ تعلیمی بلاک کی تعمیر شروع کی گئی ہے جس کی ایک منزل میں آٹھ کلاس روم، اساتذہ کے آٹھ کمرے اور دیگر ضروریات شامل ہیں۔ پہلے مرحلہ میں بلاک کی ایک منزل کی تعمیر ایک سال کے اندر کم و بیش تیس لاکھ روپے کی لاگت سے مکمل کی جائے گی اور آئندہ تعلیمی سال سے کالج کی سطح پر تعلیمی کلاسوں کا آغاز کر دیا جائے گا، ان شاء اللہ العزیز۔
ڈسٹرکٹ کونسل گوجرانوالہ نے اٹاوہ ریلوے پھاٹک سے شاہ ولی اللہ یونیورسٹی تک پختہ سڑک کی تعمیر کی منظوری دے دی ہے اور اس کا سروے کا کام کام شروع ہو چکا ہے جس کے لیے یونیورسٹی کی مجلس انتظامیہ کے سرپرست مولانا زاہد الراشدی اور حافظ بشیر احمد، صدر الحاج میاں محمد رفیق، اور سیکرٹری جنرل شیخ محمد اشرف نے ڈسٹرکٹ کونسل کے چیئرمین جناب رانا نذیر احمد ایم این اے اور دیگر متعلقہ حضرات کا  شکریہ ادا کیا ہے۔ تعلیمی کمیٹی کی سفارش کے مطابق سب سے پہلے تعلیمی شعبہ میں کالج کی کلاسیں شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ آئندہ تعلیمی سال سے ایف اے کی کلاسیں شروع کی جائیں گی اور پہلے سال کے لیے میٹرک یا اس کے مساوی وفاق المدارس العربیہ کا سرٹیفکیٹ رکھنے والے طلبہ کو داخلہ مل سکے گا۔ تعلیمی کمیٹی نے درسِ نظامی کے فضلاء کے لیے:
شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کے سربراہ جمعیۃ اہل السنۃ والجماعۃ کے سرپرست اعلٰی شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر مدظلہ العالی نے یونیورسٹی کے تعمیری کام کے آغاز پر اللہ تعالٰی کا شکر ادا کرتے ہوئے جمعیۃ اہل السنۃ کے عہدہ داروں اور ارکان کو مبارکباد پیش کی ہے اور کہا ہے کہ بالآخر مخلص دوستوں کی تمنائیں، کوششیں اور دعائیں رنگ لائی ہیں اور عملی کام کی ابتدا ہو گئی ہے۔ انہوں نے اس سلسلہ میں کسی بھی سطح پر تعاون کرنے والے تمام احباب کا شکریہ ادا کیا ہے اور اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ تمام دوست اور ساتھی پہلے سے زیادہ جوش و جذبہ اور ذوق و شوق کے ساتھ اپنی کوششیں تیز کر دیں گے۔