1994

جنوری ۱۹۹۴ء

متوقع دستوری ترامیم ۔ ارکان پارلیمنٹ کے نام کھلا خطمولانا ابوعمار زاہد الراشدی
دین خیر خواہی کا نام ہےشیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر
انسانی حقوق اور سیرتِ نبویؐمولانا مفتی محمد تقی عثمانی
صومالیہ! مشرقی افریقہ کا افغانستانمولانا ابوعمار زاہد الراشدی
رتہ دوہتڑ توہین رسالتؐ کیس ۔ ابتدائی مطالعاتی جائزہادارہ
مولانا حکیم نذیر احمدؒ آف واہنڈو / چوہدری محمد خلیل مرحوممولانا ابوعمار زاہد الراشدی

متوقع دستوری ترامیم ۔ ارکان پارلیمنٹ کے نام کھلا خط

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

معزز ارکان سینٹ و قومی اسمبلی، اسلامی جمہوریہ پاکستان!

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔

گزارش ہے کہ ان دنوں قومی حلقوں میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کے حوالے سے مختلف امور زیر بحث ہیں۔ اخباری اطلاعات کے مطابق وفاقی کابینہ کی خصوصی کمیٹی دستور کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہے اور توقع کی جاتی ہے کہ پارلیمنٹ میں حکومت کی طرف سے چند روز تک آئینی ترامیم کا ایک نیا بل سامنے آنے والا ہے۔ اس موقع پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ زیر بحث امور کے بارے میں دینی نقطۂ نظر سے چند ضروری گزارشات آپ کی خدمت میں پیش کی جائیں تاکہ پاکستان کے اسلامی تشخص اور دستور پاکستان کی نظریاتی بنیاد کے تحفظ کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے آپ پورے شعور و ادراک کے ساتھ اس اہم بحث میں شریک ہو سکیں۔ امید ہے کہ یہ معروضات آپ کی سنجیدہ توجہ سے محروم نہیں رہیں گی۔

آٹھویں آئینی ترمیمی بل

آٹھویں آئینی ترمیمی بل کی منسوخی کے بارے میں بعض سیاسی حلقوں کی طرف سے زور دیا جا رہا ہے اور وجہ یہ بیان کی جا رہی ہے اس ترمیم کے تحت صدر مملکت کو قومی اسمبلی توڑنے کا غیر مشروط اختیار حاصل ہے جس کے استعمال کا نشانہ گزشتہ تین اسمبلیاں بن چکی ہیں اس لیے ضروری ہے کہ صدر کے ان خصوصی اختیارات پر نظر ثانی کر کے صدر اور وزیراعظم کے درمیان اختیارات کا توازن قائم کیا جائے۔

جہاں تک اختیارات کے توازن کا تعلق ہے اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن یہ بات پیش نظر رکھنا انتہائی ضروری ہے کہ آٹھویں ترمیم کے خاتمہ اور سابقہ پوزیشن کی بحالی سے یہ توازن قائم نہیں ہوگا بلکہ الٹ جائے گا۔ کیونکہ اس صورت میں وزیراعظم مطلق العنان اور صدر بے اختیار ہو جائے گا جو کہ سربراہ مملکت کے منصب اور وقار کے منافی ہے۔ اس لیے صدر اور وزیراعظم کے اختیارات میں حقیقی توازن کے قیام کے لیے اعتدال کی راہ اختیار کرنا ہی قومی مفاد کا تقاضہ ہے۔

آٹھویں آئینی ترمیم کے حوالہ سے یہ بات بھی ارکان پارلیمنٹ کے پیش نظر رہنا ضروری ہے کہ یہ ترمیم دراصل صدر جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم کے دورِ اقتدار میں ان کی طرف سے کیے جانے والے آئینی و قانونی اقدامات کو دستوری تحفظ فراہم کرنے کے لیے کی گئی تھی جن میں

  1. قراردادِ مقاصد کو دستور کا باقاعدہ حصہ بنانا،
  2. قذف اور زنا کی شرعی حد کا نفاذ،
  3. چوری اور ڈاکہ کی شرعی حد کا نفاذ،
  4. اسلامی قانون شہادت،
  5. زکوٰۃ و عشر آرڈیننس،
  6. احترام رمضان آرڈیننس،
  7. امتناع قادیانیت آرڈیننس،
  8. جداگانہ الیکشن کا قانون،
  9. اور وفاقی شرعی عدالت کا قیام شامل ہیں۔

ان اقدامات کو آٹھویں ترمیم کی وجہ سے دستوری تحفظ حاصل ہے اور اس ترمیم کے خاتمہ کی صورت میں یہ تمام امور کالعدم ہو جائیں گے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ نفاذ اسلام کی سمت ہونے والی اس پیش رفت کو بچایا جائے اور آٹھویں ترمیم کے عنوان سے کوئی غیر محتاط قدم اٹھانے سے گریز کیا جائے۔

پارلیمنٹ کی خودمختاری

دستور پاکستان کے حوالے سے پارلیمنٹ کی خودمختاری بحال کرنے کا مسئلہ بھی زیر بحث ہے اور پارلیمنٹ کی خودمختاری کے منافی آئینی دفعات کو ختم کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔ اس سلسلہ میں عرض ہے کہ ہم بحیثیت مسلمان اپنے ایمان و عقیدہ کی رو سے قرآن و سنت کے احکامات کو قبول کرنے کے پابند ہیں اور دستور میں شامل ’’قرارداد مقاصد‘‘ کی رو سے بھی خدا تعالیٰ کی حاکمیت اعلیٰ کو تسلیم کرتے ہوئے اس کی مقرر کردہ حدود اور قرآن و سنت کے احکام کی پابندی کی ضمانت دی گئی ہے جس کی روشنی میں پارلیمنٹ کی مطلق خودمختاری کے مغربی تصور کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ قرارداد مقاصد کے علاوہ پارلیمنٹ کو قرآن و سنت کے مطابق قانون سازی کا پابند بنانے والی آئینی دفعات اور وفاقی شرعی عدالت کا قرآن و سنت کے منافی قوانین کو کالعدم قرار دینے کا اختیار بھی پارلیمنٹ کی غیر مشروط بالادستی کی راہ میں حائل ہے۔ غالباً انہی دفعات کو غیر موثر بنانے کے لیے پارلیمنٹ کو قانون سازی کا غیر مشروط اختیار دینے کی دفعہ آئین میں شامل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو خدانخواستہ کامیاب ہوگئی تو پاکستان اور دستور پاکستان کی اسلامی نظریاتی حیثیت ختم ہو جائے گی اور پاکستان ایک سیکولر ریاست کی حیثیت اختیار کر جائے گا۔ اس لیے اس بارے میں انتہائی تدبر، احتیاط اور بیدار مغزی سے مجوزہ آئینی ترمیمات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

آئین کے تضادات

کہا جاتا ہے کہ آئین میں تضادات ہیں جنہیں دور کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ بات درست ہے کیونکہ آئین میں خدا تعالیٰ کی حاکمیت اور قرآن و سنت کی بالادستی کو تسلیم کیے جانے کے باوجود ایسے تحفظات موجود ہیں جو انگریزی دور کی منحوس یادگار نوآبادیاتی نظام کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ اس لیے دستور کے حوالہ سے اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ نوآبادیاتی نظام کو پناہ دینے والے دستوری تحفظات کی نشاندہی کر کے ان سے نجات حاصل کی جائے تاکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کو ایک صحیح عملی اسلامی ریاست کی شکل دی جا سکے اور مملکت خداداد میں ایک فلاحی اور اسلامی معاشرہ کا قیام ممکن ہو۔

امید ہے کہ آپ ان گزارشات کو سنجیدہ توجہ سے نوازیں گے، بے حد شکریہ۔

ابوعمار زاہد الراشدی

خطیب مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ

چیئرمین ورلڈ اسلامک فورم لندن

دین خیر خواہی کا نام ہے

شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر

حضرت تمیم دارمیؓ (المتوفیٰ ۴۰ھ) سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ
’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دین خیر خواہی کا نام ہے۔ ہم نے کہا کس کی خیر خواہی؟ تو آپؐ نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی، اس کی کتاب، اس کے رسول، مسلمانوں کے حکام اور عام مومنوں کی خیرخواہی‘‘ (مسلم ج ۱ ص ۵۴)۔
صحیح ابو عوانہ (جلد ۱ ص ۳۷) میں ہے کہ آپ نے تین دفعہ ’’انما الدین النصیحۃ‘‘ کا جملہ دہرایا۔ اور اسی طرح ابوداؤد (جلد ۲ ص ۳۲۰) میں ہے۔
اس صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ نصیحت اور خیر خواہی دین ہے۔ اس حدیث کی شرح اور تفسیر میں علمائے اسلام نے جو کچھ بیان کیا ہے وہ بھی ملاحظہ کر لیں۔
امام ابو سلیمان احمد بن محمد الخطابی الشافعیؒ (المتوفیٰ ۳۸۸ھ) اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں کہ
’’اللہ تعالٰی کے لیے نصیحت کا معنی یہ ہے کہ اس کی وحدانیت کے بارے میں اعتقاد صحیح ہو اور اس کی عبادت میں نیت خالص ہو۔ اس کی کتاب کے حق میں نصیحت یہ ہے کہ اس کی کتاب پر ایمان لائے اور جو کچھ اس میں درج ہے اس پر عمل کرے۔ اس کے رسول کی نصیحت کا یہ مطلب ہے کہ اس کی نبوت کی تصدیق کرے اور جس چیز کا انہوں نے حکم دیا اور جس چیز سے منع کیا ہے اس سلسلہ میں ان کی اطاعت کرے۔ اور ائمہ مسلمین کی نصیحت یہ ہے کہ حق کی بات میں ان کی فرمانبرداری کرے اور جب وہ ظلم پر کمربستہ ہوں تو ان کے خلاف تلوار لے کر خروج نہ کرے (یعنی ویسے زبانی جہاد کرے)۔ اور عامۃ المسلمین کی نصیحت یہ ہے کہ ان کے مصالح میں ان کی رہنمائی کرے۔‘‘ (معالم السنن ج ۷ ص ۲۷ طبع مصر)
اس کا مطلب یہ ہو اکہ لفظ نصیحت ایک ایسا جامع لفظ ہے جو اللہ تعالیٰ کی ذات مقدس سے لے کر عامۃ المسلمین تک ہر مقام پر حسبِ حال چسپاں ہوتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نصیحت اور خیرخواہی کو دین فرمایا ہے۔
حافظ زین الدین ابوالفرج عبد الرحمٰن ابن رجب الحنبلیؒ (المتوفٰی ۶۹۵ھ) اس حدیث کی شرح میں امام تقی الدین ابو عمرو عثمان المعروف بابن اصلاح الشافعیؒ (المتوفٰی ۶۴۳ھ) سے نقل کرتے ہیں کہ
’’نصیحت للہ یہ ہے کہ اس کی وحدانیت کا اقرار کیا جائے اور صفات کمال و جلال کے ساتھ اس کو موصوف سمجھا جائے، اور جو صفات ان کے برعکس ہیں ان سے اس کی ذات کو منزہ سمجھا جائے، اور اس کی نافرمانی سے گریز کیا جائے، اور اس کی اطاعت کی پابندی کی جائے، اور کمال اخلاص کے ساتھ اس کی محبت کی جائے، اور اس کی رضا کے لیے دوسروں سے محبت اور عداوت کی جائے، اور جو کافر باللہ ہے اس سے جہاد کیا جائے، اور جو امور ان کے مشابہ ہوں اور ان جملہ امور کی طرف دعوت دینا اور ان لوگوں کو آمادہ کرنا وغیرہ۔
اور نصیحت لکتابہ یہ ہے کہ اس پر ایمان لایا جائے، اور اس کی تعظیم کی جائے، اور اس کو غلط تاویلات سے بچایا جائے، اور اس کی تلاوت کی جائے، اور اس کے اوامر و نواہی پر وقوف حاصل کیا جائے، اور اس کی آیات پر تدبر کیا جائے، اور اس کی طرف دعوت دی جائے، اور غالی لوگوں کی تحریف سے اس کی مدافعت کی جائے، اور ملحدوں کے طعن سے اس کو محفوظ کیا جائے۔
اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نصیحت اور خیرخواہی کا معنٰی بھی اس کے قریب قریب ہے کہ ان پر اور جو چیز وہ لے کر آئے ہیں اس پر ایمان لائے، اور ان کی توقیر و تعظیم کی جائے، اور ان کی اطاعت پر پابندی کی جائے، اور ان کی سنت کو زندہ کیا جائے، اور آپ کے دشمنوں سے عداوت کی جائے، اور جو لوگ آپ سے اور آپ کی سنت سے محبت کرتے ہیں ان سے محبت کی جائے، اور آپ کے طور و طریق اور آداب کی پیروی کی جائے، اور آپ کی آل اور آپ کے اصحاب سے محبت کی جائے، اور اس کی مانند اور چیزیں عمل میں لائی جائیں۔
اور ائمۃ المسلمین کی نصیحت کا یہ مطلب ہے کہ حق میں ان کی امداد اور اطاعت کی جائے، اور نرمی اور شفقت کے ساتھ ان کو حق پر چلنے کی یاددہانی اور تنبیہ کی جائے، اور ان کی مخالفت سے کنارہ کشی کی جائے، اور ان کے حق میں توفیق کی دعا کی جائے، اور دوسروں کو اس پر آمادہ کیا جائے۔
اور عامۃ المسلمین کے حق میں نصیحت کا یہ مطلب ہے کہ ان کے مصالح میں ان کی رہنمائی کی جائے، اور ان کو دین و دنیا کے امور کی تعلیم دی جائے، اور ان کی پردہ پوشی کی جائے، اور ان کی حاجت براری کی جائے، اور ان کی دشمنوں کے مقابلہ میں امداد و مدافعت کی جائے، اور ان کے ساتھ مکر و حسد سے اجتناب کیا جائے، اور ان کے لیے وہی کچھ پسند کیا جائے جو اپنے لیے پسند کیا جاتا ہے، اور وہی کچھ ان کے لیے ناپسند کیا جائے جو اپنے لیے ناپسند کیا جاتا ہے، اور جو دیگر امور اس طرح کے ہوں۔‘‘
(جامع العلوم والحکم ص ۷۰ طبع مصر)
اس تفصیلی عبارت میں بھی نصیحت کا مطلب و مفہوم خوب آشکارا کیا گیا ہے اور اعلٰی ذات سے لے کر ادنٰی مخلوق تک کی ہمدردی اور بہی خواہی کا طریقہ بتلایا گیا ہے۔ امام محی السنۃ ابو زکریا یحیٰی بن شرف النووی الشافعیؒ (المتوفٰی ۲۷۶ھ) ’’النصیحۃ لکتابہ‘‘ کی شرح میں یہ بھی تحریر فرماتے ہیں کہ
’’اور تلاوت میں اس کے حرفوں کو درستی کرنا، اور محرفین کی تاویل کی اس سے مدافعت کرنا، اور اس پر طعن کرنے والوں کے طعن کا رد کرنا، اور جو کچھ اس میں ہے اس کی تصدیق کرنا، اور اس کے احکام پر وقوف حاصل کرنا، اور اس کے علوم کو سمجھنا۔‘‘
اور ’’النصیحۃ لرسولہ‘‘ کی شرح میں ارقام فرماتے ہیں کہ
’’آپ کی رسالت کی تصدیق کرنا، اور تمام ان احکام پر ایمان لانا جو آپ (منجانب اللہ) لائے ہیں، اور آپ کے امر و نہی میں آپ کی اطاعت کرنا، اور آپ کی زندگی میں اور بعد از وفات مدد کرنا، اور آپ کے دشمنوں سے دشمنی کرنا، اور آپ کے دوستوں سے دوستی کرنا، اور آپ کے حق کو بڑا سمجھنا، اور آپ کی توقیر کرنا، اور آپ کے طریقہ اور سنت کو زندہ کرنا، اور آپ کی دعوت کو پھیلانا، اور آپ کی شریعت کی نشرواشاعت کرنا، اور آپ کی شریعت پر (ملحدین) کی تہمت کو دور کرنا۔‘‘
(نووی شرح مسلم جلد ۱ ص ۵۴)
ان اقتباسات کے پیشِ نظر دیگر امور کے علاوہ عامۃ المسلمین کی خیر خواہی اور ان کے رشد و ہدایت کی فکر دین ہے۔ کیونکہ جب صحیح دین اور قرآن و سنت کے مطابق اعمال ان کے سامنے پیش کیے جائیں گے اور غلط اور باطل امور کی نشاندہی کی جائے گی تو عوام کے حق میں یہ نصیحت اور خیرخواہی ہو گی۔ کیونکہ وہ اپنے عقائد و اعمال کو درست کریں گے اور راہ راست پر گامزن ہو کر تقرب خداوندی حاصل کریں گے اور عذابِ الٰہی سے نجات پائیں گے، اور ان کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نقشِ قدم پر عمل پیرا ہو کر دنیا و آخرت کی خوشیاں نصیب ہوں گی اور آپ کی مخالفت سے بچ کر آتش دوزخ سے رستگاری ملے گی، اور حضراتِ انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کا یہی محبوب مشغلہ تھا کہ وہ ہر وقت مخلوقِ خدا کی بھلائی اور ان کی خیرخواہی کو ملحوظ رکھتے تھے، اور ہر دور کے علمائے حق کا یہی فریضہ رہا ہے۔

انسانی حقوق اور سیرتِ نبویؐ

مولانا مفتی محمد تقی عثمانی

(۳۱ اگست ۱۹۹۳ء کو اسلامک سنٹر (سیلون روڈ، اپٹن پارک، لندن) میں ورلڈ اسلامک فورم کے زیراہتمام سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عنوان پر جلسہ عام منعقد ہوا جس کی صدارت مولانا مفتی عبد الباقی نے کی اور مولانا زاہد الراشدی، مولانا منظور الحسینی، مولانا محمد عیسٰی منصوری اور مولانا عبد الرشید رحمانی کے علاوہ جسٹس مولانا محمد تقی عثمانی نے ’’سیرت النبی اور انسانی حقوق‘‘ کے عنوان پر درج ذیل مفصل خطاب کیا۔)
حضرات علمائے کرام، جناب صدر محفل اور معزز حاضرین! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ ہمارے لیے یہ بڑی سعادت اور مسرت کا موقع ہے کہ آج اس محفل میں، جو نبی کریم سرور دو عالمؐ کے مبارک ذکر کے لیے منعقد ہے، ہمیں شرکت کی سعادت حاصل ہو رہی ہے۔ اور واقعہ یہ ہے کہ نبی کریم سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر جمیل انسان کی اتنی بڑی سعادت ہے کہ اس کے برابر اور کوئی سعادت نہیں۔ کسی شاعر نے کہا ہے ؏
ذکرِ حبیب کم نہیں وصلِ حبیب سے
اور حبیب کا تذکرہ بھی حبیب کے وصال کے قائم مقام ہوتا ہے اور اسی وجہ سے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس ذکر کو یہ فضیلت عطا فرمائی ہے کہ جو شخص ایک مرتبہ نبی کریم سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجے تو اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے دس رحمتیں اس پر نازل ہوتی ہیں۔ تو جس مجلس کا انعقاد اس مبارک تذکرہ کے لیے ہو اس میں شرکت، خواہ ایک مقرر اور بیان کرنے والے کی  حیثیت میں ہو یا سامع کی حیثیت میں، ایک بڑی سعادت ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اس کی برکات ہمیں اور آپ کو عطا فرمائے۔
تذکرہ ہے نبی کریم سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کا۔ اور سیرتِ طیبہ ایک ایسا موضوع ہے کہ اگر کوئی شخص اس کے صرف ایک پہلو کو بھی بیان کرنا چاہے تو پوری رات بھی اس کے لیے کافی نہیں ہو سکتی، اس لیے کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود باوجود میں اللہ جل جلالہ نے تمام بشری کمالات، جتنے متصور ہو سکتے تھے، وہ سارے کے سارے جمع فرمائے۔ یہ جو کسی نے کہا تھا کہ ؎
حسنِ یوسف دمِ عیسٰی یدِ بیضا داری
آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری
تو یہ کوئی مبالغے کی بات نہیں تھی۔ سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم اس انسانیت کے لیے اللہ جل جلالہ کی تخلیق کا ایک ایسا شاہکار بن کر تشریف لائے تھے کہ جس پر کسی بھی حیثیت سے، کسی بھی نقطہ نظر سے غور کیجئے تو وہ کمال ہی کمال کا پیکر ہے۔ اس لیے آپ کی سیرت طیبہ کے کسی پہلو کو آدمی بیان کرے، کس کو چھیڑے، انسان کشمکش میں مبتلا ہو جاتا ہے ؎
زفرق تا بقدم ہر کجا کہ مے نگرم
کرشمہ دامن دل مے کشد کہ جا اینجا است
اور غالب مرحوم نے کہا تھا ؎
کہ غالب ثنائے خواجہ بہ یزداں گذاشتیم
کاں ذات پاک مرتبہ دان محمد است
انسان کے تو بس ہی میں نہیں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف و توصیف کا حق ادا کر سکے۔ ہمارے یہ ناپاک منہ، یہ گندی زبانیں اس لائق نہیں تھیں کہ ان کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لینے کی بھی اجازت دی جا سکتی، لیکن یہ اللہ جل و جلالہ کا کرم ہے کہ اس نے نہ صرف اجازت دی بلکہ اس سے راہنمائی اور استفادے کا بھی موقع عطا فرمایا۔ اس واسطے موضوعات تو سیرت کے بے شمار ہیں لیکن میرے مخدوم اور محترم حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب، اللہ ان کے فیوض کو جاری و ساری فرمائے، انہوں نے حکم دیا کہ سیرتِ طیبہ کے اس پہلو پر گفتگو کی جائے کہ نبی کریم سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم انسانی حقوق کے لیے کیا راہنمائی اور ہدایت لے کر تشریف لائے؟ اور جیسا کہ انہوں نے ابھی فرمایا، اس موضوع کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت پوری دنیا میں پروپیگنڈا کا بازار گرم ہے کہ اسلام کو عملی طور پر نافذ کرنے سے ہیومن رائٹس مجروح ہوں گے، انسانی حقوق مجروح ہوں گے، اور یہ پبلسٹی کی جا رہی ہے کہ گویا ہیومن رائٹس کا تصور پہلی بار مغرب کے ایوانوں سے بلند ہوا اور سب سے پہلے انسان کو حقوق دینے والے یہ اہلِ مغرب ہیں، اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی تعلیمات میں انسانی حقوق کا معاذ اللہ کوئی تصور موجود نہیں۔
تو یہ موضوع جب انہوں نے گفتگو کے لیے عطا فرمایا تو ان کی تعمیلِ حکم میں اسی موضوع پر آج اپنی گفتگو کو محصور کرنے کی کوشش کروں گا۔ لیکن موضوع ذرا تھوڑا سا علمی نوعیت کا ہے اور ایسا موضوع ہے کہ اس میں ذرا زیادہ توجہ اور زیادہ حاضر دماغی کی ضرورت ہے، تو اس سلسلہ میں آپ حضرات سے درخواست ہے کہ موضوع کی اہمیت کے پیشِ نظر اور اس کی نزاکت کو مدِنظر رکھتے ہوئے ذرا براہ کرم توجہ کے ساتھ سماعت فرمائیں، شاید اللہ تبارک و تعالیٰ ہمارے دل میں اس سلسلہ کے اندر کوئی صحیح بات ڈال دے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے، جس کا جواب دینا ضروری ہے، کہ آیا اسلام میں انسانی حقوق کا کوئی جامع تصور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی روشنی میں ہے یا نہیں؟ یہ سوال اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ یہ اس دور کا عجیب و غریب رجحان ہے کہ انسانی حقوق کا ایک تصور پہلے اپنی عقل، اپنی فکر، اپنی سوچ کی روشنی میں خود متعین کر لیا کہ یہ انسانی حقوق ہیں، یہ ہیومن رائٹس ہیں اور ان کا تحفظ ضروری ہے۔ اور (پھر) اپنی طرف سے خودساختہ جو سانچہ انسانی حقوق کا ذہن میں بنایا اس کو ایک معیارِ حق قرار دے کر ہر چیز کو اس معیار پر پرکھنے اور جانچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پہلے سے خود متعین کر لیا کہ فلاں چیز انسانی حق ہے اور فلاں چیز انسانی حق نہیں ہے۔ اور یہ متعین کرنے کے بعد اب دیکھا جاتا ہے کہ آیا اسلام یہ حق دیتا ہے کہ نہیں دیتا؟ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حق دیا کہ نہیں دیا؟ اگر دیا تو گویا ہم کسی درجہ میں اس کو ماننے کے لیے تیار ہیں، اگر نہیں دیاتو ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ لیکن ان مفکرین اور دانشوروں سے اور ان فکر و عقل کے سورماؤں سے میں ایک سوال کرنا چاہتا ہوں کہ یہ آپ نے جو اپنے ذہن سے انسانی حقوق کے تصورات مرتب کیے، یہ آخر کس بنیاد پر کیے؟ یہ کس اساس پر کیے؟ یہ جو آپ نے یہ تصور کیا کہ انسانی حقوق کا ایک پہلو یہ ہے، ہر انسان کو یہ حق ضرور ملنا چاہیے، یہ آخر کس بنیاد پر آپ نے کہا کہ ملنا چاہیے؟
انسانیت کی تاریخ پر نظر دوڑا کر دیکھیے تو ابتدائے آفرینش سے لے کر آج تک انسان کے ذہن میں انسانی حقوق کے تصورات بدلتے چلے آئے ہیں۔ کسی دور میں انسان کے  لیے ایک حق لازمی سمجھا جاتا تھا، دوسرے دور میں اس حق کو بے کار قرار دے دیا گیا، تیسرے کسی ماحول کے اندر، ایک خطے میں ایک حق قرار دیا گیا، دوسری جگہ اس حق کو ناحق قرار دے دیا گیا۔  تاریخ انسانیت پر نظر دوڑا کر دیکھیے تو آپ کو یہ نظر آئے گا کہ جس زمانے میں بھی انسانی فکر نے حقوق کے جو سانچے تیار کیے ان کا پروپیگنڈا، ان کی پبلسٹی اس زور و شور کے ساتھ کی گئی کہ اس کے خلاف بولنے کو جرم قرار دے دیا گیا۔
حضور نبی کریم سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت دنیا میں تشریف لائے تو اس وقت انسانی حقوق کا ایک تصور تھا اور وہ تصور ساری دنیا کے اندر پھیلا ہوا تھا اور اسی تصور کو معیار حق قرار دیا جاتا تھا، ضروری قرار دیا جاتا تھا کہ یہ حق لازمی ہے۔ مثلاً میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں کہ اس زمانے میں انسانی حقوق ہی کے حوالے سے یہ تصور تھا کہ جو شخص کسی کا غلام بن گیا تو غلام بننے کے بعد صرف جان و مال اور جسم ہی اس کا مملوک نہیں ہوا بلکہ انسانی حقوق، انسانی مفادات کے ہر تصور سے وہ عاری ہو گیا۔ آقا کا یہ بنیادی حق ہے کہ اپنے غلام کے گردن میں طوق ڈالے اور اس کے پاؤں میں بیڑیاں پہنائی جائیں۔ یہ ایک تصور تھا، آپ کو اس کے اوپر پورا لٹریچر مل جائے گا اس زمانے کے اندر جنہوں نے اسے Justify کرنے (جائز قرار دینے) کے لیے اور اس کو مبنی بر انصاف قرار دینے کے لیے فلسفے پیش کیے تھے۔ یہ دور کی بات ہے، اسے جاہلیت کا زمانہ کہہ لیجئے کہ چودہ سو سال پہلے کی بات ہے، لیکن ابھی قریب سو ڈیڑھ سو سال پہلے کی بات لے لیجئے جب جرمنی اور اٹلی میں فاشزم نے اور نازی ازم نے سر اٹھایا۔ آج فاشزم اور نازی ازم کا نام گالی بن چکا اور دنیا بھر میں بدنام ہو چکا لیکن آپ ان کے فلسفے کو اٹھا کر دیکھیے جس بنیاد پر انہوں نے فاشزم کا تصور پیش کیا تھا اور نازی ازم کا تصور پیش کیا تھا۔ اس فلسفے کو خالص عقل کی بنیاد پر اگر آپ رد کرنا چاہیں تو آسان نہیں ہو گا۔ انہوں نے یہ تصور پیش کیا تھا کہ جو طاقتور ہے اس کا ہی یہ بنیادی حق ہے کہ وہ کمزور پر حکومت کرے۔ اور یہ طاقتور کے بنیادی حقوق میں شمار ہوتا ہے اور کمزور کے ذمہ واجب ہے کہ وہ طاقت کے آگے سر جھکائے۔ یہ تصور ابھی سو ڈیڑھ سو سال پہلے کی بات ہے۔
تو انسانی افکار کی تاریخ میں انسانی حقوق کے تصورات یکساں نہیں رہے، بدلتے رہے۔ کسی دور میں کسی ایک چیز کو حق قرار دیا گیا اور کسی دور میں کسی دوسری چیز کو حق قرار دیا گیا۔ اور جس دور میں جس قسم کے حقوق کے سیٹ کو یہ کہا گیا کہ یہ انسانی حقوق کا حصہ ہے، اس کے خلاف بات کرنا زبان کھولنا ایک جرم قرار پایا۔ تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ آج جن ہیومن رائٹس کے سیٹ کو کہا جا رہا ہے کہ ان ہیومن رائٹس کا تحفظ ضروری ہے، یہ کل کو تبدیل نہیں ہوں گے؟ کل کو ان کے درمیان انقلاب نہیں آئے گا؟ اور کون سی بنیاد ہے جو اس بات کو درست قرار دے سکے؟
حضور نبی کریم سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا انسانی حقوق کے بارے میں سب سے بڑا کنٹریبیوشن (Contribution) یہ ہے کہ آپؐ نے انسانی حقوق کے تعین کی صحیح بنیاد فراہم فرمائی۔ وہ اساس فراہم فرمائی جس کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ کون سے ہیومن رائٹس قابلِ تحفظ ہیں اور کون سے ہیومن رائٹس قابلِ تحفظ نہیں۔ اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ اللہ علیہ وسلم کی راہنمائی اور آپ کی ہدایت کو اساس تسلیم نہ کیا جائے تو اس دنیا کے پاس، اس کائنات کے پاس کوئی بنیاد نہیں ہے جس کی بنیاد پر وہ کہہ سکے کہ فلاں انسانی حقوق لازماً قابلِ تحفظ ہیں۔
میں آپ کو ایک لطیفے کی بات سناتا ہوں۔ آج سے تقریباً ایک سال پہلے یا کچھ مدت زیادہ ہو گئی ایک دن میں مغرب کی نماز پڑھ کر گھر میں بیٹھا ہوا تھا تو باہر سے کوئی صاحب ملنے کے لیے آئے۔ کارڈ بھیجا تو دیکھا اس کارڈ پر لکھا ہوا تھا کہ یہ ساری دنیا میں ایک مشہور ادارہ ہے جس کا نام ایمنسٹی انٹرنیشنل ہے، جو سارے انسانی بنیادی حقوق کے تحفظ کا علمبردار ہے، اس ادارے کا ایک ڈائریکٹر پیرس سے پاکستان آئے تھے وہ ملنا چاہتے تھے۔ خیر میں نے بلا لیا، پہلے سے کوئی اپوائنٹمنٹ نہیں تھی، کوئی پہلے سے وقت نہیں لیا تھا، اچانک آگئے اور پاکستان کی وزارت خارجہ کے ایک ذمہ دار افسر بھی ان کے ساتھ تھے۔
آپ کو یہ معلوم ہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل وہ ادارہ ہے جو انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے اور آزادیٔ تقریر و تحریر کے لیے علمبردار کہا جاتا ہے اور پاکستان میں جو بعض شرعی قوانین نافذ ہوئے یا مثلاً قادیانیوں کے سلسلے میں پابندیاں عائد کی گئیں تو ایمنسٹی انٹرنیشنل کی طرف سے اس پر اعتراضات و احتجاجات کا سلسلہ رہا۔
تو یہ صاحب تشریف لائے، انہوں نے آ کر مجھ سے کہا کہ میں آپ سے اس لیے ملنا چاہتا ہوں کہ میرے ادارے نے مجھے سا بات پر مقرر کیا ہے کہ میں آزادیٔ تحریر و تقریر اور انسانی حقوق کے سلسلے میں ساؤتھ ایسٹ ایشیا کے ممالک کی رائے عامہ کا سروے کروں، یعنی یہ معلوم کروں کہ جنوب مشرقی ایشیا کے مسلمان انسانی حقوق، آزادیٔ تحریر و تقریر اور آزادیٔ اظہارِ رائے کے بارے میں کیا خیالات رکھتے ہیں اور وہ کس حد تک اس معاملہ میں ہم سے تعاون کرنے پر آمادہ ہیں۔ اس کا سروے کرنے کے لیے میں پیرس سے آیا ہوں اور اس سلسلے میں آپ سے انٹرویو چاہتا ہوں۔ ساتھ ہی انہوں نے معذرت بھی کہ کہ چونکہ میرے پاس وقت کم تھا اس لیے میں پہلے وقت نہیں لے سکا لیکن میں چاہتا ہوں کہ میرے چند سوالات کا آپ جواب دیں تاکہ اس کی بنیاد پر اپنی رپورٹ مرتب کر سکوں۔
تو میں نے ان صاحب سے پوچھا کہ آپ کب تشریف لائے؟ کہا کہ میں کل ہی پہنچا ہوں۔ میں نے کہا، آئندہ کیا پروگرام ہے؟ فرمانے لگے کہ کل مجھے اسلام آباد جانا ہے۔ میں نے کہا، اس کے بعد؟ کہا کہ اسلام آباد ایک یا دو دن ٹھہر کر پھر میں دہلی جاؤں گا۔ میں نے کہا کہ وہاں کتنے دن قیام فرمائیں گے؟ کہا، دو دن۔ میں نے کہا، پھر اس کے بعد؟ کہا کہ اس کے بعد مجھے ملائیشیا جانا ہے۔ تو میں نے کہا، کل آپ کراچی تشریف لائے اور آج شام کو اس وقت میرے پاس تشریف لائے، کل صبح آپ اسلام آباد چلے جائیں گے، آج کا دن آپ نے کراچی میں گزارا، تو آپ نے کیا کراچی کی رائے عامہ کا سروے کر لیا؟ تو اس سوال پر وہ بڑا سٹپٹائے۔ کہنے لگے اتنی دیر میں واقعی پورا سروے تو نہیں ہو سکتا تھا لیکن اس مدت کے اندر میں نے کافی لوگوں سے ملاقات کی اور تھوڑا بہت اندازہ مجھے ہو گیا۔ تو میں نے کہا، آپ نے کتنے لوگوں سے ملاقات کی؟ کہا کہ پانچ افراد سے میں ملاقات کر چکا ہوں، چھٹے آپ ہیں۔ میں نے کہا، چھ افراد سے ملاقات کرنے کے بعد آپ نے کراچی کا سروے مکمل کر لیا۔ اب اس کے بعد کل اسلام آباد تشریف لے جائیں گے اور وہاں ایک دن قیام فرمائیں گے، چھ آدمیوں سے وہاں پھر آپ کی ملاقات ہو گی۔ چھ آدمیوں سے ملاقات کے بعد اسلام آباد کی رائے عامہ کا سروے ہو جائے گا، اس کے بعد دو دن دہلی تشریف لے جائیں گے، دو دن دہلی کے اندر کچھ لوگوں سے ملاقاتیں کریں گے تو وہاں کا سروے آپ کا ہو جائے گا۔ تو یہ بتائیے کہ یہ سروے کا کیا طریقہ ہے؟ تو وہ کہنے لگے آپ کی بات معقول ہے، واقعتاً جتنا وقت مجھے دینا چاہیے تھا اتنا میں دے نہیں پا رہا۔ مگر میں کیا کروں کہ میرے پاس وقت کم تھا۔ تو میں نے کہا معاف فرمائیے، اگر وقت کم تھا تو کس ڈاکٹر نے آپ کو مشورہ دیا تھا کہ آپ سروے کریں؟ اس لیے کہ اگر سروے کرنا ہے تو پھر ایسے آدمی کو کرنا چاہیے جس کے پاس وقت ہو، جو لوگوں کے پاس جا کر مل سکے، لوگوں سے بات کر سکے، اگر وقت کم تھا تو پھر سروے کی ذمہ داری لینے کی ضرورت کیا تھی؟ تو کہنے لگے کہ بات تو آپ کی ٹھیک ہے لیکن بس ہمیں اتنا ہی وقت دیا گیا تھا اس لیے میں مجبور تھا۔
میں نے کہا، معاف فرمائیے مجھے آپ کے اس سروے کی سنجیدگی پر شک ہے، میں اس سروے کو سنجیدہ نہیں سمجھتا لہٰذا میں اس سروے کے اندر کوئی پارٹی بننے کے لیے تیار نہیں ہوں اور نہ آپ کے کسی سوال کا جواب دینے کے لیے تیار ہوں۔ اس لیے کہ آپ پانچ چھ آدمیوں سے گفتگو کرنے کے بعد یہ رپورٹ دیں گے کہ وہاں پر رائے عامہ یہ ہے۔ اس رپورٹ کی کیا قدر و قیمت ہو سکتی ہے؟ لہٰذا میں آپ کے کسی سوال کا جواب نہیں دے سکتا۔ وہ بڑا سٹپٹائے اور انہوں نے کہا کہ آپ کی بات ویسے ٹیکنیکلی صحیح ہے لیکن یہ کہ میں چونکہ آپ کے پاس ایک بات پوچھنے کے لیے آیا ہوں تو میرے کچھ سوالوں کا جواب آپ ضرور دے دیں۔ میں نے کہا نہیں، میں آپ کے کسی سوال کا جواب نہیں دوں گا، جب تک مجھے اس بات کا یقین نہ ہو جائے کہ آپ کا سروے واقعتاً علمی نوعیت کا ہے، سنجیدہ ہے اور علمی شرائط پوری کرتا ہے، تو میں اس سروے کے اندر کوئی پارٹی بننے کے لیے تیار نہیں ہوں، آپ مجھے معاف فرمائیں، میرے مہمان ہیں، میں آپ کی خاطر تواضع جو کر سکتا ہوں وہ کروں گا، باقی کسی سوال کا جواب نہیں دوں گا۔ میں نے کہا، بتا دیجئے اگر میری بات میں کوئی غیر معقولیت ہے تو مجھے سمجھا دیجئے کہ میرا موقف غلط ہے اور فلاں بنیاد پر غلط ہے۔ کہنے لگے بات تو آپ کی معقول ہے لیکن میں آپ سے ویسے برادرانہ طور پر چاہتا ہوں کہ آپ کچھ جواب دیں۔ میں نے کہا میں جواب نہیں دوں گا، البتہ آپ مجھے اجازت دیں تو میں آپ سے کچھ سوال کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا میں آپ سے اجازت طلب کر رہا ہوں اگر آپ اجازت دیں تو میں سوال کر لوں گا، اگر اجازت نہیں دیں گے تو میں بھی سوال نہیں کروں گا اور ہم دونوں کی ملاقات ہو گئی، بات ختم ہو گئی۔ کہنے لگے، نہیں آپ سوال کر لیجئے۔
تو میں نے کہا میں سوال آپ سے یہ کرنا چاہتا ہوں کہ آپ آزادیٔ اظہار ِ رائے اور انسانی حقوق کا عَلم لے کر چلے ہیں تو میں ایک بات آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ یہ آزادیٔ اظہارِ رائے جس کی آپ تبلیغ کرنا چاہتے ہیں اور کر رہے ہیں اور جس عَلم کو لے کر چلے ہیں، یہ آزادیٔ اظہارِ رائے Absolute یعنی مطلق ہے؟ اس پر کوئی قید کوئی پابندی کوئی شرط عائد نہیں ہوتی؟ یا یہ کہ آزادیٔ اظہارِ رائے پر کچھ قیود و شرائط بھی عائد ہونی چاہئیں؟ کہنے لگے میں آپ کا مطلب نہیں سمجھا۔ تو میں نے کہا، مطلب تو الفاظ سے واضح ہے۔ میں یہ آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ جس آزادیٔ اظہارِ رائے کی تبلیغ کرنا چاہتے ہیں تو کیا وہ ایسی ہے کہ جس شخص کی جو رائے ہو اس کا برملا اظہار کرے، اس کی برملا تبلیغ کرے، برملا اس کی طرف دعوت دے، اور اس پر کوئی روک ٹوک کوئی پابندی عائد نہ ہو؟ یہ مقصود ہے؟
اگر یہ مقصود ہے تو فرمائیے کہ ایک شخص یہ کہتا ہے کہ میری رائے یہ ہے کہ یہ دولت مند افراد انہوں نے بہت پیسے کما لیے اور غریب لوگ بھوکے مر رہے ہیں، لہٰذا ان دولت مندوں کے گھروں پر ڈاکہ ڈال کر اور ان کی دکانوں کو لوٹ کر غریبوں کو پیسہ پہنچانا چاہیے۔ اگر کوئی شخص دیانتدارانہ یہ رائے رکھتا ہو اور یہ رائے رکھ کر اس کی طرف تبلیغ کرے اور اس کا اظہار کرے، لوگوں کو دعوت دے کہ آپ آئیے اور میرے ساتھ شامل ہو جائیے۔ اور یہ جتنے دولت مند لوگ ہیں، روزانہ ان پر ڈاکہ ڈالا کریں گے، ان کا مال لوٹا کریں گے اور مال لوٹ کر غریبوں میں تقسیم کیا کریں گے؟ تو آپ ایسی اظہارِ رائے کی آزادی کے حامی ہوں گے یا نہیں؟ اور اس کی اجازت دیں گے کہ نہیں؟
کہنے لگے اس کی اجازت نہیں دی جائے گی کہ لوگوں کا مال لوٹ کر دوسروں میں تقسیم کر دیا جائے۔ تو میں نے کہا یہی میرا مطلب تھا کہ اگر اس کی اجازت نہیں دی جائے گی تو اس کا معنی یہ ہے کہ آزادیٔ اظہارِ رائے اتنی Absolute اتنی مطلق نہیں ہے کہ اس پر کوئی قید کوئی شرط کوئی پابندی عائد نہ کی جا سکے۔ کچھ نہ کچھ قید، شرط لگانی پڑے گی۔ کہنے لگے، ہاں کچھ نہ کچھ تو لگانی پڑے گی۔
تو میں نے کہا، مجھے یہ بتائیے کہ وہ قید و شرط کس بنیاد پر لگائی جائے گی اور کون لگائے گا؟ کس بنیاد پر یہ طے کیا جائے کہ فلاں قسم کی رائے کا اظہار کرنا تو جائز ہے اور فلاں قسم کی رائے کا اظہار کرنا جائز نہیں ہے؟ فلاں قسم کی تبلیغ جائز ہے اور فلاں قسم کی تبلیغ جائز نہیں ہے؟ اس کا تعین کون کرے گا اور کس بنیاد پر کرے گا؟ اس سلسلہ میں آپ کے ادارے نے کوئی علمی سروے کیا ہو اور علمی تحقیق کی ہو تو میں اس کو جاننا چاہتا ہوں۔ کہنے لگے کہ اس نقطۂ نظر سے پہلے ہم نے غور نہیں کیا۔ تو میں نے عرض کیا کہ دیکھیے! آپ اتنے بڑے مشن کو لے کر چلے ہیں، پوری انسانیت کو آزادیٔ اظہارِ رائے دلانے کے لیے، ان کو حقوق دلانے کے لیے، لیکن آپ نے بنیادی سوال نہیں سوچا کہ آخر آزادیٔ اظہارِ رائے کس بنیاد پر طے ہونی چاہیے؟ کیا اصول ہوں؟ کیا پرنسپلز ہوں؟ کیا شرطیں اور کیا قیود ہوں؟ تو کہنے لگے اچھا آپ ہی بتا دیجئے۔ تو میں نے کہا میں تو پہلے عرض کر چکا ہوں کہ میں کسی سوال جواب دینے بیٹھا ہی نہیں۔ میں تو آپ سے پوچھ رہا ہوں کہ آپ مجھے بتائیے کہ کیا قیود و شرائط ہونی چاہئیں اور کیا نہیں۔ میں نے تو آپ سے سوال کیا ہے کہ آپ کے نقطۂ نظر سے، آپ کے ادارے کے نقطۂ نظر سے کیا ہونا چاہیے؟
کہنے لگے میرے علم میں ابھی تک ایسا کوئی فارمولا نہیں ہے، ایک فارمولا ذہن میں آتا ہے کہ صاحب! ایسی آزادیٔ اظہارِ رائے جس میں Violence ہو جس میں دوسرے کے ساتھ تشدد ہو تو وہ نہیں ہونی چاہیے۔ میں نے کہا یہ تو آپ کے ذہن میں آیا کہ وائیلنس کی پابندی ہونی چاہیے، کسی اور کے ذہن میں کوئی اور بات بھی آ سکتی ہے کہ فلاں چیز کی آزادی بھی نہیں ہونی چاہیے۔ یہ کون طے کرے گا اور کس بنیاد پر طے کرے گا کہ کس قسم کی اظہارِ رائے کی کھلی چھٹی ہونی چاہیے، کس کی نہیں؟ اس کا کوئی فارمولا کچھ نہ کچھ معیار ہونا چاہیے۔ کہنے لگے، آپ سے گفتگو کے بعد یہ اہم سوال میرے ذہن میں آیا ہے اور میں اپنے ذمہ داروں تک اس کو پہنچاؤں گا اور اس کے بعد اس پر اگر کوئی لٹریچر ملا تو آپ کو بھیجوں گا۔ تو میں نے کہا ان شاء اللہ میں منتظر رہوں گا کہ اگر آپ اس کے اوپر کوئی لٹریچر بھیج سکیں اور اس کا کوئی فلسفہ بتا سکیں تو میں ایک طالب علم کی حیثیت میں اس کا مشتاق ہوں۔
جب وہ چلنے لگے، ان کو مجھ سے کوئی بات نہیں ملی تو اس وقت میں نے ان سے کہا کہ میں سنجیدگی سے آپ سے کہہ رہا ہوں، یہ بات مذاق کی نہیں ہے، سنجیدگی سے چاہتا ہوں کہ اس مسئلے پر غور کیا جائے، اس کے بارے میں آپ اپنا نقطۂ نظر بھیجیں، لیکن ایک بات میں آپ کو بتا دوں کہ جتنے آپ کے نظریات اور فلسفے ہیں، ان سب کو مدنظر رکھ لیجئے، کوئی ایسا متفقہ فارمولا آپ پیش کر نہیں سکیں گے جس پر ساری دنیا متفق ہو جائے کہ فلاں بنیاد پر اظہارِ رائے کی آزادی ہونی چاہیے اور فلاں بنیاد پر نہیں ہونی چاہیے۔ تو یہ میں آپ کو بتا دیتا ہوں اور اگر پیش کر سکیں تو میں منتظر ہوں۔ آج ڈیڑھ سال ہو گیا ہے کوئی جواب نہیں آیا۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ مجمل نعرے، یہ اجمالی نعرے کہ صاحب! ہیومن رائٹس ہونے چاہئیں، آزادیٔ اظہارِ رائے ہونی چاہیے، تحریر و تقریر کی آزادی ہونی چاہیے، یہ اجمالی نعرے، ان کی ایسی کوئی بنیاد جس پر ساری دنیا متفق ہو سکے اور جس کے بارے میں معقولیت سے کہا جا سکے کہ یہ ہے وہ بنیاد جو اس کو طے کر سکے، یہ کسی کے پاس نہیں ہے اور نہ ہو سکتی ہے۔ کیوں؟ اس واسطے کہ جو کوئی بھی یہ بنیادیں طے کرے گا وہ اپنی سوچ اور اپنی عقل کی بنیاد پر کرے گا۔ اور کبھی دو انسانوں کی عقل یکساں نہیں ہوتی، دو زمانوں کی عقلیں یکساں نہیں ہوتیں، دو گروپوں کی عقلیں یکساں نہیں ہوتیں، لہٰذا ان کے درمیان اختلاف رہا ہے، رہے گا، اور اس اختلاف کو ختم کرنے کا کوئی راستہ نہیں۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ انسانی عقل اپنی ایک لمیٹیشن رکھتی ہے، اس کی حدود ہیں، اس سے آگے وہ تجاوز نہیں کر پاتی۔
محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس پوری انسانیت کے لیے سب سے بڑا احسانِ عظیم یہ ہے کہ سرکار دو عالمؐ نے ان تمام معاملات کو طے کرنے کی وہ بنیاد فراہم کی ہے کہ کون سا حق قابلِ تحفظ ہے اور کون سا حق قابلِ تحفظ نہیں۔ اس کی واحد بنیاد یہ ہے کہ وہ ذات جس نے اس پوری کائنات کو پیدا کیا، وہ ذات جس نے انسانوں کو پیدا کیا، اسی سے پوچھو کہ کون سے انسانی حقوق قابلِ تحفظ ہیں اور کون سے انسانی حقوق قابلِ تحفظ نہیں؟ وہی بتا سکتا ہے، اس کے سوا کوئی نہیں بتا سکتا۔ اور اس ذات کے ساتھ، اس خالقِ کائنات کے ساتھ رشتہ جوڑا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ اور رشتہ جوڑا وحی کا، وہ مقام جہاں پر انسان کی عقل آ کر ناکارہ ہو جاتی ہے، بے کار ہو جاتی ہے، صحیح جواب نہیں دیتی، اس مقام پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وحی لے کر آتے ہیں اللہ جل جلالہ کی۔ اور وہ بتاتے ہیں کہ یہ ہے وہ بنیاد جس کی روشنی میں تم اپنے مسائل حل کر سکتے ہو۔
جو لوگ کہتے ہیں کہ پہلے ہمیں یہ بتاؤ کہ اسلام ہمیں کیا حقوق دیتا ہے، پھر ہم اسلام کو مانیں گے۔ میں نے کہا، اسلام کو تمہاری ضرورت نہیں۔ اگر اسلام کو اس وجہ سے ماننا کہ حقوق پہلے اپنے ذہن میں طے کر لیے کہ یہ حقوق جہاں ملیں گے وہاں جائیں گے، اور اس کے بعد پھر اسلام میں اس خاطر آتے ہو کہ یہ حقوق چونکہ اسلام میں مل رہے ہیں اس واسطے میں جا رہا ہوں، تو یاد رکھو اسلام کو تمہاری ضرورت نہیں۔ اسلام کا مفہوم یہ ہے کہ پہلے اپنی عاجزی، درماندگی اور شکستگی پیش کرو کہ ان مسائل کو حل کرنے میں ہماری عقل عاجز ہے اور سوچ عاجز ہے، ہمیں وہ بنیاد چاہیے جس کی بنیاد پر ہم مسائل کو حل کریں۔ جب آدمی اس نقطہ نظر سے اسلام کی طرف رجوع کرتا ہے تو پھر اسلام ہدایت و راہنمائی پیش کرتا ہے۔ ’’ھدًی لِلمتقین‘‘ یہ ہدایت متقین کے لیے ہے۔ متقین کے کیا معنی؟ متقین کے معنی یہ ہیں کہ جس کے دل میں طلب ہو، یہ ہو کہ ہم اپنی عاجزی کا اقرار کرتے ہیں، درماندگی کا اعتراف کرتے ہیں، پھر رجوع کرتے ہیں اپنے مالک اور خالق کے سامنے کہ آپ ہم بتائیے کہ ہمارے لیے کیا راستہ ہے۔ محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ پیغام لے کر آئے۔ لہٰذا یہ جو آج کی دنیا کے اندر ایک فیشن بن گیا کہ صاحب! پہلے یہ بتاؤ کہ ہیومن رائٹس کیا ملیں گے تب اسلام میں داخل ہوں گے، تو یہ طریقہ اسلام میں داخل ہونے کا نہیں ہے۔
سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اس امت کو پیغام دیا، دعوت دی تو آپ نے جتنے غیر مسلموں کو دعوت دی، کسی جگہ آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ اسلام میں آجاؤ تمہیں فلاں فلاں حقوق مل جائیں گے۔ بلکہ یہ فرمایا کہ میں تم کو اللہ جل جلالہ کی عبادت کی طرف دعوت دیتا ہوں ’’قولوا لا الٰہ الا اللہ تفلحون‘‘ یہ مادی منافع، مادی مصلحتوں اور مادی خواہشات کی خاطر اگر کوئی اسلام میں آنا چاہتا ہے تو درحقیقت اخلاص کے ساتھ صحیح راستہ تلاش نہیں کر رہا۔ پہلے وہ اپنی عاجزی کا اعتراف کرے کہ ہماری عقلیں ان مسائل کو حل کرنے سے عاجز ہیں۔
اور یاد رکھیے! یہ موضوع بڑا طویل ہے کہ عقلِ انسانی بیکار نہیں ہے، اللہ تعالیٰ نے جو ہمیں عقل عطا فرمائی یہ بڑی کارآمد چیز ہے۔ مگر یہ اس حد تک کارآمد ہے جب تک اس کو اس کی حدود میں استعمال کیا جائے، اور حدود سے باہر اگر اس کو استعمال کرو گے تو وہ غلط جواب دینا شروع کر دے گی۔ اس کے بعد اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک اور ذریعۂ علم عطا فرمایا ہے، اس کا نام وحی الٰہی ہے، جہاں عقل جواب دے جاتی ہے اور کارآمد نہیں رہتی، وحیٔ الٰہی اسی جگہ آ کر رہنمائی کرتی ہے۔
دیکھو! اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں آنکھ دی، کان دیے، یہ زبان دی۔ آنکھ سے دیکھ کر ہم بہت سی چیزیں معلوم کرتے ہیں، کان سے سن کر بہت سی چیزیں معلوم کرتے ہیں، زبان سے چکھ کر بہت ساری چیزیں معلوم کرتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کا اپنا ایک فنکشن رکھا ہے، ہر ایک کا اپنا عمل ہے، اس حد تک وہ کام دیتا ہے، اس سے باہر نہیں دیتا۔ آنکھ دیکھ سکتی ہے، سن نہیں سکتی، کوئی شخص یہ چاہے کہ میں آنکھ سے سنوں تو وہ احمق ہے۔ کان سن سکتا ہے دیکھ نہیں سکتا، کوئی شخص یہ چاہے کہ کان سے میں دیکھنے کا کام لوں تو وہ بے وقوف ہے، اس واسطے کہ یہ اس کام کے لیے پیدا نہیں ہوا۔ اور ایک حد ایسی آتی ہے جہاں نہ آنکھ کام دے رہی ہے نہ کان کام دے رہے ہیں نہ زبان کام دے رہی ہے۔ اس موقع کے لیے اللہ تعالیٰ نے عقل عطا فرمائی ہے کہ عقل انسان کی راہنمائی کرتی ہے۔
دیکھیے یہ کرسی ہمارے سامنے رکھی ہے، آنکھ سے دیکھ کر معلوم کیا کہ اس کے ہینڈل زرد رنگ کے ہیں، ہاتھ سے چھو کر معلوم کیا کہ یہ چکنے ہیں۔ لیکن تیسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ آیا خودبخود وجود میں آ گئی یا کسی نے اس کو بنایا؟ تو وہ بنانے والا میرے آنکھوں کے سامنے نہیں ہے، اس واسطے میری آنکھ بھی اس سوال کا جواب نہیں دے سکتی، میرا ہاتھ بھی اس سوال کا جواب نہیں دے سکتا، اس موقع کے لیے اللہ تعالیٰ نے تیسری چیز عطا فرمائی ہے جس کا نام عقل ہے۔ عقل سے میں نے سوچا کہ یہ جو ہینڈل ہے، یہ بڑے قاعدے کا بنا ہوا ہے، یہ خود سے وجود میں نہیں آ سکتا۔ کسی بنانے والے نے اس کو بنایا ہے۔ یہاں عقل نے میری راہنمائی کی ہے۔ لیکن ایک چوتھا سوال آگے چل کر یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کرسی کو کس کام (موقع) میں استعمال کرنا چاہیے، کس میں نہیں کرنا چاہیے؟ کہاں اس کو استعمال کرنے سے فائدہ ہو گا کہاں نقصان ہو گا؟ یہ سوال جو ہے اس سوال کا حل کرنے کے لیے عقل بھی ناکام ہو جاتی ہے۔
اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے ایک چوتھی چیز عطا فرمائی اور اس کا نام ہے وحیٔ الٰہی۔ وہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے وحی ہوتی ہے، وہ خیر اور شر کا فیصلہ کرتی ہے، وہ نفع اور نقصان کا فیصلہ کرتی ہے، جو بتاتی ہے کہ اس چیز میں خیر ہے اس میں شر ہے، اس میں نفع ہے اس میں نقصان ہے۔ وحی آتی ہی اس مقام پر ہے جہاں انسان کی عقل کی پرواز ختم ہو جاتی ہے۔ لہٰذا جب اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم آ جائے اور وہ اپنی عقل میں نہ آئے، سمجھ میں نہ آئے تو اس کی وجہ سے اس کو رد کرنا کہ صاحب! میری تو عقل میں نہیں آ رہا لہٰذا میں اس کو رد کرتا ہوں، تو یہ درحقیقت اس عقل کی اور وحیٔ الٰہی کی حقیقت ہی سے جہالت کا نتیجہ ہے۔ اسے سمجھ میں اس لیے نہیں آ رہا کہ اگر سمجھ میں آتا تو وحی آنے کی ضرورت کیا تھی؟ وحی تو آئی ہی اس لیے کہ تم اپنی تنہا عقل کے ذریعے اس مقام تک نہیں پہنچ سکتے تھے، اللہ تبارک تعالیٰ نے وحی کے ذریعے سے تمہاری مدد فرمائی۔ تو اس واسطے اگر عقل سے خودبخود فیصلہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ ایک حکم نازل کر دیتے بس کہ ہم نے تمہیں عقل دی ہے، عقل کے مطابق جو چیز اچھی لگے وہ کرو اور جو بری لگے اس سے بچ جاؤ۔ نہ کسی کتاب کی ضرورت نہ کسی رسول کی ضرورت نہ کسی پیغمبر کی ضرورت نہ کسی مذہب اور دین کی ضرورت۔ عقل دی اور اس عقل کے مطابق کام کرو۔ جب اللہ نے اس عقل دینے کے باوجود اس پر اکتفا نہیں فرمایا، رسول بھیجے، کتابیں اتاریں، وحی بھیجی، تو اس کے معنی یہ ہیں کہ تنہا عقل انسان کی راہنمائی کے لیے کافی نہیں تھی، اس کے بعد وحیٔ الٰہی اس لیے آئی۔
آج کل لوگ کہتے ہیں کہ صاحب ہمیں چونکہ اس کا فلسفہ سمجھ میں نہیں آیا لہٰذا ہم نہیں مانتے۔ تو وہ درحقیقت دین کی حقیقت ہی سے ناواقف ہیں، حقیقت سے جاہل ہیں، سمجھ میں آ ہی نہیں سکتا۔ اور یہیں سے ایک اور بات کا جواب مل جاتا ہے جو آج کل بڑی کثرت سے لوگوں کے ذہنوں میں پیدا ہوتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قرآن کریم نے چاند پر جانے کا کوئی طریقہ نہیں بتایا، خلا کو فتح کرنے کا کوئی فارمولا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں بتایا، یہ سب قومیں اس قسم کے فارمولے حاصل کر کے کہاں سے کہاں پہنچ گئیں اور ہم قرآن بغل میں رکھنے کے باوجود پیچھے رہ گئے، تو قرآن اور سنت نے یہ فارمولے کیوں نہیں بتلائے؟ جواب اس کا یہی ہے کہ اس لیے نہیں بتایا کہ وہ چیز تمہارے عقل کے دائرے کی تھی، اپنی عقل سے اور اپنے تجربے اور محنت سے جتنا آگے بڑھو گے اس کے اندر تمہیں انکشافات ہوتے چلے جائیں گے، وہ تمہارے عقل کے دائرے کی چیز تھی، عقل اس کا ادراک کر سکتی تھی۔ اس واسطے اس کے لیے نبی بھیجنے کی ضرورت نہیں تھی، اس کے لیے رسول بھیجنے کی ضرورت نہیں تھی، اس کے لیے کتاب نازل کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ لیکن کتاب اور رسول کی ضرورت تھی وہاں جہاں تمہاری عقل عاجز تھی۔ جیسے کہ انٹرنیشنل ایمنسٹی والے آدمی کی عقل عاجز تھی کہ بنیادی حقوق اور آزادیٔ تحریر و تقریر کے اوپر کیا پابندیاں ہونی چاہئیں، کیا نہیں ہونی چاہئیں۔
 اس معاملے میں انسان کی عقل عاجز تھی، اس کے لیے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے۔ آپؐ نے بتایا کہ یہ حق ہے انسان کا جس کا تحفظ ضروری ہے، اور فلاں حق ہے جس کے تحفظ کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ تو اس لیے پہلے یہ سمجھ لو کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا انسانی حقوق کے سلسلے میں سب سے بڑا کنٹریبیوشن یہ ہے کہ انسانی حقوق کے تعین کی بنیاد فراہم فرمائی کہ کونسا انسانی حق پابندی کے قابل ہے اور کونسا نہیں۔
یہ بات اگر سمجھ میں آجائے تو اب سنیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا حقوق انسان کو عطا فرمائے۔ کن حقوق کو Recognize (تسلیم) کیا، کن حقوق کا تعین فرمایا اور پھر اس کے اوپر عمل کر کے دکھایا۔ آج کی دنیا میں ریکگنائز کرنے والے تو بہت، اور اس کا اعلان کرنے والے بہت، اس کے نعرے لگانے والے بہت، لیکن ان نعروں پر اور ان حقوق کے اوپر جب عمل کرنے کا سوال آ جائے تو وہی ڈھنڈورچی، جو یہ کہتے ہیں کہ انسانی حقوق قابلِ تحفظ ہیں، جب ان کا اپنا معاملہ آ جاتا ہے، اپنے مفاد سے ٹکراؤ پیدا ہو جاتا ہے تو دیکھیے پھر انسانی حقوق کس طرح پامال ہوتے ہیں۔
انسانی حقوق کا ایک تقاضا یہ ہے کہ اکثریت کی حکومت ہونی چاہیے۔ جمہوریت، سیکولر ڈیموکریسی۔ آج امریکہ کی ایک کتاب دنیا بھر میں بہت مشہور ہو رہی ہے ’’دی اینڈ آف ہسٹری اینڈ دی لاسٹ مین‘‘ آج کل کے سارے پڑھے لکھے لوگوں میں مقبول ہو رہی ہے، اس کی ساری تھیسس یہ ہے کہ انسان کی ہسٹری کا خاتمہ جمہوریت کے اوپر ہو گیا اور اب انسانیت کے عروج اور فلاح کے لیے کوئی نیا نظریہ وجود میں نہیں آئے گا۔ یعنی ختمِ نبوت پر ہم اور آپ یقین رکھتے ہیں، (لیکن ان کے خیال میں) اب یہ ختمِ نظریات ہو گیا کہ ڈیموکریسی کے بعد کوئی نظریہ انسانی فلاح کا وجود میں آنے والا نہیں ہے۔ ایک طرف تو یہ نعرہ ہے کہ اکثریت جو بات کہہ دے وہ حق ہے، اس کو قبول کرو، اس کی بات مانو، لیکن وہی اکثریت اگر الجزائر میں کامیاب ہو جاتی ہے اور انتخابات میں اکثریت حاصل کر لیتی ہے تو اس کے بعد جمہوریت باقی نہیں رہتی، پھر اس کا وجود جمہوریت کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔
تو نعرے لگا لینا اور بات ہے لیکن اس کے اوپر عمل کر کے دکھانا مشکل ہے۔ یہ نعرے لگا لینا بہت اچھی بات ہے کہ سب انسانوں کو ان کے حقوق ملنے چاہئیں، ان کو آزادیٔ اظہارِ رائے ہونی چاہیے اور لوگوں کو حقِ خودارادی ملنا چاہیے، اور یہ سب کچھ۔ لیکن جن لوگوں کا حقِ خودارادی پامال کر کے ان کے سر سے لے کر پاؤں تک ان کو جبر و تشدد کی چکی میں پیسا جا رہا ہے، ان کے بارے میں آواز اٹھاتے ہوئے زبان تھراتی ہے۔ اور وہی جمہوریت اور آزادی کے مناد، منادی کرنے والے، وہ ان کے خلاف کارروائیاں کرتے ہیں۔ تو بات صرف یہ نہیں ہے کہ زبان سے کہہ دیا جائے کہ انسانی حقوق کیا ہیں؟ بات یہ ہے کہ جو بات زبان سے کہو اس کو کر کے دکھاؤ۔ اور یہ کام کیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ آپ نے جو حق دیا اس پر عمل کر کے دکھایا۔
غزوۂ بدر کا موقع ہے اور حضرت حذیفہ بن یمانؓ اپنے والد ماجد کے ساتھ سفر کرتے ہوئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لیے مدینہ جا رہے ہیں۔ راستے میں ابوجہل کے لشکر سے ٹکراؤ ہو جاتا ہے اور ابوجہل کا لشکر کہتا ہے ہم تمہیں محمد (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس جانے نہیں دیں گے اس لیے کہ تم جاؤ گے تو ہمارے خلاف ان کے لشکر میں شامل ہو گے، ہمارے خلاف جنگ کرو گے۔ یہ بیچارے پریشان ہوتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لیے جانا تھا اور انہوں نے روک لیا۔ آخرکار انہوں نے کہا اس شرط پر تمہیں چھوڑیں گے کہ ہم سے وعدہ کرو۔ اس بات کا وعدہ کرو کہ جاؤ گے اور جانے کے بعد ان کے لشکر میں شامل نہیں ہو گے، ہم سے جنگ نہیں کرو گے۔ اگر یہ وعدہ کرتے ہو تو ہم تمہیں چھوڑتے ہیں۔ حضرت حذیفہؓ اور ان کے والدؓ نے وعدہ کر لیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صرف زیارت کریں گے، ان کے لشکر میں شامل ہو کر آپ سے لڑیں گے نہیں۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ گئے، جب کفار کے ساتھ جنگ کا وقت آیا۔ اور کیسی جنگ؟ ایک ہزار مکہ مکرمہ کے مسلح سورما اور اس کے مقابلے میں ۳۱۳ نہتے، جن کے پاس آٹھ تلواریں، دو گھوڑے، ستر اونٹ۔ آٹھ تلواروں کے سوا تین سو تیرہ آدمیوں کے پاس اور تلوار بھی نہیں تھی، کسی نے لاٹھی اٹھائی ہوئی ہے، کسی نے پتھر اٹھایا ہوا ہے۔ اس موقع پر ایک ایک آدمی کی قیمت تھی، ایک ایک انسان کی قیمت تھی۔ کسی نے کہا یا رسول اللہ! یہ نئے آدمی ہیں، آپ کے ہاتھ پر مسلمان ہوئے ہیں اور ان سے زبردستی معاہدہ کرایا گیا ہے، یہ وعدہ زبردستی لیا گیا کہ تم جنگ میں شامل نہیں ہو گے تو اس واسطے ان کو اجازت دے دیجئے کہ جہاد میں شامل ہو جائیں۔ اور جہاد بھی کونسا؟ یوم الفرقان، جس کے اندر شامل ہونے والا ہر فرد بدری بن گیا۔ جس کے بارے میں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کے سارے گناہ اگلے پچھلے معاف فرمائے ہیں۔ اتنا بڑا غزوہ ہو رہا ہے، حذیفہ بن یمانؓ چاہتے ہیں، دل مچل رہا ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شامل ہو جائیں۔
سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب یہ ہے کہ نہیں، ابو جہل کے لشکر سے وعدہ کر کے آئے ہو کہ جنگ نہیں کرو گے تو مومن کا کام وعدہ کی خلاف ورزی نہیں ہے، لہٰذا تم اس جنگ میں شامل نہیں ہو سکتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ میں شامل ہونے سے روک دیا۔ یہ ہے کہ جب وقت پڑے، اس وقت انسان اصول کو نبھائے۔ یہ نہیں کہ زبان سے تو کہہ دیا کہ ہم انسانی حقوق کے علمبردار ہیں اور ہیروشیما اور ناگاساکی پر بے گناہ بچوں کو بے گناہ عورتوں کو تہہ و بالا کر دیا کہ ان کی نسلیں تک معذور پیدا ہو رہی ہیں، اور جب جنگ کا اپنا وقت پڑ جائے تو اس میں کوئی اخلاق کوئی کردار دیکھنے والا نہ ہو۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانی حقوق بتائے بھی اور عمل کر کے بھی دکھایا۔ کیا حقوق؟ سنیے!
انسانی حقوق میں سب سے پہلا حق انسان کی جان کا حق ہے۔ ہر انسان کی جان کا تحفظ انسان کا بنیادی حق ہے کہ کوئی اس کی جان پر دست درازی نہ کرے ’’لا تقتلوا النفس التی حرم اللہ الا بالحق‘‘ کسی بھی جان کے اوپر دست درازی نہیں کی جا سکتی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دے دیا۔ اور کیا حکم دے دیا؟ کہ جنگ میں جا رہے ہو، کفار سے مقابلہ ہے، دشمن سے مقابلہ ہے، اس حالت میں بھی تمہیں کسی بچے پر ہاتھ اٹھانے کی اجازت نہیں، کسی عورت پر ہاتھ اٹھانے کی اجازت نہیں، بوڑھے پر ہاتھ اٹھانے کی اجازت نہیں۔ عین جہاد کے موقع پر بھی پابندی عائد کر دی گئی۔ یہ پابندی ایسی نہیں ہے کہ صرف زبانی جمع خرچ ہو، جیسا کہ میں نے ابھی بتایا کہ صاحب! زبانی طور پر تو کہہ دیا اور تہس نہس کر دیا سارے بچوں کو بھی اور عورتوں کو بھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جاں نثار صحابہ کرامؓ نے اس پر عمل کر دکھایا۔ ان کا ہاتھ کسی عورت پر نہیں اٹھا، ان کا ہاتھ کسی بچے پر نہیں اٹھا، ان کا ہاتھ کسی بوڑھے پر نہیں اٹھا، عمل کر کے دکھایا۔ یہ ہے جان کا تحفظ۔
مال کا تحفظ انسان کا دوسرا بنیادی حق ہے۔ ’’لا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطل‘‘ باطل کے ساتھ ناحق طریقے سے کسی کا مال نہ کھاؤ۔ اس پر عمل کر کے کیسے دکھایا؟ یہ نہیں ہے کہ تاویل کر کے، توجیہ کر کے مال کھا گئے کہ جب تک اپنے مفادات وابستہ تھے اس وقت تک بڑی دیانت تھی، بڑی امانت تھی، لیکن جب معاملہ جنگ کا آ گیا، دشمنی ہو گئی تو اب یہ ہے کہ صاحب تمہارے اکاؤنٹس منجمد کر دیے جائیں گے، تمہارے اکاؤنٹس فریز کر دیے جائیں گے۔ جب مقابلہ ہو گیا تو اس وقت میں حقوقِ انسانی غائب ہو گئے، اب مال کا تحفظ کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔
محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو مثال پیش وہ عرض کرتا ہوں۔ غزوہ خیبر ہے، یہودیوں کے ساتھ لڑائی ہو رہی ہے، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرامؓ کے ساتھ خیبر کے اوپر حملہ آور ہیں اور اس خیبر کے گرد محاصرہ کیے ہوئے ہیں۔ آنحضرتؐ کی آرمی پڑی ہوئی ہے خیبر کے قلعہ کے اردگرد، خیبر کے اندر ایک بے چارا چھوٹا سا چرواہا جو اجرت پر بکریاں چرایا کرتا تھا، اس کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ خیبر سے باہر آنحضرتؐ کا لشکر پڑا ہوا ہے تو جا کر دیکھوں تو سہی، آپؐ کا نام تو بہت سنا ہے محمدؐ، وہ کیا کہتے ہیں اور کیسے آدمی ہیں؟ بکریاں لے کر خیبر کے قلعے سے نکلا اور آنحضرتؐ کی تلاش میں مسلمانوں کے لشکر میں داخل ہوا۔ کسی سے پوچھا کہ بھائی محمدؐ کہاں ہیں؟ تو لوگوں نے بتایا کہ فلاں خیمے کے اندر ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ مجھے یقین نہیں آیا کہ اس خیمے کا اندر ،یہ کھجور کا معمولی سا خیمہ جھونپڑی، اس میں اتنا بڑا سردار اتنا بڑا نبی، وہ اس خیمے کے اندر ہے؟ لیکن جب لوگوں نے بار بار کہا تو اس میں چلا گیا۔ اب جب داخل ہوا تو سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے، جا کر کہا کہ یا رسول اللہ! آپؐ کیا پیغام لے کر آئے ہیں؟
آپؐ نے مختصرًا بتایا، توحید کے عقیدے کی وضاحت فرمائی۔ کہنے لگا اگر میں آپ کے اس پیغام کو قبول کر لوں تو میرا کیا مقام ہو گا؟ تو آنحضرتؐ نے فرمایا ہم تمہیں سینے سے لگائیں گے، تم ہمارے بھائی ہو جاؤ گے اور جو حقوق دوسروں کو حاصل ہیں وہ تمہیں بھی حاصل ہوں گے۔ کہنے لگا، آپ مجھ سے ایسی بات کرتے ہیں، مذاق کرتے ہیں، ایک کالا بھجنگ چرواہا سیاہ فام، میرے بدن سے بدبو اٹھ رہی ہے، اس حالت کے اندر آپ مجھے سینے سے لگائیں گے؟ فرمایا کہ ہاں ہم تہیں سینے سے لگائیں گے۔ کہا، یہاں تو مجھے دھتکارا جاتا ہے، میرے ساتھ اہانت آمیز برتاؤ کیا جاتا ہے، تو آپ یہ جو مجھے سینے سے لگائیں گے تو کس وجہ سے لگائیں گے؟ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اللہ کی مخلوق، اللہ کی نگاہ میں سب بندے برابر ہیں، اس واسطے ہم تمہیں سینے سے لگائیں گے۔ کہا کہ اگر میں آپ کی بات مان لوں، مسلمان ہو جاؤں تو میرا انجام کیا ہو گا؟ تو سرکار دو عالمؐ نے فرمایا کہ اگر اسی جنگ کے اندر مر گئے تو میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ تمہاری اس چہرے کی سیاہی کو تابانی سے بدل دے گا اور تمہارے جسم کی بدبو کو خوشبو سے بدل دے گا، میں گواہی دیتا ہوں۔ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ فرمایا، اس اللہ کے بندے کے دل پر اثر ہوا کہ اگر آپؐ یہ فرماتے ہیں تو ’’اشھد ان لا الٰہ الا اللہ واشھد ان محمدًا رسول اللہ‘‘ عرض کیا میں مسلمان ہو گیا اب جو حکم آپ دیں وہ کرنے کو تیار ہوں۔
سنیے! سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلا حکم اس کو کیا دیا؟ یہ نہیں دیا کہ نماز پڑھو، یہ نہیں دیا کہ روزہ رکھو، پہلا حکم یہ دیا کہ جو کسی کی بکریاں تم چرانے کے لیے لے کر آئے ہو یہ تمہارے پاس امانت ہیں، پہلے ان بکریوں کو واپس دے کر آؤ اور اس کے بعد آ کر پوچھنا کہ مجھے کیا کرنا ہے؟ بکریاں کس کی؟ یہودیوں کی۔ جن کے اوپر حملہ آور ہیں، جن کے ساتھ جنگ چھڑی ہوئی ہے، جن کا مالِ غنیمت چھینا جا رہا ہے۔ لیکن فرمایا کہ یہ مالِ غنیمت جنگ کی حالت میں چھیننا تو جائز تھا لیکن تم لے کر آئے ہو ایک معاہدہ کے تحت، اور اس معاہدے کا تقاضا یہ ہے کہ ان کے مال کا تحفظ، معاہدے کا تحفظ کیا جائے، یہ ان کا حق ہے لہٰذا ان کو پہنچا کر آؤ۔ اس نے کہا کہ یا رسول اللہ! بکریاں تو ان دشمنوں کی ہیں جو آپ کے خون کے پیاسے ہوئے ہیں اور پھر آپ واپس لوٹاتے ہیں؟ فرمایا کہ ہاں، پہلے ان کو واپس لوٹاؤ۔ چنانچہ بکریاں واپس لوٹائی گئیں۔
کوئی مثال پیش کرے گا عین میدانِ جنگ میں، عین حالتِ جنگ کے اندر انسانی مال کے تحفظ کا حق ادا کیا جا رہا ہو؟ جب بکریاں واپس کر دیں تو عرض کیا اب کیا کروں؟ فرمایا کہ نہ تو نماز کا وقت ہے کہ تمہیں نماز پڑھواؤں، نہ رمضان کا مہینہ ہے کہ روزے رکھواؤں، نہ تمہارے پاس مال ہے کہ زکوٰۃ دلواؤں، ایک ہی عبادت اس وقت ہو رہی ہے جو کہ تلوار کے چھاؤں کے نیچے ادا کی جاتی ہے، وہ ہے جہاد، اس میں شامل ہو جاؤ۔ چنانچہ وہ اس میں شامل ہو گیا۔ اس کا اسود راعی نام آتا ہے۔ جب جہاد ختم ہوا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ جنگ ختم ہونے کے بعد دیکھنے جایا کرتے تھے کہ کون زخمی ہوا، کون شہید ہوا، تو دیکھا کہ ایک جگہ صحابہ کرامؓ کا مجمع لگا ہوا ہے، آپس میں صحابہؓ پوچھ رہے ہیں کہ یہ کون آدمی ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا معاملہ ہے؟ تو صحابہ کرامؓ نے بتلایا کہ یہ ایسے شخص کی لاش ملی ہے کہ جس کو ہم میں سے کوئی پہچانتا نہیں۔ آپؐ نے قریب پہنچ کر دیکھا اور فرمایا تم نہیں پہچانتے، میں پہچانتا ہوں اور میری آنکھیں دیکھ رہی ہیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کو جنت الفردوس کے اندر کوثر و تسنیم سے غسل دیا ہے اور اس کے چہرے کی سیاہی کو تابانی سے بدل دیا ہے، اس کے جسم کی بدبو کو خوشبو سے تبدیل فرما دیا ہے۔
یہ بات کہ مال کا تحفظ ہو، محض کہہ دینے کی بات نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کر کے دکھایا ،کافر کے مال کا تحفظ، دشمن کے مال کا تحفظ، جو معاہدے کے تحت ہو، یہ مال کا تحفظ ہے۔
تیسرا انسان کا بنیادی حق یہ ہے کہ اس کی آبرو محفوظ ہو۔ آبرو کے تحفظ کا نعرہ لگانے والے بہت ہیں لیکن یہ پہلی بار محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ انسان کی آبرو کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ پیٹھ پیچھے اس کی برائی نہ کی جائے، غیبت نہ کی جائے۔ آج بنیادی حقوق کا نعرہ لگانے والے بہت، لیکن کوئی اس بات کا اہتمام کرے کہ کسی کا پیٹھ کے پیچھے ذکر برائی سے نہ کیا جائے؟ غیبت کرنا بھی حرام، غیبت سننا بھی حرام، اور فرمایا کہ کسی انسان کے دل کو نہ توڑا جائے۔ یہ انسان کے لیے گناہِ کبیرہ ہے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ افقہ الصحابہؓ حضورؐ کے ساتھ بیت اللہ شریف کا طواف فرما رہے ہیں، طواف کے دوران آنحضرتؐ نے کعبہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے بیت اللہ! تو کتنا مقدس ہے، کتنا مکرم کتنا معظم ہے۔ یہ الفاظ فرمائے، پھر عبد اللہ بن مسعودؓ سے خطاب کر کے فرمایا کہ اے عبد اللہ! یہ کعبۃ اللہ بڑا مقدس بڑا مکرم بڑا معظم ہے، لیکن اس کائنات میں ایک چیز ایسی ہے کہ اس کا تقدس اس کعبۃ اللہ سے بھی زیادہ ہے اور وہ چیز کیا ہے؟ ایک مسلمان کی جان، مال اور آبرو، کہ اس کا تقدس کعبہ سے بھی زیادہ ہے۔ اگر کوئی شخص دوسرے کی جان پر، مال پر، آبرو پر ناحق حملہ آور ہوتا ہے تو سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ وہ کعبہ کے ڈھا دینے سے بھی زیادہ بڑا جرم ہے، یہ نبی کریمؐ نے حق دیا۔
جو انسان کے بنیادی حقوق ہیں وہ ہیں جان، مال اور آبرو، ان کا تحفظ ضروری ہے۔ پھر انسان کو دنیا میں جینے کے لیے معاش کی ضرورت ہے، روزگار کی ضرورت ہے۔ اس کے بارے میں فرمایا، کسبِ معاش کا تحفظ۔ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انسان کا جو حق بتایا، کہا کسی انسان کو اس بات کی اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ اپنی دولت کے بل بوتے پر دوسروں کے لیے معاش کے دروازے بند کرے۔ نبی کریمؐ نے یہ اصول بیان فرمایا۔ ایک طرف تو یہ فرمایا جس کو کہتے ہیں ’’فریڈم آف کنٹریکٹ‘‘ معاہدے کی آزادی، جو چاہے معاہدہ کرو۔ لیکن فرمایا کہ ہر وہ معاہدہ جس کے نتیجے میں معاشرے کے اوپر خرابی واقع ہوتی ہو، ہر وہ معاہدہ جس کے نتیجے میں دوسرے آدمی پر رزق کا دروازہ بند ہوتا ہو، وہ حرام ہے۔ فرمایا ’’لا یبیع حاضر لباد‘‘ کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال فروخت نہ کرے۔ ایک آدمی دیہات سے مال لے کر آیا مثلاً زرعی پیداوار، ترکاریاں لے کر آیا شہر میں فروخت کرنے کے لیے تو فرمایا کہ شہری اس کا آڑھتی نہ بنے اس کا وکیل نہ بنے۔ بھائی کیا حرج ہے اگر دو آدمیوں کے درمیان آپس میں معاہدہ ہوتا ہے کہ میں تمہارا مال فروخت کروں گا، تمہارے سے اجرت لوں گا تو اس میں کیا حرج ہے؟ لیکن نبی کریم سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بتلایا کہ اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ جو شہری ہے وہ جب مال لے کر بیٹھ جائے گا تو احتکار کرے گا اور بازار کے اوپر اپنی موناپلی قائم کرے گا اجارہ داری قائم کرے گا۔ اس اجارہ داری قائم کرنے کے نتیجے میں دوسرے لوگوں پر معیشت کے دروازے بند ہو جائیں گے۔ اس واسطے فرمایا ’’لا یبیع حاضر لباد‘‘۔
تو کسبِ معاش کا حق ہر انسان کا ہے کہ کوئی بھی شخص اپنی دولت کے بل بوتے پر دوسرے کے لیے معیشت کے دروازے بند نہ کرے۔ یہ نہیں کہ سود کھا کھا کر، قمار کھیل کھیل کر، گیمبلنگ کر کر کے، سٹہ کھیل کھیل کر آدمی نے اپنے لیے دولت کے انبار جمع کر لیے اور دولت کے انباروں کے ذریعے سے وہ پورے بازار کے اوپر قابض ہو گیا۔ کوئی دوسرا آدمی کسبِ معاش کے لیے داخل ہونا چاہتا ہے تو اس کے لیے دروازے بند ہیں، یہ نہیں۔ بلکہ کسبِ معاش کا تحفظ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام انسانوں کا بنیادی حق قرار دیا اور فرمایا ’’دعوا الناس یرزق اللہ بعضھم ببعض‘‘ لوگوں کو چھوڑ دو کہ اللہ ان میں سے بعض کو بعض کے ذریعے رزق عطا فرمائیں گے۔ یہ کسبِ معاش کا تحفظ ہے۔ جتنے میں حقوق عرض کر رہا ہوں یہ نبی کریم سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے متعین فرمائے اور متعین فرمانے کے ساتھ ساتھ ان پر عمل کر کے بھی دکھایا۔
عقیدے اور دیانت کے اختیار کرنے کا تحفظ، کہ اگر کوئی شخص کوئی عقیدہ اختیار کیے ہوئے ہے تو اس کے اوپر کوئی پابندی نہیں کہ کوئی زبردستی جا کر مجبور کر کے اسے دوسرا دین اختیار کرنے پر مجبور کرے ’’لا اکراہ فی الدین‘‘ دین میں کوئی زبردستی نہیں، دین کے اندر کوئی جبر نہیں۔ اگر ایک عیسائی ہے تو عیسائی رہے، ایک یہودی ہے تو یہودی رہے، قانوناً اس پر کوئی پابندی عائد نہیں کی جا سکتی۔ اس کو تبلیغ کی جائے گی، دعوت دی جائے گی، اس کو حقیقتِ حال سمجھانے کی کوشش کی جائے گی، لیکن اس کے اوپر یہ پابندی نہیں ہے کہ زبردستی اس کو اسلام میں داخل کیا جائے۔ ہاں البتہ اگر ایک مرتبہ اسلام میں داخل ہو گیا اور اسلام میں داخل ہو کر اسلام کے محاسن اس کے سامنے آ گئے، تو اب اس کو اس بات کی اجازت نہیں دی جا سکتی کہ دارالاسلام میں رہتے ہوئے ہو اس دین کو برملا چھوڑ کر ارتداد کا راستہ اختیار کرے۔ اس واسطے کہ اگر وہ ارتداد کا راستہ اختیار کرے گا تو اس کے معنی یہ ہیں کہ معاشرے میں فساد پھیلائے گا اور فساد کا علاج آپریشن ہوتا ہے، لہٰذا اس فساد کا آپریشن کر دیا جائے گا اور معاشرے میں اس کو فساد پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ کسی کی عقل میں بات آئے یا نہ آئے، کسی سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔
میں پہلے کہہ چکا ہوں کہ ان معاملات کے اندر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنیاد فراہم فرمائی ہے، حق وہ ہے جسے اللہ مانے، حق وہ ہے جسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مانیں، اس سے باہر حق نہیں ہے۔ اس لیے ہر شخص عقیدے کو اختیار کرنے میں شروع میں آزاد ہے، ورنہ اگر یہ حکم نہ ہوتا، مرتد ہونے کی سزا کا  حکم نہ ہوتا، مرتد ہونا جرم نہ ہوتا تو اسلام کے دشمن اسلام کو بازیچہ اطفال بنا کر دکھلاتے۔ کتنے لوگ تماشا دکھانے کے لیے اسلام میں داخل ہوتے اور نکلتے؟ قرآن کریم میں ہے، لوگ یہ کہتے ہیں صبح کو اسلام میں داخل ہو جاؤ اور شام کو کافر ہو جاؤ۔ تو یہ تماشا بنا دیا گیا ہوتا۔ اس واسطے دارالاسلام میں رہتے ہوئے ارتداد کی گنجائش نہیں دی جائے گی، اگر واقعتاً دیانتداری سے تمہارا کوئی عقیدہ ہے تو پھر دارالاسلام سے باہر جاؤ، باہر جا کر جو چاہو کرو، لیکن دارالاسلام میں رہتے ہوئے فساد پھیلانے کی اجازت نہیں۔
تو غرض موضوع بڑا طویل ہے لیکن پانچ مثالیں میں نے آپ حضرات کے سامنے پیش کی ہیں (۱) جان کا تحفظ (۲) مال کا تحفظ (۳) آبرو کا تحفظ (۴) عقیدے کا تحفظ (۵) کسبِ معاش کا تحفظ۔ یہ انسان کی بنیادی ضروریات ہیں۔ یہ پانچ مثالیں میں نے پیش کیں لیکن ان پانچ مثالوں میں جو بنیادی بات غور کرنے کی ہے وہ یہ ہے کہ کہنے والے تو اس کے بہت ہیں لیکن اس کے اوپر عمل کر کے دکھانے والے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے غلام ہیں۔
حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور کا واقعہ ہے کہ بیت المقدس میں غیر مسلموں سے جزیہ وصول کیا جاتا تھا۔ اس لیے کہ ان کے جان و مال و آبرو کا تحفظ کیا جائے۔ تو ایک موقعہ پر ضرورت پیش آئی بیت المقدس سے فوج بلا کر کسی اور محاذ پر بھیجنے کی۔ زبردست ضرورت داعی تھی۔ حضرت فاروق اعظمؓ نے فرمایا کہ بھائی بیت المقدس میں جو کافر رہتے ہیں ہم نے ان کے تحفظ کی ذمہ داری لی ہے، اگر فوج کو یہاں سے ہٹا لیں گے تو ان کا تحفظ کون کرے گا؟ ہم نے ان سے اس کام کے لیے جزیہ لیا ہے۔ لیکن ضرورت بھی شدید ہے۔ تو سارے غیر مسلموں کو بلا کر کہا کہ بھائی ہم نے تمہاری ذمہ داری لی تھی، اس کی خاطر تم سے یہ ٹیکس بھی وصول کیا تھا، اب ہمیں ضرورت شدید پیش آ گئی ہے جس کی وجہ سے ہم تمہارا تحفظ کماحقہ نہیں کر سکتے اور فوج کو یہاں نہیں رکھ سکتے لہٰذا فوج کو دوسری جگہ ضرورت کی خاطر بھیج رہے ہیں، تو جو ٹیکس تم سے لیا گیا تھا وہ سارا تم کو واپس کیا جاتا ہے، یوں ذمہ داری ادا کی جا رہی ہے۔
حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہ صحابی ہیں جن پر کہنے والے ظالموں نے کیسے کیسے بہتانوں کی بارش کی ہے، ان کا واقعہ ابوداؤد میں موجود ہے کہ روم کے ساتھ لڑائی کے دوران معاہدہ ہو گیا، جنگ بندی ہو گئی، ایک خاص تاریخ تک یہ طے ہو گیا کہ سیز فائر رہے گا، جنگ بندی رہے گی، کوئی آپس میں ایک دوسرے پر حملہ نہیں کرے گا۔ حضرت معاویہؓ بڑے دانشمند بزرگ تھے، انہوں نے یہ سوچا کہ جس تاریخ کو معاہدہ ختم ہو رہا ہے، اس تاریخ کو فوجیں لے جا کر سرحد کے پاس ڈال دیں کہ ادھر آفتاب غروب ہو گا اور تاریخ بدلے گی، ادھر حملہ کر دیں گے۔ کیونکہ ان کا خیال یہ تھا کہ دشمن کو یہ خیال ہو گا کہ جب جنگ بندی کی مدت ختم ہو گی، کہیں دور سے چلیں گے، چلنے کے بعد یہاں پہنچیں گے تو وقت لگے گا تو اس واسطے انہوں نے سوچا کہ پہلے فوج لے جا کر ڈال دیں۔ چنانچہ وہاں فوج لے جا کر ڈال دی اور ادھر اس تاریخ کا آفتاب غروب ہوا جو جنگ بندی کی تاریخ تھی اور ادھر انہوں نے حملہ کر دیا، روم کے اوپر یلغار کر دی۔ اور وہ بے خبر اور غافل تھے اس واسطے بہت تیزی کے ساتھ فتح کرتے چلے گئے، زمین کی زمین، خطے کے خطے فتح ہو رہے ہیں۔ جاتے جاتے جب آگے بڑھ رہے ہیں تو پیچھے سے دیکھا گھوڑے پر ایک شخص سوار دور سے سرپٹ دوڑا چلا آ رہا ہے اور آواز لگا رہا ہے ’’قفوا عباد اللہ قفوا عباد اللہ‘‘ اللہ کے بندو رکو! اللہ کے بندو رکو! حضرت معاویہؓ رک گئے، دیکھا کون ہے تو معلوم ہوا کہ حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ ہیں۔
حضرت عمرو بن عبسہؓ قریب تشریف لائے تو فرمایا ’’وفاء لا غدر‘‘ مومن کا شیوہ وفاداری ہے غداری نہیں۔ حضرت معاویہؓ نے فرمایا میں نے تو کوئی غداری نہیں کی، جنگ بندی کی مدت ختم ہونے کے بعد حملہ کیا۔ تو حضرت عمرو بن عبسہؓ نے فرمایا میں نے ان کانوں سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ’’من کان بینہ و بین قوم عھد فلا یحلنہ ولا یشدنہ حتی یمضی امدہ او ینبذہ علی سواء‘‘ کہ جب کسی قوم کے ساتھ معاہدہ ہو تو اس معاہدے کے اندر کوئی ذرا سا بھی تغیر نہ کرے، نہ کھولے نہ باندھے، یہاں تک کہ اس کی مدت نہ گزر جائے اور یا ان کے سامنے کھل کر بیان نہ کر دے کہ آج سے ہم تمہارے معاہدے کے پابند نہیں ہیں۔ اور آپ نے معاہدہ کے دوران سر پر فوجیں لا کر ڈال دیں اور شاید اندر بھی تھوڑا بہت گھس گئے ہوں، تو اس واسطے آپ نے یہ معاہدے کی خلاف ورزی کی اور یہ جو آپ نے علاقہ فتح کیا ہے یہ اللہ کی مرضی کے مطابق نہیں ہے۔
اب اندازہ لگائیے کہ حضرت معاویہؓ فتح کے نشے میں جا رہے ہیں، علاقے کے علاقے فتح ہو رہے ہیں، لیکن جب سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد سنا، ساری فوج کے لیے حکم جاری کر دیا کہ ساری فوج واپس لوٹ جائے اور مفتوحہ علاقہ خالی کر دیا جائے۔ چنانچہ پورا مفتوحہ علاقہ خالی کر دیا۔ دنیا کی تاریخ اس کی مثال نہیں پیش کر سکتی کہ کسی فاتح نے اپنے مفتوحہ علاقے کو اس وجہ سے خالی کیا ہو کہ اس میں معاہدے کی پابندی کے اندر ذرا سی اوچھ رہ گئی تھی، لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام تھے، انہوں نے یہ کر کے دکھایا۔
بات تو جتنی بھی طویل کی جائے ختم نہیں ہو سکتی لیکن خلاصہ یہ ہے کہ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانی حقوق کی بنیادیں فراہم کی ہیں کہ کون انسانی حقوق کا تعین کرے گا کون نہیں کرے گا۔ دوسری بات یہ ہے کہ آنحضرتؐ نے جو حقوق بیان فرمائے ان پر عمل کر کے دکھایا، حقوق ہی وہ متعین کیے گئے جن پر عمل کیا جائے، کہنے کے لیے نہیں۔
آج کہنے کے لیے ہیومن رائٹس کے بڑے شاندار چارٹر چھاپ کر دنیا میں تقسیم کر دیے گئے کہ جی یہ ہیومن رائٹس چارٹر ہیں، لیکن یہ ہیومن رائٹس چارٹر کے بنانے والے اپنے مفادات کی خاطر مسافر بردار طیارہ جس میں بے گناہ افراد سفر کر رہے ہیں، اس کو گرا دیں، اس میں ان کو باک نہیں ہوتا۔ اور مظلوموں کے اوپر مزید ظلم و ستم کے شکنجے کسے جائیں، اس میں کوئی باک نہیں ہوتا۔ ہیومن رائٹس اسی جگہ پر مجروح ہوتے نظر آتے ہیں جہاں اپنے مفادات کے اوپر کوئی زد پڑتی ہو اور جہاں اپنے مفادات کے خلاف ہو تو وہاں ہیومن رائٹس کا کوئی تصور نہیں آتا۔ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم ایسے ہیومن رائٹس کے قائل نہیں ہیں، اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی رحمت سے ہمیں اس حقیقت کو صحیح طور پر سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اور یہ جو باطل پروپیگنڈہ ہے اس کی حقیقت پہچاننے کی توفیق عطا فرمائے۔
یاد رکھیے کہ بعض لوگ اس پروپیگنڈے سے مرعوب ہو کر مغلوب ہو کر یہ معذرت خواہانہ انداز، ہاتھ جوڑ کر یہ کہتے ہیں کہ نہیں صاحب! ہمارے ہاں تو یہ بات نہیں ہے، ہمارے ہاں تو اسلام نے فلاں حق دیا ہے، اور اس کام کے لیے قرآن کو، سنت کو توڑ مروڑ کر کسی نہ کسی طرح ان کی مرضی کے مطابق بنانے کی کوشش کرتے ہیں، تو یاد رکھیے ’’ولن ترضٰی عنک الیہود ولا النصارٰی حتٰی تتبع ملتھم۔ قل ان ھدی اللہ ھو الھدٰی‘‘ جب تک اس پر نہیں آ جاؤ گے، اس اعتماد کے اوپر نہیں آجاؤ گے کہ کتنا ہی کوئی اعتراض کرے لیکن ہدایت تو وہی ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے عطا فرمائی، جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے، کبھی ان نعروں سے مرعوب نہ ہوں، کبھی ان نعروں سے مغلوب نہ ہوں، اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق نصیب فرمائے، واٰخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

صومالیہ! مشرقی افریقہ کا افغانستان

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

سوویت یونین کی شکست و ریخت کے بعد دنیا بھر میں پھیلے ہوئے کمیونزم کے تارو پود بکھرے تو اس عمل سے صومالیہ بھی متاثر ہوا جو افریقہ کا ایک مسلمان ملک ہے۔ آبادی ایک کروڑ سے زائد بیان کی جاتی ہے اور یہ ملک کئی اعتبار سے افغانستان سے مشابہت رکھتا ہے۔ اس لحاظ سے بھی کہ صومالیہ مشرقی افریقہ میں داخلہ کا دروازہ ہے اور اس کی بندرگاہ موغادیشو کو علاقہ میں کلیدی حیثیت حاصل ہے اور اس طور پر بھی کہ آبادی کی غالب اکثریت مسلمان ہے جس کی اسلام کے ساتھ وابستگی اس قدر گہری ہے کہ مسیحی تبلیغ کے مشنری ادارے اس خطہ کے مسلمانوں کو عیسائی بنانے میں واضح ناکامی محسوس کرتے ہوئے اپنے کئی مشن بند کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ پھر افغانستان کی طرح صومالیہ کا معاشرہ بھی قبائلی طرز کا ہے جس میں باہمی کشمکش بسا اوقات خانہ جنگی کی افسوسناک صورت اختیار کر لیتی ہے اور سب سے بڑھ کر صومالیہ کے علماء بھی ’’ہتھیار آشنا‘‘ ہیں اور حالیہ کشمکش میں ان کے کئی مسلح گروپ برسر پیکار ہیں۔

صومالیہ غلامی کے دور میں تین حصوں میں تقسیم تھا۔ ایک پر برطانیہ کی عملداری تھی، دوسرا حصہ فرانس کے قبضہ میں تھا، جبکہ تیسرے پر اٹلی کی آقائی کا پرچم لہرا رہا تھا۔ آزادی کے بعد برطانوی و صومالی لینڈ نے مشترکہ جمہوریت قائم کر لی جبکہ فرانسیسی صومالیہ بدستور الگ حیثیت رکھتا ہے۔ صومالیہ کا اکثر علاقہ بنجر ہے، کچھ حصہ کاشت ہوتا ہے، کیلا زیادہ پیدا ہوتا ہے، مویشیوں اور کھالوں کی تجارت بھی ہوتی ہے، اور اب کچھ معدنی ذخائر اور تیل کا سراغ لگا ہے جو ابھی تحقیقی و تجزیہ کے مراحل میں ہے۔

جہاد افغانستان کے ہاتھوں سوویت یونین کی پسپائی کے وقت صومالیہ پر سید بارے کی حکومت تھی جو بائیں بازو کے لیڈر اور مشرقی افریقہ میں روسی مفادات کے نگہبان کے طور پر متعارف ہیں۔ کلہ جب تک مضبوط رہا ان کی حکمرانی کا سکہ چلتا رہا مگر سوویت یونین کے منظر سے ہٹ جانے کے بعد سید بارے کے لیے بھی اقتدار کو برقرار رکھنا مشکل ہوگیا اور صومالیہ خانہ جنگی کی راہ پر چل پڑا۔ خانہ جنگی میں سید بارے کی فوج کے ایک بڑے افسر جنرل محمد فرح عدید اور علی محمد نے قوت پکڑی اور اقتدار کی کشمکش نے قبائلی خانہ جنگی کی صورت اختیار کر لی۔ خانہ جنگی نے ملک کی جو تھوڑی بہت پیداوار تھی اسے بھی متاثر کر دیا جس کے نتیجے میں قحط سالی اور بھوک نے صومالیہ کو لپیٹ میں لے لیا۔ کہا جاتا ہے کہ تین لاکھ کے لگ بھگ افراد اس خانہ جنگی اور قحط کی بھینٹ چڑھ گئے ہیں۔ اقوام متحدہ نے صومالیہ کے عوام کو خانہ جنگی اور قحط کے اثرات سے بچانے کے لیے مداخلت کا فیصلہ کیا اور مشترکہ فوج وہاں اتاری جس میں پاکستانی فوج کے دستے بھی شامل ہیں۔ اقوام متحدہ کی فوج کو صومالیہ میں جنرل فرح عدید کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا جن کا گروپ اس خانہ جنگی میں سب سے بڑے اور طاقتور گروپ کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ پاکستان کے فوجی دستوں سے بھی اس گروپ کی جھڑپ ہو چکی ہے جس کے نتیجے میں طرفین کے متعدد افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ جنرل عدید نے اقوام متحدہ کی فوج کی آمد کو صومالیہ کے معاملات میں امریکی مداخلت قرار دیتے ہوئے اس کی مزاحمت کی اور حالات پر اپنی گرفت قائم رکھنے میں کامیاب رہے۔ حتیٰ کہ اب امریکہ ان کا وجود تسلیم کرتے ہوئے مذاکرات کی میز پر ان سے مفاہمت کے لیے پیش رفت کر رہا ہے۔

اسی دوران صومالیہ کے مذہبی گروپ بھی متحد ہوگئے جو اس سے قبل الگ الگ متحرک تھے۔ یہ بھی مسلح کشمکش میں شریک ہیں اور اپنی پوزیشن کو بہتر بنانے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ ان کا ہدف یہ ہے کہ صومالیہ کو ایک اسلامی نظریاتی ریاست کی حیثیت دے دی جائے جبکہ فرح عدید ایک سیکولر اور قوم پرست راہنما ہیں۔ صومالیہ کے مذہبی گروپوں کا موقف یہ ہے کہ اس صورتحال میں پاکستانی فوج کے دستوں کا وہاں بھیجا جانا درست نہیں ہے بالخصوص ایسے حالات میں کہ پاک فوج کو صومالیہ کے مختلف گروپوں کے ساتھ تصادم کے لیے بقول ان کے ایک ایسی حکمت عملی کے تحت استعمال کیا جا رہا ہے جس سے پاکستان کے بارے میں صومالیہ اور افریقہ کے مسلمانوں کا محبت و اعتماد کا رشتہ کمزور ہو رہا ہے اور پاکستان کے بارے میں شکوک و شبہات جنم لے رہے ہیں۔ صومالیہ کے علماء اور دینی راہنماؤں نے اس سلسلہ میں پاکستان کی دینی جماعتوں کے قائدین کو پیغامات بھجوائے اور خطوط ارسال کیے کہ ان کے موقف سے آگاہی حاصل کی جائے اور ان کی مشکلات کو کم کرنے میں تعاون کیا جائے۔

اس پس منظر میں ۱۹ نومبر ۱۹۹۳ء کو جناب مجیب الرحمان شامی مدیر زندگی لاہور، مولانا عبد الرؤف ملک سیکرٹری جنرل متحدہ علماء کونسل، اور مولانا محمد مسعود اظہر سیکرٹری جنرل حرکۃ الانصار کے ہمراہ نیروبی جانے کا اتفاق ہوا جہاں ہمارا قیام تین روز تک رہا۔ نیروبی مشرقی افریقہ کے ملک کینیا کا دارالحکومت ہے جو صومالیہ کے جنوب میں واقع ہے اور صومالیہ کے داخلی حالات مخدوش ہونے کے باعث وہاں سے رابطہ کے لیے قریب ترین مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔ کینیا ہمارے ہاں چائے کے حوالہ سے متعارف ہے کیونکہ وہاں کی سب سے بڑی پیداوار چائے ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں استعمال ہونے والی کل چائے کا پچاس فیصد کے لگ بھگ حصہ کینیا سے آتا ہے۔ خط استوا کے قریب ہونے کی وجہ سے دن اور رات کا تناسب تقریباً سارا سال یکساں رہتا ہے اور سورج کے طلوع و غروب کے اوقات میں زیادہ فرق نہیں پڑتا۔ مگر سطح سمندر سے بلندی پر ہونے کے باعث گرمی زیادہ نہیں پڑتی، معتدل موسم رہتا ہے اور بارش بھی اکثر ہوتی رہتی ہے۔ اس لحاظ سے نیروبی کا موسم پسند آیا کیونکہ موسم کا سارا سال اعتدال میں رہنا اور دن رات کے اوقات کا توازن بھی قائم رہنا اس سے قبل کہیں اور دیکھنے میں نہیں آیا۔

کینیا کی آبادی دو کروڑ کے قریب ہے جس میں مسلمانوں کا تناسب تیس فیصد بیان کیا جاتا ہے۔ انڈیا اور پاکستان سے آکر بس جانے والے مسلمانوں کی تعداد بھی اچھی خاصی ہے۔ نیروبی کے وسط میں مغل طرز تعمیر کی جامع مسجد دیکھ کر بہت خوشی ہوئی، یہ وسیع مسجد ۱۹۲۵ء میں تعمیر ہوئی جس کے ساتھ ایک بڑا اسلامک سنٹر ہے جہاں مسلمانوں کی فلاح و بہبود اور تعلیم کے امور کی نگرانی کی جاتی ہے۔ وہیں فیصل آباد کے مولانا مطیع الرسول سے ملاقات ہوئی جو حضرت السید مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ کے شاگرد ہیں اور ایک عرصہ سے نیروبی میں مقیم ہیں بلکہ اب تو وہاں کے شہری ہیں اور مسلمانوں کی دینی تعلیم، دعوت اسلام اور نوجوانوں کے فلاحی امور کی طرف ہمہ تن متوجہ رہتے ہیں۔ نیروبی سے باہر بھی ایک تعلیمی ادارہ انہوں نے قائم کر رکھا ہے جو اپنے مقاصد کی طرف کامیابی کے ساتھ گامزن ہے۔ وقت کی کمی کے باعث وہ ادارہ نہ دیکھا جا سکا مگر اس کی کارکردگی کے بارے میں معلومات حاصل کر کے بے حد مسرت ہوئی۔

کینیا بھی ہماری طرح برطانوی استعمار کی نوآبادی رہا ہے اس لیے بود و باش اور عام طرز زندگی میں کچھ زیادہ فرق محسوس نہیں ہوا۔ البتہ عام زندگی اور دفتری زندگی میں نظم کی صورتحال ہم سے بہتر نظر آئی۔ کینیا کا سکہ شلنگ کہلاتا ہے۔ جس روز ہم وہاں پہنچے نیروبی ایئرپورٹ پر کرنسی کے تبادلہ میں ایک امریکی ڈالر کے عوض ۶۵ شلنگ ملے۔ گویا پاکستانی روپے کے مقابلہ میں کینیا کا شلنگ تقریباً نصف قیمت کا حامل ہے۔ پہلی رات ہمیں وسط شہر کے ایمبسڈر ہوٹل میں ٹھہرنا پڑا جس کا کرایہ پینتالیس ڈالر فی کمرہ تھا مگر دوسرے روز اپنے میزبانوں کے ساتھ رابطہ و ملاقات کی سہولت کے پیش نظر ملیمانی روڈ کے ہرن کورٹ ہوٹل میں منتقل ہوگئے جس کا کرایہ ۱۳ ڈالر فی کمرہ تھا۔ ہوٹل کچھ زیادہ معیاری نہ تھا مگر میزبانوں کے ساتھ رابطہ کی سہولت کے باعث ہم بقیہ دو دن وہیں ٹھہرے ۔

اس ہوٹل میں ایک پاکستانی نوجوان سے ملاقات ہوئی جو کافی دنوں سے وہاں قیام پذیر تھا۔ اس نے اپنے قیام کا مقصد کاروبار بتایا مگر معلوم ہوا کہ اس کے علاوہ اور پاکستانی نوجوان بھی ہیں جو بہت دنوں سے اس قسم کے ہوٹلوں میں مقیم ہیں۔ یہ وہ نوجوان ہیں جو امریکہ اور یورپ جانے کے شوق میں ٹریول ایجنٹوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں جو انہیں مختلف راستوں سے منزل مقصود تک پہنچانے کے لیے فن کا کمال دکھاتے ہیں۔ میں اس قسم کے نوجوان بڑی تعداد میں استنبول اور تاشقند میں بھی دیکھ چکا ہوں۔ ان میں سے بہت سے نوجوانوں کا یہ حال ہوتا ہے کہ ایجنٹ اپنے پیسے کھرے کر کے انہیں اسی قسم کے کسی درمیانی منزل پر چھوڑ کر رفوچکر ہو جاتے ہیں اور وہ ’’پائے رفتن نہ جائے ماندن‘‘ کے مصداق اپنی قسمت کو کوستے رہتے ہیں۔

ایمبیسڈر ہوٹل سے ملیمانی ہوٹل منتقل ہوتے وقت جس ٹیکسی سے ہم نے سفر کیا اس نے اپنے وطن کے ساتھ مشابہت کے احساس کو اور زیادہ اجاگر کر دیا۔ ٹیکسی شکل و صورت کے لحاظ سے برطانوی تھی کہ اسی قسم کی ٹیکسیاں وہاں چلتی ہیں۔ اسے دیکھ کر خیال ہوا کہ شاید اس معاملہ میں کینیا والے ہم سے کچھ آگے ہیں لیکن ٹیکسی میں بیٹھنے کے بعد اطمینان کی ایک لہر دل و دماغ پر چھا گئی کہ خیر ہے معاملہ اپنے جیسا ہی ہے۔ یعنی صرف اوپر کا خول اور باڈی انگلش تھا باقی سب کچھ اپنی طرح کا ہی تھا۔ ہمارے ٹیکسی میں بیٹھتے ہی ڈرائیور نے اردگرد کھڑے کچھ لوگوں کو اشارہ کیا اور وہ گاڑی کو دھکا دینے کے لیے متحرک ہوگئے۔ یہ ٹیکسی ہمارے اجتماعی نظام کی ہوبہو تصویر تھی کہ ظاہری ڈھانچہ مغربی طرز کا لیکن اندر سے پوری مشینری دھکا سٹارٹ۔ جبکہ دھکا لگانے والے بھی ورلڈ بینک کے ڈائریکٹروں کی طرح ہماری بے بسی پر ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرا رہے تھے، آپس میں اشارے کر رہے تھے اور ہمیں دھکا دے رہے تھے۔ خدا خدا کر کے گاڑی اسٹارٹ ہوئی لیکن چند قدم چلی اور اچانک رک گئی۔ معلوم ہوا کہ گاڑی میں تیل ہی نہیں تھا اور ڈرائیور کسی طرح ’’اللہ توکل‘‘ پٹرول پمپ تک پہنچ جانا چاہتا تھا مگر پٹرول پمپ سے چند قدم پیچھے ’’دوچار ہاتھ جبکہ لب بام رہ گیا‘‘ گاڑی نے آگے بڑھنے سے انکار کر دیا۔ ڈرائیور ٹیکسی سے اترا، ڈگی سے ایک خالی ڈبہ نکالا اور پٹرول پمپ کی طرف چل پڑا۔ وہاں سے پٹرول لا کر گاڑی میں ڈالا اور پھر دھکا سٹارٹ کے مرحلہ سے دوچار ہونا پڑا۔ دھکا لگانے والے یہاں بھی آسانی سے مل گئے ہمیں نہیں اترنا پڑا۔ مگر اب کیفیت یہ تھی کہ گاڑی میں ہم لوگ تشریف فرما تھے، کچھ لوگ گاڑی کو دھکا دے کر اسٹارٹ کرانے کی کوشش کر رہے تھے اور دونوں طرف چھوٹے چھوٹے افریقی بچے ساتھ ساتھ چلے جا رہے تھے جو اپنی زبان میں ہم سے سوال کر رہے تھے اور کچھ نہ ملنے پر ہمارا منہ چڑا رہے تھے، دانت نکوس رہے تھے اور عجیب و غریب اشارے کر رہے تھے۔ اس شان و شوکت کے ساتھ ہمارا جلوس نیروبی کے ایک کھلے بازار میں فرلانگ ڈیڑھ فرلانگ تو چلا ہی ہوگا مگر جب انگلش گاڑی نے ہم ایشیائیوں کو افریقہ میں ساتھ لے کر آگے بڑھنے سے انکار کر دیا تو ڈرائیور نے ایک اور ٹیکسی والے سے ہمارا سودا کر کے ہمیں اس میں منتقل کر دیا اور خدا خدا کر کے ہم ہرن کورٹ ہوٹل پہنچے۔ دوسری ٹیکسی بھی انگلش طرز کی تھی لیکن کچھ شریف النسل لگتی تھی اس نے پریشان کرنا مناسب نہیں سمجھا۔

اس کے بعد جتنے دن ہم وہاں رہے انگلش ٹیکسی سے واسطہ نہیں پڑا۔ جمعہ کی نماز ہم نے اسی جامع مسجد میں ادا کی جس کا ذکر پہلے ہو چکا ہے۔ امام صاحب نے مقامی زبان میں خطاب کیا۔ کینیا کی مقامی زبان سواحلی ہے لیکن انگریزی بھی سمجھی اور بولی جاتی ہے۔ امام صاحب کی زبان تو ہمیں سمجھ نہیں آرہی تھی البتہ گفتگو کا مفہوم ہم بخوبی سمجھ رہے تھے۔ ان کا موضوع عالم اسلام کی حالت زار تھا، انہوں نے فلسطین اور افغانستان کا ذکر کیا، عالم اسلام کے اتحاد کی ضرورت پر زور دیا اور مغربی ممالک کے تسلط و بالادستی سے نجات کے احساس کو اجاگر کرنے کی کوشش کی۔ مولانا مطیع الرسول کے دفتر میں امام صاحب سے ہماری ملاقات بھی ہوئی، اسلام کی بالادستی اور عالم اسلام کے اتحاد کا جذبہ رکھنے والے مخلص بزرگ ہیں اور ملت اسلامیہ کے احوال پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ نماز جمعہ کے بعد مسجد کے گیٹ پر کچھ پاکستانی احباب مل گئے۔ جناب مجیب الرحمان شامی ہمارے ملک کے معروف صحافی اور کالم نگار ہیں، روزنامہ جنگ میں ’’جلسہ عام‘‘ کے عنوان سے ان کا کالم قارئین کا وسیع حلقہ رکھتا ہے، نیروبی میں بھی انہیں دیکھ کر پہچاننے والوں کی کمی نہیں تھی۔ چنانچہ اس حوالہ سے متعدد حضرات سے ملاقات ہوئی جن میں پاک فوج کے ایک افسر بھی تھے۔ وہیں ڈاکٹر فاروق صاحب سے ملاقات ہوئی جو گوجرانوالہ میں ہمارے محلہ ایمن آبادی گیٹ کے رہنے والے ہیں اور ایک عرصہ سے نیروبی میں مقیم ہیں۔ ان کے ایک عزیز ریٹائرڈ میجر محمد علی بٹ چند روز قبل نیروبی میں ڈاکوؤں کے ہاتھوں قتل ہوگئے ہیں۔ یہاں قتل اور ڈاکہ زنی کی وارداتیں عام ہیں، راہ چلتے لوگوں سے سامان اور رقم چھین لینا عام معمول ہے۔ پولیس کے سپاہی بڑے بڑے ڈنڈے اٹھائے ہر وقت گھومتے رہتے ہیں مگر وارداتیں بھی ہوتی رہتی ہیں۔ محمد علی بٹ مرحوم نیروبی میں ایک ہوٹل چلا رہے تھے، شام کے وقت ہوٹل سے باہر نکلے تو ڈاکوؤں نے انہیں گولی مار دی اور گاڑی چھین کر فرار ہوگئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔

نیروبی میں ہماری ملاقات راؤ محمد اختر صاحب سے بھی ہوئی۔ یہ پاکستانی بزرگ ہیں جو ایک عرصہ سعودی عرب میں رہے ہیں اور اب نیروبی میں ہیں۔ رابطہ عالم اسلامی سے بھی تعلق ہے اور نیروبی میں ایک رفاہی ادارہ چلا رہے ہیں۔ انہوں نے ہماری واپسی کے روز اپنی رہائش گاہ پر پرتکلف دعوت کا اہتمام کیا اور پھر ایئرپورٹ پر چھوڑنے آئے بلکہ جہاز پر سوار ہونے تک ساتھ رہے۔ ان کا خصوصی ذوق مساجد کا قیام ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کینیا کی حکومت مسلمانوں کو مسجد کے لیے جگہ بلامعاوضہ دیتی ہے اور اس سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ کینیا کے مختلف حصوں میں مسجدیں بنا چکے ہیں۔ راؤ محمد اختر صاحب کے ساتھ ملاقات بڑی معلومات افزا رہی۔

پاک فوج کے بعض افسروں کے علاوہ صومالیہ کی مسلح تنظیموں کے نمائندوں، جامع مسجد نیروبی کے امام صاحب، اور صومالیہ کے معاملات میں دلچسپی رکھنے والے بعض عرب راہنماؤں سے بھی ملاقات ہوئی جن کے ساتھ صومالیہ کے حالیہ تنازعہ کے حوالے سے تفصیلی گفت و شنید ہوئی۔ ان ملاقاتوں اور سفر کے دیگر مشاہدات کے حوالہ سے کم از کم میرے تاثرات یہی ہیں کہ صومالیہ کے دینی حلقوں کے اس موقف کو بے وزن قرار دینا مشکل ہے کہ امریکہ نے صومالیہ میں اپنے مقاصد کے لیے اقوام متحدہ کی چھتری استعمال کی ہے اور پاک فوج کو جان بوجھ کر ایسا کردار دیا جا رہا ہے جس سے پاکستان اور افریقی مسلمانوں کے درمیان محبت کے رشتے کمزور ہوں اور شکوک و منافرت کی فضا قائم ہو۔ ان کے بقول امریکہ صومالیہ کے ذریعہ مشرقی افریقہ کو اپنی گرفت میں رکھنا چاہتا ہے، سوڈان اور ایتھوپیا کی اسلامی تحریکات کو دبانا چاہتا ہے، صومالیہ کو ایک نظریاتی اسلامی ریاست بننے سے باز رکھنا چاہتا ہے، اور متوقع تیل اور معدنی ذخائر کا کنٹرول حاصل کرنا چاہتا ہے۔ صومالیہ کے دینی راہنماؤں کا کہنا ہے کہ پاکستان اور اس کی فوج کو ان امریکی مقاصد کے لیے آلہ کار نہیں بننا چاہیے اور اپنے موجودہ کردار پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ صومالیہ کے دینی راہنماؤں کا یہ موقف سنجیدہ توجہ کا مستحق ہے اور حکومت پاکستان، حزب اختلاف اور مذہبی راہنماؤں کو اس صورتحال کا پوری متانت کے ساتھ جائزہ لینا چاہیے۔

رتہ دوہتڑ توہین رسالتؐ کیس ۔ ابتدائی مطالعاتی جائزہ

ادارہ

ماسٹر عنایت اللہ صاحب تھانہ کوٹ لدھا کے گاؤں کوٹ لالہ کے رہنے والے ہیں، زمیندار خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، ۵۷ سال کے لگ بھگ ان کی عمر ہے، میٹرک، جے وی، ادیب اردو، عالم اردو، منشی فاضل اور ادیب پنجابی کی اسناد رکھتے ہیں اور گاؤں کے پرائمری سکول کے استاد ہیں۔ وہ حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ سے بیعت کا تعلق رکھتے ہیں، پابند صوم و صلوٰۃ اور خوفِ خدا انسان ہیں۔ مذہبی معاملات میں انتہائی پرجوش ہیں۔ ۱۹۵۳ء کی تحریکِ ختمِ نبوت میں حصہ لے چکے ہیں اور گاؤں میں دو دفعہ قادیانی لاشیں مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے میں رکاوٹ بن چکے ہیں اور ان کی وجہ سے ہی کوٹ لدھا میں قادیانیوں کو اپنا قبردستان مسلمانوں سے الگ کرنا پڑا۔ متعدد بار گرفتار ہو چکے ہیں اور ’’انجمن اصلاح اسیراں‘‘ کے صدر بھی رہے ہیں۔ علاوہ ازیں ان پر قادیانیوں کی طرف سے قاتلانہ حملہ بھی ہوا ہے، مقدمہ درج ہو گیا تھا لیکن حملہ آور قادیانی کے مسلمان ہو جانے پر انہوں نے اسے معاف کر دیا۔
تھانہ کوٹ لدھا کے گاؤں پھوکرپور کے ایک مسیحی رحمت مسیح ولد نانک مسیح جو تعلیم یافتہ ہے اور اردو انگلش پر اچھا عبور رکھتا ہے، اس کے ساتھ گاؤں کے مسلمانوں کا اکثر تنازعہ رہتا ہے۔ رحمت مسیح قرآن کریم کے اوراق کی بے حرمتی کے متعدد واقعات میں ملوث پایا گیا مگر علاقہ کے معززین کی مداخلت پر آئندہ محتاط رہنے کی یقین دہانی پر درگزر کر دیا گیا۔ رحمت مسیح مذکور سے علاقہ کے مسلمانوں کو یہ شکایت بھی رہی ہے کہ گرجا پر لاؤڈ اسپیکر لگا کر جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی کے بارے میں نازیبا گفتگو کرتا ہے۔ ایک بار تھانہ تک نوبت گئی، علاقہ کے معززین درمیان میں آگئے اور معاملہ رفع دفع کر دیا گیا۔ دوسری بار علاقہ مجسٹریٹ جناب محمد اسلم قاسمی تک معاملہ پہنچا، ان کے سامنے علاقہ کے پادری حضرات نے تحریری یقین دہانی کرائی کہ رحمت مسیح مذکور آئندہ محتاط رہے گا اور لاؤڈ اسپیکر بھی استعمال نہیں کرے گا، اس پر اسے پھر درگزر کر دیا گی، یہ واقعہ ۷ مارچ ۱۹۹۲ء کا ہے۔
رحمت مسیح مذکور کے گاؤں پھوکرپور سے ایک میل کے فاصلہ پر ’’رتہ دوہتڑ‘‘ نامی گاؤں میں سات آٹھ ماہ قبل یہ صورتحال پیش آئی کہ گاؤں کی جامع مسجد میں پرچیاں پھینکی جاتیں جن میں جناب رسالتماب صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں گستاخی بلکہ معاذ اللہ ننگی گالیاں درج ہوتیں لیکن کچھ پتہ نہ چلتا کہ یہ پرچیاں کون وہاں پھینکتا ہے۔ ۹ مئی ۱۹۹۳ء کو جامع مسجد کے خطیب حافظ محمد فضل حق اور ان کے دو ساتھیوں محمد بخش گوجر نمبردار اور حاجی محمد اکرم نے مبینہ طور پر تین افراد کو ایک دیوار پر اسی قسم کی گستاخانہ باتیں لکھتے ہوئے پکڑ لیا۔ یہ رحمت مسیح، منظور مسیح اور سلامت مسیح تھے جن میں آخر الذکر دونوں پکڑے گئے اور رحمت مسیح بھاگ گیا۔
گاؤں کے لوگ تھانہ گئے مگر پولیس نے مقدمہ درج کرنے میں لیت و لعل سے کام لیا، دونوں ملزموں کو تھانہ میں بند کر لیا گیا مگر پرچہ درج نہ ہوا۔ اس پر گاؤں کے لوگ کوٹ لالہ میں ماسٹر عنایت اللہ کے پاس گئے اور تعاون کی درخواست کی۔ ماسٹر عنایت اللہ نے علاقہ کے مسلمانوں کو جمع کیا اور تھانہ کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ علاقہ کے مسلمان واقعہ کے بارے میں باخبر ہوتے ہی تھانہ کے پاس جمع ہوتے گئے، انہوں نے تھانہ کا گھیراؤ کر لیا اور ٹریفک بلاک کر دی گئی جس پر پولیس نے مجبور ہو کر ۱۱ مئی کو پرچہ درج کیا، جس کے بعد دونوں گرفتار ملزم جیل بھیج دیے گئے۔ مگر رحمت مسیح روپوش ہو گیا اور اس کے بارے میں مشہور ہو گیا کہ وہ گوجرانوالہ کے ایک عیسائی ایم پی اے کے پاس ہے اور اسے امریکہ بھیجا جا رہا ہے۔ ماسٹر عنایت اللہ اور گوجرانوالہ کے علماء نے ضلعی حکام سے بات چیت کی اور بالآخر چند روز کے بعد رحمت مسیح کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ ملزمان کی طرف سے اپنی گرفتاری کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی جو جسٹس خلیل الرحمٰن نے ۲۰ جون کو خارج کر دی۔ اسی طرح ایڈیشنل سیشن جج گوجرانوالہ جناب پرویز چاولہ کی عدالت میں بھی ضمانت کی درخواست دائر کی گئی جو انہوں نے ۱۰ جولائی کو عدم پیروی کی بنا پر خارج کر دی۔
اس دوران گوجرانوالہ اور گاؤں رتہ دوہتڑ میں بیرون ملک سے افراد کی آمد شروع ہو گئی۔ ایک امریکی صحافی نے سیشن جج سے بھی ملاقات کی اور ضلعی حکام پر ملزمان کی رہائی کے لیے دباؤ ڈالنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ مبینہ طور پر امریکی سفارت خانہ کے افسران بھی متحرک ہو گئے اور گاؤں میں مختلف وفود گئے اور علاقہ کے سادہ عوام پر نفسیاتی دباؤ ڈالنے کی کوشش کی گئی۔ آل انڈیا ریڈیو نے ۱۱ جولائی اور پھر ۱۳ نومبر کو اس کیس کے بارے میں مفصل پروگرام نشر کیے جن میں ملزمان کی بے گناہی، توہین رسالت کے قانون پر تنقید اور ماسٹر عنایت اللہ کی کردارکشی کی گئی۔ بی بی سی نے ۲۹ نومبر کو اس قسم کا پروگرام نشر کیا، اس کے علاوہ متعدد جرائد میں کیس کے بارے میں مضامین کا سلسلہ چلتا رہا۔
لاہور سے عاصمہ جہانگیر ایڈووکیٹ، نعیم شاکر ایڈووکیٹ اور حنا جیلانی ایڈووکیٹ نے گوجرانوالہ آ کر ملزمان کی ضمانت کے لیے دوبارہ درخواست دائر کی جو ایڈیشنل سیشن جج جناب عبد الرشید خان کی عدالت میں لگی، انہوں نے ضمانت منظور کرنے سے انکار کر دیا، جس پر کہا گیا کہ تین ملزموں میں سے ایک سلامت مسیح نابالغ ہے اس لیے اس بنیاد پر اس کی ضمانت لی جائے۔ سلامت مسیح کی عمر کے بارے میں حافظ آباد چرچ کا ایک سرٹیفیکیٹ عدالت میں پیش کیا گیا جس کے مطابق اس کی عمر چودہ برس سے زائد بنتی ہے، جبکہ مدعیان اس سرٹیفکیٹ کو مبنی برحقیقت قرار نہیں دیتے اور ان کا کہنا ہے کہ سلامت مسیح نابالغ نہیں ہے اور اس کا فیصلہ میڈیکل معائنہ کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔ بہرحال اس بنیاد پر بالآخر ایڈیشنل سیشن جج مذکور کو سلامت مسیح کی ضمانت منظور کرنا پڑی۔
اس ضمانت کے سلسلہ میں اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق امریکی حکام اور پاکستانی حکومت کی طرف سے ضلع گوجرانوالہ کی انتظامیہ اور سیشن کورٹ پر مسلسل دباؤ بھی ڈالا گیا۔ چنانچہ روزنامہ مساوات لاہور ۸ نومبر ۱۹۹۳ء کی خبر کے مطابق امریکہ کی نائب وزیر خارجہ مسز رابن رافیل نے وزیراعظم پاکستان کے ساتھ مذاکرات میں یہ مسئلہ اٹھایا اور سیکرٹری خارجہ نے بتایا کہ سلامت مسیح کو ضمانت پر رہا کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔ جبکہ روزنامہ نوائے وقت لاہور ۲۴ نومبر ۱۹۹۳ء کی خبر کے مطابق امریکی حکام کے کہنے پر حکومتِ پنجاب کے ایک اعلیٰ افسر کو سلامت مسیح کی ضمانت کے انتظامات پر مامور کیا گیا اور سلامت مسیح کی ضمانت بھی گوجرانوالہ کی ضلعی انتظامیہ کے ایک عہدہ دار نے دی۔
سلامت مسیح کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ نابالغ ہے اور اَن پڑھ ہے، مدعیان ان دونوں باتوں کی تردید کرتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ وہ لکھ پڑھ سکتا ہے اور اس کے بالغ ہونے کی تصدیق بھی طبی معائنہ سے ہو سکتی ہے۔ مزید برآں مدعیان کے مطابق سلامت مسیح کے والد نے، جو کراچی میں رہتا ہے، متعدد تحریرات میں تسلیم کیا ہے کہ اس کے لڑکے نے یہ حرکت کی ہے، اس سے رحمت مسیح نے پیسے دے کر یہ حماقت کرائی ہے، اس لیے اس کے بارے میں نرمی کی جائے۔ مدعیان کا کہنا ہے کہ وہ تحریرات ضرورت پڑنے پر عدالت میں پیش کر سکتے ہیں۔
گوجرانوالہ کے علماء نے رتہ دوہتڑ کیس میں امریکی حکومت اور دیگر غیر ملکی لابیوں کی مداخلت کے باعث کیس کی منظم پیروی کے لیے ’’تحفظ ناموس رسالتؐ ایکشن کمیٹی‘‘ قائم کر لی ہے جس کے چیئرمین مولانا عبد العزیز چشتی اور سیکرٹری ڈاکٹر غلام محمد ہیں، جبکہ کمیٹی میں مولانا حکیم عبد الرحمٰن آزاد، مولانا محمد نواز بلوچ، مولانا محمد اعظم، مولانا عبید اللہ عبید اور دیگر علماء شامل ہیں۔ ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا زاہد الراشدی نے ’’رتہ دوہتڑ توہینِ رسالتؐ کیس‘‘ کے واقعات کی پبلک انکوائری کے لیے ریٹائرڈ سیشن جج جناب محمد افضل سہیل کی سربراہی میں تحقیقات کمیٹی قائم کر دی ہے جس میں دیگر ماہرین قانون اور علماء بھی شامل ہیں اور ممتاز مسیحی راہنما فادر روفن جولیس ایم این اے سے بھی کمیٹی میں شامل ہونے کی درخواست کی گئی ہے۔ یہ کمیٹی ماہِ رواں کے دوران اپنی رپورٹ مکمل کر لے گی اور اسے فورم کی طرف سے بین الاقوامی پریس اور دیگر متعلقہ اداروں کو بھجوایا جائے گا۔
اب تک اس کیس کی پیروی میں ’’عالمی مجلس تحفظِ ختم نبوت‘‘ علاقہ کے مسلمانوں اور ماسٹر عنایت اللہ کی معاون ہے اور اس سلسلہ میں مولانا حکیم عبد الرحمٰن آزاد، قاری محمد یوسف عثمانی اور حافظ محمد ثاقب پیش پیش ہیں۔ مجلس کے امیر حکیم عبد الرحمٰن آزاد کا کہنا ہے کہ ایکشن کمیٹی کی تشکیل کے بعد بھی کیس کے سلسلہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حسبِ سابق اپنا کردار جاری رکھے گی۔

مولانا حکیم نذیر احمدؒ آف واہنڈو / چوہدری محمد خلیل مرحوم

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ضلع گوجرانوالہ کے بزرگ عالم دین اور تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن مولانا حکیم نذیر احمدؒ ۲۲ نومبر ۱۹۹۳ء کو واہنڈو میں انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کی عمر اَسی برس تھی اور زندگی کا بیشتر حصہ انہوں نے دین کی تعلیم و تبلیغ میں بسر کیا۔ مولانا حکیم نذیر احمدؒ کی ولادت ۱۹۱۳ء میں واہنڈو میں ہوئی، زمیندار گھرانے سے تعلق تھا۔ دینی تعلیم انہوں نے ہنجانوالی نامی گاؤں میں مولانا حافظ عبد الغفور صاحب سے حاصل کی جو اس زمانہ میں علاقہ میں دینی تعلیم کا ایک بڑا مرکز شمار ہوتا تھا اور اس درسگاہ کا تعلق اہل حدیث مکتب فکر سے تھا۔ مولانا حکیم نذیر احمد نے اس کے بعد شیرانوالہ لاہور میں حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا اور انہی سے بیعت بھی کر لی اور پھر واہنڈو میں خطابت اور تدریس کی ذمہ داریوں میں منہمک ہوگئے۔ بے نیاز اور متوکل قسم کے بزرگ تھے، دینی خدمات کا سلسلہ پوری زندگی بے لوث طور پر کسی معاوضہ اور تنخواہ کے بغیر جاری رکھا۔ تھوڑی سی زمین تھی جس پر گزر بسر کرتے رہے۔

مولانا حکیم نذیر احمد نے واہنڈو کی جامع مسجد تعمیر کرائی اور اسی میں آخر وقت تک دینی خدمات سر انجام دیتے رہے۔ سماجی خدمات میں بھی پیش پیش رہے، قیام پاکستان سے پہلے علاقہ کی پنچایت کے رکن تھے اور علاقہ کی سربرآوردہ شخصیات میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ سابق صدر محمد ایوب خان مرحوم کے دور میں بی ڈی نظام کے تحت واہنڈو یونین کونسل کے چیئرمین بھی رہے۔ بے باک اور دبنگ قسم کے بزرگ تھے کسی کو خاطر میں نہ لاتے اور پورے وقار اور دبدبے کے ساتھ رہتے۔

حکیم صاحبؒ نے تحریک پاکستان میں شیخ الاسلام علامہ شبیر احمدؒ عثمانی کی راہنمائی میں سرگرم حصہ لیا اور علاقہ میں تحریک پاکستان کو منظم کرنے میں محنت کی۔ اس کا ذکر اکثر مجالس میں کرتے رہتے تھے کہ ہم نے مولانا شبیر احمدؒ عثمانی کے کہنے پر پاکستان بنانے کی جدوجہد میں حصہ لیا لیکن پاکستان بننے کے بعد اسلامی معاشرہ کے قیام اور اسلامی نظام کے نفاذ کی منزل حاصل نہ ہوئی۔ سیاسی طور پر جمعیۃ علمائے اسلام سے وابستہ تھے۔ ضلع گوجرانوالہ میں جمعیۃ علمائے اسلام کو منظم کرنے میں آپ کی خدمات قابل قدر ہیں۔ ایک عرصہ تک تحصیل گوجرانوالہ کے امیر اور پھر بعد میں ضلعی نائب امیر رہے۔ سیاسی و دینی تحریکات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ بھٹو مرحوم کے دور میں لاہور میں اس وقت کے گورنر جناب غلام مصطفیٰ کھر کے اقدامات کے خلاف بحالیٔ جمہوریت کی تحریک چلی اور متعدد سیاسی راہنماؤں اور کارکنوں نے گرفتاریاں پیش کیں۔ اس دور کی بات ہے کہ مولانا نذیر احمد مرحوم دو بار میرے پاس تشریف لائے کہ میں گرفتاری پیش کرنا چاہتا ہوں، میں نے بہت مشکل سے واپس بھیجا کہ آپ بزرگ ہیں گھر تشریف رکھیں، گرفتاریوں کے لیے ابھی ہمارے پاس بہت کارکن ہیں۔ ایک روز میں لاہور میں جمعیۃ کے مرکزی دفتر میں گیا تو وہاں بیٹھے ہوئے تھے کہ گرفتاری دینے کے لیے آیا ہوں۔ انہیں سمجھا بجھا کر واپس بھیجا۔ ایک بار جمعیۃ کا ضلعی اجلاس میرے پاس جامع مسجد گوجرانوالہ میں تھا، اتفاق سے اس روز بسوں کی ہڑتال ہوگئی اور اکثر ساتھی اجلاس میں نہ آسکے۔ میں اور ڈاکٹر غلام محمد صاحب بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک مولانا حکیم نذیر احمد پسینے میں شرابور تشریف لائے اور کہا کہ جمعیۃ کا اجلاس تھا اور مجھے بس نہیں ملی اس لیے سائیکل پر ہی آگیا ہوں۔ گویا انہوں نے گرمی کے موسم میں واہنڈو سے گوجرانوالہ تک تئیس میل کی مسافت سائیکل پر صرف اس جذبہ سے طے کی کہ اجلاس میں غیر حاضری نہ ہو۔ یہ احساس ذمہ داری کی ایک قابل تقلید مثال ہے۔

مولانا مرحوم اچھے حکیم تھے، ایک زمانہ میں واہنڈو کے بازار میں دکان بھی شروع کی۔ لوگوں کا اس قدر رجوع ہوا کہ اردگرد کے دیگر طبیبوں کے ڈیرے ویران ہوگئے۔ وہ اپنی اپنی شیشیاں بوتلیں اٹھا کر حکیم نذیر احمد صاحب کے پاس آئے اور کہا کہ ہماری دکانیں تو ویران ہوگئی ہیں آپ یہ شیشیاں اور بوتلیں بھی بیچ دیں۔ انہوں نے اسی روز دکان بند کر دی اور پھر اپنے مکان کی بیٹھک میں ہی تھوڑا بہت کام کرتے رہے۔ ان کے فرزند اور جانشین مولانا عطاء الرحمان کا کہنا ہے کہ ان کی عادت یہ تھی کہ جس وقت گھر کی ہانڈی کا خرچہ نکل آتا بیٹھک بند کر کے نکل جاتے۔

حکیم صاحب صاحب مطالعہ تھے، کتابیں جمع کرنے اور مطالعہ کرنے کا ذوق عمر بھر رہا۔ اکثر ان کے پاس نایاب کتابیں نظر آتیں، کئی کتابیں میں نے بھی ان سے حاصل کر کے مطالعہ کیں۔ متعدد اہل علم کے ساتھ ان کا تعلق تھا، مطالعہ کے لیے کتابوں کا تبادلہ کرتے رہتے اور اکثر اوقات مطالعہ میں مستغرق رہتے۔ پرانی طرز کے وضعدار بزرگ تھے، وضعداری اور وقار کے ساتھ دینی و سماجی خدمات میں مگن رہے۔ آخر میں شوگر کا عارضہ تھا مگر کوئی پروا کیے بغیر معمولات میں مصروف رہے۔ آخری دن بھی صبح معمول کے مطابق اٹھے، نماز ادا کی اور تھوڑی دیر کے بعد انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کے فرزند مولانا عطاء الرحمان نے اب ان کی جگہ خدمات سنبھال لی ہیں۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کریں اور ورثا کو صبر و حوصلہ کے ساتھ حسنات میں ان کی پیروی کی توفیق دیں، آمین یا رب العالمین۔

چوہدری محمد خلیل مرحوم

گجرات میں ہمارے پرانے بزرگ دوست چوہدری محمد خلیل گزشتہ دنوں انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کے ساتھ تعارف اس دور میں ہوا جب مولانا سید عنایت اللہ شاہ بخاری نے حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مسئلہ پر تفرد کی راہ اختیار کی اور اسے اپنے مواعظ و خطابات کا موضوع بنا کر جمہور علمائے امت کے خلاف فتوٰی بازی کی زبان استعمال کرنا شروع کر دی۔ تو ان کے ایک رفیق مولانا نذیر اللہ خان مرحوم نے ان سے علیحدگی اختیار کر کے مسجد حیات النبیؐ میں الگ ’’مورچہ‘‘ قائم کر لیا۔ چوہدری محمد خلیل مرحوم اس محاذ پر مولانا نذیر اللہ خان مرحوم کا دست و بازو بنے اور فعال ساتھی رہے۔

چوہدری صاحب دراصل مجلسِ تحفظ ختم نبوت کے کارکن تھے اور وہی محاذ ان کی سرگرمیوں کی سب سے بڑی جولانگاہ تھی۔ باضابطہ عالم دین نہیں تھے لیکن قادیانیوں کے بارے میں اس قدر معلومات اور گفتگو کا ملکہ رکھتے تھے کہ متعدد مناظروں میں قادیانی حضرات کو ان کے سامنے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے اپنے گھر کے قریب ختمِ نبوت کے عنوان سے مسجد اور مکتب قائم کیا اور عمر کا آخری حصہ اسی کی خدمت میں بسر کیا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے ضلعی امیر تھے اور جمعیۃ علماء اسلام کی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے، اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائیں اور پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق دیں، آمین یا رب العالمین۔

فروری و مارچ ۱۹۹۴ء

افغانستان میں عالم اسلام کی آرزوؤں کا خونمولانا ابوعمار زاہد الراشدی
اقبالؒ کا تصورِ اجتہادڈاکٹر محمد آصف اعوان
اسلام اور مغرب کی کشمکش ۔ برطانوی ولی عہد کی نظر میںادارہ
پاکستان کے بارے میں امریکی عزائم کی ایک جھلکڈاکٹر محمود الرحمٰن فیصل
اکیسویں صدی اور اسلام ۔ مغرب کیا سوچتا ہے؟محمد عادل فاروقی
شہیدانِ بالاکوٹحضرت شاہ نفیس الحسینی
امریکی عزائم: ورلڈ اسلامک فورم کے زیر اہتمام پہلا علماء کنونشنادارہ
امریکی عزائم: ورلڈ اسلامک فورم کے زیر اہتمام دوسرا علماء کنونشنادارہ
علمائے دیوبند اور ترجمۂ قرآنِ کریمسید مشتاق علی شاہ

افغانستان میں عالم اسلام کی آرزوؤں کا خون

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

افغانستان میں روسی استعمار کے تسلط کے خلاف غیور افغانوں نے جہاد کے مقدس عنوان پر علم بغاوت بلند کیا تو دنیائے اسلام کے دینی حلقوں میں جوش و جذبہ کی ایک لہر دوڑ گئی کہ جہاد کا بابرکت عمل جو ایک عرصہ سے مغربی استعمار کی سازشوں کے باعث ملت اسلامیہ کی عملی زندگی سے نکل چکا تھا ایک بار پھر نظریاتی بنیادوں پر سفرِ نو کا آغاز کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جہاد افغانستان کے دوران نہ صرف پورے عالم اسلام کے دل افغان مجاہدین کے ساتھ دھڑکے بلکہ دنیا کے ہر خطہ سے پرجوش مسلم نوجوانوں نے افغانستان کی سرزمین پر پہنچ کر اس جہاد میں عملاً حصہ لیا اور اس طرح جہاد افغانستان عالم اسلام کی نظریاتی یکجہتی اور دینی تحریکات میں وحدت و اشتراک کے عنوان کے طور پر دنیا بھر کی توجہات کا مرکز بن گیا۔

جہاد افغانستان کی کامیابی اور کابل میں مجاہدین کی مشترک حکومت کے قیام کے بعد دنیا بھر کی اسلامی تحریکات کو یہ امید تھی کہ اب افغانستان میں ایک نظریاتی اسلامی حکومت قائم ہوگی اور مجاہدین کی جماعتیں اور قائدین مل جل کر افغانستان کی تعمیر نو کے ساتھ ساتھ اسلام کے عادلانہ نظام کا ایک مثالی عملی نمونہ دنیا کے سامنے پیش کریں گے جو دیگر مسلم ممالک میں نفاذ اسلام کی تحریکات کے عزم و حوصلہ میں اضافہ کا باعث ہوگا۔ لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شدہ، بعض افغان راہنماؤں کی ناعاقبت اندیشی اور ہوسِ اقتدار نے عالم اسلام کی آرزوؤں کا سربازار خون کر دیا ہے اور کابل کی خوفناک خانہ جنگی نے دنیا بھر کی دینی تحریکات کی امیدوں کو خاک میں ملا دیا ہے۔

یہ درست ہے کہ اس خانہ جنگی کے پس منظر میں بیرونی لابیاں کام کر رہی ہیں اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اس وقت دنیا کا واحد ٹھیکیدار امریکہ افغانستان کے مختلف گروپوں کے پاس موجود اسلحہ کی بھاری مقدار کو کابل کی مشترکہ کمان کی تحویل میں نہیں دیکھنا چاہتا کیونکہ اس کے خیال میں اس صورت میں کابل اس قدر طاقتور ہو جائے گا کہ اردگرد کی دیگر ریاستوں پر اثر انداز ہو سکے گا۔ اس لیے امریکہ اس اسلحہ کو خانہ جنگی میں اسی طرح ضائع کرا دینا چاہتا ہے جس طرح اس نے ایران میں اپنا چھوڑا ہوا اسلحہ عراق ایران جنگ کی صورت میں ضائع کرا دیا تھا۔

اسی طرح امریکہ افغانستان میں ایک نظریاتی اسلامی حکومت اور اسلامی نظام کے عملی نفاذ کو بھی برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہے کیونکہ یہ سرمایہ دارانہ اور اشتراکی نظاموں کی ناکامی کے بعد عالم اسلام اور اسلام کے عادلانہ اور متوازن فلاحی معاشرہ کا آغاز ہوگا جسے آگے بڑھنے سے روکا نہیں جا سکے گا۔ یہی وجہ ہے کہ چند ماہ قبل جنرل رشید دوستم کے دورۂ امریکہ کے موقع پر حکمت عملی یہ طے کر لی گئی تھی کہ یا تو جنرل دوستم کے اشتراک کے ساتھ کابل میں ایک ڈھیلی ڈھالی حکومت بنوا دی جائے اور یا پھر افغانستان کو تقسیم کر کے وسطی ایشیا کی نو آزاد مسلم ریاستوں اور افغانستان کے درمیان ایک نئی بفر اسٹیٹ قائم کر دی جائے تاکہ کابل کی حکومت ان ریاستوں پر اثر انداز نہ ہو سکے۔ یہ ساری باتیں تسلیم، مگر سوال یہ ہے کہ اس سب کچھ کے لیے آلۂ کار کون ہے اور امریکہ ان مقاصد کے لیے استعمال کسے کر رہا ہے؟ پروفیسر برہان الدین ربانی، انجینئر حکمت یار اور انجینئر احمد شاہ مسعود اگر اپنے اپنے گریبان میں جھانک کر اس سوال کا جواب تلاش کر سکیں تو یہ ان کا پوری امت پر احسان ہوگا۔

اس ساری صورتحال اگر کوئی بات کسی حد تک اطمینان بخش ہے تو وہ یہ ہے کہ اس افسوسناک خانہ جنگی میں علماء کی جماعتیں براہ راست شریک نہیں ہیں اور افغان مسلمانوں کا بے مقصد اور بے گناہ خون بہانے کے اس شرمناک عمل میں مولانا محمد نبی محمدی، مولانا محمد یونس خالص، مولانا جلال الدین حقانی، اور مولانا ارسلان رحمانی کا نام سامنے نہیں آرہا۔ گویا اس کشمکش میں دینی مدارس کی تربیت یافتہ قیادت کا کردار نسبتاً متوازن اور معتدل ہے۔ لیکن ان چاروں بزرگوں کی خدمت میں ہم یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ افغان مجاہدین کی خانہ جنگی میں ان کا فریق کے طور پر سامنے نہ آنا ایک اچھا عمل ہے جس پر وہ بلاشبہ تحسین کے مستحق ہیں لیکن یہ کردار کافی نہیں ہے۔ انہیں خانہ جنگی کو رکوانے کے لیے مصالحت کنندہ کا کردار ادا کرنا چاہیے اور آگے بڑھ کر ان لوگوں کو ان کے منفی طرز عمل کے سنگین نتائج کا احساس دلانا چاہیے جو محض شخصی انا یا گروہی ترجیحات کی خاطر شعوری یا غیر شعوری طور پر عالمی استعمار کا آلۂ کار بن کر افغانستان کو تباہ کرنے پر تل گئے ہیں۔

اقبالؒ کا تصورِ اجتہاد

ڈاکٹر محمد آصف اعوان

(۹ نومبر ۱۹۹۳ء کو گوجرانوالہ بار ایسوسی ایشن کے ہال میں علامہ اقبالؒ کی یاد میں منعقد ہونے والی تقریب میں یہ مقالہ پڑھا گیا۔)

علامہ محمد اقبالؒ کو بلاشبہ بیسویں صدی کا ایک عظیم مفکر اور اسلام کا ممتاز ترین ترجمان کہا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی کا طویل عرصہ اسلامی تاریخ، اسلامی تہذیب و ثقافت اور اصول و قوانین کے مطالعہ میں گزارا، جس سے انہیں اسلام کی اصل روح کو سمجھنے اور جاننے کے لیے گہری بصیرت حاصل ہوئی۔ اقبال اسلام کی حقانیت اور ابدیت پر کامل یقین اور پختہ ایمان رکھتے تھے، لیکن اس کے ساتھ انہیں اس بات کا  بھی احساس تھا کہ زمانے کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے ساتھ اسلامی اصول و قوانین کی نئی تشریح و تعبیر کی بھی سخت ضرورت ہے تاکہ اسلام جدید دنیا کے چیلنجوں کا مقابلہ کر سکے اور دنیا پر یہ حقیقت واضح ہو کہ اسلام کسی ایک عہد اور زمانے کے لیے ہی نہیں تھا بلکہ اس کے اصول و قوانین میں اتنی لچک اور پھیلاؤ ہے کہ یہ ہر دور کا ساتھ دے سکے اور ہر مسئلے کا  حل پیش کر سکے۔
اقبال حرکت و حرارت کا پیامبر ہے، جمود اس کے نزدیک شر اور حرکت سب سے بڑی خیر ہے۔ بقول خلیفہ عبد الحکیم ’’اقبال کے لیے ہر وہ تحریک خوش آئند تھی جو زندگی کے جمود کو توڑ دے‘‘1 چنانچہ اقبال نے اپنے دور میں ترکی اور ایران میں اٹھنے والی نئی سیاسی اور معاشرتی تحریکوں کا  بھرپور ساتھ دیا اور ان کی تعریف کی۔ اقبال کا خیال یہ ہے کہ
’’تہذیب و ثقافت کی نظر سے دیکھا جائے تو بحیثیت ایک تحریک، اسلام نے دنیائے قدیم کا یہ نظریہ تسلیم نہیں کیا کہ کائنات ایک ساکن و جامد وجود ہے، برعکس اس کے وہ اسے متحرک قرار دیتا ہے۔‘‘2
اقبال چاہتے تھے کہ اسلام کے اصول و قوانین کا ازسرنو جائزہ لے کر زمانۂ حال کے سیاسی، معاشرتی اور معاشی مسائل کا حل پیش کیا جائے۔ کیونکہ اسی طریقے سے اسلامی اصول و قوانین کی ابدیت کو ثابت کیا جا سکتا ہے۔ اقبال کو اس بات کا پورا احساس تھا کہ اگر موجودہ دور کے تقاضوں کا احساس نہ کیا گیا اور اسلامی اصول و قوانین کی تدوینِ نو کر کے موجودہ مسائل کا حل پیش نہ کیا گیا تو ہو سکتا ہے کہ لوگوں کا اسلام کے مکمل ضابطۂ حیات ہونے سے ایمان اٹھ جائے، اور وہ جدید مسائل کا حل تلاش کرنے کے لیے اسلام کی رائے سنے یا اس کا انتظار کیے بغیر مغربی طریقوں اور اصولوں کو اپنا لیں۔ پروفیسر محمد عثمان اپنی کتاب ’’فکرِ اسلامی کی تشکیلِ نو‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’جو لوگ صدی، نصف صدی زندہ رہنے کی خواہش رکھتے ہوں، ان کی بات اور ہے، مگر جو قومیں اور تہذیبیں صدیوں تک یا تا قیامت صفحۂ ہستی پر اپنے آپ کو قائم دائم دیکھنے کی آرزومند اور دعویدار ہوں، ان کے لیے اور باتوں کے علاوہ ایک نہایت اہم بات یہ ہے کہ وہ ثبات اور تغیر کے باہمی ربط اور ان کی حقیقت کو واضح طور پر جانیں۔ زندگی نہ محض ثبات ہے اور نہ محض تغیر ہے ۔۔۔۔ مستقل اقدار کی مسلسل حفاظت کرنا اور بدلنے والے پہلوؤں میں تبدیلی قبول کرنا بقا و دوام کی شرطِ اول ہے۔‘‘3
حضرت علامہ اقبالؒ اسلام کی بقا اور استحکام کے پرجوش مبلغ اور علمبردار تھے۔ انہوں نے سب سے پہلے اس حقیقت کو محسوس کیا کہ جب تک مسلمانوں میں فکری سطح پر تعطل اور جمود کو دور نہ کیا جائے گا ان کا دنیا میں تری کرنا اور آگے بڑھنا ممکن نہیں۔ علامہ اقبال کا مشہور و معروف انگریزی خطبہ

The Principle of Movement in the Structure of Islam

فقہ اسلامی کی تدوینِ نو کے ضمن میں عالمِ اسلام کی بہترین رہنمائی کرتا ہے۔ سید نذیر نیازی نے اس انگریزی لیکچر کا ترجمہ ’’الاجتہاد فی الاسلام‘‘ کے نام سے کیا ہے۔ اقبال اپنے خطبے میں فرماتے ہیں کہ اسلام میں ثبات اور تغیر دونوں پہلو موجود ہیں، لیکن ابدی اصول و قوانین سے یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ وہ تغیر کے ہر امکان کو رد کرتا ہے بلکہ حرکت اور تغیر ہی خدا کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ اقبال فرماتے ہیں:
’’اسلام کے نزدیک حیات کی یہ روحانی اساس ایک قائم و دائم وجود ہے، جسے ہم اختلاف اور تغیر میں جلوہ گر دیکھتے ہیں۔ اب اگر کوئی معاشرہ حقیقت مطلقہ کے اس تصور پر مبنی ہے تو پھر یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنی زندگی میں ثبات اور تغیر دونوں خصوصیات کا لحاظ رکھے۔ اس کے پاس کچھ تو اس قسم کے دوامی اصول ہونے چاہئیں جو حیاتِ اجتماعیہ میں نظم و انضباط قائم رکھیں، کیونکہ مسلسل تغیر کی اس بدلتی ہوئی دنیا میں ہم اپنا قدم مضبوطی سے جما سکتے ہیں تو دوامی اصولوں ہی کی بدولت۔ لیکن دوامی اصولوں کا یہ مطلب تو ہے نہیں کہ اس سے تغیر اور تبدیلی کے جملہ امکانات کی نفی ہو جائے، اس لیے کہ تغیر وہ حقیقت ہے جسے قرآن پاک نے اللہ تعالیٰ کی ایک بہت بڑی آیت ٹھہرایا ہے۔ اس صورت میں تو ہم اس شی کو، جس کی فطرت ہی حرکت ہے، حرکت سے عاری کر دیں گے۔‘‘4
پھر اقبال خود ہی یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ
’’سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسلام کی ہیئتِ ترکیبی میں وہ کون سا عنصر ہے جو اس کے اندر حرکت اور تغیر قائم رکھتا ہے؟‘‘5
اور ساتھ ہی اس کا جواب دیتے ہیں کہ
’’اس کا جواب ہے، اجتہاد‘‘6
اقبال اجتہاد پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ
’’فقہ اسلامی کی اصطلاح میں اس کا مطلب ہے وہ کوشش جو کسی قانونی مسئلے میں آزادانہ رائے قائم کرنے کے لیے کی جائے۔‘‘7
گویا روزمرہ زندگی کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے لیے قوانین وضع کرنے، اور ایسے مسائل جن میں شک و شبہ کا امکان ہو، قرآن و حدیث کی روشنی میں ان کے لیے قوانین مرتب کرنے کا نام اجتہاد ہے۔ ارشاد رب العزت ہے:
’’جو لوگ ہمارے بارے میں کوشش کرتے ہیں ہم ان کو اپنے راستے دکھائیں گے۔‘‘
اقبال اجتہاد کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ایک حدیث کا حوالہ بھی دیتے ہیں۔ حضرت معاذؓ کو جب یمن کا حاکم مقرر کیا گیا تو ان کی روانگی کے وقت نبی کریمؐ نے ان سے دریافت کیا کہ اے معاذ! معاملات کا فیصلہ کیسے کرو گے؟ تو حضرت معاذؓ نے عرض کیا کہ اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلے کروں گا۔ آپؐ نے فرمایا، اگر کتاب اللہ سے تمہاری رہنمائی نہ ہو تو پھر کیا کرو گے؟ معاذؓ نے جواب دیا، تو رسول اللہ کی سنت کے مطابق۔ آپؐ نے فرمایا، اگر سنتِ رسول سے بھی رہنمائی میسر نہ ہو تو پھر؟ حضرت معاذؓ نے جواب دیا، تو پھر میں خود ہی کوئی رائے قائم کرنے کی کوشش کروں گا۔8
گویا نئے ماحول اور حالات میں نئی ضروریات اور تقاضوں کا ساتھ دینے کے لیے قرآن و حدیث کے مطابق فیصلے کرنا ضروری ہے، لیکن اگر قرآن و حدیث کسی خاص معاملے میں خاموش ہوں تو پھر قرآن و سنت اور اجتماعی اسلامی مزاج کا لحاظ رکھنا قانون سازی کرتے ہوئے لازمی ہے۔
اگر اقبال کے خطبے ’’الاجتہاد فی الاسلام‘‘ کا دقتِ نظر سے مطالعہ کیا جائے تو یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ اقبال اس خطبے میں خاص طور پر اسلامی ممالک اور ان میں پیش آنے والے مسائل سے گفتگو کر رہے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان کا یہ خطبہ مختلف اسلامی ممالک میں اجتہادی کوششوں کے ضمن میں ایک Guideline کی حیثیت بھی رکھتا ہے۔ علامہ نے ترکوں کی اجتہادی کوششوں کی ہمیشہ تعریف کی ہے۔ اقبال ترکوں کے متعلق لکھتے ہیں کہ
’’دراصل یہ صرف ترک ہیں جو اممِ اسلامیہ میں قدامت پرستی کے خواب سے بیدار ہو کر شعورِ ذات کی نعمت حاصل کر چکے ہیں۔ یہ صرف ترک ہیں جنہوں نے ذہنی آزادی کا حق طلب کیا ہے اور جو ایک خیالی دنیا سے نکل کر اب عالمِ حقیقت میں آ گئے ہیں۔ لیکن یہ وہ تغیر ہے جس کے لیے انسان کو ایک زبردست دماغی اور اخلاقی کشاکش سے گزرنا پڑتا ہے۔ لہٰذا یہ ایک طبعی امر تھا کہ ایک ہر لحظہ حرکت اور وسعت پذیر زندگی کی روز افزوں پیچیدگیوں سے انہیں نئے نئے حالات اور نئے نئے نقطہ ہائے نظر سے سابقہ پڑتا اور وہ ان اصولوں کی ازسرنو تعبیر پر مجبور ہو جاتے، جو ایک ایسی قوم کے لیے جو روحانی وسعتوں کی لذت سے محروم ہے، خشک بحثوں سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے۔‘‘9
علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں کہ ترکوں نے ایک نہایت جرأتمندانہ اقدام کر کے اپنی سیاسی اور تہذیبی زندگی میں اپنی اجتہاد پسندی کا ثبوت دیا ہے اور زندگی کے نئے تقاضوں اور ضروریات کا ساتھ دیا  ہے۔ اگر ہم یعنی ہندوستان کے لوگ بھی اسلامی اصول و قوانین کو موجودہ دور میں مؤثر بنانا چاہتے ہیں تو یہ ضروری ہے کہ اپنے ذہنی اور فکری ورثے کا ازسرنو جائزہ لے کر اسے موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق بنایا جائے۔ اقبالؒ فرماتے ہیں کہ
’’اگر اسلام کی نشاۃِ ثانیہ ناگزیر ہے، جیسا کہ میرے نزدیک قطعی طور پر ہے، تو ہمیں بھی ترکوں کی طرح ایک نہ ایک دن اپنے عقلی اور ذہنی ورثے کی قدر و قیمت کا جائزہ لینا پڑے گا۔‘‘10
اقبالؒ کی نظر میں اجتہاد ہی اسلام کی نشاۃِ ثانیہ کا ضامن ہے اور اسی کی مدد سے ہر دور میں اسلام اپنے پیروکاروں کو اپنے فیوض و برکات سے مستفید کر سکتا ہے۔ تاہم جہاں اقبال اجتہاد کی ضرورت و اہمیت سے پوری طرح آگاہ ہیں اور عالمِ اسلام کو اجتہاد کی دعوت دیتے ہیں، وہاں انہیں اس بات کا بھی مکمل احساس ہے کہ اس معاملے میں ذرا سی زیادتی بھی مسلمانوں کو دین و ایمان سے دور پھینک سکتی ہے۔ آزادیٔ افکار کی گو اپنی اہمیت ہے، تاہم فکر و تدبر کا سلیقہ اس سے بھی اہم تر اور ضروری ہے کیونکہ ؎
ہو فکر اگر خام تو آزادیٔ افکار
انسان کو حیوان بنانے کا طریقہ
بقول ڈاکٹر سید عبد اللہ:
’’علامہ اقبال کو فقہ اسلام کی تاریخ و تدوین کی اہمیت کا پورا احساس رہا۔ انہیں آج کے علمی و فکری ماحول میں اسلام کے اصولوں کی صداقت و افادیت ثابت کرنے پر اصرار رہا۔ بلاشبہ اس تدوینِ نو میں اجتہاد کی ضرورت اور بحث بھی آجاتی ہے، لیکن وہ اجتہاد کی ذمہ داریوں سے پوری طرح آگاہ تھے، کیونکہ اس کے لیے وافر اور فراواں اہلیت، تقوٰی اور تبحرِ علمی درکار ہے۔ اس کے علاوہ وہ اس خدشے سے بھی غافل نہ تھے کہ بلا قید اور بلا شرط اجتہاد سے انتشار پیدا ہو کر ملت کا شیرازہ بکھر بھی سکتا ہے۔‘‘12
علامہ اقبال اپنے انگریزی خطبے میں رقمطراز ہیں:
’’ہم اس تحریک کا، جو حریت اور آزادی کے نام پر عالمِ اسلام میں پھیل رہی ہے، دل سے خیرمقدم کرتے ہیں۔ لیکن یاد رکھنا چاہیے، آزاد خیالی کی یہی تحریک اسلام کا نازک ترین لمحہ بھی ہے۔ آزاد خیالی کا رجحان بالعموم تفرقہ اور انتشار کی طرف ہوتا ہے۔ لہذا نسلیت اور قومیت کے یہی تصورات جو اس وقت دنیائے اسلام میں کارفرما ہیں، اس وسیع مطمح نظر کی نفی بھی کر سکتے ہیں جس کی اسلام نے مسلمانوں کو تلقین کی ہے۔ پھر اس کے علاوہ یہ بھی خطرہ ہے کہ ہمارے مذہبی اور سیاسی رہنما حریت اور آزادی کے جوش میں، بشرطیکہ اس پر کوئی روک عائد نہ کی گئی، اصلاح کی جائز حدود سے تجاوز کر جائیں۔‘‘13
علامہ اقبال اگرچہ نئے فقہی فیصلوں کے حق میں تھے اور چاہتے تھے کہ زمانہ جدید کی مخصوص ضرورتوں کے تحت بنیادی ماخذ کی روشنی میں اسلامی اصول و قوانین کی تدوینِ نو کی جائے، تاہم ان کی اعتدال پسند طبیعت اس بات کو قطعاً گوارا نہیں کرتی تھی کہ اجتہاد اور تجدد کے نام پر ایسے تجاوزات عمل میں لائے جائیں جو اسلامی تعلیمات کی روح سے عاری ہوں۔ حضرت علامہ سید سلیمان ندویؒ کے نام ایک خط میں البانیہ کے مسلمانوں سے متعلق وہ اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ
’’میں نے سنا ہے کہ البانیہ کے مسلمانوں نے وضو اڑا دیا اور ممکن ہے نماز میں بھی کوئی ترمیم کی ہو۔‘‘14
اگرچہ اقبالؒ نے ترکوں کے اجتہاد کی ہر جگہ تعریف کی ہے مگر وہ اس اجتہاد کے ان پہلوؤں کا احتساب بھی کرتے ہیں جن سے اسلام کے بنیادی اصول و قوانین کے خلاف بغاوت کی بو آتی ہے۔ مثال کے طور پر اقبال کہتے ہیں کہ ترکی کی نیشنلسٹ پارٹی کا موقف یہ ہے کہ
’’ریاست ہی حیاتِ قومی کا بنیادی جزو ہے اور اس لیے باقی سب اجزا کی نوعیت اور وظائف بھی ریاست ہی سے متعین ہوں گے۔‘‘15
لیکن اقبال فرماتے ہیں کہ
’’ذاتی طور پر مجھے اس سے اختلاف ہے کہ اسلام کی توجہ تمام تر ریاست پر ہے اور ریاست ہی کا خیال اس کے باقی تمام تصورات پر حاوی۔‘‘16
اقبال واضح طور پر کہتے ہیں کہ
’’دراصل ترک وطن پرستوں نے ریاست اور کلیسا کی تفریق کا اصول مغربی سیاست کی تاریخ افکار سے اخذ کیا  ہے۔‘‘17
اقبال ایک ترک شاعر ضیا کی ان نظموں کا بھی سختی سے محاسبہ کرتے ہیں جن میں اس نے نماز، اذان اور تلاوتِ قرآن کو عربی کے بجائے ترکی زبان میں ادا کرنے کی ترغیب دی ہے۔ اقبال، ضیا کی نظم کے ایک بند کو ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں:
’’وہ سرزمین جہاں ترکی میں اذان دی جاتی ہے، جہاں نمازی اپنے مذہب کو جانتے اور سمجھتے ہیں، جہاں قرآن پاک کی تلاوت ترکی زبان میں کی جاتی ہے، جہاں پر چھوٹا بڑا احکامِ الٰہیہ سے واقف ہے، اے فرزندِ ترکی! وہ ہے تیرا آبائی وطن۔‘‘18
حضرت علامہ، ترک شاعر ضیا کے اس اجتہاد کو، کہ نماز ترکی زبان میں ادا کی جائے، اذان ترکی زبان میں دی جائے، اور قرآن پاک کی ترکی زبان میں تلاوت کی جائے، مناسب خیال نہیں کرتے اور فرماتے ہیں کہ
’’عربی کو ترکی سے بدلنے کا یہ خیال مسلمانانِ ہند کی غالب اکثریت کو ناگوار گزرے گا اور وہ اس کی مذمت کریں گے۔‘‘19
اپنی نظم کے ایک بند میں ضیا نے مساواتِ مرد و زن کے خیال کو بڑے پرجوش انداز میں بیان کیا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اسلام کے عائلی نظام میں بنیادی تبدیلیاں لائی جائیں تاکہ عورت کے ساتھ عدل و انصاف ہو سکے۔ اس کے خیال میں جب تک عورت کو جائیداد میں آدھا حصہ ملے گا، اسے گواہی دینے کے  معاملے میں بھی آدھا انسان ہی تصور کیا جائے گا، ترک شاعر ضیا کہتا ہے کہ
’’جب تک عورتوں کی صحیح قدر و قیمت کا احساس نہیں ہو گا، حیاتِ ملی نامکمل رہے گی۔ اہل و عیال کی پرورش میں عدل و انصاف پر عمل کرنا چاہیے اور اس کے لیے تین چیزیں ہیں جن میں مساوات ناگزیر ہے: طلاق میں، علیحدگی میں، وراثت میں۔‘‘20
اقبال، ترک شاعر کے ان خیالات کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ
’’رہا ترکی شاعر کا مطالبہ، سو میں سمجھتا ہوں وہ اسلام کے قانونِ عائلہ سے کچھ بہت زیادہ واقف نہیں۔ وہ نہیں سمجھتا کہ قرآن پاک نے وراثت کے بارے میں جو قاعدہ نافذ کیا ہے اس کی معاشی قدر و قیمت کیا ہے۔ شریعتِ اسلامی میں نکاح کی حیثیت ایک عقد اجتماعی کی ہے۔ اور بیوی کو یہ حق حاصل ہے کہ بوقتِ نکاح شوہر کا حقِ طلاق بعض شرائط کی بنا پر خود اپنے ہاتھ میں لے لے۔ یوں امرِ طلاق میں تو مرد و زن کے درمیان مساوات قائم ہو جاتی ہے۔ رہی وہ اصلاح جو شاعر نے قانونِ وراثت میں تجویز کی ہے، سو اس کی بنا غلط فہمی پر ہے۔ اگر قانون کے کچھ حصوں میں مساوات نہیں کی گئی تو اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ مردوں کو عورتوں پر فضیلت ہے، اس لیے کہ یہ خیال تعلیماتِ قرآن کے منافی ہے۔ قرآن مجید کا صاف و صریح ارشاد ہے ’’ولھن مثل الذی علیھن (بقرہ ۲۲۸) لہٰذا لڑکی کا حصہ متعین ہوا تو کسی کمتری کی بنا پر نہیں بلکہ ان فوائد کے پیشِ نظر جو معاشی اعتبار سے اسے حاصل ہیں۔‘‘21
اس سے یہ بات واضح ہو گئی کہ اگرچہ اقبال عصری تقاضوں کے پیشِ نظر قوانینِ اسلامی کی تدوینِ نو کے قائل ہیں اور اسے وقت کی ضرورت خیال کرتے ہیں، تاہم وہ بے اعتدالی اور کسی بھی معاملے میں کسی کی بھی کورانہ تقلید کے ہرگز قائل نہیں۔ اقبال اسلام کے بنیادی اور ابدی ماخذ میں کسی قسم کی بھی تبدیلی کے حق میں نہیں۔ ان کے نزدیک بنیادی ماخذ ہمارے ماضی کا شاندار علمی ورثہ ہیں، جن سے منہ موڑ کر اور انہیں پسِ پشت ڈال کر ہم کبھی بھی صحیح نتیجے پر نہیں پہنچ سکتے۔ اقبال فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس اسلامی قوانین کے لیے چار بنیادی ماخذ ہیں: (۱) قرآن (۲) حدیث (۳) قیاس (۴) اجماع۔

(۱) قرآن مجید

قرآن کو اسلامی قوانین کا اولین ماخذ قرار دیا جاتا ہے لیکن قرآن قانونی ضابطوں کی کتاب نہیں ہے بلکہ معاملاتِ زندگی سے متعلق عام لیکن بنیادی اصولوں کی طرف ہماری رہنمائی کرتی ہے۔ اقبال فرماتے ہیں کہ
’’قرآن کوئی قانونی ضابطہ نہیں، اس کا حقیقی منشا، جیسا کہ ہم اس سے پہلے عرض کر آئے ہیں، یہ ہے کہ ذہنِ انسانی میں اس تعلق کا، جو اسے کائنات اور خالقِ کائنات سے ہے، اعلیٰ اور بہترین شعور پیدا کرے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن پاک میں قانونی نوعیت کے کچھ عام اصول اور قواعد و ضوابط موجود ہیں ۔۔۔‘‘22
اقبالؒ ملتِ اسلامیہ کی توجہ قرآن پاک کے اس خاص انداز اور اسلوب کی طرف دلا رہے ہیں کہ قرآن پاک کی جامعیت اور ابدیت اسی میں ہے کہ اس نے انسان کی رہنمائی کے لیے بنیادی اصول فراہم کر دیے ہیں جن کے اندر رہتے ہوئے ہم ہر زمانے اور ہر دور میں نئی ضروریات اور بدلتے ہوئے تقاضوں کا ساتھ دے سکتے ہیں۔ گویا اس طرح اگر ہم غور کریں تو قرآن اپنے اندر ایک حرکی تصورِ حیات رکھتا ہے۔ اقبال لکھتے ہیں:
’’ظاہر ہے کہ جس کتاب کا مطمح نظر ایسا ہو گا اس کی روش ارتقا کے خلاف کیسے ہو سکتی ہے؟‘‘23
حرکی تصورِ حیات کا یہ مطلب ہیں کہ اس میں ثبات کا کوئی بھی پہلو نہیں، بلکہ اقبال کے تصورِ حیات میں ایک Element of Permanence بھی ہے جس کا دمن کبھی بھی ہاتھ سے چھوڑا نہیں جا سکتا۔ اقبال فرماتے ہیں:
’’ہمیں نہیں بھولنا چاہیے تو یہ کہ زندگی محض تغیر ہی نہیں، اس میں حفظ و ثبات کا ایک عنصر بھی موجود ہے۔‘‘24
اور پھر اقبال بڑے واضح انداز میں فرماتے ہیں کہ
’’تعلیماتِ قرآن کی یہی وہ جامعیت ہے جس کا لحاظ رکھتے ہوئے جدید عقلیت کو اپنے ادارات کا جائزہ لینا ہو گا۔ دنیا کی کوئی قوم اپنے ماضی سے قطع نظر نہیں کر سکتی، اس لیے کہ یہ ان کا ماضی ہی تھا جس سے ان کی موجودہ شخصیت متعین ہوئی۔‘‘25

(۲) حدیث

قرآن پاک کے بعد اسلامی قوانین کا سب سے بڑا ماخذ احادیثِ رسولؐ ہیں۔ ہمیں قانونی حیثیت کی حامل احادیث اور دوسری احادیث میں امتیاز کرنا ہو گا۔ بقول علامہ اقبال:
’’جہاں تک مسئلہ اجتہاد کا تعلق ہے، ہمیں چاہیے کہ ان احادیث کو، جن کی حیثیت سراسر قانونی ہے، ان احادیث سے الگ رکھیں جن کا قانون سے کوئی تعلق نہیں۔‘‘26
احادیث کی قانونی حیثیت کا ذکر کرتے ہوئے علامہ اقبال، حضرت شاہ ولی اللہ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ رسول کریمؐ نے بہت سے احکام عربوں کی مقامی روایات اور ان کے قومی مزاج کو سامنے رکھ کر دیے تھے، جن کی اطاعت دوسری قوموں کے افراد کے لیے ضروری نہیں، کیونکہ آئندہ نسلوں کا مزاج، روایات اور ماحول عربوں سے مختلف بھی ہو سکتا ہے۔ حضرت علامہ اپنے انگریزی خطبے میں شاہ ولی اللہ کے حوالے سے رقمطراز ہیں:
’’انبیاء کا عام طریقِ تعلیم تو یہی ہے کہ وہ جس قوم میں مبعوث ہوتے ہیں ان پر اسی قوم کے رسم و رواج اور عادات و خصائص کے مطابق شریعت نازل کی جاتی ہے۔ لیکن جس نبی کے سامنے ہمہ گیر اصول ہیں، اس پر نہ تو مختلف قوموں کے لیے مختلف اصول نازل کیے جائیں گے، نہ یہ ممکن ہے کہ وہ ہر قوم کو اپنی اپنی ضروریات کے لیے الگ الگ اصولِ عمل متعین کرنے کی اجازت دے۔ وہ کسی ایک قوم کی تربیت کرتا اور پھر ایک عالمگیر شریعت کی تشکیل میں اس سے تمہید کا کام لیتا ہے۔ لیکن ایسا کرنے میں وہ اگرچہ انہی اصولوں کو حرکت دیتا ہے جو ساری نوعِ انسانی کی حیاتِ اجتماعیہ میں کارفرما ہیں۔ پھر بھی ہر معاملے اور ہر موقع پر عملاً ان کا اطلاق اپنی قوم کی مخصوص عادات کے مطابق ہی کرتا ہے۔ لہٰذا اس طرح جو احکام وضع ہوتے ہیں (مثلاً تعزیرات) ایک لحاظ سے اسی قوم کے لیے مخصوص ہوں گے۔ پھر چونکہ احکام مقصود بالذات نہیں، اس لیے یہ بھی ضروری نہیں کہ ان کو آئندہ نسلوں کے لیے بھی واجب ٹھہرایا جائے۔‘‘27
علامہ اقبالؒ امام ابوحنیفہؒ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ امام صاحب نے اپنی فقہ میں ایسی احادیث کا خاص طور پر استعمال ہیں کیا جن کا ایک خاص زمانے سے اور لوگوں کے مزاج سے تعلق تھا۔ علامہ فرماتے ہیں:
’’شاید یہی وجہ تھی کہ امام ابوحنیفہؒ نے، جو اسلام کی عالمگیر نوعیت کو خوب سمجھ گئے تھے، ان احادیث سے اعتنا نہیں کیا۔‘‘28
یہاں ’’ان احادیث‘‘ سے مراد ایسی احادیث ہیں جن کا (تعلق) مخصوص زمانے سے اور اس زمانے کے لوگوں کے مخصوص عادات و کردار اور مزاج سے تھا۔ چنانچہ اقبال فرماتے ہیں:
’’اگر آزادیٔ اجتہاد کی وہ تحریک جو اس وقت دنیائے اسلام میں پھیل رہی ہے، احادیث کو بلا جرح و تنقید قانون کا ماخذ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تو اس سے اہل سنت والجماعت کے ایک امام الائمہ ہی کی پیروی مقصود ہے۔‘‘29
یہاں بعض لوگوں کو یہ احتمال گزر سکتا ہے کہ اقبال، خدانخواستہ، احادیث کو کم اہمیت دیتے تھے یا یہ کہ وہ منکرِ حدیث تھے، لیکن ایسا ہرگز نہیں۔ اگر اقبال کا ایسا خیال ہوتا تو وہ قانون سازی کے عمل میں احادیث کا قرآن کے بعد ذکر ہی نہ کرتے۔ اقبالؒ تو محض Indiscriminate use of Traditions کے خلاف ہیں، ورنہ تو حضرت علامہ رقمطراز ہیں:
’’سب سے بڑی خدمت جو محدثین نے شریعتِ اسلامیہ کی سرانجام دی ہے، یہ ہے کہ انہوں نے مجرد غور و فکر کے رجحان کو روکا اور اس کی بجائے ہر مسئلے کی الگ تھلگ شکل اور انفرادی حیثیت پر زور دیا۔‘‘30
اقبالؒ قانون سازی کے عمل میں احادیث کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے رقمطراز ہیں:
’’احادیث کا مطالعہ اگر اور زیادہ گہری نظر سے کیا جائے اور ہم ان کا استعمال یہ سمجھتے ہوئے کریں کہ وہ کیا روح تھی جس کے تحت آنحضرتؐ نے احکامِ قرآن کی تعبیر فرمائی، تو اس سے ان قوانین کی حیاتی قدر و قیمت کے فہم میں اور بھی آسانی ہو گی جو قرآن پاک نے قانون کے متعلق قائم کیے ہیں۔ پھر یہ ان اصولوں کی حیاتی قدر و قیمت ہی کا پورا پورا علم ہے جس کی بدولت ہم اپنی فقہ کے بنیادی ماخذ کی ازسرنو تعبیر اور ترجمانی کر سکتے ہیں۔‘‘31

(۳) اجماع

فقہ اسلامی کا تیسرا بڑا ماخذ اجماع ہے۔ مولانا محمد حنیف ندوی اپنی کتاب ’’مسئلہ اجتہاد‘‘ میں اجماع کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ
’’اصطلاح کی رو سے اجماع اس سے تعبیر ہے کہ مجتہدین اور اربابِ حل و عقد آنحضرتؐ کے بعد کسی عصر و زمانہ میں کسی امرِ دینی پر متفق ہو جائیں ۔۔۔۔ جب کوئی مسئلہ مخصوص اسباب کی بنا پر ابھرے اور ائمہ و مجتہدین کے سامنے آئے تو اس کے فیصلہ میں اس دور کے مجتہدین و اربابِ اختیار میں اختلافِ رائے نہ پایا جاتا ہو۔‘‘32
علامہ کو اس بات پر افسوس ہے کہ ’’اجماع‘‘ باوجود اسلامی قانون سازی کا ایک بہت بڑا اور اہم ماخذ ہونے کے، علمی صورت اختیار نہ کر سکا۔ اقبال کے نزدیک اس کی وجہ یہ ہے کہ شروع اسلام میں مطلق العنان سلطنتیں قانون سازی کی مجالس کو اپنے سیاسی مفادات کے لیے خطرہ تصور کرتی تھیں۔ اقبال لکھتے ہیں کہ
’’اموی اور عباسی خلفاء کا فائدہ اسی میں تھا کہ اجتہاد کا حق بحیثیت افراد مجتہدین ہی کے ہاتھ میں رہے، اس کی بجائے کہ اس کے لیے ایک مستقل مجلس قائم ہو، جو بہت ممکن ہے انجام کار ان سے بھی زیادہ طاقت حاصل کر لیتی۔‘‘33
حضرت علامہؒ اس بات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہیں کہ اب اسلامی ممالک میں مجالس قانون ساز اور جمہوریت   کا فروغ ہو رہا ہے اور اجماع کے لیے بہتر صورت پیدا ہو رہی ہے۔ اقبال موجودہ زمانہ میں اجماع کی ممکنہ صورت پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ
’’مذاہبِ اربعہ کے نمائندے جو سردست فردًا فردًا اجتہاد کا حق رکھتے ہیں، اپنا یہ حق مجالسِ تشریعی کو منتقل کر دیں گے۔ یوں بھی مسلمان چونکہ متعدد فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں، اس لیے ممکن بھی ہے تو اس وقت اجماع کی یہی شکل۔ مزید برآں غیر علماء بھی، جو ان امور میں بڑی گہری نظر رکھتے ہیں، اس میں حصہ لے سکیں گے۔ میرے نزدیک یہی ایک طریقہ ہے جس سے کام لے کر ہم زندگی کی اس روح کو، جو ہمارے نظاماتِ فقہ میں خوابیدہ ہے، ازسرنو بیدار کر سکتے ہیں۔ یونہی اس کے اندر ایک ارتقائی مطمح نظر پیدا ہو گا۔‘‘34
اقبالؒ دورِ جدید میں ترکوں کی مثال دیتے ہیں جنہوں نے منصبِ اجتہاد کو افراد کی ایک جماعت بلکہ منتخب شدہ مجلسِ قانون ساز کے سپرد کر دیا۔ اقبال کے نزدیک ترکوں کا یہ اقدام قابلِ استحسان ہے، لیکن یہاں ایک خدشہ اقبال کے ذہن میں جنم لیتا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ جو افراد منتخب ہو کر اسمبلی میں آئیں اور قانون سازی کریں، وہ اسلامی اصول و قوانین سے نابلد  ہوں۔ چنانچہ اقبال کی نظر میں:
’’اس قسم کی مجالس شریعت کی تعبیر میں بڑی بڑی شدید غلطیاں کر سکتی ہیں۔ ان غلطیوں کے ازالے یا کم سے کم امکان کی صورت کیا ہو گی؟‘‘35
اقبال کے نزدیک اس قسم کی غلط تعبیرات کی روک تھام کا واحد طریقہ یہ ہے کہ علماء کا ایک مشاورتی بورڈ قائم کیا جائے جو اسمبلی کی معاونت اور رہنمائی کر سکے۔ اقبال لکھتے ہیں:
’’انہیں چاہیے، مجالسِ قانون ساز میں علماء کو بطور ایک مؤثر جزو شامل تو کر لیں، لیکن علماء بھی ہر امرِ قانون میں آزادانہ بحث و تمحیص اور اظہارِ رائے کی اجازت دیتے ہوئے اس کی رہنمائی کریں۔ بایں ہمہ شریعتِ اسلامی کی غلط تعبیرات کا سدباب ہو سکتا ہے تو صرف اس طرح کہ بحالتِ موجودہ بلادِ اسلامیہ میں فقہ کی تعلیم جس نہج پر ہو رہی ہے، اس کی اصلاح کی جائے۔ فقہ کا نصاب مزید توسیع کا محتاج ہے، لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کے ساتھ ساتھ جدید فقہ کا مطالعہ بھی باحتیاط اور سوچ سمجھ کر کیا جائے۔‘‘36

(۴) قیاس

اقبالؒ کے نزدیک اجتہاد کا چوتھا اور آخری ماخذ قیاس ہے۔ قانون سازی میں مماثلتوں کی بنا پر استدلال سے کام لینا قیاس کہلاتا ہے۔ اقبال فرماتے ہیں:
’’چوتھا ماخذ قیاس ہے، یعنی قانون سازی میں مماثلتوں کی بنا پر استدلال سے کام لینا۔‘‘37
قیاس کرتے ہوئے اسلام کے بنیادی تقاضوں اور روح کو پیشِ نظر رکھا جاتا ہے اور ان کی روشنی میں نئے احکام اور اصول و قوانین مرتب کیے جاتے ہیں۔ قیاس کی تین صورتیں ہیں:
(۱) کوئی ایسا حکم جو قرآن مجید میں ہو، اس پر کسی دوسرے غیر مذکور حکم کو قیاس کرنا۔
(۲) کوئی ایسا حکم جو حدیث میں ہو، اس پر کسی غیر مذکور حکم کو قیاس کرنا۔
(۳) کوئی ایسا حکم جو اجماع سے ثابت ہو، اس پر قیاس کرنا۔
اقبال کا واضح نقطہ نظر یہ ہے کہ قیاس صرف اسی موقع پر عمل میں آئے گا جہاں قرآن، سنتِ رسولؐ اور اجماع رہنمائی نہ کرے۔ اقبال فرماتے ہیں کہ
’’قیاس کو ٹھیک ٹھیک سمجھ کر کام میں لایا جائے تو، جیسا کہ امام شافعی کا ارشاد ہے، وہ اجتہاد ہی کا دوسرا نام ہے۔ اور اس لیے نصوصِ قرآنی کی حدود کے اندر ہمیں اس کے استعمال کی پوری پوری آزادی ہونی چاہیے۔ پھر بحیثیت ایک اصولِ قانون اس کی اہمیت کا اندازہ صرف اس بات سے ہو جاتا ہے کہ بقول قاضی شوکانی زیادہ تر فقہاء اس امر کے قائل تھے کہ حضور رسالتمابؐ کی حیاتِ طیبہ میں بھی قیاس سے کام لینے کی اجازت تھی۔‘‘38
علامہؒ زندگی کو ایک مسلسل تخلیقی بہاؤ قرار دیتے ہیں۔ اس میں جمود، سکونت اور ٹھہراؤ نہیں بلکہ روانی، حرکت اور ارتقا اس کی فطرت ہے۔ اس لیے ہر زماں اپنے قانونی نظام کا ازسرنو جائزہ لینا اور اسے Reconstruct کرنا لازمی ہے۔ زندگی کے اندر بڑھنے اور پھلنے پھولنے کی وہی طاقت ہے جو بیج میں درخت بننے کی قوت ہوتی ہے۔ ڈاکٹر خالد مسعود اپنی کتاب ’’اقبال کا تصورِ اجتہاد‘‘ میں اجتہاد کے تصور کے حوالے سے رقمطراز ہیں:
’’یہ بحرِ حیات کی موجوں کا اضطراب ہے۔ رمِ زندگی ہے، ولولۂ شوق ہے۔ لذتِ پرواز ہے۔ جراتِ نمو ہے۔ یہ طوفانِ زندگی سے نبرد آزمائی کا عزم ہے۔ یہ تندیٔ باد مخالف کے تھپڑوں کا مقابلہ کرنے کا شاہینی شکوہ ہے۔ عزیمت کی راہ ہے۔ نغمۂ تارِ حیات ہے اور کشمکشِ انقلاب ہے۔‘‘39
گویا زندگی ہر دم منزلِ نو کی طرف گامزن ہے۔ جمود اور سکون اس کی سرشت میں نہیں۔ تغیر و ارتقا اس کے لیے وجۂ ثبات ہے۔ تو ضرورت ہے کہ رمِ آہو کی مانند ہر دم نئے راستوں اور راہوں پر گامزن حیاتِ مسلسل کے لیے کچھ ایسے ابدی اصول و قوانین ہوں جو زندگی کے تغیرات کی رہنمائی کر سکیں۔ حضرت علامہ اقبالؒ نے اپنے خطبہ ’الاجتہاد فی الاسلام‘‘ میں اسی امر کی طرف توجہ مبذول کروائی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اگر ہم جدید دور میں نئے حالات اور ماحول کی روشنی میں زندگی کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے اندر اجتہادی فکر کا پیدا کرنا ازبس ضروری ہے۔ حضرت علامہ کا خطبہ ’’الاجتہاد فی الاسلام‘‘ ممالک اسلامیہ کے لیے ایک Guideline ہے جس سے استفادہ کر کے مسلمان نہ صرف اپنے آپ کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کر سکتے ہیں بلکہ ترقی یافتہ قوموں کی صف میں اپنا ایک منفرد مقام بھی بنا سکتے ہیں۔

حوالہ جات

  1. ’’فکرِ اقبال‘‘ ص ۱۴۹ ۔ خلیفہ عبد الحکیم ۔ بزمِ اقبال، لاہور ( ۱۹۶۸ء) ۔
  2. ’’تشکیلِ جدید الٰہیات اسلامیہ‘‘ ص ۲۲۳ ۔ ترجمہ: سید نذیر نیازی ۔ بزمِ اقبال، لاہور (۱۹۸۶ء) ۔
  3. ’’فکرِ اسلامی کی تشکیلِ نو‘‘ ص ۱۵۱، ۱۵۲ ۔ پروفیسر محمد عثمان ۔ سنگ میل پبلیکیشنز، لاہور (۱۹۸۷ء) ۔
  4. ’’تشکیلِ جدید الٰہیاتِ اسلامیہ‘‘ ص ۲۲۷، ۲۲۸۔
  5. ایضاً ص ۲۲۸
  6. ایضاً۔
  7. ایضاً۔
  8. ’’فکرِ اسلامی کی تشکیلِ نو‘‘ ص ۱۵۳، ۱۵۴۔
  9. ’’تشکیلِ جدید الٰہیاتِ اسلامیہ‘‘ ص ۲۵۰۔
  10. ایضاً ص ۲۳۶۔
  11. ’’کلیاتِ اقبال‘‘ ۔ اقبالؒ ۔ شیخ غلام علی اینڈ سنز لاہور (۱۹۸۲ء)۔
  12. ’’مطالعۂ اقبال کے چند نئے رخ‘‘ ص ۱۲۱، ۱۲۲ ۔ ڈاکٹر سید عبد اللہ ۔ بزمِ اقبال لاہور (۱۹۸۲ء)۔
  13. ’’تشکیلِ جدید الٰہیاتِ اسلامیہ‘‘ ص ۲۵۱، ۲۵۲۔
  14. ’’اقبال نامہ‘‘ (حصہ اول) ص ۱۴۴ ۔ محمد اقبال ۔ مرتبہ: شیخ عطاء اللہ ۔ ناشر: شیخ محمد اشرف، لاہور۔
  15. ’’تشکیلِ جدید الٰہیاتِ اسلامیہ‘‘ ص ۲۳۶۔
  16. ایضاً ص ۲۳۷۔
  17. ایضاً ص ۲۳۹۔
  18. ایضاً ص ۲۴۸۔
  19. ایضاً۔
  20. ایضا۔ ص ۲۴۹۔
  21. ایضاً ص ۲۶۱، ۲۶۲۔
  22. ایضاً ص ۲۵۵، ۲۵۶۔
  23. ایضاً ص ۲۵۷۔
  24. ایضاً۔
  25. ایضاً ص ۲۵۷، ۲۵۸۔
  26. ایضاً ص ۲۶۴۔
  27. ایضاً ص ۲۶۵، ۲۶۶۔
  28. ایضاً۔
  29. ایضاً۔ ص ۲۶۶، ۲۶۷۔
  30. ایضاً۔
  31. ایضاً۔
  32. ’’مسئلہ اجتہاد‘‘ ص ۱۰۱، ۱۰۲ ۔ مولانا محمد حنیف ندوی ۔ ادارہ ثقافتِ اسلامیہ، لاہور (۱۹۸۳ء)۔
  33. ’’تشکیلِ جدید الٰہیاتِ اسلامیہ‘‘ ص ۲۶۷، ۲۶۸۔
  34. ایضاً ص ۲۶۸۔
  35. ایضاً ص ۲۷۰۔
  36. ایضاً ص ۲۷۱۔
  37. ایضاً۔
  38. ایضاً ص ۲۷۴۔
  39. ’’اقبال کا تصورِ اجتہاد‘‘ ص ۲۳۶ ۔ ڈاکٹر خالد مسعود ۔ مطبوعاتِ حرمت، راولپنڈی (۱۹۸۵ء)۔

اسلام اور مغرب کی کشمکش ۔ برطانوی ولی عہد کی نظر میں

ادارہ

(آکسفورڈ (برطانیہ) میں اسلامی تعلیمات کے مطالعہ کا  مرکز ’’آکسفورڈ سنٹر فار اسلامک اسٹڈیز‘‘ کے نام سے مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی دامت برکاتہم کی سرپرستی اور نگرانی میں قائم ہے جس کے ڈائریکٹر معروف دانشور ڈاکٹر فرحان احمد نظامی ہیں جو برصغیر کے نامور محقق و مصنف جناب پروفیسر خلیق احمد نظامی کے فرزند اور صاحبِ فکر و بصیرت استاذ ہیں۔ برطانوی ولی عہد شہزادہ چارلس نے ستمبر ۱۹۹۳ء کے دوران اس سنٹر میں اسلام اور مغرب کے تعلقات کے حوالہ سے ایک تقریب میں مفصل خطاب کیا، ہم اس خطاب کا مکمل متن اور مصدقہ اردو ترجمہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جسے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جائے گا، ان شاء اللہ العزیز، سرِدست ماہنامہ ترجمان القرآن لاہور میں اس کا شائع شدہ خلاصہ ادارہ ترجمان القرآن کے شکریہ کے ساتھ نذرِ قارئین ہے۔ ادارہ)
عالمِ اسلام اور مغربی دنیا کے درمیان روابط آج جتنی اہمیت رکھتے ہیں پہلے کبھی نہ رکھتے تھے۔ آج کی باہم منحصر دنیا میں دونوں کو ساتھ رہنے اور ساتھ کام کرنے کی ضرورت شدید ہے لیکن دونوں کے درمیان سنگین غلط فہمیاں موجود ہیں اور ان میں مسلسل اضافہ ہی ہو رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ مغرب کی غلط فہمیوں کی وجہ اسلام اور مسلمانوں سے ناواقفیت نہیں، آخر مسلمان ہمارے ہی آس پاس رہتے ہیں، خود برطانیہ میں پانچ سو مسجدیں ہیں اور ۱۹۷۶ء کے ’’فیسٹیول آف اسلام‘‘ کی یادیں ابھی تازہ ہیں۔
نوے کے عشرے میں، سرد جنگ کے بعد، امن کے امکانات اس صدی میں کسی دوسرے دور سے زیادہ ہونا چاہیے تھے، لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ سابق یوگوسلاویہ میں، صومالیہ، انگولا اور سوڈان میں، اور سابق سوویت جمہوریتوں میں نفرت اور تشدد نے لوگوں کو مصیبت میں مبتلا کر رکھا ہے۔ بوسنیا کے مسلمانوں پر خوفناک مظالم نے اس خوف اور بداعتمادی کو نئی زندگی دی ہے جو ہماری دو دنیاؤں کے درمیان پہلے سے موجود ہیں۔
کشمکش اور تنازع کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ دونوں فریق ایک دوسرے کی بات نہ سمجھ پا رہے ہوں۔ ہمیں باہمی خوف اور انتشار کے ایک نئے دور میں محض اس لیے نہ داخل ہو جانا چاہیے کہ حکومتیں، عوام، مذاہب اور مختلف طبقات ایک سکڑتی ہوئی دنیا میں پُراَمن زندگی گزارنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔ جو مشترک امور اسلام اور مغرب کو قریب کرتے ہیں، وہ ان سے بہت زیادہ طاقتور ہیں جو دونوں کو دور کرتے ہیں۔ مسلمان، عیسائی اور یہودی اہلِ کتاب ہیں۔ اسلام اور عیسائیت ایک خدا پر، اس دنیاوی زندگی کے عارضی ہونے پر، اپنے اعمال کی جوابدہی پر اور اخروی زندگی پر یقین رکھنے میں یکساں ہیں۔ احترام، علم و عدل، محروموں سے حسنِ سلوک، اور خاندانی زندگی کی اہمیت ہماری مشترک اقدار ہیں۔ اپنی ماں اور اپنے باپ کی عزت کرنا، یہ قرآن کا بھی حکم ہے۔
مسئلہ کی ایک جڑ یہ ہے کہ ہماری چودہ سو سال کی تاریخ باہمی کشمکش اور تصادم کی تاریخ ہے۔ اس نے خوف اور بد اعتمادی کی ایسی روایت کو جنم دیا ہے کہ ہم تاریخ کو متضاد نقطۂ نظر سے دیکھتے ہیں۔ مغرب کے سکول کے طالب علموں کے لیے صلیبی جنگوں کے دو سو برس اس دلیرانہ جدوجہد کی داستان ہیں جو یورپ کے بچے بچے نے یروشلم کو ’’کافر‘‘ مسلمانوں سے آزاد کرانے کے لیے کی۔ لیکن مسلمانوں کے لیے صلیبی جنگیں مغرب کے ’’کافر‘‘ سپاہیوں کے ظلم و ستم اور لوٹ کھسوٹ کی داستان ہیں جس کی بدترین علامت وہ قتل و غارت ہے جو ۱۰۹۹ء میں اسلام کے تیسرے مقدس ترین شہر کو واپس لیتے ہوئے صلیبیوں نے برپا کی۔ ہمارے لیے مغرب میں ۱۴۹۲ء وہ اہم سال ہے جب کولمبس نے امریکہ کی نئی دریافت کی۔ مسلمانوں کے لیے یہ ایک المیہ کا سال تھا جب فرڈیننڈ اور ازابیلا کے آگے غرناطہ سرنگوں ہوا اور یورپ میں مسلمانوں کی آٹھ سو سالہ تہذیب کا خاتمہ ہوا۔ اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ سچ کیا ہے، بلکہ یہ ہے کہ دنیا، اس کی تاریخ اور اس میں اپنے کردار کے بارے میں ہم دوسروں کا نقطۂ نظر نہیں سمجھ پاتے۔
اس کا یہ نتیجہ ہے کہ ہم ماضی میں اسلام کو فاتح کی حیثیت سے ایک خطرہ سمجھتے رہے، اور اب جدید دور میں اسے عدمِ رواداری، انتہا پسندی اور تشدد کا منبع تصور کرتے ہیں۔ یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ۱۴۵۳ء میں جب قسطنطنیہ سلطان محمد کے آگے سرنگوں ہو گیا اور ۱۵۲۹ء اور ۱۶۸۳ء میں جب ترکی وی آنا کے دروازوں تک پہنچ گئے تھے تو یورپ کے حکمرانوں پر کیوں لرزہ طاری ہو گیا تھا۔ عثمانیوں کے دور میں بھی بلقان میں ظلم کی ایسی مثالیں سامنے آئیں جو مغرب کے شعور پر ثبت ہو گئیں، مگر یہ یکطرفہ نہ تھا۔ ۱۷۹۸ء میں مصر پر نپولین کے حملہ اور اس کے بعد انیسویں صدی کی فتوحات نے حالات کو پلٹ دیا، اور تقریباً تمام عرب دنیا مغربی طاقتوں کے استعمار کا شکار ہو گئیں۔ سلطنتِ عثمانیہ کے زوال کے ساتھ اسلام پر یورپ کی فتح مکمل ہو گئی۔
فتوحات کا دور تو گزر گیا لیکن اب بھی اسلام کے بارے میں ہمارا رویہ درست نہیں ہوا ہے۔ ہماری نظروں میں جو اسلام ہے وہ یہ ہے جسے انتہا پسندوں نے ’’اغوا‘‘ کیا ہوا ہے۔ مغرب میں ہم میں سے بیشتر، اسلام کو لبنان کی خانہ جنگی اور شرقِ اوسط کے انتہا پسند گروہوں کی جانب سے قتل اور بم پھینکنے کی وارداتوں، جسے اب عام طور پر اسلامی بنیاد پرستی کہہ دیا جاتا ہے، کے آئینہ میں دیکھتے ہیں۔ غیر معمولی انتہاؤں کو معمول قرار دے کر ہم نے اسلام کے بارے میں اپنی رائے کو مسخ کر دیا ہے، یہ بڑی سنگین غلطی ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے ہم برطانوی معاشرے میں قتل، عصمت دری، نشہ بازی اور بچوں پر ظلم کے واقعات سے یہاں کی زندگی کے بارے میں رائے قائم کریں۔ انتہاؤں کا وجود کہاں نہیں ہوتا، لیکن اگر انہیں کسی معاشرے کے بارے میں فیصلہ کرنے کی بنیاد بنا لیا جائے تو حقائق مسخ ہو جاتے ہیں۔
مثال کے طور پر، اس ملک میں اکثر لوگ کہتے ہیں کہ ٍشرعی قوانین ظالمانہ ہیں، اور ہمارے اخبارات بھی ان تعصبات کو بہت شوق سے آگے بڑھاتے ہیں۔ حقیقت یقیناً اس سے بہت مختلف ہے۔ میرا خیال ہے کہ ہاتھ کاٹنے جیسے انتہائی اقدامات پر شاذ ہی عمل ہوتا ہے۔ اسلامی قانون کی روح اور راہنما اصول اگر قرآن سے براہ راست اخذ کیے جائیں تو ہمدردی اور انصاف ہونا چاہیے۔ اپنا فیصلہ دینے سے پہلے ہمیں ان کے عملی نفاذ کی صورتحال کے بارے میں بھی معلومات حاصل کرنا چاہئیں۔ اس وقت خود اسلامی دنیا میں زیر بحث ہے کہ اسلامی قانون کہاں تک آفاقی یا ابدی ہے، اور کہاں تک اس میں نفاذ کے حوالے سے تبدیلی اور ارتقا ہونا چاہیے۔ ہمیں اسلام اور بعض اسلامی ممالک کے رسوم و رواج میں بھی فرق کرنا چاہیے۔
مغرب کا ایک واضح تعصب اسلامی معاشرہ میں خواتین کے مقام کے حوالے سے ہے۔ حالانکہ مصر، ترکی اور شام نے سوئٹزرلینڈ سے بہت پہلے ہی عورتوں کو ووٹ کا حق دیا۔ چودہ سو سال پہلے قرآن نے خواتین کو جائیداد، وراثت، تجارت اور طلاق کی صورت میں بعض تحفظات کے حقوق دیے، خواہ ان پر ہر جگہ عمل نہ کیا گیا ہو۔ برطانیہ میں یہ حقوق میری دادی اور ان کے اہل خاندان کے لیے بھی نئے تھے۔ خالدہ ضیا اور بے نظیر بھٹو اپنے روایتی معاشروں میں اس وقت وزیراعظم بنیں جب برطانیہ کی تاریخ میں پہلی خاتون وزیراعظم کا انتخاب ہوا۔
اسلامی معاشرے میں عورت خودبخود دوسرے درجے کی شہری نہیں بن جاتی۔ بہت زیادہ قدامت پسند ملک میں عورت کے مقام کو دیکھ کر اسلامی معاشروں میں اس کے مقام کا اندازہ نہیں لگانا چاہیے۔ پردہ کا رواج بھی تمام اسلامی ممالک میں نہیں ہے۔ مجھے یہ جان کر حیرانی ہوئی کہ پردہ کی ابتدا بازنطینی اور ساسانی ادوار میں ہوئی، پیغمبرؐ اسلام کے دور سے نہیں۔ بعض مسلمان خواتین سرے سے پردہ نہیں کرتیں، بعض نے اسے ترک کر دیا ہے۔ حالیہ دور میں بعض نے، خصوصاً نوجوان نسل نے پردہ اختیار کیا ہے تو اپنی اسلامی شناخت کے اظہار کے لیے۔
ہمیں یہ بھی جاننا چاہیے کہ اسلامی دنیا ہمارے بارے میں کیا رائے رکھتی ہے۔ اگر ہم یہ جاننے سے انکار کر دیں کہ اسلامی دنیا یورپ کی مادی ثقافت کو اپنی اقدار اور طرزِ حیات کے لیے خطرہ تصور کرتی ہے تو اس سے ہمیں نقصان زیادہ اور فائدے کم ہوں گے۔ اسی طرح بعض اسلامی اقدار کے بارے میں یورپی لوگوں کے ردعمل کا اسلامی دنیا میں سمجھا جانا ضروری ہے۔
ہمیں بنیادی پرستی کے لیبل کے بارے میں بھی محتاط ہونا چاہیے۔ ہمیں احیائے اسلام کے ان علمبرداروں میں جو اپنے مذہب پر مکمل طور پر عمل کرنا چاہتے ہیں، اور ان جنونی انتہا پسندوں میں فرق کرنا چاہیے جو اس تعلق کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ احیائے اسلام کو تحریک درحقیقت اس احساس سے ملی ہے کہ مغرب نے جو کچھ مادی حوالے سے دیا ہے وہ ناکافی ہے اور حقیقی معنوں میں زندگی کو تسکین دراصل اسلامی عقیدہ ہی سے ملتی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ انتہا پسندی کچھ مسلمانوں کے ساتھ ہی خاص نہیں ہے، عیسائیت سمیت یہ دوسرے مذاہب میں بھی موجود ہے۔ مسلمانوں کی عظیم اکثریت، جو ذاتی طور پر نیک ہے، سیاست میں معتدل روش اختیار کرتی ہے۔ پیغمبرِ اسلامؐ خود انتہا پسندی کو ناپسند کرتے تھے، یہ مذہب اعتدال کا مذہب ہے۔
ہماری تہذیب اور تمدن پر اسلامی دنیا کے جو احسانات ہیں ہم ان سے بڑی حد تک ناواقف ہیں۔ وسطِ ایشیا سے بحرِ اوقیانوس کے ساحلوں تک پھیلی ہوئی اسلامی دنیا علم و دانش کا گہوارہ تھی۔ لیکن اسلام کو ایک دشمن مذہب اور اجنبی تہذیب قرار دینے کی وجہ سے ہمارے اندر اپنی تاریخ پر اس کے اثرات کو نظرانداز کرنے یا مٹانے کا رجحان رہا۔ ہم نے اسپین میں مسلمانوں کی آٹھ سو برس کی تہذیب کی اہمیت کو محسوس نہیں کیا۔ مغرب میں احیائے تہذیب کی تحریک پر مسلم اسپین نے گہرے اثرات ڈالے۔ یہاں علوم کی ترقی سے یورپ نے صدیوں بعد تک فائدہ اٹھایا۔ دسویں صدی میں قرطبہ یورپ کا مہذب ترین شہر تھا۔ حکمران کی لائبریری میں موجود چار لاکھ کتب پورے یورپ کی لائبریریوں کی کتب کی تعداد سے زائد تھیں۔ یہ اس لیے ممکن ہوا کہ غیر مسلم یورپ سے چار سو سال پہلے مسلمانوں نے چین سے کاغذ بنانے کی مہارت حاصل کر لی تھی۔
جدید یورپ آج جن باتوں پر فخر کرتا ہے اس نے مسلم اسپین سے حاصل کیں۔ سفارت کاری، آزاد تجارت، کھلی سرحدیں، علمی تحقیق کے طریقے، ایٹیکیٹ، فیشن، ہسپتال، ادویات، سب کچھ اس عظیم شہر سے ہی آتے تھے۔ اپنے وقت میں اسلام رواداری کا مذہب تھا جس نے یہودیوں اور عیسائیوں کو ان کے عقائد کے مطابق عمل کی آزادی دی اور ایسی مثال پیش کی جس پر بدقسمتی سے کئی صدیوں تک یورپ عمل نہ کر سکا۔ یہ بات حیرتناک ہے کہ اسلام کو یورپ میں، پہلے اسپین میں اور پھر بلقان میں، اتنا طویل عرصہ دخل رہا۔ اس نے ہماری تہذیب کی تعمیر میں، جسے ہم اکثر غلطی سے صرف مغربی قرار دیتے ہیں، اپنا حصہ ادا کیا۔ دراصل اسلام ہمارے ماضی اور حال کا حصہ ہے، اس نے جدید یورپ کی تعمیر میں اپنا حصہ ادا کیا ہے، اسلام ہمارا ورثہ ہے۔
اس دنیا میں  مل جل کر رہنے کے لیے اسلام کے دامن میں وہ کچھ ہے جو اب عیسائیت کے پاس نہیں ہے۔ اسلام کا کائنات اور انسان کا تصور ایک جامع، ہمہ گیر تصور ہے جو زندگی کے ہر پہلو کا احاطہ کرتا ہے، اسلام میں پوری زندگی ایک اکائی ہے۔ مغرب کی ساری ترقی یک رخی ہے، اگر ہم نے زندگی کے ہمہ جہتی انداز کو نہ سمجھا تو ہو سکتا ہے کہ ہم اس دھارے میں بہہ جائیں جہاں ہمارا علم ہمیں محض کارِ جہاں سکھائے اور ہم دنیا کے حسن اور توازن کو بگاڑ دیں۔ دنیا کے بارے میں احساسِ مسئولیت اور اس کی نگرانی و بہبود کی ذمہ داری کا جو تصور اسلام نے دیا ہے، ہم مغرب میں اس سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ زندگی کے مادی اور روحانی پہلو میں جو توازن ہم کھو چکے ہیں وہ ہمیں دوبارہ حاصل کرنا ہے، یہ نہ ہوا تو ہم تباہی تک پہنچ جائیں گے۔
آج ہم رسل و رسائل و ابلاغ کی ایک ایسی دنیا میں زندگی بسر کر رہے ہیں جس کا تصور بھی ہمارے آباؤ اجداد نہ کر سکتے تھے۔ عالمی معیشت باہم منحصر ایک وحدت کی حیثیت سے کام کرتی ہے۔ معاشرہ کے مسائل، زندگی کا معیار، ماحول، یہ سب اپنے اسباب و نتائج کے حوالہ سے عالمی نوعیت اختیار کر چکے ہیں۔ ہم میں کوئی صرف خود انہیں حل نہیں کر سکتا۔
اسلامی اور مغربی دنیا کو مشترک مسائل کا سامنا ہے۔ ہم اپنے معاشروں میں آنے والی تبدیلیوں سے کس طرح اپنے آپ کو ہم آہنگ کرتے ہیں؟ ہم ان نوجوانوں کی کیا مدد کر سکتے ہیں جو معاشرہ کی اقدار اور والدین سے دور ہونے کا احساس رکھتے ہیں؟ ہم منشیات، ایڈز اور خاندانی نظام کے بکھر جانے کا کس طرح مقابلہ کرتے ہیں؟ ہمارے اندرون شہر کے مسائل قاہرہ اور دمشق کے مسائل کی طرح نہیں ہیں لیکن انسانی تجربات میں مماثلت ضرور ہے۔ منشیات کا بین الاقوامی کاروبار، اور ماحول کو ہم جو نقصان پہنچا رہے ہیں، یہ بھی ہمارے مشترک مسائل ہیں۔ جس طرح بھی ہو، ہمیں ایک دوسرے کو سمجھنا ہو گا۔ ہمیں اپنے بچوں کو درست تعلیم دینا ہو گی تاکہ ان کا نقطۂ نظر اور سوچ ہم سے مختلف ہو اور وہ ایک دوسرے کو سمجھیں۔ مشترک مسائل کے حل کے سلسلہ میں اسلامی اور مغربی دنیا ایک دوسرے سے الگ تھلگ نہیں رہ سکتے۔
ہمارے لیے یہ ممکن نہیں ہے اور نہ مناسب، کہ ماضی کی سیاست اور علاقائی تلخیوں کو دوبارہ زندہ کریں۔ ہمیں اپنے تجربات میں ایک دوسرے کو شریک کرنا ہو گا۔ باہم تبادلہ خیال کرنا ہو گا۔ ثقافتی ورثہ میں جو کچھ مشترک ہے اسے اپنانا ہو گا۔ ہمیں تدبر کی اہمیت کو محسوس کرنا ہو گا تاکہ ہمارے ذہن کشادہ ہوں اور دلوں کے قفل بھی کھلیں۔ یقیناً عالم اسلام اور مغرب ایک دوسرے سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ ایسا نہیں چاہیے کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے الگ تھلگ رہیں، ضروری نہیں کہ ان میں تصادم ہو، اسلام اور مغرب ایک دوسرے کو بہت کچھ دے سکتے ہیں۔ ہم دونوں کو مل کر بہت کچھ کرنا ہے۔ باہمی نفرت کو ختم کرنے اور خوف و بد اعتمادی کی لعنت کو دور کرنے کے لیے ابھی بہت کچھ کیا جانا ہے۔ ہم اس راہ پر جتنا آگے بڑھیں گے آنے والی نسلوں کے لیے اتنی ہی بہتر دنیا بنا سکیں گے۔

پاکستان کے بارے میں امریکی عزائم کی ایک جھلک

ڈاکٹر محمود الرحمٰن فیصل

السلام علیکم!
اتفاق سے آپ کی دوسری وزارتِ عظمٰی سیاستِ دوراں میں کچھ تیزی لانے کا باعث بنی ہے۔ یہ حکومت بنانے میں کامیابی کا شاخسانہ ہے کہ آپ نے انتخابات کو آزادانہ، منصفانہ اور شفاف قرار دیا ہے۔ اس سبب سے جہاں الیکشن کمیشن، فوج اور عدلیہ شکریہ کے مستحق قرار پائے ہیں وہاں سب سے زیادہ خراجِ تحسین نگران وزیر اعظم معین قریشی کو ملنا چاہیے جو آپ سے وزارتِ عظمٰی کے بدلہ میں پھولوں کا گلدستہ وصول کر کے سیدھے واشنگٹن واپس پہنچے، وہ اس مشن کی تکمیل کامیابی سے کر چکے تھے جسے پورا کرنے کے لیے انہیں درآمد کیا گیا تھا۔
قبل ازیں پاکستان کو امریکی نوآبادیاتی نظام (Neo-colonialism) کا حصہ سمجھا جاتا تھا اور امریکی سفیر کو یہاں وائسرائے بہادر کا درجہ حاصل تھا۔ لیکن اب بات اس سے کہیں آگے بڑھ چکی ہے اور انکل سام اپنے احکامات پر حرف بحرف عملدرآمد کرانے پر بضد ہے۔ نگران حکومت نے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کی ریکوری ٹیم کا کردار ادا کیا۔ معین قریشی نے ایک تحلیل کنندہ (Liquidator) کی طرح پاکستان کی عوام کا خون نچوڑ کر سود کی رقم بدیشی آقاؤں کی خدمت میں پیش کر دی۔ امریکہ جن اقتصادی پابندیوں کے ذریعے ایران، لیبیا، عراق اور سوڈان کو نیچا دکھا کر عالمِ اسلام کو کمزور کرنے کا سلسلہ شروع کر چکا تھا، پاکستانی کرنسی کی قیمت کم کر کے وہی مقاصد حاصل کر لیے گئے۔ بنیادی ضروریاتِ زندگی کو مہنگائی کے ذریعے عام آدمی کی دسترس سے دور کر دیا گیا۔ پاکستانی باشندوں کو مقدمہ چلانے کے لیے امریکہ کے حوالے کر کے ملک کی عزت و ناموس کو نیلام کیا گیا۔ منشیات کے نام پر موت کی سزا کا آرڈیننس جاری کر کے ثابت کیا گیا کہ جو سزا امریکی شہریوں کو نہیں دی جا سکتی وہ پاکستان میں اس لیے نافذ کی گئی کہ یہ غلاموں کا ملک ہے، امریکی جنرل ہوور کو سیاچن جیسے علاقے کا دورہ کرایا گیا۔
نام نہاد عالمی مبصرین کی ٹیمیں بھی ایک سازش کے تحت پاکستان آئی تھیں۔ امریکی قانون ساز ادارے نے ۱۹۹۰ء سے ’’پاکستان کی امداد‘‘ کے ممبران سے یہ شرط عائد کر رکھی ہے کہ پاکستان کی اقتصادی امداد، فوجی امداد اور تعلیم و تربیت کے پروگرام اس شرط پر جاری رکھے جائیں گے کہ پاکستان میں انتخابات عالمی نگرانی میں (Internationally Monitored)  منعقد ہوں گے اور خصوصی عدالتیں ان کی راہ میں مزاحمت نہیں ہوں گی۔ یہی وجہ ہے کہ ان ٹیموں سے آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد کے سرٹیفکیٹ حاصل کیے گئے۔ یہ ملکی معاملات میں بیرونی مداخلت کی بہترین مثال تھی۔ صہیونی لابی کی اس سے بھی بڑی سازش پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو ختم (Roll back) کرنا ہے۔ عالمی نظامِ نو (نیو ورلڈ آرڈر) کی کامیابی کے لیے بھارت اور اسرائیل کے تعاون سے اس فریضہ کو سرانجام دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
فحاشی اور عریانی کا فروغ اخلاق باختہ مغرب کی اندھادھند پیروی سے ہو رہا ہے۔ یہودی گماشتے عیسائی دنیا کو فحاشی کا دلدادہ بنا کر اب باقی ماندہ اقوام کو بھی اسی دلدل میں گھسیٹ رہے ہیں تاکہ انہیں ناکارہ بنا کر اپنے دامِ پُرفریب میں لا سکیں اور اپنے نئے عالمی نظام کو دنیا پر مسلط کر سکیں۔ اگر اس کے حل کی طرف فوری توجہ نہ دی گئی تو ایڈز کی وبا مسلم ممالک کا رخ کرے گی۔
نفاذِ شریعت (Islamaization) سے دراصل اسلام کی نشاۃِ ثانیہ اور اس کا احیا مراد ہے۔ درباری ملاؤں کی تخمین و ظن سے دامن بچاتے ہوئے اسلام کے ازلی، ابدی اور آفاقی اصولوں پر مبنی نظام کا قیام ضروری ہے۔ آپ کی سابقہ کابینہ کے ایک اجلاس میں شرعی قوانین کو فرسودہ (Archaic) اور وحشیانہ (Barbaric) کہا گیا تھا جس کا نوٹس سپریم کورٹ نے بھی لیا۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ آئندہ مغربی پراپیگنڈے سے متاثر ہوئے بغیر سابقہ روش کو خیرباد کہا جائے۔
آئین میں چند اسلامی دفعات نمائشی طور پر شامل کر دی گئی ہیں لیکن انہیں دیگر دفعات پر کوئی فوقیت نہیں دی گئی۔ وزارتِ قانون پر غیر اسلامی قوانین بنانے پر کوئی قدغن نہیں۔ یہ عوام پر چھوڑ دیا گیا ہے کہ وہ اگر فارغ ہوں تو اپنے وسائل خرچ کر کے ان غیر اسلامی قوانین کو وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کر سکتے ہیں۔ اگر عدالت انہیں غیر اسلامی قرار دے بھی دے تو حکومت حسبِ عادت سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دیتی ہے۔ سالہا سال کے بعد اگر فیصلہ ہو جائے تو سرکار کارپرداز معمولی ردوبدل کے بعد وہی قانون دوبارہ نافذ کر دیتے ہیں اور معترضین کو ایک بار پھر وفاقی شرعی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کا مشورہ دیتے ہیں۔
پارلیمنٹ کے اکثر ممبران بنیادی اسلامی تعلیمات سے نابلد ہوتے ہیں اور آرٹیکل ۶۲ اور ۶۳ کے تقاضے پورے نہ کرتے ہوئے بھی پارلیمان میں جا بیٹھتے ہیں۔ لہٰذا قوانین وہ نہیں بناتے، بلکہ وزارتِ قانون میں بیٹھا ہوا ایک ڈرافٹس مین تیار کرتا ہے۔ پارلیمنٹ کا کام صرف ان پر انگوٹھا لگانا ہوتا ہے۔ اتنے اہم معاملہ سے حکومت کا اغماض، غفلت شعاری کے زمرہ میں آتا ہے اور اس غیر ذمہ داری پر اسے معاف نہیں کیا جا سکتا۔
سب سے بڑی مثال سود کے بارے میں وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ ہے، جس پر عملدرآمد کرنے کی بجائے سابقہ حکومت اپیل میں چلی گئی۔ یہ فیصلہ راقم الحروف کی درخواست پر دیا گیا اور اب اس کی اپیل ’’وفاق پاکستان بنام ڈاکٹر محمود الرحمٰن فیصل‘‘ سپریم کورٹ میں سماعت کی منتظر ہے۔ سود کے خاتمہ کے لیے آئین میں موجود دفعات پر کاربند ہونے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ تمام علماء، عامۃ الناس، دینی و سیاسی جماعتوں کے متفقہ مطالبہ کے باوجود اس فیصلہ کو من و عن تسلیم نہیں کیا گیا اور نہ سپریم کورٹ سے یہ اپیل واپس لی گئی۔ یہ سود کا وبال تھا جو سابقہ حکومت کی کشتی ڈبو گیا، اب گیند آپ کی کورٹ میں ہے، اللہ اور اس کے رسولؐ کے حکم کو پسِ پشت ڈالنا کسی طرح بھی آپ کے مفاد میں نہیں ہوگا۔ اس ضمن میں قرآن کی سرزنش ملاحظہ ہو:
’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اگر تم مومن ہو تو باقی ماندہ سود کو ختم کر دو۔ اگر تم ایسا نہیں کرتے تو اللہ اور اس کے رسولؐ سے جنگ کے لیے تیار ہو جاؤ۔‘‘ (البقرہ ۲۷۸ و ۲۷۹)
سود کی ممانعت صرف دینِ اسلام میں ہی نہیں بلکہ دیگر آسمانی ادیان بشمول عیسائیت و یہودیت میں بھی سود کا لین دین منع ہے۔ لہٰذا اس ضمن میں معذرت خواہانہ رویہ اپنانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ جدید ماہرینِ معاشیات سود کے ظالمانہ نظام کی تباہ کاریوں سے واقف ہو چکے ہیں، اسی لیے لارڈ کینز نے دورِ حاضر میں صفر شرح سود (Zero Rate of Interest) کو مثالی قرار دیا ہے اور اس طرح سود کے خاتمہ کو اپنا آئیڈیل بنایا ہے۔ دنیا بھر میں پائی جانے والی غربت، مہنگائی، افراطِ زر اور معاشی ناہمواری سود کی مرہون منت ہے۔ ہر سال کی جانے والی خسارے کی سرمایہ کاری اور انڈیکیشن سود کی مرہون منت ہے۔ اس کا خاتمہ ہو جائے تو پوری دنیا سکھ کا سانس لے گی۔ اگر عالمی مالیاتی نظام مختلف ہے تو ہم اس کے پابند نہیں۔ ابتدا میں قربانی بھی دینا پڑے تو ایک نظریاتی مملکت ہونے کی بنا پر پاکستان کو اس سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔
کشمیر کا مسئلہ انتہائی نازک معاملہ ہے۔ آپ کے انتخاب پر سب سے پہلے بھارتی وزیر اعظم نرسیماراؤ نے مبارکباد بھجواتے ہوئے کشمیر کے بارے میں مذاکرات کی پیشکش کی۔ بھارتی حکمران آپ کی حکومت سے کچھ زیادہ ہی توقعات وابستہ کیے ہوئے ہیں کیونکہ ماضی کا تجربہ ان کے سامنے ہے۔ بھارت نے اپنی بڑی کامیابی شملہ معاہدہ کی صورت میں پہلے ہی حاصل کر رکھی ہے، جس کی رو سے کشمیر کا مسئلہ کے حل کے لیے عالمی ادارے بشمول اقوامِ متحدہ مداخلت کے لیے مجاز نہیں ہیں۔
پاک فوج کا تشخص بہتر بنانے اور امیج بحال کرنے کی جانب کافی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ۱۹۷۱ء کے بعد آرمی کا مورال بلند کرنے کے لیے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے۔ جنرل ضیاء کے مارشل لاء کے بعد فوج کو سیاست میں ملوث کرنے کی پوری کوشش کی گئی اور اسے مستقل سیاسی کردار دیے جانے کی بات ہوئی۔ فوج کے ایک سربراہ کو آپ نے تمغۂ جمہوریت بھی دیا۔ آپ کی پارٹی کے پہلے دورِ حکومت میں سول مارشل لاء کی بدعت ڈالی گئی جس کے اثرات آمرانہ سول حکومت کی صورت میں سامنے آئے۔ جمہوریت ہنوز اس قابل نہیں ہو سکی کہ فوج کی مدد کے بغیر اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکے۔
خلیج کی جنگ کے تلخ تجربہ کے بعد اسلامی، آئینی اور اخلاقی تقاضوں کو بالائے طاق رکھ کر پاک فوج کو ایک مرتبہ پھر امریکی کمان میں صومالیہ میں اپنے ہی مسلمان بھائیوں کے خلاف لڑنے پر مجبور کر دیا گیا۔ امریکی صہیونی شاطروں نے صومالیہ میں پاک فوج کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔ ذرائع ابلاغ کے ذریعے اسے بدنام کیا، اور اپنے عالمی نظام کی توسیع اور سوڈان سمیت افریقہ کے مسلم ممالک میں اسلامی احیا کی تحریک کو روکنے کے لیے مہرے کے طور پر استعمال کیا۔ تقریباً سو فیصد مسلم آبادی والے ملک صومالیہ میں قحط زدگان کے لیے امدادی سرگرمیوں کو پسِ پشت ڈال کر وہاں کے سیاسی نظام میں مداخلت اور عوام کے قتلِ عام کا کوئی جواز نہیں تھا۔ خود امریکہ میں صومالیہ سے فوجیں واپس بلانے کا مطالبہ زور پکڑنے کے باوجود ہمارے اربابِ اختیار کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔ صومالیہ میں امریکی مداخلت کے عزائم مندرجہ ذیل تھے جو اس نے بڑی حد تک حاصل کر لیے ہیں:
(۱) اسلامی ملک صومالیہ کے حصے بخرے کرنا، (۲) بحیرہ احمر اور بحر ہند میں آبی راستوں کا کنٹرول حاصل کرنا، (۳) صومالیہ میں خام لوہے اور یورانیم کے ذخائر پر قبضہ کرنا، (۴) سوڈان میں مداخلت کے لیے راہ ہموار کرنا، (۵) بھارت کو اسرائیل کے اتحادی کی حیثیت سے صومالیہ کے معاملات میں لانا، (۶) پاکستان کے خلاف نفرت پیدا کرنا اور پاک فوج کو نقصان پہنچانا، (۷) دنیا بھر میں آئندہ فوجی مداخلت کے لیے جواز فراہم کرنا، (۸) عیسائی قوتوں اور حلیف مسلمانوں کو صومالیہ کی اسلامی ریاست تباہ کرنے کے لیے استعمال کرنا، (۹) صومالیہ کا تشخص اور اسلامی نظریہ تباہ کرنا، (۱۰) بڑی تعداد میں صومالی باشندوں کا انخلا اور ہجرت، (۱۱) اور عالمی اسلامی تحریک کو نقصان پہنچانا۔
ان حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت کی اہم ذمہ دری یہ ہے کہ آئندہ کسی بھی فوجی مہم میں پاک فوج کو سوچے سمجھے بغیر ملوث نہ کیا جائے تاکہ اس کی کردارکشی کی نوبت نہ آئے۔ بوسنیا کے حالات اس امر کے زیادہ متقاضی تھے کہ افواج وہاں بھجوائی جاتیں۔
فلسطین کے حالیہ واقعات انتہائی تشویش کا باعث ہیں۔ یاسر عرفات کا اسرائیل سے معاہدہ کوئی معجزہ نہیں بلکہ ایک بزدلانہ اقدام ہے۔ یہ اسرائیل کے ہاتھوں فلسطین کو فروخت کر دینے کے مترادف ہے۔ یہ معاہدہ کم اور اعلامیہ زیادہ ہے۔ اسرائیل کی شروع سے کوشش تھی کہ اسے اپنے وجود کا جواز مل جائے۔ محدود پیمانے پر بلدیاتی اختیارات کے حصول کی اتنی بڑی قیمت ادا کرنے کے اہلِ فلسطین کبھی متحمل نہیں ہو سکتے۔ اسلامی ممالک کو یہ معاہدہ ہرگز تسلیم نہیں کرنا چاہیے۔ پاکستان، جس نے جلد بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فلسطین کے لیے سفیر کا تقرر بھی کر دیا تاکہ اسرائیلی حدود میں سفارتخانہ کھولا جا سکے، امریکی دباؤ کا مظہر ہے۔ اسرائیل کو تسلیم کرنا یا اس کے ساتھ کسی قسم کے تعلقات رکھنا پاکستانی حکمرانوں کے لیے ناممکن ہو گا کیونکہ ایسا کرنا نظریۂ پاکستان کی نفی، قبلۂ اول سے غداری اور عالمِ اسلام پر یہودی تسلط کے مترادف ہے۔
پاکستانی سیاست میں وراثت اور تجارت کے داخلہ سے نظامِ حکومت جمود کا شکار ہے۔ سیاستدان اس ملک کو اپنے باپ کی جاگیر سمجھتے ہیں اور تجارت کرنے کے نظریہ سے سیاست میں آئے ہیں۔ وراثت کا عنصر اس قدر مضبوط ہے کہ اگر آپ بھٹو کی بیٹی نہ ہوتیں تو کبھی پاکستان کی وزیراعظم نہ بن سکتیں۔ یہاں لوگوں کی قدر و منزلت ان کی اہلیت کی بنا پر نہیں کی جاتی۔ نااہلی کا یہ حال ہے کہ صدر سے لے کر چپڑاسی تک کوئی بھی اپنی اہلیت یا میرٹ کی بنا پر اپنے عہدے تک نہیں پہنچا۔ ہمارے ہاں پائی جانے والی جمہوریت کا مغربی ایڈیشن بڑے پیمانے پر اصلاح طلب ہے۔ اگرچہ آپ دخترِ مشرق کہلاتی ہیں لیکن آپ کی تعلیم و تربیت آکسفورڈ اور ہارورڈ جیسے سکہ بند مغربی اداروں میں ہوئی ہے۔ تیسری دنیا کے ممالک کا یہ سب سے عظیم المیہ ہے کہ یہاں مغرب کی حکومت ہے۔
یہاں کی سیاست میں لوٹے، لفافے، ڈبے اور بریف کیس بھی شامل ہو چکے ہیں۔ آپ نے خود تسلیم کیا ہے کہ جمہوری نظام بجائے خود آخری منزل نہیں بلکہ حصولِ مقصد کی طرف ایک قدم ہے۔ الیکشن ۱۹۹۳ء میں ۶۵ فیصد عوام نے ووٹ نہ ڈال کر اس نظام سے بیزاری کا اظہار کر دیا ہے۔ چند فیصد ووٹ حاصل کرنے والے خود فیصلہ کریں کہ وہ جمہوری اصول کی بنیاد پر سو فیصد عوام کی نمائندگی کا حق ادا کر رہے ہیں اور کس مینڈیٹ کی بات کرتے ہیں۔ اکثریت کی حکومت کا اصول غلط ثابت ہو چکا ہے۔ نیز یہ انتخابات کسی قومی معاملہ (Issue)  کی بجائے شخصیات کی بنیاد پر منعقد ہوئے۔ لہٰذا یہ ثابت کرنا کہ نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کوئی ایشو نہیں، انصاف پر مبنی نہیں۔ ان انتخابات میں اسلامی جماعتوں کا حصہ لینا مناسب نہیں تھا۔ بعض اسلام پسندوں نے تیر بے ہدف (Misguided Missile) کا کام کیا لہٰذا الیکشن کا نتیجہ ان کے لیے تباہ کن ثابت ہوا۔ اسمبلیوں میں ہندسوں کا کھیل (Game of Numbers) شروع ہوا، کوئی بھی پارٹی تنِ تنہا حکومت بنانے کے قابل نہیں تھی۔ بات پھر وہیں ہارس ٹریڈنگ تک جا پہنچی۔ لہٰذا سپورٹس مین سپرٹ، اپوزیشن کو جائز مقام دینے، مخالفت برائے مخالفت نہ کرنے، اقتدار کی میوزیکل چیئر کا کھیل جاری نہ رکھنے، اکھاڑ پچھاڑ نہ کرنے کی بات اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔
موجودہ نظامِ انتخابات اور اس میں ہونے والے اسراف و تبذیر کے شیطانی عمل کو وفاقی شرعی عدالت غیر اسلامی قرار دے چکی ہے۔ لیکن حکومت حسبِ عادت اپیل میں چلی گئی اور اب تک اس فرسودہ نظام کو باقی رکھے ہوئے ہے۔ الیکشن کمیشن کے اختیارات محدود ہیں۔ آئینی تقاضے پورے کرنے کے لیے مناسب قانون سازی نہیں کی گئی۔ امیدوار کی تعلیمی اہلیت اور دیانتداری کا اعلیٰ معیار نہیں پرکھا جاتا۔ ووٹر کی صرف عمر کی حد مقرر کرنے کی بجائے اس کی ذہنی استعداد اور اخلاقی حالت کو جانچنا ضروری ہے۔ امیدوار کے علاوہ ووٹر کا معیار بھی مقرر کیا جائے۔ مزراعت، برادری اور سرداری نظام کے اثرات کو ختم کیا جائے۔ دھن، دھونس اور دھاندلی کے امکانات کا سدباب کیا جائے۔ انتخابی اخراجات امیدوار کے ذمہ نہ ہوں بلکہ اس کا تعارف ذرائع ابلاغ کے ذریعے الیکشن کمیشن کے زیرانتظام کرایا جائے۔ دور رس انتخابی اصلاحات کے بغیر موجودہ نظام جمہوری کہلانے کا مستحق نہیں۔ سیاسی نظام ہی نہیں بلکہ سماجی اور اقتصادی میدانوں میں بھی اسلامی بنیادوں پر انقلابی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔
عارضی حدبندیوں کے ٹوٹنے اور نوعِ انسانیت کے قریب آجانے کی بنا پر آپ نے جس عالمی گاؤں (Global Village) اور نئے عالمی نظام کا ذکر کیا ہے وہ ظالمانہ صہیونی نظام میں جکڑا ہوا ہے۔ تیسری دنیا کے عوام کو اس میں ایک ’’پینڈو‘‘ سے زیادہ اہمیت حاصل نہیں ہے، بلکہ اقوامِ متحدہ کا روبہ زوال ادارہ بھی یہودی عزائم کی تکمیل کے لیے بنایا گیا ہے اور اسی کو وہ اپنی عالمی حکومت (World Government) کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ اس ادارہ میں مسلمان ممالک کی اکثریت کے باوجود انہیں ویٹو کا حق حاصل نہیں ہے۔ انسانی بنیادی حقوق کے اپنے ہی چارٹر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس نے متعدد ممالک پر اقتصادی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں جن کے نقصان دہ اور مہلک اثرات بے گناہ عوام کو برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ اس تناظر میں دنیا بھر کی مظلوم اقوام خصوصاً اسلامی ممالک کو اپنے لیے علیحدہ لائحہ عمل اور اپنے الگ عالمی ادارے قائم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کرہ ارض کی یہ عظیم بستی واقعی انسانوں کے بسنے کے قابل بن سکے۔ اس ضمن میں پاکستان کیا کردار ادا کرتا ہے، اس کا انتظار ہے۔
آخر میں، میں آپ کے اس عندیہ کی جانب آتا ہوں جس میں امریکہ سے تعلقات کی بحالی کی خواہش ظاہر کی گئی ہے۔ امریکی حکمرانوں سے یہ توقع رکھنا کہ وہ کسی اسلامی ملک سے ہمدردانہ رویہ رکھیں گے، قطعاً عبث ہے۔ روس کے زوال کے بعد اب دنیا یکطرفہ ہو کر طاقت کا توازن کھو چکی ہے، طاقت کا یہ توازن اسلامی دنیا اپنے اتحاد کے ذریعے قائم کر سکتی ہے بشرطیکہ اس مقصد کے حصول کے لیے خلوص دل سے کام کیا جائے۔
والسلام، ڈاکٹر محمود الرحمٰن فیصل

(بشکریہ، ماہنامہ محقق لاہور ۔ دسمبر ۱۹۹۳ء)

اکیسویں صدی اور اسلام ۔ مغرب کیا سوچتا ہے؟

محمد عادل فاروقی

۲۱ ویں صدی کی اصل سپرپاور مسجد ہے یا گرجا؟ بلاشبہ یہ وہ نئی سرد جنگ ہے جو اب بھرپور انداز میں مشرق اور مغرب کے درمیان شروع ہو چکی ہے۔ اس جنگ کے اصل حریف مسلمان اور عیسائی ہیں۔ مغربی مفکر جان آسپوزیٹو نے اپنی نئی ریسرچ میں اسلام اور عیسائیت کی نئی محاذ آرائی کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تقریباً تقریباً وہی حالات پیدا ہو چکے ہیں جو آج سے ۷۵ سال پہلے سلطنتِ عثمانیہ کے زوال کے وقت تھے۔ جس طرح سلطنتِ عثمانیہ کمزور ہوئی تھی اس طرح آج کلیسا پر زوال کے گہرے سائے پڑ چکے  ہیں۔ جان کا کہنا ہے کہ جس طرح اس زمانے میں مسلمانوں کو یقین نہیں آتا تھا کہ ان کا سورج ڈوبنے والا ہے، اس طرح آج عیسائی دنیا کو محسوس نہیں ہو رہا کہ ان کی پے در پے غلطیوں کے باعث عیسائی متعدد اداروں کو زوال آ رہا ہے۔
جان کی تحقیق کا مقصد عیسائیوں کو بتانا ہے کہ خلیجی جنگ اور اس علاقے کے اختلافات نے دراصل مسلمانوں کو اسی انداز میں سوچنے پر مجبور کر دیا ہے جس طرح صلیبی جنگوں کے وقت عیسائی سوچ رہے تھے۔ جان کا کہنا ہے کہ اب مسلمانوں کو بے وقوف خیال کرنا عیسائیت کی سب سے بڑی غلطی ہے کیونکہ اگر مسلمان ناسمجھ یا نادان ہوتے تو وہ ایٹم بنانے کی کوشش نہ کرتے۔ پاکستان، سعودی عرب اور دوسرے عرب اور اسلامی ممالک مسلمانوں کو متحد کرنے کے لیے اسلامی بم بنانے کے بارے میں عملی طور پر غور نہ کرتے۔ آج اگر پاکستان، عراق اور ایران نے ایٹمی میدانوں میں صلاحیتیں حاصل کی ہیں تو اس کی صرف ایک ہی وجہ تھی کہ عیسائی ممالک ان ملکوں کو پسماندہ ہی خیال کرتے رہے، حالانکہ ان ملکوں کے حالات خراب ضرور ہیں لیکن ان کے افراد دماغ اور ذہانت کے لحاظ سے پسماندہ نہیں۔
’’اسلامک تھرٹ‘‘ کے مصنف نادر جوزف نے کہا کہ آج کلیسا کے زوال کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ عیسائیت کا پرچار اسلامی تبلیغ کے مقابلے میں انسانوں کو مطمئن کرنے کے فائنل راؤنڈ میں جا چکا ہے۔
ویٹی کن پادریوں کا کہنا ہے کہ آج ہماری بدقسمتی کا عالم یہ ہے کہ ہم مسلم مبلغ احمد دیدات کے مقابلے میں کوئی مستند پادری نہیں لا سکے جو لوگوں کو مذہب کے بارے میں اس طرح مطمئن کرے جس طرح احمد دیدات کرتا ہے۔ پادری البرٹ کا کہنا ہے کہ عیسائیت کا اس سے بڑھ کر کیا نقصان  ہو گا کہ جہاں احمد دیدات عیسائیوں سے مناظرہ کرنے آتا ہے وہاں پادریوں کی شکست کے بعد پیدائشی عیسائیوں کی اکثریت اسلام قبول کر لیتی ہے۔ پادری البرٹ نے مغرب کو خبردار کیا ہے کہ اگر مغربی حکومتوں نے خود نوٹس نہ لیا تو امریکہ سمیت مغرب کے تمام بڑے بڑے ملکوں کے کٹر عیسائی باشندے، جو مغرب کی اصل طاقت ہیں، پادریوں کی نالائقی کے باعث دائرۂ اسلام میں داخل ہو جائیں گے۔
لندن کے معروف پادری فادر ملٹن کا کہنا ہے کہ روسی بٹوارے کے بعد امریکہ کے ورلڈ اسٹیج پر اکیلا رہ جانے سے مسلمان ’’دنیا‘‘ پر ہولڈ کرنے کی پوزیشن میں آتے جا رہے ہیں۔ فادر ملٹن نے واشنگٹن میں عیسائیوں کے بہت بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے برطانیہ اور امریکہ پر تنقید کی کہ وہ سیکولر بننے کے چکر میں مسلمانوں کے مفادات پورے کر رہے ہیں۔ بین الاقوامی امداد اور اداروں کی خدمات عیسائیت والے ملکوں کو دینے کی بجائے اسلامی ملکوں کو دے رہے ہیں۔ فادر ملٹن نے آبدیدہ ہوتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ پاکستان، ایران اور سعودی عرب کو دفاع کے لحاظ سے تکنیکی امداد نہ دیتا تو آج یہ ملک مغرب کو آنکھیں دکھانے کی پوزیشن میں نہ آتے۔ فادر ملٹن نے تو اسلامی بم بننے کا ذمہ دار بھی امریکہ اور دوسری مغربی سپر طاقتوں کو قرار دیا ہے۔
ایک برطانوی ریٹائرڈ جرنیل نے، جس نے اپنا نام ظاہر نہیں کیا، ایک بین الاقوامی میگزین میں مسلم اور عیسائی طاقت کا موازنہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ پاکستانی، اردنی، مصری اور ۔۔۔۔۔۔۔ برطانیہ نے ترتیب دے کر خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی دے ماری ہے۔ جرنیل نے لکھا ہے کہ لوگ جب اپنی افواج کی مقتدر حیثیت میں  آتے تو ان ملکوں کی بنیاد پرست حکومتوں کے اشارے پر یہ امریکہ اور برطانیہ کے سکھائے ہوئے طریقوں سے ہی انہیں ’’خرچ‘‘ کرنے میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ کو محسوس نہیں کریں گے۔ جرنیل نے اپنے تجزیے میں لکھا ہے کہ اسلامی دنیا میں جہاد، شہادت اور غازی کا جذبہ ایسی طاقت ہے جس کا مقابلہ آسانی سے صلیبی نشان رکھنے والے نہیں کر سکتے۔ جرنیل نے اپنے مشاہدے کے تجربات لکھتے ہوئے کہا ہے کہ جس طرح مسلمانوں کے فوجیوں کو میدانِ جنگ یا فوجی نوعیت کے مقامات پر ڈیوٹی کے دوران مرنے کا شوق ہے اس طرح کا شوق عیسائی فوجیوں میں نہیں۔ عیسائی فوجی صرف ہتھیار اور صلاحیت پر یقین رکھتے ہیں جبکہ اسلامی فوجی جذبات کو ہتھیار اور صلاحیت پر فوقیت دیتے ہیں اور یہ چیز جنگوں میں فتح دلاتی ہے۔
غیر ملکی جریدے رائزے ویسٹ نے اپنے مارچ کے شمارے میں ایک پورا ایڈیشن اسلامی گوسٹ ’’اسلامی بھوت‘‘ کے نام سے شائع کیا ہے جس کا نچوڑ یہ ہے کہ اس صدی میں مغرب والوں کو ہتھیار بنانے، اسلحہ بڑھانے، ایٹم بم مارنے یا عالمی سیاست کرنے کی بجائے مسلمانوں کی ایٹمی طاقت کو فورًا دبانے کے لیے ہنگامی نوعیت کے اقدامات کرنے چاہئیں۔
جریدے یو ایس نیوز نے اپنے ایک حالیہ شمارے میں عیسائیت کو خبردار کرتے ہوئے اپنے اداریے اور مضامین میں کہا ہے کہ پاکستان، ایران، عراق، مصر، اردن اور عرب ممالک کی آج کی فوجی طاقت کسی وقت بھی اچانک بپھر کر سارے یورپ میں عیسائیت کے پچھلے اقتدار کا فیوز اڑا سکتی ہے۔
غیر ملکی اخبارات میں عیسائی مشنریوں کے شائع ہونے والے تبلیغی اشتہاروں سے حاصل ہونے والے مواد میں صاف صاف لفظوں میں لکھا گیا ہے کہ مسلمانوں میں پڑی پھوٹ کو ختم کرنے کی بجائے عیسائیوں کو خود کو متحد اور مضبوط کرنا ہو گا ورنہ اسلام کے جنونی کچھ عرصہ بعد دنیا میں اپنا اقتدار قائم کر لیں گے۔
دی ڈیلی انڈیپینڈینٹ نے اپنے مارچ کے ایک روزنامے میں مسلم عیسائی طاقت کا موازنہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ چند برسوں میں جو عالمی سطح پر تبدیلیاں ہوئی ہیں وہ زیادہ تر مسلمانوں کے فائدے میں جا رہی ہیں۔ اس نے عیسائی لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ مسلمانوں کو اب نظرانداز کرنے کا انداز چھوڑ دیں اور مسلمانوں کی اصل ترقی کے محرکات کے بارے میں غور کریں اور دیکھیں آج کل مسلمان پھر سے کیسے سر اٹھا رہے ہیں۔
سی آئی اے نے بھی اپنی حالیہ رپورٹ میں واضح طور پر یہ کہہ دیا ہے کہ امریکی مفادات کو سب سے بڑا خطرہ اسلامی بنیاد پرستی سے ہے۔ سی آئی اے نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اب صدام اتنا خطرناک نہیں رہا جتنا خطرناک مجاہدین کی تحریکوں میں حصہ لینے والے مسلمان ہیں۔
ایک اور اہم مغربی مفکر جان لیفن نے اپنی تحقیقی کتاب ’’دی ڈینجر آف اسلام‘‘ کے بعد انکشاف کیا ہے کہ مغربی دانشور مسلمانوں کی موجودہ سیاسی اور مذہبی قیادت کو نہ سمجھ کر بہت بڑی غلطی کر رہے ہیں۔ لیفن نے کہا کہ اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی کہ لیبیا، سعودی عرب، ایران اور پاکستان اس وقت اسلامی بنیاد پرستوں کی نمائندگی کر رہے ہیں کیونکہ کشمیر، افغانستان، بوسنیا اور جہاں جہاں بھی مسلمان آزادی کے لیے لڑ رہے ہیں، ان ملکوں کے باشندے ہی زیادہ تر وہاں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔۔۔ سپوزیٹو کے حوالے سے اخبار لکھتا ہے کہ مسلمان ممالک اور اسلامی تحریکیں اب دقیانوسی طور طریقے چھوڑ کر جدید انداز میں اپنے مفادات کو حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اب اسلامی تحریکیں مذہبی نعروں کی بجائے جمہوری، معاشی اور سیاسی سہولتوں کا فائدہ دے کر اپنے لوگوں کو اسلام کے پھیلانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ مغرب میں سیکولرازم کا زبانی جمع خرچ ہو رہا ہے جبکہ عملی طور پر سیکولرازم اسلامی ممالک اختیار کر رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے اسلامی ملکوں کی غیر مسلم اقلیتیں بھی عیسائیت سے آخری جنگ میں مسلمانوں کا ساتھ دیں گی۔۔۔۔ سپوزیٹو کا کہنا ہے کہ اسلام کی کامیابی صرف اور صرف ایک نکتہ میں ہے کہ اسلام میں عیسائیت کے مقابلے میں موجودہ حالات و واقعات کے مطابق خود کو تبدیل اور جدید رجحان اپنانے کی بے پناہ صلاحیت ہے۔ شاید اسی وجہ سے آئندہ صدی میں عیسائیت اسلام سے مات کھا جائے گا۔
ویسٹ ورلڈ نامی جریدے نے لکھا ہے کہ دراصل صدر بش نے خلیجی جنگ میں اپنی تھانیداری دکھا کر درحقیقت گرجے کو کمزور اور مسجد کو مضبوط کیا ہے۔ وہ امریکی فوج جس کے بارے میں ساری اسلامی دنیا ڈرتی رہتی تھی، اس کو اسلامی دنیا کے فوجیوں میں مکس کر کے اسلامی فوجیوں کو بتا دیا کہ امریکی فوج اصل میں کتنے پانی میں ہے اور آئندہ کبھی جنگ ہوئی تو اس فوج کو کیسے شکست دینی ہے۔ ویسٹ ورلڈ نے کہا کہ صدر کلنٹن بھی بش کی پالیسی اپنائے ہوئے ہیں۔
مسلمانوں کی اقتصادی اور معاشی صورتحال کے بارے میں تجزیہ کرتے ہوئے ’’اکنامک‘‘ غیر ملکی جریدے نے لکھا ہے کہ گزشتہ دس سالوں کے دوران مسلم اور عرب ممالک نے مغرب کی پالیسیوں کو اختیار کر کے اپنی دولت کے استعمال سے مکمل آگاہی حاصل کر  لی ہے، جو اب آئندہ سالوں میں مغرب کو اقتصادی موت دینے کے مترادف ہو گا۔
مغربی تاریخ دان مائیکل ہورن ہائے کا کہنا ہے کہ اب فطرت اور قدرتی طور پر بننے والے حالات و واقعات، وہ تمام علاقے جو عیسائی دنیا نے فراڈ سے اسلامی دنیا سے چھین لیے تھے، لوٹا رہی ہے۔ اس کی مثال اس نے وسطی ایشیائی ریاستوں سے دی۔ افغانستان، بوسنیا اور وسطی ایشیائی ریاستوں میں جیسے جیسے اسلامی بنیاد پرست مستحکم ہوتے گئے ویسے ویسے وہ عیسائی دنیا کو اپنے نرغے میں لیتے جائیں گے۔ مائیکل نے عیسائیوں اور مسلمانوں کے موجودہ حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اب عیسائیوں میں وہ تمام قباحتیں آ چکی ہیں جو مسلمانوں کے دنیائے عالم سے اقتدار مٹانے کا سبب بنی تھیں۔
تقریباً تمام غیر ملکی جرائد گزشتہ چھ ماہ سے اپنے اداریوں اور مضامین میں یہ دہائی دینے لگ پڑے ہیں کہ کلیسا اور حکومتی ایوانوں میں عورتوں کو مقتدر حیثیت دے کر عیسائیوں نے گرجے کی بنیادی خود کھوکھلی کر دی ہیں۔
’’دی رائزنگ ہیرلڈ‘‘ نے اپنے فروری کے ایشو میں لکھا ہے کہ اسلامی ممالک کو ان کے ایٹمی پروگراموں سے باز نہ رکھنے میں ناکامی نے جنگ سے پہلے ہی مغرب کو شکست اور مشرق کو فتح دلائی ہے۔ رائزنگ نے مسلم دنیا کو اوپر اٹھانے کا کریڈٹ شاہ فیصل مرحوم، ذوالفقار علی بھٹو مرحوم، شہنشاہ ایران، صدر اسحاق، امام خمینی، کرنل قذافی، صدام حسین اور ڈاکٹر قدیر کو دیا ہے اور ان کی تصاویر بھی شائع کی ہیں۔
(بشکریہ ’’جنگ‘‘ لندن ۔ ۱۴ اکتوبر ۱۹۹۳ء)

شہیدانِ بالاکوٹ

حضرت شاہ نفیس الحسینی

قبائے نور سے سج کر، لہو سے باوضو ہو کر

وہ پہنچے بارگاہِ حق میں کتنے سرخروہو کر

فرشتے آسماں سے ان کے استقبال کو اترے

چلے ان کے جلو میں با ادب، با آبرو ہو کر

جہانِ رنگ و بو سے ماورا ہے منزلِ جاناں

وہ گزرے اس جہاں سے بے نیازِ رنگ و بو ہو کر

جہادِ فی سبیل اللہ نصب العین تھا ان کا

شہادت کو ترستے تھے سراپا آرزو ہو کر

وہ رُہباں شب کو ہوتے تھے تو فُرساں دن میں رہتے تھے

صحابہؓ کے چلے نقشِ قدم پر ہو بہو ہو کر

مجاہد سر کٹانے کے لیے بے چین رہتا ہے

کہ سراَفراز ہوتا ہے وہ خنجر در گلُو ہو کر

سرِ میداں بھی استبالِ قبلہ وہ نہیں بھولے

کیا جامِ شہادت نوش انہوں نے قبلہ رو ہو کر

زمین و آسماں ایسے ہی جانبازوں پہ روتے ہیں

سحابِ غم برستا ہے شہیدوں کا لہو ہو کر

شہیدوں کے لہو سے ارضِ بالاکوٹ مُشکِیں ہے

نسیمِ صبح آتی ہے اُدھر سے مُشکبو ہو کر

نفیس ان عاشقانِ پاک طینت کی حیات و موت

رہے گی نقشِ دہر اسلامیوں کی آبرو ہو کر


امریکی عزائم: ورلڈ اسلامک فورم کے زیر اہتمام پہلا علماء کنونشن

ادارہ

عالمِ اسلام کے بارے میں امریکہ کے عزائم اور پاکستان کے داخلی معاملات میں بڑھتی ہوئی امریکی مداخلت کے خلاف ورلڈ اسلامک فورم نے علمائے کرام کے اجتماعات کے سلسلہ کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلہ میں پہلا علماء کنونشن ۲۶ دسمبر ۱۹۹۳ء کو مسجد باب الرحمت (پرانی نمائش، کراچی) میں مولانا فداء الرحمٰن درخواستی کی زیرصدارت منعقد ہوا جس میں کراچی کے مختلف حصوں سے علماء کرام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر مدظلہ العالی، خطیب اسلام مولانا محمد اجمل خان، مولانا اللہ وسایا، مولانا نظام الدین شامزئی اور سید سلمان گیلانی نے خطاب کیا۔ جبکہ مولانا محمد انور فاروقی نے اسٹیج سیکرٹری کے فرائض سرانجام دیے۔ کنونشن کا آغاز قاری مفتاح اللہ نے تلاوت کلامِ پاک سے کیا اور اس کے بعد ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا زاہد الراشدی نے کنونشن کے اغراض و مقاصد پر مشتمل مندرجہ خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔

استقبالیہ کلمات

قابلِ صد احترام علمائے کرام، مشائخ عظام و راہنمایانِ ملت!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
میں ورلڈ اسلامک فورم کی طرف سے آپ سب بزرگوں کا شکرگزار ہوں کہ انتہائی مختصر نوٹس پر آپ حضرات اس اجتماع میں تشریف لائے، اللہ پاک آپ کو جزائے خیر سے نوازیں، آمین۔
حضراتِ محترم! آج کے اس علماء کنونشن کے دعوت نامہ سے آپ حضرات کو علم ہو چکا ہے کہ یہ اجتماع عالمِ اسلام اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے معاملات میں امریکہ کی بڑھتی ہوئی مداخلت اور اس کے روز افزوں منفی اثرات سے پیدا شدہ صورتحال کا خالصتاً دینی نقطۂ نظر سے جائزہ لینے کے لیے منعقد کیا جا رہا ہے اور اس کا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ اکابر اہلِ علم علمائے حق کی تاریخی روایات کا تسلسل قائم رکھتے ہوئے اس نازک اور حساس مسئلہ پر شرعی اصولوں کی روشنی میں امتِ مسلمہ کی راہنمائی کریں تاکہ علماء اور دینی کارکن اس کی بنیاد پر اپنی آئندہ جدوجہد اور تگ و تاز کی راہیں متعین کر سکیں۔
راہنمایانِ قوم! علمائے حق کی تاریخ شاہد ہے کہ امت مسلمہ کو اجتماعی طور پر جب بھی بیرونی قوتوں کی دخل اندازی اور سازشوں سے سابقہ پڑا ہے، علمائے امت نے آگے بڑھ کر ملتِ اسلامیہ کی راہنمائی کی ہے۔ تاتاری یورش کے خلاف شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ کی جدوجہد، اکبر بادشاہ کے دینِ الٰہی کے خلاف حضرت مجدد الف ثانیؒ کا نعرۂ حق، مرہٹوں کی بڑھتی ہوئی یلغار کے مقابلہ میں حضرت امام ولی اللہ دہلویؒ کی مومنانہ تدبیریں، اور فرنگی استعمار کے تسلط کے خلاف حضرت شاہ عبد العزیز دہلویؒ کا فتوٰی جہاد علمائے حق کی اسی جدوجہد کے سنگ ہائے میل ہیں جو آج بھی اسلام کی بالادستی اور امتِ مسلمہ کی خودمختاری کی منزل کی طرف ہماری راہنمائی کرتے ہیں اور تاریخ کے اسی تسلسل کے ساتھ حال کا رشتہ جوڑنے کے لیے آپ حضرات کو اس کنونشن میں شرکت کی زحمت دی گئی ہے۔
زعمائے ملت! امریکہ جو اس وقت سب سے بڑی عالمی قوت اور اسلام کے خلاف کفر کی تمام قوتوں کا نقیب ہے، عالمِ اسلام میں دینی بیداری کی تحریکات کو سبوتاژ کرنے اور بے اثر بنانے کے لیے جو جتن کر رہا ہے وہ آپ جیسے اصحابِ دانش و فراست سے مخفی نہیں ہیں، اور اس کے یہ مقاصد اب کسی پر پوشیدہ نہیں رہے کہ
  • عالمِ اسلام کے کسی ملک میں اسلامی نظریاتی حکومت قائم نہ ہونے پائے،
  • کوئی مسلم ملک معاشی خود کفالت اور اقتصادی خودمختاری کی منزل حاصل نہ کر سکے،
  • کوئی مسلم ملک ایٹمی توانائی سمیت دفاع کی کوئی جدید تکنیک مہیا نہ کر سکے،
  • عالمِ اسلام کے اتحاد اور سیاسی یکجہتی کی کسی جدوجہد کو کامیابی سے ہمکنار نہ ہونے دیا جائے۔
اس مقصد کے لیے نہ صرف دنیائے کفر کی تمام قوتیں بلکہ عالمِ اسلام کی سیکولر لابیاں اور لادین قوتیں بھی امریکہ کے ساتھ شریکِ کار ہیں۔
اسی طرح اسلامی جمہوریہ پاکستان کے داخلی معاملات میں امریکہ کی مداخلت بھی اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی۔ یہ مداخلت جو پاکستان کے قیام کے ساتھ ہی شروع ہو گئی تھی اب بڑھتے بڑھتے یہ کیفیت اختیار کر گئی ہے کہ پاکستان عملاً امریکہ کی نوآبادی بن کر رہ گیا ہے، اور اس کی قومی زندگی کے کسی بھی شعبہ میں امریکہ کی رضامندی کے بغیر اعلٰی سطح کا کوئی فیصلہ نہیں ہو پاتا۔ اس وقت عملی صورتحال یہ ہے کہ
  • امریکہ نے پاکستان کی امداد کو ۱۹۸۷ء میں جن شرائط کے ساتھ مشروط کیا تھا، روزنامہ جنگ لاہور (۵ مئی ۱۹۸۷ء) میں شائع شدہ ایک رپورٹ کے مطابق ان میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے اور اسلامی اصطلاحات کے استعمال سے روکنے کے اقدامات واپس لینے کے علاوہ اسلامی قوانین کو انسانی حقوق کے منافی قرار دیتے ہوئے ان کے نفاذ سے باز رہنے کی شرائط بھی شامل ہیں، جن پر امریکہ بدستور قائم ہے اور پورا کرانے کے لیے مسلسل دباؤ ڈال رہا ہے۔
  • ماہنامہ محقق لاہور (دسمبر ۱۹۹۳ء) کے انکشاف کے مطابق صدر جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم نے آخری دور میں ’’شریعت آرڈیننس‘‘ جاری کیا تو امریکی حکومت نے اس قدر سخت باز پرس کی کہ حکومتِ پاکستان کو اس پر عملدرآمد نہ ہونے کی یقین دہانی کرانا پڑی اور امریکہ کو سرکاری طور پر مطلع کرنے کے علاوہ دنیا بھر کے پاکستانی سفارتخانوں کو بھی ہدایات جاری کی گئیں کہ وہ ان حکومتوں کو اس سے آگاہ کر دیں۔ اس کے ساتھ ہی سرکاری طور پر منظور کرائے جانے والے ’’شریعت بل‘‘ میں قرآن و سنت کی بالادستی سے حکومتی ڈھانچے اور سیاسی نظام کو مستثنٰی قرار دینے جانے پر اسلام آباد میں متعین امریکی سفیر نے کھلم کھلا جس طرح اطمینان کا اظہار کیا وہ اس سلسلہ میں امریکی پالیسیوں کے رخ کی واضح نشاندہی کرتا ہے۔
  • پاکستان کو ایٹمی توانائی کے حصول سے روکنے اور اپنے دفاع کے لیے خاطرخواہ انتظام کے شرعی اور جائز حق سے محروم کرنے کے لیے امریکہ جو کچھ کر رہا ہے وہ آپ بزرگوں کے سامنے ہے، اور پاکستان کو اقتصادی طور پر محتاج اور اپاہج بنائے رکھنے کی امریکی پالیسی روزِ روشن کی طرح واضح ہے۔
  • کشمیر کو تقسیم کر کے امریکی فوجی اڈہ بنانے کا منصوبہ منظرِ عام پر آ چکا ہے اور امریکہ نے ایک طے شدہ پالیسی کے تحت پاکستان کی فوج کو صومالیہ میں الجھا کر وہاں کی مسلم آبادی سے پاک فوج کو لڑانے اور افریقی مسلمانوں میں پاکستان کے خلاف نفرت پیدا کرنے کی راہ ہموار کی ہے اور اس کے اثرات بتدریج سامنے آ رہے ہیں۔
ان حالات میں آپ بزرگوں کو زحمت دی گئی ہے کہ اسلام کی بالادستی، عالمِ اسلام کے اتحاد، مسلمانوں کی خودمختاری، مذہبی آزادی اور قومی وقار کے تحفظ کے لیے امتِ مسلمہ کی راہنمائی فرمائیں اور دینی جماعتوں، علماء اور کارکنوں کے لیے ایک ایسا واضح لائحہ عمل متعین فرمائیں جو امریکی استعمار کے تسلط سے عالمِ اسلام اور پاکستان کی حقیقی آزادی کی جدوجہد کی دینی بنیاد ثابت ہو۔
میں ایک بار پھر تشریف آوری پر آپ سب بزرگوں کا شکرگزار ہوں، فجزاکم اللہ احسن الجزاء۔

مولانا مفتی نظام الدین شامزئی

اس کے بعد جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی کے استاذ الحدیث مولانا مفتی نظام الدین شامزئی نے خطاب کیا اور عالمِ اسلام کے حوالہ سے امریکی عزائم کا تفصیل کے ساتھ ذکر کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ عوام اور دینی حلقوں کو اس سلسلہ میں بیدار کرنے کی ضرورت ہے اور علمائے کرام کو اس مقصد کے لیے سب سے اہم کردار ادا کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ عالمِ اسلام میں اپنے ایجنٹوں اور لابیوں کے ذریعے فکری انتشار بپا کیے ہوئے ہے، اسلام کے اجتماعی نظام کے نفاذ میں رکاوٹ بنا ہوا ہے، دینی قوتوں کو منتشر رکھنا چاہتا ہے، کشمیر کو تقسیم کر کے وہاں اپنا فوجی اڈا  قائم کرنے کے منصوبے بنا رہا ہے، پاکستان کے آئین میں بنیادی تبدیلیاں کر کے اسے ایک سیکولر ریاست کی حیثیت دینے کے درپے ہے، اور قادیانیت جیسے گمراہ گروہوں کی آبیاری کر رہا ہے۔ ان حالات میں اگر علماء نے اپنی ذمہ داری محسوس نہ کی اور مسلمانوں کو منظم و بیدار کرنے کی محنت نہ کی تو وہ اپنے دینی فرائض سے عہدہ برآ نہیں ہو سکیں گے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ افغانستان میں مستحکم اسلامی حکومت کے قیام میں رکاوٹ ہے، فلسطین میں تحریکِ آزادی کو کچلنے کے لیے یاسر عرفات سے سازباز کر چکا ہے، صومالیہ میں اپنے استعماری مقاصد کے لیے پاکستان کی فوج کو استعمال کر رہا ہے، اور عالمِ اسلام کے کسی ملک کو ایٹمی قوت کے طور پر نہیں دیکھنا چاہتا۔ یہ صورتحال علماء اور دانشوروں کے لیے لمحۂ فکریہ ہے اور انہیں آگے بڑھ کر اس سلسلہ میں امت مسلمہ کی راہنمائی کرنی چاہیے۔

مولانا اللہ وسایا

عالمی مجلسِ تحفظِ ختمِ نبوت کے مرکزی راہنما مولانا اللہ وسایا نے خطاب کرتے ہوئے امریکہ کی طرف سے قادیانیوں کی پشت پناہی اور پاکستان کے اندرونی معاملات میں امریکہ کی مداخلت کا تذکرہ کیا اور بتایا کہ پاکستان کی طرح بنگلہ دیش اور دیگر مسلم ممالک میں بھی امریکہ اپنے مقاصد کے لیے قادیانیوں کو آگے بڑھا رہا ہے اور ان کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی عزائم کے بارے میں مولانا زاہد الراشدی نے جو تجزیہ کیا ہے وہ بالکل درست ہے اور وقت کی آواز ہے، اس لیے تمام دینی جماعتوں کو اس مہم میں ورلڈ اسلامک فورم کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔

حضرت شیخ الحدیث مدظلہ

علماء کنونشن کے مہمانِ خصوصی شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم نے  خطاب کرتے ہوئے قرآن کریم کے اس ارشاد کا حوالہ دیا جس میں مسلمانوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ یہودیوں اور عیسائیوں کو دوست نہ بنائیں اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بیان کیا کہ یہودیوں اور عیسائیوں کو جزیرہ عرب سے نکال دو۔ انہوں نے فرمایا کہ اللہ رب العزت کو معلوم تھا کہ یہی وہ دو گروہ آئندہ چل کر مسلمانوں کے خلاف فریق بنیں گے اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی سازش کریں گے اس لیے شروع میں ہی ان سے بچنے کی ہدایت فرما دی۔ لیکن ہم اس ہدایت پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے آج یہودیوں اور عیسائیوں کے شکنجے میں پھنسے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اس وقت عالمِ اسلام کے سب سے بڑے دشمن کے طور پر سامنے آیا ہے اور وہ مسلمانوں کو دینی اعتبار سے کچل دینا چاہتا ہے۔ اس لیے ہمیں امریکی سازشوں کے مقابلہ میں اپنے دینی تشخص کے تحفظ کے لیے جو کچھ بس میں ہو کر گزرنا چاہیے۔
انہوں نے فرمایا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جب آگ میں پھینکا گیا تو ایک بلبل اپنی چونچ میں پانی لے کر آگ پر پھینکتی رہی، اس کے اس عمل سے آگ نہ بجھ سکتی تھی لیکن اس کے جذبہ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ محبت کا اس سے ضرور اظہار ہوتا ہے۔ ہمیں اس بلبل سے سبق حاصل کرنا چاہیے اور نتائج سے بے نیاز ہو کر اپنے فرض کی ادائیگی کے لیے اس مہم میں ہر ممکن حصہ ڈالنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی عزائم کو بے نقاب کرنے اور عالمِ اسلام کو اس کے خلاف منظم کرنے کے لیے خطباء کو زبان کی قوت، اہلِ قلم کو قلم کی قوت، اور اہلِ مال کو مال کی قوت استعمال کرنی چاہیے اور ایک دوسرے سے تعاون کر کے مہم کو منظم کرنا چاہیے۔

مولانا محمد اجمل خان

خطیبِ اسلام مولانا محمد اجمل خان نے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے اکابر نے انگریزی استعمار کا مقابلہ کیا اور اسے شکست دی۔ امریکہ بھی اس کا جانشین ہے اور انہی مقاصد کو آگے بڑھانے کے لیے کام کر رہا ہے، اس لیے ہم اس کا بھی مقابلہ کریں گے اور عالمِ اسلام کے بارے میں اس کے مکروہ مقاصد کو پورا نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مغرب انسانی حقوق اور جمہوریت کی بات کرتا ہے لیکن اس نے دوہرا معیار اختیار کر رکھا ہے۔ افغانستان کے عوام جب تک روس کے خلاف نبرد آزما تھے، انہیں مجاہدین کہا جاتا تھا۔ لیکن روس کے سامنے ہٹتے ہی اب افغان مجاہدین مغرب کی نظر میں دہشت گرد بن گئے ہیں اور امریکہ ان ’’دہشت گردوں‘‘ کی حکومت قائم ہونے میں مسلسل رکاوٹیں ڈال رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ اور دوسرے مغربی ممالک نے بوسنیا، صومالیہ، فلسطین اور کشمیر بارے میں جو طرزعمل اختیار کر رکھا ہے اس سے ان کی جمہوریت پسندی اور انسانی حقوق کی قلعی کھل گئی ہے اور وہ اب زیادہ دیر تک دنیا کو دھوکہ نہیں دے سکتے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی جمہوریت ایک غیر فطری نظام ہے جس نے انسانی معاشرہ کو اخلاقی انارکی سے دوچار کر دیا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ اسلام کے عادلانہ نظام کو دنیا کے سامنے لایا جائے۔

اظہارِ تشکر

ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا زاہد الراشدی نے علماء کنونشن میں شرکت پر اکابر علماء اور کراچی کے احباب کا، جبکہ میزبانی کے فرائض سرانجام دینے پر مجلسِ تحفظِ ختمِ نبوت کراچی کے راہنماؤں بالخصوص مولانا سعید احمد جلال پوری، مولانا محمد جمیل خان اور مولانا محمد انور فاروقی کا شکریہ ادا کیا۔

امریکی عزائم: ورلڈ اسلامک فورم کے زیر اہتمام دوسرا علماء کنونشن

ادارہ

عالمِ اسلام کے بارے میں امریکہ کے منفی عزائم اور پاکستان کے داخلی معاملات میں بڑھتی ہوئی امریکی مداخلت کے خلاف رائے عامہ کو ہموار اور منظم کرنے کی غرض سے ورلڈ اسلامک فورم کے زیر اہتمام علماء اور دینی کارکنوں کا دوسرا کنونشن ۱۲ جنوری ۱۹۹۴ء کو مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں منعقد ہوا جس میں موسم کی خرابی کے باوجود علماء اور کارکنوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ کنونشن کی پہلی نشست کی صدارت پیر طریقت حضرت مولانا سید نفیس الحسینی مدظلہ العالی نے کی اور دوسری نشست شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم کی زیرصدارت منعقد ہوئی۔ کنونشن سے ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا زاہد الراشدی کے علاوہ مولانا عبد الحمید قریشی، علامہ محمد احمد لدھیانوی، ڈاکٹر غلام محمد، ماسٹر عنایت اللہ اور دیگر حضرات نے بھی خطاب کیا اور شاعرِ اسلام سید سلمان گیلانی نے اپنے پرجوش کلام سے حاضرین کو گرمایا۔
کنونشن میں رتہ دوہتڑ توہینِ رسالت کیس کی تازہ ترین صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا اور اس سلسلہ میں بیرونی لابیوں اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے اس پروپیگنڈا کو بے بنیاد قرار دیا گیا کہ یہ کیس ذاتی دشمنی کی بنیاد پر قائم کیا گیا ہے۔ شرکاء کو بتایا گیا کہ گوجرانوالہ کے علماء کی قائم کردہ ’’تحفظ ناموس رسالت ایکشن کمیٹی‘‘ کے سیکرٹری ڈاکٹر غلام محمد اور مولانا علی احمد جامی نے خود مذکورہ گاؤں رتہ دوہتڑ جا کر واقعات کی انکوائری کی ہے اور علاقہ کے عوام نے اس بارے میں مغربی میڈیا کے پروپیگنڈے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ کیس میں گرفتار ملزمان نے مبینہ طور پر جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں شرمناک گستاخی کا ارتکاب کیا ہے۔ کنونشن میں فیصلہ کیا گیا کہ کیس کے ملزمان کی ضمانت پر رہائی کے خلاف ہائی کورٹ کے فل بینچ سے اپیل کی جائے گی اور لاہور کی سطح پر کیس کی پیروی کے لیے لاہور کے علمائے کرام کا ایک اجتماع بہت جلد منعقد کیا جائے گا۔
کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر نے کہا کہ قرآن کریم نے یہود و نصارٰی کے ساتھ مسلمانوں کی دوستی کو نقصان دہ قرار دیا ہے اور اس سے منع کیا ہے، لیکن ہم نے اس حکمِ خداوندی کو نظرانداز کرتے ہوئے دوستی کے تعلقات قائم کیے جس کا خمیازہ آج ہم یہ بھگت رہے ہیں کہ پورا عالمِ اسلام یہودیوں اور عیسائیوں کی معاندانہ سازشوں میں جکڑا جا چکا ہے اور دنیائے کفر کی قیادت کرتے ہوئے امریکہ مسلمانوں کے خلاف کھلم کھلا اقدامات میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے اکابر نے برطانوی استعمار کے تسلط کے خلاف آزادی کی جنگ لڑی تھی اور انہی کی قربانیوں کے نتیجہ میں برصغیر آزاد ہوا ہے لیکن آج برطانیہ کا جانشین امریکہ دوستی کے پردے میں ہم پر غلامی مسلط کر چکا ہے۔ اس لیے ہماری ذمہ داری ہے کہ اکابر کے مشن اور روایات کو زندہ کرتے ہوئے امریکی تسلط کے خلاف جدوجہد کریں۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت عالمِ اسلام میں اسلام کے احکام کے عملی نفاذ میں سب سے بڑی رکاوٹ موجودہ حکمران طبقہ ہے جو مغربی نظامِ تعلیم کا پروردہ ہے اور مغرب کے مفادات کا محافظ ہے۔ اس کے سامنے جب حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کے دورِ حکومت کی مثال پیش کی جاتی ہے اور خلفائے راشدین کی سادگی اور قناعت کا ذکر کیا جاتا ہے تو اس طبقہ کو اپنا موجودہ طرز زندگی اور مفادات خطرہ میں دکھائی دیتے ہیں اور وہ اپنے تعیش اور طبقاتی مفادات کو بچانے کے لیے نفاذِ اسلام کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج یہ کہا جاتا ہے کہ اسلام کے نفاذ کی راہ میں فرقہ واریت حائل ہے، یہ بات درست نہیں ہے، اس لیے کہ فرقہ وارانہ اختلافات اسلام کے نفاذ کے مسائل پر نہیں ہیں، اور اس لیے بھی کہ یہ فرقہ واریت تو صرف برصغیر کے ممالک میں ہے اور اگر یہی نفاذ اسلام میں رکاوٹ ہے تو دنیا کے بیشتر مسلم ممالک جہاں فرقہ واریت نہیں ہے وہاں اسلام کیوں نافذ نہیں ہو رہا ہے؟ حالانکہ بعض مسلم ممالک کا تو یہ حال ہے کہ وہاں علمائے کرام جمعہ کا خطبہ بھی حکومت کی مرضی کے بغیر نہیں دے سکتے، لیکن اسلام وہاں بھی مکمل طور پر نافذ نہیں ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ نفاذ اسلام کی راہ میں فرقہ واریت نہیں بلکہ حکمرانوں کے مفادات حائل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرہ میں اسلام کے احکام کے نفاذ کے لیے پرخلوص جدوجہد کریں اور اس سلسلہ میں جو کچھ ان کے بس میں ہے اس سے گریز نہ کریں۔
حضرت شیخ الحدیث مدظلہ نے رتہ دوہتڑ کیس اور پاکستان کے داخلی معاملات میں امریکی مداخلت کا بطور خاص ذکر کیا اور علمائے کرام پر زور دیا کہ وہ اس سلسلہ میں امریکی عزائم کو بے نقاب کرنے کے لیے محنت کریں اور عوام کو ذہنی طور پر اس کے لیے تیار کریں۔
مولانا زاہد الراشدی نے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے نیو ورلڈ آرڈر کا مقصد عالمِ اسلام کو سیاسی وحدت اور نفاذِ اسلام سے روکنا ہے، اور مغربی ممالک متحد ہو کر امریکہ کی قیادت میں ملتِ اسلامیہ کو نظریاتی استحکام، معاشی خود کفالت، ایٹمی توانائی اور سیاسی وحدت کی منزل سے دور رکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ایک طرف انسانی حقوق کا واویلا کر رہا ہے اور دوسری طرف مسلم ممالک کو ایٹمی توانائی سے محروم رکھنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین، کشمیر، صومالیہ اور بوسنیا میں مغربی ممالک کا دوہرا کردار سامنے آ چکا ہے اور انہیں ان خطوں کے مظلوم مسلمانوں کے انسانی حقوق دکھائی نہیں دے رہے۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈ اسلامک فورم نے امریکہ کے عزائم اور کردار کو بے نقاب کرنے کے لیے ملک کے مختلف شہروں میں علماء اور دینی کارکنوں کے اجتماعات کا سلسلہ شروع کر دیا ہے جو مسلسل جاری رہے گا، اور ہم جماعتی سیاست اور انتخابی سیاست سے الگ تھلگ رہتے ہوئے رائے عامہ کو امریکی عزائم کے خلاف منظم کرنے کی جدوجہد جاری رکھیں گے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔

علمائے دیوبند اور ترجمۂ قرآنِ کریم

سید مشتاق علی شاہ

(۱) ترجمہ قرآن مجید (اردو)

مترجم: مولانا عبد الحق حقانیؒ

یہ ترجمہ تفسیر فتح المنان کے ساتھ ۸ جلدوں میں شائع ہوا ہے۔ پہلی سات جلدیں ۱۳۰۵ھ سے لے کر ۱۳۱۳ھ کے عرصہ میں اور آٹھویں جلد، جو پارہ عم پر مشتمل ہے، ۱۳۱۸ھ میں مطبع مجتبائی دہلی سے شائع ہوئی۔ یہ تفسیر ’’تفسیر حقانی‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔

(۲) ترجمہ قرآن مجید (اردو)

مترجم: مولانا عاشق الٰہی میرٹھی

یہ ترجمہ ۱۳۲۰ھ میں پہلی مرتبہ مطبع خیر المطابع لکھنؤ میں چھپا۔ اب پاکستان میں تاج کمپنی نے بھی شائع کیا ہے۔ اس کے ساتھ کہیں کہیں مختصر حواشی بھی ہیں۔ حضرت شیخ الہندؒ نے اپنے مقدمہ قرآن میں اس کی تعریف کی ہے۔

(۳) ترجمہ قرآن مجید (اردو)

مترجم: حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ

یہ ترجمہ بامحاورہ ہے اور علماء و عوام دونوں کے لیے یکساں مفید ہے۔ یہ ترجمہ مولانا نے اپنی مشہور تفسیر بیان القرآن کے ضمن میں کیا ہے۔ اسے پہلی مرتبہ ۱۳۳۶ھ میں مطبع مجتبائی دہلی نے بارہ جلدوں میں شائع کیا تھا۔ تفسیر کے علاوہ صرف ترجمہ مع مختصر فوائد بھی کئی قسموں میں تاج کمپنی اور کئی دوسری کمپنیوں نے شائع کیا ہے۔ شاہ عبد القادرؒ اور شاہ رفیع الدینؒ کے ترجمہ کے بعد سب سے زیادہ مقبول ہے۔ کثرتِ اشاعت کے اعتبار سے اس کا نمبر دوم ہے۔ حضرت شیخ الہندؒ نے مقدمہ قرآن میں اس کی بھی تعریف کی ہے۔

(۴) ترجمہ قرآن مجید (اردو)

مترجم: شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ

حضرت شیخ الہندؒ نے اس ترجمہ کی ابتدا ۱۳۲۷ھ میں کر دی تھی لیکن تکمیل بحیرۂ روم کے جزیرہ مالٹا میں بزمانہ اسارت ہوئی۔ مولانا کا انتقال ۱۳۳۹ھ میں ہوا۔ انتقال کے بعد مدینہ پریس بجنور (انڈیا) کے مالک مولوی مجید حسن صاحب مرحوم نے شیخ الہندؒ کی اہلیہ مرحومہ سے اس کے حقوقِ اشاعت لے کر ۱۳۴۲ھ میں شائع کیا۔

(۵) ترجمہ قرآن مجید (اردو)

مترجم: مولانا فتح محمد صاحب جالندھریؒ

یہ ترجمہ اردو صرف و نحو کی مشہور کتاب ’’مصباح القواعد‘‘ کے مصنف کا ہے۔ ترجمہ عام فہم اور سلیلس ہے اور علمائے کرام کے نزدیک بھی معتبر اور مفید ہے۔ پاکستان بننے سے پہلے لاہور کے مشہور ہندو تاجر کتب عطر چند کپور نے بھی اس کا ایڈیشن چھاپا تھا۔ اب تاج کمپنی پاکستان نے بھی اعلٰی معیار پر شائع کیا ہے۔ اس ترجمہ کا نام ’’فتح الحمید‘‘ ہے۔

(۶) ترجمہ قرآن مجید (اردو)

مترجم: مولانا محمد احمد سعید صاحب دہلویؒ

یہ ترجمہ مفتی محمد کفایت اللہ صاحبؒ کی سرپرستی میں علماء کی ایک جماعت کے مشورے سے کیا گیا ہے۔ ترجمہ کا نام ’’کشف الرحمٰن‘‘ ہے۔ یہ ترجمہ سلیلس اور عام فہم ہے اور معمولی استعداد رکھنے والا شخص بھی اس کو سمجھ سکتا ہے۔ پندرہ پندرہ پاروں کی دو جلدوں میں دینی بکڈپو دہلی نے شائع کیا ہے اور پاکستان میں اس کی اشاعت مکتبہ رشیدیہ کراچی نے کی ہے۔

(۷) ترجمہ قرآن مجید (اردو)

مترجم: شیخ التفسیر مولانا احمد علی صاحب لاہوریؒ

یہ ترجمہ پہلی مرتبہ ۱۹۲۷ء میں شائع ہوا۔ انجمن خدام الدین شیرانوالہ گیٹ لاہور نے اسے شائع کیا۔ ترجمہ بہت ہی آسان ہے۔

(۸) ترجمہ قرآن مجید (اردو)

مترجم: مولانا فیروز دین صاحب لاہوریؒ

یہ ترجمہ اردو لغت کی مشہور اور مقبول کتاب ’’فیروز اللغات‘‘ کے مرتب مولانا فیروز دینؒ کا ہے اور فیروز سنز نے ہی اسے شائع کیا ہے۔ ترجمہ مقبول ہے۔

(۹) ترجمہ قرآن مجید (اردو)

مترجم: مولانا سید ممتاز علیؒ دیوبندی

یہ ترجمہ قرآن کی توقیفی ترتیب کے مطابق نہیں ہے لیکن مکمل ہے۔ مترجم نے قرآن مجید کے علوم و مضامین کی ایک فہرست ’’تفصیل البیان فی مقاصد القرآن‘‘ کے نام سے برسوں محنت و مشقت کر کے ترتیب دی تھی۔ یہ ترجمہ اسی فہرست کے ضمن میں گیلانی پریس سے ۱۳۴۹ھ میں شائع ہوا۔ ترجمہ ابھی نامکمل تھا کہ مؤلف کا انتقال ہو گیا۔ باقی کام مولانا نجم الدین صاحب سیوہاروی نے مکمل کیا۔ یہ کتاب پہلے چھ جلدوں میں شائع ہوئی تھی، اب دو جلدوں میں دہلی سے شائع ہوئی ہے۔

(۱۰) ترجمہ قرآن مجید (اردو)

مترجم: مولانا عبد الحق عباسؒ

یہ ترجمہ ’’ترجمان القرآن‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ اس میں پہلے ہر آیت کے الفاظ کا ترجمہ الگ الگ کیا گیا ہے جس سے عام قاری یہ جان سکتا ہے کہ کس لفظ کا کیا معنی ہے۔ پھر سہولت کے لیے دوسری سطر میں بامحاورہ اردو ترجمہ بھی کیا گیا ہے۔ مکتبہ علمیہ لاہور نے اسے نہایت اعلٰی معیار پر شائع کیا ہے۔ یہ الگ الگ پاروں کی صورت میں بھی شائع ہو رہا ہے۔

(۱۱) ترجمہ قرآن مجید (اردو)

مترجم: مولانا عبد الشکور لکھنؤیؒ

اس ترجمہ کا ذکر مولانا عبد الصمد صارم نے تاریخ التفسیر میں اور مولانا زاہد الحسینی نے تذکرۃ المفسرین میں کیا ہے۔

(۱۲) ترجمہ قرآن مجید (اردو)

مترجمین: (۱) مولانا خواجہ عبد الحئی فاروقیؒ، شیخ التفسیر جامعہ ملیہ دہلی (۲) حافظ نذر احمد (۳) حافظ مرغوب احمد (۴) حاجی عبد الواحد۔

یہ ترجمہ ’’درسِ قرآن‘‘ کے ساتھ ۷ جلدوں میں ادارہ اصلاح و تبلیغ آسٹریلوین بلڈنگ لاہور سے شائع ہوا ہے۔ اس میں ہر آیت کا لفظی اور بامحاورہ ترجمہ الگ الگ کیا گیا ہے۔

(۱۳) ترجمہ قرآن مجید (کشمیری)

مترجم: مولانا سید میرک شاہ اندرابی تلمیذ علامہ انور شاہ کشمیری

اس ترجمہ کا ذکر ’’تعارف قرآن‘‘ از کرنل فیوض الرحمٰن میں موجود ہے۔

(۱۴) ترجمہ قرآن مجید (اردو)

مترجم: مولانا عبد الماجد دریابادی

یہ ترجمہ ’’تفسیرِ ماجدی‘‘ کے ساتھ ہی شائع ہوا۔

(۱۵) ترجمہ قرآن مجید (انگلش)

مترجم: مولانا عبد الماجد دریابادی

یہ ترجمہ ’’تفسیرِ ماجدی‘‘ (انگلش) کے ساتھ شائع ہوا ہے۔

(۱۶) ترجمہ قرآن مجید (سندھی)

مترجم: مولانا سید تاج محمود امروٹیؒ

یہ ترجمہ شیخ التفسیر مولانا احمد علی لاہوریؒ نے شائع کرایا تھا۔ کئی بار چھپ چکا ہے اور سندھ میں بڑی عقیدت و محبت کے ساتھ پڑھا جا رہا ہے۔

(۱۷) ترجمہ قرآن مجید (سندھی)

مترجم: مولانا محمد مدنی سندھی

یہ ترجمہ کئی بار شائع ہو چکا ہے اور مقبول ہے۔

(۱۸) ترجمہ قرآن مجید (اردو)

مترجم: مولانا محمد علی صدیقی کاندھلویؒ

یہ ترجمہ تفسیر ’’معالم القرآن‘‘ کے ساتھ شائع ہو رہا ہے۔ ابھی تک دس جلدوں میں دس پاروں کا ترجمہ شائع ہوا ہے۔

(۱۹) ترجمہ قرآن مجید (اردو)

مترجم: علامہ سید عبد الدائم الجلالی

یہ ترجمہ صاف، سلیس، بامحاورہ اور عام فہم ہے اور تفسیر ’’بیان السبحان‘‘ کے ساتھ شائع ہوا ہے۔

(۲۰) ترجمہ قرآن مجید (اردو)

مترجم: مولانا محمد عثمان کاشف الہاشمی

یہ ترجمہ تفسیر ’’ہدایت القرآن‘‘ کے ساتھ شائع ہوا ہے۔ ترجمہ عام فہم ہے۔ اسے مکتبہ حجازیہ دیوبند ضلع سہارنپور نے شائع کیا ہے۔

(۲۱) ترجمہ قرآن مجید (اردو)

مترجم: مولانا حبیب احمد کیرانوی

یہ ترجمہ دو جلدوں میں کتب خانہ امدادیہ دیوبند سے شائع ہوا ہے۔

(۲۲) ترجمہ قرآن مجید (اردو)

مترجم: مولانا قاضی عبید اللہ ڈیرویؒ

یہ تفسیر عبیدیہ کے ساتھ شائع ہو رہا ہے۔ ابھی اس کی صرف جلد اول شائع ہوئی ہے۔

(۲۳) ترجمہ قرآن مجید (اردو)

مترجم: مولانا قاضی اطہر مبارکپوری

یہ ترجمہ مکمل قرآن کا ہے لیکن راقم کی نظر سے نہیں گزرا۔ خیال ہے کہ ابھی تک شائع نہیں ہوا۔ اس کا ذکر ’’تعارفِ قرآن‘‘ میں موجود ہے۔

(۲۴) ترجمہ قرآن مجید (اردو)

مترجم: مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتی

یہ ترجمہ ’’تفسیر معالم العرفان فی دروس القرآن‘‘ کے ساتھ شائع ہو رہا ہے۔ ابھی تک پندرہ جلدیں شائع ہو چکی ہیں۔ تفسیر کے ساتھ ترجمہ عام فہم بامحاورہ اور تمام خوبیوں کا حامل ہے اور عوام و خواص میں یکساں مفید اور مقبول ہے۔ یہ ترجمہ شاہ ولی اللہؒ، شاہ عبد القادرؒ، شاہ رفیع الدینؒ، شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ، حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے تراجم کا خلاصہ اور نچوڑ ہے۔

(۲۵) ترجمہ قرآن مجید (پشتو)

مترجم: مولانا فضل الرحمٰن پشاوری

اس کے بارے میں زیادہ تفصیل معلوم نہیں ہو سکی۔ اس کا ذکر ’’تذکرۃ المفسرین‘‘ میں موجود ہے۔

(۲۶) ترجمہ قرآن مجید (انگلش)

مترجمہ: اہلیہ حضرت مولانا عزیر گلؒ

یہ ترجمہ مولانا عزیر گلؒ اور ان کی اہلیہ نے تقریباً تیس سالہ محنت شاقہ اور مطالعہ کے بعد انگریزی زبان میں کیا جو دوسرے انگریزی تراجم سے کئی وجوہ سے ممتاز ہے۔ یہ ترجمہ فیروز سنز لاہور سے شائع ہو چکا ہے۔

(۲۷) ترجمہ قرآن مجید (انگلش)

مترجم: محمد طفیل فاروقیؒ

یہ ترجمہ تفسیر کے ساتھ شائع ہو رہا تھا کہ ۱۰ شعبان ۱۳۹۹ھ کو مترجم کا انتقال ہو گیا۔ ترجمہ کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ قرآن کی آیات کو اصل متن کے ساتھ رومن رسم الخط میں بھی تحریر کیا گیا ہے۔ اس کے حاشیہ پر مختصر نوٹس بھی موجود ہیں۔

(۲۸) ترجمہ قرآن مجید (گجراتی)

مترجم: مولانا عبد الرحیم صادقؒ

(۲۹) ترجمہ قرآن مجید (پشتو)

مترجمین: مولانا فضل ودود ۔ مولانا گل رحیم اسماری

مولانا فضل ودود نے پہلے ۱۵ پاروں کا ترجمہ و تفسیر لکھی ہے اور باقی ۱۵ پاروں کا ترجمہ و تفسیر مولانا گل رحیم اسماری نے کی ہے (بحوالہ الرشید، دارالعلوم دیوبند نمبر)۔

(۳۰) ترجمہ قرآن مجید (اردو)

مترجم: مولانا شائع احمد عثمانی تلمیذ حضرت شیخ الہندؒ

یہ صرف پارہ عم کا ترجمہ ہے جو مطبع رحمانیہ مونگیر (بہار) سے ۱۹۱۷ء میں شائع ہوا۔ کرنل فیوض الرحمٰن نے پارہ عم کے علاوہ پارہ ۲۹، سورہ فاتحہ اور دیگر کئی سورتوں کا ذکر بھی کیا ہے۔

(۳۱) ترجمہ قرآن مجید (اردو)

مترجم: مولانا عبد الباری فرنگی محلیؒ

یہ ترجمہ سلیس، عام فہم اور بامحاورہ ہے۔ اس کی دو جلدیں شائع ہو چکی ہیں جو دو ابتدائی پاروں پر مشتمل ہیں۔ یہ ترجمہ ’’الطاف الرحمٰن بتفسیر القرآن‘‘ کے ساتھ شیخ الطاف الرحمٰن قدوائی نے ترتیب دے کر نامی پریس لکھنؤ سے ۱۹۲۵ء میں شائع کیا ہے۔

(۳۲) ترجمہ قرآن مجید (گجراتی)

مترجم: مولانا غلام صادق

یہ مولانا غلام صادق راندیری کی سعی ہے جو ترجمہ و تفسیر پر مشتمل ہے۔ یہ ترجمہ ۱۹۶۴ء میں مسلم گجرات پریس سورت سے شائع ہوا۔ دراصل یہ ترجمہ و تفسیر مولانا شمس الدین بڑودی کی محنت کا نتیجہ ہے۔ اس ترجمے میں دو کالم کیے گئے ہیں، ایک میں عربی متن، دوسرے کالم میں ترجمہ ہے۔ فٹ نوٹس میں تفسیری فوائد ہیں۔ ترجمہ تمام تر شیخ الہندؒ اور حضرت تھانویؒ کے ترجموں سے مستفاد ہے۔ تفسیری فوائد مولانا شبیر احمد عثمانیؒ کے تفسیری حواشی سے ماخوذ ہیں۔ یہ ترجمہ دو جلدوں پر مشتمل ہے اور ۱۴۶۰ صفحات پر پھیلا ہوا ہے۔ ابتدا میں ۱۱۸ صفحات پر مقدمہ ہے۔ ترجمے کی زبان رواں دواں اور ہلکی پھلکی ہے۔ گجراتی کے دوسرے تراجم کے مقابلے میں یہ سب سے زیادہ مقبول ہے (جائزہ تراجم قرآنی)۔

(۳۳) ترجمہ قرآن مجید (تلیگو)

مترجم: مولانا عبد الغفور کرلولی، فاضل دیوبند

تلیگو زبان میں یہ واحد تفسیر ہے۔ اس میں پہلے تلیگو رسم خط میں متنِ قرآن ہے، اس کے نیچے آیت متعلقہ کا ترجمہ ہے، پھر اس کی تفسیر کی گئی ہے۔ اس تفسیر کے تین پارے پہلی بار ۱۹۴۱ء میں شائع ہوئے تھے۔ اس کے بعد نواب مقصود جنگ افسر الاطبا کے پیش لفظ کے ساتھ مکمل دو جلدوں میں ۱۹۴۹ء میں شائع ہوئی (جائزہ تراجم قرآنی)۔

(۳۴) ترجمہ قرآن مجید (کنڑی)

مترجم کا نام معلوم نہیں

یہ ترجمہ اصل میں مولانا اشرف علی تھانویؒ کا ہے جس کو کنڑی زبان میں منتقل کیا گیا ہے۔ ۱۶ پارے دارالاشاعت بنگلور سے ۱۹۶۶ء میں شائع ہوئے (جائزہ تراجم قرآنی)۔

(۳۵) ترجمہ و تفسیری نوٹس (فرانسیسی)

مترجم: ڈاکٹر حمید اللہ

اس کے مترجم ڈاکٹر حمید اللہ حیدرآبادی ہیں، آج کل پیرس میں مقیم ہیں، یہ ترجمہ اور تفسیری نوٹس ۱۹۹۰ء میں شائع ہوئے (جائزہ تراجم قرآنی)۔

(۳۶) ترجمہ قرآن مجید (اردو)

مترجم: حافظ نذر احمد

یہ ترجمہ عام فہم اور عربی سے ناواقف حضرات کے لیے بہت مفید ہے۔ اس میں پہلے ہر ہر لفظ کا الگ الگ ترجمہ اور پھر بامحاورہ ترجمہ کیا گیا ہے۔ الگ الگ پاروں کے علاوہ مکمل ایک جلد میں بھی مسلم اکادمی محمد نگر لاہور سے شائع ہو چکا ہے۔

نوٹ:

تراجم کی مذکورہ تعداد مرتب کے علم کے مطابق ہے۔ اگر اہلِ علم کے پاس مزید معلومات ہوں تو وہ مطلع فرما کر شکریہ کا موقع عنایت کریں۔

مراجع و ماخذ

(۱) تاریخِ قرآن، قاری شریف احمد، مکتبہ رشیدیہ کراچی۔

(۲) تعارفِ قرآن، کرنل قاری فیوض الرحمٰن،  مکتبہ مدنیہ لاہور۔

(۳) تاریخِ تفسیر، عبد الصمد صارم ازہریؒ، لاہور۔

(۴) تذکرۃ المفسرین، مولانا قاضی زاہد الحسینی، دارالارشاد اٹک شہر

(۵) منازل العرفان فی علوم القرآن، مولانا محمد مالک کاندھلویؒ، لاہور

(۶) ماہنامہ الرشید لاہور، دارالعلوم دیوبند نمبر۔

(۷) جائزہ تراجم قرآنی، مجلس معارف القرآن، دیوبند (انڈیا)

اپریل ۱۹۹۴ء

مسئلہ کشمیر پر قومی یکجہتی کے اہتمام کی ضرورتمولانا ابوعمار زاہد الراشدی
بدعت اور اس کا وبالشیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر
انسان کی دس فطری چیزیںشیخ التفسیر مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ
مولانا سندھیؒ کا پچاس سالہ یومِ وفاتڈاکٹر ابو سلمان شاہجہانپوری
ایسٹر سنڈے ۔ نظریات اور رسوم کا ایک جائزہمحمد یاسین عابد
مشہد میں مسجد کی شہادتادارہ
افریقہ میں عیسائی مشنریوں کی سرگرمیاںادارہ
گستاخِ رسولؐ کے لیے موت کی سزا کا قانونادارہ
میڈیا کی جنگ اور اس کے تقاضےادارہ
ڈاکٹر سید سلمان ندوی کا دورہ برطانیہادارہ
شاہ ولی اللہ یونیورسٹی گوجرانوالہ کی سالانہ تقریبادارہ
تعارف و تبصرہمحمد عمار خان ناصر
سیرت النبیؐ پر انعامی تقریری مقابلہادارہ

مسئلہ کشمیر پر قومی یکجہتی کے اہتمام کی ضرورت

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

جنیوا کے انسانی حقوق کمیشن میں کشمیر کے حوالے سے پاکستان کی قرارداد کی واپسی ان دنوں قوم حلقوں میں زیر بحث ہے۔ یہ قرارداد مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے مظالم اور انسانی حقوق کی پامالی کی مذمت کے لیے پیش کی گئی تھی لیکن ووٹنگ سے قبل چین اور ایران کے کہنے پر واپس لے لی گئی۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ قرارداد کا مقصد مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنا تھا جو ووٹنگ کے بغیر حاصل ہوگیا ہے اور چین اور ایران جیسے دوست ممالک کے مشورہ کو نظر انداز کرنا مشکل تھا اس لیے قرارداد موخر کر دی گئی۔ جبکہ اپوزیشن کے راہنماؤں کا کہنا ہے کہ حکومت نے قرارداد واپس لے کر مسئلہ کشمیر کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے اور ان مجاہدین کشمیر کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے جو اس وقت مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے ظلم و تشدد کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔ حکومتی حلقوں اور اپوزیشن کی اس کشمکش سے قطع نظر بین الاقوامی پریس کا یہ تجزیہ بھی قابل توجہ ہے کہ قرارداد کے لیے جو محنت ضروری تھی پاکستان کی وزارت خارجہ اس کا اہتمام نہیں کر سکی حتیٰ کہ قرارداد کی حمایت میں مسلم ممالک سے روابط اور انہیں قائل کرنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی گئی جس کی وجہ سے انسانی حقوق کمیشن میں قرارداد کی منظوری کے امکانات مخدوش تھے اور پاکستان نے شکست سے بچنے کے لیے قرارداد کو واپس لینے یا موخر کرنے میں عافیت سمجھی ہے۔

بہرحال جو ہوا اس کے اسباب کچھ بھی ہوں اس سے مجاہدین کشمیر کو نقصان پہنچا ہے، پاکستان کی ساکھ مجروح ہوئی ہے اور بھارت کو یہ موقع ملا ہے کہ وہ اسے اپنی سفارتی فتح قرار دے کر پاکستان کو اپنی شرائط پر دوبارہ مذاکرات کی دعوے دے رہا ہے۔ اور اس بات میں بھی شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ پاکستان کی وزارت خارجہ اس سلسلہ میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہی ہے جس کا نوٹس قومی سطح پر لیا جانا ضروری ہے۔

اس مرحلہ پر چین اور ایران کا طرز عمل بھی سنجیدہ غور و فکر اور تجزیہ کا متقاضی ہے کہ یہ دونوں ملک مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے موقف کے ہمیشہ حامی رہے ہیں اور ان کی حمایت پاکستان اور کشمیری حریت پسندوں کے لیے تقویت کا باعث رہی ہے، لیکن اب انسانی حقوق کمیشن میں پیش کردہ قرارداد بھی انہی کے کہنے پر پاکستان کو واپس لینا پڑی ہے۔ اس کی یہ وجہ بھی ہو سکتی ہے کہ انہوں نے پاکستان کو واضح شکست سے بچانے کے لیے قرارداد واپس لینے کا مشورہ دیا ہو لیکن ہم اس مسئلہ کے ایک اور پہلو کو سامنے لانا بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ جب سے امریکی حلقوں کی طرف سے کشمیر یا اس کے ایک بڑے حصے کو خودمختار ملک کی حیثیت دینے کی تجویز سنجیدگی کے ساتھ سامنے آئی ہے اور کشمیر میں رائے شماری کے لیے بھارت یا پاکستان کے ساتھ الحاق کے علاوہ خودمختاری کا تھرڈ آپشن شامل کرنے پر زور دیا جا رہا ہے اس وقت سے یہ خدشات بڑھتے جا رہے ہیں کہ امریکہ دراصل خودمختار کشمیر کو اپنے فوجی اڈے کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے جس کا مقصد چین کے متوقع عالمی کردار سے نمٹنا ہے۔

اس صورتحال میں اگر مسئلہ کشمیر کے حوالہ سے چین کے طرز عمل میں تبدیلی آتی ہے تو اسے اس کے قومی مفادات سے الگ کر کے دیکھنا مناسب نہیں ہوگا۔ ایران کی صورتحال بھی اس سے مختلف نہیں ہے۔ ان حالات میں جبکہ ایک طرف مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین اور نہتے کشمیری عوام پر بھارتی افواج کے مظالم میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور دوسری طرف مسئلہ کشمیر کے حوالہ سے بین الاقوامی اور علاقائی طور پر دوست ممالک کی ترجیحات میں واضح تبدیلیاں دکھائی دے رہی ہیں، وزارت خارجہ کی سست روی اور مسئلہ سے نمٹنے کے لیے روایتی طرز عمل پر قناعت انتہائی تکلیف دہ بات ہے۔ اور اس سے زیادہ اذیت ناک بات یہ ہے کہ حکومتی پارٹیوں اور اپوزیشن نے مسئلہ کی نزاکت کا احساس کرنے اور مسئلہ کشمیر پر مشترکہ قومی موقف اختیار کرنے کی بجائے اس نازک قومی مسئلہ کو باہمی کشمکش اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا ذریعہ بنا لیا ہے۔

ہم حکومت اور اپوزیشن سے گزارش کریں گے کہ وہ اپنے اپنے طرز عمل پر نظر ثانی کریں اور مل بیٹھ کر مسئلہ کشمیر پر مشترکہ موقف اور پالیسی اختیار کریں تاکہ اہل پاکستان آزادیٔ کشمیر کے سلسلہ میں اپنی قومی ذمہ داریوں کو صحیح طور پر ادا کر سکیں۔

جناب محمد مسعود اظہر کی گرفتاری

ماہنامہ صدائے مجاہد کراچی کے مدیر جناب محمد مسعود اظہر کو گزشتہ دنوں سری نگر میں گرفتار کر لیا گیا۔ وہ باقاعدہ ویزا پر بھارت گئے تھے اور مقبوضہ کشمیر کے حالات کا جائزہ لینے کے لیے وہاں پہنچے ہی تھے کہ گرفتار کر لیے گئے اور مبینہ طور پر انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر یا دنیا کے کسی بھی خطہ میں حالات کا جائزہ لینا اور وہاں کی صورتحال سے اپنے قارئین کو باخبر رکھنا ہر صحافی کی پیشہ وارانہ ذمہ داری ہے اور کسی بھی صحافی کو اس کے اس حق سے محروم کرنا صحافت کے مسلمہ اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ ہم انسانی حقوق کے عالمی اداروں، مسلم حکومتوں اور بین الاقوامی پریس سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ پاکستانی صحافی محمد مسعود اظہر کی گرفتاری کا نوٹس لیں اور انہیں بھارت کی مسلح فورسز کے تشدد سے بچانے اور ان کی رہائی کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔

بدعت اور اس کا وبال

شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر

جوں جوں زمانہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور قرونِ مشہود لہا بلاخیر سے دور ہوتا جا رہا ہے، دوں دوں امورِ دین اور سنت میں رخنے پڑتے جا رہے ہیں۔ ہر گروہ اور ہر شخص اپنے من مانے نظریات و افکار کو خالص دین بنانے پر تلا ہوا ہے، اور تمام نفسانی خواہشات اور طبعی میلانات کو ایڑی چوٹی کا زور لگا کر دین اور سنت ثابت کرنے کا ادھار کھائے بیٹھا ہے، الا ما شاء اللہ، اور ایسی ایسی باتیں دین اور کارِ ثواب قرار دی جا رہی ہیں کہ سلف صالحینؒ کے وہم و گمان میں بھی وہ نہ ہوں گی، حالانکہ دین صرف وہی ہے جو ان حضرات سے ثابت ہوا ہے اور انہی کے دامنِ تحقیق سے وابستہ رہنے میں نجات منحصر ہے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح شرک و بدعت کی تردید فرمائی ہے اتنی تردید کسی اور چیز کی نہیں فرمائی، اور تمام بدعات اور مخترعات سے باز رہنے کی سختی سے تاکید فرمائی ہے اور خصوصاً وہ بدعات جو قیامت کے قریب رونما ہوں گی۔ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ
’’آخر زمانہ میں کچھ ایسے دجال اور کذاب ہوں گے جو تمہارے سامنے ایسی حدیثیں اور باتیں پیش کریں گے جو نہ تو تم نے سنی ہوں گی اور نہ تمہارے آبا و اجداد نے۔ پس تم ان سے بچو اور ان کو اپنے قریب نہ آنے دو تاکہ وہ تمہیں نہ تو گمراہ کر سکیں اور نہ فتنے میں ڈال سکیں۔‘‘ (مسلم ج ۱ ص ۱۰ و مشکوٰۃ ج ۱ ص ۲۸)
اور ان کی ایک اور روایت میں ہے:
’’تمہارے پاس وہ گھڑ گھڑ کر حدیثیں پیش کریں گے۔‘‘ (البدع والنہی عنہا، امام محمد بن وضاح قرطبی اندلسیؒ، ص ۲۷ طبع مصر)
اہلِ بدعت کے جتنے فرقے ہیں وہ اپنے مزعوم افعال کی بنیاد ایسی بے سروپا احادیث پر رکھتے ہیں جن کا معتبر کتب حدیث میں کوئی وجود نہیں، اور اگر کہیں ہے بھی تو محدثین نے ان کو ضعیف اور معلول قرار دیا ہوتا ہے۔ اور اہلِ بدعت ایسی ایسی بدعات آئے دن نکالتے رہتے ہیں کہ پہلے ان سے کوئی شناسا نہ تھا، اور جیسے جیسے قیامت نزدیک آتی رہے گی نئی نئی بدعات جنم لیتی رہیں گی اور سنتِ مظلومہ اٹھتی چلی جائے گی، فوا اسفاً۔ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ
’’جو نیا سال لوگوں پر آئے گا اس میں وہ کوئی نہ کوئی نئی بدعت گھڑیں گے اور سنت کو مٹا دیں گے حتٰی کہ بدعتیں زندہ کی جائیں گی اور سنتیں مٹ جائیں گی۔‘‘ (البدع والنہی عنہا، ص ۳۸)
یہ حدیث اگرچہ موقوف ہے لیکن حکماً مرفوع ہے اور یہ جو کچھ فرمایا بالکل بجا ہے۔
حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ
’’تمہاری کیا حالت ہو گی جبکہ تم پر فتنہ چھا جائے گا، اس فتنہ میں بچے بڑے ہوں گے اور عمر رسیدہ بوڑھے ہو جائیں گے۔ اور اپنی طرف سے ایک سنت گھڑی جائے گی جس پر عمل ہوتا رہے گا، جب اس کو بدلنے کی کوشش ہو گی تو کہا جائے گا ہائے سنت بدل دی۔ دریافت کیا گیا اے ابو عبد الرحمٰن! یہ کب ہو گا؟ فرمایا کہ جب تمہارے قاری زیادہ ہو جائیں گے اور فقیہ کم ہوں گے اور مال زیادہ ہو گا اور امین کم ہوں گے اور آخرت کے عمل کے بدلہ میں دنیا طلب کی جائے گی اور دین کا علم محض دنیا کمانے کا ذریعہ بن جائے گا۔‘‘ (البدع والنہی عنہا ص ۸۹)
اور ایک روایت میں آتا ہے کہ
’’آخر زمانہ میں جاہل عابد ہوں گے اور فاسق قاری ہوں گے۔‘‘ (الجامع الصغیر جلد ۲ ص ۲۰۶ طبع مصر)
حضرت ابن مسعودؓ کی روایت حکماً مرفوع ہے اور اس میں بدعت کے بعض اسباب کا خوب نقشہ کھینچا گیا ہے۔
حضرت معاذؓ بن جبل سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ
’’ایسا فتنہ برپا ہو گا جس میں مال زیادہ ہو جائے گا اور قرآن اس میں کھول کر پڑھا جائے گا۔ یہاں تک کہ مومن و منافق اور عورت و مرد اور چھوٹے اور بڑے تقریباً سبھی قرآن پڑھیں گے۔ سو ان میں ایک شخص آہستہ قرآن پڑھے گا تو اس کی پیروی نہیں کی جائے گی تو وہ کہے گا کہ کیوں میری بات نہیں مانی جاتی، بخدا میں بلند آواز سے قرآن پڑھوں گا، تو وہ چلّا چلّا کر قرآن پڑھے گا۔ پھر بھی لوگ اس کی طرف مائل نہ ہوں گے تو وہ الگ مسجد بنائے گا اور ایسی ایسی بدعت کی باتیں ایجاد کرے گا کہ قرآن و سنت میں نہ ہوں گی۔ تو تم ان سے بچو اور اس کو اپنے نزدیک نہ آنے دو کیونکہ اس کی یہ کارروائی بدعتِ ضلالہ ہو گی (تین مرتبہ یہ الفاظ فرمائے)۔‘‘ (البدع والنہی عنہا ص ۲۶)
اور یہ روایت ان سے ان الفاظ سے بھی مروی ہے:
’’قریب ہو گا کہ کہنے والا کہے گا کہ لوگ میری طرف مائل نہیں ہوتے حالانکہ میں بھی قرآن پڑھتا ہوں۔ کیوں یہ لوگ میری پیروی نہیں کرتے؟ یہاں تک کہ وہ ان کے لیے بدعت گھڑے گا تاکہ لوگ اس کی طرف مائل ہوں۔ سو تم اس کی بدعت سے بچنا کیونکہ اس کی کارروائی نری بدعتِ ضلالہ ہو گی۔‘‘ (ابوداؤد ج ۲ ص ۲۷۶)
الغرض بدعت اور بدعتی سے بچنے کی اشد تاکید آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرامؓ سے ثابت ہے۔ اور بدعت کی ایسی نحوست پڑتی ہے کہ دنیا میں توبہ کی توفیق نصیب نہیں ہوتی اور آخرت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے محرومی ہوتی ہے (العیاذ باللہ)۔ چنانچہ حضرت انس ؓ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ
’’بے شک اللہ تعالیٰ نے ہر بدعتی پر توبہ کا دروازہ بند کر دیا ہے۔‘‘ (البدع والنہی عنہا ص ۵۵ و مجمع الزوائد ج ۱۰ ص ۱۸۹)
ایک تو بدعت کی نحوست سے دل کی بصیرت اور نیکی کی استعداد مفقود ہو جاتی ہے اور دوسرے جب بدعتی بدعت کو دین اور کارِ ثواب سمجھے گا تو توبہ کیوں کرے گا؟ حضرت بکر بن عبد اللہؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ
’’میری شفاعت میری ساری امت کے لیے ثابت ہو گی مگر بدعتی کے لیے نہیں ہوگی۔‘‘ (البدع والنہی عنہا ص ۳۶)
صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ کبیرہ گناہ کے مرتکب کے لیے تو آپ کی شفاعت ہو گی لیکن بدعتی کے لیے نہیں ہو گی۔ اس سے معلوم ہوا  کہ شریعت میں بدعت کبیرہ گناہ سے بھی بدتر ہے، اللہ تعالیٰ سب مسلمانوں کو تمام گناہوں سے اور خصوصاً شرک و بدعت سے محفوظ رکھے۔



حضرت درخواستیؒ کی علالت

شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی دامت برکاتہم کافی عرصہ سے علیل ہیں اور ان دنوں کراچی کے ایک ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ احباب دعا فرمائیں کہ اللہ رب العزت حضرت مدظلہ کو صحت کاملہ و عاجلہ سے نوازیں اور ان کے وجود و برکات سے عالمِ اسلام کو تادیر مستفیذ ہونے کی توفیق دیں، آمین۔

انسان کی دس فطری چیزیں

شیخ التفسیر مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ

عن عمار بن یاسر ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قالہ ان من الفطرۃ (او الفطرۃ) المضمضۃ والاستنشاق و قص الشارب والسواک و تقلیم الاظفار وغسل البراجم ونتف الابط والاستحداد والاختتان والانتضاح۔
’’حضرت عمارؓ بن یاسرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، دس چیزیں فطرت میں سے ہیں (یا فطرت ان دس چیزوں پر بھی مشتمل ہے) کلی کرنا، ناک صاف کرنا، مونچھوں کو کاٹنا، مسواک کرنا، ناخنوں کو کاٹنا، ہاتھوں کی چنٹوں کو صاف کرنا، بغل کے بالوں کو اکھاڑنا، زیرناف بالوں کو صاف کرنا، ختنہ کرنا اور استنجا کرنا۔‘‘
فطرت سے مراد وہ حالت ہے جو بنی نوع انسان میں قدرتاً پائی جاتی ہے، تمام نبیوں کے طریق میں جاری رہی ہے اور خود نبیوں نے بھی ان کی تعلیم دی ہے۔ جب کوئی شخص اپنی فطرت پر قائم ہو گا تو وہ ان دس چیزوں پر ضرور عمل کرے گا:

(۱) المضمضہ

کُلّی، یعنی منہ میں پانی ڈال کر منہ کو صاف کرنا۔ انسان کھانا کھاتا ہے یا سو کر اٹھتا ہے تو منہ میں آلائش ہوتی ہے، اس کو صاف کرنے کے لیے کُلی کرنا سنت انبیاءؑ ہے۔

(۲) الاستنشاق

یعنی ناک جھاڑنا۔ ناک میں پانی ڈال کر اس کو اچھی طرح صاف کرنا بھی فطری امر ہے۔ اگر ناک صاف نہ ہو تو قرآن پاک کی تلاوت یا دیگر عبادات کی ادائیگی کے دوران خلل واقع ہوتا ہے۔ انسان عام گفتگو بھی اچھے طریقے سے نہیں کر سکتا۔ لہٰذا ناک کی صفائی بھی ضروری ہے۔ حضور علیہ السلام کا فرمان ہے کہ جب نیند سے بیداری ہو تو ناک میں پانی ڈال کر اس کو خوب جھاڑو۔ اس میں حکمت یہ ہے کہ رات کو جب سوتے وقت انسانی جسم کے تمام راستے بند ہو جاتے ہیں تو صرف ناک کا راستہ کھلا ہوتا ہے، لہٰذا شیطان اس میں گھس کر بیٹھ جاتا ہے اور رات بھر انسان کے دماغ میں وسوسے ڈالتا رہتا ہے۔ جب بیدار ہو کر آدمی ناک جھاڑتا ہے تو شیطان کا یہ اڈہ بھی ختم ہو جاتا ہے۔ یہ کام بھی نبیوں کی سنت اور فطرتِ انسانی میں داخل ہے۔

(۳) قص الشارب

مونچھوں کا کاٹنا بھی سنتِ انبیاءؑ ہے، ان کو کتروانا چاہیے۔ دوسری حدیث میں یہ الفاظ آتے ہیں کہ داڑھی کو بڑھاؤ اور مونچھوں کو کاٹو۔ لمبی مونچھیں مجوسیوں، یہودیوں اور ہندوؤں کی علامت ہیں، لہٰذا مسلمانوں کے لیے حکم ہے کہ ان کو کاٹو۔

(۴) السواک

یعنی مسواک کرنا۔ یہ منہ کو پاک کرنے والا عمل ہے جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔ عام نیکی کا اجر تو دس گنا ملتا ہے تاہم جو عبادت مسواک کرنے کے بعد کی جائے اس کا اجر ستر گنا بڑھ جاتا ہے۔ مسواک کی وجہ سے اللہ تعالیٰ پائیوریا وغیرہ جیسی بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے، گویا مسواک مادی لحاظ سے بھی مفید چیز ہے۔

(۵) تقلیم الاظفار

ناخنوں کا ترشوانا بھی فطری امور میں سے ہے۔ لمبے ناخنوں میں میل کچیل جمع ہو کر بیماریوں کا باعث بن سکتی ہے۔ ہفتہ عشرہ بعد ناخنوں کو ضرور کٹوا دینا چاہیے تاہم چالیس دن سے زیادہ کوتاہی نہیں ہونی چاہیے۔

(۶) غسل البراجم

ہاتھوں کی چنٹوں کو صاف کرنا۔ ان میں بھی بعض اوقات میل کچل جم جاتی ہے لہٰذا صفائی ضروری ہے کہ یہ بھی سنتِ انبیاءؑ اور فطری امر ہے۔

(۷) نتف الابط

یعنی بغلوں کے بالوں کو اکھاڑنا بھی فطرتِ انسانی میں داخل ہے۔ امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ اصل سنت تو یہی ہے لیکن میں اس کو برداشت نہیں کر سکتا۔ لہٰذا اگر ان بالوں کو اکھاڑنے میں دقت پیش آتی ہو تو استرے یا پاؤڈر وغیرہ سے صاف کر دینا بھی درست ہے۔

(۸) الاستحداد

زیرِ ناف مستورہ مقامات سے بالوں کو صاف کرنا بھی سنت ہے۔ یہ مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے ضروری ہے۔ اگرچہ عورتوں کے لیے بھی استرا وغیرہ استعمال کرنا جائز ہے تاہم اگر وہ پوڈر وغیرہ استعمال کریں تو بہتر ہے۔ دوسری روایت میں حضور علیہ السلام نے زیرِ ناف بالوں کی صفائی کے لیے چالیس دن کی تحدید فرمائی ہے کہ یہ بال اس عرصہ سے زیادہ دیر تک نہیں رہنے چاہئیں۔ اگر کوئی شخص بلاعذر چالیس دن سے زیادہ عرصہ تک بال صاف نہیں کرتا تو اس کی نماز مکروہ ہوتی ہے۔ البتہ بیمار آدمی یا جس کے اس حصہ جسم میں کوئی تکلیف ہو وہ مستثنٰی ہے۔

(۹) الاختتان

ختنہ کرنا بھی فطری امر اور سنتِ انبیاءؑ میں سے ہے۔ سب سے پہلے ابراہیم علیہ السلام نے ختنہ کیا اور آپ کے بعد یہ تمام انبیاءؑ کی سنت ہے اور ہماری امت میں بھی جاری ہے۔

(۱۰) الانتضاح

استنجا کرنا بھی ضروری ہے۔ عام حالات میں ڈھیلے سے اور اگر نجاست زیادہ ہو تو پانی استعمال کرنا واجب ہو جاتا ہے۔
یہ تمام امور سارے نبیوںؑ کی سنت میں داخل ہیں کیونکہ یہ انسان کی فطرت کا حصہ ہیں۔

مولانا سندھیؒ کا پچاس سالہ یومِ وفات

ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہانپوری

مولانا عبید اللہ سندھیؒ ہماری قومی زندگی کی ایک بلند پایہ شخصیت اور ملتِ اسلامیہ ہند و پاکستان کا سرمایہ افتخار تھے۔ انہوں نے لیلائے وطن کی آزادی کے عشق میں اور ملتِ اسلامیہ کی سرخروئی کے لیے وطنِ مالوف میں مقیم زندگی کے عیش و راحت کے مقابلے میں غربت اور جلاوطنی کی چوبیس سالہ زندگی کو قبول کیا تھا اور اس زندگی میں ہر طرح کے آلام و مصائب کو خندہ پیشانی کے ساتھ برداشت کر لیا تھا۔ وہ جنگِ آزادی کے سورما، انقلابی رہنما، بلند پایہ عالمِ دین، تفسیرِ قرآن میں ایک خالص دبستانِ فکر کے بانی تھے، اور اس دور میں امام ولی اللہ دہلویؒ کے علوم و معارف کے سب سے بڑے شارح اور محقق تھے۔ ان کے افکار کا سرچشمہ قرآنِ حکیم اور علوم و معارفِ ولی اللّٰہی تھے۔
وہ سیال کوٹ (پنجاب) کے ایک سکھ خاندان میں پیدا ہوئے تھے لیکن اسلام قبول کرنے کے بعد سندھ کے بزرگوں نے ان کے لیے سایۂ عاطفت فراہم کیا تھا۔ اس لیے ان کی محبت میں مولانا نے سندھ کو اپنا وطن بنا لیا تھا۔ اس طرح آبائی سندھی (Son of Soil) نہ ہونے کے باوجود وہ سندھ کے ایک نامور اور قابلِ فخر سپوت تھے۔ ان کی زندگی، افکار اور سیرت میں اہلِ وطن کے لیے ایک قابلِ تقلید نمونہ ہے۔ اسلام قبول کر لینے کے بعد انہوں نے مسلمانوں کی تہذیب و روایات اور تاریخ سے اپنا رشتہ جوڑ لیا تھا لیکن وہ جدید دور کے ایک اعلٰی دماغ، روشن خیال اور بلند فکر انسان بھی تھے۔
وہ مسلمانوں کی انفرادی زندگی کی اصلاح، فکر کی تربیت، اخلاق کی تہذیب، سیرت کی تشکیل، اور اجتماعی قومی زندگی کی تنظیم سے لے کر متحدہ انسانیت کے قیام تک کے لیے ایک جامع فکر کی حامل شخصیت تھے۔ ان کے انقلابی افکار میں ملک کی تعمیر و ترقی، قومی حکومت کے قیام، اور معاشی، اقتصادی، مذہبی فرقہ وارانہ مسائل کے حل کے لیے وقت کی سب سے بڑی رہنمائی پوشیدہ ہے۔ اس وقت پاکستان میں لسانی اور علاقائی قومیتوں کے بڑھتے ہوئے رجحانات، مذہبی جنون کے پھیلتے ہوئے زہر، لاقانونیت کے نشو و ارتقا پاتے ہوئے عفریت، علیحدگی پسندی کے پھیلتے ہوئے تباہ کن نظریات، اور بے دینی کے پھوٹ پڑنے والے فساد کا کوئی تریاق، اور بھوک، افلاس، جہالت اور ہر طرح کے علاقائی، صوبائی اور بین الملکی مسائل کا کوئی حل موجود ہے تو امامِ انقلاب مولانا عبید اللہ سندھی کے افکار ہیں۔
مولانا سندھی مرحوم کے افکار اور ان کی بنیاد پر سماجی اور قومی زندگی کی تشکیل ہی پاکستان کو ایک دینی اسٹیٹ رکھتے ہوئے تمام ملکی و قومی مسائل کو حل کر سکتی ہے اور اقوامِ عالم میں پاکستان کے بلند مقام کی ضمانت ثابت ہو سکتے ہیں۔ مولانا سندھی کے افکار کو اپنائے بغیر نہ طبقاتی کشمکش کا حل دریافت کیا جا سکتا ہے، نہ فرقہ واریت کے فتنے کا سدباب ممکن ہے، اور نہ پاکستان کے رفاہی و فلاحی مملکت کے نصب العین کا حصول ہی ممکن ہو سکتا ہے۔
انہی خیالات کے پیشِ نظر اس سال ۲۲ اگست ۱۹۹۴ء کو امامِ انقلاب مولانا سندھی کے پچاس سالہ یومِ وفات کی تقریب سے مرحوم کے عقیدت کیشوں اور ارادت مندوں نے عزم کیا ہے کہ مولانا سندھی کے افکار اور سرچشمۂ افکار قرآنِ حکیم اور علوم و معارف ولی اللّٰہی کے مطالعہ و تحقیق کے ایک نئے دور کا آغاز کیا جائے اور اس سلسلے میں:
(۱) مولانا عبید اللہ سندھی کے افکار، ان کے سرچشموں، مولانا مرحوم کے سوانح، سیرت اور خدمات کے پہلوؤں پر کتاب کی تالیف و تدوین کا انتظام کیا جائے۔
(۲) اخبارات و رسائل کی خصوصی اشاعتوں کا اہتمام کیا جائے۔
(۳) ملک کے تمام صوبوں کے مرکزی شہروں میں سیمیناروں اور مذاکروں کا انعقاد کیا جائے۔
(۴) مولانا عبید اللہ سندھی سے عقیدت اور ان کے افکار اور ان کے سرچشموں سے استفادے کا ذوق رکھنے والوں میں ربط پیدا کر کے ملک و قوم کی عملی خدمت کی ایک مستقل تحریک پیدا کر دی جائے۔
اس سلسلے میں پاکستان و ہندوستان کے تقریباً ایک سو روزناموں، ہفت روزوں اور ماہناموں کو اردو، انگریزی اور سندھی مضامین کی فراہمی کے انتظامات، نیز کراچی، حیدرآباد، لاہور، پشاور (اور کسی اور شہر میں بھی) سیمیناروں اور سمپوزیم (مذاکروں) کے انعقاد کے انصرامات، اور سندھی، اردو اور انگریزی زبانوں میں کتابوں کی اشاعت کے مسائل درپیش ہیں۔ تجویز یہ ہے کہ
(الف) مختلف شہروں میں جہاں امامِ انقلاب مولانا عبید اللہ سندھی کے معتقدین خاصی تعداد میں موجود ہوں، وہ باہم صلاح و مشورہ سے شہری/علاقائی، انتظامی کمیٹیاں تشکیل دے لیں۔
(ب) سیمینار اور مذاکرے جس شہر میں منعقد ہوں وہاں کی کمیٹیاں اپنے حالات و وسائل کے مطابق ان کا انتظام کریں۔
(ج) مولانا سندھی مرحوم کی یاد میں مقامی (شہری/علاقائی) اخبارات و رسائل کے خصوصی نمبروں اور کتابوں کی اشاعت کا انتظام کریں۔ ’’مولانا عبید اللہ سندھی نیشنل کمیٹی پاکستان‘‘ کے پیشِ نظر تین طرح کی تالیفات پیشِ نظر ہیں:
(۱) مولانا سندھی پر تالیفات،
(۲) مولانا سندھی کی تصنیفات، تراجم اور آثارِ علمیہ باقیہ،
(۳) مولانا سندھی کی یاد میں (دوسری شخصیات، ملی تحریکات اور علمی و فکری موضوعات پر) تصنیفات و تالیفات۔
(د) اس وقت تک مندرجہ ذیل تالیفات تیار ہو چکی ہیں اور صرف نظرِثانی میں اصلاح و ترمیم و اضافہ کا بہت تھوڑا کام باقی ہے۔

مولانا سندھی پر کتابیں

(۱) امام انقلاب مولانا عبید اللہ سندھی ۔ ایک مطالعہ (۲) تحریک ریشمی خطوط اور سندھ (۳) معارف عبید اللّٰہی ۔ ایک کتابیاتی جائزہ (۴) مولانا عبید اللہ سندھی اور دارالعلوم دیوبند سے ان کا اخراج ۔ پس منظر کے واقعات و شخصیات پر ایک نظر (۵) مولانا عبید اللہ سندھی ۔ شخصیت و سیرت (سندھی)

مولانا سندھی کے افادات

(۶) مولانا عبید اللہ سندھی کے سیاسی مکتوبات (۷) مولانا عبید اللہ سندھی کا انقلابی منصوبہ ۔ آزاد وطن کے بارے میں مولانا سندھی کا سروراجی پروگرام

مولانا سندھی کی یاد میں

(۸) شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی ۔ ایک سیاسی مطالعہ (۹) کلیاتِ شیخ الہند ۔ مولانا محمود حسن دیوبندی کے اردو، فارسی کلام کا مجموعہ۔
اس سلسلے میں اور بھی کئی چیزیں ہیں جو شائع کی جا سکتی ہیں۔ مذکورۃ الصدر میں ۱ تا ۵ اور نمبر ۷ مولانا عبید اللہ سندھیؒ اکیڈمی (کراچی) کی، نمبر ۶ ندوۃ المصنفین (لاہور) کی، اور ۸، ۹ مجلسِ یادگار شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی ؒ (کراچی) کی تالیفات ہیں۔ ان میں سے بیشتر کی اشاعت کا انتظام ہو گیا ہے۔
(ہ) پاکستان (اور ہندوستان) کے تقریباً سو اخبارات و رسائل کی خصوصی اشاعتوں کے لیے اردو، سندھی اور انگریزی کے قریباً چار سو مضامین کی فراہمی، ان میں کچھ مضامین کے مختلف زبانوں میں تراجم کروانے، ان کے فوٹو اسٹیٹ بنوانے اور انہیں ہر شہر کے اخبارات و رسائل کو ڈاک یا کارکنان کے ذریعے بجھوانے کے انتظامات کرنا ہیں۔
(ر) اگر کوئی صاحبِ قلم یا ناشر اپنے طور پر کوئی کتاب شائع کریں تو ان سے گزارش ہے کہ وہ مولانا عبید اللہ سندھیؒ نیشنل کمیٹی پاکستان کو اپنے عزم سے مطلع فرمائیں اور اپنی تصنیف و تالیف کے لیے نیشنل کمیٹی کا یادگاری صفحہ یا اس کا مضمون اور سلسلہ مطبوعات کا نمبر حاصل کر لیں تاکہ ان کے مساعی بھی اس یادگاری پروگرام سے مربوط ہو جائیں۔
(ز) امامِ انقلاب مولانا عبید اللہ سندھی کے پچاس سالہ یومِ وفات کے حوالے سے نیشنل کمیٹی کے پیشِ نظر بعض ضروری کاموں/تالیفات کی تکمیل ابھی باقی ہے۔
اس سلسلے میں:
(۱) انگریزی زبان میں ایک تصنیف، تالیف یا مجموعہ مضامین کی اشاعت ہونی چاہیے۔ یہ مضامین پہلے سے لکھے ہوئے مہیا ہو جائیں، نئے لکھوائے جائیں، یا اردو، سندھی سے ترجمہ کروا لیے جائیں۔
(۲) اردو، سندھی میں کئی اور اہم موضوعات پر بھی کتابیں آنی چاہئیں، ان میں سے چند یہ ہو سکتی ہیں:
(الف) مولانا عبید اللہ سندھی اور ان کے شیوخ و اساتذہ: اس کتاب میں سید العارفین حضرت امروٹی، حضرت دین پوری، حضرت شیخ الہند، حضرت گنگوہی، مولانا سید احمد، حافظ محمد احمد، میاں نذیر حسین، لکھنؤ اور رام پور وغیرہ کے بعض اساتذہ، پیر جھنڈا کے بعض بزرگ اور دیگر شخصیات جن سے استفادۂ دروس کا اعتراف اور ذکر مولانا سندھی نے عقیدت اور احترام کے ساتھ کیا ہے۔
(ب) مولانا سندھی اور ان کے معاصرین: اس کتاب میں مولانا سندھی کے تعلقات، افکار اور علمی، دینی، سیاسی ذوق کی ہم آہنگی کے حوالے سے ان اکابر شخصیات کا تذکرہ ہونا چاہیے: مولانا ابوالکلام آزاد، علامہ محمد اقبال، ڈاکٹر ذاکر حسین، اللہ بخش سومرو شہید، مولانا محمد صادق، مولانا حسین احمد مدنی، مولانا محمد علی، مسٹر محمد علی جناح، بعض غیر مسلم کانگریسی رہنماؤں (مثلاً سوبھاش چندر بوس، جواہر لال نہرو، گاندھی جی وغیرہ) کے علاوہ بعض اور شخصیات کو شامل کیا جا سکتا ہے۔
(ج) مولانا عبید اللہ سندھی اور ان کے تلامذہ: یہ بہت بڑا اور اہم موضوع ہے، اور اگر اس کے عنوان میں ’’اور ان کی علمی، دینی اور ملی خدمات‘‘ کا اضافہ کر لیا جائے تو یہ پی ایچ ڈی کے لیے ایک عظیم الشان موضوع قرار پائے گا۔ اس کتاب میں میرے علم اور سرسری مطالعے کے مطابق بہ ترتیبِ عہد اِن حضرات کا تذکرہ ہونا چاہیے:
(۱) ابتدائی دور کے تلامذہ: مولانا عبد القادر دین پوری، مولوی کمال الدین (بھرچونڈی)، مولوی محمد اکرم ہالانی، مولوی عبد الوہاب کولاچی، مولانا محمد (نہری)، پیر ضیاء الدین راشدی (پیرجھنڈا)، مولانا احمد علی لاہور، اور مولوی محمد علی و عزیز احمد (اخوان)، مولوی امید علی جیکب آبادی، مولانا عبد الرزاق بستی خیرا، مولانا عبد اللہ لغاری۔
(۲) دورانِ قیامِ دیوبند و دہلی کے تلامذہ: مولوی مظہر الدین شیرکوٹی، مولانا خواجہ عبد الحی فاروقی، مولوی انیس احمد، قاضی ضیاء الدین، پیر مصباح الدین اور دیگر حضرات۔
(۳) افغانستان کے قیام کے دور کے تلامذہ: ظہیر حسن ایبک، خوشی محمد، محمد وارث بٹ، شیخ عبد القادر، عبد النبی۔
(۴) تاشقند کے سفر کے دوران میں علامہ موسٰی جار اللہ نے بعدہ مولانا کے قیامِ مکہ کے زمانے میں استفادہ کیا۔
(۵) مکہ مکرمہ کے روز قیام کے تلامذہ: علامہ موسٰی جار اللہ، مولانا محمد طاہر پنج پیری، مولوی عبد الوہاب مکی، مرشد محمد نور مکی، شیخ عمر فاروق حبشی، مولوی عبد اللہ عمر پوری، مولوی محمد اسماعیل گودھروی، ایک نامعلوم الاسم، ایک انڈونیشی، شیخ محمد بن عبد الرزاق، داد شاہ بن ریحان الحق، پروفیسر محمد سرور، ڈاکٹر فیروز الدین، ایک برطانوی جاسوس جو دو سال تک قرآن پڑھتا رہا۔
(۶) وطن واپسی کے بعد کے تلامذہ: ان حضرات نے کراچی، پیرجھنڈا، لاہور، دہلی وغیرہ میں مولانا سندھی کے سامنے زانوئے ادب تہ کیا تھا: مولانا غلام مصطفٰی قاسمی، مولوی عسل محمد کاکے بوتو، مولانا عبد الحق ربانی، مولوی خلیل احمد، مولوی نور محمد نور، مولوی محمد وارث دل، مولوی شیخ عبد المجید امجد، مولوی عزیز اللہ جروار، میاں ظہیر الحق دین پوری، بشیر احمد لودھیانوی، مقبول احمد، غازی خدا بخش، پیر وہب اللہ شاہ راشدی، ڈاکٹر خواجہ عبد الرشید، مولوی دین محمد وفائی، مولوی محمود، مولوی عبد الغفور، مولوی محمد یوسف ندوی، مولانا عبید اللہ انور، قاضی مولوی عبد الرزاق، علامہ محمد صدیق بہاول پوری۔
(۷) غیر رسمی طور پر بھی مولانا سندھی کے درس و افادہ سے فیضیاب ہونے والوں کی ایک طویل فہرست ہے، مثلا: مولانا محمد اسماعیل غزنوی، مولانا غلام رسول مہر، مولانا سعید احمد اکبر آبادی، خواجہ عبد الوحید، سردار محمد امین خان کھوسو۔
اس کتاب میں ہر تلمیذ کو اتنی ہی جگہ ملنی چاہیے جتنی جگہ کا وہ اپنی تلمیذانہ حیثیت کے مطابق مستحق ہے۔ اس کتاب کی شخصیات کے حالات، ان کی تلمیذانہ حیثیت اور ان کے علمی و عملی کاموں پر نقد و تبصرہ میں متعدد حضرات حصہ لے سکتے ہیں۔ لیکن مجلسِ علمی (اکیڈمک کمیٹی) کسی صاحبِ قلم کے مضمون یا اس کے کسی حصے کو رد بھی کر سکتی ہے، اور اس کے مضمون کے صرف کسی حصے کو اس کی علمی کاوش کے اعتراف کے ساتھ لے سکتی ہے۔ کتاب کو متوازن اور ایک خاص ضخامت میں رکھنے کے لیے یہ ضروری ہے۔ البتہ اپنے طور پر شائع کرنے کے لیے ہر صاحبِ علم اور ناشر قطعاً آزاد ہو گا۔
اس پروگرام کو کامیاب بنانے اور اس موقع پر پاکستان اور ہندوستان میں ہونے والے تمام کاموں کو مربوط کرنے کے لیے نیشنل کمیٹی کو مولانا سندھی کے تمام عقیدت مندوں کے تعاون اور اربابِ وسائل اور اصحابِ عزائم و ہمم کی سرپرستی و رہنمائی کی ضرورت ہے۔ امامِ انقلاب مولانا سندھی مرحوم پر مصنفین اور مقالہ نگار اور ان پر تصنیفات و تالیفات شائع کرنے کے خواہشمند (ناشرین) حضرات بھی کمیٹی سے رجوع فرمائیں۔ کمیٹی کی جانب سے بھی اہلِ قلم اور اربابِ فکر و نظر سے رجوع کیا جائے گا۔
ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہانپوری
ڈائریکٹر مولانا عبید اللہ سندھی اکیڈمی پاکستان
آرگنائزر مولانا عبید اللہ سندھی نیشنل کمیٹی پاکستان
رابطہ کے لیے: 9/1 علی گڑھ کالونی، کراچی 75800

ایسٹر سنڈے ۔ نظریات اور رسوم کا ایک جائزہ

محمد یاسین عابد

ایسٹر مسیحی دنیا کا خاص تہوار ہے۔ مسیحی عقائد کے مطابق یسوع نے صلیب پر وفات پائی، جمعہ کے روز شام کو دفن ہوئے اور تیسرے روز اتوار کی صبح مردوں میں سے جی اٹھے (دیکھیے بالترتیب متی ۲۷: ۳۵ و ۶۰ اور لوقا ۲۴: ۵، ۶)۔ ایسٹر کا تہوار یسوع مسیح کے دوبارہ جی اٹھنے کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ پادری ایف ایس خیر اللہ لکھتے ہیں:
’’اس کی تاریخ ۲۲ مارچ اور ۲۵ اپریل کے درمیان ہوتی ہے، یعنی موسمِ بہار کے اس دن کے بعد جب دن اور رات برابر ہوتے ہیں (۲۱ مارچ)، اس کی تاریخ معلوم کرنے کا طریقہ یہ ہے، ۲۱ مارچ یا اس کے بعد جس تاریخ کو پورا چاند ہو، اس کے بعد کا پہلا اتوار ایسٹر ہو گا، لیکن اگر پورا چاند اتوار کے دن ہو تو اس سے اگلا اتوار ایسٹر ہو گا۔‘‘ (قاموس الکتاب ص ۱۰۸ کالم ۲)۔
چنانچہ اس سال ۳ اپریل کو ایسٹر منایا جا رہا ہے۔

عقیدہ کفارہ

عیسائی نظریات کے مطابق یسوع کے مصلوب ہونے کی بنا عقیدہ کفارہ پر ہے، انجیل میں ہے:
’’مسیح جو ہمارے لیے لعنتی بنا اس نے ہمیں مول لے کر شریعت کی لعنت سے چھڑایا کیونکہ لکھا ہے کہ جو کوئی لکڑی پر لٹکایا گیا وہ لعنتی ہے۔‘‘ (گلتیوں ۳: ۱۳)
بائبل کے قوانین کے مطابق کفارہ کا نظریہ بالکل باطل ہے۔
(الف) حضرت داؤد علیہ السلام خدا کے متعلق فرماتے ہیں:
’’اس کی کسی نعمت کو فراموش نہ کر وہ تیری ساری بدکاری کو بخشتا ہے۔‘‘ (زبور ۱۰۳: ۲، ۳)
اگر خدا توبہ کرنے والوں کی ساری گناہگاری اور بدکاری کو بخش دیتا ہے تو کفارے کی کیا ضرورت ہے؟ مزید فرمایا:
’’اس نے ہمارے گناہوں کے موافق ہم سے سلوک نہیں کیا اور ہماری بدکاریوں کے مطابق ہم کو بدلہ نہیں دیا، کیونکہ جس قدر آسمان زمین سے بلند ہے اسی قدر اس کی شفقت ان پر ہے جو اس سے ڈرتے ہیں۔‘‘ (زبور ۱۰۳ : ۱ تا ۱۱)
(ب) ایک کا گناہ دوسرے کے سر تھوپنے سے متعلق توریت میں ہے:
’’بیٹوں کے بدلے باپ مارے نہ جائیں، نہ باپ کے بدلے بیٹے مارے جائیں۔ ہر ایک اپنے ہی گناہ کے سبب سے مارا جائے۔‘‘ (استثنا ۲۴ : ۱۶ و ۲۔تواریخ ۲۵ : ۴ و یرمیاہ ۳۱ : ۱۹ و ۳۰ حزقی ایل ۱۸ : ۲۰ تا ۲۲)
(ج) انسان سے غلطیاں ہوتی رہتی ہیں جس کے لیے توریت میں مختلف طریقوں سے کفارہ ادا کر دینے کا حکم اور معافی مل جانے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی (دیکھیے گنتی ۱۵ : ۲۲ تا ۲۹ و احبار ۱۴ : ۲۰ و ۸ : ۳۴)۔ پھر عام کفارہ کا بھی قانون مقرر کیا:
’’اور یہ تمہارے لیے ایک دائمی قانون ہو کہ ساتویں مہینے کی دسویں تاریخ کو تم اپنی اپنی جان کو دکھ دینا اور اس دن کوئی، خواہ وہ دیسی ہو یا پردیسی جو تمہارے بیچ بود و باش رکھتا ہو، کسی طرح کا کام نہ کرے کیونکہ اس روز تمہارے واسطے تم کو پاک کرنے کے لیے کفارہ دیا جائے گا سو تم اپنے سب گناہوں سے خداوند کے حضور پاک ٹھہرو گے۔‘‘ (احبار ۱۶ : ۲۹ و ۳۰)
جب پوری قوم گناہوں سے پاک ہو گئی اور یہ دائمی حکم ٹھہرا اور ہر سال ایسا کرنے کو کہا پھر بھلا یسوع کو صلیب پر چڑھانے کی کیا ضرورت رہ گئی؟
(د) بائبل مقدس میں قانونِ خداوندی درج ہے کہ
’’شریر صادق کا فدیہ ہو گا اور دغا باز راست بازوں کے بدلہ میں دیا جائے گا۔‘‘ (امثال ۲۱ : ۱۸)
لہٰذا خدا نے بت پرست اقوام کو مار کر بنی اسرائیل کا کفارہ دیا:
’’میں نے تیرے فدیہ میں مصر کو اور تیرے بدلے کوش اور سبا کو دیا۔ چونکہ تو میری نگاہ میں بیش قیمت اور مکرم ٹھہرا اور میں نے تجھ سے محبت رکھی اس لیے میں تیرے بدلے لوگ اور تیری جان کے عوض امتیں دے دوں گا تو خوف نہ کرنا کیونکہ میں تیرے ساتھ ہوں۔‘‘ (یسعیاہ ۴۳ : ۳ تا ۵)
معلوم ہوا کہ کفارہ ایسے لوگوں کے لیے دیا جاتا ہے جو بیش قیمت اور مکرم ہوں، جن سے خدا کو محبت ہو اور جن کے ساتھ خدا ہو، اور کفارہ کے لیے ایسے لوگوں کو مارا جاتا ہے جو خدا کو پیارے نہیں، جو مکرم نہیں، جو شریر اور دغاباز ہوں اور خدا جن کے ساتھ نہ ہو۔ لہٰذا نصِ بائبل سے مسیح کا مصلوب ہونا درست نہیں کیونکہ یسوع راست باز تھا (متی ۲۷ : ۱۹، ۲۴ و لوقا ۲۳ : ۲۷ و اعمال ۳ : ۱۴)، نبی تھا (متی ۱۳ : ۵۷ اور ۱۴ : ۵ اور ۲۱ : ۱۱ و لوقا ۷ : ۱۶) اور سب سے بڑھ کر یہ کہ خدا اس کے ساتھ تھا (یوحنا ۸ : ۲۹) پھر بھلا خدا اپنے محبوب بندے کو ایسی موت کیوں دیتا جو باعثِ رسوائی ہو؟ (گلتیوں ۳ : ۱۳)
(ہ) خدا نے عہدِ عتیق میں وعدہ فرمایا تھا کہ مسیح موجودہ دنیا اور آخرت میں با آبرو اور مقربوں میں سے ہو گا، چنانچہ زبور میں ہے:
’’خداوند تیری تمام درخواستیں پورے کرے اب میں جان گیا کہ خداوند اپنے ممسوح کو بچا لیتا ہے۔‘‘ (زبور ۲۰ : ۵ و ۶)
لہٰذا جب یسوع نے انتہائی دلسوزی اور تضرع کے ساتھ رو رو کر مصلوبیت سے بچنے کے لیے خدا کے حضور دعائیں کیں (متی ۲۶ : ۳۶ تا ۳۹، مرقس ۱۴ : ۳۵) تو خدا کے فرشتہ نے نازل ہو کر آپ کو تسلی دی کہ بے فکر رہیں آپ مصلوب نہ ہوں گے (لوقا ۲۲ : ۴۳) چنانچہ آپ کی اشک بار دعائیں اور التجائیں قبول ہوئیں اور خدا نے آپ کو مصلوبیت سے بچا لیا (عبرانیوں ۵ : ۷) اور سالم کے بادشاہ ملک صدق کی طرح (عبرانیوں ۵ : ۱) طویل زندگی عطا فرمائی (عبرانیوں ۷ : ۳)۔ حضرت داؤد علیہ السلام یوں نبوت فرماتے ہیں:
’’اس نے تجھ سے زندگی چاہی اور تو نے بخشی بلکہ عمر کی درازی ہمیشہ کے لیے۔‘‘ (زبور ۲۱ : ۴)
خدا نے خود بھی فرمایا تھا کہ
’’وہ مجھے پکارے گا اور میں اسے جواب دوں گا، میں مصیبت میں اس کے ساتھ رہوں گا، میں اسے چھڑاؤں گا اور عزت بخشوں گا، میں اسے عمر کی درازی سے آسودہ کروں گا۔‘‘ (زبور ۹۱ : ۱۵ و ۱۶)
خدا وعدہ خلافی نہیں کرتا لہٰذا خدا نے آپ کو مصلوب ہونے سے بچا لیا۔ مصلوبیت سے بچنے کے لیے مسیح کی دعائیں، التجائیں، رونا اور گڑگڑانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ آپ کفارہ بن جانا نہ چاہتے تھے بلکہ خدا کے حضور دعاگو تھے کہ بدکاروں، گناہگاروں اور لفنگوں کو سزا دی جائے، چنانچہ زبور میں ہے:
’’ان کی آنکھیں تاریک ہو جائیں تاکہ وہ دیکھ نہ سکیں اور ان کی کمریں ہمیشہ کانپتی رہیں، اپنا غضب ان پر انڈیل دے اور تیرا شدید قہر ان پر آ پڑے، ان کا مسکن اجڑ جائے ۔۔۔۔ ان کے گناہ پر گناہ بڑھا اور وہ تیری صداقت میں داخل نہ ہوں۔‘‘ (زبور ۶۹ : ۲۳، ۲۷)
رومن کیتھولک بائبل میں یہ عبارت مزمور ۶۸ : ۲۴ تا ۲۹ میں ہے، اور حاشیہ میں اس مزمور کو یسوع مسیح کے الفاظ قرار دیا ہے۔ اب آپ غور فرمائیں کہ حضرت مسیح کس بے قراری سے مجرموں سے ظالموں کے لیے عذابِ الٰہی مانگ رہے ہیں بلکہ یہاں تک دعا کر رہے ہیں کہ وہ خدا کی صداقت کو سمجھ تک نہ سکیں کیونکہ جو سچے دل سے خدا کا طالب ہو وہ فلاح پاتا ہے (یرمیاہ ۲۸ : ۱۳) لیکن مسیح چاہتے تھے کہ گنہگار حق کو نہ پہچان پائیں ایسا نہ ہو کہ سیدھے راستے پر چلیں اور سزا سے بچ جائیں (یوحنا ۱۲ : ۴ و ۲، تھسلینیکیوں ۲ : ۱۱) اس لیے یہ کہنا غلط ہے کہ مسیح نے دنیا جہان کے پاپیوں، گنہگاروں، زانیوں، لفنگوں اور تلنگوں کے لیے صلیب پر چڑھ کر جان دے دی۔

واقعہ تصلیب

اب ذرا اناجیل میں مذکور واقعہ تصلیب کی حقیقت ملاحظہ فرمائیے:
زبور میں یہ بشارت دے دی گئی تھی کہ مسیح گرفتار نہ ہو سکیں گے بلکہ فرشتے آپ کو اٹھا کر آسمان پر لے جائیں گے کہ آپ کے مبارک قدموں کو ٹھیس  تک نہ لگے (زبور ۹۱ : ۱۰ تا ۱۲ و متی ۴ : ۶)۔ حضرت مسیح کو بھی خدائی وعدوں پر مکمل بھروسہ تھا لہٰذا آپ نے لوگوں کو بتا دیا تھا کہ تم سب اسی رات میرے متعلق شک میں مبتلا ہو جاؤ گے (متی ۲۶ و ۳۱)۔ اور فرمایا کہ جس طرح  یوناہ تین رات تین دن مچھلی کے پیٹ میں زندہ رہا اور لوگ مردہ سمجھتے رہے اس طرح وہ بھی تین رات تین دن زندہ سلامت ہوں گے اور لوگ آپ کو مردہ سمجھتے رہیں گے (متی ۱۲  ۳۹ و ۴۰)۔ مسیح نے اس واقعہ کو اپنا واحد معجزہ قرار دیا اور فرمایا کہ یہود اپنے گناہ میں مرتے اور آپ کو ڈھونڈتے رہیں گے لیکن ڈھونڈ نہ پائیں گے کیونکہ یہود کی رسائی وہاں تک نہیں۔ یہود زمین پر رہیں گے اور  آپ آسمان پر تشریف لے جائیں گے (یوحنا ۸ : ۲۱ تا ۲۴ و ۷ : ۳۳ و ۳۵)۔
خدا نے مسیح کو یہ معجزہ عطا فرمایا کہ آپ جب چاہتے اچانک لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہو جایا کرتے تھے (یوحنا ۸ : ۵۹ اور ۱۲ : ۳۶ اور ۱۰ : ۳۹ و لوقا ۴ : ۲۹ و ۳۰ اور ۲۴ : ۳۱) لہٰذا جب حواریوں نے مسیح کی خاطر اپنی نیند تک کی قربانی نہ دی (متی ۲۶ : ۴ و مرقس ۱۴ : ۳۸) اور پکڑنے والے پہنچ گئے تو حضرت مسیح اچانک غائب ہو گئے جیسا کہ بائبل مقدس میں ہے کہ شریر اپنی ہی شرارت سے گر پڑے گا ۔۔ صادق مصیبت سے رہائی پاتا ہے اور شریر اس میں پڑ جاتا ہے (امثال ۱۱ : ۵ تا ۸)۔ کیتھولک بائبل میں ہے کہ شریر اس کی جگہ میں آجاتا ہے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا صادق (مسیح) نے رہائی پائی اور شریر غدار یہوداہ اسکریوتی اسی مصیبت میں مبتلا ہو گیا اور معجزانہ طور پر مسیح کا ہم شکل بن گیا، جیسا کہ انجیل برنباس میں ہے:
’’تب اللہ نے ایک عجیب کام کیا پس یہوداہ بولا اور چہرے میں بدل کر یسوع کے مشابہ ہو گیا‘‘ (برنباس ۲۱۶ : ۳ و ۴) ’’پس سپاہیوں نے یہوداہ کو پکڑ لیا‘‘ (برنباس ۲۱۷ : ۱)

یہوداہ خوب رویا چلایا کہ وہ مسیح نہیں ہے لیکن اس کی کون سنتا تھا، تمام حواری جو سوئے پڑے تھے انہوں نے مسیح کے اچانک غائب ہو جانے اور یہوداہ کی شکل تبدیل ہو جانے کا منظر نہ دیکھا لیکن سپاہیوں اور یہوداہ اسکریوتی کے شور و غوغا کی وجہ سے جب ان کی آنکھ کھلی تو اپنے استاد یسوع کو گرفتار و پریشان پایا تو تمام حواری اپنے خیال کے مطابق یسوع مسیح کو گرفتاری کے عالم میں مار کھاتا پیٹتا چھوڑ کر بھاگ گئے (مرقس ۱۴ : ۵۰ و ۵۱ اور متی ۲۶ : ۵۲) ۔۔۔ مسیح نے فرمایا تھا کہ جب تم مجھے چھوڑ کر بھاگ جاؤ گے تو تب بھی میں اکیلا نہ ہوں گا بلکہ اللہ میرے ساتھ ہو گا اور میری حفاظت کرے گا (یوحنا ۱۶ :  ۳۲) پطرس جانتا تھا کہ مسیح غائب ہو چکے ہیں اور یہوداہ غدار پکڑا گیا ہے چنانچہ وہ فاصلہ رکھ کر پیچھے پیچھے ہو لیا کہ غدار یہوداہ اسکریوتی کا انجام اپنی آنکھوں سے دیکھے، کچھ لوگوں نے پطرس کو ملزم کا ساتھی قرار دیا تو پطرس نے گرفتار ہونے والے ملزم (یہوداہ اسکریوتی) پر لعنتیں بھیجیں اور اس کا ساتھی ہونے سے صاف انکار کر دیا (لوقا ۲۲ : ۵۷ و ۵۸ ، مرقس ۱۴ : ۲۶ تا ۷۱ ، متی ۲۶ : ۷۲ و ۷۳) اگر گرفتار ہونے والا یسوع ہوتا تو پطرس جیسا عظیم حواری اپنی گردن اتروا لیتا لیکن اپنے ہادی و مربی کا انکار نہ کرتا اور نہ ہی لعنت کرنے کی جرات کرتا۔ مصلوبیت کے وقت یہوداہ سمجھ گیا تھا کہ یسوع شکل تبدیل کیے اپنی پریشان ماں کے پاس کھڑا ہے کیونکہ حضرت مسیح کا یہ مشہور معجزہ تھا کہ بوقت ضرورت شکل تبدیل فرما لیا کرتے تھے (لوقا ۹ : ۲۹ اور ۲۴ : ۱۵ تا ۲۳ ، یوحنا ۲۰ : ۱۴ اور ۲۱ : ۴) چنانچہ مصلوب نے مقدسہ مریم کو پکار کر کہا کہ ’’اے عورت دیکھ تیرا بیٹا یہ ہے‘‘ (یوحنا ۱۹ : ۲۶ و ۲۷) اگر مصلوب ہونے والا یسوع ہوتا تو وہ ایسے وقت میں جبکہ ماں غم سے نڈھال تھی اس کو اے عورت کہہ کر تحقیر نہ کرتا اور مزید دکھی نہ کرتا۔

مسیحی حضرات کہتے ہیں کہ یسوع کے بعد مریم کا کوئی سہارا نہ تھا اس لیے آخری وقت میں اس نے بے سہارا ماں کو ایک شاگرد کے سپرد کیا۔ لیکن ہم عرض کریں گے کہ جبکہ یسوع جانتا تھا کہ اسے تیسرے روز جی اٹھنا ہے تو اسے اپنی ماں کو کسی کے حوالے کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ جی نہ اٹھنے کے بعد ہی کوئی انتظام کر دیا ہوتا بلکہ مصلوبیت سے پہلے ہی یہ کام کیا ہوتا کیونکہ انجیل کے مطابق یسوع کو سب کچھ پہلے ہی معلوم تھا (مرقس ۸ : ۳۱ ، متی ۱۶ : ۲۱) اور پھر یسوع کو ضرورت ہی کیا تھی کہ ماں کو ایک غیر محرم کے حوالے کر دیتا جبکہ مریم رشتے داروں والی تھی (لوقا ۱ : ۳۶) اور انجیل میں یہ بھی کہیں نہیں لکھا کہ یوسف نجار فوت ہو چکا تھا۔ عورت کے لیے شوہر سے بڑا اور کونسا سہارا ہو سکتا ہے؟ بالفرض مان لیا کہ یوسف فوت ہو چکا تھا لیکن ہم بر سبیل الزام کہتے ہیں کہ جب بھی مریم کو شاگرد کے ساتھ جانے کی کوئی ضرورت نہ تھی کیونکہ بقول انجیل مریم اور یوسف نجار کے اور بھی بیٹیاں تھیں اور یسوع کے سگے بھائی تھے، اس بات کو تقویت لفظ ’’پہلوٹھے‘‘ کے استعمال سے ہوتی ہے (لوقا ۲ : ۷)۔ متی ۱ : ۲۵ سے بھی یہی نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ یسوع کی پیدائش کے بعد میاں بیوی کا ازدواجی تعلق قائم ہوا۔ چوتھی صدی میں اس نظریہ کی حمایت ہل ویڈیس (Helvidius) نے کی، لیکن راہبانہ تحریک کے بڑھتے ہوئے اثر نے، جو مقدسہ مریم کی دائمی دوشیزگی کی قائل تھی، اسے ایک بدعت قرار دیا۔ پروٹسٹنٹ کلیسیا کا بڑا حصہ اس عقیدے کا حامی ہے (قاموس الکتاب ص ۱۶۰ کالم ۲)۔ یعقوب کے خط کے مصنف کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے: ’’پروٹسٹنٹ اعتقاد کے مطابق یہ یعقوب یسوع مسیح کا سگا بھائی تھا‘‘ (ایضاً ص ۱۱۵۰ کالم ۲ سطر آخری)۔ مزید لکھا ہے: ’’یسوع مسیح کے خاندان کے بارے میں جو حوالجات ملتے ہیں ان سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یسوع مسیح کے بعد مقدسہ مریم کے اور بچے بھی ہوئے (مرقس ۶ : ۳ ، متی ۱۲ : ۴۶ تا ۵۰)۔ پروٹسٹنٹ مسیحی یہ سمجھتے ہیں کہ اس کا انکار کرنے کی پشت پر وہ جذبہ کارفرما ہے جس کے تحت دوشیزگی کے مقابلہ میں شادی کو گھٹیا تصور کیا جاتا ہے (ایضاً ص ۱۱۵۱ کالم ۱)۔ پس اتنے سارے بیٹے بیٹیاں اور اتنا بڑا خاندان ہوتے ہوئے حضرت مریمؑ کو ایک نامحرم غیر شخص کے ساتھ جانے کی کیا ضرورت تھی؟ لہٰذا ثابت ہوا کہ مریم کے پاس کھڑا ہوا شخص یسوع ہی تھا۔

صلیب دے دینے کے بعد بھی جنونی یہودیوں کے دل سے مسیح دشمنی کی آگ سرد نہ ہوئی لہٰذا اسی رات یہودی قبر سے لاش چرا کر لے گئے اور رات کے اندھیرے میں ہی لاش کو مسخ کر کے باہر کھیت میں گرا دیا۔ اب یہوداہ کی لاش اپنی اصل شکل و صورت میں تھی لیکن لاش چرانے والے اندھیرے اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہچان نہ سکے، انہوں نے لاش کا سر کچل دیا اور پیٹ چاک کر کے انتڑیاں باہر نکال دیں، دن چڑھے جب لوگوں نے کھیت میں پڑی یہوداہ اسکریوتی کی مسخ شدہ لاش دیکھی تو مختلف قسم کی افواہوں نے جنم لیا۔ کچھ کا خیال تھا کہ وہ روپیوں کو مقدس میں پھینک کر چلا گیا اور جا کر اپنے آپ کو پھانسی دی (متی ۲۷ : ۵) لیکن بعض سوچتے تھے کہ اس نے کھیت میں خود کو کس طرح پھانسی دی؟ اور اگر پھانسی دی ہوتی تو اس کا سر کیسے پچک گیا اور اس کی انتڑیاں کیسے باہر آ گئیں؟ لہٰذا اکثر کا خیال تھا کہ اس نے بدکاری کی کمائی سے ایک کھیت حاصل کیا اور سر کے بل گرا اور اس کا پیٹ پھٹ گیا اور اس کی سب انتڑیاں نکل پڑی (اعمال ۱ : ۱۸)۔ لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ شہر سے باہر کھیت میں یہوداہ اتنی زور سے سر کے بل کیسے گرا کہ اس کا سر پچک جائے اور پیٹ پھٹ جائے اور سب کی سب انتڑیاں باہر نکل آئیں؟ سر کے بل گر جانے کی وجہ سے پیٹ کا پھٹ جانا اور وہ بھی اس طرح کے ساری کی ساری انتڑیاں باہر نکل آئیں محال عقلی ہے۔ لہٰذا یہ حقیقت کے زیادہ قریب ہے کہ یہوداہ چونکہ مصلوب ہوا اس لیے لوگوں نے کھیت میں پڑی لاش کو دیکھ کر پھانسی کے آثار پائے اور لاش کو مسخ کیا ہوا اور انتڑیاں نکلی ہوئی دیکھیں تو بعض نے سمجھا کہ یہ سر کے بل گرا ہے اور پیٹ پھٹ گیا۔ بعد میں اس کھیت کا نام ’’ہقل دما‘‘ یعنی خون کا کھیت مشہور ہو گیا (متی ۲۷ : ۷، ۸ و اعمال ۱ : ۹)

جمعہ کے روز صلیب دی گئی، دوسرے روز ہفتہ (سبت) تھا، اس روز یہودی کوئی کام نہیں کرتے (خروج ۲۰ : ۸ تا ۱۱ اور احبار ۲۳ : ۳ و لوقا ۲۴ : ۱) اس لیے کوئی مرد یا عورت قبر پر نہ گیا۔ تیسرے دن یعنی اتوار کو جب قبر کو خالی پایا گیا تو افواہ مشہور ہو گئی کہ یسوع مردوں میں سے جی اٹھا ہے، لیکن راسخ الاعتقاد مسیحی جانتے تھے کہ مسیح مصلوب ہی نہیں ہوا پھر جی اٹھنے کا قصہ ہی غلط ہے۔ چنانچہ مسیح شکل تبدیل کیے لوگوں کے درمیان پھرتے رہے لیکن لوگ آپ کو پہچان نہ پائے (لوقا ۲۴ : ۱۵ تا ۳۲ ، یوحنا ۲۰ : ۱۴ اور ۲۱ : ۴، مرقس ۱۶ : ۱۲)۔

لاش کو قبر سے چرا کر مسخ کر کے کھیت میں پھینکنے والے یہودی حیران تھے کہ جس کی لاش کو انہوں نے پیٹ چاک کر کے اور سر کچل کر کھیت میں پھینکا تھا وہ یسوع کی بجائے یہوداہ اسکریوتی نکلا، پھر یسوع کہاں گیا؟ لہٰذا انہوں نے بزرگوں کے ساتھ جمع ہو کر مشورہ کیا اور سپاہیوں کو بہت سا روپیہ دے کر کہا کہ یہ کہہ دینا کہ رات کو جب ہم سو رہے تھے اس کے شاگرد آ کر اسے چرا لے گئے، اور اگر یہ بات حاکم کے کان تک پہنچی تو ہم اسے سمجھا کر تم کو خطرہ سے بچا لیں گے، پس انہوں نے روپیہ لے کر جیسا سکھایا گیا تھا ویسا ہی کیا، اور یہ بات آج تک یہودیوں میں مشہور ہے اور گیارہ شاگرد کلیل کے اس پہاڑ پر گئے جو یسوع نے ان کے لیے مقرر کیا تھا اور انہوں نے اسے دیکھ کر سجدہ کیا (یعنی تعظیم بجا لائے جیسا کہ عام رواج تھا، مثلاً دیکھو دانی ایل ۲ : ۴۶ ، پیدائش ۳۷ : ۷ و ۱۱ ، متی ۱۸ : ۲۶ و ۲۷ ، سموئیل ۹ : ۸ ۔ عابد) مگر بعض نے شک کیا، یسوع نے پاس آ کر ان سے باتیں کیں (متی ۲۸ : ۱۲ تا ۱۸) اور پورے چالیس دن تک یسوع چپکے چپکے شاگردوں سے ملتا اور احکاماتِ شریعت سمجھاتا رہا۔ یوں شاگردوں پر ثابت کر دیا کہ وہ زندہ ہے مرا نہیں تھا (اعمال ۱ : ۳ و متی ۲۸ : ۹ و مرقس ۱۶ : ۱۴ و لوقا ۲۴ : ۳۶)۔

لہٰذا حواریوں کا ایمان پختہ ہو گیا کہ مسیح مصلوب نہیں ہوئے، چنانچہ پطرس نے اپنی انجیل میں یہی بیان کیا ہے اور ڈوسیٹی کی انجیل اور برنباس کی انجیل (یہ دونوں انجیلیں دوسری صدی عیسوی تک رائج تھیں) میں لکھا ہے کہ مسیح کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا گیا اور یہوداہ اسکریوتی کو مسیح کی جگہ مصلوب کیا گیا۔ ڈاکٹر کے ایل ناصر لکھتے ہیں کہ ۳۰۰ء کے باسیلائڈیز اور ناسٹک فرقوں کا بھی یہی عقیدہ تھا کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کو نہ قتل کیا گیا ہے اور نہ ہی مصلوب (ماہنامہ کلام حق بابت ماہ فروری ۱۹۸۹ء ص ۱۱ و ۱۲)

ایسٹر کا تہوار

قدیم دستاویزات و کتب کے مطالعہ سے ہمیں معلوم ہو جاتا ہے کہ سب سے پہلے مسیحی مصلوبیت اور ایسٹر کو نہیں مانتے تھے۔ ایسٹر کا مختصر تاریخی مطالعہ ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے:

ڈبلیو ای وائن بتاتے ہیں کہ

’’سن عیسوی کی تیسری صدی کے وسط تک کلیسیائیں مسیحی ایمان کے عقیدوں سے یا تو پھر گئیں یا (بگاڑ کر) ان کی نقل کی۔ برگشتہ کلیسیائی نظام کے اثر کو بڑھانے کے لیے غیر قوم لوگوں کے وسیلہ سے ان کی اصلاح کے بغیر ہی کلیساؤں کے اندر قبول کر لیا گیا اور ان کو زیادہ تر اپنے نشانوں اور علامتوں کے پابند رہنے دیا گیا۔‘‘ (بحوالہ ’’سچائی جو باعث ابدی زندگی ہے‘‘ ص ۱۴۳)

لہٰذا سورج پرست جب مسیحیت میں آئے تو اپنے ساتھ سورج دیوتا اور ایسٹر دیوی کی پوجا بھی ساتھ لے آئے اور اپنی رسوم کو مسیحی رسوم کا نام دیا۔ مشہور مسیحی جریدہ بیان کرتا ہے:

’’مسیحی ہونے سے پہلے وہ لوگ موسمِ بہار کی دیوی مانتے تھے اور اس دیوی کا نام ایسٹر تھا، مسیحیوں نے اس دیوی کو بھلا دینے کے لیے موسم بہار میں آنے والی مسیحی عید کا نام ایسٹر رکھ دیا اور یوں لفظ ایسٹر کے معنی تبدیل ہو گئے۔‘‘ (پندرہ روزہ کاتھولک نقیب لاہور ۔ ایسٹر نمبر ۱۹۸۶ء)

یعنی ایسٹر دیوی کے پجاری مسیحی ہوئے تو قیامت مسیح کی کہانی نے جنم لیا۔ رہا مسیحی جریدہ کا یہ کہنا کہ ’’موسمِ بہار میں آنے والی مسیحی عید کا نام ایسٹر رکھ دیا‘‘ تو یہ غلط ہے۔ کیونکہ جب صلیب کا واقعہ ہوا اس وقت سخت سردی کا موسم تھا نہ کہ موسمِ بہار، بلکہ اس موسم میں لوگ آگ تاپتے تھے۔ گرفتاری والی رات پطرس رسول بھی آگ تاپ رہا تھا اور سپاہی جاڑے کے سبب سے کوئلے دہکا کر تاپ رہے تھے (یوحنا ۱۸ و لوقا ۲۲ : ۸۸ و مرقس ۱۴ : ۶۷)۔ معلوم ہوا کہ صلیب کا واقعہ سخت سردی کے موسم غالباً وسط دسمبر میں پیش آیا ہو گا۔ پادری بشیر عالم نے لکھا ہے:

’’تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ بہت سی رسوم معہ ایسٹر کلیسیا نے بت پرستوں اور غیر اقوام سے مستعار لی ہیں۔ بظاہر Easter انگریزی نام لگتا ہے اور اس کی نسبت غالباً East یعنی مشرق سے ہو گی۔ سورج مشرق سے طلوع ہو کر یعنی جنم لے کر مغرب میں غروب ہو جاتا یعنی دفن ہو جاتا ہے، اور پھر مشرق سے جنم لیتا ہے۔ شاید مسیح کی موت اور موت سے زندگی کو کسی مبارک شخص نے ایسٹر (Easter) سے نسبت قائم کر لی ہو۔ بعض کے نزدیک کے نزدیک جرمنی لفظ Astarte سورج کی دیوی سے اس کی نسبت ہے اور جرمن زبان میں یہ لفظ اوسٹرین، اوسٹور،  آسٹو، ایشتار مختلف طریقوں سے مستعمل ہے۔ جن کا ماخذ ایک ہی ہے اور سب کے معنی نورسمیں، طلوع آفتاب، نئی پیدائش وغیرہ ہیں۔ کہنا یہ ہے کہ ایسٹر کی نسبت کہیں نہ کہیں سے East یعنی سورج سے جا ملتی ہے اور سورج کی پوجا کرنے والوں کی آج بھی دنیا میں کمی نہیں۔‘‘ (ماہنامہ قاصد جدید لاہور ص ۳ ۔ مارچ ۱۹۹۱ء)

ہر ایسٹر اتوار کے روز ہی منایا جاتا ہے، اس کی وجہ پادری بشیر عالم کے اس بیان سے عیاں ہے:

’’اتوار سورج کا دن ہے (یہ دن سورج کی عبادت کے لیے وقف تھا) جیسے بہت سے مسیحی مناتے ہیں ۔۔۔ اب یہ دن مسیح کے جی اٹھنے کی یاد میں منایا جاتا ہے‘‘ (قاصد جدید ص ۱۰ ۔ دسمبر ۱۹۹۲ء)

پادری صاحب مزید فرماتے ہیں:

’’توریم Phonician جن کا دارالخلافہ کارتھیج تھا، Ashtroth دیوی کے پجاری تھے جو سورج کی دیوی کہلاتی ہے۔ ان کے عقیدے کے مطابق یہ زرخیزی اور پیداوار اور نئی زندگی کی دیوی ہے۔ قدما ایشٹراتھ کو موسمِ بہار میں نئی زندگی کی عید سے منسوب کرتے تھے۔ اسی لیے انگریزی میں مقامِ طلوعِ آفتاب کو ایسٹ یا اوسٹ کہا جاتا ہے۔ پس اس سے یہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ ایسٹر کی نسبت سورج کی دیوی عستارات سے ہی ہے اور اس کا میلہ وغیرہ بھی بہار میں منایا جاتا تھا۔ چونکہ بہار سے پیشتر خزاں میں درخت بظاہر مردہ نظر آتے ہیں لیکن بہار انہیں نئی زندگی دیتی ہے، اس سے بھی مسیح کی موت اور قبر پر فتح کی نسبت عیاں ہے۔ عستارات دیوی جس کی نسبت سے ہمیں ایسٹر نام ملا ہے ۔۔۔ گو اس کا نام بگڑتے بگڑتے ایسٹر رہ گیا‘‘ (قاصد جدید ص ۳ تا ۴ ۔ مارچ ۱۹۹۱ء)

مذکورہ بالا اقتباسات سے ثابت ہوا کہ قیامت مسیح کی کہانی نے اس وقت جنم لیا جب سورج پرستوں نے مسیحیت کو قبول کیا۔ اس کی تصدیق جناب پادری بشیر عالم صاحب کے اس بیان سے بھی ہوتی ہے:

’’قسطنطین رومی فرمانروا بھی اسی دیوی کا پجاری تھا، بلکہ اس وقت کے دستور کے مطابق وہ اس ہیکل میں بطور سردار کاہن بھی تھا ۔۔ وہ ۔۔ مسیحیت کا حلقہ بگوش ہو گیا مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ عستارات کی محبت ساری عمر اس کے دل سے نہ گئی، اس نے مسیحیوں اور عستارات کے ماننے والوں کو متحد کرنے کے لیے حکماً کہا کہ ہفتہ وار عبادت اور قیامت مسیح اتوار کو منائی جایا کرے، آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ کس طرح عستارات ایسٹر کا لازم و ملزوم انگ  بن گئی۔‘‘ (ایضاً ص ۴ کالم ۲)

مزید تفصیلات پادری ایف ایس خیر اللہ صاحب کی زبانی ملاحظہ کیجئے:

’’اس کی بیوی کا نام عستارات دیوی تھا، ان کی پوجا کی رسومات میں گھناؤنے زناکاری کے عمل بھی شامل تھے۔ روایت کے مطابق تموز کو ایک جنگلی سور نے مار دیا تھا جب وہ اپنی بھیڑ بکریوں کی رکھوالی کر رہا تھا۔ اس کی بیوی اسے پاتال سے بچا کر نکال لائی۔ جب سردی کے موسم کے شروع میں درخت اور سبزہ سوکھ جاتا ہے تو خیال کیا جاتا ہے کہ یہ تموز کی موت کی علامت ہے، اور جب موسمِ بہار میں پودے پھر ہرے بھرے ہو جاتے ہیں تو سمجھا جاتا تھا کہ تموز جی اٹھا ہے ۔۔۔۔ تموز کا ذکر صرف حزقی ایل ۸ : ۱۴ میں ہے جہاں بتایا گیا ہے کہ کیسے ہیکل کے شمالی پھاٹک کے عین سامنے عورتیں بیٹھ کر تموز پر نوحہ کرتی تھیں ۔۔۔ اس دیوتا کا یونانی نام ادونیس Adonis تھا جو عبرانی اور فینیکی زبان کے لفظ سے نکلا جس کے معنی ہیں خداوند۔‘‘ (قاموس الکتاب ص ۲۶۲)

آپ غور فرمائیں، تموز کو ادونیس یعنی خداوند کہا جاتا تھا، عیسائیوں نے یسوع مسیح کو بھی یہی یعنی خداوند کہنا شروع کر دیا اور اسے الوہیت کا درجہ دیا۔ تموز کو جنگلی سور نے مار دیا اور وہ عالمِ ارواح میں اتر گیا لیکن پھر جی اٹھا۔ عیسائیوں نے اسی کہانی کو مسیح سے منسوب کر دیا کہ اسے یہودیوں نے صلیب پر چڑھا کر قتل کر دیا، یسوع بھی تین رات دن مردہ رہا اور پھر جی اٹھا۔ دونوں کا جی اٹھنا موسمِ بہار میں منایا جاتا ہے۔ تموز بھیڑیوں کی رکھوالی کرتا مارا گیا جبکہ یسوع اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کی گلہ بانی کرتے ہوئے۔ عورتیں اپنے خاوند تموز کا ماتم کرتی تھیں (حزقی ایل ۸ : ۱۴)۔ عیسائیوں نے اپنے مسیح خداوند کا ماتم کیا (مرقس ۱۶ : ۱) اسی طرح صلیب مسیحیت کی خاص علامت ہے۔ ڈبلیو ای وائن بتاتے ہیں کہ

’’صلیب کی ابتدا قدیمی کلدان (بابل) میں ہوئی اور یہ معبود تموز کی علامت میں استعمال ہوتی تھی کیونکہ یہ رمزی TAU یا T شکل کی تھی جو اس کے نام کا ابتدائی  حرف تھا۔ لہٰذا TAU یا T کے آرے ٹکڑے کو نیچے کر کے اسے مسیح کی صلیب کی جگہ قبول کر لیا۔‘‘ (سچائی جو باعث ابدی زندگی ہے ۔ ص ۱۴۳ و ۱۴۴)

مسیحیوں کے دیگر معمولاتِ زندگی میں بھی سورج پرستی کی جھلک نظر آتی ہے۔ مثال کے طور پر انہوں نے سبت کے احکامات کو پس پشت ڈال کر اتوار کو مقدس ٹھہرایا۔ پاسٹر پیز صاحب بتاتے ہیں کہ اتوار سورج کی عبادت کا دن ہے (قاصد جدید ص ۱۴ ۔ اپریل ۱۹۹۲ء)۔ کتاب ’’سچائی جو باعث ابدی زندگی ہے‘‘ کا مصنف لکھتا ہے کہ

’’آپ نے شاید یہ نوٹ کیا ہو گا کہ یسوع مسیح کی بعض تصویروں میں اس کے سر کے چوگرد روشنی کا گول گھیرا ہوتا ہے، یہ اولیا کا نورانی تاج یا نور کا ہالہ کہلاتا ہے۔ اگر آپ اس کے انگریزی لفظ نمبس Nimbus کو کسی انسائیکلوپیڈیا میں دیکھیں تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ قدیم مصری اور یونانی اور رومی لوگ اسے اپنی غیر قوم مذہبی صنعت میں استعمال کرتے تھے۔ یہ نورانی ہالہ بابلیوں کی سورج پرستی سے جا ملتا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ یہ بابلی معبودوں کی نمائندگی کرتا ہے۔‘‘ (ص ۱۴۶ ۔ مطبوعہ ریاستہائے متحدہ امریکا)

اور ایسٹر سے متعلق لکھا ہے:

’’مروجہ رسوم جو ابھی تک اس کی یادگاری کے عرصہ میں منائی جاتی ہیں وہ تاریخ کی اس شہادت کی کافی تصدیق کرتی ہے کہ اس کی سیرت بابلی ہے۔ گڈ فرائیڈے کے میٹھے کلچے جن پر کراس (صلیب) کا نشان بنا ہوتا ہے اور فصحی یا ایسٹر سنڈے کے رنگے ہوئے انڈے کلدانی (بابلی) مذہبی رسوم میں خوب نمایاں تھے، جیسے وہ اب نمایاں ہیں‘‘ (ایضاً ص ۱۴۹) ’’مسیحی دنیا کے خاص تہوار ایسٹر کو بائبل کے اندر کچھ حمایت نہیں ملتی، یہ غیر قوم اصل سے ہے اور اس لیے خدا کو ناپسند ہے‘‘ (ایضاً ص ۱۴۹)

آخر میں ہم پادری بشیر عالم صاحب کا مسیحیوں کے حق میں ایک مبنی بر انصاف قول نقل کر رہے ہیں:

’’انہوں نے کبھی بھی مسیحیت کو دل میں جگہ نہ دی، وہ سورج کی پوجا کرتے آئے تھے اور دوبارہ انہوں نے اسی کی پوجا شروع کر دی۔‘‘ (ماہنامہ قاصد جدید ص ۶ کالم ۱ ۔ بابت ماہ فروری ۱۹۹۳ء)’’


مشہد میں مسجد کی شہادت

ادارہ

ہمسایہ ملک ایران میں آج کل شہنشاہیت کے خاتمے اور نئے انقلاب کا جشن منایا جا رہا ہے جسے فجر کا نام دیا گیا ہے۔ جشن کے اس پُرمسرت موقع پر، جب ایرانی عوام انقلاب کی خوشیاں منا رہے ہیں، ایران کے عوام کی ایک بڑی تعداد جو سنی مسلک پر عمل پیرا ہے، اپنے گھروں پر کالے جھنڈے لہرانے اور اس مسجد کا سوگ منانے پر مجبور ہے جو ایران کے شہر مشہد میں ۱۳ جنوری کی رات حکومتِ ایران نے ظالمانہ انداز سے منہدم کر دی۔ ایک اطلاع کے مطابق اس مسجد کی جگہ، جو ایرانی رہنما خامنہ ای کے گھر کے نزدیک واقع تھی، اب ایک بڑا پارک بنایا جا رہا ہے۔
مسجد کی شہادت کے بعد پاکستان کا دورہ کرنے والے ایرانی سنی علماء کے ایک وفد نے بتایا کہ مشہد میں ڈھائی جانے والی یہ مسجد تقریباً ۶۰ سال قبل اور بعض روایات کے مطابق سو سال قبل تعمیر کی گئی تھی۔ برصغیر کے ایک مسلمان شیخ فیض احمد نے اس مسجد کے لیے جگہ فراہم کی تھی جس کی بنا پر یہ جامع مسجد فیض کے نام سے مشہور تھی۔ ۶۴ سال قبل شاہ کی اجازت سے اس مسجد کی توسیع کی گئی۔ اور ایران کے حالیہ انقلاب کے بعد ایرانی حکومت کی اجازت سے چھ ماہ قبل مسجد میں مزید توسیع کی گئی، لیکن بعد ازاں نئی توسیع کو ناجائز قرار دے دیا گیا۔
ایک اطلاع کے مطابق تین سال قبل بھی اس مسجد کو منہدم کرنے کے لیے حملہ کیا گیا تھا لیکن لوگوں نے مزاحمت کی جس کی بنا پر اسے ڈھانے کی کوشش میں ناکامی ہوئی۔ بعد ازاں مسجد کی کل زمین فروخت کر دینے کے لیے بھی دباؤ ڈالا گیا لیکن مسجد کی انتظامیہ نے مسجد کی زمین فروخت کرنے سے انکار کر دیا۔ چنانچہ ۳۱ جنوری کی رات اچانک سرکاری اہلکاروں نے مسجد کو گھیرے میں لے لیا اور یوں رات رات تقریباً سو سال پرانی مسجد صفحہ ہستی سے مٹا دی گئی۔ اس موقع پر مزاحمت کرنے والے تقریباً گیارہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ مسجد کا خادم اور مؤذن مزاحمت کی کوشش میں بلڈوزر سے کچلا گیا۔
مسجد کی جگہ پر بڑے بڑے درخت لا کر لگائے جا رہے ہیں اور پورے علاقے کو سرکاری اہلکاروں اور پاسدارانِ انقلاب نے گھیرے میں لے رکھا ہے۔ ایرانی حکومت یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ گویا یہاں کوئی مسجد نہیں تھی، حالانکہ مختلف اسلامی ممالک کے سفیر وہاں نماز پڑھ چکے ہیں۔ مسجد کی جگہ تیزی سے پارک بنایا جا رہا ہے اور وزارتِ اطلاعات نے مسجد کے انہدام کی خبر کو بیرونی ایجنسیوں کی سازش قرار دیتے ہوئے وقوعہ سے انکار کیا ہے۔ ایران کے اخبارات چونکہ مکمل طور پر ایرانی حکومت کے کنٹرول میں ہیں اس لیے اخبارات میں مسجد کے انہدام کی خبر شائع نہیں کی گئی لیکن بی بی سی، وائس آف امریکہ اور دیگر غیر ملکی ذرائع ابلاغ سے مسجد کے انہدام کی خبر نشر ہونے کے بعد پورے ایران میں احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے۔ ایران کے ان علاقوں میں جہاں سنی آبادی کی اکثریت ہے مثلاً ایرانی بلوچستان کے شہر سرادان، ایران شہر، خاش، چاہ بہار، نیک شہر، خراسان کے علاقے تربت جام، تربت حیدریہ، ترکمان صحرا، بندر عباس، کردستان اور زاہدان ہیڈکوارٹر میں مظاہرے اور احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔
ایرانی وفد نے بتایا کہ یکم فروری کو جامع مسجد فیض کے انہدام پر احتجاج کی غرض سے لوگ زاہدان کی جامع مسجد مکی میں جمع ہو رہے تھے، پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے انہیں دھمکیاں دی گئیں اور مسجد خالی کرنے کا حکم دیا گیا۔ لوگوں کی تعداد بڑھتی گئی تو رات ساڑھے دس بجے مکی مسجد پر حملہ کر دیا گیا اور فائرنگ سے تین افراد فوری طور پر شہید ہو گئے۔ یہ تین افراد مسجد کے اندر محراب میں تلاوت کر رہے تھے، فائرنگ سے مسجد کا مؤذن بھی زخمی ہو گیا۔ مسجد کی کھڑکیاں، دروازے اور شیشے توڑ دیے گئے، مدرسے پر بھی حملہ کیا گیا، امام مسجد مولانا عبد الحمید صاحب کے گھر کی تلاشی لی گئی اور وہاں موجود علماء سے بھی بدتمیزی کی گئی، سرکاری اہلکار جوتوں سمیت مسجد میں گھس گئے، تقریباً ڈیڑھ سو افراد اس پر موقع پر گرفتار کیے گئے جبکہ تین افراد ہلاک اور ستر افراد زخمی ہوئے تھے۔
پورے ایرانی بلوچستان میں اس واقعے کا شدید ردعمل ہوا اور اس ردعمل کے نتیجے میں پچیس افراد کو سڑکوں اور گلیوں میں ہلاک کیا جا چکا ہے جن میں پاسدارانِ انقلاب کی اکثریت ہے۔ گرفتاریوں کا سلسلہ ابھی جاری ہے، مکی مسجد میں مظاہرے کے لیے جمع ہونے والے نوجوانوں اور مسجد کے آس پاس موجود نوجوانوں کی ویڈیو فلموں کی مدد سے گرفتاری کی جا رہی ہے۔
مکی مسجد کے امام مولانا عبد الحمید نے اس واقعے کے بعد جناب خامنہ ای سے ملاقات کی اور پورے واقعے سے آگاہ کیا، جنہوں نے مولانا عبد الحمید کو اس امر کا یقین دلایا کہ مکی مسجد زاہدان کا جو کچھ نقصان ہوا ہے اسے پورا کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ توڑ پھوڑ کے باعث مسجد میں چند دن سے نماز نہیں ہو سکی۔ وفد نے بتایا کہ اگرچہ جامع مسجد مکی زاہدان کا نقصان پورا کرنے کا ایرانی حکومت نے وعدہ کیا ہے لیکن افسوسناک واقعے پر معافی نہیں مانگی جبکہ مسجد فیض کے بارے میں تو ایرانی حکومت بات کرنے پر آمادہ ہی نہیں ہے اور کہتے ہیں اسے بھول جاؤ۔
ایرانی وفد نے بتایا کہ ایران میں سنیوں کی تمام مساجد میں حکومتی اہلکار نماز اور خطبے میں شرکت کرتے ہیں اور ان خطبات کو ٹیپ کیا جاتا ہے تاکہ مساجد میں حکومت کے خلاف یا حکومتی فرقے کے خلاف یا اپنے مسلک کے حق میں کوئی بات نہ کی جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ پورے ایران میں کوئی کتاب، میگزین یا اخبار حکومت کی اجازت کے بغیر شائع نہیں کیا جا سکتا اور حکومت سنی مسالک کی کتابیں شائع کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔ علاوہ ازیں تمام اسکولوں میں خواہ سرکاری ہوں یا پرائیویٹ ایک ہی نصاب پڑھایا جاتا ہے اور اس میں شیعہ مذہب کی اسلامیات پڑھائی جاتی ہے۔ عدالتوں میں سنیوں کے ازدواجی اور دیگر معاملات زندگی کے بارے میں شیعہ مسالک کے قوانین کے مطابق فیصلے کیے جاتے ہیں۔ اصفہان، شیراز، تبریز، تہران وغیرہ میں سنیوں کو ایک مسجد بنانے کی بھی اجازت نہیں ہے اور نہ ہی سنیوں کو سرکاری ملازمتوں میں رکھا جاتا ہے۔
وفد نے بتایا کہ شاہِ ایران کے دورِ حکومت میں سنی شیعہ اختلافات کی بات کرنا ممنوع تھا اور مذہبی منافرت پھیلانے پر سخت سزا دی جاتی تھی۔ ۱۹۷۶ء میں وہاں کے اخبار کیہان کے ایک مضمون میں حضرت عثمان غنیؓ کی شان میں گستاخی کی گئی تو اسی زاہدان میں عوام مسلح ہو کر سڑکوں پر نکلے اور اخبار کے خلاف مظاہرہ کیا۔ ساواک کا نمائندہ آیا، فوج آئی اور رہنماؤں نے مذاکرات کیے، پھر اس شخص کو جس نے گستاخی کی تھی گرفتار کیا، اس موقع پر ایک گولی بھی نہیں چلائی گئی۔ لیکن انقلاب کے بعد ایران کے سنی عوام مجموعی آبادی کا تیس فیصد ہونے کے باوجود مذہبی سہولیات تک سے محروم کر دیے گئے ہیں۔
وفد نے کہا کہ اس بات کی ضرورت ہے کہ اس واقعے پر سخت احتجاج کرتے ہوئے حکومتِ ایران سے مسجد جامع فیض کی دوبارہ تعمیر کی درخواست کی جائے، بصورتِ دیگر یہ سلسلہ جاری رہا تو ایران میں سنیوں کی کوئی مسجد باقی نہیں رہے گی۔
(بشکریہ ’’تکبیر‘‘ کراچی)

افریقہ میں عیسائی مشنریوں کی سرگرمیاں

ادارہ

رابطہ عالمِ اسلامی مکہ مکرمہ کے زیر اہتمام شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق افریقہ میں، جہاں 610 ملین (61 کروڑ) کی کل آبادی میں مسلمانوں کی تعداد 332 ملین (33 کروڑ) ہے، عیسائی مشنریوں کی سرگرمیاں اپنے عروج پر ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت افریقہ میں:
  •  104000 پادری اپنے 93000 معاونین کے ساتھ مصروفِ عمل ہیں،
  • 500 یونیورسٹیاں/کالجز،  2595 سیکنڈری اسکول،  83900 پرائمری اسکول، اور  11130 روضۃ الاطفال عیسائیوں کی سرپرستی میں کام کر رہے ہیں اور ان اداروں میں تعلیم پانے والے مسلمان طلبہ کی تعداد 6 ملین (60 لاکھ) ہے۔
  • افریقہ کے مختلف ممالک میں چرچ کے زیر انتظام جو رفاہی ادارے کام کر رہے ہیں ان میں 600 ہسپتال، بیماروں کے لیے 120 گھر، بیواؤں کے لیے 85 گھر، اندھوں کے لیے 115 سکول،یتیموں کے لیے 265 گھر، اور 5112 ڈسپنسریاں شامل ہیں۔
  • مشنریوں کے زیر اہتمام 75 اخبارات و جرائد شائع ہوتے ہیں۔ ان میں سے ایک اخبار نے لکھا ہے کہ عیسائی مشنریاں افریقہ میں اپنی سرگرمیوں پر اب تک 32 ملین ڈالر (3 کروڑ سے زائد) خرچ کر چکی ہیں۔

(بشکریہ ’’العالم الاسلامی‘‘ مکہ مکرمہ ۔ ۲۱ فروری ۱۹۹۴ء / ۱۱ رمضان ۱۴۱۴ھ)


گستاخِ رسولؐ کے لیے موت کی سزا کا قانون

ادارہ

مکرمی جناب مولانا کوثر نیازی صاحب، چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان،
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مزاج گرامی؟
عرض ہے کہ کچھ دنوں سے پبلک لا کمیشن اور اسلامی نظریاتی کونسل کی طرف سے گستاخِ رسول کے لیے سزائے موت کے قانون پر نظرثانی اور ترمیم کی خبریں شائع ہو رہی ہیں، اس پر مذہبی حلقوں میں سخت بے چینی اور تشویش کی صورت پیدا ہو چکی ہے۔ توہینِ رسالت کا جرم کوئی معمولی جرم نہیں، اس لیے جہاں تک تحقیق کرنے اور کسی کو بلاوجہ مجرم بنانے کی بات ہے اس سے کسی مسلمان کو خوشی نہیں کہ خوامخواہ غیر مسلم افراد کو سزا دلوانے کے لیے جھوٹے مقدمات بنوا کر انہیں پریشان کیا جائے۔ مگر یہ بات بھی بڑی واضح ہے کہ پاکستان میں مسیحی اقلیت تمام غیر مسلموں کی نمائندگی کر رہی ہے، جس کے لیے مثالیں موجود ہیں۔
(۱) مسلمانوں نے شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ شامل کرنے کا مطالبہ کیا تو اس کے خلاف مسیحی اقلیت نے ملک بھر میں مظاہرے اور بھوک ہڑتالی کیمپ قائم کر کے قومی شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ کے اندراج میں رکاوٹ کھڑی کی۔
(۲) گستاخِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سزائے موت کے خلاف جے سالک اور دیگر عیسائی نمائندوں نے کہا کہ ہم اس پارٹی کو ووٹ دیں گے جو گستاخِ رسولؐ کی سزا کو ختم کرے گی۔ اور بعض جگہوں پر قرآن پاک کی بے حرمتی بھی کی گئی جس کی مثال گوجرانوالہ کے تھانہ کوٹ لدھا کے گاؤں رتہ دوہتڑ کا مشہور واقعہ جس میں مرکزی حکومت نے مسز رابن رافیل کی پاکستانی وزیراعظم سے ملاقات کے بعد امریکی دباؤ میں آ کر سیشن کورٹ اور ہائیکورٹ کی کارروائی میں مداخلت کر کے ملزمان کی ضمانت پر رہائی کروا لی اور مسیحی قوم اور امریکی سرکار کی وفا کا حق ادا کیا ہے۔ اب اس کی اپیل سپریم کورٹ میں کی گئی ہے (آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا)۔
جناب والا! ان حالات کے پیشِ نظر آپ سے درخواست ہے کہ اس قانون میں کسی قسم کی ترمیم کر کے نرمی پیدا نہ کی جائے، اس سے ایک بہت بڑا مسئلہ پیدا ہو گا جو پھر شاید آپ اور آپ کی حکومت سے کنٹرول نہ کیا جائے۔ مسلمان امریکہ کی خوشنودی نہیں اللہ کی خوشنودی کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ ملازمت کی اپنی مجبوریوں میں آپ نے کوئی تبدیلی کر دی تو سلمان رشدی جیسے لوگوں کی حوصلہ افزائی ہو گی اور پھر غازی علم دین شہید کا کردار ادا کرنے کے لیے بھی بہت لوگ اٹھیں گے (ان شاء اللہ)۔
ڈاکٹر غلام محمد
ڈپٹی سیکرٹری جمعیۃ علماء اسلام (پنجاب)
جامع مسجد شیرانوالہ باغ، گوجرانوالہ
محترمی ڈاکٹر صاحب!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
آپ کا خط مورخہ ۲۶ فروری ۱۹۹۴ء کو موصول ہوا۔ شکریہ۔
توہینِ رسولؐ کے بارے میں آپ کے جذبات قابلِ قدر ہیں اور وہی ہر مسلمان کے ہونے چاہئیں، ہم اس سلسلے میں جو بھی ترمیم یا اضافہ کریں گے وہ علمائے کرام کے مشورے سے کریں گے اور انشاء اللہ ایسا کرتے وقت اسلامی شریعت کی حدود کو کاملاً ملحوظ رکھا جائے گا۔
(کوثر نیازی)

میڈیا کی جنگ اور اس کے تقاضے

ادارہ

لندن (پ ر) میڈیا کے متعلق ’’ورلڈ اسلامک فورم‘‘ کا اجلاس ’’تحریکِ ادبِ اسلامی‘‘ کے کنوینر عادل فاروقی کی رہائشگاہ واقع (ہیرو، لندن) میں منعقد ہوا جس میں بڑی تعداد میں علماء، دانشور، صحافی، ادبا اور شعرا نے شرکت کی۔

برالٹن اسلامک سنٹر کے ڈائریکٹر پروفیسر عبد الجلیل ساجد نے کہا کہ مسلمانوں کو مغرب میں میڈیا کی جنگ بہت ہوشمندی اور تیاری سے لڑنی ہے۔ میڈیا کی فکری و ثقافتی یلغار نے ہماری نئی نسل کو پوری طرح اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔ الیکٹرونک میڈیا میں ابھی تک ہم کوئی پیشرفت نہیں کر سکے، اس لیے ورلڈ اسلامک فورم کو الیکٹرونک میڈیا کے ذریعے اسلام کے مثبت اور اتحادی پہلوؤں کو پیش کرنے کے لیے پروگرام ترتیب دینا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ الحمد للہ نارتھ امریکہ، ملیشیا، دبئی، مصر اور ساؤتھ افریقہ میں کچھ کام ہوا ہے، فورم اس کو سامنے رکھ کر اس سمت پیشرفت کرے۔
اسلامک کمپیوٹنگ سنٹر کے ڈائریکٹر مفتی برکت اللہ نے کہا کہ بدقسمتی سے ہمارے علمائے کرام کی بڑی تعداد جدید تقاضوں اور آج کے دور کی معاشرتی ضرورت کا شعور نہ ہونے کی وجہ سے ابھی تک اس کے جواز و عدم جواز کی بحث میں الجھی ہوئی ہے۔ وقت تیزی سے نکلا جا رہا ہے، پورا مغربی میڈیا اسلام کی صورت بگاڑنے، اسلام کو بدنام کرنے، فحاشی و بے حیائی پھیلانے، ذہنی انارکی، بے راہ کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ لیکن جب اس میڈیا کو بچوں کی تعلیم و تربیت میں مدد لینے، اسلام کی اشاعت اور اس کے متعلق غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے استعمال کی بات آتی ہے تو ہم اس کے جواز و عدم جواز کی بحث چھیڑ دیتے ہیں۔ آج ہم میں سے کون ہے جس کا گھر اس میڈیا کی یلغار سے محفوظ ہو؟ ہمیں سنجیدگی سے اسلامی حدود کو مدنظر رکھتے ہوئے  میڈیا کے صحیح استعمال کا پروگرام ترتیب دینا ہو گا۔
تحریکِ ادبِ اسلامی کے کنوینر عادل فاروقی نے کہا، ہمیں ربع صدی سے زائد اس ملک میں ہو گئے، ہم نے آج تک انگریزی زبان کے کتنے ادیب، صحافی اور شاعر پیدا کیے؟ ہمارے بچے دن رات پاپ میوزک، ٹی وی، ریڈیو میں ڈوبے ہوئے ہیں، اسلامی تشخص ختم ہوتا جا رہا ہے، ان کا مزاج یہاں کی سوسائٹی کی سانچے میں ڈھل رہا ہے، ہمیں اپنی نئی نسل کو تیار کرنا ہو گا کہ ادب و صحافت میں امتیاز پیدا کریں۔
ورلڈ اسلامک فورم کے سیکرٹری جنرل مولانا محمد عیسٰی منصوری نے کہا کہ جب ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اس ملک میں رہنا ہے اور بحیثیت مسلمان کے رہنا ہے تو ایسے اسلامی تشخص کے باقی رکھنے کی جدوجہد ہم پر فرض ہے۔ ہمیں میڈیا اور ذرائع ابلاغ کے صحیح استعمال کے متعلق پروگرام بنانا ہو گا۔ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے کہ کفر جس میدان میں اور جس انداز سے سامنے آیا، آپؐ نے اسی میدان میں اسے جواب دیا۔
غزوۂ خندق کے موقع پر آپؐ نے فرمایا کہ کفارِ مکہ سے اب ہماری جنگ اسلحہ کے میدان میں نہیں بلکہ شاعری کے میدان میں ہو گی۔ یاد رہے کہ شاعری اس دور کا میڈیا تھا جس کے ذریعے آناً فاناً خیالات و افکار پورے عرب میں  پھیل جاتے تھے۔ چنانچہ جلیل القدر صحابہ کرامؓ نے اس چیلنج کو قبول کر کے شاعری کے میدان میں کفر کا مقابلہ کیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ ان حضراتِ صحابہؓ نے اس فیلڈ میں بھی اسلام کی خدمت کا حق ادا کر دیا۔ اس طرح آج کا میڈیا صحافت ہے، ٹیلی ویژن اور سیٹلائٹ ہے، جو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بھڑکانے اور مشتعل کرنے میں لگا ہوا ہے۔ ہمیں اس میڈیا کو خیر اور اسلامی تعلیمات کو عام کرنے کے لیے استعمال کرنا ہو گا۔ 
مولانا منصوری نے کہا کہ ہمارے درسِ نظامی میں جو علوم و فنون پڑھائے جاتے ہیں: فلسفہ، علمِ کلام اور منطق وغیرہ، یہ فنون اس دور کے یونان و روم کے غیر اسلامی فنون تھے جو اسلام کی تیزرفتار اشاعت میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے استعمال کیے جا رہے تھے۔ اس دور میں علماء نے ان علوم و فنون کو سیکھا، ان میں کامل مہارت حاصل کی، ان سے غیر اسلامی افکار و خیالات کو الگ کیا، انہیں ازسرِنو مدون کیا، ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان علوم کو مسلمان بنایا، حتٰی کہ آج یہ سب علوم و فنون اسلامی علوم سمجھے جاتے ہیں۔ اسی طرح ہمیں آج کے ذرائع ابلاغ و میڈیا پر دسترس حاصل کرنا ہو گی، اسے خیر کے لیے استعمال کرنا ہو گا، بالفاظ دیگر اس میڈیا کو، اس ٹیلی ویژن اور سیٹلائٹ کو مسلمان بنانا ہو گا۔
آپ موجودہ میڈیا پر پابندی نہیں لگا سکتے البتہ اس کا صحیح استعمال کر سکتے ہیں۔ کسی شاہراہ پر نو انٹری کا بورڈ لگانے سے قبل آپ کو متبادل راستہ دینا ہو گا، ورنہ آپ کی بندش مؤثر نہیں ہو سکتی۔ اس طرح میڈیا کو حرام کہنے سے پہلے ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ اس کے صحیح اور مثبت استعمال کا ہم پروگرام بنائیں ورنہ یہ سیلاب بڑے بڑے دیندار، متقی پرہیزگار علماء اور مفتی صاحبان کی نسلوں کو بہا لے جائے گا۔
فورم پوری سنجیدگی سے جدید میڈیا کو تعلیمی مقاصد اور اسلام کی نشرواشاعت کے ذریعے کے طور پر استعمال کرنے کا پروگرام بنا رہا ہے۔ فورم نے اپنی جدوجہد سے علمائے کرام اور جدید طبقے کے دانشوروں کو یکجا کر دیا ہے، یہاں علماء بھی ہیں اور دانشور بھی، ادیب و صحافی بھی، ہم سب کو مل کر عصرِ حاضر کے اس چیلنج کو قبول کرنا ہے، جس طرح ہر دور میں ہمارے اسلاف نے کیا ہے۔ اس ضمن میں جلد ہی فورم کی طرف سے پروگرام پیش کیا جائے گا۔
اجلاس کے آخر میں مشہور شاعر و ادیب عبد الرحمٰن بزمی اور سلطان الحسن فاروقی اور عادل فاروقی نے اپنا تازہ نعتیہ کلام پیش کیا۔
(بشکریہ ’’جنگ‘‘ لندن ۔ ۲۶ جنوری ۱۹۹۴ء)

ڈاکٹر سید سلمان ندوی کا دورہ برطانیہ

ادارہ

عالمِ اسلام کی ممتاز علمی شخصیت علامہ سید سلیمان ندویؒ کے فرزند اور ڈربن یونیورسٹی (جنوبی افریقہ) میں شعبہ اسلامیات کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر سید سلمان ندوی نے گزشتہ ماہ ورلڈ اسلامک فورم کی دعوت پر برطانیہ کا پانچ روزہ دورہ کیا اور لندن، بولٹن، باٹلی، ڈیوزبری، لیسٹر اور دیگر شہروں میں متعدد اجتماعات سے خطاب کیا۔ ورلڈ اسلامک فورم کے سیکرٹری جنرل مولانا محمد عیسٰی منصوری بھی دورہ میں ان کے ہمراہ رہے۔
ڈاکٹر سلمان نے ان اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں اس سے پہلے بارہا برطانیہ آ چکا ہوں لیکن ہر مرتبہ میری آمد آکسفورڈ، کیمبرج اور اسلامک فاؤنڈیشن تک محدود رہی ہے۔ اس بار ورلڈ اسلامک فورم کی دعوت پر پہلی بار صحیح معنوں میں برطانیہ دیکھ رہا ہوں۔ مسلمانوں کے دینی ادارے، مساجد، علماء اور دانشوروں سمیت مختلف طبقات سے ملا ہوں، مجھے خوشی ہے کہ آپ حضرات نے یہاں ایمان کا چراغ جلا رکھا ہے۔
مغرب کی علمی و فکری برتری آج انسانیت کی تخریب کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ مغرب نے عالمِ اسلام پر اپنے خونی پنجے گاڑ رکھے ہیں اور مسلم حکمرانوں کو اسلام کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔ مصر، الجزائر، عالمِ اسلام میں حکمرانوں کی جنگ اسرائیل سے نہیں، یورپ سے نہیں، کفر سے نہیں، بلکہ ان لوگوں سے جاری ہے جو اللہ کا کلمہ بلند دیکھنا چاہتے ہیں، جو اللہ کے دین پر جینا اور اسے نافذ کرنا چاہتے ہیں، اور اس جرم میں ہر روز مسلم نوجوانوں کو قتل اور پھانسی دیے جانے کی خبریں آ رہی ہیں۔ ان مسلم نوجوانوں کا سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ وہ اسلام کو سربلند کرنا چاہتے ہیں۔
آپ حضرات کو یہاں مغرب میں مسلم ممالک سے کہیں بڑھ کر اسلام پر چلنے کی آزادی حاصل ہے۔ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ شاید اسلام کی نشاۃِ ثانیہ مغرب سے ہو، اس کے لیے آپ لوگوں کو پوری تیاری کرنی ہے۔ علمائے کرام کو چاہیے کہ انگریزی زبان میں پوری مہارت حاصل کریں، مغرب کی تاریخ کا مطالعہ کریں، نئی نسل سے براہ راست تعلق پیدا کریں۔ دین و دنیا کی تفریق اسلام کو زبردست نقصان پہنچا رہی ہے۔ مغرب کی پوری کوشش ہے کہ مسلمانوں میں دین و دنیا کی تفریق قائم رہے اور دو متوازی طبقے، جو ایک دوسرے سے متعلق ہوں، وجود میں آجائیں، اس طرح وہ نئی نسل کو نظریاتی فکری اعتبار سے اسلام سے کاٹ لے۔
انہوں نے کہا کہ آپ حضرات جن قوموں کے درمیان رہ رہے ہیں وہ اسلام کے متعلق شدید غلط فہمیوں میں مبتلا ہیں۔ اس لیے کہ عیسائیوں کے ساتھ مسلمانوں کا تعارف ہی میدانِ جنگ میں ہوا۔ صدیوں سے یورپ میں اسلام کو قتل و غارت گری، سفاکیت اور بے رحمی کے مذہب کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے۔ آپ حضرات کو اپنے کردار سے ثابت  کرنا ہے کہ اسلام امن و سلامتی کا مذہب ہے۔ اسلام دیگر مذاہب کی طرح ایک مذہب نہیں بلکہ ایک دین ہے۔ مذہب عبادت کی چند رسموں کا نام ہوتا ہے اور دین زندگی کے ہر شعبہ پر محیط نظامِ حیات ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں نے برطانیہ میں دیکھا کہ دینی مکاتب و مدارس کا نصاب و طرزِ تعلیم وہی چل رہا ہے جو ۷۰، ۸۰ سال پہلے برصغیر میں تھا۔ آپ حضرات کو چاہیے کہ اس ملک کے بیک گراؤنڈ (پس منظر)، آج کی معاشرتی ضرورتوں، اور یہاں کے بچوں کے مزاج و نفسیات کو مدنظر رکھتے ہوئے نصاب ازسرنو مرتب کریں۔
انہوں نے کہا کہ روس کی شکست و ریخت کے بعد مغرب نے اسلام کے خاتمہ کو اپنا مقصد بنا لیا ہے۔ مغرب کو آپ کی نمازوں سے خطرہ نہیں ہے، آپ جتنی چاہے مسجدیں بنا لیں۔ مغرب یہی چاہتا ہے کہ اسلام مسجد میں بند رہے۔ مغرب لرز رہا ہے خالد بن ولید کے اسلام سے، صلاح الدین ایوبی، طارق بن زیاد اور محمد بن قاسم کے اسلام سے، کیونکہ ان کا اسلام عبادات کی چند رسموں تک محدود نہیں تھا بلکہ زندگی کے ہر شعبہ پر محیط تھا۔
جب آپ حضرات نے یہاں رہنے کا فیصلہ کر لیا ہے تو اپنی نسلوں کو ایمان و اسلام پر پابند رکھنے کا انتظام کرنا آپ پر فرض ہے۔ انہوں نے کہا کہ بوسنیا میں لاکھوں مسلمانوں کے قتلِ عام پر مغرب خاموش تماشائی بنا رہا، ان ہیومن رائٹس کے علمبرداروں کی اسلام دشمنی بوسنیا میں پوری طرح عیاں ہے۔ فرانس کا صدر اور برطانیہ کے پرائم منسٹر کھلے الفاظ میں کہہ چکے ہیں کہ یورپ کے دل میں کسی مسلمان ریاست کو ہرگز برداشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں آپ کو اپنی بقا کی جنگ لڑنی ہے اور وہ جنگ ٹینک و میزائل سے نہیں، علمی و فکری محاذ پر لڑنی ہے۔ یہ اس وقت ہو گا جب آپ اپنی اولاد کو دینی و عصری تعلیم سے آراستہ کریں گے۔
ورلڈ اسلامک فورم کے سیکرٹری جنرل مولانا محمد عیسٰی منصوری نے ان اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پروفیسر سلمان ندوی فورم کے سرپرست اور بانی رہنماؤں میں ہیں۔ گزشتہ سال ساؤتھ افریقہ میں پروفیسر صاحب نے تجویز پیش کی تھی کہ یورپ کی سرزمین پر علمی و فکری کام کی ضرورت ہے۔ فورم نے بطور خاص دو مقاصد سامنے رکھے ہیں:
الحمد للہ ورلڈ اسلامک فورم دونوں محاذوں پر سرگرم عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی میڈیا اسلام اور مسلمانوں کی اتنی شرانگیز اور گھناؤنی تصویر پیش کر رہا ہے کہ اگر دنیا میں کہیں اسلام غالب ہو گیا تو انسانی حقوق، انسانی کلچر و تمدن اور انسانی ترقیات سب ختم ہو جائیں گی اور دنیا ظلم و تاریکی کے دور میں واپس لوٹ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈ اسلامک فورم نے میڈیا کے محاذ پر کام کرنے کے لیے ’’ویسٹ واچ اسٹڈی گروپ‘‘ تشکیل دیا ہے، فورم جلد ہی ملک کے مختلف شہروں میں تربیتی کورس شروع کر رہا ہے۔

شاہ ولی اللہ یونیورسٹی گوجرانوالہ کی سالانہ تقریب

ادارہ

شاہ ولی اللہ یونیورسٹی اٹاوہ جی ٹی روڈ گوجرانوالہ کی سالانہ تقریب ۴ فروری ۱۹۹۴ء کو بعد نمازِ جمعہ یونیورسٹی کیمپس میں منعقد ہوئی جس میں عالمی مجلسِ تحفظِ ختمِ نبوت کے سربراہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد مدظلہ العالی بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے، جبکہ دیگر مہمانانِ خصوصی میں سابق صوبائی وزیر چوہدری محمد اقبال ایم پی اے، جناب ایس اے حمید ایڈووکیٹ ایم پی اے، اور جناب عبد الرؤف مغل ایم پی اے شامل تھے۔ اور یونیورسٹی کے سرپرستِ اعلٰی شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر اور سرپرست حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی بھی علالت اور ضعف کے باوجود تقریب میں شریک ہوئے۔ تقریب کی صدارت شاہ ولی اللہ ٹرسٹ کے چیئرمین الحاج میاں محمد رفیق نے کی اور تعلیمی کونسل کے چیئرمین مولانا زاہد الراشدی اور ٹرسٹ کے سیکرٹری جنرل الحاج محمد اشرف شیخ کے علاوہ پروفیسر غلام رسول عدیم اور یونیورسٹی کے طلبہ حافظ عبد الجبار اور فیصل محبوب نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔
اس موقع پر سالانہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس سال شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کی طرف سے ایف اے کی پہلی کلاس نے گوجرانوالہ بورڈ سے امتحان دیا ہے اور امتحان دینے والے تقریباً تمام طلبہ پاس ہو گئے ہیں۔ اسی طرح درسِ نظامی کے فضلاء کی پہلی کلاس نے پنجاب یونیورسٹی سے بی اے کا امتحان دیا ہے اور اس میں بھی سب شرکاء پاس ہو گئے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ کالج میں اس وقت فرسٹ ایئر، سیکنڈ ایئر اور تھرڈ ایئر کی تین کلاسیں زیر تعلیم ہیں، جبکہ درسِ نظامی کے فضلاء کی ایک کلاس ایم اے اور دوسری کلاس بی اے میں زیر تعلیم ہے۔ تمام طلبہ یونیورسٹی کے ہاسٹل میں رہائش پذیر ہیں جن میں سے تقریباً بیس فیصد طلبہ فیس ادا کر رہے ہیں، جبکہ باقی تمام طلبہ کے اخراجات کی کفالت یونیورسٹی کے ذمہ ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ طلبہ کی رہائش کے لیے جگہ کی تنگی کے باعث دو سو طلبہ کے لیے ہاسٹل کی تعمیر شروع کر دی گئی ہے جس پر تقریباً اسی لاکھ روپے لاگت آئے گی اور اس کا سالِ رواں کے دوران مکمل ہونا ضروری ہے۔ اسی طرح سولہ کنال پر مشتمل وسیع جامع مسجد فضل کی تعمیر کا آغاز بھی ہو گیا ہے جس کی تعمیر کے اخراجات گوجرانوالہ کے معروف تاجر الحاج شیخ سراج الدین برداشت کر رہے ہیں جو اس سے قبل قائد اعظم ڈویژنل پبلک اسکول اور گلشن اقبال (پارک) میں بھی مساجد تعمیر کرا چکے ہیں۔
تقریب میں امتحانات میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ کو مہمانِ خصوصی حضرت مولانا خان محمد مدظلہ نے انعامات دیے۔
اس موقع پر حضرت مولانا خان محمد مدظلہ، حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر، اور حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی مدظلہ نے اپنے دستِ مبارک سے مسجد فضل کا سنگِ بنیاد رکھا اور یونیورسٹی کی جلد از جلد تعمیر اور مقاصد میں کامیابی کے لیے دعا فرمائی۔
تقریب میں شہر کے مختلف طبقات کے سرکردہ حضرات، علمائے کرام اور دانشوروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کے پروگرام پر مسرت کا اظہار کیا۔

تعارف و تبصرہ

محمد عمار خان ناصر

’’عمدۃ البیان فی احکام رمضان‘‘

مصنف: مولانا محمد اجمل خان
صفحات ۲۴۴ قیمت ۶۰ روپے
ناشر: مکتبہ اشاعتِ اسلام، جامعہ رحمانیہ، عبد الکریم روڈ، قلعہ گوجر سنگھ، لاہور
رمضان المبارک اللہ کی رحمتوں اور برکتوں کا خاص مہینہ ہے۔ سال بھر کی غفلت کے بعد اس مہینہ میں اللہ کے بندے اپنے پروردگار کے ساتھ اپنا تعلق دوبارہ جوڑتے اور پورا مہینہ اللہ کو راضی کرنے اور خاص اہتمام کے ساتھ اس کی عبادت کرنے میں گزارتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ بھی اس مہینہ میں اپنی رحمتوں کے خزانے کھول دیتے ہیں، بالخصوص عشرہ اخیرہ میں تو اس کی بے یاں رحمتیں اپنے عبادت گزار بندوں پر برس برس پڑتی ہیں۔
اس ماہِ مبارک میں  معمول کی عبادات کے علاوہ کچھ خاص عبادات بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے مقرر کی ہیں۔ دن کو روزہ، رات کو قیام، تراویح میں قرآن سننا اور سنانا، اعتکاف اور عشرہ اخیرہ کی طاق راتوں میں خصوصی عبادت کا اہتمام، یہ سب چیزیں اگر صحیح طریقے سے اور ان کی حکمت کو سمجھتے ہوئے ان پر عمل کیا جائے تو ’’تقوٰی‘‘ کے قالب میں ڈھالنے کے لیے بہترین ذرائع ہیں۔ یہ مبارک مہینہ اللہ تعالیٰ کی مرضی اور اس کی دی ہوئی ہدایات کے مطابق گزار لینا ایک مسلمان کے لیے واقعی نہایت خوشی اور مسرت کا موقع ہے۔ اس لیے رمضان کے اختتام پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ’’عید الفطر‘‘ منانے کا حکم دیا گیا ہے۔
زیرِ نظر کتاب رمضان المبارک کی انہی خاص عبادات کے احکام و مسائل، حکمتوں اور فوائد کے بیان میں نہایت جامعیت اور حسنِ ترتیب کے ساتھ لکھی گئی ہے۔ مصنف نے کتاب کے مضامین کو گیارہ حصوں میں تقسیم کیا ہے اور درج ذیل موضوعات کا بالترتیب احاطہ کیا ہے:
(۱) رمضان اور روزہ کے فضائل، فوائد اور دیگر معلومات (۲) روزہ کے مسائل (۳) سحری کے احکام (۴) افطاری کے احکام (۵) نمازِ تراویح کے فضائل اور تعدادِ رکعات (۶) رؤیتِ ہلال کے احکام (۷) لیلۃ القدر کا تعارف اور اس کی فضیلت (۸) اعتکاف کے مسائل (۹) نفلی روزوں کی تفصیلات اور احکام (۱۰) مکروہ اور حرام چیزوں کا بیان (۱۱) عید الفطر اور صدقۃ الفطر کے احکام و مسائل۔
کتاب خوبصورت جلد اور کمپیوٹر کمپوزنگ کے ساتھ عمدہ سفید کاغذ پر چھپی ہے اور طباعت کا معیار بھی اعلیٰ ہے۔ جدید تعلیم یافتہ لوگوں اور عوام الناس کے لیے اس کتاب کا مطالعہ بہت مفید ہے۔

’’حیاتِ امامِ اعظم ابوحنیفہؒ‘‘

مصنف: مولانا محمد اجمل خان
کتابت و طباعت عمدہ ۔ صفحات ۲۷۰ قیمت ۶۰ روپے
ناشر: مکتبہ اشاعتِ اسلام، لاہور
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ دنیائے فقہ و اجتہاد کی وہ عظیم المرتبت شخصیت ہیں کہ جن کی علمی خدمات اور فقہ و بصیرت کا اعتراف آپ کے معاصرین سے لے کر آج تک کے اکابر اہلِ علم نے ہمیشہ کیا ہے۔ مسلک و مشرب کا اختلاف رکھنے والے فقہاء اور اہلِ علم  نے بھی علمِ دین اور تقوٰی میں امام صاحب کے غیر معمولی مقام و مرتبہ کو تسلیم کیا ہے۔ ائمہ مجتہدین میں سے امام شافعی رحمہ اللہ کا یہ قول مشہور ہے ’’الناس فی الفقہ عیال علی ابی حنیفہؒ‘‘۔
بدقسمتی سے گزشتہ صدی کے دوران میں ہمارے اس برصغیر میں کچھ لوگ ایسے نمودار ہوئے جنہوں نے فقہ، بالخصوص فقہ حنفی اور امام اعظمؒ کی ذاتِ گرامی کو طعن و تشنیع اور گستاخانہ اعتراضات کا ہدف بنایا اور عوام الناس میں یہ ذہنیت پیدا کرنے کی کوشش کی کہ فقہ حنفی قرآن و سنت کے مقابلہ میں ایک الگ شریعت ہے اور اس کے واضع اول امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ گویا علمِ حدیث سے ناواقف اور عربیت سے کورے تھے۔ یہ طرزِ عمل، ظاہر ہے، ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے، جن کی اکثریت فقہ حنفی پر عامل تھی، ایک نہایت تکلیف دہ طرز عمل تھا۔ چنانچہ علمی سطح پر امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی ذاتِ گرامی کے حوالہ سے بحث و تحقیق کا ایک نیا محاذ کھل گیا۔
ہمارے نزدیک اہلِ علم کے لیے دلائل کے ساتھ کسی بھی رائے سے اختلاف کا راستہ کھلا ہے لیکن جن لوگوں نے دین کی تحقیق اور تشریح میں واقعتاً گراں قدر خدمات انجام دی ہیں ان کی خدمات کے اعتراف اور ان سے استفادہ کرنے سے گریز کی راہ بہرحال اہل علم کے شایان شان نہیں ہے۔ اس لیے امام اعظمؒ اور ان کے فقہی اجتہادات کے بارے میں جو لوگ بلاوجہ تعصب اور تنگ نظری کا شکار ہیں، ان سے ہماری گزارش ہے کہ اپنے طرزعمل پر نظرثانی کریں اور فقہ و حدیث کے اس عظیم المرتبت امام کو اس کا صحیح مقام دینے میں تعصب سے کام نہ لیں۔
زیرنظر کتاب میں امام صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت کے انہی پہلوؤں کو موزوں ترتیب کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ کتاب میں امام صاحبؒ کے حالاتِ زندگی، علم و فضل اور تقوٰی و دیانت کے بارے میں مستند معلومات درج ہیں اور اہلِ حدیث اور فقہاء کے تعریفی اقوال کے علاوہ فقہ حنفی اور امام صاحبؒ کے شاگردوں کے بارے میں بھی قیمتی معلومات کو جمع کیا گیا ہے۔ امام صاحب کی شخصیت سے درست واقفیت کے لیے اس کتاب کا مطالعہ مفید ہے۔

’’رسول ﷺ پر درود و سلام‘‘

مولف: مولانا احمد سعید دہلویؒ
صفحات ۱۶ ، ناشر: ادارہ جمیلیہ، سلامت پورہ، رائے ونڈ، لاہور
ایک مسلمان اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق زندگی گزارنے میں جہاں اللہ تعالیٰ کی توفیق اور عنایت کا محتاج ہے وہاں اللہ کے بھیجے ہوئے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی ممنونِ احسان ہوتا ہے کہ اللہ کی بھیجی ہوئی ہدایت اس تک اللہ کے رسولؐ ہی کے واسطے سے پہنچی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی عبادت اور شکرگزاری کے ساتھ ساتھ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیدت و محبت کا اظہار اور اللہ کے ہاں ان کی بلندی درجات کی دعا بھی ایک مسلمان کے لیے بالکل فطری امر ہے۔ اس کا طریقہ اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام بھیجا جائے۔ اس حکم کی تشریح میں خود آنحضرتؐ نے مختلف صحابہؓ کو درود کے مختلف الفاظ یاد کرائے اور درود پڑھنے کے مختلف مواقع بھی بتائے۔
درود سے متعلق علمی مباحث (فضائل و احکام وغیرہ) پر علماء نے مستقل تصانیف بھی لکھی ہیں۔ اس سلسلہ میں حافظ سخاویؒ کی ’’القول البدیع‘‘، علامہ ابن القیمؒ کی ’’جلاء الافہام‘‘، اور خاص فضائل کے موضوع پر شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحبؒ کی ’’فضائلِ درود شریف‘‘ اہلِ علم میں متداول ہیں۔
زیرِ نظر مختصر رسالہ میں درود شریف کے ۶۸ فضائل اور درود پڑھنے کے ۴۵ مواقع احادیث اور اہلِ علم کی کتابوں سے تتبع کر کے جمع کیے گئے ہیں۔ کتابوں کے حوالہ جات اور احادیث کی صحت و سقم بیان کرنے کا اہتمام بالکل نہیں کیا گیا۔ فضائل کی روایات کا عمومی حال معلوم ہی ہے اور اس رسالہ میں تو اصولِ شرعی کے مناقض بعض روایات بھی درج ہیں، مثلاً صفحہ ۱۰، ۱۱ پر یہ روایت ہے: ’’جو شخص درود بکثرت پڑھتا رہتا ہے اس سے اگر بعض فرائض میں بھی کوتاہی ہو جائے تو بازپرس نہ ہو گی۔‘‘
ہمارے نزدیک صحیح طریقہ یہ ہے کہ عوام الناس کے سامنے صرف صحیح اور مستند روایات بیان کی جائیں، اور اگر کہیں ضعیف روایت بیان کی جائے تو اس کے ضعف کی نشاندہی بھی کی جائے تاکہ عوام کو اہلِ بدع و ہوٰی کے پھیلائے ہوئے اناپ شناپ روایات کے جال سے نکالا جا سکے۔
رسالہ سفید کاغذ پر کمپوٹر کمپوزنگ اور عمدہ طباعت کے ساتھ چھپا ہے اور ایک روپے کا ڈاک ٹکٹ بھیج کر مفت منگوایا جا سکتا ہے۔

سیرت النبیؐ پر انعامی تقریری مقابلہ

ادارہ

شاہ ولی اللہ یونیورسٹی گوجرانوالہ میں سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موضوع پر انعامی تقریری مقابلہ ۲۷ جنوری ۱۹۹۴ء کو منعقد ہوا جس میں شاہ ولی اللہ یونیورسٹی، مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ، مدرسہ اشرف العلوم گوجرانوالہ، اور جامعہ حقانیہ گوجرانوالہ کے نو طلبہ نے حصہ لیا۔ وفاقی وزارتِ تعلیم حکومتِ پاکستان کے شعبہ نصاب کے ڈپٹی ایڈوائزر جناب پروفیسر افتخار احمد بھٹہ بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوئے، جبکہ شاہ ولی اللہ ٹرسٹ کے چیئرمین الحاج میاں محمد رفیق نے تقریب کی صدارت کی اور پروفیسر عبد الستار غوری، پروفیسر غلام رسول عدیم اور حافظ خلیل الرحمٰن ضیا پر مشتمل پینل نے منصفین کے فرائض سرانجام دیے۔
طالب علم مقررین نے جناب رسالتماب صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کے مختلف پہلوؤں پر اچھے انداز میں روشنی ڈالی اور منصفین کی طرف سےمندرجہ ذیل مقررین کو اول، دوم، سوم اور چہارم درجہ پر انعامات کا مستحق قرار دیا گیا:
اول: مولوی عبد الکبیر برشوری (مدرسہ نصرۃ العلوم)
دوم: فیصل محبوب (شاہ ولی اللہ یونیورسٹی)
سوم: مولوی کفایت اللہ (جامعہ حقانیہ)
چہارم: مولوی عبد العزیز (مدرسہ اشرف العلوم)
کامیاب مقررین کو ورلڈ اسلامک فورم کی طرف سے بالترتیب پانچ سو روپے، چار سو روپے، تین سو روپے اور دو سو روپے کے انعامات دیے گئے جو مہمانِ خصوصی نے ان میں تقسیم کیے۔
اس موقع پر ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا زاہد الراشدی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مدارس اور کالجوں کے طلبہ میں دینی موضوعات پر تحریر و تقریر کا ذوق بیدار کرنے کے لیے فورم کی طرف سے مختلف اداروں میں اس قسم کے انعامی تقریری مقابلوں کا وقتاً فوقتاً اہتمام کیا جائے گا۔

مئی ۱۹۹۴ء

پاکستان کے داخلی معاملات میں امریکی مداخلت اور مسیحی رہنماؤں سے مخلصانہ گزارشمولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مغربی فلسفہ کی یلغار اور دینی صحافت کی ذمہ داریاںمولانا ابوعمار زاہد الراشدی
رسول اللہؐ کی محبت، ایمان کا اولین تقاضاشیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر
سات چیزوں سے پناہ کی دعاشیخ التفسیر مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ
گستاخِ رسول کے لیے سزائے موت اور بائبلمحمد یاسین عابد
اسلام کو دہشت گردی کے حوالہ سے بدنام کرنا غلط ہے۔ مسیحی رہنماادارہ
امیر المومنین فی الحدیث امام محمد بن اسماعیل بخاریؒسید سلمان گیلانی
چلڈرن قرآن سوسائٹی لاہورشیخ احمد مختار
عالمِ اسلام کی قدیم ترین درسگاہ ۔ جامعہ الازہر مصرادارہ
ورلڈ اسلامک فورم کی فکری نشستیں اور علماء کنونشنادارہ
مقالاتِ سواتی (حصہ اول)پروفیسر غلام رسول عدیم
توہینِ رسالتؐ کی سزا کا قانون اور قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹیمولانا ابوعمار زاہد الراشدی

پاکستان کے داخلی معاملات میں امریکی مداخلت اور مسیحی رہنماؤں سے مخلصانہ گزارش

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(فلیٹیز ہوٹل لاہور میں مدیر اعلیٰ الشریعہ کا پریس کانفرنس سے خطاب۔ ادارہ الشریعہ)

امریکی سینٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی نے ۱۹۸۷ء میں پاکستان کی فوجی و اقتصادی امداد کے لیے شرائط عائد کر کے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے خلاف جس نظریاتی اور اعصابی جنگ کا آغاز کیا تھا وہ اب فیصلہ کن مرحلہ میں داخل ہوگئی ہے۔ ان شرائط میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خاتمہ کے ساتھ ساتھ اسلامی قوانین نافذ نہ کرنے کی ضمانت، جداگانہ طرز انتخاب کی منسوخی، اور قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیے جانے کے اقدامات کی واپسی کے مطالبات شامل تھے، اور ان میں اب گستاخ رسولؐ کے لیے موت کی سزا کا قانون تبدیل کرنے کے تقاضہ کا اضافہ بھی ہوگیا ہے۔

امریکہ کی جانب سے ان شرائط اور مطالبات کا مقصد اسلام کے نام پر وجود میں آنے والے اس ملک میں اسلامی نظام کے عملی نفاذ کو روکنا، اسے اسلامی تشخص سے محروم کر کے ایک سیکولر ریاست کی حیثیت دینا، اور دفاعی طور پر کمزور اور بے بس بنا کر بھارت کے زیر اثر ممالک میں شامل کرنا ہے۔ ان شرائط و مطالبات کی تکمیل کے لیے امریکہ نہ صرف پاکستان کی فوجی و اقتصادی امداد کو روکے ہوئے ہے بلکہ عالمی ذرائع ابلاغ اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کے ذریعے سے پاکستان پر دباؤ میں مسلسل اضافہ کرتا جا رہا ہے اور پاکستان کے اندر مختلف طبقات بالخصوص اقلیتوں کو ابھار کر فکری انتشار پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ابھی چند روز قبل مسئلہ کشمیر کے حوالہ سے مغربی ممالک کا دورہ کرنے والے پاکستانی وفد کے سامنے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے جو مطالبات رکھے ہیں ان میں آٹھویں آئینی ترمیم کے خاتمہ، جداگانہ طرز انتخاب کی منسوخی، اور گستاخ رسولؐ کے لیے موت کی سزا کے قانون کی تبدیلی کا بطور خاص ذکر کیا گیا ہے۔

امریکہ اور اس کی ہمنوا دیگر مغربی قوتیں و لابیاں اس مقصد کے لیے انسانی حقوق کا نعرہ بطور ہتھیار استعمال کر رہی ہیں اور پاکستان میں ملک کے اسلامی تشخص کے تحفظ، دفاعی استحکام اور اسلامی قوانین کے نفاذ کے اقدامات کو نام نہاد ’’انسانی حقوق‘‘ کی خلاف ورزی قرار دے کر انہیں بلڈوز کر دینا چاہتی ہیں۔ انسانی حقوق کا یہ فلسفہ مغربی دنیا کا خودساختہ ہے جس کی تشکیل اور تشریح کے تمام اختیارات مغرب نے اپنے ہاتھ میں رکھے ہوئے ہیں جو اسلامی دنیا کے لیے قطعی طور پر ناقابل قبول ہے۔ کیونکہ ہم بحیثیت مسلمان اپنے انفرادی اور اجتماعی معاملات میں قرآن کریم اور جناب رسالت ماب صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کے پابند ہیں اور قرآن و سنت کے احکام کے خلاف کسی بھی فلسفہ کی بالادستی کو قبول کرنا اسلامی نظام کے اجتماعی کردار سے انحراف کے مترادف ہے۔ اس لیے ہم انسانی حقوق کے دائرہ کار کے تعین اور ان کی تشریح پر مغرب کی اجارہ داری کو قطعی طور پر مسترد کرتے ہیں اور امریکی حکومت اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطالبات کو اسلامیان پاکستان کے دینی معاملات اور مذہبی عقائد میں کھلی مداخلت قرار دیتے ہوئے ان کی شدید مذمت کرتے ہیں۔

اس پس منظر میں جبکہ امریکہ اور اس کے حواری اسلامی جمہوریہ پاکستان کے خلاف جنگ کے فیصلہ کن راؤنڈ کا آغاز کر چکے ہیں، پاکستان کے سیاسی و دینی حلقوں کا طرز عمل انتہائی افسوسناک اور مایوس کن ہے۔ ملک کی دونوں بڑی سیاسی قوتیں اقتدار کے حصول اور تحفظ کے لیے امریکہ کی خوشنودی کو ہر قیمت پر برقرار رکھنے کی خاطر ’’خود سپردگی‘‘ کی دوڑ میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش میں ہیں۔ جبکہ دینی حلقوں کے بیشتر قائدین نہ صرف صورتحال کی سنگینی کے احساس اور مسائل کے ادراک سے عاری ہو چکے ہیں بلکہ باہمی انتشار، بے اعتمادی اور غلط ترجیحات کے باعث عوام میں بد دلی اور مایوسی پھیلانے میں مصروف ہیں۔

ان حالات میں رائے عامہ کو امریکی عزائم کے خلاف بیدار کرنا اور پاکستانی عوام میں مذہبی آزادی اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا شعور اجاگر کرنا سب سے اہم قومی ضرورت اور دینی تقاضہ ہے۔ اسی مقصد کے لیے ورلڈ اسلامک فورم نے گروہی اور انتخابی سیاست سے الگ تھلگ رہتے ہوئے ملک کے مختلف شہروں میں علماء کرام اور دینی کارکنوں کے فکری اجتماعات کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ اس مقصد کے لیے کراچی میں ۲۶ دسمبر ۱۹۹۳ء کو اور گوجرانوالہ میں ۱۲ جنوری ۱۹۹۴ء کو علماء کنونشن منعقد ہو چکے ہیں۔ جبکہ اس سلسلہ کا تیسرا کنونشن ۱۸ اپریل ۱۹۹۴ء کو شیرانوالہ گیٹ ہری پور ہزارہ میں اور چوتھا کنونشن ۲۲ اپریل کو جامع مسجد انارکلی لاہور میں منعقد ہو رہا ہے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ مذہبی آزادی اور قومی خودمختاری پر یقین رکھنے والے ہر شہری سے گزارش ہے کہ وہ اس مہم میں شریک ہو اور ہمارا ہاتھ بٹائے۔

اس موقع پر ’’رتہ دوہتڑ توہین رسالتؐ کیس‘‘ کے حوالہ سے کچھ گزارشات ضروری معلوم ہوتی ہیں۔ یہ کیس جسے بی بی سی، وائس آف امریکہ، وائس آف جرمنی اور آل انڈیا ریڈیو کے مسلسل پراپیگنڈہ نے عالمی شہرت دے دی ہے اب اسلامیان پاکستان کے دینی جذبات اور محبت رسولؐ کی علامت بن چکا ہے۔ مگر حکومت پاکستان کا طرز عمل یہ ہے کہ امریکہ کے دباؤ کے تحت گستاخ رسولؐ کے لیے موت کی سزا کے قانون میں تبدیلی کی فکر کے ساتھ ساتھ اس کیس کے حوالہ سے بھی امریکہ کو ہر حال میں خوش رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے جو کہ انتہائی افسوسناک اور پاکستانی عوام کے مذہبی جذبات کی توہین کے مترادف ہے۔

اس ضمن میں مسیحی اقلیت کے مذہبی پیشواؤں کا طرز عمل بھی قابل افسوس ہے جو گستاخ رسولؐ کے لیے موت کی سزا کی مخالفت کر کے خود بائبل کے احکام سے انحراف کر رہے ہیں۔ کیونکہ بائبل میں انبیاء کرام علیہم السلام تو کجا مذہبی پیشوا کی گستاخی اور کتاب مقدس کے صندوق کی توہین پر بھی موت کی سزا کا حکم دیا گیا ہے۔ اس لیے مسیحی اقلیت کے مذہبی پیشواؤں کی طرف سے اس سزا کی مخالفت ناقابل فہم ہے۔ البتہ ان کے اس مطالبہ کی ہم حمایت کرتے ہیں کہ اس قانون میں جناب محمد رسول اللہؐ کے ساتھ دیگر انبیاء کرامؑ کا بھی ذکر کیا جائے۔ کیونکہ ہم مسلمان اللہ تعالیٰ کے کسی بھی سچے پیغمبر کی توہین کو اسی طرح ناقابل معافی جرم سمجھتے ہیں جس طرح جناب نبی اکرمؐ کی شان اقدس میں گستاخی جرم ہے۔ اسی طرح ہم مسیحی اقلیت کے اس مطالبہ کی بھی حمایت کرتے ہیں کہ اس قانون کے غلط استعمال کی روک تھام کے لیے کسی بھی مقدمہ کے اندراج سے قبل مجسٹریٹ کی انکوائری کو ضروری قرار دیا جائے۔ ہمیں اقلیتوں سے کوئی عناد نہیں ہے اور انہیں اس قانون کے غلط استعمال کی روک تھام کے لیے ہر جائز تحفظ فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن گستاخ رسولؐ کے لیے موت کی سزا اٹل ہے اور اس میں کسی قسم کی تبدیلی کو کسی قیمت پر برداشت نہیں کیا جائے گا۔

اس سلسلہ میں گستاخ رسولؐ منظور مسیح کے قتل کے الزام میں ماسٹر عنایت اللہ اور دیگر بے گناہ افراد کی گرفتاری بھی افسوسناک ہے اور ہم مسیحی اقلیت کے مذہبی پیشواؤں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ کسی گستاخ رسولؐ کی حمایت کر کے اپنی پوزیشن خراب نہ کریں اور نہ بے گناہ افراد کی گرفتاری کے لیے اپنی صلاحیتیں ضائع کریں۔ اگر مسیحی راہنما چاہیں تو ہم اس کے لیے تیار ہیں کہ رتہ دوہتڑ توہین رسالت کیس اور منظور مسیح قتل کیس کی انکوائری کے لیے ہائیکورٹ کے جج کی سربراہی میں کمیشن قائم کیا جائے جس میں تحفظ ناموس رسالت ایکشن کمیٹی کے نمائندے اور مسیحی مذہبی راہنما بھی شامل ہوں۔ اور یہ کمیشن دونوں کیسوں کے بارے میں تحقیقات کر کے حقائق کی نشاندہی کرے تاکہ اصل حالات پاکستانی عوام اور عالمی رائے عامہ کے سامنے واضح ہو سکیں۔

ان گزارشات کے ساتھ ہم حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ

  1. انسانی حقوق کے نام نہاد اور یکطرفہ مغربی فلسفہ کو مسترد کرنے کا اعلان کیا جائے،
  2. پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کا دوٹوک اعلان کیا جائے،
  3. گستاخ رسولؐ کے لیے موت کی سزا کا قانون تبدیل کرنے کا فیصلہ واپس لیا جائے،
  4. اور منظور مسیح قتل کیس میں گرفتار بے گناہ ماسٹر عنایت اللہ اور ان کے رفقاء کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔


مولانا نور محمد آف ملہو والیؒ / پیر بشیر احمد گیلانیؒ / مولانا عبد الرؤف جتوئیؒ

  • گزشتہ دنوں حضرت مولانا نور محمد ملہو والی کا انتقال ہو گیا، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مرحوم بزرگ علماء میں سے تھے، نوے برس سے زیادہ عمر تھی، حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کاشمیریؒ کے تلامذہ میں سے تھے۔ ملہو والی ضلع اٹک میں طویل عرصہ تک تدریسی خدمات سرانجام دیتے رہے اور ان کے متعدد شاگرد مختلف علاقوں میں دینی خدمات میں مصروف ہیں۔
  • سیالکوٹ کی بزرگ شخصیت پیر سید بشیر احمد گیلانیؒ رحلت فرما گئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مرحوم دینی تحریکات میں ہمیشہ پیش پیش رہے اور مذہبی جماعتوں کی ہمیشہ سرپرستی کرتے رہے ہیں۔
  • عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا عبد الرؤف جتوئی کا بھی انتقال ہو گیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مرحوم انتہائی پرجوش مقرر اور انتھک کارکن تھے۔
اللہ تعالیٰ مرحومین کو جوارِ رحمت میں جگہ دیں اور پسماندگان کو صبرِ جمیل کی توفیق سے نوازیں، آمین۔

مغربی فلسفہ کی یلغار اور دینی صحافت کی ذمہ داریاں

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(۱۹ و ۲۰ اپریل ۱۹۹۴ء کو مارگلہ موٹل اسلام آباد میں دعوہ اکیڈمی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی طرف سے ’’اکیسویں صدی کا چیلنج اور دینی صحافت‘‘ کے عنوان سے دو روزہ سیمینار منعقد ہوا جس میں مختلف مذہبی مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے سرکردہ مدیران جرائد نے شرکت کی۔ ۱۹ اپریل کو سیمینار کے دوسرے اجلاس میں مولانا زاہد الراشدی نے مندرجہ ذیل مقالہ پیش کیا۔ اس نشست کی صدارت ادارہ تحقیقات اسلامی کے ڈائریکٹر محترم ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری نے کی۔)

مغرب کا مادی فلسفہ حیات جو سولائزیشن، انسانی حقوق، جمہوریت اور آزادی کے پر فریب نعروں کے ساتھ آج دنیا کے ایک بڑے حصے پر اپنی بالادستی کا پرچم اٹھائے ہوئے ہے، انسانی معاشرہ کے لیے کوئی نیا فلسفہ نہیں ہے بلکہ نسل انسانی کے آغاز سے چلے آنے والے اسی فلسفہ حیات کی ترقی یافتہ شکل ہے جسے قرآن کریم نے ’’ان یتبعون الا الظن وما تھوی الانفس‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔ یعنی وہ فلسفہ جو وحی الٰہی اور علم یقینی کے بجائے انسانی خواہشات و مفادات اور عقل و شعور کے حوالے سے نسل انسانی کی راہ نمائی کا دعوے دار ہے۔

انسانی معاشرہ میں آج تک جتنے قوانین، ضابطوں اور اصولوں کی حکمرانی رہی ہے وہ بنیادی طور پر دو حصوں میں تقسیم ہیں۔

  1. ایک حصہ ان اصولوں اور قوانین و ضوابط پر مشتمل ہے جن کی تشکیل خود انسانی ذہن کی ہے۔ شخصی آمریت، بادشاہت، طبقاتی حکمرانی اور جماعتی ڈکٹیٹرشپ کے مراحل سے گزرتے ہوئے انسانی ذہن آج سولائزیشن اور جمہوریت کے نام سے ارتقا کی آخری منزل سے ہمکنار ہو چکا ہے۔
  2. دوسرا حصہ اس نظام حیات کے تدریجی مراحل سے عبارت ہے جس کی بنیاد وحی الٰہی پر ہے اور جو حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہو کر مختلف مراحل طے کرتا ہوا جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی وحی پر مکمل ہوگیا ہے۔ جبکہ خاتم النبیین حضرت محمدؐ کا پیش کردہ نظام حیات قرآن و سنت اور خلافت راشدہ کی صورت میں موجود ہے۔

مغرب کا دانشور دنیا کو یہ نوید دے رہا ہے کہ انسانی معاشرہ کی فلاح و بہبود کے لیے انسانی ذہن جو کچھ سوچ سکتا تھا وہ سوچ چکا ہے اور اس کی کاوشوں کی معراج آج کے مغربی معاشرہ کی شکل میں دنیا کے سامنے ہے، اب اس سے آگے بڑھنا انسانی ذہن کے بس میں نہیں ہے، اس لیے اس سے بہتر کسی نظام حیات کی توقع انسانی ذہن سے نہیں کرنی چاہیے۔ مغربی دانشور کا یہ کہنا بالکل درست ہے لیکن درست ہونے کے باوجود نامکمل ہے اس لیے کہ مغربی دانشور کے سامنے صرف انسانی ذہن کی کاوشیں ہیں اور وحی الٰہی کے تدریجی مراحل یا تو اس کی نظروں سے اوجھل ہیں یا اس نے جان بوجھ کر اس حقیقت سے گریز اختیار کر رکھا ہے۔ جبکہ حالات کی اصل تصویر یوں ہے کہ ایک طرف انسانی ذہن کے تشکیل کردہ نظام ہائے حیات ہیں جن کی آخری اور ترقی یافتہ شکل مغربی فلسفہ و تہذیب کی صورت میں دنیا کے ایک بڑے حصے پر تسلط جمائے ہوئے ہے، اور دوسری طرف وحی الٰہی کا پیش کردہ نظام حیات ہے جس کا مکمل نمونہ خلافت راشدہ کی صورت میں انسانی تاریخ کا ایک ناقابل فراموش حصہ ہے۔ اب یہ دونوں نظام ہائے حیات اپنی کشمکش کے ایک فیصلہ کن دور میں داخل ہونے والے ہیں جس کی تیاریوں اور ریہرسل کے مناظر اس وقت بھی دنیا کے مختلف حصوں میں دیکھے جا سکتے ہیں۔

مغرب کا فلسفہ حیات اس فکر میں ہے کہ اس نے گزشتہ دو صدیوں کے دوران انسانی معاشرہ پر جو تسلط قائم کیا ہے وہ کمزور نہ ہونے پائے بلکہ اس کے دائرے میں وسعت پیدا ہو۔ جبکہ وحی الٰہی کی بنیاد پر تشکیل پانے والا نظام حیات دنیا بھر کے اہل دین کی خواہشات اور آرزوؤں کی گہرائیوں سے ابھر کر سطح ارض پر جلوہ نمائی کے لیے بے تاب ہے اور کھلی آنکھیں رکھنے والے دور افق پر طلوع سحر کے آثار دیکھ رہے ہیں۔

مغربی فلسفہ حیات جو خود کو سیکولرزم، جمہوریت، سولائزیشن، آزادی اور انسانی حقوق کے دلکش لیبلز سے مزین کیے ہوئے ہے انسانی زندگی کے ساتھ وحی الٰہی کے ایسے تعلق کو تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے جو انسانی معاشرہ کے کسی بھی اجتماعی دائرہ کے لیے حدود کار کا تعین کرتا ہو۔ اور وہ زندگی کے اجتماعی امور کے حوالہ سے انسانی عقل ہی کو آخری اور فیصلہ کن اتھارٹی قرار دے کر اجتماعی عقل کی خدائی کے سامنے سجدہ ریز ہے۔ یہ فلسفہ دراصل اس یورپ کا فلسفہ ہے جس نے کلیسا، بادشاہت اور جاگیرداری کے مشترکہ مظالم کی چکی میں صدیوں تک پستے رہنے کے بعد اس گٹھ جوڑ کے خلاف بغاوت کی اور بادشاہت اور جاگیرداری کے حق میں کلیسا اور پادریوں کے جانبدارانہ و ظالمانہ کردار سے متنفر و دلبرداشتہ ہو کر رد عمل کے طور پر مذہب اور وحی الٰہی کی رہنمائی سے ہی انکار کر بیٹھا۔

آج دنیا کے پانچ آباد براعظموں میں سے تین یعنی امریکہ، یورپ اور آسٹریلیا پر اس فلسفہ کی حکمرانی ہے۔ جبکہ ایشیا اور افریقہ میں تسلط قائم کرنے کے لیے اس کے پیروکار مسلسل ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔ اس کا پس منظر کچھ یوں ہے کہ یورپ کے باشندوں نے کولمبس اور واسکوڈی گاما کی صورت میں دنیا کے دوسرے براعظموں میں آباد اور داخل ہونے کے لیے جس مہم کا آغاز کیا تھا اس کے نتیجہ میں امریکہ اور آسٹریلیا میں یورپی آباد کار مقامی آبادیوں کو پیچھے دھکیل کر اپنا تسلط قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ آج ان دو براعظموں پر یورپی آباد کار ہی حکمران ہیں جبکہ اصل اور قدیمی آبادی کا ان ممالک کے اجتماعی نظام کے ساتھ کوئی تعلق باقی نہیں ہے۔ مگر افریقہ اور ایشیا نے یورپی آبادکاروں کو واپس جانے پر مجبور کر دیا جس کی وجہ سے یورپین حکمرانوں کو ان براعظموں میں اپنے مفادات کی حفاظت اور یورپی فلسفہ کی حکمرانی کے لیے ایک درمیانی نسل جنم دینا پڑی جو افریقہ اور ایشیا کے ممالک پر اس وقت حکمران ہے اور مغربی آقاؤں کی خواہشات و ہدایات اور اپنے ممالک کے عوام کے مفادات و نظریات کے درمیان سینڈوچ بن کر رہ گئی ہے۔ آج ہمارا اصل المیہ یہی حکمران طبقے ہیں جو جسمانی اعتبار سے ایشیائی اور افریقی ہیں مگر ذہن، سوچ اور تربیت کے لحاظ سے یورپین ہیں۔ ان حکمرانوں کے ذریعے سے افریقہ اور ایشیا کے عوام سے یورپین آبادکاروں کو قبول نہ کرنے کا انتقام لیا جا رہا ہے۔

عالمی تناظر سے ہٹ کر وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان کے حوالہ سے اس کشمکش کا جائزہ لیا جائے تو واقعات کی ترتیب کچھ یوں بنتی ہے کہ برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش پر برطانوی تسلط کے خلاف جنگ آزادی میں مسلمانوں نے فیصلہ کن کردار ادا کیا اور جنگ آزادی کے آخری مراحل میں اسلامی فلسفہ حیات کی حکمرانی کے لیے پاکستان کے نام سے الگ ملک کا مطالبہ کر کے تقسیم ہند کی راہ ہموار کی، اس طرح دنیا کے نقشہ پر پاکستان کا وجود نمودار ہوگیا۔ لیکن پاکستان کے قیام کے بعد اس وطن عزیز میں اسلامی فلسفہ حیات کی حکمرانی قائم کرنے کے بجائے مغربی فلسفہ کو ہی منزل قرار دے لیا گیا اور ملک میں مغربی جمہوریت اور سولائزیشن کی حکمرانی یا قرآن و سنت کی بالادستی کے لیے ایک طویل کشکش کا آغاز ہوگیا۔ اس کشمکش میں ایک طرف برطانوی حکمرانوں کی پیدا کردہ حکمرانوں کی دوغلی نسل ہے جو اپنی ہی طرح کا نظام پاکستان پر مسلط رکھنا چاہتی ہے اور اس کی پشت پر پورا مغرب اپنے تمام تر وسائل اور توانائیوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ جبکہ دوسری طرف وہ نظریاتی حلقے اور کارکن ہیں جو جنگ آزادی اور قیام پاکستان کے اصل مقاصد کو نگاہوں سے اوجھل کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ وہ جمہوریت، سیکولرزم، سولائزیشن، انسانی حقوق اور آزادی کے حوالہ سے پیش کیے جانے والے مغربی فلسفہ کو مسترد کرتے ہوئے قرآن و سنت کی غیر مشروط بالادستی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

مغربی فلسفہ آج ہمارے معاشرے میں کس حد تک دخیل ہے اور اس کے پیروکار اسلامی فلسفہ حیات کو اجتماعی نظام سے بے دخل کرنے کے لیے کن کن مورچوں سے ہم پر حملہ آور ہیں؟ اس کے عملی نقشہ پر ایک نظر ڈال لینا مناسب معلوم ہوتا ہے، اس لیے واقعات کی ایک ترتیب پیش خدمت کی جا رہی ہے جس سے اس نقشہ کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔

یہ ہے اس مسلسل اور مربوط محنت کی ایک جھلک جو ہمارے معاشرہ پر مغربی فلسفہ کی گرفت کو قائم رکھنے اور مستحکم کرنے کے لیے ایک عرصہ سے جاری ہے۔ اس محنت کے پیچھے امریکہ ہے، پورا مغرب ہے، بین الاقوامی ذرائع ابلاغ ہیں، انسانی حقوق کے نام پر کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیمیں ہیں، پاکستان میں نوآبادیاتی نظام کے محافظ طبقے ہیں، اسلامی نظام کے نفاذ سے اپنے مفادات کو خطرہ محسوس کرنے والے طاقتور گروہ ہیں، اور قومی زندگی کے مختلف اجتماعی شعبوں میں اہم حیثیت رکھنے والے افراد ہیں۔ ان سب کی مشترکہ تگ و دو کے اس نتیجہ کو ایک واقعی حقیقت کے طور پر قبول کرنے میں کسی ہچکچاہٹ سے کام لینے کی ضرورت نہیں ہے کہ دینی حلقے جو ۱۹۴۷ء کے بعد سے ۱۹۸۴ء تک اسلامائزیشن کے محاذ پر سست رفتار سہی مگر کچھ نہ کچھ پیش رفت کرتے دکھائی دے رہے تھے اب دفاعی پوزیشن پر آگئے ہیں۔ اور اس دفاعی لائن کے پیچھے بھی ان کی صفوں میں اشتراک و اتحاد نہیں ہے، ترتیب نہیں ہے، منصوبہ بندی نہیں ہے، مسائل کے ادراک و تجزیہ کا ذوق نہیں ہے اور ترجیحات کو درست کرنے کا احساس نہیں ہے۔

معافی کا خواستگار ہوں کہ اصل موضوع کی طرف آنے سے پہلے عالم اسلام اور پاکستان میں اسلامی نظام حیات اور مغربی فلسفہ کی کشمکش کا تعارف قدرے تفصیل کے ساتھ آپ حضرات کے سامنے لانا پڑا۔ لیکن جب مغربی فلسفہ کی یلغار کے حوالہ سے دینی صحافت کی ذمہ داریوں پر بحث مقصود ہے تو اس یلغار کے مالہ و ما علیہ پر ایک نظر ڈال لینا ضروری تھا۔ اس پس منظر میں دینی صحافت کی سب سے اہم اور بنیادی ذمہ داری یہ ہے کہ

یہ سارے وہ کام ہیں جو موجودہ حالات میں دینی صحافت کی ذمہ داریوں کے ضمن میں آتے ہیں۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ دینی صحافت کا موجودہ ڈھانچہ اپنی ہیئت اور ترجیحات کے حوالہ سے ان امور کو اہمیت نہیں دے پارہا جس کی ضرورت ہے۔ اس امر کی مزید وضاحت کے لیے ضروری ہے کہ دینی صحافت کے موجودہ دائرہ کار پر بھی ایک نظر ڈال لی جائے۔ ہمارے ملک میں شائع ہونے والے دینی جرائد کو چار حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

  1. بعض جرائد مختلف دینی جماعتوں کے آرگن کے طور پر شائع ہوتے ہیں۔
  2. بعض جرائد اسلام کے حوالہ سے کام کرنے والی بعض شخصیات کے ترجمان ہیں۔
  3. بعض جرائد علمی اداروں کی نمائندگی کرتے ہیں۔
  4. اور بعض جرائد وہ ہیں جو مسالک اور مکاتب فکر کے حوالہ سے خدمات سر انجام دیتے ہیں۔

ظاہر بات ہے کہ ان کی ترجیحات بھی اپنے اپنے مقاصد کے حوالہ سے یقیناً مختلف ہیں۔ ایسے جرائد جو جماعت، شخصیت، ادارہ اور مسلک کی ترجیحات کے دائروں سے بے نیاز ہو کر عالم اسلام کی مشکلات و مسائل، مغربی فلسفہ کی یلغار، اسلامائزیشن کے تقاضوں اور سیکولر لابیوں کی سرگرمیوں کی بنیاد پر اپی ترجیحات کا آزادانہ تعین کر سکیں، ہمارے معاشرہ میں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اور جو چند ایک ہیں خود ہمارے دینی حلقوں کا رویہ ان کے ساتھ حوصلہ افزائی کا نہیں ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ دینی جرائد جن دائروں میں کام کر رہے ہیں وہ خدانخواستہ غیر ضروری ہیں۔ ہرگز نہیں بلکہ ان میں سے ہر کام کی ضرورت اپنے دائرہ میں مسلم ہے جس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا البتہ ترجیحات کا معاملہ مختلف ہے۔ اور میں بصد احترام یہ عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اسلام اور اسلامی تحریکات کے حوالہ سے مغربی فلسفہ اور لابیوں کی ہمہ جہت یلغار کو سامنے رکھتے ہوئے ہمارے دینی جرائد کی موجودہ ترجیحات مجموعی طور پر درست نہیں ہیں اور ہمیں ان پر بہرحال نظرثانی کرنی چاہیے۔

میں نے جب محترم ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب، ڈائریکٹر دعوہ اکیڈمی کی خدمت میں دینی جرائد کے مدیران کے اس سیمینار کے انعقاد کی تجویز پیش کی تھی تو میرے پیش نظر یہی بات تھی کہ ہمیں اپنی ترجیحات اور طریق کار پر باہمی مشاورت کے ساتھ نظر ثانی کرنی چاہیے اور کھلے دل و دماغ کے ساتھ ان امور کا جائزہ لینا چاہیے کہ عالم اسلام اور پاکستان کے حوالہ سے دینی صحافت سے ایک باشعور مسلمان کی توقعات کیا ہو سکتی ہیں؟ وہ توقعات اور ضروریات ہم کہاں تک پوری کر رہے ہیں؟ اس راستہ کی مشکلات اور رکاوٹیں کیا ہیں؟ اور ضروریات اور کام کے درمیان جو خلا دکھائی دے رہا ہے اس کو پر کرنے کے لیے ہم کیا کچھ کرسکتے ہیں؟ میں ڈاکٹر غازی صاحب اور ان کے رفقاء کا بے حد شکر گزار ہوں کہ انہوں نے میری اس تجویز کو قبول کیا اور اس سیمینار کا اہتمام کر کے دینی جرائد کے باہمی رابطہ و ملاقات کے کار خیر کا آغاز کر دیا۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر دیں اور ان کی اس کاوش کو قبولیت سے نوازتے ہوئے مثبت ثمرات سے بہرہ ور فرمائیں۔

اس موقع پر میں اپنی تجویز کا دوسرا حصہ سیمینار کے معزز شرکاء کی خدمت میں پیش کرنا مناسب سمجھوں گا جو دعوۃ اکیڈمی کے لیے نہیں بلکہ شرکائے سیمینار کے لیے ہے کہ مشاورت کو مستقل شکل دینے کی کوئی عملی صورت نکالنی چاہیے۔ میرا خیال ہے کہ اگر ہم مختلف مقامات پر سال میں دو تین دفعہ جمع ہو کر مسائل اور ضروریات کا جائزہ لے لیا کریں تو باہمی مشاورت اور رابطہ کی برکت سے ہمارے کام کی ترجیحات اور تربیت کو خودبخود صحیح سمت مل جائے گی اور ہم اپنے موجودہ کام کی افادیت میں کئی گنا اضافہ کر سکیں گے۔

اس مقصد کے لیے اگر کوئی ہلکی پھلکی سی سوسائٹی تشکیل دے لی جائے تو مناسب رہے گا۔ سوسائٹی سے میری مراد ٹریڈ یونین طرز کی کوئی ایسی تنظیم نہیں ہے جو حقوق و مفادات اور مراعات کی دوڑ میں معاصر تنظیموں کے ساتھ شریک ہو۔ بلکہ خالصتاً علمی و فکری قسم کی سوسائٹی کا قیام مقصود ہے جو دینی جرائد کے درمیان مفاہمت اور اشتراک کی فضا پیدا کرے، ایک اسٹڈی سرکل کے طور پر پیش آمدہ مسائل کا تجزیہ کر کے دینی جرائد سے وابستہ افراد کی بریفنگ اور راہنمائی کا فریضہ سر انجام دے اور باصلاحیت نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کر کے دینی صحافت میں اچھا لکھنے والے افراد کا اضافہ کرے۔ میں توقع رکھتا ہوں کہ شرکائے سیمینار طویل سمع خراشی پر معذرت قبول کرتے ہوئے میری گزارشات اور تجویز کو سنجیدہ توجہ سے نوازیں گے۔

محترم ڈاکٹر محمود احمد غازی، محترم محمد افتخار کھوکر، اور الدعوۃ اکیڈمی کے دیگر رفقاء کا ایک بار پھر شکریہ ادا کرتے ہوئے اس دعا کے ساتھ اجازت چاہتا ہوں کہ اللہ رب العزت ہمیں اخلاص نیت کے ساتھ توفیق عمل عطا کریں اور اسلام و عالم اسلام کو درپیش مسائل و مشکلات میں امت مسلمہ کو صحیح سمت راہنمائی کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

رسول اللہؐ کی محبت، ایمان کا اولین تقاضا

شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر

مومن کے صاف اور شفاف دل میں سب سے پہلے اور سب سے بڑھ کر خالقِ کائنات، منعمِ حقیقی اور رب ذوالجلال کی محبت ہوتی ہے۔ اس کے دل کے اس خانہ میں کسی اور کی محبت کے لیے مطلقاً کوئی جگہ اور گنجائش ہی نہیں ہوتی، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
والذین اٰمنوا اشد حب اللّٰہ۔ (البقرہ)
’’ اور وہ لوگ جو ایمان لائے ان کی سب سے بڑھ کر محبت اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہوتی ہے۔‘‘
اس کے بعد مومن کے دل میں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت گہرے سمندر کی موجوں کی طرح ٹھاٹھیں مارتی ہے، اور اس محبت کے مقابلہ میں مخلوق میں سے کسی بھی فرد کی محبت اور عقیدت کوئی حیثیت نہیں رکھتی اور نہ مومن اس کو قابلِ التفات ہی سمجھتا ہے۔ یہ محبت محض عشق و عقیدت کے درجہ کی نہیں بلکہ تصدیق و اذعان اور پختہ عقیدہ کی آخری حد ہے اور مدارِ ایمان اور باعثِ نجات ہے۔ اس محبت کا ظاہری طور پر اظہار آپ کی صحیح فرمانبرداری اور اطاعت سے ہوتا ہے، اور جس درجہ کی محبت دل میں موجزن ہوتی ہے اسی انداز کی اطاعت کا محب سے صدور ہوتا ہے۔ 
سیدنا حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ (المتوفٰی ۹۳ھ) سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
’’تم میں سے کوئی ایک شخص بھی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے ماں باپ اور اولاد اور تمام انسانوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔‘‘ (بخاری ج ۱ ص ۷ ۔ مسلم ج ۱ ص ۴۹)
اس صحیح حدیث شریف میں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مومن ہونے کے لیے ایک بنیادی شرط اور واضح علامت بیان فرمائی ہے کہ وہ آپ کی ذاتِ گرامی سے ماں، باپ، اہل و عیال اور تمام انسانوں سے بڑھ کر محبت کرے۔ اگر معاذ اللہ تعالیٰ ایسا نہیں تو وہ مومن نہیں ہو سکتا۔
سیدنا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ (المتوفٰی ۵۷ھ) کی روایت میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم میں سے کوئی ایک شخص بھی مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کے ہاں میں اس کے ماں باپ اور اولاد سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔‘‘ (بخاری ج ۱ ص ۷)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد قسم اٹھائے بغیر بھی بالکل سچا ہے مگر آپ نے یہ مضمون اور حکم موکد کرنے کے لیے قسم سے بیان فرمایا ہے۔
سیدنا حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ (المتوفٰی ۲۳ھ) کی روایت میں ہے:
’’حضرت عبد اللہ بن ہشام رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وبارک وسلم کے ساتھ تھے اور آپؐ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ حضرت آپ مجھے اپنے نفس کے بغیر ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں۔ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، اس وقت تک ایمان حاصل نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں تیرے نفس سے بھی زیادہ تجھے محبوب نہ ہو جاؤں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا، اب آپ مجھے اپنے نفس سے بھی زیادہ محبوب ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وبارک وسلم نے ارشاد فرمایا، ہاں عمر! اب بات بن گئی۔‘‘ (بخاری شریف ج ۲ ص ۹۸۱)
امام نووی الشافعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (المتوفٰی ۶۷۶ھ) سیدنا حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث کی شرح میں محدث ابن بطال رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے نقل کرتے ہیں کہ
’’بلاشبہ جس نے دن کو مکمل کر لیا تو وہ یہ جانتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حق اپنے ماں باپ، اولاد اور تمام انسانوں سے زیادہ موکد ہے، کیونکہ ہم آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہی کی بدولت دوزخ سے بچے اور ہم نے آپ ہی کی وجہ سے گمراہی سے ہدایت حاصل کی۔‘‘ (شرح مسلم ج ۱ ص ۴۹)
مومن کی نگاہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ کے غضب، اس کی ناراضگی، اور آتشِ دوزخ سے بچنے اور گمراہی کے گڑھے سے نکل کر راہِ ہدایت پر آجانے سے بڑھ کر اور کیا خوشی اور کامیابی ہو سکتی ہے؟ بلاشبہ ماں باپ اور اولاد سے بسا اوقات بڑے بڑے فوائد و منافع حاصل ہوتے ہیں لیکن گمراہی کے عمیق اور گہرے کنوئیں سے نکل کر ہدایت کے سرسبز و شاداب چمن میں آ جانا اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم کی آگ اور گوناگوں عذاب سے بچ جانا بہت بڑی سعادت اور اعلیٰ ترین کامیابی ہے، اور یہ امتِ مسلمہ کو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و بارک وسلم کی کوشش اور آپ ہی کی سعی سے حاصل ہوئی ہے۔ جب اتنی بڑی دولت آپ کے طفیل سے حاصل ہوئی ہے تو شرعی لحاظ سے تو ضروری ہے ہی، فطری طور پر بھی آپ سے محبت بہت ضروری ہے۔ اور یہ محبت تمام اعزہ و اقارب سے بڑھ کر آپ سے وابستہ ہونی لازم ہے۔ اور یہ محبت ایمان کی اصل الاصول بھی ہے اور مدار بھی۔ مخلوق میں باقی سب کا حق اس کے بعد ہے، مقدم صرف آپ ہی کا حق ہے، صلی اللہ علیہ و بارک وسلم۔
حضرت امام نووی رحمۃ اللہ علیہ ہی جلیل القدر شارح حدیث علامہ قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کرتے ہیں کہ
’’ایمان کی حقیقت سوائے اس کے مکمل نہیں ہو سکتی اور ایمان اس کے بغیر صحیح ہی نہیں ہو سکتا جب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قدر و منزلت کو اپنے ماں باپ اور اولاد اور محسن اور مہربان سب پر بلند کرنا متحقق نہ ہو جائے، اور جس شخص نے یہ اعتقاد نہ کیا اور اس کے علاوہ کچھ اور اعتقاد رکھا تو وہ مومن نہیں ہے۔‘‘ (ایضاً ص ۴۹)
اور اس کی وجہ ظاہر ہے کہ ماں باپ اور اعزہ و اقارب کے ساتھ محبت میں بالواسطہ یا بلاواسطہ نفس اور جسم کا تعلق ہوتا ہے لیکن جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت اور لگاؤ جسم اور روح دونوں کے ساتھ وابستہ ہے۔ جس کے نتیجہ میں جہاں مومن کا یہ جہاں بنتا ہے وہاں آخرت کا ابدی جہاں بھی صرف بنتا ہی نہیں بلکہ خوب اجاگر ہوتا ہے اور اسی پر موقوف ہے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ مومن کے دل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے جو نشاط و سرور اور وجد کی کیفیات پیدا ہوتی ہیں وہ ظاہری حسن و جمال کے شیدائی کو کب حاصل ہو سکتی ہیں، جو انسانوں اور حیوانوں سے آگے نکل کر بہتی ہوئی ندیوں اور لہلہاتے ہوئے مرغزاروں، چہچہاتی ہوئی چڑیوں، کھلے ہوئے شگفتہ و نیم شگفتہ پھولوں، وادیوں کے نشیب و فراز، دامنِ کوہ کی ابھرتی ہوئی بلندیوں، اور ڈھلتی ہوئی پستیوں کی جمالی تجلیوں میں تلاش کرتا ہے۔ اور اسی محبت کی وجد آفریں کیفیت کو دشمنانِ اسلام مسلمانوں کے حافظہ سے مٹانا چاہتے ہیں، لیکن وہ بجائے مٹنے کے ہر دم تازہ سے تازہ ہو کر ابھرتی رہتی ہے۔ سچ ہے ؎
مجھے پستیوں کا گلہ نہیں کہ ملی ہیں ان سے بلندیاں
میرے حق میں دونوں مفید ہیں کہ نشیب ہی فراز ہے

توہینِ رسول کفر اور قابلِ گردن زدنی ہے

فقہائے اسلام نے نہایت وضاحت سے یہ بات کتابوں میں لکھی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تنقیص و توہین اور سب و شتم اور تکذیب و عیب جوئی صریح طور پر کفر ہے۔ چنانچہ قاضی القضاۃ حضرت امام ابو یوسف یعقوب بن ابراہیم الحنفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (المتوفٰی ۱۸۲ھ) لکھتے ہیں کہ
’’جس شخص نے بھی مسلمان ہو کر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دی یا آپ کی تکذیب کی یا آپ پر کوئی عیب لگایا، آپ کی تنقیص کی تو بلاشبہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں کافر ہے اور اس کی بیوی اس سے بائن اور جدا ہو جائے گی، سو اگر وہ توبہ کر لے تو فبہا ورنہ اس کو قتل کیا جائے گا۔‘‘ (کتاب الخراج ص ۱۸۲)
اس سے بصراحت معلوم ہوا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ رفیع کو گالی دینا یا آپ کی تکذیب و عیب جوئی کرنا یا توہین و تنقیص کرنا خالص کفر ہر جس سے اس کی بیوی اس پر حرام ہو جاتی ہے۔
مشہور مالکی امام قاضی عیاض بن موسٰی بن عیاض رحمۃ اللہ علیہ (المتوفٰی ۵۴۴ھ) لکھتے ہیں کہ
’’حضرت امام محمد بن سحنون رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا کہ تمام علماء کا اس بات پر اجماع و اتفاق ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب و شتم کرنے والا اور آپ کی تنقیص کرنے والا کافر ہے، اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کی وعید اس پر جاری ہے۔ اور امت کے نزدیک اس کا حکم یہ ہے کہ اس کو قتل کر دیا جائے اور جو شخص اس کے کفر اور عذاب میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔‘‘ (الشفاء ج ۴ ص ۱۹۰ طبع مصر)
شیخ الاسلام ابن تیمیہ الحنبلی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (المتوفٰی ۷۲۸ھ) لکھتے ہیں کہ
’’قاضی عیاض رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا ہے کہ جو شخص بھی جناب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سب کرے، یا آپ کو عیب لگائے، یا آپ کی ذاتِ پاک، نسب یا دین یا آپ کی خصلتوں میں سے کسی خصلت میں کوئی عیب نکالے، یا کسی بھی شخص کو آپ کے متعلق سب و تنقیص یا بغض یا عداوت کے طور پر کوئی شبہ پیدا ہوا، تو وہ گالی ہی ہو گی اور ایسے شخص کا حکم وہی ہے جو گالی دینے والے کا ہے کہ اس کو قتل کیا جائے گا (جس کا انتظام اسلامی حکومت کرے گی)‘‘۔ (الصارم المسلول ص ۵۲۸ طبع دائرۃ المعارف حیدر آباد دکن)
یہ تمام عبارات اپنے مفہوم اور مضمون کے اعتبار سے بالکل واضح ہیں، مزید کسی توضیح و تشریح کی محتاج نہیں ہیں۔

سات چیزوں سے پناہ کی دعا

شیخ التفسیر مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ

عن ابی الیسر (رضی اللہ عنہ) ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کان یدعو بہؤلاء الکلم السبع: یقول اللھم انی اعوذبک من الھرم واعوذ بک من التردی اوعوذ بک من الغم والغرق والحرق و اعوذ بک ان یتخبطنی الشیطان عند الموت واعوذ بک ان اموت فی سبیلک مدبرا واعوذ بک ان اموت لدیغا۔ (مسند احمد، طبع بیروت، ج ۳ ص ۷۲۸)
حضرت ابو یسرؓ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان سات کلمات کے ساتھ دعا کیا کرتے تھے:

(۱) اللّٰھم انی اعوذ بک من الھرم

اے اللہ! میں تیری ذات کے ساتھ انتہائی بڑھاپے سے پناہ مانگتا ہوں۔ انسان عمر کے اس حصے میں پہنچ جائے جہاں چلنا پھرنا، کھانا پینا مشکل ہو جائے، حتٰی کہ عقل بھی ٹھکانے نہ رہے تو ایسی حالت سے پناہ مانگی گئی ہے۔

(۲) واعوذ بک من التردی

اے اللہ! میں کسی اونچی جگہ سے گر کر ہلاک ہونے سے بھی تیری پناہ پکڑتا ہوں۔ بعض اوقات انسان کسی پہاڑ کی چوٹی سے یا بلند عمارت سے گر پڑتا ہے یا کسی دیگر حادثے کا شکار ہو کر موت کی آغوش میں چلا جاتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بھی پناہ مانگی ہے۔

(۳) واعوذ بک من الغم

اے اللہ! میں تیری ذات کے ساتھ غم سے پناہ مانگتا ہوں۔ کوئی غم لاحق ہو جائے تو دل و دماغ پر نہایت منفی اثرات پڑتے ہیں اور انسان سخت پریشان ہو جاتا ہے۔ ابن ماجہ شریف کی روایت میں آتا ہے ’’الھم نصف الھرم‘‘ یعنی غم آدھا بڑھاپا ہوتا ہے۔ غم دنیا کا بھی ہوتا ہے اور دین کا بھی۔ حضور علیہ السلام کو دین کا غم تھا جس سے آپ پناہ مانگتے تھے۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا، مجھے سورۃ ہود، الشمس، کورت اور نبا نے بوڑھا کر دیا ہے۔ آپ کو دین کی اس قدر فکر تھی۔

(۴) والغرق والحرق

اے اللہ! میں تیری ذات کے ساتھ پانی میں ڈوب کر مرنے سے پناہ چاہتا ہوں۔ یہ بھی حادثاتی موت ہے جس کو پسند نہیں کیا گیا۔ اور آگ میں جل کر مرنے سے بھی پناہ چاہتا ہوں۔ یہ بھی بڑی تکلیف دہ موت ہے، اللہ اس سے بچائے۔

(۵) واعوذ بک ان یتخبطنی الشیطان عند الموت

اور اس چیز سے تیری پناہ چاہتا ہوں کہ موت کے وقت مجھے شیطان مخبوط الحواس بنا دے اور انسان ایمان کی دولت سے محروم ہو جائے۔ شیطان ہر انسان پر اس کے آخری وقت تک حملہ آور ہوتا رہتا ہے تاکہ اس کے ایمان پر ڈاکہ ڈال لے، لہٰذا حضور علیہ السلام نے اس چیز سے بھی پناہ مانگی ہے۔

(۶) واعوذ بک ان اموت فی سبیلک مدبرا

اے اللہ! میں تیری ذات کے ساتھ اس بات سے بھی پناہ چاہتا ہوں کہ میں تیرے راستے میں پشت پھیرنے والا بنوں۔ جب دشمن سے میدانِ جنگ میں مقابلہ ہو رہا ہو تو اس وقت پیٹھ پھیر کر بھاگنا سخت معیوب ہے کہ اس سے دوسروں کی بھی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ قرآن میں اللہ کا فرمان ہے کہ جہاد میں اگر دشمنوں کی تعداد اہل ایمان سے دگنی بھی ہو تو انہیں ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہیے اور بزدلی نہیں دکھانی چاہیے۔ ہاں اگر دشمن کی تعداد دو گنا سے بھی زیادہ ہو تو پھر مقابلے میں نہ آنے کی اجازت ہے۔ 

(۷) واعوذ بک ان اموت لدیغا

اے اللہ! کسی کیڑے مکوڑے کے کاٹنے سے مرنے سے بھی تیری پناہ چاہتا ہوں۔ بعض اوقات سانپ، بچھو وغیرہ کاٹ جاتے ہیں جس سے موت واقع ہو جاتی ہے۔ اس قسم کی اچانک موت سے پہلے انسان نہ کوئی کلام کر سکتا ہے نہ وصیت کر سکتا ہے، علاج معالجہ بھی بہت مشکل ہوتا ہے، لہٰذا ایسی موت سے بھی پناہ طلب کی گئی ہے۔

گستاخِ رسول کے لیے سزائے موت اور بائبل

محمد یاسین عابد

حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ اقدس ہی سے اہلِ اسلام میں گستاخِ رسولؐ کے لیے سزائے موت مقرر ہے۔ فقہ و حدیث کی کتابوں میں اس قانون کی وضاحت کے علاوہ علماء کرام نے اس موضوع پر مستقل کتب بھی رقم فرمائی ہیں جن میں علامہ ابن تیمیہؒ کی ’’الصارم المسلول علیٰ شاتم الرسول‘‘، علامہ تقی الدین السبکیؒ کی ’’السیف المسلول علیٰ من سب الرسول‘‘ اور علامہ ابن عابدین شامیؒ کی ’’تنبیہہ الولاۃ والحکام علیٰ احکام شاتم خیر الانام اواحد اصحابہ الکرام‘‘ اہلِ علم میں معروف و متداول ہیں۔ اس لیے شاتمِ رسولؐ کے لیے سزائے موت کے اثبات کے لیے ہمیں قرآن و حدیث کی روشنی میں مضمون مرتب کرنے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ البتہ کچھ عرصہ سے مسیحی حضرات کی طرف سے اس سزا کے خلاف مسلسل احتجاج و ہنگامہ جاری ہے، اس لیے ہم نے مناسب سمجھا کہ شاتمِ رسول کے لیے سزائے موت کا اثبات بائبل مقدس سے کر کے مسیحی حضرات کے سامنے رکھا جائے تاکہ وہ اپنا بلاوجہ احتجاج و ہنگامہ بند کریں۔
انجیل میں مسیحیوں کو حکومتی قوانین اور فیصلوں کی مخالفت سے باز رکھنے کے لیے بڑے سخت الفاظ میں وعید مرقوم ہے:
’’ہر شخص اعلیٰ حکومتوں کا تابعدار رہے کیونکہ کوئی حکومت ایسی نہیں جو خدا کی طرف سے نہ ہو اور جو حکومتیں موجود ہیں خدا کی طرف سے مقرر ہیں، پس جو کوئی حکومت کا سامنا کرتا ہے وہ خدا کے انتظام کا مخالف ہے اور جو مخالف ہیں وہ سزا پائیں گے۔‘‘ (رومیوں ۱۳ : ۱ و ۲۔پطرس ۲ : ۱)
مگر کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ پاکستانی مسیحی انجیل جلیل کی تعلیمات کو بھول کر تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ ۲۹۵سی کے خلاف بولتے نہیں تھکتے، بلکہ اکثر اوقات قانون شکنی کے مرتکب بھی ہوتے ہیں۔ مسیحی حضرات نے تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ ۲۹۵سی یعنی ’’گستاخِ رسولؐ کے لیے سزائے موت‘‘ کو ختم کرانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا ہے (دیکھیے مسیحی پندرہ روزہ شاداب لاہور، نومبر ۱۹۹۳ء)۔ حالانکہ بائبل مقدس سے نہ صرف شاتمِ رسولؐ کے لیے بلکہ رسول کے علاوہ دوسری مقدس ہستیوں کے گستاخ کے لیے بھی موت کی سزا ثابت ہے، ایسے میں مسیحیوں کا اس قانون کی مخالفت کرنا بائبل کی مخالفت کے مترادف ہے۔

کاہن و قاضی کے گستاخ کی سزا موت

بائبل کی کتاب استثنا میں ہے:
’’اگر کوئی شخص گستاخی سے پیش آئے کہ اس کاہن کی بات جو خداوند تیرے خدا کے حضور خدمت کے لیے کھڑا رہتا ہے یا اس قاضی کا کہا نہ سنے تو وہ شخص مار ڈالا جائے اور تو اسرائیل میں سے ایسی برائی کو دور کر دینا اور سب لوگ سن کر ڈر جائیں گے اور پھر گستاخی سے پیش نہیں آئیں گے۔‘‘ (استثنا ۱۷ : ۱۲ و ۱۳)
اگر حاکم و قاضی و کاہن کی شان میں گستاخی کی سزا موت ہے تو نبی، جو کہ لاکھوں کاہنوں اور قاضیوں سے افضل ترین ہوتا ہے، کی شان میں گستاخی کرنے والا کیونکر بچ سکتا ہے۔ اور گستاخانِ رسالتؐ کی پشت پناہی کرنے والے امرا سے متعلق بائبل میں ہے:
’’ان کے امرا اپنی زبان کی گستاخی کے سبب سے تہ تیغ ہوں گے۔‘‘ (ہوسیع ۷ : ۱۶)
’’حکومت کو ناچیز جانتے ہیں وہ گستاخ اور خود رای ہیں اور عزت داروں پر لعن طعن کرنے سے نہیں ڈرتے ۔۔۔ یہ لوگ بے عقل جانوروں کی مانند ہیں جو پکڑے جانے اور ہلاک ہونے کے لیے حیوان مطلق پیدا ہوئے ہیں۔‘‘ (۲۔پطرس ۲ : ۱۰ تا ۱۲ ، یو ایل ۲ : ۲)

توریت کے گستاخ کی سزا موت

پوری قوم بنی اسرائیل کے پاس توریت کا صرف ایک ہی نسخہ تھا۔ توریت ہر سات برس بعد عوام کو صرف ایک بار عید خیام کے روز پڑھ کر سنائی جاتی تھی (استثناء ۳۱ : ۹ تا ۱۱)۔ اس کے علاوہ توریت کا وہی واحد نسخہ ہمیشہ ایک لکڑی کے صندوق میں رکھا رہتا تھا۔ اس صندوق کو عہد کا صندوق کہا جاتا تھا (خروج ۲۵ : ۱۰ تا ۲۲)۔ کوئی شخص اگر بھول کر اس صندوق کو ہاتھ لگاتا تو اسے صندوق کی شان میں گستاخی سمجھ کر ہاتھ لگانے والے کو قتل کر دیا جاتا تھا۔ ایک دفعہ صندوق میں محض جھانک لینے کی گستاخی پر بیت شمس کے پچاس ۔۔۔ ستر آدمیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ ایک دفعہ مذکورہ بالا صندوق کو بیل گاڑی پر لاد کر لے جایا جا رہا تھا، بیل گاڑی کو عزہ ہانک رہا تھا کہ اچانک بیلوں نے ٹھوکر کھائی تو غیر ارادی طور پر عزہ کا ہاتھ مذکورہ صندوق کو لگ گیا، پھر کیا تھا، اسے عزہ کی طرف سے صندوق کی شان میں گستاخی قرار دے کر مار دیا گیا (۲۔ سموئیل ۶ : ۶ تا ۸)۔ صندوق مذکورہ کی مزید ہلاکت خیزیاں جاننے کے لیے ملاحظہ ہو ۱۔سموئیل ۵ : ۱ تا ۱۲۔

والدین کے گستاخ کی سزا موت

بائبل کے مطابق تو والدین کے گستاخ کی سزا بھی موت ہے۔ چنانچہ لکھا ہے:
’’جو باپ یا ماں کو برا کہے وہ ضرور جان سے مارا جائے۔‘‘ (انجیل متی ۱۵ : ۴)
میں مسیحی حضرات سے پوچھتا ہوں کہ کیا آپ لوگ انبیائے بائبل کو اپنے باپ سے بھی کمتر سمجھتے ہیں؟ حالانکہ سچ تو یہ ہے کہ اس شخص کا ایمان ہرگز قابلِ قبول نہیں جو والدین سے بھی زیادہ اپنے نبی کو عزیز نہ رکھتا ہو۔ جیسا کہ یسوع مسیح نے فرمایا تھا:
’’جو کوئی باپ یا ماں کو مجھ سے عزیز رکھتا ہے وہ میرے لائق نہیں۔‘‘ (متی ۱۰ : ۳۷ اور لوقا ۱ : ۲۶ و ۳۳)
صحیح بخاری میں سیدنا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سید الانبیاء حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
’’اس کی قسم جس کے  قبضہ میری جان ہے، تم میں سے اس وقت تک کوئی بھی پورا ایمان دار نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے نزدیک اس کے بیٹے اور اس کے باپ سے زیادہ پیارا نہ ہو جاؤں‘‘ (مشارق الانوار مطبوعہ لکھنؤ ۱۲۸۶ھ بمطابق ۱۸۷۰ء حدیث ۱۵۳۹)
مسیحی بھائیو! اگر ماں باپ کے گستاخ کی سزا قتل ہے تو پھر اس عظیم الشان نبیؐ کی شانِ مبارک میں گستاخی کرنے والے کو کیوں قتل نہ کیا جائے؟

گستاخِ رسول کی سزا موت

حضرت داؤد علیہ السلام کا نبی اللہ ہونا انجیل سے ثابت ہے (عبرانیوں ۱۱ : ۳۲)۔ معون کے رہنے والے نابال نامی ایک شخص نے حضرت داؤدؑ کے متعلق گستاخانہ الفاظ ادا کیے کہ ’’داؤد کون ہے اور یسی کا بیٹا کون ہے؟‘‘ اس کی خبر جب داؤد نبیؑ کو ہوئی تو زبانِ نبوت سے شاتِم رسول کے لیے قتل کے احکامات یوں صادر ہوئے:
’’تب داؤد نے اپنے لوگوں سے کہا اپنی تلوار باندھ لو، سو ہر ایک نے اپنی تلوار باندھی اور داؤد نے بھی اپنی تلوار حمائل کی۔ سو قریباً چار سو جوان داؤد کے پیچھے چلے۔‘‘ (۱۔سموئیل ۲۴۵ : ۲ تا ۱۳)
کسی طرح گستاخِ رسول نابال کی بیوی ابیجیل کو خبر ہو گئی کہ اس کا شوہر گستاخِ رسول ثابت ہوا ہے اور زبانِ نبوت سے اس کے لیے سزائے موت کا حکم صادر ہوا ہے تو اس عورت نے بہت ہی منت سماجی کر کے حضرت داؤد کو نابال کے قتل سے روک لیا۔ لیکن خدا نے نابال کو دس دن کے اندر اندر مار دیا کیونکہ خدا کو ایک شاتمِ رسول کی زندگی ہرگز گوارہ نہیں (۱۔سموئیل ۲۵ : ۲ تا ۳۸)۔
قارئین کرام ملاحظہ فرما چکے ہیں کہ بائبل مقدس کے مطابق ماں باپ کا گستاخ واجب القتل ہے (خروج ۲۱ : ۱۶، متی ۱۵ : ۴ ، مرقس ۷ : ۱۰)۔ حاکم اور قاضی اور کاہن کا گستاخ بھی تہ تیغ ہونا چاہیے (استثنا ۱۷ : ۱۲ و ۱۳ ، ہوسیع ۷ : ۲۱۶ ، پطرس ۲ : ۱ تا ۱۲ ، یو ایل ۲ : ۲۰)۔ اور اللہ کے رسول کے گستاخ کی سزا بھی قتل ہے (۱۔سموئیل ۲۵ : ۲ تا ۳۸) جبکہ رسول عربیؐ کی شان پر کروڑوں سلاطین، قاضی و کاہن اور والدین قربان کیے جا سکتے ہیں۔

’’کلامِ حق‘‘ کا کلامِ حق

اس ضمن میں معروف مسیحی جریدہ ’’کلامِ حق‘‘ کا یہ بیان مسیحی حضرات کی انصاف اور دیانت کی طرف راہنمائی کرتا ہے:
’’ہم مسیحی قوم تعزیراتِ پاکستان دفعہ ۲۹۵سی یعنی گستاخِ رسولؐ کے مخالف نہیں۔ ہم صرف یہ درخواست کرتے ہیں کہ جو مسیحی اس الزام کے تحت پابندِ سلاسل ہیں یا آئندہ ہوں گے، ان کے لیے ایک خصوصی عدالتی کمیشن بنایا جائے جس کا سربراہ ہائی کورٹ کا جج ہو۔ مسلمان اور مسیحی قوم یا صوبائی نمائندے، مقامی انتظامیہ اور دونوں پارٹیاں مل کر غیر جانبدارانہ تحقیقات کریں اور اگر ملزم واقع مجرم ہو تو اس کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ بصورتِ دیگر رہا کیا جائے۔‘‘ (ماہنامہ کلامِ حق گوجرانوالہ ۔ صفحہ ۱۳ ۔ مارچ ۱۹۹۴ء)

اسلام کو دہشت گردی کے حوالہ سے بدنام کرنا غلط ہے۔ مسیحی رہنما

ادارہ

ویٹیکن سٹی میں ’’مسیحی مجلسِ مکالمہ بین المذاہب‘‘ کے شعبہ امورِ اسلامی کے سربراہ تھامس مائیکل نے کہا ہے کہ اسلام کو دہشت گردی کے حوالے سے بدنام کرنا ایک غلط عمل ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس طرح کے الزامات سے دنیا میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے تعلقات خراب ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کلیسا لوگوں کو یہ بات سمجھائے گی کہ ’’اسلامی دہشت گردی‘‘ نام کی کوئی چیز موجود نہیں ہے۔ ماضی میں عیسائیوں کی طرف سے کی جانے والی دہشت گردانہ کارروائیوں کو مسیحی دہشت گردی کا نام نہیں دیا گیا تھا۔ اسی طرح ہمیں مسلمانوں کی جانب سے کی جانے والی پرتشدد کارروائیوں کو اسلامی دہشت گردی کا نام نہیں دینا چاہیے۔
مسیحی مذہبی رہنما نے کہا کہ بعض لوگ غلطی سے اس خیال کی اشاعت کر رہے ہیں کہ اسلام ہمارا نیا دشمن ہے۔ ہمیں اس غلط فہمی کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ ہمیں ببانگِ دہل یہ کہنا چاہیے کہ اسلام ایک اعلیٰ اخلاقی زندگی کی دعوت دینے والا مذہب ہے۔
مسیحی رہنما نے کہا کہ دوسرے مذاہب کی طرح اسلام کو بھی غلط طور پر تشدد آمیز کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ ہندو، ہندومت کو استعمال کر رہے ہیں، اور اس سے پہلے صلیبی جنگوں میں مسیحی بھی یہی کچھ کر چکے ہیں۔
(بشکریہ ’’العالم الاسلامی‘‘  مکہ مکرمہ ۔ ۱۱ رمضان ۱۴۱۴ھ / ۲۱ فروری ۱۹۹۴ء)

امیر المومنین فی الحدیث امام محمد بن اسماعیل بخاریؒ

سید سلمان گیلانی

جامعہ انوار القرآن (آدم ٹاؤن، نارتھ کراچی) میں بخاری شریف کے اختتام کی سالانہ تقریب ۲۵ دسمبر ۱۹۹۳ء کو منعقد ہوئی۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم نے بخاری شریف کی آخری حدیث کا درس دیا۔ ان کے علاوہ مولانا محمد اجمل خان، مولانا فضل الرحمٰن، مولانا زاہد الراشدی، مولانا فداء الرحمٰن درخواستی، مولانا اکرام الحق خیری اور دیگر علمائے کرام نے بھی تقریب سے خطاب کیا، اور اس موقع پر شاعرِ اسلام سید سلمان گیلانی نے امام بخاری رحمہ اللہ تعالیٰ کے حضور مندرجہ ذیل منظوم نذرانہ عقیدت پیش کیا۔

امت پہ ترا کتنا ہے احسان بخاریؒ

یکجا کئے سرکارؐ کے فرمان بخاریؒ

قرآن کی تفسیرِ حقیقی ہیں احادیث

گویا ہیں احادیث بھی قرآن بخاریؒ

مسلمؒ ہو کہ ہو ترمذیؒ، داؤدؒ کہ ماجہؒ

ممتاز ہے ان سب میں تیری شان بخاریؒ

ہر قولِ نبیؐ، کانِ جواہر کا ہے مظہر

ہر حرف ترا لؤلؤ و مرجان بخاری

اللہ رے احادیثِ نبیؐ سے تری الفت

کی زیست اسی راہ میں قربان بخاریؒ

موضوع ہے کیا، کیا ہے ضعیف اور حسن کیا

کر لیتا تھا اک آن میں پہچان بخاریؒ

پڑھتے ہوئے کیوں لطف نہ عشاق اٹھائیں

محبوبِ دو عالمؐ کا ہے فرمان بخاریؒ

تجھ سے بڑا دنیا میں محدث نہیں کوئی

سب متفق اس پر ہیں مسلمان بخاریؒ

دنیا میں ہزاروں ہی  مدارس ہیں کہ جن میں

صدیوں سے ہے جاری تیرا فیضان بخاریؒ

اس بات سے آگاہ ہیں سب غیر مقلد

سمجھے ہیں فقط پیر و نعمانؒ بخاری

احناف نے کی دہر میں تعلیمِ نبیؐ عام

احناف کا ہے دہر پہ احسان بخاریؒ

درخواستی کا عشقِ بخاری ذرا دیکھو

پیری میں بھی ہونٹوں پہ ہے ہر آن بخاری

اللہ شفا دے انہیں جلدی کہو آمین

اگر وہ پڑھائیں ہمیں سلمان! بخاریؒ

چلڈرن قرآن سوسائٹی لاہور

شیخ احمد مختار

چلڈرن قرآن سوسائٹی ۲۶ برس قبل ۱۹۶۷ء میں قائم ہوئی تھی۔ اس کے تخیل اور قیام کا سہرا خان بہادر محمد انعام اللہ خان مرحوم کے سر ہے۔ انہوں نے سوسائٹی کو اپنے خونِ جگر سے سینچا اور پروان چڑھایا۔ وہ بچوں کو طوطے اور جن بھوتوں کی کہانیوں کی بجائے احسن القصص قرآن مجید کے واقعات سنانے کے خواہشمند تھے۔ سوسائٹی نے اربابِ اقتدار اور نظامتِ تعلیم سے بھی مسلسل رابطہ قائم رکھا۔ سوسائٹی کی یہ کوشش بارآور ہوئی اور تمام سرکاری اور غیر سرکاری سکولوں میں قرآنِ حکیم کی ناظرہ تعلیم ۱۹۸۴ء میں لازمی قرار دی گئی اور بعض سپاروں کا ترجمہ بھی نصاب میں شامل کر دیا گیا تاکہ پڑھنے والوں کو قرآن مجید میں اللہ کے احکامات اور پیغام سمجھ میں آ سکیں۔

(۱) قرآن مجید کا آسان ترجمہ

سوسائٹی نے عوام کے لیے قرآن مجید کے بامحاورہ آسان اردو ترجمہ کے سپارے الگ الگ شائع کیے۔ یہ ملک میں بہت پسند کیے گئے اور لاکھوں کی تعداد میں قارئین کو پہنچ چکے ہیں۔ ایک صفحہ پر عربی متن ہے اور بالمقابل مکمل صفحہ اردو ترجمہ جلی الفاظ میں کمپیوٹر پر اعلیٰ معیار کا ٹائپ کیا گیا ہے۔ یہ انتہائی ارزاں ہیں۔ ۳۶ اور ۴۰ صفحات کے سپارے کی قیمت صرف ۲.۵۰ روپے ہے۔ مکمل قرآن کے ۳۰ سپارے ۷۵ روپے میں ملتے ہیں۔ یہ ترجمہ سوسائٹی کی مجلس عاملہ کے رکن ریٹائرڈ لفٹیننٹ کرنل ڈاکٹر محمد ایوب خان نے کیا ہے۔ سوسائٹی ان سپاروں کو مسجدوں، سکولوں اور عام گھروں میں پہنچانا چاہتی ہے تاکہ لوگ عربی متن کے ساتھ اردو ترجمہ بھی پڑھ سکیں اور قرآن حکیم کو سمجھ کر اس پر عمل پیرا ہو سکیں۔
اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اس کے احکامات پر عمل کرنے سے ہوتا ہے۔ احکامات کو سمجھنے کے لیے ترجمہ والے سپاروں کی زیادہ سے زیادہ تعلیم اور فروغ کی ضرورت ہے۔ ہم وطن مسلمان بھائیوں سے التجا ہے کہ وہ خود بھی سپارے حاصل کریں، ترجمہ سے سمجھ کر پڑھیں، اور اپنے دوست احباب کو بھی ان کے حصول اور بغور مطالعہ کی ترغیب دیں۔ اپنی جیب سے ہدیہ دے کر زیادہ تعداد میں سپارے حاصل کیجئے اور مسجدوں، سکولوں اور کالجوں میں مفت تقسیم کیجئے اور سب کو عربی متن کے ساتھ اردو ترجمہ پڑھنے، اس کو سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور دوسروں سے عمل کرانے کی ترغیب دیجئے۔

(۲) سوسائٹی کی مذہبی کتب

جب ہم بچے تھے تو رات کو سونے سے پہلے ہماری امی، دادی اور نانی ایسی کہانیاں سناتی تھیں جن سے دل میں مذہب سے محبت بڑھتی تھی، بہادری اور شجاعت کا جذبہ ابھرتا تھا، اور راہِ خدا میں جہاد کی تڑپ پیدا ہوتی تھی۔ لیکن اب زمانے نے عجیب کروٹ لی ہے اور معاشرہ اتھل پتھل ہو گیا ہے۔ آج کی مائیں، دادیاں اور نانیاں اپنے جگر گوشوں کو بڑے فخر کے ساتھ پریوں، جنوں اور جانوروں کی کہانیاں سناتی ہیں، یا بہت سا وقت ٹی وی کے پروگراموں کی نذر ہو جاتا ہے۔ چنانچہ بچوں کے دلوں میں خوف اور بزدلی کا تصور ابھرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری نئی پود مذہب سے مزید بیگانہ ہوتی جا رہی ہے۔
سوسائٹی نے زیر تعلیم بچوں کی اخلاقی تربیت پر توجہ دینے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ ماہرینِ تعلیم سے مشاورت کے بعد ایسی کتب شائع کرنے کا اہتمام کیا جن سے نفسِ مضمون قرآن و سنت کی روشنی میں اخلاقی تربیت ہو۔ کتب مرتب اور شائع کرتے وقت یہ امر بھی  ملحوظ رکھا گیا کہ ہماری نئی پود کی اٹھان تعلیماتِ اسلامی پر اس طرح ہو کہ جب وہ میدانِ عمل میں اتریں تو سچے مسلمان اور پکے پاکستانی ہوں۔
سوسائٹی نے مختصر مدت میں اپنی یہ منزل بھی پا لی اور ۳۶ ایسی کتب شائع کیں جن کے مندرجات کی اساس صرف اور صرف قرآن و سنت ہے۔ ان کا کسی مسلک سے تعلق نہیں ہے۔ طلباء اپنی اسلامی تربیت کے تقاضے با آسانی پورے کر سکتے ہیں۔ ان میں سے ۲۴ عدد کتب چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور وفاق کے زیرانتظام علاقوں کے جملہ مدارس میں بطور معاون کتب منظور ہیں۔ تمام کتب افواج پاکستان کی لائبریریوں کے لیے اور ملک کے تمام اسکولز اور پبلک لائبریریوں کے لیے بھی منظور ہو چکی ہیں۔

(۳) رسالہ ’’ماہنامہ کوثر‘‘

چلڈرن قرآن سوسائٹی نے طلبا و طالبات کو معاشرے کے برے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے اپنی محدود بساط کے باوجود تگ و دو جاری رکھی ہے اور اس مقصد کے لیے بچوں کے لیے ماہنامہ کوثر جاری کیا ہے، جو حسنِ طباعت کے ساتھ ساتھ حسنِ معانی میں بھی شاہکار ہے۔ یہ ماہنامہ سکولوں کی لائبریریوں کے لیے  منظور ہے۔ بچوں کے ذہن کو صاف ستھرا اور اسلامی رنگ سے مزین کرنے کے لیے اچھا کام سرانجام دے رہا ہے۔ یہ بچوں اور بڑوں کے لیے یکساں مفید اور مناسب ہے۔ اس میں مذہبی تعلیم کے علاوہ سائنسی مضامین، تاریخی واقعات، سوالنامے اور دیگر معلومات بھی دلچسپ طریقے سے شامل کی جاتی ہیں۔ اس کا سالانہ چندہ ۵۰ روپے ہے لیکن طلبا کے لیے رعایتی چندہ صرف ۳۰ روپے سالانہ ہے۔ رابطہ کے لیے: ڈاکٹر نسیم الدین خواجہ، ۷۲ عمر دین روڈ، وسن پورہ، لاہور۔

(۴) لائف ممبر سوسائٹی

سوسائٹی سے ہمدردی رکھنے والے اور اس کے مقاصد کے حصول میں مدد کرنے والے لائف ممبر بن سکتے ہیں۔ لائف ممبر فیس ۱۵۰ روپے ہے۔ لائف ممبروں کو ۳۶ عدد کتب قیمتی ۱۹۰ روپے بلامعاوضہ ان کے گھر پہنچائی جاتی ہے۔ ہمارے لائف ممبروں کی تعداد خدا کے فضل و کرم سے دو ہزار آٹھ سو ہو چکی ہے۔ لائف ممبر بنانے کا مطلب سوسائٹی کے مقاصد اور تبلیغِ دین کو وسیع تر کرنا ہے۔ سوسائٹی یہ مہم آپ کے تعاون کے بغیر سر نہیں کر سکتی۔ آپ اپنے حلقہ احباب میں زیادہ سے زیادہ تعداد میں لوگوں کو اور خصوصاً طلبا کو سوسائٹی کا لائف ممبر بننے کی ترغیب دیجئے اور ثوابِ دارین حاصل کیجئے۔ اس طرح وہ سوسائٹی کی کتب مفت حاصل کریں اور مطالعہ کا موقع حاصل کر سکیں گے۔ لائف ممبران کو سوسائٹی کی کتب کی خرید پر قیمت میں ۳۰ فیصد رعایت دی جاتی ہے۔ سوسائٹی کی کتب اصل لاگت سے کم قیمت پر فروخت کی جاتی ہیں اور خسارہ مخیر حضرات کے عطیات سے پورا کیا جاتا ہے۔

(۵) گلدستہ نماز

نماز باترجمہ کا ایک کتابچہ ’’گلدستہ نماز‘‘ جس میں نماز کے جملہ ارکان اور ۶ کلمے باترجمہ شامل کیے ہیں تاکہ نماز ادا کرتے وقت الفاظ کو سمجھا جا سکے اور اللہ تعالیٰ سے رشتہ قائم ہو سکے، مفت جاری کرتی ہے۔ ایک روپیہ ڈاک خرچ بھیج کر منگوائیے۔

(۶) سوسائٹی کی شاخیں

سوسائٹی نے ملک بھر میں شاخیں کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دردمندوں اور دین سے شغف رکھنے والوں سے درخواست ہے کہ اللہ کے نور کو گھر گھر پہنچانے کے لیے اپنے اپنے علاقہ میں سوسائٹی کی شاخیں کھولیں۔ قواعد و ضوابط مطبوعہ شکل میں دفتر سوسائٹی سے دستیاب ہیں۔
(۷) عطیات
سوسائٹی کے عطیات محکمہ انکم ٹیکس کے قانون کے مطابق انکم ٹیکس سے مستثنٰی ہیں۔ اداروں کو کتب / قرآن ایک ماہ کی مدت کے کریڈٹ پر دی جاتی ہیں۔ ہر شہر میں سوسائٹی کی برانچیں قائم کی جا سکتی ہیں، اس کے قواعد و ضوابط منگوا سکتے ہیں۔ اسی طرح ہر شہر میں کتب فروش، سوسائٹی کی کتب کی ایجنسی بھی حاصل کر سکتے ہیں، ان کو ۳۳ فیصد کمیشن دیا جاتا ہے۔
رابطہ کے لیے:
شیخ احمد مختار ۔ جنرل سیکرٹری چلڈرن قرآن سوسائٹی
۱۴ وحدت روڈ، آب پارہ مارکیٹ لاہور۔

عالمِ اسلام کی قدیم ترین درسگاہ ۔ جامعہ الازہر مصر

ادارہ

مصر اسلامی اور دینی تعلیم کی ترویج و اشاعت اور ترقی کے لیے ہمیشہ سے اسلامی ممالک میں سرفہرست رہا ہے۔ اور اس مقصد کے لیے مصر میں مختلف تعلیمی اور دینی ادارے مصروفِ عمل ہیں، جن میں جامعہ الازہر سرفہرست ہے جس کی خدمات دنیا بھر میں معروف و مشہور ہیں۔ الازہر یونیورسٹی کا شمار دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹیوں میں ہوتا ہے۔۔۔ طلبا دنیا بھر سے آ کر اس یونیورسٹی سے تعلیم پا رہے ہیں جن کے تمام تعلیمی اخراجات و لوازمات بشمول اقامت، خوراک و پوشاک اور کتب وغیرہ مصری حکومت کے ذمہ ہیں۔
اس کے علاوہ الازہر یونیورسٹی کے چیدہ چیدہ علماء اور اساتذہ دنیا میں اسلام، قرآن و حدیث اور عربی زبان کی تعلیمات مختلف مسلم ممالک، یورپ اور امریکہ میں سرانجام دے رہے ہیں۔ اس وقت ۶۵ سے زیادہ مصری اساتذہ پاکستان میں انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد اور دیگر تعلیمی اداروں میں خدمات انجام دے رہے ہیں جن کے اخراجات مصری حکومت خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ ہزاروں لوگ الازہر یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم  حاصل کر کے مختلف ممالک میں پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ علماء فخر سے خود کو الازہری کہلاتے ہیں۔ ان میں سے کئی رؤسا اسلامی ممالک کے سربراہ بھی ہیں۔
مصر کی اسلامی تعلیمات کی اہمیت اس بات سے بھی واضح ہو جاتی ہے کہ صدر حسنی مبارک ہر سال دو مقدس موقعوں پر یعنی عید میلاد النبی اور رمضان المبارک میں لیلۃ القدر کی مناسبت سے کانفرنس منعقد کرتے ہیں جن میں دنیا بھر سے نمایاں اسلامی خدمات رکھنے والے علماء کو شرکت کی دعوت دی جاتی ہے اور ان کی اسلامی خدمات کو سراہتے ہوئے صدر حسنی مبارک خود ایوارڈ عطا کرتے ہیں۔ پاکستان سے بھی ہر سال ان کانفرنسوں میں شرکت کے لیے ایک وفد بلایا جاتا ہے۔
اس سلسلہ میں مصری سفارت خانہ اسلام آباد کے پریس آفس نے اس مبارک مہینے کے تناظر میں ایک کتابچہ ’’شعاع الاسلام‘‘ کے عنوان سے جاری کیا ہے جن میں مصر کے چیدہ چیدہ علماء کے مقالات، جو اسلامی موضوعات پر مبنی ہیں، شائع کیے گئے ہیں تاکہ پاکستانی بھائی اس مبارک مہینہ میں ان دینی مقالات سے استفادہ کر سکیں۔ یہ اسلامی آب پارے ان موضوعات پر مبنی ہیں:
  • رمضان کے روزے کی فضیلت
  • جوہرِ توحید و اطمینان
  • توحید مصدر علم
  • ارکانِ اسلام (محمد ﷺ پیغمبر خدا)
  • قرآن اور سائنس
  • اسلامی عمل کا مقصد
  • حکمت کی جڑیں (پیغمبرِؐ خدا کی حدیث)
  • کام کی عظمت
  • اسلام کی ازدواجی زندگی
  • عمر ابن خطاب (حالاتِ زندگی)
  • وغیرہ
حق تو یہ ہے کہ الازہر شریف کی دینی خدمات کو دنیا بھر کے مسلمانوں میں نہ صرف جانا اور پہچانا جاتا ہے بلکہ ایک اعلیٰ مقام دیا جاتا ہے۔

ورلڈ اسلامک فورم کی فکری نشستیں اور علماء کنونشن

ادارہ

لندن میں فورم کی فکری نشست

لندن میں ورلڈ اسلامک فورم کے اجلاس میں مقررین نے کہا ہے کہ کوئی بھی قوم میڈیا پر دسترس کے بغیر اپنے تشخص کی حفاظت نہیں کر سکے گی اور میڈیا کے ذریعے پھیلائی گئی غلط فہمیوں کا جواب دینے کے لیے علمی و فکری طور پر صلاحیت کی ضرورت ہے۔ آل گیٹ ایسٹ میں منعقدہ اجلاس میں بڑی تعداد میں علماء، دانشور، صحافی اور ادبا و شعرا نے شرکت کی۔ اسلامک کمپیوٹنگ سنٹر کے ڈائریکٹر مفتی برکت اللہ اور تحریکِ ادبِ اسلامی کے کنوینر عادل فاروقی نے ویسٹ واچ اسٹڈی گروپ کی رپورٹ پیش کی۔
مفتی برکت اللہ نے کہا کہ ہمیں ذرائع ابلاغ میں قیامت خیز تبدیلی و ارتقا کا چیلنج درپیش ہے۔ میڈیا ایک دو دھاری تلوار ہے، میڈیا پر دسترس کے بغیر کوئی قوم اپنے تشخص اور مفادات کی حفاظت نہیں کر سکتی۔ آج عالمی میڈیا پر صہیونی اس طرح قابض ہیں کہ تیسری دنیا کی اقوام تو کجا خود مغربی اقوام اور ان کے سیاستدان ان سے ہر وقت خائف رہتے ہیں۔
عادل فاروقی نے کہا کہ ذرائع ابلاغ کے حملوں کا جواب بذریعہ مراسلے، مضامین، تقاریر اور الیکٹرونک میڈیا کے دینے کے لیے تمام مساعی کو باہم مربوط کر کے گہری حکمت عملی وضع کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے فورم کی طرف سے لوکل اخبارات میں کام شروع کر دیا ہے۔
ختم نبوت سینٹر کے سربراہ عبد الرحمٰن یعقوب باوا نے کہا کہ قادیانیوں کے سربراہ مرزا طاہر احمد نے سیٹلائٹ پر اپنا دورانیہ بڑھا کر ایشیا کے لیے روزانہ دو گھنٹے اور یورپ کے لیے تین گھنٹے کر دیا ہے۔ اب اسلام کے نام پر گمراہ کرنے کی دعوت دنیا کے ۵۲ ممالک میں براہ راست دی جا رہی ہے۔ فورم اس کا جواب دینے کے لیے فوری طور پر اقدام کرے اور پروگرام مرتب کرے۔
انڈین مسلم فیڈریشن کے رہنما انور شریف نے سن رائز ریڈیو کی شانِ رسالت میں دریدہ دہنی کے خلاف قرارداد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک سن رائز ریڈیو نے نہ کوئی تلافی کی ہے نہ معذرت کی ہے، ہمیں احتجاج کے لیے مؤثر طریقہ اپنانا چاہیے۔
ورلڈ اسلامک فورم کے سیکرٹری جنرل مولانا محمد عیسٰی منصوری نے کہا کہ میڈیا کے ذریعے سے پھیلائی گئی غلط فہمیوں کا جواب دینے کے لیے علمی و فکری طور پر اہلیت و صلاحیت پیدا کی جائے۔ بدقسمتی سے ہماری سیاست ہو یا صحافت، احتجاجی بن کر رہ گئی ہے۔ یہاں آپ جس کسی لائبریری میں چلے جائیں، رشدی جیسے پچاسوں دریدہ دہنوں کی کتابیں اور مضامین نظر آ جائیں گے۔ ہم کب تک ان کے تعاقب اور جواب دینے میں اپنی توانائیاں ضائع کرتے رہیں گے۔ ہمیں عملی طور پر اس کی وجوہات اور اس کے پس پردہ عوامل کا جائزہ لینا ہو گا۔ یورپ کے علمی و فکری حملہ کا جواب یہ نہیں ہے کہ ہم صفائی پیش کرنے یا جواب دینے بیٹھ جائیں، بلکہ (آج کے حالات کے تناظر میں) ہمیں اسلام کے مثبت اور فلاحی پہلو پیش کرنے ہوں گے اور ہر شعبہ میں تحقیقی کام کرنے والے ماہرین تیار کرنے ہوں گے۔ اگر ہم سیرت کے روشن اور افادی پہلو پیش کر سکیں تو آپ دیکھیں گے کہ یہاں مغرب میں اسلام کو صحیح سمجھا جانے لگے گا۔
برالٹن اسلامک سنٹر کے ڈائریکٹر عبد الجلیل ساجد نے قرآن کے تراجم کے بارے میں مفصل اور تحقیقی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ۱۵۲۶ء سے اب تک کم و بیش دو ہزار کے قریب انگریزی زبان میں قرآن کے تراجم ہو چکے ہیں، جن کی اپنی اپنی خوبیاں تھیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انگریزی یا کسی یورپی زبان میں قرآن پاک کے صحیح ترجمہ کو سمونے کی اہلیت ہی نہیں ہے۔ اس لیے کہ قرآن کے پیش کردہ اصطلاحات و تصورات کے صحیح مفہوم ادا کرنے والے الفاظ کی تلاش کار دشوار ہے۔ بہرحال آج کل جو تراجم رائج اور شیڈول ہیں، ان کی بنیادی خامی یہ ہے کہ یا تو ان کی زبان مشکل، پرانی اور غیرمانوس ہے، اور اگر زبان کلاسیکی اور سہل و آسان ہے تو قرآنی مفہوم ادا کرنے سے قاصر ہے۔
مولانا عتیق الرحمٰن (سابق مدیر ہفت روزہ ندائے ملت لکھنؤ و ماہنامہ الفرقان) نے کہا کہ گزشتہ دنوں بھارت میں تین طلاقوں کے فقہی مسئلہ پر ہم نے ایک دوسرے کے بارے میں جو غیر شائستہ زبان استعمال کی اس سے سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ کیا یہی اسلام کی تعلیم و اخلاق ہے؟ مولانا نے کہا کہ ہمیں عہد کر لینا چاہیے کہ ہم کسی مسلم جماعت و طبقہ کے خلاف کسی حال میں سوقیانہ طرز اختیار نہیں کریں گے اور ہم یہ کام غیر مشروط طور پر کریں گے۔ یہ رویہ ہماری طرف سے شروع ہو جانا چاہیے۔ آپ اس کے مبارک اثرات دیکھیں گے کہ تھوڑے ہی عرصے میں سامنے والا بھی اس طرز کے اپنانے پر مجبور ہو گا۔
اس کے بعد مشہور شاعر سلطان الحسن فاروقی اور عادل فاروقی نے اپنا تازہ کلام پیش کیا۔ ممتاز ادیب و شاعر افتخار اعظمی (میڈن ہیڈ) نے، جو اپنی اچانک علالت کے سبب تشریف نہ لا سکے تھے، فون پر نظمیں سنائیں، جسے مولانا منصوری نے پڑھ کر سنایا۔ 
اجلاس میں خاص طور سے نظام الدین اتحاد المسلمین پاکستان کے کنوینر حافظ شریف، ورلڈ اسلامک کونسل کے سربراہ لیسٹر سے پروفیسر عبد الکریم مکی والا، ممتاز ماہر تعلیم مولانا اقبال اعظمی (لیسٹر)، ماسٹر افتخار احمد (لندن)، مولانا عبد الرحمٰن (لیسٹر)، جامعہ اسلامیہ لندن کے مہتمم مولانا مفتی مصطفٰی، ڈاکٹر خالد اسلامی اکادمی ہیرو کے پریزیڈنٹ عبد اللہ قریشی، فورم کے خزانچی الحاج غلام قادر، الحاج عمر بھائی، عبد اللہ، کشمیری رہنما محمد اثیم اور الحق پبلشرز کے ڈائریکٹر محمد صدیق ناز نے بھی شرکت کی۔ مولانا منصوری کی دعا پر اجلاس اختتام پذیر ہوا۔
(بہ شکریہ ’’جنگ‘‘ لندن ۔ ۲۰ فروری ۱۹۹۴ء)

گوجرانوالہ میں فکری نشست

مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں ورلڈ اسلامک فورم کی ماہانہ فکری نشست ۲۰ اپریل ۱۹۹۴ء کو بعد نماز عشاء مولانا زاہد الراشدی کی زیرصدارت منعقد ہوئی جس میں ماہنامہ المذاہب لاہور کے ایڈیٹر جناب محمد اسلم رانا نے اپنے حالیہ دورۂ بھارت کے تاثرات بیان کیے اور بھارتی مسلمانوں کی مظلومانہ حالت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ بڑھتی ہوئی ہندو انتہاپسندی کے تباہ کن اثرات سے مسلمانوں کو محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ عالمِ اسلام اس مسئلہ پر سنجیدگی سے توجہ دے اور بھارتی مسلمانوں کی جان و مال اور آبرو کے تحفظ کے لیے ٹھوس حکمتِ عملی اختیار کی جائے۔
مجلسِ تحفظ ختم نبوت گوجرانوالہ کے سیکرٹری جنرل علامہ محمد یوسف عثمانی نے اپنے دورہ امریکہ کے حوالہ سے امریکی ممالک میں مقیم مسلمانوں کے دینی حالات پر روشنی ڈالی اور کہا کہ ان ممالک میں مسلمانوں کی نئی نسل کے ایمان کو بچانے کے لیے سخت محنت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان بچوں کی دینی تعلیم کے لیے خاطر خواہ انتظام نہیں ہے جس کی وجہ سے نئی پود اسلام کے بنیادی عقائد اور احکام سے بھی بے خبر ہے۔ انہوں نے بڑے دینی اداروں سے اپیل کی کہ وہ اس صورتحال کی طرف توجہ دیں اور مغربی ممالک میں دینی تعلیم کا مناسب اہتمام کیا جائے۔

لاہور اور ہری پور میں علماء کنونشن

ورلڈ اسلامک فورم کے زیر اہتمام ۱۸ اپریل ۱۹۹۴ء کو جامع مسجد شیرانوالہ گیٹ ہری پور ہزارہ میں امریکی عزائم کے خلاف علماء کنونشن منعقد ہوا جس کی صدارت مولانا حکیم عبد الرشید انور نے کی اور مولانا قاری محمد بشیر، مولانا قاضی محمد طاہر الہاشمی، مولانا گل رحمان، جناب مطیع الرحمٰن اور دیگر حضرات نے خطاب کیا۔ جبکہ ہری پور اور اردگرد کے علماء کی ایک بڑی تعداد شریک ہوئی۔
۲۲ اپریل بروز جمعۃ المبارک بعد نماز عصر جامع مسجد (مولانا محمد ابراہیمؒ والی) انارکلی لاہور میں امریکی عزائم کے خلاف علماء کنونشن منعقد ہوا جس کی صدارت ماہنامہ الرشید کے مدیر جناب حافظ عبد الرشید ارشد نے کی اور اس سے ریٹائرڈ کموڈر جناب طارق امجد، مولانا عبد الرؤف فاروقی، مولانا میاں عبد الرحمٰن، جناب محمد اسلم رانا اور دیگر مقررین نے خطاب کیا اور لاہور کے مختلف حصوں سے علمائے کرام نے شرکت کی۔
ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا زاہد الراشدی نے ان کنونشنوں سے خطاب کرتے ہوئے عالمِ اسلام اور پاکستان کے بارے میں امریکہ کے منفی عزائم کا تفصیل کے ساتھ ذکر کیا اور علماء پر زور دیا کہ وہ ان عزائم کے حوالہ سے رائے عامہ کی راہنمائی کریں اور قومی خودمختاری اور مذہبی آزادی کے تحفظ کے لیے قوم کی جرأتمندانہ قیادت کے لیے آئیں۔

مقالاتِ سواتی (حصہ اول)

پروفیسر غلام رسول عدیم

مقالہ نگاری ایک نہایت وقیع فن ہے۔ اس میں مقالہ نگار حشو و زوائد اور طوالت اور اطناب سے بچ بچا کر نہایت اختصار و اجمال کے ساتھ اپنا مدعا بیان کرتا ہے۔ وہ لفظوں کے اسراف سے بچتا ہوا کم گوئی مگر نغز گوئی کے ساتھ اپنی بات کہتا ہے اور نہ صرف یہ کہ کہتا ہے بلکہ سے منواتا ہے۔ مقالہ ایک مدلل اور بادرکن تحریر ہوتی ہے۔ کسی موضوع پر کتاب لکھنا بھی ایک عمدہ کام ہے، مگر ایک جامع مقالے میں اپنے خیالات کو سمو دینا اور پھر اپنے نقطہ نظر کو بڑی چابک دستی سے دوسرے کے دل میں اتار دینا عمدہ تر کام بھی ہے اور مشکل تر بھی۔
اساطینِ علم و ادب نے اپنی سوچوں، حاصلِ مطالعہ اور وسعتِ علمی کو مقالہ نگاری کے ذریعے سے قارئین کے سامنے پیش کر کے بسا اوقات بڑی علمی اور دقیق کتابوں کے مطالعے سے بے نیاز کر دیا ہے۔ مقالاتِ شبلی، مقالاتِ سرسید، مقالاتِ حالی، مقالاتِ مولوی محمد شفیع، مقالاتِ شیرانی وغیرہ اس سلسلے کی نہایت عمدہ کڑیاں ہیں۔ بعض حضرات نے تو اپنے علمی سرمائے کو شعوری سطح پر جمع کر کے عوام کے لیے مفید مطلب بنا دیا ہے، مگر کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کے جواہر ریزے ادھر ادھر بکھرے ہوتے ہیں، اگر کوئی جوہری ان کو اکٹھا کر کے نظر فروزی کا سامان کر دے تو ان سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے، لیکن اگر وہ رشحاتِ قلم مختلف رسائل و اخبار ہی کی زینت رہیں تو مرور ایام کے ساتھ پردہ خفا میں چلے جاتے ہیں۔ یوں بسا اوقات وہ اہلِ علم کی نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔
بڑی خوشی کی بات ہے کہ ایسے ہی جواہر ریزوں کا ایک مجموعہ کتابی صورت میں زیرنظر ہے۔ یہ مجموعہ مقالات حضرت العلام استاذ الاساتذہ مولانا صوفی عبد الحمید سواتی کے گراں قدر مضامین پر مشتمل ہے۔ موصوف کے فرزند ارجمند حاجی محمد فیاض خاں سواتی مہتمم مدرسہ نصرۃ العلوم لائقِ تحسین ہیں کہ انہوں نے اپنے نامور بزرگوار کے قلم سے نکلے ہوئے ان جواہر پاروں کو مدون کر کے کتابی شکل دے دی۔ کتاب کے سرورق پر ’’حصہ اول‘‘ کی عددی ترکیب سے گمان غالب یہی گزرتا ہے کہ وہ مزید عرق ریزی کر کے رسائل و جرائد کی گرد جھاڑ کر بحرِ علم و حکمت کے اور بھی لولوئے لالا پیش کریں گے، اللہ تعالیٰ توفیق و ہمت ارزانی فرمائے۔
پیشتر اس کے کہ کتاب پر رائے زنی کروں، میں صاحبِ کتاب کے بارے میں ایک نہایت مختصر سا تعارف پیش کرنا چاہوں گا کیونکہ صاحبِ کتاب کی شخصیت کتاب کے ورق ورق میں پرتوفگن ہے۔
حضرت العلام سید الاساتذہ مولانا صوفی عبد الحمید سواتی عرصہ دراز تک مدرسہ نصرۃ العلوم کے مہتمم رہے ہیں۔ وہ اس دور کے ان فضلائے دیوبند میں سے ہیں جنہوں نے اکابر علمائے دیوبند سے کسب فیض کیا، برصغیر کی اس عظیم درسگاہ کے ممتاز اور نامور اساتذۂ دین و ادب کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا، اور اس عظیم علمی روایت کے پاسباں کی  حیثیت سے برسوں سے وہ مسجد نور گوجرانوالہ میں علومِ دینیہ کے روشنی کے بلند مینار کی طرح اپنے ماحول کو جگمگا رہے ہیں۔ وہ ایک جید عالمِ دین اور جید تر معلّمِ علومِ اسلامیہ ہیں۔ ان کی فقہی بصیرت قابلِ اعتماد اور تقوٰی قابلِ رشک ہے۔ بڑے صاف گو اور حقیقت پسند ہیں۔ ان کا قلم تحقیق و تدقیق کے میدان میں بڑے بڑے نام نہاد محققین سے کہیں آگے ہوتا ہے۔ تحقیق ان کے ذوق کا خاصہ ہے تو عبارت فکر و نظر ان کی طبیعت کا رجحان۔ ان کے مزاج شناس اس حقیقت سے خوب باخبر ہیں۔
زیر نظر مقالات اسی صاحبِ قلم کے رشحاتِ خامہ اور شذراتِ فکر و نظر کا نتیجہ ہیں۔ کتاب کو ایک نظر دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ۳۱ مقالات پر مشتمل ہے، کچھ مضامین پہلی مرتبہ منصہ شہود پر آئے، کچھ ایسے ہیں جو مختلف بلند پایہ علمی و تحقیقی جرائد میں چھپ چکے ہیں، تفصیل یہ ہے:
#
نام رسالہ  مقامِ اشاعت مقالہ
 (۱) الانوار
 میر پور (آزاد کشمیر) توحید کے چند دلائل
 ملتِ حنیفیہ کی حقیقت
 (۲)  تبصرہ  لاہور انسانیت کے چار بنیادی اخلاق (اخلاقِ اربعہ)
 (۳)  ترجمانِ اسلام
 لاہور  حصولِ علم کے ضروری آداب
علم اور اہلِ علم کا مرتبہ
اسلام کے حدود و تعزیرات کا ولی اللّٰہی روشنی میں اجمالی تذکرہ
 (۴)  الحق  اکوڑہ خٹک
 حضرت امامِ اعظم ابو حنیفہ ؒ کی چند وصیتیں (عربی سے اردو ترجمہ)
اسلام میں حلال و حرام کا تشریعی فلسفہ
ملتِ حنیفیہ کی حقیقت
مسئلہ توسل پر ایک نظر
 (۵) خدام الدین
 لاہور  مقامِ صحابہؓ
حضرت لاہوریؒ (حضرت لاہوریؒ نمبر)
 (۶)  الرحیم  حیدر آباد (سندھ)
 کائنات میں جانداروں کی تخلیق
حکمتِ ولی اللہ کے شارحین
شہروں کی بربادی اور آبادی کے اسباب
تحقیق وحدۃ الوجود اور وحدۃ الشہود (ترجمہ)
وحدۃ الوجود اور وحدۃ الشہود میں تطبیق
مسئلہ وحدۃ الوجود میں راہِ اعتدال
 (۷)  الشریعہ  گوجرانوالہ  اللہ رب العزت کی زیارت کیسے ہو گی؟
خواب میں رسالتمآب کی زیارت
حصولِ علم کے ضروری آداب
علمے کہ راہِ حق ننماید جہالت است
 (۸)  عزمِ نو
 لاہور  ایضاً

وہ مضامین جو پہلی مرتبہ اسی کتاب کی زینت بنے ہیں، درج ذیل ہیں:
(۱) رسول اللہ کی بعثت کے مقاصد،
(۲) اسلام کا نظامِ عبادت و نظافت،
(۳) معہدِ علم و دین، مرکزِ صدق و یقین دارالعلوم دیوبند،
(۴) تمدن کے بگاڑ کے اسباب اور ان کا علاج،
(۵) انسانیت کی تکمیل کے لیے اخلاقِ اربعہ کی اہمیت،
(۶) فرقہ ناجیہ اور نوابت میں فرق،
(۷) فتنے کس طرح پیدا ہوتے ہیں اور ان کا علاج،
(۸) بحالتِ صوم انجکشن کا حکم،
(۹) اکابر علمائے دیوبند اور نظریہ وحدۃ الوجود،
(۱۰) مودودی صاحب کے بعض نظریات دین کے لیے نقصان دہ ہیں،
(۱۱) باب الرؤیا۔
کتاب کو ایک نظر دیکھنے ہی سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ موصوف کی تحریروں میں ولی اللّٰہی فکر مرکزی نقطے کی حیثیت رکھتی ہے۔ موصوف نہ صرف فکرِ ولی اللّٰہی کے ایک سرگرم داعی ہیں بلکہ جس گہرائی و گیرائی کے ساتھ انہیں اس فکر پر دسترس حاصل ہے بہت کم لوگ اس سے بہرہ مند ہیں۔ ان مقالات کا ایک خصوصی وصف یہ ہے کہ تحریر کی شستگی کے ساتھ ساتھ یہ مصنف کی معنی آفرینی، علمی نبوغ اور فکری راستی کا بھی پتہ دیتے ہیں۔ تحریر کہیں کہیں تو خالص عالمانہ ہے، خصوصاً ان مقالات میں جہاں مسئلہ وحدت الوجود اور مسئلہ وحدت الشہود زیربحث ہے۔ ایسے مقالات میں اگرچہ شعوری کوشش یہی رہی ہے کہ ان مفاہیم کو سریع الفہم بنایا جائے مگر موضوع کی نزاکت تقاضا کرتی تھی کہ زبان عامیانہ نہ ہو بلکہ عالمانہ ہو۔ یوں بعض اصطلاحات کوشش بسیار کے باوجود عسیر الفہم ہو گئی ہیں۔
حضرت صوفی صاحب اگرچہ ایک عظیم المرتبت مفسرِ قرآن ہیں، ان کے دروس کا سلسلہ جو معالمِ العرفان کی صورت میں سامنے آ رہا ہے ان کے تفسیری ذوق کا پتہ دیتا ہے، لیکن یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ ان کی تفسیر میں بھی فقہی رنگ نمایاں ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان کا تفقہ فی الدین اور رسوخ فی العلم دورِ حاضر میں انفرادی شان رکھتا ہے۔ زیر نظر مقالات میں تحقیقی مقالات کے ساتھ ساتھ فقہی مقالات اپنے موضوع پر حرفِ آخر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ’’بحالتِ صوم انجکشن کا حکم‘‘ اس ضمن میں آتا ہے۔
وہ دبستانِ دیوبند کے فیض یافتہ اور تربیت یافتہ ہیں، لہٰذا وہ اول تا آخر اس مکتبہ فکر کے نمائندہ ہیں۔ ان کی جملہ تحریریں اسی فکری جہت کی نمائندگی کرتی ہیں۔ ’’معہدِ علم و دین، مرکزِ صدق و یقین دارالعلوم دیوبند‘‘ ان کی اس عظیم درسگاہ و تربیت گاہ سے والہانہ شیفتگی اور گہری وابستگی کا مظہر ہے۔ حضرت صوفی صاحب کا ایک خاص مزاج ہے۔ وہ زہد و اتقا کے اس مقام پر فائز ہیں کہ بڑے بڑے نمائش کار پگڑی سنبھال کر ان کی منزلِ رفیعہ تک نگاہ ہی دوڑا سکتے ہیں۔ نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پروا کے مصداق وہ دنیا و مافیہا سے اپنی خودگری، خودگیری اور خودداری کی وجہ سے بے نیاز ہیں۔ نہ نمائش، نہ ریا، نہ تمنائے داد و دہش۔ تحقیق و تدقیق، علمی اندازِ فکر، فقہی تیقن، اور سب سے بڑھ کر قرآن مجید سے بے پناہ وابستگی ان کی سیرت کے محامد و محاسن ہیں۔ 
زیر بحث کتاب فی الجملہ اہلِ علم کے لیے نہایت کارآمد مواد پیش کرتی ہے اور عامۃ الناس کے لیے بھی بہت حد تک مفید ہے۔ تاہم چند باتیں جو دورانِ مطالعہ میں مجھے کھٹکتی ہیں وہ اگرچہ اس قدر لائقِ اعتنا تو نہیں مگر اس پائے کے جید عالم کی تحریر اگر ان فروگزاشتوں سے پاک ہوتی تو اور اچھا ہوتا۔ جہاں تک فکری سطح کا تعلق ہے، کتاب اس مقام پر ہے کہ اسے روشنی کا مینار کہنا چاہیے یا نشانِ منزل، مگر کسی مفہوم کو جو لباس پہنایا جائے وہ بھی اگر معنی کے قد پر راست آئے تو تحریر شاندار بھی ہو جاتی ہے اور جاندار بھی۔ اکثر لغزشیں تو وہ ہیں جن کا حضرت العلام سے کوئی تعلق نہیں مثلاً سہوِ کتابت یا پروف ریڈر کے کھاتے میں ڈالنی چاہئیں، چند ایک کی نشاندہی کرتا ہوں تاکہ آئندہ ایڈیشن میں غلط نامہ لگا لیا جائے۔
ص ۳۲۳ پر لفظ معتزلہ کو متزلہ لکھا گیا ہے۔
ص ۴۹ پر فی الیقظہ کو فی الیقضہ لکھا گیا ہے۔
ص ۱۰۹ پر قطب الرحی کو قطب الرجی لکھا گیا ہے۔
ص ۳۶۲ پر بے تکیف، بے تکلیف چھپ گیا ہے۔
ص ۲۳۱ پر خودرو کو خوددار لکھا گیا ہے۔
بعض  مصرع وزن سے خارج ہیں یا غلط لکھ دیے گئے ہیں۔ یہی حال بعض اشعار کا ہے، اگرچہ بعض اشعار نہایت برمحل اور پرتاثیر ہیں، مثلاً ص ۹۸ پر یہ عربی شعر جو دارالعلوم کے اہلِ علم و نظر کے بارے میں ہے، بار بار گنگنانے کو جی چاہتا ہے ؎
اما الخیام فانھا کخیامھم
واری رجال الحی غیر رجالھا
ص ۹۰ پر ’’علمے کہ راہِ حق ننماید جہالت است‘‘ کو ’’علم کہ راہ حق ننماید‘‘ لکھا گیا ہے اور ص ۹۳ پر راہِ حق کو راہ بحق کر دیا گیا ہے۔
ص ۷۹ پر ’’اے از خود گریختہ‘‘ والا شعر غلط ہے۔ ’’اے کہ‘‘ زائد ہے، صحیح مصرع یوں ہے ’’از خود گریختہ اشیا چہ می جوئی‘‘۔
ص ۲۴۸ پر ہمہ آفاق کو ہمہ آفاقہا لکھا گیا، جو عروضی طور پر وزن سے باہر ہو جاتا ہے۔
ص ۱۳۰ پر ’’اسلام کے قانون حدود و تعزیرات کا ولی اللّٰہی روشنی میں اجمالی تذکرہ‘‘ کا عنوان اگر ’’اسلام کے قانونِ حدودِ تعزیرات کا فکرِ ولی اللّٰہی کی روشنی میں اجمالی تذکرہ‘‘ ہوتا تو میرے خیال میں بہتر ہوتا۔
ص ۴۸ پر ’’ممکن ہو سکتا ہے‘‘ روزمرہ کے مطابق درست نہیں، امکان اور سکنا ہم معنی ہیں۔ ’’ممکن ہے‘‘ یا ’’ہو سکتا ہے‘‘ درست ہے۔
ص ۸۰ پر اقبال کا شعر غلط نقل کیا گیا  ہے، صحیح شعر یہ ہے ؎
اس دور میں سب مٹ جائیں گے ہاں باقی وہ رہ جائے
جو قائم اپنی راہ پہ ہے اور پکا اپنی ہٹ کا ہے
(بانگِ درا، ظریفانہ کلام)
ص ۱۱۸ اور ص ۱۷۰ پر اشعار سے پہلے مصرعے کی علامت ؏ استعمال کی گئی ہے جو درست نہیں۔
ص ۲۴۲ پر ’’مرفوع احادیث آتیں ہیں‘‘ نادرست ہے۔ صحیح ہے ’’آتی ہیں‘‘۔
ص ۴۵ پر درج کی گئی حدیث کا باضابطہ حوالہ نہیں دیا گیا اور ترجمے میں زیادت ہے۔ (کیونکہ وہ اس کا کوئی اچھا محمل نکالیں گے ورنہ تم پریشانی میں مبتلا ہو جاؤ گے) بین القوسین وضاحت تو ہے، ترجمہ نہیں۔ اگر ترجمہ ہے تو متن نہیں دیا گیا۔ یوں بھی اس میں لفظ ’’محمل‘‘ عوام کے لیے مشکل ہے، ’’مفہوم‘‘ بہتر تھا۔
ص ۳۵۴ پر (در نیابد حال پختہ ہیچ خام۔ پس سخن کوتاہ باید والسلام) کے ترجمے میں سقم ہے۔ ترجمہ لکھا گیا ہے ’’یعنی خام کار آدمی کا حال پختہ یا کامل نہیں ہو سکتا‘‘۔ حالانکہ ترجمہ یوں ہونا چاہیے ’’کوئی خام کار شخص کسی پختہ کار کے حال کو سمجھ نہیں سکتا۔‘‘۔ دریا فتن کے معنی فہمیدن و درک کردن (To perceive) کے ہیں۔
ایک چیز جو کھٹکتی ہے وہ یہ کہ ابتدائیے میں انگریزی الفاظ کا بے جا استعمال ہے۔ کبھی املا کے حروف غلط ہیں اور کبھی ویسے زبان نادرست ہے۔ اماکن و اشخاص کے ساتھ تلفظ کی درستی کے لیے اگر انگریزی الفاظ لکھ دیے جاتے تو مضائقہ نہ تھا مگر یہاں بے وجہ انگریزی اور وہ بھی غلط ہجوں کے ساتھ لفظ  لکھے گئے ہیں۔ اس ضمن میں ص ۲۴۷، ص ۲۵۰، ص ۲۷۰، ص ۲۷۱، ص ۲۷۵ اور ص ۲۸۲ ملاحظہ ہوں۔
کتاب کے آخر میں ۱۰ خواب عربی زبان میں اور ۳۲ خواب اردو زبان میں ’’باب الرویا‘‘ کے عنوان سے مندرج ہیں۔ بلاشبہ ان خوابوں میں انبیا، اولیا، صلحا، اساتذہ اور علما کے تذکرے موجود ہیں لیکن مجھے اس باب کے شامل کرنے کی حکمت سمجھ میں نہیں آ سکی۔ حکما کے ہاں خواب کی تعریف یوں ہے کہ ’’سوتے میں نفس انسانی کی ایک حرکت یا نفس انسانی کی متعدد اشکال کی تصویر کا نام، جو مستقبل کے اچھے یا برے واقعات پر دلالت کرے‘‘ (کتاب الرؤیا، مترجمہ حنین بن اسحاق بحوالہ دائرہ معارف اسلامیہ)۔ جب ان خوابوں کی تعبیریں پیش نہیں کی گئیں تو عام قاری کو ان مشاہدات سے آگاہ کرنے میں مجھے کوئی فائدہ نظر نہیں آیا۔ یہ حضرت کے ذاتی تجربات و مشاہداتِ رویا ہیں، عوام کو ان سے کیا دلچسپی؟ کوئی معاند اگر انہیں خودستائی پر محمول کر کے غلط فہمی یا کج فہمی کا شکار ہو تو اسے کون روک سکے گا؟ جیسا کہ کئی خواب دیکھنے والوں کے ایسے خوابوں سے متعلق باتیں سننے میں آتی رہتی ہیں۔ نیز خواب کو کسی ماہر معتبر کے سوا کسی کے سامنے پیش ہی نہیں کرنا چاہیے، چہ جائیکہ ہر کس و ناکس کے سامنے الم نشرح کر دیا جائے۔
حرفِ آخر کے طور پر یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ کتاب مجموعی طور پر عوام و خواص ہر دو طبقوں کے فائدے کی ہے۔ واقعات و حقائق اور افکار و نظریات کو بلا کم و کاست پیش کر دیا گیا ہے۔ مصنف نے دوسروں کے نقطہ نگاہ کی تردید کے لیے ان کی عبارتیں من و عن دی ہیں، حتٰی کہ ایسی عبارتیں بھی جو مصنف کے اپنے حق میں زہرناک ہو کر رائے عامہ کو مسموم کر سکتی ہیں۔ ملاحظہ ہو ص ۱۱۷۔ اغیار کے ان اقتباسات کے من و عن نقل کرنے سے حضرت استاذ الاساتذہ کی دریا دلی اور عالی حوصلگی کا واضح ثبوت ملتا ہے۔
آئندہ ایڈیشن کے لیے دو تجویزیں بھی نذر قارئین ہیں:
(۱) کتاب کے آخر میں کتابیات کا حصہ اس شہ پارے کی قدر و قیمت میں کئی گنا اضافہ کر سکتا ہے۔
(۲) ترتیب کتاب میں اگر موضوعات کا لحاظ رکھا جاتا تو کتاب کے حسن میں حسین اضافہ ہوتا۔ مثلاً فکرِ ولی اللّٰہی، تنقید و تحقیق، اخلاقیات و فقہ و تدبر، اور اعلام و اماکن وغیرہ کو ایک نظم و ترتیب سے مرتب کیا جائے تو انسب ہو۔ امید ہے دوسرا حصہ بھی جلد منصہ شہود پر آئے گا۔

توہینِ رسالتؐ کی سزا کا قانون اور قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

معزز اراکین خصوصی کمیٹی! سلام مسنون!
روزنامہ جنگ لاہور ۲۳ اپریل ۱۹۹۴ء میں شائع ہونے والی ایک خبر سے معلوم ہوا کہ قومی اسمبلی آف پاکستان نے گستاخِ رسولؐ کے لیے موت کی سزا کے حوالہ سے (۱) وزیر داخلہ جناب نصیر اللہ بابر (۲) وزیر قانون جناب اقبال حیدر (۳) وزیر امور بہبود آبادی جناب جے سالک (۴) مولانا محمد اعظم طارق ایم این اے (۵) مولانا شہید احمد ایم این اے (۶) مولانا عبد الرحیم ایم این اے (۷) جناب مظفر احمد ہاشمی ایم این اے (۸) فادر روفن جولیس ایم این اے اور (۹) جناب طارق سی قیصر ایم این اے پر مشتمل خصوصی کمیٹی قائم کی ہے جو اس قانون کے غلط استعمال کی روک تھام کے لیے سفارشات کرے گی۔
اس سلسلہ میں اس سے قبل ایمنسٹی انٹرنیشنل، وفاقی حکومت، اسلامی نظریاتی کونسل، ہیومن رائٹس کمیشن اور وفاقی لا کمیشن کے حوالہ سے مختلف خبریں اخبارات کی زینت بنتی رہی ہیں اور ان سب کو سامنے رکھتے ہوئے چند ضروری معروضات پیشِ خدمت کرنا ضروری سمجھتا ہوں:
  • جہاں تک گستاخِ رسولؐ کے لیے موت کی سزا کو تبدیل کرنے کا مسئلہ ہے، اس قسم کی کوئی ترمیم اسلامیانِ پاکستان کے لیے قابلِ قبول نہیں ہو گی کیونکہ یہ شرعی سزا ہے اور اس میں تبدیلی یا تخفیف شرعی احکام میں تحریف کے مترادف ہو گی۔ مزید برآں ہولی بائبل کی مندرجہ ذیل آیات کی رو سے بھی مذہبی پیشوا اور کتابِ مقدس کی توہین کی سزا موت ہے، اس لیے مسیحی کمیونٹی کے لیے اس سزا پر اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں ہے (استثنا ۱۷ : ۱۲ و ۱۳ ، ہوسیع ۷ : ۱۶ ، پطرس ۲ : ۱۰ تا ۱۲ ، ۲۔سموئیل ۶ : ۶ تا ۸ ، ۱۔سموئیل ۵ : ۱ تا ۱۲)
  • البتہ دیگر انبیاء کرام علیہم السلام کو اس قانون میں شامل کرنے پر کسی کو اعتراض نہیں ہو گا بلکہ اس کا خیرمقدم کیا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے کسی بھی سچے پیغمبر کی شان میں گستاخی ہمارے نزدیک یکساں جرم ہے۔
  • اسی طرح اگر اس قانون کے غلط استعمال کی روک تھام کے لیے کسی بھی مقدمہ میں ایف آئی آر کے اندراج سے قبل مجسٹریٹ کی انکوائری کی شرط عائد کی جائے تب بھی کوئی مضائقہ نہیں ہے اور اس کا خیرمقدم کیا جائے گا۔
اس موقع پر معزز ارکان خصوصی کمیٹی اور ان کی وساطت سے قومی اسمبلی کے معزز ایوان کی خدمت میں یہ تجویز پیش کرنا چاہوں گا کہ رتہ دوہتڑ توہینِ رسالتؐ کیس اور منظور مسیح قتل کیس، جو اس وقت عالمی شہرت حاصل کر چکے ہیں، ان دونوں کیسوں کی انکوائری بھی ’’خصوصی کمیٹی‘‘ کرے اور اس سلسلہ میں ایک جامع رپورٹ سامنے لائی جائے جو ان دو کیسوں کے بارے میں عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف کیے جانے والے منفی پراپیگنڈا کا ازالہ کر سکے۔ مجھے یقین ہے کہ ان دو کیسوں کے بارے میں خصوصی کمیٹی کی رپورٹ نہ صرف عالمی سطح پر صحیح صورتحال کو سامنے لانے کا ذریعہ بنے گی بلکہ اندرون ملک بھی کشیدگی اور کشمکش میں کمی کا باعث ہو گی۔ امید ہے کہ معزز ارکان خصوصی کمیٹی ان معروضات کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لیں گے اور جواب سے آگاہ فرمائیں گے۔
نوٹ: اس عرضداشت کی کاپیاں قومی اسمبلی اور سینٹ کے دیگر اہم افراد کو بھی بھجوائی جا رہی ہیں۔
والسلام، ابوعمار زاہد الراشدی
چیئرمین ورلڈ اسلامک فورم
خطیب مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ


جون ۱۹۹۴ء

گلگت بلتستان کا مسئلہ ۔ صدرِ پاکستان کے نام ایک عریضہمولانا ابوعمار زاہد الراشدی
بدعت کے شبہ سے بھی بچنا چاہیےشیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر
نماز کی ایک خاص دعاشیخ التفسیر مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ
توہینِ رسالت کے قانون پر ماڈرن خواتین کا اعتراضڈاکٹر عبد المالک عرفانی
خلافتِ اسلامیہ کے احیا کی اہمیت اور اس کے تقاضےمولانا ابوعمار زاہد الراشدی
تدبر و حکمتِ عملی کی ضرورتمولانا محمد رابع حسنی ندوی
اسلامی ریاست میں غیر مسلم اقلیتوں کے حقوقمولانا منیر احمد
بائبل بے خطا اور بے عیب نہیںکیپٹن اسلم محمود
آزادیٔ صحافت کے عالمی دن کے موقع پر گوجرانوالہ میں مجلسِ مذاکراہادارہ

گلگت بلتستان کا مسئلہ ۔ صدرِ پاکستان کے نام ایک عریضہ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

بگرامی خدمت جناب سردار فاروق احمد لغاری صاحب، صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مزاج گرامی؟

گزارش ہے کہ کچھ دنوں سے قومی اخبارات میں وفاقی کابینہ کا ایک فیصلہ زیر بحث ہے جس کے تحت مبینہ طور پر گلگت اور اس سے ملحقہ شمالی علاقہ جات کو مستقل صوبہ کی حیثیت دی جا رہی ہے۔ اس سلسلہ میں چند حقائق کی طرف آپ کو توجہ دلانا چاہتا ہوں:

اس لیے آنجناب اور آپ کی وساطت سے حکومت پاکستان سے گزارش ہے کہ شمالی علاقہ جات کو مستقل صوبہ کی حیثیت دینے کے مذکورہ فیصلہ پر نظرثانی کی جائے اور کوئی بھی ایسی صورت اختیار کرنے سے مکمل گریز کیا جائے جو کشمیر کی وحدت اور کشمیری عوام کی جدوجہد کے لیے کسی بھی درجہ میں نقصان اور کمزوری کا باعث بن سکتی ہو۔

بے حد شکریہ، والسلام!

ابوعمار زاہد الراشدی

چیئرمین ورلڈ اسلامک فورم



مولانا قاری سید محمد حسن شاہؒ

علمی و دینی حلقوں میں یہ خبر انتہائی رنج و غم کے ساتھ سنی جائے گی کہ پاکستان کے ممتاز بزرگ قاری حضرت مولانا قاری سید محمد حسن شاہ صاحبؒ گزشتہ ہفتہ کے دوران مدینہ منورہ میں انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔
حضرت قاری صاحبؒ ہزارہ کے رہنے والے تھے، مستند عالمِ دین، ممتاز مجود اور حق گو خطیب تھے۔ ان کا شمار پاکستان میں علمِ تجوید و قراءت کی اشاعت و ترویج کرنے والے سرکردہ حضرات میں ہوتا ہے۔ ایک عرصہ تک لاہور میں علمِ تجوید کی تدریس کے فرائض سرانجام دیتے رہے اور ان کے شاگردوں کی ایک بڑی تعداد دنیا کے مختلف حصوں میں قرآنِ کریم کی تدریس و تبلیغ میں مصروف ہے۔ کچھ عرصہ قبل مدینہ منورہ چلے گئے تھے اور اس نیت سے وہاں قیام پذیر تھے کہ زندگی کے آخری لمحات مدینۃ الرسولؐ میں بسر ہو جائیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی آرزو پوری کر دی اور وہ بلد رسولؐ میں ہی اللہ تعالیٰ کو پیارے ہو گئے۔
اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائیں اور ان کی دینی و علمی خدمات کو قبول کرتے ہوئے بلند درجات سے نوازیں، آمین یا الٰہ العالمین۔

بدعت کے شبہ سے بھی بچنا چاہیے

شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر

قرآن و سنت کے محکم دلائل سے سنت اور بدعت کی حقیقت اور اس کا حکم واضح ہے۔ اس کے باوجود اگر کسی کم فہم کا شبہ باقی رہے یا عوام الناس، جو اس قسم کے مسائل میں دلائل کا موازنہ کر کے صحیح رائے قائم کرنے سے قاصر ہوں، تو ان کے لیے صحیح راہِ عمل یہی ہے کہ وہ ایسے مشکوک اور مشتبہ کام کے پاس ہی نہ جائیں۔ اور اگر کسی چیز کے بدعت، سنت یا مستحب اور مباح ہونے میں شبہ ہو تو اس سے بچنا ہی ان کے لیے راہِ عمل ہے۔ اور باتفاق علماء ان کے لیے یہی طریقہ صحیح رہنمائی کے لیے بالکل کافی ہے۔ چنانچہ حضرت وابصہؓ بن معبدؓ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
’’گناہ وہ ہے جو تیرے نفس میں کھٹکے اور تیرے دل میں تردد واقع ہو، اگرچہ لوگ (اور نام کے مفتی) تجھے فتوٰی بھی دے دیں۔‘‘ (رواہ احمد والدارمی، مشکوٰۃ ج ۱ ص ۲۴۲)
اور حضرت عطیہ السعدیؓ فرماتے ہیں کہ
’’جناب نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بندہ پرہیزگاروں کے رتبہ کو نہیں پہنچ سکتا تاوقتیکہ وہ چیزیں نہ چھوڑ دے جن میں کوئی حرج نہیں، اس لیے  کہ وہ ذریعہ بنتی ہیں ایسی چیزوں کا جن میں حرج ہے۔‘‘ (رواہ الترمذی و ابن ماجہ، مشکوٰۃ ج ۱ ص ۲۴۲)
حضرت معاذؓ بن جبل کو جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کا گورنر بنا کر بھیجا تو ارشاد فرمایا:
’’تم بغیر علم کے کوئی حکم اور فیصلہ ہرگز صادر نہ کرنا، اور اگر تم پر کسی چیز میں اشکال گزرے تو توقف کرنا حتٰی کہ تم اس کو اچھی طرح روشن پا لو، یا میری طرف خط لکھنا۔‘‘ (ابن ماجہ ص ۶)
حضرت نعمانؓ بن بشیرؓ (المتوفیٰ ۶۴ھ) روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی۔ ان دونوں کے درمیان کچھ چیزیں مشتبہ ہیں، ان کو بہت سے لوگ نہیں جانتے۔ سو جو شخص ان مشتبہات سے بچا تو اس نے اپنا دین اور عزت بچا لی، اور جو مشتبہات میں جا پڑا تو (گویا) وہ حرام میں جا پڑا، جیسے چراگاہ کے اردگرد جانوروں کو چرانے والا قریب ہے کہ چراگاہ میں جا پڑے۔‘‘ (بخاری ج ۱ ص ۱۳، ابن ماجہ ۲۹۶)
ان روایات سے آفتابِ نیم روز کی طرح یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ جن امور میں شبہ واقع ہو ان میں اپنے دین اور عزت کو صرف اسی صورت میں محفوظ رکھا جا سکتا ہے کہ ایسے کاموں میں انسان دخل ہی نہ دے اور ان پر عمل پیرا ہو کر ہرگز اپنی ابدی زندگی کو برباد نہ کرے اور خلقِ خدا کو گمراہ ہونے سے بچائے۔ خصوصاً ایسے کام جو کفر اور شرک و بدعت کا ذریعہ بنتے ہوں۔ اور یہ معاملہ صرف یہیں بس نہیں ہو جاتا بلکہ جناب نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے تردد اور اشتبا والے کاموں سے بچنے کا صریح حکم ارشاد فرمایا ہے۔ چنانچہ حضرت حسنؓ بن علیؓ (المتوفٰی ۵۰ھ) روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
’’وہ چیز چھوڑ دے جو تجھے تردد اور شبہ میں ڈالے، اور ایسی چیز اختیار کر جو تیرے لیے باعث تردد نہ ہو، کیونکہ خیر باعثِ اطمینان اور شر باعثِ شک ہے۔‘‘ (مستدرک ج ۲ ص ۱۲، قال الحاکمؒ والذہبیؒ صحیح)
یہ صریح اور صحیح حدیث بھی اس امر کو روشن کر دیتی ہے کہ جس چیز میں تردد اور شبہ ہو تو ایسی چیز کو چھوڑنا ہی ضروری ہے۔ کیونکہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی روشن سنتیں زندگی کے ہر شعبہ میں ہمارے پاس موجود ہیں، جن میں کسی قسم کا ادنٰی سے ادنٰی شک اور شبہ بھی نہیں ہے، اور وہی روشن سنتیں طمانیتِ قلب کا کافی سامان مہیا کر دیتی ہیں اور ان کی خلاف ورزی شک اور شبہ کے تاریک گڑھے میں ڈال دیتی ہے۔ 
احادیث میں اس کی تصریح آتی ہے کہ ’’کان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم یحب التیامن‘‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سرمہ لگانے، کپڑا پہننے، وضو کرنے میں، حتٰی کہ ہر کام میں داہنے پہلو سے شروع کرنے کو ترجیح دیتے تھے، لیکن حضرت عبد اللہؓ بن مسعود فرماتے ہیں کہ
’’تم میں سے کوئی شخص اپنی نماز میں شیطان کے لیے کچھ حصہ نہ ٹھہرائے بایں طور کہ نماز سے فارغ ہوتے وقت داہنی طرف سے ہی پھرنے کو اپنے اوپر لازم سمجھ لے، اس واسطے کہ میں نے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بسا اوقات بائیں طرف بھی مڑتے دیکھا ہے۔‘‘ (متفق علیہ، مشکوٰۃ ج ۱ ص ۷۸)
اس حدیث کی تفسیر اور تشریح میں مشہور محقق علامہ محمد طاہر الحنفیؒ (المتوفٰی ۹۸۶ھ) فرماتے ہیں:
’’جس کسی نے کسی مندوب اور مستحب چیز پر اصرار کیا اور اس کو عزیمت بنا لیا اور رخصت پر عمل نہ کیا تو گویا اس کو شیطان نے گمراہی کے راستہ پر ڈال دیا۔ کیا حال ہو گا اس شخص کا جو کسی بدعت اور بری چیز پر اصرار کرتا ہے۔‘‘ (مجمع البحار ج ؟ ص ۲۴۴)
اور یہی الفاظ علامہ طیبی الحنفیؒ (المتوفٰی ۷۴۳ھ) نے شرح مشکوٰۃ میں اور حضرت ملا علی قاریؒ نے مرقات ج ۲ ص ۱۴ میں تحریر فرمائے ہیں، جو اس امر کی واضح ترین دلیل ہے کہ بدعت اور منکر پر اصرار کرنا تو کجا رہا، اگر کوئی شخص امر مندوب اور مستحب پر یا رخصت پر بھی اصرار کرے گا تو وہ بھی شیطان کا پیروکار ہو گا اور اس کے اس فعل میں شیطان کا حصہ ہو گا۔ علامہ برکلی الحنفیؒ (المتوفٰی ۷۴۳ھ) لکھتے ہیں کہ
’’تم جان لو کہ بدعت کا کام کرنا ترکِ سنت سے زیادہ مضر ہے۔ دلیل یہ ہے کہ حضرات فقہاء کرامؒ نے فرمایا ہے کہ جب کوئی حکم سنت اور بدعت کے درمیان دائر ہو تو اس کا ترک کرنا ہی ضروری ہو گا۔‘‘ (طریقہ محمدیہ)
اور فتاوٰی عالمگیری میں ہے کہ
’’جو چیز سنت اور بدعت کے درمیان دائر ہو وہ چھوڑی جائے گی۔‘‘ (عالمگیری مصری، ج ۱ ص ۱۷۹)
علامہ شامیؒ لکھتے ہیں کہ
’’جب حکم سنت اور بدعت کے درمیان دائر ہو تو سنت کا ترک کرنا فعلِ بدعت پر مقدم ہو گا۔‘‘ (شامی ج ۱ ص ۶۰۰)
قاضی ابراہیم صاحب الحنفیؒ فرماتے ہیں:
’’جس کام کے بدعت اور سنت ہونے میں شبہ ہو اس کو چھوڑ دے، کیونکہ بدعت کا چھوڑنا ضروری ہے اور سنت کا ادا کرنا ضروری نہیں۔‘‘ (نفائس الازہار ترجمہ مجالس الابرار ص ۱۲۹)
شیخ عبد الحق محدث دہلویؒ لکھتے ہیں:
’’دہرچہ دراں شبہ بود توقف دراں لازم۔‘‘ (مکتوبات حضرت شیخ برحاشیہ اخبار الاخیار ص ۱۰۰)
بلکہ علامہ ابن نجیم الحنفیؒ لکھتے ہیں کہ
’’جو چیز بدعت اور واجب اصطلاحی کے درمیان دائر ہو تو لازم ہے کہ اس کو سنت کی طرح ترک کر دیا جائے۔‘‘ (بحر الرائق ج ۲ ص ۱۶۵)
یہ عبارات اس امر کا بین ثبوت ہیں کہ جب کوئی چیز ایسی ہو کہ اس میں سنت کے پہلو کے ادا کرنے سے بدعت لازم آتی ہو تو سنت کے پہلو سے صرفِ نظر کرتے ہوئے اس کو مطلقاً ترک کرنا ضروری ہو گا۔ اس لیے کہ اس کے ساتھ بدعت کا پہلو بھی تو شامل ہے۔ سنت تو خیر پھر سنت ہے، اگر کوئی چیز بدعت اور حضرات فقہاء کرام کے اصطلاحی واجب کے درمیان بھی دائر ہو تو اس کو بھی ترک کرنا لازم اور ضروری ہے کیونکہ اس سے فی الجملہ بدعت کی ترویج اور اشاعت کا اندیشہ ہے۔ اور بدعت اتنی قبیح ترین چیز ہے کہ شریعتِ مطہرہ اس کے وجود نامسعود تک کو گوارا نہیں کرتی، چہ جائیکہ اس کی نشرواشاعت کے ذرائع اور وسائل بہم پہنچائے۔ یہی وجہ ہے کہ بدعت کو ختم کرنے کے لیے مستحب، سنت اور حتٰی کہ واجب تک کی قربانی بھی گوارا کر لی جائے گی مگر بدعت کو ہرگز ہرگز فروغ نہ دیا جائے گا۔
اس کے بعد بھی اگر کوئی شخص دانستہ یا نادانستہ بدعت میں آلودہ ہونا چاہے تو اس کی مرضی، ہمارے لیے سنت کافی ہے اور ہمیں ان محدثات اور مزخرفات میں الجھنے کی مطلقاً ضرورت نہیں ہے۔ کہنے والے نے کیا ہی خوب کہا ہے ۔۔۔ ؎
و خیر امور الدین ما کان سنۃ
و شر الامور المحدثات البدائع
قارئین! اگر آپ کو صحیح معنی میں اللہ تعالیٰ سے لگاؤ اور جناب نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے عشق اور محبت ہے تو اس کا واحد طریق صرف یہ ہے کہ سنت کی اتباع کریں اور حضرات صحابہ کرامؓ، تابعینؒ اور تبع تابعینؒ کے نقشِ قدم پر چلیں۔ وہی عقائد و اعمال اختیار کریں جو انہوں نے اختیار کیے اور ان تمام عقائد اور اعمال سے احتراز کریں جن سے انہوں نے احتراز کیا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کے قول (جو درحقیقت مرفوع حدیث کے حکم میں ہے) کے مطابق مسجدوں میں بھی اجتماع ہو اور ایمان سے بھی محرومی ہو۔
’’حضرت ابن عمرؓ نے فرمایا کہ لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ وہ مسجدوں میں اکٹھے تو ہوں گے لیکن ان میں ایک بھی مومن نہ ہو گا۔‘‘ (مستدرک ج ۴ ص ۴۴۳، قال الحاکمؒ والذہبیؒ صحیح)
یہ وہی حضرت ابن عمرؓ ہیں جنہوں نے تثویب جیسی بدعت کی وجہ سے ایک مسجد ہی ترک کر دی تھی۔ الغرض اخلاص اور اتباعِ سنت کے ساتھ معمولی عبادت بھی مفید ہے، اور شرک اور بدعت کو دل میں جگہ دینے سے بڑی بڑی عبادت بھی اللہ تعالیٰ کے ہاں منظور نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اخلاص، عمل اور اتباعِ سنت کی توفیق عطا فرمائے، صرف اسی کی بارگاہ سے سب کچھ مل سکتا ہے۔

نماز کی ایک خاص دعا

شیخ التفسیر مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ

عَنْ اَبِیْ مِجْلَزٍ قَالَ صَلّٰی بِنَا عَمَّارٌ صَلَاۃً فَاَوْجَزَ فِیْھَا فَاَنْکَرْنَا ذٰلِکَ فَقَالَ اَلَمْ اُتِمَّ الرُّکُوْعَ وَالسُّجُوْدَ قَالُوْا بَلٰی قَالَ اَمَآ اِنِّیْ قَدْ دَعَوْتُ فِیْھَا بِدُعَآءٍ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَدْعُوْا بِہٖ ۔۔۔ الخ (مسند احمد طبع بیروت، جلد ۴ صفحہ ۲۶۴)
ابو مجلز حضرت عمار بن یاسرؓ کے شاگرد ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت عمارؓ نے ہمیں مختصر سی نماز پڑھائی۔ چونکہ یہ عام معمول سے ذرا زیادہ ہی ہلکی تھی تو شاگردوں نے عرض کیا  کہ حضور آپ نے اتنی مختصر نماز پڑھائی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ تم اسے اوپرا کیوں سمجھتے ہو؟ کیا میں نے رکوع و سجود پورا پورا ادا نہیں کیا؟ نماز کے شرکاء نے کہا کہ ہاں رکوع و سجود تو پورا پورا ادا کیا ہے، اس میں تو کوئی کمی نہیں آئی۔ پھر حضرت عمارؓ نے کہا کہ میں نے ان دو مختصر رکعتوں میں وہ دعا کی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز میں کیا کرتے تھے، اور وہ دعا یہ ہے:
اَللّٰھُمَّ بِعِلْمِکَ الْغَیْبَ وَ قُدْرَتِکَ عَلَی الْخَلْقِ اَحْیِنِیْ مَا عَلِمْتَ الْحَیٰوۃَ خَیْرًا لِّیْ وَتَوَفَّنِیْ اِذَا کَانَتِ الْوَفَاۃُ خَیْرًا لِّیْ اَسْئَلُکَ خَشْیَتَکَ فِی الْغَیْبِ وَالشَّھَادَۃِ وَکَلِمَۃَ الْحَقِّ فِی الْغَضَبِ وَالرِّضَا وَالْقَصْدَ فِی الْفَقْرِ وَالْغِنٰی وَلَذَّۃَ النَّظْرِ اِلٰی وَجْھِکَ وَالشَّوْقَ اِلٰی لِقَآئِکَ وَاَعُوْذُ بِکَ مِنْ ضَرَّآءٍ مُّضِرَّۃٍ وَّ مِنْ فِتْنَۃٍ مُّضِلَّۃِ اَللّٰھُمَّ زَیِّنَا بِزِیْنَۃِ الْاِیْمَانِ وَاجْعَلْنَا ھَدَاۃً مُّھْتَدِیْنَ۔
’’اے اللہ! تو غیبوں کا جاننے والا ہے، اور مخلوق پر تیری قدرت ہے۔ مجھے اس وقت تک زندہ رکھ جب تک کہ زندگی میرے لیے بہتر ہو اور مجھے اس وقت وفات دے جب کہ وفات میرے لیے بہتر ہو۔ اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ ظاہر و باطن میں میرے اندر خشیت پیدا کر دے، اور میں تجھ سے کلمہ حق کہنے کی توفیق بھی طلب کرتا ہوں، خواہ غصے کی حالت میں ہو یا خوشی کی۔ اے اللہ! میں تجھ سے تنگ دستی اور آسودگی دونوں حالتوں میں میانہ روی کی درخواست کرتا ہوں (کہ کہیں اسراف و تبذیر میں نہ پڑ جاؤں)۔ اے اللہ! مجھے اپنی ذات کی طرف دیکھنے کا لطف عطا فرما اور اپنی ملاقات کا شوق عطا فرما۔ میں نقصان دہ پریشانیوں اور تکلیفوں سے تیری ذات کے ساتھ پناہ چاہتا ہوں۔ اے اللہ! میں گمراہ کرنے والے فتنوں سے تیری ذات کے ساتھ پناہ چاہتا ہوں۔ اے اللہ! ہمیں ایمان کی زینت کے ساتھ مزین فرما دے اور ہمیں ہدایت دینے والے اور ہدایت یافتہ بنا دے۔‘‘
یہ دعا حضور علیہ السلام اکثر نوافل میں پڑھا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ دیگر بہت سی دعائیں بھی آپ سے منقول ہیں۔ فرائض ادا کرتے وقت بالخصوص جماعت کے ساتھ ادائیگی میں اختصار کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے، کیونکہ جماعت میں بعض بوڑھے، کمزور، ضعیف، حاجت مند لوگ بھی ہوتے ہیں جو زیادہ دیر تک قیام نہیں کر سکتے، لہٰذا ان کی رعایت بھی ضروری ہے۔ البتہ نوافل میں کوئی شخص جتنا چاہے طوالت اختیار کرے، یہ اس کی اپنی ہمت اور ذوق و شوق پر موقوف ہے۔

توہینِ رسالت کے قانون پر ماڈرن خواتین کا اعتراض

ڈاکٹر عبد المالک عرفانی

حال ہی میں اسلام آباد میں خواتین کی تیس تنظیموں کے نمائندگان (لیگل فورم) نے ان قوانین کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے جو خواتین کے حقوق کو (ان کے خیال میں) متاثر کرتے ہیں۔ ان کے مطالبات کا ہدف اسلامی قوانین (بشمول حدود قوانین اور ازدواجی معاملات سے متعلق قوانین) ہیں اور انہوں نے ان کی تنسیخ کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ خواتین کی یہ تنظیمیں مسلمان خواتین کی تنظیمیں ہیں اور وہ ان قوانین کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں جو خواتین کے حقوق کا تحفظ کرتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان ماڈرن اور مغرب زدہ خواتین (جو صرف نام کی مسلمان ہوتی ہیں) کا اصل مقصد خواتین کے حقوق کا تحفظ اور حصول نہیں بلکہ خود اسلام کی مخالفت ہے اور یہ مطالبات دراصل غیر مسلموں (عیسائیوں، یہودیوں، ہندوؤں اور قادیانیوں) کے مطالبات ہیں اور ان ماڈرن خواتین کی سرگرمیوں کو یہی غیر مسلم کنٹرول کر رہے ہیں۔
ہمارے اس شبہ کو اس امر سے تقویت ملتی ہے کہ ان مطالبات میں ایک مطالبہ یہ بھی ہے کہ توہینِ رسالت کا قانون منسوخ کیا جائے، حالانکہ توہینِ رسالت کے قانون کا خواتین کے حقوق سے دور کا تعلق بھی نہیں اور یہ مطالبہ صرف غیر مسلموں کا مطالبہ ہے، جسے ماڈرن اور مغرب زدہ خواتین کا نمائندہ فورم پیش کر رہا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ کوئی مرد اور کوئی عورت اس وقت تک مسلمان نہیں کہلا سکتی جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے والدین، بیوی یا خاوند یہاں تک کہ اپنی ذات سے بھی زیادہ محبت نہ کرے۔ اس صورت میں توہینِ رسالت کے قانون کی حمایت ہمارے ایمان کا جزوِ اصلی ہے۔
ہمارے ملک میں توہینِ عدالت کا قانون پوری قوت سے موجود ہے، جس میں ملزم کو اپنی صفائی پیش کرنے کا موقع نہیں دیا جاتا، یہاں تک کہ پاکستان کی اعلیٰ عدالتیں اس امر پر متفق ہیں کہ توہینِ عدالت کے ملزم کو اپنی صفائی پیش کرنے کا حق حاصل نہیں۔ اس کے باوجود کسی غیر مسلم اور کسی ماڈرن خاتون نے توہینِ عدالت کے قانون کو منسوخ کرنے کا مطالبہ نہیں کیا، جبکہ توہینِ رسالت کے قانون میں ملزم کو اپنی صفائی پیش کرنے کا پورا پورا حق حاصل ہوتا ہے، اس کے باوجود اسے منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
توہینِ رسالت (بار بار توہینِ رسالت کے الفاظ کا استعمال رسالت کے مقدس مقام کے بارے میں ہمارے جذبات کو مجروح کرتا ہے اور یہ الفاظ ہمیں شدت سے چبھ رہے ہیں لیکن ہم حقیقت حال کی وضاحت کی خاطر انہیں مجبورًا استعمال کر رہے ہیں) کا قانون امن عامہ کو قائم رکھنے کے لیے بھی ضروری ہے۔ اگر یہ قانون نہیں ہو گا اور ہر شخص کو رسالت ماب صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں توہین آمیز الفاظ استعمال کرنے کی اجازت دی جائے گی تو شمع رسالت کے پروانوں کو توہینِ رسالت کے ارتکاب کرنے والوں کی خبر لینے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔ ابھی ایک دن قبل ہی یہ صورت پیش آ چکی ہے کہ توہینِ رسالت کے مرتکب افراد پر بعض لوگوں نے فائرنگ کی اور ایک کو ہلاک اور دوسرے کو زخمی کر دیا گیا۔
اگر حکومت نے اس قانون کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کرنے والوں کی پذیرائی کی یا اس کی سزا میں کوئی رعایت برتی تو پورے ملک میں نقصِ امن کی صورت پیدا ہو جائے گی۔ اس وقت حکومت اس پوزیشن میں نہیں کہ نقضِ امن کی یہ صورت تحریک کی شکل اختیار کر لے تو اس سے عہدہ برآ ہو سکے۔ لہٰذا حکومت کو دوٹوک اعلان کرنا چاہیے کہ وہ ایسا مطالبہ کرنے والوں کی حمایت نہیں کرتی اور نہ ہی اس قانون میں کسی قسم کی کوئی ایسی ترمیم زیرغور ہے جو اس میں نرمی پیدا کرتی ہو۔
مسلمانوں کے عقیدے کی رو سے کسی بھی نبی کی توہین شدید سزا کی مستوجب ہے۔ اس وقت حکومتِ پاکستان اس قانون کے بارے میں معذرت خواہانہ اور مدافعانہ پوزیشن اختیار کیے ہوئے ہے۔ اگر حکومت دیگر انبیاء کے بارے میں بھی اس قسم کا قانون وضع کر دے (یعنی حضرت موسٰیؑ، حضرت ہارونؑ، حضرت داؤدؑ، حضرت سلیمانؑ، حضرت عیسٰیؑ اور دیگر انبیاء کرام کی توہین کرنے والے کے لیے وہی سزا مقرر کر دے جو قبل ازیں توہینِ رسالت کے لیے تجویز کی گئی ہے) تو عیسائیوں اور یہودیوں کے لیے اعتراض کی کوئی صورت باقی نہیں رہے گی۔ یہی دونوں اس مہم میں پیش پیش ہیں، ان کا اعتراض رفع ہونے پر اس مذموم مہم میں کوئی جان نہیں رہے گی اور حکومت کی درد سری ختم ہو جائے گی۔
(بشکریہ ماہنامہ نوائے قانون، اسلام آباد، مارچ ۱۹۹۴ء)

خلافتِ اسلامیہ کے احیا کی اہمیت اور اس کے تقاضے

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(۱۵ جنوری ۱۹۹۴ء کو ورلڈ اسلامک فورم کی ماہانہ فکری نشست جامع مسجد صدیقیہ سیٹلائیٹ ٹاؤن گوجرانوالہ میں جمعیۃ اہل سنت کے زیراہتمام منعقد ہوئی جس میں مولانا زاہد الراشدی نے مندرجہ ذیل خطاب کیا۔ مولانا حافظ گلزار احمد آزاد نے سیکرٹری کے فرائض سرانجام دیے۔ ادارہ)

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ آج کی نشست کے لیے گفتگو کا عنوان طے ہوا ہے ’’خلافتِ اسلامیہ کا احیا اور اس کا طریق کار‘‘۔ اس لیے خلافت کے مفہوم اور تعریف کے ذکر کے بعد تین امور پر گفتگو ہوگی:
  1. خلافت کا اعتقادی اور شرعی پہلو کہ ہمارے عقیدہ میں خلافت کی اہمیت اور اس کا شرعی حکم کیا ہے؟
  2. خلافت کا تاریخی پہلو کہ اس کا آغاز کب ہوا تھا اور خاتمہ کب اور کیسے ہوا؟
  3. اور یہ سوال کہ آج کے دور میں خلافتِ اسلامیہ کے احیا کے لیے کون سا طریق کار قابل عمل ہے۔

خلافت کا مفہوم

سب سے پہلے یہ دیکھیں گے کہ خلافت کا مفہوم کیا ہے اور جب یہ لفظ بولا جاتا ہے تو اس سے مراد کیا ہوتی ہے؟ خلافت کا لفظی معنی ہے نیابت، یعنی کسی کا نائب ہونا۔ قرآن کریم نے خلافت کا لفظ سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام کے حوالہ سے نسل انسانی کے لیے استعمال کیا ہے جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا کہ ’’میں زمین میں خلیفہ بنانے والا ہوں‘‘ (البقرہ)۔ یہاں خلیفہ سے مراد حضرت آدمؑ اور ان کی نسل ہے۔ یعنی اس کائنات ارضی کا نظام اللہ رب العزت نے نسل انسانی کے سپرد فرمایا ہے اور وہ اس نظام کو چلانے میں اللہ تعالیٰ کی نائب ہے۔ خلیفہ کا لفظ قرآن کریم میں حضرت داؤد علیہ السلام کے بارے میں بھی بولا گیا ہے جو بنی اسرائیل کے پیغمبر اور بادشاہ تھے۔ چنانچہ اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں ’’اے داؤد! ہم نے تجھے زمین میں خلیفہ بنایا ہے، پس لوگوں میں حق کے ساتھ فیصلے کیا کر اور خواہش کی پیروی نہ کرنا‘‘ (ص)۔ بہرحال خلافت کا معنی نیابت ہے اور اس کا معنی یہ ہے کہ نسل انسانی اس کائنات ارضی میں خودمختار اور آزاد نہیں بلکہ نائب ہے جو اپنے دائرہ کار اور اختیارات میں مقرر کردہ حدود کا پابند ہوتا ہے۔ قرآن کریم نے اس مفہوم کو ایک اور انداز سے بھی بیان کیا ہے۔ جب حضرت آدمؑ اور حضرت حوا کو جنت سے زمین پر اتارا گیا تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ ’’تم دونوں زمین پر اتر جاؤ، پس ہماری طرف سے تمہارے پاس ہدایات آئیں گی، جس نے ان کی پیروی کی وہ غم اور خوف سے نجات پائے گا اور جس نے انکار کر دیا وہ آگ کا ایندھن بنیں گے‘‘ (البقرہ)۔ یہ بھی خلافت ہی کی ایک تعبیر ہے کہ نسل انسانی دنیا میں زندگی بسر کرنے کے لیے مطلقاً آزاد و خودمختار نہیں بلکہ آسمانی ہدایات کی پابند ہے جو حضرات انبیاء کرامؑ کے ذریعے سے نازل ہوتی رہی ہیں اور جو وحی کی صورت میں حضرت آدمؑ سے شروع ہو کر حضرت محمدؐ پر مکمل ہو گئی ہیں۔ جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد ارشادات میں خلافت کا لفظ استعمال کیا ہے۔ اور بخاری شریف کی ایک روایت کے مطابق اس کا پورا سسٹم یوں بیان فرمایا ہے کہ ’’بنی اسرائیل میں سیاسی قیادت انبیاء کرام علیہم السلام کے ہاتھ میں تھی، جب ایک نبی دنیا سے چلا جاتا تو اس کی جگہ دوسرا نبی آجاتا۔ اور میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے البتہ میرے بعد خلفاء ہوں گے‘‘۔ اس ارشاد گرامی میں جناب رسول اکرمؐ نے خلافت کو سیاسی قیادت اور حکمرانی کے معنی میں بیان فرمایا ہے اور یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ میرے بعد یہ سیاسی قیادت اور حکمرانی خلفاء کے ہاتھ میں ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت امام ولی اللہ دہلویؒ نے اپنی معروف کتاب ازالۃ الخفاء میں خلافت کی جو تعریف کی ہے اس میں خلافت کو جناب نبی اکرمؐ کی نیابت سے تعبیر کیا ہے۔ چنانچہ وہ ارشاد فرماتے ہیں کہ ’’خلافت اس اقتدارِ عمومی کا نام ہے جو معاشرہ میں اقامتِ دین کا اہتمام کرے، امن و امان کا بندوبست کرے، لوگوں کو انصاف فراہم کرے، احکامِ اسلام کے نفاذ کی ذمہ داری قبول کرے اور فریضۂ جہاد کی ادائیگی کا اہتمام کرے‘‘۔ اسی کے ساتھ حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ فرماتے ہیں کہ نیابتاً علی النبی کہ یہ اقتدارِ عمومی جناب نبی اکرمؐ کی نیابت کے طور پر ہوگا۔ گویا ہمارے ہاں خلافت کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کی سیاست، قیادت اور حکمرانی جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نائب کے طور پر کی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ خلیفۂ اول حضرت ابوبکر صدیقؓ کو ’’خلیفۃ رسول اللہ‘‘ کہا جاتا تھا جبکہ امیر المؤمنین کی اصطلاح ان کے بعد حضرت عمرؓ کے دور میں اختیار کی گئی۔

تاریخی کشمکش

اس موقع پر مناسب ہوگا کہ اس تاریخی کشمکش پر ایک نظر ڈال لی جائے جو نسل انسانی کے آغاز سے ہی خلافت اور انسانی ذہن کی کاوشوں کے درمیان شروع ہو گئی تھی اور اب تک پورے شدومد کے ساتھ جاری ہے۔ نسل انسانی کے آغاز سے اب تک انسانی معاشرہ پر جن قوانین اور ضابطوں کی حکمرانی رہی ہے وہ بنیادی طور پر دو طرح کے ہیں:
  1. ایک طرف وہ نظام ہائے حیات ہیں جنہیں خود انسانی ذہن نے تشکیل دیا اور مختلف صورتوں میں انسانی معاشرہ پر ان کی حکمرانی رہی۔ ان میں خاندانی بادشاہت بھی ہے اور شخصی ڈکٹیٹرشپ بھی، جماعتی آمریت بھی ہے اور طبقاتی بالادستی بھی۔ اسی طرح بعض قوموں کا خود کو حکمرانی کے لیے مختص کر لینا بھی اس میں شامل ہے۔ یہ سب نظام انسانی ذہن کی پیداوار ہیں، کہیں شخصی ذہن کارفرما ہے، کہیں اجتماعی ذہن دخل انداز ہے اور کہیں گروہی اور طبقاتی ذہن نے بالادستی قائم کر رکھی ہے۔ اور ان تمام مراحل سے گزرتے ہوئے اب انسانی ذہن مغربی جمہوریت اور سولائزیشن کی صورت میں اپنے نقطۂ عروج سے ہمکنار ہو چکا ہے جو ان تمام مرحلہ وار نظاموں کی ترقی یافتہ اور آخری شکل ہے۔ اور خود مغربی مفکرین کے بقول اب اس کے بعد انسانی ذہن سے اس سے بہتر کسی اور نظام کی توقع نہیں کی جا سکتی، جسے وہ ’’اینڈ آف ہسٹری‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔
  2. دوسری طرف وحی الٰہی پر مبنی نظام ہے جس کا آغاز حضرت آدمؑ سے ہوا اور حضرت محمدؐ پر نازل ہونے والی وحی کی صورت میں وہ نظام مکمل ہوگیا اور اس کی عملی تعبیر خلافتِ راشدہ ہے۔
یہ دونوں نظام مکمل ہو چکے ہیں، اپنی انتہا کو پہنچ چکے ہیں اور اب ان دونوں کے درمیان آخری راؤنڈ ہونے والا ہے، فائنل مقابلہ ہونے والا ہے، ان میں سے جو جیتے گا وہی انسانی معاشرہ پر حکمرانی کرے گا۔ یہ تاریخ کا فیصلہ ہے، تاریخ کا عمل ہے جسے کوئی بھی نہیں روک سکتا۔ ہمارا ایمان ہے کہ اس مقابلہ میں جیت اسلام کی ہوگی، خلافت کے نظام کی ہوگی، وحی الٰہی کی ہوگی اور جناب نبی اکرمؐ کے ارشاد کے مطابق اس مقابلہ کے بعد اسلام کا غلبہ ہوگا اور ایک وقت ایسا بھی آئے گا جب روئے زمین پر لا الہ الا اللہ پڑھنے والوں کے سوا کوئی موجود نہیں ہوگا۔ یہ بہرحال ہوگا اور جناب نبی کریمؐ کا ارشاد پورا ہو کر رہے گا لیکن اس سے قبل طویل کشمکش اور تاریخی ٹکراؤ کا آخری اور فیصلہ کن مرحلہ آنے والا ہے جس سے گزر کر ہم خلافت کے دو رمیں داخل ہوں گے۔

خلافت کا شرعی حکم

خلافت کے مفہوم اور تاریخی کشمکش کے تذکرہ کے بعد اب ہم اس کے شرعی حکم کی طرف آتے ہیں جسے فقہاء کرام نے وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے، بالخصوص امام ولی اللہ دہلویؒ نے اس پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ فقہاء کرام نے خلافت کے قیام کو واجب قرار دیا ہے اور امام ابن حجر مکیؒ نے اپنی کتاب ’’الصواعق المحرقہ‘‘ میں اسے ’’اہم الواجبات‘‘ فرمایا ہے یعنی تمام واجبات سے زیادہ واجب۔ ان کا کہنا ہے کہ حضرات صحابہ کرامؓ کے نزدیک یہ واجب اس قدر اہمیت رکھتا ہے کہ انہوں نے اسے جناب رسول اللہؐ کی تجہیز و تکفین سے بھی مقدم سمجھا اور حضورؐ کے وصال کے بعد پہلے خلیفہ کا انتخاب کیا پھر آنحضرتؐ کی تجہیز و تکفین سے فارغ ہوئے۔ حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے ازالۃ الخفاء میں اسے قیامت تک کے مسلمانوں کے لیے فرض کفایہ قرار دیا ہے، یعنی اگر دنیا کے کسی بھی حصہ میں خلافت کا نظام موجود نہ ہو تو دنیا بھر کے مسلمان گنہ گار قرار پائیں گے۔ حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ شرعاً خلافت کے قیام کے واجب ہونے پر تین دلائل پیش کرتے ہیں:
  1. پہلی دلیل یہ کہ جناب نبی اکرمؐ کی وفات کے بعد صحابہ کرامؓ کا سب سے پہلا اجماع خلافت کے قیام پر ہوا تھا اور انہوں نے جناب رسالت مآب کی تجہیز و تکفین سے بھی پہلے اس فریضہ کی ادائیگی کا اہتمام کیا۔
  2. دوسری دلیل کے طور پر وہ جناب نبی اکرمؐ کے اس ارشاد گرامی کو پیش کرتے ہیں کہ ’’جو شخص اس حالت میں مر گیا کہ اس کی گردن میں بیعت نہیں تو وہ جاہلیت کی موت مرا ہے‘‘۔ حضرت امام ولی اللہ دہلویؒ یہاں بیعت سے مراد خلافت کی بیعت لیتے ہیں اور اسے ہر مسلمان کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں۔
  3. اور ان کی پیش کردہ تیسری دلیل یہ ہے کہ جو کام کسی فرض کی ادائیگی کے لیے ضروری ہو وہ خود بھی فرض ہو جاتا ہے۔ مثلاً وضو بذات خود فرض نہیں ہے لیکن چونکہ نماز اس کے بغیر نہیں ہوتی اس لیے نماز کے لیے وضو کرنا بھی فرض ہے۔ اسی طرح مسلم معاشرہ میں ارکان اسلام کا قیام، جہاد کا اہتمام، قضا کے نظام کا قیام، امن قائم کرنا اور علوم اسلامیہ کا احیا سب فرائض ہیں اور ان فرائض کی ادائیگی خلافت کے قیام کے بغیر ممکن نہیں۔ اس لیے خلافت کا قیام بھی ان مقاصد کے لیے اسی طرح فرض ہے جس طرح نماز کے لیے وضو فرض ہے۔

خلافت کی سیاسی اہمیت

خلافت کے شرعی حکم کے ساتھ ساتھ اس کی سیاسی اہمیت کو بھی سامنے رکھنا ضروری ہے اور اس سلسلہ میں ایک واقعہ پیش خدمت کرنا چاہتا ہوں جو میں نے اپنے بعض اساتذہ سے سنا ہے۔ وہ یہ کہ جن دنوں تحریک آزادی کے عظیم راہنما شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ مالٹا جزیرے میں نظر بند تھے، ان کے ساتھ شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی بھی گرفتار تھے ، جبکہ ایک انگریز فوجی افسر بھی کسی جرم میں وہاں سزا کاٹ رہا تھا۔ یہ دور وہ تھا جب ترکی کی خلافت عثمانیہ جس نے کم و بیش پانچ سو سال تک عالم اسلام کی خدمت کی ہے آخری دموں پر تھی اور برطانیہ، فرانس اور اٹلی سمیت پورا یورپ اس خلافت کے خاتمہ کے لیے سازشوں میں مصروف تھا۔ ایک روز ملاقات میں مولانا مدنی نے اس انگریز فوجی افسر سے پوچھا کہ آپ لوگ ایک کمزور اور برائے نام سی حکومت کے پیچھے کیوں پڑے ہوئے ہیں اور خلافتِ عثمانیہ سے آخر آپ کو خطرہ کیا ہے؟ اس نے جواب میں کہا کہ بات اتنی آسان نہیں ہے جتنی آپ کہہ رہے ہیں۔ یہ درست ہے کہ خلافتِ عثمانیہ اس وقت ایک کمزور سی حکومت ہے جس کا رعب و دبدبہ اور قوت و شوکت قصہ پارینہ ہو چکی ہے لیکن ایک قوت اس کے پاس اب بھی باقی ہے اور وہ خلافت کا لفظ ہے اور امیر المؤمنین کی اصطلاح ہے۔ کیونکہ خلیفہ کے لفظ میں آج بھی اتنی طاقت ہے کہ اگر خلیفہ کی طرف سے دنیا کے کسی خطہ میں کسی کافر قوم کے خلاف جہاد کا اعلان ہو جائے تو دنیا بھر کے مسلمان نوجوانوں میں ہلچل مچ جاتی ہے اور ایک جذباتی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ ہم اس قوت سے خائف ہیں اور اسے ختم کرنا چاہتے ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ انگریز خلافتِ عثمانیہ کے خلاف سازش کر کے اسی قوت کو توڑنا چاہتے تھے اور اسے انہوں نے توڑ دیا جس کے بعد مسلمانوں کی سیاسی مرکزیت کا کوئی عنوان باقی نہیں رہا اور ہم انتشار و افتراق کا شکار ہوگئے۔

خلافت کا تاریخی پہلو

خلافتِ اسلامیہ کا ایک تاریخی پہلو بھی ہے جسے سامنے رکھنا ضروری ہے۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تیس سال خلافتِ راشدہ کا دور رہا جو خلافت کا مثالی دور ہے، اس کے بعد خلافتِ عامہ کا دور شروع ہوگیا۔ حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کا کہنا ہے کہ خلافت راشدہ کا دور تیس سال تک ہی چل سکتا تھا کیونکہ اس کے بعد ان کڑی شرائط کے حامل لوگ موجود نہیں رہے تھے۔ اس کے بعد خلافتِ عامہ کا دور ہے جس پر خلافتِ راشدہ کا اطلاق نہیں کیا گیا، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ خلافتیں غیر اسلامی تھیں بلکہ یہ خلافتیں بھی اسلامی تھیں جنہیں علماء امت نے ہر دور میں تسلیم کیا ہے، ان میں:
  1. بنو امیہ کی خلافت ہے جو حضرت معاویہؓ سے شروع ہوئی اور ۹۰ سال تک قائم رہی۔
  2. اس کے بعد اموی خلیفہ مروان ثانی سے عباسیوں نے خلافت چھین لی۔ اور اموی خاندان ہسپانیہ منتقل ہوگیا جہاں اس نے کم و بیش آٹھ سو سال تک خلافت کا پرچم لہرائے رکھا۔ جبکہ عباسیوں کی خلافت کا آغاز سفاح سے ہوا اور تقریباً پانچ سو برس تک اس کا تسلسل قائم رہا۔ حتیٰ کہ معتصم باللہ کے دور میں ہلاکو خان نے بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور بنو عباس کی خلافت کا خاتمہ ہو گیا۔
  3. اس کے بعد بنو عثمان نے خلافت کا پرچم اٹھایا، یہ ترک تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کے لیے چن لیا تھا۔ سلطان عثمان اولؒ نے خلافت کے قیام کا اعلان کیا اور انہی کے نام سے یہ خلافتِ عثمانیہ کہلائی۔ خلافت کا یہ دور بھی کم و بیش پانچ سو سال کو محیط ہے اور اس سلسلہ کے آخری خلیفہ سلطان عبد الحمید مرحوم ہیں جنہیں ۱۹۲۴ء میں جدید ترکی کے بانی مصطفیٰ کمال اتاترک نے جلاوطن کر کے خلافت کے خاتمہ کا اعلان کر دیا۔
جس زمانے میں یورپ ترکی کی خلافتِ عثمانیہ کے خاتمہ کے لیے بے چین تھا اور اس کی سازشیں منظر عام پر آرہی تھیں، ہمارے ہاں برصغیر پاک و ہند میں خلافت کی حمایت کے لیے ایک پرجوش تحریک اٹھی جو تحریک خلافت کے نام سے تاریخ کا یادگار حصہ ہے، لیکن مصطفیٰ کمال کے ہاتھوں خلافت کے خاتمہ کے بعد یہ تحریک خلافت بھی ٹھنڈی پڑ گئی۔ خلافتِ عثمانیہ کے خلاف یورپ کی سازشیں اب ایک ایک کر کے بے نقاب ہو رہی ہیں اور اس پر لٹریچر آرہا ہے کہ یورپ نے کس طرح خلافت عثمانیہ کے سقوط کی راہ ہموار کی، ترکی جیسے عالم اسلام کے بازوئے شمشیر زن کو سیکولر ازم کی طرف مائل کیا اور مسلمانوں کی سیاسی مرکزیت کا خاتمہ کر دیا۔ الغرض خلافت راشدہ کے تیس سالہ دور کے بعد حضرت معاویہؓ سے شروع ہونے والی خلافتِ عامہ ۳ مارچ ۱۹۲۴ء تک قائم رہی۔ اس دوران اچھے حکمران بھی آئے اور برے حکمران دیکھنا بھی عالمِ اسلام کو نصیب ہوئے لیکن مجموعی طور پر خلافت کا تسلسل بہرحال قائم رہا۔ بالخصوص بعض ادوار کی تمام تر خرابیوں کے باوجود خلافتِ عامہ کے اس تیرہ سو سالہ طویل دور میں عدالتی نظام کا ریکارڈ شاندار رہا ہے اور عدالتوں میں قرآن و سنت کے احکام پر عملدرآمد کا سلسلہ بلاخوف لومۃ لائم چلتا رہا ہے۔ اسی طرح جہاد کا تسلسل بھی ہر دور میں قائم رہا ہے جو دنیا میں مسلمانوں کے رعب و دبدبہ کا ذریعہ بنا رہا۔ اس دوران خلافت راشدہ کا دارالحکومت مدینہ منورہ اور کچھ عرصہ کے لیے کوفہ تھا۔ بنو امیہ کا دارالخلافہ دمشق رہا، بنو عباس نے بغداد کو دارالخلافہ بنایا، اور بنو عثمان کا دارالخلافہ قسطنطنیہ کی فتح کے بعد اسی تاریخی شہر میں ۱۹۲۴ء تک قائم رہا۔

خلافت کے احیا کی ضرورت

حضرات محترم! اب ہم اس نکتہ کی طرف آتے ہیں کہ آج کے دور میں خلافتِ اسلامیہ کے احیا کی اہمیت کیا ہے اور اس کے لیے عملی طریق کار کیا ہو سکتا ہے؟ خلافت کے احیا کی پہلی صورت تو یہ ہے کہ یہ ہمارا اجتماعی شرعی فریضہ ہے جس کی ادائیگی کے بغیر ہم دنیا بھر کے تمام مسلمان گناہ گار ہیں اور شرعی فرض کے تارک ہیں۔ پھر صرف اس ایک فرض کے تارک نہیں بلکہ خلافت کے ذریعے احکام اسلامی کے نفاذ، اقامت دین، جہاد اور شرعی قضا کے جو فرائض بجا لائے جا سکتے ہیں ہم ان کے بھی تارک ہیں اور ان سب فرائض کو نظر انداز کرنے کا بوجھ ہم پر ہے۔ اس کے علاوہ دنیا بھر کے مسلمانوں میں سیاسی وحدت اور مرکزیت کے قیام کا واحد ذریعہ صرف اور صرف خلافت ہے اور گزشتہ صدی کے تجربات نے واضح کر دیا ہے کہ سیاسی وحدت اور مرکزیت کے بغیر عالم اسلام تمام تر وسائل اور صلاحیتوں کے باوجود اپنا ایک مسئلہ بھی حل کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے، اس لیے آج عالم اسلام کا سب سے بڑا اور سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ خلافت کے احیا و قیام کی کوئی عملی صورت پیدا کی جائے۔

عملی طریق کار

خلافت کے انعقاد و قیام کی جو صورتیں فقہاء اسلام نے بیان کی ہیں وہ بنیادی طور پر پانچ ہیں:
  1. عام مسلمانوں کی رائے سے خلیفہ کا انتخاب کیا جائے جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کا انتخاب ہوا تھا۔
  2. خلیفۂ وقت کسی اہل شخص کو اپنا جانشین نامزد کر دے جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے حضرت عمر فاروقؓ کو نامزد کیا تھا۔
  3. خلیفۂ وقت کی نامزد کردہ خصوصی کمیٹی خلیفہ کا انتخاب کرے، جس طرح حضرت عثمان غنیؓ کا انتخاب عمل میں لایا گیا تھا۔
  4. مجلسِ شورٰی خلیفہ کو چنے، جیسے حضرت علیؓ چنے گئے تھے۔
  5. کوئی اہل شخص اقتدار پر بزور قوت قبضہ کر لے اور امت اسے قبول کر لے، جیسے حضرت حسنؓ کی بیعت کے بعد حضرت معاویہؓ کی خلافت پر امت کا اجماع ہوگیا تھا۔
آج کے حالات کو سامنے رکھتے ہوئے ان میں سے دوسرا، تیسرا اور چوتھا طریقہ تو سرِدست قابل عمل نہیں ہے کیونکہ اس وقت کوئی شرعی خلیفہ موجود نہیں ہے جو کسی کو نامزد کر سکے، خصوصی کمیٹی بنا سکے یا مجلس شورٰی قائم کر سکے۔ اس کے بعد پہلا اور پانچواں طریق کار ہی قابل عمل رہ جاتا ہے اور اس کی عملی صورت یہ ہوگی کہ کسی مسلمان ملک کی منتخب پارلیمنٹ اپنے ملک کے دستور پر نظرثانی کر کے شرعی بنیادوں پر خلافت کے احیا کا اعلان کرے اور عام آدمیوں کی رائے سے خلیفہ وقت کا انتخاب کیا جائے۔ یا کوئی طاقتور گروہ طاقت کے زور سے اقتدار پر قبضہ کر لے اور ان میں سے خلافت کے اہل شخص کو خلیفہ کے طور پر قبول کر لیا جائے۔ اس کے علاوہ فقہاء اسلام کی بیان کردہ صورتوں میں سے خلافت اسلامیہ کے احیا اور قیام کی کوئی اور صورت موجودہ حالات میں قابل عمل نہیں ہے۔

ایک اہم قابل توجہ نکتہ

اس مرحلہ میں ایک اہم نکتہ کی طرف توجہ دلانا ضروری سمجھتا ہوں کہ ۱۹۲۴ء تک خلافت کے جیسے کیسے تسلسل کو قبول کرنے کے باوجود ہمیں خلافت کے نظام کی تشکیل و تدوین میں خلافتِ راشدہ ہی کو معیار بنانا ہوگا۔ بعد کے خلافتی نظام اس بارے میں ہماری راہنمائی نہیں کر سکیں گے اور نہ ہی خلافت راشدہ کے اصولوں کی طرف براہ راست رجوع کیے بغیر ہم مغربی جمہوریت اور ویسٹرن سولائزیشن کا مقابلہ کر سکیں گے۔ حکومت کی تشکیل میں عام آدمی کا حصہ، حاکمِ وقت پر تنقید کا حق، آزادیٔ رائے اور خلیفہ وقت سے اپنا حق کھلے بندوں طلب کرنے کا جو معیار خلافت راشدہ کے دور میں قائم ہوا وہ آپ کو بعد کے ادوار میں نہیں ملے گا اور یہی معیار ہے جسے عملاً سامنے لا کر مغربی جمہوریت کے کھوکھلے پن کو ظاہر کیا جا سکتا ہے۔ بالخصوص دو معاملات میں خلافت راشدہ کے طرزعمل کو دوبارہ زندہ کرنا ہوگا:
  1. ایک حکومت کی تشکیل اور خلیفہ کے انتخاب میں عام آدمی کی رائے کی اہمیت، جسے حضرت عمرؓ نے بخاری شریف کی ایک روایت کے مطابق یوں بیان فرمایا کہ ’’خبردار! لوگوں کے مشورہ کے بغیر خلیفہ کی بیعت کا نام نہ لینا اور جس نے ایسا کیا اس کی بات کو قبول نہ کرنا‘‘۔
  2. اور دوسرا نظمِ مملکت چلانے میں لوگوں کے ساتھ مشاورت کا نظام، جس کا اہتمام خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور آپ کی سنت مبارکہ ہے کہ اجتماعی معاملات میں لوگوں کو مشاورت میں شریک کیا کرتے تھے، جیسا کہ بدر، احد اور احزاب کے غزوات کے حوالہ سے احادیث موجود ہیں۔ حتیٰ کہ غزوہ حنین کے قیدیوں کی واپسی کے سلسلہ میں مشاورت کے موقع پر لوگوں کی تعداد زیادہ ہونے کے باعث عرفاء یعنی لوگوں کے نمائندوں کے ذریعے سے ان کی رائے معلوم کر کے آنحضرتؐ نے فیصلہ فرمایا۔
اس لیے خلافت کا سیاسی نظام طے کرتے وقت ہمیں خلافت راشدہ کو مشعلِ راہ بنانا ہوگا، اسی صورت میں ہم آج کی دنیا کو مغربی جمہوریت سے بہتر نظام دے سکتے ہیں اور وقت کے چیلنج کا سامنا کر سکتے ہیں۔ حضراتِ محترم! میں آخر میں اس فکری نشست کے انعقاد پر جمعیۃ اہل سنت کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور آپ سب دوستوں سے اس دعا کی درخواست کے ساتھ اجازت چاہتا ہوں کہ اللہ رب العزت عالمِ اسلام کو خلافت کے حقیقی نظام سے ایک بار پھر بہرہ ور فرمائیں اور ہمیں اس کے لیے مؤثر اور نتیجہ خیز محنت کی توفیق دیں، آمین یا الہ العالمین۔
(ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ ۔ جون ۱۹۹۶ء)

تدبر و حکمتِ عملی کی ضرورت

مولانا محمد رابع حسنی ندوی

موجودہ صدی کے وسط سے مسلمانوں کو اپنے دین اور اپنے ملی پیغام کی طرف توجہ دلانے کی جو کوششیں ہوئیں اور ان کو ان کا عزت و عظمت کا ماضی یاد دلانے کے لیے جو لکھا اور کہا گیا، اس کے یہ اثرات پڑے کہ مسلمانوں میں بیداری اور مِلی احساس و شعور کی ایک لہر اٹھی جو جگہ جگہ محسوس کی گئی، اور اس سے مستقبل میں اچھی توقعات قائم کی جانے لگیں۔ حتٰی کہ بعض کہنے والے کہنے لگے کہ اگلی صدی اسلام کی صدی ہو گی۔
چنانچہ جب ہجری تاریخ سے نئی صدی شروع ہوئی تو بڑا غلغلہ اٹھا کہ یہ صدی اسلام کی صدی ہے اور دنیا کی قیادت اب دیر سویر مسلمان کریں گے، یہ دیکھو فلاں جگہ بڑی دینی و ملی بیداری ہو رہی ہے، فلاں جگہ اتنے لوگ مسلمان ہو گئے ہیں، فلاں جگہ ایسی ایسی دینی تحریکیں چلنا شروع ہو گئی ہیں۔
عیسوی تقویم کو بنیاد بنانے والوں نے کہا کہ اکیسویں صدی آ رہی ہے، یہ اسلام کے عروج و غلبہ کی صدی ہو گی، یورپ ٹوٹ رہا ہے، اب دنیا کی قیادت مسلمان قومیں لیں گی، کسی نے ترکی کی طرف دیکھا، کسی نے پاکستان سے امید قائم کی، کسی نے مصر کی طرف، کسی نے لیبیا کی طرف، کسی نے سعودی عرب کی طرف اور کسی نے ایران کی طرف دیکھا، اور یہ دیکھنا ظاہری آثار و حالات کے لحاظ سے غلط بھی نہ تھا کیونکہ ان سب جگہوں پر بعض بعض قیادتوں نے بہت امید پیدا کر دی تھی۔
اس سلسلہ میں مسلمان صحافت نے بھی شور مچایا اور مسلمان تحریکوں نے بھی حصہ لیا، لیکن دیکھنے میں یہ آیا کہ مسلمانوں کا اس وقت مزاج کام کرنے سے زیادہ نام کرنے کا بن گیا ہے، وہ کام سے زیادہ کام کا تذکرہ، جدوجہد سے زیادہ جدوجہد کا اعلان، اور پروگرام پر عمل کرنے سے قبل اس کا بے تحاشا اعلان اپنا وطیرہ بنائے ہوئے ہیں۔ وہ اپنے مخالف کو اس کا مقابلہ کرنے سے قبل ہوشیار کر دیتے ہیں، اس کو شکست دینے کا اپنا طریقہ اور انداز کار بتا دیتے ہیں۔ مسلمانوں کی یہ کمزوری ایک بڑی کمزوری کہی جا سکتی ہے، لیکن یہ ایک نفسیاتی کیفیت بھی ہے کہ آدمی اپنی ترقی، توقع اور کامیابی کا چرچا کرتا ہے اور اپنی پریشانی کا تذکرہ بھی زور سے کرتا ہے۔
لیکن راہبرانِ ملت جو فہم و فراست میں بڑھے ہوئے ہیں، اس نفسیاتی کیفیت کو کنٹرول کر سکتے ہیں اور تذکرہ و چرچے کی اس خواہش کو دوسری طرف موڑ سکتے ہیں۔ اور وہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے ان حالات کا چرچا کیا جائے جن میں انہوں نے دنیا کو اخلاق و انسانیت کا درس دیا اور قوموں اور نسلوں کو حیوانی زندگی سے نکال کر انسانی زندگی میں داخل کیا:
  • انہوں نے مصیبت زدہ دنیا کو مصیبت سے نکالا،
  • غلاموں کو ان کی حقیر پوزیشن سے نکال کر دوستانہ و مساویانہ پوزیشن میں پہنچایا،
  • عورت کو ساز و سامان کی حیثیت سے نکال کر کامل انسانی حقوق کی مستحق اور رفیقہ حیات کا درجہ دیا،
  • بچیوں کو عار و ذلت کا سبب سمجھ کر زندہ دفن کر دینے سے بچا کر نعمت اور باعثِ اجر و ترقی سمجھنے کا ذریعہ بنایا،
  • انسان تو انسان ہے ہر ذی روح کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا سبق دیا،
  • مساواتِ انسانی کا ایسا سبق دیا کہ دیکھنے والے دیکھ کر ششدر رہ گئے اور اس دین کی خوبی اور اس ملت کی عظمت کو مان گئے، چنانچہ جوق در جوق اسلام میں داخل ہوئے اور پوری پوری قومیں مسلمان ہو گئیں۔
  • بھلا غور کیجئے کہ کہاں ایسی مثالیں ملیں گی کہ مسلمان فوجوں نے ایک علاقہ کو فتح کیا، علاقے والوں نے مسلمانوں کے خلیفہ سے شکایت کی کہ آپ لوگ کہتے ہیں کہ مسلمان اچانک حملہ نہیں کرتے، پہلے اپنی بات پیش کرتے ہیں، اس کے نہ ماننے کے بعد کہہ کر حملہ کر کرتے ہیں، اس فوج نے ایسا نہیں کیا۔ اس شکایت پر خلیفہ نے حکم دیا کہ مسلمان فوجیں مقبوضہ ملک چھوڑ دیں، واپس آجائیں اور پہلے دعوت اور پیغام پیش کریں اور صلح کے ذریعے معاملہ کو انجام دینے کی کوشش کریں، اس میں ناکامی کے بعد حملہ کریں۔ چنانچہ مسلمان فوجوں نے مقبوضہ ملک چھوڑ دیا اور اسلام کے بتائے ہوئے طریقہ پر عمل کیا، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پورا ملک اتنا متاثر ہوا کہ خود سے مسلمان ہو گیا۔
  • بھلا بتائیے کہ کس نے یہ تعلیم دی کہ تمہارے لیے ہر ذی حیات کے ساتھ سلوک کرنے میں اجر ہے، اور ایک پیاسے کتے کو پانی پلا دینے پر جنت چلے جانے کی بشارت دی اور ایک بلی کو کمرے میں بند کر کے مارنے پر آخرت کے عذاب کی خبر دی۔
  • بھلا بتائیے کہ یہ کس کے ہاں ملتا ہے کہ انتقال کے وقت نزع کی حالت میں یہ کہے کہ اپنے رب کی عبادت کرتے رہو اور اپنے غلاموں کے ساتھ حسنِ سلوک کرو۔
  • بھلا بتائیے کہ یہ کہاں ملتا ہے کہ مصر کے مسلمان حاکم کے لڑکے نے ایک مصری سے گھوڑدوڑ کے مقابلہ میں پیچھے آ جانے پر ایک کوڑا مار دیا۔ مصری نے خلیفۃ المسلمین سے شکایت کی۔ خلیفۃ المسلمین نے مصری حاکم کے لڑکے کو مع باپ کے طلب کیا اور مصری کے ہاتھ سے دونوں پر کوڑا چلوایا، اور حاکم سے کہا کہ تم لوگوں نے کیا انسانوں کو غلام بنا لیا ہے حالانکہ خدا نے ان کو آزاد پیدا کیا ہے۔ ذرا غور کیجئے، وہ اس زمانہ کی بات ہے جب دنیا کے متمدن ملکوں میں ،تہذیب و تمدن کے گہواروں میں غلاموں اور قیدیوں کو دعوتوں میں مہمانوں کی تفریح کے لیے جلایا جاتا تھا، اخلاق و انسانیت پر عمل کا اتنا بڑا فرق ہے۔
  • بھلا بتائیے یہ کہاں ملتا ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے ایک مہم میں مسلمانوں کے لشکر کا سربراہ اپنے سابق غلام کے نوجوان لڑکے کو بنا دیا، لشکر جانے سے قبل آپ کی وفات ہو گئی، آپ کے خلیفہ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے لشکر روانہ کرنا چاہا تو لوگوں نے کہا کہ اس لشکر میں بڑے بڑے عرب کے سردار ہیں، اگر اس نوجوان کے بجائے کسی بڑے سردار کو قائد بنا دیا جائے تو زیادہ مضبوط بات ہو گی۔ خلیفۃ المسلمین نے کہا کہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا اسی کو قائم رکھا جائے گا اور یہی نوجوان اور سابق غلام کے صاحبزادے ہی قیادت کریں گے۔ چنانچہ سب نے اطاعت کی اور انہی کی قیادت میں کام کیا اور کسی نے کوئی اعتراض نہ کیا۔
یہ واقعات اور ان کی اتباع میں مسلمانوں کی تاریخ میں سیکڑوں اور ہزاروں واقعات کیوں نہیں ہمارے اپنے چرچے اور تذکروں کا موضوع بنتے کہ غیر مسلم حضرات کے علم میں آئیں؟ جن کو جان کر وہ کہیں کہ مسلمان ویسا نہیں ہوتا جیسا ہم نے غلطی سے اب تک سمجھ رکھا تھا اور جیسا چند بے راہ مسلمانوں کے عمل سے ظاہر ہوتا ہے۔ اگر کوئی مسلمان چوری کر لیتا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اسلام نے چوری کی اجازت دی ہے، کوئی مسلمان کسی پر ظلم کرتا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ مسلمانوں کو ظلم کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
لیکن افسوس ہے کہ مسلمانوں کا پریس، ان کے جلسے، ان کے مظاہرے، یہ تو ظاہر کرتے ہیں کہ مسلمان اپنے حریفوں کو اس طرح زک دیں گے، اس طرح شکست دیں گے، لیکن اپنے مخالفوں اور حریفوں کے ذہنوں کو بدلنے کی نہ کرنے کے برابر کوشش کرتے ہیں۔ ان کے مخالفوں اور حریفوں نے مسلم دشمن پروپیگنڈے ہی کو سنا اور جانا ہے کہ مسلمان اپنے مخالف کو ظالمانہ طریقہ سے ختم کر دیتا ہے، اس کو صرف دادِ عیش دینے اور من مانی کرنے اور اخلاقی قوانین توڑنے سے ہی دلچسپی ہے، وہ اچھا شہری نہیں ہوتا، اچھا پڑوسی نہیں ہوتا، اچھا ساتھی نہیں ہوتا، وہ ناقابلِ اعتبار ہے، ناقابلِ برداشت ہے۔ بھلا بتائیے ان خیالات کے ساتھ مسلمانوں کے دشمن اور حریف مسلمانوں کے معاملہ میں کیا رویہ رکھیں گے؟
آج ساری دنیا میں مسلمانوں پر مصیبت آئی ہوئی ہے، ہر جگہ مسلمانوں کو اپنی مذہبی آزادی اور باعزت اسلامی زندگی کے لیے سخت جدوجہد کرنا پڑ رہی ہے، اور ان کی اس جدوجہد کو ہر جگہ پوری طاقت سے دبایا جا رہا ہے بلکہ بہت ظالمانہ طریقہ سے کچلا جا رہا ہے۔ یورپ ہو یا ایشیا یا امریکہ، ہر جگہ اسلام کے نام لینے والے مصیبت میں مبتلا کیے جا رہے ہیں، جیسے کہ کوئی خونخوار طاقت ابھرنے لگی ہو اور اس کو کچلنے کے لیے سب کے سب لگ جائیں۔ ضرورت ہے کہ اس مصیبت کے جتنے حصے کو ہم دعوت و وضاحت کے جائز و مؤثر طریقوں کے ذریعہ دور کر سکیں، اس سے دور کریں، اور جو وضاحت اور صحیح واقفیت کے بعد ہو اس کا پوری طاقت اور ہمت سے مقابلہ کریں۔
اس کے لیے اپنے عمل کو اور تعلق مع اللہ کو بھی درست کرنا ہو گا، اور مسلمانوں کے ایمان و اخلاق کو اسلام کی صحیح تعلیمات کے مطابق بنانے کے لیے دعوت و تربیت کے کام کو اصول و طریقہ کے مطابق سنجیدہ اور ٹھوس طریقہ سے کرنا ہو گا اور اس پر خاصا وقت صرف کرنا ہو گا۔ شور و پروپیگنڈے کو ضرورت کے مطابق رکھنا ہو گا، اس میں ہم کو جتنی کامیابی ہو گی، اتنی ہی اللہ کی طرف سے نصرت حاصل ہو گی اور کامیابی ملے گی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ’’وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِیْنَ‘‘ کہ سربلند تم ہی رہو گے اگر تم ایمان والے ہو۔ ہمیں ایمان کے تقاضے پورے کرنے ہوں گے تب ہی ہم کو سربلندی ملے گی۔
(بشکریہ ’’تعمیرِ حیات‘‘ لکھنؤ)

اسلامی ریاست میں غیر مسلم اقلیتوں کے حقوق

مولانا منیر احمد

(زیر نظر مضمون ہفت روزہ ترجمان اسلام لاہور کے اپریل/مئی ۱۹۷۷ء کے تین شماروں میں بالاقساط شائع ہوا تھا جسے موجودہ حالات کے تناظر میں بعض غیر ضروری حصوں کے حذف کے ساتھ قارئین الشریعہ کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ ادارہ)

اسلامی حکومت کے حکمرانوں کو اپنی رعایا کے ساتھ اسلام جس رواداری، حسنِ سلوک، نرم روی، انصاف پسندی، عدل گستری کا نہایت تاکیدی انداز میں پابند کرتا ہے، اس میں مسلم و غیر مسلم میں کوئی فرق و امتیاز روا نہیں رکھتا۔ بلکہ ان کو یہ سبق سکھاتا ہے کہ جیسے اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کے دروازے اہلِ اسلام اور غیر اہلِ اسلام یہودی، عیسائی، ہندو، سکھ سب پر کھلے رکھے ہیں، ہر ایک کو رزق، ہوا، پانی، روشنی اور آسمان و زمین کی بے شمار نعمتوں سے یکساں استفادے کا حق ہے، کسی کو کسی نعمت سے استفادہ کے حق سے محروم نہیں کیا، اسی طرح جو حکومت قانونِ الٰہی پر عمل پیرا ہو اس کا بھی یہ فرض ہے کہ وہ اس سنتِ الٰہیہ پر چل کر قرآن و حدیث کی روشنی میں عدل پر مبنی ایسا نظامِ حکومت قائم کرے جس میں مسلم و غیر مسلم کے امتیاز کے بغیر رعایا کے ہر فرد کو بنیادی حقوق اور بنیادی ضروریاتِ زندگی حاصل ہوں۔
اور اگر کوئی ایسا متعصب اور تنگ ظرف حاکم عہدۂ حکومت پر براجمان ہو جائے جو بے شک مسلمانوں کے حقوق تو پورے طور پر ادا کرتا ہے مگر غیر مسلم اقلیتوں کے حقوق کے بارے میں تغافل برتتا ہے، ان کی حق تلفی کرتا ہے، ان کو بنیادی حقوق میں مسلمانوں کے مساوی نہ رکھتا ہو، تو قرآن و حدیث اور خلفائے راشدین کے طرز عمل کی روشنی میں باوثوق طریقے سے یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ اس کو حکومت کرنے کا کوئی حق نہیں۔ اور خود مسلم رعایا پر یہ ضروری ہے کہ یا اس حاکم سے اقلیتوں کے حقوق دلوانے کی کوشش کرے یا پھر اس کو حکومت سے الگ کر دے۔ اور اگر مسلم رعایا ایسا نہیں کرتی بلکہ یہ بھی خاموش تماشائی کی حیثیت سے ان کے حقوق کی پامالی کا نظارہ کرتی ہے تو یہ حاکم اور اس کی مسلم رعایا دونوں گناہ کی زد میں آ جاتے ہیں۔

اسلامی حکومت کا امتیاز

اسلامی حکومت کا یہ ایک ایسا امتیاز ہے جو اس کو دیگر غیر مسلم حکومتوں پر فوقیت دیتا ہے کہ وہ اپنے ملک کی اس رعایا کو جو مذہبی شعائر، قومی رسم و رواج، تہذیب و ثقافت اور نسل و زبان کے اعتبار سے ہر طرح مسلم قوم سے جدا تشخص رکھتی ہے، اور ہے بھی اقلیت میں، وہ حقوق عطا کرتی ہے کہ آج کی ترقی یافتہ انسانی خدمت کی دعویدار غیر مسلم حکومتوں میں شاید وہ حقوق ان کی اپنی ہم قوم و مذہب رعایا کو بھی حاصل نہ ہوں۔ اور اگر کوئی حکومت فیاضی سے کام لے کر اپنی ہم قوم رعایا کو ضروری حقوق دے ہی دے تو اس سے اس حکومت میں قومی خدمت کا جذبہ تو بے شک معلوم ہو جاتا ہے، لیکن انسانی ہمدردی، خیرخواہی، اور انسانی خدمت کے جذبہ کے لیے معیار قومی خدمت نہیں بلکہ وہ طرزعمل ہے جو اس حکومت کا غیر قوموں کے ساتھ ہے۔ اور جب اس معیار پر ایک اسلامی حکومت کا غیر مسلم حکومتوں کے ساتھ موازنہ کر کے دیکھا جاتا ہے تو یقین ہو جاتا ہے کہ اسلامی حکومت کا مقصد صرف حقوقِ مسلم کی نگہبانی ہی نہیں بلکہ غیر قوموں کے حقوق کی حفاظت کی خاطر مسلمان کے جان و مال کی قربانی بھی اس کا فرض ہے۔

رعایا کے حقوق

کسی حکومت کی رعایا کے وہ حقوق اور ضروریات جن کا تحفظ حکومت کے ذمہ ہوتا ہے، بلکہ قیامِ حکومت کا مقصد قرار پاتا ہے، چار چیزوں سے متعلق ہوتے ہیں: (۱) مذہب، (۲) جان، (۳) مال، اور (۴) عزت و آبرو۔ ہر حکومت کا یہ فرض ہوتا ہے کہ وہ رعایا کے مذہب، جان، مال، اور عزت و آبرو کی حفاظت کرے۔ اسلامی حکومت بھی اپنی مسلم اور غیر مسلم رعایا کی ان چاروں چیزوں کی محافظ ہوتی ہے اور ان کے حقوق کا تحفظ کرتی ہے۔ انہی چار چیزوں کی حفاظت کرنے کے لیے محکمہ فوج، محکمہ پولیس، محکمہ عدالت، محکمہ مالیات، محکمہ تعلیم، اور محکمہ صحت کا قیام کر کے تقسیم کار کر دی جاتی ہے تاکہ مکمل طور پر یہ ذمہ داری پوری ہو سکے۔ ہم ذیل میں پہلے اجمالی طور پر غیر مسلم اقلیتوں کے مذہب، جان، مال اور عزت کی حفاظت سے متعلق قرآن و سنت اور فقہ اسلامی سے ماخوذ اسلامی دفعات پیش کرتے ہیں، اس کے بعد سیرتِ نبویؐ، عمل صحابہؓ اور تاریخی شواہد سے اس کا تفصیلی ثبوت فراہم کریں گے۔

(۱) حفاظتِ مذہب

  1. ان کے مذہب کو پورا تحفظ دیا جائے گا۔
  2. ان کو مذہبی رسوم کی ادائیگی میں پوری آزادی ہو گی۔
  3. اپنے بچوں کو اپنے مذہب کی تعلیم دینے کے لیے اپنے مکاتب کھول سکیں گے۔
  4. ان کے مذہب میں عیب جوئی یا طعنہ زنی نہیں کی جائے گی۔
  5. ان کو اجتماعی طور پر مذہبی تہوار منانے کی اجازت ہو گی۔
  6. مذہبی تہوار میں مسلم حکومت حتی الامکان ان سے تعاون کرے گی۔
  7. پادری، رہبان، گرجوں کے پجاری اور ان کے مذہبی پیشوا اپنے عہدوں پر قائم رہیں گے۔
  8. ان کی عبادت گاہیں نہ منہدم کی جائیں گی، نہ ان کو کوئی نقصان پہنچایا جائے گا۔
  9. عبادت گاہوں کے بوسیدہ ہو جانے کی صورت میں مرمت کر سکیں گے۔
  10. خاص اپنے شہروں میں بلا اجازت اور مسلمانوں کے شہروں میں باجازتِ حاکم نئی عبادت گاہیں تعمیر کر سکیں گے۔
  11. مسلمان حاکم ان کی عبادت گاہوں کے لیے جاگیریں وقف کر سکیں گے۔
  12. ان کی عبادت گاہوں کا پورا پورا احترام کیا جائے گا۔
  13. ان کی مذہبی کتابوں کی توہین نہ کی جائے گی۔
  14. تبدیلِ مذہب پر جبر قابلِ تعزیر جرم ہو گا۔
  15. ان کو مسلمانوں کی تعلیم گاہوں میں داخلہ کی اجازت ہو گی۔
  16. فیصلہ جات میں ان کو اختیار ہو گا کہ مسلمان قاضی سے یا اپنے مذہبی پیشوا سے فیصلہ کرائیں۔
  17. ان کے مسجد میں داخل ہونے پر پابندی نہ ہو گی۔

(۲) حفاظتِ جان

  1. ان کی جان مسلمان کی جان کی طرح محفوظ ہو گی۔
  2. ذمی کے قتل ہو جانے کی صورت میں قصاص لیا  جائے گا۔
  3. ان کے کسی عضو کو کاٹ دینے کی صورت میں بدلہ ہو گا۔
  4. ان کی دیت (خون بہا) مسلمان کی دیت کے برابر ہو گی۔
  5. جو مسلم رعایا کے لیے حفاظتی انتظامات کیے جائیں گے ان کے لیے بھی کیے جائیں گے۔
  6. ان پر کوئی دشمن حملہ آور ہو گا تو مدافعت کی جائے گی۔
  7. دشمن کے ہاتھ گرفتار ہو جانے کی صورت میں اس کی رہائی کی پوری کوشش کی جائے گی۔
  8. ذمی کو کسی غیر ذمی کافر کے بدلہ میں قتل نہ کیا جائے گا۔
  9. ان کو فوجی خدمت پر مجبور نہ کیا جائے گا۔
  10. ان کو علاج کے سلسلہ میں پوری سہولتیں حاصل ہوں گی۔

(۳) حفاظتِ مال

  1. ان کا مال محفوظ رہے گا۔
  2. ان کے تجارتی قافلے اور کارواں محفوظ رہیں گے۔
  3. ان کی زمین محفوظ رہے گی۔
  4. تمام چیزیں جو ان کے قبضہ میں تھیں بحال رہیں گی۔
  5. ان کا کوئی حق جو پہلے سے ان کو حاصل تھا زائل نہ ہو گا۔
  6. جو ان میں سے کما نہ سکے اور نہ اس کی کفالت کرنے والا کوئی موجود ہو تو بیت المال سے اس کو روزینہ ملے گا۔
  7. ان کا مارا ہوا حق واپس دلایا جائے گا۔
  8. ان کو اندرون ملک اور بیرون ملک تجارت کی اجازت ہو گی۔
  9. ذرائع ترقی میں وہ برابر کے حصہ دار ہوں گے۔
  10. انہیں اسلام کی حرام کردہ اشیا، جو ان کے مذہب میں حلال ہیں، اپنے ہم مذہب لوگوں کے ساتھ ان کے کاروبار اور استعمال کرنے کی اجازت ہو گی۔
  11. ان کو وہ تمام مالی حقوق حاصل ہوں گے جو اہلِ اسلام کو حاصل ہوں گے۔
  12. ان کا مال چوری کرنے پر ہاتھ کاٹا جائے گا۔
  13. جزیہ (ٹیکس) یا خراج (لگان) جو ان سے لیا جائے گا، اس کے لیے محصل کے پاس خود نہیں جانا پڑے گا۔
  14. ان کی عورتوں، بچوں، بوڑھوں، پاگل، بیمار، معذور، غلام، مریض، تنگ دست، افراد سے جزیہ یا خراج وصول نہیں کیا جائے گا، البتہ یہ لوگ حقوق رعایا میں برابر کے حق دار ہوں گے۔
  15. ان سے عشر وصول نہیں کیا جائے گا۔
  16. خراج یا جزیہ کی وصولی میں ناروا سختی نہیں کی جائے گی۔
  17. خراج یا جزیہ سال سے پہلے وصول نہیں کیا جائے گا۔
  18. طے شدہ مقدار سے زیادہ وصول نہیں کیا جائے گا۔
  19. ان کی حفاظت نہ کر سکنے کی صورت میں جزیہ واپس کر دیا جائے گا۔
  20. اگر محصل بروقت وصول کرنے کے لیے نہ پہنچا اور اس پر عرصہ گزر گیا تو سابقہ سالوں کا جزیہ ساقط ہو جائے گا۔
  21. مسلمان ہو جانے کی صورت میں جزیہ اور خراج معاف کر دیا جائے گا۔
  22. جو ذمی فوجی خدمت سر انجام دیں گے ان سے جزیہ نہ لیا جائے گا۔
  23. ان کے مردہ سے باقی ماندہ جزیہ یا خراج ساقط ہو جائے گا۔
  24. ذمیوں کے چوپایوں پر کوئی ٹیکس نہ ہو گا۔
  25. ان کی نقدی، سونا، چاندی اور زیورات پر کوئی ٹیکس نہ ہو گا۔
  26. ان پر خراج اور جزیہ کے علاوہ کوئی ٹیکس عائد نہ کیا جائے گا۔
  27. اپنی ملکیت کے تصرف میں وہ آزاد ہوں گے۔

(۴) حفاظتِ عزت

  1. ان پر تہمت لگانا قابلِ تعزیر جرم ہو گا۔
  2. ان کی غیبت مسلمان کی غیبت کی طرح حرام ہو گی۔
  3. عدالتوں میں مسلم اور غیر مسلم کی حیثیت برابر ہو گی۔
  4. ملک و قوم کے وفادار ثابت ہو جانے کی صورت میں مسلم حکام کی صوابدید کے مطابق سرکاری عہدوں پر فائز ہو سکیں گے۔
  5. طے شدہ شرائط کی خلاف ورزی نہ کی جائے گی۔
  6. ان کو بلند مکان بنانے کی اجازت ہو گی۔
  7. ان کا قومی لباس تبدیل نہ کیا جائے گا۔
  8. ان سے ان کی طاقت سے زیادہ کام نہیں لیا جائے گا۔
  9. جو ان کا نکاح وغیرہ کا معاملہ اپنے دین کے مطابق ہو چکا ہو، مگر اسلام کے خلاف ہو، تو وہ اسی پر برقرار رہیں گے، اگرچہ وہ مسلمان بھی ہو جائیں۔
  10. اگر کوئی غیر مسلم حکومت اسلامی حکومت کو جزیہ دینا قبول کرے تو ان کی حکومت قائم رہے گی اور مسلمان ان کی ہر طرح حفاظت کریں گے۔
  11. ان کے ملک میں فوج کشی نہ کی جائے گی۔
  12. ان سے کسی عام معاشرتی یا اخلاقی جرم کے سرزد ہو جانے کی صورت میں مسلمانوں کی ذمہ داری ختم نہ ہو گی۔

اسلام کے سنہری دور میں اقلیتوں کے حقوق

شمالی یمن اور مکہ معظمہ کے مشرق میں سات منزل کے فاصلہ پر نجران ایک وسیع ضلع کا نام ہے، جس کی لمبائی تیز سوار کی ایک دن کی مسافت کے برابر تھی، اور تہتر بستیوں اور ایک لاکھ بیس ہزار فوج پر مشتمل تھا (ابن کثیر ص ۳۷ ج ۱)۔ یہاں کئی صدیوں سے عیسائی آباد تھے۔ انہوں نے اپنی مذہبی اور اقتصادی زندگی اچھی طرح منظم کر لی تھی۔ وہ زراعت اور مختلف قسم کی صنعتوں سے واقف تھے، جیسے پارچہ بافی اور ہتھیار سازی۔ یہاں پر عیسائیوں کا ایک عظیم الشان کلیسا بھی تھا جس کو وہ کعبہ کہتے تھے اور حرمِ کعبہ کا جواب سمجھتے تھے۔ اس میں بڑے بڑے مذہبی پیشوا رہتے تھے جن کا لقب سید اور عاقب تھا۔ عیسائیوں کا کوئی مرکز اس کا ہمسر نہ تھا۔ یہ کعبہ تین سو کھالوں سے گنبد کی شکل میں بنایا گیا تھا، جو شخص اس کی حدود میں آجاتا تھا وہ مامون ہو جاتا تھا۔ اس کعبہ کے اوقاف کی آمدنی دو لاکھ سالانہ تھی (سیرت النبی ج ۲)۔
۹ھ یا ۱۰ھ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نجران کے عیسائیوں کو دعوتِ اسلام کا خط لکھا جس کو مفسر ابن کثیر نے نقل کیا ہے۔ خط ملنے کے بعد نجران کے عیسائیوں کا ایک ایک معزز و موقر وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم اور نجرانی عیسائیوں کے درمیان جو معاہدہ طے پایا، وہ بقول امام زہریؒ، کسی غیر مسلم قوم کے جزیہ دے کر مسلم حکومت کی رعایا بننے کا سب سے پہلا واقعہ ہے (ابن کثیر ج ۱ ص ۳۷۰)۔ اس کی تفصیلی رپورٹ جو مورخین نے دی ہے وہ اس طرح ہے:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
(۱) یہ وہ معاہدہ ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اہلِ نجران کے لیے تحریر کیا۔
(۲) کیونکہ وہ اس کی حکومت کی ماتحتی قبول کر چکے ہیں۔
(۳) معاہدہ کی رو سے ان کی تمام مملوکہ اشیا سیاہ و سفید، سرخ و زرد، پھل اور غلام، جو فیصلہ کے وقت ان کی ملکیت میں ہیں، ان کے لیے محفوظ کی جاتی ہیں۔
(۴) اس شرط پر کہ وہ سالانہ دو ہزار حلے (یمنی چادروں کے دو جوڑے)، ایک ہزار ماہ صفر میں اور ایک ہزار ماہ رجب میں، ادا کرتے رہیں گے۔
(۵) ہر حلہ کی قیمت ایک کامل اوقیہ (تقریباً بیس روپے) ہو گی۔
(۶) حلوں کی کمی بیشی کا حساب اوقیوں سے ہو گا۔ (یعنی دو ہزار اوقیہ کی قیمت کے حلے ہوں خواہ کم یا زیادہ)۔
(۷) جو اونٹ، گھوڑے یا زرہیں وہ دیں گے وہ بھی اسی حساب سے لی جائیں گی۔
(۸) اہلِ نجران کی ذمہ داری ہو گی کہ میرے فرستادہ ٹیکس وصول کنندہ لوگوں کی بیس دن کی مدت تک مہمانی کریں گے۔
(۹) یمن میں کوئی سازش یا بغاوت رونما ہو تو وہ ہمیں تیس گھوڑے، تیس اونٹ، تیس زرہیں عاریتاً دیں گے۔
(۱۰) میرے فرستادگان کو یہ لوگ جو اشیا عاریتاً دیں گے وہ تا ادائیگی ان چیزوں کے ضامن ہوں گے۔
(۱۱) نجران کے غیر مسلم باشندوں اور ان کے گرد و نواح کے لوگوں کے لیے اللہ و رسول کا ذمہ اور امان ہے۔
(۱۲) یہ ذمہ و پناہ ان کی جان، مذہب، زمین، مال اور عبادت گاہوں کے لیے ہے۔
(۱۳) ان کے حاضر و غائب کے لیے، ان کے کارواں اور قاصد کے لیے بھی پناہ ہے۔
(۱۴) ان تمام مذہبی شعائر میں، جن پر وہ اس وقت قائم ہیں، کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔
(۱۵) ان کے حقوق و مذہبی شعار اسی طرح باقی رہیں گے، ان میں کوئی تغیر و تبدل نہ ہو گا۔
(۱۶) ان کے سارے مذہبی عہدے باقی رہیں گے۔
(۱۷) ان کے کسی اسقف (لاٹ پادری) کو اس کے عہدے سے برطرف نہیں کیا جائے گا۔
(۱۸) ان کے کسی راہب کو رہبانیت سے الگ نہ کیا جائے گا۔
(۱۹) نہ کسی خادمِ کلیسا کو اس خدمت سے محروم کیا جائے گا۔
(۲۰) ان مذہبی پیشواؤں کے قبضہ میں جو تھوڑا بہت ہو گا وہ محفوظ رہے گا۔
(۲۱) ان پر جاہلیت کے زمانہ کے کسی خون یا عہد کی ذمہ داری نہیں ہے۔
(۲۲) ان کو فوجی خدمت پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔
(۲۳) ان سے عشر نہیں لیا جائے گا۔
(۲۴) ان کی زمین کو کوئی لشکر پامال نہ کرے گا۔
(۲۵) نہ جزیہ لینے کے لیے ان کو جمع کیا جائے گا، بلکہ محصل خود جا کر وصول کرے گا۔
(۲۶) کسی حق کے مطالبہ کی صورت میں ان کے ساتھ ایسا انصاف ہو گا کہ نجران میںٖ یہ لوگ نہ ظالم ہوں گے نہ مظلوم۔
(۲۷) جو ان میں سے سود کھائے گا وہ میری ذمہ داری و امان سے خارج ہو جائے گا۔
(۲۸) ان میں سے کوئی  آدمی کسی دوسرے کے ظلم کی وجہ سے نہ پکڑا جائے گا۔
(۲۹) ان کے لیے اس امان نامہ میں جو کچھ ہے، اس پر اللہ تعالیٰ کی پناہ اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذمہ ہے، اس وقت تک کے لیے کہ اللہ کا حکم آئے۔
(۳۰) سب خیر خواہی برتیں اور ان حقوق کو ادا کرتے رہیں جن کا عہد کیا گیا ہے۔
(۳۱) ان پر کوئی ذرا برابر ظلم و زیادتی نہ ہو گی۔
گواہ شد
۱۔ ابو سفیان بن حرب
۲۔ غیلان بن عمرو
۳۔ مالک بن عوف
۴۔ اقرع بن حابس حنظلی، مغیرہ
(کتاب الخراج ص ۳۴۷، فتوح البلدان ص ۷۲، کتاب الاموال بحوالہ اسلام کا نظامِ امن)

معاہدہ پر ایک نظر

کسی قوم کے بنیادی حقوق چار چیزوں سے متعلق ہوتے ہیں: (۱) مذہب (۲) جان (۳) مال (۴) اور عزت۔ اس معاہدہ میں اہلِ نجران کی ان چاروں اشیا کی حفاظت کی ضمانت موجود ہے۔
اسلام مسلمان حکمرانوں میں غیر مسلم رعایا کے بارے میں جس دیانت و امانت کو چاہتا ہے اس کا اندازہ معاہدہ کی شق ۱۸ اور شق ۱۰ سے کیا جا سکتا ہے کہ ان کی جو چیز عاریتاً لیں اس کی واپسی کی ذمہ داری بھی لیں۔ نہ تو یہ اس چیز کو ضائع کر سکتے ہیں اور نہ واپسی کے وقت ان کو تکلیف دیں گے، بلکہ ان کے ہاں پہنچانے کا خود بندوبست کرنا ہو گا۔
پھر ان کے علاقہ میں جا کر زبردستی ان سے مہمانی نہیں کھا سکتے، اور یہ کہ معاہدہ میں مہمانی کا معاملہ طے ہو چکا ہو پھر معاہدہ ہونے کے باوجود مقررہ دنوں میں ان سے کھانا کھا سکیں گے، اس کے بعد اپنا انتظام کرنا ہو گا اور ان سے ان کی رضامندی کے بغیر ایک لقمہ کھانا بھی حرام ہو گا۔
چونکہ اس قوم نے اپنے مذہب کے چھوڑنے سے انکار کیا تھا، اس لیے معاہدہ میں ان کے مذہب و مذہبی شعار کی چیزوں کے تحفظ کو دوبارہ دوہرایا گیا ہے۔ ان کو عدل و انصاف مہیا کرنے اور ظلم و ستم نہ کرنے کا بھی متعدد بار یقین دلایا گیا ہے۔
ان کی عزت نفس کا اتنا احترام ملحوظ رکھا گیا ہے کہ جزیہ ادا کرنے کے لیے خود ان کو نہیں آنا پڑے گا بلکہ تحصیلدار خود ان سے جا کر وصول کرے گا۔ اور جزیہ کی وصولی کے بارے میں اتنی نرمی برتی گئی ہے کہ اصل طے شدہ جزیہ تو دو ہزار اوقیہ (چالیس ہزار روپے) سالانہ تھا مگر ازراہ سہولت یہ اختیار کیا گیا ہے کہ چاہیں تو اتنی قیمت کے دو ہزار حلے یا اونٹ، گھوڑے اور زرہ میں سے جو میسر ہو سکتے ہیں وہ دے دیں تاکہ نقدی کے نہ ہونے یا کم ہو جانے کی صورت میں جزیہ کی ادائیگی میں ان کو پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اور جو جزیہ کی مقدار مقرر کی گئی ہے ان کی آبادی اور آمدنی کے مقابلہ میں کوئی زیادہ نہیں۔ کیونکہ نجران کا علاقہ ۷۳ گاؤں پر مشتمل تھا تو اس لحاظ سے ایک گاؤں پر ایک ہزار روپے سالانہ سے بھی کم ٹیکس پڑتا ہے۔
پھر ان سب مراعات و حقوق کی تحریری دستاویز تیار کرنے کے باوجود ان کے مزید اطمینان و اعتماد کے لیے سب سے زیادہ جو وثوق و اعتماد کی چیز ہے یعنی ’’اللہ و رسول کی ذمہ داری‘‘ اس کی ضمانت دے کر اس پر صحابہ کرامؓ کے دستخط ثبت کرائے جاتے ہیں۔
سال یا چھ ماہ بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ۱۱ھ میں انتقال ہو گیا۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ خلیفہ ہوئے تو نجرانی عیسائیوں کا ایک وفد دستاویز کی توثیق کرانے اور اپنی وفاداری کا یقین دلانے کے لیے مدینہ آیا۔ حضرت صدیقؓ نے توثیق کر دی۔ دورِ فاروقی کے ابتدائی سالوں میں بھی یہی معاہدہ زیرعمل رہا، لیکن کچھ سال بعد ان لوگوں نے عہد شکنی کی۔
(۱) معاہدہ کی رو سے وہ سودی لین دین نہیں کر سکتے تھے مگر انہوں نے بڑے وسیع پیمانے پر سودی کاروبار شروع کر دیا تھا۔
(۲) اپنی مالی حیثیت مضبوط کرنے کے بعد کافی تعداد میں ہتھیار اور گھوڑے جمع کر کے یمن اور مدینہ منورہ پر حملہ کی تیاریاں کر رہا تھے کہ حضرت عمرؓ کو باوثوق ذرائع سے اس کی اطلاع ہو گئی۔
چونکہ یہ لوگ معاہدہ کے پابند نہ رہے تھے اور اسلامی سلطنت کے دارالحکومت مدینہ منورہ پر براہ راست حملہ کی تیاریوں اور سازشوں میں ملوث تھے، ان کی اسلامی حکومت سے بغاوت و غداری پایہ ثبوت کو پہنچ چکی تھی، اس لیے حضرت عمرؓ نے نجران اور اس کے آس پاس کے دیہی علاقہ کے گورنر یعلیؓ بن منیہ کو حکم نامہ بھیجا کہ ان کو شہر بدر کر دیا جائے یعنی ان کو نجران سے دوسرے شہروں میں منتقل کر دیا جائے۔ حسب الحکم یہ لوگ نجران سے شام و عراق کی طرف منتقل کر دیے گئے، کچھ شام میں جا کر آباد ہوئے اور اکثر عراق کے صوبہ کوفہ کے دیہاتوں میں سکونت پذیر ہوئے۔
آج اگر کسی حکومت کی ہم قوم و ہم مذہب رعایا کا یہ کردار ہوتا تو وہ اس کو غدار قرار دے کر قتل یا سزائے موت سے کم کسی سزا پر اکتفا نہ کرتی اور اگر کوئی شخص یہ مطالبہ کرتا کہ ان لوگوں کو صرف شہر بدر کر کے چھوڑ دیا جائے تو حکومت کی نگاہ میں اس شخص کی ملکی و قومی وفاداری مشتبہ ہو جاتی اور اس پر حکومت غداروں کی ہمنوائی، پشت پناہی کا فتوٰی صادر کر کے قابل گردن زنی قرار دے کر ساتھ ہی دھر لیتی۔ لیکن اسلامی حکومت کے تیسرے سربراہ عمر فاروقؓ کا اپنی باغی غیر مسلم رعایا (جس کے ماضی و حال کے بھیانک کردار سے اچھی طرح واقف ہیں) اس کے ساتھ طرزعمل بھی دیکھیے جو اقوامِ عالم کے لیے قابلِ رشک اور قابلِ تقلید ہے۔ ان کی اجتماعیت کو ختم کرنے ،ان کو اس مرکز و قلعہ کو توڑنے کے لیے صرف دوسرے شہروں میں منتقل کر دینے کی سزا تو تجویز کرتے ہیں مگر نہ وہ اس جرم کی وجہ سے معاہدہ کو کالعدم قرار دیتے ہیں، نہ قتل کرتے ہیں اور نہ کوئی دوسری اذیت پہنچاتے ہیں۔ پھر معاہدہ شکنی اور اس عظیم جرم کے ارتکاب کی وجہ سے ان کے مذہبی، جانی، مالی حقوق کا تحفظ بھی ضروری نہیں رہا تھا، اور اگر وہ تحفظ نہ کرتے تو یہ معاہدہ کی خلاف ورزی ہوتی اور نہ اصول دنیا کی۔
مگر اسلامی حکومت کے اس فرمانروا کی فراخدلی، وسعت، حوصلہ، اخلاقی بلندی اور انسانیت نوازی کو سلام کیجئے اور داد دیجئے کہ انہوں نے نجرانیوں کو شام و عراق کی طرف منتقل کرنے کے بعد شام و عراق کے گورنروں کو نہ صرف یہ کہ ان کی حفاظت کی طرف توجہ دلائی بلکہ ان کے پورے پورے حقوق ادا کرنے کے لیے نہایت تاکید کے ساتھ ہدایات بھیجیں، اور بطور ثبوت و سند کے خود نجرانیوں کو ایک دستاویز لکھ دی تاکہ یہ کسی علاقہ میں جائیں تو یہ دستاویز دیکھ کر وہاں کے گورنر سے حقوق طلبی کر سکیں۔
حضرت عمر فاروقؓ نے شام و عراق کے گورنروں کو اہلِ نجران کے متعلق اپنے خصوصی ایلچی کے ذریعے مندرجہ ذیل ہدایات جاری کیں، آپ نے لکھا:
’’بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
یہ دستاویز عمر امیر المومنین نے اہلِ نجران کے لیے لکھی ہے کہ ان میں سے جو کوئی اپنا گھر بار چھوڑ کر چلا جائے گا وہ خدا کی امان میں رہے گا۔ کوئی مسلمان اس کو نقصان نہیں پہنچائے گا اور اس عہد کا پوری طرح پاس کیا جائے گا جو پیغمبر محمدؐ اور ابوبکرؓ نے ان سے کیا تھا۔ واضح ہو کہ امرائے شام و عراق میں سے جس کے پاس نجران کے عیسائی جائیں گے، وہ ان کو کاشت کے لیے زمین دیں گے، اور جتنی زمین وہ جوت، بو لیں گے وہ صدقۃ لوجہ اللہ اور نجران میں چھوڑی ہوئی اراضی کے عوض ان کی ہو جائے گی۔ اس کو جوتنے، بونے اور اپنے تصرف میں رکھنے سے کوئی ان کے آڑے نہ آئے گا اور نہ ان کو کوئی نقصان یا ضرر پہنچائے گا۔ اگر کوئی ان پر ظلم و ستم کرے تو جو مسلمان موقع پر ہو اس کا فرض ہے کہ ان کی حمایت کرے، کیونکہ اسلام نے ان کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے۔ نئی جگہ آنے کے چوبیس ماہ تک جزیہ سے بھی ان کو معافی دی جاتی ہے، ان کے ساتھ نہ ظلم کیا جائے گا نہ زیادتی۔‘‘ (کتاب الخراج ص ۷۳، بحوالہ حضرت عمرؓ کے سرکاری خطوط ص ۱۱۸)
حضرت عثمانؓ کے دور تک کوفہ سے تقریباً چالیس میل دور مشرق میں نجرانیوں کی ایک دیہاتی بستی آباد ہو چکی تھی جس کا نام نجرانیہ تھا۔ مقامی طور پر مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہو گئی، ان کو وہاں سے نکالنے کے لیے مسلمانوں نے حضرت عثمانؓ سے شکایت کی، دوسری طرف ۲۷ھ میں ایک نجرانی وفد حضرت عثمانؓ سے ملا اور یہ شکایات پیش کیں:
(۱) یہ ماحول ہمارے موافق نہیں ہے، ہمیں ستایا اور ذلیل کیا جاتا ہے۔
(۲) ہمارے ہم وطنوں کے بکھر جانے کی وجہ سے اجتماعی آمدنی کم ہو گئی ہے، اس لیے چالیس ہزار روپے فراہم کرنے میں ہمیں دقت ہوتی ہے۔
حضرت عثمانؓ نے ان کی باتیں پوری توجہ اور ہمدردی سے سنیں اور ولید بن عقبہ گورنر کوفہ کو فرمان بھیجا، آپ نے لکھا:
’’بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
بندہ خدا عثمان امیر المومنین کی طرف سے ولید بن عقبہ کو سلام علیک۔ میں اس معبود کا سپاس گزار ہوں جس کے سوا کوئی دوسرا عبادت کے لائق نہیں۔
واضح ہو  کہ اسقف (بشپ، لاٹ پادری) عاقب اور نجرانیوں کے اکابر، جو اس وقت عراق میں مقیم ہیں، مجھ سے ملے اور اپنی مشکلات کی شکایت کی، اور مجھے عمرؓ کی وہ تحریر دکھائی جس میں یمن میں متروکہ اراضی کے عوض نجرانیوں کو عراق اور شام میں اراضی دینے کا حکم دیا تھا۔ تم اس بدعنوانی سے بھی واقف ہو جو مسلمانوں نے ان کے ساتھ کی ہے۔ ان سب باتوں کے پیشِ نظر میں نے ان کے جزیہ میں سے تیس حلے (چھ سو روپے) کی تخفیف کر دی ہے۔ اور میں سفارش کرتا ہوں کہ ان کو وہ اراضی دے دی جائے جو عمرؓ نے ان کو عراق سے دلوائی تھی۔ اور اس کے علاوہ لوگوں کو اچھی طرح سمجھا دو کہ ان کے ساتھ ہمدردی سے پیش آئیں کیونکہ یہ ذمی ہیں جن کے ساتھ حسنِ سلوک کا ہم نے ذمہ لیا ہے۔ اس کے علاوہ میری ان لوگوں سے پرانی واقفیت بھی ہے، تم وہ تحریر خود بھی دیکھنا جو عمرؓ نے ان کو لکھ دی تھی اور جو وعدہ اس میں کیا گیا ہے اس کو پورا کرنا۔ پڑھنے کے بعد یہ تحریر نجرانیوں کو لوٹا دینا (تاکہ وقتِ ضرورت ان کے کام آئے) (والسلام)‘‘۔ (کتاب الخراج ص ۴۳، بحوالہ حضرت عثمانؓ کے سرکاری خطوط ص۱۳۳)
اسلامی حکومت کے اس چوتھے فرمانروا حضرت عثمانؓ کے عدل و انصاف، رعایا کے درمیان ’’مساوات‘‘ کا اس سے اندازہ کیجئے کہ ان کے پاس مسلمان بھی شکایت کرتے ہیں اور نجرانی عیسائی بھی۔ دونوں فریقوں کا مقدمہ جب سامنے آتا ہے تو عثمان غنیؓ مسلمانوں کی شکایت پر نہ عیسائیوں کو وہاں سے نکالتے ہیں اور نہ عیسائیوں کے مقابلہ میں مسلمانوں سے ترجیحی سلوک کرتے ہیں۔ بلکہ عیسائیوں کی درخواست سن کر ان کی دستاویز دیکھ کر ان کی مقبوضہ اراضی کو محفوظ کر دیتے ہیں، اور جو ابھی تک قبضہ میں نہیں آئی تھی اس کے قبضہ دلانے کے لیے آرڈر بھیجتے ہیں۔ ان مسلمانوں کی طرف سے کی گئی زیادتی و بدعنوانی کا سدباب کر کے ہمدردی، خیرخواہی اور حسنِ سلوک کے لیے اللہ و رسول اور مسلمانوں کی ذمہ داری یاد دلا کر ان کے ساتھ اپنی پرانی واقفیت و شناسائی کو بطور سفارش پیش کرتے ہیں۔

بائبل بے خطا اور بے عیب نہیں

کیپٹن اسلم محمود

۳ اپریل ۱۹۹۱ء کو اٹک کے جناب کیپٹن اسلم محمود نے ہمیں زیر نظر خط کی فوٹو کاپی بغرضِ اشاعت ارسال فرمائی اور لکھا کہ
’’انگلستان کی کیمبرج یونیورسٹی کے سڈنی سسکس (Sidney Sussex) کالج کے شعبہ دینیات کے سربراہ پال ہاکنز (Rev. Paul Hawkins) ہمارے کرم فرما ہیں، اور دینی شعبہ میں اگر تحقیق کے درمیان کوئی مشکل مقام آ جائے تو میں ان کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ مورخہ ۳۰ مئی کو انہوں نے میرے خط کے جواب میں ایک خط تحریر فرمایا جس کی فوٹو کاپی آپ کی خدمت میں ارسال کر رہا ہوں۔‘‘
ہم اس خط کی اشاعت میں اس قدر تاخیر پر جناب کیپٹن اسلم محمود صاحب اور اپنے قارئین سے معذرت خواہ ہیں۔ بہرحال، اصل خط کا عکس مع اردو ترجمہ کے قارئین کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ ترجمہ ادارہ کی طرف سے کیا گیا ہے جبکہ انجیل یوحنا کے متنازعہ پیراگراف سے متعلقہ حواشی کیپٹن اسلم محمود صاحب ہی کے ایک مضمون (’’انجیلِ مقدس میں ایک مسلمہ تحریف‘‘ شائع شدہ ماہنامہ المذاہب لاہور دسمبر ۱۹۸۹ء) سے ملخص کیے گئے ہیں۔
(مدیر)

’’ڈیئر کیپٹن محمود!
آپ کے خط مورخہ ۲۸ نومبر ۱۹۸۹ء کا شکریہ۔ آپ کو معلوم ہوا ہو گا میں مذکورہ بالا پتے پر منتقل ہو چکا ہوں، لیکن آخر کار آپ کا خط مجھ تک پہنچ گیا۔ 
میں نے یوحنا ۷ : ۵۳ تا ۸ : ۱۱ سے متعلق آپ کے سوال میں بہت دلچسپی لی ہے۔ کوئی  شخص حقیقتاً ان سوالات کے جواب سے آگاہ نہیں، لیکن غالباً یہ کہانی اس آزادانہ روایت کا ایک حصہ ہے جو اناجیل سے علیحدہ چند دہائیوں سے رائج الوقت تھی، جسے بعد میں یوحنا کی انجیل میں شامل کر دیا گیا۔ اس میں شبہ نہیں کہ یسوع کے متعلق کچھ ایسی کہانیں تھیں جن کی اشاعت کلیساؤں کے ذریعے سے بار بار ہوئی، لیکن ان کو اناجیل میں شامل نہیں کیا گیا۔ یہ کہانی (یعنی یوحنا ۷ : ۵۳ تا ۸ : ۱۱) اسی سلسلے کی ایک مثال ہے۔ یہ انجیل کے لاطینی اور یونانی نسخوں میں شامل ہے، اس لیے، باوجودیکہ یہ پہلی انجیل کا حصہ نہیں، اسے بہت جلد یوحنا کی انجیل میں شامل کر لیا گیا ہو گا۔ ہم نہیں جانتے کہ اس کا ذمہ دار کون تھا۔
بائبل کے صحائف کے بے عیب الہامی اور بے خطا ہونے سے متعلق آپ کے سوال کے بارے میں میں یہ کہوں گا کہ بائبل الہامی ہے لیکن بے خطا اور بے عیب یقیناً نہیں۔ یہ بالکل واضح بات ہے۔ نکتے کی بات، مجھے یقین ہے، یہ ہے کہ خدا انسانوں کے ذریعے سے کلام کرتا ہے اور انسان غلطیاں کرتے ہیں۔ لیکن خدا نے ابلاغ کا یہی طریقہ منتخب فرمایا ہے کہ وہ اپنے کلام اور انسانوں کے ذریعے سے ایسا کرے۔ اس لیے ہم کسی بھی صحیفے کو مطلقاً بے خطا نہیں مان سکتے۔ البتہ مجھے یقین ہے کہ یہ صحیفے الہامی ہیں اور ان کے ذریعے سے ہم خدا کو اپنے ساتھ کلام کرتا ہوا سن سکتے ہیں۔ میرے انداز نظر کے مطابق کم از کم یہی طریقہ ہے۔ مجھے امید ہے کہ یہ وضاحتیں آپ کے لیے دلچسپ ہوں گی اگرچہ بلاشبہ یہ ایک فرد کی آرا ہیں۔
مجھے امید ہے کہ آپ بخیریت ہوں گے اور میرا یہ خط بحفاظت آپ تک پہنچ جائے گا۔‘‘



اس پیرا گراف کے متعلق مزید آرا حسب ذیل ہیں:
بائبل و کلف کمنٹری میں اس موقع پر لکھا ہے:
’’نسخوں کی سند اس پیراگراف (بشمولیت ۵۳) کے حقیقی ہونے کے زبردست خلاف ہے۔ زبان بمشکل یوحنا کی ہے، تاہم کہانی سچی ضرور ہے۔ ابتدا میں چوتھی انجیل کے متن میں جگہ پا گئی۔‘‘
پادری سکافیلڈ اپنی ریفرنس بائبل میں لکھتے ہیں:
’’یہ آیات کچھ نہایت قدیم نسخوں میں نہیں ملتی ہیں۔ آگسٹین نے بتایا ہے کہ اس واقعہ کو مقدس کہانی کی کئی کاپیوں سے اس منافقانہ ڈر سے خارج کر دیا گیا تھا کہ اس سے بد اخلاقی کا سبق ملتا ہے۔‘‘
امریکن بائبل سوسائٹی، نیویارک کی شائع کردہ بائبل (جون ۱۹۷۸ء) میں اس پیراگراف پر یہ نوٹ لکھا ہے:
’’انتہائی قدیم اور معتبر ترین قلمی نسخوں میں یوحنا ۷ : ۵۳ تا ۸ : ۱۱ آیات موجود نہیں۔‘‘
آکسفورڈ بائبل (طبع ۱۹۸۱ء) میں ان آیات کو متن سے بالکل خارج کر دیا گیا ہے۔

آزادیٔ صحافت کے عالمی دن کے موقع پر گوجرانوالہ میں مجلسِ مذاکراہ

ادارہ

آزادیٔ صحافت کے عالمی دن کے موقع پر ۳ مئی ۱۹۹۴ء کو مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں ورلڈ اسلامک فورم کے زیر اہتمام ایک مجلس ِمذاکرہ کا اہتمام کیا گیا جس کی صدارت علامہ محمد احمد لدھیانوی نے کی اور علماء کرام اور دانشوروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ جبکہ گفتگو میں ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا زاہد الراشدی، گورنمنٹ کالج گوجرانوالہ کے شعبہ اردو کے استاذ پروفیسر غلام رسول عدیم، روزنامہ نوائے وقت کے گوجرانوالہ بیورو کے رکن جناب محمد شفیق، اور ممتاز صنعتکار الحاج ظفر علی ڈار نے حصہ لیا۔
پروفیسر غلام رسول عدیم نے اسلامی صحافت کے موجودہ کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ دینی جرائد کا معیار بہتر بنانے کی ضرورت ہے، اور اگر دینی رسالے طباعت اور ترتیب کے ساتھ ساتھ زبان و اسلوب کے لحاظ سے بھی جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہوں تو وہ معاشرہ میں اسلامی اقدار کی ترویج میں زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دینی جرائد کے مدیران اور کارکنان کو صحافت کی باقاعدہ تربیت حاصل کرنی چاہیے اور باہمی مشاورت و مفاہمت کو بھی فروغ دینا چاہیے۔ اسی طرح دینی جرائد کو دینی ترجیحات میں عالمِ اسلام کے مسائل و مشکلات اور قومی معاملات کو اولیت دینی چاہیے۔ انہوں نے اردو صحافت کی تاریخ پر بھی روشنی ڈالی اور سر سید احمد خان، مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا محمد علی جوہر، مولانا ظفر علی خان اور حمید نظامی (رحمہم اللہ تعالیٰ) کے صحافتی کردار کا تذکرہ کیا۔
مولانا زاہد الراشدی نے کہا کہ آزادیٔ صحافت کا مغربی تصور اسلامی اصولوں سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ کیونکہ اسلام زندگی کے دیگر شعبوں کی طرح صحافت کو بھی اخلاقی اقدار کا پابند بناتا ہے اور آزادی کے گرد حدود کا ایک واضح دائرہ کھینچتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک ظالم حکمرانوں کے خلاف کلمۂ حق بلند کرنے، ظلم کے خلاف جہاد اور اجتماعی معاملات میں اپنی رائے کو آزادانہ طور پر پیش کرنے کا تعلق ہے، اسلام نے ویسٹرن سولائزیشن سے صدیوں پہلے خلافتِ راشدہ کے دور میں اس کا واضح عملی نمونہ دنیا کے سامنے پیش کر دیا تھا، اور آج بھی اسلامی دنیا کے لیے آزادیٔ رائے کے حوالے سے وہی دور مشعلِ راہ ہے۔ مگر اس کے ساتھ ہی اسلام نے اشاعت و تبلیغ پر کچھ واضح قدغنیں بھی عائد کی ہیں۔ مثلاً قرآن کریم نے کہا ہے کہ معاشرہ میں فحاشی کی اشاعت کرنے والے عذابِ الیم کے مستحق ہیں، اسی طرح قرآن کریم نے شخصی اور گھریلو احوال کے تجسس سے روکا ہے، اور اس طرح کی پابندیوں کا اطلاق دیگر شعبوں کی طرح صحافت پر بھی ہوتا ہے۔
جناب محمد شفیق نے کہا کہ دینی صحافت میں کام کرنے والے اہلِ قلم کو الگ تشخص کے ساتھ ساتھ صحافت کے قومی دھارے میں بھی شریک ہونا چاہیے اور قومی اخبارات و جرائد میں لکھنے کا رجحان پیدا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ قومی صحافت کا دائرہ بہت وسیع ہے اور اس میں ایسے اصحابِ قلم کی ضرورت ہے جن کا دینی علم پختہ ہو اور جو دینی امور پر اعتماد کے ساتھ لکھ سکتے ہوں۔
الحاج ظفر علی ڈار صاحب نے کہا کہ ہم اجتماعی زندگی کے ہر شعبے میں اخلاقی پابندیوں سے آزاد ہوتے جا رہے ہیں، اس کے اثرات صحافت پر بھی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اخلاقی اور دینی لحاظ سے آج سے بیس سال قبل جو صورت حال تھی آج وہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم دینی اور اخلاقی پابندیوں کو قبول کیے بغیر زندگی کے کسی بھی شعبہ میں اصلاح نہیں کر سکتے، اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے دین کی طرف واپسی کریں اور اس کی عائد کردہ پابندیوں کے سامنے سرتسلیم خم کر دیں۔
صدر مجلس علامہ محمد احمد لدھیانوی نے کہا کہ قرآن کریم نے خبر کی قبولیت کے لیے تحقیق کو بنیاد قرار دیا ہے اور حکم دیا ہے کہ تمہارے پاس کوئی فاسق شخص خبر لائے تو اس خبر کو پھیلانے سے پہلے تحقیق کرو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ غیر مصدقہ خبر پوری قوم کے لیے باعث وبال بن جائے۔ قرآن کریم کے بیان کردہ اس اصول کو آج کی صحافتی زندگی میں زیادہ سے زیادہ اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافت کی تعلیم و تربیت میں قرآن و سنت کے بنیادی احکام اور ابلاغِ عامہ کے بارے میں اسلامی اصولوں کو شامل کرنا آج کا ایک اہم تقاضہ ہے، کیونکہ اسلامی تعلیمات و احکام سے آگاہی حاصل کر کے ہی ایک صحافی اپنی پیشہ وارانہ زندگی میں اسلامی اصولوں کے دائرہ کو ملحوظ رکھ سکتا ہے۔ 

جولائی ۱۹۹۴ء

لاؤڈ اسپیکر اور علماء کراممولانا ابوعمار زاہد الراشدی

لاؤڈ اسپیکر اور علماء کرام

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ان دنوں پاکستان کی وفاقی حکومت کے ایک مبینہ فیصلہ کے حوالہ سے لاؤڈ اسپیکر دینی حلقوں میں پھر سے موضوع بحث ہے اور لاؤڈ اسپیکر کی آواز کو مساجد کی چار دیواری کے اندر محدود کر دینے کے فیصلہ یا تجویز کو مداخلت فی الدین قرار دے کر اس کی پرجوش مخالفت کی جا رہی ہے۔

ایک دور تھا جب لاؤڈ اسپیکر نیا نیا متعارف ہوا تو مساجد میں اس کے استعمال کے جواز و عدم جواز اور نماز میں لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے سے امام کی آواز مقتدیوں تک پہنچنے کی شرعی حیثیت کی بحث چھڑ گئی تھی۔ ایک مدت تک ہمارے فتاوٰی اور علمی مباحث میں اس کا تذکرہ ہوتا رہا۔ تب لوگوں کی خواہش تھی کہ آواز کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کی غرض سے اس مفید ایجاد سے دینی مقاصد کے لیے فائدہ اٹھایا جائے مگر علماء کرام اس میں ہچکچاہٹ محسوس کر رہے تھے۔ اب جبکہ اس مفید ایجاد کے بے تحاشا اور زائد از ضرورت استعمال نے اس کے منفی پہلو کو اجاگر کیا ہے اور اس کے استعمال کو محدود کرنے کی خواہش عام لوگوں میں ابھر رہی ہے تو علماء کرام کا ایک طبقہ اس کے لیے ذہنی طور پر تیار نہیں ہے۔ یہ ایک ایسی صورتحال ہے جس نے اہل فکر و دانش کو الجھن اور پریشانی سے دوچار کر رکھا ہے جبکہ اپنے دلوں میں علماء کرام کے لیے احترام اور عقیدت کا جذبہ رکھنے والے لوگ بھی اس طرز عمل پر خود کو مطمئن نہیں پا رہے۔

جہاں تک لاؤڈ اسپیکر کا تعلق ہے یہ محض ایک آلہ ہے جو ایک شخص کی آواز کو لوگوں کی ایک بڑی تعداد تک پہنچانے کا کام دیتا ہے۔ اس کا دین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جب یہ آلہ موجود نہیں تھا دین اس وقت بھی موجود تھا اور اب جبکہ اس سے زیادہ مفید اور موثر آلات کے استعمال میں آنے سے اس کی پہلے والی اہمیت باقی نہیں رہی، دین تب بھی قائم ہے۔ اس لیے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کے مسئلہ کو دین کا سوال بنانے کی بجائے اس کی افادیت اور نقصانات کے حوالہ سے دیکھنا ہی دانشمندی کا تقاضا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ لاؤڈ اسپیکر کے بے تحاشا استعمال نے عام آدمی کی پریشانی میں اضافہ کیا ہے۔ ایک ایک محلہ میں تین تین چار چار مساجد میں انتہائی طاقتور قسم کے لاؤڈ اسپیکرز کے بیک وقت استعمال سے اہل محلہ کے کانوں اور دماغوں میں شور و غل کی جو دھماچوکڑی مچتی ہے وہ یقیناً دین، مسجد اور علماء کے ساتھ ان کے تعلق میں اضافہ کا باعث نہیں بنتی اور دینی نقطۂ نظر سے اس کا نتیجہ نقصان کے سوا کچھ برآمد نہیں ہوتا۔ پھر شرعی نقطۂ نظر سے بیمار لوگوں، مطالعہ کرنے والوں، آرام کرنے والوں، اور آپس میں ضروری گفتگو کرنے والوں کے معاملات میں یہ بلند آہنگ خلل اندازی بجائے خود توجہ طلب ہے۔ لاؤڈ اسپیکر کی آواز کو محدود کرنے کی تجویز کی دین کے نام پر مخالفت کا ہمیں کوئی جواز نظر نہیں آتا۔ بلکہ ایک لحاظ سے یہ ذمہ داری خود علماء کرام پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اس مسئلہ کے شرعی و اخلاقی تقاضوں اور مفاد عامہ کو سامنے رکھتے ہوئے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال اور اس کی آواز کے دائرہ کے لیے حدود کا تعین کریں اور اس پر عمل درآمد کا اہتمام کریں۔

چنانچہ ہم لاؤڈ اسپیکر کی آواز کو مسجد کی چار دیواری میں محدود کر دینے کی تجویز کی حمایت کرتے ہیں اور اس کے ساتھ یہ اضافہ بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ اس کار خیر کو صرف مسجد تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ بازاروں، سینماؤں، شادی بیاہ کی تقریبات، ٹیپ ریکارڈنگ کی دکانوں اور دیگر تمام مقامات پر لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کو ممنوع قرار دیا جائے تاکہ عام شہری لاؤڈ اسپیکر کے ضرورت سے زیادہ استعمال سے پیدا ہونے والے شوروغل سے نجات حاصل کر سکیں۔


اگست ۱۹۹۴ء

ستمبر ۱۹۹۴ء

اکتوبر ۱۹۹۴ء

نومبر ۱۹۹۴ء

دسمبر ۱۹۹۴ء