ہم تعداد میں گو کثیر ہیں مگر افسوس کہ ستاروں کی طرح بکھرے ہوئے ہیں اور من مانی اور انفرادی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ہم بظاہر اگرچہ ایک دوسرے سے واقف اور قریب تر ہیں لیکن درحقیقت ایک دوسرے سے بے گانہ اور دور ہیں۔ ہر شخص اپنی اپنی مفاد پرستیوں کے محور کے گرد گھومتا ہے اور حیاتِ ملّی کا نصب العین نگاہوں سے اوجھل ہے، اور یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ قوموں کی ہستی اور بقا کا مدار ان کی مرکزیت اور اجتماع پر ہوتا ہے، ان کی انفرادی اور جداگانہ حیثیت اور امتیازی خصوصیت اسی نقطۂ ماسکہ سے وابستہ ہوتی ہے۔ اگر ان کی جماعتی اور تنظیمی زندگی اور مرکزیت میں خلل اور انتشار و تشتت و خلفشار واقع ہو جائے تو ان کی قومی اور ملّی حیثیت کا شیرازہ بالکل بکھر جاتا ہے اور اندوہناک حوادث و نوازل کی باد صر صر اور دہریت و الحاد کا ہر جھونکا انہیں جدھر چاہے بے وزن پَر اور خفیف تنکے کی طرح اڑائے اڑائے پھرے گا اور ایسے ناگفتہ بہ حالات میں ان کو کہیں قرار و چین کا موقع میسر نہ آئے گا، اور صحیح اسلامی نظام کے بغیر جس کی بنیاد کتاب و سنت پر قائم ہو ایسا عالمگیر اتفاق و اتحاد کبھی حاصل نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ اہلِ مغرب اور مغرب زدہ طاقتوں کے اتفاق کا مرکزی نقطہ مفاد پرستی، مکر و خداع، حیلہ سازی و تصنّع اور خود غرضی کے سوا اور کچھ نہیں جس سے ہر دردِ دل رکھنے والے غیّور اور خوفِ خدا مسلمان کو ہمیشہ پرہیز کرنا لازم ہے۔
بھلا غور تو فرمائیے کہ جو مغربی طاقتیں اور غیر اسلامی حکومتیں درونِ خانہ خود اپنے لیے مطلب پرستی کے نامبارک اور منحوس بت سے فارغ نہیں وہ ہمارے ساتھ کیا بھلائی کریں گی؟ اور جن کی سیاست اور سفارت ہی دھوکہ بازی اور حیلہ جوئی پر مبنی ہو اور جن کے وعدے اور قول و قرار اور دستی و محبت ہرجائی کے عشق کا نمونہ ہو اور جن کی اخلاقی اور روحانی طاقت الفاظ کی ہیرا پھیری میں مضمر ہو اور جو منہ سے نکلی ہوئی سیدھی سادی بات کی بے جا تاویلات کے دبیز پردوں میں حق کو مستور رکھنا چاہتے ہوں وہ بھلا ہمارے ساتھ الفت و محبت اور ہمدردی و دلسوزی کیا کر سکتے ہیں؟ ان کو تو بس یہی کہا جا سکتا ہے کہ
تو بخو یشتن چہ کر دی کہ بما کنی نظیری
بخدا کہ لازم آید زتو احتراز کر دن
اس لیے مسلمانوں پر ازبس لازم ہے کہ وہ کتاب و سنت کی روشن اور غیر مبدّل ہدایات پر عمل پیرا ہوں اور درحقیقت مسلمانوں کی فلاح و کامرانی اور ان کے بقا اور عزت کا اصلی سبب ہی یہ ہے کہ وہ خالص اسلامی زندگی میں منظم ہو کر رہیں ورنہ انتشار و تشتت اور پراگندگی و تفریق سے اسلامی اور قومی زندگی بالکل پامال ہو جائے گی اور مسلمانوں کی عالمگیر اور جہانگیر جاندار اور شاندار قوم بے وزن اور بے وقعت ہو کر رہ جائے گی جیسا کہ اس دورِ فتن و شرور میں اس کا بآسانی مشاہدہ کیا جا سکتا ہے اور یہ بالکل ایک قطعی حقیقت ہے کہ
فرد قائم ربطِ ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
پس اگر آج سے تقریباً چودہ سو سال پہلے مسلمانوں کے لیے جماعتی اور منظم زندگی شریعتِ مطہرہ کی نگاہ میں ایک ضروری اور لازمی چیز تھی تو یقین کیجئے کہ وہ آج بھی مسلمانوں کے لیے اسی طرح لازمی اور ضروری ہے اور تا قیامت لازم ہی رہے گی چاہے مسلمان عرب میں سکونت پذیر ہوں یا عجم میں، امریکہ میں فروکش ہوں یا افریقہ میں، یورپ میں رہتے ہوں یا ایشیا میں، چین میں بستے ہوں یا جاپان میں، مصر میں آباد ہوں یا ایران میں، پاکستان کے باشندے ہوں یا ہندوستان کے، غرضیکہ وہ جہاں بھی رہتے ہوں، اسلامی زندگی اور روحانی اقدار اور کامل اتحاد و اتفاق کے بغیر ان کی کامیابی امرِ محال ہے۔ اگر مسلمانوں نے اس نازک دور میں اس صحیح منزل اور نصب العین کو پیشِ نظر نہ رکھا تو اقوامِ عالم سے متاثر ہو کر ان کے مادی اور انفرادی جذبات ان کی ناک میں نکیل ڈالے انہیں زندگی کی مختلف مگر غلط اور غیر اسلامی شاہراہوں پر اِدھر اُدھر لیے لیے پھریں گی۔ کبھی تو مادی تصورات کی ان حسین مگر مہلک وادیوں میں اور کبھی دنیائے دنی کے ناپائیدار تخیلات کی ان نگاہ فریب اور ہلاکت آفریں مناظر میں وہ مادیت اور مغربیت کے جذبات میں بہہ کر آج کچھ کر دیں گے اور کل کچھ۔ اور جس قسم کا نظریہ اور جذبہ ان کے دل میں موجزن ہو گا اسی قسم کی آواز زبان پر آئے گی۔ نہ تو وہ رہبر کو پہچانیں گے اور نہ راہزن کو اور مطلب پرستی کے غیر سعید بت ان کو خیر خواہ اور بدخواہ میں کوئی فرق نہ بتائیں گے۔
چلتا ہوں تھوڑی دور ہر اک راہرو کے ساتھ
پہچانتا نہیں ہوں ابھی راہبر کو میں
کیا امت مسلمہ کی یہ انتہائی نازک اور ناگفتہ بہ حالت علماء کرام، اربابِ اقتدار اور دردِ دل رکھنے والے مسلمانوں کی توجہ کے لائق نہیں؟ کیا مساجد کی کس مپرسی، نماز روزہ سے لاپروائی اور بہت سے شعائرِ دین سے غفلت حتٰی کہ بعض اصولِ دین اور ضروری عقائد سے عوام کی جہالت اصلاح کی محتاج نہیں؟ کیا خالص توحید اور صحیح سنت سے اکثر مسلمانوں کی بے نیازی اور تعلیم دین سے بے اعتنائی و اعراض مستحق تغیر و تبدّل نہیں؟ کیا اب وہ وقت نہیں کہ مسلمان اپنے تمام اندرونی اور بیرونی، مادی اور فروعی اثرات سے دلوں کو آزاد کر کے اعلائے کلمۃ الحق کے لیے اٹھیں۔ غیروں کے آسرے اور سہارے پر اعتماد کرتے ہوئے نہیں بلکہ خود اپنے پاؤں پر کھڑے ہو کر اٹھیں اور اپنی قوت و طاقت کے بل بوتے پر بھی نہیں بلکہ محض اللہ تعالیٰ کی نصرت اور مدد پر بھروسہ کرتے ہوئے اٹھیں۔ صرف قومیت اور وطنیت کا جذبہ لے کر نہیں بلکہ حزب اللہ اور جند اللہ بن کر اٹھیں اور اپنی جاہ و شوکت اور سلطنت و حکومت کے لیے نہیں بلکہ اعلائے حق اور خالص اسلام کی نشر و اشاعت کے لیے اٹھیں۔ ملک گیری اور ٹھاٹھ باٹھ کی زندگی کے لیے نہیں بلکہ رضائے حق اور شوکتِ اسلام کو اپنی آخری منزل سمجھ کر اٹھیں اور قرآن و سنت کی شمع فروزاں، حق گوئی اور اخلاق فاضلہ کی شمشیر ہاتھ میں لے کر ہر قسم کے فتنہ و فساد اور شر کا قلع قمع کر کے اسلام کو روشن کریں اور اللہ تعالیٰ ہی کے دینِ حق کو نافذ کر کے دم لیں۔
حتٰی لا تکون فتنۃ و یکون الدین کلہ للہ (الانفال ۵)
’’یہاں تک کہ فتنہ یکسر ختم ہو جائے اور دین خالص اللہ تعالیٰ ہی کا (نافذ ہو کر) رہ جائے۔‘‘
جملہ مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اپنی کوشش اور سعی تبلیغِ دین اور اشاعتِ اسلام پر مرتکز کر دیں حتٰی کہ سب گمراہ اور بہکی ہوئی دنیا کا نقشہ ہی بدل جائے اور اس مادی دور کے پیدا کردہ وہ تمام مصائب و تکالیف وہ سب الجھنیں اور غلط طریقے جن کے ناپیدا کنار بھنور میں سب دنیا الجھ کر رہ گئی ہے یکسر ختم ہو جائیں اور خدا تعالیٰ کی بھٹکی ہوئی مخلوق روشنی کے اس عظیم الشان اور بلند مینار سے فائدہ اٹھائے جس کو حبل اللہ کے پیارے الفاظ کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ تمام مسلمانوں کا یہ فریضہ ہے کہ وہ صحیح اسلامی طریقہ اور اسلامی اندازِ فکر کو بروئے کار لا کر اپنے لیے بہتر دینی اور روحانی ماحول اور سازگار فضا پیدا کریں۔ یہ آرزو ہر دردِ دل رکھنے والے مسلمان کے قلبِ مضطر میں موجود ہے کہ دینی اور روحانی، اصلاحی اور تعمیری کاموں میں کوئی ایسا منظم اور ٹھوس مگر زود اثر اور بے لوث لائحہ عمل جلد از جلد مرتب کیا جائے جو خلوص و سچائی، نیکی و استقامت سے مذہب و ملت اور قوم و وطن کی اسلامی اور روحانی بہتری کے لیے تمام نیک عزائم کی کامیابی اور شادمانی کا ضامن ہو سکے اور زندگی کے ہر شعبہ اور پہلو میں دینی اور مذہبی، روحانی اور اخلاقی بیداری کے عام نیک آثار نظر آنے لگیں، اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے کچھ بعید نہیں کہ اسلام کی سربلندی کے لیے وہ بہتر سے بہتر اسباب پیدا کر دے۔ و ما ذَالک علی اللہ بعزیز۔
درگاہِ بے نیاز میں اے درد کیا نہیں
دستِ سوال جانبِ خالق اُٹھا کے دیکھ
پاکستان کے علمی اور اسلامی حلقوں میں اب تک جو مکاتبِ فکر معروف اور موجود رہے ہیں ان میں ڈاکٹر علامہ اقبال مرحوم کے نام سے اب تک کوئی مستقل مکتبِ فکر سنا اور پایا نہیں گیا۔ ہمارے معلومات کے مطابق پاکستان میں کوئی مکتبِ فکر یا فرقہ ڈاکٹر اقبال کے نام سے موجود نہیں، نہ ڈاکٹر صاحب مرحوم نے کبھی کسی مستقل دینی قیادت کا دعوٰی کیا، نہ انہوں نے اس پر دانشوروں کی کوئی جماعت بنائی۔ اب جبکہ انہیں ہم سے جدا ہوئے نصف صدی سے زیادہ عرصہ ہو رہا ہے ان کے نام سے ایک مستقل مکتبِ فکر کی دریافت یا ڈاکٹر صاحب مرحوم کا بطور مجتہد مطلق کے تعارف واقعی اس دور کے اہلِ علم کے لیے ایک نیا باب ہو گا۔پاکستان میں جب کبھی نفاذِ اسلام یا شریعت بل کی بات اٹھتی ہے بعض طبقے اس کی روک تھام میں کوئی نہ کوئی نئی بات سامنے لے آتے ہیں تاکہ قارئین اور دانشوروں کا ذہن خود قانون میں ہی الجھ کر رہ جائے اور قوم کسی وقت کسی واضح لائحہ عمل پر کھڑی نظر نہ آ سکے۔ پاکستان کو وجود میں آئے ایک طویل مدت ہو چکی ہے اور ہم ابھی تک یہ طے نہیں کر سکے کہ اسلام ہے کیا اور اس کی قانونی تشکیل کس طرح ہو سکے گی۔ جو قوم ہر وقت نظریات میں ہی الجھی رہی اس پر عمل کا وقت کب آئے گا اس کی عملی صورت بہرحال آپ سب کے سامنے ہے۔
روزنامہ جنگ کی ۲۶، ۲۷ اور ۲۹ جولائی کی اشاعتوں میں جناب ڈاکٹر محمد یوسف گورایہ کا ایک مضمون علامہ اقبال کا مکتب فکر کے نام سے تین قسطوں میں شائع ہوا ہے۔ ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ گورایہ صاحب بھی انہی دانشوروں میں ہیں جن کا ذہن اسلام کی قانونی تشکیل میں ابھی تک الجھا ہوا ہے لیکن یہ کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے اپنی بات یا تشکیک پیدا کرنے میں ڈاکٹر اقبال مرحوم کا سہارا ضرور لیا ہے۔ بات کچھ بھی نہ ہو لیکن کسی بڑے آدمی کا نام لینے سے بات لائقِ سماعت ضرور ہو جاتی ہے اور لوگ اس پر غور کرنے لگتے ہیں۔
سوال یہ نہیں کہ ڈاکٹر اقبال مرحوم نے اپنا کوئی مستقل مکتبِ فکر قائم کیا ہے یا نہیں، اس پر ہم کچھ بعد میں عرض کریں گے۔ ہمارا پہلا سوال یہ ہے کہ ڈاکٹر گورایہ صاحب اس وقت کیا کہنا چاہتے ہیں؟ وہ قوم کا ذہن کدھر لے جانا چاہتے ہیں؟ اسلام کی قانونی تشکیل میں مزید الجھاؤ کی طرف یا ان کے ذہن میں اس کی کوئی عملی صورت موجود ہے جسے وہ سمجھتے ہوں کہ جمہور مسلمان اسے قبول کر لیں گے اور اپنے مکاتب فکر کو یکسر چھوڑ دیں گے اور پھر پاکستان ایک مضبوط اسلامی مملکت بن جائے گا۔ ڈاکٹر گورایہ صاحب کے ذہن میں پاکستان کے لیے اگر کوئی ایسا خاکۂ عمل ہو اور اس پر قوم کے اتفاق کے امکانات بھی برابر روشن ہوں تو گورایہ صاحب کی یہ پیشکش واقعی امت کے لیے ایک احسانِ عظیم ہو گا۔ اور اس کی یہی صورت ہونی چاہیے کہ پہلے آپ وہ راہِ عمل بتائیں اور اس کے بعد اس کی تائید میں دلائل و نظریات پیش کریں۔ دعوٰی اور دلیل میں کچھ تو فاصلہ چاہیے، دعوٰی کو دلائل کے ساتھ ملا کر بیان کرنا نتیجہ نکالنے میں آسانی پیدا نہیں کرتا۔
اب دوسرے سوال کی طرف آئیے کہ ڈاکٹر اقبال نے کبھی اپنے آپ کو کسی خاص مکتبِ فکر کے قائد کے طور پر متعارف کرایا ہے؟ یا ان کے پیشِ نظر صرف بات کہہ دینا ہی رہا ہے اور عملی طور پر انہوں نے نہ کوئی جماعت بنائی، نہ اپنے آپ کو کبھی مجتہد مطلق کے منصب پر بٹھایا اور نہ وقت کی کسی دیگر دینی قیادت سے ٹکر لی؟ ہاں آپ نے کبھی اسے جھنجھوڑا اور اسلامی قومیت کے لیے ابھارا ضرور ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ واقعی کسی مستقل مکتبِ فکر کے بانی تھے۔ آپ نے اگر کہا
اے گفتار ابوبکر و علی ہشیار باش
تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ سنی مسلمان نہ تھے، یا حضرت ابوبکر صدیقؓ کی خلافت کو خلافتِ راشدہ نہ سمجھتے تھے۔ اسی طرح آپ نے جب کہا
سازِ عشرت کی صدا مغرب کے ایوانوں سے سن
اور ایراں میں ذرا ماتم کی تیاری بھی دیکھ
تو اس کا مطلب بھی یہ نہ لینا چاہیے کہ آپ مسلمانوں کی موجودہ پریشانیوں اور نکبتوں کا سبب صرف شیعہ کے ماتمی جلوسوں کو ہی سمجھتے ہیں اور مغرب آج اگر عروج پر ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ عیسائیوں میں شیعہ کی طرح کوئی مستقل عزادار گروہ نہیں ہے جو ہر سال حضرت مسیحؑ کے صلیب پر چڑھنے کی عزاداری میں جلوس نکالتا ہو۔ حاشا و کلّا ڈاکٹر صاحب کی یہ مراد ہرگز نہیں۔ آپ ایک قومی رہنما کی حیثیت سے قوم کو ایک اعتدال پر لانا چاہتے ہیں اور کہنا چاہتے ہیں کہ اپنی اپنی راہ پر رہتے ہوئے ہمیں متوازی حالات اور نظریات کو بھی سامنے رکھنا چاہیے اور اختلافِ مسلک ہمارے قومی استحکام میں رکاوٹ نہ بننا چاہیے۔ ایک قومی مفکر ہونے کی حیثیت سے آپ کو یہی کچھ کہنا چاہیے تھا۔
بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے نام کے ساتھ ڈاکٹر اقبال کا نام بطور نقاشِ پاکستان آتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے مسلمانوں کی ایک اسلامی قومیت کا راگ جس دلآویز رنگ میں گایا ہے وہ پورے عالمِ اسلام کا مشترکہ فکری سرمایہ ہے لیکن اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ڈاکٹر صاحب مرحوم نے اپنے آپ کو کسی داعی کے طور پر پیش نہیں کیا۔ آپ اپنے آپ کو ہمیشہ دوسرے مسلمانوں کا ہی ایک حصہ سمجھتے رہے ہیں، آپ نے اپنے ہاں کبھی اور کہیں اصلی اور نسلی اسلام کی سرحدیں قائم نہیں کیں۔
یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ آپ بڑے شاعر شاعر نہ تھے، شعر و ادب تو آپ کا صرف پیمانۂ ادا تھا۔ آپ مسلمان بھی تھے اور بڑے دردمند اور حساس مسلمان تھے۔ آپ مفکر بھی تھے اور قوموں کے عروج و زوال پر آپ کی نظر بہت گہری تھی۔ قیامِ انگلستان کے دوران آپ نے مغربی تہذیب کو معرضِ زوال میں دیکھا تو آپ نے چاہا کہ جس طرح بھی بن پڑے اب اسلام ان کے سامنے پیش کیا جائے۔ یہ لوگ اپنی تہذیب سے تنگ آئے ہوئے ہیں، ہو سکتا ہے کہ اب یہ فطرت کو پہچانیں اور اسلام ان مغربی قوموں کے لیے کسی طرح لائق قبول ہو جائے۔ آپ نے ان کے مفکرین اور پھر نفسِ مذہب کے منکرین پر کاری ضرب لگائی۔ وکیل اپنا مقدمہ جیتنے کے لیے ہر طرح کے دلائل پیش کرتا ہے، اس کے پیشِ نظر صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ عدالت کو کس طرح متاثر کر سکتا ہے، قانون کا محض علمی اور فکری پھیلاؤ اس وقت اس کا موضوع نہیں ہوتا۔ ڈاکٹر صاحب مرحوم نے ایک فلسفی اور مفکر کی حیثیت سے مغربی قوموں کی سوچ پر کڑی تنقید کی ہے اور انہیں بہت حد تک اسلامی فکر سے متاثر کیا ہے۔
اگر ہوتا وہ مجذوب فرنگی اس زمانے میں
تو اقبال اس کو سمجھاتا رموزِ کبریا کیا ہے
اگر اقبال کسی مستقل مکتبِ فکر کا بانی ہوتا تو قائد اعظم محمد علی جناح پاکستان کی اساس اس کی فکر پر رکھتے۔ آپ سے جب کبھی پوچھا گیا کہ پاکستان کا دستورِ ریاست کیا ہو گا آپ نے قرآن بتلایا اور تحریک کا مذہبی رخ واضح کرنے کے لیے شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانیؒ کو ساتھ لیا۔ ڈاکٹر اقبال اور قائد اعظم میں قومی فکری مسائل پر طویل خط و کتابت بھی رہی لیکن ہم اس میں کہیں دیکھ نہیں پاتے کہ ڈاکٹر صاحب نے اپنے آپ کو کسی مستقل مکتب فکر کا بانی کہا ہو۔ آپ نے اپنے خطبات میں جن اصولِ شریعت اور فقہی امور پر بحث کی ہے وہ مغربی اور مشرقی سوچ میں ہم آہنگی پیدا کرنے اور انہیں اپنے قریب کرنے کی ایک فکری سوچ ہے۔ ان کی روشنی میں ڈاکٹر اقبال کے اپنے مسلک کی تعیین ایک سطحی فکر ہو گی۔ ڈاکٹر اقبال اگر یہاں (برصغیر پاک و ہند) کے مسلمانوں کو کوئی راہ دکھانا چاہتے یا یہاں کی دینی قیادت پر تنقید کرتے تو ظاہر ہے اردو آپ کی اپنی زبان تھی، کیا ضرورت پڑی تھی کہ آپ اپنے خطبات انگریزی میں لکھتے۔ علامہ مشرقی ایک اپنی فکر کے بانی تھے، انہوں نے برصغیر کی دینی قوت کو للکارا تو باوجودیکہ آپ انگریزی میں بات بہتر کہہ سکتے تھے آپ نے اپنے مضمون اردو زبان میں لکھے اور یہی مقتضائے حال تھا۔ ڈاکٹر اقبال بھی اگر اسی پوزیشن میں ہوتے تو برصغیر کی دینی قیادت کا اس درجہ احترام کبھی نہ کرتے جیسا کہ ان کے حالات میں ملتا ہے، اور آپ اپنے فکری اور فقہی خطبات پہلے اردو میں پیش کرتے۔
دیوبند کے شہرۂ آفاق محدّث مولانا انور شاہ صاحب جب لاہور آئے تو ڈاکٹر صاحب نے انہیں اپنے ہاں ٹھہرایا تھا اور کئی دنوں تک ان سے اسلام کے فکری اور قانونی مسائل پر استفادہ کرتے رہے۔ ڈاکٹر صاحب نے کسی مرحلے پر اپنے آپ کو کسی مستقل مکتبِ فکر کا نمائندہ نہیں کہا۔ انجمن خدام الدین لاہور کے سالانہ جلسہ میں شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانیؒ کی تقریر آپ بڑے اہتمام سے سنتے۔ اور جب انہیں پتہ چلا کہ شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنیؒ کی طرف ملّت کے وطن سے بننے کی بات غلط منسوب ہوئی ہے تو آپ نے کہا کہ اب میں آپ کے معتقدین سے عقیدت میں کسی سے پیچھے نہیں ہوں۔ کیا ایسی بات وہ شخص کہہ سکتا ہے جو خود ایک مستقل دینی قیادت کا داعی ہو؟ کیا اس سے وقت کی دیگر دینی قیادتوں کا احترام اس درجہ میں پایا جا سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔
اگر آپ اس پس منظر میں ڈاکٹر صاحب کے اس خطبہ کو لیں جس سے ڈاکٹر گورایہ صاحب نے اپنے مضمون میں استناد کیا ہے تو یہ بات کھل کر آپ کے سامنے آ جائے گی کہ آپ اس علمی پیشکش میں اقوامِ مغرب اور فلسفہ زدہ طبقے کو روایتی اسلام کے قریب کر رہے ہیں، نہ کہ خود مفسر اور محدث بننے اور قوم کو وقت کی دیگر دینی قیادتوں سے دور ہٹانے کے لیے میدانِ عمل میں آئے ہوئے ہیں۔
سینٹ آف پاکستان میں مولانا سمیع الحق اور مولانا قاضی عبد اللطیف کی طرف سے پیش کردہ شریعت بل کے بارے میں سینٹ نے ایک خصوصی کمیٹی قائم کی تھی جس نے ملک کے تمام مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام اور راہنماؤں سے مشاورت اور بل کے تمام نکات پر تفصیل بحث و تمحیص کے بعد اس کا مندرجہ ذیل مسودہ سینٹ کے ایوان میں پیش کر دیا ہے۔ (ادارہ)
ہر گاہ کہ قراردادِ مقاصد کو، جو پاکستان میں شریعت کو بالادستی عطا کرتی ہے، دستور اسلامی جمہوریہ پاکستان ۱۹۷۳ء کے مستقل حصے کی حیثیت سے شامل کر لیا گیا ہے۔ اور ہر گاہ کہ مذکورہ قراردادِ مقاصد کے اغراض کو بروئے کار لانے کے لیے ضروری ہے کہ شریعت کے فی الفور نفاذ کو یقینی بنایا جائے۔ لہٰذا حسبِ ذیل قانون بنایا جاتا ہے۔
(۱) مختصر عنوان، وسعت اور آغاز نفاذ
(۱) — یہ ایکٹ نفاذِ شریعت ایکٹ ۱۹۸۹ء کے نام سے موسوم ہو گا۔
(۲) — یہ پورے پاکستان پر وسعت پذیر ہو گا۔
(۳) — یہ فی الفور نافذ العمل ہو گا۔
(۴) — اس میں شامل کسی امر کا اطلاق غیر مسلموں کے شخصی قوانین پر نہیں ہو گا۔
(۲) تعریفات
اس ایکٹ میں، تاوقتیکہ متن سے اس سے مختلف مطلوب ہو، مندرجہ ذیل عبارات سے وہ مفہوم مراد ہے جو یہاں ترتیب وار دیا گیا ہے۔
(الف) ’’حکومت‘‘ سے مراد
(اول) — کسی ایسے معاملے سے متعلق جسے دستور میں وفاقی قانون سازی کی فہرست، یا مشترکہ قانون سازی کی فہرست میں شمار کیا گیا ہو، یا کسی ایسے معاملے کے بارے میں جس کا تعلق ’’وفاق‘‘ سے ہو ’’وفاقی حکومت‘‘ ہے، اور
(دوم) — کسی ایسے معاملے سے متعلق جسے مذکورہ فہرستوں میں سے کسی ایک میں شمار نہ کیا گیا ہو، یا کسی ایسے معاملے کے بارے میں جس کا تعلق صوبے سے ہو ’’صوبائی حکومت‘‘ ہے۔
(ب) ’’شریعت‘‘ سے مراد وہ احکامِ اسلام ہیں جو قرآن و سنت سے ثابت ہیں
تشریح: شریعت کی تفسیر و تعبیر قرآن پاک اور سنت کی تفسیر و تعبیر کے مسلّمہ قواعد کے مطابق ہو گی۔ شریعت کے چار ماخذ ہیں: قرآن، سنت، اجماع اور قیاس۔
(ج) ’’عدالت‘‘
عدالت سے کسی عدالتِ عالیہ کے ماتحت کوئی عدالت مراد ہے۔ اس میں وہ ٹربیونل یا مقتدرہ شامل ہے جسے فی الوقت نافذ العمل کسی قانون کی رو سے یا اس کے تحت قائم کیا گیا ہو۔
(د) ’’قراردادِ مقاصد‘‘
’’قراردادِ مقاصد‘‘ سے مراد وہ قرارداد مقاصد ہے جس کا حوالہ دستور کے آرٹیکل ۲ (الف) میں دیا گیا ہے اور جس کو دستور کے ضمیمے میں درج کیا گیا ہے۔
(ذ) ’’مقررہ‘‘
’’مقررہ‘‘ سے مراد اس ایکٹ کے تحت مقررہ قواعد ہیں۔
(و) ’’مستند دینی مدرسہ‘‘
’’مستند دینی مدرسہ‘‘ سے مراد وہ دینی مدرسہ ہے جسے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن یا حکومت قواعد کے مطابق تسلیم کرتی ہو۔
(ھ) ’’مفتی‘‘
’’مفتی‘‘ سے مراد شریعت سے کماحقہ واقف وہ مسلمان عالم ہے جو کسی باقاعدہ دینی مدرسہ کا سند یافتہ اور تخصیص فی الفقہ کی سند حاصل کر چکا ہو اور پانچ سال کی مستند دینی مدرسہ میں علوم اسلامی کی تدریس یا افتاء کا تجربہ رکھتا ہو، یا جو دس سال تک کسی مستند دینی مدرسے میں علوم اسلامی کی تدریس یا افتاء کا تجربہ رکھتا ہو اور جسے اس قانون کے تحت شریعت کی تشریح اور تعبیر کرنے کے لیے عدالتِ عظمٰی، کسی عدالتِ عالیہ یا وفاقی شرعی عدالت کی امانت کے لیے مقرر کیا گیا ہو۔
(۳) شریعت کی بالادستی
شریعت پاکستان کا اعلیٰ ترین قانون ہو گی اور اسے مذکورہ ذیل طریقے سے نافذ کیا جائے گا اور کسی دیگر قانون، رواج یا دستور العمل میں شامل کسی امر کے علی الرغم مؤثر ہو گی۔
(۴) عدالتیں شریعت کے مطابق مقدمات کا فیصلہ کریں گی
(۱) — اگر کسی عدالت کے سامنے یہ سوال اٹھایا جائے کہ کوئی قانون یا قانون کا کوئی حکم شریعت کے منافی ہے تو عدالت، اگر اسے اطمینان ہو کہ سوال غور طلب ہے، ایسے معاملات کی نسبت جو دستور کے تحت وفاقی شرعی عدالت کے اختیارِ سماعت کے اندر آتے ہوں وفاقی شرعی عدالت سے استصواب کرے گی اور مذکورہ عدالت مقدمہ کا ریکارڈ طلب کر سکے گی اور اس کا جائزہ لے سکے گی اور امرِ تنقیح طلب کا ساٹھ دن کے اندر اندر فیصلہ کرے گی۔
مگر شرط یہ ہے کہ اگر سوال مسلم شخصی قانون، کسی عدالت یا ٹربیونل کے ضابطہ کار سے متعلق کسی قانون کسی مالی قانون یا ممحصولات یا فیسوں کے عائد کرنے اور وصول کرنے یا بنکاری یا بیمہ کے عمل و طریقہ کار سے متعلق کسی قانون کے بارے میں ہو تو عدالت امرِ تنقیح طلب کو عدالتِ عالیہ کے حوالے کر دے گی جو اس کا ساٹھ دن کے اندر اندر فیصلہ کرے گی۔
مزید شرط یہ ہے کہ عدالت کسی ایسے قانون یا قانون کے حکم کی نسبت اس کے شریعت کے منافی ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں کسی سوال پر غور نہیں کرے گی جس کا وفاقی شرعی عدالت یا عدالت عظمیٰ کی شرعی مرافعہ بنچ پہلے ہی جازہ لے چکی ہو اور اس کے شریعت کے منافی نہ ہونے کا فیصلہ کر چکی ہو۔
(۲) — ذیلی دفعہ (۱) کا دوسرا فقرہ شرطیہ وفاقی شرعی عدالت یا عدالت عظمٰی کی شرعی مرافعہ بنچ کی جانب سے دیے گئے کسی فیصلے یا صادر کسی حکم پر نظرثانی کرنے کے اختیار پر اثرانداز نہیں ہو گا۔
(۳) — عدالت عالیہ، خود اپنی تحریک پر یا پاکستان کے کسی شہری یا وفاقی حکومت یا کسی صوبائی حکومت کی درخواست پر یا ذیلی دفعہ (۱) کے پہلے فقرہ شرطیہ کے تحت اس سے کیے گئے کسی استصواب پر، اس سوال کا جائزہ لے گی اور فیصلہ کر سکے گی کہ آیا کوئی مسلم شخصی قانون، کسی عدالت یا ٹربیونل کے ضابطہ کار سے متعلق کوئی قانون، کوئی مالی قانون، یا محصولات اور فیسوں کے عائد کرنے اور وصول کرنے یا بنکاری یا بیمہ کے عمل و طریقہ کار سے متعلق کوئی قانون، یا مذکورہ قانون کا کوئی حکم شریعت کے منافی ہے یا نہیں۔ مگر شرط یہ ہے کہ سوال کا جائزہ لیتے ہوئے عدالتِ عالیہ توضیح طلب سوال سے متعلقہ شعبہ کا تخصیصی ادراک رکھنے والے ماہرین میں سے، جن کو وہ مناسب سمجھے، کو طلب کرے اور ان کے نقطۂ نظر کی سماعت کرے گی۔
(۴) — جبکہ عدالتِ عالیہ ذیلی دفعہ (۳) کے تحت کسی قانون یا قانون کے حکم کا جائزہ لینا شروع کرے اور اسے ایسا قانون یا قانون کا حکم شریعت کے منافی معلوم ہو تو عدالتِ عالیہ ایسے قانون کی صورت میں جو دستور میں وفاقی فہرست قانون سازی یا مشترکہ فہرست قانون سازی میں شامل کسی معاملے سے متعلق ہو وفاقی حکومت کو، یا کسی ایسے معاملے سے متعلق کسی قانون کی صورت میں جو ان فہرستوں میں سے کسی ایک میں بھی شامل نہ ہو صوبائی حکومت کو ایک نوٹس دے گی جس میں ان خاص احکام کی صراحت ہو گی جو اسے بایں طور پر منافی معلوم ہوں، اور مذکورہ حکومت کو اپنا نقطۂ نظر عدالتِ عالیہ کے سامنے پیش کرنے کے لیے مناسب موقع دے گی۔
(۵) — اگر عدالتِ عالیہ فیصلہ کرے کہ کوئی قانون یا قانون کا کوئی حکم شریعت کے منافی ہے تو وہ اپنے فیصلے میں حسب ذیل بیان کرے گی۔
(الف) اس کی مذکورہ رائے قائم کرنے کی وجوہ،
(ب) وہ حد جہاں تک ایسا قانون یا حکم بایں طور پر منافی ہے، اور
(ج) اس تاریخ کا تعین جس پر وہ فیصلہ نافذ العمل ہو گا۔
مگر شرط یہ ہے کہ ایسا کوئی فیصلہ اس میعاد کے گزرنے سے پہلے جس کے اندر عدالتِ عظمٰی میں اس کے خلاف اپیل داخل ہو سکتی ہو، یا جبکہ اپیل بایں طور پر داخل کر دی گئی ہو، اس اپیل کے فیصلے سے پہلے نافذ العمل نہیں ہو گا۔
مزید شرط یہ ہے کہ کسی مالی قانون یا محصولات اور فیسوں کے عائد کرنے اور وصول کرنے یا بنکاری یا بیمہ کے عمل و طریقہ کار سے متعلق کسی قانون کے بارے میں عدالتِ عالیہ کا فیصلہ اس فیصلے کی تاریخ سے چھ ماہ کی مدت ختم ہونے تک نافذ العمل نہیں ہو گا۔
مزید شرط یہ ہے کہ عدالتِ عالیہ، وفاقی حکومت یا کسی صوبائی حکومت کی درخواست پر جس میں فیصلہ کی تعمیل نہ کرنے کی معقول وجہ ظاہر کی گئی ہو، اس مدت میں اتنے عرصے کی توسیع کر سکے گی جو تین ماہ سے زیادہ نہ ہو۔
(۶) — عدالتِ عالیہ کو اس دفعہ کے تحت اپنے دیے ہوئے کسی فیصلے یا صادر کردہ کسی حکم پر نظرثانی کرنے کا اختیار ہو گا۔
(۷) — اس دفعہ کی رو سے عدالتِ عالیہ کو عطا کردہ اختیار سماعت کو کم از کم تین ججوں کی کوئی بنچ استعمال کرے گی۔
(۸) — اگر ذیلی دفعہ (۱) یا ذیلی دفعہ (۲) میں محولہ کوئی سوال عدالتِ عالیہ کی یک رکنی بنچ یا دو رکنی بنچ کے سامنے اٹھے تو اسے کم از کم تین ججوں کی بنچ کے حوالے کیا جائے گا۔
(۹) — اس دفعہ کے تحت کسی کارروائی میں عدالتِ عالیہ کے قطعی فیصلے سے ناراض کوئی فریق مذکورہ فیصلے سے ساٹھ دن کے اندر عدالتِ عظمٰی میں اپیل داخل کر سکے گا۔ مگر شرط یہ ہے کہ وفاق یا کسی صوبے کی طرف سے اپیل مذکورہ فیصلے کے چھ ماہ کے اندر داخل کی جا سکے گی۔
(۱۰) — اس قانون میں شامل کوئی امر یا اس کے تحت کوئی فیصلہ اس قانون کے آغازِ نفاذ سے قبل کسی عدالت یا ٹربیونل یا مقتدرہ کی طرف سے کسی قانون کے تحت دی گئی سزاؤں، دیے گئے احکام یا سنائے ہوئے فیصلوں، منظور شدہ ڈگریوں، ذمہ کیے گئے واجبات، حاصل شدہ حقوق، کی گئی تشخصیات، وصول شدہ رقوم یا اعلان کردہ قابلِ ادا رقوم پر اثر انداز نہیں ہو گا۔
تشریح: اس ذیلی دفعہ کی غرض کے لیے ’’عدالت‘‘ یا ’’ٹربیونل‘‘ سے مراد اس قانون سے آغازِ نفاذ سے قبل کسی وقت کی قانون یا دستور کی رو سے یا اس کے تحت قائم شدہ کوئی عدالت یا ٹربیونل ہو گی، اور لفظ ’’مقتدرہ‘‘ سے مراد فی الوقت نافذ العمل کسی قانون کے تحت قائم شدہ کوئی مقتدرہ ہو گی۔
(۱۱) — کوئی عدالت یا ٹربیونل بشمول عدالتِ عالیہ کسی زیرِ سماعت یا اس قانون کے آغازِ نفاذ کے بعد شروع کی گئی کسی کارروائی کو محض اس بنا پر موقوف یا ملتوی نہیں کرے گی کہ یہ سوال کہ آیا کوئی قانون یا قانون کا حکم شریعت کے منافی ہے یا نہیں عدالتِ عالیہ یا وفاقی شرعی عدالت کے سپرد کیا گیا ہے، یا یہ کہ عدالتِ عالیہ نے اس سوال کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے اور ایسی کارروائی جاری رہے گی اور اس میں امر دریافت طلب کا فیصلہ فی الوقت نافذ العمل قانون کے مطابق کیا جائے گا۔ بشرطیکہ عدالتِ عالیہ ابتدائی سماعت کے بعد یہ فیصلہ نہ دے دے کہ زیرسماعت مقدمات کو عدالت کے فیصلے تک روک دیا جائے۔
(۵) شریعت کے خلاف احکامات دینے پر پابندی
انتظامیہ کا کوئی بھی فرد بشمول صدر مملکت، وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ شریعت کے خلاف کوئی حکم نہیں دے سکے گا، اور اگر ایسا کوئی حکم دے دیا گیا ہو تو اسے عدالتِ عالیہ میں چیلنج کیا جا سکے گا۔
(۶) عدلتی عمل اور احتساب
حکومت کے تمام عمّال دستور کے تابع رہتے ہوئے اسلامی نظامِ انصاف کے پابند ہوں گے اور شریعت کے مطابق عدالتی احتساب سے بالاتر نہیں ہوں گے۔
(۷) علماء کو جج اور معاونینِ عدالت مقرر کیا جا سکے گا
(۱) — ایسے تجربہ کار اور مستند علماء جو اس قانون کے تحت مفتی مقرر کیے جانے کے اہل ہوں، عدالتوں کے ججوں اور معاونینِ عدالت کے طور پر مقرر کیے جانے کے بھی اہل ہوں گے۔
(۲) — ایسے اشخاص جو پاکستان یا بیرون ملک اس مقصد کے لیے متعلقہ حکومت کے تسلیم شدہ اسلامی علوم کے معروف اداروں اور مستند دینی مدارس سے شریعت کا راسخ علم رکھتے ہوں، فی الوقت نافذ العمل کسی دیگر قانون میں شامل کسی امر کے باوجود، شریعت کی تشریح اور تعبیر کے لیے عدالت کے سامنے اس مقصد کے لیے وضع کیے جانے والے قواعد کے مطابق پیش ہونے کے اہل ہوں گے۔
(۳) — صدر، چیف جسٹس عدالت عالیہ کے مشورے سے ذیلی دفعہ (۱) کی غرض کے لیے قواعد مرتب کرے گا جن میں ججوں اور عدالتوں میں معاونینِ عدالت کی حیثیت سے تقرر کے لیے مطلوبہ اہلیت اور تجربہ کی وضاحت ہو گی۔
(۴) — ایسے اشخاص جو بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد یا کسی دیگر یونیورسٹی سے قانون اور شریعت میں گریجویٹ یا پوسٹ گریجویٹ ڈگریاں رکھتے ہوں، فی الوقت نافذ العمل کسی دیگر قانون میں شامل کسی امر کے باوجود، اس غرض کے لیے حکومت کے وضع کردہ قواعد کے مطابق ایڈووکیٹ کی حیثیت سے اندراج کے اہل ہوں گے۔
(۵) — اس دفعہ کے احکام کسی طور پر بھی قانون پیشہ اشخاص اور مجالس وکلاء سے متعلق قانون کے تحت اندراج شدہ وکلاء کے مختلف عدالتوں، ٹربیونلوں اور دیگر مقتدرات بشمول عدالت عظمٰی کسی عدالت عالیہ یا وفاقی شرعی عدالت میں پیش ہونے کے حق پر اثر انداز نہیں ہوں گے۔
(۸) مفتیوں کا تقرر
(۱) — صدر، چیف جسٹس پاکستان یا چیف جسٹس وفاقی عدالت اور چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل کے مشورہ سے، جس طرح وہ مناسب تصور کرے، ایسے اور اتنے مفتیوں کا تقرر کرے گا جو عدالت عظمٰی، عدالت عالیہ اور وفاقی شرعی عدالت کی شریعت کے احکام کی تعبیر و تشریح میں اعانت کے لیے مطلوب ہوں۔
(۲) — ذیلی دفعہ (۱) کے تحت مقرر کردہ کوئی مفتی صدر کی رضامندی کے دوران اپنے عہدہ پر فائز رہے گا اور اس کا عہدہ فی الوقت کسی نائب اٹارنی جنرل برائے پاکستان کے برابر ہو گا۔
(۳) — مفتی کا یہ فرض ہو گا کہ وہ حکومت کو ایسے قانونی امور کے بارے میں، جن پر شریعت کی تشریح و تعبیر درکار ہو، مشورہ دے۔ اور ایسے دیگر فرائض انجام دے جو حکومت کی طرف سے اس کے سپرد یا اس کو تفویض کیے جائیں، اور اسے حق حاصل ہو گا کہ اپنے فرائض کی بجا آوری میں عدالتِ عظمٰی اور عدالتِ عالیہ میں، جب کہ وہ اس قانون کے تحت اختیارِ سماعت استعمال کر رہی ہوں، اور وفاقی شرعی عدالت میں سماعت کے لیے پیش ہو۔
(۴) — کوئی مفتی کسی فریق کی وکالت نہیں کرے گا بلکہ کارروائی سے متعلق اپنی دانست کے مطابق شریعت کے حکم بیان کرے گا، اس کی توضیح، تشریح و تعبیر کرے گا اور شریعت کی تشریح کے بارے میں اپنا تحریری بیان عدالت میں پیش کرے گا۔
(۵) — حکومتِ پاکستان کی وزارتِ قانون و انصاف مفتیوں کے بارے میں انتظامی امور کی ذمہ دار ہو گی۔
(۹) شریعت کی تدریس و تربیت
(۱) — مملکت، اسلامی قانون کے مختلف شعبوں میں تعلیم و تربیت کے لیے مؤثر انتظامات کرے گی تاکہ شریعت کے مطابق نظامِ عدل کے لیے تربیت یافتہ افراد دستیاب ہو سکیں۔
(۲) — مملکت، ماتحت عدلیہ کے ارکان کے لیے وفاقی جوڈیشیل اکادمی اسلام آباد اور اس طرح کے دیگر اداروں میں شریعت اور اسلامی فقہ کی تدریس و تربیت نیز باقاعدہ وقفوں سے تجدیدی پروگراموں کے انعقاد کے لیے مؤثر انتظامات کرے گی۔
(۳) — مملکت، پاکستان کے لاء کالجوں میں فقہ اور اصولِ فقہ کے جامع اسباق کو نصاب میں شامل کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔
(۱۰) معیشت کو اسلامی بنانا
(۱) — مملکت اس امر کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرے گی کہ پاکستان کے معاشی نظام کی تعمیر اجتماعی عدل کے اسلامی معاشی اصولوں، اقدار اور ترجیحات کی بنیاد پر کی جائے، اور دولت کمانے کے ان تمام ذرائع پر پابندی ہو جو خلافِ شریعت ہیں۔
(۲) — صدر، اس قانون کے آغازِ نفاذ کے ساٹھ دن کے اندر ایک مستقل کمیشن مقرر کرے گا جو ماہرینِ معاشیات، علماء اور منتخب نمائندگان پارلیمنٹ پر مشتمل ہو گا جن کو وہ موزوں تصور کرے اور ان میں سے ایک کو اس کا چیئرمین مقرر کرے گا۔
(۳) — کمیشن کے چیئرمین کو حسبِ ضرورت مشیر مقرر کرنے کا اختیار ہو گا۔
(۴) — کمیشن کے کارہائے منصبی حسب ذیل ہوں گے:
(الف) معیشت کو اسلامی بنانے کے عمل کی نگرانی کرنا اور عدمِ تعمیل کے معاملات وفاقی حکومت کے علم میں لانا۔
(ب) کسی مالیاتی قانون یا محصولات اور فیسوں کے عائد کرنے اور وصول کرنے سے متعلق کسی قانون یا بنکاری اور بیمہ کے عمل اور طریقہ کار کو اسلام سے ہم آہنگ کرنے کے لیے سفارش کرنا۔
(ج) دستور کے آرٹیکل ۳۸ کی روشنی میں عوام کی سماجی اور معاشی فلاح و بہبود کے حصول کے لیے پاکستان کے معاشی نظام میں تبدیلیوں کی سفارش کرنا، اور
(د) ایسے طریقے اور اقدامات تجویز کرنا جن میں ایسے موزوں متبادلات شامل ہوں جن کے ذریعے وہ نظامِ معیشت نافذ کیا جا سکے جسے اسلام نے پیش کیا ہے۔
(۵) — کمیشن کی سفارش پر مشتمل ایک جامع رپورٹ اس کے تقرر کی تاریخ سے ایک سال کی مدت کے اندر وفاقی حکومت کو پیش کی جائے گی اور اس کے بعد کمیشن حسبِ ضرورت وقتاً فوقتاً اپنی رپورٹیں پیش کرتا رہے گا۔ البتہ سال میں کم از کم ایک رپورٹ پیش کرنا لازمی ہو گا۔ کمیشن کی رپورٹ حکومت کو موصول ہونے کے ۳ ماہ کے اندر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں اور تمام صوبائی اسمبلیوں کے سامنے بحث کے لیے پیش کی جائے گی۔
(۶) — کمیشن کو ہر لحاظ سے، جس طرح وہ مناسب تصور کرے، اپنی کارروائی کے انصرام اور اپنے طریقہ کار کے انضباط کا اختیار ہو گا۔
(۷) — جملہ انتظامی مقتدرات، ادارے اور مقامی حکام کمیشن کی اعانت کریں گے۔
(۸) — وزارتِ خزانہ حکومتِ پاکستان اس کمیشن سے متعلق انتظامی امور کی ذمہ دار ہو گی۔
(۱۱) ذرائع ابلاغ عامہ اسلامی اقدار کو فروغ دیں گے
تمام ذرائع ابلاغ کو خلافِ شریعت پروگراموں، فواحش اور منکرات سے پاک کیا جائے گا اور مملکت کی طرف سے ایسے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے تاکہ ذرائع ابلاغ عامہ سے اسلامی اقدار کو فروغ ملے۔
(۱۲) تعلیم کو اسلامی بنانا
(۱) — مملکت اسلامی معاشرہ کی حیثیت سے جامع اور متوازن ترقی کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی تاکہ اس امر کو یقینی بنایا جا سکے کہ پاکستان کے نظامِ تعلیم و تدریس کی اساس اسلامی اقدار پر ہو۔
(۲) — صدر مملکت اس قانون کے آغازِ نفاذ سے ساٹھ دن کے اندر تعلیم اور ذرائع ابلاغ کو اسلامی سانچہ میں ڈھالنے کے لیے ایک کمیشن مقرر کرے گا جو ماہرینِ تعلیم، ماہرینِ ابلاغِ عامہ، علماء اور منتخب نمائندگان پارلیمنٹ پر مشتمل ہو گا، جن کو وہ موزوں تصور کرے، اور ان میں سے ایک کو اس کا چیئرمین مقرر کرے گا۔
(۳) — کمیشن کے چیئرمین کو حسبِ ضرورت مشیر مقرر کرنے کا اختیار ہو گا۔
(۴) — کمیشن کے کارہائے منصبی یہ ہوں گے:
(الف) دفعہ ۱۱ اور اس دفعہ کی ذیلی دفعہ (۱) میں متذکرہ مقصد کے حصول کے لیے پاکستان کے تعلیمی نظام اور ذرائع ابلاغ کا جائزہ لے اور اس بارے میں سفارشات پیش کرے۔
(ب) تعلیم اور ذرائع ابلاغ کو اسلام کے مطابق ڈھالنے کے عمل کی نگرانی کرے اور عدمِ تعمیل کے معاملات وفاقی حکومت کے علم میں لائے۔
(۵) — کمیشن کی سفارشات پر مشتمل ایک جامع رپورٹ اس کے تقرر کی تاریخ سے ایک سال کی مدت کے اندر وفاقی حکومت کو پیش کی جائے گی اور اس کے بعد کمیشن حسبِ ضرورت وقتاً فوقتاً اپنی رپورٹیں پیش کرتا رہے گا۔ البتہ سال میں کم از کم ایک رپورٹ پیش کرنا لازمی ہو گا۔ کمیشن کی رپورٹ حکومت کو موصول ہونے کے تین ماہ کے اندر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں اور صوبائی اسمبلیوں کے سامنے بحث کے لیے پیش کی جائے گی۔
(۶) — کمیشن کو ہر لحاظ سے، جس طرح وہ مناسب تصور کرے، اپنی کارروائی کے انصرام اور اپنے طریقہ کار کے انضباط کا اختیار ہو گا۔
(۷) — جملہ انتظامی مقتدرات، ادارے اور مقامی حکام کمیشن کی اعانت کریں گے۔
(۸) — وزارتِ تعلیم حکومتِ پاکستان اس کمیشن سے متعلق انتظامی امور کی ذمہ دار ہو گی۔
(۱۳) عمّالِ حکومت کے لیے شریعت کی پابندی
انتظامیہ، عدلیہ اور مقننہ کے تمام مسلمان ارکان کے لیے فرائض شریعت کی پابندی اور کبائر سے اجتناب لازم ہو گا۔
(۱۴) قوانین کی تعبیر شریعت کی روشنی میں کی جائے گی
اس قانون کی غرض کے لیے:
(اول) — قانونِ موضوعہ کی تشریح و تعبیر کرتے وقت اگر ایک سے زیادہ تشریحات اور تعبیرات ممکن ہوں تو عدالت کی طرف سے اس تشریح و تعبیر کو اختیار کیا جائے گا جو اسلامی اصولوں اور فقہی قواعد و ضوابط اور اصولِ ترجیح کے مطابق ہو، اور
(دوم) — جب کہ دو اور دو سے زیادہ تشریحات و تعبیرات مساوی طور پر ممکن ہوں تو عدالت کی طرف سے اس تشریح و تعبیر کو اختیار کیا جائے گا جو اسلامی احکام اور دستور میں بیان کردہ حکمت عملی کے اصولوں کو فروغ دے۔
(۱۵) بین الاقوامی مالی ذمہ داریوں کا تسلسل
اس قانون کے احکام یا اس کے تحت دیے گئے کسی فیصلے کے باوجود اس قانون کے نفاذ سے پہلے کسی قومی ادارے اور بیرونی ایجنسی کے درمیان عائد کردہ مالی ذمہ داریاں اور کیے گئے معاہدے مؤثر، لازم اور قابلِ عمل رہیں گے۔
تشریح: اس دفعہ میں ’’قومی ادارے‘‘ کے الفاظ میں وفاقی حکومت یا کوئی صوبائی حکومت، کوئی قانونی کارپوریشن، کمپنی، ادارہ، تجارتی ادارہ اور پاکستان میں کوئی شخص شامل ہوں گے۔ ’’بیرونی ایجنسی‘‘ کے الفاظ میں کوئی بیرونی حکومت، کوئی بیرونی مالی ادارہ، بیرونی سرمایہ منڈی بشمول بنک، اور کوئی بھی قرض دینے والی بیرونی ایجنسی بشمول کسی شخص کے شامل ہوں گے۔
(۱۶) موجودہ ذمہ داریوں کی تکمیل
اس قانون میں شامل کوئی امر یا اس کے تحت کوئی دیا گیا فیصلہ کسی عائد کردہ مالی ذمہ داری کی باضابطگی پر اثر انداز نہیں ہو گا، بشمول ان ذمہ داریوں کے جو وفاقی حکومت یا کسی صوبائی حکومت یا کسی مالی یا قانونی کارپوریشن یا دیگر ادارے نے کسی دستاویزات کے تحت واجب کی ہوں یا اس کی طرف سے کی گئی ہوں، خواہ وہ معاہداتی ہوں یا بصورتِ دیگر ہوں یا ادائیگی کے وعدے کے تحت ہوں۔ اور یہ تمام ذمہ داریاں، وعدے اور مالی پابندیاں قابلِ عمل، لازم اور مؤثر رہیں گی۔
(۱۷) قواعد
متعلقہ حکومت سرکاری جریدے میں اعلان کے ذریعے اس قانون کی اغراض کی بجا آوری کے لیے وضع کر سکے گی۔
حضراتِ انبیاء کرام علیہم السلام اس دنیا میں مخصوص اوقات میں، مخصوص مقامات پر اور مخصوص زمانے کے لیے فریضۂ رسالت کی ادائیگی کے لیے وقتاً فوقتاً تشریف لاتے رہے اور تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاءؑ کی ایک بہت بڑی تعداد بنی اسرائیل یعنی حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد میں مبعوث ہوئی۔ یاد رہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل دو بڑے حصوں میں بٹ گئی تھی۔ ایک قبیلہ ہے بنو اسرائیل اور دوسرا قبیلہ بنو اسماعیل۔ بنو اسرائیل میں بے شمار انبیاءؑ آئے اور مختلف لوگوں نے اپنے اپنے زمانے میں ان کا ظہور دیکھا۔ اکثر اسرائیلیوں نے اپنی بد مزاجی اور بد اخلاقی کی وجہ سے یا تو انبیاءؑ کو قتل کر دیا یا پھر ان کو جھٹلا دیا۔ اس کے برعکس بنو اسماعیل میں صرف ایک نبی کا ظہور ہوا اور وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ یہودی اور عیسائی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی نہیں مانتے اور دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے محض تعصب کی بنا پر آپؐ کی رسالت کا انکار کیا ورنہ ان کی کتابوں میں کثیر تحریف کے باوجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں واضح پیشگوئیاں موجود تھیں اور آج بھی ہیں۔
کعبہ کی تعمیر مکمل ہونے پر حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ نے مکہ میں کھڑے ہو کر ایک رسول بھیجنے کی دعا مانگی۔ قرآن میں وہ دعا ان الفاظ میں منقول ہے:
رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیَاتِکَ وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَیُزَکِّیْھِمْ اِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْم
’’اے خداوندا ان میں ان ہی میں سے ایک رسول بھیج جو ان کو تیری آیات پڑھ کر سنائے اور ان کو کتاب و سنت سکھائے اور ان کو پاکیزہ کر دے، بے شک تو غالب و دانا ہے۔‘‘
انجیل میں ہے کہ حضرت مسیحﷺ نے ایک مددگار کی خوشخبری دی۔ اب تو خیر اصل انجیل موجود نہیں ہے۔ قرآن پاک نے اس اصل انجیل کے الفاظ نقل کیے ہیں۔ حضرت عیسٰیؑ نے فرمایا:
اِنِّیْ رَسُوْلُ اللہِ اِلَیْکُمْ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرَاۃِ وَمُبَشِّرًا بِّرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْ بَعْدِی اسْمُہٗ اَحْمَد
’’میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں تورات کی تصدیق کرنے والا اور آنے والے رسول کی خوشخبری دینے والا، وہ رسول جس کا نام احمد ہے۔‘‘
موجودہ انجیل میں یوں مرقوم ہے:
’’اور میں باپ سے درخواست کروں گا تو وہ تمہیں دوسرا مددگار بخشے گا جو ابد تک تمہارے ساتھ رہے گا۔‘‘ (یوحنّا ۔ باب ۱۴ آیت ۱۶)
پھر لکھا ہے کہ
’’لیکن مددگار یعنی پاکیزگی کی راہ جسے باپ میرے نام سے بھیجے گا وہی تمہیں سب چیزیں سکھائے گا اور سب باتیں جو میں نے تم سے کہی ہیں وہ تمہیں یاد دلائے گا۔‘‘ (یوحنّا ۔ باب ۱۵ آیت ۲۶)
ان آیات میں حضورؐ کو مددگار کہا گیا ہے۔ قدیم اردو ترجموں میں مددگار کی جگہ ’’فار قلیط‘‘ لکھا گیا ہے اور یہ یونانی کے لفظ ’’پیریکلیوطاس‘‘ کا معرب ہے اور اس کا عربی میں صحیح ترجمہ احمد ہے جو کہ قرآن پاک میں مذکور ہے۔ تو انجیل یوحنّا میں جس مددگار کی بشارت دی گئی ہے اس سے مراد حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں (یوحنّا ۱۴ : ۱۶/۱۷) میں سچائی کی روح بولا گیا ہے اور ان کے تا قیامت نبی ہونے کی پیشگوئی ہے۔ مسیح علیہ السلام فرماتے ہیں کہ وہ مددگار ابد تک تمہارے ساتھ رہے گا یعنی وہ سچائی کی روح۔ اس کے بعد حضرت مسیحؑ فرماتے ہیں:
’’لیکن مددگار یعنی روح القدس جسے باپ میرے نام سے بھیجے گا وہی تمہیں سب باتیں سکھائے گا اور جو کچھ میں نے تم سے کہا ہے وہ سب تمہیں یاد دلائے گا۔‘‘ (یوحنا ۱۵ : ۲۶)
اس میں معیحؑ نے آنے والے رسول کے بارے میں فرمایا کہ وہ ان کے نام سے آئیں گے اور یہ بھی کہا کہ میری باتوں پر اکتفا نہیں ہو گا بلکہ سب باتیں تو آنے والا رسول کرے گا یعنی شریعت کی تکمیل کرے گا۔ اور یہ بھی فرمایا کہ تم میری تعلیمات بھول جاؤ گے تو وہ تمہیں یاد کرائے گا اور اسی لیے قرآن پاک نے اپنے آپ کو یہود و نصارٰی پر نگران کہا ہے اور عیسائی حضرت مسیحؑ کی تعلیم یعنی توحید کو بھول کر تثلیث پر ایمان رکھتے تھے، تو قرآن نے کہا کہ وَلَا تَقُوْلُوْا ثَلٰٰثَۃ ’’تین خدا مت کہو‘‘۔ اور لوگ حضرت عیسٰیؑ کی بشارت سے انکار کرتے تھے تو حضورؐ نے فرمایا کہ میں ابراہیمؑ کی دعا اور عیسٰیؑ کی بشارت ہوں۔ اس کے بعد حضرت مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:
’’اس کے بعد میں تم سے بہت سی باتیں نہ کروں گا کیونکہ دنیا کا سردار آتا ہے اور اس کا مجھ میں کچھ نہیں۔‘‘ (یوحنا ۱۵ : ۳۰)
حضرت مسیحؑ آنے والے رسول کو دنیا کا سردار کہتے ہیں اور اپنے آپ کو ان کے مقابلے میں کچھ نہیں سمجھتے۔ اور انجیل متروک برناباس میں اس سے بھی زیادہ صراحت ہے، انجیل برنباس کی ۴۴ویں فصل میں مذکور ہے کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام نے فرمایا کہ:
’’کیسا مبارک زمانہ ہے جس میں یہ (رسولؐ) دنیا میں آئے گا۔ اے محمد! اللہ تیرے ساتھ ہو اور مجھ کو اس قابل بنائے کہ میں تیری جوتی کا تسمہ کھولوں۔‘‘
اس کے بعد پھر مسیح علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:
’’جب وہ مددگار آئے گا جس کو میں تمہارے پاس باپ کی طرف سے بھیجوں گا یعنی سچائی کی روح جو باپ سے صادر ہوتا ہے تو وہ میری گواہی دے گا۔‘‘ (یوحنّا ۱۵ : ۲۶)
کیسا صریح بیان ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عیسٰیؑ کی گواہی دی اور انجیل کی تصدیق کی۔ عیسائیوں کی اصلاح کی اور حضرتؑ کی اصل شخصیت اور عظمت کو دنیا میں آشکارا کیا۔ حضرت مریمؑ کی پاکیزگی کو بیان کیا۔ حضرت المسیحؑ کی صداقت تسلیم کرنے کو اسلام کا ضروری رکن قرار دیا اور حضرت عیسٰیؑ کے بارے میں تمام باطل عقائد کا تاروپود بکھیر کر رکھ دیا۔
پھر حضرت مسیحؑ فرماتے ہیں کہ:
’’میرا جانا تمہارے لیے فائدہ مند ہے کیونکہ اگر میں نہ جاؤں گا تو وہ مددگار تمہارے پاس نہ آئے گا لیکن اگر جاؤں گا تو اسے تمہارے پاس بھیج دوں گا۔ وہ آ کر دنیا کو گناہ اور راستبازی اور عدالت کے بارے میں قصوروار ٹھہرائے گا ۔۔۔۔۔ لیکن جب وہ یعنی سچائی کی روح آئے گا تو تم کو سچائی کی راہ دکھائے گا اس لیے کہ وہ اپنی طرف سے کچھ نہیں کہے گا بلکہ جو کچھ سنے گا وہی کہے گا اور تمہیں آئندہ کی خبریں دے گا۔‘‘ (یوحنا ۱۶ : ۷ تا ۱۳)
حضرت مسیح علیہ السلام فرما رہے ہیں کہ وہ رسول میرے بعد آئے گا اور میرے جائے بغیر وہ نہیں آئے گا اور چونکہ لوگ میری اصلی تعلیمات کو بھول کر ان کا انکار کرتے ہوں گے تو وہ مددگار ان کو سزا دے گا اور لوگ میری تعلیمات کو بھول کر گمراہ ہو چکے ہوں گے تو وہ سچائی کی راہ دکھائے گا اور اپنی طرف سے کچھ نہیں کہے گا۔
قرآن کریم نے اسی حقیقت کو ان الفاظ میں بیان فرمایا:
وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْھَوٰی اِنْ ھُوَ اِلَّا وَحْیُ یُّوْحٰی
اور فرمایا کہ آئندہ کی خبریں دے گا۔ تاریخ شاہد ہے اور موجودہ سائنس گواہ ہے کہ حضورؐ کی پیش گوئیاں حرف بحرف پوری ہوئی ہیں۔
ان تمام آیات سے بالکل واضح ہو گیا ہے کہ حضرت محمدؐ کی صداقت کو عیسائی تعصب اور بغض کی وجہ سے نہیں مان رہے اور وہ دلیل یہ بناتے ہیں کہ یہ پیش گوئیاں ذاتِ الٰہی کے تیسرے اقنوم روح القدس کے بارے میں ہیں، لیکن آپ بغور ان پیشین گوئیوں کو پڑھ کر فیصلہ کر سکتے ہیں کہ یہ کسی انسان کے بارے میں ہیں اور خدا کی ذات پر ان کے اطلاق کے لیے مسیحی قوم کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے۔
عالمِ اسلام کے قدیم ترین علمی مرکز جامعہ ازہر قاہرہ کے موجودہ سربراہ معالی الدکتور الشیخ جاد الحق علی جاد الحق مدظلہ العالی کا شمار ملت اسلامیہ کی ممتاز ترین علمی شخصیات میں ہوتا ہے اور انہیں دنیا بھر کے علمی مراکز اور حلقوں میں احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ مدیر ’’الشریعہ‘‘ نے گزشتہ سال ان کی زیارت و ملاقات کے لیے قاہرہ کا سفر کیا مگر ان دنوں جامعہ ازہر میں تعطیلات تھیں اور موصوف قاہرہ میں نہیں تھے اس لیے مقصد سفر کا یہ پہلو تشنہ رہا۔ ملاقات و زیارت کے ساتھ ساتھ یہ خواہش بھی تھی کہ پاکستان میں نفاذ اسلام کی جدوجہد کو جن علمی و فکری مسائل کا سامنا ہے ان کے بارے میں امام اکبر سے راہنمائی حاصل کی جائے۔ چنانچہ ملاقات نہ ہو سکنے کی وجہ سے بعض اہم سوالات تحریری صورت میں ان کے دفتر کے سپرد کر دیے گئے۔
ادارہ الشریعہ الامام الاکبر الدکتور جاد الحق علی جاد الحق کا بے حد شکر گزار ہے کہ انہوں نے متنوع اور بے پناہ مصروفیات کے باوجود ان سوالات کو ایک مستقل مقالہ کا موضوع بنایا اور اپنے گراں قدر ارشادات و تحقیقات کو پورے بسط کے ساتھ تحریر فرما دیا۔ پہلے خیال تھا کہ ’’الشریعہ‘‘ میں اس وقیع علمی مقالہ کا خلاصہ اردو میں شائع کر دیا جائے لیکن سوالات کی اہمیت، امام اکبر کی تحقیقی کاوش اور مقالہ کی علمی وقعت کے پیش نظر یہی فیصلہ کیا گیا کہ مقالہ کا مکمل متن اردو ترجمہ کے ساتھ شائع کیا جائے تاکہ اہل علم اس سے پوری طرح مستفید ہو سکیں۔ ادارہ الشریعہ کے خصوصی کرم فرما اور گورنمنٹ ڈگری کالج گوجرانوالہ کے سینئر استاذ پروفیسر غلام رسول عدیم صاحب نے انتہائی عرق ریزی کے ساتھ مقالہ کا ترجمہ کیا ہے جس پر وہ ہم سب کے شکریہ کے مستحق ہیں۔ اس مرحلہ پر دو امور کی وضاحت ضروری خیال کی جا رہی ہے:
(۱) ایک یہ کہ ’’الشریعہ‘‘ کا بنیادی مقصد و مشن نفاذِ اسلام اور اسلامائزیشن کے علمی و فکری مسائل کا حل پیش کرنا اور اس سلسلہ میں اسلام دشمن لابیوں کے پھیلائے ہوئے شکوک و شبہات کا ازالہ کرتے ہوئے علماء کرام، جدید تعلیم یافتہ طبقہ اور طلباء کو نفاذِ اسلام کے لیے ذہنی اور فکری طور پر تیار کرنا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ اظہار خیال کا ذریعہ قومی زبان اردو کو ہی بنایا جائے اور براہ راست دوسری زبانوں میں مضامین و مقالات شائع نہ کیے جائیں۔ اس لیے ادارہ الشریعہ کی عمومی پالیسی ان شاء اللہ العزیز یہی رہے گی اور کسی انتہائی استثنائی صورت کے سوا دوسری زبانوں میں مضامین و مقالات کی اشاعت سے گریز کیا جائے گا تاکہ افادیت میں عموم کا دائرہ زیادہ سے زیادہ وسیع ہو۔
دوسری وضاحت یہ ضروری ہے کہ ادارہ الشریعہ کا تعلق واضح طور پر حنفی مکتب فکر سے ہے اور وہ اسلامائزیشن کے سلسلہ میں امام ولی اللہ دہلویؒ کی تعلیمات و افکار اور جدوجہد کا نقیب ہے جبکہ جامعہ ازہر کی علمی عظمت اور روایتی قدرومنزلت کے بھرپور اعتراف کے باوجود علماء ازہر کے فکر و مزاج کی کا توسع برصغیر کے علمی حلقوں میں ہمیشہ موضوع بحث رہا ہے۔ اس لیے یہ ضروری نہیں کہ اس مقالہ کے تمام پہلوؤں سے ادارہ الشریعہ پوری طرح متفق ہو، تاہم یہ ایک وقیع اور قابل قدر علمی کاوش ہے جس سے اہل علم کو استفادہ کا موقع نہ دینا شاید انصاف کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہ ہو اور اسے اسی جذبہ اور نقطۂ نظر کے تحت شائع کیا جا رہا ہے۔
ہم ایک بار پھر الامام الاکبر الدکتور الشیخ جاد الحق علی جاد الحق کی اس کرم فرمائی پر ان کے شکرگزار ہیں اور دعاگو ہیں کہ اللہ رب العزت عالم اسلام کو ان کی علمی و دینی مساعی سے زیادہ سے زیادہ فیض یاب ہونے کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا الٰہ العالمین۔ (ادارہ)
الحمد للہ رب العٰلمین والصلوٰۃ والسلام علیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔
۱۹ اکتوبر ۱۹۸۸ء کو چند سوالات پر مشتمل پاکستان کے ایک عالم الشیخ زاہد الراشدی کا مکتوب شیخ الازہر کے دفتر میں موصول ہوا جس کا خلاصہ یہ ہے:
- پاکستان میں اسلامی شریعت کے نفاذ سے متعلق — قرآن و سنت کی و سے اسلامی قانون سازی کا حق کس کو حاصل ہے؟ کیا پاکستان کی قومی اسمبلی کے منتخب ارکان کو، کہ وہ اس کا حق بھی رکھتے ہیں اور چنے ہوئے بھی ہیں، اور امتِ اسلامیہ کے عصری مسائل کے حل میں اجتہاد کے اہل ہیں؟ یا یہ اختصاص پختہ فکر علمائے دین کے بورڈ کو حاصل ہے جن میں اس امر کے لیے مطلوبہ شرائط وافر ہوں اور قومی اسمبلی کو اس (قانون سازی) سے کوئی واسطہ نہیں؟
- حکومتی سطح پر سردست کس فقہی مسلک کو نافذ کیا جائے؟ کیا وہ حنفی مسلک ہو جس کی پاکستانی قوم کی غالب اکثریت پیروکار ہے اور وہ اہل السنۃ والجماعۃ ہے، یا وہ جعفری مسلک ہو جس کے شیعہ حضرات پیروکار ہیں؟
- اسلامی قانون سازی کے سرچشہ و ماخذ کے لحاظ سے — کیا اس کے ماخذ کے طور پر باقی سب کو چھوڑ کر محض کتاب و سنت پر انحصار کیا جائے گا یا خلفائے راشدینؓ، صحابہ کرامؓ، اہلِ بیتؓ کے فرمودات اور اجماعِ امت سے بھی استفادہ کیا جائے گا؟
- غیر شرعی حکومتوں سے متعلق (یعنی وہ حکومتیں جو آزادانہ انتخاب کے بغیر تشکیل پذیر ہوں) — کیا قوم کو حق پہنچتا ہے کہ وہ ایسی حکومت سے شریعتِ اسلامیہ کے نفاذ کا مطالبہ کرے؟ اس اعتبار سے کہ جو بھی حاکم برسرِ اقتدار آئے اس کا اقتدار کامل ہوتا ہے اور قوم کا اس حکومت سے شریعتِ اسلام کے نفاذ کا مطالبہ ضروری ہو جاتا ہے، اور یہ حکومت جو قوانین جاری کرے ان کو قبول کرنا ضروری ہوتا ہے؟ یا قوم کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس حکومت کو ہٹا کر اس کی جگہ منتخب شرعی حکومت لائے؟
- قیامِ پاکستان سے پہلے شہر لاہور میں ایک مسجد پر سکھوں کا قبضہ تھا، آج وہ بند پڑی ہے۔ ایسے ہی بعض مساجد پر قادیانی گروہ کا قبضہ ہے اور وہ ان کے زیرتسلّط ہیں۔ ایسی مساجد کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کیا حکومتِ اسلامیہ انہیں واگزار کرا کے ان کی تعمیرِ نو کر سکتی ہے؟
——— جواب ———
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
تمہید
چونکہ فقہ اسلامی میں سیاستِ شرعیہ ایک بہت بڑا باب ہے لہٰذا ضروری ہے کہ اس فتوٰی کے موضوعات سے عہدہ برآ ہونے کے لیے سیاسۃ شریعۃ کے مفہوم اور اس کے میدانِ عمل کو سمجھا جائے۔
سیاستِ شرعیہ کا مفہوم
ابن قیم جوزیؒ اپنی کتاب ’’الطرق الحکمیۃ‘‘ میں لکھتے ہیں: سیاست وہ عملی پروگرام ہے جس پر چل کر لوگ بہتری سے قریب رہیں اور فساد سے دور رہیں۔ خواہ اسے رسولؐ نے وضع نہ کیا ہو اور نہ ہی وہ وحی کے طور پر اترا ہو۔ صحابہؓ اور تابعین میں سے فقہاء و مجتہدین اس رائے پر عمل کرتے جو دین کو مضبوط بنانے والی ہوتی، اور جس مسئلے میں کتاب و سنت سے کوئی خاص دلیل نہ پاتے تو رائے اور اجتہاد کو بروئے کار لاتے۔ چنانچہ ہمارے لیے فقہائے اسلام نے ان شرعی احکام کا، جو ان کے اجتہاد کا نتیجہ تھا، عظیم ورثہ چھوڑا ہے۔ کبھی تو شرعی احکام ثابت غیر متبدل اور غیر تغیر پذیر ہوتے ہیں، زمانے اور حالات کے بدلنے سے ان کی مصلحت میں کوئی اختلاف واقع نہیں ہوتا، اور جس زمانے میں ان کا استنباط کیا گیا اس زمانے کے لوگوں کے مصالح اور عرف کی اس میں رعایت رکھی گئی ہوتی ہے۔ چونکہ لوگوں کے مفادات حالات کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں، کبھی لوگوں کا ایک عرف دوسرے زمانے کے عرف سے بالکل مختلف ہوتا ہے، اور کبھی ایک ہی زمانے میں ایک قوم کا عرف دوسری قوم کے عرف سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔
پس سیاستِ شرعیہ کی رو سے امت کے حکام ایسے قوانین بنا سکتے ہیں جو درپیش مسائل کو حل کر سکیں۔ لیکن یہ وہ خاص مسائل ہیں جن کے بارے میں وہ کتاب و سنت، اجماع یا قیاس سے کوئی خاص دلیل نہیں پاتے، اور جو ایک حالت پر نہیں رہتے بلکہ زمانے اور حالات کے بدلنے سے بدلتے رہتے ہیں اور جن کے آثار و نتائج اچانک واقع ہوتے ہیں۔ نیز یہ بات ان احکام سے خاص ہے جن کی کتاب و سنت اور اجماع میں کوئی خاص دلیل نہیں ملتی، اور نہ ہی ان کے موقع و محل کی کوئی نظیر ملتی ہے جس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر ان کو قیاس کیا جا سکے۔ چنانچہ ایسے مسائل کو حل کرنے کے لیے قواعد فقہ کی طرف رجوع کیا جائے گا مثلاً رفع حرج، دفع ضرر۔
اسلام میں شرعی احکام کے سرچشمے کی بابت
اس امر میں مسلمانوں کا کبھی اختلاف نہیں رہا کہ قرآن کریم عبادات، معاملات، عقائد اور اخلاقیات کے گوناگوں شرعی احکام کا سرچشمۂ اولین ہے، اور یہ کہ سنتِ نبویؐ قولی، فعلی یا تقریری قانون سازی کا دوسرا مصدر ہے، اگرچہ سنت کی روایات کے اتصال و ثبوت کی شرائط میں اختلاف رہا ہے۔
پھر اجماع کی باری آتی ہے۔ جمہور علماء اس بات کے قائل ہیں کہ اجماع کے تقاضوں پر عمل ضروری ہے، البتہ خوارج، شیعہ اور نظام (اجماع) کو حجت نہیں مانتے۔
پھر قیاس کا نمبر ہے۔ اگرچہ جمہور علماء شرعی امور میں اسے واجب العمل قرار دیتے ہیں تاہم اہلِ اصول کے ہاں اس کی تعریف میں اختلاف رہا ہے۔ ابن حزمؒ ظاہری اور ان کے پیروؤں کا کہنا یہ ہے کہ قیاس کو مصدر تشریع جان کر اس پر عمل پیرا ہونا عقلی طور پر درست ہے، ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے جس کو حل کرنے کے لیے اس کا سہارا لینا ضروری ہو، مگر شرع میں امامیہ شیعہ اور نظام (اپنی ایک روایت کی رو سے) اس طرف گئے ہیں کہ قیاس پر چلنا عقلاً محال ہے۔ اور بھی دلائل ہیں جن میں اختلاف ہے اور وہ یہ ہیں۔ عرف، استصحاب، استحسان، مصالح مرسلہ، استقراء قول صحابی وغیرہ۔ ان دلائل پر عمل کرنے کے بارے میں علمائے اصولِ فقہ کے دوسرے نقلی و عقلی اقوال و اختلافات بھی ملتے ہیں۔ جہاں تک کسی صحابیٔ رسولؐ کے قول، مسلک یا فتوے کا تعلق ہے (جو مدعائے سوال ہے) اس کے بارے میں آمدی نے اپنی کتاب ’’الاحکام فی اصول الاحکام‘‘ میں نقل کیا ہے کہ علماء اس پر متفق ہیں کہ اجتہاد کے مواقع پر کسی صحابی کا مسلک دوسرے مجتہد کے خلاف حجت نہیں ہوتا خواہ وہ امام ہو، حاکم ہو یا مفتی ہو۔ البتہ وہ (علماء) تابعین اور ما بعد کے مجتہدین کے خلاف صحابی کی حجیت میں اختلاف رکھتے ہیں۔
اشاعرہ، معتزلہ، امام شافعیؒ اپنے ایک قول میں، امام احمد بن حنبلؒ اپنی بیان کردہ دو روایتوں میں سے ایک میں، اور کرخیؒ اس بات کے قائل ہیں کہ تابعین و تبع تابعین کے خلاف صحابی کا قول حجت نہیں۔ امام مالک بن انسؒ، امام رازیؒ، احناف میں سے برزعیؒ، اپنے ایک قول میں امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبل اپنی بیان کردہ ایک روایت میں اس بات کے قائل ہیں قول صحابی قیاس کے خلاف حجت ہے۔ علماء کا ایک گروہ اس طرف بھی گیا ہے کہ اگر قولِ صحابی قیاس کا مخالف ہو تو حجت ہے ورنہ نہیں۔ دوسروں کا کہنا ہے کہ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کا قول حجت ہے، ان دونوں کے علاوہ کسی کا نہیں۔ پھر آمدی نے کہا کہ پسندیدہ امر یہ ہے کہ یہ (قول صحابی) بالکل حجت نہیں۔ اس نے ان اقوال کے لیے دلائل بھی پیش کیے ہیں۔
یہ (صورتحال) اس لیے ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس جہانِ فانی سے اٹھ جانے کے بعد اچانک ایسے حالات پیش آ گئے جن کے لیے کوئی صریح حکم نہ تھا اور نہ کوئی خاص حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ترجیحاً پیش کی جا سکتی تھی۔ اس صورت میں صحابہؓ نے اجتہاد کیا، اکیلے اکیلے فتوے دیے۔ نتیجتاً ان واقعات سے متعلق ان کے فتوے ایک دوسرے سے مختلف ہوتے۔ بالآخر قانون سازی کے سلسلے میں ان فتووں کے مقام و مرتبہ کے بارے میں ائمہ کرام میں اختلاف پیدا ہوا۔ امام ابوحنیفہؒ اور ان کے پیروؤں کا اختلافِ صحابہ کے ضمن میں طرزِ عمل یہ تھا کہ وہ صحابہ میں سے کسی ایک صحابی کا فتوٰی لے لیتے، نہ تو کسی ایک کے پابند ہوتے اور نہ ہی سبھی کا انکار کرتے۔
اس امام جلیل (ابوحنیفہؒ) کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ جب کتاب اللہ سے کوئی حکم مل جائے تو میں اس کو لے لیتا ہوں، اگر کتاب اللہ میں نہ ملے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور ان صحیح احادیث پر انحصار کرتا ہوں جو ثقہ لوگوں کے ذریعہ پھیلیں۔ اور اگر کتاب اللہ اور سنت رسولؐ میں بھی حکم نہ پاؤں تو صحابہ کرامؓ سے جس کا قول چاہوں لے لیتا ہوں، پھر ان کے قول کو چھوڑ کر کسی دوسرے کا قول اختیار نہیں کرتا۔ جب ابراہیم (نخعی)، شعبی، حسن (بصری)، ابن سیرین، سعید بن مسیب تک معاملہ آ پہنچے تو جس طرح انہوں نے اجتہاد کیا، میں بھی کرتا ہوں۔
امام مالکؒ نے بھی صحابی کا قول اخذ کرنے میں عموماً امام ابوحنیفہؒ کا طرزِ عمل اپنایا ہے۔ یہ اس لیے کہ صحابی کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سماع کا گمان ہو سکتا ہے، قرائن کو دیکھ کر وہ مرادِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بہتر طور پر سمجھ سکتا ہے۔ چونکہ صحابہ کرامؓ کی عادت تھی کہ وہ نص کے بغیر فتوٰی شاذ و نادر ہی دیتے تھے اس لیے آسان معاملے کے علاوہ واضح حکم سے فتوٰی دیتے تھے لہٰذا اگر سماع کی نفی بھی کی جائے تو بھی صحابی کا قول کسی دوسرے کی نسبت راستی سے زیادہ قریب ہے۔
جہاں تک امام شافعیؒ اور ان کے متبعین کا تعلق ہے ان کا موقف یہ ہے کہ صحابہؓ کے فتوے ان مسائل میں جن میں انہوں نے رائے سے اجتہاد کیا ہے حجت نہیں کیونکہ ان کے یہ فتویٰ انفرادی فتووں کی حیثیت رکھتے ہیں اور غیر معصومین کے فتوے ہونے کی وجہ سے حجت نہیں ہیں۔ اسی وجہ سے امام شافعیؒ کے بارے میں یہ نقل کیا گیا ہے کہ وہ صحابہؓ کے انفرادی فتووں میں سے کوئی بھی فتوٰی لے لیتے ہیں اور خود بھی ان کے خلاف فتوٰی دیتے ہیں۔ اور یہ طرزِ عمل ان فتاوٰی کے بارے میں ہے جو صحابہؓ اپنی رائے سے دیتے ہیں، اور جو وہ رائے سے نہیں دیتے اس کا حکم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مرفوع حدیث کی طرح ہے اور جمہور کی طرح امام شافعیؒ کے نزدیک اس سے اخذ کرنا واجب ہے۔
یہ امر ملحوظ رہے کہ صحابی کے قول یا فتوٰی سے مراد وہ مسئلہ ہے جس میں اس نے اجتہاد کیا۔ اور جب یہ منقول ہو کہ یہ فلاں صحابی کی سنت ہے یا فلاں کی سنت ہے تو اکثر فقہاء اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر ہی محمول کرتے ہیں۔ اس ضمن میں احناف میں سے ابوالحسن کرخی نے اختلاف کیا ہے، تاہم پسندیدہ (قابلِ ترجیح) مسلک جمہور علماء کا ہے جیسا کہ آمدی نے ’’الاحکام‘‘ میں، شاطبی نے ’’موافقات‘‘ میں اور کمال بن ہمام نے ’’التحریر‘‘ میں نقل کیا ہے۔
قرآن و سنت — اسلامی قانون سازی کی بنیاد
قرآن کریم میں انسانوں کی معاش و معاد کے جملہ مسائل کا حل موجود ہے۔ وہ مسائل عقیدہ سے متعلق ہوں یا عبادت یا اخلاق سے، انفرادی سطح پر بھی اور اجتماعی سطح پر بھی وہ سب میدانوں میں (ان کے حل بتاتا ہے)۔ فرمان الٰہی ہے:
’’ہم نے آپ پر کتاب نازل کی جو ہر شے کو کھول کر بیان کرتی ہے اور وہ دائرۂ اسلام میں داخل ہو جانے والوں کے لیے ہدایت، رحمت اور خوشخبری ہے۔‘‘
قرآنِ حکیم کا بیان بلیغ کبھی تو نص و تصریح سے ہوتا ہے، کبھی اشارہ و تلمیح سے، جس سے مجتہدین کے لیے ہر مسئلے میں استنباطِ احکام اور ہر مشکل کے حل کے لیے میدان کھل گئے۔ وہ امر جو قرآن کر سرچشمہ عطا ہونے اور ہر زمانے اور ہر جگہ دین کی بہترین کو ضامن ہے، وہ قرآن کے ہر چیز کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ اس کا کتابِ ہدایت و رحمت ہونا بھی ہے۔
مگر (سوال یہ ہے کہ) ہم اس سے اپنے احکام کیسے اخذ کریں جبکہ امتِ اسلامیہ اس حقیقی آئین سے اب تک اپنے جملہ قوانین (بنانے) کے لیے مدد لیتی رہی ہے۔ بلاشبہ استنباط (کی صورت) میں وضعِ قوانین ایک نوع کا اجتہاد ہی ہے، خواہ وہ فقہی مسالک کے ذریعے ہو یا اصلی شرعی دلائل کے ذریعے۔ استنباط کی صورت کوئی سی بھی کیوں نہ ہو اس کے لیے درج ذیل شرائط ضروری ہیں۔
- علومِ قرآن مکی، مدنی، ناسخ، منسوخ، اور محکم و متشابہ وغیرہ آیات سے مکمل آگاہی۔
- قرآن کے اجمال کی تفصیل اور قرآن کے مبہم کی وضاحت کے لیے سنت نبویؐ کی پہچان بھی ناگزیر ہے۔
- نص کے مفہوم کو سمجھنے کے لیے عربی زبان کے علوم سے پوری آگاہی (ضروری ہے) کیونکہ ایک لفظ کے کئی کئی معنی ہوتے ہیں اور ایک معنی کے لیے متعدد الفاظ۔ عربی زبان الفاظ و اسالیب کے اعتبار سے بہت وسیع ہے۔
- جو شخص قرآن کریم سے براہِ راست شرعی احکام کا استنباط کرنا چاہے اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ قواعدِ استنباط سے آگاہی حاصل کرے۔ چنانچہ جس شخص میں بلاواسطہ استنباط کی شرطیں وافر ہوں گی، جب اس میں مذکورہ صلاحیتیں اور دوسری استعدادیں بھی پائی جائیں تو اس کے لیے استنباط کرنے میں کوئی قباحت نہیں۔ یہی طریقہ ائمہ مجتہدین کا تھا۔ جو اجتہاد کی صلاحیت نہ رکھتا ہو وہ علماء مجتہدین سے دریافت کرے۔ فرمانِ الٰہی ہے: ’’اگر تم نہیں جانتے تو جاننے والوں سے دریافت کر لو۔‘‘
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تحصیلِ علم اور فقہ کا شوق دلایا ہے۔ فرمایا: ’’اللہ جس شخص کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے‘‘۔ آپؐ نے نہ جاننے کے باوجود علم کا دعوٰی کرنے اور فتوٰی دینے سے خوف دلایا ہے۔ فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ بندوں سے علم یک لخت نہیں کھینچ لیتا بلکہ علماء کے اٹھا لینے سے علم اٹھا لے گا تا آنکہ جب کوئی عالم باقی نہ رہ جائے گا تو لوگ جاہلوں کو اپنا سردار (پیشوائے دین) بنا لیں گے۔ وہ انہیں بغیر علم کے فتوے دیں گے، خود بھی گمراہ ہوں گے دوسروں کو بھی گمراہ کریں ۔‘‘
تقلید کا حکم
جب اجتہاد کا یہ حکم ہے اور مجتہد میں مختصرًا ان شرائط کا بکثرت پایا جانا ضروری ہے تو جو شخص بہتر طور پر اجتہاد نہ کر سکتا ہو اور نہ ہی اس میں یہ شرطیں کثرت سے پائی جائیں تو اس کا کیا حکم ہے؟ وہ دوسرے کی تقلید کرے یا نہ کرے؟ کیا اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایک ہی مسلک سے وابستگی رکھے؟ کیا ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ مشہور اور معروف مسالک میں سے کسی خاص مسلک سے وابستہ رہے؟
تقلید کے بارے میں علماء کے تین قول ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے:
- اوّل: تقلید بالکل جائز نہیں کیونکہ ہر مسلمان مکلّف پر واجب ہے کہ وہ اپنے امورِ دین میں اس کے صحیح مآخذ سے استفادہ کرے اور پیش آمدہ واقعات میں اجتہاد کرے۔ کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کرنے کے بعد اس کا اجتہاد جس نتیجے پر پہنچائے اس پر عمل کرے۔
- دوم: اجتہاد کا جائز نہ ہونا اور تقلید کا واجب ہونا — اس قول کے لیے دلیل یہ ہے کہ وہ ائمہ مجتہدین جن کے سپرد امت نے یہ کام کیا تھا وہ تو گزر چکے، ان کے بعد اجتہاد درست نہیں، اب ان کی تقلید واجب ہے۔
- سوم: جو درجہ اجتہاد کو نہ پہنچ سکے اس پر تقلید کا واجب ہونا۔
ان اسباب کی بنا پر جن کو ہم اختصارًا ذیل میں درج کرتے ہیں، یہی رائے پختہ ہے۔
اولًا: اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے ان کے امورِ دین سے متعلق تنگی دور فرما دی ہے۔ سورۃ حج میں ارشاد ہوتا ہے ’’اور تم پر دین کے سلسلے میں کوئی تنگی نہیں‘‘۔ اگر اجتہاد ہر مسلمان پر واجب ہوتا جیسے کہ پہلی رائے والوں کا کہنا ہے تو لوگ سخت تنگی میں پڑ جاتے اور ان کے مفادات کا حصول رک جاتا کیونکہ ہر مسلمان ذاتی طور پر احکامِ دین میں اجتہاد کا اہل نہیں بلکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے کسی مسئلے میں نہ جاننے والے کو اس سے پوچھنے کا حکم دیا ہے جو اسے جانتا ہے۔ سورہ انبیاء میں فرمایا:
’’اگر تم نہیں جانتے تو اہلِ ذکر (جاننے والوں) سے (مسئلہ) پوچھ لو‘‘۔
یہ فرمانِ الٰہی لوگوں کے علم اور تحصیلِ علم میں فرق پر واضح دلیل ہے۔ یعنی جو نہیں جانتا اسے جاننے والوں سے پوچھنا ضروری ہے، ورنہ پوچھنے پر جواب دینے سے متعلق اس آیت کا کوئی فائدہ نہ ہوتا۔ اسی وجہ سے ہر مسلمان کو تقلید سے منع کرنے اور اس پر اجتہاد کے واجب ہونے کا قول قرآنی نص کے خلاف ہے۔
ثانیاً: صحابہ کرامؓ اور تابعینؒ سارے کے سارے مجتہد نہ تھے، ان میں سے عام لوگ اجتہاد کرنے والوں کی طرف رجوع کرتے تھے، اچانک پیش آنے والے واقعات کے بارے میں ان سے فتوٰی پوچھتے۔ ان کا پوچھنا کسی کو ناگوار نہ ہوتا بلکہ ان میں سے مجتہد حکمِ الٰہی کے مطابق سائلین کی تشفی کرتے۔ یہ منقول نہیں کہ ان پوچھنے والوں کو اجتہاد کا حکم دیا گیا۔ صحابہؓ سے اجماع کے طور پر یہ معلوم تھا کہ جو شخص کسی شرعی حکم نہ جانتا اسے اس حکم کے بارے میں اجتہاد کا مکلّف نہیں کیا جاتا تھا، اس پر لازم تھا کہ وہ اہلِ علم سے اس بارے میں پوچھے اور ان کے فتووں پر عمل کرے۔ تابعینؒ کا عمل بھی اسی طرح جاری رہا۔
ثالثاً: لوگ سمجھ بوجھ اور دلائل دینے کی قوت میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ درآنحالیکہ دین میں اجتہاد کرنے اور مصادر سے احکام کے استخراج کے لیے کئی شرائط درکار ہیں بلکہ یہ تو ایک ایسی صلاحیت ہے جو سب مسلمانوں میں وافر نہیں۔ سو اگر کسی شخص کو ایسی تکلیف کا مکلّف کر دیا جائے جس کی اس میں طاقت نہ ہو تو یہ تکلیف بالایطاق ہو گی۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے صاحبِ استطاعت پر فرض کر دیا اور عام مسلمانوں سے تنگی اٹھا لی جیسے سورہ بقرہ کی آیت میں ہے:
’’اللہ کسی جان کو اس کی مقدرت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا‘‘۔
مزید برآں یہ کہ اگر ہر مسلمان پر اجتہاد فرض کر دیا جاتا تو مسلمان کے لیے لسانی و شرعی علوم کے لوازمات کی تحصیل کی طرف متوجہ ہونا ضروری ہو جاتا اور یہ بات معاشی مفادات، ضروریاتِ زندگی اور معمولاتِ حیات سے کٹ جانے پر منتج ہوتی۔ یوں مفادات کے عدم حصول سے سوسائٹی کے نظام میں بگاڑ بلکہ تباہی پیدا ہو جاتی۔ مزید برآں حق سبحانہ تعالیٰ کا سورۂ توبہ کی اس آیت ۳ میں یہ فرمان ہے:
’’پس کیوں نہ کیا گیا کہ مومنوں کے ہر گروہ میں سے ایک جماعت نکل آئی ہوتی کہ دین میں فہم و بصیرت پیدا کرے اور (جب تعلیم و تربیت کے بعد) وہ اپنے گروہ میں واپس جاتی تو لوگوں کے (جہل و غفلت کے نتائج سے) ہشیار کرتی تاکہ برائیوں سے بچیں‘‘۔
یہ فرمانِ الٰہی دین میں سمجھ پیدا کرنے کے لیے ایک ایسے گروہ مسلمین کو خاص کر دینے کی طرف توجہ دلاتا ہے جو جامہ ابلاغ پہن کر دین کی طرف دعوت دے اور امورِ دین میں فتوٰی دے۔ اس وجہ سے ہر مسلمان کے لیے، جو درجۂ اجتہاد کو نہ پہنچتا اور اس کے پاس اجتہاد کے لوازم بکثرت نہ ہوتے، بے حد ضروری تھا کہ ان ائمہ مجتہدین میں کسی ایک کی تقلید کرے جن کے مذاہب پھیلے، اقوال، اصول اور فروع معروف ہوئے اور ائمہ کرام نے ان کے اجتہاد کو سند قبول بخشی۔ بصورتِ دیگر اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اہل علم سے ان احکامِ شرعیہ کے بارے میں استفسار کرے جو اس سے پوشیدہ رہے یا اس کے علم میں نہیں آئے، خواہ وہ احکام عبادات سے متعلق ہوں، معاملات کے بارے میں ہوں، آداب کے بارے میں ہوں، یا سیرت اور چلن وغیرہ کے بارے میں ہوں۔
پھر یہ سوال آتا ہے کہ کیا مقلّد پر کسی مقررہ مسلک کی پابندی ضروری ہے؟ سچی بات وہی ہے جس کی طرف جمہور علماء گئے ہیں کہ کسی خاص مسلک کی پیروی اس حیثیت سے ضروری نہیں کہ اس سے نکلنا جائز نہ ہو۔ بلکہ یہ درست ہے کہ کسی مسئلہ میں امام ابوحنیفہؒ کے قول پر عمل کرے تو کسی دوسرے مسئلہ میں مالکؒ اور شافعیؒ کے قول پر عمل پیرا ہو۔ یہ یقینی بات ہے کہ صحابہؓ اور ما بعد کے ہر زمانے میں فتوٰی پوچھنے والے ایک مرتبہ ایک مجتہد سے مسئلہ پوچھتے تھے تو دوسری مرتبہ دوسرے مجتہد سے استفسار کرتے تھے، کسی ایک ہی مفتی کا التزام نہیں کرتے تھے۔ اس طرح اگر کوئی مقلّد کسی خاص مسلک کا پابند ہو گا تو اپنی تقلید میں ہمیشہ اس کا پابند نہ رہ سکے گا۔
آمدی، ابن حاجب، کمال بن ہمام، رافعی وغیرہ نے یہی طرزِ فکر اپنایا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک ہی مسلک سے وابستگی واجب نہیں کیونکہ واجب تو وہی ہے جسے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ نے واجب قرار دیا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے یہ واجب نہیں گردانا کہ کوئی شخص مجتہدین میں سے کسی امام معین کے مسلک سے تمسک کرے، دین میں صرف اسی کی تقلید کرے اور اس کے علاوہ دوسرے سب کو چھوڑ کر اس مقرر کردہ طریقے کو اپنائے۔ کمال ابن ہمام کی ’’التحریر‘‘ کی شرح لکھتے ہوئے ابن امیر حاج نے اس ضمن میں جو کچھ لکھا ہے وہ یہ ہے:
’’پھر اصول ابن مفلح میں ہمارے بعض اصحاب (یعنی حنابلہ، مالکیہ، شافعیہ) نے ذکر کیا ہے کہ کیا کسی مسلک کو اختیار کیا جا سکتا ہے؟ اس کی رخصتوں اور عزیمتوں کو لیا جا سکتا ہے؟ اس میں دو رائیں ہیں۔ ان میں مشہور تو یہ ہے کہ نہیں (کسی خاص مسلک کو نہیں اپنایا جا سکتا) جیسے کہ جمہور علماء کا خیال ہے۔ پس (اس معاملے میں) بہتر لے لینا چاہیے ۔۔۔۔ بعض پیروان امام احمد بن حنبلؒ سے منقول ہے کہ امام نے فرمایا (کسی خاص مسلک کی) رخصتوں اور عزیمتوں کے اخذ کرنے میں التزام کرنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم (تعلیمات نبوی) کی اطاعت کے خلاف ہے اور یہ بات اجماع کے خلاف ہے۔ ابن حاج نے اس کے جواز کے بارے میں توقف کیا، پھر نقل کیا۔ ’’قرون فاضلہ (قرون مشہود لہا بالخیر (بھلے زمانے)) اس قول کے بغیر ہی گزر گئے (یعنی کسی مقرر مسلک سے وابستگی کے قول کے بغیر) بلکہ (حقیقت تو یہ ہے کہ) عامی کے لیے کوئی خاص مسلک درست ہی نہیں خواہ وہ کسی بھی مسلک سے وابستہ کیوں نہ ہو جائے۔ وجہ یہ ہے کہ کسی مذہب کا پیرو صرف وہی شخص بن سکتا ہے جس کا اپنے خیال کے مطابق اپنے مسلک کے بارے میں ایک اندازِ نظر ہو، طرزِ استدلال ہو اور زاویۂ نگاہ ہو، یا وہ شخص جس نے اس مسلک کے فروعی مسائل کی کوئی کتاب پڑھی ہو اور اپنے امام کے فتوے اور اقوال کو جانتا ہو، اور جو شخص اس کی قطعی اہلیت نہیں رکھتا صرف یہ کہہ دیتا ہے کہ میں حنفی ہوں یا شافعی وغیرہ ہوں، وہ محض یوں زبانی کلامی کیوں اصرار کرتا ہے ۔۔۔۔ الخ‘‘
اولی الامر کون ہیں؟
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
’’اے اہل ایمان اللہ کی اطاعت کرو، اس کے رسول کی فرماں برداری کرو اور اپنے میں سے اولی الامر کی ۔۔۔ الخ‘‘
اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد یہ بھی ہے:
’’اور اگر یہ لوگ اسے رسولؐ کے یا اپنے میں سے صاحبانِ امر کے حوالے کر دیتے تو ان میں سے جو لوگ استنباط کی صلاحیت رکھتے ہیں اس کی حقیقت بھی جان لیتے۔‘‘
وہ صاحبانِ امر کون لوگ ہیں جنہیں حقِ استنباط حاصل ہے؟ کہا گیا وہ لوگ جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یا امت نے بیعت کر کے حکومت سونپی ہو۔ امام نوویؒ فرماتے ہیں: اولوالامر جس پر کہ مفسرین و فقہاء وغیرہ میں سے جمہور سلف ہیں، وہ ہیں جو والی اور امیر ہیں اور ان کی فرمانبرداری اللہ نے ضروری قرار دی ہے۔
ایک قول یہ ہے کہ وہ عام لوگ ہیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ اس سے مراد علماء و امراء (دونوں) ہیں۔ بعض کی رائے یہ ہے کہ وہ حکام، امراء اور والی ہیں۔ اس طرح اولو الامر ایسے اہل رائے اور اہلِ علم ہیں جو لیجسلیٹو اسمبلی کے نمائندے ہیں کیونکہ جب اسلامی نظام مجلسِ شورٰی پر قائم ہو گا تو حکام اور فرمانروا ان سے ان معاملات میں مشورہ طلب کریں گے جن کے بارے میں کوئی صریح حکم وارد نہیں ہوا۔ اگر ان میں اختلاف واقع ہوا تو اسے قرآن اور آپؐ کی حین حیات سیرت اور آپؐ کے اپنے رفیق اعلیٰ سے جا ملنے کے بعد آپؐ کی سنت کے مطابق رکھا جائے گا۔ تنازع کی صورت میں یہی دونوں (قرآن و سنت ہی) ثالث ہوں گے۔
انتخابِ فرمانروا کے بارے میں امت کا موقف
اسلامی حکومت کا قائم کرنا، ان معنوں میں کہ مسلمانوں کے معاملات کی سپردگی کے لیے حاکم مقرر کیا جائے، یہ ایک امرِ واجب ہے جس پر صحابہ کرامؓ کے زمانے سے مسلمانوں کا اجماع رہا ہے۔ اس کام کی اہمیت کے پیشِ نظر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد سب سے پہلا کام جس میں صحابہؓ مشغول ہوئے یہی تھا۔ ابھی آپؐ کی تدفین نہیں کی تھی کہ وہ انتخابِ خلیفہ سے فارغ ہو گئے۔ الماوردی نے ’’الاحکام السلطانیہ‘‘ میں لکھا ہے، جب امامت کا وجوب ثابت ہو جائے تو یہ جہاد اور طلبِ علم کی طرح فرض کفایہ ہو گا۔ جب وہ شخص جو اس کا اہل ہے یہ فرض ادا کرنے پر راضی ہو جائے گا تو سب لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جائے گا۔ اگر کوئی بھی اس فریضے کو اپنے ذمے نہ لے تو لوگوں میں سے دو فریق نکلیں۔ پہلا فریق، انتخاب کرنے کے اہل لوگ تا آنکہ امت کے لیے امام منتخب کریں۔ دوسرا، امامت کے اہل لوگ تا آنکہ ان میں سے ایک امامت کے لیے اٹھے۔
مطلب یہ کہ وہاں کچھ رائے دہندگان ہوں گے اور کچھ امامت کے امیدوار۔ رائے دہندگان کی جو شرطیں ذکر کی گئی ہیں ان میں دوسری شرطوں کے ساتھ سب سے اہم چیز عدالت ہے۔ اور امامت کے مستحق کے لیے دوسری شرائط کے ساتھ جس علم کا جاننا ضروری ہے وہ (اصابت) رائے اور (گہری) حکمت ہے جو بہترین امیدواروں کے چناؤ پر منتج ہوتی ہیں۔ اس کا معنی یہ ہے کہ رائے دہندگان خلق، امانت، ذمہ داری اور حسنِ سیرت کی خاص سطح کے آدمی ہوں۔ جو شرطیں امیدوار میں پائی جانی چاہئیں ان سے خوب باخبر ہوں، نہ صرف یہ بلکہ امیدواروں میں تجربہ و دانائی کے موازنہ کرنے کا علم و ادراک رکھتے ہوں۔ ان میں سے (جو کسی امیدوار میں پائی جانی چاہئیں) اہم ترین شرطیں یہ ہیں۔ وہ منصف ہو، بحرانوں میں اجتہادی اہلیت کا علم رکھتا ہو، رعایا کی قیادت اور مفادات کی تدبیر پر منتج ہونے والی رائے کا مالک ہو۔
بلاشبہ رائے دہندگان اور امیدواروں کے لیے وضع کردہ یہ شرائط اور پیمانے ان تمام رخنوں کو بند کرنے کے لیے کافی ہیں جن کی انتخابات کی سرگرمیوں کے دوران میں اکثر لوگ شکایت کرتے ہیں، کسی بھی مقصد کے لیے کسی بھی شکل کے جو سوالات پوچھے جاتے ہیں وہ ختم ہو جاتے ہیں۔
مساوات اور دیانت، یا علم اور خلق، یا ہر دو میں یہ شرائط خاص ہو جاتی ہیں۔ سیدنا یوسف علیہ السلام نے جب مصر کے سربراہ مالیات ہونے کی خواہش کی تھی کہ ’’میں محافظ اور باخبر ہوں‘‘ تو ان کا یہ قول ان شروط کا جامع ہے۔ اور قرآن پاک میں بوڑھے بزرگ کی بیٹی کی بات جو اس نے حضرت موسٰیؑ کے بارے میں کی کہ ’’اچھا نوکر وہ ہے جو قوت والا اور امانت دار ہو‘‘ (بھی ان شروط کا جامع ہے)۔
جب امام کا انتخاب ہو چکے تو اچھے کاموں میں اس کی بات کے سننے اور ماننے کی بیعت ہو گی، جبکہ اس کے مقابلے میں امام جماعت مسلمین کے سامنے اپنے فرائض کی انجام دہی کرے گا۔ عصرِ حاضر کے طریق ہائے انتخاب میں سے کوئی بھی طریق انتخاب کافی ہے کیونکہ جس نے کسی کے حق میں ووٹ دے دیا گویا وہ اس کی امانت پر راضی ہو گیا تو اس کی اطاعت لازم ہو گئی۔ بیعت اپنے معروف معنوں میں لوگوں اور خلیفہ، امام، امیر یا حاکم کے درمیان ہو گی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کئی بیعتیں ہوئیں۔ ان میں سے ایک بیعت تو وہ ہے جو انصار مدینہ نے عقبہ کی شب مکہ میں کی تھی۔ ایک بیعت وہ ہے جو خواتین نے کی تھی۔ ایک بیعتِ رضوان ہے جو حدیبیہ میں درخت کے نیچے ہوئی تھی۔ ان میں وہ بیعتیں نہیں جو انفرادی طور پر لوگوں نے کیں۔ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے فرمایا، ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر سننے اور ماننے کی بیعت کرتے تھے۔ آپؐ ہم سے فرماتے ’’(اس بارے میں بیعت کرو) جس کی تم میں استطاعت ہو‘‘۔
بیعت (دراصل) قوم اور قوت کے درمیان نیکی کے کاموں میں تعاون ہے۔ جب بیعت ہو چکے تو اس کا لازم پکڑنا ضروری ہے۔ جب تک حاکم راہِ راست پر رہے اس کا نہ ٹوٹنا ضروری ہے۔ یہ اس لیے کہ بغیر کسی صحیح وجہ کے بیعت کر کے اس کا توڑ دینا اور وعدے کی پاسداری نہ کرنا جماعت سے خروج (کے مترادف) ہے۔ اس میں وہ فتنہ ہے جو قوم کی قوت کو کمزور کر دیتا ہے اور دشمنوں کے لالچ کے لیے میدان وسیع ہوتا ہے۔ حدیث کی کتابوں میں اس کے بارے میں بڑے واضح احکام آئے ہیں۔
مسلمانوں کا اس حکام کے بارے میں موقف جو بغیر انتخاب کے حاکم بن بیٹھا ہو
کبھی بغیر بیعت، بغیر امیدواری اور بغیر انتخاب کے بھی حکومت پر قبضہ و اختیار ہو جاتا ہے۔ اگر حاکم مسلمان ہو تو بھلے کاموں میں اس کی اطاعت واجب ہے۔ صحیح حدیث میں آیا ہے کہ عبد اللہ بن عمرو بن العاص جو جلیل القدر صحابی تھے، سے کسی سوال کرنے والے نے حضرت معاویہؓ کے بارے میں پوچھا، جو اقتدار پر قابض ہو گئے تھے اور جنہوں نے حضرت علیؓ اور ان کی جماعت سے پنجہ آزمائی کی تھی، آپؓ نے فرمایا جب وہ اللہ کی فرمانبرداری کریں ان کی فرمانبرداری کرو، اور جب اللہ کی نافرمانی کریں تو ان کی نافرمانی کرو۔ آپ نے ان سے لڑنے اور ان سے خروج کا فیصلہ نہیں فرمایا۔ سہلؓ بن عبد اللہ تستری سے بھی ایسا ہی سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا ان کی بات قبول کرو، اپنے جس حق کا وہ تم سے مطالبہ کریں تمہیں وہ ادا کرنا ہو گا، نہ تم ان کے کاموں سے انکار کرو نہ ان سے راہِ فرار اختیار کرو۔
ابن خویز مندادؒ نے کہا، اس کی بیعت پوری کرنی ہو گی جو حکومت پر آ دھمکے۔ حافظ ابن حجرؒ نے فرمایا، فقہاء اس امر پر متفق ہیں کہ اقتدار پر قابض ہو جانے والے سلطان کی اطاعت لازم ہے اور اس کے ساتھ مل کر جہاد کرنا ضروری ہے۔ اس کی اطاعت اس کے خلاف خروج سے بہتر ہے کیونکہ خونریزی سے بچاؤ ہو گا اور بلوہ رکے گا۔ استثنائی صورت اس وقت ہو گی جب سلطان نے کھلا کفر کیا ہو۔ اس صورت میں اس کی اطاعت واجب نہیں بلکہ ہر صاحبِ مقتدرت کو اس کے خلاف جہاد کرنا واجب ہے۔
کافروں کا مسجد پر قبضہ
فرمان الٰہی ہے:
’’اور اگر نہ ہٹایا کرتا اللہ لوگوں کو ایک دوسرے سے تو ڈھائے جاتے تکیے اور مدرسے اور عبادت خانے اور مسجدیں جن میں نام پڑھا جاتا ہے اللہ کا بہت اور اللہ ضرور مدد کرے گا اس کی جو مدد کرے گا اس کی بے شک اللہ زبردست زور والا ہے۔‘‘
فرمایا:
’’وہی آباد کرتا ہے مسجدیں اللہ کی، جو ایمان لایا اللہ پر اور آخرت کے دن پر اور قائم کیا نماز کو اور دیتا رہا زکوٰۃ اور نہ ڈرا سوائے اللہ کے کسی سے سو شاید ایسے ہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔‘‘
اسلام میں مسجدوں کی اہمیت کے بارے میں فقہاء نے ان کے احکام کو بیان کرنے اور ان کی تعمیر میں بڑی توجہ صرف کی ہے۔ ان کی حفاظت کرنے کی بڑی ترغیب دلائی ہے۔ مسلمانوں کے سلف صالحین نے ان پر خرچ کرنے کے لیے اوقاف قائم کئے تاکہ شعائر کے معطل و مختل ہو جانے کے پیش نظر یہ اوقاف بے آباد نہ ہو جائیں۔
مسجدوں کی حفاظت کی غرض سے اور ان کی عمارتوں کو قائم رکھنے کے لیے فقہ شافعی میں واضح احکام ہیں کہ جب لوگوں کے شہر سے نکل جانے، شہر کے ویران ہو جانے، یا مسجد کے ویران ہو جانے کی وجہ سے بھی مسجد کسی کی ملکیت قرار نہیں دی جا سکتی۔ تاہم محمد بن حسنؒ کے اختلاف کے علی الرغم نہ تو اس کا خریدنا جائز ہے اور نہ ہی اس میں کسی قسم کا تصرف روا ہے۔
مالکی فقہ میں بھی یہی صورتِ حال ہے، تاہم فقہائے مالکیہ نے مسجد کے بارے میں اس امر کی اجازت دی ہے کہ جب وہ ویران ہو جائے اور بگاڑ کی وجہ سے وہ ٹوٹ پھوٹ جائے، اس کی عمارت منہدم ہونے لگے تو اس کے بیچ ڈالنے میں کوئی حرج نہیں، اس کی قیمت سے کوئی دوسری مسجد خرید لی جائے گی۔
امام احمد بن حنبلؒ کی فقہ میں ہے کہ جب مسجد اس حال میں ہو جائے کہ اس سے مقصد براری نہ ہو رہی ہو مثلاً وہ اہل مسجد کے لیے اس قدر تنگ ہو جائے کہ اس کی توسیع ممکن نہ رہے، یا وہ علاقہ ہی برباد ہو جائے جس میں مسجد واقع ہے اور وہ مفید مطلب نہ رہے تو اس کا بیچنا جائز ہے اور اس کی قیمت کسی دوسری مسجد کی تعمیر میں صرف کر لینے کی اجازت ہے جس کی اپنی جگہ ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔
فقہ حنفی میں ہے کہ جب مسجد ویران ہو جائے اور اس کو آباد کرنے والے نہ رہیں یا لوگ اس سے بے نیاز ہو کر دوسری مسجد تعمیر کر لیں، یا یہ کہ ویران تو نہ ہو مگر لوگ اس کے اردگرد سے چلے جائیں اور وہ اپنی بستی کے ویران ہو جانے کی وجہ سے مسجد سے بے نیاز ہو جائیں تو ۔۔۔۔۔ امام ابوحنیفہؒ کے شاگردوں میں سے شیخین یعنی ابویوسفؒ اور محمدؒ نے اختلاف کیا ہے۔
امام ابویوسفؒ نے فرمایا، وہ ہمیشہ تا قیامت مسجد ہی رہے گی، اگر لوگ اس سے بے نیازی بھی اختیار کر لیں تو بھی وہ وقف کنندہ کی ملکیت میں نہیں جائے گی، کسی دوسری مسجد میں اس کا ملبہ اور اشیائے ضرورت لے جانا جائز نہیں۔ اکثر فقہاء نے ابویوسف کے قول کی تائید کی ہے اور ابن ہمام نے فتح القدیر میں اسی قول کو ترجیح دی ہے۔ ان سے یہ روایت بھی کی گئی ہے کہ وہ مالک کی طرف نہیں لوٹے گی بلکہ اس کا ملبہ اور اشیائے ضرورت کسی دوسری مسجد میں صرف کی جائیں گی۔ صاحب اسعاف نے اسی فتوٰی کو پختہ قرار دیا ہے۔ بعد کے بہت سے علماء نے اسی کے مطابق فتوٰی دیا ہے۔ امام محمدؒ کا فتوٰی یہ ہے کہ وقف کرنے والے کی ملکیت میں چلی جائے گی بشرطیکہ وہ زندہ ہو، اور اگر وہ مر چکا ہو تو اس کے وارثوں کو وہ (ملبہ اور اشیائے ضرورت) منتقل ہو جائے گا۔
نتیجۃً متذکرہ تحریر سے مندرجہ ذیل اصول حاصل ہوتے ہیں:۔
اولاً: اسلامی شریعت اپنے ان کلّی اصولوں اور بنیادی قواعد کے ساتھ، جن کا مقصد ہمیشہ انصاف قائم کرنا ہے، مفادات کے تحفظ اور رفع حرج کی ذمہ دار ہے۔ اس کا مقصد حصولِ نفع اور دفعِ مضرت ہے تاکہ امت راہِ اعتدال پر سیدھی چلتی رہے۔
ثانیاً: سیاست شرعیہ ایک ایسا شعبہ ہے جو حکمرانوں کو امت سے متعلق اجازت دیتا ہے کہ وہ ایسے قوانین جاری کریں جو اس امت کے مفادات کو ثابت کریں اور حاجت مند کی پیش آمدہ ضرورت کو پورا کریں۔ اور وہ نئے نئے مسائل جن کے لیے کتاب و سنت، قیاس یا اجماع میں کوئی خاص دلیل نہیں ملتی اس کو پورا کریں۔ ان مسائل کے لیے قواعد کے ان مراجع سے رجوع کرنا ہوگا۔ دفعِ حرج، رفعِ ضرر، سدِ ذرائع کے اصولوں پر عمل، عرف، استصحاب، استحسان، مصالح مرسلہ۔
ثالثاً: اسلامی قانون سازی کے سرچشمے چار ہیں۔ ان میں سے دو تو ایسے ہیں کہ امت میں ان سے کسی کو اختلاف نہیں اور وہ ہیں قرآن اور سنت۔ دو ایسے ہیں کہ جمہور فقہاء ان کی حجیت پر متفق ہیں اور وہ ہیں اجماع اور قیاس۔ اور جو ان چار مآخذ کے علاوہ ہیں یعنی استحسان، استصحاب، مصالح مرسلہ، عرف، قولِ صحابی، اور ان مصادر کے بارے میں علمِ اصولِ فقہ میں خاصا اختلاف ہے۔
تاہم جہاں تک قولِ صحابی یا اس کے مذہب یا فتوٰی کا تعلق ہے، مثلاً علماء اس امر پر اتفاق رائے رکھتے ہیں کہ صحابی کا مذہب اجتہاد کے مواقع پر دوسرے مجتہد صحابہ پر حجت نہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ تابعین اور ان کے بعد کے مجتہدین پر اس کے حجت میں اختلاف کیا گیا ہے۔ بعض کا خیال ہے کہ قولِ صحابی حجت نہیں۔ امام شافعیؒ کے دو فتووں میں سے ایک قول یہی ہے اور امام محمدؒ کی دو روایتوں میں سے ایک روایت بھی یہی ہے۔ ان کے پیرو علماء کا نقطۂ نگاہ یہی ہے۔ بعض کا میلان اس طرف ہے کہ حجت کو قیاس پر تقدم حاصل ہے۔ امام مالکؒ کا یہی قول ہے اور امام شافعیؒ کی دو رایوں میں سے ایک یہی ہے۔ امام احمد بن حنبلؒ کی دو روایتوں میں سے بھی ایک روایت یہی ہے۔ اور بعض علماء حنفیہ کا بھی یہی نقطۂ نظر ہے۔ بعض کا خیال ہے کہ اگر (قولِ صحابی) قیاس کے خلاف ہو تو حجت ہے ورنہ نہیں۔ کچھ دوسرے علماء کی یہ رائے کہ حجت صرف ابوبکرؓ اور عمرؓ کے اقوال میں ہے باقی میں نہیں۔ بعض نے یہ اندازِ فکر بھی اختیار کیا ہے کہ قولِ (صحابی) قطعًا حجت ہے ہی نہیں۔
بلاشبہ جس میں صحابہ نے اجتہاد کیا اور انفرادی سطح پر فتوٰی دیا اور ان کے فتووں میں اس معاملہ میں اختلاف ہو تو ائمہ مجتہدین میں قانون سازی سے متعلق اس فتوٰی کے مقام و مرتبہ میں اختلاف ہے۔
امام ابوحنیفہؒ اور ان کے متبعین کی رائے یہ ہے کہ مجتہد کے لیے ضروری ہے کہ وہ صحابہ میں سے کسی ایک کا فتوٰی لے لے اور کسی ایک ہی کے فتاوٰی پر انحصار نہ کر لے اور نہ ہی ان سب سے نکل جائے۔ امام مالکؒ عام صورت میں قولِ صحابی سے استفادہ کے بارے میں امام ابوحنیفہؒ کے مسلک سے اتفاق کرتے ہیں۔ امام شافعیؒ اور ان کے متبعین کا مسلک یہ ہے کہ صحابہ کے فتوے جن میں رائے کو دخل ہو حجت نہیں۔ اسی وجہ سے ان سے منقول ہے کہ مجتہد کے لیے ضروری ہے کہ صحابہ سے انفرادی فتووں میں سے کوئی سا بھی فتوٰی لے اور وہ اس کے خلاف بھی فتوٰی دے سکتا ہے۔
یہ سب کچھ اس صورت میں ہے جس میں رائے سے ادراک کیا جا سکتا ہے اور یہی بہتر ہے۔ جس میں رائے کو دخل نہ ہو تو اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف مرفوع حدیث کو لینا ہو گا، جمہور علماء کے نزدیک اس سے اخذ کرنا ضروری ہے اور جو امام شافعیؒ نے مذہب اختیار کیا ہے وہ زیادہ قابل قبول ہے، تاہم جس پر صحابی کی سنت کا اطلاق ہو یا بقول اس کے سنت سے ۔۔۔۔۔۔ تو اکثر فقہاء اس طرف گئے ہیں کہ اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر ہی محمول کیا جائے گا۔ آمدی، شاطبی، کمال بن ہمام نے اسی بات کو اختیار کیا ہے۔
رابعًا: یہ کہ جو شخص براہِ راست قرآن و سنت سے شرعی احکام کے استنباط کرنے کا آرزومند ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ استنباط کے قواعد سے بھی آگاہ ہو اور اس میں اجتہاد کی شرطیں کثرت سے پائی جائیں اور وہ تمام ذاتی خصوصیات اس میں پائی جائیں جو مجتہد کے لیے ضروری ہیں تاکہ وہ صحیح استنباط کر سکے۔ ائمہ مجتہدین کا یہی طرزِ عمل تھا۔
خامساً: ہر مسلمان جو درجۂ اجتہاد کو نہ پہنچے اور اس میں یہ خصوصیات و لوازم بھی نہ ہوں تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان ائمہ مجتہدین میں سے کسی کی تقلید کرے جن کے مذاہب پھیلے اور جن کے اقوال، اصول اور فروع امت میں پھیل گئے، امت نے ان کے اجتہاد کو شرفِ قبولیت بخشا۔ یا پھر ان شرعی احکام کے بارے میں جو اس کی دسترس سے باہر ہوں یا اس کے علم میں نہ ہوں، اہلِ علم سے فتوٰی دریافت کرے، عبادات، معاملات، آداب اور اخلاق وغیرہ (کے جملہ مسائل اس ضمن میں) سب برابر ہیں۔
سادساً: جمہور علماء کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ مقلد پر کسی خاص مسلک کو لازم پکڑنا ضروری نہیں، اس صورت میں کہ وہ اس (تقلید) سے کبھی باہر ہی نہ آئے۔ بلکہ اس کے لیے یہ حکم ہے کہ مثال کے طور پر وہ کسی مسئلہ میں ابوحنیفہؒ کے قول پر عمل کرے اور دوسرے میں امام مالکؒ یا امام شافعیؒ کے قول پر عمل پیرا ہو۔ یہ بات یقینی ہے کہ صحابہ کرامؓ کے زمانے اور بعد کے ہر دور میں مسئلہ پوچھنے والے ایک مرتبہ ایک مجتہد سے مسئلہ دریافت کرتے تو دوسری بار دوسرے مجتہد سے مسئلہ پوچھتے، کسی ایک مفتی سے التزام کے ساتھ مسئلہ نہیں پوچھتے تھے۔ یہ بات ان مواقع پر نہیں جہاں ایک ہی عمل میں مختلف مذہبوں کے اقوال کے درمیان مطابقت ناممکن ہے، برعکس اس کے کہ جو علمِ اصولِ فقہ میں اپنے مقام پر واضح بات ہے۔
سابعاً: علمائے کرام کی آراء میں سے قابل ترجیح یہ ہے کہ اولی الامر، اہل الرائے اور اہل علم ہوتے ہیں۔ (یہی وہ لوگ ہیں) جو تشریعی اقتدار کے نمائندے ہوتے ہیں اور یہ کہ حکمرانوں اور گورنروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان معاملات میں، جو واضح نہ ہوں یا ان کے بارے میں کوئی نص (قطعی) وارد نہ ہوئی ہو، حکم کو واضح کریں۔
ثامنًا: یہ کہ حکمرانوں کا انتخاب فرضِ کفایہ ہے۔ اس پر دورِ صحابہؓ سے لے کر (آج تک) مسلمانوں کا اجماع ہے۔ یہ ان امیدواروں اور رائے دہندگان کے وجود کا تقاضا کرتا ہے جن میں خاص شرطیں وافر موجود ہوں اور یہ کہ رائے دہندگان اور امیدواروں کے لیے وضع کی گئی شرطیں اور معیار ان شکایتوں کی رخنہ بندی کے لیے کافی ہیں جن کا عوام اظہار کرتے ہیں۔ یہ مقام ایسا ہے کہ اس میں قرآن و سنت کا کوئی تفصیل واضح حکم نہیں، یہیں سے عدل و انصاف کے دائرے میں رہتے ہوئے اس کے انتظام کے لیے قانون سازی میں اجتہاد کا جواز پیدا ہوتا ہے، یہیں سے حاکم عادل کی ضرورت ثابت ہوتی ہے۔
تاسعاً: یہ کہ جب سربراہ کو اختیار تفویض ہو چکا تو نیک کاموں میں حاکم کی بیعت کی جائے کہ (بیعت کنندگان) اس کی بات سنیں گے اور اس کی اطاعت کریں گے۔ اس کے مقابلے میں حاکم جماعت مسلمین کے سامنے اپنے فرائض (کی بجا آوری) کا جواب دہ ہو گا۔ جب قوم اور ہیئت مقتدرہ کے درمیان بیعت ہو چکے تو ضروری ہو گا کہ اسے لازم پکڑا جائے اور جب تک حکمران راہِ راست پر رہے اسے توڑا نہ جائے۔
عاشر: اسلام کے واضح احکام نے بیعت سے رکے رہنے سے چوکنا کیا ہے خواہ وہ بلااواسطہ طریقے سے ہو یا بالواسطہ طریقے پر۔ کیونکہ بلاوجہ بیعت نہ کرنا اور اس سے دست کش رہنا جماعت کے خلاف خروج کے حق کو ثابت کرنا ہے، اس میں فتنہ ہے جس سے سوسائٹی کمزور ہوتی ہے۔
حادی عشر: سنت کے واضح احکام اس امر کی وضاحت کرتے ہیں کہ جب جماعت امام کے خلاف خروج کرے تو امام کی نصرت واجب ہے تاکہ مسلمانوں کا شیرازہ نہ بکھرے۔ اور یہ بھی کہ مسلمان فرمانرواؤں کے خلاف محض ظلم اور فسق کی وجہ سے بغاوت نہیں کی جائے گی جب تک وہ اصولِ اسلام میں کوئی تغیر و تبدل نہ کریں۔ جب کہ حاکم کی بغیر امیدواری اور آزمائش کے حکمرانی (ثابت) ہو چکے تو فقہائے کرام اس بات پر متفق ہیں کہ غالب آ جانے والے سلطان کی اطاعت واجب ہے۔ اس کے ساتھ مل کر جہاد واجب ہے اور یہ کہ اس کی اطاعت اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے سے بہتر ہے بجز اس کے کہ اس سے واضح طور پر کفر کا ارتکاب ہو (بایں صورت) اس کی اطاعت واجب نہیں۔
جمہور علماء کی رائے ہے کہ جب لوگوں سے شہر کے ویران ہو جانے کی وجہ سے مسجد خالی ہو جائے یا جب مسجد ویران ہو جائے، لوگ اس سے بے پرواہ ہو جائیں اور وہ (مسجد) شعائر (دین) ادا کرنے کے قابل نہ رہے تو (بھی) ہمیشہ تا قیامِ قیامت وہ مسجد ہی رہے گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسجد کے ویران ہو جانے سے اس کی صفیت مسجدیت (اس کے مسجد رہنے کا خاصہ) اس سے چھن نہیں جاتی الّا یہ کہ جب اس کے بگڑ جانے کی وجہ سے اس کے منہدم ہونے کا خوف دامن گیر ہو اور اس کی عمارت ہل گئی ہو تو اس کو دوسری مسجد کی طرف منتقل کر دینا جائز ہے، اس کو فروخت کر کے اس کی قیمت سے دوسری مسجد بنانے میں مدد لینا جائز ہے۔
جب ایسا ہو تو گذشتہ (سطور) کی بنیاد پر، خط میں لکھے گئے سوالات کا جواب درج ذیل طریق پر ہوگا۔
پہلا سوال اور اس کا جواب:۔ اسلامی قوانین کے وضع کرنے کا حق کس کو حاصل ہو گا؟
کسی بھی شہر میں اسلامی قوانین دو مرحلوں کا تقاضا کرتا ہے۔
پہلا مرحلہ: یہ کہ قوانین سازی کے اس معاملے کو اسلامی شریعت کے علمائے ماہرین اور دوسرے ان علوم کے تجربہ کار علماء کے سپرد کر دیا جائے جو قانون سازی کے لیے لازمی ہیں۔ یہ کہ قوانین سازی کے اس معاملے کو اس کمیٹی کے سپرد کر دیا جائے جو ایک طرف اسلامی شریعت کے علماء پر مشتمل ہو تو دوسری طرف ایسے علوم کے تجربہ کار علماء پر مشتمل ہو جو (علوم) قانون سازی کے لیے ضروری ہیں اور ان علماء میں وہ شرائط وافر موجود ہوں جو انہیں اس کام کے کرنے کا اہل بنائیں تاکہ اگر یہ کمیٹی کوئی منصوبہ بنائے تو وہ (منصوبہ) مطلوبہ قانون سازی کی گارنٹی دے سکے۔
دوسرا مرحلہ: یہ کمیٹی اس منصوبے کو قانون ساز اسمبلی میں دستوریہ کے پروگرام کے مطابق پیش کرے گی تاکہ قانون سازی صحیح قانونی شکل اختیار کر سکے اور قانون حکومت کی اسکیم کے مطابق ڈھل سکیں۔
دوسرا سوال اور اس کا جواب:۔ کس مذہب کے مطابق قانون بنائے جا سکتے ہیں؟
خصوصی کمیٹی کے لیے ضروری ہے کہ شریعتِ اسلامیہ سے مدد لے کر قانون سازی کا منصوبہ روبہ عمل لائے تاکہ وہ اس مذہب کی رعایت رکھے جس پر کسی اسلامی علاقے میں لوگوں کی غالب اکثریت کا عمل ہے تاکہ مسلمانوں کے لیے سہولت پیدا ہو سکے۔ اور وہ کمیٹی یہ خیال رکھے کہ ایسے حالات پیدا کرے جو قرآن و سنت کے ظاہری احکام سے نہ ٹکراتے ہوں۔
چونکہ پاکستان میں غالب اکثریت کا معمول بہٖ حنفی مذہب ہے جیسا کہ سوال سے ظاہر ہے تو بہتر یہی ہے کہ جماعت اسی کو لازم پکڑے، اسی سے اخذ و استفادہ کرے اور قانون سازی کے معاملات میں اسی کی طرف رجوع کرے۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ کمیٹی بعض حالات میں دوسرے اسلامی مذاہب کے کسی قول یا اقوال سے بھی اخذ و استفادہ کرے جیسے جعفری مذہب جس کا اشارہ سوال میں موجود ہے، مگر شرط یہ ہے کہ ایسا اجتہاد کے موقع پر کیا جائے ورنہ یہ بات صریح شرعی احکام سے متعارض ہو گی یا پھر شریعتِ اسلامیہ میں عام اصولوں کے خلاف ہو گی۔
تیسرا سوال اور اس کا جواب:۔ اسلامی قانون سازی کا منبع و ماخذ کیا ہو گا؟
جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ قانون سازی کے ذرائع چار ہیں۔ دو تو ایسے ہیں کہ امت میں ان کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں، وہ قرآن اور سنت ہیں۔ جمہور فقہاء جن دوسرے دو کی حجیت پر متفق ہیں وہ دونوں اجماع اور قیاس ہیں۔ جبکہ بعض دوسرے محولہ بالا ذرائع کی حجیت پر فقہاء کا اختلاف ہے۔ جن مصادر کی حجیت میں اختلاف ہے ان میں سوال میں مذکور ایک قولِ صحابی ہے۔ صحابہ کے پیشرو اہل بیت اور خلفاء اربعہ ہیں۔ علماء اس امر میں اتفاق رکھتے ہیں کہ اجتہاد کے موقعوں پر صحابی کا مذہب، اس کا قول یا فتوٰی مجتہد صحابہ میں سے کسی کے خلاف حجت نہ ہو گا۔ جہاں تک تابعین اور ان کے بعد کے مجتہدین کے خلاف اس کی حجیت کا تعلق ہے اس میں فقہاء نے اختلاف کیا ہے۔ ذیل میں وہ اختلاف درج ہیں۔
ایک گروہ تو کہتا ہے کہ وہ حجت نہیں۔ امام شافعیؒ کے دونوں قولوں میں سے ایک قول یہی ہے۔ امام احمدؒ کی دو روایتوں میں سے ایک روایت بھی یہی ہے۔ وہ علماء بھی اس میں شامل ہیں جنہوں نے ان دونوں کی پیروی کی درآنحالیکہ ایک گروہ کہتا ہے کہ وہ حجت ہے جسے قیاس پر تقدم حاصل ہے اور یہ امام مالکؒ کی رائے ہے۔ امام شافعیؒ کا ایک قول بھی یہی ہے۔ امام احمد بن حنبلؒ کی ایک روایت بھی یہی ہے اور بعض علمائے احناف کا بھی یہی مسلک ہے۔ (یہ ایسے ہی ہے) جس طرح فقہاء کی آراء میں صحابہ کے اجتہاد کے بارے میں اختلاف ہے اور انہوں نے انفرادی فتوے دیے ہیں۔ ان کے فتووں میں اس حالت میں اختلاف ہے کہ دو اماموں امام ابوحنیفہؓ اور امام مالکؒ کی رائے یہ ہے کہ کوئی شخص مجتہد صحابہ میں سے جس کا فتوٰی چاہے لے لو اور کسی خاص شخص کی پابندی نہ کرے، اور نہ ہی ان سب سے بالکل آزاد ہو جائے، درآنحالیکہ امام شافعیؒ اور ان کے متبعین کی رائے یہ ہے کہ صحابہ کے وہ فتوے جن میں رائے کو دخل ہو حجت نہیں ہیں۔ سوسائٹی کے لیے ضروری ہے کہ صحابہ کے انفرادی فتووں میں سے کوئی سا فتوٰی لے لے، اسے یہ بھی حق پہنچتا ہے کہ ان فتووں کے خلاف فتوٰی دے۔ جہاں تک اس مسئلہ کا تعلق ہے جس میں رائے کو دخل نہ ہو تو اس کا حکم تو مرفوع حدیث کا ہوتا ہے جیسے اس پر صحابی کی سنت کا اطلاق نہ ہو گا یا اس قول کا اطلاق نہ ہو گا (فلاں کی سنت سے ۔۔۔۔۔) قولِ مختار یہ ہے کہ اسے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر محمول کیا جائے گا۔
جن حکمرانوں پر ان قوانین کی تیاری کی ذمہ داری ہے کہ وہ شریعت کے مقاصد کا تحفظ کریں اور جس امر میں کتاب، سنت، اجماع یا قیاس سے کوئی خاص دلیل نہ پائیں اس میں امت کی بہتری کا خیال رکھیں، ان پر یہ بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ عرف، استحسان، استصحاب، مصالح مرسلہ وغیرہ کے اصولوں کو ان کے مواقع اور شرائط کے ساتھ لیں جس طرح کہ وہ اصولِ فقہ کی کتابوں میں وارد ہیں۔
چوتھا سوال اور اس کا جواب:۔ شرعی منتخب حکومت اور غیر منتخب حکومت کے بارے میں قوم کا کیا موقف ہو گا؟
جب حکمران کی بیعت آزادانہ طریقوں کے مطابق بلاواسطہ یا بالواسطہ طریقے پر ہو چکے تو اس سے تمسک کرنا، اس کا نہ توڑنا، یا وعدہ خلافی نہ کرنا ضروری ہو جاتا ہے جب تک کہ حاکم راہِ راست پر رہے۔ کیونکہ اس طرح (نقضِ بیعت سے) جماعت سے خروج واقع ہو گا اور اس میں فتنہ ہے جس سے مسلم سوسائٹی کی طاقت کمزور ہو گی۔ حکمرانوں کے خلاف، جب تک کہ وہ قواعد اسلام میں سے کسی قاعدے کو بدل نہ ڈالے، صرف ظلم اور فسق کی وجہ سے بغاوت جائز نہیں۔
تاہم اقتدار پر تسلط، انتخاب یا امیدوار بنے بغیر، یا آزادانہ انتخاب کے بغیر مسلمان حکمران اپنی حکومت قائم کرے جیسا کہ سوال میں ہے تو (اس صورت میں) فقہاء کا اس پر اتفاق ہے کہ ایسے حاکم کی اطاعت واجب ہے اور اس کے ساتھ مل کر جہاد کرنا بھی فرض ہے۔ اس کی اطاعت کرنا اس کے خلاف بغاوت کرنے سے بہتر ہے کیونکہ ایسا کرنے سے خونریزی رکے گی، فتنوں کا قلع قمع ہو گا اور امن و امان قائم ہو گا۔ صحابہ میں سے اکثر کا عمل اسی پر تھا۔ گذشتہ سطور میں ان میں سے بعض کی طرف اشارہ بھی کیا گیا ہے۔
قوم کے ہر فرد پر واجب ہے کہ معاملہ حکمران کے سامنے پیش کر دیں، اسے احسن طریق پر سمجھائیں اور اس سے یہ مطالبہ کریں کہ وہ شریعتِ اسلامیہ کے مطابق حکومت چلائے۔ اگر وہ ان کی ترجمانی نہ کر سکے تو ان کے لیے ضروری ہے کہ صبر و تحمل سے کام لیں اور امت کی وحدت و اتحاد کی خاطر افتراق یا اطاعت سے نکل جانے سے باز رہیں۔
پانچواں سوال اور اس کا جواب:۔ مسجد کا حکم کیا ہے جبکہ وہ غیر مسلموں کے قبضے میں ہو؟
سورۃ حج میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
’’اور اگر اللہ لوگوں کا زور ایک دوسرے سے نہ گھٹاتا رہتا تو نصارٰی کی خانقاہیں اور عبادت خانے اور یہود کے عبادت خانے اور مسلمانوں کی مسجدیں جن میں اللہ کا نام کثرت سے لیا جاتا ہے سب منہدم ہو گئے ہوتے اور اللہ ضرور اس کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کرے گا۔ بے شک اللہ قوت والا اور غلبہ والا ہے۔‘‘
اس آیت کریمہ کا اقتضا یہ ہے کہ اس کی مسجدیت کا ختم ہو جانا بجز ضرورت کے جائز نہیں۔ یہیں سے جمہور فقہاء کا قول یہ ہے کہ مسجدیت کا خاصہ کسی مکان سے جو مسجد بن چکا ہو زائل نہیں ہوتا۔ اسی لیے (حکم یہ ہے) کہ جب مسجد غصب ہو جائے اور غیر مسلموں کے قبضے میں چلی جائے تو جب بھی حالات اجازت دیں اس کا (ان کے قبضے میں چلے جانے سے) بچاؤ کرنا اور اس کو واپس لینا واجب ہے جبکہ مسلمان ایسا کرنے کی طاقت رکھتے ہوں۔
تاہم شرط یہ ہے کہ کوئی شدید ضرر وقوع پذیر نہ ہو یا ایسی مقامی جنگ نہ چھڑے جو حکومت کو ضرر پہنچائے۔ اسی (قیاس) کے مطابق جن مسجدوں کو قادیانیوں نے غصب کر لیا ہے یا سکھوں کے قبضے میں ہیں تو اگر مسجدیت کی صفت ان سے زائل نہ ہو گئی ہو تو مسلمانوں کے لیے ان کا واپس لینا واجب ہے۔ اس آیت کریمہ کے وضاحتی حکم کی رو سے امت پر مسجد کا دفاع کرنا فرض ہے اور اللہ نے وعدہ فرمایا ہے جو اس کی (اس کے دین کی) مدد کریں گے وہ ان کی مدد فرمائے گا، اور نماز اور ذکر الٰہی کے لیے مسجد کا واپس لینا اس کے دین کی مدد اور اس کا بول بالا (کرنے کا ذریعہ) ہے۔
مذکورہ بالا امور کے پیش نظر مسلمانوں کی طاقت اور مقدرت کو نگاہ میں رکھا گیا ہے جب کہ اس بات کی گارنٹی ہو کہ شدید ضرر وقوع پذیر نہیں ہو گا۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔
۲۳ ربیع الاول ۱۴۰۹ھ — ۲ نومبر ۱۹۸۸ء
دستخط شیخ الازہر جاد الحق علی جاد الحق
مہر شیخ الازہر