2021

جنوری ۲۰۲۱ء

عقل حاکم اور عقل خادم کا امتیازمحمد عمار خان ناصر
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۷۲)ڈاکٹر محی الدین غازی
خدا کی رحمت اور عدل: ایک حقیقت کے دو نامڈاکٹر عرفان شہزاد
سودی نظام کے خلاف جدوجہد کا نیا مرحلہمولانا ابوعمار زاہد الراشدی
حورانِ بہشتی کے قرآنی اوصاف وخصائلمولانا محمد عبد اللہ شارق
فتوی و قضاء میں فرق اور مسئلہ طلاق میں بے احتیاطیمفتی عبد اللہ ممتاز قاسمی سیتامڑھی
مدرسہ طیبہ میں سالانہ نقشبندی اجتماعمولانا محمد اسامہ قاسم
تعلیمی نظام اور تحریکی تقاضےمولانا ابوعمار زاہد الراشدی

عقل حاکم اور عقل خادم کا امتیاز

محمد عمار خان ناصر

زنا یعنی جنسی تسکین کو معاشرتی حدود وقیود سے مقید کیے بغیر جائز قرار دینے کے حوالے سے بعض مسلمان متکلمین نے  یہ دلچسپ بحث اٹھائی ہے کہ شرعی ممانعت سے قطع نظر کرتے ہوئے، کیا یہ عمل عقلا بھی قبیح اور قابل ممانعت ہے یا نہیں؟ اس ضمن میں حنفی فقیہ امام جصاص اور شافعی فقیہ امام الکیا الہراسی کے ہاں  دو مخالف زاویہ ہائے نگاہ  کی ترجمانی ملتی ہے۔ جصاص کا کہنا ہے کہ زنا عقلا قبیح ہے، کیونکہ اس کی زد بچے کے نسب اور کفالت وغیرہ کے معاملات پر پڑنا ناگزیر ہے، اس لیے ان سوالات سے مجرد کر کے مرد وعورت کے باہمی جنسی استمتاع کو درست قرار دینا انسانی معاشرے کے مصالح کے لحاظ سے عقلا بھی درست نہیں۔

الکیا الہراسی اس پر سوال اٹھاتے ہیں کہ نسب کے ثبوت کی ضرورت کچھ شرعی احکام پر عمل کے لیے پیش آتی ہے، اگر وہ نہ ہوں تو محض عقلا نسب کی پہچان لازم نہیں۔ رہا یہ سوال کہ پھر بچے کی پرورش اور کفالت کا کون ذمہ دار ہوگا تو الکیا الہراسی کہتے ہیں کہ اگر بچے کا باپ معلوم ہو تو بھی اس کے نطفے سے بچے کی پیدائش ہونے سے عقلا یہ لازم نہیں آتا کہ اس کی کفالت کا بھی وہی ذمہ دار ہو۔ یہ ذمہ داری بھی شرعا ہی لازم ہے، جبکہ شرعی حکم نہ ہونے کی صورت میں لوگ دوسرے عقلی طریقوں سے اس کی تدبیر کرنے کے پابند ہوتے کہ نسل انسانی کے بقا کو کیسے یقینی بنائیں۔ اس استدلال کی روشنی میں الکیا الہراسی یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ اگر شرعی حکم نہ ہو تو زنا عقلا قبیح نہیں، بلکہ بالکل جائز ہے، کیونکہ عورت کی رضامندی سے اس سے جنسی استمتاع کرنے میں نہ تو دونوں میں سے کسی کا نقصان ہے اور نہ یہ ظلم ہے۔ اس کی تائید میں الہراسی اہل عرب کے عرف کا حوالہ بھی دیتے ہیں جن کے ہاں زمانہ جاہلیت میں زنا اور اس سے حصول اولاد کی مختلف صورتیں رائج تھیں۔

جصاص اور الکیا الہراسی کے مذکورہ اختلاف سے ہمارے سامنے عقل کی ان دو نوعیتوں کے امتیاز کو سمجھنے کی اہمیت واضح ہوتی ہے جس کا ذکر معاصر عرب فلسفی عابد الجابری نے اپنی معروف کتاب ’’تکوین العقل العربی“ میں فرانسیسی فلسفی آندرے لالاند کے حوالے سے کیا ہے۔ لالاند نے عقل کی ان دو صورتوں کو فرانسیسی میں La raison constituante اور La raison constituee کا عنوان دیا ہے جس کا ترجمہ عابد الجابری عربی میں ’’العقل السائد“ اور ’’العقل الفاعل“سے کرتے ہیں۔ اردو میں ہم انھیں، بالترتیب، ’’ عقل حاکم“ اور ’’عقل خادم“سے تعبیر کر سکتے ہیں۔ ’’ عقل حاکم“ سے مراد وہ تمام اساسی تصورات، عقائد اور اصول وقواعد ہوتے ہیں جو کسی قوم میں عمومی طور پر مانے جاتے ہیں، جبکہ ان کی روشنی میں زندگی کے روز مرہ امور میں جس عقل کو استعمال کرتے ہوئے مخصوص نتائج تک پہنچا جاتا ہے، وہ ’’ عقل خادم“ ہوتی ہے۔

دوسرے لفظوں میں ’’ عقل خادم“ صرف اخذ نتائج کی صلاحیت کا عنوان ہے جو انسان کو جانوروں سے ممتاز کرتی ہے اور یہ صلاحیت تمام انسانوں میں ایک جیسی اور مشترک ہوتی ہے، جبکہ ’’ عقل حاکم“  کائنات، زندگی اور معاشرت وغیرہ سے متعلق ان بنیادی تصورات کا مجموعہ ہوتی ہے جنھیں کوئی قوم یا تہذیب مختلف اسباب سے اختیار کر لیتی ہے اور پھر انھی کے تحت تمام جزوی نتائج اخذ کرتی چلی جاتی ہے۔ عقل خادم کے برعکس، عقل حاکم کا سارے انسانوں میں مشترک ہونا ضروری نہیں، بلکہ مختلف قوموں اور تہذیبوں کی عقل حاکم مختلف ہو سکتی ہے۔ جب ہم ’’یونانی عقل“، ’’مسلم عقل“ اور ’’مغربی عقل“ جیسی تعبیرات استعمال کرتے ہیں تو اس سے مراد یہی عقل حاکم ہوتی ہے، کیونکہ عقل خادم کی سطح پر ایسے کسی قومی یا تہذیبی امتیاز کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔

اس تنقیح کی روشنی میں زنا کے عقلی جواز یا عدم جواز کے حوالے سے جصاص اور الکیا الہراسی کے اختلاف کو سمجھیے تو جصاص دراصل ’’عقل  خادم“ کی سطح پر زنا کی عقلی قباحت کو واضح کرنا چاہ رہے ہیں جس میں نسب کی حفاظت، رشتوں کی حرمت اور صلہ رحمی وغیرہ کی ذمہ داریاں پہلے سے تسلیم شدہ ہیں یعنی ’’ عقل حاکم“ کا حصہ ہیں اور ان کو مان لینے کے بعد زنا کی قباحت واقعتا عقلی طور پر ثابت ہوتی ہے۔ اس کے برخلاف الکیا الہراسی سوال کو عقل متحرک سے اٹھا کر ’’ عقل حاکم“ کی سطح پر لے جاتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ اس سطح پر اگر شریعت کے حکم کو فیصلہ کن حیثیت میں نہ مانا جائے تو بتائیے، کون سی چیز ہے جو صرف عقل کی بنیاد پر ایک اساسی اصول کے طور پر یہ طے کرتی ہو کہ نسل انسانی کی بقا کے لیے نسب کی حفاظت اور خاندان کی تشکیل کا طریقہ ہی واحد اور لازم طریقہ ہے؟

لالاند نے ’’عقل حاکم“ اور ’’عقل خادم“ کا فرق واضح کرتے ہوئے ایک بہت اہم بات یہ بھی کہی ہے کہ ’’عقل حاکم“ کی تشکیل بھی ’’عقل خادم“ ہی کے ذریعے سے ہوتی ہے، یعنی کوئی قوم مشاہدہ اور استنتاج واستنباط کی مشترک انسانی صلاحیت کو بروئے کار لاتے ہوئے حیات وکائنات سے متعلق کچھ بنیادی نتائج تک پہنچتی ہے۔ پھر اصول وتصورات کا یہ مجموعہ اس کے لیے ’’عقل حاکم“ کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے اور بعد کے مراحل میں اس کی ’’عقل خادم“ خود اپنی ہی تشکیل دی ہوئی ’’عقل حاکم“ کے تحت اور اسی کے دائرے میں مسائل واحکام اخذ کرنے کا وظیفہ انجام دیتی رہتی ہے۔ تفہیم کے لیے، عقل کے اس دوہرے عمل کو دستوری زبان میں آئین وضع کرنے اور پھر اس کی روشنی میں قانون سازی کے عمل سے تشبیہ دی جا سکتی ہے۔ ایک خود مختار پارلیمان کسی نئے ملک کی تشکیل کے مرحلے میں ملک کے نظم ونسق سے متعلق ایک بنیادی دستوری ڈھانچہ وضع کرتی ہے جو اس کی اپنی ہی تخلیق ہوتا ہے، اور پھر اس کے بعد وہی پارلیمان انھی دستوری حدود وقیود کے دائرے میں قانون سازی کے عمل کو جاری رکھتی ہے۔

یہاں دو سوال اہم ہیں:

ایک یہ کہ اگر عقل خادم کسی بھی مرحلے میں معطل نہیں ہوتی اور ’’عقل حاکم“ کی تشکیل بھی اسی کی مرہون منت ہوتی ہے تو پھر عقل حاکم اور عقل خادم  کے امتیاز کی سرے سے ضرورت اور معنویت ہی کیا ہے؟ یعنی اس سارے عمل کو ہم سادہ طور پر ’’عقل “ ہی کی سرگرمی سے کیوں تعبیر نہیں کر دیتے؟

دوسرا یہ کہ عقل خادم کی تعریف اگر یہ ہے کہ یہ ’’مانے ہوئے“ مفروضات سے نتائج اخذ کرنے کی صلاحیت کا نام ہے تو سوال یہ ہے کہ ’’عقل حاکم“ کی تشکیل کے بعد تو ’’عقل خادم“ کے لیے نقطہ حوالہ (یعنی پوائنٹ آف ریفرنس) ’’عقل حاکم“ بن جاتی ہے، لیکن عقل حاکم کی تشکیل کرتے ہوئے عقل کن بنیادوں پر انحصار کرتی ہے، یعنی خود عقل حاکم کی تشکیل کا عمل، عقل کن اصولوں کی روشنی میں انجام دے پاتی ہے؟

پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ اگرچہ عقل خادم، ان دونوں مرحلوں میں کام کر رہی ہوتی ہے، لیکن دونوں صورتوں میں اس کے تحرک کی نوعیت جوہری طور پر مختلف ہوتی ہے۔ عقل حاکم کے دائرے میں آنے والے سوالات کو ہم دو حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں:

ایک حصہ وہ ہے جس میں عقلی تحرک کی غایت درپیش سوالات کو مستقل بنیادوں پرطے کرنا ہوتا ہے اور یہ سرگرمی وجودی سطح پر اوربہت ہی فوری نوعیت کی ہوتی ہے۔ عقلی سرگرمی کا یہ ہنگامی پن انسانی شعور کی ساخت اور اس کے وجودی احوال، دونوں سے پیدا ہوتا ہے۔ انسانی شعور زندگی کی معنویت سے متعلق کچھ بنیادی سوالات کا فوری اور فیصلہ کن جواب چاہتا ہے اور اسے زیادہ لمبے عرصے تک موخر رکھنے کا تحمل نہیں کر سکتا۔ تاخر کا یہ مرحلہ وجودی بے چینی کا مرحلہ ہوتا ہے جسے مستقل طور پر برداشت کرنا شعور انسانی کی طاقت سے باہر ہے۔ پھر اپنے وجودی احوال کے لحاظ سے انسان کو ٹھوس مادی نوعیت کے مطالبات سے نبرد آزما ہونا پڑتا ہے اور ان کے روبرو اپنی سعی وکاوش کو رو بہ عمل کرنے کا تقاضا بھی یہی ہوتا ہے کہ بنیادی سوالات کا ایک متعین جواب طے کیا جا چکا ہو۔

پس ایک تارک الدنیا سادھو یا ایک محو تفکر فلسفی تو یہ کر سکتا ہے کہ ہمیشہ ان سوالات پر مراقبے کی کیفیت میں رہے، لیکن معاشرت کی سطح پر زندگی کا تسلسل قائم رکھنے کے تقاضے بنیادی سوالات کے حوالے سے گومگو کی کیفیت میں پورے نہیں کیے جا سکتے۔ چنانچہ اس مرحلے پر عقل مجبور ہوتی ہے کہ سوالات کا ایک جواب طے کرے اور پھر اسے ’’مفروغ عنہ“ قرار دے کر اگلے مراحل کی طرف متوجہ ہو جائے جو لامتناہی اور تسلسل وتغیر سے عبارت ہیں۔ جوابات کا یہ مجموعہ ’’عقل حاکم“ کا وہ بنیادی حصہ قرار پاتا ہے جو اگرچہ عقل خادم ہی کی سرگرمی سے وجود پذیر ہوتا ہے، لیکن خود عقل خادم انھیں ایک دفعہ طے کر کے اور مابعد کی ساری سرگرمیوں کے لیے بنیاد کا درجہ دے کر آگے بڑھ جانا چاہتی ہے، اس لیے اسے ایک الگ کیٹگری شمار کرنا منطقی اصولوں کا ایک لازمی مقتضا ہے۔

عقل حاکم کے دائرے میں تصورات ومسلمات کا دوسرا حصہ وہ ہوتا ہے جس کی تشکیل پہلے حصے کی طرح urgent نہیں ہوتی، بلکہ اس کے لیے ایک طویل تاریخی سفر طے کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ مثال کے طور پر عالم غیب پر یقین، انسانی معاملات کا کسی ماورا ہستی کے ارادہ ومنشا کے تابع ہونا اور موت کے بعد کسی نہ کسی صورت میں زندگی کے تسلسل وغیرہ جیسے تصورات اگر عقل حاکم کے پہلے دائرے سے متعلق ہیں تو انسانی معاشرت کی تنظیم کی بنیاد بننے والے مختلف تصورات اور اصول واقدار کو ہم عقل حاکم کے دوسرے دائرے میں شمار کر سکتے ہیں جنھوں نے معاشرت کے ارتقاء کے ساتھ ساتھ خاص شکل اختیار کی ہے اور بسا اوقات صدیوں کے سفر کے بعد ان تصورات کے مجموعے نے وہ خاص سانچہ بنا دیا جسے کسی قوم یا تہذیب کا امتیازی انداز فکر یا طرز زندگی سمجھا جاتا ہے۔

دوسرا سوال جو ہماری موجودہ گفتگو کے سیاق میں بہت بنیادی اہمیت کا حامل ہے، یہ ہے کہ ’’عقل حاکم“ کی تشکیل کے لیے وہ کون سے شعوری وسائل ہیں جو عقل خادم کو دستیاب ہوتے ہیں اور وہ کون سے عوامل ہیں جو ان شعوری وسائل کی مدد سے متعین جوابات تک پہنچنے کے عمل کو ایک خاص رخ دینے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں؟ خاص طور پر یہ کہ انسانی شعور کے عمومی وسائل وآلات (وجدانی احساسات، جذبات، منطقی تصورات، محسوسات وتجربات) کے علاوہ مذہبی علم یا وحی کا اس میں کیا کردار ہو سکتا ہے یا تاریخی طور پر رہا ہے اور اس خاص ذریعہ علم کی، عام انسانی ذرائع علم کے ساتھ تعامل کی نوعیت کیا ہے؟

اس سوال کا جواب ٹھیک طریقے سے سمجھ لینا اس اختلاف کے ممکنہ حل کی بھی ایک کلید فراہم کرتا ہے جو عقل وشرع کے باہمی تعلق کے حوالے سے مسلمان متکلمین کے مابین پایا جاتا ہے۔ ہماری رائے میں اس بحث میں عقل حاکم اور عقل خادم  کا امتیاز بہت بنیادی ہے اور اس نکتے پر کماحقہ توجہ نہ دیے جانے کے باعث یہ سوال اسلامی علمیات میں کافی الجھ سا گیا ہے۔ ان شاء اللہ کسی آئندہ نشست میں اس پر نسبتا تفصیل سے کچھ معروضات پیش کی جائیں گی۔

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۷۲)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(222)    لِلَّذِینَ اَحسَنُوا فِی ھَذہِ الدُّنیَا حَسَنَۃ کا ترجمہ

یہ جملہ قرآن مجید میں دو مقامات پر آیا ہے۔ اس جملے میں ”فِی ھذِہِ الدُّنیَا“ کو اگر ”اَحسَنُوا“ سے متعلق مانیں گے تو ترجمہ ہوگا: جن لوگوں نے اس دنیا میں نیکی کی ان کے لیے نیک بدلہ ہے۔اور ”فِی ھذِہِ الدُّنیَا“ کو اگر ”حَسَنَۃ“ کی خبر مقدم مانیں گے تو ترجمہ ہوگا: ”جن لوگوں نے نیکی کی ان کے لیے اس دنیا میں نیک بدلہ ہے“۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عام طور سے اردو مترجمین نے دونوں جگہ الگ الگ ترجمہ کیا ہے:

(1) وَقِیلَ لِلَّذِینَ اتَّقَوا مَاذَا اَنزَلَ رَبُّکُم قَالُوا خَیرًا لِّلَّذِینَ اَحسَنُوا فِی ھذِہِ الدُّنیَا حَسَنَۃ وَلَدَارُ الآخِرَۃ خَیر وَلَنِعمَ دَارُ المُتَّقِینَ۔ (النحل: 30)

”دوسری طرف جب خدا ترس لوگوں سے پوچھا جاتا ہے کہ یہ کیا چیز ہے جو تمہارے رب کی طرف سے نازل ہوئی ہے، تو وہ جواب دیتے ہیں کہ ”بہترین چیز اتری ہے“، اِس طرح کے نیکوکار لوگوں کے لیے اِس دنیا میں بھی بھلائی ہے اور آخرت کا گھر تو ضرور ہی ان کے حق میں بہتر ہے بڑا اچھا گھر ہے متقیوں کا “۔(سید مودودی)

”جو لوگ نیکوکار ہیں ان کے لیے اس دنیا میں بھلائی ہے“۔ (فتح محمد جالندھری)

”جن لوگوں نے بھلائی کی ان کے لیے اس دنیا میں بھلائی ہے“۔ (محمد جوناگڑھی)

”جن لوگوں نے بھلائی کی راہ اختیار کی، ان کے لیے اس دنیا میں بھی بھلائی ہے“۔ (امین احسن اصلاحی)

”جنہوں نے اس دنیا میں بھلائی کی ان کے لیے بھلائی ہے“۔ (احمد رضا خان)

(2) قُل یَا عِبَادِ الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا رَبَّکُم لِلَّذِینَ اَحسَنُوا فِی ھذہِ الدُّنیَا حَسَنَۃ وَاَرضُ اللَّہِ وَاسِعَۃ إنَّمَا یُوَفَّی الصَّابِرُونَ اَجرَھم بِغَیرِ حِسَابٍ۔ (الزمر :10)

”کہہ دو کہ اے میرے ایمان والے بندو! اپنے رب سے ڈرتے رہو، جو اس دنیا میں نیکی کرتے ہیں ان کے لیے نیک بدلہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی زمین بہت کشادہ ہے صبر کرنے والوں ہی کو ان کا پورا پورا بے شمار اجر دیا جاتا ہے“ (جوناگڑھی)

”جن لوگوں نے اِس دنیا میں نیک رویہ اختیار کیا ہے ان کے لیے بھلائی ہے“۔ (سید مودودی)

”جنہوں نے اس دنیا میں نیکی کی ان کے لیے بھلائی ہے“۔ (فتح محمد جالندھری)

”جو اس دنیا میں نیکی کرتے ہیں ان کے لیے نیک بدلہ ہے“۔(محمد جوناگڑھی)

”جو لوگ اس دنیا میں نیکی کریں گے ان کے لیے (آخرت میں) نیک صلہ ہے“۔ (امین احسن اصلاحی)

”جنہوں نے بھلائی کی ان کے لیے اس دنیا میں بھلائی ہے“۔ (احمد رضا خان)

سورة الزمر والے جملے کا درست ترجمہ سورة النحل والے جملے کی روشنی میں متعین ہوجاتا ہے، کیونکہ وہاں اس کے بعد وَلَدَارُ الآخِرَۃ خَیر سے یہ بات طے ہوجاتی ہے کہ حَسَنَۃ سے مراد دنیا کی بھلائی ہے۔ سورة النحل کی درج ذیل آیت بھی اس کی تائید کرتی ہے:

وَالَّذِینَ ھاجَرُوا فِی اللَّہِ مِن بَعدِ مَا ظُلِمُوا لَنُبَوِّئَنَّھم فِی الدُّنیَا حَسَنَۃ وَلَاَجرُ الآخِرَۃ اَکبَرُ لَو کَانُوا یَعلَمُونَ۔ (النحل: 41)

”اور جن لوگوں نے ظلم سہنے کے بعد خدا کے لیے وطن چھوڑا ہم ان کو دنیا میں اچھا ٹھکانہ دیں گے۔ اور آخرت کا اجر تو بہت بڑا ہے۔ کاش وہ (اسے) جانتے“۔ (فتح محمد جالندھری، کاش کا لفظ اللہ کے لیے مناسب نہیں ہے۔)

اس جائزے میں ایک دلچسپ بات تو یہ سامنے آئی کہ اکثر مترجمین نے سورة النحل والے جملے کا ترجمہ تو سیاق کلام کے مطابق کیا ہے، لیکن تقریباً ان تمام مترجمین نے سورة الزمر والے جملے کا ترجمہ اس سے مختلف کردیا۔ اس سے بھی زیادہ دلچسپ بات یہ سامنے آئی کہ مولانا احمد رضا خان نے دونوں مقامات پر عام مترجمین سے مختلف ترجمہ کیا، یعنی پہلی آیت میں وہ ترجمہ کیا جو دوسروں نے دوسری آیت میں کیا، اور دوسری آیت میں وہ کیا جو دوسروں نے پہلی آیت میں کیا۔ سورة النحل میں سیاق کی واضح دلالت کے باوجود اس سے ہٹ کر ترجمہ کرنا حیر ت انگیزاتفاق ہے، جبکہ سورة الزمر میں وہی ترجمہ کیا ہے۔ سورة الزمر میں اکثر مترجمین نے جو ترجمہ کیا ہے، وہ اس آیت میں سیاق کلام کی دلالت سے مطابقت نہیں رکھتا ہے، کیونکہ اس جملے کے بعد ہی وَاَرضُ اللَّہِ وَاسِعَۃ آیا ہے، جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حَسَنَۃ  سے مراد دنیا کی بھلائی ہے۔

مولانا امانت اللہ اصلاحی کے نزدیک دونوں مقامات پر اس جملے کا درست ترجمہ یوں ہے: ”جن لوگوں نے نیکی کی ان کے لیے اس دنیا میں بھی نیک بدلہ ہے“۔ اس کی ایک دلیل تو سورة النحل کی مذکورہ بالا دونوں آیتیں ہیں۔ اس کے علاوہ ایک دلیل اور یہ ہے کہ دنیا تو ہے ہی دار العمل، اس لیے یہ کہنے سے کہ ،جس نے اس دنیا میں نیکی کی، کوئی نئی بات معلوم نہیں ہوگی، لیکن یہ کہنے سے کہ نیکی کرنے والے کو دنیا میں بھی نیک صلہ ملے گا، ایک نئی بات معلوم ہوتی ہے، اور وہ یہ کہ نیک لوگوں کے لیے آخرت کے صلے کے ساتھ دنیا میں بھی نیک صلہ ہے۔

(223)    زَوجَین کا ترجمہ

اردو میں جوڑا نر اور مادہ کے مجموعے کو کہتے ہیں، اور ان میں سے ہر ایک کو جوڑ کہتے ہیں، نر اور مادہ کے ایک جوڑے کو عربی میں زوجین کہتے ہیں۔ اس پہلو سے درج ذیل آیتوں کے مختلف ترجموں کا جائزہ لیا جاسکتا ہے:

(1) وَمِن کُلِّ شَیئٍ خَلَقنَا زَوجَینِ لَعَلَّکُم تَذَکَّرُونَ۔ (الذاریات: 49)

”اور ہر چیز کے ہم نے جوڑے بنائے ہیں، شاید کہ تم اس سے سبق لو“۔ (سید مودودی)

”اور ہم نے ہر چیز کے دو جوڑ بنائے کہ تم دھیان کرو“۔ (احمد رضا خان)

”اور ہر چیز کی ہم نے دو قسمیں بنائیں تاکہ تم نصیحت پکڑو“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اور ہم نے ہر چیز سے دو جوڑے پیدا فرمائے تاکہ تم دھیان کرو اور سمجھو“۔ (طاہر القادری)

(2) وَاَنَّہ خَلَقَ الزَّوجَینِ الذَّکَرَ وَالاُنثَیٰ۔ (النجم: 45)

”اور یہ کہ اسی نے جوڑا یعنی نر مادہ پیدا کیا ہے“۔ (محمد جوناگڑھی)

”اور یہ کہ اسی نے دو جوڑے بنائے نر اور مادہ“۔ (احمد رضا خان، نر اور مادہ ایک جوڑا ہوا)

(3) فَجَعَلَ مِنہ الزَّوجَینِ الذَّکَرَ وَالاُنثَیٰ۔ (القیامۃ :39)

”تو اس سے دو جوڑ بنائے مرد اور عورت“۔(احمد رضا خان)

”پھر اس سے مرد اور عورت کی دو قسمیں بنائیں“۔ (سید مودودی)

”پھر اس کی دو قسمیں بنائیں (ایک) مرد اور (ایک) عورت“۔ (فتح محمد جالندھری)

(4) حَتَّیٰ إِذَا جَاءَ اَمرُنَا وَفَارَ التَّنُّورُ قُلنَا احمِل فِیھا مِن کُلٍّ زَوجَینِ اثنَینِ۔ (ہود: 40)

”یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آگیا اور وہ تنو ر ابل پڑا تو ہم نے کہا ”ہر قسم کے جانوروں کا ایک ایک جوڑا کشتی میں رکھ لو“۔ (سید مودودی)

”یہاں تک کہ کہ جب ہمارا حکم آیا اور تنور اُبلا ہم نے فرمایا کشتی میں سوار کرلے ہر جنس میں سے ایک جوڑا نر و مادہ“۔ (احمد رضا خان)

(5) فَاسلُک فِیھا مِن کُلٍّ زَوجَینِ اثنَینِ۔ (المومنون: 27)

”تو اس میں بٹھالے ہر جوڑے میں سے دو “۔(احمد رضا خان، ہر ایک میں سے ایک جوڑا، نہ کہ ہر جوڑے میں سے دو)

”تو، تو ہر قسم کا ایک ایک جوڑا اس میں رکھ لے“۔ (محمد جوناگڑھی)

”تو سب (قسم کے حیوانات) میں جوڑا جوڑا (یعنی نر اور مادہ) دو دو کشتی میں بٹھا دو“۔ (فتح محمد جالندھری، یہاں بھی تعبیر مبہم ہوگئی ہے۔)

”تو تم اس میں ہر قسم کے جانوروں میں سے دو دو جوڑے (نر و مادہ) بٹھا لینا“۔ (طاہر القادری)

مذکورہ تمام آیتوں میں جن لوگوں نے دو جوڑے ترجمہ کیا ہے، وہ درست نہیں۔ قسمیں ترجمہ کرنا بھی صحیح نہیں ، کیونکہ یہاں صنفی تقسیم کو بتانا مقصود نہیں ہے بلکہ صنفی رشتے کو بتانا مقصود ہے جو لفظ زوجین سے ادا ہوتا ہے۔

(224)  ازواج کا ترجمہ

ازواج، زوج کی جمع ہے۔ قرآن مجید میں اس لفظ کا استعمال قسمیں بتانے کے لیے بھی کیا گیا ہے، اور کہیں شوہر اور کہیں بیوی کے لیے بھی کیا گیا ہے۔ درج ذیل تین مقامات پر ترجمے غور طلب معلوم ہوتے ہیں:

(1) ثَمَانِیَۃ اَزوَاجٍ مِّنَ الضَّانِ اثنَینِ وَمِنَ المَعزِ اثنَینِ۔ (الانعام: 143)

”(پیدا کیے) آٹھ نر و مادہ یعنی بھیڑ میں دو قسم اور بکری میں دو قسم“۔ (محمد جوناگڑھی)

”آٹھ قسم کے جوڑے ہیں“۔ (ذیشان جوادی)

”آٹھ قسم کے جوڑے پیدا کیے ہیں“۔ (محمد حسین نجفی)

”آٹھ قسم کے“۔ (فتح محمد جالندھری)

”چوپایوں کی آٹھ قسموں کو لو“۔ (امین احسن اصلاحی)

”آٹھ نرو مادہ، چوپایوں کے آٹھ جوڑ، چوپایوں کے چار جوڑے“۔

(2) وَاَنزَلَ لَکُم مِّنَ الاَنعَامِ ثَمَانِیَۃ اَزوَاجٍ۔ (الزمر: 6)

”اسی نے تمہارے لیے مویشیوں میں سے آٹھ نر و مادہ پیدا کیے“۔ (سید مودودی)

”اور تمہارے لیے چوپایوں میں سے (آٹھ نر ومادہ) اتارے“۔ (محمد جوناگڑھی)

”اور تمہارے لیے چوپایوں میں سے آٹھ جوڑے تھے“۔ (احمد رضا خان)

”اور اسی نے تمہارے لیے چار پایوں میں سے آٹھ جوڑے بنائے“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اور پھر تمہارے لیے (تعداد میں) چوپایوں کے آٹھ جوڑے پیدا کیے“۔ (محمد حسین نجفی)

”اور تمہارے لیے (نر ومادہ) چوپایوں کی آٹھ قسمیں اتاریں“۔ (امین احسن اصلاحی)

And He sent down to you eight pairs of the cattle. (Qaribullah & Darwish)
and he sent down for you eight head of cattle in pairs (Yousuf Ali)

ثَمَانِیَۃ اَزوَاجٍ کا ترجمہ آٹھ جوڑے موزوں نہیں ہے، اسی طرح انگریزی کے بھی مذکورہ دونوں ترجموں کے فرق پر غور کیا جاسکتا ہے۔

(3) وَالَّذِینَ یَقُولُونَ رَبَّنَا ھب لَنَا مِن اَزوَاجِنَا وَذُرِّیَّاتِنَا قُرَّۃ اَعیُنٍ۔ (الفرقان: 74)

”جو دعائیں مانگا کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب، ہمیں اپنی بیویوں اور اپنی اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک دے“۔ (سید مودودی)

”اور یہ دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! تو ہمیں ہماری بیویوں اور اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما“۔ (محمد جوناگڑھی)

and who pray "O our Sustainer! Grant that our spouses and our offspring be a joy to our eyes, (Asad)
And who say: Our Lord! Vouchsafe us comfort of our wives and of our offspring, (Pickthall)

” کسانی کہ می گویند: پروردگارا! از ہمسران و فرزندانمان مایہ روشنی چشم ما قراردہ“۔ (مکارم شیرازی)

عربی زبان میں لفظ ازواج دونوں پر صادق آتا ہے۔ انگریزی میں spouseاس کا درست مفہوم ادا کرتا ہے۔ اردو میں میری علم کی حد تک سبھی لوگوں نے اس آیت میں ازواجنا کا ترجمہ ہماری بیویاں کیا ہے۔

فارسی میں عام طور سے اس آیت میں مذکور ازواج کا ترجمہ ہمسران کیا گیا ہے، لفظ ہمسر فارسی زبان میں بیوی کے لیے بھی آتا ہے اور جوڑے کے ساتھی کے لیے بھی۔

بہرحال، اس آیت میں ازواج کا ترجمہ ایسا ہونا چاہیے جس میں عموم ہو، اور اس دعا کی معنویت صرف شوہر کے لیے نہیں رہے بلکہ بیوی کے لیے بھی رہے۔مجھے اردو میں spouse یا زوج کی طرح بالکل موزوں لفظ نہیں ملا، تاہم انسانوں کے سیاق میں شریک حیات اور جیون ساتھی جیسے الفاظ بھی مطلوبہ مفہوم کو ادا کرتے ہیں۔


خدا کی رحمت اور عدل: ایک حقیقت کے دو نام

ڈاکٹر عرفان شہزاد

فطرت الہی اور فطرت انسان کی مشترکہ اساسات اور احساسات:

فطرت الہی کو جاننے اور سمجھنے کا راستہ فطرت انسانی  ہے۔

فِطْرَتَ اللَّہ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْھَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّہ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ [الروم: 30]

"تم اللہ کی بنائی ہوئی فطرت کی پیروی کرو، جس پر اُس نے لوگوں کو پیدا کیاہے۔"

اخلاقیات اور جمالیات کے باب میں انسانوں کی فطرت میں پائے جانے والے  بنیادی اور مشترکہ احساسات اور ان کی اساسات فطرت الہی پر مبنی ہیں۔ انسان اسی چیز کو اچھا اور برا سمجھتا ہے جو فطر ت الہی سے اسے ودیعت ہوا ہے۔ اس کا برعکس کہنا بھی اسی وجہ سے درست ہے کہ انسانی فطرت جسے اچھا اور برا سمجھتی ہے وہ خدا کے نزدیک بھی اچھا اور برا ہے۔ یہ ایک منصوص قضیہ ہے۔ اس کے مقابل اس فہم کا نقص یا کوئی نص ہی سے کوئی دلیل پیش کی جائے تو قابل اعتنا ہو سکتی ہے، خیال آرائی کی یہاں کوئی حیثیت نہیں۔

حسن و قبح اور عدل و ظلم کا معیار:

 حسن و قبح اور عدل و ظلم معروض میں موجود تصورات نہیں ہیں، جنھیں انسان خارج سے اخذ کرتا ہے اور جن کی پابندی خدا پر بھی لازم ہو، یہ فطرت الہی  سے پھوٹے تصورات ہیں ،جن کا پرتو انسانی فطرت میں آیاہے اور اس وجہ سے ان کی پیروی اور پابندی انسان خود پر لازم سمجھتا ہے۔ یہ احساسات تمام انسانیت کا مشترک ورثہ اور اثاثہ ہیں، اسی لیے یہ عالم گیر سطح پر یکساں ہیں۔

عدل و ظلم، حسن و قبح اور نیکی و بدی کے تصورات اور احساسات کی انسانی فطرت اور ذہن میں موجودگی کے بارے  میں  کوئی بحث نہیں، البتہ ان کی تعریف اور اطلاقی صورتوں کی تعیین میں اختلاف اور مباحثہ میں ہوتا ہے۔ فلاسفہ کے ایک محدود گروہ، جو کسی بھی تصور اور قدر کی آفاقیت اور استقلال کے قائل نہیں، کو چھوڑ کر ایسا کبھی نہیں سمجھا جاتا کہ یہ طے کیا جائے کہ عدل کوئی قدر ہے بھی یا نہیں، یا ظلم کوئی تصور ہوتا ہے یا نہیں اور اسی طرح نیکی اور بدی کوئی تصور رکھتے ہیں یا نہیں۔ البتہ یہ مباحثہ ہوتا ہے کہ فلاں معاملے میں عدل کی کون سی صورت عدل کہلائے گی اور کیا چیز ظلم بن جائے گی اور یہ کہ کوئی فعل درحقیقت نیکی ہے یا نہیں۔ تعریف اور اطلاق میں اختلاف سے تصورباطل نہیں ہو جاتا۔ احساس اور تصور کی سطح پر انسانوں کا ہمہ گیر اتفاق اس پر ایک عالم گیر شاہد ہے۔

عدل و رحمت سے محبت اور ظلم اور ناانصافی سے نفرت کا تجربہ چند ماہ کے بچوں تک میں کر لیا گیا ہے1,2۔ ہمیں بچوں میں ان احساسات کو منتقل نہیں کرنا پڑتا، بلکہ ان کے اندر موجود ان احساسات کے اطلاقات کے وقت ان کی ابتدائی رہنمائی کرنا ہوتی ہے۔ انھیں یہ سمجھانے کی ضرورت نہیں پڑتی کہ اچھائی اوربرائی کے احساسات کیا ہوتے ہیں، انھیں صرف یہ بتانا ہوتا ہے کہ فلاں اور فلاں چیز کیوں اچھی یا بری ہے۔  لیکن اچھا ئی اور برائی ہوتی کیا ہے، اس کو موضوع  نہیں بنانا پڑتا۔ یہ اس لیے کہ ان کا علم فطرت سے وہ اسی طرح لے کر آتے ہیں جیسے بھوک پیاس اور زبان سیکھنے اور بولنے کی جبلت لے کر آتے ہیں۔ ماحول سے وہ تصورات کے اطلاقات سیکھتے ہیں، تصورات نہیں سیکھتے، وہ پہلے سے ان میں موجود ہوتے ہیں۔

خدا کی رحمت و عدل:

حسن و قبح کے یہ مشترک احساسات اور ان کی اساسات، انسانوں کی ایک دوسرے کے درمیان اورخدا اور بندے کے درمیان مکالمہ اور مخاطبہ کی بنیاد اور ذریعہ ہیں۔ خدا اور انسان کی فطرت کے درمیان یہ احساسات اور ان کی اساسات کا اشتراک اگر نہ ہو تو بندوں کو یہ باور کرانے کا کوئی جواز ہی نہیں رہتا کہ خدا رحم اور عدل کرنے والا ہے اور ظلم نہیں کرتا، جب کہ  رحم، عدل اور ظلم کے مفاہیم اور ان کا میرٹ وہ نہیں جو انسان سمجھ سکتے ہیں۔

خدا کا رحم اور عدل کرنا، ظلم نہ کرنا اور اپنے وعدے پورے کرنے کے مفاہیم وہی ہیں جو انسانی عقل و فطرت سمجھتی ہے۔ خدا کے ان فرامین کے باوجود خدا کو کسی ضابطے کا پابند نہ سمجھنا یا انسانی فہم میں پائے جانے والے ان ضابطوں سے اسے بے نیاز سمجھنا بے بنیاد عقلی تجاوز ہے۔ یہ غلط فہمی خدا پر  بھروسے اور اس بھروسے پر اس کی اطاعت کرنے اور اس پر امید جزر کرنے اور اس کے ڈر سے اس کی معصیت سے بچنے اور معصیت پر سزا کے خوف کی ساری خدائی اسکیم کو عملاً معطل کر دیتی ہے۔ اس کا نتیجہ خدا کو ظالم یا  لاابالی سمجھ کر اس سے ناراض ہو جانے یا اسےنظر انداز کرنے یا اباحیت کی  صورت میں نکلنا بدیہی ہے۔

خدا کی رحمت اور عدل کے اصولوں کی اطلاقی صورتوں کے پیچھے اس کے علم اور حکمت کا احاطہ نہ کرنے سکنے کی بنا پر یہ نتیجہ نکالنا درست نہیں کہ خدا کے ہاں رحمت اور عدل کے مفاہیم ہی کوئی اور ہیں۔ یہ ایسی ہی غلط فہمی ہے جیسے کسی عدالتی فیصلے کی تفصیلی جانکاری کے بنا یہ سمجھ لیا جائے کہ فیصلہ میرٹ پر نہیں ہوا ہوگا یا میرٹ ہی کوئی اور مقرر کیا گیا ہوگا جو عام انسانی فہم سے بالاتر کوئی تصور ہے۔

خدا کسی قبیح کا ارتکاب نہیں کرتا، کیونکہ ہر قبیح ظلم ہے اور اس نے اپنی ذات سے ظلم کی نفی کی ہے۔ قبیح کا ارتکاب نہ کرنے کی وجہ یہ نہیں کہ وہ اس پر قدرت نہیں رکھتا، بلکہ یہ ہے کہ قبیح کا ارتکاب کرنا اس کی شان کے لائق نہیں، یعنی وہ شان جو اس نے خود بیان کی ہے۔ قدرت ہونے کے باوجود قبیح کا اتکاب نہ کرنا خدا کو ہماری نظر میں عظیم بناتا ہے، ورنہ مجبور کے لیے قبیح کا ارتکاب نہ کرنا کوئی کارنامہ نہیں۔ یہی بات اس کو مہربان خدا بناتی ہے جس سے محبت کی جا سکتی ہے، ورنہ صرف عظمت صرف خوف اور خشیئت پیدا کرتی ہے۔

دنیا کی تخلیق اور مشیئت خداوندی:

دنیا کی تخلیق کے منصوبے کی اساس خدا کی مشیئت ہے اور اس کا مقصدبندوں پر عنایات کرنا ہے۔ یہ مشیئت خدا کی صفات کے اظہار اور اس کی ہمہ گیر عبودیت کے لیے برپا کی گئی ہے نہ کہ محض رحمت کے اظہار کے لیے۔ مشیئت رحمتِ محض نہیں بلکہ عدل کے ساتھ گندھی ہوئی ہے۔ یہ محض رحمت ہوتی تو دکھ اور تکلیف نہ ہوتے۔ دکھ اور تکلیف نہ ہوتے تو خدا کی صفات رحمت، عدل اور کرم کا ظہور نہ ہوتا۔ خدا کی اس اسکیم میں بشمول انسان سب مخلوقات کو دکھ اور تکلیف سے بھی گزرنا پڑا۔ یہ سب انسان کو سامنے رکھ کر نہیں، بلکہ خدا کی صفات کے اظہار کےلیے بنایا گیا ہے۔  

ساری کائنات خدا کے سامنے تسلیم ہے، سوائے انسان اور جنّ کے عقلی وجود کے، جسے اس نے ارادہ واختیار دے کر اپنے سامنے تسلیم ہو جانے کی دعوت دی ہے۔

دنیا میں آزمایش کا اصول:

دنیا کا نظام اصول آزمایش پر ہے جس میں عدل نہیں ہے۔ اسی سے عدل کا تقاضا پیدا ہوتا ہے جو آخرت کے برپا کرنے کو لازم بنا دیتا ہے۔ اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ خدا عادل ہے ورنہ آخرت میں عدالت لگانے کی کوئی وجہ نہ تھی۔ آزمایش کا قانون عدل پر مبنی نہیں ہے۔ عدل ہو تو آزمایش نہیں ہو سکتی۔ البتہ آزمایش کے خاتمے پر جزا اور سزا کا قانون مل کر اسے مطابق عدل اور عنایت رحمت کا مظہر بناتا ہے۔

ہمارے ہاں خدا کے وکیلوں کو دنیا میں بھی خدا کا افعال اور اسکیم کو مطابقِ عدل ثابت کرنے کی فکر دامن گیر رہی جس کےلیے انھوں نے عجیب تاویلات کیں۔ انھوں نے خدا کو ظلم سے بری قرار دینے کے لیے  اس کی ذات کے لیے عدل کے فطری اور معروف تصورات ہی کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا گیا کہ خدا کی آزاد ذات پر یہ پابندیاں نہیں لگائی جا سکتیں اور یہ کہ یہ انسانوں کے معیارات ہیں۔ حالانکہ یہ فطرت کے معیارات تھے جنھیں خود خدا نے ودیعت کیا تھا اور انسان کو مخاطب کرتے ہوئے اس نے انسان کے ذہن میں انھیں تصورت کی بنیاد پر خود کو عدل و رحمت کرنے والا اور ظلم نہ کرنے والا قرار دیا تھا۔ ایک بار جب خدا عدل کے معروف تصور کاپابند نہ رہا تو اس کی زد پھر آخرت کے تصور عدل پر بھی پڑی اور وہاں بھی خدا عدل کے تقاضوں سے آزاد قرار دے دیا گیا۔ یہ نظریہ خدا، دین اور مسلمان تینوں سے نادان دوستی پر مبنی تھا۔ خدا لاابالی ٹھرا جس کو چاہے سزا دے جس کو چاہے جزا دے، دین کے اوامر و نواہی کی پاسداری کارِ اضافی قرار پائے۔ خدا کے وعدے اور وعیدیں دونوں کے پورا کرنے کی پابندی خدا پر نہیں رہی۔ خدا  سےامید اور خوف دونوں کی بنیاد ہی نہ رہی تو اعمال اور اطاعت  اپنا جواز کھو بیٹھے۔ مسلم ذہن خدا کے بارے میں  بے یقینی کا شکار ہو گیا۔ خداعنایت کر دےتو نجات مل جائے گی مگر خدا قہر نازل کر دے تو کیا کیا جائے، اس سے بچنے کے لیے اس نے سہارے تلاشے اور تراشے یا وہ سرے سے مایوس ہو کر رہ گیا۔

میرٹ کا اصول اور تقاضے:

حقیقت خدا کے اپنے بیان میں اس کے برعکس تھی۔ اس کی رحمت نے چاہا کہ انسانوں کو ابدی نعمتوں سے نوازے۔ مگر اس نوازش کو اس نے اعزاز بنا یا جسے میرٹ پر ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس میرٹ کے لیے اس نےانسان کو اچھائی اور برائی کی سمجھ  اور ارادہ اور اختیار دے کر آزمایش کا قانون بنایا۔ یہ اس کی مشیئت تھی۔

 آزمایش کا میرٹ خدا کی شان اور عنایات کے مطابق نہیں، بلکہ انسان کی استطاعت کے مطابق مقرر کیا گیا:

لَا يُكَلِّفُ اللَّہُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَھَا  [البقرة: 286]

اللہ کسی پر اُس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔

 یہ رحمت ہے، لیکن یہی عدل ہے۔ ایسے ہی جیسے ہم میڑک کے طالب علم سے ماسڑز کی سطح کا امتحان نہیں لیتے۔

اس آزمایش کے لیے انسان کی تخلیق کا مقصد اسے میرٹ کی بنیاد پر کامیاب کرنا ہے:

الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاۃ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا وَھُوَ الْعَزِيزُ الْغَفُور [الملك: 2]

"(وہی) جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تم کو آزمائے کہ تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا  ہے۔ اور وہ زبردست بھی ہے اور درگذر فرمانے والا  بھی۔"

عدل سے مراد مساوات اور یکسانیت نہیں ہے۔ میرٹ کا سب کے لیے یکساں ہونا ظلم ہے، عدل نہیں۔ بے لاگ اور اندھا انصاف کرنا اور مستحق کو رعایت نہ دینا ظلم ہے عدل نہیں۔ مستحق کے لیے سفارش قبول کرنا بھی عدل کا تقاضا ہے۔ دوسرے پہلو سے دیکھیے تو یہی سب رحمت ہے۔ یہ سفارش نہ بے قاعدہ ہے نہ بے محابا اور نہ اتنی زور آور کہ خدا کو فیصلہ بدلنے پرمجبور کر سکے ورنہ یہ ظلم کی وکالت بن جائے گا:

يَوْمَ يَقُومُ الرُّوحُ وَالْمَلَائِكَۃ صَفًّا لَا يَتَكَلَّمُونَ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَہُ الرَّحْمَنُ وَقَالَ صَوَابًا [النبأ: 38]

اُس دن، جب فرشتے اور جبریل امین، سب اُس کے حضور میں صف بستہ کھڑے ہوں گے۔ اُس دن، جب وہی بولیں گے جنھیں رحمن اجازت دے اور وہ صحیح بات کہیں۔

 مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَہ إِلَّا بِإِذْنِہ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيھِمْ وَمَا خَلْفَھُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِہِ إِلَّا بِمَا شَاءَ [البقرة: 255]

"کون ہے جو اُس کی اجازت کے بغیر اُس کے حضور میں کسی کی سفارش کرے۔ لوگوں کے آگے اور پیچھے کی ہر چیز سے واقف ہے اور وہ اُس کے علم میں سے کسی چیز کو بھی اپنی گرفت میں نہیں لے سکتے، مگر جتنا وہ چاہے۔ "

وَلَا يَمْلِكُ الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِہِ الشَّفَاعَۃَ إِلَّا مَنْ شَھَدَ بِالْحَقِّ وَھُمْ يَعْلَمُون [الزخرف: 86]

اُس کے علاوہ یہ جنھیں پکارتے ہیں، وہ شفاعت کا کوئی اختیار نہیں رکھتے۔ ہاں، جو حق کی گواہی دیں گے اور وہ اُس کو جانتے بھی ہوں گے۔

یعنی جن کو سفارش کی اجازت ملے گی وہ خلاف حق کچھ نہیں کہیں گے۔

آزمایش کے قانون کا لازمی نتیجہ کامیابی کے ساتھ ناکامی، نیکی کے ساتھ بدی اور عدل کے ساتھ ظلم کی صورت میں نکلنا تھا۔ یہ سب اس آزمایش کی اسکیم کا حصہ ہے۔ اس سے رحمت اور عدل کا تقاضا پیدا ہوا کہ نیکوکاروں کو پورا صلہ ملے جو آزمایش گاہ میں نہیں ملتا اور مظلوموں کی داد رسی ہو جو یہاں نہیں ہو پاتی۔ یہ رحمانیت کا تقاضا تھا جو عدل پر منتج ہوتا ہے۔ یوں آخرت کا جواز پیدا ہوا جہاں پورا عدل بروے کار لایا جائے۔ ایسا نہ ہو تو دنیا  اپنی تمام تر تکوینی معنوییت کے باوجود عبث قرار پاتی اور خدا لاابالی ظالم، اور غیر حکیم ثابت ہوتا ہے جس نے نیکوکاروں کو پورا صلہ نہیں دیا، ہوس کے بچاریوں کو زیادہ پرلطف زندگی گزارنے کا موقع دیا اور مظلوموں کی داد رسی کا انتظام نہ کر کے ظالم کی حوصلہ افزائی کی۔

ظالم کو معافی اور رعایت دینا مظلوم کے حق میں ظلم ہے۔ ظالم و مظلوم دونوں خدا کی رحمت و عنایت کے مستحق ٹھریں تو یہ ظالموں کی حوصلہ افزائی ہے جس سے ان کو مظلوم پر زیادتی کرنے کی شہ ملتی ہے کہ اس کے لیے بھی امکان نجات و عنایت موجود ہے۔ یوں خدا ظالم کا سہولت کار بن کر ظالم ٹھرتا ہے، جب کہ اس نے خود پر رحمت لازم کر رکھی ہے۔

اس لحاظ سے دیکھیے تو رحمت اور عدل ایک دوسرے میں ممزوج اور مترادف ہیں اور رحمت یعنی کہ عدل کرنا خدا نے خود پر لازم قرار دے دیا ہے۔

قُلْ لِمَنْ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ قُلْ لِلَّہِ كَتَبَ عَلَی نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ لَيَجْمَعَنَّكُمْ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَۃ لَا رَيْبَ فِيہ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَھُمْ فَھُمْ لَا يُؤْمِنُونَ [الأنعام: 12]

"اِن سے پوچھو، زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے، وہ کس کا ہے؟ کہہ دو، اللہ ہی کا ہے۔ اُس نے اپنے اوپر رحمت لازم کر رکھی ہے۔ وہ تم سب کو جمع کر کے ضرور روز قیامت کی طرف لے جائے گا جس میں کوئی شبہ نہیں۔ اِس کو وہی لوگ نہیں مانتے جنھوں نے اپنے آپ کو خسارے میں مبتلا کر لیا ہے۔"

وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَۃِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا وَإِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّۃٍ مِنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِھَا وَكَفَی بِنَا حَاسِبِينَ [الأنبياء: 47]

"روز قیامت کے لیے ہم انصاف کی ترازو رکھ دیں گے۔ پھر کسی جان پر ذرا بھی ظلم نہ ہو گا اور اگر رائی کے دانے کے برابر بھی کسی کا عمل ہو گا تو ہم اُس کو لا موجود کریں گے۔ اورہم (لوگوں کا) حساب لینے کے لیے کافی ہیں۔"

میرٹ پر سب کو داخلہ مل جانا میرٹ پر آنے والوں کے ساتھ فریب ہے۔ نیک و بد سب خدا کی رحمت اور عنایت سے بہرہ مند ہوں تو یہ نیکو کاروں کے ساتھ دھوکا ہے کہ نفس کے تقاضوں کے خلاف خدا کی مرضیات پر چلنے والے، نفس کی پجاریوں کے ساتھ ایک صف میں کھڑے کر دیے جائیں۔ دونوں کے نیک اور بد انجام میں فرق ہونا رحمت بھی ہے اور عدل بھی۔ چنانچہ خدا نے یہی بتایا ہے کہ ایسا نہیں ہوگا:

أَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِينَ كَالْمُجْرِمِينَ مَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ أَمْ لَكُمْ كِتَابٌ فِيہ تَدْرُسُونَ إِنَّ لَكُمْ فِيہ لَمَا تَخَيَّرُونَ أَمْ لَكُمْ أَيْمَانٌ عَلَيْنَا بَالِغَۃ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَۃِ إِنَّ لَكُمْ لَمَا تَحْكُمُونَ سَلْھُمْ أَيُّھُمْ بِذَلِكَ زَعِيمٌ [القلم: 35 - 40]

"(تم سمجھتے ہو کہ یہ نہیں ہو گا) تو کیا ہم اپنے فرماں بردار بندوں کو مجرموں کے برابر کر دیں گے؟ تمھیں کیا ہوا ہے، تم کیسا حکم لگاتے ہو؟ کیا تمھارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم پڑھتے ہو کہ وہاں تمھارے لیے وہی کچھ ہے جو تم پسند کرو گے؟ کیا تمھارے لیے ہم پر کوئی قسمیں ہیں جو قیامت تک چلی جائیں گی کہ تمھارے لیے وہی کچھ ہے جو تم حکم لگاؤ گے؟ اِن سے پوچھو کہ اِن میں سے کون اِس کا ذمہ لیتا ہے؟"

 اس لحاظ رحمت اور عدل کی حقیقت ایک ہے۔ ایسی رحمت جو عدل سے بے نیاز ہو، خود رحمت کے منافی ہے۔ رحمت اور عدل ایک دوسرے کو متوازن نہیں کرتے، نہ یہ متخالف اور متصادم ہیں، بلکہ یہ ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ ایک کے بغیر دوسرا ناقص بلکہ باطل ہو جاتا ہے۔ کامل عدل رحمت کے بغیر ممکن نہیں اور رحمت بغیر عدل کے نہیں ہے۔

اس آزمایش میں میرٹ کی شرط عدل پر مبنی ہے۔ البتہ رحمت الہی کا تقاضا  ہوا کہ انسان کی خلقی مجبوریاں جیسے نسیان اور جذبات کے تصرف، اور نفس اور شیطان کی ترغیبات کے مقابلے میں رعایات بھی دی جائیں اور ان موانعات کے مقابلے میں میرٹ پر آنے کے لیے سہولت بھی مہیا کی جائے۔ چنانچہ، علم و عمل میں نسیان  اور دیانت دارانہ خطا پر بلا مشروط معافی اور جذبات کی مغلوبیت میں جرم کا ارتکاب اور اس کے فورا بعد ندامت پر لازمی درگزر کا اصول بتایا گیا:

رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِن نَّسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا [البقرۃ : 286]

پروردگار، ہم بھول جائیں یا غلطی کر جائیں تو اُس پر ہماری گرفت نہ  کر۔

إِنَّمَا التَّوْبَۃ عَلَی اللَّہ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السُّوءَ بِجَھَالَۃٍ ثُمَّ يَتُوبُونَ مِنْ قَرِيبٍ فَأُولَئِكَ يَتُوبُ اللَّہُ عَلَيْھِمْ وَكَانَ اللَّہُ عَلِيمًا حَكِيمًا [النساء: 17]

اللہ پر توبہ قبول کرنے کی ذمہ داری اُنھی لوگوں کے لیے ہے جو جذبات سے مغلوب ہو کر کوئی گناہ کر بیٹھتے ہیں، پھر جلدی ہی توبہ کر لیتے ہیں۔سو وہی ہیں جن پر اللہ عنایت کرتا اور اُن کی توبہ قبول فرماتا ہے اور اللہ علیم وحکیم ہے۔

روز قیامت تثلیث کے قائلین مسیحیوں کے بارے میں خدا اور مسیح علیہ السلام کے درمیان مکالمے کے آخر میں خدا نے اپنا واضح طور پر اعلان فرمایا ہے کہ ان میں سے جو لوگ اپنے قول و قرار اور عہدو میثاق میں سچے ثابت ہوئے اور اُنھوں نے جانتے بوجھتے کسی گم راہی پر اصرار نہیں کیا، بلکہ جو کچھ سمجھا، دیانت داری کے ساتھ سمجھا، اُس میں دانستہ کوئی تبدیلی یا تحریف نہیں کی، پھر اپنی استطاعت کے مطابق اُس پر عمل پیرا رہے، اُن کے لیے جنت کی بشارت ہے۔

اِن تُعَذِّبہُم فَاِنَّہُم عِبَادُکَ وَاِن تَغفِر لَہُم فَاِنَّکَ اَنتَ العَزِیزُ الحَکِیمُ قَالَ اللَّـہ ھٰـٰذَا يَوْمُ يَنفَعُ الصَّادِقِينَ صِدْقُھُمْ لَھُمْ جَنَّاتٌ تَجْرِي مِن تَحْتِھَا الْأَنْھَارُ خَالِدِينَ فِيھَا أَبَدًا رَّضِيَ اللَّـہُ عَنْھُمْ وَرَضُوا عَنْہ ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ [المائدہ : 119]

اب اگر آپ اُنھیں سزا دیں تو وہ آپ کے بندے ہیں اور اگر معاف کر دیں تو آپ ہی زبردست ہیں، بڑی حکمت والے ہیں۔اللہ فرمائے گا: یہ وہ دن ہے جس میں سچوں کی سچائی  اُن کے کام آئے گی۔ اُن کے لیے باغ ہوں گے جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں، وہ اُن میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ اُن سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔زمین و آسمان اور اُن کے اندر تمام موجودات کی بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔

خدا کی رحمت عدل سے تجاوز تب کرتی ہے جب ایسا کرنا خلاف عدل نہ ہو

خدا کی رحمت عنایت کی صورت میں عدل سے تبھی تجاوز کرتی ہے جب وہ عدل کے خلاف نہ ہو۔خدا کی رحمت اگر مجرموں کو دنیا میں فوراً سزانہ دے اور بار بار موقع دے،3 یا آخرت میں سزا نہ دینے کا  یاکچھ سزا دے کر ابدی سزا نہ دینے کا فیصلہ کرلے4تو رحمت کا یہ مظہر عدل کے منافی نہیں، مگر  یہ کہ  وہ ان پر عنایات بھی کرے یہ عدل کے منافی ہے۔ نیکوکار انعام یافتگان کے مقابل ظالموں اور فاسقوں کی محرومی خود بہت بڑی سزا ہے جب کہ انعام یافتگان کی نعمتیں ابدی ہوں اور محروموں کی محرومی بھی ابدی ہو۔  خدا اگر ظالموں کو فنا کر دے تو یہ بھی ان کے حق میں رحمت ہے اور یہ  عدل کے خلاف نہیں، اس لیے درست بھی ہے۔ یہ سزا بہت ہے کہ انھیں ابدی عنایات نہیں ملیں۔ یہ سب کرنا خدا کا اختیار (عزیز) ہے مگر خلاف عدل نہیں اور مظہر رحمت بھی ہے۔

سزا اور جزا کے اعلان کی پاسداری میں ایک فرق ہے۔ سزا کے اعلان کی پاسداری نہ کرنا غلط نہیں۔ وعدہ اور وعید میں سے یہ وعدہ ہے کہ جسے اگر پورا نہ کیا جائے تو یہ بد اخلاقی  ہے، اس لیے قبیح ہے اور خدا قبیح کا ارتکاب نہیں کرتا، لیکن وعید پر باوجود قدرت اور اختیار کے عمل نہ کرناعنایت سمجھاجاتا ہے اس لیے حسن ہے۔ چنانچہ خدا اگر کسی کو سزا نہ دے تو اسے کسی میعاد کی خلاف ورزی نہیں کہا جائے گا۔ البتہ وہ عنایت بھی کرے یہ خلاف عدل ہونے کی وجہ سے نہیں ہوگا۔

یہیں سے انبیا کی مشرکین کے لیے دعائے مغفرت کا جواز سمجھ آ جاتا ہے کہ اگر یہ عنایت کے مستحق نہیں، تو کم از کم سزا سے نجات دے دی جائے اور خدا اس کا اختیار رکھتا ہے:

إِذْ قَالَ إِبْرَاھِيمُ رَبِّ اجْعَلْ ھَذَا الْبَلَدَ آمِنًا وَاجْنُبْنِي وَبَنِيَّ أَنْ نَعْبُدَ الْأَصْنَامَ رَبِّ إِنَّھُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنّہ مِنِّي وَمَنْ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَحِيمٌ  [إبراھيم: 35، 36]

(یہ ابراہیم کی اولاد ہیں )۔ اِنھیں وہ واقعہ سناؤ، جب ابراہیم نے دعا کی تھی کہ میرے پروردگار، اِس شہر کو امن کا شہر بنا اور مجھے اور میری اولاد کو اِس سے دور رکھ کہ ہم بتوں کو پوجنے لگیں۔ پروردگار، اِن بتوں نے بہت لوگوں کو گم راہی میں ڈال دیا ہے۔ (یہ میری اولاد کو بھی گم راہ کر سکتے ہیں )، اِس لیے جو (اُن میں سے) میری پیروی کرے، وہ تومیرا ہے اور جس نے میری بات نہیں مانی، اُس کا معاملہ تیرے حوالے ہے، پھر تو بخشنے والا ہے، تیری شفقت ابدی ہے۔

إِنْ تُعَذِّبْھُمْ فَإِنَّھُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَھُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ [المائدة: 118]

اب اگر آپ اُنھیں (مسیح علیہ اور ان کی والدہ کو بھی معبود بنانے والوں کو) سزا دیں تو وہ آپ کے بندے ہیں اور اگر معاف کر دیں تو آپ ہی زبردست ہیں، بڑی حکمت والے ہیں۔

  چنانچہ اگر خدا ظالموں کو عنایات اور انعامات سے محروم کرنے پر اکتفا کر لے یا انھیں فنا کر ڈالے5تو یہ خلاف عدل نہیں کہ مظلوم کی داد رسی ظالم کو سزا دینے پر منحصر نہیں، مگر ظالم پر عنایت خلاف عدل ظالم کی حوصلہ افزائی ہے۔ اسی طرح میرٹ پر آنے کے بعد خدا کی بے پایاں عنایات کا تعلق بھی رحمت سے ہے، مگر یہ عدل کے منافی نہیں، اس لیے روا ہے۔ یہاں بھی لیکن عدل بالکلیہ خارج نہیں ہوا۔ چنانچہ کسی غیر نبی پر خواہ کتنی عنایات ہو جائیں، وہ نبی کا درجہ نہیں پا سکتا۔

دنیا میں البتہ عنایات جتنی زیادہ ہوتی ہیں میرٹ میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔

وحی سے مزید سہولت کی عنایت اور میرٹ میں اضافہ

 وحی  کے علم کے ذریعے سے انسانوں کے لیے  عدل کے قیام میں مزید سہولت بھی فراہم کی گئی:

اللَّہُ الَّذِي أَنْزَلَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ وَالْمِيزَانَ [الشورى: 17]

"اللہ ہی ہے جس نے اپنی یہ کتاب قول فیصل کے ساتھ اتاری ہے اور (اِس طرح حق و باطل کو الگ الگ کرنے کے لیے) اپنی میزان نازل کر دی ہے۔"

وحی کو ہدایت اور نور کہا گیا جو نفس اور جہالت کے ظلمات سے انسان کو عقیدے اور عمل کی درست اور متوازن راہ دکھائے۔

وحی کی عنایت ہوتے ہی انسان کے میرٹ میں اضافہ کر دیا گیا۔ ہر فرد کی جانچ اس کے میسر علم کے بقدر ہونے کا عادلانہ اصول مقرر ہوا تو وحی کے حاملین کا میرٹ بھی غیر حاملین سے زیادہ مقرر ہوا۔ عنایت (رحمت) اور عدل یہاں بھی باہم ممزوج ہیں۔  وحی کو براہ راست پانے والے انبیا کے محاسبے اور میرٹ کا معیار استدلال کی راہ سے وحی  وصول کرنے والے عام لوگوں کے مقابلے میں کہیں بلند رکھا گیا۔ یونس علیہ السلام  وحی کے براہ راست مخاطب تھے، انھیں ایک خطا پر مچھلی کے پیٹ میں بند کردیا گیا، پھر جب ندامت اور توبہ کی تو معافی ملی ورنہ وہی ان کا مدفن قرار پا گیا تھا۔ ادھر ان کی قوم شرک جیسے شدید گناہ اور اس پر سرکشی کے باوجود بغیر سزا کے محض توبہ کرنے پر معافی کی مستحق قرار پائی۔

خدا کی رحمت اس کے غضب پر بڑھی ہوئی ہے ،اس کے عدل پر نہیں۔

اخلاق و شرع اور عدل و رحمت:

کائنات کاتکوینی نظا م میزان عدل پر قائم ہے۔ اس میں معمولی تغیر عظیم فسادکا سبب بنتا ہے۔ انسان کو ارادہ اور اختیار، نسیان اور جہالت کے عوارض اور نفس اور شیطان کی ترغیبات دے کر نظام زندگی میں اسی میزان عدل کو قائم کرنے کی آزمایش میں مبتلا کیا گیا ہے۔ اس میں فطرت اور وحی کی رہنمائی سے انحراف فساد کا سبب بنتا ہے:

وَالسَّمَاءَ رَفَعَھَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ أَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيزَانِ  وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيزَانَ [الرحمن:7، 8، 9]

"اور اُس نے آسمان کو اونچا کیا اور اُس میں میزان قائم کر دی کہ (اپنے دائرۂ اختیار میں) تم بھی میزان میں خلل نہ ڈالو۔اور انصاف کے ساتھ سیدھی تول تولو اور وزن میں کمی نہ  کرو۔ "

یہ اخلاقیات اور قانون کی میزان ہے۔ قانون کی  بنیاد بھی اخلاقیات ہوتی ہے۔اس میزان کے توازن میں کوتاہی اور خلاف ورزی بھی فسادات کا سبب بنتی ہے۔ یہی فساد آخرت تک ممتد ہو جاتا اور انسان کو دنیا اور آخرت دونوں کے خسران میں ڈال دیتا ہے۔

اخلاق و شرع دونوں میں وحی کی ہدایات اور احکامات عدل اور رحمت کا امتزاج ہیں۔ عقیدے کے باب میں خدا کے وجود کو تسلیم کرنا اور اس پر بنا پر اس کی عبادت کرنا عقل و فطرت کا تقاضا بن کر سامنے آتا ہے تو دیانت داری کا تقاضا اسے تسلیم کرتے ہوئے اس کے مقتضیات پر عمل پیرا ہونا ہے۔ یہی عدل ہے۔ وحی اسی عقلی استدلال کی طرف متوجہ کرنے کی سہولت فراہم کرتی ہے۔ یہ سہولت خدا کی رحمت سے صادر ہونے والی عنایت ہے تاکہ انسان عقل کی عدالت کا فیصلہ تسلیم کرے۔

سماجی اخلاقیات کے باب میں سچی گواہی دینا،عداوت  کے باوجود حق پر قائم رہناعدل ہے،سچ بولنا، جھوٹ سے بچنا، یہی میزان عدل کو قائم کرنا ہے، وحی اسی کی دعوت  دیتی ہے۔ یہ دعوت رحمت کا نتیجہ ہے کہ انسان عدل قائم کر سکے۔

قانون کے باب میں فرائض کو استطاعت کے ساتھ متعلق کرنا اور حالت اضطرار میں احکام میں نرمی اور گنجایش اور ان کا معاف ہو جانا عدل کے اصول پر ہے اور یہ سب رحمت کا نتیجہ اور تقاضا بھی ہے۔ ایک کو دوسرے سے الگ کر کے دیکھا نہیں جا سکتا۔

انسان میں مکارم اخلاق کا حاسہ آگے بڑھ کر زیادہ اور بے لوث نیکی کرنا چاہتا ہے۔ وحی اس کی حوصلہ افزائی اور ترغیب دیتی ہے۔  یہ سراسر رحمت ہے۔ اس نیکی کا صلہ دینا البتہ عدل او رحمت کا تقاضا ہے۔

خدا کے فیصلے اعمال کی گنتی پر نہیں رویوں کی حقیقت پر کیے جائیں گے۔ یہ حکیمانہ عدل بھی ہے اور رحمت بھی۔

تسلیم و انکار کے رویوں کے دو درجے

تسلیم و انکار کے رویوں کے دو درجے ہیں: تسلیم کے دور درجےخود سپردگی (اسلام) احسان  (اعلی درجے کی خود سپردگی) اور انکار حق کے در درجے غفلت پر اصرار اور سرکشی (غفلت پر اصرار میں جارحانہ رویہ دکھانا) ہیں۔ غفلت پر اصرار بھی سرکشی ہی کی ایک صورت مگر شدت اور جارحیت میں کھی سرکشی سے ایک درجہ کم ہے۔ تسلیم و انکار کے رویے کامیابی اور ناکامی کا معیار ہیں، جنھیں خدا کے علم کی روشنی میں عدل کے تقاضوں کے مطابق برتا جائے گا۔ رعایت کے مستحق رعایت پائیں گے اور میرٹ پر آنے والے بےپایاں عنایت سے سرفراز ہوں گے۔غیر مستحق اور میرٹ پر نہ آنے والے سزا کے مستحق اور اس کی عنایات سے محروم رہیں گے۔یوں رحمت اور عدل کے تقاضے پورے ہوں گے۔

 خلاصہ یہ کہ خدا کی رحمت وعدل ایک کو دوسرے سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا اورخدا کو اس کے اصولوں پر سمجھوتہ کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔


حواشی

(1)  https://www.youtube.com/watch?v=FRvVFW85IcU
(2)  Hamlin, J., Wynn, K. & Bloom, P. Social evaluation by preverbal infants. Nature 450, 557–559 (2007). https://doi.org/10.1038/nature06288

(3) وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللَّہُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوا مَا تَرَكَ عَلَی ظَھْرِھَا مِنْ دَابَّۃٍ وَلَكِنْ يُؤَخِّرُھُمْ إِلَی أَجَلٍ مُسَمًّی فَإِذَا جَاءَ أَجَلُھُمْ فَإِنَّ اللَّہَ كَانَ بِعِبَادِهِ بَصِيرًا [فاطر، 45]
"لوگوں کو اُن کے اعمال پر اگر اللہ فور  اً پکڑتا تو زمین کی پشت پر کسی جان دار کو باقی نہ چھوڑتا، مگر وہ اُنھیں ایک مقرر مدت تک مہلت دیتا ہے۔ پھرجب اُن کی مدت پوری ہو جاتی ہے تو لازماً پکڑتا ہے، اِس لیے کہ اللہ اپنے بندوں کو دیکھنے والا ہے۔"

(4)  َأَمَّا الَّذِينَ شَقُوا فَفِي النَّارِ لَھُمْ فِيھَا زَفِيرٌ وَشَھِيْقٌ  خَالِدِينَ فِيھَا مَا دَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ إِلَّا مَا شَاءَ رَبُّكَ إِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِمَا يُرِيدُ وَأَمَّا الَّذِينَ سُعِدُوا فَفِي الْجَنَّۃِ خَالِدِينَ فِيھَا مَا دَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ إِلَّا مَا شَاءَ رَبُّكَ عَطَاءً غَيْرَ مَجْذُوذ [ہود: 106 - 108]
"سو جو بدبخت ہوں گے، وہ دوزخ میں جائیں گے۔ اُنھیں وہاں چیخنا اور چلانا ہے۔ وہ اُسی میں پڑے رہیں گے، جب تک (اُس عالم کے) زمین و آسمان قائم  ہیں، الّا یہ کہ تیرا پروردگار کچھ اور چاہے۔ اِس میں شک نہیں کہ تیرا پروردگار جو چاہے، کر گزرنے والا ہے۔ رہے وہ جو نیک بخت ہیں تو وہ جنت میں ہوں گے۔ وہ اُسی میں رہیں گے، جب تک (اُس عالم کے) زمین و آسمان قائم ہیں، الاّ یہ کہ تیرا پروردگار کچھ اور چاہے، اُس کی طرف سے ایسی عطا کے طور پر جو کبھی منقطع نہ ہوگی۔"

(5)  ایضا
جنت اور دوزخ کے ساتھ مَا دَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ کی تحدید واقع ہوئی ہے، اس سے ان کی غیر ابدی ہونے کا جو وہم پیدا ہوتا ہے اس میں سے صرف جنت سے متعلق اس وہم کو یہ کہہ کر دور کیا گیا ہے کہ یہ غیر منقطع ہوگی، مگر دوزخ کے بارے میں اس وہم کو دور نہیں کیا گیا۔


سودی نظام کے خلاف جدوجہد کا نیا مرحلہ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

وفاقی شرعی عدالت میں سودی نظام کے خاتمہ کے حوالہ سے رٹ کی سماعت طویل عرصہ کے بعد دوبارہ شروع ہونے سے ملک میں رائج سودی قوانین سے نجات کی جدوجہد نئے مرحلہ میں داخل ہو گئی ہے اور اس کے ساتھ ہی تحریک انسداد سود پاکستان نے نئی صف بندی کے ساتھ اپنی مہم پھر سے شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم و مغفور نے وفات سے چند ہفتے قبل اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا افتتاح کرتے ہوئے واضح طور پر کہا تھا کہ پاکستان کا معاشی نظام مغربی اصولوں پر نہیں بلکہ اسلامی اصولوں پر استوار ہو گا مگر ان کی ہدایت کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے حالانکہ دستور پاکستان میں دوٹوک کہا گیا ہے کہ سودی نظام کو جلدازجلد ختم کر کے ملک کے معاشی نظام کو قرآن و سنت کے احکام کے مطابق بنایا جائے گا۔ مگر ان واضح ہدایات کے باوجود سودی نظام اور قوانین بدستور موجود ہیں اور عدالتوں میں آنکھ مچولی مسلسل جاری ہے۔ چند روز قبل وفاقی شرعی عدالت نے اس سلسلہ میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ایک درخواست کو مسترد کیا تو راقم الحروف نے ٹویٹ میں اس پر تبصرہ کرتے ہوئے عرض کیا کہ اس کا اصولی طور پر خیرمقدم ہونا چاہیے مگر ٹال مٹول اور تاخیری حربوں میں تسلسل کے باعث اب یہ تکلف ہی لگتا ہے۔

اس موقع پر سودی نظام کے خلاف جدوجہد کے معروضی تقاضوں کے حوالے سے چند معروضات پیش کی جا رہی ہیں:


حورانِ بہشتی کے قرآنی اوصاف وخصائل

مولانا محمد عبد اللہ شارق

”حورانِ بہشتی“کا مصداق

حورانِ بہشتی“ کا تذکرہ ہم سنتے ہی رہتے ہیں، قرآن وحدیث میں اِن کے حسن وجمال، پرکشش اوصاف،عمدہ خصائل اور جاذبیتِ نظر کے کئی قصے بیان ہوئے ہیں۔ قرآنِ مجید میں اللہ تبارک وتعالی جہاں کہیں بھی جنت کی خوابوں جیسی زندگی کا تذکرہ فرماتے ہیں تو وہاں پر بہت دفعہ اِن حوروں کا ذکر بھی فرماتے ہیں۔ حوروں کے اِس تذکرہ میں مردوں اور عورتوں، دونوں کے لیے یکساں رغبت کا سامان موجود ہوتا ہے۔ لیکن ہم میں سے بعض لوگوں نے یہ تصور کررکھا ہے کہ شاید اِن کا تذکرہ صرف مردوں کو راغب کرنے کے لیے ہوتا ہے اور مومن عورتوں کے لیے یہ آیات واحادیث غیرمتعلقہ ہیں۔ یہیں سے پھر خواتین کے دل میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر جنت کے اندر مومن مردوں کو حوریں ملیں گی تو مومن عورتوں کو کیا ملے گا؟ اور ان کو جو کچھ بھی ملے گا تو اس کا تذکرہ حوروں کی طرح قرآن وحدیث میں بار بار کیوں نہیں ہے؟جنت کی باقی نعمتیں اپنی جگہ، لیکن مذکورہ غلط فہمی کی وجہ سے حورانِ بہشتی کے حسن وجمال کے تذکرے خواتین کے لیے بے لذت اور غیر متعلقہ ہوکر رہ گئے ہیں کیونکہ بقول ان کے اِن تذکروں میں کسی مرد کو ہی دلچسپی ہوسکتی ہے، کسی عورت کو نہیں۔ جو خواتین اس غلط فہمی کو زبان پر نہیں لاپاتیں، وہ بھی اِن آیات واحادیث کو دل ہی دل میں بہرحال یوں بے تاثر ہوکر سنتی ہیں کہ گویا اِن میں خواتین کے لیےشوق اور رغبت کا کوئی سامان نہیں، یہ محض مردوں کی ترغیب کے لیے ہیں اور جنت کی اِس نعمت کے بارہ میں بتلا کر بس انہی میں دلچسپی وشوق مندی پیدا کرنا مقصود ہے۔

اِن غلط فہمیوں کا بنیادی سبب یہ ہے کہ ہم نے ”حورانِ بہشتی“ کو ایک ماورائی مخلوق سمجھ لیا ہے جو نہ تو آدم علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں اور نہ ہی اِس دنیا سے کبھی ان کا کوئی تعلق رہا ہے۔ بے شک یہ بات درست ہے کہ جنت میں رنگ اور رونق بکھیرنے والی حسینائیں اپنے دیو مالائی حسن اور غیر معمولی شخصیت کی وجہ سے اس دنیا کی حسیناؤں سے بالکل مختلف ہوں گی، بلکہ یہ بات بھی درست ہے کہ وہ سب کی سب دنیا سے گذر کر جانے والی نہیں ہوں گی اور ان میں ایک بڑی تعداد ایسی ہوگی کہ جنہیں رب العلمین نے کلمہء ”کن“ کے ساتھ کسی اور طریقہ سے وجود بخشا ہوگا اور بنا کسی دنیاوی عبادت وریاضت اور جہد ومشقت کے محض اپنے فضل واحسان سے جنت کے خوابوں جیسے مسکن کی زینت بنایا ہوگا۔ بے شک یہ بات درست ہے اور صرف عورتوں کے حق میں نہیں، بلکہ ایک صحیح السند حدیث کی رو سے کچھ مرد بھی شاید ایسے ہوں گے جو جنت کے اندر کلمہء کن سے پیدا ہوئے ہوں گے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

”لاتزال جھنم تلقی فيھا وتقول ھل من مزيد حتی يضع رب العزۃ فيھا قدمہ فينزوي بعضھا إلی بعض وتقول قط قط بعزتك وكرمك ولا يزال في الجنۃ فضل حتی ينشئ اللہ لھا خلقا فيسكنھم فضل الجنۃ“ (صحیح مسلم۔ رقم 2848)

یعنی ”جہنم تمام تر بھرتی ہونے کے باوجود ”کچھ اور“ کا تقاضا کرتی رہے گی، یہاں تک کہ اللہ جل شانہ اس پر اپنا قدم رکھیں گے اور وہ سکڑ کر ”بس بس“ کرنے لگے گی، جبکہ  اسی طرح جنت بھی تمام تر بھرتی کے باوجود باقی بچ رہے گی اور اللہ جل شانہ (”کلمہ ”کن“ کے ساتھ) کچھ مخلوق  پیدا کرکے اسے بچ رہنے والی جنت میں بسادیں گے۔“

قرآن وحدیث میں موجود قرائن سے محسوس ہوتا ہے کہ جنتی حسیناؤں کی ایک بڑی تعداد ایسی ہی ہوگی اور یہ بھی درست ہے کہ حورانِ بہشتی کا ایک بڑا مصداق یہی حسینائیں ہیں، مگر یہ سمجھنا کہ قرآن وحدیث میں جہاں جہاں حورانِ بہشتی کا تذکرہ آتا ہے تو اس سے مراد بس یہی خاص طور پر پیدا کی گئی حسینائیں ہوتی ہیں، ہمارے خیال میں سراسر ایک غلط فہمی ہے جس کی کوئی دلیل نہیں ہے، بلکہ اِس کے برعکس لغت، قرآن اوراحادیث وآثار کے سارے قرائن اس کی نفی کرتے ہیں۔ ہماری رائے میں بنیادی طور پر حورانِ بہشتی کا مصداق وہ سب حسینائیں ہیں جو جنت میں بسائی جائیں گی، خواہ وہ کلمہء کن سے پیدا کی گئی ہوں یا دنیا کی اہلِ ایمان  خواتین ہوں۔

تاہم آگے بڑھنے سے قبل ایک نہایت ضروری تمہید کو سمجھ لینا چاہئےکہ دنیا سے گذرکر جانے والی مومن خواتین کے دخولِ جنت کا کوئی منکر نہیں، امت کا  اتفاق ہے کہ یہ جنت ہی میں جائیں گی۔ غلط فہمی صرف یہ سمجھنے میں واقع ہوئی ہے کہ قرآن وحدیث میں اکثر وبیشتر جن جنتی حسیناؤں کا تذکرہ آتا ہے تو ان سے مراد صرف کلمہء ”کن“ سے پیدا ہونے والی حسینائیں ہوتی ہیں اور لفظِ ”حور“ کا مصداق بھی صرف یہی ہوتی ہیں۔ غلط فہمی صرف اتنی ہی ہے اور گو بہت بڑی نہیں، مگر اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ اب قرآن وحدیث میں مذکور حورانِ بہشتی کے ولولہ خیز تذکرے ہماری خواتین سے بے تعلق ہوجاتے ہیں  کیونکہ کلمہء کن سے پیدا ہونے والی حورانِ بہشتی میں دلچسپی کسی مرد کو ہی ہوسکتی ہے۔ غلط فہمی پر مبنی یہ قول چونکہ بعض کتبِ تفسیر میں مذکور ہے، بعض نے اس کو ترجیح بھی دیا ہے اور پھر یہ امت میں مشہور بھی ہے تو اس لیے یہ غلط فہمی تناور ہوکر ایک درخت بن چکی ہے۔  زیرِ نظر تحریر میں اسی غلط فہمی کا علمی جائزہ لینا مقصود ہے اور اس وضاحت کے ساتھ کہ  خود ماضی ہی کے بعض مفسرین نے اسے ایک غلط فہمی قرار دیا ہے۔

”حور“ کا لغوی مفہوم

سب سے پہلے ”حور“ کے لغوی اطلاق کو لیجئے، یہ لفظ ”حوراء“کی جمع ہے اور ”اسمِ صفت“ ہے، اسمِ جنس نہیں۔ آسان لفظوں میں یوں کہہ لیجئے کہ ”حور“ کا لفظ عربی زبان میں انسان، جن اور فرشتہ کی طرح کا کوئی لفظ نہیں ہے جس سے کوئی خاص نوع یا جنس کی مخلوق مراد لی جاتی ہو،بلکہ یہ لفظ ایسا ہی ہے جیسے کسی کو خوب صورت، دراز قد اور صاحبِ کردار کہہ دیا جائے۔ چنانچہ اسلام کی آمد سے قبل بھی ”حور“ کا  لفظ ”حسینہ“  کے معنوں میں عربوں کے ہاں مستعمل اور مروج تھا اور اُن عربوں کے ہاں مستعمل تھا جو سرے سے کسی جنت نامی چیز کو ہی نہیں مانتے تھے۔ عموما ان کی بدوی عورتیں شہری عورتوں کے لیے یہ لفظ استعمال کیا کرتی تھیں۔ لسان العرب اورتاج العروس وغیرہ (کتبِ لغت) کی عبارات کے ساتھ ساتھ امام مجاہد کے ایک تفسیری قول کو ملانے سے ہماری نظر میں ”حور“ کے مکمل معنی کچھ یوں بنتے ہیں: وہ لڑکیاں جو گوری ہوں اور جن کی آنکھوں کی جھلمل اتنی بے داغ اور پرکشش ہو کہ دیکھنے والے کی نگاہ ان آنکھوں کی تاب نہ لاسکے۔ گویا مختصر لفظوں میں ہم ”حور“ کا ترجمہ ”جادو نظر حسینائیں“ کرسکتے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ اگر قرآن وحدیث میں کہیں کہیں جنتی حسیناؤں کے لیے یہ لفظ استعمال ہوا ہے اور بتایا گیا ہے کہ جنت میں دیگر نعمتوں کی فراوانی کے ساتھ ساتھ ”حوریں“ بھی ہوں گی تو یہاں پر اس لفظ کو اسمِ جنس بنا دینا اور بغیر کسی قرینہ کے یہ کہنا کہ اس سے مراد صرف وہ خواتین ہیں جنہیں خدا تعالی بغیر کسی دنیاوی عبادت وریاضت کے جنت عطا فرمائیں گے، کیوں کر درست ہوسکتا ہے؟جب عربی زبان میں اس کے معنی مطلق ”حسینائیں“ ہیں تو قرآن وحدیث میں بھی اس لفظ کا اطلاق اسی مفہوم میں ہونا چاہئے اور ”حورانِ بہشتی“ کے اطلاق میں وہ سب حسینائیں شامل ہونی چاہئیں جنہیں پروردگار جنت کی زینت پنائے گا خواہ وہ دنیا میں آدم زاد بھی رہی ہوں یا نہ۔ چنانچہ طبری اور ابنِ کثیر نے لفظِ ”حور“ کا صرف لغوی مفہوم واضح کرنے پر اکتفاء کیا  ہے اور یہ اس بات کا قرینہ ہے کہ طبری اور ابنِ کثیر کسی تخصیص کے قائل نہیں کیونکہ اس لفظ کا لغوی اطلاق تعمیم کا مقتضی ہے، نہ کہ تخصیص کا۔

یہاں ضمنا یہ بات عرض کردینا بھی مناسب ہوگا کہ فیروزآبادی اور راغب اصفہانی کے بقول ”حور“ کا لفظ عربی زبان میں فی الاصل جمع مؤنث کے لیے بھی استعمال ہوتا ہےاور جمع مذکر کے لیے بھی اور بعض معاصر اہلِ علم کے مطابق ”حور“ کے قرآنی اطلاق میں بھی جمع مذکر اور جمع مؤنث دونوں کا مفہوم داخل ہے، یعنی قرآن میں جہاں اس لفظ کا اطلاق ہوا ہے تو وہاں دونوں کے حسن کی طرف اشارہ کرنا مطلوب ہے۔ زیرِ بحث اعتراضات کا دفعیہ کرنے کے لیے یہ توجیہ بظاہر بہت اچھی محسوس ہوتی ہے، لیکن مفسرین نے عام طور پر قرآن مجید میں وارد لفظِ ”حور“ کی تفسیر صرف حسین عورتوں کے ساتھ ہی کی ہے اور ہماری رائے میں یہی بات درست ہے۔ وجہ یہ کہ قرآن میں اکثر جگہ جنتی حسیناؤں کا ذکر مؤنث کے تصریحی صیغہ کے ساتھ آیا ہے  اور وہ چار مقامات جہاں ”حور“ کا لفظ آیا ہے تو ان میں سے بھی دو مقامات  (الرحمن، الواقعہ) کے سیاق وسباق میں مؤنث ہی کا اسلوب چل رہا ہے اور ممکن ہی نہیں کہ وہاں اسے جمع مؤنث کے ساتھ ساتھ جمع مذکر بھی قرار دیا جائے۔ ان مقامات کی تفصیل اگلے عنوان کے تحت مذکور ہے۔

قرآنی قرائن

”حور“ کا لغوی مفہوم جان لینے کے بعد خود قرآنِ مجید کے داخلی قرائن پر غور کیجئے، قرآن میں اکثر جگہوں پر جنتی حسیناؤں کا تذکرہ کچھ اس انداز میں کیا گیا ہے کہ وہاں ”حور“ کا لفظ سرے سے استعمال ہی نہیں ہوا، بلکہ مختلف الفاظ میں بس ان حسیناؤں کی سیرت وصورت، حسن ورعنائی، وجاہت وکشش اور پاکیزگی کو بیان کیا گیاہے۔ ذرا سوچئے کہ کیا اِس کے بعد بھی جنتی حسیناؤں کے اِن اوصاف وخصائل کو کلمہء ”کن“ سے پیدا ہونے والی حسیناؤں سے مخصوص کرنے کا کوئی جواز ہے؟ ہماری تحقیق کے مطابق قرآنِ مجید میں صرف چار مقامات ایسے ہیں جہاں اللہ تعالی نے ان حسیناؤں کے لیے ”حور“ کا لفظ استعمال کیا ہے اور ان کے حوالہ جات یہ ہیں: ۱۔ ﴿كَذَلِكَ وَزَوَّجْنَاھُم بِحُورٍ عِينٍ﴾ (الدخان: 54) ۔ ۲۔ ﴿وَزَوَّجْنَاھُم بِحُورٍ عِينٍ﴾ (الطور: 20)۔ ۳۔ ﴿حُورٌ مَّقْصُورَاتٌ فِي الْخِيَامِ﴾ (الرحمن: 72)۔ ۴۔ ﴿وَحُورٌ عِينٌ﴾ (الواقعہ: 22)

جبکہ تقریبا دس مقامات ایسے ہیں کہ جہاں اِن حسیناؤں کا ذکر ہوا ہے مگر وہاں حور کا لفظ استعمال ہی نہیں ہوا۔ دیکھئے: ۱۔ ﴿وَلَھُمْ فِيھَا أَزْوَاجٌ مُّطَھَّرَۃ﴾ (البقرہ: 25)۔ ۲۔ ﴿وَأَزْوَاجٌ مُّطَھَّرَۃ﴾ (آلِ عمران: 15)۔ ۳۔ ﴿لَّھُمْ فِيھَا أَزْوَاجٌ مُّطَھَّرَۃ﴾ (النساء: 57)۔ ۴۔ ﴿ھُمْ وَأَزْوَاجُھُمْ فِي ظِلَالٍ عَلَی الْأَرَائِكِ مُتَّكِؤُونَ﴾ (یس: 56)۔ ۵۔ ﴿وَعِنْدَھُمْ قَاصِرَاتُ الطَّرْفِ عِينٌ﴾ (الصافات: 48)۔۶۔ ﴿وَعِندَھُمْ قَاصِرَاتُ الطَّرْفِ أَتْرَابٌ﴾ (ص: 52)۔ ۷۔ ﴿ادْخُلُوا الْجَنَّۃَ أَنتُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ تُحْبَرُونَ﴾ (الزخرف: 70)۔ ۸۔ ﴿فِيھِنَّ قَاصِرَاتُ الطَّرْفِ لَمْ يَطْمِثْھُنَّ إِنسٌ قَبْلَھُمْ وَلَا جَانٌّ﴾ (الرحمن: 56)۔ ۹۔ ﴿إِنَّا أَنشَأْنَاھُنَّ إِنشَاء º فَجَعَلْنَاھُنَّ أَبْكَارًا º عُرُبًا أَتْرَابًا﴾ (الواقعہ: 35)۔ 10۔ ﴿وَكَوَاعِبَ أَتْرَابًا﴾ (النباء: 33)

احادیث وآثار

اس کے بعد اگر احادیث وآثار کو دیکھا جائے تو وہاں پر بھی کم از کم ہمیں تو ایسا کوئی قرینہ نظر نہیں آیا جس سے محسوس ہو کہ حورانِ بہشتی کا اطلاق صرف کلمہء ”کن“ سے پیدا ہونے والی حسیناؤں پر ہوتا ہے اور جنتی حسیناؤں کے تذکروں میں صرف وہی شامل ہیں یا یہ کہ یہ تذکرے صرف مردوں کی دلچسپی کے لیے ہیں۔ یوں تو قرینہء تخصیص کی ناموجودگی بذاتِ خود عدمِ تخصیص کی ایک دلیل ہے، لیکن یہاں پر کچھ ایسے قرینے ملتے ہیں جن سے الٹا اس تصورِ تخصیص کی  نفی ظاہر ہوتی ہے۔ مثلا

(1)قرآن میں ایک جگہ فرمایا گیا ہے: ﴿إِنَّا أَنشَأْنَاھُنَّ إِنشَاء º فَجَعَلْنَاھُنَّ أَبْكَارًا﴾ (الواقعہ: 35، 36) یعنی ”ہم ان حسیناؤں کو ایک خاص طرز سے وجود بخشیں گے اور انہیں دوشیزگی عطا کریں گے……“ اس آیت کی تفسیر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ صریح ارشاد صحیح سند کے ساتھ منقول ہے کہ دنیا کے اندر جو مومن بیبیاں بوڑھی اور سن رسیدہ ہوجائیں گی، مذکورہ آیت کی رو سے اللہ تعالی انہیں بھی جنت کے اندر نئے سرے سے جوانی اور دوشیزگی عطا کریں گے۔ دیکھئے:

أتت عجوز إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّہِ، ادْعُ اللَّہَ أَنْ يُدْخِلَنِي الْجَنَّۃَ، فَقَالَ: يَا أُمَّ فُلاَنٍ، إِنَّ الْجَنَّۃَ لاَ تَدْخُلُھَا عَجُوزٌ قَالَ: فَوَلَّتْ تَبْكِي فَقَالَ: أَخْبِرُوھَا أَنَّھَا لاَ تَدْخُلُھَا وَھِيَ عَجُوزٌ إِنَّ اللَّہَ تَعَالَی يَقُولُ: ﴿إِنَّا أَنْشَأْنَاھُنَّ إِنْشَاءً فَجَعَلْنَاھُنَّ أَبْكَارًا عُرُبًا أَتْرَابًا﴾ (شمائل الترمذي، رقم 241۔جامع الترمذی، رقم 3296۔ البانی نے پہلی سند کو حسن قرار دیا ہے۔)

 یعنی ”ایک بڑھیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! دعا کیجئے کہ اللہ تعالی مجھے جنت میں پہنچا دیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بی بی! جنت میں بڑھیا نہیں جائے گی۔ راوی بتلاتے ہیں کہ یہ سن کر وہ بڑھیا روتے ہوئے واپس پھر نے لگی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے بتلاؤ: جنت میں بڑھیا بڑھاپا لے کر نہیں جائے گی (بلکہ جنت میں جو بھی جائے گا جوان ہوکر جائے گا) کیونکہ اللہ جل شانہ کا ارشاد ہے: ”ہم انہیں ایک نیا جنم دے کر کنواریاں، اپنے خاوندوں کی لاڈلیاں اور عمر میں یکساں بنادیں گے۔“

(2) اسی طرح ایک روایت ہے کہ سیدنا ابو بکرؓ  کی اہلیہ حضرت ام رومانؓ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی وفات پا گئیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر ارشاد فرمایا: ”من سرہ أن ينظر إلی امرأۃ من الحور العين فلينظر إلی أم رومان“  (الطبقات الكبرى ، ابن سعد، 8/276) یعنی ”جو آدمی کسی حور کو دیکھنا پسند کرے تو وہ ام رومان کو دیکھ لے۔“ اب ظاہر ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس ارشاد میں ام رومانؓ کے جنتی ہونے کی طرف اشارہ کرنے کے لیے ان پر  ”حور“ کا اطلاق کیا۔

(3) ایک روایت میں صحابیء رسول ابو نحیلہؓ کی ایک دعاء نقل کی گئی ہے کہ ”اللھم اجعلني من المقربين واجعل أمي من الحور العين“ (المعجم الكبير للطبراني، ۲۲/ 278) یعنی ”اے پروردگار مجھے اپنا مقرب بنا  اور میری ماں کو حورانِ بہشتی میں شامل فرما۔“

(4)حسن بصری رحمہ اللہ نے نو صحابہ کرام سے یہ فیصلہ کن مضمون نقل کیا ہے کہ ”حور“ سے مراد کوئی اور ہو نہ ہو، مومن عورتیں تو ہیں ہی اور اس روایت کی سند بھی موجود ہے۔ دیکھئے:

”عبد الرزاق قال: أنا جعفر بن سليمان عن عباد بن عمرو قال: سأل يزيد ابن أبي مريم الحسن فقال: يا أبا سعيد ما الحور العين؟ قال عجائزكم ھؤلاء الدرد ينشئھن اللہ خلقا آخر، فقال لہ يزيد بن أبي مريم: عن من تذكر ھذا يا أبا سعيد، قال: فحسر الحسن عن ذراعيہ ثم قال: حدثني فلان وفلان حتی عد من المھاجرين خمسۃ وعد من الأنصار أربعۃ. عبد الرزاق قال أنا معمر عمن سمع الحسن يقول حور العين من نساء الدنيا ينشئھن اللہ خلقا آخر“ (تفسیر الصنعانی، سورہ الدخان: 54)

یعنی ”عبد الرزاق نے جعفر اور جعفر نے عباد بن عمرو سے نقل کیا ہے کہ یزید بن ابی مریم نے حسن بصری سے پوچھا کہ حوریں کیا ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ یہی تمہاری بوڑھیاں جن کے دانت ٹوٹ چکے ہیں، اللہ انہیں ایک نئی تخلیق عطا کرے گا۔ یزید نے جب دریافت کیا کہ یہ آپ نے کس سے سنا؟ تو یہ سن کر حسن نے اپنی آستینیں چڑھائیں اور گن گن کر نام بتانے لگے، ان میں پانچ نام مہاجرین کے اور چار انصاریوں کے تھے۔ یہی تفسیر حسن بصری سے ایک اور سند کے ساتھ بھی منقول ہے۔“

(5) نیز اگر حورانِ بہشتی کے تذکرے صرف مردوں کا شوقِ جنت بڑھانے کے لیے ہوتے اور عورتوں سے غیر متعلق ہوتے تو اس کی وجہ سے جو ابہامات ہماری خواتین کو لاحق ہوتے ہیں،بعینہ یہی ابہامات عہدِ نبوی کی خواتین کے ذہن میں بھی ضرور پیدا ہوتے اور وہ اس سلسلہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی نہ کوئی سوال ضرور کرتیں۔ عہدِ نبوی کی تاریخ گواہ ہے کہ عہدِ نبوی کی خواتین کو سوال اٹھانے کی مکمل آزادی حاصل تھی اور وہ اس طرح کے سوالات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بلاجھجک پوچھ لیا کرتی تھیں۔ ان کے ذہنوں میں ایسا کوئی سوال پیدا نہ ہونا اور احادیث وروایات کے عظیم الشان ذخیرہ کا ایسی کسی قسم کی رویت سے یکسر خالی ہونا بھی اس بات کا قرینہ ہے کہ عہدِ نبوی کی خواتین لا محالہ ”حورانِ بہشتی“ کے اطلاق میں مومن بیبیوں کو بھی شامل سمجھتی تھیں، ورنہ ان کے ذہن میں بھی یا کم از کم بعد کی کچھ صدیوں کی مومن خواتین کے ذہن میں یہ سوال ضرور پیدا ہوتا۔

مذکورہ تمام قرائن وشواہد گواہی دیتے ہیں کہ دنیا سے گذر کر جانے والی مومن خواتین پر ”حور“ کا اطلاق کرنے میں کوئی حرج نہیں۔

حورانِ بہشتی کے تذکرہ میں خواتین کے لیے ترغیب کے پہلو

جب یہ بات واضح ہوگئی کہ ”حورانِ بہشتی“ سے مراد علی الاطلاق جنتی حسینائیں ہیں (خواہ وہ دنیا کی مومن عورتیں ہوں یا کلمہء ”کن“ سے پیدا ہونے والی حسینائیں) اور ان حسیناؤں کے بارہ میں یہ بھی بتا دیا گیا ہے کہ یہ زنانہ حسن وجمال کا مرقع بن کر مومن مردوں ہی کے پاس ہوں گی تو اب یہ سوال باقی ہی نہیں رہتا کہ مومن مردوں کے پاس تو ہ کلمہء کن سے پیدا ہونے والی حسینائیں ہوں گی اور حسن وجمال کے بتلائے گئے احوال بھی انہی کے ہیں، لہذا یہ دنیا کی مومن خواتین کہاں جائیں گی اور انہیں کیا ملے گا۔ قرآن وحدیث میں جب حورانِ بہشتی کا ذکر ہوتا ہے تو وہاں صرف مردوں کو ہی یہ نہیں بتایا جارہا ہوتا کہ انہیں جنت میں دوسری نعمتوں کے ساتھ ساتھ حسینائیں بھی ملیں گی، بلکہ مومن خواتین کو بھی گویا یہ پیغام دیا جارہا ہوتا ہے کہ جنت میں آنے والی خواتین کو کس طرح ایک حسین سراپا دے کر جنتی مردوں کی بیگمات بنایا جائے گا۔ پس یہ آیات واحادیث صرف مردوں کی ترغیب کے لیے نہیں ہوتیں، بلکہ خواتین کے لیے بھی اِن میں دلچسپی کا پورا پورا سامان موجود ہوتا ہے۔

کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ دنیا کی چند روزہ گوری رنگت، باسی ہوجانے والے تیکھے نقوش، خاک سے نکلنے والے سونا چاندی اور چند لمحوں بعد بے رونق ہوجانے والے سرخی پاؤڈر کے لیے صنفِ نازک بے چین رہتی ہے، انہی کے خواب اور انہی کے خیال ہماری خواتین پر طاری رہتے ہیں، انہی کی آرزو کرتے کرتے ہمارا دم نکل جاتا ہے اور ایک وقتی رفاقت کے بعد جس دلہا نے پیوندِ خاک ہوجانا ہے، اس دلہا کی دلہن بننے کے لیے اور جیسے تیسے مردوں کی بیوی بننے کے لیے ہماری کنواریاں دعائیں مانگتی ہیں اور دعائیں مانگتے ہوئے انہیں رونا بھی آتا ہے، پس یہ کیسے ممکن ہے کہ ذرہ سے لے کر آفتاب تک ہر چیز کو وجود بخشنے والا پروردگار جس حسن اور جس سراپا کی تعریف کرے، جس صورت اور سیرت کو بطور ایک مثال کے پیش کرے، جس جمال اور رعنائی سے اپنی جنت کو سجائے اور پھر ایسے حسن وجمال کے پیکروں کو اپنے انعام یافتہ مثالی مردوں کے ساتھ بیاہنے کی بات کرے تو اس افسانوی اور دیو مالائی حسن کو حقیقتا پالینے کے لیے ہمارے دلوں میں کوئی شوق پیدا نہ ہو اور نہ ہی رب العلمین کے انعام یافتہ مثالی روپ اور مثالی کردار والے مردوں کے ساتھ بیاہنے کو ہمارے دل مچلیں؟

کسی بھی عورت سے معلوم کرلیجئے کہ عموما خواتین کی سب سے بڑی خواہش کیا ہوتی ہے؟ روٹی، کپڑا اور مکان کی بات میں نہیں کرتا کہ یہ تو ضروریات ہیں اور بے شک جنت کے اندر یہ بھی اعلی ترین پیمانہ پر پوری ہوں گی۔ میں بات کر رہا ہوں لذتوں کی، خواہشات کی اور تعیشات کی۔ ان کے دائرہ میں رہتے ہوئے اگر دیکھا جائے تو کسی بھی عورت کی سب سے بڑی خواہش اور سب سے اولین خواہش جو اسے پریشان کن حد تک لاحق ہوتی ہے، وہ یہ ہے کہ کسی طرح میں ایک مثالی حسن کی مالک بن جاؤں، میری خوب روئی دیو مالائی ہو، میری نگاہیں صنفِ مخالف کو مبہوت کر کے رکھ دیں اور یہ کہ میرا رفیقِ حیات ایک مثالی کردار، مثالی شخصیت اور مثالی ہی روپ کا مالک ہو۔ اب ذرا حورانِ بہشتی والی آیات واحادیث کو پڑھئے، کیا ان میں صنفِ نازک کی انہی چاہتوں کی تکمیل کی بات نہیں ہورہی؟ تو اب آپ خود ہی بتائیے کہ یہ آیات واحادیث عورتوں سے غیر متعلق کیوں کر ہوئیں؟ بے شک ان میں مردوں کے لیے بھی پوری پوری دلچسپی کا سامان موجود ہے، مگریہ عورتوں کے لیے بھی غیر متعلقہ ہرگز نہیں ہیں۔ ہاں، اگر عورتوں کو لازوال حسن، بے مثال سراپا، قابلِ رشک شخصیت، نہ ختم ہونے والی جوانی، نگینہ جیسی صورت اور حسین، خلیق ومعزز رفیق کی خواہش نہیں ہے تو پھر ٹھیک ہے، اس صورت میں حورانِ بہشتی کے احوال میں واقعی ان کے لیے دلچسپی کا کوئی سامان نہیں ہے۔

جنتی حسیناؤں کے قرآنی اوصاف وخصائل

مناسب محسوس ہوتا ہے کہ یہاں پر ہم ایک مفصل نظر جنتی حسیناؤں کے اوصاف وخصائل پر ڈالیں اور واضح کریں کہ اِن کے اندر مردوں کے ساتھ ساتھ کس کس طرح سے خواتین کے لیے بھی رغبت اور سبق کا پورا پورا سامان موجود ہے ۔ ہم نے یہاں بنیادی طور پر صرف ان اوصاف وخصائل کا انتخاب کیا ہے جو قرآن میں بیان ہوئے ہیں اور احادیث میں مذکورتفصیلی اوصاف کو اس ضمن میں کہیں کہیں صرف وضاحت کے لیے لے آئے ہیں:

۱۔    سب سے پہلی خوبی تو وہی ہے جو انہیں ”حور“ کا نام دے کر اللہ نے واضح فرمائی ہے۔ ”حور“ کے معنی ہیں: ”آنکھوں کے اندر طلسماتی کشش رکھنے والی اجلے رنگ کی حسینائیں“، خواتین سوچ لیں کہ کیا انہیں ایسا بننے کا واقعی کوئی شوق نہیں ہے؟

۲۔   ایک اور چیز ان کے بارہ میں یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ ”عِین“ ہیں (الصافات: 48)، یعنی ”بڑی بڑی آنکھوں والی آہو چشم حسینائیں۔“

۳۔  ایک خصوصیت یہ بھی بتلائی گئی کہ دنیا کے اندر اگر وہ سن رسیدہ بوڑھیاں بھی تھیں تو جنت کے اندر اللہ جل شانہ انہیں پھر سےبھرپور شباب کے ساتھ  کنواریاں بنا کر اٹھائیں گے(الواقعہ: 63) اور یوں ہوجائیں گی کہ گویا کبھی ان کو کسی انسان نے چھوا تک نہیں۔ (الرحمن: 65) وقت گذرنے کے ساتھ وہ مضمحل نہیں ہوں گی، بلکہ کنواریاں ہوں گی، کنواریاں رہیں گی اور کنواریوں جیسی رعنائی، کنواریوں جیسی تازگی، کنورایوں جیسی اٹھان، کنواریوں جیسے جذبے اور کنواریوں جیسی شفافیت گویا ہمیشہ برقرار رہے گی۔

۴۔  اگر کسی بہت ہی خوب صورت سراپے پر انسان کی نظر پڑے تو یوں گمان ہوتا ہے کہ گویا اس نے کوئی نگینہ دیکھ لیا ہے۔ اللہ جل جلالہ نے حورانِ بہشتی کے بارہ میں بھی ان کے اجلے اور دُھلے ہوئے حسن کو بیان کرنے کے لیے یہ تعبیر ارشاد فرمائی کہ گویا وہ کوئی داغ دھبوں سے دور، پردوں میں پڑا ہوا صاف وشفاف موتی ہیں۔  (الواقعہ: 23)

۵۔  ان حسیناؤں کا سراپا ایسا سرخ وسفید ہوگا اور ایسی بیش قیمت پوشاکیں انہوں نے پہن رکھی ہوں گی کہ ان پہ یاقوت ومرجان اور رنگ برنگی موتیوں کا گمان ہوگا(الرحمن: 58) اور ان کا بے داغ وجود گویا چھلکے میں چھپے ہوئے انڈے کی طرح ہے جو ابال کر چھیلنے سے ظاہر ہوتا ہے اور اس کا گول مٹول وجود آنکھوں کو لذت وفرحت بخشتا ہے۔(الصافات: 49)

۶۔   وہ ”کواعب“ ہوں گی (النباء: 33)، یعنی ان کی چھاتیوں پر جوانی کے دلکش ابھاروں کی گولائی ایک متناسب اٹھان کے ساتھ ظاہر ہوگی جیساکہ ابتدائے بلوغت میں ہوتا ہے۔ (دیکھئے؛ روح المعانی) ایسی صفات کے بارہ میں کچھ کہتے سنتے ہوئے، ممکن ہے کہ ہم شرمائیں، لیکن کیا اس بات میں کوئی شک ہوسکتاہے کہ مرد عورتوں کو ایسا ہی دیکھنا چاہتے ہیں اور عورتیں خود اپنے آپ کوبھی؟

۷۔    وہ ”خیرات حسان“ یعنی ”ملکہ حسن“ ہونے کے ساتھ ساتھ خوش اخلاق اور خوش اطور بھی ہوں گی۔ (الرحمن: 70)

۸۔   ایک صفت ان کی یہ ارشاد فرمائی کہ وہ ”عُرُب“ ہوں گی (الواقعہ: 37) جس کے معنی عربی لغت کی رو سے کچھ یوں کیے جاتے ہیں کہ وہ لڑکیاں جو اپنے مردوں کی محبوب ہوں، ناز وانداز کے سارے اسلوب جانتی ہوں، ان کی اداؤں میں ایک گرمجوشی اور دلربائی ہو، اپنے مردوں پر خود بھی فدا ہوں، ہنسنے اور ہنسانے والی ہوں، شیریں گفتار ہوں اور اپنے مردوں کی لاڈلی ہوں، بالفاظِ دیگر نسوانی خوبیوں کا ایک خوب صورت مرقع ہوں۔ اردومیں اس کا ترجمہ ”لاڈلی ومحبوب“ بھی گویا اسی لیے کیا جاتا ہے کہ اس میں دل اٹکانے کے سارے قرینے ضمنا آجاتے ہیں۔ قرآنی بیان کی رو سے حورانِ بہشتی گویا دل اٹکانے کے قرینوں میں محاورتا نہیں، بلکہ حقیقتا طاق ہوں گی۔

۹۔   اپنے رفیقوں کی ہم عمر ہوں گی۔ (ص: 52)

۰۱۔  وہ ”مطہرۃ“ یعنی ”غلاظتوں اور نجاستوں سے پاک“ ہوں گی۔ (البقرہ: 25) واقفانِ حال جانتے ہیں کہ ماہواری کے ایام عورت کے لیے کتنی کوفت کے ایام ہوتے ہیں، جبکہ جنت کے بارہ میں یہ بتایا جارہا ہے کہ وہاں اس کوفت کا نام ونشان بھی نہیں ہوگا، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی رو سے ماہواری تو در کنار، وہاں بول وبراز کی حاجت بھی نہیں ہوگی۔ (تفسیر ابنِ کثیر)

۱۱۔  ایک بات جو تقریبا ہر جگہ کہی گئی ہے، وہ یہ ہے کہ یہ حسینائیں جنتی مردوں کے پاس ہوں گی اور ان کی زوجیت میں ہمیشہ رہیں گی۔

۲۱۔ وہ ”مقصورات فی الخیام“ ہوں گی، یعنی اپنے مردوں کی نظر میں  بازار کا شوپیس بنانے کی نہیں، بلکہ ایک قابلِ حفاظت اور سنبھال کر رکھے جانے کی چیز ہوں گی اور ”پردہ نشین“ ہوں گی۔ (الرحمن: 72) حورانِ بہشتی کی اس خصلت میں ہر باحیاء عورت کے لیے سامانِ رغبت کے ساتھ ساتھ ایک سبق بھی ہے، سبق یہ کہ جن بیبیوں نے جنت میں جا کر حیاء کے قرینوں کو مد نظر رکھنا ہے، کیا دنیا کے اندر وہ بے حیاء ہوکر گلیوں اور بازاروں میں اپنے حسن کو نیلام کریں گی؟ باقی یہ مقصد نہیں ہے کہ وہ جنت کے اندر قیدی بن کر رہیں گی اور نہ ہی یہ کہ دنیا میں جنتی عورتوں کو گھر کا قیدی بن کر رہنے کا حکم ہے، نہیں! بلکہ یہ کہ وہ جہاں کہیں بھی ہوں گی باپردہ ہوں گی، غیر مردوں کی نگاہوں سے مستور ہوں گی اور اپنے شوہروں میں ہی عزت، لذت اور راحت کے سارے سامان مجتمع پائیں گی۔

23۔ ایک صفت یہ بتلائی گئی کہ وہ ”قاصرات الطرف“ ہوں گی۔  اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں اور دونوں ہی صحیح ہیں۔ اول یہ کہ اپنے شوہروں کے سوا کسی کی طرف ان کی نگاہیں نہیں اٹھیں گی، یعنی جنت میں خدا تعالی ہر ایک مرد کو ایسا حسن عطا فرمائیں گے، متعلقہ تمام حوروں کے لیے اپنے اپنے شوہر اتنے حسین کردیے جائیں گے اور ہر ایک حسینہ کا اپنے اپنے مرد سے متعلق تاثر اتنا قوی ہوگا کہ نگاہ کسی اور طرف موڑنے کو سرے سے جی ہی نہیں چاہے گا، چنانچہ ایک روایت کے مطابق وہ اپنے شوہر سے کہے گی: ”وعزّۃ ربي وجلالہ وجمالہ، إن أری في الجنۃ شيئا أحسن منك، فالحمد للہ الذي جعلك زوجي، وجعلني زوجَك“ (تفسیر ابنِ جریر، الرحمن: 56) یعنی ”مجھے اپنے رب کی عزت، عظمت اور جمال کی قسم، جنت میں تم سے زیادہ حسین چیز مجھے کوئی اور نظر نہیں آتی، شکر ہے اس رب کا جس نے تجھ کو میرا اور مجھ کو تیرا رفیق بنایا۔“

یہ ”قاصرات الطرف“ کی ایک تفسیر ہے اور عربی محاورہ کی رو سے درست ہے، جبکہ ایک دوسری تفسیر  کے مطابق ”قاصرات الطرف“ کا معنی یہ ہے کہ وہ اپنے مردوں کی نگاہ کو اِدھر اُدھر نہیں ہونے دیں گی، گویا ان کے سراپا میں ایسی بجلیاں بھری ہوں گی جو دیکھنے والے کی نگاہ کو جکڑ لیں گی اور اِدھر اُدھر کا ہوش نہیں رہنے دیں گی اور ہر عورت اپنے خاوند کے لیے ایسی ہی ہوگی۔ ”قاصرات الطرف“ کا یہ معنی بھی عربی محاورہ کی رو سے درست ہے اور بعض مفسرین نے اسے اختیار کیا ہے۔ (دیکھئے: روح المعانی) سو یہ لفظ اپنی ایک تفسیر کی رو سے عورت کے حسن کو بیان کرتا ہے کہ وہ اپنے دیکھنے والے کی نگاہوں کو جکڑ لیں گی اور ادھر ادھر کا ہوش نہیں رہنے دیں گی، جبکہ دوسری تفسیر کی رو سے خاوند کے حسن کو بیان کرتا ہے کہ وہ ان کے سوا کسی کو دیکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کریں گی۔ قرآن میں اس جگہ ایک قطعی الدلالہ لفظ استعمال فرمانے کی بجائے ظنی الدلالہ یا یوں کہیں کہ ذو معنی لفظ استعمال فر ما کر گویا دونوں کے غیر معمولی حسن کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔

حورانِ بہشتی کے مذکورہ اوصاف کے اندر خواتین غور کریں اور پھر سوچیں کہ کیا یہ اوصاف وخصائل ان سے غیر متعلقہ ہیں اور اِن میں اُن کے لیے کیا واقعی کوئی سبق اور کوئی رغبت نہیں ہے اور کیا ان اوصاف میں صرف مردوں کو رغبت ہوتی ہے یا پھر عورت بھی خود کو ایسا ہی دیکھنا چاہتی ہے؟

جنتی مردوں کا حسن وجمال

ذہن میں ایک سوال یہ بھی پیدا ہوسکتا ہے کہ قرآن وحدیث میں چلئے، جنتی حسیناؤں کے اوصاف وخصائل تو موجود ہیں اور یہ بھی درست ہے کہ ان میں خواتین کو بھی رغبت ہونی چاہئے، لیکن سوال یہ ہے کہ خود ان مردوں کے حسن وجمال کا کوئی تذکرہ کیوں نہیں ہے جنہوں نے عورتوں کا رفیق بننا ہے؟ اس کے جواب میں پہلی گذارش تو یہ ہے کہ ”قاصرات الطرف“ کا پہلا مفہوم جو ابھی بیان ہوا، وہ در اصل جنتی مردوں ہی کے حسن کی طرف اشارہ کرتا ہے، چنانچہ متعلقہ ایک روایت بھی ابھی بیان ہوئی ہے جس میں جنتی عورت اپنے خاوند کی تعریف کرتی ہے۔  نیز ایک اور روایت کی رو سے جنتی مردوں کی آنکھیں سرمگیں ہوں گی، سراپا بالوں کے بغیر ہوگا اور چہرہ پر ڈاڑھیاں نہیں ہوں گی۔ (جامع الترمذی، رقم 2359)  نیز ایک حدیث میں یہ بتایا گیا ہے کہ جنت کے اندر ایک بازار ہوگا، اس بازار میں عورتوں اور مردوں کی تصویریں لگی ہوں گی، انسان کو جو تصویر اچھی لگے گی اس میں داخل ہوگا اور ویسا ہی سراپا لے کر باہر آجائے گا۔ (جامع الترمذی، رقم 2550)

قرآن میں ارشاد ہے کہ وہ ریشم کے بیش قیمت لباس میں ملبوس ہوں گے اور انہوں نے سونا، چاندی و موتیوں کے جڑاؤکنگن پہن رکھے ہوں گے۔ (الحج: 23، الانسان: 21) نیز ان کے چہرے روشن وچمکدار ہوں گے (آلِ عمران: 106) ان کے چہرے کھلتے ہنستے اور بارونق ہوں گے (عبس: 38، 39)  اور ان پر ایک بشاشت، تازگی، شگفتگی اور تمتماہٹ دیکھی جاسکے گی۔ (القیامہ: 22) وہ نعمتوں کا جہان ہوگا جس میں وہ ٹھہرے ہوں گے، اونچی مسندوں پر بیٹھے نظارے کر رہے ہوں گے اور ان کے چہروں پر خوشحالی کے جلوے ہوں گے۔ (المطففین: 24) یہ صفات جنتیوں کی ہیں اور عورت ومرد دونوں کو شامل ہیں لہذا اِن سے جنتی مردوں کی سیرت، صورت اور وجاہت کا اندازہ بھی بخوبی کیا جاسکتا ہے۔

تاہم اگر چاہا جائے کہ مردوں کے حسن وجمال کو بیان کرنے کے لیے بھی ویسی ہی رنگین تشبیہات ملیں جیسی جنتی حسیناؤں کے لیے وارد ہیں تو  وہ شاید نہ مل سکیں کیونکہ رنگین اور مترنم تشبیہات عموما ہر زبان میں زنانہ حسن کے لیے ہوتی ہیں اور انہی سے کلام میں وہ ترنم پیدا ہوتا ہے جس میں مردوں وعورتوں دونوں کو دلچسپی ہوتی ہے۔ نیز جنتی حسیناؤں کا ذکر خصوصیت کے ساتھ شاید اس لیے بھی کیا جاتا ہے کہ مومن خواتین جنت کو صرف مردوں کی جگہ نہ سمجھیں اور نہ ہی مرد اپنے آپ کو وہاں تنہا سمجھیں۔

نیز یہ بات سچ ہے کہ قرآن وحدیث میں جنت کی بہت بلیغ تصویر کھینچی گئی ہے لیکن درحقیقت جنت سننے کی نہیں، دیکھنے کی چیز ہے اور دیکھنے سے ہی تعلق رکھتی ہے۔ اس کی لذتوں اور ذائقوں کے جتنے پہلو ہمارے سامنے بیان ہوئے ہیں، وہ سب کے سب در اصل اجمالی خاکہ ہیں اور جنت کا جہاں بس انہی پہلؤوں میں محصور نہیں۔ قرآن وحدیث ہی کی نصوص سے یہ بات پوری صراحت اور بداہت کے ساتھ ثابت ہے۔ارشادِ ربانی ہے کہ جنت میں وہ سب کچھ ہوگا جس کی تمنا دل کرتے ہیں اور آنکھوں کی لذت کا سامان بھی مہیا ہوگا۔ (الزخرف: 71) ایک اور جگہ فرمایا کہ کوئی نہیں جانتا کہ جنتیوں کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک کا کیا کچھ سامان پردۂ غیب میں پڑا ہوا ہے۔ (السجدہ: 17)  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ سبحانہ وتعالی کا یہ ارشاد نقل فرماتے ہیں کہ ”میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ کچھ تیار کر رکھا ہے جو نہ تو کبھی کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا اور نہ کبھی کسی دل میں اس کا خیال گذرا۔“ (صحیح البخاری، رقم 3244)

مفسرین کے اختلافی اقوال کا جائزہ

اب تک کی گفتگو اس تناظر میں تھی کہ قرآن وحدیث میں مذکور جنتی حسیناؤں کے اوصاف وخصائل جنت ہی میں پہلا جنم لینے والی حسیناؤں سے مخصوص نہیں، بلکہ ان میں وہ جنتی خواتین بھی شامل ہیں جو دنیا کے امتحان میں مردوں کے ساتھ شریک رہی تھیں، لیکن ہم گذشتہ سطور میں عرض کر چکے ہیں کہ بعض کتبِ تفسیر میں تخصیص کے اقوال بھی موجود ہیں۔ درجِ ذیل سطور میں انہی اقوال کی تنقیح مقصود ہے، لیکن اِن اختلافی اقوال کو جاننے سے قبل ایک بار پھر یاد دہانی کرانا ضروری ہے کہ مومن عورتوں کے جنت میں داخلہ کا کوئی منکر نہیں، غلط فہمی صرف یہ سمجھنے میں واقع ہوئی ہے کہ قرآن وحدیث میں اکثر وبیشتر جن جنتی حسیناؤں کا تذکرہ آتا ہے تو ان سے مراد صرف کلمہء کن کے ساتھ  پیدا کی جانے والی حسینائیں ہوتی ہیں۔

ہمارے مطالعہ کی رو سے امام سیوطی نے ”تفسیر الدر المنثور“ میں شعبی کے حوالہ سے صرف وہ قول نقل کرنے پر اکتفاء کیا ہے جس کی رو سے ”حور“ کا مصداق کوئی اور ہو نہ ہو، مومن خواتین تو ہیں ہی اور تخصیص کا کوئی قول سرے سے نقل ہی نہیں کیا (شعبی کی عبارت چند سطروں بعد آجائے گی)، جبکہ علامہ شمس الدین محمد بن احمد الشربینی نے اپنی تفسیر ”السراج المنیر“ کے اندر صریح لفظوں میں تخصیص کے قول پر نکتہء اعتراض اٹھاتے ہوئے اسے مسترد کیا ہے، جس کی عبارت بھی آئندہ سطروں میں ہم نقل کریں گے۔ اسی طرح مولانا ثناء اللہ پانی پتی نے ”تفسیرِ مظہری“ میں جو گفتگو کی ہے، اس سے بھی بظاہر یہی تاثر پیدا ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک تخصیص کا قول مرجوح ہے۔ علاوہ ازیں تفسیرِ طبری اور تفسیر ابنِ کثیر وغیرہ میں سرے سے یہ اختلافی بحث چھیڑی ہی نہیں گئی اور نہ ہی تخصیص وتعمیم کا کوئی پہلو کہیں زیرِ بحث آیا ہے، بس لفظِ ”حور“ کا لغوی مفہوم واضح کرنے پر اکتفاء کیا گیا ہے اور ہم پہلے عرض کر چکے ہیں کہ لغوی اطلاق واضح کرنے پر اکتفاء کرنا بھی اس بات کا قرینہ ہے کہ یہ حضرات تعمیم کے قائل ہیں۔

پھر جن تفاسیر میں یہ قول مذکورہے کہ ”حور“ کے اطلاق میں مومن خواتین شامل نہیں تو ان میں بھی در اصل اس قول کو  ایک اختلافی واحتمالی قول کے طور پر ذکر کیا گیا ہے، نہ کہ واحد قطعی تفسیر کے طور پر۔ نیز جن جن تفاسیر میں یہ قول مذکور ہے، ان میں سے بھی تفسیرِ جلالین، تفسیرِ قرطبی، تفسیرِ بغوی، تفسیرِ ابن قیم، اللباب فی علوم الکتاب، تفسیرِ مظہری اور تفسیرِ خازن وغیرہ میں یہ اختلافی نکتہ سورۃ الرحمن کی آیت نمبر 56اور 74کے تحت اٹھایا گیا ہے جس میں حورانِ بہشتی کی ایک صفت بتلائی گئی ہے کہ ”ان حوروں کو کسی انسان یا جن نے نہیں چھوا ہوگا۔“ توجہ طلب بات یہ ہے کہ جنتی حسیناؤں کا ذکر سورۃ الرحمن سے قبل بھی قرآن میں کئی جگہ ہوا ہے، بلکہ اگر صرف ”حور“ کے لفظ کو لے لیجئے تو یہ بھی سورۃ الرحمن سے قبل سورۃ الدخان کی آیت 54 میں اور سورۃ الطور کی آیت 20 میں ذکر ہوچکا ہے، لیکن مذکورہ کتبِ تفسیر میں سورۃ الرحمن کے اندر ہی تخصیص کے قول کا زیرِ بحث آنا اور اس سے قبل گذر جانے والے کسی متعلقہ مقام پر اس کا زیرِ بحث نہ آنا اس بات کی دلیل ہے کہ مذکورہ مصنفین کے نزدیک اگر تخصیص کا قول قابلِ وقعت ہے بھی تو اسے صرف سورۃ الرحمن کے اندر مذکور حوروں کے تذکرہ سے متعلق ہونا چاہئے، نہ کہ قرآن وحدیث میں مذکور جنتی حسیناؤں کے تمام احوال سے، اگرچہ خود اہلِ تخصیص کے اعتراف کے مطابق علماء کی ایک جماعت اس قدر تخصیص کی بھی قائل نہیں۔

تاہم تفسیرِ رازی، ابو السعود، صنعانی، بیضاوی، روح المعانی اور روح البیان میں یہ اختلافی بحث سورۃ الدخان کی آیت 54 کے تحت چھیڑی گئی ہے اور یہ وہ سب سے پہلا مقام ہے جہاں قرآن میں ”حور“ کا لفظ استعمال ہوا ہے، اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ ان چند مصنفین کے نزدیک تخصیص کے اختلاف کا تعلق ان تمام مقامات سے ہونا چاہئے جہاں ”حور“ کا لفظ استعمال ہوا ہے، لیکن اس سے بھی آگے بڑھ کر یہ کہنا کہ وہ تمام مقامات جہاں جنتی حسیناؤں کے احوال مذکور ہیں، خواہ وہاں ”حور“ کا لفظ ہو یا نہ ہو، وہ ان مصنفین کے نزدیک اس تخصیص کی لپیٹ میں ہونے چاہئیں، کسی طور درست معلوم نہیں ہوتا کیونکہ ایسے کئی مقامات سور ۃ الدخان سے پہلے بھی قرآن میں موجود ہیں جن کی طرف اشارہ گذشتہ سطور میں کیا جاچکا ہے اور اس صورت میں تخصیص کی اختلافی بحث کو وہاں مذکور ہونا چاہئے تھا جہاں سب سے پہلے قرآن میں جنتی حسیناؤں کا ذکر آیا، جبکہ ایسا نہیں ہے۔

تفاسیر کے اس تمہیدی جائزہ کے بعد اب ہم دیکھتے ہیں کہ تخصیص کے اس دوسرے قول کی بنیاد کیا ہے؟

(1) ابنِ قیم اور قرطبی کے مطابق سورۃ الرحمن کی آیت میں حوروں کی جو صفت بتائی گئی ہے کہ وہ اَن چھوئی ہوں گی، یہ صرف جنت ہی میں پہلا جنم لینے والی حسیناؤں میں پائی جاتی ہے کیونکہ مومن خواتین تو اس سے قبل دنیا میں چھوئی جاچکی ہیں۔  اس استدلال کے ضعف کو سمجھنے کے لیے صرف ایک نکتہ پہ غور کیجئے کہ سورۃ الواقعہ کی آیت35 میں جنتی حسیناؤں کو ”کنواری“ بھی فرمایا گیاہے اور گذشتہ سطور میں گذر چکا ہے کہ صحیح سند سے منقول ایک صریح حدیثِ نبوی کی رو سے وہ مومن خواتین بھی اس کے اطلاق میں شامل ہیں جو دنیا کے اندر بوڑھی ہو کر مری تھیں۔ اب اگر سن رسیدہ بوڑھیاں جنت میں جاکر کنواری ہوسکتی ہیں تو پھر ”اَن چھوئی“ کیوں نہیں؟ سورۃ الرحمن میں ذکر تو جنت والے جنم کا ہے اور اس جنم کی رو سے ظاہر ہے کہ مومن خواتین بھی جیساکہ کنواری ہوں گی، ویسا ہی اَن چھوئی بھی ہوں گی۔ جلیل القد تابعی امام شعبی نے ”الرحمن“ کی آیت کو صریحا ”الواقعہ“ کی آیت نمبر 35 پر قیاس کیا ہے۔ امام سیوطی لکھتے ہیں:

”أخرج سعيد بن منصور وابن المنذر عن الشعبي في قولہ: لم يطمثهن إنس قبلھم ولا جان؛ قال: ھن من نساء أھل الدنيا خلقھن اللہ في الخلق الآخر كما قال: إنا أنشأناھن إنشاء فجعلناھن أبكارا؛ لم يطمثھن حين عدن في الخلق الآخر إنس قبلھم ولا جان!“ (الدر المنثور۔ الرحمن: 56)

”سعید بن منصور اور ابن المنذر نے شعبی سے روایت کیا ہے کہ سورۃ الرحمن کی آیت میں حوروں کی جو صفت ”ان چھوئی“ بتلائی گئی ہے، وہ جنت میں جانے والی دنیا کی خواتین سے متعلق ہے کیونکہ انہیں وہاں ایک نیا جنم ملے گا، چنانچہ سورۃ الواقعہ میں انہیں کنواری بھی کہا گیا ہے، وجہ ظاہر کہ وہ اپنے نئے جنم میں ”ان چھوئی“ ہی ہوں گی۔“

اسی طرح تفسیر ”السراج المنیر“ میں قائلینِ تخصیص کے اس استدلال کو اسی بنیاد پر مسترد کیا گیا ہے:

”وقيل: إن الحور العين المذكورات في القرآن ھن المؤمنات من أزواج النبيين والمؤمنين، يخلقن في الآخرۃ علی أحسن صورۃ، قالہ الحسن البصري، قال ابن عادل: والمشھور أن الحور العين لسن من نساء أھل الدنيا، إنما ھنّ مخلوقات في الجنۃ لأنّ اللہ تعالی قال:لم يطمثھن إنس قبلھم ولا جانّ؛ وأكثر نساء أھل الدنيا مطموثات. انتھی. لكن مرّ أنہ لم يطمثھن بعد إنشائھن خلقاً آخر وعلی ھذا لا دليل في ذلك“ (تفسیر السراج المنیر۔ الرحمن: 72)

یعنی ”ایک قول ہے کہ قرآن میں مذکور حورانِ بہشتی سے نبیوں اور مومنوں کی مومن بیویاں مراد ہیں، انہیں آخرت میں ایک حسین وجمیل سراپا عطا ہوگا، حسنِ بصری اسی کے قائل ہیں، جبکہ ابنِ عادل کہتے ہیں: مشہور بات یہ ہے کہ حورانِ بہشتی دنیا کی عورتوں میں سے نہیں ہیں، بلکہ یہ جنت ہی میں پہلا جنم لینے والی خواتین ہیں کیونکہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ یہ ”ان چھوئی“ ہیں اور دنیا کی اکثر عورتیں تو دنیا میں زیرِ استعمال رہی تھیں، لیکن پہلے بیان ہوچکا ہے کہ ان کا نیا جنم ”ان چھوا“ ہی ہوگا لہذا یہ کوئی وجہِ استدلال نہیں۔“

       (2) روح المعانی کے مصنف علامہ آلوسی بھی تخصیص کے قائل ہیں، انہوں نے اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ روایات کی رو سے حورانِ بہشتی مٹی کی بجائے زعفران، مشک اور کافور سے یا پھر ملائکہ کی تسبیح سے تخلیق کی گئی ہیں، تاہم اول تو ان روایات کی استنادی حیثیت واضح نہیں، دوسرا اگر یہ سب صحیح بھی ہوں تو روایات میں جنت کے اندر حاصل ہونے والے وجود کی بات ہو رہی ہے اور جنت کے اندر دنیا کی مومن بیبیوں کو بھی ایک نیا وجود حاصل ہونا ہے، اس لیے اگر اُن کا وجود بھی جنت میں کافور وزعفران کے اسی خمیر سے اٹھایا جائے جس خمیر سے جنت میں پہلا جنم لینے والی حسیناؤں کا وجود تخلیق ہوگا اور روایات کے بیان میں دنیاکی مومن عورتیں بھی شامل ہوں تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے؟

       (3) تفسیر رازی اور ابو السعود میں ابوہریرہؓ کا قول نقل کیا گیا ہے کہ ”لسن من نساء الدنيا“ یعنی ”حوریں دنیا کی عورتوں میں سے نہیں“، تاہم اول تو ابو ہریرہؓ کے اس قول کی بھی کوئی سند معلوم نہیں، جبکہ حسن بصری نے نو صحابہ کرام سے اس کے برعکس یہ نقل کیا ہے کہ حوروں سے مراد مومن عورتیں ہیں اور اس روایت کی سند بھی موجود ہے، نیز یہی قول شعبی اور کلبی کا بھی ہے اور اگر ابوہریرہؓ کا قول ثابت بھی ہو تو اس کا مفہوم یہ ہوسکتا ہے کہ جنتی حسینائیں دنیا کی خواتین جیسی نہیں۔

       (4) روح البیان کے مصنف نے لکھا ہے کہ جمہور کے نزدیک دنیا کی خواتین ”حور“ کے اطلاق میں شامل نہیں،تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ آخر کس بنیاد پر جمہور کی طرف اس قول کی نسبت کر رہے ہیں، ہم جان چکے ہیں کہ متقدمین میں سے صرف ابو ہریرہؓ سے یہ قول منسوب ہے لیکن وہ بھی مدعا کے اثبات کے لیےکافی نہیں۔ ہماری نظر میں زیادہ سے زیادہ تخصیص کے قول کو ایک مشہور بات کہا جا سکتا ہے جیساکہ تفسیرِ قرطبی، اللباب فی علوم الکتاب، تفسیر السراج المنیر اور التفسیر المنیر(وہبۃ الزحیلی) میں کہا گیا ہے، جبکہ کسی بات کا محض ”مشہور“ ہونا اسے یہ سند فراہم نہیں کرتا کہ جمہور اہلِ علم کا علمی نکتہء نظر بھی یہی رہا ہو۔چنانچہ ہمارے نزدیک یہ بات غلط طور پر مشہور رہی ہے اور بعد کے مفسرین میں سے اگر کئی ایک نے تخصیص کوبظاہر ترجیح دیا ہے تو وہ بھی غالبا اسی مشہور غلط فہمی کے زیرِ اثر ہے، نیز شاید کوئی مضبوط بنیاد نہ ہونے کی وجہ سے ہی خود ان کے ہاں بھی عموما تخصیص کے حق میں کوئی زیادہ شدت نظر نہیں آتی۔ حقیقت یہ ہے کہ ”حور“ کے لغوی اطلاق کو بنا کسی دلیل کے ایک خاص جنس کی مخلوق سے مخصوص کر دینے کا کوئی بھی جواز نہیں ہے۔

آخری بات

بعض لوگ حورانِ بہشتی کے تذکرہ کو دنیاوی تلذذ اور جگت بازی کا ذریعہ بناتے ہیں، حالانکہ جنت کی نعمتوں کا تذکرہ اس لیے ہوتا ہے کہ آدمی دنیا کی پوجا چھوڑ کر اللہ کی پوجا اختیار کرے، اپنے سجدوں کو طویل کردے، کم زوروں پر رحم کھائے، زندگی کی روش بدلے اور دنیاوی خواہشات کی بجائے اخروی مقاصد کا اسیر بنے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ اپنی یاد سے ہمارے دلوں کو معمور فرما دیں، اپنے لیے جینے مرنے کا سلیقہ سکھا دیں اور ایسا بنا دیں کہ جنت کو پانے کے ہم قابل ہوسکیں۔

گذشتہ گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ ”حور“ کا لفظ قرآن وحدیث میں بالعموم تمام جنتی حسیناؤں کے لیے استعمال ہوتا ہے (خواہ وہ کلمہ کن سے پیدا ہونے والی ہوں یا دنیا کی مومن عورتیں) اور اس کا معنی ”جاذبِ نظر حسینائیں“ ہے۔ نیز قرآن وحدیث میں جہاں جنتی حسیناؤں کا تذکرہ آتا ہے تو اسے صرف کلمہء کن کے ساتھ پیدا ہونے والی حسیناؤں سے متعلق سمجھنا (یا مومن مردوں کو بھی ساتھ شامل کرد ینا) ایک تکلف ہے۔مزید یہ کہ  ان تذکروں میں مومن خواتین کے لیے بھی رغبت کا پورا پورا سامان موجود ہوتا ہے اور اس پہلو کو اجاگر کرنا ہی قرآن کی صحیح ترجمانی کا ایک لازمی تقاضا ہے۔واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

فتوی و قضاء میں فرق اور مسئلہ طلاق میں بے احتیاطی

مفتی عبد اللہ ممتاز قاسمی سیتامڑھی

اللہ تعالی نے دین اسلام کو تاقیامت انسانوں کی رہنمائی کے لیے برپا کیا ہے، اس کے انفرادی، خاندانی، معاشرتی،ملکی اور سیاسی زندگی میں دائمی و آفاقی انتہائی منظم ومستحکم اصول موجود ہیں؛ لیکن بہت سی مرتبہ ہمارے ان اصولوں کے صحیح انطباق نہ کرسکنے کی وجہ سے مسائل پیدا ہوتے ہیں اور بہت سی خرابیاں رونما ہوتی ہیں؛ خصوصا رہنمایان دین وشریعت کی ذرا سی چوک امت میں سخت تباہی وبربادی کا ذریعہ بنتی ہے۔

دنیا کے اندر صدیوں تک اسلامی حکومت برپا رہی ہے اور مسلم حکام اپنی کوتاہیوں کے باوجود اپنے عدالتی نظام کو اسلامی آئین وضوابط کے تحت چلاتے رہے ہیں، خلافت راشدہ، خلافت بنو امیہ اور خلافت عباسیہ وفاطمیہ ہر دور میں دارالقضاءکا مضبوط سسٹم رہا ہے یہاں تک کہ یہ سلسلہ خلافت عثمانیہ کے سنہرے دور کے بعد ختم ہوگیا۔ جب خلافت ختم ہوئی تو دارالقضاءکا اسلامی نظام بھی جاتا رہا؛ چناں چہ حضرات مفتیان کرام نے قاضیوں کی ذمے داریاں بھی سنبھالنی شروع کردیں جس کی وجہ سے ”فتوی و قضاءکا فرق“ جاتا رہا اور فقہی کتابوں میں جو مسائل قضاءکے لیے لکھے گئے تھے، حضرات مفتیان کرام نے ان کے مطابق فتوی دینا شروع کردیا۔حضرت علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:

والمُفتُونَ الیوم غافلون عنہ، فان اکثرہم یفتونَ باحکامِ القضاء. ووجہ الابتلاءفیہ: ان المذکور فی کتب الفقہ عامۃ ہو مسائل القضاء، وقَلَّما تُذکرُ فیہا مسائلُ الدِّیانۃ. نعم، تذکر تلک فی المبسوطات، ولا تُنَال الا بعد تدرُّبٍ تامٍ، ولعل وجہتہ ان القاضی فی السلطنۃ العثمانیۃ لم یکن ینصبُ الا حنفیًا، بخلاف المفتیین فانہم کانوا من المذاہب الاربعۃ، وکان القاضی الحنفی یُنَفِّذُ ما افتُوا بہ، فشرع المُفتُونَ تحریر حکم القضاء لینفِّذ القاضی، فاشتہرت مسائل القضاءفی الکتب، وخملت مسائل الدیانۃ، ثم لا یجبُ ان تتفقَ الدیانۃ والقضاء فی الحکم بل قد یختلفان۔ (فیض الباری علی صحیح الباری:1/ 272)

’’آج کے مفتی حضرات اس (فتوی و قضاءکے فرق)سے غافل ہیں؛ چناں چہ اکثر مفتیان احکام قضاءکے مطابق فتوی دے رہے ہیں۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ متوسط فقہی کتابوں میں عام طور سے قضائی احکام لکھے ہوے ہیں اور بہت کم دیانت (فتوی) کے مسائل کا ذکر ہے؛ ہاں مبسوطات میں دیانت کے مسائل کا ذکر ہے؛ لیکن ان (کتابوں کے مسائل دیانت) کو مکمل مشق وتمرین سے ہی حاصل کیا جاسکتا ہے۔ (قضاءکے مطابق فتوی کے چلن کے عام ہوجانے کی) وجہ شاید یہ ہے کہ عثمانی سلطنت میں قاضی کے عہدے پر صرف حنفی مامور ہوا کرتے تھے، جب کہ مفتیان مذاہب اربعہ کے تھے، اس لیے حنفی قضاۃ ان مفتیوں کے فتوے کے مطابق فیصلہ کردیا کرتے تھے؛ چناں چہ مفتیوں نے قضاءکے احکام لکھنا شروع کردیا تاکہ قاضی اس حکم قضائی کو نافذ کریں۔ اس طرح کتابوں میں قضاءکے مسائل عام ہوتے چلے گئے اور دیانت (فتوی) کے مسائل ختم ہوتے چلے گئے۔جب کہ ہمیشہ قضاءاور دیانت کا حکم شرعی یکساں نہیں ہوتا، بہت سی مرتبہ دونوں کے احکام مختلف ہوتے ہیں۔“

اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ متاخرین کے دور میں قاضیوں کا علمی معیار گرگیا تھا، قضاۃ کی تقرریاں علمی بنیاد پر کم اور قرابت داری کی بنیاد پر زیادہ ہونے لگی تھی اس لیے متاخرین نے قاضی کے فیصلے کو فتوی کے تابع کردیا تاکہ قاضی اپنی کم علمی کی وجہ سے کچھ غلط فیصلہ نہ کردے ۔ شامی نے لکھا ہے : ”القضاء تابع للفتوی فی زماننا لجہل القضاۃ“ کہ قاضیوں کی جہالت کی وجہ سے اس زمانے میں قضاءفتوی کے تابع ہے یعنی مفتی قضائی حکم لکھ دیتا تھا اور قاضی اس حکم کی تنفیذکرتا تھا ۔ یہ چلن اتنا عام ہوگیا تھااور دھڑلے سے مفتیان قضائی حکم فتوی میں لکھنے لگے تھے کہ شامی کو فتاوی شامی میں کئی بار توجہ دلانی پڑی کہ عام لوگ جب مسئلہ دریافت کرنے آ ئے تو مفتی کے لیے ضروی ہے کہ دیانت کے مطابق فتوی دے ؛ البتہ اس فتوی میں”لا یصدق قضاءا“ کی صراحت کردے کہ دارالقضاءمیں اس فتوے کا اعتبار نہ کیا جائے تاکہ قاضی اس فتوی کی روشنی میں غلط فیصلہ نہ کردے۔ (و اذا کتب المفتی یدین) ای کتب ہذا اللفظ بان سئل مثلا عمن حلف واستثنی ولم یسمع احدا یجیب ای لا یحنث فیما بینہ وبین ربہ ولکن یکتبہ بعدہ ”ولا یصدق قضاءا“ لان القضاءتابع للفتوی فی زماننا لجہل القضاۃ فربما ظن القاضی انہ یصدق قضاءا ایضا۔ (شامی: ۶۱۲۴)

 تتبع وتلاش سے ایسے ڈھیر سارے مسائل ہمارے سامنے آئیں گے؛ جن میں قضاءودیانت کا فرق نہیں کیا جا رہا ہے اور اس بات کے قائل علامہ کشمیریؒ جیسی شخصیت ہیں؛ لیکن آج ہم معاشرہ کی بیخ کنی کرتے انتہانی سنگین وحساس مسئلہ یعنی طلاق کے حوالے سے قضاء ودیانت کا فرق نہ کرنے کی وجہ سے ہو رہی بے احتیاطیوں پر گفتگو کریں گے۔

آئیے سب سے پہلے ہم دیانت وقضاءمیں فرق سمجھتے ہیں!

 فتوی احکام شرعیہ کے متعلق اِخبار محض کا نام ہے۔ علامہ قرافیؒ لکھتے ہیں: الفتوی محض اخبار عن اللہ تعالی فی الزام او اباحۃ۔ (انوار البروق فی انواءالفروق:4/89) لہذا مفتی کی ذمے داری بس''صورت مسئولہ کے مطابق حکم شرعی بتادینا ہے ، قطع نظر اس کے کہ صورت مسئولہ نفس الامر کے مطابق ہے یا خلاف۔ شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی لکھتے ہیں: یقول المفتی ''الحکم فی الصورۃ المسئول عنہا کذا'' ولا یلزم منہ ان تکون الصورۃ المسئول عنھا موافقۃ للواقع فی نفس الامر۔ (اصول الافتاءوآدابہ:12) قاضی نفس الامر اور وجود خارجی کو جاننے کا مکلف ہے جب کہ مفتی کا یہ کام قطعی نہیں ہے۔ علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے: القاضی الحاکم یحتاج الی معرفۃ المسائل والوقائع ایضا بخلاف المفتی۔ (العرف الشذی شرح سنن الترمذی:3/ 69)

اس تفصیل سے یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ قضاءکا اپنا میدان ہے اور دیانت یعنی فتوی کا اپنا میدان ہے، دونوں کو اپنے حدود میں رہنا اور ان کی پاسداری کرنا چاہیے۔ متعدد فقہاءنے لکھا ہے کہ قاضی کے لیے فتوی دینا جائز نہیں ہے اور اس پر تقریبا تمام اہل علم کا اتفاق ہے کہ جو معاملہ قاضی کے زیر سماعت ہو اس مسئلہ میں قاضی کے لیے فتوی دینا جائز نہیں ہے۔ ایسے ہی مفتی حضرات کے لیے قضاءکے میدان میں جانا اور دیانت سے بڑھ کر قضائی احکامات کے مطابق فتوی دینا درست نہیں ہے۔ اصل مسئلہ پر جانے سے پہلے بطور تمہیدچند باتوں کا سمجھ لینا ضروری ہے۔

ایک مجلس میں ایک سے زائد طلاق کی دو شکلیں ہیں۔

اول:   کوئی یوں کہے ”میں نے تم کو تین طلاق دی“ یا ”ایک طلا ق دو طلا ق تین طلاق“

دوم:    تین مرتبہ”طلاق طلاق طلاق“ کہہ دے۔

اول الذکر سے تین طلاق واقع ہوجائے گی، اس پر ائمہ اربعہ کا اتفاق ہے، اس میں کوئی کلام نہیں۔ثانی الذکر کی تین شکلیں ہیں۔

اول:  ”طلاق طلاق طلاق“ کہے اور تاسیس/استیناف کی نیت کرے یعنی ہر مرتبہ طلاق میں نئی طلاق کی نیت کرے۔

ثانی:    ”طلاق طلاق طلاق“ کہے اور تاکید کی نیت کرے، یعنی اس کی نیت تو ایک ہی طلاق کی ہے؛ البتہ دوسری اور تیسری طلاق کے تکرار سے طلاق کو موکد کرنا مقصد ہے۔

ثالث: ” طلاق طلاق طلاق“ کہے اور اس کی نیت تاسیس یا تاکید میں سے کچھ بھی نہ تھی۔

اس میں بھی شکل اول میں تین طلاق واقع ہوجائے گی، ہماری گفتگو آخری شکل میں مذکوردوسری اور تیسری شکل پر ہوگی۔یعنی تین مرتبہ ''طلاق طلاق طلاق '' کہے اور نیت ایک طلاق کی تھی یا نیت کچھ بھی نہ تھی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت کے ابتدائی دو سالوں تک ایسی طلاق جو تین مرتبہ ”طلاق طلاق طلاق“ کہہ دی جاتی تھی ایک طلاق سمجھی جاتی تھی، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے چلن بدل جانے اور دیانت کے کم ہوجانے کی وجہ سے اس پر بندش لگادی اور فرمایا کہ تین مرتبہ کہی ہوئی طلاق تین طلاق شمار ہوگی۔ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کیا ہے:

کان الطلاق علی عہد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وابی بکر وسنتین من خلافۃ عمر طلاق الثلاث واحدۃ، فقال عمر بن الخطاب: ان الناس قد استعجلوا فی امر قد کانت لہم فیہ اناۃ، فلو امضیناہ علیہم، فامضاہ علیہم ۔ (صحیح مسلم:2/1099)

معروف شارح مسلم امام نووی رحمۃ اللہ علیہ اس کی شرح میں لکھتے ہیں:

فالاصح ان معناہ انہ کان فی اول الامر اذا قال لہا انت طالق انت طالق انت طالق ولم ینو تاکیدا ولا استئنافا یحکم بوقوع طلقۃ لقلۃ ارادتہم الاستئناف بذلک فحمل علی الغالب الذی ہو ارادۃ التاکید فلما کان فی زمن عمر رضی اللہ عنہ وکثر استعمال الناس بہذہ الصیغۃ وغلب منہم ارادۃ الاستئناف بہا حملت عند الطلاق علی الثلاث عملا بالغالب السابق الی الفہم منہا فی ذلک العصر وقیل المراد ان المعتاد فی الزمن الاول کان طلقۃ واحدۃ وصار الناس فی زمن عمر یوقعون الثلاث دفعۃ فنفذہ عمر۔ (شرح النووی علی مسلم: 10/72)

’’اس کا صحیح مطلب یہ ہے کہ شروع زمانے میں جب کوئی ”انت طالق، انت طالق، انت طالق“ (تمھیں طلاق ہے، تمھیں طلاق ہے، تمھیں طلاق ہے) کہہ کر طلاق دیتا اور تاکید واستیناف (نئی طلاق کے وقوع) کسی بھی چیز کی نیت نہ کرتا تو ایک طلاق کے وقوع کا حکم لگتا تھا؛ کیوں کہ لوگ ان الفاظ سے بہت کم استیناف (نئی طلاق کے ایقاع) کا ارادہ کرتے تھے، لہذا ان الفاظ کو ان عام معمول پر محمول کیا جاتا جسے تاکید کہا جاتا ہے، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا اور طلاق کے لیے ان الفاظ کا استعمال بکثرت ہونے لگا اور عام طور سے ان کی نیت استیناف کی ہوتی تھی؛ چناں چہ مطلق تین مرتبہ (طلاق طلاق طلاق کہنے) کو تین طلاق پر محمول کیا گیا اسی سابقہ غالب معمول پر عمل کرتے ہوئے۔“

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ فیصلہ قضائی معاملہ کے لیے تھا، دیانت کے لیے قطعا نہیں تھا؛ چوں کہ قاضی کا کام ظاہر کے مطابق حکم شرعی لگانا ہے، اور اس نے تین مرتبہ ''طلاق طلاق طلاق''کہہ دی ہے تو ظاہر یہی ہے کہ اس نے تین طلاق دی ہوگی؛ لیکن مفتی کاکام دیانت کے مطابق فتوی دینا ہے، وہ قضائی حکم کے مطابق فتوی نہیں دے سکتا۔ اس لیے اگر کسی نے تین مرتبہ طلاق طلاق طلاق کہہ دی تو مفتی کے لیے مطلق تین طلاق کا فتوی لکھ دینا درست نہیں ہے۔

اب آئیے ہم ہندوستانی وپاکستانی معاشرہ کی صورت حال اور چلن کو دیکھتے ہیں!

 یہاں عام چلن ہے کہ نکاح کے وقت نکاح خواں تین مرتبہ قبول کراتا ہے ”قبول ہے قبول ہے قبول ہے“ کے الفاظ سے ، اس لیے کم پڑھے اوراَن پڑھ لوگوں میں یہ سوچ ہے کہ جب تک تین مرتبہ طلاق طلاق طلا ق نہیں کہیں گے طلاق واقع نہیں ہوگی؛ چوں کہ تین مرتبہ قبول کیا تھا۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ فلمی کہانیاں اور ڈرامے معاشرے کو دیکھ کر بنتی ہیں یا فلموں سے متاثر ہوکر معاشرہ بنتا ہے، اس سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ فلموں اور سیریلوں کا معاشرہ سے ڈائریکٹ کنکشن (رابطہ)ہے، گوکہ فلم بینی حرام ہے؛ لیکن اس نے ہمارے معاشرے کو بھی متاثر کیا ہے، فلموں اور سیریلوں میں طلاق کا تصور یہی دیا اور سمجھایا گیا ہے کہ جب تک تین مرتبہ طلاق طلاق طلاق نہ کہی جائے طلاق واقع نہیں ہوتی۔ شاید ہی کہیں ایسا ہوتا ہے کہ نارمل حالت میں طلاق دی گئی ہو ورنہ عام طور سے غصہ کے عالم میں ہی طلاق کی نوبت آتی ہے، ایسے میں انسان بس ''طلاق طلاق طلاق'' کہہ دیتا ہے، اس کی نیت استیناف یا تاکید کی نیت نہیں ہوتی ہے۔

اس صورت حال کو جاننے کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچتا ہوں۔

1۔    اگر کوئی تین مرتبہ ''طلاق طلاق طلاق'' کہہ دے اور معاملہ دارالقضاءآئے تو قاضی ثبوت وشواہد کی روشنی میں صورت حال کا جائزہ لے کر اپنی صوابدید کے مطابق فیصلہ کریں ۔اگر فیصلہ میں خطا ہوبھی گیا تو وہ ایک اجر سے محروم نہیں ہوں گے۔

2۔     اگر معاملہ دارالافتاءآئے اور وہ بصراحت کہے کہ میری نیت ایک کی تھی تو ایک طلاق واقع ہوگی۔

3۔    اگر معاملہ دارالافتاءآئے اور استفتاءمیں اپنی نیت استیناف/تاکید کی صراحت نہ ہو تومفتی اس نیت کی وضاحت طلب کرے اور مستفتی کی وضاحت کے مطابق فتوی دے یعنی اگر وہ تاکید کی نیت بتائے تو تاکید اور استیناف کی نیت بتائے تو استیناف۔

4۔       اگر معاملہ دارالافتاءآئے اور وضاحت طلب کرنے پر جواب آئے کہ ''میری کوئی نیت نہ تھی، بس تین بار طلاق طلاق طلاق کہہ دی'' تو اسے معاشرہ کی صورت حال کی وجہ سے ایک طلاق سمجھی جائے اور ایک طلاق کا فتوی دیا جائے۔جیسا زمانہ نبوی، خلافت صدیقی اورخلافتِ فاروقی کے ابتدائی دو سالوں میں ہوتا رہا ہے۔

پیدا ہونے والے اشکالات کے جوابات:

نمبر پر ایک پر یہ اشکال ہوسکتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا فیصلہ اگر قضائی تھا تو پھر موجودہ وقت کے قضاۃ حضرات کو اپنی صوابدید کے مطابق وقوع اور عدم وقوع طلاق کے فیصلہ کا اختیار کیسے دیا جاسکتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جو وقوع طلاق کا فیصلہ کیا تھا اس کی دو وجہ تھی ۔

۱۔ چلن کا بدل جانا

۲۔ دیانت کا کم ہوجانا

موجودہ حالات میں دیانت کی کمی تو دور عمری سے ہزار گنا زائد ہے؛ لیکن ہمارے یہاں دینی شعور کی کمی اور جہالت کی وجہ سے چلن پھر سے بدل چکا ہے اور چلن بدل جانے کی وجہ سے قاضی رواج کے مطابق فیصلہ کرسکتا ہے۔ مجموعہ قوانین اسلامی میں ہے:

”اور اگر طلاق دینے والا یہ کہتا ہے کہ اس کی نیت ایک ہی طلاق کی تھی اور ا س نے محض زور پیدا کرنے کے لیے الفاظ طلاق دہرائے ہیں، اس کا مقصد ایک سے زائد طلاق دینا نہیں تھا تو اس کا یہ بیان حلف کے ساتھ تسلیم کیا جائے گا اور ایک ہی طلاق واقع ہوگی اور اگر طلاق دینے والا یہ کہتا ہے کہ اس کی کچھ بھی نیت نہیں تھی، نہ ایک کی اور دو یا تین کی، دیکھا جائے گاکہ عرف میں ایسے مواقع پر تاکیدا الفاظ دہرانے کا رواج ہے یا نہیں ، اگر عرف غالب یہ ہوکہ ایسے مواقع پر لوگ محض کلام میں زور پیدا کرنے کے لیے بار بار اسی لفظ کو دہراتے ہیں تو عرف کے تقاضوں کی رعایت کرتے ہوے الفاظ کی تکرار کو تاکید پر محمول کرکے ایک ہی طلاق واقع کی جائے گی۔ (مجموعہ قوانین اسلامی: ۴۹۱)

چنانچہ بینہ وثبوت اور عرف کو ملحوظ رکھ کر قاضی ایک یا تین کا فیصلہ کرسکتے ہیں ، اگر وہ مصیب ہوے تو دو اجر کے مستحق ہوں گے اور اگر مخطی ہوے تو ایک اجر کے ۔ ارشاد نبوی ہے : اذا حکم الحاکم فاجتہد فاصاب، فلہ اجران، واذا حکم فاخطا فلہ اجر واحد (ترمذی: 1326)

نمبر دو اور تین پر حضرات مفتیان کرام کی طرف سے یہ اشکال ہوتا ہے کہ اس طرح لوگ تین کی نیت سے طلاق دیں گے اور ایک کا فتوی حاصل کرلیں گے۔ جواب بڑا سادہ اور سیدھا ہے کہ ہمارا تو کام ہی”اِخبار محض“ ہے، اس نے زبان یا تحریر سے جیسا بتایا ہمارا کام اس کے مطابق فتوی دے دینا ہے، اب معاملہ فیما بینہ وبین اللہ ہے۔اگر اس نے جھوٹ بول کر آپ سے فتوی حاصل کیا ہے یعنی اس کی نیت استیناف کی تھی اور ”تاکید کی نیت یا بلا نیت“ کہہ کر ایک طلاق کا فتوی حاصل کر لیا تو یقینا اس کا مواخذہ آپ سے نہیں ہوگا، عنداللہ اس کا جوابدہ وہ خود ہوگا؛ لیکن اگر اس کی نیت وہی تھی جو وہ زبان سے کہہ رہا ہے یعنی تاکید کی تھی یا بلا نیت تھی اور آپ نے تین طلاق کا فتوی لکھ کر اس کے گھر کو توڑ دیا، ان کے بچوں کو بکھیردیا اور طلاق کی وجہ سے جو انتہائی خطرناک اثرات مرتب ہوتے ہیں وہ ان کی زندگی پر ہوے تو یقینا کہیں نہ کہیں اس جرم میں آپ کا شمار ہوگا اور اس طلاق کی وجہ سے ہونے والے تمام تر برے اثرات کے آپ ذمہ دار ہوں گے اوراس کے لیے عنداللہ جوابدہ ہونا پڑے گا۔ جان لیجیے! اسے ”اجتہادی خطا“ کہہ کر بھی نہیں ٹالا جاسکے گا۔ حضرت علامہ انور شاہ کشمیریؒ نے حدیث : اذا حکم الحاکم فاجتہد فاصاب، فلہ اجران، واذا حکم فاخطا فلہ اجر واحد. (ترمذی: 1326) کے متعلق عقد الجید شاہ ولی اللہ محدث ہلویؒ کے حوالے سے حاشیہ لکھا ہے:  

ان حدیث الباب فی حق القاضی لا فی حق المفتی او المجتہد والقاضی الحاکم یحتاج الی معرفۃ المسائل والوقائع ایضا بخلاف المفتی (العرف الشذی شرح سنن الترمذی:3/69)

’’ حدیث مذکور قاضی کے حق میں ہے نہ کہ مفتی یا مجتہدکے حق میں (کہ اگر وہ مصیب رہا تو دو گونا اجر اور اگر مخطی رہا تو ایک گونا اجر) چوں کہ قاضی مسائل جاننے کے ساتھ تحقیق واقعہ کا بھی مکلف ہے، برخلاف مفتی کے (کہ انھیں تحقیقی واقعہ کی ضرورت نہیں۔ان کے لیے مسائل کا علم کافی ہے) “

نمبر دو والی شکل کو اگر آپ بغور دیکھیے تواس مسئلہ کو لے کر دارالافتاءآنے والے ہر شخص کو آپ جھوٹا اور فریبی فرض کرکے فتوی لکھتے ہیں، یعنی جتنے بھی آدمی کے ساتھ یہ حادثہ پیش آئے اور وہ آپ سے فتوی طلب کرے گوکہ وہ سچااور دین دارآدمی ہے ، خوف خدا کی وجہ سے دارالافتاءآیا ہے؛ لیکن آپ بلا کسی دلیل کے اسے جھوٹا مان لیتے ہیں کہ یقینا یہ جھوٹ بول رہا ہے اور پھر قضاءکے مطابق تین طلاق کا فتوی لکھ دیتے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ یہ اصول فتوی اور اصول شریعت دونوں کے خلاف ہے ۔

نمبر دو پر ہونے والے اعتراض کا واضح جواب یہ بھی ہے کہ اس اندیشہ کو تمام اہل مراجع نے محسوس نہیں کیا؛ بلکہ انھوں نے بصراحت لکھا کہ اگرمستفتی اقرار کرتا ہے کہ اس نے تین مرتبہ طلاق طلاق طلا ق کہی ہے؛ لیکن نیت ایک کی تھی تو مفتی ایک طلاق کے وقوع کا ہی فتوی دے گا۔

نمبر چار پر یہ اشکال ہو سکتا ہے کہ زمانہ نبوی اور خلافت صدیقی میں چوں کہ تین مرتبہ طلاق طلاق طلاق کہنے کے باوجود ایک کی نیت کا ہی چلن تھا جیسا کہ امام نوویؒ کی عبارت سے واضح ہے؛ لیکن اب ایسی صورت حال نہیں ہے۔ اس کا جواب اوپر دیا جا چکا ہے کہ زمانہ اب بھی وہی ہے، اب بھی لوگ تین مرتبہ طلا ق طلاق طلاق کہہ کرایک طلاق واقع ہونا ہی سمجھتے ہیں، بس ایسا سمجھنے کی وجہ میں فرق ہے، قرن اول میں ایمان کی پختگی، شرعی علوم سے گہری واقفیت اور عنداللہ جوابدہی کے خوف سے ایسا چلن تھا، اب جہالت، شرعی علوم سے ناواقفیت اور فلم وسیریل بینی کے اثر سے ایسا چلن ہے۔ بہرحال نتیجہ کے اعتبار سے دونوں کی صورت حال برابر ہے اس لیے حکم شرعی بھی برابر لگنی چاہیے، یعنی جو حکم پہلے لگتا تھا وہی حکم اب بھی لگنا چاہیے۔مجموعہ قوانین اسلامی کا حوالہ گزر چکا ہے۔

اسی قبیل سے جھوٹی طلاق کے اقرار کا مسئلہ ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے اس ارادے کے ساتھ کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے کہہ دے کہ ''میں تمھیں طلاق دے چکا ہوں'' یا کسی نے اس کی بیوی کو زبردستی طلاق دلانے یا طلاق نامہ پر دستخط کرانے کی کوشش کی اور اس نے جھوٹ کہہ دیا کہ وہ اپنی بیوی کو پہلے ہی طلاق دے چکا ہے تو دیانۃ اس کی بیوی پر طلاق واقع نہ ہوگی، یعنی مفتی حضرات وقوع طلاق کا فتوی نہیں دے سکتے؛ البتہ اگر معاملہ دارالقضاءجاتا ہے تو ثبوت وشواہد کی روشنی میں قاضی طلاق واقع کردے گا۔ فتاویٰ شامی میں ہے: المفتی یفتی بالدیانۃ) مثلا اذا قال رجل: قلت لزوجتی انت طالق قاصدا بذلک الاخبارکاذبا فان المفتی یفتیہ بعدم الوقوع والقاضی یحکم علیہ بالوقوع۔ (رد المحتار: 5/365)

مفتی کا کام دیانت کے مطابق فتوی دینا ہے؛ چناں چہ اگر کسی نے اپنی بیوی سے کہا ''انت طالق'' (تم مطلقہ ہو/تم کو طلاق دے چکا ہوں) اس ارادے کے ساتھ کہ وہ جھوٹی خبر دے رہا ہے تو مفتی عدم وقوع طلاق کا فتوی دے گا اور (اگر معاملہ دارالقضاءجاتا ہے تب) قاضی وقوع طلاق کا فیصلہ کرے گا۔

کسی نے اپنی بیوی کو ہنسی مذاق میں کہہ دیا کہ ''میں تمھیں طلاق دے چکا ہوں '' یا اپنے دوستوں کی مجلس میں تفریحا اقرار کیا کہ میں تو بیوی کو طلاق دے چکا ہوں تب بھی اس پر دیانۃ (فتوی کی رو سے) طلاق واقع نہ ہوگی۔ ولو اقر بالطلاق کاذبا او ھازلا وقع قضاءلا دیانۃ (رد المحتار:3/236)

مذکورہ بالا دونوں مسائل میں بھی دارالافتاءسے وقوع طلاق کے فتاوے صادر ہوتے ہیں اور ان کی مضبوط دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان: ثلاث جدهن جد، وهزلهن جد: النکاح، والطلاق، والرجعۃ۔ (ابوداود:2194) ہوتی ہے، جب کہ اس روایت کے حوالے سے” انشاءطلاق اور اخبار طلاق میں فرق“ اور اس کی وجہ سے قضاءودیانت کا فرق کرنا بھول جاتے ہیں ۔ یعنی اگر ان شاءطلاق ہنسی مذاق میں بھی واقع ہوجاتی ہے مثلاہنسی مذاق میں یوں کہہ دے کہ  ”میں تمھیں طلاق دیتا ہوں“ تو طلاق واقع ہوجائے گی؛ لیکن اگر ہنسی مذاق میں اقرار طلاق کرلے کہ میں تمھیں طلاق دے چکا ہوں تو فتوی کی رو سے طلاق واقع نہ ہوگی؛البتہ قضاءکی رو سے طلاق واقع ہو جائے گی۔(حوالہ سابق دیکھیں) چوں کہ اگر ہنسی مذاق میں بھی کیے گئے اقرار کی بناءپر نکاح، طلاق اور رجعت کے احکام قضاکے اعتبار سے نافذ نہ کیے گئے تو معاملات خراب ہوجائیں گے اور قاضی کے لیے فیصلہ کرنا دشوار ہوجائے گا؛ کیوں کہ وہ ظاہر کے مطابق حکم لگانے کا مکلف ہے۔ اس کا مقصد ہزل تھا یا جد، اپنے قول میں وہ سچا تھا یا جھوٹاا س سے قاضی کو کوئی مطلب نہیں؛ چنانچہ اگر کسی شخص نے دو آدمی کو پہلے سے گواہ بنا دیا کہ میں اپنی بیوی کو جھوٹی طلاق کی خبر دوں گا، تم گواہ رہو اور بیوی کو جھوٹی طلاق کی خبر دے دی کہ ”میں تمھیں طلاق دے چکا ہوں /تم مطلقہ ہو“، اب اگر یہ معاملہ دارالقضاءجاتا ہے تب بھی قاضی وقوع طلاق کا فیصلہ نہیں کرے گا۔ در مختار میں ہے: قال: انت طالق او انت حر وعنی الاخبار کذبا وقع قضاء، الا اذا اشہد علی ذلک۔ (الدر المختار وحاشیہ ابن عابدین:3/293)

اس سے صاف واضح ہے کہ حدیث مذکور کا اطلاق عمومی نہیں ہے، بلکہ یہ امور قضا کے ساتھ مخصوص ہے، اگر حکم عمومی ہوتا جھوٹی تو طلاق سے پہلے گواہ بنانے یا نہ بنانے سے کچھ فرق نہ پڑتا اور بتقاضائے عموم بہرحال اس پر طلاق واقع ہوجاتی۔

بہرحال؛ ان سب کے باوجود دارالافتاوں کا چلن یہی ہے کہ ان سب مسائل میں وہ حکم قضاءکے مطابق فتوی لکھتے ہیں اور ان مقامات میں جہاں طلاق واقع نہیں ہونی چاہیے، وہاں بھی بے پروا ہوکر طلاق واقع کردیتے ہیں۔ اس کی اصل وجہ علامہ کشمیریؒ کے بقول دیانت وقضاءمیں فرق سے غفلت ہے اور متداول کتب فقہ میں جہاں بیشتر مسئلے قضاءکے لکھے ہوئے ہیں، ان کے مطابق فتوے لکھنا ہے۔ میرے تخمینہ کے مطابق دارالافتاوں میں ستر اسی فیصد سوالات طلاق یا میراث کے آتے ہیں جن میں چالیس سے پچاس فیصد سوالات طلاق کے ہوتے ہیں، یعنی معاشرہ طلاق کی آگ میں بری طرح جھلس رہا ہے۔ طلاق کی وجہ سے صرف میاں بیوی جدا نہیں ہوتے، بلکہ دو خاندان ٹوٹ جاتے ہیں، بچوں پر جو سنگین اثرات پڑتے ہیں وہ اتنے خطرناک ہیں کہ انھیں بیان کرنے کے لیے مستقل ایک مقالہ چاہیے۔ اس لیے میرا خیال ہے کہ اگر ان مسائل پر توجہ دی گئی تو یقینا طلاق کی شرح معاشرہ سے کم ہوجائے گی اور اس لعنت کی وجہ سے برپا ہونے والے فساد جس سے قوم تباہ ہورہی ہے اور ان کا مستقبل خاکستر ہو رہا ہے، ان سے کسی حد تک بچ پانا ممکن ہوگا۔ اللہ کرے کہ ارباب فتاوی ،سنجیدہ علمی شخصیات اور درد مند اہل علم اس سنگین مسئلہ میں غور کریں اور امت جس مسئلہ سے بری طرح جھوجھ رہی ہے، اس سے انھیں نجات دلانے میں مدد کریں ۔اگر ضرورت پڑنے پر حضرت تھانوی ؒ دوسرے فقہ سے رجوع کرسکتے ہیں تو یقینا آپ اپنی ہی فقہی کتابوں میں موجود مسئلہ میںمحض دیانت وقضاءمیں فرق کرکے اور اپنا دائرہ کار متعین کرکے امت کے ایک بڑے طبقہ کو (جو پہلے سے ہی غریب ، مفلوک الحال اور ان پڑھ ہوتے ہیں )کا گھر ٹوٹنے اور مزید شکستہ حال ہونے سے بچا سکتے ہیں ۔اللہ تعالی ہمیں توفیق دے۔ وہو المصیب

ایک درخواست:  یہ میرے ناقص فکر ومطالعہ اور علمی وعوامی تجربہ کا حاصل ہے، کوئی انسان لغزش وخطا سے خالی نہیں، اس لیے اگر اہل علم ونظر قارئین کو اس تحریر میں کوئی قابل اشکال پہلو یا لائق اصلاح بات نظر آئے تو نشان دہی فرمادیں ساتھ ہی اگر اس موضوع یا اس کے ذیلی ابحاث سے متعلق اضافی مواد آپ کے مطالعہ میں ہو تو آگاہ فرمائیں۔ بے حد شکر گزار ہوں گا۔



مدرسہ طیبہ میں سالانہ نقشبندی اجتماع

مولانا محمد اسامہ قاسم

الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے زیر اہتمام سالانہ نقشبندی اجتماع کا انعقاد کیا جاتا ہے جس کے مہمان خصوصی حضرت خواجہ خلیل احمد ہوتے ہیں۔ اس سال یہ دینی فکری اصلاحی نقشبندی اجتماع 21 دسمبر بروز سوموار مدرسہ طیبہ گوجرانوالہ میں منعقد ہوا۔ اس مبارک روحانی اجتماع میں حضرت خواجہ خلیل احمد صاحب ،حضرت مولانا اشرف علی، مولانا شاہ نواز فاروقی، مولانا جمیل الرحمٰن اختر، مولانا فضل ہادی ، سید سلمان گیلانی، حافظ فیصل بلال حسان ، مفتی عبید الرحمن، مولانا عثمان رمضان، صاحبزادہ نصرالدین خان عمر اور مولانا امجد محمود معاویہ نے شرکت کی۔

قاری محمد عمر فاروق کی پرسوز تلاوت سے پروگرام کا آغاز ہوا۔ حافظ یحیی بن زکریا، حافظ عادل حسین اور حافظ فیصل بلال حسان نے نعتیہ کلام پیش کرتے ہوئے بارگاہ رسالت میں گلہائے عقیدت پیش کیے۔  نعتیہ کلام کے بعد صاحبزادہ حضرت خواجہ خلیل احمد صاحب اسٹیج پر جلوہ افروز ہوئے۔ علامہ زاہد الراشدی صاحب نے خواجہ صاحب کو اجتماع میں خوش آمدید کہا۔ خواجہ صاحب نے ختم خواجگان نقشبندیہ مجددیہ سلسلہ کے مطابق مجلس ذکر کرائی۔ پھر ایک عزیز کے انتقال کی اطلاع ملنے پر  جنازے میں شرکت کے لیے جلد واپس تشریف لے گئے۔

نقشبندی محفل ذکر کے بعد جامعہ محمودیہ سرگودھا کے مہتمم حضرت مولانا اشرف علی صاحب نے اصلاح قلب، دینی مدارس اور خانقاہوں کی اہمیت کے حوالے سے گفتگو کی ۔ فرمایا کہ ہمارے پاس مسجد اور مدرسے کی نسبت اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے ، ہم خوش نصیب ہیں کہ دین سیکھنے اور سکھانے والوں میں شمار ہوتے ہیں  ۔ حضرت لاہوری علیہ الرحمہ اکثر فرمایا کرتے تھے ایک ہوتا ہے رنگ فروش اور ایک ہوتا ہے رنگ ساز۔ رنگ فروش رنگ بیچتا ہے لیکن رنگ ساز رنگ چڑھاتا ہے۔ مدارس اور خانقاہوں میں ادب اخلاق کا رنگ چڑھایا جاتا ہے۔ اہل دل علماء کی صحبت سے دل روشن اور منور ہوتا ہے۔ اکابرین کی صحبت اور معیت غنیمت ہے۔

پاکستان شریعت کونسل کے صوبائی امیر مولانا قاری جمیل الرحمن اختر صاحب  نے اپنی گفتگو میں کہا کہ جہاں بزرگ اکابرین موجود ہوں، وہاں اللہ ربّ العزت کی طرف سے انتہائی سکون اور راحت کا سامان ہوتا ہے۔ اللہ والوں سے رشتے ناطے توڑکر لوگ سمجھتے تھے کہ ہم ان کے بغیرکہیں کامیابی،کامرانی اورخوشحالی کے منازل آسانی کے ساتھ طے کرلیں گے مگرحالات اورواقعات نے یہ ثابت کردیاہے کہ یہ سراسر بھول،نادانی اورخام خیالی کے سواکچھ نہیں۔ہمارے پاس آج دنیاکی ہرنعمت اورسہولت موجودہے لیکن اس کے باوجودہماری زندگیوں میں چین ہے اورنہ سکون۔سب کچھ پاس ہونے کے باوجودبے چینی اوربے سکونی سے ایسالگ رہاہے کہ ہمارے پاس کچھ بھی نہیں۔اس کے مقابلے میں اگر اللہ کے دوستوں کی چندسیکنڈز کی قربت اورصحبت بھی اختیارکرلی جائے توپھر ہمارے جیسے گنہگاربھی لمحوں میں خالی ہاتھ دنیاجہان کے سارے غم بھول جاتے ہیں۔

شاعر ختم نبوت سید سلمان گیلانی نے بھرپور انداز میں خوبصورت نئے کلام پڑھ کر محفل کو مزید بارونق بنا دیا گیلانی صاحب کے اس مشک بار کلام پہ خوب داد دی گئی۔

درودِ پاک میں تسکین ہے دلوں کے لیے
درودِ  پاک اجالا  ہے  ظلمتوں کے  لیے
درود پاک میں برکت خدا نے  رکھی ہے
درود پاک میں پڑھتا ہوں برکتوں کے لیے

عصر کی نماز کے بعد اجتماع کی آخری نشست  سے خطاب کرتے ہوئے خطیب اسلام مولانا شاہ نواز فاروقی صاحب اپنی گفتگو میں کہا کہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ اگر جسم کالوتھڑا یہ دل ٹھیک ہو جائے تو سارا جسم ٹھیک اور اگر یہ دل خراب تو سارا جسم خراب ، انہوں کہا کہ جسم بمنزلہ محکوم اور رعایا کے ہے جبکہ یہ دل بمنزلہ حاکم کے ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ لوگ اپنے حاکم اور بادشاہ کے دین پہ ہوتے ہیں اسی طرح سارا جسم بھی دل کی مان کر چلتا ہے۔ جو دل نے کہنا ہے جسم نے وہی کرنا ہے، دلوں کی صفائی اور تزکیہ نفس کے لیے یہ اجتماع رکھا گیا ہے ۔ یہ دل دو طرح سے صاف ہو سکتا ہے، ذکر اللہ کی کثرت اور اہل اللہ کی صحبت و معیت سے دلی کیفیات میں نکھار اور ایمانی جذبات میں قوت آتی ہے۔

الشریعہ اکادمی کے ڈائریکٹر  علامہ زاہد الراشدی صاحب نے روحانی نقشبندی اجتماع سے آخری خطاب کرتے ہوئے خواجہ خلیل احمد صاحب کی تشریف آوری اور تمام شرکاء کی اجتماع میں شرکت پر سب حضرات کا شکریہ ادا کیا۔ تصوف و سلوک تزکیہ نفس اور مشائخ علماء کرام کی رب العزت سے قربت وتعلق کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ بعض بزرگوں کی طرف یہ بات منسوب ہے کہ انہوں نے یہ کہا کہ کوئی کام ہماری مشیت کے بغیر نہیں ہوتا تو عام لوگوں کو یہ بات بہت عجیب لگی، اس کا مطلب یہ ہے کہ بزرگ حقیقت میں وہی چاہتے ہیں جو اللہ ربّ العزت کی چاہت و مشیت ہوتی ہے، اس لیے کچھ بھی ان مشائخ کی مشیت سے ہٹ کر نہیں ہوتا۔

اجتماع کا اختتام علامہ زاہد الراشدی صاحب کی دعا پر ہوا ۔ دعا کے بعد تمام شرکاء کی ضیافت کی گئی۔

تعلیمی نظام اور تحریکی تقاضے

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(۱٠ دسمبر ۲۰۲۰ء کو جامعہ فریدیہ اسلام آباد میں اساتذہ و طلبہ کے اجتماع سے خطاب کا خلاصہ )

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ کافی عرصہ کے بعد جامعہ فریدیہ میں حاضری اور اساتذہ و طلبہ کے ساتھ ملاقات کی سعادت حاصل ہوئی ہے اور مجھ سے کہا گیا ہے کہ کچھ گزارشات بھی کروں اس لیے تعمیل حکم میں چند باتیں عرض کر رہا ہوں۔ جامعہ فریدیہ ملک کے بڑے تعلیمی اداروں میں سے ہے اور مختلف حوالوں سے اپنی ایک الگ تاریخ رکھتا ہے۔ حضرت مولانا محمد عبد اللہ شہیدؒ کی محنتوں کا ثمرہ اور ان کا صدقہ جاریہ ہے۔ انہوں نے اور ان کے خاندان و رفقاء نے اس علمی ادارہ اور مرکز کے لیے بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور جامعہ فریدیہ آزمائشوں کے مختلف مراحل سے گزرا ہے۔

اس پس منظر میں مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی ہے کہ یہاں کا تعلیمی تسلسل جاری ہے۔ طلبہ کی بڑی تعداد اور اساتذہ کی اکثریت بحرانی کیفیات سے دوچار ہونے کے باوجود مصروف تعلیم ہے، جبکہ میری طالب علمانہ رائے میں تعلیمی تسلسل کو قائم رکھنا اور نظام کو ڈسٹرب ہونے سے بچانا آج کے دور میں دینی مدارس کے لیے بڑی کامیابی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس لیے کہ جن لوگوں اور طبقوں کو دینی مدارس کے نظام کی بقا مسلسل پریشان کر رہی ہے ان کی ہر ممکن کوشش ہے کہ ان مدارس کا نظام و ماحول کسی نہ کسی طرح ڈسٹرب ہو جائے اور تعلیمی و معاشرتی کردار ادا کرنے کے قابل نہ رہے۔ ان حالات میں ہمارا اصل مسئلہ یہ ہے کہ اپنے تعلیمی نظام اور ماحول کو کسی حالت میں معطل نہ ہونے دیں۔ چنانچہ آپ حضرات نے گزشتہ کچھ عرصہ کے حالات میں تعلیمی سلسلہ کو جس صبر و حوصلہ اور حکمت کے ساتھ قائم رکھنے میں کامیابی حاصل کی ہے اس پر مبارکباد دیتے ہوئے اس سلسلہ میں کردار ادا کرنے والے سب احباب خصوصاً اسلام آباد کے اکابر علماء کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

اس موقع پر ایک تاریخی واقعہ آپ کے گوش گزار کرانا چاہتا ہوں کہ میرے والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ اور عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتیؒ ۱۹۴۱ اور ۱۹۴۲ کے دوران دارالعلوم دیوبند جا کر دورۂ حدیث میں شریک ہوئے تھے اور شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ اور دیگر اکابر اساتذہ سے استفادہ کیا تھا۔ حضرت مدنیؒ تحریک آزادی کے بڑے راہنماؤں میں سے تھے، اس حوالہ سے وہ گرفتار کر لیے گئے جس پر دارالعلوم دیوبند کے طلبہ نے احتجاج کرتے ہوئے کلاسوں کا بائیکاٹ کر دیا اور احتجاجی جلسوں اور جلوسوں کا سلسلہ شروع کر دیا جو اس حد تک بڑھ گیا کہ تعلیمی نظام معطل ہو کر رہ گیا حتٰی کہ اس سال سالانہ امتحانات بھی نہیں ہو سکے تھے۔ طلبہ کی اس تحریک کی قیادت کے لیے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے سرکردہ طلبہ کی جو کمیٹی منتخب کی گئی اس کا سربراہ والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کو بنایا گیا اور انہوں نے کمیٹی کے دیگر ارکان کے ہمراہ احتجاجی تحریک کی قیادت کی تھی۔ اس تحریک کی مختلف باتیں بیان کرتے ہوئے والد گرامیؒ نے یہ بات بتائی بلکہ اپنی یادداشتوں میں تحریر بھی فرمائی ہے کہ انہیں بزرگ اساتذہ اور علماء کرام مسلسل سمجھاتے تھے کہ احتجاج کا حق ضرور استعمال کرو لیکن اس سے تعلیمی سلسلہ اور مدرسہ کے ماحول کو متاثر نہ ہونے دو۔ انہیں اس خدشہ سے بھی آگاہ کیا گیا کہ اس طرح انگریزی حکومت کو دارالعلوم دیوبند کو بند کرنے کا بہانہ ملے گا اور یہ بہت بڑا قومی نقصان ہو گا۔ والد محترمؒ فرماتے ہیں کہ ان میں سے کوئی بات ہم پر اثرانداز نہیں ہو رہی تھی اور ہم اپنے جذبات میں مگن احتجاجی تحریک کو پورے جوش و خروش کے ساتھ جاری رکھے ہوئے تھے۔ بالآخر جمعیۃ علماء ہند کے سربراہ مفتی اعظم حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ دہلویؒ اور جنرل سیکرٹری حضرت مولانا احمد سعید دہلویؒ دیوبند تشریف لائے اور کئی ملاقاتوں میں ہمیں اس بات پر قائل کیا کہ ہم تعلیمی بائیکاٹ اور احتجاجی جلوسوں کا سلسلہ ختم کر دیں۔ اس حوالہ سے ہمیں ان بزرگوں نے بھی یہ فرمایا کہ احتجاج اور تحریک سے دارالعلوم دیوبند کے نظام کو ڈسٹرب نہ ہونے دو اور حکمرانوں کے لیے اس بات کا موقع اور بہانہ فراہم نہ کرو کہ وہ دارالعلوم دیوبند کے خلاف کوئی کارروائی کر سکیں۔ حضرت والد محترمؒ فرماتے تھے کہ ہمیں یہ بات سمجھانے کی ہر بزرگ نے کوشش کی کہ مدرسہ کو مدرسہ رہنے دو مورچہ میں تبدیل نہ کرو اس سے نقصان ہو گا اور یہ بات امت کے فائدہ کی نہیں ہے۔ چنانچہ ان بزرگوں کے حکم اور اصرار پر ہم نے اپنی تحریک روک دی مگر حالات اس حد تک بگڑ چکے تھے کہ اس سال دارالعلوم کے سالانہ امتحانات نہ ہو سکے اور ہمیں اگلے سال دوبارہ جا کر امتحانات میں شریک ہونا پڑا۔

اس لیے مجھے جامعہ فریدیہ کے گزشتہ حالات کو سامنے رکھتے ہوئے تعلیمی نظام کے بحال ہونے اور اساتذہ و طلبہ کے ذوق و شوق کا سلسلہ جاری رہنے پر فی الواقع بہت خوشی ہو رہی ہے۔ اس کے ساتھ ایک بات دینی تحریکات اور جدوجہد کے بارے میں بھی عرض کرنا چاہتا ہوں۔ میں خود تحریکی دنیا کا آدمی ہوں، درجنوں دینی و قومی تحریکات میں نصف صدی کا عرصہ گزار چکا ہوں اور اپنے تجربات کی روشنی میں گزارش کر رہا ہوں کہ مسائل تو کھڑے ہوتے رہتے ہیں اور ہوتے رہیں گے۔ بہت سے مسائل ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے حوالہ سے جدوجہد کرنے کو جی چاہتا ہے اور یہ ہماری ذمہ داری بھی ہوتی ہے، اس لیے کوئی مسئلہ سامنے آنے اور اس میں حصہ لینے کو جی چاہے یا ضروری ہو تو اس کے لیے تین چار امور کا ضرور جائزہ لینا چاہیے۔

جامعہ فریدیہ کے حوالہ سے تعلیمی اور تحریکی دونوں قسم کے سوال سامنے آتے ہیں، اس لیے میں نے دونوں کے بارے میں مختصرًا کچھ گزارشات پیش کر دی ہیں، اللہ تعالیٰ جامعہ فریدیہ سمیت ہمارے تمام دینی مدارس، مراکز اور اداروں کی حفاظت فرمائیں اور ہمیں ان کی ضروریات اور تقاضوں کے مطابق صحیح محنت کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

فروری ۲۰۲۱ء

پاکستانی سیاست میں سول بالادستی کی بحث / پاکستان میں غیر مسلموں کے مذہبی حقوق / مشرقی پاکستان کی علیحدگی : درست تاریخی تناظرمحمد عمار خان ناصر
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۷۳)ڈاکٹر محی الدین غازی
علامہ احمد جاوید اور تصوفمیر امتیاز آفریں
شیخ الہندؒ کا قومی و ملی انداز فکرمولانا ابوعمار زاہد الراشدی
عورت کا سماجی کردار اور خاندانی حقوق و فرائضمولانا حافظ عبد الغنی محمدی
’’الوفاء باسماء النساء‘‘ (محدّثات انسائیکلوپیڈیا) / ” تین طلاق :ایک سماجی المیہ“ادارہ

پاکستانی سیاست میں سول بالادستی کی بحث / پاکستان میں غیر مسلموں کے مذہبی حقوق / مشرقی پاکستان کی علیحدگی : درست تاریخی تناظر

محمد عمار خان ناصر

حریفانہ کشاکش سیاست واقتدار کا جزو لاینفک ہے اور تضادات کے باہمی تعامل سے ہی سیاسی عمل آگے بڑھتا ہے۔ برطانوی استعمار نے اپنی ضرورتوں کے تحت برصغیر میں جہاں پبلک انفراسٹرکچر، تعلیم عامہ، ابلاغ عامہ، بیوروکریسی اور منظم فوج جیسی تبدیلیاں متعارف کروائیں، وہیں نمائندگی کا سیاسی اصول بھی متعارف کروایا۔ یہ پورا مجموعہ کچھ داخلی تضادات پر مشتمل تھا جس نے نئی سیاسی حرکیات کو جنم دیا۔ چنانچہ تعلیم، ابلاغ عامہ اور نمائندگی کے باہمی اشتراک سے استعمار کے خلاف مزاحمت کی لہر پیدا ہوئی اور بالآخر استعمار کو یہاں سے رخصت ہونا پڑا۔

تقسیم کے بعد پاکستانی ریاست کو یہ پورا مجموعہ اپنے داخلی تضادات سمیت بعینہ منتقل ہوا ہے، لیکن اس فرق کے ساتھ کہ اب فوج اور بیوروکریسی استعمار کے نمائندہ نہیں، یعنی انھیں نکال باہر کرنا ممکن نہیں۔ یوں جمہوریت بمعنی سول بالادستی اور مقتدرہ کے مابین کشاکش ایک بظاہر لاینحل مسئلے کے طور پر موجود ہے اور سیاسی عمل کو آگے دھکیل رہا ہے۔ سول بالادستی اپنی آئیڈیل شکل میں مقتدرہ کے کردار کو جن حدود میں محدود کرنا چاہتی ہے، وہ مقتدرہ کے لیے قابل قبول نہیں اور مقتدرہ، جمہوری فیصلہ سازی کو جس طرح اپنی طے کردہ ترجیحات کا پابند بنانا چاہتی ہے، وہ بنیادی طور پر عوامی سیاسی جماعتوں کو قبول نہیں۔ فریقین کے اصل مواقف یہی ہیں اور غیر معمولی حالات میں یہ باقاعدہ بیانیوں کی شکل بھی اختیار کر لیتے ہیں، تاہم عام حالات میں ایک ملفوف مفاہمت سے کام چلتا رہتا ہے۔

 پچھلے دو تین سالوں میں ہیئت مقتدرہ جس طرح سیاسی بندوبست کے باب میں بلا ستر سامنے آئی، بعض تجزیہ نگاروں کی رائے اس کے متعلق یہ تھی کہ وہ سیاسی حرکیات میں ایک ایسی مفید پیش رفت  ہے جو مآل کار جمہوری جدوجہد کو مضبوط کرے گی۔ اہم بات یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کو اس بے ستری کو چھپانے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی جس سے یہ اخذ کرنا مشکل نہیں تھا کہ یہ سب کچھ کسی وقتی موڈ میں یا ہنگامی ضرورت کے تحت نہیں، بلکہ قصدا اور طویل المیعاد منصوبہ بندی کے ساتھ کیا جا رہا ہے اور اس سے ایک کھلا اور واضح پیغام دینا مقصود ہے کہ باگ ڈور ہمارے ہاتھ میں ہے، اس لیے جس کو اقتدار میں کچھ حصہ چاہیے، اسے  ہماری شرائط پر ہمارے ساتھ معاملہ کرنا ہوگا۔

یہ پر عزم ننگا پن چند  بڑی تلخ حقیقتوں کی نشان دہی کرتا ہے جس کا سامنا جذباتیت سے نہیں کیا جا سکتا۔   اس کے فوری  عوامل میں دہشت گردی کے خلاف جنگ   اور اس کے نتیجے میں طاقت کے توازن کا غیر معمولی طور پر فوجی مقتدرہ کے حق میں   ہو جانا ہے۔  اس جنگ کی جو اصل قیمت ہم نے بطور قوم دی ہے، وہ سول حکومت کی بے وقعتی کی صورت میں دی ہے اور اس کا کوئی فائدہ اگر کسی کو ملا ہے تو عسکری ادارے کو، جرات اور حوصلے اور اعتماد میں غیر معمولی اضافے کی صورت میں ملا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کی حالیہ  بے ستری اسی اعتماد کا ایک مظہر ہے۔


اسٹیبلشمنٹ اور جمہوری قوتوں کے مابین طاقت کے اس عدم توازن کو  مستقل طور پر قائم رکھنے والے عوامل میں جس پر جمہوری قوتوں کی باہمی تفریق، کسی بھی شرط پر اقتدار میں حصہ داری کی اندھی خواہش اور سب سے بڑھ کر حقیقی اخلاقی قوت سے محرومی شامل ہیں۔ اخلاقی لحاظ سے عوامی سیاست کے نمائندے اپنی کوئی ساکھ نہیں بنا پائے، اور سیاسی لحاظ سے وہ سول بالادستی کی جدوجہد کے لیے درکار یکسوئی اور داخلی اتحاد کو، موقع دیے جانے پر، حصول اقتدار کے مقصد پر قربان کرتے رہے ہیں۔ تمام بڑی سیاسی جماعتوں کی تاریخ اسی کی تفصیل ہے اور یہی کمزوری، مقتدرہ کی سب سے بڑی قوت ہے۔ مقتدرہ کے پاس حصول اقتدار کی خواہاں متبادل سیاسی قوتوں مثلا ق لیگ اور پی ٹی آئی وغیرہ کو میدان میں لانے کا آپشن بھی موجود ہے اور بڑی سیاسی جماعتیں اپنے مشترکہ سیاسی تجربے کی روشنی میں میثاق جمہوریت جیسے جس معاہدے تک پہنچی تھیں، اسے غیر موثر کر دینے کی صلاحیت سے بھی وہ بہرہ ور ہے۔

سول بالادستی کے حوالے سے  جمہوری قوتوں کابیانیہ اصولی اور نظریاتی طور پر بہت مضبوط ہے، تاہم  اس سوال کو خود جمہوری طاقتوں کے اپنے کردار  سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ یہ کہ کہنے والے کو نہ دیکھو، جو وہ کہہ رہا ہے، اس کو دیکھو، یہ بات فلسفیانہ سطح پر ہی اچھی لگتی ہے۔ انسان کی عمومی نفسیات اس طرح کام نہیں کرتی۔ ایسا ہوتا تو اللہ تعالی ٰ  اپنی توحید سمجھانے کے لیے حسن کردار سے متصف نبیوں کے بجائے بلند پایہ فلسفیوں کو مبعوث فرماتا۔ خاص طور پر جہاں اخلاقی حکم لگائے یا دعوے کیے جا رہے ہوں، وہاں تو یہ منطق بالکل کام نہیں کرتی۔  دوسری بات یہ کہ ادارے کی قوت کا سامنا اداروں کی مدد سے ہی کیا جا سکتا ہے، شخصی مہم جوئی سے نہیں۔ پارلیمنٹ اور عدلیہ کو جتنا احترام خود سیاست دان دیتے ہیں، وہ ہمیں معلوم ہے۔ بھٹو مرحوم شاید ڈکٹیٹر شپ کے مزاج کے حوالے سے بدنام زیادہ ہیں، بعد کے سبھی سیاسی راہ نما بشمول میاں صاحب کا اس میں کوئی استثنا نہیں۔

ریاستی  اختیارات کے غلط استعمال کے مسئلے کو  اس کی اصل جڑ سے سمجھنا ضروری ہے۔ ریاستی اداروں کا رد عمل دراصل ان اداروں کے ذمہ داران کا طرز عمل ہوتا ہے جو انسان ہوتے ہیں اور اسی طرح behave کرتے ہیں جیسے نفسیات کے اصولوں کے تحت سارے انسان کرتے ہیں۔ کسی بھی صورت حال میں انسان جو رد عمل ظاہر کرتا ہے، وہ عموما reflexive ہوتا ہے، یعنی سوچا سمجھا، شعوری اور اختیاری نہیں ہوتا، بلکہ اس conditioning کے مطابق ہوتا ہے جس کے تحت انسان کی شخصیت کی تشکیل ہوئی ہے۔ اس میں بہت بنیادی کردار یہ بات ادا کرتی ہے کہ تشکیل شخصیت میں اخلاقی احساسات کی ترسیخ کس قدر شامل ہے اور وہ شخصیت کے حیوانی داعیات کا مقابلہ کرنے کی کس حد تک استعداد رکھتے ہیں۔

طاقت ملنے پر اس کا غلط استعمال، غلطی ہو جانے پر اپنا دفاع، اور خود کو یا کسی تعلق دار کو کسی بھی طرح کے خطرے میں دیکھ کر اس کا تحفظ، یہ سب انسانی نفسیات کے reflexive reactions ہیں۔ اگر اخلاقی احساسات کی مناسب ترسیخ کسی معاشرے کے تربیتی نظام اور ماحول کا حصہ نہ ہو تو پورے معاشرے کا نفسیاتی سانچہ بالکل ویسا بن جاتا ہے جیسا ہمارے معاشرے کا بنا ہوا ہے۔ ہم میں سے ہر فرد اور ہر گروہ اختیار ملنے پر اس کا غلط استعمال کرتا ہے، اپنے یا اپنے تعلق داروں سے کوئی غلطی یا جرم سرزد ہونے پر اپنے تحفظ کے لیے گروہی حمایت، سیاسی اثر ورسوخ، جھوٹ، رشوت، دھاندلی، دھونس اور مخالف پر دباو ڈالنے کے تمام حربے اختیار کرتا ہے اور اسے تعلق داری کا ایک لازمی اور بدیہی تقاضا تصور کرتا ہے۔ انصاف، غلطی کا اعتراف، غلطی کی سزا بھگتنے کے لیے درکار اخلاقی جرات جیسے شخصی اوصاف پیدا کرنے کا کوئی اہتمام ہماری نفسیاتی کنڈیشننگ کا حصہ نہیں ہے۔

ایسی صورت حال میں ہم میں سے جن کو ریاستی طاقت کے مراکز تک پہنچنے اور انھیں استعمال کرنے کا موقع ملتا ہے، وہ بعینہ اسی کنڈینشننگ کے زیر اثر وہ طرز عمل اختیار کرتے ہیں جس پر ہم اس وقت قومی سطح پر رنج اور افسوس کا اظہار کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان سے کسی مختلف کردار کی توقع آخر ہم کس بنیاد پر کر سکتے ہیں؟ زیادہ طاقت حاصل ہونے اور اخلاقی ذمہ داری کے مابین تو معکوس تناسب پایا جاتا ہے۔ طاقت تو ذمہ داری کا احساس پیدا نہیں کرتی، بلکہ پہلی کنڈیشننگ کو ہی مزید مضبوط کرتی ہے۔

یہ وہ ’’کتا ‘‘ ہے جو کنویں میں پڑا ہوا ہے اور ہم اس کو وہیں چھوڑ کر ہر نئے  واقعے کے بعد چالیس پچاس مزید ڈول نکالنے کا مطالبہ لے کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔


حالیہ سیاسی کشمکش میں  سول بالادستی  کی علمبردار سیاسی قوتوں نے  جو بیانیہ پیش کیا، اس میں  ’’شخصی کرداروں ‘‘ اور ’’اداروں ‘‘ کا ایک مصنوعی فرق قائم کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو محل نظر ہے۔  خود کو حب الوطنی کا معیار سمجھنے اور اپنے اقتدار کو چیلنج کرنے والے سیاست دانوں کی ملکی وفاداری کو مشکوک ٹھہرانے کی ذہنیت صرف بالائی عسکری قیادت میں نہیں ہے، جیسا کہ مختلف سیاسی قائدین نے باور کرانے کی کوشش کی۔ اپنے ادارے کی بالادست حیثیت، ملکی سیاست میں طاقت کی کشمکش میں اس کے موقف سے وابستگی، اور ملکی قانون سے بالاتر ہونے کا احساس ادارے کے تمام رینکس میں مشترک ہے اور اس درجے میں مشترک ہے کہ نتائج سے بالکل بے نیاز ہو کر درمیانی یا نچلی سطح کی قیادت بھی اس طرح کی مہم جوئی کا حوصلہ کر سکتی ہے جس طرح کی، مزار قائد پر ’’مادر ملت زندہ باد‘‘ کے نعرے لگانے پر کیپٹن صفدر کی گرفتاری کے معاملے  میں کی گئی۔  سیاسی حکمت عملی کے طور پر کرداروں اور اداروں میں فرق کیا جا سکتا ہے، لیکن اصل حقیقت نظروں سے اوجھل نہیں ہونی چاہیے۔ بطور ادارہ اپنی امتیازی حیثیت کا احساس، فرق مراتب کے ساتھ، اوپر سے نیچے تک پوری فوج میں سرایت کیے ہوئے ہے اور ہر سطح پر رویے میں جھلکتا ہے۔ اس لیے  سول بالادستی کی بحث میں جلد یا بدیر  پورے ادارے کی حیثیت اور کردار کو  اس کے سارے پہلووں کے ساتھ موضوع بنانے کی ضرورت پیش آئے گی۔

بطور ادارہ فوج کے کردار کو  ایک سنجیدہ  سیاسی مباحثے کا موضوع بنانا  صرف جمہوری سیاست کے لیے نہیں،  بلکہ فوج اور قوم کے باہمی تعلق میں استحکام  کے لیے بھی ضروری ہے۔ اس حوالے سے تنقیدی سوالات  کے راستے مصنوعی طریقے سے مسدود کرنے کا نتیجہ  فوج سے متعلق ناہموار اور نفرت پر مبنی  اظہارات کی صورت میں نکلتا ہے۔ یہ درست بات ہے کہ فوج  کے سیاسی کردار کی وجہ سے  اس کے دفاعی کردار اور  قومی خدمات  کو نفرت کا نشانہ بنانے کا کوئی جواز نہیں۔ تاہم  جب صورت حال یہ ہو کہ سیاست دانوں، مختلف مافیاز، پولیس، دیگر سرکاری انتظامی اداروں، اور مذہبی راہ نماوں سمیت  ہر طبقے کو  شدید تنقید اور طنز وتضحیک کا نشانہ بنانے کی آزادی ہر شخص کو حاصل ہو اور ایسا کرنے پر کسی کا بھی مواخذہ نہ ہو سکتا ہو، لیکن فوج کا نام آتے ہی پوری ریاست خطرے میں پڑ جائے اور فوج واحد ادارے کے طور پر سامنے آئے جس کے تقدس کا مجروح  ہونا ناقابل برداشت ہو تو پھر سوچنے کی بات ہے کہ اس سے فوجی ادارے کا امیج کیا بنتا ہے اور اس سے اظہار نفرت  کی ذہنیت کی اصلاح ہوتی ہے یا اس کو تقویت ملتی ہے؟

اظہار نفرت تو دور کی بات ہے، کسی مزاحیہ پروگرام میں جہاں معاشرے کے ہر طبقے کے مزاح کے انداز میں لتے لیے جا سکتے ہیں، آپ کو کبھی اشارتا بھی کوئی فوجی کردار مزاح کا نشانہ بنتا ہوا دکھائی نہیں دے گا۔ اس کے پیچھے ایک پوری نفسیات جھلک رہی ہے جو ایک قومی ادارے کے لیے، جس کا وجود اور استحکام اور اس پر قوم کا اپنائیت پر مبنی اعتماد اس ملک کے وجود اور استحکام کی ضمانت ہے، ہرگز کوئی مثبت چیز نہیں ہے۔


جہاں تک موجودہ حکمران جماعت کا تعلق ہے تو ۲٠۱۳ء کے انتخابات کے بعد ہم نے عرض کیا  تھا کہ سیاسی رویوں کے حوالے سے مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی نے بھی طویل تجربات سے ہی کچھ سیکھا ہے، اور یہ کہ تحریک انصاف کو بھی یہ چیزیں سیکھنے کا وقت ملنا چاہیے۔

اقتدار ملنے کے بعد، یقینا تحریک انصاف نے کافی سیاسی سبق سیکھے ہیں جو آئندہ اس کے کام آئیں گے۔ مثلا یہ کہ خالص نظریاتی یا اخلاقی اقدار کی بنیاد پر اقتدار کا حصول یا اس کو برقرار رکھنا ہماری معروضی سیاست میں ممکن نہیں اور اس کے لیے بہت سے سمجھوتے  کرنے پڑتے ہیں۔ اسی طرح یہ کہ صرف بلند عزائم اور گڈ گورننس کے لیے اچھے جذبات کافی نہیں، منصوبہ بندی اور سیاسی وانتظامی تجربہ بھی بہت ضروری ہے۔ یہ دونوں سبق اب خود عمران خان بھی دہراتے ہیں۔

ہمارے  خیال میں ابھی یہ سفر جاری ہے۔ کئی اور چیزوں کے علاوہ دو اہم باتیں عمران خان کو سیکھنے کی اشد ضرورت ہے:

ایک یہ کہ سیاسی اختلاف کو ذاتی دشمنی بنانے کی نفسیات سے خود کو اور اپنی جماعت کو کیسے نکالا جائے تاکہ سیاسی عمل کو ہموار طریقے سے جاری رکھا جا سکے۔ خاص طور پر یہ کہ کرپٹ سیاسی عناصر کو ذاتی دشمن کا درجہ دے دینا سسٹم کی تطہیر کے لیے ہرگز کافی یا اس کے لیے مددگار نہیں۔ یہ ایک لمبا اور صبر آزما عمل ہے۔

دوسرا یہ کہ سیاسی وانتظامی اصلاحات کا مقصد کسی ایک فرد کو بطور نجات دہندہ پیش کر کے اور اس کے لیے فری ہینڈ کا مطالبہ کر کے چند مہینوں یا سالوں میں حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ اس کو ایک مستقل بیانیے کے طور پر سیاسی عمل کا حصہ بنانے کی ضرورت ہے جس کے لیے تحریک انصاف کا موجودہ، فرد واحد پر منحصر سیاسی سٹرکچر ہرگز موزوں نہیں۔  عمران خان   کے ساتھ تحریک انصاف نے جو رومان وابستہ کیا ہوا ہے، اس کا معاملہ یہ ہے کہ اگر اس میں خدانخواستہ مذہبیت کی کوئی آمیزش ہوتی تو اب تک کسی نہ کسی مہدی یا اوتار کا ظہور ہو چکا ہوتا۔ اگر یہ ایک طویل جدوجہد ہے تو عمران خان کو اپنی ذات سے آگے بھی اس کے تسلسل کا کوئی بندوبست کرنا ہوگا، کیونکہ سیاست میں دیرپا اثرات چھوڑنے اور سیاسی کیریئر کو ایک personal ambition کے طور پر ترتیب دینے کی ترجیحات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ موخر الذکر کام کسی ایک حلقے کے ایم این اے وغیرہ کو زیب دیتا ہے، سیاسی جماعتوں کے قائدین کو نہیں دیتا۔

پاکستان میں غیر مسلموں کے مذہبی حقوق

گزشتہ دنوں  خیبر پختون خوا کے  ایک گاوں میں   ایک مندر کے منہدم کیے جانے کے تناظر میں   یہ سوال ایک بار پھر زیر بحث آیا کہ  ایک مسلمان ریاست میں  غیر مسلموں  کے شہری ومذہبی حقوق کیا ہیں۔ ہمارا نقطہ نظر اس حوالے سے یہ ہے کہ غیر مسلم شہریوں کے حقوق اور آزادیوں کا تعلق، مسلم ریاست کی نوعیت اور ان سیاسی اصولوں سے ہے جن پر ریاست کی بنیاد رکھی گئی ہو۔ اس حوالے سے اسلامی تاریخ میں دار الاسلام کا جو قانونی تصور رائج رہا ہے، اس میں اور آج کی جمہوری مسلم ریاستوں میں بہت بنیادی نوعیت کا فرق ہے۔ دار الاسلام کو قانونی لحاظ سے مسلمانوں کا علاقہ مانا جاتا تھا جس میں غیر مسلم ایک معاہدے کے تحت رہتے تھے اور اس کی مخصوص شرائط ہوتی تھیں جن پر سختی سے عملدرآمد کروانا یا نہ کروانا حکمرانوں کی سیاسی صوابدید پر منحصر ہوتا تھا۔ دار الاسلام میں اسلام کی سیاسی حاکمیت کے تصور کا ایک پہلو یہ بھی مانا جاتا تھا کہ غیر مسلم، اپنی مخصوص رہائشی آبادیوں سے باہر یعنی مسلمانوں کی آبادی میں عبادت گاہ نہ بنائیں اور اپنی آبادیوں میں بھی پہلے سے بنی ہوئی عبادت گاہوں پر اکتفا کریں اور نئی عبادت گاہیں نہ بنائیں۔ اس پابندی کو عملا لاگو کرنے میں مختلف ادوار اور حالات میں سیاسی پالیسیاں مختلف رہی ہیں، لیکن اصولا یہ پابندیاں مذہبی قانون کا حصہ مانی جاتی رہی ہیں۔ جدید جمہوری ریاستوں کی بنیاد شہریت کے اس تصور پر نہیں ہے اور خاص طور پر پاکستان کا قیام یہاں کی غیر مسلم آبادی کے ساتھ جن دستوری وعدوں کی بنیاد پر ہوا ہے اور آئین میں بھی ان ضمانتوں کو شامل کیا گیا ہے، وہ ایسی کسی تفریق کی اجازت نہیں دیتے۔ آئین اور ملکی قانون کے مطابق غیر مسلموں کو بھی وہی سیاسی اور معاشرتی حقوق حاصل ہیں جو مسلمانوں کو حاصل ہیں، اس لیے دار الاسلام کے تناظر میں بیان کیے گئے تصورات اور قوانین کا یہاں حوالہ دینا بے محل ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ شہری حقوق کا مسئلہ  سیاسہ کے دائرے سے متعلق ہے اور ان معنوں میں اسلامی وغیر اسلامی کی تفریق یہاں بے معنی ہے کہ جو تصور اسلامی تاریخ میں رائج رہا ہے، وہ تو اسلامی ہے اور آج کا جمہوری تصور غیر اسلامی۔ سیاسہ کا مطلب ہی یہ ہے کہ اسلام کی سیاسی حاکمیت کو محفوظ رکھتے ہوئے حالات کے تحت جو بھی سیاسی معاہدہ کیا جائے، وہ اسلامی ہی ہوگا۔ تمدنی وسیاسی امور میں ویسے بھی شریعت نے، اخلاقی تطہیر اور ضروری ترمیم کے ساتھ دنیا میں رائج طریقوں کو  ہی اختیار کیا ہے۔ ذمہ کا تصور اور جزیہ عائد کرنے کا طریقہ شریعت نے متعارف نہیں کروایا۔ یہ پہلے سے موجود تھا جسے موافق مصلحت پا کر اختیار کر لیا گیا۔ دور جدید میں جس طرح جمہوری نظام، بین الاقوامی معاہداتی نظام  اور قانون انسانیت کے باب میں موجودہ عالمی اتفاق کو شرعی مقاصد سے متصادم نہ ہونے کی وجہ سے اسلامی جواز دے دیا گیا ہے، اسی طرح جدید تصور شہریت کو بھی اسلامی قرار دینے میں کوئی مانع نہیں۔  

مشرقی پاکستان کی علیحدگی : درست تاریخی تناظر

پاکستان کی سیاسی تاریخ  کے ہر طالب علم کے سامنے سوال ہمیشہ ذہن میں آتا ہے کہ تقسیم ہند کے موقع پر شمال مشرق اور شمال مغرب میں واقع دور دراز مسلم خطوں کو ’’ایک‘‘ ریاست بنانے کا فیصلہ کن سیاسی بنیادوں پر کیا گیا؟

پہلی یہ کہ اس حادثے کی جڑیں بعد از تقسیم کے کچھ واقعات میں نہیں، بلکہ خود اس بندوبست میں دیکھنے کی ضرورت ہے جو دونوں خطوں کو ایک ریاست میں ضم کرنے کی صورت میں کیا گیا تھا۔ بہت سے زمینی حقائق اس کے ایک قابل عمل بندوبست ہونے کی نفی کر رہے تھے جنھیں شاید اس لیے نظر انداز کرنا مناسب سمجھا گیا کہ ان کی طرف توجہ دلانے والے تقسیم کے مخالفین اور خاص طور پر مولانا ابو الکلام آزاد تھے۔  یہ شروع سے ہی "ڈومڈ" تھا اور جلد یا بدیر ایسا ہونا ہی تھا۔ہاں، کچھ سمجھداری سے کام لیا جاتا تو یہ اتنے برے طریقے سے نہ ہوتا جیسے ہوا۔

اس کی تفصیل یہ ہے کہ تحریک پاکستان اپنے بنیادی سیاق میں شمال مغرب کے مسلم خطے سے تعلق رکھتی تھی۔ بنگال میں مسلم سیاسی جدوجہد کی حرکیات  پنجاب سے کافی مختلف تھیں اور دونوں خطوں کی سیاسی منزل لازمی طور ایک متحدہ ریاست نہیں تھی۔ چنانچہ ایک خود مختار مسلم خطے کا تصور پیش کرتے ہوئے نہ خطبہ آلہ آباد میں اقبال نے اس کا ذکر کیا، نہ پاکستان کی تجویز میں چودھری رحمت علی نے بنگال کو شامل کیا، بلکہ سوال کیے جانے پر کہا کہ بنگالی اپنی ایک الگ ریاست بنا سکتے ہیں۔ اس نوعیت کی کچھ دیگر تجویزوں میں بھی شمال مغربی ریاست اور حیدرآباد کے علاوہ بنگال کا ذکر ایک الگ ریاست کے طور پر کیا گیا تھا۔ 1940 میں فضل حق نے قرارداد لاہور پڑھی تو اس میں ایک سے زیادہ ریاستوں کا ذکر تھا، لیکن 1946 میں کابینہ مشن کی آمد پر، مذاکرات میں مسلم لیگ کی پوزیشن مضبوط بنانے کے لیے قرارداد لاہور میں ترمیم کر کے "ریاستوں" کی جگہ ’’ریاست‘‘ کا لفظ شامل کر لیا گیا۔ (اس حوالے سے بنگلہ دیشی نقطہ نظر وہاں کے قومی انسائیکلو پیڈیا میں دیکھ لینا مناسب ہے جس کے مطابق، بنگالی رہنماؤں نے اس سے اختلاف کیا تھا اور واضح کیا تھا کہ وہ دو الگ الگ ریاستوں کے تصور کے ساتھ اس جدوجہد میں شریک ہیں)۔

http://en.banglapedia.org/index.php?title=Lahore_Resolution

بہرحال، تقسیم ہند کا فیصلہ ہو جانے پر پنجاب اور بنگال کی تقسیم کا سوال آیا اور کانگریس اور وائسرائے دونوں نے متحدہ بنگال پاکستان کو دینے کا مطالبہ نہیں مانا تو حسین شہید سہروردی نے کوشش کی کہ مسلم اکثریتی بنگال کو پاکستان کا حصہ بنانے کے بجائے ایک الگ ریاست کے طور پر تسلیم کروایا جائے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کوشش کو قائد اعظم کی بھی تائید حاصل تھی، لیکن یہ کامیاب نہیں ہو سکی۔ کانگریس کا خیال تھا کہ یہ بنگال کی تقسیم کو روکنے کی ایک چال ہے، جبکہ وائسرائے کو خدشہ تھا کہ دو سے زیادہ مستقل ریاستوں کے قیام کی اجازت دی گئی تو اس نوعیت کے کئی اور مطالبے بھی ابھر سکتے ہیں جو تقسیم کے عمل کو موخر کر دیں گے۔ یوں گویا مجبورا دونوں خطوں کو ایک ریاست کا حصہ بنانا پڑا۔ یہ ذہن میں رہے کہ اس سے پہلے لارڈ ویول ایک خط میں ایک یا ایک سے زیادہ مسلمان ریاستوں کے امکان کا ذکر کر چکا تھا جس سے واضح ہے کہ صرف ایک مسلم ریاست برطانوی پالیسی کا کوئی طے شدہ حصہ نہیں تھا۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ مسلمانوں کے لیے حصول اقتدار کی اس جدوجہد میں جو سوشیواکنامک پہلو خود مسلمانوں کو داخلی طور پر تقسیم کیے ہوئے تھے، ان کو سامنے رکھے بغیر تاریخ کی درست تفہیم نہیں ہو سکتی۔ قائد اعظم اور مسلم لیگ کی خواہش کلکتے سمیت پورا بنگال پاکستان میں شامل کرنے کی تھی، لیکن صنعتی وسائل سے مالامال کلکتہ نہ ملنے کے بعد باقی کے مفلوک الحال بنگال کی اہمیت مسلم لیڈرشپ کی نظر میں ظاہر ہے، وہ نہیں ہو سکتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ حسین شہید سہروردی کو یہ کوشش کرنے دی گئی کہ وہ بنگال کو ایک مستقل ریاست منوا سکتے ہیں تو منوا لیں۔ یہ بات نہیں مانی گئی تو پاکستان میں بنگال کی شمولیت جس حیثیت سے ہوئی، وہ واضح ہے اور اقتدار وسیاست کی حرکیات کے لحاظ سے مغربی یعنی اصل پاکستان کی لیڈرشپ اور مقتدرہ کا رویہ مشرقی پاکستان کی جانب وہی ہو سکتا تھا جو ہوا۔ بنگالیوں سے یہ توقع کی جا رہی تھی کہ وہ پاکستان میں شامل کر لیے جانے کو ہی اپنے لیے اعزاز سمجھیں اور شراکت اقتدار کے سوال کے حوالے سے اپنی اوقات کو نہ بھولیں۔ 1971 کا سانحہ اسی صورت حال کا ایک منطقی انجام تھا جس کا تجزیہ کرتے ہوئے اب ہم عام طور پر کئی طرح کے ثانوی عوامل کو بنیادی اسباب کے طور پر دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

جو ہونا تھا، وہ تو ہو چکا، لیکن ہائنڈسائٹ سے کام لیا جائے تو شاید قرارداد لاہور کے اصل تصور کے مطابق دو الگ الگ ریاستیں بننا ہی خطے کے مسلمانوں کے زیادہ مفاد میں تھا۔ دونوں کے مابین شروع سے ہی کنفیڈریشن کی طرح کا کوئی تعلق ہوتا یا دفاعی معاہدات وغیرہ ہو جاتے تو انڈیا کے مقابلے میں بھی ہماری مجموعی اسٹریٹیجک پوزیشن زیادہ مضبوط ہوتی اور ہم یہ شرمناک تاریخ رقم کرنے سے بھی بچ پاتے۔  کم سے کم یہ ہونا چاہیے تھا کہ  متحدہ ریاست  کے قیام کے بعد صورت حال کے بہت زیادہ بگڑ جانے سے پہلے ہی باہمی مفاہمت سے راستے الگ کر لیے جاتے۔ لیکن اقتدار، ہاتھ میں آیا ہوا خطہ زمین اور وسائل پھر اتنی آسانی سے چھوڑنے کے لیے آمادہ نہیں ہوتا۔بہرحال، وکان امر اللہ قدرا مقدورا۔

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۷۳)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(225)    القاسیۃ قلوبہم من ذکر اللہ کا ترجمہ

اَفَمَن شَرَحَ اللَّہُ صَدرَہُ لِلاِسلَامِ فَہُوَ عَلَیٰ نُورٍ مِّن رَّبِّہِ فَوَیل لِّلقَاسِیَةِ قُلُوبُہُم مِّن ذِکرِ اللَّہِ اُولَٰئِکَ فِی ضَلَالٍ مُّبِینٍ۔ (الزمر: 22)

“اب کیا وہ شخص جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا اور وہ اپنے رب کی طرف سے ایک روشنی پر چل رہا ہے (اُس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جس نے اِن باتوں سے کوئی سبق نہ لیا؟) تباہی ہے اُن لوگوں کے لیے جن کے دل اللہ کی نصیحت سے اور زیادہ سخت ہو گئے، وہ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں”۔ (سید مودودی)

“تو خرابی ہے ان کی جن کے دل یادِ خدا کی طرف سے سخت ہوگئے ہیں”۔ (احمد رضا خان)

“پس ان پر افسوس ہے جن کے دل خدا کی یاد سے سخت ہو رہے ہیں”۔ (فتح محمد جالندھری)

“اور ہلاکی ہے ان پر جن کے دل یاد الٰہی سے (اثر نہیں لیتے بلکہ) سخت ہو گئے ہیں”۔(محمد جوناگڑھی، قوسین کا اضافہ الفاظ کے مطابق نہیں ہے۔)

“تو ہلاکی ہے ان کے لیے جن کے دل اللہ کی یاددہانی قبول کرنے کے معاملے میں سخت ہوچکے ہیں”۔(امین احسن اصلاحی، من کا ترجمہ عن سے کیا گیا ہے۔)

مذکورہ بالا ترجموں سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگوں کو القَاسِیَۃِ قُلُوبُہُم مِّن ذِکرِ اللَّہِ کا ترجمہ کرنے میں دشواری پیش آرہی ہے۔ کیونکہ اللہ کی یاد سے تو دل سخت نہیں ہوتے ہیں۔ اسی لیے بعض لوگوں نے من کو عن کے معنی میں لیا ہے۔ مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کی رائے عام مفسرین سے مختلف ہے، وہ یہاں تضمین مانتے ہیں، یعنی ایسا لفظ محذوف مانتے ہیں جس کا صلہ من ہو، کیونکہ القاسیة کا صلہ من نہیں آتا ہے۔ ان کی رائے کے مطابق یہاں الخالیۃ کی تضمین مان لی جائے یعنی الخالیۃ من ذکر اللہ۔ اس طرح ترجمہ ہوگا “تباہی ہے ان کے لیے جن کے دل سخت ہیں ،اللہ کے ذکر سے خالی ہیں”۔بالفاظ دیگر “جن کے دل اللہ کے ذکر سے خالی ہونے کی وجہ سے سخت ہوگئے ہیں”۔ درج ذیل ترجمہ اس مفہوم سے قریب تر ہے:

“پس اُن لوگوں کے لیے ہلاکت ہے جن کے دل اللہ کے ذکر (کے فیض) سے (محروم ہو کر) سخت ہوگئے”۔ (طاہر القادری)

(226)    اَسوَا الَّذِی عَمِلُوا کا ترجمہ

لِیُکَفِّرَ اللَّہُ عَنھُم اَسوَا َ الَّذِی عَمِلُوا وَیَجزِیَھُم اَجرَھُم بِاَحسَنِ الَّذِی کَانُوا یَعمَلُونَ۔ (الزمر: 35)

“تاکہ اللہ ان سے دفع کردے ان کاموں کے بدتر انجام کو جو انھوں نے کیے اور ان کو ان کے کاموں کا خوب تر صلہ دے جو انھوں نے کیے”۔ (امین احسن اصلاحی)

اس ترجمے میں اَسوَا الَّذِی عَمِلُوا کا ترجمہ ’کاموں کا بدتر انجام‘ کیا گیا ہے۔ یہ تکلف ہے۔ یہ سادہ لفظی ترکیب ہے جس کا مطلب ’بدترین کام‘ ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ تکفیر کا مطلب انجام کو دفع کرنا نہیں ہوتا ہے، قرآن مجید میں یہ لفظ متعدد بار آیا ہے اور سب جگہ سیئات کے ساتھ آیا ہے۔ اس کا مطلب برائیوں پر پردہ ڈال دینا ہے۔ اسی طرح بِاَحسَنِ الَّذِی کَانُوا یَعمَلُونَ کا ترجمہ ’کاموں کا خوب تر صلہ‘ درست نہیں ہے، صلے کے لیے تو اَجرَہُم آیا ہے۔ درست مفہوم ’بہترین کام‘ ہے۔ اس وضاحت کی روشنی میں درج ذیل ترجمہ صحیح ہے:

“تاکہ جو بد ترین اعمال انہوں نے کیے تھے انہیں اللہ ان کے حساب سے ساقط کر دے اور جو بہترین اعمال وہ کرتے رہے اُن کے لحاظ سے اُن کو اجر عطا فرمائے”۔ (سید مودودی)

(227)    وَالَّذِینَ ظَلَمُوا مِن ھَؤُلَاءِ کا ترجمہ

قَد قَالَہَا الَّذِینَ مِن قَبلِہِم فَمَا اَغنَیٰ عَنہُم مَّا کَانُوا یَکسِبُونَ۔ فَاَصَابَہُم سَیِّئَاتُ مَا کَسَبُوا وَالَّذِینَ ظَلَمُوا مِن ھَؤُلَاءِ سَیُصِیبُہُم سَیِّئَاتُ مَا کَسَبُوا۔ (الزمر: 50۔51)

“یہی بات ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگ بھی کہہ چکے ہیں، مگر جو کچھ وہ کماتے تھے وہ ان کے کسی کام نہ آیا۔ پھر اپنی کمائی کے برے نتائج انہوں نے بھگتے، اور اِن لوگوں میں سے بھی جو ظالم ہیں وہ عنقریب اپنی کمائی کے برے نتائج بھگتیں گے، یہ ہمیں عاجز کر دینے والے نہیں ہیں”۔ (سید مودودی)

“اور جو لوگ ان میں سے ظلم کرتے رہے ہیں”۔ (فتح محمد جالندھری)

“اوران میں سے بھی جو گناہ گار ہیں”۔ (محمد جوناگڑھی)

مذکورہ بالا آیت میں وَالَّذِینَ ظَلَمُوا مِن ھَؤُلَاءِ میں مِن کو تبعیضیہ مان کر ترجمہ کیا گیا ہے۔ یہاں اشکال یہ ہے کہ سیاق کلام میں جن لوگوں کے بارے میں بات ہورہی ہے وہ سب منکرین ہیں اور سبھی ظلم میں ملوث ہے۔ مفسرین نے  ھَؤُلَاءِ سے مراد زمانہ رسول ﷺ کی پوری انسانی امت کو لیا ہے۔ حالانکہ گفتگو سب کے بارے میں نہیں صرف اس دور کے ظالموں کے بارے میں ہے۔ مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کی رائے کے مطابق یہاں مِن بیانیہ ہے۔ اس طرح ترجمہ ہوگا:

“اور یہ لوگ جنھوں نے ظلم کیا عنقریب اپنی کمائی کے برے نتائج بھگتیں گے”۔

(228)    بِمَفَازَتِہِم کا ترجمہ

وَیُنَجِّی اللَّہُ الَّذِینَ اتَّقَو ا بِمَفَازَتِہِم لَا یَمَسُّہُمُ السُّوءُ وَلَا ہُم یَحزَنُونَ۔ (الزمر: 61)

“جن لوگوں نے یہاں تقویٰ کیا ہے ان کے اسباب کامیابی کی وجہ سے اللہ ان کو نجات دے گا، ان کو نہ کوئی گزند پہنچے گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے”۔ (سید مودودی، ایک اور غلطی یہ ہے کہ کامیابی کے بجائے اسباب کامیابی ترجمہ کیا گیا)

“اور جو پرہیزگار ہیں ان کی (سعادت اور) کامیابی کے سبب خدا ان کو نجات دے گا نہ تو ان کو کوئی سختی پہنچے گی اور نہ غمناک ہوں گے”۔(فتح محمد جالندھری)

“اور اللہ بچائے گا پرہیزگاروں کو ان کی نجات کی جگہ نہ انہیں عذاب چھوئے اور نہ انہیں غم ہو”۔ (احمد رضا خان)

“اور اللہ نجات دے گا ان لوگوں کو جو ڈرتے رہتے ہیں ان کے مامن میں۔ نہ ان کو کوئی گزند پہنچے گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے”۔ (امین احسن اصلاحی)

مذکورہ بالا آیت میں مفازۃ کا ترجمہ بعض لوگوں نے’کامیابی‘ اور بعض لوگوں نے’نجات کی جگہ‘ یا ’مامن‘ کیا ہے۔ مفازۃ کے دونوں معنی آتے ہیں۔ جن لوگوں نے کامیابی ترجمہ کیا ہے انھوں نے باءکو سبب کے مفہوم میں لیا ہے۔ لیکن کامیابی کی وجہ سے نجات ملنے کا مطلب واضح نہیں ہوتا ہے۔ آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ نجات اور کامیابی دونوں تقوی کی وجہ سے حاصل ہوں گے۔ مفازۃ کا ترجمہ مامن کرنے سے کوئی خاص مفہوم سامنے نہیں آتا۔ کیونکہ نجات کا تذکرہ تو ہوہی چکا ہے۔ صحیح توجیہ یہ ہے کہ مفازۃ کو کامیابی کے معنی میں لیا جائے اور باءکو سبب کے بجائے مصاحبت کے معنی میں لیا جائے۔ درج ذیل ترجمہ اس توجیہ کے مطابق ہے:

“اور جن لوگوں نے پرہیزگاری کی انہیں اللہ تعالیٰ ان کی کامیابی کے ساتھ بچا لے گا، انہیں کوئی دکھ چھو بھی نہ سکے گا اور نہ وہ کسی طرح غمگین ہوں گے”۔ (محمد جوناگڑھی)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تقوی اختیار کرنے والوں کو نجات بھی ملے گی اور ساتھ میں کامیابی بھی ملے گی۔ آگے لَا یَمَسُّہُمُ السُّوءُ وَلَا ہُم یَحزَنُونَ میں دونوں باتیں آگئیں۔ لَا یَمَسُّہُمُ السُّوءُ (نجات) اور لَا ہُم یَحزَنُونَ (کامیابی)۔

(229)    مُتَشَاکِسُونَ کا ترجمہ

ضَرَبَ اللَّہُ مَثَلًا رَّجُلًا فِیہِ شُرَکَاءُ مُتَشَاکِسُونَ وَرَجُلًا سَلَمًا لِّرَجُلٍ ہَل یَستَوِیَانِ مَثَلًا الحَمدُ لِلَّہِ بَل اَکثَرُہُم لَا یَعلَمُونَ۔ (الزمر: 29)

“اللہ ایک مثال دیتا ہے ایک شخص تو وہ ہے جس کی ملکیت میں بہت سے کج خلق آقا شریک ہیں جو اسے اپنی اپنی طرف کھینچتے ہیں اور دوسرا شخص پورا کا پورا ایک ہی آقا کا غلام ہے، کیا ان دونوں کا حال یکساں ہو سکتاہے؟ الحمدللہ، مگر اکثر لوگ نادانی میں پڑے ہوئے ہیں”۔ (سید مودودی)

“اللہ ایک مثال بیان فرماتا ہے ایک غلام میں کئی بدخو آقا شریک”۔ (احمد رضا خان)

“خدا ایک مثال بیان کرتا ہے کہ ایک شخص ہے جس میں کئی (آدمی) شریک ہیں۔ (مختلف المزاج اور) بدخو”۔ (فتح محمد جالندھری)

مذکورہ بالا ترجموں میں متشاکسون کے مفہوم میں کج خلق اور بدخو کا بھی ذکر کیا گیا ہے، بعض نے تو بد خو ہی پر اکتفا کیا ہے۔ لغت دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس لفظ میں بدخو کا مفہوم نہیں ہے، بلکہ ایسے اختلاف کا مفہوم ہے جس میں ضد شامل ہوجائے اور کوئی حل نہ نکلے۔ لسان العرب میں ہے: والشرکاءالمُتَشاکِسُون: العَسِرُونَ المختلفون الذین لا یتفقون۔

اس پہلو سے درج ذیل ترجمے مناسب ہیں:

“اللہ تعالیٰ مثال بیان فرما رہا ہے ایک وہ شخص جس میں بہت سے باہم ضد رکھنے والے ساجھی ہیں”۔ (محمد جوناگڑھی)

“اللہ تمثیل بیان کرتا ہے ایک غلام کی، جس میں کئی مختلف الاغراض آقا شریک ہیں”۔ (امین احسن اصلاحی)

(230)    وَالَّذِی جَاءَ بِالصِّدقِ وَصَدَّقَ بِہِ کا ترجمہ

وَالَّذِی جَاءَ بِالصِّدقِ وَصَدَّقَ بِہِ اُولٰئِکَ ہُمُ المُتَّقُونَ۔ (الزمر: 29)

“اور وہ جو یہ سچ لے کر تشریف لائے اور وہ جنہوں نے ان کی تصدیق کی، یہی ڈر والے ہیں”۔ (احمد رضا خان)

“اور جو شخص سچائی لے کر آیا اور جنہوں نے اس کو سچ مانا، وہی عذاب سے بچنے والے ہیں”۔ (سید مودودی، متقون کا مطلب’عذاب سے بچنے والے‘ بھی محل نظر ہے۔)

“اور جو شخص سچی بات لے کر آیا اور جس نے اس کی تصدیق کی وہی لوگ متقی ہیں”۔ (فتح محمد جالندھری)

“اور جو سچے دین کو لائے اور جس نے اس کی تصدیق کی یہی لوگ پارسا ہیں”۔ (محمد جوناگڑھی)

“اور جو سچی بات لے کر آیا اور جنھوں نے اس کی تصدیق کی، وہی لوگ اللہ سے ڈرنے والے ہیں”۔ (امین احسن اصلاحی)

مذکورہ بالا آیت میں الذی ایک بار آیا ہے لیکن عام طور سے لوگوں نے اسم موصول کا دوبار ترجمہ کیا ہے، یعنی صَدَّقَ بِہِ سے پہلے بھی الذی اسم موصول محذوف مانا ہے۔ اور پھر بعض نے اس کا ترجمہ’جس نے‘ اور بعض نے’جنہوں نے‘ کیا ہے۔ تفاسیر کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسم موصول کو محذوف ماننے کی وجہ یہ ہے کہ بعض مفسرین نے الَّذِی جَاءَ بِالصِّدقِ سے اللہ کے رسول کو مراد لیا ہے جو حق لے کر تشریف لائے اور صَدَّقَ بِہِ سے مراد آپ کی تصدیق کرنے والے کو مراد لیا ہے۔ حالانکہ اسم موصول کو محذوف ماننا اور صلے کو باقی رکھنا عربی قواعد کے لحاظ سے درست نہیں ہے۔ علامہ آلوسی نے لکھا ہے: وعَلی الاقوالِ الثَّلاثَۃَ یَقتَضِی اضمارُ الَّذِی وہو غَیرُ جائِزٍ عَلی الاصَحِّ عِندَ النُّحاةِ  مِن انَّہُ لا یَجُوزُ حَذفُ المَوصُولِ وابقاءُ صِلَتِہِ مُطلَقًا ای سَواء عُطِفَ عَلی مَوصُولٍ آخَرَ ام لا۔ (تفسیر روح المعانی)

دراصل اس تکلف کی ضرورت اس لیے پڑی کہ جاء بالصدق کا محدود مفہوم پیش نظر رکھا گیا، یعنی رسول کا سچا پیغام لانا۔ حالانکہ جو بھی‘سچ بات’کا علم بردار ہو وہ اس تعبیر میں شامل ہوجائے گا۔ ایک مومن سچائی کی تصدیق بھی کرتا ہے اور اس کا داعی و علم بردار بھی ہوتا ہے۔ اگر اس آیت کو اس سے پہلے والی آیت سے ملاکر دیکھا جائے تو بات واضح ہوجاتی ہے۔

فَمَن اَظلَمُ مِمَّن کَذَبَ عَلَی اللَّہِ وَکَذَّبَ بِالصِّدقِ اِذ جَاء َہُ اَلَیسَ فِی جَہَنَّمَ مَثوی لِّلکَافِرِین۔ وَالَّذِی جَائَ بِالصِّدقِ وَصَدَّقَ بِہِ اولَئِکَ ہُمُ المُتَّقُونَ۔

علامہ ابوحیان نے توجہ دلائی کہ جاء بالصدق مقابلے میں آیا ہے کَذَبَ عَلَی اللَّہِ کے، جس طرح صَدَّقَ بِہِ مقابلے میں آیا ہے کَذَّبَ بِالصِّدقِ کے۔ یعنی ایک وہ ہے جو اللہ کے بارے میں جھوٹ باتیں منسوب کرتا ہے اور سچ بات کی تکذیب کرتا ہے، اور ایک وہ ہے جو سچ بات کہتا ہے اور سچ بات کی تصدیق کرتا ہے۔

اس وضاحت کی روشنی میں ترجمہ ہوگا:

“اور جس نے سچی بات پیش کی اور اس کی تصدیق کی، وہی لوگ تقوی اختیار کرنے والے ہیں”۔ (امانت اللہ اصلاحی)

(231)    وَیَحِلُّ عَلَیہِ عَذَاب مُّقِیم کا ترجمہ

قُل یَا قَومِ اعمَلُوا عَلَیٰ مَکَانَتِکُم اِنِّی عَامِل فَسَوفَ تَعلَمُونَ۔ مَن یَاتِیہِ عَذَاب یُخزِیہِ وَیَحِلُّ عَلَیہِ عَذَاب مُّقِیم۔ (الزمر:39۔ 40)

“کہہ دیجیے کہ اے میری قوم! تم اپنی جگہ پر عمل کیے جاو میں بھی عمل کر رہا ہوں، ابھی ابھی تم جان لوگے کہ کس پر رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے اور کس پر دائمی مار اور ہمیشگی کی سزا ہوتی ہے”۔(محمد جوناگڑھی)

“کہ کس پر رسوا کن عذاب آتا ہے اور کسے وہ سزا ملتی ہے جو کبھی ٹلنے والی نہیں”۔ (سید مودودی)

“کس پر آتا ہے وہ عذاب کہ اسے رسوا کرے گا اور کس پر اترتا ہے عذاب کہ رہ پڑے گا”۔ (احمد رضا خان)

“کہ کس پر عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کرے گا۔ اور کس پر ہمیشہ کا عذاب نازل ہوتا ہے”۔ (فتح محمد جالندھری)

مذکورہ بالا آیت میں‘من’ ایک بار آیا ہے،’مَن یَاتِیہِ عَذَاب یُخزِیہِ‘ میں، اس کے بعد ’وَیَحِلُّ عَلَیہِ عَذَاب مُّقِیم‘ میں ’من‘ نہیں آیا ہے۔ لیکن ترجمہ کرنے والوں نے اس طرح ترجمہ کیا ہے گویا دو گروہوں کا تذکرہ ہو جن پر الگ الگ طرح کا عذاب آئے۔ حالانکہ یہاں ایک گروہ کا تذکرہ ہے اور اس پر آنے والے عذاب کے دو پہلووں کا بیان ہے، یعنی عذاب آئے گا جو رسوا کردے گا، اور وہ عذاب ٹک جانے والا عذاب ہوگا۔ درست ترجمہ اس طرح ہے:

“کہ کس پر رسوا کن عذاب آتا ہے اور ایسا عذاب نازل ہوتا ہے جو کبھی ٹلنے والا نہیں”۔

(232)    یتوفی کا ترجمہ

اللّہُ یَتَوَفَّی الاَنفُسَ حِینَ مَوتِہَا وَالَّتِی لَم تَمُت فِی مَنَامِہَا فَیُمسِکُ الَّتِی قَضَیٰ عَلَیہَا المَوتَ وَیُرسِلُ الاُخرَیٰ اِلَیٰ اَجَلٍ مُّسَمًّی۔ (الزمر: 42)

“اللہ جانوں کو وفات دیتا ہے ان کی موت کے وقت اور جو نہ مریں انہیں ان کے سوتے میں پھر جس پر موت کا حکم فرمادیا اسے روک رکھتا ہے اور دوسری ایک میعاد مقرر تک چھوڑ دیتا ہے”۔ (احمد رضا خان)

“اللہ ہی وفات دیتا ہے جانوں کو ان کی موت کے وقت، اور جن کی موت نہیں آئی ہونی ہوتی ہے ان کو بھی ان کی نیند کی حالت میں۔ تو جن کی موت کا فیصلہ کرچکا ہوتا ہے ان کو تو روک لیتا ہے اور دوسروں کو ایک وقت مقرر تک کے لیے رہائی دے دیتا ہے”۔ (امین احسن اصلاحی)

“وہ اللہ ہی ہے جو موت کے وقت روحیں قبض کرتا ہے اور جو ابھی نہیں مرا ہے اُس کی روح نیند میں قبض کر لیتا ہے، پھر جس پر وہ موت کا فیصلہ نافذ کرتا ہے اُسے روک لیتا ہے اور دوسروں کی روحیں ایک وقت مقرر کے لیے واپس بھیج دیتا ہے”۔ (سید مودودی)

مولانا امانت اللہ اصلاحی یہاں یتوفی کا ترجمہ کرتے ہیں’اپنے قبضے میں کرلیتا ہے‘۔ اس سے یہ آیت کا مطلب یہ نہیں ہوتا ہے کہ نیند کی حالت میں موت آجاتی ہے، یا روح جسم سے نکل جاتی ہے، بلکہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی نیند کی حالت میں بالکل بے اختیار ہوجاتا ہے، ایک طرح سے اللہ کے قبضے میں چلا جاتا ہے اور دوبارہ بیدار ہونا اس کے اپنے اختیار میں نہیں رہتا ہے۔ اس کی جان اللہ کے قبضے میں ہوتی ہے اور اسی کی مشیت سے وہ دوبارہ بیدار ہوتا ہے۔ آیت میں توفی کا بھی ذکر ہے اور موت کا ذکر بھی ہے۔ اس مفہوم سے دونوں کا فرق واضح ہوجاتا ہے۔ مزید یہ کہ یتوفی کو یمسک اور یرسل کے ساتھ ملاکر دیکھنے سے مفہوم کو سمجھنے میں زیادہ مدد مل سکتی ہے۔ درج ذیل ترجمہ ملاحظہ کریں:

“اللہ اپنے قبضے میں کرلیتا ہے جانوں کو ان کی موت کے وقت، اور جن کی موت نہیں آئی ہوتی ہے ان کو ان کی نیند کی حالت میں۔ تو جن کی موت کا فیصلہ کرچکا ہوتا ہے ان کو تو روک لیتا ہے اور دوسروں کو ایک وقت مقرر تک کے لیے رہائی دے دیتا ہے”۔ (امانت اللہ اصلاحی)

(233)    عما یشرکون کا ترجمہ

قرآن میں یہ تعبیر متعدد مقامات پر آئی ہے۔ اس میں مفسرین نے عام طور سے ’ما‘ کو مصدریہ مانا ہے، جس سے پورے جملے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالی اس سے پاک اور بالاتر ہے کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے۔ یعنی اس کے ساتھ شرک کرنا اس کی شان کے خلاف ہے۔ اللہ کے ساتھ شرک کرنا پستی اور گندگی ہے، اللہ کی ذات اس سے بہت بلند اور پاک ہے۔

اس تعبیر کی دوسری ممکنہ توجیہ یہ ہے کہ ’ما‘ کو موصولہ مانا جائے کا، جس سے پورے جملے کا مطلب یہ ہوگا کہ جن چیزوں کو اللہ کے ساتھ شریک کیا جاتا ہے اللہ ان چیزوں سے پاک اور بالاتر ہے۔ نحوی لحاظ سے تو اس توجیہ میں کوئی خامی نہیں ہے، لیکن معنی و مفہوم کے لحاظ سے یہ توجیہ کم زور معلوم ہوتی ہے۔ کیونکہ اللہ کا شرک سے پاک ہونا اور بالاتر ہونا تو بالکل واضح ہے۔ صاحب تدبر کے الفاظ میں: ”خدا کی صفات کے ساتھ ایسی صفات کا جوڑ ملانا جو اس کی بنیادی صفات کو باطل کردیں بالکل خلاف عقل ہے۔ شرک، جس نوعیت کا بھی ہو، تمام صفات کمال کی نفی کردیتا ہے اس وجہ سے خدا ایسی تمام نسبتوں اور شرکتوں سے منزہ اور ارفع ہے۔”(تدبر قرآن، سورة الاعراف: 190 کی تفسیر میں) لیکن جن چیزوں کو شریک کیا جاتا ہے ان سے پاک ہونے کا مطلب بتانے کے لیے تاویل کا تکلف کرنا پڑتا ہے۔

مترجمین کے یہاں عام طور سے تو ’ما‘ مصدریہ کا ترجمہ ملتا ہے لیکن بہت سے مترجمین نے کہیں کہیں ’ما‘ موصولہ کا ترجمہ بھی کردیا ہے، محسوس ہوتا ہے کہ وہ توجہ کی کمی کا نتیجہ ہے۔ البتہ خاص بات یہ ہے کہ صاحب تفہیم نے ہر جگہ ’ما‘ مصدریہ کا ترجمہ کیا ہے اور صاحب تدبر نے ہر جگہ ’ما‘ موصولہ کا ترجمہ کیا ہے۔ بہرحال موزوں تر مفہوم وہی معلوم ہوتا ہے جو ’ما‘ کو مصدریہ ماننے سے سامنے آتا ہے۔ ذیل میں ایسے مقامات کے ترجمے ملاحظہ فرمائیں:

فَتَعَالَی اللَّہُ عَمَّا یُشرِکُونَ۔ (الاعراف: 190)

“سو اللہ پاک ہے ان کے شرک سے”۔ (محمد جوناگڑھی)

“اللہ برتر ہے ان چیزوں سے جن کو یہ شریک ٹھہراتے ہیں”۔ (امین احسن اصلاحی)

سُبحَانَہُ عَمَّا یُشرِکُونَ۔ (التوبة: 31)

“وہ پاک ہے ان چیزوں سے جن کو یہ شریک ٹھہراتے ہیں”۔ (امین احسن اصلاحی)

“وہ پاک ہے ان کے شریک مقرر کرنے سے”۔(محمد جوناگڑھی)

سُبحَانَہُ وَتَعَالَیٰ عَمَّا یُشرِکُونَ۔ (یونس: 18)

“وہ پاک اور ارفع ہے ان چیزوں سے جن کو وہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں”۔ (امین احسن اصلاحی)

“وہ پاک اور برتر ہے ان لوگوں کے شرک سے”۔(محمد جوناگڑھی)

سُبحَانَہُ وَتَعَالَیٰ عَمَّا یُشرِکُونَ۔ (النحل: 1)

“وہ پاک اور برتر ہے ان چیزوں سے جن کو یہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں”۔ (امین احسن اصلاحی)

“پاکی اور برتری ہے اسے ان شریکوں سے”۔ (احمد رضا خان)

“وہ برتر ہے ان سب سے جنہیں یہ اللہ کے نزدیک شریک بتلاتے ہیں”۔ (محمد جوناگڑھی)

“پاک ہے وہ اور بالا تر ہے اُس شرک سے جو یہ لوگ کر رہے ہیں”۔ (سید مودودی)

تَعَالَیٰ عَمَّا یُشرِکُونَ۔ (النحل: 3)

“وہ برتر ہے ان چیزوں سے جن کو یہ اس کا شریک گردانتے ہیں”۔ (امین احسن اصلاحی)

“وہ اس سے بری ہے جو مشرک کرتے ہیں”۔ (محمد جوناگڑھی، یہ ترجمہ درست نہیں ہے، مشرک جو کرتے ہیں اس کی بات نہیں ہے بلکہ وہ جو شرک کرتے ہیں اس کی بات ہے۔)

“وہ بہت بالا و برتر ہے اُس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں”۔ (سید مودودی)

“وہ ان کے شرک سے برتر ہے”۔ (احمد رضا خان)

فَتَعَالَیٰ عَمَّا یُشرِکُونَ۔ (المومنون: 92)

“برتر ہے ان چیزوں سے جن کو یہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں”۔ (امین احسن اصلاحی)

“وہ بالاتر ہے اُس شرک سے جو یہ لوگ تجویز کر رہے ہیں “۔(سید مودودی، تجویز کرنا درست نہیں ہے، بلکہ کررہے ہیں۔)

تَعَالَی اللَّہُ عَمَّا یُشرِکُونَ۔ (النمل: 63)

“اللہ بہت ہی برتر ہے ان چیزوں سے جن کویہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں”۔ (امین احسن اصلاحی)

“جنہیں یہ شریک کرتے ہیں ان سب سے اللہ بلند وبالاتر ہے”۔ (محمد جوناگڑھی)

“بہت بالا و برتر ہے اللہ اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں”۔(سید مودودی)

سُبحَانَ اللَّہِ وَتَعَالَیٰ عَمَّا یُشرِکُونَ۔ (القصص: 68)

“اللہ پاک وبرتر ہے ان چیزوں سے جن کو یہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں”۔ (امین احسن اصلاحی)

“وہ بلند تر ہے ہر اس چیز سے کہ لوگ شریک کرتے ہیں”۔(محمد جوناگڑھی)

“اللہ پاک ہے اور بہت بالاتر ہے اُس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں”۔ (سید مودودی)

سُبحَانَہُ وَتَعَالَیٰ عَمَّا یُشرِکُونَ۔ (الروم: 40)

“وہ پاک اور برتر ہے ان چیزوں سے جن کو وہ شریک ٹھہراتے ہیں”۔ (امین احسن اصلاحی)

“وہ پاک ہے اور (اس کی شان) ان کے شریکوں سے بلند ہے”۔ (فتح محمد جالندھری)

“اللہ تعالیٰ کے لیے پاکی اور برتری ہے ہر اس شریک سے جو یہ لوگ مقرر کرتے ہیں”۔ (محمد جوناگڑھی)

“پاک ہے وہ اور بہت بالا و برتر ہے اُس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں”۔(سید مودودی)

سُبحَانَہُ وَتَعَالَیٰ عَمَّا یُشرِکُونَ۔ (الزمر: 67)

“وہ پاک اور برتر ہے ان چیزوں سے جن کو یہ شریک بناتے ہیں”۔ (امین احسن اصلاحی)

“وہ پاک اور برتر ہے ہر اس چیز سے جسے لوگ اس کا شریک بنائیں”۔ (محمد جوناگڑھی)

“پاک اور بالاتر ہے وہ اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں”۔ (سید مودودی)

سُبحَانَ اللَّہِ عَمَّا یُشرِکُونَ۔ (الطور: 43)

“اللہ پاک ہے ان چیزوں سے جن کو یہ شریک گردانتے ہیں”۔ (امین احسن اصلاحی)

“اللہ تعالیٰ ان کے شرک سے پاک ہے”۔(محمد جوناگڑھی)

سُبحَانَ اللَّہِ عَمَّا یُشرِکُونَ۔ (الحشر: 23)

“اللہ پاک ہے ان چیزوں سے جن کو لوگ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں”۔ (امین احسن اصلاحی)

“پاک ہے اللہ ان چیزوں سے جنہیں یہ اس کا شریک بناتے ہیں”۔(محمد جوناگڑھی)

“پاک ہے اللہ اُس شرک سے جو لوگ کر رہے ہیں” ۔ (سید مودودی)

علامہ احمد جاوید اور تصوف

میر امتیاز آفریں

تصوف اسلام کی روحانی تعبیراور (dimension) کا نام ہے۔جس نے اسلامی تہذیب و تمدن کے دامن کو نہ صرف وسیع کیا ہے بلکہ علوم و فنون کے اک لا متناہی سلسلے کو جنم دیا ہے۔ صوفیانہ فکر و فن نے صدیوں سے تاریخ اسلام میں بڑے اعلیٰ قلوب و اذہان کو متاثر کیا ہے جن میں رومیؒ، غزالیؒ، ابن عربیؒ، شیخ احمد سرہندیؒ،شاہ ولی اللہ ؒ وغیرہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔صدیوں تک صوفیانہ طرز فکر نے نہ صرف علمی و فکری منظرنامے پر بلکہ مسلم ازہان و قلوب پر بھی حکمرانی کی ہے۔مگر جب سے مغربی افکار و نظریات نے ہمیں اپنے تہذیبی ورثے کا تنقیدی جائزہ لینے اور اپنے زوال کا تجزیہ کرنے کی راہ سجھائی ہے، تب سے انکار تصوف جدید تعلیم یافتہ روشن خیال علماءکے لئے ایک علمی شوق اور فیشن ایبل مشغلہ بن چکا ہے۔جس طرح سوشلزم اور کمیونزم کی نظر میں ہر روحانی وا خلاقی رجحان ذہنی افیون اور superstructureکہلایا اسی طرح جدیدروایتی مسلم مذہبی فکر میں تصوف کو مطعون کرکے ہدفِ تنقید بنایا گیا۔

ہماری علمی تاریخ میں تصوف کے شدید ناقدین جیسے علامہ ابن تیمیہؒ، علامہ ابن القیم ؒ اور علامہ ابن جوزیؒ بھی محمود و مذموم اور اسلامی و غیر اسلامی تصوف کے درمیان حد فاصل کھینچتے ہیں مگر بد قسمتی سے موجودہ دور کے کچھ ناقدین اس قدر آگے بڑھ چکے ہیں کہ تصوف کو ’ایک متوازی دین‘ اور ’اجنبی پودا‘ قرار دے کر اس کی بنیادیں ہی کھودنے میں لگے ہوئے ہیں۔تصوف پر یلغار موڈرن کہلانے والے مغربی افکار کے غلاموں میں ایک عام سی بات ہو چلی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ زندگی مسلسل سفر ہے، زندگی پیہم رواں دواں ہے، زندگی جہدِ مسلسل ہے اور تصوف زندگی کو مفلوج کر دیتا ہے، عائلی اور معاشرتی پرورش سے اجتناب کی تعلیم دیتا ہے، عصری تقاضوں سے گریزاں ہے، فکری مرض ہے، نفسیاتی نشہ ہے اور قلبی سفسطہ۔اور ظاہر ہے کہ ان مذموم افکار کی تعین میں بے سند کتابوں کے غیر معروف واقعات اور جاہل صوفیاءکا ہاتھ ہے۔ اگر ہمارے محققین ، علماءاور دانشوران نے تصوف کے رموز و نکات، مضمرات، اہمیت و ضرورت، حرکیت و فعالیت اور شرعی حدود پر وافر تعداد میں کتابیں لکھی ہوتیں تو شاید نہ اہل خانقاہ تصوف کے نام پر کاروبار کرتے اور نہ ہی زندگی کے باالمقابل تصوف پر جمود اور تعطل کا الزام عائد کیا جاتا، مگر ہمیں افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ تصوف پر لکھنے والے ہمارے مصنفین کا قلمی دائرہ شخصیات اور ان کی کرامتوں سے آگے نہیں بڑھتا۔اس سنگین صورت حال میں علامہ احمد جاوید جیسی کثیر الجہات شخصیات کسی نعمتِ عظمیٰ سے کم نہیں جو بیک وقت مذہبیات، فلسفہ اور ادب پر حیرت انگیز درجے کا ید طولیٰ رکھتے ہیں۔جو نہ صرف تصوف اور جدید علوم کے مردِ میدان ہیں بلکہ ذاتی رجحانات میں بہنے کے بجائے ایک تنقیدی شعور سے مختلف نظامہائے فکر کا جائزہ لیتے ہیں۔ احمد جاوید صاحب نے اپنی معلوماتی و تجزیاتی قلمی نگارشات سے صوفیانہ افکار و نظریات کو دور حاضر کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کی محققانہ اور مدلل کاوشیں کی ہیں۔

علامہ احمد جاوید

برصغیرپاک و ہند کی معاصر اسلامی تاریخ میں علم و عمل اور احوال و اخلاق کے اعتبار سے کچھ ہی گنی چنی دینی شخصیات ہیں جن میں علوم معقول و منقول کے اعتبار سے زبردست جامعیت پائی جاتی ہے اور ان میں بلا شک و شبہ علامہ احمد جاوید کی شخصیت سر فہرست ہے ۔آپ ملک پاکستان کے ممتاز ترین دانشور، شاعر، صوفی اور مربی ہیں ۔ علمیت،وسعتِ مطالعہ ،تدبر و تفکر، علمی موضوعات پر نکتہ سنجی، فلسفہ، مذہب، تصوف اور ادب و تنقید میں آپ اپنا ثانی نہیں رکھتے ۔دین و مذہب سے احمد جاوید کی رغبت و محبت ان کے خمیر میں رچی بسی تھی۔اسلامی تاریخ ، اسلامی فلسفہ ، منطق، علم کلام، تصوف وغیرہ پر ان کے علم اور بصیرت پر حیرت ہی کی جاسکتی ہے۔

 آپ نے شعور کی آنکھ اپنے استاد سلیم احمد کی فکری آغوش میں کھولی۔ ایک انٹریو میں احمد جاوید خود بیان کرتے ہیں کہ کیسے ان کے استاد نے کلیاتِ میر، وِل ڈیوراں کی The History of Philosophy، محمد حسن عسکری کی تمام کتب پر مشتمل ایک نصاب مرتب کیا اور یوں مذہبیات اور شاعری کے ساتھ ان کا غیر معمولی ربط استوار ہوگیا۔اردو، عربی، فارسی اور انگریزی شاعری میں آپ کو ید طولیٰ حاصل ہے اورروحانی اور ما بعد طبعییاتی افکار و نظریات ان کا محبوب مشغلہ ہیں۔رومی،ابن عربی، غزالی، سعدی، میر، غالب اور اقبال کے اثرات آپ کی شخصیت اور فکر میں صاف دیکھے جاسکتے ہیں۔1980میں لاہور منتقلی اوراقبال اکادمی کے ساتھ وابستگی سے آپ کو اپنی علمی و فکری صلاحیتوں کو نکھارنے کا بہترین موقع ملا۔اقبال اکادمی سے آپ 2015میں بہ حیثیت ڈائریکٹر ریٹائرہوئے۔

علمی ، ادبی اور مذہبی حلقوں میں آپ کو یکساں مقبولیت حاصل ہے۔فلسفہ، اخلاقیات، تصوف، اقبالیات، ادبی تنقید اور اسلام کے مختلف پہلووں پر آپ نے بہت کچھ لکھا ہے اور ان موضوعات پر آپ نے متعدد لیکچر دیے ہیں۔ ان کی پانچ کتابیں اب تک چھپ چکی ہیں، جبکہ تیس کے قریب کتابیں زیرِ طبع ہیں۔ علاوہ ازیں موصوف باقاعدگی سے مختلف ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر دور حاضر کے فکری و اخلاقی مسائل پر نپی تلی اور متوازن گفتگو کرتے ہیں۔اس تعلق سے کافی ویڈیوز یوٹیوب اور کئی ویب سائٹوں پر دستیاب ہیں جن سے ہم اس تحریر میں استفادہ کریں گے اور تصوف کے بارے میں ان کی آراءکا تجزیہ کرنے کوشش کریں گے۔

جہاں تک تصوف کا تعلق ہے، علامہ احمد جاوید بذات خودراہِ سلوک سے علمی و عملی وابستگی رکھتے ہیں۔روزنامہ دنیا میں چھپے آپ کے ایک انٹریو کے مطابق، ’تصوف کی طرف مائل ہوئے توآخر ایک افغان صوفی بزرگ حضرت اخوند زادہ سیف الرحمان کے، جو طریقت میں مقام بلند اور نہایت مضبوط توجہ کے حامل تھے، دست حق پرست پر مشرف بہ بیعت ہوئے۔اس کے بعد ہی ان کی زندگی میں نمایاں تغیرات کے لامتناہی سلسلے کا آغاز ہوا‘(۱)

 اپنے ایک مضمون ’استعانت، انسان دوستی اور وبا کا دور ‘ میں آپ لکھتے ہیں:

”مجھے صحیح پتا نہیں، غالباً دس سال سے، میں طبعاً، ازروئے تربیت،ازروئے تعلیم، از روئے مزاج صوفی ہوں۔میری تربیت، یعنی دیندار بننے میں ، اللہ مجھے معاف کرے دیندارہم کہاں کے، لیکن ویسے کہہ رہا ہوں کہ دین سے قریب لانے میں ساری جو تربیت اور کنٹریبیوشن (contribution)ہے، وہ تصوف کا ہے اور طبعاً اور مزاجاً میں جیسے تصوف سے مناسبت رکھتا ہوں اور تین سلسلوں کا تفصیلی سلوک ، کلاسیکل سلوک کر رکھا ہے، محنت کے ساتھ، توجہ کے ساتھ ،ذوق کے ساتھ اور ایثار کے ساتھ اور اپنے بڑوں سے یعنی بڑوں سے مراد جنہیں دیکھا، ان سے بھی، جنہیں نہیں دیکھا، جن کے بارے میں مستند ذرائع سے سنا، ان اسلاف سے بھی، یعنی صحابہ سے لے کر اپنے اساتذہ و مشائخ تک، یعنی دینی معنوں میں ، بڑائی کے عارفانہ معنوں میںعظمت کے جو مظاہر تھے، ان سب سے والہانہ محبت ہے۔“ (۲)

آپ کے مجموعی تاثرات کو پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ  ایک طرف آپ نے اپنے اساتذہ سے ذوقِ تصوف اخذ کیا تو دوسری طرف آپ نے اپنی فطری استعداد سے نظام تصوف پر تنقیدی نگاہ ڈال کرقرآن و سنت کی روشنی میں اس کا جائزہ لیا۔

 تصوف کے بارے میں احمد جاوید صاحب اپنے مختلف دروس میں افراط و تفریط کے درمیان ایک متوازن راہ اختیار کرنے کی وکالت کرتے ہیں۔ وہ تصوف کی حقیقت اور اس پر کیے جانے والے اعتراضات کا ایک علمی و فکری محاکمہ کرتے ہیں۔ ایک طرف وہ معترضین کے اشکالات کو رفع کرنے کی کوشش کرتے ہیں تودوسری طرف تصوف کے نام پر بے اعتدالیوں کی بھی نشاندہی کرتے ہیں۔ ان کا نقطہ نظر بعض مواقع پر ناقدانہ معلوم ہوتا ہے اور بعض جگہ مصلحانہ ہے۔ کبھی تنقیدِ تصوف میں اتنے آگے نکل جاتے ہیں کہ اسے اسلام کے لئے بے حد مضر اور بے معنی قرار دینے میں نہیں جھجکتے لیکن ساتھ ہی اس کی افادیت سے بھی چشم پوشی نہیں کرتے۔ایک طرف سے آپ ابن عربیؒ، رومیؒ، بیدلؒ، حافظؒ ، دردؒ، شاہ ولی اللہؒ جیسے صوفیاءکے صوفیانہ افکار و نظریات سے حد درجہ شغف رکھتے ہیں اور دور حاضر میں ان کے بہترین شارح قرار دیے جاسکتے ہیں، دوسری طرف آپ ان کے کئی نظریات پر شدید تنقید سے بھی دامن نہیں بچاتے ہیں۔دین کے بنیادی اصول و ضوابط سے متصادم افکار و نظریات کو یک جنبش لب و قلم رد کردیتے ہیں۔

تصوف:حقیقت و اہمیت

 احمد جاوید کی نظر میں اسلام کے نظام تزکیہ و تصفیہ پر عمل کرتے ہوئے مقام احسان تک پہنچنے کا ہی نام تصوف معروف ہوا ۔اپنی کتاب’ تزکیہ نفس‘ میں تصوف کی حقیقت پر کلام کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”احسان تزکیہ و تصوف کا متبادل لفظ ہے۔ احسان ایک حال دید ہے، دید کے بغیر۔ احسان کا مطلب ہے دید کا حال جو دید کا دعویٰ کرنے کی اجازت نہ دے۔ حال دید تین ہی نتائج مرتب کرے گا۔ ایک مزاج کے لئے محبت کو بڑھا دے گا۔دوسرے مزاج کے لئے خشیت کو بڑھا دے گا۔تیسرے مزاج کے لئے معرفت کا سبب بنے گا۔ تو اصل چیز احسان ہے اللہ کے حضور میں رہنا اور اللہ کو استحضار میں رکھنا۔“ (ص۱۵)

 اللہ نے انسان کی تخلیق اپنی عبادت کے لئے کی اور عبادت اس طرح کرنے کا حکم آیا ہے کہ گویا بندہ اللہ کو دیکھ رہا ہو۔حدیث جبریل کے مطابق اسلام دین کے ارکان ظاہری ، ایمان ارکانِ باطنی اور احسان ظاہر و باطن کی تحسین کا نام ہے جس کے نتیجے میں اللہ کو دیکھنے والی کیفیت حاصل ہو جاتی ہے۔ جس طرح مسائل شرعیہ کے لئے علم فقہ اور مسائل اعتقادیہ کے لئے علم کلام مدون ہوااسی طرح درجہ احسان تک پہنچنے، اخلاق رذیلہ کو دور کرنے اور اخلاق حمیدہ سے مزین ہونے کے لئے صوفیہ کے احوال و مقامات اور واقعات کی شکل میں فن تصوف مدون ہوا۔

تصوف پر جیو ٹی وی کے ایک علمی مباحثے میں احمد جاوید کہتے ہیں:  ہر دین میں تصوف جیسا institution ضرور موجود ہوتا ہے حتیٰ کہ یہودیت جیسے ٹھیٹھ قانونی دین میں بھی یہ پیدا ہوا۔تصوف مذہبی شعور کے زیادہ گہرے اور بامعنی اور زیادہ مستقل حصوں کے دینی versionکا نام ہے۔اس کو نظر انداز کرکے ہم بعض باتوں میں اگر ہم ایک قانونی تحکم کے ساتھ غور کریں گے، دین کی تعبیرات کے کسی generalتسلسل کو اس پر حکم بنائیں گے تو ہم بہت زیادہ درست نتائج تک اس کی تائید یا تردید میں نہیں پہنچ پائیں گے۔ صوفی نظام العمل (episteme) میں معنی حضور کا  نام ہے۔ یعنی کسی بیان کا معنی شعور میں حضور پیدا کرتا ہے جبکہ غیر صوفی نظام العمل (non- Sufi episteme) فہم (understanding) پیدا کرتا ہے۔ غیر صوفی نظام العمل میں آدمی نامعلوم پر قانع ہوجاتا ہے۔صوفیاءکا ذہن(understanding) پر قانع نہیں ہوتا، یہ غیب کو اصولی طور پر محفوظ رکھ کر اس کے غیاب میں بھی حضوری (presence)پیدا کر لیتا ہے۔غیب میں اس حضوری پیدا کرنے کو صوفیاءاپنی اصطلاح میں اعتبار کہتے ہیں۔ (۴)

فلاسفہ اور متکلمین کے مقابلے میں صوفی discourse کو علامہ احمد جاویدزیادہ بہتر و برتر قرار دیتے ہیں کیونکہ اس میں ایک غیر معمولی جمالیاتی تاثیر پائی جاتی ہے جو مذہب کو تشکیک اور خشک مذہبیت سے بچانے میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے:

”صوفیانہ discourseسے زیادہ مکمل ڈسکورس کسی بھی دینی روایت میں کبھی تخلیق نہیں ہوا اور یہی وجہ ہے کہ یہ پرانا نہیں ہوتا۔ سینٹ آگسٹائن کے City of God پر پندرہ سو برس گزر چکے ہیں مگر وہ آج بھی تازہ ہے۔۔۔ابن عربی کی فتوحات و فصوص کے متعلقہ حصے سینکڑوں سال گزار کر بھی تازہ دم ہیں۔۔۔ان کے مرتبہ علم الوجود کے اصول و مبادی آج بھی اتنے محکم ہیں کہ ان پر آج تک نہ کوئی اضافہ ہوا نہ ترمیم ۔اس کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی۔جب کہ دوسری طرف فلاسفہ و متکلمین کا بیشتر سرمایہ ازکار رفتہ ہو چکا ہے۔تو یہ کس وجہ سے ہے؟ یہ اس وجہ سے ہے کہ صوفی ڈسکورس کی تشکیل میں شعور کی جمالیاتی قوت بھی پوری طرح صرف ہوئی ہے۔۔۔اس شعور کا مذہبی مصرف نہ نکالنے کا یہ نتیجہ ہے کہ آج مذہب پر تقریباً تمام اہمdisciplines of knowledgeکی طرف سے اعتراضات کی بوچھاڑ ہو رہی ہے اور مذہبی ذہن بالکل ماوف ہوکر گوشہ ہزیمت پکڑے بیٹھا ہے۔اسے کوئی دفاع نہیں سوجھ رہا۔ یہ میں ذمہ داری سے کہہ رہا ہوں کہ یہ نوبت اس لئے آئی ہے کہ ہم نے اپنے ایمان کی ناگزیر عقلی، اخلاقی، اور جمالیاتی تاثیرکو کند کر رکھا ہے، ہم نے ایمان کے جمالیاتی لوازم کو معطل کیا ہوا ہے۔“ (۵)

احمد جاوید کے مطابق صوفیانہ بیانیہ مذہبی سطحیت کا بہترین تریاق ہے۔اس سلسلے میں وہ ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں:

”میرے خیال میں جب مذہبی علم سطحیت کا شکار ہوا، تو شعور کی مذہبی کارفرمائی کے مظاہر پر اعتراضات کی بنیاد پڑی۔ میں یہ نہیں کہتا کہ غزالیؒ، یا ابن عربی وغیرہ کے تمام مباحث اور سارے معارک ہمارے themeکے ، ہمارے علمی مزاج کے محکم نمائندے ہیں۔ لیکن اتنی بات بہرحال ملحوظ رہنی چاہئے کہ ان حضرات نے شعور بلکہ وجود کے بہترین جوہر کو دینی حقائق کی قبولیت میں جس طرح صرف کرکے دکھایا ہے، وہ ان کے معترضین کے بس سے باہر ہے۔“ ( ۶ )

تنقیدی جائزہ

علامہ احمد جاوید کے مطابق تصوف کے منہج تزکیہ و علم کا justified ہونا یہ لازم نہیں کرتا کہ اسے تصحیح و تغلیط کے معروف معیارات سے ماورا مان لیا جائے ، کچھ لوگ تصوف کی ہر بات کو تسلیم کرلیتے ہیں، خواہ صحیح ہو یا غلط اور کچھ اس کی کلیتہً نفی کرتے ہیں، خواہ اس کا کوئی حصہ صحیح ہی کیوں نہ ہوجبکہ تصوف یا کسی اور نظریے کے بارے میں صحیح رویہ یہ ہے کہ جو بات قرآن و سنت کے مطابق ہو اسے تسلیم کیا جائے اور جومتصادم ہواسے رد کیا جائے۔

تصوف پر آپ کے ایک اہم مضمون” تصوف کے بارے میں کچھ بنیادی باتیں“ میں آپ دین اسلام میں تصوف کی حیثیت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”تصوف ایسا نہیں ہے کہ فلاں حضرت نے ایجاد کر لیا۔ تصوف جو ہے قرآن کے(Substance) ، سنت میں manifested substance کی روایت کے تسلسل کا ایک نام ہے۔ یعنی رسول اللہﷺ کے شعورِ بندگی اور ذوقِ بندگی کے تسلسل کے لیے جو روایت چل رہی ہے، اس روایت کا ایک عنوان تصوف ہی ہے، چاہے اسے تصوف کہو یا نہ کہو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ تصوف کا لفظ قرآن و سنت سے ثابت نہیں ہے تو یہ لفظ بائنڈنگ نہیں ہے۔ تو صوفیا نے اس ماخذِ دین کو اس ٹوٹل پرسپیکٹو کے ساتھ اختیار کیا اور اسے مسلسل رکھنے کا سامان کیا۔ اس کے تسلسل کا اہتمام کیا۔

تصوف نے گویا خود اپنے اوپر ایک چیک لگا رکھا ہے کہ وہ حقیقتِ بندگی کی اور مقاصدِ بندگی کو عملی، فعلی اور زندہ حالت میں رکھنے والی روایت ہے۔ تو جہاں تک وہ اپنی اس ذمہ داری کو ادا کرے گا، وہاں تک وہ ہماری اصطلاح کے مطابق تصوف ہونا کوالیفائی (qualify) کرتا ہے۔ لیکن جہاں وہ اپنی اس بیسک (basic)اور پرنسپل (principal) اور فنڈامینٹل(fundamental) ذمہ داری سے روگردانی کر رہا ہے، ان کی طرف نظر ڈالنے میں کوتاہی کا مظاہرہ کر رہا ہے، اس کو اپنی نظام کی واحد آپریٹو(operative) بنیاد بنانے میں ناکامی کا شکار ہے تو ہم اُس فیض کو یا اُس حصے کو یا اُس دائرے کو نہایت آسانی کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ تصوف نہیں ہے، یہ تصوف میں بگاڑ پیدا کر دینے والی کچھ صورتیں ہیں۔ تو تصوف کا عروج بھی اسی معیار سے پرکھا جائے گا جو معیار صوفیوں نے خود بنایا نہیں ہے قرآن اور قرآن لانے والے نے اُن پر امپوز (impose)کیا ہے تو تصوف اسی بنیاد پر اپنا جواز رکھتا ہے اور اس بنیاد میں سے جتنا وہ ہٹتا جائے گا اتنا وہ اپنے آپ کو ڈسکوالیفائی (disqualify)اور ریجیکٹبل(rejectable) بناتا چلا جائے گا... حقیقت کو اس کی کُلّیت کے ساتھ امت میں پیدا ہوانے والے جن ڈسپلنز (disciplines)نے قبول کیا ہے، اُن میں تصوف میں جامعیت زیادہ ہے۔ اس کی معراج تو ظاہر ہے قرآن و سنت ہی ہے۔ تو تصوف کوئی خدا نہیں ہے کہ وہ جس سر پہ رکھی ہو اُسے مانا جائے گا۔ جس سر پہ نہیں ہے اُسے نہیں مانا جائے گا۔ یہ کوئی مستقل عنوان نہیں ہے۔ اگر کوئی آدمی اس میں سہولت محسوس کرتا ہے کہ وہ تصوف کا نام ترک کر کے مقاصد کی طرف متوجہ رہے تو وہ بھی صوفی ہے وہ بھی کامل ہے۔“ (۷)

احمد جاوید کے مطابق دین کے کئی ڈسپلنز (disciplines)ہیں مگر نفسِ انسانی کی پہچان صوفیوں کو دیگر ڈسپلنز کے علماءسے زیادہ ہے لہذا یہ ڈسپلن زیادہ کامیاب ہے ۔ دین کا مقصد کسی ایک ڈسپلن میں محدود نہیں بلکہ سارے ڈسپلنز (disciplines)اپنا رول ادا کرتے ہوئے مل کر انسانی فطرت کے مختلف تقاضے پورے کرتے ہیں۔مگر اس کا بالکل یہ مطلب نہیں کہ اہل تصوف دیگر ڈسپلنز سے خود کو بہتر اور ماورا سمجھیں کیونکہ عام طور پر ان میں دیگر طبقات سے زیادہ بے اعتدالیاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔کیونکہ جن باطنی قرآنی حقائق کو جاننے کاوہ دعویٰ کرتے ہیں، یہ کیسے ممکن ہے کہ دور رسالت یا اس سے متصل عہد میں وہ ظاہر ہونے سے رہ گئے ہوں۔ ساتھ ہی دیکھا جائے تو صوفیاءاخذ معنی ٰ کے عمل کو داخلی(subjective)قرار دیتے ہیں، حالانکہ مذہب میں textکا معنیٰ ہمیشہ عام ہوتا ہے، privateنہیں، لہذا معلوم ہوتا ہے کہ صوفیاءنے اخذ معنیٰ کے لئے مستند طریقہ لاگو نہیں کیا ہے جس سے کافی مغالطے اور الجھنیں پیدا ہوتی ہیں۔صوفیاءکے یہاں بیان سے حقیقت ِبیان تک پہنچنے کا عمل سادہ ہونا چاہئے تھا مگر وہ پیچیدہ ہے اور technicalitiesرکھتا ہے۔

صدیوں کے بگاڑ کے نتیجے میں تصوف میں شخصیت پرستی بڑی حد تک سرایت کرگئی ہے۔ پیروں اور سلسلوں کو لازم قرار دے کر کافی حد تک غلو سے کام لیا گیا جو قرآن و سنت کی تعلیمات سے متصادم ہے۔احمد جاوید اکابرینِ تصوف کوادب کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اسلامی تاریخ میں ان کے غیر معمولی کردار سے اچھی طرح واقف ہیں۔ وہ ان کو لغزشوں سے پاک نہیں سمجھتے بلکہ کئی مواقع پر ان کے کچھ نظریات کو رد بھی کرتے ہیں۔ اپنے مضمون میں لکھتے ہیں:

”تصوف کی روایت اسی کنڈیشنر (conditioner)کے احیا کی روایت ہے۔ جو بھی دین سے تعلق رکھنے والے انسٹی ٹیوشنز(institutions) ہیں، وہ سارے اسی تک و دو میں ہیں لیکن اُس کا ہر قیمت پر دفاع نہیں ہو سکتا۔ یہ صرف نبیﷺ کا قول و فعل ہے جس کا دفاع ہر قیمت پر کرنا ہے۔ نبی کے بعد کسی بھی شخصیت، چاہے وہ صحابہ ہوں اہلِ بیت ہوں، تابعین ہوں، تبع تابعین ہوں، کسی کے قول و فعل کا غیر مشروط دفاع (درست) نہیں ہے۔ یہ صرف نبیﷺ کا حق ہے۔“(۸)

ان کے مطابق کچھ اکابر صوفیاء(جیسے شاہ ولی اللہ ؒ وغیرہ) کی کتب میں کئی ایسی شطحیات ملتی ہیں جن کی تاویل کرنا بھی درست نہیں، اور ایسی چیزوں کو ان کی باطنی کجی قرار دیا جانا چاہئے۔

احمد جاوید کے مطابق تصوف کا علمی و عملی پہلو دن بہ دن زوال کا شکار ہورہا ہے اور اس کی جگہ رسم پرستی اور superficialityنے لے لی ہے۔مذکورہ بالا مضمون میں وہ لکھتے ہیں:

”زوال ہوتا ہے دینی روایتوں میں کہ فارمز (forms)پر اصرار کرنا اُن کی اوریجنل پیوریٹی (original purity) کو چھوڑ کر اور معنی کو نظر انداز کر دینا بس (اس سے) سارا سٹرکچر (structure) گر جاتا ہے۔ تو اب جیسے تصوف کا زوال ہے کہ فارم پر انحصار ہے اشغال پر۔ اور اُن کا مطلوب کیا ہے، مقصود کیا ہے، اُن کی حقیقت کیا ہے، اُس سے مکمل بے خبری ہے۔ اور پھر فارمز کو بھی اُن کی پیوریٹی اور آتھن ٹیسٹی(purity and authenticity) کے ساتھ نہیں اختیار کیا گیا۔“ (۹)

اسی لئے وہ تصوف کے موجودہ اداروں اور قصباتی تصوف پر شدید تنقید کرتے ہیں۔مزارات پر ہونے والی غیر شرعی حرکات کے متعلق ایک سوال کے جواب میں وہ لکھتے ہیں:

”تصوف اپنے موجودہ institutions میں اور اپنے حاضر و مظاہر میں ایک خطرناک روایت بن چکا ہے، جو بے معنی اور مضر بھی ہے۔جس قصباتی تصوف سے ہمیں واسطہ ہے، اس کا جلد از جلد فنا ہونا ہی اسلام اور مسلمانوں کے لئے بہتر ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ تصوف کو defendکرنے میں بڑی دشواری پیش آتی ہے ۔۔۔کیونکہ اپنے موجودہ مظاہر میں تصوف بڑی حد تک الا ماشاء اللہ سنت کی راہ میں رکاوٹ بن چکا ہے اور بڑی حد تک دینی ذوق کی آبیاری کو روکنے والا ادارہ بن چکا ہے۔میں بھی اس وحشت میں شریک ہوں اور چاہتا ہوں کہ یہ روایت اپنے تمام موجود مظاہر کے ساتھ ایک ایک کرکے ختم ہو جائے، تاکہ تزکیہ نفس کا عمل ان نام نہاد ٹھیکے داروں کے ہاتھ سے نکل کر مسنون فضا میں داخل ہوسکے۔“ (۱٠)

تصوف پر ہونے والی تنقید کا تجزیہ کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں:

 ”میں تصوف کی تردید میں بننے والے ڈسکورس کے اکثر حصوں کو غلط سمجھتا ہوں لیکن اُن لوگوں(یعنی ناقدینِ تصوف) کی نیت وغیرہ پہ کوئی شبہ نہیں کرتا ،ممکن ہے وہ صوفیوں سے زیادہ اللہ والے ہوں۔ تصوف پر ہونے والی اکثر تنقیدیں اس ذہن کے لئے بے اثر ہیں، جو تصوف کو قدرے سمجھتا ہے۔اس وجہ سے کبھی ان تنقیدوں کا نتیجہ یہ نہیں نکلا کہ کوئی صوفی حلقہ ٹوٹ گیا ہو۔ہم تو یہ کہہ رہے ہیں کہ بہت اچھی طرح بنا کے ، تراش خراش کے ساتھ ساتھ، جو اصولی بات اس میں آگئی ہے، اس کو دیکھ لیں۔اس میں جو بات سمجھ میں آئے، اس کو قبول کریں۔ جو نہ سمجھ میں آئیں، اس کی وجہ بتائیں۔ایک اصول ہے، جب اس کو کھولیں گے تو امید ہے کہ آپ کو یہ اصول زیادہ برا نہیں لگے گا۔ وہ اصول یہ ہے:

مذہبی حقائق کا ادراک مذہبی علم تک محدود نہیں ہے۔

تو یہ اصول ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ جو اس کو نہیں جانتا، وہ علم سے مس نہیں رکھتا۔ ٹھیک ہے، اس اصول کو میں انشاءاللہ کسی وقت کھولوں گا۔ تصوف پر ہونے والی تنقیدوںمیں اکثر یہ غلطی کارفرما ہوتی ہے۔دیکھیں غلطیاں دو قسم کی ہوتی ہیں کسی بھی disciplineمیں۔ ایک واقعاتی، جزوی، جیسے دس اینٹوں میں ایک اینٹ خراب لگی ہوئی ہے، اور اس کی خرابی بالکل واقعاتی اور سامنے کی ہے۔ آپ پچاس چیزیں نکال کر دکھادیں ہم کہیں گے ٹھیک ہے، یہ سب غلط ہیں۔لیکن ایک ہوتی ہے کہ اس عمارت ہی کو نہیں بننا چاہئے۔پھر اس پر آپ کو بھی کچھ tough timeاٹھانا چاہئے اور وہ ابھی آپ لوگوں کو ملا نہیں ہے۔ تو ہم جہاں سے چیزوں کو دیکھنا شروع کرتے ہیں ، وہ اس یقین کے ساتھ کرتے ہیں کہ قرآن مجید بھی اپنے معلوم ہونے کے تمام راستے خود نہیں کھولتا۔ “ (۱۱)

کل ملا کر دیکھا جائے تو علامہ احمد جاوید خود ان اعتراضات کو کسی نہ کسی طرح اپنی تحریروں اور بیانوں میں address کرتے ہیں اور خُذ ما صفا وَدَع مَا کَدِر کے مصداق وہ تصوف سے ا ن چیزوں کو لینے میں عارمحسوس نہیں کرتے جو شریعتِ اسلامیہ کے مزاج سے ہم آہنگ ہوں اور ساتھ ہی ان چیزوں کو رد کرنے میں بھی تامل نہیں کرتے جو خلافِ شرع ہوں۔ قرآن و سنت کو حکم بنانے کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں:

 ”حضرتِ جنید بغدادی فرماتے ہیں کہ ہم اپنے ہر وارد کو، اپنی ہر بات کو ،اپنے ہر حال کو ،اپنے ہر مکاشفے کو دو گواہوں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ وہ دونوں تصدیق کرتے ہیں تو اُسے قبول کرتے ہیں ورنہ رد کر دیتے ہیں۔ وہ دو گواہ ہیں قرآن وسنت ۔قرآن ایسینس (essence)ہے اور سنت اُس کی سٹینڈرڈ فارم (standard form)ہے۔“(۱۲)

احمد جاوید اس بات کی ضرورت شدت سے محسوس کرتے ہیں کہ تصوف کے نظام العقائد اور اعمال کی فوری اصلاح کی جائے اور ان کی نظر میں تب تک چین سے بیٹھنا اہل علم و عرفان کے لئے مناسب نہیں جب تک اسے شریعت کے سانچے میں نہ ڈھالا جائے۔ اس ضمن میں ان کے دروس کا ایک سلسلہ Tasawuf: A Revivalist Approachکے عنوان سے یو ٹیوب پر ملاحظہ کیا جاسکتا ہے جس میں انہوں نے کئی اور قابل توجہ امور کی نشاندہی کی ہے۔  (۱۳)

المختصر تصوف اسلام کا روحانی پہلو ہے، لہذا اس سے الجھنا یا اس کا انکار کرنا ،اسلامی شریعت کے سرچشموں کو اور روحانی پہلووں کو خشک کرنا ہے مگراسے صاف و شفاف رکھنے کے لئے قرآن و سنت کے احکامات کی پاسداری لازمی ہے۔


حوالہ جات

۱۔ روزنامہ دنیا: انٹریو: احمد جاوید

۲۔ استعانت، انسان دوستی اور وبا کا دور :احمد جاوید: http://daanish.pk/40459

۳۔تزکیہ نفس: احمد جاوید: ص۵۱

۴۔https://youtu.be/k95B1I6St20

۵۔اسباق:احمد جاوید: ص: ۴۱،۵۱

۶۔اسباق:احمد جاوید: ص۱۴

۷۔ تصوف کے بارے میں کچھ بنیادی باتیں:احمد جاوید: http://daanish.pk/40459

۸۔ تصوف کے بارے میں کچھ بنیادی باتیں:احمد جاوید: (ایضاً)

۹۔ تصوف کے بارے میں کچھ بنیادی باتیں:احمد جاوید: (ایضاً)

۰۱۔تزکیہ نفس: احمد جاوید: ص۵۱

۱۱۔اسباق:احمد جاوید :ص۶۰۲، ۷۰۲

۲۱۔ تصوف کے بارے میں کچھ بنیادی باتیں:احمد جاوید: (www.daanish.pk)

۳۱۔https://youtu.be/wxQHupHyz8U


شیخ الہندؒ کا قومی و ملی انداز فکر

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(مولانا ارشد مدنی سوشل میڈیا ڈسک کی طرف سے شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی قدس اللہ سرہ العزیز کی یاد میں ’’عشرۂ شیخ الہندؒ‘‘ کا اہتمام کیا گیا۔ اختتامی نشست ۱٠ جنوری ۲٠۲۱ء کو دارالعلوم دیوبند کے صدر المدرسین حضرت مولانا سید ارشد مدنی دامت برکاتہم کی زیرصدارت انعقاد پذیر ہوئی جس میں مہمان خصوصی ندوۃ العلماء لکھنو کے رئیس حضرت مولانا سید رابع ندوی دامت برکاتہم تھے۔)


بعد الحمد والصلوٰۃ۔ میرے لیے یہ انتہائی سعادت کی بات ہے کہ شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی قدس اللہ سرہ العزیز کی یاد میں ان کے افکار و تعلیمات کے فروغ کے لیے منعقد ہونے والی اس کانفرنس میں حاضری، بزرگوں کی زیارت اور کچھ عرض کرنے کا موقع مل رہا ہے۔ اور اس کے ساتھ یہ بات میرے لیے دوہری سعادت کی ہے کہ اپنے دو مخدوم و محترم بزرگوں حضرت مولانا سید ارشد مدنی دامت برکاتہم اور حضرت مولانا سید رابع ندوی دامت برکاتہم کے زیرسایہ اس مجلس میں گفتگو کا اور ان کی برکات اور دعاؤں کے ساتھ کچھ عرض کرنے کا شرف مل رہا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کانفرنس کے منتظمین کو جزائے خیر سے نوازیں اور ہمیں حضرت شیخ الہندؒ کے افکار و تعلیمات اور ان کے مشن و جدوجہد کے صحیح ادراک کے ساتھ اپنے مستقبل کا پروگرام طے کرنے کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔

شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کے حوالے سے جب ہمارے حلقے میں بات ہوتی ہے تو میں دو باتیں عام طور پر عرض کیا کرتا ہوں۔ پہلی یہ کہ دیوبند کی تحریک کیا ہے؟ دیوبند کا فکر کیا ہے؟ دیوبند کا فلسفہ کیا ہے؟ دیوبند کا ہدف کیا ہے؟ اسے اگر کسی شخصی قالب میں دیکھنا چاہیں تو وہ حضرت شیخ الہندؒ کی ذات گرامی جس میں دیوبند کے فکر، فلسفہ، تعلیم، مشن اور جدوجہد کا ایک فرد کامل اور شخصیت کی شکل میں نمونہ ہمارے سامنے ہے۔ میں دوستوں سے کہا کرتا ہوں کہ دیوبندیت کو اگر پہچاننا ہو کہ دیوبندی کیا ہے تو حضرت شیخ الہندؒ کا مطالعہ کریں کہ ان کی شخصیت میں دیوبندیت اپنے تمام شعبوں اور تمام تر لوازمات کے ساتھ جھلکتی ہے۔

دوسری بات یہ عرض کیا کرتا ہوں کہ شیخ الہندؒ برصغیر کی ملی تاریخ کا سنگم ہیں۔ شیخ الہندؒ سے پہلے بلکہ خود حضرت شیخ الہندؒ تک ہمارے اکابر نے برصغیر کی آزادی کے لیے مسلح جنگیں لڑی ہیں جو تاریخ آزادی کا ایک مستقل باب ہے، حتٰی کہ وہ تحریک جسے ہم تحریک شیخ الہندؒ اور تحریک ریشمی رومال کہتے ہیں جبکہ جرمن وزارت خارجہ کی رپورٹوں کے مطابق اس کا نام ’’برلن پلان‘‘ تھا، حضرت شیخ الہندؒ نے جس انداز سے وہ تحریک منظم کی اور جو فلسفہ دیا وہ برصغیر کی آزادی کا ایک مکمل آئیڈیا تھا۔ اور حضرت شیخ الہندؒ کی شخصیت کو سنگم اسی حوالے سے کہتا ہوں کہ وہ عسکری تحریکات کی آخری شخصیت اور عسکری تحریکات سے برصغیر کے مسلمانوں کو عدم تشدد کی طرف موڑنے والی پہلی شخصیت تھے۔ انہوں نے عسکری جنگوں کے اس دور کا اختتام کر کے جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کو پراَمن تحریک، عدم تشدد  اور نئے دور کے تقاضوں سے متعارف کرایا، اور ایسی شخصیت بن گئے جو برصغیر کی تحریک آزادی کے ایک دور کا اختتام اور ایک نئے دور کا نقطۂ آغاز ہے۔

حضرت شیخ الہندؒ کے مشن کے حوالے سے ایک تو ان کا تعلیمی دائرہ ہے، جو صرف تعلیم کے لیے نہیں تھا بلکہ ایک مقصد کے لیے تھا، میں اس کی طرف حضرت شیخ الہندؒ کے ہی الفاظ میں توجہ دلانا چاہوں گا اپنے آپ کو بھی اور آپ سب حضرات کو بھی کہ حضرت مولانا مناظر احسن گیلانیؒ نے حضرت شیخ الہندؒ کے ارشاد گرامی کا ذکر کیا ہے کہ ۱۸۵۷ء میں جو ناکامیاں ہوئی تھیں، حضرت شیخ الہندؒ فرماتے ہیں کہ میرے استاد گرامی حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ نے ان ناکامیوں اور نقصانات کی تلافی کے لیے دیوبند کا مدرسہ بنایا تھا۔ ان نقصانات کی تلافی کا دائرہ کیا ہے؟ ذرا اس پر ایک نظر ڈال لینی چاہیے۔

ہمارا یہ دائرہ علمی بھی ہے، فکری بھی ہے، ثقافتی بھی ہے، تہذیبی بھی ہے، سیاسی بھی ہے، اور معاشرتی بھی ہے۔ میں ۱۸۵۷ء سے پہلے کی نہیں بلکہ ۱۷۵۷ء سے پہلے کی بات کروں گا کہ ہماری پوزیشن کیا تھی جب ایسٹ انڈیا کمپنی نے بنگال میں قدم رکھا اور سراج الدولہؒ کو شہید کر کے برصغیر میں اپنی مداخلت کا آغاز کیا تھا، اس وقت سے لے کر ۱۸۵۷ء تک ایک دور ہے۔ ۱۸۵۷ء سے پھر براہ راست برطانوی استعمار آیا، تاج برطانیہ آگیا۔ اس کے بعد کا نوے سال کا دوسرا دور ہے۔ ان دونوں ادوار کو دیکھ لیں۔

۱۷۵۷ء سے پہلے ہماری پوزیشن کیا تھی؟سیاسی اعتبار سے تو میں اس موقع پر بات نہیں کر سکوں گا لیکن تعلیمی اعتبار سے عرض کروں گا جس کی طرف شیخ الہندؒ نے دوبارہ ہمارا رخ موڑنے کی کوشش کی۔ ہمارے ہاں تعلیمی اداروں میں درس نظامی ایک معروف نصاب رائج تھا جو صرف دینی علوم پر مشتمل نہیں تھا اس میں عصری علوم بھی شامل تھے۔ درس نظامی جو ملا نظام الدین سہالویؒ سے منسوب ہے اورنگزیب عالمگیرؒ کے دور سے اس کا آغاز ہوا تھا اور اورنگزیب نے ہی لکھنو میں فرنگی محل کی یہ کوٹھی ملا نظام الدین سہالویؒ کو عطا کی تھی۔ وہاں سے درس نظامی کا آغاز ہوا تو اس وقت کی ضروریات کیا تھیں؟ حضرت شیخ الہندؒ کے تعلیمی ذوق کا پس منظر دیکھنے کے لیے اس بات پر غور کریں کہ درس نظامی کا آغاز جب ہوا تو اس وقت کا عمومی ماحول کیا تھا؟ عمومی ماحول یہ تھا کہ فارسی دفتری اور عدالتی زبان تھی، فقہ حنفی اور فتاویٰ عالمگیری ملک کا قانون تھا، اور یونانی فلسفہ پر مبنی معقولات ملک کی علمی و فکری زبان تھی۔ قرآن کریم، حدیث و سنت اور شریعت و فقہ کے ساتھ ساتھ فارسی زبان بھی ہماری تعلیم کا حصہ تھی، اور فقہ حنفی کو تو قانون کے طور پر پڑھایا جاتا تھا۔ اب بھی ہم فقہ پڑھتے اور پڑھاتے ہیں، میں بھی الحمد للہ پڑھاتا ہوں، مگر ایک درسی اور علمی ضرورت کے دائرے میں، لیکن تب یہ قانون کے طور پر پڑھائی جاتی تھی اور یہ ہمارا تعلیمی سلسلہ چلا آرہا تھا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی نے اس نظام میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں کی دوسرے معاملات سنبھالے، مگر سیاسی نظام کو تبدیل کیا ۱۸۵۷ء کے بعد تاج برطانیہ نے۔ جب وہ یہاں قابض ہوئے اور نیا سسٹم بنایا تو ہم زیرو پوائنٹ پر چلے گئے۔ ۱۸۵۷ء کے بعد برصغیر اور جنوبی ایشیا کے مسلمان زیرو پوائنٹ پر چلے گئے۔ ہم نے ازسرنو اپنی زندگی کا آغاز کیا، اس آغاز میں دین و ملت کے ایک بڑے بنیادی تقاضے کی نمائندگی دارالعلوم دیوبند نے کی اور دارالعلوم کا پہلا طالب علم حضرت شیخ الہند محمود حسن قدس اللہ سرہ العزیز تھے۔

میرے طالب علمانہ خیال کے مطابق حضرت شیخ الہندؒ نے اپنی تعلیمی جدوجہد کا نقطۂ عروج اسی پہلے والے دور کی طرف واپسی کو قرار دیا کہ ہم ۱۷۵۷ء سے پہلے والی پوزیشن پر واپس جائیں اور ہمارا تعلیمی نظام عصری و دینی دونوں تقاضوں پر مشتمل ہو۔ دینی و علمی تقاضوں پر بھی اور عصری تقاضوں پر بھی کہ اس وقت دونوں درس نظامی کا حصہ تھے۔ ہمارے ہاں پاکستان کے ماحول میں جب درس نظامی کے نصاب کو آگے بڑھانے کے بارے میں بات چلتی ہے تو ہمارے ذمے یہ بات لگا دی جاتی ہے کہ ہم نے دنیا اور دین کو تقسیم کر دیا اور ہم نے مولوی اور مسٹر کی تقسیم پیدا کر دی۔ میں کہا کرتا ہوں کہ نہیں بھئی! ہم نے یہ تقسیم نہیں کی۔ جب تک تعلیمی نظام درس نظامی کے ٹائٹل کے ساتھ مولوی کے ہاتھ میں تھا عصری اور دینی علوم اکٹھے پڑھائے جاتے تھے۔ یہ تقسیم ۱۸۵۷ء کے بعد ہم پر مسلط کی گئی ہے جب برطانوی استعمار نے نیا تعلیمی نظام بنایا تو اس میں سے کچھ علوم نکال دیے، قرآن کریم اور حدیث و سنت نکال دیے تھے، فقہ و شریعت نکال دی تھی، فارسی نکال دی تھی، عربی نکال دی تھی، اور ان کی جگہ اپنے علوم شامل کیے تھے۔ انہوں نے جو مضامین اور علوم نصاب سے نکالے وہ ہم نے سنبھال لیے۔ ہمارے بزرگوں نے اس اثاثے کو سینے سے لگایا اور بے سروسامانی اور بے سہارگی کی حالت میں اس نظام کو چلایا۔

میں بتایا کرتا ہوں کہ ہمارے ہاں کچھ عرصہ پہلے تک بلکہ میرے بچپن تک ایسا ہی تھا کہ مسجد کی چٹائیاں اور محلے کی روٹیاں، یہ ہمارا مدرسہ ہوتا تھا۔ اب تو بہت سی سہولتیں آگئی ہیں، تکلفات آ گئے ہیں۔ ٹھیک ہے اللہ تعالیٰ سہولتوں میں اضافہ فرمائے، لیکن تب کس بے مائیگی کی اور ظاہری سروسامان سے محرومی کی کیفیت میں اور کس ایثار و قربانی ، صبر و حوصلہ اور استقامت کے ساتھ ہمارے بزرگوں نے وہ نظام قائم رکھا۔ وہ علوم جو برطانوی استعمار نے ریاستی تعلیمی نظام سے نکال دیے تھے ،  ہمارے بزرگوں نے ان علوم کو سنبھالا۔ قرآن کریم اور حدیث رسول کو، شریعت اور فقہ کو، عربی کو، اور فارسی کو بھی ایک حد تک۔ اور صرف تعلیمی دائرے میں نہیں بلکہ عملی دائرے میں بھی۔ میں اس سے اگلی بات کرنا چاہوں گا کہ ایک ہے تعلیمی دائرہ کہ درس و تدریس ہوتی رہی، نہیں بلکہ عملی ماحول کو بھی باقی رکھا، آج سے ڈیڑھ دو سو سال پہلے کے مدارس کے ماحول اور آج کے ماحول کا تقابل کر لیں، آپ کو لباس میں، وضع قطع میں، گفتگو میں، ادب و آداب میں، باہمی احترام و تعلق اور استفادے میں کوئی جوہری فرق نظر نہیں آئے گا۔ ہاں معیار کا فرق پڑتا ہے کہ کہاں حضرت ملّا نظام الدین سہالویؒ اور حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ اور کہاں ہمارے جیسے ناکارہ لوگ، لیکن ماحول کے بنیادی دائرے آج بھی وہی ہیں۔

میں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ ایک ہے تعلیم کا باقی رہنا، وہ تو ہے ہی، لیکن ہمارے لیے الحمد للہ جو فخر کی بات ہے کہ ان علوم کو بیرونی قابضین نے ختم کرنا چاہا تھا، ہمارے بزرگوں نے سینے سے لگایا اور گراس روٹ لیول پر چلے گئے، زمین پر بچھ کر انہوں نے ان علوم کو سنبھالا، اور اس اگلی بات کہ اس ماحول اور تہذیب کو بھی سنبھالا۔ جسے ثقافت اور کلچر کہتے ہیں، آج اگر دنیا میں اس پرانی ثقافت کا کوئی منظر دکھائی دیتا ہے تو جنوبی ایشیا میں ہی ہے۔ آج بڑی بڑی جگہوں پر وہ کلچر ختم ہو گیا اور جدید کلچر میں مدغم ہو گیا ہے لیکن ہمارے ہاں دینی مدرسہ کے ماحول نے، شیخ الہندؒ کے شاگردوں نے اور ان کے شاگردوں نے، ان کے خوشہ چینوں نے اس ماحول کو باقی رکھا ہوا ہے، الحمد للہ تعالیٰ۔

حضرت شیخ الہندؒ جب مالٹا کی اسارت سے واپس آئے تو انہوں نے دو باتیں کہیں، میں ان کی طرف آپ کی اور اپنی توجہ مبذول کرانا چاہوں گا۔ تحریک شیخ الہندؒ کے بعد ملک میں آزادی کے لیے جو پر اَمن تحریکیں چلی ہیں، عدم تشدد پر مبنی تحریکیں جس کا آج تک تسلسل چلا آ رہا ہے، ان شاء اللہ اسی کا رہے گا کہ یہ پر اَمن جدوجہد، عدم تشدد اور سیاسی جدوجہد کا دور ہے۔ حضرت شیخ الہندؒ نے جو فکر فراہم کی اور اس فکر پر جو قیادت سامنے آئی میں اس کی طرف توجہ دلانا چاہوں گا کہ وہ قیادت مشترک تھی۔ تحریک خلافت کو دیکھ لیں کہ اس میں کون کون لوگ تھے؟ دیوبند اور علی گڑھ دونوں کی تربیت یافتہ مشترکہ قیادت تھی۔ شیخ الہندؒ کا ایک سبق یہ بھی ہے کہ ملی تحریکات کی قیادت مشترک ہونی چاہیے۔ یہ قیادت اتنی مشترک تھی کہ وزیرآباد میں، جو حضرت مولانا ظفر علی خانؒ کا شہر ہے، ان کی یاد میں ایک تقریب تھی۔ میں نے اس میں عرض کیا کہ یار دیکھو یہ حضرت شیخ الہندؒ کا کمال تھا کہ ظفر علی خانؒ جو علی گڑھ یونیورسٹی کے گریجویٹ تھے مگر مولانا کہلاتے ہیں ، محمد علی جوہرؒ جو یونیورسٹی کے گریجویٹ تھے لیکن مولانا کہلاتے ہیں، اور مولانا شوکت علی کا بھی اسی انداز میں تعارف ہوتا ہے۔ تو شیخ الہندؒ کی فکر کی ایک پروڈکشن یہ بھی ہے کہ قیادت کو مشترک کر دیا، تحریک آزادی میں بھی، اور اگر ہم تحریک پاکستان کی بات کریں تو اس میں بھی قیادت مشترک نظر آئے گی۔ چنانچہ تعلیم کے اشتراک کی طرح قیادت کا اشتراک بھی حضرت شیخ الہندؒ کی محنت کا ثمرہ ہے۔ اور وہ باہمی نفرت جو پیدا کی گئی تھی اور کسی درجہ میں اب بھی ہے، اس باہمی منافرت کے باوجود علمی میدان میں دونوں اکٹھے ہو جاتے ہیں اور سیاسی قیادت کے میدان میں بھی دونوں کا اشتراک ہمارے سامنے ہے، آزادی سے پہلے بھی اور بعد بھی، میں اسے حضرت شیخ الہندؒ کی فکر ، دعاؤں اور تربیت کا ایک ثمرہ سمجھتا ہوں۔

حضرت شیخ الہندؒ کے حوالے سے میں ایک بات اور عرض کرنا چاہوں گا، یہ تعلیمی دائرے کی بات بھی ہے اور فکری دائرے کی بات بھی ہے۔ حضرت شیخ الہندؒ کے شاگردوں نے جب ان کے دائرے کو آگے بڑھایا۔ مولانا برکت اللہ بھوپالیؒ، مولانا محمد میاں انصاریؒ نے اور مولانا عبید اللہ سندھیؒ نے جب اس دائرے کو آگے بڑھایا تو میں ان کی علمی و فکری جدوجہد کی طرف توجہ دلانا چاہوں گا کہ مولانا محمد میاں انصاریؒ کے دو رسالے جو انہوں نے سیاسی فکر و فلسفہ کی تجدید کے لیے لکھے، ایک ’’انواع الدول‘‘ اور دوسرا ’’دستور اساسی ملت‘‘ کے نام سے۔اسے حضرت شیخ الہندؒ اور ان کے شاگردوں کا کارنامہ سمجھیں کہ وہ دو رسالے مختصر سے ہیں، ایک انواع الدول کے نام سے کہ دنیا کی حکومتوں کا عصری سیاسی نظم کیسا ہے، اور دوسرا دستور اساسی ملت جس میں انہوں نے ’’حکومت الٰہیہ‘‘ کا ٹائٹل استعمال کیا ہے، میں تفصیلات میں جائے بغیر میں حضرت شیخ الہندؒ کی فکر کا ایک نتیجہ بتا رہا ہوں کہ سیاسی فکر میں تجدید ہوئی کہ ہمارا ماضی کا سیاسی سسٹم مختلف تھا اور ہم کئی ادوار سے گزرے ہیں۔ خلافت راشدہ کا اپنا دائرہ تھا اور ہمارا سب سے مثالی اور آئیڈیل دور وہی ہے۔ اس کے بعد خاندانی خلافتیں آئی ہیں، بنو امیہ کی، بنو عباس کی، اور عثمانیوں کی۔ ہم خلافت کے طور پر ان سب کا احترام کرتے ہیں حتٰی کہ خلافت عثمانیہ پر طرح طرح کے اعتراضات کے باوجود ہم نے اس کا دفاع کیا اور اس کے تحفظ کے لیے جنگ لڑی۔ لیکن آج کا دور خاندانی حکومتوں کا نہیں ہے، ہمارا تسلسل بنو امیہ کی خلافت سے لے کر خلافت عثمانیہ کے آخر تک خاندانی خلافتوں کا رہا ہے، اب خاندانی حکومتوں کا دور نہیں رہا۔ اور ہمارے حلقے میں اس فکری تجدید کی بات اگر کسی نے کی ہے تو حضرت شیخ الہندؒ کے حلقے نے سب سے پہلے کی ہے۔ ’’انواع الدول‘‘ کے نام سے، ’’دستور اساسی ملت‘‘ کے نام سے، جبکہ ’’حکومت الٰہیہ‘‘ کے عنوان سے اس کے اصول پیش کیے ، اور میں اسے شیخ الہندؒ کی فکر کی ایک نئی جہت تصور کرتا ہوں اور اسی حوالے سے اس کا تعارف کراتا ہوں۔

حضرت شیخ الہندؒ کے حوالے سے آج ہم کہاں کھڑے ہیں؟ اللہ تعالیٰ حضرت شیخ الہندؒ کے درجات بلند سے بلند تر فرمائے، ذرا ان کی جدوجہد پر ایک نظر ڈالیے کہ وہ ہندوستان کی آزادی اور ہماری قومی آزادی کی تحریک تھی لیکن اس کا ایک ٹائٹل ’’جنود ربانیہ‘‘ کا تھا۔ اور اس ٹائٹل کے ساتھ یہ بھی دیکھیے کہ حضرت شیخ الہندؒ نے رابطہ کس کس سے کیا؟ ہم خلافت عثمانیہ کی بات کرتے ہیں، اس زمانے میں مکہ مکرمہ کا جو ماحول تھا اور شریف مکہ کی حکومت کا معاملہ، میں اس تفصیلات میں نہیں جاتا، لیکن جو یادداشتیں برلن سے چھپی ہیں، دو سال پہلے جب میں دیوبند میں منعقدہ شیخ الہندؒ سیمینار میں آیا تھا تو میں نے بعض دوستوں سے عرض کیا تھا کہ ہم نے برطانوی سی آئی ڈی کی دستاویزات تو ’’تحریک شیخ الہندؒ‘‘ کے نام سے مرتب کر دی ہیں اور شائع ہو چکی ہیں۔ اللہ تعالیٰ حضرت مولانا سید اسعد مدنی ؒ اور حضرت مولانا سید محمد میاںؒ کو جزائے خیر عطا فرمائے کہ وہ رپورٹیں ہمارے سامنے آگئیں، لیکن اس میں جرمنی کا بھی ایک بڑا کردار تھا، میری نظر سے کچھ باتیں گزریں جس کی طرف میں نے توجہ دلائی ہے کہ انہیں بھی ریکارڈ پر لانا چاہیے۔

جرمنی کی سی آئی ڈی کی رپورٹوں میں اس تحریک کا نام ’’برلن پلان‘‘ بتایا گیا ہے اور ان رپورٹوں کے مطابق اس میں جرمن کے علاوہ جاپان بھی شریک تھا۔  میں دوستوں کو توجہ دلاتا رہتا ہوں کہ وہ دستاویزات بھی سامنے آنی چاہئیں۔ یہ جرمن وزارت خارجہ کے ایک افسر اولف شمل ہیں جنہوں نے ریٹائرمنٹ کے بعد یہ یادداشتیں شائع کی ہیں۔ میں اس حوالے سے یہ بات کہنا چاہ رہا ہوں کہ حضرت شیخ الہندؒ نے وقت کی ضروریات و ترجیحات کا بھی خیال رکھا اور وقت کی قوتوں کا ماحول بھی دیکھا کہ کونسی قوت سے ہم کیا فائدہ لے سکتے ہیں؟ یہ قوموں اور ان کی تحریکات کی ضرورت ہوتی ہے، ہم ہر کسی کو نظرانداز نہیں کر سکتے اور ہر کسی کو دھتکار نہیں سکتے۔

میں حضرت شیخ الہندؒ کے حوالے سے یہ کہنا چاہ رہا ہوں کہ انہوں نے عالمی سوچ دی ہے۔ ملت اسلامیہ کے مختلف طبقات کے درمیان ملی سوچ دی ہے اور مفاہمت پیدا کی ہے، مختلف ملکوں کے درمیان روابط پیدا کر کے عالمی فکر کو اجاگر کیا ہے۔ اسلام تو خود عالمی مذہب ہے جو ’’یا ایھا الناس‘‘ سے اپنا خطاب شروع کرتا ہے اور پوری انسانیت کا مذہب ہے۔ اسلام نے پوری نسل انسانی کی رہنمائی کی ذمہ داری اٹھائی ہے اور اس کا وقت پھر آنے والا ہے ان شاء اللہ تعالیٰ۔ قرآن کریم آج بھی اسلام کی تفہیم اور دعوت کا سب سے بڑا ذریعہ ہے  اور انسانی مسائل کے حل کا سب سے بڑا منبع ہے۔ انسانی سماجیات کے مسائل کا قرآن کریم نے جس فطری انداز میں حل پیش کیا ہے آج ایسا کوئی فارمولا کسی کے پاس نہیں ہے۔ چنانچہ ہمیں شیخ الہندؒ کے اس ارشاد کی طرف واپس جانا ہو گا جو انہوں نے مالٹا کی اسارت سے واپس آ کر کہا تھا کہ قرآن کریم کو سمجھ کر پڑھو اور قرآن کریم کے حلقے عام کرو۔

حضرت شیخ الہندؒ نے بنیادی پیغام یہ دیا تھا کہ آپس کے اختلافات کم کر کے ملی ماحول پیدا کرو اور قرآن کریم کے ساتھ فہم کا تعلق قائم کرو۔ حضرت شیخ الہندؒ کی اس آواز کے بعد قرآن کریم کے حلقے قائم ہونا شروع ہوئے۔ نظارۃ المعارف القرآنیہ جو دہلی میں قائم ہوا، حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کا حلقہ، حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کا ادارہ، اور مختلف قرآنی حلقے بنے۔ میرے والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ بھی ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے حضرت شیخ الہندؒ کی اس آواز پر لبیک کہہ کر درس قرآن کریم کے متعدد حلقے قائم کیے۔ اسی طرح میرے چچا محترم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتیؒ کا قرآن کریم کا مستقل حلقہ تھا۔ میں یہ عرض کرنا چاہ رہا ہوں کہ قرآن کریم کی طرف رجوع اور قرآن کریم کے ساتھ فہم و شعور کا تعلق اور یہ بات کہ قرآن کریم کو سماجی راہنما کے طور پر پڑھا جائے۔ قرآن کریم اور سنت رسول ہمارا مرکز و مرجع ہیں، داخلی طور پر قرآن کریم کے ساتھ فہم و شعور کا تعلق اور دنیا کے سامنے قرآن کریم کو سماجی راہنما کے طور پر پیش کرنا آج ہماری ذمہ داری ہے، بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن قدس اللہ سرہ العزیز کا ہم نام لیواؤں پر قرض ہے۔

میں برصغیر میں دو ہی شخصیتوں کا نام لیا کرتا ہوں فکری و علمی اور سماجی راہنمائی کے طور پر، ایک حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ اور ان کے بعد میرے ذہن میں دوسرا نام حضرت شیخ الہند محمود حسن دیوبندیؒ کا آتا ہے۔ ان کا ہم پر قرض ہے کہ جس زبان میں انہوں نے دنیا کو قرآن و حدیث سمجھائے ہیں ہم وہ زبان سیکھیں، وہ ذوق سیکھیں، وہ اسلوب پیدا کریں، اور حضرت شیخ الہندؒ کے فکر و فلسفہ کے مطابق قرآن کریم کو، سنت رسول کو، فقہ و شریعت کو دنیا کے سامنے پیش کریں، یہ ہماری ذمہ داری ہے۔ حضرت شیخ الہندؒ جس طرح ہمارے ماضی کے راہنما تھے اسی طرح ہمارے مستقبل کے راہنما بھی ہیں، اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے علوم و افکار کے صحیح ادراک کی توفیق عطا فرمائے اور ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دین اور ملت کی خدمت کرتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے، وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

عورت کا سماجی کردار اور خاندانی حقوق و فرائض

مولانا حافظ عبد الغنی محمدی

جدیدیت اور قدامت کی کشمکش میں عورت کا معاشرتی کردار دور حاضر کا اہم سوال ہے  ۔ عورت کو خانگی امور تک محدود رہ کر گھر اور خاندان میں کردار اداء کرنا چاہیے یا اس کو باہر نکل کر معاشرتی زندگی کے دیگر امور میں بھی کردار ادا کرنا چاہیے ؟  یہ سوال روایت میں زیادہ زیر بحث نہیں رہا بلکہ بنیادی طور پر جدیدیت کی کوکھ سے جنم لینے والا ہے ۔ جدیدیت کے طرفدار بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ روایت میں بہت وسعت تھی۔ عورتوں کے حوالے سے بہت سےاحکام ہم نے جدیدیت کے زیر اثر قبول کیے ہیں ۔ لیکن اسلام ہو یا  دیگر مذاہب اور تہذیبیں ، عورت کا  کردار ما قبل جدید معاشروں میں محدود ہی رہا ہے ۔ گھر سے باہر مجموعی طور پر عورتوں کا معاشرتی زندگی میں کردار نہیں تھا ۔طویل زمانے  کی معاشرت کے بعد عورتیں غالب تہذیب کے زیر اثر جب گھر سے باہر کی زندگی میں کردار ادا کرنے لگی ہیں تو گھر اور باہر دونوں قسم کی زندگی کا متاثر ہونا اور ان میں مسائل کا پیدا ہونا یقینی امر ہے۔  یہ مسائل ہر تہذیب اور مذہب کے لئے جداگانہ نوعیت کے ہیں ۔ مسلم معاشروں میں بھی اس رحجان کا غلبہ ہے کہ عورتیں گھر سے باہر کی زندگی میں کردار ادا کررہی ہیں ۔ مسلم مفکرین اور علماء نے ایک زمانے تک اس کی مختلف خدشات کی بنا پر مخالفت کی، لیکن آج  وہ اس سے پیدا ہونے مسائل  ڈسکس کرر ہے ہیں یا گھر سےباہر کی زندگی میں عورت دائیں بازو کے لیے کیا کردار ادا کرسکتی ہے، اس کی تیاریوں میں ہیں۔

مولانا مودودی دور حاضر  کے عظیم مفکر ہیں، وہ ان سب چیزوں کو کس نظر سے دیکھتے ہیں   ؟ مولانا مودودی روایتی میدان میں رہتے ہوئے  انہی تشریحات کو نئے معانی پہناتے ہیں اور دور حاضر کے  فکر و فلسفے کے مطابق اسی کو مقبول بناتے ہیں ۔ عورت کے بارے اسلامی تصورات  پر بہت سی جگہوں پر سوالا ت پیدا ہوتے ہیں ، ان کی فکر پر یقینا بعض جگہوں پر سوال اٹھیں گے اور ان کی بعض تعبیرات بہت خوبصورت معانی پہنے ہوں گی ۔ ان کی فکر کے مطالعہ سے عورتوں کے بارے ان کے تصورات کو سامنے لانے کی کوشش کی گئی ہے ۔ اس میں قانونی اور فقہی مسائل بھی زیر بحث آئیں گے اور معاشرتی و سماجی مسائل بھی ۔

مرد کی عورت پر فضیلت

قرآن و حدیث کی بعض نصوص سے پتہ چلتاہے کہ  مرد عورت سے افضل ہے اور عورت اس کے تابع ہے ۔ موجودہ دور میں بہت سے علماء کرام ان آیات میں تاویل کرکے ان کو نئے معانی  پہنا کر موجودہ دور کی فکر کے مطابق بنانا چاہتے ہیں  کہ مردو زن میں مساوات ہے، اسلام ان میں کوئی فرق نہیں کرتا ۔ مولانا مودودی ان نصوص کو انہی معانی کے مطابق دیکھتے ہیں جن کے تحت ان کو روایت میں دیکھا گیا ہے ۔ مجموعی طور پر نصوص کو دیکھا جائے تو یہی روایتی فہم ہی درست ہے، ان کی جدید تعبیر ان کو مجموعی فکر سے کاٹ دینے والی بات ہے ۔ جن نصوص سے مساوات پر زد پڑتی ہے، ان کومولانا مودودی کیسے دیکھتے ہیں، ذیل میں ان کا مطالعہ پیش کیا جاتاہے ۔

مولانا مودودی مردو زن کی مساوات کےبارے کہتے ہیں کہ جن چیزوں میں مساوات ہوسکتی ہے اور جس حد تک مساوات قائم کی جاسکتی تھی ، وہ اسلام نے قائم کردی ہے ۔ لیکن اسلام اس مساوات کا قائل نہیں ہے جو قانون فطرت کے خلاف ہو ۔ انسان ہونے  کی حیثیت سے جیسے حقوق مرد کے ہیں ویسے ہی عورت کے ہیں ۔ لیکن زوج فاعل ہونے کی حیثیت سے ذاتی فضیلت (بمعنی عزت نہیں بلکہ بمعنی غلبہ تقدم )مرد کو حاصل ہے، وہ اس نے پورے انصاف کے ساتھ مرد کو عطا کی ہے ۔ "وللرجال علیھن درجۃ" 1 اسی طرح عورت اور مرد میں فاضل اور مفضول کا فطری تعلق تسلیم کرکے اسلام نے خاندان کی تنظیم حسب ذیل قواعد پر کی ہے ۔

خاندان میں مرد کی حیثیت قوام کی ہے ، یعنی وہ خاندان کا حاکم ہے ، محافظ ہے ، اخلاق اور معاملات کا نگران ہے ۔ اس کی بیوی اور بچوں پر اس کی اطاعت فرض ہے ۔ اور اس پر خاندان کے لئے روزی کمانے اور ضروریات زندگی فراہم کرنے کی ذمہ داری ہے ۔ "الرجال قوامون علی النساء بمافضل اللہ بعضھم علی بعض و بما انفقوا من اموالھم" 2 "الرجل راع علی اھلہ و ھو مسئول" 3 اسی طرح عورت گھر سے باہر مرد کی اجازت سے نکل سکتی ہے ۔ حدیث میں ہے کہ عورت جب بغیر اجازت  کے خاوند کے گھر سے نکلتی ہے تو فرشتے اس پر لعنت بھیجتے ہیں۔عورت کی اصلاح کا حکم مرد کو دیا گیا ہے ، اگر عورت میں نشو ز و نافرمانی دیکھے تو اس کی اصلاح کا کوئی سا طریقہ اپنا سکتاہے ۔ "اور جن بیویوں سے تم کو سرکشی و نافرمانی کا خوف ہو ان کو نصیحت کرو ، خواب گاہوں میں ان سے ترک تعلق کرو ، پھر بھی باز نہ آئیں تو مارو ، پھر اگر وہ تمہاری اطاعت کریں تو ان پر زیادتی کرنے کے لئے کوئی بہانہ نہ ڈھونڈو"4۔ 5

مولانا مودودی کہتے ہیں کہ مرد و زن کے احکامات میں بھی فرق ہے ۔اس کو ایسا کوئی حکم نہیں دیا گیا جس میں گھر سے باہر نکلنا پڑے ۔ اس کو گھر کی ملکہ بنایا گیا ہے، کسب مال کی ذمہ داری اس کے شوہر پر ہے اور اس مال سے گھر کا انتظام کرنا اس کا کام ہے ۔اسی طرح عورت محرم کے بغیر اکیلی سفر پر نہیں جاسکتی ، یہاں تک  کہ حج پر بھی نہیں جاسکتی ۔ جماعت کی نماز اس پر واجب نہیں ہے ۔ جمعہ اس  پر فرض نہیں ہے ۔ جہاد اس پر فرض نہیں ہے ۔ ان تمام احکامات میں فرق کی وجہ یہی ہے کہ دونوں کی ذمہ داریاں الگ ہیں ۔6 مولانا مودودی نصوص کو موجودہ دور کے تناظر میں نہیں دیکھتے ہیں بلکہ موجودہ دور کو نصوص کے تناظر میں دیکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ نصوص فطرت ہیں اور ان سے ہٹ غیر فطری زندگی ہے جس کا غالب تہذیب شکار ہوچکی ہے ۔

عورت کا معاشرتی کردار

مولانا مودودی نے اس رحجان کی وکالت کی کہ عورت کا اصل مقام گھر ہے ، اس  کو گھر میں رہنا چاہیے اور  گھر کی زندگی میں کردار ادا کرنا چاہیے ۔ اس کے لئے انہوں نے نصوص سے بھی مختلف انداز میں استدلال کیا  ہے۔ عورت کے گھریلو کردار کی اہمیت اور خوبیوں کو اجاگر کیا ،   اور جدید رحجان کے زیر اثر گھر اور معاشرے میں  پیدا ہونے والی خرابیوں کو  واضح کیا  ہے۔

مولانا مودودی کا کہنا  ہے کہ عورت کے مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنے اور معاشرتی امور میں حصہ لینے سے گھر داری اور خانگی نظام تباہ ہوجائے گا  ، یا عورت پر دوہرا بار ڈال دیاجائے گا کہ وہ اپنے فطری فرائض بھی انجام دیں جن میں مرد قطعا شریک نہیں ہوسکتا اور پھر مرد کے فرائض کا بھی نصف حصہ اٹھائیں ۔  عملا یہ دوسری صورت ممکن  نہیں ہے،  لازما پہلی صورت ہی رونما ہوگی اور مغربی ممالک کا تجربہ بتاتا ہے  کہ وہ رونما ہوچکی ہے۔ 7

مولانا مودودی کی کی یہ بات درست ہے۔ گھر داری ، خانگی امور اور خاندانی نظام کو اچھی طرح چلانے کے لئے پورے وقت کی ضرورت ہوتی ہے اور مغرب جہاں عورت معاشرتی امور میں حصہ لیتی ہے، ان کا خاندانی نظام تباہ ہوچکا ہے ۔ عورت کا معاشرتی امور میں حصہ لینا دو وجہوں کی بنیاد پر ہوسکتاہے ۔ ایک تو معاشرے کو عورت کی خدمات کی ضرورت ہے ، ملکی تعمیر و ترقی میں ملک کی نصف آبادی کو بے کار چھوڑ دینا درست نہیں ہے ۔ دوسرا عورت بھی معاشی طور پر خود کفیل ہو تاکہ مرد کی کفالت کے زیر اثر جو خرابیاں جنم لیتی ہیں، ان کا ازالہ ہوسکے ۔ معاشرتی امور میں حصہ لینے کی جو دوسری بنیاد ہے، اس کا حل پیش کرنے میں ہمارا خاندانی نظام ناکام ثابت ہورہا ہے ۔ عورت کا استحصال مختلف شکلوں میں آج بھی ہمارے معاشرے میں موجود ہے مولانا۔ مودودی صرف مغرب کے خاندانی نظام کو موضوع بحث بناتے ہیں لیکن مشرق کے خٰاندانی نظام کی تباہی کا ذکر کرتے ہیں نہ ہی اس کی اصلاح کے ممکنہ پہلوؤں کی طرف متوجہ کرتے ہیں ۔

مسلم ممالک میں خاندانی نظام کا جو حال ہے مولانا اس پر صرف یہ کہہ کر آگے بڑھ جاتے ہیں کہ مسلمان یورپ  و مغرب کی نقالی میں غرق ہیں اس لئے یہ دنیا کے رہنما نہیں بن پارہے یا ان کے ہاں بھی مسائل ہیں ۔ مغربی تہذیب نے  خاندان  کے ادارے میں بہت بنیادی تبدیلیاں کیں، اس کی وجوہات و اسباب کو صرف خواہشات اور نفس پرستی جیسی چیزوں سے جوڑ دینا سماج کے مطالعہ کا درست رویہ نہیں ہے ۔ ہمارے ہاں خاندان کا ادارہ مغربی تہذیب کی طرف جن چیزوں میں بڑھ رہا ہے، اس میں تہذیب جدید اور غالب تمدن کی نقالی کو ہی آخری حیثیت نہیں بلکہ اس کے علاوہ معاشرےمیں موجود اس کی وجوہات و اسباب پر غور کرنا چاہیے ۔

مولانا مودودی اس معاملے میں بیشتر جگہوں پر اصول فطرت کو دلیل بناتے ہیں کہ مردو  عورت کو فطری طور پر کچھ کاموں کے لئے پیدا کیاگیا ہےاور وہ انہی مخصوص کاموں کو کرنے کے اہل ہیں۔ اگر اسی میدان میں رہیں گے تو نظام ٹھیک چلتا رہے گا اگر اس سے ہٹ کر چلیں گے تو نظام خراب ہوجائے گا۔  مولانا مودودی کی تنقید کو سمجھنے کے لئے ان  کی کتابوں سے کچھ عبارات کا مطالعہ ذیل میں پیش کیا جاتاہے ۔

"مرد کے دائرہ عمل میں آکر عورتیں کبھی مردوں کے مقابلے میں کامیاب نہیں ہوسکتیں ، اس لئے کہ وہ ان کاموں کے لئے بنائی ہی نہیں گئی ہیں ۔ ان کاموں کے لئے جن اخلاقی و ذہنی اوصاف کی ضرورت ہے وہ درا صل مرد میں پیدا کئے گئے ہیں ۔ عورت مصنوعی طور پر مرد بن کر کچھ تھوڑا بہت ان اوصاف  کو اپنے اندر ابھارنے کی کوشش کرے بھی تو اس کا دہرا نقصان خود اس کو بھی ہوتا ہے اور معاشرہ کو بھی ۔ اس کا اپنا نقصان یہ ہے کہ وہ نہ پوری عورت رہتی ہے نہ پوری مرد بن سکتی ہے اور اپنے اصل دائرہ عمل میں جس کے لئے وہ فطرتا پیدا کی گئی ہے ناکام رہ جاتی ہے ۔ معاشرہ اور ریاست کا نقصان یہ ہے کہ وہ اہل کارکنوں کے بجائے نااہل کارکنوں سے کام لیتا ہے اور عورت کی آدھی زنانہ اور آدھی مردانہ خصوصیات سیاست اور معیشت کو خراب کرکے رکھ دیتی ہیں "۔ 8

سیاست اور ملکی انتظام اور فوجی خدمات اور اسی طرح کے دوسرے کام مرد کے دائرہ عمل سے تعلق رکھتے ہیں ۔ اس دائرے میں عورت کو گھسیٹ لانے کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ ہماری خانگی زندگی بالکل تباہ ہوجائے گی ۔ 9

اسی فکر کے تحت مولانا مودودی نے عورت کی حمل ، حیض  و نفاس اور دیگر حالتوں کا ذکر کیا  ہے اور مختلف ماہرین فن کے بیانات سے ثابت کیا ہے کہ ان حالات میں عورت میں مختلف قسم کی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں جن کی بنا پر وہ  ٹھیک طرح کام نہیں کرپائے گی ۔ اگر چہ مولانا مودودی نے اس کی جو مثالیں دی ہیں، وہ مبالغہ پر مبنی  ہیں کہ ایک عورت  جو ٹرام کی کنڈکٹر ہے، اس زمانہ میں غلط ٹکٹ کاٹ دے کر دے گی اور ریز گاری  گننے میں الجھے گی ۔ ایک موٹر ڈرائیور عورت گاڑی آہستہ اور ڈرتے ڈرتے چلائے گی اور ہر موڑ پر گھبرائے گی ۔ ایک لیڈی ٹائپسٹ غلط ٹائپ کرے گی  ۔ کوشش کے باوجود الفاظ چھوڑ جائے گی ، کسی حرف پر انگلی مارنی چاہے گی اور ہاتھ کسی پر جاپڑے گا ۔ ایک گانے والی عورت اپنے لہجہ اور آواز کی خوبی کو کھود ے گی حتی کہ ایک ماہر نطقیات محض آواز سن کر بتادے گا کہ گانے والی اس وقت حالت حیض  میں ہے۔ 10 لیکن ان حالات میں تبدیلیاں رونما ہونا یقینی امر ہے جس کا اثر کاموں پر بھی پڑتا ہے۔

مغربی تہذیب میں جہاں عورت کو معاشی آزادی  دی گئی اور وہ معاشرتی امور میں حصہ لیتی ہے، وہاں عورت مرد بن چکی ہے۔ اپنے نسوانی کاموں سے دستبردار ہوچکی ہے ، ازادواجی زندگی کی ذمہ داریاں ، بچوں کی تربیت خاندان کی خدمت ، گھر کی تنظیم ، ساری چیزیں اس کے لائحہ عمل سے خارج ہوگئیں بلکہ ذہنی طور پر وہ اپنے اصلی فطری مشاغل سے متنفر ہوگئی ہے اور اس کی ایک ہی فکر ہے کہ اس کو ہر کام میں مردوں کے شانہ بشانہ چلنا ہے۔ گویا حقوق نسواں کی تحریک میں مرد عورتوں کا آئیڈیل بن کر سامنے آئے ہیں۔ عورتوں کو مردوں جیسی زندگی چاہیے، مردوں جیسا کام چاہیے، مردوں جیسا لباس چاہیے، جبکہ مرد عورتوں جیسے زندگی ، لباس اور کاموں میں عزت محسوس نہیں کرتے ۔

مولانا مودودی مغربی سماج پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہاں عورت کو یا تو لونڈی سمجھا گیا یا آزادی کے بہانے ایک ایسا سماج قائم کیا گیا جو شہوت پرستی پر مبنی تھا ۔ مغرب میں شہوانی تعلق کے سوا مرد اور عورت کے درمیان کوئی ایسا احتیاجی ربط باقی نہیں رہا ہے جو انہیں مستقل وابستگی پر مجبور کرتا ہو ۔ اس لئے مناکحت کے رشتہ میں اب کوئی پائیداری نہیں رہی ۔ مولانا تنقید کے دوران  ایسی باتیں بھی کہہ دیتے جونہ صرف درست نہیں بلکہ اخلاقیات سے گری ہوئی ہیں ۔  مغربی تہذیب میں شرم و حیاء اور عفت و عصمت کا ایک تصور موجود ہے جو  ہمارے تصور سے جدا ہے لیکن مولانا مودودی اس سارے سماج کو ایک ایسے سماج کے طور پر پیش کرتے ہیں کہ جہاں شرم و حیا اور عفت و عصمت جیسی کوئی چیز موجود نہیں ہے ۔ چنانچہ لکھتے ہیں آج اہل کتاب کی عورتوں پر محصنات ہونے کا اطلاق مشکل ہی ہوسکتاہے۔ 11  ضرورت اس چیز کی ہے کہ ہم  اپنے خاندانی نظام کا بھی ازسر نو جائزہ لیں اور غالب تہذیب کی جانب سے جو چیزیں ہمارے معاشروں کا حصہ بن چکی ہیں اس بارے بھی غور و فکر کریں کہ ان کو زیادہ بہتر انداز میں کس طرح مینج کیا جاسکتاہے ۔

مولانا مودودی معاشرے کے عملی تقاضوں کو نظر انداز نہیں کرپاتے ۔ باوجود اس  کے ان کی مجموعی فکر یہی ہے کہ عورت کا مقام گھر ہے ، اس کو معاشرے کی عملی زندگی میں حصہ نہیں لینا چاہیے ۔ بعض جگہوں پر اس کے برعکس کہتے ہیں ، لیکن اپنی بات کو مکمل طور پر واضح نہیں کرتے ہیں۔ مجمل سے انداز میں یہ تو کہہ دیتے ہیں کہ فطرت ان سے الگ الگ کام لینا چاہتی ہے، لیکن اس الگ کی تفصیلات کیا ہوں گی اور اس کو کس اندا ز میں کیا جائے، ان چیزوں پر روشنی نہیں ڈالتے ہیں۔  کبھی عورتوں کے لئے بھی مردوں جیسی مساوات اور یکساں مواقع کی بات کرتے ہیں ۔  مثلا فرماتے ہیں

"مرد و عورت کو آگے بڑھنے کے یکساں مواقع ملنے چاہیے ، تعلیم  و تربیت ، حقوق مدنیت، معاشی و تمدنی حقوق ان تمام چیزوں میں مساوات ضروری ہے۔  جن قوموں نے اس قسم کی مساوات سے انکار کیا ہے ، جنہوں نے اپنی عورتوں کو جاہل ، ناتربیت یافتہ ، ذلیل اور حقوق مدنیت سے محروم رکھا ہے وہ خود پستی کے گھڑے میں گر گئی ہیں کیونکہ انسانیت کے پورے نصف حصہ کو گرادینے کے معنی خود انسانیت کو گرا  دینے کے ہیں ۔ ذلیل ماؤ ں کی گودیوں  سے عزت والے ، نا تربیت یافتہ ماؤں کی آغوش سے اعلی تربیت والے اور پست خیال ماؤں کے گہوارے سے اونچے خیال والے انسان نہیں نکل سکتے ۔ فطرت کا مقصود ان دونوں سے ایک جیسے کام لینا نہیں ہے ۔ دونوں کی جسمانی و نفسی کیفیات مختلف ہیں ۔" 12

ایک دوسری جگہ پر ایک سوال کا جواب کے جواب میں عورت کی معاشی خود مختاری کے بارے میں لکھتے ہیں کہ عورت کاروبار کرسکتی ہے، ملازمت کرسکتی ہے لیکن اس ملازمت کا دائرہ صرف خواتین تک محدود ہونا چاہیے ۔

بی بی سی نے مولانا مودودی کے انٹرویو میں ان سے سوال پوچھا کہ مغربی سوسائٹی میں طلاقوں کی کثرت عورتوں کےلئے  کچھ زیادہ مسئلہ نہیں ۔ کیونکہ وہ معاشی طور پر آزاد ہیں اور مرد کی محتاج  نہیں ہیں ۔ جبکہ اسلامی معاشرہ میں عورت کی یہ پوزیشن نہیں ہے   ۔ مولانا مودودی اس کے جواب میں کہتے ہیں  کہ  آپ کو معلوم نہیں ہے کہ مسلمان عورت اپنے باپ سے ورثہ پاتی ہے ، اپنے شوپر سے اور اپنے بیٹے سے بھی اس کو حصہ ملتاہے ۔اس طرح جس شکل میں بھی اسے کوئی ورثہ ملتاہے ، وہ اس کی خود مالک ہوتی ہے اور اس کا شوہر ، باپ ، بیٹا یا کوئی اور شخص اس کو اس سے محروم نہیں کرسکتا ۔ اسی طرح ایک مسلمان عورت کاروبار کرسکتی ہے اور ان اداروں میں ملازمت کرسکتی ہے جن کا دائرہ خواتین تک محدود ہے۔ 13

ایک اور عبارت میں عورت کے گھر سے نکلنے کو صرف مجبوری کی صورت میں منظور کرتے ہیں جس کا دائرہ رخصت ہے ۔ اس کی تعلیم و تربیت کی نوعیت بھی ایسی ہونی چاہیے کہ وہ گھر کے نظام بہتر طور پر چلاسکے ۔  

"حالات ضروریات  سے عورت گھر سے باہر نکل سکتی ہے عورت کا دائرہ عمل اس کا گھر ہے  یہ محض ایک وسعت اور رخصت ہے اس کو اسی حیثیت میں رہنا چاہیے ۔ عورت کی صحیح تعلیم و تربیت وہ ہے جو اس کو ایک بہترین بیوی بہترین ماں اور بہترین  گھر والی بنائے "۔14

مولانا کی  یہ عبارات ان کے فکری خلفشار کا بھی ثبوت ہیں کہ ایک طرف وہ مغربی تہذیب اور  نظام کی مخالفت میں ا س سے ہٹ کر نقطہ نظر دینا چاہتے ہیں جبکہ عملی مجبوریوں اور موجودہ دور کے سوالات کو بھی نظر انداز نہیں کرپاتے  ہیں اور ان کے ساتھ ہم آہنگی کی بھی کوشش کرتے ہیں ۔

عورت کے لئے پردہ

مولانا مودودی چہرے کے پردے کے قائل ہیں لیکن باقی جسم اور چہرے میں فرق کرتے ہیں ۔ چہرے اور نقاب کے باب میں ویسے قطعی احکام نہیں جیسے ستر پوشی اور اخفائے زینت کے باب میں دیے گئے ہیں۔ بوقت ضرورت کھول سکتی ہے۔

"ولا یبدین زینتھن" میں جس زینت کا بیان ہے، وہ ستر کے ماسوا ہے ۔ اس کو محرم رشتہ داروں یا ایسے لوگوں کے سامنے کھولنے کی اجازت دی گئی جو عورتوں کی خوبیوں سے آشنا نہیں ہوتے ہیں ۔اب زینت کا اظہار جس چیز سے بھی ہو اوہ منع ہے ۔ الا ما ظہر منھا سے مراد ایسی زینت ہے جو اضطرارا ظاہر ہوجائے یا جس کو ضرورت کے پیش  نظر ظاہر کرنا پڑجائے۔ 15

چہرے اور ہاتھوں کے پردے کے بارے ایک جگہ کہتے ہیں کہ اس   کا فیصلہ مسلمان عورت  جو خدا رسول کے احکامات کی پابند ہے ، جس کو فتنے میں مبتلا ہونا منظور نہیں ہے ، وہ خود فیصلہ کرسکتی ہے کہ چہرہ اور ہاتھ کھولے کہ نہیں ۔ کب کھولے کب نہ کھولے ، کس حد تک کھولے اور کس حد تک چھپائے ، اس باب میں قطعی احکام نہ شارع نے دیے ہیں ، نہ اختلاف احوال و ضروریات کو دیکھتے ہوئے یہ مقتضائے حکمت کہ قطعی احکام وضع کئے جائیں ۔ بلا ضرورت قصدا کھولنا درست نہیں ہے ۔ اپنا حسن دکھانے کے لئے بے حجابی کی جائے تو یہ گناہ  ہے ۔ باقی شارع اس کو پسند نہیں کرتاہے شارع کی پسند یہی ہے کہ چہرہ کو چھپایا جائے ۔ 16

عورت کا حق حکمرانی

عورت کے حق حکمرانی کو مسلمان ملکوں میں عملی طور پر تسلیم کیا جاچکا ہے ۔ اصولی طور پر بھی نصوص میں تاویل کی راہ اپناتے ہوئے  علماء کی اکثریت اس کو تسلیم کرچکی ہے ۔مولانا مودودی اس مقام پر نصوص کی اتباع میں کھڑے ہیں اور ان کے مطابق ہی اس مسئلہ کو دیکھتے ہیں ۔ ان کے نزدیک عورت نہ صرف حکمران نہیں بن سکتی بلکہ کسی بھی اہم اور کلیدی  عہدے پر کام نہیں کرسکتی ہے ۔ مولانا مودودی نصوص میں جس قدر عموم پیدا کررہے ہیں، یہ بھی خالص اجتہادی نوعیت کی چیز ہے ۔ نصوص کے پس منظر میں عورت کی حکمرا نی ہے اور روایت میں بھی اس کا ہی ذکر ہور ہا ہے جبکہ مولانا اس میں توسع کرتے ہوئے اس کو ہر معاملے پر لاگو کردیتے ہیں ۔

"الرجال قوامون علی النساء۔17 لن یفلح قوم ولو اامرھم امراۃ" 18 یہ دونوں نصوص اس باب میں قاطع ہیں کہ مملکت  میں ذمہ داری کے مناصب خواہ وہ صدارت ہو یا وزارت یا مجلس شوریٰ کی رکنیت یا مختلف محکموں کی ادارت عورتوں کے سپر نہیں کئے جاسکتے۔ اس لئے کسی اسلامی ریاست کے دستو ر میں عورتوں کو یہ پوزیشن دینا یا اس کے لئے گنجائشیں رکھنا نصوص صریحہ کے خلاف ہے۔19

ایک سے زائد شادیاں

ایک فرد کو کتنی شادیاں کرنی ہیں ، اسی طرح اس کے بچے کتنے ہونے چاہیے، اس بارے مولانا مودودی کی فکر کا حاصل یہ ہے کہ  قرآن کریم میں اس کا خطاب افراد سے ہے اور یہ افراد کی مرضی پر موقوف ہے۔ نظم اجتماعی سےیہ خطاب نہیں  ہے کہ وہ افراد کی آزادی میں دخل انداز ہو ۔ بیوی بچوں کی تعداد مقرر کرنے کا حق ریاست کو  نہیں ہے ۔ فرد کو اس کی اجازت دی گئی ہے اس کے بعد اس کی اپنی ضروریات زندگی اور اس چیز پر موقوف ہے کہ عدل کرسکتا ہے کہ نہیں۔20 مولانا نظم اجتماعی کو یہ حق نہیں دیتے ہیں کہ وہ ان چیزوں میں دخل دے ۔

عورت کا حق خلع

جس طرح مرد عورت کو طلاق دے کر رشتہ ازدواج کو ختم کرسکتا ہے، اسی طرح عورت خلع لے کر مرد سے جدا ہوسکتی ہے ۔لیکن مرد طلاق دینے میں خود مختار اور آزاد ہے جبکہ عورت کے خلع کے لئے فقہاء کرام نے شرائط مقرر  کی ہیں جن کی موجودگی میں ہی صرف خلع ہوسکتاہے، ان کے بغیر خلع نہیں ہوسکتا۔ جامعہ علوم اسلامیہ  بنوری ٹاؤن  کےبعض فتاویٰ میں خلع کی درج ذیل شرائط لکھی گئی ہیں ۔

خلع ایک معاملہ ہے، اس میں مرد کا رضا مند ہونا ضروری ہے ۔ اگر مرد رضا مند نہ ہو تو عورت علاقے کے معززین کے ذریعے طلاق کی کوشش کرے ۔ اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو عورت عدالت میں تنسیخ نکاح کا دعویٰ کرے گی ۔ اسے معتبرگواہوں کے ذریعہ شوہر کے ظلم کو ثابت کرنا ضروری ہوگا۔ تمام ثبوت کی فراہمی کے بعد  عدالت اگر تنسیخِ نکاح کا فیصلہ کرتی ہےتو نافذ ہوگا ۔ ورنہ عدالت کا یہ فیصلہ نافذ نہیں ہوگا۔ 21

یعنی عدالت میں خلع کا مقدمہ نہیں ہوگا بلکہ تنسیخ نکاح کا مقدمہ ہوگا اور اس میں بھی چند عذرایسے ہیں جن کی بناء پر تنسیخ نکاح ہوسکتی ہے مثلاً بیوی کا نان ونفقہ  اور حقوق زوجیت ادا کرنا وغیرہ۔اگر ان کو ثابت کرتی ہے تو خلع ہوگا ورنہ نہیں۔ اور اس کے علاوہ اگر عدالت فیصلہ دے بھی دے، تب بھی نافذ نہیں ہوگا ۔   اس لحاظ سے طلاق کے ساتھ خلع کا تمام اختیار بھی خاوند کے پاس آجاتاہے- اگر چاہے تو اس کومنظور کرے چاہے منظور نہ کرے۔ جبکہ شریعت میں طلاق کااختیار مرد کے پاس  ہے اور اگر اس اختیار میں کوئی کمی بیشی یا ظلم کا عنصر پایاجائے تو عورت کو خلع کا اختیار دیاگیا ہے ۔ اگر یہ اختیار بھی خاوند کے اختیار اور رضا مندی کے ساتھ مشروط ہوجاتاہے تو عورت کے پاس اختیار کیسا    ؟

 خلع کے بارے حضرت ثابت بن قیس کی بیوی کی روایت میں ہے کہ انہوں نے فرمایا، میں ان پر کسی عیب کی تہمت نہیں لگاتی، لیکن میں اسلام میں کفر ناپسند کرتی ہوں یعنی ان کے ساتھ رہنا پسند نہیں کرتی ہوں ۔ اللہ کے رسول ﷺ نےان سے حضرت ثابت کے دیے باغ کو واپس کرواکر حضرت ثابت  کو طلاق کا حکم دیدیا۔22 اس روایت میں اللہ کے نبی ﷺ نے ان کے بیان کو کافی سمجھا اور مزید اس کی تحقیق نہیں کی کہ وہ کیوں طلاق لینا چاہتی ہیں ۔

ابوداؤ د اور ترمذی شریف کی ایک روایت میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " جس عورت نے اپنے خاوند سے بلاوجہ طلاق کا مطالبہ کیا اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے "۔ 23 لیکن اس روایت میں اس مزاج کی نفی کی گئی ہے اور ایسی عادت اور رویہ کے بارے میں یہ وعید ارشاد فرمائی گئی ہے۔ اس میں کوئی قانونی فیصلہ نہیں  ہے اور بلا وجہ طلاق مرد ہو یا عورت ان کو دینی بھی نہیں چاہیے۔ یہ اللہ تعالیٰ کےنزدیک مبغوض ترین چیز ہے ، لیکن جس طرح مرد اگر بلا وجہ طلاق دے تو ہوجاتی ہے، اسی طرح عورت اگر بلا وجہ خلع لے تو حضرت ثابت بن قیس کی روایت سے یہی سمجھ میں آتاہے کہ خلع نافذ ہوجاتاہے ۔

مولانا مودودی خلع کے بارے میں کہتے ہیں کہ خلع میں قاضی کا وجہ طلب کرنا یا اس پر مطمئن ہونا ضروری نہیں ۔ اگر عورت کہتی ہے  مجھے پسند نہیں تو قاضی پر یہ نہیں کہ کھوج لگائے کہ کیوں ناپسند ہے، کیونکہ  ہوسکتاہے عورت کو کسی ایسی وجہ سے ناپسند ہو جو قاضی کے نزدیک وجہ تفریق نہیں بن سکتی ہو ۔ نیز ہر ایک وجہ کا کھل کر  مکمل طور پر بتانا ممکن بھی نہیں اور رسول اللہ اور خلفاء راشدین کے عمل سے بھی یہی پتہ چلتاہے کہ انہوں نے اس کی تحقیق نہیں کی ۔ اگر اس میں عورت کے بے وجہ خلع کا احتمال ہے تو مرد کی طلاق میں بھی یہ احتمال موجود ہوتاہے جبکہ شارع نے اس سے منع نہیں کیا، اس کو نافذ قرار دیا ہے تو عورت کے لئے بھی قانونی طور پر یہ حق رہے گا۔  24 مولانا مودودی خلع کے آسان  نہ ہونے کے معاشرتی مسائل کو  بخوبی سمجھتے تھے، اس لئے انہوں نے خلع کو انتہائی آسان کردیا ۔

عورت پر ظلم و ستم بطور سبب تفریق

فقہاء کرام نے مرد و زن میں تفریق کے کچھ اسباب کا ذکر کیا ہے۔ اگر یہ چیزیں پائی جائیں تو عورت عدالت کے ذریعے  مرد سے جدا ہونے کا مطالبہ کرسکتی ہے اور قاضی ان چیزوں کے پائے جانے پر جدائی کا حکم دے گا ۔ ہمارے معاشرے میں عورتوں پر ظلم و ستم کے واقعات بکثرت پائے جاتے ہیں۔ مولانا مودودی فقہاء کے بیان کردہ دیگر اسباب کے ساتھ مار پیٹ گالی گلوچ کو بھی  تفریق کے اسباب میں شمار کرتے ہیں ۔

" اتناضرور ہونا چاہیے کہ مارپیٹ اور گالم گلوچ کی عادت کو خلع کے جائز اسباب میں شمار کیاجائے اور ایسی عورتوں کو بلامعاوضہ خلع دلوایاجائے"۔ 25

مردانہ عیوب  سے متعلق فقہاء کے موقف پر تنقید

فقہاء جن عیوب کی بنا پر عورت کو اختیار دیتے ہیں کہ وہ قاضی کے پاس جا کر خاوند کے خلاف مقدمہ قائم کرسکتی ہے اور خاوند سے جدا ہوسکتی ہے، مولانا مودودی ان عیوب کے بارے گفتگو کرتے ہیں کہ ان میں بہت سے ایسے مسائل  ہیں جو عورت کے حقوق اور شریعت کے منشا کے خلاف  ہیں ۔ عنین ، مجبوب  ، خصی  ،برص زدہ ، مجنون اور مرد و عورت کے دیگر ایسے امراض جن کے ساتھ تعلقات مردو زن قائم نہیں ہوسکتے ہیں، ان میں اگر کوئی فریق جدائی کا مطالبہ کرتا ہے تو امام مالک کے نزدیک اس کو خیار فسخ حاصل ہوگا ۔ مولانا مودودی بھی اسی فقہی مذہب کو لیتے ہیں ۔ کیونکہ تعلقات مردو زن میں تحفظ اخلاق اور باہمی مودت و رحمت  یہ دونوں مقاصد ایسے عیوب میں فوت ہوجاتے ہیں اور یہ بات اسلامی قانون ازدواج کے اصول میں سے ہے کہ ازدواجی تعلق زوجین کے لئے مضرت اور حدوداللہ سے تجاوز کا موجب نہ ہونا چاہیے ۔ 26

ان عیوب کے بارے فقہاء کی بعض آراء پر مولانا مودودی تنقید کرتے ہیں ۔ عنین ، مجنون وغیرہ ایسے امراض جن کے تندرست  ہونے کا امکان ہو ، ان کے بارے فقہاء یہ کہتےہیں کہ  اس کو ایک سال تک علاج کی مہلت دی جائے گی ۔ اگر علاج کے بعد وہ ایک مرتبہ بھی ہم بستری پر قادر ہوگیا ۔ حتی کہ اگر ایک مرتبہ اس نے ادھوری مباشرت بھی کرلی  تو عورت کو فسخ نکاح کا حق نہیں ہے  بلکہ یہ حق  ہمیشہ کے لئے باطل ہوگیا ۔ اگر عورت کو نکاح کے وقت معلوم تھا کہ وہ نامرد ہے اور پھر وہ نکاح پر راضی ہوئی تو اس کو سرے سے قاضی کے پاس دعویٰ ہی لے جانے کا حق نہیں ۔ اگر اس نے نکاح کے بعد ایک مرتبہ مباشرت کی اور پھر نامرد  ہوگیا تب بھی عورت کو دعویٰ کا حق نہیں ۔ اگر عورت کو نکاح کے بعد شوہر کے نامرد ہونے کا علم  ہوا اور وہ اس کے ساتھ رہنے پر اپنی رضا مندی کا اظہار کردے تب بھی وہ ہمیشہ کے لئے خیار فسخ سے محروم ہوگئی۔ مجنون کے بارے بھی اسی قسم کے مسائل فقہی کتابوں میں ہیں۔27

مولانا مودودی ان صورتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ  ان صورتوں میں عورت کا خیار فسخ تو  باطل ہوگیا ۔ اس کے بعد ایسے ناکارہ شوہر سے چھٹکارا حاصل کرنے کی دوسری صورت یہ رہ جاتی ہے کہ وہ خلع کرلے مگر وہ اس کو مل نہیں سکتا ۔ کیونکہ شوہر سے مطالبہ کرتی ہے تو اس کا پورا مہر بلکہ مہر سے کچھ زائد لے کر بھی چھوڑنے پر راضی نہیں ہوتا ۔ اور عدالت سے رجوع کرتی ہے تو اس کو مجبور کرکے طلاق دلوانے یا تفریق کرنے سے انکار کردیتی ہے۔ اب غور کیجئے اس غریب کا  حشر کیا ہوگا  ؟ بس یہی نا کہ یا تو وہ خودکشی کرلے یا عیسائی راہبات کی طرح نفس کشی کی زندگی بسر کے اور اپنے نفس پر روح فرسا تکلیفیں برداشت کرے یا قید نکاح میں رہ کر اخلاقی فواحش میں مبتلا ہو ۔ یا پھر سرے سے دین اسلام ہی کو خیر باد کہہ دے ۔ مگر کیا اسلامی قانون کا منشا بھی یہی ہے کہ عورت ان حالات میں سے کسی حالت میں مبتلا ہو  ؟ کیا ایسے ازدواجی تعلق سے شریعت کے وہ مقاصد پورے ہوسکتے ہیں جن کے لئے قانون ازدواج بنایاگیا تھا ۔ کیا ایسے زوجین میں مود و رحمت ہوگی ۔ کیا وہ  باہم مل کر تمدن کی کوئی مفید خدمت کرسکیں گے ۔ کیا ان کے گھر میں خوشی اور راحت کے فرشتے کبھی داخل ہوسکیں گے ۔ 28مولانا مودودی کہتے ہیں کہ خصی ، مجبوب ، مجنون ان تمام کے بارےسابقہ  فقہاء کی قانون سازی عورت کے خلاف جاتی ہے ۔29

خاوند کے لاپتہ ہو جانے کی صورت میں تفریق

مفقود الخبر یعنی اگر کسی عورت کا خاوند لا پتہ ہوجاتا ہے، اس کی کوئی خبر نہیں تو اس کو بھی فقہاء نے ان اسباب میں شمار کیا ہے جن کی بنا پر عورت جدائی کا مطالبہ کرسکتی ہے ۔ فقہاء کی اس بارے مختلف آراء ہیں ۔ بعض فقہاء کہتے ہیں کہ خاوند کی عمر کے بقدر اس عورت کو انتطار کرنا ہوگا ، جبکہ مالکیہ نے چار سال کی مدت مقرر کی ہے ۔ اگر چار سال تک شوہر کی کوئی خبر نہ ہو تو قاضی عورت کے لئے فسخ نکاح کاحکم لگاکر اس کو نئے نکاح کی اجازت دے گا۔ دونوں قسم کی آراء کی بنیادیں صحابہ کرام کی آراء میں ملتی ہیں ۔فقہاء احناف اول موقف رکھتے ہیں لیکن موجودہ دور میں انہوں نے اس پر ازسر نوغور کیا ہے ۔ قریبی زمانے کے تمام فتاویٰ میں اس کو قاضی کی صوابدید پر چھوڑاگیا ہے کہ قاضی حالات وواقعات کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کرسکتاہے ۔ مفتی ولی حسن ٹونکی صاحب اس میں ایک سال کی مدت مقرر کرتے ہیں ۔ جامعہ بنوری ٹاؤن کے ایک فتویٰ میں بھی اس کی مدت ایک سال مقرر کی گئی ہے ۔ 30

  مولانا مودودی کہتے ہیں اس بارے میں قرآن و حدیث کی کوئی نص موجود نہیں ہے اس لئے یہ مسئلہ اجتہادی ہے ۔ بعض ضعیف  اور موضوع قسم کی روایات مذکور ہیں لیکن وہ قابل اعتبار نہیں ہیں ۔ مولانا مودودی اس مسئلہ میں بھی قرآن و حدیث سے براہ راست استنباط حکم کرتےہیں ۔ قرآن کریم میں ہے "فلاتمیلو کل المیل فتذروھا کا لمعلقلۃ" 31 اگر خاوند کی زندگی میں یہ حکم ہے کہ ان کو معلق نہ کرچھوڑو تو خاوند کے گم ہونے کی صورت میں یہ حکم کیوں نہیں ۔اسی طرح ایلاء کی صورت چار ماہ بعد قرآن کریم جدائی کا حکم لگادیتا ہے ۔ اس لئے ان صورتوں کو دیکھتے ہوئے اور زمانے کے حالات وواقعات کی بناء پر اس عورت کو اتنی لمبی مدت تک رکنے کا حکم نہیں لگایا جائے گا بلکہ مالکی مذہب ہی نصوص کے قریب ہے ۔ لیکن مالکی مذہب کی تفصیلات کو عموما نظر انداز کردیا جاتاہے۔ اس میں اگر خاوند نفقہ نہ چھوڑ کر گیا ہو یا بیوی کی عمر جوانی کی ہو اور فتنہ کا خوف ہو تو قاضی اس کو انتظار کا نہیں کہے گا بلکہ تفریق کا حکم لگادے گا ۔لیکن اگر حالات نارمل ہوں اور فتنہ کا اندیشہ نہ ہو اور خاوند نفقہ چھوڑ کر گیا ہو تو پھر قاضی کی صوابدید ہے کہ اس وقت صورتحال کو دیکھتے ہوئے ایک سال سے لے کے چار سال تک  انتظار کا فیصلہ کرسکتا ہے ۔ مولانا مودودی نصوص کے قریب ہونے کی وجہ سے مالکی مذہب کو اپناتے ہیں ۔32

نفقہ پر عدم قدرت کی وجہ سے تفریق

نفقہ پر قدرت نہ ہونے یا نفقہ نہ دینے کو فقہاء نے فسخ نکاح اور خلع کے جائز اسباب میں شمار کیا ہے ۔اگر خاوند کی جانب سے تعدی پائی جائے، اس وقت تو فقہاء یہی کہتے ہیں کہ اگر عورت مطالبہ کرے تو تفریق کروادی جائے ۔ لیکن  اگر خاوند نفقہ پر قدرت نہ رکھتا ہو تو اس صورت میں امام مالک کی رائے یہ ہے  کہ مناسب مدت دیکھ کر تفریق کا حکم لگادیا جائے ۔ حنفیہ کہتے ہیں کہ اگر شوہر کے پاس نہ ہوں تو مجبور نہیں کیاجائے گا ۔ اگر ہوں لیکن وہ دیتا نہیں تو عورت خود انتظام کرے اگر نہیں کرسکتی تو جدائی کا حکم لگایاجائے گا۔33 مولانا مودودی اس سلسلے میں مالکیہ کی رائے کو لیتے ہیں۔ عورت کو چاہیے تو یہی کہ صبر کرے اور آزمائش کا مقابلہ کرے، لیکن اخلاقیات کا دائرہ قانون سے الگ ہے ۔ فقہی اور قانونی طور پر اس کو اختیار ہوگا کہ اگر ایسے خاوند کے ساتھ نہ رہنا چاہے تو نکاح کو فسخ کردیا جائے گا۔ اس کو قانونی طور پر اس چیز کا پابند نہیں بنایا جاسکتاہے کہ وہ اس خاوند کے ساتھ رہے ۔ 34

ایلاء کی مدت میں بیوی سے دور رہناوجہ تفریق

اگر خاوند قسم اٹھالیتا ہے کہ وہ چار ماہ بیوی کے پاس نہیں جائے گا   تو  نہ جانے کی صورت میں ، ایک فقہی موقف کے مطابق اس کی بیوی پر طلاق واقع ہوجاتی ہے ۔ اسلام سے پہلے ایسی صورتوں کو لوگ بیویوں کو تنگ کرنے کے لئے استعمال کرتےتھے۔ اسلام نے ان کا سدباب کیا اور اس کو اسباب تفریق میں شمار کیا ۔ لیکن اگر کوئی شخص قسم الگ رہنے کی قسم تو نہیں کھاتا، لیکن عملا بھی عورت کے قریب نہیں جاتاتو   اس کا حکم  کیا ہوگا ؟ مولانا مودودی کہتے ہیں کہ علت دونوں میں ایک ہی ہے یعنی عورت کو ضرراور تکلیف پہنچانا ، عورت کو معلق کر چھوڑنا یا ان کو تکلیف پہنچانا۔ جب یہ حکم اسی کے سدباب کے لئے ہے تو  قسم نہ کھانے کی صورت میں بھی یہی حکم لگایا جائے گا ۔ مالکیہ کی رائے بھی یہی ہے کہ اگر تکلیف دینے کی نیت سے ایسا کرے تو قسم نہ بھی کھائی ہو تو ایلاء واقع ہوجائے گا ، کیونکہ ایلاء سے مقصود بھی ضرار کو روکنا ہے ۔ 35

مرد کو طلاق کا مشروط اختیار

شریعت میں طلاق کا اختیار مرد کو دیاگیا ہے، عورت کو نہیں دیاگیا ہے ۔ اس کی حکمت یہ بتائی جاتی ہے کہ عورت جلد باز ہوتی ہے ، معاملہ فہم نہیں ہوتی ۔ بے اسوچے کوئی فیصلہ کرلیتی ہے یا یہ کہ گھر کا خرچ چلانے والا مرد ہوتاہے، اس لئے حق طلاق بھی اسی کے پاس ہونا چاہیے ۔ان چیزوں کا تعلق خاص حالات اور زمانےسے  تو ہوسکتاہے، لیکن ان چیزوں کو بنیاد بناکر حق طلاق کو مطلقا مرد تک محدود کرنا درست نہیں ۔ جہاں تک نصوص کا تعلق ہے، ان میں بھی اشارات سے ہی استدلال کیا گیا ہے کہ طلاق کی نسبت مرد کی طرف کی گئی ہے، عورت کی طرف نہیں کی گئی، اس لئے حق طلاق مرد کو ہے عورت کو نہیں ۔ اس بارے کوئی صریح نص نہیں ہے ۔ لیکن ان استدلالات کو اگر تعامل کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے   تو رسول اللہ ﷺ اور مابعد کے ادوار میں عورتوں نے کبھی طلاق نہیں دی ، ہمیشہ سے مرد ہی طلاق دیتے آرہے ہیں۔ کسی عورت کو اگر ضرورت پڑی بھی تو اس نے طلاق دینے کی بجائے خلع یا عدالت سے تنسیخ نکاح کی درخواست کی ۔ اس لئے یہ بات درست ہے کہ شریعت میں اصولا طلاق کا اختیار مرد کو دیا گیا ہے ۔ لیکن مرد کے اختیار نے اس کو مطلق العنان بنانے میں کردار ادا کیا ہے جس کا ازالہ شرع کے بہت سے احکامات میں کرنے کی کوشش کی گئی ۔مولانا مودودی بھی اس کا حل تجویز کرتے ہیں ۔

قرآن کریم کی مختلف آیات سے استدلال کرتے ہوئے لکھتے ہیں  کہ حق طلاق صرف خاوند کے پاس ہے ۔"الا ان یعفون او یعفو الذی بیدہ عقدۃ النکاح" 36  اس آیت کے آخری فقرہ میں اس قاعدہ کی تصریح کی گئی ہے کہ عقدہ نکاح مرد کے ہاتھ میں ہے اور وہی باندھے رکھنے یا کھول دینے کا اختیار رکھتا  ہے ۔ قرآن کریم میں جہاں کہیں طلاق کا ذکر آیا ہے، مذکر کے صیغوں میں آیا ہے ، اور فعل کو مرد ہی کی طرف نسبت دی گئی ہے ۔ مثلا "ان عزموا الطلاق، فان طلقھا، اذا طلقتم النساء فطلقوھن" یہ اس بات پر دلیل ہے کہ شوہر بحیثیت شوہر ہونے کے طلاق دینے یا نہ دینے کا کلی اختیار رکھتا ہے اور کوئی قانون ایسا نہیں بنایا جاسکتا  جو اس کا یہ حق سلب کرتاہو ۔37

خاوند کے حق طلاق کو مولانا مودودی مشروط کرتے ہیں ۔ اس کے لئے اگر چہ عمومی قسم کی آیات سے استدلال کرتے ہیں جو خاص اس حوالے سے نہیں اتاری گئیں، لیکن ان کا یہ استدلال اہم ، مفید اور دلچسپ ہے ۔ "اسلام میں تمام حقوق اس شرط کے ساتھ مشروط ہیں کہ ان کے استعمال میں ظلم اور حدود اللہ سے تجاوز نہ ہو ۔ "و من یتعد حدود اللہ فقد ظلم نفسہ" 38 لہذ ا جو شخص حدود اللہ سے تجاوز کرتا ہے وہ خود اپنے آپ کو اس کا مستحق بناتا ہے کہ اس کا حق سلب کرلیا جائے ۔ پس جب کسی عورت کو اپنے شوہر سے   ظلم و ضرر کی شکایت ہو تو بقاعدہ "فان تنازعتم فی شیئ فردوہ الی اللہ و الرسول" 39   اگر اس کی شکایت جائز ثابت ہوگی تو قانون نافذ کرنے والوں یعنی اولی الامر کو حق ہوگا کہ شوہر کو اس کے اختیار سے محروم کرکے بطور خود اس اختیار کو استعمال کریں ۔ قاضی کو فسخ ، تفریق اور تطلیق کے جو اختیارات شرع میں دیے گئے ہیں ، وہ اسی اصل پر مبنی ہیں۔ 40

نابالغ کا نکاح

مولانا مودودی احادیث و آثار کی روشنی میں کہتے ہیں کہ عورت کے نکاح میں ولی کی رائے کا دخل ہونا چاہیے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں عورت اس معاملے میں بےا ختیار ہے اس کی رضامندی سے ہی کوئی بھی فیصلہ کیا جاسکتاہے ۔ احناف کا فقہی موقف یہی  ہے کہ عورت اپنی مرضی سے شادی کرسکتی ہے، لیکن اگر ایسی جگہ شادی کرے جو خاندانی طور پر برابر نہ ہوں تو پھر سرپرستوں کو اعتراض کا حق ہے ، ور نہ اس کا کیا نکاح نافذ ہوگا۔41 اگرچہ آج ہم اس فقہی اور روایتی موقف کے اظہار میں تردد کا شکار ہوتے ہیں لیکن احناف کی فقہ و فتاویٰ کی تمام کتابوں میں آج بھی یہی موقف ملتاہے ۔تاہم اس سے کوئی غلط دروازہ نہ کھلےاس لئے اس پر کچھ حدود و قیود لگائی جاسکتی  ہیں ۔

  اگرلڑکی یا لڑکا  نابالغ ہو اور اس  کا باپ یا کوئی ولی اس کا نکاح کردے تو  بالغ ہونے کے بعد کیا اس کو اختیار ہو گا  کہ اس نکاح کو باقی رکھے یا نہیں ؟ فقہاء عام طور پر کہتے ہیں کہ با پ اور دادا کے علاوہ  کسی نے نکاح کیا ہو تو  بالغ ہونے کے بعد اختیار ہوگا کہ چاہے اس نکاح کو باقی رکھے اور چاہے اس کو رد کردے۔ لیکن اس میں بھی فقہی طور پر  جس طرح کی باتیں کی جاتی ہیں، وہ نہایت عجیب ہیں۔ مثلا یہ  کہ اگر بالغ ہونے کے بعد اس کو جس مجلس میں پتہ چلا ہے،اسی مجلس میں اس کو رد کردے، تب تو اس کو یہ اختیار ہوگا ور نہ نہیں ۔ اگر یہ نکاح باپ ، دادا نے کیا ہو تو لڑکی یا لڑکے  کو بالغ ہونے کے بعد اختیار نہیں ہوگا، چاہے ان کو یہ رشتہ پسند ہو یا نہیں۔ اسی طرح انہوں نے غیر کفو میں نکاح کر دیا ہو یا  مہر کم طے کردیا ہو، تمام صورتوں نکاح لازم ہے ، کیونکہ ان کی شفقت کامل ہوتی ہے، وہ ان کا برا نہیں سوچ سکتے ہیں۔ اس کو ولایت اجباری کہتے ہیں۔ تا ہم اگر ان کی جانب سے بددیانتی پائی جائے، تب احناف بھی لڑکے اور لڑکی کو اختیار دیتے ہیں۔ 42

مولانا مودودی کہتے ہیں کہ لڑکی کے لئے ولایت اجباری باپ اور دادا کے لیے ثابت  نہیں، اس کا کسی روایت سے ثبوت نہیں۔ بالغ ہونے کے بعد اگر لڑکی کو اختیار ہے تو بلوغت سے پہلے کے گئے نکاح میں ایسا کیوں نہیں ہے۔ 43

فقہاء نے عام طور پر جن روایات سے استدلال کیا ہے، وہ واقعاتی نوعیت کی ہیں۔ مثلا حضرت عائشہ نے اپنی بھتیجی کا نکاح کردیا ، یاحضرت عائشہ کا نکاح ان کے والد نے کردیا ۔ لیکن یہ ولایت اجباری میں صریح نہیں ہیں  اور  ان میں ولایت اجباری کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ جس عورت کا نکاح کیا گیا، اس نے بالغ ہونے کے بعد رد کردیا ہو اور پھر اس کے رد کو قبول کیا گیا یا قبول نہیں کیا گیا ،  ایسی کوئی تصریح روایات میں نہیں ہے ۔ اس لئے یہ مسئلہ اجتہادی نوعیت کا ہے اور مولانا مودودی مسائل میں اجتہاد کو بروئے کار لاتے ہیں جیسا کہ دیگر مسائل میں بھی ان کا طریقہ ہے۔  اس جگہ بھی وہ فقہاء سے الگ رائے قائم کرتے ہیں اور باپ، دادا کے لئے  ولایت اجباری کے قائل نہیں ہیں ۔ بعض روایات  میں صراحت کے ساتھ یہ مذکور ہے کہ غیر شادی شدہ کا نکاح اس سے پوچھے بغیر نہ کیا جائے اور کنواری کا بغیر اجازت نکاح نہ کیا جائے۔ 44 جب روایات میں صراحت ہے اور ولایت اجباری کسی تصریح سے ثابت نہیں ہے تو انہی تصریحات کی روشنی میں اس مسئلہ کو دیکھنا چاہیے۔

حاصل کلام

عورتوں کے بارے میں مغربی تہذیب کے تصورات پر مولانا نے بہت جاندار تنقید کی ہے اور اس سے ہمارے معاشروں کو جو خطرات در پیش ہیں، ان کی بھی نشاندہی کی ہے۔  تاہم مغربی تہذیب کے تصورات پر تنقید اور اس کا متباد ل پیش کرتے ہوئے مولانا نے زمانی تصورات کا بھی کافی اثر قبول کیا ہے۔ روایتی حلقے میں مولانا مودودی نے جماعت کی تنظیم میں جس طرح عورتوں کو شامل کیا ہے، اس طرح کسی دوسری جماعت میں عورتوں کی شرکت نظر نہیں آتی ہے۔ اسی طرح خواتین کی تعلیم و تربیت اور زندگی کے عملی میدانوں میں ان کی شرکت جماعت اسلامی میں نمایاں نظر آتی ہے۔

مولانا مودودی نے روایتی اور فقہی تصورات میں سے  جو  چیزیں  زمانے کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتیں، ان میں فقہاء کی آرا سے وسیع تر استفادہ کے علاوہ قرآن و سنت پر براہ راست غورو فکر کے ذریعے سے مختلف اجتہادی آرا قائم کی ہیں ۔ اسلامی روایت میں عورت کے حوالے سے جو علاقائی ، زمانی  اور فقہی تصورات دین کا حصہ بن گئے، مولانا مودودی ان پر بھی کلام کرتے ہیں اور نصوص کو براہ راست دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مولانا کی خوبی یہ ہے کہ وہ نصوص کے فہم کو ائمہ مجتہدین  کے اقوال میں سے کسی قول کی روشنی میں لیتے ہیں  ۔ مولانا نے روایتی فریم ورک کی حفاظت  کی کوشش کی  ہے۔  ان کی یہ کوشش مدلل اور معقول نظر آتی ہے ، لیکن اس کوشش میں کہیں مبالغہ بھی نظر آتاہے۔ روایت کی تنقیح کے لیے ضروری ہے کہ ان مبالغہ آمیز تصورات کا روایت کی روشنی میں جائزہ لیا جائے ۔

جدید دور میں  مسلم مفکرین اور معاشروں کو عام طور پر فکری انتشار کی کیفیت اور نظام عمل وفکر میں مناسبت کے فقدان  کا سامنا ہے۔ ضرورت ہے کہ اس کے تدارک کی کوشش کی جائے اور مسلم مفکرین وفقہاء کی فکر کی روشنی میں جدید دور میں خواتین کے معاشرتی مقام اور کردار کے حوالے سے کوئی جامع ، منظم اور مرتب فکری و عملی نظام وضع کرنے کی کوشش کی جائے۔


حوالہ جات

  1.  البقرۃ ،228
  2.  النساء ،34
  3.   جامع البخاري ، رقم :   7138  ومسلم ، رقم :  1829
  4.  النساء،34
  5.  مودودی ، سید ابوالاعلی ،  پردہ ، لاہور : اسلامک پبلیکیشنز ص 198
  6.   پردہ ، ص 204
  7.   اسلامی ریاست، 538
  8.   اسلامی ریاست،539
  9.   اسلامی ریاست، 538
  10.   پردہ  ، 156ـ 162
  11.  مودودی ، سید ابو الاعلی ،  خطبات یورپ ،لاہور : ادارہ ترجمان القرآن ، ص 125
  12.   پردہ ، 153
  13.  مودودی ، سید ابو الاعلیٰ ،  اسلام دور جدید کا مذہب ،لاہور : اسلامک پبلیکیشنز ، ص ،19
  14.   پردہ ،  210
  15.   پردہ ،  261
  16.   پردہ ، 266
  17.   النساء : 34
  18.   صحیح  بخاری: 4425
  19.   مودودی ، سید ابو الاعلی ، اسلامی ریاست ، لاہور : اسلامک پبلیکیشنز ، ص،  402
  20.   مودودی ، سید ابولاعلی ، سنت کی آئینی حیثیت لاہور : اسلامک پبلیکیشنز ، ص 282
  21.   فتوی نمبر : 144201201197دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
  22.   الجامع الصحیح ، رقم : 4867
  23.   أبو داود ، سلیمان بن اشعث السجستانی ،السنن ،  دار الرسالۃ العالمیۃ ، رقم :  2226، الترمذي ، محمد بن عیسی ، جامع الترمذی ، سعودی عرب : وزارة الشؤون الإسلاميةرقم :  1187
  24.   حقوق الزوجین ،ص، 69
  25.  حقوق الزوجین ، 126
  26.   حقوق الزوجین ، ص 130
  27.   تمرتاشی ، محمد بن عبد اللہ غزنی ، تنویر الأبصار ،ج4 ، ص 249ـ254 ابو المعالی البخاری ، محمود بن احمد ،  محیط البرهاني ، بیروت : دار الکتب العلمیہ ، ج 4 ص 1238
  28.   حقوق الزوجین ص 78
  29.   حقوق الزوجین ،  138
  30.   فتوی نمبر :  144104200978دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
  31.  النساء،129
  32.  حقوق الزوجین ، ص 142
  33.   بدائع الصنائع ، 524، رد المختار ، ج5ص 306
  34.   حقوق الزوجین ، 125
  35.   حقوق الزوجین ، ص 36 ، 37
  36.  البقرۃ: 237
  37.   حقو ق الزوجین ، ص 104
  38.   الطلاق : 1
  39.   النساء : 59
  40.   حقوق الزوجین ، ص 105
  41.   کاسانی  ، بدائع الصنائع ، بیروت : دار الکتب العلمیہ ج2، ص 247،
  42.   حصکفي، الدر المختار، بيروت، لبنان: دارالفکر ج، 3 ص، 66، 67،  الفتاویٰ الھندیۃ ، بیروت ، دار الکتب العلمیۃ  ، ج  : 1 ، ص:285
  43.   مودودی ، سید ابوالاعلی ،حقوق الزوجین ، لاہور : اسلامی پبلیکیشنز ،ص 116
  44.   بخاری،محمد بن اسماعیل ، الجامع الصحيح،بیروت : دار ابن کثیر ، رقم : 4843


’’الوفاء باسماء النساء‘‘ (محدّثات انسائیکلوپیڈیا) / ” تین طلاق :ایک سماجی المیہ“

ادارہ

علمی حلقوں میں یہ خبر بہت خوشی و مسرّت کے ساتھ سنی جائے گی کہ ڈاکٹر محمد اکرم ندوی(ولادت 1964) کی محدّثات انسائیکلوپیڈیا ، جس کا چرچا تقریباً 15 برس سے تھا ، منظرِ عام پر آگئی ہے۔  اسے دار المنھاج ، جدّہ ، سعودی عرب نے'الوفاء بأسماء النساء' کے نام سے 43 جلدوں میں شائع کیا ہے ۔

ڈاکٹر اکرم ندوی نے دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ سے 1981 میں عالمیت اور 1983 میں فضلیت کی ہے ۔  مجھے ان کے ساتھ 5 برس ہم درس رہنے کی سعادت حاصل رہی ہے۔  بعد میں انھوں نے لکھنؤ یونی ورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی حاصل کی ۔  ندوہ سے فراغت کے بعد انھوں نے ندوہ ہی میں چند برس تدریسی خدمت انجام دی ، پھر مولانا سید ابو الحسن علی ندوی رحمہ اللہ کی ہدایت پر برطانیہ چلے گئے اور آکسفورڈ سینٹر آف اسلامک اسٹڈیز کے فیلو بن گئے تھے ۔  چند برس قبل انھوں نے وہاں سے علیٰحدگی اختیار کرلی ہے۔  ان دنوں وہ السلام انسٹی ٹیوٹ کے پرنسپل اور کیمبرج اسلامک کالج کے ڈین ہیں۔  حدیث ، فقہ ، سوانح ، سفرنامہ اور دیگر موضوعات پر عربی ، اردو اور انگریزی میں ان کی تقریباً 3 درجن تصانیف اور تراجم ہیں ۔

زیرِ تذکرہ کتاب ان کا غیر معمولی کارنامہ ہے  _ اس میں عہدِ نبوی سے موجودہ دور تک کی دس ہزار ایسی خواتین کا تذکرہ ہے جنھوں نے کسی نہ کسی پہلو سے حدیثِ نبوی کی خدمت انجام دی ہے۔ مثلاً علمِ حدیث حاصل کرنے کے لیے دور دراز کا سفر کیا ہے ، حدیث کی روایت کی ہے ، حدیث کی تعلیم و تدریس کی خدمت انجام دی ہے ، احادیث حفظ کی ہیں ، حدیث کے مجموعے تیار کیے ہیں ، حدیث کے موضوع پر تصنیف و تالیف کا کام کیا ہے ، کتبِ حدیث کی شرح کی ہے ، حدیث کی تعلیم کے ادارے قائم کیے ہیں ، وغیرہ ۔ انھوں نے یہ کام 15 برس قبل کرلیا تھا ، پھر اس میں اضافے کرتے رہے  ۔ اس کے مقدمہ کا انھوں نے خود ہی انگریزی ترجمہ کرلیا تھا ، جو   UK سے Al_Muhaddithat : The women Scholars in Islam  کے نام سے 2007 میں شائع ہوگیا تھا ۔ (یہ انگریزی کتاب انٹرنیٹ پر موجود ہے )

اصل عربی کتاب کو طبع کرانے کی کوششیں اسی وقت سے جاری تھیں ۔عالم عرب کے کئی ناشروں سے بات ہوئی تھی ، لیکن بہت زیادہ ضخیم ہونے اور خطیر مصارف کی وجہ سے کوئی ناشر اسے چھاپنے کی ہمّت نہیں کرپارہا تھا ۔ بالآخر جدّہ کے دار المنہاج نے اس کا حوصلہ دکھایا اور اس کی دل چسپی سے مکمل انسائیکلوپیڈیا زیورِ طبع سے آراستہ ہوگئی ہے۔

بھائی اکرم ندوی اس عظیم علمی خدمت پر تحسین و ستائش کے مستحق ہیں ۔ پوری ندوی برادری کو ان پر ناز ہے ۔ انھوں نے یورپ میں بیٹھ کر ان مستشرقین کے الزام کا منھ توڑ جواب دیا ہے جو کہتے ہیں کہ اسلام نے عورت کو گھر کی چہار دیواری میں بند کرکے تحصیلِ علم سے  محروم رکھا ہے ۔

(ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی)

” تین طلاق :ایک سماجی المیہ“

قرآن کریم میں انسان کی عائلی زندگی سے متعلق جن معاملات کے بارے میں تفصیل سے اصولی ہدایات دی گئی ہیں ان میں نکاح و طلاق کے مسائل سرِ فہرست ہیں۔ نکاح کے مقاصد، نکاح میں مذہب کی اہمیت، تعددِ ازدواج، نکاح کے بعد کی زندگی میں خانگی ذمہ داریاں، میاں بیوی کے در میان ناچاقی و تنازعات کا حل اور دیگر امور کے بارے میں تفصیلی ہدایات موجود ہیں۔ اسی طرح اگر میاں بیوی کے در میان باہم نباه ممکن نہ رہے تو اس عقد کو ختم کرنے کا طریقہ کار بھی طلاق کی صورت میں بتایا گیا ہے۔ تاہم نکاح و طلاق کا انعقاد کیسے ہوگا، اس کی تفصیلات سے قرآن کریم میں تعرض نہیں کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان مسائل میں ایک سے زائد آراء اور طریق کار کی گنجائش پیدا ہو گئی۔ چنانچہ ائمہ مجتہدین نے اپنے ماحول اور عرف و رواج کے مطابق ان آیات کی تعبیر و تشریح کی۔

مناکحات کے باب میں جو مسئلہ قرنِ اوّل سے معرکہ آراء رہا وہ ایک مجلس کی تین طلاقیں ہیں۔ حضرات صحابہ کرام رضوان الله علیہم اجمعین کے ہاں بھی ایک مجلس کی طلاق ثلاثہ کے بارے میں ایک سے زائد آراء موجود تھیں۔ اسی طرح تابعین اور بعد کے ادوار میں ہر زمانے میں فقہائے کرام کے ہاں یہ مسئلہ مختلف فیہ رہا۔ ائمہ اربعہ نے اسے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے فیصلے کے بعد اجماعی مسئلے کے طور پر دیکھا جبکہ بعض دیگر کبار ائمہ اور بعد کے ادوار میں خود ائمہ اربعہ کے پیروکاروں میں نامور فقہائے کرام نے اسے ایک ایسے اجتہادی مسئلے کے طور پر لیا جس میں تعددِ آراء کی گنجائش موجود ہے۔

طلاق کا مسئلہ شرعی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک خالص سماجی مسئلہ بھی ہے۔ سماج پر اس کے منفی یا ناخوشگوار اثرات بہر صورت مرتّب ہوتے ہیں۔ اس لیے اس حوالے سے کوئی نقطۂ نظر اختیار کرتے وقت مسئلے کے سماجی پہلو کو ملحوظ رکھنا از حد ضروری ہے۔ ہمارے ہاں گزشتہ کئی دہائیوں سے اس مسئلے کے حوالے سے افراط و تفریط کی صورتِ حال ہے۔ ایک طرف ایقاعِ طلاق میں بے احتیاطی ہے اور دوسری طرف وقوعِ طلاق میں شدّت کا رویّہ ہے۔ حالانکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ مسئلے کو سماجی تناظر میں دیکھا جائے اور خاندان کو توڑنے کے رجحان کی حوصلہ شکنی کی جائے۔

عزیزم محمد تہامی بشر علوی نوجوان محقق ہیں۔ انہوں نے طلاقِ ثلاثہ کے مسئلے کو سماجی تناظر میں دیکھنے کی کو شش کی ہے۔ بیک وقت تین طلاقوں کو ایک طلاق قرار دینے کی حمایت میں مضبوط دلائل دیے ہیں۔ یکبارگی کی تین طلاقوں کے نتیجے میں حلالہ کی صورت میں جو شریعت کی روح کے خلاف حیلے اختیار کیے جاتے ہیں ان کی شرعی حیثیت بھی واضح کی ہے۔ ایک مجلس کی تین طلاقوں کے بارے میں متقدمین فقہاء اور معاصر اہل علم کے نقطہ ہائے نظر کو جمع کر کے مسئلے کے اجماعی پہلو پر بھی بحث کی ہے۔ علاوہ ازیں مسئلے کے ضمنی متعلقات یعنی حدودِ تقلید اور فقہی توسیع پر بھی عمده گفتگو کی ہے۔ مؤلف کے بقول اس کتاب کی تحریر کا محرک بیک وقت تین طلاقوں کی وجہ سے سماجی طور پر جنم لینے والے المیے ہیں کہ کس طرح تین طلاقوں کی وجہ سے آناًفاناً ایک ہنستا بستا گھر اجڑ کر رہ جاتا ہے۔

اسلامی نظریاتی کونسل نے بیک وقت تین طلاقوں کو تعزیری جرم قرار دینے کی سفارش کی ہے۔ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ آئے دن تین طلاقوں کے واقعات سامنے آتے ہیں۔ پھر جب غلطی پر ندامت کا احساس ہوتا ہے تو علماء سے رجوع کیا جاتا ہے۔ یہ کتاب اس حوالے سے علمی ضرورت پوری کرتی نظر آتی ہے۔ امید ہے علمائے کرام اس سے مستفید ہوں گے۔

کتاب کی زبان رواں اور اسلوبِ نگارش علمی و تحقیقی ہے۔ یکبارگی کی تین طلاقوں کے حوالے سے اس کتاب نے چبھتے ہوئے سوالات کو جنم دیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ علمی حلقے اس مسئلے کی سنگینی کا احساس کرتے ہوئے اسے اَز سرِ نو زیر غور لائیں اور ایک اجماعی موقف تشکیل دینے کی کوشش کی جائے۔ میرے خیال میں یہ کتاب اس اعتبار سے بھی لائق تحسین ہے کہ نوجوان اہل علم میں بھی احکامِ شرع کو سماج کے ساتھ جوڑ کر دیکھنے کا ذوق پروان چڑھنے لگا ہے۔ دعا ہے کہ الله تعالىٰ اس ذوق میں اضافہ فرمائے اور مستقبل قریب میں ہمیں اس حوالے سے مزید علمی تحقیقات دیکھنا نصیب ہوں۔

ڈاکٹر قبلہ ایاز

چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان

‎کتاب بذریعہ ڈاک منگوانے کے لیے حافظ طاہر صاحب سے رابطہ کریں:  923066426001

مارچ ۲۰۲۱ء

مسلم معاشروں میں عقل اور مذہب کی بحثمحمد عمار خان ناصر
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۷۴)ڈاکٹر محی الدین غازی
مولانا انور شاه کاشمیری ؒ كے درس حدیث کی خصوصیاتڈاکٹر حافظ محمد رشید
حضرت صدیق اکبرؓ کے اسوہ کے چند پہلومولانا ابوعمار زاہد الراشدی
شیعہ سُنّی اختلاف اور مشاہیرِ اسلام کا رویّہڈاکٹر اختر حسین عزمی
ہندو مذہبی صحائف میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئیاںمولانا مشفق سلطان
’’سائنسی دور اور مذہبی بیانیے‘‘محمد عمار خان ناصر

مسلم معاشروں میں عقل اور مذہب کی بحث

محمد عمار خان ناصر

عقل اور مذہب کے باہمی تعلق کی بحث  جدید مسلم معاشروں کی  اہم ترین تہذیبی بحث ہے جو مختلف سطحوں پر مختلف شکلوں میں    سامنے آتی رہتی ہے۔  تاہم اس پوری بحث کو   ایک تاریخی   تناظر میں دیکھنے اور اس کی اہمیت ومضمرات پر غور کرنے کی کوشش کم ہی کی جاتی ہے۔   یہ ایک مشکل کام ہے  اور     اس کے ایک جامع تناظر  کا سامنے آنا اہل دانش کے مابین تسلسل  کے ساتھ ہونے والی علمی گفتگو کے نتیجے میں  ہی ممکن ہے ۔ تاہم اس حوالے سے  چند ابتدائی معروضات  ان سطور میں پیش کرنے کی جسارت کی جا رہی ہے۔

(۱)

عقل اور  مذہب کے باہمی تعلق یا  موافقت ومخالفت  کی بحث میں  سب سے پہلا نکتہ جس کی تنقیح ضروری ہے، وہ  یہ ہے کہ عقل سے  مراد کیا ہے  اور کس مفہوم میں    مذہب کے ساتھ  اس کے موافقانہ یا مخاصمانہ تعلق کا سوال پیدا ہوتا یا زیر بحث  آتا ہے۔     اسی سے یہ بات سمجھنا بھی آسان ہوگا کہ  مذہب اور مذہبی عقائد کے عقلی یا غیر عقلی ہونے  کا کیا مطلب ہے یا مختلف  لوگ اس سے کیا مراد لیتے ہیں۔

عام بول چال میں ہم عقل کا لفظ حیاتیاتی مفہوم میں  ذہنی صحت کے لیے استعمال کرتے ہیں جس کے مطابق ہر  انسان جو  خود اپنے اور اپنے ارد گرد موجود  لوگوں اور چیزوں  کے ساتھ تفہیم اور  برتاو کا ایسا تعلق قائم کر سکے جو  عام طور پر انسان کرتے ہیں،  عاقل کہلاتا ہے اور  اس بنیاد پر سماجی واخلاقی ذمہ داریوں کا مکلف مانا جاتا ہے۔  جو انسان اس قابل نہیں ہوتا، اسے  پاگل یا فاتر العقل قرار دیا جاتا ہے۔  عقل کی یہ  تعریف  انفرادی سطح  سے تعلق رکھتی ہے،  کسی فرد کی عملی ذمہ داری کے تناظر میں ہوتی ہے اور  قانون واخلاق سے متعلق سوالات میں  کام آتی ہے۔ ظاہر ہے، اس مفہوم میں مذہب یا عقل کے  باہمی تعلق کا سوال    پیدا نہیں ہوتا۔

عقل کا ایک دوسرا مفہوم فلسفیانہ مباحث  کے دائرے سے تعلق رکھتا ہے۔ یہاں عقل سے مراد  فکر واستدلال کے قوانین کے تحت حکم لگانے کی صلاحیت  ہوتی ہے جس کی مدد سے انسانی شعور اپنی فعلیت یعنی  اپنے کام کرنے کے   انداز کا      جائزہ لے کر  فکر واستدلال کے قوانین  بھی متعین کر سکتا ہے  اور ان قوانین کی مدد سے اپنے  معروضات مثلا بدیہیات فکر، جذبات واحساسات،  اخلاقی داعیات، اور  حسی ذرائع سے  ملنے والے مشاہدات وتجربات پر کوئی حکم بھی لگا سکتا ہے اور اسی طرح معلوم چیزوں کی مدد سے غیر معلوم    چیزوں کے متعلق قیاسات  کر سکتا ہے۔  مذہب اور عقل کے باہمی تعلق  کی تفہیم کا سوال   بنیادی طور  پر  اس سطح پر بھی پیدا نہیں ہوتا، کیونکہ اس صلاحیت یا  طرز فکر میں  تمام انسان اور سارے انسانی معاشرے مشترک ہیں اور  انسانی تاریخ میں مذہبی اعتقاد  کی معنویت بھی  انسانی شعور کے  داعیات اور  انسانی تجربے  کے تناظر میں ہی واضح کی جاتی رہی ہے۔

البتہ عقل کا ایک تیسرا مفہوم  ہے جو   انسانی تاریخ میں تہذیبی فکر  کے متخالف ارتقاء سے  جدید دور میں   سامنے آیا ہے  اور   یہاں عقل    کا مفہوم متفق علیہ اور مشترک نہیں رہتا۔  اس اختلاف کا تعلق وجود کے تصور  اور وجود کے بارے میں   کوئی حکم لگانے یا کسی حکم کو قبول کرنے کے  جائز معیارات سے ہے۔ اسلامی علمیات میں  وجود، عالم شہود اور عالم غیب دونوں کو   محیط ہے اور دونوں کا علم یا کم سے کم ان کے متعلق ایک تصور قائم کرنا،  مختلف نوعیت کے ذرائع علم سے  ممکن ہے۔   اس تصور  وجود کے لحاظ سے  اگر کوئی  حکم یا قضیہ انسانی شعور   کے مطالبات ومقتضیات سے ہم آہنگ ہے، یعنی شعور اس کو قبول کرنے کے لیے تیار ہے اور فکر واستدلال کے قوانین اس کی نفی نہیں کرتے، بلکہ اس کی تائید کرتے ہیں  تو اسے قبول کرنا  عقلی ہے، چاہے اس کا تعلق  عالم غیب سے ہو۔  اس کے مقابلے میں جدید مغربی فکر میں تدریجا جس تصور وجود کو قبول  کر لیا گیا ہے، اس میں عالم غیب  ایک موہوم یا انسانی تفکر کے لیے ایک غیر متعلق چیز ہے اور اس کے حوالے سے  وجود کے کسی بھی پہلو کی تفہیم، ظاہر ہے غیر عقلی قرار پاتی ہے  ۔  اس مفہوم کے لحاظ سے   مذہب اور عقل کے  مابین ایک حقیقی اختلاف  پایا جاتا ہے اور  دراصل یہی  دائرہ گفتگو یا مناقشے کا اصل دائرہ ہے۔ مذہبی عقائد وتعلیمات، مذہبی رسوم اور مذہبی  اخلاقیات وقوانین سےمتعلق تمام اختلافات  اسی بنیادی اختلاف کی فرع ہیں۔

عقل کے  حوالے سے اصطلاح کا ایک اختلاف  خود اسلامی علمیات کے  تناظر میں عقیدہ وایمان پر گفتگو کرنے والوں کے مابین بھی دکھائی دیتا ہے۔  اسلامی روایت  میں  مذہبی عقائد یعنی وجود باری، توحید، رسالت اور  بعث بعد الموت کو  عقلی مانا جاتا ہے اور عقلی دلائل سے ان کے ’’اثبات “ کی سعی کی جاتی ہے، تاہم اس ساری سعی وکاوش کا   مقصد  یہ بتانا نہیں ہوتا کہ  اہل ایمان نے ان دلائل کی وجہ سے  یا ان کا قائل ہونے کے بعد  ان عقائد کو قبول کیا ہے یا یہ کہ اگر  نبی کے ذریعے سے  انسانوں کو یہ خبر نہ دی جاتی تو بھی وہ محض عقلی استدلال کے زور پر  ان  تک پہنچ سکتے تھے۔    اس صورت حال  کو بعض اہل فکر یوں  تعبیر کرتے ہیں کہ ایمان یا عقیدہ ایک غیر عقلی چیز ہے، جس سے ان کی مراد یہ ہوتی ہے کہ اسے انسانی عقل نے ازخود اور اپنے بل بوتے پر  دریافت نہیں کیا اور نہ کر سکتی ہے۔     اسی طرز فکر کے تسلسل میں  بعض اہل فکر ’’علم “ کا اطلاق ان    چیزوں پر کرتے ہیں جو  معروف عقلی ذرائع سے انسان کی رسائی میں آئی ہوں،  جبکہ ایمانیات  مثلا   خدا اور فرشتوں وغیرہ کے تصور کو  علم کے بجائے صرف ’’خبر “ قرار  دیتے ہیں۔

یہ  اگرچہ کافی حد تک اصطلاح کا  فرق ہے، تاہم  علم کلام کی کلاسیکی روایت کے تناظر میں  غور وفکر کرنے والے حضرات کے لیے خلجان کا باعث بنتا ہے، کیونکہ  اسلامی علمیات میں علم ایک جامع  اصطلاح ہے جس میں غیبیات بھی  شامل ہیں، چاہے ان تک رسائی کا ذریعہ  صرف نبی کی دی ہوئی خبر ہو۔ اسی طرح نبی پر اعتماد  کی نوعیت بھی  اندھے اعتقاد یا توہم کی نہیں ہوتی بلکہ اس کی  بھی انسانی فطرت، انسانی عقل وشعور اور انسانی تجربے میں اپنی بنیادیں ہوتی ہیں جن کی طرف متوجہ کرنا، نبی پر ایمان کی دعوت دیتے ہوئے، خود  قرآن  مجید  کے طرز استدلال کی ایک بنیادی خصوصیت ہے۔   اس نکتے کی تنقیح پر مزید  بات ہو سکتی ہے کہ کیا ایمان کی دعوت دراصل  نبی کی ذات پر اعتماد   کرنے کی دعوت ہوتی ہے، جبکہ  عقل وفطرت کے شواہد کی حیثیت مویدات کی ہوتی ہے یا معاملہ اس کے برعکس ہے،  لیکن  سردست  اس  تفصیل میں پڑے بغیر اصطلاح  کے فرق کو سمجھ لینا ،  باہمی تفہیم کے لیے، امید ہے کہ کافی ہوگا۔

(۲)

عقل کا مفہوم کیا ہے اور کن معنوں میں  عقل اور مذہب کے باہم موافق  یا مخالف ہونے  کا سوال زیربحث لایا جا سکتا ہے،  یہ واضح ہونے کے بعد اب یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ  اس سوال کا  تاریخی تناظر کیا ہے اور خاص طور پر ہمارے یعنی مسلمان معاشروں  کے لیے اس گفتگو کی اہمیت اور معنویت کیا ہے۔  

ہمارے نقطہ نظر سے اس کی اہمیت دو پہلووں سے ہے:  ایک نظری وفکری اور دوسرا  عملی، انتظامی اور تدبیری۔ نظری پہلو کا تعلق تاریخ فکر  سے ہے،  یعنی   اس پورے سیاق   کو  گہرائی میں جا کر سمجھنا جس میں   مغربی فکر میں  وجود کے اس تحدید شدہ تصور کو  اختیار کیا گیا۔  اس کا عملی وتدبیری پہلو  یہ ہے کہ   مسلمان معاشروں میں  اس نئے تصور وجود نے جو فکری تقسیم پیدا کی ہے،  اس کو کیسے دیکھا جائے  اور   اس امکان کا جائزہ لیا جائے کہ آیا اس تقسیم کا   قومی سطح پر تشتت اور افتراق  ہی کے رخ پر آگے بڑھنا  ناگزیر ہے یا اسے کوئی  تعمیری   صورت بھی دی جا سکتی ہے۔

پہلے، نظری پہلو کو دیکھیے:

عقل جدید جس تصور وجود   پر مبنی ہے،   وہ دراصل  بہت سے  تاریخی اسباب کے انسانی فکر پر مرتب کردہ اثرات اور ان   اثرات کو ایک شعوری اور ارادی  ججمنٹ کی شکل دینے کا نتیجہ ہے۔ ان میں سے اہم ترین سبب  وہ انتہائی کامیاب کوششیں ہیں جو  مغربی معاشروں میں حس وتجربہ سے تعلق رکھنے والے معاملات میں  توہم پرستی اور مذہبی خوش اعتقادی  کے خاتمے کے لیے کی گئیں۔   مذہبی خوش اعتقادی   کی  تہمیش  (marginalization)  میں   اصلاح مذہب کی تحریک نے جبکہ  واقعات ومظاہر  کے فطری اسباب کو  سمجھنے اور انھیں انسانی علم کے دائرے  میں لانے  میں سائنس نے بہت اہم کردار ادا کیا اور یوں انسانی علم نے  فطرت کی تفہیم اور اس کے ساتھ تعامل    کو   عقلی وتجربی بنیادوں پر استوار کرنے میں   غیر معمولی کامیابی حاصل کی۔  

تاہم  مغربی فکر میں تصور وجود کی تحدید   یہاں  تک نہیں رہی، بلکہ اس سے آگے بڑھ کر  مطلقا عالم غیب کے وجود   اور اس کے ساتھ  کسی بھی قسم کےربط وتعلق کے عدم امکان کو بھی    تصور وجود کا  جزو لاینفک بنا لیا گیا۔   بظاہر  سائنسی تحقیق، تجربیت اور  فطرت کی تفہیم کے لیے  اس کی ضرورت نہیں تھی اور ان دونوں کو ساتھ ساتھ قائم رکھا جا سکتا تھا، لیکن   جدیدیت کا غالب رجحان  اس کے خلاف ہے۔ یوں  تاریخ فکر کے لحاظ سے   گفتگو اور بحث ومناقشہ کا ایک اہم  موضوع یہ سوال بنتا ہے کہ  مغربی فکر میں تصور وجود کی اتنی  انتہائی تحدید    کے محرکات اور اسباب کیا ہیں اور یہ سفر کن  فکری مراحل سے  گزرتا ہوا اس نتیجے تک پہنچا ہے۔

اس حوالے سے اہم ترین نکتہ اس سوال کی تہہ میں  جانا ہے کہ اونٹ کی مینگنی سے  اونٹ کے وجود کا اور  اس پر قیاس کرتے ہوئے کائنات کے وجود سے خدا کے وجود کا استدلال  جو دور جدید سے پہلے سادہ اور فطری انسانی شعور  کے لیے فیصلہ کن  تھا، جدید  شعور کے لیے وہ کیوں    موثر نہیں ہے؟  عالم غیب سے متعلق جدید موقف کی توجیہ سادہ طور پر  مذہبی جبر کے رد عمل کے طور پر کرنا تاریخی طور پر زیادہ درست نہیں۔ یہ ایک پیچیدہ  مسئلہ ہے جس کو  اس کی ساری جہتوں کے ساتھ اور انسانی شعور کی پیچیدگیوں  کو  پوری طرح مد نظر رکھتے ہوئے ہی   اس کی درست تفہیم ہو سکتی ہے۔ ان پیچیدگیوں کا  کسی حد تک اندازہ   اس کلامی موقف سے کیا جا سکتا ہے جو   ایمان کو  عقل  اور عقلی فعلیت کے دائرے سے باہر  قرار دینے پر اصرار کرتا ہے۔

اس بحث کی، عمل اور تدبیر کے حوالے سے اہمیت کو سمجھنے کے لیے   اس فرق کو  پیش نظر رکھنا ضروری ہے جو  مغربی معاشروں کے تاریخی سیاق  اور مسلمان معاشروں کے تاریخی تناظر میں پایا جاتا ہے۔

مغربی فکر میں جدید تصور  وجود اور اس پر مبنی تصور عقل کو  ایک خاص تاریخی  سیاق میں    صدیوں تک جاری رہنے والی ایک عقلی سرگرمی کے نتیجے میں قبول کیا گیا ہے۔ اس سرگرمی کا محوری نکتہ ایک  نئے تصور انسان کی تشکیل رہا ہے۔ جدید تصور وجود کی تشکیل بنیادی طور پر  اس نئے تصور انسان  کی  تحدیدات اور ضروریات کے تحت ہوئی ہے اور  جوں جوں  تصور انسان کی تحدید  ہوئی ہے، اس کے بالکل متوازی طور پر  تصور وجود کی  بھی تحدید ہوتی چلی گئی ہے۔     عقل جدید   اس بات کو بہت اچھی طرح اور  گہرائی کے ساتھ سمجھتی ہے کہ  وجود کو عالم شہود تک محدود کر دینے کا  موقف انسانی شعور کے لیے ایک  بحرانی صورت حال پیدا کرنے کا موجب ہے، کیونکہ  انسانی شعور کی بنیادی ترین طلب  وجود فی نفسہ کے بامعنی ہونے کے  تناظر میں  انسانی زندگی کی معنویت کی تلاش  ہے جو عالم غیب  کو تصور وجود کا حصہ  بنائے اور غیب وشہود کو  باہم متعلق مانے بغیر ممکن نہیں۔    

اس انتہائی   مشکل سوال کا حل  مغربی فکر میں  یہ نکالا گیا ہے کہ مستند انسانی شعور کی  ایک نئی تعریف  وضع کر کے اب تک کی پوری انسانی تاریخ کے   شعور  پر جھوٹا اور مبنی بر توہم ہونے کا حکم لگا دیا جائے، یعنی   یہ پوزیشن لے لی جائے کہ  انسانی شعور میں  کائناتی سطح پر معنی   کی  طلب ہی   ایک جھوٹی اور مصنوعی  طلب ہے۔  انسان جانوروں میں سے ایک جانور ہے جس کے لیے  حیاتیاتی بقا   اور فطرت پر تصرف حاصل کرنے کے جبلی داعیے کی تکمیل کے علاوہ   اور کسی قسم کا کوئی معنی اپنے اندر حقیقت نہیں رکھتا۔ ہاں، کسی حادثے کے نتیجے میں انسان کو عقل مل  گئی ہے جس کی مدد سے وہ دوسرے جانوروں کے مقابلے میں  اپنی جبلی  ضرورتوں کی تکمیل زیادہ بہتر اور منظم طریقے سے کر سکتا ہے۔  اخلاقیات کی ضرورت صرف تنظیم   تعلقات کو مشترکہ طو رپر قابل قبول اساسات فراہم کرنے  کے پہلو سے ہے۔  اس سے زائد ، زندگی میں کسی  معنویت کی تلاش  حماقتوں میں سے ایک حماقت ہے جس میں   اب تک کا سارا انسانی شعور مبتلا رہا ہے۔ فرد کی حیثیت سے انسان اب بھی اس وہم سے کوئی رشتہ ناتا رکھنا چاہے تو رکھ سکتا ہے، لیکن   انسانی معاشرت کی اجتماعی تنظیم میں مذہبی اقدار    کا کوئی راہ نما کردار  تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔

تاہم،  یہاں ہمارے لیے قابل توجہ نکتہ  یہ ہے کہ مغربی معاشروں  کے تناظر میں   انسان کی اس حیوانی تفہیم کا موقف    اور  مذہبی اقدار  کو   انسانی زندگی کی تشکیل کے دائرے سے بے دخل کرنے کا فیصلہ  کوئی  ایسا اضطراب، خلفشار یا انتشار پیدا نہیں کرتا جس سے   ان کا تہذیبی   سفر  رک جائے۔  مغرب میں اجتماعی شعور  اپنی تاریخ سے، اس میں   فکری تبدیلیوں کے مختلف مدارج سے  اور ان   سے وجود میں آنے والے فکری امکانات اور پوزیشنز سے پوری طرح واقف ہے۔ اس کے مقابلے میں ، مسلمان معاشروں کا تعارف ، دور جدید کی تمام تہذیبی بحثوں کی طرح، عقل ومذہب کی اس بحث  سے  بھی ایک سوال کی صورت میں نہیں ہوا  جس پر ہمیں اپنے تہذیبی سیاق  میں  غور وفکر  کرنا ہے، بلکہ عقل کے ایک نوتشکیل شدہ تصور اور اس کی بنیاد پر مذہبی اعتقاد پر لگائے گئے ایک حکم کی  صورت میں ہوا ہے۔  دوسرے لفظوں میں، ہمارے اجتماعی شعور کے سامنے  یہ سوال بطور سوال نہیں آیا، بلکہ ایک طے شدہ جواب ساتھ لے کر اور اس مطالبے کے ساتھ آیا ہے کہ  اس جواب کو اور اس کے تمام مفروضات کو  یہ تسلیم کرتے ہوئے قبول کرو کہ  تمھارے اپنے تہذیبی شعور میں اس سوال کا جو جواب موجود ہے، وہ اب علم وعقل کی نظر کوئی وقعت نہیں رکھتا۔

یوں مسلمان معاشروں میں جب یہ موقف پیش کیا جاتا ہے تو    ہماری فکری تاریخ میں  وہ سیاق موجود نہ ہونے کی وجہ سے جس میں  مذہبی عقیدے کی وجودی حیثیت اور   انسانی معاشرے کے لیے مذہبی اقدار   کی معنویت سے متعلق عقل جدید  کی پوزیشن اپنے پورے پس منظر کے ساتھ  معلوم ہو، اس کا نتیجہ  ایک گہرے وجودی  اضطراب اور  اجتماعی شعور  کی سطح پر  شدید قسم کی مخاصمانہ تقسیم  کی صورت میں  سامنے آتا ہے۔   سیاسی مفہوم میں سیکولرزم  کی آئیڈیلائز   یشن   کے مرحلے میں یہ تقسیم    کسی حد تک   باہمی   گفتگو  کی گنجائش رہنے دیتی ہے، لیکن  اس سے اگلا مرحلہ اعتقادی سیکولرزم  کا ہوتا ہے جو فی نفسہ مذہب  اور انسانی تاریخ میں اس کے کردار کی demonization سے کم    تر کسی پوزیشن   پر اکتفا نہیں کر سکتا۔

اس صورت حال میں انسانی سطح پر سب سے بڑا المیہ یہ ہوتا ہے کہ  ایک مشترک شناخت،   تاریخ اور تہذیبی پس منظر رکھنے کے باوجود  خط تقسیم کے دونوں جانب   موجود   فریق   اشتراک، اجتماعیت اور  باہمی ہمدردی کے جذبات اور مشترک انسانی  سعی وجہد کے  داعیات سے   عاری ہوتے چلے جاتے ہیں۔  روایتی تہذیبی شعور کے حاملین کے لیے   نئی تہذیبی  شناخت  اختیار کرنے والوں پر ’’مرعوبیت “ اور ’’غداری “ کا نفسیاتی و اخلاقی حکم لگائے بغیر انھیں دیکھنا ممکن نہیں رہتا، اور     عقل جدید کے متوسلین  خود کو اس پر مجبور پاتے ہیں کہ  جس تہذیبی شعور سے انھوں نے   علیحدگی اختیار کی ہے،  اس کو اور اس   کے تمام تاریخی وتہذیبی مظاہر   کو   تحقیر اور استہزا کی نظر سے  خود بھی دیکھیں اور دوسروں کو بھی دکھانے کی کوشش کریں تاکہ اپنے متعلق تہذیبی ’’غداری “ کے تاثر یا الزام کو   counterbalance کر سکیں۔ نتیجہ یہ کہ  تہذیبی سفر میں  کسی بھی سمت میں مثبت پیش رفت ، فریقین کے نقطہ نظر سے،  اس سے مشروط قرار پاتی ہے کہ میدان عمل، مخالف تہذیبی موقف  اور اس کے حاملین سے بالکل   پاک ہو جائے اور اس تطہیر کو باقاعدہ  ایک سیاسی انداز کی مہم کا ہدف بنایا جائے۔  یہ زاویہ نظر ایک شکاری ذہنیت   (predatory mindset) کو جنم دیتا ہے  جس میں  ہر فریق، مخالف کو    dehumanize کرنے   اور اس کے مواقع  پیدا کرتے رہنے  کو  اپنی حکمت عملی کا بنیادی پتھر تصور کرتا ہے۔

جب ہم یہ کہتے ہیں کہ عقل ومذہب کی بحث کو  اس کے درست تاریخی اور تہذیبی سیاق میں   موضوع بنانے کی ضرورت ہے تو ہماری مراد اس سے بنیادی طور پر یہی دو پہلو ہوتے ہیں۔  ہمیں  ایک طرف گہرائی کے ساتھ مغربی  معاشروں کی تاریخ فکر کو    اور ان  تاریخی اسباب کو  جاننے کی ضرورت ہے جس میں انسان،  عقل اور وجود کے  نئے تصورات تشکیل دیے گئے اور  انھیں  انسانی شعور کے لیے واحد ممکن انتخاب  بنانے کا تمام تر فکری لوازمہ مہیا کیا گیا۔  دوسری طرف  اس تاریخی جبر کا حقیقت پسندانہ اور  ہمدردانہ ادراک، ہماری  اجتماعی ضرورت ہے جس نے   ہمارے معاشروں میں شعور اور تہذیبی شناخت کی سطح پر ایک گہری تقسیم  پیدا کر دی ہے  اور جس  کو resolve کرنے کی کوئی تعمیری  صورت  نکالنا   ہر دو  جانب کے اہل دانش کی مشترکہ  تہذیبی ذمہ داری  بنتی ہے۔


اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۷۴)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(234) السیئات کا ترجمہ

سیئات اصل میں صفت ہے اس کا موصوف اگر اعمال ہوں تو برائیاں مراد ہوتی ہیں، اور اگر احوال ہوں تو بدحالیاں مراد ہوتی ہیں، درج ذیل آیت میں حسنات سے خوش حالیاں اور سیئات سے بدحالیاں مراد ہیں:

وَقَطَّعنَاہُم فِی الاَرضِ اُمَماً مِّنہُمُ الصَّالِحُونَ وَمِنہُم دُونَ ذَلِکَ وَبَلَونَاہُم بِالحَسَنَاتِ وَالسَّیِّئَاتِ لَعَلَّہُم یَرجِعُون۔ (الاعراف: 168)

”اور ہم ان کو خوش حالیوں اور بدحالیوں سے آزماتے رہے کہ شاید باز آجائیں“۔ (محمد جوناگڑھی)

جب کہ آگے درج کی گئی آیت میں بہت سے لوگوں نے سیئات کا ترجمہ برائیاں یا گناہوں کے نتائج کیا ہے، مولانا امانت اللہ اصلاحی کے مطابق سیئات سے مراد قیامت کے اہوال اور مصائب ہیں جن سے اہل ایمان کو بچالیا جائے گا، قیامت اور اہل ایمان کے تذکرے کے لحاظ سے یہ مفہوم زیادہ مناسب لگتا ہے۔

وَقِہِمُ السَّیِّئَاتِ وَمَن تَقِ السَّیِّئَاتِ یَومَئِذٍ فَقَد رَحِمتَہُ وَذَلِکَ ہُوَ الفَوزُ العَظِیمُ۔ (غافر: 9)

”اور انہیں گناہوں کی شامت سے بچالے، اور جسے تو اس دن گناہوں کی شامت سے بچائے تو بیشک تو نے اس پر رحم فرمایا، اور یہی بڑی کامیابی ہے“۔ (احمد رضا خان)

”اور ان کے برے نتائج اعمال سے بچا اور جن کو تو نے اس دن برے نتائج سے بچایا تو وہی ہیں جن پر تونے رحم فرمایا اور یہی در حقیقت بڑی کامیابی ہے“۔ (امین احسن اصلاحی)

”اور بچا دے اُن کو برائیوں سے، جس کو تو نے قیامت کے دن برائیوں سے بچا دیا اُس پر تو نے بڑا رحم کیا، یہی بڑی کامیابی ہے“۔ (سید مودودی)

”اور ان کو آفتوں سے بچا اور جن کو تو نے اس دن آفتوں سے بچایا تو وہی ہیں جن پر تونے رحم فرمایا اور یہی در حقیقت بڑی کامیابی ہے“۔ (امانت اللہ اصلاحی)

(235) نعماء  کا ترجمہ

وَلَئِن اَذَقنَاہُ نَعمَاء بَعدَ ضَرَّاء مَسَّتہُ۔ (ہود :10)

”اور اگر اُس مصیبت کے بعد جو اُس پر آئی تھی ہم اسے نعمت کا مزا چکھاتے ہیں“۔ (سید مودودی)

”اور اگر ہم اسے نعمت کا مزہ دیں اس مصیبت کے بعد جواسے پہنچی“۔ (احمد رضا خان)

”اور اگر کسی تکلیف کے بعد، جو اس کو پہنچی، اس کو نعمت سے نوازتے ہیں“۔ (امین احسن اصلاحی)

”اور اگر تکلیف پہنچنے کے بعد آسائش کا مزہ چکھائیں“۔ (فتح محمد جالندھری)

آسائش والا ترجمہ لفظ نعماء سے قریب تر ہے۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی یہاں نعماء کا ترجمہ خوش حالی کرتے ہیں، جب کہ ضراء کا مفہوم تنگ حالی ہے۔ امام طبری کی درج ذیل تفسیر لفظ نعماء کی بخوبی وضاحت کرتی ہے۔

یقول تعالی ذکرہ: ولئن نحن بسطنا للانسان فی دنیاہ، ورزقناہ رخاءً فی عیشہ، ووسعنا علیہ فی رزقہ، وذلک ہی النّعم التی قال اللہ جل ثناؤہ: ولئن اذقناہ نعماء۔ وقولہ: بعد ضراءمستہ، یقول: بعد ضیق من العیش کان فیہ، وعسرۃ کان یعالجہاَ۔

(236) دعی اللہ کا ترجمہ

دُعِیَ اللہ کا مطلب ہے اللہ کو پکارا گیا، جب کہ دُعِیَ الی اللہ کا مطلب ہے اللہ کی طرف بلایا گیا، بعض مترجمین نے درج ذیل آیت میں دُعِیَ اللہ  کا ترجمہ اللہ کی طرف بلانا یا اللہ کی دعوت دینا کیا ہے، جو درست نہیں ہے۔ یہاں اللہ کو پکارنا صحیح ترجمہ ہے اور اس سے مراد اللہ کی عبادت کرنا ہے۔ اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ اِذَا دُعِیَ اللَّہُ وَحدَہُ کے مقابل میں  واِن یُشرَک بِہِ آیا ہے۔

ذَلِکُم بِاَنَّہُ اِذَا دُعِیَ اللَّہُ وَحدَہُ کَفَرتُم وَاِن یُشرَک بِہِ تُؤمِنُوا۔ (غافر:12)

”(جواب ملے گا) یہ حالت جس میں تم مبتلا ہو، اِس وجہ سے ہے کہ جب اکیلے اللہ کی طرف بلایا جاتا تھا تو تم ماننے سے انکار کر دیتے تھے اور جب اُس کے ساتھ دوسروں کو ملایا جاتا تو تم مان لیتے تھے“۔ (سید مودودی)

”یہ انجام تمہارے سامنے اس وجہ سے آیا کہ جب اللہ واحد کی دعوت دی جاتی تو تم اس کا انکار کرتے اور اس کے شریک ٹھہرائے جاتے تو تم مانتے“۔ (امین احسن اصلاحی)

”یہ (عذاب) تمہیں اس لیے ہے کہ جب صرف اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا تو تم انکار کر جاتے تھے اور اگر اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا جاتا تھا تو تم مان لیتے تھے“۔ (محمد جوناگڑھی، اللہ کا ذکر مراد نہیں بلکہ اللہ کی عبادت مراد ہے۔)

”یہ اس پر ہوا کہ جب ایک اللہ پکارا جاتا تو تم کفر کرتے اور ان کا شریک ٹھہرایا جاتا تو تم مان لیتے“۔ (احمد رضا خان)

”یہ اس لیے کہ جب تنہا خدا کو پکارا جاتا تھا تو تم انکار کردیتے تھے۔ اور اگر اس کے ساتھ شریک مقرر کیا جاتا تھا تو تسلیم کرلیتے تھے“۔ (فتح محمد جالندھری)

(237)  مَا اُرِیکُم اِلَّا مَا اَرَی کا ترجمہ

قَالَ فِرعَونُ مَا اُرِیکُم اِلَّا مَا اَرَی وَمَا اَہدِیکُم اِلَّا سَبِیلَ الرَّشَاد۔ (غافر:29)

”فرعون بولا کہ میں تم کو اپنی سوچی سمجھی رائے بتارہا ہوں“۔ (امین احسن اصلاحی)

”فرعون نے کہا میں تو تم لوگوں کو وہی رائے دے رہا ہوں جو مجھے مناسب نظر آتی ہے“۔ (سید مودودی)

مولانا امانت اللہ اصلاحی اس کا ترجمہ’ واقعی رائے ‘تجویز کرتے ہیں۔ ”میں تم کو اپنی واقعی رائے بتارہا ہوں“۔

(238) یوم الآزفۃ کا ترجمہ

درج ذیل آیت میں الآزفۃ قیامت کی صفت ہے یوم کی صفت نہیں ہے۔ لیکن بعض لوگوں نے اسے یوم کی صفت بناکر ترجمہ کیا ہے:

وَاَنذِرہُم یَومَ الآزِفَۃِ اِذِ القُلُوبُ لَدَی الحَنَاجِرِ کَاظِمِینَ مَا لِلظَّالِمِینَ مِن حَمِیمٍ وَلَا شَفِیعٍ یُطَاع۔ (غافر:18)

”اے نبی، ڈرا دو اِن لوگوں کو اُس دن سے جو قریب آ لگا ہے“۔ (سید مودودی)

”اور ان کو قریب آنے والے دن سے ڈراؤ“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اور پیغمبر انہیں آنے والے دن کے عذاب سے ڈرائیے“۔ (جوادی)

مذکورہ بالا ان ترجموں میں الآزفۃ کو یوم کی صفت بنایا گیاہے، جو درست نہیں ہے، جب کہ درج ذیل ترجموں میں یوم کی صفت کے طور پر ترجمہ نہیں کیا گیا ہے:

”اور انہیں ڈراؤ اس نزدیک آنے والی آفت کے دن سے“۔ (احمد رضا خان)

”اور ان کو قریب آلگنے والی آفت کے دن سے ڈرا“۔ (امین احسن اصلاحی، آلگی آفت سے ہونا چاہیے)

”اور انہیں بہت ہی قریب آنے والی (قیامت سے) آگاہ کر دیجئے“۔(محمد جوناگڑھی، اس ترجمے میں یوم کا ترجمہ نہیں ہوا ہے)

(239) وَمَا کَیدُ الکَافِرِینَ اِلَّا فِی ضَلَال کا ترجمہ

فَلَمَّا جَاءہُم بِالحَقِّ مِن عِندِنَا قَالُوا اقتُلُوا اَبنَاء الَّذِینَ آمَنُوا مَعَہُ وَاستَحیُوا نِسَاءہُم وَمَا کَیدُ الکَافِرِینَ اِلَّا فِی ضَلَال۔ (غافر: 25)

اس آیت میں ضلال کا ذکر کید کے لیے آیا ہے، اس لیے یہاں ضلال بھٹکنے یا غلطی پر ہونے کے معنی میں نہیں ہے بلکہ ناکام ہونے کے معنی میں ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہاں یہ جملہ حالیہ ہے اور تمام کافروں کے سلسلے میں عام اصول بتارہا ہے، یہ ماضی میں کسی خاص گروہ کی چال کے ناکام ہونے کی خبر نہیں دے رہا ہے۔ درج ذیل ترجمے ملاحظہ کریں:

”پھر جب وہ ہماری طرف سے حق ان کے سامنے لے آیا تو انہوں نے کہاجو لوگ ایمان لا کر اس کے ساتھ شامل ہوئے ہیں ان سب کے لڑکوں کو قتل کرو اور لڑکیوں کو جیتا چھوڑ دو۔ مگر کافروں کی چال اکارت ہی گئی“۔ (سید مودودی)

”اور ان کافروں کی چال بالکل رائیگاں گئی“۔ (امین احسن اصلاحی)

”اور کافروں کا داؤ نہیں مگر بھٹکتا پھرتا“۔ (احمد رضا خان)

”اور کافروں کی جو حیلہ سازی ہے وہ غلطی میں ہی ہے“۔ (محمد جوناگڑھی)

مولانا امانت اللہ اصلاحی ترجمہ کرتے ہیں: ”اور کافروں کی چال بالکل رائیگاں جاتی ہے“۔

(240)  ذرونی کا مفہوم

وَقَالَ فِرعَونُ ذَرُونِی اَقتُل مُوسَی وَلیَدعُ رَبَّہُ اِنِّی اَخَافُ اَن یُبَدِّلَ دِینَکُم اَو اَن یُظہِرَ فِی الاَرضِ الفَسَاد۔ (غافر:26)

اس آیت میں لفظ ذرونی کا ترجمہ عام طور سے مجھے چھوڑو کیا گیا ہے۔ اور اس کی تفسیر اس طرح کی گئی ہے کہ گویا فرعون کو اس کی قوم کے لوگ اس اقدام سے روکے ہوئے تھے، اور وہ ان سے اجازت چاہتا تھا۔

”اور فرعون بولا کہ مجھے چھوڑو کہ موسی کو قتل کردوں اور وہ اپنے پروردگار کو بلالے۔ مجھے ڈر ہے کہ وہ (کہیں) تمہارے دین کو نہ بدل دے یا ملک میں فساد (نہ) پیدا کردے“۔ (فتح محمد جالندھری)

”ایک روز فرعون نے اپنے درباریوں سے کہا،چھوڑو مجھے، میں اِس موسی کو قتل کیے دیتا ہوں“۔ (سید مودودی)

”اور فرعون بولا مجھے چھوڑو میں موسی کو قتل کروں“۔ (احمد رضا خاں)

”اور فرعون نے کہا مجھے چھوڑو میں موسی کو قتل کیے دیتا ہوں“۔ (امین احسن اصلاحی)

مولانا امانت اللہ اصلاحی توجہ دلاتے ہیں کہ یہ عربی زبان کا اسلوب ہے، جیسے اردو میں کہتے ہیں لو میں یہ کردیتا ہوں یا لاؤ  میں یہ کردیتا ہوں۔ یہاں ترجمہ ہوگا:

”اور فرعون نے کہا لو میں موسی کو قتل کیے دیتا ہوں“۔

قرآن مجید میں یہ تعبیر اللہ کے سلسلے میں بھی آئی ہے، اور ظاہر ہے کہ اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالی کو کوئی روکے ہوئے ہے اور اللہ کسی سے اجازت مانگتا ہے۔ درج ذیل مثال سامنے رکھی جاسکتی ہیں۔

فَذَرنِی وَمَن یُکَذِّبُ بِہَذَا الحَدِیثِ۔ (القلم:44)

”تو مجھ کو اس کلام کے جھٹلانے والوں سے سمجھ لینے دو“۔(فتح محمد جالندھری)

(241) مغنون عنا کا ترجمہ

وَاِذ یَتَحَاجُّونَ فِی النَّارِ فَیَقُولُ الضُّعَفَاء لِلَّذِینَ استَکبَرُوا اِنَّا کُنَّا لَکُم تَبَعاً فَہَل اَنتُم مُّغنُونَ عَنَّا نَصِیباً مِّنَ النَّارِ۔ (غافر:47)

”تو کیا آپ لوگ عذاب دوزخ کا کچھ حصہ بھی ہماری جگہ اپنے سر لینے والے بنیں گے؟“۔ (امین احسن اصلاحی)

درج بالا آیت میں مُّغنُونَ عَنَّا نَصِیباً مِّنَ النَّارِ کا ترجمہ اس طرح کیا ہے گویا ان سے عذاب کا کچھ حصہ اپنے سر لینے کی مانگ کررہے ہوں۔ یہ درست ترجمہ نہیں ہے۔ اس جملے کا مطلب عذاب کا کچھ حصہ اپنے سر لینا نہیں ہے بلکہ عذاب کے ایک حصے سے بچالینا اس کا مطلب ہے۔درج ذیل ترجمہ درست ہے:

”اب کیا یہاں تم نار جہنم کی تکلیف کے کچھ حصے سے ہم کو بچا لو گے؟“۔ (سید مودودی)

صاحب تدبر نے درج ذیل آیت میں اسی طرح کی تعبیر کا درست ترجمہ کیا ہے۔

فَہَل اَنتُم مُّغنُونَ عَنَّا مِن عَذَابِ اللّہِ مِن شَیءٍ۔ (ابراہیم :21)

”تو کیا اللہ کے اس عذاب میں سے کچھ تم ہمارا بوجھ ہلکا کروگے؟“۔ (امین احسن اصلاحی)

(242) توفیۃ الاعمال کا ترجمہ

قرآن میں کچھ مقامات پر توفیۃ الاجور کی تعبیر آئی ہے، وہاں تو پورا پورا صلہ دینے کا مفہوم واضح ہے۔ البتہ قرآن میں کچھ مقامات پر توفیۃ الاعمال کی تعبیر آئی ہے، وہاں بھی مفہوم اعمال کا پورا بدلہ دینے کا ہے۔ دونوں تعبیروں میں فرق یہ ہے کہ توفیۃ الاجور میں ارتکاز اجر پر ہوتا ہے کہ اجر میں کوئی کمی نہیں کی جائے گا، اور توفیۃ الاعمال میں ارتکاز عمل پر ہوتا ہے کہ کوئی عمل بدلہ دینے سے چھوٹ نہیں جائے گا۔

توفیۃ الاعمال کی تعبیر والے مقامات پر صاحب تدبر نے مختلف طرح سے ترجمے کیے ہیں، تاہم ان میں مناسب ترجمہ وہی ہے جو خود انھوں نے بعض جگہ کیا ہے یعنی اعمال کا پورا بدلہ دینا نہ کہ اعمال کو پورا کرنا۔

(۱) مَن کَانَ یُرِیدُ الحَیَاۃَ الدُّنیَا وَزِینَتَہَا نُوَفِّ اِلَیہِم اَعمَالَہُم فِیہَا۔ (ہود 15)

”جو دنیا کی زندگی اور اس کے سر وسامان کے طالب ہوتے ہیں ہم ان کے اعمال کا بدلہ یہیں چکا دیتے ہیں“۔ (امین احسن اصلاحی)

(۲) وَاِنَّ کُلاًّ لَّمَّا لَیُوَفِّیَنَّہُم رَبُّکَ اَعمَالَہُم۔ (ھود:111)

”اور یقینا تیرا رب ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ پورا کرکے رہے گا“۔ (امین احسن اصلاحی، ”بدلہ پورا دے کرکے رہے گا“ ہونا چاہیے۔)

(۳) وَتُوَفَّی کُلُّ نَفسٍ مَّا عَمِلَت۔ (النحل:111)

”اور ہر جان کو وہی پورا پورا بدلہ میں ملے گا جو اس نے کیا ہوگا“۔ (امین احسن اصلاحی، عمل کا بدلہ ملے گا نہ کہ وہی عمل بدلے بدلے میں ملے گا۔)

”اور ہر شخص کو اس کے کیے ہوئے اعمال کا پورا بدلہ دیا جائے گا“۔ (سید مودودی)

(۴) وَوُفِّیَت کُلُّ نَفسٍ مَّا عَمِلَت۔ (الزمر :70)

”اور ہر جان کو جو کچھ اس نے کیا ہوگا پورا کیا جائے گا“۔ (امین احسن اصلاحی)

”اور ہر متنفس کو جو کچھ بھی اُس نے عمل کیا تھا اُس کا پورا پورا بدلہ دے دیا جائے گا“۔ (سید مودودی)

(۵) وَلِکُلٍّ دَرَجَات مِّمَّا عَمِلُوا وَلِیُوَفِّیَہُم اَعمَالَہُم۔ (الاحقاف :19)

”اور ان میں سے ہر ایک کے لیے ان کے اعمال کے اعتبار سے درجے ہوں گے(تاکہ اللہ کا وعدہ پورا ہو) اور تاکہ وہ ان کے اعمال ان کو پورے کردے“۔ (امین احسن اصلاحی)

”دونوں گروہوں میں سے ہر ایک کے درجے ان کے اعمال کے لحاظ سے ہیں تاکہ اللہ ان کے کیے کا پورا پورا بدلہ ان کو دے“۔ (سید مودودی،’دونوں گروہوں میں سے‘ کا تفسیری اضافہ نامناسب ہے،’تاکہ‘سے پہلے’اور‘بھی آنا چاہیے۔)

مولانا انور شاه کاشمیری ؒ كے درس حدیث کی خصوصیات

ڈاکٹر حافظ محمد رشید

مولانا انور شاہ کاشمیری ؒ  کی علمی زندگی کے مطالعہ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آپ تصنیف کے میدان کے آدمی نہیں تھے ،آپ کا اصل میدان تدریس تھا، اس لیے ان کے علمی ورثہ  کے طور پر جتنی بھی کتب ملتی ہیں ان میں سے اکثر امالی و تدریسی تقریرات کی شکل میں ہیں ، جن کو ان کے بعد ان کے جلیل القدر شاگردوں نے  ترتیب و تدوین سے آراستہ کیا ۔ ایک موقع پر ان کے ایک شاگرد مفتی محمود صاحب نانوتوی ؒ نے فرمایا:

"ہندوستان میں حضرت شاہ ولی اللہ ؒ سے زیادہ کامیاب کوئی مصنف اور حضرت شاہ صاحب کشمیریؒ سے بڑھ کر کوئی مدرس پیدا نہیں ہوا۔"1

گویا شاہ صاحب ؒ میدان تدریس کے شاہ سوار تھے ۔ انہوں نے اپنا میدان مطالعہ چونکہ قدیم کتب کو بنائے رکھا اس لیے اگر کوئی کتاب تصنیف بھی کی تو اس میں وہی پرانا اسلوب واضح نظر آتا ۔  ایک موقع پر انہوں نے اپنی کوئی تالیف اپنے استاد حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوری ؒ کو سنائی تو انہوں  نے اس پر تبصرہ فرماتے ہوئے کہا:

"شاہ صاحب اس کی شرح بھی لکھ دیجئے تاکہ اساتذہ بھی اس سے استفادہ پر قادر ہو سکیں" 2

اسی لیے ان کےہمہ جہت  کام کی نوعیت کو سمجھنے کے لیے ان کے درس حدیث کی خصوصیات کا تذکرہ انتہائی ضروری ہے ۔ ذیل میں ہم ان کے درس کی نمایاں خصوصیات کا تذکرہ کریں گے ۔

تفصیل واطناب

اللہ تعالیٰ نے شاہ صاحب ؒ کو مضبوط قوت حافظہ سے نوازا تھا ، اس کے ساتھ ان کا مطالعہ بھی کافی وسیع اور متنوع  تھا ۔ حدیث کی تشریح میں وہ علوم و فنون میں اپنی پوری مہارت  کو استعمال کرتے ۔  اسی وجہ سے درس صرف درس حدیث ہی نا ہوتا بلکہ متنوع علوم کا مجموعہ ہوتا جن کو حدیث کی مراد متعین کرنے کے لیے آپ انتہائی سلیقہ سے استعمال کرتے ۔ یہی نہیں بلکہ ان علوم کے مباحث خلافیہ میں بھی مجتہدانہ رائے رکھتے ۔ مولانا مناظر احسن گیلانی ؒ اس ضمن میں لکھتے ہیں :

"میں عرض کرنا چاہتا تھا کہ جیسے حدیث کے متعلق شاہ صاحب ؒ کے درس میں گر کی باتیں معلوم ہوتی رہتی تھیں ، ایسی باتیں جن سے تاثرات میں غیر معمولی انقلاب پیدا ہو جاتا تھا ، یہی حال دوسرے علوم و فنون کے متعلق تھا ۔ درس تو ہوتا تھا حدیث کا لیکن شاہ صاحب کی ہمہ گیر طبیعت  نے معلومات کا جوگرانمایہ قیمتی سرمایہ ان کے اندر جمع کر دیا تھا ، وہ ان کے اندر سے بے ساختہ چھلکتا رہتا تھا۔"3

مولانا انظر شاہ مسعودی ؒ ان کے درس حدیث کا شاہ ولی اللہ ؒ کے درس حدیث سے موازنہ  کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

"شاہ ولی اللہ ؒ کا طریق درس حدیث کی ضروری وضاحت سے زیادہ نہیں تھا ۔ مولانا گنگوہی ؒ اور مولانا نانوتوی ؒ نے اس میں فقہ حنفی کے مآخذ کی نشاندہی کا اضافہ کیا ، لیکن مولانا کشمیری قدس سرہ العزیز نے عام درس گاہی طریق درس میں یکسر انقلاب برپا کیا ۔ آپ نے حدیث کی شرح و تفصیل میں صرف و نحو ، فقہ و اصول فقہ ، معانی و بلاغت ، اسرار و حکم ، سلوک و تصوف ، فلسفہ و منطق ، سائنس و عصری علوم کا ایک گرانقدر اضافہ ، رجال کی بحثیں ، مصنفین و مولفین کی تاریخ و سوانح ، تالیفات و تصنیفات پر نقد و تبصرہ آپ کے درس کا ایک امتیاز تھا ۔ اس کے نتیجہ میں درسی تقریریں بجائے مختصر ہونے کے طویل ہو گئیں ۔" 4

اس کے ساتھ آپ کا مقصد  ذہین طلبہ کو مطالعہ کے ذوق و سلیقہ سے روشناس کروانا بھی ہوتا تھا ۔ آپ درس کے دوران کتب کا ایک انبار اپنے ساتھ رکھتے اور مختلف مباحث میں طلبہ کو اصل کتاب کے حوالے کتاب سے دکھاتے تاکہ طلبہ علی وجہ البصیرہ اس سے واقفیت کے ساتھ اس کتاب سے اس کا مطالعہ بھی کر سکیں ۔ مولانا گیلانی ؒ اس ضمن میں رقم طراز ہیں :

"وہ اپنے عہد کے طلبہ کی علمی بے بضاعتیوں  کا اندازہ کر کے تکلیف اٹھا کر علاوہ موضوع درس کے چند خاص امور کا تذکرہ التزاما اپنے درس میں ضرور فرمایا کرتے تھے ، مثلا جن مصنفین کی کتابوں کا حوالہ دیتے ان کی ولادت و وفات کے سنین کے ساتھ ساتھ مختصر حالات اور ان کی علمی خصوصیت ، علم میں ان کا خاص مقام کیا ہے ؟ ان امور پر ضرور تنبیہ کرتے چلے جاتے ۔ یہ ان کا ایسا اچھا طریقہ تھا ، جس کی بدولت شوقین اور محنتی طلبہ ان کے حلقہ درس میں شریک ہو کر علم کے ذیلی سازو  سامان سے مسلح ہو جاتے تھے یا کم از کم مسلح ہونے کا ڈھنگ ان کو آ جاتا تھا ۔" 5

درس کی ان خاصیت کے پیش نظر شاہ صاحب ؒ کے بہت سے شاگردوں کو بطور دلیل کے پیش کیا جا سکتا ہے کہ جنہوں نے ان کے درس سے استفادہ کیا اور ایک ہی وقت میں متنوع  تحقیقات و معلومات کے حاصل ہونے کی وجہ سے ان کے علمی حوصلوں میں وسعت ، گہرائی و گیرائی پیدا ہوئی اور مستقبل میں انہوں نے علمی میدان میں کارہائے نمایاں سرانجام دیئے ۔ شاہ صاحب کے اسلوب درس کی اس افادیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے  قاری محمد طیب صاحب ؒ اپنے ایک مضمون میں فرماتے ہیں :

"حضرت ممدوح کی اس تبحر پسندی اور ذوق زیادۃ علم کا نتیجہ یہ تھا کہ طلبہ میں بھی وہی ذوق تبحر پیدا ہونے لگا ۔ ہر طالب علم کوشش کرتا تھا کہ زیادہ سے زیادہ تحقیق کے ساتھ مسئلہ کی تہہ تک پہنچے ۔ اس دور میں ہر چھوٹے بڑے کا یہ ذہن بن گیاتھا اور اس کے آثار زمانہ طالب علمی ہی میں نمایاں ہونے لگے تھے۔

چنانچہ اس زمانہ کے متعدد طلباء دورہ حدیث نے اچھے اچھے قابل قدر رسالے اور مضامین سے اپنے علمی تبحر کا ثبوت دیا ۔ میں نے ادب و تاریخ کے سلسلہ میں رسالہ " مشاہیر امت" لکھا۔ مولانا مفتی محمد شفیع صاحب مرحوم (سابق مفتی اعظم پاکستان ) نے " ختم النبوۃ فی القرآن " اور " ختم النبوۃ فی الحدیث" کا رسالہ دو جلدوں میں مرتب کیا۔ مولانا محمد ادریس صاحب کاندھلوی  نے " کلمۃ السر فی حیوۃ روح السر" لکھا ۔ مولانا بدر عالم میرٹھی نے بھی کئی رسالے لکھے اور تقریبا دو تین سال کے عرصہ میں احاطہ دار العلوم سے اٹھارہ ، انیس رسالے شائع ہوئے ۔

یہ درحقیقت وہی ذوق تھا جو حضرت ممدوح کے درس حدیث سے طلبہ لے کر اٹھتے تھے اور علمی طور پر اپنے اندر زمانہ طالب علمی ہی میں ایک ایسی قوت محسوس کرنے لگتے تھے کہ گویا وہ تمام علوم و فنون پر حاوی ہیں اور علم ان کے اندر سے خود بخود ابھر رہا ہے ۔ وہ کتب بینی محض عنوان بیان تلاش کرنے کے لیے کر رہے ہیں ۔"6

اس انداز تدریس سے ذی فہم و ذی استعداد طلبہ ہی کما حقہ مستفید ہو سکتے تھے ، دوسرے اور تیسرے درجے کے طلبہ اگرچہ اس طرح فائدہ حاصل نا کر پاتے لیکن  متعلقہ علوم و معارف کو سن لینا اور ایسے مباحث پر یک گونہ اطلاع حاصل کر لینا بھی کسی نعمت سے کم نا تھا ۔ اس انداز تدریس کو نبھانا بھی ہر استاد و معلم کے بس کی بات نہیں ہوتی ، جس قوت حافظہ ، استحضار علوم اور قوت بیان کی ضرورت ہوتی ہے وہ ہر کسی کو عطا نہیں ہوتی ۔  مولانا  محمد انظر شاہ صاحب ؒ اسی کیفیت کومولانا حسین احمد مدنی ؒ کے ایک قول کے حوالے سے  یوں  بیان کرتے ہیں :

"دار العلوم کے وہ طلبہ جو دوسرے مدارس کی تعلیم سے متاثر ہو کر طویل درسی تقریریوں کی افادیت میں کچھ شبہ محسوس کرتے  رہے فراغت کے بعد جب انہیں دینی خدمات کا  موقع ملا اور نت نئے دینی فتنوں کے مقابلہ کے لیے اپنی علمی توانائیوں سے کام لینا ضروری ہوا تو اس کا اعتراف کیا کہ درس میں مختلف عنوانات کے تحت اساتذہ کے افادات ہمارے لیے کارآمد ہوئے ، بھلا آپ خود ہی سوچئے کہ ایک طریق تعلیم کے نتیجہ میں صرف متعلقہ کتاب کا حل دوسری جانب فن کی تعلیم اور تیسری طرف مختلف فنون کا افادہ ، ان تینوں طریقوں میں جامع شخصیتیں تیار کرنے کے لیے کون سی صورت مفید و کارگر ہے !   ظاہر ہے کہ جماعت میں موجود طلبہ کی ایک بڑی تعداد میں بعض وہ فہیم طلبہ بھی ہوں گے جو ان مختلف فنون پر پھیلی ہوئی تقریروں سے بھر پور فائدہ اٹھاتے رہیں ، رہ گئے دوسرے اور تیسرے درجہ کے طالب علم ، یقین ہے کہ وہ بھی اس اجتہادی طرقی تعلیم سے کلیۃ محروم نہیں رہے ، سنی سنائی اور کانوں میں پڑی ہوئی باتیں کسی نہ کسی وقت ان کے لیے بہرحال کار آمد ہوتی ہیں ۔ اس میں شک نہیں کہ تعلیم کے اس اچھوتے طرز کو نبھانے کے لیے جامع شخصیتیں مطلوب ہیں جنہیں وسعت علم کے ساتھ حفظ و یادداشت کی غیر معمولی صلاحیتیں بھی حاصل ہوں ، اس راہ کی دشواریوں کا مجھے سب سے پہلے احساس " ترمذی شریف " کے ابتدائی سبق میں ہوا جس میں اپنے استاذ اکبر مولانا حسین احمد مدنی ؒ کے یہ الفاظ کانوں میں پہنچے :

" مرحوم حضرت شاہ صاحب  کشمیری ؒ نے طویل تقریروں کی بنیاد ڈال کر ہم ایسوں کو پریشانی میں مبتلا کر دیا ، وہ اپنے بے پناہ علوم اور زبردست قوت حافظہ کی بناہ پر اس طریقہ کو نبھاتے لیکن جو ان صفات سے خالی ہیں وہ ضیق محسوس کرتے ہیں ۔" 7

مشکل یا متعارض روایات کو حل کرنے کا اسلوب

مشکل یا متعارض احادیث میں شاہ صاحب ؒ شرح حدیث کا مدار کسی ایک لفظ یا کسی ایک طریق و سند کو نہیں بناتے تھے بلکہ اس حدیث کے تمام الفاظ اور طرق کو اکٹھا کرتے اور ان میں سے شارع علیہ السلام کے الفاظ کی جستجو کر کے اسے مدار شرح قرار دیتے۔ اس باب میں ان کی رائے یہ تھی کہ روایات میں روایت بالمعنی عام ہے ، اور احکام کا دارو مدار حضور اکرم ﷺ کے الفاظ ہیں ۔ اس لیے اگر ان الفاظ میں سے حضور ﷺ کے الفاظ کی تعیین ممکن ہو تو انہیں کو مدار شرح بنایا جائے گا ۔ مختلف اسناد و الفاظ میں سے شارع کے الفاظ کی تعیین وہ فصاحۃ و روعۃ الفاظ پر رکھا کرتے تھے۔ اس ضمن میں وہ ایک نقطہ یہ بیان فرماتے کہ حدیث کے راویوں کا اتقان جتنا زیادہ بڑھتا جائے گا اتنا ہی زیادہ روایت باللفظ کا امکان زیادہ ہوگا ۔ اسی وجہ سے جس محدث نے راویوں کے اتقان و ثقاہت کا زیادہ خیال رکھا ہوگا اس کی نقل کردہ روایت میں  فصاحۃ و بلاغۃ اور رونق الفاظ کا عنصر بھی زیادہ اور نمایاں ہوگا اور ہم ان الفاظ کے بارے یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ  اس افصح العرب شخصیت کے الفاظ ہیں جن کو جوامع الکلم عطا کیے گئے تھے ۔  اسی لیے ان کے ہاں صحیح بخاری و صحیح مسلم کی نقل کردہ روایت کے الفاظ میں یہ رونق و فصاحت سنن کی روایت کی نسبت زیادہ پائی جاتی ہے ۔  اس لیے وہ متعارض یا مشکل احادیث میں کسی ایک خاص لفظ یا کسی خاص سند کو مدار تشریح نہیں بناتے تھے بلکہ مجموعی طور پر ان سب الفاظ و طرق کو دیکھ کر ان سب کو تشریح میں جمع کرتے ہوئے ایسی تعبیر کرتے جو اطمینان قلب اور شرح صدر کا باعث بن جاتی ۔  ان کے ہاں مذاہب میں بہت سے اختلافات کسی خاص لفظ یا کسی خاص سند یا طریق کو مدار قرار دینے سے ہی پیدا ہوتے ہیں 8

علماء متقدمین کا احترام

درس حدیث میں شاہ صاحب ؒ جب کبھی متقدمین کے اقوال میں سے کسی قول پر تنقید کرتے تو پہلے ان کی جلالت شاہ اور عظمت کا اعتراف کرتے ، ان کی خصوصیات کا ذکر کرتے اور ان کی خدمات دینیہ کو سراہتے ۔ پھر ان کے اقوال پر اپنی رائے پورے احترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے بیان فرمایا کرتے ۔ اس حوالے سے قاری طیب صاحب ؒ لکھتے ہیں :

"غرض ایجابی و سلبی دونوں قسم کے علوم کی نیرنگیاں حلقہ درس کو ایک رنگین گل دستہ بنائے ہوئے تھیں ،م جس میں رنگ رنگ کے علمی پھول چنے ہوتے تھے ، تفنن علوم کی رنگینیوں کے ساتھ آپ کے درس میں ایک خاص شوکت بھی ہوتی تھی ، کلام میں تمکن اور قوت الفاظ میں شوکت و حشمت اور کلام کے وقت حضر ت ممدوح کی ہیئت کذائی کچھ ایسے انداز کی وہ اجتی تھی جیسے کوئی بادشاہ اپنا حاکمانہ فرمان سنا رہا ہے ۔ بالخصوص ائمہ مجتہدین کے متبعین علماء کے کلام پر بحث و تنقید چھڑ جاتی تو اس وقت معارضانہ اور ناقدانہ کلام کی شوکت اور بھی زیادہ ابھری ہوئی دکھلائی دیتی تھی ، نگاہیں تیز ہو جاتیں ، آواز قدرے بلند ہو جاتی اور گردن اٹھا کر بولتے تو ایک عجیب پر شوکت اور رعب افزاء کلام معلوم ہوتاتھا۔

بعض مواقع پر مثلا حافظ ابن تیمیہ ؒ اور ابن قیم ؒ کے تفردات کا ذکر آتا تو پہلے ان کے علم و فضل اور تفقہ و تبحر کو سراہتے ، ان کی عظمت و شان بیان فرماتے ، اور پھر ان کے کلام پر بحث و نظر سے تنقید فرماتے ، جس میں عجیب متضاد کیفیات جمع ہوتی تھیں ، ایک طرف ادب و عظمت اور دوسری طرف رد و قدح یعنی بے ادبی اور جسارت کے ادنیٰ سے ادنیٰ شائبہ سے بھی بچتے اور رجح اور صواب میں کتمان صواب سے بھی دور رہتے کبھی کبھی علمی جوش میں آ کر برنگ مزاح بھی رد و قدح فرماتے تھے ، جو بجائے خود ہی ایک مستقل علمی لطیفہ ہوتا تھا۔"9

اس کی ایک بہت عمدہ مثال مولانا یوسف بنوری ؒ نے ذکر کی ہے ۔ شاہ صاحب ؒ " التفسیر الکبیر " کا تذکرہ کرتے ہوئے امام فخر الدین الرازی ؒ کی بہت تعریف کیا کرتے تھے ۔ ان کے بارے میں اس رائے کا اظہار کرتے کہ امام فخری الدین رازی ؒ قرآن کریم کے مشکل مقامت میں کھب جاتے ہیں اور بڑی متین تحقیقات اور بڑی مضبوط تدقیقات پر قاری کو متنبہ کر دیتے ہیں ۔ لیکن بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے  کہ وہ کسی مشکل پر متنبہ تو ہو جاتے ہیں لیکن اس کی ایسی وضاحت کرنے میں کامیاب نہیں ہو پاتے کہ جس سے اطمینان قلب حاصل ہو جائے ۔ مولانا بنوری ؒ کہتے ہیں کہ تفسیر کبیر کے بارے میں عام طور پر جو قول مشہور ہے کہ "فيہ کل شئی الا التفسیر" ، اس کے بارے میں میں نے شاہ صاحب سے پوچھا تو انہوں نے  اس کا جواب دیتے ہوئے فرمایا :" کسی راوی مزاج شخص کا قول ہے " ۔ گویا تفسیر کبیر اور امام فخر الدین الرازی ؒ کا اس طرح دفاع کیا ۔ مولانا بنوری کی عبارت یوں ہے :

وكان يثني علي "مفاتيح الغيب" اي "التفسير الكبير" للامام فخر الدين خطيب الرازي، ويقول: ان الامام يغوص في علوم القرآن و مشكلاتہ، لم ار مشكلا من معضلاتہ الا والامام تنبہ لہ، غير انہ ربما لا يظفر بما يقنع بہ النفوس الصاديۃ وتنشرح بہ الصدور الصافيۃ۔ فہكذا كان الشيخ رحمہ اللہ ينبہنا علي تلك التحقيقات المتينۃ  والتدقيقات الرصينۃ۔  سالتہ عما قيل في تفسير الامام: " فيہ كل شيئ الا التفسير" كما حكاہ الشيخ جلال الدين السيوطي في " اتقانہ" - فقال : لعلہ قول من غلب عليہ الروايۃ ۔ كان يريد رحمہ اللہ كانہ قول محدث ہمہ استطراد الروايات من الاخبار والآثار فقط ۔ من غير ملاحظۃ الي سائر مزايا التنزيل العزيز ۔ و لفظہ بالارديۃ : " كسي راوي مزاج شخص كا قول ہوگا "  وبلغني انہ قال مرۃ:  ذالك القول ظلم في حق الامام۔10

اسی اسلوب کی ایک مثال شاہ صاحب ؒ کا حافظ ابن حجر العسقلانی ؒ کے بارے میں رویہ ہے ،   ایک طرف ان کی شرح بخاری " فتح الباری " کے تناظر میں وہ ان کو پورے احترام و محبت کے ساتھ  " حافظ الدنیا " کا لقب دیا کرتے تھے  اور دوسری طرف ان کی آراء پر جابجا تنقید بھی کرتے ہیں اور اس بات کی شکایت کرتے ہیں کہ حافظ ابن حجر نے کئی مقامات پر اپنے مسلک  و مذہب کی رعایت  وحمایت میں ہر صحیح و خطاء کو قبول کر لیا ہے ۔11 گویا احترام و عقیدت اپنی جگہ لیکن جہاں علمی دیانت کا مقام ہو وہاں تنقید کرنا بھی ضروری سمجھتے ہیں ۔   

درس میں علماء کا مزاج و درجہ بیان کرنا

وسعت مطالعہ کے سبب شاہ صاحب ؒ کو مختلف علماء کے مزاج کا اندازہ تھا اور علمی مسائل میں ان کے درجات بھی متعین کرتے تھے ، اس درجہ بندی اور مزاج شناسی کی بنیاد پر ان سے مروی احادیث یا کسی حدیث کی تشریح میں ترجیح قائم کرتے ۔ فیض الباری و دیگر کتب میں اس کی جا بجا مثالیں موجود ہیں جن میں سے چند حسب ذیل ہیں ۔

  کسی بھی کام کی ابتداء میں اللہ کا نام ذکر کرنے کے بارے میں مشہور حدیث ہے :

كُلُّ أَمْرٍ ذِي بَالً لَا يُبْدَأُ فِيہ بِذِكْرِ اللَّہ أَقْطَعُ 12

امام بخاری ؒ نے کتاب کا آغاز بسم اللہ کے ساتھ کیا ہے ، اس کی تشریح میں مذکورہ بالا حدیث کا ذکر کرتے ہوئے شاہ صاحب ؒ کہتے ہیں کہ یہ حدیث مضطرب ہے ، کسی روایت میں حمد کا ذکر ہے اور کسی میں اسم اللہ کا ۔ لیکن اس اضطراب کے باوجود شیخ ابو عمرو ابن الصلاح نے اس کو حسن قرار دیا ہے ۔ اس کے بعد وہ شیخ ابو عمرو ابن الصلاح کا موازنہ امام نووی ؒ کے ساتھ کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

وخَالَ بعضُہم التعارض، وظن اختلاف الألفاظ اختلاف الحديث. والحال أن الحديث واحد، ومع اضطراب كلماتہ حسَّنہ الحافظ الشيخ أبو عمرو بن الصَّلاح، وھو شيخ الإمام النووي، دقيقُ النَّظر، واسع الاطِّلاع، وليس صاحبہ النووي مثلہ في الحديث.13

اسی طرح ایک جگہ علامہ شامی ؒ کے حوالے سے فرماتے ہیں :

واعلم أن ابن نُجَيْم أفقہ عندي من الشَّامي لِمَا أری فيہ أن أمارات التفقُّہ تَلُوح، والشَّامي مُعَاصِرٌ للشاہ عبد العزيز رحمہ اللہ تعالی، وھو أفقہ أيضًا عندي من الشَّامي رحمہ اللہ تعالی، وكذا شيخ مشايخنا رشيد أحمد الكَنْكُوہِي - قُدَّسَ سرُّہ - أفقہ عندي من الشَّامي.14

اس ضمن میں مولانا یوسف بنوری ؒ رقم طراز ہیں :

انہ كلما ذكر كتابا او مؤلفا في صدد النقل ، فكان يكشف عن منزلتہ في العلم و خصائصہ، قلما يجدہا الناظر في كتب الطبقات و التراجم  بغايۃ من الانصاف ، من غير غض عن قدرہ ، او اطراء في شانہ ، ليكون بصيرۃ للطلبۃ ، و وسيلۃ الي العلم الصحيح۔15

درس میں سال بسال تنوع

شاہ صاحب ؒ کا مطالعہ عام مدرسین جیسا نہیں تھا کہ سبق پڑھانے سے پہلے سبق کی تیاری کے لیے درسی کتب یا زیادہ سے زیادہ انہیں کتب کی کوئی شرح دیکھ لی اور طلبہ کے سامنے بیان کر دی، ایسے مطالعہ سے استاد کے سبق میں وقت کے ساتھ مباحث کی یکسانیت پید اہو جاتی ہے ۔ شاہ صاحب ؒ کا مطالعہ بہت وسیع تھا ، اس کی ایک وجہ ان کا مسائل کو موضوع بنا کر ان کے حل کے لیے مطالعہ کرنا تھا ۔ گویا سبق پڑھانا ہے یا نہیں پڑھانا ، مطالعہ جاری تھا ۔ اسی وجہ سے ان کے درس میں سال بسال مباحث کے تنوع کے ساتھ ترقی بھی دیکھنے میں آتی تھی ۔ گویا مطالعہ کی وجہ سے جن مسائل میں رائے بنتی یا بدلتی اگلے سبق میں اس کا اظہار فرما دیا کرتے تھے ۔ اسی وجہ دے ہر سال کے درس میں یکسانیت کی بجائے تنوع کی کیفیت نمایاں ہوتی تھی ۔ قاری طیب صاحب ؒ فرماتے ہیں :

"ایک مرتبہ فرمایا کہ میں درس کے لیے کبھی مطالعہ نہیں کرتا ہوں ، مطالعہ کا مستقل سلسلہ ہے اور درس کا مستقل۔ اس لیے ہر سال درس میں نئی نئی تحقیقات آتی رہتی تھیں ۔"16

ایک اور جگہ فرماتے ہیں :

"کتب درسیہ اور بالخصوص کتب حدیث کے فنی مباحث طبیعت ثانیہ بن چکے تھے اور ہمہ وقت کے مطالعہ سے ان میں روز بروز بسط و انبساط کی کیفیات پیدا ہوتی چلی جا رہی تھیں اور مباحث درس گھٹنے یا قائم رہنے کے بجائے خود ہی یوما فیوما بڑھتے رہتے تھے تو انہیں جزوی مطالعہ سے بڑھانے کے کوئی معنی بھی نہ تھے بلکہ شاید یہ مقررہ جزوی مطالعہ علوم کے بڑھتے ہوئے بسط میں کچھ نہ کچھ حارج اور حد بندی ہی کا سبب بن جاتا۔"17

مولانا یوسف بنوری ؒ شاہ صاحب ؒ کے مطالعہ کی کیفیت کے بارے میں لکھتے ہیں :

لم يكن دابہ في المطالعۃ كاكثر علماء ھذا العصر من ان يطالعوا الكتب عند الافتقار اليہا في الفتوي او التاليف او التدريس ، فيراجعون  فيما يحتاجون اليہا من ذالك الموضوع خاصۃ، او يتفقدون ما ارادوہ من مظانہ ، بل كان دابہ في المطالعۃ انہ كلما تيسر لہ كتاب، مخطوطا كان او مطبوعا ، سقيما كان او سليما ، في موضوع علمي ، اي موضوع كان، من اي مصنف كان ، فياخذہ و يطالعہ من اولہ اولي الآخر بتمامہ ، من غير ان يبقي شيئا او يذر، نعم كان حل جہدہ و مسعاہ في ان يطالع كتب المتقدمين ثم كتب اكابر المحققين من القرون الوسطي۔18

ایک جگہ شاہ صاحب ؒ کے اس ذوق مطالعہ اور اس کے نتیجہ میں تحقیقات میں تبدیلی کو قرآن کریم کے حوالے سے اس طرح واضح کرتے ہیں :

و ربما كان يبقي سنين في التامل في بعض المشكلات حتي يبلغ الي درك البحر فيخرج اللآلي المكنونۃ ، وكان من شريف دابہ اذا عن لہ مشكل من مشكلاتہ يتوخي لحلہ اسفار اعيان من الامۃ الذين لہم عنايۃ قويۃ بامثال ھذہ العويصات ، فان فاز بشيئ احال عليہ في مذكرتہ ، و الا فكان يطيل الفكر و يرسل النظر ويبعد الغور و التامل ، فاذا سنح لہ سانح او بدا بارح قيدہ ، فاجتمعت في "مذكرتہ الخاصۃ بالقرآن" مادۃ جمۃ غزيرۃ۔19

رجال کے تذکرہ میں اسلوب

حدیث کی تشریح میں رجال کا تذکرہ کرتے ہوئے شاہ صاحب ؒ کا ایک الگ اسلوب تھا ، ان کے ہاں حدیث کے مقبول ہونے میں رجال پر جرح و تعدیل کے باب میں متعدد وجوہات کی بنا پر ائمہ رجال کے ہاں اعتدال قائم نہیں رہا ۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ جو حدیث اپنے مسلک کے خلاف ہو اس کے رجال کی خوب چھان پھٹک کی جاتی ہے اور کسی نا کسی طرح اس کے رجال میں سے کسی کو مجروح قرار دے دیا جاتا ہے ، اور کبھی اپنے مفید مطلب حدیث کے رجال سے ناروا چشم پوشی اختیار کر لی جاتی ہے ۔ اس لیے وہ رجال پر جرح و تعدیل کو حدیث کی مقبولیت کے لیے حتمی سبب نہیں سمجھتے تھے ۔ مولانا یوسف بنوری ؒ ان کے اس اسلوب کی وضاحت ان الفاظ میں کرتے ہیں :

منہا : انہ كان يلخص الكلام في رجال الحديث ان كان لذكرہا حاجۃ في الباب، او فائدۃ يستحسن ذكرہا، وكان لا يطيل الكلام في الجرح و التعديل حيث كان يقول : و لم اكثر من نقل كلامہم في الرجال ، وما فيہ من كثرۃ القيل و القال ، لانہ ليس عندي كبير ميزان في الاعتدال ، و بعضہم يسكت عند الوفاق و يجرح عند الخلاف ، و اذا ديعت نزال، وھذا صنيع لا يشفي و لا يكفي ، و انما ہو سبيل الجدال ، نعم ، اعتنيت بتعيينہم و معرفتہم عينہم ، فيستطيع الناظر من المراجعۃ و يتمكن من تخمير رايہ لا بالمسارعۃ۔20

اس معاملہ میں ان کا موقف یہ تھا کہ جس حدیث کی سند اصطلاحا ٹھیک ہو اور اس پر سلف کا عمل بھی ہو خواہ کچھ لوگوں کا عمل ہی کیوں نا ہو ۔تو ایسی حدیث صحیح ہے اس میں اگر عدم صحت کی کوئی علۃ بیان کی جا رہی ہے تو اس کو نہیں سنا جائے گا ۔ فرماتے ہیں :

و الناس فيہ علي آرائہم يتعللون في ما لم ياخذوا بہ و يناضلون عما اخذوا بہ ، و الذي ينبغي ان يعتقد فيہ ان ما صح سندہ اصطلاحا ثم وجد عمل بعض السلف بہ  فہو صحيح في الواقع لايسمع فيہ اعلال و تعلل۔21

حدیث کی تشریح میں دور از کار تاویلات سے اجتناب

حدیث کی تشریح میں شاہ صاحبؒ کا مزاج یہ تھا کہ شارع کی مراد و مقصود کو سامنے رکھتے اور اس کے مطابق حدیث کا محل متعین کرنے کی کوشش کرتے ۔ حدیث کی تشریح میں دو از کار تاویلات کو پسند نہیں کرتے تھے اور جہاں عام طور پر طول طویل ابحاث کے ذریعہ حدیث کی تشریح میں کھینچا تانی کا رواج تھا وہاں "لا يعبا بہ" يا "ھذا من سقط الكلام" کہہ کر آگے بڑھ جاتے ۔ اس کی  مثال یوں ہے ۔

 بسم اللہ سے ابتداء کی بحث میں اس حدیث کی تشریح میں عام طور پر جو ابحاث کی جاتی ہیں ان کا تذکرہ کر کے فرماتے ہیں :

وما يُذكر من حمل الابتداء بالحقيقي في لفظ، وبالإضافي في لفظ، أو العرفي، فلا يُعبأ بہ، لأن مدارَ ذلك علی تعدُّد الحديث. وذِكَرُ الاحتمالات التِّسْعۃِ من بين صحيح وباطل ھہنا كلہا من سَقْط الكلام.22

اختلافی مسائل میں منشاء الخلاف معلوم کرنے کا اہتمام

تدریس  حدیث میں شاہ صاحبؒ اختلافی مسائل میں اختلاف کی بنیاد اور منشا کو بیان کرتے اور پھر اس کی بنیاد پر فریقین کے دلائل کا محاکمہ کر کے اپنی رائے کا اظہار فرماتے تھے ۔ اکثر اوقات ان کی رائے وہی ہوتی جو فقہاء احناف نے بیان کی ہے لیکن اگر کہیں فریق مخالف کی دلیل میں مضبوطی محسوس کرتے تو ان کی رائے کو اپنانے میں بھی کوئی مضائقہ محسوس نہ کرتے ۔ اور بہت سی جگہ پر اپنی ایسی رائے پیش کرتے جو اختلاف کو ختم کرنے یا کم کرنے کا باعث ہوتی ۔ مولانا یوسف بنوری ؒ اس ضمن میں لکھتے ہیں:

و منہا انہ كان عني بمنشاء الخلاف بين الامۃ ، ولا سيما في المسائل التي تتكرر علي رؤوس الاشہاد ، فكان يذكر في ھذا الصدد امورا تطمئن بہا القلوب۔23

اغلاط پر متنبہ کرنا

دوران مطالعہ شاہ صاحب ؒ کو اگر کسی کتاب میں کوئی غلطی محسوس ہوتی تو درس میں اس کی وضاحت کرتے اور اس بات پر خوشی کا اظہار کرتے کہ یہاں یہ لفظ مجھے پہلے ہی غلط محسوس ہو رہا تھا ، پھر مسلسل مطالعہ کے دوران فلاں کتاب میں میرے گمان کی تصدیق ہو گئی ۔  اس کی بہت سی مثالیں جا بجا ان کی کتب میں بکھری ہوئی ہیں ۔ ایک مثال ملاحظہ کریں ۔

وھناك سہوٌ ينبغي أَنْ يَتَنبَّہ عليہ النَّاظر، وھو أن الحنفيۃ عند تقرير الاضطراب في حديث القُلتين قالوا: إنہ رُوي عن ابن عمر أربعين قُلۃ. ہكذا وجدناہ في «فتح القدير» أيضًا، وكنت أظنَّ أن الصحيحَ ابن عمرو وسقط الواو من الناسخ وحينئذ يَخِفُّ الاضطراب، حتی إذا طُبع كتاب البيہقي وجدناہ فيہ عن ابن عمرو بن العاص، ففرحتُ منہ فرحَ الصائم عند الإِفطار. فھذا سہوٌ قد تسلسل في الكتب فلا تَغْفُلْ عنہ، والأمر كما قلنا.24

یہاں ایک سہو ہے مناسب ہے اس پر ناظر متنبہ ہو جائے ۔ وہ یہ کہ احناف قلتین کی حدیث میں اضطراب کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں :  کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے چالیس گھڑے منقول ہیں ۔ فتح القدیر میں ہم نے اسے اسی طرح پایا ۔ اور میرا گمان تھا کہ  صحیح ابن عمرو رضی اللہ عنہ ہے اور واو کاتب سے گر گیا ہے ، اس طرح اضطراب کم ہو جاتا ہے ۔ یہاں تک کہ جب علامہ بیہقی کی کتاب چھپی تو ہم نے اس میں ابن عمروبن العاص ہی پایا ۔ چنانچہ مجھے  افطار کے وقت روزہ دار کی طرح کی خوشی ہوئی ۔ پس یہ سہو ہے جو کہ کتب میں مسلسل آرہی ہے ،سو اس سے غافل نہ ہو ، معاملہ ایسا ہی ہے جیسا کہ ہم نے بیان کر دیاہے ۔

محدث کے مزاج کے مطابق ترجمۃ الباب کی تشریح

شاہ صاحب ؒ  حدیث کی کتاب خصوصا امام بخاری کی جامع پڑھاتے ہوئے مولف کتاب کے مزاج کے مطابق ترجمۃ الابواب کی وضاحت کیا کرتے تھے ، اور ان کی بتائی ہوئی وضاحت یا تعبیر پھر کئی جگہ پر لاگو ہوتی ۔  مثلا امام بخاری ؒ نے ابواب کے شروع میں "البدء"  کا لفظ استعمال کیا ہے ، اس سے ان کی کیا مراد ہے ؟ جیسے بدء الاذان میں کیا یہ مراد ہے کہ اذان کی ابتداء کیسے ہوئی ؟ حالانکہ وہ اس میں اذان کے سارے احکامات کو لاتے ہیں ، یا یہ مراد ہے کہ یہاں سے اذان کے مجموعی مسائل کی ابتداء ہو رہی ہے ۔ شاہ صاحب ؒ نے دوسرے قول کو اختیار کیا ہے کہ جہاں امام بخاری ؒ یہ لفظ استعمال کرتے ہیں وہاں ان کی مراد مجموعی مسائل کی ابتداء کرنا ہوتا ہے ۔ فرماتے ہیں :

وما سنح لي بعد الإمعان في صنيعہ، والنظر إلی نظائرہ، كبدء الأذان وبدء الحيض، أن البَدء عندہ لا يختصُ بالحصۃ الابتدائيۃ، بل يعتبر مما يضاف إليہ لفظ البدء بما فيہ من أحوالہ أولًا، ثم يضاف إليہ لفظ البدء ثانيًا، ثم يُسأل عنہ أن بدء ہذا المجموع كيف كان؟ وحينئذٍ فيندرج تحتہ جميع أحوالہ، وہكذا فعل المصنف رحمہ اللہ تعالی فيما بعد أيضًا. فقال: «بدء الأذان، وبدء الحيض»، ثم لم يقتصر علی أول الحال فقط، بل ذكر حالہما من الأول إلی الآخر، ففہمت من صنيعہ أنہ لا يريد من لفظ البدء البدايۃ في مقابل النہايۃ، بل بدؤہ بعد أن لم يكن، ووجودہ من كَتْم العدم، فہو سؤال عن ہذا الجنس بتمامہ، أنہ كيف بدأ؟
فالحاصل: أن معناہ، السؤال عن جنس الوحي، وجنس الأذان، وجنس الحيض، أنہ كيف جاء من كتم العدم إلی ساحۃ الوجود؟ وحينئذٍ معناہ كونہ بعد أن لم يكن، لا بدايتہ قبل نہايتہ، وہذا التصرف في لفظ البدء مستفادٌ من كلام المصنف رحمہ اللہ تعالی نفسہ، لا أني تصرفت في كلامہ، وصرفتہ عن ظاہرہ۔25

تشریح میں اختصار لیکن مواد میں اکثار

 درس حدیث میں شاہ صاحب ؒ کی کوشش یہ ہوتی کہ زیر بحث موضوع میں زیادہ سے زیادہ مواد جمع کر دیں ،  بیان و تشریح کی طرف توجہ کم تھی ۔ رفتہ رفتہ یہی عادت ان کی تدریس و تالیف میں فطرت ثانیہ بن گئی ۔ یعنی الفاظ  و بیان میں اختصار اور مواد میں کثرت۔ ان کی اسی عادت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مولانا اشرف علی التھانوی ؒ کہا کرتے تھے کہ شاہ صاحب ؒ کے کلام میں ایسے جملے ہوتے ہیں کہ ان میں سے ایک کی تشریح پوری پوری کتاب کی متقاضی ہے۔26

مولانا یوسف بنوری ؒ اس عادت کو اس طرح بیان کرتے ہیں:

انہ كان يہمہ اكثار المادۃ في الباب ، دون الاكثار في بيانہا و ايضاحہا، كانہ يضن بعلمہ المضنون ۔ ثم ان  ہذا الايجاز في اللفظ ، و الغزارۃ في المادۃ اصبح لہ دابا في تدريسہ و تاليفہ و كان كما قال علي رضي اللہ عنہ : ما رايت بليغا قط الا ولہ في القول ايجاز ،  و في المعاني اطالۃ، و حكاہ ابن الاثير۔27

درس میں طلبہ کی علمی و تحقیقی تربیت کا اہتمام

شاہ صاحب ؒ کے درس حدیث کی ایک بہت اہم خصوصیت طلبہ حدیث کی علمی و تحقیقی تربیت کا اہتمام کرنا بھی تھی۔ وہ جہاں طلبہ کی علمی مواد کی طرف راہنمائی کرتے رہیں ان کو صحیح تنقید کاطریقہ بھی سکھاتے ۔ بسا اوقات وہ دوران درس کوئی مسئلہ ذکر کرتے اور پھر اس پر علمی نقد فرماتے ۔ اس سے طلبہ کو علمی نقد کا صحیح طریقہ سمجھ میں آتا ۔ اس نقد کی سب سے بڑی خوبی متقدمین علماء کے احترام میں اعتدال کا رویہ تھا ۔  فیض الباری کے مقدمہ میں مولانا محمد یوسف بنوری ؒ لکھتے ہیں :

انہ كان ربما يذكر اشياء و ينقدہا نقدا علميا ، و يدل الطلبۃ علي منہاج النقد العلمي ، ويضع لہم اساسا لذالك ، ثم يستدرك ذالك ، تنبيہا لہم بمزيۃ كلام اہل العلم و الاحتياط عن الخوض في شانہم بما تابي جلالۃ قدرہم۔28

اسی طرح طلبہ کی تربیت کی غرض سے ہی آپ ؒ زیر درس حدیث کے موضوع سے متعلق بنیادی علوم کے ساتھ موضوع سے مناسبت رکھنے والے دیگر علوم کو بیان کرنے کا اہتمام بھی کرتے ۔ اس سے طلبہ ان دیگر علوم کی مبادیات سے بھی واقف ہو جاتے جو حدیث کی تشریح کے تناظر میں اہم سمجھے جاتے تھے ۔  مولانا یوسف بنوری ؒ لکھتے ہیں :

 انہ كان لا يقتنع بذكر ما يختص بالموضوع ، بل ربما كان يذكرامورا لمناسبۃ دقيقۃ بينہا و بين الموضوع ، حرصا علي بيانہا افادۃ للطلبۃ۔29

احکام کے مصالح اور حکمتوں کا بیان

شاہ صاحب ؒ حدیث کی تعبیر و تشریح میں جا بجا احکام کی حکمتوں کو واضح کرتے ہیں تاکہ سامع کے دل میں اطمینان کی کیفیت پیدا ہو جائے ۔ اس کی مثال جزیہ کی بحث ہے کہ جس میں انہوں نے بعض لوگوں کے جزیہ کو ظلم کہنے پر جزیہ کی حکمت بیان کی ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ جزیہ تو غیرمسلم آبادی کے لیے ایک نعمت غیر مترقبہ سے کم نہیں ہے ، اس سے ان حفاظت یقینی ہوتی ہے ، وہ تھوڑے سے پیسے ادا کرتے ہیں اور بڑے بڑے دشمنوں کے خلاف اسلامی حکومت کی حفاظت سے لطف اندوز ہوتے ہیں ۔ گویا یہ ان پر ظلم نہیں ہے بلکہ ان پر احسان ہے ۔ فرماتے ہیں :

واعلم أن بَعْضَ مَنْ لا دينَ لہم، ولا عَقْل، ولا شيء زعموا أنَّ الجِزيۃَ ظُلْمٌ، ہيہات ہيات؛ وہل عَلِموا قَدْر الجِزْيۃ؟ ہو دِرْہمٌ علی فقرائہم، وأربعۃُ دراہِمَ علی أغنياتہم، وليس علی نسوانہم وصبيانہمم شيءٌ، ثم ہل عَلِموا قَدْرَ ما يُؤخذ من المسلمين، فہو أضعافُ ذلك، يؤخذ منہم العُشرُ، والزكاۃُ، والصدقاتُ، والجباياتُ الأخری، بخلاف أہل الذِّمۃ، ثُم ہل علموا أن ما نأخذُہ منہم نكافئہم بأضعافہ، نجعلُ دماءہم كدمائنا، وأعراضَہم كأعراضنا، نحفظ أموالہم، ونناضِلُ أعداءہم. فلو وازيت ما يُؤخذ من المسلمين بما يُؤخذ منہم، لعَلِمت أن المأخوذَ من أہل الذمۃ أقلُ قليل، مما نأخذُ من المسلمين. فَمَنْ ظنَّ أن الجزيۃ ظُلْم، فقد سَفِہ نفسہ.30

صحیح بخاری کی تدریس میں شاہ صاحبؒ کا اسلوب

شاہ صاحب ؒ نے دار العلوم دیوبند میں جب تدریس کا آغاز کیا تو ابتداء میں ان کے ذمہ جامع ترمذی اور صحیح بخاری کی تدریس ہوتی تھی ، ان دو کتابوں میں انہوں نے مباحث حدیث کو اس طرح تقسیم کیا ہوتا کہ احادیث احکام کی تحقیق، ائمہ کرام کے مذاہب  اور دلائل کا استیعاب اور ان میں راجح و مرجوح کی وضاحت وہ درس ترمذی میں کر دیا کرتے۔ آخری عمر میں جب ان کی تدریس کا مرکز صحیح بخاری ہو گئی تو یہ سارے مباحث وہ درس بخاری میں بیان کرنے لگے ۔ اس لیے ان کے درس حدیث کی کچھ خصوصیات کو سمجھنا تدریس بخاری کے اسلوب کو سمجھنے پر موقوف ہے ۔ مولانا یوسف بنوری ؒ نے فیض الباری کے مقدمہ اور " نفخۃ العنبر" میں اس اسلوب پر روشنی ڈالی ہے جس کا خلاصہ حسب ذیل ہے ۔

اس اسلوب کا فائدہ بیان کرتے ہوئے مولانا یوسف بنور ی ؒ لکھتے ہیں :

فہذہ مميزات درسہ لصحيح البخاري ، لا تجد بعضہا في درس غيرہ ۔ ومن اجل ذالك كل من  كان ضليعا في العلوم ، واسع الاطلاع ، حديد الذہن ، قوي الحافظۃ ، ثاقب الفكر ، كان يقوم من عندہ بحظ وافر  و بصيرۃ نافذۃ۔33

"یہ ان کے درس بخاری کے امتیازات ہیں ، آپ ان میں سے کچھ کسی اور کے درس میں نہیں پائیں گے ۔ اسی وجہ سے ہر وہ آدمی جو علوم سے بھر پور ہو ، اور اس کی اطلاعات وسیع ہوں ، ذہن رسا ہو ، حافظہ مضبوط ہو، صائب الرائے ہو ، تو وہ ان کے  پاس سے علم کا  بڑا حصہ اور  ایسی بصیرت لے کر اٹھتا ہے جو معاملات کو سمجھنے میں مدد گار ہوتی ہے۔"


حوالہ جات

  1.   محمد انظر شاہ مسعودی ، مولانا ،(1927ء-2008ء) نقش دوام : ص:305، ادارہ تالیفات اشرفیہ ، ملتان ، پاکستان ، 1426ھ
  2.   نقش دوام : ص:306
  3.   مناظر احسن گیلانی ، مولانا ،(1892ء-1956ء) احاطہ دار العلوم میں بیتے ہوئے دن ، ص؛ 76، ادارہ تالیفات اشرفیہ ، ملتان ، 1425 ھ
  4.   نقش دوام ، ص: 155
  5.   احاطہ دار العلوم میں بیتے ہوئے دن ، ص: 81-82
  6.  مضمون  حضرت قاری محمد طیب ؒ ، عبد الرحمان کوندو، الانور ،   ص: 274، ندوۃ المصنفین ، اردو بازار ، جامع مسجد دہلی ، 1979ء
  7.   نقش دوام ، ص: 156
  8.    نفحۃ العنبر ، ص:61
  9.   حضرت قاری محمد طیب ؒ ، کتاب " الانور" ، ص: 264
  10.   نفحة العنبر ، صؒ 40-41
  11.   نفحة العنبر ، ص: -50 49
  12.   الدارقطني ،بو الحسن علي بن عمر بن أحمد بن مهدي بن مسعود بن النعمان بن دينار البغدادي (المتوفی: 385هـ)،  سنن الدارقطني (1/ 428)، الناشر: مؤسسة الرسالة، بيروت - لبنان 1424 هـ - 2004 م ، عدد الأجزاء: 5
  13.   فيض الباري علی صحيح البخاري (1/ 77)
  14.    فيض الباري على صحيح البخاري (2/ 307)
  15.   فيض الباري على صحيح البخاري ج:1، ص:16
  16.    حضرت قاری محمد طیب ؒ ، کتاب " الانور" ، ص: 267
  17.   حضرت قاری محمد طیب ؒ ، کتاب " الانور" ، ص: 267
  18.   نفحة العنبر ، ص: 36
  19.   نفحة العنبر ، ص: 41
  20.   نفحۃ العنبر ، ص: 284  و فيض الباري ، ج: 1، ص: 16
  21.   محمد أنور شاه بن معظم شاه الكشميري الهندي ثم الديوبندي (المتوفى: 1353هـ)،  نيل الفرقدين  مع حاشیۃ بسط الیدین فی مسئلۃ رفع الیدین ، ص: 135، مجموعۃ رسائل الکاشمیری ،ج: 1، المجلس العلمی ، کراچی ، پاکستان ، 2004ء
  22.   فيض الباري على صحيح البخاري (1/ 78)
  23.   فيض الباري على صحيح البخاري، ج: 1/ 16
  24.   فيض الباري على صحيح البخاري (1/ 359)
  25.   فيض الباري على صحيح البخاري (1/ 78)
  26.    فیض الباری علی صحیح البخاری ، ج: 1/ 16
  27.     فیض الباری علی صحیح البخاری ، ج: 1/ 16
  28.   فيض الباري علي صحيح البخاري ،  1/ 16
  29.   فيض الباري علي صحيح البخاري ،  1/ 16،  نفحۃ العنبر،  ص:284
  30.   فيض الباري على صحيح البخاري (4/ 240)
  31.   فیض الباری علی صحیح البخاری ، ج: 1، ص: 17
  32.   فيض الباري على صحيح البخاري (1/ 428)
  33.   فیض الباری علی صحیح البخاری ، ج: 1، ص: 17


حضرت صدیق اکبرؓ کے اسوہ کے چند پہلو

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

سیدنا صدیق اکبرؓ کی جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کا واقعہ پوری اہمیت اور تفصیل کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے اور قرآن کریم نے بھی ’’اذھما فی الغار اذ یقول لصاحبہ‘‘ کے حوالہ سے اس کا تذکرہ کیا ہے جو بلاشبہ ہمارے لیے ایمان کی تازگی کے ساتھ ساتھ زندگی کے بیسیوں معاملات میں راہنمائی کے پہلو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ جبکہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کا ہجرت کا ایک اور سفر بھی ہمارے لیے اسی طرح سبق آموز ہے مگر عام طور مجالس میں اس کا تذکرہ نہیں ہوتا اور میں آج اسی کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جو بخاری شریف میں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے تفصیل کے ساتھ روایت کیا گیا ہے۔

جب جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر مکہ والوں کے مظالم اور اذیتیں حد سے بڑھ گئیں اور بہت سے خاندان نبی کریمؐ کی اجازت سے حبشہ کی طرف ہجرت کر گئے تو ایک موقع پر حضرت ابوبکرؓ نے بھی حالات سے مجبور ہو کر ہجرت کا ارادہ کر لیا اور آنحضرتؐ سے اجازت بھی حاصل کر لی۔ سامان سفر تیار کر کے ہجرت کے لیے روانہ ہو گئے اور دو تین روز کا سفر بھی کر لیا کہ راستہ میں معروف عرب قبیلہ بنو قارہ کے سردار ابن الدغنہ نے انہیں پہچان لیا اور پوچھا کہ کدھر جا رہے ہو؟ حضرت ابوبکرؓ نے جواب دیا کہ مکہ مکرمہ کے لوگوں نے ان کے لیے وہاں رہنا مشکل بنا دیا ہے اس لیے وہ دیگر بہت سے ساتھیوں کی طرح وطن چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ ابن الدغنہ نے کہا کہ نہیں آپ ایسا نہیں کریں گے ’’مثلک لا یَخرج ولا یُخرج‘‘ آپ جیسا شخص نہ شہر چھوڑ کر جاتا ہے اور نہ ہی اسے نکالا جاتا ہے۔ اس لیے کہ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، محتاجوں کو کما کر دیتے ہیں، بوجھ والوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، مسافروں اور مہمانوں کی خدمت کرتے ہیں اور ناگہانی آفات و حادثات میں لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔

یہ وہی جملے ہیں جو غار حرا کے واقعہ کے بعد نبی اکرمؐ کو پیش آنے والی سخت گبھراہٹ میں ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا نے آپؐ کو تسلی دینے کے لیے کہے تھے، اور اس حوالہ سے میں یہ عرض کیا کرتا ہوں کہ نبوت اور خلافت کا مزاج ایک ہی تھا۔ ابن الدغنہ نے حضرت ابوبکرؓ سے کہا کہ آپ میرے ساتھ مکہ مکرمہ واپس چلیں، میں قریش والوں سے خود بات کرتا ہوں اور آپ میری امان اور ضمان میں رہیں گے۔

حضرت ابوبکرؓ اس کی تسلی اور ضمانت پر واپس آ گئے جبکہ ابن الدغنہ نے قریش کے سرداروں کے پاس جا کر بات کی اور کہا کہ ابوبکرؓ جیسے سماجی خدمت گزار کو شہر چھوڑ دینے پر مجبور کرنا درست نہیں ہے اس لیے میں انہیں راستہ سے واپس لے آیا ہوں اور اب وہ میری امان میں یہیں رہیں گے۔ قریش کے سرداروں کے لیے ابن الدغنہ کی اس ضمانت کو مسترد کرنا مشکل تھا اس لیے انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے ہم اسے کچھ نہیں کہیں گے مگر ہماری بھی ایک شرط ابوبکرؓ سے منوائیں کہ مذہبی سرگرمیاں کھلے بندوں جاری نہیں رکھیں گے اور گھر کی چار دیواری کے اندر ہی جو کچھ کرنا ہے کریں گے، اس لیے کہ ان کا عام جگہوں پر نماز اور قرآن کریم پڑھنا ہماری عورتوں اور بچوں کے ذہنوں پر اثرانداز ہوتا ہے جو ہمارے لیے قابل قبول نہیں ہے۔

ابن الدغنہ نے یہ بات حضرت ابوبکرؓ کے پاس آ کر کہہ دی اور انہیں پابند کیا کہ وہ نماز، قرآن کریم اور جو کچھ بھی کرنا ہے گھر کے اندر کریں گے اور کھلے بندوں ایسی کوئی بات نہیں کریں گے۔ حضرت ابوبکرؓ نے یہ بات قبول کر لی اور اپنی مذہبی سرگرمیوں کو گھر کی چار دیواری کے اندر محدود کر لیا۔ مگر زیادہ دن ایسا نہ کر سکے کہ نماز پڑھنا اور قرآن کریم کی تلاوت گھر کی چار دیواری کے اندر ان کو گوارا نہ تھی اس لیے کچھ دنوں کے بعد انہوں نے گھر کے دروازے سے باہر کھلے میدان میں ایک تھڑا بنا لیا جو مصلّٰی تھا اور امام بخاریؒ نے اسے اسلام میں تعمیر ہونے والی پہلی مسجد کے عنوان سے بیان کیا ہے۔ حضرت ابوبکرؓ اس مسجد میں نماز پڑھتے اور قرآن کریم کی تلاوت کرتے۔ اردگرد آبادی کی عورتیں اور بچے ایسے موقع پر جمع ہو جاتے اور انہیں عبادت کرتا دیکھتے۔ حضرت ابوبکرؓ رقیق القلب بزرگ تھے، قرآن کریم پڑھتے ہوئے انہیں آنکھوں پر قابو نہ رہتا اور دیکھنے والے ان کی اس کیفیت سے متاثر ہوتے۔

یہ صورتحال قریش کے سرداروں کے لیے قابل برداشت نہیں تھی، انہوں نے پیغام بھیج کر ابن الدغنہ کو مکہ مکرمہ بلایا اور کہا کہ حضرت ابوبکرؓ نے تمہارے ساتھ کیے گئے عہد کی پاسداری نہیں کی جبکہ ہمیں ان کا کھلے بندوں نماز و قرآن پڑھنا گوارا نہیں ہے، اس لیے یا تو ابوبکرؓ کو اس طے شدہ بات پر پابند کرو اور اگر وہ اس پابندی کو قبول نہیں کرتے تو تم اپنی ضمانت ختم کرنے کا اعلان کر دو کیونکہ ہم تمہاری ضمانت و امان کی خلاف ورزی کرنا بھی پسند نہیں کرتے۔ اس پر ابن الدغنہ نے حضرت ابوبکرؓ سے بات کی اور چاہا کہ وہ اس کی امان کو اس پہلی شرط کے مطابق برقرار رکھیں جس سے انہوں نے انکار کر دیا اور ابن الدغنہ سے کہا کہ وہ اس کی امان اور ضمانت واپس کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی امان کو پسند کرتے ہیں اس لیے وہ خود کو گھر کی چار دیواری میں محدود کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں جس پر وہ معاہدہ ختم ہو گیا۔

اس تاریخی واقعہ میں ہمارے لیے سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ اگر ہمیں غیر مسلم قوموں کے ساتھ کوئی ایسا معاہدہ کرنا پڑ گیا ہے جس سے ہم اپنے شرعی فرائض و احکام کی بجا آوری میں رکاوٹ محسوس کرتے ہیں تو شریعت اسلامیہ کے احکام و قوانین ہی کو مقدم رکھنا چاہیے اور اس قسم کے معاہدات پر نظرثانی کا ماحول پیدا کرنا چاہیے جیسا کہ حضرت ابوبکرؓ نے ابن الدغنہ کے ساتھ کیے گئے معاہدہ کی خلاف ورزی کا ماحول پیدا کر کے معاہدہ پر نظرثانی کی راہ ہموار کی تھی اور اس کے نتیجے میں نماز کی ادائیگی اور قرآن کریم کی کھلنے بندوں تلاوت پر پابندی لگانے والے یہ معاہدہ اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا تھا۔ ہمارے خیال میں اسلامی احکام و قوانین سے متصادم بین الاقوامی معاہدات کی جکڑبندیوں سے نجات حاصل کرنے کے لیے حضرت ابوبکر صدیقؓ کا یہ اسوہ مبارکہ صحیح سمت ہماری راہنمائی کرتا ہے۔

حضرت صدیق اکبر اور اختلاف رائے

رائے کا اختلاف فطری بات ہے۔ جہاں علم ہو گا اور عقل ہو گی، وہاں اختلاف بھی ہو گا۔ اختلاف کا ہونا کوئی غلط بات نہیں بلکہ اختلاف کا نہ ہونا فطرت کے منافی ہے۔ ہماری امت کے دو سب سے بڑے بزرگوں حضرت صدیق اکبرؓ اور حضرت فاروق اعظمؓ کے درمیان بھی اختلاف ہوتا رہا ہے جو ہمارے لیے اسوہ اور نمونہ ہے کہ اختلاف کی صورت میں کیا کرنا چاہیے۔ ہمارے ان دو بڑے بزرگوں کے درمیان متعدد امور میں اختلافات کا ذکر روایات میں ملتا ہے جن میں سے صرف تین واقعات کا ذکر کرنا چاہوں گا جو خلافت صدیق اکبرؓ کے مختصر دور میں پیش آئے۔

پہلا اختلاف جو بخاری شریف میں تفصیل کے ساتھ مذکور ہے کہ حضرت صدیق اکبرؓ کو خلافت کا منصب سنبھالتے ہی جن گروہوں اور قبائل کی طرف سے بغاوت کا سامنا کرنا پڑا۔ ان میں مرتدین اور منکرین ختم نبوت کے علاوہ ایک گروہ منکرین زکوٰۃ کا بھی تھا جس کے سربراہ کا نام مالک بن نویرہ بتایا جاتا ہے۔ حضرت عمرؓ کو اس گروہ کے خلاف جہاد میں اشکال تھا کہ یہ کلمہ پڑھتے ہیں اور دین کی باقی سب باتیں مانتے ہیں صرف زکوٰۃ دینے سے انکار کرتے ہیں، اس لیے ان کے خلاف سختی نہیں کرنی چاہیے۔ مگر حضرت صدیق اکبرؓ نے ان کی بات قبول کرنے سے انکار کر دیا جس پر دونوں بزرگوں میں مباحثہ ہوا، حضرت ابوبکرؓ نے بڑا ہونے کے ناتے سے حضرت عمرؓ کو سخت لہجے میں جواب بھی دیا اور اپنے موقف پر قائم رہے۔ حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ بعد میں اللہ تعالیٰ نے مجھے بھی اسی طرح شرح صدر عطا فرمایا جیسے حضرت ابوبکرؓ کو شرح صدر ہو گیا تھا۔

دوسرا اختلاف قرآن کریم کو کتابی شکل میں جمع کرنے کے حوالہ سے ہوا کہ مختلف جنگوں میں حافظ قرآن صحابہ کرامؓ کی کثرت کے ساتھ شہادتوں کی خبریں آنے پر حضرت عمرؓ کو قرآن کریم کی حفاظت کے بارے میں خدشہ اور خطرہ محسوس ہوا تو انہوں نے خلیفۂ رسولؐ کو تجویز دی کہ قرآن کریم کو کتابی شکل میں مرتب کرا کے محفوظ کرا لینا چاہیے، جس سے حضرت ابوبکرؓ نے ابتدا میں یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ اگر یہ ضروری ہوتا تو خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کا اہتمام فرماتے، جب انہوں نے نہیں کیا تو میں بھی اسے ضروری نہیں سمجھتا۔ مگر بعد میں حضرت ابوبکرؓ اس کے لیے تیار ہو گئے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس مسئلہ پر عمرؓ کی طرح میرا سینہ بھی کھول دیا ہے۔ چنانچہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے بڑے کاتب وحی حضرت زید بن ثابتؓ کو حکم دے کر قرآن کریم کو کتابی صورت میں لکھوا کر محفوظ کر دیا گیا۔

تیسرا اختلاف بیت المال سے وظائف تقسیم کرنے کے معاملہ میں ہوا۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود اتھارٹی تھے اور آپؐ کا ارشاد ہی قانون ہوتا تھا اس لیے اس دور میں کوئی اشکال کی بات نہیں تھی، مگر آپؐ کے بعد بیت المال سے لوگوں کو وظائف دینے کے بارے میں اصول اور قانون طے کرنے کی ضرورت تھی جس پر حضرت عمرؓ نے رائے دی کہ معاشرہ میں جو درجات فضیلت و مرتبہ کے حوالہ سے ہیں ان کے حوالہ سے وظائف کی تقسیم میں درجہ بندی کی جائے اور مختلف گریڈ طے کر کے اس کے مطابق وظائف دیے جائیں۔ مگر حضرت ابوبکرؓ نے یہ رائے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور فرمایا کہ یہ معیشت کا معاملہ ہے اور حقوق کی بات ہے اس میں برابری کا اصول ہی چلے گا۔ ان کا ارشاد یہ ہے کہ ’’وھذا معاش فالاسوۃ فیہ خیر من الاثرۃ‘‘۔ یہ معاش کا مسئلہ ہے اس میں برابری کا اصول ترجیح سے بہتر ہے۔ چنانچہ انہوں نے کسی قسم کی درجہ بندی کیے بغیر اپنے اڑھائی سالہ دور خلافت میں سب کو برابر وظیفے دیے۔

حضرت عمرؓ نے اس موقع پر تو خاموشی اختیار فرمائی مگر جب خود خلیفہ بنے تو وظائف کی تقسیم کا نیا نظام بنایا اور اس میں سب سے زیادہ وظیفہ ازواج مطہراتؓ کو، پھر مہاجرین کو، اس کے بعد انصار کو اور پھر دیگر طبقات کو درجہ بدرجہ وظائف تقسیم فرمائے۔ البتہ دس سال تک اس نظام پر عمل کے بعد اس کے معاشرتی نتائج سامنے آنا شروع ہوئے تو حضرت عمرؓ کو الجھن ہوئی اس لیے کہ ایسے گریڈ سسٹم میں معاشرہ کی طبقاتی تقسیم ہو جاتی ہے اور سماج مختلف درجوں میں بٹ جاتا ہے۔ میں اس کی مثال دیا کرتا ہوں کہ جیسے ہمارے ہاں خاص طور پر اسلام آباد میں گریڈ سسٹم نے معاشرے کو مختلف دائروں اور طبقوں میں تقسیم کر رکھا ہے اور اکثر باہمی معاملات اس معاشرتی درجہ بندی کے دائروں میں طے پاتے ہیں۔ حضرت امام ابو یوسفؒ نے ’’کتاب الخراج‘‘ میں لکھا ہے کہ جب حضرت عمرؓ نے درجہ بندی کے اس قسم کے معاشرتی نتائج دیکھے تو فرمایا کہ اب مجھے محسوس ہوا ہے کہ حضرت ابوبکرؓ کی رائے اس معاملہ میں زیادہ صائب تھی، اس لیے اگلے سال سے میں اس نظام کو ان کی رائے کے مطابق ازسرنو ترتیب دوں گا، لیکن اگلے سال سے قبل وہ شہید ہو گئے اور معاملہ جوں کا توں رہا۔

عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اختلاف رائے تو فطری امر ہے البتہ اس حوالہ سے اگر اپنے بزرگوں کے اسوہ کی پیروی کی جائے تو بہت سی الجھنوں اور نقصانات سے بچا جا سکتا ہے ۔


شیعہ سُنّی اختلاف اور مشاہیرِ اسلام کا رویّہ

ڈاکٹر اختر حسین عزمی

اس میں کوئی شک نہیں کہ اہل سنت اور اہل تشیع کے درمیان بہت سے اصولی احکام مشترک ہیں اور کچھ بنیادی عقاید و احکام میں شدید اختلاف رائے بھی پایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے ہر دو فریق کے ہاں ایک دوسرے کے با رے میں بہت سی بدگمانیاں بھی موجود ہیں، ایک دوسرے کی تکفیر کے اقوال بھی ملتے ہیں اور تکفیر پر خاموشی اور احتیاط کی روش بھی پائی جاتی ہیں، اگر کوئی تکفیر کا قائل نہ بھی ہو تو ایک دوسرے کو گمراہ ضرور سمجھتا ہے اور کہیں اشارے کنائے میں ایک دوسرے کو منافق باور کرایا جاتا ہے۔

جن بنیادی عقاید میں اشتراک پایا جاتا ہے، ان میں توحید، رسالت،ختم نبوت، آخرت، کتب، فرشتوں اور تقدیر پر ایمان شامل ہے۔ اس طرح پانچ نمازوں، صومِ رمضان، حج و زکوۃ کی فرضیت، اکل و شرب میں حلال و حرام کے اکثر احکام مشترک ہیں۔قرآن، حدیث، اجماع و قیاس ا گرچہ دونوں کے ہاں مصادر شریعت مانے جاتے ہیں۔ لیکن اخذِ حدیث اور اجماع کے اصول اور تصورات میں کافی فرق ہے۔اہل سنت کے ہاں حضورؐ کی حدیث کی روایت اہل بیت سمیت ہر صحابی رسولؐ سے قبول کی جاتی ہے، جب کہ اہل تشیع اخذ روایت میں اہل بیت کے علاوہ معدودے چند صحابہ تک محدود ہیں۔ اہل تشیع میں کچھ وہ ہیں جنھوں نے حضرت علیؓ کو صرف حضرت عثمانؓ پر فضیلت دی، کچھ وہ ہیں جو بو بکرؓ و عمرؓ پر بھی فضیلت دیتے ہیں، کچھ نے خلافت بلا فصل کا قول بھی اختیار کیا۔ بعض نے چار صحابہ کے سوا  تمام صحابہ کے مرتد ہونے کا عقیدہ رکھا۔ بعض نے چودہ، پندرہ صحابہ کو صحیح قرار دیا باقی کو منافق سمجھا، بعض نے اس بارےمیں توسّع اختیار کیا۔ کچھ نے تحریف قرآن کا عقیدہ بھی اپنایا۔

امام کی معصومیت کا عقیدہ اثناعشری (بارہ امامی) شیعہ کے اصول مذہب میں سے ہے۔ اہل سنت والجماعت کے ہاں علم و تقویٰ کی حامل کسی بھی مجتہد شخصیت کو امام کہا جاتا ہے۔ ان کے ہاں امامت کسی شرعی منصب کا نام نہیں اور نہ ان کے ہاں امام کے قول و عمل کے معصوم ہونے کا کوئی تصور ہے جبکہ اہل تشیّع کے ہاں امامت ایک وہبی منصب ہے۔ شیخ محمد حسین آل کاشف الغطاء کا شمار اہل تشیّع کے نہایت معتبر علما میں ہوتا ہے۔ ان کے مطابق شیعی نقطہ نظر سے امامت، نبوت کی طرح منصب الٰہی ہے، جس طرح اللہ اپنے بندوں میں جسے چاہتا ہے نبوت و رسالت کے لیے منتخب کرتا ہے اسی طرح امامت کے معاملے میں بھی کسی کو کوئی اختیار نہیں۔ خود اللہ نبی کو حکم دیتا ہے کہ ’’شخص منتخب‘‘ کی امامت کا اعلان کر دے۔ نبی اور امام میں فرق صرف یہ ہے کہ نبی پر وحی نازل ہوتی ہے اور امام خصوصی توفیق کے ساتھ رسول سے احکام حاصل کرتا ہے۔ پس رسول، خدا کا پیغام رساں اور امام، رسول کا پیام بر۔(۱)

اہل سنت کے نزدیک شیعہ کا یہ عقیدہ شرک فی النبوۃ ہے۔ اس اعتبار سے ان کے نزدیک یہ ایک بہت بنیادی بگاڑ،بدعت اور گمراہی ہے۔ سنّی اہل علم کے نزدیک نبیؐ کے بعد کسی کی بات منصوص نہیں ہے۔ شیعہ عالم مولانا سید افتخارحسین نجفی کے مطابق اثنا عشریہ، امام حسینؓ کی اولاد ہی سے نو شخصیات کے منصوص من اللہ ہونے کا اعتقاد رکھتے ہیں، حضرت محمدؐ، علیؓ، فاطمہؓ اور حسن و حسینؓ کے علاوہ نو شخصیات کو بھی معصوم رکھتے ہیں، جب کہ زیدی شیعہ امام حسینؓ کے بعد کسی کے منصوص من اللہ ہونے کا اعتقاد نہیں رکھتے۔ البتہ حضور ؐکے ساتھ حضرت علیؓ، فاطمہؓ، حسنؓ و حسینؓ کو معصوم مانتے ہیں۔ (۲)

اہل سنت سے اس بنیادی اختلاف کے باوجود شیعہ عالم شیخ محمد حسین آل کاشف الغطاء کے مطابق صرف امامت کا اقرار نہ کرنے سے کوئی فرد اسلام کے دائرہ سے خارج نہیں ہو سکتا۔ دنیا میں تمام مسلمان یکساں ہیں، ہاں آخرت میں ضرور درجوں کا تفاوت ہو گا، عمل اور نیت کے اعتبار سے مقامات ملیں گے۔ (۳)

اہل سنّت اور اہل تشیّع کے علم حدیث کا ایک بنیادی فر ق اصطلاحات کا الگ الگ تصور ہے۔ ان علیحدہ مفاہیم کی وجہ سے فریقین کا علم حدیث ایک دوسرے سے بہت کچھ مختلف ہو جاتا ہے۔اہل سنّت کے ہاں حدیث و سنت سے مراد حضورؐ کا قول، عمل اور تقریر ( صحابہ کے قول و فعل پر حضورؐ کی خاموشی) ہے۔ جبکہ اہل تشیع کے ہاں حدیث و سنت کا اطلاق آنحضورؐ کے اقوال و افعال اور تقریرات سمیت ائمہ معصومین کے اقوال، افعال اور تقریرات پر بھی ہوتا ہے اور بارہ ائمہ کے اقوال بھی شریعت کا مستقل ماخذ اور حدیث و سنت کا مصداق ہیں۔ معروف شیعہ عالم شیخ رضا المظفر لکھتے ہیں:

’’شیعہ کے ہاں چونکہ ائمہ معصومین کے اقوال نبیؐ کے اقوال کی طرح بندوں پر حجت اور واجب الاتباع ہیں، اس لیے فقہائے امامیہ نے سنت کی اصطلاح میں توسّع کرتے ہوئے ائمہ معصومین کے اقوال، افعال اور تقریرات کو بھی سنت شمار کیا ہے‘‘۔ (۴)

معروف شیعہ عالم حیدر حب اللہ لکھتے ہیں:

’’علم حدیث و علم درایہ اور علوم دینیہ میں لفظ سنت سے مراد آپؐ یامعصوم کا قول، فعل اور تقریر ہے۔‘‘  (۵)

سنت و حدیث کی اصطلاح کا یہ فرق بنیادی اختلافی نکتہ ہے۔ اس نکتے پر دونوں حدیثی ذخیرے ایک دوسرے سے بالکل جدا جاتے ہیں۔

اسی طرح صحابہ کرامؓ کی عدالت اور ان سے مروی روایات کا کیا حکم ہے؟ اہل السنّہ کے ہاں تمام صحابہؓ کی روایات قابل قبول ہیں۔ الصحابۃ کُلّھم عَدُول کے اصول کی رُو سے صحابہ میں اگرچہ درجات میں فرق ہے لیکن ہر صحابی کو عادل سمجھتے ہوئے اس سے روایت قبول کی جائے گی۔ اہل سنّت کے ہاں صحابہ کے بعد کے راویوں پر جرح (جانچ پڑتال) ہوگی،صحابہؓ پر نہیں۔ اس کے برخلاف اہل تشیّع صحابہ کے ساتھ بھی دوسرے راویوں جیسا معاملہ کرتے ہیں اور ان کے ہاں صحابہ میں بھی عادل، فاسق، منافق، بدعتی اور دیگر اقسام موجود ہیں۔ اس لیے اہل تشیع صرف عادل صحابہ کی روایات قبول کرتے ہیں اور عادل صحابہ وہ ہیں جو حضرت علیؓ کے ساتھ کھڑے رہے۔ چنانچہ معروف شیعہ عالم احمد حسین یعقوب لکھتے ہیں:

کُلُ الّذین وقفوا مع علیؓ و والوہ، ھم صحابۃ عدول۔ (۶)

معروف شیعہ محدث شیخ جعفر سبحانی کے مطابق وہ صحابہ جو زمانہ نبوت اور اس کے بعد آخر وقت تک حضرت علیؓ کے ساتھی رہے، ان کی تعداد اڑھائی سو ہے۔ (۷)

کتب تاریخ کے مطابق صحابہ کرام کی تعداد ایک لاکھ سے زاید تھی۔ ابن حجر کی کتاب الاصابہ میں 12446 صحابہ کے حالات درج ہیں۔ ان میں سے امام ابن کثیر کے مطابق راویانِ حدیث صحابہ کی تعداد پانچ ہزار (۸) جبکہ امام ابن حزم کی کتاب ’’اسماء الصحابہ‘‘ کے مطابق ۹۹۹صحابہ سے روایات مروی ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق کم از کم پندرہ سوصحابہ ایسے ہیں جن سے اہل سنت کے ہاں حدیثیں مروی ہیں۔ گویا کہ اہل تشیع رواۃ صحابہ میں سے صرف پندرہ بیس فی صد سے روایات لیتے ہیں۔ اخذ حدیث کے اس فرق کے باعث اہل سنت و اہل تشیع کے اخذ احکام کے حوالے سے بھی بڑا فرق واقع ہوا ہے۔

(۲)

حضرت عثمان ؓکی شہادت کے بعد حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے قصاص عثمانؓ کا مطالبہ کرنے کے باعث مسلمان سیاسی لحاظ سے دو گروہوں شیعان علیؓ اور شیعانِ معاویہؓ میں تقسیم ہو گئےتھے۔ حضرت علیؓ کا تعلق بنو ہاشم سے تھا جب کہ حضرت عثمانؓ اور امیر معاویہؓ بنو امیہ سے تعلق رکھتے تھے۔ دورِ جاہلیت میں جاری ان دونوں خاندانوں کی چپقلش جو فروغ اسلام کے باعث دب گئی تھی، اب پھر ابھر آئی۔ واقعہ کربلا نے اس خلیج کو اور گہرا کر دیا لیکن یہ مسئلہ اب تک سیاسی تھا۔ بعد ازاں سیاسی گروہوں نے اسے مذہبی رنگ یوں دینا شروع کیا کہ بنو امیہ کے حکمرانوں نے حضرت علیؓ اور حسینؓ پر برسرِمنبر تبرا بازی اور سب و شتم (برا بھلا کہنا) کو خطبہ میں شامل کر لیا، جسے عام مسلمانوں نے کبھی اچھا نہیں سمجھا۔ اس کے ردِّ عمل میں حضرت علیؓ کے حامیوں نے اہل بیت کی عقیدت و محبت میں صحابہ پر سبّ و شتم کرنا اور انھیں غاصب قرار دیناضروری سمجھا۔اور اہل سنت کو آج بھی اہل تشیّع سے اس کی شکایت ہے۔اہل سنت والجماعت کی عظیم اکثریت نے اہل بیت پر سبّ و شتم کی ہمیشہ مذمت کی ہے۔حضرت عمر بن عبدالعزیز نے خطبہ جمعہ میں حضرت علیؓ پر سب و شتم کی اموی بدعت کو ختم کیا۔

امام ابو حنیفہ نے عباسی مظالم کے خلاف اہل بیت کے نفس زکیہ کے خروج میں مالی تعاون کیا۔

امت کی اکثریت اہل بیت رسول علی وحسین رضی اللہ عنہم سمیت تمام صحابہؓ کی تعظیم و احترام کی روش پر قائم تھی۔ جب بنو امیہ کے خلاف عباسی تحریک اٹھی تو اس کا ساتھ دینے والوں میں علوی نسل کے علاوہ عام مسلمانوں کی اکثریت بھی شامل تھی لیکن جب عباسی خلفاء نے اپنی خاندانی حکومت کے استحکام کے لیے علوی خاندان کو پیچھے دھکیلنا چاہا تو انھوں نے حضرت علیؓ اور ان کی نسل سے محبت کرنے والے ہر فرد کو مطعون کرنا شروع کر دیا تھا کہ وہ رافضی (شیعہ) ہے۔ رافضی دراصل ایک اصطلاح تھی جس سے مراد وہ آدمی ہوتا تھا جو خلفائے راشدین میں سے حضرت علیؓ کے سوا باقی خلفاء کو غاصب سمجھتا اور صحابہ سے بغض رکھتا ہو جب کہ ناصبی اس کے مقابلے میں اسے کہتے ہیں جو صحابہ سے محبت و عقیدت کے غلو میں اہل بیت بالخصوص حضرت حسینؓ سے بغض کا اظہار کرے۔

 امت اسلامیہ نے ان دونوں انتہاوں کو غلط تصور کیا اور یہ خیال کیا ہے کہ اہل بیت رسول سے محبت کا یہ قطعاً مطلب نہیں کہ صحابہ کی عظمت سے انکار کیا جائے اور صحابہ سے محبت کا بھی یہ مطلب نہیں کہ انسان کا دل اہل بیت رسول کی عقیدت و محبت سے خالی ہو۔ یہ سب امت کا مشترکہ سرمایہ ہیں۔ لیکن متعصب اور تنگ نظر لوگوں کا ہمیشہ وطیرہ یہی رہا ہے کہ انھوں نے ان دونوں سے محبت کرنے والوں کو کبھی رافضی کی گالی سے نوازا تو کبھی ناصبی ہونے کا طعنہ دیا۔

امام ابو حنیفہؒ اور شافعیؒ

امام ابو حنیفہؒ خود کو امام جعفر صادقؒ کا شاگرد کہتے تھے جبکہ امام مالک کا امام جعفر صادقؒ کے ہاں آنا جانا تھا اور امام جعفر صادق  ؒ بھی ان سے پیار کرتے تھے۔ امام شافعی چونکہ اہلیت سے بہت محبت کرتے تھے حتی کہ ایک مرتبہ ایک علوی زادہ بچہ ان کے درس کے دوران کھیلتے ہوئے کئی بار ان کی مجلس کے سامنے سے گزرا تو وہ اس کے احترام میں بار بار کھڑے ہوتے رہے۔ ان کی اس عقیدت مندی کے باعث کچھ تنگ نظر لوگوں نے انہیں رافضی (شیعہ) کہنا شروع کر دیا تو امام شافعی نے کہاکہ اگر آل محمد کی محبت رفض ہے تو جن و بشر کو چاہیے کہ میرے رافضی ہونے کی گواہی دیں۔

لو کان حُبّ آل محمدٍ رفضاً
فلیشھد الثقلانِ اَنّی رافض

امام شافعی اکثر کہتے تھے:  ’’میں حضرت ابوبکر کے ساتھ ساتھ حضرت علی کے فضل کا بھی معترف ہوں۔‘‘

اہل بیت سے محبت کے ساتھ ساتھ حضرت ابوبکرؓ سے بھی عقیدت کے اظہار کے باعث حب اہل بیت کے تنگ نظر دعوے داروں نے آپ کو ناصبی (اہل بیت کا دشمن) کہہ کر بدنام کرنا شروع کیا:

زاہد تنگ نظر نے مجھے کافر جانا
اور کافر یہ سمجھتا ہے مسلمان ہوں میں

اہل تشیّع اور سلطان زنگیؒ و ایوبیؒ

پانچویں صدی ہجری کے آخر تک بغداد کی عباسی خلافت عربی و عجمی عصبیت اور ترکوں کی سرکشی کے باعث کمزور پڑ چکی تھی، شیعہ سنّی فسادات نے سلطنت بغداد کو مزید خلفشار کا شکار کر دیا، خلیفہ بغداد کی کمزوری کے باعث مصر کے فاطمی خاندان نے قاہرہ میں الگ خلافت قائم کر لی تھی۔ اس وقت سے فاطمی اور عباسی خلافت آپس میں برسرپیکار تھیں۔ اس سیاسی کشاکش نے شیعہ سنی اختلاف کا رنگ اختیار کر لیا تھا۔آہستہ آہستہ عباسی خلافت کی ابتری کا یہ عالم ہو گیا کہ بغداد کے نواحی علاقوں کو چھوڑ کر باقی صوبوں میں خود مختار حکومتیں قائم ہو گئیں جو برائے نام خلافت بغداد سے وابستہ تھیں۔ ان حکومتوں کے سلاطین ایک دوسرے کے علاقوں کو ہتھیانے کی فکر میں رہتے تھے۔ مصر کی فاطمی خلافت نے شام میں سلجوقی مسلمانوں کی  بڑھتی ہوئی طاقت سے خطرہ محسوس کرتے ہوئے عیسائیوں کو شام پرحملہ کرنے کی دعوت دی اور در پردہ سلجوقی مسلمانوں کے خلاف عیسائیوں کواپنی حمایت کا یقین دلایا۔

ملت اسلامیہ کی اس تقسیم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بالآخر 15جولائی 1099ء کو صلیبی افواج بیت المقدس پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو گئیں۔ عیسائی افواج نے ایسی درندگی کا مظاہرہ کیا کہ ستر ہزار شہری بچے بوڑھے، جوان اور عورتیں بے دردی سے ذبح کیے گئے۔ مسجد اقصیٰ میں ہر طرف خون ہی خون تھا۔چند سال کے اندر اندر صلیبی اقتدار کے سیلاب نے عالم اسلام کے بڑے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ مسلمان امرا اپنے مشترکہ دشمن کے خلاف متحدہ محاذ بنانے کی بجائے آپس میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے صلیبیوںکی مدد لے رہے تھے اور کہیں اپنے مسلمان بھائیوں کے خلاف صلیبیوں کی مدد کر رہے تھے۔ مسلمانوں پر قیامت ٹوٹ رہی تھی۔ بغداد کی عباسی خلافت اور مصر کے شیعہ فاطمی حکمران ٹک ٹک دیدم، دم نہ کشیدم کا مصداق بنے ہوئے تھے۔ ان پُر آشوب حالات میں شام میں پہلے سلطان عماد الدین زنگی (م:1146ء )اور پھر نور الدین زنگی مسلمان امرائ کو متحد کرنے اور صلیبی رشتہ دوانیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے میدان میں اترا۔

مصر کے فاطمی خلیفہ عاضد کو ایک طرف اپنے وزیر اعظم سے خدشات لاحق تھے تو دوسری طرف اسے صلیبی افواج کی دھمکیاں مل رہی تھیں۔ کئی درباری امرا خفیہ طور پر صلیبوں سے راہ و رسم بھی رکھتے تھے۔ ان حالات میں خلیفہ عاضد نے سلطان نور الدین زنگیؒ سے صلیبیوں کے خلاف مدد طلب کی۔سلطان زنگی نے تمام تر سابقہ شیعہ سنّی تلخیوں اور سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے فاطمی خلافت کو عیسائی یلغار سے بچانے کے لیے اپنے نوجوان سالار صلاح الدین ایوبی کو فوجی کمک کے ساتھ مصر بھیجا، جس نے اپنے حسن تدبیر سے نہ صرف مصر پر صلیبی حملے کو پسپا کر دیا بلکہ وزیر اعظم مصر کو بھی بے اثر کر دیا اور اپنے حسن انتظام سے رعایا کو امن و سکون مہیا کر دیا۔

سلطان زنگی کی خواہش تھی کہ مصر میں بھی خلافت بغداد کا خطبہ پڑھا جائے تاکہ دشمنانِ اسلام کے مقابلے میں وحدت امت کا منظر پھر سے اجاگر ہو۔ چنانچہ ایک مناسب وقت پر 567ھ کے ایک جمعہ میں صلاح الدین ایوبی نے خلیفہ بغداد کا خطبہ جاری کر دیا اور مصری عوام اور امرا نے اس پر کوئی مزاحمت نہ کی۔ اس طرح دو سو سالہ فاطمی خلافت کے خاتمے کے بعد ملت اسلامیہ پھر سے ایک ہی خلافت کے ماتحت ہو گئی۔ مخالف مسلک کی حکومت سے سلطان نور الدین زنگی کے فراخدلانہ تعاون اور صلاح الدین ایوبی کے حسن تدبیر کے باعث ملت اسلامیہ آپس کی خونریزی اور دشمنوں کی چیرہ دستیوں سے محفوظ ہو گئی۔

ابن تیمیہؒ اور اہل تشیّع

شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ سے ایک آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جو یہود و نصاریٰ کو رافضیوں (شیعہ وغیرہ) سے اچھا سمجھتا ہے تو اس کے جواب میں انہوں نے کہا:

 ’’الحمدللہ! ہر وہ شخص جو محمد کی لائی ہوئی شریعت پر ایمان رکھتا ہے تو وہ ہر اس شخص سے افضل او ربہتر ہے جو آپؐ پر ایمان نہیں رکھتا۔ اگرچہ اس مومن میں کسی قسم کی بدعت موجود ہو۔ چاہے وہ بدعت خوارج، روافض، مرجۂ قدریہ یا کسی اور قسم کی ہو، کیونکہ یہودی اور عیسائی کافر ہیں۔ اور ان کا کفر اسلام میں اظہر من الشمس ہے۔ چنانچہ اگر بدعتی شخص یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنی بدعت کی وجہ سے رسول اللہؐ کا متبع ہے، آپؐ کامخالف نہیں ہے، تو وہ کافر نہیں ہے اور اگر اس کا کافر ہونا فرض بھی کر لیا  لیا جائے تو اس کا کفر اس کافر جیسا نہیں ہو گا جو رسول اللہؐ کو جھٹلاتا ہے اور آپؐ پر ایمان نہیں رکھتا۔‘‘ (۹)

اہل تشیّع اور شاہ ولی اللہؒ

شیخ محمد اکرام اپنی کتاب ’’رُود کوثر‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’شیعہ سُنّی مسئلے پر اہلِ سنت کے نقطۂ نظر کی وضاحت اور تائید کے لیے شاہ ولی اللہ نے بہت کچھ لکھا لیکن اس معاملے میں بھی ان کی رائے اس طرح انتہاپسندی سے دُور تھی کہ جب ایک انتہاپسند سُنّی نے آپ سے پوچھا کہ کیا شیعوں کو کافر سمجھا جائے تو آپ نے یہ نہ مانا اور کہا کہ اس معاملے میں حنفی علماء میں اختلاف ہے۔وہ آدمی برہم ہوگیا اور کہنے لگا کہ یہ تو شیعہ ہے۔ یہ روایت خود شاہ عبدالعزیز کی ہے۔‘‘ (۱٠)

مولانا سیّد مناظر احسن گیلانی اس مسئلے پر شاہ ولی اللہ کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’ہندوستان میں پہلے تو رانی سُنّی، پھر ایرانی شیعہ اور آخر میں متشدد سُنّی روہیلوں کی شکل میں داخل ہوئے۔ ان تینوں عناصر کے امتزاج سے تسنّن و تشیّع کے سلسلے میں بھی بڑا کام کیا۔ بڑی محنت سے ہزارہا صفحات کوپڑھ کر آپ نے چاروں خلفا کے واقعی حالات ’’ازالۃ الخفاء‘‘ میں ایسے دلنشین طریقے سے مرتب فرمائے کہ اس کتاب کے پڑھنے کے بعد اگر شیعوں کی غلط فہمیوں کا ازالہ ہوجاتا ہے تو اسی کے ساتھ ان غالی سُنّیوں کی شدت و تیزی میں بھی کمی پیدا ہوجاتی ہے جو محض اس لیے کہ شاہ ولی اللہ نے شیعوں کی تکفیر میں فقہا حنفیہ کے اختلاف کو کیوں بیان کیا ہے، ان پر بھی شیعیت کا فتویٰ صادر کردیتے ہیں اور اس کے لیے بجائے مناظرے اور مجادلے کے شاہ صاحب نے ایک ایسی راہ دریافت فرمائی جس سے بہت سے فتنوں کا سدِّباب ہوگیا۔‘‘ (۱۱)

اہل تشیّع اور شاہ عبدالعزیزؒ

شیعہ اعتراضات کی تردید میں شاہ ولی اللہ کے بیٹے شاہ عبدالعزیزؒ نے ساڑھے چھے سو صفحات پر مشتمل ایک کتاب ’’تحفہ اثنا عشریہ‘‘ لکھی۔ شیعہ مذہب و خیالات کے بیان میں صرف مستند اور معتبر شیعہ کتب پر انحصار کیا اور تاریخ و تفسیر میں صرف انھی چیزوں کو چُنا جن پر شیعہ سُنّی دونوں فریق متفق ہیں۔ کتاب کی زبان اور طرزِ بیان سنجیدہ اور مہذبانہ ہے۔ یہ کتاب علمی لحاظ سے اس پائے کی تھی کہ بہت سے شیعہ علماء نے اس کے رد میں بہت کچھ لکھا لیکن جو لوگ حدِاعتدال سے ہٹے ہوئے ہوتے ہیں ان کی تسلی اور تسکین محض اتنی بات سے نہیں ہوتی کہ حق کو پورے عدل سے بیان کر دیا جائے بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ مخالف کے کسی ایک اچھے وصف کو بھی تسلیم نہ کیا جائے حتیٰ کہ حضرت علیؓ کے مناقب کا بیان بھی بعض سنیوں کو پسند نہیں آتا۔شیخ محمد اکرام لکھتے ہیں:

’’شاہ عبدالعزیز نے دو سری باتوں کی طرح اس (شیعہ سُنّی) معاملے میں بھی اپنے والد کی پیروی کی تھی۔ ان کاایک پٹھان شاگرد تھا ، حافظ آفتاب نام، ہمیشہ حاضر درس ہوتا تھا۔ ایک دن حضرت علیؓ کا ذکر ہورہا تھا اور شاہ صاحب نے ان کے بہ جان و دل فضائل و مناقب بیان کیے تو وہ اتنا بگڑا کہ شاہ صاحب کو شیعہ سمجھا اور ان کے درس میں شریک ہونا بند کر دیا‘‘۔(۱۲)

مولانا داؤد غزنوی اور شیعہ عالم

مشہور اہل حدیث عالم مولانا داؤد غزنوی کے دیرینہ ساتھی مولانا اسحاق بھٹی مولانا غزنوی کے بارے میں لکھتے ہیں:

’’مولانا عبدالعظیم انصاری (سابق ناظم دفتر جمعیت اہل حدیث پاکستان) کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ وہ مولانا (غزنوی)کے ساتھ تانگے پر بیٹھے کہیں جا رہے تھے۔ مولانا نے اچانک تانگے والے سے کہنا شروع کیا ’’تانگہ روکو، تانگہ روکو‘‘ تانگہ رکا تو مولانا جلدی سے نیچے اترے اور ہاتھ پھیلائے ہوئے ایک طرف کو بڑھے، دیکھا تو اُدھر شیعہ عالم مفتی کفایت حسین تانگے سے اتر کر اسی طرح ہاتھ پھیلائے مولانا کی طرف بڑھ رہے تھے۔ دونوں بزرگوں نے مصافحہ کیا اور کچھ دیر آپس میں کھڑے باتیں کرتے رہے۔‘‘ (۱۳)

اہل حدیث عالم اور شیعہ ذاکر

ماضی میں شیعہ سنّی کے درمیان کس قدر رواداری کی روایت موجود تھی، آج ہم اسے ترس گئے ہیں۔ مولانا محمد اسحاق بھٹی جو حکومتی ادارہ ثقافت اسلامیہ لاہور کے ریسرچ سکالر تھے اور اہل حدیث حضرات کے ہاں ان کا نمایاں مقام ہے، لکھتے ہیں:

’’وہ زمانہ موجودہ زمانے سے مختلف تھا۔ لوگ تحمل سے ایک دوسرے کی بات سنتے اور برداشت کرتے تھے۔ اگر کسی پر تنقید کی جاتی اور وہ تنقید کاجواب دینا چاہتا تو اسے جواب دینے اور اصل حقیقت بیان کرنے کا کھلے دل سے موقع دیا جاتا تھا۔ وہ کلاشنکوفوں، موزروں اور خنجروں کازمانہ نہ تھا اور اپنے سے اختلاف کرنے والوں کو مارنے، دھاڑنے اور قتل کرنے والوں کا دور نہ تھا۔ وہ عزت و آبرو کا دور تھا، احترام و توقیر کا دور تھا... اس کی بہت سی مثالوں میں سے ایک مثال عرض کرتا ہوں:

فیصل آباد میں مولانا محمد صدیق امین پور بازار میں جامع مسجد اہل حدیث کے قریب سکونت پذیر تھے۔ ایک دفعہ مسجد سے کچھ فاصلے پر رات کے وقت شیعہ حضرات کا جلسہ ہو رہا تھا۔ لائوڈ سپیکر کے ذریعے مقرر کی آواز مولانا کے گھر پہنچ رہی تھی۔ اور مولانا تقریرسُن رہے تھے۔ مقرر نے حضرت ابوبکر صدیقؓ پر تنقید کی۔ مولانا اسی وقت گھر سے نکلے اور جلسہ گاہ میں سٹیج پر مقرر کے ساتھ مائیک کے سامنے جا کھڑے ہوئے۔ لوگ یہ منظر دیکھ کر بڑے متحیّر ہوئے۔ مقرر سے فرمایا: صدیقؓ کا دفاع صدیق کرنا چاہتا ہے۔ شیعہ مقرر کا دل گردہ ملاحظہ ہو کہ وہ مائیک چھوڑ کر پیچھے ہٹ گئے اور مولانا صدیق کو تقریر کا موقع دیا۔ شيعہ سامعین نے نہایت بُردباری کا ثبوت بہم پہنچایا اور مولانا صدیق نے اپنی تقریر میں حضرت صدیقؓ کا دفاع کیا۔

یہ تھا وہ زمانہ... نہ کسی نے خنجر چلایا، نہ بندوق اٹھائی، نہ چھرا ہاتھ میں پکڑا۔ پھر تقریر ختم کر کے وہ وہیں بیٹھ گئے۔ شیعہ مقرر کی تقریر سنی اور جلسہ ختم ہونے کے بعد گھر گئے۔‘‘ (۱۴)

علامہ عارف الحسینی اور سنّی علماء

علامہ عارف الحسینی کے سوانح نگار سید نثار ترمذی لکھتے ہیں:

’’ایک مرتبہ عیدالفطر پر اختلاف ہو گیا۔ شہید عارف الحسینی نے رویتِ ہلال کمیٹی کے فیصلہ کے خلاف عید منانے کا اعلان کیا۔ چونکہ اہل سنت کی عید اگلے دن تھی، اس لیے آپ رات کو اہل سنت کی مساجد و مدارس میں علمائے کرام سے عید ملنے کے لیے چلے گئے۔ اور ساتھ ہی مٹھائی بھی لے کر گئے۔ یوں رات گئے تک اہل سنت کی خوشیوں میں شریک ہوئے۔ اس کا ایک خوشگوار ردِّعمل ہوا کہ اگلی صبح اہل سنت علما مٹھائی لیے علامہ عار ف الحسینی سے عید ملنے چلے آئے۔ گو کہ بظاہر اختلاف کا مقام تھا، مگر کس قدر خوبصورتی سے وحدت، میل جول اور رابطہ کا سلسلہ نکل آیا۔‘‘ (۱۵)

سید مودودی اور انقلابِ ایران

مولانا سید ابو الا علیٰ مودودی کے دستِ راست جناب مولانا خلیل احمد حامدی لکھتے ہیں:

’’۱۹۶۳ء کے حج میں مولانا مودودی کے مشورے سے خاکسار نے ترجمان القرآن (ماہ ستمبر ۱۹۶۳ء) میں ایک مضمون لکھا جس کا عنوان تھا: ’’ایران میں دین اور لادینیت کی کشمکش‘‘۔ اس مضمو ن کی اشاعت پر سفارت خانہ ایران نے سخت احتجاج کیا۔ اور ایک جوابی مضمون محمد علی زرنگار کے قلم سے ترجمان القرآن میں چھاپنے کے لیے بھیجا جو چھاپ دیا گیا۔ مگر اس کے باوجودحکومتِ پاکستان نے ترجمان القرآن کو چھ ماہ کے لیے بند کر دیا۔ بلکہ جنوری ۱۹۶۴ء میں جماعت اسلامی کو خلاف قانون قرار دے دیا۔ اور مجلس شوریٰ کے تمام ارکان اور خود مولانا مودودی نظر بند کر دیئے گئے۔ جماعت پر جو الزامات لگائے گئے، ان میں ایک یہ الزام بھی تھا کہ اس نے ایسے مضامین چھاپے ہیں جن سے پاکستان اور ایران کے دوستانہ تعلقات خراب کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ مولانا مودودی کا یہ موقف اور ترجمان القرآن کی یہ خدمت پورے پاکستان میں واحد آواز تھی جو ایران کے مظلومین کے حق میں بلند ہوئی۔ خود پاکستان کی شیعہ قیادت بھی اس زمانے میں ایران کی لادینی حکومت کے خلاف کوئی حرف زبان پر نہ لا رہی تھی۔‘‘ (۱۶)

مولانا خلیل حامدی کی اس بات کی تائید علامہ عارف الحسینی کے ان الفاظ سے ہوتی ہے جو انہوں نے اہل تشیع کو مخاطب کرتے ہوئے کہے:

’’ 1963ء میں ایران کے شہر تہران اور قم میں جو شاہ کے خلاف اور امام خمینی کے حق میں مظاہرے ہوئے اور جن پر شاہ نے اس قدر بمباری اور فائرنگ کروائی کہ پندرہ ہزار افراد شہید ہو گئے لیکن یہاں پر آپ بتا سکتے ہیں کہ (پاکستان میں) کسی امام بارگاہ یا کسی مسجد سے کسی عالم دین نے صدائے احتجاج بلند کی ہو...کسی عالم دین نے شاہ کے خلاف نہ ٹیلی گرام دیا نہ یہاں لوگوں کو حالات سے آگاہ کیا۔ بلکہ اس کے برعکس ستم بالائے ستم یہ کہ اسی شیعہ پلیٹ فارم سے بعض افراد نے جو اپنے آپ کو اہل علم سمجھتےتھے، اس وقت شاہ کے حق میں نعرہ بلند کیا اور امام خمینی نیز دوسرے علما اور عوام جو اسلام کے لیے کام کر رہے تھے، ان کے خلاف مقالے لکھے۔ اور شاہ کے لیے مجالس میں باقاعدہ دعائیں کی گئیں۔ حتیٰ کہ ایسی کتابیں لکھی گئیں جن میں شا ہ کی تعریف کی گئی۔ ان حالا ت میں بھی جب پندرہ ہزار شیعہ قتل ہوئے ہم اور آپ نے مجلس عزا برپا کی نہ کوئی جلوس نکالا اور نہ کوئی ٹیلی گرام انہیں دیا۔ حالانکہ اس وقت بھی مولانا مودودی صاحب نے شاہ کے خلاف مقالہ لکھا جس کے نتیجہ میں ان کا ماہنامہ ترجمان القرآن بھی بند کر دیا گیا۔‘‘ (۱۷)

جماعت اسلامی کے سابق امیر میاں طفیل مرحوم کے مطابق 1979ءمیں ایرانی انقلاب کے بعد ان کی قیادت نے ایرانی قیادت سے ملاقات میں اپنی تائید کا اظہار کیا تو ایرانی قیادت نے کہا کہ ایرانی بلوچستان ان کے لیے پریشان کن مسئلہ بنا ہوا ہے۔ وہاں کے قبائل ان کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔ واضح رہے کہ ایرانی بلوچستان کی ساری آبادی سنّی مسلمانوں پر مشتمل ہے۔

میاں طفیل محمد کے بقول انھوں نے ایرانی بلوچستان میں اپنا ایک آٹھ رکنی وفد بلوچستان سے بھیجا جو مولانا عبدالمجید مینگل مرحوم، مولانا عبدالحمید مینگل، مولانا عبدالغفور اور دوسرے حضرات پر مشتمل تھا۔ یہ لوگ پندرہ بیس دن وہاں رہے اور وہاں کے علمائے کرام سے بات کی اور انھیں سمجھایا۔ چنانچہ اس طرح ہماری کوششوں سے یہ مسئلہ حل ہو گیا۔(۱۸)

پیر مہر علی شاہ گولڑوی اور اہل تشیع

پیر مہر علی شاہ کے سوانح نگار کے بقول قیام پاکستان سے قبل قادیانی فتنہ کے چیلنج کا جواب دینے کے لیے تمام اسلامی فرقوں کے راہنما ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوئے۔ سنی اہل حدیث اہل قرآن کے علاوہ لاہور اور سیالکوٹ کے شیعہ مجتہدین نے بھی قادیانیت کے محاذ پرپیر صاحب گولڑہ کو اپنا سربراہ و نمائندہ بنانے کا اعلان کیا۔(۱۹)

دینی تحریکات

قیام پاکستان کے بعد جب آئین پاکستان کی بحث کو الجھانے کے لیے سیکولر پریس اور سیاسی نمائندوں نے یہ سوال اٹھایا کہ ملک میں کس کا اسلام نافذ کریں سنی کا شیعہ کا، اہل حدیث کا؟ یا حنفی کا تو سنی اور شیعہ مکاتب فکر کے 32جید علماء نے 22متفقہ نکات پر ایک دستاویز حکومت کو پیش کی جس کی بنیاد پر قرار داد پاکستان پاس ہوئی جو ہر دور میں بننے والے آئین کا حصہ رہی ہے۔

1974ء میں ختم نبوت تحریک اور آئین میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے مسئلہ میں شیعہ سنی علما یکجان رہے ہیں۔ پندرہ بیس سال قبل جب ملک میں شیعہ سنی منافرت پھیلانے اور فرقہ واردیت کی آگ بھڑکانے کی کوشش ہوئی توملی یکجہتی کونسل کی صورت میں تمام شیعہ سنی اکابر علماء اکٹھے ہوئے۔

اصولی اختلاف اور حضرت علیؓ کا اسوہ

حضرت ابوبکرؓ ،عمر و عثمانؓ کی نسبت اہل تشیع حضرت علیؓ کو خلافت کا اولین حق دار تصور کرتے ہیں لیکن اس اختلاف کا حل کیا ہے اور اہل السنت کے ساتھ اہل تشیع کے لیے قابل عمل رویّہ کیا ہے، اس بارے میں مولانا سید ریاض حسین نجفی کی بات قابل غور ہے:

’’رسولؐ اللہ کی سیاسی جانشینی کے مسئلے پر اختلاف رائے کے اظہار کے باوجود حضرت علیؓ نے ماقبل کی حکومت (خلافت ابو بکر ، عمر و عثمان)کے خلاف کوئی عملی اقدام نہیں کیا بلکہ امت کے مفاد میں ان سے ہر طرح کا تعاون کیا اور درپیش معاملات میں اسلام کے اعلیٰ اہداف کے لیے فعال کردار ادا کیا۔ لہٰذا ہم علی وجہ البصیرت سمجھتے ہیں کہ اس دور میں شیعان علیؓ کے لیے خود حضرت علیؓ کا اسوہ ہی نمونہ عمل کی حیثیت رکھتا ہے، اور شیعوں کو حضرت علیؓ کی پیروی میں ہمیشہ اسلام کے اعلیٰ مقاصد اور امت اسلامیہ کا مفاد پیش نظر رکھنا چاہیے۔‘‘ (۲٠)

اس میں شک نہیں کہ اہل سنت اور اہل تشیع کے درمیان کچھ اصولی اختلافات بھی ہیں،اس لیےہمیںیہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے اسلاف نے اصولی اختلاف کے ہوتے ہوئے باہمی طور پر کیا رویّہ اختیار کیا؟حضرت علیؓ چونکہ شیعہ و سنی دونوں مکاتیب فکر کے لیے قابل احترام ہیں، اس لیے ہم دکھانا چاہتے ہیں کہ اصولی اختلاف میں ان کا کیا رویہ تھا کیونکہ شیعہ سنی اختلاف صرف فروعی اختلاف نہیں بلکہ بعض جہتوں سے اصولی اور بنیادی اختلاف بھی ہے۔ حضرت علیؓ سےجب بعض لوگوں نے خارجیوں کے بارے میں سوال کیا:’’کیا یہ خوارج کافر ہیں؟‘‘جب خوارج وہ لوگ تھے جو جنگ ِ صفّین میں حضرت علیؓ کے ساتھ تھے اور اس جنگ میں حضرت علیؓ اور حضرت امیرمعاویہؓ کے درمیان صلح کے لیے دونوں طرف سے  ایک ایک حَکم (ثالث) مقرر ہوئے لیکن یہ تحکیم کامیاب نہ ہوئی تو حضرت علیؓ کے لشکر کا ایک بڑا حصہ حضرت علیؓ سے اس بنیاد پر الگ ہوگیا کہ حضرت علیؓ نے انسانوں کو حَکم مان کر کفر کیا ہے کیونکہ حَکم کی حیثیت صرف اللہ کو حاصل ہے: اِنِ الْحکم اِلَّا لِلّٰہِ (۲۱)

 ان خارجیوں نے نہ صرف حضرت علیؓ بلکہ حضرت عثمانؓ پر بھی کفر کا فتویٰ لگایا اور حضرت علیؓ کے خلاف مسلح ہوکر بغاوت بھی کی۔ لوگ آپ سے ان کے بارے میں شرعی حکم پوچھ رہے تھے کہ کیا یہ کافر ہیں ؟تو آپ نے جواب دیا:

 ’’کفر سے تو یہ لوگ بھاگے ہیں‘‘۔

’’تو کیا یہ منافق ہیں؟‘‘

’’منافق تو اتنی عبادت گزاری نہیں کرتا جتنی یہ کرتے ہیں۔‘‘

’’تو پھر یہ کون ہیں؟‘‘

’’کل یہ ہمارے بھائی تھے، آج ہمارے خلاف باغی ہیں‘‘۔

’’ہم ان پر فتح پائیں گے تو ان کو غلام بنائیں؟‘‘۔

’’نہیں!‘‘

’’ان سے چھینا ہوا مال ، مالِ غنیمت ہوگا؟‘‘

’’بالکل نہیں‘‘۔

’’کیوں؟‘‘

’’اس لیے کہ ان پر باغی کا حکم لاگو ہوتا ہے۔ مرتد اور کافر کا نہیں‘‘۔ حضرت علیؓنے جواب دیا۔ ’’ان کے زخمیوں پر حملہ کر کے انھیں نہیں مارا جائے گا، ان کی عورتوں کو باندی نہیں بنایا جائے گا، ان سے جنگ ان کی اذیتوں سے بچنے کے لیے کریں گے، انھیں تباہ و برباد کرنے کے لیے نہیں‘‘۔

’’وہ گناہِ کبیرہ کے مرتکب کو کافر کہتے ہیں‘‘۔

’’گناہِ کبیرہ کا مرتکب فاسق ہوتا ہے ، کافر نہیں۔ خارجیوں کی تاویل فاسد ہے‘‘۔

’’وہ آپ کو بھی کافر کہتے ہیں‘‘۔

’’ہم انھیں کافر نہیں کہیں گے۔ ہم اس گڑھے میں نہیں گریں گے جس میں تکفیر کرنے والے گرے ہوئے ہیں‘‘۔

’’وہ کہتے ہیں کہ اللہ کا ارشاد ہے: اِنِ الحکم اِلَّا لِلّٰہِ (فیصلہ اور حکم تو صرف اللہ کا ہے)۔ آپ نے باہمی نزاع میں دو آدمیوں کو حَکم (ثالث) تسلیم کرلیا، لہٰذا آپ نے آیاتِ قرآنی کا کفر کیا ہے‘‘۔

’’کلمۃ حقِ اُرید بِھا البَاطِل‘‘ ،بات تو حق ہے لیکن اس سے جو مرادلیا جارہا ہے وہ باطل ہے‘‘۔حضرت علیؓ نے انتہائی بلیغ جملہ ارشاد فرمایا۔ خارجیوں کی کھلی مخالفت اور تکفیر کے باوجود حضرت علیؓ نے واضح الفاظ میں انھیں کہا:

’’ہم پر تمھارے تین حقوق ہیں: پہلا یہ کہ ہم تمھیں مسجدوں میں آنے سے نہ روکیں۔ دوسرا یہ کہ تمھارا یا تمھارے بچوں کا بیت المال سے جو وظیفہ لگا ہوا ہے، اسے بند نہ کریں، تیسرا یہ کہ جب تک تم لوگ شروفساد برپا کرنے سے رُکے رہو گے، تب تک ہم تم سے کوئی جنگ نہ کریں گے‘‘۔ (۲۲)

حضرت علیؓ نے خارجیوں کو یہ ضمانت اس وقت دی جب کہ ان کا ہر فرد تربیت یافتہ مسلح جنگجو تھا اور کسی وقت بھی جنگ کے شعلے بھڑک سکتے تھے۔مسلمانوں کے باہمی اختلاف میں ہی نہیں بلکہ شروفساد کے دور میں حضرت علیؓ کا اپنے مخالفین سے یہ سلوک ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے۔ حدیثِ رسولؐ ہے: عَلَیکُم بِسُنّتی وسنۃ الخُلفاءِ الرّاشدین’’تم پر میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفاکی سنت لازم ہے‘‘۔

خوارج نے حضرت علیؓ کی تکفیر کی، آپ پر بدترین تہمتیں لگائیں یعنی سابقون الاوّلون  اور بدری مسلمان پر جن کا اللہ کے ہاں خصوصی درجہ ہے۔ دامادِ رسولؐ پر، فاطمہؓ کے شوہر پر ، چوتھے خلیفۂ راشد پر، لیکن آپؓ نے:

۱- خارجیوں کی تکفیر کے جواب میں ان کی تکفیر نہیں کی۔

۲- ان کی تہمتوں کے جواب میں تہمت تراشی نہیں کی۔

۳- ان کی بغاوت کے امکان کے باوجود ان کے بنیادی حقوق، اظہارِ رائے کی آزادی، حق وظائف، مسلمانوں کی مسجدوں میں عبادت کرنے کا حق، سلب نہیں کیا۔

مسلمانوں کے ائمہ فقہا نے خارجیوں کی تکفیر سے پرہیز کیا ہے حالانکہ خارجی اپنے سوا دوسرے سب مسلمانوں کی تکفیر پر اصرار کرتے تھے۔ اور دوسروں کے مال و جان کی لُوٹ مار کو اپنے لیے مباح (جائز) سمجھتے تھے۔امام شوکانی اپنی کتاب ’’نیل الاوطار‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’علمائے اہلِ سنت کی اکثریت کی رائے یہ ہے کہ خارجی مسلمان ہیں چونکہ وہ کلمہ شہادت پڑھتے ہیں ، ارکان اسلام کی پابندی کرتے ہیں، مسلمانوں کی تکفیر انھوں نے غلط تاویل کی بنیاد پر کی ہے‘‘۔

امام غزالی اپنی کتاب التفرقۃ بین الایمان والزندقہ میں لکھتے ہیں:

’’توحید پر ایمان رکھنے والے مسلمانوں کے خون کو مباح قرار دینا غلطی ہے۔ جب تک کوئی واضح راہ نہ ملے، خوارج کی تکفیر سے احتراز کرنا چاہیے‘‘۔

ابن بطال کہتے ہیں:

’’جمہور علماء کی رائے یہ ہے کہ خارجی مسلمانوں میں شامل ہیں جیساکہ حضرت علیؓ سے ان کی تکفیر کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپؓ نے فرمایا کہ کفر سے تو یہ لوگ بھاگے ہیں‘‘۔

قاضی عیاضؒ، امام ابوالمعالیؒ، قاضی ابوبکر باقلانیؒ خوارج کی تکفیر کرنے کے قائل نہیں ہیں (۲۳)۔

ہماری رائے میں اسی سے ملتا جلتا مسئلہ ہمارے دور میں سُنّی اور شیعہ کا ہے۔ سُنّی مسالک اربعہ اوراہلِ حدیث اور احناف میں دیوبندی بریلوی کے اختلافات بنیادی نہیں ہیں۔ اصولِ عقیدہ میں یہ ایک ہی ہیں۔ البتہ سُنّی اور شیعہ کے اختلافات محض فقہی نوعیت کے نہیں بلکہ بعض بنیادی اختلافات بھی ہیں جیسے اہلِ تشیع کا تصورِ امامت جو اہلِ سنّت کے ہاں ایک گمراہی سے کم نہیں، جس کے باعث ہر فریق کی ایک تعداد ایک دوسرے کو کافر تصور کرتی ہے۔ اس معاملے میں خوارج کے بارے میں حضرت علیؓ کا طرزِعمل ہمیں ایسے اختلاف میں بھی رہنمائی دیتا ہے جس میں ہردو فریق ایک دوسرے کو کفر پر یا کم از کم گمراہی پر سمجھ رہا ہوتا ہے۔


حوالہ جات

۱۔ آل کاشف الغطاء، اصل اصول شیعہ (ترجمہ: سید ابن حسن نجفی)، ص ۱۱۵، شیعہ تبلیغات تحریک جعفریہ پاکستان، سن ن

۲۔ بحوالہ ثاقب اکبر: پاکستان کے دینی مسالک، ص ۲۵۳، البصیرہ، اسلام آباد، ۲٠۱٠ء

۳۔ اصل اصول شیعہ، ص ۱۵ تا ۱۲۳

۴۔ اصول الفقہ للمظفر، تہران ۲/۵۵

۵۔ حیدر حب اللہ: نظریۃ السنۃ فی الفکر الامامی الشیعی، تہران، ص ۲۴

۶۔ نظریۃ عدالۃ الصحابۃ، تہران، ص ۷۷

۷۔ کلیات فی علم الرجال، تہران، ص ۴۹۴

۸۔ البدایۃ والنہایۃ، دار ہجر للطباعۃ، قاہرہ، ۲/۳۶٠

۹۔ مجموع الفتاوی ٰ، ج ۳۵، ص ۱۲۲

۱٠۔ رود کوثر، ص  ۵۷۸، ۵۷۹

۱۱۔ بحوالہ رود کوثر، ص ۵۷۹

۱۲۔ رود کوثر، ص ۵۷۹

۱۳۔ مولانا محمد اسحاق بھٹی: نقوش عظمت رفتہ، ص ۵۲

۱۴۔ بزم ارجمنداں، ص ۴۹۶

۱۵۔ سید نثار ترمذی: نقیب وحدت علامہ عارف الحسینی، ص ۴۳

۱۶۔ تذکرہ مودودی، ج ۲، ص ۴۳۳، ادارہ معارف اسلامی، لاہور ۱۹۸۸ء

۱۷۔ بحوالہ نثار ترمذی: نقیب وحدت علامہ عارف الحسینی، ص ۱۳۹

۱۸۔ تذکرہ مودودی، ج ۲، ص ۷۷، ۷۸

۱۹۔ علامہ فیض احمد فیض: مہر منیر، ص ۲۳٠، ۲۳۱

۲٠۔ پاکستان کے دینی مسالک، ص ۲۵۱

۲۱۔ یوسف ۱۲:۴٠

۲۲۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۳۷۷۶۳۔ بیہقی، سنن کبری ٰ، ج ۸، ص ۱۷۳

۲۳۔ بحوالہ ڈاکٹر علامہ  یوسف القرضاوی: اسلامی بیداری، ص ۱۸٠۔۱۸۲


ہندو مذہبی صحائف میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئیاں

مولانا مشفق سلطان

مسلمانوں میں اس بات کی بڑی شہرت ہو گئی ہے کہ ہندو مذہبی کتابوں میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے متعلق واضح پیشن گوئیاں موجود ہیں۔ ایک زمانے میں  میرا بھی یہی خیال تھا اور اس کو بڑے زور کے ساتھ لوگوں کے سامنے بیان بھی کرتا رہا۔ تاہم بعد میں جب براہ راست ہندو صحائف کے مطالعے کا موقع ملا اور ان پیشن گوئیوں کے بارے میں ہمارے مبلغین کی تاویلات کو دقت نظر کے ساتھ پرکھا تو اپنی سابقہ رائے کو تبدیل کر لیا۔ پچھلے سالوں میں کئی بار اس بات کا شدت سے احساس ہوا کہ ہندو مذہبی متون کو اپروچ کرنے کا جو نہج بعض مسلم مبلغین نے اختیار کیا ہے وہ انتہائی سطحی اور ناقص ہے۔ ان شخصیات سے والہانہ عقیدت کی بنا پر مسلمانوں نے بلا تحقیق ان کی باتوں کو اختیار کر لیا اور ہندو عوام سے مکالمے (بلکہ مناظرے) کے لیے اکثر لوگ انہی باتوں کو استعمال کرتے رہے اور اب بھی کرتے ہیں۔ ہمارے یہاں تحقیقی ذوق پہلے ہی مفقود ہے اور اس پر مستزاد یہ کہ جب کوئی مسلمان سنسکرت کتابوں کے حوالے دے کر، کچھ منتروں کو (اکثر غلط تلفظ کے ساتھ) دہرا کر اسلام کی صداقت ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو داد تحسین ضرور حاصل ہوتی ہے۔

میں نے کئی بار ارادہ کیا کہ میں اس بارے میں کوئی مضمون لکھوں لیکن اپنی مصروفیت اور صحت کے بعض مسائل کی وجہ سے نہیں لکھ سکا۔ اپنی آئندہ تحریروں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ان مزعومہ پیشن گوئیوں پر میں اپنا تجزیہ پیش کروں گا۔ سب سے پہلے 'کَلکی اوتار' کی پیشن گوئی کو دیکھتے ہیں جس کا مصداق محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کو ٹھہرایا جاتا ہے۔

'کَلکی اوتار' کی پیشن گوئی 'پُران' (Purana) نامی کتب میں موجود ہے۔ ہندو مذہبی کتب میں ان کی استنادی حیثیت اتنی مضبوط نہیں ہے۔ تاہم عوام الناس میں یہی کتابیں زیادہ مقبول ہیں۔ کَلکی اوتار سے متعلق پیشن گوئی بنیادی طور پر 'بھاگوت پران' اور خاص اسی موضوع پر اسی نام سے موسوم 'کَلکی پران' میں موجود ہے۔ انہی دو کتابوں کو سامنے رکھ کر ہم اس پیشن گوئی کا تجزیہ کریں گے اور دیکھیں گے کہ کیا فی الواقع ان میں مذکور تفصیلات محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ سے مطابقت رکھتی ہیں، جیسا کہ دعویٰ کیا جاتا ہے، یا نہیں۔

کَلکی اوتار کے والدین

तत्                श्रुत्वा        पुण्डरीकाक्षो     ब्रह्मानमिदमब्रवीत्

शम्भले           विष्णुयशसो                   गृहे           प्रादुर्भावाम्यहम्

सुमत्यां मातरि विभो! पत्नीयां तवन्निदेशतः

"پنڑری کاکش وِشنو بھگوان برہما جی کی ان باتوں کو سن کر کر برہما جی سے کہنے لگے کہ میں تمہارے کہنے سے 'شَمبھل' نامی گاؤں میں 'وِشنو یَش' نام والے براہمن کے گھر 'سُمَتی' نامی براہمن کی بیٹی کے حمل سے پیدا ہوؤنگا۔" (کلکی پران۔ ادھیاے 2، اشلوک 4)

تب وشنو یش سے سُمَتی حاملہ ہوئی، اس طرح کہ ان کے رحم میں وشنو بھگوان ودیہ مان ہوئے۔ (ایضاً، اشلوک11)

اس شلوک میں میں وشنو کے اوتار کلکی کے والد کا نام 'وِشنو یَش' (Vishnu Yash) اور والدہ کا نام 'سُمَتی' (Sumati) بتایا گیا ہے۔

ان ناموں کے بارے میں ہمارے مبلغین فرماتے ہیں یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین کے اسماء کے سنسکرت بدل ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ کلکی اوتار کے والد کا نام 'وِشنو یش' (विष्णुयश) آیا ہے جس کے معنی 'اللہ کے بندے' کے ہوتے ہیں۔ ان کے نزدیک وِشنو سے مراد اللہ ہے اور یَش کے معنی بندے کے ہیں۔ لیکن حقیقت میں سنسکرت زبان کے لفظ 'یش' کا مطلب 'بندہ' نہیں ہے۔ بلکہ اس لفظ کے معنی 'جلال' یا 'عظمت' کے ہیں۔ تو 'وشنو یش' کے معنی ہوں گے 'وشنو کا جلال' یا 'وشنو کی عظمت'۔ کسی شخص کا اگر یہ نام ہو تو اس کا مطلب ہوگا وہ جس کے اندر وشنو کا جلال یا عظمت ظاہر ہو۔ اس کا عربی مترادف 'عبد اللہ' نہیں بلکہ 'جلال  اللہ' یا 'بہاء اللہ' ہوگا۔

اسی طرح کلکی اوتار کی والدہ کا نام 'سُمتی' (सुमति) بتایا گیا ہے۔ اس پر یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس نام کے معنی 'امانت دار' یا 'امن والی' کے ہیں اور عربی میں اسے 'آمنہ' کہیں گے۔ یہ معنی بھی محل نظر ہیں۔ سنسکرت لغت میں 'متی' (मति) کے معنی 'عقل'، 'فہم' یا 'علم' کے آتے ہیں۔ 'سُ' (सु)  ایک سابقہ (उपसर्ग)ہے جو کسی صفت سے قبل آنے پر ایک چیز کو مثبت انداز میں اس صفت سے متصف بناتا ہے۔ تو لفظ 'سُمتی' کے معنی ہوتے ہیں 'علم والی'، 'فہم والی' یا 'عقل والی'۔ 'امن والی' یا 'امانت دار' اس کے معنی نہ جانے کس لغت میں ہیں۔ اس کے عربی مترادفات 'علیمہ'، 'عقیلہ' وغیرہ جیسے الفاظ ہیں۔

لہذا کلکی اوتار اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے والدین کے ناموں میں مطابقت موجود نہیں ہے بلکہ خواہ مخواہ مطابقت پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

کلکی کا مقام پیدائش

کلکی پران کے اسی شلوک میں کلکی کا مقام پیدائش 'شَمبھل' (शम्भल/Shambhal) بتایا گیا ہے۔

ہمارے یہ حضرات لکھتے ہیں کہ یہ نام لفظ 'شَم' (शम्) سے بنا ہے جس کے معنی 'امن' کے ہوتے ہیں۔ اور لفظ 'شمبھل' ایسےمقام کو کہتے ہیں جہاں لوگوں کو امن حاصل ہو۔ اس کے بعد وہ یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ مکہ مکرمہ کو قرآن مجید میں 'بلد امین' کہا گیا ہے اور سورہ آل عمران کی آیت 97 میں اسی کے بارے میں 'ومن دخله كان امنا' آیا ہے۔ اس لیے ان حضرات کے نزدیک شمبھل سے مراد مکہ مکرمہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس نام کا کوئی مقام ہندوستان میں موجود نہیں ہے ۔ کوئی بھی شخص جو ہندوستان کے جغرافیے سے کسی قدر واقف ہے جانتا ہے کہ یہ دعوی  درست نہیں ہے۔ 'شمبھل' نام کا مقام ہندوستان کی ریاست اُتر پردیش میں دریائے گنگا کے نزدیک واقع ہے۔ اس مقام کے ہوتے ہوئے، لفظ شمبھل کو اسم کے بجائے صفت قرار دینے کی کوئی وجہ نہیں ہے اور نہ زبان کے قواعد کی رو سے اسے درست تسلیم کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح تو ہر کسی کتاب میں موجود اسماء کو صفات قرار دے کر ان کا کچھ سے کچھ مطلب لیا جاسکتا ہے۔

کلکی کی تاریخِ پیدائش

द्वादश्या       शुक्लपक्षस्य         माधवे          मासि            माधव

जात ददृशतु पुत्र पितरौ ह्रष्टमानसौ

"بیساکھ مہینے کے پہلے نصف حصے میں بارہویں کے دن بھگوان پیدا ہوئے۔ ان کو پیدا ہوتے دیکھ ان کے والدین کو انتہائی مسرت ہوئی۔" (ایضاً؛ اشلوک 15)

کلکی پران کے اس اشلوک میں کلکی کی تاریخ پیدائش بیساکھ مہینے کی بارہویں بتائی گئی ہے۔ اس بنیاد پر کہا جاتا ہے کہ یہ وہی تاریخ ہے جو ہمارے قمری حساب سے بارہ ربیع الاول بنتی ہے، جو کہ آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ پیدائش کے طور پر مشہور ہے۔ لیکن اس کو ثابت کرنے کے لیے کوئی دلیل فراہم نہیں کی جاتی جس سے یہ دکھایا جا سکے کہ571 عیسوی کے 12 ربیع الاول کی مطابقت بیساکھ کی 12 تاریخ سے ہوتی ہو۔

کلکی کی پیدائش اور ابتدائی زندگی  سے متعلق چند تفصیلات

کلکی پران میں مذکور کلکی سے متعلق  بعض تفصیلات ایسی ہیں جو محمد رسول اللہ صلی علیہ وسلم کی زندگی سے بالکل بھی مطابقت نہیں رکھتیں۔

ا۔  وشنو یش براہمن نے کلکی روپ بھگوان کی ترقی اور بہتری کی غرض سے صاف دل ہو کر بڑے  بڑے رِگویدی ، یَجُرویدی  اور سام ویدی براہمنوں سے ان کا نام کرن کرایا۔  (ادھیاۓ2، اشلوک23)

ب۔ کلکی بھگوان سے پہلے ان سے بڑے اور تین بھائی پیدا ہوئے تھے۔ ان تینوں کے نام کَوی، پرا گیہ اور سُمنترک تھے۔ (ایضاً، اشلوک31)

ج۔کلکی کے والد وشنو یش کلکی کا اُپ نَیَن سَنسکار کرکے ان کو ویدوں کی تعلیم حاصل کرنے کے لیےگروکل بھیجتے ہیں۔(ایضاً، اشلوک 49)

د۔ کلکی گروکل میں پرشُرام جی سے روایتی تعلیم حاصل کرتے ہیں اور چونسٹھ فنون سمیت سانگ اُوپانگ وید اور دھنور وید وغیرہ پڑھتے ہیں۔  (ادھیائے 3، اشلوک6)

ان حوالہ جات سے درج ذیل باتیں ظاہر ہوتی ہیں:

١۔ کلکی کی پیدائش کے وقت ان کے والد زندہ ہوں گے اور ان کا نام خود رکھوائیں گے۔ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے بارے میں معلوم ہے کی ان کی پیدائش کے وقت ان کے والد کا انتقال ہو چکا تھا۔

٢۔کلکی کی پیدائش سے قبل ان کے تین بھائیوں کی ولادت ہو چکی ہوگی۔ محمد صلی الله علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات درست نہیں ہے۔

٣۔کلکی کے والد ہندو دھرم کے مطابق اپنے بیٹے کا اپ نین سنسکار کریں گے اور ویدوں کی تعلیم کے لیے باقاعدہ گروکل میں رہنے کے لیے  بھیجیں گے جہاں وہ روایتی تعلیم حاصل کریں گے۔ محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کبھی کوئی باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی نہ کسی مدرسے میں داخلہ لیا۔

یہ سب تفصیلات بھی رسالت مآب صلی الله علیہ وسلم کی ابتدائی زندگی سے مطابقت نہیں رکھتیں۔

کلکی اوتار کی ازدواجی زندگی

کلکی پران میں ہے کہ کلکی کا بیاہ سِنگھل دیش کے راجا کی بیٹی پَدما سے ہوگا۔ (ادھیاۓ 2، اشلوک6)

کلکی پران میں کلکی کی صرف ایک زوجہ کا ذکر ہے۔  صاف ہے کہ کلکی کی ایک ہی زوجہ ہوں گی اور وہ بھی ان کے اپنی وطن کی نہیں بلکہ سنگھل دیش یعنی سری لنکا کی رہنے والی ہوں گی۔ رسالت مآب صلی الله علیہ وسلم کے بارے میں معلوم ہے کہ آپ کی گیارہ ازواج مطہرات تھیں اور سنگھل دیش سے کسی کا بھی تعلق نہیں تھا۔

کلکی اوتار کی صفات

کلکی اوتار کی بعض دوسری صفات اور ان کے ذاتی حالات جو کلکی پران میں مذکور ہیں وہ ایسے نہیں ہیں کہ تنہا ان کی بنیاد پر محمد صلی الله علیہ وسلم کو اس پیشن گوئی کا مصداق قرار دیا جا سکے۔ مثلا یہ کہ کلکی ایک سفیدگھوڑے پر سوار ہو کر، ہاتھ میں تلوار لئے تیز رفتاری سے پورے زمین کا سفر کریں گے اور لاکھوں کی تعداد میں ایسے برے لوگوں کا قتل عام کریں گے جو مختلف مقامات پر حکومت کر رہے ہوں گے(بھاگوت پران  حصہ ۱۲، ادھیائے ۲، اشلوک ۱۹)۔ اس سے لوگ بظاہر یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ حضور صلی الله علیہ وسلم بھی تو جنگوں میں شریک ہوئے اور اپنے دشمنوں کا قتل کیا۔ اس لئے آں حضور صلی الله علیہ وسلم ہی کلکی اوتار ہیں۔ اول تو رسالت مآب صلی الله علیہ وسلم نےتمام روئے زمین کا سفر ایک گھوڑے پر نہیں کیا اور نہ یہ ایسی کوئی بات ہے جو کسی دوسرے حکمران یا فاتح پر صادق نہ آ سکے۔ رہی کلکی اوتار کی بعض خوبیاں اورحکمت، تواضع، شجاعت وغیرہ جیسے اوصاف، تو یہ کسی پر بھی منطبق کئے جاسکتے ہیں۔ ان کی بنیاد پر قطعاً کوئی حتمی بات نہیں کہی جا سکتی۔

خلاصۂ کلام

اس تجزیے کی رو سے محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو کلکی اوتارکی پیشن گوئی کا مصدق قرار دینا محض تکلف ہے۔ اس کے لیے کلکی کے بعض ذاتی احوال کو یکسر صرف نظر کیا جاتا ہے اورسنسکرت الفاظ اور عبارات کے غلط معنی بیان کئے جاتے ہیں۔

اس طرح ہندو مذہبی صحائف کی من مانی تشریح سے دین اسلام کی خدمت کے بجاے، ہماری دعوت کو نقصان پہنچتا ہے۔ دین کی دعوت ہر حال میں محکم بنیادوں پر استوار رہنی چاہئے۔

’’سائنسی دور اور مذہبی بیانیے‘‘

محمد عمار خان ناصر

مصنف: مولانا محمد تہامی بشر علوی

ناشر: اقبال مرکز برائے تحقیق ومکالمہ،  بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد

صفحات: ۱٠٠

عالمِ شہود کے ساتھ ایک عالمِ غیب کا وجود اور ان کے باہمی تعلق کی نوعیت کا سوال انسانی شعور کے لیے ایک غیر فانی سوال کے طور پر ہمیشہ سے موجود رہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انسانی شعور کو جن گہرے اور پیچیدہ سوالات کا سامنا ہے، عالم شہود ان کا جواب فراہم کرنے کے لیے ناکافی ہے، اور خود عالم شہود اور اس کے مختلف مظاہر کی تفہیم وتوجیہ کے لیے انسانی شعور کو مابعد الطبیعیاتی تصورات اور ان پر مبنی ایک نظام وجود کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ اساطیری مذاہب میں متھالوجی، مبنی بر وحی مذاہب میں عالم غیب کی نقشہ کشی اور فلسفے کی روایت میں مابعد الطبیعی نظام ہائے فکر انسانی شعور کی اسی طلب کو پورا کرنے کی کو شش کرتے ہیں۔

انسانی تاریخ کے مطالعے سے واضح ہوتا ہے کہ عالم شہود اور عالم غیب کے باہمی تعلق کی نوعیت کو اور خاص طور پر اس پہلو کو سمجھنے میں کہ عالم غیب سے متعلق انسان کے تصورات کو کس حد تک عالم شہود میں اس کے فکر وعمل پر اثر انداز ہونا چاہیے، یہ نکتہ بہت بنیادی رہا ہے کہ خود عالم شہود سے متعلق انسان کو عقل وتجربہ کے دائرے میں کس طرح کی معلومات اور اس میں تصرف وتسخیر کی کس نوعیت کی صلاحیت حاصل ہے۔ تاریخی طور پر، عقل وتجربہ کے دائرے میں عالم شہود سے متعلق علم اور اس کے نتیجے میں تصرف وتدبیر کا دائرہ وسیع تر ہوتے چلے جانے کا براہ راست اثر عالم غیب سے متعلق انسانی تصورات واحساسات پر مرتب ہوتا رہا ہے اور جدید سائنسی معلومات واکتشافات نے اسی تناظر میں فلسفیانہ فکر اور مذہبی اعتقاد، دونوں پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔

دور جدید میں مسلمانوں کی دینی فکر میں سائنس اور مذہب کے باہمی تعلق کا سوال کئی حوالوں سے موضوع بحث ہے، لیکن وہ عمومی طور پر بعض جزوی حوالوں سے ہے اور اس میں زیربحث پہلو بھی عموما مسئلے کی ظاہری سطح سے تعلق رکھتے ہیں۔ مذہبی فکر میں سائنس کو عموما ٹیکنالوجی کے ہم معنی یا کائناتی مظاہر سے متعلق معلومات کی فراہمی کا ایک ذریعہ سمجھتے ہوئے یہ پوزیشن اختیار کی جاتی ہے کہ موضوعات کا دائرہ الگ الگ ہونے کی وجہ سے مذہب اور سائنس میں کوئی تصادم نہیں اور یہ کہ سائنسی تحقیق وتفتیش، اپنی نوعیت کے اعتبار سے مذہب کے لیے کوئی سوال کھڑا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ تاہم ایک خاص سطح پر یہ بات درست ہونے کے باوجود، جدید سائنسی تصور کائنات نے براہ راست نہ سہی، لیکن بالواسطہ مذہبی عقیدے، انداز فکر اور طرز احساس پر غیر معمولی اثرات مرتب کیے ہیں اور بہت بنیادی نوعیت کے سوالات کو جنم دیا ہے۔مذہبی فکر میں اس صورتِ حال اور اس کے مضمرات کے گہرے ادراک کی مثالیں بہت کم ملتی ہیں۔

برادرم مولانا محمد تہامی بشؔر علوی نے زیرِ نظر تحریر میں اس سوال کے بہت اہم پہلووں کے حوالے سے اپنے غور وفکر اور مطالعہ کے نتائج پیش کیے ہیں۔ ان کا اسلوب تحریر کافی compact ہے اور یہ فرض کر کے بات کو آگے بڑھاتا ہے کہ قاری بحث کے پسِ منظر اور اہم مباحث سے عمومی طورپر واقف ہے۔ گویا یہ تحریر ایک عام اور نئے قاری کے لیے بحث کی تسہیل وتفہیم کے لیے نہیں لکھی گئی، بلکہ اس کا مخاطب مذہب اور سائنس کے ڈسکورس سے علمی واقفیت رکھنے والے اہلِ دانش ہیں۔ مزید تخصیص کے ساتھ یہ کہنا درست ہوگا کہ یہ تحریر مذہبی علماء اور اساتذہ وطلبہ کو مسئلے کی وسیع تر جہات اور نہایت اہم اور نازک سوالات کی طرف متوجہ کرنے کی ایک کوشش ہے۔ اس کے بہت سے تجزیاتی نکات سے اختلاف ممکن ہے اور مذہبی روایت کے بعض پہلووں کی تفصیل کے حوالے سے بھی تشنگی محسوس ہوتی ہے، لیکن اپنے بنیادی مقصد کے لحاظ سے اسے ایک کامیاب اور مفید کوشش قرار دینے میں مجھے کوئی تردد محسوس نہیں ہوتا۔

امید کرنی چاہیے کہ اس موضوع پر سنجیدہ غور وفکر اور بحث ومباحثہ کو درست خطوط پر آگے بڑھانے میں مولانا بشؔر علوی کی یہ کوشش مفید ثابت ہوگی اور مصنف کے علاوہ دیگر اہلِ دانش بھی بحث کے کئی دوسرے تشنہ پہلووں پر بھی اسی طرح توجہ مرکوز کر سکیں گے۔

کتاب بذریعہ ڈاک منگوانے کے لیے حافظ محمد طاہر سے رابطہ کیا جا سکتا ہے:

+92 306 6426001

اپریل ۲۰۲۱ء

خواتین کے حقوق و مسائل اور معاشرتی اصلاح کا مذہبی ایجنڈامحمد عمار خان ناصر
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۷۵)ڈاکٹر محی الدین غازی
مساجد واوقاف کا نیا قانونمولانا ابوعمار زاہد الراشدی
پروفیسر یٰسین مظہرصدیقی کی یاد میںڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی
عقیدہ، تہذیب اور سیاسی طاقتسید مطیع الرحمٰن مشہدی
فری لینسنگ: تعارف، اخلاقیات اور احکاممولانا مشرف بيگ اشرف

خواتین کے حقوق و مسائل اور معاشرتی اصلاح کا مذہبی ایجنڈا

محمد عمار خان ناصر

انبیاء کی دعوت کی جو تاریخ  آسمانی صحائف میں بیان ہوئی ہے، اس کے مطابق     انسانوں کو دعوت ایمان اور  اصلاح عقیدہ  کے بعد   انبیاء کا اہم ترین کام اپنے ماحول  کے اخلاقی بگاڑ اور فساد معاشرت کو درست کرنا ہوتا ہے۔  تمام انبیاء کی دعوت میں   ایمان باللہ کے ساتھ ساتھ اخلاقی اور معاشرتی فساد کا کوئی نہ کوئی پہلو  نمایاں موضوع کی حیثیت رکھتا ہے۔   قرآن مجید کی تعلیم   اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی   دعوتی جدوجہد بھی اس سے مستثنی نہیں اور   خاص طور پر   قرآن میں شرعی احکام کا  ایک بہت بڑاحصہ  خاندانی  رشتوں  کے حوالے سے  جاہلی معاشرت میں پائی جانے والی افراط وتفریط  کی اصلاح پر مبنی ہے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد  ہر قسم کی نبوت کا دروازہ  بند کیا جا چکا ہے، لیکن  آپ کی پیش کردہ دعوت  اور  برپا کردہ اصلاحات  کی تفصیل قرآن وحدیث اور سیرت وتاریخ میں محفوظ ہے۔  غور کرنے کی بات یہ ہے کہ  بالفرض اگر نبوت کا سلسلہ جاری ہوتا اور آج ہمارے معاشرے میں    کوئی نبی  بھیجا جاتا تو   صنفین کے مقام، حقوق، ذمہ داریوں اور حدود کے حوالے سے   اس کے معاشرتی اصلاح کے ایجنڈے کے موضوعات اور ترجیحات کیا ہوتیں؟ یہ سوال   خاص طور پر  مذہبی روایت سے وابستہ اور اس کے نمائندہ طبقوں کے لیے  قابل غور ہے اور اس کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ  کیا  نبی  کی بنیادی توجہ  کسی مخصوص  سماجی شناخت کے تحفظ  یا اس کو درپیش چیلنجز پر رد عمل    کو منظم کرنے پر ہوتی یا  وہ مثبت طور پر   معروف  انسانی اخلاقیات اور مذہبی اقدار کی روشنی میں  معاشرتی اصلاح کا کوئی  تعمیری ایجنڈا  پیش کرنے  کو اپنی ترجیح بناتا؟

ہمارے فہم کے مطابق ، انبیاء کی مجموعی تعلیم  اور خاص طور پر   پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی  اصلاحی مساعی کو  سامنے رکھتے ہوئے، بہت وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ   ہمارے معاشرتی تناظر میں    ان کا   تعلیم کردہ ایجنڈا حسب ذیل ہوتا:

۱۔ نبی کی سب سے  پہلی ترجیح یہ ہوتی کہ وہ  صنفی بنیادوں پر معاشرے میں  تقسیم پیدا کیے  یا ایسی کسی تفریق کا حصہ بنے بغیر   بحیثیت مجموعی پورے معاشرے  سے مخاطب ہوتا  اور بتاتا کہ   انسانی معاشرت کی بقا اور استحکام کے لیے  صنفین کے مابین مطلوب  اور فطری تعلق   باہمی ہمدردی اور تعاون کا تعلق ہے۔ نبی اپنی تعلیم  اور رویے سے اجتماعی طرز احساس   کو اس طرح تشکیل دیتا کہ   انسان کی فطری کمزوریوں کی وجہ سے معاشرتی تعلقات اور رویوں میں   جو ناہمواری اور   ناانصافی  پیدا ہو جاتی ہے،  اس کا  حل لوگ تفریق اور مخاصمت کے فروغ اور   صنفی یا طبقاتی سیاست میں تلاش کرنے کے بجائے انسانوں کے حاسہ اخلاقی کو اپیل کرنے،  اجتماعی انسانی  ہمدردی کے جذبات کو بیدار کرنے  اور معاشرتی رویوں میں عدل وانصاف کی قدروں  کو مستحکم کرنے کی طرف متوجہ ہوتے۔

۲۔  صنفی تقسیم وتفریق کا طریقہ اختیار  یا اس کی تائید کیے بغیر، نبی   اس رجحان کی نہ صرف حوصلہ افزائی کرتا بلکہ   اس کو  ہر طرح کی عملی نصرت فراہم کرتا  کہ خواتین  ایک معاشرتی طبقے کے طور پر    اپنے مقام اور حقوق کا شعور  پیدا کریں،    خواتین کی ذہن سازی ا ور تعلیم وتربیت کے لیے مختلف قسم کی سرگرمیاں منظم کریں،  مسائل  اور مشکلات کی نشان دہی کے لیے  ابلاغ اور رابطے کے   تمام میسر ذرائع اختیار کریں،  ضروری قانونی وسیاسی اقدامات کو یقینی بنانے کے لیے  اجتماعی جدوجہد   کریں، غرض یہ کہ  ایک  متاثرہ فریق کی حیثیت سے ، معاشرت میں مطلوبہ اصلاحات کے لیے سرگرم اور منظم کردار ادا کریں۔

۳۔ نبی، صنفین کے ساتھ ساتھ صنف ثالث کی انسانی حیثیت اور سماجی  مقام کو بھی موضوع بناتا  اور انھیں حالات کے رحم وکرم پر چھوڑ دینے  اور  انسانوں سے کم تر  حیثیت  میں کسی نہ کسی طرح زندگی گزار لینے کو   ان کی تقدیر   قرار دینے  کے بجائے  معاشرے میں اس بات کے لیے قبولیت اور آمادگی پیدا کرنے کی سعی کرتا کہ ان کے لیے بھی  معمول کی معاشرتی سرگرمیوں میں   شریک ہونے کے مواقع پیدا کیے جائیں اور   ان کی خصوصی  جسمانی حالت پر تحقیر یا تضحیک کا رویہ اپنانے کے بجائے، دیگر تمام اصحاب عذر کی طرح، ان کے لیے  بھی انسانی احترام وتوقیر  کا انداز نظر پیدا کیا جائے۔

۴۔  نبی،   خاندان  کے ادارے کی اہمیت  اور  بنیادی مقصد    کی روشنی میں   مروجہ غیر متوازن معاشرتی ترجیحات  کو  اپنی اصلاحی مساعی کا اولین ہدف قرار دیتا  اور  لوگوں کو سمجھاتا کہ بلوغت کی عمر کو پہنچنے کے بعد  دین واخلاق اور انسان کی فطری  ضروریات، سب کا تقاضا یہی ہے کہ  مرد اور عورت  ایک باہمی رشتے میں بندھ جائیں اور ایک دوسرے کی نفسیاتی اور جسمانی  تکمیل  کا ذریعہ بنتے ہوئے زندگی گزاریں۔  نبی،  نکاح کو آسان بنانے اور  اس کے راستے میں  کھڑی کر دی جانے والی ہر قسم کی  رکاوٹوں کے ازالے کو  تعلیم وتلقین کا خصوصی  موضوع بناتا اور    نکاح کو مرد  کے معاشی اسٹیٹس اور  عورت کی طرف سے قیمتی جہیز  جیسی    شرائط کے ساتھ مشروط کرنے کے رجحان کی   سخت حوصلہ شکنی کرتا۔   

۵۔ نبی ایک سماجی مسئلے کے طور پر مطلقات اور بیواوں نیز ایسی خواتین  کے لیے   جن کی شادی کی مناسب عمر گزر چکی ہو، ازدواجی زندگی کے حق کو  بطور خاص نمایاں کرتا  اور معاشرے  کو اس ذمہ داری  کی طرف متوجہ کرتا کہ ایسی خواتین  کے لیے   بھی اس فطری معاشرتی حق سے  بہرہ مند ہونے کے مواقع پیدا کیے جائیں۔  اس ضمن میں نبی،  حسب ضرورت  ایسے افراد کو جو ایک سے زیادہ  خواتین سے نکاح کر سکتے ہیں،    اس کی ترغیب دیتا  کہ وہ ایسا کریں اور  خواتین کو یہ  تعلیم  دیتا کہ وہ  اس مسئلے کو اپنے شخصی احساسات اور جذبات  کے زاویے سے نہیں، بلکہ  ایک معاشرتی ضرورت کے زاویے سے دیکھیں ۔ نبی، خواتین میں اس طرز احساس کو فروغ دیتا کہ اگر وہ اپنی ہی کچھ بہنوں  کو اپنے ساتھ اس رشتے میں شریک بنانے پر رضامند ہوں گی تو دین واخلاق کے لحاظ سے یہ کوئی محرومی نہیں، بلکہ   ایک اعلی انسانی وٰ اخلاقی رویے کا اظہار ہوگا۔

۶۔ نبی، مرد اور عورتوں دونوں کو اپنے شریک حیات کے انتخاب   کا حق دینے کو   رشتہ نکاح کے بنیادی اصول کے طور پر  پیش کرتا اور  لوگوں کو سمجھاتا کہ نکاح بنیادی طور پر بالغ مرد اور عورت  کا باہمی فیصلہ ہے جس میں  اصل اہمیت انھی کی رضامندی کو حاصل ہے۔ خاندان اور برادری کا کردار  اس رشتے میں    اپنی ترجیحات کو مرد اور عورت پر مسلط کرنا نہیں، بلکہ افراد  کو حق انتخاب  میں سہولت مہیا کرنا اور اس رشتے سے متعلق  حقوق وفرائض  کی انجام دہی کو یقینی بنانے میں     اپنی ذمہ داری انجام دینا ہے۔     نبی، بطور خاص خواتین کو ان کی آزادی و اختیار سے محروم کرنے اور انھیں ایک جائیداد تصور کرنے کی   نفی کرتا اور  اس بات کی تعلیم دیتا کہ وہ معروف کے مطابق  اپنی ذات کےمتعلق  جو بھی فیصلہ کرنا چاہیں،  اس میں سماجی دباو   سے کام لیتے ہوئے بے جا رخنہ اندازی      کرنا ایک غیر اخلاقی طرز عمل ہے۔ نبی خواتین پر ان کی مرضی کے خلاف  فیصلے مسلط کرنے کے رویے کی حوصلہ شکنی کرتا اور  معاشرے  میں اثر ورسوخ  رکھنے والے افراد اور طبقات  کو ان کی ذمہ داری  کا احساس دلاتا ، تاکہ وہ اس طرح  کی صورت حال میں خواتین کی   نصرت وحمایت کے لیے  اخلاقی وسماجی دباو اور قانونی   اختیار کو بروئے کار لائیں۔

۷۔  انسانی تمدن   میں  تغیر وارتقاء  کے اس مرحلے   میں نبی  ، خاندان اورمعاشرے کی پدر سرانہ  بنیادوں کے حوالے سے  پائے جانے والے افراط وتفریط  کی اصلاح پر بھی خاص توجہ مرکوز کرتا۔   وہ لوگوں کو اس حقیقت کی یاددہانی کرواتا کہ خاندان  کا ادارہ  انسان نے عورتوں  کے استحصال یا ان کو  مرد کی غلامی میں دینے کے لیے نہیں ، بلکہ بقائے نسل  میں  مرد وزن کے کردار کی فطری تقسیم  کے تناظر میں  خواتین کو  بچوں کی ولادت وتربیت کے لیے ایک محفوظ  ماحول مہیا کرنے  اور   مردوں کو  ان کی حفاظت وکفالت کا ذمہ دار ٹھہرانے کے لیے  قائم کیا تھا۔  نبی لوگوں کو متوجہ کرتا کہ  خاندانی رشتے  اور اس میں  ذمہ داریوں کی اس تقسیم کے  حوالے سے خواتین  میں مردوں سے منافرت  یا غیر فطری مسابقت کے جذبے کو تحریک دینا  خاندان کے ادارے کے لیے بھی تباہ کن ہے اور خواتین کی نفسیات میں بھی  شدید نوعیت کے اضطرابات اور  پیچیدگیاں پیدا کرنے کا موجب ہے  او رکسی بھی لحاظ سے خواتین کی خیر خواہی   پر مبنی نہیں ہے۔  

۸۔ نبی پدرسری نظام میں مرد کے زیادہ فعال کردار سے پیدا ہونے والی ناہمواریوں اور  خواتین کے سماجی مقام، کردار اور حقوق کی غیر منصفانہ تحدید  کو بھی اتنے ہی  اہتمام  سے اصلاح کا  موضوع بناتا  اور معاشرے کو تلقین کرتا کہ خانگی زندگی کی حدود وقیود  کو  خواتین  کے لیے قید خانہ  بنا دینے  اور     مردوں کے ان کی کفالت  کا ذمہ دار ہونے  کو  خواتین کی مالی خود مختاری  سلب کرنے کے ذریعے کے طور پر استعمال کرنا   سخت غیر اخلاقی اور    خاندانی رشتے کی اصل روح کو پامال کر دینے والا  رویہ ہے۔  اس ضمن میں خاص طور پر حسب ذیل تین   امور  نبی کی تعلیم وتلقین اور اصلاحی مساعی کا مرکزی  نکتہ ہوتے:

اولا،  بوقت نکاح خواتین کو ان کا مکمل طے شدہ مہر   اور  قرابت داروں کے ترکے میں سے خواتین کے حصوں کی ادائیگی کو ایک شرعی فریضہ قرار دیتا، اس کو خدا خوفی، تقوی  اور  حسن کردار کے ایک معیار کے طور پر    پیش کرتا اور اس مسئلے کو  عمومی دینی تعلیم وتلقین  کا ایک زندہ موضوع بناتا۔

ثانیا،  خواتین کو ان کے مالی حقوق  کے باب میں  حقیقی طور پر بااختیار  بنانے کے لیے ان کی جائیداد میں مرد رشتہ داروں کی طرف سے ناروا تصرف نیز  مہر اور حق وراثت کی  غیر حقیقی معافی کے رواج کو ممنوع ٹھہراتا  اور ارباب اختیار کو اس حوالے سے ضروری قانونی  بندوبست کی تلقین کرتا۔

ثالثا،  خواتین  کی تعلیم وتربیت   اور ان کے معاشرتی تعامل  میں اس نکتے کو ایک ترجیحی  ہدف کے طور پر  شامل کرتا کہ ان میں اپنے شرعی وقانونی حقوق کا شعور پیدا ہو اور ان کے حصول کے لیے  معاشرے میں موجود تمام ذرائع تک ان کی رسائی آسان ہو۔

۹۔  خاندانی رشتے کی حدود وقیود کو  خواتین کے لیے متوازن  بنانے کے ساتھ ساتھ نبی  عمومی معاشرتی  زندگی میں بھی  ایک طبقے کے طور پر خواتین کے تعمیری اور سرگرم کردار  کی حوصلہ افزائی کرتا  اور  ایسے معاشرتی رویے  وجود میں لانے کی سعی کرتا جو   خواتین کی فطری صلاحیتوں سے مناسبت رکھنے والے  تمام دائروں میں   ان کی شرکت کو آسان بنانے میں مددگار ہوں۔ نبی اس بات کو  ایک اخلاقی قدر کے طور پر معاشرے میں رائج کرتا کہ    خواتین کی سماجی ذمہ داریوں     میں شریک کرتے ہوئے ان کی فطری خلقی نزاکتوں اور  گھریلو ذمہ داریوں کو ملحوظ رکھا جائے اور خواتین کے لیے اوقات کار اور  ذمہ داریوں کا حجم وغیرہ  طے کرتے ہوئے  اس پہلو کی خصوصی  رعایت کی جائے۔  اس ضمن میں نبی  ایسے منفی معاشرتی رویوں اور  رجحان ساز  صنعتوں کی اصلاح پر خاص توجہ مرکوز کرتا  جو  خواتین کے لیے احترام وتوقیر کا انداز  فکر پیدا کرنے کے بجائے  ان کے متعلق جنسی تلذذ کے   رویے کو فروغ دیتے  اور خواتین کے لیے جنسی ہراسانی  جیسے مسائل پیدا کرنے کا موجب بنتے ہیں۔  نبی  ایک ایسے ماحول  کو معاشرے کے سامنے اخلاقی آئیڈیل کے طور پر پیش کرتا جس میں  خواتین اپنی سماجی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے بے خوف وخطر نقل  وحرکت کر سکیں  اور بوقت ضرورت اگر   کوئی خاتون تن تنہا اپنے گھر  سے نکل کر بیت اللہ کے حج کے لیے بھی جانا چاہے تو اسے  کسی قسم کا کوئی خطرہ درپیش نہ ہو۔  

۱٠۔ نبی خاص طو رپر   تعلیم وتربیت کے میدان میں   خواتین کو اپنی صلاحیتیں بروئے کار لانے کی  ترغیب دیتا  اور ایسا ماحول پیدا کرتا جس میں    علمی وفکری اہلیت رکھنے والی خواتین  معاشرے کی دینی ودنیوی راہ نمائی  کے باب میں   مرد اہل علم ہی کی طرح موثر  کردار ادا کر سکیں۔  نبی اس بات کو بھی  بنیادی ترجیح قرار دیتا کہ خاص طور پر خواتین  کی تعلیم وتربیت  اور  ان کی علمی وعملی راہ نمائی  میں خواتین اہل علم ہی مرکزی  کردار ادا کریں  اور   اگر اس کام کو یکسوئی اور ترکیز کے ساتھ  کرنے کے لیے خواتین کی مستقل مساجد   کا قیام مفید یا مددگار ہو  جہاں تعلیم، وعظ اور امامت وخطبہ کی ذمہ داریاں خواتین کے سپرد ہوں تو معاشرہ اس کا بھی انتظام کرے۔

۱۱۔ نبی، جنسی جبلت  سے متعلق      فکری وعملی انحرافات کو  بطور خاص موضوع بناتا اور لوگوں کو بتاتا کہ  جو چیز انسان کو   جانوروں سے ممتاز کرتی ہے، وہ صرف عقل نہیں  جس کی مدد سے انسان اپنی  خواہشات  کو پورا کرنے کے  طریقے تلاش کرتا رہے، بلکہ   انسان کا اصل شرف اس کا اخلاقی وجود  ہے  جو اسے   حیوانی  جبلتوں  کی تہذیب میں    مدد دیتا  ہے۔   نبی   انسانوں کو یہ سمجھاتا کہ جانوروں کے برعکس انسان کے لیے  بھوک پیاس اور مال ودولت کی حرص کی طرح جنسی جبلت بھی  اخلاقی قدغنوں  اور  انسانی اجتماع کے مصالح کے تابع ہے اور اس کی تسکین کے  انھی طریقوں کو  انسانی معاشرے میں قبولیت اور جواز  ملنا چاہیے جو   شرف انسانی  سے ہم آہنگ اور  معاشرتی مصالح   کی حفاظت میں  مددگار ہوں۔  بالفاظ دیگر، نبی     لوگوں پر بے قید جنسی تعلق،  ہم جنس پرستی  اور شذوذ جنسی کے   دیگر طریقوں کا غیر فطری اور غیر اخلاقی ہونا واضح کرتا اور انھیں متوجہ کرتا کہ  جنسی جبلت کو ان  اخلاقی قدغنوں سے آزاد  کر کے جو انسانی  اجتماع نے صدیوں کی  اخلاقی وتہذیبی تربیت  سے مستحکم کی تھیں،  انسان اپنے آپ کو حیوانیت کی سطح پر اتار رہا اور  خود کو انسانی  شرف وامتیاز سے  محروم کر رہا ہے۔

۱۲۔   نبی لوگوں کو یاد دلاتا  کہ جہاں جنسی جذبے کی تسکین کا ضروری بندوبست  فطری بنیادوں پر معاشرے کی تعمیر وتشکیل کے لیے ضروری ہے، وہاں   انسان کے اندر کے اس وحشی کو  کسی بھی طریقے سے چھیڑچھاڑ کر کے ابھارنا  فرد اور معاشرہ، دونوں کے لیے تباہ کن ہے۔  نبی اس باب میں   صنفین کو  انفرادی سطح پر بھی مخاطب کرتا کہ وہ  جنسی جذبے کو بے لگام ہونے سے بچانے کے لیے  ضروری حدود وآداب کی پابندی کریں اور  معاشرے میں رجحان سازی  کا کردار ادا کرنے والے  تمام طبقات کو بھی   ان کی ذمہ داری کا احساس دلاتا کہ  وہ جنسی جذبے کی  انگیخت کو  کھیل تماشے کا ذریعہ یا ایک فروختنی چیز نہ بنائیں۔  نبی انسانوں کو    اس طرف بھی متوجہ کرتا کہ جنسی جبلت کے متعلق   حیوانی انداز فکر  کیسے انسانی معاشرے میں جنسی درندگی  کو فروغ دینے اور جنسی ہوس کا نشانہ  بن سکنے والے ہر طبقے کی   حفاظت وحرمت کو شدید خطرے سے دوچار کر  دینے کا موجب ہے۔

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۷۵)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(243)    وَمَا کُنتُم تَستَتِرُونَ کا ترجمہ

وَمَا کُنتُم تَستَتِرُونَ اَن یَشہَدَ عَلَیکُم سَمعُکُم وَلَا اَبصَارُکُم وَلَا جُلُودُکُمَ۔ (فصلت :22)

اس آیت کے حسب ذیل ترجمے کیے گئے ہیں:

”تم دنیا میں جرائم کرتے وقت جب چھپتے تھے تو تمہیں یہ خیال نہ تھا کہ کبھی تمہارے اپنے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہارے جسم کی کھالیں تم پر گواہی دیں گی“۔ (سید مودودی)

”اور تم اس سے کہاں چھپ کر جاتے کہ تم پر گواہی دیں تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہاری کھالیں“۔ (احمد رضا خان، گواہی سے بچنے کے لیے کہیں چھپ کر جانے کی بات یہاں نہیں ہے۔)

”اور تم اس (بات کے خوف) سے تو پردہ نہیں کرتے تھے کہ تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور چمڑے تمہارے خلاف شہادت دیں گے“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اور تم (اپنی بداعمالیاں) اس وجہ سے پوشیدہ رکھتے ہی نہ تھے کہ تم پر تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہاری کھالیں گواہی دیں گی“۔ (محمد جوناگڑھی)

”اور تم یہ اندیشہ نہیں رکھتے تھے کہ تمہارے خلاف تمہارے کان یا تمہاری آنکھیں یا تمہارے جسموں کے رونگٹے گواہی دیں گے“۔(امین احسن اصلاحی، تسترون کا مطلب اندیشہ رکھنا تو نہیں ہوتا ہے)

اوپر کے ترجموں پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ ترجمہ کرنے والوں کے پیش نظر وہ فحش جرائم ہیں جنھیں انسان چھپ کر کرتا ہے۔ عام طور سے عربی تفاسیر کا رجحان بھی اسی طرف رہا ہے جیسے:

وما کنتم تستترون عن ارتکابکم الفواحش۔ (جلالین)

المعنی: انکم کنتم تستترون بالحیطان والحجب عند ارتکاب الفواحش۔ (الکشاف)

حالانکہ یہاں سمع وبصر اور جلد کی جس گواہی کی بات ہورہی ہے وہ اللہ کی نافرمانی کے سلسلے میں گواہی ہے، یہ نافرمانی چھپ کر بھی ہوتی ہے اور کھلے عام بھی ہوتی ہے، یہاں اس پر تنبیہ نہیں کی جارہی ہے کہ چھپ کر برائی کرتے وقت تم نے یہ نہ سوچا کہ تمہارے سمع وبصر اور جلد گواہی دیں گے، بلکہ اس پر تنبیہ کی جارہی ہے کہ تم نے یہ خیال کرکے اللہ کی نافرمانی سے خود کو بچایا نہیں کہ تمہارے اپنے سمع و بصر اور جلد تمہارے خلاف گواہی دیں گے۔ غرض یہاں چھپنے کا مسئلہ نہیں بلکہ اللہ کی نافرمانی سے بچنے کی بات ہورہی ہے ۔ اس بنا پر ترجمہ ہوگا:

”اور تم اس سے نہیں بچتے تھے کہ تمہارے خلاف تمہارے کان یا تمہاری آنکھیں یا تمہارے جسموں کے رونگٹے گواہی دیں “۔ (امانت اللہ اصلاحی)

(244)  استعاذۃ کا ترجمہ

استعاذة کا مطلب پناہ لینا اور پناہ مانگنا ہوتا ہے، عام طور سے یہی ترجمہ کیا گیاہے، البتہ ایک مقام پر صاحب تدبر نے پناہ ڈھونڈنا ترجمہ کیا ہے، جو درست نہیں ہے۔

وَاِمَّا یَنزَغَنَّکَ مِنَ الشَّیطَانِ نَزغ فَاستَعِذ بِاللَّہِ۔ (الاعراف:200)

”اور اگر تمہیں کوئی وسوسہ شیطانی لاحق ہونے لگے تو اللہ کی پناہ چاہو“۔ (امین احسن اصلاحی)

فَاذَا قَرَاتَ القُرءانَ فَاستَعِذ بِاللَّہِ مِنَ الشَّیطَانِ الرَّجِیمِ۔ (النحل:98)

”پس جب تم قرآن پڑھو تو شیطان رجیم سے اللہ کی پناہ مانگ لیا کرو“۔ (امین احسن اصلاحی)

فَاستَعِذ بِاللَّہِ۔ (غافر:56)

”تو تم اللہ کی پناہ مانگو“۔ (امین احسن اصلاحی)

وَاِمَّا یَنزَغَنَّکَ مِنَ الشَّیطَانِ نَزغ فَاستَعِذ بِاللَّہِ۔ (فصلت: 36)

”اور اگر شیطان تمہارے دل میں کوئی اکساہٹ پیدا کرہی دے تو اللہ کی پناہ ڈھونڈو“۔ (امین احسن اصلاحی)

”اور اگر تم شیطان کی طرف سے کوئی اکساہٹ محسوس کرو تو اللہ کی پناہ مانگ لو“۔ (سید مودودی)

(245)  مبتدا خبر کا خاص اسلوب

اِنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا بِالذِّکرِ لَمَّا جَاءَہُم وَاِنَّہُ لَکِتَاب عَزِیز۔ لَّا یَاتِیہِ البَاطِلُ مِن بَینِ یَدَیہِ وَلَا مِن خَلفِہِ تَنزِیل مِّن حَکِیمٍ حَمِیدٍ۔ مَّا یُقَالُ لَکَ اِلَّا مَا قَد قِیلَ لِلرُّسُلِ مِن قَبلِکَ اِنَّ رَبَّکَ لَذُو مَغفِرَةٍ وَذُو عِقَابٍ اَلِیمٍ۔ (فصلت 41-43)

یہ تین آیتیں ہیں، پہلی آیت میں اِنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا کی خبر بظاہر موجود نہیں ہے۔ بعض لوگوں نے اس کی خبر محذوف مان کر ترجمہ کیا ہے، حالانکہ اس طرح بغیر کسی قرینے کے خبر کو محذوف مان لینا مناسب نہیں ہے۔ بعض لوگوں نے اسے آیت نمبر چالیس میں مذکور اِنَّ کے اسم کا بدل مانا ہے اور دونوں کی خبر ایک قرار دی ہے جو اس آیت میں گزری ہے، وہ آیت ہے: اِنَّ الَّذِینَ یُلحِدُونَ فِی ءَایَاتِنَا لَا یَخفَونَ عَلَینَا اَفَمَن یُلقَیٰ فِی النَّارِ خَیر اَم مَّن یَاتِی ءَامِنًا یَومَ القِیَامَۃِ اعمَلُوا مَا شِئتُم اِنَّہُ بِمَا تَعمَلُونَ بَصِیر۔ (فصلت 40) لیکن اس طرح سے اِنَّ کے ساتھ بدل کا آنا قواعد کے خلاف مانا گیا ہے۔ بعض لوگوں نے آگے دور جاکر خبر تلاش کی ہے، اتنی دور خبر کا ماننا بھی تکلف کی بات ہے۔بطور مثال کچھ ترجمے ملاحظہ ہوں:

”یہ وہ لوگ ہیں جن کے سامنے کلام نصیحت آیا تو انہوں نے اسے ماننے سے انکار کر دیا مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک زبردست کتاب ہے۔باطل نہ سامنے سے اس پر آ سکتا ہے نہ پیچھے سے، یہ ایک حکیم و حمید کی نازل کردہ چیز ہے۔اے نبی، تم سے جو کچھ کہا جا رہا ہے اس میں کوئی چیز بھی ایسی نہیں ہے جو تم سے پہلے گزرے ہوئے رسولوں سے نہ کہی جاچکی ہو بے شک تمہارا رب بڑا درگزر کرنے والا ہے، اور اس کے ساتھ بڑی دردناک سزا دینے والا بھی ہے“۔ (سید مودودی، یہاں بدل مان کر ترجمہ کیا ہے۔)

”بیشک جو ذکر سے منکر ہوئے جب وہ ان کے پاس آیا ان کی خرابی کا کچھ حال نہ پوچھ، اور بیشک وہ عزت والی کتاب ہے۔ باطل کو اس کی طرف راہ نہیں، نہ اس کے آگے سے نہ اس کے پیچھے سے، اتارا ہوا ہے حکمت والے سب خوبیوں سراہے کا۔ تم سے نہ فرمایا جائے مگر وہی جو تم سے اگلے رسولوں کو فرمایا، کہ بیشک تمہارا رب بخشش والا اور دردناک عذاب والا ہے“۔ (احمد رضا خان، خبر کو محذوف مانا ہے)

”جن لوگوں نے اپنے پاس قرآن پہنچ جانے کے باوجود اس سے کفر کیا، (وہ بھی ہم سے پوشیدہ نہیں) یہ بڑی باوقعت کتاب ہے۔ جس کے پاس باطل پھٹک بھی نہیں سکتا نہ اس کے آگے سے نہ اس کے پیچھے سے، یہ ہے نازل کردہ حکمتوں والے خوبیوں والے (اللہ) کی طرف سے۔ آپ سے وہی کہا جاتا ہے جو آپ سے پہلے کے رسولوں سے بھی کہا گیا ہے، یقیناً آپ کا رب معافی والا اور دردناک عذاب والا ہے“۔ (محمد جوناگڑھی، خبر کو محذوف مانا ہے۔)

مولانا امانت اللہ اصلاحی کے نزدیک پہلی آیت میں خبر محذوف نہیں ہے، بلکہ پہلی آیت کے اخیر اور دوسری آیت پر مشتمل جملہ معترضہ ختم ہوتے ہی تیسری آیت میں اس کی خبر ذکر کردی گئی ہے،  اِنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا بِالذِّکرِ لَمَّا جَاءَہُم کی خبر ہے مَّا یُقَالُ لَکَ اِلَّا مَا قَد قِیلَ لِلرُّسُلِ مِن قَبلِکَ اِنَّ رَبَّکَ لَذُو مَغفِرَۃٍ وَذُو عِقَابٍ اَلِیمٍ۔ اس جملے کا ترجمہ ہوگا: ”بے شک جن لوگوں نے ذکر کا انکار کیا جب وہ ان کے پاس آیا (ان کے بارے میں) تم سے وہی کہا جارہا ہے جو تم سے پہلے رسولوں سے کہا گیا (وہ یہ کہ) بے شک تمہارا رب مغفرت والا ہے اوردردناک سزا والا ہے“۔ اِنَّ رَبَّکَ لَذُو مَغفِرَةٍ وَذُو عِقَابٍ اَلِیمٍ ۔ یہی وہ بات ہے جو کافروں کے سلسلے میں ہر رسول سے کہی گئی۔

مبتدا اور خبر کے درمیان میں جملہ معترضہ ہے: وَاِنَّہُ لَکِتَاب عَزِیز۔ لَّا یَاتِیہِ البَاطِلُ مِن بَینِ یَدَیہِ وَلَا مِن خَلفِہِ تَنزِیل مِّن حَکِیمٍ حَمِیدٍ۔ اس کا ترجمہ ہے: ”جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک زبردست کتاب ہے۔ باطل نہ سامنے سے اس پر آ سکتا ہے نہ پیچھے سے، یہ ایک حکیم و حمید کی نازل کردہ چیز ہے“۔ اس طرح پہلے جملہ معترضہ لاکر اس ذکر کی عظمت بیان کردی گئی جس کا ان لوگوں نے انکار کیا اور پھر ان کی خبرمیں انکار کرنے والوں کو توبہ کی دعوت کے ساتھ سزا کی دھمکی بھی سنادی گئی۔تینوں آیتوں کا ترجمہ اس طرح ہوگا:

”بے شک جن لوگوں نے ذکر کا انکار کیا جب وہ ان کے پاس آیا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک زبردست کتاب ہے۔ باطل نہ سامنے سے اس پر آ سکتا ہے نہ پیچھے سے، یہ ایک حکیم وحمید کی نازل کردہ چیز ہے، (ان کے بارے میں) تم سے وہی کہا جارہا ہے جو تم سے پہلے رسولوں سے کہا گیا (وہ یہ کہ) بے شک تمہارا رب مغفرت والا ہے اور الم ناک سزا والا ہے“۔

تیسری آیت میں مَّا یُقَالُ لَکَ سے مراد وہ باتیں نہیں ہیں جو کفار اللہ کے رسول کو سناتے تھے، بلکہ وہ بات ہے جو اللہ نے اپنے رسول سے کافروں کے بارے میں کہی ہے۔

(246) فِی ءَاذَانِہِم وَقر کا ترجمہ

وَلَو جَعَلناہُ قُرءَانًا اَعجَمِیًّا لَّقَالُوا لَولَا فُصِّلَت ءَایَاتُہُ ءَاعجَمِیّ وَعَرَبِیّ قُل ہُوَ لِلَّذِینَ ءَامَنُوا ہُدًی وَشِفَاء وَالَّذِینَ لَا یُؤمِنُونَ فِی ءَاذَانِہِم وَقر وَہُوَ عَلَیہِم عَمًی اُولٰئکَ یُنَادَونَ مِن مَّکَانِ بَعِیدٍ۔ (فصلت 44)

اس آیت میں فِی ءَاذَانِہِم وَقر مکمل جملہ ہے جس کی خبر مقدم ہے۔ قرآن کو وَقر نہیں کہا گیا ہے، بلکہ یہ کہا گیا ہے کہ یہ قرآن کو سنتے نہیں ہیں گویا ان کے کانوں میں ڈاٹ پڑی ہوئی ہے۔بعض ترجمے ملاحظہ ہوں:

”اگر ہم اِس کو عجمی قرآن بنا کر بھیجتے تو یہ لوگ کہتے ”کیوں نہ اس کی آیات کھول کر بیان کی گئیں؟ کیا عجیب بات ہے کہ کلام عجمی ہے اور مخاطب عربی“ اِن سے کہو یہ قرآن ایمان لانے والوں کے لیے تو ہدایت اور شفا ہے، مگر جو لوگ ایمان نہیں لاتے اُن کے لیے یہ کانوں کی ڈاٹ اور آنکھوں کی پٹی ہے، اُن کا حال تو ایسا ہے جیسے اُن کو دور سے پکارا جا رہا ہو“۔ (سید مودودی، ’اُن کے لیے یہ کانوں کی ڈاٹ اور آنکھوں کی پٹی ہے‘کے بجائے ہوگا:’ان کے کانوں میں ڈاٹ ہے اور وہ ان پر حجاب ہے‘۔)

”اور اگر ہم اس قرآن کو عجمی قرآن کی شکل میں اتارتے تو یہ لوگ یہ اعتراض اٹھاتے کہ اس کی آیات کی وضاحت کیوں نہیں کی گئی؟ کلام عجمی اور مخاطب عربی؟ کہہ دو یہ ان لوگوں کے لیے تو ہدایت و شفا ہے جو اس پر ایمان لائیں، رہے وہ لوگ جو ایمان نہیں لارہے ہیں تو ان کے کانوں میں بہرا پن ہے اور یہ ان کے اوپر ایک حجاب ہے۔ اب یہ لوگ ایک دور کی جگہ سے پکارے جائیں گے“۔ (امین احسن اصلاحی،’اس کی آیات کی وضاحت کیوں نہیں کی گئی‘کے بجائے’اس کی آیات قابل فہم کیوں نہیں رکھی گئیں‘ہوگا۔‘’اب یہ لوگ ایک دور کی جگہ سے پکارے جائیں گے‘۔یہ ترجمہ درست نہیں ہے۔ یہ کہیں نہیں ہے کہ لوگ قیامت میں دور سے پکارے جائیں گے، یہ دنیا ہی کی بات ہے کہ ان کا حال ایسا ہوگیا ہے کہ گویا انھیں دور سے پکارا جارہا ہے اور وہ سن نہیں رہے ہیں۔)

”اور اگر ہم اسے عجمی زبان کا قرآن بناتے تو کہتے کہ اس کی آیتیں صاف صاف بیان کیوں نہیں کی گئیں؟ یہ کیا کہ عجمی کتاب اور آپ عربی رسول؟ آپ کہہ دیجئے! کہ یہ تو ایمان والوں کے لیے ہدایت و شفا ہے اور جو ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں میں تو (بہراپن اور) بوجھ ہے اور یہ ان پر اندھاپن ہے، یہ وہ لوگ ہیں جو کسی بہت دور دراز جگہ سے پکارے جا رہے ہیں“۔ (محمد جوناگڑھی)

(247) ثُمَّ کا ترجمہ

درج ذیل آیت میں ثُمَّ  کا ترجمہ کچھ لوگوں نے’اور‘کیا ہے اور باقی لوگوں نے’پھر‘کیا ہے، جبکہ اس کا موزوں ترین ترجمہ’پھر بھی‘ہے۔

قُل اَرَءَیتُم اِن کَانَ مِنْ عِندِ اللَّہِ ثُمَّ کَفَرتُم بِہِ۔ (فصلت 52)

”اے نبی، اِن سے کہو، کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اگر واقعی یہ قرآن خدا ہی کی طرف سے ہوا اور تم اِس کا انکار کرتے رہے“۔ (سید مودودی)

”(ان سے) کہو: بتاو اگر (یہ قرآن) اللہ کی طرف سے ہوا اور تم نے اس کا انکار کیا“۔ (امین احسن اصلاحی)

”تم فرماو  بھلا بتاو اگر یہ قرآن اللہ کے پاس سے ہے پھر تم اس کے منکر ہوئے“۔ (احمد رضا خان)

”کہو کہ بھلا دیکھو اگر یہ (قرآن) خدا کی طرف سے ہو پھر تم اس سے انکار کرو“۔ (فتح محمد جالندھری)

”آپ کہہ دیجئے! کہ بھلا یہ تو بتاو کہ اگر یہ قرآن اللہ کی طرف سے آیا ہوا ہو پھر تم نے اسے نہ مانا“۔ (محمد جوناگڑھی)

”کہو سوچو اگر (یہ قرآن) اللہ کی طرف سے ہوا پھر بھی تم نے اس کا انکار کیا“۔ (امانت اللہ اصلاحی)

مساجد واوقاف کا نیا قانون

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی حدود میں نئے اوقاف ایکٹ کے نفاذ کو اسلام آباد اور راولپنڈی کے تمام مکاتب فکر کے علماء کرام نے مشترکہ طور پر احکام شریعت اور انسانی حقوق کے منافی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس قانون کو واپس لیا جائے۔ جبکہ اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ کی قیادت کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی کے اسپیکر اور دیگر ذمہ دار حکومتی راہنماؤں نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ وہ انہیں اعتماد میں لے کر قانون میں ترامیم کرتے ہوئے اسے دینی حلقوں کے لیے قابل قبول بنائیں گے۔ مگر عملی طور پر یہ دکھائی دے رہا ہے کہ ان دونوں امور کو نظرانداز کر دیا گیا ہے اور نہ صرف یہ کہ دینی مدارس کے نئے پانچ بورڈز دینی مدارس کے وفاقوں کے مقابل کھڑے کر دیے گئے ہیں بلکہ پنجاب کے مختلف شہروں میں محکمہ اوقاف مساجد اور اس کی مبینہ رجسٹریشن کے لیے متحرک ہو گیا ہے اور محکمہ اوقاف کی اس قسم کی نقل و حرکت سے معاملات مزید شکوک اور پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔

اس سلسلہ میں چند امور کی طرف حکومتی حلقوں اور دینی مدارس کی قیادتوں کو توجہ دلانا اس مرحلہ میں ضروری محسوس ہوتا ہے۔

اس حوالہ سے ایک اور امر کی وضاحت ضروری ہے کہ مساجد کی رجسٹریشن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ ایک الگ قانون کے تحت ہے جو پنجاب اسمبلی نے کچھ عرصہ قبل منظور کیا تھا۔ ہمارے خیال میں یہ قانون بھی متنازعہ ہے اور اسلام آباد میں نافذ کیے جانے والے ایکٹ کی طرح شرعی احکام اور شہری حقوق سے متصادم ہے، اس کی آڑ میں اس قسم کی کوئی کارروائی قابل قبول نہیں ہوگی اور اس سلسلہ میں دینی حلقوں کے متفقہ موقف کو نظرانداز کرنے کی کوئی کوشش ملک میں ایک نئے خلفشار اور محاذ آرائی کا باعث بن سکتی ہے، اس لیے حکمرانوں کو سارے معاملات طاقت اور اختیار کے حوالہ سے چلانے سے گریز کرنا چاہیے اور دینی حلقوں کی مسلمہ قیادتوں کو اعتماد میں لے کر کوئی متفقہ راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

پروفیسر یٰسین مظہرصدیقی کی یاد میں

ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

یادش بخیر، کوئی پچیس سال ہوتے ہیں راقم جامعۃ الفلاح بلریاگنج اعظم گڑھ میں فضیلت کا طالب علم تھا۔جامعہ کے ادارہ علمیہ نے ایک علمی مذاکرہ ”مدارس اسلامیہ کے نصاب میں اصلاح “جیسے کسی موضوع پرکیاتھا۔پہلے سیشن میں مولاناسلطان احمداصلاحی نے اپنے مقالہ میں دارالعلوم دیوبند،ندوة العلماء،مدرسۃ الاصلاح ،جامعۃ الفلاح اورعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سب پر تیزوتندمگرمدلل تنقیدکرڈالی ۔مقالہ ختم ہوتے ہی ایک اورفاضل کھڑے ہوئے اور فاضل مقالہ نگارکی تنقیدوں پر اعتراضات کی دندان شکن بوچھارکردی۔یہ دوسرے فاضل تھے ہمارے ممدوح پروفیسریاسین مظہرصدیقی جواس وقت غالباً علی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں اسلامک اسٹڈیز کے چیئرمین تھے۔ یہ پہلی بارتھاجب ان کودیکھااورسنا۔

زمانہ کے گرم وسردسے گزرتے ہوئے چندسال بعدراقم لکھنوکے ایک مجوزہ علمی وفکری ادارہ (مرکز اعداد الدعاة) سے وابستہ ہوا،جس کے داعی ومحرک تھے راقم کے مربی ومحسن مولانا ظہیراحمدصدیقی ندوی (حال چیئرمین فاونڈیشن فارسوشل کیئر لکھنو)۔اسی مرکزکے مجوزہ تعلیمی وتربیتی خاکہ کولے کر  علی گڑھ میں واردہوا۔طلبائی تحریک سے وابستگی کے دوران مختلف حیثیات میں علی گڑھ کئی بارآناجاناہواتھالیکن ان میں زیادہ ترمصروفیت طلبہ سے ملاقاتوں اور ان کے پروگراموں میں شرکت تک محدودرہی ۔اب کے علی گڑھ کے ممتاز اسکالروں اور دانشوروں سے رابطہ واستفادہ اورتبادلہ خیالات پیش نظرتھا۔چنانچہ اپنے کرم فرما ڈاکٹر محمدذکی کرمانی کے دفتر(واقع احمدنگر) (۱)میں قریبا ۵  دن قیام رہا۔اوراِس دوران مختلف علمی ہستیوں اور شخصیات سے ملاقاتیں ہوئیں جن میں پروفیسرظفرالاسلام اصلاحی ، پروفیسر اشتیاق احمدظلی(حال ناظم دارالمصنفین اعظم گڑھ ) ،پروفیسرعبدالعظیم اصلاحی، مولانا سیدجلال الدین عمری، مولانارضی الاسلام ندوی، مولاناسلطان احمداصلاحی (مرحوم) اور پروفیسریٰسین مظہرصدیقی وغیرہم بھی شامل تھے۔ راقم کے ترتیب دیے ہوئے مجوزہ تربیتی خاکہ کوانہوں نے دیکھا مگر اس پر کوئی نقد یا اضافہ نہیں کیا بلکہ علی گڑھ میں کسی نے بھی نہیں کیانہ اس کوبہت سنجیدگی سے لیا۔اندازہ ہواکہ علی گڑھ کے صاحبان علم سے استفادہ کی شکل سیمینار ہوسکتاہے ۔ یہ حضرات سیمیناروں کے مشاق ہیں اورروٹین ورک کے پابند و خوگر۔Out of the box یا ٹریک سے ہٹ کرکام کرناپسندنہیں کرتے۔البتہ علی گڑھ ہی کے ایک نامورفرزندپروفیسرنجات اللہ صدیقی ( ۲)کی طرف سے ہمارے اس مجوزہ منصوبہ پر سب سے موثر،جچاتلاتنقیدی تبصرہ آیا۔جس سے اندازہ ہواکہ اپنے میدان اختصاص کے ساتھ ہی عالمی فکراسلامی میں موجودہ رجحانات کیاچل رہے ہیں، اُس سے محترم نجات اللہ صاحب کی براہ راست اورگہری واقفیت قابل رشک ہے ۔بہرکیف یہ پروفیسرصدیقی سے راقم کادوسراسابقہ تھا۔

مختصر سوانحی کوائف

یاسین مظہرصدیقی یوپی کے ضلع لکھیم پوری کھیری کے ایک گاوں میں  پیداہوئے ۔آپ کے والدکا نام مولوی انعام علی تھاجن کا ذکرخیربڑے بلندالفاظ میں ہمیشہ کرتے تھے اوران کوباباجان کے نام سے یادکرتے۔ابتدائی تعلیم گاوں کے مدرسہ حیات العلوم سے حاصل کرکے دارالعلوم ندوةالعلما سے عا لمیت کی ۔ لکھنو یونیورسٹی سے فاضل کا کورس کیا۔پھرجامعہ ملیہ اسلامیہ سے ہائی اسکول،انٹراوربی اے کیا۔ماسٹرزاورپی ایچ ڈی کے لیے علی گڑھ کا رخ کیا۔ پھریہیں کے ہورہے اورجہان سرسیدکوہی اپناوطن ثانی بنالیا۔علی گڑھ میں شعبہ تاریخ میں ایم کیااوراسی شعبہ سے پی ایچ ڈی بھی کی۔( ۳) تاہم ندوہ میں زمانہ طالب علمی سے ہی اسلامیات ہی آپ کی جولان گاہ بن گئی تھی۔اس میں بھی خاص کرسیرت نبوی کے مختلف گوشوں پر بحث اورمتنوع جہات کومنورکرنے کی توفیق حاصل ہوئی ۔ بیسویں صدی اسلامی روایتی علوم کی نشاة ثانیہ کی صدی ہے۔اس میں حدیث،تفسیر،فقہ وسیرت پر گراں قدرکام انجام دیے گئے۔فن سیرت میں پروفیسرصدیقی نے خاص شہرت حاصل کی اوران کا شمارصف اول کے سیرت کے عالموں میں کیا جاتاہے۔ہندوستان کویہ شرف حاصل ہے کہ شبلی و سلیمان کے بعدڈاکٹرمحمدحمیداللہ اورپروفیسریٰسین مظہرصدیقی جیسے محققین سیرت کا تعلق اسی سے رہاہے۔

 ڈاکٹریٰسین مظہرصدیقی کی علمی خدمات میں سب سے ابھراہوااورنمایاں پہلوان کا سیرتی لٹریچرکا گہرامطالعہ ہے۔اسی مطالعہ سے انہوں نے’ رسول اکرم کی رضاعی مائیں‘،’معاش نبوی ،’مکی اسوہ نبوی اورمسلم اقلیتیں‘، ’خواتین عہدرسالت میں ۔ایک سماجی مطالعہ‘ اور”عہدنبوی کا نظام حکومت “وغیرہ جیسے علمی تحفے دنیائے تحقیق کو دیے۔وحی حدیث ،”سنتوںکا تنوع “اورمختلف علمی موضوعات پر مقالات ان کے علاوہ ہیں۔قدیم سیرت نگاروں ابن سعد،ابن اسحاق ابن ہشام ،واقدی ،ابن سیدالناس ،حلبی ،قاضی عیاض،طبری ،ابن کثیر اوراردومیں سیرت النبی شبلی وسلیمان وغیرہ کے متون کا تحقیقی مطالعہ ،ان کا محاکمہ اوران کے بارے میں تجزیاتی رائیں دینایہ ان کا خاص موضوع تھاجس پر ان کی تحقیقی کتاب” مصادرسیرت نبوی “شائع کردہ انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹواسٹڈیز نئی دہلی شاہدعدل ہے۔(۴)

مکی اسوہ نبوی اور مسلم اقلیتیں:

پروفیسریاسین مظہر صدیقی عہدجدیدمیں سیرت کے ایک بڑے اسکالرہیں ،آپ کی تحریروں میں نہ صرف بھرپورمعلومات اورتحقیق ہوتی ہے بلکہ گہرا تجزیہ بھی پایاجاتاہے ۔مکی اسوہ نبوی اورمسلم اقلیتیں دراصل موجودہ دور کی مسلم اقلیتوں کے لیے جوکل عالمی مسلم آبادی کا 40 فیصدہیں،ان کے لیے رول ماڈل اورعملی نمونہ عمل کی وضاحت ہے۔اس لیے موجودہ دورکے لیے بڑی معنویت رکھتی ہے ۔اوراسی اہمیت کے پیش نظراس کا انگریزی ترجمہ بھی شائع ہو گیاہے ۔(۵)یہ کتاب مکی زندگی کے متعلق بہت سی نئی باتیں جوبہت کم معلوم ہیں ،سامنے لاتی ہے ۔اس کتاب کے مطابق مکہ میں نبی ﷺ نے غیرمسلموں سے وہ تمام تعلقات رکھے جو کسی بھی انسانی سماج میں معمول بہ ہیں۔ آپ ﷺ نے سیاسی قبائلی نظام میں شرکت کی آپ نے قبائلی نظام تحفظ سے استفادہ کیا ۔ آپ نے غیرمسلموں کی دعوت طعام میں شرکت کی ۔ خود آپ نے ان کو دعوت دی۔ مکہ میں بعض مسلمانوں کے غیرمسلموں سے شخصی مفادات کے تحفظ کے معاہدہ کا ذکربھی ملتاہے۔(۶)

صدیقی صاحب کے مطابق مکہ میں بعض صحابہ کرام مکہ میں خدمت خلق بھی کرتے تھے چنانچہ حضرت نعیم بن عبداللہ النحام عدوی اس میں ممتاز تھے اورجب انہوں نے ہجرت کا ارادہ کیاتو اہل مکہ نے ان سے کہاکہ وہ جس دین پر رہنا  چاہیں، رہیں مگرمکہ کو نہ چھوڑیں۔حضرت عمرؓ نے اسلام قبول کیاتومشرکین مکہ ان پر پل پڑے جن سے ایک مکی سردار عاص بن وائل سہمی نے آکربچایا ۔آپ نے سیرت کی قدیم کتابوں کے حوالہ سے مزیدلکھاکہ مکی زندگی میں آپ ﷺ نے غیرمسلموں کا جِوار بھی حاصل کیا۔(۷)آپ ﷺ نے غیرمسلموں کو ہدایابھی دیے اورایسی بھی متعدد  مثالیں موجود ہیں کہ غیرمسلموں نے آپ ﷺ کی اورصحابہ ؓ کی مختلف انداز سے امداد کی۔ مثلاابوطالب اوربنی ہاشم کی نبی ﷺ کی حمایت اوراس راستہ میں تمام مشکلات کو برداست کرنا سیرت کا ایک معروف واقعہ ہے۔ابوسفیان نے رسول اللہ کی صاحبزادی حضرت زینب کو ہجرت میں مدد دی۔حضرت ام سلمہؓ کو عثمان بن طلحہ عبدری نے مدینہ پہنچایا ۔ حضرت ام سلمہ ان کے اس احسان کو ہمیشہ یاد رکھتیں اوران کی شرافت ،حلم وکرم کی تعریف فرماتیں۔   

اسی طرح آپ نے بتایاکہ سیرت کی کتابوں میں یہ ملتاہے کہ ۹ نبوی میں طائف سے واپسی کے بعدآپ ﷺ نے تقریبا 16قبائل سے ملاقاتیں کرکے ان کے سامنے اسلام پیش کرنے اوراسے قبول کرنے کی دعوت کے علاوہ یہ  بھی پیش کش کی کہ وہ آپ ﷺ کو اپنے علاقوں میں لے جائیں۔آپ کی حفاظت وحمایت کامعاہدہ اوروعدہ کریں تاکہ آپ دین کی دعوت تمام لوگوں تک پہنچادیں ان تمام قبائل نے آپ کی بات سنی ،بعض نے عذرپیش کیا،بعض نے سرد مہری برتی اوربعض نے سودے بازی کی کوشش کی ۔حدیبیہ کے موقع پر احابیش اوران کے سردارنے رسول اکرم کے سفیرحضرت خراش بن امیہ خزاعی کو قتل کرنے کے ارادہ سے قریش کو بازرکھاتھا ۔ حکیم بن امیہ سلمی نے اپنی قوم کو رسول اکرم کی عداوت سے بازرکھنے کی کوشش کی اوراس کے لیے شعرسے بھی کام لیا ۔غرض اس کتاب کا مواد ہندوستان اورامریکہ وغیرہ جیسے ممالک کے مسلمانوں کے لیے مشعل راہ ہے۔اسی وجہ سے ہم نے اس کے تذکرہ میں  درازنفسی سے کام لیاہے۔

عہد نبوی کا نظام حکومت:

یہ پروفیسرصدیقی کی بہت اہم کتاب ہے اورغالباً ان کی ابتدائی تصنیفات میں سے ہے۔اورپہلے انگریزی میں شائع ہوئی پھرارددمیں منظرعام پر آئی ۔اِس میںمصنف نے بہت تفصیل سے بتایاہے کہ عہدنبوی میں کیسانظام اجتماعی قائم کیا گیاتھا،تعلیم کا نظم کیاتھا،سوق یامارکیٹ کوکس طرح چلایاجاتاتھااس کے افسران بکارخاص کون صحابہ تھے۔ سفراءصحابہ کون تھے۔مزیدبرآں میثاق مدینہ کا تفصیل سے تجزیہ کیاہے۔اس کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے اطراف میں آبادکفار،اعراب اوریہودسے کیاکیامعاہدے کیے تھے۔آپ کے غزوات وسرایاکے مقاصدکیاتھے ،زکوة اورمالیات کا نظم کیسے چلایاجاتاتھا۔آپ کے نظام مشاورت میں کون کون صحابی تھے اورعمال نبوی کون کون وغیرہ ۔

پروفیسرصدیقی بہت جزرسی کے ساتھ چیزوں کودیکھتے ہیں اورسیرت کی معروف کتابوںسیر ت ابن اسحاق ،ابن ہشام، سیرت حلبی ،ابن سیدالناس نیزبلاذری ،اصابہ ،الاستیعاب لابن عبدالبرکے علاوہ ، ڈاکٹرمحمدحمیداللہ ،سیرت النبی شبلی وسلیمان وغیرہ سے بھرپوراستفادہ کرتے ہیں۔جہاں سیرت نگاروں کے بیانات میں اختلاف وتضادنظرآتاہے وہاں محاکمہ کرتے ہیں۔ساتھ ہی ساتھ کتب حدیث سے بھی مدد لیتے ہیں اورروایت ودرایت کی روشنی میں مختلف واقعات کی گتھی سلجھانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ بسااوقات وہ کتب حدیث کے بیان پر اہل سیرکے بیانات کوترجیج دیتے ہیں اورکبھی اس کا عکس بھی ہوتاہے۔اس کے علاوہ اپنی رائے بھی دیتے ہیں۔ مختلف اسلامی مصنفین سے جہاں ان کواختلاف ہوتاہے اسے بیان کرتے ہیں اوراس کی وجوہ ترجیح بھی بتاتے ہیں۔

یہ کتاب بھی پہلے انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹواسٹڈیز نئی دہلی سے شائع ہوئی ۔کتاب کے صرف حواشی وحوالجات ہی تقریبا تین سوصفحات میں آئے ہیں(۸)اسی کتاب کے تسلسل میں انہوں نے ”تاریخ تہذیب اسلامی “لکھی جس کی پہلی جلدمیں عہدنبوی اورعہدخلافت راشدہ کوکوَرکیاہے اوردوسری جلدمیں خلافت عبداللہ بن زبیرسے لے کرخلافت بنوامیہ وغیرہ کولیاہے۔

ڈاکٹرصدیقی کا ایک اورکارنامہ جس کا ان کے نام لیوااوروابستگان وشاگردان بھی کوئی تذکرہ نہیں کرتے، وہ بعض مطعون حضرات صحابہ کرام اورخلافت بنی امیہ کا دفاع ہے۔چنانچہ وہ سیدنامعاویہ بن سفیان،خودحضرت ابوسفیانؓ، حضرت عمروبن العاصؓ حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓکا نیزخلافت بنوامیہ کا عمومی دفاع کرتے ہیں اور اس کے سلسلہ میں مورخین اورخاص کراردوکے مورخین کی بدگمانیوںاورغلط پروپیگنڈوںکا جواب دیتے ہیں۔اس ضمن میں ان کی کتاب خلافت امیہ۔ خلافت راشدہ کے پس منظرمیں( شائع کردہ الفہیم )آتی ہے۔یہ کتاب اثباتی ہے ۔اس خلافت کے ابتدائی دور(خلافت معاویہ ویزید)کے جوازوصحت پر صاحب کتاب کی سب سے بڑی دلیل یہ تھی کہ ان حضرات کی سائڈمیں صحابہ کرام کی خاصی بڑی جمعیت تھی جن میں بعض اکابرصحابہ بھی ہیں۔اِن صحابہ کرام نے اس خلافت میں مختلف مناصب قبول کیے ،وہ اس میں عامل وامیررہے اورمختلف ذمہ داریوں پر فائزان کی تعدادتقریباً250ہوجاتی ہے۔

مصنف نے ان تمام صحابہ کے نام،مختصرحالات اوران کے عہدے ومناصب وغیرہ سب اس کتاب میں جمع کر دیے ہیں۔استدلال یہ ہے کہ اگریہ خلافت صحیح اورجائزنہ ہوتی تواتنی بڑی تعدادمیں صحابہ کرام اِس کی بعض ناہمواریوں اوربے اعتدالیوں کے باوجوداس کی حمایت وخدمت نہ کرتے۔بظاہر معقول اوردرست استدلال ہے لیکن کچھ زیادہ مضبوط نہیں۔کیونکہ فریق مخالف اس کی بآسانی توجیہ کرلیتاہے کہ یہ صحابہ کرام اورتابعین سیدناحسینؓ کے اقدام کی ناکامی کے بعدیہ سمجھ چکے تھے کہ خلافت امیہ اب ایک ناگزیربرائی بن چکی ہے اِس کوسردست مستردنہیں کیا جاسکتا، اس لیے اس کے ساتھ تعاون کیاجاناچاہیے ۔زیادہ اہم پہلویہ ہے کہ مورخین ہی نہیں حدیث کے ذخیرہ میں بھی ایسی خاص روایتیں موجودہیں جوسیدنامعاویہ ،سیدنامروان اوریزیدسب کومجروح کرتی ہیں اوران میں سے بعض تو صحیحین  میں بھی ہیں۔ضرورت تھی کہ اِن روایات کی ایک ایک کرکے تحقیق کی جاتی ۔

اِس کی ابتداجناب محموداحمدعباسی نے کی تھی اوراس کے بعداوربہت سے لوگوں نے ا س پر کام کیاہے۔میرے والدمرحوم علامہ شبیراحمدازہرمیرٹھی نے اپنی کتاب ”شہادت عثمان کا تاریخی پس منظر“میں اوردوسری کتابوں میں اس قسم کی بعض روایات پر تحقیقی کلام کیاہے۔( ۹)اصل بات یہ ہے کہ فن حدیث پر عبور،رواة وائمہ حدیث اور کتب حدیث پر تحقیقی نظراس کے لیے ضروری ہے اوریہ بہت ہی زیادہ وقت طلب،پتہ ماری ،ممارست اورمزاولت کا کام ہے ۔ واقعہ یہ ہے کہ علم حدیث میں جن اکابروبزرگوںکا پایہ وسیع ہے اتناہی مشاجرات صحابہ کے بارے میں ان کا رویہ تحقیقی ،علمی اوراعتدال پرمبنی اورخوش عقیدگی سے مبراہوتاہے،اِس سے بعض مستثنیات ہوسکتے ہیں۔اِس پہلو سے پروفیسرصدیقی زیادہ مضبوط دکھائی نہیں دیتے۔لیکن اس کتاب سے اصل خدمت یہ ہوئی کہ سینکڑوں صحابہ کرام کے تحقیقی حالات مختصراً اردومیں آگئے۔

ڈاکٹریٰسین مظہرصدیقی کا تیسراکارنامہ'' رسول اکرم اور خواتین ۔ایک سماجی مطالعہ" ہے۔ان کے سیرتی کاموں میں  ہی اس کا بھی شمارہوناچاہیے مگراِس کا عام طورپر تذکرہ نہیں آتااوراگرآتابھی ہے توبہت کم ۔کیوں کہ یہ کتاب اپنے مشمولات سے خواتین کے بارے میں ہمارے مذہبی ذہن کے سراسرخلاف جاتی ہے اس لیے اس کا نام بہت کم لوگ لینے کی جرات کرتے ہیں۔

اصل میں برصغیرمیں خواتین کے تعلق سے مذہبی حلقہ میں خاص طورپر حدسے بڑھی ہوئی اورمبالغہ کی حدتک حساسیت پائی جاتی ہے جس کا ردعمل اب خواتین کی طرف سے بے محاباہورہاہے۔بعض مذہبی حلقوں کا کہناہے کہ عورت کا معنی ہی (چھپانے کی چیز(عورة) ہوتاہے)لہذااس کومکمل طورپر پنجرہ میں بندکرکے ہی اِ س مذہبی حساسیت کی تسکین ہوپاتی ہے۔دل چسپ یہ ہے کہ قرآن کریم عورت کے لیے عورة نہیں بلکہ نساءیاامراة کے الفاظ استعمال کرتا ہے۔کبھی کبھی تواس موضوع پر اس قسم کے لوگوںکی تحریروں سے گمان ہوتاہے کہ گویااللہ ورسول کواس بارے میں حکم دیتے ہوئے اِن حضرات سے مشورہ لیناچاہیے تھا۔قرآن کے احکام ستروحجاب کی تفصیل میں لکھنے والوں اور خاص کرمفتیان کرام نے اپنی طرف سے بہت کچھ اضافے کرڈالے ہیں جواصل میں برصغیر کی تہذیبی رسوم ورواج کا شاخسانہ ہیں اورمعاشرہ میں اِن تعبیروں کی ہیبت ایسی ہے کہ اِنہیں کواصل سمجھا جاتا ہے ۔ اوراس پر کوئی نئی تحقیق پیش کرنے والوں پر فوراً مغربیت کے دلدادہ ہونے کا لیبل لگادیاجاتاہے۔

اس مسئلہ میں راسخ العقیدہ حلقہ میں عصرحاضرکے معروف محدث علامہ ناصرالدین البانی نے نئی تحقیق پیش کی۔( ۱٠ )اس کے بعدالاخوان المسلمون کے شیخ محمدالغزالی اورشیخ عبدالحلیم ابوشقہ نے ۔برصغیرمیں مولانامودودی رحمہ اللہ نے حقوق الزوجین میں عورتوں کے جائزحقوق کی بات کی لیکن ”پردہ“ میں آکرانہوں نے اس کوایک حدتک رِورس کردیا۔یسین مظہرصدیقی حالانکہ فقہی طورپر خاصے متصلب حنفی تھے مگراس معاملہ میں انہوں نے بھی روایتی تصورات کو توڑ دیا ہے۔

”سماجی مطالعہ“ میں انہوں نے ثابت کیاکہ رسول اللہ ﷺ اورصحابہ وصحابیات کے مابین مکمل نارمل سماجی میل ملاپ پایاجاتاتھا۔آپ ا ن کے گھروںمیں نارملی آتے جاتے تھے۔اسی طر ح صحابیوں اورصحابیات کا باہمی نارمل تعامل تھا۔ چہرہ کا کوئی پردہ نہیں تھا، ہاں اسلامی آداب کا پوراخیال رکھاجاتاتھا۔مگرایسی کوئی حساسیت نہ تھی جوموجودہ مذہبی لٹریچرمیں ظاہرکی جاتی ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم اورصحابیات کے مابین یہ نارمل انسانی تعامل پردہ کے احکام سے پہلے بھی تھااور ان کے نزول کے بعدبھی جاری رہا یعنی مکی اورمدنی دونوں ادوارحیا ت میں۔صدیقی صاحب نے احادیث اور واقعات کاتجزیاتی وسماجیاتی مطالعہ پیش کرکے اپنی رائے کومبرہن وموکدکیاہے۔راقم کے علم کی حدتک ان کے استنباطات واستنتاجات سے کوئی علمی اختلاف ابھی تک سامنے نہیں آیاہے۔البتہ ان کی کتاب پر ترجمان القرآن میں تبصرہ کرتے ہوئے پروفیسرانیس احمدنے جوسوالات اٹھائے، وہ زیادہ تراصل بحث سے تعلق ہی نہیں رکھتے۔ ان کا تعلق اصلاسدذریعہ سے ہے۔مولانامودودی اورشیخ ناصرالدین البانی کے مابین حجاب کے مسئلہ پر مراسلت میں بھی مولاناکی دلیل یہی سدذریعہ کا اصول تھا۔

پروفیسریاسین مظہرصدیقی کی نگارشات سیرت کوخصوصی طورپر پاکستان میں بڑی پذیرائی ملی۔شروع میں مشہور زمانہ رسالہ’ نقوش‘ میں انہوں نے سیرت پربہت لکھا۔ان کونقوش ایوارڈ بھی ملا۔نقوش کے بانی مدیرجناب محمد طفیل مرحوم سے ان کے بڑے محبت بھرے تعلقات قائم رہے ۔اس کے بعدان کے پاکستان کے مسلسل اسفار ہوتے رہے کیونکہ ان کی ہمشیرہ بھی وہیں رہتی ہیں۔سیرت سے متعلق ان کی کئی کتابیں پاکستان سے چھپیں۔اس کے علاوہ وہاں کے سیمیناروں اور مذاکروں میں وہ باربارمدعوکیے جاتے علمی اداروں میں  ان کے خطبات اور تقریریں ہوتیں۔ایک سفرمیں راقم کوبھی ان کی رفاقت کی سعادت ملی اوروہاں ان کی محبوبیت ومقبولیت کا خوب خوب مشاہدہ ہوا۔ یہ سفر 26 تا28 مارچ 2011 کوانٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی اسلام آبادکی سیرت کانفرنس میں شرکت کے لیے ہواتھا۔

فکر و اسلوب بیان:

فکری طورپر یاسین مظہرصاحب دبستان شبلی کے خوشہ چیں ہیں اورندوة العلماءکے منہج اعتدال سے وابستہ، مسلکی تشددسے دورونفورتاہم وہ تصوف اوراہل تصوف کے بڑے قائل معلوم ہوتے ہیں اور نورمحمدی جیسے مضامین میں شاہ ولی اللہ دہلویؓ کے رجحان تصوف کی طرف ان کا میلان خاصامعلوم ہوتاہے۔وہ اس قسم کے روحانی وباطنی امور کے لیے شاہ ولی اللہ کا ہی حوالہ دیتے ہیں۔(۱۱)گرچہ کئی جگہوں پر اختلاف بھی کرتے نظرآتے ہیں۔تاہم معاصر علما ومفکرین کا ان کا مطالعہ بہت محدودہے۔یہی وجہ ہے کہ مولاناوحیدالدین خان اورجناب جاویداحمدغامدی پر ان کا اندازِتنقیدبہت تنداورجارحانہ ہےاوربتاتاہے کہ دونوں حضرات کی فکروتحریروں سے وہ براہ راست واقف نہیں، بس سنی سنائی باتوں پر تنقیدکرڈالتے ہیں۔(۱۲)

صدیقی صاحب کی علمی نگارشات کا اسلوب بڑاخشک اوربوجھل ہے۔وہ اپنے جملوںمیں اضافت کا بے محابا استعمال کرتے تھے اوراتنی کثرت سے کرتے تھے کہ بعض مرتبہ عبارت سقیم اوربھونڈی ہوجاتی ہے۔ان کی نگارشات پڑھی جاتی ہیں نئے مضامین ،جدت طرازی ،اورنئی اوراچھوتی تحقیقات کے لیے لیکن اسلوب بیان راقم کی نگاہ میں دبستان شبلی سے یکسرہٹاہوابلکہ عام ندویوں کی تحریروں سے بھی الگ اوردشوارہے۔البتہ شخصیات واساتذہ پر جو خاکے اورتاثراتی مقالے انہوں نے لکھے ہیں، وہ زبان وبیان کی غلطیوں کے باوجودلطیف طنزومزاح سے بھرپور اور بڑی حیویت ونشاط رکھتے ہیں۔

پروفیسریاسین مظہرصاحب کی ایک خاص بات یہ تھی کہ وہ اپنے اساتذہ کوہمیشہ یادرکھتے اوران کے لیے دعائیں کرتے تھے۔ان کے ملفوظات ،اقوال اوران کے لطائف کا بڑاذخیرہ ان کویادتھااوراپنی مجلسوں میں ان کوتازہ کرتے رہتے تھے ۔یہ مقالات زیادہ ترت اثراتی ہیں اوران میں انہوں نے مزے لے لے کرمزاحیہ انداز میں اپنے استادوں کو یادکیاہے۔ان کا بہترین خاکہ اورتاثراتی مضمون مولانامحمداسحق صدیقی سندیلوی ندوی پرہے۔مولانااسحاق صدیقی ندوی دارالعلوم ندوةالعلماءکے بڑے اساتذہ میں سے یعنی نائب مہتمم وشیخ الحدیث تھے ،اورصدراول کی تاریخ پر بڑی محققانہ نظررکھتے تھے۔اورروایات وآثارکی چھان پھٹک کے بعدوہ سیدناامیرمعاویہ رضی اللہ عنہ اوردیگراموی حضرات کے بارے میں عام روایت سے ہٹ کرسوچتے تھے اورمنصفانہ نقطہ نظرکے وکیل بن گئے۔جبکہ مسلمان مورخین بطورخاص اردوکے بنوامیہ سے ایک خاص پرخاش رکھتے ہیں اورمولاناابوالحسن علی ندوی کا بھی اس معاملہ میں استثناءنہ تھا۔ ندوہ میں انہیں کا سکہ چل رہاہے، اس لیے جواساتذہ یاطلبہ بنوامیہ پرقدح کرنے والی کسی روایت پر سوال کھڑاکرتے وہ زیرعتاب آجاتے ۔ مولانااسحاق صدیقی ندوی اسی فکری چشمک کا شکارہوئے اوران کوندوہ سے جانا پڑا۔ان پراپنے تاثراتی مضمون میں مولانایاسین مظہرصدیقی نے اس داستان کولطیف پیرایہ میں بیان کیاہے ۔ مولانا اسحاق صاحب کی اس سلسلہ میں کتاب اظہارحقیقت بہت معروف ہے جومولانامودودیؓ کی خلافت وملوکیت کے تعاقب میں لکھی گئی تھی ۔ (۱۳)

بلاشبہ مولاناسیدابوالحسن علی ندوی المعروف علی میاںندوی فی زمانہ ندوة کے گل سرسبدہیں۔وہ مولانایاسین مظہر کے بھی استادتھے۔چنانچہ ان کی وفات پر یاسین صاحب نے تاثراتی مقالہ لکھااوربلندالفاظ میں ان کوخراج عقیدت پیش کیااوربعض مواقف پر اپنے اختلاف کا بھی تذکرہ کیابلکہ ایک جگہ تو ان کوتاریخ میں شیعیت سے متاثر تک قرار دے ڈالا۔(۱۴)مولاناعبدالسلام قدوائی ندوی کوبھی انہوںنے یادکیاہے۔ یہ جامعہ ملیہ میں یسین مظہر صاحب کے استادوسرپرست رہے،ان پربھی ایک جاندارمقالہ تحریرکیاہے۔مولاناقدوائی ندوی اپنے دروس قرآن اورقرآنی عربی کی تدریس کے لیے مشہورتھے ۔ان کوندوہ العلماءکا معتمدتعلیمات مقرر کیا گیاتھا۔اس مضمون سے معلوم ہوتاہے کہ ندوہ کے نصاب کواپ ٹوڈیٹ کرناچاہتے تھے مگرمولاناعلی میاں(ناظم ندوہ)نے ان کو ایسا نہیں کرنے دیا۔عربی زبان کوایک زندہ زبان کی حیثیت سے پڑھانے کے لیے اوراس لحاظ سے ندوہ کے نصاب ونظام میں تبدیلیاں لانے کا کریڈٹ تومولاناعلی میاں کویقیناجاتاہے ،مگرصرف عربی ادب کی حدتک ۔افسو س کہ ندوة میں جمع  بین القدیم والجدیدکا نعرہ بس ایک نعرہ ہی بن کررہ گیااوراب تووہ دیوبندکا ایک ضمیمہ معلوم ہوتاہے ۔(۱۵)

پروفیسرخلیق احمدنظامی علی گڑھ میں شعبہ تاریخ کے استاداورصدرشعبہ تھے اورنام وراسکالرتھے جن کی نظر مشائخ چشت پر بڑی وسیع تھی۔اب ان کی یادمیں یونیورسٹی میں ایک قرآن سینٹربھی کام کررہاہے۔پروفیسرصدیقی نے اپنے نامور استاد نظامی صاحب کے اوپرایک بڑامفصل اورجاندارمقالہ لکھاہے۔اوران کی خوبیوں وخامیوں کا تذکرہ کیاہے۔ نیز یونیورسٹی ملازمت اورشعبہ کی نظامت اوراس کی باریکیوں،شعبہ جاتی سیاست اورنزاکتوں پر گہری نظر ڈالی ہے۔ حالانکہ نظامی صاحب نے ۱۴ سال تک ان کولیکچرربننے نہیں دیااورجب بن گئے توپروموشن نہیں دیا۔اس کے باوجودانہوں نے استادکے احسانات کا تذکرہ ممنونیت کے جذبات کے ساتھ کیا۔(۱۶)

صاحب مصباح اللغات مولاناعبدالحفیظ بلیاوی پر جوندوہ میں ان کے استاد رہے،  ایک بڑا لطیف اورمزاحیہ مضمون لکھاہے ۔مولاناعبدالحفیظ بلیاوی قاسمی تھے اورحنفی المسلک مگرمتوسع ومعتدل مزاح حنفی ۔بعض متشددحنفی ائمہ مساجدفجرمیں اسفار میں جو مبالغہ کرتے ہیں،  اُس پر پروفیسرصدیقی نے ان کا یہ لطیفہ نقل کیاہے کہ ”حنفی امام جب السلام علیکم کہہ کر دائیں جانب سلام پھیرتاہے توحضرت آفتاب علیہ السلام دوسری طرف سے وعلیکم السلام کہتے ہوئے طلوع ہوجاتے ہیں“۔واقعہ یہ ہے کہ مولانابلیاوی پر صدیقی کا یہ مضمون اس بلاکا پُرلطف اورمزاحیہ ہے کہ اس کوپڑھتے ہوئے ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوئے بغیر نہیں رہا جاسکتا۔(یہ مقالہ صدیقی صاحب کی وفات سے چندماہ پیشتر شائع ہوا) (۱۷)اسی طرح انہوں نے پروفیسروحیدقریشی کوبھی یادکیاجوکہ ان کے شعبہ تاریخ میں استادرہے تھے ۔ وہ وضع داراورخاندانی رئیس تھے اوراپنی خودداری ووضع داری میں کوئی حرف نہ آنے دیتے تھے۔ ان پر جومضمون لکھاہے، وہ غالباً ان کی آخری تحریرہے کہ وہ صدیقی صاحب کی وفات کے بعدشائع ہواہے اورایک استادکوشاگردکا بہترین خراج عقیدت ہے۔(۱۸)

پروفیسرصدیقی بڑے مجلسی ،یارباش اورحاضرجواب تھے۔وہ بقول خودابن صفی اورمشتاق احمدیوسفی وغیرہ کو پڑھنے کے رسیاتھے حالانکہ اس کا اثران کی اپنی زبان پر بہت زیادہ نہیں پڑاکیونکہ ان کی نثربڑی ثقیل ہے اوراس میں روانی کی بہت کمی ہے۔مجلس کومختلف شخصیات ،اپنے استادوں ، شاگردوں،مختلف سیمناروں کی رودادوںوغیرہ کے تذکرے کرتے رہتے اورطرح طرح کے لطائف کے ذریعہ زعفران زاربنائے رہتے ۔ ان کی مجلس میں بیٹھ کریہ یقین نہیں آتاتھاکہ یہی شخص بڑے خشک موضوعات پر دادتحقیق دیتااورحوالوں کے ڈھیرلگاتاہے۔

بڑے خوردنواز تھے۔ راقم کی جب بھی ان سے ملاقات ہوئی وہ خوب سوال وجواب کرتااورکبھی ان کی جبین پر شکن نہ دیکھی گئی بلکہ پوری بشاشت وتوجہ سے سنتے اوربے تکلفی سے گفتگوکرتے ۔میں دہلی میں رہتاتھا۔ایک بارعلی گڑھ آیاتوان کوفون کیاکہ آپ کی زیارت کرنی چاہتاہوں۔ ہنس کربولے فوراً آئیے، میں بھی آپ کی زیارت کا مشتاق ہوں۔ میں پہنچا تو گھنٹوں بیٹھ کر باتیں کرتے رہے اوراپنی ذاتی لائبریری اوراپنی مطبوعات دکھائیں۔رخصت ہونے لگا تو پوچھا، ابھی علی گڑھ میں قیام ہے؟ اگر ہاں توکل میرے ہاں آپ کی دعوت ۔میں دوسرے دن پہنچاتوپُرتکلف دسترخوان سجایا ہوا تھا۔کہنے لگے کہ میں نے اپنے ہاتھ سے بنایاہے۔اس طرح کی یادیں بہت ہیں اوران سے ان کی باغ وبہارشخصیت کا پتہ چلتاہے۔پروفیسرصدیقی مرحوم کے تحقیقی مقالات زیادہ ترمعارف اعظم گڑھ کی زینت بنتے تھے یاتحقیقات اسلامی علی گڑھ کی ۔ ان کی وفات کے بعدمعارف نے اچھاخراج تحسین پیش کیاتحقیقات اسلامی سے بھی یہی امیدکی جاتی ہے۔

یہ کہنابے جانہ ہوگاکہ علی گڑھ میں مسلم لیگیت کے زیراثرابوالکلام آزادشکنی کی ایک روایت رہی ہے۔شعبہ انگریزی کے مقبول ومعروف استادومحقق پروفیسراسلوب احمدانصاری کوآزادسے ایک چڑ تھی اوروہ ان کواپنی تقریروں اور تحریروں میں مولوی ابوالکلام آزادلکھ کراپنے دل کی بھڑاس نکالتے اوران کی تفسیرکوسرسیدکی تفسیرکا چربہ قراردیتے۔علی گڑھ کے اردوادب میں گل سرسبدمختارمسعوداورمشہورمزاح نگارمشتاق احمدیوسفی بھی آزادشکنی اور ان کی ہجوگوئی میں کسی سے پیچھے نہ تھے۔افسوس کہ پروفیسریسین مظہرصدیقی بھی اسی رومیں بہ گئے ۔چنانچہ پاکستان کی ایک مجلس میں وہ آزادکوشراب نوش کہہ گئے (جوبالکل غلط روایت ہے)۔ اسی طرح ایک مضمون ”ابو الکلام آزادمیزان یوسفی میں “لکھاہے ۔(۱۹)بھلا کہاں اردوکا ایک مزاح نگاراورکہاں علوم قدیم وجدیدکا جامع ابوالکلام آزاد!اسی طرح علی گڑھ کے ایک معاصراسلامی مفکراورصاحب طرزادیب کے بارے میں صدیقی مرحوم نے خودراقم خاکسارسے ناگفتنی تبصرہ کیاجونہ صرف بودا تھا بلکہ بالکل غلط تھا۔مولاناسلطان احمداصلاحی مرحوم کے بارے میں بھی انہوں نے راقم سے خاصے منفی تاثرکا اظہارکیاتھاصرف اس وجہ سے کہ مولانامرحوم فقہی طورپر کسی کے مقلدنہ تھے بسااوقات وہ خودبہت سے مسائل میں اجتہادکرلیتے تھے جبکہ صدیقی مرحوم فقہیات میں ٹھیٹھ مقلد تھے۔مولاناوحیدالدین خاں اورجاویداحمدغامدی صاحب کے بارے میں بھی ان کے رمارک مناسب نہیں۔ (اللہ ان کی لغزشوں کومعاف فرمائے )اس لیے راقم کا خیال ہے کہ معاصرین واقران کے بارے میں پروفیریٰسین مظہرصدیقی کی رایوں پر زیادہ اعتمادنہیں کیاجاسکتا۔المعاصرة کالمنافرة مثل مشہورہے اورصحیح ہے۔


حواشی و حوالجات

(1)دارالفکر،اس ادارہ سے اسلام اورسائنس کے موضوع پر وقیع کام انجام پایاہے ۔مدت تک یہاںسے ششماہی مجلہ آیات بھی نکلتارہا۔اب ڈاکٹرمحمدذکی کرمانی یوٹیوب پر سائنسی موضوعات پر مختصرلیکچرزکااہتمام کررہے ہیں۔

2۔فیصل ایوارڈ یافتہ پروفیسرنجات اللہ صدیقی ،اسلامی معاشیات وفکراسلامی کے میدان میں بین الاقوامی شہرت رکھتے ہیں۔ان کی وقیع کتاب مقاصدشریعت نے اہل علم وفکرکومتاثرکیاہے۔

3۔یاسین مظہرصدیقی ،عہدنبوی میں تنظیم ریاست و حکومت (مصنف کا مختصر)تعارف ص ۵ قاضی پبلشرزاینڈڈسٹری بیوٹرزنئی دہلی ،طبع اول 1988

4۔مصادرسیرت نبوی ،دوجلدانسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹواسٹڈیز نئی دہلی ،اب یہ کتاب پاکستان سے بھی چھپ گئی ہے۔

5۔انگریزی ترجمہ پروفیسرعبدالرحیم قدوائی نےThe Prophet Mohammad (pbuh) A Role Medel for Muslim Minorities by M.Y Mazhar Siddiqi translated by Abdur Rahim Qidwai کے نام سے کیاہےLeicester UK 2006 سے چھپ گیاہے۔

6۔مثلا وہ معاہدہ جوعبد الرحمن بن عوف زہری نے مکہ کے ایک سردارامیہ بن خلف جمحی سے کیا ان کا بیان ہے کہ کاتبت امیة بن خلف کتابا بان یحفظنی فی صاغیتی بمکة واحفظہ فی صاغیتہ بالمدینة (بخاری کتاب الوکالۃ باب اذا وکل المسلم حربیا فی دارالحرب ) یہ دونوں مکہ میں دوست تھے اورحضرت عبدالرحمن نے امیہ کے بیٹے علی جمحی کو جنگ بدر میںبچانابھی چاہا تھا مگروہ ماراگیا حافظ ابن حجر کے مطابق رسول اکرم کو اس معاہدہ کا علم تھا ۔)ملاحظہ ہو محمد یسین مظہرصدیقی ،مکی اسوہ نبوی صفحہ ۱۶۵،اسلامک بک فاونڈیشن نئی دہلی طبع اول اپریل ۲۰۰۵ء

7۔(واضح رہے کہ جوارایک اہم عرب سماجی قدرvalueتھی جس کا عرب معاشرہ میں بڑااحترام تھا،آپ نے مطعم بن عدی کی جوارطائف کے سفرکے بعدحاصل کی ،ابن الدغنہ نے حضرت ابوبکرکو جواردی ۔آپ ﷺ نے مکہ میں رہ جانے والے مسلمانوں کو ،جن پر تشددکیاجاتاتھا بعض شرفاءمکہ کی جواردلوائی جیساکہ صلح حدیبیہ کے موقع پر حضرت ابوجندل کو حویطب بن عبد العزی اورمکرز بن حفص کی جواردلوائی ۔انہوں نے ضمانت لی کہ وہ ابوجندل کو ان کے باپ کے شرسے محفوظ رکھیں گے۔،مکی اسوہ نبوی ص ۲۹۳ ایضا صفحہ20 بلاذری ۱: 220میں ہے فردہ رسول اللہ علی ان اجارہ حویطب بن عبد العزی ومکرز بن حفص وضمنا ان یکف اباہ عنہ۔

8۔ملاحظہ ہو:یاسین مظہرصدیقی ،عہدنبوی میںتنظیم ریاست و حکومت قاضی پبلشرزاینڈڈسٹری بیوٹرزنئی دہلی ،طبع اول 1988 ص547تا749

9۔علامہ شبیراحمدازہرمیرٹھی ،شہادت عثمان کا تاریخی پس منظرفاﺅنڈیشن فاراسلامک اسٹڈیز نئی دہلی ،بخاری کا مطالعہ جلداول دوم سوم وہی ناشراوراس خاص موضوع پر مولانامحمداسحاق صدیقی سندیلوی ندوی ،علامہ حبیب الرحمن اعظمی، مولانامفتی تقی عثمانی ،صلاح الدین یوسف ،مولانامحمدنافع ،مولاناعتیق الرحمن سنبھلی وغیرہم کی نگارشات ۔

10۔مولاناوحیدالدین خان خاتون اسلام باب سوم پردہ ص 250شائع کردہ گڈورڈ بکس نظام الدین ویسٹ نئی دہلی نیزشیخ البانی کی کتاب : جلباب المراۃ المسلمۃ

11۔محمدیٰسین مظہرصدیقی ،نورمحمدی کا دینی وتاریخی استناد،تحقیقات اسلامی علی گڑھ جولائی تاستمبر2010

12۔پروفیسریاسین مظہرصدیقی کا انٹرویوشایع کردہ محدث لاہورستمبر2020

13۔اظہارحقیقت ،یہ کتاب تین جلدوںمیں ہے اورتاریخی روایات پر تحقیق وتجزیہ میں بے مثال ہے۔پروفیسرصدیقی اپنے استادکی اس کتاب کے بڑے ثناخواں تھے۔

14۔پروفیسریاسین مظہرصدیقی لکھتے ہیں:”مولانامودودی ،قاری محمدطیب اورمولاناابوالحسن علی ندوی جیسے شیعی فکرکے حامل سنی علماءکا اس اجماع صحابہ (یزیدکی بیعت)کے بارے میں بارے میں ان کی مبینہ بزدلی اورمداہنت کا الزام لگاناعدالت ومرتبہ صحابہ کی توہین کے مترادف ہے۔کیاصحابہ کوبھی خاصاڈرایادھمکایاجاسکتاہے؟خلافت اموی خلافت راشدہ کے پس منظرمیں فروری 2010

15۔تفصیل کے لیے دیکھیے :ڈاکٹرمحمدغطریف شہبازندوی ،عالم اسلام کے مشاہیرص172مارچ 2014

16۔پروفیسریٰسین مظہرصدیقی،استاذگرامی نظامی،ماہنامہ تہذیب الاخلاق (مشاہیرعلی گڑھ نمبرجلددوم مارچ  2013ص194

17۔فکرونظرسہ ماہی پروفیسریٰسین مظہرصدیقی جون 2020ص73جلد۷۵شمارہ ۲

18۔فکرونظرسہ ماہی پروفیسریٰسین مظہرصدیقی استادوحید،ستمبر 2020ص38

19۔فکرونظرسہ ماہی پروفیسریٰسین مظہرصدیقی دسمبر 2020ص43جلد۶۵شمارہ ۴

عقیدہ، تہذیب اور سیاسی طاقت

سید مطیع الرحمٰن مشہدی

کسی مذہبی پیغام یا  عقیدےکے پھیلاؤ میں سیاسی طاقت کا کر دار کس قدر اہم  ہوتا ہے؟  دوسرے لفظوں میں  سیاسی طاقت  کی کسی اخلاقی یا مذہبی پیغام کے لئے  کیا معنویت ہے  ؟اسلام کے حوالے سے دیکھیں تو اسلام کی دعوت کے عمومی فروغ  میں سیاسی طاقت کا کتنا اثر ہے ؟ مزید  یہ کہ  کر ہ ارض کے ایک بڑے خطے پر مسلمانوں نے جو تہذیبی اثرات ڈالے ،اس میں ان کی فتوحات او ر سیاسی اثر و رسوخ  کا کس  قدر حصہ رہا  ہے ؟ یہ وہ بنیادی سوالات ہیں جو اسلامی روایت  کی تفہیم میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں ۔ ان کی درست تفہیم نہ ہونے کی وجہ سے ایک طرف مغربی مفکرین  کے لئےاسلام کے آغاز و ارتقا  اور تہذیب ِ اسلامی کے عالمی اثرات  سے متعلق  درست پوزیشن  لینا دشوار  بنا رہا تو دوسر ی طرف خود مسلمانوں کو کئی حوالوں سے معذرت خواہانہ  موقف اپنانا پڑا۔

بہت سے مغربی معترضین نے اپنی منطقی و استدلالی قوت  اس بات کو ثابت کرنے میں صرف کی ہے کہ اسلام  تلوار کے ذریعے پھیلاہے، یعنی اسلام خونریزی سے پھیلنے والا مذہب ہے ۔ جواب میں مسلمانوں نےاسلام کے عسکری پہلو کو  ایک طرح کا  تاریخی دھبہ  سمجھتے ہوئے،اپنے تاریخی چہرے سے  دھونے کی ہر ممکن کو شش کی ،چاہے انہیں معذرت خواہانہ پوزیشن ہی کیوں نہ اپنا نی پڑے۔ یہاں تک کہ علامہ محمد  اقبال جیسے مفکر  کے ہاں بھی، جن کی شاعر ی میں قوموں کے لئے  طاقت و قوت اور حرکتِ پیہم کو زندگی کی علامت  کے طور پر بیان کیا  گیا اور جرم ِضعیفی کی سزا مرگ ِ مفاجات قرار پائی  ، تاریخِ اسلام کے متعلق یہ فکری الجھاؤ موجود ہے جو ڈاکٹر سر نکلسن (Sir Nicolson) کے نام لکھے گئے ان کے خط میں صاف نظر آتا ہے ۔ لکھتے ہیں :

مجھے اس حقیقت سے انکار نہیں کہ  مسلمان  بھی دوسری قوموں کی طرح  جنگ کر تے رہے ہیں ۔ انہوں نے بھی فتوحات کی ہیں ۔ مجھے اس امر کا بھی اعتراف ہے کہ  ان کے بعض  قافلہ سالار ذاتی  خواہشات  کو دین و مذہب کے لبا س میں جلو ہ گر  کرتے رہے ہیں  لیکن مجھے  پوری طرح  یقین ہے کہ  کشور کشائی  اور ملک گیری  ابتدا  ءاسلام کے مقاصد میں داخل نہیں تھی۔ اسلام کو جہاں ستائی اور کشور کشائی میں جو کامیابی ہوئی ہے ، میرے نزدیک  وہ اس کے مقاصد کے حق میں  بے حد مضر تھی۔  اس طرح وہ اقتصادی  اور جمہوری  اصول  نشو و نما نہ  پاسکے  جن کا ذکر  قرآن ِ کریم  اور احادیث  نبویﷺ  میں جا بجا  آیا ہے۔بلاشبہ  کہ مسلمانوں  نے ایک عظیم الشان سلطنت  قائم کرلی ، لیکن  سا تھ ہی ان کے سیاسی  نصب العین  پر غیر اسلامی رنگ چڑھ گیا  اور انہوں نے  اس حقیقت کی طرف سے آنکھیں بندکر لیں  کہ اسلامی اصولوں  کی گیرائی  کا دائرہ کس قدر  وسیع ہے ۔بلاشبہ اسلام کا مقصد  انجذاب ہے مگر انجذاب کے لئے کشور کشائی  در کا رنہیں بلکہ صرف  اسلا م کی سیدھی سادی تعلیم جو الٰہیات  کے دقیق  اور پیچیدہ مسائل سے پاک  اور عقل انسانی  کے عین مطابق  واقع ہوئی ہے  اس عقدہ  کی گرہ کشائی  کر سکتی ہے ۔اسلام کی فطرت میں  ایسے  اوصاف  پنہاں ہیں  جن کی  بدولت  وہ کامیابی  کے بام بلند  پر پہنچ  سکتا ہے۔ذرا چین کے حالات  پر نظر ڈالئےجہاں کسی  سیاسی قوت  کی پشت پناہی  کے بغیر اسلام  کے تبلیغی مشن  نے غیر معمولی کامیابی حاصل کرلی  اور لاکھوں انسان  اسلام کے دائرے میں داخل ہوگئے ۔میں بیس سال سے  دنیا کے افکار  کامطالعہ کر رہا ہوں اور اس طویل عر صے نے مجھ میں  اس قدر صلاحیت  پیدا کر دی ہے کہ  حالات و واقعات پر غیر جانبدار انہ حیثیت سے  غور کر سکوں۔1

چین کے مسلمانوں کا معاملہ تو بہت بعد کا ہے ، غور کیجئے کہ آغاز اسلام اور اس کے بعد اسلامی تہذیب کے تشکیل و ارتقاکے دور میں کیا ممکن تھا کہ  محض تبلیغی مشن سے  یہ سارے   اثرات اور  مقاصد حاصل کیے جا سکتے ؟مزید گہر ائی سےدیکھا جائے تو   چین کے مسلم  دعوتی مشن  کے پسِ پشت بھی اسی اسلامی تہذیب  ہی کی پشت پناہی تھی جس  نے تاریخ انسانی میں ایک بڑا اثر ڈال رکھاتھا  ، جو دعوتی مشن میں   شعوری لاشعوری سطح پر  بہرحال  موجود رہی ہے ۔ ضرورت ا س امر کی ہے کہ  اسلام  کے پیغام کے پھیلا ؤ اور تہذیب ِ اسلامی کے تشکیلی دور  میں سیاسی طاقت کی  اہمیت اور اس کے بھر پور کردار  کو واضح کیا جائے۔

عقیدہ توحید کے فروغ میں سیاسی طاقت کا کردار

ماضی قریب  کی  معروف یہودی مصنفہ  پیٹریشا کرون2 (Patricia Crone:1945-2015) اس سوال کو جس زاویے سے دیکھتی ہیں ، وہ کافی دلچسپ ہے۔ان کے نزدیک دنیا  میں جتنے  بھی مذاہب زیادہ پھیلے  اور انہیں انسانی  تہذیب  و تمدن  پر  گہرے اثرات ڈالنے کا موقع ملا ،انہیں سیاسی طاقت  کی مدد ضرور حاصل رہی3 ۔ گویا جب کسی  اخلاقی یا مذہبی  پیغام کو سیاسی طاقت کی سپورٹ ملتی ہے تبھی وہ کوئی بڑا impact ڈال سکتاہے ۔وہ اپنے نقطہ نظر کو اس مقدمہ پر کھڑا کر تی  ہیں کہ عقیدہ توحید اصل میں یہودیت  کا ہے۔  یہودیت کے پا س خالص توحید تو تھی لیکن انہیں سیاسی طاقت نہیں ملی ۔ عیسائیت کو اگرچہ سیاسی طاقت ملی لیکن ان کے ہاں عقیدہ توحید  تثلیث سے گہنا چکا تھا  البتہ مسلمانوں کے ہاں  عقیدہ توحید بھی خالص تھا اور  سیاسی طاقت بھی موجود تھی ۔ یوں عقیدہ توحید جو دراصل یہود ی مذہب  کا بنیادی عقیدہ  تھا ،مسلمانوں  نے اسے   آگے بڑھایا اور آج عقیدہ توحید جو  خالص حالت میں پوری آب وتاب کے ساتھ  موجود ہے ،ا س کی بنیادی وجہ مسلمانوں کی  سیاسی طاقت  تھی جس کے زیرِ سایہ اسے پوری طرح پھلنے پھولنے کا موقع ملا ۔  گویا  یہودی عقیدے اور عربوں کی  غیر متمدن طاقت کے امتزاج  کے بغیر  عقیدہ توحید  خالص صورت میں تاریخ میں اپنا سفر طے نہیں کر سکتا تھا۔ اس خاص نکتے کو واضح کرنے کی پوری گنجائش موجودہےاور غالبا مغر بی مصنفین میں سے  تاریخ ِ اسلام کو اس خاص مذہبی  زاویے  سے دیکھنے والا اور کوئی نہیں۔ وہ  اپنی معروف کتاب "Hagarism" میں لکھتی ہیں:

Without the fusion of barbarian force with Judaic value there would have been no such thing as Islamic civilization, and the intransigent stance of Islam vis-a-vis the heritage of antiquity was consequently part of the price that had to be paid for its very existence.4

غیر متمدن قوت اور یہودی عقیدے (یعنی توحید) کے ملاپ کے بغیر اسلامی تہذیب  کا تصور ممکن  نہیں۔ قدیم ورثہ کے مقابلے میں  اسلا م کا  بے لچک غیر مصالحانہ موقف اس قیمت کا ایک حصہ تھا  جو اسلام کو اپنی بقا کے لیے دینی پڑی۔

ایک اور مقا م پر لکھتی ہیں:

The power of Hagarism to reshape the world of antiquity lay in its union of Judaic values with barbarian force.5

ہیگر ازم (یعنی اسلام) کی طاقت  جس سے اس نے قدیم دنیا کو  نئی شکل دے دی، یہودی اقدار کو غیر متمدن قوت کے ساتھ جوڑ  دینے میں مضمر تھی۔

پھر لکھتی ہیں :

Instead, barbarian conquest and the formation of the Judaic faith which was eventually to triumph in the east were part of the same historical event. What is more, their fusion was already explicit in the earliest form of the doctrine which was to become Islam. The preaching of Muhammad integrated a religious truth borrowed from the Judaic tradition with a religious articulation of the ethnic identity of his Arab followers. ……
The structure of Hagarene doctrine thus rendered it capable of long-term survival, and the consolidation of the conquest society ensured that it did survive. Judaic values had acquired the backing of barbarian force, and barbarian force had acquired the sanction of Judaic values: the conspiracy had taken shape.6

درحقیقت غیر متمدن  قوت  کی فتوحات  اور یہودی  عقیدے  (یعنی توحید) کی تشکیل  جو مشرق  میں آخر کار  فاتح ٹھہرا،  ایک ہی تاریخی واقعے کا حصہ تھے۔ مزید یہ کہ  ان کا باہمی ملاپ اس عقیدے کی ابتدائی ترین  شکل میں  ہی واضح تھا جو بعد میں اسلام بنا۔ محمد ﷺ کی تبلیغ  نے یہودی روایت سے  لی گئی ایک مذہبی صداقت (یعنی توحید) کو  اپنے عرب پیروکاروں  کی نسلی شناخت کے اظہار کے ساتھ  ضم کر دیا۔  

ہیگیرین  عقیدہ (یعنی اسلام) کی ساخت  نے اس میں  لمبے عرصے تک  باقی رہنے کی صلاحیت  پیدا کی، جبکہ  فتوحات  کے استحکام نے اس کی بقا کو یقینی بنایا۔ یہودی اقدار کو غیر متمدن طاقت کی پشت پناہی حاصل ہو گئی جبکہ غیر متمدن قوت کو یہودی اقدار کا  جواز اور تقدس مل گیا۔ یوں (توحید کو تہذیبی سطح پر باقی رہنے کے لیے)  جس گٹھ جوڑ کی ضرورت تھی، وہ وجود میں آ گیا۔

غور کیا جائے تو  یہ بات جو پیٹریشیا کرون نے کی ہے، یہ تھوڑے مختلف انداز میں مسلمان فقہا بھی کہتے ہیں۔ وہ جہاد کی حکمت  یہی بیان کرتے ہیں کہ ہم کسی کو زبردستی اسلام  قبول نہیں کرواتے  لیکن جب ہم اپنی ایک سیاسی حاکمیت قائم کرتےہیں تو اس سے وہ ماحول پیداہوتا ہے جس میں غیر مسلم ،اسلام کے محاسن کو ایسی جگہ سے دیکھیں جس میں ان کے لئے اپیل اور کشش (Attraction)پیداہو۔ طا قت انسان کو مرعوب و متاثر کرتی ہے ۔طاقت محض طاقت ہونے کی بنیاد پر متا ثر کرے تو وہ الگ چیز ہے لیکن اگر کسی پیغام کے اندر محاسن اور  خوبیاں ہیں  تو ان خو بیوں اور محاسن  کا کسی طاقت کی چھتری  کے نیچے  اجاگر ہونا  اس کے فروغ  کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

فقہا جس دور میں یہ بات کر رہے ہیں، وہ اسلام کی سیاسی حاکمیت کا دور تھا ، اس لئے ان کے فکری زاویےمیں ایک طرح کی غالب پوزیشن  کی جھلک بھی دکھائی دیتی ہے ۔ پیٹریشا کرو ن مسلمان نہیں ہے، بلکہ  وہ ایک تاریخی زاویے سے دیکھ  رہی ہےکہ  مسلمان کیونکر  وہ کارنامہ انجام دینے کے قابل ہو ئے جو یہودی نہیں دے سکے کیونکہ ان کے پاس عقیدہ تو خالص تھا لیکن طاقت نہیں تھی ،اور مسیحی اس لیے نہیں دے سکے کہ ان کے پا س  طاقت تو تھی  لیکن عقیدہ خالص نہیں تھا۔ اس نے تو حید کو ہی لیا ہے لیکن دیکھا جائے تو  پو ری اسلامی شریعت اسی طاقت کے ذریعے  آگے بڑھی۔یوں اسلام کے تاریخی کر دار کے بارے میں ایک مشترک نکتہ مل رہا ہے  جو مسلم روایت اور اور جدیدفکر میں کافی مشابہت رکھتا ہے۔

ڈاکٹر ڈیوڈ ویسرسٹین (David Wasserstein) جو وینڈر بلٹ یونیور سٹی (Vanderbilt University) میں  یہودیت  اور  اسلام کے یہودی ورثہ کے پروفیسر ہیں ،اپنے ایک  خطبے میں ،پیٹریشیا کرو ن سے  آگے بڑھ کر  یہ موقف اختیار کیا کہ اسلام نے  یہودی مذہب ہی کو ختم ہونے سے بچالیا ۔گویا اسلام نے ابراہیمی روایت  کے بنیادی مذہب   کو ، جو بالکل ختم ہونے کے قریب تھا ، ایک نئی زندگی بخشی۔ انہوں نے اپنا موقف اسلامی خلافت کے تناظر میں  ان الفاظ میں بیان کیا  ہے:

Islam saved Jewry. This is an unpopular, discomforting claim in the modern world. But it is a historical truth. The argument for it is double. First, in 570 CE, when the Prophet Mohammad was born, the Jews and Judaism were on the way to oblivion. And second, the coming of Islam saved them, providing a new context in which they not only survived, but flourished, laying foundations for subsequent Jewish cultural prosperity – also in Christendom – through the medieval period into the modern world…. Had Islam not come along, Jewry in the west would have declined to disappearance and Jewry in the east would have become just another oriental cult.7

اسلام نے یہودیت کو بچا لیا۔ یہ جدید دنیا میں ایک غیر مقبول  اور اضطراب انگیز دعوی ہے۔ لیکن یہ ایک تاریخی حقیقت ہے۔ اس کی دلیل دوہری ہے۔ سب سے پہلے ، 570 عیسوی میں ، جب حضرت محمد کی ​​ولادت ہوئی ، یہودی اور یہودیت غائب ہونے کے راستے پر گامزن تھے۔ اور دوسرا ، اسلام کی آمد نے انھیں اس طرح بچایا کہ ایک نیا تناظر مہیا کیا جس میں وہ نہ صرف باقی رہ سکے بلکہ پھل پھول سکے، اور (اسلامی دنیا کے علاوہ) عالم مسیحیت میں بھی اس یہودی ثقافتی نشوونما  کی بنیاد رکھی  جو قرون وسطی کے دور سے لے کر جدید دنیا تک جاری ہے…. اگر اسلام معرض ظہور میں نہ آیا ہوتا تو مغرب میں یہودیت  منظر عام سے  غائب ہوجاتی، جبکہ  مشرق میں صرف ایک مشرقی  فرقہ بن کر رہ جاتی۔

تہذیب اور سیاسی طاقت

عقیدہ یا اخلاقی پیغام ،جیسا   کہ گزشہ  سطور میں واضح ہو ا، عموما  کسی سیاسی  طا قت  کے تحت   ہی تاریخ ِ انسانی میں ایک بڑا Impact  ڈال سکتے ہیں۔اسی طرح  کوئی تہذیب  اپنی تشکیل و ارتقا  اورایک بڑے خطے پر پھیلاؤ اور گہرے  اثرات  کے حوالے سے  سیاسی پشت پناہی  کی مر ہون  منت ہوتی ہے ۔مسلم تہذیب  کی تشکیل و ارتقا اور پھیلا ؤ بھی اسی اصول کے تحت  ہوا ۔اگر چہ ہر تہذیب کی طرح مسلم تہذیب نے بھی د یگر تہذیبوں کے اثرات بھی قبول کیے لیکن اپنے سیاسی اثر و رسو خ کی بدولت  دنیا کے ایک بڑے خطے کو  نہایت  مثبت  اور تعمیری اثرات سے  مالا مال بھی کیا ۔ جو تہذیبی اثرات مسلمانوں نے ایک بڑے خطہ ارض پر ڈالے،انہیں  اس زاویے سے بھی  دیکھا جاسکتا ہے کہ ان اثرات  کا مسلمانوں کی فتوحات کے ساتھ کیا تعلق بنتاہے ۔دوسرے لفظوں میں اگر یہ فتوحات ہی نہ ہوتیں تو کیا مسلمان  اس پوزیشن میں ہوتے کہ اس قدر تہذیبی اثرات ڈال سکتے ۔مثلا  سائنسی علوم ہی میں مسلمانوں  کی خدمات کو لیجئے ،کیا یونانی علوم  کے ترجمے کی اتنی بڑی تحریک  مسلمانوں کی سیاسی  پشت پناہی کے بغیر ممکن ہو سکتی تھی ؟ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ہمارا معذرت خواہانہ ذہن  اس بات پر تو بڑا فخر محسوس کرتا ہے کہ مسلمانوں نے سائنس کے میدان میں نہایت غیر معمولی  کارنامے سر انجام دیے ،لیکن اس  کے پیچھے جو سیاسی اور تہذیبی طاقت تھی ، اس پر شر مندگی محسوس کر تا ہے ۔

دیمتری گوٹاس (Dimitri Gutas) اپنی کتاب Greek Thoughts, Arabic Culture) )میں عرب فتوحات   کے تہذیبی ، علمی ، انتظامی ، سماجی  اور تاریخی  اثرات  کا بڑی تفصیل سے جائزہ پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

Certain material conditions that prepared a background against which a translation movement could take place and flourish were established by two momentous historical events, the early Arab conquests through the Umayyad period and the Abbasid revolution that culminated in 134/750.8

وہ خاص مادی  صورتحال  جس نے وہ  پس منظر تیار کیا جس میں  ترجمہ کی تحریک  رونما ہو سکتی اور پھل پھو ل سکتی تھی ، دو  اہم تاریخی واقعات  کی وجہ سے تھی ،ایک اموی دور کی ابتدائی عرب فتو حات اور  دوسرا عباسی انقلاب  جو  134 ہجری میں عروج کو پہنچا۔

عرب  فتوحات کی تاریخی اہمیت اور مہذب دنیا  کے ایک بڑے  حصے پر تجارتی سر گرمیوں کے آغاز  پر روشنی ڈالتے ہوئے  لکھتے ہیں:

The historical significance of the Arab conquest can hardly be overestimated. Egypt and the Fertile Crescent were reunited with Persia and India politically, administratively, and most important, economically, for the first time since Alexander the Great, and for a period that was to last significantly longer than his brief lifetime. The great economic and cultural divide that separated the civilized world for a thousand years prior to the rise of Islam, the frontier between the East and the West formed by the two great rivers that created antagonistic power in either side, ceased to exist. This allowed for the free flow of raw material and manufactured goods, agricultural products and luxury items, people and services, techniques and skills, and ideas, methods, and modes of thoughts.9

عرب فتوحات کی تاریخی اہمیت میں مشکل سے ہی کوئی مبالغہ کیا جاسکتا ہے۔ مصر اور زرخیز ہلالی خطہ سکندر اعظم کے بعد پہلی بار سیاسی اور  انتظامی طور پر ، اور سب سے اہم ، معاشی طور پر ،   فارس اور ہندوستان کے ساتھ متحد کر دیے گئے۔ یہ وحدت عرب فتوحات  کے اپنے مختصر زمانے کے بھی بہت بعد تک قائم رہی۔  عظیم معاشی اور ثقافتی تقسیم  جس نے اسلام سے پہلے ایک ہزار سال سے مہذب دنیا کو   ایک دوسرے سے جدا رکھا ہوا تھا،  اور  دو عظیم دریاوں  نے مشرق اور مغرب کے درمیان جو سرحد بنا رکھی تھی،   جس نے  دونوں جانب برسرپیکار طاقتیں پیدا کر دی تھیں،  ختم ہو گئی۔  اس کے نتیجے میں خام مال اور تیار شدہ اشیاء، زرعی مصنوعات اور سامان تعیش، افراد اور خدمات ، تکنیک اور مہارتوں اور نظریات ، طریقوں اور انداز ہائے فکر  کی آزادانہ نقل وحرکت ممکن ہو گئی۔

عرب فتوحات  کے علم  و فکر کے  پھیلاؤ  میں غیر معمولی کر دار کو  واضح کرتےہوئے رقمطرا ز ہیں:

An equally significant result of the Arab conquests and arguably the most important factor for the spread of knowledge in general was the introduction of paper-making technology into the Islamic world by Chinese prisoners of war in 134/751. Paper quickly supplanted all other writing material during the first decades of the Abbasid era, when its use was championed and even dictated by the ruling elite. It is interesting to note that the various kinds of paper that were developed during that time bear the name of some prominent patrons of the translation movement.10

عرب فتوحات کا ایک اتنا ہی اہم نتیجہ اور شاید  علم کے پھیلاؤ کا سب سے اہم عامل  134/751 میں چینی جنگی قیدیوں کے ذریعہ عالم اسلام میں کاغذ سازی کی ٹیکنالوجی کا تعارف تھا۔ عباسی دور کی پہلی دہائیوں کے دوران میں،کاغذ نے لکھنے کے دیگر تمام  قسم کے مواد کی جگہ لے لی ، جب اس کے  استعمال  کو حکمران طبقے کی حمایت  اور تائید  حاصل تھی ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس زمانے میں جو مختلف قسم کے کاغذ تیار کیے گئے تھے، ان کے نام ترجمے کی تحریک کے کچھ ممتاز سرپرستوں کے نام پر رکھے گئے۔

مزید لکھتے ہیں:

In addition to the introduction of paper, the lifting of the barriers after the Arab conquests between the East and the West of Mesopotamia also had an extremely beneficial, though obviously unintentional, cultural consequence. It united areas and peoples that for a millennium had been subject to Hellenization ever since Alexander the Great while it isolated politically and geographically the Byzantines, i.e, the Greek-speaking Chalcedonies Orthodox Christians. This is doubly significant. First, it was the exclusionary theological policies and practices of Constantinopolitan "Orthodoxy" that created religious schisms in the first place and drove Syriac-speaking Christians into religious fragmentation and, in the case of the Nestorians, into Persia. The effective removal from the Islamic polity (the Dar al Islam) of this source of contention and cultural fragmentation, and their unification under a non-Persian overlord, the Islamic state, opened the way for greater cultural cooperation and intercourse. Second, the political and geographical isolation of the Byzantines also shielded these Christian communities under Muslim rule, and all other Hellenized peoples in the Islamic commonwealth, from the dark ages and aversion to Hellenism into which Byzantium slid in the seventh and eight centuries.11

کاغذ کے متعارف ہونے کے علاوہ، عرب فتوحات کے بعد  میسو پوٹیمیا  کے مشرق و مغرب  کے درمیان رکاوٹوں کے ہٹائے جانے کا بہت ہی مفید نتیجہ مرتب ہوا، جو ظاہر ہے کہ ارادی نہیں تھا۔ اس نے  ان خطوں اور لوگوں کو باہم ملا دیا جو اسکندر اعظم کے  بعد سے یعنی ایک ہزار سال سے یونانیت کےزیر اثر تھے، جبکہ سیاسی  وجغرافیائی  طورپر  بازنطینی یعنی یونانی بولنے والی اور خلقیدونی عقیدے پر کاربند  آرتھوڈوکس مسیحیت کو  الگ کر دیا۔اس کی دوہری  اہمیت تھی۔پہلی یہ کہ دراصل قسطنطنیہ  میں مرکوز  راسخ الاعتقادی  کی اخراجی الہیاتی پالیسیاں  اور اعمال ہی تھے جنہوں نے مذہبی تفریق پیداکی اور  شامی بولنے والے مسیحیوں کو مذہبی انتشار  کی طرف جبکہ نسطوریوں کو  ایران کی طرف دھکیل دیا۔ دارالاسلام  میں اس وجہ نزاع اور ثقافتی  تحزب کے موثر خاتمے سے ،اور ایک غیر جانبدار حاکمیت یعنی اسلامی ریاست کے تحت ان کے متحد ہو جانے  سے وسیع  تر ثقافتی تعاون اور میل ملاپ کےدروازے کھل گئے۔دوسری یہ کہ  بازنطینیو ں کی سیاسی اور جغرافیائی  علیحدگی نے مسلم حکومت کے تحت  رہنے والی مسیحی کمیونیٹیز کو اور ان دیگر تمام جماعتوں کو جو یونانی فکر سے وابستہ تھے، تاریک ادوار  سے اور یونانی ثقافت کی  نفرت سے محفوظ کر دیا جس کا بازنطینی  ثقافت ساتویں اور آٹھویں صدی میں شکار ہو چکی تھی۔

دیمتری  گوٹاس (Dimitri Gutas)اپنی تحقیق میں یہ بھی بتاتے ہیں کہ مسلمانوں کا دیگر علوم سے متعلق رویہ کیاتھا اور وہ کس حدتک درست تھا  ۔ماضی میں مسلمانوں کے مزاج اور آج کے مزا ج میں بڑا فرق ہے۔مسلمانوں نے اپنے دور ِ عروج میں جو تہذیب تشکیل دی تھی وہ کازموپولیٹن(Cosmopolitan) تھی ، اس میں وسیع المشربی پائی جاتی تھی ۔مسلمانوں نے تہذیب اسلامی کی تشکیل کے لئے پہلے مرحلے میں ترجمے کاکام کیا ،اور اس وقت اس سر گر می کی ایک خوبی یہ بھی تھی کہ اس کام میں مسلم اور غیر مسلم دونوں شانہ بشانہ کام کررہے تھے ، ان  دور میں مسلمان،  عیسائی ، یہودی ، صائبین ایک ساتھ  بیت الحکمت میں مصروف ِ عمل تھے ۔اس کی بنیادی وجہ فکری آزادی تھی ۔اب مسلم دنیا میں فکری آزادی نہیں ہے ۔ ان کے ہاں اپروچ یہ تھی کہ جہاں سے بھی قابل استفادہ چیز ملی وہ لے لیتے تھے۔

ان کے نزدیک اسلامی تہذیب کے دیگر تہذیبوں پر اثرات یک طرفہ نہیں بلکہ دوطرفہ تھے ۔ جہاں اسلامی تہذیب کے دوسری تہذیبوں پر اثرات ڈالے وہاں اسلام تہذیب نے دیگر  تہذیبوں سے بھی اثرات قبول کیے ۔ جو تہذیبیں اسلامی تہذیب کے کے زیر نگیں تھی وہ تو  ایک طرح اس کا حصہ ہی بن گئیں لیکن  جو براہ راست زیر نگیں نہیں بھی تھیں ان کے ساتھ بھی ایک طرح کا تعامل جاری تھا ۔اسلامی تہذیب کے بعد جو تہذیب اپنے عرو ج میں آئی وہ یورپین تہذیب ہے۔ اس نے اپنی ماقبل اسلامی تہذیب سے افکار و نظریات، تہذیب و تمدن ، علو م وفنون اور اقدار واطوار کے حوالے سے کیا کیا سیکھا اور اسے آگے بڑھایا۔اس سلسلے میں عمومی طور پر سپین کا ذکر بڑی شدو مد سے کیا جاتاہے ۔ لیکن یورپ کے جنوبی علاقے میں خاص طور پر سسلی میں مسلمانوں نے وہاں کی تہذیب پر کیا اثرات ڈالے اس کا تذکرہ بہت کم کیاجاتا ہے ۔یہ علاقہ تقریبا دو سو سا ل تک مسلمانوں کے زیر نگیں رہا اور اس دوران میں مسلمانوں نے اس خطے پر انمٹ تہذیبی اور فکری نقو ش چھوڑے ۔اس کا انداز ہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ مسلمانوں کے اقتدار  کے ختم ہو جانے کے بعد بھی جو ایک کا زموپولیٹن تہذیب یہاں ابھری، اس میں مسلم تہذیب و تمدن کے  نہایت گہرے اثرات دیکھے جا سکتے تھے ۔خاص طورپر روجردوم ، ولیم اور فیڈرک دوم کے دور حکومت میں نہ صر ف یہ کہ مسلم تہذیب کی باقیات الصالحات جاری و ساری تھیں بلکہ خود مسلمان بھی نہایت اہم انتظامی عہدوں پر فائز نظر آتے تھے ۔سلسلی میں ان بادشاہوں کی حیثیت ٹھیک وہی تھی جیسی اسلامی تہذیب کے عباسی دور میں ہارون الرشید اور مامون کی تھی۔پوری تہذیب وسیع المشربی کا ایک اعلیٰ نمونہ پیش کر رہی تھی۔

دیمتری گوتاس ترجمہ تحریک  (Translation Movement)سے متعلق لکھتے ہیں:

The Graeko- Arabic translation movement lasted, first of all, well over two centuries; it was no ephemeral phenomenon. Second, it was supported by the entire elite 'Abbasid society: caliphs and princes, civil servants and military leaders, merchants and bankers, and scholars and scientists.

یونانی عربی ترجمہ تحریک جو دو سو سال تک جاری رہی  ،پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ کوئی وقتی  مظہر نہ تھی  ،دوسری یہ کہ اس کو ساری عباسی  اشرافیہ، خلفاء، شہزادوں، سول  سرونٹس ، فو جی افسران ، تاجر برادری ، بینکرز ،علما اور سائنس دانوں کی  تائید حاصل تھی۔

دراصل دیمتری گو تا س نے جتنے طبقات گنوائے ہیں ، ان کے ہاں ترجمہ کی تحریک کو سپورٹ کرنا  ،خود حکمران طبقے کی دلچسپی کے باعث ہی تھا ۔ بادشاہوں اور شہزادوں کی  مسلسل دلچسپی نے اس وقت کی سوسائٹی میں یہ رجحان (Trend) بہر حال پیداکر دیا تھا اسی لئے تمام طبقات  اس میں دلچسپی ظاہر کر رہے تھے ۔اگر خود حکمرا ن ہی اس تحریک میں دلچسپی نہ لیتے تو  اس وقت کی سوسائٹی میں یہ عمومی رجحان پیدا ہی نہ ہو پاتا ،گویا ترجمہ تحریک کی شاخیں شاہی محل ہی سے پھوٹی تھیں اگر چہ  بعد میں دیگر طبقات نے بھی اس  کی آبیاری  میں اپنا اپناحصہ ڈالا۔

پاکستان کے معروف طبیعات دان ،پروفیسر پرویز ہود بھائی بھی   مسلم دانش وروں کی کامیابیوں کو  مسلم حکمرا ن طبقوں  کی حوصلہ افزائی اور حمایت  ہی کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں :

اسلامی سائنسی  ارتقا  کا یہ  پہلا دور  در اصل یونان سے درآمد شدہ علوم  کو سمجھنے  اور ہضم  کرنے کا  عہد تھا ۔ اس دور میں  مسلمان  دانش وروں  سے مترجموں  کے طور پر  ثانوی حیثیت  سے حصہ  لیا تھا ۔اس ابتدائی  دور میں مسلمان دانش وروں  کا سائنس  کی ترقی  میں حصہ  کسی خاص اہمیت  کا حامل نہی تھا ۔ اگر  صرف ابتدائی  دور  کو  نظر میں رکھا جائے  تو رینان  کی دلیل صحیح ہے ۔  لیکن ہمیں  یہ بھی ماننا چاہیے  کہ مسلمان  حکمران طبقوں  کی مکمل  حوصلہ افزائی  اور حمایت  کے بغیر تراجم  کاکام بھی  ناممکن ہوتا۔حقیقت تو یہ ہے کہ  خلفا کے  درباروں اور شرفا  کے محلوں  میں ہر مذہب  و ملت  کے دانش وروں  اور ہنر  مندوں کی پذیرائی  اور عزت افزائی  کی جاتی تھی۔ ان کے ساتھ  محض رواداری  نہیں برتی جاتی تھی  بلکہ  ان کی تعظیم  وتکریم  کی جاتی تھی ۔ رواداری  اور مذہبی  وسعت  نظری  کے اس ماحول میں  سائنس  کی جڑیں  اسلامی سر زمین  میں گہری ہوگئیں۔12

مسلمان حکمرانوں  کی اس سر پرستی  کا موازنہ  تنویری عہد میں فرانسیسی  اشرافیہ  کی سرپرستی  کے ساتھ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

ایک بنیادی عنصر  سائنس  اور علوم  میں روشن خیال خلفا  اور شہزادوں  کی دلچسپی  معلوم ہوتی ہے  جس کی وجہ سے  انہوں نے دانش وروں  کی سر پرستی کی ۔ اس سر پرستی  کے مقابلہ  میں روشن خیالی کے عہد  میں فرانسیسی  اشرافیہ  کی سر پرستی  بھی ہیچ ہے ۔ دانش ورو ں  کو اپنے درباروں  میں بلانے کے لئے حکمران ایک دوسرے سے سبقت لے جانے  کی کوشش کرتے تھے۔خلیفہ مامون کے دربار میں الکندی ، سلطان محمد ابن تکوش کے در بار میں  فخر الدین رازی ، مختلف  سلطانوں  کے طبیب کی حیثیت سے  ابن سینا ، الحکیم  کے مشیر کی حیثیت سے ابن الہیثم ،المنصو ر کےتحت  ابن رشد ۔۔۔۔غر ضیکہ تمام عظیم دانش ور  ازمنہ وسطیٰ میں شاہی در باروں سے وابستہ تھے ۔ جس سے ان کو پیشہ وارانہ شہرت ،معاشرتی احترام، کتب خانوں  اور تجربہ گاہوں  سےا ستفادہ اور ( شاید سب سے اہم بات ) فیاضانہ وظائف  ملتے تھے۔13

 پیٹریشیا کرون(Patricia Crone)  اسلامی تہذیب  کی تشکیل میں مسلم فتوحات کے کر دار سے متعلق لکھتی ہیں :

Islamic civilization is the outcome of a barbarian conquest of lands of very ancient cultural traditions. As such it is unique in history. There is of course no lack of experiences of barbarian conquest in the history of civilization; but in so far as the barbarians do not destroy the civilization they conquer, they usually perpetuate it. Nor is there any lack of barbarian transitions to civilization in the history of barbarism; but in so far as the barbarians do not take millennia to evolve a civilization of their own, they usually borrow it. But the relationship of the Arabs to antiquity does not fit any of these patterns. It is not of course particularly remarkable that the Arabs were neither so barbarous as to eradicate civilization nor so original as to invent it for themselves. But they were indeed unusual in that they did not, sooner or later, acquire or lose themselves in the civilization they conquered. Instead, the outcome of their collision with antiquity was the shaping of a very new civilization out of very ancient materials, and that at such a speed that by the time the dust of conquest had settled the process of formation was already well under way. Any attempt to understand this unique cultural event must begin by showing what it was about the conquerors and the conquered that made such an outcome possible.14

اسلامی تہذیب  بہت قدیم تہذیبی روایات  و الے علاقوں کے غیر متمدن (عربوں) کے ہاتھوں مفتوح ہونے کا  نتیجہ ہے۔ اس لحاظ سے  یہ تاریخ میں منفرد ہے۔ تہذیب کی تاریخ میں یقینا غیرمتمدن قوموں کی  فتوحات  کی کوئی کمی نہیں، لیکن غیر متمدن عناصر ان تہذیبوں  کو جنھیں انھوں نے فتح کیا تھا، تباہ نہیں کرتے، بلکہ اسے برقرار رکھتے ہیں۔  غیر متمدن قوموں  کی  تاریخ میں  ان  کے تہذیب کی طرف منتقل ہو جانے کی مثالیں بھی کم نہیں، لیکن غیر متمدن قومیں خود اپنی ایک تہذیب  بنانے کے لیے ایک ہزار سال کا عرصہ  نہیں لیتیں، بلکہ عام  طور  پر اسے مستعار لے لیتی ہیں۔ لیکن عربوں کا قدیم تہذیبوں کے ساتھ تعلق   ان میں سے کسی بھی اصول پر پورا نہیں اترتا۔ یہ بات یقینا خاص طور پر قابل توجہ نہیں ہے  کہ عرب نہ تو اتنے وحشی تھے  کہ تہذیبوں  کا خاتمہ کر دیتے  اور نہ ہی وہ  اتنے  جدت پسند تھے  کہ اپنی نئی  تہذیب بنا لیتے ۔ لیکن وہ اس لحاظ سے  انوکھے تھے کہ انھوں  نے جلد یا بدیر  جو تہذیب فتح کی تھی  نہ تو اس کو اپنایا اور نہ خود کو اس میں ضم کر دیا۔ اس کے برعکس  قدیم تہذیبوں کے ساتھ ان کا  ٹکراؤ  کا نتیجہ  یہ نکلا کہ انھوں نے نہایت قدیم مواد  سے ایک بالکل نئی تہذیب  وضع کر لی اور وہ بھی اس قدر  تیز رفتاری سے کہ جب ان کی فتوحات  کی گرد بیٹھی تو تہذیبی تشکیل کا عمل  شروع ہو چکا تھا۔ اس تہذیبی واقعہ کو سمجھنے  کی کسی بھی کوشش  کا آغاز لازما  اس امر کی وضاحت سے ہونا چاہیے  کہ ان فاتحین اور مفتوحین میں وہ کیا بات تھی جس نے اس نتیجے کو ممکن بنایا۔

ڈاکٹر فضل الرحمان تہذیبوں کے باہمی تعامل میں باہمی لین دین کو فطری عمل قرار دیتے ہوئے  اسلامی تہذیب کو اس سے مستثنی ٰ قرار نہیں دیتے ۔ ان کے نزدیک  عرب سلطنت جب فتوحات کے نتیجے میں  وسیع ہوئی تو اس نےدیگر تہذیبوں سے ضروری عناصر  حاصل کرکے ملکی نظم و نسق  اور دستور کی تشکیل  کی اور یہ چیز  اسلامی تہذیب  کے لئے امتیازی حیثیت  بھی رکھتی ہے ۔وہ لکھتے ہیں:

عرب سے  باہر عربی  سلطنت کے  پھیلاؤ  کے ساتھ مسلمانوں  نے اپنے اپنے  قانون اور ملکی  نظم و نسق  کا ایک پورانظام قائم  کرنے کا ہدف  رکھا ، جس میں انہوں  نے بازنطینی  اور ایرانی  اداروں  اور دوسرے  مقامی  عناصر  کا نمونہ اپنا کر اس کو ایک اسلامی قالب کی شکل دی۔یہی وہ نظام  ہے  جس نے  اسلامی تہذیب  کو اس کی امتیازی خصوصیت  عطاکی اور جس نے اسلام کے بنیادی اخلاقی مزاج  کا اظہار  کرتے ہوئے  مسلم ریاست  کا یوں سمجھئے کہ حقیقی  دستور  مہیا کردیا اور اس کی حدود  واضح کر دیں۔15

وہ لکھتے ہیں کہ اسی  تعامل کی بدولت  ایک شاندار تہذیب وجود میں آئی جو بہت سے مادی ، معاشی  ،تاریخی اور ادبی اور سائنسی سرگرمیوں کا باعث بنی جن سے نوعِ انسانی نے بھر پور استفادہ کیا۔

عربی ذہن میں باہر کی ثقافتوں  کے اثر سے جو حرکت  پیداہوئی  وہ دوسری  سے چوتھی  صدی  ہجری (آٹھویں  سے دسویں  صدی عیسوی ) میں ایک کامیاب اور آب وتاب  والی مذہبی  عقلیتی اور مادی تہذیب کے ظہور  کا باعث بنی۔ مسلمانوں نے ایک ثروت مند تجارت  اور صنعت  کی بنیادرکھی اور پہلی دفعہ  سائنسی  مہارت  انسانیت  کی اصل  مادی ترقی  کے لئے  کام میں  لائی گئی اور عملی فائدے  کے لئے استعمال  کی گئی ۔ ذہنی و عقلی  اعتبار سے تاریخ اور  ادب کے  بنیادی عربی علوم  نے پھیل کر  عمومی  تاریخ ، جغرافیہ  اور ادب عالیہ  کی صورت  اختیار کرلی۔16

ایک اور جگہ مسلم عقلی اور ذہنی  نشوو نما کو بھی نہ صرف اسلامی اور  یونانی روایت  کے باہمی تعامل کا نتیجہ قرار دیتے ہیں بلکہ انسانی عقلی تاریخ میں غیر معمولی اہمیت کی حامل قرار دیتے ہیں:

مسلم فتوحات کی ایک صدی کے اندر اندر  مسلمان  اس قابل  ہوگئے تھے کہ  اپنی مخصوص  ذہنی و عقلی  زندگی کو  پروان چڑھا سکیں  اور حدیث  ،فقہ اور تاریخ  کے خالص  عر بی اسلامی علوم کی بنیاد رکھ دیں ۔  یہ عقلی نشوو نما  جو بہت زیادہ سرعت  کے ساتھ  واقع ہوئی ، اور جو شام  میں یونانی روایت  اور عر بی قرآن کی دی  ہوئی فکر  کے بنیادی ڈھانچے  کے باہمی  تعامل کا نتیجہ  تھی، انسان کی عقلی  تاریخ  کا ایک عجوبہ چلی آتی ہے۔17

اس سلسلے میں جرمن مستشرقہ زیغرید ھونکہ  کی کتاب جس  کا عربی ترجمہ  "شمس العرب تسطع علی الغرب "کے نا م سے ہوا ہے ، بڑی اہمیت کی حامل ہے ۔ اس کتاب میں انہوں نے  عربی تہذیب  کے مغربی تہذیب  پر اثرات  کانہایت تفصیل سے جائزہ پیش کیا ہے۔اس کتاب میں ایک جگہ  مسلمانوں کی سائنسی خدمات  جنہوں نے مغربی سائنس دانوں کو غیر معمولی طورپر متاثر کیا ، پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتی ہیں :

لقد طور  العرب، بتجاربھم  وابحاثھم  العلمیۃ، مااخذوہ  من مادۃ خام عن الا غریق، وشکلوہ تشکیلا جدیدا۔ فالعرب، فی الواقع، ھم الذین  ابتدعوا  طریقۃ  البحث  العلمئ  الحق  القائم علی التجربۃ ۔لقد سرت بین العلماء  الاغریق ، الذین لم یکونوا  جمیعا  بالا غریقین  بل کان اغلبھم من  اصل شرقی، سرت بینھم  رغبۃ فی البحث  الحق، وملاحظۃ الجزئیات، ولکنھم  تقیدو ادائما بسیطرۃ الآراء النظریۃ۔ و لم یبدا البحث  العلمی  الحق  القائم علی  الملاحظۃ و التجربۃ الا عند العرب۔ فعند ھم فقط  بدا البحث  الدائب  الذی یمکن الاعتماد  علیہ۔ یتدرج من الجزئیات  الی الکلیات، واصبح منہج  الاستنتاج  ھو الطریقۃ  العلمیۃ السلیمۃ للباحثین۔ و برزت  الحقائق  العلمیۃ کثمرۃ للمجہودات المضنیۃ فی القیاس  و الملاحظۃ بصبر لا یعرف الملل۔ و بالتجارت العلمیۃ الدقیقۃ التی لا تحصی، اختبر العرب  النظریات  و القواعد الآراء العلمیۃ  مرار اَ وتکراراَ؛ فاثبتوا صحۃ  الصحیح  منھا، و عدلوا الخطاء فی بعضہا۔ ووضعوا بدیلا َ للخاطیء منہا متمتعین فی ذلک بحریۃ کاملۃ  فی الفکر و البحث، وکان شعارھم فی ابحاثھم – الشک ھو اول شروط  المعرفۃ – تلک ھی الکلمات  التی  عرفہا  الغرب  بعدھم  بثمانیۃ قرون طوال ۔ وعلی ھذا الآساس العلمی سار العرب فی العلوم الطبیعۃ شوطاَ کبیراَ۔ اثر فیما بعد، بطریق غیر مباشر، علی مفکری الغرب وعلمائہ امثال روجر باکون (Roger Bacon) وما جنوس (Magnus) وفیتلیو (Vetellio) ولیوناردو دافنشی (Leonardo da Vinci) و جالیلیو (Galileo)۔18

عربوں نے جو یونانیوں سے خام مواد لیا ،اسے اپنے تجربات  اور سائنسی تحقیقات  کی بدولت پروان چڑھایا اور جدید شکل میں ڈھالا۔ درحقیقت عربوں ہی نے  تجربے کی بنیاد  پر قائم  حقیقی  سائنسی  تحقیق کا منہج ایجاد کیا ۔ یونانی علما ء کے ہاں ، جو سب یونانی نہیں تھے،بلکہ ان کی اکثریت  مشرقی الاصل تھی ،  حقیقی تحقیق اور جزئیات بینی  کی جستجو اور رغبت  تو سرایت کر چکی تھی لیکن وہ ۔۔۔نظری آراء  کے جبر و تسلط  کے پابند رہے۔مشاہدے اور تجربے پر مبنی سچی سائنسی تحقیق  کا آغاز  عر بو ں کے علاوہ  اور کسی کے ہاں نہ ہوا ،صر ف ان کے ہاں سنجیدہ  اوردائمی  تحقیق کا آغاز ہوا  جس پر اعتماد کیا جا سکتاہے ۔ اس طریقہ کار میں جزئیات کی سیڑھی چڑھ کر کلیات تک پہنچا جا تا ہے ۔اور یہی منہج استنتا ج ، نتیجہ اخذ کرنے  کا طریقہ کار محققین کے ہاں  صحیح  سائنسی  منہج ٹھہرا ۔ قیاس اور مشاہدے میں صرف کی گئی  انتھک  محنتوں اور ناقابل شمار ،دقیق سائنسی تجربات  کے ثمرات  کے طور پر  سائنسی حقائق ابھر کر سامنے آئے ۔عربوں نے نظریات ، اصول اور علمی  آرا ء کو  بار بار آزما یا ،جنہیں درست پایا ان کی تصدیق کی اور جہاں غلطی دیکھی وہاں اصلاح کی ،اور غلط  کا متبادل بھی پیش کیا ۔انہوں نے مکمل فکری اور  تحقیقی آزادی  کے ساتھ یہ عمل سر انجام دیا ۔ان کی تحقیقات کا شعار اور بنیادی نکتہ " شک علم  کی پہلی شرط ہے " تھا ۔ اسی علمی / سائنسی اساس پر عر بوں نے نیچرل سائنسزمیں بڑے میدان مارے ۔اس سوچ نے بعد میں بالواسطہ  راجر بیکن ،  میگنس، ویتلیوس ،لیونارڈو ڈاونچی اور گلیلیو  جیسے  مغربی مفکرین او ر سائنس دانوں کو متا ثر کیا ۔

مارشل ہاگسن اپنی کتاب The Venture of Islam میں اسلامی تہذیب  کی تشکیل و ارتقا کے متعلق لکھتے ہیں:

اسلام جس خطے میں پروان چڑھناشرو ع ہوا اس خطے میں کوئی بھی تہذیبی روایت مستحکم نہ تھی ،دیگر تہذیبیں اور سلطنتیں اپنی جگہ مضبوط اور محکم تھیں لیکن غیرمعمولی طورپر اس خطے میں اورکوئی تہذیب اپنے قدم نہیں جما سکی تھی ،یوں کہا جاسکتاہے کہ اس خطہ ارضی میں ایک  طرح کا تہذیبی خلا تھا ، لہذا اسلام کو اپنی تہذیبی روایت کو پروان چڑھانے میں کسی  قسم کی دشواری یا رد عمل کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور نہ ہی کسی مضبوط حریف سے نبرد آزما ہونا پڑا۔

تہذیبی  خلا سے متعلق اسی سے ملتا جلتا  موقف ڈاکٹر افتخار حسین آغا  کے ہاں بھی ملتا ہے ۔چنانچہ وہ لکھتے ہیں :

انسان کی  تہذیبی تاریخ  میں اسلام کی حیثیت ایک دین ِ فطرت  ہی کی نہیں ، ایک عظیم ذہنی اورمعاشرتی انقلاب  کی بھی ہے۔اسلام کے ظہور  کے وقت  دنیا شدید تہذینی انحطاط  سے دوچار تھی ۔ آج  کا تہذیب  یافتہ   یورپ قرون ِ وسطی  کی تاریکیوں  میں ڈوبا ہواتھا ۔وادی نیل ، وادی دجلہ و فرات  او ر وادی  سندھ  کی قدیم تہذیبیں  عرو ج  پر پہنچ کر  زوا ل کا شکار  ہو چکی تھیں ۔۔۔یونانی افکار  کا سنہری  دور بھی ختم ہو چکاتھا ۔ اس عرصے میں یورپ میں مملکت ِ روما  تہذیب کی ایک نئی امید لے کر ابھری تھی لیکن ۔۔۔یہ عظیم مملکت  بھی زوال آمادہ  ہوگئی ۔اس طرح  مشرق و مغرب میں تہذیب  کاایک خلا   پیداہوگیاتھا ۔ اس خلاکو  اسلام نے نہایت کامیابی سے پُر کیا۔19

سراج منیر  بھی ظہور ِا سلام کے وقت عرب کے خطے میں ایک  تہذیبی خلا  کو محسوس کرتے ہیں ،البتہ  اس کے ساتھ ساتھ آنحضرت ﷺ کے خطوط  کےا ندر اشاعت ِ اسلام کے  تہذیبی امکانات  کو بڑی عبقری نگا ہ سے دیکھتے ہوئے لکھتے ہیں:

اسلام جس سر زمین پر  ظاہر ہو ا ،اس نے ابھی مروجہ معنوں میں  تہذیب  کے مقام تک نزول  نہیں کیا تھا لیکن وہاں  مذاہب  کی کثرت موجودتھی ۔دین ِابراہیمی کے اجز ا ظہور اسلام تک موجود تھے ، یہودیت  اطراف مدینہ  میں مستحکم تھی،ارضِ فلسطین و شام اور دوسری  طرف یمن سے عیسائیت کے اثرات  بھی  وارد  ہو رہے تھے ۔مجوسیت  کی شکل میں  آریائی مذاہب کاایک بہت بڑا مظہر  ایران میں موجودتھا  اور تجارتی قافلے  اس سے کم و بیش  آشناتھے ۔ دوسری طرف تجارتی میلوں میں ہندوؤں اور چینیوں  سے بھی عربوں  کی ملاقاتیں رہتی تھیں ۔ جزیرہ نمائے عرب  معروف  اور مروج مسالک و مذاہب سے کم و بیش  آشناتھا ۔ اس ماحول میں اسلام  ایک بہت بڑے روحانی انفجار  کے طورپر  ظاہر ہوا۔پہلے مرحلے میں اسلا م نے  اپنی مذہبی اور تمدنی  بنیادیں مستحکم  کیں اور پھر اس میں پھیلنے کا رجحان  پیداہوا۔ نبی کریم ﷺ  نے جن  بادشاہوں  کو خطوط لکھے ،ان کا مطالعہ  اشاعت ِ اسلام  کی تہذیبی  نہج  کے امکانا ت  کی طرف بہت  اہم اشارے  کرتا ہے۔20

 مارشل ہاگسن تہذیب اسلامی کے ارتقا  و تشکیل کے حوالے سے ایک اور اہم پہلو  یہ بیان کرتے ہیں  کہ آغاز میں اسلام اگر چہ ایک مذہب کے طورپر سامنے آیا  لیکن بعد میں ایک پوری تہذیب بنی جسے وہ Islamicate کےاصطلاح سے یاد کرتے ہیں۔ اپنی اس تشکیل کے لئے اسلا می تہذیب نے  اس خطے میں موجود ماقبل کے تمام انسانی ورثہ سے استفادہ کیا اور اس کے تمام اجزا کو اپنے اندر سمو لیا۔اسلام نے اس خطے کے عام کلچر ، زندگی کے طور واطوا ر اور اقدار کو ویسے ہی رہنے دیا جیسا کہ وہ تھا  ۔شروع میں تبدیلی نہایت کم سطح  پر کی گئی  اور اسلام ایک Sub Culture کے طور پر  اس تہذیبی  دھارے میں شا مل ہوا ۔اس وقت اسلامی تہذیب بطن مادر میں تھی  اور اس دور کو مصنف Gestation Period  کہتے ہیں ۔ پھر اس نے  اپنی ایک مستقل تہذیبی شناخت قائم کر لی۔

اس دورمیں اسلامی تہذیب کے ایک امتیازی پہلو  مار شل ہاگسن کے نزدیک یہ ہے  کہ اس نے دوسری تمام تہذیبوں کے بر عکس جو اس سے پہلے موجودتھیں ، حتی ٰ کہ وہ تہذیبیں جن کی یہ وارث تھی ، ان کے مذہبی متون اور لٹریچر کو اپنے ور ثے کے طور پر نہیں لیا بلکہ اپنی بنیاد بالکل الگ اور ایک نئے متن پر رکھی۔

مصنف موصوف  اموی اور عباسی دور  ِ خلافت  سے متعلق لکھتے ہیں:

Under the Marwanid caliphs and especially under the 'Abbasids who succeeded them, the barriers gradually fell away that had kept the evolution of the cultural life of the several conquered nations separated from each other and from the internal development of the Muslim ruling class. The leading social strata of the empire, of whatever background-even that minority that was not yet becoming Muslim-lived in a single vast society. Their common cultural patterns formed what can be called High Caliphal civilization.21

مروانی خلفا ء کے تحت اور خاص طور پر عباسیوں کے ماتحت جو ان کے بعد آئے ، آہستہ آہستہ وہ رکاوٹیں دور ہوگئیں جنہوں نے متعدد مفتوح قوموں کی ثقافتی زندگی کے ارتقا کو ایک دوسرے سے اور مسلم حکمران طبقے کی داخلی ترقی سے الگ رکھا ہوا تھا۔ سلطنت کا سرکردہ معاشرتی طبقہ ، اس کا تعلق کسی بھی پس منظر سے حتی کہ اس اقلیت سے جو ابھی تک مسلمان نہیں ہوئی تھی، ایک ہی وسیع معاشر ے میں رہ رہے تھے  ۔ ان کے  مشترکہ ثقافتی نمونوں نے  اس چیز کو  تشکیل دیا جس کو اعلی خلافتی تہذیب کہا جاسکتا ہے۔

مزید لکھتے ہیں:

These cultural patterns continued to be expressed, till almost the end of the period, in terms of a variety of linguistic and religious backgrounds. Syriac and Pahlavi continued to be major vehicles of high culture along with the newer Arabic. The revivifying of the Hellenic intellectual tradition, a most striking feature of the period, was marked by Greek translations into Syriac as well as into Arabic; Christians, Mazdeans, Jews, and even a group of Hellenistic pagans (at ij:arran in the Jazirah) alongside Muslims, shared in many of the concerns of the time either within their own religious traditions or across religious lines, often in co-operation with each other.22

متنوع لسانی اورمذہبی پس منظر  کے اعتبار سے تقریبا اس دور  کے اختتام تک ان ثقافتی نمونوں کا اظہار  جاری رہا ۔نئی عربی ( ثقافت )  کے ساتھ شامی  اور پہلوی تقا فتیں  اعلیٰ ثقافت کا ذریعہ  ترسیل بنی رہیں ۔یونانی دانش  ورانہ روایت  کا احیاء، جو کہ  اس دور کا اہم ترین مظہر تھا ،یونانی علوم  کے عربی اور شامی  ترجموں  کی صورت میں  سامنے آیا۔عیسائی، مزدکی ، یہودی حتی کہ  یونانی بت پرستوں کے ایک گروہ نے  مسلمانوں کے شانہ بشانہ ،اس زمانے کے بہت سے مسائل  میں دلچسپی لی اور اکثر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کیا ،چاہے وہ ان کی مذہبی روایت کے اندر ہوں یا مختلف مذہبی روایتوں کے مشترک مسائل ہوں۔

Nevertheless, it was under the common administration and protection of the Muslim caliphate that the society prospered and the civilization flowered. What brought all the traditions together increasingly was the presence of Islam.23

بہر حال ، اسلامی خلافت کے عمومی انتظام اور تحفظ کے تحت ہی معاشرے نے ترقی کی اور تہذیب پھلی پھولی۔ جس چیز نے تمام روایات کو تیزی سے ایک  دوسرے کے  قریب کیا ،وہ اسلام کی موجودگی تھی۔

پروفیسر پرویز ہود بھائی لکھتے ہیں:

ابتدائی  طورپر اسلام  کی اشاعت  کے لئے جس طرح  فتوحات  اہم تھیں ،اسی طرح دوسری تہذیبوں پر اسلامی تہذیب کی فوقیت  قائم  کرنے میں  مسلمان دانش وروں  کی شاندار  کامیابیاں  بھی خالص مقام رکھتی ہیں۔ہمیں صرف  یہ ذہن نشین رکھنا چاہیے کہ منگول  حملے ،جو بظاہر عرب فتوحات سے مشابہ  تھے ،صر ف ایک عارضی  سلطنت  قا ئم کر سکے لیکن کسی  پائیدار  اور مستقل  تہذیب  کو جنم نہ دے سکے  ۔جب منگول  حملہ آوروں  کے جتھے بالآخر  گو بی کے ریگستان واپس چلے گئے تو اپنے پیچھے تباہی و بربادی  کے سوااور کچھ  نہ چھوڑا ۔اس کے برعکس  اسلامی فتوحات  نے دنیا  کو ایک نیا تمدن دیا اور یہ تمدن مسلمانوں کا غلبہ ختم ہونے کے بعد بھی صدیوں تک  پھولتا پھلتا رہا اور جاری و ساری رہا۔24

جارج سارٹن جنہوں نے سائنس کی تاریخ پر بڑی  وقیع علمی کام کیا ہے ، مسلمانوں کے سائنس سے متعلق  رویے کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

Muslims had realized the need of science, mainly Greek science, in order to establish their own culture and to consolidate their dominion, even so the Latins realized the need of science, Arabic science, in order to be able to fight Islam with equal arms and vindicate their own aspirations. For the most intelligent Spaniards and Englishmen the obligation to know Arabic was as clear as the obligation to know English, French or German for the Japanese of the Meiji era. Science is power. The Muslim rulers knew that from the beginning, the Latin leaders had to learn it, somewhat reluctantly, but they finally did learn it. The prestige of Arabic science began relatively late in the West, say in the twelfth century, and it increased gradually at the time when Arabic science was already degenerating.25

مسلمانوں نے سائنس کی ضرورت کو محسوس کر لیا تھا، خصوصاً یونانی سائنس کی، تاکہ وہ اپنا کلچر قائم کر سکیں اور اپنے اقتدار کو مستحکم کر سکیں۔ حتی کہ لاطینیوں نے بھی سائنس یعنی عربی سائنس کی اہمیت اور ضرورت کو محسوس کر لیا تاکہ وہ اسلام کے ساتھ برابری کی بنیادوں پر لڑ سکیں اور اپنے تصورات کی تکمیل کر سکیں۔ اسپین اور انگلستان کے جو ذہین ترین لوگ تھے، ان کے لئے عربی جاننا بہت ضروری تھا، بالکل اسی طرح جیسے میجی دور کے جاپانیوں کے لیے انگریزی، فرانسیسی اور جرمن جاننا  ضروری تھا۔ سائنس طاقت ہے، مسلمان حکمران یہ بہت پہلے سے جانتے تھے۔ لاطینی قائدین  کو بھی یہ بات  گو کچھ بے دلی کے ساتھ سیکھنی پڑی ، لیکن انجام کار انہوں نے اس کو سیکھ لیا۔ عربی سائنس کی عظمت کا احساس مغرب میں قدرے تاخیر سے یعنی تقریبا بارہویں صدی میں ہوا اور اس میں  ایسے وقت میں تدریجی اضافہ ہوتا چلا گیا جب عربی سائنس  روبہ زوال ہو رہی تھی۔

عصر حاضر کے معروف مغربی  مفکر  ایس ۔پی۔ ہنٹنگٹن   نے نزدیک اسلامی تہذیب نے نہ صرف  اپنے دورِ عرو ج میں ایک وسیع خطہ ارض کو متاثر کیا بلکہ جدید  مغربی تہذیب نے بھی  کئی صالح عناصر  اس سے اخذ کر تےہوئے اپنی ترقی کی بنیاد رکھی ۔ لکھتے ہیں:

Between the  eleventh and  thirteenth centuries, Europian culture began to develop, facilitated by the  eager  and systematic appropriation of suitable elements from the  higher civilizations  of Islam and Byzantium, together with adaptation of this  inheritance to the special conditions and interests of the west.26

گیارہویں  سے تیرہویں صدی کے درمیان، یورپی ثقافت نے  آگے بڑِھنا شروع کیا جس میں   اسلام اور بازنطینی کی اعلی ٰ تر تہذیبوں  سے   اپنے مناسب حال عناصر   بہت اشتیاق سے اور منظم انداز میں اخذ کرنے کے رویے نے بہت مدد دی اور اس ورثے کو  مغرب کی مخصوص صورت حال اور مفادات کے مطابق ڈھال لیا گیا۔

ڈاکٹر  بر نارڈ  لیوس  لکھتے ہیں:

For more than a thousand years, Islam provided the only universally acceptable set of rules and principles for the regulation of public and social life. Even during the period of maximum European influences, in the countries ruled or dominated by European imperial powers as well as in those, that remained independent, Islamic political notions and attitudes remained a profound and pervasive influence. In recent years there have been many signs that these notions and attitudes may be returning, albeit in modified forms, to their previous dominance.27

ایک ہزار سال سے زائد عرصے تک  اسلام نے  پبلک اور سماجی زندگی  کی تنظیم کے لئے وہ واحد مجموعہ  اصول و ضوابط  مہیا  کیا  جو عالمی  طور پر قابل  ِ قبول تھا ۔ یہاں تک کہ جن ملکوں میں زیادہ سے زیادہ  یورپی  اثر و رسوخ  رہا ، جن پر یورپ کی حکومت رہی یا جو  ویسے  یورپ  کی شہنشاہی  طاقتوں  کے زیر تسلط رہے اور وہ بھی  جو یورپی  تسلط  سے بالکل آزاد رتھے ، وہاں  اسلام کے  سیاسی تصورات  اور رجحانات  کا گہرا  اور نفوذ پذیر اثر رہا۔  حالیہ  بر سوں میں  اس بات کے کئی اشارات  سامنے آئے ہیں کہ یہ تصورات  اور رجحانات  ، چاہے ترمیم شدہ شکل میں  سہی، دوبارہ غلبہ پا سکتے ہیں۔

اسلامی فتوحات کے عالمی تہذیب پر جو اثرا ت ہوئے ان میں سے ایک بین المذاہب رواداری  بھی ہے ۔عہد وسطی میں اسلامی سلطنت اور  یو رپ کے درمیان  جو کہ نصرانیت پر قائم تھا ، محققین نے ایک بڑا فرق یہ بتایا ہے کہ  اسلامی ریاست  کے اندر مختلف  مذاہب و ملت  کی ایک بڑی تعداد  موجود تھی ،  جبکہ عیسائی سلطنت میں رواداری  مفقود تھی ۔  مشترکہ  معیشت  اور بعض معاہدوں  کے وجود  ،رواداری  کی ایک عظیم مثال ہے اور اس کا  مظہر ملت و مذہب  کے تقابلی علم  کا آغاز تھا۔دوسرے معنوں میں  اختلاف  کے باوجود مذہب وملت  کا مطالعہ ہوتا تھا  بلکہ بطور خاص دوسرے مذاہب  کا مطالعہ بڑے شغف  سے کیا جاتا تھا۔28

ڈاکٹر فضل الرحمان  کے ہاں  بھی یہی پوزیشن نظر آتی ہے ۔وہ لکھتے ہیں :

اس میں کوئی شک نہیں  کہ بازنطین اور ایران کی عظیم الشان سلطنتوں  کی اندرونی  کمزوری نے جو پیہم باہمی جنگوں کی وجہ سے  تھک چکی اور اندر سے ایک روحانی اور  اخلاقی جمود کی وجہ سے  کھوکھلی  ہو چکی  تھیں،مسلمانوں  کی اس شاندار پیش  قدمی کی  رفتار  کوتیز کر دیا ۔ لیکن آنکھیں خیرہ  کر نےوالی پیش رفت  کے اس فینامینا  کی توجیہ محض  اس صورت ِ حال سے نہیں کی جاسکتی ۔ اس سلسلے میں یہ بھی ضروری ہے کہ  اسلامی تحریک  کے تازہ دم  اور قوت سے بھر پور  کر دار کو مناسب  اہمیت دی جائے مسلمانوں کی اس پیش  رفت  کے اصل کر دار  کے بارے میں ایک ناپسندیدہ  بحث چل پڑی  ہے اور  مسائل کو  اسلام پر تنقید کرنے   والوں نے اور سچی بات ہے ، خود مسلمانوں   کے معذرت خواہانہ  رویے نے  بھی دھندلا دیا ہے ۔  جہاں اس امر پر اصرار  کہ اسلام تلوار  کے زور  سے پھیلا  حقائق کے ساتھ مذاق  ہے ، وہاں یہ  کہنا بھی  حقائق کو توڑ نا مروڑنا ہے کہ  اسلام اسی طرح پھیلا جس طرح کہ  بدھ مت اور عیسائیت  پھیلے تھے ۔ اس کے باوجود کہ عیسائیت نے وقتا فوقتا  حکومت کی طاقت  استعمال کی تھی ۔ اس معاملے کی اصل توجیہ  اسلام کے ڈھانچے  کی اس خصوصیت  میں ہے کہ  وہ مذہب  اور سیاست کا امتزاج ہے ۔ جہاں یہ کہنا  صحیح ہے کہ  مسلمانوں  نے اپنا مذہب  تلوار  کے زور سے نہیں پھیلایا ، وہاں  یہ بات بھی  سچ ہے کہ اسلام  نے سیا سی طاقت  کے حصول پر زور دیا۔  اس لیے کہ یہ اپنے آپ کو  خداکے ارادے  کا محافظ  سمجھتا تھا ،جو زمین پر ایک سیاسی  نظام کے ذریعے ہی نافذ ہو  سکتا تھا ۔ اس نقطہ نظر سے اسلام اشتراکی ڈھانچے  سے مشابہت  رکھتا ہے ، جو اگر لوگوں کو اپنا مسلک  قبول کر نے پر مجبور  نہ بھی کرے، پھر بھی وہ سیاسی  طاقت کوہاتھ میں لینے  پر ضرور زور دیتا ہے ۔ اس حقیقت سے انکار کر نا تاریخ کے خلاف  جانا ہوگااور اس سے خود  اسلام کے ساتھ بھی انصاف  نہیں ہو سکے گا۔ہمارے نزدیک  اس میں ذرہ برابر  شک نہیں کہ اس حقیقت  نے اسلام  کے عقیدہ مساوات انسانی اور وسیع انسانی دوستی  کے جبلی خصائص  کے ساتھ مل کر  مفتوحہ قوموں  میں اسلام  کے نفوذ  کے عمل کو تیز  کر دیاتھا۔29

گزشتہ صفحات میں یہ بات  تفصیل سے واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ  عقید ہ یا اخلاقی  پیغام کےپھیلاؤ اور انسانی تاریخ  میں وسیع  اثرات مرتب  کرنے  کے لئے بھی  سیاسی غلبہ و طاقت  کی چھاؤں در کا رہوتی ہیں  اور یہ بات بھی واضح ہوئی کہ  دعوت یا عقیدے  میں سیاسی طاقت کی نفی یا اس  کی اہمیت کو کم کر نا درست نہیں۔

  اس کو آج کے تناظر میں یو ں سمجھا جا سکتاہے کہ  آج ان اقدار کو جنہیں  پوری دنیا میں اچھی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے یا کم از کم  پوری توجہ دی جارہی ہے ، جیسے حقوقِ انسانی ، مساوات  مر دوزن ، آزادی رائے ، مذہبی آزادی ،سیکولرازم وغیرہ ،کیا ان سب کو مغر ب کی سیاسی بالادستی اور طاقت کے دباؤ سے ہٹ کر  اس طرح دیکھا جاسکتا ہے؟اسی طرح اسلام نے جو عقیدہ پیش کیا ،جو قدریں پیش کیں ،ان کے دنیامیں متعارف ہونے میں اور مقبولیت  حاصل کرنے میں سیاسی طاقت کا کر دار  رہا ہے، ایسے ہی جیسے آج ہم ان چیزوں کو ویلیو (Value)مان رہے ہیں جومغرب کی سیاسی طاقت کے بغیر نہیں ہو سکتیں ۔ جن چیزوں کو ہم قدر یا اچھی چیزیں مانتے ہیں یا کچھ تہذیبی Contribution سمجھتے ہیں تو اس میں اور ان کی قبولیت میں طاقت کا دخل لازما ہوتا ہے۔

غر ض ایسےبے شمار پہلو  پیش کیے جاسکتےہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ  عرب فتوحات (Arab Conquests) اور  توسیع سلطنت  (Expansions) کا  اسلامی تہذیب کی تشکیل وارتقا میں بنیادی کر دار رہا ہے۔ یہ تہذیب دنیا کے ایک وسیع خطے پر نہایت گہرےمذہبی، سماجی، سیاسی ، اخلاقی ، تمدنی ، علمی ،معاشی اور انتظامی اثرات مرتب کرنے میں کامیا ب رہی۔ذرا  سوچئے کہ تہذیبی سطح پر اتنی بڑی سر گرمی کو عرب فتوحات  سے الگ کر کے دیکھا  جاسکتا ہے ؟کیا صدیوں پر محیط  یہ تہذیبی تعامل اور اس کے دیر پا اور دوررس اثرات و ثمرات  میں اسلامی فتوحات  اور مسلمانوں کی سیاسی حاکمیت  کے کر دار  کو  خارج کیا جا سکتا ہے ؟گویا تاریخ اسلامی  کے تشکیلی دور  کا مطالعہ اگر اس تناظر میں کیا جا ئے جس کی طرف ان سطور میں توجہ دلانے کی ایک ابتدائی کوشش کی گئی ہے تو یقینا  عقیدہ ،  تہذیبی اثرات اور فتوحات  وسیاسی طاقت کے مابین  تعلق کی تفہیم کا نیا زاویہ سامنے آئے گا ۔اسلامی  تاریخ میں مسلمانوں کی فتوحات  اور ان کے نتیجے میں سیاسی حاکمیت  ، یہ ایسی چیزنہیں ہےکہ  ہم اس پر شر مندہ ہوں  یا اس کی تفہیم کا کوئی زوایہ ہی ہمارے پا س موجود نہیں ہے۔


مصادر و مراجع


حواشی

(1) محمد اقبال،کلیات ِ مکاتیب ِ اقبال ،اردو اکادمی دہلی،2010، ج: 2 ،ص: 234-236

(2) پیٹریشیا کرون امریکی نزاد  یہودی مصنفہ ،مستشرقہ تھیں ۔ ان کامیدانِ تحقیق تاریخ  اور خصوصا ََ ابتدائی تاریخ ِ اسلام تھا ۔ پیٹریشیا کرون کی علمی زندگی کا سب سے اہم موضوع اسلامی مصادر کی تاریخی حیثیت کا بنیادی سوال تھا جس کا تعلق آغازِ اسلام سے ہے ۔ ان کے دو مشہور علمی کاموں کا موضوع: ہیگر ازم اور مکہ تجارت ہے ۔ ہیگر ازم کے تین دہائیوں بعد ، فریڈ ڈونر نے پیٹریشیا کرون  کے کام کو اسلام کے استشراقی مطالعے  کے میدان میں "سنگ میل" قرار دیا۔مصنفہ نے اپنی کتاب ہیگر ازم میں اپنے ساتھی  مائیکل کک (Michael Cook)کے ساتھ مل کر اسلام کی ابتدائی تاریخ کے بارے میں ایک نیا تجزیاتی مطالعہ پیش کیا ہے ۔انہو ں نے آغازِ اسلام  کی پوری تصویر غیر عرب مصادر سے تیار کرنے کی کو شش کی ہے جو زیادہ تر  آرمینی ، یونانی ، آرامی اور سریانی زبانوں میں لکھے گئے تھے  ۔انہوں نے اسلام کے آغاز کی ایک کہانی کی تشکیل نو کی جو  اسلامی روایات کی کہانی سے مختلف ہے۔ کرون اور کوک نے دعویٰ کیا کہ عرب قیادت میں مشرق کی مختلف مشرقی تہذیبوں کے ملاپ کے  مطالعے کے ذریعےوہ اس بات کی وضاحت کر سکتے ہیں کہ اسلام کیسے وجود میں آیا۔

(3) بد ھ مت کو  جب دو ہندو راجاؤں ،اشکوک اعظم اور کنشک، جنہوں نے خود یہ مذہب اختیار کرلیا ، کی سر پر ستی حاصل ہوئی تو اس دور میں دنیا کا سب سے بڑامذہب بن گیا ۔ یوں اس سیاسی پشت  پناہی کی بدولت  دنیا کے ایک بہت بڑے خطے پر  اثرات ڈالنے میں کامیاب ہوا۔ آ ج بھی جاپان سے لے کر کا بل تک  اس کے آثار اس بات کی گواہی دے رہے ہیں۔موجود دور میں بھی اس کا شمار دنیا کے بڑے مذاہب میں ہوتا ہے ۔اسی طرح مسیحیت کو دیکھیے تو حضر ت مسیح کے بعد تقریبا  تین صدی تک  ان کا کوئی پرسان ِحال نہ تھا۔ ہر طرف انہیں دھتکارا جاتا تھا تاآنکہ  رومی سلطنت نے خود عیسائیت قبول کرلی اور  اور سلطنت کے زیر نگین علاقوں نے  جو تقریبا تین  بر اعظموں ایشیا ، یورپ اور افریقہ تک پھیلے ہوئے تھے ، مسیحیت قبول کرلی ۔اسی کے اثرات ہیں کہ آج بھی دنیا کا سب سے بڑا مذہب مسیحیت ہی ہے۔

(4) Crone, Patricia. Hagarism, p. 130.
(5) Ibid, p. 10.
(6) Ibid, p. 77.
(7) https://kavvanah.wordpress.com/2012/06/04/
how-islam-saved-the-jews-david-wasserstein/(
Accessed 01-04-2020).
(8) Dimitri Gutas. Greek Thoughts, Arabic Culture, p:11
(9) Ibid, p:11-12.
(10) Dimitri Gutas. Greek Thoughts, Arabic Culture, p:13.
(11) Ibid, p. 13.

(12)  پرویز ہود بھائی ، مسلمان اور سائنس ، ص: 138

(13)  ایضا ََ ، ص: 142

(14) Ibid, p:74.

(15) ڈاکٹر فضل الرحمٰن ،اسلام ،ص:10

(16) ڈاکٹر فضل الرحمٰن ،اسلام ،ص:13

(17) ایضا

(18) زیغرید ھونکہ،  شمس العرب تسطع علی الغرب،ص:401

(19) ڈاکٹر افتخار حسین آغا،قوموں کی شکست و زوال  کے اسباب کا مطالعہ ، ص : 51

(20) سراج منیر، ملت ِ اسلامیہ : تہذیب و تقدیر  ، ص : 88

(21) Marshall G.S Hodgson۔ The Venture of Islam, Vol-1, p. 235.
(22) Ibid.
(23) Marshall G.S Hodgson. The Venture of Islam,Vol-1, p. 235.

(24)  پرویز ہود بھائی ، مسلمان اور سائنس ، ص: 163

(25) George Sarton, A Guide to the History of Science: A First Guide for the Study of the History of Science, with Introductory Essays on Science and Tradition, Chronica Botanica, 1952, p. 30.
(26) Huntington, The clash of civilizations and remaking of world order, p. 50.
(27) Bernard Lewis, The Crisis of Islam, Phoenix, London,2003, p. 11.

(28) آدم میٹز(Adam Matez)، الحضارۃ الاسلامیہ فی القرن الرابع الہجری،ترجمہ : محمد علی ابو ریدۃ، القاہرۃ، 1940، ج:1،ص:55-96

(29)  ڈاکٹر فضل الرحمان ،اسلام ،ص:10



فری لینسنگ: تعارف، اخلاقیات اور احکام

مولانا مشرف بيگ اشرف

باسم ربي الأكرم الذي علم بالقلم علم الإنسان ما لم يعلم، وصلی اللہ علی نبيہ الأكرم! أما بعد!

فری لینسر  کی اصطلاح  والٹر سکاٹ (1771–1832)   کی طبع زاد ہے انہوں نے ایک کہانی " ايفانہو" لکھی (اس کہانی کےسورما کے نام   سے اسے موسوم کیا)۔ انہوں نے    یہ اصطلاح قرون میانہ کے ایسے جنگجوکے لیے استعمال کی  جس نے باقاعدہ فوج کا حصہ بن کر حلف نہیں لیا ہوتا  تھا۔ چناچہ یہ اصطلاح دو الفاظ کا  مرکب ہے:

۱: فری (Free)  یعنی آزاد (اس لیے فری لینسنگ کا تعلق "مفت" سے نہیں بلکہ "آزادی" سے ہے۔)

۲: لینس (Lance)۔ یہ لفظ دراصل  لاتینی زبان کے لفظ Lancea  سے بنا ہے جس کا مطلب   چھوٹا نیزہ ہے۔1

موجودہ  دور میں یہ ایسے لوگوں کے لیے برتی جاتی ہے جو کسی ادارے یا بندے کے ساتھ طویل المیعاد  معاہدے میں نہیں بندھتے، بلکہ ان کا رشتہ محض ایک  منصوبے کی تکمیل کے لیے ہوتا ہے۔ عام طور سے،  ان میں کسی خاص جگہ سے کام کرنے کی قید نہیں ہوتی۔ نیز کسی وقت  کی پابندی بھی نہیں ہوتی کہ نو سے پانچ تک ہی کام کرنا ہے۔  البتہ ایک مدت مقرر ہوتی ہے جس میں اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانا  ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے یہ "اجیر "ہی ہوتے ہیں جو ایک مخصوص خدمت مہیا کرتا ہے ۔ اور عام طور سے یہ  - اگر ہم فقہی زبان میں بات کریں - اجیر مشترک ہی ہوتے ہیں جس میں معقود علیہ معین وقت نہیں ہوتا بلکہ "منفعت" ہوتا ہے۔

کیمبرج کی قاموس میں اس کی تعریف کچھ یوں ہے کہ:

"ایک مخصوص ادارے کے بجائے بیک وقت مختلف  اداروں کے لیے کام کرنا"2

چنانچہ اسی مناسبت سے  فری لینس صحافی بھی پائے جاتے ہیں ۔

پھر انٹرنٹ کے آنے کے بعد، برقی منڈیاں وجود میں آ گئیں  جہاں مختلف لوگ اپنی خدمات  پیش کرتے اور صارفین انہیں حاصل کرتے ہیں۔ اور یہی برقی منڈیاں فری لینسنگ پلیٹ فارمز(Freelancing Platforms)  کہلاتی ہیں۔ ان برقی منڈیوں کا مقصد محض لوگوں کو جوڑنا ہوتا ہے  اور اس کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ:

۱:  صارف ایک منصوبہ شروع کرتا ہے جس میں وہ اپنی ضرورت بیان کر، وہاں موجود  خدمیات مہیا کرنے والوں کو بولی کی دعوت دیتا ہے۔

۲: پھر دلچسپی رکھنے  والے بولی لگاتے ہیں ۔

۳: صارف کو  جو مناسب لگے، اس سے  ایک برقی کھڑکی کے  ذریعے گفت وشنید کرتا ہے۔

۴:  اگر ان کا اتفاق ہو جائے، تو  صارف اس کی بولی قبول کرلیتا ہے۔

۵: جیسے ہی دونوں طرف سے ایجاب وقبول ہو جائے،  منڈی کا خود کار نظام دونوں کےکھاتوں سے اپنی اجرت وصول کر لیتا ہے جو عام طور سے دس فیصد سے بیس فیصد تک ہوتی ہے۔

۶: اس کے بعد، عام طور سے،  صارف وہ مبلغ جو اس منصوبے کی تکمیل پر اس نے مہیا کرنا ہوتی ہے، اسے ایک "برقی پوٹلی" میں رکھوا دیتا ہے۔ اس کے لیے Escrow  کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے جو دراصل ایک  قدیم قانونی اصطلاح  ہے  اور ایسے  ضمانت نامے کے لیے استعمال کی جاتی ہے جسے فریقین کسی تیسری فریق کے پاس رکھوا دیتے تھے اور طے یہ ہوتا تھا کہ جب کوئی مخصوص شرط پوری ہوجائے، تو اسے  ان فریقین یا ان میں سے کسی ایک کے حوالے کیا جائے۔ لیکن  موجودہ  برقی منڈیوں میں دراصل   باقاعدہ پیسے رکھے  جاتے ہیں جو برقی منڈیوں سے وابستہ کھاتوں میں چلے جاتے ہیں۔ اس میں اصول یہ ہوتا ہے کہ صارف جو اس پوٹلی میں   پیسے رکھتا ہے وہ اس کا دہانہ کھول اسے خدمت گزار کے کھاتے میں انڈیل سکتا ہے جو اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ منصوبہ پورا یا جزوی مکمل ہوا۔  اور خدمت گزار کے پاس یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ انہیں واپس صارف کے کھاتے میں  منتقل کر دے۔ جو عام طور سے اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ منصوبہ منسوخ ہو گیا اورخدمت گزار اس پر راضی ہے اس لیے اس نے  یہ پیسے واپس کر دیے۔  نیز بعض اوقات پیسوں کو کچھ حصوں میں تقسیم کر کے "سنگ میل"بنا دیے جاتے ہیں۔ جونہی ایک سنگ میل تک پہنچے، اس سے وابستہ مبلغ خدمت گزار کے کھاتے میں صارف منتقل کر دیتا ہے اور یوں اگر آگے کچھ اختلاف ہو جائے، تو خدمت گزار نے جتنا کام کیااسے کم از کم اس کا محنتانہ مل جاتا ہے۔

۶: اس کے بعد، خدمت گزار   منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچاتا ہے۔

۷: البتہ جہاں انسان ہیں وہاں نزاع ہے اور وہیں فصل نزاع کی ضرورت بھی پیش آتی ہے۔  اس لیے، ان منڈیوں میں فصل خصومات کا بھی انتظام ہوتا ہے۔ اگر کوئی فریق درخواست دائر کرے، تو ان کا نمائندہ اس منصوبے اور  برقی کھڑکیوں سے کی گئی گفت وشنید کی روشنی میں  فیصلہ کرتا ہے۔ جو یہ مقدمہ ہار جائے، اسے فصل نزاع کی اجرت ادا کرنی ہوتی ہے۔

۸: نیز ان میں کارکردگی پیما بھی نصب ہوتا ہے جس سے صارف اور خدمت گزار کا رویہ اور کارکردگی وغیرہ جانی جا سکتی ہے جس میں وقت پر کام کرنا، وقت پر پیسے ادا کرنا ، منصوبے مکمل کرنے کی اوسط شرح وغیرہ شامل ہیں۔ اسی میں ، ہر منصوبے کے اختتام پر ، فریقین کو ایک دوسرے کی بابت تبصرے کا موقع بھی ملتا ہے جسے بعد والے لوگ دیکھ کر اس کی بابت رائے قائم کر سکتے ہیں اور کارکردگی پیما کی سوئی بھی اس کے مطابق اوپر نیچے جاتی ہے۔

بعض برقی بازاروں میں  کچھ فرق بھی ہوتا ہے۔ جیسے بعض جگہوں پر خدمت مہیا کرنے والے اپنا برقی ٹھیا لگا لیتے ہیں اور صارف  ان کے سابقہ تکمیل شدہ کام و کارنامے دیکھ کر   ان کی خدمات کی خود درخواست کرتا ہے۔ ایک مشہور برقی بازار fiverr میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ باقی بنیادی طور سے اسی طرح کام ہوتا ہے جیسے اوپر بیان کیا گیا۔

بلاشبہ، ان منڈیوں کا  تیسری ممالک کے لوگوں کو فائدہ ہے کہ انہیں اس سے ذریعہ معاش مل جاتا ہے اور مقامی بے روزگاری  کے حل میں اس کا ایک اچھا کردار ہے۔ لیکن ترقی یافتہ ممالک کو اس کا سب سے زیادہ فائدہ ہوتا ہے کہ مثلا اگر  وہ مقامی   پروگرامر کی خدمات لیں تو انہیں ایک گھنٹے کے پچھتر سے سو ڈالر  تک ادا کرنے پڑیں لیکن ان ممالک والے اس سے آدھے میں بھی کر دیتے ہیں۔ بلکہ انڈیا اور پاکستان میں بعض لوگ دس سے پندرہ تک میں بھی کر دیتے ہیں۔ بہر حال، یہ ایک اضافی چیز ہے جس سے سرسری گزر کر ہم اپنی مقصد کی طرف بڑھتے ہیں جو ان برقی منڈیوں کی  فقہی حیثیت کا تعین   کرتے   ہوئے ایک مسئلے کا تعین ہے۔

ہمارے سامنے اس وقت جو سوال ہے وہ یہ کہ  ان منڈیوں میں جب خدمت مہیا کرنے والا کسی  کے ساتھ کام مکمل کر لیتا ہے، تو اس کا اس صارف سے براہ راست تعلق قائم ہو جاتا ہے اور بعض اوقات وہ منڈی سے باہر آ کر مزید  معاہدات کر ان کی تکمیل کرتے ہیں اور   اس کی اجرت براہ راست   بینک میں (Bank wire)  منتقل کر دی جاتے ہے یا  ویسٹرن یونین جیسے برقی  ڈاکیوں کے ذریعے  بھجوا دی جاتی ہے ۔ کیا  خدمت گزار کے لیے اس منڈی سےباہر آ کر  اس سے رابطہ روا ہے؟ اور اسی ضمن میں ان منڈیوں سے وابستہ  اخلاقیات بھی زیر بحث ہوں گے۔

ہمارے تعارف سے واضح ہے کہ فری لینس سے وابستہ ڈیرے دراصل برقی منڈیاں ہیں جو لوگوں کو ایک ایسی جگہ مہیا کرتی ہیں جہاں وہ مختلف خدمات مہیا کر سکیں اور  منڈیوں کے  چلانے والے اس پر اپنا کمیشن (جعل) وصول کرتے ہیں۔ اس لحاظ سے  ان کا اس پر آنے والے لوگوں  سے رشتہ دراصل سمسار  اور وسیط کا ہے ۔  یہ محض تعلق بنوا لینے پر پیسے وصول کر لیتے ہیں۔

ایک مشہور منڈی کا یک جملی تعارف ملاحظہ کیجیے:

Upwork, formerly Elance-oDesk, is an American freelancing platform where enterprises and individuals connect in order to conduct business.

یہاں کلیدی شبد "Platform"  اور "connect"  ہیں۔

نیز مشہور بازار  Freelancer.com  کے قواعد وضوابط میں خدمت مہیا کرنے والوں کے حوالے سےکوئی ایسی شرط موجود نہیں کہ اگر وہ کام منسوخ کریں تو انہیں پیسے واپس مل جائیں گے۔ یہ شرط بہر حال موجود ہے کہ اگر  صارف نے اضافی پیسے ادا کیے، تو بازار کاخود کار نظام اس میں اپنا حصہ لے گا، لیکن منسوخی کے وقت پیسوں کی واپسی اس میں شامل نہیں۔ اور عملا بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔خدمت مہیا کرنے والوں کی شرائط ملاحظہ ہوں:

" For fixed price projects, if you are awarded a project, and you accept, we charge you a small project fee relative to the value of the selected bid, as an introduction fee. If you are subsequently paid more than the original bid amount, we will also charge the project fee on any overage payments.
For hourly projects, the fee is levied on each payment as it is made by the employer to you.
The fee for fixed price projects is 10% or $5.00 USD, whichever is greater, and 10% for hourly projects."3

البتہ  صارف کو یہ اختیار دیا جاتا ہے کہ سات دن تک اگر وہ منصوبہ منسوخ کر دے، تو اسے پورے پیسے مل جائیں گے۔ چنانچہ اس صفحے پر آتا ہے کہ:

You may cancel the project from your dashboard at any time for up to seven (7) days after the project has been accepted for a full refund of your fee.

بلاشبہ، اس   مبلغ  واپس کرنے میں کچھ تفصیل ہے جو عملا سامنے آتی ہے ۔ لیکن اس کے باوجود یہ ایک اضافی سہولت ہے کہ سات دن تک وہ منسوخ کر کے پیسے لے سکتا ہے۔ اس کے بعد نہیں۔

خلاصہ یہ ہے کہ یہاں پیسے محض تعلق   بنوانے اور "رشتہ کروانے" کے ہیں۔

اس تنقیح کے بعد ہم اپنے سوال کی طرف آ جاتے ہیں ۔ ان منڈیوں کا نظام دو شرطیں عائد کرتا ہے جو ہمارے سوال سے وابستہ ہیں:

پہلی شرط: رابطہ نہ کرنا

 پہلی شرط یہ ہے خدمت گزار اس منڈی سے باہر کسی صارف سے رابطہ نہیں کرے  الا یہ کہ وہ اسے پہلے سے جانتا ہو۔ ان کے الفاظ مندرجہ ذیل ہیں:

Unless you have a prior relationship with a User, you must only communicate with Users via the Website. You must not, and must not attempt to, communicate with other Users through any other means including but not limited to email, telephone, Skype, ICQ, AIM, MSN Messenger, WeChat, SnapChat, GTalk, GChat or Yahoo.4

لیکن یہاں سوال یہ جنم لیتا ہے کہ  آیا  "سمسار" یا "وسیط" ایسی کوئی شرط عائد کر سکتا ہے کہ  جن کا اس  کے وسیلے سے تعلق بنا وہ مستقبل میں کبھی بھی براہ راست  کوئی معاملہ نہیں کر سکتے  ؟

ادنی غور وخوض سے واضح ہے کہ یہ شرط  اس منصوبے  یا  عمل سے بالکل غیر متعلق ہے۔ بلکہ  آپ غور کیجیے کہ  اس عقد کے الفاظ میں کتنا عموم ہے کہ:

"communicate with other Users "

اس کے ظاہر کا تقاضا یہ ہے کہ اگر کچھ لوگوں کی  گفت وشنید میں دوستی ہو جائے، تو وہ  آپس میں کسی سلسلے میں بھی بات نہیں کر سکتے، ایک دوسرے کو سندیس نہیں بھیج سکتے۔ مثلا اگر انہیں علم الکلام یا فلسفے کا شوق تھا جو اس گفتگو میں ظاہر ہوا تو وہ آپس میں اس حوالے سے بات بھی نہیں کر سکتے (یہ صرف فرضی مثال نہیں، بلکہ ایسا عملا ہوتا ہے)۔ اسی طرح کی اور بہت سے مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں ۔

اگر یہ کہا جائے کہ یہاں  شرط سے مقصود صرف کاروباری مقاصد کے لیے ملنا ہے جس کی تخصیص کی ، اگرچہ،  کوئی وجہ نہیں اور ان منڈیوں کے  ساہوکاروں کا مقصد بھی یہی ہوتا ہے کہ یہ لوگ کسی بھی طرح آپس میں  اس برقی کھڑکیوں کے علاوہ بات چیت نہ کر سکیں  جس  میں کبھی بھی  وہ جھانک سکتے ہیں، تو سوال پھر عود کر آئے گا کہ  اس مخصوص منصوبے کے علاوہ ، جس کے دونوں فریقوں نے پیسے ادا کر دیے، کسی اور منصوبے کے لیے روکنا کس طرح  روا ہے  جبکہ وہ عقد سے بالکل غیر متعلق ہے۔

یہاں شاید، آپ کے ذہن میں یہ سوال انگڑائی لے کہ  کیا جب مسلمان کسی معاہدے پر ہاں کہہ دے، تو اس پر لازم نہیں ہو جاتا ؟ کیا اللہ کے نبی   صلی اللہ علیہ وسلم  نے نہیں فرمایا جو بخاری مسلم جیسے کتابوں میں آیا ہے کہ :

"المسلمون عند شروطھم"5 (مسلمان اپنی وضع کردہ شرطوں کی پاسداری کرتے ہیں)

اس پر میں یہ عرض کروں گا کہ معاملہ اتنا سادہ نہیں۔ بلکہ حدیث کا یہ ٹکڑا   مقید ہے۔ چناچہ علامہ قسطلانی نے یہ روایت نقل فرما کر فورا کہا کہ:

أي الجائزة شرعا (یعنی وہ شرطیں جسے شریعت نے بھی روا رکھا ہو)

چناچہ کیا آپ نے بی بی بریرہ  ، رضی اللہ تعالی عنہا ،کا مشہور واقعہ نہیں سنا جو بخاری میں ہے کہ جب بی بی عائشہ  ، رضی اللہ تعالی عنہا ،   نے انہیں خرید نا چاہا تو ان کے بیچنے والوں نے  یہ شرط لگائی کہ ولا انہیں کی ہو گی اور انہوں نے اصرار کیا۔  اس پر ، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم  برہم ہوئے اور بی بی عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا ،سےفرمایا کہ: "خرید لو، ولا کی شرط  بھی لگا لو۔ ولا  بہر کیف اسی کی ہے جو آزاد کرے"۔6

اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ کچھ شرطیں ایسی ہیں جو کالعدم ہو جاتی ہے لیکن اس سے عقد پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔

شاید اس پر آپ یہ کہیں کہ  یہاں ولا کا حق اللہ تعالی نے کسی کو دیا ہی نہیں، اس لیے یہ شرط کالعدم ہے۔ لیکن زیر بحث شرط اس قبیل سے نہیں۔ اس پر عرض یہ ہے کہ ہم دین کو فقہا کے منہج کے تحت سمجھتے ہیں   اور فقہا نے جہاں شرطیں بیان فرمائی ہیں وہاں وہ صاف الفاظ میں لکھتے ہیں کہ  کچھ ایسی ہیں جو اگر عائد کر بھی دی جائیں، تو قانون کی نگاہ  میں وہ کالعدم   ہیں اور انہیں ماننے والا اخلاقی طور سے اس کا  پابند نہیں۔ اس کی دو مثالیں پیش خدمت ہیں:

۱: علامہ قدوری اپنی مختصر میں فرماتے ہیں کہ اگر کسی نے باربرداری کا جانور کرائے پر دیتے ہوئے یہ شرط عائد کی کہ   اس پر ایک من گندم لادو گے، تو اس پر   بوجھ اور باربرداری میں گندم جیسی کوئی اور چیز بھی لادی جا سکتی ہے۔ "گندم" کا کہنا  (تسمیہ)کالعدم ہو گا۔   بلاشبہ، یہ عرف ورواج میں دیکھ   کر فیصلہ ہوتا ہے کہ  کسی چیز سے  فرق پڑتا ہے یا نہیں لیکن مقصود یہ دکھانا ہے کہ اگرچہ  عقد میں اس کا ذکر ہے، لیکن   اس کی کوئی حیثیت نہیں اور  کرایے پر لینے والا اس کا پابند نہیں۔7

۲: نیز فقہا فرماتے ہیں کہ اگر کسی نے کوئی جانور بیچا اور یہ شرط عائد کی کہ اسے وہ آگے نہیں بیچے گا ، تو  ظاہر الروایہ کے مطابق شرط باطل اور سودا درست جیسا کہ علامہ سرخسی  رحمہ اللہ تعالی نے اس کی تصریح فرمائی ہے۔  قاضی ابو یوسف رحمہ اللہ تعالی سے ایک روایت ایسی منقول ہے جس میں سودا  باطل ہوتا ہے، لیکن  حنفی فقہا نے اپنی ترجیح کا وزن اس کے پلڑے میں نہیں ڈالا۔8

شاید یہاں آپ کہیں کہ یہ شرط اس لیے  لغو ہے کہ اس میں  بائع یا مشتری کا  نفع نہیں جبکہ برقی منڈیوں کا مقصد ان منڈیوں سے فائدہ اٹھانا ہوتا ہے جیسا کہ آپ نے خود اوپر ان "ساہو کاروں" کے حوالے سے کہا۔

اس پر عرض یہ ہے کہ یہ بات درست ہے کہ اس شرط کے گرنے کی وجہ وہی جو آپ نے بیان کی۔ لیکن اگر  اس سے یہ مراد لیا جائے کہ شرط لگانے والے کے ذہن میں مستقبل میں کسی بھی قسم کا نفع  لینے کے امکان کی نفی مراد ہے، تو فقہا کی  اس  مثال پر بھی اشکال پیدا ہو جاتا ہے۔ چناچہ دیکھیے ایک بندے کو اپنی چیز بہت پسند ہے اور وہ اسے مجبوری میں بیچتا ہے اور ساتھ ہی یہ لاگو کرتا ہے کہ تم اسے بیچو گے نہیں  اور اس کے من میں یہ ہے کہ جلد ہی وہ اپنی یہ قیمتی چیز اس سے واپس خرید لے گا اگرچہ  کچھ زیادہ قیمت دینی پڑی۔ پر اگر  اس نے آگے بیچ دی، تو وہ کہاں اس کے لیے سرگرداں رہے گا۔بلاشبہ، یہ بھی ایک گونہ نفع ہے۔ لیکن اس طرح  کے امکانات کا فقہا نے لحاظ نہیں فرمایا۔ بلکہ محض وہ "نفع" مراد ہے جو براہ راست  ہو۔ چناچہ ہماری مثال میں دیکھیے کہ یہ ساہوکار اس طرح کی شرطیں لگا کر مستقبل کا نفع ہی محفوظ کرنا چاہتے ہیں۔ خلاصہ کلام یہ کہ یہ شرط لگانا ایسا ہی ہے کہ رشتہ کروانے والی دونوں خاندانوں سے، جن کا اس نے ملاپ کروایا، کہے کہ "آئندہ بھی اگر تم لوگوں نے آپس میں رشتہ کیا تو مجھے بیچ میں لانا" (یعنی بس فیس دے دینا، دوسرے الفاظ میں)۔ ظاہر ہے کہ اسے ایک مضحکہ کہا جا سکتا ہے لیکن اس شرط کی کوئی حیثیت نہیں۔

اس لیے، بندے کے ہاں ان برقی منڈیوں کے اس نفع کی کوئی حیثیت نہیں اگرچہ وہ اسے عائد کر دیں اور اگرچہ خدمت گزار کو معاہدے میں اس شرط کی ڈور سے باندھا گیا ہو۔

یہاں آگے بڑھنے سے پہلے میں اس مسئلے کی ایک اخلاقی اور کلامی جہت پر بھی بات کرنا چاہوں گا کیونکہ بعض وہ دماغ جو تجرید  ی وفکری بالاخانوں میں محو استراحت ہوتے ہیں اور منڈی کی    تلخی وسختی سے انہیں کوئی یارا نہیں ہوتا ، اس طرح کی باتیں   ان کی اعلی اخلاقی اقدار  کو کچوکے لگاتی ہے  اور وہ یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ جسے اتفاق نہیں وہ جائے اور ان چیزوں سے فائدہ نہ اٹھائے۔ لیکن حقیقت میں یہ اسلام کی حقیقت پسندی ہے کہ اس نے ساہوکاروں، سرمایہ داروں اور وہ لوگ جن کے ہاتھ میں ذرائع کی لگام   ہے، انہیں کھلی چھٹی نہیں دے دی کہ وہ اس طبقے کا استحصال کرتا رہے جو نان جویں کے لیے اس   عالم اسباب میں ان کے در کا سوالی ہے۔ چناچہ  اس طرح کے لوگ ایک جتھا (کارٹل)بنا کر اپنی مرضی کی شرطیں عائد کر دیں اور چونکہ ہر منڈی کا کرتا دھرتا اس جتھے کا حصہ ہے اس لیے ہر بندہ اسے ہی ، ان ساہو کاروں کی شرائط پر،  استعمال کرنے پر مجبور ہو جائے جیسا کہ شوگر ملز وغیرہ کے مالکان کرتے ہیں۔ اس لیے، اسلام نے   ایک طرف "المسلمون عند شروطهم"  کا خوبصورت اصول دیا اور دوسری طرف اس   کابھی خیال کیا کہ یہ دائرہ لا تعین  نہ بن جائے  بلکہ اس پر قدغن لگا دی۔

آگے بڑھنے سے پہلے یہ کہنا برمحل ہو گا کہ فقہا کے ہاں جس شرط میں بائع، مشتری یا مبیع (یہ محض غلام کی صورت میں ہے) کا نفع ہو اس سے بیع فاسد ہو جاتی ہے، ورنہ شرط گر جاتی ہے۔

دوسری شرط:  رابطہ کے ذرائع کا تبادلہ

دوسری شرط ان منڈیوں  کے طرف سے  یہ  بھی عائد کی جاتی ہے کہ صارفین اپنا پتہ وغیرہ ایک دوسرے کو نہیں دیں گے۔ چناچہ ان کے الفاظ پر غور کیجیے:

You must not post your email address or any other contact information (including but not limited to Skype ID or other identifying strings on other platforms) on the Website, except in the "email" field of the signup form, at our request or as otherwise permitted by us on the Website.9

اس شرط کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ لوگ   ان منڈیوں کی برقی کھڑکیوں  میں اپنے رابطے کا طریقہ ایک دوسرے کو نہیں بتائیں گے اپنے برقی پتے ایک دوسرے کو نہیں دیں گے ۔

اور جو یہ کہا گیا کہ:

except in the "email" field of the signup form

تو اس سے مقصود اس کا خود کار نظام ہے جس میں خدمت گزار اپنی معلومات ڈالتا ہے جو صارفین کی پہنچ سے کوسوں دور ہوتی ہے۔

بلاشبہ، اس شرط کی پاسداری ایک مسلمان پر ضروری ہے کیونکہ اس شرط کا  مقصد یہ ہے کہ وہ منڈیاں   ایک برقی کھڑکی  مہیا کر رہی ہیں جس سے  فریقین گفت وشنید کر سکتے ہیں۔ اور ان کی اس سہولت پر وہ بات کرنے کی اجازت نہیں ہو گی جس سے انہوں نے منع کیا کیونکہ یہ اس  منصوبے ہی کا حصہ ہے  اس سے باہر نہیں۔ لیکن یہاں بھی  ایک مسلمان کے لیے دو باتیں ہیں:

ا:  اس کے لیے بلاشبہ، یہ روا نہیں کہ اپنا سراغ وہاں دے یا اس سے مانگے۔

۲: لیکن بعض اوقات  صارف  یا خدمت گزار خود اپنا پتہ وہاں لکھ دیتا ہے۔ اس صورت میں ایک مسلمان  کے لیے یہ روا ہے کہ اس پر رابطہ کر لے کیونکہ اس نے کوئی مخالفت نہیں کی۔ ان برقی منڈیوں میں پھندے (کڑکیاں) نصب ہوتے ہیں جو خود کار اس طرح کی چیزوں کو پکڑ لیتے ہیں، لیکن جس طرح فیس بک وغیرہ پر اس طرح کے پھندوں سے لوگ ہوشیاری سے بچ جاتے ہیں ، وہاں بھی بچ جاتے ہیں۔ یہاں مقصود یہ کہنا نہیں کہ ایسا کرنا چاہیے بلکہ صرف قاری کو بتانا ہے کہ جس صورت کی بات کی جاری ہے وہ محض فرضی نہیں اور ایسا ہوتا ہے۔ نیز اس برقی ساگر میں کسی کا نام ہی لے کر اسے گوگلایا جائے (یعنی گوگل پر تلاش کیا جائے)تو اس سے رابطے کے راستے خود بخود  آپ کے قدم چومتے ہیں چناچہ اس کے ذریعے سے کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جو بچھڑ چکے تھے ، پھر ملے۔ یہاں پھرمیں یہی عرض کروں گا کہ اس بات کے کرنے سے مقصود یہ بتانا ہے کہ ایسا ہوتا ہے اورفرضی بات نہیں۔

اس لیے، پوری گفتگو کا نتیجہ یہ کہ:

۱: وہ لوگ آپس میں  ان برقی ڈیروں سے باہر ملاقات کر سکتے ہیں اور اس سے حاصل شدہ آمدن رواہے۔

۲: نیز اگر کسی مسلمان نے  ان کی برقی کھڑکیاں استعمال کر اپنا پتہ دوسرے کو دے دیا، تو بلاشبہ وہ گناہگار ہے  کہ اس نے معاہدے کی خلاف ورزی کی۔

۳: لیکن اس کی آمدن بہر کیف درست ہے کیونکہ اسے پیسے یہ برقی بازار نہیں دیتے بلکہ  صارف دیتا ہے ۔ ان برقی بازاروں کے پاس ان صارفین اور خدمت گزاران سے پیسا آتا ہے، ان کے پاس جاتا نہیں ۔  اور اس نے صارف کی شرط نہیں توڑی۔ اس لیے، یہاں اس کی آمدن کے حرام ہونے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔

۴: اگرچہ  احتیاط اسی میں ہے کہ ان  برقی بازاروں کے نظام ہی سےمعاملہ کرنا چاہیے کہ اس میں صارف وخدمت گزار دونوں  کے لیے اطمینان ہے کہ اس میں دونوں میں سے کوئی کام کروا کر آسانی سے پھر نہیں سکتا اور ایک نظام میں بندھا ہوا ہوتا ہے۔ لیکن چونکہ یہاں مقصود فقہی حکم کا تعین ہے، اس لیے بہر کیف ان کے لیے ان منڈیوں سے باہر بھی ملاقات جائز ہے۔

آخر میں عرض یہ ہے کہ  یہی اصول  دوسری منڈیوں پر بھی عائد ہو گا جیسا Olex  وغیرہ۔ البتہ اگر کوئی اور خاص شرط ہو تو اس پر غور وفکر کر کے اس کا حکم بیان کیا جائے گا۔ .والله أعلم،!


حواشی

(1)  Glare P.G.W., ed. Oxford Latin Dictionary. Oxford University Press 1968.
(2) https://dictionary.cambridge.org/dictionary/english/freelance. This link and all the subsequent links accessed at: 3/6/2021 7:04 PM.
(3) https://www.freelancer.com/feesandcharges
(4) https://www.freelancer.com/about/terms

(5)  صحيح البخاري، كتاب الإجارۃ، باب أجرالسمسرۃ.

(6)  صحيح البخاري، كتاب الشروط، باب الشروط في الولاء.

(7)  وما لا يختلف باختلاف المستعمل فلا ضمان عليہ فإذا شرط سكنی واحد فلہ أن يسكن غيرہ وإن سمی نوعا أو قدرا يحملہ علی الدابۃ مثل أن يقول: خمسۃ أقفزۃ حنطۃ فلہ أن يحمل ما ھو مثل الحنطۃ في الضرر أو أقل كالشعير والسمسم وليس لہ أن يحمل ما ھو أضر من الحنطۃ كالملح والحديد (مختصر القدوري، كتاب الإجارۃ)

(8) المبسوط للسرخسي، كتاب البيوع، باب البيوع إذا كان فيھا شرط، (۱۳/۱۵)

(9) https://www.freelancer.com/about/terms

مئی ۲۰۲۱ء

عقل اور مذہب کی بحث: چند مزید معروضاتمحمد عمار خان ناصر
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۷۶)ڈاکٹر محی الدین غازی
مطالعہ جامع ترمذی (۱)ادارہ
آئین، اسلام اور بنیادی حقوقجسٹس قاضی فائز عیسیٰ
معاہدات: ذمہ داری یا ہتھیار؟مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا وحید الدین خانؒ کا انتقالمولانا ابوعمار زاہد الراشدی
قائد اعظم کا اسلامخورشید احمد ندیم
الشریعہ اکادمی کی تعلیمی سرگرمیاںادارہ

عقل اور مذہب کی بحث: چند مزید معروضات

محمد عمار خان ناصر

مسلم معاشروں میں عقل اور مذہب کی بحث کے حوالے سے بعض معروضات میں (مارچ ۲٠۲۱ء) یہ بنیادی نکتہ واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ  عقل اور مذہب پر  گفتگو  کے سلسلے کو  تاریخی سیاق  میں  اور تہذیبی سطح پر  منظم کرنے کی ضرورت ہے۔  انفرادی سطح پر   اور مختلف مسائل کے حوالے سے      تاثرات اور ججمنٹس کے اظہار کا   سلسلہ پہلے سے موجود ہے اور     آئندہ بھی جاری رہے گا، لیکن دو تہذیبی مواقف کے مابین مکالمے  کی  نوعیت، شرائط اور  تقاضے کافی مختلف ہوتے ہیں اور دراصل  اسی سطح پر  ہمارے معاشرتی تناظر میں اس بحث کی   علمی تفہیم  کا ماحول پیدا کرنے کی ضرورت ہے جس میں اہل دانش کا کردار اور ذمہ داری بہت  بنیادی ہے۔  

 اس ضمن میں  گفتگو  کا بنیادی محور، ہماری طالب علمانہ رائے میں، درج ذیل تین   سوالات کو ہونا چاہیے:

۱۔ انکارخدا کے موقف کا عقلی امکان اور جزوی سطح پر  اس کا وقوع انسانی تاریخ میں ہمیشہ  سے موجود رہا ہے۔  خاص طور پر مسلمانوں کی فکری روایت کے لیے دہریت اور  عقلی بنیادوں پر انکار نبوت وغیرہ کے مواقف نامانوس نہیں ہیں  اور ان موضوعات پر تفصیلی بحثیں  اسلامی روایت میں موجود ہیں۔ جدید دور کی غالب تہذیب نے  انسانی فکر واحساس کے لیے اس کی قبولیت کے ذرائع ووسائل پیدا کرنے میں غیر معمولی محنت کی ہے اور یوں اس کو  اسی طرح ایک تہذیبی طاقت حاصل ہو گئی ہے جیسے  اس سے  پہلے  مختلف مشرکانہ مذاہب کو اور توحید پر مبنی ابراہیمی روایت کو حاصل رہی ہے۔   اس پہلو سے   دنیا کے   دیگر معاشروں میں  بھی الحاد کی مختلف سطحوں اور صورتوں کے لیے  فکر واحساس میں قبولیت  کا پیدا ہونا  نہ تو کوئی اچنبھے کی بات ہے اور نہ  تاریخی عمل  کے لحاظ سے کوئی   بہت خلاف معمول یا غیر متوقع معاملہ ہے۔    تاہم  بحث طلب سوال یہ ہے کہ  دنیا کی موجودہ غالب تہذیب نے اپنے خاص تاریخی سیاق میں  جس تصور وجود کو  اپنے لیے اختیار کیا ہے اور    اب اسے  تاریخی تحدیدات سے ماورا   قرار دیتے ہوئے ایک آفاقی سچائی رکھنے والے تصور وجود  کا درجہ دینے  کا فطری داعیہ رکھتی ہے،  کیا  اس سے مختلف تصور وجود رکھنے والی تہذیبوں اور بالخصوص مسلم معاشروں سے اس بات کی توقع یا مطالبہ   کسی بھی اصول کے لحاظ سے روا ہے کہ وہ اس موقف کو  من وعن قبول کر لیں اور اپنی  تاریخ اور اپنی تہذیبی روایت سے متعلق  اس حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دیں کہ وہ ایک نابالغ ، ناپختہ اور مبتدی انسانی شعور کے مظاہر ہیں؟

جدید الحادی عقل کی طرف سے مذہب کی یہ توجیہ کہ یہ انسان میں خوف کے جذبے سے پیدا ہوا ہے، کوئی منطقی استدلال نہیں، بلکہ اس کی نوعیت تعلی کی ایک خاص نفسیاتی پوزیشن سے کسی موقف پر حکم لگانے کی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ’’استدلال “ سرے سے نفس مسئلہ کو موضوع ہی نہیں بناتا۔ اگر کسی تجرباتی یا منطقی دلیل سے خدا کا موجود نہ ہونا ثابت کیا جا چکا ہو، تب تو مذہب کی توجیہ کرتے ہوئے مذکورہ حکم لگایا جا سکتا ہے، لیکن اصل دعوے کے بارے میں بڑے بڑے ملحدین (فلسفی اور سائنٹسٹ) یہ اعتراف کر رہے ہیں کہ خدا کے وجود کی حتمی طور پر نفی ممکن نہیں۔ ایسی صورت میں یہ دعوی کہ انسانوں نے خوف کے جذبے کے زیر اثر تخیل کی مدد سے مذہب کو ایجاد کیا ہے، منطقی طور پر کوئی وزن نہیں رکھتا۔ یہ محض ایک ’’حکم “ ہے جو منطقی دلیل کی غیر موجودگی میں، ایک مفروضے کو درست مان کر مخالف موقف پر لگا دیا جاتا ہے۔

ذرا غور کیجیے تو اسی طرح کا نفسیاتی حکم، مفروضاتی پوزیشن کو تبدیل کر کے جدید الحاد پر بھی لگایا جا سکتا ہے۔ اگر وجود باری کی نفی ثابت نہیں، اور یہ مفروضہ قبول کر لیا جائے کہ خدا موجود ہے تو جدید الحادی رویے کی یہ نفسیاتی توجیہ بآسانی کی جا سکتی ہے کہ یہ انسان کے misplaced’’علمی تکبر“ سے پیدا ہوا ہے۔ انسان نے کائنات کے لا محدود نامعلوم حقائق کی ایک معمولی سی تجلی دیکھ لی اور کچھ طبیعی قوانین دریافت کر کے زندگی کی کچھ مشکلات کو آسان بنانے کی صلاحیت حاصل کر لی تو ایک تھڑ دلے انسان کی طرح اس زعم میں مبتلا ہو گیا کہ اس نے کائنات کی حتمی حقیقت جان لی ہے اور اب اسے خدا کو ماننے کی ضرورت نہیں رہی۔

جدید الحاد کی تہذیبی جائے پیدائش بھی اس توجیہ کی پوری تائید کرتی ہے۔ مغرب میں، جو جدید الحاد کی اصل جنم بھومی ہے، جدید علم اور طاقت سے پرورش پانے والا تعلی اور تکبر کا رویہ تو اب خود مغربی علوم میں طشت ازبام کیا جا رہا ہے۔ جس تہذیب نے اپنے علاوہ باقی ساری دنیا کے معاشروں اور تاریخ کا مطالعہ تکبر اور تعلی کے جذبے سے سرشار ہو کر کیا ہو، اس کے بارے میں اس کی ضمانت کیسے اور کس اعتماد پر دی جا سکتی ہے کہ کائنات کی حقیقت طے کرتے ہوئے علم اور طاقت کے نشے سے اس کا دماغ خراب نہیں ہوا ہوگا اور ماضی کی ساری انسانی تاریخ پر یہ حکم کہ وہ جہالت اور خوف کی وجہ سے مذہب کے زیر اثر رہی، تکبر کی نفسیاتی کیفیت سے آازاد ہو کر لگایا ہوگا؟

۲۔ عقل اور مذہب کے باہمی تعلق کے حوالے سے مغربی روایت اپنے تاریخی تجربے کی روشنی میں جس موقف تک پہنچی ہے، وہ تاریخی تجربہ غیر مغربی معاشروں کا نہیں ہے۔ تاہم  ایک خاص تہذیب کا تاریخی تجربہ ہونے کے باوجود جدید مغربی فکر میں ایک یونیورسل اپیل بھی پائی جاتی ہے۔  یہاں غور وفکر اور بحث  کا طلب گار نکتہ یہ ہے کہ اگر  تہذیبی سطح پر  یہ پوزیشن ہمارے لیے قابل قبول نہیں تو کیا  ہمیں یہ سمجھنے کی بھی ضرورت نہیں کہ  غالب تہذیب کے موقف کی  تاریخی تشکیل کیسے ہوئی ہے اور  وہ اپنے اندر ایک یونیورسل اپیل پیدا  کرنے میں کیونکر کامیاب ہے؟  کیا ان سوالات کا ایک گہرا تہذیبی فہم ہمارے لیے کوئی معنویت رکھتا ہے یا نہیں کہ عالم غیب سے  بے اعتنائی اور  پھر  اس کی نفی   کا موقف اختیار کرنے والی عقل نے  کائنات، حیات وشعور  اور انسان کی  تفہیم کی کیا متبادل فکری اساسات مہیا  کی ہیں؟  عالم غیب کے اثبات پر مبنی    تفہیم کائنات  کو قبول کرنے میں   جدید عقل کے کیا تحفظات ہیں اور   مذہبی تفہیم پر  اس کی مختلف الجہات تنقید کیا ہے؟    عقل جدید نے  انسانی معاشرت کی تشکیل کے لیے درکار اہم اخلاقی وفلسفیانہ تصورات کو، جن کی  تشکیل    انسانی تاریخ   میں مذہبی  اعتقاد اور    عقلی  تصور سازی کے اشتراک سے ہوئی تھی،   کیسے غیر مذہبی   اساسات پر استوار  کر کے  اپنے لیے  کارآمد بنا لیا ہے؟ جدید سائنس، حیات وکائنات اور انسان کی اس نئی تفہیم کو  کیسے اور  کن پہلووں  سے براہ راست یا بالواسطہ تقویت فراہم کرتی ہے؟   اور  کائنات کی تفہیم کے غیر مذہبی سانچے میں رہتے ہوئے  جدید عقل انسانی معاشروں کی تنظیم اور اجتماعی سرگرمی   کے نظام قائم  کرنے میں  کیسے بالفعل  کامیاب ہے؟  

بحالت موجودہ یہ سب سوالات مذہبی فکر  کے سنجیدہ غور وفکر کا  موضوع نہیں ہیں  اور وہ  عقل جدید کی فکری،  عملی اور تاریخی  طاقت کا کماحقہ  اندازہ کیے یا جائزہ لیے بغیر  جزوی حوالوں سے  اس کے  نقائص، کمزوریوں یا داخلی تضادات  کا حوالہ دینے پر عموما اکتفا  کیے  ہوئے ہے۔ بالفاظ دیگر،   ہمارے ہاں ابھی تک جدید تصور وجود  اور اس سے متفرع ہونے والے تصور عقل کو ، جس کی قوت اور  نتیجہ خیزی تاریخ میں مشہود ومحسوس  ہے،  فکری سطح پر اہم سمجھنے  اور اس کی قوت وتاثیر کے منابع  کا علمی وعقلی فہم  حاصل کرنے  کی ضرورت  کا احساس پیدا نہیں ہو سکا اور ہم ا س کے غیر فطری ہونے    کی ججمنٹ  کے ساتھ اس اطمینان کو اپنے لیے  کافی سمجھتے ہیں کہ   یہ تہذیب اپنے خنجر سے آپ  ہی خود کشی کر لے گی، کیونکہ جو آشیانہ شاخ نازک پر بنایا جاتا ہے، وہ ناپائدار ہوتا ہے۔

۳۔ قرون وسطی کے یورپی معاشروں  کو چھوڑ کر،  جہاں مسیحی تہذیب نے  کلی مذہبی  یک رنگی کی صورت  پیدا کر دی تھی،  تمام تاریخی معاشروں اور تہذیبوں میں مذہبی  یا غیر مذہبی مواقف کا تنوع اور مختلف اعتقادی    مواقف رکھنے والے افراد اور گروہوں  کا وجود قبول کیا جاتا رہا ہے اور آج بھی کیا جاتا ہے۔   تاہم   یہ توسع  اپنی تہذیبی شناخت سے دستبردار ہو کر یا اس کی قیمت پر   اختیار نہیں کیا جاتا۔   ہر تہذیب اپنی  نظریاتی اور سیاسی حاکمیت  کو قائم رکھتے ہوئے  ہی یہ توسع  پیدا کرتی ہے اور اسی شرط پر  اس توسع کو برقرار بھی رکھ سکتی ہے۔  اگر   توسع، اس کی شناخت اور حاکمیت کے لیے خطرہ بن رہا ہو    تو نہ صرف یہ کہ اس کا  جواز باقی نہیں رہتا، بلکہ عملا بھی اسے  برقرار رکھنا ناممکن ہو  جاتا ہے۔  یہ بنیادی بات سمجھنے کے لیے موجودہ غالب تہذیب کو  ہی دیکھ لینا کافی ہے۔  عقل اور مذہب  کی تقسیم   اور   مذہب کی ایک خاص دائرے میں تحدید اس تہذیب کی بنیادی شناخت ہے  اور اس کی ساری  رواداری، توسع، غیر جانب داری   اور اپنے شہریوں کے ساتھ  مساوی برتاو وغیرہ اس شرط کے ساتھ مشروط ہے  کہ تہذیبی شناخت    کو چیلنج نہیں کیا جائے گا، یعنی   اس کو تبدیل  کرنے کے لیے   سماجی یا سیاسی طاقت کو منظم نہیں کیا جائے گا۔  مسلمانوں کے ،مغربی معاشروں میں  دن بدن نمایاں ہوتے ہوئے  وجود کو اسی پہلو سے  ایک  مسئلے کے طو رپر دیکھا جاتا ہے کہ وہ  ان معاشروں کی  غالب مذہبی شناخت  اور    سیکولر تہذیبی شناخت، دونوں کے لیے امکانی مشکلات پیدا کرتے  ہوئے دکھاتی دے رہے ہیں۔

ہمارے تناظر میں اس حوالے سے  قابل بحث سوال یہ  بنتا ہے کہ کیا مسلمان معاشرے اپنی تہذیبی شناخت  کو قائم رکھنے اور  اپنی سیاسی حاکمیت کو تہذیبی شناخت  کے ساتھ وابستہ کرنے کا حق نہیں رکھتے؟  اگر نہیں رکھتے تو کیوں؟ اور اگر رکھتے ہیں تو  یہاں سیکولرزم کی بحث کا کیا مطلب ہے؟   کیا ہمارے ہاں یہ بحث  محض ایک نظری تحلیل وتجزیہ  کا عنوان ہے یا  اس کی نوعیت موجودہ تہذیبی شناخت  پر حکم  لگانے   اور اس شناخت کو عملا ختم یا کمزور کرنے کی ایک  باقاعدہ سیاسی جدوجہد ہے؟  اگر یہ بحث دوسری نوعیت کی ہے تو اس میں اور  یورپ میں  خلافت اسلامیہ کے قیام  کی جدوجہد منظم کرنے میں     کیا بنیادی فرق ہے؟

ہمارے نزدیک  یہ وہ بنیادی سوالات ہیں جن کو تہذیبی  تناظر اور تاریخی سیاق میں موضوع بنانا    ازبس ضروری ہے  اور مسلم معاشروں کی تعمیر  واستحکام کی خواہش رکھنے والے   تمام اہل دانش کو، چاہے ان کے فکری وتہذیبی رجحانات کچھ بھی ہوں، ان سوالات پر ایک مسلسل اور سنجیدہ علمی مکالمے کا حصہ بننا چاہیے۔

ہماری نوجوان نسل اس وقت مختلف حوالوں سے ایک وجودی اضطراب اور شناخت کے بحران مختلف حوالوں سے دوچار ہے۔ آپ کسی بھی تقسیم کے حوالے سے دیکھ لیں، خط تقسیم کے دونوں طرف بڑی تعداد میں انتہائی مضطرب اور ’’مرو یا مار دو“ قسم کی ذہنی کیفیت کا شکار نوجوان ملیں گے جو اپنے کرب، اضطراب اور غصے کے اظہار کے لیے کسی نہ کسی سیاسی، معاشرتی یا مذہبی تقسیم کا حصہ بن گئے ہیں اور سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم پر اس تقسیم کو وسیع اور گہرا کرنے میں متحرک کردار ادا کر رہے ہیں۔

مثلا مذہب اور مذہبی عقائد واحساسات کے حوالے سے اس تقسیم کو دیکھ لیجیے جو پچھلی ایک دہائی میں بہت ابھر کر سامنے آئی ہے۔ ایک طرف مذہبی نوجوانوں کا ایک جم غفیر نظر آئے گا جس کو قطعی طور پر اندازہ نہیں اور نہ انھیں اس کی کوئی تفہیم بہم پہنچائی گئی ہے کہ جدید دور میں عالمی سطح پر مذہب کے حوالے سے کیا سوچ مستحکم ہو چکی ہے، اس کی فکری وتاریخی بنیادیں کیا ہیں اور وہ مسلمان معاشروں کے اندر کیسے اور کس پیمانے پر سرایت کر رہی ہے۔ صورت حال کا اندازہ نہ ہونے کی وجہ سے ان نوجوانوں کے لیے مذہب پر اٹھایا جانے والا کوئی بھی سوال، خاص طور پر جب اس کا پیرایہ اظہار کچھ نامناسب ہو، ایک وجودی خطرے کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو، ظاہر ہے، اسی سطح کے رد عمل کا تقاضا کرتا ہے۔

خط تقسیم کی دوسری جانب بھی اسی طرح disgruntled نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ہے جو اس بیانیے کی قائل ہو گئی ہے کہ تمام تر یا زیادہ تر سیاسی وسماجی اور اخلاقی مسئلوں کی جڑ دراصل مذہب ہے اور معاشرے کی منصفانہ اور عقلی تشکیل مذہب کو اسی طرح حاشیے تک محدود کیے بغیر ممکن نہیں جیسے مغربی معاشروں میں عموما کی گئی ہے۔ چونکہ منصفانہ اور عقلی سماج کی خواہش فوری اور بے تاب ہے، جبکہ اس آئیڈیل کا حصول سردست مسلم معاشروں میں ممکن نظر نہیں آتا، اس لیے ان نوجوانوں کے ہاں ردعمل کی غالب شکل وہ بن جاتی ہے جو ہمارے سامنے ہے، یعنی مذہبی عقائد و احساسات کی تحقیر اور ان سے متعلق تمسخر واستہزا کا اظہار۔

گویا دونوں طرف ذہنی رویوں میں جس چیز کا فقدان ہے، وہ ہے ایک تاریخی صورت حال کو سمجھنے کی صلاحیت اور اس بات کو ذہنی ونفسیاتی طور پر قبول کرنا کہ تاریخ اور معاشرہ اس کے پابند نہیں کہ وہ ہماری توقعات اور خواہشات کے مطابق پہلے سے بنے ہوئے موجود ہوں اور ہم اس میں کسی رکاوٹ کا سامنا کیے بغیر اپنے آئیڈیلز کے مطابق زندگی کے سفر کو آگے بڑھا سکیں۔ اس رویے کو پختہ کرنے کی خدمت پھر کچھ ایسے اہل قلم انجام دیتے ہیں جن کی تاریخ اور انسانی معاشرے کے فہم کی صلاحیت جیسی بھی ہو، کچھ پڑھ لکھ لینے اور اظہار کی صلاحیت حاصل کر لینے کی بدولت وہ ایک عصبیت کے ترجمان کے طور پر پہچان بنا لینے میں کامیاب ہیں۔

اس سارے منظر میں، ذمہ دار اور تعمیر معاشرہ سے دلچسپی رکھنے والے اہل دانش کے سامنے سوال یہ ہے کہ اس پوری نسل کو، جس کا بنیادی مسئلہ، فکری وابستگیاں مختلف اور متضاد ہونے کے باجود، اصلا ایک ہی ہے، کیسے یہ سکھایا جائے اور ان میں ایسی نفسیاتی اور فکری پختگی کیسے پیدا کی جائے کہ وہ ایک ایسے ماحول میں جو ان کے تصورات کے لحاظ سے سخت ناپسندیدہ ہے، حقیقت پسندانہ رویے کے ساتھ رہ سکیں، صورت حال کے ساتھ بطور ایک امر واقعہ ذہنی ہم آہنگی پیدا کر سکیں، اور معاشرے میں اپنے لیے کوئی تعمیری کردار تلاش کریں؟ ان کے جوش وجذبہ کا رخ کیسے اس طرف موڑا جا سکتا ہے کہ ان کی توانائی موجود صورت حال پر شکایت اور اظہار نفرت تک محدود رہ جانے کے بجائے کسی مثبت اور تعمیری مصرف میں صرف ہو؟


اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۷۶)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(248) ائتِیَا کا ترجمہ

ثُمَّ استَوَیٰ اِلَی السَّمَاءِ وَہِیَ دُخَان فَقَالَ لَہَا وَلِلاَرضِ ائتِیَا طَوعًا اَو کَرہًا قَالَتَا اَتَینَا طَائِعِینَ۔ (فصلت:11)

”پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جو اُس وقت محض دھواں تھا اُس نے آسمان اور زمین سے کہا ”وجود میں آ جاو، خواہ تم چاہو یا نہ چاہو“ دونوں نے کہا:ہم آ گئے فرمانبرداروں کی طرح“۔ (سید مودودی، جب وجود ہی نہیں تھا تو حکم کیسے دیا جائے گا؟)

”پھر اس نے آسمان کی طرف توجہ فرمائی اور وہ اس وقت دھوئیں کی شکل میں تھا، پس اس کو اور زمین کو حکم دیا کہ تم ہمارے احکام کی تعمیل کرو طوعا یا کرہا۔ وہ بولے کہ ہم رضامندانہ حاضر ہیں“۔ (امین احسن اصلاحی، ائتیا کا مطلب ’احکام کی تعمیل کرو‘ نہیں ہوگا)

اس آیت میں نہ تو وجود میں آنے کا حکم دیا ہے نہ احکام کی تعمیل کا، بلکہ حاضر ہونے کا حکم دیا ہے، درست ترجمہ یہ ہے:

”پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا جب کہ وہ دھواں تھا تو اس نے اس سے اور زمین سے کہا کہ دونوں آو (خواہ) خوشی سے خواہ ناخوشی سے۔ انہوں نے کہا کہ ہم خوشی سے آتے ہیں“۔ (فتح محمد جالندھری)

(249)    فَقَضاہُنَّ سَبعَ سَمَاوَاتٍ فِی یَومَینِ کا ترجمہ

فَقَضَاہُنَّ سَبعَ سَمَاوَاتٍ فِی یَومَینِ۔ (فصلت :12)

”پس ان کے سات آسمان ہونے کا فیصلہ فرمایا دو دنوں میں“۔ (امین احسن اصلاحی)

یہاں سوال یہ ہے کہ فیصلہ کرنے میں دو دن کیوں لگیں گے۔ درست ترجمہ ہے: ”پس ان کو سات آسمان بنادیا دو دن میں“۔

(248)    وَاُمِرتُ لِاَعدِلَ بَینَکُم کا ترجمہ

عدل کے معنی انصاف کرنے کے بھی ہوتے ہیں اور صحیح و حق بات کہنے کے بھی ہوتے ہیں۔ درج ذیل آیت میں عام طور سے انصاف کرنا ترجمہ کیا گیا ہے:

فَلِذَلِکَ فَادعُ وَاستَقِم کَمَا اُمِرتَ وَلَا تَتَّبِع اَہوَاءہُم وَقُل آمَنتُ بِمَا اَنزَلَ اللَّہُ مِن کِتَابٍ وَاُمِرتُ لِاَعدِلَ بَینَکُمُ اللَّہُ رَبُّنَا وَرَبُّکُم لَنَا اَعمَالُنَا وَلَکُم اَعمَالُکُم لَا حُجَّۃَ بَینَنَا وَبَینَکُمُ اللَّہُ یَجمَعُ بَینَنَا وَِالَیہِ المَصِیرُ۔ (الشوری :15)

”تو اسی لیے بلاو اور ثابت قدم رہو جیسا تمہیں حکم ہوا ہے اور ان کی خواہشوں پر نہ چلو اور کہو کہ میں ایمان لایا اس پر جو کوئی کتاب اللہ نے اتاری اور مجھے حکم ہے کہ میں تم میں انصاف کروں اللہ ہمارا اور تمہارا سب کا رب ہے، ہمارے لیے ہمارا عمل اور تمہارے لیے تمہارا، کیا کوئی حجت نہیں ہم میں اور تم میں، اللہ ہم سب کو جمع کرے گا اور اسی کی طرف پھرنا ہے“۔(احمد رضا خان)

”اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ تم میں انصاف کرتا رہوں“۔ (محمد جوناگڑھی)

”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان انصاف کروں“۔ (سید مودودی)

”اور مجھے یہ حکم ہے کہ میں تمہارے درمیان فیصلہ کردوں“۔ (امین احسن اصلاحی، عدل کا مطلب صرف فیصلہ کرنا تو نہیں ہوتا ہے۔)

وَاُمِرتُ لِاَعدِلَ بَینَکُمُ کا عام طور سے ترجمہ کیا گیا ’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان انصاف کروں‘۔ یہ ترجمہ اس جملے کو سیاق کلام میں اجنبی سا بنا دیتا ہے۔ یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ انصاف کرنے یا فیصلہ کرنے کا یہاں کیا محل ہے؟ خطاب تو مکہ میں وہاں کے مشرکین سے ہے جو رسالت کے منکر ہیں اور اپنی پوری قوت سے آپ کی مخالفت کررہے ہیں۔

مولانا امانت اللہ اصلاحی اس جملے کا ترجمہ اس طرح کرتے ہیں:

”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ تمہارے بیچ صحیح بات واضح کردوں“۔

یہ ترجمہ سیاق کلام کے ساتھ بالکل مطابق ہوجاتا ہے۔ اور وہ صحیح بات کیا ہے وہ اس جملے کے فورا بعد واضح بھی کردی گئی ہے۔

عدل کے معنی انصاف کرنے کے علاوہ صحیح بات کہنے کے بھی ہوتے ہیں، قرآن مجید میں ایک جگہ فرمایا گیا: وَِاذَا قُلتُم فَاعدِلُوا (انعام:152) ’اور جب بولو توسچ بات کہو‘اس کی تفسیر جلالین میں اس طرح ہے: وَاذا قُلتُم فِی حُکم او غَیرہ فاعدِلُوا بِالصِّدقِ۔

(249) اُستُجِیبَ لَہُ کا ترجمہ

استجاب لہ کا مطلب ہوتا ہے کسی کی بات مان لینا یا اس کی طلب قبول کرلینا۔

زمخشری کہتے ہیں: المراد بالاستجابۃ۔ الطاعۃ والامتثال۔ (الکشاف)

 ابن عاشور کہتے ہیں: الِاستِجابَۃ: الاجابَۃ، فالسِّینُ والتّاءُ فِیہا لِلتَّاکِیدِ، وقَد غَلَبَ استِعمالُ الِاستِجابَۃِ فی اجابَۃِ طَلَبٍ مُعَیَّنٍ او فی الاعَمِّ۔ (ابن عاشور)

قرآن مجید میں یہ لفظ مختلف صیغوں سے کئی جگہ آیا ہے اور اسی مفہوم میں آیا ہے۔ البتہ درج ذیل آیت میں اُستُجِیبَ لَہُ کا ترجمہ بعض لوگوں نے ’اسے مان لیا گیا‘کیا ہے۔ یہ ترجمہ اس لفظ کے مطابق نہیں ہے۔ صحیح ترجمہ ہوگا:’اس کی بات مان لی گئی‘۔ تراجم ملاحظہ فرمائیں:

وَالَّذِینَ یُحَاجُّونَ فِی اللَّہِ مِن بَعدِ مَا استُجِیبَ لَہُ حُجَّتُہُم دَاحِضَۃ عِندَ رَبِّہِم وَعَلَیہِم غَضَب وَلَہُم عَذَاب شَدِید۔ (الشوری: 16)

”اور جو لوگ اللہ کے باب میں حجت کررہے ہیں بعد اس کے کہ اس کو مانا جاچکا ہے، ان کی حجت ان کے رب کے آگے بالکل پسپا ہے“۔ (امین احسن اصلاحی)

”اور جو لوگ خدا (کے بارے) میں بعد اس کے کہ اسے (مومنوں نے) مان لیا ہو جھگڑتے ہیں ان کے پروردگار کے نزدیک ان کا جھگڑا لغو ہے“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کی باتوں میں جھگڑا ڈالتے ہیں اس کے بعد کہ (مخلوق) اسے مان چکی ان کی کٹ حجتی اللہ کے نزدیک باطل ہے“۔ (محمد جوناگڑھی)

”اللہ کی دعوت پر لبیک کہے جانے کے بعد جو لوگ (لبیک کہنے والوں سے) اللہ کے دین کے معاملہ میں جھگڑے کرتے ہیں، اُن کی حجت بازی اُن کے رب کے نزدیک باطل ہے“۔ (سید مودودی)

”اور وہ جو اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں بعد اس کے کہ مسلمان اس کی دعوت قبول کرچکے ہیں ان کی دلیل محض بے ثبات ہے ان کے رب کے پاس“۔ (احمد رضا خان)

اول الذکر تینوں ترجموں میں وہ غلطی موجود ہے جس کا اوپر ذکر کیا گیا ہے۔

(250)  یَنظُرُونَ مِن طَرفٍ خَفِیٍّ کا ترجمہ

درج ذیل آیت کے ترجمے ملاحظہ فرمائیں:

وَتَرَاہُم یُعرَضُونَ عَلَیہَا خَاشِعِینَ مِنَ الذُّلِّ یَنظُرُونَ مِن طَرفٍ خَفِیٍّ۔ (الشوری:45)

”اور تم انہیں دیکھو گے کہ آگ پر پیش کیے جاتے ہیں ذلت سے دبے لچے چھپی نگاہوں دیکھتے ہیں“۔ (احمد رضا خان)

”اور تم ان کو دیکھو گے کہ دوزخ کے سامنے لائے جائیں گے ذلت سے عاجزی کرتے ہوئے چھپی (اور نیچی) نگاہ سے دیکھ رہے ہوں گے“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اور تو انہیں دیکھے گا کہ وہ (جہنم کے) سامنے کھڑے کیے جائیں گے مارے ذلت کے جھکے جارہے ہوں گے اور کنکھیوں سے دیکھ رہے ہوں گے“۔ (محمد جوناگڑھی)

”اور تم دیکھو گے کہ یہ جہنم کے سامنے جب لائے جائیں گے تو ذلت کے مارے جھکے جا رہے ہوں گے اور اُس کو نظر بچا بچا کر کن آنکھیوں سے دیکھیں گے“۔ (سید مودودی)

آخر الذکر ترجمے میں ایک محل نظر بات یہ ہے کہ یَنظُرُونَ کا ترجمہ’اس کو دیکھیں گے‘ کیا ہے،’اس کو‘کے لیے یہاں کوئی لفظ موجود نہیں ہے، یہا ں مطلق ’دیکھنے‘ کی بات ہے،’کسی خاص چیز کو دیکھنے‘ کی بات نہیں ہے۔ دوسری محل نظر بات یہ ہے کہ من طرف خفی کا ترجمہ’نظر بچا بچا کر کن آنکھیوں سے‘ کیا ہے۔ من طرف خفی کا مطلب’کن آنکھیوں سے‘ ہے۔ لیکن ’نظر بچا بچا کر‘کے لیے یہاں کوئی لفظ نہیں ہے۔

(251) مِن اَولِیَاء کا ترجمہ

قرآن مجید میں متعدد مقامات پر من ولی (واحد کے صیغے میں) کہہ کر نفی کی گئی ہے۔ بعض مقامات پر مِن اَولِیَاء (جمع کے صیغے میں) کہہ کر نفی کی گئی ہے۔ دونوں اسلوبوں میں کچھ معنوی فرق ضرور ہے، اور ترجمے میں اس فرق کا اظہار ہونا چاہیے۔ درج ذیل تین مقامات میں سے پہلے دونوں مقامات پر ترجمہ کرتے ہوئے اس کی رعایت نہیں کی گئی ہے، جبکہ تیسرے مقام پر عام طور سے مترجمین نے اس کا لحاظ کرتے ہوئے ترجمہ کیا ہے، اس کی وجہ یہ سمجھ میں آتی ہے کہ تیسرے مقام پر آگے یَنصُرُونَہُم بھی آگیا ہے۔

(1) وَمَا کَانَ لَہُم مِّن دُونِ اللَّہِ مِن اَولِیَاء۔ (ہود:20)

”اور نہ اللہ کے سوا ان کا کوئی مددگار ہے“۔ (امین احسن اصلاحی)

”اور نہ اللہ کے مقابلہ میں کوئی ان کا حامی تھا“۔ (سید موددی)

”اور نہ ان کا کوئی حمایتی اللہ کے سوا ہوا“۔ (محمد جوناگڑھی)

”اور نہ خدا کے سوا کوئی ان کا حمایتی ہے“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اور نہ اللہ سے جدا ان کے کوئی حمایتی“۔ (احمد رضا خاں)

(2) وَمَا لَکُم مِّن دُونِ اللَّہِ مِن اَولِیَاء۔ (ہود:113)

”اور تمہارے لیے اللہ کے سوا کوئی حامی نہیں“۔(امین احسن اصلاحی)

”اور خدا کے سوا تمہارے اور دوست نہیں ہیں“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اور اللہ کے سوا اور تمہارا مددگار نہ کھڑا ہو سکے گا“۔ (محمد جوناگڑھی)

”اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی حمایتی نہیں“۔ (احمد رضا خان)

”اور تمہیں کوئی ایسا ولی و سرپرست نہ ملے گا جو خدا سے تمہیں بچا سکے“۔ (سید مودودی)

آخر الذکر ترجمے میں جو اضافہ کیا گیا ہے وہ غیر ضروری ہے اور اس عموم کو متاثر کررہا ہے جو اس جملے میں پایا جاتا ہے۔ اسلوب کلام تو یہ ہے کہ ایسے لوگوں کے کسی بھی طرح کے اولیاءہوں گے ہی نہیں۔

درست ترجمہ:

”اور اللہ کے سوا تمہارے اولیاءنہیں ہوں گے“۔

(3) وَمَا کَانَ لَہُم مِّن اَولِیَاءَ یَنصُرُونَہُم مِّن دُونِ اللَّہِ۔ (الشوری: 46)

”اور ان کے کوئی حامی و سرپرست نہ ہوں گے جو اللہ کے مقابلے میں ان کی مدد کو آئیں“۔ (سید مودودی)

”ان کے کوئی مددگار نہیں جو اللہ تعالیٰ سے الگ ان کی امداد کرسکیں“۔ (محمد جوناگڑھی)

”اور خدا کے سوا ان کے کوئی دوست نہ ہوں گے کہ خدا کے سوا ان کو مدد دے سکیں“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اور وہاں ان کے اولیاءمیں سے کوئی بھی نہیں ہوگا جو خدا کے مقابل میں ان کی کوئی مدد کرسکے“۔ (امین احسن اصلاحی)

اس آیت کا آخرالذکر ترجمہ درست نہیں ہے۔ کیوں کہ اس سے یہ مفہوم نکلتا ہے کہ ان کے اولیاءمیں سے وہاں کوئی ان کی مدد کے لیے نہیں موجود ہوگا، گویا ان کے اولیاءہونے کا اثبات ہے، مگر ان میں سے کسی کے وہاں موجود ہونے کی نفی ہے۔ حالاں کہ وَمَا کَانَ لَہُم مِّن اَولِیَاءَ (ما نافیہ اور اس کے بعد من برائے استغراق) کا مفہوم یہ ہے کہ ان کے اولیاءہی نہیں ہوں گے۔ دوسرے لفظوں میں اولیاءہونے کی مکمل نفی کی گئی ہے۔

درست ترجمہ: ”اور وہاں ان کے اولیاءنہیں ہوں گے جو خدا کے مقابل میں ان کی کوئی مدد کرسکیں“۔

(252) ملجا اور نکیر کا ترجمہ

درج ذیل آیت میں ملجا اور نکیر دونوں الفاظ کا ترجمہ ملاحظہ ہو۔

استَجِیبُوا لِرَبِّکُم مِّن قَبلِ اَن یَاتِیَ یَوم لَّا مَرَدَّ لَہُ مِنَ اللَّہِ مَا لَکُم مِّن مَّلجَاٍ یَومَئِذٍ وَمَا لَکُم مِّن نَّکِیرٍ۔ (الشوری:47)

”مان لو اپنے رب کی بات قبل اس کے کہ وہ دن آئے جس کے ٹلنے کی کوئی صورت اللہ کی طرف سے نہیں ہے اُس دن تمہارے لیے کوئی جائے پناہ نہ ہوگی اور نہ کوئی تمہارے حال کو بدلنے کی کوشش کرنے والا ہو گا“۔ (سید مودودی)

”اس دن تمہارے لیے نہ کوئی پناہ ہوگی اور نہ تو کسی چیز کو رد کرسکو گے“۔ (امین احسن اصلاحی)

”اس دن تمہیں کوئی پناہ نہ ہوگی اور نہ تمہیں انکار کرتے بنے“۔ (احمد رضا خان)

”اس دن تمہارے لیے نہ کوئی جائے پناہ ہوگی اور نہ تم سے گناہوں کا انکار ہی بن پڑے گا“۔ (فتح محمد جالندھری)

”تمہیں اس روز نہ تو کوئی پناہ کی جگہ ملے گی نہ چھپ کر انجان بن جانے کی“۔ (محمد جوناگڑھی)

ملجا اسم ظرف ہے اور اس کا درست ترجمہ پناہ گاہ ہے نہ کہ صرف پناہ۔ جبکہ نکیر کا مطلب اظہار ناگواری ہے، قرآن مجید میں متعدد مقامات پر یہ اسی معنی میں آیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس دن نہ تو بھاگ کر کہیں پناہ لے سکو گے، اور نہ اظہار ناگواری کے ساتھ سامنا کرسکو گے۔

زیر نظر جملے کا ترجمہ یوں ہوگا:

”اس دن تمہارے لیے نہ کوئی پناہ گاہ ہوگی اور نہ تمہارے لیے اظہار ناگواری کا موقعہ ہوگا“۔ (امانت اللہ اصلاحی)

(253) وَلَولَا کَلِمَۃ سَبَقَت مِن رَّبِّکَ اِلَیٰ اَجَلٍ مُّسَمًّی کا ترجمہ

قرآن مجید میں چار مقامات پر وَلَولَا کَلِمَۃ سَبَقَت مِن رَّبِّکَ آیا ہے۔ جب کہ درج ذیل ایک مقام پر اِلَیٰ اَجَلٍ مُّسَمًّی کا اضافہ ہے:

وَلَولَا کَلِمَۃ سَبَقَت مِن رَّبِّکَ اِلَی اَجَلٍ مُّسَمًّی لَّقُضِیَ بَینَہُم۔ (الشوری :14)

اس جملے کا ترجمہ اس طرح کیا گیا ہے:

”اور اگر تمہارے رب کی طرف سے ایک بات ایک معین مدت کے لیے طے نہ پاچکی ہوتی تو ان کے درمیان فورا فیصلہ کردیا جاتا“۔ (امین احسن اصلاحی)

”اگر تیرا رب پہلے ہی یہ نہ فرما چکا ہوتا کہ ایک وقت مقرر تک فیصلہ ملتوی رکھا جائے گا تو ان کا قضیہ چکا دیا گیا ہوتا“۔ (سید مودودی)

”اور اگر تمہارے رب کی ایک بات گزر نہ چکی ہوتی ایک مقرر میعاد تک تو کب کا ان میں فیصلہ کردیا ہوتا“۔ (احمد رضا خان)

”اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک وقت مقرر تک کے لیے بات نہ ٹھہر چکی ہوتی تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا“۔ (فتح محمد جالندھری)

”اور اگر آپ کے رب کی بات ایک وقت مقرر تک کے لیے پہلے ہی سے قرار پا گئی ہوئی نہ ہوتی تو یقینا ان کا فیصلہ ہوچکا ہوتا“۔ (محمد جوناگڑھی)

دراصل اس جملے میں اِلَی اَجَلٍ مُّسَمًّی،کَلِمۃ سَبَقَت مِن رَّبِّک کی غایت نہیں ہے، بلکہ کَلِمَۃ کی وضاحت ہے۔ یعنی متعین مدت تک کے لیے کسی بات کاطے پانا مراد نہیں ہے، بلکہ متعین مدت ہی وہ طے شدہ بات ہے۔ ترجمہ ہوگا:

”اور اگر تمہارے رب کی طرف سے ایک مدت معین کا فیصلہ نہ ہوچکا ہوتا تو ان کا فیصلہ کردیا جاتا“۔ (امانت اللہ اصلاحی)

گویا جو بات باقی چار آیتوں میں کہی گئی ہے وہی بات یہاں بھی کہی گئی ہے، البتہ یہاں زیادہ وضاحت کے ساتھ کہی گئی ہے۔

مطالعہ جامع ترمذی (۱)

ادارہ

محمد عمار خان ناصر / ڈاکٹر سید مطیع الرحمن

(جامع ترمذی کے اسلوب تصنیف اور مختلف احادیث کے مضمون کے حوالے سے سوالات و جوابات)

مطیع سید: صحاح ستہ امت میں بڑی مشہور ہوئیں،ان کو پہلے پڑھا جاتا ہے اور ان پر فوکس بھی کیا جاتا ہے ،حالانکہ ان سے پہلے بھی حدیث کی کتب لکھی گئیں۔ غالبا مسند احمد اور موطا امام محمد ان سے پہلے کی ہیں ۔ کیااہم خصوصیات تھی یا کیا ایسا معیار تھا  جس کی وجہ سے ان کو قبول عام  حاصل ہوا؟

عمار ناصر: صحاح ستہ کی دو چیزیں اہم  ہیں ۔ایک تو یقینی طور پر ان کا   معیار ِ صحت ہے، کیوں کہ ان تک آتے آتے تنقیح کا  کام کافی  ہو چکا تھا ۔پھر ان مصنفین نے کچھ اپنے بھی معیار ات وضع کیے  اور اس میں مہارت پیداکی۔ دوسرا پہلو حسن ِترتیب  ہے ۔اس میں ہر کتاب کی اپنی خصوصیات ہیں جس کی وجہ انہیں وہ قبول ِعام حاصل ہوا  جو باقی کو نہیں ہوا۔

مطیع سید: امام مالک کی موطا کو بہت شہرت ملی، لیکن موطا امام محمد کو وہ شہرت نہ مل سکی؟

عمار ناصر: اصل مو طا تو امام مالک ہی کی ہے ۔امام محمد کی موطا کو آپ دیکھ لیں ،اس کے بارےمیں بحث بھی ہے کہ  کیا یہ ان کی اپنی موطا ہے یا امام مالک کی موطا کا ایک نسخہ یا ایک روایت  ہے ۔اس میں بہت زیادہ روایتیں انہوں نے امام مالک سے لی ہیں۔کچھ روایتیں اپنی سند  سے بھی لی ہیں ۔ اس میں اصل حیثیت کی  بحث چلتی ہے ۔کچھ تو یہ کہتے  ہیں کہ یہ امام مالک کی موطاکی ہی ایک روایت ہے۔تاہم اس کے اندرونی جو شواہد ہیں، ان سے یہ لگتا ہے کہ انہوں نے اسے نسخے کی روایت کے طورپر مرتب نہیں کیا، بلکہ ایک مستقل تصنیف لکھی ہے۔جو روایتیں انھوں نے امام مالک  سے لی ہیں، وہ بھی اس میں شامل کی ہیں ،اپنی روایتیں بھی شامل کی ہیں اور اپنی فقہی آراء کے حوالے سے اس سارے مواد کو مرتب کیا ہے۔ بہرحال مدینہ میں مقیم ہونے اور ایک محدث کی حیثیت سے امام مالک کا جو مقام اور تعارف ہے، وہ ظاہر ہے امام محمد کا نہیں ہے،  اسی لیے  محدثین کی روایت میں موطا امام مالک ہی  توجہ کا مرکز رہی ہے۔

مطیع سید: جو روایات انھوں نے امام مالک سے لی ہیں، کیا وہ ان کو بعینہ لے لیتے ہیں یا پھر اس پر کوئی حکم  بھی لگا تے ہیں ؟

عمار ناصر: اگر  ان کا موقف  اس کے مطابق ہے تو ظاہر ہے، وہ اس کو لے لیتے ہیں۔کہیں وہ اس پر  تبصرہ بھی کرتے ہیں ،کہیں تعارض ہو تو اپنی ترجیح بیان کر دیتے ہیں کہ ہم اس کو نہیں، بلکہ  اس روایت کو لیتے ہیں۔

مطیع سید: اسی طرح کتاب الآثار ہے ؟

عمار ناصر:  کتاب الآثار  کے نام سے امام ابویوسف نے بھی  اپنی مرویات مرتب کی ہیں اور امام محمد نے بھی۔  دونوں مجموعوں  میں  وہ مرویات ہیں جو ان حضرات نے کوفہ میں اپنے شیوخ سے نقل کی ہیں۔

مطیع سید: یعنی یہ امام ابو حنیفہ کی نہیں ہے ؟

عمار ناصر: زیادہ تر سند وں میں ان کا ذکر آتا ہے ۔اس حوالے سے کہا جاتا ہے کہ یہ ان کی مرویات ہیں ، لیکن تصنیف بہرحال امام ابوحنیفہ کی نہیں ہے۔

مطیع سید: مسند امام اعظم  کے بارے میں کیارائے ہےکہ یہ ان کی ہے یا ان کی طرف صرف منسوب ہے ؟

عمار ناصر: ان کی اپنی مرتب کردہ تصنیف تو ظاہر ہے کہ نہیں ہے ۔ان کی مرویات ہیں جو مختلف لوگوں نے مختلف عنوان سے جمع  کی ہیں ۔ بعد میں خوارزمی نے ان سب کو جمع کر کے جامع المسانید بنادیا ۔ حال میں   امام ابوحنیفہ کی مرویات کو کتب حدیث سے جمع کر کے مرتب کرنے کے حوالے سے مزید بھی کئی علمی کوششیں کی گئی ہیں۔

مطیع سید: جامع الترمذی  میں ایک چیز بڑی خاص  ہے ،یعنی جو وہ حدیث پر حکم لگاتے ہیں حسن یا غریب ہونے کا۔ پھر اس کے    Combinations  تبدیل ہوتے رہتے  ہیں۔مثلا یہ حدیث حسن صحیح ہے، یہ  حسن ہے، یہ غریب ہے۔

عمار ناصر: یہ باقاعدہ ان کی اصطلاحات ہیں اور بعض اصطلاحات کا مفہوم متعین کرنے میں کافی اختلاف بھی ہے کہ ان سے ان کی مراد کیا ہوتی ہے۔یہ ایک مستقل بحث ہے ۔ ان میں سے بعض اصطلاحات کی انہوں نے کتاب العلل میں وضاحت کی ہے ۔

مطیع سید: کتاب العلل میں  انہوں نے صرف حسن اور  غریب کا ذکر کیا ہے ۔اس Combination کا ذکر نہیں کیا ۔

عمار ناصر: ترمذی  کے شارحین  مقدمے میں ان چیزوں  کی وضاحت کرتے ہیں۔ کسی حد تک ابن حجر نے شرح نخبۃ الفکر میں بھی وضاحت کی ہے ۔حسن امام ترمذی  کے ہاں خاص چیز ہے ۔حسن سے کیا مراد ہے، وہ کس کے ساتھ جمع ہوتی ہے، کس کے ساتھ  نہیں ،اس میں کچھ بحثیں بھی ہیں ۔ بہتر ہے کہ کسی اچھی شرح کو دیکھ لیا جائے،اس کے مقدمے میں انہوں نے اس پر بحث کی ہوتی ہے ۔

مطیع سید: جو غریب حدیث لاتے ہیں، تو کیا اس سے استدلال کیا جاسکتاہے ؟

عمار ناصر: ان کی اصطلاح کے لحاظ سے غریب، ضعف کے در جے میں نہیں ۔ غریب  وہ روایت ہے جو ایک ہی سند سے مروی ہو، کسی اور سند سے  مروی نہ ہو۔تو غریب صحت کے منافی نہیں ہے ۔

مطیع سید: کچھ روایات ہیں، کافی کم، جن کے آگے انہوں نے منکر بھی لکھا ہے ۔

عمار ناصر: وہ صحت کے منافی ہیں ۔

مطیع سید: تو پھر کیوں ایک محدث ایک روایت  نقل کر دیتاہے جبکہ اسے پتہ بھی ہے کہ یہ منکر ہے ؟

عمار ناصر: روایت نقل کرکے ساتھ اس کا حکم بیان کر دینا بھی تو ایک کام ہے ،یعنی اس موضوع سے متعلق یہ روایت موجود ہے، لیکن اس کا درجہ یہ ہے ۔

مطیع سید: کیا یہ بھی ان کے ذہن میں ہو سکتا ہے کہ ہم تک تو یہ ضعیف پہنچی ہے ،شاید اس کا کوئی اور طریق بھی موجود ہو؟

عمار ناصر: ظاہر ہے ۔یہی تو ہمارے محدثین کی خوبی ہے  کہ انہوں نے جو بھی مواد ہم تک پہنچا یا ہے، وہ چھانٹ کر  اور باقی کو دریا بر د کر کے آپ کو صرف نتیجہ نہیں دے دیا بلکہ مواد کو بھی محفوظ کیا ہے ۔

مطیع سید: جس روایت کے بارے میں انہوں نے کوئی حکم نہیں لگایا، اس کو کیا سمجھیں گے؟

عمار ناصر: اس پر بھی بحث آپ کو کسی شرح کے مقدمے میں مل جائے گی کہ ما سکت عنہ الترمذی، اس کا حکم  کیا ہے ۔مجھے اس وقت بحث مستحضر نہیں ہے ۔

مطیع سید: امام ابو حنیفہ کا نام پوری کتاب (جامع ترمذی) میں کہیں نظر نہیں آیا ۔

عمار ناصر: کہیں کہیں انہوں نے قسم توڑ ی ہے  (مثلا کتاب الطہارۃ میں جرابوں پر مسح کی بحث میں)۔ امام ابوحنیفہ کے بارے میں محدثین کی رائے  اچھی نہیں ہے۔

مطیع سید: امام اوزاعی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ اپنے وقت کے بہت بڑے امام تھے، لیکن ان کو ان شاگردوں نے ضائع کر دیا ۔اس سے کیا مراد ہے؟ کیا ان کو اچھے شاگرد نہیں مل سکے؟

عمار ناصر: ہمارے جو معروف ائمہ فقہاء ہیں، ان میں امام شافعی خود مصنف ہیں ۔امام احمد نے حدیثیں جمع کر دیں، لیکن اپنی علمی و فقہی آراء انہوں نے خود نہیں لکھیں ،ان کے شاگر دوں نے لکھیں ۔  امام مالک نے خود بھی کتاب لکھی ہے اور ان کے شاگردوں نے بھی مسائل جمع کیے ہیں۔امام اوزاعی خود مصنف نہیں ہیں۔ بظاہر ان کے کسی شاگرد نےبھی ان کی آراء کو محفو ظ نہیں کیا۔جیسے امام محمد کو دیکھیں کہ انہوں نے بڑا کا م کیا ،امام ابو حنیفہ کا سارا علم محفو ظ کر دیا۔ تو اس جملے کا یہی مفہوم ہوتا ہے کہ کوئی ایسے شاگر د جو امام اوزاعی کے علم کو محفوظ کرتے ، وہ میسر نہیں آسکے۔

مطیع سید: حدیث مرسل سےاستنباط کیا جا سکتاہے؟

عمار ناصر: امام ابو حنیفہ اور امام مالک کے ہاں ذرا توسع ہے ، وہ استنباط کر لیتے ہیں ۔امام شافعی وغیرہ کے ہاں کچھ مزید شرائط لگائی جاتی ہیں، مثلا یہ کہ دو تین طرق سے وہ روایت ہو یا بعض ایسے تابعین راوی ہوں جن کی ثقاہت ثابت ہے، ورنہ نہیں ۔

مطیع سید: آپ اپنی کتاب براہین میں ایک روایت کے بارے میں لکھتے ہیں کہ وہ مر سل ہے، اس لیے اس سے استنباط نہیں کیا جا سکتا۔

عمار ناصر: نہیں، وہ محض مر سل ہونے کی وجہ سے نہیں ہوگا۔ دیکھنا پڑے گا کہ اس کی مزید کیا وجہ ہے ۔

مطیع سید: عموما یہی کہا جاتا ہے کہ مر سل سے لو گ استنباط کر تے تھے ،امام شافعی نے آکر کہا کہ اسے ہم ایسے ہی  قبول نہیں کریں گے ۔

عمار ناصر: یہ صحیح ہے ۔طبر ی نے لکھا ہے کہ دو سو سال تک علما مر سل روایت کر تے رہے۔ امام شافعی نے آکر پہلی دفعہ یہ بحث اٹھائی۔لیکن امام شافعی کی بات غلط نہیں ہے ۔دیکھیں، پہلے دور میں لوگ بعض دفعہ سند نہیں پوچھتے تھے، ایک اعتماد کا ماحول تھا ۔پھر جب  بداعتمادی ہونے لگی تو زیادہ اہتمام سے سند کی تحقیق کی ضرورت پیش آئی ۔تو اس اعتماد کے دور میں تابعی نے اگر بات کی ہے اور راوی  قابل اعتماد ہے تو روایت قبول کی جا رہی ہے۔امام شافعی نے دیکھا کہ اعتماد کے ماحول میں کئی ایسی چیزیں بھی نقل ہو  رہی ہیں جو تحقیق کر کے دیکھیں تو اوپر تک نہیں پہنچتیں۔ تب انہوں  نے یہ مسئلہ اٹھایا اور کہا کہ نہیں، اتصال سند کی ہمیں تحقیق کرنی چاہیے ۔

مطیع سید: امام شافعی کی فقہ کو دیکھیں تو محدثین انہیں بہت پسند کرتے ہیں۔ جتنے بڑے محدث کو دیکھیں گے تو وہ شافعی ہوگا ۔

عمار ناصر: اس پر بعض محدثین کا بڑا دلچسپ تبصرہ ہے کہ امام شافعی نے آکر محدثین کی پوزیشن کو ذرا مضبو ط کیا۔ محدثین کو تو سند یں اور روایتیں آتی تھیں ،لیکن جو علمِ مجادلہ تھا وہ ان میں نہیں تھا ۔اہل کوفہ اس میں تیز تھے اور بحث مباحثہ میں بازی  لےجاتے تھے۔امام شافعی نے آکر توازن قائم کیا  اور انہیں سکھایا کہ  اس طرح علمی مجادلہ کیا جاتا ہے۔

مطیع سید:  یہاں پر ایک اور چیز میر ے ذہن میں پیداہوتی ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ صحاح ستہ  کی کافی احادیث احناف کے موقف کے خلاف ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ حدیثیں بعد میں مدون ہوئیں،اس سے پہلے جو روایتیں فقہاء تک پہنچی  تھیں، انھوں نے اسی کے مطابق رائے قائم کی ۔ لیکن امام شافعی کے پاس احادیث کہاں سے آگئیں ؟ امام شافعی 150 ھ میں پیداہوتے ہیں، امام شافعی کا محدثین کے ساتھ اختلاف بہت کم ہےحالانکہ دور کا اتنا اختلاف بھی نہیں ۔

عمار ناصر: امام ابو حنیفہ  کا اعتنا بنیادی طور پر علمِ حدیث کےجمع اور استقصا سے نہیں تھا۔وہ کوفہ میں تھے  اور وہیں رہے اور اپنے اساتذہ کے توسط سے کو فے میں جو ذخیرہ پہنچا ہوا تھا، بنیادی  طور پر ان کا انحصار اس پر ہے  ۔اس لیے آپ دیکھیں گے کہ جب امام محمد سفر کرکے مدینہ جاتے ہیں تو بہت  سے معاملات میں اپنی رائے بدل لیتے ہیں۔امام شافعی نے تو باقاعدہ سارے مراکزِ علم گھومے ہیں۔امام محمد سے استفادہ کیا ،امام مالک سے استفادہ کیا اور انہوں نے بڑی محنت سےان دونوں علموں کو جمع کیا ۔اُدھر سے فقہ سیکھی، اِدھر سے روایتیں لیں اور اس طرح حدیث اور رائے کا امتزاج تیار کیا۔اس لیے ان کے ہاں اس کی مثالیں نسبتا بہت کم ہیں کہ ان تک روایت نہ پہنچی  ہو۔

مطیع سید: کیا یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ احناف کی فقہ کا انداز ہی یہی ہے کہ وہ ہر صحیح حدیث کو  لازما قبول نہیں کرتے، جیسا کہ امام مالک بھی اہل مدینہ کے عمل کو احادیث پر ترجیح دیتے ہیں ؟

عمار ناصر: احناف کے ہاں یقینا یہ عنصرہے، لیکن  غور کرنے سے یہ  اتنا زیادہ فیصلہ کن نہیں لگتا ۔یہ جو منہج کا اختلاف ہے  یا جو  فقہی نتائج کا اختلاف ہے، اس میں یہ عنصر مجھے کم لگتا ہے ۔ محدثین کے ہاں  جو اصولی موقف ہے، وہ بڑے مضبوط طریقے سے احناف کے ہاں بھی موجود ہے کہ اثر آگیا ہے یا حدیث آگئی ہے تو قیاس کی کوئی اہمیت نہیں ہے ۔یہ اصولا بھی ان کے ہاں واضح ہے اور اس کی مثالیں بھی موجود ہیں۔اصل میں جہاں فرق پڑتا ہے، وہ یہی ہے کہ ذخیرہ روایت اس طرح سے  پوری تنقیح کے ساتھ ان کے ہاں نہیں پہنچا ۔ جب نہیں پہنچا تو پھر جتنا ذخیرہ پہنچا،  اس میں انھوں نے تعامل، قیاس اور آثار صحابہ وغیرہ کی روشنی میں  ایک معیار بنایا کہ ہم اس  طر ح کی روایت لیں گے اور اس طر ح کی  نہیں لیں گے ۔یہ ظاہر ہے کہ ان کا حق ہے۔جس  صورت حال میں وہ کھڑے ہیں، اس میں انہوں نے اپنے لیے  احتیاط  پر مبنی ایک طریقہ اختیار کیا ہے ۔ورنہ میرے خیال میں  جس طرح ساری روایتیں بعد کے ادوار میں اہل علم تک زیادہ منقح ہو کر  پہنچی ہیں ،ان تک بھی پہنچ جاتیں تو اختلاف بہت کم  رہ جاتا ۔

مطیع سید: امام شافعی 150 ھ میں پیدا ہوئے  اور 200 ھ تک ان کی ایک فقہ ہے ۔پھر 200 ھ سے 204 ھ تک ان کی ایک نئی فقہ مرتب ہوئی ۔ ان کے قولِ جدید اور قولِ قدیم پر مبنی بہت سے اختلافات ہیں۔اس کا سبب کیا تھا ؟

عمار ناصر: بنیادی سبب تو یہی ہے کہ انہوں نے پہلے اپنے علاقے میں بیٹھ کر آرا ء قائم کیں۔ اس کے بعد ان کے علمی اسفار شروع ہو تے ہیں ۔پھر جب آخری عمر میں وہ مصر پہنچتے ہیں تو اس سارے غور وفکر پر نظر ثانی کرتے ہیں۔ اپنے علمی سفر میں انہوں نے بہت سی چیزیں سیکھی ہیں ۔

مطیع سید: یہاں ایک بڑا اہم سوال پیداہوتا ہے کہ فقہ کی جہاں بحثیں ہوتی ہیں، وہاں اما م ترمذی اپنی جامع میں ائمہ کا ذکرکرتے ہیں،امام شافعی،امام احمد وغیرہ سب کا ذکر کرتے ہیں لیکن امام جعفرکا کہیں بھی ذکر نہیں کرتے۔فقہ جعفری پوری مدون ہمارے سامنے موجود ہے۔اور امام جعفر امام ترمذی سے پہلے گزر چکے ہیں بلکہ امام ابو حنیفہ کے اساتذہ میں ان کا شمار ہوتاہے۔ان کا کہیں کوئی قول درج نہیں اور اہل بیت کی روایات بہت ہی کم ہیں ۔

عمار ناصر: اس کے اسباب سیاسی ہیں ۔اصل میں ائمہ اہل بیت کو شروع سے ہی جس گروہ نے گھیر لیا، اس نے انہیں  اہل سنت کے مرکزی دھارےسے ہٹا دیا ۔ اس سے رویہ بدل جاتا ہے ۔آپ دیکھیں گے کہ اس گروہ نے ملاوٹ بھی بڑی کی ہے لیکن ان ائمہ کے اقوال کو بنیادی طور پر محفوظ بھی انہوں نے ہی کیا ہے ۔

مطیع سید: جی انہوں نے ہی محفوظ کیا اور پوری فقہ مدون کی ۔ آپ نے اپنی کتاب " حدودوتعزیرات " میں اس کا ذکر بھی کیاہے ۔

عمار ناصر: اس لیے ان کا شروع سے ہی ایک الگ سیاسی تشخص بھی بن گیا اور الگ علمی تشخص بھی بن گیا ۔

مطیع سید: ائمہ اہل بیت کو اس بات کا احسا س تھا ؟

عمار ناصر: ظاہرہے، ائمہ اہلِ بیت کو احسا س تو تھا ،لیکن اس وقت بنیادی طورپر کشمکش سیاسی تھی جس میں تھوڑا سا مذہبی  عنصر شامل ہونا شروع ہوگیا تھا ۔شاید اس طرح علمی طور پر الگ مکتبہ فکر  امام جعفر تک نہیں بناتھا ۔

مطیع سید: حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے تو امام ترمذی روایت لیتے ہیں تو کیا اس گروہ نے حضرت علی کو نہیں گھیرا تھا؟

عمار ناصر: حضرت علی تک یہ صورتحال نہیں تھی ۔حضرت حسن اور حضرت حسین تک بھی نہیں تھی۔لیکن مثلا امام زید بن علی بہت بڑے امام ہیں ۔ان کے ساتھ بھی جو گروہ وابستہ ہوا، اس نے ان کا الگ تشخص بنا دیا ۔

مطیع سید: تو اس وجہ سے امام ترمذی نے ان سے کوئی چیز نہیں لی ۔

عمار ناصر: بظاہر، ایسے ہی لگتا ہے ۔

مطیع سید: یہ صورتحال تو اب بھی ایسی ہے کہ ہم ان کے ایک الگ گروہ ہونے کی وجہ سے ان کی بہت سی چیزوں سے استفادہ نہیں کرتے۔

عمار ناصر: جی بالکل ۔

مطیع سید: منی کو خشک ہو جانے کے بعد کپڑے سے کھر چ دینے سے متعلق جو روایت آتی ہے  (جامع الترمذی،  کتاب الطہارۃ، باب فی المنی یصب الثوب، حدیث نمبر ۱۱۶) میرے خیال سے تو اس طر ح کپڑا صاف نہیں ہوتا ،کیوں کہ وہ اس میں جذب ہوئی ہوتی ہے، لیکن روایت میں ہے  کہ کھر چ لی جائے تو ٹھیک ہے۔

عمار ناصر: بس ٹھیک ہے، یہی  کفایت کرے گا ۔خشک ہو گئی تو جب اسے کھرچ دیں گے تو اس کے اوپر جو تہہ ہے، وہ اتر جائے گی اور جو اندر جذب ہو گئی تھی، وہ بھی کسی حد تک  زائل ہو جائے گی،تو اس کو کافی سمجھ لیا گیا ہے۔ طہارت کے باب میں آپ کو احادیث  میں جو  عمومی رویہ نظر آئے گا ،وہ یسر اور آسانی کا ہے ۔

مطیع سید: میں نے کہیں پڑھا تھا کہ اس دور میں یہ گاڑھی ہوا کرتی تھی اور اب چونکہ پتلی ہوتی ہے ، اس لیے  اسے دھونا ضروری ہے ۔

عمار ناصر: یہ بعد میں جو ایک تکنیکی فقہی ذہن بنا ہے، وہ اس طرح کی تاویل کرتا ہے۔ ہمارے ایک استاذ بھی یہی کہا کرتے تھے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ  گاڑھی ہو یا پتلی، جو کپڑے کے اندر جذب ہو گئی ہے، وہ تو وہیں ہے۔ اسی سے پھر وہ بحث بھی پیداہوجاتی ہے کہ کیا منی نجس ہے؟ کیوں کہ بہت سے صحابہ اور امام شافعی کہتے ہیں کہ نجس نہیں ہے ، صرف نظافت کے پہلو سے اس کو  زائل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

مطیع سید: جرابو ں پر مسح کے حوالے سے فقہا نے جو شرائط عائد کی ہیں، وہ کس بنیاد پر عا ئد کی ہیں ؟

عمار ناصر: جرابوں پر مسح کے بارے میں بظاہر فقہا کے دور میں آکر ہی بحث پیداہوئی ہے۔ صحابہ کے ہاں تو آپ کو روایتیں مل جائیں گی۔نبی ﷺ کے متعلق جو جرابوں پر مسح کی روایت امام ترمذی نے نقل کی ہے اور اسے صحیح قرار دیا ہے (کتاب الطہارۃ، باب فی المسح علی الجوربین والنعلین، حدیث نمبر ۹۹) اس پر کافی بحث ہے۔ وہ روایت شاید اتنی معیاری نہیں ہے ۔البتہ صحابہ کے ہاں آثار مل جاتے ہیں ۔فقہا نے بعد میں احتیاط کے پہلو سے یہ موقف اختیار کیا کہ چونکہ ہم نے پاؤں دھونے کے بجائے موزوں  پر  مسح کی ایک رخصت پہلے ہی لے لی ہے، اس لیے اب موزوں سے آگے اس رخصت کو جرابوں تک وسیع نہیں کرنا چاہیے۔

مطیع سید: یہ جو ہمارے ہاں جرابیں ہیں ،ان پر مسح ٹھیک ہے ؟

عمار ناصر: میں ذاتی طور پر تو کر لیتا ہوں ۔

مطیع سید: ایک صحابی نے ایک موقع پر یہ کلمات کہے: حمدًا کثیرًا طیبًا مبارکًا فیہ۔آپ ﷺ نے بڑے پسند فرمائے ۔(کتاب مواقیت الصلاۃ،  باب ما جاء فی الرجل یعطس فی الصلاۃ، حدیث نمبر  ۴٠۴) یہ ایک وقتی سی بات تھی، لیکن اب ہم نے اسے نماز میں شامل ہی کر لیا ہے۔

عمار ناصر:  ترمذی کی روایت میں  یہ واقعہ اس طرح آیا ہے کہ اس صحابی کو چھینک آئی تھی جس پر انھوں نے یہ کلمات کہے۔ البتہ حدیث کی دیگر کتابوں میں     ہے کہ صحابی نے رکوع سے اٹھنے پر  سمع اللہ لمن حمدہ کے جواب میں یہ کلمات کہے تھے۔ بہرحال، رسول اللہ ﷺ نے یہ کلمات اگرچہ مقرر نہیں فرمائے لیکن پسند تو کیے ہیں۔ تو آپﷺ کی پسند سے  اگر ہم اسے اپنے معمول کا حصہ بنا لیں تو یہ صحیح  ہے ۔

مطیع سید: سورۃ النجم میں سجدے کا جو واقعہ پیش آیا ، وہ مکی دور کا ہے ۔  جن و انس  اور مسلمانوں اور مشرکوں، سب نے سجدہ کیا ۔ (ابواب السفر، باب ما جاء فی السجدۃ فی النجم، حدیث نمبر ۵۷۵) کیا کیفیت تھی، یہ کس موقع پر ہوا ؟  پھر یہ بھی ملتا ہے کہ  ایک بوڑھے نے سجدہ نہیں کیا اور اس نے مٹی اٹھا کر اپنی پیشانی پر لگا دی کہ یہی کافی ہے۔کیا وجہ تھی، کیا یہ منافق تھا؟منافقین تو مکی دور  میں نظر نہیں آتے ۔

عمار ناصر: تفصیل تو ظاہر ہے ،اس میں بیان نہیں ہوئی ۔ بظاہر ایسے لگتا ہے کہ کسی مشترک مجلس میں یہ آیت پڑھی گئی اور سب لوگ سجدے میں شریک ہو گئے ۔   اس موقع پر جو  وہاں جنات ہوں گے، انہوں نے بھی سجدہ کردیا اور جو مشرک وہاں موجود تھے ،ظاہر ہے اللہ کو تو وہ مانتے تھے ،تو یہ سوچ کر  کہ اللہ کو سجدہ کرنے کی بات ہو رہی ہے ، انہوں نے بھی کردیا  مگر ایک بوڑھے نے نہ کیا ۔ اصل میں اس وقت ایک مخلوط ماحول تھا ۔ مکے میں مخلوط ماحول تھا، مدینے میں بھی مخلوط ماحول تھا ۔ آج شاید اس طرح کے ماحول کا تصور کرنا ذرا مشکل ہے ۔

مطیع سید: لیکن منافقت کے آثار ہمیں مکے میں نہیں ملتے ۔

عمار ناصر: مکے میں منافقت کے آثار موجود تھے۔قرآن نے اس کا ذکر کیا ہے ۔ نفاق ایک رویے کا نام ہے، وہ مکے میں بھی تھا ، مکی سورتوں میں بھی اس کا ذکر ہے ۔ سورۃ العنکبوت آپ پڑھیں ۔ سورۃ عنکبوت کا پہلا رکوع سارا اسی کا بیان ہے۔ کچھ لوگ ایمان تو لے آئے ہیں اور سمجھ تو گئے ہیں کہ یہ حق ہے، لیکن اس میں جو آزمائش کے لئے  تیار ہونا ہے، وہ نہیں کر پا رہے،فورا گھبرا جاتے ہیں ۔ ان کو بھی قرآن نے منافقین ہی قرار دیا ہے ۔

مطیع سید: ایک اعرابی کی چاند دیکھنے کی گواہی پر آپ ﷺ نے رمضان کے روزے شروع فر مادیے ۔ (کتاب الصوم، باب ما جاء فی الصوم بالشہادۃ، حدیث نمبر ۶۹۱) فقہاء تو ایک شخص کی گواہی کو  نہیں مانتے ۔

عمار ناصر: وہ بعض حالتوں میں مانتے ہیں ، لیکن عام حالات میں نہیں مانتے۔ فقہا کا موقف بھی ٹھیک ہے ۔اصل میں  جواس طرح کا اکیلاواقعہ ہوتا ہے، اس سے کوئی کلی قاعدہ اخذ نہیں کیا جاسکتا ۔فقہائے احناف کے ہاں قبول شہادت کی مختلف شکلیں ہیں اور وہ  Common Sense( فہم عامہ)پر پورا اترتی ہیں ۔ مثلا اگر تو ایسا ہے کہ مطلع صاف ہے اور سب لوگ دیکھ سکتے ہیں ،پھر تو زیادہ لوگوں کی گواہی ہونی چا ہیے ۔ہاں اگر مطلع ابر آلود ہے یا اس طرح کی کوئی صور تحال ہے تو پھر ایک آدمی بھی اگر دیکھ  لے اور وہ قا بل اعتماد ہو اور قرائن بھی ہو ں کہ ہاں یہ ہو سکتا ہے تو اس کی گواہی قبول کی جاسکتی ہے ۔

مطیع سید: یہ جوشعبان کی  پند رھویں شب  کی فضیلت کی روایت ہے،امام بخاری نے اسے ضعیف کہا ہے ۔ (کتاب الصوم،  باب ما جاء فی لیلۃ النصف من شعبان، حدیث نمبر ۷۳۹)

عمار ناصر: پندھوریں شب کی  فضیلت سے متعلق مختلف روایتیں ہیں اور  انفرادا َ ان میں ضعف ہے ۔بعض میں زیادہ ہے، بعض میں  کچھ کم ہے ۔اس صورت میں  پھر ظاہر  ہے، محدث کے لیے گنجائش پیدا ہو جاتی ہے ۔مجھے ایسے یاد پڑتا ہے کہ شاید  علامہ البانی وغیرہ  نے مجموعے کے لحاظ سے اس کی صحت کو تسلیم کیا ہے۔

مطیع سید: انفرادی سطح پہ تو ٹھیک ہے لیکن یہ جو اجتماع کی شکل میں عبادات کی جاتی ہیں؟

عمار ناصر: وہ تو ایک فقہی مسئلہ  ہو گیا کہ نوافل کے لیے اس  طرح کا اگر اہتمام کیا جائے تو  اس کا کیا حکم ہے۔

مطیع سید: آپ ﷺ نے ہجرت سے پہلے بھی حج  کیا تھا ؟

عمار ناصر:کیے ہوں گے، لیکن ان کا کوئی خاص ذکر نہیں ملتا ۔آپ جب ہر سال حج کے موسم میں قبائل کے پاس جاتے تھے تو  حج بھی کرتے ہو ں گے ۔

مطیع سید: حضرت عمر حج تمتع سے کیوں منع فرماتے تھے ؟(کتاب الحج، باب ما جاء فی التمتع، حدیث نمبر  ۸۲۳، ۸۲۴) آپ ﷺ نے تو حجۃ الوداع کے سفر میں واضح طور پر اس کا حکم دیا تھا۔ پھر حضرت عمر کیوں منع فرماتے تھے ، کیا  وجہ تھی ؟

عمار ناصر: اصل میں آپﷺ نے حجۃ الوداع میں ایک خاص مصلحت کےتحت یا خاص ضرورت کے تحت لوگوں کو  ہدایت فرمائی کہ وہ  عمرے کی نیت کر لیں اور عمرہ کر کے احرام کھول لیں۔ مقصد اس تصور کی اصلاح کرنا تھا کہ حج کے مہینوں میں عمرہ نہیں کیا جا سکتا۔  لوگوں کے ہاں یہ  تصور تھا کہ حج میں آپ آئے ہیں تو عبادت  مکمل کر نے  تک آپ احرام کی پابندیوں پر قائم رہیں، یہ تقویٰ اور نیکی کے زیادہ قریب ہے۔ اگر آپ تمتع کر لیتے ہیں اور احرام سے نکل آتے ہیں تو اس دوران آپ ظاہر ہے کہ پابندیوں سے نکل جائیں گے اور مباحات سے فائدہ بھی اٹھا سکیں گے۔ حضرت عمر  کا اس سے منع کرنا کچھ دوسرے پہلووں سے ہو سکتا ہے۔ مثلا ایک پہلو تو ان کے ذہن میں یہ ہو سکتا ہے کہ  ایک عبادت کے لیے ایک ہی سفر ہو نا چاہیے  اور دوسری عبادت کے لیے الگ سفر کیا جائے ۔ اگر تفصیلا روایتوں کو دیکھا جائے تو شاید بات  زیادہ واضح ہو سکے  گی۔

مطیع سید: بجو تو بظا ہر درندوں میں لگتا ہے، لیکن آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ ایک شکار ہے، یعنی اس کا گوشت کھانا جائز ہے۔(کتاب الحج،  باب ما جاء فی الضبع یصیبہ المحرم، حدیث نمبر ۸۵۱) احناف اس کو حرام  کہتے ہیں ۔

عمار ناصر: اصل میں یہ جو جانور ہیں، ان میں حلال اور حرام کے درمیان ایک کیٹگری ہے جس  میں اشتباہ رہتا ہے۔ اگر درندہ  آپ ان  معنوں میں لیں کہ وہ باقاعدہ کسی پر حملہ کرےتو بجو یہ نہیں کرتا ۔اور اگر آپ اس  کی گوشت خوری کو دیکھیں تو  درندہ لگتا ہے ۔اس لحاظ سے وہ ایک مشتبہ زمرےمیں آجاتا ہے ۔اس پہلو سے احناف نے شاید اس کی ظاہری ہیئت  کو دیکھ کر حرام قرار دیا ہے اور وہ ایک اور حدیث سے بھی استدلال کرتے ہیں جو سند کے لحاظ سے نسبتا کمزور ہے۔

مطیع سید: لیکن یہاں وہی اعتراض بن رہا ہےکہ احناف صحیح حدیث کو چھوڑ رہے ہیں ۔

عمار ناصر: ظاہر ہے، وہ اس حدیث  کی کوئی توجیہ کرتے ہوں گے ۔ اجتہادی مسائل میں تحقیق و  تاویل کی بڑی گنجائش ہو تی ہے ۔

مطیع سید: ٹڈیوں کے بارے میں صحابہ نے کہا کہ ہم نے لاٹھیوں سے ما را تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ کھاؤ ، یہ سمندر کا شکار ہے ، (کتاب الحج، باب ما جاء فی صید البحر للمحرم، حدیث نمبر  ۸۵٠) حالانکہ ٹڈی تو سمندر کا شکار نہیں ہے ۔ کیا مراد تھی رسول اللہ ﷺ کی؟

عمار ناصر: صید البحر کہہ کر  اصل میں اشارہ اس طرف ہے کہ اس کا حکم وہی ہے جو دریا کے شکار کا ہے۔ یعنی جس طرح  پانی کے جانور کو ذبح کر کے ان کا خون نہیں نکالنا پڑتا، اسی طرح ٹڈی کو بھی ذبح کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ ویسے ہی حلال ہے۔

مطیع سید: حدیث میں نماز کے مکروہ اوقات کا بڑے اہتمام سے ذکر آیا ہے۔ (کتاب مواقیت الصلاۃ،  باب ما جاء فی کراہیۃ الصلاۃ بعد العصر  وبعد الفجر، حدیث نمبر ۱۸۳) کہا جاتا ہے کہ ان اوقات سے اس لیے منع کیا گیا کہ ان میں سورج کی پوجا ہوتی ہے،حالانکہ جزیرہ عرب میں عام طور پر سورج کی پوجا نہیں ہوتی تھی ۔

عمار ناصر: ذکر تو نہیں ملتا لیکن مجوسیوں کے ہاں ممکن ہے، سورج پرستی بھی ہو۔اسی طرح صابیوں کا ذکر ملتا ہے کہ وہ کواکب پرست تھے۔ روایات میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے دور کا ایک واقعہ ملتا ہے کہ  کچھ ایسے لوگ پکڑے گئے تھے جو سورج کی پوجا کرتے تھے ۔ بعض دفعہ اگرچہ ایسا کوئی گروہ بالفعل موجود نہیں ہوتا، لیکن ایک تصور لوگوں کے سامنے ہوتا ہے کہ سورج کے ساتھ  بھی  عبادت کا تصور وابستہ  ہے ۔وہ تصور بھی بعض دفعہ بنیاد بن جاتا ہے کہ اس سے منع کر دیاجائے ۔

مطیع سید: یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ کیوں کہ یہ عالمی دین تھا اور اسے دیگر تہذیبو ں سے بھی واسطہ پڑناتھا، اس لیے بھی اس تصور کی نفی کردی گئی ؟

عمار ناصر: کہہ سکتے ہیں، اگر چہ زیادہ تر احادیث میں جو فوری تناظر  ہوتا ہے، اسی میں بات کہی جا رہی ہوتی ہے ۔ تاہم شارحین بعض اوقات انہیں ذرا وسیع تناظر میں بھی دیکھ لیتے ہیں۔

مطیع سید: حجۃ الوداع کے سفر میں آپ ﷺ اپنے ٹھکانے سے تشریف لے گئے تو خوش تھے، واپس آئے تو غمگین تھے ۔حضرت عائشہ نے وجہ پوچھی تو آپﷺ نے فرمایا کہ کاش میں کعبے میں داخل نہ ہوتا ،میں نے امت کو تکلیف میں ڈال دیا ۔ (کتاب الحج، باب ما جاء فی دخول الکعبۃ، حدیث نمبر ۸۷۳)

عمار ناصر: اس لیے کہ اب لوگ بھی یہ اہتمام کر یں گے کہ وہ کعبے کے اندر جائیں اور ظاہر ہے کہ ایسا ہر ایک کے لیے ممکن  نہیں ۔

مطیع سید: قربانی کا جانور ہدی جو حاجی ساتھ لے کر جاتے تھے، وہ اگر راستے میں مرنے کے قریب ہو تو اس کے متعلق کہا گیا کہ اسے ذبح کر دیں اور لوگوں کے لیے چھوڑ دیں، خود اس میں سے نہ کھائیں ۔(کتاب الحج، باب ما جاء اذا عطب الہدی ما یصنع بہ، حدیث نمبر ۹۱٠)کیا وجہ ہے ؟ قربانی ہے تو پھر آدمی خود کیوں نہیں کھا سکتا ؟

عمار ناصر: اس کیفیت میں تو وہ صدقہ بن گئی  اور صدقہ آدمی کو خود نہیں کھانا چاہیے۔اگر آپ وہاں جا کر  جانور کوذبح کریں، پھر تو  وہ قربانی ہے ۔لیکن راستے میں اگر جانور کو ذبح کرنا پڑے تو گویا آپ نے اسے صدقے کی حیثیت سے چھوڑ دیا ہے ۔

مطیع سید: حج کے اعمال میں جو تقدیم و تاخیر ہو جاتی ہے، اس پر فقہا دم کو واجب کہتے ہیں، لیکن آپﷺ تو حجۃ الوداع میں ہر ایک کو لاحرج لاحرج فرماتےجا رہے ہیں ۔(کتاب الحج، باب ما جاء فی من حلق قبل ان یذبح، حدیث نمبر ۹۱۶)پھر فقہا نے دم کا وجوب کہاں سے اخذکیاہے  ؟

عمار ناصر: احناف کے ہاں اس معاملے میں زیادہ سختی ہے ۔ ایک تو وہ بعض دوسرے قرائن سے یہ اخذ کرتے ہیں کہ یہ ترتیب مقصود ہے اور اہم ہے ، اس کو ملحوظ رکھنالازم ہے ۔جب لازم ہے تو اس کو خراب کرنے  پر دم آنا چاہیے۔ دوسرے یہ  کہ چونکہ تعلیم کا موقع تھا اور آپ ﷺ لوگوں کو حج کے مسائل واحکام سکھا رہےتھے ،اس لیے اس ابتدائی مرحلے پر آپﷺ لوگوں  کو تھوڑی رعایت دے رہے تھے تاکہ لوگ تنگی میں نہ پڑیں ۔

مطیع سید: النعی  یعنی موت کا اعلان کر نے سے آپﷺ نے منع کیا ہے ۔ (کتاب الجنائز، باب ما جاء فی کراہیۃ النعی، حدیث نمبر ۹۸۴)مجھے لگ رہا ہے کہ اس کا کوئی خاص پس منظرتھا ،ورنہ کسی کی موت کا اعلان کرنے میں کیا حرج ہے ؟

عمار ناصر: ہاں، وہ ایک خاص طریقہ تھا جس میں واویلا کرنا ،گریبان پھاڑنا ، سر پیٹنا شامل تھا اور خاص طریقے سے بین کرکے لوگوں کو کسی کی موت کی اطلاع دی جاتی تھی ۔ اس سے منع کیا کیا گیا ہے۔   عام طریقے سے موت کی اطلاع دینا، ظاہر ہے منع نہیں ہے۔

مطیع سید: آج کے ہمارے اعلان سے تو اس سے بالکل مختلف ہیں ۔

عمار ناصر: ہاں یہ تو اطلاع ہیں ۔اطلاع دینا منع نہیں ہے۔ اس کو ایک ڈرامہ بنانا ،یہ منع ہے ۔

مطیع سید: یہ جو حدیث  بڑی مشہور ہے کہ جس نے لا الہ کہہ دیا، وہ جنت میں جائے گا ،اس کے کیامعنی ہیں ؟

عمار ناصر: یہ ایک عمومی بات نہیں ہے ۔یہ تو کامن سینس کی بات ہے کہ اس سےمقصود  یہ کہنا  نہیں ہے  کہ عمل وغیرہ کی کوئی ضرورت نہیں، صرف  کلمہ پڑھ لینا کافی ہے۔ مختلف شارحین اپنے اپنے انداز میں اس کی تاویل کر تے ہیں ۔مجھے زیادہ مناسب بات یہ لگتی ہے کہ جو آپﷺ کے ارد گرد سچے اور مخلص لوگ ہیں ، جو بہت زیادہ خوف خدا بھی رکھتے ہیں، ڈرتے بھی ہیں ،فکر مند بھی ہیں ،آپ مختلف مواقع پر کوشش کرتے  ہیں کہ ایسے لوگوں کی فکرمندی کم ہو،اور ان کو تھوڑا حوصلہ ہو ۔اگر آپ ان لوگوں کے بارےمیں کہہ رہے ہیں جن کے بارے میں آپ ﷺ کو پتہ ہے کہ یہ محض لا الہ کہہ کر رکنے والے نہیں ہیں ،اپنی حد تک عمل کی بھی کو شش کررہے ہیں  تو اس بات کا ایک محل سمجھ میں آتا ہے۔گویا اس حدیث کا مدعا کسی الہیاتی مسئلے کا بیان نہیں، بلکہ  مخلص اور فکر منداہل ایمان کو   ان کی نجات کے متعلق تسلی دینا ہے۔

مطیع سید: اور کسی صحابی نے ایسا کیا بھی نہیں کہ محض اسی پر تکیہ کر لے،نہ اس حدیث سے یہ مطلب لیا ہے ۔

عمار ناصر: بالکل۔ وہ تو بعد میں  مرجئہ نے اس طرح کی روایتوں سے فائدہ اٹھایا  اور ا س کو ایک  کلامی اور الہیاتی  مسئلے کی نوعیت دے دی۔

مطیع سید: حدیث میں قبروں پر لکھنے کی کی ممانعت کی گئی ہے۔ (کتاب الجنائز، باب ما جاء فی کراہیۃ تجصیص القبور والکتابۃ علیہا، حدیث نمبر ۱٠۵۲) آج کل ہم جو کتبے لگارہے ہیں، کیا یہ درست ہے؟

عمار ناصر: میرے خیال میں وہ ممانعت بھی سد ذریعہ کے پہلو سے ہے۔   اگر قبر کی شناخت  محفوظ رکھنے کے لیے سادگی سے  نام وغیرہ لکھ دیا جائے تو اس میں کوئی  بنیادی خرابی معلوم نہیں ہوتی۔

مطیع سید: جو پیٹ کی بیماری میں مر ا، اسے عذاب قبر نہیں ہوگا ۔(کتاب الجنائز، باب ما جاء فی الشہداء من ہم، حدیث نمبر ۱٠۶۴) حدیث غریب ہے ۔کیا مراد ہے ؟

عمارصاحب: اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ پیٹ کی بیماری بھی گناہوں کا کفارہ بنتی ہے، جس  طرح شہادت کی موت کی دوسری شکلیں کفارہ بنتی ہیں۔اس کا صلہ اللہ تعالیٰ یہ دیتے ہیں کہ قبر کے عذاب سے محفو ظ رکھتے ہیں ۔لیکن ظاہر ہے کہ اس طرح کی ہر بشارت کے ساتھ دیگر کئی شرائط لگی ہوتی ہیں کہ اگر ایسا ہوتو ایسا ہوگا۔    

(جاری)

آئین، اسلام اور بنیادی حقوق

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

(9  اپریل  2021ء  کو اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن سے خطاب)

ہمارے آئین کی بنیاد اس اعتراف اور تصدیق پر رکھی گئی ہے کہ پوری  کائنات پر اقتدار اعلی اللہ تعالیٰ کا ہے اور اختیارات کا استعمال ایک مقدس امانت ہے؛ اور ریاستی طاقت اور اختیار کا استعمال عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے کیا جائے گا۔ آئین کا دیباچہ مزید یہ کہتا ہے کہ ریاستِ پاکستان میں جمہوریت، آزادی، مساوات، رواداری، برداشت اور سماجی انصاف کا اطلاق اسلامی اصولوں کے مطابق ہوگا۔ اسی طرح اس میں کہا گیا ہے کہ اقلیتوں کو اپنے مذاہب کی پیروی کرنے، ان پر عمل کرنے  اور اپنی ثقافتوں کی ترویج کےلیے مناسب مواقع دیے جائیں گے۔

آئین 280 دفعات پر مشتمل ہے مگر ان میں تقریباً دو درجن دفعات ایسی ہیں جو عوام کے حقوق کے تحفظ کے متعلق ہیں اور ان پر اثرانداز ہوتی ہیں۔ آئین کی دفعہ 3 استحصال کی تمام صورتوں کے خاتمے کو یقینی بناتی ہے۔ یہ دفعہ قرآن شریف کی سورۃ البقرۃ (2)، آیت 279 کے عین مطابق ہے جس میں فرمایا گیا ہے:

لَا تَظلِمُونَ وَلَا تُظلَمُونَ

تم ظلم/استحصال نہ کرو اور تم پر ظلم/استحصال نہ کیا جائے۔

دفعہ 4 یہ یقینی  بناتی ہے کہ سب کے ساتھ قانون کے مطابق یکساں سلوک ہو، اور  بالخصوص زندگی، آزادی، جسم، ساکھ اور جائیداد کے خلاف کوئی ایسا اقدام نہیں کیا جائے گا جس کی اجازت قانون نے نہ دی ہو۔ یہ دفعہ  بھی اسلام سے بالکل مطابقت رکھتی ہے۔  ایک بہت مشہور حدیث ہے:

المُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ المُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ1

مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں۔

اس دفعہ میں مزید یہ کہا گیا ہے کہ وہ کام جس کی کوئی قانونی ممانعت نہ ہو، اسے ہر شخص کرسکتا ہے  اور کسی کو ایسے کام پر مجبور نہیں کیا جاسکتا جس کا مطالبہ قانون نے اس سے نہ کیا ہو۔ یہی اصول سورۃ مریم (19) ، آیت 64 کے آخری ٹکڑے  میں موجود ہے:

وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيّا

اور تمھارا رب بھولنے والا نہیں ہے۔

سورۃ الاعراف (7)، آیت 32 سے بھی یہ اصول معلوم ہوتا ہے:

قُل مَن حَرَّمَ زِينَۃَ اللَّہِ الَّتِيٓ أَخرَجَ لِعِبَادِہٖۦ وَالطَّيِّبَٰتِ مِنَ الرِّزقِۚ

کہہ دو کہ کس نے حرام کردیا اللہ کی اس زینت کوجو اس نے اپنے بندوں کےلیے پیدا کی ، اور پاک رزق کو؟

رسول اللہ ﷺ کی زندگی سے بھی یہ اصول اخذ ہوتا ہے ۔ آپ نے غزوۂ بدر ، جو 17 رمضان 2 ہجری ( 13 مارچ 624ء) کو ہوئی تھی، کے بعد قیدیوں کو اختیار دیا کہ وہ چاہیں تو دس بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھا کر آزادی حاصل کرسکتے ہیں۔2 یہ کام جبراً بھی لیا جاسکتا تھا لیکن آپ نے ان سے ایک طرح کا سمجھوتا کیا۔

لوگوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے بارے میں اگلی اہم دفعہ 9 ہےجو کہتی ہے کہ قانون کی اجازت کے بغیر کسی کو زندگی اور آزادی سے محروم نہیں کیا جائے گا۔ یہ دفعہ سورۃ المآئدۃ (5)، آیت 32 کے عین مطابق ہے:

مَن قَتَلَ نَفسَا بِغَيرِ نَفسٍ أَو فَسَاد فِي الأَرضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعا وَمَن أَحيَاهَا فَكَأَنَّمَآ أَحيَا النَّاسَ جَمِيعا

جس نے کسی انسان کو قتل کیا، سواے اس کہ جان کے بدلے میں یا زمین میں فساد کی وجہ سے ہو، تو گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کیا، اور جس نے کسی کی جان بچائی تو گویا اس نے تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔

اور جہاں تک آزادی کی بات ہےتو  اس کی عکاسی سورۃ البقرۃ (2)، آیت 256 میں نظر آتی ہے:

لَآ إِكرَاهَ فِي الدِّينِ

دین میں کوئی زبردستی نہیں ہے۔

اس کے بعد ہم دفعہ 10 کی طرف آتے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ کسی کو وجہ بتائے بغیر گرفتار نہیں کیا جائے گااور تحویل میں بھی نہیں  لیا جائے گا اور جب ایسا کیا جائے گا تو اسے 24 گھنٹوں کے اندر حاکمِ فوجداری کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ایک بہت اہم دفعہ 10-الف کا اضافہ اٹھارویں آئینی ترمیم 2010ء کے ذریعے کیا گیا جو ہر شخص کو منصفانہ سماعت اور مناسب عمل کا حق دیتی ہے۔ قرآن شریف کی سورۃ المائدۃ (5)، آیت 8 میں فرمایا گیا ہے:

يَٰٓأَيُّھَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ كُونُواْ قَوَّٰمِينَ لِلَّہِ شُھَدَآءَ بالقِسطِ وَلَا يَجرِمَنَّكُم شَنَ‍َٔانُ قَومٍ عَلَی أَلَّا تَعدِلُواْ اعدِلُواْ ھُوَ أَقرَبُ لِلتَّقوَىٰ وَاتَّقُواْ اللَّہَ إِنَّ اللَّہَ خَبِيرُ بِمَا تَعمَلُونَ

اے ایمان والو!، کھڑے ہو اللہ کےلیے انصاف کی گواہی دیتے ہوئے، اور کسی قوم کی دشمنی تمھیں اس پر مجبور نہ کردے کہ تم انصاف نہ کرو۔ انصاف کرو کہ یہ تقوی سے قریب تر ہے۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ یقیناً اللہ جانتا ہے جو تم کررہے ہو۔

دفعہ 11 جبری مشقت اور غلامی کو ممنوع قرار دیتی ہے۔ جہاں تک غلامی کا تعلق ہے، قرآن شریف کے نزول کے وقت غلامی کا عام رواج تھا لیکن اسلام نے غلاموں کو آزاد کرنے کے لیے کئی مواقع دیے ، مختلف گناہوں کے کفارے کےلیے غلام کو آزاد کرانے کا حکم دیا اور ثواب کمانے کےلیے بھی غلام آزاد کرنے کی ہدایت دی ۔ اس لیے غلامی جلد ہی ختم ہوگئی۔ قرآن شریف نے آزاد انسان کو غلام بنانے کی اجازت نہیں دی۔ ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تین لوگوں کا ذکر کیا جن کے خلاف آپ خود قیامت کے دن استغاثہ کریں گے۔ ان میں ایک وہ ہے جس نے آزاد انسان کو غلام بنا کر بیچا۔3

اسی طرح اسلام میں جبری مشقت کی کوئی اجازت نہیں ہے اور، جیسا کہ پہلے کہا گیا، کہ جنگی قیدیوں سے بھی جبری مشقت نہیں لی گئی۔ مزدوروں کے حقوق کے تحفظ پر اسلام نے خصوصی زور دیا ۔ یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ مزدور کی اجرت اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو۔4

دفعہ 12 ایسے فعل پر سزا کے خلاف تحفظ دیتی ہے جو اس وقت جرم نہیں تھا جب اس کا ارتکاب کیا گیامگر بعد میں اسے جرم قرار دیا  گیا۔ کئی آیات اور احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اصول اسلام کا بھی ہے۔ مثلاً سورۃ بنی اسرائیل (17)، آیت 15 میں فرمایا گیا:

وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّی نَبعَثَ رَسُولا

اور ہم عذاب دینے والے نہیں ہیں جب تک ہم رسول نہ بھیجیں۔

آئین کی اس دفعہ سے ایک بہت اہم استثنا  سنگین غداری کے جرم کا ہے ۔ چنانچہ یہ دفعہ  23 مارچ 1956ء سے نافذ ہونے والے کسی آئین کی منسوخی یا معطل کرنے کو قانون کے ذریعے جرم قرار دینے سے نہیں روکتی۔

دفعہ 13 کسی ایک جرم پر ایک سے زائد دفعہ سزا دینے کے خلاف تحفظ دیتی ہے اوریہ بھی قرار دیتی ہے کہ کسی ملزم کو اپنے خلاف گواہی دینے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ قدرت کا نظام بھی ایسا ہی ہے کہ اگر کسی شخص کو کسی جرم کی سزا اس دنیا میں ملے تو پھر اسے آخرت کی سزا نہیں دی جائے گی، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ دنیا میں کسی کو سزا دی جائے تو یہ اس کےلیے آخرت کی سزا سے کفارہ  بن جاتی ہے۔5 کسی جرم کا اقرار کرنا کسی شخص کا رضاکارانہ عمل ہے اور اس پر اسے آخرت کی سزا سے نجات مل سکتی ہے لیکن اسے اقرار پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔

دفعہ 14 انسان کی عظمت اور گھر کی رازداری کو تحفظ دیتی ہے۔ یہ دفعہ بھی قرآن کے عین مطابق ہے۔ قرآن شریف کی سورۃ التین (95) ، آیت 4 انسان کو أَحسَنِ تَقوِيم کا خطاب دیتی ہے اور سورۃ بنی اسرائیل (17)، آیت 70  وَلَقَد كَرَّمنَا بَنِيٓ ءَادَمَ  کا اعلان کرتی ہے۔ اسی طرح گھر کی رازادری کے متعلق کئی آیات اور احادیث ہیں، جیسا کہ سورۃ الحجرات (49)، آیت 12 میں فرمایا گیا: وَ لَا تَجَسَّسُواْ (اور مت کرو جاسوسی)۔ اسی طرح حدیث ہے:

إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ وَلاَ تَحَسَّسُوا وَلاَ تَجَسَّسُوا وَلاَ تَنَافَسُوا وَلاَ تَحَاسَدُوا وَلاَ تَبَاغَضُوا وَلاَ تَدَابَرُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّہِ إِخْوَانًا۔6

بدگمانی سے بچو کیونکہ بدگمانی جھوٹی بات ہے۔ اور عیب مت تلاش کرو، اور جاسوسی مت کرو، اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش مت کرو، اور ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، اور ایک دوسرے کے ساتھ بغض نہ رکھو، اور ایک دوسرے سے منہ مت موڑو، اور اے اللہ کے بندو، سب آپس میں بھائی بن جاؤ۔

دفعہ 15 نقل وحرکت اور پاکستان میں کہیں بھی رہنے کی آزادی کا حق دیتی ہے۔ قرآن شریف کی کئی آیات ، جیسے سورۃ آل عمران (3) کی آیت 137، سورۃ النحل (16)، آیت 36، سورۃ النمل(27)، آیت 69 میں حکم دیا گیا ہے:

فَسِيرُواْ فِي الأَرضِ

تو زمین میں چلو پھرو۔

اسی طرح دفعہ 16 قانون کی حدود کے اندر اجتماع کی آزادی  کا حق دیتی ہے، جبکہ دفعہ 17 انجمن سازی اور سیاسی پارٹی بنانے کا حق دیتی ہے، مگر ساتھ ہی ایک اہم بات دفعہ 17 کی شق 3 میں سیاسی پارٹیوں کے متعلق یہ کہی گئی ہے کہ وہ قانون کے مطابق اپنے ذرائع آمدن ظاہرکریں گی۔ اسلام نے بھی مسلمانوں کو اجتماعیت کا درس دیا ہے۔ سورۃ الشوری(42) کی آیت 38 میں فرمایا گیا ہے:

وَأَمرُھُم شُورَی بَينَھُم

اور ان کے کام ایک دوسرے کے ساتھ مشورے سے ہوتے ہیں۔

مسلمانوں کے گروہوں، جیسے انصار اورمہاجرین،کو رسول اللہ ﷺ نے نہ صرف تسلیم کیا بلکہ ان کے ایک دوسرے پر حقوق بھی مقرر فرمائے۔ اسی طرح قانونی ذمہ داریوں کی پابندی کا اسلام نے حکم دیا ۔ قرآن شریف کی سورۃ المائدۃ (5)،آیت 1 میں آیا ہے:  

يَٰٓأَيُّھَا الَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَوفُواْ بِالعُقُودِ

اے ایمان والو! اپنے معاہدات کی پابندی کرو۔

مالیاتی امور میں شفافیت، بالخصوص سرکاری عہدیداروں کےلیے، اسلام کا بنیادی ستون ہے۔ خود رسول اللہ ﷺ سے طائف کے محاصرے کے موقع پر ، جو 8ھ ( 630ء) میں ہوا تھا، غنیمت کے متعلق سوال کیا گیا اور آپ نے اس کا برا منانے کے بجاے اس کی وضاحت دینی ضروری سمجھی۔7 اسی طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا مشہور واقعہ ہے کہ ان کو خطبے کے دوران میں ٹوک دیا گیا اور انھوں نے واضح کیا کہ اضافی چادر ان کو ان کے بیٹے نے دی تھی۔8 رسول اور خلیفۂ وقت سے ایک عام شخص نے معلومات کا مطالبہ کیا تو اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی بلکہ تسلیم کیا گیا  کہ اس کا حق ہے کہ اسے یہ معلومات مہیا کی جائیں۔ یوں ان واقعات سے دفعہ 19-الف میں مذکور معلومات کے حق کے بارے میں بھی اسلام کا تصور واضح ہوجاتا ہے۔

دفعہ 18، تجارت، کاروبار اور پیشہ اختیار کرنے کا حق دیتی ہے۔ قرآن شریف کی سورۃ النسآء (4) کی آیت 29 میں فرمایا گیا:

إِلَّا أَن تَكُونَ تِجَارَۃً عَن تَرَاض مِّنكُم

مگر یہ کہ تجارت ہو آپس کی رضامندی سے۔

رسول اللہ ﷺ نے شادی  کی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے ، جو  ایک کاروباری خاتون  تھیں ، اور آپ نے ان کےلیے  تجارتی سفر بھی کیے۔ مدینہ کے انصار زراعت پیشہ تھے، جبکہ مکہ سے آنے والے مہاجرین عام طور پر تجارت کرتے تھے۔  کئی صحابہ مختلف پیشوں اور فنون کے ساتھ وابستہ تھے اور کسی بھی پیشے کو حقیر نہیں سمجھا جاتا تھا۔ اس کے برعکس کئی صدیوں بعد بھی یورپ میں سرجری کو حقیر سمجھا جاتا تھا اور اس وجہ سے کئی قسائی سرجن بن گئے تھے۔

دفعہ 19 اظہارِ راے کی آزادی کا حق دیتی ہے۔ اسلام کا مسلمانوں سے مطالبہ ہے کہ وہ ہمیشہ حق بات کہیں۔ سورۃالاحزاب (33) کی آیت 70 میں فرمایا گیا:

وَقُولُواْ قَولا سَدِيدا

اور کہو سیدھی بات

سورۃ المآئدۃ (5)، آیت 8 میں فرمایا گیا:

يَٰٓأَيُّھَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ كُونُواْ قَوَّٰمِينَ لِلَّہِ شُھَدَآءَ بِالقِسطِ

اے ایمان والو!، کھڑے ہو اللہ کےلیے انصاف کی گواہی دیتے ہوئے

مشہور واقعہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے کہا کہ وہ چوری کرتا ہے، شراب پیتا ہے ، جوا کھیلتا ہے اور جھوٹ بھی بولتا ہے اور وہ آپ کی خاطر ان میں کسی ایک کام کوچھوڑنا چاہتا ہے، تو آپ نے فرمایا کہ جھوٹ بولنا چھوڑ دو۔ اس نے جھوٹ بولنا چھوڑ دیا تو باقی برائیاں بھی خود بخود چھوٹ گئیں۔9

قرآن شریف کی کئی آیات ،جیسے سورۃ النسآء (4)، آیت 114، سورۃ  الانبیآء (21)،آیت  3، سورۃ الزخرف ( 43)، آیت 80 اور سورۃ المجادلۃ ( 58)، آیات  7 تا 10 میں معلومات چھپانے پر، بالخصوص جن سے عوامی مفاد وابستہ ہو اور جن کا جاننا عوام کا حق ہو، سخت ناراضگی کا اظہار کیا گیا ہے اور کہیں تو اسے شیطانی عمل بھی قرار دیا گیا ہے۔

دفعہ 23 جائیداد خریدنے اور بیچنے کا حق دیتی ہے۔ مال اور جائیداد کی ملکیت کے حق کے بارے میں قرآن شریف میں بہت سی آیات ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو اپنے مال کو استعمال کرنے، اس سے فائدہ اٹھانے، اسے صدقہ کرنے، ہبہ کرنے، بیچنے، اس کے بارے میں وصیت کرنے اور اس طرح کے دیگر تمام مالکانہ حقوق حاصل ہیں اور اسی طرح اس کی موت کے بعد مال پر ورثا کی ملکیت کے بارے میں بھی آیات میں تفصیل دی گئی ہے۔

دفعہ 24 یہ تحفظ فراہم کرتی ہے کہ کسی کو اس کی مرضی کے بغیر اس کے مال سے زبردستی محروم نہیں کیا جائے گا اور اگر کہیں عوامی مفاد کی خاطر ایسا کرنا ضروری ہوجائے تو یہ عمل قانون کی حدود کے اندر رہ کر کیا جائے گا اور اسے اس کے مال کا پورا معاوضہ ادا کیا جائے گا۔ مشہور واقعہ ہے کہ مسجد نبوی کی تعمیر کےلیے زمین کی ضرورت پڑی تو دو یتیم بھائیوں، سہل اور سہیل، کے ولی کے ساتھ بات کی گئی اور ان کو زمین کا معاوضہ ادا کیا گیا حالانکہ وہ زمین معاوضے کے بغیر دینا چاہتے تھے۔10

سارے شہری برابری کے مستحق ہیں اور کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا، جیسا کہ دفعہ 25 پابند کرتی ہے۔ آخری تین دفعات (26، 27 اور 28) امتیازی سلوک کے مختلف پہلوؤں کی ممانعت کرتی ہیں اور ان کے خلاف تحفظ فراہم کرتی ہیں۔ یہ دفعہ بھی اسلام کے عین مطابق ہے۔ قرآن شریف کی سورۃ الحجرات (49)، آیت 13 میں فرمایا گیا ہے:

يَٰٓأَيُّھَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقنَٰكُم مِّن ذَكَر وَأُنثَی وَجَعَلنَٰكُم شُعُوبا وَقَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوٓاْ إِنَّ أَكرَمَكُم عِندَ اللَّہِ أَتقٰكُم إِنَّ اللَّہَ عَلِيمٌ خَبِيرٞ

اے لوگو! یقیناً ہم نے تمھیں ایک مرد اور عورت سے پیدا کیا اور تمھارے خاندان اور قبیلے بنائے تاکہ  تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ یقیناً تم میں اللہ کے نزدیک زیادہ عزت والا وہ جو تم میں اللہ کا زیادہ فرمانبردار  اور پرہیزگار ہو۔ یقیناً اللہ سب کچھ جانتا ہے اور اسے ہر چیز کی خبر ہے۔

کئی دیگر آیات سے اس بات کے دیگر پہلوؤں پر بھی روشنی پڑتی ہے، جیسے سورۃ الانعام (6)، آیت 164 میں فرمایا گیا:

وَلَا تَزِرُ وَازِرَة وِزرَ أُخرَىٰ

اور کوئی بوجھ اٹھانے والی جان کسی دوسری جان کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔

معاشرے کے کمزور طبقات اور افراد کے تحفظ  کےلیے کیے جانے والے اقدامات کو امتیازی سلوک نہیں کہا جاسکتا اور یہ بھی اسلامی احکام کے عین مطابق ہے کہ بچوں اور کمزور لوگوں پر ذمہ داریوں کا بوجھ کم کیا جائے۔ اس وجہ سے جہاد فی سبیل اللہ کے حکم سے بھی عورتوں اور ضعیف اور بیمار لوگوں کو مستثنی کیا گیا، نماز اور روزے کے احکام میں مریضوں اور مسافروں کےلیے تخفیف کی گئی اور حج کا فریضہ بھی صرف ان لوگوں پر عائد کیا گیا جو حج کےلیے جانے کی استطاعت رکھتے ہوں۔

ایک بہت اہم شق جو اٹھارویں ترمیم کے ذریعے آئی، دفعہ 25 –الف ہے جو ریاست پر ذمہ داری عائد کرتی ہے کہ پانچ سال سے سولہ سال تک کی عمر کے بچوں اور بچیوں کو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرے۔  اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر انسانیت کےلیے جو پہلا حکم نازل کیا ، وہ حکم تھا، اقرَأ: پڑھو (فعل امر)  ۔ اسی سورۃ العلق (96) کی چوتھی آیت میں قلم کاذکر ہے:  الَّذِي عَلَّمَ بِالقَلَمِ (وہ جس نے قلم کے ذریعے تعلیم دی)؛  اور پانچویں آیت میں تعلیم کا  ذکر ہے: عَلَّمَ الإِنسانَ مَا لَم يَعلَم (انسان کو اس کی تعلیم دی جو وہ نہیں جانتا تھا)۔  یوں جو پہلی وحی ہے وہ پڑھنے، لکھنے اور پڑھانے پر مشتمل ہے ۔

رسول اللہ ﷺ نے بھی تعلیم  کی اہمیت پر بہت زور دیا اور، جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا، جنگی قیدیوں کو بھی کہا کہ ہر قیدی رہائی حاصل کرنے کےلیے دس بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھائے ۔

دفعات 20، 21 اور 22 کسی مذہب کے ماننے، اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کا حق دیتی ہیں  اور اپنے مذہب کےعلاوہ کسی اور مذہب کےلیے محصول ادا کرنے یا زبردستی اس کی تعلیم دینے کے خلاف تحفظ کرتی ہیں۔ یہ دفعات بھی اسلامی تعلیمات کے مطابق ہیں۔ سورۃ البقرۃ (2)، آیت 256 میں فرمایا گیا:

لَآ إِكرَاہَ فِي الدِّينِ

دین میں کوئی زبردستی نہیں ہے۔

اسی طرح سورۃ یونس (10)، آیت 99 میں فرمایا گیا:

وَلَو شَآءَ رَبُّكَ لَأٓمَنَ مَن فِي الأَرضِ كُلُّھُم جَمِيعًا أَفَأَنتَ تُكرِہُ النَّاسَ حَتَّی يَكُونُواْ مُؤمِنِينَ

اور اگر تمھارا رب چاہتا تو زمین کے سارے لوگ مل کر ایمان لے آتے۔ تو کیا تم لوگوں کو مجبور کروگے کہ وہ ایمان لے آئیں؟

سورۃ الحج (22)، آیت 40 میں تو جہاد کا مقصد ہی یہ بیان کیا گیا ہے کہ مختلف مذاہب  کی عبادت گاہوں کا تحفظ کیا جائے:

وَلَولَا دَفعُ اللَّہِ النَّاسَ بَعضَھُم بِبَعض لَّھُدِّمَت صَوَٰمِعُ وَبِيَع وَصَلَوَٰت وَمَسَٰجِدُ يُذكَرُ فِيھَا اسمُ اللَّہِ كَثِيرا

اور اگر اللہ بعض لوگوں کے ذریعے بعض دوسرے لوگوں کو دفع نہ کرتا تو خانقاہیں، گرجا، مَعبَد اور مسجدیں، جن میں اللہ کے نام کا کثرت سے ذکر کیا جاتا ہے، ڈھا دی جاتیں ۔

اس ساری تفصیل سے ظاہر ہوتا ہے کہ آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق اسلام کے عین مطابق ہیں اور آئین کی ان دفعات اور اسلامی احکام میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ جب لوگوں کو یہ حقوق میسر ہوں تو ان کا عملی نفاذ یقینی بنانے کی ذمہ داری بالخصوص عدالت عالیہ اور عدالت عظمی کے ججز پر عائد ہوتی ہے جنھوں نے اس بات کی بھی قسم کھائی ہے کہ وہ بلا تفریق و امتیاز اور کسی خوف یا لالچ کے بغیر ہر شخص کو انصاف مہیا کریں گے جس میں ذکر کیے گئے بنیادی حقوق بھی شامل ہیں ۔ یہ بات بھی قرآن شریف کے عین مطابق ہے۔

سورۃ المآئدۃ (5)، آیت 8 میں فرمایا گیا ہے:

يَٰٓأَيُّھَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ كُونُواْ قَوَّٰمِينَ لِلَّہِ شُھَدَآءَ بِالقِسطِ وَلَا يَجرِمَنَّكُم شَنَ‍َٔانُ قَومٍ عَلَیٰ أَلَّا تَعدِلُواْ اعدِلُواْ ھُوَ أَقرَبُ لِلتَّقوَىٰ وَاتَّقُواْ اللَّہَ إِنَّ اللَّہَ خَبِيرُ بِمَا تَعمَلُونَ

اے ایمان والو!، کھڑے ہو اللہ کےلیے انصاف کی گواہی دیتے ہوئے، اور کسی قوم کی دشمنی تمھیں اس پر مجبور نہ کردے کہ تم انصاف نہ کرو۔ انصاف کرو کہ یہ تقوی سے قریب تر ہے۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ یقیناً اللہ جانتا ہے جو تم کررہے ہو۔

اسی سورۃ کی آیت 42 میں حکم دیا گیا ہے:

فَاحكُم بَينَھُم بِالقِسطِ

تو ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو۔

سورۃ النسآء (4)، آیت 135 میں فرمایا گیا:

وَإِن تَلوُۥٓاْ أَو تُعرِضُواْ فَإِنَّ اللَّہَ كَانَ بِمَا تَعمَلُونَ خَبِيرا

اوراگر تم بات کو بگاڑو یا انصاف کرنے سے منہ موڑو، تو یاد رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ کو اس کی خبر ہے۔


حواشی

  1.   صحیح البخاری، کتاب الایمان، باب المسلم من سلم المسلمون من لسانہ و یدہ۔
  2.    مستدرک حاکم، ج 2، ص 152۔
  3.   صحیح البخاری، کتاب الامور المنھی عنھا، باب تحریم الغدر۔
  4.  سنن ابن ماجہ، کتاب الرھون، باب اجر الاجراء۔
  5.   صحیح مسلم، کتاب الحدود، باب الحدود کفارات لاھلھا۔
  6.   صحیح مسلم، کتاب الآداب، باب تحریم التجسس۔
  7.   سنن الترمذی، کتاب التفسیر، باب و من سورۃ آل عمران ۔
  8.   شبلی نعمانی، الفاروق
  9.   المبرد، الکامل فی الادب، ج2، ص 156۔  
  10.    ڈاکٹر رمضان البوطی، فقہ السیرۃ، ص 253۔


معاہدات: ذمہ داری یا ہتھیار؟

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

امریکہ کے صدر مسٹر جوبائیڈن نے افغانستان سے فوجوں کے انخلا میں یکطرفہ طور پر چار ماہ کی توسیع کا اعلان کر دیا ہے اور کہا ہے کہ معاہدہ کی مدت کے دوران انخلا مشکل ہے اس لیے اب افغانستان سے امریکی فوجوں کا انخلا مئی کی بجائے ستمبر کے دوران مکمل ہو گا اور وہ بھی چند شرائط کے ساتھ مشروط ہو گا۔ اس کے ساتھ جرمنی کے وزیردفاع نے بھی کہا ہے کہ افغانستان سے نیٹو افواج کا انخلا ستمبر میں ہو گا۔

افغان مسئلہ کا تاریخی تناظر یہ ہے کہ افغانستان میں ۱۹۷۹ء کے آخر میں روسی افواج کی آمد پر افغان قوم مزاحمت کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی اور افغانستان کی آزادی و خودمختاری کے ساتھ ساتھ اسلامی شناخت کے تحفظ اور شرعی نظام کے عملی نفاذ کے لیے جہاد کے عنوان سے سوویت یونین کی مسلح یلغار کے سامنے سینہ سپر ہو گئی۔ جہاد اور نظام شریعت کے حوالہ سے پاکستان سمیت دنیا بھر کی مسلم اقوام و ممالک نے افغان عوام کی اس جدوجہد کا ساتھ دیا، جبکہ امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان ایک عرصہ سے جاری کولڈ وار کے پس منظر میں امریکہ اور اس کے حامی ممالک بھی ’’جہاد افغانستان‘‘ کے پشت پناہ بن گئے جس کے نتیجے میں افغان قوم افغانستان سے روسی افواج کی واپسی کے مشن میں سرخرو ہوئی۔ مگر اس کے بعد افغانستان کے مستقبل کی تشکیل میں راستے الگ ہو گئے:

اور پھر اس نئی صورتحال کے ردعمل میں جہادِ افغانستان کے نظریاتی کارکن ’’طالبان‘‘ کے عنوان سے سامنے آئے جو مسلسل جدوجہد کے بعد افغانستان پر کنٹرول حاصل کر کے ’’امارت اسلامیہ افغانستان‘‘ کے نام سے حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے۔طالبان نے افغانستان کو خانہ جنگی سے پاک کر کے کچھ عرصہ کامیابی کے ساتھ حکومت کی مگر گیارہ ستمبر کے واقعہ کے بعد وہ امریکی عتاب کا شکار ہوئے اور امریکہ کی قیادت میں نیٹو افواج نے اس خطہ میں وہی محاذ سنبھال لیا جس کی کمان اس سے قبل سوویت یونین نے کی تھی۔ گویا بیرونی حملہ آوروں کو ملک سے نکالنے کے لیے افغان قوم کی وہی جنگ لوٹ آئی جو روسی افواج کے خلاف تھی، صرف اس فرق کے ساتھ کہ اب مدمقابل روس نہیں بلکہ امریکہ تھا۔ البتہ جہاد افغانستان کے اس نئے راؤنڈ کے اہداف اور مقاصد بھی وہی تھے کہ افغانستان کو بہرحال ایک خودمختار، آزاد اور اسلامی ریاست بنایا جائے۔

تاریخ نے اس کے بعد یہ منظر دیکھا کہ افغان قوم کی حریت پسندی اور اسلامیت کو زیر کرنے میں روس کی طرح امریکہ کو بھی کامیابی حاصل نہ ہوئی اور بالآخر اسے افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آنا پڑا جس کے مختلف مراحل کے بعد یہ طے پایا کہ امریکہ اور نیٹو افواج یکم مئی ۲۰۲۱ء تک افغانستان سے نکل جائیں گی اور اس دوران بین الافغان مذاکرات کے ذریعے افغانستان کے مستقبل کی نقشہ گری کر لی جائے گی۔ مگر اب امریکہ کی طرف سے اس میں چار ماہ کی توسیع کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ افغان طالبان کا یہ موقف سامنے آیا ہے کہ معاہدہ کے بعد سے اب تک کی مدت میں امریکہ اور اس کے سہولت کاروں کا ٹال مٹول کا جو طرزعمل مسلسل چلا آ رہا ہے اس کے پیش نظر اس توسیعی مدت کا استعمال بھی وقت گزاری اور ’’امارت اسلامی افغانستان‘‘ کا راستہ روکنے کے اقدامات میں صرف ہوتا نظر آتا ہے، اس لیے وہ توسیع کو مسترد کرتے ہیں اور اگر یکم مئی تک امریکی افواج نے افغانستان سے انخلا مکمل نہ کیا تو وہ معاہدہ سے آزاد ہوں گے اور جو شرائط انہوں نے قبول کی تھیں وہ ان کے پابند نہیں رہیں گے۔ ہمارے خیال میں اس صورتحال میں دو باتیں خاص طور پر قابل توجہ ہیں:

  1. ایک یہ کہ اصل مسئلہ مدت کا نہیں اعتماد کا ہے، اگر امریکہ اب تک معاہدہ پر عملدرآمد میں سنجیدہ دکھائی نہیں دیا تو اس نے اپنا اعتماد خود خراب کیا ہے، اس کا فائدہ اسے نہیں دوسرے فریق کو ملنا چاہیے اور امریکہ کے سہولت کاروں کو یہ بات بہرحال ملحوظ رکھنی چاہیے۔
  2. دوسری بات یہ کہ مسلسل مشاہدات و تجربات سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ انسانی حقوق کی طرح بین الاقوامی معاہدات بھی ذمہ داری کی بجائے ہتھیار کی حیثیت اختیار کرتے جا رہے ہیں، جو آسمانی تعلیمات سے انحراف اور سارے معاملات انسانی عقل و دانش کے دائرے میں طے کرنے کے فلسفہ کا منطقی نتیجہ ہے کہ عقل کے ساتھ طاقت اور فریب کاری کا جوڑ اپنے لیے ہر بات کا جواز فراہم کر لیتا ہے، جبکہ طاقت سے محروم اقوام و ممالک اس کے رحم و کرم پر رہ جاتی ہیں، آج کے عالمی فلسفہ کے تناظر میں دنیا بھر میں ہر سطح پر یہی کچھ ہو رہا ہے۔

ہمارا خیال ہے کہ بین الاقوامی سطح پر گزشتہ ایک صدی کے دوران ہونے والے معاہدات اور ہمارے ہاں پاکستان میں بھی بالخصوص نفاذ شریعت کے سلسلہ میں کیے جانے والے معاہدات جس کی تازہ ترین مثال ’’تحریک لبیک پاکستان‘‘ کے ساتھ کیا جانے والا معاہدہ ہے، کو موضوع بحث بنا کر ان کا تجزیہ کیا جائے تو یہ بات نکھر کر سامنے آئے گی کہ آسمانی تعلیمات کی بنیاد پر انسانی اخلاقیات ہی اقوام و ممالک کو کسی بات کا پابند بنا سکتی ہیں، ورنہ محض انسانی عقل و دانش طاقت اور فریب کاری کے زور پر اسی قسم کے مناظر دنیا کو مسلسل دکھاتی رہے گی، اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہدایت کا راستہ نصیب فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔

مولانا وحید الدین خانؒ کا انتقال

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مولانا وحید الدین خانؒ کی وفات اہلِ دین کیلئے باعث صدمہ ہے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ وہ ایک صاحبِ طرز داعی تھے جن کی ساری زندگی اسلام کی دعوت کو عام کرنے اور اپنی فکر کے مطابق دعوت کے ناگزیر تقاضوں کو اجاگر کرنے میں گزری۔ وہ دعوتِ اسلام کے روایتی اسلوب کے بعض پہلوؤں سے اختلاف رکھتے تھے اور اس حوالہ سے کچھ تفردات کے حامل بھی تھے مگر مجموعی طور پر ان کی محنت
  1. دعوتِ دین کے عصری تقاضوں کی نشاندہی
  2. نوجوان نسل کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے شکوک و شبہات کے ازالہ
  3. اور افہام و تفہیم کی عصری ضروریات
کو سامنے لانے کے لیے ہوتی تھی، اور یہی ان کی وسیع تر پذیرائی کا باعث تھی۔ برطانیہ کے ایک سفر کے دوران مجھے ان سے ملاقات و گفتگو کا موقع ملا تو ان کے خلوص و سادگی نے بہت متاثر کیا۔ ان کی گفتگو اور تحریر دونوں عام فہم اور مخاطبین کی ذہنی سطح اور نفسیات کو سامنے رکھ کر ہوتی تھیں جو میرے نزدیک آج کے دور میں دعوتِ دین کا سب سے بڑا تقاضا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی حسنات قبول فرمائیں، سیئات سے درگزر کریں اور عفو و فضل کے ساتھ انہیں جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔

قائد اعظم کا اسلام

خورشید احمد ندیم

قائداعظم ایک امیر آدمی تھے۔اتنے امیر کہ 1926ء میں ان کا شمار جنوبی ایشیا کے دس سب سے بڑے سرمایہ کاروں میں ہوتا تھا۔ان کے چار مکانات کی قدر اگر آج کے حساب سے متعین کی جائے تو1.4 سے1.6ارب ڈالر بنتی ہے۔ قائد اعظم کے پاس اتنا پیسہ کہاں سے آیا؟

ڈاکٹر سعد خان کی کتاب ''محمدعلی جناح...دولت‘جائیداد اور وصیت‘‘ اس سوال کا جواب دیتی ہے۔یہی نہیں‘ان کی دولت اورجائیداد کی مکمل تفصیل بھی۔قائد کا تمام سرمایہ‘آمدن‘ جائیدادسب دستاویزی ہیں۔ان کی شخصیت کی طرح‘ شفاف ریکارڈ کے ساتھ۔یہ کتاب پڑھے کئی ماہ گزر چکے لیکن ہنوز سرہانے دھری ہے۔اس کتاب نے مجھے بعض ایسے سوالات پر غورکے لیے مجبور کیا جن کا تعلق کتاب کے موضوع سے نہیں لیکن قائد کی شخصیت سے ضرور ہے۔ایک موضوع ''قائد اعظم کا اسلام ‘‘ہے۔

مذہب کے باب میں قائد اعظم کے خیالات ہمارے ہاں مدت سے زیرِ بحث ہیں۔ان کا مسلک کیا تھاا وروہ مذہب وریاست کے باہمی تعلق کو کیسے دیکھتے تھے؟ان سوالات کے ہمیں جو جواب ملے وہ مختلف ہیں۔قائداعظم کو ان معنوں میں سیکولر ماننے والے بھی کم نہیں جوسیکولرازم کو مذہب مخالف سیاسی تصور قرار دیتے ہیں۔ایسے لوگ بھی بہت ہیں جو قائدکی اسلام پسندی کے حق میں ان کے خطبات سے اقتباسات کے ڈھیر لگا دیتے ہیں۔وہ یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ شخصی زندگی سے لے کر سیاسی زندگی تک‘ہر شعبۂ حیات میں مذہب کی بالادستی کے قائل تھے۔

ڈاکٹر سعد خان نے موضوع کی رعایت سے قائداعظم کے مسلک اور مذہب کا بھی ذکر کیا ہے۔ایک پیرا گراف بہت دلچسپ ہے۔اسی نے مجھے قائد کے تصورِ اسلام پر مزید غور پر مجبور کیا۔پہلے یہ پیراگراف دیکھیے: ''بیگم جناح کا قبولِ اسلام سنی مسلک کے مطابق ہواجبکہ اگلے روز ان کا نکاح شیعہ روایت کے مطابق ہوا۔جناح کی سرکاری نمازِ جنازہ سنی مسلک کے مطابق ادا کی گئی جبکہ ان کی وصیت اسماعیلی روایت کے مطابق تھی۔جناح صاحب زندگی بھر بمبئی کی اثنا عشری جماعت کو چندہ ادا کرتے رہے لیکن کبھی مجلسِ عاشورہ میں دکھائی نہیں دیے۔دوسری طرف وہ عید میلاد کی تقریب میں ضرور دکھائی دیے جو کہ بنیادی طور پر سنی مسلک کی سرگرمی سمجھی جا تی ہے۔انہوں نے مسلکی وابستگیوں سے بالا تر ہوکر اپنی ہمشیرگان کی شادیاں کرائیں۔ان کا ایک بہنوئی سنی تھا اور دوسرا شیعہ...‘‘ (صفحہ89)

ایک اور بات جو اس کتاب کے متن میں تو نہیں لیکن میں نے بین السطور پڑھ لی۔اتنا امیر آ دمی ہونے کے باوجود قائداعظم نے حج نہیں کیا۔ان کے سوانح میں کہیں اس کی خواہش کا اظہار بھی نہیں ملتا۔ اپنی وصیت میں وہ اپنی وراثت کا بڑا حصہ تعلیمی اداروں کے نام کر گئے۔گویا وہ خلقِ خدا کو نہیں بھولے۔ مذہبی تعلیم کے مطابق حج ان پر فرض تھا جو خدا کا حق ہے۔اگر وہ ایک مذہبی آدمی تھے تواتنے اہم مذہبی فریضے سے غافل کیسے رہے؟

اسلام کے ساتھ ان کا لگاؤ ان کے بہت سے خطبات سے واضح ہے۔یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ وہ قرآ ن مجید پڑھتے تھے۔یقینا وہ جانتے ہوں گے کہ نماز ‘روزہ‘ حج کے بارے میں قرآن مجید میں کیالکھا ہے اور مذہب کے ساتھ کسی فرد کے تعلق کو ماپنے میں‘ان پیمانوں کی کیا اہمیت ہے؟اس کے باوجود ایسا کیوں ہے کہ حج کی خواہش پیدا نہیں ہوئی؟ ایک طرف یہ احساس کہ خداکے حضور پیش ہوں توشاباش ملے کہ Well done Jinnah اوردوسری طرف فرائض سے یہ لاتعلقی؟ میں نے اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔

مذہب کسی واحدتعبیر کا نام نہیں۔مسلمانوں میں‘ کم ازکم چھ تعبیرات کے ماننے والے بکثرت تلاش کیے جا سکتے ہیں۔

ایک یہ تعبیرکہ مذہب چند عقائد کو ماننے اور چند مناسک و رسوم پر عمل کر نے کا نام ہے۔کاروبارِزندگی سے اس کازیادہ گہرا تعلق نہیں۔سیاست‘کاروبار اور معاشرت کے معاملات ایک سماجی روایت کے مطابق ہوتے آئے ہیں اور ہوتے رہیں گے۔یہ مذہب کا براہ راست موضوع نہیں۔ سماج کی اپنی ڈگر ہے اور مذہب کی اپنی جو سراسر انفرادی معاملہ ہے۔

دوسری یہ کہ مذہب ایک فکری نظام(discourse)ہے جیسے اشتراکیت‘سرمایہ داری اور بہت سے دوسرے نظام ہیں۔مذہب کے ساتھ ہمارا تعلق فکری (intellectual) ہے۔یہ ایک فکری سرگرمی کا موضوع ہے۔ہمیں اس دنیا کو سنوارنے کیلئے اس سے مدد لینی چاہیے۔پیغمبر انسانی تاریخ کی بلند وبالا شخصیات ہیں اور ہمیں ان کی تعلیمات سے استفادہ کرنا چاہیے۔ مذہبی کتب کو بھی اسی زاویے سے دیکھنا چاہیے۔ مذہب فرد اور خدا کامعاملہ ہے۔اس معاملے میں کسی دوسرے ادارے کا کردار‘چاہے وہ کلیسا ہو یا ریاست قابلِ قبول نہیں۔کلیسا یا مذہبی طبقے نے ایک خود ساختہ شریعت ایجاد کر رکھی ہے اور یوں ابنِ آدم کو چند رسوم میں جکڑ دیا ہے۔مذہب کو ان رسوم ومناسک سے ماورا‘ اس کے مقاصد کی روشنی میں سمجھنا چاہیے۔

تیسری تعبیر یہ ہے کہ مذہب ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ یہ زندگی کے ہر شعبے کو محیط ہے۔ اس کا مقصود انسانی معاشرے میں خدا کی حاکمیت کا بالفعل قیام ہے۔ مذہب کا اصل مطالبہ یہی ہے۔نماز ‘روزہ اور حج جیسی عبادات اور مناسک بھی ضروری اور مذہب کا حصہ ہیں لیکن ان کی حیثیت ایک تربیتی نظام کی ہے تاکہ ان پر عمل کر کے وہ لوگ تیار ہوں‘ جو دنیا میں اسلام کے غلبے کو امرِ واقع بنا سکیں۔

چوتھی تعبیر کے مطابق‘مذہب ایک عصبیت ہے جیسے رنگ و نسل کی عصبیت۔ ہم جس خاندان یا مذہب میں پیدا ہوتے ہیں‘اس کے ساتھ ہماری جذباتی وابستگی ہوتی ہے۔اس جذباتی وابستگی کا ہمیں زندگی بھر دفاع کرنا اور اس عصبیت کو زندہ رکھنا ہے۔جس طرح غیرت کے نام پر مرنا مارنا ایک اعزاز ہے‘اسی طرح مذہب کے نام پر قتل ہونا اور قتل کرنا بھی ایک اعزاز ہے۔اس تعبیر میں یہ بات غیر اہم ہے کہ مذہب زندگی گزارنے کا کوئی ڈھنگ سکھاتا ہے یا کسی رسم یا عبادت کا مطالبہ کرتا ہے۔ اگر مذہب کی کسی رسم پر عمل کیا جا تا ہے تو وہ بھی اسی عصبیت کو زندہ رکھنے کے لیے۔ہم ویسے حجاب کے بارے میں حساس نہیں لیکن اگر کوئی ہمیں بالجبر اس سے روکے گا تو پھر اس کے لیے جان پر کھیل جائیں گے۔

مذہب کی پانچویں تعبیر یہ ہے کہ یہ کارخانہ قدرت ایک واہمہ یا عکس ہے جس کی اپنی کوئی حقیقت نہیں۔اس کائنات میں ایک ہی حقیقت ہے اوروہ خدا کی ذات ہے۔ جو کچھ ہم دیکھتے ہیں‘اسی کے تنزلات ہیں۔ انسان بھی اسی سمندر کا ایک قطرہ ہے۔اس کی سعی و جہد کا حاصل یہ ہونا چاہیے کہ وہ قطرہ پھر سمندر میں مل جائے۔مذہب کا مطلوب بھی یہی ہے۔

چھٹی تعبیر کے مطابق‘انسان خدا کی مخلوق اور اس کا بندہ ہے۔اسے ایک دن خدا کے حضورمیں پیش ہونا ہے۔وہاں اس کے مستقل ٹھکانے کا فیصلہ ہونا ہے:جنت یا جہنم۔اس کا فیصلہ اس پر منحصر ہے کہ ایک انسان نے اس دنیا میں خود کو کتنا پاکیزہ بنایا۔یہ پاکیزگی اس دین پر عمل سے حاصل ہوتی ہے جو پیغمبر لے کر آتے ہیں۔اس میں کچھ غیر اہم نہیں۔یہ ذہنی و جسمانی طہارت نماز‘ روزہ اور حج‘ زکوٰۃ کے بغیر نہیں مل سکتی ‘اس لیے یہ مقصود بالذات ہیں۔امورِ دنیا میں مذہبی تعلیمات فرد کی سماجی حیثیت کے مطابق‘اس سے متعلق ہوتی ہیں اور وہ اسی حد تک جواب دہ ہے۔

مجھے ان تعبیرات میں غلط اور صحیح کا فیصلہ نہیں کرنا۔میں نے بطورامرِ واقعہ ان کو بیان کیا ہے۔ان سب کو ماننے والے کسی نہ کسی درجے میں ’مذہبی‘ ہیں۔سوال یہ ہے کہ قائد اعظم ان میں سے کس تعبیر کے قائل تھے؟

تفہیمِ مذہب ایک مسلسل عمل ہے۔ ارتقا اس کا خاصہ ہے اور تعبیرات کا تعدد نتیجہ۔

ان تعبیرات سے ایک ''تاریخی مذہب‘‘ وجود میں آتا ہے۔ تاریخی مذہب، مذہب کے بنیادی ماخذ اور اس کی تفہیم کا مجموعہ ہوتا ہے۔ ہر مذہب کی تاریخ میں، کچھ وقفے کے بعد، تجدید و احیائے دین کی ایک تحریک اٹھتی ہے۔ یہ تحریکیں اس دعوے کے ساتھ برپا ہوتی ہیں کہ اصل مذہب انسانی تعبیرات سے بوجھل ہو گیا ہے، اس لیے لازم ہے کہ اب حقیقی دین کی بازیافت کی جائے۔ اس کے لیے پہلا مرحلہ یہ ہے کہ حقیقی مذہب کو تعبیر کے تاریخی عمل سے الگ کیا جائے۔

اسلام کی تاریخ بھی اسی طرح آگے بڑھی ہے۔ اس سے دو نقطہ ہائے نظر وجود میں آئے۔ ایک وہ جو تجدید و احیا کی تحریکیں اپناتی ہیں۔ اس کے مطابق دین اصلاً قرآن اور سنت کا نام ہے‘ ہمیں ان کے ساتھ براہ راست تعلق پیدا کرنا اور انہیں سمجھنا ہے۔ مذہب کا وہ فہم ہمارے لیے حجت نہیں جو انسانی کاوش اور تاریخی عمل کا حاصل ہے۔ اس میں سے اگر کچھ قبول کیا جائے گا تو نقد و جرح کے اس پیمانے پر جو ہر احیائی تحریک از خود طے کرتی ہے۔ دوسرا نقطہ نظر یہ ہے کہ مذہب کو اسلاف کی تعبیر سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ اصل ماخذات کے ساتھ یہ تعبیر بھی مذہب کا حصہ ہے۔ دونوں کے مجموعے کا نام اسلام ہے۔ یہ نقطہ نظر دین کو اس عملی و علمی روایت میں رکھ کر دیکھتا ہے، اس لیے روایتی کہلاتا ہے۔

یہ نکتہ مزید شرح کا متقاضی ہے۔ احیائی تحریکوں کے مطابق، مذہب صرف قرآن و سنت کا نام ہے۔ قرآن کو ہم اصولوں کی روشنی میں سمجھیں گے جو کسی بھی متن کی تفہیم کے لیے فطری طور پراختیار کیے جاتے ہیں۔ جیسے عربی زبان اور اسالیبِ کلام۔ اس عمل میں لازم نہیں کہ اُس تفسیر کو بھی قبول کیا جائے جو ہم سے پہلے ادوار میں ہوتی آئی ہے۔ اسی طرح احادیث کو بھی ہم سمجھیں گے اور اس میں بھی ضروری نہیں کہ قدیم لوگوں کی رائے کو حتمی سمجھا جائے جو روایت یا درایت کے باب میں اختیار کی گئی ہے۔

روایتی موقف یہ ہے کہ قرآن مجید کو اسلاف کی تفسیر سے الگ کرکے نہیں سمجھا جا سکتا۔ اسی طرح نبیﷺ سے کسی روایت کو اگر قدیم محدثین نے سنداً صحیح قرار دے دیا تو اسے اب صحیح مانا جائے گا۔ یا ایک حدیث کا جومفہوم اختیار کیا جا چکا، اسے ہی قبول کیا جائے گا۔ یہی معاملہ استنباطِ احکام کا بھی ہے جس سے فقہ کی روایت وجود میں آئی۔ مزید یہ کہ کسی تعبیر پراگر اجماع وجود میں آگیا تواس کی مخالفت جائز نہیں؛ چنانچہ اہلِ سنت نے یہ موقف اپنا لیاکہ اصولِ فقہ میں ائمہ اربعہ کے دائرے سے باہر نہیں نکلا جا سکتا۔

انسانی سماج مسلسل حرکت میں ہے۔ اس لیے کوئی جامد سوچ اس کا ساتھ نہیں دے سکتی۔ مذہب کو اگر زندہ رہنا ہے تو اسے متحرک ہونا پڑے گا۔ وقت کا یہ بہاؤ احیائی تحریکوں کو جواز بخشتا ہے۔ مذہب کا مزاج مگرروایتی ہے۔ اس کی صحت کا انحصار نقل پر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں روایتی نقطہ نظر غالب رہا جو مذہب کی اس فطری ضرورت کو پورا کرتا ہے؛ تاہم تاریخی دبائو کے نتیجے میں، وہ اس روایت کو مسلسل متحرک رکھنے پر مجبور ہے۔ یوں روایت پسند بادلِ نخواستہ تبدیلی کو قبول کرنے پر مجبور ہوتے ہیں لیکن حیلے کے ساتھ۔ وہ کوشش کرتے ہیں کہ اگر نئی راہ اختیار کرنا پڑے تو یہ تاثر قائم رہے کہ دراصل یہ قدیم روایت ہی کا تسلسل ہے۔

ارتقا کا ایک ناگزیر نتیجہ یہ بھی ہے کہ ایک وقت کی احیائی تحریک، جب ماضی کا قصہ بنتی ہے تو اکثر روایت میں شامل ہو جاتی ہے۔ اگر اس کے متاثرین ایک قابلِ ذکر تعداد میں موجود ہوں یا وہ مسلمانوں کے اعیان و اشرافیہ کو متاثر کرنے میں کامیاب ہوجائے تو روایت کا مستند حصہ سمجھی جاتی ہے۔ یہ بھی دیکھنے میں آیاکہ وہ احیائی تحریکیں جو سب کچھ بدل دینے کے عزم سے اٹھیں، وقت کے ساتھ روایت کو اپنے فکری نظام میں جگہ دینے پر مجبور ہوئیں۔ یوں یہ ایک دوطرفہ عمل ہے۔ مولانا امین احسن اصلاحی نے اس حقیقت کو ایک بار ازراہ تفنن بیان کیا۔ ان سے کسی نے کہاکہ فلاں معاملے میں آپ نے جو رائے اپنائی ہے، متقدمین میں سے تو کسی نے اختیار نہیں کی۔ مولانا نے جواب دیا: آپ ہمارے مرنے کا انتظار کیجیے‘ کچھ وقت کے بعد ہم بھی متقدمین میں شامل ہوجائیں گے۔

حاصل یہ ہے کہ احیائی اور روایتی نقطہ نظر ساتھ ساتھ چلتے رہے ہیں اور تعبیرات کے تعدد کو گوارا کیا گیا ہے۔ یہ تعبیرات چھ سات کے عدد میں مقید نہیں ہیں؛ تاہم قبولیتِ عامہ چند ہی کو ملتی ہے۔ بیسویں صدی تک آتے آتے، مسلمانوں میں ایک طویل عرصہ ایسا گزرا ہے جب زندگی اور سماج کی صورت گری میں ان کا کوئی کردار نہیں تھا۔ اس نے ایک فکری جمودکو جنم دیا۔ بیسویں صدی میں ایسی سیاسی تبدیلیاں آئیں جن کے نتیجے میں مسلمان انفعالی حالت سے نکلے اور مختلف خطوں میں زمامِ کار ان کے ہاتھ میں آگئی۔ اب انہیں اپنے اجتماعی وجود کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنانا تھا۔ بقا نئی تعبیر کاتقاضا کرتی تھی لہٰذا نئی تعبیرات اختیار کرنے کے علاوہ ان کے پاس کوئی راستہ نہیں تھا۔ یہی وہ دور ہے جب قائداعظم کی فکری تشکیل ہوئی۔

قائداعظم کے لیے اس بات کی اہمیت، اس وقت بہت بڑھ گئی جب ان کی عملی زندگی کا آغاز ہوا اور انہوں نے وکالت کو پیشہ کیا۔ اس کے ساتھ وہ سیاست میں آئے اور مسلمانوں کے ترجمان بنے۔ نجی زندگی کے حوالے سے مذہب کا معاملہ ان کے لیے زیادہ اہمیت کا حامل نہیں رہا۔ ذاتی سطح پر، جب مذہب کی ضرورت پیش آئی توروایتی دینی تعبیرکو انہوں نے کافی سمجھا۔

اصل مسئلہ سیاسی زندگی میں پیش آیا۔ تجربات نے انہیں سمجھایاکہ مسلمانوں کی تہذیبی اور سماجی بنت ہندوئوں سے مختلف ہے۔ ہندووں کے اعیانی طبقے کے رویے نے انہیں اس رائے پر مستحکم کیا؛ تاہم چونکہ وہ اسلام کے کوئی سکالر نہیں تھے، اس لیے اپنے تئیں اس کا کوئی حل تلاش نہیں کرسکتے تھے، اگرچہ وہ اس کی ضرورت کومحسوس کر رہے  تھے۔

مسلمانوں کو درپیش اس عملی مسئلے کے حل کی طرف علامہ اقبال نے انہیں متوجہ کیا۔ خطبہ الٰہ آباد کے وقت وہ سیاسی طورپر فعال نہیں تھے لیکن یہ ممکن نہیں کہ یہ خطبہ ان کی نظرسے نہ گزراہو۔ وہ ہندی مسلمانوں کے حالات سے مایوس ہوکرانگلستان جاچکے تھے۔ اقبال نے ان کے نام اپنے خطوط میں مسلمانوں کے مسائل اوران کے حل کی نشاندہی کی۔ اس باب میں قائداعظم علامہ اقبال کو اپنا فکری قائد مانتے ہیں، جس طرح اقبال قائداعظم کو اپنا سیاسی راہنما قرار دیتے ہیں۔ کیا قائد، اقبال کی اس فکری قیادت کوتعبیرِ مذہب کے عموم میں بھی قبول کرتے تھے؟ میں اس سوال کوآگے چل کرمخاطب بناؤں گا۔

اسلام پر قائداعظم نے وقتاً فوقتاً جو گفتگو کی، اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے اسلام کو اپنے طورپر سمجھنا شروع کردیا تھا، بالخصوص تہذیبی اورسیاسی حوالے سے۔ جب وہ مسلمان قوم کا سیاسی مقدمہ لڑرہے تھے تولازم تھاکہ وہ اس کے علمی مقدمات اور تہذیبی امتیازات سے واقف ہوں۔ بایں ہمہ بطور وکیل بھی انہیں اسلام کے عائلی قوانین کو سمجھنا تھاکہ انہیں عدالت کے سامنے اپنے موکل کا مقدمہ پیش کرنا پڑتا تھا جو شخصی احوال میں ان سے رجوع کرتاتھا۔ جب انہوں نے وقف کابل (مارچ 1911) پیش کیا، تب بھی انہوں نے یقیناً اسلام کامطالعہ کیا ہوگا۔

سوال یہ ہے کہ اس مطالعے اور غوروفکر سے وہ کن نتائجِ فکر تک پہنچے؟ تعبیرِ مذہب کے پہلوسے، ہم ان کا شمارکس طبقے میں کریں گے؟

قائداعظم کے تصورِ اسلام کوان کے تصورِ پاکستان سے بے نیاز ہوکر نہیں سمجھا جاسکتا تھا۔ یہ تصور دو نکات پر مشتمل ہے۔

ایک یہ کہ پاکستان اسلام کے اصولوں پر قائم ایک مملکت ہے۔ یہ بات انہوں نے اتنے اصرارکے ساتھ، اس کثرت سے اور اتنے اسالیب میں کہی کہ اس کا انکار عقلاً محال ہے۔ کبھی انہوں نے شریعت کو پاکستان کے دستورکی بنیاد کہا (25جنوری 1948ء) اور کبھی اسے 'اسلامی ریاست‘ قرار دیا (فروری 1948)۔ دیانتداری کا تقاضا ہے کہ ان کی 11اگست 1947ء کی تقریر کو ان کی دیگر تقاریر کے سیاق و سباق میں پڑھا جائے یادیگر تقاریر کومجلسِ دستور سازکے اِس خطاب کے تناظر میں سمجھا جائے۔

دوسرا نکتہ یہ ہے کہ پاکستان اصلاً مسلمانوں کیلئے بنا ہے۔ یہ بات بھی قائداعظم نے اتنی تکرارکے ساتھ کہی کہ اس کا انکار تاریخ کاانکار ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ مسلمان اگراپنے تہذیبی وجود کا اظہارکرنا چاہیں توکوئی دوسرا عقیدہ یا نظریہ ان کی اس خواہش کے راستے میں مزاحم نہ ہو؛ تاہم اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ کوئی دوسرا مذہبی یا تہذیبی گروہ مذہبی آزادی کے فطری حق کو استعمال کرنا چاہے تواس کو روک دیا جائے۔ اس سے البتہ یہ واضح ہوتا ہے کہ ریاست کا غالب رنگ اسلامی ہوگا۔

قائداعظم کا تصورِ اسلام، ان کے تصورِ پاکستان اور سیاسی کردارکے زیرِاثر متشکل ہوا۔ بطوروکیل، تفہیمِ اسلام ان کی پیشہ ورانہ زندگی کی ضرورت بھی تھی لیکن جیسے جیسے ان کا سیاسی کردار بڑھتاگیا، اسلام ان کیلئے ایک عقیدے یا فقہی قضیے سے زیادہ ایک سیاسی نظام اور تہذیبی قوت کے طورپر اہم ہوتا گیا۔ انہوں نے اسلام کومعاصر سیاسی افکار اورتبدیلیوں کے تناظر میں سمجھناچاہا۔ یہ اسلام کی تفہیم کاعقلی منہج ہے۔

قائد نے جہاں جہاں اور جب جب اسلام کو موضوع بنایا، ان کی گفتگو کا کم وبیش پچانوے فیصد حصہ اسلام کے بارے میں ایک اصولی یا عمومی موقف کا بیان ہے۔ ان کی طرف سے اس کی کوئی توضیح و تشریح نہیں کی گئی۔ جیسے ''قرآن کریم مسلمانوں کا عمومی ضابطہ حیات ہے‘‘۔ اس طرح کے بیانات سے کوئی تصورِ اسلام اخذ کرنا ممکن نہیں۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ قائد اسلام کے سکالرنہیں تھے، اس لیے اُن سے یہ توقع بھی نہیں کرنی چاہیے۔ یہ عذر قابلِ قبول ہے اوراس سے ان کی عظمت میں بھی کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔ مسلم تاریخ میں ان کا مقام ایک سیاسی رہنما کے طورپر ہے نہ کہ ایک سکالر کے طور پر۔ اس سے لیکن یہ بنیادی مقدمہ قائم رہتا ہے کہ ان کے بیانات سے کوئی مستقل بالذات تصورِ اسلام کشید کرنا ممکن نہیں۔

قائداعظم کے خطبات و ارشادات میں موجود اس خلا نے مختلف گروہوں کویہ موقع فراہم کردیا کہ وہ قائداعظم کے بیانات کی تشریح اپنے اپنے تصورِ اسلام کی روشنی میں کریں۔ اب اگرکوئی ان کے کسی انٹرویو میں موجود ''اسلامی ریاست‘‘ کی اصطلاح کو مولانا مودودی کے تصورِاسلامی ریاست کی روشنی میں پیش کرنا چاہے توآپ اس کا قلم یا زبان نہیں روک سکتے۔ اسی طرح اگرکوئی سردار شوکت حیات اور سبطِ حسن کی طرح قائداعظم کو غیر مذہبی (سیکولر) ثابت کرنا چاہے توآپ اس پربھی کوئی قدغن نہیں لگا سکتے۔ کوئی ان کی تقریر سے 'اسلامی سوشلزم‘ (چٹاگانگ، 26مارچ 1948ء) کی اصطلاح لے کر انہیں 'سوشلسٹ‘ قراردینا چاہے تو قائداعظم کے ارشادات کی روشنی میں اس کی تردید نہیں کی جاسکتی۔

میں نے قائداعظم کی تقاریر، بیانات اور اقدامات سے بلاواسطہ ان کے فہمِ اسلام تک رسائی کی کوشش کی ہے۔ اس سے بڑی حد تک اُس ریاست کے خدوخال نمایاں ہوتے ہیں جوان کے نزدیک ایک اسلامی ریاست ہے۔ اس کوشش میں کسی دوسرے کی تشریح یا توضیح شامل نہیں۔ میں اس فہم کو چند نکات کی صورت میں بیان کررہا ہوں:

1۔ پاکستان کی ریاست اپنے سیاسی ومعاشی نظام کی تشکیل میں اسلام کی تعلیمات کو بنیاد بنائے گی۔ (25جنوری 1948ء)

2۔ قرآن مجید کے مطابق انسان زمین پر خدا کا خلیفہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے دوسروں انسانوں کے ساتھ اُسی طرح معاملہ کرنا ہے جس طرح خدا اپنے بندوں کے ساتھ کرتا ہے۔ یہ محبت اور تحمل و برداشت سے عبارت ہے۔ ہمیں خداکی مخلوق سے یہی رویہ رکھنا ہے۔ اس کو سمجھنے کیلئے قرآن مجید کی ایک عقلی تفسیروتشریح کی ضرورت ہے۔ اسلامی عبادات دراصل اسی رویے کی تشکیل کیلئے ہیں۔ (نومبر1939ء‘ عید کا پیغام)

3۔ اسلام انسانوں کے درمیان امتیاز نہیں کرتا۔ بطور نظام، تہذیب اور تمدن، اسلام انسانی برابری، بھائی چارے‘ آزادی اور مساوات کا قائل ہے اور پاکستان کا نظام اسی تصورِ اسلام کی اساس پر بنے گا۔ (25 جنوری 1948ء، 26مارچ 1948ء)

4۔ ہندوئوں سے مختلف ہونے کا بنیادی سبب نظام ہائے معاشرت کا اختلاف ہے۔ اسلام وحدتِ آدم پریقین رکھتا ہے اور ہندومت معاشرتی سطح پر انسانوں کو طبقات میں تقسیم کرتا ہے۔ (22مارچ، 1940)

5۔ پاکستان کی ریاست میں، مذہب کی بنیاد پر شہریوں میں تفریق نہیں کی جائے گی۔ وہ اپنے مذہبی وجود کے اظہار میں آزاد ہوں گے اورریاست کا اس میں کوئی کردار نہیں ہوگا۔ (11اگست 1947ء)

6۔ پاکستان کی ریاست ان معنوں میں کوئی مذہبی ریاست (Theocracy) نہیں بن رہی جس میں مذہبی پیشواؤں (priests) کا ایک طبقہ کسی خدائی مشن کے ساتھ حکومت کرے گا۔ ) فروری 1948ء)

7۔ پاکستان میں بسنے والے ہندوئوں، مسیحیوں اور پارسیوں کو وہی حقوق اور مراعات حاصل ہوں گی جو کسی دوسرے شہری کو میسر ہیں۔ (فروری 1948ء)

8۔ پاکستان کی ریاست میں کلیدی عہدوں کیلئے مسلمان ہونے کی شرط نہیں ہو گی۔ پاکستان کا کوئی شہری کسی اہم ترین منصب پر فائز ہو سکتا ہے۔

9۔ خواتین کو معاشرت اور سیاست میں متحرک کردار ادا کرنا ہوگا، تاہم اس کا مطلب مغرب کی نقالی نہیں۔

یہ نکات قائداعظم کی تقاریر سے ماخوذ ہیں۔ اس میں کسی دوسرے کی تفہیم و تشریح شامل نہیں۔ یہ اسلام کو سیاسی و سماجی سطح پر سمجھنے کا ایک عقلی منہج ہے۔ اس لیے میں اس کا شمار تعبیرِ اسلام کے دوسرے طبقے میں کرتا ہوں۔ (ان طبقات کا ذکر میں نے اس سلسلے کے پہلے کالم میں کیا ہے)۔ کوئی فرد جب کسی مذہب کوعقلی سطح پر سمجھتا ہے توایک ناگزیر نتیجے کے طورپر ان مسلکی اور فرقہ وارانہ تعبیرات سے بلند ہوجاتا ہے جواسے خاندان یا معاشرے سے وراثتاً منتقل ہوتی ہیں۔ فقہ پھر اس کے نزدیک نکاح و طلاق یا تجہیزوتدفین جیسے معاملات تک محدود ہو جاتی ہے۔ قائد اعظم کا معاملہ بھی یہی تھا۔ وہ وقت کے ساتھ مسلکی تقسیم سے بلند ہوگئے۔

میں جب قائد کے ارشادات سے ابھرنے والی اس تعبیر کو سامنے رکھتا ہوں تو مجھے ان اخبارِ آحاد پر زیادہ اعتماد نہیں رہتا جو اسلام کے ساتھ ان کے وابستگی کی ایک جذباتی تصویر پیش کرتے ہیں، جیسے حسرت موہانی سے منسوب ایک روایت۔ اسی طرح خوابوں کا معاملہ بھی، اگر سچ مان لیا جائے تولاشعوری سطح پرخوش گمانیوں کے اظہار سے زیادہ کچھ نہیں۔

کیا قائداعظم اور علامہ اقبال ایک ہی تعبیرِ اسلام کے قائل تھے؟ مولانا شبیر احمد عثمانی کے ساتھ قائد کے تعلق کی نوعیت کیا تھی؟ اس بحث میں یہ سوالات اہم ہیں۔ ضرورت ہے کہ ان کو الگ سے موضوع بنایا جائے۔

قائداعظم کا تصورِ اسلام، کیا کلی طور پرفکرِ اقبال سے مستعارہے؟

علامہ اقبال ایک عالم تھے اور قائداعظم ایک عملی سیاست دان۔ تعبیرِ دین کے باب میں دونوں کا تقابل خوش ذوقی نہیں اور نہ ہی یہاں مطلوب ہے۔ قائد نے اقبال کے علمی تبحر کا بارہا ذکر کیا اور انہیں ایک طرح سے اپنافکری رہنما بھی قرار دیا۔ اس سے یہ تاثر قائم ہواکہ قائد کے تمام تر افکار، فکرِ اقبال سے ماخوذ ہیں۔ اس لیے قائدکے فہمِ دین تک رسائی کیلئے ضروری ہے کہ اس سوال کا موضوع بناناجائے۔

اقبال، اس میں کیا شبہ ہے کہ نادرِ روزگار شخصیت تھے۔ ایک عبقری۔ ان کے اقلیمِ فکر اور مطالعے کی وسعت وہمہ گیری کا احاطہ آسان نہیں۔ مذہب، فلسفہ، تصوف، تاریخ، سماجی علوم، ادب... علم وفضل کون سا شعبہ ہے، جس کی امہاتِ کتب تک ان کی رسائی نہیں تھی۔ 'جاویدنامہ‘ میں انہوں نے جس طرح مختلف افلاک پر اقامت کیلئے شخصیات کا انتخاب کیا ہے، صرف یہی یہ جاننے کے لئے کافی ہے کہ علمی اعتبار سے وہ کس درجے کے آدمی تھے۔ اس پہ مستزاد علم کی مشرقی ومغربی روایات سے براہ راست استفادہ۔

قائداعظم علامہ اقبال کی اس حیثیت سے واقف تھے۔ اس لیے انہوں نے اقبال کی آرااور تجزیوں کو ہمیشہ بہت اہمیت دی۔ اس سے بڑھ کر، اس بات کی کیا دلیل ہوگی کہ علامہ نے خطبہ الٰہ آباد میں جس منزل کی نشاندہی کی تھی، قائد نے اس تک پہنچنے کواپنا مقصدِ حیات بنالیا۔ اس کے باوصف، میراتاثر یہ ہے کہ قائداعظم کا فہمِ اسلام، کلی طور پر علامہ اقبال کی تعبیرِدین سے ماخوذ نہیں تھا۔ ان کا اتفاق جزوی تھا۔

اس کی وجہ 'شاکلہ‘ کا فرق ہے۔ علامہ اقبال کی شخصیت پر جذبات کا غلبہ تھا۔ قائد پر عقل کا۔ اقبال دل سے سوچتے تھے، قائددماغ سے۔ شخصیت پرجب ایک پہلوکا غلبہ ہوتو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتاکہ دوسرے کی کلی نفی ہوگئی ہے۔ جذبات کے غلبے سے یہ مرادنہیں کہ عقل کا کردار ختم ہوگیا یاعقلی شخصیت کا یہ مفہوم نہیں کہ ایسے آدمی کے پاس دل نہیں ہوتا۔ غلبے کا مطلب یہ ہے کہ دل و دماغ میں تصادم ہوجائے تو ترجیح کسے دی جاتی ہے یا زندگی کے بارے میں سوچتے ہوئے، کون ساپہلو زیادہ اہم شمارہوتا ہے۔

علامہ اقبال کے بارے میں رشید حمد صدیقی نے لکھا ہے کہ انہیں اسلام کے آفاقی پیغام سے زیادہ رسالت مآبﷺ کی شخصیت نے متاثر کیا۔ گویا اسلام تک ان کی رسائی دل کے راستے سے ہوئی۔ ظاہرہے کہ یہ دل تک محدود نہیں رہا، ان کے لئے عقلی سرگرمی کا بھی سب سے بڑا موضوع بنا۔ اسلام کو پیش کرنے والی شخصیت جیسی بلند و بالا تھی، اس کا پیغام بھی اُسی شان کا تھا۔ اقبال اصلاً شاعر تھے۔ جودل کی حاکمیت کا قائل نہ ہو وہ شاعر نہیں بن سکتا۔ ان کے دیگر امتیازات ان کی شاعرانہ طبیعت کے تابع ہیں۔

قائداعظم سیاستدان تھے اور سیاستدان ہمیشہ عملی آدمی ہوتا ہے۔ عملی آدمی عقل کی حاکمیت کا قائل ہوتا ہے۔ وہ رزم گاہ میں کھڑا ہوکر فیصلے کرتا ہے، ایک سپہ سالار کی طرح۔ کبھی ہزاروں اور کبھی لاکھوں افراد کی زندگی اس کے ایک فیصلے سے بندھی ہوتی ہے۔ وہ خودکو دل کے حوالے نہیں کرسکتا۔ قائداعظم نے ہمیشہ عقلی فیصلے کیے۔ کبھی اپنی باگ دل کے ہاتھ میں نہیں دی۔ ان کی تمام سیاسی زندگی اس پر گواہ ہے۔ جیسے قیامِ پاکستان کیلئے یکسو ہونے کے باوجود، کیبنٹ مشن کی سفارشات کو تسلیم کرلیا تھا۔

میں اس فرق کو ایک مثال سے واضح کرتاہوں۔ علامہ اقبال اور قائد اعظم دونوں نے حج نہیں کیا لیکن دونوں کے حج نہ کرنے کے اسباب مختلف تھے۔ اقبال ہمیشہ اس خواہش میں جیتے رہے۔ عمر کے آخری حصے میں تو ٹریول ایجنٹ تک سے رابطہ کر لیا تھا کہ سفر کی تفصیلات طے کریں۔ گفتگو کے دوران میں سفرِ حجاز کا ذکر آ جاتا تو وہ ایک دوسری کیفیت میں چلے جاتے۔

حج اصلاً مکہ کا سفر ہے۔ اقبال دین کے عالم تھے، اس بات سے بہتر واقف تھے۔ اس کے باوجود جب بھی سفرِ حجاز کی بات ہوئی، ان کا دل مدینہ میں اٹکا دکھائی دیا۔ شاعری اور نثر دونوں کا یہی معاملہ ہے۔ 13جون 1937ء کو سر اکبر حیدری کے نام خط میں لکھا ''ایک ہی خواہش، جو ہنوز میرے دل میں خلش پیدا کرتی ہے، یہ رہ گئی ہے کہ اگر ممکن ہو تو حج کیلئے مکہ جاؤں اور وہاں سے اس ہستی کی تربت پر حاضری دوں، جس کا ذاتِ الٰہی سے بے پایاں شغف میرے لیے وجہ تسکین اور سرچشمہ الہام رہا ہے‘‘۔

عمر کے اس آخری حصہ میں جذباتی اور روحانی طور پر وہ حجاز کے سفر پر روانہ ہو چکے تھے۔ 'حضورِ رسالت‘ کے عنوان سے فارسی رباعیات اور قطعات لکھے جا رہے تھے کہ

بہ ایں پیری رہِ یثرب گرفتم
نوا خواں از سرورِ عاشقانہ

اس ذوق و شوق کی کہانی، اقبال نے جس والہانہ انداز میں، اپنی نثر اور شاعری میں لکھی ہے، چشمِ ترکے ساتھ ہی پڑھی اور بیان کی جا سکتی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ اقبال اگر مدینہ پہنچ جاتے تو شاید واپس نہ آسکتے۔ وہ 'پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا‘ کا مصداق بن جاتے۔

دوسری طرف قائداعظم کے ہاں کہیں جذبات کا ایسا اظہارنہیں ملتا۔ وہ حج پر نہ جا سکے اور کبھی اعلانیہ اس خواہش کا اظہار بھی نہیں کیا۔ قائد نے خود اس کی کوئی وجہ بیان نہیں کی۔ میرا قیاس یہ ہے کہ ان دو رویوں کا فرق دراصل شاکلہ کافرق ہے۔ رسالت مآبﷺ اور اسلام سے اقبال کے تعلق کی بنیاد جذباتی تھی، جس کا ظہور حج کے معاملے میں بھی ہوا۔ قائد کی رسول اللہﷺ اور اسلام سے تعلق اصلاً عقلی تھا، اس لیے اس کا اظہار جذباتی سطح پر نہیں ہوا۔ اس فرق کی وجہ سے قائد نے فکرِاقبال کے اس پہلوسے تو اثر قبول کیا جس کا تعلق اسلام کے سیاسی و سماجی تعلیمات کی عقلی توجیہ اور تشریح سے تھا لیکن وہ اقبال کی کلی تعبیر سے کوئی مناسبت نہ پیدا کر سکے۔

قائد اعظم اسلام کو عصری نظریات کے تقابل میں، عقلی اور فکری سطح پر ایک سیاسی و سماجی نظام کے طور پر دیکھ رہے تھے۔ تاریخ یہ کہتی ہے کہ جنہوں نے دین کوصرف اس پہلو سے سمجھا، ان کے ہاں، مذہب کا وہ پہلو پس منظر میں چلا گیا جو تعلق باللہ یا شخصی عبادات سے متعلق ہے۔ اس تعبیر کے مطابق یہ پہلو ایک فرد کے لیے اہم ہو سکتا ہے لیکن مقصود بالذات نہیں۔ اس تعبیرمیں مقاصدِ شریعت اہم ہوتے ہیں، شریعت نہیں۔ اقبال نے جب مذہب کی عقلی توجیہ کی تو ان کا رجحان بھی اسی جانب دکھائی دیتا ہے۔ خطبات میں جب وہ اجتہاد کو موضوع بناتے اور شرعی سزاؤں کے آفاقی پہلو پر گفتگو کرتے ہیں تواسے مقاصدِ شریعت ہی کی روشنی میں حل کرنا چاہتے ہیں۔

تاہم، اقبال چونکہ ایک عالم تھے، اس لیے اس عقلی توجیہ کے باوجود، وہ عبادات اور شریعت کی اہمیت سے صرفِ نظر نہیں کرسکتے تھے‘ اس لیے وہ دونوں میں تطبیق پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ اس میں کتنے کامیاب رہے، یہ اس وقت میرا موضوع نہیں۔ مجھے تو یہاں علامہ اقبال اور قائداعظم کے نظام ہائے فکر کے باہمی تعلق تک محدود رہنا ہے۔ میرا تاثر ہے کہ تعبیرِ دین کے حوالے سے قائد سید امیر علی سے قریب تر ہیں۔ شایدان کی کتاب 'سپرٹ آف اسلام‘ قائد کے پیش نظر رہی ہو۔

فکرِ قائد کی تشکیل میں، کیا مولانا اشرف علی تھانوی اور مولانا شبیر احمد عثمانی کا بھی کوئی حصہ تھا‘ جنہوں نے ایک غیرمعمولی قدم اٹھاتے ہوئے، اپنے حلقے سے علیحدگی اختیار کی اور قائد کا ساتھ دیا؟

متحدہ قومیت کے مسئلے پر مولانا اشرف علی تھانوی اور مولانا شبیر احمد عثمانی کی اپنے حلقۂ فکر سے بغاوت، مسلم برصغیر کا ایک غیرمعمولی واقعہ ہے۔ اس نے تاریخ کا رخ متعین کرنے میں ایک اہم کردار اداکیا۔ یہ داستان ابھی تک اُس طرح لکھی نہیں جاسکی جیسے لکھی جانی چاہیے تھی۔ میری دلچسپی بھی اس کے صرف ایک پہلوسے ہے کہ کیا مولانا تھانوی کے سیاسی افکار قائداعظم کے فہمِ اسلام پراثر انداز ہوئے؟

مسلم برصغیر کی علمی و تہذیبی تشکیل میں مولانا اشرف علی تھانوی کا مقام پیشِ نظر رہے تواس سوال کی اہمیت دوچند ہوجاتی ہے۔ علمِ تفسیر سے فقہ تک، تصوف سے کلام تک، نفسیات سے سماجی علوم تک، علم کا شاید ہی کوئی شعبہ ہو جس پر مولانا تھانوی کااثر نہ ہو۔ ہماری تاریخ میں علامہ اقبال کے بعد وہ واحد شخصیت ہیں جنہیں حکیم الامت کہا گیا۔ اس میں شبہ نہیں کہ وہ اس اعزازکے مستحق تھے۔مولانا تھانوی اکابر علمائے دیوبند میں سے ہیں۔ دارالعلوم دیوبند اپنے جن فرزندوں پر نازکرتا ہے، وہ ان میں سے ایک تھے۔ اس کے باوجود انہوں نے متحدہ قومیت کے مسئلے پراپنے مسلک کے سوادِ اعظم سے اختلاف کیا۔ مولانا شبیراحمد عثمانی، مولانا تھانوی ہی کا فکری وسیاسی تسلسل ہیں۔ ان کا انتقال 1943ء میں ہوا جب تحریکِ پاکستان برپا ہوچکی تھی اور مسلم لیگ کوان لوگوں کی شدت کے ساتھ ضرورت تھی جواس کا مقدمہ دینی ومذہبی بنیادوں پر پیش کرسکیں۔ یہ کام مولانا شبیراحمد عثمانی نے سرانجام دیا۔

مولانا اشرف علی تھانوی نے مسلم لیگ کا ساتھ کیوں دیا؟ مولانا عملی سیاست میں علما کی شرکت کے خلاف تھے؛ تاہم وہ یہ بھی چاہتے تھے کہ ملی سیاست علما کے اثرسے باہر نہ رہے تاکہ وہ صراطِ مستقیم پررہے۔ اس کا حل انہوں نے یہ تجویزکیا کہ مسلمانوں کی دو جماعتیں ہونی چاہئیں۔ ایک سیاسی جو عملاً بروئے کار آئے اور ایک علما کی جماعت جواس کی فکری رہنمائی اور تبلیغ (انذار)کاکام کرتی رہے۔ سیاسی جماعت اس کے زیرِ اثررہے۔ اسی خیال کے تحت انہوں نے مسلم لیگ کی طرف دستِ تعاون بڑھایا۔

مسلم مفادکے حوالے سے مولانا تھانوی مسلم لیگ اورکانگرس دونوں کومثالی نہیں سمجھتے تھے؛ تاہم مسلم لیگ کوترجیح دیتے ہیں۔ اس ترجیح کی دووجوہات تھیں۔ پہلی‘ یہ مسلم لیگ مذہب کو قومیت کی اساس قراردیتی تھی اور مولانا تھانوی کے نزدیک یہی موقف درست تھا۔ دوسری یہ کہ کانگرس کے مقابلے میں مسلم لیگ کی اصلاح کے امکانات زیادہ تھے۔

مولانا کے پیش نظر یہ خاکہ تھاکہ مسلم لیگ مولانا تھانوی (یاعلما) سے فکری رہنمائی لے۔ اس ضمن میں مولاناکی مسلم لیگ کی قیادت کے ساتھ خط وکتابت رہی، بالخصوص نواب محمد اسماعیل خان کے ساتھ جو مسلم لیگ یوپی کے صدرتھے۔ نواب صاحب سے انہوں نے استفسار کیاکہ تعاون کی صورت میں مسلم لیگ میں علماکا کردار کیا ہوگا؟ ان کا جواب تھا: وہی جوایک مسلم سماج میں ہوتا ہے۔ مولانا تھانوی کے ساتھ قائد کی کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔ براہ راست رابطے کا واحد ثبوت قائداعظم کا ایک خط ہے جوانہوں نے مولانا تھانوی کے ایک خط کے جواب میں لکھا۔

1937ء تک مولانا تھانوی مسلم لیگ کے ساتھ اتحاد میں یکسو نہیں تھے۔ اس سال ہونے والے انتخابات سے پہلے جب جھانسی کے لوگوں نے مولاناکی رائے معلوم کرنا چاہی توان کاجواب واضح نہیں تھا۔ انہوں نے مسلم لیگ کے بارے میں اپنی ترجیح کا ذکرکیا لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہاکہ مسلم لیگ زمین داروں کی جماعت ہے‘ اس لیے یہ امرمشتبہ ہے کہ وہ جیت کراسلامی نظام نافذ کرسکے گی؛ تاہم مولانا ظفراحمد عثمانی کی تجویز پر انہوں نے مسلم لیگ کی حمایت کا اعلان کیا۔ مسلم لیگ بحیثیت مجموعی یہ انتخابات ہارگئی لیکن مولاناکی نصرت کے باعث جھانسی میں کامیاب رہی۔

6جون 1938ء کو پٹنا میں مسلم لیگ کا ایک اہم اجلاس ہوا۔ اس میں مولانا تھانوی کی طرف سے چار رکنی وفد نے شرکت کی۔ اجلاس میں مولانا تھانوی کا ایک خط پڑھا گیا جس میں انہوں نے یہ بیان کیاکہ وہ مسلم لیگ سے کیا چاہتے ہیں۔ ایک یہ کہ مسلم لیگ کواب جنداللہ‘اللہ کے لشکر میں تبدیل ہوجانا چاہیے۔ اس کیلئے وہ اللہ پر ایمان کو مضبوط کریں۔ دوسرے یہ کہ مغربی تہذیب کے اثرات سے نکلیں۔ تیسرے غیرمسلموں کے ساتھ مشابہت سے بچیں اور داڑھی رکھیں۔ چوتھا یہ کہ نماز روزہ اور زکوٰۃ کا اہتمام کریں۔ 1943ء میں مولانا تھانوی کا انتقال ہوا‘ 1944ء میں ان کے سیاسی جانشین مولانا شبیر احمد عثمانی مسلم لیگ میں شامل ہوگئے۔ 1945ء میں جمعیت علمائے ہند سے الگ ہوکر علمائے دیوبند کے ایک طبقے نے جمعیت علمائے اسلام کی بنیاد رہی، جس نے مسلم لیگ کی اعلانیہ حمایت کردی۔ مولانا عثمانی کلکتہ میں ہونے والے تاسیسی اجلاس میں خود شریک نہ ہو سکے۔ ان کی غیرحاضری میں ان کا خطبہ صدارت پڑھ کر سنایا گیا۔

اس اجلاس میں کم وبیش پانچ ہزارعلما شریک ہوئے۔ انہوں نے 'گاندھی ازم، اشتراکیت اور کمال ازم کی ملحدانہ سیاست‘ سے اظہارِ لاتعلقی کیا اور قائداعظم کو یقین دلایاکہ علما اور مشائخ انتخابات میں مسلم لیگ کا ساتھ دیں گے۔ مسلم لیگ کی طرف سے نواب محمد اسماعیل کا پیغام بھی سنایا گیا‘ جنہوں نے وعدہ کیاکہ پاکستان میں شریعت اور مذہب کے معاملات میں علماکی قیادت کوتسلیم کیا جائے گا۔

اجلاس میں مختلف قراردادوں کی صورت میں جمعیت نے اسلامی ریاست کا خاکہ بھی پیش کیا۔ ان قراردادوں کے مطابق، چونکہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہوگا لہٰذا اس میں علما کا کردار اہم ہونا چاہیے۔ اس کے لیے تجویزکیا گیاکہ پاکستان میں 'شیخ الاسلام‘ کا منصب ہو۔ ایک مفتیٔ اعظم ہو جو عدالتوں اورفقہی مسائل میں رہنما ہو جہاں مسلمانوں کے امورکے فیصلے ان کی فقہ کے مطابق ہوں۔ زکوٰۃ وصدقات کے لیے بیت المال ہو اور 'نظاماتِ اوقافِ اسلامیہ‘ ہو۔

مولانا تھانوی علما کے عملی سیاست میں حصہ لینے کے خلاف تھے لیکن ان کی رائے کے برعکس، مولانا عثمانی نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی اور عوامی سطح پر بھرپور انداز میں مسلم لیگ کا مقدمہ پیش کیا۔ انہوں نے متحدہ قومیت کے تصورکو شدت کے ساتھ رد کیا جو جمعیت علمائے ہند پیش کررہی تھی۔ اسے غیراسلامی کہا۔ نبیﷺ کی آمد کے بعد ان کے خیال میں اب صرف ایک تقسیم باقی ہے: مومن اور کافر۔ انہوں نے یہ دعویٰ کیاکہ شیخ الہند بھی ہندو اور مسلمان کو دوالگ قومیں سمجھتے تھے جس کا اظہار انہوں نے اپنی وفات سے نو دن پہلے کیا۔ انہوں نے مدینہ اور پاکستان کو مترادف کہا اور یہ تعبیر پیش کی کہ رسالت مآبﷺ نے مدینہ میں ایک پاکستان قائم کیا (جمعیت کے لاہوراجلاس میں خطاب) ان کا کہنا تھاکہ جس طرح مدینہ کی ہجرت اوروہاں ایک اسلامی مرکزکا قیام ہمہ گیر اسلامی ریاست کی طرف پہلا قدم تھا، اسی طرح پاکستان کا قیام بھی اس سمت میں پہلا قدم ہے۔

پاکستان بننے کے بعد 13 جنوری 1848ء کو مولانا عثمانی کی رہائش گاہ پر جمعیت علمائے اسلام کا اجتماع ہوا جس میں شیخ الاسلام کے منصب کی بحالی کا مطالبہ دہرایا گیا۔ مولانا تھانوی اور مولانا عثمانی جمہوریت کے مخالف تھے اور اسے غیر اسلامی سمجھتے تھے۔

اس تجزیے سے واضح ہے کہ مولانا تھانوی اور مولانا شبیر احمد عثمانی‘ دونوں قائد اعظم کی طرح مسلمانوں کو ایک الگ قوم سمجھتے تھے؛ تاہم 'اسلامی ریاست‘ اور سیاسی تصورات کے باب میں دونوں کا نقطہ ہائے نظر مختلف تھے۔ اس بات کا مجھے کوئی ثبوت نہیں ملا کہ ان علما کے کردار کی تحسین کے باوجود، قائد اعظم نے ان سے کوئی فکری اثر لیا ہو۔

(بشکریہ روزنامہ دنیا)

الشریعہ اکادمی کی تعلیمی سرگرمیاں

ادارہ

الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے زیر انتظام  مدرسہ الشریعہ ومسجد خدیجۃ الکبری ٰ ہاشمی کالونی، کنگنی والا میں اور   مدرسہ طیبہ ومسجد خورشید، کوروٹانہ میں  سرگرم عمل ہیں۔   الشریعہ اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہدالراشدی اور ڈپٹی ڈائریکٹر مولانا محمدعمار خان ناصر ہیں، جبکہ مولانا محمدعثمان جتوئی، مولانا عبدالرشید، مولانا طبیب الرحمٰن، مولانا محفوظ الرحمٰن، مولانا عبدالوہاب، ، مولانا سفیراللہ ، مولانا کامران حیدر ،مولانااسامہ قاسم، قاری عمرفاروق اور ڈاکٹر محموداحمد پر مشتمل اساتدہ و منتظمین کی ٹیم ان کے ساتھ مصروف کار ہے۔اور معاونین میں حاجی عثمان عمر ہاشمی ،جناب محمدمعظم میر ، جناب محمد مبشر چیمہ،جناب محمدطیب،  جناب یحییٰ میر  ،جناب عاصم   بٹ،جناب ڈاکٹر عمران   رفیق، جناب دلشاد  ،جناب زبیر   اور جناب حاجی بشیر  نمایاں ہیں ۔

اکادمی کے شعبہ جات:

درس قرآن وحدیث

مسجد خدیجۃ الکبرٰی میں   مولانا زاہدالراشدی  روزانہ نماز فجر کے بعد درس قرآن وحدیث ارشادفرماتے ہیں جس سے اہل محلہ واہل علاقہ مستفید ہوتے ہیں۔

ناظرہ قرآن کریم

اکادمی میں روزانہ صبح وشام ناظرہ قرآن کریم کی کلاس ہوتی ہے جس  میں اب تک تقریباً چالیس طلبہ مکمل قرآن کریم کی تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔

شعبہ حفظ

الحمدللہ الشریعہ اکادمی کے زیر اہتمام حفظ قرآن کریم کی کلاس  باقاعدہ تسلسل کے ساتھ جاری ہے   جس  میں اب تک تقریباً بیس طلبہ مکمل حفظ قرآن کریم کی سعادت  حاصل کر چکے ہیں۔

شعبہ درس  نظامی مع عصری تعلیم

شعبہ درس نظامی کے تحت درج ذیل درجات میں تعلیم جاری ہے:

اعدادیہ ، پری نہم (ایک سال)

درجہ اولیٰ بمع میٹرک  (آرٹس)  (دو سال)

درجہ ثانیہ وثالثہ بمع ایف اے  (دو سال)

الحمد للہ اس شعبے کے تحت 20 سے زائد طلباء درس نظامی کی تعلیم کے ساتھ ہائی فرسٹ ڈویژن میں میٹرک اور ایف اےکی تعلیم حاصل کرچکے ہیں اورمیٹرک میں  طالب علم دانیال عارف نے 990، احمد فداء نے 930، فرمان اللہ نے 925،  اسامہ وارث نے  893، طلحہ معاذ نے  887 ، عبدالوہاب نے 877، کامران حیدرنے  871 اور امان اللہ نے 854نمبر لے کر،جبکہ ایف اے میں احمد فداء نے 924، دانیال عارف نے 899نمبر لے کر اسکالر شپ کا اعزاز حاصل کیا۔

درجہ ثانیہ کا کورس اور میٹرک کا نصاب تین سالوں میں پڑھایا جا تا ہےاور میٹرک کا امتحان گوجرانوالہ بورڈ سے دلوایا جاتا ہے، جس میں طلبہ کی کارکردگی الحمدللہ ہر آنے والے سال میں گزشتہ سالوں سے بہتر ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اکادمی میں ابتدائی طلبہ کے لیے ایک بنیادی درجہ ہےجس میں طلبہ کو مڈل تک کا نصاب پڑھا کر میٹرک کرنے کی استعداد  پیدا کی جاتی ہے ۔

مدرسۃ للبنات

اکادمی سے متصل مدرسۃ للبنات میں مقامی بچیوں کے لیے ناظرہ قرآن کریم کی کلاس جاری ہے، اور خواتین کی دینی تعلیم وتربیت کے لیے ”ترجمہ قرآن وضروریات دین“کی کلاس بھی جاری ہے نیز ہفتہ وار درس کا بھی اہتمام کیاجاتاہے اس شعبہ میں مستقل طور پر تین  معلمات تدریس کے فرائض سرانجام دے رہی ہیں۔

تین سالہ آن لائن کورس

اکادمی کے زیر اہتمام زندگی کے مختلف شعبہ جات سے وابستہ خواتین وحضرات کیلئے ہفتہ وار قرآن وحدیث کی بنیادی تعلیمات کے ساتھ ساتھ دیگر عربی فنون پر مشتمل تین سالہ تعلیمی پروگرام جاری ہے، جس کے تحت تین کلاسیں چل رہی ہیں۔جس میں ملک کی معروف علمی شخصیات کے لیکچرز بھی کرائے جاتے ہیں۔

ایم فل/پی ایچ ڈی کی سطح پر  تحقیقی رہنمائی

الشریعہ اکادمی کے  مقاصد میں علماء وطلبہ کو ایسا پلیٹ فارم مہیا کرنا بھی ہے،جس سے ان کو ان کے علمی میدان میں رہنمائی مل سکے۔ اس مقصد کے لیے جہاں اکادمی میں وقیع لائبریری کاقیام عمل میں لایا گیا، وہیں علماء وطلبہ کو علمی رہنمائی کے لیے افراد بھی مہیا کئے گئے جن سے وہ اپنے موضوعاتِ تحقیق پر منہج وتحقیق ومواد سے متعلقہ معلومات حاصل کرسکیں۔ اکادمی کی طرف سے یہ سہولت  فراہم کی گئی ہے کہ وہ یونیورسٹی میں ایم فل/ پی ایچ ڈی میں داخلہ لیں اور ان کی رہائش واخرجات کا ایک معتد بہ حصہ اکادمی کی طرف سے ادا کیا جائے۔ اگرچہ یہ سلسلہ ابھی   محدود سطح پر ہے لیکن متعدد احباب اس سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے  ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں مکمل کر چکے ہیں اور کچھ کے مقالات جاری ہیں۔

کوئز مقابلہ جات

اکادمی کے زیر انتظام دینی مدارس کے طلبا کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے کسی نہ کسی موضوع پر  مقابلے کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ تحریری مقابلوں کے علاوہ  گزشتہ تین سال سے  کوئز مقابلے کا اہتمام کیا جا رہا ہے جس میں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ کو نقد رقم اور دینی کتب انعام میں دی جاتی ہیں۔ ہر سال اس  مقابلے کاموضوع طلباء کی دلچسپی کو مد نظر رکھتے ہوےمنتخب کیا جاتاہے۔ اب تک درج ذیل موضوعات پر کوئز مقابلہ جات کااہتمام کیا جاچکاہے۔

ان مقابلہ جات میں شرکاء کو ساٹھ ہزار سے زائد رقم ،سینکڑوں کتب اور شیلڈزانعامات دیے جا چکے ہیں۔

فہم دین کورس

سکول وکالج کے طلبہ واہل علاقہ کی دینی رہنمائی کےلیے وقتاً فوقتاً عربی گرامر ،ترجمہ قرآن کریم اور بنیادی تعلیم کاانتظام کیاجاتا ہے۔

لائبریری

الشریعہ اکادمی  کے زیرانتظام دینی،علمی اور تاریخی موضوعات پر مشتمل ایک وقیع لائبریری   قائم کی گئی ہے جس میں اسلامی علوم، تاریخ، فلسفہ،  ادب اور دیگر موضوعات پراردو،عربی،انگریزی زبانوں میں ہزاروں کتابیں موجود ہیں ،جن سے دینی و عصری اداروں کے طلباء و اساتذہ اور علم وتحقیق سے دلچسپی رکھنے والے حضرات استفادہ کرتے ہیں ۔ لائبریری میں نئی کتب کا اضافہ تسلسل کے ساتھ کیا جارہاہے۔اس کے علاوہ مدرسہ طیبہ میں بھی طلبہ واہل علاقہ کے ادبی ذوق اور مطالعہ کے پیش نظر   لائبریری کا آغاز کیا گیا ہے۔

شعبہ نشرو اشاعت

شعبہ نشرو اشاعت کے تحت ماہنامہ الشریعہ کی اشاعت 1989ء سے  باقاعدگی سے جاری ہے جو علمی حلقوں کے مطابق ملک کے علمی و تحقیقی جرائد میں معروف و ممتاز حیثیت رکھتا ہے ۔نیز اس شعبہ کے تحت مولانا زاہد الراشدی، مولانا عمار خان ناصر اور دیگر اہل قلم کی اب تک دو درجن کے لگ بھگ کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔

فلٹرڈ پانی کی فراہمی

الشریعہ اکادمی کے دونوں کیمپسز میں طلباء اور عوام الناس کیلئے صاف اور فلٹر شدہ پانی کا انتظام کیا گیا ہے۔

علمی وفکری نشستیں، سیمینار

اکادمی میں وقتاً فوقتاً مختلف علمی و فکری موضوعات پر اہل علم کی نشستوں ،سیمینارز اور تربیتی ورک شاپس کا اہتمام کیا جاتا ہے جن میں معروف اربابِ علم و فکر اظہار خیال فرماتے ہیں ۔

نقشبندی محفل

مدرسہ طیبہ کوروٹانہ میں  تعلیمی سال کے دوران بروز سوموار بعد از نماز عصر امام اہل سنت مولانا سرفراز خان صفدر ? کے سلسلہ کے مطابق ” نقشبندی محفل“ کے زیر عنوان اصلاحی نشست ہوتی ہے جس میں حضرت مولانا زاہد الراشدی   درس قرآن وحدیث ارشاد فرماتے ہیں اور مسنون اذکار کا وِرد کیا جاتا ہے۔

نقشبندی اجتماع

گزشتہ دو سال سے الشریعہ اکادمی کی شاخ مدرسہ طیبہ میں سالانہ نقشبندی اجتماع کا انعقاد کیا جارہا ہے، جس میں دیگر علماء،صلحاءاور نعت خوان حضرات کے علاوہ خصوصی طور پرحضرت مولانا  خواجہ خلیل احمد   سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ (کندیاں شریف)تشریف لاتے ہیں۔

دورہ تفسیر قرآن کریم اور محاضراتِ علومِ قرآنی

2011ء سے  الشریعہ اکادمی میں ہر سال شعبان کی تعطیلات میں دورہ تفسیر قرآن اور محاضرات علوم قرآن کا انعقاد کیا جاتا ہے   جو اَب تک الحمد للہ کامیابی کے ساتھ جاری ہے۔

محاضراتِ علوم قرآن کے تحت   درج ذیل عنوانات پر لیکچرز ہوتے ہیں:

”اصولِ تفسیر، اصولِ ترجمہ، مشکلات القران، جغرافیہ قرآنی، قرآنی شخصیات ومقامات کا تعارف، علوم القرآن اور تفاسیر کی متداول کتب کا تعارف اور امام شاہ ولی اللہؒ سے مولانا عبید اللہ سندھیؒ تک اکابرین وعلماء کی تفسیری خدمات کا تعارف“ وغیرہ ۔

 اس کے شرکاء میں مدارس، سکول وکالج کے اساتذہ اور منتہی درجات کے طلباء شامل ہیں۔ اور اب تک 400 سے زائد حضرات اس میں شرکت کرچکے ہیں۔

الشریعہ اکادمی، مدرسہ طیبہ کی ضروریات:


جون ۲۰۲۱ء

جنوبی ایشیا میں دینی مدرسہمحمد عمار خان ناصر
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۷۷)ڈاکٹر محی الدین غازی
مطالعہ جامع ترمذی (۲)ادارہ
مساجد و مدارس اور نئے اوقاف قوانینمولانا ابوعمار زاہد الراشدی
دینی مدارس کے وفاقوں کو درپیش نیا مرحلہڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی
دینی مدارس کے نئے بورڈز کا قیامڈاکٹر حافظ سید عزیز الرحمن
مولانا وحید الدین خانؒمولانا محمد وارث مظہری

جنوبی ایشیا میں دینی مدرسہ

محمد عمار خان ناصر

دینی مدارس کے نصاب میں  اعلی ٰ ثانوی سطح تک عصری تعلیم کے مضامین   کی شمولیت کے حوالے سے حکومت اور  مدارس کے وفاقوں کے مابین   ایک معاہدے    کی اطلاعات کچھ عرصے سے   گردش میں ہیں۔   مدارس کی رجسٹریشن اور مالی معاملات کی نگرانی کے حوالے سے  بھی   کئی اہم امور پر   گفت وشنید چل رہی ہے، جبکہ   وقف شدہ اداروں   سے متعلق انتظامی  وقانونی اختیارات سرکاری افسران کو منتقل کرنے کے حوالے سے    بھی ایک متنازعہ قانون سازی پچھلے چند ماہ سے  حکومت اور دینی  قیادت کے مابین کشاکش کا عنوان ہے۔  اس پس منظر میں اور اسی تسلسل میں گذشتہ فروری  میں دینی مدارس کے کچھ نئے بورڈز قائم ہوئے جنھیں ریاستی توثیق دی گئی ہے۔  زیرنظر سطور میں   اس ساری صورت حال کے تاریخی پس منظر پر عموما اور  حالیہ پیش رفت کی نوعیت پر خصوصا کچھ گذارشات پیش کرنا مقصود ہے۔

مدارس کے نئے بورڈ باقی مکاتب فکر میں بھی قائم ہوئے ہیں، لیکن دیوبندی مدارس کا ایک نیا بورڈ مجمع العلوم الاسلامیہ بوجوہ زیادہ زیربحث ہے۔ اس پر گفتگو تین مختلف سطحوں پر ہو رہی ہے جن کی اپنی اپنی اہمیت ہے:

پہلی سطح کا تعلق دیوبندی مدارس کی داخلی پالیٹکس سے ہے اور سوشل میڈیا پر زیادہ تر یہ بحث اسی سطح پر کی جا رہی ہے۔ ایک بہت بڑا طبقہ وفاق المدارس کی مرکزیت کو قائم رکھنے کا حامی ہے، جبکہ ایک خاصا بڑا طبقہ مختلف اسباب، تجربات اور شکایات کی بنیاد پر ایک متبادل انتظامی بندوبست کو ضروری سمجھتا ہے۔ دونوں کا موقف اور دلائل تفصیل سے سامنے آ چکے ہیں۔ ہمیں اس پہلو سے زیادہ دلچسپی نہیں، اور ویسے بھی یہ دیوبندی حلقے کا ایک داخلی معاملہ ہے۔

دوسری سطح پر بحث اس حوالے سے ہو رہی ہے، اگرچہ اس کا تناسب بہت کم ہے، کہ مدارس کے طلبہ اور فضلاء کو دینی اسناد کی توثیق وغیرہ کے حوالے سے جن مشکلات کا سامنا ہے، نئے انتظامی اقدامات سے وہ کس حد تک حل ہو رہے ہیں یا ہو سکتے ہیں یا نہیں ہو سکتے۔ ڈاکٹر سید عزیز الرحمن صاحب نے اس پہلو سے تفصیلا اظہار خیال فرمایا ہے۔

تیسری سطح تعلیم اور جدید ریاست کے باہمی ربط اور اسلامی تاریخ کے روایتی مدرسے اور جدید دور کے مدارس کے باہمی تقابل سے متعلق ہے۔ اس سطح پر گفتگو بالکل ہی نادر ہے اور غالبا محمد دین جوہر صاحب کی ایک تحریر کے علاوہ گفتگو اور تجزیے کا یہ پہلو موجودہ سیاق میں نظروں سے بالکل اوجھل ہے، اگرچہ اس سے پہلے وقتا فوقتا اس پر مختلف جوانب سے کچھ بات کی جاتی رہی ہے۔

جو مختصر معروضات پیش کرنا مقصود ہے، وہ بنیادی طور پر اسی دوسری اور تیسری سطح سے متعلق ہیں۔ مسئلے کی دوسری اور تیسری جہت دراصل ایک ہی بات کے دو پہلو ہیں، لیکن ہمارے ہاں اس کے صرف ایک پہلو پر بات ہوتی ہے، یعنی مدارس کی دینی اسناد کی ریاستی توثیق کی ضرورت، جبکہ مدرسے کے تاریخی کردار اور نوعیت میں رونما ہونے والی تبدیلی کہیں زیربحث نہیں آتی۔ سو سمجھنے کی بات یہ ہے کہ آج کے مدرسے کے لیے اسناد کی ریاستی توثیق کا سوال کہاں سے پیدا ہوتا ہے۔ اسلامی تاریخ کے روایتی مدرسے میں یہ سوال موجود نہیں تھا، کیونکہ مدرسے کا تصور ہی یہ نہیں تھا۔

اسلامی تہذیب میں دینی علم اور اس کے تسلسل کی اہمیت مسلم تھی اور یہ ذمہ داری فطری طور پر علماء کے سپرد تھی۔ اسلامی تاریخ کی ابتدا سے ہی علماء یہ ذمہ داری اپنے شخصی علمی مقام کی بنیاد پر انجام دیتے آ رہے تھے۔ جو عالم جس علم میں کمال پیدا کر لیتا تھا، اس علم کے طلبہ اس کے گرد جمع ہو جاتے اور کسب فیض کرتے رہتے تھے۔ بعد کے ادوار میں حکومتی انتظام یا وقف کی سماجی روایت کے تحت باقاعدہ مدرسے بھی قائم ہونے لگے، لیکن اس انتظام کی نوعیت ایک اجتماعی ضرورت کی تکمیل میں علماء کو سہولت پہنچانے کی تھی۔ علماء کو اپنے علم کے مستند ہونے یا اپنے طلبہ کو استناد منتقل کرنے کے لیے کسی ریاستی توثیق کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔

استعماری دور میں اس بندوبست کے بڑی حد تک معطل ہو جانے اور سرکاری وغیر سرکاری انتظام میں جدید تعلیم کی عمومی ترویج کی مساعی کے تناظر میں مدرسے کے ادارے نے ایک بدلی ہوئی صورت حال میں اپنی ہیئت اور کردار ازسرنو متعین کیا۔ ان میں سب سے اہم تبدیلی یہ تھی کہ مدرسے کے اہداف میں دینی علوم کی روایت کو قائم رکھنے کے ساتھ ساتھ انگریزی تعلیم وثقافت کے اثرات کی مزاحمت کو بھی شامل کیا گیا جس کا ایک لازمی تقاضا یہ تھا کہ، ماضی کے برعکس، مدارس بڑے پیمانے پر اور کثرت سے ملک کے طول وعرض میں قائم کیے جائیں اور ان میں زیادہ سے زیادہ طلبہ کے داخلے کی گنجائش پیدا کی جائے جو یہاں سے ایک دینی تربیت لے کر معاشرے میں واپس جائیں اور عوام الناس کے دینی تشخص اور دینی وابستگی کو محفوظ رکھنے کے لیے ائمہ، خطباء اور مبلغین ودعاۃ کی صورت میں کردار ادا کریں۔ وقف کا سیٹ اپ ختم ہو جانے کی وجہ سے اخراجات کے لیے عوامی چندے کا طریقہ اختیار کر لیا گیا جس کے اپنے گہرے اور دور رس اثرات ہیں۔  ذرائع آمدن عوامی صدقات وخیرات  پر مبنی ہونے کی مناسبت سے جلد ہی    معاشرے کے  بے سہارا اور  یتیم بچوں کی کفالت  بھی  مدارس کے دائرہ کار میں شامل ہو گئی  اور یوں   تعلیم وتبلیغ کے ساتھ ساتھ ایک رفاہی اور  خیراتی ادارہ ہونے کا پہلو بھی   مدرسے کے تشخص  کا ایک لازمی حصہ بن گیا۔

اہداف کی تبدیلی، ترجیحات کی تبدیلی کو مستلزم ہوتی ہے اور ترجیحات ایک زنجیر کی صورت میں ہوتی ہیں جو یکے بعد دیگرے تبدیل ہوتی چلی جاتی ہیں۔ تاریخی مدرسے کا ہدف محدود تعداد میں عالی استعداد کے حامل علماء اور اساتذہ پیدا کرنا تھا۔ جدید مدرسے نے اپنا ہدف بڑی تعداد میں ’’فضلائے مدارس“کی تیاری متعین کیا تو اس کے کچھ عملی نتائج نکلنا ناگزیر تھا۔ مدارس کے نصاب ونظام سے متعلق پچھلی ایک صدی کا سارا بحث ومباحثہ انھی نتائج کی عکاسی کرتا ہے۔ ان میں سے دو نتائج سب سے نمایاں ہیں۔

ایک، نصاب کی تسہیل وترمیم اور داخلے اور حصول سند کے لیے مطلوب علمی استعداد کے معیار میں مسلسل تخفیف

دوسرا، اتنی بڑی تعداد میں فضلاء کی معاشرے میں کھپت کا مسئلہ

بدقسمتی سے مدارس کے حلقوں میں اس تاریخی تبدیلی کا شعوری ادراک نہ ہونے کی وجہ سے جو اس نئے مرحلے پر پیدا ہوئی تھی، ان دونوں نتائج کے حوالے سے سخت ذہنی ابہامات، تضاد فکر اور بعض صورتوں میں ایک حالت انکار کی فضا غالب رہی ہے۔ چونکہ یہ شعوری ’’اعتراف “ موجود نہیں تھا کہ مدرسے کا ہدف اب صرف اعلی سطح کے چنیدہ علماء پیدا کرنا نہیں، بلکہ بڑی تعداد میں مبلغین تیار کرنا ہے، اس لیے کئی دہائیوں تک یہ کشمکش چلتی رہی کہ نصاب کی تسہیل کی جائے یا نہ کی جائے۔ یہ کام عملا ناگزیر تھا، اس لیے ہوا، لیکن ایک لمبی تدریج کے ساتھ اور بہت ہی غیر محسوس طریقے سے ہوا تاکہ مخالف عناصر زیادہ اضطراب کا شکار نہ ہوں۔

اسی طرح فضلاء کی کھپت کے سوال سے بھی عرصہ دراز تک اغماض برتا جاتا رہا اور مدرسے کے طلبہ کو یہ بات ایک دینی فریضے کے طور پر باور کرائی جاتی رہی کہ ان کو دینی تعلیم کے لیے منتخب کر لیے جانے کا مطلب یہ ہے کہ ان کی دنیا وآخرت بس دینی تعلیم سے وابستہ رہے اور وہ دائیں بائیں کسی اور طرف متوجہ نہ ہوں۔ چنانچہ ایک طرف عصری تعلیم کے مضامین کو سنجیدگی کے ساتھ اور مطلوبہ ضرورت کے مطابق مدارس کے نصاب میں جگہ دینے سے پہلو تہی کی گئی اور دوسری طرف اپنے طور پر عصری تعلیم کے امتحانات پاس کرنے والے طلبہ کی شدید حوصلہ شکنی بلکہ مدرسے سے خارج تک کر دینے  کا رویہ اختیار کیا گیا اور یہ ماحول دس بیس سال پہلے تک مدارس میں موجود رہا ہے۔

دینی اسناد کی ریاستی توثیق کا سوال بنیادی طور پر ایک تو فضلائے مدارس کی کھپت کے مسئلے سے پیدا ہوتا ہے، اور اس کی دوسری اہم جہت تعلیم اور جدید ریاست کے باہمی تعلق کی ہے۔ تعلیم عامہ کا کوئی بھی ایسا نظم جو ایک خاص طرح کی گروہی شناخت پیدا کرتا ہو، جدید قومی ریاست کے دائرہ اختیار سے باہر نہیں رہ سکتا، کیونکہ تشکیل شناخت کا سوال جدید ریاست کے لیے ایک وجودی سوال ہے، یعنی ریاست کی بقا اس سے وابستہ اور اس پر منحصر ہے۔ دینی مدارس کی قیادت نے انتہائی سادہ فکری یا خوش فہمی سے ان دونوں پہلووں کی اہمیت سے مسلسل صرف نظر کیا اور اس ادراک سے بالکل قاصر رہی کہ اتنے بڑے پیمانے پر قائم دینی تعلیم کے نظام کو ریاستی توثیق اور ریاستی دائرہ اختیار سے الگ رکھنا ہمیشہ کے لیے ممکن نہیں ہے۔

مدارس کی قیادت تارکان دنیا اور ابلہان مسجد پر مشتمل نہیں تھی، بلکہ مذہبی سیاست کے میدان میں ریاست اور ریاستی نظام طاقت کے ساتھ مسلسل تعامل کر رہی تھی اور ریاستی اشرافیہ کے انداز فکر نیز مختلف اور متنوع عالمی حرکیات سے بھی پوری طرح واقف تھی۔ اس کے باوجود، مناسب اور سازگار حالات میں، جبکہ ابھی ریاستی نظام عبوری تشکیلی مراحل میں تھا اور مدارس اپنی شرائط پر ریاست کے ساتھ معاملہ کرنے کی پوزیشن میں تھے، دینی تعلیم اور ریاستی نظام کے مابین ایک مثبت، متوازن اور مبنی بر اعتماد تعلق وجود میں لانے سے گریز کیا گیا، بلکہ اس کے برعکس مدارس کو ریاستی توثیق کے نظام سے الگ رکھنے کو مدارس کی آزادی اور خود مختاری کا عنوان دے کر بنیادی طور پر مذہبی سیاست کے مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔

مزید حیرت انگیز امر یہ ہے کہ جنرل ضیاء الحق مرحوم کے دور میں خود فضلائے مدارس کی اپنی نمایاں ہوتی ہوئی ضروریات کے پیش نظر، دینی اسناد کی ریاستی توثیق کے حوالے سے سلسلہ جنبانی شروع کیا گیا، لیکن خوش فہمی سے باہر نکلنے اور یہ سمجھنے کی ضرورت پھر بھی محسوس نہیں کی گئی کہ ابتدائی مراحل پر بعض سیاسی اسباب سے ریاست کا رویہ مبنی بر رعایت ہو سکتا ہے، لیکن جلد یا بدیر ریاست اس توثیق کو لامحالہ اپنی شرائط سے مشروط کرے گی۔

فضلائے مدارس کی کھپت کے مسئلے اور تعلیم عامہ کے کسی بھی نظام کے ساتھ جدید ریاست کے لازمی تعلق کے ان دو بنیادی عوامل کے ساتھ دو اور عوامل شامل ہوئے جنھوں نے اس مرحلے کی طرف پیش قدمی کی راہ ہموار کی جہاں آج ہم کھڑے ہیں۔ یہ عرض کیا گیا کہ جدید ریاست اپنے حدود میں تشکیل شناخت کے سوال پر کمپرومائز نہیں کر سکتی اور خاص طور پر اگر کسی شناخت کے ساتھ نقض امن اور ریاست مخالف بیانیے کا پہلو شامل ہو جائے تو پھر تو کوئی کمزور سے کمزور ریاست بھی اس سے صرف نظر کا تحمل نہیں کر سکتی۔

دینی مدارس جس طرح کی گروہی شناخت تشکیل دیتے ہیں، اس میں فرقہ واریت اور (بالخصوص دیوبندی مدارس کے تناظر میں) سیاسی مفہوم میں اسلام کے عالمی احیاء کی خواہش، نہایت توانا فکری عناصر کے طور پر شامل ہیں۔ یہ دونوں عناصر جس حد تک ریاستی مفاد کے تابع اور ریاستی طاقت کے لیے مددگار رہے ہیں، ریاست ان کی باقاعدہ سرپرستی کرتی رہی ہے اور حسب ضرورت اب بھی کرتی ہے، لیکن ہمارے ہاں یہ فکری عناصر ریاست کی طے کردہ حدود سے متجاوز ہو کر خود ریاست کے لیے اور ریاست کی بین الاقوامی پالیسیوں کے لیے مسائل پیدا کرنے کا موجب بن گئے۔

ظاہر ہے، اس میں ریاستی کردار کو بری الذمہ قرار نہیں دیا جا سکتا، لیکن اس کا عملی نتیجہ یہ نکلا کہ دینی تعلیم کے نظام کو ریاستی نظم وضبط کے دائرے میں لانے کے لیے قومی اور بین الاقوامی سطح پر دباو بڑھنا شروع ہو گیا اور پچھلی دو دہائیوں میں مدارس کی طرف سے پہلے سخت، پھر نسبتا لچک دار اور آخر میں کمزور مزاحمت کے مختلف مراحل سے گزرنے کے بعد، آج ریاست اس پوزیشن میں بھی ہے اور اس کے لیے پرعزم بھی کہ دینی اسناد کی توثیق اب مدارس کی شرائط اور ترجیحات پر نہیں، بلکہ ریاست کی شرائط اور ترجیحات پر کی جائے گی۔ (وہ شرائط اور ترجیحات کیا ہیں اور کتنی حکمت وفراست پر مبنی ہیں، یہ ایک الگ بحث ہے)۔ دوسری طرف مدارس کے ایک بہت بڑے حلقے میں بھی اس حقیقت کا ادراک کر لیا گیا ہے کہ اس محاذ پر مزاحمت کی پوزیشن کو برقرار رکھنا فضلائے مدارس کی سماجی ضروریات کے لحاظ سے بھی ممکن نہیں، اور ریاست کے عزم مصمم کو بھی مزید کسی دباو سے پسپا نہیں کیا جا سکتا۔ مختلف نئے بورڈز کی تشکیل اور مختلف انفرادی دینی اداروں کی اسناد کے لیے ریاستی توثیق کے حصول کی حالیہ پیش رفت اسی ادراک حقائق کا نتیجہ ہے۔

اس تجزیے کا حاصل یہ ہے کہ دینی تعلیم کی ریاستی توثیق کے مسئلے کو ہمارے ہاں معروضی حقائق کے تناظر میں اور دینی اداروں، معاشرہ اور ریاست کے مابین ایک مجموعی انسجام کے نقطہ نظر سے نہیں دیکھا گیا، بلکہ بنیادی طور پر مذہبی سیاست کے ایک ایشو کے طور پر برتا گیا ہے۔ ایک زاویے سے دیکھا جائے تو درست سمت میں پیش قدمی نہ ہونے کی ذمہ داری ریاست پر عائد کی جا سکتی ہے، لیکن ہمارے نزدیک معروضی حالات کے لحاظ سے اس ناکامی کی زیادہ تر ذمہ داری دینی قیادت پر عائد ہوتی ہے۔ باقی مسلم ممالک میں، جہاں اس مسئلے کو زیادہ درست اور حقیقت پسندانہ نظر سے دیکھا گیا ہے، دینی تعلیم کی ریاستی توثیق کا نسبتا بہت بہتر بندوبست نظر آتا ہے۔ اس حوالے سے مصر، ترکی اور انڈونیشیا وغیرہ کے علاوہ جنوبی ایشیا میں ہی بھارت اور بنگلہ دیش میں بنائے گئے نظام کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔

موجودہ صورت حال میں بھی، اگرچہ قدرے درست سمت میں پیش رفت ہو رہی ہے، دینی قیادت کا ذہنی الجھاو اور غیر حقیقت پسندانہ رویہ بدستور برقرار ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ مدارس کی اجتماعی قیادت صورت حال کا معروضی جائزہ لے کر ریاست کے سامنے دینی اسناد کی توثیق کے ایک ایسے بندوبست کا متفقہ اور اجتماعی مطالبہ رکھتی جسے حکومتی معاہدوں یا نوٹیفکیشنز کی ضمانت کے بجائے باقاعدہ قانونی حیثیت حاصل ہو (یعنی اس کے لیے باقاعدہ قانون سازی کی جائے) اور اس میں واضح اور متعین معیارات طے کیے جائیں جن کے تحت کسی بھی دینی ادارے کے لیے انفرادی طور پر یا اداروں کے کسی گروپ کے لیے تعلیمی بورڈ کے طور پر ریاستی توثیق کے حصول کا موقع موجود ہو۔

لیکن چونکہ اس سارے مسئلے کو اب تک مدارس کی خود مختاری بمقابلہ ریاستی مداخلت کے فریم ورک میں دیکھا اور دکھایا جاتا رہا ہے جس میں دینی اداروں اور فضلاء کے ’’تحفظ “ کے لیے کسی جری اور بااثر سیاسی ’’قیادت “ کی ضرورت ہے، اس لیے کوئی ایسا انتظام قبول کرنے کے لیے ذہن آمادہ نہیں جس میں جمہوری انداز میں ایک صحت مند تعلیمی مقابلے کا ماحول ہو اور مختلف ومتنوع ترجیحات کے ساتھ دینی ادارے معاشرے کی دینی وتعلیمی ضرورتوں کو اپنی محنت اور توجہ کا مرکز بنا سکیں۔ حکومتی حلقوں کے ساتھ تعلقات اور سیاسی اثر ورسوخ کی بنیاد پر پہلے بھی کچھ انفرادی اداروں اور بورڈز کو توثیق دی گئی تھی، اب بھی اسی بنیاد پر توثیق کے دائرے کی توسیع کر دی گئی ہے۔ یہ طریقہ ریاستی زاویہ نظر سے اور دینی اداروں کی نمائندگی کرنے والی اشرافیہ کے نقطہ نظر سے قابل فہم ہو سکتا ہے، لیکن دینی اداروں کے مجموعی پوٹینشل، ممکنہ کردار اور افادیت کے حوالے سے انتہائی محل نظر بندوبست ہے۔

آخر میں اس نکتے پر بھی اظہار خیال ضروری ہے کہ اس سارے معاملے میں ’’روایتی مدرسہ“ اور اس کے تاریخی کردار کی جگہ کہاں ہے اور وہ ضرورت کیسے پوری ہوگی؟ ہماری مراد اعلی سطح کے علماء ومتخصصین پیدا کرنے اور دینی علوم کی روایت کو معاصر ضروریات کے مطابق آگے بڑھانے سے ہے۔ جیسا کہ واضح کیا گیا، مدرسے کو تعلیم عامہ کا ادارہ بنانے کے نتیجے میں پورا نظام اس ایک ہدف کے گرد مرکوز نہیں رہ سکتا، تاہم اعلی استعداد کے حامل منتخب اہل علم تیار کرنے کا کام ایک اہم جزو کے طور پر اس میں شامل رہ سکتا ہے۔ اس وقت بھی بڑی تعداد میں مدارس کی طرف رجوع کرنے والے افراد میں سے ایک منتخب تعداد ایسے ذی استعداد فضلاء کی نکل آتی ہے جو اعلی سطحی علوم کے ساتھ طبعی مناسبت بھی رکھتے ہیں اور اس ذوق کی پاسداری بھی کرتے ہیں۔ اسی کے نتیجے میں اب بھی روایتی دینی علوم میں اچھا درک رکھنے والے اساتذہ اور محققین مدارس سے پیدا ہو رہے ہیں۔

البتہ ’’روایتی مدرسے“ کے کردار کا یہ پہلو کہ اس کا ہم عصر عقلی وعلمی روایت کے ساتھ بھی ایک زندہ تعلق قائم ہو اور دینی مدرسہ ان علوم ونظریات کی تنقیح وتنقید کا ایک پلیٹ فارم مہیا کرے، بدقسمتی سے تاریخی تغیرات کے نتیجے میں، جدید مدرسے کے لیے اس کردار کی ادائیگی بے حد مشکل ہو گئی ہے اور بتدریج مشکل تر ہوتی جا رہی ہے۔ عقلی ونظری علوم کے ساتھ مطلوبہ تعامل، خاص طور پر جدید مغربی تہذیب کے پیدا کردہ علوم، اس ذہنی سانچے میں ممکن ہی نہیں جو مدارس کے ماحول میں بنانے پر ساری توجہ مرکوز کی جاتی ہے۔ یہاں جدید معاشی وسیاسی نظریات کی تفہیم بھی وہی ’’معتبر “ ہے جو دینی اکابر، مثلا مولانا تقی عثمانی صاحب نے ’’اسلام اور جدید معیشت وتجارت“ اور ’’اسلام اور سیاسی نظریات“ میں بیان فرمائی ہو۔ مغربی علوم کا مقدمہ براہ راست اور خود ان کی زبانی سمجھنا اور پھر اس کی ایسی تحلیل وتنقید جو ان علوم کے ساتھ مکالمے میں پیش کی جا سکے، اس سانچے میں ناممکن ہے۔

ڈاکٹر ابراہیم موسی اکثر یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ امام غزالی کو مدارس کے نظام ونصاب میں کوئی اہمیت کیوں نہیں دی جاتی۔ ہمارے نزدیک اس کا ایک جواب یہ ہے کہ امام غزالی عقلی ونظری مباحث میں تقلید سے شدید باغی ہیں اور ’’المنقذ من الضلال“ میں انھوں نے اپنے ذہنی سفر کی یہ داستان تفصیل سے بیان کی ہے۔ مدارس کا ماحول، جو ’’عقلیات“  میں بھی اکابر کے ’’منقولات “ کی پابندی کو ایمان وعقیدہ کی حفاظت کی شرط اولین کے طور پر ذہنوں میں راسخ کرتا ہے، اس انداز فکر کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

ہمیں پوری حقیقت پسندی کے ساتھ اس کا اعتراف کر لینا چاہیے کہ جدید مدرسے نے اپنے اور اس کردار کے درمیان بہت وسیع فاصلہ پیدا کر لیا ہے۔ موجودہ صورت میں، ’’امید خلاف امید“ کے طور پر تو اس توقع کو برقرار رکھا جا سکتا ہے کہ کسی دن مدرسے کا یہ کردار بحال ہو جائے گا، لیکن بظاہر اس کے دور یا نزدیک کوئی آثار نہیں ہیں۔ اس اعتراف سے ہی اس ضرورت کی تکمیل کے کچھ متبادل وسائل اور امکانات (مثلا عقلیات کا ذوق رکھنے والے منتخب ذی استعداد علماء کے لیے مدارس کے نظم سے باہر مختلف حلقہ ہائے مطالعہ کا قیام) پر سنجیدگی سے توجہ دی جا سکے گی۔

ہذا ما عندی واللہ تعالی اعلم


اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۷۷)

ڈاکٹر محی الدین غازی

(254)  اَوَمَن یُنَشَّاُ فِی الحِلیَۃِ کس کا قول ہے؟

درج ذیل آیت کے ترجموں کا جائزہ لیتے ہوئے ہم دیکھیں گے کہ کسی قول کے قائل کے تعین میں غلطی ہونے سے مفہوم اور اس سے نکلنے والے نتائج پر کتنا اثر پڑتا ہے؟ اَوَمَن یُنَشَّاُ فِی الحِلیَۃِ وَہُوَ فِی الخِصَامِ غَیرُ مُبِینٍ کو عام طور سے لوگوں نے اللہ کا قول قرار دیا ہے اور پھر اس سے مختلف نتائج برآمد کیے ہیں، جیسے یہ کہ عورتیں ناقص جمال والی ہوتی ہیں اس لیے زیورات کے ذریعے ان کے اس نقص کو پورا کیا جاتا ہے، عورتیں ناقص عقل اور ناقص بیان والی ہوتی ہیں اسی لیے وہ بحث میں اپنی بات وضاحت سے اور دلیل کے ساتھ رکھ نہیں پاتی ہیں۔ عورتوں کے سلسلے میں ایسی باتیں اللہ کے فرمودات سے نکالے ہوئے قرآنی حقائق کے طور پر پیش کی جاتی ہیں۔ (ملاحظہ ہو: تفسیر امام رازی) اگر اس آیت کو اللہ کا قول نہ مان کر جاہلی سماج کے اس شخص کا قول مان لیں جو لڑکی کی پیدائش سے خوش نہیں ہوتا ہے، تو اللہ کی طرف منسوب کرکے یہ نتائج برآمد نہیں کیے جاسکتے ہیں۔ بلکہ یہ محض جاہلی معاشرے کے انسانوں کی نفسیات کا بیان ہوتا ہے کہ وہ عورتوں کے بارے میں کس طرح کی سوچ رکھتے ہیں۔ درج ذیل ترجموں پر غور کریں:

وَاِذَا بُشِّرَ اَحَدُہُم بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحمَٰنِ مَثَلًا ظَلَّ وَجہُہُ مُسوَدًّا وَہُوَ کَظِیم۔ اَوَمَن یُنَشَّاُ فِی الحِلیَۃِ وَہُوَ فِی الخِصَامِ غَیرُ مُبِینٍ۔ (الز