اگست ۱۹۹۰ء

ایک اور ’’دینِ الٰہی‘‘؟مولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
جمہوریت، قرآن کریم کی روشنی میںشیخ التفسیر مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ 
احادیث کی تعداد پر ایک اعتراضشیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر 
ایک مسلم حکمران کیلئے جناب رسالتمآب ﷺ کی ہدایاتمولانا سید وصی مظہر ندوی 
توریت و انجیل وغیرہ کو کیوں پڑھنا چاہیئے؟سید ناصر الدین محمد ابو المنصورؒ 
علامہ عبد اللہ یوسف علی کی تفسیرِ قرآن کا ایک مطالعہمحمد اسلم رانا 
قرآنی آیات کو مسخ کرنے کی گھناؤنی حرکتادارہ 
شعرِ جاہلی اور خیر القرون میں ارتقائے نعتپروفیسر غلام رسول عدیم 
اختِ ہارون و بنتِ عمران حضرت مریم علیہا السلاممحمد یاسین عابد 
آپ نے پوچھامولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
تعارف و تبصرہادارہ 
امراضِ گردہ و مثانہحکیم محمد عمران مغل 
معاشرتی زندگی کے آدابحضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ 
حکمران جماعت اور قرآنی پروگرامحضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ 

ایک اور ’’دینِ الٰہی‘‘؟

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

روزنامہ جنگ لاہور ۲۰ جولائی ۱۹۹۰ء کی رپورٹ کے مطابق حکمران پارٹی کی سربراہ بیگم بے نظیر بھٹو نے لاہور ایئرپورٹ پر اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے شریعت بل کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہا ہے کہ:

’’ہم ایسا اسلام چاہتے ہیں جو واقعی اللہ کی ہدایات کے مطابق ہو۔ پوری دنیا اللہ کی ہے۔ عوام اللہ کے نمائندے ہیں۔ منتخب پارلیمنٹ اللہ کی امانت ہوتی ہے۔ ہم پارلیمنٹ کی بالادستی قائم رکھیں گے۔ ہم انسانوں کے کان یا ہاتھ کاٹنے کو مناسب نہیں سمجھتے۔‘‘

قومی اسمبلی میں ’’شریعت بل‘‘ کے زیر بحث آنے سے قبل حکمران پارٹی کی سربراہ کا یہ بیان جہاں حکمران پارٹی کی پالیسی اور عزائم کی عکاسی کرتا ہے وہاں ملک کے دینی حلقوں کے لیے یہ لمحۂ فکریہ بھی مہیا کرتا ہے کہ جن لوگوں کے ہاتھ میں ملک کی باگ ڈور ہے اسلام کے بارے میں خود ان کا نقطۂ نظر کیا ہے اور وہ اسلام کا نام لے کر ملک کو کس ڈگر پر چلانا چاہتے ہیں۔ بیگم بے نظیر بھٹو اور ان کے وزیر قانون اس سے قبل بھی اسلامی قوانین اور شرعی حدود کو متعدد مواقع پر وحشیانہ اور انسانی حقوق کے منافی قرار دے چکے ہیں اور اب پھر قدرے نرم الفاظ کے ساتھ ان کی طرف سے اسی موقف کا اظہار کیا گیا ہے۔

ہم اس موقع پر حکمران پارٹی سے صرف یہ دریافت کرنا چاہتے ہیں کہ اس کے پاس ’’اللہ تعالیٰ کی واقعی ہدایات‘‘ حاصل کرنے کے متبادل ذرائع آخر کونسے ہیں؟ کیونکہ جو ہدایات اللہ تعالیٰ نے اپنی آخری کتاب قرآن کریم میں مسلمانوں کو عطا فرمائی ہیں ان میں ہاتھ، کان، ناک اور دیگر اعضا (بطورِ قصاص) کاٹنے کے واضح احکام موجود ہیں اور شرعی احکام کے بارے میں پارلیمنٹ یا کسی بھی انسانی ادارہ کی بالادستی کی قطعی نفی کر دی گئی ہے۔ کہیں اکبر بادشاہ کی طرح یہ ’’نیا دینِ الٰہی‘‘ نافذ کرنے کا پروگرام تو نہیں؟ حکمران پارٹی کو یہ بات ایک لمحہ کے لیے بھی نہیں بھولنی چاہیے کہ اکبر بادشاہ کے درباری اجتہاد یا مرزا غلام احمد قادیانی کی خود ساختہ وحی کے ذریعے شرعی احکام کو بدلنے کا کوئی تجربہ یہاں نہیں چل سکتا اور نہ ہی واشنگٹن، لندن اور ماسکو کے افکار و نظریات پر اسلام کا لیبل لگا کر انہیں ملک کے عوام سے قبول کروایا جا سکتا ہے۔

جمہوریت، قرآن کریم کی روشنی میں

شیخ التفسیر مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ

قلت و کثرت کا مسئلہ اکثر انسانی اذہان میں کھٹکتا رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی حقیقت کو بھی واضح کر دیا ہے۔ ارشاد ہے ’’قُلْ‘‘ اے پیغمبرؐ! آپ کہہ دیجئے ’’لَا یَسْتَوِی الْخَبِیْثُ وَالطَّیِّب‘‘ خبیث اور طیب چیز برابر نہیں ہو سکتی۔ یعنی یہ ایک بڑی حقیقت ہے کہ پاک اور ناپاک چیز یکساں نہیں۔ ’’وَلَوْ اَعْجَبَکَ کَثْرَۃُ الْخَبِیْث‘‘ اگرچہ خبیث کی کثرت تمہیں تعجب میں کیوں نہ ڈالے۔ اگر دنیا  میں کفر، شرک، معاصی اور گندے نظام کا غلبہ ہو، دنیا میں ملوکیت اور ڈکٹیٹرشپ کا دور دورہ ہو، تو یہ نہ سمجھ لینا چاہیئے کہ یہ اچھی اور خدا کی پسندیدہ چیزیں ہیں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ کلمۂ حق ہی اچھا ہے اگرچہ دنیا میں اس کی تعداد کتنی ہی قلیل کیوں نہ ہو۔ 
مثال کے طور پر اگر دنیا کا بیشتر حصہ حرام سے بھرا ہوا ہے اور حلال کا حصہ بالکل کم ہے تو حرام کی کثرت اس کے جواز کی دلیل نہیں ہے۔ بلکہ اللہ کے نزدیک حلال ہی پسندیدہ ہے خواہ وہ کتنی قلت میں ہو۔ اگر ایک مومن آدمی اپنی محنت کے ذریعے پانچ روپے رزق حلال کماتا ہے تو وہ اس سو روپے سے زیادہ بہتر ہیں جو رشوت کے ذریعے حاصل کیے گئے ہوں۔ اسی طرح جائز کمائی کے سو روپے سود کے ایک لاکھ روپے سے اچھے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو یہ سو روپے ہی محبوب ہیں۔ اسی طرح اگر دنیا میں اچھے اخلاق والے قلیل تعداد میں ہیں تو اکثریت کے مقابلے میں وہی کامیاب ہیں۔ عقل مندوں کی قلیل تعداد بیوقوفوں کے جم غفیر سے بدرجہا بہتر ہے۔
یورپ کی جمہوریت کا بھی یہی حال ہے۔ اس میں انسانوں کی قابلیت کی بجائے ان کی تعداد کو معیار بنایا گیا ہے، جو زیادہ ووٹ حاصل کرے وہی کامیاب ہے اگرچہ خود ووٹر معیار سے گرے ہوئے لوگ کیوں نہ ہوں۔ علامہ اقبال مرحوم نے یہی تو کہا تھا ؎
از مغز دو صد خر فکرِ انسانے نمی آید
یعنی دو سو گدھے ایک انسانی دماغ کا مقابلہ نہیں کر سکتے اگرچہ وہ غالب اکثریت میں ہیں۔ ہاں اگر طیب اور پاک چیز ہے تو وہ نورٌ علیٰ نور ہے۔ اور اگر گندی چیز یا گندہ نظام اکثریت میں ہے تو اس سے گبھرانا نہیں چاہیئے۔ بری چیز بہرحال بری ہے محض اکثریت کی بنا پر اسے اچھائی کا سرٹیفکیٹ نہیں دیا جا سکتا۔ اس وقت پوری نیا کی پانچ ارب آبادی میں سے سوا چار ارب کفر، شرک اور معاصی میں مبتلا ہے۔ ہر طرف امپریلزم، ملوکیت اور ڈکٹیٹرشپ کا دور دورہ ہے مگر کلمہ جامع نہیں ہے۔ ترکوں میں خلافت کے زمانے تک مسلمانوں میں کسی قدر اجتماعیت موجود تھی مگر انگریز نے بالآخر اسے ختم کر کے چھوڑا۔ اب مسلمانوں کا اجتماعی نظام بالکل ناپید ہے، حق مغلوب ہو چکا ہے اور باطل غالب ہے۔ مگر یہ اس کی صداقت کی دلیل نہیں ہے۔ یاد رکھو! اللہ تعالیٰ کے ہاں کلمہ حق، ایمان، اسلام اور پاکیزہ اخلاق ہی صداقت کا معیار ہیں۔ اسی لیے فرمایا کہ ناپاک چیز بہرحال ناپسندیدہ ہے اگرچہ وہ تمہیں کتنا بھی تعجب میں ڈال دے۔ انجام انہی لوگوں کا اچھا ہو گا جو حق پر ہیں خواہ وہ کس قدر قلیل تعداد میں ہوں۔
صحیحین کی حدیث میں آتا ہے کہ حضور علیہ السلام ایک مجلس میں تشریف فرما تھے۔ قریب سے ایک اعلیٰ حیثیت کا آدمی گزرا۔ آپؐ نے صحابہؓ سے دریافت کیا، یہ کیسا آدمی ہے؟ آپؐ کو بتایا گیا کہ یہ اشراف میں سے ہے، جہاں جائے گا ہر شخص اس کے لیے گھر کا دروازہ کھولے گا، اگر کہیں نکاح کا پیغام دے گا تو فورًا قبول کیا جائے گا، لوگ اس کے رشتہ پر فخر کریں گے، اگر یہ شخص کسی کی سفارش کرے گا تو قبول کی جائے گی۔ اس کے تھوڑی دیر بعد ایک دوسرے شخص کا گزر ہوا۔ حضور علیہ السلام نے اس کے متعلق بھی دریافت فرمایا تو لوگوں نے عرض کیا کہ یہ فقراء میں سے ہے، اس کو کوئی پوچھتا نہیں اور نہ کوئی اس کا احترام کرتا ہے، اگر کہیں جاتا ہے تو لوگ گھر کا دروازہ نہیں کھولتے، اگر یہ کسی کو نکاح کا پیغام دے تو کوئی قبول نہیں کرے گا، کسی کی سفارش کرے تو کوئی پروا نہیں کرتا۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یاد رکھو! پہلے آدمی جیسے لوگوں سے اگر پوری زمین بھری ہوئی ہو تو اللہ کے نزدیک یہ دوسرا آدمی ان سب سے بہتر ہے کیونکہ اس کے ہاں عزت و شرف کا معیار دنیاوی جاہ و جلال اور کثرت نہیں بلکہ ایمان اور تقوٰی ہے۔
بہرحال (قُل) فرما دیجیئے کہ خبیث اور طیب برابر نہیں اگرچہ کثرت کتنی ہی خوش کون کیوں نہ ہو۔۔۔حلال اور طیب کی قلیل مقدار حرام کی کثیر  مقدار سے بہرصورت بہتر ہے۔ اللہ کے ہاں پسندیدگی کا معیار حق و صداقت ہے نہ کہ کثرتِ تعداد یا کثرتِ مقدار۔ فرمایا ’’وَاتَّقُوا اللہَ یَا اُولِی الْاَلْبَاب‘‘ اے صاحبِ عقل و خرد لوگو! اللہ سے ڈر جاؤ۔ اس کی وحدانیت کے خلاف کوئی بات نہ کرو، اس کے بتلائے ہوئے پاکیزہ اصولوں پر عمل کرو۔ ’’لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْن‘‘ تاکہ تمہیں فلاح و کامیابی نصیب ہو جائے۔ ان اصولوں پر عمل کرنے سے دنیا میں بھی کامیابی حاصل ہو گی اور آخرت میں بھی نجات کا دارومدار اسی پر ہے۔

احادیث کی تعداد پر ایک اعتراض

شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر

مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس مضمون میں ہم یہ بات عرض کر دیں کہ حضراتِ محدثین کرامؒ جب یہ فرماتے ہیں کہ فلاں کو دو لاکھ اور فلاں کو چھ لاکھ اور فلاں کو دس لاکھ احادیث یاد تھیں، تو اس سے ان کی کیا مراد ہے؟ کم فہم یا کج بحث آدمی تو اس کو جھوٹ یا مبالغہ ہی تصور کرے گا جیسا کہ چودھری غلام احمد صاحب پرویز نے طنزًا لکھا ہے:’’ایک صاحب بخارا سے آتے ہیں اور انہیں چھ لاکھ حدیثیں مل جاتی ہیں جن میں سے وہ قریباً سات ہزار کو اپنے مجموعہ میں داخل کر لیتے ہیں، ان کے اساتذہ میں سے امام احمد بن حنبلؒ دس لاکھ اور امام یحیٰی بن معینؒ بارہ لاکھ حدیثوں کے مالک تھے ۔۔ الخ‘‘ (مقامِ حدیث جلد دوم ص ۴۱۵)۔ دیکھیئے منکرینِ حدیث کا دورِ حاضر میں لیڈر کس طرح احادیث کا مذاق اڑا رہا ہے؟ لیکن حقیقت شناس اس سے صحیح بات ہی سمجھتا ہے اور سمجھے گا۔ ذیل کے امور کو بغور دیکھیں:
(۱) تدوینِ کتبِ حدیث سے پہلے کا کوئی حوالہ ایسا موجود نہیں جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ لاکھ یا اس سے زیادہ حدیثیں کسی کو یاد تھیں۔ کتبِ تاریخ اور کتبِ اسماء الرجال وغیرہا میں آپ صرف یہی پائیں گے کہ تدوینِ کتبِ حدیث کے زمانہ میں یا اس کے بعد ہی لوگوں کو لاکھ یا اس سے بھی زیادہ حدیثیں یاد ہوتی تھیں۔ جن حضرات ائمہ کو لاکھ یا اس سے زیادہ حدیثیں یاد تھیں مثلاً امام طیالسیؒ، امام عبدانؒ، امام ابن جعابیؒ، امام بخاریؒ، امام ابوزرعہؒ، اور امام احمد بن حنبلؒ تو ان کا دور تدوینِ حدیث اور اس کے بعد کا دور تھا۔ کتبِ حدیث کی مستقل تدوین اور فقہی ابواب پر ان کی ترتیب کے دور سے قبل اس قسم کا کوئی صریح حوالہ موجود نہیں جس سے یہ ثابت ہو کہ فلاں بزرگ کو لاکھ یا اس سے زیادہ حدیثیں یاد تھیں، ایسے الفاظ آپ کو بعد کے ادوار کے ہی ملیں گے۔
(۲) امام حاکمؒ صاحبِ مستدرک اپنے مشہور رسالہ مدخل ص ۷ میں لکھتے ہیں کہ اعلیٰ درجہ کی صحیح اور معیاری حدیثوں کے متعلق اگر چھان بین کی جائے تو ان کی تعداد دس ہزار تک بھی نہیں پہنچ سکتی۔ یعنی اگر غیر مکرر صرف مرفوع احادیث کا معیاری اور صحیح اسانید کے ساتھ شمار کیا جائے تو بمشکل تقریباً دس ہزار ہوں گی۔
(۳) مشہور محدث علامہ ابن جوزیؒ فرماتے ہیں کہ اگر صحیح حدیثوں کے ساتھ ساری بے بنیاد جھوٹی اور گھڑی ہوئی جعلی حدیثوں کو بھی جمع کر لیا جائے جو کتابوں میں مکتوب پائی جاتی ہیں تو وہ پچاس ہزار تک نہیں پہنچ سکتیں (کتاب صید الخواطر فصل ۱۷۵)
(۴) حضرات محدثینِ کرامؒ جب لفظ حدیث بولتے ہیں تو وہ اس سے مرفوع احادیث کے ساتھ حضرات صحابہ کرامؓ اور تابعین عظامؒ کے موقوفات اور آثار بھی مراد لیتے ہیں۔ جیسا کہ علامہ بیہقیؒ نے اس کی تصریح کی ہے (تہذیب التہذیب ج ۷ ص ۳۳)۔ اور ہم پہلے باحوالہ یہ عرض کر آئے ہیں کہ حضرات محدثین کرامؒ کو قراءت (تاریخ) وغیرہ سے متعلق بھی روایات مع سند یاد ہوتی تھیں، ان کو بھی وہ حدیث ہی کی مد میں شامل سمجھتے تھے۔
(۵) حضرات محدثین کرامؒ کی یہ جداگانہ اصطلاح ہے کہ اگرچہ متنِ حدیث ایک ہی ہو، جب اس کی سند اور سند کا کوئی ایک راوی بھی بدل جائے تو اس کو وہ اپنی اصطلاح میں الگ اور جداگانہ حدیث سمجھتے ہیں۔ چنانچہ محدث جعفر بن خاقانؒ کا بیان ہے کہ میں نے مشہور محدث امام ابراہیمؒ بن سعید الجوہری جو الحافظ اور العلامہ تھے (المتوفی ۴۴۱ھ) سے حضرت ابوبکرؓ کی ایک حدیث دریافت کی تو انہوں نے اپنی لونڈی سے فرمایا کہ جا کر حضرت ابوبکرؓ کی حدیثوں کی تئیسویں جلد نکال لاؤ۔ ابن خاقانؒ فرماتے ہیں کہ میں حیران ہو گیا کہ کیونکہ حضرت ابوبکرؓ سے بمشکل پچاس حدیثیں ہی ثابت ہیں تو انہوں نے حضرت ابوبکرؓ کی احادیث کا اتنا مجموعہ کیسے اور کہاں سے تیار کر لیا جن کی تئیس جلدیں بھی تیار کر لی گئیں۔ میں نے حضرت ابراہیمؒ سے پوچھا کہ بات کیا  ہے، حضرت ابوبکرؓ کی اتنی حدیثیں کہاں سے آگئیں جن سے آپ نے تئیس جلدیں مرتب کر لی ہیں؟ حضرت ابراہیمؒ بن سعیدؒ نے جواب دیا کہ ایک ایک حدیث جب تک سو سو طریقوں اور سندوں کے ساتھ مجھے نہیں ملتی تو میں اس حدیث کے متعلق اپنے آپ کو یتیم خیال کرتا ہوں (تذکرہ ج ۲ ص ۸۹)۔ اس حوالہ سے معلوم ہوا کہ حضرات محدثین کرامؒ جب تک ایک ایک حدیث کئی کئی اسانید اور طرق سے حاصل نہ کر لیتے دم نہ لیتے تھے اور ایسی صورت میں وہ خود  کو یتیم تصور کرتے تھے۔
(۶) امام جلال الدین سیوطیؒ کے اس دعوٰی کی کہ مجھے دو لاکھ حدیثیں یاد ہیں، ایک محقق عالم نے یہ وجہ بیان کی ہے کہ حضرات محدثین کرامؒ کی اصطلاح کے مطابق امام سیوطیؒ کی کتابوں میں ایک ایک حدیث اسانید کے لحاظ سے چار یا دس یا ساٹھ تک بھی پہنچ جاتی ہے (العلم المشائخ ص ۳۹۹۳)۔
(۷) علامہ ابن جوزیؒ فرماتے ہیں کہ ’’ان المراد بھذا العدد الطرق لا المتون‘‘ احادیث کی تعداد اور گنتی میں اسانید اور طرق مراد ہیں نہ کہ متونِ حدیث۔ یہ حوالہ بھی اپنے مدلول اور مفہوم کے لحاظ سے بالکل واضح ہے۔
قارئینِ کرام! ان مذکورہ بالا اصول اور قواعد کو ذہن نشین کر لینے کے بعد اس کا فیصلہ نہایت ہی سہل ہو جاتا ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک زمانہ میں آپؐ سے حدیث سننے والے حضرات صحابہ کرامؓ تھے اور کوئی غیر صحابی راوی درمیان میں حائل نہیں ہوتا تھا، اس لیے احادیث کی تعداد بھی کم تھی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانۂ مبارک سے بعد کی وجہ سے روات اور رجالِ سند کی کثرت سے تعداد بھی بڑھ گئی۔ اور اگر کہیں سند کا ایک راوی بھی بدل گیا تو تعداد کے لحاظ سے وہ حضرات محدثین کرامؒ کی اصطلاح میں الگ اور جدا حدیث بن گئی۔ اور اگر اس کے ساتھ حضرات صحابہ کرامؓ اور تابعینؒ کے آثار موقوفات و فتاوٰی کو بھی شامل کر لیا جائے تو اس میں اور توسیع ہو جاتی ہے۔
غرضیکہ جوں جوں سند طویل اور لمبی ہوتی جائے گی روات کی تعداد بڑھتی جائے گی، اور ان کی تعداد کے مطابق احادیث و آثار کی تعداد اور گنتی بھی بڑھ جائے گی۔ حتٰی کہ متنِ حدیث میں کسی لفظ کے بدل جانے، یا کسی صحابی، یا نچلے روات میں سے کسی ایک راوی کے بدل جانے سے متن کے لحاظ سے ایک ہی حدیث ہو گی مگر گنتی کے حساب سے متعدد حدیثیں بن جائیں گی۔ مثلاً اگر کسی ایک محدث کو غیر مکرر ایک ہزار حدیث یاد ہے، اور ہر حدیث کے سو اور ساٹھ طرق اور سند میں نہ سہی اوسطاً دس طرق ہی ثابت ہو، تو حضرات محدثین کرامؒ کی اصطلاح میں گویا دس ہزار حدیثیں ہیں۔ یعنی حافظہ پر تو کُل دس احادیث میں سے ایک حدیث کے یاد کرنے کا بوجھ پڑا۔ باقی نو میں کہیں متن سے صرف ایک لفظ کا، کہیں سند میں کسی ایک راوی کے یاد کرنے کا بار پڑا، اور کہنے کو یہ کہہ لیا کہ دس ہزار حدیثیں ہو گئیں۔
اور اس کے ساتھ یہ بھی نہ بھول جائیے کہ حسبِ تصریح امام سیوطیؒ اکثر احادیث (یعنی کافی مقدار میں) بالمعنی مروی ہیں (الاقتراح ص ۱۶)۔ اور یہی وجہ ہے کہ اکثر نحاۃ الفاظِ حدیث سے قواعدِ نحویہ پر استدلال کو درست نہیں سمجھتے، اور جن لوگوں نے استدلال کیا ہے ان کی تغلیط کی گئی ہے (الاقتراح ص ۱۶)۔ اس نقل بالمعنی کے اصول کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اور توسیع ہو جاتی ہے کہ مثلاً کسی محدث نے اگر تشریح اور تفسیر کے طور پر ایک حدیث میں تشریحی الفاظ درج کر دیے جو اکثر آخر میں ہوتے ہیں (شرح نخبۃ الفکر ص ۶۲) تو ان کی اصطلاح میں یہ ایک الگ اور جداگانہ حدیث بن جائے گی جو تعداد اور گنتی میں الگ ہو گی۔
الحاصل جب حضرات محدثین کرامؒ کے نزدیک
  • آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اقوال و افعال و تقاریر
  • اور حضراتِ صحابہ کرامؓ اور تابعینؒ کے موقوفات اور آثار
  • اور علمِ حدیث سے متعلق تاریخی واقعات اور شانِ نزول
  • اور علمِ تجوید و قراءت سے متعلق اقوال اور تشریحات گنتی میں داخل ہیں
  • اور سند میں صحابی اور نچلے کسی بھی راوی کے بدل جانے سے
  • نیز متنِ حدیث میں معمولی تغیر سے جب روایت بدل جاتی ہے
  • اور نقل بالمعنٰی کے پیشِ نظر جو تغیر واقع ہوتا
  • اور تشریح و تفسیر کے طور پر جو الفاظ تفہیم کے لیے بڑھا دیے جاتے ہیں
  • اور مزید برآں جعل سازوں کی بے شمار من گھڑت اور جعلی حدیثیں بھی اگر ان میں شامل کر لی جائیں (جبکہ حضرات محدثین کرامؒ ان کو اس لیے یاد کرتے تھے کہ عامۃ الناس ان پر عمل کر کے راہِ راست سے کہیں بھٹک نہ جائیں)

تو ان اصولوں کو پیش نظر رکھنے کے بعد احادیث کی کثرت پر جو خلجان واقع ہوتا ہے وہ خودبخود زائل ہو جاتا ہے۔ اور حضراتِ محدثین کرامؒ کی طرف نظر بہ ظاہر غلط بیانی یا مبالغہ آمیزی کی جو نسبت واقع ہوتی ہے کہ لاکھوں حدیثیں انہوں نے کہاں سے، کیسے اور کس طرح یاد کر لیں جب کہ نفس الامر میں اتنی حدیثیں ہیں ہی نہیں، تو وہ بالکل رفع ہو جاتی ہے۔ ایسا وہم صرف ان لوگوں کو ہی ہو سکتا ہے جو اصل حقیقت سے شناسا نہیں یا اس پر پردہ ڈالے ہوئے ہیں اور محدثینؒ پر بلا بیانِ اصلیت تنقید کرتے ہیں اور گویا وہ زبانِ حال و قال سے یہ کہتے ہیں کہ

طولِ شبِ فراق کا افسانہ چھیڑیے
لیکن بیانِ زلفِ پریشان نہ کیجئے
قارئینِ کرام یہ بات بخوبی معلوم کر چکے ہیں کہ متونِ احادیث کی تعداد لاکھوں تک نہیں پہنچتی بلکہ وہ ہزاروں ہی میں منحصر ہے۔ چنانچہ جلیل القدر ائمہ حدیث میں سے حضرت امام سفیان ثوریؒ، امام شعبہؒ بن الحجاجؒ، امام یحیٰی بن سعید ن القطانؒ، امام عبد الرحمٰن بن مہدیؒ، اور امام احمد بن حنبلؒ کا متفقہ فیصلہ ہے:
ان جملۃ الاحادیث المسندۃ عن النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم صحیحۃ بلا تکرار اربعۃ الآف و اربعۃ مأۃ حدیث۔ (توضیح الافکار ص ۶۲ طبع مصر الامیر الیمانیؒ)
اس حوالہ سے روز روشن کی طرح یہ بات آشکارا ہو گئی ہے کہ متونِ احادیث مرفوعہ صرف ہزاروں میں بند ہیں۔ ہاں تمام مرفوع اور موقوف آثار وغیرہ کو ملا کر اور حضراتِ محدثین کرامؒ کی اصطلاح کے موافق سند اور روات کو ملحوظ رکھ کر لاکھوں تک پہنچ جاتی ہیں۔ حضراتِ صحابہ کرامؓ اور حضراتِ تابعینؒ کے زمانہ میں سند مختصر تھی اس لیے تعداد بھی کم تھی، اور فقہی ابواب پر کتبِ حدیث کی تدوین اور اس کے بعد کے دور میں چونکہ اسانید طویل ہو گئیں لہٰذا تعداد بھی زیادہ ہو گئی۔ طلبۂ علم کو یہ نکتہ ذہن سے نہیں نکالنا چاہیئے۔

ایک مسلم حکمران کیلئے جناب رسالتمآب ﷺ کی ہدایات

مولانا سید وصی مظہر ندوی

حضرت عمرو ابن حزم انصاری خزرجی ان نوجوان صحابیوں میں سے ہیں جن کے جوہرِ قابل کو دیکھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نوعمری ہی میں بڑی اہم ذمہ داریوں پر مامور فرمایا۔ ان کی عمر ابھی ۱۷ سال تھی کہ ان کو اہم سفارتی ذمہ داریوں پر مقرر کیا گیا۔ چنانچہ نجران کے وہ عیسائی پادری جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مناظرہ کے لیے آئے تھے اور جو اپنے علم پر بڑے نازاں تھے، ان کے علاقہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرو ابن حزم کو عامل (حاکم)، محصل (ریونیو افسر)، اور معلّم (مبلغ اور مربی) کی حیثیت سے بھیجا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات سے صرف چند ماہ قبل ان کو نجران (یمن) میں گورنر مقرر کرتے ہوئے جو تحریری ہدایات دی تھیں ان کو امام ابو جعفر دیبلی سندھی متوفی ۳۲۲ھ نے ’’مکاتیب النبی صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ کے نام سے اپنے ایک مجموعہ میں شائع کیا ہے۔ یہ ہدایت نامہ حضرت عمرو ابن حزم کے خاندان میں محفوظ چلا آتا تھا، امام جعفر دیبلی کو ان کے پڑپوتے سے ملا ہے۔ حافظ ابن طولون نے اپنی کتاب ’’اعلام السائلین‘‘ میں امام ابوجعفر دیبلی کے پورے مجموعہ کو سند کے ساتھ نقل کیا ہے۔ اس کے علاوہ حضرت عمرو ابن حزم کے نام یہ ہدایت نامہ بہت معمولی فرق کے ساتھ احادیث اور تاریخ کی اکثر کتابوں میں محفوظ ہے۔
حضرت عمرو ابن حزم کے نام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ہدایت نامہ کا جو پس منظر بیان ہوا ہے اس سے ہدایت نامہ کی چند اہم خصوصیات واضح ہوتی ہیں:
(۱) حجۃ الوداع سے صرف چند ماہ قبل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ہدایات تحریری صورت میں جاری فرمائی تھیں، اس لحاظ سے یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری تحریری ہدایات ہیں۔
(۲) یہ انتہائی مستند ہیں۔ تحریر اور زبانی سند کے لحاظ سے یہ قطعی طور پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جاری کردہ ہدایات ہیں جن کے بارے میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔
(۳) خوش قسمتی سے ہم کو یہ ہدایات ایک سندھی محدث امام ابو جعفر دیبلی کے ذریعے سے حاصل ہوئی ہیں۔
(۴) ان ہدایات سے واضح ہوتا ہے کہ کسی حاکم کی نگاہ میں کن امور کا اولیت حاصل ہونی چاہیئے اور حاکم کو کن صفات کا حامل ہونا چاہیئے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ھذا بیان من اللہ و رسولہ ’’یا ایھا الذین امنوا اوفوا بالعقود‘‘۔
’’اللہ کے نام سے جو رحمٰن اور رحیم ہے۔ یہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلان ہے: اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، عہد و پیمان کو پورا کرو‘‘ (القرآن)
عہد من عند النبی (صلی اللہ علیہ وسلم) لعمرو ابن حزم الانصاری حین بعثہ الی الیمن۔
’’عمرو بن حزم انصاری کو یمن بھیجنے کے موقع پر نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جانب سے یہ ہدایات عمرو ابنِ حزم کو دی جا رہی ہیں۔‘‘
(۱) امرہ بتقوی اللہ فی امرہ کلہ ’’ان اللہ مع الذین اتقوا والذین ھم محسنون‘‘۔
’’وہ اس کو حکم دیتے ہیں کہ وہ (عمرو ابن حزم) اپنے تمام معاملات و نظام میں اللہ سے ڈرتا رہے کیونکہ: اللہ ان کے ساتھ ہے جو (اس سے) ڈریں اور جو خوبی کے ساتھ اپنے کام انجام دیں‘‘ (القرآن)
(۲) وامرہ ان یاخذ الحق کما امرہ اللہ۔
’’وہ اس کو حکم دیتے ہیں کہ وہ (حکومت کے) واجبات اسی طرح وصول کرے جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس کو حکم دیا ہے۔‘‘
(۳) وان یبشر الناس بالخیر ویامرھم بہ۔
’’لوگوں میں بھلائی کی تلقین کرے اور اسی کا حکم دے۔‘‘
(۴) ویعلم الناس القراٰن ویفقھم فیہ۔
’’لوگوں کو قرآن سکھائے اور قرآن کی سمجھ پیدا کرے۔‘‘
(۵) وینھٰی الناس ان لا یمس احد القراٰن الا وھو طاھر۔
’’اور لوگوں کو اس بات سے منع کرے کہ کوئی شخص ناپاکی کی حالت میں قرآن کو ہاتھ لگائے۔‘‘
(۶) ویخبر الناس بالذی لھم والذی علیھم۔
’’اور لوگوں کو (صاف طور پر) باخبر کر دے کہ ان کے کیا حقوق ہیں اور کیا فرائض ہیں۔‘‘
(۷) ویلین للناس فی الحق، ویشتد علیھم فی الظلم، وان اللہ کرہ الظلم و نھٰی عنہ فقال: ’’الا لعنۃ اللہ علی الظالمین‘‘۔
’’لوگوں کے حقوق دینے میں نرمی کا رویہ اختیار کرے۔ (البتہ) اگر کوئی ظلم کرے تو اس پر سختی کرے۔ اللہ نے ظلم کو ناپسند فرمایا ہے اور اس سے منع فرمایا ہے، چنانچہ اس کا ارشاد ہے: سنو! ظالموں پر اللہ کی پھٹکار ہے۔‘‘
(۸) ویبشر الناس بالجنۃ وبعملھا۔
’’لوگوں میں جنت اور جنت دلانے والے اعمال کی تبلیغ کرے۔‘‘
(۹) وینذر الناس بالنار و بعملھا۔
’’اور لوگوں کو جہنم اور جہنم والے اعمال سے ڈرائے۔‘‘
(۱۰) ویستألف الناس حتیٰ یفقھوا فی الدین۔
’’اور لوگوں کی دلداری کرے تاکہ وہ دین کو سمجھنے کے لیے آمادہ ہوں۔‘‘
(۱۱) ویعلم الناس معالم الحج و سننہ و فرائضہ و ما امر اللہ بہ والحج الاکبر والحج الاصغر (وھو العمرۃ)۔
’’اور وہ لوگوں کو حج کے مناسک، اس کے طریقے اور اس کے فرائض سکھائے اور اللہ کے احکام کی تعلیم دے اور حجِ اکبر اور حجِ اصغر (عمرہ) سکھائے۔
(۱۲) وینھٰی الناس ان یصلی احد فی ثوب واحد الا ان یکون ثوبًا واحدًا یثنی طرفیہ علی عائقیہ۔
’’لوگوں کو اس بات سے منع کرے کہ وہ ایک چھوٹے سے کپڑے میں نماز ادا کریں، البتہ اگر کپڑا بڑا ہو اور اس کے دونوں کنارے دونوں شانوں پر ڈال لیے جائیں تو ایسا کیا جا سکتا ہے۔‘‘
(۱۳) وینھٰی ان یجتبی احد فی ثوب واحد فضی بفرجہ الی السماء۔
’’(نماز میں) کوئی شخص ایک کپڑا پہن کر اس طرح اکڑوں نہ بیٹھے کہ اس کی ستر کھلی ہوئی ہو۔‘‘
(۱۴) ولا یعقص احد شعر راسہ اذا اعضاء علی قضاء۔
’’اگر کسی نے اپنے بال بڑھا کر گدی پر لٹکا لیے ہوں تو ان کا (نماز میں) جوڑا نہ باندھے۔‘‘
(۱۵) وینھٰی اذا کان بین الناس صلح عن الدعا الی القبائل والعشائر و لیکن دعاءھم الی اللہ وحدہ لا شریک لہ فمن لم یدع الی اللہ و دعا الی العشائر و القبائل فلیعطفوا بالسیف حتی یکون دعاءھم الی اللہ وحدہ لا شریک لہ۔
’’اور لوگوں کے درمیان اگر (اختلاف ختم کرنے کے لیے) صلح ہو رہی ہو تو لوگوں کو اس بات سے منع کرو کہ وہ (اپنے اپنے) قبیلہ یا (اپنے اپنے) خاندان کا نعرہ لگائیں۔ ان کو صرف اللہ وحدہ لا شریک کا نعرہ لگانا چاہیئے۔ لیکن جو لوگ اللہ کا نعرہ نہ لگائیں اور خاندانوں اور قبیلوں کی طرف بلائیں تو ان کو تلوار کے ذریعے سے جھکایا جائے یہاں تک کہ وہ صرف اللہ وحدہ لا شریک کا نعرہ لگائیں۔‘‘
(۱۶) ویامر الناس باسباغ الوضوء وجوھھم وایدیھم الی المرافق وارجلھم الی الکعبین ویمسحوا برؤوسھم کما امر اللہ۔
’’اور وہ لوگوں کو حکم دے کہ وہ وضو میں اپنے چہروں کو اچھی طرح دھوئیں، ہاتھوں کی کہنیوں اور پیروں کے ٹخنوں تک پانی پہنچائیں، وہ اپنے سروں پر اس طرح مسح کریں جس طرح اللہ نے حکم دیا ہے۔‘‘
(۱۷) وامرہ بالصلوٰۃ لوقتھا واتمام الرکوع والخشوع ویفلس بالصبح ویھجر بالھاجرۃ حتٰی تمیل الشمس وصلوٰۃ العصر والشمس فی الارض مدبرۃ والمغرب حین یقبل اللیل ولا یؤخر حتٰی تبدو النجوم فی السماء والعشاء اول اللیل، وامرہ بالسعی الٰی الجمعۃ اذا نودی لھا، والغسل عند الرواح۔
’’اور انہوں نے (محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے) اس کو (عمرو ابن حزم کو) حکم دیا ہے کہ وہ نمازیں وقت پر ادا کرے، رکوع اور خشوع (قلبی جھکاؤ) کو مکمل کرے۔ نمازِ فجر اندھیرے میں ادا کرے، اور سورج کے مغرب کی جانب جھکنے سے قبل نمازِ ظہر ادا کرے، اور عصر کی نماز اس وقت ادا کرے جب دھوپ زمین سے واپس ہونا شروع ہو، اور رات کی آمد کے وقت مغرب ادا کرے اور مغرب میں اتنی تاخیر نہ کرے کہ ستارے ظاہر ہو جائیں، اور نمازِ عشا رات کے پہلے حصہ میں ادا کرے، اور اس کو یہ بھی حکم دیا ہے کہ جب جمعہ کی اذان ہو تو نماز کے لیے لپک کر پہنچے اور نمازِ جمعہ کے لیے جاتے وقت غسل کرے۔‘‘
(۱۸) وامرہ ان یاخذ من الغانم خمس اللہ۔
’’اور اسے حکم دیا ہے کہ وہ مالِ غنیمت میں سے اللہ کا مقرر کردہ خمس وصول کرے۔‘‘
(۱۹) وما کتب علی المؤمنین فی الصدقۃ من العقار۔ عشر ما سقٰی البعل و ما سقت السماء۔ وعلٰی ما سقٰی الغرب نصف العشر۔ وفی کل عشر من الابل مثلتان و فی کل عشرین من الابل اربع شیاہ۔ وفی کل اربعین من البقر بقرۃ۔ وفی کل ثلاثین من البقر جذع او جذعۃ۔ وفی کل اربعین من الغنم سائمۃ شاۃ۔ فانھا فریضۃ اللہ التی افترض علی المؤمنین فی الصدقۃ فمن زاد خیرًا فھو خیر لہ۔
’’اور زکوٰۃ کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر جو فرض کیا ہے اسے وصول کرے جس کی تفصیل اس طرح ہے: جس زمین کو دریا یا بارش نے سیراب کیا ہو اس کی پیداوار کا دسواں حصہ۔ اور جس کو ڈول (مصنوعی آبپاشی) سے سیراب کیا گیا ہو اس کی پیداوار کا بیسواں حصہ۔ ہر دس اونٹوں پر دو بکریاں اور ہر بیس اونٹوں پر چار بکریاں۔ اور ہر چالیس گائیوں پر ایک گائے۔ اور ہر تیس گائیوں پر ایک نر یا مادہ ایک سالہ بچہ۔ اور ہر چالیس چرنے والی بھیڑوں پر ایک بکری۔ زکوٰۃ کے سلسلہ میں یہ اللہ تعالیٰ کا مقرر کردہ ضابطہ ہے جو اس نے اپنے بندوں پر نافذ کیا ہے، جو شخص اس سے زیادہ دے تو وہ خود اس کے لیے بہتر ہے۔‘‘
(۲۰) وانہ من اسلم من یھودی او نصرانی اسلامًا خالصًا فانہ من المؤمنین لہ مثل ما لھم و علیہ ما علیھم۔ و من کان علٰی نصرانیتہ او یھودیتہ فانہ لا یفتنن علیھا۔
وعلٰی کل ما لم ذکر او انثٰی حرا و عبد دینار ران او عرضہ ثیابًا۔ فمن ادی ذٰلک فان لہ ذمۃ اللہ و ذمۃ رسولہ و من منع ذٰلک فانہ عدو للہ و رسولہ وللمومنین جمیعًا۔
’’یہ کہ اگر کوئی یہودی یا عیسائی مخلصانہ طور پر مسلمان ہو جائے اور دینِ اسلام اختیار کر لے تو وہ مومنوں میں سے ہو گا۔ اس کے وہی حقوق ہوں گے جو اہلِ ایمان کے ہوتے ہیں اور اس کے فرائض بھی انہی جیسے ہوں گے۔ اور جو اپنی نصرانیت یا یہودیت پر قائم رہے تو اس کو اس کے دین سے پھیرنے کے لیے سختیوں میں نہیں ڈالا جائے گا۔
اور ہر بالغ مرد یا عورت آزاد یا غلام سے ایک پورا دینار یا اس کی قیمت کے مساوی کپڑے بطور جزیہ وصول کیے جائیں گے۔ جو شخص یہ (جزیہ) ادا کر دے گا تو وہ اللہ اور اس کے رسول کی امان میں ہو گا، اور جو اس کو دینے سے انکار کرے گا تو وہ اللہ، اس کے رسول اور مومنین سب کا دشمن سمجھا جائے گا۔‘‘

توریت و انجیل وغیرہ کو کیوں پڑھنا چاہیئے؟

سید ناصر الدین محمد ابو المنصورؒ

امام محمد اسماعیلؒ بخاری نے تحریف کی تفسیر یوں کی ہے کہ تحریف کے معنی ہیں بگاڑ دینے کے اور کوئی شخص نہیں ہے جو بگاڑے اللہ کی کتابوں سے لفظ کسی کتاب کا مگر یہودی اور عیسائی خدا کی کتاب کو اس کے اصلی اور سچے معنوں سے پھیر کر تحریف کرتے تھے، انتہٰی۔ یہ قول اخیر صحیح بخاری میں ہے۔
شاہ ولی اللہ صاحبؒ اپنی کتاب فوز الکبیر میں لکھتے ہیں کہ اہلِ کتاب توریت اور کتبِ مقدسہ کے ترجمہ میں (یعنی تفسیر میں) تحریف کرتے تھے نہ کہ اصل توریت میں اور یہ قول ابن عباس کا ہے، انتہٰی۔
امام فخر الدین رازیؒ اپنی تفسیر کبیر میں سورہ مائدہ آیت ۱۴ کی تفسیر کرتے ہیں کہ تحریف سے یا تو غلط تاویل مراد ہے یا لفظ کا بدلنا مراد ہے اور ہم نے اوپر بیان کیا ہے کہ پہلی مراد بہتر ہے کیونکہ جو کتاب بار بار نقل ہو چکی اس میں تغیر لفظ کا نہیں ہو سکتا، انتہٰی۔
تفسیر درمنشور میں ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے وہب بن منبہ سے روایت کی ہے کہ توریت و انجیل جس طرح کہ ان دونوں کو اللہ نے اتارا تھا اسی طرح ہیں ان میں کوئی حرف بدلا نہیں گیا لیکن یہودی بہکاتے تھے لوگوں کو معنوں کے بدلنے اور غلط تاویل کرنے سے جیسا کہ آج کل کے بعض مسلمان علماء و مشائخ جو قرآن کی ایک آیت کو پکڑ کر الگ الگ تاویل اپنے اپنے مطلب کے موافق کرتے ہیں اور آپس میں خوب جھگڑتے ہیں، اور حالانکہ کتابیں تھیں وہ جن کو انہوں نے اپنے آپ لکھا تھا اور کہتے تھے کہ وہ اللہ کی طرف سے ہیں، اور وہ اللہ کی طرف سے نہ تھیں، مگر جو اللہ کی طرف سے کتابیں تھیں وہ محفوظ تھیں ان میں کچھ بدلنا نہیں ہوا تھا۔ انتہٰی۔ سورہ بقرہ رکوع ۹ میں جو یہ آیت ہے:
فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ یَکْتُبُوْنَ الْکِتَابَ بِاَیْدِیْھِمْ ثُمَّ یَقُوْلُوْنَ ھٰذَا مِنْ عِنْدِ اللہِ۔
’’پس افسوس اوپر حال ان لوگوں کے جو لکھتے ہیں کتاب اپنے ہاتھ سے پھر کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس سے ہے۔‘‘ ۔۔۔ انتہٰی۔
بیضاوی میں ہے:
ولعلہ اراد بہ ما کتبوہ من التاویلات الزانیۃ (شہادت قرآنی فصل ۷۲ ص ۱۰۲)
’’اور اس سے شاید وہ مراد ہے جو تاویلات یعنی تفسیریں انہوں نے (یعنی یہودیوں نے) سزائے زنا کی بابت لکھیں۔‘‘ انتہٰی۔
اس کے سوا ایسی کتاب کو محرف نہیں کہہ سکتے کیونکہ وہ تو سرے ہی سے جھوٹی کتاب ہے اسے تحریف سے کیا علاقہ لیکن میں کہتا ہوں کہ یہ علماء اسلام کا حسنِ عقیدت نسبت توریت و انجیل کی ہے ورنہ تحریف لفظی بلکہ اکثر آیتیں ان مقدس کتابوں میں ملائی جانا معتبر علماء اہل کتاب کے اقوال سے بصحت تمام ثابت ہے۔ باوجود اس کے مسلمانوں کو توریت و انجیل سے واقف ہونا ضروری ہے تاکہ اہلِ کتاب سے مناظرہ کر سکیں اور ان کتابوں کی عظمت سمجھنا تاکہ ایمان جاتا نہ رہے خاص کر اس واسطے کہ ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشر سے خبر دینے والے خدا پرستوں میں یہی کتابیں ہیں۔ اس کے سوا علماء اسلام اگر توریت وغیرہ کو محرف کہیں تو اس کا نصارٰی کب یقین کریں جب تک معتبر نصرانی علماء توریت و انجیل کی تحریف کا اقرار کریں۔ اس جگہ میں نے یہ سب قول مفسرین وغیرہ ان مسلمانوں کی ترغیب کے واسطے نقل کیے جو سمجھتے ہیں کہ توریت و انجیل کو آنکھ سے بھی نہ دیکھنا چاہیئے اگرچہ الف لیلٰی وغیرہ پڑھنا ناجائز نہیں ہے نعوذ باللہ۔
اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنَاھُمُ الْکِتَابَ یَتْلُوْنَہٗ حَقَّ تِلَاوَتِہٖ اُولٰئِکَ یُؤْمِنُوْنَ بِہٖ وَمَنْ یَکْفُرْ بِہٖ فَاُولٰئِکَ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ ۔۔الخ (سورہ بقرہ رکوع ۱۴)
’’جو لوگ کہ دی ہم نے ان کو کتاب، پڑھتے ہیں اس کو، حق پڑھنے اس کے کا، یہ لوگ ایمان لاتے ہیں ساتھ اس کے، اور جو کوئی کفر کرے ساتھ اس کے، پس یہ لوگ وہی ہیں زیاں پانے والے‘‘۔ انتہٰی
اب مثال کے لیے دو ایک مقام اور بیان کروں جس سے معلوم ہو گا کہ اہلِ اسلام کو یہود و نصارٰی اور دنیا کی سب قوموں سے بحث و مناظرہ کرنا مقتضائے حمیت اسلام ہے، بلکہ خدا ہی نے مسلمانوں کو مناظرہ کا طرز تعلیم کیا ہے کہ یہود و نصارٰی کے عقائد کی تردید اور ان کی کتابوں کے مضامین سکھلائے۔ چنانچہ قال اللہ تعالٰی جل شانہٗ:
اِنَّ ھٰذَا لَفِی الصُّحُفِ الْاُوْلٰی صُحُفِ اِبْرَاھِیْمَ وَ مُوْسٰی۔
’’بالتحقیق یہ ہے پہلی کتابوں میں، کتابوں میں ابراہیم اور موسٰی کی۔‘‘
اب اگر کوئی توریت سے ناواقف ہو تو کیسے کہہ سکے کہ صحفِ ابراہیمؑ و موسٰیؑ میں یہی تعلیمیں نجات اور آخرت وغیرہ کی مرقوم ہیں جو قرآن مجید میں ہیں۔ اس لیے اپنے دعوے کے اعتبار کی غرض سے مسلمانوں کو توریت و انجیل سے واقف ہونا چاہیئے۔
وَاِنَّہٗ لَتَنْزِیْلُ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ o نَزَلَ بِہِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُ o عَلٰی قَلْبِکَ لِتَکُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ o بِلِسَانٍ عَرَبِیٍّ مُّبِیْنٍ o وَاِنَّہٗ لَفِیْ زُبُرُ الْاَوَّلِیْنَ o اَوَلَمْ یَکُنْ لَّھُمْ اٰیَۃً اَنْ یَّعْلَمَہٗ عُلَمَآءُ بَنِیْ اِسْرَآئِیْلَ o
’’اور بالتحقیق یہ اترا ہے رب العالمین سے۔ اتارا روح الامین نے۔ اسے تیرے دل پر کہ تو بھی ایک ڈرانے والا ہو۔ صاف زبان عربی میں۔ اور بالتحقیق یہ ہے پہلوں کے صحیفوں میں۔ اور کیا ان کے واسطے یہ نشانی نہیں ہوئی کہ بنی اسرائیل کے علماء اسے جانتے ہیں؟‘‘ (سورہ شعرا)
اب اگر پہلوں کے صحیفوں سے ہم واقف نہ ہوں تو کس طرح یہود و نصارٰی سے کہہ سکیں کہ یہ پہلوں کے صحیفوں میں ہے۔ اس کی تفسیر میں بیضاوی نے لکھا ہے کہ اس کا ذکر یا اس کے معنے کتب متقدمین میں مرقوم ہیں، اور کتب کو تو سب جانتے ہیں کہ توریت و انجیل ہے۔ چنانچہ کشاف میں صاف لکھا ہے ’’کالتورات والانجیل‘‘ یعنی کتب سے مراد توریت و انجیل ہیں۔
اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْتُمُوْنَ مَآ اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَیِّنَاتِ وَالْھُدٰی مِنْ بَّعْدِ مَا بَیَّنَّاہُ لِلنَّاسِ فِی الْکِتَابِ اُولٰئِکَ یَلْعَنُھُمُ اللہُ وَیَلْعَنُھُمُ اللَّعِنُوْنَ۔
’’بالتحقیق جو لوگ چھپاتے ہیں ان صاف باتوں اور ہدایتوں کو جو ہم نے نازل کیں، بعد اس کے کہ ہم کتاب میں ظاہر کر چکے ان لوگوں کے واسطے، انہیں لعنت کرے گا اللہ اور لعنت کریں گے لعنت کرنے والے۔‘‘(سورہ بقرہ)
اس آیت کا شانِ نزول ابن اسحاق کی روایت سے سیرت ہشامی میں اس طرح پر ہے کہ معاذ بن جبل اور سعد بن معاذ اور خارجہ بن زید نے بعضے یہودی عالموں سے توریت کی کسی بات کا استفسار کیا لیکن یہود اس کو ان سے چھپا گئے اور بتلانے سے انکار کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی کہ جو لوگ چھپاتے ہیں الخ۔ اور تفسیر حسینی میں ہے ’’ان الذین‘‘ علماء یہود جو بوجہ حسد ’’یکتمون‘‘ چھپاتے ہیں ’’ما انزلنا‘‘ جو ہم نے اتارا ’’من البینات‘‘ توریت میں واضح دلائل سے ’’والھدٰی‘‘ راہ دکھانا یعنی ہدایت ’’من بعد ما بیناہ‘‘ بعد اس کے کہ ہم نے اسے بنی اسرائیل کے لیے ہدایت کے طور پر بیان کیا ’’فی الکتاب‘‘ توریت میں یعنی ہم واضح کرتے ہیں اور یہ چھپاتے ہیں۔‘‘
دیکھیئے کہ مسلمانوں سے جو یہودیوں نے توریت کو چھپایا تو یہ بات خدا کو ایسی ناپسند معلوم ہوئی کہ اس شدت کے ساتھ ان پر لعنت کی۔ یہاں سے ظاہر ہے کہ خدا کو توریت سے مسلمانوں کو واقف کرنا کس قدر منظور تھا کہ اسے چھپانے کے سبب یہودیوں پر ایسی سخت لعنت فرمائی۔ اور پھر اسی سورۃ میں حق تعالٰی فرماتا ہے:
اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْتُمُوْنَ مَآ اَنْزَلَ اللہُ مِنَ الْکِتَابِ۔
یہاں بھی یہودیوں کو وہی الزام دیا گیا ہے کہ انہوں نے غرض دنیاوی کے واسطے ان شہادتوں کو جو توریت میں دینِ اسلام اور حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت تھیں ظاہر نہ کیا۔ پس اگر مسلمان توریت کے ان مضمونوں سے واقف ہو جاتے تو یہودیوں کے چھپانے سے پھر نقصان کیا تھا؟ مگر چونکہ اس زمانہ میں توریت عربی زبان میں ترجمہ نہ ہوئی تھی (دیکھو تواریخ ابو الفدا جو ساتویں صدی ہجری میں تھا) اس سبب سے ان باتوں کا اعلان صرف یہودیوں پر ہی منحصر تھا۔ اور جب کہ وہ ایسی باتوں کو چھپاتے تھے تو اللہ جل شانہ نے ان کی اس حرکت سے سخت ناراض ہو کر فرمایا کہ
’’اُولٰئِکَ مَا یَأْکُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِھِمْ اِلَّا النَّارَ وَلَا یُکَلِّمُھُمُ اللہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَلَا یُزَکِّیْھِمْ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ o  وَاِذْ اَخَذَ اللہُ مِیْثَاقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتَابَ لَتُبَیِّنُنَّہٗ لِلنَّاسِ وَلَا تَکْتُمُوْنَہٗ فَنَبَذُوْہُ وَرَآءَ ظُھُوْرِھِمْ ۔۔ الخ
’’یعنی وہ آگ کھاویں گے اپنے پیٹ میں اور خدا ان سے بات نہ کرے گا قیامت کے دن اور نہ پاک کرے گا ان کو، اور ان کے واسطے ہو گا سخت عذاب۔ اور جب خدا نے اقرار لیا ان لوگوں سے جنہیں کتاب دی گئی تھی کہ اس کو بیان کریں بنی آدم سے اور نہ چھپاویں، پس انہوں نے پھینک دیا وہ اقرار اپنی پیٹھ کے پیچھے۔‘‘ (آل عمران)
یہاں بھی وہی الزام ہے جو قرآن میں بار بار توریت وغیرہ کے مضامین چھپانے پر یہودیوں کو دیا گیا لیکن اگر توریت کے مضامین اس وقت میں مسلمانوں میں مشتہر ہو گئے ہوتے تو پھر یہودیوں کے چھپانے کی شکایت کیا تھی اور اسلام کی فضیلت ظاہر کرنے کے لیے اور کسی تدبیر کی حاجت کیا ہوتی؟ کیونکہ حضرت موسٰی نے توریت میں بنی اسرائیل سے صاف فرمایا تھا کہ ایک نبی میری مانند ہو گا، تم اس کی سننا۔ لیکن اب وہ دن آیا ہے کہ کتابوں کی کثرت اور ہر زبان میں توریت کا ترجمہ ہو جانے کے سبب اسلام کی فضیلت اور حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر توریت و انجیل سے ایسی صاف اور واضح بیان ہوتی ہے جو اس سے پیشتر کبھی نہ ہوئی تھی۔ غرض اسی طرح الزام توریت چھپانے کی بابت یہودیوں کو بار بار بار دیا گیا ہے۔ دیکھو سورہ انعام وغیرہ۔
وَسْئَلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رُّسُلِنَا۔
’’یعنی پوچھ ان رسولوں سے جنہیں ہم نے تجھ سے پہلے بھیجا۔‘‘ (زخرف)
پوچھ ان رسولوں سے یعنی ان کی امت سے۔ بیضاوی میں لکھا ہے ان کی امت اور ان کے علماء دین سے۔ اور کشاف میں ہے کہ یہود و نصارٰی کی امت سے۔ اب خیال کیجئے کہ ان سے پوچھنا ازروئے توریت و انجیل ہی تھا یا کچھ ان کی بنائی ہوئی باتوں سے غرض تھی؟
فَاِنْ کُنْتَ فِیْ شَکٍّ مما انزلنا الیک فاسئل الذین یقرؤن الکتاب من قبلک۔
’’یعنی پس اگر تو ہے شک میں اس سے جو اتارا ہے ہم نے تیری طرف تو پوچھ ان سے جو پڑھتے ہیں کتاب تجھ سے پہلے والی۔‘‘ (سورہ یونس)
چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُمّی محض تھے، کوئی کتاب نہ پڑھ سکتے تھے، اور اگر پڑھ سکتے تو توریت عربی زبان میں نہ تھی بلکہ عبرانی میں تھی۔ اس سبب سے حکم ہوا کہ پوچھ ان سے۔ اور جو شخص آپ توریت پڑھ سکتا ہو تو پوچھنے کی نسبت یہ زیادہ بہتر ہے کہ وہ آپ توریت میں دیکھ لے۔ مگر اب جو لوگ کہ ان آیتوں سے تو انکار نہیں کر سکتے مگر توریت کے پڑھنے سے گبھراتے ہیں ان کی مثال ایسی ہے کہ خط کو تو نہیں کھولتے صرف قاصد سے زبانی خبر پوچھتے ہیں۔ یعنی بڑی تسلی کو چھوڑ کر ادنٰی تسلی کی طرف دوڑتے ہیں۔
وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰی تِسْعَ اٰیَاتٍ بَیِّنَاتٍ فَسْئَلْ بَنِیْ اِسْرَآئِیْلَ۔
’’یعنی اور بالتحقیق ہم نے موسٰی کو نو نشانیاں صاف دیں پس پوچھ بنی اسرائیل سے۔‘‘
اب دیکھئے کہ ان نشانیوں کا ذکر توریت میں بہت تفصیل کے ساتھ ہے۔ اگر کوئی توریت سے خوب واقف نہ ہو تو کیونکر یہ نو گنوا سکے کیونکہ قرآن مجید میں اسرائیلی کتابوں کا حوالہ دیا گیا ہے، پس ضرور ہے کہ انہیں کتابوں سے ثابت کیا جائے۔ پوچھ بنی اسرائیل سے یعنی توریت کے پڑھنے والوں سے، ورنہ ان کی زبانی باتوں کا کیا اعتبار ہو سکتا ہے۔ دوسرے یہ کہ حضرت موسٰیؑ انہیں لوگوں کے درمیان تھے پس انہیں کی کتابوں سے اس کا ثبوت بہت مستحسن ہے اور یہاں بھی یہی بات ہے کہ پوچھ اہلِ کتاب سے۔ اسی طرح سورہ نحل میں ہے:
فَاسْئَلُوْا اَھْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ۔
’’پس پوچھ اہل ذکر (یعنی اہل کتبِ الٰہی) سے اگر نہیں جانتے ہو۔‘‘
اور اسی طرح سورہ انبیاء رکوع ۱ میں ہے اور سورہ آل عمران میں بھی ہے۔
اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْکِتَابِ یُدْعُوْنَ اِلٰی کِتَابِ اللہِ لِیَحْکُمَ بَیْنَھُمْ ثُمَّ یَتَوَلّٰی فَرِیْقٌ مِّنْھُمْ وَھُمْ مُعْرِضُوْنَ۔
’’یعنی کیا تو نے نہیں دیکھے وہ لوگ جن کو ملا ہے حصہ کتاب میں سے، وہ بلاتے ہیں اللہ کی کتاب کی طرف تاکہ وہ فیصلہ کرے درمیان ان کے، پھر الٹے پھرے ایک فریق ہٹ کر اور وہ منہ پھیرنے والے ہیں۔‘‘
تفسیر حسینی میں ہے کہ ایک دن حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کے ایک گروہ کو اسلام کی دعوت  دی۔ نعمان بن ابی اوفی نے کہا میں آپ کے ساتھ اپنے علماء دین کی موجودگی میں مناظرہ کروں گا۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ صحیفہ توریت سے لایا جائے جو کہ میری صفت اور نعت پر مشتمل ہے۔ انہوں نے اس سے انکار کیا اور وہ آیات نہ لائے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ توریت پڑھتے ہیں پھر منہ پھیر لیتا ہے ان میں سے ایک گروہ جو رؤسا ہیں اور یہ حق سے اعراض کرتے ہیں، انتہٰی۔ یہاں سے مناظرہ کا قانون صحیح دانشمندوں کو معلوم ہو جائے گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں سے مناظرہ کے وقت قرآن مجید پیش نہیں کیا کیونکہ وہ اسے نہیں مانتے تھے بلکہ انہیں کی کتاب منگوائی۔ اب وہ لوگ جنہیں توریت و انجیل سے واقف کاری نہیں ہے کیونکر اپنے کسی دعوٰی کے ثبوت میں ایسی جرأت کر سکتے ہیں، اور جو لوگ اس سے بے پروا ہیں ثابت ہے کہ انہیں دینِ اسلام اور خدا اور رسولؐ کے نام کی حمایت سے بھی کچھ غرض نہیں ہے اور فعلِ رسول اللہؐ کو بھی پسند نہیں کرتے۔
(از نوید جاوید ص ۵۶ تا ۶۱)

علامہ عبد اللہ یوسف علی کی تفسیرِ قرآن کا ایک مطالعہ

محمد اسلم رانا

انگریزی میں ترجمہ و تفسیر قرآن مجید پر بہت تھوڑا کام ہوا ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ پروفیسر علامہ عبد اللہ یوسف علی کے ترجمہ اور مختصر حواشی کا بڑا چرچا ہے۔ یورپی اور امریکی ممالک میں یہی تفسیر مقبول ہے۔ قریباً سبھی اشاعتی اور تبلیغی ادارے بشمولیت مسلم ورلڈ لیگ اسی کو چھاپتے اور شائع کرتے ہیں۔ اندریں حالات اس ترجمہ اور تفسیری حواشی کا مختصر سا مطالعہ موزوں معلوم ہوتا ہے۔

قصہ ہاروت اور ماروت کا

بابل کے لوگ سحر اور جادوگری کے فن میں شدید دلچسپی لیتے تھے۔ جب ان علوم کا زور حد سے بڑھ گیا اور عوام کے اذہان میں ادیانِ حق، انبیاء کرام اور اولیاء صالحین کی حیثیت خلط ملط اور خراب ہو کر کاہنوں، ساحروں، عاملوں اور شعبدہ بازوں کی سطح پر گر گئی تو اللہ تعالیٰ نے حق و باطل کے ان دو علمبردار گروہوں کے درمیان نمایاں فصل و امتیاز کرانے اور اصلاحِ احوال کے لیے ہاروت اور ماروت دو فرشتوں کو انسانی صورت و قالب میں بھیجا جو اپنی اصل حقیقت کے لحاظ سے فرشتے تھے، لیکن جب ایک غرض خاص کے ساتھ انسانوں کے درمیان رہنے بسنے کے لیے بھیجے گئے تو ظاہر ہے کہ ان کی شکل و شبہات، رنگ و روپ اور جسم و قالب انسانوں ہی کا ہو گا۔ یہ انسان نما ملائکہ کسی پر بھی حقیقتِ سحر کو نہ کھولتے، کسی کو بھی کلماتِ سحر پر مطلع نہ کرتے جب تک اسے متنبہ نہ کر دیتے۔
ہوتا یہ تھا کہ فسق پیشہ اور بدکردار لوگ ہاروت اور ماروت کو گھیرتے اور ان سے اصرار کر کے دریافت کرتے کہ آپ ہمیں سحر سے تو روک رہے ہیں لیکن یہ تو بتائیے کہ سحر کہتے کسے ہیں؟ وہ ہیں کون سے اعمال جن پر سحر کا اطلاق ہوتا ہے؟ فرشتے انہیں تنبیہ و یاددہانی کے بعد کہ اس فن سے کام لینا کفر ہے، جب انہیں آگاہ و خبردار کرنے کے لیے ان اعمال و اقوال کی نقل و حکایت ان کے سامنے کرتے تو یہ فسق پیشہ لوگ اس سے یہ فائدہ اٹھاتے کہ خود اس فن ہی کے سیکھ جانے کا کام لینے لگتے۔ بالکل ایسی ہی بات جیسے آج کوئی کسی فقیہ عالم سے دریافت کرے کہ رشوت اور سود کا اطلاق کن کن آمدنیوں پر ہوتا ہے اور پھر ان سے بچنے کے بجائے الٹا انہیں طریقوں پر عمل شروع کر دے۔ (تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو تفسیر ماجدی)
اس ضمن میں ایک اخباری مضمون یاد پڑا، جاپانی پولیس نے عوام کو چوروں کے ہتھکنڈوں سے آگاہ کرنے کے لیے ایک کتاب لکھ کر رکھ دی۔ ایک چور وہ کتاب پڑھ کر اس پر نوٹ لکھ گیا ’’شکریہ! مجھے چوری کرنے کا ایک طریقہ یہ کتاب پڑھ کر معلوم ہوا‘‘۔ ان فرشتوں کی ڈیوٹی لوگوں کو جادوگری سے بچنے کے لیے اس کی حقیقت و ماہیت سے آگاہ کرنا تھا، وہ جادو سکھانے کی غرض سے نہیں بھیجے گئے تھے، ان کا جادو سیکھ جانا لوگوں کی اپنی بدکرداری تھی۔ علامہ صاحب لکھتے ہیں:
’’ہاروت اور ماروت کو مجازًا فرشتے کہا گیا ہے، اس کے معنی ہیں علم، سائنس (یا حکمت) اور طاقت والے اچھے لوگ۔ جدید زبانوں میں اچھی اور خوبصورت عورت کو ’’فرشتہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ قدیم روایات میں فرشتوں کو مؤنث بتایا جاتا تھا اور جو صفات میں نے بیان کی ہیں ان سے منسوب کی جاتی تھیں۔ جس سے مطلب اچھائی، علم، حکمت اور طاقت تھا۔ ان کا دور وہ زمانہ فرض کیا جا سکتا ہے۔ یہودیوں کی کتاب مدراش میں دو فرشتوں کی کہانی ہے جو حق تعالیٰ کی اجازت سے دنیا میں آئے لیکن ہوس کا شکار ہو گئے۔ بطور سزا بابل میں پاؤں باندھ کر لٹکا دیے گئے۔ ابتدائی عیسائیوں میں بھی گنہگار فرشتوں کا سزا پانا مانا جاتا تھا۔ ممکن ہے یہاں ایسی روایات کی طرف اشارہ ہو۔‘‘
اس موقع پر انہوں نے (حاشیہ نمبر ۱۰۴) بائبل سے جو دو حوالے دیے ہیں، حسبِ ذیل ہیں:
(۱) ’’کیونکہ جب خدا نے گناہ کرنے والے فرشتوں کو نہ چھوڑا بلکہ جہنم میں بھیج کر تاریک غاروں میں ڈال دیا تاکہ عدالت کے دن تک حراست میں رہیں۔‘‘ (پطرس ۲: ۴)
(۲) ’’اور جن فرشتوں نے اپنی حکومت کو قائم نہ رکھا بلکہ اپنے خاص مقام کو چھوڑ دیا ان کو اس نے دائمی قید میں تاریکی کے اندر روز عظیم کی عدالت تک رکھا ہے۔‘‘ (یہوداہ کا عام خط ۱: ۶)
ہاروت اور ماروت کے قرآنی قصہ کے بارے میں علامہ صاحب کے مذکورہ خیالات خاصے گمراہ کن ہیں۔ ان کا مدراش اور بائبل کے مذکورہ حوالوں کی طرف انتساب علامہ صاحب کے علمی افلاس اور فکری تہی دامنی کی غماز ہے۔ نافرمانی قرآنی فرشتوں کا شیوہ نہیں ہے۔ ان بیچاروں کو تو جو حکم ملے فقط اسی پر عمل کرتے ہیں (تحریم ۶)۔ فرشتوں کو عورتیں کہنا مشرکینِ عرب کا شیوہ تھا (زخرف ۱۹)۔

بائبل کی مشکوک پوزیشن

جس زمانہ میں علامہ صاحب نے تفسیر قرآن مجید لکھی، برصغیر میں انگریزی اقتدار عروج پر تھا۔ انگریزوں کے مذہب اور افکار و نظریات کی برتری کا دور دورہ تھا۔ بائبل سے متعلق اس کے اپنے پیروکاروں کے اعتقادات ڈانواڈول تھے۔ علمِ تنقید اور سائنسی علوم نے بائبل کے بیانات کی دھجیاں اڑا کر رکھ دی تھیں۔ بائبل پر سے لوگوں کا اعتقاد اٹھ چکا تھا۔ حتٰی کہ حضرت ابراہیمؑ، موسٰیؑ اور عیسٰیؑ محض فرضی اور تخیلاتی ہستیاں شمار کیے جانے لگے تھے۔ پادری منیلی لکھتے ہیں:
’’بعض مصنفین کا خیال تھا کہ بزرگانِ اسرائیل اور ان کے آباؤ اجداد کی کہانی من گھڑت افسانہ ہے اور ابراہیم محض خیالی ہستی ہے۔‘‘ (ہماری کتب مقدسہ ۔ مصنفہ پادری جی ٹی منیلی ایم اے۔ ترجمہ پروفیسر جے ایس امام الدین، مسز کے ایل ناصر ۔ مطبوعہ ۱۹۸۱ء ص ۱۱۷)
ڈاکٹر گور رقم طراز ہیں:
’’ہمارا ایمان بائبل میں اس درجہ بڑھ گیا کہ ہم ماننے لگے کہ اس کا ہر ایک بیان صحیح ہے۔ ان ایام میں اس ایمان کو بڑا دھچکا لگا ہے۔ صرف یہی نہیں کہ سائنس نے ناممکن کر دیا ہے کہ ہم مانیں کہ دنیا کی یا ہماری نسل کی بائبل کے بیان کے مطابق پیدائش ہوئی۔ صرف یہی نہیں کہ اسرائیلیوں کی مذہبی رسوم اور باتیں دوسری قوموں میں بھی پائی جانی معلوم ہو گئی ہیں۔ صرف یہی نہیں کہ پرانے عہد نامہ (عیسائی بائبل کے پہلے حصہ۔اسلم) کی تاریخی باتیں اب محض کہانیاں ثابت ہو گئی ہیں۔ بلکہ نکتہ چینی نے یہاں تک حملہ کر دیا ہے اور وہ یہاں تک نئے عہد نامہ (عیسائی بائبل کے دوسرے حصے۔اسلم) کی تحلیل کر رہی ہے کہ ہمارے نجات دینے والے (مسیح۔اسلم) کی شخصیت پر بھی شک کیا جا رہا ہے۔ یہ صاف ہے کہ پیدائش، باغ عدن، آدم کے گناہ کرنے اور طوفان (نوح۔ اسلم) کے بیان میں ہمیں سائنس کی صحت نہیں مل سکتی۔ یہ ویسی ہی کہانیاں ہیں جیسے کہ پرانے زمانے کے لوگ دنیا کی پیدائش کے بارے میں بنا لیا کرتے تھے اور اسرائیلی لوگوں نے بھی دوسرے لوگوں کی طرح ایسی کہانیاں بنائیں۔‘‘ (مسائل کلیسا ۔ مصنفہ ڈاکٹر گور ۔ ترجمہ مسٹر جے ڈی عنبر تحصیلدار ۔ مطبوعہ ۱۹۲۷ء ۔ صفحات ۹۵، ۱۰۶)
یہودی مفسر جے ایچ ہرٹز نے لکھا:
’’ایک نسل پہلے تک بائبل کے نقاد کتاب پیدائش میں بزرگوں (ابراہیمؑ، اسحاقؑ اور یعقوبؑ۔ اسلم) کی کہانیوں کو جھوٹ و جعل سازی کا پلندہ قرار دیتے تھے۔ زیادہ سے زیادہ انہیں روایات کہتے، پر مستند تاریخ کا درجہ دینے کو قطعاً تیار نہ تھے۔ ان بیانات کی معقول وضاحت کرنے سے بڑی بڑ اور کفر کوئی نہیں تھا۔ ایک نقاد نے ابراہیمؑ کو ’’لاشعور کی تخلیق‘‘ کہا، دوسرے نے بے جان پتھر پکارا، تیسرے نے ستاروں والے آسمان، اور چوتھے نے مقدس مقام قرار دیا۔‘‘ (یہودی تفسیر بائبل مطبوعہ ۔۔۔)

مسلم متاثرین

برصغیر (پاک و بھارت) میں مسلمانوں سے اقتدار چھن چکا تھا، انگریزوں کی غلامی سے نجات حاصل کرنے کی سب سے بڑی کوشش تحریک آزادیٔ ہند ۱۸۵۷ء ناکام ہو چکی تھی، مسلمان محکوم اور شکستہ دل تھے، ملّی محاذ پر کام کرنے والے اصحاب بھی فکری سطح پر انگریزوں سے متاثر و مرعوب ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور قرآنِ حکیم کو بھی اپنے آقاؤں کی بائبل کا سا خیال کرنے لگے۔ اس ضمن میں جسٹس مولانا محمد تقی عثمانی نے خوب لکھا:
’’انیسویں صدی کے آغاز میں مغربی فلسفے کی سرسری معلومات کی بنیاد پر عالمِ اسلام کے بعض جدت پسند حضرات اسلامی عقائد میں سے ان تمام چیزوں کا انکار کر بیٹھے تھے جنہیں مغرب کے لوگ توہم پرستی کا طعنہ دیا کرتے ہیں۔ اس وجہ سے انہوں نے قرآن مجید میں ایسی ایسی تحریفات کی ہیں جنہیں دیکھ کر دل لرز اٹھتا ہے، اور اس غرض کے لیے قرآن کریم کی تقریباً آدھی آیات کو مجاز، استعارہ اور تمثیل قرار دے دیا ہے۔ مثال کے طور پر قرآن کریم میں دسیوں مقامات پر حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق، ان کے آگے فرشتوں کے سجدہ ریز ہونے اور ابلیس کے انکار کا واقعہ بیان ہوا ہے، لیکن چونکہ مغرب میں ڈارون کا نظریۂ ارتقا اس دور میں کافی مقبول ہو رہا تھا اور اس کی کچھ ناتمام سی اطلاعات ہندوستان میں بھی پہنچ رہی تھیں، اس لیے انہوں نے یہ دعوٰی کر دیا کہ قرآنِ کریم نے حضرت آدم علیہ السلام، فرشتوں اور ابلیس کا جو واقعہ بیان فرمایا ہے وہ محض ایک تمثیل ہے اور آدم علیہ السلام کا کوئی شخصی وجود ہے نہ فرشتوں کا اور نہ ابلیس کا۔ چنانچہ سرسید احمد خان لکھتے ہیں: ’’آدم کے لفظ سے وہ ذاتِ خاص مراد نہیں ہے جس کو عوام الناس اور مسجد کے ملّا باوا آدم کہتے ہیں بلکہ اس سے نوعِ انسانی مراد ہے‘‘ وغیرہ وغیرہ۔‘‘ (علوم القرآن ۔ مصنفہ مولانا محمد تقی عثمانی ۔ مطبوعہ ۱۴۰۸ھ ص ۴۰۲)
مولانا صاحب مزید رقم طراز ہیں:
’’سرسید اور ان کے ہم نواؤں نے پورے قرآن کو شاعرانہ تمثیلات کا مجموعہ بنا کر رکھ دیا۔‘‘ (ایضاً ص ۳۷۸)
راقم الحروف کو مرزا غلام احمد قادیانی کا کوئی مطالعہ نہیں ہے البتہ ان کے ایک دستِ راست محمد علی لاہوری کی تفسیر ’’بیان القرآن‘‘ دیکھنے کا موقع ملا ہے جو مجاز تمثیل، تشبیہ، استعارہ، روحانیت، مراد، مطلب، یعنی کی اصطلاحات کے گرد گھوم کے رہ گئی ہے۔ علامہ عبد اللہ یوسف علی بھی اسی دور کی پیداوار تھے، بائبل کے مندرجات کے حشر سے واقف تھے، زمانہ کی ہوا، فضا اور اپنے پیشروؤں سے ضرور متاثر تھے، جس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ العیاذ باللہ۔

عیسائیت سے متاثر

(۱) سورۃ بقرہ آیت ۶۳ کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ کوہِ طور پر حضرت موسٰیؑ کو دس احکام اور شریعت دی گئی تھی۔
واضح ہو کہ یہودی (اور عیسائی) عقیدہ کے مطابق آپؑ کو دو تختیاں ملی تھیں، ان پر دس احکام لکھے ہوئے تھے (خروج ب ۲۰) باقی شریعت آپؑ کو منہ زبانی بتائی جاتی تھی (خروج ب ۲۵) اور آپؑ وہ احکام آ کر قوم کو سناتے تھے (خروج ب ۲۵) اور لکھتے تھے (استثنا ۳۱: ۲۴)۔ مسلمانوں کے ہاں دس احکام اور شریعت کا جدا جدا نظریہ نہیں ہے۔ تختیاں کافی تھیں، لفظ ’’اَلْواح‘‘ (جمع کسر اَلْ کے ساتھ) آیا ہے، ان پر مکمل شریعت لکھی ہوئی تھی، تورات وہی تختیاں تھیں۔ علامہ صاحب کا بحیثیت مسلمان یہودی نظریہ بیان کرنا سخت غلطی ہے۔
(۲) عیسائیوں کے ہاں قاعدہ ہے کہ سن عیسوی کو انگریزی میں AD لکھ دیتے ہیں جو لاطینی اصطلاح Anno Domini کا مخفف ہے۔ اس کے معنی ہیں In the year of our Lord یعنی ہمارے خداوند یسوع مسیح کے سال میں۔ مثلاً ۴۰۰ء کو انگریزی میں 400AD لکھیں گے۔ یہودی سنِ عیسوی کو AD کی بجائے سیدھا CE یعنی Christian Era لکھ دیتے ہیں۔ ہمارے علامہ صاحب سنِ عیسوی کو AD لکھ کر اپنے آپ کو یہودیوں سے بھی گیا گزرا ثابت کر گئے۔
(۳) عیسائی یسوع کو Jesus اور مسیح کو Christ لکھتے ہیں۔ علامہ صاحب کا ان کی تقلید کرنا کھٹکتا ہے۔ Jesus کی بجائے Isa اور Christ کی جگہ سیدھا Majih لکھنا چاہیئے تھا۔
(۴) حاشیہ ۳۹۷۲ میں ’’خدا کی بادشاہت‘‘ Kingdom of God اور نوٹ ۵۷۲۸ میں بشارت اسلام Gospel of Islam خالصتاً عیسائی اصطلاحات ہیں۔
عربی دائیں سے بائیں لکھی جاتی ہے اور انگریزی بائیں سے دائیں۔ علامہ صاحب نے انگریزی کو ترجیح دی اور اس کی تقلید میں قرآنی متن بھی بائیں سے دائیں لکھتے گئے۔ ان کا یہ رویہ ایک عام آدمی کو بھی بری طرح کھٹکتا ہے۔

قادیانیت سے متاثر

(۱) سورۃ النساء آیت ۱۵۸ میں مسیحؑ کے خدا کی طرف اٹھائے جانے کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
’’اس آیت کی قطعی تفسیر میں اختلاف رائے ہے۔ الفاظ ہیں: یہودیوں نے مسیح کو قتل نہ کیا بلکہ اللہ پاک نے اسے اپنی طرف اٹھا لیا (رَفَعَ) ایک مکتبِ فکر One School کی رائے میں مسیح پر عام انسانی موت وارد نہیں ہوئی تھی بلکہ آپ آج تک جسم کے ساتھ آسمان میں زندہ ہیں۔ دوسرے مکتبِ فکر کا کہنا ہے کہ آپؑ وفات پا گئے تھے (تَوَفَّیْتَنِیْ۔ المائدہ ۱۲۰) لیکن اس وقت نہیں جب آپ کو صلیب دیا جانا فرض کیا گیا تھا۔ آپؑ کے ’’خدا کی طرف اٹھائے جانے‘‘ کا مطلب ہے کہ یہودی نظریہ کے مطابق ایک مجرم کی حیثیت سے بدنام کیے جانے کے بجائے اللہ تعالیٰ نے آپؑ کو اپنے رسول کی حیثیت سے سرفراز فرمایا۔ اگلی آیت بھی دیکھیں یہی رَفَعَ کا لفظ سورۃ ۱۰۴ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بھی مذکور ہے۔‘‘
اس موقع پر علامہ صاحب خاصے بہک گئے۔ ’’اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی طرف اٹھا لیا‘‘ امت کا صحیح اجماعی عقیدہ ہے۔ اسے ایک مکتب فکر کی طرف منسوب کرنا اس عقیدہ اور اس کے ماننے والوں کی اہمیت کو گھٹانا ہے۔ علامہ صاحب ان الفاظ کو نوکِ قلم پر لاتے کترا گئے۔ اس کے مقابلہ میں مٹھی بھر قادیانیوں کو دوسرا مکتب فکر قرار دینا مبالغہ آرائی ہے۔ حق تعالیٰ حضرت مسیحؑ کے درجات بلند فرمائے اور انہیں لاکھ نبوت و رسالت سے نوازے اسے کون روک سکتا ہے اور اس سے کسی دوسرے پر کیا اثر ہو سکتا ہے؟ یہ معانی آیت کے ماحول اور منظر میں فٹ نہیں بیٹھتے۔ یہودی آپ کو قتل کرنا چاہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں نے (انہیں اپنے اس ناپاک ارادے میں کامیاب نہیں ہونے دیا اور) مسیحؑ کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ حضرتؑ کو نبوت وقتِ مذکور پر نہیں ملی تھی۔ آپ اس سے پہلے نبوت سے نوازے جا چکے تھے۔ یہ تو آپ کا آخری وقت تھا۔ آپؑ کی نبوت پر ہی تو جھگڑا چل رہا تھا۔ اس آخری وقت میں نبوت دیے جانے کا نظریہ مضحکہ خیز ہے۔ اگر پیشتر ازیں آپ ایک عام آدمی کی سی سادہ زندگی بسر کر رہے تھے تو یہودی آپؑ کی جان کے دشمن کیوں تھے؟
اگر علامہ صاحب نے ذکر کر دیا تھا تو قادیانی نظریہ پر تنقید ضروری تھی۔ موجودہ صورتِ حال علامہ صاحب کی پوزیشن کو مشکوک بناتی ہے۔ سورہ المائدہ آیت ۱۲ (توفیتنی) اور سورہ الم نشرح ۴ کے حوالے دینے سے بھی یہ اشارہ ملتا ہے کہ علامہ صاحب کا اپنا میلان قادیانی عقیدہ کی طرف تھا۔ ایک معمولی قاری بھی سورہ الم نشرح آیت ۴ کا ترجمہ پڑھ کر فورًا اسے غیر متعلق قرار دے گا، وہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر بلند کرنا لکھا ہے، خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی طرف بلند کرنا نہیں۔
(۲) سورۃ بقرہ آیت ۶۵ اصحابِ سبت کے واقعہ میں مولوی محمد علی کا باقاعدہ نام لے کر اس سے استفادہ کرتے ہیں۔
(۳) ان کے ہاں جِن کوئی باقاعدہ مخلوق نہیں ہیں۔ ’’روح‘‘ غیر مرئی یا مخفی قوت ہیں (حاشیہ ۹۲۹)۔ سورہ جِن (نوٹ ۵۷۲۸) میں اپنے استاد محمد علی کی پیروی (دیکھیں بیان القرآن تمہید سورہ الجن) میں جِن ان لوگوں کو کہتے ہیں جو عرب میں اجنبی تھے۔

تمثیل کی تعریف

تمثیل ایک فرضی کہانی ہوتی ہے جس کی مدد سے کوئی اخلاقی سبق سکھانا مقصود ہوتا ہے۔ پادری ڈملو لکھتے ہیں:
’’ایک حکایت، افسانہ جو انسانی زندگی کے قوانین اور رسوم و روایات کے موافق ہوتا ہے اس کی مدد سے انسانوں کے فرائض یا خدا کی باتیں بالخصوص خدا کی بادشاہت کی ماہیت اور تاریخ مجازًا بیان کی جاتی ہے۔ (تفسیر بائبل ۔ مطبوعہ ۱۹۴۴ء)

قرآن میں تمثیلوں کا نظریہ

(۱) علامہ صاحب کے نزدیک قصۂ اصحابِ کہف ایک تمثیل تھی (کہف ۹)۔
(۲) ذوالقرنین کے بارے لکھتے ہیں ’’یہ کہانی تمثیل سمجھی جاتی ہے‘‘ (سورہ کہف ۸۳)
(۳) سورہ بقرہ آیت ۷۱ والے گائے کے قصہ کو تمثیل کہتے ہیں۔
(۴) سورہ یس کے دوسرے رکوع میں بیان کردہ واقعہ کو بھی تمثیل لکھتے ہیں۔
(۵) ’’میں کسی تمثیل سمجھی جانے والی کہانی جیسا کہ ذوالقرنین کا قصہ ہے بارے تاریخی یا جغرافیائی امور کا تعلق نہیں سمجھتا۔ درحقیقت قرآن مجید میں بیان کردہ تمام کہانیاں اور حکایات بطور تماثیل روحانی معنوں کے لیے ہیں۔ ان کی صحیح تاریخوں، شخصیات اور مقامات سے متعلق گرماگرم بحثیں اور بڑے بڑے دعاوی خارج از امکان ہیں‘‘ (ص ۷۶)۔
(۶) سورہ آل عمران آیت ۴۹ میں معجزاتِ مسیحؑ کی فہرست ہے۔ فاضل مفسر نے ایک ایک معجزہ کو خالصتاً قادیانی نظریہ روحانیت مجاز اور استعارہ کی نذر کیا ہے۔ مثلاً یہ کہ آپ روحانی مُردوں کو زندہ کرتے اور روحانی بیماروں کو شفا دیتے تھے۔ یہ لکھتے وقت نہ سوچا کہ ایسے روحانی مُردوں اور بیماروں کو سبھی انبیاء کرام اور علماء و مبلغین آج تک زندہ کرتے اور شفا دیتے رہتے ہیں۔ مسیحؑ کے بارے اتنے دھڑلے سے بیان کرنے اور تخصیص کی کیا ضرورت تھی؟

قرآن مجموعۂ تماثیل نہیں ہے

قرآن کریم تاریخ اور دستان گوئی سے قطعی مختلف کتاب ہے۔ قرآن حکیم میں بیان کردہ قصوں سے مقصود قارئین کو سبق سکھانا ہے۔ روحانی و اخلاقی نتائج اور اسباق مرتب کرنا ہے۔ عبرت آموزی اور بصیرت افروزی ہے۔ زمان و مکان اور تاریخی و جغرافیائی لوازمات کو بے جا طوالت اور غیر ضروری قرار دے کر نظرانداز کر دیا جاتا ہے جس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان قصوں کا ان سے فی الواقع کوئی تعلق نہیں تھا۔
قرآن کریم کی مخاطب عرب میں بسنے والی تین جماعتیں مشرکین، یہودی اور عیسائی تھیں۔ ہر قرآنی واقعہ میں سے کسی نہ کسی قوم سے متعلق تھا جو اسے جانتی بوجھتی تھیں اور اس خاص واقعہ سے اس کی اصلاح مقصود تھی۔ اگر تاریخ میں (کسی وجہ سے) بعض واقعات کا تذکرہ یا تفصیل نہیں ملتی یا ہم بعض کہانیوں کا تاریخی اور جغرافیائی اقدار سے موزوں تعلق نہیں پا سکتے تو اس کا یہ مطلب ہرگز ہرگز نہیں ہے کہ وہ کہانیاں محض فرضی داستانیں تھیں، تمثیلیں تھیں۔ واضح رہے کہ قرآن ٹھوس زندہ حقائق پر مشتمل کتاب ہے۔ اگر یہ واقعات سچ مچ ظہور پذیر نہیں ہوئے تھے تو انہیں کون اہمیت دے گا۔ ان سے سبق سیکھنے کی طرف کون مائل ہو گا۔ ان کہانیوں سے مراد صحابۂ کرام کی ڈھارس بندھانا، انہیں حوصلہ دلانا، ان کے ایمان مضبوط بنانا اور نصرتِ خداوندی کی امیدوں پر کھڑا کرنا تھا۔ ایسے میں وہ کہہ سکتے تھے کہ قرآن خود تو ہوائی فائر کر رہا  ہے جب کہ ہم زندہ سلامت اور صحیح آلام و مصائب میں گھرے ہوئے ہیں۔ تپتی ریت، گرم پتھروں اور دہکتے کوئلوں پر لٹائے جاتے ہیں، دھوئیں کے عذاب، مارکٹائی، قتل، ہجرت، اعزہ و اقارب سے دوری، بھوک پیاس اور قید و بند کی سزائیں بھگتنی پڑ رہی ہیں۔
یہ حالات قرآنی قصوں کو بے وقعت بناتے، قرآن حکیم کی اہمیت گھٹاتے، قرآنی فرمودات و تعلیمات پر سے مسلمانوں کا اعتماد اٹھواتے، اسلام قبول کرنے والوں کی دل شکنی کرتے، اور اشاعتِ اسلام میں رکاوٹ بنتے، جس کا لازمی نتیجہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ناکامی کی صورت میں نکلتا۔ جبکہ صورتِ حال اس کے بالکل برعکس ہے۔ تمام دکھوں اور مصیبتوں کی یلغار کے باوجود مسلمان ایمان کی مضبوطی اور تعداد میں بڑھتے ہی بڑھتے گئے جس کا صاف مطلب ہے کہ نزولِ قرآن کے دنوں قصص قرآن محض بچگانہ لوریاں، چکنی چپڑی باتیں، حسین داستانیں اور مقدس افسانے (Pious Fictions) (کاتب سے عبارت رہ گئی) سچے اور حقیقی فی الواقع ہو چکنے اور گوشت پوست کے انسانوں کے ساتھ پیش آنے والے ٹھوس واقعات سمجھے جاتے تھے۔ ان سے شہہ پا کر مسلمان سختیوں اور تکلیفوں کو پرکاہ کے برابر بھی اہمیت نہ دیتے، نصرتِ الٰہی کے منتظر رہتے جو ہجرتِ مدینہ اور بالآخر فتح مکہ کی صورت میں آ کر رہی فللہ الحمد علیٰ ذالک۔
وہ قصے آج بھی اپنی اہمیت و افادیت کے اعتبار سے تروتازہ اور شگفتہ ہیں اور زمانہ نے ان کے مقاصد کو اجاگر کیا ہے اور ان کی بصیرت افروزی کو جِلا بخشی ہے، ان کی واقفیت پر مہرِ تصدیق ثبت کی ہے۔ اللہ کریم کو ایسے کوتاہ فہم اور پست ذہن لوگوں کی آمد کا پتہ تھا چنانچہ قرآن پاک میں جگہ جگہ قصص قرآن کی ضرورت و حکمت کے اشارات ملتے ہیں۔ صاف اور واشگاف الفاظ میں بتایا گیا کہ قرآن مجید میں پہلے گذر چکے لوگوں کے حالات بیان ہیں (نور ۳۴)۔ پہلی امتوں اور افراد کے قصے موضوع اور من گھڑت نہیں تھے، ان کی خبریں تھیں، حالات تھے (طہ ۹۹)۔ حضرات زکریاؑ، یحیٰیؑ، مسیحؑ اور مریمؑ کی باتوں کو غیب کی خبریں بتایا (آل عمران ۴۴)۔ نوحؑ کا قصہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کی قوم جانتی نہیں تھی۔ یہ غیب کی خبریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بذریعہ وحی بتائی گئیں کہ انجام متقیوں کے لیے ہے، نہ ڈرنے والے برباد کیے جائیں گے، ڈرنے والوں کو (بعد از تکلیف) نعمتیں ملیں گی (ہود ۴۹)۔ سابقہ رسولوں اور ان کی امتوں کے قصوں میں عقل والوں کے لیے عبرت ہے (یوسف ۱۱۱)۔ قومِ لوطؑ کی بربادی میں اہلِ بصیرت کے لیے نشانیاں ہیں (حجر ۷۵)۔ قرآن مجید میں ڈرانے کی باتیں مذکور ہیں تاکہ لوگ بری راہوں سے بچیں (طہ ۱۱۳)۔ گذشتہ انبیاء کرامؑ کے حالات حضور صلی اللہ علیہ وسلم (اور آپؐ کے ساتھیوںؓ) کے دل مضبوط بنانے کے لیے سنائے گئے (ہود ۱۲)۔ نزولِ قرآن کا مقصد ہے کہ ایمان والوں کو ثابت قدم رکھے اور مسلمانوں کے حق میں ہدایت اور بشارت بن جائے (نحل ۱۰۲)
ان بلند و بالا مقاصد کا تمثیلوں کی مدد سے حصول ناممکنات سے ہے۔ قرآنی قصص برحق ہیں۔ آب و گل کی اس دنیا میں جیتے جاگتے چلتے پھرتے تاریخی انسانوں کو سچ مچ پیش آئے تھے، ان سے درسِ عبرت صرف اور صرف اسی صورت میں ممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان ان سے کماحقہٗ مستفید ہوتے تھے۔

فرض کرنا

علامہ صاحب نے پہلوں کی کوئی لت چھوڑی نہیں جس میں مبتلا نہ ہوئے ہوں۔
(۱) سورۃ بقرہ آیت ۳۰ پر فرشتوں سے متعلق لکھتے ہیں ’’ہم انہیں جذبہ یا جوش کے بغیر فرض کر سکتے ہیں ۔۔۔ ہم فرض کر سکتے ہیں کہ ان کی اپنی خواہشات کچھ نہیں تھیں‘‘۔
(۲) ہاروت و ماروت کا دور بھی فرض کرنے کی فکر میں ہیں۔
(۳) انہیں فرض کرنے کا بڑا چسکہ تھا۔ سورہ اعراف آیت ۱۵۰ میں ہے کہ حضرت موسٰیؑ نے قوم کی بچھڑا پرستی دیکھ کر شدید غصہ کی حالت میں تختیاں ڈال دیں، وہ ٹوٹی نہیں تھیں، ثابت رہیں۔ غصہ اترنے پر آپؑ نے اٹھا لیں لیکن ازروئے بائبل وہ تختیاں ٹوٹ گئی تھیں (خروج ۳۲: ۱۰)۔ اس موقع پر علامہ صاحب لکھتے ہیں ’’یہ فرض کرنا کہ اللہ پاک کے نبیؑ نے تختیاں توڑ دیں (کفر نہیں تو) ایک لحاظ سے خلافِ ادب ہے۔‘‘
قرآن مجید سے تختیوں کا ثابت رہنا ثابت ہے۔ بائبل میں واضح ہے کہ تختیاں ٹوٹ گئی تھیں۔ تختیوں کا توڑنا فرض کرنے کی کوئی ضرورت، موقع محل اور حاجت ہی نہیں تھی۔
(۴) ’’بہت سے ممتاز مفسرین نے اس شہر کو انطاکیہ فرض کیا ہے‘‘ (سورہ یس ۱۳)۔ حالانکہ فرض کسی نے بھی نہیں کیا، سبھی مفسرین وہ بستی انطاکیہ ہی سمجھتے اور لکھتے ہیں، ان کی غلط فہمی علیحدہ سوال ہے۔
یاد رہے کہ ’’فرض کرنے‘‘ کی لت نے عیسائیت میں عروج پایا تھا۔

سکندر اعظم کی نبوت

نامور یونانی فاتح سکندر اعظم بت پرست تھا، ارسطو کا معتقد تھا، ایرانی بادشاہ داراگشتاسپ کی بیٹی سے شادی کی، دعوت میں کثرتِ شراب نوشی سے جاں بحق ہوا تھا۔ اسے خواہ مخواہ مسلمان ہی نہیں بہتیرا کچھ ثابت کرنے پر ادھار کھائے بیٹھے ہیں، اس ضمن میں لکھ گئے ’’ایتھوپیا کی روایاتی کہانیاں سکندر اعظم کو ایک بڑا پیغمبر بیان کرتی ہیں‘‘ (ص ۷۶۰)۔
ایسی روایات ناقابلِ التفات ہیں، دنیا میں کیا کچھ نہیں ہوتا رہا۔ پادری منیلی لکھتے ہیں ’’سیاسی مذہب کی ایک صورت بادشاہوں کی پرستش تھی جو یونانی دنیا میں سکندر اعظم کے ساتھ وجود میں آئی۔ خطابات مثلاً فیض رساں اور نجات دہندہ جو اس کے جانشینوں کو دیے گئے ۔۔۔۔ اگوستس کی پوجا دیوتا کے طور پر کی جاتی تھی۔ روم اور لاطینی مغرب میں بادشاہ یکے بعد دیگرے مرنے کے بعد دیوتاؤں کی فہرست میں شمار کیے گئے۔‘‘ (ایضاً ص ۳۸۹)
سکندر اعظم کو سورہ کہف کا ذوالقرنین ثابت کرنا آخر اتنا ضروری کیا ہے؟ بس اتنا جاننا کافی ہے کہ وہ کوئی مسلمان بادشاہ تھا۔ قرآن کریم کے مخاطب جانتے تھے۔ ہم نہیں جان سکتے تو کوئی حرج کی بات نہیں۔

سادہ ترجمہ

علامہ صاحب کا ترجمہ قرآن بھی کوئی قابلِ تعریف کوشش معلوم نہیں ہوتی۔ معاف فرمائیں ہمیں تو بعض مقامات پر پروفیسر صاحب کے مقابلہ میں پادری جے ایم راڈویل ایم اے کا ترجمہ اچھا لگا۔ دو مثالیں بغرضِ ملاحظہ درج ذیل ہیں:

(۱) سورۃ رعد آیت اول

’’یہ کتاب (عظیم) کی آیتیں ہیں اور جو کچھ آپ پر آپ کے پروردگار کی طرف سے نازل کیا جاتا ہے وہ بالکل سچ ہے لیکن اکثر انسان ایمان نہیں لاتے‘‘ (تفسیر ماجدی)
علامہ صاحب:
These signs (or verses) of the Book that which hath been revealed onto thy from the Lord is the truth; but most men believe not.
راڈویل:
These are the signs of the Book! and that which hath been sent down to thee from they Lord is the very truth; but the most men will not believe.

(۲) سورۃ مریم آیت ۳

’’(قابلِ ذکر ہے) وہ وقت جب انہوں نے اپنے پروردگار کو خفیہ طور پر پکارا‘‘ (تفسیر ماجدی)
علامہ صاحب:
Behold! He cried to his Lord in secret.
راڈویل:
When he called upon his Lord with secret calling.

دردمندانہ مشورہ

القصہ زیر مطالعہ تفسیر خاصی گمراہ کن ہے، اس کی عام اشاعت نقصان دہ ہے، لہٰذا تبلیغی اداروں اور قرآن کریم کے ناشرین کرام کی خدمت میں دردمندانہ مشورہ ہے کہ وہ علامہ عبد اللہ یوسف کے ترجمہ و تفسیر قرآن کی بجائے مولانا عبد الماجد دریابادی کے انگریزی ترجمہ و تفسیر کی اشاعت فرمائیں۔ اس تفسیر کی غلطیوں کی نشاندہی ہمارے ایک فاضل دوست سید شیر محمد (گلبرگ لاہور) نے کر دی ہے۔ راقم الحروف کا حصہ ڈالنا ابھی باقی ہے۔ دبیدہ التوفیق۔ مولانا نے عام مسائل اور بالخصوص مذاہبِ عالم کے حوالہ سے جتنا مطالعہ پیش کر دیا ہے، مستقبل کے کسی مفسر سے اس کی قطعی توقع نہیں ہے۔ علم و فضل اٹھتا جا رہا ہے۔ حق تعالیٰ ہمیں اس بیش بہا علمی خزینہ کی حفاظت اور اس سے مستفید ہونے کی توفیق بخشے، آمین ثم آمین۔

قرآنی آیات کو مسخ کرنے کی گھناؤنی حرکت

ادارہ

ایک منظم سازش کے تحت جس طرح مسلمانوں کو ہدفِ ملامت بنایا جا رہا ہے اور مذہبِ اسلام میں طرح طرح کے کیڑے نکالنے کی ناپاک کوشش کی جا رہی ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ ان شر پسندوں کی یہی کوشش رہتی ہے کہ جہاں ایک طرف اسلام کی تعلیمات سے لوگوں کو دور رکھا جائے وہیں دوسری طرف مسلمانوں میں مذہب اسلام سے ایک قسم کی بدظنی پیدا کی جائے اور اشتعال انگیزی پیدا کر کے اپنا الّو سیدھا کیا جائے۔ ابھی حال ہی میں پندرہ روزہ ہندی جریدہ ’’سرتیا‘‘ مئی ۱۹۹۰ء (دوئم) میں سراج الحق نے اپنے مضمون ’’سعودی عرب میں ناری کی دردشا‘‘ میں جس طرح قرآنی آیات کو توڑ مروڑ کر گھناؤنے انداز سے پیش کرنے کی مذموم حرکت کی ہے اس سے مسلمانوں میں سخت غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے کے لیے ہندی جریدہ ’’سرتیا‘‘ نے یہ مضمون ایک سازش کے تحت شائع کیا ہے۔
آج دشمنانِ اسلام نے مسلمانوں کی دل آزاری کرنے اور اسلام کے بارے میں لغویات بکنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی ہے۔ انہوں نے اپنی اس گھناؤنی سازش میں ایسے نام نہاد مسلمانوں کو بھی شامل کر لیا ہے اور ان کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں جو سرِعام ننگے ہو کر شہرت حاصل کرنے میں یقین رکھتے ہیں۔ مذہب اسلام سے ان کا دور کا واسطہ بھی نہیں۔ مالی فائدے اور جھوٹی شہرت کے بھوکے ایسے لوگ دراصل دشمنانِ اسلام کے آلہ کار ہیں جو دھوکہ دینے کے لیے مسلمانوں جیسا نام رکھے ہوئے ہیں۔ اس سلسلہ میں بھوپال کے مقبول واجد نے اپنے ایک مضمون میں توجہ دلاتے ہوئے کہا ہے کہ منکرِ خدا سراج الحق نے جس طرح کھلم کھلا مقدس قرآن پر حملہ کر کے اس کے غلط معنی پہنائے ہیں اور اہلِ اسلام پر بھی تہمتیں عائد کی ہیں وہ عالمِ اسلام کے لیے ایک کھلا چیلنج ہے۔ ایک منصوبہ بند سازش کے تحت ہندی جریدے سرتیا نے یہ مضمون شائع کیا تاکہ مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا جا سکے۔ اس سازش میں سلمان رشدی کا پیروکار سراج الحق بھی شامل ہے جو نام کے اعتبار سے مسلمان ضرور لگتا ہے لیکن خود کو اس نے دائرہ اسلام سے الگ کر لیا ہے جیسا کہ اس نے مضمون کے شروع میں تعارف کراتے ہوئے لکھا ہے:
’’میں خود ایک مذہبی مسلمان تھا اور سبھی مذہبی امور عقیدت سے انجام دیتا تھا لیکن مسلمانوں کی جائے پیدائش اور مسلم برادری کے لیڈر سعودی عرب کی حالت دیکھ کر اسلام سے میری تمام عقیدت ختم ہو گئی۔‘‘
سراج الحق نے اپنے پورے مضمون میں سعودی عرب اور وہاں کے لوگوں کے بارے میں ایسی تصویر پیش کی ہے جو اس کی گندی ذہنیت کی علامت ہے لیکن سب سے زیادہ قابلِ مذمت اور قابلِ اعتراض بات اس نے قرآنی آیات کو توڑ کر اور اپنی طرف سے من مانی ڈھنگ سے پیش کرتے ہوئے مندرجہ ذیل کے اقتباسات میں کہی ہے۔ وہ کہتا ہے:
’’خاص طور پر باہر سے آئی ہوئی عورتوں کا جو جسمانی استحصال ہوتا ہے اس کی یہاں (سعودی عرب میں) بڑی گھناؤنی شکل ہے جو کوئی بھی مذہب سماج برداشت نہیں کر سکتا۔ یہ استحصال ان کی ذہنیت بن چکا ہے اور کیوں نہ ہو جب کہ قرآن کے ۲۳ ویں باب میں صاف صاف لکھا ہے کہ جو شخص اللہ کے بتائے ہوئے راستوں پر چلے گا اسے مرنے کے بعد جنت میں انتہائی دلکش اور کم عمر غلام ملیں گے۔ واضح رہے کہ ان ممالک میں کم عمر اور خوبصورت غلاموں سے غیر فطری جنسی فعل کا عورت سے صحبت سے زیادہ چلن ہے۔‘‘
’’اسی طرح جب ان کا مذہب ہی فطری اور غیر فطری دونوں تعلقات کو تسلیم کر رہا ہے تو ایسا کیوں نہ کریں۔ اگر نہیں کریں گے تو نام نہاد جنت سے محروم ہو جائیں گے۔‘‘
شیطان رشدی کے چیلے سراج الحق نے جس طرح من گھڑت طریقے سے مقدس قرآن کی سورہ یس میں کم عمر غلام اور ان کی بدفعلی کا ذکر کیا ہے وہ اس کے گندے ذہن کی عکاسی کرتا ہے، اس سورہ میں کسی غلام کا ذکر ہی نہیں آیا ہے۔ سورہ یس میں جس جگہ اس نے اپنی غلط بیانی، بدکلامی کا ثبوت دیا ہے اس کا ترجمہ ملاحظہ ہو:
’’اور تم کو بھی بس ان کاموں کا بدلہ ملے گا جو تم کیا کرتے تھے۔ اہلِ جنت بے شک اس دن اپنے مشغلوں میں خوش دل ہوں گے۔ وہ اور ان کی بیویاں سایوں میں مسہریوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے۔ ان کے لیے وہاں ہر طرح کے میوے ہوں گے اور جو وہ مانگیں گے ان کو ملے گا۔ ان کو پروردگار کی جانب سے سلام فرمایا جائے گا۔‘‘
ہاں قرآن شریف کے ۲۷ ویں پارے میں غلمان کا ذکر اس طرح ضرور آیا ہے:
’’وہ لوگ سونے کے تاروں سے بنے ہوئے تختوں پر تکیہ لگائے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔ ان کے آس پاس ایسے لڑکے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے، یہ چیزیں لے کر آمد و رفت کیا کریں گے۔‘‘
اس بات سے ثابت ہو جاتا ہے کہ مذہب اسلام پر لگائے گئے الزام شرپسندی کے سوا اور کچھ نہیں ہے جو ایک خاص مقصد کے تحت لگائے جا رہے ہیں۔ جہاں تک اسلامی تعلیمات کا سوال ہے اور معاشرے میں عورتوں کے حقوق کی حفاظت کی بات ہے تو سنجیدہ قسم کے غیر مسلم تک بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ اسلام نے عورتوں کو جو مقام عطا کیا وہ دوسرے مذاہب میں بھی نہیں ہے۔ رہا سوال کسی ملک کی فرسودہ رسم و رواج اور سراج الحق جیسے بدکردار لوگوں کی بداعمالیوں کا تو اس سے مذہب اسلام کا کیا تعلق، ہر شخص کا فعل ہی اسی تک محدود ہے اور وہ اپنے اعمال کا ذمہ دار خود ہے۔
ملک کی موجودہ صورتحال میں جب کہ چاروں طرف بڑے بڑے مسائل کھڑے ہوئے، ایک خاص طبقہ کی یہی کوشش ہے کہ وہ مسلمانوں اور مذہب اسلام کے بارے میں فتنہ انگیز قسم کی باتیں کر کے مسلمانوں کے جذبات کو برانگیختہ کریں تاکہ وہ اصل مسائل کی طرف توجہ نہ دے پائے۔ کبھی قرآن میں تبدیلی کا فتنہ اٹھایا جاتا ہے، کبھی یکساں سول کوڈ کا شوشہ چھوڑا جاتا ہے، کبھی شیطان رشدی کی پذیرائی کی جاتی ہے، اور کبھی مسلم حکمرانوں کی تاریخ کے نام پر زہر گھولنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ان شرپسندوں میں بھیڑ کی کھال اوڑھے سراج الحق جیسے بھیڑیے بھی شامل ہو گئے ہیں۔ نجی مفاد اور جھوٹی شہرت کے لیے اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دینے کو تیار رہتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اور انتظامیہ اس معاملے کی صحیح جانچ کر کے قصور واروں کو گرفت میں لے اور حالات کو بد سے بدتر ہونے سے روکنے کے لیے جلدازجلد قدم اٹھائے ورنہ حالات مزید ابتر ہو سکتے ہیں۔

(ہفت روزہ ’’حرمت‘‘ اسلام آباد)

شعرِ جاہلی اور خیر القرون میں ارتقائے نعت

پروفیسر غلام رسول عدیم

شعر و شاعری عرب معاشرے کی ایک ناگزیر ضرورت تھی۔ قبائل و احزابِ عرب شاعر قبیلے کی آنکھ کا تارا، عزتِ نفس کا پاسبان اور غیرت کا نشان تھا۔ نہ صرف یہ بلکہ آج جاہلی عرب کے بارے میں جو کچھ معلومات ہمارے پاس موجود ہیں اس کا بیشتر حصہ انہی شعراء کے ملکۂ سخن کا مرہونِ منت ہے۔ بادیہ نشین عرب فطرت کے نہایت قریب تھے اس لیے ان کے اطوار و عادات میں فطری بے ساختہ پن بدرجۂ اتم موجود تھا۔ تکلف، تصنع اور مبالغہ آمیزی ان کی عادت کے خلاف تھی۔ بات میں کھرا پن ضرور مگر کھراپن لہجے کی صداقت ہوتا ہے۔ آج کل کی اصطلاح میں انہیں حقیقت پسندانہ رویے کا مالک کہنا چاہیے۔
ان کے اصنافِ سخن کو آسانی کے لیے ہم بڑی بڑی پانچ قسموں میں تقسیم کر سکتے ہیں: فخر، حماسہ، تشبیب، ہجا، مدیح۔

(۱) فخر

دنیا میں ہر قبائلی نظامِ فخر قبیلے کا طرۂ امتیاز رہا ہے۔ چنانچہ عرب بھی عصبیتِ جاہلی کے زیرِ اثر اپنے قبیلے کی برتری کا اظہار کرتے نہیں تھکتے تھے۔ بارہا مفاخرت و معاظمت کے معرکے پیش ہوئے۔ کبھی اجتماعی کبھی انفرادی۔ جیسے ایک عرب شاعرہ خنساء نے اپنے باپ اور بھائیوں کے قتل ہو جانے پر ایک میلے میں ’’انا اعظم العربِ مصیبۃ‘‘ (میں عرب میں سب سے زیادہ مصیبت زدہ ہوں)، صدر اسلام میں غزوۂ بدر میں جب ہند بنت عتبہ کا باپ،  چچا اور بھائی غازیانِ اسلام کے ہاتھوں قتل ہوئے تو وہ بازارِ عکاظ میں جا کر بولی ’’اقرنوا جملی بجمل الخنساء‘‘ (میرا اونٹ خنسا کے اونٹ کے قریب کر دو) چنانچہ ایسا کیا گیا، پھر اس نے مصیبتیں برداشت کرنے میں ایک دوسرے پر مفاخرت و مقارعت کی۔  اسلام کی آمد پر قبائلی عصبیت جاتی رہی اور مفاخرت کے ایسے واقعات کا خاتمہ ہو گیا۔

(۲) حماسہ

جاہلی شاعری کی دوسری سب سے اہم صفت حماسہ تھی۔ یہ لوگ بلاشبہ شجاعت و حماست کے کوہ گراں اور دلاوری کے پیکر تھے۔ عملاً بھی بہادری کے جوہر دکھاتے اور زبانِ شعر سے بھی اپنی جگرداری سے لوگوں کو مرعوب کرتے۔ مثلاً جب تغلب کے رئیس عمرو بن کلثوم کی ماں لیلٰی نے عمرو بن ہندوائی حیرہ کے ہاں احساس تحقیر کے پیشِ نظر ’’واذلّا یا لتغلب‘‘ (اے بنی تغلب مقام رسوائی ہے) کا بے باکانہ نعرہ بلند کیا تو ایک طرف تو عمرو بن کلثوم نے والیٔ حیرہ کو آنِ واحد میں قتل کر دیا، دوسری طرف وہ زوردار شعر پڑھے جو حماسہ کی نہایت شاندار مثال ہے ؎
وقد علم القبائل غیر فخر
اذا قبب با بطحھا بنینا
وانا الحاکمون بما اردنا
وانا النازلون بحیث شئنا
ونشرب ان وردنا الماء صفوًا
ویثرب غیرھا کدر وطینا
’’قبیلے جانتے ہیں کہ ہم نے بغیر کسی فخر کے ان کے کنکر والے نالوں تک میں گنبد بنا ڈالے۔ ہم جو چاہیں حکم دیں، جہاں چاہیں اتر پڑیں، جب ہم کسی جگہ آئیں تو صاف چشموں سے متمتع ہوتے ہیں، ہمارے دشمن کو گدلا پانی پینا پڑتا ہے۔‘‘

(۳) تشبیب

تیسری اہم صفت اہلِ عرب کے ہاں تشبیب تھی۔ اس میں شرب و شباب کی کیف آور فضا سے لے کر مناظر فطرت کی رنگینیوں تک سارے مضامین آجاتے تھے۔ وہ سوسائٹی جہاں شراب پینا معیوب نہ تھا اور جہاں مناظر فطرت اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ نظارہ دیتے تھے وہاں امراء القیس، مرقش الاکبر، عبد اللہ بن عجلان اور مسافر بن ابی عمرو جیسے رنگین مزاج اور غزل گو شعراء کا پیدا ہونا ناگزیر تھا۔

(۴) ھجاء

عرب شاعروں کے ہاں ان کی افتاد طبع اور مخصوص سماجی ماحول کی بنا پر ہجویہ شاعری خاص اہمیت کی حامل ہے۔ وہ اپنے قبیلے کے دفاع میں دوسروں پر طعن کرتے مگر مگر معیارِ اخلاق کی گراوٹ کے بغیر۔ وہاں عبید زاکانی، بسحق شیرازی (فارسی)، اور جعفر زٹلی واٹل نارنولی (اردو) جیسے پھکڑباز اور لچرگو نہیں ملتے۔ ان کے ہاں محبت کی گرم گفتاری ہے تو لہجے کی صداقت کے ساتھ، اور عداوت کی جگر دوزی ہے تو بھی حقیقت پسندی کا دامن چھوٹے بغیر۔ قریط بن انیف اپنے قبیلہ کی بزدلی کی ہجو کرتے ہوئے کہتا ہے ؎
یجزون من ظلم اھل الظلم مغفرۃ
ومن اساءۃ اھل السوء احسانا
’’میرے قبیلے کے لوگ وہ ہیں جو ظالم کا بدلہ بخشش سے دیتے ہیں اور برے کی برائی کے بدلے اس پر احسان کرتے ہیں۔‘‘
کان ربک لم یخلق لخشیتہ
سوا ھم من جمیع الناس انسانا
’’گویا کہ تیرے رب نے ان کے سوا مخلوق میں کسی کو اپنی خشیت کے لیے پیدا ہی نہیں کیا۔‘‘

(۵) مدیح

یہی وہ صنفِ سخن ہے جس سے عرب کی وصفی شاعری کئی رنگوں میں ظہور پذیر ہوئی۔ کبھی قبیلے کی تعریف کی جاتی ہے، کبھی رؤسائے قبیلہ ممدوح بنتے، گھوڑے کی گرم رفتاری، تلوار کی کاٹ اور برق ریزی، اور ناقہ کی سرعتِ رفتار کو موضوعِ سخن بنایا جاتا۔ یہی نہیں حیوانات، منازل، اخلاق، وقائع سب کو مقامِ مدح میں رکھا گیا۔ اسی سے ایک صنفِ سخن پھوٹی جو بعد میں ایک مستقل صنف بن گئی اور وہ ہے مرثیہ۔ اس میں بڑے معرکے کی شاعری نے جنم لیا۔ خنساء کے مرثیے خاصے کی چیز ہیں۔ ایک اعرابیہ نے اپنے بیٹے کی موت پر کیسے بلند پایہ شعر کہے ہیں ؎
من شاء بعدک فلیمت
فعلیک کنت احاذر
کنت السواء لناظری
تعمی علیک الناظر
’’تیرے بعد (کوئی جیے کوئی مرے) مجھے تو تجھی سے رونق تھی۔ تو میری آنکھ کی پتلی تھا، اب میری آنکھیں اندھی ہو گئی ہیں۔‘‘
بسا اوقات مدح گوئی حالات کے دھارے کو دوسرے رخ پر پھیر دیتی۔ بنی انف شرم کے مارے اپنے آپ کو بنی انف نہیں کہلواتے تھے بلکہ بنی قریع کہلواتے تھے۔ مگر جب حطیۂ نے ان کی مدح میں شعر کہا تو وہ فخریہ بنی انف کہلوانے لگے ؎
قوم ھم الاناف ولاذباب غیرھم
ومن یسوی انف الناقۃ الذنباء
’’وہ ناک ہیں اور دوسرے لوگ دم۔ اونٹنی کی ناک اور دم کو بھلا کون ایک درجے میں رکھے گا۔‘‘
یہ امر قابل ذکر ہے کہ عرب شاعر جب مدح گستری کرتے تو باستثنائے چند وہ ان کے دل کی آواز ہوتی۔ وہ ممدوح کو مدح کے قابل نہ پاتے تو برملا کہہ دیتے ’’افعل حتی اقول‘‘ کچھ کر کے دکھاؤ تاکہ تمہاری مدح کریں۔ اس زمانے کے مشہور ممدوحین میں ایک تو رؤسائے ھرم بن سنان، عامر بن ظرف، اقرع بن حالیس، ربیعہ بن مخاشن، دوسرے مناذرۂ حیرہ اور عنساسۂ شام اور ان کے امراء تھے۔
ادھر مداحین کی صفِ اول میں امشٰی، ربیع بن زیاد، نابغہ ذبیانی، منخل لشیکری، ابوزبید الطائی، معن بن اوس، زبیر بن ابی سلمٰی، حلیئہ اور حسان بن ثابت کے نام قابل ذکر ہیں۔

’’جاء الحق وزھق الباطل‘‘

جب چھٹی صدی کی آخری دہائیوں میں غلغلۂ اسلام بلند ہوا تو اس نے زندگی کے ہر دائرے میں ایک انقلاب پیدا کر دیا۔ کفر و ضلالت کی جگہ نور و ہدایت نے لے لی۔ رسوم کہن کی بجائے شریعتِ اسلامیہ، اور تقلیدِ آبائی کی جگہ اتباعِ رسولؐ مطمحٔ نظر بن گئے۔ قرآن نے شرک کی جڑ کاٹ کر رکھ دی تو زندگی کو ایک نیا رنگ اور آہنگ ملا۔ جب ہر پہلوئے حیات میں دور رس تبدیلیاں ہوئیں تو شعر و شاعری میں بھی تبدیلی کا آنا ضروری تھا۔ اب قرآن ہی فرزندانِ توحید کے فکر و نظر کا محور بن گیا۔ قرآن نے جب شعر کو ذم کے درجے میں رکھا تو وقتی طور پر حماست، تشبیب اور ہجا وغیرہ کا جاہلی غلغلہ مکمل سکوت میں بدل گیا۔ توحید و رسالت کے پرجوش آہنگ نے ہر طرح کی خطابتِ جاہلی، فصیح البیانی اور شعری روایات کو مغلوب کر لیا بلکہ کھلا چیلنج دیا۔
فَأْتُوا بِسُوْرَۃٍ مِّنْ مِثْلِہٖ وَادْعُوْا شُھَدَاءکُمْ مِنْ دُوْنِ اللہِ اِنْ کُنْتُمْ صَادِقِیْن (بقرہ ۲۳)
بعض صفِ اول کے شاعروں نے تو شاعری ہی ترک کر دی۔ چنانچہ لبید بن ربیعہ (م ۶۶۲ء) نے، جو اصحابِ معلقات میں سے تھے، قبولِ اسلام کے بعد صرف ایک ہی شعر کہا اور وہ بھی تحدیثِ نعمتِ اسلام کے جذبے سے سرشار ہو کر ؎
الحمد للہ ان لم یاتنی اجلی
حتی لبست من الاسلام سربالا
’’الحمد للہ میں نے موت سے پہلے پہلے جامۂ اسلام زیب تن کر لیا ہے۔‘‘
نزولِ قرآن سے فکر و نظر کے زاویے بدلے، ذہن بدلے، دل بدلے، سوچ کے دھارے بدلے، غرضیکہ سوسائٹی کے نفسیاتی اسالیب اور اقتصادی، تہذیبی، سیاسی اور مذہبی اطوار میں ایک عظیم تغیر آ گیا۔ خیر القرون میں لوگ عقیدۂ توحید میں ’’اشد حبا اللہ‘‘ کے مقام پر جا پہنچے، مگر اس کے ساتھ ساتھ ان کی محبت و عقیدت ایک پیکرِ انسانی کی ذات میں سمٹ آئی۔ عقیدتوں کا مرجع اور داعیاتِ محبت کا سرچشمہ ایک مکمل اور اکمل انسان تھا جو ان کے سامنے تھا۔ اس لیے منطقی طور پر لازمی تھا کہ جاہلی فخر و حماست، ہجو اور تغزل کو خیرباد کہہ دیا جاتا اور اگر ثناخوانی کی جاتی تو احمدِ مختار کی، اور مدح و ستائش کے اعلٰی ترین مقام پر رکھا جاتا تو محمد مصطفٰیؐ کو۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں شعرِ جاہلی کے ممدوحین کے بدلے ممدوح کائنات بلکہ ممدوحِ خالق کائنات توجہ کا مرکز بنا۔ اب تک مدحیہ شعر مدیح ’’جم و کسے‘‘ کے لیے مختص تھا، اب فخرِ بنی آدم کے تا قیامت چرچے کے لیے مخصوص ہو گیا۔

افصح العرب کی نظر میں شعر

حقیقت یہ ہے کہ عرب کی جاہلی شاعری خصوصاً ہجائی اور تشبیبی شاعری قرآنی افکار سے متصادم تھی۔ جذباتی سلسلے کے اعتبار سے اس کی کڑیاں قبائلی عصبیت سے جا ملتی تھیں۔ اسلام نے عصبیتِ جاہلی کو ختم کیا تو ایسی شاعری اور شعراء کی ضرورت بھی باقی نہ رہی۔ اب وہیں قوتیں اسلام اور قرآن کے تحریکی مقاصد کے لیے استعمال ہونے لگیں۔ اسی لیے قرآن نے اسے بنظرِ استحسان نہیں دیکھا ’’الشعراء یتبعھم الغاوٗن (الشعراء ۲۲۴) شاعروں کی پیروی گمراہ لوگ کیا کرتے ہیں۔ ’’وما علمناہ الشعر‘‘ (یس ۶۹) اور ہم نے آپ کو شعر کی تعلیم نہیں دی۔ ’’وما ھو بقول شاعر‘‘ (الحاقہ ۴۱) اور یہ قرآن کسی شاعر کا کلام نہیں۔ جیسے سرمدی الہامات سے شعر کو بمقابلۂ قرآن مقام ذم میں رکھا گیا۔
ادھر امام الانبیاء بھی عمومی طور پر شعر کی طرف راغب نہ تھے۔ ایک تو یہ کہ شاعری مقامِ نبوت سے نہایت فروتر درجے کی چیز ہے، دوسرے یہ کہ شعر سے قبائلی عصبیت ابھرتی تھی اور رسولؐ اتفاق و اتحاد کے داعی تھے۔ فرمایا ’’لان یمتلی جوف احدکم قبیحا حتی یرید خیر من ان یمتلی شعرًا‘‘ تم میں سے کسی کا پیٹ پیپ سے بھر جائے اور متعفن ہو جائے تو شعر سے بھر جانے سے پھر بھی بہتر ہے۔ مگر غور کیا جائے تو آیاتِ کریمہ اور احادیثِ نبویؐ میں علی الاطلاق شعر کی مذمت نہیں۔ ہجائی اور ایذا رساں شاعری کی مذمت ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ ایک اعرابی سرورِ عالمؐ کی بارگاہ میں حاضر ہوا، شعر میں گفتگو کی۔ آپؐ نے فرمایا ’’ان من الشعر لحکمۃ و ان من البیان لسحر‘‘ بے شک شعروں میں دانائی کی باتیں ہوتی ہیں اور بعض باتیں جادو کا سا اثر رکھتی ہیں۔ شاعری کے لیے اس حوصلہ افزا ارشاد کے ساتھ لبید بن ربیعہ کا یہ شعر سنا ؎
الا کل شئی ما خلا اللہ باطل
وکل نعیم لا محالۃ زائل
’’آگاہ رہو کہ اللہ کے سوا ہر شے باطل ہے اور نعمت بالآخر زوال پذیر ہے۔‘‘
تو فرمایا ’’اصدق کلمۃ قالھا شاعر قول لبید‘‘ (بخاری) اس سے حضورؐ کے ذوقِ شعر کا بھی پتہ چلتا ہے۔ مزید برآں عرب کے بعض حکیم شعراء مثلاً امیہ بن ابی الصلت (م ۶۲۴ء) ورقہ بن نوفل (م ۵۹۲ء) زید بن عمرو بن نفییل (م ۶۲۰ء) اور قس بن ساعدہ (م ۶۰۰ء) کی شاعری میں اخلاقی، مابعد الطبیعاتی حقائق، خدا، رسولؐ، ملائکہ اور یومِ آخرت کے مضامین ملتے ہیں۔ مشکوٰۃ المصابیح میں ہے کہ سرورِ کائناتؐ امیہ بن ابی الصلت کے وہ شعر جن میں اللہ اور آخرت کا ذکر ہوتا، بڑے شوق سے سماعت فرماتے۔

نعت کا نقطۂ آغاز

جاہلی دور میں ہجا اور مدیح کا سلسلہ جاری رہا تاآنکہ اسلام آ گیا۔ قبائلی عصبیت مٹی تو نظریاتی بنیادوں پر کفار و مومنین کے درمیان مہاجاۃ ہوئی۔ عبد اللہ بن زبعری، ابو سفیان بن الحارث اور عمرو بن العاص کفار کی طرف سے مشہور ہجوگو شاعر تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے صحابہؓ سے فرمایا ’’ما یمنع الذین نصر و رسول اللہ بلاحھم ان ینصروہ بالمنتقم‘‘ جن لوگوں نے اللہ کے رسولؐ کی ہتھیاروں سے مدد کی انہیں زبان سے مدد کرنے میں کیا چیز مانع ہے؟ پھر تین سربرآوردہ شعراء کو جواب آں غزل کے طور پر مقرر فرمایا۔ حسان بن ثابت، کعب بن مالک اور عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم اس شرف سے مشرف ہوئے۔
کفار کے مقابلے میں ان کے لسانی اور شعری معرکوں سے متاثر ہو کر فرمایا ’’ھولاء النفر اشد علی قریش من نضع النبل‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جو قریش کے لیے تیروں کی بوچھاڑ سے بھی زیادہ سخت ہیں۔ ایک مرتبہ حضرت حسانؓ سے فرمایا ’’اھجھم ن اللہ لھجاؤک علیھم اشد من وقع السھام فی غلس الظلام و معک جبریل روح القدس‘‘ ان کی ہجو کر، اللہ کی قسم! تیری ہجو ان کے لیے تاریکی شب میں تیر لگنے سے بھی سخت تر ہے۔ تیرے ساتھ جبریل روح القدس ہیں۔ ان شاعرانِ سحر بیان نے ایک طرف تو دشمنانِ اسلام پر ہجو کے تیر برسائے تو دوسری طرف ممدوحِ کائنات کے حضور گلہائے عقیدت نچھاور کیے۔ یوں اپنی تمام تر شاعرانہ صلاحیتوں کو ثنائے خواجہ گیہاںؐ کے لیے وقف کر دیا۔
یہ تو ہے نعت کے آغاز کا تاریخی و تدریجی ارتقاء۔ دوسری طرف قرآن جس کی ابتداء توحید و رسالت کے زوردار خطبوں سے ہوتی ہے، آگے چل کر معاش و معاد، اوامر و نواہی، تبشیر و انداز، معاشرت و معاملت کی جزئیات تک کو حصر ہے۔ اصل میں سرور کائناتؐ کی حیاتِ طیبہ ہی کا لفظی عکس ہے۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ سے اس ضمن میں جب سوال کیا گیا تو بلاتامل فرمایا ’’کان خلقہ القراٰن‘‘ (ابوداؤد باب صلوٰۃ اللیل)۔ قرآن میں نعت ختم المرسلین کے چند تابناک جواہر ریزے ملاحظہ ہوں:
احمد ومبشرًا برسول یاتی من بعد اسمہ احمد (صف ۶)
محمد محمد رسول اللہ (فتح ۲۹)
یس یس والقراٰن الحکیم (یس ۱)
طہ طہ ما انزلنا علیک القراٰن لتشقٰی (طہ ۱)
کملی والے یا ایھا المزمل (مزمل ۱)
چادر والے یا ایھا المدثر (مدثر ۱)
روشن چراغ سراجًا منیرًا (احزاب ۴۶)
شاہد مبشر انا ارسلنٰک شاھد و مبشرًا ونذیرًا (احزاب ۴۵)
نذیر مبشرًا و نذیرًا (احزاب ۴۵)
نور قد جاءکم من اللہ نور (مائدہ ۱۵)
سراپا ہدایت و رحمت وانہ لھدًی (نمل ۷۷)
رحمۃ للعالمین وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین (انبیاء ۱۰۷)
رؤف رحیم وبالمومنین رؤف الرحیم (توبہ ۱۲۸)
یہ تو مشتے نمونہ از خردارے ہے ورنہ سارا قرآن نعتِ ختم المرسلینؐ ہی تو ہے۔ نہ صرف یہ کہ قرآن کبھی براہ راست اور کبھی بالواسطہ نعت گوئی پر مشتمل ہے بلکہ خود خدائے قدوس اور اس کے فرشتے نعت گویانِ رسولؐ اور اہلِ ایمان کو وجوبی طور پر یوں ارشاد ہوتا ہے ’’ان اللہ وملئکتہ یصلون علی النبی یا ایھا الذین امنوا صلوا علیہ وسلموا تسلیما‘‘۔ اللہ! اگر بندہ اس پر پکار اٹھے تو بے جا نہیں بلکہ اس کی سعادت کی انتہا ہے ؎
من ایں مقام بدنیا و آخرت مذھم
اگرچہ درینیم افتند ہر دم انجمنے
 قرآن کے بعد ذخیرۂ حدیث کی طرف آئیں تو اس کام میں جانیں کھپانے والے قدسی نفس لوگوں نے کوئی ۱۴ لاکھ فرموداتِ رسولؐ جمع کر دیے ہیں۔ تا قیامت ان اقوال و ارشادات کو اَن گنت لوگ دہرا دہرا کر اپنی زندگیوں کی اصلاح و فلاح میں بھی منہمک رہیں گے اور نعتِ رسولؐ کا بھی اہتمام ہوتا رہے گا۔ یوں تو سارے کا سارا ذخیرۂ حدیث نعتِ رسولؐ ہی ہے تاہم امام محمدبن عیسٰی ترمذی (۲۰۹ ۔ ۲۷۹) نے شمائل النبویہ میں، جو ۴۰۰ احادیث کا لاجواب انتخاب ہے، ۵۶ ابواب پر تقسیم کر کے سراپائے اقدس، معمولاتِ مطہر اور فضائل و شمائل رسولؐ کا حسین ترین نعتیہ مرقع پیش کر دیا ہے۔
ہاں تو سرکارِ دو جہاں کی صبوت و ملفولیت ہی میں آپ کو عوام الناس کا بہ نگاہِ تحسین دیکھنا نعتیہ طرزِ فکر کا حامل تھا، مگر عنفوانِ شباب میں تو صداقت و امانت میں بے مثال کہلایا جانا نعتِ مصطفٰیؐ ہی کی ذیل میں آتے ہیں۔ اعلانِ نبوت سے پہلے جب حجرِ اسود کو خانہ کعبہ کی دیوار میں رکھتے ہوئے نزاع چھڑی تو آپؐ کو دیکھ کر الجھتے ہوئے لوگوں کی زبان سے بیک آواز ’’ھذا امین رضینا بہ‘‘ کے الفاظ نکلنا کتنی پیاری نعت تھی۔ حضرت جعفر طیارؓ کا نجاشی کے دربار میں خطبہ، نعتیہ خطبہ ہی تو تھا۔ ہجرت کے موقع پر ایک اعرابیہ ام معبد کی نثری نعت شمائل رسولؐ کی نہایت دلآوایز تصویر ہے۔ مدینہ منورہ میں تشریف آوری پر نعت ہی سے استقبال ہوا۔ پردہ نشین خواتین نے چھتوں پر آن کر یوں زمزمہ پردازی کی ؎
طلع البدر علینا — من ثنیات الوداع
وجب الشکر علینا — ما دعٰی للہ داع
ایھا المبعوث فینا — جئت بالامر المطاع
’’وداع کی گھاٹیوں سے ہم پر چودھویں رات کا چاند طلوع ہوا ہے۔ جب تک دعا کرنے والا دعا کرے ہم پر شکر کرنا واجب ہے۔‘‘
اور معصوم بچیاں دف بجا بجا کر گا رہی تھیں ؎
نحن جوار من بنی النجار
یا حبذا محمد بن جار
’’ہم بنی نجار کی لڑکیاں ہیں، واہ محمد کیا اچھے ہمسائے ہیں۔‘‘
(سیرت النبیؐ از شبلی جلد اول)

خیر القرون کے چند اہم نعت گو شاعر

صحابہ میں یوں تو کون ایسا شخص تھا جو شاعر تھا مگر ثنائے خواجہ عالمؐ میں رطب اللسان نہ ہوا۔ تاہم ۲۲ صحابہؓ کے نعتیہ اشعار روایتوں میں مل جاتے ہیں (ارمغان نعت کا دیباچہ از عبد القدوس ہاشمی)۔ ان میں حضرت حسان بن ثابت، حضرت کعب بن زبیر، حضرت عبد اللہ بن رواحہ، حضرت کعب بن مالک، حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہم وغیرہ خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔
امشٰی قیس (م ۶۲۹ء) جو شراب و شباب کا شاعر تھا اس نے ایک زوردار نعت سرور عالمؐ کی مدح میں لکھی، عازم بارگاہِ رسولؐ ہوا۔ ابو سفیان بن حرب کو پتہ چلا تو اس نے اپنی قوم کو ترغیب دی کہ اسے اس کام سے روکیں، مبادا وہ اسلام لے آئے اور نصرتِ رسولؐ کرے۔ چنانچہ انہوں نے اسے ۱۰۰ اونٹ پیش کر کے واپس بھیج دیا۔

حسان بن ثابتؓ

حسان بن ثابت بن منذر بن حرام بن عمرو البخاری خزرجی، ان کے دادا منذر نے اوس و خزرج کے حَکم کی حیثیت سے فریقین میں صلح کروائی، مدینہ میں پیدا ہوئے۔ عمر میں حضورؐ سے کوئی آٹھ برس بڑے تھے، اپنے زمانے کے سب سے بڑے حضری شاعر تھے۔ غسانی بادشاہوں کے مداح رہے۔ ہجرت مدینہ کے بعد ۶۰ برس کی عمر میں اسلام قبول کیا۔ کبرسنی کی وجہ سے جہاد بالسیف سے معذور رہے۔ جب ہجائینِ قریش کے خلاف رسول اللہؐ نے شعرائے اسلام کو تحریض کی تو حسان بن ثابتؓ نے کہا کہ میں ان کی ہجو کروں گا۔ حضورؐ نے فرمایا ’’کیف تھجوھم وانا منھم‘‘ ان کی ہجو کرے گا تو کیسے جبکہ میں ان میں سے ہوں؟ جواب تھا ’’انی اسلک منھم کما تسل الشعرۃ من العجین‘‘ میں آپ کو ان میں سے یوں کھینچ نکالوں گا جیسے آٹے سے بال نکال لیتے ہیں۔ ابو سفیان بن الحارث نے ہجو کی تو جوابًا کہا ؎
ھجوت محمدًا فاجبت عنہ
وعند اللہ ذاک الجزاء
ھجوت مبارکا براحنیفا
امین اللہ شیمتہ الوفاء
فان ابی و والدتی وعرضی
لعرض محمد منکم وقاء
’’تو نے محمدؐ کی ہجو کی، میں جواب دیتا ہوں۔ اس کی اللہ کے ہاں جزا ہے۔ تو نے اس مبارک نیک اور یکسو کی ہجو کی۔ وہ امامت خداوندی کا امین ہے اور وفا اس کی خصلت ہے۔ میرے ماں باپ اور میری عزت، عزتِ محمدؐ کے تحفظ کے لیے ڈھال ہے۔‘‘
ان کا سب سے بڑا کارنامہ وفد بنی تمیم کے ایمان لانے پر نصرتِ رسولؐ ہے۔ ستر یا اَسی افراد پر مشتمل یہ وفد حاضرِ خدمت ہوا۔ پہلے خطابت میں مقارعت ہوئی پھر شعر میں مفاخرت ہوئی۔ بنی تمیم نے اپنے مشہور شاعر زبرقان بن بدر کو پیش کیا۔ حضرت حسان بن ثابتؓ کو بلا کر (جو اس وقت موجود نہ تھے) فرمایا، جواب دے۔ آپ نے نعتیہ اشعار پڑھ کر مسکت جواب دیا۔ بنی تمیم دولتِ ایمان سے مالامال ہو گئے۔ ان کے یہ شعر تو ہر عربی خواں کی زبان پر ہیں ؎
و اجمل منک لم ترقط عینی
و احسن منک لم تلد النساء
خلقت مبرءًا من کل عیب
کانک قد خلقت کما تشاء
’’آپؐ سے حسین تر میری آنکھ نے نہیں دیکھا اور آپؐ سے بہتر کسی ماں نے نہیں جنا۔ آپؐ ہر عیب سے یوں پاک پیدا کیے گئے گویا آپ اپنی مرضی کے مطابق پیدا ہوئے۔‘‘

عبد اللہ بن رواحہؓ

عبد اللہ بن رواحہؓ (متوفی ۹۴ھ) آپ خزرجی تھے۔ حضورؐ کے اتنے معتمد تھے کہ اہم ترین مشن اور سفارتیں انہی کے ذمہ ہوتیں۔ ان ۱۲ نقیبوں میں شامل تھے جو بیعتِ عقبہ ثانیہ کے بعد مقرر فرمائے گئے۔ غزوۂ موتہ (۹ھ) میں سپہ سالاری کے دوسرے جانشین تھے، اسی جنگ میں جامِ شہادت نوش فرمایا۔ ان کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ قریش کو ان کے کفر کی وجہ سے طعن کرتے تھے، جبکہ دربارِ رسالت کے دوسرے شعراء حسانؓ و کعبؓ کفار کو ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے ملامت کرتے تھے۔ ان کے صرف ۵۰ شعر محفوظ رہ گئے ہیں (اردو دائرہ معارف اسلامیہ)۔

کعب بن زہیرؓ

کعب بن زہیرؓ (متوفی ۲۴ھ) اسلام لانے سے پہلے حضورؐ کی ہجو کرتے تھے اور مسلمان عورتوں کے بارے میں یاوہ گوئی کرتے۔ فتح مکہ کے بعد ان کے لیے حکم تھا کہ پکڑے جائیں تو قتل کر دیے جائیں۔ مگر خوش قسمتی دیکھئے کہ اپنے بھائی کی ترغیب پر ۹ھ میں بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوئے، مشہور نعتیہ قصیدہ پڑھا جس کا مطلع ہے ؎
بانت سعاد فقلبی الیوم متبول
ھتیم اثرھا لم یجز مکبول
’’سعاد چلی گئی اور آج میرا دل بیمار ہے۔ اس کی محبت میں میرا دل اس قیدی کی طرح ہے جس کا فدیہ نہیں دیا گیا اور وہ زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔‘‘
جب اس شعر پر پہنچے ؎
ان الرسول لسیف یستضاء بہ
مھند من سیوف الھند مسلول
تو اس جان رافت نے اصلاح فرمائی، سیوف الہند کی بجائے سیوف اللہ کروا دیا جس سے شعر معنوی طور پر زمین سے آسمان پر پہنچ گیا۔ ساتھ ہی پاس بیٹھے ہوئے صحابہؓ کو کعب کے شعر سننے کی تاکید فرمائی۔ جب وہ نعت پڑھ چکے تو آپؐ نے فرطِ مسرت سے اپنی چادر مبارک کعب پر ڈال دی، اس لیے اس کو قصیدہ بردہ بھی کہتے ہیں۔

کعب بن مالکؓ

کعب بن مالک (م ۵۳ھ) خزرجی تھے۔ بیعتِ عقبہ ثانیہ میں شریک تھے۔ سرورِ عالمؐ نے حسانؓ و عبد اللہ بن رواحہؓ کے ساتھ انہیں بھی قریش کی ہجو کا جواب دینے پر مامور فرمایا تھا۔ غزوۂ تبوک میں شامل نہیں ہو سکے تھے۔ ۵۰ دن بائیکاٹ رہا پھر معافی مل گئی۔ آخری عمر میں بصارت کھو دی۔ کلام میں جذبہ حب الوطنی کے ساتھ ساتھ اسلام کے لیے حقیقی جوش پایا جاتا ہے۔ 

خیر القرون میں نعت کی شعری روایت

سرورِ دو جہاں کے حین حیات جو نعتیہ شعر لکھے گئے ان کی کڑیاں فنی طور پر ماضی کے مدیحی ادب سے جا ملتی ہیں۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ’’بانت سعاد‘‘ میں آغاز ذکرِ رسولؐ سے نہیں بلکہ شاعر کی محبوبہ کے ذکر سے ہوتا ہے، پھر اونٹنی کی تعریف ہے، اور پھر آخر میں مدحِ رسولؐ پر تان ٹوٹتی ہے۔ تاہم جاہلی ادب کی شعری روایت سے ہٹ کر بھی بہت سا نعتیہ کلام موجود ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں عام امراء سے سابقہ تھا، یہاں خیر البشر سے تعلق خاطر ہے۔ وہاں کسی کے بارے میں دروغ بانی کا امکان تھا مگر یہاں ہر بات ہوش و خرد کی ترازو میں تول کر عقیدت و محبت کی چاشنی کے ساتھ کہنا پڑتی تھی۔ پھونک پھونک کر قدم رکھنا پڑتا تھا۔ ایک شائبہ شرک کا خدشہ، دوسرے اہانت و گستاخی رسول کا ڈر۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ شاگردانِ رسولؐ نے توحید و رسالت کی الٰہی تعلیم کے پیش نظر شعری روایت کو برقرار رکھا، یہاں اہم شعری خصائص کی نشاندہی کی جاتی ہے۔

(۱) محبوب کے حسن و جمال کے چشم دید مرقعے

سرورِ عالمؐ مشتاقانِ دید کے اکثر سامنے رہتے، سرتابقدم کرشمہ دامنِ دل کھینچ کھینچ لیتا۔ ماہِ عرب جب ماہِ فلک کو شرماتا تو موازنہ  کرنے والے بے اختیار ہو کر پکار اٹھتے ؎
فلک یہ تو ہی بتا دے حسن و خوبی میں
زیادہ تر ہے تیرا چاند یا ہمارا چاند
ایک چاند رات جابر بن سمرہؓ کو موازنہ کرتے دیکھا تو فرمایا جابر کیا دیکھتے ہو؟ عرض کیا اے صاحبِ لولاکؐ! آپؐ کے سامنے آسمانی چاند گہنایا ہوا لگتا ہے۔ ختم المرسلینؐ اس دنیا میں تشریف کیا لائے اہلِ نظر کی نظر نوازی کا سامان پیدا ہو گیا۔ سچ فرمایا آپ کے جاں نثار چچا حضرت عباسؓ نے ؎
نحن فی ذالک الضیاء و فی النور
دو سبل الرشاد نخترق
’’ہم لوگ اس (ہدایتِ رسولؐ) کی روشنی میں ہیں، ہدایت و استقامت کی راہیں نکال رہے ہیں۔‘‘

(۲) ایثار کے بے مثال نمونے

تربیت یافتگانِ تربیت گہِ رسولؐ میں اس قدر ایثار کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا کہ ان کی عملی زندگیاں اسوۂ رسولؐ کا بہترین نمونہ پیش کرتی تھیں۔ جب عضل و قارہ کے قبیلوں نے دس حفاظ کو شہید کر دیا تو حضرت خبیبؓ نے، جو کشتگانِ خنجر تسلیم میں سے ایک تھے، تختۂ دار پر چڑھ کر بے مثال عملِ ایثار کا مظاہرہ کر دکھایا۔ دوسرے ان کی زبان سے جو اشعار ادا ہوئے وہ ایثار للرسولؐ کا نہایت عمدہ اظہار ہے۔ آخری دعا تھی ؎
اللھم بلغنا رسالۃ رسولک 
فبلغہ ما یصنع بنا
’’اے اللہ! ہم نے تیرے رسولؐ کا پیغام پہنچا دیا، اب تو ہمارے حال کی خبر اپنے رسولؐ کو کر دے۔‘‘
حضرت ابو طالب اگرچہ بروایت امام بخاریؒ دولتِ ایمان سے محروم رہے مگر جاں نثاری میں کسی سے پیچھے نہ تھے۔ رسول اللہ کی نعت میں ان کے اشعار آبدار ایثار کی بہترین مثال پیش کرتے ہیں۔ کیا خوب کہا عمِ رسولؐ نے ؎
واللہ لن یصلوا الیک بجمعھم
حتٰی او سد فی التراب دفینًا
فاصدع بامرک ما الیک غضاضۃً
وابشر وقر بذاک منک عیونًا
’’خدا کی قسم وہ آپ تک اپنی جمعیت کے ساتھ نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ مجھے دفن کر کے مٹی میں ٹیک لگا کر لٹا نہ دیا جائے۔ تو اپنا کام کیے جا تجھ پر کسی قسم کی تنگی نہیں اور خوش رہ اس کام سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کیے جا۔‘‘

(۳) حسنِ صورت کے ساتھ حسنِ سیرت کا اظہار

صدرِ اسلام کے مشتاقانِ جمال، اجمل ترین جمیلانِ کائنات کے دیدار سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرتے تھے اور ساتھ ہی اسوۂ رسولؐ کے ایک ایک جزئیے کو اپنانے کے لیے بے تاب رہتے تھے۔ یہی بے تابی جب زبان پر آتی تو لغت کے قالب میں ڈھل جاتی۔ چنانچہ اس زمانے کی نعت حسنِ ظاہری کے ساتھ شمائل و فضائل کا نہایت حسین امتزاج نظر آتا ہے۔ سچ کہا ثنا خوانِ رسولؐ عبد اللہ بن رواحہؓ نے ؎
روحی فدا لمن اخلاقہ شھدت
بانہ خیر مولود من البشر
’’جس کے اخلاق شاہد ہیں وہ نوعِ بشر میں سب سے بہتر پیدا کیا گیا، اس پر میری جان قربان ہو۔‘‘
عمت فضائلہ کل العبد کما
عم البریۃ ضوء الشمس القمر
’’آپؐ کی فضیلتیں سب بندوں پر اس طرح ہیں جس طرح خلقت پر سورج اور چاند کی روشنی عام ہے۔‘‘

(۴) شیفتگی و وارفتگی کے اعلٰی نمونے

نعت چونکہ اپنے موضوع کے اعتبار سے ہی تبیدہ دلوں کی راحتِ جان کا سامان اور مظہر وارفتگی ہے لہٰذا اصولاً ان دلدارگانِ ختم الرسلؐ کے کلام میں شیفتگی اور والہانہ پن کے اعلٰی نمونے ملنے چاہئیں جو فیضانِ رسالت سے براہِ راست بہرہ مند ہوئے۔ اس ضمن میں ام المومنین حضرت عائشہؓ وارفتۂ جانِ مصطفٰیؐ ہو کر یوں لب کشا ہوتی ہیں ؎
متی یبد فی الدجٰی الیھم جبینہ
یلح مثل مصباح الدجٰی المتوقد
’’اندھیری شب میں ان کی پیشانی نظر آتی ہے تو اس طرح چمکتی ہے جیسے روشن چراغ۔‘‘
نیز فرماتی ہیں ؎
لنا شمس وللافاق شمس
وشمسی خیر من شمس السماء
’’ایک آفتاب تو دنیا کا ہے اور ایک آفتاب ہمارا بھی ہے، مگر میرا آفتاب آفتابِ آسمان سے کہیں بڑھ کر روشن ہے۔‘‘

(۵) پیامِ رسولؐ کا تذکرہ

اس دور سعادت آثار میں ہر فرزندِ اسلام دل و دماغ کے ایک نہایت خوش آئند اور کیف پرور انقلاب سے روشناس ہوا۔ اس لیے تحدیثِ نعمت کے طور پر بھی پیامِ رسولؐ کا تذکرہ زبانوں پر اکثر آتا۔ تعلیماتِ رسولؐ نعتِ رسولؐ کا جزولاینفک بن گئیں۔ حضرت حمزہؓ کے یہ اشعار کس قدر تحدیثِ نعمت کا اظہار ہیں ؎
رسائل جاء احمد من ھدٰھا
بایات مبینۃ الحروف
’’وہ پیغامات جن کی ہدایات احمدؐ واضح حروف والی آیات میں لے کر آئے۔‘‘
و احمد مصطفٰی فینا مطاعًا
فلا تفشوہ بالقول الحنیف
’’اور احمدؐ برگزیدہ ہم میں مطاع ہیں اور آپؐ کے ساتھ ناملائم لفظ بھی زبان سے نہ نکالنا۔‘‘
حضرت حسانؓ یوں نغمہ پیرا ہوتے ہیں ؎
نبی اتانا بعد یاس وفترۃ
من الرسل والاوثان فی الارض تعبد
وانذرنا نارًا وبشّــر جنۃ
وعلمنا الاسلام فاللہ نحمد

(۶) قرار خاطر آشفتہ حالاں

سرورکائناتؐ کا وجود مسعود صحابہ کرامؑ کے لیے مینارۂ نور تھا۔ وہ اس سے اکتسابِ ضیاء کرتے تو ان کے دل کو تسلی اور روح کو قرار ملتا۔ وہ اس کا تذکرہ کرتے تو ان کا وجدان جھوم اٹھتا۔ آپؐ کی موجودگی میں وہ اپنے آپ کو ہر طرح کی گمراہی سے محفوظ و مامون پاتے۔ آپؐ کے عم زاد ابو سفیان بن الحارث کہتے ہیں ؎
ویھدینا فلا نخشی ضلالا
علینا والرسول لنا دلیل
یختبرنا بظھر الغیب عما
یکون فلا یخون ولا یحول
’’آپؐ کے ہدایت دینے سے ہمیں کسی گمراہی کا خوف نہیں، خود رسولؐ ہمارے رہنما ہیں۔ آپؐ جو کچھ ہوتا ہے اس کے بارے میں غیب کی خبریں دیتے ہیں، نہ ان کی خبر میں خامی ہوتی ہے نہ ہیرپھیر۔‘‘

(۷) میلاد النبیؐ

اس زمانے کی نعت کا ایک موضوع میلادِ رسولؐ بھی ہے۔ یہ تذکرہ عشق و محبت کی اس بلندی سے کیا گیا ہے کہ مابعد کے ادوار میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔ حضرت عباسؓ کا یہ شعر ملاحظہ ہو ؎
وانت لما ولدت اشرقت الارض
وضاءت بنورک الافق
’’جب آپؐ کی ولادت ہوئی تو زمین چمک اٹھی، اور آپؐ کے نور سے آفاق روشن ہو گئے۔‘‘

(۸) نعت نگار کا احساس کمتری اور عفو رسولؐ

ایسے موقعے بھی آئے کہ دشمنانِ اسلام نے بزبانِ شعر حضورؐ کی ہجو کی مگر اس رحمۃ عالم نے عفو و کرم سے کام لے کر ان کو موہ لیا۔ کعبؓ بن زہیر کا یہی معاملہ تھا۔ ۔لیکن جب ضلالتِ کفر سے نکل آئے تو نعت نگاری میں بہت سے لوگوں سے گوئے سبقت لے گئے مگر اس کا آغاز صرف اعتذار ہی سے کیا۔ اگرچہ فنی طور پر جاہلی شاعری کے قصائد کا انداز قائم رکھا تاہم رحمۃ عالمؐ نے اس انداز کو بھی پسند فرمایا اور پچھلی تمام خطاؤں پر خطِ عفو کھینچ دیا۔ حضورؐ کی اس پسندیدگی سے رنگِ تغزل کے قلم کاروں کے لیے بھی جواز نکل آیا۔ کعب یوں نغمہ طراز ہوتے ہیں ؎
فقد اتیت رسول اللہؐ معتذرًا
والعفو عند رسول اللہ مقبول
’’میں رسولؐ اللہ کی خدمت میں عذر خواہ ہو کر آیا ہوں اور حضورؐ کے نزدیک معافی دے دینا پسندیدہ ہے۔‘‘

(۹) رثائی انداز

شمعِ رسالت جب اپنی پوری جلوہ سامانیوں کے ساتھ ضیاء بار تھی تو جاں نثار پروانے اس پر نچھاور ہونے کے لیے بے تابانہ لپکتے، مگر جب ان کی آنکھوں کے سامنے سے یہ تجلیاں اوجھل ہو گئیں تو ان کی جان پر بن گئی۔ ادھر نامِ محمدؐ زبان پر آیا ادھر آنسوؤں کی جھڑی بندھ گئی ؎
جب نام تیرا لیجئے تب چشم بھر آوے
اس زندگی کرنے کو کہاں سے جگر آوے
چونکہ نبوت کے ماہ شبِ چہار دہم کے اوٹ میں چلے جانے کا قیامت خیز منظر ان فداکاروں میں سے اکثر کے پیشِ نظر تھا اس لیے ان کے تاثرات میں کرب ناکی بھی تھی اور احساسِ محرومی بھی۔ دردِ دل کھٹک بھی تھی اور خلش ذہن کی کسک بھی۔ اس کا اظہار بھرپور طریقے سے ان کے کلام میں بھی موجود ہے۔ محبوب سے بچھڑ جانے کے بعد عشاق دلزدہ کی زندگی بے لطف ہو گئی ؏
مرا اے کاش کہ مادر نہ زادے
سرکارِ دو جہاںؐ کے یارِ غارؓ کا دل غم و اندوہ سے کس قدر بوجھل تھا، اس کا اندازہ ذیل کے شعروں سے لگائیے ؎
فکیف الحیاۃ لفقد الحبیب 
و زین المعاشر فی المشھد
فلیت الممات لنا کلنا 
و کنا جمیعاً مع المھتدٰی
’’محبوب کے بچھڑ جانے سے زندگی بے کیف ہو گئی ہے۔ زینتِ دو عالم قبر میں جا سویا۔ کاش ہم سب کو بھی موت آجاتی ،اور ہم بھی اس سراپا ہدایت سے جا ملتے۔‘‘
آنکھیں تارِ اشک پرونے لگیں، شدتِ غم سے چہرے اتر گئے، بدن نڈھال ہو گئے، فضا اپنی وسعتوں کے باوصف تنگ ہو گئی، روز روشن شبِ یلدا سے تاریک تر ہو گیا۔ سورج نے روشنی کھو دی، کائنات کی نبضیں رک گئیں، پہنائی عالم غبار آلود ہو گئی، زمین و آسمان حزن و اندوہ میں ڈوب گئے۔ ایسے میں نعت میں رثائی مضامین دفعتاً در آتے تو بے جا نہ تھا۔ وہ لوگ جو رسماً شاعر نہ تھے ان کے امڈے ہوئے جذبات بھی شعر میں ڈھل کر سامنے آ گئے۔ چند الم انگیز اور کربناک نعتیہ اشعار ملاحظہ ہوں۔ عثمان غنیؓ روتے نہیں تھکتے ؎
فیا عینی ابکی ولا تسامی
وحق ابکاء علٰی السیدی
’’اے میری آنکھ بے تکان روتی جا، سردار پر رونا تیرا حق ہے۔‘‘
علی المرتضٰیؓ یوں نڈھال نظر آتے ہیں ؎
امن بعد تکفین نبی و دفنہ
یاتو بہ اسی علی ھالک لوٰی
’’نبیؐ کو کپڑوں میں  کفن دینے کے بعد میں اس مرنے والے کے غم میں غمگین ہوں جو خاک میں جا بسا۔‘‘
آپؐ کے عم زاد ابو سفیان بن الحارث کی اس سانحہ سے یوں نیند اڑی ؎
ارقت وبات لیلی لا یزول
ولیل فی مصیبۃ فیہ طول
’’میری نیند اڑ گئی ہے اور رات یوں ہو گئی ہے جیسے اب ختم نہ ہو گی۔ مصیبت کی رات دراز ہی ہوا کرتی ہے۔‘‘
جگر گوشۂ رسولؐ فاطمۃ الزہراءؓ اپنے دل کے ٹکڑوں کو یوں شعری جامہ پہناتی ہیں ؎
صبت علی مصائب لوانھا
صبت علی الایام صرن لیالیا
’’(حضورؐ کی جدائی میں) وہ مصیبتیں مجھ پر ٹوٹ پڑی ہیں کہ اگر یہ مصیبتیں دنوں پر ٹوٹتیں تو دن راتوں میں تبدیل ہو جاتے۔‘‘
اغبر آفاق السماء و کورت
شمس النھار و اظلم الازمان
’’آسمان کی پہنائیاں غبار آلود ہو گئیں اور لپیٹ دیا گیا دن کا سورج اور تاریک ہو گیا سارا زمانہ۔‘‘
فلیبکہ شرق البلاد وغربھا
یا فخر من طلعت لہ النیران
’’اب چاہے مشرق و مغرب آنسو بہائے ان کی جدائی پر۔ فخر تو ان کے لیے ہے جن پر روشنیاں چمکیں۔‘‘
غرض یہ وہ چند مضامینِ نعت ہیں جو خیر القرون میں چودہ صدیوں کی دوری پر بھی ہمیں نمایاں نظر آتے ہیں۔ ان چودہ صدیوں کے عرصے میں اسلام مشرق و مغرب کے اکناف تک جا پہنچا۔ جہاں جہاں یہ نور پہنچا وہاں نعتِ رسولؐ بحیثیت صنفِ سخن ابھری۔ فرزندانِ توحید نے نعت نگاری، نعت خوانی اور سماعِ نعت سے قلب و نظر کو روشن کیا۔ چنانچہ موید بہ روح القدس شاعرِ اسلام حسان بن ثابتؓ سے لے کر بوصیری جیسے عشاقِ رسولؐ اور امیر الشعراء احمد شوقی جیسے ہزاروں لاکھوں جادہ پیمایان راہِ محبت نے اس ذاتِ اقدس پر عقیدت کے پھول برسائے اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا مگر ؏
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا
کے مصداق غالب کی زبان میں یہ کہہ کر چپ ہونا پڑے گا کہ ؎
غالب ثنائے خواجہ بہ یزداں گذاشتیم
کاں ذاتِ پاک مرتبہ دان محمدؐ است
ان گنت مدحت طرازانِ دربارِ نبوتؐ اس بارگاہ کی قدر افزائی تو کیا کریں گے، ہاں اپنی نجات اور سرفرازی کا سامان ضرور بہم پہنچائیں گے۔ کتنے ہی حرف ناشناس سخن دان بن کر ابھریں گے۔ سچ کہا شاعرِ رسالتؐ نے ؎
ما ان مدحت محمدًا بمقالتی
لٰکن مدحت مقالتی بمحمد
’’میں نے اگر اپنے شعر سے سرورِ عالمؐ کی تعریف کی ہے تو اس سے ان کی قدر افزائی نہیں ہوئی، ہاں میرا شعر ان کی وجہ سے ضرور بلند ہو گیا ہے۔‘‘
آج مضامینِ نعت اس قدر متنوع ہیں جیسے ایک صد پہلو ہیرا جس کا ہر پہلو ایک نیا رنگ منعکس کرتا ہے۔ ہجر و فراقِ دیارِ رسولؐ، سیرتِ اطہر کے مختلف گوشے، معراجِ رسولؐ، ہجرت، مغازی، بزم آرائی، شمائل و فضائل، غمِ دل، غمِ روزگار، پیغامِ رسولؐ کی اشد ضرورت کا احساس، اپنی بے سروسامانی، سراپائے اقدس، اعترافِ گناہ، زندگی کی بے لطفی، اجتماعی طور پر امت مرحوم کی فریادیں، شفاعتِ رسولؐ کا دل خوش کن تصور، تپشِ حشر میں حضورؐ کی سایہ گستری اور رحمۃ للعالمینی ایسے مضامین نے آج اس صنف کو گلہائے رنگارنگ کا نہایت دل آویز گلدستہ بنا دیا ہے۔ اس پر اسلوبِ بیان کی جدت فرازیاں مستزاد کر لیجئے تو فنِ نعت بطور صنفِ شعر کے جان تغزل بھی ہے، ادبِ عالیہ کا معیار بھی اور معارف و حقائق کا بہتا ہوا دریا بھی۔ مختصرًا یوں کہہ لیجئے کہ شاعری (خصوصاً عربی، اردو، فارسی) سمٹ سمٹا کر ایک قدسی بانکپن کے ساتھ آج نعت کی صورت میں جلوہ گر ہو رہی ہے۔ کیوں نہ ہو جس کا تذکرہ ہے وہ بھی تو روحِ کائنات ہے۔
وصلی اللہ علٰی حبیبہ سیدنا محمدًا واٰلہ وصحبہ و بارک وسلم۔

اختِ ہارون و بنتِ عمران حضرت مریم علیہا السلام

تاریخی حقائق کی روشنی میں

محمد یاسین عابد

کتبِ تاریخ عالم میں مریم نام کی دو عورتیں سب سے زیادہ مشہور ہوئیں۔ پہلی وہ جو حضرات موسٰیؑ اور ہارونؑ کی بہن تھیں۔ حضرت موسٰیؑ اور حضرت ہارونؑ سگے بھائی تھے اور دونوں اللہ کے سچے نبی تھے۔ آپ کے والد محترم کا نام عمران تھا، بائبل میں عمرام درج ہے۔ حضرت موسٰی علیہ السلام کی اولاد کے مقابلہ میں حضرت ہارون علیہ السلام کی اولاد نے زیادہ فضیلت پائی، چنانچہ بائبل مقدس میں ہے کہ
’’عمرام کے بیٹے ہارون اور موسٰی تھے اور ہارون الگ کیا گیا تاکہ وہ اور اس کے بیٹے ہمیشہ پاک ترین چیزوں کی تقدیس کیا کریں اور سدا خداوند کے آگے نجور جلائیں اور اس کی خدمت کریں اور اس کا نام لے کر برکت دیں۔ رہا مردِ خدا موسٰی سو اس کے بیٹے لاوی کے قبیلے میں گنے گئے۔‘‘ (۱ تواریخ ۲۳: ۱۳ تا ۱۴)
ثابت ہوا کہ خدا نے بنی ہارونؑ کو ایک الگ و اعلٰی مقام عطا فرمایا تھا جو دیگر بنی اسرائیل کو حاصل نہ تھا۔ اسی لیے موسٰی علیہ السلام کی بہن مریم کو بعد کے لوگ ہارونؑ کی بہن مریم کے نام سے یاد کرتے اور لکھتے تھے جیسا کہ بائبل میں ہے کہ
’’تب ہارونؑ کی بہن مریم نبیہ نے دف ہاتھ میں لیا۔‘‘ (خروج ۱۵: ۲۰)
بنی اسرائیل کی عورتوں میں موسٰیؑ کی بہن مریم نیکی، پرہیزگاری، تقوٰی اور خدا کی حمد و ثنا کرنے میں بہت مشہور تھیں اور مردوں میں حضرت ہارونؑ اپنی مثال آپ تھے اسی لیے بائبل مقدس نے موسٰیؑ کی بہن مریم کی بجائے ہارونؑ کی بہن مریم کہا۔
تاریخ کی دوسری مشہور اور عظیم مریمؑ حضرت عیسٰی علیہ السلام کی والدہ محترم ہیں۔ یہ مریمؑ پہلی مریم سے کہیں زیادہ فضیلت والی اور زہد و تقوٰی، پاکدامنی، نیکی، پرہیزگاری اور خدا کی حمد و ثنا کرنے اور زیادہ سے زیادہ وقت عبادتِ الٰہی میں مصروف رہنے والی عظیم ترین شخصیت تھیں۔ آپؐ تمام عمر کنواری رہیں، نہ آپ کسی کی منکوحہ تھیں اور نہ ہی منگیتر۔ ان حضرت مریمؑ کے والدِ محترم کا نام بھی عمران ہی ہے جیسا کہ کلامِ الٰہی میں ہے کہ
’’وَ مَرْیَمَ ابْنَتَ عِمْرَان‘‘
’’اور مریم بیٹی عمران کی‘‘ (سورہ التحریم ۱۲)
بعض عیسائی علماء کہتے ہیں کہ عمران تو اس مریم کے والد کا نام ہے جو موسٰیؑ و ہارونؑ کی بہن تھی۔ لیکن ہم عرض کریں گے کہ ایک ہی نام کے بہت سے اشخاص ہو سکتے ہیں بلکہ بائبل مقدس سے بھی ثابت ہے۔ مثلاً حضرت یعقوب علیہ السلام کے بیٹوں کے نام یہوداہ، شمعون، لاوی اور یوسفؑ تھے، جبکہ حضرت عیسٰیؑ کے شاگردوں میں بھی ان ناموں کے حضرات موجود تھے۔ معترض حضرات کو یہ تو سوچنا چاہیئے کہ اگر مریم دوسری ممکن ہے تو عمران نام کا دوسرا شخص کیوں نہیں ہو سکتا۔
بعض حضرات کہتے ہیں کہ مانا کہ ایک ہی نام کے کئی اشخاص ہو سکتے ہیں لیکن یہ کیسے ممکن ہے کہ دونوں عمرانوں کی بیٹیوں کے نام بھی مریم ہی ہوں؟ جواباً عرض ہے کہ ایسا تو اکثر ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر پیغمبر یوسف علیہ السلام کے والدِ محترم کا نام گرامی یعقوبؑ تھا یعنی آپ یوسفؑ بن یعقوبؑ تھے۔ اور انجیل متی کے پہلے باب سے ایک نجار کا بھی یوسف بن یعقوب ہونا ثابت ہے۔ پس اگر ایک یوسفؑ بن یعقوبؑ کے بعد دوسرا یوسف بن یعقوب ممکن ہے تو ایک مریمؒ بنت عمران کے بعد دوسری مریمؑ بنت عمران کیسے غیر ممکن ہو سکتی ہے؟
بعض عیسائی دوست یہ بھی کہتے ہیں کہ سورہ تحریم کی آیت ۱۲ انجیل لوقا ۳: ۲۳ کے خلاف ہے کیونکہ انجیل کے مطابق مریمؑ کے والد کا نام عیلی ہے۔ ہم عرض کریں گے کہ لوقا ۳: ۲۳ کے مطابق عیلی یوسف نجار کا باپ ہے نہ کہ مریم کا۔ چنانچہ انجیل کی عبارت اس طرح ہے:
’’جب یسوع تعلیم دینے لگا قریباً تیس برس کا تھا ۔۔۔۔ اور یوسف کا بیٹا تھا اور وہ عیلی کا۔‘‘ (لوقا ۳ : ۲۳)
انجیل مقدس کی مذکورہ بالا آیت سے یہ امر روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ عیلی یوسف نجار کا والد ہے نہ کہ مقدسہ مریمؑ کا۔ بعض حضرات کہتے ہیں کہ عیلی کا اپنا کوئی بیٹا نہ تھا اس لیے یہودی دستور کے مطابق داماد یوسف کو بیٹے کی جگہ سلسلۂ نسب میں لکھا گیا۔ حالانکہ اس بات کا کوئی معتبر ثبوت موجود نہیں کہ جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ مریمؑ کے والد کا نام عیلی تھا، اس لیے یہ بے دلیل توجیہہ ہمارے نزدیک کوئی حجت نہیں رکھتی۔
بفرضِ محال اگر مان بھی لیا جائے کہ مقدسہ مریم کے والد کا نام عیلی ہے تب بھی قرآن حکیم کا حضرت مریمؑ کو ’’بنت عمران‘‘ یعنی حضرت موسٰیؑ و ہارونؑ کے باپ عمران کی بیٹی کہنا بھی صحیح ہے کیونکہ بزرگوں سے انتساب قرآنِ عزیز اور بائبل مقدس دونوں ہی سے ثابت ہے جیسا کہ کلام مقدس قرآن پاک میں ہے کہ:
اَمْ کُنْتُمْ شُھَدآءَ اِذْ حَضَرَ یَعْقُوْبَ الْمَوْتُ اِذْ قَالَ لِبَنِیْہِ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ بَعْدِیْ قَالُوْا نَعْبُدُ اِلٰھَکَ وَاِلٰہَ اٰبَآئِکَ اِبْرَاھِیْمَ وَ اِسْمَاعِیْلَ وَ اِسْحَاقَ اِلٰھًا وَّاحِدًا وَنَحْنُ لَہٗ مُسْلِمُوْنَ۔ (البقرہ ۲ : ۱۳۳)
’’کیا تم حاضر تھے جس وقت پہنچی یعقوبؑ کو موت؟ جب کہا اپنے بیٹوں کو تم کیا پوجو گے میرے بعد؟ بولے ہم بندگی کریں گے تیرے رب اور تیرے باپوں (یعنی باپ دادوں) کے رب کی ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق، وہی ایک رب اور ہم اسی کے حکم پر ہیں۔‘‘
قرآن شریف کی مذکورہ بالا آیت کریمہ میں ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق کو حضرت یعقوب کے باپ ’’اٰبَآئِکَ‘‘ کہا گیا ہے حالانکہ حضرت یعقوبؑ کے والد تو صرف حضرت اسحاقؑ ہی ہیں جبکہ حضرت اسماعیلؑ تایا اور حضرت ابراہیمؑ دادا لگتے ہیں۔ مزید وضاحت کے لیے قرآن مجید سے سورۃ البقرہ آیت ۲۰۰ اور البقرہ ۱۷۰ اور النساء ۲۴ اور المائدہ ۱۰۴ اور الانعام ۹۲ اور الانعام ۱۴۹ اور الاعراف ۲۸ اور الاعراف ۷۰ تلاوت فرمائیں۔
انجیل کے مطابق فرشتہ نے یوسف نجار سے کہا کہ
’’اے یوسف داؤد کے بیٹے‘‘ (متی ۱ : ۲۰)
حالانکہ یوسف داؤدؑ کا نہیں بلکہ عیلی کا بیٹا تھا (دیکھو لوقا ۳ : ۲۳)۔ ظاہر ہے کہ فرشتہ نے عیلی کے بیٹے یوسف کو عزت افزائی کے لیے حضرت داؤدؑ کا بیٹا کہا تھا۔ متی ۱:۱ میں یسوع مسیحؑ کو داؤدؑ کا بیٹا اور ابراہیمؑ کا بیٹا کہا گیا ہے حالانکہ مردوں میں سے کوئی بھی شخص آپ کا باپ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بغیر باپ کے پیدا فرمایا، اور آپؑ کی والدہ مریمؑ بھی داؤدؑ کی نسل سے نہیں بلکہ ہارونؑ کی اولاد سے ہیں۔ اس سلسلہ سے متعلق تفصیلی بحث انشاء اللہ آگے چل کر کی جائے گی۔ فی الحال ہمارا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ حضرت مسیحؑ حالانکہ نہ تو داؤدؑ کے بیٹے ہیں اور نہ ہی آپ کا داؤدؑ کی نسل سے ہونا ثابت ہے، لیکن عزت افزائی کے طور پر آپؑ کو داؤد کا بیٹا کہا گیا، جیسا کہ انجیل لوقا میں ہے کہ
’’خدا اس کے باپ داؤد کا تخت اسے دے گا‘‘ (لوقا ۱ : ۳۳)
اسی طرح انجیل متی میں ہے کہ
’’دو اندھے اس کے پیچھے یہ پکارتے ہوئے چلے کہ اے داؤد کے بیٹے ہم پر رحم کر۔‘‘ (متی ۹ : ۲۷ مزید دیکھئے متی ۲۱ : ۹ اور ۱۲ : ۱۳ اور ۱۵ : ۲۲ اور ۲۰ : ۳۰ اور ۲۲ : ۴۲)
اللہ تعالیٰ نے حضرت موسٰیؑ سے فرمایا:
’’میں تیرے باپ کا خدا یعنی ابراہیمؑ کا خدا اور اضحاقؑ کا خدا اور یعقوبؑ کا خدا ہوں۔‘‘ (خروج ۳ : ۶)
غور فرمائیے کہ مندرجہ بالا حضرات میں سے ایک بھی شخص موسٰیؑ کا باپ نہیں لیکن عزت افزائی کے لیے موسٰیؑ کو ابراہیمؑ، اسحاقؑ اور یعقوبؑ کا بیٹا کہا گیا ہے۔ اسی طرح حضرت یعقوبؑ سے کہا گیا کہ
’’میں خداوند تیرے باپ ابراہیمؑ کا خدا اور اضحاقؑ کا خدا ہوں۔‘‘ (پیدائش ۲۸ : ۱۳)
یعنی ابراہیمؑ کو یعقوبؑ کا باپ کہا گیا حالانکہ یعقوبؑ ابراہیمؑ کے بیٹے نہیں۔ یسوع مسیحؑ نے ایک مریضہ سے متعلق فرمایا:
’’یہ جو ابراہیمؑ کی بیٹی ہے جس کو اٹھارہ برس سے شیطان نے باندھ رکھا تھا۔‘‘ (لوقا ۱۳: ۱۶)
ظاہر ہے اس عورت کا باپ ابراہیمؑ خلیل اللہ نہ تھے۔ اسی طرح لوقا ۱۶ : ۲۴ تا ۳۱ میں عالمِ ارواح کے ایک منظر میں ایک شخص کا ابراہیمؑ کو ’’اے باپ‘‘ کہہ کر پکارنا اور ابراہیم کو اس شخص کا بیٹا کہہ کر پکارنا مذکور ہے۔ اکثر یہودی ابراہیمؑ کو اپنا باپ کہتے تھے، چنانچہ یوحنا بپتسمہ دینے والے نے لوگوں سے فرمایا کہ
’’اپنے دلوں میں یہ کہنا شروع نہ کرو کہ ابراہیمؑ ہمارا باپ ہے۔‘‘ (لوقا ۳ : ۸)
بعض اوقات ایسا بھی ہوا کہ محض نیک ہونے کی وجہ سے بھی کسی کو ابراہیمؑ کا بیٹا کہہ دیا جاتا تھا اور بدی کی وجہ سے ابلیس کا بیٹا کہا گیا جیسا کہ مسیحؑ نے یہودیوں سے فرمایا:
’’تم نے جو اپنے باپ سے سنا ہے وہ کرتے ہو۔ انہوں نے جواب میں اس سے کہا ہمارا باپ تو ابراہیم ہے۔ یسوع نے ان سے کہا اگر تم ابراہیم کے فرزند ہوتے تو ابراہیم کے سے کام کرتے۔‘‘ (یوحنا ۸ : ۳۸)
حضرت مسیحؑ نے مزید فرمایا:
’’تم اپنے باپ ابلیس سے ہو۔‘‘ (یوحنا ۸ : ۴۴ مزید دیکھئے یوحنا ۸ : ۵۶ اور لوقا ۱۹ : ۹)
پولس نے غیر اسرائیلیوں کو بھی محض ایمان دار ہونے کی وجہ سے ابراہیم کی اولاد قرار دیا:
’’پس جان لو کہ جو ایمان والے ہیں وہی ابراہیمؑ کے فرزند ہیں۔‘‘ (گلتیوں ۳ : ۷)
پولس نے رومیوں کے نام خط میں لکھا ہے کہ ایمان کی وجہ سے غیر اقوام کے نامختون بھی ابراہیم کے بیٹے کہلانے کے حقدار بن جاتے ہیں (دیکھو رومیوں ۴ : ۱۱)۔
ثابت ہوا کہ جس طرح صرف ایمان لانے کی وجہ سے ایسے لوگ بھی ابراہیمؑ کے بیٹے کہلائے جو ابراہیمؑ کی نسل سے بھی نہ تھے تو لازم آیا کہ ایمان کی مطابقت کی وجہ سے بھی بعض اوقات کسی شخص کو کسی ایسے شخص کا بیٹا کہا جا سکتا ہے جو دراصل اس کا باپ نہیں ہوتا۔ یعنی اگر یہ بھی فرض کر لیا جائے کہ مریمؑ کے باپ کا نام عمران نہیں تھا اور یہ کہ مریمؑ موسٰیؑ و ہارونؑ کے والد عمران کی نسل سے بھی نہیں تھیں تو تب بھی قرآن مجید کا حضرت مریمؑ کو بنتِ عمران کہنا غلط نہیں ہو سکتا۔ (مزید وضاحت کے لیے بائبل میں رومیوں ۴ : ۱۶ اور ۹ : ۱۰)۔ ثابت ہوا کہ کسی شخص کو محض نیکی و پرہیزگاری کی بنا پر بھی کسی نبی یا نیک بزرگ کا بیٹا کہا جا سکتا ہے۔ لہٰذا اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ مریمؑ واقعی عیلی کی بیٹی تھیں اور یہ کہ حضرات موسٰیؑ و ہارونؑ کے باپ عمران کی اولاد سے بھی نہ تھی تب بھی قرآن پاک کا آپ کو بنتِ عمران کہنا غلط نہیں۔
جبکہ سچ تو یہ ہے کہ حضرت مریمؑ کے والد محترم کا نام واقعی عمران ہے کیونکہ قرآنِ حکیم نے حضرت مریمؑ کی والدہ محترم کو عمران کی بیوی قرار دیا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مریمؑ کے والد کا نام واقعی عمران ہے۔ قرآن مجید میں ہے:
اِذْ قَالَتِ امْرَاَتُ عِمْرَانَ رَبِّ اِنِّیْ نَذَرْتُ لَکَ مَا فِیْ بَطْنِیْ مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّیْ اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ۔
’’جب عمران کی بیوی نے کہا کہ اے میرے رب! میں نے نذر کیا تیری جو کچھ میرے پیٹ میں ہے آزاد، سو تو مجھ سے قبول کر، تو ہے اصل سنتا جانتا۔‘‘ (آل عمران ۳۵)
قرآنِ عزیز کی مذکورہ آیت کریمہ اس امر پر دال ہے کہ حضرت مریمؑ کے والد محترم کا نام دراصل عمران ہی ہے۔ اسی لیے آپ کی والدہ کو عمران کی بیوی قرار دیا گیا ہے۔ کسی شخص کو اعزازی طور پر کسی نبی یا بزرگ کا بیٹا، بھائی یا دوست تو کہا جا سکتا ہے لیکن کسی عورت کو کسی ایسے شخص کی بیوی نہیں کہا جا سکتا جو کہ اس کا شوہر نہ ہو۔ لہٰذا ہم پورے وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ حضرت مریمؑ کے والد کا نام واقعی عمران ہے۔ رہا عیلی تو اس کے لیے ہم قاموس الکتاب مطبوعہ ۱۹۸۴ء صفحہ ۶۷۸ مقالہ عیلی عالی کی یہ عبارت پیش کرتے ہیں کہ
’’عیلی مریم کے خاوند یوسف کا باپ‘‘ (لوقا ۳ : ۲۳)
کلامِ الٰہی قرآن پاک میں ہے:
یَآ اُخْتَ ھَارُوْنَ مَا کَانَ اَبُوْکِ امْرَاَ سَوْءٍ وَّ مَا کَانَتْ اُمُّکِ بَغِیًّا۔
’’اے ہارون کی بہن! تیرا باپ برا آدمی نہ تھا اور نہ ہی تیری ماں بدکار تھی۔‘‘ (مریم ۲۸)
بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ حضرت مریمؑ کا کوئی بھائی نہ تھا اس لیے قرآن پاک کا آپ کو اختِ ہارونؑ کہنا ان کو قبول نہیں۔ یہود کے حضرت مریمؑ کو اختِ ہارون یعنی ہارونؑ کی بہن کہہ کر پکارنے کی ایک معقول وجہ موضح القرآن میں یوں درج ہے کہ
’’بہن ہارونؑ کی یعنی ہارونؑ کی بہن، دادے کا نام بولتے ہیں قوم کو جیسی عاد و ثمود، یہ تھیں اولاد حضرت ہارون میں۔‘‘
حضرت شاہ عبد القادر صاحب کا بیان واقعی حقیقت پر مبنی ہے کیونکہ اکثر ہوتا ہے کہ کسی قوم یا قبیلے بلکہ سلطنت کا نام ان کے کسی بزرگ کے نام سے مشہور ہو جاتا ہے۔ مثلاً قومِ عاد جو کہ عاد کی اولاد ہے اور قومِ ثمود جو کہ ثمود کی اولاد ہے اور قومِ لوط جو کہ لوطؑ کی اولاد ہے اور قومِ قریش جو کہ قریش کی اولاد ہیں۔ بائبل مقدس میں بھی ۔۔ کی اولاد کو صرف ۔۔ بھی کہا گیا ہے (دیکھو روت ۱ : ۲، ۶۔ تواریخ ۱۸ : ۲۔ یسعیاہ باب ۱۵)۔ اسی طرح بنی لاوی کو صرف لاوی بھی کہا جاتا تھا۔ اسی طرح بنی اسرائیل قوم کو بھی اکثر اوقات صرف اسرائیل ہی کہہ دیا جاتا تھا (دیکھو تواریخ ۱۷ : ۷ اور ۱۶ : ۴ اور ۱۷ : ۲۱، ۲۲ و ۲۴۔ استثنا ۶ : ۲ تا ۵۔ استثنا ۹ : ۱ اور ۱۰ : ۱۲۔ یسعیاہ ۴۹ : ۳۔ مرقس ۱۲ : ۲۹)۔ اسی طرح بنی اقرائیم کو صرف اقرائیم کہا گیا (دیکھو قضاۃ ۱۹ : ۱۶)۔ اور بنی بنیمین کو بنیمین کہا گیا (دیکھو قضاۃ ۱۹ : ۱۴ اور ۲۰ : ۱۲)۔
یعنی بنی اسرائیل کے قبائل میں یہ رواج عام تھا کہ ہر قبیلے کو اس کے کسی بزرگ کے نام سے پکارتے تھے یعنی بنی ہاررون کو صرف ہارون بھی کہا جاتا تھا۔ اور جیسا کہ ہر شخص اپنی قوم کا بھائی اور ہر عورت اپنی قوم کی بہن ہوتی ہے اسی طرح ہر اسرائیلی اسرائیلی کا بھائی اور ہر ہارونی ہارونی کا بھائی اور ہر ہارونی عورت ہارون کی بہن ہے۔ یوں یہود کا حضرت مریمؑ کو اختِ ہارونؑ کہنا بالکل درست ثابت ہوا۔
کسی شخص کا اپنی قوم کا بھائی ہونے کے کافی شواہد بائبل مقدس میں موجود ہیں۔ مثال کے طور پر استثنا ۵ : ۱۲ میں ہے کہ
’’اگر تیرا کوئی بھائی خواہ وہ عبرانی مرد ہو یا عبرانی عورت تیرے ہاتھ بِکے۔‘‘
بائبل کی مندرجہ بالا عبارت سے ثابت ہوا کہ ہر اسرائیلی اپنی قوم کا بھائی اور عورت قوم کی بہن ہے (مزید دیکھو توریت، استثنا ۱۷ : ۱۵)
مذکورہ بالا شواہد اس امر پر دال ہیں کہ ہر شخص اپنی قوم کا بھائی اور ہر عورت اپنی قوم کی بہن ہوتی ہے۔ لہٰذا قرآن حکیم کا حضرت مریمؑ کو ہارون کی بہن کہنا دراصل بنی ہارون کی بہن کہنا ہے جیسا کہ خزائن العرفان میں ہے کہ
’’چونکہ یہ (یعنی مریمؑ) ان کی (یعنی ہارونؑ کی) نسل سے تھیں اس لیے ہارون کی بہن کہہ دیا جیسا کہ عربوں کا محاورہ ہے کہ وہ تمیمی کو یا اخا تمیم کہتے ہیں۔‘‘
اکثر اوقات اوصاف و عادات میں مماثلت کی بنا پر بھی کسی شخص کو دوسرے کا بھائی کہہ دیا جاتا ہے۔ مثلاً حضرت لوطؑ کو جو کہ حضرت ابراہیمؑ کے بھتیجے ہیں (دیکھو پیدائش ۱۱: ۳۱ اور۱۴ : ۱۲)۔ بائبل مقدس میں ابراہیمؑ کا بھائی کہا گیا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں:
’’تب ابراہیمؑ نے لوطؑ سے کہا میرے اور تیرے درمیان اور میرے چرواہوں اور تیرے چرواہوں کے درمیان جھگڑا نہ ہو کیونکہ ہم بھائی ہیں۔‘‘ (پیدائش ۱۳ : ۸ اور ۱۴ : ۱۲ تا ۱۴)
اسی طرح یسوع مسیح نے اپنے شاگردوں سے فرمایا کہ
’’کیونکہ تمہارا مرشد ایک ہی ہے اور تم سب بھائی ہو۔‘‘ (دیکھو متی ۲۳ : ۸)
چنانچہ تمام شاگردانِ مسیح آپس میں کہلاتے تھے (دیکھو لوقا ۲۲ : ۳۲ اور یوحنا ۲۱ : ۲۳ اور اعمال ۱ : ۱۵ اور ۹ : ۳۰ اور ۱۱ : ۱۲ اور ۱۲ : ۱۷ اور ۱۵ : ۱ اور ۱۶ : ۲ و ۴۰ اور ۲۱ : ۷ و ۱۷ اور (۱) یوحنا ۳ : ۱۴ تا ۱۶ اور (۳) یوحنا ۳ : ۵ و ۱۰ اور فلیمون ۱۰۱ و ۲۰ وغیرہ)۔
پس ثابت ہوا کہ محض عادات و اوصاف میں مماثلت کی وجہ سے بھی ایک شخص دوسرے کا بھائی کہلاتا ہے بلکہ بعض اوقات مماثلت کی بنا پر ایک جگہ کو دوسری جگہ کی بہن کہہ دیا جاتا ہے، چنانچہ یوحنا کے دوسرے خط میں ہے کہ
’’تیری برگزیدہ بہن کے فرزند تجھے سلام کہتے ہیں۔‘‘ (دیکھو ۲ یوحنا ۱ : ۱۳)
کیتھولک بائبل کے مطابق اس جگہ ایک کلیسیا کو دوسری کلیسیا کی بہن کہا گیا ہے اور کلیسیا کے مسیحیوں کو بیٹے کہا گیا ہے۔
مذکورہ بالا تمام شواہد ہمارے دعوٰی کے اثبات کے لیے کافی ہیں کہ عادات و اوصاف اور عزت و عظمت میں مماثلت کی بنا پر بھی کسی شخص کو دوسرے کا بھائی کہا جا سکتا ہے۔ چنانچہ حضرت ہارونؑ اور ان کی اولاد کو عظمت کا جو مقام حاصل تھا وہ بنی اسرائیل کے تمام قبائل میں سے کسی کو حاصل نہ تھا۔ خدا نے کہا نت کے لیے ہارونؑ کو چن لیا تھا، ادھر حضرت عیسٰی علیہ السلام کی والدہ محترم کو بھی اللہ تعالیٰ نے چن لیا تھا، آپ ہیکل کی خدمت کے لیے وقف تھیں، ہر شخص آپ کا احترام کرتا تھا۔ یوں آپ مثیلِ ہارون تھیں اسی لیے بنی اسرائیل آپ کو اختِ ہارونؑ کے عظیم لقب سے پکارتے تھے۔ علاوہ ازیں آپ بنی ہارون سے ہونے کی وجہ سے بھی ہارون کی بہن یعنی بنی ہارون کی بہن تھیں۔
مسیحی ماہنامہ ’’کلام حق‘‘ بابت فروری ۱۹۹۰ء کے صفحہ ۹ پر ہے کہ
’’(قرآنی عیسٰیؑ) کی ماں مریم کے باپ کا نام عمران ہے اور ماں کا نام حنہ۔ یہ مریم جس کے باپ کا نام ’’قران‘‘ عمران بتایا ہے وہ موسٰی و ہارون کی بہن تھی۔‘‘ (گنتی ۲۶ : ۵۹) فرق صرف یہ ہے کہ قرآن نے عمرام کی جگہ عمران لکھ دیا ہے یعنی م کو ن سے بدل ڈالا ہے جو از رومی قواعد اور بلحاظ لغت واجب کہلاتا ہے۔ لیکن اس سے ایک بڑی غلطی وجود میں یہ آئی کہ لوگوں نے موسٰیؑ کی بہن مریم کو یسوع المسیح کی ماں مریم سمجھ لیا۔‘‘
جواباً عرض ہے کہ موسٰیؑ و ہارونؑ کی بہن مریم کی والدہ کا نام یوکبد ہے جب کہ حضرت عیسٰیؑ کی والدہ محترمہ حضرت مریمؑ کی والدہ  کا نام حنہ ہے، جیسا کہ خود ماہنامہ نے بھی تسلیم کیا ہے۔ پھر موسٰیؑ و ہارونؑ کی بہن مریم کو یسوع کی ماں سمجھ کر غلطی میں مبتلا ہونے پر حیرت ہوتی ہے۔ رہا یہ کہ قرآنِ عزیز میں عمرام کے م کو ن سے بدل دیا گیا ہے، ہم جواباً عرض کریں گے کہ ایسا ہرگز نہیں ہوا بلکہ حضرت مریمؑ کے والد کا نام واقعی عمران ہی ہے نہ کہ عمرام جو کہ موسٰیؑ کے والد کا نام ہے۔ اگر مسیح کی والدہ کو موسٰیؑ و ہارونؑ کی بہن ثابت کرنا ہوتا تو قرآن شریف میں بنتِ عمران کی جگہ بنت عمرام لکھا جاتا اور آپ کی والدہ کا نام بھی یوکبد لکھا جاتا۔
مسیحی ماہنامہ ’’کلام حق‘‘ بابت دسمبر ۱۹۸۸ء کے صفحہ ۱۳ سلسلہ ۹ تا ۱۰ پر اناجیل اربعہ کے یسوع المسیح کی والدہ مریم کو اختِ ہارونؑ اور بنتِ عمران تسلیم کیا ہے۔ صفحہ ۱۰ پر انجیلی تعلیم کے نظریہ نمبر ۹ میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ حضرت مریمؑ ہارونؑ کی اولاد سے نہیں بلکہ یہوداہ کی نسل سے تھیں۔ لیکن ہم عرض کریں گے کہ لوقا کی انجیل میں ایسے شواہد موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مریمؑ ہارونؑ کی اولاد سے تھیں۔ چنانچہ لوقا ۱ : ۵ میں ہے کہ
’’زکریاہ نام کا ایک کاہن تھا اور اس کی بیوی ہارون کی اولاد میں سے تھی اور اس کا نام الیشبع تھا۔‘‘
لوقا ۱ : ۳۶ سے مذکورہ بالا الیشبع کا حضرت مریمؑ کا قریبی رشتہ دار ہونا ثابت ہے۔ چنانچہ ہم اس نتیجہ پر پہنچے کہ اگر زکریاہ کاہن کی بیوی الیشبع ہارون کی اولاد سے تھی تو ضروری ہوا کہ الیشبع کی قریبی رشتہ دار مریمؑ بھی ہارون کی اولاد سے ہو۔
جو لوگ مریمؑ کو عیلی کی بیٹی اور داؤد کی نسل سے قرار دیتے ہیں ان کا اصل مقصد دراصل لوقا ۳ : ۲۳ تا ۳۱ میں بیان کردہ نسب نامہ کو (جو کہ یوسف نجار کا نسب نامہ ہے) مریمؑ سے منسوب کر کے متی اور لوقا کے بیان کردہ یوسف نجار کے دو مختلف نسب ناموں کے درمیان پائے جانے والے شدید اختلاف پر پردہ ڈالنا ہے۔ حالانکہ متی اور لوقا دونوں کا دعوٰی ہے کہ وہ یوسف نجار کا نسب نامہ لکھ رہے ہیں۔ جیسا کہ انجیل کے قارئین سے یہ بات مخفی ہے کہ دونوں نے یوسف کا نسب نامہ ہی لکھا ہے، اس کا بڑا ثبوت یہ بھی ہے کہ فرقہ پروٹسٹنٹ کی اردو ریفرنس بائبل میں متی ۱ : ۱۲ میں مذکور ریکونیاہ کے بیٹے سیالتی ایل کے ذیل میں لوقا ۳ : ۳۷ کا ریفرنس دے کر گویا یہ اعتراف کر لیا ہے کہ لوقا ۳ : ۲۷ میں مذکور سیالتی ایل بھی یہی شخص ہے جس کا ذکر متی ۱ : ۱۲ میں ہے۔
ریفرنس بائبل میں یہ وضاحت بھی کر دی گئی ہے کہ اسی شخص یعنی سیالتی ایل کا ذکر عذرا ۳ : ۲ میں بھی موجود ہے۔ جبکہ لوقا ۳ : ۲۷ میں مذکور سیالتی ایل کا ریفرنس دیتے ہوئے بھی عذرا ۳ : ۲ کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور عذرا ۳ : ۲ میں مذکور سیالتی ایل کے ذیل میں ۱۔تواریخ ۳ : ۱۷ کا ریفرنس دے کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ متی ۱ : ۱۲ اور لوقا ۳ : ۲۷ اور عذرا ۳۱ : ۲ اور ۱۔تواریخ ۳ : ۱۷ میں ایک ہی شخص کا ذکر ہے۔ قارئین کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ ۱۔تواریخ ۳ : ۱۷ میں مذکور سیالتی ایل کے ریفرنس میں عذرا ۳ : ۲ اور ۵ : ۲ اور ۱ : ۱ و ۱۲ و ۱۴ اور ۲ : ۲ و ۲۳ اور متی ۱ : ۱۲ اور لوقا ۳ : ۲۷ کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ یعنی تمام مذکورہ جگہوں پر ایک ہی شخص سیالتی ایل کا ذکر ہے۔ یعنی یہ کہنا غلط ہے کہ لوقا والے نسب نامے اور متی والے نسب نامے میں سیالتی ایل نامی دو الگ اور مختلف آدمی ہیں بلکہ ریفرنس بائبل نے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ دونوں نسب ناموں میں ایک ہی شخص کا ذکر ہے۔
لوقا کا بیان کردہ نسب نامہ یوسف سے ناتن بن داؤدؑ تک، اور متی تک کا نسب نامہ یوسف سے سلیمانؑ بن داؤدؑ تک پہنچتا ہے۔ اب کون عاقل یہ تسلیم کرے گا کہ ایک ہی شخص یعنی سیالتی ایل ناتن بن داؤد کی اولاد میں بھی ہے اور وہی سیالتی ایل سلیمانؑ بن داؤدؑ کی اولاد میں بھی ہے۔ البتہ ریفرنس بائبل کے اعتراف نے یہ ثابت کر دیا کہ متی اور لوقا ایک ہی شخص یوسف نجار کا نسب نامہ بیان کر رہے ہیں۔ جس سے یہ بات پایۂ ثبوت کو پہنچی کہ عیلی یوسف کا باپ ہے نہ کہ مریم کا۔ مزید مطالعہ فرمائیں، توریت میں ہے کہ
’’اور اگر بنی اسرائیل کے کسی قبیلہ میں کوئی لڑکی ہو جو میراث کی مالک ہو تو وہ اپنے باپ کے قبیلہ کے کسی خاندان میں بیاہ کرے تاکہ ہر اسرائیلی اپنے باپ دادا کی میراث پر قائم رہے۔ یوں کسی کی میراث ایک قبیلہ سے دوسرے قبیلہ نہیں جانے پائے گی۔ لیکن بنی اسرائیل کے قبیلوں کو لازم ہے کہ اپنی اپنی میراث اپنے قبضہ میں رکھیں۔‘‘ (گنتی ۳۶ : ۸ تا ۹)
چونکہ حضرت مریمؑ، ہارونؑ اور یوسفؑ، سلیمانؑ کی اولاد تھے لہٰذا بمطابق حکم توریت دونوں کا نکاح نہ ہو سکتا تھا اور نہ ہی ہوا۔

آپ نے پوچھا

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

کیا امام اعظم ابوحنیفہ ؒ کا تعلق مرجئہ سے تھا؟

سوال: مرجئہ کون تھے؟ ان کے خاص خاص عقیدے کیا تھے؟ کیا یہ فرقہ اب بھی موجود ہے؟ امام ابوحنیفہ ؒ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بھی مرجئہ فرقہ میں سے تھے، اس کی کیا حقیقت ہے؟ (چراغ الدین فاروق، کوٹ رنجیت سنگھ، شیخوپورہ)
جواب: عہدِ صحابہؓ کے اختتام پر رونما ہونے والے فرقوں میں سے ایک ’’مرجئہ‘‘ بھی تھا جس کے مختلف گروہوں کا ذکر امام محمد بن عبد الکریم الشہرستانی  ؒ (المتوفی ۵۴۸ھ) نے اپنی معروف تصنیف ’’الملل والنحل‘‘ میں کیا ہے، اور مرجئہ کی وجہ تسمیہ ایک یہ بیان کی ہے کہ یہ لوگ ایمان کے ساتھ عمل کو ضروری نہیں سمجھتے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ کبیرہ گناہ کے مرتکب کے بارے میں دنیا میں جنتی یا جہنمی ہونے کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا اور فیصلہ آخرت تک مؤخر اور موقوف ہے۔ اس لیے انہیں مرجئہ کہا جاتا تھا جس کا معنی ہے ’’مؤخر کرنے والا گروہ‘‘۔ ان کا عقیدہ یہ ہے کہ ایک شخص جب توحید و رسالت پر ایمان لے آئے تو اس کو کوئی گناہ ضرر نہیں دیتا اور اس کی نجات یقینی ہے۔
دراصل اسی دور میں خوارج اور بعض دیگر گروہوں نے جب اس عقیدہ کا اظہار کیا کہ کبیرہ گناہ کے ارتکاب سے مسلمان کافر ہو جاتا ہے، تو اس کے ردعمل میں مرجئہ دوسری انتہا پر چلے گئے کہ صرف ایمان کافی ہے، عمل کی سرے سے ضرورت نہیں ہے۔ یا ایمان کی موجودگی میں کسی بھی قسم کا عمل کوئی نقصان نہیں دیتا۔
جبکہ اہلِ سنت کا مذہب اعتدال و توازن کا ہے کہ ایمان کے ساتھ نجاتِ کامل کے لیے عملِ صالح شرط ہے، لیکن کبیرہ گناہ کے ارتکاب سے کفر لازم نہیں آتا۔ حضرت امام ابوحنیفہ ؒ چونکہ اہلِ سنت کے امام اور ترجمان تھے اور انہوں نے کبیرہ گناہ کے مرتکب پر کفر کا فتوٰی لگانے سے انکار کر دیا، تو اس طرف کے لوگوں نے الزاماً انہیں ’’مرجئہ‘‘ قرار دے دیا، حالانکہ امام صاحبؒ کا مرجئہ کے ساتھ دور کا تعلق بھی نہیں تھا۔ امام شہرستانی  ؒ نے ’’الملل والنحل‘‘ میں امام اعظمؒ کی طرف مرجئہ ہونے کی نسبت کا خوب تجزیہ کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ صرف قدریہ اور معتزلہ کا حضرت امام صاحبؒ پر الزام ہے۔

معرکہ ۱۸۵۷ء اور بہادر شاہ ظفرؒ

سوال: ۱۸۵۷ء کے جہادِ آزادی میں بہادر شاہ ظفر ؒ کا کردار کیا تھا؟ (محمد عاصم بٹ، گکھڑ ضلع گوجرانوالہ)
جواب: ۱۸۵۷ء کے معرکہ حریت میں بادشاہ ہند بہادر شاہ ظفر مرحوم مجاہدینِ آزادی کے ساتھ پوری طرح شریکِ کار تھے۔ انہوں نے والیانِ ریاست کے نام اپنے ایک خط میں لکھا کہ
’’میری پرجوش خواہش ہے کہ ہندوستان سے فرنگیوں کو ہر ممکن طریق سے نکال دیا جائے تاکہ ملک آزاد ہو جائے۔‘‘
بہادر شاہ ظفرؒ نے اس خدشہ کی بھی تردید کر دی کہ آزادی کی جدوجہد میں ان کی دلچسپی اپنے اقتدار کی خاطر ہے، چنانچہ انہوں نے لکھا کہ
’’انگریزوں کو ملک سے نکال دینے کے بعد میرا مقصد ہندوستان پر حکومت کرنے کا نہیں۔ اگر تمام راجے دشمن کو ملک سے نکالنے کے لیے تلوار نیام سے نکال لیں تو میں شاہی اختیارات اور طاقت سے دستبردار ہونے کے لیے رضامند ہو جاؤں گا۔‘‘
مجاہدین کی افواج کے کمانڈر انچیف کی حیثیت سے جنرل بخت خان کا تقرر بھی بہادر شاہ ظفرؒ نے کیا اور مجاہدینِ آزادی کی پوری طرح پشت پناہی کی۔ اسی ’’جرم‘‘ میں ۱۸۵۷ء کی جنگ میں مسلمانوں کی ناکامی کے بعد بہادر شاہ ظفرؒ کو گرفتار کر لیا گیا، ان کے بیٹوں کو شہید کر دیا گیا اور مقدمہ چلانے کے بعد بہادر شاہ ظفرؒ کو مجرم قرار دے کر جلاوطن کر دیا گیا۔ چنانچہ رنگون میں نظربندی کی حالت میں ۷ نومبر ۱۸۶۲ء کو ان کا انتقال ہو گیا۔ (بحوالہ ’’انگریز کے باغی مسلمان‘‘ از جانباز مرزا)

کیا علماء دیوبند نے انگریزی سیکھنے کو حرام قرار دیا تھا؟

سوال: مشہور ہے کہ علماء دیوبند نے انگریزی زبان سیکھنے کو حرام قرار دیا تھا، اس کی حقیقت کیا ہے؟ (اللہ وسایا قاسم، جہانیاں)
جواب: یہ بات غلط ہے، علماء دیوبند نے انگریزی زبان اور تعلیم کے جلو میں آنے والی یورپی تہذیب و ثقافت اور انگریزی ذہنیت و کلچر کی مخالفت ضرور کی ہے اور حالات نے ثابت کر دیا ہے کہ اس کے بارے میں ان کا موقف درست تھا، لیکن بحیثیت زبان کے انگریزی کی مخالفت نہیں کی۔ چنانچہ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ نے اس سلسلہ میں ایک استفتاء کے جواب میں مندرجہ ذیل صراحت کی ہے:
’’سوال: انگریزی پڑھنا اور پڑھانا درست ہے یا نہیں؟
جواب: انگریزی زبان سیکھنا درست ہے بشرطیکہ کوئی معصیت کا مرتکب نہ ہو اور نقصان دین میں اس سے نہ آوے۔‘‘ (فتاوٰی رشیدیہ ص ۵۶۰)
ان کے علاوہ دیگر اکابر نے بھی مختلف مواقع پر اسی موقف کا اظہار کیا حتٰی کہ حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ نے تو مالٹا کی نظربندی سے واپسی پر خود علماء کو ترغیب دی کہ وہ انگریزی زبان سیکھیں تاکہ نئے دور کے تقاضوں سے عہدہ برا ہو سکیں۔

تعارف و تبصرہ

ادارہ

’’فتنۂ جمہوریت‘‘

از: حکیم محمود احمد ظفر
کتابت و طباعت معیاری: صفحات ۱۹۰
ملنے کا پتہ: ادارہ معارف اسلامیہ، مبارک پور، سیالکوٹ
جمہوریت ایک سیاسی نظام کا نام ہے جو اس وقت دنیا کے بہت سے ممالک میں رائج ہے اور جس کی حشرسامانیوں نے اسلام کے نام پر قائم ہونے والے نظریاتی ملک ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ کو بھی جولانگاہ بنا رکھا ہے۔ پاکستان میں گذشتہ چالیس سال کے دوران جمہوریت اور مارشل لاء کی عملی کشمکش اور اسلام، سوشلزم اور جمہوریت کی فکری آویزش نے ذہنی انتشار اور سیاسی انارکی کا جو اکھاڑہ قائم کر دیا ہے اس کے ہاتھوں ہماری مذہبی، تہذیبی اور معاشرتی اقدار و روایات ملیامیٹ ہو کر رہ گئی ہیں اور ہوسِ زر و اقتدار نے اس افراتفری اور نفسانفسی میں اپنے اقتدار کا خوب سکہ جما لیا ہے۔
مذہب، خدا، بائبل اور کلیسا سے ذہنی طور پر آزاد ہو جانے والی یورپی اقوام کو جمہوریت راس آئی ہے اور راس آنی بھی چاہیئے کہ ان کے عقائد اور اجتماعی نظام کے درمیان کوئی فکری تضاد باقی نہیں رہا۔ مگر اسلام، خدا، قرآن اور مسجد کے ساتھ قلبی وابستگی رکھنے والے مسلم معاشرہ کو یہ جمہوریت ہضم نہیں ہو رہی اور اس سیاسی فکر کے ساتھ پے در پے ذہنی تضادات کے باعث ہضم ہو بھی نہیں سکتی۔ لیکن اس کے باوجود جمہوریت پرست عناصر مسلسل اس کوشش میں ہیں کہ پاکستان میں جمہوریت ہی کا دور دورہ ہو اور اس کی خاطر مذہب، عقیدہ اور اقدار و روایات سمیت کسی بھی چیز کی قربانی سے دریغ نہ کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے جمہوریت کو اسلام ہی کی ایک نئی شکل اور عین اسلام ثابت کرنے کی مہم جاری ہے۔
مولانا حکیم محمود احمد ظفر نے زیرِ نظر کتابچہ میں اسی سعی نامشکور کا جائزہ لیا ہے اور قرآن و سنت کے ٹھوس دلائل کے ساتھ اس حقیقت کو واضح کیا ہے کہ موجودہ مغربی جمہوریت کا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ یہ اسلام کے مقابلہ میں ایک الگ نظامِ سیاست ہے جس کی فکری بنیاد مذہب سے انحراف پر رکھی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی مصنف نے اسلامی نظامِ سیاست و حکومت کے مختلف پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالی ہے اور اسلام اور جمہوریت کے فکری، عملی اور علمی تضادات کو اجاگر کرنے کی ایک کامیاب کوشش کی ہے۔

’’خلاصۂ تفسیر القرآن متعلقہ حقوقِ نسواں‘‘

از: مولانا حمید الرحمٰن عباسی
کتابت و طباعت معیاری، صفحات ۶۷۲
ناشر: انجمن خدام الدین، شیرانوالہ گیٹ، لاہور
حضرت اقدس مولانا احمد علی لاہوری قدس اللہ سرہ العزیز کے خوشہ چینوں میں مولانا حمید الرحمٰن عباسی ایک بے نفس بزرگ ہیں جو شیرانوالہ میں ہی انتہائی سادگی اور درویشی کے ساتھ قرآن کریم کی خدمت میں مصروف ہیں۔ مرشدی حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ کے ساتھ ایک معاون کی حیثیت سے انہوں نے سالہا سال تک دورۂ تفسیر کے طلبہ کو حضرت امام لاہوریؒ کی طرز پر قرآن کریم کے ترجمہ و تفسیر سے فیضیاب کیا ہے اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔
قرآن کریم کو اس کی روایتی ترتیب سے ہٹ کر مضامین کے حوالہ سے پڑھنا اور اجتماعی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر قرآن حکیم کو ایک نظام اور مجموعۂ قوانین و ضوابط کی حیثیت سے پیش کرنا مولانا عباسی کا خصوصی ذوق ہے جو انہیں حضرت امام لاہوریؒ سے ودیعت میں ملا ہے اور زیرنظر مجموعہ ان کے اسی ذوق کا شاہکار ہے۔ مولانا موصوف اجتماعی زندگی کے مختلف شعبوں کے بارے میں قرآن کریم کی ہدایات کو الگ الگ مجموعہ جات کی صورت میں پیش کرنے کا عزم رکھتے ہیں اور اس کا آغاز انہوں نے خواتین کے حقوق و فرائض اور ان سے متعلقہ مسائل پر مشتمل زیرنظر مجموعہ سے کیا ہے جسے خلاصۂ تفسیر القرآن کی جلد خامس کا عنوان دیا گیا ہے۔
اسلام میں خواتین کے مقام و حیثیت اور ان کے حقوق و فرائض کی وضاحت کے ساتھ ساتھ نکاح، طلاق، عدت، وراثت، حدود، شہادت، پردہ اور دیگر ضروری امور کے بارے میں قرآن و سنت کی ہدایات و احکام کو اچھے پیرائے میں بیان کر کے مصنف نے مغربی تہذیب کی حمایتی لابیوں کی یلغار کے اس دور میں وقت کی ایک اہم ضرورت کو پورا کیا ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ مختلف نظام ہائے زندگی کی کشمکش کی اس فضا میں قرآن کریم کے بحیثیت نظامِ زندگی مطالعہ کے ذوق کو زیادہ سے زیادہ عام کرنے کی ضرورت ہے اور مولانا عباسی کی یہ کاوش اس سمت ایک بہتر پیشرفت ہے۔

’’وہ عہد کا رسولؐ‘‘

مرتب: مولانا عبد اللطیف مسعود
صفحات ۱۳۰ قیمت ۱۵ روپے۔ کتابت و طباعت گوارا
ملنے کا پتہ: مدینہ پلاسٹک مرکز، مین بازار ڈسکہ، ضلع سیالکوٹ
مصنف نے اس کتابچہ میں جناب رسالتماب صلی اللہ علیہ وسلم کی ختمِ نبوت کے بارے میں قرآن کریم کے ساتھ ساتھ بائبل سے بھی دلائل پیش کیے ہیں، اور سابقہ آسمانی کتب میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کی پیشگوئیوں اور بشارات کے علاوہ سید المرسلینؐ کی صداقت و رسالت پر غیر مسلم مشاہیر کے اقوال بھی اچھے انداز میں جمع کر دیے ہیں اور اس سلسلہ میں مسیحی مصنفین کے اعتراضات کا بھی مسکت جواب دیا ہے۔

’’تجلیاتِ حبیبؒ‘‘

مصنف: مولانا محمد نعیم اللہ فاروقی
صفحات ۶۸ کتابت و طباعت عمدہ
ملنے کا پتہ: جامع مسجد زینب، بند روڈ، لاہور ۲۵
حضرت مولانا غلام حبیب نقشبندی قدس اللہ سرہ العزیز ہمارے دور کے اہل اللہ میں سے تھے جنہوں نے اپنے اسلاف کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے مسلمانوں میں اللہ اللہ کا ذوق بیدار کرنے اور قرآن و سنت کی تعلیمات کو عام کرنے کے لیے ساری زندگی محنت کی۔ ان کے خلیفہ مجاز مولانا محمد نعیم اللہ فاروقی نے اس رسالہ میں اپنے شیخ کے حالاتِ زندگی، جہد و عمل اور ملفوظات کو پیش کیا ہے جس کا مطالعہ نوجوان علماء کے لیے بالخصوص افادیت کا باعث ہو گا۔

’’سازش کا پردہ چاک ہوتا ہے‘‘

مصنف: محمد اسلم رانا
صفحات ۴۲ قیمت ۴ روپے
ملنے کا پتہ: (۱) اسلامی مشن، سنت نگر، لاہور (۲) مرکز تحقیق مسیحیت، ملک پارک، شاہدرہ، لاہور
جناب محمد اسلم رانا ایک عرصہ سے پاکستان میں عیسائی اداروں کی تبلیغی سرگرمیوں کے تعاقب کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں اور حالات کی نامساعدت کے باوجود علماء اسلام کو ان کی دینی ذمہ داری کے اس اہم پہلو کی طرف توجہ دلانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ زیرنظر مضمون میں انہوں نے سندھ کے ناگفتہ بہ حالات کے پس منظر میں مسیحی اداروں اور ہندوؤں کی اسلام دشمن سرگرمیوں کو بے نقاب کیا ہے اور مختلف حوالوں سے پاکستان کی سالمیت کے خلاف غیر مسلم اقلیتوں کی سازشوں سے پردہ اٹھایا ہے۔

امراضِ گردہ و مثانہ

پتھری کے اسباب

حکیم محمد عمران مغل

ہمارا جسم پانی سے لبریز ہے جس میں کیمیائے حیات کے سبب آلودگی ہوتی رہتی ہے۔ غذا کی تلچھٹ اور خون میں تقریباً چودہ سے زائد نمکیات یا اجزا ہر وقت شامل رہتے ہیں۔ اس تلچھٹ اور نمکیات کی زیادتی کو خون سے جدا کر کے براستہ پیشاب خارج کرنا گردوں کا کام ہے، اس لیے انہیں جسم کی چھلنی بھی کہا جاتا ہے۔ گردے دو چھوٹے چھوٹے اعضاء ہیں جو کمر سے نیچے ریڑھ کی ہڈی کے دونوں جانب قدرت نے آویزاں کیے ہیں۔ حجم اور قامت میں انڈے سے بڑے تقریباً ساڑھے چار انچ لوبیا کی مانند۔ قدرت کی کاریگری ملاحظہ فرمائیں کہ ان میں بیس لاکھ نلکیاں ہیں جنہیں ایک سیدھ میں کیا جائے تو اَسّی میل کا فاصلہ بنتا ہے ’’فتبارک اللہ احسن الخالقین‘‘۔ 
مشروبات میں جس قسم کی غلاظت ہو گی یا پانی میں جتنے زائد نمکیات جو ہمارے جسم کو ضرورت نہ ہوں، وہ گردے الگ کر دیں گے۔ اس کے علاوہ خون سے زہریلی ادویات، جراثیمی زہر، جانوروں کے کاٹنے سے پیدا ہونے والے زہر، اور فالتو نمکیات کو کسی صورت جسم میں نہیں چھوڑتے۔ یہ پاسبانوں کی طرح سدا چوکس اپنے فرائض انجام دیتے رہتے ہیں۔
جوان صحت مند آدمی چوبیس گھنٹہ میں ایک سے ڈیڑھ لیٹر تک پیشاب کرتا ہے جس میں پانی اور خون کی غلاظت اور نمکیات ہوتے ہیں۔ اگر گردے اور مثانہ صحت مند ہوں تو پندرہ اونس پیشاب انسان روک سکتا ہے، مگر کمزوری کی صورت میں بمشکل پانچ اونس ہی رکے گا، اور بڑھاپے میں مثانہ تقریباً کمزور ہو جاتا ہے اس لیے بار بار پیشاب آتا ہے۔ جوانی میں اگر پیشاب بار بار آئے تو مثانہ میں نقص واقع ہو گا جیسے مثانہ کی خراش یا دیگر امراضِ مثانہ۔ اگر پیشاب کو کافی دیر روکے رکھیں تو ورمِ مثانہ کے علاوہ پتھری بھی بن سکتی ہے۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ سواری کی حالت میں سواری روک کر بہرصورت پیشاب کر لیں۔
بظاہر کوئی تکلیف نہیں مگر بار بار پیشاب آئے یا بلا ارادہ پیشاب نکل جائے تو پھر ہاضمہ لازمی خراب ہو گا یا حرام مغز پر چوٹ لگنا، ٹھنڈی اور تیز اشیاء کا استعمال، نیچے کے دھڑ کا فالج۔ اسی طرح اگر تین سال سے زائد عمر کا بچہ بستر پر پیشاب کرتا ہے تو اس کے ہاضمہ کی طرف توجہ دیں۔ اس کے پیٹ میں کیڑے بھی یقیناً ہوں گے، اس کے حوض گردہ کی یا مثانہ میں سوزش بھی ہو سکتی ہے۔ جسم کے دوسرے اعضاء کی نسبت اپنے جثہ اور قد و قامت کے لحاظ سے انہیں جتنا کام کرنا چاہیئے یہ اس سے دس گنا زیادہ کام کرتے ہیں۔ یہ ہمارے لیے تو اتنا کام کریں مگر ایک ہم ہیں کہ سارا سارا دن بیٹھے جانوروں اور چوپاؤں کی طرح الابلا کھائے جاتے ہیں اور جسم کو حرکت دینے میں عار سمجھتے ہیں، جس کا سبب پتھری کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔
یاد رکھیں کہ گردوں میں پتھری اور ریت کا مرض کسی بھی عمر میں ہو سکتا ہے، تاہم جوانی اور بڑھاپے میں یہ زیادہ زور آزمائی کرتا ہے۔ پتھری کے مریض تقریباً سو فیصد وہ لوگ ہوتے ہیں جو سست اور سہل الوجود کاہل بیٹھے بیٹھے منصوبہ بندی کرتے رہتے ہیں۔ مرغن میٹھی اور لحمی غذائیں کھاتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ
وہ بھولے ہوئے ہیں عادت خدا کی
کہ حرکت میں ہوتی ہے برکت خدا کی
چنانچہ انہی لوگوں کی اولاد میں بھی یہ مرض سرایت کر جاتا ہے اور موروثی سلسلہ چل نکلتا ہے۔

علامات

گردوں میں عموماً دو قسم کی پتھریاں پیدا ہوتی ہیں۔ آج کل کی اصطلاح میں پہلی قسم کو یورک ایسڈ، دوسری کو اوگزے لیٹ آف لائم۔ یورک ایسڈ سے مراد ہے جو لوگ گوشت زیادہ کھاتے ہیں، ورزش یا کام کاج قطعی نہیں کرتے، جس سے پانی کی طلب ان کو تقریباً نہیں رہتی، یہ پتھری بھوری سرخی مائل سطح ہموار لیے ہو گی، تو سمجھ لیں کہ اس مریض نے گوشت اور لحمی اجزاء سے بھرپور خوراک کھائی مگر اکثر زندگی سستی میں گزاری۔ فاسفیٹ یا اوگزے لیٹ سے بننے والی پتھری ان مریضوں میں ہو گی جن کا ہاضمہ خراب اور جگر کمزور ہوتا ہے۔ یہ لوگ گوشت کی بجائے چکنائی اور میٹھی اشیاء کا بکثرت استعمال کرتے ہیں۔
آپ کو زندگی میں یہ مشاہدہ بھی ہوا ہو گا کہ یہ تمام بدپرہیزی بھی ہو رہی ہے مگر صحت پھر بھی ٹھیک اور گردہ و مثانہ کی کوئی بیماری بھی نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے اپنے کاموں میں کولہو کے بیل کی طرح جتے رہتے ہیں۔ اگر ان کو اپنی منزل آسمانوں میں نظر آجائے تو گھبراتے نہیں اور ان کا کھایا پیا سب پسینے کے راستے خارج ہو جاتا ہے۔
گردے میں پتھری کی علامت یہ ہو گی کہ پسلیوں کے نیچے ریڑھ کی ہڈی کے دونوں جانب ہلکا ہلکا درد ہو گا۔ دوڑنے یا ہچکولوں سے درد میں اضافہ ہو گا۔ یہ درد کبھی کنج ران اور کبھی خصیوں میں بھی ہو گا۔ پتھری جب حرکت کرے گی تو درد سے مریض تڑپ اٹھے گا اور پیشاب کے ساتھ خون کے ذرات بھی آئیں گے۔
یہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ خون مثانہ کی پتھری سے بھی آئے گا، اس لیے اس فرق کو بھی عرض کر دیتا ہوں۔ اگر خون پیشاب میں شامل ہو کر آئے تو یہ گردوں یا حالبین کی نالیوں سے ہو کر آئے گا۔ اگر پیشاب کر چکنے کے بعد خون آئے تو مثانہ کی وجہ سے۔ اگر خون پیشاب کرنے سے پہلے آئے تو محیرائے بول یعنی اس نالی سے جو مثانہ سے پیشاب لاتی ہے۔ اگر پیشاب میں پیپ آئے تو پتھری کی رگڑ سے گردوں میں ورم پیدا ہو چکا ہے۔ مریض کو پتھری کی خراش سے قے آتی ہے۔ اگر مریض کو پیشاب کی نالی میں پیڑو کے نچلے حصہ میں یا پیشاب کی نالی کے آخری سرے میں درد ہو تو اب پتھری مثانہ میں ہو گی جو کہ پیشاب کر چکنے کے بعد ٹیس بھی ہو گی۔ پیشاب بار بار آئے گا اور فراغت کے بعد بھی حاجت بدستور رہے گی۔ اگر پتھری مثانہ کے منہ پر آجائے، پیشاب رک جائے گا۔

علاج و پرہیز

اگر پتھری بہت بڑی ہے تو پھر مجبورًا آپریشن ہی کروانا پڑے گا، حالانکہ آپریشن کے بعد بھی پتھری لازمی پیدا ہو گی کہ یہ اس کا فطری علاج نہیں ہے۔ اس لیے روس کی حکومت نے اس سال مارچ میں بھارت سے معاہدہ کر کے ایک مکمل آیورویدک ادارہ کی بنیاد ڈالی جہاں وہی ہزاروں سال پرانا طریقہ پھر سے رائج ہو گا۔ انجکشن کے بارے میں ۱۹۸۴ء میں کیلیفورنیا کے بائیوٹیکنالوجی کے ماہرین نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ جو دوا منہ کے ذریعے کھلائی جائے وہی اصل اور فطری علاج ہے۔
قصہ مختصر یہ کہ آپ صبح شام خوب سیر کریں کہ خوب پسینہ خارج ہو اور کام کاج میں اپنے جسم کو تھکا دیں تاکہ کھایا پیا اچھی طرح ہضم ہو جائے۔ سخت محنت اور ریاضت آپ کو کندن بنا دے گی۔ یہ دوا پتھری کو ریزہ ریزہ کر کے انشاء اللہ خارج کر دے گی۔ حجر ایہود اور سنگ سرماہی کو باریک سرمہ کی طرح پیس کر صبح اور رات کو ایک ایک ماشہ گرم پانی سے کھائیں۔ پھر صبح شام جوارش زرعونی سادہ چھ چھ ماشہ شربت بزوری ۴ تولے کے ہمراہ کھائیں۔ سوتے وقت کلتھی کی دال کا شوربہ بھی لازمی پیئں۔ کبھی کبھی جوارش جالینوس بھی چھ چھ ماشہ کھانے کے بعد مدت العمر کھاتے رہیں۔
غذا میں چھوٹے گوشت کا اور کالے چنوں کا شوربہ، چپاتی، مونگ ارہر کی دال، روغن بادام، پستہ، انجیر، تربوز، انگور، انناس اور ترش میوے کے بغیر بالکل پرہیز رکھیں۔ پانی جتنا پیا جا سکے پیئں۔ میدہ کی تمام اشیاء سے قطعی پرہیز، ٹھنڈی بوتلیں وغیرہ بھی مکمل طور سے پینا بند کر دیں۔

معاشرتی زندگی کے آداب

حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ

انسان کا مدنی الطبع ہونا بھی اللہ تعالیٰ کی عنایتِ ازلیہ کا کرشمہ ہے۔ اجتماعی زندگی کے بغیر اور ابنائے نوع کے تعاون سے بے نیاز ہو کر وہ اپنی زندگی کی تدبیر، تعمیر اور تحسین نہیں کر سکتا۔
معاشرتی زندگی ایسے آداب کے بغیر بسر ہو نہیں سکتی جو افراد کے آپس میں محبت، تعاون اور تناصر کا رشتہ پیدا کریں اور پھر اس رشتہ کو برقرار اور استوار بھی رکھیں۔ اگر ان پر برے عوامل اثر انداز ہو کر ان میں فساد پیدا کریں تو ان عوامل کا استیصال کرنا چاہیئے اور ایک بار پھر نفرت و دشمنی کی بجائے باہمی الفت و محبت کی طرف لوٹنے کی تدبیر کرنا چاہیئے۔ اس لیے کہ باہم میل جول کے مفید نتائج تب ہی ہاتھ آتے ہیں جب آپس میں محبت اور الفت کا رشتہ قائم ہو۔
معاشرتی زندگی میں انسان کا جن لوگوں سے زیادہ قریبی تعلق رہتا ہے وہ اس کے ذوی الارحام (قریبی رشتہ دار)، پڑوسی اور دیگر دوست، آشنا اور متعلقین ہوتے ہیں۔ مثلاً ہم درس، ہم پیشہ اور ایک ہی حلقۂ خدمت و ارادت کے ہم نشین وغیرہ وغیرہ۔ ان کو چاہیئے کہ
انہی باتوں سے الت بڑھتی اور محبت زیادہ ہوتی ہے اور انہی پر عمران و تمدن کی بقاء کا دارومدار ہے۔
(البدور البازغۃ مترجم ص ۱۴۶)

حکمران جماعت اور قرآنی پروگرام

حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ

قانون کی پابندی کا انتظام ایک جماعت کے ذریعے ہی ہو سکتا ہے اور وہ حکومت کرنے والی جماعت ہی ہو سکتی ہے۔ قانون کا انتظام کرنے والی جماعت کا فرض ہے کہ وہ امانت دار ہو اور اپنا فرض ادا کرنے والی ہو۔ صحیح طور پر قانون کی پابندی کرنے والی جماعت کا سب سے پہلا کام یہ ہو گا کہ وہ قانون کی تعلیم عام لوگوں کو اسی طرح دینا شروع کرے جیسے باپ اپنی اولاد کو پڑھاتا ہے۔
پھر قانون کی مخالفت کرنے والوں کو سزا دینا بھی انہی لوگوں کے ہاتھ میں ہو گا۔ وہ مخالف جماعتیں یا تو اس پارٹی کے اندر شامل ہوں گی یا باہر۔ جو اندر ہوں گی انہیں قانون توڑنے کی سزا دینے کا نام تعزیر ہے اور جو باہر ہوں گی ان سے جنگ لڑنی پڑے گی۔ تعزیر اور جنگ دونوں میں جتنی قوت استعمال کرنے کی ضرورت ہے اتنی ہی استعمال کرنی چاہیئے۔
یہ قانون چلانے والی پارٹی عام لوگوں سے فقط قانون کی پابندی کرائے گی، اور ان کی طرح خود بھی اس قانون کی پابندی کرے گی۔ وہ ان سے اپنی خواہشوں کی پیروی نہیں کرائے گی کیونکہ یہ ظلم ہے۔ قانون کی صحیح پابندی کے لیے زبان میں اصطلاحی لفظ تکلیف بولا جاتا ہے۔ (ترجمہ حجۃ البالغۃ تمہید باب ۶)
جو امت قرآن کریم کا پروگرام نہیں اپنائے گی وہ کبھی کامیاب نہیں ہو گی۔ مسلمان قرآن کی عالمی تنظیمی دعوت کا پروگرام لے کر اٹھے تھے اور پھر اپنی اس تنظیمی دعوت میں کامیاب ہو گئے، اور صرف پچاس سال کی مدت یعنی واقعہ صفین کی تحکیم تک ہوا۔ اب جو کوئی امت تنظیمی دعوت لے کر اٹھے گی تو وہ کبھی بھی کامیاب نہ ہو گی جب تک وہ قرآن کے پروگرام کو نہ اپنائے گی۔ (الہام الرحمٰن)