نومبر ۱۹۸۹ء

اسلامی قوانین ۔ غیر انسانی؟مولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
قرآنِ کریم - ایک فطری اور ابدی دستورِ حیاتمولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ 
امریکہ میں مقیم مسلمانوں سے چند ضروری گزارشاتمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
حجیّتِ حدیث اور ختمِ نبوت کے موضوع پر شکاگو میں عالمی کانفرنسمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
مرزا طاہر احمد کی دعوت مباہلہ اور حسن محمود عودہ کا قبول اسلاممولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
وسیلۂ نجات ۔ کفارۂ مسیحؑ یا شفاعتِ محمدیؐمحمد عمار خان ناصر 
سابق مسلم ریاست البانیہ میں مسلمانوں کی حالتِ زارمحمود احمد 
سلمان رشدی، آزادیٔ رائے اور برطانوی حکومتحافظ محمد اقبال رنگونی 
فکرِ اسلامی کی تشکیلِ جدید — تقاضے اور راہِ عملمولانا قاری محمد طیبؒ 

اسلامی قوانین ۔ غیر انسانی؟

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

روزنامہ جنگ لاہور نے پی پی آئی کے حوالہ سے ۷ نومبر ۱۹۸۹ء کے شمارہ میں یہ خبر شائع کی ہے کہ:
’’پاکستان ویمن لیگل رائٹس کمیٹی نے حکومت سے زنا حدود آرڈیننس فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور اسے غیر اسلامی، غیر جمہوری اور غیر انسانی قرار دیا ہے۔ کمیٹی نے اپنے حالیہ اجلاس میں کہا ہے کہ یہ آرڈیننس کسی بھی طرح خواتین کے ساتھ زنا اور اغوا جیسے جرائم کو روکنے میں مددگار ثابت نہیں ہوا بلکہ اس سے ملک میں خواتین کے احترام میں کمی واقع ہوئی ہے۔ کمیٹی نے اس سلسلہ میں دس صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ تیار کر کے ججوں سمیت مختلف حکام کو بھجوا دی ہے اور اس کی ایک کاپی وفاقی وزیر قانون افتخار گیلانی اور وفاقی وزیر بیگم ریحانہ سرور کو بھی دی گئی ہے۔ انہوں نے ان سفارشات کی روشنی میں اس آرڈیننس کے خاتمہ کے لیے مثبت اقدام کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔‘‘
زنا اور دیگر جرائم کے بارے میں شرعی قوانین پر مشتمل حدود آرڈیننس گزشتہ حکومت نے نافذ کیا تھا جس پر عملدرآمد کے سلسلہ میں ہمیں مسلسل شکایت رہی ہے اور ’’پاکستان ویمن لیگل رائٹس کمیٹی‘‘ کی مذکورہ بالا رپورٹ کے اس حصہ سے ہم متفق ہیں کہ یہ آرڈیننس زنا اور اغوا جیسے جرائم کو روکنے میں مددگار ثابت نہیں ہوا۔ لیکن ہمارے نزدیک اس کی وجہ حدود آرڈیننس میں شامل شرعی قوانین نہیں بلکہ ملک میں رائج دوہرا قانونی نظام، عملدرآمد کے ذمہ دار اداروں کی منافقانہ روش، اور شرعی قوانین کے نفاذ کے لیے مناسب عدالتی و انتظامی مشنری فراہم نہ کرنے کی پالیسی ہے۔ ورنہ حدود و قصاص کے یہی قوانین برادر ملک سعودی عرب میں بھی نافذ ہیں اور انہی احکام و قوانین کی برکت سے عالمی سطح پر مسلّمہ اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب میں جرائم کی شرح سب سے کم ہے۔
جہاں تک شرعی قوانین کو غیر انسانی، غیر جمہوری اور غیر اسلامی قرار دینے کا تعلق ہے، یہ اسلامی نظام و قوانین کے خلاف یہودی، ہندو، کمیونسٹ اور سیکولر لابیوں کی مشترکہ عالمی مہم کا ایک حصہ ہے۔ اس لیے ہم پاکستان ویمن لیگل رائٹس کمیٹی کے ارکان سے گزارش کریں گے کہ وہ حدود آرڈیننس پر مؤثر عملدرآمد، اسے جرائم کے خاتمہ کا یقینی ذریعہ بنانے، اور اس کی خامیوں کو دور کرنے کی ضرور کوشش کریں، اس سلسلہ میں انہیں ہمارا تعاون بھی حاصل ہوگا۔ لیکن اسلامی نظام و قوانین کے خلاف اسلام دشمن لابیوں کی مہم میں ان کا آلۂ کار نہ بنیں کہ یہ اسلام دشمنی کے ساتھ ساتھ ملک و قوم کے ساتھ غداری کے بھی مترادف ہے۔

قرآنِ کریم - ایک فطری اور ابدی دستورِ حیات

مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

گو حسبِ تصریح علماءِ اصول دلائل اور براہین کی چار قسمیں ہیں (۱) کتاب اللہ (۲) سنت رسول اللہ (۳) اجماع (۴) قیاس۔ گو اجماع اور قیاس درحقیقت کتاب اور سنت ہی کی طرف راجع اور اسی کا ثمرہ ہیں۔ لہٰذا کائنات کی رہبری کے لیے اصولی طور پر ہدایت دو حصوں اور درجوں میں منقسم ہے۔ ایک وہ حصہ جو جمیع اصول تمام پختہ و غیر متغیر اور لازمی احکام اور اعمال پر مشتمل اور انسانی تصریف سے بالاتر اور اپنے الفاظ میں محفوظ و منضبط اور ہمیشہ کے لیے مکلف مخلوق کی ہدایت کا نصاب ہے اور اس ہدایت کے سرچشمہ کا نام وحی متلو اور قرآن مجید ہے۔ 

مذہب اور قانونِ فطرت اس معیار اور مقیاس کا نام ہے جو مقرر و معیّن ضابطہ اور قانون کلّی کی حیثیت رکھتا ہو۔ سچا اور صحیح مذہب اور آئین صرف وہی ہوتا ہے جس کی بنیاد حقیقی سچائی اور عالمگیر حقانیت پر ہو اور جس کے ذریعہ عقائد و اعمال اور اخلاق کو اچھا یا برا کہا جا سکے اور جس کی رو سے باطنی اور ظاہری اصلاح ہو کر بچا جا سکے اور جس کے اصولِ قطعی اور اٹل ہونے کے ساتھ ایسے جامع ہوں جو کائنات کی دینی اور دنیوی حاجت روائی کے لیے کافی ہوں۔ فطرت چونکہ حقیقی صداقت ہے اس لیے مذہب اسلام کی بنیاد خالقِ فطرت نے فطرت پر رکھی ہے اور جس کی بابت یوں ارشاد فرمایا ہے:

فِطْرَتَ اللہِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْھَا لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللہِ (سورہ الروم ۳۰)
’’یہ اللہ تعالیٰ کا وہ قانونِ فطرت ہے جس پر اس نے انسان کو پیدا کیا ہے (یعنی انسانی فطرت اسی دین کے موافق ہے) اور اس قانون میں تبدیلی ممکن نہیں ہے۔‘‘
سچا مذہب وہ ہوتا ہے جو من جانب اللہ قطعی اور محکم طریقہ سے منکشف ہوتا ہے اور ہر صحیح الفطرت اس کے سامنے سرِتسلیم خم کر دیتا ہے۔ وہ بنایا نہیں جاتا اور نہ اس میں مخلوق کی ایجاد و احداث کا سوال پیدا ہوتا ہے۔ غلط اور نادرست مذہب کی شناخت یہ ہوتی ہے کہ اس کی بنیاد ان خیالات اور اوہام پر قائم کی جاتی ہے جو دل کی دنیا میں پیدا ہوتے اور خواہشات کے دریا اور طوفان میں بہہ جاتے ہیں اور نفس الامر سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ وہ فطرت سے بے گانہ اور حقیقت اور صداقت سے کوسوں دور ہوتے ہیں۔ گو ان کی ظاہری چمک دمک سادہ لوح اور سطحی قسم کے لوگوں کی نارسا آنکھوں کو خیرہ کر دیتی ہے اور وہ اس سے متاثر ہو کر اس دامِ ہمرنگ زمین کا شکار ہو جاتے ہیں۔ 
جس قدر مستقبل سے متعلق کسی کو زیادہ علم حاصل ہو گا اسی قدر وہ زیادہ صحیح قانون اور آئین بنا سکے گا۔ مخلوق کے پاس مستقبل سے متعلق علم حاصل کرنے کے ذرائع اور وسائل، تجربہ، قیاس اور حواس وغیرہ سب کے سب محدود، ناتمام اور ناقص ہیں، اس لیے مخلوق کے مجوّزہ قوانین کبھی ناقابلِ ترمیم نہیں ہو سکتے۔ ملک اور ملت کے چیدہ چیدہ اور منتخب قانون ساز بڑی کوشش اور کاوش سے بسیار بحث و تمحیص کے بعد ایک قانون تجویز کرتے ہیں مگر تھوڑے سے عرصے کے بعد اس میں ترمیم کا پیوند لگانا پڑتا ہے اور ہمیشہ اس امر کا مشاہدہ ہوتا رہتا ہے اور تاقیامت ہوتا رہے گا۔ ہر قانون اور آئین کے بنانے کا ایک مدعا اور مقصد ہوتا ہے۔ قانون ساز کو اگر قانون پر عمل کرنے والوں کے ساتھ شفقت اور ہمدردی ہے اور وہ ان کا حقیقی خیرخواہ اور خود غرضی سے بالا ہے تو وہ ایسا قانون بنائے گا جس سے قانون پر چلنے والوں کو نفع اور فائدہ پہنچے گا۔ اور اس بات کے تسلیم اور یقین کر لینے میں کیا تامل ہو سکتا ہے کہ مفید اور ناقابلِ تنسیخ قانون صرف وہی بنا سکتا ہے جو ہر لحاظ سے کامل علم رکھتا اور بہمہ وجوہ علیم و خبیر ہو، حقیقی ہمدرد اور مہربان ہو، خودغرضی سے بے نیاز اور مطلب پرستی سے بے احتیاج و بے پروا ہو۔ ظاہر ہے کہ مخلوق سے متعلق خالق کے سوا علمِ تام اور کسی کو نہیں ہو سکتا۔ مخفی نہیں کہ الرحمٰن سے زیادہ مہربان کوئی دوسرا نہیں ہو سکتا اور پوشیدہ نہیں کہ الصمد سے بڑھ کر بے نیاز اور کوئی نہیں۔ لہٰذا خدا تعالیٰ کے سوا کوئی دوسری ہستی ایسی نہیں ہو سکتی جو مخلوق کے لیے کامل و مکمل اور ناقابل ترمیم قانون اور آئین بنا سکے۔ ’’اَلَا لَہُ الْخَلْقُ وَالْاَمْر‘‘۔
چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس قادر و مقتدر خدا کا بنایا ہوا قانونِ فطرت تمام موجودات میں جاری و ساری ہے۔ جمادات، نباتات اور حیوانات سب اس کے قانون میں (جس کو سنت اللہ یا قانونِ قدرت کہا جاتا ہے) جکڑے ہوئے ہیں اور کسی میں اس کی خلاف ورزی کی تاب نہیں۔ ’’وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللہِ تَبْدِیْلاً‘‘۔ اور اگر ہم خدا تعالیٰ کے اس قانون میں (جس کو لاء آف نیچر کہتے ہیں) ترمیم اور تنسیخ کا اختیار رکھتے تو سرو کے درخت میں آم اور بادام پیدا کر دیتے، بیروں اور کھجوروں میں گٹھلیاں پیدا نہ ہونے دیتے، گدھے کے سر پر سینگ پیدا کر دیتے یا گدھے کے سر کی طرح گائے بیل اور بھینس کے سر سے سینگ الگ کر دیتے، اور اپنی اس حماقت اور جہالت کو عقل و دانائی قرار دے کر اس مصلحت اندیشِ حقیقی کے قانون میں اصلاح و ترمیم کرنے والے بن جاتے۔ لیکن اس کا قانون ہماری دسترس سے باہر، ہر عیب و سقم سے پاک، ہر اعتبار سے ناقابلِ ترمیم اور تمام موجوداتِ عالم میں پوری طاقت اور شوکت کے ساتھ نافذ ہے اور تمام مخلوقاتِ عالم ایک ذرّہ بے مقدار سے لے کر آفتاب عالم تاب تک، ثرٰی سے لے کر ثریّا تک اور فرش سے لے کر عرش تک اس کی تعمیل اور فرمانبرداری میں ہمہ تن مصروف اور بے اختیار ہے۔ 
مخلوقاتِ عالم میں صرف انسان ہی ایک ایسی مخلوق ہے جس کو خدا تعالیٰ نے خاص قسم کی صلاحیت اور استعداد عطا فرما کر ایک محدود دائرہ میں آزاد ارادہ اور اختیار دے دیا ہے، اور اس آزاد ارادہ اور اختیار کے لیے اس کو قانون دے کر اس کی تعمیل چاہی ہے۔ اس قانون کا نام دین اور مذہب ہے اور اسی کی تعلیم اور یاددہانی کے لیے اللہ تعالیٰ کے پیغمبر مبعوث ہوتے رہے اور اسی سلسلۂ تعلیم کو امام الانبیاء سید الرسل خاتم النبیین حضرت محمد مصطفٰی احمد مجتبٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے مبعوث ہو کر پایۂ تکمیل تک پہنچایا اور اسی کا آپؐ کی وفات حسرت آیات سے اکیاسی روز قبل ہزاروں کی تعداد میں ان قدسی صفات اور پاک نفوس کے بھرے مجمع میں میدانِ عرفات کے اندر نویں ذی الحجہ کو جمعہ کے دن اور عصر کے وقت یہ اعلان کروایا گیا کہ 
اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا۔ (سورہ المائدہ ۳)
’’آج میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو مکمل کر دیا اور تمہارے اوپر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے میں نے دینِ اسلام کو پسند کیا۔‘‘

اس اعلانِ خداوندی کا یہی منشا ہے کہ قیامت تک اب دین میں کسی ترمیم و تنسیخ اور حذف و اضافہ کی نہ تو کوئی ضرورت ہے اور نہ گنجائش۔ ہدایت کے لیے جن احکام کی ضرورت تھی وہ اصولًا سب نازل کر دیے گئے ہیں۔ اب جو شخص دین میں کسی ایسی چیز کا اضافہ کرتا ہے جس کی تعلیم جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو نہیں دی تو گویا وہ درپردہ یہ دعوٰی کر رہا ہے کہ دین نامکمل اور میری ترمیم کا محتاج ہے، یا وہ اس کا مدعی ہے کہ معاذ اللہ حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے باوجود رؤف اور رحیم ہونے کے اپنی امت کو بہتر، اعلیٰ اور مکمل طریقہ نہیں بتایا۔ الغرض جس طرح اس کا قانونِ قدرت ترمیم و تنسیخ اور مخلوق کے دست برد سے بالاتر ہے اسی طرح اس کا قانون شرع بھی ترمیم و تنسیخ اور تنقیص و اضافہ سے بالاتر ہے۔ کسی کی کیا مجال ہے کہ اس میں ترمیم کر سکے اور کسی دانش فروش کا کیا حوصلہ ہے کہ وہ اس کو ناقص اور ناقابل قرار دے کر اس میں اضافہ اور اصلاح کا مدعی ہو سکے۔ کوئی حکمت اور دانائی کی ایسی بات نہیں جو قانونِ خداوندی میں موجود نہ ہو۔ انسانی زندگی کا کوئی کھلا اور چھپا ہوا شعبہ ایسا نہیں جس کے شائستہ بنانے کا نہایت اور مکمل اور ناقابلِ ترمیم دستور العمل اس میں نہ پیش کیا گیا ہو۔ 

جمیع العلم فی القراٰن لٰکن
تقاصر عنہ افھام الرجال


امریکہ میں مقیم مسلمانوں سے چند ضروری گزارشات

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(جمعیۃ المسلمین واشنگٹن ڈی سی امریکہ کے زیر اہتمام ۲۳ اکتوبر ۱۹۸۹ء کو بعد نماز مغرب پیرش ہال میں ایک جلسۂ عام منعقد ہوا جس سے تحریک ختم نبوت کے عالمی راہنما مولانا منظور احمد چنیوٹی، مدیر الشریعہ مولانا زاہد الراشدی، جمعیۃ المسلمین کے امیر مولانا عبد الحمید اصغر نقشبندی اور مولانا عبد المتین نے خطاب کیا۔ مولانا چنیوٹی نے اپنے مفصل خطاب میں قادیانیت کے باطل عقائد اور اسلام دشمن سرگرمیوں پر روشنی ڈالی جبکہ مدیر الشریعہ نے امریکہ میں مقیم مسلمانوں کی ذمہ داریوں کے حوالہ سے مندرجہ ذیل خطاب کیا۔ ادارہ الشریعہ)

بعد الحمد والصلٰوۃ۔ میں مسجد الہدٰی واشنگٹن ڈی سی کی انتظامیہ اور جمعیۃ المسلمین کے ذمہ دار حضرات کا شکر گزار ہوں جنہوں نے آج یہاں اس محفل کا انعقاد کر کے ہمیں اپنی دینی ذمہ داریوں کے بارے میں کچھ کہنے سننے کا موقع فراہم کیا، اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر دیں۔ تفصیلی خطاب تو حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی کا ہوگا جو قادیانیت کی فتنہ خیزیوں کے بارے میں آپ سے کھل کر بات کریں گے، مجھے مختصر وقت میں آپ دوستوں سے یہاں امریکہ میں مقیم مسلمانوں بالخصوص پاکستانی دوستوں کی ذمہ داریوں کے حوالے سے کچھ گزارشات پیش کرنی ہیں۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ کچھ مقصد کی باتیں کہنے سننے کی توفیق دیں اور دین حق کی جو بات سمجھ میں آئے اللہ تعالیٰ اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائیں۔ میں آپ دوستوں کو چند اہم امور کی طرف متوجہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔
ایک یہ کہ آپ اپنے اردگرد نظر ڈالیں گے تو آپ کو بے شمار ایسے خاندان نظر آئیں گے جو کسی زمانے میں مسلمان تھے، بالخصوص اسپینش اور میکسیکن قوم میں آپ کو ایسے خاندانوں کی ایک بڑی تعداد نظر آئے گی جن کے آباؤ اجداد کسی زمانہ میں یہاں بحیثیت مسلمان آئے تھے لیکن اب ان کی اولاد مسلمان نہیں رہی۔ میں اس وقت اس بحث میں نہیں پڑتا کہ امریکہ میں پہلے کولمبس آیا تھا یا اسپین کے مسلمان اس زمین پر پہلے وارد ہوئے تھے، لیکن اس تاریخی حقیقت کی طرف آپ کو متوجہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اسپین میں عیسائیت کے دوبارہ تسلط کے وقت وہاں سے بے شمار خاندان سمندر پار کر کے امریکہ میں آبسے تھے لیکن آج وہ خاندان مسلمان نہیں ہیں۔ آپ ذرا کریدیں گے تو آپ کو ان خاندانوں میں اسلام کے آثار آج بھی نظر آ سکتے ہیں لیکن یہ لوگ مذہب کے ساتھ تعلیمی تعلق باقی نہ رہنے کی وجہ سے نہ صرف یہاں کے معاشرے میں ضم ہوگئے بلکہ ایمان سے محروم ہو کر عیسائیت کی آغوش میں چلے گئے۔ پھر آپ ان لوگوں کو دیکھیں جو مشرقی یورپ میں کمیونزم کے تسلط کے وقت وہاں سے ایمان بچانے کے لیے نکل کھڑے ہوئے، ان میں سے کچھ خاندان یہاں امریکہ میں آکر آباد ہوئے ان میں سے بھی بہت سے خاندان آپ کو ایسے ملیں گے جو آج مسلمان نہیں رہے اور یہاں کا کلچر اور مذہب انہیں پوری طرح ہضم کر چکا ہے۔
حضراتِ محترم! میں آپ سے یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اپنے اردگرد ان مشاہدات کو دیکھتے ہوئے آج آپ نے ایک فیصلہ کرنا ہے، وہ یہ کہ اس خطہ میں جہاں آپ دنیا کی زندگی کے لیے بہتر وسائل کی تلاش میں آئے ہیں آپ کی اولاد کا مستقبل کیا ہوگا؟ کیا آپ فی الواقع اپنی اولاد اور آنے والی نسل کے دینی مستقبل سے دستبردار ہو چکے ہیں؟ اور کیا آپ واقعتاً اس واضح طور پر نظر آنے والی تبدیلی کو ذہناً قبول کر چکے ہیں؟ اگر ایسا نہیں ہے اور آپ کے چہرے مجھے بتا رہے ہیں کہ آپ ذہناً اپنی اولاد کو کفر کے حوالے کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں تو پھر یہ بات صرف خواہش کے ساتھ پوری نہیں ہوگی، اس کے لیے آپ کو کچھ کرنا ہوگا اور یہ آپ ہی کی ذمہ داری ہے کہ اپنی اولاد کو کفر کی آغوش میں جانے سے بچا لیں۔ قرآن کریم نے بھی یہ ذمہ داری آپ پر عائد کی ہے کہ صرف خود جہنم کی آگ سے بچنے کی کوشش پر اکتفا نہ کریں بلکہ اپنے اہل و عیال کو بھی اس آگ سے بچائیں۔ یہ دین کا تقاضا ہے اور یہ عقل و منطق کا تقاضا بھی ہے۔
دیکھیے! ابھی سان فرانسسکو میں زلزلہ آیا ہے، یہ خدائی گرفت آتی رہتی ہے، اگر کسی جگہ زلزلہ آجائے، کسی مکان میں آگ لگ جائے تو کسی مکان کا مالک ایسا بے وقوف نہیں ہوگا کہ خود اکیلا مکان سے باہر کھلے میدان میں جا کھڑا ہو اور اطمینان کا اظہار کرے کہ میں تو آگ سے بچ گیا ہوں، عقلمند آدمی وہ سمجھا جائے گا جو پہلے گھر کے دوسرے افراد کو، بیوی بچوں کو، اہل و عیال کو آگے سے بچانے کی کوشش کرے گا اور پھر خود آگے سے بچنے کا سوچے گا۔ یہی بات اللہ تعالیٰ نے فرمائی ہے کہ اے ایمان والو! اپنے آپ کو بھی جہنم کی آگ سے بچاؤ اور اپنے اہل و عیال کو بھی جہنم کی آگ سے بچانے کی کوشش کرو۔ اس لیے اولاد کے دین و عقیدہ کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حقیقت کا اظہار اس طرح فرمایا ہے کہ ہر پیدا ہونے والا بچہ دین فطرت پر پیدا ہوتا ہے، یہ ماں باپ ہیں جو اسے یہودی، عیسائی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔
حضراتِ محترم! میں دیکھ رہا ہوں کہ امریکہ میں مقیم مسلمانوں کو رفتہ رفتہ اپنی نئی نسل کو بطور مسلمان باقی رکھنے کی ضرورت کا احساس ہو رہا ہے، یہ جذبہ بیدار ہو رہا ہے، فکر بڑھ رہی ہے لیکن اسے صحیح طریقہ سے منظم کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کا صحیح راستہ یہ ہے کہ آپ اپنے گھروں کے ماحول کو کسی نہ کسی حد تک مذہبی بنانے کی کوشش کریں، مذہبی اقدار سے وابستگی برقرار رکھیں، گھروں میں نماز اور دیگر عبادات کا اہتمام کریں اور سب سے بڑھ کر اپنی اولاد کی دینی تعلیم کا نظم قائم کریں۔ یہ بات یاد رکھیں کہ اگر آپ نے اپنی اولاد کو مسلمان باقی رکھنا ہے تو آپ کو مساجد کا نظام قائم کرنا ہوگا، آپ کو دینی مدارس کا منظم طریقہ سے آغاز کرنا ہوگا، آپ کو اپنی اولاد کی عصری اور دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کی طرف متوجہ ہونا ہوگا، ورنہ آپ اپنی آئندہ نسل کو مذہب اور دین کے ساتھ وابستہ نہیں رکھ سکیں گے اور خدانخواستہ اس کا حشر وہی ہوگا جو اس سے قبل یہاں بسنے والے مسلمانوں کا ہو چکا ہے۔
ایک اور نکتہ بھی ذہن میں رکھیں کہ یہاں اس معاشرہ میں اپنی اولاد کو دین کے ساتھ وابستہ رکھنے کا واحد ذریعہ صرف اور صرف آپ ہیں۔ اپنے وطن میں اگر ماں باپ اولاد کی تربیت سے خدانخواستہ غافل ہوں تو متبادل ذرائع موجود ہیں جو نوجوان نسل کو دین سے دور جانے سے روک لیتے ہیں۔ محلہ میں مسجد ہے، اچھے دوستوں کی سوسائٹی ہے، وعظ و نصیحت کی مجلسیں ہیں۔ وہاں اگر آپ توجہ نہیں دیں گے تو بھی کوئی نہ کوئی ذریعہ اور مل سکتا ہے لیکن یہاں تو باقی سب راستے بند ہیں۔ یہاں کا معاشرہ، سوسائٹی، میڈیا، تعلیمی ادارے غرضیکہ ہر ذریعہ نوجوان کو کفر کی طرف اور جنسی انارکی کی طرف لے جانے والا ہے۔ صرف ماں باپ ہی ایک ایسا واحد ذریعہ باقی رہ جاتا ہے جو اگر صحیح توجہ دے گا تو اولاد کے مسلمان رہنے کا کوئی امکان ہے ورنہ یہاں اور کوئی متبادل ذریعہ موجود نہیں ہے۔ اس لیے یہاں آپ کی ذمہ داری اپنی اولاد کے بارے میں کئی گنا بڑھ جاتی ہے جو آپ کو بہرحال پوری کرنی ہے ورنہ آپ خدا کے مجرم تو ہوں گے ہی اپنی اولاد اور مسلمانوں کی تاریخ کے بھی مجرم شمار ہوں گے۔
محترم بزرگو اور دوستو! میں جہاں آپ کو اپنی اولاد کے دینی مستقبل کے تحفظ کے لیے مساجد اور دینی مدارس کے قیام کا مشورہ دے رہا ہوں اور دینی مراکز کے ناگزیر ہونے کا احساس دلا رہا ہوں وہاں ایک تلخ حقیقت کی طرف آپ کو متوجہ کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ جب آپ یہ مساجد، مدارس اور دینی مراکز قائم کریں گے اور آپ کو بہرحال قائم کرنا ہوں گے تو انہیں آباد کرنے کے لیے، انہیں چلانے کے لیے آپ کو دینی افراد کی ضرورت ہوگی، وہ کھیپ آپ کہاں سے لائیں گے؟ اتنی بڑی تعداد میں حافظ، قراء اور علماء کہاں سے مہیا کریں گے؟ اس کا ایک جواب تو یہ ہے اور یہ آسان جواب ہے کہ ہم اپنی ضرورت کے لیے مذہبی افراد کی یہ کھیپ اپنے ملک سے منگوا لیں گے، یہ آسان راستہ ہے لیکن اس کے کچھ تلخ ثمرات بھی ہوں گے اور ان تلخ ثمرات کا تجربہ ہم اس سے قبل یورپ میں کر چکے ہیں۔ میرے بھائیو! جب ہم اپنے ملک میں دینی کام کرتے کرتے آپ کے یہاں منتقل ہوں گے تو ہمارے ساتھ بیماریوں کے وہ جراثیم بھی منتقل ہوں گے جو ہمیں لاحق ہیں، یہ وہ بیماریاں ہیں جنہوں نے ہمیں اپنے ملکوں میں کسی کام کا نہیں رہنے دیا اور باہر جا کر بھی یہ بیماریاں ہمارے لیے اور اسلام کے لیے بدنامی اور رسوائی کا باعث بن رہی ہیں۔
یورپ میں جب مسلمان منظم ہونا شروع ہوئے تو انہوں نے اپنی ضرورت کے لیے علماء اور حفاظ اپنے وطن سے منگوا لیے اور ان جراثیم کا علاج نہ کیا جو ہماری مخصوص بیماریوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ہم نے یورپ کو دیوبندی بریلوی لڑائیوں کا اکھاڑہ بنا دیا، مسجدوں کے جھگڑے ہوئے، خدا کے گھر سیل کر دیے گئے، عبادت گاہوں کو کتوں کے ذریعے خالی کرایا گیا اور ہم کفار کے سامنے ندامت اور شرمندگی کا عنوان بن کر رہ گئے۔ مجھے ڈر لگ رہا ہے کہ یہاں بھی یہی کھیل کھیلا جائے گا، اس لیے میں آپ حضرات کو قبل از وقت خبردار کر رہا ہوں کہ خدا کے لیے ان جراثیم کا کوئی علاج سوچ لیجئے۔ آج جب ہم ایک ملک سے دوسرے ملک جاتے ہیں تو ایئرپورٹ پر ہیلتھ سیرٹیفکیٹ چیک کیا جاتا ہے کہ کہیں اس ملک کی بیماریوں کے جراثیم تو ساتھ نہیں لے آئے۔ آپ کو بھی ایسا کرنا ہوگا اور ان جراثیم کو اپنے ملک میں آنے سے روکنا ہوگا ورنہ آپ اس معاشرہ میں مذاق بن کر رہ جائیں گے اور دین کی خدمت کی بجائے دین کی رسوائی کا ذریعہ ثابت ہوں گے۔
محترم بزرگو! میں آپ کو ایک اصول بتانا چاہتا ہوں۔ ہمارے دین کی تین بنیادیں ہیں، انہیں کسی حالت میں نظر انداز نہ کریں۔ (۱) قرآن کریم (۲) سنت رسول (۳) اور صحابہ کرامؓ جو شخص قرآن کو مانتا ہے، حدیثِ رسولؑ کو تسلیم کرتا ہے اور صحابہ کرامؓ کی پیروی کو قبول کرتا ہے، وہ حنفی ہو، شافعی ہو، مالکی ہو، حنبلی ہو، ظاہری ہو، دیوبندی ہو، بریلوی ہو، اہل حدیث ہو یا کسی بھی مکتب فکر سے تعلق رکھتا ہو، اس سے کسی مسئلہ میں جھگڑا نہ کریں، کسی اختلاف میں نہ الجھیں، اور اگر آپ کو کوئی الجھانے کی کوشش کرے تو اسے ٹوک دیں، جھٹک دیں اور اس کی بات کو تسلیم نہ کریں۔
میں گزارش کر رہا تھا کہ اپنی اولاد کی دینی تعلیم اور نئی نسل کی مذہب سے وابستگی برقرار رکھنے کے لیے مساجد، مدارس اور دینی مراکز کا اہتمام آپ کی ذمہ داری ہے لیکن ان مراکز کے لیے افراد کی تلاش میں احتیاط سے کام لیں اور اگر آپ میرا مشورہ مانیں تو ایسے افراد کو درآمد کرنے کا ہی نہ سوچیں کیونکہ جن افراد نے آپ کے ماحول میں تربیت نہیں پائی، آپ کے ماحول میں کام نہیں کیا، وہ آپ کے ماحول کو سمجھ ہی نہیں سکتے، وہ اپنی ذہنی ساخت اور تربیت و ماحول کے سانچے میں آپ کو ڈھالنے کی کوشش کریں گے جس کے نتیجہ میں وہ بیماریاں پھر آپ میں عود کر آئیں گی جو خود ہمارے ملکوں میں ہمارے لیے بربادی کا باعث بنی ہوئی ہیں۔ اس کی بجائے آپ یہ کیوں نہیں کرتے کہ اپنی ضروریات کے لیے حفاظ، قراء اور علماء کی کھیپ خود یہاں تیار کریں۔ ایک معیاری دارالعلوم کے قیام کی طرف توجہ کریں۔ واشنگٹن ریاستہائے متحدہ امریکہ کا دارالسلطنت ہے، یہاں کے مسلمانوں پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ایک دارالعلوم بنائیں، اس میں حفاظ، قراء اور علماء تیار کریں۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ جو نوجوان نسل اس ماحول میں رہ کر دین کی تعلیم حاصل کریں گے وہ یہاں کے تقاضوں اور مشکلات کو زیادہ بہتر طور پر سمجھیں گے اور وہ زیادہ مؤثر طریقے سے آپ کی مساجد و مدارس کو آباد کر سکیں گے۔ میرے سامنے پڑھے لکھے دانشور دوست بیٹھے ہیں وہ اس نکتہ کو ضرور سمجھ رہے ہوں گے اور وہ یقیناً میری گزارش پر سنجیدگی کے ساتھ غور کریں گے۔
میرے محترم بزرگو! میں نے آپ حضرات کا خاصا وقت لے لیا ہے لیکن یہ باتیں آپ سے دوٹوک انداز میں کرنا میں اپنی ذمہ داری سمجھتا تھا۔ اب ان گزارشات کا خلاصہ دہرا دیتا ہوں، میں نے آپ حضرات سے تین گزارشات کی ہیں:
  1. اپنے سے پہلے آنے والے مسلمانوں کی اولاد کے حشر سے سبق حاصل کریں اور اپنی اولاد اور نئی نسل کو مذہب کے ساتھ وابستہ رکھنے کے لیے اپنے گھروں کا ماحول مذہبی بنانے کی کوشش کریں۔
  2. مذہب کے ساتھ اپنی اور اپنی اولاد کی وابستگی کو صحیح رکھنے کے لیے مساجد، دینی مدارس اور دینی مراکز کے نظام کو منظم طریقے سے قائم کریں۔
  3. مذہبی ضروریات کے لیے یہاں کے ماحول اور تقاضوں سے ناواقف افراد کو درآمد کرنے کی بجائے ایک بڑا دارالعلوم قائم کر کے خود یہاں حفاظ، قراء اور علماء کی کھیپ تیار کریں تاکہ وہ یہاں کے ماحول اور تقاضوں کے مطابق آپ حضرات کی بہتر دینی راہنمائی اور خدمت کر سکے۔
میں آخر میں مسجد الہدٰی کی انتظامیہ، جمعیۃ المسلمین کے امیر مولانا عبد الحمید اصغر اور ان کے رفقاء کا ایک بار پھر شکریہ ادا کرتا ہوں اور آپ سب حضرات کا شکر گزار ہوں کہ ہفتہ کے دوران آپ حضرات وقت نکال کر اس اجتماع میں تشریف لائے ہیں۔ اللہ رب العزت ہم سب کی حاضری کو قبول فرمائیں اور دین حق کے لیے مثبت اور مؤثر خدمت سرانجام دینے کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا الٰہ العالمین۔

حجیّتِ حدیث اور ختمِ نبوت کے موضوع پر شکاگو میں عالمی کانفرنس

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

شکاگو کا شمار ریاستہائے متحدہ امریکہ کے بڑے شہروں میں ہوتا ہے جو دنیا کی پانچ بڑی جھیلوں کے سلسلہ میں مشی گن نامی بڑی جھیل کے کنارے آباد ہے۔ دنیا میں میٹھے پانی کی یہ سب سے بڑی جھیل کہنے کو جھیل ہے لیکن ایک سمندر کا نقشہ پیش کرتی ہے جو سینکڑوں میل کے علاقہ کو احاطہ میں لیے ہوئے ہے، میٹھے پانی کے اس سمندر کی وجہ سے شکاگو کا پورا علاقہ انتہائی سرسبز و شاداب ہے۔
شکاگو کی مجموعی آبادی ۸۰ لاکھ کے قریب ہے جس میں مسلمانوں کی تعداد اڑھائی تین لاکھ کے لگ بھگ بیان کی جاتی ہے۔ ان میں مقامی سیاہ فام نومسلموں کی تعداد سب سے زیادہ ہے جو بلالی مسلم کہلاتے ہیں اور وارث دین محمد ان کی رہبری اور قیادت کر رہے ہیں۔ وارث دین محمد عالیجاہ محمد کے فرزند ہیں جس نے نبوت کا دعوٰی کیا تھا اور گورے امریکیوں کے خلاف نفرت کے جذبات بھڑکا کر سیاہ فاموں کی ایک بڑی تعداد کو اپنے گرد جمع کر لیا تھا۔ لیکن عالیجاہ محمد کی زندگی میں ہی اس کے دست راست مالکم ایکس نے اس کی جھوٹی نبوت سے بغاوت کر کے اسلام کے صحیح عقائد کو قبول کرنے کا اعلان کر دیا تھا جس کی پاداش میں مالکم ایکس کو شہید کر دیا گیا۔ مالکم ایکس کی شہادت رنگ لائی اور عالیجاہ محمد کی وفات کے بعد خود اس کے فرزند وارث دین محمد نے باپ کے عقائد کو مسترد کر دیا اور اب وہ صحیح العقیدہ بلالی مسلمانوں کی رہبری کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ وارث دین محمد کے خلاف ان کے دوسرے بھائیوں نے عدالت میں دعوٰی دائر کر دیا کہ چونکہ وارث اپنے باپ کے عقائد اور مذہب سے منحرف ہوگئے ہیں اس لیے عالیجاہ محمد کی کروڑوں ڈالر کی جائیداد میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ وارث یہ مقدمہ ہار گئے ہیں لیکن انہیں اس کی پرواہ نہیں ہے اور وہ پوری لگن اور محنت کے ساتھ بلالی مسلمانوں کی تعلیم و تربیت اور غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت دینے کی مہم میں مصروف ہیں۔
دوسرے نمبر پر یہاں عرب اور فلسطینی مسلمان ہیں اور پھر انڈیا، پاکستان اور بنگلہ دیش سے آکر یہاں آباد ہونے والے مسلمانوں کا نمبر آتا ہے۔ انڈیا سے آنے والے مسلمانوں میں حیدرآباد دکن کے حضرات کی تعداد زیادہ ہے جو اسلام کے ساتھ وابستگی اور دینی فرائض و احکام کی بجا آوری میں سب سے زیادہ پیش پیش نظر آتے ہیں۔ پاکستانی مسلمانوں کی شکاگو میں تعداد ایک محتاط اندازے کے مطابق دس ہزار کے قریب بیان کی جاتی ہے۔
امریکہ اور یورپ کے دیگر علاقوں کی طرح شکاگو کے مسلمانوں کا بھی سب سے بڑا مسئلہ مذہبی احکام و اقدار کے ساتھ وابستگی کو برقرار رکھنا اور امریکہ میں پیدا ہونے والی نئی مسلمان نسل کو دینی تعلیم و تربیت سے آراستہ کرتے ہوئے اپنی اولاد کو مغربی معاشرہ کے مذہب کش جراثیم سے بچانا ہے۔ یہ کام اگرچہ بہت کٹھن اور مشکل ہے لیکن دردِ دل رکھنے والے مسلمان اس مقصد کے لیے مختلف شعبوں میں سرگرم عمل ہیں اور متعدد ادارے اس سلسلہ میں اب تک قائم ہو چکے ہیں۔ بلالی مسلمانوں کا ایک مستقل نظام ہے جو وارث دین محمد کی قیادت میں تعلیمی اور تبلیغی محاذوں پر مصروفِ عمل ہے۔ یورپین مسلمانوں نے اسلامک کلچرل سنٹر کے نام سے ایک مرکز قائم کیا ہوا ہے، مرکز میں ایک خوبصورت مسجد بھی ہے۔ ایک تنظیم اسلامک فاؤنڈیشن کے نام سے کام کر رہی ہے۔ جبکہ یہاں کے مسلمانوں کا سب سے قدیمی ادارہ مسلم کمیونٹی سنٹر ہے جس کے ساتھ عرب، پاکستان، بنگلہ دیش اور بھارت کے مسلمانوں کے علاوہ مقامی مسلمان بھی وابستہ ہیں۔
مسلم کمیونٹی سنٹر (ایم سی سی) کے صدر ان دنوں حیدر آباد دکن سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر محمد قیصر الدین ہیں، نائب صدر مقامی نومسلم نکولس عبد اللہ ہیں اور سیکرٹری جنرل کے فرائض جناب عثمان باقی سرانجام دے رہے ہیں جن کا تعلق مدارس سے ہے۔ مسلم کمیونٹی سنٹر میں جمعہ اور نماز پنجگانہ کے لیے مسجد کے علاوہ بچوں کی تعلیم و تدریس کا ایک وسیع رضاکارانہ نظام ہے جس کے تحت ہفتہ اور اتوار کو سنٹر میں بچوں کو تعلیم دی جاتی ہے۔ ہفتہ اور اتوار دو دن یہاں سرکاری چھٹی ہوتی ہے اور ان دو دنوں میں کم و بیش ساڑھے آٹھ سو بچوں کی کلاسیں مختلف اوقات میں لگتی ہیں جبکہ ڈیڑھ سو کے لگ بھگ اساتذہ اور استانیاں ان کلاسوں میں رضاکارانہ طور پر قرآن کریم، سیرت نبویؐ اور تاریخ اسلام کی تعلیم دیتی ہیں۔ مختلف گھروں میں الگ کلاسوں کا انتظام بھی سنٹر کی طرف سے کیا جاتا ہے اور ہفتہ کے باقی چار ایام یعنی پیر، منگل، بدھ اور جمعرات کو دارالعلوم کے عنوان سے مولانا محمد عبد اللہ سلیم شام کو پانچ سے آٹھ بجے تک بچوں کو قرآن و حدیث اور فقہ اسلامی کی تعلیم دیتے ہیں۔ مولانا محمد عبد اللہ سلیم دارالعلوم دیوبند (وقف) کے شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد نعیم مدظلہ کے فرزند ہیں اور ایک عرصہ سے شکاگو میں مسلمانوں کی علمی و دینی راہنمائی کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔
ان جز وقتی تعلیمی اداروں کے علاوہ دو مستقل تعلیمی ادارے بھی قائم ہیں جن میں سے ایک ادارہ اسلامک فاؤنڈیشن کے تحت فل ٹائم اسکول کے طور پر کام کر رہا ہے جبکہ دوسرا ادارہ امریکن اسلامک کالج کے نام سے قائم کیا گیا ہے جس کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ میں پہلا اسلامک کالج ہے، اسے قائم کرنے میں ایک لبنانی عالم ڈاکٹر احمد صقر پیش پیش تھے جو کیلی فورنیا چلے گئے ہیں اور اب پاکستان سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر غلام حیدر آسی اس ادارہ کو چلا رہے ہیں۔ کالج میں تعلیمی نصاب اور معیار وہی رکھا گیا ہے جو عام امریکی کالجوں کا ہے لیکن اس میں قرآن کریم، سیرت نبویؐ اور تاریخ اسلام کے مضامین کا اضافہ کیا گیا ہے اور مسلمان بچوں کو ایسا ماحول فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ وہ تہذیبی اور ذہنی لحاظ سے امریکی معاشرہ میں جذب ہونے سے بچ سکیں۔ البتہ کالج کے منتظمین عام مسلمانوں کا رجحان اس کی طرف منتقل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے جس کی وجہ سے ابھی کالج میں طلبہ کی تعداد خاطر خواہ نہیں ہے۔ دینی، تعلیمی اور تنظیمی امور کی طرف عام مسلمانوں کی عدم توجہ کی شکایت اکثر پائی جاتی ہے بالخصوص پاکستانی حضرات کے بارے میں تو یہ شکایت افسوسناک حد تک موجود ہے کہ انہیں نہ تو دینی احکام کی بجا آوری اور اپنے بچوں کی مذہبی تعلیم سے دلچسپی ہوتی ہے اور نہ ہی پاکستان کے مفاد اور نقصان کے لحاظ سے کچھ سوچنے اور کام کرنے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اکثر پاکستانیوں کا مطمح نظر صرف ڈالر کمانا اور خود کو زیادہ سے زیادہ امریکی ثابت کرنا ہے۔
اس پس منظر میں دو پاکستانیوں کا کردار شکاگو میں قابل رشک نظر آتا ہے۔ ایک صاحب ریاض حسین وڑائچ ہیں جو ۲۶ سال سے امریکہ میں اور ۱۸ سال سے شکاگو میں قیام پذیر ہیں، چنیوٹ کے رہنے والے ہیں، یہاں کاروبار کرتے ہیں، پابندِ صوم و صلوٰۃ اور دینی معاملات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے بزرگ ہیں، مسلم کمیونٹی سنٹر کے ڈائریکٹروں میں سے ہیں جنہیں عام مسلمانوں کے ووٹوں سے جمہوری اصولوں کے مطابق منتخب کیا جاتا ہے۔ وڑائچ صاحب ایک اور ادارے سے بھی منسلک ہیں جو غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے ’’اسلامک انسٹیٹیوٹ فار انفرمیشن اینڈ ایجوکیشن‘‘ کے نام سے کام کر رہا ہے۔ انسٹیٹیوٹ کے سربراہ ڈاکٹر سید امیر علی ہیں اور وڑائچ صاحب اس ادارے کے ٹرسٹی ہیں، اس ادارہ کا پروگرام یہ ہے کہ ۲۰۱۲ء تک اسلام کی دعوت امریکہ اور کینیڈا کے ہر غیر مسلم تک پہنچا دی جائے۔ اس مقصد کے لیے ادارہ لٹریچر شائع کرتا ہے، نو مسلموں کے لیے تربیتی کلاسوں کا اہتمام کیا جاتا ہے اور ایک پبلک دارالمطالعہ قائم کیا گیا ہے جہاں ہر شخص متعین اوقات میں جا کر اسلام کے بارے میں لٹریچر کا مطالعہ کر سکتا ہے۔ دوسرے صاحب حافظ محمد صدیق انور ہیں جو فیصل آباد کے رہنے والے ہیں اور ماہنامہ پاکستانی کے نام سے ایک اخبار تسلسل اور پابندی کے ساتھ شائع کر رہے ہیں۔ یہ جریدہ نفاذ اسلام، تحفظ ختم نبوت اور سالمیتِ پاکستان کے لیے مخلصانہ کام کر رہا ہے، سیکولر اور لادین لابیوں کے ساتھ ان کی مسلسل جنگ رہتی ہے، اسی کشمکش میں گزشتہ دنوں ان کے گھر کے سامنے ان کی گاڑی بھی نذرِ آتش کر دی گئی تھی۔ پرجوش مسلمان اور محب وطن پاکستانی ہیں، امریکہ میں مقیم دوسرے پاکستانیوں کو بھی اپنا جیسا پرجوش دیکھنا چاہتے ہیں لیکن مثبت نتیجہ نہ پا کر پریشان ہو جاتے ہیں۔
شکاگو میں بہائی مذہب کا بہت بڑا مرکز ہے، یہ مرکز شمالی امریکہ کی بہائی جماعت کو کنٹرول کرتا ہے۔ قادیانیوں کی سرگرمیاں بھی خاصی تیز ہیں اور وہ اپنے لیے میدان کھلا پا کر متحرک رہتے ہیں۔ امریکہ میں مقیم مسلمانوں میں انکارِ حدیث کے جراثیم بھی سرایت کرتے جا رہے ہیں۔ راشد خلیفہ نامی ایک صاحب نے کچھ عرصہ قبل ۱۹ کے عدد کو عنوان بنا کر قرآن کریم کے اعجاز کا ایک نیا پہلو دنیا کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی اور خاصی شہرت پائی۔ ۱۹ کے عدد کو بنیاد بنا کر ان صاحب نے پہلے احادیث نبویؐ کا انکار کیا کہ احادیث ان کے ۱۹ کے فارمولا پر پورا نہیں اترتیں، پھر قرآن کریم کی بعض آیات کو اس عددی فارمولا سے ہٹا ہوا پا کر ان سے انکار کر دیا اور اب یہ صاحب خود نبوت کے دعویدار ہیں۔ جبکہ ان سے پہلے مدعی نبوت عالیجاہ محمد کے پیروکار لوئیس فرخان کی قیادت میں عالیجاہ محمد کے مذہب پر عمل پیدا اور اس کے پرچارک ہیں۔
اس پس منظر میں شکاگو اور دیگر علاقوں کے دردِ دل سے بہرہ ور مسلمانوں نے اس امر کی ضرورت محسوس کی کہ باطل مذاہب بالخصوص انکارِ ختم نبوت اور انکارِ حدیث کے سدباب کے لیے منظم جدوجہد کی جائے۔ اس مقصد کے لیے مجلس تحفظ ختم نبوت کا باقاعدہ قیام عمل میں لایا گیا جس کے امیر مولانا محمد عبد اللہ سلیم اور سیکرٹری جنرل جناب عبد الحئی ہیں۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے ۷ و ۸ اکتوبر کو ہالیڈے اِن شکاگو میں ختم نبوت اور حجیت رسول پر دو روزہ عالمی کانفرنس کا اہتمام کیا گیا جس میں مختلف ممالک کے سرکردہ مسلم علماء اور دانشوروں نے شریک ہو کر متعدد دینی عنوانات پر اپنے خیالات سے شرکائے کانفرنس کو مستفید کیا۔
کانفرنس میں ایک ہزار سے زائد مندوبین شریک ہوئے جن میں حضرات و خواتین دونوں شامل تھے، جبکہ زعماء میں بھارت سے دارالعلوم (وقف) دیوبند کے شیخ الحدیث مولانا محمد نعیم، ندوۃ العلماء لکھنو کے استاذ الحدیث مولانا برہان الدین سنبھلی، حیدر آباد دکن سے مولانا حمید الدین عاقل حسامی، رامپور سے مولانا محمد یوسف اصلاحی، پاکستان سے جسٹس مولانا محمد تقی عثمانی، سینیٹر مولانا سمیع الحق، مولانا منظور احمد چنیوٹی، مولانا میاں محمد اجمل قادری، مولانا عبد الرحمان باوا، مولانا منظور احمد الحسینی، پروفیسر ڈاکٹر محمود احمد غازی اور راقم الحروف، سعودی شہزادہ محمد الفیصل، رابطہ عالمِ اسلامی کے جناب داؤد اسد، نیشن آف اسلام کے وارث دین محمد، ڈاکٹر جمال بدوی(کینیڈا)، ڈاکٹر مزمل صدیقی، شیخ احمد ذکی حماد، امام سراج وہاج، ڈاکٹر احمد صقر، الشیخ جمال سعید، الشیخ محمد نور، مولانا عبید الرحمان، ڈاکٹر فتحی عثمان، جناب عبد الحمید ڈوگر، جناب قادر حسین خان، ڈاکٹر عبد الوحید فخری اور دیگر سرکردہ حضرات شامل ہیں۔ کانفرنس کی پانچ نشستیں ہوئیں جن میں:
  • عقیدۂ ختم نبوت، حجیت حدیث،
  • امریکہ میں مسلم نوجوانوں کی ذمہ داریاں،
  • گھریلو زندگی میں نفاذ اسلام،
  • غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت،
  • اور نئی نسل کی دینی تعلیم و تربیت کی ضرورت جیسے اہم عنوانات پر علماء اور دانشوروں نے اظہارِ خیال کیا۔
پرنس محمد فیصل نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ حدیثِ نبویؐ پر ایمان اور ان پر عملدرآمد ہی ہمارے لیے نجات کا واحد راستہ ہے۔
امام وارث دین محمد نے ختم نبوت کے عقیدہ کی وضاحت کی اور کہا کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا واضح ارشاد ہے کہ ان کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہو چکا ہے اور پوری امت چودہ سو سال سے اس عقیدہ پر متفق ہے تو اب کوئی بھی شخص نبوت کا دعوٰی کرے اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور نہ ہی ایسے کسی دعوٰی کو قبول کیا جا سکتا ہے۔
مولانا محمد نعیم شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند (وقف) نے کہا کہ ختم نبوت اور حجیت حدیث آپس میں لازم و ملزوم ہیں۔ کیونکہ قرآن کریم کے بعد کوئی کتاب نہیں اس لیے وہ قیامت تک محفوظ ہے، اسی طرح جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں اس لیے آنحضرتؐ کے ارشادات بھی قیامت تک کے لیے محفوظ اور حجت ہیں۔
جسٹس مولانا محمد تقی عثمانی نے بھی حجیت حدیث پر اپنے مخصوص علمی انداز میں اظہار خیال کیا اور کہا کہ قرآن کریم کے احکام و معانی کے تعین کا مدار حدیثِ رسولؐ پر ہے، اس لیے اگر حدیثِ رسولؐ پر خدانخواستہ ایمان باقی نہ رہے تو قرآن کریم کے مقاصد و معانی کا تعین بھی ممکن نہیں رہتا۔
سینیٹر مولانا سمیع الحق نے قادیانیت کے سیاسی پس منظر کو بے نقاب کیا اور کہا کہ یہ بنیادی طور پر ایک سیاسی گروہ ہے جس کا مقصد استعماری قوتوں کے آلۂ کار کی حیثیت سے کام کرنا ہے۔ انہوں نے جہاد افغانستان اور پاکستان میں خاتون کی حکمرانی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ مغربی طاقتیں جہاد افغانستان کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہیں اور پاکستان میں خاتون کی حکمرانی کو اپنی تہذیبی فتح قرار دے کر اسے مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
مولانا منظور احمد چنیوٹی نے حیاتِ حضرت عیسٰی علیہ السلام کے بارے میں اہل اسلام کے عقیدہ کی وضاحت کی اور اس سلسلہ میں قادیانیوں کی طرف سے پیش کیے گئے اعتراضات و شبہات کے جواب دیے۔ انہوں نے مرزا طاہر احمد کی دعوتِ مباہلہ کا پس منظر بیان کیا اور کانفرنس کے شرکاء کو بتایا کہ اس مباہلہ کے نتیجہ میں مرزا طاہر احمد کا سیکرٹری حسن عودہ قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کر چکا ہے۔
مولانا محمد یوسف اصلاحی نے قرآن کریم کی آیات کی روشنی میں عقیدۂ ختم نبوت کی وضاحت کی اور بتایا کہ قرآن کریم کی متعدد آیات میں اس بنیادی عقیدہ کو بیان کیا گیا ہے۔
مولانا میاں محمد اجمل قادری نے امریکہ میں مقیم مسلمانوں کو اس طرف توجہ دلائی کہ وہ اپنی اولاد اور نئی نسل کے دین و اخلاق کی حفاظت کی فکر کریں اور گھروں میں دینی ماحول کو برقرار رکھنے کی کوشش کریں۔
مولانا عاقل حسامی نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے جس کے بغیر دین کی عمارت قائم نہیں رہتی، اس لیے تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس عقیدہ کی حفاظت کا بطور خاص اہتمام کریں۔
راقم الحروف نے اس موقع پر عرض کیا کہ امریکہ میں یہودی لابی قادیانیوں کی حمایت اور ملتِ اسلامیہ کی مخالفت میں متحرک ہے، اس لابی کا سامنا کرنا اور اس کے پھیلائے ہوئے زہر کا ازالہ کرنا یہاں کے مسلمانوں کی ذمہ داری ہے، اور امریکہ میں مقیم مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ اس سلسلہ میں اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں۔

مرزا طاہر احمد کی دعوت مباہلہ اور حسن محمود عودہ کا قبول اسلام

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مرزا طاہر احمد کے دور میں قادیانی قیادت کی یہ ذہنی الجھن اپنے عروج کو پہنچ گئی ہے کہ دلائل و براہین اور منطق و استدلال کے تمام مصنوعی حربوں کی مکمل ناکامی کے بعد جھوٹی نبوت کے خاندان کے ساتھ قادیانی افراد کی ذہنی وابستگی کو نفسیاتی چالوں کے ذریعے برقرار رکھنا حقیقت شناسی کے اس دور میں زیادہ دیر تک ممکن نہیں رہا۔ یہ الجھن خود مرزا غلام احمد قادیانی کو بھی درپیش تھی۔ چنانچہ مناظرہ و مباہلہ کے چیلنج، اشتہار بازی اور تعلّی و شیخی کے جو مراحل مرزا غلام احمد قادیانی کی زندگی میں جابجا دکھائی دیتے ہیں وہ اسی ذہنی الجھن کا کرشمہ ہیں لیکن مرزا طاہر احمد تک بات پہنچی تو یہ ذہنی الجھن جھنجھلاہٹ میں تبدیل ہوگئی ہے اور قادیانی سربراہ کو اپنے پیروکاروں کی وابستگی برقرار رکھنے میں جس شدید ذہنی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اس کا ایک اظہار ’’مباہلہ‘‘ کی وہ کھلی دعوت ہے جو مرزا طاہر احمد نے ۱۰ جون ۱۹۸۸ء کو انتہائی جوش و جذبہ کے ساتھ دنیا بھر کے مسلمانوں کے نام تحریری چیلنج کی صورت میں جاری کی لیکن اب اس مباہلہ اور اس کے نتائج کا سامنا کرنا مرزا طاہر احمد کے بس میں نہیں رہا۔
مرزا طاہر احمد کی اس دعوت مباہلہ کو دنیا کے مختلف ممالک کے مسلم راہنماؤں نے قبول کیا اور تحریک ختم نبوت کے متعدد راہنما مباہلہ کے لیے مرزا موصوف کی جائے قیام لندن تک پہنچے لیکن مرزا طاہر احمد نے یہ خود ساختہ تاویل کر کے سامنے آنے سے گریز کیا کہ مباہلہ کے لیے دونوں فریقوں کا آمنے سامنے آنا ضروری نہیں ہے۔ مرزا صاحب کا خیال یہ تھا کہ اس من گھڑت تاویل کے سہارے آمنے سامنے مباہلہ سے بچنا آسان رہے گا اور انتہائی جوش و تعلّی کے ساتھ دنیا بھر کے مسلمانوں کو دی گئی یہ دعوتِ مباہلہ قادیانی امت کے افراد کو ذہنی طور پر مطمئن رکھنے کے لیے ایک نفسیاتی حربے کا کام دیتی رہے گی۔ لیکن اللہ رب العزت کا قانون بے نیازی حرکت میں آیا اور ۱۰ جون ۱۹۸۸ء کی دعوت مباہلہ میں دی گئی ایک سالہ مدت ختم ہونے سے چند گھنٹے پہلے مرزا طاہر احمد کے ایک دست راست حسن محمود عودہ نے قادیانیوں کے خود ساختہ اسلام آباد (ٹل فورڈ لندن) میں یہ اعلان کر دیا کہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کو سچا ماننے سے انکار کرتا ہے۔ خدا کی قدرت کہ ۲۵ نومبر ۱۹۸۸ء کو ٹل فورڈ لندن میں جب مرزا طاہر احمد اپنے خطاب کے دوران مولانا منظور احمد چنیوٹی کو موضوعِ گفتگو بنا کر مباہلہ کے نتیجے میں ۱۵ ستمبر ۱۹۸۹ء سے قبل ان کی ہلاکت و رسوائی کا اعلان کر رہے تھے تو جناب حسن محمود عودہ پہلی صف میں بیٹھے مرزا طاہر احمد کی تقریر کی رپورٹنگ کر رہے تھے۔ اور مولانا چنیوٹی جب یکم اکتوبر ۱۹۸۹ء کو ویمبلے ہال لندن کی عالمی ختم نبوت کانفرنس میں اپنی زندہ و سلامت موجودگی اور مرزا طاہر احمد کے جھوٹا ثابت ہونے کا اعلان کر رہے تھے تو حسن محمود عودہ ان کے ساتھ اسٹیج پر کھڑے اپنے تائب ہونے کو مباہلہ کا نتیجہ قرار دے کر مرزا طاہر احمد کے جھوٹ پر مہر تصدیق ثبت کر رہے تھے۔
حسن محمود احمد عودہ فلسطینی نوجوان ہیں جن کا خاندان فلسطین میں سب سے پہلے قادیانیت قبول کرنے والا خاندان ہے۔ فلسطین کے مشہور شہر ’’حیفہ‘‘ کے عودہ خاندان میں سب سے پہلے ۱۹۲۴ء میں حسن محمود عودہ کے نانا نے قادیانیت قبول کی، پھر ان کے دادا قادیانی ہوئے اور رفتہ رفتہ پورا خاندان قادیانیت کی آغوش میں چلا گیا اور اس خاندان نے قادیانیت کے لیے ایسی خدمات سرانجام دیں کہ آج حیفہ کا قادیانی مرکز پورے مشرقِ وسطٰی کے سب سے بڑے قادیانی مرکز کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ حسن عودہ کی ولادت ۱۹۵۵ء میں حیفہ میں ہوئی، والدین قادیانی تھے، اسی ماحول میں پرورش پائی اور تعلیم و تربیت کے مراحل طے کیے۔ والدین کا خیال تھا کہ حسن کو قادیانی مذہب کا بہترین مبلغ بنایا جائے، اس مقصد کے لیے خصوصی تعلیم و تربیت کی غرض سے حسن کو ۱۹۷۹ء میں قادیان بھیجا گیا جہاں اس نے مرزا غلام احمد قادیانی کے گھر میں خصوصی مہمان کی حیثیت سے قیام کیا، بیت الریاضہ میں چھ ماہ کے قیام کے دوران حسن عودہ کو اردو زبان اور مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابوں کی سبقاً سبقاً تعلیم دی گئی، ایک استاذ اردو زبان کے لیے اور ایک استاذ مرزا قادیانی کی کتابیں پڑھانے پر مامور رہا۔ قادیانیت کا یکطرفہ چہرہ سامنے تھا، اسی ماحول میں ذہن و فکر کی تشکیل ہوئی تھی، جب قادیان میں نام نہاد مسجد اقصٰی، مینارۃ المسیح، بہشتی مقبرہ، مسجد مبارک اور دیگر مقامات دیکھے بلکہ ایک خاص انداز سے دکھائے گئے تو قادیانی مذہب اور خاندانِ مرزا کے ساتھ عقیدت دو آتشہ ہوگئی۔ حسن عودہ کو سری نگر کشمیر میں وہ قبر بھی دکھائی گئی جس کے بارے میں قادیانیوں کا دعوٰی ہے کہ وہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کی قبر ہے لیکن بھارتی پارلیمنٹ اور ایک جرمن تحقیقاتی کمیٹی نے اس دعوٰی کو مسترد کر دیا ہے۔
الغرض جب چھ سات ماہ کا خصوصی کورس مکمل کرنے کے بعد حسن عودہ فلسطین واپس پہنچا تو اس کی جوانی قادیانی مذہب کی تبلیغ و اشاعت اور قادیانیوں کو منظم و فعال بنانے کے جذبہ سے سرشار ہو چکی تھی۔ چنانچہ اسے خدام الاحمدیہ کا سربراہ بنا دیا گیا اور اس حیثیت سے اس نوجوان نے پورے جوش و جذبہ کے ساتھ فلسطین بھر میں سرگرمیوں کا جال پھیلا دیا۔ کچھ عرصہ بعد وہ دوبارہ قادیان آیا جہاں اس کی شادی کی گئی اور نکاح مرزا غلام احمد قادیانی کے گھر پڑھایا گیا۔ حسن عودہ کے جوش و جذبہ اور سرگرمیوں کی اطلاع قادیانی امت کے سربراہ مرزا طاہر احمد کو ملی تو اسے فلسطین سے لندن طلب کر لیا گیا۔ ۱۹۸۵ء میں حسن عودہ لندن پہنچا جہاں مرزا طاہر احمد نے ٹل فورڈ میں ’’اسلام آباد‘‘ کے نام سے اپنا مرکز قائم کر رکھا ہے۔ حسن عودہ کو اس مرکز میں شعبۂ عربی کا ڈائریکٹر بنا دیا گیا اور عربوں میں قادیانیت کی تبلیغ و اشاعت کی ذمہ داریاں اس کے سپرد کر دی گئیں۔
حسن عودہ کا کہنا ہے کہ فلسطین اور قادیان میں تو فضا یکطرفہ تھی اور ہمیں مرزا غلام احمد قادیانی اور قادیانیت کے بارے میں جو کچھ کہا جاتا تھا اسے مانے بغیر کوئی چارۂ کار نہیں تھا بلکہ ہمیں اس بات سے ڈرایا جاتا تھا کہ مسلمان علماء قادیانیوں کے بارے میں جو باتیں کرتے ہیں وہ عناد اور حسد پر مبنی ہیں اور درست نہیں ہیں، اس لیے کسی تردد اور شبہ کی کوئی وجہ نہیں تھی۔ لیکن جب لندن کی کھلی فضا میں آیا اور غیر قادیانی حضرات کی باتیں سننے اور ان سے ملنے کا موقع ملا تو دال میں کچھ کالا کالا محسوس ہونے لگا۔ خاندانِ مرزا اور قادیانی قیادت کے بارے میں تصورات اور عقیدت کی دنیا بہت حسین تھی لیکن جب عملاً واسطہ پڑا اور قریب سے دیکھا تو عقیدت کا یہ محل لرزنے لگا، دل نے گواہی دی کہ جو لوگ دنیا بھر کی دینی اور روحانی قیادت کے دعویدار ہیں ان کی اپنی زندگی اس معیار پر پوری نہیں اترتی۔ اس دوران حسن محمود احمد عودہ کو قادیانی مرکز کے عربی جریدہ ’’التقوٰی‘‘ کے اجرا اور ادارت کی ذمہ داری سونپی جا چکی تھی اور مرزا طاہر احمد نے نہ صرف حسن کو اپنے عربی ترجمان کی حیثیت دے دی تھی بلکہ سالانہ اجتماعات اور دیگر تقاریب میں مرزا طاہر احمد کی طرف سے حسن عودہ کی خدمات کا تذکرہ کھلم کھلا ہونے لگا تھا۔
حسن عودہ کا کہنا ہے کہ جہاں قادیانی مرکز میں کام کرنے والے افراد کا عالمی قیادت کے معیار پر پورا نہ اترنے کا احساس میرے جذباتِ عقیدت کی جڑوں کو کرید رہا تھا وہاں مرزا قادیانی کے بارے میں مسلم علماء کے بیانات سن کر یہ خیال دل و دماغ میں جگہ پکڑنے لگا تھا کہ کوئی بات ایسی ضرور ہے جو اب تک ہم سے مخفی رکھی گئی ہے اور جسے جان بوجھ کر ہم سے چھپایا گیا ہے۔ جب اس پہلو پر تجسس کچھ آگے بڑھا تو بات کھل کر سامنے آگئی کہ یہ مرزا قادیانی کی تصویر کا وہ دوسرا رخ ہے جسے آج تک ہم سے اوجھل رکھا گیا تھا لیکن مسلمان علماء نے اس رخ پر ڈالے گئے تقدس کے نقاب کو کچھ اس طرح نوچ ڈالا کہ تصویر کے اس رخ کو حقیقی اور اصلی رخ تسلیم کیے بغیر کوئی چارۂ کار نہ رہا اور اس حقیقت نے دل میں گرہ باندھ دی کہ اگر مرزا قادیانی سچا ہوتا تو اس کی تصویر کا یہ رخ ہم سے اس اہتمام کے ساتھ چھپایا نہ جاتا اور اس کے بارے میں حقائق کے اظہار سے خوف نہ محسوس کیا جاتا۔ اس کے ساتھ ہی شبہ کی ایک اور بنیاد بھی ذہن کی گہرائیوں میں جگہ پکڑنے لگی کہ دنیا بھر کے مسلمان جب کلمہ پڑھتے ہیں، قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہیں، نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ کے احکام بجا لاتے ہیں اور ان میں بے شمار لوگ بہت زیادہ اچھی زندگی بسر کرنے والے بھی ہیں تو یہ سب لوگ قادیانیوں کے نزدیک کافر کیوں ہیں؟ اور مرزا قادیانی اور اس کے پیروکاروں کو ساری دنیا کے مسلمانوں پر کفر کا فتوٰی لگانے کا کیا حق ہے؟ حقائق کے پے در پے انکشاف نے حسن عودہ کے دل و دماغ میں ہلچل مچا دی لیکن یہ طوفان سمندر کی پرسکون سطح کے پردے میں اندر ہی اندر انگڑائی لے رہا تھا اور اس وقت تک حسن عودہ قادیانی مرکز کے عربی جریدہ ’’التقوٰی‘‘ کے رئیس التحریر کی حیثیت سے ۹ شمارے شائع کر چکا تھا۔
جون ۱۹۸۹ء کی بات ہے کہ حسن عودہ کے دل کے جذبات و احساسات نے سطح سمندر کا سکون توڑ دیا اور دل کی باتیں دوستوں کے سامنے زبان پر آنے لگیں۔ بات مرزا طاہر احمد تک پہنچی تو خطرہ کی گھنٹی بجنے لگی اور خوف نے دامن پکڑ لیا کہ یہ گھر کا بھیدی لنکا ڈھانے کی طرف کیوں چل پڑا ہے۔ حسن عودہ کی طلبی ہوئی اور ’’واللہ خیر الماکرین‘‘ کی حقیقت کا یہ خوبصورت اظہار ایک بار پھر اہل ایمان کے ایمان کی تازگی کا عنوان بن گیا کہ یہ طلبی ۹ جون ۱۹۸۹ء کو ہوئی جو مرزا طاہر احمد کی طرف سے دنیا بھر کے مسلمانوں کو دی گئی دعوتِ مباہلہ کی ایک سالہ میعاد کا آخری دن تھا۔ حسن محمود عودہ نے مرزا طاہر احمد کے سامنے اپنے شکوک و شبہات کا اظہار کیا جن کا کوئی تسلی بخش جواب نہ ملا اور بالآخر حسن عودہ نے مرزا طاہر احمد کی دعوتِ مباہلہ کو اس کی طرف سے دی گئی ایک سالہ میعاد کے آخری دن اس کے سامنے یہ اعلان کر کے منطقی انجام تک پہنچا دیا کہ ’’میں مرزا غلام احمد قادیانی کو سچا نہیں مانتا‘‘۔ مرزا طاہر احمد کے لیے یہ اعلان ایٹم بم کے دھماکے سے کم نہیں تھا مگر یہ ربوہ نہیں تھا کہ کسی تہہ خانے کا دروازہ کھلتا اور پھر عودہ خاندان دنیا بھر میں تلاش کرتا پھرتا کہ اس خاندان کا حسن نامی نوجوان جو مرز اطاہر احمد کے پہلو میں بیٹھا کرتا تھا اسے کونسی زمین نگل گئی ہے اور کس آسمان نے اچک لیا ہے۔ یہ لندن تھا اور یہاں مرزا طاہر احمد کے بس میں صرف یہی تھا کہ حسن عودہ پر ٹل فورڈ کے قادیانی مرکز کی زمین تنگ کر دی جاتی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا، اسے ۹ جون کی شام سے پہلے مرکز سے نکال دیا گیا اور حکم ملا کہ فورًا برطانیہ چھوڑ دو ورنہ سپانسرشپ منسوخ کر دی جائے گی۔
حسن عودہ ایمانِ حقیقی کی لذت سے آشنا ہو چکا تھا اور اب اس کے لیے ان دھمکیوں کی کوئی حیثیت نہیں رہ گئی تھی، اس نے مرعوب ہونے سے انکار کر دیا حتٰی کہ اسے مسلمان دوستوں نے سنبھال لیا اور وہ ٹل فورڈ سے ۱۷ جولائی کو سلاؤ کے علاقہ میں منتقل ہوگیا۔ حسن عودہ کا کہنا ہے کہ مسلمان ہونے کے بعد اسے سب سے زیادہ اشتیاق مولانا منظور احمد چنیوٹی سے ملاقات کا تھا کیونکہ وہ مولانا چنیوٹی کے بارے میں قادیانی قیادت اور مرزا طاہر احمد کے جذبات سے آگاہ تھا اور خود اس کی ادارت میں شائع ہونے والے عربی ماہنامہ التقوٰی میں مولانا چنیوٹی کو ’’اشد اعداء جماعتنا‘‘ (ہماری جماعت کا سخت ترین دشمن) کے خطاب سے نوازا جا چکا تھا۔ چنانچہ اسے اس کے لیے زیادہ دیر انتظار نہیں کرنا پڑا اور مولانا چنیوٹی سے، جو سلمان رشدی کے خلاف انٹرنیشنل اسلامک مشن کے زیر اہتمام ۱۳ اگست کو ویمبلے ہال لندن میں منعقد ہونے والی کانفرنس میں شرکت کے لیے برطانیہ کے دورے پر گئے ہوئے تھے، ۱۵ اگست کو ساؤتھال میں مولانا محمد طیب عباسی کی رہائش گاہ پر اسے ملاقات کا موقع مل گیا۔ اس ملاقات میں مولانا چنیوٹی نے حسن عودہ کو مرزا قادیانی اور قادیانیت کے بہت سے مخفی گوشوں سے آگاہ کیا اور کئی حقائق اس کے سامنے بے نقاب کیے۔
حسن عودہ اس کے بعد سے مسلسل اس بات کے لیے کوشاں ہیں کہ عام قادیانیوں بالخصوص عرب نوجوانوں کو ان حقائق سے آگاہ کر کے اسلام کے دامن میں لائیں۔ ان کی اہلیہ مسلمان ہو چکی ہیں اور بہت سے عرب نوجوان بھی دامنِ اسلام میں آ چکے ہیں۔ حسن عودہ کا پہلا ہدف عرب قادیانی ہیں اور وہ بڑی تیزی اور شوق و ذوق کے ساتھ اس کام میں مگن ہیں۔ حسن عودہ نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام یکم اکتوبر ۱۹۸۹ء کو ویمبلے کانفرنس سینٹر لندن میں منعقد ہونے والی سالانہ عالمی ختم نبوت کانفرنس سے بھی خطاب کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ قادیانیت کے خلاف ملتِ اسلامیہ اور علماء اسلام کی جدوجہد میں پورے جوش و جذبہ کے ساتھ شریک ہوں گے۔
راقم الحروف کے ساتھ حسن محمود عودہ کی ملاقات ۶ اکتوبر کو ساؤتھال لندن میں جناب حاجی محمد اسلم کی رہائش گاہ پر ہوئی جس میں مولانا منظور احمد چنیوٹی اور حاجی محمد اسلم صاحب بھی شریک تھے۔ اس ملاقات میں حسن عودہ نے مذکورہ بالا واقعات اور حقائق کا اظہار کیا۔ اس موقع پر راقم الحروف کے ایک سوال کے جواب میں حسن عودہ نے اسرائیل کے ساتھ قادیانیوں کے تعلقات کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اسرائیلی حکومت کے ساتھ قادیانی جماعت کے مرکز حیفہ کے بہت خوشگوار مراسم ہیں، اسرائیلی پولیس اور رضاکار فورس میں سینکڑوں قادیانی نوجوان کام کرتے ہیں البتہ فوج میں قادیانی نہیں ہیں۔ حیفہ کا قادیانی مرکز اسرائیلی حکومت کا وفادار ہے، تنظیم آزادیٔ فلسطین کے ساتھ قادیانیوں کا کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ اسے دشمنوں اور مخالفوں میں شمار کیا جاتا ہے، قادیانی مراکز اور عبادت گاہوں کی تعمیر میں اسرائیلی حکومت فنڈز بھی فراہم کرتی ہے اور ہر طرح کا تعاون میسر آتا ہے۔
قارئین سے استدعا ہے کہ حسن عودہ کے لیے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس نوجوان کو ثابت قدم رکھیں اور جس طرح اس کا خاندان فلسطین میں قادیانیت کے فروغ کا ذریعہ بنا تھا اللہ تعالیٰ اس نوجوان کو تمام عرب قادیانیوں کی توبہ اور قبول اسلام کا ذریعہ بنائیں، آمین یا الٰہ العالمین۔

وسیلۂ نجات ۔ کفارۂ مسیحؑ یا شفاعتِ محمدیؐ

محمد عمار خان ناصر

انسان اپنی فطرت کے لحاظ سے اگرچہ سلیم ہے لیکن نفسِ امّارہ اور شیطانی تحریصات کی وجہ سے گناہ سے بچ نہیں سکتا کیونکہ غلط ماحول اور غلط تربیت کے نتیجہ میں گناہ بسا اوقات انسان کے مزاج کا حصہ بن جاتا ہے۔ انبیاء علیہم السلام کے علاوہ کوئی انسانی وجود گناہ سے محفوظ نہیں کیونکہ انبیاءؑ اللہ کی پاک و معصوم مخلوق ہیں۔ گناہ کر کے انسان خدا کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا ہے کہ
اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّہٖ لَکَنُوْد (العادیات)
’’بے شک انسان اپنے رب (کی نعمتوں) کا ناشکرا ہے۔‘‘
اور فرمایا کہ
وَکَانَ الْاِنْسَانُ کَفُوْرًا (بنی اسرائیل)
’’انسان نا شکرا ہے۔‘‘
جب انسان اپنے ماحول اور بری تربیت کی وجہ سے گناہ کرتا ہے اور اپنے رب کی ناشکری کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اس کے تدارک کا راستہ بھی واضح فرما دیا کہ چونکہ انسان گناہ سے عام طور پر نہیں بچ سکتا، وہ گناہ جان بوجھ کر کرے یا لا علمی کی بنا پر اسے شرمندگی ضرور ہوتی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ سے دوبارہ تعلق قائم کرنا چاہتا ہے تو اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ وہ ’’توبہ‘‘ کرے۔ اللہ پاک کا ارشاد ہے کہ
یَا اَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا تُوْبُوْا اِلَی اللہِ تَوْبَۃً نَّصُوْحًا (التحریم)
’’اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ کی طرف خلوصِ دل سے توبہ کرو۔‘‘
جبکہ پولسی عیسائیت کی تعلیم یہ ہے کہ خدا سے دوبارہ تعلق جوڑنے کے لیے مسیح یسوع کے ’’کفارے‘‘ پر ایمان لانا ضروری ہے۔ کفارہ کا مسئلہ آگے چل کر مذکور ہو گا، فی الحال توبہ کے علاوہ ایک اور وسیلۂ نجات کے بارے میں بات ہو گی جو گناہگاروں کی نجات کے لیے اس رحمٰن و رحیم ذات کی طرف سے بیان کیا گیا ہے۔ 
دنیا میں انسان توبہ کر لے تو کر لے، آخرت میں موقع نہیں ملے گا اور نہ ہی نزع کے عالم میں۔ اللہ پاک کا فرمان ہے
اِنَّمَا التَّوْبَۃُ عَلَی اللہِ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السُّوْءَ بِجَھَالَۃٍ ثُمَّ یَتُوْبُوْنَ مِنْ قَرِیْبٍ فَاُولٰئِکَ یَتُوْبَ اللہُ عَلَیْھِمْ وَکَانَ اللہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۔ وَلَیْسَتِ التَّوْبَۃُ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّئَاتِ حَتّٰی اِذَا حَضَرَ اَحَدَھُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّیْ تُبْتُ الْاٰنَ وَلَا الَّذِیْنَ یَمُوُتُوْنَ وَھُمْ کُفَّار اُولٰئِکَ اَعْتَدْنَا لَھُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا۔ (النساء)
’’اللہ ان لوگوں کی توبہ قبول کرتا ہے جو لاعلمی سے برا کام کر جاتے ہیں پھر جلد ہی توبہ کر لیتے ہیں تو انہیں پر اللہ رجوع کرتا ہے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ اور ان کی توبہ قبول نہیں کرتا جو گناہ کیے جاتے ہیں، اور کسی کو موت آتی ہے تو وہ کہتا ہے کہ میں اب توبہ کرتا ہوں، اور ان کی جو اس حالت میں مر جاتے ہیں کہ وہ کافر ہوتے ہیں، یہی ہیں جن کے لیے ہم دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔‘‘
اس آیت میں بظاہر یہ باتیں معلوم ہوتی ہیں:
  1. توبہ صرف اس کے لیے ہے جو لاعلمی کی وجہ سے گناہ کا مرتکب ہو اور بعد میں علم اور احساس ہونے پر توبہ کر لے۔
  2. ہمیشہ گناہ کرنے والے کے لیے توبہ نہیں۔ یعنی جو کرتا رہے اور کہے کہ پھر توبہ کر لوں گا اور اسی طرح ساری زندگی میں توبہ کا موقع نہ آئے اور جب موت آ جائے تو کہے کہ اب میں توبہ کرتا ہوں۔
  3. کافر مرنے والے کے لیے کوئی توبہ نہیں کہ آخرت میں وہ توبہ کر لے۔

لیکن کافر کے لیے آخرت میں توبہ کرنے کا موقع نہ ملنے کا اختصاص یہاں کیوں کیا گیا ہے؟ جبکہ کافر کے علاوہ کسی مومن گناہگار کو بھی توبہ کا موقع نہیں ملے گا۔ تو یہاں سے ایک بات اور ذہن میں آتی ہے کہ مومن گناہگار کے لیے توبہ کے علاوہ بھی کوئی وسیلۂ نجات ہے، اور آخرت میں وسیلۂ نجات یا رحمت خداوندی ہے یا شفاعت۔ اور چونکہ قیامت کے دن خدا منصف ہو گا اس لیے اس کی رحمت کو ابھارنے کے لیے نبیؐ اور تمام انبیاء کرامؑ، شہداء اور حفاظ وغیرہ اللہ پاک کے حضور شفاعت کریں گے۔ قرآن پاک کا ارشاد ہے کہ

عَسٰی اَن یَّبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا (بنی اسرائیل)
’’امید ہے کہ تیرا رب تجھے مقام محمود پر مبعوث فرمائے۔‘‘

تقریباً تمام مفسرین نے ’’مقامِ محمود‘‘ کو ’’مقامِ شفاعت‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔ یہاں پر چند اقوال نقل کیے جاتے ہیں۔

حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی لکھتے ہیں:

والصحیح ان المقام المحمود مقام الشفاعۃ۔ (تفسیر مظہری ج ۲ ص ۷۵)
’’اور صحیح بات یہی ہے کہ مقام محمود شفاعت کا مقام ہے۔‘‘ 

علامہ نظام الدین القمی نیشاپوریؒ فرماتے ہیں کہ

والاولٰی ان یحض ذلک بالشفاعۃ۔ (تفسیر غرائب القرآن برحاشیہ طبری ج ۷ ص ۷۷)
’’افضل قول یہ ہے کہ مقامِ محمود شفاعت کے لیے مخصوص ہو گا۔‘‘ 

امام ابن جریر الطبریؒ فرماتے ہیں:

ذلک ھو المقام الذی ھو یقومہ صلی اللہ علیہ وسلم یوم القیامۃ للشفاعۃ الناس (تفسیر طبری مطبوعہ بیروت جلد ۷ ص ۹۷)
’’یہ وہ مقام ہے جہاں پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن لوگوں کی شفاعت کے لیے فائز ہوں گے۔‘‘

علامہ ابوالبرکات محمود النسفی الحنفیؒ نے بھی ابن جریرؒ کی تائید کی ہے اور لکھا ہے کہ 

وھو مقام الشفاعۃ عند الجمھور و یدل علیہ الاخبار۔ (تفسیر النسفی بحاشیہ خازن ج ۳ ص ۱۸۶)
’’جمہور علماء کے نزدیک مقامِ محمود مقامِ شفاعت ہے اور اس پر احادیث دلالت کرتی ہیں۔

علامہ علاؤ الدین البغدادیؒ کا قول ہے کہ

والمقام المحمود ھو مقام الشفاعۃ۔ (تفسیر خازن ج ۳ ص ۱۸۷)
’’اور مقامِ محمود سے مراد صرف مقامِ شفاعت ہے۔‘‘

تو ان جملہ اقوال سے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کا اثبات ہوتا ہے۔ یاد رہے کہ آیت مذکورہ ’’عَسٰی اَن یَّبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا‘‘ میں شفاعت سے مراد شفاعت کبرٰی ہے کیونکہ شفاعتِ صغرٰی کا حق ہر نبی کو اپنی قوم کے لیے ہوگا لیکن تمام امتوں کے لیے شفاعت کرنے کا حق صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے۔ 

قاضی ثناء اللہ المظہریؒ فرماتے ہیں کہ

لعل شفاعۃ الانبیاء غیر نبینا یختص بامۃ ولد شتمل بمیھم وشفاعۃ نبینا ینال غیر امۃ ایضًا۔ (مظہری ج ۵ ص ۸۴ و ۸۵)
’’شاید کہ ہمارے نبیؐ کے علاوہ دوسرے انبیاء کی شفاعت انہی کی امت کے ساتھ خاص ہو گی اور سب لوگوں کو شامل نہ ہو گی اور ہمارے نبیؐ کی شفاعت دوسری امت کو بھی پہنچے گی۔‘‘

آپ پہلے پڑھ چکے ہیں کہ مسلمانوں کے نزدیک آخرت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت ذریعہ نجات ہے اور عیسائیوں کے نزدیک کفارۂ مسیح ذریعہ نجات ہے جو ان کے بقول واقع ہو چکا ہے۔ اب ان کا مختصرًا تذکرہ کیا جاتا ہے۔

شفاعتِ کبرٰی

یہ صرف ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مخصوص ہے اور تمام انسانوں کو فائدہ دے گی۔ حدیث میں آیا ہے کہ قیامت میں سب انسانوں کو ایک جگہ جمع کیا جائے گا اور سورج کے ازحد قریب ہوجانے سے گرمی کی شدت بڑھ جائے گی تو لوگ تنگ آ کر حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کے پاس جائیں گے۔ پہلے حضرت آدمؑ کے پاس، پھر حضرت نوحؑ کے، پھر حضرت ابراہیمؑ کے، پھر حضرت موسٰیؑ کے، اور پھر حضرت عیسٰیؑ کے پاس، لیکن سب یہ کہیں گے کہ ہم اس شفاعت کے حقدار نہیں، تو سب لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں گے تو آپؐ فرمائیں گے ’’انا لہا انا لہا‘‘ میں ہی اس کا حقدار ہوں میں ہی اس کا حقدار ہوں۔ 

شفاعتِ صغرٰی

اس شفاعت کا حق تمام حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کو حاصل ہو گا۔ حدیث میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر نبیؐ کو ایک ایسی دعا مانگنے کا حق دیتا ہے جو ضرور قبول ہوتی ہے اور تمام انبیاءؑ اپنی اپنی مخصوص دعائیں مانگ چکے ہیں اور صرف میں نے اپنی دعا قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لیے مخصوص کر رکھی ہے۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ جناب نبی کریم علیہ السلام نے فرمایا کہ میری امت کا کوئی فرد بھی جہنم میں نہیں رہے گا، میں ہر ایک فرد کو نکال لوں گا، البتہ کفار کے بارے میں اللہ پاک نے کہا ہے کہ وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ 

کفارۂ مسیح

یہ عقیدہ عیسائیت کی بنیاد ہے اور باقی عقائد مثلاً التوحید فی التثلیث، حلول و تجسم، وراثت گناہ، صلیب وغیرہ کو اس کی تمہید سمجھ لیں۔ یہ عقیدہ ایک انوکھی منطق پر مشتمل ہے۔ اس کا مختصر بیان یہ ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام نے ممنوعہ درخت کا پھل کھا کر گناہ کیا، وہ گناہ ان کی اولاد میں منتقل ہوا اور اسی طرح ہر انسان پیدائشی گناہگار ہو گیا۔ اس لیے کہ اگر خدا آدم کو معاف کر دیتا تو وہ منصف نہ رہتا اور اگر سزا دیتا تو رحیم نہ رہتا اور توبہ انسان کے گناہ کی بخشش کے لیے کافی نہیں تو توبہ کا پتا بھی صاف ہو گیا۔ اب خدا نے ایک راستہ بین بین نکال لیا تاکہ اس کی رحیمی پر کوئی زد آئے اور نہ اس کے انصاف پر۔ اور وہ راستہ یہ تھا کہ اس نے اپنے اکلوتے بیٹے یسوع مسیح کو دنیا میں بھیجا تاکہ ’’بہیتروں کی معافی کے واسطے اس کا خون بہایا جائے‘‘۔ اور وہ تمام انسانوں کے گناہوں کو اپنے سر لاد کر ان کو گناہ سے پاک کر دے۔ (گویا سب انسانوں کا گناہ ایک کے سر تھوپ کر اسے سزا دینا انصاف ہے)۔ تو اس بیٹے آ کر بزرگوں اور فقیہوں کے ہاتھوں دکھ اٹھائے اور ’’اپنوں ہی‘‘ کے ہاتھوں سولی پر چڑھ کر جان دے دی اور کہا کہ ’’تمام ہوا‘‘ یعنی انسانوں کو گناہ سے نجات دینے کا کام تمام ہوا۔ لیکن اس کفارہ سے صرف ’’اصلی گناہ‘‘ معاف ہوا۔ اگر پھر گناہ کیا تو یسوع مسیحؑ اس کا ذمہ دار نہیں۔ 

اس عقیدے کی دوسری غلطیوں سے قطع نظر اس کو شفاعت کے مقابلے میں رکھا جائے تو تین اختلافات نکھر کر سامنے آجاتے ہیں۔ 

اسلام ۔ عقیدۂ شفاعت

  1. ہر شخص اپنے ہی گناہ کا عذاب سہے گا۔ کوئی اور شخص اس کے گناہ کا بار اپنے سر پر نہ اٹھائے گا۔ 
  2. اگر انسان سابقہ گناہوں سے باز آ جائے اور اللہ کے سامنے توبہ کرے تو وہ عذاب میں مبتلا نہ ہو گا۔ 
  3. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے سب گناہ معاف ہو جائیں گے۔

مسیحیت ۔ عقیدۂ کفارہ

  1. آدم نے گناہ کیا جو باپ تھا اور اس کی اولاد نے اس گناہ کا بوجھ اپنے سر پر اٹھا لیا اور پھر اس کو یسوع مسیحؑ پر لاد دیا۔
  2. انسان توبہ کرنے سے گناہ نہیں بخشوا سکتا بلکہ جب تک خون نہ بہایا جائے یعنی قربانی نہ دی جائے گناہ ’’ٹس سے مس‘‘ نہیں ہو گا۔ 
  3. کفارہ مسیحؑ سے صرف وہ گناہ معاف ہوا ہے جو آدمؑ کے ’’اصلی گناہ‘‘ کی وجہ سے انسانی سرشت میں رچ بس گیا۔ 
اب ہم ان جزئیات کو قرآن اور بائبل میں دیکھیں گے اس کے بعد آپ خود فیصلہ کر لیں کہ وسیلۂ نجات کفارۂ مسیحؑ ہے یا شفاعتِ محمدیؐ۔

اول: گناہ کے ایک دوسرے کی طرف انتقال کو قرآن نہیں مانتا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی۔ (فاطر)
’’کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا۔‘‘

دوسری جگہ ارشاد ہے کہ

وَ اَن لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰی وَاَنَّ سَعْیَہٗ سَوْفَ یُرٰی۔ (النجم)
’’انسان کو صرف اپنے کیے ہوئے اعمال کا بدلہ ملے گا اور اس کے اعمال اس کو عنقریب دکھائے جائیں گے۔‘‘

یہ نہیں کہ یہ یک طرفہ اصول ہے۔ بائبل بھی اس کی تصدیق کرتی ہے۔ 

’’جو جان گناہ کرتی ہے وہی مرے گی۔ بیٹا باپ کے گناہ کا بوجھ نہ اٹھائے گا اور نہ باپ بیٹے کے گناہ کا بوجھ۔ صادق کی صداقت اسی کے لیے ہو گی اور شریر کی شرارت شریر کے لیے۔‘‘ (بائبل۔ پرانا عہد نامہ ۔ کتاب حزقی ایل ۔ باب ۱۸ آیت ۲۰)

یہی نہیں بلکہ 

’’اس کا (گناہ کرنے والے کا) گناہ اس کے سر لگے گا۔‘‘ (بائبل ۔ پرانا عہد نامہ ۔ کتاب گنتی ۔ باب ۱۵ آیت ۳۱)

حضرت موسٰی علیہ السلام کی تورات کے آخری صحیفہ ’’استثناء‘‘ میں لکھا ہے کہ

’’بیٹوں کے بدلے باپ نہ مارے جائیں نہ باپ کے بدلے بیٹے مارے جائیں۔ ہر ایک اپنے ہی گناہ کے سبب سے مارا جائے۔‘‘ (کتاب استثناء ۔ پرانا عہد نامہ ۔ باب ۲۴ آیت ۱۶)

حضرت آدمؑ کا گناہ تمہارے باپ دادا کے سر کیوں پڑ گیا، بائبل تو کہتی ہے کہ

’’ہر ایک اپنی ہی بدکرداری کے سبب سے مرے گا۔‘‘ (بائبل ۔ عہد نامہ قدیم ۔ یرمیاہ ۔ باب ۳۱ آیت ۳۰)

جب ہر ایک اپنی بدکرداری کے سبب سے مرے گا تو 

’’سب کی بدکرداری اس پر کیسے لادی گئی۔‘‘ (یرمیاہ ۵۳ : ۶)

دوم: توبہ کے بارے میں آپ اوپر پڑھ چکے ہیں کہ عیسائی عقیدۂ کفارہ میں ’’یتیم‘‘ ہے، جبکہ بائبل ببانگ دہل اعلان کرتی ہے کہ

’’اگر شریر اپنے تمام گناہوں سے جو اس نے کیے ہیں باز آجائے اور میرے سب آئین پر چل کر جو جائز اور روا ہے تو وہ یقیناً زندہ رہے گا وہ نہ مرے گا۔ وہ سب گناہ جو اس نے کیے ہیں اس کے خلاف محسوب نہ ہوں گے۔ وہ اپنی راست بازی میں جو اس نے کی ہے زندہ رہے گا ۔ ۔ ۔ اس لیے کہ اس نے سوچا اور اپنے سب گناہوں سے جو کرتا تھا باز آیا۔‘‘ (بائبل کی کتاب حزقی ایل ۔ پرانا عہد نامہ ۔ باب ۱۸ آیت ۲۱ تا ۲۸)

قرآن پاک کی ایک آیت ابتداء میں پڑھی جا چکی ہے۔ توبہ کے بارے میں خود عیسائیوں کی مقدس کتاب انجیل مرقس میں ہے کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ

’’توبہ کرو اور خوشخبری پر ایمان لاؤ‘‘ اور ’’توبہ کرو آسمان کی بادشاہی نزدیک آ گئی ہے۔‘‘

اور ’’کفارہ‘‘ پر ایمان رکھنے والے حضرات انجیل کو دیکھیں، حضرت مسیحؑ نے اپنے خون کا ایک قطرہ بہانے سے بھی قبل اپنے اوپر ایمان لانے والوں کے گناہ معاف کیے۔ اگر خون بہائے بغیر گناہ معاف نہیں ہوتے تو جب آسمانی باپ نے لوگوں کو کفارہ کے بعد معاف کیا تو حضرت مسیح یسوعؑ کو کیا حق ہے کہ وہ لوگوں کے گناہ معاف کرتے پھریں اور اگر خون بہائے بغیر بھی گناہ معاف ہو جاتے ہیں تو عقیدۂ کفارہ کا سارا ڈرامہ خودبخود ختم ہو جاتا ہے۔ 

ان گزارشات سے یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ عیسائی مذہب کے دانشوروں نے کفارہ کے نام سے انسانی نجات کا جو ڈھونگ کھڑا کیا ہے خود بائبل اس کی تصدیق کرنے کے لیے تیار نہیں ہے اور نہ ہی فطرتِ سلیمہ اور عقلِ انسانی کے معیار پر یہ بات پوری اترتی ہے۔ جبکہ اس کے برعکس اسلام نے گناہوں سے پاک ہونے اور نجات حاصل کرنے کے لیے انسان کو توبہ کا جو دروازہ بتایا ہے اور شفاعت کے عنوان سے رحمتِ خداوندی کی جو خوشخبری دی ہے وہی انسان کی نجات کا صحیح ذریعہ ہے اور اس بات کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس طرح بیان فرمایا ہے:

’’میرے ان بندوں سے کہہ دو جنہوں نے گناہ کر کے اپنی جانوں پر ظلم کیا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید نہ ہوں۔ بے شک اللہ تعالیٰ گناہ معاف کرنے والا ہے۔‘‘ (الزمر)

سابق مسلم ریاست البانیہ میں مسلمانوں کی حالتِ زار

محمود احمد

البانیہ مشرقی یورپ کا سب سے چھوٹا مگر سب سے زیادہ پراسرار ملک ہے۔ وہاں کے شب و روز عالمی پریس سے عموماً پوشیدہ رکھے جاتے ہیں۔ اشتراکی حکمرانوں نے البانیہ کو دنیا کی پہلی سیکولر اسٹیٹ قرار دیا ہے مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ دنیا کی واحد کمیونسٹ حکومت تھی جو روس کے ایماء کے بغیر وجود میں آئی اور اس کی تشکیل میں یوگوسلاویہ کے ٹیٹو اور برطانیہ اور فرانس کی رضامندی کا دخل رہا۔ البانیہ یورپ کی واحد ریاست ہے جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے مگر اس اکثریت کے باوجود وہاں اسلام شجرِ ممنوعہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ 
البانیہ کا کل رقبہ ۲۹ ہزار مربع کلومیٹر اور آبادی ۲۵ لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ مسلمانوں کی تعداد تقریباً ۱۷ لاکھ ہے جو آبادی کا ۷۰ فیصد ہے۔ جبکہ یونانی آرتھوڈکس ۲۰ فیصد اور کیتھولک عیسائی ۱۰ فیصد ہیں۔ البانوی مسلمانوں کی اکثریت سنی ہے۔ مسلمانوں میں باہمی اتحاد و اتفاق کا زبردست فقدان ہے جس کے نتیجے میں البانیہ کی آزادی سے لے کر آج تک البانیہ پر زبردست آمریت مسلّط رہی ہے اور حکمرانوں نے مسلمانوں پر بدترین مظالم ڈھائے ہیں۔ 
البانیہ قدیم زمانے میں الیریا سلطنت کا حصہ تھا، بعد میں رومی اور بازنطینی حکومتوں نے اس پر اقتدار جمایا، آٹھویں صدی میں بلغاریہ نے اسے اپنی سلطنت کا حصہ بنا لیا، جب ترکوں کی عثمانی سلطنت کے زیرنگیں آگیا۔ ترکوں نے اس علاقے میں ۴۳۴ سال حکومت کی، اس علاقے میں اسلام بکتاشی درویشوں کے ذریعے پھیلا۔ ۱۷۹۹ء کے معاہدہ کارلووٹز کے بعد سے ترکوں کا زوال شروع ہو گیا اور ان کی وسیع سلطنت میں ٹوٹ پھوٹ شروع ہو گئی۔ ترکوں کا اقتدار ختم ہوا تو یہ ریاستیں مستحکم سیاسی ادارے قائم نہ کر سکیں۔ نتیجے کے طور پر پورے علاقے میں آمریت چھا گئی اور پورا مشرقی یورپ کمیونزم کے نرغے میں آ گیا۔ 
۲۸ نومبر ۱۹۱۲ء کو البانیہ کو آزادی ملی اور پہلے حکمران کے طور پر آسٹریا کے ایک شہزادے ولیم آف ویڈ کا تقرر عمل میں آیا مگر شہزادے کو جلد ہی اس ذمہ داری سے دستبردار ہونا پڑا کیونکہ اس کے خلاف بغاوت شروع ہو گئی۔ ۱۹۱۵ء میں البانیہ کی تقسیم کا ایک معاہدہ ہوا، اس معاہدے پر اٹلی اور یوگوسلاویہ میں اختلافات اس قدر بڑھ گئے کہ بات جنگ تک جا پہنچی مگر بڑی طاقتوں کی ثالثی کے نتیجے میں بیرونی فوجیں سے لوٹ گئیں۔ 
۱۹۲۰ء میں احمد بے زوغو وزیراعظم بنا مگر ۱۹۲۳ء کے انتخابات میں اس نے شکست کھائی اور اپنے خاندان کے ایک فرد شوکت بے کو حکومت سپرد کر دی مگر شوکت بے کے خلاف بھی بغاوت ہو گئی اور اسے بھی اقتدار چھوڑنا پڑا۔ زوغو فرار ہو کر یوگوسلاویہ چلا گیا اور ایک بشپ خان نولی وزیراعظم بنا۔ ادھر یوگوسلاویہ میں پناہ کے دوران زوغو اپنی حاجی فوج تیار کرتا رہا اور ۱۹۲۴ء میں اس نے البانیہ میں داخل ہو کر دارالحکومت تیرانہ پر قبضہ کر لیا، عام انتخابات کرانے اور البانیہ کو جمہوریہ قرار دے دیا۔ زوغو پہلا صدر بنا۔ اس نے کئی معاشی اصلاحات کیں اور اٹلی کے اشتراک سے قومی بینک کا قیام عمل میں آیا لیکن یکایک یکم ستمبر ۱۹۲۸ء کو اس نے آئین میں تبدیلیاں کر کے لامحدود اختیارات حاصل کر لیے اور اپنی بادشاہت کا اعلان کر دیا۔ احمد زوغو نے لادینی خیالات کا پرچار شروع کر دیا اور مسلمان علماء پر ظلم کیے گئے جس کے نتیجے میں مشہور محدث علامہ ناصر الدین البانی سمیت کئی علماء البانیہ سے ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے۔ 
۱۹۳۹ء میں مسولینی نے البانیہ پر حملہ کر دیا۔ شاہ زوغو ملک سے فرار ہو گیا۔ ۱۹۴۲ء میں جرمنوں نے البانیہ کا انتظام سنبھال لیا۔ دو سال بعد جرمن فوجیں البانیہ سے واپس چلی گئیں۔ دوسری جنگ عظیم کے بادل چھٹے تو سرونسٹن چرچل کی ہدایت پر اقتدار کمیونسٹ ڈیموکریٹک فرنٹ کے حوالے کر دیا گیا جس کا سربراہ انور خوجہ تھا۔ یہ انور خوجہ البانیہ پر ۴۰ سال حکومت کرتا رہا، اس کے طویل دورِ حکومت میں اسلام کے نام لیواؤں پر جو ظلم و ستم توڑے گئے انہیں دیکھ کر روح کانپ اٹھتی ہے۔ اس آمرِ وقت کو اگر البانیہ کا ہٹلر قرار دیا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ 
۱۹۴۵ء میں انور خوجہ نے یک جماعتی انتخابات کا ڈھونگ رچایا اور ۹۳ فیصد اکثریت سے کامیابی کا دعوٰی کر کے البانہ کو سوشلسٹ ری پبلک بنا دیا۔ خفیہ عدالتوں کے ذریعے سرسری سماعت کے بعد ہزاروں مخالفین کو جھوٹے مقدمات میں پھنسا کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ سینکڑوں افراد گرفتار کر لیے گئے۔ اسمبلی میں اپنے ہی کئی ہم جماعتوں پر غداری کے الزامات لگائے گئے اور انہیں اذیت کیمپوں میں ڈال دیا گیا۔ روس کے ایما پر کمیونسٹ پارٹی کے بانی کوچی جوج پر غداری کے الزام میں مقدمہ چلا کر فائرنگ اسکواڈ نے گولی سے اڑا دیا۔ جیسے ہی انور خوجہ نے محسوس کیا کہ اشتراکیت کے قدم مضبوط ہو چکے ہیں، تمام مساجد اور دینی تعلیم کے اداروں کو بند کر دیا گیا، ائمہ مساجد اور اساتذہ کی تنخواہیں روک دی گئیں، مذہبی رہنماؤں کی کردار کشی کی گئی۔ ۱۹۶۷ء میں یہ سرگرمیاں زور پکڑ گئیں۔ مساجد اور مدرسے ڈھا دیے گئے یا انہیں لائبریریوں اور عجائب گھروں میں تبدیل کر دیا گیا۔ حکومت نے گھروں میں بھی مذہبی شعائر کی ادائیگی گوارا نہ کی اور ایسے خفیہ اسکواڈ بنائے جو مذہبی شعائر ادا کرنے والوں پر نظر رکھیں اور انہیں گرفتار کر لیں۔ ڈاڑھی رکھنا جرم قرار دیا گیا۔ ایئرپورٹ پر جو غیر ملکی سیاح ڈاڑھی میں نظر آتا وہیں پر موجود حجام اس کی ڈاڑھی مونڈ دیتے۔ سارے ملک میں مسلمانوں کو پکڑ پکڑ کر ان کی ڈاڑھیاں مونڈی جانے لگیں۔ قرآن اور دوسری اسلامی کتب کا پڑھنا جرم قرار دے دیا گیا۔ خواتین کو پردہ کرنے کی اجازت نہ تھی بلکہ بالجبر ان کے برقعے چھین کر انہیں مردوں کے روبرو رقص کرنے پر مجبور کیا گیا۔ مسلمانوں کو زبردستی سور کا گوشت کھلایا گیا۔ ان احکامات کی پابندی نہ کرنے والوں کو گولی سے اڑایا جانے لگا۔ مسلمانوں کو مجبور کیا گیا کہ وہ غیر مسلموں سے شادی کریں، جس کسی نے چوری چھپے مسنون طریقے سے مسلمان عورتوں سے شادی کی ان سے جبری طلاقیں دلوائی گئیں اور پھر جیل میں ڈال دیا گیا۔ اسپتال میں پیدا ہونے والے بچوں کا نام حکومت خود تجویز کرتی تھی، اسلامی نام رکھنا ممنوع تھا، بچوں کو ختنہ کرانے کی سزا تین سال قید با مشقت تھی۔ 
۱۹۷۲ء کے نئے دستور میں دین کے ساتھ کسی بھی تعلق کو ممنوع قرار دے دیا گیا۔ مذہبی فرائض کی انجام دہی پر دس برس قید سے سزائے موت تک مقرر کی گئی۔ نمازوں کی امامت کرنے اور خطبہ دینے پر پابندی لگا دی گئی۔ رمضان کے روزے رکھنے اور عید منانے کی اجازت نہیں تھی۔ افراد کی نجی زندگی میں بھی مداخلت کی جاتی اور جاسوسی کا کام معصوم بچوں سے لیا جاتا۔ گھر میں آنے والے مہمانوں پر نگاہ رکھی جاتی۔ غیر ممالک سے آنے والوں کے لیے الگ ہوٹل قائم کیے گئے اور انہیں مقامی لوگوں سے ملنے جلنے کی اجازت نہیں۔ ۳۱ اکتوبر ۱۹۸۱ء کو گارڈین میں ایک مغربی سیاسی مبصر گل براؤن نے اپنے مضمون میں انکشاف کیا کہ البانیہ کے لیبر کیمپوں میں کوئی چالیس ہزار شہری جبری محنت پر مامور ہیں، زیادہ تعداد ان لوگوں کی ہے جنہیں مذہبی عقائد کی بنا پر پکڑا گیا ہے۔ 
البانیہ کے حکمران اسلام کو ریاست کے لیے بدترین خطرہ خیال کرتے ہیں۔ انور خوجہ کے حکم پر کمیونسٹ پارٹی کے چالیس مسلمان اراکین کا خاتمہ کر دیا گیا۔ حاملہ عورتیں اور بچوں تک کو نہ بخشا گیا۔ انور خوجہ نے اپنے پرانے ساتھی اور وزیراعظم محمد شیخو کو ۱۹۸۱ء میں اس کی بیوی اور دو بچوں سمیت قصرِ صدارت میں ہی گولیوں سے اڑا دیا اور ان کی لاشیں مذہبی رسوم ادا کیے بغیر دفنا دی گئیں۔ اس کے حکم پر ۲۱۶۹ مساجد منہدم کی گئیں اور زنا و شراب وغیرہ کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ ۱۹۴۱ء سے پارٹی میں پانچ بار تطہیر کی گئی۔ البانیہ اندرونی طور پر افراتفری کا شکار رہا۔ ۱۹۶۶ء میں مسلح افواج کے تمام رینک ختم کر دیے گئے۔ کمیونسٹ پارٹی پر کسی قسم کی تنقید کی اجازت نہیں۔ ۱۹۷۳ء کے آئین کی رو سے ورکرز پارٹی کا اول سیکرٹری مسلح افواج کا کمانڈر انچیف ہوتا ہے۔ 
البانیہ کی خارجہ پالیسی مستقل نہیں رہی بلکہ اس میں بے ربط تبدیلیاں آتی رہیں۔ انور خوجہ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد جب ملک میں ظلم و ستم کا بازار گرم ہوا اور عوام کے بنیادی حقوق چھینے جانے لگے تو مغربی اتحادیوں سے البانیہ کے تعلقات بری طرح متاثر ہوئے۔ پہلے البانیہ کے یوگوسلاویہ سے تعلقات بہت مضبوط قائم ہوئے مگر صدر ٹیٹو کی پالیسیوں پر اختلافات کے باعث ٹوٹ گئے۔ ۱۹۴۸ء سے ۱۹۶۱ء تک روس کے ساتھ تعلقات رکھے مگر جب روس میں ترمیم پسندی کا رجحان پروان چڑھا تو البانیہ روس سے بھی لاتعلق ہو گیا۔ ۱۹۶۱ء سے ۱۹۸۷ء تک البانیہ چین کا اتحادی رہا مگر جب چین نے امریکہ کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے تو البانیہ کے انتہاپسند کمیونسٹوں نے اس کی دوستی سے ہاتھ کھینچ لیا۔ البانیہ کی کمیونسٹ حکومت نے برسراقتدار آنے کے بعد کئی اسلامی ملکوں سے اپنے سفارتی تعلقات توڑ لیے۔ البانوی حکومت کے خیال میں روس اور چین میں سے کوئی صحیح مارکسی نہیں بلکہ وہ خود مارکسی نظریات کا صحیح علمبردار ہے۔ ۱۹۶۰ء میں روس نے بغاوت کے ذریعے انورخوجہ کو ہٹانے کی کوشش کی۔ البانیہ بین الاقوامی دہشت گردی کی اعانت میں بھی پیش پیش رہا۔ اس وقت وہ خود کو غیرجانبدار ملک قرار دیتا ہے۔ اپریل ۱۹۸۵ء میں انور خوجہ چالیس سال حکومت کرنے کے بعد انتقال کر گیا۔ اس کے انتقال کے وقت بھی البانیہ میں گیارہ اذیتی کیمپ قائم تھے۔ 
انورخوجہ کے بعد ایک تحقیقاتی ایجنسی کا سربراہ رمیض عالیہ صدر بنا۔ وہ بھی سابق صدر کی پالیسیوں پر گامزن ہے لیکن اس نے اتنی رعایت کی ہے کہ گھروں میں بیٹھ کر عبادت کرنے والوں کو ریاستی مداخلت سے محفوظ رکھنے کی ضمانت دی ہے، مگر ریاستی معاملات میں مذہب کے لیے اب بھی کوئی جگہ نہیں ہے۔ حکمران جماعت کے دو نظریاتی بازوں ’’روج‘‘ اور ’’پارٹی‘‘ کے نظریات میں اس مسئلے پر اختلاف پیدا ہوا ہے۔ ’’پارٹی‘‘ نے سفارش کی ہے کہ اشتراکی نظریات میں لچک پیدا کی جانی چاہیے، اس کے بر خلاف ’’روج‘‘ کا خیال ہے کہ سخت اقدامات جاری رکھنے چاہئیں۔ امید کی جانی چاہیے کہ رمیض عالیہ اپنے پیشروؤں کے مقابلے میں نرمی کی پالیسی اختیار کریں گے۔
البانیہ میں اس تمام تر جبر کے باوجود مسلمانوں کا اسلام سے لگاؤ ختم نہیں کیا جا سکا ہے اور اس پر ترک ثقافت کے گہرے اثرات اب بھی باقی ہیں۔ لوگ کھلے پاجامے پہنتے ہیں، سفید ترکی ٹوپی استعمال کرتے ہیں، کچھ عورتیں ابھی تک ترکی لباس پہنتی ہیں۔ اپریل ۱۹۸۴ء میں سرکاری اخبار نے انکشاف کیا کہ مسلمان اپنے لڑکوں کے ختنے کراتے ہیں، مزاروں پر جاتے ہیں، وہ مذہبی پس منظر میں شادی کرتے ہیں۔ دوسرا اخبار لکھتا ہے کہ لوگ اب بھی مذہب پر قائم ہیں، حکومت اس کا قلع قمع کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلامی کانفرنس، مؤتمر عالم اسلامی اور دوسرے پلیٹ فارموں سے جب بھی مسلمان اقلیتوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کی جائے اس میں البانیہ کے مسلمانوں کے حقوق کا مطالبہ بھی شامل ہو۔ 

سلمان رشدی، آزادیٔ رائے اور برطانوی حکومت

حافظ محمد اقبال رنگونی

گذشتہ چند دنوں میں ’’شیطانک ورسز‘‘ اور اس کے بدبخت مصنف مسٹر سلمان رشدی کے خلاف مہم نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ اس کی وجہ جناب خمینی کا وہ اعلان ہے جو اس نے مسٹر رشدی کے قتل سے متعلق جاری کر دیا۔ برطانوی حکومت کے ساتھ یورپی ممالک نے اس اعلان کی شدید مذمت کرتے ہوئے اپنے اپنے سفراء واپس بلانے کا اعلان کیا جبکہ ایران نے بھی ان تمام ممالک سے اپنے نمائندے واپس بلا لیے۔ لیکن علامہ خمینی نے اپنا بیان واپس لینے سے انکار کرتے ہوئے انعام میں مزید اضافہ کر دیا۔ 
جناب خمینی کے اس اعلان پر برطانیہ میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان سخت کشیدگی پائی جا رہی ہے۔ برطانوی ذرائع ابلاغ اور اخبارات نے دل کھول کر اس موضوع کو سرِفہرست رکھا اور تبصرہ شروع کر دیا۔ حکومت کے ساتھ ساتھ اخبارات نے بھی ایران کی اس دھمکی کو اپنے ملک میں مداخلت قرار دے کر برطانوی عوام میں ایک ذہنی انقلاب پیدا کر دیا۔ بعض اخبارات نے اس موضوع کو اچھال کر اہل اسلام کے خلاف مضامین اور تبصرے شائع کیے۔ تبصرہ نگاروں میں ان نام نہاد مسلمانوں کو سرفہرست رکھا گیا جن کی فکریں آزاد اور جن کے خیال مغربی تہذیب سے آراستہ تھے۔ ظاہر ہے کہ ان کا انداز بیان وہی بلکہ اس سے بدتر ہو گا جو کسی غیر مسلم مبصر کا ہو سکتا ہے۔ چنانچہ ان نام نہاد مفکروں نے اس گستاخانہ ناول کو تحریری آرٹ قرار دے کر پرزور حمایت کی اور اظہارِ رائے کی آزادی کے حق میں ووٹ دے کر کھلے لفظوں میں اس ناول کی اشاعت کو اس کا جائز حق بتلا دیا۔ 
بعض لوگوں نے ریڈیو انٹرویو کے دوران اس بات کی وضاحت کی کہ اس اعلان کا تعلق صرف شیعیت کے ساتھ ہے اور پوری دنیا میں شیعہ مذہب صرف ۱۲ فیصدی ہے، سنی مسلمانوں کا اس اعلان سے کوئی تعلق نہیں نہ ہی اس کی تائید ہے۔ کچھ دانشوروں نے مذہبی تشدد پسندی قرار دے کر جناب خمینی کے اس اعلان کی مخالفت کے ساتھ علماء کرام اور مسلمانانِ برطانیہ کے مطالبہ پر کڑی نکتہ چینی کی۔ 
دریں اثناء فرانس میں کچھ روشن خیال عرب اور فرانسیسی ادیبوں نے سلمان رشدی اور اس کی گستاخانہ کتاب کے حق میں باقاعدہ مظاہرے بھی کیے۔ غرضیکہ جس طرف نظر اٹھائیے نئی باتیں نظر آئیں گی۔ ٹی وی اور اخباروں کے مبصروں نے مختلف لوگوں سے انٹرویو لیے اور اس کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ مسلمانوں میں اس موضوع پر اتحاد نہیں بلکہ تضاد بیانیاں ہیں، اس طرح مسلمانوں کی اجتماعیت میں رخنہ پڑ گیا اور معاملہ آگے نہ بڑھ سکا۔ 
برطانیہ میں بعض اخبارات خصوصاً نیشنل فرنٹ گروہ کو یہ سنہری موقع مل گیا، انہوں نے اس موضوع کو اس قدر حاشیہ آرائی کے ساتھ عام کیا کہ مقامی باشندوں کو مسلمانوں کی مخالفت اکسا دیا جائے اور مسلمانوں کو متشدد، تخریب کار، دہشت گرد اور جنونی قرار دے کر منافرت اور کشیدگی کی فضا پیدا کر دی ہے۔ مسلمانوں کے دفاتر اور مساجد اور دیگر تنظیموں کو فون اور خطوط کے ذریعے ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے۔ مانچسٹر کے ایک علاقے میں مسلمانوں کے گھروں میں گمنام خطوط ارسال کیے گئے جس میں رشدی کی مخالفت ترک کرنے کا مشورہ دیا گیا، جیو اور جینے دو کے اصول پر عمل کرنے کی تاکید کی گئی اور دبے لفظوں میں دھمکی اور اخراج کا بھی تذکرہ کر دیا۔ بریڈفورڈ کے اسلامی دفاتر پر حملے کی خبریں اور دیگر دھمکی آمیز فون اس بات کے ثبوت کے لیے کافی ہیں کہ برطانوی مسلمانوں پر عرصۂ حیات تنگ کرنے کے لیے پوری تیاری کے ساتھ سازشوں کا جال بچھا دیا گیا ہے۔ 
لیکن اس سب کے باوجود برطانوی حکومت اور برطانوی عوام نے یہی تہیّہ کر رکھا ہے کہ اہلِ اسلام کے مطالبہ کو مسترد کر دیا جائے۔ یورپی ممالک کے ارکان بھی اس کے حامی ہیں اور اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ برطانیہ ایک آزاد ملک ہے، یہی آزادیٔ تقریر و تحریر معاشرہ کا ایک حصہ اور قانون ہے، اس پر کسی کی مداخلت یا پابندی قابل قبول نہیں۔ بس جسے دیکھئے آزادیٔ تحریر کے گیت گا رہا ہے لیکن کسی نے آج تک ٹھنڈے دل سے یہ سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کی کہ آخری اس کتاب میں وہ کون سی توہین و گستاخی ہے جس نے اہل اسلام کو مساجد اور گھروں سے سڑکوں پر لاکھڑا کر دیا ہے اور برطانیہ کے درودیوار ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے تحفظ کے اعلان سے گونج اٹھے ہیں۔ آخر کوئی بات تو ہے جس کی وجہ سے یہ اضطراب اور بے چینی پائی جا رہی ہے، افسوس کہ اس جانب کسی نے توجہ نہ کی۔ 
(۱) ہم نے مانا کہ یہ آزاد ملک ہے، یہاں آزادیٔ تقریر و تحریر کی فضا ہے لیکن اس آزادی کا مطلب یہ تو نہیں کہ کسی کی ماں بہن پر کھلے عام تبرّا کیا جائے، کسی کو گالی دی جائے، کسی کا گریبان پڑا جائے، کسی کے مذہب پر اس طرح کا کیچڑ اچھالا جائے، کسی کے خلاف اس قسم کی بدگوئی و بدزبانی اور سب و شتم کا مظاہرہ کیا جائے۔ اگر اس کا نام آزادی ہے تو یہ لفظ آزادی کی سخت توہین ہے، اس کا نام آزادی نہیں بلکہ سراسر ظلم و زیادتی ہے۔ 
(۲) آزادیٔ تقریر و تحریر کا قانون اپنی جگہ مسلّم لیکن کسی کی توہین و گستاخی اور ہتک عزت جرم ہے یا نہیں؟ کیا اس کا کوئی قانون نہیں؟ کیا برطانیہ کی عدالتوں میں توہینِ عزت کے مقدمات نہیں آتے؟ کیا ہتکِ عزت کے خلاف جرمانہ عائد نہیں کیا جاتا؟ غور فرماویں برطانیہ میں ایک نہیں ہزاروں مقدمات طے پا چکے ہیں جن میں عدالتوں نے ہتکِ عزت پر باقاعدہ سمن جاری کیے، جس کی توہین و گستاخی کی گئی اسے ہزاروں کی رقم دینےکا فیصلہ سنایا گیا اور اس آزادیٔ تقریر و تحریر والے کو قانون کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا گیا۔ ابھی آج کی تازہ رپورٹ ملاحظہ فرمائیے:
’’فلم پروڈیوسر اور ڈائریکٹر مسٹر مچل ونو نے اخبارات کے خلاف ہرجانہ اور مقدمہ کا خرچہ لندن میں جیت لیا ہے۔ مسٹر مچل کے خلاف ایک سال قبل نیوز آف دی ورلڈ نے ایک گندہ مضمون شائع کیا تھا۔ مسٹر مچل نے ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کر کے عدالت سے اس مقدمہ کو جیت لیا ہے کیونکہ اخبارات نے ان کے خلاف غلط بیانی کی تھی۔‘‘ (مانچسٹر ایوننگ نیوز ۲۳ فروری ۱۹۸۹ء)
ملاحظہ فرمائیں، اگر اس اخبار نویس کو آزادیٔ تحریر کی اجازت تھی تو پھر اس پر کیوں مقدمہ دائر کیا گیا؟ عدالت نے کیوں جرمانہ دینے کا فیصلہ سنایا؟ وجہ یہ ہے کہ آزادیٔ تحریر کا مطلب یہ نہیں کہ ہر کسی کی پگڑی اچھالی جائے اور ہر ایک کی بے عزتی کرتا پھرے، اور اگر کسی نے بلاثبوت یہ حرکت کی تو قابلِ مواخذہ ہو گا۔ اس سے یہ ثابت کرنا آسان ہو گا کہ اس ملک میں جہاں آزادیٔ تقریر و تحریر کی اجازت اور فضا ہے تو ساتھ ہی دوسرے کی توہین و گستاخی بھی قانوناً جرم اور قابلِ مواخذہ ہے۔ 
اب اگر اس گستاخانہ ناول کے صرف ایک ہی رخ پر اصرار کرتے رہنا کہ یہ ناول آزادیٔ تقریر و تحریر کے ضمن میں ہے اور دوسرے رخ سے یکر صرفِ نظر کر دینا انصاف کے نام پر بے انصافی، آزادی کے نام پر بے عزتی نہیں تو اور کیا ہے؟ کیا اس کتاب میں توہین و گستاخی پر مشتمل کوئی عبارت نہیں؟ کیا سب و شتم کا برملا اظہار نہیں؟ پھر گستاخی بھی ایرے غیرے کی نہیں، ایک ایسی مقدس و محترم ہستی کی جن کی شرافت پر آسمان کے معصوم فرشتوں کو بھی ناز ہے، جن کی عفت و عصمت کا اعتراف اہلِ اسلام ہی نہیں غیر مسلم بھی کر چکے ہیں، جن کی پاکیزہ زندگی پر غیر مسلموں کی شہادتیں بھی موجود ہیں، جن کے ماننے والے اور جنہیں اپنے اہل و عیال، عزیز و اقارب بلکہ کل کائنات کو ان پر قربان کر دینے والے ایک دو نہیں ارب ہا ارب کی تعداد میں پورے عالم میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اگر اہلِ اسلام نے اس انتہائی گستاخی و توہین کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے برطانوی عدالتوں اور حکومت سے انصاف کا مطالبہ کیا تو آخر کون سا جرم کیا؟ کیا گستاخی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنا جرم ہے؟ اگر نہیں اور یقیناً نہیں تو پھر اہلِ اسلام کے اس مطالبہ کو پورا کرتے ہوئے تسلیم کرنا حکومت برطانیہ کی قانونی ذمہ داری بھی ہے اور اخلاقی ذمہ داری بھی۔ 
(۳) اگر حکومتِ برطانیہ ’’آزادیٔ تقریر و تحریر‘‘ پر ہی اصرار کرتی رہے تو انہیں اس کا جواب دینا ہو گا کہ جب متحدہ ہندوستان میں انگریزی اقتدار کے خلاف علماء کرام اور عوام نے تقریریں کیں، کتابیں لکھیں، آزادی کے لیے اپنی اپنی رائے کا اظہار کیا تو آخر انہیں درختوں پر کیوں لٹکا دیا گیا؟ کیوں قید و بند کی صعوبتوں میں مبتلا کیا گیا؟ آزادیٔ تقریر و تحریر کے ان متوالوں کو آخر کس جرم میں سزا کے شکنجے میں کسا گیا؟ اس وقت بھی یہی قانون تھا تو اس وقت اس عنوان کا گلا کس لیے گھونٹ دیا گیا؟ اگر اس وقت آزادیٔ تقریر و تحریر کا گلا اس لیے گھونٹ دیا گیا تھا کہ اس سے برطانوی اقتدار کی توہین و گستاخی ہو رہی ہے تو پھر خدارا انصاف فرمائیے کہ اس توہین اور انتہائی گستاخی کو کس لیے آزادیٔ تقریر و تحریر کا عنوان دیا جا رہا ہے؟ کیا اسی کا نام انصاف ہے؟
عجیب بات ہے کہ جب مسئلہ اپنی ذات کا آ جائے تو یہی آزادیٔ تقریر و تحریر جرم ہو جاتی ہے اور جب مسئلہ دوسرے فریق کا بن جائے تو پھر یہی عنوان انصاف قرار پاتا ہے، فیاللعجب۔ 
(۴) بعض دانشوروں نے اس کتاب میں انتہائی گستاخانہ جملوں کا اعتراف تو ضرور کیا لیکن آزادیٔ تقریر و تحریر کا عنوان قرار دے کر پھر اسی لکیر کے فقیر بنے رہے۔ ہم ان سے یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ اس کتاب میں جتنے گستاخانہ جملے ہیں اگر وہاں سے ان ناموں کو ہٹا کر اس کی جگہ ملکہ برطانیہ، اس کا خاوند، اس کی صاحبزادی، اس کی بہو، اس کے عزیز و اقارب کے نام لکھ دی ےجائیں، سٹی آف جاہلیہ لندن اور نیویارک کو قرار دے دیا جائے، --- کا لفظ سر جیفری ہاؤ کے لیے لکھا جائے (وغیر ذالک) تو انصاف فرمائیے اس وقت آپ کا کیا ردعمل ہو گا؟ کیا آپ اس کتاب کو برداشت کریں گے؟ کیا اس وقت آپ کی غیرت اس بات کو گوارا کرے گی کہ اس کتاب کی عام اشاعت کی جائے۔ اس وقت اگر آپ پابندی لگانا چاہیں اور دوسرے لوگ اسے آزادیٔ تقریر و تحریر کا عنوان دے کر آپ کے خلاف محاذ بنا لیں تو کیا آپ گوارا کر لیں گے؟ چلئے ملکہ نہ سہی، وزیر اعظم نہ سہی، آپ کے والدین کے بارے میں یہ عنوان اختیار کر لیا جائے تو آپ کا ردعمل کیا ہو گا؟
ہم سمجھتے ہیں کہ اگر آپ میں ذرہ بھر بھی شرم و حیا ہو گی تو آپ اس کتاب کے خلاف سخت سے سخت اقدام کرنے سے گریز نہ کریں گے۔ اس لکھنے والے کو یا تو دماغی مریض قرار دے کر پاگل خانے بھیجنے اور اس کا معائنہ کرنے کی ہدایت کریں گے یا پھر اس گستاخ کو قانون کے شکنجے میں کس کر رکھ دیں گے کہ اس نے بلاثبوت اس دریدہ دہنی و گستاخی کا مظاہرہ کر کے ملکہ یا وزیر یا میرے والد کو بدنام و بدکام بتلا دیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس وقت آپ کا قانون یہ نہیں کہے گا کہ آزادیٔ تقریر و تحریر کا مطلب ملکہ برطانیہ کو --- کہنا ہے، کسی محترم کو شیطان کے نام سے پکارنا ہے۔ بس اسی بات کو ہم سمجھانا چاہتے ہیں کہ آزادیٔ تقریر و تحریر کا قانون اپنی جگہ مسلّم لیکن جب کسی محترم و معظم کی اس انداز میں پگڑی اچھالی جائے تو اس کا نام سراسر زیادتی و ظلم ہو گا اور یہ چیز قانوناً جرم سمجھی گئی ہے۔ 
(۵) آزادیٔ تقریر و تحریر کی فضا کے ساتھ ساتھ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ جارح کون ہے؟ کس نے دوسرے پر حملہ کیا؟ کس نے کس کی عزت پر حملہ کیا؟ برطانوی قانون میں یہ شق بھی تو موجود ہے کہ جارح مجرم ہے اور اس کے خلاف ہر ممکن ذرائع و وسائل اختیار کرنا ان کا فریضہ ہے۔ مثال کے طور پر گذشتہ چند سالوں میں روس جیسی سپر طاقت نے افغانستان کو اپنی جارحیت کا نشانہ بنایا، ظلم و ستم کے ذریعے اپنا قبضہ جاری رکھا، لیکن مغربی ممالک خصوصاً برطانیہ نے اس جارحیت کے خلاف سخت قدم اٹھایا، جارح کو برا بھلا کہا بلکہ جارح کے خلاف قراردادیں پاس کرنے میں پیش پیش رہے۔ یہی نہیں بلکہ برطانیہ نے ہزاروں پونڈ کی افغان مجاہدین کی امداد کی، انہیں ہتھیاروں سے لیس کیا، انہیں تمام ذرائع و وسائل مہیا کیے، ان کی بھرپور حمایت کی۔ آخر کیوں؟ اس لیے کہ وہ روس جارح تھا اس نے کسی کا دل دکھایا تھا تو حکومتِ برطانیہ سے برداشت نہ ہو سکا۔ لیکن جب یہی مسئلہ ان کے ملک میں پیش آتا ہے تو جرأت کی انتہا نہیں رہتی کہ جارح (مسٹر رشدی) کو نہ صرف حمایت کا یقین دلایا جاتا بلکہ اس کے بچاؤ کے لیے ہر ممکن ذرائع اختیار کیے جاتے ہیں۔ روزانہ ہزاروں کا خرچ جارح پر برداشت کرنا اپنا فرض سمجھا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ یورپی ممالک کے ارکان کو جارح کی حمایت کرنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ روس تو جارح ٹھہرا لیکن ان کے مفادات پر ضرب پڑی تو مسٹر رشدی جارح نہیں ٹھہرا اس لیے کہ ان کے مفادات اس سے وابستہ تھے۔ خیال فرمائیے جارح کے موضوع پر ذہنیت میں کتنا فرق واقع ہو رہا ہے۔ 
ہم یہی کہنا چاہتے ہیں کہ جارح کے خلاف آپ کا جو قانون ہے وہی قانون مسٹر رشدی پر لاگو ہونا چاہیے کیونکہ وہ جارح ہے اس نے جارحیت کا مظاہرہ کیا ہے اور ہزاروں نہیں بلکہ بلین مسلمانوں کے قلوب زخمی کیے ہیں۔ کیا یہ جارح کی فہرست میں نہیں آتا؟
ہماری ان ساری گذارشات کا حاصل یہ ہے کہ ’’شیطانک ورسز‘‘ اور اس کا بدبخت مصنف برطانوی قانون کے اعتبار سے بھی مجرم ہے اور ہم قانون کی روشنی میں یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ اس مجرم کو سخت سزا دی جائے اور قانون کو حرکت میں لایا جائے۔ یہی مطالبہ مسلمانانِ برطانیہ بار بار کر رہے ہیں جسے پورا کرنا برطانوی حکومت کا قانونی فریضہ بھی ہے۔ 
(۶) علاوہ ازیں یہ بھی ایک دعوٰی ہے کہ برطانیہ ملحد اور کمیونسٹ ملک نہیں، انہیں اعتراف ہے کہ یہ ملک ایک مذہبی (عیسائی) ملک ہے، یہاں کی ملکہ عیسائی فرقے کی ایک مذہبی رہنما بھی ہیں۔ اگر واقعتاً یہ دعوٰی حقیقت پر مبنی ہے تو پھر مذہبی اعتبار سے اس موضوع کا حل آسان ہے۔ اس کتاب میں اہلِ اسلام کے مذہب خصوصاً پیغمبرانِ اسلام کی سخت توہین و گستاخی کی گئی، انتہائی گندے الفاظ استعمال کیے گئے۔ اگر مذہبی نقطۂ نظر سے اس موضوع کو دیکھا جائے تو بھی بدبخت رشدی مجرم کی حیثیت سے سامنے آتا ہے لیکن انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ اس موضوع نے برطانوی دعوٰی کا پول کھول کر رکھ دیا ہے۔ یہاں یہ بات صاف واضح ہو جاتی ہے کہ اس ملک میں مذہب نام کی کوئی چیز نہیں، مذہب کی قدر و قیمت نہیں، ان میں الحاد، بدمذہبی سرایت کر چکی ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ اس گستاخانہ ناول کو مذہب کی بجائے سیاست کی نذر کر دیا گیا حالانکہ یہ موضوع سیاسی نہ تھا ایک خالص دینی و مذہبی معاملہ تھا۔ اگر مذہبی اعتبار سے موجودہ حکومت بغور جائزہ لے تو انہیں یقیناً اہلِ اسلام کا مطالبہ معقول نظر آئے گا لیکن حیف در حیف کہ اس خالص دینی موضوع کو سیاسی موضوع بنا کر اہلِ اسلام کو مجرم قرار دیا گیا اور مسلمانوں کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنے کی کوشش کی گئی۔
(۷) جہاں تک نفس مسئلہ قتل کا تعلق ہے شریعتِ اسلامیہ نے اصول بیان کرتے ہوئے اس کی اجازت دے رکھی ہے۔ قرآن کریم میں، احادیث پاک میں یہ مضامین صراحت کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں۔ خود سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جو شخص کسی پیغمبر کی توہین اور سب و شتم کا ارتکاب کرے اس کی سزا یہی قتل ہے۔ سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور اقدس میں مرتد پر اسلامی سزا نافذ کی گئی اور شاتمانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں حکم سنایا گیا کہ انہیں قتل کر دیا جائے۔ علامہ قاصی عیاضؒ نے ’’الشفاء‘ میں پوری تفصیل کے ساتھ اس موضوع پر کلام فرمایا ہے جس سے یہ بات بخوبی واضح ہو جاتی ہے کہ شریعتِ اسلامیہ نے ارتداد اور گستاخِ رسول صلی الہ علیہ وسلم کے لیے ایک قانون بنایا ہے اور یہ قانون رہتی دنیا تک رہے گا، اس میں ترمیم یا تنسیخ کا دعوٰی کرنا اسلام سے ہاتھ دھونا ہے۔ مسٹر رشدی نے اپنے آپ کو چونکہ ایک مسلمان کی حیثیت سے پیش کر کے گستاخیٔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارتکاب کیا ہے اس لیے وہ اسلامی نقطۂ نظر سے مرتد اور اسی سزا کا مستحق ہے۔ 
لطف کی بات یہ ہے کہ یہ حکم اور قانون صرف شریعتِ محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والتسلیم ہی کا نہیں بلکہ بائبل نے بھی یہی سزا تجویز کر رکھی ہے۔ شریعتِ اسلامیہ میں پیغمبر کی گستاخی کفر اور اس کی سزا قتل بیان کی گئی جبکہ بائبل نے قاضی اور کاہن کی گستاخی پر قتل کا فتوٰی صادر کیا ہے۔ غور سے ملاحظہ فرمائیے:
’’شریعت کی جو بات وہ تجھ کو سکھائیں اور جیسا فیصلہ تجھ کو بتائیں اسی کے مطابق کرنا اور جو کچھ فتوٰی وہ دیں اس سے داہنے یا بائیں نہ مڑنا اور اگر کوئی شخص گستاخی سے پیش آئے تو اس کاہن کی بات جو خداوند تیرے خدا کے حضور خدمت کے لیے کھڑا رہتا ہے یا اس قاضی کا کہا نہ سنے تو وہ شخص مار ڈالا جائے اور تو اسرائیل سے ایسی برائی کو دور کر دینا اور سب لوگ سن کر ڈر جائیں گے اور پھر گستاخی سے پیش نہیں آئیں۔‘‘ (استثناء: باب ۱۷، آیت ۱۱ تا ۱۳، ص ۱۸۳)
مطلب یہ کہ تورات کے معلم کی بات کا انکار اور ان کے فتوٰی سے انحراف کرنے والا گستاخ اور واجب القتل ہے اور یہ ایک ایسی بیماری ہے جس کا دور کرنا ازحد ضروری قرار دیا گیا۔ مسلمانوں کو خونخوار اور ظالم قرار دینے والے ذرا اپنی کتاب مقدس کی طرف نظر کریں اور مذہبی حیثیت سے اس موضوع کو دیکھیں تو انہیں شریعتِ اسلامیہ پر اعتراض کی کوئی گنجائش نظر نہیں آئے گی۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ اس کا انکار کر دیں جیسا کہ گذشتہ سطور میں عرض کیا گیا کہ ان کے نزدیک مذہب کی کوئی حیثیت و وقعت نہیں ہے۔ 
پیش نظر رہے کہ کتاب استثناء کے بارے میں یہودی اور عیسائی دونوں فریق کے علماء اس پر متفق ہیں کہ یہ کتاب سیدنا حضرت موسٰی علیہ السلام کی تصنیف اور اپ کا بیان کردہ قانون ہے جس طرح یہودیوں کو ان احکامات پر عمل کرنا واجب ہے اسی طرح عیسائی قوموں کو بھی اس کا ماننا لازم ہے۔ اب دیکھتے ہیں اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔ 
(۸) اب اگر یہ آج کی مغربی اور آزاد خیال قومیں یہی اعتراض کرتی پھریں کہ اسلام کے قوانین بڑے سخت اور تشدد پر مبنی ہیں، خون خرابے کے احکام ان میں موجود ہیں، آزادی کے دشمن ہیں تو بصد ادب یہ گزارش کرنا چاہیں گے کہ دوسروں کی آنکھ میں تنکا دکھانے والے اپنی آنکھ کا شہتیر کیوں نہیں دیکھتے؟ ہم یہ بات پورے وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ بائبل نے جو سزائیں تجویز کی ہیں ان کو دیکھنے والے اسلامی قانون پر اعتراض کرنے کے لائق ہی نہیں، ہم تفصیل میں جائے بغیر چند سزائیں درج ذیل کرتے ہیں، ملاحظہ فرمائیے:
  1. غیر اللہ کی عبادت پر سزائے قتل (دیکھئے خروج: باب ۲۲، آیت ۲۰۔ استثناء: باب ۱۳، آیت ۶ تا ۱۰)
  2. ماں باپ پر لعنت کرنے والے کے لیے سزائے قتل (دیکھئے خروج: باب ۲۱، آیت ۱۵)
  3. نافرمان بیٹا قتل کا مستوجب (دیکھئے استثناء: باب ۲۱، آیت ۱۸)
  4. اغوا کرنے والے کو قتل کر دو (دیکھئے خروج: باب ۲۱، آیت ۱۵۔ استثناء: باب ۲۴، آیت ۷)
  5. سوتیلی ماں بہو سے زنا کرنے والے قابل گردن زنی (دیکھئے احبار: باب ۲۰، آیت ۱۱)
  6. لوطی کی سزا قتل (دیکھئے احبار: باب ۲۰، آیت ۱۳)
  7. بیوی اور ساس کو اکٹھا رکھنے والا (دیکھئے احبار: باب ۲۰، آیت ۱۴)
  8. بہن کو بے شرم کرنے والا (دیکھئے احبار: باب ۲۰، آیت ۱۷)
  9. زانیہ اور زانی قابل قتل (دیکھئے احبار: باب ۲۰، آیت ۱۰۔ استثناء: باب ۲۲، آیت ۲۲)
  10. جھوٹا نبی قتل کیا جائے (دیکھئے استثناء: باب ۱۳، آیت ۲ ۔ باب ۱۸، آیت ۲۰)
  11. ایک موقع پر پہاڑ چھونے والا قتل کیا جائے (دیکھئے خروج: باب ۱۹، آیت ۱۳)
غور فرمائیے، بائبل کی سزائیں کس القاب کی مستحق ہیں؟ اسلام کے قوانین کو وحشیانہ اور ظالمانہ قرار دینے والے بائبل کی تجویز کردہ سزاؤں کو کس کھاتے میں ڈالیں گے؟ لہٰذا قانونِ خداوندی پر اعتراض سے قبل اس کے اصولوں پر غور کرنے کی ضرورت ہے، جب تک ان اصولوں سے واقفیت نہ ہو گی مذہب کی قدر نہیں ہو سکتی، الحاد و بے دینی، زندقہ اور دیگر عقائد سرایت کرتے جائیں گے، پھر اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ خدائی قانون پر انسانی قوانین غالب آتے جائیں گے جو ہر روز ترمیم و تنسیخ کے محتاج اور نقصان پر مبنی ہوں گے۔ 
الغرض گذشتہ سطور سے یہ بات عیاں ہو گئی کہ ’’شیطانک ورسز‘‘ اور اس کا بدبخت مصنف مسٹر رشدی مذہب اور قانون دونوں کی روشنی میں مجرم ہیں اور مجرم کے ساتھ اس انداز میں پیش آنا (جیسا کہ ہو رہا ہے) مجرم اور جرم دونوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے جس کا انجام بالآخر افسوسناک ہی ہے۔ حکومتِ برطانیہ سے گزارش ہے کہ اہلِ اسلام نے جس بات کا مطالبہ کیا ہے وہ عقلاً و نقلاً صحیح ہے۔ ہم نے پہلے پیار و محبت کے ساتھ اس موضوع کا حل مانگا مگر مسترد کر دیا گیا، احتجاجی جلسے اور مظاہروں سے حکومتِ برطانیہ کو اپنے رنج و غم کا اظہار کیا، اہلِ اسلام نے انفرادی و اجتماعی طور پر خطوط بھیجے لیکن ہر مرتبہ انکار کا جواب ملتا رہا اور یوں اہلِ اسلام کے زخموں پر مزید نمک پاشی کی گئی۔ لیکن ہم بتا دینا چاہتے ہیں کہ یہ موضوع کوئی نیا نہیں۔ ماضی میں بھی ایسے بے شمار واقعات پیش آچکے ہیں اور دنیا نے حق و صداقت کی فتح اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے۔ اہلِ اسلام ہر نازک موڑ پر کامیابی سے ہمکنار ہوئے ہیں، ان شاء اللہ اس مرتبہ بھی خدائی قوت و نصرت ہمارے شاملِ حال ہو گی، حق کا جھنڈا بالآخر اونچا ہو گا۔ ’’جاء الحق وزھق الباطل ان الباطل کان زھوقًا‘‘ اعلانِ خداوندی ہے۔ ہمیں دبانے کی کوشش نہ کی جائے کیونکہ
باطل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہم
سو بار کر چکا ہے تو امتحاں ہمارا

شیطانک ورسز ۔ غیر مسلموں کی نظر میں

رسوائے زمانہ کتاب ’’شیطانک ورسز‘‘ اور اس کے بدبخت مصنف مسٹر سلمان رشدی کے بارے میں پوری دنیا میں عموماً اور عالمِ اسلام میں خصوصاً جو ہیجان پیدا ہوا ہے اس نے پوری دنیا کی سیاست پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ اس سلسلہ میں احقر نے ایک مقالہ ’’شیطانک ورسز ۔ قانون اور مذہب کی نظر میں‘‘ تحریر کر کے یہ ثابت کیا تھا کہ رشدی اور اس کا گستاخانہ ناول واقعتاً مجرم ہے اور اس کی حمایت کرنا مجرم کی حوصلہ افزائی کرنے کے مترادف ہے۔ 
عالمِ اسلام میں مسلمانوں کی طرف سے ردعمل ایک فطری عمل ہے لیکن غیر مسلموں نے بھی اس بات کا اعتراف کر لیا کہ یہ گستاخانہ ناول اس لائق نہیں کہ اس کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ ذیل میں اختصارًا ان اعترافات کا تذکرہ کیا جا رہا ہے جو اردو روزناموں سے ماخوذ ہیں۔ جہاں تک انگریزی اخبارات کا تعلق ہے اس کی فہرست بھی ہمارے پاس موجود ہے اور اس سے کہیں زیادہ ہے، امید ہے کہ عالمی حکومتیں اپنے موقف پر نظرثانی کرتے ہوئے اس کتاب کے ضبط ہونے کا فتوٰی جاری کریں گی۔

مسز تھیچر کا بیان

برطانوی وزیراعظم مسز تھیچر نے سلمان رشدی کے ناول کو توہین آمیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ خود ہمارے مذہب میں لوگ ایسی چیزیں کرتے ہیں جو ہم میں سے کچھ کے لیے سخت توہین آمیز ہیں اور ہم شدت سے ان کا برا مانتے ہیں اور یہی کچھ اسلام کے ساتھ بھی ہوا ہے۔ مسز تھیچر نے کہا کہ ان کی رائے میں یہ عظیم مذاہب اتنے مضبوط اور گہرے ہیں کہ وہ اس قسم کے واقعات کی مزاحمت کر سکتے ہیں۔ (جنگ ۔ ۶ مارچ ۱۹۸۹ء)

وزیرداخلہ کا بیان

برطانوی وزیرداخلہ مسٹر ڈگلس ہرڈ نے کہا کہ شیطانک ورسز میں اہلِ اسلام کی گستاخی کی گئی ہے لیکن یہ ایک آزاد ملک ہے اور میں اہلِ اسلام کے جذبات کو اچھی طرح سمجھتا ہوں لیکن انہیں قانون ہاتھ میں نہیں لینا چاہیے۔

وزیرخارجہ کا بیان

برطانوی وزیرخارجہ سرجیوفری ہاؤ نے کہا کہ مسٹر رشدی کی کتاب شیطانک ورسز انتہائی حد تک ناروا ہے اور انہیں اس بات کا پورا احساس ہے کہ اس کے خلاف مسلمان کیوں اس قدر مظاہرے کر رہے ہیں۔ (ملت ۔ ۲ مارچ)

کیتھولک لیڈر کا بیان

فرانس کے کیتھولک لیڈر البرٹ ڈیکوٹر نے رشدی کے ناول ’’شیطانک ورسز‘‘ اور ’’دی لاسٹ ٹیمپٹیشن آف کرائسٹ‘‘ نامی فلم پر تنقید کرتے ہوئے اسے مذاہب کے پیروکاروں پر ایک حملہ قرار دیا۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ کل عیسائیوں کے خلاف کارروائی کی گئی تھی اور اب شیطانک ورسز کے ذریعے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا گیا ہے۔ (جنگ۔ ۲۳ فروری)

وٹیکن کا بیان

پوپ جان پال کے شہر وٹیکن سٹی کے اخبار نے سلمان رشدی کی کتاب کی شدید مذمت کی ہے اور اس کو غلیظ اور گالیوں پر مبنی کتاب قرار دیا ہے۔ وٹیکن کے اخبار میں کہا گیا کہ یہ کتاب دنیا بھر کے اربوں مسلمانوں کی دلآزاری کا سبب بنی ہے۔ اخبار نے اپنے ادارتی کالموں میں لکھا ہے کہ وٹیکن کو مسلمانوں کے جذبات کا احساس ہے، پوپ اور وٹیکن کے حکام اس کتاب کی مذمت کرتے ہیں اور اسے گالیوں پر مبنی کتاب تصور کرتے ہیں۔ اخبار نے لکھا کہ اس کتاب کا بنیادی مقصد نفرت پھیلانا ہے۔ یہ صرف اسلام کے خلاف ہی نہیں بلکہ خدائے تعالیٰ کے خلاف بھی ہے اور اخلاقیات کے خلاف بھی۔ (ملت ۔ ۶ مارچ)

برٹش لائبریری کا ردعمل

برٹش لائبریری نے رشدی کی کتاب کو فحش قرار دے دیا ہے اور اسے دیگر فحش لٹریچر کے ساتھ الماری میں بند رکھا جا رہا ہے، اسے حاصل کرنے کے لیے خصوصی اجازت لازمی قرار دے دی گئی ہے۔ (ملت ۔ ۶ مارچ)

بشپ آف بریڈفورڈ کا بیان

بریڈفورڈ کے بشپ ریورنڈ کرولمین نے کہا ہے کہ شیطانک ورسز کی وجہ سے شہر میں نسلی صورتحال متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے اس کتاب کو بھونڈا ادب قرار دیا اور کہا کہ وہ اس کتاب سے متاثر نہیں ہوئے اور ان کی خواہش ہے کہ یہ کتاب نہ لکھی گئی ہوتی۔ (ملت ۔ ۲۷ فروری)

بشپ آف ڈڈلی کا بیان

ڈڈلی کے بشپ نے کہا کہ سلمان رشدی کی تحریر کردہ شیطانک ورسز انہوں نے پڑھنی شروع کی تو نہایت بے ہودہ لگی۔ میں اسے ایک تہائی سے زیادہ نہ پڑھ سکا اور لائبریری کو واپس کر دی۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ اس قدر فضول تحریر لکھنے کی ضرورت کیا تھی۔ مجھے بخوبی احساس ہے کہ اس کتاب سے مسلمانوں کے جذبات کو کتنا شدید دھچکا پہنچا ہے۔ میں اس کتاب کی سخت مذمت کرتا ہوں۔ (جنگ ۔ ۳ مارچ)

برطانوی ادیب کا بیان

برطانیہ کے معروف ادیب رونلڈ ڈاہل نے رشدی پر تنقید کرتے ہوئے مسلمانوں کو اشتعال دلانے والا خطرناک موقع پرست قرار دیا۔ اس مصنف نے رشدی کی حمایت کرنے والے تمام برطانوی مصنفوں سے اپنا ناطہ توڑتے ہوئے ٹائمز کو ایک خط تحریر کیا جس میں رشدی پر الزام لگایا کہ اس نے ایک اختلافی کتاب کو بیسٹ سیلر کی لسٹ میں شامل کرانے کے لیے سنسنی خیزی سے کام کیا ہے۔ انہوں نے لندن کے ایک اور اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ رشدی نے ایک قوم کو دوسری قوم ک ےمقابلہ میں لا کھڑا کیا ہے۔ (ملت ۔ یکم مارچ)

مائیکل ڈرکن کا بیان

یونائیٹڈ نیشنز ایسوسی ایشن کے چیئرمین مائیکل ڈرکن نے کہا کہ برطانوی حکومت یہ دلیل دیتی ہے کہ آزادیٔ تحریر کے اصول کے تحت ہم کتاب کے خلاف کچھ نہیں کر سکتے جبکہ آزادی کی بھی کچھ حدود ہوتی ہیں، آزادی کے ساتھ کچھ ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ کسی اور کے مذہب پر کیچڑ اچھالا جائے، اپنی زبان کو بے لگام کر کے دوسروں کو دکھ پہنچایا جائے۔ اس لیے میں اس کتاب پر پابندی کے حق میں ہوں۔ (جنگ ۔ ۳ مارچ)

لیبر پارٹی کے ارکان کا بیان

برطانیہ کی لیبر پارٹی کے تین ممبران نے پارلیمنٹ میں ایک قرارداد پیش کی ہے جس میں رشدی پر زور دیا گیا کہ وہ اپنے ناول کی تیاری کا کام روک دے۔ مسٹر میڈن، فرینک لک اور کیتھ واز نے پارلیمنٹ سے کہا کہ وہ رشدی پر زور دے کہ وہ برطانیہ اور بیرون ملک اپنے پبلشروں کو ہدایت کرے کہ وہ اس ناول کے مزید نئے ایڈیشن کی تیاری کا کام فورًا روک دے۔ (ملت ۔ ۴ مارچ)
لیبر پارٹی کے ایک اور کونسلر جوپلانٹ نے کہا کہ میں نے زندگی میں بے شمار کتابیں پڑھی ہیں لیکن میں آج آپ کے سامنے عہد کرتا ہوں کہ پنگوئن کی شائع کردہ کوئی کتاب نہیں خریدوں گا کیونکہ اس نے دانستہ مسلمانوں کو دکھ پہنچایا ہے۔ اب اگر وہ اس پر پابندی لگا بھی دیں تو یہ اثرات مٹ نہیں سکتے۔ البتہ ناشر کی کتابوں کا بائیکاٹ کرنے سے آئندہ ایسی بے ہودگی کا امکان ختم ہو جائے گا۔ (جنگ ۔ ۳ مارچ)

ہندو کونسل کا ردعمل

ہندوؤں کی کونسل وشوا ہندو پرشاد نے اپنے ایک بیان میں اس کتاب سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو پہنچنے والے نقصان پر مسلم کمیونٹی سے اظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ مصنف اور اس کے پبلشر نے رقوم کمانے کے لیے ایسی کتاب شائع کی ہے جو کسی طور پر آزادیٔ اظہارِ رائے کے زمرے میں نہیں آتی۔ (جنگ ۔ ۳ مارچ)

جارج فیلکس کا بیان

یونائیٹڈ کرسچین آرگنائزیشن کے صدر جارج فیلکس نے رشدی کی دلآزار کتاب کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومتِ برطانیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس کتاب پر فوری طور پر پابندی لگائے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اس کتاب میں نہ صرف مسلمانوں کی دلآزاری کی گئی بلکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے خلاف بھی ناروا الفاظ استعمال کیے گئے جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی مذہب کسی مذہب کی توہین کی اجازت نہیں دیتا۔ اس لیے حکومت کو چاہیئے کہ وہ اس کتاب کے ذریعے ہونے والے مذہب اسلام کی توہین کا نوٹس لے۔ (ملت ۔ ۳ مارچ)

خشونت سنگھ کا ردعمل

بھارت کے معروف صحافی خشونت سنگھ نے بھارت میں شیطانک ورسز کی اشاعت کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال مجھے پنگوئن کمپنی نے یہ مسودہ بھیجا تھا لیکن میں نے اسے پڑھنے کے بعد مسترد کر دیا تھا اور کمپنی کو اس کے نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے انتباہ کر دیا تھا جس پر کمپنی نے دوبارہ اس مسودہ کو پڑھنے اور اپنی رائے دینے کو کہا جس کے بعد میں نے کمپنی پر واضح کر دیا کہ عوام کی طرف سے اس کتاب کے خلاف زبردست احتجاج ہو گا۔ 
خشونت سنگھ، جو بھارت میں پنگوئن کمپنی کے مشیر ہیں، نے کہا کہ میں نے کمپنی کو یہ بھی انتباہ کر دیا تھا کہ اس قابلِ اعتراض کتاب کی اشاعت پر نہ صرف بھارت بلکہ خود برطانیہ کے مسلمان بھی احتجاج کریں گے۔ کتاب میں شامل قابلِ اعتراض مواد کے بارے میں بی بی سی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ مصنف نے پیغمبر اسلام کو مختلف انداز سے پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کے علاوہ قرآن کی بعض سورتوں کو مشکوک انداز میں پیش کیا اور پیغمبر اسلام کی ازواج کا غلط انداز سے ذکر کیا ہے۔ (ملت ۔ ۲۱ فروری ۱۹۸۹ء)

یہودی راہنما کا بیان

برطانیہ کے ربائی اعلیٰ نے روزنامہ ٹائمز میں کہا کہ شیطانک ورسز کے جھگڑے میں رشدی اور ۔۔۔ دونوں آزادی تقریر کے ناجائز استعمال کے مجرم ہیں۔ رشدی نے لاکھوں مسلمانوں کے اعتقاد کی توہین کی ہے ۔۔۔۔ انہوں نے کہا کہ ایسی کسی اشتعال انگیزی کو شائع یا نشر کرنے پر پابندی ہونی چاہیئے۔ (جنگ ۔ ۶ مارچ)

اسرائیلی رابی کا بیان

اسرائیل کے چیف رابی نے کہا کہ یہودی ریاست کو چاہیئے کہ رشدی کی کتاب پر پابندی عائد کرے۔ (جنگ ۔ ۷ مارچ)

امریکی مصنف کی رائے

ایک امریکی مصنف نارمن ملر نے کہا کہ ہم اس پر مسلمانوں سے متفق ہیں کہ یہ کتاب ان کے مذہبی جذبات پر ایک حملہ ہے۔ (جنگ ۔ ۷ مارچ)

عیسائی رہنما کا بیان

ایک عیسائی مذہبی راہنما فادر جون پیری نے کہا کہ اس رسوائے زمانہ کتاب میں صرف پیغمبرِ اسلام ہی کو نہیں بلکہ حضرت عیسٰیؑ، حضرت موسٰیؑ کے جد امجد حضرت ابراہیمؑ کو نہیں بخشا گیا۔ اس لیے اس کتاب کے خلاف احتجاج میں ہم سب شریک ہیں۔ (جنگ ۔ ۸ مارچ)

جمی کارٹر کی مذمت

سابق امریکی صدر جمی کارٹر اور دیگر غیر ملکی راہنماؤں نے شیطانک ورسز کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس کتاب سے اسلام کی زبردست توہین ہوئی ہے، رشدی کا اقدام قابلِ مذمت ہے۔ (ملت ۔ ۱۰ مارچ)

وزیرتعلیم کا بیان

برطانوی وزیر تعلیم کینتھ بیکر نے کہا کہ مسٹر رشدی کی مہمل کتاب کا جواب دانشورانہ انداز میں دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ۔۔۔۔ میں اس معاملے میں جذبات میں آنے والے برطانیہ کے مسلمانوں سے کہوں گا کہ وہ حضرت عیسٰیؑ کے خلاف تیار ہونے والی قابلِ اعتراض فلم کے بارے میں سوچیں، فنی طور پر ایسے واقعات توہین اور کفر کے قانون کے تحت آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رشدی نے صحیح معنوں میں مسلمانوں کے جذبات مجروح کیے ہیں کیونکہ اس میں ایسا کردار پیش کیا گیا جو حضرت محمدؐ سے ملتا جلتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ کتاب مہمل اور پڑھنے میں بہت مشکل ہے لیکن میں ایک لمحہ بھی یہ تصور نہیں کر سکتا کہ اسلام کی دیواریں گر جائیں گی۔ (ملت ۔ ۳۱ جنوری)

مسٹر نیل تھورن کا اعتراف

برطانوی رکن پارلیمنٹ مسٹر نیل تھورن نے کہا کہ سلمان رشدی کی کتاب شیطانک ورسز توہین آمیز مواد پر مبنی ہے۔ انہوں نے مسلم کمیونٹی کو مشورہ دیا کہ سلمان رشدی اور اس کی تحریر کردہ کتاب کے خلاف احتجاج کا مؤثر طریقہ یہ ہے کہ پنگئن کی شائع کردہ تمام کتب کا بائیکاٹ کیا جائے۔ اگر یہ طریقہ مؤثر ہو گیا تو آئندہ رشدی کی قبیل کے مصنفین کی کتاب چھاپنے پر کوئی تیار نہیں ہو گا۔ (جنگ ۔ ۱۰ مارچ)
نیز انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس عرضداشت پر دستخط کریں جو اس غرض سے پارلیمنٹ کو پیش کی جانے والی ہے۔ (جنگ ۔ ۱۲ ستمبر ۱۹۸۹ء)

مسٹر ٹام کس کی مذمت

برطانوی ممبر پارلیمنٹ ٹام کس نے تفصیلی بیان میں کہا کہ اس ملک میں ہر کسی کو اپنی رائے دینے کا حق حاصل ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ جو جی میں آئے کہہ دیا جائے۔ وہ مسلمان گھرانے میں پیدا ہوا ہے، اسے معلوم ہونا چاہیئے تھا کہ تحریر کا مسلمانوں پر کتنا شدید ردعمل ہو گا۔ اس نے برطانیہ میں آزادیٔ تحریر کے حق سے ناجائز فائدہ اٹھایا ہے۔ اگر وہ مشرق وسطٰی کے کسی بھی ملک میں رہتا تو یہ جسارت نہیں کر سکتا تھا۔ (جنگ ۔ ۱۲ ستمبر ۱۹۸۹ء)

بشپ آف چرچ آف انگلینڈ کا بیان

چرچ آف انگلینڈ کے بشپ ریورنڈ جان ٹیلر نے رشدی کی کتاب کے پبلشر سے اپیل کی ہے کہ وہ اس کتاب کی فروخت بند کر کے تمام دکانوں سے واپس لے لیں تاکہ اس طرح اس کتاب سے جو بین الاقوامی سطح پر بے چینی پھیلی ہے وہ ختم ہو سکے۔ انہوں نے پبلشر پر الزام لگایا کہ وہ مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچا کر کتاب کی فروخت سے دولت کما رہا ہے۔ جان ٹیلر، جو ہاؤس آف لارڈ کے رکن بھی ہیں، نے کہا کہ کتاب کی واپسی سے اس نقصان کی تلافی ہونے میں مدد ملے گی جو اس کی وجہ سے ہوا ہے۔ 

امریکی نائب صدر کی مذمت

امریکی نائب صدر دان کوئیل نے نیشنل پریس کلب میں سوال جواب کے دوران کہا کہ سلمان رشدی کی کتاب شیطانک ورسز یقیناً گستاخانہ ہے اور اس کے علاوہ اسے پڑھ کر بدمزگی کا احساس بھی ہوتا ہے۔ (جنگ ۔ ۱۸ مارچ)

بنکاک میں ضبطی کا اعلان

تھائی لینڈ کی پولیس نے بنکاک میں کتب خانوں سے دلآزار کتاب شیطانک ورسز اٹھا کر ضبط کر لی ہے۔ تھائی لینڈ میں اس کتاب کی فروخت پر پابندی ہے۔ (جنگ ۔ ۳۱ اگست ۱۹۸۹ء)

فکرِ اسلامی کی تشکیلِ جدید — تقاضے اور راہِ عمل

مولانا قاری محمد طیبؒ

(اسلامی علوم و افکار کی تشکیلِ جدید اور ہمہ جہت اجتہاد کی ضرورت پر علمی حلقوں میں بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے، اس سلسلہ میں دارالعلوم دیوبند کے سابق مہتمم حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمی رحمہ اللہ تعالیٰ کا بیش قیمت علمی مقالہ پیش کیا جا رہا ہے۔ ادارہ)

۲۶ دسمبر ۱۹۷۸ء کو ذاکر حسین انسٹیٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز جامعہ ملّیہ اسلامیہ دہلی کے ایک غیر معمولی اور عظیم اجلاس میں شرکت ہوئی جس کا موضوع تھا ’’فکرِ اسلامی کی تشکیلِ جدید کا مسئلہ‘‘۔ اس اجلاس میں ملک کے تمام مرکزی اداروں کے نمائندوں اور تقریباً ہر مکتبِ خیال کے فضلاء اور دانشوروں نے شرکت کی۔ اجلاس کی اہمیت صدر جمہوریہ ہند عالی جناب فخر الدین علی احمد کی شرکت سے اور بھی زیادہ بڑھ گئی۔ احقر ناکارہ کو صدر اجلاس منتخب کیا گیا۔ چونکہ صدر مملکت نے صرف ایک گھنٹہ دیا تھا اس لیے اجلاس کی پہلی نشست کی ساری کاروائی ایک ہی گھنٹہ میں پوری کی جانی ضروری تھی۔ ابتداء میں شیخ الجامعہ پروفیسر مسعود حسین صاحب نے مہمانوں کا خیرمقدم کیا اور اس کے بعد محترم ضیاء الحسن صاحب فاروقی پرنسپل جامعہ کالج و ڈائریکٹر ذاکر حسین انسٹیٹیوٹ نے اجلاس کی غرض و غایت پر روشنی ڈالی۔ پندرہ پندرہ منٹ صدر جلسہ و صدر مملکت کی تقریروں کے لیے تھے۔ احقر نے اولاً اپنی تقریر سے جلسہ کا افتتاح کیا لیکن وقت کی قلت کی وجہ سے چونکہ اس اہم موضوع پر کوئی تفصیلی روشنی ڈالنا ممکن نہ تھا اس لیے تقریر میں چند بنیادی اور اساسی نقاط ہی بیان کئے جا سکے۔ البتہ نشست کے اختتام پر جب اس کا ذکر آیا تو ذمہ داران جامعہ نے اسے مناسب خیال فرمایا کہ یہ تفصیلات نقاط مقالہ کے طور پر لکھ کر ارسال کر دی جائیں جس میں باقی ماندہ نقاط بحث بھی شامل ہوں۔ اس لیے یہ مقالہ پیش کیا جا رہا ہے جس میں وہ سب بنیادیں بھی ہیں جو اجلاس میں زبانی بیان کی گئی تھیں اور باقی ماندہ نقاط بھی آ گئے ہیں جو وہاں بیان میں نہ آسکتے تھے، ممکن ہے کہ ترتیب میں فرق ہو لیکن مقاصد سب آ گئے ہیں۔ 
فکرِ اسلامی کی تشکیلِ جدید کا مسئلہ غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ میں اس موضوع کے سلسلہ میں چند بنیادی نقاط پیش کر دوں جنہیں فکرِ جدید کی تعمیر اٹھانے والے حضرات کو پیشِ نظر رکھنا میرے نزدیک ازبس ضروری ہے۔ 

عالمِ بشریت میں فکر و تفکر کی اہمیت

پہلے بطور تمہید کے یہ عرض کر دینا ضروری ہے کہ عالمِ بشریت میں فکر و تفکر ایسی ایک عظیم اصولی بلکہ اصل الاصول قوت ہے کہ انسان کی ساری مصنوعی قوتیں اسی کے نیچے آئی ہوتی ہیں اور سب اسی کی دست نگر ہیں جو بلا فکر ایک قدم بھی کسی میدان میں آگے نہیں بڑھ سکتیں۔ حواس خمسہ ہوں یا عقل و دانش، ذوق و وجدان ہو یا بصیرت و تفقہ، حدس و تجربہ ہو یا جوہر قیافہ، ان سب کا قائد اور محرک فکر ہی ہے۔ پھر یہ فکر نہ صرف یہ کہ انسان کی تمام معنوی قوتوں کا سرچشمہ ہی ہے بلکہ خود انسان کی ایک ایسی امتیازی خصوصیت بھی ہے جس سے اس کی انسانیت پہچانی جاتی ہے کیونکہ یہ قوت انسان کے دوسرے ابنائے جنس کو میسر نہیں، اس لیے اگر فکری قوت کو انسان کی ماہیت کا حقیقی تعرف کہہ دیا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ انسان کی مشہور و معروف تعریف حیوانِ ناطق یا حیوانِ عاقل سے کی جاتی ہے، لیکن غور کیا جائے تو اس سے انسان کا کوئی امتیاز بخش تعارف نہیں ہوتا کہ اسے انسان کی حد تام یا جامع و مانع تعریف سمجھ لیا جائے۔ کیونکہ عقل کا تھوڑا بہت جوہر غیر انسان حتٰی کہ حیوانات میں بھی پایا جاتا ہے۔ ایک کتے کو بھی اگر ایک جگہ ٹکڑا ڈال دیا جائے تو اگلے دن وہ پھر اسی جگہ آ موجود ہو گا، گویا وہ قیاس کرتا ہے کہ جب آج اس جگہ ٹکڑا ملا ہے تو کل کو بھی مل سکتا ہے اور جب مل سکتا ہے تو پھر اسی جگہ پہنچ جانا چاہیئے۔ یہ صغرٰی کبرٰی ملانا آخر عقلی قیاس نہیں ہے تو اور کیا ہے؟ خواہ وہ تعبیری اور لفظی نہ ہو مگر ایک حقیقت تو ہے، نیز عرف عام میں بعض جانوروں کو چالاک اور ہوشیار کہا جاتا ہے جیسے لومڑی۔ اور گدھے بھینس کو عام طور سے احمق اور بلید کہتے ہیں، سعدی شیرازی نے کہا تھا
مسکین خر اگرچہ بے تمیز است
چوں بار ہمے بود عزیز است
اور کسی نے بھینس کے بارے میں بھی کہا ہے کہ 
جاموش بے وقوف و بے ہوش
چوں شیر دبد تو چشم ازد پوش
اگر ان حیوانات میں عقل و شعور کی جنس ہی نہ ہوتی تو یہ نوعی تفاوت کی تقسیم صحیح جو عرف عام میں ضرب المثل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اندرین صورت عاقلیت یا دریافت معقولات علی الاطلاق انسان کی خصوصیت قرار دے کر اس کی حد تام حیوان ناطق کو بتلایا جانا اور اس سے نوع انسانی کا تعارف کرایا جانا کوئی جامع مانع قسم کا تعارف نہیں ہو سکتا۔ البتہ فکر و تدبر کے راستے سے حقائق کا تجزیہ کر کے ان میں امتیاز قائم کرنا، نئے نئے اکتشافات سے جزئیات پیدا کر لینا، اور جزئیات کو جمع کر کے ان سے کلیات بنانا، کلیات سے جزئیات کا نکال لینا اور جزئیات کے عواقب و نتائج کو سمجھنا، نتائج کے معیار سے عواقب اور انجام دنیا و آخرت کو پیش نظر رکھنا، نوعی خیر سگالی اور اس کی منظم تدبیریں اور اصلاح معاشرہ کے لیے سوچ بچار وغیرہ بلاشبہ انسانی نوع ہی کے ساتھ مخصوص ہے اور یہ سب اسی فکر کے کرشمے ہیں۔ اسی لیے انسانی حقیقت کی اگر کوئی جامع مانع تعریف ہو سکتی ہے تو وہ حیوان ناطق نہیں بلکہ حیوان متفکر ہو سکتی ہے کیونکہ فکرمندی، فکر نمائی اور فکری پیمائش اور وہ بھی عمومی اور پوری نوع بشری کے لیے اور نہ صرف اس حیات کے لیے بلکہ حیات ما بعد الممات تک کے لیے صرف انسان ہی کی خصوصیت ہے، جو اس کے دوسرے ابنائے جنس کو میسر نہیں۔ اس لیے حیوان متفکر ہی کو انسان کی حد تام تک کہنا کچھ زیادہ قرین عقل نظر آتا ہے۔ 
پس یہ فکری قوت ہی انسان کی سب سے بڑی فعال قوت اور اس کی ساری معنوی قوتوں میں اولوالامر کی حیثیت رکھتی ہے اور یہی وہ طاقت ہے جس سے وہ کائنات میں متصرف اور ہر عنصری مخلوق سے اونچا سمجھا جاتا ہے۔ پھر یہی نہیں کہ انسان اس قوت کا ایک ظرف ہی ہے جس میں عقل و دانش، ذوق و وجدان اور حدس  تجربہ جیسی قوتوں کی مانند فکر بھی ان ہی جیسی ایک قوت ہے اور دوسری قوتوں کی طرح وہ بھی کسی نہ کسی وقت اپنے محدود مخصوص دائرے میں کام دے جاتی ہے، بلکہ فکر کی طاقت اس کی تمام معنوی طاقتوں پر حکمران متصرف اور ان کی روح ہے جس کے اشاروں پر یہ ساری قوتیں آمادۂ عمل رہتی ہیں۔ اگر کہیں نمائشی کروفر کا بازار گرم ہو اور باجوں، گاجوں اور نعروں کی آوازیں فضا میں گونج رہی ہوں لیکن اگر راہ گیر کسی دوسرے خیال میں مستغرق ہو تو ان میں سے ایک چیز بھی نہ آنکھ کو نظر آئے گی نہ کان کوئی آواز سن پائے گا۔ اور لاعلمی کے اظہار پر جب لوگ حیرت کریں گے تو وہ یہ کہے گا کہ میں فلاں بات کے فکر میں ڈوبا ہوا تھا، مجھے ان مناظر اور آوازوں کی کچھ خبر نہیں۔ اس سے واضح ہے کہ آنکھ کان نہ خود دیکھتے ہیں نہ سنتے ہیں بلکہ قوتِ خیال و فکر ہی دیکھتی سنتی ہے، یہ آنکھ کی بینائی اور کان کی شنوائی فکر کے آلات و وسائل سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔
یہی صورت عقل و دور اندیشی کا بھی ہے کہ آدمی زیرک بھی ہو اور دانائے روزگار بھی سمجھا جاتا ہو لیکن وہ کسی نظریئے کی سوچ میں محو ہو تو دوسرے کتنے ہی عقلی نظریات اس کے سامنے رکھ لیے جائیں نہ وہ انہیں سمجھ سکے گا نہ ان کا شعور ہی پا سکے گا۔ کیونکہ اس کی قوت فکر یہ کسی دوسرے میں مصروف جولانی ہے اور فکر کو فرصت نہیں ہے کہ وہ اس نظریئے پر غور کر سکے۔ اسی طرح روحانی احوال و کیفیات کا ادراک بھی قوتِ فکریہ کے بغیر وجود پذیر نہیں ہو سکتا۔ اگر غیبی میدانوں میں فکر کی قوت متوجہ ہی نہ ہو یا کسی دوسرے روحانی مقام میں محو ہو تو دوسرے غیبی اور وجدانی لطیفے قلب پر بھی منکشف نہیں ہو سکیں گے۔ آخر مراقبات میں قوتِ فکر اور دھیان ہی کا تو استعمال ہوتا ہے، احسان یا تصوف کے معنی ہی یہ ہیں کہ اللہ کو اس طرح حاضر و ناظر تصور کر کے آدمی عبادت میں مصروف ہو گویا وہ اسے دیکھ رہا ہے، سو یہ قوتِ فکر کا استعمال نہیں تو اور کیا ہے؟

انسان کی فکری قوت کی کارپردازی

بہرحال یہ ایک واقعی حقیقت ہے کہ انسان کی معنویت میں حقیقی کارپرداز صرف یہ فکری قوت ہے۔ وہ نہ متوجہ ہو تو قوت باصرہ، سامعہ، شامہ، ذائقہ، لامسہ اور قوت عاملہ سب معطل رہ جاتی ہیں۔ اس لیے جب وہ محسوسات کی طرف متوجہ ہوتی ہے تو حواس خمسہ ہرکاروں کی طرح اس کے حکم پر دوڑتے ہیں۔ جب عقلیات کے طرف منعطف ہوتی ہے تو عقل ایک خادم کی طرح اس کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑی رہتی ہے۔ یہی قوتِ فکر جب غیبیات کی طرف چل نکلتی ہے تو وجدان و ذوق اس کے اشاروں پر کام کرتے ہیں۔ اس لیے قوتِ فکریہ نہ صرف یہ کہ انسان کی خصوصیت ہی ہے جو اس کی ماہیت کا سرنامہ ہے بلکہ اس کی ساری ہی اندرونی قوتوں کی روح اور ان کے حق میں محرک اور قائد بھی ہے۔ قرآن حکیم نے اپنے کلام معجز نظام میں اسی حقیقت کو واشگاف فرمایا ہے۔ چنانچہ جو قومیں ان حسی طاقتوں، آنکھ کی بینائی اور کان کی شنوائی وغیرہ کے ذریعہ معجزات انبیاء کو دیکھتی تھیں اور ان کے پاک کلمات سنتی تھیں مگر رضاء و تسلیم کا نام نہیں لیتی تھیں تو قرآن حکیم نے اس کی وجہ آنکھوں کی نابینائی یا کانوں کی ناشنوائی قرار نہیں دی بلکہ دل کی نابینائی بتلائی ہے جو درحقیقت اس قوتِ فکریہ کی نابینائی ہے۔ ارشاد فرمایا:
فَاِنَّھَا لَا تَعْمَی الْاَبْصَارُ وَلٰکِنْ تَعْمَی الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ۔ (الحج ۴۶)
’’بات یہ ہے کہ ان کی آنکھیں اندھی نہیں بلکہ سینوں میں دل اندھے ہیں جو فکر اور غور سے عاری ہیں۔‘‘
اس سے صاف ظاہر ہے کہ حواس کی روح اور مدارکار فکرِ قلب ہی ہے نہ کہ نظرِ چشم۔ فکر کی آنکھ نہ ہو تو حواس سب کے سب اندھے ہی رہ جاتے ہیں، گو وہ طبعی آمادگی سے دید و شنید کا کام بھی انجام دیئے جائیں۔ اس لیے قرآن حکیم نے منکرین کی ظاہری دیدہ شنید کو مانتے ہوئے بھی اس کی حقیقی کارکردگی کا انکار کیا ہے جبکہ اس کی غرض و غایت ہی اس پر مرتب نہیں ہوتی جو قوت فکر سے متعلق ہے کہ یہی فکری روح ان محسوسات کے پیکروں میں سے ان کی روح نکال کر لاتی ہے۔ ارشاد حق ہے:
وَمِنْھُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُوْنَ اِلَیْکَ اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ وَلَوْکَانُوْا لَا یَعْقِلُوْنَ۔ وَمِنْھُمْ مَّنْ یَّنْظُرُ اِلَیْکَ اَفَاَنْتَ تَھْدِی الْعُمْیَ وَلَوْکَانُوْا لَا یُبْصِرُوْنَ۔ (یونس ۴۲ و ۴۳)
’’اور (آپ ان کے ایمان کی توقع چھوڑ دیجئے کیونکہ) ان میں (گو) بعض ایسے بھی ہیں جو (ظاہر میں) آپ کی طرف کان لگا لگا کر بیٹھے ہیں۔ کیا آپ بہروں کو سنا کر ان کے ماننے کا انتظار کرتے ہیں گو ان کو سمجھ بھی نہ ہو۔ اور اسی طرح ان میں بعض ایسے ہیں کہ (ظاہر آپ کو مع معجزات و کمالات) دیکھ رہے ہیں تو پھر کیا آپ اندھوں کو راستہ دکھلانا چاہتے ہیں گو ان کو بصیرت بھی نہ ہو۔‘‘
اس سے واضح ہے کہ سن کر کسی چیز کو اَن سنی کر دینا اور دیکھ کر اَن دیکھی بنا دینا قوتِ فکر ہی کے تعطل سے ہوتا ہے جس کو قرآن نے عقل و ابصار سے تعلق ہو تو وہ مبصر و مسمّع بلحاظ حقیقت غیر مسموع اور غیر مبصر کے حکم میں ہے۔ پھر اس طرح قرآن حکیم نے ایک دوسری جگہ ان منکروں کے حق میں فرمایا جو پیغمبر علیہ السلام اور ان کے پیغمبرانہ اقوال و افعال کو دیکھتے اور سنتے تھے اور طبعی انداز سے وہ بینا اور شنوا بھی تھے لیکن فکر قلبی نہ ہونے یا نہ برتنے سے ان کے یہ حواس حیوانی حواس سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتے تھے اور ان میں وہ فکری شعور نہ تھا جو حقیقی معنی میں دیکھتا اور سنتا ہے جسے قرآن نے فقہ قلبی سے تعبیر کیا ہے۔ ارشاد حق ہے:
لَھُمْ قُلُوْبُ لَّا یَفْقَھُوْنَ بِھَا وَلَھُمْ اَعْیُنُْ لَّا یُبْصِرُوْنَ بِھَا وَلَھُمْ اٰذَانُْ لَّا یَسْمَعُوْنَ بِھَا اُولٰئِکَ کَالْاَنْعَامِ بَلْ ھُمْ اَضَلُّ اُولٰئِکَ ھُمُ الْغَافِلُوْنَ۔ (الاعراف ۱۷۹)
’’ان کے دل ایسے ہیں کہ جن سے وہ سمجھتے نہیں، ان کی آنکھیں ایسی ہیں کہ جن سے وہ دیکھتے نہیں، ان کے کان ایسے ہیں کہ جن سے وہ سنتے نہیں، ایسے لوگ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ بے راہ ہیں یہی لوگ غافل ہیں۔‘‘
اس سے واضح ہے کہ قلب کا محض طبعی شعور اصل نہیں جو حیوانات میں بھی موجود ہے بلکہ فقہ قلب اصل ہے جس کا دوسرا نام قوتِ فکر ہے، وہ نہ ہو تو حواس کام ہی نہ کریں گے، یا کریں گے تو وہ ناقابل اعتبار ہو گا اور غیر قابل التفات، جس سے نمایاں ہے کہ قلبی نور اصل ہے جس کا نام فکر ہے نہ کہ مطلقًا قلبی شعور جو چوپایوں میں پایا جاتا ہے۔

عقل کی کارگزاری کے قابلِ التفات ہونے کا حقیقی معیار

اسی طرح عقل کے بارے میں بھی قرآن کریم نے یہی فیصلہ دیا ہے کہ اس کی کارگزاری کے قابلِ التفات ہونے کا معیار بھی یہی قوتِ فکر ہے، عقلِ محض نہیں۔ یعنی عقلِ طبعی کے سوچ بچار کے باوجود جبکہ قلب کا فقہی سوچ بچار اس کا منشا نہ ہو جس کا نام فکر ہے تو عقلی شعور بھی بے شعور اور ناقابلِ اعتنا ہو جاتا ہے۔ چنانچہ ایسے قلوب کو جو بے فکرے ہوں قرآن نے انہیں عاقل نہیں کہا غافل کہا ہے، جیسا کہ ارشاد ہے:
وَمِنْ اٰیَاتِہٖ یُرِیْکُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّیُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مآءً فَیُحْیِیْ بِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَاتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ۔ (الروم ۲۴) 
’’اور اسی کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ وہ تم کو بجلی دکھاتا ہے جس سے ڈر بھی ہوتا ہے اور امید بھی ہوتی ہے اور وہی آسمان سے پانی برساتا ہے پھر اسی سے زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد زندہ کر دیتا ہے، ان میں سے ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو عقل رکھتے ہیں۔‘‘
اس آیت کریمہ سے نمایاں ہے کہ برق و بخار اور بارش سے احیاء غبار (زمین) وغیرہ باوجودیکہ آنکھوں سے نظر آنے کی چیزیں ہیں جنہیں سب دیکھتے ہیں حتٰی کہ چرند و پرند بھی، اور ان سے اس دنیوی زندگی کے بارے میں کچھ نہ کچھ خوف و طمع کا اثر بھی لیتے ہیں، لیکن فرمایا یہ گیا ہے کہ ان حوادث میں قدرت کی نشانیاں پنہاں ہیں اور ان ہی کی پہچان کرانا مقصود بھی ہے۔ وہ صرف عقل لڑانے والوں ہی کے لیے ہیں، آنکھ لڑانے والوں کے لیے نہیں، اور عقل لڑانے کا نام ہی فکر کا استعمال ہے جو عقل کو کام پر لگاتا ہے، بے فکری اور بے توجہہی سے عقلی تگ و تاز بھی عبث اور بے نتیجہ رہ جاتی ہے۔ بہرحال حس ہو یا عقل، ذوق ہو یا وجدان، بلافکر کے نابینا اور بے نگاہ سمجھے گئے ہیں، جس سے فکر کا بلند مقام کھل کر سامنے آجاتا ہے۔ 
قرآنِ حکیم کی انسان کو فکر و تدبر کی دعوت اور اس کا انداز
یہی وجہ ہے کہ قرآنِ حکیم نے جگہ جگہ مختلف دائروں میں انسان کو فکر و تدبر کی دعوت دی ہے، کہیں غوروفکر کے لیے انفسی آیات، کہیں شرعی اور علمی آیات سامنے رکھی ہیں اور کہیں وجدانی اور لدنی آیات اور ان میں تدبر اور غوروفکر کا مطالبہ کیا ہے۔ انفسی آیات کی طرف رہنمائی کے لیے فرمایا:
و فی انفسکم افلا تبصرون۔ (الذاریات ۲۱)
’’تمہارے اندر (خود دلائلِ معرفت) موجود ہیں، کیا تم غور نہیں کرو گے؟‘‘
اَوَلَمْ یَنْظُرُوْا فِیْ مَلَکُوْتِ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ۔ (الاعراف ۱۸۵)
’’کیا وہ آسمانوں اور زمین کے حقائق میں نظر (و فکر) نہیں کرتے؟‘‘
سَنُرِیْھِمْ اٰیَاتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَ فِیْ اَنْفُسِھِمْ حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَھُمْ اَنَّہُ الْحَقُّ۔ (فصلت ۵۳)
’’ہم عنقریب ان کو اپنی (قدرت کی) نشانیاں ان کے گرد و نواح میں بھی دکھا دیں گے اور خود ان کی ذات میں بھی یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے گا کہ وہ قرآن حق ہے۔‘‘
کہیں شرعی آیات پیش کیں اور قرآن حکیم کو غور و تدبر کے لیے پیش کیا:
اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ وَلَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللہِ لَوَجَدُوْا فِیْہِ اخْتِلَافًا کَثِیْرًا۔ (النساء ۸۲)
’’کیا پھر قرآن میں غور نہیں کرتے؟ اور اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت اختلاف پاتے۔‘‘
کہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور آپؐ کی حیاتِ طیبہ کی شاخوں اور پاکیزہ سیرت و کردار میں غور کرنے کی طرف توجہ دلائی، تاکہ اس سیرت پاک کو دیکھ کر آپؐ کی دعوت کی صداقت دلوں میں آجائے اور لوگ اسے ماننے کے لیے تیار ہو جائیں، فرمایا:
قُلْ اِنَّمَآ اَعِظُکُمْ بِوَاحِدَۃٍ اَنْ تَقُوْمُوْا لِلہِ مَثْنٰی وَفُرَادٰی ثُمَّ تَتَفَکَّرُوْا مَا بِصَاحِبِکُمْ مِّنْ جِنَّۃٍ اِن ھُوَ اِلَّا نَذِیْرُْ لَّکُمْ بَیْنَ یَدَیْ عَذَابٍ شَدِیْدٍ۔ (سبا ۴۶)
’’آپ فرما دیں اے پیغمبر کہ میں تمہیں ایک ہی بات کی نصیحت کرتا ہوں کہ تم دو دو اور فرادی فرادی اٹھو اور پھر فکر کرو کہ کیا واقعی تمہارے ان ساتھی (پیغمبر) میں کوئی دیوانگی یا جنون ہے؟ وہ تو اس کے سوا کچھ اور نہیں ہیں کہ تمہیں آخرت کے شدید عذاب سے ڈرانے والے ہیں جو تمہارے سامنے آنے والا ہے۔‘‘
اَوَلَمْ یَتَفَکَّرُوْا مَا بِصَاحِبِھِمْ مِّنْ جِنَّۃٍ اِنْ ھُوَ اِلَّا نَذِیْرُْ مُّبِیْنُْ۔ (الاعراف ۱۸۴)
’’کیا یہ فکر سے کام نہیں لیتے اپنے ساتھی (پیغمبر) کے بارے میں کہ کیا ان میں جنون ہے؟ وہ نہیں ہیں مگر ایک کھلے ہوئے ڈرانے والے آخرت کے عذاب سے، کیا یہ کسی مجنوں کا کام ہے؟‘‘
یہی صورت وجدانیات کی بھی ہے کہ حقائق غیبیہ کے اکتشاف میں بھی یہی قلبی فکر کام کرتا ہے جس کو ’’لُب‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ قرآن حکیم نے ارشاد فرمایا کہ:
وَمَنْ یُّؤْتَ الْحِکْمَۃَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا کَثِیْرًا وَمَا یَذَّکَّرُ اِلَّا اُولُوا الْاَلْبَابِ۔ (البقرہ ۲۶۹)
’’جسے حکمت دے دی گئی اسے خیر کثیر عطا کر دی گئی اور نصیحت وہی قبول کرتے ہیں جو گہری عقل والے ہیں۔‘‘

حاصل کلام

حاصل یہ ہے کہ مطلقًا عقل ایک طبعی عزیزہ اور طبعی مادہ ہے، جیسے بینائی اور شنوائی وغیرہ، مگر وہ صورت عقل ہے جو مادہ شعور ہے اور زیادہ سے زیادہ قیاس کے راستے سے کلیات کا ادراک کر لیتا ہے لیکن لُب اور لُباب حقیقت عقل ہے جس سے حقائق کونیہ اور حقائق شرعیہ منکشف ہوتی ہیں اسی کا نام فکر ہے۔ یہ حکمت جسے خیر کثیر کہا گیا ہے محض عقل طبعی سے برآمد نہیں ہوتی بلکہ عقل عرفانی سے منکشف ہوتی ہے جسے لُب کہا گیا ہے۔ 
بہرحال قرآن حکیم نے اس خاص قوتِ فکر کو جس کا تعلق قوانین الٰہی، معرفتِ خداوندی، حقائقِ نبوت اور اس کے ایوان کے انکشاف سے ہے جسے صبغۃ اللہ کہا گیا ہے، اسی کو کہیں فقہ قلبی سے، کہیں لبُب (عرفانی)، کہیں نظر (باطن) سے، کہیں بصیرت سے اور انصباغ من اللہ سے تعبیر کیا گیا ہے جو انسان کی ساری قوتوں، حواس عقل، وجدان عقل اور حدس و تجربے کو کام میں لگاتا ہے اور یہ صرف انسان ہی کے ساتھ مخصوص ہے۔ بہرحال قرآن حکیم نے فکر کو انسان کا بنیادی جوہر قرار دے کر اس کا مصرف انفس و آفاق، تشریع و تکوین اور کمالات ذات و صفات نبوی اور معرفت الٰہی کو بتلایا ہے اور جگہ جگہ اسی کی دعوت دی ہے۔ اور ظاہر ہے کہ فکر و تدبر چشم بینا اور گوش شنوا کا کام نہیں بلکہ قلب متفکر ہی کا کام ہے، اور فکر ہی جب ان اعضاء حواس وغیرہ کا امام بنتا ہے تو وہ اس کی اقتداء میں اپنا اپنا کام انجام دیتے ہیں، اور پھر فکر ان میں سے اصولی، کلی اور علمی مقاصد تک پہنچ کر معرفتِ حق کے مقام تک پہنچ جاتا ہے۔ 

خلاصہ کلام

خلاصہ یہ کہ فکر ہی انسان کی امتیازی صفت ہے۔ فکر ہی انسانی حقیقت کی فصل ممیز ہے۔ فکر ہی سے علم و معرفت کے دروازے کھلتے ہیں۔ فکر ہی انسان کی ظاہری اور باطنی قوتوں کا امام اور سربراہ ہے۔ اگر فکر اسلام میں مطلوب نہ ہوتا تو اجتہاد کا دروازہ کلیۃً مسدود ہو جاتا اور شرائع فرعیہ امت کے سامنے نہ آسکتیں۔ یہ بحث الگ ہے کہ کس درجہ کا اجتہاد باقی ہے اور کس درجہ کا ختم ہو چکا ہے مگر اجتہاد کی جنس بہرحال امت میں قائم رکھی گئی ہے جو برابر قائم رہے گی۔ اس لیے جامعہ ملّیہ اسلامیہ دہلی نے اگر اس بنیادی اصول بلکہ اصل الاصول کی طرف ہندوستان کے علمی حلقوں کی توجہ دلائی اور دنیا کے بدلتے ہوئے حالات میں فکرِ اسلامی کی تشکیلِ جدید کی دعوت دی اور اربابِ علم و فضل کو انسانی اور ربانی حقائق کے اکتشافات کی طرف متوجہ کیا تو نہ صرف یہ کہ اس نے ایک بڑا بنیادی مسئلہ اٹھایا ہے بلکہ خود جامعہ کی تاریخ کو بھی دہرایا ہے کیونکہ جامعہ کی بنیاد حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن صاحب قدس سرہ نے رکھی تھی جس کا نصب العین ہی قدیم و جدید تعلیم کو یکجا کر کے ملّت کی مختلف صلاحیتوں کو ایک مرکز پر جمع کر دینا تھا تاکہ فکرِ واحد کے راستے سے قوم کے ان دو گروہوں میں قدیم و جدید کی دوئی ختم کر کے انہیں افکار و خیالات اور عقائد و مقاصد کی وحدت سے قومِ واحد بنا دیا جائے۔ اس لیے بلاشبہ جامعہ ملّیہ اسلامیہ اس اقدام میں تبریک و تحسین کی مستحق ہے لیکن اس نئی نہضت اور فکرِ اسلامی کی تشکیل نو کے جذبات سامنے آنے پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس فکر کا علمی آغاز کس مرکزی نقطہ سے کیا جائے جس میں یہ تمام مذکورہ انواع جن کے لیے قرآن حکیم نے دعوت دی ہے سمٹ کر اسی مرکزی نقطہ کے نیچے جمع ہو جائیں اور کام بجائے پھیلنے کے سمٹ کر اس بنیادی نقطہ سے شروع ہو۔ 

(۱) فکرِ اسلامی کی تشکیلِ جدید کا مرکزی نقطہ ۔ منہاجِ نبوّت

اس لیے فکرِ اسلامی کی تشکیلِ جدید کے سلسلے میں پہلا قدم جو ہمیں اٹھانا چاہیئے وہ یہ ہے کہ ہمیں اپنے فکر کے لیے سب سے پہلا فکر ایک نشانہ اور ہدف متعین کر لینا چاہیئے جس پر ہم اپنے فکر کی توانائیاں صرف کریں اور شاخ در شاخ مسائل اس نقطے سے جوڑتے چلے جائیں جس سے نہ صرف راستہ ہی سامنے آجائے گا بلکہ تشتت افزا اوہام و خیالات بھی خودبخود اس سے دفع ہوتے چلے جائیں گے اور ہمارا قدم بجائے منفی ہونے کے مثبت انداز سے آگے بڑھتا چلا جائے گا۔ سو ہمارے نزدیک وہ جامع نقطہ ایک ہی ہے جس کا نام ’’منہاجِ نبوّۃ‘‘ ہے۔ جس پر فکر کو مرکز کر دینے کی ضرورت ہے کیونکہ اس منہاج ہی کی شمع ہاتھ میں لے کر یہ قوم آگے بڑھی ہے اور ظلمتوں میں اجالا پھیلتا چلا گیا ہے۔ پس اس منہاج سے آج بھی آگے بڑھ سکتی ہے، اس منہاج نبوۃ کو سامنے رکھ کر ہمارے سامنے وہ مزاج آجائے گا جو اس امت میں نبیٔ امت نے پیدا فرمایا ہے۔ اور یہ واضح ہو جائے گا کہ خود اسلام کی تشکیل کا آغاز کس نوعیت سے ہوا کہ ہم اس کے فکرِ جدید کا آغاز بھی اس نوعیت سے کریں، نیز یہ بھی سامنے آجائے گا کہ اس کے ابتدائی مراحل سے گزر کر اور آخر کار اپنی انتہائی منزل پر پہنچ کر بحیثیت مجموعی اس امت کا مزاج کیسا بنایا اور اسے کس ذوق پر ڈھالا؟

منہاجِِ نبوۃ کا امت کے مزاج اور ذوق کی تعمیر پر اثر

غور کیا جائے تو اس منہاجِ نبوۃ نے اصولی طور پر ہمیں دین کے بارے میں کمال اعتدال اور توسط کا راستہ دکھایا ہے۔ نہ تو اس نے ہمیں رہبانیت کے راستے پر ڈالا ہے کہ ہم عبادت اور دین داری کے نام پر دنیا کو کلیۃً ترک کر کے زاویہ نشیں ہو جائیں، شہری آبادیوں، تمدنی معاملات اور مدنیت کے سارے تقاضوں بلکہ خود اپنے سارے طبعی جذبات و میلانات کو بھی چھوڑ کر پہاڑوں اور غاروں میں جا بیٹھیں کہ نہ گھر ہو نہ در، نہ معاشرہ ہو نہ معیشت، نہ انسانی روابط ہوں نہ قومی تعلقات، نہ موانست باہمی ہو نہ اجتماعیت، کہ یہ نہ اسلام کا مزاج ہے نہ اس کا مطالبہ اور نہ ہی فطرت کا تقاضا۔ اس لیے اسلام نے اس کا نام رہبانیت رکھ کر اس کی برملا نفی کی ہے کہ:
لا رھبانیۃ فی الاسلام۔
’’اسلام میں رہبانیت کے لیے کوئی گنجائش نہیں۔‘‘
اور نہ ہی ہمیں بہیمیت کے راستے پر ڈالا ہے کہ ہم مدنیت کے نام پر عبادت الٰہی اور طاعت نبوی سے بیگانہ ہو کر کلیۃً نظام دنیا سنوارنے، جاہ و جلال کے خزانے بٹورنے میں لگ جائیں اور راحت طلبی اور عیش کوشی میں غرق ہو جائیں اور ہماری زندگی کا نصب العین ہی ہوس دانی، خط اندوزی اور ہوائے نفس کی غلامی کے سوا دوسرا نہ ہو، نہ عقائد رہیں نہ عبادات، نہ فرائض رہیں نہ سنن، نہ واجبات ہوں نہ ان کی لگن، نہ قومی تربیت کا داعیہ رہے نہ صلہ رحمی اور خیر خواہی، اور نہ اولاد و اقارب کا جذبہ، بلکہ دن رات ہوئے نفس کی پیروی، شبانہ روز لہو و لعب، عیش و طرب، آرائش و آسائش اور نمائش و زیبائش، مالی تکاثر اور جاہی تفاخر ہی زندگی کا مشغلہ بن کر رہ جائے۔ سو اسے بھی اسلام نے نمائشی زندگی، متاع اور غفلت یا با الفاظ مختصر بہیمیت کہہ کر اسے امت کے قومی مزاج سے خارج کر دیا ہے، فرمایا:
وَمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ (آل عمران ۱۸۵) یَعْلَمُوْنَ ظَاھِرًا مِّنَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَھُمْ عَنِ الْاٰخِرَۃِ ھُمْ غَافِلُوْنَ (الروم ۷) ذَرْھُمْ یَاْکُلُوْا وَیَتَمَتَّعُوْا وَیُلْھِھِمُ الْاَمَلُ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ (الحجر ۳)
’’اور دنیاوی زندگی تو کچھ بھی نہیں صرف دھوکے کا سودا ہے۔ یہ لوگ صرف دنیاوی زندگی کے ظاہر کو جانتے ہیں اور یہ لوگ آخرت سے بے خبر ہیں۔ اور آپ ان کو ان کے حال پر رہنے دیجئے کہ وہ کھا لیں اور چین اڑا لیں اور خیالی منصوبے ان کو غفلت میں ڈالے رکھیں، ان کو ابھی حقیقت معلوم ہوئی جاتی ہے۔‘‘
بلکہ اس افراط و تفریط سے الگ کر کے دنیا کو ترک کرانے کی بجائے اس کی لگن کو ترک کرایا ہے اور دین کو اصل رکھنے کے ساتھ اس میں غلو اور مبالغے سے روکا ہے۔ یعنی ایک ایسا جامع فکر دیا ہے جس میں دنیا کے شعبوں کو زیر استعمال رکھ کر ان ہی میں سے آخرت پیدا کی ہے، چنانچہ دنیا کو کھیتی بتلایا اور آخرت کو اس کا پھل ’’اَلدُّنْیَا مَزْرَعَۃُ الْاٰٰخِرَۃِ‘‘۔ 
حاصل یہ نکلا کہ اگر پھل ضروری ہے تو کھیتی بھی اتنی ہی ضروری ہے، اس لیے اسلام کے ہر حکم میں جہاں آجر آخرت ہے وہیں حظ دنیا بھی شامل ہے۔ مثلاً اگر مسواک میں ثواب آخرت ہے تو وہیں منہ کی خوشبو بھی پیشِ نظر ہے۔ اگر طیبات رزق میں بہ نیت حسنِ عبادت کی قوت رکھی گئی ہے وہیں زبان و دہن کے ذائقے سے بھی اجتناب نہیں بتلایا گیا ہے۔ اگر لباس میں بہ نیت آخرت اور غیرت حیا اور ستر عورت کا تحفظ اصل ہے تو وہیں حسن دنیوی اور وقار بھی ملحوظ ہے۔ اگر ازار کو ٹخنوں سے نیچا اور زمین سے گھسٹتا ہوا رکھنے کی ممانعت سے کبر و نخوت اور جاہ پسندی کے تخیّل سے بچایا ہے تو وہیں لباس کو آلودگی اور گندگی سے پاک اور صاف رکھنے کی صورت اختیار کی گئی ہے جو دنیاوی مفاد ہے۔ اگر تخت شاہی کا اصل مقصد عدل کے ساتھ تحفظِ ملک، خدمتِ خلق اور قومی تربیت بجوابدہی آخرت اصل ہے تو وہیں اسے دنیوی وقار و عزت اور سیادت و قیادت کے حظوظ سے بھی بھرپور کیا گیا ہے۔ بہرحال آخرت کی سچی طلب کے ساتھ دنیا کا کسب و اکتساب بھی لازمی رکھا گیا ہے۔ صائب نے اس ذوق کو کس خوبی سے ادا کرتے ہوئے کہا ہے:
فکرِ دنیا کن اندیشۂ عقبٰی مگذار
تا بعقبٰی نہ رسی دامن دنیا مگذار
غرض منہاجِ نبوت نے رہبانیت اور بیمیت کے درمیان معتدل مزاج پر اس امت کو ڈھالا ہے جس میں طبعی جذبات بھی پامال نہ ہوں بلکہ ٹھکانے لگ جائیں اور عقلی مقاصد کی تکمیل میں بھی فرق نہ پڑے اور وہ بروئے کار آجائیں۔ اس لیے اس منہاج کے عناصر ترکیبی تہذیبِ نفس، تدبیرِ منزل، سیاستِ مدن، تسخیرِ اقالیم، تعظیمِ امر اللہ، شفقت علی خلق اللہ، نظامِ عبادت اور نظامِ امر بالمعروف و نہی عن المنکر اور اس کے ساتھ فکرِ آخرت اور محاسبہ اخروی کا استحضار قرار پائے اور پوری قوم کو اسی رنگ میں رنگا گیا ہے، تاکہ یہ قوم جامع دین و دنیا بن کر، بجائے اس کے کہ دنیا کی اقوام کی جامد، مقلد اور مقتدی بنے، اسے خوددار بنا کر امامِ اقوام اور داعی حق و صداقت کی حیثیت دی گئی۔ 
جس طرح احمد مختار ہیں نبیوں میں امام
ان کی امت بھی ہے دنیا میں امامِ اقوام

تشکیلِ جدید میں آج کی ضرورت

پس آج جس چیز کی ضرورت ہے وہ صرف یہ ہے کہ اس منہاجِ نبوت کو سمجھ کر فکرِ اسلامی کو ایک نئی ترتیب اور نئے رنگِ استدلال سے آج کی زبان اور اسلوبِ بیان سے مرتب کیا جائے کہ حقیقی معنی میں اسلامی فکر کی یہی تشکیلِ جدید ہو گی، ورنہ اس منہاج اور اس کے متوارث ذوق سے ذرا بھی ہٹ کر تشکیل ہو گئی تو وہ تشکیل نہ ہو گی بلکہ تبدیل ہو جائے گی جو قلب موضوع ہو گا، اس لیے تشکیلِ جدید کا خلاصہ دو لفظوں میں یہ ہے کہ مسائل ہمارے جدید ہوں اور دلائل قدیم تاکہ یہ تشکیل قائم کر کے ہم خلافتِ الٰہی اور نیابتِ نبوی کا حق ادا کر سکیں۔ 
فکرِ اسلامی کی تشکیلِ جدید کا یہ پہلا قدم ہے یا مرکزی نقطہ ہے جس سے ہمیں کام کا آغاز کرنا ہے اور اسی نقطہ پر اپنی تمام توانائیاں صرف کرنی ہیں۔

(۲) فکرِ اسلامی کی تشکیلِ جدید میں اصول اور قواعد کلیہ اور ضوابط کی پابندی کی اہمیت

اس تشکیلِ جدید کے سلسلے میں دوسرا قدم وہ اصول اور قواعد کلیہ اور ضوابط ہیں جن کے نیچے منہاجِ نبوۃ کے تمام عقائد و احکام اور اخلاق و عبادات اور معاملات و اجتماعیات وغیرہ آئے ہیں تاکہ ہماری تشکیلِ جدید کا سرچشمہ وہی اصول ہوں جن سے مسائل کی تشکیلِ قدیم عمل میں آئی تھی اور اس طرح قدیم و جدید تشکیل میں کوئی تفاوت یا بُعد اور بیگانگی رونما نہ ہو گی۔ ورنہ ظاہر ہے کہ اصول کلیہ سے ہٹ کر یا انہیں بدل کر یہ تشکیل اسلامی فکر کی تشکیل نہ بن سکے گی۔
اگر ایک شخص سائنس کے فکر کو مرتب یا حل کرنے کے لیے فنِ طب کے اصول سے کام لینے لگے جن کا سائنس کے اصول مسلّمہ اور علومِ متعارفہ سے کوئی تعلق نہ ہو، یا منطق و فلسفہ کی فکر کی تشکیل کے لیے صرف و نحو کے اصول سے کام لینے لگے تو وہ کبھی اس تشکیل میں کامیاب نہ ہو سکے گا۔ اس لیے سب سے پہلے اسلامی فکر کی تدوین و ترتیب میں اسلامی فکر کے اساسی اصول ہی کو سامنے رکھنا پڑے گا تاکہ ہماری تشکیل سے وہ ذوق فوت نہ ہونے پائے جو اِن اساسی اصول میں پیوست کیا گیا ہے اور انہی سے شریعت کے قواعد و مقاصد تک پہنچا ہوا ہے۔ یہ اصول و قواعد ہی درحقیقت منہاجِ نبوۃ کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہیں جس کا اثر پورے قانونِ شریعت میں پھیلا ہوا ہے۔ اگر تشکیلِ جدید میں یہ قواعد و ضوابط نہ رہیں تو وہ اسلامی فکر کی تشکیل نہ ہو گی صرف دماغی فکر کی تشکیل بن جائے گی۔

اصول و ضوابط کے ساتھ جزئیات کے تعیّن کا مسئلہ

البتہ ان قواعد کلیہ میں جو ضوابط عبادات اور عقائد کے بارے میں ہیں ان کی عملی جزئیات بھی شریعت نے خود متعین کر دی ہیں، اس لیے ان میں تغیر و تبدل یا کسی جدید تشکیل کا سوال پیدا نہیں ہو سکتا۔ البتہ معاملاتی، معاشرتی اور سیاسی و اجتماعی امور میں چونکہ زمانے کے تغیرات سے نقشے ادلتے بدلتے رہتے ہیں، اس لیے شریعت نے ان کے بارے میں کلیات زیادہ بیان کی ہیں اور ان کی جزئیات کی تشخیص کو وقت کے تقاضوں پر چھوڑ دیا ہے جن میں اصول و قواعد کے تحت توسعات ہوتے رہے ہیں اور ہوتے رہیں گے۔ البتہ ایسے تغیرات کو چونکہ قواعد کلیہ کے تحت رکھا گیا ہے اس لیے ان میں بہرحال فنی استخراج کی ضرورت پڑے گی جسے مبصر علماء کی بصیرت ہی حل کر سکے گی جیسا کہ قرونِ ماضیہ میں کرتی رہی ہے۔ بس ایک مجتہد کو اجتہاد کی تو اجازت ہے، ایجاد کی نہیں ہے کہ وہ اتباع کے دائرے سے باہر نہ نکل سکے۔ خواہ یہ اتباع جزئیات کا ہو جبکہ وہ منصوص ہوں یا قواعد کلیہ کا ہو جبکہ وہ اجتہادی ہوں۔ جزئیات میں درحقیقت اتباع ان اصولِ اجتہاد ہی کا ہوتا ہے جس کے ذریعے یہ جزئیات باہر آتی ہیں اس لیے اس تشکیلِ جدید کے موقع پر یہ کلیات و جزئیات سامنے رکھنی ناگزیر ہوں گی اور انہی کے دائرے میں رہ کر یہ جدید تشکیل و ترتیب عمل میں آ سکے گی۔ نیز اگر اس تشکیل کا مقصد قومی تربیت ہے کہ افراد اس منہاج پر ڈھالے جائیں تو یہ ایک کھلی ہوئی بات ہے کہ تربیت اصول اور کلیات سے نہیں ہو سکتی جیسے علاج اصولِ طب اور معرفتِ خواص ادویہ سے نہیں ہو سکتا جب تک کہ مزاج کے جزوی احوال کو پہچان کر جزوی طور پر نسخہ نہ تجویز کیا جائے۔ یہی صورت شرعیات کی بھی ہے کہ اگر قومی معالجہ اور قومی اصلاح پیش نظر ہو تو وہ محض اصولِ کلیہ سے نہیں ہو سکتی بلکہ جزئیاتِ عمل ہی سے ممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جن اصولوں کا عمل سے کوئی تعلق نہ ہو، وہ محض ذہن کی زینت ہوں، عملی زندگی سے انہیں کوئی تعلق نہ ہو، اور کوئی عملی پروگرام بھی ان کے پیچھے نہ ہو تو شریعت نے یہ پسند نہیں کیا کہ ان میں زیادہ غوروخوض کیا جائے۔ مثلاً چاند کے گھٹنے بڑھنے کے بارے میں لوگوں نے سوال کیا تو قرآن نے اسلوبِ حکیم پر جواب دیا کہ اس کے منافع سے فائدہ اٹھاؤ، ان کے حقائق کے پیچھے مت پڑو۔ 
یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْاَھِلَّۃِ قُلْ ھِیَ مَوَاقِیْتُ لِلنَّاسِ وَالْحَج۔ (البقرہ ۱۸۹)
’’آپ سے چاندوں کے حالات کی تحقیقات کرتے ہیں، آپ فرما دیجیئے کہ وہ آلۂ شناختِ اوقات ہیں لوگوں کے لیے اور حج کے لیے۔‘‘
روح کے بارے میں سوال کیا تو فرما دیا کہ تمہارا علم اتنا نہیں ہے کہ ان حقائق کو پہچان سکو، تو کیوں اس ناقابلِ تحمل بات کے پیچھے پڑتے ہو۔ یہ حقائق یا خود ہی عملی ریاضت سے منکشف ہو جائیں گی یا اگر نہ ہوں تو قیامت میں تم سے ان کا کوئی سوال نہ ہو گا کہ نجات ان پر موقوف نہیں تھی۔ 
قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ وَمَآ اُوْتِیْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیْلًا۔ (الاسراء ۸۵)
’’آپ فرما دیجیئے کہ روح میرے رب کے حکم سے بنی ہے اور تم کو بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے۔‘‘
یا اس طرح قیامت کے وقت کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرما دیا گیا کہ تمہیں اس سے کیا تعلق؟ تمہاری ترقی اور سعادت اس کے مقررہ وقت کے علم پر موقوف نہیں، صرف اس کے آنے کے یقین اور عقیدے پر موقوف ہے اور اس میں یہ جزوی تفصیلات شامل نہیں۔ 
یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ السَّاعَۃِ اَیَّانَ مُرْسٰھَا فِیْمَ اَنْتَ مِنْ ذِکْرٰھَا اِلٰی رَبِّکَ مُنْتَھَاھَا۔ (النازعات ۴۲۔۴۴)
’’یہ لوگ آپ سے قیامت کے متعلق پوچھتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہو گا، سو اس کے بیان کرنے سے آپ کا کیا تعلق؟ اس کے علمِ تعیین کا مدار صرف آپ کے رب کی طرف ہے۔‘‘
بہرحال قرآنی رہنمائی سے علم وہی مطلوب ۔۔۔ اور قابل تحصیل ہے جس سے عملی زندگی میں کوئی سدھار پیدا ہو اور سعادۃ دارین حاصل ہوتی ہو۔ حاصل یہ ہے کہ عملی زندگی محض اصول سے نہیں بنتی بلکہ جزئیاتِ عمل ہی سے بنتی ہے جس کی بروقت تمرین اور ٹریننگ دی جائے۔ اسی لیے کسی مربّی نفس ربانی کی ضرورت ہے۔ ربانی کی تفسیر ابن عباسؓ نے اَلَّذِیْ یُرَبِّی النَّاسَ لِصِغَارِ الْعِلْمِ ثُمَّ بِکِبَارِھَا سے کی ہے۔ یعنی ربانی وہ ہے جو ابتداءً چھوٹی چھوٹی جزئیات سے لوگوں کی تربیت کرے، اس لیے قرآن کریم نے تذکیر و مواعظ اور امر بالمعروف کے نظام کو اجتماعی طور پر مستحکم کیا اور اسے تمکین فی الارض (حکومت و سلطنت) کی بنیادی غرض و غایت ٹھہرایا۔ 
خلاصہ یہ ہے کہ جس منہاج پر ہم اپنی فکر کی توانائی صرف کریں وہ جہاں اصولی ہو وہیں وہ جزئیاتِ عمل سے بھی بھرپور ہو تاکہ علم اور عمل دونوں جمع ہو سکیں کہ اس کے بغیر ہمارا فکر اور اس کی تشکیل پایۂ تکمیل کو نہیں پہنچ سکتی۔ 

حاصل مطلب

حاصل یہی ہوا کہ فکرِ اسلامی کی ترتیب کے وقت جیسے اسلامی بنیادوں کو سامنے رکھنا ضروری ہے ایسے ہی فقہ اور فقہی جزئیات کا سامنے رکھنا بھی ضروری ہے۔ البتہ مناسب اور آج کے دور کی نفسیات کو سامنے رکھ کر ان جزئیات میں ترجیح و انتخاب جدا بات ہے، وہ اہلِ علم کا کام ہے۔ مگر یہ بھی ظاہر ہے کہ اصول کا تعارف اور ان کی جامعیت، وسعت، نیز ان کے اندرونی مضمرات کی وضاحت ان کی جزئیات کے بغیر ممکن نہیں۔ نظری اصول کتنے بھی معقول اور دلپذیر ہوں لیکن جب تک ان کی عملی مثالیں سامنے نہ ہوں ان کا حقیقی مفہوم واشگاف نہیں ہو سکتا۔ ان جزئیاتِ عمل ہی سے اسلام کی مجموعی اور صحیح صورت و شکل سامنے آ سکتی ہے اس لیے فکرِ اسلامی کی تشکیلِ جدید میں جہاں ایک طرف مجموعہ دین کے اساسی اصول اور ان کے نیچے ہر ہر باب کے قواعد کلیہ یا ضوابط تفقہ ناگزیر ہیں وہیں دوسری طرف ان کے نیچے کی عملی جزئیات کا سامنے ہونا بھی لازمی ہے، ورنہ اصول کی وسعت و جامعیت کا کوئی اندازہ ہی نہیں ہو سکتا۔ 

فقہاءِ متقدمین کے استخراجِ جزئیات کی افادیت

اس سے ان حوادث و واقعات پر بھی روشنی پڑ سکتی ہے جو ان جزئیات کے استخراج کا باعث بنے جبکہ فقہاءِ امت نے قواعد شرعیہ سامنے رکھ کر ان کے بعید سے بعید محتملات کے احکام بھی ان قواعد سے نکالے۔ ظاہر ہے کہ ہر دور کے حوادث میں نوعی طور پر یکسانی ہوتی ہے، گو حادثوں کی شکلیں حسبِ زبان و مکان کچھ جدا جدا بھی ہوں۔ اس لیے وہی جزئیات آج کے حوادث میں بھی بیکار ثابت نہیں ہو سکتیں، اور کچھ نہیں تو آج کی جزئیات کو کم از کم ان پر قیاس تو ضرور ہی کیا جا سکتا ہے، بلکہ بہت ممکن ہے کہ فقہیات میں ایسی جزئیات بکثرت مل جائیں جو آج کے دور میں سابق دور کی طرح کارآمد ثابت ہوں اور حالات کا پورا مقابلہ کر سکیں۔ ضرورت اگر ہو گی تو باب دار تلاش و جستجو کی ہو گی۔ بلکہ یہ جزئیات چونکہ فقیہانہ ذہنوں سے نکلی ہوئی ہیں اس لیے یہ نسبت ہماری استخراج کردہ جزئیات کے منہاجِ نبوۃ سے زیادہ قریب ہوں گی۔ اس لیے بجائے اس کے کہ ہم ازسرِنو قواعد کلیہ سے جزئیات کا استنباط کرنے کی مشقت میں پڑیں، یہ زیادہ سہل ہو گا کہ استخراج شدہ جزئیات کی تلاش اور ترتیب میں وہ محنت و مشقت استعمال کریں۔ پھر بھی اگر مفتی کو نئے استخراج ہی کی ضرورت داعی ہو تو یہ جزئیات سابقہ ہی اس کا راستہ بہتر طریق پر ہموار کر سکیں گی، بلکہ عین ممکن ہے کہ جب یہ فقہی جزئیات کا ذخیرہ اصول سے جڑا ہوا سامنے آئے تو شاید ہمیں کسی نئے جزیہ کے استخراج کی ضرورت ہی نہ پیش آئے کیونکہ معلوم ہو چکا ہے کہ فقہاء امت نے اصولِ تفقہ اور قواعدِ شرعیہ کی روشنی میں بعید سے بعید محتملات تک کے احکام مستنبط کر کے جمع کر دیے ہیں جس کے مجموعہ سے ایک مستقل فن بنام فقہ تیار ہو گیا، جس میں ہر شعبہ زندگی کی بے شمار جزئیات موجود ہیں۔
اس لیے فکرِ جدید کی تشکیل میں قواعد کلیہ کے ساتھ ان جزئیات کو سامنے رکھنا ازبس ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سلف صالحین نے کسی ایک چھوٹے سے چھوٹے جزئیہ کو بھی کسی مرعوبیت یا اقوام کے طعن و استہزاء کی وجہ سے کبھی ترک کرنا گوارہ نہیں کیا۔ حضرت سلمان فارسیؓ ایک بار بغداد (عراق) میں کھانا تناول فرما رہے تھے، ایک فارسی غلام کھانا کھا رہا تھا کہ ان کے ہاتھ سے لقمہ چھوٹ کر زمین پر گر گیا، حضرت سلمان فارسیؓ نے اسے فورًا اٹھا کر اس کی گرد جھاڑی، صاف کیا اور تناول فرما لیا۔ غلام نے عرض کیا کہ یہ ملک متمدنوں، دولتمندوں اور سیرچشموں کا ہے، وہ اس حرکت کو بڑی حقارت کی نظر سے دیکھیں گے۔ فرمایا:
اَاَتْرُکُ سُنَّۃَ حَبِیْبِیْ لِھٰؤُلَاءِ الْحُمَقَاءِ؟
’’کیا میں اپنے حبیب پاک کی سنت ان احمقوں کی وجہ سے ترک کر دوں؟‘‘
غور کیا جائے کہ ایک طرف تو دین کے ایک ایک جزئیہ کی پابندی اور دوسری طرف ملکوں کی فتوحات، خلافت کی توسیع اور تسخیر اقالیم اور اس کے ساتھ متکبروں کا تمسخر و طعن، لیکن جو نشہ ان پاک ارواح میں فیضانِ نبوت سے پیوست تھا وہ اس قسم کے عوارض سے کبھی ٹس سے مس نہ ہوتا تھا۔ آخر صحابہؓ سے زیادہ کون سننِ دین کی جزوی جزوی پابندی میں پیش قدم تھا، مگر ان سے زیادہ پھر کون اسلامی فتوحات میں تیز قدم تھا جس سے ایک طرف تو یہ واضح ہے کہ وقتی احوال و حوادث کے پیش نظر توسع اور ہمہ گیری کے معنی ذہنی ڈھیلے پن کے نہیں کہ قوموں کی رضاجوئی یا مجبوری یا آج کل کی اصطلاحی رواداری کے تحت اسلامی جزئیات میں مداہنت کی جا سکے، بلکہ یہ معنی ہیں کہ اسلام نے اصول اس درجہ وسیع اور لچک دار رکھے ہیں کہ حوادث ان سے باہر نہیں جا سکتے۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ دین اپنے خاص مزاج اور اساسی پالیسی کے تحت نہ حوادث میں کبھی تہی دامن ثابت ہوا اور نہ اس نے کہیں اپنے اندر خلا محسوس کر کے سپر ڈالی۔ دوسری یہ بات بھی اس واقعے سے اور اس جیسے ہزاروں واقعات سے نمایاں ہے کہ اسلام روکھی اور سطحی قسم کا کوئی رسمی قانون نہیں بلکہ دین ہے جس کی اساس کا بنیادی عنصر عشق و محبت ہے جو ذاتِ حق، ذاتِ نبویؐ اور ذاتِ صحابہؓ سے وابستہ ہے۔ اس لیے ایک سچا عاشق اپنے محبوب کی کسی ادا کو ایک آن کے لیے بھی نظرانداز نہیں کر سکتا جیسا کہ حضرت سلمان فارسیؓ نے یہاں حبیبی کا لفظ استعمال فرما کر اس محبت کی طرف اشارہ فرما دیا ہے۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ اگر کسی جزئیہ کے ترک کرنے میں کوئی قانونی گنجائش بھی نکلتی ہو تو قانونِ عشق میں ایسی گنجائش کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ اس لیے اسلامی مزاج میں یہ عشقی کیفیات بھی اسی طرح گھلی ہوئی ہیں جیسے پانی میں شکر گھل جاتی ہے جو ایک راسخ العقیدہ مسلم کو ہر ہر جزئیہ کا پابند کیے رہتی ہے اور اس سے ایک انچ بھی نہیں ٹل سکتا۔ اس لیے تشکیلِ نو کے وقت اسلام کی اس خصوصیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

(۳) اسلام میں آزادیٔ ضمیر اور حریتِ رائے کی حدود

 لیکن اس انتہائی پابندی اور قید و بند کے ساتھ ہی آزادیٔ ضمیر اور حریتِ رائے بھی پوری فراخدلی کے ساتھ اسلام نے قوم کو بخشی ہے کہ ایک عامی سے عامی آدمی بھی اس قانونِ حق کے معیار سے مسلمانوں کے بڑے بڑے سربراہ پر روک ٹوک عائد کر سکتا ہے اور اسے عوام کی تنقید کو ماننے سے چارہ کار نہیں ہوتا۔ اس کے لیے سب سے بڑی نظیر نماز کی جماعت ہے جس کا نام امامتِ صغرٰی ہے جو کلیۃً امامت کبرٰی یعنی امامت و خلافت پر منطبق ہے۔ وہاں اگر امام اور امیر ہے تو یہاں بھی امام ہے، وہاں اگر جہاد میں ہر نقل و حرکت پر نعرۂ تکبیر ہے تو یہاں بھی ہے، وہاں اگر امام کے حق میں سمع و طاعت فرض ہے تو یہاں بھی ہے، وہاں اگر میمنہ اور میسرہ ہے تو یہاں بھی ہے، وہاں اگر صفوف میں شگاف آجانا ناکامی کی علامت ہے تو یہاں بھی ہے وغیرہ وغیرہ۔ اس لیے امامتِ صغرٰی (جماعت صلوٰۃ) کے جو طور طریق رکھے گئے ہیں وہی نوعی طور پر امامتِ کبرٰی اور اسٹیٹ میں بھی ہیں۔ اس صورتحال کے تحت دیکھا جائے تو نماز کا مقتدی اس سے ذرا بھی منحرف ہو تو اس کی نماز ہی صحیح نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ اس مسجد کی امارت اور اسٹیٹ میں مقتدیوں پر فرض ہے کہ جب امام نیت باندھے تو مقتدی بھی ساتھ ساتھ نیت کر کے ہاتھ باندھیں، وہ قیام میں ہو تو یہ بھی قیام کریں، وہ رکوع کرے تو یہ بھی رکوع کریں، وہ سجدہ میں جائے تو یہ بھی سربسجود ہو جائیں، وہ ولاالضالین کہے تو یہ آمین کہیں، حتٰی کہ اگر امام سے سہوًا کوئی جزوی غلطی بھی ہو جائے اور وہ سجدہ سہو کرے تو مقتدی بھی اس کی اس فکری خطا میں ساتھ دیں اور سجدۂ سہو کریں۔ 
لیکن حریت و آزادی یہ ہے کہ اگر امام قراءت یا افعال صلوٰۃ میں کوئی ادنٰی سی بھی غلطی کر جائے تو ہر مقتدی کو نہ صرف ٹوک دینے کا حق ہے بلکہ مقتدی اس وقت تک امام کو چلنے نہیں دے سکتے جب تک وہ اپنی غلطی کی اصلاح نہ کرے یا قراءت صحیح نہ کرے یا کسی رکن میں غلطی ہو جائے اور اسے درست نہ کرے۔ چنانچہ امام کی غلطی پر ہر ایک مقتدی پیچھے سے تکبیر و تسبیح کی آوازوں سے اس طرح متنبہ کرتا ہے اور کرنے کا حق رکھتا ہے کہ امام غلطی کی اصلاح پر مجبور ہو جائے۔ بعینہٖ یہی صورت امامِ کبرٰی یعنی اسٹیٹ اور ریاست کی بھی ہے کہ امیر المومنین کی سمع و طاعت تو ہر ہر معاملے میں واجب ہے ورنہ تعزیر و سزا کا مستحق ہو گا لیکن ساتھ ہی خود امیر کی کسی خطا و لغزش پر ایک عامی سے عامی آدمی بھی برملا روک ٹوک کرنے کا حق رکھتا ہے جب تک کہ امیر اس فعل کی اصلاح نہ کرے یا اس کا کوئی عذر سامنے نہ رکھے۔ 
فاروقِ اعظمؓ پر ایک اعرابی نے اس وقت اعتراض کیا جب کہ وہ بحیثیت امیر المومنین منبر پر کھڑے ہو کر خطبے میں اعلان فرما رہے تھے کہ ’’لوگو! امیر کی بات سنو اور اطاعت کرو‘‘۔ اعرابی نے کہا کہ ہم نہ بات سنیں گے نہ اطاعت کریں گے۔ فرمایا کیوں؟ کہا مالِ غنیمت میں آپ کا حصہ عام لوگوں کی طرح صرف ایک چادر تھی حالانکہ آپ کے بدن پر اس وقت دو چادریں پڑی ہوئی ہیں۔ فرمایا اس کا جواب میرا بیٹا (عبد اللہ بن عمرؓ) دے گا۔ صاحبزادہ نے فرمایا کہ امیر المومنین کا قد لانبا تھا، ایک چادر کافی نہ تھی اس لیے میں نے اپنی چادر پیش کر دی، وہی ان کے بدن پر ہے جو انہوں نے آج استعمال کی ہے۔ تب اعرابی نے کہا کہ اب ہم بات سنیں گے بھی اور اطاعت بھی کریں گے۔ 
بہرحال منہاجِ نبوۃ کی مزاج کی رو سے عمل میں تو یہ تقید اور پابندی ہے کہ اس کے کسی کلی جزئیہ میں ڈھیلا پن گوارا نہیں کیا گیا حتٰی کہ ایک عامی آدمی کو بھی امیر المومنین تک پر کسی محسوس قسم کی فروگزاشت کے بارے میں اعتراض کا حق دیا گیا، لیکن حریتِ رائے اور اصول کے تحت آزادی بھی انتہائی ہے جو حقیقی قسم کی جمہوریت کی پردہ دار ہے، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اصول و قوانین کی یہ پابندی اور ان میں زندگی کو مقید کر دینا کوئی قید و بند نہیں جو ذہنوں پر شاق ہو جب کہ ان ہی اصولوں کی پابندی سے اسلام قوم عالمگیر بنی۔ 

اسلام اور اسلامی اصول کی عالمگیری پر واقعاتی حقیقت کے شواہد

آخر جب ہم اسلام کے حق میں ایک عالمگیر دین کے مدعی ہیں تو اس ہمہ گیر کے معنٰی ان کے انہی اصولوں کی ہمہ گیری کے تو ہیں، اگر وہ تنگ اور جامد ہوتے تو اسلام عالمگیر تو کیا عرب گیر بھی نہ ہو سکتا۔ لیکن جب انہی اصول پر صدیوں ہمہ گیر حکومتیں بھی چلیں اور انہی اصول سے تربیت پا کر قوم میں عظیم شخصیتیں بھی ابھریں جنہوں نے مشرق و مغرب کو روشنی دکھائی اور ظلمتوں کی تنگنائیوں میں پھنسی ہوئی قوموں، نسلوں اور وطنوں کو ان کی مصنوعی حد بندیوں سے نکال کر انسانیت کے وسیع میدانوں میں پہنچایا تو کیا یہ اصول کی تنگیوں سے ممکن تھا؟ اس لیے فطری اصول اور فطرت کی پابندی کو قید و بند اور تنگی سمجھنا ذہنوں کی تنگی کی علامت ہو سکتا ہے، فطرت کی تنگی نہیں کہلایا جا سکتا۔ بالخصوص جب کہ ان اصولوں کی وسعتوں میں ایسی گنجائش بھی رکھی گئی ہے کہ ان سے ہر دور کے مفکر اور اہلِ علم و فضل نے استخراجِ مسائل کی حد تک بھی کام لیا ہے اور آج بھی لے سکتے ہیں، جن میں ہر دور کے حوادث کے لیے ہدایت کا سامان موجود ہے۔ 
اس لیے تمدن و معاشرت کی مشخص عملی جزئیات اور سننِ زائدہ پر اس قانونِ فطرت نے زیادہ زور نہیں دیا بلکہ اس کو وقت اور زمانے کے حوالے کر دیا ہے، ہر زمانے میں جو نئی نئی صورتیں بدلتی رہتی ہیں انہیں اہلِ علم ان کے اصول سے وابستہ کر کے ان کے احکام نکال سکتے ہیں جیسا کہ مفکران اِن اباب فتوٰی کا اسوہ اس بارے میں سامنے ہے، بالخصوص مسائل کے طرزِ استدلال کے بارے میں تو خاص طور پر ہر قرن جدید کے رنگ پیدا ہوتے رہے ہیں۔ ایک دور میں نظری فلسفہ نے رنگ جمایا اور دین کے بارے میں محض نقل و روایت لوگوں کے لیے تسلی بخش نہ رہی جب تک وہ عقلی چولے میں نہ آئے، تو رازیؒ و غزالیؒ جیسے حکمائے ملت نے دین کو فلسفیانہ انداز میں پیش کر کے لوگوں پر حجۃ تمام کی۔ ایک دور میں تصوف اور حقائق پسندی کا غلبہ ہوا تو ابن عربیؒ وغیرہ نے صوفیانہ اور عارفانہ انداز سے اسلام کو نمایاں کیا۔ ایک دور میں معاشی فلسفہ کا زور ہوا تو شاہ ولی اللہؒ جیسے حکیم امت نے نظری و معاشی رنگ کے فلسفیانہ دلائل سے اسلام کو سمجھایا اور وقت کے مسائل حل کیے۔ ایک دور سائنسی اور مشاہداتی فلسفے کا آیا تو بانی دارالعلوم (دیوبند) حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ جیسے محقق اور عارف باللہ نے اسلامی عقائد و اصول کو شواہداتی رنگ میں حسی شواہد و نظائر پیش کر کے اتمامِ حجت فرما دیا۔ جس سے ایک طرف اسلام کی ہمہ گیری اور جامعیت واضح ہوئی تو دوسری طرف اس کا توسع کھلا اور اس کے رنگِ استدلال کی یہ لچک بھی واضح ہوئی کہ اس کے حقائق پر ہمہ نوع دلائل کا لباس سج جاتا ہے اور حقیقت بدستور حقیقت رہتی ہے۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ خود اس میں یہ سارے الوان اور سارے نہج موجود ہیں جس سے ہر رنگ کا لباس زیب زدہ ثابت ہو جاتا ہے جو درحقیقت خود اس کا رنگ ہوتا ہے، البتہ حالات اور وقت کے تقاضے صرف اجاگر کر دیتے ہیں۔ 

دورِ جدید کی عملی و نظریاتی خصوصیات اور اسلامی قوت و شوکت

آج کا دور سیاسی اور معاشی اور مختلف نظریات کی سیاستیوں اور معاشی فلسفوں کے غلبہ کا ہے۔ مذہب بن رہے ہیں تو سیاسی معاشی پارٹیاں بن رہی ہیں تو سیاسی مسائل پیدا ہو رہے ہیں تو ۔۔۔۔۔ ان حالات میں جب تک کسی دینی مسئلے کو سیاسی چاشنی کے ساتھ پیش نہ کیا جائے عوام کے لیے قابلِ التفات نہیں ہوتا۔ اس لیے ضرورت ہے کہ ان مسائل کو حل کرنے کے لیے اسلام کو سیاسی اور معاشی رنگ کے دلائل سے پیش کیا جائے، یہ سیاسی رنگ اسلام کے حق میں کوئی بیرونی رنگ نہ ہو گا بلکہ اسی کے اندر کا ہو گا۔ حالات متحرک ہوں گے، اور ان کے فطری اور طبعی قسم کے معاشی اور سیاسی پیکر اس تحریک سے نمایاں ہو کر اسلام ہی کی سیاست و اجتماعیت کے اصول و قوانین نہ ہوتے تو صدیوں تک اس کی وہ مثالی حکومتیں دنیا میں نہ چل سکتیں جنہوں نے دین و دنیا کے ساتھ سیاسی حکمرانی کے فرائض بھی انجام دیئے۔ آج بھی مسلم حکمرانوں کی بود و نمود اسی دور کی مستحکم فرمانروائیوں کے ثمرات ہیں جن میں کتاب و سنت اور فقہ فی الدین کے انوار شامل تھے، البتہ آج کے غالب یا مغلوب مسلمانوں کی غلطی یہ ہے کہ انہوں نے موجودہ دور کے حکومتوں کے نظریات تو اختیار کر لیے لیکن ان کے عملی کارناموں سے کوئی سبق نہ لیا۔ اگر قوم اپنے نظریات قائم رکھ کر آج کے عملی میدانوں میں دوڑتی تو آج بھی وہ ایسی ہی مثالی قوت و شوکت دکھلا سکتی تھی جو اَب سے پہلے دکھلا چکی ہے اور دنیا اس کی تقلید پر مجبور ہوتی نہ کہ قصہ برعکس ہو جاتا۔ 

دورِ جدید میں دینی مزاج کے مطابق فکرِ اسلامی کی تشکیلِ جدید کا واحد طریق عمل

بہرحال اس دور میں اس کی شدید ضرورت ہے کہ اسلامی اصول، اسلامی مزاج اور نبوت کا منہاج بجنسہ قائم رکھ کر جس میں دیانت و سیاست اور عبادت و مدنیت بیک وقت جمع ہے۔ وقت کے مسائل کو نئی تشکیل و ترتیب سے نمایاں کر کے نئے حوادث میں قوم کی مشکلات کا حل پیش کیا جائے تو یہ وقت کے تقاضوں کی تکمیل ہو گی جبکہ اس میں فقیہ المزاج شخصیات، اسلامی اصول کی روشنی اور جزئیاتِ عملیہ کی رعایت، اسلامی مزاج کی برقراری، سلف صالحین کا اسوہ، مرادات خداوندی کے ساتھ تقید، رضاء حق کی پاسداری، اجتماعی اصلاح و فلاح، اخروی نجات کا فکر وغیرہ کی حدود قائم رکھی جائیں گی تو بلاشبہ فکرِ اسلامی کی تشکیلِ جدید دینی ہی رنگ کے ساتھ منظرِ عام پر آجائے گی۔ مگر اسی کے ساتھ ان منتخب شخصیات میں جہاں اس دینی فکر اور تفقہ مزاجی کی ضرورت ہے جس کی تفصیل عرض کی گئی، وہیں اس کی بھی شدید ضرورت ہے کہ وہ موجودہ دنیا کے مزاج اور وقت کو بھی پہچانتے ہوں، عصری حالات اور وقت کی ضرورت بھی ان کے سامنے ہوں، علومِ عصریہ میں انہیں مہارت و حذاقت میسر ہو، دنیا کی عام رفتار اور آج کے ذہن کو بھی وہ سمجھے ہوئے ہوں، اور اس میں ذی فہم اور ذی رائے بھی ہوں، کیونکہ حالات ہی اصل محرکِ فتاوٰی ہیں۔ اگر یہ منتخب شخصیات شرعیات کی خوگر ہوں لیکن عصریات سے بے خبر ہوں یا برعکس معاملہ ہو تو فکرِ اسلامی کی تشکیلِ جدید کا خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہو گا۔
اس سلسلہ میں کٹھن مرحلہ ایسی جامع شخصیتوں کی فراہمی کا ہے جو شرعیات اور عصریات میں یکساں حذاقت و مہارت کی حامل ہوں، عموماً اور اکثر و بیشتر ماہرین شرعیات عصریات سے کچھ نابلد اور موجودہ دنیا کی ذہنی رفتار اور اس کے گو ناں گوں نظریات سے بے خبر ہیں اور ماہرینِ عصریات اکثر و بیشتر شرعیات سے نا آشنا ہیں۔ اس لیے فکرِ اسلامی کی تشکیلِ جدید کا بار اگر تنہا ایک طبقے پر ڈال دیا جائے تو علماء کی حد تک بلاشبہ مسائل کی تشکیل قابلِ وثوق ہو گی لیکن ممکن ہے جدید طبقے کے اعتراضات کا ہدف بن جائے گی۔ اور دوسری طرف ماہرینِ عصریات جب کہ عامۃً دینی مقاصد اور اسلام کے شرعی موقفوں کا زیادہ علم نہیں رکھتے اور قوم کے دینی مزاج سے کچھ بیگانہ بھی ہیں، اگر فکرِ اسلامی کی تشکیلِ جدید کا بار محض انہیں کے کندھوں پر ڈال دیا جائے تو حوادث کی حد تک وہ ماہرینِ شریعت کے اعتراضات کا ہدف بن جائے گی۔ بہر دو صورت تشکیلِ جدید کا خاکہ ناتمام بلکہ ایک حد تک نقصان دہ ثابت ہو گا۔ 
ان حالات میں درمیانی صورت یہی ہو سکتی ہے کہ اس تشکیل کے لیے دونوں طبقوں کے مفکرین کی مشترک مگر مختصر اور جامع کمیٹی بنائی جائے جس میں یہ دونوں طبقے اسلام کے تمام تمدنی، معاشرتی اور سیاسی مسائل میں اپنے اپنے علوم کے دائرے میں غوروفکر اور باہمی بحث و تمحیص سے کسی فکر واحد پر پہنچنے کی سعی فرمائیں اور جامع فکروں کو کتاب و سنت اور فقہ کی روشنی میں مسائل کی تنقیح میں استعمال کریں تو وہ فکر یقیناً جامعیت لیے ہوئے ہو گا جس میں دینی ذوق اور شرعی دستور بھی قائم رہے گا اور عصری حالات سے باہر بھی نہ ہو گا۔ نیز ایک طبقہ کا ہدف طعن و ملامت نہ بن سکے گا اور مسائل کے بارے میں کوئی خلجان سدِّ راہ نہ ہو گا۔ 

تشکیلِ جدید کرنے والے مفکرین کے لیے ایک امرِ لازم

البتہ مفکرین کو یہ ضرور پیشِ نظر رکھنا ہو گا کہ اسلام کوئی رسمی اور دنیوی قانون نہیں بلکہ دین ہے جس میں دنیا کے ساتھ آخرت بھی لگی ہوئی ہے، اور ہر عمل میں خواہ وہ فکری ہو یا عملی، جہاں انسان کی دنیوی زندگی میں شائستگی کی رعایت رکھی گئی ہے اور انہیں تنگی اور ضیق و حرج سے بچا کر ہمہ گیر سہولتیں دی گئی ہیں، وہیں رضاء خداوندی اور آخرت کی جوابدہی بھی ان پر عائد کی گئی ہے۔ اس لیے اسے محض دنیوی قوانین اور صرف معاشی ضرورتوں کو سامنے رکھ کر حوادث کا آلۂ کار بھی نہیں بننے دیا گیا ہے کیونکہ احوال ہمیشہ بدلتے رہے ہیں اور بدلتے رہیں گے۔ حال کے معنی ہی ’’مَا حَالَ فَقَدْ زَاَلَ‘‘ کے ہیں (یعنی جو حال آیا وہ زائل بھی ہو گا) پس حال تو بدلنے ہی کے لیے بنایا گیا ہے لیکن اصولِ فطرت بدلنے کے لیے نہیں لائے گئے ہیں وہ اپنی جگہ اٹل ہی رہیں گے، البتہ ان شرعی اصولوں میں ایسی وسعتیں ضرور رکھی گئی ہیں کہ وہ ہر بدلتی ہوئی حالت میں وقت کے مناسب رہنمائی کر سکیں۔ 
اس لیے مفکر کا کام صرف اتنا ہی ہو گا کہ بدلے ہوئے حالات اور نئے حوادث کو سامنے رکھ کر ان جزئیاتِ مسائل کو سامنے لے آئے جو اس حادثہ کے بارے میں منہاجِ نبوۃ نے اصولًا یا جزءًا وضع کئے ہیں اور ان پر منطبق کئے ہیں۔ پس مفکر دانشور یا مبصر مفتی کا کام حادثہ اور مسئلہ تبدیل کرنا نہیں بلکہ دونوں میں تطبیق دے دینا ہے، نہ حالات سے صرفِ نظر کرنا ہے نہ مسائل سے قطع نظر کر لینا ہے۔ اس لیے شریعت نے تمدنی اور معاشرتی احوال کی حد تک زیادہ تر قواعد کلیہ ہی سامنے رکھے ہیں، نئی جزئی صورتوں کی تشخیص نہیں کی ہے کہ وہ ہر دور میں نئے نئے رنگ میں نمایاں ہوتی رہتی ہیں۔ 

سیاسی ’’ملل و مخل‘‘ کی تدوین کی ضرورت و اہمیت

فی زمانہ اسلامی مسائل میں انتشار یا ان کے بارے میں شکوک و شبہات کی بوچھاڑ کا سرچشمہ سب جانتے ہیں کہ مغربی تہذیب و تمدن اور اس سے زیادہ آج کے سیاسی نظریات دماغوں پر مذہب کے رنگ سے چھائے ہوئے ہیں۔ آج مسلک اور اِزم بن رہے ہیں تو سیاسی اور معاشی، پارٹیاں بن رہی ہیں تو سیاسی اور معاشی، قوانین بن رہے ہیں تو سیاسی اور معاشی، حتٰی کہ عقائد بن رہے ہیں تو وہ بھی سیاسی اور معاشی۔ چنانچہ سیاسی نظریات کے بارے میں اصطلاح بھی ٹھہر گئی ہے جو مذہب اور دین کے بارے میں رائج تھی کہ ہم فلاں نظریے پر یقین رکھتے ہیں یا بالفاظِ دیگر ایمان لاتے ہیں، جو کسی دور میں دینی عقائد کے لیے استعمال کی جاتی تھی۔ اس لیے آج ایک سیاسی ’’ملل و مخل‘‘ کی تدوین کی بھی اشد ضرورت ہے جس میں سیاسی مذاہب کے عقائد و افکار کو تقابلی رنگ سے سامنے رکھ کر اسلام کے اجتماعی مسائل کو دلائل کی روشنی میں پیش کیا جائے جس کے لیے چند مفکر عالم اور چند مفکر گریجویٹوں کی خدمات حاصل کی جائیں کیونکہ قدیم زمانے کے ’’ملل و مخل‘‘ اس دور کے پیدا شدہ مذہبی عقائد اور افکار کے پیشِ نظر مرتب ہوئے تھے جبکہ دلوں پر سیاست کے ٹھپے لگے ہوئے نہیں تھے۔ اب عصرِ حاضر کے سیاسی عقائد و افکار کو سامنے رکھ کر اسلام کے سیاسی، اجتماعی اور معاشرتی مسائل کو دلائل و شواہد سے سامنے لانے کی ضرورت ہے۔ 
خوشی ہے کہ جامعہ اسلامیہ نے آج جب فکرِ اسلامی کی تشکیلِ نو کا مسئلہ اٹھایا تو ممکن ہے سیمینار کے ثمرے کے طور پر اس سیاسی، معاشرتی اور اجتماعی رنگ کی ’’ملل وم خل‘‘ کی مضبوط بنیاد بھی پڑ جائے۔ حدیث اور فقہی کتب میں معاشرتی، تمدنی اور اجتماعی مسائل کی جو زمین ابواب و فصول کے ساتھ جن جن عنوانوں سے پائی جاتی ہیں وہ اپنی جامعیت اور اصولیت کی وجہ سے اپنے متعلقہ مسائل کی جزئیات پر کلیۃً حاوی ہیں اور ان میں فقہاء امت کے دل و دماغ کا نچوڑ سمایا ہوا ہے۔ اس لیے اگر ان عنوانات کے تحت کام کیا جائے اور آج کے معاشرتی، سیاسی اور تمدنی مسائل کو تقابلی انداز سے سامنے رکھ کر علمی اور فکری سعی کا محور بنا لیا جائے تو اس میں تمام وقتی مسائل بھی آجائیں گے اور دوسرے مہم مسائل بھی شامل ہو جانے کی وجہ سے ایک بہترین سیاسی ’’ملل و مخل‘‘ تیار ہو جائے گی جو جامعہ کا ایک یادگار کارنامہ ہو گا۔ 
اس کے ساتھ ہمیں یہ بھی توقع رکھنی چاہیے کہ یہ سعی چند زبان زد مسائل مثلاً بینک کاری، اسٹاک ایکسچینج و سودی معاملات یا انشورنس وغیرہ وغیرہ جیسے مالی اور تجارتی مسائل تک ہی محدود نہ رکھی جائے گی کیونکہ جب فکرِ اسلامی کے بارے میں قدم اٹھایا جا رہا ہے تو وہ بھرپور اٹھنا چاہیئے جس میں اس قسم کے تمام مسائل کا ایک ہی بار فیصلہ کر دیا جائے۔ 
امید ہے کہ اس تشکیل کے سامنے آجانے پر یہ شبہ بھی حل ہو جائے گا کہ آیا اسلام میں جمود ہے یا ذہنوں میں جمود ہے جسے اسلام کی طرف منسوب کر دیا گیا ہے، حالانکہ اسے توڑنے والا خود اسلام ہے جیسا کہ اس نے تیرہ صدیوں میں کتنے ہی جامد ذہن اقوام کا جمود توڑا ہے۔ اسلام نے اپنے اصولِ فطرت میں ماننے والوں کو محدود کر دیا ہے جس کے معنی جمود کے سمجھے جا رہے ہیں لیکن اصولِ فطرت میں محدود رہنا جمود نہیں بلکہ جمود شکنی ہے۔ 

اسلامی مزاج اور منہاج نبوت کے اساسی اصول

منفی پہلو:

(۱) لَا اِسْلَامَ اِلَّا بِجَمَاعَۃٍ۔
’’اسلام بغیر جماعت نہیں‘‘ یعنی اسلام کا مزاج اجتماعیت پسندانہ ہے انفرادیت پسندانہ نہیں۔
(۲) لَا رَھْبَانِیَّۃَ فِی الْاِسْلَامِ
یعنی دین کے بارے میں اسلام کا مزاج اختراع پسندی اور جدت طرازی کا نہیں بلکہ اتباع پسندی ہے نیز گوشہ گیری اور انقطاعیت پسندی کا نہیں بلکہ عام مخلوق میں ملے جلے رہ کر کام انجام دینے کا ہے۔ 
(۳) لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ۔
یعنی اسلام کا مزاج دین میں جبر و اکراہ اور تشدد کا نہیں بلکہ نرمی و محبت کے ساتھ حجت و برہان سے حق واضح کر دینے کا ہے۔ ماننا نہ ماننا کلیۃً مخاطب کا اختیاری فعل ہے۔ 
(۴) لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ فِی الْاِسْلَامِ۔
یعنی اسلام کا مزاج تخریبی یا ضرر رسانی کا نہیں بلکہ تعمیری اور نفع رسانی کا ہے۔
(۵) لَا عَدْوی وَلَا طَیَرَۃَ فِی الْاِسْلَامِ۔
یعنی اسلام کا مزاج توہم پسندانہ نہیں کہ شگون یا ٹونے ٹوٹکے یا کسی کی بیماری کسی کو لگ جانے کا تخیل باندھ لینا اس کے یہاں معتبر ہوں، بلکہ حقیقت پسندانہ ہے کہ امور واقعیہ ہی اس کے نزدیک معتبر ہوں خواہ وہ حسی اسباب سے ظہور پذیر ہوں یا معنوی اسباب سے، تخیلاتی اور توہماتی خطرات و وساوس اس کے نزدیک اسباب نہیں ہیں کہ حوادث کا ان سے تعلق ہو۔
(۶) لَا نُوَلِّیْ اَمَرَنَا ھٰذَا مَنْ طَلَبَہٗ۔
یعنی اسلام کا مزاج طالبِ عہدے کو عہدہ نہ دینے کا ہے۔ گویا عامۃً عہدوں کی طلب خودغرضی کی دلیل ہوتی ہے اور خودغرض انسان اپنی اغراض کی تکمیل میں مشغول رہ کر فرائضِ منصبی میں عادۃً قاصر رہتا ہے۔ 
(۷) لَا نُکَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَھَا۔
یعنی اسلام کا مزاج کسی پر اس کی طاقت کے قدر بار ڈالنے کا ہے، خواہ انسان ہو یا حیوان، زائد از طاقت بوجھ رکھنا اس کے نزدیک ظلم ہے۔ 
(۸) لَیْسَ مِنَّا مِنْ غَشَّنَا۔
یعنی اسلام کا مزاج گندم نما جوفروشی اور نمائشی خوبصورتیاں دکھلا کر دغل و فصل کا نہیں بلکہ حقیقت پسندی اور حقیقت نمائی کا ہے۔ 
(۹) وَمَا اَنَا مِنَ الْمُتَکَلِّفِیْنَ۔
یعنی اسلام کا مزاج تصنع، بناوٹ یا نمائش پسندی کا نہیں بلکہ سادگی، سچائی اور ظاہر و باطن کی یکسانی کا ہے۔
(۱۰) لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّن رُّسُلِہٖ۔
یعنی اسلام کا مزاج شخصیاتِ مقدسہ کے نام پر تعصب، تنگی، حد بندی اور گروہ سازی کا نہیں بلکہ ان کی ہمہ گیر توقیر و تعظیم کے ساتھ بین الاقوامی طور پر اقوام کو ایک پلیٹ فارم پر لانے اور عالمِ انسانیت کو متحد کرنے کا ہے۔ 
(۱۱) لَا تَھِنُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِیْنَ۔
یعنی اسلام کا مزاج دل چھوڑ کر بیٹھ رہنے اور بزدلی اور کم ہمتی دکھلانے کا نہیں بلکہ عزیمت اور قوتِ یقین کے ساتھ عالی حوصلگی اور ہمتِ مردانہ دکھلانے کا ہے۔ 
(۱۲) لَا تَیْئَسُوْا مِنْ رّوُحِ اللہِ۔
یعنی اسلام کا مزاج، کتنی بھی مشکلات کا ہجوم سر پر آجائے، مایوسی کا نہیں بلکہ امید، بھروسہ اور اللہ پر اعتماد کے ساتھ ثبات و استقلال اور آگے بڑھتے رہنے کا ہے، مایوسی اس کے نزدیک کفر کا شعبہ ہے۔ 
(۱۳) مَا جَعَلَ عَلَیْکُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ۔
اسلام کا مزاج دین کے بارے میں ضیق اور تنگی کا نہیں بلکہ فراخی کا ہے۔ معذور کو مجبور نہیں کیا جاتا بلکہ اس کے مناسب حال راہ نکال دی جاتی ہے۔
(۱۴) لَنْ یَّشَاء الدِّیْنُ اِلَّا غَلْبَہُ۔
یعنی اسلام کا مزاج دین میں غلو، مبالغہ اور تحمل بیجا کا نہیں ورنہ دین اسے ہٹا دے گا، بلکہ اعتدال کے ساتھ بقدر طاقت بوجھ اٹھانے کا ہے۔ توسط و اقتصاد ہی اس کا بنیادی اصول ہے۔ 
(۱۵) لَا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَئَانُ قَوْمٍ عَلٰی اَلَّا تَعْدِلُوْا اِعْدِلُوْا ھُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰی۔
یعنی اسلام کا مزاج دوست اور دشمن میں یکساں انصاف ہے۔ جانبداری یا بے جا رعایت یا خویش نوازی اس کے یہاں خلافِ عدل اور خلافِ تقوٰی ہے۔
(۱۶) لَیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰی۔
یعنی اسلام کا مزاج عمل پر ابھارنا ہے کہ ہر ایک کو اسی کی سعی کام دے گی، دوسرے کی محنت کام نہ آئے گی تاکہ آدمی دوسروں پر تکیہ کر کے معطل نہ ہو بیٹھے، ہمت سے خود آگے بڑھے۔

مثبت پہلو

یہی صورت اسلام کے اساسی اصول میں مثبت ضابطوں کی بھی ہے جس سے اسلام کا مزاج کھلتا ہے، مثلاً

(۱) لِیَھْلِکَ مَنْ ھَلَکَ عَنْ بَیِّنَۃٍ وَّیَحْیٰی مَنْ حَیَّ عَنْ بَیِّنَۃٍ۔
یعنی اسلام کا مزاج حجت پسندی، حجۃ طلبی اور تحقیق حال کا ہے۔ جذبات پسندی یا محض شبہات یا قرائن بے تحقیق کسی کو انعام یا انتقام دینے کا نہیں۔ 
(۲) وَالصُّلْحُ خَیْرُْ وَاُحْضِرَتِ الْاَنْفُسُ الشُّحَّ۔
یعنی اسلام کا مزاج صلح جوئی اور امن پسندی کا ہے، لڑائی جھگڑا، شر انگیزی اور فتنہ جوئی کا نہیں۔ نیز اس کا مزاج احسان اور جود و کرم کا ہے، بخل، تنگی اور جزرسی کا نہیں۔
(۳) وَاصْبِرْ عَلٰی مَا اَصَابَکَ اِنَّ ذٰلِکَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ۔
یعنی اسلام کا مزاج انتقام پسندانہ نہیں بلکہ کریمانہ اور مصائب یا ایذا رسانیوں پر صبر و تحمل اور عفو و درگزر کا ہے۔ اس کو اس نے اولوالعزمی کہا ہے۔ 
(۴) اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃُْ۔
یعنی اسلام کا مزاج باہمی بھائی بندی اور ملنساری کا ہے، اجنبیت پسندی اور بیگانہ روش کا نہیں۔
(۵) اِنَّ النَّاسَ کُلُّھُمْ اِخْوَۃُْ۔
یعنی اسلام کا مزاج عالمی بھائی چارے کا ہے کہ تمام انسان بھائیوں کی طرح رہیں خواہ کوئی بھی قوم ہو اور کسی بھی مذہب کی ماننے والی ہو۔ غلام سازی، استحصالِ عوام یا گروہ سازیوں کے ذریعے بھائی کو بھائی سے جدا کر دینے کا نہیں ہے۔
(۶) مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا۔
یعنی اسلام کا مزاج پورے عالمِ انسانیت کا احترام و تحفظ ہے۔ انسانیت کی تحقیر و تذلیل اور لاپرواہی سے اس کے ضائع ہو جانے پر قناعت کر لینے کا نہیں۔
(۷) وَیَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَنَکْفُرُ بِبَعْضٍ وَّیُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَّخِذُوْا بَیْنَ ذٰلِکَ سَبِیْلًا اُولٰئِکَ ھُمُ الْکَافِرُوْنَ حَقًا۔
یعنی اسلام کا مزاج خلط و التباس، حق و باطل کو مخلوط کر دینے، یا اقوام کی رضاجوئی کی خاطر حق و باطل کو جمع کر کے بین بین راہیں نکالنے کا نہیں بلکہ حق و باطل کو نکھار کر ممیز کر دینے کا ہے۔ 
(۸) اُدْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کآفۃً۔
اسلام کا مزاج دائرہ حق (اسلام) میں پورے داخل کرانے اور یک رخی کے ساتھ دلوں کو سکون و اطمینان بخشنے کا ہے۔ ناتمام اور ادھ کجرے کام سے دلوں کو ڈانواڈول کر دینے کا نہیں۔
(۹) اَنْ تَؤَدُّوا الْاَمَانَاتِ اِلٰی اَھْلِھَا۔
یعنی اسلام کا مزاج امانت داری اور امانت سپاری کا ہے۔ بد دیانتی، خیانت پسندی یا دغل فعل کا نہیں۔
(۱۰) وَیَقُوْلُوْنَ سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا۔
اسلام کا مزاج اجتماعی طور پر استواریٔ نظام اور قیامِ امارت پر امیر کے حق میں سمع و طاعت کا ہے، اگرچہ ایک حبشی غلام ہی امیر بنا دیا جائے۔ لامرکزیت یا فوضویت اور بے مرکز جمہوریت اسلام کا مزاج نہیں کہ یہ انتشار پسندی ہے۔ 
(۱۱) کُلُّ اَمْرِءٍ بِمَا کَسَبَ رَھِیْنُْ۔
اسلام کا مزاج ہر ایک کو اپنے ہی عمل پر ابھارنا ہے تاکہ دوسروں پر تکیہ کر کے نہ بیٹھ جائے۔
(۱۲) مَنْ یَّعْمَلْ سُوْءً یُجْزَ بِہٖٖ۔
اسلام کا مزاج یہ ہے کہ کوئی اپنی نسبت یا نسب یا انتساب پر بھروسہ کر کے نہ بیٹھ جائے، جس نے جو کچھ کیا ہے وہ ضرور اس کے آگے آئے گا۔
(۱۳) ثَلٰثَۃُْ لَعَنَھُمُ اللہ (۔۔۔۔۔) مُتَّبِعُْ فِی الْاِسْلَامِ سُنَّۃً جَاھِلِیَّۃً۔
یعنی اسلام کا مزاج یہ ہے کہ جاہلیت کی جن رسوم کو اس نے ہٹا دیا ہے ان کا اعادہ یا نئی نئی پگڈنڈیاں نکالنا اس کے لیے قابل برداشت نہیں کہ یہ خود اسلام کی تخریب ہے۔
(۱۴) مَا اٰتَاکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَمَا نَھٰکُمْ عَنْہُ فَانْتَھُوْا۔
اسلام کا مزاج رسالت کی پیروی کرانا ہے، قانونِ حق میں ایجاد اختراع کرانا نہیں۔
(۱۵) اَلدُّنْیَا مَزْرَعَۃُ الْاٰخِرَۃ اور اِنَّ الدُّنْیَا خُلِقَتْ لَکُمْ وَاِنَّکُمْ خُلِقْتُمْ لِلْاٰٰخِرَۃِ۔
اسلام کا مزاج ہر عمل کو، خواہ عبادت ہو خواہ عادت، اخروی بنانا ہے دنیا پر ختم کر دینا نہیں ہے، نہ دنیوی مفادات کو اصل رکھنا ہے۔ مگر دنیا ترک کرانا بھی نہیں بلکہ اسے اختیار کر کے اس میں سے آخرت نکالنا ہے۔ اس لیے دنیا کو کھیتی کہا ہے۔ پس اگر پھل ضروری ہے تو کھیتی کرنی بھی ضروری ہے ورنہ پھل نہیں مل سکتا۔ پس اسلام کے مزاج میں ترکِ دنیا نہیں بلکہ ترکِ محبتِ دنیا ہے اس لیے کہ یہ ساری دنیا انسان کے لیے پیدا کی گئی ہے تو وہ معطل نہیں چھوڑی جا سکتی اور انسان آخرت کے لیے پیدا کیا گیا ہے تو اسے محض دنیا پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔

خلاصۂ اصول

بہرحال کتاب و سنت کے یہ چند اساسی اصول جیسے اجتماعی، انفرادی، شخصی، جماعتی مرکزیت، امارت، سمع و طاعت، تفویض عہدہ جات کی نوعیت، عوام کا طرزِ تربیت، اخلاقی بلندی، عملی جوش، معاشرت کا ڈھنگ، دین کی وسعت، خلت و التباس سے اس کا بالاتر ہونا، بدعات و محدثات سے گریز، اتباع رسالت، اخوت، ہمدردی، بے لوث عدل و انصاف، خدمتِ خلق، دنیا کا آخرت سے ربط اور آخرت کی مقصودیت وہ امور ہیں جن سے منہاجِ نبوۃ کا ذوق اور اسلامی مزاج کھل کر سامنے آآتا ہے۔ 

یہ چند مثالیں ہیں جو سرسری طور پر ذہن میں آئیں ورنہ کتاب و سنت ان جیسے سینکڑوں اصول سے بھری ہوئی ہیں، ہمیں تشکیلِ نو میں ان سب کو بہرحال سامنے رکھنا ہے۔ 

(۴) تشکیلِ جدید میں سب سے زیادہ اہم قدم رجالِ کار کا انتخاب

لیکن ان اقدامات میں سب سے زیادہ اہم قدم ۔۔۔۔ رجال کار کا انتخاب ہے جو دین کے مبصر اور فقیہانہ شان رکھتے ہیں۔ بحیثیت مجموعی دین کے اصول و فروع ان کے سامنے ہوں، اسلام کی حقیقی روح ان کی روح میں پیوست ہو۔ اور اسلام کی وہ حکمتِ عملی اگر رجال کار ناواقف یا غیر فقیہہ یا غیر مبصر اور اسلام کی حکمتِ عملی سے نابلد، روح اسلام سے بیگانہ ہوں تو فکرِ اسلامی کی تشکیل ممکن نہ ہو گی۔ اس لیے سب سے بڑا مسئلہ شخصیات کے انتخاب کا ہے۔ حق تعالیٰ نے جب اس مکمل دین کو دنیا میں بھیجنے کا ارادہ فرمایا تو اولًا شخصیت ہی کا انتخاب فرمایا اور وہ ذات تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ دین محض تعلیم و تفکیر کے لیے نہیں بلکہ تربیت کے لیے آتا ہے اور تربیت محض تعلیم یا کتاب کے نوشتوں سے نہیں ہو سکتی جب تک کہ اس سے ہم آہنگ شخصیتیں اسے قلوب تک پہنچانے والی اور اپنے عمل سے نمایاں کرنے والی نہ ہوں۔ 

اس لیے دنیا کا کوئی دور بھی ایسا نہیں گزرا کہ امتوں کی صلاح و فلاح کے لیے محض قانون اتارا گیا ہو اور پیغمبر کی شخصیت نہ بھیجی گئی ہو کیونکہ شخصیت ہی دین اور مسائلِ دین کو اس انداز اور اس حکمتِ عملی سے پیش کر سکتی ہے جو شارح حقیقی حق تعالیٰ شانہٗ نے اس کے لیے وضع کیا ہے۔ اس لیے وہی شخصیت مخاطب قوم کی نفسیات کی رعایت رکھتی ہے اور اس کے اجتماعی مزاج سے آگاہ ہوتی ہے جو ہدایت کے لیے منتخب کی جاتی ہے کیونکہ ہر دور میں اس رنگ کی شریعت آئی جو رنگ مخاطب قوم کا تھا اور اس نوع کے معجزات سے نبوت کو ثابت کیا گیا جو نوعیت اس دور کے ذہن و مزاج کی ہوئی۔ 

آج کل نبوت ختم ہو چکی ہے تو انبیاء کا کام اس امت کے مجددوں اور مفکر علماء عرفاء کے سپرد کیا گیا کہ وہ شریعت کو اسی رنگ سے ثابت کر کے دلوں میں جمائیں جو آج کے دور کی نفسیات کا رنگ ہو۔ اس حقیقت کو امام ابن سیرینؒ نے جو ایک جلیل القدر تابعی اور تعبیرِ خواب کے امام ہیں ان لفظوں میں ادا فرمایا ہے کہ

اِنَّ ھٰذَا الْعِلْمَ دِیْنُْ فَانْظُرُوْا عَمَّنْ تَاْخُذُوْنَ دِیْنَکُمْ (مشکوٰۃ)
’’یہ علم (اور آج کی اصطلاح میں یہ فکر) ہی تمہارا دین ہے تو دیکھ لو کہ کس (شخصیت) سے تم دین (یا فکر) اخذ کر رہے ہو۔‘‘

جس سے دین اور دین کے فکر کے بارے میں ہمیں پوری رہنمائی ملتی ہے کہ تربیت کا سب سے بڑا ماخذ شخصیت ہے، کاغذ اور نوشتے نہیں ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ مربی اور معلم یا مصلحِ فکر اگر خود صحیح المنہاج ہو گا تو وہی قلوب کی صحیح رہنمائی کر سکے گا ورنہ وہ خو اگر اس منہاج کا فکر لیے ہوئے نہ ہو یا قلب میں کوئی زیغ اور کجی لیے ہوئے ہو تو کتاب و سنت سے بھی وہ اسی زیغ ہی کو سامنے لا کر دوسرے قلوب میں بھر دے گا۔ 

آخر مسلمانوں میں آج کتنے متضاد فرقے ہیں جو قرآن ہی کو اپنا امام تسلیم کرتے ہیں اور اسی کا نام لے کر اپنا اپنا فکر دنیا کے سامنے رکھتے ہیں درآنحالیکہ ان متضاد فرقوں میں کوئی ایک ہی حق و ثواب پر ہو سکتا ہے، سب کے سب اس تضاد فکری کے ساتھ محق نہیں کہلائے جا سکتے۔ ظاہر ہے کہ کتاب و سنت کے سامنے ہونے اور اسے امام کہنے کے باوجود اگر کوئی فرقہ مبطل ہو سکتا ہے تو یہ اس کی واضح دلیل ہے کہ اس راستے میں فکر صحیح اور مفکر کی ذات ہی اصل ہے۔ اور کسی فرقے کے مبطل ہونے کے یہ معنی نہ ہوں گے کہ اس کے ہاتھ میں کتاب و سنت اور دینی لٹریچر نہیں، بلکہ یہ ہوں گے کہ اس میں کوئی صحیح الفکر اور ذوقِ سلف پر تربیت یافتہ شخصیت نہیں بلکہ کوئی مبطل اور زیغ زدہ شخصیت آئی ہوئی ہے۔ پس اگر شخصیت صحیح ہو تو باطل نوشتوں سے بھی وہ حق ہی سامنے لے آئے گی، اور اگر وہی فاسد الفکر ہے تو قرآن و حدیث سے بھی وہ باطل ہی نمایاں کر کے قلوب کو فاسد کر دے گی ورنہ قرآن کو امام کہنے والا کوئی مبطل فرقہ مبطل نہیں ہوتا۔ اس لیے جب کہ ہم فکرِ اسلامی کی تشکیل کے لیے قدم اٹھا رہے ہیں تو سب سے مقدم صحیح الفکر شخصیات ہی کا انتخاب ہے جس سے منہاجِ نبوۃ کا صحیح اور متوارث ذوق ہمارے سامنے آجائے اور اس سیدھے سے منہاج پر ہمارا فکر استقامت کے ساتھ رواں دواں ہو۔ 

حرفِ آخر

بہرحال فکرِ اسلامی کی تشکیل تو قابلِ تبریک ہے جس کا سہرا جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سر ہو گا لیکن اس میں:

  1. سب سے پہلا قدم نشانۂ فکر متعین کرنا ہے اور وہ منہاجِ نبوۃ ہے۔ 
  2. دوسرا قدم اس منہاج میں فکر دوڑانے کے لیے اس کے اصول و قواعد درکار ہوں گے جس میں قواعد کلیہ اور فروعات فقہیہ سب داخل ہیں۔ 
  3. تیسرا قدم اس مزاج کا پہچاننا ہے اور اسے سامنے رکھنا ہے جو ملت اسلامیہ کو بخشا گیا ہے اور اس پر اس کی صدیوں سے تربیت ہوتی آ رہی ہے۔ 
  4. چوتھا قدم رجال فکر کا انتخاب ہے کہ فکر کا ظہور صاحبِ فکر ہی سے ہو سکتا ہے نہ کہ محض کاغذ کے نوشتوں سے۔ 
  5. اور پانچواں قدم ان ظاہری اور باطنی خصوصیات کی رعایت ہے جو اس منہاج کا جوہر اور اس کی خصوصیات ہیں۔ 

مجھے اعتراف ہے کہ اجلاسِ جامعہ میں تو قلتِ وقت کی وجہ سے قرآنی اصول کی صرف اجمالی فہرست ہی پیش کر سکا تھا جو یقیناً تشنہ تفصیل تھی۔ اور اب مقالہ کی صورت میں اس کی کچھ توضیحات بھی اگر پیش کر رہا ہوں تو قلتِ فرصت کی وجہ سے وہ بھی کچھ تفصیلی اور مرتب شدہ نہیں ہیں بلکہ کثرتِ مشاغل کے سبب بھاگ دوڑ کے ساتھ جو بھی منتشر چیزیں سامنے آ رہی ہیں انہیں کو عجلت کے ساتھ جمع کر دیا گیا، جس میں نہ کسی خاص ترتیب ہی کی رعایت ہو سکتی ہے نہ نظامِ کلام کی۔ اس لیے اسے ’’جُھْدُ الْعَقْلِ زُمُوْعُہ‘‘ کے مصداق سمجھنا چاہیے جو ادائے فرض تو ہے مگر لوازمِ فرض سے آراستہ نہیں ہے۔ دعا ہے کہ حق تعالیٰ اس مہم کو انجامِ حسن تک پہنچائے اور ملت کے لیے ایک نافع قدم ثابت فرمائے، آمین۔

(ماخوذ: ماہنامہ ’’دارالعلوم‘‘ دیوبند، بھارت ۔ شمارہ جنوری فروری ۱۹۷۹ء)