اسلامی نظریاتی کونسل کی رجعتِ قہقرٰی
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان ایک آئینی ادارہ ہے جس کے قیام کی گنجائش ۱۹۷۳ء کے دستور میں اس مقصد کے لیے رکھی گئی تھی کہ پاکستان میں مروجہ قوانین کا شرعی نقطۂ نظر سے جائزہ لے کر خلافِ اسلام قوانین کو اسلام کے سانچے میں ڈھالا جائے اور قانون سازی کے اسلامی تقاضوں کے سلسلہ میں قانون ساز اداروں کی راہنمائی کی جائے۔ ۱۹۷۳ء میں دستور کے نفاذ کے موقع پر اس مقصد کے لیے سات سال کی مدت طے کی گئی تھی لیکن ۱۹۷۷ء تک کونسل نے اس سمت کوئی پیشرفت نہ کی تو جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم نے اپنے دورِ اقتدار میں اسلامی نظریاتی کونسل کی تشکیلِ نو کر کے اسے نہ صرف متحرک بنایا بلکہ اسلامی نظریاتی کونسل ہی کی سفارشات کی بنیاد پر حدود آرڈیننس اور دیگر اسلامی قوانین کے نفاذ کا آغاز کیا۔
اس دور میں نافذ ہونے والے اسلامی قوانین کے نامکمل ہونے اور عملدرآمد کا پہلو خاصا کمزور ہونے کے بارے میں دینی حلقے مسلسل آواز اٹھاتے رہے لیکن یہ بات طے شدہ ہے کہ چند اسلامی قوانین جس حد تک بھی نافذ ہوئے وہ تمام مکاتب فکر کے سربر آوردہ علماء کرام کی مشاورت اور اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کی بنیاد پر تھے اور اصولی اور شرعی لحاظ سے درست تھے۔ ہماری معلومات کے مطابق اس دور میں اسلامی نظریاتی کونسل نے اسلامی قانون سازی کے حوالے سے ۸۰ فیصد کام مکمل کر کے قوانین کے مسودات مرتب کر دیے تھے جو نفاذ و عملدرآمد کے لیے حکمرانوں کی میز پر تیار پڑے ہیں۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے موجودہ حکمرانوں کو اسلام کے نفاذ سے کوئی دلچسپی نہیں ہے بلکہ ان کی پالیسیوں کا رخ یہ نظر آرہا ہے کہ اسلام کی جدید تعبیر و تشریح اور نام نہاد اجتہاد کے نام پر مغربی افکار و نظریات کو اسلام کے لیبل کے ساتھ مسلط کر دیا جائے، لیکن اسلامی نظریاتی کونسل کا ٹھوس علمی و فکری کام ان کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ چنانچہ اسلامی نظریاتی کونسل کی تشکیلِ نو کر کے اس میں درباری قسم کے نام نہاد علماء اور ملحدین کو شامل کر دیا گیا ہے اور نئی کونسل کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حکمران پارٹی کی سربراہ بیگم بے نظیر بھٹو نے اسلامی نظریاتی کونسل کو ہدایت کی ہے کہ وہ حدود آرڈیننس اور دیگر اسلامی قوانین پر نظرثانی کرے اور انہیں اجتہاد کے نام پر حکمران پارٹی کے مزعومہ رجحانات اور تقاضوں کے مطابق ڈھالے۔
ہمارے نزدیک اسلامی نظریاتی کونسل کی یہ رجعت قہقرٰی نہ صرف قانون سازی کے اسلامی تقاضوں سے متصادم ہے بلکہ اجتہاد اور تعبیر جدید کے نام پر ملک کو الحاد کی آماجگاہ بنانے کی بھی ایک کوشش ہے جس کا علمی و دینی حلقوں کو سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے۔
فضیلۃ الشیخ مولانا محمد مکی حجازی کی تشریف آوری
شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کا افتتاح
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
شاہ ولی اللہ یونیورسٹی (اٹاوہ، جی ٹی روڈ، گوجرانوالہ) کے ابتدائی بلاک کی تعمیر مکمل ہوگئی ہے۔ یہ بلاک جو عارضی طور پر تعمیر کیا گیا ہے یونیورسٹی کے سائٹ آفس کے علاوہ تعمیری ضرورت کے اسٹورز پر مشتمل ہے اور اس میں پانچ کمرے اور ایک برامدہ شامل ہے، جبکہ پہلے تعلیمی بلاک کی بنیادوں کی کھدائی شروع کر دی گئی ہے۔ شاہ ولی اللہ یونیورسٹی نے سلیم آرکیٹیکٹس لاہور کے ساتھ تعمیر کی نگرانی کے لیے باقاعدہ معاہدہ کیا ہے اور مذکورہ فرم کی طرف سے یونیورسٹی کا ماسٹر پلان طے کر لیا گیا ہے جس کے مطابق پہلا تعلیمی بلاک اٹھارہ کلاس رومز، اساتذہ کے چودہ کمروں اور دیگر ضروریات پر مشتمل ہوگا جس کی تعمیر کم و بیش ستر لاکھ روپے کی لاگت سے تقریباً ایک سال میں مکمل ہوگی۔
۱۶ مارچ ۱۹۹۰ء کو صبح ساڑھے دس بجے حرم پاک مکہ مکرمہ کے مدرس اور ممتاز عالم دین فضیلۃ الشیخ مولانا محمد مکی حجازی مدظلہ العالی یونیورسٹی کے سائٹ آفس میں تشریف لائے اور ایک سادہ سی تقریب میں دعا کے ساتھ سائٹ آفس کا افتتاح فرمایا۔ اس موقع پر راقم الحروف، الحاج میاں محمد رفیق، میاں محمد عارف ایڈووکیٹ، شیخ محمد یوسف وزیر آبادی، حاجی شیخ محمد یعقوب، ڈاکٹر محمد اقبال لون، مولانا حافظ گلزار احمد آزاد، جناب حاجی علاء الدین، حاجی نذیر احمد، حافظ محمد یحیٰی میر، شیخ محمد ابراہیم طاہر، جناب محمد سلیم (آرکیٹیکٹ)، مولانا قاری حماد اللہ شفیق، مولانا عبد الرؤف ربانی اور دیگر حضرات بھی موجود تھے۔ مولانا محمد مکی حجازی نے تعلیمی بلاک کی بنیادوں کی کھدائی کا معائنہ کیا اور اس موقع پر اس عظیم تعلیمی منصوبہ کی کامیابی کے لیے دعا فرمائی۔ انہیں شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کے پروگرام کی تفصیلات سے آگاہ کیا گیا جس پر انہوں نے مسرت کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ تعلیمی منصوبہ بہت بڑا ہے جس کی تکمیل کے لیے اَن تھک جدوجہد کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تعلیمی ادارہ امتِ مسلمہ کے ایک بہت بڑے مجدد اور امام کے نام پر قائم کیا جا رہا ہے اور اس کے قیام سے دینی حلقوں میں فکری انقلاب کا آغاز ہوگا۔ انہوں نے یونیورسٹی کے منتظمین کو اس سلسلہ میں بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔
۱۶ مارچ کو رات ساڑھے آٹھ بجے الحاج میر ریاض انجم کی رہائش گاہ کشمیر ہاؤس ماڈل ٹاؤن گوجرانوالہ میں شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کی مجلس منتظمہ کا ایک اجلاس الحاج میاں محمد رفیق کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں تعمیری پروگرام اور دفتری امور کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں تعمیری کام کی نگرانی کے لیے ایک تعمیراتی کمیٹی قائم کی گئی جس میں میاں محمد عارف ایڈووکیٹ، ڈاکٹر محمد اقبال لون اور حاجی شیخ محمد یعقوب شامل ہیں اور باقی ارکان کا اعلان جلد کر دیا جائے گا۔ جبکہ ڈاکٹر محمد اقبال لون کو جمعیۃ اہل السنۃ والجماعۃ کا ڈپٹی سیکرٹری منتخب کر کے یونیورسٹی کے دفتری امور کی نگرانی ان کے سپرد کر دی گئی۔
دریں اثنا شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کے سربراہ شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر نے اصحابِ ثروت سے اپیل کی ہے کہ وہ اس عظیم تعلیمی و دینی منصوبہ کی تکمیل کے لیے انتظامیہ سے بھرپور تعاون کریں اور رمضان المبارک کے دوران اس کارِ خیر میں زیادہ سے زیادہ حصہ ڈال کر اپنے ذخیرۂ آخرت میں اضافہ کریں۔
ارشاداتِ نبویؐ کی حفاظت کے لیے صحابہ کرامؓ اور تابعینؒ کی خدمات
شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر
حضرت عبد اللہ بن عمروؓ کا یہ معمول تھا کہ آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے وہ جو کچھ سنتے تھے وہ سب لکھ لیتے تھے۔ بعض حضرات صحابہ کرامؓ نے فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بشر ہیں، کبھی غصہ کی حالت میں گفتگو فرماتے ہیں اور کبھی خوشی کی حالت میں اور تم سب لکھ لیتے ہو؟ حضرت عبد اللہؓ بن عمروؓ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف مراجعت کی۔ آپؐ نے اپنی زبان مبارک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ بخدا اس سے جو کچھ نکلتا ہے اور جس حالت میں نکلتا ہے وہ حق ہی ہوتا ہے سو تم لکھ لیا کرو۔ (ابوداؤد ج ۲ ص ۱۵۸، دارمی ص ۶۷، مسند احمد ج ۲ ص ۴۰۳ و مستدرک ج ۱ ص ۱۰۶)
حضرت عبد اللہؓ بن عمروؓ نے اپنے اس مجموعہ کا نام صادقہ رکھا تھا (طبقات ابن سعدؒ ج ۲ ص ۱۲۵، قسم اول) اور وہ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے اپنی زندگی کی آرزو دو چیزوں نے پیدا کر دی ہے جن میں سے ایک صادقہ ہے اور یہ وہ صحیفہ ہے جو میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے سن کر لکھا ہے (مسند دارمی ص ۶۹)۔ اور دوسری چیز دہط نامی زمین تھی جس کو حضرت عمروؓ بن العاص نے وقف کیا تھا اور حضرت عبد اللہؓ اس کے متولی تھے (جامع البیان العلم ج ۱ ص ۷۲)۔ حضرت عبد اللہؓ کا یہی صحیفہ ان کے پوتے عمروؒ بن شعیبؒ کے ہاتھ لگ گیا تھا (ترمذی ج ۱ ص ۴۳ و ج ۱ ص ۸۲) اور یہ اسی صحیفہ سے روایت کرنے کی وجہ سے ضعیف سمجھے جاتے تھے (تہذیب ج ۸ ص ۴۹) کیونکہ حضرات محدثین کرامؒ کے بیان کردہ ضابطہ کے مطابق اگر کسی کو کتاب مل جائے اور صاحبِ کتاب نے اس سے روایت بیان کرنے کی اجازت نہ دی ہو تو اس کتاب سے روایت بیان کرنا حجت نہیں ہے (دیکھئے شرح نخبۃ الفکر ص ۱۰۰ وغیرہ)
حضرت مجاہدؒ فرماتے ہیں کہ ہم نے حضرت عبد اللہؓ بن عمروؓ کے پاس ایک کتاب دیکھی، ان سے دریافت کیا گیا کہ یہ کیا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ یہ صادقہ ہے جس میں مندرج روایات کو میں نے براہِ راست آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ میرے اور آپ کے درمیان اور کوئی واسطہ نہیں ہے (طبقات ابن سعدؒ ج ۲ ص ۱۲۵ قسم اول)۔ حضرت عبد اللہؓ بن عمروؓ فرماتے ہیں کہ میں علم کو قیدِ تحریر میں لاؤں؟ آپؐ نے فرمایا، ہاں (مجمع الزوائد ج ۱ ص ۱۵۲ وفیہ عبد اللہؒ بن موملؒ و ثقہ ابن معینؒ و ابن حبانؒ و قال ابن سعدؒ و قال الامام احمدؒ احادیثہ مناکیر و جامع بیان العلم ج ۲ ص ۲۷)
حضرت عائشہؓ (المتوفاۃ ۵۷ھ) فرماتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کے قبضے سے دو تحریریں دستیاب ہوئیں جن میں درج تھا کہ سب سے بڑا نافرمان وہ شخص ہے جس نے اپنے پیٹنے والے کے علاوہ کسی اور کو پیٹا اور قاتل کے علاوہ کسی دوسرے کو قتل کیا، اور وہ شخص جس نے اپنی پرورش کرنے والوں کے علاوہ دوسروں سے اپنا الحاق کر لیا اور ایسا شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا منکر ہے اور اس کی کوئی فرضی اور نفلی عبادت قبول نہ ہو گی (مستدرک ج ۴ ص ۳۴۹ قال الحاکمؒ و الذہبیؒ صحیح)
حضرت نہثلؓ بن مالک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دین کی کچھ باتیں دریافت کیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمانؓ بن عفان کو حکم دیا ’’فکتب لہ کتابا فیہ شرائع الاسلام‘‘ (البدایۃ والنہایۃ ج ۵ ص ۳۵۱ اور تجرید ج ۲ ص ۱۲۲ للذہبیؒ میں بھی اس کتاب کا ذکر ہے) تو انہوں نے ان کو ایک کتاب لکھ کر دی جس میں اسلام کے احکام تھے۔ شرائع الاسلام کا جملہ بڑا واضح اور وسیع ہے۔
مردم شماری
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ طیبہ ہجرت کر کے تشریف لے گئے تو چھ اور سات سو کے درمیان نام قلمبند ہوئے (صحیح ابو عوانہ ج ۱ ص ۱۰۲) اور اس کے بعد ایک موقع پر مردم شماری کرائی گئی تو تعداد پندرہ سو تحریر ہوئی (بخاری ج ۱ ص ۴۲۰) اور اس میں آپؐ کے یہ الفاظ ہیں ’’اکتبوا لی من یلفظ بالاسلام من الناس فکتبنا لہ‘‘ (الحدیث) یعنی مجھے مسلمانوں کی گنتی لکھ کر دو چنانچہ ہم نے لکھ کر دی۔
زکوٰۃ کے متعلق تحریرات
زکوٰۃ کے احکام اور مختلف چیزوں میں زکوٰۃ کا لازم ہونا اور زکوٰۃ کی مختلف شرح کتابی شکل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھوائی تھی جو حضرت عمرؓ کے خاندان کے پاس تھی (ہذہ نسخۃ کتاب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم التی کتب فی الصدقہ وھو عند آل عمرؓ بن الخطاب الخ (دارقطنی ج ۱ ص ۲۰۹) اور یہ کتاب حضرت عمرؒ بن عبد العزیزؒ نے جب کہ وہ مدینہ طیبہ کے گورنر تھے حضرت عبد اللہؒ بن عبد اللہؓ بن عمرؓ اور حضرت سالمؒ بن عبد اللہؓ سے نقل کی تھی اور اپنے ماتحت افسروں کو حکم دیا تھا کہ اسی کتاب کے مطابق عمل کرو اور اسی کے مطابق خلیفہ ولید بن عبد المالک اور دیگر خلفاء عمل کرتے اور حکام سے زکوٰۃ کے بارے میں عمل کرواتے تھے (دارقطنی ج ۱ ص ۲۰۹) اور حضرت عمرؓ بن عبد العزیز (المتوفی ۱۰۱ھ) جب خلیفہ منتخب ہوئے تو انہوں نے
ارسل الی المدینۃ یلتمس عھد رسول اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فی الصدقات فوجد عند آل عمروؓ بن حزم کتاب النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم الیٰ عمرو بن حزم فی الصدقات ووجد عند آل عمرؓ بن الخطاب کتاب عمرؓ الیٰ عمالہ فی الصدقات بمثل کتاب النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم الی عمروؓ بن حزم فامر عمرؓ بن عبد العزیزؓ عمالہ علی الصدقات ان یاخذوا بما فی ذینک الکتابین۔
’’مدینہ طیبہ قاصد بھیجا تاکہ وہ اس تاکیدی فرمان کی تلاش کرے جو آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے صدقات کے بارے میں فرمایا تھا۔ چنانچہ قاصد نے حضرت عمروؓ بن حزم کے خاندان کے پاس وہ کتاب پائی جو صدقات کے بارے میں آپؐ نے جاری فرمائی تھی اور اسی طرح حضرت عمرؓ کے خاندان کے پاس بھی وہ تحریر پائی جو انہوں نے عمّال کو بھیجی تھی اور وہ کتاب اسی طرح کی تھی جس طرح کی کتاب آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت عمروؓ بن حزم کو ارسال کی تھی۔ حضرت عمرؒ بن عبد العزیزؒ نے اپنے عمّال کو انہی دو کتابوں کے بارے تاکید کی کہ وہ صدقات کے بارے انہی کتابوں پر عمل کریں۔‘‘
حضرت عمروؓ بن حزم کو آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے جب یمن کا حاکم بنا کر بھیجا تو ایک تحریر ان کو لکھوا کر دی جس میں فرائض صدقات اور دیات وغیرہا کے متعلق بہت سی ہدایات تھیں (نسائی ج ۲ ص ۲۱۸ و کنز العمال ج ۳ ص ۱۸۳) اسی طرح زکوٰۃ کے متعلق بعض دیگر محصلین کے پاس بھی تحریری ہدایتیں موجود تھیں (دارقطنی ج ۱ ص ۲۰۴)
صحیفۃ علیؓ
حضرت علیؓ (المتوفی ۳۰ھ) کے پاس ایک صحیفہ تھا جو ان کی تلوار کی نیام میں پڑا رہتا تھا۔ اس میں متعدد حدیثیں متعلقہ احکام قلم بند تھیں اور انہوں نے لوگوں کو وہ صحیفہ دکھایا بھی تھا (بخاری ج ۲ ص ۱۰۸۴، مسلم ج ۲ ص ۱۶۱، ادب المفرد ص ۵) اور اس صحیفہ میں متعدد احکام درج تھے جو حقوق اللہ و حقوق العباد پر مشتمل ہیں (دیکھئے بخاری و مسلم صفحات مذکورہ)۔ اور حضرت علیؓ نے ایک موقع پر لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ وہ صحیفہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیا ہے۔ اس میں فرائض صدقات ہیں (مسند احمد ج ۱ ص ۱۱۹)۔ حدیبیہ میں جو صلح نامہ حضرت علیؓ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے لکھا تھا اس کی ایک نقل قریش نے لی اور ایک آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے پاس تھی (طبقات ابن سعدؒ مغازی ص ۷۱)۔ حضرت علیؓ کے فیصلوں کا ایک بڑا حصہ کتابی شکل میں حضرت ابن عباسؓ کے پاس موجود تھا (مسلم ج ۱ ص ۱۰)۔ ایک دن کوفہ میں حضرت علیؓ خطبہ دے رہے تھے، اسی خطبہ میں آپ نے فرمایا کہ ایک درہم میں کون علم خریدنا چاہتا ہے؟ حارث اعور ایک درہم کے کاغذ خرید لائے اور ان کاغذوں کو لیے ہوئے حضرت علیؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت علیؓ نے حارث کے لائے ہوئے اوراق میں ’’فکتب لہ علمًا کثیرًا‘‘ (طبقات ابن سعدؒ ج ۶ ص ۱۱۶) انہیں بہت سا علم لکھ دیا۔
حضرت عبد اللہؓ بن الحکیم کے پاس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک خط پہنچا جس میں مردہ جانور کے متعلق حکم درج تھا (معجم صغیر طبرانیؒ ص ۳۱۷)۔ حضرت وائلؓ بن حجر جب بارگاہِ نبویؐ سے رخصت ہو کر اپنے وطن حضرموت جانے لگے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو خاص طور پر ایک نامہ لکھوا کر دیا جس میں نماز، روزہ، ربوا، شراب اور دیگر امور کے متعلق احکام تھے (معجم طبرانیؒ ص ۲۴۲)۔ایک دفعہ حضرت عمرؓ نے مجمع سے پوچھا کہ کسی کو معلوم ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے شوہر کی دیت میں سے بیوی کو کیا دلایا؟ تو حضرت ضحاکؓ نے فرمایا کہ مجھے معلوم ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم ہمیں لکھوا کر بھیجا تھا (دارقطنی ج ۲ ص ۴۵۷) اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم کو تحریر کروا کر بھیجنے کا ذکر ابوداؤد ج ۲ ص ۵۰، ترمذی ج ۲ ص ۳۲ اور ابن ماجہ ص ۱۹۳ وغیرہ) میں بھی ہے۔یہودِ مدینہ کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو تحریری معاہدہ کیا تھا اس کا ذکر ابوداؤد ج ۲ ص ۶۶ وغیرہ میں مذکور ہے۔
حضرت عمرؓ (المتوفی ۲۳ھ) کا یہ عام ارشاد تھا کہ علم کو قیدِ تحریر میں لاؤ (مستدرک ص ۱۰۶)۔ حضرت عمرؓ نے حضرت عتبہؓ بن فرقد کو جب کہ وہ آذربائیجان کے محاذ پر تھے، یہ خط لکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشمی لباس پہننے سے منع کیا ہے، ہاں مگر چار انگشت تک کا حاشیہ اور کنارہ ہو تو گنجائش ہے (محصلہ مسلم ج ۲ص ۱۹۱)
حضرت انسؓ (المتوفی ۹۳ھ) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عتبانؓ سے ملاقات کی۔ انہوں نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی جس میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے سچے دل سے کلمۂ شہادت پڑھا تو اس پر آتشِ دوزخ حرام ہے (یعنی صدقِ دل سے پڑھا اور اس کے مطابق عمل بھی کیا) مجھے یہ حدیث بہت پسند آئی اور میں نے لکھ لی (ابوعوانہ ج ۱ ص ۱۳)۔ حضرت انسؓ اپنے شاگردوں سے فرمایا کرتے تھے کہ علم کو قیدِ تحریر میں لاؤ (تلخیص المستدرک ج ۱ ص ۱۰۶ و دارمی ص ۶۸ طبع ہند و ص ۱۲۷ طبع دمشق و مجمع الزوائد ج ۱ ص ۱۵۲ رواہ الطبرانی فی الکبیر و رجالہ رجال الصحیح)
حضرت عبد اللہ بن عمروؓ (المتوفی ۷۴ھ) نے بھی فرمایا کہ علم کو قیدِ تحریر میں لاؤ (دارمی) اور خود انہوں نے ایک شخص کو حدیث لکھوائی اور اس نے لکھ لی (مسند احمد ج ۲ ص ۱۹۹)۔ اور حضرت ابن عمرؓ مجوزین کتابِ علم میں شامل ہیں (بخاری ج ۱ ص ۱۵)۔ حضرت امیر معاویہؓ نے حضرت عائشہؓ کو خط لکھا کہ مجھے مختصر طور پر چند نصائح لکھ کر بھیجیں۔ حضرت عائشہؓ نے چند نصیحتیں ان کو لکھ کر روانہ کیں (ترمذی ج ۲ ص ۶۴)۔ حضرت جابرؓ کی روایتوں کا ایک مجموعہ حضرت وہب تابعیؒ نے تیار کیا تھا جو اسمٰعیلؒ بن عبد الکریمؒ کے پاس تھا اور وہ اس سے روایت بیان کرتے تھے اور اسی لیے ضعیف سمجھے جاتے تھے (تہذیب التہذیب ج ۱ ص ۳۱۶)۔ حضرات محدثین کرامؒ کا ضابطہ بیان ہو چکا ہے۔ حضرت جابرؓ کی روایتوں کا ایک مجموعہ حضرت سلیمانؒ بن قیس یشکریؒ نے تیار کیا تھا۔ حضرت ابو الزبیرؒ، حضرت ابو سفیانؒ اور حضرت شعبیؒ جو سب تابعی ہیں حضرت جابرؓ کا صحیفہ انہیں سے روایت کرتے ہیں اور براہِ راست بھی انہوں نے حضرت جابرؓ سے سماعت کی ہے (تہذیب التہذیب ج ۴ ص ۲۱۵)
حضرت عوفؓ بن مالک (المتوفی ۷۳ھ) فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی اور فرمایا ’’ھذا اوان رفع العلم‘‘ یعنی کشفی طور پر جو وقت نظر آ رہا ہے اس میں علم اٹھ جائے گا۔ ایک انصاری نے کہا جن کا نام زیادؓ بن لبید (المتوفی ۴ھ) تھا، یا رسول اللہؐ! علم کیسے اٹھ جائے گا؟ ’’وقد اثبت فی الکتب و رعتہ القلوب‘‘ جب کہ وہ کتابوں میں ثبت کیا گیا ہو گا اور دلوں نے اس کو یاد کیا ہو گا۔ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا علم یہود اور نصارٰی کے پاس لکھا ہوا نہیں ہے؟ (الحدیث) (مستدرک ج ۱ ص ۹۹ قال الحاکمؒ والذہبیؒ صحیح و مجمع الزوائد ج ۱ ص ۲۰۰)۔ مطلب واضح ہے کہ علم صرف لکھنے اور یاد کرنے ہی سے باقی نہیں رہتا جب تک کہ اس پر عمل بھی نہ ہو اور اس کی عام اشاعت نہ ہو۔ آخر کتابیں تو یہود و نصارٰی کے پاس بھی تھیں لیکن علماء حق کے اٹھ جانے اور بے عملی اور کتب پر علماء سوء اور پیرانِ بدکردار کی اجارہ داری نے کتب میں درج شدہ علم کی روح ختم کر دی ہے۔ حضرت زیادؓ کی یہ روایت مشکوٰۃ ج ۱ ص ۳۸ میں بھی بحوالہ مسند احمد و ابن ماجہ و ترمذی و دارمی نقل کی گئی ہے اور یہ روایت مجمع الزوائد ج ۱ ص ۲۰۰ میں بھی ہے۔ مشکوٰۃ کی روایت میں یہود و نصارٰی کی بے عملی اور تورات و انجیل کا ذکر ہے اور مجمع الزوائد کی روایت میں تورات و انجیل اور یہود و نصارٰی کا تذکرہ ہے لیکن اس میں رفع العلم کا سبب حاملینِ علم کا اٹھ جانا مذکور ہے۔ اور حضرت زیادؓ کی ایک اور روایت ہے جس میں یہود و نصارٰی کے تورات و انجیل پر عمل نہ کرنے کا ذکر ہے (مجمع الزوائد ج ۱ ص ۲۰۱ و اسنادہ حسن) اور اسی مضمون کی ایک روایت حضرت ابوالدرداءؓ سے بھی ہے جس میں حضرت زیادؓ کے سوال کا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس جواب کا تذکرہ موجود ہے کہ یہود و نصارٰی کے پاس بھی تورات و انجیل موجود ہیں ’’فماذا یعنی عنھم‘‘ یعنی ان کے مطابق عقیدہ اور عمل اور اخلاق کے نہ ہونے سے محض کتابوں کے موجود ہونے سے کیا فائدہ؟
یعنی یہ تو ’’تحمل اسفارًا‘‘ کا مصداق ہے۔ اس مفصل روایت کی روشنی میں یہ بات بالکل عیاں ہو گئی ہے کہ جب حضرت زیادؓ نے یہ فرمایا کہ ’’وقد اثبت فی الکتب‘‘ کہ علم جب کتابوں میں لکھا اور درج کیا ہوا ہو گا تو پھر کیسے ضائع ہو گا؟ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر کوئی نکیر نہیں فرمائی۔ اگر علم لکھنا ممنوع ہوتا تو آپؐ اس پر ہرگز خاموشی اختیار نہ فرماتے بلکہ سختی سے تردید فرما دیتے کہ علم کو لکھنے کا کیا جواز ہے؟ اور اگر کسی کے پاس کچھ لکھا ہوا ہے تو اسے مٹا دے۔ بالکل ظاہر امر ہے کہ آپؐ کا اس پر سکوت فرمایا بلکہ صاف الفاظ میں یہ فرمانا کہ آخر تورات و زبور بھی تو لکھی ہوئی ہیں لیکن ان پر عمل کیے بغیر نرے لکھنے سے کیا فائدہ؟ کتابتِ علم کے جواز کی یہ بھی واضح دلیل ہے اور بقول مولانا رومؒ علم تو صرف
؏ علمِ دیں فقہ است و تفسیر و حدیث
ہے اور یہ علوم سرِ فہرست کتابوں میں لکھے جاتے ہیں۔ حضرت زیادؓ بن لبید بیاضی کو جب آنحضرتؐ نے حضرموت کا گورنر بنا کر بھیجا تو ان کو فرائضِ صدقات کے متعلق کتابی ٍشکل میں تحریر لکھوا کر دی (نصب الرایۃ ج ۳ ص ۴۵۱)۔ حضرت براء بن عازبؓ (المتوفی ۷۲ھ) کے پاس لوگ بیٹھ کر ان کی روایتوں کو لکھا کرتے تھے (دارمی ص ۶۹)۔ اہلِ یمن کو آنحضرتؐ نے جو احکام لکھوا کر بھجوائے تھے ان میں یہ مسئلے بھی تھے کہ قرآن کریم کو بغیر طہارت کے ہاتھ نہ لگایا جائے اور غلام خریدنے سے پہلے آزاد نہیں کیا جا سکتا اور نکاح سے پہلے طلاق واقع نہیں ہوتی (دارمی ص ۲۹۳) اور اس کتاب کا اور بغیر طہارت کے قرآن کریم کو ہاتھ نہ لگانے کا ذکر دارقطنی ج ۱ ص ۴۵ وغیرہ میں بھی ہے۔ حضرت رافعؓ بن خدیج (المتوفی ۷۳ھ) مروان نے اپنے خطبہ میں یہ بیان کیا کہ مکہ مکرمہ حرم ہے۔ حضرت رافعؓ بن خدیج نے بلند آواز سے پکار کر فرمایا کہ مدینہ طیبہ بھی حرم (اور عزت و احترام کا مقام) ہے اور یہ حکم میرے پاس لکھا ہوا موجود ہے۔ اگر تم چاہو تو میں اسے پڑھ کر سنا دوں (مسند احمد ج ۴ ص ۱۴۱)۔ حضرت نعمانؓ بن بشیرؓ (المتوفی ۶۴ھ) کو حضرت ضحاکؓ بن قیس نے خط لکھ کر دریافت کیا کہ آنحضرتؐ جمعہ کی نماز میں سورۂ جمعہ کے بغیر اور کون سی صورت پڑھتے تھے تو انہوں نے جواب دیا کہ ’’ھل اتاک حدیث الغاشیۃ‘‘ پڑھتے تھے (مسلم ج ۱ ص ۲۸۸)
حضرت عبد اللہؓ بن عباسؓ کی روایتوں کے مختلف تحریری مجموعے تھے۔ اہلِ طائف میں سے کچھ لوگ ان کا ایک مجموعہ ان کو پڑھ کر سنانے کے لیے لائے تھے (کتاب العلل امام ترمذیؒ ص ۲۳۸) حضرت سعیدؒ بن جبیرؒ ان کی روایتوں کو لکھا کرتے تھے (دارمی ص ۶۹)۔ امام مغازی حضرت موسؒیٰ بن عقبہؒ (المتوفی ۱۴۱ھ) فرماتے ہیں کہ میرے پاس ابن عباسؓ کے غلام حضرت کریبؒ نے حضرت ابن عباسؓ کی کتابیں رکھوائی تھیں جو ایک بارشتر تھیں (تہذیب التہذیب ج ۸ ص ۴۳۳)۔ حضرت ابن عباسؓ کا یہ حال تھا کہ وہ آنحضرتؐ کے غلام حضرت ابو رافعؓ کے پاس آتے اور سوال کرتے کہ فلاں دن آنحضرتؐ نے کیا کیا؟ اور حضرت ابن عباسؓ کے ساتھ ایک شخص ہوتا جو ان کی ساری باتوں کو جنہیں حضرت ابو رافع بیان کرتے لکھتا جاتا (الکتانی ج ۲ ص ۲۴۷)۔ حضرت ابو رافعؓ کی اہلیہ حضرت سلمٰیؓ فرماتی ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباسؓ کو دیکھا کہ ان کے پاس تختیاں تھیں جن پر حضرت ابو رافعؓ کی بیان کردہ روایتوں کو وہ لکھا کرتے تھے جو آنحضرتؐ کے افعال کے متعلق حضرت ابو رافعؓ بیان کرتے تھے (الکتانی ج ۲ص ۲۴۷) اور حضرت سلمٰیؓ یہ بھی فرماتی ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباسؓ کو دیکھا کہ وہ حضرت ابو رافعؓ سے آنحضرتؐ کے کارنامے لکھا کرتے تھے (طبقات ابن سعدؒ ج ۲ ص ۱۲۳ قسم دوم)۔
حضرت عکرمہؒ (المتوفی ۱۰۷ھ) فرماتے ہیں کہ آنحضرتؐ نے جو خط (بحرین کے سربراہ) المنذر بن ساوٰی کو بھیجا تھا وہ میں نے حضرت ابن عباسؓ کی وفات کے بعد ان کی کتابوں میں پایا اور میں نے وہ لکھ لیا اور اس خط میں دینی اور ملکی باتوں کا ذکر ہے (زاد المعاد ج ۳ ص ۶۱)۔ اس کے علاوہ متعدد بادشاہوں اور اپنے اپنے علاقہ کے سربراہوں کو آنحضرتؐ نے جو خطوط ارسال کیے جن میں دین کا اہم ذخیرہ موجود ہے کتب سیر و تاریخ میں ان کی خاصی تفصیل موجود ہے۔ ان میں مصر کا بادشاہ مقوقس، عمان کا بادشاہ جیفر بن الجلندی، یمامہ کا ہوذہ بن علی، غسان کا حارث بن ابی ثمر خاصے مشہور و معروف ہیں۔ حافظ ابن القیمؒ (المتوفی ۷۵۱ھ) نے زاد المعاد ج ۳ ص ۶۰ تا ۶۳ میں ان کو قدرے تفصیل سے درج کیا ہے اور آپؐ کے ارسال کردہ ان خطوط اور دعوت ناموں کے سلسلہ میں حضرت مولانا محمد حفظ الرحمٰن صاحب سیوہارویؒ کی بے نظیر کتاب البلاغ المبین فی مکاتیب سید المرسلین (علیہ و علیٰ جمیعھم الصلوٰۃ والتسلیمات الف الف مرتٍ) مفید ترین کتاب ہے جو اہلِ علم کے لیے ایک علمی تحفہ ہے جس میں ان خطوط کی پوری تفصیل ہے۔ حضرت کریبؒ (المتوفی ۹۸ھ) فرماتے ہیں کہ چھ باتیں میرے تابوت میں لکھی ہوئی ہیں اور تابوت (وہ صندوق ہے جس) میں حضرت علیؒ بن عبد اللہؓ بن عباسؓ کی کتابیں تھیں (ابوعوانہ ج ۲ ص ۲۱۲)
حضرت امیر معاویہؓ (المتوفی ۶۰ھ) نے حضرت مغیرہؓ کو لکھا کہ وہ دعا (اکثر) آنحضرتؐ نماز کے بعد پڑھا کرتے تھے مجھے لکھ کر بھیجو تو انہوں نے جواب میں لکھا کہ آنحضرتؐ یہ دعا پڑھتے تھے:
لا الٰہ الا اللہ وحدہٗ لا شریک لہٗ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شیء قدیر ۔ اَللّٰھُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا اَعْطَیْتَ وَلَا مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا یَنْفَعُ ذَالْجَدِّ مِنْکَ الْجَدّ (ابوعوانہ ج ۲ ص ۲۴۳ وابوداؤد ج ۱ ص ۲۱۱، ادب المفرد ص ۶۷)
اور اس حدیث میں آتا ہے کہ یہ بھی لکھ کر بھیجا کہ آنحضرتؐ نے قیل و قال کثرت سوال اضاعتِ مال اور ماؤں کی نافرمانی اور لڑکیوں کو زندہ درگور کرنے اور خود نہ دینے اور دوسروں سے مانگنے سے منع فرمایا ہے۔ (ادب المفرد ص ۶۷ و بعضہ فی ص ۵ اور ان میں سے بعض چیزوں کے لکھ کر ارسال کرنے کا ذکر بخاری ج ۱ ص ۲۰۰ میں بھی ہے اور قدرے تفصیل سے بعض مزید چیزوں کا ذکر بخاری ج ۲ ص ۸۸۴ میں ہے)۔ حضرت امیر معاویہؓ نے حضرت عبد الرحمٰن بن شبل الانصاریؓ کو خط لکھ کر بھیجا کہ لوگوں کو حدیث کی تعلیم دو اور جب میرے خیمے کے پاس کھڑے ہو تو مجھے حدیثیں سناؤ (مسند احمد ج ۳ ص ۴۴۴)۔ یہ سننا سنانا شاید اس لیے تھا کہ کہیں ان سے حدیث میں غلطی تو نہیں ہوتی۔
حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ ایک انصاری نے آنحضرتؐ سے شکایت کی کہ میں بسا اوقات آپؐ سے کوئی حدیث سنتا ہوں اور وہ مجھے پسند آتی ہے لیکن میں اس کو یاد نہیں رکھ سکتا۔ آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ اس کو لکھ لیا کرو (رحمۃ مہداۃ ص ۱۱)۔ حضرت عبد اللہؓ نے حضرت عمرؓ بن عبد اللہ بن ارقم الزہریؓ کو خط لکھا کہ حضرت سبیعہؓ بنت الحارث الاسلمیۃ کے پاس جاؤ اور ان سے (خاوند کی وفات کے بعد عورت کی عدت کے بارے) حدیث دریافت کرو اور ان کو آنحضرتؐ نے جو ارشاد فرمایا ہے وہ بھی دریافت کرو۔ چنانچہ ان سے دریافت کرنے کے بعد وہ حدیث انہیں تحریر کر کے انہوں نے بھیجی (نسائی ج ۲ ص ۹۸)
حضرت عبد اللہؓ بن عمروؓ بن العاص کے سامنے قسطنطنیہ اور رومیہ کی فتح کا تذکرہ ہوا تو انہوں نے ایک صندوق طلب کیا، اسے کھولا اور فرمایا کہ ہم آنحضرتؐ کے پاس تھے اور آپؐ کے ارشادات لکھتے تھے۔ آپؐ نے فرمایا کہ پہلے قسطنطنیہ فتح ہو گا (مستدرک ج ۴ ص ۴۲۲ قال الحاکمؒ والذہبی صحیح والدارمی ص ۶۸)۔ حضرت حجرؒ بن عدیؓ کے سامنے پانی سے استنجا کرنے کا ذکر ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ طاق میں جو صحیفہ رکھا ہوا ہے ذرا اسے مجھے لا کر دو۔ جب وہ صحیفہ لا کر دیا گیا تو حجرؒ بن عدیؓ یہ پڑھنے لگے ’’بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ یہ وہ روایتیں ہیں جو میں نے حضرت علیؓ بن ابی طالب سے سنی ہیں، انہوں نے فرمایا کہ طہور ایمان کا نصف ہے‘‘ (طبقات ابن سعدؒ ج ۶ ص ۱۵۴)۔ ایمانِ کامل طہارتِ باطنی (جو کلمۂ توحید سے حاصل ہوتی ہے) اور طہارتِ ظاہری (جو وضو وغیرہ سے حاصل ہوتی ہے) کا نام ہے۔
محدث عبد الاعلٰیؒ (المتوفی ۵۱ھ) جو روایتیں حضرت محمدؒ بن الحنیفیہؒ سے نقل کرتے تھے وہ دراصل ایک کتاب تھی اور عبد الاعلٰیؒ نے براہِ راست وہ روایتیں حضرت محمدؒ بن الحنیفیہؒ سے نہیں سنی تھیں (طبقات ابن سعدؒ ج ۶ ص ۹۴)۔ امام جعفر صادقؒ (المتوفی ۱۴۸ھ) فرمایا کرتے تھے کہ ہم جو روایتیں اپنے آباؤاجداد سے نقل کرتے ہیں میں نے ان سب کو حضرت امام باقرؒ کی کتابوں میں پایا ہے (تہذیب التہذیب ج ۲ ص ۱۰۴)۔ حضرت سمرہؓ بن جندب (المتوفی ۵۹ھ) سے ان کے بیٹے حضرت سلیمانؒ روایتوں کا ایک نسخہ روایت کرتے ہیں اور ان سے ان کے بیٹے حضرت حبیبؒ (تہذیب ج ۴ ص ۲۳۶)۔ اور حضرت محمدؒ بن سیرینؒ فرماتے ہیں ’’فی رسالۃ سمرۃؓ الٰی بنیہ علم کثیر‘‘ (ایضًا) یعنی اس رسالہ اور تحریر میں جو حضرت سمرۃؓ نے اپنے بیٹوں کو بھیجی بہت بڑا علم ہے۔
مشہور تابعی حضرت ابو سبرۃؒ بن سلمۃ الہذلؒ (جو تابعی کبیر تھے مستدرک ج ۱ ص ۷۶ و سکت عنہ الذہبیؒ) فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہؓ بن عمروؓ سے ملا۔ انہوں نے زبانی مجھ سے حدیث بیان کی اور میں نے اپنے قلم سے اسے لکھا اور اس میں ایک حرف کی کمی بیشی میں نے نہیں کی۔ اس حدیث میں بہت سی باتوں کا ذکر ہے جن میں سے بعض یہ بھی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس وقت تک قیامت برپا نہیں ہو گی جب تک کہ فحش گوئی اور بدکلامی اور قطع رحمی اور پڑوس کے حقوق کو پامال کرنا اور امانت والے کا خیانت کرنا اور خائن کو امین تصور کرنا وغیرہ امور ظاہر نہ ہو جائیں (الحدیث) (مستدرک ج ۱ ص ۷۵ امام حاکمؒ اور علامہ ذہبیؒ دونوں فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے اور علامہ ذہبیؒ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث مسند احمد میں بھی مروی ہے۔ تلخیص المستدرک ج ۱ ص ۷۶)
حضرت عروہؒ بن الزبیرؓ (المتوفی ۹۴ھ) نے غزوۂ بدر کا مفصل حال لکھ کر خلیفہ عبد الملک کو بھیجا تھا (طبری ص ۱۲۸۵)۔ حضرت سعیدؒ بن جبیرؒ (المتوفی ۹۵ھ) فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ بن عمرؓ اور حضرت عبد اللہ بن عباسؓ سے رات کو روایتیں سنتا تھا تو پالان پر لکھتا تھا صبح کو پھر ان کو صاف کر کے لکھ لیتا تھا (دارمی ص ۶۹)۔ حضرت نافعؒ (المتوفی ۱۱۷ھ) جو حضرت ابن عمرؓ کی خدمت میں تیس برس رہے تھے وہ اپنے سامنے لوگوں کو لکھوایا کرتے تھے (دارمی ص ۶۹)۔ حضرت عبد الرحمٰن بن عبد اللہؓ بن مسعود (المتوفی ۷۹ھ) ایک کتاب نکال لائے اور قسم کھا کر کہا کہ یہ کتاب خود حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہے (جامع بیان العلم ج ۱ ص ۷۲)۔ قاضی ابن شبرمہؒ (عبد اللہؒ بن شبرمہؓ المتوفی ۱۴۴ھ) سے بعض امراء نے سوال کیا کہ یہ حدیثیں جو آپ ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سناتے ہیں یہ کہاں سے آئیں؟ تو انہوں نے فرمایا کہ کتاب عندنا (جامع بیان العلم ج ۱ ص ۷۶) کہ یہ ہمارے پاس لکھی ہوئی ہیں۔
حضرت امام زہریؒ (المتوفی ۱۲۴ھ) محدث ابوالزناؤؒ فرماتے ہیں کہ ہم تو صرف حلال و حرام کے مسائل ہی لکھتے رہتے تھے لیکن امام زہریؒ جو کچھ سنتے وہ سب لکھ لیتے تھے اور بعد کو جب مسائل میں ان کی طرف رجوع کرنے کی حاجت پڑی تو میں نے اس وقت یہ جانا کہ وہ اعلم الناس ہیں (جامع بیان العلم ج ۱ ص ۷۳)۔ محدث کیسانؒ کا بیان ہے کہ میں اور امام زہریؒ طلبِ علم میں ایک ساتھ تھے۔ میں نے کہا کہ میں تو صرف سنن ہی لکھوں گا۔ چنانچہ جو کچھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی تھا وہ میں نے سب لکھ لیا اور امام زہریؒ نے کہا کہ حضرات صحابہ کرامؓ سے جو کچھ مروی ہے وہ بھی لکھو کیونکہ وہ بھی سنت ہی ہے۔ میں نے کہا کہ وہ سنت نہیں۔ غرضیکہ میں نے وہ نہ لکھا اور امام زہریؒ نے وہ بھی لکھ لیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ کامیاب ہوئے اور میں برباد ہو گیا (جامع بیان العلم ج ۲ ص ۱۸۷ و طبقات ابن سعدؒ ج ۲ ص ۱۳۵ قسم دوم)۔ امام زہریؒ ہی وہ پہلے بزرگ ہیں جنہوں نے علم کی تدوین کی اور اس کو لکھا (جامع بیان العلم ج ۱ ص ۷۳)۔
قارئین کرام! آپ ان ٹھوس حوالوں سے بخوبی یہ معلوم کر چکے ہیں کہ علم اور حدیث کی کتابت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات صحابہ کرامؓ اور تابعین عظامؒ کے مبارک دور میں باقاعدہ ہوتی تھی، ہاں مگر مرتب نہ تھی۔ ابواب اور فصول وغیرہا کی صورت میں فقہی رنگ میں تدوین سب سے پہلے حضرت امام زہریؒ نے کی ہے تاکہ مسائل اور احکام کو تلاش کرنے میں بھی کوئی دقت پیش نہ آئے اور اہم سو اہم کی ترتیب بھی برقرار رہے جیسا کہ پہلے باحوالہ یہ بات عرض کی جا چکی ہے۔
بعد کے لوگوں میں حفظِ حدیث اور عمل کے جذبہ میں بہ نسبت پہلے مبارک دور کے جب کچھ کمی نظر آنے لگی تو خلیفہ راشد حضرت عمرؒ بن عبد العزیزؒ نے اپنے قابل اور فاضل گورنر حضرت ابوبکرؒ بن حزم کو سرکاری سطح پر حکم لکھ کر بھیجا کہ بغور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثوں کو جمع کر کے لکھو کیونکہ مجھے علم کے مٹ جانے اور علماء کے اٹھ جانے کا خطرہ ہے اور صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث ہی لکھنا اور اہلِ علم کو چاہیئے کہ علم کی خوب اشاعت کریں اور علمی مجالس میں بیٹھ کر تعلیم دیں تاکہ جن کو علم نہیں وہ علم حاصل کریں۔ علم صرف اسی وقت ختم ہو سکتا ہے جب کہ وہ راز بن جائے (اور اس کی نشرواشاعت نہ کی جائے) (بخاری ج ۱ ص ۲۰ و رحمۃ مہداۃ ص ۱۱) اسی طرح حضرت عمرؒ بن عبد العزیزؒ نے اہل مدینہ کو تحریر فرمایا کہ
ان انظروا حدیث رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فاکتبوہ فانی خفت دروس العلم و ذھاب اھلہ (دارمی ص ۶۸)
’’توجہ کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی حدیثیں لکھو کیونکہ مجھے علم کے مٹ جانے اور اہلِ علم کے اٹھ جانے کا خدشہ ہے۔‘‘
خیر القرون کے ذمہ دار اور باشعور حضرات نے تو ازخود آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ذات سے عقیدت اور محبت کی بنا پر اور اپنے دین کی حفاظت کے لیے پوری ذمہ داری محسوس کی اور حفظ و کتابت حدیث کا پورا پورا ثبوت دیا لیکن خلیفۂ راشد اور پہلی صدی کے مجدد حضرت عمرؒ بن عبد العزیزؒ نے سرکاری طور پر جس ذمہ داری کا ثبوت دیا وہ ان کا خالص مجددانہ کارنامہ ہے۔
غرضیکہ یہ ٹھوس حوالے اس بات کو بالکل واضح کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ اور حضرات صحابہ کرامؓ اور تابعینؒ اور تبع تابعینؒ کے زمانہ میں جہاں احادیث کے نوکِ زبان کرنے کا عام رواج اور شوق تھا وہاں کتابتِ حدیث کی بھی کمی نہ تھی گو ان حضرات کے مجموعے فقہی ابواب پر مدوّن اور مرتب نہ تھے لیکن ان میں علمی طور پر بہت کچھ درج تھا اور اس دور میں بھی باقاعدہ حدیثیں اور روایتیں قیدِ تحریر میں لائی جاتی تھیں اور وہی قیمتی ذخیرہ سینوں اور سفینوں میں منتقل ہوتا ہوا نچلے روات اور محدثین تک پہنچا۔
گویا دورِ اول کا سرمایۂ حدیث دوسرے دور کی کتابوں میں ہے۔ اور دوسرے دور کا تحقیقی مواد تیسرے دور کی کتابوں کی زینت ہے۔ اور تیسرے دور کی کتابوں میں جو اول اور دوسرے دور کی کتابیں کھپا دی گئی تھیں وہ ہزاروں اوراق میں فقہی ترتیب اور تدوین کے ساتھ ہمارے سامنے مؤطا امام مالک، صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن نسائی، سنن ابی داؤد، سنن ترمذی، سنن ابی ماجہ، اور طحاوی وغیرہ کتب حدیث کی شکل میں بالکل محفوظ اور موجود ہے اور دنیا کی تاریخ میں سب سے زیادہ باوثوق علمی اور گراں بہا سرمایہ ان معتبر کتابوں میں درج ہے۔
الغرض قرآن کریم کے بعد اس سے زیادہ مستند اور معتبر ذخیرہ دنیا کی تاریخ کے خزانہ میں اور کوئی نہیں ہے۔ اگر تحریری سرمایہ ہی منکرینِ حدیث کے لیے قابلِ وثوق ہو سکتا ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زرین عہد سے تدوینِ کتبِ حدیث کے دور تک اس کی بھی کوئی کمی نہیں رہی جیسا کہ قارئین کرام ٹھوس حوالوں سے یہ پڑھ چکے ہیں۔ علاوہ بریں اسلام میں اصولِ تنقید اور درایت یعنی عقلی اور نقلی حیثیت سے روایت کو پرکھنے کے اصول و ضوابط الگ موجود ہیں اور ان اصول و قواعد کے ذریعے بخوبی احادیث کی تصحیح یا تضعیف کی جا سکتی ہے۔ اور روات کی چھان بین اور تحقیق میں اس درجہ دیانت داری اور حق گوئی سے کام لیا گیا ہے جس کی نظیر دنیا میں نہیں مل سکتی اور یہ کارروائی اہلِ اسلام کے مفاخر میں شامل ہے۔ مشہور عربی دان فاضل ڈاکٹر اس پرنگر جرمنی کا مقولہ آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہے: ’’نہ کوئی قوم دنیا میں ایسی گزری نہ آج موجود ہے جس نے مسلمانوں کی طرح اسماء الرجال سا عظیم الشان فن ایجاد کیا ہو جس کی بدولت آج پانچ لاکھ شخصوں کا حال معلوم ہو سکتا ہے‘‘۔ (بلفظہٖ حاشیہ سیرۃ النبیؐ ج ۱ ص ۶۴ از مولانا شبلیؒ)۔
رشاد خلیفہ - ایک جھوٹا مدعئ رسالت
پروفیسر غلام رسول عدیم
ایک اطلاع کے مطابق امریکہ کے ایک مشہور مدعی رسالت ڈاکٹر رشاد خلیفہ کو ۳۱ جنوری ۱۹۹۰ء رات دو بجے تیز دھار آلے سے قتل کر دیا گیا۔ یہ خبر انٹرنیشنل عربی اخبار ’’المسلمون‘‘ کے حوالے سے ہفت روزہ ختم نبوت کراچی بابت ۹ تا ۱۶ مارچ ۱۹۹۰ء (جلد ۸ شمارہ ۳۸) میں چھپی ہے۔ ڈاکٹر رشاد خلیفہ کا مسکن امریکہ کی ریاست Arizona (اریزونا) کا شہر Tucson (ٹوسان) تھا۔ وہ ایک عرصۂ دراز سے بظاہر قرآن و اسلام کی خدمت کر رہا تھا مگر بباطن اسلام کی جڑیں کاٹ رہا تھا تا آنکہ تین سال قبل رسالت کا دعوٰی کر دیا۔
تاریخ شاہد ہے ملحدین و دین بیزار افراد نے اصلاحِ دین کے پردے میں اپنے ناپاک عزائم کے لیے جو تحریکیں اٹھائیں انہیں پروان چڑھانے کے لیے ابتدائی مراحل میں وہ حمایتِ دین کے علم بردار بن کر ابھرے۔ اسی فریب کاری سے عوام میں مقبولیت حاصل کی اور پھر جب ان کی تجدیدی مساعی کی ساکھ قائم ہو گئی تو اپنی دوفطرتی کا اس انداز سے مظاہرہ کیا کہ ان کی مقصد برآری بھی ہونے لگی اور ناپختہ کار لوگوں کا ایک ہجوم بھی ان کے ساتھ گمراہی کی راہوں پر چل نکلا۔ ایسے دسیسہ کاروں کا طرزِعمل یہ رہا ہے کہ وہ اپنے باطل خیالات کی پرورش کے لیے کسی قدر اس میں سچائی بھی شامل کر لیتے کیونکہ اگر وہ ایسا نہ کرتے تو ان کوئی ان کی آواز پر کان نہ دھرتا۔ آغازِکار ہی سے ان کا پول کھل جاتا۔ ایسی تحریکوں کی مثالیں ماضی بعید میں بھی ملتی ہیں اور ماضی قریب میں بھی۔
آغازِ اسلام میں اہلِ تشیع نے بھی کچھ ایسا ہی انداز اختیار کیا۔ اکثر صحابہ کرامؓ کی تکفیر و تفسیق اور ازواجِ مطہرات کی تنقیص کے جراثیم سوسائٹی میں پھیلانے کے لیے اہلِ بیتؓ کی محبت کا سہارا لیا۔ صحابہ کرامؓ سے بے اعتنائی کے نتیجے کے طور پر ان احادیث نبویہؐ سے گلوخلاصی کرائی جو ان صحابہؓ سے مروی تھیں۔ ان صحابہؓ پر بداعتمادی کا لازمی نتیجہ یہ تھا کہ ان کی مرویات کو رد کر دیا جائے۔ یوں وہ اہلِ بیتؓ سے محبت کے دعوے کے باوجود صحابہؓ کی پاکیزہ سیرتوں اور عملاً سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے مستند اقوال و فرمودات اور آپؐ کی سیرتِ طیبہ سے علمی و عملی استفادے سے محروم رہ گئے۔
انیسویں صدی کے وسط آخر اور پھر بیسویں صدی کے پہلے عشرے میں برصغیر میں مرزا غلام احمد قادیانی دعوٰئ نبوت سے پہلے آریہ سماجیوں اور مسیحیوں کے خلاف مناظرِ اسلام بن کر اٹھا۔ اسلام کی صداقت کی حمایت میں مقالے لکھے، مناظرے کیئے، تقریریں کیں مگر جب اپنی مقصد برآری کے لیے دور تک آگے نکل گیا تو مجدد، محدث، مثیل مسیح حتٰی کہ دعوٰئ نبوت سے بھی گریز نہ کیا۔
کچھ ایسا ہی حال عالیجاہ محمد کا تھا۔ عالیجاہ نے سیاہ فام امریکیوں کو اسلام اور قرآن کی طرف بلایا۔ بظاہر یہ دعوت بڑی خوش آئند تھی مگر امتدادِ وقت کے ساتھ ساتھ وہ ایک نسلی تحریک زیادہ بن گئی اور دینی کم، جس میں سیاہ فام افریقی دیوتا تھے اور سفید فام امریکی ان کے پیدا کردہ شیطان۔
بعینہٖ یہی حال گذشتہ چند برسوں سے ڈاکٹر رشاد خلیفہ کا تھا۔ رشاد خلیفہ نے ایک داعئ اسلام کی حیثیت سے اپنا تعارف کرایا مگر اس کی دعوت ایک خاص نقطہ پر مرکوز تھی، اسے اسلاف کی دینی خدمات اور قرونِ خیر کی خیریت پر اعتماد نہ تھا۔ اس کی تجدد پسندانہ اور ریاضیاتی ساخت و باخت نے دین کی آڑ میں ایک نئی گمراہی کو جنم دیا۔ ۱۹ کا عدد اس کی تمام تر صلاحیتوں کا مرکز تھا۔ ۱۹ کے عدد سے وہ بظاہر نظر اپنے دو مقصد حاصل کرنا چاہتا تھا۔
(۱) قرآن دنیا کی طرف خدا کا آخری پیغام ہے اور ۱۹ کا عدد اس کی تصدیق کرتا ہے۔ خدا کا واحد ہونا حروف ابجد کے اعتبار سے ثابت ہے۔
و + ا + ح + د
۶ + ۱ + ۸ + ۴ = ۱۹
یہی وحدانیتِ الٰہی قرآن کا مقصودِ اصلی ہے۔
(۲) قرآن ہر طرح کی آمیزش، نقص و زیادت سے پاک ہے۔
اس نے اپنے پہلے دعوٰی کی تردید اس تعبیر سے کر دی جو سنت کے انکار پر مبنی تھی، اس نے کہا کہ سنت کی پیروی گمراہی اور بت پرستی ہے۔ یوں منکرِ حدیث ہو کر رشاد خلیفہ قرآنی بصیرت کھو بیٹا۔ اس کی کتاب The Computer Speaks: God's Message to the World نے دنیا کو چونکا دیا اور لوگ اس کی قرآن میں ریاضیاتی کوششوں کے معترف ہو گئے۔
جہاں تک اس کے دوسرے مقصد کا تعلق ہے وہ اس سے بھی انحراف کر گیا۔ جب بعض قرآنی آیات اس کے خودساختہ ریاضیاتی کلیوں کے مطابق نہ نکلیں تو اس نے ان آیات ہی سے انکار کر دیا۔ مثلاً اس نے سورۂ توبہ کی آخری دو آیتوں کو وضعی اور الحاقی کہہ کر خود ہی قرآن میں عدم نقص و زیادت کی تردید کر دی۔ اس نے کہا:
’’کمپیوٹر نے ایک تاریخی جرم کا اظہار کر دیا۔ خدا کے کلام میں تحریف۔ قرآن میں دو وضعی آیات نکل آئیں۔ قرآن کے ہندسی ضابطے میں نو (۹) نقائص دریافت کر لیے گئے۔ یہ تمام نو نقائص سورت نمبر ۹ کی آخری دو آیتوں میں پائے گئے ہیں۔‘‘
بہت سے نو مسلم رشاد خلیفہ کو سچا رسول سمجھنے لگے کیونکہ وہ بڑے وثوق سے دعوٰی کرتا کہ وہ اپنی اس تحقیق سے قرآن کی زبان و بیان کی پاکیزگی کو ثابت کر رہا ہے۔ اس کے جھانسے میں آنے والے زیادہ تر وہ لوگ تھے جو علمِ دین کا ضروری علم نہیں رکھتے، اسلام تو قبول کر لیتے ہیں، ان کی علمی سطح مبادیات سے اوپر نہیں جاتی۔ تاہم بعض ثقہ قسم کے علماء نے اس کی گرفت کی اور اس کے ان خودساختہ نظریات کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا، باوجودیکہ وہ ان سے قرآن ہی کی حقانیت ثابت کرتا دکھائی دیتا تھا۔
آج سے دس برس پہلے ممتاز عالمِ دین مولانا عبد القدوس ہاشمی نے بجا طور پر کہا تھا کہ عددیات کا باطل علم قدیم اساطیری ادبوں کی پیداوار ہے، اسلام میں اس کی کوئی اہمیت نہیں۔ عوام میں جو ۶۸۷ کے عدد کی بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کی نسبت سے اہمیت تسلیم کی جاتی ہے مولانا ہاشمی نے اس کو بے جواز اور بے کار بتایا۔ قرآنی آیات کو عددی شکلیں دے کر ان سے تعویذ بنانا بھی بیکار مشغلہ اور ضعیف الاعتقادی کا نتیجہ قرار دیا۔
سچی بات تو یہ ہے کہ ۱۹ کے عدد کی اہمیت سب سے پہلے نویں صدی عیسوی میں قرامطہ کے ہاں ملتی ہے، پھر ان قرامطہ کی بگری ہوئی شکل بہائی فرقہ کے ہاں ۱۹ کا عدد بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بہائی فرقۂ باطلہ کے بانی محمد علی باب کی تاریخ پیدائش ۱۸۱۹ء ہے۔ ان اعداد کا مجموعہ ۹+۱+۸+۱=۱۹ بنتا ہے۔ بہائیوں نے ۱۹ کے عدد کو مرکزِ کائنات مانا اور اسے اسرارِ کائنات کا اصل سرچشمہ قرار دے لیا ہے۔ بہائیوں نے سال کے ۱۹ مہینے قرار دیے اور ہر مہینے کے ۱۹ دن بنائے، یوں ان کا کیلنڈر بھی ۱۹ کے عدد کے گرد گھومنے لگا۔
یہی ۱۹ کا ہندسہ جو بہائیوں کے ہاں بڑا مقدس اور معنی خیز ہندسہ قرار دیا جاتا تھا اسی پر رشاد خلیفہ نے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کرنے کی ٹھان لی۔ اسے مرکز بنا کر اس نے کئی کتابیں لکھیں جن میں اہم یہ ہیں:
The Perpetual Miracle of Muhammad 1976
Mujiza Al-Quran Al-Karim 1980
The Final Scripture 1981
Quran, Hadith and Islam 1982
Quran: Visual Presentation of the Miracle 1982
عام مسلمانوں کے علاوہ رشاد کے بھرّے میں آنے والوں میں مشہور مناظرِ اسلام احمد دیدات کا نام سرِفہرست ہے۔ وہ اس کی کنجکاری سے بہت متاثر ہوئے۔ ۱۹۷۹ء میں انہوں نے ایک مختصر کتاب Al-Quran an Ultimate Miracle لکھ کر رشاد کے افکار و دلائل کا خلاصہ پیش کیا۔ بعد ازاں اس موضوع پر احمد دیدات کا ایک لیکچر بعنوان Al-Quran a Visual Miracle بھی پوری دنیا میں ٹیپ کر کے مفت تقسیم کیا گیا۔ کچھ عرصہ بعد رشاد خلیفہ نے اس بات کا دعوٰی کیا کہ اس نے ۱۹ کے عدد کی مدد سے قیامت کی صحیح تاریخ بھی معلوم کر لی ہے۔ جب اس کی جسارت یہاں تک آ پہنچی تو احمد دیدات سمیت بہ سے مسلمان اس سے بدظن ہو گئے۔ اس کے معترفین نے اس کی مخالفت کرنا شروع کر دی، کئی تاثراتی و جذباتی مضمون لکھے گئے۔ اس کی اس دیدہ دلیری کے پیشِ نظر جید علماء سے استفتاء کیا گیا۔ دنیائے اسلام کے معروف ترین عالمِ دین شیخ عبد اللہ بن عبد العزیز بن باز (سعودی عرب) نے اس کے ارتداد کا فتوٰی دیا۔
اس دوران میں رشاد خلیفہ نے مصری سکونت ترک کر کے امریکہ میں مستقل اقامت اختیار کر لی۔ امریکہ کی ریاست اریزونا کے شہر توسان میں بیٹھ کر ایک ماہانہ خبرنامہ جاری کیا جس کی بے شمار کاپیاں امریکہ اور کینیڈا کے سارے اسلامی حلقوں میں مفت تقسیم کیں۔ محدود علم کے نومسلم اس کی گرفت میں جلد آ جاتے بالخصوص وہ خواتین جو پردے کی حامی نہ تھیں اور اسلامی لباس کے حق میں نہ تھیں وہ اس کے جھانسے میں زیادہ آتیں کیونکہ رشاد خلیفہ نے ساتر لباس کو کوئی اہمیت نہ دی اور اس بات کی بھی اجازت دے دی کہ عورتیں اور مرد ایک ہی صف میں کھڑے ہو کر نماز ادا کر سکتے ہیں۔
رشاد خلیفہ کے عقائدِ باطلہ اور ان کی تردید ایک مستقل مقالے کا متقاضی ہے; تاہم اس مدعئ رسالت کا بنیادی نقطہ یہ ہے کہ ۱۹ حروف پر مشتمل بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کی آیت قرآن کا ایک معجزاتی عددی ضابطہ ہے۔ یہ معجزاتی ضابطہ سورہ مدثر کی آیت ۳۰ کا منبٰی ہے اور یہ آیت ’’علیھا تسعۃ عشر‘‘ پورے قرآن کی عددی و ریاضیاتی معجزنمائی کی اساس ہے۔ اس کا عقیدہ ہے کہ ۱۹ اور اس کی جمعی، تقسیمی اور ضربی شکلیں پورے قرآن کو محیط ہیں۔ جو آیاتِ قرآنی اس ضابطے پر پوری نہیں اترتیں وہ وضعی ہیں۔
حروفِ مقطعات جو قرآن مجید کی ۲۹ سورتوں کی ابتدا میں آتے ہیں ان میں اس نے عددی اسرار تلاش کیے ہیں اور دعوٰی کیا ہے کہ قرآن جیسی ادبی کتاب میں ریاضیاتی صحت ضابطہ اس بات کا پتہ دیتی ہے کہ یہ کام انسانی قوت سے ماوراء ہے۔ چونکہ آج کا دور انسان کے صلبی اولاد کے بجائے اس کی معنوی اولاد معجزاتی چپ (سیلیکون چپ جس کی مدد سے کمپیوٹر کا انقلاب آیا) اور الیکٹرانی ساحروں یعنی کمپیوٹروں کا دور ہے، قرآن اس چیلنج کو قبول کر کے کمپیوٹر کے لوازم پر پورا اترتا ہے، اس سے اس کا معجزہ اور وحی ہونا ظاہر ہے۔ مزید یہ کہ ۱۹ اور اس کی مختلف ہندسی ہیئتیں، وہ ضربی ہوں جمعی ہوں یا تقسیمی، قرآن کی صحیح تعبیر پیش کرتی ہیں۔
رشاد خلیفہ کا یہ بھی دعوٰی ہے کہ وہ رسول ہے نبی نہیں، کیونکہ قرآن کریم نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین کہا ہے خاتم الرسل نہیں کہا۔ رشاد خلیفہ نے اپنی کتاب Quran: Visual Presentation of Miracle کے پہلے ۲۴۷ صفحات میں نام نہاد ’’۵۲ طبعی حقائق‘‘ پیش کر کے اعداد و شمار کے گوشوارے دیے ہیں۔ عام قاری ان سے مسحور ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا لیکن جب ان پر گہرا غور کیا جائے تو اس مدعئ رسالت کے افکار کا تاروپود بکھر کر رہ جاتا ہے۔ اس سلسلہ میں ابو امینہ بلال فلپس کی کتاب The Qur'an's Numerical Miracle: Hoax and Heresy لائق مطالعہ ہے۔
تحریکِ پاکستان اور شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانیؒ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
(الشبان المسلمون سیالکوٹ کے زیر اہتمام اسلامک پبلک سکول (باجوہ اسٹریٹ، رنگ پورہ، سیالکوٹ) میں تحریک پاکستان کے عظیم راہنما شیخ الاسلام حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ کی یاد میں ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں مدیر الشریعہ نے حسب ذیل خطاب کیا۔ ادارہ الشریعہ)
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ آج کی یہ تقریب الشبان المسلمون کے زیراہتمام تحریک پاکستان کے عظیم راہنما شیخ الاسلام علامہ شبیر احمدؒ عثمانی کی خدمات اور جدوجہد کے تذکرہ کے لیے منعقد ہو رہی ہے۔ اس سے پہلے پروفیسر محمد عبد الجبار صاحب اور مولانا محمد انذر قاسمی اپنے خیالات کا اظہار کر چکے ہیں جبکہ پروفیسر میاں منظور احمد صاحب جو حضرت علامہ عثمانی کے شاگرد بھی ہیں میرے بعد اظہارِ خیال فرمانے والے ہیں۔ مجھے حکم دیا گیا کہ حضرت مولانا شبیر احمدؒ عثمانی کی جدوجہد اور خدمات کے بارے میں کچھ معروضات پیش کروں۔ تعمیل حکم کے لیے حاضر ہوں، دعا فرمائیں کہ اللہ رب العزت کچھ مقصد کی باتیں عرض کرنے کی توفیق عطا فرمائیں، آمین۔
حضراتِ محترم! شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمدؒ عثمانی کی عملی زندگی کو میں تین حصوں میں تقسیم کروں گا:
- ایک حصہ اس دور پر مشتمل ہے جب آپ نے دیوبند اور ڈابھیل میں علمی خدمات سرانجام دیں، ہزاروں تشنگانِ علوم کو قرآن و سنت کے معارف سے سیراب کیا، شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی قدس اللہ سرہ العزیز کے علمی جانشین کی حیثیت سے قرآن کریم کے حواشی مکمل کیے جو قرآن کریم کے اردو تراجم اور حواشی میں آج بھی سب سے زیادہ وقیع اور جامع شمار کیے جاتے ہیں، اور مسلم شریف کی شرح فتح الملہم لکھ کر علمی حلقوں سے خراجِ تحسین وصول کیا۔ جبکہ میرے نزدیک ان کی سب سے بڑی علمی خصوصیت یہ ہے کہ حجت الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کی طرح علامہ عثمانی بھی اپنے دور کے سب سے بڑے متکلم تھے۔ انہوں نے اسلامی نظریات و عقائد اور احکام و قوانین کو جس قوتِ استدلال کے ساتھ پیش کیا اس کی مثال اس دور میں نہیں ملتی۔ اور علامہ عثمانی کی علمی عظمت کے اعتراف کی ایک جھلک اس واقعہ کے حوالہ سے دیکھی جا سکتی ہے جو میں نے حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ کی زبانی سنا۔ انہوں نے بیان فرمایا کہ قطب الاقطاب حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ نے ایک دور میں شیرانوالہ لاہور میں اکابر علماء دیوبند کے اجتماع کا اہتمام کیا۔ اس موقع پر حضرت مولانا حسین علیؒ آف واں بھچراں اور حضرت دین پوریؒ جیسے عظیم اکابر بھی موجود تھے اور شیخ اسلام علامہ شبیر احمدؒ عثمانی بھی تشریف فرما تھے۔ اجتماع میں لاہور کے سرکردہ حضرات کو بھی مدعو کیا گیا تھا جن میں سرفہرست علامہ ڈاکٹر محمد اقبال مرحوم تھے۔ اس اجتماع میں جب حضرت علامہ شبیر احمدؒ عثمانی نے خطاب شروع کیا تو علامہ اقبالؒ اسٹیج پر تشریف فرما تھے لیکن چند لمحوں کے بعد وہ اسٹیج سے اٹھ کر یہ کہتے ہوئے سامعین میں بیٹھ گئے کہ اس پیکرِ علم کا خطاب سامنے بیٹھ کر طالب علموں کی طرح سننا چاہیے۔ یہ علامہ عثمانی کی علمی عظمت کا اعتراف ہے اور اس سے ان کے علمی مقام و مرتبہ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ علامہ شبیر احمدؒ عثمانی کی علمی خدمات اور جدوجہد کے بارے میں بہت کچھ کہا جا سکتا ہے لیکن یہ پہلو میں ان کے شاگرد جناب پروفیسر میاں منظور احمد صاحب کے لیے چھوڑتے ہوئے آگے بڑھتا ہوں اس دور کی طرف جس میں علامہ عثمانی نے تحریک پاکستان میں حصہ لیا بلکہ قائدانہ کردار ادا کیا۔ انہوں نے یہ کردار تنہا نہیں ادا کیا بلکہ علماء کی ایک جماعت کے ساتھ تحریک پاکستان میں شرکت کی اور قیام پاکستان کی جدوجہد کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔
- ہمارے ہاں ایک بات تسلسل کے ساتھ کہی جا رہی ہے کہ علمائے دیوبند نے تحریک پاکستان کی مخالفت کی تھی اور وہ قیام پاکستان کے مخالف تھے۔ یہ تاثر ایک سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت عام کیا جا رہا ہے اور اس کے پیچھے ایک مقصد کارفرما ہے۔ اس سلسلہ میں مقالات و مضامین کی اشاعت ہو رہی ہے اور اخبارات میں مہم کے انداز میں کام کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ سال ایک صاحب نے اس تاثر کو بنیاد بنا کر ایک اور مقدمہ کھڑا کیا ہے جو اس مہم کا اصل مقصود ہے۔ انہوں نے اپنے مسلسل مضمون میں یہ مقدمہ قائم کیا کہ علماء نے تحریک پاکستان کی مخالفت کی تھی اور قوم نے پاکستان بنا کر علماء کے موقف کو مسترد کر دیا جبکہ تحریک پاکستان کی قیادت جدید تعلیم یافتہ طبقہ نے کی، اس لیے پاکستان میں نفاذ اسلام کے لیے علماء کی بیان کردہ تعبیر و تشریح کو بنیاد نہیں بنایا جائے گا بلکہ وہ تعبیر و تشریح اختیار کی جائے گی جو ان کے بقول تعلیم یافتہ طبقہ قرآن و سنت کے لیے ازسرنو طے کرے گا۔
یہ ایک نئی گمراہی کا دروازہ ہے جسے کھولنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اس مقصد کے لیے یہ بات مسلسل کہی جا رہی ہے کہ علماء نے تحریک پاکستان کی مخالفت کی تھی تاکہ اس مفروضے کو نئی گمراہی کی فکری اساس بنایا جا سکے۔ حالانکہ یہ خلاف واقعہ بات ہے اور جھوٹ ہے کیونکہ سب علماء نے تحریک پاکستان کی مخالفت نہیں کی تھی۔ یہ درست ہے کہ علماء کی ایک بڑی جماعت نے قیام پاکستان کی مخالفت کی تھی، ہم اس سے انکار نہیں کرتے اور اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں۔ میں اس موقع پر اس بحث میں نہیں پڑوں گا کہ تحریک پاکستان کی مخالفت کرنے والے علماء نے قیام پاکستان کی صورت میں جن خدشات و خطرات کا اظہار کیا تھا، پاکستان بننے کے بعد کے چالیس سالہ دور نے ان کی تصدیق کی یا ان کو رد کیا ہے۔ میں اس بحث کی طرف بھی نہیں جاؤں گا کہ قیام پاکستان کی مخالفت کرنے والے علماء کا سیاسی تشخص تقسیم ہند کے بعد ہندوستان میں رہ جانے والے مسلمانوں کے لیے کس حد تک سہارا بنا ہے اور ان علماء کے سیاسی تشخص نے ان مسلمانوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے کیا رول ادا کیا ہے۔ ان مباحث میں الجھے بغیر میں کھلے دل سے یہ تسلیم کرتا ہوں کہ علمائے دیوبند کے ایک بڑے طبقہ نے قیام پاکستان کے خلاف کام کیا تھا۔ لیکن اسی طرح یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ علمائے دیوبند ہی کے ایک بڑے طبقے نے قیام پاکستان کی جدوجہد کا ساتھ دیا تھا اور ان کے سرخیل شیخ الاسلام علامہ شبیر احمدؒ عثمانی تھے۔ تحریک پاکستان کا ساتھ دینے والے انہی علماء میں حکیم الامت حضرت شاہ اشرف علی تھانویؒ بھی تھے جن کے بارے میں خود قائد اعظم مرحوم کا یہ مقولہ تاریخ کے ریکارڈ میں موجود ہے کہ ’’ہمارے ساتھ ایک اتنے بڑے عالم ہیں کہ ان کا علم ہندوستان کے تمام علماء کے علم پر بھاری ہے۔‘‘ حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کی ہدایت پر اور حضرت علامہ شبیر احمدؒ عثمانی کی قیادت میں علماء کرام کی ایک بڑی تعداد تحریک پاکستان میں عملاً شریک ہوئی اور فردًا فردًا نہیں بلکہ ایک باقاعدہ جماعت کی صورت میں انہوں نے تحریک پاکستان میں حصہ لیا۔
آج یہ کہا جاتا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ نے بنایا، میں اسے تسلیم کرتا ہوں لیکن اس وضاحت کے ساتھ کہ تنہا مسلم لیگ نے نہیں بلکہ اس کے ساتھ ایک اور جماعت بھی تھی جو تحریک پاکستان میں شریک تھی اور اس جماعت کا نام جمعیۃ علماء اسلام ہے۔ جمعیۃ علماء اسلام کا قیام ۱۹۴۵ء میں کلکتہ میں عمل میں لایا گیا اور علامہ شبیر احمدؒ عثمانی کو اس کا سربراہ چنا گیا ۔ اس جماعت نے باقاعدہ پلیٹ فارم قائم کر کے مسلم لیگ کے ساتھ تحریک پاکستان میں حصہ لیا۔ اس میں مولانا اطہر علیؒ جیسے بزرگ تھے، علامہ ظفر احمدؒ عثمانی، مولانا غلام مرشدؓ، مولانا راغب احسنؒ، مولانا مفتی محمد شفیعؒ اور دیگر علماء تھے جنہوں نے تحریک پاکستان کا نظریاتی تشخص اجاگر کیا۔ اور مجھے یہ عرض کرنے کی اجازت دیجئے کہ تحریک پاکستان کا نظریاتی اور اسلامی تشخص انہی علماء کی وجہ سے اجاگر ہوا۔ ان کے علاوہ دوسرے علماء بھی تھے۔ مولانا عبد الحامدؒ بدایونی بھی تھے، پیر صاحبؒ آف مانکی شریف بھی تھے اور مولانا محمد ابراہیمؒ سیالکوٹی بھی تھے۔ میں تحریک پاکستان میں ان میں سے ہر کردار کا اعتراف کرتا ہوں اور اس نکتہ کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ تحریک پاکستان کو اگر اسلامی تحریک سمجھا گیا ہے اور اس کے نظریاتی تشخص پر لوگوں کا اعتماد قائم ہوا ہے تو ان علماء کی وجہ سے ہوا ہے اور عوام نے ان علماء پر اعتماد کرتے ہوئے اپنے ذہنوں اور دلوں میں تحریک پاکستان کو ایک اسلامی نظریاتی تحریک کی حیثیت سے جگہ دی ہے۔ ورنہ اگر مسلم لیگی قیادت یہ سمجھتی ہے کہ تحریک پاکستان کا نظریاتی تشخص اس کی وجہ سے قائم ہوا تھا تو یہ بات خود فریبی کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ قیام پاکستان کے وقت دو علاقوں کے بارے میں فیصلہ ہوا تھا کہ ان علاقوں کے عوام سے ریفرنڈم کے ذریعے رائے لی جائے گی کہ وہ پاکستان یا بھارت میں سے کس کے ساتھ شامل ہونا چاہتے ہیں۔ ایک صوبہ سرحد تھا جہاں کانگریس کی حکومت تھی اور ڈاکٹر خان مرحوم اس کے وزیر اعلیٰ تھے اور دوسرا سلہٹ کا علاقہ تھا۔ ان علاقوں میں ریفرنڈم جیتنا کوئی آسان بات نہ تھی اور ریفرنڈم کے لیے جب مہم چلانے کا فیصلہ کیا گیا تو علامہ شبیر احمدؒ عثمانی اور ان کے رفیق کار علامہ ظفر احمدؒ عثمانی سے درخواست کی گئی کہ وہ اس مہم کی قیادت کریں۔ چنانچہ علامہ عثمانی نے صوبہ سرحد میں پیر صاحب آف مانکی شریف کے ہمراہ اور مولانا ظفر احمدؒ عثمانی نے سلہٹ میں انتخابی مہم کی قیادت کی۔ ان علاقوں میں مسلم لیگ کی پوزیشن کمزور تھی لیکن یہ ان علماء کی مہم تھی کہ ریفرنڈم کا فیصلہ پاکستان کے حق میں ہوا۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ قیام پاکستان کے وقت کراچی میں علامہ شبیر احمدؒ عثمانی اور ڈھاکہ میں مولانا ظفر احمدؒ عثمانی کے ہاتھوں قومی پرچم لہرانے کا تاریخی واقعہ دراصل ان دو بزرگوں کے اس کردار اور جدوجہد کا عملی اعتراف تھا جو انہوں نے قیام پاکستان میں کی۔
- حضراتِ محترم! شیخ الاسلام علامہ شبیر احمدؒ عثمانی کی جدوجہد کا تیسرا دور قیام پاکستان کے بعد دستور ساز اسمبلی میں ان کی جدوجہد کا دور ہے جب انہوں نے دستور ساز اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے پاکستان کی نظریاتی بنیاد کے تعین کی جنگ لڑی۔ اس حوالہ سے یہ بحث الگ گفتگو کی متقاضی ہے کہ جو ملک اسلام کے نام پر لا الہ الا اللہ کے نعرہ پر بنا اور جسے دنیا کی پہلی اسلامی نظریاتی مملکت کا عنوان دیا گیا، اس ملک کے قائم ہوتے ہی اس کی دستور ساز اسمبلی میں یہ مسئلہ کھڑا ہوگیا کہ ملک کا دستور اسلامی ہونا چاہیے یا سیکولر بنیادوں پر ملک کا نظام ترتیب دیا جائے۔ یہ سوال آخر کیسے اٹھا اور اس کا پس منظر کیا تھا؟ اس پر مستقل بحث کی ضرورت ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کے ریکارڈ کا تجزیہ کیا جائے، اسے کھنگالا جائے اور اس ہاتھ کو تلاش کیا جائے جس نے پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کو سیکولرازم کی بحث میں الجھا دیا۔
بہرحال یہ ایک حقیقت ہے کہ اس دستور ساز اسمبلی میں نظریاتی اسلامی دستور کی مخالفت کی گئی اور مُلااِزم، پاپائیت اور تھیاکریسی کے طعنے کسے گئے ۔ اور یہ بھی امر واقعہ ہے کہ دستور ساز اسمبلی کا عمومی رجحان بظاہر غیر مذہبی نظام کی طرف ہو چکا تھا لیکن شیخ الاسلام علامہ شبیر احمدؒ عثمانی نے اس مہم کا سامنا کیا اور تمام اعتراضات کا منطق و استدلال کے ساتھ جواب دیتے ہوئے بالآخر اسمبلی کو قائل کر لیا اور قرارداد مقاصد منظور کرا کے پاکستان کی نظریاتی اسلامی بنیاد ہمیشہ کے لیے طے کر دی۔ قرارداد مقاصد کی بنیاد اس بات پر ہے کہ حاکم حقیقی اللہ تعالیٰ کی ذات گرامی ہے اور پاکستان کے عوام اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے احکام و قوانین نافذ کریں گے۔ قرارداد مقاصد کو نظرانداز کرنا اب کسی کے بس کی بات نہیں رہی اور اس قرارداد کے ذریعے علامہ شبیر احمدؒ عثمانی نے پاکستان کی اسلامی بنیاد کا ہمیشہ کے لیے تحفظ کر دیا۔
اس موقع پر ایک اور بات کی طرف توجہ دلانا بھی ضروری سمجھتا ہوں۔ تاریخ کے ایک طالب علم کی حیثیت سے ایک بات میرے ذہن میں آتی ہے کہ غلطی اگرچہ خلوص سے ہو مگر اس کے نتائج بہرحال سامنے آتے ہیں۔ مجھے ۱۹۸۷ء میں ایران جانے کا اتفاق ہوا اور وہاں کے لیڈروں سے ایرانی انقلاب کے مراحل کے بارے میں گفتگو کا موقع ملا۔ ایک ایرانی لیڈر نے اس موقع پر مجھ سے سوال کیا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ایرانی علماء نے پندرہ بیس سال کی محنت کے ساتھ انقلاب بپا کر دیا لیکن پاکستان کے علماء کرام جن کی جدوجہد دو سو سال تک آزادی کے لیے تھی اور آزادی کے بعد چالیس سال سے پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے محنت کر رہے ہیں لیکن ان کی جدوجہد کے ثمرات سامنے نہیں آرہے اور انہیں ابھی تک کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ میں نے اس سوال کے جواب میں اپنے ذہن کے مطابق ان اسباب و عوامل کا ذکر کیا جو پاکستان میں نفاذ اسلام کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ اس پر ایرانی لیڈر نے کہا کہ جناب بات یہ نہیں بلکہ اصل قصہ یہ ہے کہ ایرانی علماء نے بادشاہت کے خلاف تنہا جنگ نہیں لڑی، اس جنگ میں ایران کے نیشنلسٹ اور کمیونسٹ حلقے بھی ان کے ساتھ تھے۔ مذہبی قیادت، کمیونسٹ تودہ پارٹی اور ڈاکٹر مصدق کی نیشنلسٹ پارٹی نے مل کر بادشاہت کو شکست دی لیکن شاہِ ایران کے ملک سے باہر چلے جانے کے بعد ایرانی علماء نے اقتدار دوسروں کے حوالے نہیں کیا بلکہ بتدریج انہیں منظر سے ہٹا کر اقتدار پر مکمل قبضہ کر لیا جس کی وجہ سے وہ انقلاب کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے اور اس پر کنٹرول کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ جبکہ پاکستان کے قیام کے بعد وہ علماء جنہوں نے تحریک آزادی اور تحریک پاکستان میں فیصلہ کن کردار ادا کیا تھا وہ ضرورت سے زیادہ خلوص کا شکار ہوگئے اور مدارس و مساجد پر قناعت کرتے ہوئے انہوں نے اقتدار کا راستہ دوسرے لوگوں کے لیے صاف کر دیا۔ اب ظاہر بات ہے کہ جن لوگوں نے اقتدار پر قبضہ کیا ملک کا نظام بھی انہی کی مرضی کے مطابق ہی چلنا ہے۔
یہ ایک ایرانی لیڈر کی بات کا خلاصہ ہے جو میں نے آپ سے عرض کیا ہے۔ ممکن ہے یہ سو فیصد درست نہ ہو لیکن سو فیصد غلط بھی نہیں ہے۔ بلکہ مجھے اگر آپ اس جسارت پر معاف فرمائیں تو عرض کروں گا کہ برصغیر کی تاریخ میں دو بڑی غلطیاں ایسی ہیں جنہوں نے ہماری تاریخ کا رخ موڑ دیا اور دونوں غلطیاں خلوص کے ساتھ ہوئیں۔ ایک غلطی احمد شاہ ابدالیؒ کی ہے جس نے پانی پت کی تیسری جنگ میں مرہٹوں کو شکست دے کر اقتدار انہیں مغل شہزادوں کے حوالے کر کے وطن واپس لوٹ گیا۔ وہ اس حقیقت کا ادراک نہ کر سکا کہ مغل شہزادوں میں اب ہندوستان کا اقتدار سنبھالنے کی صلاحیت نہیں رہی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ مغل شہزادے اقتدار نہ سنبھال سکے اور بالآخر برطانوی استعمار کو یہاں پاؤں جمانے کا موقع مل گیا۔ دوسری بڑی غلطی پاکستان بننے کے فورًا بعد علماء سے ہوئی کہ انہوں نے اقتدار میں شرکت اور حصہ داری پر اپنا دعویٰ نہیں جتایا حالانکہ یہ ان کا حق تھا، لیکن انہوں نے خلوص کے ساتھ یہ فیصلہ کر لیا کہ ہم نے اقتدار میں شریک نہیں ہونا بلکہ باہر رہ کر اقتدار والوں کی رہنمائی کرنی ہے۔ اس کے نتائج آج ہمارے سامنے ہیں اور خدا جانے کب تک ہمیں ان کا سامنا کرنا پڑے گا۔
الغرض علامہ شبیر احمدؒ عثمانی کی جدوجہد کا یہ دور بھی بڑا تابناک ہے کہ انہوں نے اپنی تمام تر صلاحیتیں اور توانائیاں صرف کر کے قرارداد مقاصد منظور کرائی اور پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کو سیکولرازم کی بنیاد پر دستور طے کرنے سے روک دیا۔
حضراتِ گرامی قدر! شیخ الاسلام حضرت علامہ شبیر احمدؒ عثمانی کی یہ جدوجہد ہمارے ذمہ قرض ہے اور یہ قرض ہم نے بہرصورت ادا کرنا ہے۔ قرارداد مقاصد منظور کرا کے ملک کی اسلامی نظریاتی بنیاد کا تعین علامہ عثمانی نے کیا تھا اور ملک کو صحیح معنوں میں اسلامی مملکت بنانا اور مکمل اسلامی نظام کا نفاذ و غلبہ ہماری ذمہ داری ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس ذمہ داری سے پوری طرح عہدہ برآ ہونے کی توفیق ارزانی فرمائیں، آمین یا الہ العالمین۔
آیت ’’توفی‘‘ کی تفسیر
مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ
سورۃ آل عمران کی آیت ۵۵ یوں ہے:
اِذْ قَالَ اللہُ یَا عِیْسٰی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَ رَافِعُکَ اِلَیَّ وَمُطَہِّرُکَ الخ۔
ترجمہ از شاہ عبد القادر صاحبؒ: ’’جس وقت کہا اللہ نے اے عیسٰیؑ! میں تجھ کو پھر لوں گا (یعنی تجھ کو لے لوں گا اور قبض کر لوں گا زمین سے) اور اٹھا لوں گا اپنی طرف (یعنی اپنے آسمان کی طرف جو کرامت کی جگہ اور ملائکہ کا مقام ہے) اور پاک کر دوں گا کافروں (کی ہمسائیگی اور برے قصد) سے‘‘۔
پہلا معنٰی
اس صورت میں لفظ ’’مُتَوَفِّیْکَ‘‘ کا معنی ’’قَابِضْکَ‘‘ کا ہے جیسے کہتے ہیں ’’تَوَفَّیْتُ مَالِی‘‘ یعنی قبض کیا اور واپس لیا میں نے اپنے مال کو اور یہی معنی جلالین میں مذکور ہیں۔
دوسرا معنی
یا لفظ ’’متوفیک‘‘ کا معنی ’’مُسْتَوفِی اَجَلِکَ‘‘ کے ہیں اور معنی یوں ہیں: ’’اے عیسٰی! تجھ کو تیری زندگی کی مدت پوری دوں گا‘‘ (یعنی تو اپنی عمر مقرر تک پہنچے گا اور مخالف تجھے قتل نہ کر سکیں گے)۔
تیسرا معنی
یا بمعنی ’’مُسْتَوفِی عَمَلِکَ‘‘ کے ہے اور اس میں بشارت ہے عیسٰیؑ کو ان کی اطاعت اور اعمال کی قبولیت کا اور معنی یوں ہے: ’’اے عیسٰی! میں پورے اور کامل کروں گا تیرے اعمال کو‘‘۔
چوتھا معنی
یا متوفی بمعنی ’’مستوفی‘‘ کے ہے اور مضاف محذوف نہیں ہے اور معنی یوں ہے: ’’اے عیسٰی! میں پورا اور کامل لے لوں گا تجھ کو (یعنی روح اور بدن سمیت)‘‘۔ اور اس صورت میں ارشاد سے فائدہ یہ ہے کہ آسمان کی طرف عیسٰیؑ کی روح مع بدن کے اٹھائی گئی ہے، کوئی فقط روح کو بغیر بدن کے نہ سمجھے۔
پانچواں معنی
یا متوفی بمعنی ’’اَجْعَلُکَ کَالْمُتَوَفِّی‘‘ کے ہے اور معنی یوں ہے: ’’اے عیسٰیؑ میں تجھ کو مردہ کی مانند کر دوں گا (یعنی زمین سے اثر و خبر کے انقطاع کے اعتبار سے)‘‘۔
چھٹا معنی
یا متوفیک بمعنی ’’مُتَوَفِیْ نَفْسَکَ بِالنَّوم‘‘ کے ہے جیسے سورہ زمر کی آیت ۴۲ یوں ہے:
اَللہُ یَتَوَفَّی الْاَنْفُسَ حِیْنَ مَوْتِھَا وَالَّتِیْ لَمْ تَمُتْ فِی مَنَامِھَا الخ
’’یعنی اللہ کھینچ لیتا ہے جانوں کو جب وقت آتا ہے ان کے مرنے کا (اور کھینچ لیتا ہے) ان جانوں کو نیند میں جو نہیں مریں ۔۔۔‘‘
اس آیت میں لفظ متوفی کا اطلاق نیند کی حالت پر آیا ہے، پس اس صورت میں معنی یوں ہے: ’’اے عیسٰی! میں تجھ کو کھینچ لوں گا سوتے ہوئے (تاکہ آسمان کی طرف عروج کے وقت خوف نہ لگے)‘‘۔ اور ربیع بن انسؓ سے بھی روایت ہے کہ عیسٰیؑ نیند کی حالت میں اٹھائے گئے اور اسی طرح اس کے اور معانی ہیں۔ اور کسی معتبر مترجم یا مفسر نے نہیں لکھا کہ مسیح مر گیا پھر اٹھایا گیا۔ البتہ بیضاویؒ نے آخر میں ایک مجہول شخص کا قول قِیْلَ کے لفظ کے ساتھ نقل کیا ہے جو نصارٰی کے مذہب کے موافق ہے اور ایسے مجہول شخص کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔
(بتفسیر یسیر از ’’ازالۃ الشکوک ج ۱ ص ۱۵۳)
(انتخاب: حافظ محمد عمار خان ناصر)
’’کلمۃ الحکمۃ ضالۃ المؤمن‘‘
ایک مشہور حدیث کا تحقیقی جائزہ
غازی عزیر
مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے شائع ہونے والا اردو ماہنامہ ’’تہذیب الاخلاق‘‘ مجریہ ماہ مئی ۱۹۸۸ء راقم کے پیشِ نظر ہے۔ شمارہ ہٰذا میں جناب مولوی شبیر احمد خاں غوری (سابق رجسٹرار امتحانات عربی و فارسی بورڈ سرشتہ تعلیم الٰہ آباد، یو۔پی) کا ایک اہم مضمون زیرعنوان ’’اسلام اور سائنس‘‘ شائع ہوا ہے۔ آں موصوف کی شخصیت برصغیر کے اہلِ علم طبقہ میں خاصی معروف ہے۔ آپ کے تحقیقی مقالات اکثر برصغیر کے مشہور علمی رسائل و جرائد کی زینت بنتے رہتے ہیں۔ آں محترم نے پیشِ نظر مضمون کے ایک مقام پر بعض انتہائی ’’ضعیف‘‘ اور ساقط الاعتبار احادیث سے استدلال کیا ہے جو ایک محقق کی شان کے خلاف ہے۔ چنانچہ رقم طراز ہیں:
’’اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیروؤں کو جس طرح اللہ تعالیٰ کی عبادت اور نیکوکاری اختیار کرنے اور برائیوں سے بچنے کا حکم دیا ہے اسی طرح ان کو یہ بھی حکم دیا ہے کہ خود کو اوصافِ حمیدہ سے متصف کریں اور ان اوصافِ حمیدہ کے چندن ہار میں واسطۃ العقد علم و حکمت ہے۔ لہٰذا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیروؤں کو حکم دیا کہ وہ علم حاصل کریں ہر چند کہ اس کے حاصل کرنے کے لیے انہیں انتہائی مشقت حتٰی کہ اقصائے عالم کا سفر ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔
اطلبوا العلم ولو کان بالصین۔
(علم کو تلاش کرو خواہ وہ چین (اقصائے عالم) ہی میں کیوں نہ دستیاب ہو۔)
پھر اس ’’حکم ناطق‘‘ کو مزید مؤکد بنانے کے لیے اسے ’’فریضۃ‘‘ کے لفظ سے تعبیر کیا جس میں کوتاہی یا تہاون کی گنجائش ہی نہیں ہے۔
طلب العلم فریضۃ علٰی کل مسلم و مسلمۃ۔
(علم کو طلب کرنا ہر مسلمان مرد اور ہر مسلمان عورت پر فرض ہے۔)
یہی نہیں بلکہ آپؐ نے فرمایا حکمت مومن کی متاعِ گم گشتہ ہے جہاں ملے وہ دوسروں کے مقابلے میں اسے لے لینے کا زیادہ حق دار ہے۔
کلمۃ الحکمۃ ضالۃ المؤمن اینما وجد ھا فھوا حق بھا۔
شمعٔ رسالت کے پروانوں کو اس حکم کی تعمیل میں کیا پس و پیش ہو سکتا تھا، لہٰذا زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا کہ امت مسلمہ علم و حکمت کے خزانوں کی امین ہو گئی۔‘‘ (ماہنامہ تہذیب الاخلاق، علی گڑھ ج ۷ شمارہ ۵ بمطابق ماہ مئی ۸۸ء ص ۲۹)
افسوس کہ آں محترم کی بیان کردہ یہ تینوں انتہائی ’’ضعیف‘‘ اور قطعًا ناقابلِ اعتبار ہیں۔ پہلی دونوں احادیث پر راقم کا ایک طویل تحقیقی مضمون سہ ماہی مجلہ جامعہ ابراہیمیہ سیالکوٹ عدد شمارہ ۱۱۔۱۲ بمطابق ماہ ذوالحجہ ۱۴۰۶ھ تا محرم ۱۴۰۷ھ ص ۲۶۔۳۸) میں تقریباً ڈھائی سال قبل شائع ہو چکا ہے۔ اب دوبارہ مجلس التحقیق الاسلامی لاہور (پاکستان) اپنے مؤقر علمی ماہنامہ محدث لاہور (ج ۱۸ شمارہ ۱۰ بمطابق ماہ جون ۱۹۸۸ء ص ۴۱۔۶۰) میں اسی مضمون کو بالاقساط شائع کر رہی ہے۔ شائقین کے لیے یہ مضمون بھی لائقِ مراجعت ہے۔ زیر نظر مضمون میں محترم جناب غوری صاحب کی بیان کردہ تیسری حدیث ’’کلمۃ الحکمۃ الخ‘‘ اور اس کے جملہ طرق پر علمی بحث پیش کی جاتی ہے تاکہ واضح ہو جائے کہ عند المحدثین اس روایت کا کیا مقام و مرتبہ ہے۔
اس حدیث کو امام ترمذیؒ نے اپنی ’’جامع‘‘ (جامع الترمذیؒ معہ تحفۃ الاحوذی ج ۳ ص ۳۸۲۔۳۸۳ طبع دہلی و ملتان) کے ’’ابواب العلم‘‘ میں، ابن ماجہؒ نے اپنی ’’سنن‘‘ (ص ۳۱۷ حدیث نمبر ۴۱۶۹) کی ’’کتاب الزہد‘‘ میں، بیہقیؒ نے ’’مدخل‘‘میں اور عسکریؒ نے بطریق ابراہیم بن الفضل عن سعید المقبری عن ابی ہریرہؓ مرفوعاً روایت کیا ہے۔ خطیب تبریزیؒ نے اس حدیث کو ’’مشکوٰۃ المصابیح‘‘ مع تنقیح الرواۃ ج ۱ ص ۴۹ طبع لاہور میں، علامہ سخاویؒ نے ’’مقاصد الحسنہ فی بیان کثیر من الاحادیث المشتھرہ ص ۱۹۱۔۱۹۲ میں، امام ابن الجوزیؒ نے ’’علل امتناہیۃ فی الاحادیث الواہیہ ج ۱ ص ۸۸ میں، ملا علی قاری حنفیؒ نے ’’اسرار المرفوعہ فی الاخبار الموضوعہ‘‘ ص ۱۸۶ میں، علامہ محمد اسماعیل عجلونی الجراحیؒ نے ’’کشف الخفاء و مزیل الالباس عما اشتھر من الاحادیث علی السنۃ الناس ج ۱ ص ۴۳۵ میں، علامہ محمد درویش حوت البیروتیؒ نے ’’اسنی المطالب فی احادیث مختلفہ المراتب ص ۱۳۳ میں، علامہ شیبانی اثریؒ نے ’’تمیز الطیب من الخبیث فیما یدور علی السنۃ الناس من الحدیث‘‘ ص ۱۳۸ میں، امام ابن حبانؒ نے ’’کتاب المجروحین‘‘ ج ۱ ص ۱۰۵ میں، امام عقیلی نے ’’ضعفاء الکبیر‘‘ ج ۱ ص ۶۱، علامہ جلال الدین سیوطیؒ نے ’’الدرر المنتثرة‘‘ ص ۱۹۴، اور ’’جامع الصغیر‘‘ میں، علامہ قضاعیؒ نے ’’مسند شہاب‘‘ میں، عسکری اور علامہ شیخ محمد ناصر الدین الابانی حفظہ اللہ نے ’’ضعیف الجامع الصغیر و زیادتہ‘‘ وغیرہ میں معمولی حک و اضافہ۔ خطیب ترمذیؒ نے ’’مشکوٰۃ‘‘ میں ترمذیؒ اور ابن ماجہؒ والی حضرت ابوہریرہؓ کی روایت میں ’’المؤمن‘‘ کی بجائے ’’الحکیم‘‘ لکھا ہے حالانکہ ترمذیؒ میں ’’المؤمن‘‘ کے الفاظ ہی مروی ہیں۔ (مشکوٰۃ مع تنقیح الرواۃ ج ۱ ص ۴۹)۔ علامہ سخاویؒ نے ترمذیؒ کی روایت کے الفاظ اس طرح نقل کیے ہیں: ’’الکلمۃ الحکیمۃ الخ‘‘ (مقاصد الحسنہ ص ۱۹۲) حالانکہ اصل عبارت میں لفظ ’’الحکیمۃ‘‘ کے بجائے ’’الحکمۃ‘‘ موجود ہے (جامع ترمذیؒ مع تحفہ ج ۳ ص ۳۸) کے ساتھ وارد کیا ہے۔
اس حدیث کو روایت کرنے کے بعد خود امام ترمذیؒ فرماتے ہیں:
ھذا حدیث غریب، لالغرفہ الوجہ وابراھیم بن الفضل المخزومی ضعیف فی الحدیث‘‘ (جامع ترمذیؒ مع تحفۃ الاحوذی ج ۳ ص ۳۸۲۔۳۸۳)۔
امام ابن الجوزیؒ بھی فرماتے ہیں کہ ’’یہ حدیث صحیح نہیں ہے‘‘ (علل المتناہیہ لابن الجوزیؒ ج ۱ ص ۸۸) اس روایت کی سند میں ایک مجروح روای ’’ابراہیم بن الفضل المخزومی المدنی‘‘ موجود ہے جس کے متعلق ابن معینؒ فرماتے ہیں کہ ’’ضعیف ہے، اس کی حدیث نہیں لکھی جاتی‘‘۔ ایک اور مقام پر فرماتے ہیں ’’کچھ بھی نہیں ہے‘‘۔ امام نسائیؒ فرماتے ہیں ’’متروک الحدیث ہے‘‘۔ علامہ ابن حجر عسقلانیؒ فرماتے ہیں ’’متروک ہے‘‘۔ علامہ ذہبیؒ فرماتے ہیں ’’فاحش الخطاء ہے‘‘۔ امام عقیلیؒ فرماتے ہیں ’’امام بخاریؒ کا قول ہے کہ منکر الحدیث ہے‘‘۔ امام احمدؒ فرماتے ہیں کہ ’’حدیث میں قوی نہیں ہے، ضعیف الحدیث ہے‘‘۔ امام ابن الجوزیؒ نے یحیٰیؒ کا قول نقل کیا ہے کہ ’’اس کی حدیث کچھ بھی نہیں ہوتی‘‘۔ ڈاکٹر عبد المعطی امین قلعجی فرماتے ہیں کہ ’’اس کے متروک ہونے پر ائمہ جرح والتعدیل کا اجماع ہے۔ حدیث کے تمام نقاد نے اس کی تضعیف کی ہے۔ مجھے ایسا کوئی فرد نظر نہیں آتا کہ جس نے اس کی توثیق کی ہو‘‘۔
’’ابراہیم بن الفضل المخزومی‘‘ کے تفصیلی ترجمہ کے لیے تاریخ یحیٰی بن معینؒ، علل لابن حنبلؒ، تاریخ الکبیر للبخاریؒ، تاریخ الصغیر للبخاریؒ، معرفۃ والتاریخ للبسویؒ، ضعفاء الکبیر للعقیلیؒ، جرح والتعدیل لابن ابی حاتمؒ، مجروحین لابن حبانؒ، کامل فی الضعفاء لابن عدیؒ، میزان الاعتدال للذہبیؒ، تہذیب التہذیب لابن حجرؒ، تقریب التہذیب لابن حجرؒ، ضعفاء والمتروکان للنسائیؒ، ضعفاء والمتروکون للدارقطنیؒ اور مجموع فی الضعفاء والمتروکین للسیروان وغیرہ ملاحظہ ہوں۔
اب ذیل میں اس باب میں وارد ہونے والی چند اور روایات اور ان کے طرق کا عملی جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔
اس حدیث کو قضاعیؒ نے ’’مسند شہاب‘‘ میں بطریق لیث بن ہشام بن سعد عن زید بن اسلم مرفوعاً روایت کیا ہے۔ اس میں یہ اضافی الفاظ موجود ہیں ’’حیث ما وجد المومن ضالۃ فلیجمعھا الیہ‘‘۔ عسکریؒ کی ایک دوسری حدیث بطریق عنبسہ بن عبد الرحمٰن عن شبیب بن بشیر عن انس مرفوعاً بھی مروی ہے جو اس طرح ہے ’’العلم ضالۃ المؤمن حیث وجدہ اخدہ‘‘۔ قضاعیؒ اور عسکریؒ کی ایک اور روایت ان الفاظ کے ساتھ بھی مروی ہے ’’کلمۃ الحکمۃ ضالۃ کل حکیم فاذا وجد ھا فھو احق بھا‘‘۔ ابن عساکرؒ، ابن لالؒ، اور دیلمیؒ وغیرہ نے بطریق عبد الوہاب عن مجاہد عن علی مرفوعاً اس طرح بھی روایت کی ہے ’’ضالۃ المومن العلم کلما قیہ حدیثاً طلب الیہ اٰخر‘‘۔ دیلمیؒ نے اپنی مسند ج ۱ ص ۲۰ میں اور عفیف الدین ابوالمعالیؒ نے ’’فضل العلم‘‘ ج ۱ ص ۱۱۴ میں ابراہیم بن ہانی عن عمرو بن حکام عن ابوبکر عن زیاد بن ابی حسان عن انسؓ کے مرفوع طریق سے ایک اور حدیث اس طرح روایت کی ہے ’’احسبوا علی المومنین ضالتھم قالوا وما ضالۃ المومنین قال العلم‘‘۔ اسباب میں دیلمی کی ایک اور حدیث جو حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے اس طرح ہے ’’نعم الفائدۃ الکلمۃ من الحکمۃ یسمعھا الرجل فیھد بھا لاخیہ‘‘۔ دیلمیؒ نے اس باب میں ابن عمرؓ سے بھی ایک حدیث روایت کی جو اس طرح ہے ’’خد الحکمۃ ولا یضرک من ای وِعاء خرجت‘‘۔
ان تمام روایات میں سے قضاعیؒ کی زید بن اسلم والی مرفوع حدیث کے متعلق علامہ سخاویؒ اور علامہ عجلونیؒ فرماتے ہیں کہ ’’یہ روایت مرسل ہے‘‘ (مقاصد الحسنہ للسخاویؒ ص ۹۲ و کشف الخفا للعجلونیؒ ج ۱ ص ۴۳۵) لیکن اس میں صرف راوی ’’زید بن اسلم‘‘ ہیں جو کثرت سے ارسال کرتے ہیں (کذا فی التہذیب التہذیب لابن حجرؒ ج ۱ ص ۲۷۲) کی موجودگی ہی اکیلی علت نہیں ہے بلکہ اس کے علاوہ دو اور مجروح راوی بھی اس کی سند میں موجود ہیں یعنی لیث بن ابی سلیم الکوفی اور ہشام بن سعد۔
’’لیث بن ابی سلیم الکوفی‘‘ جن سے صحاح اور سنن وغیرہ میں مرویات موجود ہیں کی نسبت امام نسائیؒ فرماتے ہیں کہ ’’ضعیف ہے‘‘۔ امام ابن حجر عسقلانیؒ کا قول ہے کہ ’’صدوق تھے مگر آخر عمر میں اختلاط کرنے لگے تھے اور اپنی احادیث میں تمیز کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھے تھے‘‘۔ امام احمدؒ فرماتے ہیں ’’مضطرب الحدیث تھے لیکن لوگ ان سے روایت کرتے ہیں‘‘۔ امام ذہبیؒ فرماتے ہیں ’’یحیٰیؒ اور نسائیؒ نے اسے ضعیف کہا ہے لیکن ابن معینؒ کا ایک اور قول ہے کہ ’’اس میں کوئی حرج نہیں‘‘۔ ابن صبانؒ بیان کرتے ہیں کہ ’’آخر عمر میں اختلاط کرتے تھے‘‘۔ امام عقیلیؒ کہ ’’ابن عیینہ لیث بن ابی سلیم کی تضعیف کیا کرتے تھے ۔۔۔ یحیٰی بن سعید لیث سے کوئی روایت بیان نہیں کرتے تھے‘‘۔
’’لیث بن ابی سلیم‘‘ کے تفصیلی ترجمہ کے لیے ملاحظہ فرمائیں: ضعفاء والمتروکون للنسائیؒ، تاریخ یحیٰی بن معینؒ، تاریخ الکبیر للبخاریؒ، ضعفاء الکبیر للعقیلیؒ، جرح والتعدیل لابن ابی حاتمؒ، مجروحین لابن حبانؒ، کامل فی الضعفاء لابن عدیؒ، میزان الاعتدال للذہبیؒ، تہذیب التہذیب لابن حجرؒ، تقریب التہذیب لابن حجر اور مجموع فی الضعفاء والمتروکین للسیروان وغیرہ۔ (ضعفاء والمتروکون للنسائیؒ ترجمہ نمبر ۵۱۱، تاریخ یحیٰی بن معینؒ ج ۲ ص ۵۰۱۔۵۰۲)
اس طریق کا دوسرا مجروح راوی ’’ہشام بن سعد ابو عباد المدنی‘‘ ہے جس کی نسبت امام نسائیؒ فرماتے ہیں ’’ضعیف تھے‘‘۔ امام نسائیؒ کا ایک اور قول ہے کہ ’’قوی نہ تھے‘‘۔ ابن حجر عسقلانیؒ فرماتے ہیں ’’صدوق ہے لیکن اس کو وہم رہتا ہے‘‘۔ اس پر تشیع کا الزام بھی ہے۔ امام ذہبیؒ فرماتے ہیں ’’امام احمدؒ کا قول ہے کہ حافظِ حدیث نہ تھے، یحیٰی القطانؒ ان سے کوئی روایت بیان نہیں کرتے تھے‘‘۔ امام احمدؒ کا ایک قول یہ بھی ہے کہ وہ ’’محکم الحدیث نہ تھے‘‘۔ ابن معینؒ فرماتے ہیں کہ ’’نہ قوی تھے اور نہ ہی متروک‘‘۔ ابن عدیؒ کا قول ہے کہ ’’ضعف کے باوجود ان کی حدیث لکھی جاتی ہے‘‘۔
ہشام بن سعدؒ کے تفصیلی ترجمہ کے ضعفاء والمتروکون للنسائیؒ، ضعفاء الکبیر للعقیلیؒ، تاریخ الکبیر للبخاریؒ، جرح والتعدیل لابن حاتمؒ، مجروحین لابن حبانؒ، کامل فی الضعفاء لابن عدیؒ، میزان الاعتدال للذہبیؒ، تقریب التہذیب لابن حجرؒ اور مجموع فی الضعفاء والمتروکین للسیروان وغیرہ ملاحظہ فرمائیں۔
عسکریؒ کے ثانی الذکر طریق میں ایک مجروح راوی ’’عنبہ بن عبد الرحمٰن‘‘ ہے جسے امام نسائیؒ اور امام ابن حجر عسقلانیؒ نے ’’متروک الحدیث‘‘ بتایا ہے۔ ابو حاتم الرازیؒ نے اس کو ’’وضع حدیث‘‘ کے لیے متہم کیا ہے۔ امام بخاریؒ نے اسے ’’ترک‘‘ کیا ہے۔ علامہ ذہبیؒ فرماتے ہیں ’’امام ترمذیؒ امام بخاریؒ سے نقل کرتے ہیں کہ وہ ذاہب الحدیث تھا‘‘۔ امام عقیلیؒ فرماتے ہیں ’’یحیٰیؒ کا قول ہے کہ وہ ضعیف تھا‘‘۔
’’عنبہ بن عبد الرحمٰن‘‘ کے تفصیلی ترجمہ کے لیے تاریخ یحیٰی بن معینؒ، تاریخ الکبیر بخاریؒ، تاریخ الصغیر بخاریؒ، ضعفاء الصغیر للبخاریؒ، ضعفاء والمتروکون للنسائیؒ، ضعفاء المتروکون للدارقطنیؒ، معرفۃ والتاریخ للبسویؒ، ضعفاء الکبیر للعقیلیؒ، مجروحین لابن حبانؒ، جرح والتعدیل لابن ابی حاتمؒ، کامل فی الضعفاء لابن عدیؒ، میزان الاعتدال للذہبیؒ، مجموع فی الضعفاء والمتروکین للسیروان، تہذیب التہذیب لابن حجرؒ اور تقریب التہذیب لابن حجرؒ وغیرہ مطالعہ فرمائیں۔
اب دیلمیؒ کی احادیث پر ناقدانہ بحث پیش کی جاتی ہے۔
دیلمیؒ کی اول الذکر (یعنی حضرت علیؓ کی مرفوع) حدیث کی سند میں عبد الوہاب حضرت مجاہد بن جبر یعنی اپنے والد سے روایت کرتا ہے حالانکہ اس کا حضرت مجاہد سے سماع نہیں ہے۔ امام بخاریؒ اور وکیعؒ وغیرہ نے اس امر کی تصریح کی ہے۔ امام نسائیؒ اس کی نسبت فرماتے ہیں ’’متروک الحدیث ہے‘‘۔ امام ذہبیؒ فرماتے ہیں ’’یحیٰیؒ کا قول ہے کہ اس کی حدیث نہیں لکھی جاتی‘‘۔ عثمان بن سعیدؒ یحیٰی کا قول نقل کرتے ہیں کہ ’’وہ کچھ بھی نہیں ہے‘‘۔ امام احمدؒ بھی فرماتے ہیں کہ ’’وہ کچھ بھی نہیں، ضعیف الحدیث ہے‘‘۔ ابن عدیؒ فرماتے ہیں کہ ’’جو کچھ وہ روایت کرتا ہے عموماً اس کی متابعت نہیں ہوا کرتی‘‘۔
’’عبد الوہاب بن مجاہد بن جبیر‘‘ کے تفصیلی ترجمہ کے لیے ملاحظہ فرمائیں: ضعفاء الکبیر للبخاریؒ ضعفاء المتروکون للنسائیؒ، تاریخ یحیٰی بن معینؒ، سؤالات محمد بن عثمانؒ، تاریخ الکبیر للبخاریؒ، ضعفاء الکبیر للعقیلیؒ، جرح والتعدیل لابن ابی حاتمؒ، مجروحین لابن حبانؒ، کامل فی الضعفاء لابن عدیؒ، ضعفاء والمتروکون للدارقطنیؒ، میزان الاعتدال للذہبیؒ، تہذیب التہذیب لابن حجرؒ اور مجموع فی الضعفاء والمتروکین للسیروان وغیرہ۔
حضرت علیؓ کی اس مرفوع حدیث کی تخریج ابن عساکرؒ نے بھی کی ہے جس کے متعلق علامہ سید ابو الوزیر احمد حسن دہلیؒ (م ۱۳۳۸ھ) فرماتے ہیں ’’اس باب میں ابن عساکرؒ نے بھی حضرت علیؓ سے باسناد حسن روایت کی ہے‘‘۔ اور علامہ شیخ عبد الرحمٰن مبارکپوریؒ فرماتے ہیں ’’اور ابن عساکرؒ نے بھی حضرت علیؓ سے اس کی تخریج کی ہے جیسا کہ جامع الصغیر میں مذکور ہے۔‘‘ علامہ منادیؒ فرماتے ہیں کہ ’’یہ حدیث باسناد حسن مروی ہے‘‘ (تحفۃ الاحوذی ج ۳ ص ۳۸۳)۔ حالانکہ یہ حدیث سندًا ’’ضعیف‘‘ ہے جیسا کہ اوپر واضح کیا جا چکا ہے۔ غالباً صاحبان ’’تنقیح الرواۃ‘‘ و ’’تحفۃ الاحوذی‘‘ رحمہم اللہ کو علامہ منادیؒ کے قول سے وہم ہوا ہے۔ حضرت علیؓ کے طریق سے وارد ہونے والی اس حدیث کو علامہ شیخ محمد ناصر الدین البانی حفظہ اللہ نے ’’ضعیف الجامع الصغیر و زیادتہ‘‘ میں وارد کیا ہے۔
دیلمیؒ اور عفیف الدین ابوالمعالیؒ کی روایت کردہ حدیث ’’ضعیف‘‘ نہیں بلکہ اصلاً ’’موضوع‘‘ ہے۔ اس روایت کو امام سیوطیؒ نے اپنی ’’جامع‘‘ اور ’’ذیل الاحادیث الموضوعہ‘‘ (للسیوطیؒ ص ۴۲) میں، امام النجارؒ نے اپنی ’’تاریخ‘‘ میں اور علامہ شیخ محمد ناصر الدین البانی نے ’’سلسلۃ الاحادیث الضعیفہ والموضوعہ (ج ۲ ص ۲۲۴۔۲۲۵) میں وارد کیا ہے۔ اس کی سند میں ابراہیم بن ہانی ’’مجہول‘‘ راوی ہے اور اگلے تین روای انتہائی مجروح بلکہ ’’متروک‘‘ ہیں۔
(۱) زیاد بن ابی حسان البصری جس کی نسبت امام حاکمؒ اور نقاش کا قول ہے کہ ’’وہ حضرت انسؓ وغیرہ سے موضوع احادیث بیان کرتا ہے‘‘۔ امام ذہبیؒ فرماتے ہیں ’’شعبہؒ نے اس پر شدید جرح کی اور اس کی تکذیب کی ہے۔ دارقطنیؒ نے اسے متروک قرار دیا ہے۔ ابو حاتم الرازیؒ وغیرہ نے کہا کہ ’’اس کے ساتھ کوئی حجت نہیں ہے‘‘۔
ابن ابی حسان کے تفصیلی ترجمہ کے لیے تاریخ الکبیر للبخاریؒ، تاریخ الصغیر للبخاریؒ، ضعفاء الصغیر للبخاریؒ، ضعفاء والمتروکون للدارقطنیؒ، جرح والتعدیل لابن ابی حاتمؒ، مجروحین لابن حبانؒ، کامل فی الضعفاء لابن عدیؒ، میزان الاعتدال للذہبیؒ، لسان المیزان لابن حجرؒ اور مجموع فی الضعفاء والمتروکین وغیرہ کا مطالعہ فرمائیں۔
(۲) اس سند کا دوسرا راوی ’’بکر ابن خنیس القاضی‘‘ ہے جس کو امام نسائیؒ نے ’’ضعیف‘‘ گردانا ہے۔ دارقطنیؒ نے ’’متروک‘‘ قرار دیا ہے۔ ابن حبانؒ فرماتے ہیں ’’بصریین اور کوفیین سے اشیائے موضوعہ روایت کرتا ہے‘‘۔ امام ذہبیؒ فرماتے ہیں ’’ابن معینؒ کا ایک قول ہے کہ کچھ بھی نہیں ہے، دوسرا قول ہے کہ ضعیف ہے اور تیسرا قول ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے‘‘۔ ابوحاتمؒ کا قول ہے کہ ’’صلح ہے لیکن قوی نہیں ہے‘‘۔
ابن خنیس القاضی کے تفصیلی ترجمہ کے لیے تاریخ یحیٰی بن معینؒ، تاریخ الکبیر للبخاریؒ، معرفۃ والتاریخ للبسویؒ، ضعفاء الکبیر للعقیلیؒ، جرح والتعدیل لابن عدیؒ، ضعفاء المتروکون للدارقطنیؒ، ضعفاء والمتروکون للنسائیؒ، میزان الاعتدال للذہبیؒ، المغنی فی الضعفاء للذہبیؒ، اور مجموعہ فی الضعفاء والمتروکین للسیروان وغیرہ کی طرف رجوع فرمائیں۔
(۳) اس سند کا تیسرا مجروح راوی ’’عمرو بن حکام‘‘ ہے لیکن مذکورہ بالا دونوں راوی ہی اصلاً اس روایت کی آفت ہیں۔ عمرو بن حکام کو امام نسائیؒ نے ’’متروک الحدیث‘‘ کہا اور امام بخاریؒ نے اس کی تضعیف کی ہے۔ امام احمدؒ نے بھی اس کی حدیث کو ’’ترک‘‘ کیا ہے۔ ابن عدیؒ بیان کرتے ہیں کہ ’’عموماً وہ جو کچھ روایت کرتا ہے اس میں متابعت نہیں ہوتی لیکن باوجود ضعف کے اس کی حدیث لکھی جاتی ہے‘‘۔ امام ذہبیؒ نے ’’میزان‘‘ میں اس سے مروی چند منکر روایات بطور نمونہ نقل فرمائی ہیں۔
عمرو بن حکام کے تفصیلی ترجمہ کے لیے تاریخ الکبیر للبخاریؒ، ضعفاء الکبیر للعقیلیؒ، جرح والتعدیل لابن ابی حاتمؒ، مجروحین لابن حبانؒ، کامل فی الضعفاء لابن عدیؒ، ضعفاء والمتروکون للنسائیؒ، ضعفاء الصغیر للبخاریؒ، میزان الاعتدال للذہبیؒ، اور مجموع فی الضعفاء والمتروکین للسیروان وغیرہ ملاحظہ فرمائیں۔
علامہ منادیؒ اس حدیث پر تعف فرماتے ہوئے لکھتے ہیں ’’اس کی سند میں ابراہیم بن ہانیؒ ہے جسے امام ذہبیؒ نے ’’الضعفاء‘‘ میں وارد کیا ہے اور کہا ہے کہ مجہول ہے اور بواطیل لاتا ہے۔ یہ ایک دوسرے راوی عمرو بن حکام سے روایت کرتا ہے جسے امام احمدؒ اور نسائیؒ نے ترک کیا ہے اور عمرو بن حکام بکر بن خنیس سے روایت کرتا ہے جسے دارقطنیؒ نے متروک بتایا ہے، اور وہ زیاد بن ابی حسان سے روایت کرتا ہے اور اسے بھی ترک کیا گیا ہے۔
تعجب تو علامہ جلال الدین السیوطیؒ پر ہوتا ہے کہ جنہوں نے دیلمیؒ کی اس حدیث کو اس کی تحقیق کے بغیر نہ صرف قبول کیا بلکہ اسے اپنی ’’الجامع‘‘ میں وارد کیا ہے اور پھر طرفۂ تماشہ یہ کہ اسی روایت کو اپنی ’’ذیل الاحادیث الموضوعہ‘‘ میں بھی لکھ ڈالا ہے۔
دیلمیؒ کی آخری دونوں روایتیں چونکہ بلاسند مروی ہیں، لہٰذا ازروئے اصولِ حدیث ان کے معیار کی تحقیق ممکن نہیں ہے۔ البتہ حضرت ابن عمرؓ والی آخری حدیث کے مشابہ ایک قول حضرت علیؓ سے موقوفاً بھی مروی ہے جیسا کہ علامہ سخاویؒ اور علامہ عجلونیؒ وغیرہ نے بصراحت بیان کیا ہے۔
پس ثابت ہوا کہ یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہرگز ثابت نہیں ہے۔ اس کے جملہ طرق انتہائی ’’ضعیف‘‘ اور قطعاً غیر معتبر ہیں۔ البتہ ایسا ممکن ہے کہ علم و حکمت کے حصول کی طرف رغبت دلانے کے لیے یہ حکیمانہ قول ہمارے اسلاف و حکماء میں سے بعض کا ہو۔ علامہ سخاویؒ اور علامہ عجلونیؒ نے اس سلسلہ میں اسلافؒ کے کچھ اقوال بھی نقل کیے ہیں جو راقم کی اس رائے کے لیے شاہد و مؤید ہیں۔ ان میں سے کچھ اقوال اس طرح ہیں:
عسکریؒ نے سلیمان بن معاذ عن عکرمہ عن ابی عباس کے طریق سے حضرت ابن عباسؓ کا یہ قول روایت کیا ہے:
خذ الحکمۃ ممن سمعت فان الرجل یتکلم بالحکمۃ ولیس بحکیم فتکون کالرمیۃ خرجت من غیر رام۔
بیہقیؒ نے سعید بن الجابردہ کا یہ قول بھی نقل کیا ہے:
الحکمۃ ضالۃ المؤمن یأخذ ھا حیث وجدھا۔
اور بیہقیؒ عبد العزیز بن ابی رواد کے حوالہ سے عبد اللہ بن عبید بن عمر کا یہ قول بھی نقل فرماتے ہیں:
العلم ضالۃ المؤمن یغد و فی طلبھا فان اصاب منھا شیئاً حواہ حتٰی یصم الیہ غیرہ۔
خود عسکریؒ کا قول ہے:
اراد صلی اللہ علیہ وسلم ان الحکیم یطلب الحکمۃ ابدا وینشد ھا فھو بمنزلۃ المضل ناقتہ یطلبھا۔
علامہ ملا علی القاری حنفیؒ نے بھی اپنی ’’اسرار المرفوعہ فی الاخبار الموضوعہ المعروف بالموضوعات الکبرٰی‘‘ میں اس حدیث کو وارد کرنے کے بعد اشارہ فرمایا ہے کہ (یہ بعض سلفؒ کا کلام ہے)۔ اگرچہ اسلافؒ کے مندرجہ بالا اقوال میں سے بھی اکثر سندًا معیارِ صحت پر بہت زیادہ پختہ اور قوی ثابت نہیں ہوتے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب کسی غیر مستند قول یا فعل کو منسوب کیا جانا بدرجہا مہلک ہے، بہ نسبت اس بات کے کہ سلف صالحین میں سے کسی کی جانب سے آنے والی کوئی غیر قوی خبر بیان کر دی جائے اور اسے شرعی دلیل کے طور پر نہ اپنایا جائے۔ واللہ اعلم۔
فقہی اختلافات کا پس منظر اور مسلمانوں کے لیے صحیح راہِ عمل
الاستاذ محمد امین درانی
فقہی اختلاف سے مراد شرعی احکام میں علماء امت کا وہ اختلاف رائے ہے کہ کون سا عمل زیادہ درست، زیادہ افضل اور بہتر ہے اور زیادہ مستند ہے۔ اہل السنۃ والجماعۃ کے چاروں مذاہب کا اختلاف بسا اوقات اس پر ہوتا ہے کہ کون سا کام اور کون سا طریقہ سب سے افضل اور بہتر ہے۔ سب کی ایک ہی کوشش ہے کہ ایک اسلامی عمل کو بہتر طریقے سے ادا کیا جائے۔ وہ ہرگز ایسے نہیں کہ وہ ایک دوسرے کو اپنا دشمن تصور کریں یا اسے نیچے دکھانے مغلوب کرنے کی کوشش کریں۔ ہمیشہ دشمنانِ اسلام کا یہ طریقہ رہا ہے کہ وہ دین سے بے خبر سادہ لوح حضرات کو آپس میں لڑاتے ہیں اور ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف نفرت اور دشمنی پیدا کر کے اپنا مطلب حاصل کرتے ہیں۔ اس مصیبت کا اصل سبب دین اور دین کی تاریخ سے بے خبری اور جہل مرکب ہوتا ہے۔
امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ کو امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے خلاف بھڑکایا گیا، وہ اس وقت کے مشہور علماء کو ساتھ لے کر کوفہ پہنچے اور جب ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے موقف کی وضاحت کی، امام جعفرؒ نے آپ کے ہاتھوں کو چوما اور کہا بے شک آپ وہ ہستی ہیں جس نے میرے جد امجد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور تعلیمات کو نشر کر کے اسے صحیح رنگ میں پیش کیا اور آپ کوئی نیا مذہب متعارف نہیں کراتے بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دین باحسن طریق لوگوں کو پڑھاتے ہیں۔
فقہی اختلاف کی ابتدا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں اگر کوئی مسئلہ پیش آتا تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہ اجمعین ان سے دریافت کرتے اور حقیقت معلوم ہو جاتی اور اختلاف کی نوبت نہ آتی کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم اٹل اور فیصلہ کُن ہوتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اگر ہمیں اختلاف کی صورت نظر آتی ہے تو وہ ہر ایک صحابی رضی اللہ عنہ کے فہم کے مطابق ہے جو انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ارشاد کا مطلب لیا ہے۔
مثلاً غزوہ بنی قریظہ کے لیے روانگی کے وقت فرمایا ’’کوئی شخص عصر کی نماز نہ پڑھے مگر بنو قریظہ کے پاس پہنچنے کے بعد‘‘۔ جب صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین چل پڑے تو بعض نے اس حکم پر یوں عمل کیا کہ عصر کے وقت کے داخل ہونے کے بعد راستہ میں نماز نہیں پڑھی اور بنو قریظہ کے علاقہ میں پہنچنے کے بعد نماز ادا کی۔ اور بعض نے اس حکم کا یوں مطلب لیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد یہ ہے کہ ہم راستہ میں دیر نہ کریں اور انہوں نے راستہ میں عصر کی نماز پڑھی اور نماز کے فورًا بعد بنو قریظہ پہنچے۔ جب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے تذکرہ ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو نہیں ڈانٹا۔
فقہی اختلاف کے اسباب
(۱) دعوتِ اسلام اور تبلیغ کے لیے اصحابِ رسولؐ کا مدینہ منورہ سے باہر جانا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر حالات کے مطابق احکام کا نزول ہوتا رہا۔ بعض اوقات یہ نوبت بھی آئی کہ ایک عمل کا حکم مثلاً نماز میں سینہ پر ہاتھ رکھنا نازل ہوا۔ ایک صحابیٔ رسول نے دیکھا کہ ہاتھ رکھنے کا یہ طریقہ ہے۔ جب وہ تبلیغ کے لیے باہر گئے اور انہیں مدینہ سے باہر رہنا پڑا اور واپس آنا نصیب نہیں ہوا، وہ لوگوں کو وہی طریقہ یعنی سینہ پر ہاتھ رکھنے کا حکم دیتے رہے۔
پہلا حکم تبدیل ہوا کہ نماز میں ہاتھ کھلا رکھنا ہے، باندھنا نہیں۔ جن اصحاب کرام رضی اللہ عنہم نے ایسے طریقے پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی جب وہ تبلیغ کے لیے مدینہ منورہ سے باہر چلے گئے تو وہ لوگوں کو یہی درس دیتے تھے کہ نماز میں ہاتھ باندھنا نہیں بلکہ کھلا چھوڑنا ہے۔ ان حضرات کو مدینہ منورہ واپس آنا نصیب نہیں ہوا اس لیے انہیں آخری حکم کا پتہ نہیں چل سکا، اور نہ وہ حضرات اس طریقے کو چھوڑنے کے لیے تیار تھے جس طریقے پر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی تھی۔
اسی عمل کے بارے میں آخری حکم نازل ہوا کہ نماز میں ہاتھوں کو ناف کے نیچے باندھنا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ اصحابؓ جو نبوت کے آخری سالوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رہے انہوں نے نماز کا یہی طریقہ اپنایا۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جو عمر بھر اسلام قبول کرنے کے بعد مکہ اور مدینہ منورہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہے اور اس کے علاوہ اور کوئی کام کاج نہیں کیا، جب تک رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں رہے انہوں نے یہی طریقہ ہاتھ باندھنے کا کوفہ اور مدینہ میں لوگوں کو سکھایا۔
مجتہدین علماءِ امت میں سے ہر ایک نے اپنی تحقیق کے مطابق نماز میں ہاتھ رکھنے یا کھلا چھوڑ دینے کو اپنایا۔ امام ابوحنیفہؒ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری سالوں کے عمل کو ترجیح دیتے ہیں، انہوں نے ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے کے عمل کو افضل قرار دیا۔ جبکہ امام شافعیؒ اور ان کے شاگرد امام احمد بن حنبلؒ نے سینہ پر ہاتھ باندھنے کے عمل کو بہتر قرار دیا۔ اور امام مالکؒ نے ہاتھ کھلا رکھنے کو افضل اور بہتر فرمایا۔ ان ائمہ حضرات نے جس طریقے کو بہتر فرمایا، دوسرے طریقے کو ناجائز قرار نہیں دیا نہ اس کی ممانعت کی۔ کیونکہ یہ سارے طریقے ان کے پاس رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحابِ کرامؓ اور ان کے شاگردانِ عظام سے پہنچے۔ تو ایسا سمجھ لیجئے کہ ان ائمہ حضرات کے آراء ایک ہی درخت کے پھل ہیں اور وہ قرآن و سنت کا درخت ہے نہ کہ مختلف درختوں کے پھل ہیں جیسا کہ بے خبر لوگ وہم کرتے ہیں۔
(۲) قرآن و سنت کے کلمات (الفاظ) میں ایک سے زیادہ معانی کا احتمال
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو آسان عربی زبان میں نازل فرمایا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات، جس کو سنت سے تعبیر کیا جاتا ہے، وہ عربی زبان میں ہیں۔ عربی زبان کی خصوصیات میں سے ایک یہ خصوصیت بھی ہے کہ ایک لفظ کے کئی معانی بھی ہوتے ہیں۔ اب ایسی صورت میں جب ایک معنی کی تعیین نہ ہو اور آسانی کی خاطر حکمتِ خداوندی نے ایسے لفظ کو استعمال کیا ہو تو ظاہر ہے کہ کوئی اس لفظ کا ایک معنی لیں گے جبکہ دوسرے لوگ اس کے دوسرے معنی لیں گے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد تعیین کے لیے کوئی ذریعہ باقی نہیں رہا۔ پہلے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا جا سکتا تھا اور اللہ تعالیٰ سے احکام کی توضیح وحی کے ذریعے ممکن تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رخصت ہو جانے کے بعد یہ کام ناممکن ہو گیا کیونکہ وحی کا سلسلہ منقطع ہو گیا۔
(۳) فطری صلاحیت و استعداد کا تفاوت
حکمتِ خداوندی نے یہ چاہا کہ انسانوں کی فطری صلاحیت، عقل و فہم میں تفاوت ہو اور علم و عقل کے ذریعے ایک انسان کی دوسرے پر فضیلت ظاہر ہو۔ یہ واضح امر ہے کہ فطری استعداد، عقل و فہم اور علمی تفاوت کا نتیجہ اختلاف رائے کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے؟ ایک طرف اللہ تعالیٰ نے ایسے نصوص نازل کیے جن کے الفاظ ایک سے زیادہ معانی کا احتمال رکھتے ہیں، دوسری طرف انسانوں کو اللہ تعالیٰ نے مختلف فطری استعداد و صلاحیت سے نوازا۔ یہ دونوں فقہی اختلاف کے بنیادی اسباب ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ یہ چاہتا کہ تمام امت اس اختلاف سے دور رہے اور سب کی رائے خدائی احکام میں ایک ہو تو پھر اللہ تعالیٰ قرآن و سنت کے کلمات ایسے منتخب کرتے کہ جن الفاظ کے صرف ایک معنی ہو اور تمام انسانوں کو ایک ہی قسم کی فطری صلاحیت اور ایک ہی معیار کے عقل سے نوازتے تاکہ تمام لوگ ایک مسئلے میں ایک ہی رائے والے ہوں۔ مثال سے یہ بات واضح ہو جائے گی۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ’’وَالْمُطَلَّقَاتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِھِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوْءٍ‘‘ جن عورتوں کو طلاق ہو جائے وہ تین قروء انتظار کریں گی۔ تین قروء عدت ہے۔ قروء، قرء کی جمع ہے۔ اہلِ عرب کے نزدیک قرء کا معنی حیض بھی ہے اور طہر (پاکی) بھی ہے۔ اور بعض اہلِ زبان قرء کا معنی ’’حیض مع طہر‘‘ لیتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد اس کی تعیین نہیں ہو سکی کہ قرء سے مراد حیض ہے یا طہر۔ چنانچہ حضرت عمر، حضرت علی، عبد اللہ بن مسعود، ابو موسٰی اشعری، مجادہ، قتادہ، الضحاک، عکرمہ رضوان اللہ علیہم اجمعین اور دوسرے تابعین حضرات نے قرء کا مطلب حیض لیا۔ یعنی طلاق کے بعد جب عورت کو تین بار حیض سے واسطہ پڑے تو تیسرے حیض کے بعد وہ آزاد ہو گی، کسی اور سے شادی کر سکتی ہے۔ ان جلیل القدر اصحاب کرامؓ اور بزرگ تابعین کی رائے کو امام ابوحنیفہؒ نے پسند کیا جب کہ دوسرے صحابہؓ حضرت عائشہ، عبد اللہ بن عمر، زید بن ثابت، ابن شہاب الزہری، امام شافعی رضوان اللہ علیہم نے قرء سے مراد طہر لیا۔ جب عورت کو طلاق کے بعد تین بار حیض اور تین بار پاکی (طہر) سے واسطہ پڑے تو چوتھی بار حیض کے دوران یا اس کے بعد وہ آزاد ہو گی اور کسی اور سے شادی کر سکتی ہے۔
اگر اللہ تعالیٰ یہ چاہتے کہ امت اس بارے میں مختلف نہ ہو تو وہ ایسا حکم نازل کر سکتے تھے ’’والمطلقات یتربصن بانفسھن ثلٰثۃ شھور‘‘ جن عورتوں کو طلاق ہو جائے وہ تین ماہ انتظار کریں گی۔ ظاہر ہے کہ لفظ ’’شھر‘‘ کا معنی عربی زبان میں ایک ہے اور وہ ’’مہینہ‘‘ ہے۔ قرآن مجید میں دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے واضح حکم ایسا بیان فرمایا ’’لِلَّذِیْنَ یُؤْلُوْنَ مِن نِّسَآءِھِمْ تَرَبُّصُ اَرْبَعَۃَ اَشْھُر‘‘ جو لوگ عورتوں سے قسم کریں گے (کہ وہ ان کے قریب نہ ہوں گے) وہ چار ماہ انتظار کریں گے، چار ماہ کے بعد ایک طلاق واقع ہو گی۔ ظاہر ہے کہ یہاں پر شہر کا لفظ ہے جس کے معنی ماہ یا مہینہ ہے۔ یہاں قرء جیسے مشترک المعنے لفظ کو استعمال نہیں کیا گیا۔
اس بات سے یہ بات واضح ہوئی کہ فقہی اختلاف حکمتِ خداوندی کے تحت ظہور میں آیا تاکہ انسان کے اوپر تنگی نہ ہو بلکہ فراخی ہو اور جیسے موقع اور حالات کے لحاظ سے سہولت ہو، اسی طریقے کو اپنا لیا جائے، انسان کی علمی اور عملی فطرت اس کے متقاضی ہیں۔
پانچویں خلیفہ راشد حضرت عمر بن عبد العزیزؒ نے فرمایا، میں یہ پسند نہیں کرتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحابؓ کے درمیان اختلاف نہ ہوتا کیونکہ اگر سب اصحابؓ کا ایک قول ہوتا تو لوگ تنگی میں ہوتے کیونکہ یہ اصحابؓ ہمارے رہنما ہیں اور ہمیں ان کی اقتداء کرنی ہے۔ اب جس شخص نے کسی صحابیؓ کے قول پر عمل کیا تو وہ حق پر ہے اور فراخی میں ہے۔ ابوبکر صدیقؓ کے جلیل القدر پوتے القاسمؒ بن محمدؓ سے امام کے پیچھے فاتحہ پڑھنے کے بارے میں پوچھا گیا، آپ نے فرمایا، اگر آپ نے امام کے پیچھے فاتحہ پڑھ لیا تو آپ نے اصحابؓ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کی اور اگر آپ نے امام کے پیچھے فاتحہ نہیں پڑھا تو آپ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحابؓ کی پیروی کی۔
چنانچہ مشہور حدیث شریف ہے ’’میرے ساتھی ستاروں کی مانند ہیں جس کی آپ نے پیروی کی آپ نے ہدایت پائی۔‘‘
اختلافی مسائل میں علماء کا موقف
اس بارے میں جمہور علماء متقدمین اور متاخرین کا یہ موقف رہا ہے کہ پہلے وہ ان کے بارے میں علم حاصل کرتے تھے، ان کے بارے میں تحقیق کرتے تھے کہ کون سی بات پہلی ہے اور کونسا حکم بعد میں ہے۔ امام مالکؒ سے جب اس اختلاف کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے جواب دیا ایک بات درست ہو گی اور دوسری خطا، آپ کو تحقیق کرنی چاہیئے۔ امام لیثؒ بن سعد فرماتے تھے، اختلاف میں ہم احتیاط سے کام لیتے ہیں۔
امام ابوحنیفہؒ نے اس کا حل یوں کیا کہ اپنے چار ہزار سے اوپر شاگردوں سے اونچے درجے کے چالیس عالم منتخب کیے اور عالموں کی اس مجلسِ مشاورت و تحقیق کے لیے امام ابویوسفؒ کو سیکرٹری منتخب کیا۔ امام ابوحنیفہؒ نے اس مجلسِ تحقیق سے یوں فرمایا، ’’لوگوں نے مجھے دوزخ کے اوپر پل بنا دیا ہے، آپ میری مدد کریں، جو روایت زیادہ صحیح، قوی اور آخری ہو وہ معلوم کر کے مجلس میں پیش کیا کریں، منظوری کے بعد اسے لکھا جائے گا‘‘۔ امام ابوحنیفہؒ کوئی مسئلہ پیش کرتے اور ان چالیس علماء سے قرآن و حدیث سے دلیل مانگتے۔ وہ علماء دلائل پیش کرتے، کبھی کبھی ایک مہینہ تک ایک ہی حکم پر تحقیق ہوتی رہتی اور جب فیصلہ ہو جاتا تھا تو امام ابویوسفؒ کو لکھنے کے لیے حکم دیتے تھے۔ اس طریقِ کار سے امام ابوحنیفہؒ نے یہ کوشش کی کہ اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال میں سے آخری عمل کون سا ہے جس کو اپنایا جائے اور منسوخ حکم معلوم ہو کہ اس کو ترک کر دیا جائے۔
اختلافی مسائل میں مسلمانوں کا آپس میں برتاؤ
صحابہ کرامؓ اور تابعین میں کچھ ایسے تھے جو نماز میں فاتحہ سے پہلے بسم اللہ پڑھتے تھے اور بعض نہیں پڑھتے تھے۔ کچھ جہر (زور) سے بسم اللہ پڑھتے تھے اور بعض آہستہ چپکے سے پڑھتے تھے۔ اور بعض فجر میں قنوت پڑھتے تھے اور کچھ نہیں پڑھتے تھے۔ اس کے باوجود سب ایک دوسرے کا احترام کرتے تھے اور ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھتے تھے۔ امام ابوحنیفہؒ، امام شافعیؒ اور دوسرے مجتہدین مدینہ منورہ کے علماء کے پیچھے نماز پڑھتے تھے جبکہ وہ نماز میں فاتحہ سے پہلے کبھی بھی بسم اللہ نہیں پڑھتے تھے نہ جہر سے نہ آہستہ۔
خلیفہ ہارون رشید نے نماز پڑھائی اور اس نے فصد کے ذریعے جسم سے خون نکالا تھا۔ خلیفہ کو امام مالکؒ نے فتوٰی دیا کہ اس سے وضو نہیں ٹوٹتا، جبکہ مذہب حنفی میں اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ امام ابویوسفؒ مذہب حنفی کے مجتہد ہیں لیکن انہوں نے نماز نہیں لوٹائی۔
امام شافعیؒ کے نزدیک فجر میں قنوت پڑھنا ہے۔ ایک دن انہوں نے امام ابوحنیفہؒ کی قبر کے نزدیک (مسجد امام اعظم کے جنوبی جانب میں امام اعظمؒ کی قبر ہے) فجر کی نماز پڑھی اور قنوت کی دعا نہیں پڑھی امام ابوحنیفہؒ کے ادب کی وجہ سے اور کہا کہ بسا اوقات ہم عراقی مذہب کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔
خلیفہ ہارون رشیدؒ نے امام مالک سے کہا میں آپ کی کتابِ حدیث ’’المؤطا‘‘ کو کعبہ میں لٹکاؤں گا اور لوگوں سے کہوں گا کہ صرف ان روایات پر عمل کریں۔ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ایسا نہ کرنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحابؓ نے فروعی مسائل میں اختلاف کیا اور مختلف ملکوں میں چلے گئے اور ہر ایک حکمِ رسولؐ نافذ ہے (کسی کو پابند نہیں کرنا چاہیئے)۔ خلیفہ ہارون الرشیدؒ کو یہ بات پسند آئی۔ اس سے پہلے خلیفہ منصور کے ساتھ بھی امام مالکؒ کا یہی قول تھا۔
اس تمام بحث کا خلاصہ یہی ہے کہ فقہی اختلافی مسائل میں جو روایت زیادہ مستند اور قوی ہو اس کو ترجیح دی جائے۔ ائمہ اربعہ بالخصوص امام ابوحنیفہؒ کی تحقیق سے استفادہ کیا جائے اور ظاہر الروایۃ کے مسائل کو ترجیح دی جائے۔ ان کے خلاف مسائل کو بری نگاہ سے نہ دیکھا جائے۔ وسیع القلبی سے کام لے کر تمام مذاہب اہل سنۃ کے پیروکاروں کو اپنا مسلمان بھائی سمجھ لیا جائے اور ان کے ساتھ بحث و مناظرہ سے اجتناب کیا جائے۔ سب ہی ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھیں، ان کے ساتھ احترام سے پیش آئیں، اپنے ملک کے اندر بھی مسجد حرام اور مسجد نبویؐ جیسا منظر پیش کرنے کی کوشش کریں جہاں تمام مذاہب کے لوگ حنبلی اماموں کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں۔ اور مسلمانوں کے درمیان جو دشمنانِ اسلام نے نفرت و تعصب کو ابھارا ہے اس کو خیرباد کہہ کر اسلامی اخوت کا منظر پیش کریں۔
علمِ نباتات کے اسلامی ماہرین (۱)
قاضی محمد رویس خان ایوبی
اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ اسلام نے جہاں انسانی اخلاقیات، تہذیب و تمدن، عقیدۂ توحید اور حیات اخروی، انسانی جان و مال، عقیدہ و دین، عزت و آبرو کے تحفظ کے لیے قوانین وضع کر کے ایک مکمل اسلامی ریاست کے خدوخال واضح کیے ہیں، وہیں پیروکارانِ اسلام نے قرآن کریم کے عمیق مطالعہ سے ایسے نئے نئے علوم دریافت کیے جو یورپ کے حاشیۂ خیال میں بھی نہ تھے۔ ’’وَاَرْسَلْنَا الرِّیَاحَ لَوَاقِح‘‘ قرآن کریم نے سب سے پہلے یہ نقطۂ نظر علماءِ سائنس کے سامنے پیش کیا کہ درختوں میں بھی توالد و تناسل کا سلسلہ قائم ہے۔
اسلام چونکہ سب سے پہلے عربوں میں آیا اور اس کے اولین مخاطب عرب تھے اس لیے عربوں نے علمی میدان میں کارہائے نمایاں انجام دیے۔ عربوں میں یوں تو جڑی بوٹیوں کی تحقیق کا سلسلہ عرصۂ دراز سے جاری تھا، وہ جڑی بوٹیوں سے علاج کرتے تھے اور انہیں جڑی بوٹیوں کے خواص معلوم تھے، باقاعدہ تحقیقی کام دوسری صدی ہجری میں شروع ہوا۔ مسلمان محققین نے علمِ نباتات کو باقاعدہ بنانے کے لیے باقاعدہ ڈکشنریاں مرتب کیں اور علمِ نباتات کے سلسلے میں مختلف درختوں، ان کی خصوصیات، جڑی بوٹیوں کی فہرست اور ان کے مختلف اسماء پرمشتمل نصاب مرتب کیں۔ان محققین میں ابو عبیدہ قاسم بن سلام (المتوفی ۸۳۷م)، سعید بن اوس انصاری (متوفی ۸۳۰م) اور عبد المالک الاصمعی (متوفی ۸۳۱م) قابل ذکر ہیں۔
آج کی نشست میں ہم قارئین کے لیے ان مشہور و معروف محققینِ نباتات کا مختصر سوانحی خاکہ پیش کر رہے ہیں جن کی خدمات جلیلہ سے اہلِ یورپ نے فائدہ اٹھا کر دنیائے طب و علمِ نباتات میں نام پیدا کیا اور ہماری کتب چرا کر اپنے دیے جلائے اور مسلمانوں کا نام دنیا کی انسائیکلوپیڈیا سے غائب کر دیا۔
(۱) ابو العباس احمد بن محمد بن مفرج النباتی المعروف ابن الرومیہ
آپ ۱۱۶۵ میلادی میں اشبیلہ میں پیدا ہوئے۔ گھومنے پھرنے کا شوق ابتداء سے ہی تھا، اسی شوق نے انہیں مشرق و مغرب میں تحقیقی سفر اختیار کرنے پر مجبور کیا اور مختلف درختوں کا مشاہدہ کیا، ان کا خالص نباتاتی نقطۂ نظر سے مطالعہ کیا۔ اس طرح انہوں نے مختلف درختوں کی شاخوں، تنے، جڑوں، پھولوں کے خواص معلوم کیے۔ انہوں نے ہسپانیہ، شمالی افریقہ، مصر، حجاز، عراق اور شام کا سفر کیا اور ’’کتاب الرحلۃ‘‘ کے نام سے اپنا سفرنامہ تصنیف کیا جس میں ان درختوں کا ذکر اور خواص بیان کیے گئے ہیں جن کا انہوں نے دورانِ سفر مشاہدہ کیا۔ اس نے بحر قلزم کے کنارے اگنے والی بعض جڑی بوٹیوں کے خواص معلوم کیے جن کا اس وقت تک کسی کو علم نہ تھا۔ اختتامِ سفر پر اس نے اشبیلہ میں پنسار کی دکان کھولی۔ ابن ابار کہتے ہیں کہ وہ اپنے تمام ہم عصروں میں سب سے زیادہ لائق اور ماہر عالم تھا۔
تصانیف
احمد بن محمد نے علمی اثار میں اپنی حسب ذیل تصانیف چھوڑیں جو علم کا خزینہ ہیں:
(۱) کتاب الرحلۃ۔ سفرنامہ
(۲) تفسیر اسماء الادویۃ المفردۃ من کتاب دیستوریدس۔ اس کتاب میں مصنف نے مفرد جڑی بوٹیوں کے خواص بیان کیے ہیں۔
(۳) مکالمہ فی ترکیب الادویہ۔ مرکب ادویات بنانے کا طریقہ۔
(۴) ادویۃ جالینوس المستدرکۃ۔ یہ کتب بھی مختلف دواؤں کی خصوصیات سے متعلق ہیں۔
وفات
تاریخ اسلام کا یہ عظیم فرزند ۱۲۳۹م میں اشبیلہ میں داعیٔ اجل کو لبیک کہا اور وہیں دفن ہوا۔
(۲) ابو جعفر احمد بن محمد الغافقی
ہسپانیہ کا یہ عظیم فرزند جس کے تفصیلی حالات معلوم نہیں ہو سکے، بہرحال یہ عظیم فرزند بھی نباتات کا عالم تھا، اس نے ’’الادویہ المفردہ‘‘ کے نام سے ایک کتاب تصنیف کی جس میں حروف تہجی کے اعتبار سے ادویہ کی خصوصیات تحریر کیں۔ اس نے اس تصنیف میں دیستوریدس اور جالینوس کی کتب سے استفادہ کیا۔ اس نے اپنی کتاب میں ادویہ کے نام عربی، لاطینی اور بربری زبان میں دیے۔ اس کی کتاب کی تلخیص ابوالفرج السوری ابن العربی نے ’’جامع المفردات‘‘ کے نام سے لکھی جو ۱۹۳۰م میں قاہرہ میں شائع ہوئی۔ اس کے علاوہ غافقی نے بخار و تپ دق کے بارے میں بھی ایک کتاب تصنیف کی جس کا نام ’’رسالۃ الحمیات والمروق‘‘ رکھا۔
وفات
اشبیلہ میں وفات پائی، صحیح تاریخ معلوم نہیں ہو سکی البتہ سنِ میلادی ۱۱۶۵ تھا۔
(جاری)
’’اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی‘‘
مولانا سراج نعمانی
خطیبِ شہیر مولانا حق نواز صاحب بھی شہید کر دیے گئے۔ آخر کیوں؟ اخبارات نے اس موضوع پر کالم لکھے، اداریے لکھے، مضامین اور خبروں کا ایک لامتناہی سلسلہ جاری ہے۔ ماہنامہ اور ہفت روزہ رسائل میں تبصری، تجزیے اور اندازے تحریر ہو رہے ہیں۔ اس مضمون کی اشاعت تک لاہور میں عظیم الشان دفاعِ صحابہؓ کانفرنس اور تعزیتی احتجاجی جلسہ بھی منعقد ہو چکا ہو گا جس میں جانشین امیر عزیمت مولانا ضیاء الرحمٰن فاروقی اپنی مستقبل کی پالیسیوں کی نشاندہی بھی کر چکے ہوں گے۔
لیکن ان تمام تر تجزیوں، تبصروں، تحریروں اور تقریروں کے باوجود مولانا حق نواز شہید کی اس شہادت سے کیا ہم نے کچھ سبق لیا ہے؟ کیا ہمارے کردار اور گفتار میں موافقت پیدا ہو چکی ہے؟ کیا اب وہ مقاصد ہمیں آنکھیں بند کیے حاصل ہو جائیں گے جو مولانا شہید کے پیشِ نظر تھے؟ یا ہم اسی طرح حکمِ قرآنی کی مخالفت میں اندھے اور بہرے ہو کر ہر ناحق کو سجدے کرتے رہیں گے؟ کیا ان ظالم طاغوتی طاقتوں کی ریشہ دوانیاں اب ختم ہو جائیں گی جن کے ایما پر مولانا شہید کیے گئے۔ کیا ان طاغوتی اور شیطانی لشکروں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہم نے اس ملک میں علماء اور قائدین کے قتل عام کی چھٹی دے دی ہے؟
لیکن ہماری سطحی نظریں اس پس منظر کو کیسے پہچانیں جس پس منظر کو فراستِ ایمانی سے جانچا جا سکتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے ’’اِتَّقُوْا فَرَاسَۃِ الْمُؤْمِنِ لِاَنَّہٗ یَنْظُرُ بِنُوْرِ اللّٰہِ‘‘ (طبرانی) مومن کی فراست سے ڈرو کیونکہ وہ اللہ کے نورِ ہدایت سے دیکھتا ہے۔ مگر حالت یہ ہے کہ ’’قُلُوْبُنَا فِیْ اَکِنَّۃٍ وَّفِیْ اٰذَانِنَا وَقْر‘‘ ہمارے دل غلافوں میں بند ہو چکے ہیں اس لیے کچھ سوچتے نہیں اور ہمارے کانوں میں ڈاٹ ہیں کسی اور کی نصیحت بھی سننے کے لیے تیار نہیں۔ شاید ہماری ہی حالت کے پیش نظر سابقہ امتوں کی حالت ان الفاظ کے ساتھ بیان کی گئی:
لَھُمْ قُلُوْبُ لَّا یَفْقَھُوْنَ بِھَا وَلَھُمْ اٰذَانٌ لَّا یَسْمَعُوْنَ بِھَا وَلَھُمْ اَعْیُنٌ لَّا یُبْصِرُوْنَ بِھَا اُولٰئِکَ کَالْاَنْعَامِ بَلْ ھُمْ اَضَلّ۔
یقیناً آج ہماری یہی حالت ہے مگر اس ذلت کا اقرار کرتے ہوئے شرماتے ہیں، جھجھکتے ہیں، نہیں تو سوچئے کہ کیا سوئے ہوئے شخص کو بیدار کرنے کے لیے چند آوازیں کافی نہیں؟ اگر کوئی ہوش و خرد سے بھی بیگانہ ہو کر سو جائے تو اس کو بھی جھنجھوڑ کر بیدار کیا جا سکتا ہے لیکن ہماری بدقسمت قوم! آہ ’’اَمْ عَلیٰ قُلُوْبٍ اَقْفَالُھَا‘‘ کیا ان کے دلوں پر تالے پڑ چکے ہیں کہ اتنے عظیم حادثات پے در پے ظہور پذیر ہو رہے ہیں مگر سوائے احتجاجی جلسوں، جلوسوں اور قراردادوں کے کیا ہوا؟ ’’لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَالَا تَفْعَلُوْنَ؟‘‘ کہاں جلسوں اور جلوسوں میں بلند بانگ دعوے اور کہاں جیل کی کوٹھڑی میں چند راتیں گزارنے کے بعد بھیگی بلیاں ’’وَاَنَّھُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا‘‘۔
اب ہم اصل موضوع کی طرف آتے ہیں کہ مولانا کیوں شہید کیے گئے؟ شیطانی طاقتیں جب بھی نیکی کی قوتوں کو بیدار ہوتا دیکھتی ہیں تو وہ اپنا طریق کار چار مراحل میں تقسیم کر کے اس کا راستہ روکتی ہیں۔
پہلا مرحلہ
طعن و تشنیع اور بے عزتی کا ہوتا ہے جس مرحلے میں شیطانی طاقتیں حق پرستوں کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے کرتی ہیں اور حق پرستوں کی اہمیت اور وجود کو زائل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ مختلف القابات اور طعن آمیز گفتگو سے حق پرست طاقت کو ابھرنے سے روکا جاتا ہے۔ کبھی کہتے ہیں ’’سَاحِرٍ اَوْ مَجْنُوْن‘‘ اور کبھی کہتے ہیں ’’مَا لِھٰذَا الرَّسُوْلِ یَاْکُلُ الطَّعَامَ وَیَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاق‘‘ اس پیغمبر کو کیا ہو گیا ہے کہ کھانا بھی کھاتا ہے اور بازاروں میں بھی چلتا ہے۔ کبھی کہتے ہیں ’’اَھٰذَا بَعَثَ اللّٰہُ رَسُوْلًا‘‘ کیا خدا کو اور کوئی نہیں ملتا تھا کہ اسے ہی پیغامبر بنا دیا۔
دوسرا مرحلہ
پھر سودا بازی ہوتی ہے کہ نہ تم ہمیں برا کہو اور نہ ہم تمہیں کچھ کہیں گے۔ اگر آپؐ شادی کرنا چاہتے ہیں تو مکہ کی حسین ترین لڑکی سے شادی کرا دیں گے۔ اگر آپ دولت چاہتے ہیں تو ہم دولت کے انبار لگا کر آپ کو دے دیں گے۔ اور اگر آپ سرداری چاہتے ہیں تو ہم آپؐ کو اپنا سردار بنا لیں گے۔ بشرطیکہ آپ ہمارے خلاف ہونے والا پروگرام ختم کر دیں۔ لیکن امام الرسلؐ جنہوں نے تمام انبیاءؑ سے زیادہ مصیبتیں اور تکلیفیں برداشت کیں انہوں نے قیامت تک کے لیے مثال پیش کر دی کہ اگر میرے داہنے ہاتھ پر سورج رکھ دیا جائے اور بائیں ہاتھ پر چاند رکھ دیا جائے تب بھی میں اپنے اعلانِ حق سے باز نہ آؤں گا۔ فرعون نے بھی سودا بازی کرتے ہوئے کہا تھا ’’اِنَّکُمْ اِذًا لَّمِنَ الْمُقَرَّبُوْن‘‘۔
تیسرا مرحلہ
علاقہ بدری اور سوشل بائیکاٹ کا ہوتا ہے۔ ایسے حالات پیدا کر دیے جاتے ہیں کہ داعیٔ حق ہجرت پر مجبور ہو جائے، یا شعبِ ابی طالب میں نظربند ہو جائے۔ اور صرف اسی پر ہی بس نہیں ہوتا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ معاشرے میں اس کے کردار کو مسخ کر کے پیش کیا جاتا ہے۔ لوگوں کو ان سے متنفر کرنے کے ہر ممکن حربے استعمال کیے جاتے ہیں۔ پہلے مرحلے میں طعن و تشنیع کے جن طریقوں کا ذکر کیا گیا ہے انہیں صرف زبانی حد تک ہی اس مرحلے میں نہیں چھوڑا جاتا بلکہ کبھی تو ان کے پیغام سے دور کرنے کے لیے کہا جاتا ہے ’’لَا تَسْمَعُوْا لِھٰذَا الْقُرْاٰنِ وَالْغَوْا فِیْہِ لَعَلَّکُمْ تَغْلِبُوْنَ‘‘ اور کبھی ’’اِنَّھُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَھَّرُوْنَ‘‘ کہتے ہوئے سرِعام انکارِ حق کر دیا جاتا ہے۔ اسی مرحلے میں یہ بھی کہا جاتا ہے ’’مَتٰی ھٰذَا الْوَعْدُ اِنْ کُنْتُمْ صَادِقِیْنَ‘‘۔
چوتھا مرحلہ
آخری مرحلہ ہوتا ہے جہاں باطل کے تمام ہتھکنڈے اور حربے ختم ہو جاتے ہیں۔ حق پرستوں کو دبانے اور ختم کرنے سے عاجز آ کر کبھی ’’حَرِّقُوْہُ وَانْصُرُوْا اٰلِھَتَکُمْ‘‘ کے فتوے داغے جاتے ہیں اور کبھی ’’لَاُصَلِّبَنَّکُمْ اَجْمَعِیْن‘‘ کا ورد کیا جاتا ہے اور کہیں ’’لَئِن لَّمْ تَنْتَھُوْا لَنَرْجُمَنَّکُمْ وَلَیَمَسَّنَّکُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ‘‘ کی مالا جپی جاتی ہے۔ ہر ماحول اور ہر معاشرے نے اپنے اپنے حالات کے مطابق داعیانِ حق کو تکلیفیں پہنچانے کے لیے نت نئے ہتھکنڈے ایجاد کیے جن کا نقطۂ اختتام موت یا شہادت ہوتا ہے لیکن وہ شاید نہیں سمجھتے کہ شہید آخری وقت میں بھی اعلانِ حق سے باز نہیں رہتا اور کبھی کہتا ہے ’’فَزْتُ بِرَبِّ الْکَعْبَۃِ‘‘ اور کبھی کہتا ہے ’’یٰلَیْتَ قَوْمِیْ یَعْلَمُوْنَ بِمَا غَفَرَ لِیْ رَبِّیْ وَجَعَلَنِیْ مِنَ الْمُکْرَمِیْنَ‘‘ قیامت کے دن تو باطل پرستوں سے پوچھ گچھ ہو گی لیکن ہم اس دنیا میں بھی ’’بِاَیِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ‘‘کی آواز بلند کرتے ہوئے کہیں گے ’’وَلَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوۃٌ یَّا اُولِی الْاَلْبَابِ‘‘۔
مولانا حق نواز کی شہادت کوئی وقتی اشتعال کا نتیجہ نہ تھا وہ یقیناً ان چاروں مراحل سے گزر گئے لیکن مولانا کی یہ حق گوئی ان وارثانِ علومِ نبوت کا شیوہ تھی جس کا ایک تاریخی تسلسل دنیا میں موجود ہے۔ اگر امت مسلمہ میں ہی اسی تسلسل کو اجمالی نگاہ سے ملاحظہ کریں تو امام حسین رضی اللہ عنہ کا اعلانِ حق یزید کے سامنے، حضرت سعید بن جبیرؓ کا اعلانِ حق حجاج بن یوسف کے سامنے، امام اعظمؒ کا اعلانِ حق منصور کے سامنے، امام احمد بن حنبلؒ کا اعلانِ حق معتصم باللہ کے سامنے، برصغیر میں امام ربانیؒ کا اعلانِ حق دربارِ جہانگیری میں، شاہ عبد العزیز دہلویؒ کا اعلانِ حق کہ ہندوستان دارالحرب ہے، انگریز کے خلاف علماء ہند کا جہادِ آزادی بالاکوٹ کے مقام تک، ۱۸۵۷ء میں دوبارہ جنگِ آزادی، دارالعلوم دیوبند کا قیام، شیخ الہندؒ کا کردار، اسی طرح مفتی کفایت اللہ دہلویؒ، مولانا سیوہارویؒ، مولانا مدنیؒ، مولانا عبید اللہ سندھیؒ، مولانا احمد سعید دہلویؒ اور ان کے بعد حضرت لاہوریؒ اور مولانا غلام غوث ہزارویؒ کے حالات کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ غلبۂ دین کی خاطر انہوں نے اپنے اور پرائے کی تمیز کیے بغیر ظالم کے ظلم کو للکارا اور حق کا اعلان کر کے اس فریضہ سے سبکدوش ہوئے جو بحیثیت اہل الذکر ان پر عائد تھی۔ ’’فَاسْئَلُوْا اَھْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ‘‘۔
آخری گزارش علماء حق سے یہی کی جا سکتی ہے کہ فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے ’’اَلسَّاکِتْ عَنِ الْحَقِّ شَیْطَانٌ اَخْرَسٌ‘‘ اور ’’مَنْ کَتَمَ عِلْمٍ عِنْدَہٗ اَلْجِمَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بِلِجَامٍ مِّنْ نَّارٍ‘‘۔ تو خدا کے لیے کسی ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو جائیں اور متحد اور متفق ہو کر شیطانی قوتوں سے ٹکر لے کر اس دنیا میں نظامِ خلافت کو دوبارہ زندہ کریں ’’وگرنہ داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں‘‘۔ تاکہ آئندہ کے لیے کسی شیطانی قوت کو پنپنے کے لیے کوئی کونا کھدرا بھی نہ مل سکے جہاں وہ چھپ سکیں اور دنیا میں دینِ حق اسلام کا بول بالا ہو ’’وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِیْنَ‘‘۔
مسیحی ماہنامہ ’’کلامِ حق‘‘ کی بے بسی
حافظ محمد عمار خان ناصر
گوجرانوالہ سے شائع ہونے والا مسیحی ماہنامہ ’’کلامِ حق‘‘ ملقب بہ ’’راسخ الاعتقاد مسیحیت کا واحد علمبردار‘‘ (بابت ماہ فروری ۱۹۹۰ء) رقم طراز ہے:
’’الشریعۃ ماہنامہ میں آپ کے آرٹیکل سے حیرت ضرور ہوئی ہے اس لیے کہ اب خود اسلام کے اندر دشمنِ اسلام و قرآن اور منکرِ عقائد ایمان مفصل پیدا ہو رہے ہیں اور سابقہ علماء پر اسلام کے تراجم قرآن اور دلائل و براہین کے دشمن اٹھ کھڑے ہو گئے ہیں ۔۔۔۔ اب ایک حافظ محمد عمار خان ناصر صاحب گوجرانوالہ میں پیدا ہو گئے ہیں جو قرآن مجید کی ان آیات کے منکر ہو گئے ہیں جو سابقہ الہامی کتب توریت اور زبور اور صحائف الانبیاء اور انجیل مقدس کی تصدیق میں ہیں جن پر ایمان لانا ہر مسلمان کے جزوِ ایمان کا ستونِ اعظم ہے۔
حافظ صاحب کا یہ دعوٰی توہینِ قرآن میں شامل ہے اور وہ قرآن مجید سے اپنے دعوٰی کی تصدیق کے لیے کوئی آیت پیش نہیں کر سکتے۔ کتاب مقدس کی صداقت اور الہامی عظمت کے بارے اور مقابلہ میں یہ ان کی شکست خوردہ ذہنیت ہے۔‘‘ (ص ۱۶)
یاد رہے کہ یہ مضمون ’’پادری برکت اے خان آف سیالکوٹ‘‘ کا تحریر کیا ہوا ہے۔ اس ساری دل جلی عبارت کا لب لباب یہ ہے کہ ’’حافظ صاحب‘‘ نے بائبل کے ازروئے قرآن سچا اور الہامی ہونے کے دعوٰی کے ڈھول کا پول کیوں کھول کر رکھ دیا ہے؟ اور پادری صاحب کو یہ دلسوزی اس لیے کرنی پڑی کہ ’’حافظ صاحب‘‘ نے خود انہی کے حوالوں سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ قرآن نے جس توریت و انجیل کی تصدیق کی ہے، موجودہ مختلف و متضاد تحریفات کے پلندہ اناجیل اربعہ کو اس اصلی اور سچی انجیل سے دور کا واسطہ بھی نہیں ہے۔ ہم اسی بحث کو یہاں نئے پیرائے میں دہرا رہے ہیں۔
اصولِ تنزیل میں فرق
پادری برکت اے خان لکھتے ہیں:
’’تمام مذاہب کے درمیان اختلافات کی دو بڑی اہم وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ تصوراتِ خدا ہے اور دوسری وجہ نزولِ الہامِ الٰہی ہے۔‘‘ (رسالہ اصول تنزیل الکتاب ص ۳)
مزید لکھتے ہیں:
’’مسیحیوں کا ہرگز یہ عقیدہ نہیں کہ توریت کی کتاب آسمان پر کسی خاص زبان میں آسمانی ورقوں پر خدا نے لکھ کر رکھی تھی۔ اسی طرح تمام پاک نوشتوں یعنی زبور کی کتاب، صحائف الانبیاء اور انجیل مقدس کے بارے میں بھی ہمارا ایسا ہی عقیدہ ہے۔‘‘ (ایضاً ص۳)
’’جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ موسٰی پر توریت شریف ایک کتاب کی صورت میں آسمان سے نازل ہوئی تھی ان کی یہ بات خداوند کی کتاب مقدس کے اصولِ الہام کے سراسر خلاف ہے کیونکہ آسمان پر پہلے سے توریت کی کتاب کی موجودگی کو تسلیم کرنے کے بعد ہی اس توریت کی کتاب کے بزرگ موسٰی پر آسمان سے نزول کا سوال پیدا ہوتا ہے۔ اسی طرح زبور اور صحائف الانبیاء اور انجیل مقدس کے متعلق بھی ان کے خیالات خداوند کی کتاب مقدس کے اصول الہام الٰہی کے سراسر منافی ہیں ۔۔۔۔
آسمان پر الہامی کتابوں کی موجودگی اور ان کی آیات کے لفظ بلفظ کسی خاص زبان میں نزول کا جو عقیدہ اہلِ اسلام کے درمیان مروج ہے، کتابِ مقدس کے صحائف کے متعلق نہ یہودیوں میں اور نہ مسیحیوں میں ایسا عقیدہ کبھی مروج ہوا ہے اور نہ انبیاء کرام خدا کی طرف سے وحی و الہام پا کر بصورتِ املا نویس محرر تھے۔‘‘ (ص ۶۰۵)
’’چنانچہ کتاب مقدس کے انبیاء کرام پر کلامِ الٰہی کی باتوں کے الہام و مکاشفہ کی صورت میں نزول کا طریقہ و عقیدہ میں اور حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کے اوپر ایک عجیب حالت و کیفیت میں نزول وحی قرآن کے طریقہ و عقیدہ میں بھی بڑا خاص فرق پایا جاتا ہے۔‘‘ ( ص ۱۰)
’’اگر قرآن مجید اور توریت شریف اور زبور شریف اور صحائف الانبیاء اور انجیل مقدس ایک آسمان اور ایک ہی خدا کی طرف سے نازل ہوئی تھیں تو پھر قرآن مجید نے باقی تمام الہامی کتابوں کی بعض ضروری ضروری باتوں اور اہم تعلیمات کے بارے میں اختلافی تعلیم کیوں پیش کی؟‘‘ (ص ۱۳)
قرآن پاک کا ساتویں صدی عیسوی کے گمراہی و ضلالت سے مرقع دور میں جب مسیحیوں کو دنیا کی سپرپاور کی حیثیت حاصل تھی ان کتبِ موضوعہ کے برخلاف تعلیم دینا ایک معجزہ اور صداقت کی نشانی تھا جسے پادری صاحب نے شرح صدر تسلیم کیا ہے۔ البتہ مندرجہ بالا اقتباسات سے یہ امر اظہر من الشمس ہو جاتا ہے کہ نہ صرف اہل کتاب اور اہل اسلام کے درمیان الہام الہامی کے نزول کے اصول مختلف ہیں بلکہ یہ دونوں کتابیں ایک ہی آسمان اور ایک ہی خدا کی جانب سے نازل شدہ نہیں ہیں۔ اس لحاظ سے قرآن نے موجودہ تورات و انجیل کی تصدیق بھی نہیں کی اور پادری صاحب بیک وقت دو متضاد باتیں کہہ رہے ہیں۔
مقام حیرت و استعجاب ہے۔۔۔ پادری صاحب کو چاہیئے تھا کہ کھسیانی بلی کی طرح کھمبا نوچنے کی بجائے ہمارے ناقابلِ تردید دلائل کا توڑ پیش کرتے ۔۔۔ (۱) دشمنِ اسلام و قرآن (۲) منکرِ عقائد ایمان مفصل (۳) علماء اسلام کی تعلیمات کا دشمن (۴) قرآن مجید کی آیات کا منکر (۵) موہنِ قرآن (۶) شکست خوردہ ذہنیت (۷) بے شعور (۸) بدتمیز اور (۹) بدزبان جیسے القابات دینے کی بجائے کوئی دلیل کی بات کریں ۔۔۔ مزید برآں ’’کلامِ حق‘‘ کے مدیر صاحب کا یہ ارشاد بھی قابل توجہ ہے کہ ’’کلامِ حق کے مدیر نے حافظ صاحب کو اس قابل نہیں سمجھا کہ ان کے مفروضات کا جواب دیا جائے‘‘۔ حقیقت یہ ہے کہ خود پادری صاحب میں یہ حوصلہ نہیں ہے کہ اپنے ’’مفروضات‘‘ کا دفاع کر سکیں یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنے خیالات پر کی گئی تنقید کا خود سامنا کرنے کی بجائے پادری برکت صاحب کو آگے کر دیا ہے اور یہی ان کی قابلیت ہے۔
بابری مسجد اور اجودھیا - تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش
دیوبند ٹائمز
آج کل بابری مسجد رام جنم بھومی کا جو قضیہ چلا ہوا ہے وہ عقائد، اقتدار اور سیاسی مسائل کا مظہر ہے۔ بلاشبہ ہر شخص کو اپنے عقائد اور یقین کے معاملہ میں پوری آزادی حاصل ہے لیکن جب عقائد تاریخ پر غالب آنے لگیں تو مؤرخ کو تاریخ اور عقائد کے درمیان حد قائم کرنی پڑتی ہے۔ فرقہ وارانہ سیاست کے مقصد سے جب فرقہ وارانہ قوتیں تاریخی شہادتوں پر غالب آنے کی کوشش کرتی ہیں تو لامحالہ مؤرخ کو مداخلت کرنی پڑتی ہے۔ تاریخی شہادت پیش کرنے کا مقصد اس قضیہ کو سلجھانے کے لیے کوئی حل پیش کرنا نہیں ہے کیونکہ اس جھگڑے کا تعلق تاریخی شہادتوں سے نہیں ہے بلکہ یہ ہندوستانی سیاست کی فرقہ وارانہ سمتوں سے متعلق ہے، البتہ اس سلسلے میں تاریخی شواہد پیش کرنا پھر بھی ضروری ہے۔
سوال یہ ہے کہ بھگوان رام کی جائے پیدائش کہاں ہے؟ کیا یہ اجودھیا میں ہے؟ دوسرے کیا آج جو اجودھیا ہے وہی وہ مقام ہے جو رامائن کے زمانے کا تھا۔ بھگوان رام کے قصوں کا ماخذ رام کتھا ہے جو آج میسر نہیں ہے۔ اسے دوبارہ رزمیہ نظم کی صورت میں لکھا گیا ہے۔ اس طرح والمیکی نے رامائن لکھی۔ نظم ہونے کی وجہ سے اس میں بہت سی باتیں روایت اور قصے کی شکل میں داخل ہو گئی ہیں۔ بہت سے کردار اور مقامات بھی اسی طرح در آئے ہیں جیسا کہ کسی قصے کے بیان کرنے میں بہت سی باتیں فرضی ہو جاتی ہیں۔ تاریخ داں ان قصوں کے معتبر ہونے پر اس وقت تک شبہ کرتے رہیں گے جب تک کہ دیگر تاریخی حقائق سے ان کا ثبوت نہ مل جائے۔ والمیکی رامائن کے مطابق اجودھیا کے راجہ رام نے ترتیایگ جنم لیا۔ کالی یگ سے ہزاروں سال پیشتر کا ہے جس کے بارے میں خیال ہے کہ یہ ۱۰۲ ق م میں شروع ہوا تھا۔ ایسی کوئی تاریخی شہادت نہیں کہ اس زمانہ میں یہ اجودھیا (جیسا کہ یہ اب ہے) یہاں آباد تھا جہاں آٹھویں صدی ق م میں آباد ہوئی۔ والمیکی رامائن میں زندگی کے جو آثار ملتے ہیں وہ اس اجودھیا کے ساتھ آثار سے میل نہیں کھاتے۔
ظاہر ہے کہ والمیکی رامائن میں جس مقام کا ذکر ہے وہ یہ نہیں ہے جو کہ آج کا اجودھیا ہے۔ پھر اجودھیا کی جائے وقوع کے بارے میں بھی اختلاف رائے ہے۔ ابتدائی دور کی بودھ کتابوں میں شرادستی اور ساکیت کا ذکر ہے مگر اجودھیا کا نہیں۔ جین دھرم کی مذہبی کتابوں میں بھی کوسلہ کی راجدھانی ساکیت بتائی گئی ہے۔ اجودھیا کا ذکر نہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اجودھیا گنگا کے کنارے آباد تھا نہ کہ دریائے سرجو کے کنارے جہاں آج کل اجودھیا ہے۔ ساکیت کا نام بدل کر گپت بادشاہوں نے اجودھیا رکھا۔ سکندر گپت نے یہ پانچویں صدی عیسوی کے آخر میں رہائش ساکیت میں بدل دی اور اسے اجودھیا کا نام دیا۔ اس وکرمادتیہ کا نام اختیار کیا جسے اس نے سونے کے سکوں پر استعمال کیا۔ اس طرح رزمیہ میں جس اجودھیا کا ذکر ہے وہ بہت بعد میں ساکیت سے اجودھیا بنا۔ اس سے یہ بھی واضح نہیں کہ گپت بادشاہ رام کے بھگت تھے۔ رام کا تعلق سوریہ دنش سے تھا۔ چنانچہ ساکیت کو اجودھیا کا نام دینے کا مقصد یہ تھا کہ سوریہ دنش خاندان سے خود کو متعلق کر کے اپنا وقار بلند کیا جائے۔
ساتویں صدی کے بعد رامائن میں اجودھیا کو کوسل کی راجدھانی بتایا گیا۔ اجودھیا ترتیایگ کے بعد گم ہو گیا تھا اور وکرمادتیہ نے اس کا دوبارہ سے پتہ چلایا۔ گمشدہ اجودھیا کی بازیافت کی کوشش میں وکرمادتیہ نے پیاگ سے ملاقات کی جو کہ تیرتھ کا بادشاہ تھا جو اجودھیا کے بارے میں واقف تھا۔ وکرمادتیہ نے اس جگہ کی نشان دہی کر دی تھی لیکن اس کے بعد میں پتہ نہ چلا۔ اس کے بعد وہ ایک جوگی سے ملا جس نے کہا کہ اسے ایک گائے چھوڑ دینی چاہیئے اور اس کے ساتھ ایک بچھیا ہونی چاہیئے۔ یہ گائے اور بچھیا گھومتے رہیں۔ جب یہ رام جنم بھومی پر پہنچیں گے تو اس کے تھنوں سے دودھ ٹپکے گا۔ بادشاہ نے جوگی کی نصیحت مان لی۔ جب ایک مقام پر بچھیا نے دودھ ٹپکایا تو بادشاہ نے سمجھا کہ یہی قدیم اجودھیا ہے۔ یہ ہے کہانی اجودھیا کی بازیافت کی۔
آج کا اجودھیا ساکیت کے نام سے مشہور رہا ہے۔ یہ مختلف مذہبوں کا گہوارہ رہا ہے۔ یہاں محض رام کے ہی بھگت نہ تھے بلکہ یہ رام کی پوجا سے بہت بعد میں مخصوص کر دیا گیا۔ پانچویں صدی عیسوی سے آٹھویں صدی عیسوی تک اور بعد تک کتبوں پر اجودھیا کا ذکر ملتا ہے لیکن یہ نہیں کہ یہ جگہ رام کی پوجا کے لیے مخصوص ہو (جیسا کہ ایپی گرافیکا انڈیکا ۱۰ میں صفحہ ۷۲ پر واضح کیا گیا ہے، اس کے صفحات ۱۵، ۱۴۳ اور صفحہ ۱۴ پر بھی اس کا حوالہ ملتا ہے)۔ ہیونگ سانگ نے اجودھیا بدھ مت کا زبردست مرکز بتایا ہے اور بودھ ستوپ، مٹھ یہاں بکثرت تھے۔ کچھ غیر بدھ لوگ بھی یہاں آباد تھے۔ بودھ اس مقام کو متبرک مانتے ہیں۔ یہاں مہاتما بودھ نے چند روز قیام کیا تھا۔ اجودھیا جینوں کا بھی متبرک اور مقدس مقام رہا ہے۔ جینیوں کا پہلے اور چوتھے تیرتھنکر یہیں پیدا ہوئے۔
گیارہویں صدی کی کتابوں میں اجودھیا میں گویاترو کا ذکر ملتا ہے لیکن رام جنم بھومی نہیں کہا گیا، یا رام جنم بھومی سے اس کا رشتہ نہیں جوڑا گیا۔ تیرہویں صدی عیسوی سے رام کی پوجا کرنے والے فرقے کومقبولیت ملی۔ رامانندی فرقے کے عروج سے اس کا ارتقا وابستہ ہے۔ ہندی میں رام کی کہانی تشکیل دی گئی۔ پندرہویں اور سولہویں صدی میں رامانندی اجودھیا میں آباد نہ تھے۔ اس زمانے میں شیو کی پوجا رام کے مقابلے میں زیادہ ہوتی تھی۔ اٹھارہویں صدی سے رامانندی سادھو بڑے پیمانے پر آباد ہوئے۔ اس کے بعد ہی اجودھیا میں بہت سے مندر تعمیر کیے گئے۔ اب تک ایسا کوئی تاریخی ثبوت نہیں ملا جس کی بنیاد پر یہ کہا جا سکے کہ بابری مسجد اس اراضی پر بنائی گئی جہاں کہ کبھی کسی زمانے میں مندر تھا۔ مسجد کے دروازے پر فارسی کتبے یہ نہیں بتاتے کہ یہ مسجد بابر کی طرف سے بنوائی گئی۔
بابرنامہ کے پہلے انگریز مترجم بیورج یادداشت میں ایک ضمیمہ میں ان اشعار کا ترجمہ شائع کیا گیا ہے۔ بابرنامہ میں، جو کہ ان یادداشتوں کا مجموعہ ہے، لکھا ہے کہ شہنشاہ بابر کے حکم سے جس کا انصار اپنے عروج پر پہنچ چکا ہے میرباقی نے فرشتوں کے اترنے کی ایک جگہ تعمیر کرائی۔ (بابرنامہ مترجم اے ایف بیوریج)۔ ان کتبوں میں صرف یہ دعوٰی کیا گیا تھا کہ بابر کے ایک امیر میرباقی نے مسجد تعمیر کرائی۔ یہ کہیں نہیں کہ یہ مسجد مندر کی جگہ پر تعمیر کرائی گئی۔ بابرنامہ میں بھی اس کا کوئی حوالہ نہیں کہ یہاں اجودھیا میں اس مسجد کی تعمیر کے لیے کسی مندر کو توڑا گیا۔
آئینِ اکبری میں اجودھیا کا ذکر ہے۔ اسے رام چندر کی رہائش گاہ کہا گیا ہے جو کہ ترتیا میں روحانیت اور مادیت کا تھا لیکن اکبر کے دادا نے کسی بھی مندر کی جگہ مسجد تعمیر کرائی ہو اس کا ذکر نہیں ملتا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تلسی داس جو کہ رام کا زبردست بھگت تھا اور جو اکبر کے عہد میں ہوا ہے اور جو اس خطے کا رہنے والا تھا ملیھ کے عروج پر پریشان ہے لیکن رام جنم بھومی کی جگہ مندر توڑے جانے کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔
انیسویں صدی میں اس کی کہانی سرکاری ریکارڈ میں داخل کی گئی اور دوسروں نے اسے تاریخی حوالہ سمجھ کر پیش کرنا شروع کر دیا۔ مندر توڑنے کی کہانی بے بنیاد اور من گھڑت ہے اس کے لیے کوئی تاریخی ثبوت نہیں۔ ملاحظہ ہو ہسٹاریکل اسکیچ آف تحصیل فیض آباد لکھنؤ۔
ایک غلط فہمی یہ ہے کہ مسلمان حکمران ہندوؤں کے مقدس مقامات کے دشمن رہے ہیں لیکن یہ بات تاریخ کی شہادتوں کی روشنی میں بے بنیاد نظر آتی ہے۔ مسلمان نوابوں کی سرپرستی میں اس کی توسیع ہوئی، نوابوں کی سرکار کالیئتھو کے تعاون سے چلتی تھی۔ مسلمان نوابوں کی افواج میں شیودھرم کے ماننے والا ناما تھے، ہندوؤں کے مقدس مقامات کے لیے تحائف اور جاگیریں دینے میں نواب پیش پیش رہے ہیں۔
(بشکریہ دیوبند ٹائمز)
کرنسی نوٹ، سودی قرضے اور اعضاء کی پیوندکاری
مختلف مکاتب فکر کے علماء کی ایک مشترکہ نشست
ادارہ
(بھارت کے دارالحکومت دہلی میں اسلامی فقہ اکیڈمی کی دعوت پر جدید مسائل کے سلسلہ میں منعقد ہونے والے علماء کے ایک سیمینار کی رپورٹ پندرہ روزہ ’’دیوبند ٹائمز‘‘ کے شکریہ کے ساتھ شائع کی جا رہی ہے۔ اے کاش کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے علماء کرام بھی فرقہ وارانہ مباحث سے بالاتر ہو کر قوم کو درپیش جدید مسائل کے حل کے لیے اجتماعی سوچ اور مشترکہ محنت کا راستہ اختیار کر سکیں ؎ ’’شاید کہ اتر جائے کسی دل میں مری بات‘‘)
اسلامی فقہ اکیڈمی کی دعوت پر دوسرا فقہی سیمینار ہمدرد یونیورسٹی کے کنونشن ہال میں ۸ سے ۱۱ دسمبر تک ہوا جس میں ہندوستان بھر سے ممتاز علماء اور فقہاء کے علاوہ جدید تعلیم یافتہ دانشوروں نے حصہ لیا۔ سیمینار کی امتیازی خصوصیت یہ تھی کہ اس میں حنفی دیوبندی، بریلوی، شافعی، اور مسلک اہلِ حدیث سے تعلق رکھنے والے نمائندہ حضرات نے کھلی فضا میں زیربحث مسائل پر غور کیا اور اتفاق رائے سے فیصلے کیے۔
افتتاحی اجلاس میں کویت سے تشریف لانے والے ڈاکٹر جمال الدین عطیہ نے، جو فقہ کے ممتاز سکالر ہیں، اپنا کلیدی خطبہ پیش کیا اور پاکستان کے ممتاز عالم و مفتی مولانا محمد رفیع عثمانی نے کرسیٔ صدارت سے انتہائی بلیغ اور بصیرت افروز خطبہ دیا۔ اس سے قبل ڈاکٹر منظور عالم (چیئرمین انسٹیٹیوٹ آف آبجیکٹو اسٹڈیز نئی دہلی) نے خطبۂ استقبالیہ پیش کیا اور سیمینار کے داعی مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی (امین عام فقہ اکیڈمی) نے علماء اور فقہاء کے اس نمائندہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ اپریل میں پہلا سیمینار اسی جگہ منعقد ہوا تھا۔ یہ دوسرا موقع ہے کہ ہم یہاں پھر جمع ہوئے ہیں۔ جماعتی اور مسلکی حدبندیوں سے اوپر اٹھ کر ممتاز بالغ نظر فقہاء و اصحاب افتاء کا یہاں سر جوڑ کر بیٹھنا ایک فالِ نیک اور قابلِ ذکر امر ہے۔
سیمینار میں دارالعلوم دیوبند کے مفتی حبیب الرحمٰن خیرآبادی، مفتی محمد ظفیر الدین مفتاحی اور مفتی سعید احمد پالنپوری، جامعہ الارشاد اعظم گڑھ کے مولانا مجیب اللہ ندوی، ندوۃ العلماء کے مولانا عتیق احمد اور مولانا برہان الدین سنبھلی، بدایوں سے مفتی مطیع الرحمٰن رضوی، جامعہ سلفیہ بنارس کے ڈاکٹر مقتدی احسن ازہری، دارالعلوم ماٹلی والا گجرات کے مولانا ابوالحسن علی، اور علی گڑھ کے ڈاکٹر فضل الرحمٰن اور مولانا مسعود عالم کی موجودگی نے مجلس کو اور نمائندہ و باوقار بنا دیا تھا۔ اس سیمینار میں ۷۰ کے قریب علماء اور دانشوروں نے شرکت کی۔
اجلاس میں نوٹ کی شرعی حیثیت، کرنسی پر افراطِ زر کے اثرات، اور سرکاری و غیر سرکاری سودی قرضوں سے پیدا ہونے والے فقہی مسائل پر مقالات پڑھے گئے۔ نیز گذشتہ سیمینار میں پگڑی اور اعضاء کی پیوندکاری کی جو بحث نامکمل رہ گئی تھی اس کی تکمیل کے بعد تجاویز کی منظوری دی گئی۔
اجلاس نے اس پر اتفاق کیا کہ سود قطعی حرام ہے، اور جس طرح سود لینا حرام ہے اسی طرح سود دینا بھی حرام ہے، لیکن سود ادا کرنے کی حرمت بذاتِ خود نہیں بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ سود خواری کا ذریعہ ہے۔ اس لیے بعض خاص حالات میں عذر کی بنیاد پر سود ادا کر کے قرض لینے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ کون عذر معتبر ہے، کون نہیں؟ نیز کون سی حاجت قابلِ لحاظ ہے اور کون سی نہیں؟ اس سلسلہ میں اصحابِ فتاوٰی کے مشوروں پر عمل کیا جائے۔ اجلاس نے اس پر بھی اتفاق کیا کہ بعض سرکاری قرضوں میں حکومت کی طرف سے چھوٹ دی جاتی ہے اور سود کے نام سے زائد رقم بھی لی جاتی ہے۔ اگر یہ زائد رقم سبسڈی کے مساوی یا کم ہو تو یہ زائد رقم شرعاً سود نہیں ہے۔
اجلاس نے ہندوستانی مسلمانوں کی معاشی پسماندگی کے مخصوص پس منظر میں سرکاری بینکوں سے ملنے والے ترقیاتی قرضوں اور ان پر وصول کیے جانے والے سود پر بھی غوروخوض کیا اور طے کیا کہ اسلامی فقہ اکیڈمی علماء اور ماہرین کی ایک کمیٹی تشکیل دے جو مسئلے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر ایک رپورٹ پیش کرے تاکہ اگلے سیمینار میں غور کیا جا سکے۔
بحث کے دوران علماء کا عام رجحان تھا کہ ہندوستان اور اس جیسے دوسرے ملکوں کو دارالحرب قرار دے کر سود کے جواز کا فتوٰی نہیں دیا جا سکتا۔ اس میں دارالحرب، دارالامن، اور دارالاسلام پر بحث ہوئی اور مقالات پیش ہوئے، ان کی روشنی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جو اسلام کی دستوری ہدایات اور قانون بین الممالک کی روشنی میں اس بات پر غور کرے گی کہ آج کے دور میں موجودہ ملکوں کو کتنی قسموں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے اور ان کے کیا احکام ہوں گے اور ان میں بسنے والی مسلم آبادی کا کیا کردار حکومت اور دیگر عوام کے ساتھ ہونا چاہیئے۔
سیمینار میں غیر سودی بینکاری کو بڑھاوا دینے کے لیے ایک جامع خاکہ کی ضرورت سے اتفاق کرتے ہوئے ایک ایسی کمیٹی کی تشکیل کا فیصلہ کیا گیا جس میں علماء کے علاوہ معاشیات و بینکنگ کے ماہرین بھی شامل ہوں گے۔
کرنسی نوٹوں پر بحث کے بعد اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ شریعت میں نوٹوں کی حیثیت زر اصطلاحی و قانونی کی ہے اس لیے ان میں زکوٰۃ واجب ہے۔ سیمینار نے سفارش کی کہ مہر کا تعین سونے اور چاندی کی مقدار میں کیا جائے تو عورتوں کے حقوق کا تحفظ ہو گا اور کرنسی کی قوتِ خرید میں خسارہ سے ان پر اثر نہ پڑے گا۔
سیمینار نے اعضاء کی پیوندکاری اور خریدوفروخت پر بھی بحث کی اور تجاویز منظور کی گئیں۔ اس سیمینار نے نئے مسائل کے حل ڈھونڈنے میں علماء اسلام کی اجتہادی صلاحیت کا ثبوت پیش کیا ہے اور یہ کہ شریعت ہر زمانہ کے مسائل کا بہتر حل پیش کرتی ہے۔
آپ نے پوچھا
ادارہ
شرعی مہر ۳۲ روپے؟
سوال: عام طور پر یہ سننے میں آتا ہے کہ حق مہر شرعی طور پر ۳۲ روپے ہے، اس کی کیا حقیقت ہے؟ (حافظ محمد سعید، کچا دروازہ، گوجرانوالہ)
جواب: اس کی کوئی اصلیت نہیں ہے، مہر کے بارے میں بہتر بات یہ ہے کہ خاوند کی حیثیت کے مطابق ہونا چاہیئے جسے وہ آسانی سے ادا کر سکے۔ کچھ عرصہ قبل تک ایک سو بتیس روپے چھ آنے کو مہر فاطمی کے برابر سمجھا جاتا تھا جو کسی دور میں ممکن ہے صحیح ہو لیکن چاندی کی موجودہ قیمت کے لحاظ سے کسی صورت بھی یہ مہر فاطمی نہیں ہے۔
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا مہر پانچ سو درہم تھا، درہم چاندی کا سکہ تھا جس کا وزن ساڑھے تین ماشے بیان کیا جاتا ہے، اس حساب سے پانچ سو درہم کا وزن ساڑھے ستر سو ماشے بنتا ہے یعنی ایک سو پینتالیس تولے اور دس ماشے۔ اور ان دنوں (۱۹۹۰ء) چاندی کا بھاؤ کم و بیش ستر روپے تولہ ہے، اس طرح چاندی کی موجودہ قیمت کے حساب سے مہر فاطمی دس ہزار روپے سے زائد بنتا ہے۔
اس لیے بتیس روپے کو شرعی مہر قرار دینا درست نہیں ہے بلکہ احناف کے ہاں تو بتیس روپے مہر مقرر کرنا ویسے بھی جائز نہیں ہے کیونکہ احناف کے نزدیک مہر کی کم سے کم مقدار دس درہم متعین ہے جس کی بنیاد جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد پر ہے کہ ’’لَا مَہْرَ اَقَلَّ مِنْ عَشَرَۃ دَرَاھِمْ‘‘ دس درہم سے کم مہر جائز نہیں ہے۔ دس درہم کا وزن ایک ماشہ کم تین تولے ہے اور قیمت کے اعتبار سے دو سو روپے کے لگ بھگ رقم بنتی ہے۔ اس سلسلہ میں صاحبِ ہدایہؒ نے مہر کے باب میں احناف کے اس موقف کی وضاحت کی ہے کہ اگر کسی نے دس درہم سے کم مہر مقرر کر لیا تو بھی اسے کم از کم دس درہم (یعنی دو سو روپے کے لگ بھگ) ہی ادا کرنا ہوں گے۔
تیتو میر کون تھے؟
سوال: تحریکِ آزادی کے حوالہ سے بعض مضامین میں تیتومیرؒ کا ذکر آتا ہے، یہ کون بزرگ تھے اور تحریکِ آزادی میں ان کا کیا کردار ہے؟ (محمد عاصم بٹ، گکھڑ، ضلع گوجرانوالہ)
جواب: تیتومیرؒ کا نام نثار علی تھا، بنگال کے رہنے والے تھے، اپنے گاؤں نوکل باڑیہ میں لٹھ مار قسم کے نوجوان شمار ہوتے تھے۔ یہ اس دور کی بات ہے جب امیر المؤمنین سید احمد شہیدؒ اور امام المجاہدین شاہ اسماعیل شہیدؒ جہادِ آزادی کی تیاری کے سلسلہ میں حجاز مقدس گئے ہوئے تھے۔ نثار علیؒ بھی اسی سال حج کے لیے گئے، سید احمد شہیدؒ سے ملاقات ہوئی، ان کی صحبت نے ذہن کا رخ بدل دیا۔ دل میں آزادی کا جذبہ انگڑائی لینے لگا، واپس آ کر علاقہ کے ہندو زمینداروں اور جاگیرداروں کے خلاف نوجوانوں کو منظم کرنا شروع کر دیا اور دینی اقدار کی ترویج کے لیے جدوجہد کی۔ نثار علیؒ کی محنت سے نوجوانوں کا ایک اچھا خاصا گروہ دینداری کی طرف مائل ہوا۔ نماز کی پابندی کے ساتھ ڈاڑھی کی سنت بھی زندہ ہونے لگی۔ ہندو جاگیرداروں نے دینی بیداری کو خطرہ سمجھتے ہوئے اس رجحان کو قوت کے زور سے دبانا چاہا اور ڈاڑھی پر ٹیکس لگا دیا۔ نثار علیؒ کے گروہ نے ٹیکس دینے سے انکار کر دیا، کشمکش بڑھی، محاذ آرائی کی صورت پیدا ہو گئی۔
نثار علیؒ نے ہزاروں ساتھیوں کے ساتھ اپنے گاؤں میں مورچہ بندی کر لی اور اردگرد کے علاقہ پر علاقہ پر قبضہ کر کے انگریزی اقتدار کے خاتمہ اور مسلمانوں کی حکومت کے قیام کا اعلان کر دیا۔ ہزاروں مجاہدین کے ساتھ نثار علیؒ نے یلغار شروع کی، انگریزی فوج اس کا سامنا نہ کر سکی اور بالآخر کلکتہ سے کمانڈر الیگزینڈر کی قیادت میں انگریزی لشکر مقابلہ کے لیے آیا اور اسے بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے بعد کلکتہ سے دوسرا انگریزی لشکر آیا اور اس سے مقابلہ کرتے ہوئے نثار علیؒ نے جو اب تیتو میر کے لقب سے مشہور ہو چکے تھے جامِ شہادت نوش کیا اور ان کے متعدد ساتھیوں کو گرفتار کر کے بعد میں پھانسی دے دی گئی۔ امیر المؤمنین سید احمد شہیدؒ نے بالاکوٹ میں مئی ۱۸۳۱ء میں جامِ شہادت نوش کیا جبکہ ان کے تربیت یافتہ بنگالی مجاہد نثار علی عرف تیتومیرؒ اسی سال نومبر یا دسمبر میں عروسِ شہادت سے ہمکنار ہوئے۔
فئی اور غنیمت کا فرق؟
سوال: قرآن کریم میں غنیمت اور فئی دونوں کا ذکر کیا گیا ہے، ان دونوں میں فرق کیا ہے؟ (رشید احمد، دوبئی)
جواب: غنیمت اور فئے دونوں کفار سے حاصل شدہ مال کو کہتے ہیں لیکن فرق یہ ہے کہ جو مال اور سامان میدانِ جنگ میں مقابلہ کے ساتھ کفار سے وصول ہو وہ غنیمت کہلاتا ہے، اور جو سازوسامان مسلمانوں کے لشکر سے مرعوب ہو کر لڑائی کے بغیر کفار چھوڑ کر چلے جائیں اسے فئے کہتے ہیں، یا جنگ کی صورت میں کفار کی جو زمین مسلمانوں کے قبضے میں آئے اور اسے بعد میں کفار ہی کے قبضہ میں چھوڑ کر ان پر جزیہ یا خراج عائد کر دیا جائے تو یہ آمدنی بھی فئی شمار ہوتی ہے۔
غنیمت اور فئے میں دوسرا فرق یہ ہے کہ قرآن کریم کے حکم کے مطابق غنیمت کا ایک خمس مال بیت المال کے لیے الگ کر کے باقی مال مجاہدین میں تقسیم کیا جاتا ہے، جبکہ فئی سارے کا سارا بیت المال کا حق ہے اور بیت المال کی تحویل میں جانے کے بعد بیت المال کے مقرر کردہ اصول و ضوابط کے مطابق اسے صرف کیا جا سکتا ہے۔
تعارف و تبصرہ
ادارہ
’’معالم العرفان فی دروس القرآن (سورہ المائدہ)‘‘
افادات: حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی مدظلہ
مرتب: الحاج لعل دین ایم اے۔
صفحات: ۵۱۶ قیمت مجلد ۱۲۵ روپے۔ کتابت و طباعت عمدہ
ملنے کے پتے: (۱) مکتبہ دروس القرآن، محلہ فاروق گنج، گوجرانوالہ (۲) ادارہ نشر و اشاعت مدرسہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ۔
حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی مدظلہ العالی کے دروس قرآن کو اللہ تعالیٰ نے افادیت و قبولیت کے جس شرف سے نوازا ہے وہ حضرت صوفی صاحب مدظلہ کے خلوص، دینی معاملات میں ان کی متوازن سوچ، اظہارِ خیال میں اعتدال اور دینی علوم کے ساتھ ساتھ عصری تقاضوں پر ان کی گہری نظر کی علامت ہے۔ روزانہ نمازِ فجر کے بعد جامع مسجد نور میں دیے جانے والے ان دروس قرآن کو الحاج لعل دین صاحب بڑی محنت کے ساتھ مرتب کر رہے ہیں اور اب تک آخری دو پاروں کے علاوہ سورہ الفاتحہ، سورہ البقرہ، سورہ آل عمران اور سورہ النساء کے دروس سات ضخیم اور خوبصورت جلدوں کی صورت میں منظرِ عام پر آ چکے ہیں۔ اور زیر نظر آٹھویں جلد سورہ المائدہ کے ۵۴ دروس پر مشتمل ہے جس میں حضرت صوفی صاحب مدظلہ نے اپنے مخصوص انداز میں سورہ المائدہ کے معارف و مسائل کو اس خوبی سے بیان کیا ہے کہ عام پڑھے لکھے لوگ ان سے بخوبی استفادہ کر سکتے ہیں اور اہلِ علم بھی محظوظ ہوتے ہیں۔
سورہ المائدہ میں حلال و حرام کے مسائل کے علاوہ سرقہ، قتل اور ڈاکہ جیسے جرائم کے بارے میں شرعی احکام اور بنی اسرائیل کے مختلف احوال کا ذکر بطور خاص اہمیت کا حامل ہے اور حضرت صوفی صاحب مدظلہ نے ان امور کی وضاحت اس انداز سے کی ہے کہ مختلف حلقوں کی طرف سے ان امور کے بارے میں پھیلائے گئے شکوک و شبہات کا خودبخود ازالہ ہو جاتا ہے۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ رب العزت حضرت صوفی صاحب مدظلہ کو تادیر سلامت رکھیں اور ان کے افادات کو زیادہ سے زیادہ خلقِ خدا کی ہدایت کا ذریعہ بنائیں، آمین یا الٰہ العالمین۔
’’انگریز کے باغی مسلمان‘‘
مصنف: جانباز مرزا
صفحات ۴۸۸ قیمت مجلد ۷۵ روپے۔ سرورق خوبصورت، کتابت و طباعت معیاری
ملنے کا پتہ: مکتبہ تبصرہ ۷/۴ گلشن کالونی، بادامی باغ، لاہور
جانباز مرزا باہمت بزرگ ہیں جو عمر کے اس حصہ میں ماضی، حال اور مستقبل سے بے خبر نئی نسل کو اس کے پرجوش ماضی کی یاد دلانے پر کمربستہ ہیں اور اپنے بڑھاپے اور بے سروسامانی کی پروا کیے بغیر اشاعتی محاذ پر ایک ادارے کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں۔ جانباز مرزا نے آٹھ جلدوں میں ’’کاروانِ احرار‘‘ لکھی، امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی زندگی اور جدوجہد کو ایک مستقل کتاب ’’حیاتِ امیر شریعت‘‘ میں سمویا، جیل کی بلند و بالا دیواروں کے پیچھے انسانیت پر ہونے والے مظالم کا نقشہ ’’بڑھتا ہے ذوق جرم‘‘ میں پورے درد دل کے ساتھ کھینچا، تحریک ختم نبوت کی مرحلہ وار کہانی مرتب کی، اور اب ’’انگریز کے باغی مسلمان‘‘ کے عنوان سے ان مردانِ حر کے احوال و واقعات کو حیطۂ تحریر میں لا رہے ہیں جنہوں نے برٹش استعمار کے دورِ عروج میں اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر دنیا میں اپنے وقت کے سب سے بڑے سامراج کو للکارا اور بالآخر مسلسل جدوجہد اور قربانیوں کے بعد اسے برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش سے بوریا بستر سمیٹنے پر مجبور کر دیا۔
’’انگریز کے باغی مسلمان‘‘ کی پہلی جلد اس وقت ہمارے سامنے ہے جس کے سرورق پر مولانا عبید اللہ سندھیؒ، خان عبد الغفار خانؒ، مولانا حسرت موہانیؒ، مولانا احمد علی لاہوریؒ، مولانا ابوالکلام آزادؒ اور امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے تصویری خاکے ہیں۔ اور اندرونی صفحات ۱۷۵۷ء سے ۱۸۹۴ء تک کی داستان حریت پر مشتمل ہیں اور ان میں داستانِ حریت کے مرکزی کرداروں نواب سراج الدولہؒ، نواب حیدر علیؒ، ٹیپو سلطانؒ، شاہ عبد العزیزؒ، حافظ رحمت خانؒ، بہادر شاہ ظفرؒ، سید احمد شہیدؒ، شاہ اسماعیل شہیدؒ، تیتو میر شہیدؒ، رائے احمد خان کھرل شہیدؒ، حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ، اور سید جمال الدین افغانیؒ جیسے عظیم مجاہدین آزادی کے معرکہ ہائے حریت و استقلال کا تذکرہ کیا گیا ہے۔
’’اپنی ذات میں ایک انجمن‘‘ کا محاورہ عام طور پر بڑی شخصیات کے بارے میں استعمال کیا جاتا ہے لیکن سچی بات یہ ہے کہ ہمارے سامنے کے لوگوں میں اگر یہ محاورہ کسی شخصیت پر فٹ آتا ہے تو وہ جانباز مرزا ہیں جو اپنی زندگی کے آٹھویں عشرہ کو بھی شاید عبور کر چکے ہیں لیکن لائبریریوں میں گھوم کر خود مواد اکٹھا کرتے ہیں، اسے ترتیب دیتے ہیں، اپنے بڑے اور لائق و فرمانبردار فرزند جناب خالد مرزا کو املاء کراتے ہیں، اپنی نگرانی میں خود کتابت کراتے ہیں، پروف ریڈنگ کرتے ہیں، چھپواتے ہیں، بستی بستی خود پہنچ کر کتاب اپنے دوستوں تک پہنچاتے ہیں اور کتاب کے تعارفی پوسٹر اپنے ہاتھوں سے دیواروں پر چسپاں کرتے ہیں۔ آج ہی صبح وہ ’’الشریعہ‘‘ کے دفتر میں اپنی کتاب دینے آئے تو ان کے ہاتھ میں ایک گٹھڑی تھی، انہوں نے گٹھڑی کھولی، اس میں سے ایک پوسٹر نکالا، ایک پوٹلی کھولی جس میں لئی تھی، پوسٹر پر خود لئی لگائی اور جامع مسجد کے مین گیٹ پر اسے اپنے ہاتھوں سے چسپاں کر دیا۔ یہ منظر دیکھ کر آنکھوں میں آنسو آ گئے مگر جانباز مرزا کی عزت نفس کے احترام نے انہیں پلکوں کی سرحد عبور نہ کرنے دی۔
ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس مردِ درویش کو صحت و سلامتی کے ساتھ اپنے اشاعتی منصوبے مکمل کرنے کی توفیق ارزانی فرمائیں کہ آج کے دور میں جبکہ وسائل و اسباب سے مالامال اشاعتی ادارے تاریخ کا چہرہ مسخ کرنے اور ماضی کی حقیقتوں پر مصلحتوں کے پردے ڈالنے پر تلے بیٹھے ہیں، جانباز مرزا جیسے ٹمٹماتے چراغ بھی اگر بجھ گئے تو ماضی کے حقائق کے ساتھ ہمارا رشتہ آخر کون قائم رکھے گا؟
’’آئینہ قادیانیت‘‘
مصنف: مولانا محمد فیروز خان
صفحات: ۱۴۴
ملنے کا پتہ: دارالعلوم مدنیہ، ڈسکہ، ضلع سیالکوٹ
قادیانیت ہمارے معاشرے کا ایک رستا ہوا ناسور ہے جس کے جراثیم فرنگی استعمار نے اپنے مخصوص نوآبادیاتی مقاصد کے لیے ملتِ اسلامیہ کے جسم میں داخل کیے اور پھر ان کی ایسے سرپرستی اور پرورش کی کہ اس کی جڑیں عالمِ اسلام کے مختلف حصوں تک پھیل گئیں۔ قادیانیت کے مذہبی، سیاسی اور معاشرتی مفردات و نقصانات پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور علماء امت نے اس فتنہ کے ہر پہلو کو بے نقاب کیا ہے۔ زیرنظر رسالہ میں ہمارے محترم بزرگ مولانا محمد فیروز خان فاضل دیوبند نے قادیانیت کے بارے میں اپنی یادداشتوں کو مرتب کیا ہے۔ معلوماتی رسالہ ہے اور اس موضوع سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے اس کا مطالعہ بے حد مفید ہو گا۔
’’عورت کی سربراہی کا مسئلہ اور شبہات و مغالطات کا ایک جائزہ‘‘
تالیف: حافظ صلاح الدین یوسف
صفحات: ۱۳۰
ملنے کا پتہ: دارالدعوہ السلفیہ، شیش محل روڈ، لاہور
عورت کی حکمرانی کا مسئلہ قرآن و سنت اور اجماع امت کی رو سے طے شدہ امر ہے اور اس بات پر امت کے تمام مکاتبِ فکر کا چودہ سو سال سے اجماع چلا آتا ہے کہ کسی مسلم ریاست میں عورت کو حکمرانی کے منصب پر فائز کرنا شرعاً درست نہیں ہے۔ مگر یورپی سیاست کی پیروی کا شوق بعض حضرات پر اس درجہ غالب آگیا ہے کہ وہ اس اجماعی اور مسلّمہ مسئلہ کو بھی شکوک و شبہات اور مغالطات پیدا کر کے متنازعہ بنانا چاہتے ہیں۔ اور بالکل اسی انداز سے دلائل کشید کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جیسے ختم نبوت جیسے اجماعی عقیدہ کے خلاف قادیانی علماء قرآن و سنت سے خودساختہ دلائل کشید کر کے امت کو دھوکہ دینے کے درپے رہے ہیں۔
ہفت روزہ الاعتصام لاہور کے فاضل مدیر مولانا حافظ صلاح الدین یوسف نے زیرنظر کتابچہ میں انہی لوگوں کے خودساختہ دلائل کا جائزہ لیا ہے اور مغرب زدہ عناصر کے پیدا کردہ شکوک و شبہات کے تاروپود بکھیر کر اس حقیقت کا ایک بار پھر اثبات کیا ہے کہ اسلام کے مسلّمہ اصول اور دلائل کی روشنی میں عورت کی حکمرانی کی کسی صورت میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔
تختۂ کابل الٹنا چند دن کی بات ہے
سرور میواتی
عزم و ہمت کے دھنی، آنِ وطن کے پاسباں
اے مجاہد عظمتِ اسلام کے تاباں نشاں
تیری عظمت کےمقابل سرنگوں ہے آسماں
تو نے استبداد کے ایواں ہلا کر رکھ دیے
روس کے ارمان مٹی میں ملا کر رکھ دیے
پھول فتح و کامرانی کے کھلا کر رکھ دیے
مرحبا صد مرحبا افغاں مجاہد شاد باد
ہے ترا مقصد خدا کی راہ میں کرنا جہاد
کاٹ دے پائے جہاں بیخ و بن شر و فساد
کر دیے مسمار تو نے آمریت کے حصار
بربریت کے نظر آتے ہیں اب ہر سو مزار
ہے ہمیشہ سے یہی اللہ والوں کا شعار
سطوتِ اسلام کے تو نے عَلم لہرا دیے
روس کے نمرود کو ناکوں چنے چبوا دیے
سرد سینوں میں الاؤ جوش کے دہکا دیے
ناک میں دم کر کے چھوڑا تو نے میخائیل کا
توڑ پھینکا زعمِ باطل ہندو اسرائیل کا
پھر گیا نقشہ نگاہوں میں صاحبِ فیل کا
فلیقاتل فی سبیل اللہ ہے مقصد ترا
چشمِ یزداں میں عمل مقبول ہے بے حد ترا
ہو گیا ہے محفلِ عالم میں اونچا قد ترا
راہِ دیں میں جہدِ پیہم جب تری دن رات ہے
فتح و تائیدِ خداوندی بھی تیرے ساتھ ہے
تختۂ کابل الٹنا چند دن کی بات ہے
روزے کا فلسفہ
حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ
عبادت کا ایک طریقہ روزہ ہے۔ روزہ کی حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے معبود کے لیے شدید و ثقیل مشقت اٹھانے کے لیے تیار ہو جائے۔ اس کا فلسفہ یہ ہے کہ انسان جب کسی سے سخت دل بستگی اور قلبی محبت کرتا ہے تو پھر اس بات کی پرواہ نہیں کرتا کہ اس کی اپنی زندگی اور مرافقِ حیات درست ہیں یا نہیں اور وہ عیش و آرام میں ہے یا تکلیف و رنج میں۔
محبوبِ حقیقی کی رضا حاصل کرنے کے لیے اقوامِ عالم نے مختلف مسلک اختیار کیے ہیں، بعض لوگوں نے سخت سے سخت جسمانی تکلیف اٹھانا موجبِ سعادت اور باعثِ رضائے الٰہی سمجھا اور ایسے متاعبِ شاقہ کو ضروری سمجھا ہے جن میں فطرتِ انسانی اور خلق اللہ کی تبدیلی نظر آتی ہے۔ مثلاً وہ کسی عضو شریف کو مثلاً ہاتھ پاؤں وغیرہ کو ایک ہی حالت میں رکھ کر اس کو خشک کر لیتے ہیں، یا عمر بھر تجرد کی زندگی بسر کرتے ہیں بلکہ عضوِ تناسل کاٹ لیتے ہیں اور قوتِ مردمی کا کلی استیصال کرتے ہیں، یا اس قسم کی اور بے شمار دوسری باتیں جو سنتِ الٰہی کے خلاف ہیں۔
یہ یاد رکھو کہ یہ سب طریقے جاہلانہ طریقے ہیں اور ان پر عمل پیرا ہونے والے عابدوں کو معبودِ حقیقی کی خوشنودی حاصل نہیں ہو سکتی کیونکہ ان سے خلق اللہ اور سنتِ الٰہی کی تغیر و تبدیلی آتی ہے۔ اس کی سب سے اچھی اور بہترین صورت وہی ہے جس میں بڑی بڑی نفسانی خواہشات و لذات مثلاً کھانا پینا اور جنسی تعلق کو اتنی دیر کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے جو نہ تو بہت کم ہو جس کا کچھ اثر ظاہر و محسوس نہ ہو، اور نہ اتنی دیر تک خواہشات مذکورہ کو ترک کیا جائے کہ ریاضت کرنے والے کے جسم اور اس کے قوائے بدنیہ پر مضر اثر پڑے اور فساد مزاج کا باعث ہو۔
(البدور البازغہ مترجم ۔ ص ۳۰۶)
سرمایہ داری کا بت
حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ
ہندو جب بھی کوئی نیا نظام پیدا کرتا ہے تو اس کی بنیاد سرمایہ داری پر ہوتی ہے۔ چنانچہ گاندھی جی جیسا شخص بھی انسانیت کا اتنا بڑا نمائندہ بن کر سرمایہ داری سے ایک انچ آگے نہیں بڑھ سکا۔ اسی طرح پنڈت جواہر لال نہرو کمیونسٹ ہیں مگر وہ بھی سرمایہ دار ہیں۔ ان کے مقابلہ میں حسرت موہانی کو لیجئے، جس دن اس نے اشتراکیت قبول کی وہ اپنی تمام جائیداد ختم کر چکا اور اب وہ ایک کوڑی کا بھی مالک نہیں۔ پنڈت جواہر لال نہرو نے یورپ جا کر سوشلسٹوں کے ساتھ رہ کر سوشلزم سیکھا مگر حسرت اپنی ذاتی کاوش سے اس مرتبہ پر پہنچے۔ یہ فرق ہے مسلم سوسائٹی اور ہندو سوسائٹی میں، مسلم جس وقت اپنے اصلی نظام پر آئے گا وہ سرمایہ داری کا بت توڑنے والا ہو گا اور آج دنیا میں سرمایہ داری کے سوا کونسا بڑا بت ہے جسے توڑنے کی ضرورت ہے؟
(خطبات و مقالات ۔ ص ۸۸)
مشاورت کا مسئلہ اسلام میں بہت بڑا مسئلہ ہے لیکن اسلامی حکومتوں کو شورٰی سے خالی کر کے مطلق العنان جاہل حکمرانوں اور امیروں کا کھیل بنا دیا گیا ہے۔ وہ مسلمانوں کی امانت (سرکاری خزانے) سے اپنی شہوت پرستیوں پر خرچ کرتے ہیں اور وہ بڑی بڑی مصلحتوں کے مقابلہ میں خیانت کرتے ہیں اور ان سے کوئی پوچھنے والا نہیں۔ اس قسم کی غلطیوں کا خمیازہ مسلمانوں کو اس غلط تفسیر کی وجہ سے بھگتنا پڑا۔ ورنہ ہر ایک مسلمان ایک حاکم کے اوپر ننگی تلوار ہے، وہ حاکم کیوں قانونِ الٰہی کی اطاعت نہیں کرتا؟ اگر وہ اطاعت نہیں کرتا تو کس بنا پر ہم سے اطاعت کا طلبگار ہوتا ہے؟ یہ طاقت مسلمانوں میں پھر سے پیدا ہو سکتی ہے اور اس سے ان کی جماعتی زندگی آسانی کے ساتھ قرآن کے مطابق بن سکتی ہے۔
(عنوانِ انقلاب ۔ ص ۱۲۶)