2024

جنوری ۲۰۲۴ء

رسول اکرمﷺ کا طرز حکمرانیمولانا ابوعمار زاہد الراشدی
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۰۸)ڈاکٹر محی الدین غازی
رفتید، ولے نہ از دلِ ما!ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
ڈاکٹر محمد الغزالیؒمحمد آصف محمود ایڈووکیٹ
ڈاکٹر محمد الغزالیؒمراد علی
عصرِ حاضر کے چیلنجز اور علماء کرام کی ذمہ داریاںمولانا ابوعمار زاہد الراشدی
’’حر متِ مسجدِ   اقصیٰ    اور    امتِ  مسلمہ    کی    ذ   مہ   داری‘‘: تین اہم سوالاتمولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مسئلہ فلسطین کے تاریخی مراحلالجزیرہ
"مسئلہ فلسطین " کی تقریب رونمائیمولانا محمد اسامہ قاسم
’’مسئلہ فلسطین‘‘ادارہ

رسول اکرمﷺ کا طرز حکمرانی

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

جناب سرور کائنات حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز حکمرانی کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں مستثنیات، تحفظات، پروٹوکول اور پرسٹیج کا کوئی تصور نہیں، اور عالمِ اسباب میں اس طرز حکومت کے کامیاب اور مثالی ہونے کی بڑی وجہ یہی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے خلفاء راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین نے تمام تر مواقع میسر ہونے کے باوجود ایک عام آدمی جیسی زندگی اختیار کی اور لوگوں کے درمیان گھل مل کر رہے۔ جس کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ انہیں عام آدمی کی مشکلات و مسائل سے براہ راست واقفیت رہی۔ دوسرا فائدہ یہ ہوا کہ اپنے حکمرانوں کو اپنے ساتھ مشکلات و مسائل کا شکار دیکھ کر عام آدمی میں مشکلات کو برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا  ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر چاہتے تو اپنے لیے پروٹوکول اور تحفظات کا اہتمام کر سکتے تھے، اور اس کائنات میں یہ اگر کسی کا استحقاق ہو سکتا ہے تو وہ آپؐ کی ذات گرامی ہے، لیکن آپؐ نے اپنے گرد ایسا کوئی دائرہ نہیں کھینچا اور رہن سہن، نشست و برخاست، سفر و حضر، اور بول چال میں کسی قسم کا کوئی امتیاز روا نہیں رکھا۔ 

ہمارے ہاں پروٹوکول کا ایک سبق یہ بھی ہے کہ کوئی بڑی شخصیت فون پر کسی سے بات کرنا چاہتی ہے تو پہلے اس شخص کو لائن پر لایا جائے پھر بڑے صاحب گفتگو کی زحمت فرمائیں گے، جبکہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ  عنہ کہتے ہیں کہ ہماری ہمیشہ یہ کوشش رہتی تھی کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرنے میں پہل کر سکیں، لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا، ہم ابھی سلام  کا لفظ کہنے کی تیاری کر رہے ہوتے کہ حضورؐ سلام میں پہل فرما دیتے۔ اس بظاہر چھوٹی سی مثال سے سمجھا جا سکتا ہے کہ سنتِ نبویؐ میں پروٹوکول کا درجہ کیا ہے۔

اس کے ساتھ ہی سنتِ نبویؐ کا یہ حسین منظر بھی ذہن میں تازه کر لیں کہ ایک مجلس میں بیٹھے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں سے ایک صحابی کے ننگے بدن پر چھڑی لگ گئی، چھڑی ذرا سخت لگی اور بعض روایات کے مطابق خراش بھی آگئی۔ اس صحابیؓ نے مجلس میں ہی بدلے کا تقاضہ کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی پروٹوکول، پرسٹیج، یا تحفظ کا سوال نہیں اٹھایا، چھڑی اس صحابیؓ کے ہاتھ میں دے دی اور کپڑا ہٹا کر ننگی کمر بدلے کے لیے اس کے سامنے کر دی۔ یہی سادگی اور بے تکلفی ہمارے طرز حکومت کا حصہ بنے گی تو سنتِ نبویؐ کی برکات حاصل ہوں گی۔مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے اردگرد مستثنیات اور تحفظات کے جو دائرے کھینچ رکھے ہیں وہ سنت نبویؐ اور ہمارے درمیان ایک ایسی خلیج کی حیثیت اختیار کرتے جا رہے ہیں جنہیں زندگی کے کسی بھی شعبہ میں عبور کرنے کا ہم میں حوصلہ نہیں۔  ہمیں حکومت و سیاست میں سنتِ نبویؐ کی پیروی کیلئے نوآبادیاتی نظام کے تحفظات و امتیازات سے نجات حاصل کرنا ہو گی، حاکم و رعیت کے درمیان اجنبیت و بیگانگی کی دیوار گرانا ہوگی، اور عام لوگوں کے ساتھ ان کی آبادیوں میں گھل مل کر رہنا ہو گا۔

؏     گر یہ نہیں تو بابا پھر سب کہانیاں ہیں!

———————————————————


’’لمحۂ فکریہ!‘‘

برادرِ مکرم مولانا ڈاکٹر عمار خان ناصر، جنہیں میں لڑکپن سے حضرت کہہ کر مخاطب کرتا ہوں، نے مجلہ الشریعہ کے معاملات سے  علیحدگی اختیار کر کے مجھے مشکل میں ڈال دیا ہے۔ میرا علمی و فکری کام کا کچھ ذوق تو ہے لیکن سمجھ بوجھ اور استعداد اس درجہ کی نہیں جو اس کام کیلئے ضروری ہے۔ میں کمپیوٹر سائنس کا آدمی ہوں اور اس حوالے سے میرا ایک چھوٹا سا  سلسلہ techurdu.org کے عنوان سے چل رہا ہے جس پر میں اپنے شعبے کے حوالے سے وقتاً‌ وقتاً‌  طبع آزمائی کرتا رہتا ہوں۔

والد محترم اور میرے مخدوم حضرت مولانا زاہد الراشدی اپنی تدریسی مصروفیات اور دینی اجتماعات کے مشاغل کی وجہ سے زیادہ وقت نہیں دے پاتے، اور اس عمر میں صحت کے مسائل کے ساتھ انہیں زیادہ آرام کی ضرورت بھی ہوتی ہے، چنانچہ اس حوالے سے بھی میری ذمہ داری کچھ بڑھ گئی ہے۔  میرا اندازہ ہے کہ والد محترم کے ساتھ میری صبح شام کی رفاقت اور غلطی کی صورت میں کان کھینچنے کی سہولت کے پیش نظر مجھے یہ عہدہ سونپا گیا ہے، ورنہ الشریعہ اکادمی کے رفقاء اور ذمہ داران میں سے اس کیلئے بہت بہتر انتخاب ہو سکتا تھا۔ بہرحال میں توقعات پر پورا اترنے کی حتی الوسع کوشش کروں گا، ورنہ ناکامی کی صورت میں تبدیلی کا راستہ بہرحال موجود ہے۔

ناصر الدین خان عامر

مدیر منتظم

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۰۸)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(464) إِذَا لَہُمْ مَکْرٌ فِی آیَاتِنَا

إِذَا فجائیہ کا مطلب یہ نہیں ہوتا ہے کہ اس کے بعد والی بات اس سے پہلے والی بات کے فورًا بعد پیش آئے۔ البتہ اس بات میں تحیر کا پہلو غالب رہتا ہے۔ درج ذیل آیت میں بھی إِذَا کا ترجمہ ’فورًا‘ موزوں نہیں ہوگا۔ یعنی یہ بات تو حیرت انگیز طور پر افسوس ناک ہے کہ لوگ تکلیف سے نجات پاکر جب اللہ کی رحمت سے ہم کنار ہوتے ہیں تو شکر گزار بننے کی بجائے اللہ کی آیتوں میں چال بازیاں شروع کردیتے ہیں۔ لیکن یہ بات اس لفظ میں شامل نہیں ہے کہ وہ یہ کام فوراً کرتے ہیں۔ کچھ ترجمے ملاحظہ فرمائیں:

وَإِذَا أَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً‌ مِنْ بَعْدِ ضَرَّاءَ مَسَّتْہُمْ إِذَا لَہُمْ مَکْرٌ فِی آیَاتِنَا قُلِ اللَّہُ أَسْرَعُ مَکْرًا إِنَّ رُسُلَنَا یَکْتُبُونَ مَا تَمْکُرُونَ۔(یونس: 21)

”لوگوں کا حال یہ ہے کہ مصیبت کے بعد جب ہم ان کو رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو فوراً ہی وہ ہماری نشانیوں کے معاملہ میں چال بازیاں شروع کر دیتے ہیں ان سے کہو،اللہ اپنی چال میں تم سے زیادہ تیز ہے، اس کے فرشتے تمہاری سب مکاریوں کو قلم بند کر رہے ہیں“۔ (سید مودودی، إِنَّ رُسُلَنَا کا ترجمہ ہوگا ہمارے فرشتے۔ إِنَّ رُسُلَنَا یَکْتُبُونَ مَا تَمْکُرُونَ مقولہ کا حصہ نہیں بلکہ مستقل جملہ ہے۔)

”اور جب ہم لوگوں کو اس امر کے بعد کہ ان پر کوئی مصیبت پڑ چکی ہو کسی نعمت کا مزہ چکھا دیتے ہیں تو وہ فوراً ہی ہماری آیتوں کے بارے میں چالیں چلنے لگتے ہیں، آپ کہہ دیجئے کہ اللہ چال چلنے میں تم سے زیادہ تیز ہے، بالیقین ہمارے فرشتے تمہاری سب چالوں کو لکھ رہے ہیں“۔ (محمد جوناگڑھی)

”اور جب تکلیف پہنچنے کے بعد ہم نے لوگوں کو ذرا رحمت کا مزہ چکھادیا تو فوراً ہماری آیتوں میں مکاری کرنے لگے تو آپ کہہ دیجئے کہ خدا تم سے تیز تر تدبیریں کرنے والا ہے اور ہمارے نمائندے تمہارے مکر کو برابر لکھ رہے ہیں“۔ (ذیشان جوادی)

”اور جب ہم لوگوں کو تکلیف پہنچنے کے بعد (اپنی) رحمت (سے آسائش) کا مزہ چکھاتے ہیں تو وہ ہماری آیتوں میں حیلے کرنے لگتے ہیں۔ کہہ دو کہ خدا بہت جلد حیلہ کرنے والا ہے۔ اور جو حیلے تم کرتے ہو ہمارے فرشتے ان کو لکھتے جاتے ہیں (فتح محمد جالندھری، أسرع مکرا کا ترجمہ ہوگا حیلہ کرنے میں تیز تر ہے، نہ کہ جلد حیلہ کرنے والا ہے۔ تیز رفتار ہونے اور جلدی کرنے میں فرق ہے۔)

بہت سے لوگوں نے أَسْرَعُ مَکْرًا کا ترجمہ ”تم سے تیز تر چال چلنے والا“ کیا ہے، یہاں ’تم سے‘ کا اضافہ غیر ضروری ہے۔ لفظ کی رو سے ’تیز تر‘ کافی ہے۔

 (465) ذُرِّیَّةٌ مِنْ قَوْمِہِ

لغت میں ذریۃ کا مطلب اولاد بیان کیا گیا ہے۔ ان کا نوجوان ہونا ضروری نہیں ہے۔کسی قوم کے افراد پر ذریت کا اطلاق ہوتا ہے۔  قرآن کے استعمالات کو دیکھیں تو کہیں یہ لفظ بالکل چھوٹے بچوں کے لیے آیا ہے، جیسے: وَلَہُ ذُرِّیَّةً‌ ضُعَفَاءُ۔ (البقرۃ: 266) اور کہیں نسل کے لیے جس میں سب شامل ہوتے ہیں، جیسے: کَمَا أَنْشَأَکُمْ مِنْ ذُرِّیَّةِ قَوْمٍ آخَرِینَ۔ (الانعام: 133)

درج ذیل آیت میں غالباً زمخشری کی تفسیر سے متأثر ہوکر بعض لوگوں نے ذریۃ کا ترجمہ نوجوان کردیا ہے۔ جو تفسیری اضافہ تو ہوسکتا ہے، لیکن لفظ کا موزوں ترجمہ نہیں ہے۔ ذُرِّیَّةٌ مِنْ قَوْمِہِ کا ترجمہ ہوگا ’اس کی قوم کے کچھ افراد“۔

فَمَا آمَنَ لِمُوسَی إِلَّا ذُرِّیَّةٌ مِنْ قَوْمِہِ عَلَی خَوْفٍ مِنْ فِرْعَوْنَ وَمَلَءِہِمْ أَنْ یَفْتِنَہُمْ۔(یونس: 83)

”(پھر دیکھو کہ) موسیٰؑ کو اس کی قوم میں سے چند نوجوانوں کے سوا کسی نے نہ مانا، فرعون کے ڈر سے اور خود اپنی قوم کے سر بر آوردہ لوگوں کے ڈر سے (جنہیں خوف تھا کہ) فرعون ان کو عذاب میں مبتلا کرے گا“۔ (سید مودودی، اس ترجمے میں عَلَی خَوْفٍ کا ترجمہ ’ڈر سے‘ درست نہیں ہے۔ صحیح ترجمہ ہوگا: ’ڈر کے باوجود‘)

”تو موسی کی بات نہ مانی مگر اس کی قوم کے تھوڑے سے نوجوانوں نے، ڈرتے ہوئے فرعون اور اپنے بڑوں سے کہ مبادا وہ ان کو کسی فتنہ میں ڈال دے“۔ (امین احسن اصلاحی)

”تو موسیٰ پر ایمان نہ لائے مگر اس کی قوم کی اولاد سے کچھ لوگ فرعون اور اس کے درباریوں سے ڈرتے ہوئے کہ کہیں انہیں ہٹنے پر مجبور نہ کردیں“۔ (احمد رضا خان، ’قوم کی اولاد سے کچھ لوگ‘ سے بہتر ہے ’قوم کے کچھ لوگ‘)

”تو موسیٰ پر کوئی ایمان نہ لایا۔ مگر اس کی قوم میں سے چند لڑکے (اور وہ بھی) فرعون اور اس کے اہل دربار سے ڈرتے ڈرتے کہ کہیں وہ ان کو آفت میں نہ پھنسا دے“۔ (فتح محمد جالندھری، ذریۃ کا ترجمہ لڑکے نہیں بلکہ لوگ کرنا چاہیے)

”پھر بھی موسٰی پر ایمان نہ لائے مگر ان کی قوم کی ایک نسل اور وہ بھی فرعون اور اس کی جماعت کے خوف کے ساتھ کہ کہیں وہ کسی آزمائش میں نہ مبتلا کردے“۔ (ذیشان جوادی، یہاں ذریۃ کے لیے ’نسل‘ موزوں ترجمہ نہیں ہے۔ ’کچھ لوگ‘ مناسب ترجمہ ہے۔)

”پس موسیٰ (علیہ السلام) پر ان کی قوم میں سے صرف قدرے قلیل آدمی ایمان لائے وہ بھی فرعون سے اور اپنے حکام سے ڈرتے ڈرتے کہ کہیں ان کو تکلیف پہنچائے“۔ (محمد جوناگڑھی، ان کے اپنے حکام کہاں تھے؟ قوم کے بڑے لوگ تھے۔)

مذکورہ بالا آیت میں عَلَی خَوْفٍ کا موزوں تر ترجمہ ہوگا ڈر کے باوجود۔ نہ کہ ڈر سے۔ ابن عاشور لکھتے ہیں:

(علی) فی قولہ: علی خوف من فرعون بمعنی (مع) مثل وآتی المال علی حبہ أی آمنوا مع خوفہم، وہی ظرف مستقر فی موضع الحال من (ذریة)، أی فی حال خوفہم المتمکن منہم وہذا ثناء علیہم بأنہم آمنوا ولم یصدہم عن الإیمان خوفہم من فرعون.

(466) کَانَ النَّاسُ أُمَّةً‌ وَاحِدَةً‌

اس جملے کا ترجمہ عام طور سے لوگوں نے صیغہ ماضی سے کیا ہے۔ یعنی لوگ ایک دین پر تھے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ دین کفر پر یا دینِ اسلام پر۔ تو کچھ مفسرین نے دینِ اسلام مراد لیا اور اس سے پہلے ایک جملہ محذوف مانا کہ وہ اس دین پر باقی نہ رہے، تو اللہ نے نبی بھیجے۔ بعض مفسرین نے أُمَّةً‌ وَاحِدَةً‌ سے دینِ کفر مراد لیا۔ انھیں کوئی جملہ محذوف کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔

مولانا امانت اللہ اصلاحی کا خیال ہے کہ یہاں کان زمانہ ماضی کے لیے نہیں بلکہ اثبات کے لیے ہے۔ قرآن میں متعدد مقامات پر کان محض اثبات کے لیے آیا ہے، جیسے: وَکانَ اللَّہُ غَفُوراً رَحِیما۔ ’اللہ غفور اور رحیم ہے‘۔ یہ رائے قدیم مفسرین کے یہاں بھی ملتی ہے۔ (دیکھیں تفسیر قرطبی)

اس کی ایک بہت مماثل نظیر یہ جملہ ہے:  کُنْتُمْ خَیْرَ أُمَّةٍ (آل عمران: 110) ’تم بہترین امت ہو‘ یہاں بھی کان ماضی کے لیے نہیں بلکہ اثبات کے لیے ہے۔

اس توجیہ کے مطابق ترجمہ ہوگا:

’لوگ ایک امت ہیں‘

یعنی اللہ نے انھیں ایک فطرت پر تخلیق کیا ہے۔ تمام انسان اس پہلو سے ایک امت ہیں کہ ان کے اندر وہ خصوصیات مشترک ہیں جو انھیں دوسری مخلوقات سے ممیز کرتی ہیں۔ وہ سب ایک نوع ہیں اور سب آدم کی اولاد ہیں، سب اس زمین کی بااختیار مخلوق (خلیفہ) ہیں اور عرصہ امتحان میں ہیں۔ اس پہلو سے درج ذیل ترجمے دیکھیں:  

کَانَ النَّاسُ أُمَّةً‌ وَاحِدَةً‌ فَبَعَثَ اللَّہُ النَّبِیِّینَ۔(البقرۃ: 213)

”ابتدا میں سب لوگ ایک ہی طریقہ پر تھے (پھر یہ حالت باقی نہ رہی اور اختلافات رونما ہوئے) تب اللہ نے نبی بھیجے“۔(سید مودودی)

”لوگ ایک ہی امت بنائے گئے۔ (انھوں نے اختلاف پیدا کیا) تو اللہ نے اپنے انبیاء بھیجے“۔(امین احسن اصلاحی)

”لوگ ایک دین پر تھے پھر اللہ نے انبیاء بھیجے“۔ (احمد رضا خان)

مولانا امانت اللہ اصلاحی کا ترجمہ ہے:

”سب لوگ ایک ہی امت ہیں، تو اللہ نے نبی بھیجے۔“

 وَمَا کَانَ النَّاسُ إِلَّا أُمَّةً‌ وَاحِدَةً‌ فَاخْتَلَفُوا۔(یونس: 19)

”ابتداء ً سارے انسان ایک ہی امّت تھے، بعد میں انہوں نے مختلف عقیدے اور مسلک بنا لیے“۔ (سید مودودی)

”اور لوگ ایک ہی امت تھے پھر مختلف ہوئے“۔ (احمد رضا خان)

”اور (سب) لوگ (پہلے) ایک ہی اُمت (یعنی ایک ہی ملت پر) تھے۔ پھر جدا جدا ہوگئے“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اور تمام لوگ ایک ہی امت کے تھے پھر انہوں نے اختلاف پیداکرلیا“۔ (محمد جوناگڑھی)

مولانا امانت اللہ اصلاحی کا ترجمہ ہے:

”سارے انسان ایک ہی امت ہیں، تو انھوں نے اختلاف کیا“۔

درج ذیل دونوں آیتوں کے مخاطب بھی تمام بنی نوع انسان ہوسکتے ہیں، یعنی اللہ انھیں یاد دلاتا ہے کہ وہ سب ایک انسانی گروہ ہیں، اور ان کا رب اللہ ہے۔

إِنَّ ہَذِہِ أُمَّتُکُمْ أُمَّةً‌ وَاحِدَةً‌ وَأَنَا رَبُّکُمْ فَاعْبُدُونِ۔ (الانبیاء: 92)

”تمہاری یہ امت ایک امت ہے اور میں تمہارا رب ہوں، سو میری عبادت کرو۔)

وَإِنَّ ہَذِہِ أُمَّتُکُمْ أُمَّةً‌ وَاحِدَةً‌ وَأَنَا رَبُّکُمْ فَاتَّقُونِ۔ (المومنون: 52)

”اور تمہاری یہ امت ایک امت ہے اور میں تمہارا رب ہوں، سو میری ناراضگی سے بچو“۔

جہاں تک ان آیتوں کی بات ہے جن میں یہ بات کہی گئی ہے کہ تم کو ایک امت نہیں بنایا گیا، تو اس سے مراد مشترک عقیدے والی امت ہے۔ جیسے:

وَلَوْ شَاءَ اللَّہُ لَجَعَلَکُمْ أُمَّةً‌ وَاحِدَةً‌۔ (النحل: 93)

”اور اگر اللہ چاہتا تو تمھیں ایک امت بنادیتا“۔

دراصل تمام انسان اس مفہوم میں ایک امت ہیں کہ وہ سب انسان ہیں اور ان کے اندر مشترک انسانی خصوصیات ہیں۔ جب کہ وہ اس مفہوم میں ایک امت نہیں بنائے گئے کہ لازمی طور پر ان کا دین اور عقیدہ بھی ایک ہوتا۔

(467) یَتَعَارَفُونَ بَیْنَہُمْ

درج ذیل آیت میں یَتَعَارَفُونَ بَیْنَہُمْ روز قیامت کے بارے میں ہے یا دنیا کی زندگی کے بارے میں؟  یَتَعَارَفُونَ بَیْنَہُمْ کا جملہ  یحشرھم کا حال ہے یا لم یلبثوا کا؟ مترجمین نے دونوں باتیں اختیار کی ہیں۔ معنوی لحاظ سے اسے لم یلبثوا کا حال بناکر دنیا کی زندگی سے متعلق ماننا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ یہ کہا جائے کہ قیامت کے دن وہ ایک دوسرے کو پہچانتے ہوں گے یا یہ کہا جائے کہ وہ پہچاننے کی کوشش کررہے ہوں گے، دونوں صورتوں میں تعارف کی معنویت واضح نہیں ہوتی۔ جب کہ اگر اسے دنیا کی زندگی سے جوڑ کر دیکھیں تو یہ بات آسانی سے سمجھ میں آتی ہے کہ قیامت کے دن انھیں لگے گا کہ دنیا میں وہ صرف گھڑی بھر کو رہے، وہ وقت  اتنا مختصر تھا کہ گویا ایک دوسرے کو سمجھنے میں ہی گزر گیا۔ درج ذیل ترجمے دیکھیں:  

وَیَوْمَ یَحْشُرُہُمْ کَأَنْ لَمْ یَلْبَثُوا إِلَّا سَاعَةً‌ مِنَ النَّہَارِ یَتَعَارَفُونَ بَیْنَہُمْ۔ (یونس: 45)

”اور جس دن اللہ ان کو اکٹھا کرے گا (اس دن وہ محسوس کریں گے کہ) گویا بس وہ دن کی ایک گھڑی رہے۔ وہ آپس میں ایک دوسرے کو پہچانتے ہوں گے“۔ (امین احسن اصلاحی)

”اور جس دن انہیں اٹھائے گا گویا دنیا میں نہ رہے تھے مگر اس دن کی ایک گھڑی آپس میں پہچان کریں گے“۔ (احمد رضا خان)

”اور جس دن خدا ان کو جمع کرے گا (تو وہ دنیا کی نسبت ایسا خیال کریں گے کہ) گویا (وہاں) گھڑی بھر دن سے زیادہ رہے ہی نہیں تھے (اور) آپس میں ایک دوسرے کو شناخت بھی کریں گے“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اور ان کو وہ دن یاد دلائیے جس میں اللہ ان کو (اپنے حضور) جمع کرے گا (تو ان کو ایسا محسوس ہوگا) کہ گویا وہ (دنیا میں) سارے دن کی ایک آدھ گھڑی رہے ہوں گے اور آپس میں ایک دوسرے کو پہچاننے کو ٹھہرے ہوں گے“۔ (محمد جوناگڑھی)

”اور جس روز اللہ اِن کو اکٹھا کرے گا تو (یہی دُنیا کی زندگی اِنہیں ایسی محسُوس ہوگی) گویا یہ محض ایک گھڑی بھر آپس میں جان پہچان کرنے کو ٹھیرے تھے“۔ (سید مودودی)

آخری دونوں ترجمے زیادہ مناسب ہیں۔

(468) مَاذَا یَسْتَعْجِلُ مِنْہُ الْمُجْرِمُونَ

اس جملے میں مِنْہُ کی ضمیر کا مرجع عذاب ہے۔ ترجمہ ہوگا کہ ’اس کی کس چیز کی مجرمین جلدی مچائے ہوئے ہیں۔‘

قُلْ أَرَأَیْتُمْ إِنْ أَتَاکُمْ عَذَابُہُ بَیَاتًا أَوْ نَہَارًا مَاذَا یَسْتَعْجِلُ مِنْہُ الْمُجْرِمُونَ۔ (یونس: 50)

”آپ فرما دیجئے کہ یہ تو بتلاؤ کہ اگر تم پر اللہ کا عذاب رات کو آپڑے یا دن کو تو عذاب میں کون سی چیز ایسی ہے کہ مجرم لوگ اس کو جلدی مانگ رہے ہیں“۔ (محمد جوناگڑھی)

”تم فرماؤ بھلا بتاؤ تو اگر اس کا عذاب تم پر رات کو آئے یا دن کو تو اس میں وہ کون سی چیز ہے کہ مجرموں کو جس کی جلدی ہے“۔ (احمد رضا خان)

”(ان سے) کہو کہ بتاؤ کہ اگر اللہ کا عذاب تم پر رات میں آدھمکے یا دن میں، تو کیا چیز ہے جس کے بل پر مجرمین جلدی مچائے ہوئے ہیں“۔ (امین احسن اصلاحی، یہاں بھی  مِنْہُ کا درست ترجمہ نہیں کیا گیا۔)

”اِن سے کہو، کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اگر اللہ کا عذاب اچانک رات کو یا دن کو آ جائے (تو تم کیا کر سکتے ہو؟) آخر یہ ایسی کون سی چیز ہے جس کے لیے مجرم جلدی مچائیں؟“ (سید مودودی، یہاں بھی  مِنْہُ  کا درست ترجمہ نہیں کیا گیا)

”کہہ دو کہ بھلا دیکھو تو اگر اس کا عذاب تم پر (ناگہاں) آجائے رات کو یا دن کو تو پھر گنہگار کس بات کی جلدی کریں گے“۔ (فتح محمد جالندھری، اس میں سقم یہ ہے کہ مستقبل کا ترجمہ کیا گیا ہے، دوسرا سقم یہ ہے کہ مِنْہُ  کا ترجمہ نہیں کیا گیا۔ ’کس بات‘ کہنے کے لیے مِنْہُ  نہیں آئے گا۔)

(469) وَمَا یَتَّبِعُ کا ترجمہ

درج ذیل جملے کے ترجمے میں مترجمین نے الگ الگ جہتیں اختیار کی ہیں:

وَمَا یَتَّبِعُ الَّذِینَ یَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّہِ شُرَکَاءَ إِنْ یَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ۔(یونس: 66)

”اور جو لوگ اللہ کے ماسوا کو پکارتے ہیں یہ شریکوں کی پیروی نہیں کررہے بلکہ محض گمان کی پیروی کررہے ہیں“۔ (امین احسن اصلاحی)

اس ترجمے میں شُرَکَاءَ کو مَا یَتَّبِعُ کا مفعول بہ بنایا گیا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ شرکاء کی پیروی کی نفی کیوں کی جارہی ہے؟ ان کی اتباع کوئی جائز امر تو ہے نہیں۔  شرکاء کی پیروی کرنا بھی اتنا ہی غلط ہے جتنا کہ نفس کی پیروی کرنا۔

”اور جو لوگ خدا کو چھوڑ کر دوسرے شریکوں کو پکارتے ہیں وہ ان کا بھی اتباع نہیں کرتے- یہ صرف اپنے خیالات کا اتباع کرتے ہیں“۔ (ذیشان جوادی)

اس ترجمے میں شُرَکَاءَ کو سابقہ دونوں افعال کا مفعول بہ بنایا گیا ہے۔ یہ توجیہ بھی تکلف سے بھرپور ہے۔ اس میں بھی وہ معنوی اشکال موجود ہے جو سابقہ ترجمہ میں ہے۔

”اور یہ جو خدا کے سوا (اپنے بنائے ہوئے) شریکوں کو پکارتے ہیں۔ وہ (کسی اور چیز کے) پیچھے نہیں چلتے۔ صرف ظن کے پیچھے چلتے ہیں“۔ (فتح محمد جالندھری)

اس ترجمے میں معنوی لحاظ سے کوئی اشکال نہیں ہے، لیکن لفظی لحاظ سے اشکال یہ ہے کہ اس معنی کی ادائیگی کے لیے ’شیئا‘ مفعول بہ ہونا چاہیے۔ اس طرح کے موقع پر مفعول بہ کو حذف نہیں کیا جاتا ہے۔

”اور جو لوگ اللہ کے سوا کچھ (اپنے خودساختہ) شریکوں کو پکار رہے ہیں وہ نِرے وہم و گمان کے پیرو ہیں“۔ (سید مودودی)

اس ترجمے میں وَمَا یَتَّبِعُ کا ترجمہ ہی نہیں کیا گیا ہے۔

”اور جو لوگ اللہ کو چھوڑ کر دوسرے شرکا کی عبادت کررہے ہیں کس چیز کی اتباع کر رہے ہیں۔ محض بے سند خیال کی اتباع کر رہے ہیں“۔ (محمد جوناگڑھی)

”اور کاہے کے پیچھے جارہے ہیں وہ جو اللہ کے سوا شریک پکار رہے ہیں، وہ تو پیچھے نہیں جاتے مگر گمان کے“۔ (احمد رضا خان)

درج بالا دونوں ترجمے آیت کے الفاظ کے عین مطابق ہیں۔ مزید یہ کہ کسی طرح کے نحوی یا معنوی اشکال سے بھی خالی ہیں۔ وَمَا یَتَّبِعُ میں ما استفہامیہ ہے اور شرکاء مفعول بہ ہے یدعون کا۔

(470) ترجمے میں ترتیب کا لحاظ

أَلَا إِنَّ أَوْلِیَاءَ اللَّہِ لَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُونَ۔ الَّذِینَ آمَنُوا وَکَانُوا یَتَّقُونَ۔ لَہُمُ الْبُشْرَی فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا وَفِی الْآخِرَةِ۔(یونس: 62 - 64)

”سُنو! جو اللہ کے دوست ہیں، جو ایمان لائے اور جنہوں نے تقویٰ کا رویہ اختیار کیا، ان کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے، دُنیا اور آخرت دونوں زندگیوں میں ان کے لیے بشارت ہی بشارت ہے“۔ (سید مودودی)

درج بالا ترجمے میں جملوں کی ترتیب بدل گئی ہے۔ یہ دو خبریہ جملے ہیں، ہر جملے کی اپنی الگ معنویت ہے۔ درج ذیل ترجمے میں ترتیب کا خیال رکھا گیا ہے۔

”سن لو بیشک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خو ف ہے نہ کچھ غم۔ وہ جو ایمان لائے اور پرہیزگاری کرتے ہیں، انہیں خوشخبری ہے دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں“۔ (احمد رضا خان)

رفتید، ولے نہ از دلِ ما!

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

3 جمادی الثانی 1445ھ (18 دسمبر 2023ء) کو استاذِگرامی پروفیسر ڈاکٹر محمد الغزالی، رکن شریعت اپیلیٹ بنچ سپریم کورٹ آف پاکستان،  کا انتقال ہوا۔ ان کے ساتھ تقریباً 3 دہائیوں کا تعلق تھا جس میں انھوں نے میرے مشفق مربی اور مرشد کا کردار ادا کیا۔ ان کی وفات کی خبر نے بہت دکھی کیا، لیکن ہم کہیں گے وہی جس سے ہمارا رب راضی ہو۔

3 دہائیوں کا قصہ چند صفحات میں نہیں بیان کیا جاسکتا لیکن میں نے کوشش کی ہے کہ ان کی شخصیت کے کچھ پہلوؤں پر تھوڑی سی گفتگو ضرور ہو تاکہ نئی نسل کو معلوم ہو کہ کیسے اساطین تھے جو ہم نے کھو دیے ہیں!

غزالی صاحب کے ساتھ ابتدائی تعارف

غزالی صاحب کے ساتھ پہلا تعارف1995ء میں ہوا جب میں اسلامی یونیورسٹی میں ایل ایل بی آنرز شریعہ و قانون کا طالب علم تھا۔ ان دنوں وہ سوشل سائنسز کا کورس پڑھاتے تھے لیکن جس سیکشن کو وہ پڑھاتے تھے میں اس سیکشن میں نہیں تھا۔ (ہمارے سیکشن کو یہ کورس ایک اور عظیم استاذ پروفیسر ڈاکٹر سفیر اختر صاحب نے پڑھایا۔) دوسرے طلبہ سے غزالی صاحب کے علمی تبحر کے علاوہ ان کی شفقت کی کہانیاں سن کر دل میں ان سے ملنے کا اشتیاق پیدا ہوا لیکن ان کے رعب اور جلال کی وجہ سے ان سے ملاقات میں سلام کے سوا کچھ بات نہیں ہوسکی۔ ان دنوں اسلامی یونیورسٹی میں سیمینارز کا سلسلہ پورے زور و شور سے جاری تھا اور تقریباً ہر ہفتے کسی اہم موضوع پر سیمینار ہوتا تھا جس میں ممتاز اہلِ علم کو سن کر، دیکھ کر، بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملتا تھا۔ غزالی صاحب سے ایسے سیمینارز میں سیکھنے کا موقع ملا اور ایک آدھ دفعہ سوال (اور کسی حد تک اعتراض) کی جسارت بھی کی جسے انھوں نے کمال تحمل سے سنا اور پھر بہت خوبی سے اپنا موقف واضح کیا۔ اب دل میں ان کے رعب کے ساتھ احترام نے بھی جنم لیا۔

انھی دنوں ایک صاحب کے ساتھ حدیث و سنت کی حجیت پر بحث چل رہی تھی۔ میں نے ان کے سامنے ایک دلیل یہ رکھی (جو مولانا تقی عثمانی صاحب کی کتاب سے سیکھی تھی، بعد میں معلوم ہوا کہ یہی دلیل ان سے قبل مولانا ابو الاعلی مودودی نے بھی دی تھی) کہ قرآن کریم میں بعض مقامات پر ایسے احکامات کو اللہ کا حکم قرار دیا گیا ہے جو رسول اللہ ﷺ کی سنت سے ثابت شدہ ہیں، جیسے قرآن مجید میں بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنے کا حکم کہیں نہیں دیا گیا لیکن جب کعبہ کی طرف رخ کرنے کا حکم دیا گیا تو پہلے قبلے کے متعلق قرار دیا گیا کہ وہ قبلہ ہم نے ہی مقرر کیا تھا (وَمَا جَعَلۡنَا ٱلۡقِبۡلَةَ ٱلَّتِي كُنتَ عَلَيۡهَآ إِلَّا لِنَعۡلَمَ مَن يَتَّبِعُ ٱلرَّسُولَ مِمَّن يَنقَلِبُ عَلَىٰ عَقِبَيۡهِۚ)۔ ان صاحب نے اس کے جواب میں (غلام احمد پرویز سے مستعار لی گئی) دلیل پیش کی لیکن اسلوب استہزائیہ تھا (جیسے عام طور پر منکرینِ حدیث کا ہوتا ہے)۔ان دنوں میں مولانا تقی عثمانی صاحب کو خطوط لکھ کر ان سے مختلف امور میں رہنمائی حاصل کرتا تھا۔ ایک خط میں اس طرف توجہ دلائی اور ان سے درخواست کی کہ وہ خود اس پر کچھ لکھیں تو شاید زیادہ مفید ہو۔ انھوں نے جواب میں کہا کہ یہ شخص شہرت کا طالب معلوم ہوتا ہے، اس لیے اسے نظر انداز کرنا ہی بہتر ہے۔ مجھے (شاید نوجوانی کے جوش کی وجہ سے) یہ جواب مطمئن نہیں کرسکا۔ میں ایک دن ان صاحب کی تحریر، مولانا تقی عثمانی صاحب کے نام اپنا خط اور ان کا جواب لے کر غزالی صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ان کے ساتھ دو تین اور اصحاب بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے ان کے سامنے مدعا پیش کیا۔ انھوں نے ان صاحب کی تحریر مانگی اور چند سطریں پڑھ کر اچانک جلال میں آگئے اور کہا کہ ایسے بے ہودہ لوگ بحث کے لائق نہیں ہوتے، مولانا تقی عثمانی صاحب نے بالکل درست تشخیص کی ہے۔ اس کے بعد انھوں نے اپنے طور پر  مجھے اس اعتراض کا جواب بھی دیا (یہ کہانی پھر سہی) لیکن انھوں نے بھی زور دیا کہ ان صاحب کو منہ لگانے کی ضرورت نہیں ہے۔ 

اس کے بعد بھی غزالی صاحب سے وقتاً فوقتاً استفادے کا سلسلہ جاری رہا لیکن سچی بات یہ ہے کہ ان کی جلالی طبیعت کی وجہ سے ان کے ساتھ تفصیلی بحث نہیں ہوسکی۔ ان کے برادر بزرگ استاذِ گرامی ڈاکٹر محمود احمد غازی (رحمہ اللہ) کے ساتھ تعلق کی نوعیت دوسری تھی۔ وہ بظاہر بہت بارعب اور سنجیدہ تھے، علمی دنیا میں ان کا مرتبہ اپنی جگہ، یونیورسٹی کی انتظامیہ میں بھی وہ اعلی مقام پر تھے (نائب صدرِ جامعہ) اور اسلامی نظریاتی کونسل اور دیگر ریاستی اداروں کے ساتھ بھی ان کا تعلق تھا۔ اس بنا پر ان سے بات کرنی بظاہر بہت دشوار ہونی چاہیے تھی لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ ان سے تفصیلی بحث میں کبھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔ غازی صاحب کے ساتھ بے تکلفی اور غزالی صاحب کے ساتھ نسبتاً سنجیدہ تعلق پر مبنی  یہ سلسلہ کئی برسوں تک چلتا رہا۔

پیر و مرشد

اس تعلق میں تبدیلی تب آئی جب 2008ء میں استاذِ گرامی ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری صاحب (رحمہ اللہ) کے اصرار پر میں نے ادارۂ تحقیقاتِ اسلامی میں مختلف پروجیکٹس پر کام شروع کیا۔ اب غزالی صاحب کے ساتھ بے تکلفی کے اسباب بھی بن گئے۔ایک دن ادارے کے ایک سیمینار میں شرکت کےلیے پہنچا تو دیکھا کہ غزالی صاحب سٹیج سے دور، دروازے کے قریب بیٹھے ہوئے ہیں۔ میں نے عرض کی کہ سر آپ کو آگے بیٹھنا چاہیے۔ کہنے لگے، حضرتِ داغ جہاں بیٹھ گئے بیٹھ گئے! پھر مسکرا کر کہا، کہ یہ جگہ اس لیے بہتر ہے کہ جب دیکھا کہ مقررین محض وقت ضائع کررہے ہیں، تو اٹھ کر نکل گئے!

ایک دن ادارے میں سیمینار میں گفتگو کی باری میری تھی۔ غزالی صاحب مقررہ وقت سے 5 منٹ قبل پہنچ گئے۔ دعا سلام اور حال احوال پوچھنے کے بعد اچانک گھڑی کی طرف دیکھا اور پھر کہا کہ وقت ہوگیا ہے، بسم اللہ کریں۔ میں نے کہا کہ بزرگوں کو آنے دیں، سر۔ کہنے لگے:

تیشے بغیر مر نہ سکا کوہکن، اسدؔ
سرگشتۂ خمارِ رسوم و قیود تھا!

پھر کہا، آپ سے یہ امید نہیں تھی کہ آپ بھی سرگشتۂ خمارِ رسوم و قیود ہوں گے۔ چنانچہ میں نے میزبان اور دیگر مہمانوں کی آمد کا مزید انتظار کیے بغیر اپنا مقالہ پڑھنا شروع کیا۔ کچھ دیر میں لوگ آگئے لیکن (شاید غزالی صاحب کو دیکھ کر ہی) کسی نے اعتراض نہیں کیا، نہ ہی برا مانا۔ یہ ان کی تربیت کا ایک انداز تھا۔ اس دن سے میں نے انھیں اپنا مرشد مان لیا تھا۔

ادارے میں چونکہ میرے مقالات بالعموم فقہ اور اصول کے موضوع پر ہوتے تھے، تو ایک دن غزالی صاحب نے مجھے مخاطب کرکے کہا: مولانا مشتاق احمد نعمانی! آپ یہ مقالات کتابی صورت میں کیوں شائع نہیں کرتے؟ میں نے کہا، کہ ارادہ ہے لیکن دیکھیں کب توفیق ملتی ہے؟ انھوں نے دعا بھی دی اور تحسین بھی کی، پھر کہا کہ آپ نام کے ساتھ نعمانی کیوں نہیں لکھتے؟ میں نے عرض کی کہ میں خود کو اس نسبت کا حق ادا کرنے کا اہل نہیں سمجھتا۔ اس کے بعد بھی اکثر وہ مجھے اسی نسبت کے ساتھ پکارتے تھے۔ یہ ان کی محبت اور حوصلہ افزائی کا انداز تھا۔

شریعت اپیلیٹ بنچ، سپریم کورٹ، کی رکنیت

2010ء میں غزالی صاحب سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بنچ کے رکن بنے اور اس کے بعد ان کے ساتھ مختلف مقدمات کے قانونی اور فقہی پہلوؤں پر بارہا تفصیلی گفتگو کا موقع ملا۔ وہ مقاصدِ شریعت اور قواعد فقہیہ کے ذریعے شریعت کے عمومی مزاج کی بہت عمدہ وضاحت کرتے تھے اور اس پہلو سے ان کے طریقِ استدلال اور منہج پر شاہ ولی اللہ کی حجۃ اللہ البالغہ کا گہرا اثر نظر آتا تھا لیکن اس کے ساتھ ان کے کام کی ایک بڑی خصوصیت یہ تھی کہ وہ نصوص، بالخصوص قرآن کی کی آیات، سے برمحل استدلال کرتے تھے۔ ان کا استحضار قابل رشک اور ان کا استدلال قابلِ تقلید ہوتا۔

شریعت اپیلیٹ بنچ میں دو طرح کے مقدمات آتے ہیں: ایک، حدود مقدمات میں سیشن کی عدالت کے فیصلے کے خلاف پہلی اپیل وفاقی شرعی عدالت کو، اور دوسری اپیل سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بنچ کو ہوتی ہے؛ دوم، جب کسی قانون کو "قرآن و سنت میں مذکور اسلامی احکام سے تصادم" کی بنیاد پر وفاقی شرعی عدالت میں چیلنچ کیا جائے (جسے "شریعت درخواست" کہا جاتا ہے) تو پھر وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بنچ میں ہوتی ہے۔ پہلی قسم کے مقدمات بھی اہم ہوتے ہیں لیکن غزالی صاحب کی زیادہ دلچسپی شریعت درخواستوں کی اپیلوں میں ہوتی تھی کیونکہ ان کے ذریعے قوانین سے غیر اسلامی امور دور کرنے کا موقع ملتا تھا۔ سپریم کورٹ کے اس بنچ کی تشکیل کا اختیار چیف جسٹس کے پاس ہوتا تھا اور غزالی صاحب کو مسلسل یہ گلہ رہا کہ ہمارے جو بھی چیف جسٹس بنے، انھوں نے ان اپیلوں کی سماعت سے مسلسل گریز کا رویہ اختیار کیا۔ غزالی صاحب وقتاً فوقتاً انھیں یاد دلاتے بھی رہے۔ چنانچہ ایک بار چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے انھیں یہ کام سونپ دیا کہ وہ ان تمام اپیلوں کے متعلق ایک جامع رپورٹ ان کےلیے تیار کریں جس کے بعد وہ ان مقدمات کی سماعت کا سلسلہ شروع کرلیں گے۔ غزالی صاحب نے 1989ء سے 2019ء تک 30 سال کے زیرِ التوا مقدمات کے متعلق ایک جامع رپورٹ تیار کرکے ان کے حوالے کی لیکن کوئی عمل درآمد کی صورت پیدا نہیں ہوئی۔ البتہ 2020ء میں چیف جسٹس گلزار احمد نے شریعت درخواستوں کی اپیلوں کے بجاے حدود مقدمات کی اپیلوں کےلیے چند دن شریعت اپیلیٹ بنچ کے سامنے مقدمات رکھے۔ پھر رات گئی، بات گئی۔

ستمبر 2023ء میں جب قاضی فائز عیسیٰ صاحب نے چیف جسٹس کا منصب سنبھالا، تو مجھے سیکرٹری کی ذمہ داریاں دیتے ہوئے خصوصاً شریعت اپیلیٹ بنچ کے سامنے زیرِ التوا مقدمات پر رپورٹ کا کام سونپا۔ مجھے غزالی صاحب کی رپورٹ کا علم تھا۔ میں نے ان سے رابطہ کیا، تو وہ بہت خوش ہوئے۔ پھر انھوں نے قاضی صاحب سے اس موضوع پر تبادلۂ خیال کیا۔ قاضی صاحب نے انھیں بتایا کہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے نفاذ کے بعد اب مقدمات کی سماعت کےلیے بنچ بنانے کا اختیار تنہا چیف جسٹس کے پاس نہیں رہا، بلکہ اب چیف جسٹس اور دو سینیئر ججوں پر مشتمل کمیٹی اس کافیصلہ کرتی ہے، البتہ میری کوشش ہوگی کہ جنوری سے ہم اس کی سماعت کا سلسلہ شروع کرلیں۔ غزالی صاحب نے انھیں بتایا کہ انھوں نے اس سلسلے میں ایک رپورٹ پہلے سے تیار کی ہوئی ہے۔ قاضی صاحب کے کہنے پر غزالی صاحب نے اس رپورٹ کی نقل مجھے دے دی۔ میں نے تمام مقدمات کی فائلیں منگوا کر انھیں پڑھا اور پھر غزالی صاحب کے مشورے اور رہنمائی میں ایک لائحۂ عمل تیار کیا، لیکن معلوم نہیں تھا کہ تقدیر میں کچھ اور ہی لکھا ہوا ہے اور  18 دسمبر کو غزالی صاحب کا انتقال ہوا۔ شریعت اپیلیٹ بنچ بھی اب ادھورا رہ گیا ہے۔ آگے کا کام مشکل ہوگیا ہے لیکن، ان شاء اللہ، غزالی صاحب کی یہ آخری خواہش پوری کرنے کی ہم پوری کوشش کریں گے۔ یہ صرف غزالی صاحب کی خواہش ہی نہیں، آئینی ذمہ داری بھی ہے اور ایمان کا تقاضا بھی۔

'نرا وکیل ہی نہ رہ جائے!'

شریعت اپیلیٹ بنچ میں زیرِ التوا مقدمات سے یاد آیا کہ سودی قوانین کے خلاف شریعت درخواستوں پر وفاقی شرعی نے 1991ء میں فیصلہ دیا تھا اور انھیں اسلامی احکام سے تصادم کی بنیاد پر کالعدم قرار دیا تھا، لیکن اس فیصلے کے خلاف حکومت اپیل میں گئی تو شریعت اپیلیٹ بنچ نے 1999ء میں اپنا فیصلہ دیا اور وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ تاہم جب اس فیصلے کے خلاف نظرِ ثانی کی درخواستیں دائر کی گئیں، تو ان کی سماعت کے بعد 2002ء میں شریعت اپیلیٹ بنچ نے اپنا 1999ء کا فیصلہ ختم کردیا اور مقدمہ واپس وفاقی شرعی عدالت میں از سرِ نو سماعت کےلیے بھیج دیا۔ شریعت اپیلیٹ بنچ کا یہ دوسرا فیصلہ آئینی اور قانونی اصولوں کی بنیاد پر بہت کمزور تھا۔ غزالی صاحب کے لائق فائق فرزند احمد حمزہ غزالی نے اپنا ایل ایل ایم کا مقالہ اس فیصلے کے تنقیدی جائزے پر میری نگرانی میں لکھا۔ چونکہ اس دوران میں حمزہ نے وکالت بھی شروع کی تھی جس کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں اور ابتدائی مرحلے پر قدم جمانے میں بھی بہت وقت لگتا ہے، اس لیے مقالہ لکھنے میں حمزہ نے کافی وقت لگایا۔ غزالی صاحب اس سلسلے میں بہت فکرمند تھے اور کبھی مجھے گھر پر بلا کر، کبھی فون پر اس سلسلے میں فکرمندی کا اظہار کرتے اور مجھے کہتے کہ اپنے شاگرد سے کام لیں۔ وہ خصوصاً اس بات پر زور دیتے کہ حمزہ کہیں نرا وکیل ہی نہ رہ جائے! حمزہ نے، ما شاء اللہ، بہت ہی عمدہ مقالہ لکھا جو اس موضوع پر برہانِ قاطع کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس دن غزالی صاحب کی خوشی دیدنی تھی!

غزالی صاحب کی حیثیت میرے لیے تو پیر و مرشد کی تھی۔ جب بھی کسی الجھن کا سامنا کیا، بے چینی محسوس کی، رہنمائی کی ضرورت محسوس ہوئی، انھیں پیغام بھیجا، اور وہ ہمیشہ کھلے دل سے استقبال کرتے۔ بلکہ بارہا تو ایسا ہوا کہ ان کی جانب سے ملاقات کےلیے کہا گیا اور میں ادھر ادھر کے مسائل میں گرفتار، نہ جاسکا، تو پھر شرمندگی محسوس ہوتی، پھر حمزہ کا وسیلہ پکڑتا اور ان کے ذریعے غزالی صاحب کی بارگاہ میں ملاقات کےلیے عرضی پیش کرتا، لیکن انھوں نے ایک بار بھی انکار نہیں کیا۔ ان کے ہاں حاضری ہوتی، تو مجھے ان کی صحت اور آرام کا بھی خیال رہتا اور کوشش ہوتی کہ انھیں زیادہ زحمت نہ دوں، لیکن مغرب سے عشاء کا وقت ہوجاتا، وہ اصرار کرکے مجھے نماز پڑھانے کےلیے آگے کرتے، کبھی میری مان کر حمزہ کو آگے کردیتے (حمزہ کی تلاوت، ما شاء اللہ، بہت پیاری ہے)، اور پھر عشاء کے بعد بھی دیر تک محفل جاری رہتی۔ اس دوران میں ان کی مہمان نوازی کا بھی لطف اٹھاتا، ان کی خوبصورت گفتگو کا بھی حظ لیتا اور ان سے بھرپور رہنمائی بھی حاصل کرتا۔ اس محفل کا اثر پھر اگلے کئی دنوں، بلکہ ہفتوں تک جاری رہتا۔

پشتو اور پشتونوں سے محبت

غزالی صاحب کو اپنے برادرِ بزرگ غازی صاحب کی طرح پشتو اور پشتونوں کے ساتھ خصوصی محبت تھی۔ غازی صاحب سے تو ہم نے پشتو کا ایک آدھ ہی جملہ سنا تھا لیکن غزالی صاحب تو بڑی روانی سے اور صاف لہجے میں پشتو بولتے تھے۔ کئی بار انھوں نے کہا کہ اس کا کریڈٹ ان کے مدرسے کے زمانۂ طالب علمی کے دوستوں اور اساتذہ کو جاتا ہے جن میں بہت سے پشتو بولنے والے تھے۔ پشتونوں اور افغانوں سے خصوصاً اور وسط ایشیائی اقوام سے عموماً ان کو دلچسپی تھی اور ان کے احوال سے آگاہ رہنے کی کوشش کرتے۔ دو دفعہ میں افغانستان گیا اور واپس آیا تو غزالی صاحب کے ساتھ تفصیلی نشستیں وہاں کے حالات کے بارے میں ہوئیں۔ چند مہینے قبل ملاقات میں انھوں نے خود افغانستان کی سیر کی خواہش کا اظہار کیا اور ہمارے دوست ڈاکٹر احمد خالد حاتم (صدر، کاردان یونیورسٹی، کابل) جنھوں نے ادارۂ تحقیقاتِ اسلامی اور سپریم کورٹ میں غزالی صاحب کے ساتھ کام کیا، کا نمبر لے کر ان سے آنے جانے کے متعلق تفصیلی رہنمائی لی۔ بعد میں کچھ صحت کے مسائل اور کچھ مصروفیات کی وجہ سے باقاعدہ پروگرام نہیں بن سکا، لیکن اس خواہش کا اظہار انھوں نے متعدد بار کیا۔

افغانستان کے ساتھ خصوصی لگاؤ غازی صاحب کو بھی بہت تھا۔جب انھیں معلوم ہوا کہ میرے والد صاحب کا ایم فل کا مقالہ اقبال اور افغانستان کے موضوع پر ہے، تو انھوں نے میرے والد صاحب سے ملاقات اور یہ مقالہ پڑھنے کی خواہش کا اظہار کیا اور کہا کہ مجھے تو افغانستان سے بھی محبت ہے اور اقبال سے بھی۔ کچھ یہی حالت غزالی صاحب کی بھی تھی۔ اسی طرح انھیں قائدِ اعظم سے بھی والہانہ محبت تھی اور پاکستانیت تو ان کی رگ رگ میں رچی بسی تھی۔ ان کے موبائل پر کالنگ ٹیون کے طورپر پاکستان کا ترانہ سنا جاتا۔

'رگِ فاروقیت'

غزالی صاحب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے تھے اور مجدد الف ثانی کے الفاظ میں ان کی رگِ فاروقیت جب پھڑک اٹھتی، تو پھر وہ سماں دیکھنے والا ہوتا۔ حق و باطل کے معرکے میں وہ کسی مداہنت کے قائل نہیں تھے اور ڈنکے کی چوٹ پر بلند آہنگ سے کلمۂ حق کہنا ان کی ایسی خصوصیت تھی جس کی وجہ سے بڑے بڑے ان کا سامنا کرنے سے گھبراتے تھے اور ان کو دیکھ کر راستہ چھوڑ دیتے۔ ان کے برادرِ بزرگ غازی صاحب بہت متحمل مزاج اور وسیع الظرف تھے اور لوگوں کی بے ہودگی کا سامنا  ایک خندۂ زیرِ لب کے ساتھ کرتے تھے۔ غزالی صاحب ان کے اس تحمل کے بھی شدید ناقد تھے اور بعض اوقات اسے docility سے تعبیر کرتے (ان فاروقی برادران کے مزاجوں کا موازنہ ایک بہت دلچسپ موضوع ہے، آگے اس ضمن میں خود غزالی صاحب کے بعض کلمات پیش کروں گا)، لیکن بعض اوقات ان کی رگِ فاروقیت بھی پھڑک اٹھتی، تو پھر عجیب ہی منظر ہوتا۔ یہ خصوصاً تب ہوتا جب قائدِ اعظم، علامہ اقبال یا پاکستان کے متعلق کوئی ہلکی یا غلط بات کہی جاتی۔ غزالی صاحب میں فاروقیت کی یہ خصوصیت بدرجۂ اتم پائی جاتی تھی۔

ایک دن یونیورسٹی کی اکیڈمک کونسل کی میٹنگ تھی۔ تمام پروفیسر بیٹھے تھے۔ یونیورسٹی کی علمی پالیسی پر بحث ہونی تھی لیکن صدرِ جامعہ کا طول طویل خطبہ تھا کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ غزالی صاحب نے ایک چٹ پر یہ عبارت لکھ کہ مجھے دی اور پھر اٹھ کر چلے گئے: "اگر دنیا میں کہیں لایعنی گفتگو کا مقابلہ ہو، تو یہ ۔۔۔ اس مقابلے میں اول انعام کے حق دار قرار پائیں گے۔"

جمعہ کی نماز عموماً فیصل مسجد میں ہی پڑھتے تھے۔ ایک دن مصر کے ایک پروفیسر خطبے دے رہے تھے۔ خطبہ کیا تھا، سورۃ ہود میں انبیاے کرام علیہم السلام کے متعلق وارد آیات کی مادی اور اشتراکی تعبیر پر مبنی ایک طویل تقریر تھی۔ میں پچھلی صفوں میں تھا، لیکن اچانک دیکھا کہ غزالی صاحب جو اگلی صفوں میں تھے، اٹھ کھڑے ہوئے اور خطیب کو ٹوکا کہ یہ آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں یہ قرآن کی معنوی تحریف ہے۔ چمچوں کڑچوں کو یہ بہت برا لگا، لیکن فاروقی خون کے سامنے کون دم مار سکتا تھا۔ خطیب نے بوکھلا کر خطبہ فوراًہی ختم کردیا۔ نماز کے بعد میں غزالی صاحب کو ڈھونڈ رہا تھا، لیکن رش کی وجہ سے ملاقات نہیں ہوسکی۔ میں اپنے دفتر آیا (ان دنوں میں شریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل کی حیثیت سے فرائض سرانجام دے رہا تھا)، تو کچھ ہی دیر میں غزالی صاحب تشریف لائے۔ ابھی تک جلال کی کیفیت میں تھے۔فرمایا کہ ان احمقوں کو یہ علم نہیں ہے کہ یہ پاکستان ہے، مصر نہیں ہے۔ مزید فرمایا کہ اگلی صفوں میں بڑے بڑے نابغے بیٹھے تھے لیکن کسی کو توفیق نہیں ہوئی کہ اس بے ہودہ یاوہ گوئی پر اعتراض کرتا، اس لیے مجبوراً مجھے ہی کہنا پڑا۔ میں نے عرض کی یہ کام آپ ہی کرسکتے تھے۔ بہرحال، یہ صرف جذباتی معاملہ نہیں تھا بلکہ وہ اسے علی وجہ البصیرت باطل جانتے تھے اور اس وجہ سے انھوں نے میرے دفتر میں بیٹھے بیٹھے یونیورسٹی کے بعض اعلی حکام کو اس معاملے پر تفصیلی تنقیدی پیغام بھیجا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ صاحب اس کے بعد فیصل مسجد میں خطبہ دینے کےلیے کبھی نہیں آئے۔

خود احتسابی

یہ بات واضح رہے کہ جو معیار غزالی صاحب نے دوسروں کےلیے مقرر کیا تھا، اپنے لیے اس سے کہیں زیادہ کڑا معیار مقرر کیا تھا۔ خود احتسابی کی جو صفت میں نے ان میں دیکھی شاذ ہی کہیں اور نظر آئی ہے۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان کے ایک پیغام کو یہاں جوں کا توں نقل کروں۔ ایک دن انھوں نے مجھے لکھا کہ مجھے ان کے موقف میں یا کام میں کوئی بات غلط نظر آئے، تو میں مداہنت بالکل نہ کروں۔ میں نے عرض کی کہ ایسی کوئی بات مجھے نظر آئی، تو ادب و احترام کے تقاضے ملحوظ رکھتے ہوئے میں، ان شاء اللہ، ضرور توجہ دلاؤں گا۔ اس پر انھوں نے لکھا:

"میں جس طرح کی بے تکلفی برتتا ہوں وہی بے تکلفی آپ سے برتنے کی امید رکھتا ہوں اور اللہ تعالی کو گواہ بنا کر عرض کرتا ہوں کہ یہ بات آپ سے کہنے میں بالکل سچا اور مخلص ہوں ۔آپ اس کو ہرگز تواضع پر محمول نہ کریں اور میری چھوٹی بڑی ہر غلطی پر متنبہ کیا کریں اور یقین جانئے ناصحانہ تنقید چاہے جارحانہ ہو وہ سن کر میں بہت خوش ہوتا ہوں اور الحمد للہ ہر ہما شما کی تعریف کا اثر میرے نفس امٌارة پر بالکل نہیں ہوتا۔البتہ اگر کوئی صاحب علم اگر کسی بات کی تحسین کرے تو  مزید کام کرنے کا حوصلہ بڑھتا ہے ۔2010 میں شرعی عدالت کے جج بننے کے چھ ماہ کے اندر اندر ہی میرے دنیا میں سب سے بڑے کیا ، بلکہ واحد معلم ومربی، مخلص بھائی اور بے تکلف دوست دنیا سے رخصت ہوگئے اس وقت سے باوجود کوشش کے کوئی ایسا نہیں مل سکا جو میرے دل میں ان کی جگہ لے سکے۔اور محاورے میں نہیں بلکہ حقیقت میں تنہا محسوس کرتا ہوں، حمزہ سلمہ کو اس ڈھب پر لانے کی کوشش کرتا ہوں، وہ کبھی کبھار دائرہ ادب میں رہتے ہوئے مجھ پر ہلکی پھلکی تنقید کر بھی لیتا ہے مگر بہرحال وہ میرا بیٹا اور میں اس کا باپ ہوں وہ تنقید میں کہاں تک جاسکتا ہے؟اس ساری گذارش کا مقصد ، جو کہ دل کی گہرائیوں سے کررہا ہوں ، یہ ہے کہ آپ سے امید رکھتا ہوں کہ میرے حقیقی بھائی جان کی جگہ آپ لیں اور میرا ہاتھ تھام لیں ۔حالیہ بیماریوں کے ہجوم میں اب ذہنی و علمی و فکری تنہائی کا  یہ احساس شدید تر ہوگیا ہے۔آپ کو شاید یقین نہ آئے مگر میرے اور بھائی جان مرحوم کے درمیان جو بے تکلفی کی سطح تھی وہ ایسی تھی کہ ہم دونوں ایک دوسرے پر ایسی سخت تنقید کرتے تھے کہ کوئی اجنبی دیکھتا تو ہمیں جانی دشمن ہی سمجھتا۔امید ہے آپ میری گذارش پر سنجیدگی سے عمل پیرا ہوں گے ۔"

اس کے جواب میں میں کیا عرض کرتا؟ میں تو سکتے میں چلا گیا۔ کچھ دیر میں ان کا دوسرا پیغام آیا:

" اگر ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام- جو انبیاء کے بعد افضل البشر ہیں اور ہمارے لئے قابل تقلید- تو محسوس ہوگا کہ وہ آپس میں بہت بے تکلف تھے اور ایک دوسرے پر ایسی کڑی تنقید کرتے تھے کہ کسی اور معاشرت میں اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ ایک مثال یاد آئی۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بزرگترین اصحاب شیخین تھے رضی اللہ عنہما،جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مانعین زکوة کے خلاف لشکر بھیجنے چاہتے تھے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس بارے میں بڑے خدشات اور تحفظات تھے۔کئی دن شیخین کے مابین اس پر بحث مباحثہ ہوتا رہا، ایک موقع پر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے دوران گفتگو یہ فرمایا:"أجبٌار في الجاهلية خوٌار في الاسلام؟ اب آپ بتائیے کہ آج اگر کوئی اپنے قریبی رفیق اور دوست سے ایسے الفاظ کہ دے تو وہ دوستی کتنے دل چل سکتی ہے؟ اس بات سے اندازہ کرسکتے ہیں کہ ہماری معاشرت اسلام کے معیار سے کتنی پست ہوچکی ہے ۔اور یہ سب عجمیت کے اثرات ہیں، یہی وجہ ہے کہ علامہ اقبال عجمیت کے اثرات کے اتنے بڑے ناقد تھے۔"

آج بھی یہ پیغام پڑھ کر آنکھوں سے آنسو رواں ہیں۔ رحمہ اللہ رحمۃ واسعۃ

نفیِ ذات

غزالی صاحب حقیقی معنوں میں صوفی تھے۔ لوگ ان کے رعب اور جلالی مزاج کی وجہ سے سمجھتے ہیں کہ شاید ان میں انانیت ہو لیکن جو انھیں جانتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ وہ ایک فقیر منش اور سادہ مزاج آدمی تھے جو پروٹوکول اور 'ہٹو بچو' کی صداؤں سے ہمیشہ گریز کرتے تھے اور کوشش کرتے تھے کہ مجلس میں کسی ایسی جگہ بیٹھ جائیں جہاں ان کی انفرادیت اور خصوصی حیثیت کسی پر واضح نہ ہو۔ نفیِ ذات کے بے شمار مناظر ہم نے دیکھے ہیں۔ 2019ء میں جب ہم شریعہ اکیڈمی کے زیرِ اہتمام پاکستان میں قوانین کی اسلامیت کے موضوع پر ایک تین روزہ کانفرنس کی تیاریاں کررہے تھے، تو قدم قدم پر ان کی جانب سے رہنمائی اور مدد میسر رہی، لیکن ان کا کہنا تھا کہ وہ خود صرف سامع کی حیثیت سے ہی شریک ہوسکیں گے۔ میں نے بڑی مشکلوں سے اور منت سماجت کے بعد انھیں قائل کیا کہ وہ ایک سیشن کی صدارت کریں۔ اسی طرح افتتاحی تقریب میں بڑی مشکلوں سے ان کو راضی کیا کہ وہ سٹیج پر رونق افروز ہوں۔ اس تقریب میں سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ صاحب کلیدی خطبہ دے رہے تھے اور اس موقع پر غزالی صاحب کے قد کاٹھ کی شخصیت کا سٹیج پر موجود ہونا ضروری تھا۔ خواجہ صاحب خود بھی صوفی منش آدمی ہیں۔ انھوں نے اپنی گفتگو میں غزالی صاحب کا تذکرہ تو کیا سو کیا، یہ بھی ذکر کیا کہ وہ خود غزالی صاحب کے فرزند حمزہ کے شاگرد ہیں جن سے انھوں نے عربی سیکھنے کی کوشش کی!

آج یہ بات بھی عرض کرتا چلوں کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ صاحب کے ساتھ میرا تعلق اسی کانفرنس کی وجہ سے بنا اور اس کا سبب بھی غزالی صاحب ہی بنے تھے۔ قاضی صاحب کے ساتھ میری ایک مختصر ملاقات 2015ء میں جسٹس جواد خواجہ صاحب کے چیمبر میں ہوئی تھی جب میں نے ایک فیصلے میں خواجہ صاحب کی معاونت کی تھی اور پھر اس فیصلے کا اردو ترجمہ بھی کیا، تو خواجہ صاحب اس ترجمے پر نظرِ ثانی کررہے تھے اور اس وقت قاضی صاحب بھی ان کے چیمبر میں موجود تھے، تو ان سے بھی ملاقات ہوگئی۔ اس کے بعد ان کے ساتھ کوئی ملاقات اگلے کئی برسوں تک نہیں ہوئی۔ 2019ء میں اس کانفرنس کےلیے تیاری کے سلسلے میں غزالی صاحب نے تجویز کیا کہ اس میں سپریم کورٹ کے کسی جج کو بھی آنا چاہیے اور پھر انھوں نے خود قاضی صاحب کا نام لیا۔ میں نے عرض کی کہ میں ان کی خدمت میں عرضی تو ڈال دیتا ہوں لیکن اس کی منظوری آپ کی کوشش کے بغیر شاید ممکن نہ ہو۔ انھوں نے کہا کہ میں بات کرلوں گا۔ چنانچہ میں نے خط لکھا اور پھر غزالی صاحب نے قاضی صاحب سے بات کی، تو قاضی صاحب نے مجھے فون کیا اور کانفرنس کے بارے میں معلومات لیں۔ پھر کہا کہ آپ کی رسائی ایسے لوگوں تک ہے جنھیں میں انکار نہیں کرسکتا! یوں قاضی صاحب کانفرنس میں پینل ڈسکشن میں حصہ لینے کےلیے آگئے۔ (انگریزی محاورے کے مطابق، باقی تاریخ ہے!) لیکن غزالی صاحب نے مجھے اس بات کا تذکرہ کرنے سے روکا تھا کہ قاضی صاحب کو اسلامی یونیورسٹی لانے کا سبب وہ بنے۔

اصاغر نوازی

مجھ پر غزالی صاحب کی شفقت کے مظاہر بہت ہی نرالے تھے۔ ایک تو انھوں نے کبھی مجھے اپنے در سے بغیر کوئی تحفہ دیے جانے نہیں دیا۔ جب بھی ان کی خدمت میں حاضری دی، اٹھنے سے پہلے انھوں نے مجھے کوئی کتاب، کوئی قلم، کوئی تسبیح ضرور پکڑائی۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبِ علم قلم کے بغیر صاحبِ علم نہیں بن سکتا۔ چنانچہ ان کی واسکٹ یا کوٹ کی جیب میں ایک دو قلم ضرور موجود رہتے اور اگر دیکھتے کہ میری واسکٹ یا کوٹ کی جیب میں قلم نہیں ہے، تو تنبیہ بھی کرتے اور اپنی جیب سے ایک قلم نکال کر دے دیتے۔ پھر ان کی تنبیہ سے بچنے کی خاطر میں نے یہ اہتمام شروع کیا کہ کہیں اور میرے پاس قلم ہو یا نہ ہو، لیکن ان کے پاس جاؤں تو ضرور ایک قلم جیب میں موجود ہو۔

آخری دور میں تسبیح کے متعلق بھی ان کا یہی طرزِ عمل رہا۔ مجھے کئی دفعہ انھوں نے تسبیح کا تحفہ دیا۔ ایک دن کہنے لگے کہ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ عرب اسے "مسبّحہ" کہتے ہیں لیکن یہ اصل میں "مذکّرہ " (یاد دلانے والی) ہے کیونکہ یہ ہاتھ میں ہو تو بندہ کچھ نہ کچھ ذکر یا ورد کر ہی لیتا ہے، جیب میں پڑی ہو، تو ہاتھ لگتے ہی یاد آجاتا ہے کہ اللہ کا نام لینا چاہیے۔

فقہاء کے وعدے

غزالی صاحب کی بزرگانہ شفقت تو، الحمد للہ، مسلسل میسر رہی، اس شفقت کے ساتھ وقتاً فوقتاً تنبیہ بھی کرتے اور ایک آدھ دفعہ ہلکی سی ڈانٹ بھی پلائی، لیکن اس پر اللہ کا شکر گزار ہوں کہ وہ مجھ سے کبھی ناراض نہیں ہوئے۔ زیادہ تر ان کا گلہ یہ رہتا کہ بہت دنوں سے ملاقات نہیں ہوئی۔ میں خود بھی بہت تشنگی محسوس کرتا اور اس لیے ہر ملاقات پر وعدہ کرتا کہ اگلی ملاقات جلد ہی ہوگی (ان شاء اللہ کی قید کے ساتھ)۔ کئی بار انھوں نے جوش ملیح آبادی کا یہ جملہ سنایا جو انھوں نے خود غزالی صاحب سے گلہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ مولویوں کے وعدوں کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا۔ (غزالی صاحب کے مزاج کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ وہ جوش ملیح آبادی کی محفل میں مستقل جایا کرتے تھے۔ ان کے کئی دلچسپ واقعات انھوں نے سنائے ہیں لیکن انھیں کسی اور وقت کےلیے اٹھا رکھتے ہیں۔) میں دبے الفاظوں میں انھیں یاد دلاتا کہ وعدے کے ساتھ ان شاء اللہ کی قید لگی ہوئی تھی اور یہ قید تو قسم کے ساتھ بھی لگ جائے تو بندہ حانث نہیں ہوتا۔ وہ کہتے کہ ہاں، فقہاء کو یہ حیلہ آتا ہے کہ جو کام نہ کرنا ہو تو اسے اللہ کی مشیئت سے مشروط کردیں۔

جب قاضی فائز عیسیٰ صاحب نے مجھ سے اپنے اس خواہش کا تذکرہ کیاکہ وہ چیف جسٹس بنیں تو میں ان کے ساتھ سپریم کورٹ میں معاونت کےلیے باقاعدہ ذمہ داری قبول کروں، تو جن چار بزرگوں سے میں نے رہنمائی لی، ان میں ایک غزالی صاحب تھے (باقی تین میں ایک میرے والد گرامی تھے، دوسرے استاذ گرامی پروفیسر عمران احسن خان نیازی اور تیسرے استاذ گرامی پروفیسر ڈاکٹر قبلہ ایاز)۔ اس موقع پر غزالی صاحب نے بہت تفصیلی رہنمائی دی، سپریم کورٹ میں کام کے مواقع اور وہاں ممکنہ مسائل کے متعلق بھرپور آگاہی بھی دی اور اس پہلو پر خصوصی تاکید کی کہ کام کی نوعیت ایسی ہو جو آپ کے علمی مقام کے مناسب ہو۔

غزالی صاحب نے کئی بار اس خواہش کا اظہار کیا کہ استاذِ گرامی پروفیسر نیازی سے تفصیلی نشست ہو۔ نیازی صاحب نے عرصہ ہوا گھر سے نکلنا چھوڑ دیا ہے۔ غزالی صاحب نے ایک آدھ دفعہ ان سے فون پر بات کی اور دو تین دفعہ مجھے کہا کہ ان کے گھر چلتے ہیں، بلکہ ایک دفعہ یہ بھی کہا کہ نیازی صاحب کی پسندیدہ نمکین مٹن کڑاہی اور تکہ بنا کر چلتے ہیں، لیکن وہ جو شکیل بدایونی نے کہا تھا کہ مگر اپنے اپنے مقام پر کبھی ہم نہیں، کبھی تم نہیں، والا معاملہ تھا۔ سو یہ ملاقات نہ ہوسکی۔ وہ نیازی صاحب کی فقاہت کے بھی قائل تھے اور خصوصاً تراث کی فقہی کتب کے تراجم کے متعلق ان کی صلاحیت کے معترف تھے۔ (نیازی صاحب نے بدایۃ المجتہد، کتاب الاموال، موافقات اور ہدایہ کے علاوہ مبسوط اور بدائع الصنائع کے کئی ابواب کے انگریزی تراجم کیے ہیں۔) غزالی صاحب کی خواہش تھی کہ وہ خود بھی فقہ کی کسی مختصر مگر جامع کتاب کا انگریزی ترجمہ کریں۔ مجھ سے انھوں نے کتاب تجویز کرنے کےلیے کہا، تو میں نے انھیں امام محمد کی الجامع الصغیر کا مشورہ دیا اور عرض کیا کہ حضرت عبد الحی لکھنوی کی شرح کے ساتھ جو متن ملتا ہے، اسی کو مد نظر رکھنا بہتر ہوگا۔ ہمارے شاگردِ رشید مولانا محمد رفیق شینواری نے فوراً ہی اس کے دو نسخے  مہیا کیے، ایک ان کےلیے اور ایک میرے لیے۔ (بعد میں شینواری صاحب نے امام سرخسی کی شرح الجامع الصغیر بھی مجھے تحفہ کی۔ شینواری صاحب عام مولویوں سے مختلف ہیں کیونکہ وہ صرف لینے پر یقین نہیں رکھتے بلکہ دینا بھی جانتے ہیں اور انھوں نے اور بھی کتب کے تحفے دیے ہیں۔ ) بہرحال غزالی صاحب نے اس کا آغاز تو کیا، لیکن کچھ عرصے بعد مجھے کہا کہ بہت کوشش کی، پر طبیعت ادھر نہیں آتی! چنانچہ یہ کام ادھورا ہی رہ گیا۔

سوشیالوجی آف اسلام

غزالی صاحب فقہی جزئیات کے بجاے شریعت کی کلیات میں زیادہ دلچسپی رکھتے تھے اور اس کا ایک خوبصورت مظہر ان کی کتاب سوشیالوجی آف اسلام کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ جیسا کہ ابتدا میں عرض کیا، غزالی صاحب برسوں سوشل سائنسز پڑھاتے رہے۔ ان علوم کے متعلق ان کا ایک سوچا سمجھا موقف تھا جسے وہ شاگردوں کی کئی نسلوں تک منتقل کرتے رہے۔ ان کی تحریرات، خصوصاً شاہ ولی اللہ کی حجۃ اللہ البالغہ کے منتخب ابواب کے انگریزی ترجمے اور اس پر ان کی تحقیق، میں اس کی بہترین توضیح ملتی ہے، لیکن آخری عمر میں انھوں نے خصوصاً سوشیالوجی آف اسلام لکھ کر ایک جامع کتاب لکھی جو محققین کےلیے بھی مفید چیز ہے اور نصابی کتاب کا کردار بھی ادا کرسکتی ہے۔

یہ کتاب انھوں نے مجھے تحفہ کی، تو میں پکار اٹھا: ذَٰلِكَ مَا كُنَّا نَبۡغِ ! پھر انھیں بتایا کہ کچھ عرصہ قبل اسلامی یونیورسٹی کے اکیڈمک کونسل میں بی ایس سوشیالوجی کے چار سالہ پروگرام کا نصاب منظوری کےلیے پیش کیا گیا۔ یہ نصاب سوشیالوجی کے شعبے کے بورڈ اور سوشل سائنسز کی فیکلٹی کے بورڈ سے منظور کیا جاچکا تھا اور اب حتمی منظوری کےلیے اکیڈمک کونسل میں پیش کیا گیا۔ وہاں سے بھی تقریباً منظور ہو ہی چکا ہوتا، اگر میں نے اس پر اعتراض نہ کیا ہوتا۔ میرا اعتراض یہ تھا کہ اس نصاب میں اور کسی بھی دیگر یونیورسٹی کے نصاب میں فرق کیا ہے؟ یہی نصاب پڑھانا تھا، تو اسلامی یونیورسٹی بنانے کی کیا ضرورت تھی؟ (شکر ہے کسی نے ابن انشا کے انداز میں یہ نہیں کہا، کہ غلطی ہوگئی، آئندہ نہیں بنائیں گے۔) چار سالہ نصاب میں صرف دو مقامات پر بس ابن خلدون کا نام نظر آیا ہے۔ کیا یہی علوم کی اسلامیت کی معراج ہے؟ میرے اعتراض کے بعد اکیڈمک کونسل نے اس نصاب کی منظوری مؤخر کردی اور پھر ایک خصوصی کمیٹی بنائی جس میں مجھے بھی شامل کیا گیا۔ (یہ الگ بات ہے کہ اس کمیٹی کی کوئی میٹنگ کم از کم اس وقت تک تو نہیں ہوئی جب تک میں اسلامی یونیورسٹی میں موجود رہا۔) غزالی صاحب یہ سن کر بہت خوش ہوئے اور بہت داد دی۔ غزالی صاحب کی یہ کتاب اس موضوع پر پائے جانے والے خلا کو بہت خوبصورتی اور عمدگی سے پر کرتی ہے۔

غزالی صاحب کے ساتھ دسمبر میں ہی جو آخری بالمشافہ ملاقات ہوئی اس میں بھی اس کتاب کا تذکرہ آیا۔ اس دن غزالی صاحب سپریم کورٹ تشریف لائے تھے۔ میں ایک اہم مقدمے کی سماعت کی وجہ سے کورٹ روم نمبر 1 میں چیف جسٹس کی معاونت کےلیے بیٹھا تھا۔ وقفے میں دفتر آیا، تو پی اے نے بتایا کہ ڈاکٹر غزالی صاحب آئے تھے اور آپ کا پوچھ رہے تھے۔ میں نے ان سے رابطے کی کوشش کی لیکن بات نہیں ہوسکی۔ میں نے دوبارہ کورٹ میں جاتے ہوئے اپنے پی اے سے کہا کہ غزالی صاحب میرے بہت ہی محترم استاذ ہیں، ان سے رابطے کی کوشش جاری رکھیے اور رابطہ ہو، تو ان کی خدمت میں میری جانب سے معذرت پیش کرکے انھیں بتائیے کہ اس مقدمے کی وجہ سے میرا کورٹ میں بیٹھنا مجبوری ہے اور میں فارغ ہوتے ہی ان سے رابطہ کروں گا۔ میں دوسرے وقفے میں دفتر آیا، تو انتہائی خوشگوار حیرت ہوئی کہ غزالی صاحب وہیں تشریف فرما تھے اور ایک چٹ پر کچھ لکھ رہے تھے۔ مجھے دیکھا تو اٹھے اور گلے سے لگاتے ہوئے کہا کہ میں آپ کےلیے پیغام چھوڑ رہا تھا لیکن اچھا ہوا کہ آپ سے ملاقات ہوگئی۔ کچھ دیر بیٹھے رہے اور چند نصیحتوں اور تنبیہات سے نوازنے کے بعد چل پڑے۔ میں انھیں گاڑی تک چھوڑنے آیا، تو راستے میں سوشیالوجی آف اسلام کا تذکرہ آیا اور انھوں نے پوچھا کہ بھائی مراد علی نے اس کتاب کی اشاعت میں دلچسپی ظاہر کی تھی لیکن وہ بھی شاید آپ کی طرح وعدے کے ساتھ ان شاء اللہ کی قید لگاتے ہیں۔ میں نے کہا کہ میں مراد کے کان کھینچوں گا اور وہ فوراً ہی آپ سے رابطہ کرے گا۔ (وہ مراد کی بہت تعریف کرتے تھے اور ایک دفعہ فرمایا کہ صالحیت اور صلاحیت کا اجتماع بہت کم لوگوں میں نظر آیا ہے اور یہ نوجوان بھی ان لوگوں میں ہے۔) انھوں نے کہا کہ اس دن قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہوئے اچانک ہی اس طرف دھیان گیا کہ نظریۂ علم کی حیثیت سے تجربیت (Empiricism) کو تو ہمیشہ انبیاے کرام کے معاندین نے پیش کیا ہے، اور پھر یہ آیت تلاوت فرمائی: وَكَذَٰلِكَ مَآ أَرۡسَلۡنَا مِن قَبۡلِكَ فِي قَرۡيَةٖ مِّن نَّذِيرٍ إِلَّا قَالَ مُتۡرَفُوهَآ إِنَّا وَجَدۡنَآ ءَابَآءَنَا عَلَىٰٓ أُمَّةٖ وَإِنَّا عَلَىٰٓ ءَاثَٰرِهِم مُّقۡتَدُونَ۔  پھر فرمایا کہ مذکورہ کتاب میں تجربیت کی بحث پڑھ کر اس آیت سے میرے استدلال کے متعلق بتائیے گا کہ کیا آپ اس سے مطمئن ہیں یا نہیں؟ پھر انھوں نے اپنے استدلال کی مختصر وضاحت کی اور کہا کہ تفصیلی بحث کےلیے گھر پر تشریف لائیے گا۔ معلوم نہیں تھا کہ اس کے بعد ان سے ملاقات ان کے جنازے میں ہی ہوگی!

فلسطین کا دکھ

اس ملاقات کے بعد ان سے فون پر تو رابطہ رہا اور تقریباً روزانہ ہی ان کی جانب سے ایسا پیغام ملتا جس میں وہ فلسطین کے متعلق اپنے دلی دکھ کا اظہار کرتے اور پھر اس دوران میں چونکہ اسلامی یونیورسٹی کے بورڈ آف ٹرسٹیز کی میٹنگ بھی آئی، تو انھوں نے اس سلسلے میں تفصیلی پیغامات دیے۔

اکتوبر سے دسمبر تک ڈھائی مہینوں میں غزالی صاحب کے اکثر پیغامات کا تعلق فلسطینیوں کے قتلِ عام ، ان کے جہاد اور امت کی اس ضمن میں ذمہ داریوں کے متعلق تھے۔فلسطین میں مظالم نے انھیں بہت زیادہ دکھی کردیا تھا اور وہ مسلسل اس کے متعلق پریشانی میں مبتلا رہے۔ دوسرا دکھ مقامی تھا اور وہ بھی بہت گہرا تھا۔ یہ دکھ اسلامی یونیورسٹی کی بربادی کا تھا۔

اسلامی یونیورسٹی کی بربادی کا دکھ

وہ یونیورسٹی جس کی بنیادوں میں ان کا خونِ جگر تھا، جس کی خدمت میں انھوں نے زندگی صرف کی تھی، وہ پچھلے چند برسوں میں جس طرح بربادی کا شکار ہوئی، اس کا ان کو بہت صدمہ تھا۔ جب بھی ان سے ملاقات ہوئی، انھیں یونیورسٹی ہی کی فکر میں سرگرداں پایا۔ اس ضمن میں بارہا انھوں نے چانسلر ڈاکٹر عارف علوی، صدرِ پاکستان، کو پیغامات بھیجے، ان کی توجہ کئی امور کی طرف دلائی، لیکن سچی بات یہ ہے کہ وہ علوی صاحب سے سخت مایوس ہوئے تھے۔ اسی طرح انھوں نے سعودی عرب میں پرو چانسلر اور دیگر عہدیداروں کو بھی بارہا متوجہ کیا۔ پھر جب انھیں معلوم ہوا کہ قاضی فائز عیسیٰ صاحب نے چیف جسٹس کا منصب سنبھالنے کے فوراً بعد پہلے قائدِ اعظم یونیورسٹی اور پھر اسلامی یونیورسٹی کے مسائل کی طرف توجہ کی ہے اور ان کے بورڈز کی میٹنگ بلانے کےلیے کہا ہے، تو انھیں بہت خوشی ہوئی۔ انھوں نے چیف جسٹس کے نام طویل پیغام میں یونیورسٹی کے اغراض و مقاصد اور یہاں موجود امکانات  پر بھی تفصیلی رہنمائی دی اور ساتھ ہی یہاں کے مسائل کی جڑ کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کے تدارک اور آگے بہتری کےلیے کئی تجاویز بھی دیں۔ مجھ سے بھی وہ مسلسل رابطے میں رہے اور کئی پیغامات جو انھوں نے مختلف اعلی عہدیداران کو بھیجے تھے، مجھے بھی بھیجے۔ ایسے ہی ایک پیغام میں، جو 11 دسمبر کو بورڈ آف ٹرسٹیز کی میٹنگ سے ایک  دن قبل انھوں نے بھیجا، اس میں لکھا:

"نئے قاضی القضات صاحب کی بار بار یاد دہانی اور تقاضوں سے مجبور ہو کر جامعہ کے اعلی ترین فیصلہ ساز فورم کا اجلاس پیر 11 دسمبر 2023 کو ایوان صدر میں بلایا گیا ہے ۔اب دیکھیں کہیں یہ یہ دسمبر بھی ایک اور شرمناک سرینڈر کا پیش خیمہ نہ ثابت ہو جب 16 دسمبر 1971 کی ایک منحوس صبح کو چشم فلک نے  ہماری افواج کا کا ڈھاکہ میں ہتھیار ڈالنا دیکھا اور شرم سے منہ موڑ لیا،لگتا ہے اسی دلخراش اور شرمناک بزدلی کی شکست مان لینے کا خمیازہ ابھی تک پاکستان بھگت رہا ہے، وہ سرینڈر ایک جغرافیائی حصہ سے دستبرداری تھی۔ اگر خدانخواستہ آنے والے کل 11 دسمبر 2023 کو بھی اسی ہزیمت اور شکست خوردہ رویہ کو باقی رکھا گیا تو یہ دشمنان اسلام کی ایک اور بڑی فتح ہوگی وہ دشمنان اسلام و انسانیت جن کی صفیں اب کچھ عرصہ سے  بکھرتی نظر آرہی ہیں (خاص طور پر 7 اکتوبر کے مجاہدانہ اقدام اور تاریخ کی سب سے سنگین نسل کشی کے بعد) اللہ تعالی کی فیصلہ کن تقدیر سے دشمنانِ اسلام اور انسانیت کی سب تدبیریں الٹتی نظر آرہی ہیں اور 63 دن سے دنیا دیکھ رہی ہے اور سن رہی ہے کہ اعداء اللہ اور  اولیاء الشیطان کی سانسیں اکھڑ رہی ہیں ۔۔۔"

یہ پیغام جو انھوں نے خود وھاٹس ایپ پر لکھا تھا، اے فور سائز کے 8 صفحات پر آتا ہے۔ سوچیے کہ اس ایک پیغام کے لکھنے میں انھوں نے کتنا خونِ دل صرف کیا ہوگا! یہ پیغام ایک عظیم الشان دستاویز ہے اور اسے اسلامی یونیورسٹی کے ریکارڈ کا باقاعدہ حصہ بننا چاہیے۔ اس میں انھوں نے نہ صرف یونیورسٹی کے قیام کے مقاصد کی وضاحت کی ہے، بلکہ اس کی بربادی کے ذمہ داران کا سراغ بھی دیا ہے اور اس کی اصلاح کےلیے لائحۂ عمل بھی تجویز کیا ہے۔ مثلاً فرماتے ہیں:

"یہ جامعہ اسلامیہ عالمیہ،  علوم اسلامیہ کے ایسے ماہرین کی ایک جماعت تیار کرنے کے لئے قائم کی گئی تھی جو مشرق و مغرب میں اسلام کا روشن انقلابی اور حیات بخش پیغام عالم انسانیت کو ان کی زبان میں پہنچانے کا عظیم فریضہ ،  جو شہادت حق کا فریضہ ہے اور امت کے اصل مقصد کو قرآن کریم میں بیان کرتا ہے اس مقدس فریضہ کو انجام دے ۔ یہی  اس ملت اسلامیہ کا نصب العین ہے اور اسی عمل کی وجہ سے یہ امت بطور عالمگیر تہذیب و تمدن و ثقافت کے خیر امت قرار دی گئی ہے ۔اس ادارہ کا بنیادی تصور کچھ حضرات کے ذہن میں پہلے سے تھا،جیسے علامہ اقبال رحمہ اللہ ، قائد اعظم رحمہ اللہ اور ایک مرد مؤمن شہید وزیر اعظم لیاقت علی خان مرحوم کے سامنے تھا جب انہوں نے تاریخی قراداد مقاصد پارلیمان سے منظور کروائی۔"

آگے اس یونیورسٹی کے اغراض و مقاصد کی وضاحت ان الفاظ میں کی ہے:

"اسی  اعلی مقصد (انسانیت کے سامنے اسلام کے ابدی پیغام کی ٹھوس علمی،فکری اور تہذیبی بنیادوں پر گواہی اور دعوت دینے کا مقصد) کے لیے اس عظیم ادارہ کا قیام 15 ویں صدی ہجری کے آغاز میں کیا گیا، اسی اعلی اور ارفع نصب العین کے لئے یہ بنیادی اصول مقرر کیے گئے: 1۔یہ جامعہ علوم اسلامیہ ساری امت مسلمہ کے لئے کام کرے گی۔ 2۔اس جامعہ اسلامیہ عالمیہ میں تمام اسلامی دنیا سے بہترین اور اپنے میدان میں مانے ہوئے اساتذہ لائے جائیں گے اور اس طرح یہاں اس امت مسلمہ کے جوہر قابل جمع کیے جائیں گے، یہاں کے اساتذہ اور طلبہ میں مقامی عنصر مغلوب اور امت مسلمہ کا حصہ غالب رکھا جائے گا اور کبھی 50 % سے زیادہ اساتذہ اور طلبہ میں مقامی عنصر  نہیں بڑھنے دیا جائے گا۔ 3۔ اس جامعہ علوم اسلامیہ میں علم کو خرید وفروخت کے لئےتقسیم کبھی نہیں کیا جائے گا بلکہ ساری دنیا سے قابل ترین طلبہ کا اعلی معیار پر انتخاب کیا جائے گا،ان کو وظائف دے کر عزت و تکریم کے ساتھ لایا اور رکھا جائے ،یہ ملک اپنے وسائل ان بہترین طلبہ اور اعلی پایہ کے اساتذہ اور محققین کی خدمت کے لئے وقف کردے گا۔ 4۔یہاں ہر طالب علم کو 60 % اسلامی علوم و فنون میں مہارت کے لئے تربیت دی جائے گی اور 40 % فی صد ضروری اور مفید  عصری علوم و فنون کی تعلیم دی جائے گی ۔یہی وجہ ہے کہ یہاں روز اول سے عربی اور انگریزی دونوں زبانوں میں بیک وقت پڑھانے کا اہتمام کیا گیا ۔"

اس کے بعد انھوں نے جامعہ کے چند نامی گرامی اساتذہ کا ذکر کیا، جو مختلف اسلامی ممالک سے یہاں پڑھانے کےلیے آئے:

" واقعہ یہ ہے کہ اس جامعہ کے ابتدائی سالوں میں بڑی حد تک اعلی معیار تعلیم و تحقیق کو قائم رکھا گیا۔اساتذہ میں بہت سے انمول ہیرے جواہر یہاں لائے گئے۔ان میں عالم اسلام کے معروف اور معتبر ترین حضرات شامل تھے،مثال کے طور پر یہاں محمد قطب (مشہور مفسر سید قطب شہید کے بھائی )شعبہ تعلیم وتربیت میں  پڑھاتے رہے،اس شعبہ کا ابتدائی مقصد اسی جامعہ کے آئندہ کام آنے والے اساتذہ اور محققین کی تیاری تھی ،بعد میں اس کے تربیت یافتہ فاضل سکالر دیگر جامعات عالم میں خود اپنی جگہ پالیتے۔محمد قطب کے علاوہ اس وقت موجود عالم اسلام کے معروف اور بے نظیر عالم،مفکر،فقیہ اور فلسفی ڈاکٹر حسن الشافعی صاحب مدظلہ اور موجودہ شیخ الازھر ڈاکٹر محمد الطیب،سوڈان کے مشہور فاضل سکالر پروفیسر طیب زین العابدین، مصر کے اسلامی معاشیات کے معروف ماہر پروفیسر عبد الرحمن یسری،سوڈان کے مشہور و معروف ماہر نفسیات پروفیسر مالک بدری مرحوم ( صدر عالمی اسلامی اتحاد ماہرین نفسیات ) شامل ہیں ۔"

پھر یونیورسٹی سے فارغ التحصیل نامی گرامی طلبہ کا ذکر کیا جو مختلف اسلامی ممالک میں اہم عہدوں پر کام کررہے ہیں۔ اس کے بعد فساد کی جڑ کی نشان دہی کرتے ہوئے لکھا:

"اس جامعہ علوم اسلامیہ میں جو در حقیقت پاکستان کی واحد SPECIALIZED UNIVERSITY تھی اس میں علوم اسلامیہ کی مرکزی حیثیت کو رفتہ رفتہ ختم کیا گیا ،یہ کام خائن ،خائب وخاسر جابر پرویز کے دور حکومت ( 2008- 1999) میں شروع کیا گیا اور دھیرے دھیرے اور  دبے پاؤں اس جامعہ کو سیکولرائز اور کمرشلائز کردیا گیا، تھوک کے حساب سے نئے نئے شعبے صرف سیکولر میدانوں میں کھلتے چلے گئے، چاہے اس میں مطلوبہ قابلیت کے اساتذہ اور محققین میسر ہوں یا نہ ہوں ۔ اشتہار بازی کے ذریعہ مقامی طلبہ کو رفتہ رفتہ بغیر کسی قابلیت کے امتحان کے دھڑا دھڑ بھرتی کرلیا گیا اور سالانہ فیسوں میں اربوں روپے جمع کیے جانے لگے ۔ گیا ،علوم اسلامیہ کے شعبے سمٹتے چلے گئے، یا لپیٹ کر رکھ دیے گئے ۔"

اس کے بعد ان اساتذہ کا ذکر کیا ہے جنھوں نے اس یونیورسٹی کےلیے زندگیاں وقف کیں لیکن یہاں کے ناقدروں نے انھیں یہاں سے جانے پر مجبور کیا اور پھر وہ جہاں گئے وہاں کے لوگوں نے ان کی قدر شناسی کرتے ہوئے ان کے علم سے فائدہ اٹھایا۔ اس کے بعد بورڈ آف ٹرسٹیز کے اجلاس کی مناسبت سے اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ کیسے اس اعلی سطحی بورڈ کو، جو امت کی نمائندگی کرتا تھا، یکسر مفلوج کرکے رکھ دیا گیا ہے:

"بورڈ آف ٹرسٹیز جو اس ثمر بار گلشن بہار کا محافظ اور نگراں تھا اور جس میں از روئے دستور و قانون تمام امت مسلمہ کے ممتاز ترین مفکرین اور قائدین فکر و دانش کی موجودگی لازمی قرار دی گئی تھی اب اس سیاہ تاریک طویل رات میں( خاص طور پر سعودی قبضہ غاصبانہ کے بعد از 2012 تا 2023) اس گلشن بہار بے خار کو بلبلوں سے چھین کر کرگسوں کے حوالے کیا جاچکا ہے یعنی اب عالم اسلام کے معروف اور معتبر اہل علم و فضل کو اس اعلی مجلس سے باہر کردیا گیا  اور  یہ اعلی محفل کب کی برباد کردی گئی ہے اب خلیجی تیلیوں اور ان کے طفیلیوں کا یہاں ڈیرہ لگا ہوا ہے ۔ان ہی کی اکثریت اب غالب ہے اور سنا ہے کہ اگر کبھی کوئی بولا تو جارج آرویل کے انیمل فارم کی طرح کچھ "خنازیرو عبدة الطاغوت" اس پر فوراً غرانے لگتے ہیں ۔"

آگے انھوں نے تفصیلی لائحۂ عمل تجویز کیا ہے جس میں ایک نکتہ یہ ذکر کیا:

"صدر جامعہ، تمام نائب صدر،ڈین ،ڈائریکٹر جنرل ، ڈائریکٹر، اور صدر ہائے شعبہ فی الفور  برخواست کردیے جائیں اور فورا ایک اور ذیلی مجلس اہل علم و دانش کی تشکیل دے کر ایک  نئی  بہترین visionary ٹیم کو ذمہ داریاں سونپ دی جائیں اور کوئی کام رکنے نہ پائے ۔"

ایک اور اہم نکتہ انھوں نے یہ ذکر کیا:

"جامعہ علوم اسلامیہ میں ہوش ربا فیسوں کا فورا مکمل خاتمہ کیا جائے اور اس کے لیے بہ عجلت ضروری فنڈ مہیا  کردئے جائیں اور عہد نو کا آغاز کردیا جائے۔اگر کام ہوتا نظر آئے گا تو دنیا میں اہل خیر کی کمی نہیں وہ خود آگے آکر ان شاء اللہ العزیز اس اس ادارہ کو طلبہ سے پیسے اینٹھنے کی ذلت و رسوائی سے بچائے رکھے گا اور جامعہ واقعی عملا امت مسلمہ کے لئے قابل فخر منصوبہ مستقبل سازی کا مقام حاصل کرکے رہے گی۔"

الحمد للہ، 11 دسمبر کو بورڈ آف ٹرسٹیز کی میٹنگ ہوئی تو اس میں عزت مآب چیف جسٹس نے تقریباً انھی نکات پر بات کی جس کے نتیجے میں بورڈ نے اسلامی یونیورسٹی کو فسادیوں کے ٹولے کے قبضے سے چھڑانے کےلیے چند بہت ہی اہم فیصلے کیے اور، ان شاء اللہ، اس کے اثرات جلد ہی سامنے آئیں گے۔ اسی رات میں نے غزالی صاحب کو مختصر پیغام بھیج کر انھیں خوش خبری دی کہ اسلامی یونیورسٹی کو بربادی سے بچانے کےلیے جو اقدامات انھوں نے تجویز کیے تھے، تقریباً ان سب کا فیصلہ ہوگیا ہے۔ میرا خیال تھا کہ رات گئے انھیں تنگ کرنا مناسب نہیں ہوگا، اس لیے کال کرنے کے بجاے مختصر پیغام دیا اور کہا کہ صبح آپ سے تفصیلی بات کروں گا۔ ان کا فوراً ہی جواب آیا:

“Thank you brother for the update. I will lose my night sleep if the details are not shared NOW. PLEASE DON'T DELAY.”

میں ابھی پیغام پڑھ ہی رہا تھا کہ ان کی کال آئی اور پھر تقریباً آدھا گھنٹہ ان کے ساتھ گفتگو ہوئی۔ انھوں نے ایک ایک بات کی تفصیل پوچھی اور پھر بہت زیادہ اطمینان کا اظہار کیا۔ بار بار الحمد للہ کہتے رہے۔ پھر کہا کہ اب میں سکون سے سو سکوں گا۔

اس کے ایک ہفتے بعد ہی ان کا انتقا ل ہوا!

اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو، ان کی قبر کو جنت کا باغیچہ بنا دے  اور ان کو اعلی علیین میں انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کی معیت عطا فرمائے!

ڈاکٹر محمد الغزالیؒ

محمد آصف محمود ایڈووکیٹ

ہمارے استاد، سپریم کورٹ شریعت اپیلٹ بنچ کے جج، جسٹس ڈاکٹر محمد الغزالی بھی اللہ کے حضور پہنچ گئے۔ جو ڈاکٹر محمد الغزالی کو جانتے ہیں وہ جانتے ہیں میں کس بندہ آزاد کا نوحہ لکھ رہا ہوں۔ جو نہیں جانتے وہ البتہ کبھی جان ہی نہیں پائیں گے کہ یہ کیسا عالی مرتبت انسان تھا جواس دنیا سے اٹھ گیا۔ڈاکٹر غزالی پر لکھنا کوئی آسان کام تھوڑی ہے۔یہ ایک کوہ کنی ہے اور ہم جیسوں میں کوئی فرہاد نہیں۔

مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ میں ڈاکٹر غزالی کا شاگرد تھا۔ ایم اے انگریزی کی کلاس میں انہوں نے ہمیں ّ اسلام اور جدید مغربی فکرْ کا مضمون پڑھایا تھا۔ ہم حیران اور بے زار سے تھے کہ انگریزی ادب کی کلاس میں یہ مضمون کہاں سے آ یا۔ پھر ایک دن شام ڈھل چکی تھی تو ڈاکٹر غزالی کلاس لینے آئے۔ ہم جو ان دنوں انگریزی ادب کی Love at first sight پر مضامین باندھا کرتے تھے ، ان سے پہلی ہی کلاس میں ایسے مرعوب ہوئے کہ آج ستائیس بعد دل کو ٹٹولتا ہوں تو اسی مرعوبیت کے حصار میں پاتا ہوں۔

جسٹس غزالی پر لکھنا کم از کم میرے بس کی بات نہیں۔ مرعوبیت سے قلم بھاری ہو جاتا ہے۔ اسلامی تہذیب کے سارے رنگ اور کتابوں میں رہ جاے والا عالم دین کا سارا بانکپن وہ ساتھ لیے پھرتے تھے۔

مناصب سے بے نیاز ، عجب سی شان بے نیازی تھی ۔ تصنع نہیں تھا مگر تہذہبی رچاؤ میں ڈوبا رکھ رکھاؤ تھا ۔ تند خو نہ تھے مگر رعب ایسا تھا کہ ان کے سامنے بڑوں بڑوں کی قوت گویائی سلب ہو جاتی تھی، غلطی پر ٹوکتے تھے اور سر محفل ٹوکتے تھے ، سامنے جتنا بڑا صاحب منصب ہوتا تھا اسی شدت سے ٹوکتے تھے ، ٹھہر ٹھہر کر بات کرتے تھے جیسے صحرا کی وسعتیں پر پوری رات کا چاند دھیرے دھیرے اتر جائے۔

میں انہیں دیکھ کر سوچا کرتا تھا اگر زوال کے اس عہد میں ایک عالم کی وجاہت اور شان یہ ہے تو مسلمانوں کے دور عروج میں کیا ہوتی ہو گی۔

جاننے والے جانتے ہیں کہ ڈاکٹر غزالی جیسا کوئی نہ تھا۔ ایک فرد نہیں وہ ایک پوری تہذیب تھے۔ مسلمانوں کی فکری اور سماجی وجاہت ان میں مجسم تھی۔ سیدنا مسیح کے الفاظ مستعار لوں ڈاکٹر محمد الغزالی اس زمین کا نمک تھے۔

جنازہ پڑھا جا چکا تو یادوں کی سمت دریچے کھل گئے۔ ایک شام افتخار اور میں نے کلاس بنک کی۔ نیف ڈیک سینیما ان دنوں آباد ہوا کرتا تھااور یہاں رونقیں ہوتی تھیں۔ سات بجے فلم کا شو شروع ہوتا تھا۔ ہم یونیورسٹی سے نکلے ہی تھے کہ ایک کار ہمارے پاس آ کر رک گئی۔ اسے ڈاکٹرصاحب ڈرائیو کر رہے تھے۔ شیشہ نیچے کر کے انہوں نے شفقت بھرے مگر انتہائی بارعب لہجے میں حکم دیا: بیٹھ جائیے۔

ہم گاڑی میں بیٹھ گئے۔

کہاں جا رہے ہیں؟

ایک تو کلاس بنک کی تھی اور پکڑے گئے۔ اوپر سے پکڑے بھی غزالی صاحب کے ہاتھوں گئے۔ ہوش تو پہلے ہی ٹھکانے نہ تھے، اب اچانک سوال ہوا توہم گڑ بڑا گئے۔ دونوں نے ایک ساتھ جواب دیا۔ میں نے کہا، سر آب پارہ جا رہے ہیں اور افتخار نے کہا، سر ہاسٹل ون جا رہے ہیں۔

ڈاکٹر صاحب مسکرائے، گھڑی کو دیکھا اور کہنے لگے: اچھا، آپ آب پارہ جا رہے ہیں اور آپ ہاسٹل ون جا رہے ہیں۔ میں ایسا کرتا ہوں آپ کو نیف ڈیک اتار دیتا ہوں، وقت پہلے ہی کم ہے، آپ کو تاخیر نہ ہو جائے۔

چوری پکڑی جا چکی تھی، پسینے چھوٹ چکے تھے۔ میں نے کہا سر توبہ توبہ، نیف ڈیک کیا کرنا ہے ہم نے۔ ہم تو آب پارہ اور پھر ہاسٹل جا رہے ہیں۔لیکن غزالی صاحب کے سامنے سچ بولنا بھی آسان کام نہ تھا تو ڈھنگ سے جھوٹ کون بول سکتا تھا۔

گاڑی میں مکمل خاموشی رہی۔ اور پھر نیف ڈیک کے سامنے جا کر گاڑی رک گئی۔ ڈاکٹر صاحب کہنے لگے۔ جلدی سے اتر جائیے، وقت کم ہے۔ یہاں سے آب پارہ بھی نزدیک ہے اور ہاسٹل ون بھی۔

بائیس سال بعد ایک روز کالم میں، میں نے یہ واقعہ لکھا تو مجھے ایک کال آئی۔ بھائی آصف، میں محمد الغزالی بول رہا ہوں۔ یہ دو عشروں بعد ڈاکٹر صاحب سے میرا پہلا رابطہ تھا۔

یونیورسٹی سے نکلنے کے بعد ان ڈھائی عشروں میں ڈاکٹر صاحب کے ساتھ میرا دو تین بار ہی رابطہ ہو سکا۔ آخری رابطہ ان کے انتقال سے چند دن پہلے ہوا۔ جن ان کے انتقال کی خبر سنی تو ان کانمبر ڈائل کرنے لگا ، دیکھا تو وہاں ان کا ایک واٹس ایپ میسج پڑا تھا جو میں ابھی دیکھ ہی نہیں سکاتھا۔ لکھا تھا: بھائی آصف کہاں ہے آپ کا کالم؟۔۔۔۔۔۔ میں عام حالات میں، ہر گز یہ واقعہ نہ لکھتا لیکن میں سمجھتا ہوں اس کا ڈاکٹر صاحب کے انتقال سے گہرا تعلق ہے اس لیے یہ واقعہ لکھ رہا ہوں۔

واقعہ یوں ہے کہ چند روز پہلے ان کا فون آیا۔ میں اس وقت ٹاک شو کرنے سیٹ پر بیٹھ چکا تھا۔ کہنے لگے: میں آپ کے لاء آفس کے نیچے کھڑا ہوں، باہر آئیے۔ میں نے عرض کی کہ سر میں اس وقت سٹوڈیو میں ہوں آپ حکم کریں میں شو کے بعد حاضر ہو جاتا ہوں۔ حکم ملا: شو کیجیے، اس کے بعد مجھے فون کیجیے۔

میں سارا پروگرا م یہی سوچتا رہا کہ اللہ خیر کرے، جسٹس صاحب نے یہ زحمت کیوں کی۔ میں نے شروع میں عرض کی کہ جو غزالی صاحب کو جانتے ہیں وہی جانتے ہیں وہ کس مزاج کے آدمی تھے۔ میری موجودگی میں انہوں نے صدر پاکستان کی دعوت رد کر دی تھی کہ اور کہا تھا کہ مغرب کے بعد وہ گھر سے نہیں نکلتے، ( تب شائد ان کی والد علیل تھیں) صدر صاحب نے ملنا ہے تو یہ ملاقات دن میں رکھا کریں۔

یونیورسٹی انتظامیہ نے عرض کی سر صدر پاکستان وقت طے کر چکے ہیں، آپ پلیز تشریف لے جائیں۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا: صدر صاحب کے آفس کو ہم سے پوچھ کر وقت طے کرنا چاہیے تھا اور ملاقات کی خواہش ہم نے نہیں کی صدرمحترم نے کی ہے تو انہیں ہماری مصروفیات کا خیال رکھنا چاہیے۔ ہم نہیں جا سکتے۔

اب ڈاکٹر غزالی اچانک، عشاء کے بعد، دفتر کے باہر کھڑے تھے تو وجہ کیا تھی۔میں نے پریشان ہوکر پروگرام کے فورا بعد، انہیں فون کیا تو وہ شدید پریشان تھے۔ اذیت میں تھے۔

کہنے لگے: آپ کو معلوم ہے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں کیا ہو رہا ہے؟

عرض کی کچھ کچھ معلوم ہے۔

کہنے لگے میں آپ کو تفصیل بھیج رہا ہوں اسے پڑھیے۔

ان کا واٹس ایپ ملا۔ میں نے پڑھا، یہ حیران کن اور تکلیف دہ حد تک اذیت ناک معلومات تھیں۔میں نے پڑھ کر پھر فون کیا۔ کہنے لگے کیا یہ چیزیں آپ کے علم میں تھیں؟ میں نے عرض کی کہ کچھ کچھ علم میں تھیں کچھ کا علم نہیں تھا۔ کہنے لگے: اگر آپ کے علم میں ہیں تو کیا میں آپ کی خاموشی کاسبب جان سکتا ہوں؟ میں نے کہا سر میں سمجھا نہیں۔ کہنے لگے آپ کے اور ہمارے سامنے ہماری یونیورسٹی، ہمارا ادار ہ جو امت مسلمہ کی فکری امانت ہے وہ تباہ ہو رہا ہے، اور آپ خاموش ہیں ۔ آپ کیون خاموش ہیں؟ آپ اس پر کم از کم ایک کالم تو لکھیں۔

میں نے ان سے وعد ہ کر لیا کہ ضرور لکھوں گا۔ مجھے معلومات کو کالم کی شکل میں مرتب کرتے تین دن لگ گئے اور ان تین دنوں میں ہر صبح ان کا پیغام آتا،بھائی آصف کالم کہاں ہے؟وہ شاید صبح اخبار دیکھتے اورکالم نہ پا کر مجھے واٹس ایپ کرتے۔

ان کا آخری میسج ان کے انتقال کے بعد میں نے پڑھا: بھائی آصف کہاں ہے آپ کا کالم؟

جسٹس صاحب کے جنازے میں بتایا جا رہا تھا کہ ان کی موت کی وجہ ہارٹ اٹیک ہے۔ میں کھڑا سوچتا رہاکہ کیا اس ہارٹ اٹیک کی بھی کوئی وجہ تھی؟ میرے خیال میں اس کی دو وجوہات تھیں۔ وہ فلسطین پر بہت دکھی تھے اور اسلامی یونیورسٹی کے معااملات نے ان کی روح کو گھائل کر دیا تھا۔

ان کے آخری ایام کے واٹس ایپ میسج میرے پاس امانت ہیں، یونیورسٹی بی او ٹی، صدر پاکستان یا جناب چیف جسٹس چاہیں تو یہ ان کی خدمت میں پیش کیے جا سکتے ہیں۔ یہ ذاتی پیغام رسانی تھی، اسے عام حالات میں سامنے نہیں لانا چاہیے تھا لیکن میں سمجھتا ہوں جس معاملے کی اذیت نے جسٹس صاحب کوزندگی کے آخری دنوں میں تکلیف دیے رکھی اس اذیت کا خاتمہ ہونا چاہیے۔

یونیورسٹی کے معاملات سیدھے ہو جائیں تو ڈاکٹر محمد الغزالی کی روح کو شاید اس سے کچھ تسکین ملے۔ و ہ ا س جامعہ کے لیے اپنے آخری دنوں میں شدید دکھی تھے۔

اسلامی یونیورسٹی میں اصلاح احوال جسٹس ڈاکٹر محمد الغزالی کا ان کے شاگردوں اور دوستوں پر قرض ہے۔

(بشکریہ روزنامہ ترکش)

ڈاکٹر محمد الغزالیؒ

مراد علی

ڈاکٹر محمد الغزالی کا پہلا تعارف ڈاکٹر محمود احمد غازی کے برادر خورد کے طور پر ہوا تھا، یہ اس وقت کی بات ہے جب ابھی اسلام آباد وارد نہیں ہوئے۔ 2015ء میں اسلامی یونی ورسٹی میں داخلہ لینے کے بعد دوسرے ماہ، اپریل کے مہینے میں شریعہ اکیڈمی میں جہاد کے موضوع پر دو روزہ ورک شاپ تھا، جس میں پہلے دن کا ایک سیشن غزالی صاحب چیئر کر رہے تھے یہی ان کی پہلی براہ راست زیارت تھی۔

اس وقت آپ ادارہ تحقیقات اسلامی میں پروفیسر اور سہ ماہی عربی مجلے “الدراسات الاسلامیہ” کے مدیر تھے۔ یونی ورسٹی کے اولڈ کیمپس لائبریری مستقل جانا ہوتا تھا، ایک عجیب سی مسحور کن جگہ تھی ایک ادنی سا حساس انسان وہاں انس محسوس کرسکتا تھا۔ یہ اس بات کی شہادت تھی کہ یہاں کئی ایک غیر معمولی علمی ہستیاں رہی ہیں۔ ملاقات کی بہت چاہ تھی لیکن آپ کا جلال حائل ہوجاتا کہ ملے بھی تو کیسے!

غزالی صاحب کے شخصی اوصاف میں آپ کا جلال، بانک پن، تواضع، وقار اور ایک کلاسیکی حمیت نمایاں تھے، جو بھلے وقتوں کے بزرگوں کی یاد تازہ کرتے تھے۔ آپ کی نفاست بھی عمدہ تھی اور ذوق بھی، پہننے میں، بولنے میں اور لکھنے میں۔

2018ء میں دعوۃ اکیڈمی نے ڈاکٹر محمود احمد غازی سے متعلق ایک عالمی کانفرس کا انعقاد کیا تھا، جس کا افتتاحی خطاب غزالی صاحب نے ٹکسالی اردو اور اپنے مسحور کن لہجے میں دیا، ایسا لگ رہا تھا جیسے گذشتہ صدی کے کسی عمدہ ادیب کو سن رہے ہیں۔

آپ کے جلال اور استغنا کے کئی واقعات سنے بھی ہیں اور براہِ راست دیکھنے کا اتفاق بھی ہوا ہے۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان کے ساتھ غازی صاحب اور غزالی صاحب کے بہت قریبی مراسم تھے۔ ہم 2019ء کے آخری مہینوں میں ڈاکٹر قدیر سے ملنے گئے، جب کہا کہ اسلامی یونی ورسٹی سے تعلق ہے تو انھوں نے دونوں بھائیوں سے اپنی رفاقت کا تذکرہ بہت عقیدت سے کیا اور کہا کہ سنا ہے غزالی صاحب کو پروفیسر ایمریٹس بنایا جا رہا ہے۔

چند دنوں بعد فیصل مسجد میں یونی ورسٹی کے صدر ڈاکٹر یوسف درویش خطبۂ جمعہ دے رہے تھے، جس میں وہ عرب شاہوں کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا رہے تھے، اس دن غزالی صاحب منبر سے کافی دور تھے لیکن کھڑے ہوئے، آپ کے خاص انداز سے لگ رہا تھا کہ صدر صاحب کے ارشادات آپ کی طبیعت پر بے حد گراں گزر رہے ہیں۔ اس دن خطبہ اتنا لمبا ہوگیا کہ بنو امیہ کے گورنروں کے خطبے یاد آئے۔ اس دن کی اذیت سب کو یاد ہوگی، خطبے کی طوالت نے لوگوں کو جمعہ پڑھے بغیر فیصل مسجد کے ہال سے نکلنے پر مجبور کر دیا۔

درویش صاحب کے اگلے خطبے پر غزالی صاحب اگلی صفوں تک پہنچ چکے تھے، اس دن انھوں نے خطبے کو طول دینے کے ساتھ ساتھ سعودی ولی عہد کی تعریفیں بھی شروع کیں۔ غزالی صاحب اپنے مخصوص انداز میں پھر کھڑے ہوگئے، صدر صاحب منبر سے اترے تو ہنگامہ ہوگیا، کافی وقت بعد جماعت کھڑی ہوئی۔ بعد میں تفصیلی روداد آئی تو پتا چلا کہ صدر صاحب کو غزالی صاحب نے ڈانٹ پلائی اور کہا کہ یہ سعودیہ نہیں کہ منبر پر ملوک کی قصیدیں پڑھی جائیں، دوبارہ منبر پر چڑھ کر اپنے الفاظ واپس لے لیں، درویش صاحب کی آواز بلند ہوئی تو غزالی صاحب نے مزید ڈانٹ پلا کر کہا: “اسکت”، اتنے میں درویش صاحب کے غلمان بھی پہنچ گئے اور غزالی صاحب کو ایک طرف کرنے کی کوشش کی تو ان میں سے ایک کو زوردار دھکا بھی دے مارا۔

یہ کام اس بندے نے سرانجام دیا جنھوں نے یونی ورسٹی میں پروفیسر امریٹس بننا تھا۔

شخصی تواضع کے بارے میں بھی کئی ایک واقعات ہیں، جب غازی صاحب وفاقی وزیر تھے، وزرا اور کئی اعلی مناصب پر فائز لوگوں کا گھر پر آنا جاتا رہتا تھا، غزالی صاحب ان کے ڈائیورز اور گاڈز کے ساتھ زمین پر چھٹائی بچھا کر محفل سجھاتے تھے۔

ایک بار استاد محترم ڈاکٹر محمد مشتاق احمد کے آفس میں جمعے سے قبل ایک یاد گار ملاقات ہوئی تھی۔ مشتاق صاحب کسی میٹنگ کےلیے باہر چلے گئے، ہم کچھ دوست ایک گھنٹے تک آپ کے ساتھ بیٹھے رہے بہت بے تکلفی کے ساتھ گفتگو کرتے رہے، غازی صاحب کے کئی واقعات سنائے۔ سامنے الماری میں ایک کتاب پڑی تھی، کہا کہ ہمارے بھائی جان (غازی صاحب) کی انتظامی صلاحیتوں کو دیکھیے ناں ایسے نالائق آدمی سے بھی کتاب تیار کرائی ہے۔

دو برس قبل آپ کے صاحبزادے برادرم حمزہ غزالی کے ذریعے آپ سے وقت لیا، ملاقات کےلیے گھر گیا، اس ملاقات کا بنیادی غرض ڈاکٹر محمود احمد غازی کے محاضرات سیریز کو مزید بہتر انداز میں چھاپنے کے حوالے سے کچھ تجاویز پیش کرنا تھیں، پہلی فرصت میں ان کی تخریج کا مرحلہ تھا انھوں نے اتفاق کرلیا، میں نے کہا کہ آغاز “محاضرات فقہ” سے کریں گے، جس کی تخریج کےلیے مشتاق صاحب نے حامی بھری ہے۔ باقی کتب کےلیے بھی کچھ دوستوں نے رابطہ کیا ہے۔ اس سے بہت خوش ہوئے۔

ایک بار علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی میں ڈاکٹر یاسین مظہر صدیقی کا خطبہ تھا، غزالی صاحب بھی مدعو تھے، پروگرام کے اختتام پر شرکا میں یادگاری شیلڈز پیش کی جا رہی تھیں، جس پر غزالی صاحب نے کہا کہ اس سے بہتر ہے قلم دیے جائیں۔

گزشتہ دسمبر میں مشتاق صاحب کی معیت میں عشاء کے بعد ملاقات کےلیے جا رہے تھے، مشتاق صاحب نے جیب میں قلم رکھا اور کہا کہ غزالی صاحب پھر پوچھتے ہیں۔ جب پہنچے تو چند لمحوں کے بعد انھوں نے سب سے پہلے قلم پیش کیا، جیب میں جو قلم رکھا تھا وہ مجھے دیا۔

رات دیر تک بیٹھے رہے، آخر میں عربی کے کلاسیکی اشعار اپنے خاص آہنگ کے ساتھ پڑھتے رہے، عربی جیسے آپ کی مادری زبان ہو۔ اپنی دو کتب کا تحفہ عنایت کیا، جس میں ایک کتاب قرآنی میں بلاغت اور معانی سے متعلق تھی، کہا کہ اس کو تنقیدی نظر سے دیکھ کر مجھے تبصرہ بھیجیے اس کے بعد بھی اس تبصرے کا پوچھتے رہے۔

اب ہم کہاں اور یہ موضوع کہاں لیکن اس انداز میں یہ بات پنہاں تھی کہ انھیں علم کا کوئی زعم نہیں ورنہ ہم جیسے طفل مکتب سے کبھی یہ نہ کہتے۔

اسی سے متصل مشتاق صاحب سے کہا کہ امام شیبانی کی “الجامع الصغیر” کا انگریزی ترجمے کا ارادہ کیا ہے، اس بہانے ہمارا بھی کچھ بھلا ہوجائے گا، ہمیں بھی کچھ فقہ سمجھنے کا موقع ملے گا۔

تواضع کی ایسی مثالیں اب کتابوں میں ملتی ہیں۔

ابھی ان کی تازہ کتاب “سوشیالوجی آف اسلام” گزشتہ برس ہندوستان سے ڈاکٹر ظفر الاسلام خان نے شائع کی۔ اس کتاب کو شائع کرنے میں ہماری خاص دلچسپی تھی لیکن انھوں نے کہا کہ ناشر سے اجازت لینی پڑے گی۔ اسی دوران انھوں نے اپنی ایک اور کتاب دی کہ فی الحال اس کو دیکھیں۔ کچھ ہفتوں کے بعد میسج کیا کہ ظفر الاسلام صاحب نے اجازت دے دی ہے۔ کتاب پر کچھ بنیادی کام کرکے مسودہ ان کو بھیج دیا لیکن کہا کہ آنکھ کا آپریشن کیا ہے اس لیے وہ مسودہ دیکھنے کے قابل نہیں۔ معلوم نہیں اب وہ انھوں نے دیکھا بھی ہوگا یا نہیں۔

مولانا مودودی اور ان کے بڑے بھائی مولانا ابو الخیر مودودی کے ساتھ غازی صاحب اور غزالی صاحب دونوں کے مراسم تھے۔ میں نے مولانا کے ساتھ ملاقات کا پوچھا تو کہا کہ مولانا جب بھی اسلام آباد آتے تھے تو ہم ان کے پاس پہنچ جاتے تھے۔ ایک واقعہ سنایا کہ جس وقت کوثر نیازی صاحب جماعت اسلامی سے الگ ہوئے اس کے چند دن بعد مولانا اسلام آباد تشریف لے آئے تو محفل میں کوثر نیازی صاحب کا ذکر چلا کافی باتیں ہوئیں مولانا خاموشی سے سنتے رہے، جب گفتگو ختم ہوئی تو مولانا نے کسی سے کہا: “ذرا کلی کرا لیجیے، پانی دے دیں۔”

آپ کا جلال بہت نمایاں تھا اور ایک صاحب علم کو موجودہ دور میں ایسا ہونا چاہیے۔ ہم نے بڑوں بڑوں کو آپ کے سامنے لرزتے دیکھا ہے۔

عصرِ حاضر کے چیلنجز اور علماء کرام کی ذمہ داریاں

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(۱۹ نومبر ۲۰۲۳ء کو العصر فاؤنڈیشن اور مکتبہ یاران کراچی کے زیر انتظام ’’عصرِ حاضر کے چیلنجز اور علماء کرام کی ذمہ داریاں‘‘ کے عنوان پر سیمینار سے خطاب۔)

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ مکتبہ یاران اور العصر فاؤنڈیشن کراچی کا شکر گزار ہوں کہ علماء کرام اور مختلف شعبہ ہائے زندگی میں کام کرنے والے اہلِ علم کی اس متنوع مجلس اور گلدستہ میں مجھے بھی حاضری کا شرف بخشا، عروس البلاد کراچی کے حضرات سے ملاقات ہوئی اور کچھ عرض کرنے کا موقع مل رہا ہے، اللہ رب العزت اس کاوش کو قبول فرمائیں، انتظام کرنے والوں کو جزائے خیر عطا فرمائیں اور ہم سب کی حاضری کو قبول کرتے ہوئے اسے دارین کی سعادتوں اور خیر کا ذریعہ بنائیں۔

مجھے گفتگو کا عنوان دیا گیا ہے ”عصر حاضر کے چیلنجز اور علماء کرام کی ذمہ داریاں“ ۔پہلی بات یہ ہے کہ عصر حاضر کیا ہے اور انسانی سوسائٹی کی تاریخ میں عصر حاضر کی مجموعی کیفیت کیا ہے؟ انسانی تاریخ اور سماج میں مختلف ادوار آئے ہیں جنہیں آپ بیسیوں مراحل میں ترتیب دے سکتے ہیں، اچھے ادوار بھی آئے ہیں اور اعمال کے اعتبار سے برے ادوار بھی آئے ہیں، اچھے لوگوں کی حکمرانی بھی قائم ہوئی ہے اور بروں کی بھی قائم ہوئی ہے، یہ انسانی فطرت ہے کہ اس کی زندگی میں تنوع اور تغیر ہے ؏ ’’ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں‘‘۔ تغیر انسانی سوسائٹی کا حصہ ہے جس میں صرف ارتقا نہیں ہوتا بلکہ تنزل بھی ہوتا ہے۔ اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا ہے ’’تلک الایام نداولھا بین الناس‘‘ کہ جب سے اللہ تعالیٰ نے زمانہ کو پیدا کیا تھا اس دن کے بعد سے زمانہ اپنے آپ کو دہراتا رہتا ہے، اپنے آپ کو بدلتا رہتا ہے، اچھے ادوار بھی آتے ہیں اور برے ادوار بھی آتے ہیں۔

آج ہم آزمائش ،امتحان اور تنزل کے دور میں ہیں۔ اگرچہ انسان نے اسباب میں بہت ترقی کی ہےمگر میرا سوال ہوتا ہے کہ خود انسان نے کیا ترقی کی ہے؟ مثال کے طور پر میڈیکل سائنس میں ہم نے بہت ترقی کی، علاج اور تشخیص کے نئے نئے اسباب بنائے ہیں، لیکن اگر ایک جملے میں بات کی جائے تو یہ ہے کہ انسانی علم اور ساری صلاحیتیں مشینوں میں منتقل ہو گئی ہیں۔ آپ اسے ارتقا کہیں یا تنزل ۔ ایک زمانہ تھا کہ معالج نبض پر ہاتھ رکھ کر بیماری اور اس کے سبب کے ساتھ علاج بھی بتا دیتا تھا، بلکہ بعض معالجین چہرہ دیکھ کر بیماری سمجھ جاتے تھے۔ اب ڈگریاں ہمارے پاس ہیں لیکن چہرہ دیکھ کر اور نبض پر ہاتھ رکھ کر بیماری کی تشخیص کی صلاحیت ہمارے پاس نہیں ہے، اور یہ صلاحیت آلات اور مشینوں میں منتقل ہو گئی ہے۔ انسان بحیثیت انسان کمزور ہوتا جا رہا ہے، اسباب اور مشینیں اس پر غالب آتی جا رہی ہیں، یہی زندگی کے ہر شعبے میں ہے۔ میں اس کی ایک اور چھوٹی سی مثال دوں گا کہ ہم لڑکپن اور جوانی میں پیدل پانچ چھ میل چل لیا کرتے تھے۔ میں بہت دفعہ پہاڑی علاقوں میں کئی کئی پیدل میل چلا ہوں ،لیکن آج اس عمر کا نوجوان دو میل پیدل نہیں چل سکتا۔ جسمانی صلاحیتیں کمزور ہوتی جا رہی ہیں اور اسباب کی طاقت بڑھتی جا رہی ہے، آپ اس کو ترقی یا تنزل جو بھی تعبیر کر لیں۔

یہی صورتحال تہذیبی، دینی اور علمی اعتبار سے بھی ہے، لیکن میں اس کو یہیں چھوڑتے ہوئے یہ عرض کروں گا کہ ہم بحیثیت مسلمان ، بحیثیت امتِ مسلمہ، اور اس حیثیت سے کہ نسل انسانی کی قیادت اللہ تعالیٰ نے امتِ مسلمہ کو عطا فرمائی ہے، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’کنتم خیر امۃ اخرجت للناس تامرون بالمعروف و تنہون عن المنکر‘‘ قرآن کریم کے بقول انسانی معاشرے میں امتِ مسلمہ کی حیثیت قائد کی ہے ۔ اس وقت دنیا میں آٹھ ارب کے لگ بھگ انسان ہیں، ان میں مسلمان پونے دو ارب کے لگ بھگ بتائے جاتے ہیں، جو باقی چھ ارب انسان ہیں وہ کس کے رحم و کرم پر ہیں؟ ان تک قرآن مجید کی دعوت پہنچانا، جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے متعارف کروانا، اور آخرت کا عقیدہ ان تک منتقل کرنا کس کا فریضہ ہے؟ اللہ تعالیٰ نے انسانی سماج کی بہتری اور کامیابی کے لیے جو نظام دیا ہے، جو کتابوں میں بھی ہے اور جس کا تجربہ کئی بار ہو چکا ہے، اس نظام کو انسانی سماج میں دوبارہ عملی طور پر متعارف کرانے کی ذمہ داری کس کی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نظام دیا کہ اس کے ذریعے تم دنیا میں بہتر زندگی گزار سکتے ہو، اور دنیا میں رہ کر عمل کر کے اس کا نمونہ دکھایا۔ اب اس نظام سے دنیا کو زبان کے ذریعے، قلم کاغذ کے ذریعے ، آج کی زبان میں سکرین کے ذریعے، اور عمل کے ساتھ متعارف کرانا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔

آج دنیا کو موجودہ نظام میں کیا چیلنجز درپیش ہیں، اس پر دو حوالے دوں گا۔ برطانیہ کے شاہ چارلس جنہوں نے طویل عرصہ شہزادہ رہ کر گزارا ہے، اپنے مزاج کے اعتبار سے لیکچرار اور دانشور ہیں، اگر کسی کو ذوق ہو تو چارلس کے لیکچرز ضرور دیکھیں۔ میں ان کے دو حوالے نقل کروں گا۔

آکسفورڈ یونیورسٹی میں ایک لیکچر کے دوران شہزادہ چارلس نے کہا کہ دنیا کا موجودہ سسٹم ناکام ہو گیا ہے جو کہ بیساکھیوں کے سہارے چل رہا ہے، لہٰذا ہمیں اس کا متبادل تلاش کرنا چاہیے۔ اور کہا کہ میں اس کے لیے اہل دانش کو ایک مشورہ اور تجویز دوں گا کہ وہ متبادل کے طور پر اسلام کو اسٹڈی کریں۔ اور یہ ماضی کے حوالے سے نہیں بلکہ موجودہ سسٹم کی ناکامی کے تصور کے ساتھ اس کے متبادل کے طور پر۔ اور انہوں نے کہا کہ میں اسکالرز سے یہ کہوں گا کہ اسلام کو اسٹڈی کرتے ہوئے تین باتیں ذہن میں رکھیں: پہلی یہ کہ ہمارے بڑوں نے ہمیں جو بتا رکھا ہے کہ اسلام ایسا ہے اور مسلمان ایسے ہیں، یہ بھول جائیں۔ دوسری یہ کہ اس وقت مسلمان جیسے نظر آ رہے ہیں اس کو بھی نظر انداز کر دیں۔ تیسری یہ کہ اسلام کو اوریجنل سورسز یعنی اصل مآخذ سے اسٹڈی کریں ۔ اگر آپ یہ تین باتیں سامنے رکھ کر اسلام کو اسٹڈی کریں گے تو میرا وجدان کہتا ہے کہ مستقبل کے لیے متبادل نظام ہمارے پاس اسلام کے سوا کوئی نہیں ہے۔

نیویارک میں پولیوشن پر ایک کانفرنس تھی۔ ماحولیاتی آلودگی آج کا بڑا مسئلہ ہے۔ شہزادہ چارلس نے کہا کہ میری دیانت دارانہ رائے یہ ہے کہ پولیوشن کی تباہ کاریوں سے بچنے کے لیے ہمیں وہ سماجی اصول اختیار کرنا ہوں گے جو قرآن مجید نے بیان کیے ہیں کہ سماج کیا ہے ، سماج کے اصول، تقاضے اور ضروریات کیا ہیں،اور وہ تقاضے کیسے حل ہوں گے۔

دنیا کے کرنٹ ایشوز میں ماحولیات اور معیشت سرفہرست ہیں کہ ماحولیاتی آلودگی کے مسائل سے کیسے چھٹکارا ملے گا اور معیشت کیسے توازن پر آئے گی ۔ شہزادہ چارلس تو بادشاہت کی دنیا کا آدمی ہے، میں مذہبی دنیا کا حوالہ دینا چاہوں گا کہ اس وقت پاپائے روم پوپ فرانسس ہیں، ان سے پہلے پوپ بینی ڈکٹ تھے، مسیحی دنیا میں مذہبی طور پر سب سے بڑا پیشوا پاپائے روم ہوتے ہیں۔ آج سے پندرہ بیس سال پہلے کی بات ہے، جن دنوں معیشت میں بہت سی ملٹی نیشنل کمپنیاں بیٹھ گئی تھیں ، بڑا بحران پیدا ہو گیا تھا اور بڑے بڑے جلوس ہو رہے تھے، اس وقت پاپائے روم پوپ بینی ڈکٹ نے ایک کمیٹی بنائی کہ معاشی بحران اور اَن بیلنسڈ سسٹم کے بارے میں ویٹی کن سٹی کو کیا موقف اختیار کرنا چاہیے۔ اس کمیٹی نے جو رپورٹ پیش کی وہ آن لائن موجود ہے۔ اس کمیٹی کی رپورٹ کا خلاصہ یہ تھا کہ معیشت ڈی ٹریک ہو گئی ہے، اس کو بیلنس اور ٹریک پر لانے کے لیے ایک ہی صورت ہے کہ معیشت کے وہ اصول اختیار کیے جائیں جو قرآن مجید نے بیان کیے ہیں۔

میں علماء کرام سے یہ باتیں اس لیے ذکر کر رہا ہوں کہ اپنے ذہن کو وسیع کر کے اپنے ماحول سے اوپر اٹھ کر دنیا کا منظر دیکھیں کہ جتنا فضا میں زیادہ بلند ہو کر دیکھیں گے اتنا کھلا ماحول نظر آئے گا۔ اہل دانش کے مختلف لیولز ہیں، میں سب کی بات نہیں کر رہا ۔ میں نے ایک لیول کی بات کی ہے جو مستقبل کے بارے میں سوچ رہے ہیں اور اس حوالے سے اسلام کو اسٹڈی کر رہے ہیں۔

ایک مشاہدہ اور عرض کر دیتا ہوں۔ یونیورسٹیوں میں اسٹڈی گروپس بنے ہوتے ہیں اور مغرب کی یونیورسٹیز کے کام کے انداز کا آپ کو پتہ ہے کہ کیسے کام کرتی ہیں۔ آج سے دس سال پہلے امریکہ کی ہنٹنگٹن یونیورسٹی کے ایک پروفیسر پاکستان تشریف لائے، میرے پاس بھی آئے اور کہا کہ میں پی ایچ ڈی کر رہا ہوں اور میرا موضوع امام ابو منصور ماتریدیؒ ہیں۔ اہلِ سنت کے ہاں علمِ کلام کے دو بڑے امام ہیں ابوالحسن اشعریؒ اور ابو منصور ماتریدیؒ۔ معتزلہ کے مقابلے میں بنیادی کام ابو الحسن اشعریؒ کا ہے کہ ان کی عقلیات کا روایت کی دنیا میں امام احمد بن حنبلؒ اور درایت کی دنیا میں ابو الحسن اشعریؒ نے مقابلہ کیا۔ امام احمد بن حنبلؒ کا موقف یہ تھا کہ قرآن کی آیت یا حدیث پیش کرو، ورنہ جتنا مارنا ہے مارو، میں نہیں مانوں گا، ان کی استقامت اور قربانی نے اہل سنت کے عقیدے کو استحکام بخشا، جبکہ درایت کی دنیا میں ابو الحسن اشعریؒ نے یہ کام کیا۔ اللہ کی قدرت کہ معتزلہ کے بانی واصل بن عطا حضرت حسن بصریؒ کے شاگرد ہیں اور ابو الحسن اشعریؒ واصل بن عطا کے شاگرد ہیں ’’یخرج الحی من المیت ویخرج المیت من الحی‘‘ ۔ امریکی پروفیسر نے کہا کہ میرے ذہن میں کچھ سوالات ہیں وہ پوچھنا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا ٹھیک ہے پوچھیں لیکن ایک شرط پر کہ میں بھی سوال کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ علمی میدان میں معتزلہ کا مقابلہ تو ابو الحسن اشعریؒ نے کیا تھا، لیکن حنفی لوگ ابو الحسن اشعریؒ کی بجائے ابو منصور ماتریدیؒ کو اپنا امام کہتے ہیں ، تو ان کا کنٹریبیوشن کیا ہے؟ میں نے کہا کہ واقعی معتزلہ کا مقابلہ ابو الحسن اشعریؒ نے کیا ہے، یہ ایک تاریخی حقیقت ہے، لیکن جب آدمی مقابلہ کر رہا ہوتا ہے تو محاذ پر مناظر کو بہت سی باتیں گھڑنی پڑتی ہیں اور بعض باتیں اوور (Over) کرنی پڑتی ہیں تاکہ مقابل کا منہ بند ہو جائے۔

اس پر ایک لطیفہ عرض کر دیتا ہوں۔ قرآن مجید میں ذکر ہے کہ چار تک بیویوں کی اجازت ہے اس سے زیادہ کی نہیں۔ جبکہ مستشرقین کا ہم پر یہ اعتراض چلا آ رہا ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کے بعد باقی سب سے چار سے زیادہ بیویاں چھڑوا دیں لیکن اپنے پاس نو تھیں ان میں سے ایک کو بھی نہیں چھوڑا۔ یہ اعتراض آج بھی قائم ہے۔ ۱۹۹۰ءکی بات ہے کہ ڈاکٹر حمید اللہؒ جو ہمارے بڑے اہل علم میں سے تھے، انہوں نے کہیں لکھ دیا کہ حضورؐ نے بھی پانچ بیویاں چھوڑ دی تھیں اور چار باقی رکھی تھیں، اس طرح کہ پانچ کو ازواجِ شرف یعنی اعزازی رکھا تھا جبکہ حقیقی بیویاں چار ہی تھیں۔ اس پر اعتراض ہوا کہ یہ نئی بات کیسے کہہ دی۔ ہم نے ڈاکٹر حمید اللہ سے رابطہ کیا کہ یہ آپ نے کیا کہا؟ ڈاکٹر صاحب نے لکھا کہ میں نے مستشرقین کو جواب دینے کے لیے یہ بات بنائی ہے۔ ہم نے کہا ڈاکٹر صاحب! اگر آپ کی اور ہماری بات ہو تو آپ چاہے دس باتیں گھڑیں مگر یہ تو رسول اللہ کی بات ہے۔ چنانچہ ڈاکٹر صاحب نے رجوع کیا اور کہا کہ میں امت سے بھی اور اللہ سے بھی معافی مانگتا ہوں۔ اس طرح مناظر کو بہت سی باتیں اوور کرنی پڑتی ہیں ۔

میں نے امریکی پروفیسر سے کہا کہ ابو الحسن اشعریؒ کو معتزلہ کے مقابلے میں کچھ باتیں اوور کرنا پڑی تھیں، جنہیں بعد میں ابو منصور ماتریدیؒ نے آ کر بیلنس کیا تھا، اور یہی ان کا کنٹریبیوشن ہے۔ اس پر پروفیسر صاحب نے کہا کہ میں بات سمجھ گیا ہوں۔

اس کے بعد میں نے ان سے سوال کیا اور کہا کہ ہم ما تریدی ہیں، ہمارے سینکڑوں مدرسین اصولِ عقائد پڑھاتے ہیں، لیکن ہم پڑھانے والوں میں سے نوے فیصد کو پتہ نہیں کہ ابو منصور ماتریدیؒ کون تھا؟ میں نے پوچھا کہ ہم عقائد پڑھانے والے حنفی مدرسین عام طور پر انہیں نہیں جانتے، تو تمہیں کس نے بتایا ہے کہ دنیا میں ماتریدیؒ بھی ایک آدمی تھا اور تمہیں اس کی قبر پر کون لے گیا ہے؟ تو اس نے پوری کہانی سنائی ۔ اس نے کہا کہ ہم کچھ یونیورسٹیوں کے اہل دانش پروفیسرز کا گروپ ہے، پندرہ بیس سال سے ہماری ریسرچ جاری ہے، ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ایک تو سوسائٹی میں مذہب واپس آرہا ہے، اور دوسری بات یہ طے ہے کہ مذہب وہی واپس آئے گا جو واقعتاً‌ مذہب ہوگا۔ مذہب ہونے کا معیار یہ ہے کہ اس مذہب کے پاس اپنی وحی اور اپنے پیغمبر کی تعلیمات اصل حالت میں موجود ہوں، اور یہ بھی طے ہے کہ ایسا مذہب اسلام ہی ہے۔ یہ دو باتیں ہم ذہن میں طے کر کے اس پر ریسرچ کر رہے ہیں کہ مسلمانوں کی مختلف ادوار کی شخصیات میں سے ہماری ضروریات کون پوری کرتا ہے۔ ہم مغرب کے لوگ ہیں، ہمارا اپنا مزاج اور اپنی نفسیات ہیں۔ اس پر ہم نے پندرہ بیس شخصیات اسٹڈی کی ہیں جن میں غزالیؒ، ابن رشدؒ، ابن سینا اور ابن عبد السلامؒ وغیرہ شامل ہیں۔

میں نے پوچھا کہ آپ کی ضروریات کیا ہیں؟ تو انہوں نے کہا کہ ہم تین باتیں دیکھ رہے ہیں: روایت، درایت اور وجدانیات۔ (۱) روایت یعنی قرآن و حدیث (۲) درایت یعنی تفقہ، استنباط اور تعقل (۳) وجدانیات یعنی قلبی کیفیات، تصوف و سلوک۔ ہم ایسی شخصیت تلاش کر رہے ہیں جس میں یہ تینوں چیزیں موجود ہوں، وہ روایت میں بھی پکا ہو، درایت میں بھی مضبوط ہو، اور وجدانیات اور قلبی کیفیات میں بھی تجربہ رکھتا ہو۔انہوں نے بتایا کہ ہم پندرہ بیس شخصیات پر ریسرچ کر چکے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ اب تک کہاں پہنچے ہیں؟ اس نے کہا، ہم سمجھے ہیں کہ یہ تینوں چیزیں بہت سی مسلم شخصیات میں موجود ہیں، اب ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ روایت، درایت اور وجدانیات کا توازن کس شخصیت میں ہے۔ کیونکہ نسخے کے اجزا میں توازن بھی ضروری ہوتا ہے، اگر بیلنس بدل جائے تو نسخہ بدل جاتا ہے۔ اس پر ہم نے دو شخصیات کو فوکس کیا ہے، ایک پر میں اسٹڈی کر رہا ہوں یعنی ابو منصور ماتریدیؒ، اور دوسری شخصیت شاہ ولی اللہؒ کی ہے جس پر میرا ایک اور ساتھی اسٹڈی کر رہا ہے۔

میں نے ذکر کیا ہے کہ آج کی انسانی دنیا کو درپیش مسائل، یعنی عصر حاضر کے چیلنجز انسانی سماج کے دائرے میں، اس پر کہاں بات ہو رہی ہے اور کس سطح پر بات ہو رہی ہے؟ میں نے علماء کرام کے سامنے موجودہ چیلنجز میں سے ایک چیلنج پر آج کا ماحول عرض کیا ہے، یہ دعوت دینے کے لیے کہ صرف ایک دائرے میں نہ دیکھیں بلکہ غور و فکر کے بہت سے دائرے اور لیولز ہیں۔ یہ میں نے امت مسلمہ کی معروضی صورتحال عرض کی ہے، معیشت اور ماحولیات کے حوالے سے، اور پھر روایت، درایت اور وجدانیات کے توازن کے بارے میں کچھ حوالے دیے ہیں۔ اس کو یہیں سمیٹتے ہوئے اب یہ عرض کروں گا کہ بطور عالم ہماری حیثیت کیا ہے؟

جب پاکستان بنا تھا تو ہمارا بنیادی ویژن یہ تھا کہ ہم ایک ریاست قائم کریں گے جس میں اسلام کی حکمرانی کا نظم قائم کریں گے ، انسانی سماج قائم کرنے کی ترتیب بنائیں گے، اور دنیا کے سامنے اس کو نمونے کے طور پر پیش کریں گے۔ آپ قائد اعظم مرحوم کی تقریریں پڑھیں، ان میں یہ ویژن دیا گیا ہے کہ ہم اسلامی ریاست قائم کر کے قرآن و سنت کی عملداری قائم کریں گے، اسلامی سماج کی تشکیل کی کوشش کریں گے اور اسے دنیا کے سامنے بطور مثال پیش کریں گے۔ ہمارا یہ ویژن ریکارڈ پر موجود ہے۔ لیکن پاکستان بننے کے بعد یہ ہوا کہ یہ سارے کام جو اسٹیبلشمنٹ نے کرنے تھے وہ سب کچھ نظرانداز کر دیا، ہم نے ریاست کا نظامِ تعلیم اور سسٹم وہی رہنے دیا اور اس کے ذمے کام سارا یہ ڈال دیا ۔ حالانکہ نوآبادیاتی دور کی اسٹیبلشمنٹ کی تربیت کا دائرہ اور تھا۔ گویا ہم مونجی والی مشین سے گندم کا کام لے رہے ہیں۔ میں نے وفاقی شرعی عدالت کے ایک جسٹس صاحب مرحوم سے نجی مجلس میں سوال کیا کہ دنیا میں کوئی اور ملک بھی ایسا ہے جس کے دستور میں طے کیا گیا ہو کہ ملک کا قانون یہ ہوگا، لیکن اس کے ایجوکیشن سسٹم میں وہ قانون نہ پڑھایا جاتا ہو؟ دنیا میں اس کی کوئی مثال ہے؟ انہوں نے جواب گول مول کر دیا۔

ملک کے دستور میں لکھا ہوا ہے کہ ملک کا قانون قرآن اور سنت کے مطابق ہوگا، قرآن و سنت کے خلاف کوئی قانون نہیں ہوگا، اور قرآن و سنت کی عملداری لازم ہوگی۔ لیکن ملک کے نظام تعلیم میں قرآن و سنت نہیں ہے۔ قانون بنانا مقننہ کی ذمہ داری ہے، قانون کے مطابق فیصلے کرنا عدلیہ کی ذمہ داری ہے، اور ان فیصلوں پر عملدرآمد کرانا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ مقننہ، عدلیہ،انتظامیہ، تینوں کے نظام تعلیم میں قرآن و سنت کا قانون کہیں نہیں پڑھایا جاتا ۔ سوال یہ ہے کہ جو قانون پڑھانا لازمی نہیں ہے وہ نافذ کیسے ہوگا؟

ہمارے ہاں یہ مسئلہ ہے کہ ملک میں جو کام بھی نہ ہو رہا ہو وہ علماء کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے، اس پر ایک لطیفہ عرض کر دیتا ہوں۔ ہمارے سابق گورنر پنجاب ایک جنرل صاحب تھے، وہ ایک دفعہ جامعہ اشرفیہ لاہور تشریف لائے اور علماء کرام سے خطاب فرمایا ۔ یہ ہمارے افسران کا مزاج ہے کہ جب سامنے علماء بیٹھے ہوں تو لمبی تقریر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علماء کرام کیا کر رہے ہیں؟ ملک میں انجینئر ضرورت کے مطابق نہیں ہیں، ڈاکٹروں کی کمی ہے، سائنس دانوں کی کمی ہے اور ملک ترقی نہیں کر رہا۔ میں نے اس پر کالم میں لکھا کہ جنرل صاحب! بات یہ ہے کہ آپ کے سوال ٹھیک ہیں لیکن جگہ غلط ہے۔ یہ نہر سے اِس پار کے نہیں اُس پار کے سوال ہیں۔ ایک طرف جامعہ اشرفیہ ہے، درمیان میں نہر ہے، اور دوسری طرف پنجاب یونیورسٹی ہے۔ میں نے کہا کہ آپ نے یہ کام جن کے ذمے لگائے تھے ان سے جا کر پوچھیں۔ انجینئر نہیں مل رہے تو انجینئرنگ یونیورسٹی سے پوچھیں، اگر وکیل نہیں مل رہے تو لاء کالج میں جا کر پوچھیں، اگر ڈاکٹر نہیں مل رہے تو میڈیکل یونیورسٹی سے پوچھیں۔ ہاں اگر امام نہیں مل رہے تو ہم سے پوچھیں۔

۱۸۵۷ء کے بعد مسجد اور مدرسے کی ضرورت کے افراد تیار کرنے سے یعنی حافظ، امام، خطیب، قاری، مولوی اور مفتی بنانے کی ذمہ داری سے اس وقت کے ایجوکیشن سسٹم نے انکار کر دیا تھا، تو وہ خلا ہم نے پر کیا۔ ہم نے کہا تھا کہ مسجد اور مدرسہ آباد رہیں گے، اس لیے اگر آپ کو امام نہیں ملتے تو ہم سے بات کریں، جبکہ صورتحال یہ ہے کہ مسجدیں کم ہیں اور امام زیادہ ہیں۔ اگر پاکستان میں کہیں تراویح پڑھانے کے لیے حافظ نہیں ملتا، اگر جمعہ پڑھانے کے لیے خطیب نہیں مل رہا ، قرآن مجید یاد کرانے کے لیے قاری نہیں مل رہا، اور فتویٰ دینے کے لیے مفتی نہیں مل رہا، تو ہم سے پوچھیں۔ لیکن اگر آپ کو ڈاکٹر اور انجینئر نہیں مل رہے تو یہ سوال جامعہ اشرفیہ میں کرنے کا نہیں ہے بلکہ پنجاب یونیورسٹی سے کرنے کا ہے۔

جو بات میں آپ سے عرض کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ قوم کو تو ہر میدان میں افراد کی ضرورت ہے، اگر وہ پورے نہیں کریں گے تو قوم ہم سے مانگے گی۔ آج یہ مسئلہ درپیش ہے کہ معیشت اور تجارت کی دنیا میں اہلِ علم کی ضرورت ہے جبکہ اسلامی ماہرین کی ضرورت پوری کرنا اصلاً ریاستی تعلیمی اداروں کی ذمہ داری ہے جو اس کے لیے تیار نہیں ہیں۔ لیکن الحمد للہ ہمیں خوشی ہوتی ہے کہ جو ضرورت کہیں پوری نہیں ہوتی وہ کہتے ہیں کہ مولوی صاحب آپ یہ ضرورت پوری کریں، اس کا مطلب یہ ہے کہ قوم ہماری کارکردگی پر مطمئن ہے، اور یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ توقع رکھتے ہیں کہ علماء اسے پورا کر لیں گے۔ ملک کے کسی بھی شعبے میں ملک کے دستور کے مطابق دینی تعلیم و تربیت سے بہرہ ور افراد فراہم کرنا اصلاً‌ ریاستی نظام تعلیم کی ذمہ داری ہے، لیکن وہ یہ ذمہ داری پوری نہیں کر رہے تو ہمیں چاہیے کہ ہم اس مقام پر کھڑے ہو کر سوچیں کہ قوم ہم سے توقع کر رہی ہے تو ہمیں اپنی صف بندی پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ اگر ہمارے کام کرنے سے معیشت کو اسلامی ماہرین ملتے ہیں تو ہمیں اسے پورا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ لیکن اپنی اصل ذمہ داری کو چھیڑے بغیر، دینی ضروریات، مسجد اور مدرسے کی ضروریات پوری کرنے کے بعد جو فاضل کمائی ہے اس کی پلاننگ کرنی چاہیے۔ اس حوالے سے جو ادارے کام کر رہے ہیں، جیسا کہ العصر فاؤنڈیشن، مکتبہ یاران، مختلف بڑے بڑے مدارس اور بہت سے ادارے کر رہے ہیں ، ایسے فورمز دیکھ کر مجھے خوشی ہوتی ہے کہ ہم کسی حد تک کام کر رہے ہیں۔ ہم ضرورت پوری نہیں کر سکتے لیکن کچھ نہ کچھ کرتے رہیں تاکہ رجحان باقی رہے، اور ہم آج کی دنیا کو اپنے ماضی سے وابستہ رکھنے کی کوئی کھڑکی کھلی رکھیں تاکہ مستقبل کو ہمارے بارے میں شکایت نہ ہو کہ جو کچھ تم کر سکتے تھے تم نے وہ نہیں کیا۔

میں نے اس نشست میں متفرق باتیں کیں اور عرض کیا کہ ہمیں آج کی ضروریات کو سمجھنا چاہیے جو کہ ہماری بنیادی ذمہ داری ہے۔ جیسا کہ ہمیں تخصص فی الافتاء میں بنیادی اصول پڑھایا جاتا ہے ’’من لم یعرف اہل زمانہ فہو جاہل‘‘ ہمیں اپنے اہل زمانہ کو سمجھنا چاہیے، ان پر نظر رکھنی چاہیے، اور عصر حاضر کی ضروریات سمجھتے ہوئے انہیں پورا کرنے کے لیے جو کچھ ہم سے ہو سکتا ہے کرنا چاہیے۔ اللہ رب العزت مجھے اور آپ کو توفیق عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔

’’حر متِ مسجدِ   اقصیٰ    اور    امتِ  مسلمہ    کی    ذ   مہ   داری‘‘: تین اہم سوالات

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(۶ دسمبر ۲۰۲۳ء بروز بدھ کو مجلسِ اتحادِ امت پاکستان کے زیراہتمام اسلام آباد کنونشن سینٹر میں ’’حرمتِ مسجدِ اقصٰی اور امتِ مسلمہ کی ذمہ داری‘‘ کے عنوان پر قومی سیمینار سے خطاب کا خلاصہ)


 بعد الحمد والصلوٰۃ۔ میں اس اجتماع میں ایک کارکن کے طور پر اپنا نام شمار کرنے کے لیے حاضر ہوا ہوں، اللہ تعالیٰ ہم سب کی حاضری قبول فرمائیں۔ میں بس دو تین سوالات عرض کرنا چاہوں گا، باقی قائدین جو خطاب فرمائیں گے وہ ہمارا ایجنڈا ہوگا ان شاء اللہ تعالیٰ اور اس پر عمل کیا جائے گا۔

 پہلا سوال ہمارے پاکستان کے حکمرانوں سے ہے کہ اسرائیل جب بنا تو قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے اعلان کیا تھا کہ اسرائیل ناجائز ریاست ہے، ہم اسے تسلیم نہیں کریں گے۔ جبکہ آج ہم دو ریاستی حل کی بات پاکستان کی طرف سے کر رہے ہیں۔ میرا اسٹیبلشمنٹ سے سوال ہے کہ جناب! یہ موقف میں تبدیلی کب آئی ہے اور کس نے کی ہے؟ کل ہی ’’دو ریاستی حل‘‘ کا بیان آیا ہے، اس کا کیا مطلب ہے؟ میرا سوال یہ ہے کہ پاکستان کے موقف میں یہ تبدیلی کب آئی ہے، وہ اتھارٹی کون سی ہے جس نے قائد اعظم کے موقف کو مسترد کر کے دو ریاستی حل کی بات پیش کی ہے؟

  میرا دوسرا سوال عالمی اسٹیبلشمنٹ سے اور دو ریاستی حل پیش کرنے والوں سے ہے کہ جناب! آپ نے ۱۹۴۷ء میں دو ریاستی منصوبہ بنایا تھا اور اب تک اس کو عملی صورت میں نہیں لا سکے، بلکہ آپ ۷۵ سال سے ڈیڑھ ریاستی فارمولے کو فلسطین پر مسلط کیے ہوئے ہیں۔ ایک طرف اسرائیل مکمل ریاست ہے اور دوسری طرف فلسطین کو نارمل خودمختار ریاست بننے نہیں دیا جا رہا۔ اسرائیل کو آپ سپورٹ کر رہے ہیں، اسباب اور وسائل مہیا کر رہے ہیں، قوت مہیا کر رہے ہیں، اس کے پیچھے کھڑے ہیں، امریکہ اور اقوام متحدہ سمیت۔ اسرائیل تو ایک مکمل طاقتور ریاست کے طور پر کھڑا ہے، جبکہ فلسطین جس کو ’’ریاست‘‘ کہتے ہوئے آپ کو شرم نہیں آتی اور اسے ایک نارمل خودمختار ریاست آپ خود نہیں بننے دے رہے۔ یہ ڈیڑھ ریاستی فارمولا کہاں سے آیا ہے اور یہ ۷۵ سال سے کیوں مسلط ہے؟ یہ میرا ان سے سوال ہے کہ ایک بات کرو کہ یا ڈیڑھ ریاست کی بات کرو، یا دو ریاستوں کی بات کرو، یہ تضاد اور منافقت ختم کرو۔

  جبکہ تیسری بات کہ ایک اسٹیک ہولڈرز تو ریاستی ہیں، اور ایک اسٹیک ہولڈرز عوامی ہیں۔ ہمارے سماج اور سول سوسائٹی کے اسٹیک ہولڈرز حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب، حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب، حضرت مولانا مفتی منیب الرحمن صاحب، حضرت مولانا ساجد میر صاحب ہیں، اور جناب سراج الحق صاحب ہیں۔ یہ ہمارے قائدین ہیں، ان سے میرا سوال ہے کہ ہمیں صرف کبھی کبھی اکٹھے نہیں ہونا چاہیے بلکہ قومی و ملی مسائل پر اکٹھے رہنا چاہیے، حالات ہم سے اکٹھے ہونے کا نہیں بلکہ اکٹھے رہنے کا تقاضہ کر رہے ہیں اور آنے والے انتخابات کا تو سب سے بڑا تقاضہ یہی ہے۔ اللہ پاک ہمیں صحیح رخ پہ چلتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے، و آخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔


مسئلہ فلسطین کے تاریخی مراحل

الجزیرہ

1917ء — برطانوی اعلانِ بالفور

100 سال سے زیادہ پہلے، 2 نومبر 1917 کو، برطانیہ کے اس وقت کے سیکرٹری خارجہ، آرتھر بالفور نے، برطانوی یہودی کمیونٹی کے ایک اہم شخصیت، لیونل والٹر روتھسچلڈ کو ایک خط لکھا تھا۔ خط مختصر تھا - صرف 67 الفاظ - لیکن اس کے مندرجات نے فلسطین پر ایک زلزلہ کا اثر ڈالا جو آج تک محسوس کیا جاتا ہے۔ اس نے برطانوی حکومت کو  ①فلسطین میں یہودیوں کے لیے قومی گھر کے قیام ② اور اس مقصد کے حصول میں سہولت فراہم کرنے کا عہد کیا۔ اس خط کو بالفور اعلامیہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ ایک یورپی طاقت نے صیہونی تحریک کو ایک ایسے ملک کا وعدہ کیا جہاں فلسطینی عرب باشندے 90 فیصد سے زیادہ آبادی پر مشتمل ہیں۔

ایک برطانوی مینڈیٹ 1923 میں بنایا گیا اور یہ 1948 تک جاری رہا۔ اس عرصے کے دوران، برطانویوں نے بڑے پیمانے پر یہودیوں کیلئے امیگریشن کی سہولت فراہم کی – بہت سے نئے باشندے یورپ میں نازی ازم سے بھاگ رہے تھے – اور انہیں احتجاج اور ہڑتالوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ فلسطینی اپنے ملک کی بدلتی ہوئی آبادی اور ان کی زمینوں کو یہودی آباد کاروں کے حوالے کرنے کے لیے برطانوی قبضے سے پریشان تھے۔

1930 کی دہائی — فلسطین میں یہودیوں کی آبادکاری

بڑھتی ہوئی کشیدگی بالآخر عرب بغاوت کا باعث بنی، جو 1936 سے 1939 تک جاری رہی۔  اپریل 1936 میں، نو تشکیل شدہ عرب قومی کمیٹی نے فلسطینیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ برطانوی استعمار اور بڑھتی ہوئی یہودی امیگریشن کے خلاف احتجاج کے لیے عام ہڑتال کریں، ٹیکس کی ادائیگیاں روک دیں اور یہودی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں۔ چھ ماہ کی ہڑتال کو برطانویوں نے وحشیانہ طور پر دبایا، جنہوں نے بڑے پیمانے پر گرفتاری کی مہم شروع کی اور  گھروں کو مسمار کیا، ایک ایسا عمل جسے اسرائیل آج بھی فلسطینیوں کے خلاف نافذ کر رہا ہے۔ بغاوت کا دوسرا مرحلہ 1937 کے آخر میں شروع ہوا اور اس کی قیادت فلسطینی کسان مزاحمتی تحریک نے کی، جس نے برطانوی افواج اور استعمار کو نشانہ بنایا۔ 1939 کے دوسرے نصف تک، برطانیہ نے فلسطین میں 30,000 فوجی جمع کر لیے تھے۔ دیہاتوں پر فضائی بمباری کی گئی، کرفیو نافذ کیا گیا، گھروں کو مسمار کر دیا گیا، اور انتظامی حراستیں اور سرسری سماعتوں کے بعد موت کی سزائیں عام ہو گئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ برطانویوں نے یہودی آباد کار برادری کے ساتھ تعاون کیا اور مسلح گروپس بنائے اور یہودی جنگجوؤں کی ایک برطانوی زیر قیادت "انسداد بغاوت فورس" کو خصوصی نائٹ اسکواڈز کا نام دیا۔ یشوف (اسرائیلی ریاست سے پہلے کی آبادکار برادری) میں ہتھیاروں کو خفیہ طور پر درآمد کیا گیا اور ہتھیاروں کی فیکٹریاں قائم کی گئیں تاکہ یہودی نیم فوجی دستہ ’’ہاگناہ‘‘ کو وسعت دے، جو بعد میں اسرائیلی فوج کا مرکز بن گئی۔ ان تین سال کی بغاوت میں 5000 فلسطینی مارے گئے، 15000 سے 20000 زخمی ہوئے اور 5600 قید ہوئے۔

1947 — اقوام متحدہ کا تقسیمِ فلسطین کا منصوبہ

1947 تک، یہودی آبادی فلسطین کے 33 فیصد تک پہنچ چکی تھی، لیکن ان کے پاس صرف 6 فیصد زمین تھی۔ اقوام متحدہ نے قرارداد 181 منظور کی جس میں فلسطین کو عرب اور یہودی ریاستوں میں تقسیم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ فلسطینیوں نے اس منصوبے کو مسترد کر دیا کیونکہ اس قرارداد نے فلسطین کا تقریباً 55 فیصد حصہ یہودی ریاست کو دیا تھا، جس میں زیادہ تر زرخیز ساحلی علاقہ بھی شامل تھا۔ حالانکہ اس وقت فلسطینیوں کے پاس تاریخی فلسطین کا 94 فیصد حصہ تھا اور وہ اس کی آبادی کا 67 فیصد تھے۔

1948 — نکبہ ( فلسطین کی نسلی صفائی)

14 مئی 1948 کو برطانوی مینڈیٹ کی میعاد ختم ہونے سے پہلے ہی، صہیونی نیم فوجی دستے پہلے ہی سے فلسطینی قصبوں اور دیہاتوں کو تباہ کرنے کے لیے فوجی آپریشن شروع کر رہے تھے تاکہ صہیونی ریاست کی سرحدوں کو وسعت دی جا سکے۔ اپریل 1948 میں یروشلم کے نواح میں واقع گاؤں دیر یاسین میں 100 سے زائد فلسطینی مرد، خواتین اور بچے مارے گئے۔ اس نے بقیہ آپریشنوں کے لیے راستہ ہموار کیا، اور 1947 سے 1949 تک، 500 سے زیادہ فلسطینی دیہات، قصبے اور شہر تباہ کیے گئے جس کو فلسطینی عربی میں نکبہ، یا "تباہ" کہتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق 15000 فلسطینی مارے گئے جن میں درجنوں قتل عام بھی شامل ہیں۔ صہیونی تحریک نے تاریخی فلسطین کے 78 فیصد حصے پر قبضہ کر لیا۔ بقیہ 22 فیصد کو ان حصوں میں تقسیم کیا گیا جو اب مقبوضہ مغربی کنارے اور محصور غزہ کی پٹی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق 750,000 فلسطینیوں کو اپنے گھروں سے بے دخل کیا گیا۔ آج ان کی اولادیں پورے فلسطین اور لبنان، شام، اردن اور مصر کے پڑوسی ممالک میں 58 غیر محفوظ کیمپوں میں ساٹھ لاکھ پناہ گزینوں کے طور پر مقیم ہیں۔

15 مئی 1948 کو اسرائیل نے اپنے قیام کا اعلان کیا۔  اگلے دن، پہلی عرب اسرائیل جنگ شروع ہوئی اور جنگ جنوری 1949 میں اسرائیل اور مصر، لبنان، اردن اور شام کے درمیان جنگ بندی کے بعد ختم ہوئی۔ دسمبر 1948 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے قرارداد 194 منظور کی جس میں فلسطینی پناہ گزینوں کی واپسی کے حق کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

کم از کم 150,000 فلسطینی اسرائیل کی نئی بننے والی ریاست میں رہے اور تقریباً 20 سال تک سخت کنٹرول والے فوجی قبضے میں رہے، اس سے پہلے کہ انہیں بالآخر اسرائیلی شہریت دی گئی۔ مصر نے غزہ کی پٹی پر قبضہ کر لیا اور 1950 میں اردن نے مغربی کنارے پر اپنی انتظامی حکمرانی شروع کر دی۔ 1964 میں فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (PLO) کا قیام عمل میں آیا اور ایک سال بعد الفتح سیاسی جماعت قائم ہوئی۔

1967 —  نکسا (چھ روزہ جنگ اور یہودی بستیاں)

5 جون 1967 کو اسرائیل نے عرب فوجوں کے اتحاد کے خلاف چھ روزہ جنگ کے دوران غزہ کی پٹی، مغربی کنارے، مشرقی یروشلم، شام کی گولان کی پہاڑیوں اور مصری جزیرہ نما سینائی سمیت باقی تاریخی فلسطین پر قبضہ کر لیا۔ کچھ فلسطینیوں کے لیے، اس کی وجہ سے دوسری زبردستی نقل مکانی ہوئی، یا نکسا، جس کا عربی میں مطلب ہے "جھٹکا"۔ دسمبر 1967 میں، مارکسسٹ-لیننسٹ پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین کا قیام عمل میں آیا۔ اگلی دہائی کے دوران، بائیں بازو کے گروہوں کے حملوں اور طیاروں کے اغوا کے سلسلے نے دنیا کی توجہ فلسطینیوں کی حالت زار کی طرف مبذول کرائی۔ مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں یہودی بستیوں کی تعمیر کا آغاز ہوا۔ یہودی آباد کاروں کیلئے اسرائیلی شہری ہونے کے تمام حقوق اور مراعات کے ساتھ ایک دو سطح کا نظام بنایا گیا تھا۔ جب کہ فلسطینیوں کو فوجی قبضے کے تحت رہنا پڑتا تھا جو ان کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھتا تھا اور کسی بھی قسم کے سیاسی یا شہری اظہار پر پابندی عائد کرتا تھا۔

1987 تا 1993 — پہلا انتفاضہ

پہلی فلسطینی تحریک دسمبر 1987 میں غزہ کی پٹی میں اس وقت شروع ہوئی جب ایک اسرائیلی ٹرک فلسطینی مزدوروں کو لے جانے والی دو وینوں سے ٹکرایا جس میں چار فلسطینی ہلاک ہو گئے۔ نوجوان فلسطینیوں کی جانب سے اسرائیلی فوج کے ٹینکوں اور فوجیوں پر پتھراؤ کے ساتھ احتجاج تیزی سے مغربی کنارے تک پھیل گیا۔ اس کے نتیجے میں حماس تحریک کا قیام بھی عمل میں آیا، جو اخوان المسلمون کی ایک شاخ تھی جو اسرائیلی قبضے کے خلاف مسلح مزاحمت میں مصروف تھی۔ اس وقت کے وزیر دفاع یتزاک رابن کی طرف سے "ہڈیوں کو توڑ دو" کی پالیسی کے ذریعے اسرائیلی فوج کے بھاری ہاتھ سے جوابی کارروائی کی گئی تھی۔ اس میں سرسری سماعت کے بعد سزائے موت، یونیورسٹیوں کی بندش، کارکنوں کی ملک بدری اور گھروں کو تباہ کرنا شامل تھا۔ تحریک بنیادی طور پر نوجوانوں کی طرف سے شروع کی گئی تھی اور اس کی رہنمائی بغاوت کی متحدہ قومی قیادت نے کی تھی، جو کہ اسرائیلی قبضے کو ختم کرنے اور فلسطین کی آزادی کے قیام کے لیے پرعزم فلسطینی سیاسی دھڑوں کا اتحاد ہے۔

1988 میں عرب لیگ نے PLO کو فلسطینی عوام کا واحد نمائندہ تسلیم کیا۔ جدوجہد کی خصوصیات عوامی تحریکوں، بڑے پیمانے پر مظاہروں، سول نافرمانی، منظم ہڑتالوں اور فرقہ وارانہ تعاون پر مشتمل تھی۔ اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیم B’Tselem کے مطابق تحریک کے دوران اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں 1070 فلسطینیوں کو ہلاک کیا گیا جن میں 237 بچے بھی شامل تھے۔ 175,000 سے زائد فلسطینیوں کو گرفتار کیا گیا۔ تحریک نے عالمی برادری کو تنازع کا حل تلاش کرنے پر بھی آمادہ کیا۔

1993 — اوسلو معاہدہ اور فلسطینی اتھارٹی

پہلی تحریک 1993 میں اوسلو معاہدے پر دستخط کرنے اور فلسطینی اتھارٹی (PA) کی تشکیل کے ساتھ ختم ہوئی۔ ایک عبوری حکومت جسے مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی کی جیبوں میں محدود خود مختاری دی گئی تھی۔ PLO نے دو ریاستی حل کی بنیاد پر اسرائیل کو تسلیم کیا اور مؤثر طریقے سے معاہدوں پر دستخط کیے جس کے تحت اسرائیل کو مغربی کنارے کے 60 فیصد اور علاقے کے زیادہ تر زمینی اور آبی وسائل کا کنٹرول مل گیا۔ فلسطین اتھارٹی کو مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں ایک آزاد ریاست چلانے والی پہلی منتخب فلسطینی حکومت کے لیے راستہ بنانا تھا جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم میں تھا، لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا۔ فلسطین اتھارٹی کے ناقدین اسے اسرائیلی قبضے کے ایک بدعنوان ذیلی ٹھیکیدار کے طور پر دیکھتے ہیں جو اسرائیل کے خلاف اختلاف رائے اور سیاسی سرگرمی کو روکنے میں اسرائیلی فوج کے ساتھ قریبی تعاون کرتا ہے۔ 1995 میں، اسرائیل نے غزہ کی پٹی کے گرد ایک الیکٹرانک باڑ اور کنکریٹ کی دیوار تعمیر کی، جس سے تقسیم شدہ فلسطینی علاقوں کے درمیان تعامل ختم ہو گیا۔

2000 —  دوسرا انتفاضہ

دوسرا انتفاضہ 28 ستمبر 2000 کو اس وقت شروع ہوا جب لیکود کے اپوزیشن لیڈر ایریل شیرون نے یروشلم کے پرانے شہر اور اس کے ارد گرد ہزاروں سیکورٹی فورسز کی تعیناتی کے ساتھ مسجد اقصیٰ کے احاطے کا ایک اشتعال انگیز دورہ کیا۔ دو روز کے دوران فلسطینی مظاہرین اور اسرائیلی فوج کے درمیان جھڑپوں میں پانچ فلسطینی ہلاک اور 200 زخمی ہو گئے۔ اس واقعے نے بڑے پیمانے پر مسلح بغاوت کو جنم دیا۔ تحریک کے دوران اسرائیل نے فلسطینی معیشت اور انفراسٹرکچر کو بے مثال نقصان پہنچایا۔ اسرائیل نے فلسطینی اتھارٹی کے زیرانتظام علاقوں پر دوبارہ قبضہ کر لیا اور علیحدگی کی دیوار کی تعمیر شروع کر دی جس نے بڑے پیمانے پر بستیوں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ فلسطینیوں کے معاش اور معاشروں کو تباہ کر دیا۔

بین الاقوامی قوانین کے تحت آبادکاری غیر قانونی ہے، لیکن گزشتہ برسوں کے دوران لاکھوں یہودی آباد کار چوری شدہ فلسطینی زمین پر بنائی گئی کالونیوں میں منتقل ہو چکے ہیں۔ فلسطینیوں کے لیے جگہ سکڑتی جا رہی ہے کیونکہ صرف آبادکاروں کے لیے سڑکیں اور انفراسٹرکچر مقبوضہ مغربی کنارے کو ٹکڑے ٹکڑے کر رہا ہے، جس سے فلسطینی شہروں اور قصبوں کو بنتوستانوں (جن کا آپس میں کوئی تعلق نہیں) میں تبدیل کیا جا رہا ہے، جو کہ سیاہ فام جنوبی افریقیوں کے لیے الگ تھلگ انکلیو ہیں جنہیں ملک کی سابق نسل پرستی کی حکومت نے بنایا تھا۔

جس وقت اوسلو معاہدوں پر دستخط ہوئے، صرف 110,000 یہودی آباد کار مشرقی یروشلم سمیت مغربی کنارے میں مقیم تھے۔ آج یہ تعداد 700,000 سے زیادہ ہے جو فلسطینیوں سے چھین لی گئی 100,000 ہیکٹر (390 مربع میل) سے زیادہ اراضی پر رہتے ہیں۔

2005  — غزہ کی آزادی اور ناکہ بندی

پی ایل او کے رہنما یاسر عرفات کا 2004 میں انتقال ہوا، اور ایک سال بعد، دوسری تحریک ختم ہوا، غزہ کی پٹی میں اسرائیلی بستیوں کو ختم کر دیا گیا، اور اسرائیلی فوجی اور 9,000 آباد کار غزہ سے نکل گئے۔ ایک سال بعد، فلسطینیوں نے پہلی بار عام انتخابات میں ووٹ ڈالے۔ حماس نے اکثریت حاصل کر لی۔ تاہم، فتح اور حماس کے درمیان خانہ جنگی شروع ہوئی، جو مہینوں تک جاری رہی، جس کے نتیجے میں سینکڑوں فلسطینی مارے گئے۔ حماس نے فتح کو غزہ کی پٹی سے بے دخل کر دیا، اور فلسطینی اتھارٹی کی مرکزی جماعت الفتح نے مغربی کنارے کے کچھ حصوں پر دوبارہ کنٹرول شروع کر دیا۔ جون 2007 میں اسرائیل نے حماس پر "دہشت گردی" کا الزام لگاتے ہوئے غزہ کی پٹی پر زمینی، فضائی اور بحری ناکہ بندی کر دی۔

مصر سے متصل غزہ کی پٹی پر حملے

اسرائیل نے غزہ پر چار طویل فوجی حملے شروع کیے ہیں: 2008، 2012، 2014 اور 2021 میں۔ ہزاروں فلسطینی مارے جا چکے ہیں، جن میں بہت سے بچے بھی شامل ہیں، اور دسیوں ہزار گھر، سکول اور دفتری عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں۔ تعمیر نوِ تقریباً ناممکن ہے کیونکہ محاصرہ تعمیراتی سامان جیسے سٹیل اور سیمنٹ وغیرہ کو غزہ پہنچنے سے روکتا ہے۔ 2008 کے حملے میں فاسفورس گیس جیسے بین الاقوامی طور پر ممنوعہ ہتھیاروں کا استعمال شامل تھا۔ 2014 میں 50 دنوں کے دوران اسرائیل نے 2,100 سے زیادہ فلسطینیوں کو قتل کیا جن میں 1,462 شہری اور 500 کے قریب بچے شامل تھے۔  آپریشن پروٹیکٹو ایج کے نام سے کیے جانے والے اس حملے کے دوران تقریباً 11,000 فلسطینی زخمی ہوئے، 20,000 گھر تباہ اور 5  لاکھ افراد بے گھر ہوئے۔

https://www.aljazeera.com/news/2023/10/9/whats-the-israel-palestine-conflict-about-a-simple-guide

"مسئلہ فلسطین " کی تقریب رونمائی

مولانا محمد اسامہ قاسم

مسجد اقصیٰ اور فلسطین کے حوالے سے معروضی صورتحال  اور امت مسلمہ کے موقف و جذبات سے نئی نسل کی آگاہی کے لئے مفکر اسلام مولانا زاہد الراشدی صاحب کے مقالات بیانات اور تحاریر کے مجموعے کو ہمارے برادر مکرم حافظ خرم شہزاد نے مرتب کیا جسے مولانا عبد القیوم حقانی صاحب نے اپنے ادارے سے شائع کرایا۔

اسلامک رائٹرز موومنٹ گوجرانوالہ کے زیر اہتمام 10 دسمبر بروز اتوار خلافت راشدہ اسٹڈی سینٹر میں مسلئہ فلسطین کتاب کی تقریب رونمائی منعقد ہوئی جس میں خصوصی مہمانوں میں استاد گرامی مولانا زاہد الراشدی ، خانوادہ امیر شریعت کے چشم و چراغ مولانا سید عطا اللہ شاہ ثالث ، مولانا ڈاکٹر عبد الماجد حمید المشرقی ، پروفیسر میاں انعام الرحمن ، مولانا امیر حمزہ ، حافظ خرم شہزاد، مولانا فضل الہادی اور مولانا امجد محمود معاویہ، حاجی بابر رضوان باجوہ، پیر سمیع الحق، سید حفیظ الرحمٰن شاہ، پیر احسان اللہ قاسمی، شکور عالم رانجھا، مولانا نصرالدین خان عمر، مولانا شمس الحق دیروی، مولانا محمد خبیب عامر، مولانا عمر شکیل، حافظ عبدالجبار کے علاوہ گوجرانوالہ شہر کے اکثر دینی جماعتوں کے نمائندے اور مدارس کے اساتذہ اور طلبا بھی تقریب میں شریک ہوئے۔

مہمان مقررین نے کتاب کی اشاعت پر مولانا زاہدالراشدی کو مبارکباد پیش کی، مقررین نے جن امور پر گفتگو کی درج ذیل ہیں۔

بیت المقدس اور فلسطین کا مسئلہ حماس مجاہدین کی قربانیوں اور ہزاروں فلسطینیوں کی حالیہ شہادتوں کے باعث ایک بار پھر متنازعہ عالمی مسائل میں سرفہرست ہے، جس پر پوری نسلِ انسانی بالخصوص ملتِ اسلامیہ اور عرب دنیا کی ترجیحی بنیادوں پر سنجیدہ اور فوری توجہ ضروری ہے، اور یہ عدل و انصاف کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی قوانین اور مسلّمہ انسانی حقوق کی پاسداری کا بھی تقاضا ہے۔

بیت المقدس اور فلسطین پر صہیونیوں کا ناجائز قبضہ ایک عرصہ سے عالمی رائے عامہ کو اپنی طرف متوجہ کیے ہوئے ہے اور اقوامِ عالم متعدد بار اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے فلسطینی عوام کے حقوق اور بیت المقدس پر فلسطینیوں کے استحقاق کی حمایت کر چکی ہے لیکن اسرائیل اپنی ہٹ دھرمی اور سامراجی قوتوں کی پشت پناہی کے باعث عالمی رائے عامہ کی پرواہ کیے بغیر جارحیت اور اشتعال انگیزی کی راہ پر گامزن ہے۔ عراق کی ایٹمی تنصیبات پر شرمناک حملہ، لبنان میں مسلح مداخلت اور دنیا میں کسی بھی مسلمان ملک کی ایٹمی تنصیبات کو برداشت نہ کرنے کی دھمکیوں کے بعد مسجدِ اقصیٰ میں مظلوم مسلمانوں پر وحشیانہ حملہ یہ سب کچھ اسرائیل کی مسلسل اشتعال انگیز کاروائیوں کا ایک حصہ ہے اور مسلسل ظلم و بربریت کا نشانہ بنا رہا ہے۔

اس صورتحال میں عالم اسلام کے تمام طبقات بالخصوص مسلم حکومتوں سے ہماری گزارش ہے کہ اس معاملہ میں دینی حمیت اور ملی غیرت کے جذبہ و احساس کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کا اہتمام کریں، جس کے لیے ضروری ہے کہ فوری طور پر اسلامی تعاون تنظیم کا سربراہی اجلاس بلا کر فلسطینی عوام کی حمایت و پشت پناہی کے ساتھ ساتھ ان کی امداد کی حکمت عملی طے کی جائے۔

اقوام متحدہ میں مسلم ممالک خصوصاً‌ پاکستان، سعودی عرب، مصر اور ترکیہ عالمی اداروں اور بین الاقوامی رائے عامہ کو اسرائیلی مظالم کے خلاف منظم کرنے کے لیے کردار ادا کریں، اور عالمی ماحول میں بیت المقدس کے تحفظ اور فلسطین کی آزادی کے لیے منظم اور مربوط لائحہ عمل ترتیب دیں۔

دنیا بھر میں مسلم ادارے، جماعتیں اور طبقات فلسطینیوں کی حمایت میں عوامی اجتماعات اور مظاہروں کا زیادہ سے زیادہ اہتمام کریں اور مسلم رائے عامہ کو بیدار و منظم کرنے کی مہم جاری رکھیں۔

غزہ میں محصور فلسطینی بھائیوں کی ہر ممکن امداد و تعاون کے لیے مخیر شخصیات اور ادارے آگے بڑھیں اور قابل اعتماد ذرائع سے خوراک، علاج اور دیگر ضروریاتِ زندگی کی بروقت اور مناسب فراہمی کی جدوجہد کریں۔

اکثر مسلم ممالک اور وہاں کی عوام نے جس طرح اس مسئلہ پر لبیک کہتے ہوئے جوش و خروش کا مظاہرہ کیا ہے وہ اسرائیل اور اس کے پشت پناہوں کو یہ باور کرانے کے لیے کافی ہے کہ دنیائے اسلام بیت المقدس اور فلسطین کے قضیہ کو پورے عالم اسلام کا مسئلہ سمجھتی ہے اور اس کے حل کے لیے ہر نوع کی قربانی کے لیے تیار ہے۔ ہم عالمِ اسلام کی سطح پر اتحاد، یکجہتی اور یگانگت کے اس پرجوش اظہار  پر دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ملتِ اسلامیہ کو حقیقی اتحاد و استحکام کی منزل سے ہمکنار فرمائیں تاکہ اقوامِ عالم کی برادری میں ملتِ اسلامیہ اپنا صحیح مقام حاصل کر سکے، آمین یا الٰہ العالمین۔

’’مسئلہ فلسطین‘‘

ادارہ

تالیف: علامہ زاہد الراشدی

مرتب: مولانا حافظ خرم شہزاد

ضخامت: ۲۲۱ صفحات

ناشر: القاسم اکیڈمی، جامعہ ابوہریرہ، نوشہرہ


ارضِ فلسطین انبیائے کرام علیہم السلام کا وطن ہے، بیت المقدس کی سرزمین ہے اور دنیا بھر کے مسلمانوں کی عقیدتوں اور محبتوں کا مرکز و محور ہے۔ اس کی تاریخ کا آغاز سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ہجرت سے ہوتا ہے جب انہوں نے اپنے والد آذر کے ساتھ آخری مکالمہ کے بعد اہلیہ محترمہ حضرت سارہؓ اور بھتیجے حضرت لوطؑ کے ساتھ بابل سے فلسطین کی طرف ہجرت فرمائی تھی اور اس سرزمین کو اپنا  مسکن بنا لیا۔ اس کے بعد یہ خطہ اہم دینی، سیاسی، تہذیبی واقعات اور تاریخی تبدیلیوں کا مرکز چلا آ رہا ہے۔

اس پر گفتگو کا ایک پہلو تو یہ ہے کہ اس کے ماضی کی تاریخ کو سامنے لایا جائے جو سینکڑوں کتابوں میں بکھری ہوئی ہے، اور یہ خطہ اہلِ علم و دانش کی گفتگو اور تحریروں کا محور و مرکز ہے۔ اس وقت یہ سرزمین اسرائیل اور یہود کے زیرتسلط ہے اور اب تک وہاں ہزاروں مظلوم مسلمان جامِ شہادت نوش کر گئے ہیں اور سینکڑوں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں۔ مسئلہ فلسطین پر اب تک سینکڑوں مضامین و مقالات مختلف زبانوں میں لکھے جا چکے ہیں اور تاہنوز اس پر خامہ فرسائی کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سلسلہ کی ایک حسین کڑی حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب کی کاوش بھی ہے۔

زیر تبصرہ کتاب ’’مسئلہ فلسطین‘‘ میں حضرت علامہ صاحب نے مسئلہ فلسطین کا پس منظر، بیت المقدس اور مسلم حکمران، تاریخِ یہود اور اسرائیل، مسئلہ فلسطین اور مغرب، اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بحث جیسے اہم موضوعات پر سیر حاصل روشنی ڈالی ہے۔ اس اہم نظریاتی اور فکری مسئلہ کے جملہ متعلقات پر مولانا زاہد الراشدی صاحب کے متنوع مضامین اور بیانات نہ صرف تاریخ کا حصہ ہے بلکہ امتِ مسلمہ میں فکری و نظریاتی بیداری کی لہر اور امید کی کرن بھی ہے۔ علامہ زاہد الراشدی صاحب کے یہ مضامین و بیانات نوجوانانِ ملت اور مسلم حکمرانوں کی رہنمائی کا ذریعہ ہیں جسے حافظ خرم شہزاد صاحب اور حافظ کامران حیدر صاحب نے استاد مکرم حضرت مولانا عبد القیوم حقانی مدظلہ کی تحریک و ایماء پر کمال مہارت، سلیقے سے خوبصورت انداز میں مرتب کیا۔ یہ کاوش اپنے موضوع پر ایک دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے جس سے خواص اور عام الناس یکساں طور پر مستفید ہو سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس کاوش کو شرفِ قبولیت سے نوازے اور مظلوم فلسطینیوں کو اسرائیل سے حقیقی آزادی کا وسیلہ ثابت فرمائے۔

(ماہنامہ الحق، اکوڑہ خٹک — دسمبر ۲۰۲۳ء)

فروری ۲۰۲۴ء

الیکشن میں دینی جماعتوں کی صورتحال اور ہماری ذمہ داریمولانا ابوعمار زاہد الراشدی
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۰۹)ڈاکٹر محی الدین غازی
صفات متشابہات پر متکلمین کا مذہب تفویض و ائمہ سلفڈاکٹر محمد زاہد صدیق مغل
جدید ریاست، حاکمیت اعلیٰ (ساورنٹی) اور شریعتمحمد دین جوہر
ہندوستان میں اسلامی تکثیریت کا تجربہ تاریخی حوالہ سےڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی
طوفان الاقصیٰ اور امت کی ذمہ داریاںاسماعیل ہنیہ
تحریک ریشمی رومال کے خطوطحافظ خرم شہزاد
قائد اعظم محمد علی جناحؒ کا دستور ساز اسمبلی کی افتتاحی تقریب سے خطابادارہ
روس یوکرائن جنگ اور یورپ کی تیاریہلال خان ناصر
انگلش لینگویج کورس کا انعقاد / الشریعہ لاء سوسائٹی کی افتتاحی تقریبمولانا محمد اسامہ قاسم
فلسطین : ۷ اکتوبر ۲۰۲۳ء سے اب تک کے اعداد و شمارالجزیرہ
Pakistan’s National Stability and Integrityمولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مسئلہ فلسطین، قومی انتخابات، وطن عزیز کا اسلامی تشخصمولانا حافظ امجد محمود معاویہ

الیکشن میں دینی جماعتوں کی صورتحال اور ہماری ذمہ داری

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(۳ جنوری ۲۰۲۴ء کو جامعہ اسلامیہ محمدیہ فیصل آباد میں پاکستان شریعت کونسل کے مرکزی نائب امیر حضرت مولانا عبد الرزاق کی زیرصدارت علماء کرام کے اجتماع سے خطاب۔)


بعد الحمد والصلوٰۃ۔ ملک میں عام انتخابات کی آمد آمد ہے، تاریخ کا اعلان ہو چکا ہے، مختلف جماعتیں میدان میں ہیں  اور انتخابی مہم شروع ہو گئی ہے۔اس ماحول میں ملک کی دینی جماعتوں اور دینی حلقوں کو کیا کرنا چاہیے، اس کے بار ےمیں چند گزارشات پیش کرنا چاہوں گا۔

پہلی بات یہ ہے کہ دینی حلقوں، دینی جماعتوں اور علماء کرام کا انتخابی سیاست سے کیا تعلق ہے، یہ انتخابی عمل میں کیوں شریک ہوتے ہیں؟ یہ بنیادی سوال ہے۔ پاکستان پون صدی پہلے اس نعرہ پر وجود میں آیا تھا کہ ہم مسلمان ہندوؤں سے الگ تہذیب رکھتے ہیں، وہ چونکہ برصغیر میں اکثریت میں ہیں اس لیے اگر ہم ان کے ساتھ رہیں گے تو ان کی تہذیب کے اثرات غلبہ پائیں گے، لہٰذا ہمیں اپنا الگ آزاد ملک چاہیے تاکہ ہم اپنے دین، مذہب، شرعی احکام اور تہذیب و ثقافت پر قائم رہ سکیں۔ تحریکِ پاکستان کے قائدین بالخصوص قائد اعظم محمد علی جناح، لیاقت علی خان اور شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہم اللہ تعالیٰ اور دیگر مرکزی قیادت جن کی جدوجہد کے نتیجے میں پاکستان وجود میں آیا، ان کا یہ صاف کہنا تھا کہ ہم ہندوؤں کے ساتھ تہذیبی اور مذہبی حوالے سے اکٹھے نہیں رہ سکتے اس لیے ہمیں الگ ملک چاہیے جہاں ہم شرعی قوانین کا نفاذ کریں گے، اسلامی تہذیب اور ثقافت کو باقی رکھیں گے، اور مسلم تہذیب کو ہندو تہذیب میں گڈمڈ نہیں ہونے دیں گے۔

یہ وہی معرکہ ہے جو حضرت مجدد الف ثانیؒ کو درپیش تھا، جب اکبر بادشاہ نے سب کچھ خلط ملط کر دیا تھا، کچھ ہندوؤں کی باتیں، کچھ عیسائیوں کی، کچھ مسلمانوں کی اور کچھ بدھوں کی باتیں اکٹھی کر کے ’’دینِ الٰہی‘‘  تشکیل دیا تھا اور اسے عملاً‌ نافذ بھی کر دیا تھا۔ اس کا مقابلہ حضرت مجدد الف ثانیؒ کی قیادت میں اہلِ حق نے کیا تھا اور عملاً‌ جدوجہد کر کے بتایا تھا کہ ہماری تہذیب و ثقافت اور عقائد الگ ہیں، ان پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ قیامِ پاکستان کی جدوجہد اسی کا تسلسل تھا۔ تحریکِ پاکستان کے قائدین نے قیامِ پاکستان سے پہلے اور بعد میں دوٹوک بات کی کہ ہم ملک میں شرعی قوانین کے مطابق نظام چاہتے ہیں، لیکن قائد اعظم کی وفات اور لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد ہمارا رخ مڑ گیا۔ ملک کے دستور میں تو لکھا ہوا ہے کہ حاکمیتِ اعلیٰ اللہ تعالیٰ کی ہے اور ملک کا سرکاری مذہب اسلام ہے، اور یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ پارلیمنٹ قرآن و سنت کے خلاف کوئی قانون نہیں بنا سکتی، لیکن عملاً‌ پچھتر سال میں اس رخ پر کوئی کام نہیں ہوا۔

چنانچہ اس رخ اور ٹریک پر قوم کو قائم رکھنا اہلِ دین کی ذمہ داری ہے، پاکستان بننے کے بعد سے دینی جماعتیں اسی بنیاد پر کام کر رہی ہیں کہ ہم نے پاکستان کو اس کے مقصدِ قیام کے مطابق ایک اسلامی ریاست بنانا ہے، اور اس کے لیے علماء کرام کا قومی سیاست میں ایک مؤثر قوت کے طور پر موجود رہنا ضروری ہے۔

دوسری بات یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ  ہمارا پچھتر سال کا تجربہ ہے کہ جب بھی ہم نے دین، شریعت اور تہذیب کی کوئی بات اکٹھے ہو کر کی ہے تو اس سے کوئی انکار نہیں کر سکا۔  لیکن یہی بات جب ہم اپنے طور پر کرتے ہیں تو کوئی نہیں سنتا، بریلوی اپنی جگہ کرتے ہیں، اہلِ حدیث اپنی جگہ، دیوبندی اپنی جگہ، اور جماعت اسلامی اپنی جگہ کرتی ہے۔  تقریباً‌ نصف صدی سے تو میں بھی ان تحریکات کا متحرک حصہ ہوں، الحمد للہ۔  جب اپنی اپنی جگہ بات کرتے ہیں تو کوئی نہیں سنتا لیکن جب اکٹھے ہو کر بات کرتے ہیں تو سنی جاتی ہے۔ یہی صورتحال الیکشن کی بھی ہے کہ جس الیکشن میں بھی ہم نے اجتماعی کردار ادا کیا ہے تو بہت کچھ حاصل کیا ہے۔ ’’پاکستان قومی اتحاد‘‘ کی تحریک پورے ملک کا رخ موڑنے والی تحریک تھی جس میں سب شریک تھے۔ پھر ایک دور آیا جب ’’متحدہ مجلس عمل‘‘ نے انتخابات میں خاصی سیٹیں جیت کر ایک فیصلہ کن قوت حاصل کی۔

اس لیے پاکستان کے قیام کے مقصد کو پورا کرنے کے لیے اور پاکستان کو لادینی ریاست ہونے سے بچانے کے لیے دینی جماعتوں کو اکٹھے ہو کر یہ الیکشن لڑنا چاہیے تھا لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ کیوں نہیں ہو سکا، یہ الگ داستان ہے لیکن واقعہ یہی ہے کہ الیکشن لڑنے کے لیے دینی حلقے اکٹھے نہیں ہو سکے۔ اس موقع پر مجھے ۱۹۷۰ء کے انتخابات یاد آ رہے ہیں جس میں گوجرانوالہ کی تین چار سیٹوں کی انتخابی مہم کا میں انچارج تھا۔ صرف ایک تجربہ کے حوالے سے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ گوجرانوالہ شہر کی قومی اسمبلی سیٹ پر علمائے دیوبند کی طرف سے مولانا مفتی عبد الواحدؒ، بریلوی علماء میں سے مولانا ابو داؤد صادقؒ، اہلِ حدیث علماء میں سے مولانا محمد عبد اللہ اور جماعت اسلامی کے چودھری محمد اسلم کھڑے تھے۔چار مذہبی جماعتیں جو نفاذِ اسلام کی بات کرتی ہیں، ہر  ایک کا اپنا امیدوار کھڑا تھا، سب نے دس دس ہزار کے لگ بھگ ووٹ حاصل کیے۔ جبکہ اسی گوجرانوالہ میں ہم نے متحدہ مجلس عمل کے تحت ۲۰۰۲ء میں الیکشن لڑا تو مولانا قاضی حمید اللہ خانؒ قومی اسمبلی کی سیٹ جیتے جبکہ صوبائی اسمبلی کی سیٹ مولانا مفتی غلام فرید رضوی جیتے جو بریلوی حضرات کے بڑے عالم تھے۔ میں صرف مثال کے طور پر عرض کر رہا ہوں کہ جب الگ الگ لڑے تو کچھ بھی نہیں ملا اور جب اکٹھے ہو کر لڑے تو کامیاب ہوئے۔

اس دفعہ کے الیکشن ۲۰۲۴ء میں ہم اتحاد نہیں کر سکے، اللہ تعالیٰ ہمارے حال پر رحم فرمائیں۔ بریلویوں کی اپنی تنظیمیں ہیں، دیوبندیوں کی اپنی، اہلِ حدیث کی اپنی، کوئی کسی پارٹی میں ہے اور کوئی کسی پارٹی میں۔ پچھلے تجربات بتاتے ہیں کہ سب تکلف ہی کر رہے ہیں۔ بہرحال جو کچھ ہو چکا سو ہو چکا، صحیح ہوا یا غلط ہوا۔ اب اس موجودہ فضا میں ہم نے کیا کرنا ہے؟ میں سب دینی حلقوں سے خواہ وہ کسی بھی مکتبِ فکر کے ہوں، دیوبندی، بریلوی، اہلِ حدیث اور جماعت اسلامی، جو بھی اسلام کی بات کرتا ہے اور  اسلام کے حوالے سے سیاست کی بات کرتا ہے، میں  تین گزارشات کرنا چاہتا ہوں:

   ➊ ہر حلقہ میں اہلِ دین کو اجتماعی طور پر مشاورت کے ساتھ اس بات کا اہتمام کرنا چاہیے کہ ان کی طرف سے ایسا آدمی آگے آئے جو کم از کم مشترکہ دینی معاملات میں دین کی بات کر سکے۔ وہ اس کا حوصلہ بھی رکھتا ہو اور علم بھی۔ صرف حوصلہ کچھ نہیں کرتا اور صرف علم بھی کچھ نہیں کرتا۔ چنانچہ پہلا دائرہ یہ ہے اور موجودہ صورتحال میں ہم یہی کر سکتے ہیں کہ اپنے حلقے میں جو بھی چار پانچ امیدوار ہیں، ان میں دیکھیں کہ ملک اور اسلامی نظام کے لیے حوصلہ و صلاحیت اور علمی اعتبار سے کون سب سے موزوں ہے، اور سب باہمی مشاورت کے ساتھ اس ایک امیدوار کو سپورٹ کریں۔

    ➋  جس امیدوار کو آپ نے سپورٹ کرنا ہے اس سے تحریری وعدہ لیں۔ حلقہ کے سو دو سو با اثر لوگ اکٹھے ہو کر اپنے امیدوار کو ساتھ بٹھائیں اور اس سے درج ذیل باتوں کا حلف لے لیں کہ ہم اس وعدہ پر آپ کو ووٹ دیں گے:

’’میں منتخب ہو کر پاکستان کے دستور کی وفاداری کروں گا۔ دستوِر پاکستان کی اسلامی دفعات کا تحفظ کروں گا۔ ملک کے دستور کے خلاف کوئی کام نہیں ہونے دوں گا۔ دستور اور قانون میں شریعت کے جو قوانین ہیں ان میں سے کسی کو منسوخ یا غیر مؤثر بنانے کی حمایت نہیں کروں گا۔ شریعتِ اسلامیہ کے خلاف کسی بل کی حمایت نہیں کروں گا۔ شریعت کے نفاذ کی کوشش کروں گا۔ ختمِ نبوت اور ناموسِ رسالت کے قوانین کی پوری طرح پاسداری کروں گا۔ جب بھی شریعت کے لیے کسی قانون کے نفاذ کی بات ہو گی تو میرا ووٹ شریعت کو ہو گا۔ کسی بھی دینی اور قومی مسئلہ میں، قومی خودمختاری یا ملکی آزادی کے معاملہ میں میرا ووٹ ملکی وحدت، قومی خودمختاری اور آزادی کے ساتھ ہو گا۔‘‘

یہ کام تو ہر حلقہ کے لوگوں کو کرنا چاہیے، آپ جس پارٹی کو یا جس امیدوار کو بھی ووٹ دیں، اس سے اس حلف نامہ پر ضرور دستخط لیں۔ اس سے کچھ نہ کچھ فرق ضرور پڑے گا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔

   ➌ بہت سے حلقوں میں مختلف دینی جماعتوں کے علماء کرام آمنے سامنے انتخابات لڑ رہے ہیں۔ مختلف مسالک کے تو ایک دوسرے کے مقابلے پر ہیں ہی، بعض جگہ پر ایک مسلک کے علماء بھی باہم ایک دوسرے کے مقابلے پر ہیں۔ اگر کہیں ایک حلقے میں علماء کی دو جماعتیں ہوں تو وہاں کم از کم اتمامِ حجت کے لیے کوشش کریں اور ان سے گزارش کریں کہ آپ میں سے ایک اس دفعہ الیکشن لڑ لے، اور دوسرے سے عرض کریں کہ آپ اگلی دفعہ الیکشن لڑنا، لیکن مہربانی کریں کہ آمنا سامنا نہ کریں۔ دینی حلقوں اور دینی امیدواروں کا آپس میں آمنا سامنا ہمیں خاموشی سے ہضم نہیں کر لینا چاہیے بلکہ اسے کم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

یہ میری تین گزارشات ہیں، اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ اللہ پاک ہمیں ہدایت دیں اور صحیح رخ پر صحیح کام کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ پاکستان شریعت کونسل خود انتخابات میں شریک نہیں ہے اور نہ ہی کسی کو اس کا ٹائٹل استعمال کرنے کی اجازت ہے، البتہ ہم ملک بھر کے عوام اور دینی کارکنوں سے گزارش کر رہے ہیں کہ (۱) امیدواروں میں سے جو شریعت کے زیادہ قریب ہے اسے منتخب کریں (۲) جس امیدوار کو ووٹ دیں اس سے حلف نامہ لیں (۳) جہاں دینی حلقے، جماعتیں اور علماء آپس میں مقابلے پر ہیں وہاں اپنی پوری کوشش کریں کہ ایک امیدوار سامنے آئے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۰۹)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(471) المتقین کا ترجمہ

درج ذیل دونوں آیتوں میں متقین کا ترجمہ صاحب تدبر نے ’نقض عہد سے بچنے والوں‘ کیا ہے۔ یہ ترجمہ موزوں نہیں ہے۔ متقی قرآن کی معروف اصطلاح ہے۔ تقوی اختیار کرنے یعنی اللہ کی ناراضگی سے بچنے والے کو متقی کہتے ہیں۔ عہد کی پاس داری کرنا اور عہد شکنی سے بچنا تقوی کا ایک تقاضا تو ہے لیکن تقوی کااصل مفہوم عہد شکنی نہیں ہے۔ تقوی کا یہ تقاضا تفسیر میں بتایا جاسکتا ہے۔ ترجمہ ملاحظہ ہو:

(۱) فَأَتِمُّوا إِلَیْہِمْ عَہْدَہُمْ إِلَی مُدَّتِہِمْ إِنَّ اللَّہَ یُحِبُّ الْمُتَّقِینَ۔ (التوبۃ: 4)

”سو ان کے معاہدے ان کی قرار دادہ مدت تک پورے کرو۔ بے شک اللہ نقض عہد سے بچنے والوں کو دوست رکھتا ہے“۔ (امین احسن اصلاحی)

”تو ایسے لوگوں کے ساتھ تم بھی مدت معاہدہ تک وفا کرو کیونکہ اللہ متقیوں ہی کو پسند کرتا ہے“۔ (سید مودودی)

موخر الذکر ترجمے کے بارے میں تین باتیں قابل توجہ ہیں۔

پہلی بات یہ ہے کہ آیت میں حصر کی کوئی علامت نہیں ہے، اس لیے ’متقیوں ہی‘ کے بجائے صرف ’متقیوں‘ ہونا چاہیے۔

دوسری بات یہ ہے کہ إِنَّ کا ترجمہ ’کیوں کہ‘ کیا ہے۔ یہ درست نہیں ہے۔ إِنَّ کا ترجمہ ’بے شک‘ کیا جائے گا۔ لفظ کے پہلو سے یہ درست اور معنویت کے اعتبار سے بھی زیادہ موزوں ہے۔

تیسری بات یہ ہے کہ أتم العھد کا مطلب عہد وفا کرنا نہیں، بلکہ معاہدہ پورا کرنا ہے۔ فَأَتِمُّوا إِلَیْہِمْ عَہْدَہُمْ إِلَی مُدَّتِہِمْ کا ترجمہ ہوگا: ’ان کی مدت تک ان کے معاہدے پورے کرو۔‘ مطلب یہ ہے کہ جو معاہدے ہوگئے ہیں انھیں مدت سے پہلے ختم نہ کرو بلکہ جو مدت طے ہوئی ہے، اس مدت تک باقی رکھو۔ عہد وفا کرنے کا مطلب ہے عہد کی خلاف ورزی سے بچنا جب کہ معاہدہ پورا کرنے کا مطلب ہے معاہدہ ختم کرنے سے بچنا۔ دونوں باتوں میں فرق ہے۔ یہاں عہد وفا کرنے کی نہیں معاہدہ پورا کرنے کی بات ہے۔

(۲) فَمَا اسْتَقَامُوا لَکُمْ فَاسْتَقِیمُوا لَہُمْ إِنَّ اللَّہَ یُحِبُّ الْمُتَّقِینَ۔ (التوبۃ: 7)

”تو جب تک وہ تمہارے لیے قائم رہیں تم بھی ان کے لیے معاہدے پر قائم رہو۔ بے شک اللہ نقض عہد سے بچنے والوں کو دوست رکھتا ہے“۔ (امین احسن اصلاحی)

”تو جب تک وہ تمہارے ساتھ سیدھے رہیں تم بھی ان کے ساتھ سیدھے رہو کیونکہ اللہ متقیوں کو پسند کرتا ہے“۔ (سید مودودی)

یہاں بھی إِنَّ کا ترجمہ ’کیوں کہ‘ کیا ہے۔ یہ درست نہیں ہے۔ إِنَّ  کا ترجمہ ’بے شک‘ کیا جائے گا۔

چوں کہ فَمَا اسْتَقَامُوا لَکُمْ فَاسْتَقِیمُوا لَہُمْ معاہدے کے سیاق میں ہے اس لیے اس جملے کا ترجمہ ہوگا: ”جب تک وہ تمہارے ساتھ معاہدے پر قائم رہیں، تم بھی ان کے ساتھ معاہدے پر قائم رہو۔“

(472) فَہُمْ فِی رَیْبِہِمْ یَتَرَدَّدُونَ

درج ذیل آیت میں ’فِی رَیْبِہِمْ‘ حال ہے نہ کہ ’یَتَرَدَّدُونَ‘ کا ظرف۔ شک میں ڈانوا ڈول ہونے کا کوئی مطلب نہیں بیٹھتا ہے۔ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ وہ شک کی حالت میں ہیں اس لیے کوئی فیصلہ نہیں کرپا رہے ہیں بس پیچ و تاب کھا رہے ہیں۔ کچھ ترجمے ملاحظہ کریں:

 وَارْتَابَتْ قُلُوبُہُمْ فَہُمْ فِی رَیْبِہِمْ یَتَرَدَّدُونَ۔ (التوبۃ: 45)

”اور ان کے دل شک میں پڑے ہیں تو وہ اپنے شک میں ڈانواں ڈول ہیں“۔ (احمد رضا خان)

”اور ان کے دل شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ سو وہ اپنے شک میں ڈانواں ڈول ہو رہے ہیں“۔ (فتح محمد جالندھری)

”جن کے دل شک میں پڑے ہوئے ہیں اور وہ اپنے شک میں ہی سرگرداں ہیں“۔ (محمد جوناگڑھی)

”اور جن کے دل شک میں مبتلا ہیں اور وہ اپنے شک میں ڈانوا ڈول ہیں“۔ (امین احسن اصلاحی)

مولانا امانت اللہ اصلاحی ترجمہ کرتے ہیں:

”جن کے دل شک میں پڑے ہوئے ہیں سو وہ شک کی حالت میں پیچ و تاب کھارہے ہیں۔“

اسی جہت میں درج ذیل ترجمہ بھی ہے:

”اور ان کے دل شک میں پڑے ہیں سو وہ اپنے شکوک میں پڑے ہوئے حیران ہیں“۔ (اشرف علی تھانوی)

(473) فَاِنْ رَجَعَکَ اللَّہُ إِلَی طَائِفَۃٍ مِنْہُمْ

فَإِنْ رَجَعَکَ اللَّہُ إِلَی طَاءِفَۃٍ مِنْہُمْ فَاسْتَأْذَنُوکَ لِلْخُرُوجِ فَقُلْ لَنْ تَخْرُجُوا مَعِیَ أَبَدًا وَلَنْ تُقَاتِلُوا مَعِیَ عَدُوًّا۔ (التوبۃ: 83)

”اگر اللہ ان کے درمیان تمہیں واپس لے جائے اور آئندہ ان میں سے کوئی گروہ جہاد کے لیے نکلنے کی تم سے اجازت مانگے تو صاف کہہ دینا کہ، اب تم میرے ساتھ ہرگز نہیں چل سکتے اور نہ میری معیت میں کسی دشمن سے لڑ سکتے ہو“۔ (سید مودودی)

اس ترجمہ میں لفظی ترکیب کی رعایت نہیں ہوسکی ہے۔ آیت میں ان کے گروہ کی طرف واپس لانے اور اس گروہ کے اجازت مانگنے کا ذکر ہے، نہ کہ ان کی طرف واپس لانے اور ان کے کسی گروہ کے اجازت مانگنے کا۔

اس پہلو سے درج ذیل ترجمہ درست ہے:

”پھر اے محبوب! اگر اللہ تمہیں ان میں سے کسی گروہ کی طرف واپس لے جائے اور وہ تم سے جہاد کو نکلنے کی اجازت مانگے تو تم فرمانا کہ تم کبھی میرے ساتھ نہ چلو اور ہرگز میرے ساتھ کسی دشمن سے نہ لڑو“۔ (احمد رضا خان)

اوپر کے دونوں ترجموں میں ایک اور بات قابل توجہ ہے وہ یہ کہ لَنْ تَخْرُجُوا اور لَنْ تُقَاتِلُوا کا ترجمہ ’نہیں چل سکتے‘ اور ’نہیں لڑسکتے‘ یا ’نہ چلو‘ اور ’نہ لڑو‘ سے زیادہ موزوں ’کبھی نہیں نکلو گے‘ اور ’کبھی نہیں لڑو گے‘ ہے۔

”پھر اگر خدا تم کو ان میں سے کسی گروہ کی طرف لے جائے“۔ (فتح محمد جالندھری)

رَجَعَکَ کا ترجمہ ’لے جائے‘ کے بجائے ’واپس لائے‘ ہونا چاہیے۔

درج ذیل ترجمہ مذکورہ کمیوں سے خالی ہے:

”سو اگر پھیر لے جاوے تجھ کو اللہ کسی فرقے کی طرف ان میں سے پھر یہ رخصت چاہیں تجھ سے نکلنے کو تو تو کہہ کہ تم ہرگز نہ نکلو گے میرے ساتھ کبھی اور نہ لڑو گے میرے ساتھ کسی دشمن سے“۔ (شاہ عبدالقادر)

(474) یُقْتَلُونَ کا ترجمہ

یُقْتَلُ کا مطلب مرنا نہیں بلکہ قتل کیا جانا اور مارا جانا ہے۔ ترجمہ کرتے ہوئے بعض حضرات اس فرق کا لحاظ نہیں کرسکے۔

 یُقَاتِلُونَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ فَیَقْتُلُونَ وَیُقْتَلُونَ۔ (التوبۃ: 111)

”لڑتے ہیں اللہ کی راہ میں پھر مارتے ہیں اور مرتے ہیں“۔ (شاہ عبدالقادر)

”اللہ کی راہ میں لڑیں تو ماریں اور مریں“۔ (احمد رضا خان)

”وہ اللہ کی راہ میں جنگ کرتے ہیں، پس مارتے بھی ہیں اور مرتے بھی ہیں“۔ (امین احسن اصلاحی)

”وہ اللہ کی راہ میں لڑتے اور مارتے اور مرتے ہیں“۔ (سید مودودی)

”یہ لوگ راہ خدا میں جہاد کرتے ہیں اور دشمنوں کو قتل کرتے ہیں اور پھر خود بھی قتل ہوجاتے ہیں“۔ (ذیشان جوادی)

یہ آخری ترجمہ بہت نامناسب ہے۔ اس سے یہ مفہوم نکلتا ہے کہ قتل کرنے کے بعد وہ خود کو قتل ہونے کے لیے پیش کردیتے ہیں۔ آیت کا مطلب تو یہ ہے کہ ایمان والے جنگ کرتے ہیں جس میں دونوں طرح کے انجام کے لیے وہ تیار رہتے ہیں، قتل کرنے میں بھی انھیں باک نہیں ہوتا اور قتل کیے جانے سے بھی وہ نہیں ڈرتے۔ یہاں قتال کا ترجمہ جہاد بھی درست نہیں ہے۔

درج ذیل ترجموں میں لفظ کی رعایت کی گئی ہے:

”یہ لوگ خدا کی راہ میں لڑتے ہیں تو مارتے بھی ہیں اور مارے بھی جاتے ہیں“۔ (فتح محمد جالندھری)

”وہ لوگ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں جس میں قتل کرتے ہیں اور قتل کیے جاتے ہیں“۔ (محمد جوناگڑھی اور اشرف علی تھانوی)

(475) عَنْ یَدٍ کا ترجمہ

درج ذیل آیت کا ترجمہ عام طور سے اس طرح کیا گیا ہے۔

حَتَّی یُعْطُوا الْجِزْیَةَ عَنْ یَدٍ وَہُمْ صَاغِرُونَ۔ (التوبۃ: 29)

”یہاں تک کہ وہ اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں اور چھوٹے بن کر رہیں“۔ (سید مودودی)

”جب تک اپنے ہاتھ سے جزیہ نہ دیں ذلیل ہوکر“۔ (احمد رضا خان)

”یہاں تک کہ ذلیل ہوکر اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں“۔ (فتح محمد جالندھری)

”یہاں تک کہ وہ ذلیل وخوار ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کریں“۔ (محمد جوناگڑھی)

’اپنے ہاتھ سے‘ کا مفہوم ادا کرنے کے لیے ایسے موقع پر حرف باء آتا ہے،یعنی ’بید‘ کی تعبیر لائی جاتی ہے۔ ’عن ید‘ یہاں طاقت کے معنی میں ہے۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی کا ترجمہ دیکھیں: 

”یہاں تک کہ وہ طاقت کے زور پر چھوٹے بن کر جزیہ دیں“۔ طاقت کے زور پر یعنی چار و ناچار وہ جزیہ دینے پر مجبور ہوں۔ جزیہ دینے کا مطلب یہ ہوگا کہ جس گھمنڈ اور تکبر کی بنا پر وہ حق کی مخالفت اور اہل حق سے جنگ کررہے تھے، ٹوٹ چکا ہے۔

(476) فَمَا مَتَاعُ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا فِی الْاَخِرَۃِ إِلَّا قَلِیلٌ

فَمَا مَتَاعُ الْحَیَاةِ الدُّنْیَا فِی الْآخِرَةِ إِلَّا قَلِیلٌ۔ (التوبۃ: 38)

درج بالا جملے کا ترجمہ حسب ذیل کیا گیا ہے:

 ”سنو! دنیا کی زندگی تو آخرت کے مقابلے میں کچھ یونہی سی ہے“۔ (محمد جوناگڑھی)

”دنیا کا اسباب آخرت کے سامنے نہیں مگر تھوڑا“۔ (احمد رضا خان)

”آخرت کے مقابلے میں یہ دنیا کی زندگی تو نہایت ہی حقیر ہے“۔ (امین احسن اصلاحی)

مذکورہ بالا ترجموں میں کوئی اشکال نہیں ہے۔ تاہم درج ذیل ترجمہ عام ترجموں سے مختلف ہے، اس میں فی کا ترجمہ مقابلے  (اصطلاح میں مقایسہ)کے بجائے ظرف کے معنی میں کیا ہے:

”ایسا ہے تو تمہیں معلوم ہو کہ دنیوی زندگی کا یہ سب سروسامان آخرت میں بہت تھوڑا نکلے گا“۔ (سید مودودی)

اسلوب کلام کو سامنے رکھیں تو یہ ترجمہ کم زور معلوم ہوتا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اسی طرح کے دوسرے قرآنی جملے میں موصوفؒ نے عام مترجمین کے طرز پر ترجمہ کیا ہے:

وَمَا الْحَیَاةُ الدُّنْیَا فِی الْآخِرَةِ إِلَّا مَتَاعٌ۔ (الرعد: 26)

”حالانکہ د نیا کی زندگی آخرت کے مقابلے میں ایک متاع قلیل کے سوا کچھ بھی نہیں“۔ (سید مودودی)

(477) عَفَا اللَّہُ عَنْکَ کا ترجمہ

بہت سے لوگوں نے درج ذیل جملے کو دعائیہ مان کر ترجمہ کیا ہے، لیکن اس پر اشکال ہے کہ جب اللہ ہی دعا قبول کرنے والا ہے تو وہ اپنے آپ سے کیسے دعا کرے گا؟ اس لیے صحیح توجیہ یہ ہے کہ اس جملے کو خبریہ مانا جائے کہ اللہ نے معاف کردیا۔ بعض ترجمے ملاحظہ ہوں:

عَفَا اللَّہُ عَنْکَ۔ (التوبۃ: 43)

”اللہ بخشے تجھکو“۔ (شاہ عبدالقادر)

”اے نبیؐ، اللہ تمہیں معاف کرے“۔ (سید مودودی)

”اللہ تجھے معاف فرما دے“۔ (محمد جوناگڑھی)

”خدا تمہیں معاف کرے“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اللہ تمہیں معاف کرے“۔ (احمد رضا خان)

اس کے برعکس بعض لوگوں نے عَفَا اللَّہُ عَنْکَ کو دعائیہ کے بجائے خبریہ جملہ مانا ہے اور اس کے مطابق ترجمہ کیا ہے، یہ ترجمہ درست ہے۔ ملاحظہ کریں:

”اللہ تعالی نے آپ کو معاف (تو) کردیا“۔ (اشرف علی تھانوی)

”اللہ نے تمہیں معاف کر دیا“۔ (احمد علی)

”اللہ نے تمہیں معاف کیا“۔(امین احسن اصلاحی)

”پیغمبر! خدا نے آپ سے درگزر کیا“۔ (ذیشان جوادی)

(478) حَتَّی جَاءَ الْحَقُّ وَظَہَرَ أَمْرُ اللَّہِ وَہُمْ کَارِہُونَ

لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ وَقَلَّبُوا لَکَ الْأُمُورَ حَتَّی جَاءَ الْحَقُّ وَظَہَرَ أَمْرُ اللَّہِ وَہُمْ کَارِہُونَ۔ (التوبۃ: 48)

”اس سے پہلے بھی اِن لوگوں نے فتنہ انگیزی کی کوششیں کی ہیں اور تمہیں ناکام کرنے کے لیے یہ ہر طرح کی تدبیروں کا الٹ پھیر کر چکے ہیں یہاں تک کہ ان کی مرضی کے خلاف حق آ گیا اور اللہ کا کام ہو کر رہا“۔ (سید مودودی)

”یہ پہلے بھی فتنہ انگیزی کی کوشش کرچکے ہیں اور انہوں نے واقعات کی صورت تمہارے سامنے بدلی یہاں تک کہ ان کے علی الرغم حق آگیا اور اللہ کا حکم ظاہر ہوا“۔(امین احسن اصلاحی) یہاں وَقَلَّبُوا لَکَ الْأُمُورَ کا ترجمہ درست نہیں ہے۔ اس جملے کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ ’تمہارے خلاف طرح طرح کے جتن کیے۔‘

”بیشک انہوں نے پہلے ہی فتنہ چاہا تھا اور اے محبوب! تمہارے لیے تدبیریں الٹی پلٹیں یہاں تک کہ حق آیا اور اللہ کا حکم ظاہر ہوا اور انہیں ناگوار تھا“۔ (احمد رضا خان)

آخری ترجمے میں ’وھم کارھون‘ میں واو کو عطف کا مان کر ترجمہ کیا گیا ہے۔ اسلوب کلام سے ظاہر ہے کہ یہ واو حالیہ ہے۔ پہلے دونوں ترجمے واو حالیہ کی بنیاد پر کیے گئے ہیں۔ البتہ ان دونوں نے وھم کارھون کو پچھلے دونوں جملوں کا حال مانا ہے، یعنی جاء الحق اور ظھر أمر اللہ کا۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی کا خیال ہے کہ یہ وھم کارھون دوسرے جملے یعنی ظھر أمر اللہ کا حال ہے۔ اس طرح ترجمہ ہوگا:

”یہاں تک کہ حق آ گیا اور ان کی مرضی کے خلاف اللہ کا کام ہو کررہا“۔

(479) وَقَالُوا لَا تَنْفِرُوا فِی الْحَرّ

درج ذیل جملے کا ترجمہ کرتے ہوئے بعض مترجمین نے یہ مان کر کہ انھوں نے یہ بات دوسروں سے کہی تھے، ترجمے میں اپنی طرف سے ایسے الفاظ کا اضافہ کردیا۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی کا خیال ہے کہ پیچھے رہ جانے والوں نے یہ بات اپنے آپ سے کہی تھی یعنی خود کلامی کرتے ہوئے اپنے آپ سے کہا تھا کہ گرمی میں نہ جاؤ۔ 

 وَقَالُوا لَا تَنْفِرُوا فِی الْحَرِّ۔ (التوبۃ: 81)

”اور (اوروں سے بھی) کہنے لگے کہ گرمی میں مت نکلنا“۔ (فتح محمد جالندھری)

”انہوں نے لوگوں سے کہا کہ اس سخت گرمی میں نہ نکلو“۔ (سید مودودی)

 درج ذیل ترجمے میں کوئی اضافہ نہیں ہے اور دونوں مفہوم لیے جاسکتے ہیں:

”اور بولے اس گرمی میں نہ نکلو“۔ (احمد رضا خان)

(480) وَصَلَوَاتِ الرَّسُولِ کا عطف کس پر؟

 وَمِنَ الْأَعْرَابِ مَنْ یُؤْمِنُ بِاللَّہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَیَتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ قُرُبَاتٍ عِنْدَ اللَّہِ وَصَلَوَاتِ الرَّسُولِ۔ (التوبۃ:99)

درج بالا آیت میں قواعد کی رو سے صَلَوَاتِ الرَّسُولِ کو ’مَا یُنْفِقُ‘ پر بھی معطوف مانا جاسکتا ہے اور ’قُرُبَاتٍ عِنْدَ اللَّہِ‘ پر بھی۔ زیادہ تر لوگوں نے اسے’قُرُبَاتٍ عِنْدَ اللَّہِ‘ پر معطوف مان کر ترجمہ کیا ہے۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ انفاق کے دو مقصد ہوتے ایک قرب الٰہی اور دوسرا رسول کی دعا۔ لیکن یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اسے  ’مَا یُنْفِقُ‘ پر معطوف مانا جائے۔ اس کی رو سے انفاق اور رسول کی دعائیں دونوں کا مقصد قرب الٰہی کا حصول ہوگا۔

دوسری  توجیہ زیادہ بہتر معلوم ہوتی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ مومن کا اصل مقصود تو قرب الٰہی ہوتا ہے۔ وہ جو خرچ کرتا ہے اس کا بھی اصل مقصود قرب الٰہی ہے اور اس کے انفاق سے خوش ہوکر اللہ کے رسول جو دعائیں دیں ان کا بھی اصل فائدہ اور مقصود یہی ہے کہ ان دعاؤں کی بدولت اسے قرب الٰہی حاصل ہوجائے۔اس کی تائید اس جملے سے بھی ہوتی ہے جو اس کے فورًا بعد آیا ہے، یعنی أَلَا إِنَّہَا قُرْبَةٌ لَہُمْ (ہاں! وہ ضرور ان کے لیے تقرب کا ذریعہ ہے) گویا ہر چیز کا اصل مقصود قرب الٰہی ہے۔

درج ذیل ترجمے صَلَوَاتِ الرَّسُولِ کو ’قُرُبَاتٍ عِنْدَ اللَّہِ‘ پر معطوف مان کر کیے گئے:

”اور انہی بدویوں میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں اُسے اللہ کے تقرب کا اور رسولؐ کی طرف سے رحمت کی دعائیں لینے کا ذریعہ بناتے ہیں“۔ (سید مودودی)

”اور بعض اہل دیہات میں ایسے بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں اس کو عند اللہ قرب حاصل ہونے کا ذریعہ اور رسول کی دعا کا ذریعہ بناتے ہیں“۔ (محمد جوناگڑھی)

”اور بعض دیہاتی ایسے ہیں کہ خدا پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں اس کو خدا کی قُربت اور پیغمبر کی دعاؤں کا ذریعہ سمجھتے ہیں“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اور کچھ گاؤں والے وہ ہیں جو اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتے ہیں اور جو خرچ کریں اسے اللہ کی نزدیکیوں اور رسول سے دعائیں لینے کا ذریعہ سمجھیں“۔ (احمد رضا خان)

درج ذیل ترجمہ صَلَوَاتِ الرَّسُولِ کو ’مَا یُنْفِقُ‘ پر معطوف مان کر کیا گیا:

”اور ان میں وہ بھی ہیں جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں اس کو اور رسول کی دعاؤں کو حصول قرب الٰہی کا ذریعہ سمجھتے ہیں“۔ (امین احسن اصلاحی)

صفات متشابہات پر متکلمین کا مذہب تفویض و ائمہ سلف

ڈاکٹر محمد زاہد صدیق مغل

صفات متشابہات سے مراد قرآن و سنت میں اللہ تعالی کے بارے میں مذکور وہ بیانات ہیں جن کے ظاہری معنی حدوث (زمانی و مکانی تصورات ) پر دلالت کرتے ہیں جیسے اللہ کا ید (ہاتھ)، اس کا مجییئ و نزول (آنا و جانا)، اس کی اصبع (انگلی)، اس کی ساق (پنڈھلی) وغیرہ۔ انہیں صفات خبریہ بھی کہہ دیا جاتا ہے۔ بعض اہل علم حضرات کا دعوی ہے کہ ائمہ اہل سنت جیسے کہ امام ابوحنیفہ (م 150 ھ ) ، امام مالک (م 179 ھ ) و امام اشعری (م 324 ھ) کی عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان صفات خبریہ یا متشابہات سے متعلق یہ حضرات اسی مذہب پر تھے جس کی تعلیم بعض متاخرین جیسے کہ علامہ ابن تیمیہ (م 728 ھ) نے دی۔ تاہم ہماری معلومات کی حد تک ان ائمہ سلف کی ایسی کوئی صریح عبارت موجود نہیں جو شیخ ابن تیمیہ کے موقف کے حق میں استدلال کے لئے مفید ہو بلکہ معاملہ اس کے برعکس ہے۔ یہ حضرات ان ائمہ کے بعض اقوال کو بنیاد بنا کر اپنے موقف کے مطابق ان کی جو شرح کرتے ہیں اس تحریر میں متکلمین کے مذہب کی روشنی میں اس کی غلطی واضح کی جائے گی نیز متکلمین کے مذہب کی نوعیت واضح کرتے ہوئے اس پر بعض چبھتے ہوئے اہم اعتراضات کا جواب بھی دیا جائے گا۔

وما توفیقی الا باللہ۔

نفس مسئلہ پر فریقین کی رائے

1۔ سب سے پہلے نفس مسئلہ سے متعلق فریقین کے مواقف کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔ اشاعرہ و ماتریدیہ کا کہنا ہے کہ صفات خبریہ جیسے کہ ید و نزول کے حقیقی معنی جسم و جزئیت جیسی کیفیات (اعراض) پر دلالت کرتے ہیں، اس معنی کے سوا ان الفاظ چند ثانونی یا مجازی معانی بھی ہیں (جیسے قدرت، عطا وغیرہ)۔ چونکہ دلیل سے ثابت ہے کہ اللہ تعالی کی بارگاہ میں ان کے حقیقی معنی قطعی طور پر مراد نہیں لئے جاسکتے اور کسی قرینے کی بنا پر ان لفاظ کے مجازی معنی مراد لینا بارگاہ الہی میں غیر محتاط ہے، لہذا مناسب بات یہ کہنا ہے کہ "ید" کا اللہ کی صفت ہونا ثابت و معلوم ہے تاہم اس کے حقیقی معنی ہمیں معلوم نہیں کیونکہ کیفیت نامعلوم ہے ، اس لئے اللہ ہی اس کے حقیقی معنی سے واقف ہے اور ہم عند اللہ اس معنی کے ثابت و سچ ہونے اقرار کرتے ہیں۔ اس موقف کو “تفویض معنی” کہتے ہیں۔ اس کے برعکس شیخ ابن تیمیہ (اور ان سے قبل حنابلہ وغیرہ) کا کہنا ہے کہ لفظ "ید" کے حقیقی معنی ہمیں معلوم ہیں اور وہ وہی ہیں جو عربی لغت میں مراد ہیں البتہ اس معنی کی کیفیت و حقیقت معلوم نہیں۔ اس موقف کو یہ حضرات “تفویض کیف” کا نام دیتے ہیں، یعنی معنی معلوم مگر کیفیت مجہول۔ علامہ ابن تیمیہ کا کہنا تھا کہ جو ان کے اس موقف سے اختلاف کرتے ہوئے "تفویض معنی " کا قول اختیار کرتا ہے وہ دراصل اللہ کی صفات کی تجھیل و تعطیل کا مرتکب ہے۔

دونوں مواقف پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ شیخ ابن تیمیہ "معنی " اور "کیف " میں دوئی قائم کر کے اول الذکر کا علم ممکن ہونے اور دوسرے کی مجہولیت کے دعوے دار ہیں جبکہ متکلمین اشاعرہ و ماتریدیہ کے نزدیک کیف کی مجہولیت ہی معنی کی مجہولیت ہے جیسا کہ آگے واضح ہوجائے گا۔

متعلقہ عبارات اور ناقدین متکلمین کا استدلال

2۔ امام اشعری کتاب "الابانۃ " میں اللہ کی صفات پر گفتگو کے تحت یہ الفاظ کہتے ہیں:

وأن له وجهًا بلا كيف، وأن له يدين بلا كيف، وأن له عينين بلا كيف

مفہوم: بے شک اللہ کا وجہ (چہرہ) بلا کیف ہے، اللہ کے یدین (دو ہاتھ) بلا کیف ہیں، اللہ کی عینین (دو آنکھیں) بلا کیف ہیں

امام مالک سے جب ایک شخص نے پوچھا کہ استوی سے کیا مراد ہے تو آپ نے فرمایا:

الاستوی معلوم والکیفیة مجهول والایمان به واجب والسوال عنه بدعة

مفہوم : استوی معلوم ہے، اس کی کیفیت مجہول ہے، اس پر ایمان لانا واجب ہے اور اس بارے میں سوال کرنا بدعت ہے

اس نوع کے اقوال کی بنیاد پر کہا گیا کہ ائمہ سلف کا موقف وہی تھا جسے "معنی معلوم اور کیفیت مجہول" کہا جاتا ہے۔ اس دعوے کے لئے ان کی جانب سے وجہ استدلال یہ ہے کہ امام مالک نے استوی کو معلوم کہا اور صرف کیفیت کو مجہول کہا، اسی طرح امام اشعری نے ید کا اقرار بلا کیف کیا۔ بعینہہ یہی استدلال امام ابوحنیفہ کی جانب منسوب کتاب “الفقہ الاکبر” کی بعض عبارات سے بھی کیا جاتا ہے۔ ایک مشہور عبارت یہ ہے:

وَله يَد وَوجه وَنَفس كَمَا ذكره الله تَعَالَى فِي الْقُرْآن فَمَا ذكره الله تَعَالَى فِي الْقُرْآن من ذكر الْوَجْه وَالْيَد وَالنَّفس فَهُوَ لَهُ صِفَات بِلَا كَيفَ وَلَا يُقَال إِن يَده قدرته اَوْ نعْمَته لِأَن فِيهِ إبِْطَال الصّفة وَهُوَ قَول أهل الْقدر والاعتزال وَلَكِن يَده صفته بِلَا كَيفَ وغضبه وَرضَاهُ صفتان من صِفَات الله تَعَالَى بِلَا كَيفَ

مفہوم: اس کا ید، وجہ اور نفس ہے جیسا کہ اللہ نے قرآن میں ذکر کیا، پس اللہ نے قرآن میں وجہ، ید اور نفس کا جو ذکر کیا وہ اس کی “صفات بلا کیف “ہیں، اور یہ نہیں کہا جائے گا کہ اس کا ید اس کی قدرت یا (عطائے) نعمت ہے کیونکہ اس سے اس کی صفت کا انکار لازم آتا ہے اور یہ اہل قدر و اعتزال کا قول ہے۔ بلکہ یہ کہا جائے گا کہ اس کا ید اس کی “صفت بلا کیف” ہے، اسی طرح اس کا غضب و رضا اس کی “صفات بلا کیف” ہیں

"بلا کیف" کا مطلب اور ائمہ کے اقوال کا مفہوم

اب ہم اس استدلال کی غلطی واضح کرتے ہیں۔

3۔ استدلال میں بنیادی غلطی “کیفیت کی نفی” اور “کیفیت کے علم کی نفی” میں فرق نہ کرنا ہے۔ اشاعرہ و ماتریدیہ کا موقف اول الذکر جبکہ علامہ ابن تیمیہ کا موخر الذکر ہے (اگر علامہ کا یہ موقف نہیں تو پھر ان کی ساری بحث لفظی نزاع ہے جیسا کہ آگے آرہا ہے)۔ امام اشعری و امام مالک دونوں کے اقوال میں کیفیت کی نفی کی گئی ہے نہ کہ کیفیت کے علم کی۔ اس نکتے کو سمجھنے کے لئے متکلمین کی اصطلاح میں “کیف” کا مطلب سمجھنا ضروری ہے نہ یہ کہ ہم کسی علم و فن کے ماہرین کے معنی سے سہو نظر کرتے ہوئے کیف کو اپنی طرف سے کوئی معنی پہنا کر عبارات پڑھنا شروع کر دیں (یاد رہے کہ امام اشعری منجھے ہوئے متکلم تھے)۔

4۔ کیف کا مطلب کسی موجود کے ہونے کی وہ حالتیں ہیں جو زمانی و مکانی مشاہدے سے متعلق ہیں اور جنہیں اعراض یا modalities کہا جاتا ہے اور وہ نو (9) ہیں۔ سب کا تعارف یہاں مقصود نہیں، ان سے مراد اس قسم کے امور ہیں جیسے کمیت یا مقدار، رنگ، ٹھنڈا و گرم، طول و عرض و لمبائی، مکانی جہت وغیرہ۔ ان اعراض کا مطلب یہ ہے کہ یہ امور انسانی مشاہدے میں آسکنے والی جمیع اشیا کے مابین ممکنہ طور پر مشترک امور میں سے سب سے عمومی امور (upper tips) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ چنانچہ جب کہا جاتا ہے کہ "اللہ کا ید بلا کیف ہے" تو یہ کیفیت کی نفی ہے، یعنی ہمیں یہ تو معلوم ہے کہ اللہ کی صفت ید ثابت ہے کیونکہ نص میں اس کا ذکر ہے مگر ہم اس بات کی نفی کرتے ہیں کہ وہ کیف (اعراض) کے ساتھ ہے۔ یعنی اللہ کے ید پر نہ کمیت و مقدار کا اطلاق ہے اور نہ رنگ و ٹھنڈک کا، نہ طول و عرض کا اور نہ جسم و جہت کا وغیرہ۔ یہ مطلب ہے "ید بلا کیف" اور "وجہ بلا کیف" کا اور یہی اشاعرہ و ماتریدیہ کا مذہب ہے۔

5۔ کیف (یعنی اعراض) کی نفی کا اس کے سوا کوئی مطلب نہیں کہ ہمیں لفظ ید کا حقیقی مطلب معلوم نہیں اس لئے کہ "ید" کا حقیقی معنی تو ان کیفیات کے ساتھ عبارت ہے کیونکہ اہل عرب نے یہ اسی تناظر میں وضع کیا، اس کے بعد جو بچتا ہے وہ یا مجازی معنی ہیں اور یا معنی سے لاعلمی۔ اسی طرح مثلاً نزول کا حقیقی معنی ایک مکان سے دوسرے مکان میں منتقلی ہے جو جسم کی صفات پر مبنی معنی ہے۔ کیا اہل عرب کے کلام میں لفظ ید یا نزول کے استعمال کی کوئی ایسی نظیر ملتی ہے جو ان کے حقیقی معنی کے ساتھ متصل تمام کیفیات سے ماورا بھی ہو اور مجازی معنی بھی نہ کہلاتا ہو؟ جو اس کے مدعی ہیں انہیں اس کی دلیل عربی کلام کے نظائر سے لانا ہوگی۔ چنانچہ جب ان سب کیفیات یعنی modalities کی نفی کردی گئی تو سمجھ آنے والے معنی کی نفی ہو گئی کیونکہ جو ید اور نزول ان سب سے ماورا ہے اس کا علم حاصل ہونے کا ہمارے پاس کوئی ذریعہ ہی نہیں۔ حس و عقل جس ید کے مفہوم کو سمجھ سکتے ہیں وہ اعراض یا modalities کے ساتھ ہیں۔ پس جب اس لفظ سے سمجھ آنے والے سب سے اوپری امور (upper tips) کی بھی نفی کردی گئی تو اس کے بعد بھلا حقیقی معنی میں سے "معلوم" کیا رہا؟ ایسے میں ہم ایک سچے کی خبر کی بنیاد پر اس ید کے متحقق و ثابت ہونے کی تصدیق کر سکتے ہیں لیکن اس کے معنی معلوم ہونے کی بات ایک خالی دعوی ہے۔ یعنی ترتیب گفتگو یوں ہے:

6۔ چنانچہ امام ابو حنیفہ اور امام اشعری فرما رہے ہیں کہ ان امور کا صفات الہیہ ہونا ہم مانتے ہیں اس لئے کہ یہ قرآن سے ثابت ہیں نیز ان کی تاویل نہیں کی جائے گی، لیکن ہم سمجھ نہیں پائے کہ آخر ان کی عبارات میں وہ کونسا لفظ ہے جو “حقیقی معنی معلوم” کا مفہوم پیدا کر رہا ہے؟ عبارت میں صاف طور پر “کیف کی نفی” کی گئی ہے اور کیف کی نفی کس چیز کو کہتے ہیں یہ ہم واضح کر چکے ہیں۔ ہمارے ان محترم دوستوں کی غلطی یہ ہے کہ یہ "ید بلا کیف" کا مطلب "ید بلا علم کیف" فرض کر لیتے ہیں۔ اسی طرح امام مالک کی بات کا بھی یہی مفہوم ہے: "الاستوی معلوم ای ثابت " (استوی معلوم ہے یعنی کہ یہ ثابت ہے)، کسی چیز کا وجود ثابت ہونا بھی ایک علم ہونا ہے (معلوم ہوا کہ ناقدین کا متکلمین پر یہ اعتراض کرنا کہ ان کے موقف سے صفات کی تجھیل لازم آتی ہے درست نہیں کیونکہ وہ صفات کو ثابت مانتے ہیں)۔ ناقدین متکلمین نے "الاستوی معلوم" کے الفاظ میں معلوم کا مطلب خود سے یہ فرض کر لیا ہے کہ مراد "معنی معلوم" ہے جبکہ امام مالک کے الفاظ میں ایسی کوئی بات موجود نہیں۔ امام صاحب کی بات میں یہ اضافہ ان دوستوں نے اپنے موقف کے تحت خود کیا ہے، گویا ان کے مطابق امام صاحب کی عبارت میں لفظ "علم" محذوف ہے۔ الغرض امام مالک کے قول کو اس خاص مفہوم میں پڑھنے کی ایسی کوئی قطعی دلیل موجود نہیں جس کی بنیاد پر متکلمین کے موقف کو سلف کے خلاف ثابت کر دیا جائے بلکہ یہ قول متکلمین کے موقف کے مطابق پڑھا جانا بھی اتنا ہی ممکن ہے بلکہ زیادہ اولی ہے کہ عبارت میں محذوف لفظ کا اضافہ کرنے والے کو دلیل لانا ہوگی۔ الغرض اس نوع کے جتنے اقوال ہیں وہ "تفویض معنی " پر دلالت کرتے ہیں۔

"معنی معلوم کیفیت مجہول" متضاد و بے معنی جملہ

7۔ اس موقف کے برعکس جب ہمارے دوست کہتے ہیں کہ “ید کے معنی معلوم مگر کیفیت مجہول ہے” تو اس کا اس کے سوا کوئی قابل فہم مطلب نہیں کہ “کیف تو ثابت ہے البتہ ہمیں اس کیف کا علم نہیں”، گویا اللہ کے لئے وہ اعراض تو ثابت ہیں جن سے ہم واقف ہیں بس ہم ان کی کیفیت کو نہیں جانتے۔ یہ بذات خود ایک متضاد بات ہے کیونکہ جب کیف معلوم ہے تو کیف مجہول کیسے ہے؟ یہ دعوی دو میں سے کسی ایک بات سے خالی نہیں: یا یہ تجسیم و تشبیہہ ہے اور یا پھر بے معنی بات یعنی words without meaning ہے۔ اس موقف کے قائلین سے سوال ہے کہ جب آپ کہتے ہیں کہ “ید کا معنی معلوم ہے” تو کیا آپ یہ کہتے ہیں کہ “موڈیلٹی یعنی کیف ثابت ہے”؟ اگر جواب اثبات میں ہے تو یہی تجسیم و تشبیہہ ہے اور اگر آپ کہتے ہیں کہ کیف ثابت نہیں تو پھر وہ معنی معلوم کیا ہیں جس کا دعوی کیا جا رہا ہے؟ اس کے بعد آپ کے اور متکلمین کے موقف میں کیا فرق رہا؟

پس اس فرق کو خوب سمجھ لینا چاہئے کہ امام اشعری کی عبارت میں “ید بلا کیف” کا مطلب “کیف ثابت ہونا نہیں” جیسا کہ ہمارے دوستوں کے موقف کا مفروضہ ہے بلکہ اس کا مطلب "کیف کی نفی" ہے۔

8۔ "معنی معلوم و کیفیت نامعلوم" کے موقف کی غیر ہم آہنگی کو ہم ایک اور طرح سمجھاتے ہیں۔ اس موقف کے حاملین کہتے ہیں کہ "اللہ کا ید ہے مگر ہمارے ید جیسا نہیں، اس کی جہت ہے مگر ہماری جہت جیسی نہیں" وغیرہ۔ اسی قسم کے جملے کرامیہ فرقے والے کہتے تھے کہ "اللہ کا جسم ہے مگر ہمارے جسم جیسا نہیں"۔ یہ جملے یا ایک ہی چیز کی تصدیق و نفی سے عبارت ہیں اور یا تاویل سے۔ "اللہ کا ید ہے مگر ہمارے ید جیسا نہیں" میں ید دو مرتبہ استعمال ہوا ہے۔ یہاں دو امکان ہیں، یا لفظ ید دونوں مرتبہ ایک معنی میں استعمال ہوا ہے اور یا الگ معنی میں۔

مثال سے وضاحت

9۔ چونکہ علم کلام کی بحثیں سمجھنا اکثر لوگوں کے لئے مشکل ہے لہذا آسانی پیدا کرنے کے لئے ایک مثال سے بات سمجھتے ہیں کہ متکلمین “کیف” کسے کہتے ہیں نیز علامہ ابن تیمیہ کا موقف کیوں کر غیر معقول ہے۔

ان مقدمات سے یہ واضح ہے کہ لفظ "ید" کے حقیقی معنی کا اقرار ذات باری پر ناممکن ہے، تاہم وحی کی بنیاد پر اس صفت کا ہم اقرار کریں گے۔ اسے ہی "ید بلا کیف" کہتے ہیں۔ ہمارے دوست علم کلام کی اصطلاحات و ابحاث سے سہو نظر کرتے ہوئے عبارات کو اپنے موقف کے مطابق معنی بھی پہناتے ہیں اور ساتھ یہ بھی نہیں بتاتے کہ آخر یہ "کیف" کسے کہتے ہیں اور اس کی نفی کے بعد "معلوم حقیقی معنی" کیا ہیں۔ جب لفظ سے سمجھ آسکنے والی قابل فہم سب سے اوپری سطح (upper tip) کی نفی کردی تو اس کے بعد لفظ کا حقیقی معنی کہاں سے آگیا کیونکہ آپ تو اس کی سب سے اوپری ترین حقیقت کی نفی کر چکے؟ آخر وہ کونسے اہل زبان ہیں جنہوں نے ان اوپری ترین سطح سے ماورا حقائق کو بیان کرنے کے لئے بھی الفاظ ایجاد کئے تھے؟ پس "ید اللہ" میں لفظ ید کے حقیقی معنی معلوم فرض کرنے کے لئے اس ید کو زمان و مکان اور اس کی کیفیات کے تحت لانا ہوگا جس کا مطلب خدا کو مخلوق کی صفات سے متصف ماننا ہے، ان کیفیات سے ماورا اس لفظ کا کوئی حقیقی مطلب عربی لغت میں منقول نہیں۔ پھر ان کیفیات کے تحت لا چکنے کے بعد "حقیقی معنی معلوم مگر کیفیت مجہول" ایک متضاد جملے کے سوا کچھ نہیں کیونکہ جو کیفیت معلوم ہے بعینہہ وہ نامعلوم کیسے ہے؟ الغرض اس ید کی کیفیت یا معلوم ہے اور یا مجہول ہے، اگر معلوم (یعنی حقیقی معنی معلوم) ہے تو یہی تجسیم ہے اور اگر نا معلوم ہے تو یہی تفویض مطلق ہے۔ یعنی نفس معاملہ یوں ہے:

ان کے درمیان جو یہ "حقیقی معنی معلوم اور کیفیت مجہول" کا موقف بنایا گیا ہے اس کی کوئی علمی بنیاد نہیں، یہ ایک غیر ہم آھنگ و بے معنی جملہ ہے کیونکہ یہ موقف دراصل ایک ہی بات کی نفی و اثبات کا مجموعہ ہے: "حقیقی معنی معلوم ہے اور حقیقی معنی نا معلوم ہے"، "کیفیت معلوم ہے اور کیفیت نامعلوم ہے"۔

خلاصہ بحث

10۔ مذکورہ ائمہ کی عبارات کو اس طرح پڑھنا قطعاً ضروری نہیں جو ہمارے محترم دوستوں نے فرض کیا ہے اور ان عبارات کی بنیاد پر اپنے موقف کو سلف کا واحد موقف باور کرانے کی کوشش کرنا تحکم ہے (ہاں اگر سلف سے کسی کی مراد ان کے موقف سے ہم آہنگ رائے رکھنے والے چند افراد ہیں تو الگ بات ہے)۔ یہ نتیجہ "کیفیت کی نفی" اور "کیفیت کے علم کی نفی" میں خلط مبحث پیدا کر کے کھڑا کیا گیا ہے۔ "ید بلا کیف” کا مطلب ید کے کیف یعنی اس کے حقیقی معنی کے علم کی نفی ہے، نہ کہ کیف ثابت ہونے کا علم ہونے اور حقیقی معنی کا علم نہ ہونے کی۔ امام ابوحنیفہ اور امام اشعری کی عبارات کیفیت کی نفی کر رہی ہیں اور یہی متکلمین کا موقف ہے۔ یہ حضرات "الاستوی معلوم" کی ترکیب میں لفظ معلوم کے ساتھ اپنی جانب سے "حقیقی معنی" (معلوم ) کا سابقہ لگا کر اسے اپنے موقف کی ترجمانی فرض کرتے ہیں جبکہ امام مالک کے قول میں "حقیقی معنی معلوم" کا ذکر نہیں۔ یہ ائمہ ان امور کی اصل نصوص میں مذکور ہونے کی بنیاد پر انہیں بطور صفات الہیہ ثابت مانتے ہیں اور یہی ان کی عبارت میں "معلوم ہونے" کا مطلب ہے۔ ائمہ کے کلام میں اپنی طرف سے الفاظ و معانی داخل کر کے انہیں اپنے موقف کا ہمنوا ثابت کرنے کا جو طریقہ ہمارے دوست اختیار کرتے ہیں وہ درست نہیں۔ جو شخص اللہ کے یدیا نزول کے حقیقی معنی معلوم ہونے کا مدعی ہے، متکلمین کے نکتہ نگاہ سے یا:

چونکہ یہ دوست دوسری بات کے انکار پر مصر ہیں اور پہلی بات بھی کھل کر نہیں کہتے، لہذا تیسری بات راجح ہے۔ تاہم اگر کسی کے نزدیک کیف کا مطلب وہ نہیں جو متکلمین مراد لیتے ہیں تو یہ الگ بحث ہوگی، تاہم جب تک وہ "کیف" کا کوئی متبادل مطلب نہیں بتاتے کوئی بامعنی گفتگو ممکن نہیں۔

نمائندہ اعتراضات

ناقدین متکلمین کے موقف پر پر چند عقلی شبہات وارد کرتے ہیں اور ان کے وارد کردہ یہ شبہات کرامیہ فرقے والے بھی کرتے تھے جو علم کلام کی کتب میں مذکور ہیں۔ لیکن چونکہ یہ دوست اکثر و بیشتر متکلمین کا موقف براہ راست ان کی کتاب سے سمجھنے کے بجائے علامہ ابن تیمیہ یا بعض مزید متاخرین کے بیانات و نقد پر انحصار کرتے ہیں لہذا وہی اعتراضات دہراتے ہیں جن کا جواب تقریباً علم کلام کی ہر دوسری کتاب میں دیا گیا ہے۔ یہاں چند اہم اعتراضات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

1)  صفات خبریہ سے تجسیم لازم آتی ہے تو صفات معنی سے کیوں نہیں؟

ایک مشہور اعتراض یہ ہے کہ اگر لفظ ید کے حقیقی معنی ماننے سے تجسیم لازم آتی ہے تو متکلمین بھی تو اللہ کے لئے بعض صفات معانی کے حقیقی معانی مانتے ہیں، جیسے کہ علم ، قدرت ، ارادہ ، حیات، کلام وغیرہ۔ کیا معاملہ یوں نہیں کہ قدرت و ارادہ جسم ہی کی خصوصیات ہیں؟ کیا جسم کے بغیر کسی حیات کا تصور انسان کے لئے ممکن ہے؟ کیا منہ کے بغیر کلام کے اجرا کا تصور ممکن ہے؟ کیا “موجود” ہونا بھی جسم کی صفت نہیں؟ الغرض اگر بعض صفات کے حقیقی معانی لینا جائز ہے تو بعض دیگر کی نفی کیوں کر؟ یہ ہر دور میں گروہ مجسمہ کا متکلمین پر انتہائی اعتراض رہا ہے اور ان کا گمان ہے کہ متکلمین کے پاس اس کا کوئی ہم آہنگ جواب موجود نہیں جبکہ یہ اعتراض کمزور اور متکلمین کے صفات معنی کے تصور سے عدم واقفیت کی بنا پر ہے۔ آئیے ہم اسے کھولتے ہیں۔

تبصرہ

امام رازی (م 606 ھ) واضح کرتے ہیں کہ کسی شے پر کیا جانے والا استدلال یا علت سے معلول کی جانب ہوتا ہے، یا مساوی سے مساوی پر اور یا معلول سے علت پر ۔ اللہ کی ذات و صفات پر کیا جانے والا ممکنہ استدلال آخری قسم کا ہے، یعنی ہم معلول کے مشاہدے سے علت کے وجود اور اس کی نوعیت (یا صفت) پر استدلال کرتے ہیں۔ اس استدلال سے سامنے آنے والی صفات کو “صفات معنی” کہتے ہیں۔ استدلال کی منطقی ترتیب کی رو سے ان صفات کی ترتیب یوں ہے: ارادہ، علم، قدرت ، حیات، کلام، سمع و بصر۔ انہیں ایک خاص مقصد کے تحت دو گروپوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: (1) ارادہ، علم، قدرت وحیات (2) کلام، سمع و بصر۔ ان سب کے اوپر صفت وجود ہے۔ یہاں پہلے گروپ کو لیجئے۔

زمان و مکان سے متعلق ہمارے مشاہدے میں آنے والی ہر شے تعیینات و تخصیصات کا شکار ہے، یہ تخصیصات لازمی طور پر کسی “ارادے ” کا تقاضا کرتی ہیں ۔ ارادے کا مطلب کیا ہے؟ وہ صفت جو ممکنات پر تخصیصات مرتب کرے یا مساوی امور میں سے کسی ایک جانب کو ترجیح دے، یہ ارادے کا “حقیقی معنی “ہے اور اللہ کی بارگاہ میں ہم یہی مراد لیتے ہیں۔ قدرت کا مطلب وہ صفت ہے جو “عدم سے وجود بخشنے ” سے عبارت ہے، یہ قدرت کا “حقیقی معنی” ہے اور ہم رب تعالی کے لئے اس کا اثبات کرتے ہیں۔ یعنی عالم مشاہدہ میں تعیینات و تخصیصات شدہ موجودات ایسی قدرت و ارادے کا سراغ بتا رہی ہیں جن کا اثر یہ اشیا ہیں۔ اسی طرح صفت “ارادہ” بتا رہی ہے کہ صاحب ارادہ علم سے بھی متصف ہے اس لئے کہ بلا علم ارادے کا کوئی مطلب ہی نہیں۔ حیات کا مطلب وہ صفت ہے جو کسی موجود کے لئے علم و قدرت متحقق کریں، یعنی صفت حیات علم و قدرت کی شرط ہے۔ لہذا ترتیب یوں ہے: ارادے کی شرائط قدرت و علم ہیں اور ان کی شرط حیات ہے۔ یوں ہم معلول یا اثر سے علت یا مؤثر کی ان چار صفات تک پہنچے اور یہ وہ کم سے کم عقلی تصورات ہیں جو عدم سے آنے والی کائنات کی توجیہہ کر سکیں۔ متکلمین کا کہنا ہے کہ کائنات مفعول ہے جو فعل کا تقاضا کرتی ہے اور فعل ان امور (حیات، علم، قدرت و ارادہ) کو فرض کرتا ہے۔ بتائیے ان سب کو ماننے کے لئے جسم کے کس تقاضے کو ماننا لازم ہے؟

یہاں دو باتوں کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے:

جب یہ بات سمجھ آگئی تو اب “موجود ” کو سمجھنا بھی آسان ہوگیا۔ اللہ تعالی کے وجود کی نوعیت و ماہیت یا احساس کیا ہے، یہ ہم نہیں جانتے اور نہ ہی اس کا موجود ہونا ہمارے موجود ہونے جیسا ہے۔ تاہم ہم یہ بات ضرور جانتے ہیں کہ اگر صفت موجود و ثابت ہے تو لازماً کوئی صاحب صفت بھی موجود و ثابت ہے جس سے وہ صفت متعلق ہے۔ پس ارادہ، قدرت، علم و حیات ثابت ہیں تو ان سے متصف ذات بھی ثابت ہے۔ متکلمین اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ موجود ہونے کے لئے جسم ہونا کوئی عقلی شرط نہیں بلکہ وہ موجود کو تین اقسام میں لاتے ہیں:

پس ارادہ قدرت و حیات جیسی “صفات معنی ” کے اقرار سے قطعا جسمیت لازم نہیں آتی، ان صفات نیز کسی کے فاعل ہونے کی بنیاد جسم ہونا نہیں بلکہ موجود ہونا ہے۔ یہاں تفصیل کا موقع نہیں وگرنہ ہم قارئین کو ان امور سے متعلق قدیم متکلمین میں سے قاضی باقلانی (م 403 ھ) کی عبارات کا مطالعہ کرواتے کہ وہ بعینہہ انہی خطوط پر گروہ مجسمہ کے اس اعتراض کا جواب دیتے تھے (ان کے بارے میں بھی یہ غلط فہمی پیدا کی جاتی ہےکہ وہ بھی علامہ ابن تیمیہ کے ہمنوا تھے جبکہ قاضی صاحب کی صریح عبارات اس کے خلاف ہیں)۔

قدرت و ید کے فرق کو ہم ایک آسان طریقے سے بھی سمجھاتے ہیں۔ قدرت کا حقیقی معنی تجریدی اسم (abstract noun ) جبکہ ید کے حقیقی معنی مادی اسم ( concrete noun) سے متعلق ہیں، اسی لئے قدرت صفت معنی کہلاتی ہے ۔ اول الذکر سے تجسیم لازم نہیں آتی جبکہ موخر الذکر سے آتی ہے۔ یہ فرق ان کے لئے جن کے لئے دقیق مباحث سمجھنا مشکل ہے ۔

الغرض صفات معنی کو صفات خبریہ جیسے کہ ید اور وجہ پر قیاس کرنا ناقدین کی دیرینہ غلطی ہے اور غلطی کی بنیادی وجہ متکلمین کی اصطلاحات کا پوری طرح لحاظ نہ رکھنا ہے ۔ صفات معنی کے حقیقی معنی سے تجسیم لازم نہیں آتی جبکہ خبریہ سے آتی ہے اور اسی لئے متکلمین ان میں فرق کرتے ہوئے اول الذکر کے حقیقی معنی کا اقرار اور دوسرے کی تفویض کرتے ہیں۔ صفات معنی معلول یا اثر سے علت یا مؤثر پر استدلال کا نتیجہ ہیں، یعنی ہمارے مشاہدے کے پیش نظر اثر کو سمجھنے کے لئے وہ کونسے کم سے کم تصورات ہیں جو علت میں بایں معنی ہونے لازم ہیں کہ یہ عالم اس علت کا اثر بن کر قابل توجیہہ ٹھہرے۔ رہیں صفات خبریہ تو انہیں اسی لئے خبریہ کہتے ہیں کہ وہ نبی کی خبر پر موقوف ہیں اور عقل سے ان کا ادراک ممکن نہیں۔

2)  سمع و بصر میں کیف کی نفی کے بعد معنی کیسے ثابت ہوئے؟

متکلمین کے مطابق سمع و بصر جیسی صفات کے معنی اللہ کے لئے ثابت ہیں جبکہ سمع و بصر کے معنی بھی ید و نزول کی طرح جسمانی اعضاء کے ساتھ ہی مفہوم ہیں - پس اگر سمع و بصر میں لوازمات جسم (یعنی کیف) کی نفی کے بعد کوئی حقیقی معنی مراد لینا ممکن ہے تو ید اور نزول میں کیوں نہیں؟ اگر شیخ ابن تیمیہ کا موقف ید و نزول میں غیر معقول ہے تو متکلمین کا موقف بھی اسی اصول پر سمع و بصر کے معاملے میں کیوں غیر معقول نہیں؟ اور اگر متکلمین کیف کی نفی کے ساتھ حقیقی معنی کی گنجائش سمع و بصر میں نکالتے ہیں تو ید و نزول میں کیوں نہیں نکالتے؟ الغرض متکلمین کو چاہئے کہ سمع و بصر میں بھی تفویض معنی کریں۔ اس سے گویا ثابت ہوا کہ معنی معلوم و کیفیت نامعلوم کا وہ موقف متکلمین کے منہج پر بھی معقول ہے جو شیخ ابن تیمیہ نے بیان فرمایا۔

تبصرہ

یہ استدلال دراصل متکلمین کے موقف میں غیر ہم آہنگی دکھا کر صفات باری سے متعلق شیخ ابن تیمیہ کا موقف درست ثابت کرنے کی کوشش ہے۔ اصلاً یہ استدلال ایک الزامی استدلال ہے نہ کہ اصولی۔ چنانچہ اگر ایک لمحے کے لئے ہم بر سبیل تنزیل یہ مان لیں کہ آپ کی بات درست ہے کہ سمع و بصر کے معاملے میں متکلمین کے موقف میں غیر ہم آہنگی ہے تو اس سے یہ مقدمہ کیسے ثابت ہوا کہ "حقیقی معنی معلوم و کیف مجہول" ایک معقول مذہب ہے؟ اگر مخالف ایک نامعقول موقف پر کھڑا ہو تو اس سے ناقد کے موقف کی نامعقولیت معقولیت میں کیسے بدل جائے گی، یہ بات سمجھ نہیں آئی۔ اگر اس دلیل کے بعد بالفرض متکلمین یہ کہہ دیں کہ ٹھیک ہے سمع و بصر میں بھی تفویض معنی ہوگی تو آپ کے پاس اپنے مقدمے میں کہنے کے لئے کیا رہا؟ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اپنا مقدمہ ثابت کرنے کے لئے محض دوسرے کی غیر ہم آہنگی کا سہارا لینا کافی نہیں ہوتا بلکہ اپنے مقدمے کی معقولیت دکھانے کے لئے اثباتی دلیل الگ سے دینا ہوتی ہے جو آپ نے اب تک پیش نہیں کی۔

الزامی جواب کے بعد اصولی جواب کی جانب بڑھتے ہیں۔ متکلمین کا اصول یہ ہے کہ آیات ظاہری حقیقی معنی پر محمول ہیں یہاں تک کہ یہ معنی مراد لینا محال ہو جائے۔ وجوب، امکان اور استحالہ احکام عقلیہ ہیں، چنانچہ کیا چیز محال ہے اور کیا نہیں اس کے لئے عقل کی جانب رجوع کرنا ہوگا:

الف)  اگر کسی چیز کا محال ہونا ثابت ہو جائے اور ظاہری معنی اس محال پر دلالت کرتے ہوں (یعنی کیف کی نفی کے بعد قابل فہم حقیقی معنی ختم ہو جائیں) تو ظاہری معنی مراد نہیں ہوں گے بلکہ ان کی تفویض ہوگی۔ ید و نزول میں یہی معاملہ ہے۔

ب)  اگر ظاہری حقیقی معنی مراد لینے کی اصول عقلیہ میں گنجائش ممکن ہو (یعنی عقل اسے ممکن کہے) تو حقیقی معنی مراد لئے جائیں گے۔ یہ سمع و بصر کا معاملہ ہے

متکلمین کی حتی الامکان کوشش ہوتی ہے کہ جسم اور اس کے لوازم (یعنی کیف) کی نفی کے بعد اگر کوئی حقیقی معنی مراد لینا ممکن ہوں تو اسے مراد لیا جائے۔ سمع و بصر پر بات سے قبل ہم یہاں رؤیت باری کی مثال دینا چاہیں گے تاکہ بات واضح ہو سکے۔ معتزلہ کا کہنا تھا کہ رؤیت کے لئے دیکھے جانے والے وجود کا جہت میں ہونا لازم ہے اور چونکہ ذات باری جسم نہیں اس لئے وہ جہت میں نہیں اور نتیجتاً اس کی رؤیت محال ہے۔ اس کے برعکس متکلمین اہل سنت کا کہنا ہے کہ رؤیت باری ممکن ہے۔ کیا یہ کوئی تضاد ہے؟ نہیں، ان کا کہنا ہے کہ کسی شے کی رؤیت کی حقیقت ایک خاص طرح کا ادراک یا علم ہے جبکہ آنکھ کا ڈیلا اور روشنی کا کسی جسم سے ٹکرا کر اس پر منعکس ہونا یہ اس خاص ادراک سے متعلق وہ امور عادیہ ہیں جو اللہ تعالی نے اس دنیا میں جاری فرمائے ہیں۔ تاہم جو رؤیت کی حقیقت ہے وہ ان امور کے سوا بھی ممکن ہے، یعنی ایسا بالکل ممکن ہے کہ اللہ چاہے تو آنکھ کے بغیر بھی انسان میں براہ راست وہ ادراک پیدا کر سکتا ہے جسے رؤیت کہتے ہیں اور چاہے تو کسی واسطے کے بغیر براہ راست آنکھ یا مثلاً ہاتھ میں وہ ادراک پیدا کر دے۔ اس سے معلوم ہوا کہ رؤیت بدون جہت بہرحال ممکن ہے اور جب اس کا امکان ثابت ہوگیا تو نص کو ظاہر ہی پر محمول کیا جائے گا۔

یہی معاملہ سمع و بصر کی صفات کا ہے، ان کی حقیقت بھی موجودات سے متعلق ایک خاص طرح کا علم و ادراک ہے۔ مثال سے یوں سمجھئے کہ ایک شخص نے آپ کو آم کی خبر دی، پھر آپ نے اسے دیکھ لیا، پھر اسے سونگھ لیا، پھر اسے چکھ لیا۔ ان سب سے آم سے متعلق علم کی مختلف سطحات حاصل ہوئیں، انہیں ادراک کہتے ہیں۔ آنکھ اور کان اس عالم میں بصارت و سماعت سے متعلق ادراک کے لئے اللہ کی عادت کے تحت جاری ہونے والے ذرائع یا نشانیاں ہیں، اللہ چاہے تو ان کے بغیر بھی مخلوق میں سماعت و بصارت سے متعلق وہ ادراک پیدا کر سکتا ہے جو عادتاً آنکھ و کان کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔ نہ تو آنکھ میں اور نہ ہی کان میں کوئی ایسی تاثیر و قوت ہے جو سماعت و بصارت کا اثر پیدا کرتے ہوں، اللہ چاہے تو زبان سے سنوائے اور ہاتھ سے بلوائے (یہاں یہ دھیان رہے کہ متکلمین کے نظام فکر میں سماعت و بصارت کوئی قوت نہیں ہے جو ایک کے بجائے دوسرے عضو میں رکھ دی جائے بلکہ ان کے ہاں واحد علت ذات باری کا فعل ہے)۔ پس معلوم ہوا کہ سماعت و بصارت کی حقیقت خاص طرح کا علمی ادراک ہے نہ کہ جسم کا کوئی عضو۔ اس تجزئیے سے ہم سمع و بصر کے ایسے حقیقی معنی لینے کے امکان تک پہنچے جو "اصلاً " جسم سے مبرا ہے، یعنی ان کے حقیقی معنی میں اصلاً جسم ہے ہی نہیں، جیسے کہ قدرت و ارادے کے مفہوم میں نہیں۔ اسی لئے متکلمین اللہ کے لئے ان کے حقیقی معنی کو ثابت مانتے ہیں۔ کیا آپ ید و نزول کے کوئی ایسے حقیقی معنی ثابت کر سکتے ہیں جہاں جسم کے سب لوازمات ختم ہو جانے کے بعد بھی کوئی ایسے حقیقی معنی بچ رہیں جو اسی طرح قابل فہم ہوں جیسے سمع و بصر کا معاملہ ہے؟ اگر کوئی ایسے معنی ہیں تو ہمیں سمجھائیں، ہم آپ کی بات ماننے میں دیر نہیں لگائیں گے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ید و نزول میں کیف (یعنی کسی جسم سے متعلق اعراض) کی نفی کے بعد ایسے کوئی حقیقی معنی بچتے ہی نہیں، ہاں ید کے بارے میں قدرت وغیرہ کا مفہوم ضرور بچ جاتا ہے لیکن وہ حقیقی معنی نہیں مجازی معنی ہیں۔

بات کو آسان کرنے کے لئے کچھ مزید کھول لیتے ہیں، سماعت کی مثال لیجئے۔ اس دنیا میں سماعت کے ساتھ عادتاً یہ تصورات وابستہ ہیں:

(الف) کانوں کی خاص ہئیت اور رنگ،

(ب) جسم کا عضو ہونا،

(ج) کان کی اندرون خاص طرح کی ساخت ہونا،

(د) خاص طرح کے علمی ادراک کا حصول (جو مثلاً بصارت سے مختلف ہے)

یہاں اس پہلو کو پھیلانے کا موقع نہیں، صرف اتنا عرض ہے کہ کسی شے کے حقیقی معنی اس کے بارے میں اس تصور سے متعلق ہوتے ہیں کہ اگر اس کی نفی ہو جائے تو وہ شے ناقابل تصور ہو جائے۔ کیا آپ واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ کان کا پردہ وغیرہ سماعت کی حقیقت ہے؟ کیا کان کے بغیر واقعی سماعت کا تصور محال ہو جاتا ہے؟ ہرگز بھی نہیں۔ پھر اگر یہ سماعت کا جزو لاینفک ہوتا تو یہ بات ناممکن ہوتی کہ کسی کے کان کا پردہ تو موجود ہو مگر وہ بہرہ ہو لیکن ہم اس کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ کان کا پردہ سماعت کی حقیقت میں شامل نہیں۔

کیا آپ ایسا ہی تجزیہ مثلاً نزول کے لئے فراہم کر سکتے ہیں؟ مثلا نزول کی مثال میں اس کے ساتھ جڑی "انتقال مکانی" اور نتیجتاً "مکان" کی سب سے اوپری سطح کی نفی کے بعد کونسے قابل فہم معنی باقی بچے جس کے علم کا دعوی کیا جائے؟

اس کے بعد یہ سمجھنا آسان ہو جاتا ہے کہ متکلمین سمع و بصر کو ان کے متعلقات یا مآل (یعنی ادراک المسوعات و ادراک المبصرات) کے ذریعے کیوں بیان کرتے ہیں۔ اللہ کی سماعت و بصارت کی حقیقت و ماہیت کیا ہے، یہ ہم قطعاً نہیں جانتے جیسے اس کی قدرت کی ماہیت نہیں جانتے۔ ہاں جس طرح یہ ضرور جانتے ہیں کہ وہ ذات لازما اس معنی سے متصف ہے جسے عدم سے وجود میں لانا (یعنی قدرت) کہتے ہیں اسی طرح یہ بھی جانتے ہیں کہ وہ ایسے معنی سے بھی متصف ہے جسے مسموعات و مبصرات کا ادراک کہتے ہیں اس لئے کہ وہ عالم ہے۔ سمع و بصر درحقیقت اللہ کی صفت علم کی جانب راجح ہیں۔ اس پر یہ اعتراض وارد نہیں کیا جاسکتا کہ اس رائے نے سماعت و بصارت کو علم بنا دیا کیونکہ ہر ایک الگ نوعیت کا علم ہے۔ درج بالا اصول (یعنی صفت کو متعلق صفت سے بیان کرنا) دیگر صفات معنی پر بھی لاگو ہوتا ہے جیسے کہ محبت، غضب و رحم وغیرہ۔

3) کیا کلام نفسی گونگا ہونے کے مترادف ہے؟

درج بالا اصولوں کے بعد صفت کلام پر متکلمین کے مذہب پر وارد کئے جانے والے اعتراضات بھی رفع ہو جاتے ہیں اور ہم یہاں بے جا طور پر بات کو پھیلانا نہیں چاہتے اور چند ضمنی قسم کے اعتراضات پر مختصر تبصرہ کافی ہوگا۔ صفت کلام کی بحث میں بھی ناقدین کا اعتراض اسی نوعیت کا ہوتا ہے کہ "کیا منہ کے بغیر بھی کوئی کلام متصور ہوتا ہے؟" ناقدین کہنا یہ چاہتے ہیں کہ یا تو اللہ کے لئے حروف والا کلام مانئے، ورنہ اس کے لئے صرف کلام نفسی ماننے سے کام نہیں چلے گا نیز متکلمین کے موقف کی رو سے گویا خدا کا گونگا ہونا لازم آتا ہے کہ کلام تو حروف و آواز ہی سے ہوتا ہے۔ نجانے ناقدین نے یہ غور کیوں نہ کیا کہ گوگل میپس میں راستہ سمجھانے والی آواز کیا کسی کے "منہ" سے نکلتی ہے؟ آج کے دور میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ پروگرامنگ کے ذریعے آواز پیدا کرنا ممکن ہے اور متکلمین نے اس بات کو بالکل درست طور پر پہچان لیاتھا کہ کلام حادث (آواز و حروف) اور کلام نفسی (معانی) میں فرق ہے، اول الذکر صاحب قدرت کی قدرت کا اثر ہے۔

4)  کیا حرکت نہ کرنے والا خدا بت ہے؟

اسی نوعیت کا ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ جب متکلمین خدا کے لئے حدوث کی نفی کرتے ہیں تو گویا خدا کو ایک بت کی مانند ساکن کہہ رہے ہوتے ہیں جو حرکت ہی نہیں کر سکتا، یعنی اگر اپنی شان کے مطابق نزول کرنے والا خدا حدوث کی زد میں آتا ہے تو کیا بت کی طرح ساکن خدا کو مانا جائے؟ یہ بالکل سطحی اعتراض ہے جس میں ایک نوعی غلطی (کیٹیگری mistake) کی گئی ہے اور وہ یہ کہ سکون کو حرکت کی ضد قرار دے کر پھر حرکت کی نفی کرنے والے کے نزدیک سکون واحد ممکنہ ثابت شدہ موقف فرض کر لینا ہے۔ اس کے برعکس اشاعرہ و ماتریدیہ کا کہنا یہ نہیں ہے کہ خدا اگر حرکت نہیں کرتا تو وہ ساکن ہے بلکہ ان کا کہنا یہ ہے کہ جس طرح حرکت زمان و مکان میں مقید جسم کی صفت ہے اور اس لئے خدا کے لئے نہیں مانی جائے گی، اسی طرح سکون بھی زمان و مکان میں مقید جسم ہی کی صفت ہے۔ جسم، زمان اور مکان کے بغیر "حالت سکون اور حرکت" دونوں کو سمجھنا ناممکن ہے۔ چنانچہ اشاعرہ و ماتریدیہ جس طرح خدا کو حرکت سے پاک مانتے ہیں اسی طرح حالت سکون سے بھی پاک مانتے ہیں اور وہ خدا کے عالم سے اتصال و انفصال دونوں کی نفی کرتے ہیں۔ لہذا حرکت کی نفی سے ان پر یہ اعتراض کرنا کہ ان کے نزدیک گویا خدا ایک ساکن تصور و شے ہے، یہ زمان و مکان اور جسمیت کے انہی تصورات کو ان پر لاگو کر کے اعتراض کرنا ہے جن کی وہ اصولاً نفی کرتے ہیں۔

الغرض متکلمین کے موقف میں ایسا کوئی تضاد موجود نہیں جو ناقدین نے اپنی دانست میں پیش کیا۔ متکلمین پر نقد کرنے سے قبل ان کے اصولوں کا ادراک حاصل کرنا ضروری ہے اور اس کے لئے لازم ہے کہ ناقدین کی کتب پر تکیہ کرنا چھوڑ کر براہ راست ائمہ کلام کی کتب کا مطالعہ کیا جائے۔ ناقدین عام طور پر متکلمین کا مقدمہ کمزور طریقے پر بیان کر کے اس کے خلاف دلائل کا انبار لگا دیتے ہیں لیکن اصل موقف کی جانب رجوع کرنے کے بعد ان کے دلائل کی غلطی واضح ہو جاتی ہے۔

آخری اعتراض

اس تفصیل پر ایک اعتراض یہ وارد کر دیا جاتا ہے کہ آلات سماعت و بصارت کے بغیر حاصل ہونے والے ادراکات ان الفاظ کے حقیقی نہیں بلکہ مجازی معنی ہیں لہذا متکلمین نے یہاں حقیقی معنی مراد نہیں لیا کیونکہ اہل لغت نے جسمانی عوارض والی سماعت و بصارت کو سمع و بصر کے حقیقی معنی کہا ہے، لہذا لغت سے متکلمین کے معنی ثابت کئے جائیں ۔

پہلی بات یہ کہ جسم کے عوارض سے پاک ادراک کو سمع و بصر کے حقیقی معنی کہنے میں کوئی قباحت نہیں ہونی چاہئے۔ اگر یہ عوراض یا اعضاء ان کی حقیقت میں شامل ہوتے تو کان والا بہرہ ناممکن ہوتا اور کان کے بغیر سماعت ناممکن ہوتی۔ دوسری بات یہ کہ اگر بالفرض کسی کا یہی اصرار ہے کہ یہ ان کے حقیقی معنی نہیں بلکہ ایک طرح کے مجازی معنی ہیں تو متکلمین کے موقف کے لئے یہ بات بھی مضر نہیں کیونکہ اصول یہ ہے کہ جب حقیقت کلیتاً متعذر ہو جائے تو کلی تفویض کی جائے گی اور اگر اس کا کوئی جزو مراد لینا ممکن ہو تو اسے مراد لیا جائے گا اور اسے "حقیقت قاصرۃ" اور "حقیقت مقیدۃ" کہتے ہیں۔ چنانچہ اگر یہ مان لیا جائے کہ لغوی طور پر سمع کے حقیقی معنی ادراک بذریعہ اعضاء ہیں تو اعضاء کے بدون ادراک مراد لینا حقیقت قاصرۃ کہلائے گی۔ اور اگر پھر بھی کسی کا اصرار ہو کہ لغوی طور پر یہ مجازی معنی مراد لینا ہے تو یہ بھی متکلمین کے خلاف نہیں کیونکہ کسی قرینے کی بنا پر مجازی معنی لینا حرام نہیں ہے (ایسی تاویل کی مثالیں خود امام احمد بن حنبل و علامہ ابن قتیبہ جیسے محدثین نیز خود شیخ ابن تیمیہ کے ہاں موجود ہیں، وہ اور بات ہے کہ شیخ اپنی لسانی تھیوری کے تحت اسے مجازی کے بجائے حقیقی معنی ہی قرار دیتے ہیں لیکن اس سے نفس مسئلہ پر کوئی فرق نہیں پڑتا جیسا کہ ذیل میں واضح ہوگا)۔ ناقد کا یہ اعتراض نفس مسئلہ کو اصل بحث سے ہٹا کر لغوی بحث میں الجھانے کی کوشش ہے جس سے کچھ حاصل نہیں، اصل چیز احکام و تصور ہے کہ کیا اعراض پر مبنی کیفیات کی نفی کے بعد کوئی ایسے قابل فہم معنی مفہوم ہوتے ہیں جو حدوث سے ماوراء ہوں؟ الغرض اس اعتراض سے بھی ان دوستوں کا مسئلہ حل نہیں ہوتا جو ید اور نزول کے "حقیقی معنی معلوم مگر کیفیت نامعلوم" کا قول اختیار کرتے ہیں۔

یہ اصرار کہ ان الفاظ کے یہ معنی عربی لغات سے دکھائے جائیں ، یہ ایسا ہی اصرار ہے جیسے کوئی یہ تقاضا کرے کہ صلاۃ اور زکوۃ کے شرعی مفاہیم اہل لغت کی کتابوں سے بھی ثابت کرو۔ اگر بالفرض ایسا کوئی حوالہ موجود نہ ہو تب بھی یہ ہمیں مضر نہیں کیونکہ بارگاہ الہی پر گفتگو کرتے ہوئے اہل لغت کی مرتب کردہ ڈکشنریوں میں درج وہ معنی حجت نہیں بن سکتے جو ان الفاظ کے دنیا سے متعلق عام استعمال کے مفاہیم ہیں۔ کیا ناقدین یہ کہنا چاہتے ہیں کہ جب قرآن نازل ہونے سے قبل یا اس کے نزول کے وقت اور بعد اہل عرب جب اللہ کے سمع و بصر و حی وغیرہ کے الفاظ بولتے تھے تو اس سے مراد جسم والا خدا ہوتا ہے؟ حاشا و کلا۔ یہ طریقہ بحث تو خود یہ دوست بھی اختیار نہیں کر سکیں گے کیونکہ اگر لغت میں سمع کا معنی کان سے سننا لکھا ہوا ہے جہاں کان کا مطلب ایک خاص وضع والا جسم کا عضو ہے تو کیا یہ لوگ "حقیقی معنی معلوم" کے تحت اللہ کے لئے ایسے ہی کانوں والی سماعت ثابت کرنے کے قائل ہیں؟ ہرگز نہیں بلکہ لیس کمثلہ شیء کے تحت کان کی نفی کر دیتے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی آپ حقیقی معنی پر مصر رہتے ہیں، یہی متکلمین کرتے ہیں۔ البتہ فرق یہ ہے کہ متکلمین اس کے بعد ایک ایسے "حقیقی معنی" کو مقرر کرتے ہیں جو ان عوارض کی نفی کے بعد سمع و بصر کی حقیقت اور اقابل فہم ہے جبکہ آپ نزول و ید کے معاملے میں ایسا کچھ ثابت نہیں کر پاتے۔ اگر نزول کی حقیقت سے مکان کے تصور کی نفی کے بعد ایسا کوئی قابل فہم معنی ثابت کیا جا سکے تو متکلمین کو اسے ماننے میں کوئی عار نہ ہوگی۔ لیکن ناقدین نے آج تک اس کے جواب میں نزول و ید کے ایسے کوئی معنی نہیں بتائے جو اس بات کی دلیل ہے کہ یا یہ موقف غیر معقول و غیر مفہوم ہے اور یا اندرون خانہ بات وہی ہے جو متکلمین کہتے تھے ۔

کیا شیخ کا پیش کردہ حل لغوی طور پر مختلف ہے؟

درج بالا بحث سے واضح ہوگیا کہ متکلمین کے موقف کے مقابلے میں شیخ ابن تیمیہ جو موقف پیش کرتے ہیں نہ صرف یہ کہ ائمہ سے ثابت نہیں بلکہ غیر معقول ہے و غیر آہنگ ہے۔ اس ضمن میں آخری بات یہ ہے کہ شیخ نے اس مسئلے پر لسانیاتی نکتہ نگاہ سے جو انداز بحث اختیار کیا ہے وہ صرف لفظی نزاع کو جنم دیتا ہے، اگرچہ اس پر کتنی ہی طویل کتاب لکھی گئی ہو۔

اختلاف کی جڑ متکلمین اور شیخ کا نظریہ زبان (لینگویج) ہے۔ متکلمین الفاظ کے معنی کو حقیقت و مجاز کی عمودی تقسیم میں بیان کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک جب تک حقیقی معنی متعذر نہ ہوں یا کوئی قوی قرینہ موجود نہ ہو، الفاظ کے حقیقی معنی ہی مراد لئے جائیں گے، بصورت دیگر مجازی معنی کی طرف جائیں گے۔ اس اعتبار سے متکلمین مثلا لفظ ید کے بارے میں کہتے ہیں کہ اس کا حقیقی معنی “جسم کا جزو” ہونا ہے، یعنی اس کے حقیقی معنی میں جزئیت اور جسمیت کا مفہوم شامل ہے۔ البتہ اس کے سوا بھی اس کے کئی معنی ہیں جیسے قدرت، اختیار، عطا کرنا یا ید سے متعلق دیگر فنکشنز وغیرہ۔ حقیقی معنی کے ساتھ یہ مجازی معنی مل کر لفظ کے معنی و مفہوم کو پھیلا دیتے ہیں۔ متکلمین کہتے ہیں کہ چونکہ اللہ کے لئے جزئیت و جسمیت ماننا جائز نہیں لہذا اس لفظ ید کے حقیقی معنی مراد نہیں لئے جا سکتے۔ اب اس لفظ (یا صفات خبریہ) سے متعلق دو ہی امکان ہیں:

الف)  یا یہ کہا جائے کہ حقیقی معنی کے لحاظ سے “تفویض معنی ” کا رویہ اختیار کر لیا جائے

ب) یا پھر کیفیت کی مجہولیت کے ساتھ مجازی معنی میں سے کوئی معنی مراد سمجھا جائے۔ حقیقی کے بجائے مجازی معنی اختیار کرنے کو وہ تاویل کہتے ہیں۔ متکلمین کے اس انداز بحث کو منسلک شدہ صورت کے دائیں طرف دکھایا گیا ہے جس کی رو سے لفظ ید کے معنی دو الگ خانوں میں منقسم ہیں: حقیقت و مجاز۔

شیخ ابن تیمیہ کا نظریہ زبان مختلف ہے۔ آپ کے نزدیک الفاظ کے سب معنی حقیقی معنی ہیں اور کون سے معنی کب مراد لینا ہیں اس کا تعین کلام کے سیاق و اشارات وغیرہ سے ہوتا ہے۔ اس تقسیم کی رو سے حقیقی و مجازی معنی میں ترجیحی لحاظ سے کوئی فرق نہیں کیونکہ یہاں سب معنی افقی (horizontal) طور پر مساوی درجے پر ہیں اور کسی ایک کے ابتداء مراد لئے جانے کی کوئی ڈیفالٹ ترجیحی بنیاد موجود نہیں جیسا کہ متکلمین الفاظ کے معنی کو حقیقت و مجاز کی عمودی (vertical) ترتیب میں رکھتے ہوئے ایک معنی کو بائے ڈیفالٹ ترجیحی معنی کہتے ہیں اور دیگر کو ان کے بعد لاتے ہیں۔ اب شیخ کا طریقہ بحث یہ ہے کہ وہ لفظ ید (یا نزول و استوی وغیرہ) کے سب معانی کو حقیقی کہتے ہیں اور سیاق و ذات باری کا لحاظ کرتے ہوئے لفظ کے پھیلے ہوئے تمام امکانی معنی میں سے کسی ایک کو اختیار کر لیتے ہیں اور اسے وہ اس لفظ کے حقیقی معنی ہی کہتے ہیں، چاہے وہ معنی جسمیت و جزئیت والے معنی سے الگ ہی ہو۔ گویا متکلمین جس معنی کو مجازی کہتے ہیں، شیخ کے نظریہ زبان میں وہ بھی حقیقی ہوتا ہے اور دراصل شیخ متکلمین کی تقسیم کی رو سے عین مجازی معنی مراد لے کر “حقیقی معنی معلوم اور کیفیت مجہول” کا موقف پیدا کرتے ہیں۔ اس صورت حال کو اس شکل کے بائیں جانب دکھایا گیا ہے۔ شیخ کے حامی علماء ید کے معنی پر بحث کرتے ہوئے یہ مثال دیتے ہیں کہ ید کا مطلب صرف انسانی ہاتھ نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک وسیع تصور ہے جس کی رو سے ہر شے کا ہاتھ اس کی شان کے لائق ہوتا ہے، جیسے دروازے کا ید اس کا ہینڈل ہے۔ پس ید کا معنی ہر وجود کے لئے ثابت ہے، ہاں اللہ کے لئے اس کی شان کے لائق ہے ۔ البتہ اللہ کے لئے اس کے وہ معنی قطعا ًمراد نہیں جس میں جزئیت و جسمیت شامل ہے۔ یوں گویا ان علماء کے نزدیک نہ تجہیل معنوی لازم آئی اور نہ ہی تاویل تاہم یہ صرف غلط فہمی ہے کیونکہ متکلمین اسے ہی مجازی معنی مراد لینا کہتے ہیں۔

چنانچہ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر اس جہت سے بھی شیخ کے پیش کردہ حل میں ایسا کیا ہے جسے حکمی اعتبار سے مختلف بات کہا جائے؟ متکلمین کے لفظ مجازی کو حقیقی کہہ دینے کے سوا اس میں نئی بات کیا ہے؟ چنانچہ یہ کوئی جوہری اختلاف نہیں ہے بلکہ نظریہ زبان میں اختلاف کی بنا پر چیزوں کو تقسیم کرنے کے لئے بنائے گئے ذھنی ڈبوں کا اختلاف ہے۔ شیخ کا پیش کردہ یہ وہ طریقہ بحث ہے جسے ان کے حامیین اپنے موقف پر اٹھنے والے داخلی تضادات کا جواب دینے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً جب ان سے کہا جائے کہ قرآن میں مذکور اللہ کی "معیت" کو آپ علمی معیت کیوں قرار دیتے ہیں کہ یہ بھی مجازی معنی مراد لینا ہے، تو اس کے جواب میں شیخ کے نظرئیے کی رو سے کہہ دیا جاتا ہے کہ اس خاص مقام کے پیرائے میں یہی اس لفظ کے حقیقی معنی ہیں۔ ظاہر ہے یہ صرف لفظی نزاع ہے جس کا نفس مسئلہ یا احکام سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ پھر ایسے ہر کے تاویلی قرار دئیے جانے والے معنی کو اس اصول پر حقیقی معنی قرار دیا جا سکتا ہے۔


جدید ریاست، حاکمیت اعلیٰ (ساورنٹی) اور شریعت

محمد دین جوہر

افکارِ جدیدیت کے تحت نیچر اور انسانی زندگی کے ہر ہر پہلو کو بالکل نئے انداز میں سوچا اور پھر عمل میں لایا گیا ہے، اور اس طرح سامنے آنے والی سوچ اور عمل کا ماقبل جدیدیت کی اوضاعِ فکر اور زندگی سے قریب یا دور کا کوئی تعلق یا نسبت نہیں ہے۔ جدیدیت کے ذیل اور ضمن میں آنے والی تبدیلیوں کا بہت بڑا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ دنیا اب کسی بھی معنی میں بدیہی نہیں رہی۔ دنیا کی تمام نئی تشکیلات جدیدیت کے نظری وسائل سے تخلیق کی گئی ہیں اور ان تک عقلی رسائی کے بغیر قابلِ فہم نہیں ہیں۔ عین یہی امر مسلم شعور کے لیے حیرت انگیز اور ناقابل فہم ہے، اور ماقبل جدیدیت دنیا کی طرح مسلم شعور جدیدیت کے پیدا کردہ ”مظاہر“ کو بدیہی سمجھ کر ہر طرح کی ججمنٹ دیتا چلا آیا ہے۔ فطرت اور دنیا میں جدیدیت کے پیدا کردہ مظاہر نظری وسائل کے بغیر قطعی ناقابل رسائی اور ناقابل فہم ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جدیدیت کے پیدا کردہ سسٹم کی گرفت سے آزاد نیچر اور دنیا کے مظاہر اب بھی بدیہی ہیں، یعنی بدیہی نیچر اور دنیا اب مکمل طور پر marginalize ہو چکی ہے اور غیر اہم ہے۔ مسلم نظری شعور کی موت جدیدیت کی پیدا کردہ دنیا کے بدیہی ہونے پر اصرار سے واقع ہوئی ہے اور مسلم شعور جدید دنیا تک کوئی علمی رسائی نہیں رکھتا۔

انسان کو مکمل طور پر redefine کرنے کے لیے جدیدیت کے افکار کا ایک بڑا حصہ وجودی افکار کے زیر عنوان ترتیب پایا ہے، اور دنیا کو بدلنے کے لیے جدیدیت نے تہذیبی افکار کے زیر عنوان نئی تشکیلات مکمل کی ہیں، جبکہ مادی فطرت پر کنٹرول کے لیے سائنسی علم کی تشکیل کی گئی ہے۔ فکر کے یہ تینوں دھارے باہم پیوست ہیں لیکن جانکاری اور تفہیم کی خاطر ان کو الگ الگ زیربحث لانے کی ضرورت ہے۔ جدیدیت کے وجودی افکار سے پیدا ہونے والے سوالات اور مسائل سے مسلم ذہن کسی حد تک شناسائی پیدا کر لیتا ہے اور الوہی ہدایت کی براہ راست رہنمائی میں ان سے بہت حد تک نبردآزما ہونے میں کامیاب بھی ہو جاتا ہے، مثلاً انسان کیا ہے؟ وہ کہاں سے آیا ہے اور کہاں جائے گا؟ انسانی زندگی کی معنویت کیا ہے اور کیا وہ موت سے مر جائے گا یا زندگی کسی اور سطحِ وجود پر جاری رہے گی؟ اخلاقیات اور عقیدے کے بارے میں جدید سوالات کا تعلق بھی اسی زمرے سے ہے۔ ہم عصر مسلم شعور جدید معرضِ علمی میں ان سوالات کا سامنا کرنے کے وسائل پیدا نہیں کر سکا، لیکن دینی ہدایت سے جڑا رہنے کی وجہ سے وہ جدیدیت کے پیدا کردہ ان سوالات کو کند کرنے اور اپنے ایمان کو بچانے میں بہت حد تک کامیاب ہو جاتا ہے۔

جدیدیت کے پیدا کردہ سائنسی اور تہذیبی افکار نے نیچر اور دنیا کو مکمل بدل دیا ہے، اور ان سے پیدا ہونے والے عمل نے مسلم شعور اور عمل کو روند ڈالا ہے۔ ان سائنسی اور تہذیبی افکار کا دائرہ نیچر، معیشت، سیاست، کلچر اور تعلیم و علم کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ جدید معیشت سائنسی علم اور ٹکنالوجی کے بغیر ناقابل تصور ہے، اور جدید ریاست، طاقت کی ایک ایسی نئی تشکیل ہے جس کو سمجھنے میں مسلم شعور ابھی تک مکمل ناکامی سے دوچار ہے۔ تہذیبِ مغرب اپنے تمام تر پہلوؤں میں اور اپنے ہر انسانی اور تہذیبی مظہر میں دنیا ہی کی ایک نئی تشکیل ہے، جو positive ہے، مادی ہے اور کنکریٹ اور مجرد دونوں جہتوں کو محیط ہے۔ سائنسی علم اور ٹکنالوجی سے پیدا ہونے والا معاشی عمل تہذیب مغرب کی مادی اساس اور اس کی طاقت اور خوشحالی کا سرچشمہ ہے۔ جدید ریاست اس معاشی عمل کے ہم قدم رہتے ہوئے سائنسی علم اور ٹکنالوجی میں پیشرفت کو کنٹرول کرتی ہے۔ آزادی اور حریت کا سیاسی تصور ساورنٹی کے سیاسی تصور میں ڈھل کر جدید ریاست کا قوام وجود بن جاتا ہے۔

یہ سوال بیک آن ہے کہ ایمانیات میں جڑیں رکھنے والا علم کیا اور کیسا ہو گا اور جدیدیت کی پیدا کردہ دنیا کے بارے میں اس کا موقف کیا ہو گا؟ لیکن کوئی بھی تہذیب جو علم اور عمل سامنے لاتی ہے تاریخ اسے محفوظ رکھتی ہے۔ اس تناظر میں اگر دیکھا جائے تو مسلم ذہن گزشتہ دو سو برس میں جدیدیت اور مغرب کے سامنے علم اور عمل میں کوئی بھی تہذیبی وسائل سامنے نہیں لا سکا۔ اس کی بڑی وجہ یہ رہی ہے کہ تاریخی مؤثرات کے زیرِ اثر فکر اور عمل کی جہت سے جدیدیت مسلم شعور میں اپنی تنصیب مکمل کر چکی ہے اور وہ خودآگاہ جہات سے محروم ہو کر جدیدیت کا آلۂ کار بن چکا ہے۔ اسی باعث مسلم شعور شریعت کو بھی سیکولر قانون پر محمول کرتا ہے اور انہیں وجودی طور پر ایک ہی سمجھتا ہے، اور ترکِ شریعت کی تزویرات میں جان کی بازی لگائے ہوئے ہے۔ گزشتہ دو سو سال میں سب سے بڑا تشبیہی تحول عقیدے اور شریعت کے بارے میں تصورات میں واقع ہوا ہے، اور ایسے علمی مباحث اب عام ہیں جو عقیدے اور شریعت کو جدید مادی علوم کی سطح پر لے آئے ہیں۔ اس عرصے میں پیدا ہونے والی ”فکر اسلامی“ ایک طرف عقیدے اور جدید علم میں ضروری امتیازات کو باقی نہیں رکھ سکی، تو دوسری طرف شریعت اور سیکولر قانون کو ایک ہی سطح وجود پر دیکھتی آئی ہے۔ جدید ”فکر اسلامی“ عقیدے کو جدید علم اور شریعت کو جدید ریاست کی تحویل میں دینے کا منصوبہ رکھتی ہے، اور بہت حد تک اس میں کامیاب ہو چکی ہے۔ مسلم شعور بھیڑیے کو میمنا سمجھ کر طاقت کے جدید معاشی اور سیاسی اوضاع سے تعاملات کا عادی ہو چکا ہے۔

سیکولر قانون اور شریعت

افکارِ جدیدیت نے اس امر کو فکر میں ممکن اور عمل میں واقعہ بنا دیا ہے کہ نیچر اور دنیا کی طرف کوئی روحانی، مابعدالطبیعیاتی، وہمی، اسطوری اور تقدیسی چیز منسوب نہ کی جا سکے، اور نیچر اور دنیا کی  disenchantment مکمل ہو جائے۔ اس میں یہ شامل ہے کہ انسانی شعور اور عمل کی ہر اس اساس کو بھی کھرچ دیا جائے جو ایسی کسی حقیقت کی یاد دلا سکے جس کا تعلق غیب سے ہو۔ اس طرح جدیدیت، نیچر اور دنیا کو مطلق تشبیہ اور مادی وجود کا شبستان بنانے میں کامیابی حاصل کر چکی ہے۔

جدیدیت کی پیدا کردہ دنیا میں یہ کوئی خبر نہیں ہے کہ جدید قانون مکمل طور پر positive ہے اور مادی ہے، اور بنیاد اور غایت کی جہت سے اس کا کوئی تعلق کسی بھی قسم کی اخلاقیات یا روحانیات یا کسی قدر سے قابلِ تصور بھی نہیں ہے۔ یہ نری طاقت کی مادی تشکیل پر اگنے والے خار کی طرح ہے۔ جدید قانون کا عدل اور حق سے بھی دور کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ دوم، یہ کہ جدید قانون آلاتی ہے، اور مکمل مادی وجودیات کی حامل جدید ریاست کے تابع ہے کیونکہ یہ عین اسی جدید ریاست کی سیاسی طاقت اور ساورنٹی کا عملی مظہر ہے، یعنی جدید قانون will of the political/politically sovereign ہے۔ اور یہاں سیاسی طور پر ساورن ہونے سے جدید ریاست مراد ہے جس کے ذریعے سے ”قوم“ کی ساورنٹی کا تحقق ہوتا ہے۔ سیکولر قانون اپنی وجودیات اور حرکیات میں طاقت کی ایسی جدید تشکیلات کے بغیر قابل تصور نہیں ہے جو مکمل طور پر مادی اور تشبیہی ہوں۔ شریعت کے برعکس، سیکولر قانون کوئی autonomy اور تکثیریت نہیں رکھتا۔ سیکولر قانون اپنے ہونے اور کرنے میں جدید ریاست پر منحصر ہے، یعنی سیکولر قانون اپنا وجود اور حرکت دونوں جدید ریاست سے اخذ کرتا ہے، اور جدید ریاست سے باہر، الگ اور ماورا کسی معنویت کا حامل نہیں ہے۔ دوسرے لفظوں میں سیکولر قانون اپنی علمیات (epistemology) اور وجودیات (ontology) میں جدید ریاست سے باہر کوئی آثار رکھتا ہے اور نہ پیدا کر سکتا ہے۔ اور جدید ریاست the political کی تشکیل ہے، اور خود جدید ریاست کی معنویت the political کی معنویت میں حصر رکھتی ہے جیسا کہ کارل شمٹ کا موقف ہے۔ اور the political کا ہر ہر تصور مکمل تشبیہی، مادی اور ثنوی ہے۔ یہاں اس امر کی یاد دہانی کرانا ضروری ہے کہ جدیدیت کا ظاہر کردہ فرد کی autonomy یا خود مختاری کا تصور اجتماع یا سیاست کے حوالے سے ساورنٹی بن جاتا ہے۔ یعنی فرد کی اخلاقی آٹونومی کا تصور ترفع پا کر ساورنٹی کے سیاسی تصور میں ظاہر ہوتا ہے۔ جدید انسان اپنی آٹونومی کو جدید ریاست کی ساورنٹی پر قربان کر کے اپنے شہری ہونے کا تحقق کرتا ہے۔ یعنی فرد کی آزادی کا تصور ”فنا فی الریاست“ میں اپنا منتہائی تحقق حاصل کرتا ہے کیونکہ جدید ’شہری‘ کا خدا یہی جدید ریاست ہے۔

ہمارے ہاں جدید ریاست کے سیاسی طور پر ساورن ہونے کا de jure تو انکار کیا گیا لیکن de facto اس کے ساورن ہونے سے مکمل طور پر آنکھیں موند لی گئیں۔ جدید ریاست کے de jure ساورن ہونے سے انکار کے باوجود یہ عملاً اور فعلاً یعنی de facto ساورن ہی رہتی ہے کیونکہ ساورنٹی جدید ریاست کی وجودیات میں داخل ہے اور یہاں de jure اور de facto کی تشقیق ممکن نہیں۔ ایسے علمی چٹکلے صرف اسی صورت ممکن ہیں جب جدید ریاست علماً اور وجوداً نامعلوم ہو۔   ہمارے ہاں ساورنٹی کے جدید سیاسی تصور کو درست علمی بنیادوں پر زیربحث ہی نہیں لایا جا سکا۔ ہمارے سیاسی علما کا خیال تھا کہ ساورنٹی ٹوپی کی طرح کی کوئی چیز ہے جو جدید ریاست نے پہنی ہوئی ہے اور اسے اتار کر جدید ریاست کو اپنے پسندیدہ رنگ کی کوئی دوسری ٹوپی پہنائی جا سکتی ہے۔ علم اور وجود سے مکمل بےخبری ہو تو ایسی خوش فہمیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ جدید ریاست ایک وجودی مظہر ہے اور ساورنٹی اس کے وجود میں لوہے میں صلابت کی طرح داخل ہے یعنی ساورنٹی جدید ریاست میں اس طرح شامل ہے جس پانی میں تری۔ جیسے کہ میں عرض کرتا چلا آیا ہوں کہ نام نہاد فکر اسلامی ترک شریعت کی تزویرات ہیں اور ہماری سیاسی فکر پورے دین کو جدید ریاست کی تحویل میں دے کر اسے مکمل طور پر سیکولر بنانے کا داعیہ رکھتی ہے۔ فکر اسلامی اصلاً جدیدیت ہی کا مظہر ہے اور اس کا دینی عقیدے اور شریعت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

جدید قانون کے مکمل طور پر positive ہونے کی وجہ سے اس قانون کا کسی بھی انسانی یا مذہبی قدر سے کوئی تعلق بنیاد ہی سے نہیں ہوتا، اور نہ ارادتاً قائم ہی کیا جا سکتا ہے۔ اس میں اہم تر بات یہ ہے کہ سیکولر قانون قدر ہے اور نہ ہو سکتا ہے اور نہ کسی قدر کے حصول کا ذریعہ ہے۔ شریعت اقدارِ حق کا مجموعہ ہے اور انسان سے امتثال امر کے علاوہ اس کا کوئی دوسرا مطالبہ نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ سیکولر قانون یا وہ شریعت جو جدید ریاست میں قانونی جبڑوں کے طور پر نصب کی گئی ہو، عدل اجتماعی کی شرعی قدر کے حصول کا ذریعہ کیونکر بن سکتی ہے؟ اور جدید ریاست اور سیکولر قانون کی عملداری میں مکارم الاخلاق پر مبنی معاشرت کیونکر قائم ہو سکتی ہے کیونکہ یہ کسی بھی قدر کے وجود ہی کو قبول نہیں کرتے؟

قانون یا جدید قانون یا ریاستی قانون یا سیکولر قانون اور شریعت کی وجودیات نہ صرف مختلف ہے بلکہ متضاد ہے۔ متداول فکر اسلامی میں ان دونوں کی وجودیات ایک ہے۔ اس کا بنیادی سبب جدیدیت اور اس کی پیدا کردہ فکر و عمل کا تقریباً مکمل فقدان فہم ہے۔ شریعت کسی بھی صورت میں will of the political / politically sovereign نہیں ہے، کیونکہ اپنے ارضی ظہور میں یہ will of God ہے، یعنی امر الہی ہے، ساورن ہے اور خودمختار ہے۔ اگر شریعت ساورن نہیں ہے تو انسان سے اطاعت اور امتثال امر کا مطالبہ ہی بے معنی ہے۔ اگر خدا قادر مطلق ہے جو ہمارے اعتقاد میں یقیناً ہے تو صرف اسی کا امر اور فعل ہی ساورن ہو سکتا ہے۔ کوئی وجودِ شہودی یا مخلوقی یا ابداعی ساورنٹی سے متصف نہیں ہو سکتا۔ جدید ریاست کی ساورنٹی کا تصور سیاسی ہے، اعتقادی نہیں ہے، اور کسی سیاسی تصور کو خدا کی طرف منسوب نہیں کیا جا سکتا ورنہ تشبیہ وارد ہو گی اور یہ شرکیہ تصور عقیدے کی جڑ کاٹ دے گا۔

شریعت کے حوالے سے دو اہم ترین پہلوؤں کو ہم نے ہمیشہ نظرانداز کیے رکھا ہے۔ یہ امر ہمارے ایمان کا جزو ہے کہ حضور علیہ الصلٰوۃ و السلام خاتم النبییین ہیں، اور رحمت للعالمین ہیں۔ شریعت کی ساورن نگہداری میں عقیدۂ ختم نبوت پر نقب نہیں لگائی جا سکتی، اور یہ نقب اس وقت لگی جب فقہاء پر مشتمل قضا کا محکمہ ختم ہو گیا تھا اور علما کو فکر اسلامی کا ہوکا لگ گیا تھا جو دراصل ترکِ شریعت کی تزویرات ہیں۔ فکر اسلامی کی فضا میں ختم نبوت کی حفاظت ممکن ہی نہیں ہو سکتی۔ اور وہ کذاب ”مفکرین اسلام“ ہی میں سے تھا جس نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ حضور علیہ الصلٰوۃ  و السلام کی رحمۃٌ للعالمینی انسانی تجربے کا عملاً اس وقت حصہ بن سکتی ہے جب شریعت ایک ساورن کے طور پر قائم ہو، اور معاشرے کے اجتماعی عمل کا سرچشمہ بھی ہو اور قیام عدل کی اساس ہو۔

جدید ریاست اور ساورنٹی

ساورنٹی نیشنلزم یا قومیت پرستی سے پیدا ہونے والا ایک سیاسی تصور ہے، مکمل طور پر تشبیہی ہے، اور اپنی تجسیم و تشکیل جدید ریاست کی صورت میں کرتا ہے۔  یہ تصور جدید ریاست کا قوامِ وجود ہے، یعنی ساورنٹی کے بغیر جدید ریاست کا وجود ہی قائم نہیں ہو سکتا۔ جدید ریاست کی ساورنٹی کوئی صوابدیدی چیز نہیں ہے کہ اس سے ہٹائی جا سکے یا داخل کی جا سکے۔ حاکمیت اعلیٰ کے طور پر ساورنٹی کوئی روحانی تصور نہیں ہے، قطعی سیاسی تصور ہے۔ حاکمیت اعلیٰ کے سیاسی تصور کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب نہیں کیا جا سکتا ورنہ تشبیہ لازم آئے گی اور ارتکاب شرک وارد ہو گا۔ وہ تصورات جو موجودات، مخلوقات یا ابداعی موجودات مثلاً مشین، سسٹم وغیرہ میں وجوداً شامل ہیں وہ ہرگز اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب نہیں کیے جا سکتے کیونکہ شرک اور ارتکاب شرک کے یہی معنی ہیں۔ جدید ریاست ایک وجود ہے اور ایک نہایت طاقتور مؤثر کے طور پر نہ صرف تاریخ میں شامل ہے بلکہ ہم عصر تاریخ اور معاشرے کو تہہ و بالا کرنے میں بنیادی کردار جدید ریاست ہی کا رہا ہے۔ اس کی واقعیتِ وجود کا عدمِ قبول حالت انکار کو جنم دیتا ہے۔ یعنی جدید ریاست ایک ساورن وجود کے طور پر طاقتور تاریخی مؤثرات کا سرچشمہ ہے، اور سیکولر معاشروں کے اجتماعی ارادے کی سب سے بڑی ایجنسی ہے۔ جیسے دریا پانی کے بغیر نہیں ہوتا، اسی طرح جدید ریاست ساورنٹی کے بغیر تصوراً یا واقعتاً موجود نہیں ہو سکتی ہے، اور جب موجود ہو گی ساورن ہو گی۔ جس طرح کوے کا کالا ہونا علمی صوابدید پر منحصر نہیں ہوتا اسی طرح ریاست کا سیاسی طور پر ساورن ہونا علم میں صوابدیدی نہیں ہے۔ ہمارے سیاسی علما نے جدید ریاست کے ساورن ہونے کو رد کر دیا، اور ساورنٹی کے مکمل مادی اور سیاسی تصور کو  اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر دیا، اور اپنے زعم میں مسئلے کا حل نکال لیا۔ لیکن اس سے پانچ مسئلے پیدا ہوئے۔ ایک یہ کہ ساورنٹی کے سیاسی تصور کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنے سے مسلم عقیدے کی جڑ کٹ گئی اور ارتکابِ شرک لازم آیا۔ سیاسی تصورات اور انتظامی اختیارات کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنا شرک ہے کیونکہ وہ تشبیہی ہیں۔ دوسرے یہ کہ ایمان اور عمل کے بنیادی امتیازات منہدم ہو گئے۔ تیسرے یہ کہ علم اور وجود کی باہمی نسبتوں کو جائز اور ثقہ بنیادوں پر قائم کرنا ممکن نہ رہا۔ اگر ہم علم کا آغاز ہی اس بات سے کریں کہ جدید ریاست ساورن نہیں ہوتی یعنی کوا کالا نہیں ہوتا تو امکان علم ہی کا خاتمہ ہو جاتا ہے، اور انسانی ذہن حالت انکار میں چلا جاتا ہے اور خارج از ذہن وجود سے علمی تعرض ممکن نہیں رہتا۔ چوتھے یہ کہ تاریخ اور اس کے طاقتور مؤثرات کی درست علمی تفہیم اور بذریعہ شریعت ان کے تدارک کے امکان کا خاتمہ ہو گیا۔ پانچویں یہ کہ شریعت کو مکمل طور پر جدید ریاست کی تحویل میں دینے اور پورے دین کو سیکولر بنا کر اس کے خاتمے کا راستہ ہموار ہو گیا۔

شریعت اور ساورنٹی

جدید سیاسی افکار میں یہ امر ایک مسلمے کے طور پر داخل ہے کہ جدید ریاست ساورنٹی کی حامل ہے، یعنی جدید ریاست ماورائے انسان ایک وجود ہے اور ساورن ہے۔ جدیدیت کے افکار میں عقلِ انسانی خودمختار و خود مکتفی ہے، اور عقل میں یہ صفت اس کے حامل وجود یعنی جدید انسان سے داخل ہوئی ہے۔ آزادی اور حریت کا تنویری تصور ایجنسی کے طور فرد کی آٹونومی میں ظاہر ہوا ہے اور بنیادی طور پر اخلاقی ہے۔ اجتماعی سطح پر انسانی آزادی کا تصور ایجنسی کے طور پر جدید ریاست کی ساورنٹی میں ظاہر ہوا ہے اور جو بنیادی طور پر سیاسی ہے۔ جدیدیت کی پیدا کردہ مطلق تشبیہ اور شبستان تاریخ میں اس نے ایک وجود کو ساورنٹی سے متصف قرار دیا ہے۔ مطلق تشبیہ میں ساورنٹی کا حامل وجود خدا ہی کا ایک تصور ہے اور عین یہی وہ نکتہ ہے جس کی وجہ سے ہیگل نے جدید ریاست کو زمین پر خدا کی خوش خرامی قرار دیا ہے۔ جدید ریاست خدا کی replacement صرف اسی وقت ہو سکتی ہے جب یہ ساورن بھی ہو، اور اس کی یہ صفت اس کے وجود سے منفک نہ ہو سکتی ہو۔

سوال یہ ہے کہ کیا ”دنیا“ میں کوئی ”چیز“ ساورن ہو سکتی ہے؟ دنیا اور اس میں ہر چیز مخلوق ہے اس لیے اعتقاداً اور عملاً (یعنی سیاسی طور پر) مخلوقات کے ساورن ہونے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ غیب سے انقطاعِ مطلق اور مطلق تشبیہ کے حالات میں ہی جدید ریاست کو ساورن قرار دیا گیا ہے۔ ساورن وجود ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہ self-referential ہو، اسے کسی منطق یا علم سے جواز کی حاجت نہ ہو، وہ کسی پر منحصر نہ ہو اور دوسرا ہر وجود اس پر منحصر ہو۔ جدید ریاست کے ساورن ہونے میں یہ سارے معنی داخل ہیں۔ یہاں اس امر پر توجہ مرکوز کرنا ضروری ہے کہ جدید ریاست بطور وجود واقعتاً اور عملاً ساورن ہے، یعنی ساورنٹی اب کوئی فکر نہیں رہی بلکہ اجتماعی عمل کی ایک خاص تشکیل میں فعال تاریخی واقعہ بن چکی ہے، اور فرد معاشرے اور تاریخ کے بہاؤ میں ایک طاقتور اور فیصلہ کن عامل کے طور پر شامل ہے۔ ساورنٹی کی حامل جدید ریاست اب ایک طاقتور ترین مؤثر کے طور پر روزمرہ کا واقعہ اور تجربہ ہے۔

اس صورت حال میں ساورنٹی کے بارے میں اپنے عقیدے کے بیان یا اس کے فکری رد سے نہ صرف یہ کہ کچھ حاصل نہیں ہو گا بلکہ عقیدے اور فکر کے باقی رہنے کا امکان بھی ختم ہو جاتا ہے۔ ہمیں اس کے بالمقابل ساورنٹی کا دینی اور قابل عمل حل دینا ہوتا ہے۔ اس کا واحد حل یہ ہے کہ معجزہ اور شریعت دونوں ساورن ہیں، اور بالترتیب نیچر اور دنیا میں امر الہی کا ظہور ہیں۔ لہٰذا امر الہی کی حیثیت سے شریعت تاریخ اور معاشرے میں سیاسی طور پر ساورن ہے، اور صرف وہی ساورن ہو سکتی ہے کیونکہ صرف قادر مطلق کا فعل اور امر ہی ساورن ہو سکتا ہے اور کوئی مخلوق اپنے وجود اور عمل میں ساورن نہیں ہو سکتی۔ قابل غور بات یہ ہے کہ ہم عصر سیاسی افکار میں جدید ریاست ایک وجود کے طور پر ساورن ہے اور ہمارا ماننا ہے کہ اقدارِ حق ساورن ہیں کیونکہ ہر الوہی قدر autonomous اور ساورن ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ساورن ہونا یہاں ہرگز زیربحث نہیں ہے کیونکہ وہ اعتقادی ہے، سیاسی نہیں ہے۔ یہاں ساورنٹی بطور سیاسی تصور زیربحث ہے۔ قدر کا ساورن ہونا، اور وجود کا ساورن ہونا دو قطعی متضاد اور مختلف باتیں ہیں۔ اگر قدر ساورن ہے تو اس کا مطالبہ ہر وجود کو اپنے تابع لانا ہے، اور  وجود کے ساورن ہونے کا معنی یہ ہے کہ وہ اقدار کا خالق ہے اور کسی ایسی قدر ہی کو قبول نہیں کر سکتا جو اس پر وارد ہوتی ہو ورنہ اس کا ساورن ہونا بےمعنی ہو گا۔ جدید ریاست ایک ساورن وجود  ہونے کی حیثیت ہی سے انسانوں سے کافۃً کا تقاضا کرتی ہے، جبکہ شریعت بطور اقدار حق کافۃً کا مطالبہ رکھتی ہے۔ شریعت اور جدید ریاست کا باہمی تعلق صرف اسی تناظر میں بامعنی طور پر زیر بحث لایا جا سکتا ہے۔

جدید سیاسی مباحث میں ساورنٹی کے تصور کو مرکزیت حاصل ہے، اس لیے اس پر دوٹوک بات کرنا ضروری ہے۔ ساورنٹی کا اسلامی تصور شرعی اور فقہی (juridical) ہے جبکہ افکارِ جدیدیت میں یہ مکمل طور سیاسی (polititcal) ہے۔ ساورنٹی کے اسلامی تصور کا تحقق بھی فقہی (juridical) ہے سیاسی نہیں ہے، اور یہ تحقق صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب فقہا پر مشتمل محکمۂ قضا قائم ہو اور جو جدید ریاست اور سرمائے کی قائم کردہ حرکیات سے مکمل طور پر آزاد ہو اور ان پر حکم ہو۔ ہمارے سیاسی ملاؤں کا یہ موقف چلا آتا ہے کہ شریعت اور پورے دین کو جدید ریاست کی تحویل میں دے دیا جائے اور جدید ریاست کے پیدا کردہ سیاسی جبر اور سرمایہ داری نظام کے معاشی تاراج کو شرعی جواز بھی فراہم کر دیا جائے۔

شریعت کا بنیادی ترین مطالبہ یہ ہے کہ فرد، معاشرہ اور اجتماع اس کی عملداری میں آ جائیں، اور یہ مطالبہ صرف اسی صورت میں کیا جا سکتا ہے جبکہ شریعت ساورن ہو، جو کہ یہ ہے۔ شریعت ریاست اور سرمائے کے نظام کو بھی اپنی تحویل میں لانے کا مطالبہ رکھتی ہے جبکہ ہماری مذہبی جماعتیں شریعت کو جدید ریاست کی تحویل میں دینے کی جدوجہد میں مصروف رہی ہیں اور اس طرح شریعت کی ساورن اور خودمختار حیثیت کو ختم کر کے اسے ریاست کا آلہ کار بنانے کا داعیہ اور مطالبہ رکھتی ہیں جو سراسر شریعت کے منافی ہے۔ گزشتہ دو سو سالہ نام نہاد فکرِ اسلامی کا یہ بنیادی موقف ہے۔ یعنی بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا شریعت جدید ریاست کی تحویل میں ہو گی یا جدید ریاست شریعت کی تحویل میں لائی جائے گی؟ جو لوگ شریعت کو سیکولر قانون کی طرح کی کوئی چیز سمجھتے ہیں وہ شریعت کو بھی ریاست کی تحویل میں دینے کی جدوجہد کرتے آئے ہیں۔ شریعت اس دنیا میں امر الہی کے طور پر ساورن ہے۔ موجودہ مشکل کا واحد حل یہ ہے شریعت کو جدید ریاست کی تحویل سے آزاد کر کے علی منہاج خلافت محکمہ قضا کا قیام عمل میں لایا جائے کیونکہ شریعت قانون کی طرح نافذ نہیں ہوتی، بلکہ شریعت ایسے قیام کو مستلزم ہے کہ فرد، معاشرہ اور سرمائے اور طاقت کا سسٹم اس کی عملداری میں آ جائے۔

خلافت، خلیفہ اور ساورنٹی

ملت اسلامیہ کا سب سے بڑا سیاسی تصور اور سیاسی ادارہ خلافت ہے اور اسے پوری مسلم تاریخ میں شرعی تائید حاصل رہی ہے۔ اس لیے یہ کہنا بیجا نہ ہو گا کہ خلافت (اور امارت) کوئی سیاسی تصور نہیں ہے بلکہ عین شرعی تصور ہے۔ خلافت اور خلیفہ کی اصطلاحات سے ساورنٹی کا تصور نہ صرف خارج ہے بلکہ خلافت اور ساورنٹی باہم متضاد ہیں۔ نیابت ساورنٹی کی ضد ہے۔ نیابت عبدیت ہی کی ایک جہت ہے جبکہ جدید ریاست اپنے میکانکی وجود کو ساورنٹی سے متصف کر کے خدا کی replacement بن جاتی ہے جیسا کہ اوپر گزر چکا۔ جدیدیت ماورائے انسان ایک وجود کو قائم کر کے اس کو ساورنٹی سے متصف قرار دیتی ہے، اور یہ وجود حسی اور بدیہی طور پر قابل فہم اور قابل رسائی نہیں ہے۔ اس وجود کی غیرجسمی تشکیلات صرف اور صرف نظری طور پر قابل رسائی اور قابل فہم ہیں جبکہ اس کے جسمی اور مادی مظاہر روزمرہ کا انسانی تجربہ ہیں۔ ہماری دینی روایت میں خلیفہ ساورن نہیں ہے، اور نہ خلافت ساورن ہے بلکہ امر الہی کے طور پر شریعت ساورن ہے۔

جدید پیداواری عمل اور جدید ریاست

جدیدیت کے دو بنیادی تہذیبی تصورات ہیں: آزادی اور ترقی۔ اور ترقی کی تہذیبی تشکیل میں پیداواری عمل کو مرکزیت حاصل ہے جبکہ آزادی اور حریت کے تصورات سیاسی اداروں، خاص طور پر جدید ریاست کے ذریعے بروئے کار لائے گئے ہیں۔ ہم عصر دنیا میں سائنسی علم کی بنیاد پر قائم ہونے والا پیداواری عمل ترقی، خوشحالی اور طاقت کا واحد سرچشمہ ہے۔ جدید دنیا میں خوشحالی اور طاقت کے حصول کا کوئی دوسرا ذریعہ فراہم نہیں ہے۔ ہمارے ہاں گزشتہ دو سو سال میں فروغ پانے والے علوم سے پیداواری عمل کا موضوع خارج ہے۔ علی گڑھ نے بھی استعماری جدیدیت کے کلچر کو اخذ کیا اور تعلیم میں ریس گری کو فروغ دے کر ایک پوری غلامانہ تہذیب کی تشکیل کی۔ انیسویں صدی کی ساٹھ کی دہائی ہی میں جاپان کا جدیدیت سے ٹاکرا (encounter) ہوا، اور وہ میجی انقلاب کے ذریعے آقائے سرسید کے انتقال تک جاپان دنیا کے طاقتور ملکوں میں شامل ہو چکا تھا۔ ہم ابھی تک یہ بھی نہیں جان پائے کہ سائنسی علم کی بنیاد پر قائم ہونے والا صنعتی پیداواری عمل قوموں کی طاقت و قوت کا واحد مدار ہے۔ ہمارے علوم اس بابت بھی کوئی گفتگو نہیں کرتے کہ پیداواری عمل کے قیام کے لیے کون سے سماجی، ثقافتی اور سیاسی حالات ضروری ہوتے ہیں۔ صنعتی پیداواری عمل سائنسی علم، مشینی عمل اور مہارتوں (انسانی عمل) کی یکتائی سے اس وقت قائم ہوتا ہے جب سیاسی اور تعلیمی کلچر اس کا مؤید ہو۔

مغربی علوم میں پیداواری عمل ایک مستقل موضوع ہے اور ہر پہلو سے اس کا جائزہ لیا گیا ہے۔ سائنسی، فنی اور ٹیکنالوجی کے اعتبار سے پیداواری عمل براہِ راست جدید ریاست کی نگہداری میں فروغ پاتا ہے اور قومی سیکورٹی سے براہ راست متعلق ہونے کی وجہ سے اپنے ترقی یافتہ ترین پہلوؤں میں اسے صیغۂ راز میں رکھا جاتا ہے۔ لیکن زیادہ تر پہلوؤں میں یہ پوری انسانیت کی مشترکہ میراث ہے، اور ہر معاشرہ اسے اپنی خوشحالی اور طاقت کے لیے بروئے کار لا سکتا ہے۔ پیداواری عمل کی جو بھی تعریفات متعین کی جائیں اور اس کے اثرات و نتائج کا جائزہ جس بھی پہلو سے لیا جائے، ایک بات اپنی جگہ مستقل ہے کہ یہ خوشحالی اور طاقت کا واحد سرچشمہ ہے۔ مذہب، کلچر، اقدار یا نظریے کی آڑ میں اس سے دستبردار ہونا مسلم معاشروں کے لیے ازحد مہلک ثابت ہوا ہے۔ تفہیم مغرب یا تفہیم جدیدیت کے نئے مکاتب فکر بھی صنعتی پیداواری عمل کو مسلم معاشروں کے لیے ازحد مضر خیال کرتے ہیں اور فکری طور پر اس کے خلاف صف آرا ہیں۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ پیداواری عمل کے انسانی اور سماجی مطالعات سے اس کے وہ پہلو بھی ثابت ہو چکے ہیں جو ایک مسلمان کے لیے قابل قبول نہیں ہیں۔ ان کو دیکھنا اور ان کا شرعی حل تجویز کرنا ضروری ہے۔

یہ امر حیرت انگیز ہے کہ گزشتہ دو سو سالہ فکرِ اسلامی میں سائنسی پیداواری عمل سرچشمۂ طاقت و خوشحالی کے طور پر خارج ہے۔ جدید ریاست کے حوالے سے بھی بہت خلط مبحث ہے۔ سیاسی اسلام اس کا والہ و شیدا ہے جبکہ فکری تجدد جدید ریاست اور مذہب میں کسی بھی قسم کی نسبتوں کے منکر ہیں۔ یہ امر حیرت انگیز ہے کہ جدید تاریخ کے طاقتور ترین مؤثر یعنی جدید ریاست کو دین سے اس طرح منقطع کر دیا جائے۔ یہ کہنا کہ جدید ریاست کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں اصلاً مذہب ہی کا انکار ہے۔

لیکن اتنا عرض کرنا ضروری ہے کہ  جدید ریاست ایک میکانکی اور ٹکنالوجیائی وجود ہے۔ یہ ماورائے انسان ایک entity یا وجود ہے جو ساورنٹی کا حامل ہے کیونکہ اگر یہ وجود نہ ہو تو ساورنٹی سے متصف کیونکر ہو سکتا ہے؟ ہمارے ہاں مذہبی اہل علم نے جدید ریاست کے ساورن ہونے سے انکار کرتے ہوئے اس کا نام نہاد حل یہ کہہ کے نکالا کہ جدید ریاست ساورن نہیں ہے بلکہ ”حاکمیت اعلیٰ“ کا مالک اللہ تعالیٰ ہے اور اس طرح ایک جدید سیاسی تصور اور ایمانی تصور میں ایسا خلط مبحث پیدا کیا گیا جس سے نکلنے کا کوئی راستہ ابھی تک سجھائی نہیں دیتا، اور اس نے ہمارے دینی تصورِ الٰہ کو اساسی سطح پر تبدیل کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو سیاسی حاکم اعلیٰ ماننا شرک کے زمرے میں آتا ہے۔  اس کا درست جواب یہ ہے کہ امر الہی کے طور پر شریعت ساورن ہے۔

سیکولر قانون اور شریعت کی جدید ریاست سے نسبتیں قطعی مختلف اور متضاد ہیں جس کو سمجھنے میں ہمارے اہل علم فاش غلطی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ قانون جدید ریاست کا سب سے بڑا اور مؤثر ترین آلہ ہے، اور جو مسلمان شریعت سے ادنیٰ واقفیت بھی رکھتا ہے وہ یہ بھی جانتا ہے کہ اسے ریاست کا آلہ (instrument) کسی صورت نہیں بنایا جا سکتا۔ ہماری مذہبی جماعتیں شریعت کو سیکولر قانون پر محمول کر کے  ”نفاذِ قوانین اسلامی“ کی جدوجہد میں مصروف چلی آتی ہیں، اور وہ شریعت کو سسٹم اور ریاست کی میکانکی اوضاع کا آلہ بنا دینا چاہتی ہیں تاکہ جدید ریاست کے نہادِ جبر کو شرعی جواز بھی دیا جا سکے۔ یہ موقف ترک شریعت اور قطعی انسان دشمن ہے۔

ایک بہت بڑا مسئلہ یہ کھڑا ہو گیا ہے کہ جدیدیت اور تہذیب مغرب کی نادرست تفہیمات نے مسلمانوں میں بالعموم ایک ایسی منتقمانہ داخلیت (revengful subjectivity) پیدا کر دی ہے جس کی وجہ سے ہر قسم کا تاریخی معروض ان کے مدرکات سے خارج ہو گیا ہے۔ اسی بنا پر وہ جدیدیت کے پیدا کردہ سب سے بڑے دو مظاہر یعنی ریاست اور سرمایہ داری نظام کو قطعی غیر اسلامی قرار دے کر ان کے خلاف نبردآزما ہیں حالانکہ جدید عہد میں یہی دو مظاہر طاقت اور قوت کا سرچشمہ ہیں۔ اسلام مکمل ہدایت ہے تو ہمیں ان کا بھی کوئی شرعی حل سامنے لانا چاہیے، اور یہ حل ان دونوں کی درست علمی تفہیم سے مشروط ہے۔

پیداواری عمل اور شریعت

جدید پیداواری عمل غیرمعمولی طور پر نتیجہ خیز ہے اور اقوام کی خوشحالی اور طاقت کا ذریعہ ہے۔ جدید دنیا نے جو معاشی ترقی کی ہے اور ٹکنالوجی جس طرح روزمرہ زندگی کا جزو اعظم بن گئی ہے اس کے پیچھے جدید صنعتی پیداواری عمل کام کر رہا ہے۔ اس سے دستکش ہونے کا جو مطلب ہے وہ مسلمان معاشروں کی نکبت تامہ کے طور پر ظاہر ہے۔ جدید پیداواری نظام مالیاتی نظام کی اساس ہے۔ سود مالیاتی نظام کا مسئلہ ہے جسے شریعت ختم کرنے کا مطالبہ رکھتی ہے۔ لیکن خود پیداواری نظام میں ایسے مسائل ہیں جو شریعت کی روشنی میں حل ہونے چاہئیں۔ تفصیل کا موقع نہیں، مختصراً عرض ہے کہ:

(۱) پیداواری عمل اپنی شدت کی وجہ سے انسانی رشتوں کی ایک نئی تقویم پیدا کرتا ہے جس سے خاندانی نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔ اس میں بنیادی عامل منافع ہے جو کارکن کی قیمت پر حاصل ہوتا ہے۔

(۲) سرمایہ داری نظام کی عدمِ مساوات کی نہاد پیداواری نظام میں ہے، اور یہ عدم مساوات جدید ریاست کی سرمایہ داری نظام سے ہمگامی کے بغیر ممکن نہیں۔

(۳) پیداواری نظام میں انسان ایک فیکٹر کے طور پر شامل ہوتا ہے اور بیگانگیت کا شکار ہو کر dehumanize ہو جاتا ہے۔

پیداواری نظام توقیت کے بغیر قائم نہیں ہو سکتا اور اسی پہلو سے شریعت کی مداخلت ضروری ہے کہ صنعتی نظام میں کارکن سے چھ گھنٹے سے زیادہ کام نہ لیا جائے اور اس کی تنخواہ ایک فرد کے بجائے ایک کنبے کی کفالت کے لیے مکتفی ہو۔

جدید ریاست اور شریعت

جدید ریاست کے اجزا کے تحت بننے والے قوانین کے تین بڑے دائرے ہیں:   (۱) سسٹم، مشین اور سیاسی ٹکنالوجیوں کے بارے میں قانون سازی؛  (۲) انسان اور اس کے اعمال و افعال کے بارے میں قانون سازی؛ (۳) سسٹم/مشین اور انسانی تعامل کے محل پر قانون سازی۔

سب سے پہلے آخری نکتے کی تفصیل ضروری ہے۔ انسان اور مشین کے تعامل کا اساسی ترین محل صنعتی پیداواری عمل ہے۔ صنعتی پیداواری عمل جدید دنیا میں معاشی خوشحالی اور سیاسی طاقت کا سرچشمہ ہے۔ اسلامی اعتبار سے صنعتی پیداواری عمل کے حاصلات پر کوئی اعتراض نہیں اٹھایا جا سکتا۔ یاد رہے کہ صنعتی پیداواری عمل کا ایک ناقابل منفک جز انسان نہیں بلکہ انسان بطور resource ہے۔ مکمل طور پر مادی میکانیات پر مشتمل صنعتی پیداواری عمل خود میں متضمن انسان کے احوال اور حالات کو بہت بنیادی سطح پر تبدیل کر دیتا ہے۔ مارکس کا یہ مشاہدہ قطعی درست ہے کہ پیداواری عمل ایسے نئے انسانی رشتوں کی بنا ڈالتا ہے جو اس کے نفسی احوال اور معاشرتی حالات کو بدل دیتے ہیں۔ یعنی صنعتی پیداواری عمل انسانی وجودیات کے ساتھ ساتھ اس کی سماجی حرکیات کو بھی تبدیل کر دیتا ہے۔ سود ظلم اور اللہ اور اسکے رسول علیہ الصلوۃ و السلام کے خلاف اعلان جنگ ہے، لیکن وہ مالیاتی نظام کا مسئلہ ہے جو پیداواری نظام کی اوپری تہہ ہے۔ صنعتی پیداواری عمل تو انسان سے اس کی انسانیت ہی چھین لیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ شریعت اس کا کیا حل تجویز کرتی ہے؟ لیکن حل تو اس وقت تجویز کیا جا سکتا ہے جب مسلم ذہن صنعتی پیداواری عمل اور ذات انسانی پر مرتب ہونے والے اس کے وجودی نتائج سے کم از کم باخبر تو ہو۔

ہندوستان میں اسلامی تکثیریت کا تجربہ تاریخی حوالہ سے

ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

اسلام ہند میں دو طریقوں سے پہنچا، فتوحات کے ذریعہ اور تاجروں اور صوفیاء کے واسطہ سے۔ فتوحات میں ہندوؤں سے جنگیں بھی ہوئیں، خون بھی بہا اور ناخوشگوار واقعات بھی پیش آئے جو جنگوں کے ماحول میں بالکل ایک فطری سی بات ہے۔ مگر جب مسلمان یہاں کے باسی ہوگئے تو انہوں نے اس ملک کو ہر طرح سے ثروت مند بنایا۔ تاجروں اور صوفیاء کے ذریعہ اسلام کی شان جمالی کا ظہور ہوا، اور مقامی لوگوں کو اسی نے زیادہ متاثر کیا۔ اس کے بعد سے ہندو مسلم اِس ملک میں صدیوں سے ساتھ ساتھ رہتے آئے ہیں۔ دونوں فرقوں کے درمیان کبھی کبھی ٹکراؤ، تصادم اور تنازعات بھی پیش آئے مگر ان کا تناسب تبادلۂ علمی، احترام مذہب، صلح جوئی، رواداری اور اعلیٰ انسانی سلوک کے واقعات کے مقابلہ میں کم رہا ہے۔ البتہ رواداری کی یہ صورتحال اب خاصی بدلتی جا رہی ہے۔ اب مسلمانوں کو دیش کا غدار، مادر وطن کو تقسیم کرانے کا گنہگار قرار دیا جا رہا ہے۔ وطن عزیز میں عام ہوتا جا رہا یہ ظاہرہ ملک کے ہر محب وطن شہری کے لیے فکرمندی کی بات ہے۔ غیر مسلم پوش کالیونیوں میں مسلمان کو گھر نہیں ملتا۔ اس کا قتل گؤرکچھکوں (گائے کے محافظین) کے لیے ایک عام سی بات ہوتی جا رہی ہے۔

سوال یہ ہے کہ دونوں فرقوں کے مابین جو تلخیاں، جو نفرت اور جو غم و غصہ اب دیکھا جا رہا ہے کہ اب ایک مخصوص نظریہ سے تعلق رکھنے والے لوگ اِس ملک سے مسلمان شناخت سے دور و نزدیک سے ذرا بھی تعلق رکھنے والی ہر علامت مثلاً شہروں کے نام، تاریخی عمارتیں، مساجد وغیرہ کو مٹا ڈالنا یا بدل ڈالنا چاہتے ہیں، اس کا سبب کیا ہے؟ دونوں فرقوں کے مابین پائی جانے والی یہ سخت کشیدگی اِس کا تقاضا کرتی ہے کہ اس کے اسباب کو گہرائی میں جا کر سوچا جائے اور باہمی زندگی کے ماضی کے اُن خوشگوار حقائق کو پھر سے لوگوں کے سامنے لایا جائے کہ جب لاہور کے خواجہ دل محمد گیتا کی ویاکھیا (شرح) دل کی گیتا لکھ رہے تھے اور وقت کے بہت بڑے ہندو ودوان (عالم) کے سامنے ان کی یہ شرح پیش کی جاتی ہے تو وہ اس کو پڑھ کر اتنا متا ثرہوتے ہیں کہ نہ صرف ان کے کام کی تعریف کرتے ہیں بلکہ خواجہ دل محمد سے ملنے ان کے گھر بھی جاتے ہیں۔ دوسری جانب بہت سے پنڈتوں اور ہندو ودوانوں نے قرآن پاک کا ترجمہ لکھا، نبی کریم ﷺ کی جیونی (سیرت) لکھی۔ اِس دو طرفہ صلح جوئی، خیر خواہی، گہرے علمی و سماجی رشتوں کی ایک پوری کہانی ہے جو تقسیمِ ہند سے پہلے اس ملک میں لکھی گئی۔ اِس پیپر میں تاریخی حوالوں سے اِسی کہانی کی بازیافت کی کوشش کی جائے گی۔ اِس کا فوکس علمی و ثقافتی تبادلۂ باہمی پر ہو گا۔

ہند کے مسلمان حکمرانوں میں سب سے زیادہ پروپیگنڈا اورنگزیب عالمگیر کے خلاف کیا گیا ہے کہ اس نے مندر تڑوائے، جزیہ لگایا وغیرہ، مگر اپنی سخت گیر پالیسیوں کے باوصف اس نے ہندو قوم کو سائڈلائن نہیں کیا تھا، بلکہ ان کے بارے میں اپنے پیشروؤں کی پالیسی پر ہی کم و بیش عمل جاری رکھا۔ مولانا شبلیؒ نے اپنی کتاب ’’اورنگزیب عالمگیر پر ایک نظر‘‘ میں ان ہندوؤں کے نام لکھے ہیں جو اہم عہدوں پر فائز تھے، خاص کر فوجی عہدے و مناصب۔ یہ تقریبا ۲۵ عہدیدار ہیں جن میں بعض پنج ہزاری تھے بعض دوہزاری، بعض سہ ہزاری اور بعض قلعہ دار، تھانے دار اور بعض گورنر اور جاگیردار۔1

جنوبی ہند میں دولت آصف جاہی میں مہاراجہ سرکشن پرشاد مدار المہمام یعنی ریاست کے وزیراعظم کے جلیل القدر منصب پر فائز رہے اور ان کا نام علم و ادب کی سرپرستی کے لیے بڑا مشہور ہے۔ ان کے علاوہ دوسرے ہندو امراء میں یہ لوگ شامل ہیں: پنڈت لچھمی نرائن شفیق جو شاعر بھی تھے۔ مہاراجہ بندولال، راجہ گردھاری پرشاد، رائے بالاپرشاد، رائے منالال، راجہ گوبند سنگھ وغیرہ یہ جنوبی ہند کے عمائد اور امراء میں شامل تھے۔ اکبری عہد میں راجہ ٹوڈرمل، راجہ بیربل اور راجہ مان سنگھ بڑے مشہور و معروف غیرمسلم امراء ہیں جو اس کے نورتنوں میں شامل تھے۔ بیربل کے قصے تو زبان زد عام ہیں۔ ٹوڈدرمل وزیر مالیات تھے۔ اور راجہ مان سنگھ تو سپہ سالار فوج تھے جنہوں نے مغلوں کے لیے بہت سے قلعے سر کیے۔ مان سنگھ کی سرپرستی میں برندابن کا گوونددیو مندر ۱۵۵۰ء میں تعمیر کیا گیا۔

اتنا ہی نہیں سب سے زیادہ بدنام کے گئے محمود غزنوی کے لشکر میں تین ہندو سردار بہت مشہور تھے۔ یہ تھے سودندی رائے، تلک اور ہج رائے، انہوں نے غزنویوں کی بہت سی مہموں میں حصہ لیا اور ہمیشہ وفادار سمجھے جاتے۔ تلک رائے تو دربار میں ترجمانی کے فرائض بھی انجام دیا کرتا2۔ اور معروف مؤرخ رومیلا تھاپر کے نزدیک سومناتھ کا واقعہ بھی دوسرے واقعات کی طرح کا ایک عام واقعہ تھا جس کا پروپیگنڈا بہت زیادہ کیا گیا ہے۔ اِس پر انہوں نے ایک پوری کتاب لکھی ہے3۔

جہاں تک ہندو مذہب اور ہندو ثقافت کا تعلق ہے تو مسلمانوں نے فاتح ہونے کے باوجود اس سے بے اعتنائی نہیں برتی۔ چنانچہ مسلم عہد میں اور خاص کر عہدِ مغلیہ میں بہت سی سنسکرت کتابوں کا ترجمہ فارسی میں کیا گیا۔ مثلاً‌ اکبر کے عہد میں اتھروید کا ترجمہ ہوا، ملاعبد القادر بدایونی نے سنگھاسن بتیسی کا ترجمہ خرد افزاء کے نام سے کیا۔ سنسکرت کی کتاب لیلاوتی اور مثنوی نل ومن کے ترجمے ہوئے۔ بھگوت پران کا ترجمہ ہوا۔ داراشکوہ نے اپنشد کا ترجمہ کیا وہ خود سنسکرت کا عالم تھا، بلکہ اس کے حالات سے پتہ چلتا ہے کہ اس کی دلچسپیوں کے میدانوں میں بڑا تنوع تھا۔ چنانچہ داراشکوہ قادری صوفی سلسلہ سے وابستہ تھا، بہترین خطاط تھا، اس نے اسلام اور ہندوستانی فکر پر ایک کتاب لکھی تھی مجمع البحرین۔اس کا ہندی میں ترجمہ سمدر سنگم کے نام سے موجود ہے۔ اس کے علاوہ اس کی ایک کتاب رگ وید کے ساتویں کھنڈویششٹھ کا ترجمہ بھی ہے، وہ نہ صرف صوفیاء سے بلکہ ہندو پنڈتوں اور جوگیوں سے بھی ملا کرتا تھا جن میں ویشنو گرو بابا لال، چندر بھان برہمن، یاد وداس، بنگالی داس جگن ناتھ پنڈت اور بابا سرسوتی کے نام تاریخ نے محفوظ کیے ہیں4۔ داراشکوہ اور عالمگیر کی کشمکش اصلاً اقتدار کی لڑائی تھی، بعض مسلم مؤرخین نے اس میں نمک مرچ لگا کر خواہ مخواہ اس کو کفر و اسلام کی جنگ بنا دیا ہے۔

عہدِ مغلیہ میں پینٹنگ اور مصوری کے فن نے بھی بڑی ترقی کی ،ان کے درباری مصورین میں کھیم کرن، مہیش،لال مکند، مادھو، پری ہنس رام، جگن رام وغیرہ شامل ہیں۔ موسیقی کے متعدد ہندو ماہرین کی سرپرستی دربارِ مغل کرتا تھا جن میں مان سنگھ گوالیاری، نائک بخشو، تان سین اور رام داس کے نام تاریخ میں ملتے ہیں5۔ بعد میں شیخ نظام الدین اولیاء کے مرید خاص امیر خسرو نے ہندوستانی موسیقی میں بڑا کمال پیدا کیا تھا۔

اسی طرح عہدِ مغلیہ میں ہندو تہواروں اور میلوں ٹھیلوں میں بھی حکمراں، شہزادے اور نواب شریک ہوتے تھے۔ جہانگیر تو خود ہندو تہواروں ہولی دیوالی وغیرہ میں شامل ہوتا تھا، اور اس کے عہد میں ہندوؤں کے میلے ٹھیلے تزک و احتشام سے منائے جاتے۔ شیوراتری کے موقع پر پنڈتوں اور برہمنوں کو دربار میں باریاب کیا جاتا۔ وہ خود راکھی باندھتا اور بندھواتا تھا۔ اس نے اپنی توزک میں اِن چیزوں کا تذکرہ کیا ہے۔ ہمایوں بھی یہ تہوار مناتا تھا۔ جہانگیر کے زمانہ میں جانک رائے، سورج سنگھ آدربھٹا چاریہ وغیرہ کو انعامات دیے گئے۔ شاہجہاں کے عہد میں بھی یہ چیزیں جاری رہیں۔ اکبری دور میں مصوری کو بڑی ترقی ہوئی۔ بشن داس اور منوہر عہدِ مغلیہ کے مشہور مصوروں میں سے ہیں۔ اس عہد میں مہا بھارت اور راماین کے فارسی ترجموں کے مصور نسخے تیار کیے گئے جو آج بھی انڈیا آفس لائبریری لندن میں موجود ہیں6۔ ہولی دیوالی، دسہرہ، بسنت اور شیوراتری منائی جاتیں7۔ شاہی دربار سے الگ عوامی زندگی کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ عام زندگی کی ترجمانی کرنے والے شعراء نے اِس جانب بھی توجہ کی ہے۔

نظیر اکبر آبادی کی ہندو تہواروں پر کہی گئی نظمیں بہت مشہور ہیں۔ وہ دیوالی کے بارے میں کہتے ہیں8: ؎

ہر ایک مکان میں جلا پھر دیا دوالی کا
ہر ایک طرف کو اجالا ہوا دوالی کا
سبھی کے دل میں بھا گیا سماں دوالی کا
کسی کے دل کو مزا خوش لگا دوالی کا

اسی طرح خدائے سخن میر تقی میر بھی پیچھے نہیں رہے، انہوں نے ہولی پر اشعار کہے9: ؎

جشن نو روزِ ہند ہولی ہے 
راگ رنگ اور بولی ٹھولی ہے 

اورنگ زیب کے زمانہ میں اِن چیزوں میں کمی تو ضرور آئی مگر اس نے بھی ہندوؤں کو sideline نہیں کیا اور بہت سے عہدے اور مناصب ان کو دیے10 جیسا کہ اوپر گزر چکا۔ اُس کی مراٹھوں و سکھوں کے ساتھ جنگیں، گرو تیغ بہادر سے اُس کا سلوک استثنائی واقعات ہیں جن کا موضوعی مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے۔

سترہویں صدی میں مغلیہ سلطنت سے ٹوٹ کر بنگال، اودھ، میسور اور دکن میں نئی ریاستیں قائم ہوئیں جن میں دکن کی آصف جاہی سلطنت اور مملکت خداداد میسور دونوں بڑے کروفر کی اور قوت والی ریاستیں تھیں۔ میسور میں آغازِ قیام سے اس کے اختتام تک ہندوب ڑے بڑے عہدوں پر قائم رہے۔ سلطان ٹیپو کے بڑے وفادار سالار اور منصب دار ہندو تھے۔ مثلاً پنڈت پورنیا تاریخ میں مشہور ہیں۔ اودھ میں وزراء اور امراء و عماید میں بڑے پیمانہ پر ہندو شامل تھے جن میں سے چند نام یہ ہیں۔ منشی نول رائے، نواب صفدر جنگ کے بخشی راجہ، بینی پرساد، مدارالمہام، نواب شجاع الدولہ، راجہ ٹکیٹ، رائے نواب نصیر الدولہ کے دیوان، امرت لال: پیش کار نواب غازی الدین حیدر، منشی جوالا پرشاد، منشی الممالک، نواب نصیر الدین حیدر، راجہ رتن سنگھ زخمی فارسی کے شاعر، راجہ لکھپت، رائے تحصیل دار، راجہ لکشمی نرائن، معتمد برہان الملک، راجہ پورن چند مسجل(رجسٹرار)، نواب شجاع الدولہ۔ یہ حکمراں اور نواب صرف مسلمانوں میں ہی نہیں بلکہ ہندو عوام میں بھی ویسے ہی مقبول اور ہر دل عزیز تھے۔

دونوں قوموں کے درمیان چشمک اور ہندوؤں کے جبراً مذہب تبدیل کرانے اور مندروں کو مسمار کرانے کی کہانیاں انگریزی دور میں سامنے آئی ہیں اور ان کو آج دونوں قوموں کے درمیان تنافر پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ مسلمان اہلِ علم و دانش بھی اس بات کو سمجھتے تھے کہ مسلمانوں اور برادرانِ وطن کے درمیان مفاہمت کی شدید ضرورت ہے۔ اسی وجہ سے علماء دیوبند اور ان کی سیاسی جماعت جمعیۃ علماء ہند نے مسلم لیگ کی تقسیمِ وطن کی سیاست سے کھلا اختلاف کیا بلکہ دونوں قوموں میں مفاہمت اور رواداری کے ماضی کے بہت سے ان واقعات کی تائید بھی سرکردہ علماء دیوبند نے کی، جن کی عموماً بڑی مخالفت کی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر اکبر بادشاہ کی کارروائیوں کی۔ چنانچہ مولانا حسین احمد مدنی فی الجملہ اکبر کی تائید کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”مگر شاہانِ مغلیہ کو ضرور اس طرف (تفاہم بین المذاہب کی طرف) التفات ہوا خصوصاً اکبر نے اس خیال اور اس عقیدہ (یعنی یہ کہ مسلمان ہندوؤں کے دشمن ہیں) کو جڑ سے اکھاڑنا چاہا۔ اور اگر اس کے جیسے چند بادشاہ اور بھی ہو جاتے یا کم از کم اس کی جاری کردہ پالیسی جاری رہنے دی جاتی تو ضرور برہمنوں کی یہ چال (پروپیگنڈا کہ مسلمان ہندو کے دشمن ہیں) مدفون ہو جاتی اور اسلام کے دلدادہ آج ہندوستان میں اکثریت میں ہوتے۔ اکبر نے نہ صرف اشخاص پر قبضہ کیا تھا بلکہ عام ہندو ذہنیت اور منافرت کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیا تھا۔“11(بین القوسین الفاظ راقم نے توضیح کے لیے بڑھائے ہیں)

انگریزی دور کے آخر میں دونوں قوموں کے درمیان مختلف اسباب سے دوریاں بڑھنے لگیں تاہم مسلمانوں کے بارے میں پروپیگنڈا اتنا زیادہ کیا گیا ہے کہ اصل حقائق بالکل دب کر رہ گئے ہیں۔ مثال کے طور پر اقبال کو صحیح یا غلط مصورِ پاکستان کہا جاتا ہے، مگر اپنی ذاتی زندگی میں اقبال فرقہ واریت سے کوسوں دور تھے۔ انہوں نے اپنے بچوں کی انا کسی مسلمان عورت کو نہیں بلکہ ڈورس احمد نام کی ایک جرمن خاتون کو بنایا تھا۔ انہوں نے رامچندر جی کو امامِ ہند کہا تھا۔ گرونانک دیو کو وحدت کا گیت کار بتایا۔ ہندوستان کی شان میں ’’سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا‘‘ لکھا۔ ’اے آب رود گنگا‘ کہہ کر ماضی کے فسانہ کو یاد دلایا۔ حسرت موہانی علی گڑھ کے گریجویٹ، صوفی، شہنشاہ تغزل اور مجاہد آزادی تھے۔ وہ جب بھی حج کو جاتے تو حرم سے واپس آکر کرشن کی نگری متھرادرشن کے لیے ضرور جاتے کہ ان کو یہاں روحانی سکون محسوس ہوتا تھا۔

پھر یہ رواداری و احترام مذہب یک طرفہ نہ تھا دوطرفہ تھا۔ لکھنؤ کے مشہور ناشر منشی نول کشور عربی، فارسی اور اردو کی کتابوں کے ساتھ قرآن بھی چھاپا کرتے اور باوضو ہو کر قرآن کی طباعت کراتے (ان کا ذکر آگے آتاہے)۔ رسول اللہ ﷺ کی سیرت (جیونی) پر بھی ہندو وِدوانوں نے کتابیں لکھیں مثلاً عرب کا چاند سوامی لکشمن پرشاد نے لکھی۔ تو رسول اکرم کی نعت و منقبت کے معاملہ میں ملک کے ہندو شعراء مسلمانوں سے پیچھے نہیں رہے12۔

مغل عہد کے بارے میں بھی پہلے انگریزوں نے منفی پروپیگنڈا کیا اور اب ہندو تو وادی تاریخ دانوں نے اس کی تاریک تصویر عوام کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ حالانکہ مغلیہ عہد کے بانی بابر نے اپنے بیٹے کو جو نصیحت کی تھی اس پر مغل بحیثیت مجموعی قائم رہے۔ بابر کی نصیحت:

’’بیٹے یہ ملک ہندوستان مختلف مذاہب کا ملک ہے ۔خدا کا شکر ہے کہ اُس نے ہمیں یہ ملک دیا۔ ہمیں اپنے دل سے ہر طرح کے بھید بھاؤ کو ختم کر کے سب قوموں کے ساتھ ان کے اپنے رواج کے مطابق انصاف کرنا چاہیے۔ انتظامی چیزوں میں لوگوں کی مدد لینے کے لیے ان کے دل جیتو، گائے کو ذبح نہ کرو، عبادت خانوں اور مندروں کو نقصان نہ پہنچاؤ جو ہماری قلمرو میں ہوں، ایسا نظم بناؤ کہ رعایا بادشاہ سے اور بادشاہ رعایا سے خوش ہو‘‘13۔

تاریخ کی شہادت ہے کہ بابر کی اولاد نے اس وصیت پر عمل کیا۔ دہلی سلطنت اور مغلیہ عہد میں ہندو مسلمانوں دونوں کے بقاء باہم سے ایک ہم آہنگی اور پر امن فضا ملک میں وجود میں آئی جس پر تبصرہ کرتے ہوئے سرجان مارشل نے یہ تبصرہ کیا ہے:

’’انسانیت کی تاریخ میں ایسا بہت کم ہوا ہے کہ ہندو و محمڈن (اسلامی) جیسی بڑی اور وسیع تہذیبوں کے ملاپ کا واقعہ ہے۔ جو اپنے آپ میں بہت ہی زیادہ مختلف ہیں اور جن کے مذہب اور کلچر میں بہت زیادہ فرق ہے، اس سے تاریخ پر زبردست مثبت اثرات پڑے ہیں‘‘14۔

مغلوں کے دور میں ہی مرزا مظہر جان جاناں جیسے عالم و صوفی نے یہ رائے ظاہر کی کہ ’’رام اور کرشن بھی خدا کے پیغمبر ہوسکتے ہیں‘‘ 15۔ ’’عہدِ وسطیٰ کے ہندوستان میں دونوں قومیں ہندو و مسلمان بہت سارے تہوار ساتھ ساتھ اور بڑے جوش و خروش سے مناتے تھے‘‘16۔

اودھ میں یہ مشترکہ کلچر اتنا آگے بڑھا کہ مسلمان خواتین زچگی کے زمانے میں مہینوں تک سُوہر (گیت) گاتی تھیں جن میں ایک مشہور سوہر یہ تھا:

’’اللہ میاں ہمرے بھیا کا دِیونندلال‘‘ (اے اللہ میرے بھیا کو کرشن جیسا بیٹا عطا کرنا) 17۔ حالانکہ ٹھیٹ فقہی نقطۂ رکھنے والے علماء کے ہاں یہ رویہ قابل اعتراض ہو سکتا ہے۔ مگر سماجی و عملی زندگی میں بسا اوقات فقہی حدود سے تجاوز کرنا پڑ جاتا ہے، جیسا کہ صوفیاء کا رویہ بتاتا ہے۔ شمالی ہند کے برخلاف جنوبی ساحلوں پر ہندوستان سے اسلام کا رابطہ عرب فتوحات سے ماقبل ہی ہو گیا تھا۔

’’ہمیں اس کے آثار یہاں سے ملتے ہیں کہ کہا جاتا ہے کہ کیرالا کی چیرامَن مسجد کو مالک بن دینار نامی صحابئ رسول ﷺ نے آپ کی زندگی ہی میں تعمیر کیا تھا، اس کا نام ایک مقامی راجہ چیرامن کے نام پر رکھاگیا‘‘19۔

قرآن کا ہندی ترجمہ کرنے والوں میں مسلمان اہلِ علم کے ساتھ ہی برادرانِ وطن کے اہلِ علم بھی شامل ہیں۔ مثلاً نند کمار اوستھی، اچاریہ ونوبا بھاوے، پنڈت رگوناتھ پرساد مشر، ستیہ دیوجی، پریم شرن پنڈت، پنڈت رام چندر وغیرہ نے قرآن کا ہندی انواد کیا ہے۔ نند کمار اوستھی جی نے اپنا ترجمہ مولانا ابو الحسن علی ندوی کی ایماء پر کیا تھا20۔

عہدِ وسطیٰ کے بارے میں نوبل لاریٹ امرتیہ سین کہتے ہیں:

’’میرا خیال ہے کہ اس زمانہ کی تاریخ کو ہمیں الگ الگ کر کے یوں نہیں دیکھنا چاہیے کہ اِس زمانہ میں مسلمانوں کی سرگرمیاں یہ تھیں اور ہندوؤں کی اِس قسم کی۔ ہمیں اِس پر زور دینا چاہیے کہ دونوں ایک مشترکہ سماج میں جی رہے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ آرٹ یا علم و فن کا کوئی بھی میدان لے لیں آپ پائیں گے کہ ہندو مسلم ایکٹوسٹ، آرٹسٹ اور اسکالر ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کام کر رہے ہیں اور باہمی تعامل کر رہے ہیں‘‘21۔

انگریزی عہد کے اور آزادی کے بعد کے اردو کے بہت سے ادیبوں، شاعروں اور مصنفوں سے تو ایک دنیا واقف ہے مگر مغلیہ عہد کے اخیر میں بہادر شاہ ظفر کے زمانہ میں دہلی کے اردو شاعروں کی ایک فہرست بنائی گئی تھی جس میں پانچ سو سے زیادہ شعراء کے نام تھے اور ان میں ۳۴ ہندو شاعر تھے22۔

غالباً بھگوت گیتا میں ہندو درشن اور نظریہ و عمل کا سب سے تابناک اظہار ملتا ہے۔ اور اس سے مسلمان بھی خاصے متاثر ہوئے ہیں اور انہوں نے اس کتاب کے ترجمے و شروحات لکھی ہیں۔ یہاں تک کہ علامہ اقبال گیتا کو اردو میں ترجمہ کرنا چاہتے تھے جیسا کہ انہوں نے حیدر آباد کے مدارالمہام سر مہاراجہ کشن پرشاد کے نام ایک خط میں بیان کیا ہے۔ اِس خط میں انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ سنسکرت کے الفاظ کے جمال کو اردو میں اسی کیفیت کے ساتھ منتقل کر دینا بڑا مشکل کام ہے۔ انہوں نے اسی خط میں فیضی کے کیے ہوئے گیتا کے فارسی ترجمہ کی تعریف کرتے ہوئے لکھا:

’’ترجمہ کرتے ہوئے انہوں نے گیتا کے مضامین اور اسلوب سے پورا انصاف نہیں کیا وہ گیتا کی روح کو سمجھنے میں ناکام رہے ہیں‘‘23۔

اردو میں گیتا کے مشہور ترجمہ نگار یہ ہیں: (۱) خواجہ دل محمد، دل کی گیتا جو لاہور سے چھپی اور جس سے بہت شہرت پائی۔ (۲) خواجہ حسن نظامی، ان کے ترجمہ کا نام ہے کرشن بیتی۔ (۳) محمد اجمل خان (پرسنل سیکریٹری مولانا آزاد) ان کے ترجمہ کا نام نغمۂ خداوندی ہے اور اس کا پیش لفظ حسرت موہانی نے لکھا تھا۔ (۴) ڈاکٹر حسن الدین احمد نے نثر میں ترجمہ کیا جو ۱۹۷۵ء میں نیشنل بک ٹرسٹ دہلی نے شائع کیا24۔ (۵) معروف مسلم فلسفی خلیفہ ڈاکٹر عبد الحکیم (پاکستان) کے ترجمہ کو ودیا بھون ممبئی نے شائع کیا۔ یہ منظوم ترجمہ ہے اور رفیق زکریا نے اِس کو ماقبل کے تمام تراجم پر فوقیت دی ہے25۔ (۶) ڈاکٹر محمد عزیز، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ، ان کا ترجمہ انجمن ترقی اردو ہند سے شائع ہوا۔ (۷) سید متین احمد جن کا تعلق دکن سے تھا انہوں نے ’’کشن گیتا اور ارجن گیتا‘‘ اپنے ترجمہ کا نام رکھا۔ (۸) شمش الحق حقی نے بھگوت گیتا کا شعر میں ترجمہ کیا جو انجمن ترقی اردو (ہند) نے شائع کیا26۔

جہاں تک اردو عربی فارسی کتابوں اور قرآن پاک کی نشر و اشاعت کی بات ہے تو اس میں بھی برادرانِ وطن نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔ مثال کے طور پر منشی نول کشور جن کے پریس کی خدمات کے تعلق سے سید سلیمان ندوی اردو کے لیے لکھنو کی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’سب سے آخر میں لکھنؤ کے اس مطبع کا نام لیا جاتا ہے جس کی زندگی اب اسی (۸۰) برس کے قریب پہنچ گئی ہے (۱۹۳۹ء میں)۔ اس سے میری مراد نول کشور کا مشہور نول کشور پریس ہے۔ یہ غدر کے بعد ۱۸۵۸ء میں قائم ہوا اور بلا مبالغہ کہا جا سکتا ہے کہ مشرقی علوم و فنون کی جتنی ضخیم اور کثیر کتابیں اس مطبع نے شائع کیں، ان کا مقابلہ ہندوستان کیا مشرق کا کوئی مطبع نہیں کر سکتا۔ ہماری زبان کی اکثر ادبی اور علمی کتابیں اسی مطبع سے چھپ کر نکلیں۔ شعراء کے دواوین، مثنویاں، قصائد، قصے، افسانے، داستانیں اور اس کی عام کتابیں سب اسی کی کوششوں کی ممنون ہیں۔‘‘27

اور اس پریس کے معتبر ہونے کا عالم یہ تھا کہ مرزا غالب نے کہا تھا کہ یہ پریس جس شاعر کی دیوان شائع کر دیتا ہے اسے آسمان پر پہنچا دیتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ محض کوئی چھاپہ خانہ نہیں تھا بلکہ یہاں ترجمے کا کام بھی ہوتا تھا اور ایسی کتابیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر شائع کروائی جاتی تھیں جو معدوم ہونے کے قریب تھیں۔

گرونانک نے بغداد اور مکہ کا سفر کیا۔ ان کے بہت سے مریدین مسلمان تھے۔ گروگرنتھ میں ہزاروں عربی فارسی اور اردو کے الفاظ، محاورے اور تعبیرات شامل ہیں۔ یہاں تک کہ امرت سر کے مشہور گروگردوارہ ہرمندر صاحب کا سنگ بنیاد بھی قادریہ سلسلہ کے معروف صوفی بزرگ میاں میر سے رکھوایا گیا تھا28۔

مشہور مصنف ایم این رائے نے بھی اس پر زور دیا ہے کہ مسلمانوں نے انڈیا کو اپنا لیا تھا اور وہ اِس کے سماج کے ناگزیر عنصر بن گئے تھے۔ دہلی سلطنت (۱۲۰۶ء ۔ ۱۵۲۶ء) اور مغلیہ عہد (۱۵۲۶ء ۔ ۱۸۵۷ء) ہندو مسلمانوں کی مشترکہ حمایت و تائید سے قائم رہیں29۔

ہندو مذہب و تہذیب کے باضابطہ علمی مطالعہ کی جوریت ابوریحان البیرونی نے ڈالی تھی بعد کے زمانوں میں کسی نہ طرح وہ جاری رہی اگرچہ اس روایت میں وہ پختگی نہ رہی۔ اور موجودہ زمانہ میں بھی مسلمانوں میں خال خال ایسے لوگ پائے جاتے ہیں مثلاً مولانا محمد فاروق خاں جنہوں نے اردو میں ہندو دھرم کے موضوعی مطالعہ کی روایت کو آگے بڑھایا ہے، جس میں مزید تیزی و تسلسل لانے کی ضرورت ہے۔

مسلم عہد کو عہدِ سلطنت اور مغلیہ عہد میں بانٹ کر دیکھا جاتا ہے اور اس کو سیکولر روایت کے برخلاف تصور کیا جاتا ہے۔ تاہم مؤرخ مبارک علی ہمیں بتاتے ہیں کہ یہ پورا عہد بھی سیکولر عہد ہی تھا۔ (سیکولر اِس معنی میں کہ ریاست کسی مذہب میں مداخلت نہیں کرتی تھی) یہ تھیاکریسی نہیں تھی البتہ اس میں بعض حکمرانوں کا استثناء ضرور ہے۔30



حواشی و حوالہ جات

  1. شبلی نعمانی، اورنگزیب عالمگیر پر ایک نظر، دارالمصنفین اعظم گڑھ
  2. ڈاکٹر ایشور ٹوپا، پالیٹکس ان پری مغل ٹائمز ص ۵۴۔۶۴ بحوالہ، سید صباح الدین عبدالرحمن، ہندوستان کے عہدِ ماضی میں مسلم حکمرانوں کی مذہبی رواداری۔
  3. ملاحظہ ہو: رومیلا تھاپر: Somnath,The many Voices of a History Penguin Books
  4. Dara Shikoh, the Emperor who Never was (1592-1666) by Supria Gandhi
    کتاب کے علاوہ اسی عنوان سے ان کا یوٹیوب پر لیکچر بھی موجود ہے جس کو Carwan India نے ہوسٹ کیا تھا۔
  5. سید صباح الدین عبدالرحمن دارالمصنفین شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ عہدِ وسطی میں مسلم حکمرانوں کے تمدنی جلوے ص ۴۵۰ ۔ ۴۵۶
  6. سید صباح الدین عبدالرحمن دارالمصنفین شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ عہدِ وسطی میں مسلم حکمرانوں کے تمدنی جلوے ص ۴۸۵۔۴۸۶
  7. ایضا ص ۴۰۰ تا ۴۰۷
  8. ایضا، سید صباح الدین عبدالرحمن دارالمصنفین شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ ۲۰۰۹، ص ۴۰۵
  9. ایضا، سید صباح الدین عبدالرحمن دارالمصنفین شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ ۲۰۰۹، ص ۴۰۷
  10. تفصیل کے لیے دیکھیے شبلی نعمانی، اورنگزیب عالمگیر پر ایک نظر، دارالمصنفین اعظم گڑھ ص ۲۴۔ اور سید صباح الدین عبد الرحمنِ عہدِ وسطی میں مسلم حکمرانوں کے تمدنی جلوے ص ۴۸۵۔۴۸۶، دارالمصنفین شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ ۲۰۰۹
  11. ملاحظہ ہو: مولانا نجم الدین اصلاحی، مکتوبات شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی جلد اول مرتبہ مطبوعہ در مطبع معارف اعظم گڑھ ۱۹۵۲۔
  12. نقوش کے مشہور زمانہ رسول نمبر کی دسویں جلد اس کی شاہد عدل ہے۔ شائع کردہ فریڈ بک ڈپو نئی دہلی ۲۰۱۴۔
  13. Rafiq Zakaria Indian Muslims What Wnt Wong With them p 9
  14. Ibid p 9
  15. Ibid p 10
  16. پی این چوپڑا  Histrory and Culture of Indian People
    published by Bhartiya Vidia Bhawan - P 10
  17. سعید نقوی، وطن میں غیر، ص ۲۵ فاروس نئی دہلی (Being Other in India کا اردو ترجمہ)
  18. ایضا وطن میں غیر، ص ۲۵۔
  19. رضوان الحق فلاحی کی کتاب قرآن شریف کے ہندی انوادایک سرویکشن (جائزہ)
    Brown Book Publications pvt.Ltd opposit Blind School,Quila Road Aligarh
  20. Rafiq Zakaria Indian Muslims What Went Wong With them p 12
  21. Ibid p 13
  22. The Last Mughal Willium Dalremple p 26
  23. Rafiq Zakaria Indian Muslims What Wnt Wong With them p 32-33
  24. Ibid p 38
  25. Ibid p 38
  26. Ibid p 39
  27. سید سلیمان ندوی، نقوشِ سلیمانی، دارالمصنفین اعظم گڑھ ص ۸۷، طبع ۱۹۳۹۔
  28. p.136 Penguin Books 2019 Absolute Khuswant
  29. MN Roy,The Historical Role of Islam
    Oxford University Press 2008
    بحوالہ مشیرالحسن p 15 Moderate or Militant Images of Muslims
  30. ملاحظہ ہو مبارک علی کی کتاب علماء اور سیاست، فکشن ہاؤس ۱۸ مزنگ روڈ لاہور ص ۴۹


طوفان الاقصیٰ اور امت کی ذمہ داریاں

اسماعیل ہنیہ

ترجمہ : مولانا ڈاکٹر عبد الوحید شہزاد

الاتحاد العالمی لعلماء المسلمین کے تحت ۶ تا ۱۱ جنوری ۲۰۲۴ء سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں عالمِ اسلام سے علماء کرام نے شرکت کی۔ اس سیمینار میں ایک سیشن ’’دور الامۃ و طوفان الاقصیٰ‘‘ کے عنوان پر منعقد کیا گیا۔ جس میں اسماعیل ہنیہ نے طوفانِ اقصیٰ  کے اسباب اور علماء کی ذمہ داریوں پر تفصیلی گفتگو کی۔ جس کا ترجمہ ذیل ہے:



’’ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ اہلِ فلسطین کے سینوں میں جذبۂ جہاد اور دشمن سے مزاحمت کی روح پھونکنے میں علماء ربانیین کا اہم کردار ہے۔ ان میں سے کچھ اپنی مراد پا چکے ہیں (شہید ہوچکے ہیں) اور کچھ ابھی ارضِ فلسطین اور مسجدِ اقصیٰ کی حفاظت کے لیے میدانِ جہاد میں اپنی توانائیاں صرف کر رہے ہیں۔

میرے بھائیو، بہنو! اس امر میں کوئی شک نہیں ہے کہ اس امت کی خصوصیات میں سے سب سے اہم خاصیت یہ ہے کہ یہ راہ حق میں شہادت پیش کرنے کا داعیہ رکھتی ہے، جس کے نتیجے میں اس کو یہ مقام حاصل ہے کہ اس کو شہداء کی امت کہا جاتا ہے، اور اس کو یہ مقام اس لیے حاصل ہوا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے دور سے لے کر آج تک یہ امت راہِ حق میں اور دینِ اسلام کی اشاعت کی خاطر اپنی جانوں کی قربانیاں پیش کر رہی ہے۔ اور یہ امر قابلِ تعجب بھی نہیں ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین نے مختلف علاقوں کو فتح کرتے ہوئے اور جہاد کے علم کو بلند کرتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور جزیرہ عرب سے باہر مدفون ہوئے، اس لیے اس امت کو یہ بلند مقام حاصل ہے کہ یہ حق کے راستے میں شہادتیں پیش کرنے والی امت ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے: فقاتل في سبيل اللہ لا تكلف الا نفسك وحرض المؤمنين عسی اللہ ان يكف باس الذين كفروا واللہ اشد باسا واشد تنكيلا- النساء ۸۴ (پس اے نبی! تم اللہ کی راہ میں لڑو ، تم اپنی ذات کے سوا کسی اور کے لیے ذمہ دار نہیں ہو ۔ البتہ اہل ایمان کو لڑنے کے لیے اکساؤ، بعید نہیں کہ اللہ کافروں کا زور توڑ دے، اللہ کا زور سب سے زیادہ زبردست اور اس کی سزا سب سے زیادہ سخت ہے۔)

میں آپ کے سامنے اس موقع پر کہ جب اہلِ فلسطین، اہلِ غزہ بالخصوص اپنی شجاعت و بہادری کی عظیم داستان رقم کر رہے ہیں درج ذیل نکات پیش کروں گا:

پہلا نکتہ

طوفانِ اقصیٰ کے معرکہ کے حوالے سے سوال کیا جا رہا ہے کہ حماس نے یہ فیصلہ کیوں کیا؟ اور جہاد و مزاحمت کے میدان میں اس اسٹرٹیجی کو کیوں اختیار کیا گیا؟ اس حوالے سے میں طوفانِ اقصیٰ کے فیصلے سے قبل تین اہم مراحل کا تذکرہ کروں گا جس کی بنیاد پر اس معرکہ کا میدان سجا:

  1. اس معرکہ سے قبل بین الاقوامی سطح پر مسئلہ فلسطین کو پس پشت ڈال دیا گیا اور عالمی و بین الاقوامی فیصلہ ساز اداروں نے اس مسئلہ سے چشم پوشی اختیار کرتے ہوئے یہ باور کروایا کہ یہ اسرائیل کا داخلی مسئلہ ہے جسے وہ اپنی صوابدید کے مطابق حل کرے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اس حوالے سے قومی و بین الاقوامی سطح پر نہ قرارداد پیش کرنے کا موقع نہیں دیا گیا اور نہ اس حوالے سے کوئی سیمینار منعقد کیے گئے۔
  2. اسرائیل کی موجودہ حکومت نسل پرستی اور مذہبی تشدد کا استعارہ بنی ہوئی ہے، جس کی ترجیحات میں قدس اور مسجد اقصیٰ کو صفحۂ ہستی سے مٹانا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس نے اہلِ فلسطین پر ہر طرف سے گھیرا تنگ کیا ہوا ہے، غزہ کا ۱۷ سال سے محاصرہ کیا ہوا ہے، اور ہزاروں فلسطینی ان کی قید میں ہیں، اور ان کا سب سے اہم ہدف یہ ہے کہ کسی بھی طریقے سے اہلِ غزہ اردن یا مصر کی جانب ہجرت کر جائیں۔ وہ اپنے مقصد کے حصول کے لیے مسجد اقصیٰ (جو قبلہ اول ہے، جہاں سے آپ ﷺ نے معراج کے سفر کا آغاز کیا)، فلسطین کے مغربی کنارے پر آباد مسلمانوں کے گھروں کو مسمار کر رہے ہیں۔ یہ اس امر پر واضح دلیل ہے کہ وہ اس مسئلہ کو بالجبر ختم کرنا چاہتے ہیں۔
  3. طوفانِ اقصیٰ سے قبل بین الاقوامی سطح پر اسرائیلی ریاست کو قبول کرنے کی مہم کا زور و شور سے آغاز کیا گیا، جس کے لیے صہیونیوں نے مختلف مکر و فریب گڑھے، اور بین الاقوامی سطح بحیثیت ایک ریاست کا مقام حاصل کرنے کی کوشش شروع کی، جس کے نتیجے میں اس کو بحیثیت ریاست قبول کرنے کا آغاز ہوا، جبکہ اس نے اہلِ فلسطین کا حق مارا ہے۔ ان تمام سرگرمیوں کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ فلسطین کے مسئلہ کو زمین بوس کر دیا جائے اور اسرائیل بالجبر اس پر قابض ہو کر اپنی ریاست قائم کر لے۔

اس منظر نامے میں فلسطینی عوام اور مزاحمتی تحریکات، جس میں سرفہرست حماس ہے، نے اللہ رب العزت کے فرمان: ادخلوا علیہم الباب فاذا دخلتموہ فانکم غالبون وعلی اللہ فتوکلوا ان کنتم مومنین۔ المائدہ ۲۳ (ان جبّاروں کے مقابلہ میں دروازے کے اندر گھس جاؤ، جب تم اندر پہنچ جاؤ گے تو تم ہی غالب رہو گے۔ اللہ پر بھروسہ رکھو اگر تم مومن ہو) پر عمل کرتے ہوئے اس معرکہ کا آغاز کیا ۔ اور سات اکتوبر کا دن فلسطین کی تاریخ ہی میں نہیں بلکہ انسانی تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔

دوسرا نکتہ

اس وقت اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ جاری ہے جس میں ۷۔ ہزار ٹن سے زائد بارود برسایا جا چکا ہے جو ہیروشیما کی بربادی کے برابر ہے، جبکہ غزہ کا رقبہ ۳۶۵ کلومیٹر ہے۔ اس جارحیت کے ذریعے اسرائیل درج ذیل اہداف حاصل کرنا چاہتا ہے:

  • حماس اور دیگر مزاحمتی تحریکات کا قلع قمع کرنا
  • کتائب القسام سے اسرائیلی قیدیوں کو بازیاب کرانا
  • غزہ کے مکینوں کو ہجرت کرنے پر مجبور کرنا

ان تین اہداف کے حصول کے لیے صہیونی ریاست اپنے منصوبے کے مطابق عمل کر رہی ہے، اس منصوبے میں امریکہ، جرمنی، فرانس وغیرہ کا بھرپور تعاون حاصل ہے، گویا کہ یہ عالمی ساہوکار بھی فلسطین کی نسل کشی میں برابر کے شریک ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ اس معرکہ کو ۱۰۰ دن ہونے کے قریب ہے لیکن اس جنگ میں صہیونی ریاست نے اپنے دلسوز اور بھیانک منصوبے کی تکمیل کے لیے چار طریقوں سے اہل فلسطین پر وار کیا ہے: سب سے پہلے انہوں نے بھرپور طریقے سے فضائی حملے کیے، دوسرا یہ کہ انہوں زمینی جنگ کا آغاز کیا، تیسرے مرحلے میں وہ حماس کی قیادت اور اس کے اراکین کو قتل کرنے کے درپے ہیں، چوتھا یہ غزہ کی سیاسی صورتحال کے حوالے سے غور و فکر کر رہے ہیں کہ حماس کے بعد اس غزہ کی قیادت و سیادت کون کرے گا؟

میر آپ سے سوال ہے کہ کیا ۱۰۰ دن گزرنے کے بعد اسرائیل اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ہے؟ ہرگز نہیں، دشمن اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ہو چکا ہے، جس کے دلائل ذیل ہیں:

  • اسرائیلی حکومت کا سب سے پہلا ہدف یہ ہے کہ غزہ سے حماس کا خاتمہ کر دیا جائے۔ سوال یہ ہے کہ کیا حماس صرف غزہ کی تحریک ہے؟ ہرگز نہیں۔ حماس سارے عالم کے باضمیر انسانوں کی آواز بن چکی ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے: ومكروا ومكر اللہ واللہ خير الماكرين (آل عمران ۵۴)۔ ارشاد باری تعالی ہے ونريد ان نمن علی الذين استضعفوا فی الارض ونجعلہم ائمة ونجعلہم الوارثين (القصص ۵)۔ اللہ رب العزت نے اس مزاحمت اور استقامت کی بدولت عالمِ اسلام ہی میں نہیں عالمِ غرب میں حماس کے پیغام کو پہنچا دیا ہے اور اب کوئی گھر ایسا نہیں ہے جہاں میڈیا کے توسط سے اہلِ غزہ و فلسطین پر اسرائیلی مظالم کی داستان نہیں پہنچی ہو۔ یہ اللہ رب العالمین کا ہم پر بہت بڑا انعام ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دشمن تو ہمارا نام نشان مٹانا چاہتا ہے، لیکن اللہ رب العزت حق و سچ کے نور کا فرمان ہے: یریدون لیطفئوا نور اللہ بافواہہم واللہ متم نورہ ولو کرہ الکافرون (الصف ۸)۔ ان شاء اللہ ان کا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا۔ گویا کہ اسرائیل اپنے اس ہدف کے حصول میں ناکام ہو چکا ہے۔
  • جہاں تک قیدیوں کی بازیابی کا معاملہ ہے، اس حوالے سے اسرائیلی حکومت جدید ڈرون جاسوس طیاروں کی مدد سے اپنے قیدیوں کو تلاش کرنے کی بہت کوشش کی لیکن وہ اپنے ایک قیدی کو بھی تلاش نہ کر پائے، انہوں نے صرف وہی قیدی رہا کروائے جن کو کتائب القسام نے ایک ہفتے کی جنگ بندی کے دوران رہا کیا۔ اپنے اس ہدف کے حصول میں صہیونی ریاست ناکام ہو چکی ہے۔
  • اسرائیل کا تیسرا ہدف کہ اہلِ غزہ مصر یا اردن کی جانب ہجرت کر جائیں، یہ ہرگز نہیں ہو سکتا۔ اس لیے کہ اہلِ غزہ اپنے سرزمین سے بے حد محبت کرتے ہیں، اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ اس معرکہ میں سیکڑوں کی تعداد میں شہادتیں ہو چکی ہیں، ان کے گھر مسمار کیے جا چکے، والدین، بہن بھائی شہادت کا تاج پہن چکے ہیں، لیکن اس کے باوجود اگر کوئی بچہ یا نوجوان مسمار شدہ عمارت سے نکلتا ہے تو یہ نعرہ لگاتا ہے کہ میں فلسطین، حماس اور القدس کے لیے جان دینا اپنے لیے شرف سمجھتا ہوں اور یہ میرے لیے شرف و عزت کی بات ہے۔ دنیا نے اس منظر کا بھی مشاہدہ کیا جب غزہ کے ان باشندوں کو اپنے وطن آنے کی اجازت دی گئی جو دیگر ممالک میں آباد ہی، اور اہلِ غزہ کو دیگر ممالک کی طرف جانے کا پروانہ جاری کیا گیا، تو فلسطینی مہاجرین نے اپنے وطن کی طرف نقل مکانی کی، لیکن غزہ سے کسی نے ہجرت نہیں کی۔ اہلِ غزہ سے اپنی سرزمین سے محبت اور اس کے لیے جان تک قربانی کر دینے کا جذبہ اسرائیل کو اپنے اس ہدف میں کامیاب نہیں ہونے دے گا۔ گویا کہ دشمن اس ہدف میں بھی ناکام ہو چکا ہے۔

تیسرا نکتہ

اس وقت غزہ میں دو محاذوں پر جنگ جاری ہے۔ ایک دشمن سے مقابلے کا جبکہ دوسرا اہلِ غزہ کی سکیورٹی کا محاذ ہے:

  1. الحمد للہ پہلے محاذ پر کتائب القسام، سرایا القدس اور دیگر مزاحمتی تحریکوں نے دشمن کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ہے، جس کے مناظر پورے عالم نے دیکھے ہیں۔ دشمن کے مقابلے میں مجاہدین کی تعداد اگرچہ کم ہے لیکن جنگی حکمتِ عملی کے مطابق میدانِ جہاد میں اسرائیلی فوجیوں کو نشانے بنائے ہوئے ہیں اور ان کے آلاتِ جنگ کو تباہ و برباد کر رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا نے گزشتہ روز اس معرکہ کے ۱۰۰ دن گزرنے کے بعد یہ اعتراف کیا ہے کہ غزہ میں مجاہدین سے مقابلہ کرنا صعوبت سے خالی نہیں ہے اور کل سب سے مشکل دن تھا۔
  2. دوسرا محاذ اہلِ غزہ کی حفاظت کا ہے کہ دشمن ایک طویل عرصے سے فضائی حملے کر رہا ہے جس کے نتیجے میں شہادتوں کا سلسلہ جاری ہے، فلسطین کے مغربی کنارے پر اب تک ۳۵۰ شہادتیں ہو چکی ہیں، گویا غزہ کے ساتھ ساتھ فلسطین کا مغربی کنارہ اور مسجدِ اقصیٰ غیر محفوظ ہیں۔

میری آپ سے گزارش ہے کہ آپ بحیثیت عالمِ دین انفرادی و اجتماعی سطح پر ان دو محاذوں پر اہلِ غزہ کی معاونت میں اپنا کردار ادا کریں۔ اس لیے کہ مسجدِ اقصیٰ کی آزادی اہل ِفلسطین ہی کا فریضہ نہیں ہے بلکہ یہ پوری امت کا فرض ہے، جس میں وہ اپنا کردار ادا کریں۔ اس حوالے سے اہلِ علم کے فتاوٰی بھی موجود ہیں جن اس امر کی صراحت کی گئی ہے کہ القدس کی آزادی کے لیے اپنی جان اور مال اور ہر قسم کا تعاون کرنا تمام مسلمانوں کا فرض بنتا ہے۔ کتائب القسام کے مجاہدین نے طوفانِ اقصیٰ کا دروازہ کھول دیا ہے، اب اس کو مزید طاقت فراہم کرنا ہم سب کا فرض ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دشمن کو مختلف ممالک کی جانب سے اس جنگ کو طول دینے کے لیے معاونت فراہم کی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے وہ بھرپور طریقے سے حملہ آور ہے۔ بحیثیت مسلمان ہمارا یہ فرض بنتا ہے کہ ہم مشترکہ مقصد میں اہلِ غزہ کی پشت پناہی کریں۔ اور یہ بات اپنی جگہ اہم ہے معرکۂ طوفانِ اقصیٰ جیسے فیصلے تاریخ میں شاذ و نادر کیے جاتے ہیں۔ اس لیے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسرائیلی جارحیت کے خاتمے میں اپنا اہم کردار ادا کرنے کی کوشش کریں۔ ان شاء اللہ دشمن منہ کی کھائے گا۔

چوتھا نکتہ

طوفانِ اقصیٰ کے بعد فلسطین سے متعلق امریکہ اور یورپین ممالک کے عوام کی رائے بھی تبدیل ہو چکی ہے کہ جہاں فلسطین کا جھنڈا بلند کرنا بھی جرم تھا، اور یہ رویہ بعض عرب ممالک میں بھی دیکھا گیا، لیکن اس معرکہ نے سارے عالم کے سامنے حقیقت واضح کر دی ہے۔ اس عالمی تغیر کی پس منظر میں اہلِ غزہ کی ثابت قدمی اور اسرائیلی کی جانب سے سخت جارحیت کے باوجود وہ القدس کی آزادی کے لیے پرعزم ہیں۔ اگر وہ ثابت قدمی کا مظاہرہ نہ کرتے تو آج ان کو کچل دیا جاتا۔ اس لیے اس فتح عظیم پر خوشی کے ساتھ ساتھ ہمیں ثابت قدم رہنا چاہیے۔ اس حوالے سے درج ذیل امور اپنانے کی سعی کرنی ہو گی:

  • دوحہ (قطر) کی جانب سے انسان دوستی پر مبنی جس اعلامیہ کا اعلان کیا گیا ہے (اس اقدام پر ہم قطر اور دیگر ممالک مشکور ہیں) اس کے لیے ناگزیر ہے کہ ایک ایسا منصوبہ ترتیب دیا جائے جو قابلِ عمل بھی ہو، محض منصوبے کی حد تک نہ رہے۔ اس منصوبے کے لیے عملاً کام کیا جائے۔
  • فلسطین، غزہ اور القدس کی صورتحال اور اس مسئلہ کے حل کے لیے مختلف ممالک سے علماء کا انتخاب کر کے ان کے وفود ترتیب دئیے جائیں جو مسلم و غیرمسلم ممالک کے حکام سے ملاقات کریں، مختلف تحریکات اور انسانی حقوق پر مبنی این جی اوز سے ملاقات کریں، اور ان کے سامنے اس مسئلہ کی حقیقت بیان کریں اور اسرائیلی جارحیت کو رکوانے میں اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔
  • اس معرکہ کو کامیاب بنانے کے لیے مسلم معاشرے میں فقہ الجہاد بالمال کا تصور پیدا کرنے میں علماء اپنا کردار ادا کریں۔ مسلم معاشرے کی اس نہج تربیت کی جائے اس جہاد میں اپنے مال کے ذریعے حصہ ڈالیں۔ اس لیے اللہ رب العزت نے جہاد بالنفس اور جہاد بالمال کا حکم دیا ہے، ارشاد باری تعالی ہے: انفروا خفافا وثقالا وجاہدوا باموالکم وانفسکم فی سبیل اللہ ذلکم خیر لکم ان کنتم تعلمون (التوبہ ۴۱)
  • حقیقت یہ ہے کہ ہم روزانہ کی بنیاد مختلف ممالک سے آنے والے وفود کا استقبال کرتے ہیں، وہ ملاقات کے دوران اس امر کی وضاحت کرتے ہیں کہ ان کے نوجوان القدس کی آزادی کے لیے اہلِ غزہ کے ساتھ اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے کے لیے حاضر ہیں۔
  • میری تجویز یہ ہے کہ اس سیمینار کی جانب سے اہلِ غزہ کی بہادری و شجاعت اور ان کی ثابت قدمی کی داد دینے کے لیے ایک خط ان کے نام صادر کیا جائے جس میں ان کے شہداء کی شہادت کی قبولیت کے ساتھ ان کے زخمیوں کی داد رسی کی جائے اور اسرائیلی کی قید ۱۰ ہزار فلسطینیوں کی آزادی کے لیے دعا کی جائے۔
  • پورے عالم اسلام سے آئے تمام علماء کرام سے میری درخواست ہے کہ وہ اہلِ غزہ کی ہر قسم کے تعاون کے حوالے سے عامۃ الناس کو آمادہ کریں ۔ تاکہ تمام مسلمان اس کرب میں ان کے ممد و معاون بن سکیں۔‘‘


———————————

مترجم: مولانا ڈاکٹر عبدالوحید شہزاد  —  نائب مدیر مرکز تعلیم و تحقیق اسلام آباد

نائب مدیر مرکز تعلیم وتحقیق، گلشن تعلیم، ایچ ۱۵، اسلام آباد

awaheedshahzad@gmail.com

تحریک ریشمی رومال کے خطوط

حافظ خرم شہزاد

آپ نے ریشمی رومال تحریک کے بارے میں سنا ہو گا مگر ریشمی رومال خطوط کے بارے میں شاید آپ نہ جانتے ہوں ،حاضر ہے کہ ان خطوط میں کیا لکھا گیا تھا ۔ ریشمی خطوط کے مضمون کیا تھے، اس کی تفصیل حسب ذیل ہے:

پہلا خط جو شیخ عبد الرحیم سندھی کے نام تھا، اس کا مضمون یہ تھا: ”یہ خط حضرت مولانا شیخ الہند کو مدینہ بھیجنا ہے۔ حضرت شیخ الہند کو خط کے ذریعہ بھی اور زبانی بھی آگاہ کر دیں کہ وہ کابل آنے کی کوشش نہ کریں ۔ حضرت مولانا شیخ الہند مطلع ہو جائیں کہ مولانا منصور انصاری اس بار حج کے لیے نہ جا سکیں گے۔ شیخ عبد الرحیم کسی نہ کسی طرح کابل میں مولانا سندھی سے ملاقات کریں“۔

دوسرا خط شیخ الہندؒ کے نام تھا جس کے سلسلہ میں ہدایت تھی کہ تحریک کے ممتاز کارکنوں کو بھی یہ خط دکھا دیا جائے! اس خط میں رضاکار فوج ”جنود اللہ“ اور اس کے افسروں کی تنخواہوں کا تذکرہ ہے۔ ۱۰۴ افراد کے نام ہیں ۔ جنہیں فوجی تربیت اور ان کے کام کی ذمہ داری کے سلسلہ میں تحریر ہے۔ اس کے علاوہ راجہ مہندر پرتاب سنگھ کی سرگرم ”جرمن مشن کی آمد، عارضی حکومت“ کا قیام روس جاپان اور ترکی وفود کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔

تیسرا خط حضرت شیخ الہندؒ کے نام تھا۔ مشہور یہ ہے کہ یہ خطوط مولانا منصور انصاری نے لکھا تھا؛ لیکن عبد الحق، جنہیں یہ خط پہنچانے کے لیے دیا گیا تھا، کا بیان ہے کہ یہ خط مولانا سندھی نے اس کے سامنے لکھا تھا۔ اس خط کے خاص مضامین یہ ہیں کہ ہندوستان میں تحریک کے کون کون سے کارکن سرگرم ہیں۔ اور کون کون سے لوگ سست پڑ گئے ہیں۔ اس میں مولانا آزاد اور مولانا حسرت موہانی کی گرفتاری کی اطلاع بھی تھی۔ اس میں یہ بھی تحریر ہے کہ میرا حجاز آنا ممکن نہیں ہے۔

”غالب نامہ“ تحریک کے کارکنوں کو دکھا کر قبائلی علاقہ کے سرداروں کو دکھا دیا گیا ہے۔ حاجی ترنگ زئی اس وقت ”مہمند“ علاقہ میں ہیں۔ مہاجرین نے مہمند اور ”سوات“ کے علاقہ میں آگ لگا رکھی ہے۔ جرمن ترک مشن کی آمد اور اس کے ناکام ہونے کے اسباب کا تذکرہ بھی ہے۔ مشن کی ناکامی کے اسباب کا تذکرہ کرتے ہوئے تحریر کیا گیا ہے کہ جرمنی اور ترکی کو چاہیے تھا کہ پہلی جنگِ عظیم میں شامل ہونے سے پہلے ایران اور افغانستان کی ضرورت معلوم کرے اور اس کو پورا کرنے کی صورت نکالے۔ اس کے علاوہ افغانستان کو جنگ میں شریک ہونے کے لیے کن کن چیزوں کی ضرورت ہے اس کی تفصیل درج ہے۔ ساتھ ہی حضرت شیخ الہندؒ  کو یہ مشورہ دیا گیا کہ وہ مدینہ منورہ میں ٹھہر کر ترکی، افغانستان اور ایران میں معاہدہ کرانے کی کوشش کریں۔ اس خط میں حضرت شیخ الہندؒ سے یہ بھی گزارش کی گئی تھی کہ وہ ہندوستان نہ آئیں حکومت نے ان کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔“ مولانا سندھیؒ نے یہ خطوط ریشمی رومال پر لکھ کر عبد الحق کو دیے، اور اس کو ہدایت کر دی کہ یہ خط شیخ عبد الرحیم سندھی کو پہنچا دیں۔ عبد الحق ایک نو مسلم تھا، وہ مہاجر طالب علموں کے ساتھ افغانستان گیا تھا۔ مہاجر طالب علموں میں دو طالب علم اللہ نواز اور شاہ نواز قابل ذکر ہیں۔ یہ دونوں رب نواز کے لڑکے تھے، جو ملتان میں انگریزی ایجنٹ تھا، عبد الحق بھی رب نواز کے یہاں رہتا تھا۔ جب یہ خطوط عبد الحق کو پہنچانے کے لیے دیے گئے تو وہ سرحد کے راستے سے پنجاب ہوتا ہوا بہاولپور پہنچا‘ وہاں بہاولپور کے مرشد کے پاس وہ کوٹ رکھ دیا جس کے استر میں وہ ریشمی ٹکڑے سلے ہوئے تھے۔ اس کے بعد وہ بہاولپور سے اپنے آقا رب نواز سے ملاقات کرنے کے لیے ملتان چلا گیا۔ اس نے ان دونوں کی خیریت کے علاوہ تحریک اور اس کی سرگرمی، قبائلی علاقہ اور جیل کے واقعات اور مولانا عبید اللہ سندھیؒ کی سرگرمیوں کی تفصیل بھی بتا دی ۔اور دھمکانے پر بہاولپور کے مرشد مولانا محمد کے پاس سے لا کر وہ کوٹ بھی دیا، جس کے استر میں وہ ریشمی خطوط سلے ہوئے تھے، جب رب نواز کو یہ خطوط ہاتھ لگے تو اس نے غداری کی، اور اس نے فوراً ہی کمشنر سے ملاقات کی، اور ریشمی خطوط پیش کیے اور تمام تفصیلات سے اس کو باخبر کر دیا۔ ساتھ ہی عبد الحق کو کمشنر کے پاس لے گیا، اس کے صلہ میں اس کو ”خان بہادر“ کے خطاب سے نوازا گیا۔ اس طرح وہ رب نواز سے خان بہادر رب نواز بن گیا۔


قائد اعظم محمد علی جناحؒ کا دستور ساز اسمبلی کی افتتاحی تقریب سے خطاب

ادارہ

 عزت مآب (لارڈ ماؤنٹ بیٹن)!    میں پاکستان کی آئین ساز اسمبلی کی طرف سے اور اپنی طرف سے شاہِ برطانیہ کا ان کے مہربان پیغام کیلئے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ آگے بڑی ذمہ داریاں ہیں۔ میں فطری طور پر ان کے جذبات کے جواب میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہم ان کی ہمدردی اور حمایت کی یقین دہانی کیلئے شکر گزار ہیں۔ اور مجھے امید ہے کہ آپ برطانوی قوم اور خود برطانوی سربراہ کیلئے ہماری طرف سے خیر سگالی جذبات اور دوستی کا پیغام پہنچائیں گے۔

میں پاکستان کے مستقبل کیلئے آپ کے خیر سگالی اور نیک خواہشات کے اظہار کیلئے آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ہماری یہ مسلسل کوشش رہے گی کہ پاکستان میں تمام طبقات کی فلاح و بہبود کیلئے کام کریں، اور مجھے امید ہے کہ ہر کوئی عوامی خدمت کی سوچ سے متاثر ہو گا اور تعاون کے جذبے سے سرشار ہو گا، اور ہر کوئی اپنی سیاسی اور شہری خوبیوں میں سبقت لے جائے گا، جس سے ایک عظیم قوم بنانے اور اس کی عظمت کو آگے بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔ میں ایک بار پھر آپ اور لیڈی ماؤنٹ بیٹن کا آپ کی مہربانی اور نیک خواہشات کیلئے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ بالکل، ہم دوست کے طور پر جدا ہو رہے ہیں اور پوری امید ہے کہ ہم دوست رہیں گے۔

میں اس بات پر زور دینا چاہتا ہوں کہ ہم اس جذبے کو سراہتے ہیں جس میں اس وقت  سرکاری  خدمات میں   اور  مسلح  افواج  میں  شامل  افراد  اور  دیگر  افراد  نے  پاکستان کی خدمت کیلئے خود کو عارضی طور پر رضاکارانہ حیثیت سے پیش کیا ہے۔ ہم پاکستان کے مددگاروں  کی حیثیت سے انہیں خوش رکھیں گے اور ان کے ساتھ ہمارے شہریوں کے برابر سلوک کیا جائے گا۔  شہنشاہِ عظیم اکبر نے تمام غیر مسلموں کے ساتھ جو رواداری اور خیر سگالی کا مظاہرہ کیا، وہ کوئی حالیہ معاملہ نہیں ہے، یہ تیرہ صدیاں پہلے کی بات ہے جب ہمارے نبی ﷺ نے یہودیوں اور عیسائیوں کو فتح کرنے کے بعد نہ صرف قول سے بلکہ عمل سے ان کے ایمان اور عقائد کے حوالے سے انتہائی تحمل  اور عزت  و احترام کا برتاؤ کیا تھا۔ مسلمانوں کی پوری تاریخ، جہاں کہیں بھی انہوں نے حکومت کی، ان انسانی اور عظیم اصولوں سے بھری پڑی ہے جن کی پیروی ہونی چاہیے اور ان پر عمل کیا جانا چاہیے۔

آخر میں، میں پاکستان کیلئے  آپ کی نیک تمناؤں کیلئے شکریہ ادا کرتا ہوں، اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم اپنے پڑوسیوں اور دنیا کی تمام اقوام کے ساتھ دوستانہ جذبے کی خواہش رکھیں گے۔

http://tinyurl.com/jinnah14august1947

‫‪‬‬

روس یوکرائن جنگ اور یورپ کی تیاری

ہلال خان ناصر

۱۰ جنوری ۲۰۲۴ء کو بی بی سی پر ایک عجیب خبر دیکھنے کو ملی۔ خبر میں بتایا گیا کہ سویڈن کے آرمی چیف اور ڈیفنس منسٹر نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ لوگ ذہنی طور پر جنگ کیلئے تیار ہو جائیں۔ ان کے مطابق روس نے جو دھمکی فن لینڈ کو نیٹو میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد دے رکھی ہے، کہ یوکرائن کے بعد اگلی باری فن لینڈ کی ہے، وہ دھمکی سویڈن پر بھی لاگو ہوگی، کیونکہ سویڈن نے بھی نیٹو میں شامل ہونے کی درخواست جمع کروا رکھی ہے۔ جغرافیائی طور پور روس اور سویڈن کے درمیان ایک فن لینڈ ہی ہے۔ ان کے اس بیان پر عوام اور بہت سی سیاسی جماعتوں نے اعتراض کیا ہے۔ مختلف ماہرین کے نزدیک عوام کے سامنے جنگ کی بات کرنا اور وہ بھی اس وقت جب ابھی یوکرائن بھی لڑ رہا ہے، ایک بڑی غلطی ہے، جس سے عوام میں خوامخواہ کی بے چینی اور خوف پھیل رہا ہے۔

آسکر جانسن، سویڈن کی ڈیفنس یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ایک ماہر کا کہنا ہے کہ روس سے جنگ ممکن تو ہے، لیکن اتنی جلدی نہیں کہ ابھی سے افراتفری کا ماحول پیدا کر دیا جائے۔ سویڈن کی روس سے جنگ سے پہلے روس کو یوکرائن میں فتح، پھر اگلی جنگ کی تیاری کیلئے وقت، اور امریکہ کا یورپ کی پشت پناہی کرنے سے خاتمہ درکار ہوگا۔ شاید اسی سوچ اور زاویے سے جرمنی بھی موجودہ صورتحال دیکھ رہا ہے کیونکہ جرمنی نے روس سے جنگ کی تیاری کیلئے جو پلان بنایا ہے اس میں جنگ کا خدشہ آج سے ۶ سال بعد کا ہے۔ اس سب صورتحال میں جو چیز میری نظر میں آئی جس کی وجہ سے اس خبر کو عجیب کا ٹائٹل نوازا، وہ اس ساری صورتحال اور جنگِ عظیم اول کے بعد والے دور میں موجود ایک مماثلت ہے۔

جنگ عظیم اول کے بعد ۱۹۱۹ء میں معاہدہ ورسائے میں جرمنی کے تمام ہتھیار تباہ کر دیے گئے تھے اور مزید ہتھیار بنانے اور حاصل کرنے پر پابندی لگا دی گئی تھی، صرف اپنے دفاع کی حد تک جو چیزیں درکار ہوں ان کی اجازت تھی۔ مگر جرمنی نے معاہدے کے چند سال بعد ہی اس کی خلاف ورزی شروع کر دی جس کو سوائے ونسٹن چرچل کے کسی نے اہمیت نہیں دی۔ چرچل ۱۹۳۳ء سے حکومتوں کی توجہ اس مسئلہ پر لانے کی کوشش کرتے رہے کہ ہٹلر کی کمانڈ میں جرمنی دوبارہ سے تیاری پکڑ رہا ہے اور جلد ہی حملہ آور ہونے والا ہے۔ لیکن کسی نے چرچل کی بات پر توجہ نہ دی۔ نیول چیمبرلین، جو کہ چرچل سے پہلے ۱۹۳۷ء سے ۱۹۴۰ء تک برطانیہ کے وزیر اعظم رہے، کے چرچل کے بارے میں الفاظ ’’جنگ کا شوقین ہٹلر نہیں چرچل ہے‘‘ آج بھی تاریخ کی کتابوں میں موجود ہیں۔ اس وقت کے حکمرانوں کے خوابوں میں بھی جرمن حملے کا تصور نہیں تھا کہ وہ تو ابھی شکست کھا کر گرا ہے، اٹھنے میں تو بہت وقت لگے گا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ۱۹۴۰ء میں جرمنی نے حملہ آور ہو کر صرف چھ ہفتوں میں فرانس کے ساتھ ساتھ تین اور ممالک پر قبضہ کر لیا۔

آج بھی اس وقت کی طرح یورپ اپنی امیدیں امریکہ سے جوڑے بیٹھا ہے مگر دوسری جنگِ عظیم کے امریکہ اور آج کے امریکہ میں فرق ہے۔ ایک فرق بتاتا چلوں کے اس وقت امریکہ کی مکمل سپورٹ یورپ کو حاصل تھی جس کی وجہ سے جنگِ عظیم میں ان کو کامیابی ملی۔ لیکن اب کے امریکہ نے چائنہ سے لڑنے کیلئے جنوبی کوریا اور جاپان کو، اور مسلمانوں سے لڑنے کیلئے اسرائیل کو بھی سپورٹ دے رکھی ہے جس میں سب سے زیادہ ترجیح اسرائیل کو حاصل ہے۔ اس کا ثبوت اس وقت غزہ میں ہونے والی جنگ ہے کہ اس کے شروع ہوتے ہی یوکرائن سے امداد کا رخ اور توجہ اسرائیل کی طرف منتقل ہوگیا جس کی وجہ سے پچھلے ۲ مہینوں میں روس نے یوکرائن کو اتنا نقصان پہنچا دیا ہے جتنا سال کے شروع سے اکتوبر تک نہیں پہنچا پایا۔

انگلش لینگویج کورس کا انعقاد / الشریعہ لاء سوسائٹی کی افتتاحی تقریب

مولانا محمد اسامہ قاسم

چار ماہ پر مشتمل انگلش لینگویج کورس کا انعقاد

 الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے تمام درجات کے منتخب طلباء کرام کو چار ماہ پر مشتمل دو لیول کا انگلش لینگویج کورس کرایا گیا۔ ۸ جنوری ۲۰۲۴ء بروز سوموار اس کورس کی اختتامی تقریب ہوئی جس میں خصوصی طور پر استاد گرامی مولانا زاہد الراشدی صاحب تشریف لائے، بچوں کی حوصلہ افزائی کی اور کورس کے معلم سر عمران حیدر کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ ادارے کی طرف سے سر عمران حیدر کو خصوصی ایوارڈ بھی پیش کیا گیا۔

حضرت استاد جی نے اپنی گفتگو میں دینی تعلیم کے اداروں کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ مدارس دین کے قلعے ہیں اور آج کے معاشرہ میں دینی چہل پہل اور رونق انہی دینی مدارس کے دم قدم سے ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دینی تعلیم حاصل کرنے والوں کو آج کی مروجہ زبانیں بالخصوص انگریزی زبان اور دیگر ضروری علوم بھی حاصل کرنے چاہئیں، کیونکہ اس کے بغیر وہ دنیا تک خدا کا دین پہنچانے کا فریضہ مؤثر طریقہ سے سرانجام نہیں دے سکیں گے۔

تقریب کے اختتام پر کورس مکمل کرنے والے طلباء اور اساتذہ کرام کو سر عمران حیدر کے ادارے النور اکیڈمی کی جانب سے پرفارمنس شیلڈز اور سرٹیفکیٹس دیئے گئے۔

سر عمران حیدر پاکستان کے واحد انگلش لینگوئیسٹ ہیں جو نیچرل اپروچ میتھڈ (Natural Approach Method)  سے انگلش لینگویج سکھاتے ہیں۔ نیچرل اپروچ میتھڈ کوئی بھی زبان سیکھنے کا وہ طریقہ ہے جس سے انسان قدرتی طور پر بولنا سیکھتا ہے۔ اس طریقے سے انگلش سکھانے کے لیے نہ تو کوئی کتاب استعمال کی جاتی ہے نہ گرامر۔ نہ کوئی عمر کی حد ہے نہ ہی کسی قسم کی تعلیم کی ضرورت۔ سر عمران حیدر سے انگلش لینگوئیسٹک کورس کرنے والوں میں ڈاکٹر، انجینئر، صحافی، اساتذہ، سرکاری ملازمین، کالج اور سکول کے طلبہ و طالبات اور ہر شعبے س ےمنسلک لوگ شامل ہیں۔ لیکن سب سے زیادہ تعداد دینی مدارس کے طلبہ و طالبات کی ہے۔ افغانستان، کشمیر اور پاکستان کے چاروں صوبں سے طلبہ و طالبات یہ کورس کر چکے ہیں۔ سر عمران حیدر مختلف مدارس اور دیگر تعلیمی اداروں میں بھی خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور طلبہ و طالبات کو نیچرل اپروچ میتھڈ سے انگلش بولنا سکھا رہے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اگر ۱۵ لیکچرز کے بعد آپ کچھ بھی دیکھ کر، پڑھ کر، سن کر، یا سوچ کر اسے انگلش میں بیان کرنے کے قابل نہ ہوں تو اس کورس کی کوئی فیس نہیں ہو گی۔

آپ بھی اپنے مدارس، سکولز اور کالجز میں طلبہ و طالبات کو نیچرل اپروچ میتھڈ سے کتابوں، گرامر اور رٹے کے بغیر انتہائی مختصر عرصے میں خود انگلش بولنے اور لکھنے کے قابل بنائیں، جس کے بعد ان شاء اللہ انہیں ساری زندگی کبھی انگلش میں کوئی چیز یاد نہیں کرنا پڑے گی بلکہ وہ اسے خود انگلش میں بول اور لکھ سکیں گے۔

’’الشریعہ لاء سوسائٹی‘‘ کی افتتاحی تقریب

5 دسمبر 2023ء بروز منگل الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے کانفرنس ہال میں الشریعہ لاء سوسائٹی کی افتتاحی تقریب مولانا زاہد الراشدی صاحب کی زیر نگرانی منعقد ہوئی جس میں بطور مہمان سابق جج جناب شاہد اقبال ڈھلوں، رانا علی آفتاب ایڈوکیٹ، میاں معظم عبید ایڈووکیٹ، عبد الرؤف گھمن، مفتی واجد حسین، مولانا فضل الہادی، مولانا خالد صفدر، مولانا امجد محمود معاویہ شریک ہوئے اور پورے شہر سے وکلاء برادری، علماء کرام اور دینی احباب کی ایک بڑی تعداد نے تقریب میں شرکت کی۔

ڈاکٹر حافظ محمد رشید کی تعارفی گفتگو

تلاوت و نعت کے بعد ڈاکٹر حافظ محمد رشید نے الشریعہ اکادمی اور الشریعہ لاء سوسائٹی کا تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کی ابتدا ۱۹۸۹ء میں اس عزم کے ساتھ ہوئی تھی کہ دور حاضر کے مسائل اور چیلنجز کو سامنے رکھتے ہوئے اسلامی تعلیمات و احکام کو جدید اسلوب اور تقاضوں کے مطابق پیش کرنے کی کوشش کی جائے، عالم اسلام کے علمی و دینی حلقوں کے درمیان رابطہ و مفاہمت کے فروغ کی راہ ہموار کی جائے، اسلام دشمن لابیوں اور حلقوں کے تعاقب اور نشاندہی کا فرض انجام دیا جائے، اور دینی حلقوں میں فکری بیداری کے ذریعے سے جدید دور کے علمی و فکری چیلنجز کا ادراک و احساس اجاگر کیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ اکادمی کے زیر اہتمام متعدد مستقل اور جز وقتی آن لائن اور آن سائٹ تعلیمی سلسلے بھی جاری رہتے ہیں جن میں دینی و عصری تعلیم ایک ساتھ دی جاتی ہے الحمد للہ۔

الشریعہ لاء سوسائٹی کا تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ اس سوسائٹی کے اہم محرکات یہ ہے کہ

الشریعہ لاء سوسائٹی کا دائرہ کار بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے جہاں تک ممکن ہوا اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں گے کہ عدالتی و قانونی نظام سے آگاہی کے لئے اہم اقدامات کریں اور اس حوالے سے

جناب میاں معظم عبید ایڈووکیٹ کا خطاب

الشریعہ لاء سوسائٹی کے چیئر پرسن جناب میاں معظم عبید ایڈووکیٹ نے اپنی گفتگو میں کہا کہ مجھے فخر ہے کہ میرے بیک گراؤنڈ میں دینی مدرسہ ہے، میں نے دونوں ماحول دیکھے ہیں اور بچپن سے اب تک علماء اور وکلاء دونوں حلقوں سے وابستہ ہوں، میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ میں ایک طویل عرصہ سے الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کی ٹیم کا حصہ ہوں، چند سال قبل استاد گرامی مولانا زاہد الراشدی صاحب نے حکم فرمایا کہ اپنی ٹیم کے ہمراہ کشمیر کا عدالتی نظام وزٹ کریں اور وہاں کے سماجی مسائل کے حل کا طریقہ کار دیکھ کر آئیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے کشمیر کا سفر کیا اور وہاں کے عدالتی نظام کا تعارف اور طریقہ کار معلوم کیا تو یہ جان کر خوشی ہوئی کہ وہاں کے مسائل صرف ایک جج ہی نہیں سنتا بلکہ سیشن جج اور ضلعی قاضی ایک ساتھ بیٹھ کر معاملہ سنتے ہیں، ملکی نظم عدل اور شرعی نقطہ نظر کو مدنظر رکھتے ہوئے قرآن و حدیث کی روشنی میں فیصلہ کیا جاتا ہے، یہ وہاں کا قابل تحسین عمل ہے، اگر ایسا وہاں ہو سکتا ہے تو ہم بھی اس کی عملی ترتیب کی کوشش کر سکتے ہیں۔ اسی کوشش میں یہ عملی فورم آپ کے سامنے ہے ہم ان شاء اللہ ایسی ترتیب بنا رہے ہیں کہ جہاں وکلاء کو علماء کرام اور مفتیان عظام کی ضرورت ہوگی ہم ان سے رابطہ کریں گے، اور اگر علماء کرام کو کسی معاملے میں وکلاء سے تعاون کی ضرورت ہوگی تو ان شاء اللہ وکلاء برادری بھی حاضر ہوگی۔

حضرت علامہ زاہد الراشدی مدظلہ کا خطاب

اختتامی خطاب کرتے ہوئے مولانا زاہد الراشدی صاحب کا کہنا تھا کہ اسلامی قانون کے ایک طالب علم اور اسلامائزیشن کی جدوجہد کے ایک کارکن کے طور پر اس حوالے سے یہی کہوں گا کہ آج میرے ایک خواب کی تعبیر ہوتی نظر آرہی ہے جس کا اظہار میں بارہا مقامات پر کر چکا ہوں کہ ملکی و بین الاقوامی قوانین اور شرعی نقطہ دونوں کے باہمی اشتراک کے لیے ایک ’’ورکنگ گروپ‘‘ قائم ہونا چاہیے جس میں سیشن کورٹس کی سطح کے جج صاحبان، دینی مدارس میں فقہ و حدیث کا کم از کم بیس سالہ تجربہ رکھنے والے مدرسین، اور اسی سطح کے وکلاء صاحبان کو شامل کیا جائے، جو متعلقہ مسائل اور قوانین کا تفصیلی اور شق وار جائزہ لے کر انہیں مؤثر بنانے کے لیے تجاویز دیں۔ آزاد کشمیر میں چونکہ سیشن جج اور ضلع قاضی مل کر مقدمات کا فیصلہ کرتے ہیں اس لیے ان کا عملی تجربہ زیادہ ہے اور ’’ورکنگ گروپ‘‘ میں ایسے جج صاحبان اور قاضی حضرات کی شمولیت زیادہ مفید ہو سکتی ہے۔ اس لیے عدالتی نظام کو جاننے سمجھنے والے اور دینی مدارس کے علماء کرام کا باہمی مل بیٹھنا اور الشریعہ لاء سوسائٹی کے ٹائٹل سے باقاعدہ عملی ورک کا آغاز کرنا میرے لئے انتہائی مسرت کا سبب ہے، ڈاکٹر معظم محمود بھٹی اور ان کی پوری ٹیم کے لیے دعا گو ہوں کہ باری تعالیٰ ان مقاصد میں کامیابی عطا فرمائے۔

تقریب کا اختتام مولانا ریاض جھنگوی صاحب کی دعا سے ہوا۔


فلسطین : ۷ اکتوبر ۲۰۲۳ء سے اب تک کے اعداد و شمار

الجزیرہ

 اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، بشمول ہسپتالوں کے قریب اور محصور علاقہ  کے جنوب میں، جہاں زمینی کارروائیاں تیز ہو رہی ہیں۔

غزہ

غزہ میں 26 جنوری کو دوپہر 1 بجے تک ہلاکتوں کے تازہ ترین اعداد و شمار یہ ہیں :

ہلاک: کم از کم 26,083 افراد، بشمول:

زخمی: 64,487 سے زیادہ، بشمول کم از کم:

لاپتہ: 8,000 سے زیادہ

مقبوضہ مغربی کنارے

مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی وزارت صحت کے تازہ ترین اعداد و شمار درج ذیل ہیں۔

ہلاک: کم از کم 370 افراد، بشمول:

زخمی: 4,250 سے زیادہ

اسرائیل

اسرائیل میں، حکام نے ہلاکتوں کی تعداد 1,405 سے کم کرکے 1,139 کردی۔

ہلاک: تقریباً 1,139 افراد

زخمی: کم از کم 8,730

Pakistan’s National Stability and Integrity

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

Following are the excerpts from the speech of Maulana Zahid ur Rashidi at Istahkam-e-Pakistan Seminar held by Markazi Ulema Council of Pakistan
on Jan 19, 2024. The topic of discussion was the integrity and stability of Pakistan from the lens of five relevant circles with a sense of obligations and imperatives under prevailing circumstances.
❶ The first circle comprises ideological character, cultural distinctiveness, and Islamic identity as the basic purpose of the creation of Pakistan. This first circle is not just threatened but is currently under heavy fire. All over the world and within the country there is a lobbying activity to this end. Both international secular lobby and similar elements inside Pakistan are completely organized to snatch away the Islamic ideological identity and cultural basis of Pakistan. I have not seen the secular entity so much organized and cohesive with continuous efforts in the last 50 years as it is today.
❷ The second circle is the territorial integrity of Pakistan that involves three points. First, the geography of Pakistan is still incomplete unless the occupied Kashmir is brought back as the part and parcel in full sense. The geographical boundary determined on the Pakistan movement that proposed the name of Pakistan is still incomplete without Kashmir, and shall stay as such unless Kashmir is gained back. Second, we should never forget that on the front of geographical integrity we have already faced defeat in 1970-71. The nation got divided in two parts and we could not defend our national integrity in whatever shape we originally inherited. We experienced the first jolt then and now we are waiting for the second one. The conditions are being laid out to trigger the second tragedy of the same order against which we seek Allah’s mercy. To this end, we all need awareness on why Pakistan got divided and what factors and characters caused the mishap. The national document of Hamud-ur-Rehman report is on record to explain the mishap. I would appeal to all institutions and stakeholders, social segments, political leadership, and religious leaders to thoroughly study the report as to what blunders of ours caused the division of the nation into two parts. We need introspection if we are not committing the same mistakes over again. As we speak, our geographical integrity is challenged; we experienced a big jolt in the past and preparations for the next one are in the making. So, there is a need to understand the factors that broke apart our geographical integrity in the past. The Hamud-ur-Rehman Commission report could provide us an opportunity to look back on events and factors again to learn from our historical mistakes.
❸ The third circle is the national unity of Pakistan. The first critical element in this circle is the social and ethnic integrity. This demands the unity of all racial, social and ethnic diversities that exist in Pakistan such as Punjabi, Sindhi, Pashtun, Saraiki, Baluchi, etc. The ethnic integrity in Pakistan is especially under target, and the intensity is increasing day by day. The second element is linguistic integrity. Since independence till today, we are still short to enforce Urdu as the national language. Throughout the country, English or regional languages are prevalent in all official transactions. The need and importance of regional languages cannot be ruled out but Urdu is the established constitutional national language of Pakistan. Specifically, Urdu was determined by Quaid-e-Azam as the official state language cohesive enough to unify the entire nation. Despite above, Urdu is yet to be fully enforced in our state offices. The third element is the sectarian integrity, involving shia, sunni (deobandi, barailvi), etc., as of prime importance to bringing sectarian harmony within all religious groups. The fourth element comprises regional integrity of communities that is critical to the larger national integrity and stability. This needs to be highlighted that no particular sect, language, ethnic group, or region could undermine the existence of other groups. As a nation, we need to create cohesion and balance for mutual existence as our primal responsibility.
❹ The fourth circle is our national sovereignty. Pakistan needs to get out of the dictation of the Western powers in order to appoint its political and institutional leaders. The country needs to break apart from the hegemony of IMF, World Bank and other global organizations and nations. We need to get back our political and economic autonomy that we lost to the external entities. Currently, our economic control is not in our hands; we are like a puppet moving along with the deft fingers of the puppeteer.
❺ The fifth circle is the regional status and importance of Pakistan in South Asia. We, the Muslims, have ruled for 1200 years and earn a rightful place in this region. We have the backing of a strong historical ideological and cultural identity as a regional power in South Asia (Pakistan, India, Bangladesh, Burma). The muslims have yet to play their significant role and contribution to this region. Our leadership role during 1857 was taken away, and since then we have been unable to regain the power status. But at least in the shape of Pakistan we reclaimed the title to some degree, and now we are being cornered again at the regional level. Today, the agenda of the international powers is to inflict the hegemony of India in South Asia. This means threatening to rob away the Islamic ideology, Muslim identity, and our historical role and importance in this region. The attack is coming from all sides—West, East, North and South—to put Pakistan and its Islamic foundation under complete domination.
In conclusion, we need to be vigilant in all 5 circles mentioned above. It is the key responsibility of Ulema-e-Kiram in Pakistan, first to do whatever in guarding the ideological identity and national integrity. Next, we need to help and support our state institutions, and not just that we also need to guide them in policy making and managing future implications. In the end, it is a duty upon us all to identify and warn the state and nation against looming issues and threats to avoid another Hamud-ur-Rehman Commission.
I would end with Alhamdulillah as the alertness and awareness are all present among our people and Ulema, although there is a gap of positive networking and organized efforts. May Allah provide us with blessings to bring strength, stability, and sustainability to the Islamic Democratic Pakistan in the map of the world.

——————————————
Prof. Muhammad Imran Hameed works as Assistant Professor at Air University, Islamabad. He teaches the subject areas of Management with an interest in national and global politics and its impact upon business environment.

مسئلہ فلسطین، قومی انتخابات، وطن عزیز کا اسلامی تشخص

مولانا حافظ امجد محمود معاویہ

پاکستان شریعت کونسل پنجاب کی مجلسِ عاملہ اور مختلف اضلاع کے ذمہ داران کا اہم اجلاس مرکزی جامع مسجد شیرانوالہ باغ گوجرانوالہ میں صوبائی امیر مفتی محمد نعمان پسروری کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ جس میں مسئلہ فلسطین، قومی انتخابات، اور وطن عزیز کے نظریاتی اسلامی تشخص، اور دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال ہوا۔ شرکائے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان شریعت کونسل کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی نے سب سے پہلے مسئلہ فلسطین کے حوالے سے عالمِ اسلام کی بے حسی پہ تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عرب اسلامی ممالک سمیت ہم اسرائیلی جارحیت اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزیوں پر صرف اظہار مذمت کر کے زبانی جمع خرچ پہ مصروف ہیں۔ عملی اقدامات عالمِ اسلام کی طرف سے اسرائیل کے خلاف نظر نہیں آرہے۔ ہمیں قومی سطح پہ اپنی طرف سے فلسطین کے ساتھ یکجہتی جاری رکھتے ہوئے امت میں اسرائیلی جارحیت و بربریت کو بے نقاب کرتے رہنا چاہیے۔

اجلاس میں فلسطین کے حوالے سے امیر مرکزیہ مفتی محمد رویس خان ایوبی کی طرف سے ماہِ رجب کے حوالے سے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزۂ معراج اور بیت المقدس کی آزادی بارے عنوانات کو فروغ دیتے ہوئے زیادہ سے زیادہ پروگرامات کو ترتیب دینے کی مہم کا خیر مقدم کیا گیا۔

علامہ زاہد الراشدی نے شرکائے اجلاس سے خطاب میں قومی انتخابات میں مذہبی جماعتوں اور دینی حلقوں کے آپس میں بیٹھ کر مشترکہ ضابطۂ اخلاق اور لائحۂ عمل طے کرنے کی ضرورت پہ زور دیا، اور قومی اور صوبائی اسمبلی کے امیدواروں سے پاکستان کے نظریاتی اور اسلامی تشخص کو ہر سطح پر اجاگر رکھنے کے حوالے سے حلف نامے پہ دستخط لینے کی مہم کو فروغ دینے کے لیے تجویز دی کہ علاقہ کے مشترکہ دینی حلقوں کی ہم آہنگی سے امیدواروں سے وطنِ عزیز میں نفاذِ اسلام، اور آئینِ پاکستان کو شریعت کی روشنی میں قائم رکھتے ہوئے مکمل نافذ کرنے کی جدوجہد کی یقین دہانی بطور حلف لینی چاہیے۔ اسی طرح ناموسِ رسالت اور ختم نبوت کے قوانین کے تحفظ اور قومی خود مختاری اور وطنِ عزیز کی آزاد پالیسی کے لیے عملی اقدامات کو ہر سطح پر یقینی بنانے کی حلفاً یقین دہانی لی جائے۔ امیدواروں سے اس بات پر دو ٹوک حلف لیا جائے کہ وہ دستور کی پابندی کرتے ہوئے خلافِ شریعت کسی بل اور پالیسی کی حمایت نہیں کرے گا، بلکہ اس کے مقابلے میں شریعت اور اسلامی دفعات اور دستور اور آئین پاکستان کی حمایت میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑے گا۔

علامہ راشدی صاحب نے مزید کہا کہ ہمیں دینی حلقوں کی سیاست کو عوامی سطح پر متحد ہو کر عملی جامہ پہنانے کے لیے بھی کوشش کرنا ہو گی کہ ہمارا مذہبی ووٹ تقسیم ہو کر ضائع نہ ہو۔ ہم ایک دوسرے کی صلاحیت اور اکثریتی ووٹ کی حقیقت کو ملحوظ رکھتے ہوئے کسی ایک مذہبی امیدوار پہ متفق ہونے کی طرف بھی توجہ دیں۔

اجلاس میں تمام نمائندگان نے مولانا زاہد الراشدی کی بیان کردہ ہدایات کو قابلِ عمل قرار دیتے ہوئے اسی اعلامیہ اور بیانیہ کو زیادہ سے زیادہ عام کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ شرکائے اجلاس نے حالیہ دنوں میں ایران کی طرف سے پاکستان کے علاقے میں کی جانے والی جارحیت پہ بھرپور مذمت کا اظہار کیا اور اس کے فوری جواب میں پاکستان کی مسلح افواج اور سلامتی کے اداروں کی بروقت جوابی کارروائی کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے وطنِ عزیز پاکستان کی سالمیت کے حوالے سے علماء کرام کی طرف سے مسلح افواج اور تمام اداروں کے ساتھ یکجہتی کا اعلان کیا، اور ہر قسم کی بیرونی جارحیت کا متحد ہو کر اور ڈٹ کر مقابلہ کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

اجلاس میں مولانا قاری محمد عثمان رمضان، مولانا حافظ امجد محمود معاویہ، مفتی نعمان احمد، مفتی زین العابدین، مولانا عبید الرحمن معاویہ، پروفیسر منیر احمد، پروفیسر محمد زاہد، ڈاکٹر عبدالواحد قریشی، مولانا طلحہ عثمان، مولانا احسن ماجدی، مولانا نصر الدين خان عمر، مولانا فضل الہادی، مولانا خبیب عامر، مولانا زبیر جمیل، مقصود احمد باجوہ، مولانا خبیب عامر، مولانا شیراز نوید، عبدالقادر عثمان، حافظ شاہد میر، حافظ فضل اللہ راشدی، محمد بن جميل و دیگر نے شرکت کی۔

شرکائے اجلاس نے پاکستان شریعت کونسل میں نامور علماء کرام مفتی محمد جمیل اور مفتی محمود الحسن کی شمولیت کا بھی خیر مقدم کیا، پاکستان شریعت کونسل لاہور کے بزرگ راہنما مولانا ڈاکٹر عبدالواحد قریشی صاحب کی دعا سے اجلاس اختتام پذیر ہوا۔

اَز: مولانا حافظ امجد محمود معاویہ،  صوبائی سیکرٹری اطلاعات پاکستان شریعت کونسل پنجاب