1990

جنوری ۱۹۹۰ء

جہادِ افغانستان کے خلاف امریکی سازشمولانا ابوعمار زاہد الراشدی
انکارِ حدیث کا عظیم فتنہشیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر
قرآنِ کریم نے موجودہ بائبل کی تصدیق نہیں کیحافظ محمد عمار خان ناصر
عورت کی حکمرانی کی شرعی حیثیتمولانا ابوعمار زاہد الراشدی
اسلام میں خواتین کی ذمہ داریاں اور حقوقمولانا قاری محمد طیبؒ
آپ نے پوچھاادارہ
تعارف و تبصرہادارہ
شرعی سزاؤں کا فلسفہحضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ
کمیونزم نہیں، اسلامحضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ

جہادِ افغانستان کے خلاف امریکی سازش

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

امریکی سینیٹر مسٹر سٹیفن سولارز ان دنوں پاکستان آئے ہوئے ہیں اور اپنے ساتھ افغانستان کے مسئلہ پر ایک فارمولا لائے ہیں جس کا بنیادی نکتہ افغانستان کے سابق بادشاہ ظاہر شاہ کو افغانستان میں کوئی کردار سونپنا بیان کیا جاتا ہے۔ سٹیفن سولارز وہی صاحب ہیں جو امریکہ کی رائے عامہ کو پاکستان اور اسلامی قوتوں کے خلاف منظم کرنے کی مہم کے سرخیل بنے ہوئے ہیں۔ انہیں پاکستان میں بالخصوص اسلامی قوتوں کے آگے آنے اور اسلامی قوانین کے نفاذ و غلبہ سے چڑ ہے اور وہ افغانستان میں مجاہدین کی حکومت کو ہر قیمت پر روکنے کی سازش کا ایک اہم کردار ہیں۔

افغانستان میں اس وقت امریکہ اور روس میں اس بات پر کشمکش جاری ہے کہ روس اپنے نجیب اللہ کو کابل کے اقتدار پر مسلط رکھنا چاہتا ہے جبکہ امریکہ ظاہر شاہ کی شکل میں اپنا نجیب اللہ مسلط کرنے کی کوشش میں ہے۔ لیکن افغان مجاہدین کے لیے، جو افغانستان کو ایک خالص اسلامی نظریاتی ریاست بنانے اور مکمل شرعی نظام نافذ کرنے کے لیے مسلسل قربانیاں دے رہے ہیں، یہ دونوں ناقابل قبول ہیں اور وہ ان دونوں کو مسترد کرتے ہوئے مکمل کامیابی کے حصول تک جہاد جاری رکھنے کا عزم کیے ہوئے ہیں۔

افغان مجاہدین یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں روسی اثر و نفوذ کا دروازہ ظاہر شاہ نے ہی اپنے اقتدار میں کھولا تھا اور ایسی پالیسیوں کا آغاز کیا تھا جو بالآخر افغانستان پر روسی افواج کے تسلط پر منتج ہوئیں۔ اور جب افغان عوام مسلسل گیارہ سال تک روسی افواج کی جارحیت کے خلاف لاکھوں جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے تھے، ظاہر شاہ نے عسکری، سیاسی یا سفارتی کسی محاذ پر کوئی رول ادا کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی، اس لیے ظاہر شاہ کو نئی صورتحال میں کوئی کردار سونپنا افغان عوام کی قربانیوں کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے جسے کسی صورت میں قبول نہیں کیا جا سکتا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ افغان مجاہدین کا یہ موقف حقیقت پسندانہ ہے اور ایک غیرت مند قوم کے شایانِ شان بھی ہے۔ اس لیے دنیا بھر کی باغیرت اور حریت پسند اقوام کو اس موقف کی بھرپور حمایت کرنی چاہیے۔

انکارِ حدیث کا عظیم فتنہ

شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر

مذہبی لحاظ سے سطحِ ارض پر اگرچہ بے شمار فتنے رونما ہو چکے ہیں، اب بھی موجود ہیں اور تا قیامت باقی رہیں گے لیکن فتنۂ انکارِ حدیث اپنی نوعیت کا واحد فتنہ ہے۔ باقی فتنوں سے تو شجرِ اسلام کے برگ و بار کو ہی نقصان پہنچتا ہے لیکن اس فتنہ سے شجرِ اسلام کی جڑیں کھوکھلی ہو جاتی ہیں اور اسلام کا کوئی بدیہی سے بدیہی مسئلہ بھی ثابت نہیں ہو سکتا۔ اس عظیم فتنہ کے دست برد سے عقائد و اعمال، اخلاق و معاملات، معیشت و معاشرت اور دنیا و آخرت کا کوئی اہم مسئلہ بھی محفوظ نہیں رہ سکتا حتٰی کہ قرآن کریم کی تفسیر اور تشریح بھی کچھ کی کچھ ہو کر رہ گئی ہے اور اس فتنہ نے اسلام کی بساطِ کن الٹ کر رکھ دی ہے جس سے اسلام کا نقشہ ہی بدل چکا ہے، سچ ہے
ستم کیشی کو تیری کوئی پہنچا ہے نہ پہنچے گا
اگرچہ ہو چکے ہیں تجھ سے پہلے فتنہ گر لاکھوں
نزولِ وحی کے زمانہ سے لے کر تقریباً‌ پہلی صدی تک صحیح احادیث کو بغیر کسی تفصیل کے متفقہ طور پر حجت سمجھا جاتا تھا اور حسبِ مراتب عقائد و اعمال اور اخلاق و معاملات وغیرہا میں قرآن کریم کے بعد احادیثِ صحیحہ سے بلاچون چرا استدلال و احتجاج درست سمجھا جاتا تھا اور احادیث کو دینی حیثیت سے پیش کیا جاتا تھا۔ حتٰی کہ بعض فتنہ گھر اور خواہش زدہ فرقے ظاہر ہوئے جن میں پیش پیش معتزلہ تھے جن کا پیشواءِ اول واصل بن عطاء المتولد ۸۰ھ تھا جن کے نزدیک دلائل و براہین کی مد میں ایک سب سے بڑا معیار و مقیاس عقل بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے راحتِ قبر و عذابِ قبر، حشر نشر کے بعض حقائق، رؤیت باری تعالیٰ، شفاعت، صراط و میزان اور جنت و دوزخ وغیرہ وغیرہ کے بہت سے حقائقِ ثابتہ اور کیفیات کو اپنی عقلِ نارسا کی زنجیروں میں جکڑ کر اپنی خام عقل کی ترازو سے تولنا چاہا اور راہِ راست سے بھٹک کر ورطۂ ضلالت میں اوندھے منہ گر پڑے اور اس سلسلہ میں داروشدہ تمام احادیث کو ناقابلِ اعتبار قرار دے کر یوں گلوخلاصی کی ناکام اور بے جا سعی کی، اور جن کا آسانی سے انکار نہ کر سکے ان کی نہایت ہی لچر اور رکیک تاویلات شروع کر دیں تاآنکہ بعض قرآنی حقائق اور نصوصِ قطعیہ بھی ان کی دوراَزکار اور لاطائلِ تاویلات سے محفوظ نہ رہ سکے جو بزبان حال ان کی اس تحریف کی وجہ سے ان پر لعنت کا تحفہ بھیجتے ہیں۔
معتزلہ اور ان کے بہی خواہوں کے علاوہ باقی سب اسلامی (یا منسوب بہ اسلام) فرقے صحیح احادیث کو برابر حجت تسلیم کرتے رہے ہیں۔ چنانچہ مشہور محدث حافظ ابن حزمؒ (المتوفی ۴۵۶ھ) تحریر فرماتے ہیں کہ اہل سنت، خوارج، شیعہ اور قدریہ تمام فرقے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ان احادیث کو جو ثقہ راویوں سے منقول ہوں، برابر حجت تسلیم کرتے رہے۔ یہاں تک کہ پہلی صدی کے بعد متکلمین معتزلہ آئے اور انہوں نے اس اجماع کے خلاف کیا (الاحکام ج ۱ ص ۱۱۴ لابن حزمؒ)۔ اس کے بعد یہ مہلک فتنہ رفتہ رفتہ اپنا نطاق اور حلقہ وسیع کرتا چلا گیا اور بہت سے بندگانِ خواہشات و ہواء اس فتنہ کے دام ہم رنگ زمین میں الجھ کر رہ گئے اور یوں اپنی عاقبت برباد کر دی۔ نعوذ باللہ من سوء العاقبۃ۔
کتابی شکل میں اس فتنہ کی خبر سب سے پہلے مقتداء اہلسنت حضرت امام شافعیؒ (المتوفی ۲۰۴ھ) نے اپنے رسالہ اصولِ فقہ میں لی ہے جو ان کی مشہور کتاب ’’الاُم‘ کی ساتویں جلد کے ساتھ منضم اور بہت مفید اور مدلدل رسالہ ہے۔
حضرت امام احمد بن حنبلؒ (المتوفی ۲۴۱ھ) نے بھی اطاعتِ رسول کے اثبات میں ایک مستقل کتاب لکھی اور قرآن و حدیث سے مخالفین کی خوب معقول تردید کی ہے، جس کا کچھ حصہ حافظ ابن القیمؒ (المتوفی ۷۵۱ھ) نے اپنی تالیف اعلام الموقعین (جلد ۲ ص ۲۱۷) میں نقل کیا ہے۔ 
علماء اہل مغرب میں سے شیخ الاسلام ابوعمر ابن عبد البرؒ (المتوفی ۴۶۳ھ) نے اپنی شہرہ آفاق کتاب ’’جامع بیان العلم وفضلہ‘‘ میں اس فرقے کے بعض باطل اور حیاسوز نظریات کی دھجیاں فضائے آسمانی میں بکھیری ہیں۔ ایسے ہی بعض بدباطن اور رایفین سے امام حاکمؒ (المتوفی ۴۰۵ھ) کو بھی سابقہ پڑا تھا جن کی شکایت انہوں نے ’’مستدرک‘‘ ج ۱ ص ۳ میں کی ہے کہ وہ رواتِ حدیث پر سبّ و شتم کرتے اور ان کو موردِ طعن قرار دیتے ہیں۔ اور علامہ ابن حزمؒ نے ’’الاحکام‘‘ میں اس باطل گروہ کے کاسد خیالات کے بخیئے ادھیڑے ہیں اور ٹھوس عقلی اور نقلی دلائل سے ان کا خوب رد کیا ہے۔ اور امام غزالیؒ (المتوفی ۵۰۵ھ) نے اپنی معروف تصنیف ’’المستصفٰی‘‘ میں اس گمراہ طائفے کے مزعومہ دلائل کے تاروپود بکھیر کر رکھ دیے اور عقلی دلائل کے بے پناہ سیلاب میں اس گمراہ کن ٹولہ کے خودساختہ براہین کو خس و خاشاک کی طرح بہا دیا ہے۔ حافظ محمد بن ابراہیم وزیریمانیؒ المتوفی (۸۴۰ھ) نے اس حزب باطل کی تردید میں اپنی انوکھی تالیف ’’المروض الباسم‘‘ میں کافی وزنی اور ٹھوس دلائل پیش کیے ہیں۔ اور حضرت امام سیوطیؒ (المتوفی ۹۱۱ھ) نے بھی اس ناپاک فرقہ کی ’’مفتاح الجنۃ فی الاحتجاج بالسنۃ‘‘ میں خوب تردید کی ہے اور دینِ قویم کی حفاظت کا حق ادا کیا ہے۔
ان کے علاوہ بھی متعدد علمائے حق نے حدیث کے حجیّت ہونے اور نہ ہونے کے مثبت اور منفی پہلو پر سیر حاصل بحث کی ہے اور اس باطل اور گمراہ کن نظریہ کی کہ ’’حدیث حجیّت نہیں ہے‘‘ اچھی خاصی تردید کی ہے اور معقول و مبنی بر انصاف دلائل کے ساتھ حق اور اہلِ حق کی طرف سے مدافعت کی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہر دور میں باطل کے مقابلہ میں حق تعالیٰ نے کچھ ایسے نفوسِ قدسیہ پیدا کئے ہیں جن کی علمی و عملی، اخلاقی و روحانی زندگی حق پسند لوگوں کے لیے مشعلِ راہ اور مخالفین کے باطل خیالات کے لیے سدّسکندری بنتی رہی ہے جن کے قلموں اور زبانوں نے تلواروں اور نیزوں کی طرح باطل پرستوں کے پیش کردہ دلائل کو مجروح کر کے رکھ دیا ہے اور قبائے باطل کے ایسے بخیئے ادھیڑے ہیں کہ تمام ’’رفوگر‘‘ مل کر بھی ان کو جوڑنے سے رہے۔ سچ ہے ’’لِکُلِّ فِرْعَوْنٍ مُوْسٰی‘‘۔ علامہ اقبال کی زبان سے
شعلہ بن کے پھونک دے خاشاک غیر اللہ کی
خوفِ باطل کیا کہ ہے غارت گرِ باطل بھی تو

قرآنِ کریم نے موجودہ بائبل کی تصدیق نہیں کی

حافظ محمد عمار خان ناصر

قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو سراسر سچائی اور حقانیت پر مبنی ہے اور دنیا کے کسی بھی مذہب اور گروہ کے حقیقت پسند افراد کے لیے قرآن کریم کے بیان کردہ حقائق سے انکار ممکن نہیں ہے۔ قرآن کریم سے قبل بھی مختلف انبیاء کرام علیہم السلام پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کتابیں نازل ہوئی ہیں جن میں بڑی اور مشہور تین ہیں: تورات، زبور اور انجیل۔ یہ کتابیں بھی قرآن کریم کی طرح سچی تھیں لیکن آج اپنی اصل صورت میں نہیں پائی جاتیں کیونکہ ان کے ماننے والوں نے ان میں لفظی و معنوی تحریف کر کے ان کی شکل و صورت کو بگاڑ دیا اور آج ان کے نام پر جعلی اور فرضی کتابیں عیسائیوں کے پاس ’’بائبل‘‘ کے نام سے موجود ہیں۔
ان کتابوں کے ضمن میں ہمارا یہ عقیدہ اور ایمان ہے کہ یہ سب کتابیں خدا تعالیٰ کی طرف سے سچے پیغمبروں پر نازل ہوئی تھیں اور ان میں بیان کردہ امور حقیقت اور سچائی سے عبارت تھے لیکن آج ان میں تحریف ہو چکی ہے اور وہ بعینہٖ محفوظ نہیں رہیں۔ علاوہ ازیں قرآن کریم کے نزول کے ساتھ ہی ان کتابوں کے احکام منسوخ ہو چکے ہیں اور قابلِ عمل نہیں رہے۔ قرآن کریم نے اسی معنی میں ان کتابوں کی تصدیق کی ہے لیکن بعض مسیحی علماء قرآن پاک کی طرف سے کتب سابقہ کی تصدیق کو غلط معنی پہنا کر موجودہ بائبل کو صحیح اور قرآن کریم کی تصدیق شدہ ثابت کرنے کی ناکام کوششوں میں مصروف ہیں۔ چنانچہ مسیحی پادری صاحبان کے اس گینگ کے معروف سرغنہ ڈاکٹر کے ایل ناصر نے اپنی کتاب ’’تصدیق الکتاب‘‘ میں جہاں مرزا ناصر احمد کے چیلنج کا جواب دیا ہے وہاں اس مسئلہ پر بھی سعیٔ لاحاصل کی ہے اور قرآن کریم کی آیات کی خودساختہ تعبیر و تشریح کی ہے، جبکہ اس غیر دیانتدارانہ روش کو خود مسیحی علماء نے بھی ناپسند کیا ہے۔
چنانچہ پادری ناصر صاحب کے ایک ہم نوا وکلف اے سنگھ صاحب رقم طراز ہیں:
’’تبلیغِ دین یہ نہیں ہے کہ دوسروں کے مسلّمات و عقاید یا کتب مقدسہ کی بلاتحقیق من مانی تفسیر کی جائے بلکہ یہ کہ اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کی جائیں۔ بے شک اپنے مذہب کی صداقت و تائید کے لیے دیگر کتب سماوی سے حوالے دینا جائز تو ہے لیکن درست تفسیر اور درست نیت کے ساتھ یہی مذہب کا مقصد ہے اور یہی تبلیغِ دین۔‘‘ (رسالہ ’’فارقلیط ص ۷)
اس عبارت میں وکلف صاحب نے وہ جاندار اصول بیان کیا ہے جس پر پادری صاحبان عمل پیرا نہیں ہو سکتے اور یہی رویہ کے ایل ناصر نے اپنی مذکورہ کتاب میں اپنایا ہے جیسا کہ آگے چل کر معلوم ہو گا۔ ہم ان کے پیش کردہ دلائل میں سے بعض ضروری دلیلوں کا جائزہ لینے سے قبل مندرجہ ذیل امور کی وضاحت ضروری سمجھتے ہیں:

امرِ اول

عیسائیوں میں دو فرقے مشہور ہیں: (۱) کیتھولک (۲) پروٹسٹنٹ۔اسی طرح یہودیوں میں ایک فرقہ اپنے مخصوص اعمال و عقائد کی وجہ سے معروف ہے یعنی فرقہ ’’سامریہ‘‘۔ پروٹسٹنٹ فرقہ اور عام یہودیوں کی بائبل ایک ہے اگرچہ تقسیم میں اختلاف ہے۔ اور کیتھولک بائبل میں سات کتابیں زائد ہیں جبکہ فرقہ سامریہ کی بائبل میں صرف سات کتابیں ہیں۔ یاد رہے کہ یہودی بائبل کے عہدنامہ جدید کو الہامی نہیں مانتے کیونکہ حضرت عیسٰیؑ کی نبوت کا انکارکرتے ہیں۔
اس وضاحت سے معلوم ہو جاتا ہے کہ بائبل اس وقت تین مختلف شکلوں میں موجود ہے۔ اب یہ پادری صاحب ہی جانتے ہوں گے کہ نبی کریمؐ کے زمانے میں کونسی بائبل موجود تھی، قرآن نے کس کی تصدیق کی؟ واضح رہے کہ پادری صاحب کیتھولک بائبل میں موجود سات زائد کتابوں کے الہام کے قائل نہیں ہیں اور فرقہ سامریہ باقی یہود کی بائبل کی تحریف مانتا ہے۔ (بحوالہ الملل والنحل لابن حزم الظاہریؒ)

امرِ دوم

اہلِ کتاب اور اہلِ اسلام کے درمیان اصول تنزیل میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ قرآن پاک کے مطابق تورات اسلام سے تختیوں پر لکھی لکھائی حضرت موسٰیؑ کو کوہِ طور پر ملی۔ انجیل کے بارے میں گو قرآن میں اس قسم کی تصریح نہیں ہے کہ وہ کس صورت میں ان کو ملی البتہ انجیل کے یکبارگی نازل ہونا قرآن سے معلوم ہوتا ہے جبکہ عیسائیوں کے نزدیک یہ اصول معتبر نہیں ہے۔ اسی بات کی وضاحت میں پادری برکت اے خان رقم طراز ہیں:
’’مسیحیوں کا ہرگز یہ عقیدہ نہیں ہے کہ آسمان پر سے لکھی ہوئی توریت کی کتاب، زبور کی کتاب، صحائف الانبیاء اور انجیل مقدس نازل ہوئی تھیں۔‘‘ (اصول تنزیل الکتاب ص ۹)
اور پادری طالب شاہ آبادی ’’سرچشمۂ قرآن‘‘ میں لکھتے ہیں کہ
’’ہم مسیحی کلامِ الٰہی کے کسی خاص زبان میں بصورت کتاب آسمان سے نازل ہونے کے قائل نہیں ہیں۔‘‘ (بحوالہ سہ ماہی ’’ہما‘‘ لکھنو ۔ ص ۴ ۔ اکتوبر دسمبر ۱۹۶۷ء)
اور وکلف اے سنگھ صاحب فرماتے ہیں کہ
’’دراصل حضور المسیح پر کوئی انجیل ہی نازل نہیں ہوئی جیسا کہ اہل اسلام میں مشہور ہے۔‘‘ (رسالہ ’’غلط فہمیاں‘‘ ص ۳۰)
مسیحی علماء کے ان اقوال سے واضح ہو چکا ہے کہ عیسائی تورات کے بارہ میں قرآن کے اصولِ تنزیل کو تسلیم نہیں کرتے۔ اب پادری ناصر صاحب بتلائیں کہ کیا انہوں نے یہ مان لیا ہے کہ ان کے پاس جو تورات ہے وہ وہی ہے جس کی تصدیق قرآن نے کی ہے؟ 

امرِ سوم

قرآن پاک اور موجودہ بائبل کے درمیان واقعات و عقائد اور بہت سے امور میں اختلاف ہے مثلاً‌:
(۱) قرآن کریم کی رو سے آدم علیہ السلام کو ان کی زلّت (لغزش) پر ان کی حیات میں ہی معافی مل گئی تھی جبکہ بائبل کہتی ہے کہ یہ گناہ اس وقت دھلا جب عیسٰیؑ المسیح نے سولی پر جان دے دی۔ 
(۲) قرآن مجید کے نزدیک حضرت موسٰیؑ سے قتل کا فعل عمدً‌ا صادر نہیں ہوا تھا جبکہ بائبل کہتی ہے کہ انہوں نے پہلے ادھر ادھر چیک کیا کہ کوئی اور تو نہیں ہے اس کے بعد اس کو قتل کر کے ریت میں چھپا دیا۔
(۳) قرآن پاک میں نص صریح ہے کہ حضرت عیسٰیؑ مصلوب یا مقتول نہیں ہوئے جبکہ چاروں اناجیل کے آخر میں ’’واقعہ تصلیب‘‘ مذکور ہے۔ اس لحاظ سے قرآن پاک کو بائبل کا مصدق نہیں ہونا چاہیئے، حالانکہ پادری صاحب ابھی تک اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں۔

امرِ چہارم

قرآن حکیم کی تعلیم سراسر اخلاقی ہے اور بے حیائی اور گندگی سے بالکلیۃ محفوظ ہے۔ نہ تو اس میں انبیاء علیہم السلام کے کردار پر کوئی کیچڑ اچھالا گیا ہے اور نہ خدا تعالیٰ کے بارے میں ناقابلِ قبول اور رذیل تصور دیا گیا ہے۔ اس کے برعکس بائبل اس قسم کے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ یہاں ہم نمونے کے طور پر چند واقعات کے حوالجات تحریر کرتے ہیں:
  • حضرت نوح ؑ کا شراب پی کر ڈیرے میں برہنہ ہونا۔ (پیدائش ۹ : ۲۰، ۲۱)
  • حضرت لوط ؑ کا اپنی دو بیٹیوں سے زنا کرنا۔ (پیدائش ۱۹ : ۳۱ تا ۳۸)
  • حضرت داؤدؑ کا اپنی پڑوسن سے زنا کرنا۔ (۲ ۔ سموئیل ۱۱ : ۲ تا ۵۲)
  • حضرت سلیمانؑ کی بت پرستی۔ (۱۔ سلاطین ۱۱ : ۱ تا ۶)
  • حضرت ہوسیعؑ کا خدا کے حکم سے ایک کنجری سے جماع کرنا۔ (ہوسیع ۱ : ۲، ۳)
  • حضرت سمسونؑ کا اجنبی شہر میں ایک کسبی کے ساتھ شب باشی کرنا۔ (قضاۃ ۱۶ : ۱، ۲)
  • حضرت یعقوبؑ کے لڑکے یہودا کا اپنی بہو سے زنا کرنا۔ (پیدائش ۳۸ : ۱۵ تا ۱۸)
  • خدا کا ملول ہونا۔ (پیدائش ۶ : ۶)
  • خدا کا کشتی میں ہار جانا۔ (پیدائش ۳۲ : ۲۳ تا ۳۲)
  • خدا کا میدانِ جنگ میں شکست کھانا۔ (قضاۃ ۱ : ۱۹)
  • خدا کا کرایہ پر استرا لے کر داڑھی مونڈنا۔ (یسعیاہ ۷ : ۲۰)
  • خدا کا لڑکی کو پالنا اور اس پر عاشق ہونا۔ (حزقی ایل ۱۶ : ۱ تا ۴)
  • خدا کی دو بدکار عورتوں سے یاری۔ (حزقی ایل ۲۳ : ۱ تا ۲۱)
  • خدا کی کمزوری و بیوقوفی (کرنتھیوں ۱ : ۲۵)

یہ تمام حوالہ جات بائیبل کے تقدس کے ڈھول کا پول کھول کر رکھ دیتے ہیں۔ تو گویا پادری ناصر نے یہ دعوٰی کر کے کہ قرآن کریم بائبل کا مصدق ہے قرآن پاک پر صریح بہتان لگایا ہے۔

امرِ پنجم

قرآن پاک کے بارے میں ہمارا عقیدہ ہے کہ یہ لفظ بہ لفظ صحیح اور اصلی حالت میں بغیر کسی تغیر و تبدل کے ہم تک پہنچا ہے اور اس کی کوئی سورت یا آیت یا کوئی لفظ یا حرف ضائع نہیں ہوا۔ اس کے برعکس بائبل میں مختلف مقامات پر چند ایسی کتابوں کا ذکر ملتا ہے جو گم شدہ ہیں اور آج نہیں پائی جاتیں۔ یہاں پر ان کی کتابوں کی فہرست دی جاتی ہے۔

(۱) کتاب عہد نامہ موسٰیؑ (خروج ۲۴ : ۷)

(۲) کتاب جنگ نامہ موسٰیؑ (گنتی ۲۱ : ۱۴)

(۳) کتاب السییر (۲۔ سموئیل ۱ : ۱۸ ۔ ویشوع ۱۰ : ۱۳)

(۴) کتاب یاحو پیغمبر بن ضانی (۲۔ تواریخ ۲۰ : ۳۴)

(۵) کتاب شمعیاہ نبی (۲۔ تواریخ ۱۲ : ۱۵)

(۶) کتاب اخیاہ نبی (۲۔ تواریخ ۹ : ۲۹)

(۷) کتاب ناتن نبی (۲۔ تواریخ ۹ : ۲۹)

(۸) کتاب مشاہدات عید و غیب بینی (۲۔ تواریخ ۹ : ۲۹)

(۹) کتاب اعمال سلیمانؑ (۱۔ سلاطین ۱۱ : ۴۱)

(۱۰) کتاب مشاہدات یسعیاہ (۲۔ تواریخ ۳۲ : ۳۲)

(۱۱) کتاب اشعیاء بن عاموس (۲۔ تواریخ ۲۶ : ۲۲)

(۱۲) سموئیل نبی کی تاریخ (۱۔ تواریخ ۲۹ : ۲۹، ۳۰)

(۱۳) سلیمانؑ کی زبور (۱۔ سلاطین ۴ : ۳۲، ۳۳)

(۱۴) کتاب خواص نباتات و حیوانات سلیمانؑ کی (۱۔ سلاطین ۴ : ۳۲)

(۱۵) کتاب اقبال سلیمان (۱۔ سلاطین ۴ : ۳۲)

(۱۶) جادو غیب بین کی تاریخ (۱۔ تواریخ ۲۹ : ۲۹)

(۱۷) مرثیہ ہرسیاہ (۲۔ تواریخ ۳۵ : ۲۵)

(ماخوذ از ’’نوید جاوید‘‘ ص ۱۳۷ و ۱۳۸)

ہم پادری صاحب سے یہ پوچھنے کا حق ضرور رکھتے ہیں کہ یہ کتابیں کہاں گئیں اور کیوں گم ہوئیں اور نبی کریمؐ کے زمانے میں یہ بھی مروّج تھیں یا نہیں؟ اور کیا قرآن پاک نے ان کی تصدیق بھی کی ہے یا نہیں؟ چنانچہ وہ فرماتے ہیں کہ

(۱) یقرؤن الکتٰب من قبلک۔ (یونس ۹۴)۔ ترجمہ: ’’پڑھتے ہیں کتاب تجھ سے پہلے والی‘‘۔ میں الکتاب سے مراد (پوری) بائبل ہے اور اس سے موجودہ بائبل کی آنحضرت[ کے زمانے میں موجودگی کا پتہ چلتا ہے کیونکہ قراءت موجودہ و حاضر کتاب کی ہوتی ہے۔ (ملخصًا)

اس آیت میں ’’الکتاب‘‘ سے مراد پادری صاحب نے جو بائبل یعنی توریت، صحائف، زبور، اناجیل اور خطوط وغیرہ لیا ہے وہ غلط ہے، آیت کے سیاق و سباق سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہاں الکتاب سے مراد صرف توریت ہے نہ کہ ساری بائبل۔

(۲) کے ایل ناصر صاحب نے قرآن کریم کی آیت ’’من اھل الکتاب امۃ قائمۃ یتلون آیات اللہ‘‘ کو نقل کر کے ’’آیات اللہ‘‘ سے مراد بائبل لیا ہے اور کہا ہے کہ ’’امۃ قائمۃ‘‘ سے مراد وہ لوگ ہیں جو مراقبہ میں قابلِ نمونہ تھے۔ جبکہ اس آیت میں آیات اللہ سے مراد قرآن پاک ہے اور امۃ قائمۃ ایمان لانے والے اہلِ کتاب کو کہا گیا ہے، اور پادری صاحب نے حسبِ عادت تحریفِ معنوی کرتے ہوئے اس آیت کی غلط تفسیر کی ہے۔

(۳) سورہ نساء کی آیت ’’اٰمنوا باللہ ورسولہ والکتٰب الذی نزل علٰی رسولہ والکتٰب الذی انزل من قبل‘‘ کو نقل کر کے کہتے ہیں کہ بائبل پر ایمان لانا ضروری ہے اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ بائبل کتنی ضروری ہے۔ لیکن پادری صاحب نے غور نہ کیا کہ یہاں ’’الکتٰب‘‘ سے مراد اگرچہ تمام انبیاء کی کتابیں ہیں لیکن نزول کا لفظ بھی ساتھ مذکور ہے جس سے اہلِ اسلام کا وہ عقیدہ ظاہر ہوتا ہے جس کا پادری برکت صاحب نے سختی سے انکار کیا ہے یعنی توریت کا لکھی لکھائی خاص زبان میں نزول۔

(۴) سورہ مائدہ کی آیت ۶۸ یوں ہے ’’یا اھل الکتٰب لستم علٰی شیء حتٰی تقیموا التورٰۃ والانجیل‘‘ اس آیت کی وجہ سے پادری صاحب کا یہ استدلال باطل ہو جاتا ہے کہ ’’الکتٰب‘‘ سے مراد قرآن پاک میں بائبل ہے کیونکہ یہاں اہلِ کتاب کے مقابلے میں تورات اور انجیل کا لفظ لایا گیا ہے یعنی کتاب سے مراد توریت و انجیل ہے نہ کہ موجودہ بائبل، اور انجیل بھی وہ جو ایک تھی نہ کہ چار مختلف انجیلیں۔

یہ وہ آیات تھیں جن سے پادری صاحب نے بائیبل کا حضور[ کے زمانہ میں موجود و مروّج ہونا ثابت کیا ہے اور آپ نے دیکھا کہ انہوں نے بعض آیات کی تفسیر میں فاش غلطیاں کیں۔ ان کے علاوہ بھی انہوں نے متعدد آیات نقل کی ہیں۔ قرآنی آیات کو نقل کرنے کے بعد انہوں نے چند احادیث نقل کی ہیں جن سے انہوں نے بائیبل کا آنحضرتؐ کے زمانے میں موجود ہونا ثابت کیا ہے، آئیے ذرا ان پر بھی نظر ڈال لی جائے۔

پادری صاحب موصوف نے مشکٰوۃ شریف کے حوالہ سے صحیح بخاری کی ایک روایت نقل کی ہے جس میں ہے کہ اہل کتاب تورات کو عبرانی میں پڑھتے اور عربی میں اس کی تفسیر کرتے تھے۔

ہمارے نزدیک اس آیت سے موجودہ بائبل کا اس زمانے میں وجود کا استدلال کرنا جہالت ہے اور پادری صاحب خود بھی اس کتاب کے ص ۴۲ پر یہ تفسیر فرما چکے ہیں کہ تورات سے مراد پانچ صحیفے ہیں یعنی پیدائش، خروج، احبار، گنتی اور استثناء اور مسیحیوں کے نزدیک ان پانچ صحائف کو بائبل نہیں کہا جاتا۔ اسی طرح مشکٰوۃ ہی میں یہ روایت ہے کہ حضورؐ نے یہود و نصارٰی کے تورات و انجیل کے پڑھنے کی طرف اشارہ کیا ہے، اور دوسری حدیث یہ ہے کہ حضرت عمرؓ نے آنحضرتؐ کے سامنے تورات پڑھی تو حضورؐ ناراض ہوئے۔ جبکہ پادری صاحب ان احادیث سے جن میں توراۃ کا لفظ ہے یہ استدلال کر رہے ہیں کہ عبرانی بائبل اور عربی بائبل ہی موجود تھی۔ اور اسی طرح تورات سے مراد بائبل لیتے ہوئے انہوں نے چند آیات نقل کی ہیں جن میں خدا کی جانب حضرت موسٰیؑ کو کتاب دینے اور ان پر نازل کرنے کا ذکر ہے۔ اسی طرح وہ آیات بھی ذکر کی ہیں جن میں زبور اور انجیل کے بارے میں اتارنے اور انبیاء کو دینے کا تذکرہ ہے۔ الغرض پادری صاحب کی یہ کتاب غلطیوں اور خرافات کا مجموعہ ہے۔ کتاب کے ص ۵۱ تک تو قرآنی آیات کے بیان اور ان کی من مانی تفسیر کا سلسلہ جاری ہے جبکہ اس سے آگے انہوں نے چند روایات و اقوال کو نقل کر کے اپنے زعم میں چونکا دینے کی کوشش کی ہے۔

امام رازیؒ کی تفسیر کبیر اور امام سیوطیؒ کی تفسیر درمنشور سے انہوں نے چند روایات کو نقل کیا ہے جن میں صراحت ہے کہ توریت و انجیل کے حروف و الفاظ بدلے نہیں گئے۔ یہ بھی پادری صاحب کی مغالطہ نوازی ہے کیونکہ مفسرین کسی آیت کی تفسیر میں جو کچھ نقل کرتے ہیں وہ سب ان کے نزدیک صحیح نہیں ہوتا۔ مفسرین کا اسلوب یہ ہے کہ وہ کسی آیت کے ضمن میں جتنے اقوال ان کے علم میں ہوتے ہیں وہ سب نقل کر دیتے ہیں جو بعض اوقات متضاد بھی ہوتے ہیں۔ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کسی مفسر نے جو بات کسی آیت کی تفسیر میں نقل کی ہے وہ اس کے نزدیک صحیح بھی ہے۔ چنانچہ جناب محمد اسلم رانا اس کی وضاحت میں یوں لکھتے ہیں:

’’قرآن کریم کے قدیم مفسرین کسی مسئلہ پر لکھتے وقت موافق و مخالف دونوں اقسام کے اقوال بلا کم و کاست بیان کر دیتے تھے۔ وہ جس نظریہ کو درست سمجھتے اس کے دلائل زیادہ پھیلا کر لکھتے، بصورتِ دیگر اپنی رائے کا برملا اظہار آخر میں کرتے۔ تفاسیر میں غلط، صحیح، رطب، یابس، ہر قسم کے اقوال و آراء اور روایات مرقوم ہوتی ہیں۔ مفسر درج ضرور کرتا ہے لیکن ان سب کو صحیح نہیں سمجھتا۔‘‘ (طب و صحت ص ۱۴)

ہاں شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کا ایک قول پادری صاحب نے نقل کیا ہے، وہ یہ ہے:

’’اما تحریف لفظی در ترجمہ توریت و امثال آں بکار می بردند نہ دراصل توریت پیش ایں فقیہہ ایں چنیں محقق شد و ھو قول ابن عباسؓ‘‘۔ (الفوز الکبیر ص ۷)

ترجمہ: ’’تحریف لفظی تو توریت اور اس جیسی دوسری کتابوں کے ترجمہ میں کرتے تھے نہ کہ اصل توریت میں، میرے نزدیک یہی محقق بات ہے اور یہ ابن عباسؓ کا قول ہے۔‘‘

پادری صاحب نے ترجمہ سے مراد تفسیر لیا ہے اور شاہ صاحبؒ کے قول سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ صرف تحریف معنوی کے قائل ہیں حالانکہ شاہ صاحبؒ کا یہ مسلک نہیں ہے کیونکہ وہ خود دوسرے مقام پر ارشاد فرماتے ہیں:

’’ضلالت ایشاں تحریف احکام توریت بود خواہ تحریف لفظی باشد خواہ تحریف معنوی و کتمان آیات و افترا بالحاق آنچہ ازاں بآں۔‘‘

ترجمہ: ’’یہود کی گمراہی کا بیان یہ ہے کہ یہ توریت کے احکام کی تحریف کرتے تھے خواہ تحریف لفظی ہو خواہ معنوی (یعنی دونوں طریقوں سے) اور آیات (یعنی احکام) چھپاتے تھے اور وہ چیز اس میں الحاق کرتے تھے جو اس میں سے نہیں ہے۔‘‘

اور آگے جا کر فرماتے ہیں کہ

’’جواب اشکال اوّل برتقدیر تسلیم آنکہ کلام حضرت عیسٰی باشد نہ محرف آنست کہ لفظ ابن در زمان قدیم بمعنی محبوب و مقرب و مختار بودہ است۔‘‘ (ص ۱۰)

ترجمہ: ’’پہلے اشکال کا جواب اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ بیٹے کا لفظ حضرت عیسٰیؑ ہی کا ہے اور محرف نہیں ہے، یہ ہے کہ بیٹے کا لفظ پرانے زمانہ میں محبوب، مقرب اور پسندیدہ کے معنی میں ہوتا تھا۔‘‘

اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ پادری صاحب حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی طرف جس بات کو منسوب کر رہے ہیں وہ درست نہیں ہے۔ باقی رہی وہ عبارت جس میں ابن عباسؓ کا حوالہ ہے تو پادری صاحب کو یہ پتہ ہونا چاہیے کہ تورات جن الواح پر لکھی ہوئی اتری تھی ان میں تو تحریف ناممکن تھی یعنی ان میں الفاظ کی زیادتی اور کمی وغیرہ ممکن نہیں تھی، لہٰذا جب وہ اس کو دوسری زبانوں میں ترجمہ کرتے تھے تو تحریف لفظی کر دیا کرتے تھے اور یہی شاہ صاحبؓ کا مطلب ہے۔ پادری صاحب بتائیں کہ آپ کیتھولک کلیسا سے کیوں الگ ہوئے؟ کیونکہ ان کے پوپ اور پادری خود ہی سب کچھ کرتے تھے اور عوام کو کتاب مقدس پڑھنے سے روکتے تھے۔ آپ جو بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں کہ ہمارے پاس اصل عبرانی بائبل ہے تو ہمیں عبرانی زبان کو صحیح طور سے سمجھنے والوں کی تعداد گنوا دیں۔ اور ابن عباسؓ کی طرف بھی وہ قول منسوب نہیں کیا جا سکتا جو پادری صاحب شاہ ولی اللہؒ کے قول سے اخذ کیے بیٹھے ہیں کیونکہ بخاری شریف میں عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنھم سے یہ روایت موجود ہے:

ان عبد اللہ بن عباس قال یا معشر المسلمین کیف تسألون اھل الکتاب عن شیء وکتابکم الذی انزل اللہ علّی نبیکم احدث الاخبار باللہ محضًا لم یثب وقد حدثکم اللہ ان اھل الکتاب قد بدّلوا من کتب اللہ وغیروا فاکتبوا بایدیھم الکتب قالوا ھو من عند اللہ لیشتروا بہ شفًا قلیلًا اولا ینھاکم ما جاءکم من العلم ان مسألتھم ولا واللہ ما رأینا اجلًا منھم یسألکم عن الذی انزل علیکم۔ (بخاری ج ۲ ص ۱۱۲۲)

تو اس حدیث میں صراحت ہے کہ ابن عباسؓ نے لوگوں کو منع کیا کہ وہ اہلِ کتاب سے کوئی سوال نہ کریں کیونکہ قرآن کے مطابق انہوں نے تحریف و تبدیلی کی۔

قارئین! اس جامع بحث میں ہم نے پادری کے ایل ناصر کے اس دعوٰی کا تاروپود بکھیر دیا ہے کہ قرآن پاک موجودہ بائبل کا تصدیق کنندہ ہے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ ان کے پیش کردہ دلائل بھی جواب کے محتاج نہیں تھے لیکن ہم نے پادری صاحب کے پیش کردہ ضروری دلائل پر قلم اٹھایا تاکہ وہ خواہ مخواہ کی غلط فہمی میں مبتلا نہ رہیں۔ ہمارا مقصد قطعًا توریت و انجیل کی اہانت نہیں ہے کیونکہ قرآن مجید میں ان کتابوں کو نور و ہدایت کے القاب دیے گئے ہیں لیکن جیسا کہ مقالہ سے واضح ہے کہ پادری صاحب کے اس زعم کو ہم نے توڑا ہے کہ قرآن پاک موجودہ بائبل کی تصدیق کرتا ہے اور اس سلسلے میں ہم نے خالصتًا انصاف سے کام لیا ہے، فللہ الحمد لٰی ذٰلک۔

عورت کی حکمرانی کی شرعی حیثیت

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مرد اور عورت دونوں نسل انسانی کے ایسے ستون ہیں کہ جن میں سے ایک کو بھی اس کی جگہ سے سرکا دیا جائے تو انسانی معاشرہ کا ڈھانچہ قائم نہیں رہتا۔ اللہ رب العزت نے حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہا السلام کو اپنی قدرت خاص سے پیدا فرمایا اور ان دونوں کے ذریعے نسل انسانی کو دنیا میں بڑھا پھیلا کر مرد اور عورت کے درمیان ذمہ داریوں اور فرائض کی فطری تقسیم کر دی، دونوں کا دائرہ کار متعین کر دیا اور دونوں کے باہمی حقوق کو ایک توازن اور تناسب کے ساتھ طے فرما دیا۔

مرد اور عورت کے درمیان حقوق و فرائض کی اس تقسیم کا تعلق تکوینی امور سے بھی ہے جو نسل انسانی کی تخلیق کے ساتھ ہی طے کر دیے گئے ہیں اور ان میں انسان کوشش بھی کرے تو کسی قسم کی تبدیلی نہیں کر سکتا۔ مثلاً مرد کو اللہ تعالیٰ نے قوت و جاہ، جرأت و بہادری اور سختی و مضبوطی کا پیکر بنایا ہے جبکہ عورت اپنی جسمانی ساخت کے لحاظ سے اس کے برعکس ہے، اس میں ملائمت ہے، انفعال ہے، کمزوری ہے اور کسی مضبوط پناہ کے حصار میں رہنے کا فطری جذبہ ہے۔ یہ ایک ایسا واضح فرق ہے جو زندگی کے تمام افعال و احوال میں جاری و ساری نظر آتا ہے اور جسے کوئی منطق، کوئی سائنس اور کوئی خودساختہ معاشرتی فلسفہ تبدیل نہیں کر سکتا۔

نسل انسانی کی نشوونما کے لیے خالقِ کائنات نے مرد اور عورت کے جنسی ملاپ کو ذریعہ بنایا اور اس ملاپ کے تسلسل کو قائم رکھنے کے لیے دونوں میں محبت کا جذبہ پیدا کیا۔ مرد اور عورت کے درمیان محبت کے اظہار میں اللہ تعالیٰ نے مرد کی بالادستی اور عورت کے انفعال کے فطری فرق کو قائم رکھا اور ملاپ میں بھی مرد کو بالادستی بخشی۔ یہ بھی ایسا واضح اور محسوس فرق ہے جس کا نہ انکار کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی منطقی یا سائنسی فارمولا کے ذریعے اسے بدلا جا سکتا ہے۔

نسل انسانی کو بڑھانے کے مشترکہ عمل میں بھی اللہ رب العزت نے دونوں کے فرائض الگ الگ متعین کر دیے۔ عورت کے ذمے بچہ کے بوجھ کو پیٹ میں اٹھانا، پیدائش کے بعد اس کو گود میں لینا اور ہوش سنبھالنے تک اس کی تمام چھوٹی موٹی ضروریات و حوائج خود سرانجام دینا ہے۔ جبکہ مرد کو ان تینوں کاموں سے رب العزت نے آزاد رکھا ہے۔ ظاہر ہے کہ باقی امور اس کے ذمہ ہیں کہ وہ بچہ اور اس کی ماں کے اخراجات کا بوجھ اٹھائے گا، ان کی حفاظت و نگرانی کرے گا اور معاشرہ کے ساتھ ان کے رابطہ و تعلق کا ذریعہ بنے گا۔ یہ فرق اور تقسیم بھی ایسی ٹھوس ہے کہ تبدیلی اور تغیر کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

یورپی معاشرت نے عورت کی آزادی اور اس کے احترام کی بحالی کے نام سے اس فرق کو مٹانے کی سرتوڑ کوشش کی ہے لیکن اس کا نتیجہ اس کے سوا کچھ نہیں نکلا کہ عورت کی ذمہ داریوں اور فرائض میں اضافہ ہوگیا ہے۔ عورت خود کو بچے کی پیدائش اور پرورش کے بوجھ سے تو آزاد نہیں کرا سکی البتہ اخراجات کی کفالت کی ذمہ داری میں مرد کے ساتھ شریک ہوگئی ہے۔ اس طرح دنیا بھر میں یورپی معاشرت کے پیروکار مردوں نے مزید کسی ذمہ داری کا بوجھ اپنے اوپر لیے بغیر اپنی ذمہ داریوں کا نصف بوجھ بھی عورت پر ڈال دیا ہے اور ناقص العقل سادہ عورت آزادیٔ مساوات اور زندگی کی دوڑ میں کندھے سے کندھا ملا کر چلنے کے خوشنما اور دلفریب نعروں سے دھوکا کھا کر دوہری ذمہ داریوں کے چکر میں پھنس کر رہ گئی ہے۔

اسلام ایک فطری نظامِ حیات ہے جو اسی خالق و مالک نے عطا فرمایا ہے جس نے مرد اور عورت کے درمیان فرائض و حقوق کی تکوینی تقسیم کی ہے، اسی لیے اسلام کے شرعی اور قانونی احکام کی بنیاد بھی اس تکوینی تقسیم کے فطری تقاضوں پر ہے۔ اور اس وقت دنیا میں اسلام ہی ایک ایسا نظام ہے جو عورت اور مرد کے درمیان حقوق و فرائض کی شرعی اور قانونی تقسیم دونوں کے تخلیقی فرق اور تکوینی ذمہ داریوں کے عین مطابق کرتا ہے اور اس کے ذریعے ایک خوشحال، پرسکون اور پر امن معاشرہ کی ضمانت دیتا ہے۔ ورنہ بیشتر مروجہ معاشرتی اقدار کی بنیاد اس فطری اور تکوینی فرق سے فرار اور انحراف پر ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ فرق تو کسی سے مٹ نہیں پا رہا مگر اس سے انحراف اور فرار پر مبنی معاشرتی بے چینی، نفسیاتی پیچیدگیوں اور ذہنی الجھنوں میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

یورپی تہذیب و معاشرت نے آزادی اور مساوات کے نام پر جہاں عورت کو اس غلط فہمی میں ڈالا کہ ملازمت کرنا اس کا حق ہے، حالانکہ ملازمت حق نہیں ذمہ داری ہے، اسی طرح حکمرانی اور قیادت کو حقوق کی فہرست میں شامل کر کے عورت کو اس دوڑ میں بھی شریک کر دیا۔ جبکہ اسلام اس فلسفہ کو تسلیم نہیں کرتا، اسلام یہ کہتا ہے کہ گھر کے اخراجات فراہم کرنے کے لیے ملازمت کرنا حقوق سے نہیں بلکہ ذمہ داریوں سے تعلق رکھتا ہے، اور مرد اور عورت کے درمیان ذمہ داریوں کی فطری تقسیم میں یہ ذمہ داری مرد کے کھاتے میں ہے۔ اسی طرح حکمرانی اور قیادت کا شمار بھی حقوق میں نہیں بلکہ ذمہ داریوں اور فرائض میں ہوتا ہے اور اسلام عورت کے طبعی اور فطری فرائض اور ذمہ داریوں سے زائد کسی ذمہ داری اور فرض کا بوجھ اس کے نازک کندھوں پر نہیں ڈالنا چاہتا۔ یہی وجہ ہے کہ حکمرانی کی ذمہ داری مرد پر ڈالی گئی ہے اور عورت کو اس سے مستثنیٰ کر دیا گیا ہے۔ انسانی معاشرت کے اسلامی فلسفہ اور آج کے مروجہ نظریات میں یہی بنیادی فرق ہے کہ اسلام حکمرانی کو ذمہ داری قرار دیتا ہے جبکہ موجودہ سیاسی نظاموں نے اسے حقوق میں شامل کر کے اس خودساختہ حق کے لیے مختلف انسانی طبقات کو مسابقت کی دوڑ میں اس قدر الجھا دیا گیا ہے کہ حقوق و فرائض کے درمیان کوئی خطِ امتیاز باقی نہیں رہا۔

اس پس منظر میں جب ہم عورت کی حکمرانی کے بارے میں اسلام کے احکام پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں ان لوگوں کی منطق میں کوئی وزن دکھائی نہیں دیتا جو مغرب کی معاشرتی اقدار کو اپنے معاشرے پر منطبق کرنے کے شوق میں نہ صرف مرد اور عورت کے درمیان مساوات اور عورت کی نام نہاد آزادی کا پرچار کر رہے ہیں بلکہ اس کے لیے اسلام کے واضح احکام کو توڑ موڑ کر پیش کرنے اور انہیں خودساختہ معانی پہنانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ چنانچہ ان دنوں اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ایک خاتون کی حکمرانی کے حوالہ سے یہ بحث چل رہی ہے کہ شرعاً کسی عورت کو حکمران بنانا درست ہے یا نہیں۔ اس سلسلہ میں قرآن و سنت اور اجماع امت کی واضح تصریحات کے باوجود کچھ حضرات اس کوشش میں مصروف دکھائی دیتے ہیں کہ کہیں نہ کہیں سے عورت کی حکمرانی کے جواز میں دلائل کشید کیے جائیں تاکہ مغربی تہذیب و معاشرت کی پیروی کے شوق اور عمل کو شرعی جواز کی چھتری بھی فراہم کی جا سکے۔ اسی لیے یہ ضروری محسوس ہوا کہ عورت کی حکمرانی کے بارے میں شرعی احکام کو وضاحت کے ساتھ قارئین کے سامنے لایا جائے اور ان خودساختہ دلائل کی حقیقت بے نقاب کر دی جائے جو اس مسلمہ اجماعی مسئلہ کو مشکوک بنانے کے لیے مختلف حلقوں کی طرف سے پیش کیے جا رہے ہیں۔

اسلام میں کسی بھی مسئلہ کے شرعی ثبوت کے لیے مسلمہ اصول چار ہیں جنہیں دلیل کے طور ر پیش کیا جاتا ہے۔

  1. قرآن کریم
  2. سنتِ نبویؐ
  3. اجماع امت
  4. اجتہاد و قیاس

ہم ترتیب کے ساتھ اپنے اس دعویٰ کے ثبوت میں ان چاروں دلائل کو پیش کریں گے کہ کسی عورت کو حکمران بنانا شرعاً جائز نہیں ہے۔

(۱) قرآن کریم

اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں بہت سے مقامات پر مرد اور عورت کے درمیان حقوق و فرائض کی اس فطری تقسیم کو واضح کا ہے۔ ان سب آیات کریمہ کو اس موقف کے حق میں منطقی استدلال کے ساتھ پیش کیا جا سکتا ہے لیکن ہم ان میں سے دو آیات کریمہ کا حوالہ دیں گے۔

(1) حکمرانی کا تصور اسلام میں ’’خلافت‘‘ کا ہے کہ انسانی معاشرہ میں کوئی بھی حکمران خودمختار نہیں بلکہ حکمرانی میں خدا تعالیٰ کا نائب ہے۔ اصل حکمرانی اللہ تعالیٰ کی ہے اور انسان اس کا نائب ہے جو اپنی مرضی سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے احکام و قوانین کے مطابق انسانی معاشرہ پر حکومت کرتا ہے، اسی کا نام ’’خلافت‘‘ ہے۔ جب تک انبیاء کرام علیہم السلام کی تشریف آوری کا سلسلہ جاری رہا، خلافت کا یہ منصب زیادہ تر حضرات انبیاء کرامؑ ہی کے پاس رہا۔ چنانچہ امام بخاریؒ نے کتاب الامارۃ میں حضرت ابوہریرہؓ سے ایک روایت نقل کی ہے جس میں جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حقیقت کا اظہار یوں فرمایا ہے کہ

’’بنی اسرائیل میں سیاسی قیادت کا فریضہ انبیاء کرام علیہم السلام سرانجام دیتے تھے، جب ایک نبیؑ دنیا سے چلے جاتے تو دوسرے نبیؑ ان کی جگہ لے لیتے۔ لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا البتہ میرے بعد خلفاء ہوں گے۔‘‘

یعنی خلافت و حکومت دراصل انبیاء کرامؑ کی نیابت کا نام ہے اور اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں صراحت کر دی ہے کہ دنیا میں جتنے بھی پیغمبر بھیجے گئے وہ سب مرد تھے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْ اِلَیْھِمْ۔
’’اور ہم نے آپؐ سے قبل رسول بنا کر نہیں بھیجا مگر صرف مردوں کو جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے۔‘‘

اس لیے جب نبی صرف اور صرف مرد آئے ہیں تو ان کی نیابت بھی صرف مردوں میں ہی محدود رہے گی۔

(2) اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:

اَلرِّجَالُ قَوَّامُوْنَ عَلَی النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰەُ بَعْضَھُمْ عَلٰی بَعْضٍ۔
’’مرد حکمران ہیں عورتوں پر، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔‘‘

یہ آیت کریمہ اس بارے میں صریح ہے کہ جہاں مردوں اور عورتوں کا مشترکہ معاملہ ہوگا وہاں حکمرانی مردوں ہی کے حصہ میں آئے گی اور یہی وہ فضیلت ہے جو اللہ تعالیٰ نے مرد کو عورت پر عطا فرمائی ہے۔

اس آیت کریمہ کے بارے میں بعض حضرات کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ آیت کریمہ خاندانی احکام و قوانین کے سیاق و سباق میں ہے اس لیے اس سے مراد مطلق حکمرانی نہیں بلکہ خاندان کی سربراہی ہے جو ظاہر ہے کہ مرد ہی کے پاس ہے۔ لیکن ان کا یہ استدلال دو وجہ سے غلط ہے۔ ایک اس وجہ سے کہ عورت کی حکمرانی کے بارے میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے واضح ارشادات کی روشنی میں جب ہم اس آیت کریمہ کا مفہوم متعین کریں گے تو اسے خاندان کی سربراہی تک محدود رکھنا ممکن نہیں رہے گا بلکہ خاندان کی سربراہی کے ساتھ مطلق حکمرانی بھی اس کے مفہوم میں شامل ہوگی۔ یہ ارشادات نبویؐ ہم آگے چل کر نقل کر رہے ہیں۔ دوسرا اس وجہ سے کہ امت کے معروف مفسرین کرامؒ نے اس آیت کریمہ کی جو تفسیر کی ہے اس میں علی الاطلاق ہر قسم کی حکمرانی عورت کے لیے نفی کی ہے۔ چنانچہ حافظ ابن کثیرؒ اسی آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ:

ولھذا کانت النبوۃ مختصۃ بالرجال وکذلک الملک الاعظم وکذا منصب القضاء وغیر ذلک۔ (تفسیر ابن کثیر ج ۱ ص ۴۹۱)
’’اور اسی وجہ سے نبوت مردوں کے ساتھ مخصوص ہے اور اسی طرح حکومت اور قضا کا منصب بھی انہی کے لیے خاص ہے۔‘‘

حافظ ابن کثیرؒ کے علاوہ امام رازیؒ (تفسیر کبیر ج ۱۰ ص ۸۸)، امام قرطبیؒ (ص ۱۶۸ ج ۵)، علامہ سید محمود آلوسیؒ (روح المعانی ص ۵ ص ۲۳) اور قاضی ثناء اللہ پانی پتیؒ (مظہری ج ۲ ص ۹۸) نے اس آیت کی یہی تفسیر لکھی ہے۔ اور ان کے علاوہ بھی کم و بیش تمام مفسرین نے اس آیت کریمہ سے عورت کی حکمرانی کے عدم جواز پر استدلال کیا ہے۔

(۲) حدیث رسولؐ

جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بہت سے ارشادات میں اس امر کی صراحت کی ہے کہ عورت کی حکمرانی نہ صرف عدم فلاح اور ہلاکت کا موجب ہے بلکہ مردوں کے لیے موت سے بدتر ہے۔ ان میں سے چند احادیث ذیل میں درج کی جا رہی ہیں:
(1) امام بخاریؒ کتاب المغازی میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس بات کی خبر دی گئی کہ فارس کے لوگوں نے کسریٰ کی بیٹی کو اپنا حکمران بنا لیا ہے تو آنحضرتؐ نے فرمایا:
لَنْ یُّـفْلِحَ قَوْم وَّلَوْ اَمْرَھُمْ اِمْرَاَۃً۔
’’وہ قوم ہرگز کامیاب نہیں ہوگی جس نے اپنا حکمران عورت کو بنا لیا۔‘‘

(2) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’جب تمہارے حکمران تم میں سے اچھے لوگ ہوں، تمہارے مالدار سخی ہوں اور تمہارے معاملات باہمی مشورہ سے طے پائیں تو تمہارے لیے زمین کی پشت اس کے پیٹ سے بہتر ہے۔ اور جب تمہارے حکمران تم میں سے برے لوگ ہوں، تمہارے مال دار بخیل ہوں اور تمہارے معاملات عورتوں کے سپرد ہو جائیں تو تمہارے لیے زمین کا پیٹ اس کی پشت سے بہتر ہے۔‘‘ (ترمذی ج ۲ ص ۵۲)

(3) امام حاکمؒ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے اور اس کی سند کو امام ذہبی نے صحیح تسلیم کیا ہے کہ جناب رسول اکرمؐ کی خدمت میں مسلمانوں کا ایک لشکر فتح و نصرت حاصل کر کے آیا اور اپنی فتح کی رپورٹ پیش کی۔ آنحضرتؐ نے مجاہدین سے جنگ کے احوال اور ان کی فتح کے ظاہری اسباب دریافت کیے تو آپؐ کو بتایا گیا کہ کفار کے لشکر کی قیادت ایک خاتون کر رہی تھی۔ اس پر جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

ھَلَکَتِ الـرِّجَالُ حِـیْنَ اَطَاعَتِ النِّسَآءَ۔ (مستدرک حاکم ج ۴ ص ۲۹۱)
’’مرد جب عورتوں کی اطاعت قبول کریں گے تو ہلاکت میں پڑیں گے۔‘‘

(4) علامہ ابن حجر الہتیمیؒ حضرت ابوبکرؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ جناب نبی اکرمؐ کی مجلس میں ملکہ سبا بلقیسؓ کا ایک دفعہ ذکر ہوا تو آنحضرتؐ نے فرمایا:

لَا یُـقْدِسَ اللّٰہؑ اُمَّـۃً‌ قَادَتْـھُمْ اِمْـرَاَۃ۔ (مجمع الزوائد ج ۵ ص ۲۱۰)
’’اللہ تعالیٰ اس قوم کو پاکیزگی عطا نہیں فرماتے جس کی قیادت عورت کر رہی ہو۔‘‘

(5) امام طبرانیؒ حضرت جابر بن سمرۃؓ سے نقل کرتے ہیں کہ جناب نبی اکرمؐ نے فرمایا:

لَنْ یُّـفْلِحَ قَوْم یَمْلِکُ رَاْبَـھُمْ اِمْرَاَۃ۔ (مجمع الزوائد ج ۵ ص ۲۰۹)

’’وہ قوم ہرگز کامیاب نہیں ہوگی جن کی رائے کی مالک عورت ہو۔‘‘

(6) امام ابوداؤد طیاسیؒ حضرت ابوبکرؓ سے نقل کرتے ہیں کہ جناب رسالت مآبؐ نے فرمایا:

لَنْ یُّـفْلِحَ قَوْم اَسْنَدُوْا اَمْرَھُمْ اِلٰی اِمْرَاَۃٍ۔ (طیاسی ص ۱۱۸)

’’وہ قوم ہرگز کامیاب نہیں ہوگی جس نے اپنی حکمرانی عورت کے حوالہ کر دی۔‘‘

(7) امام ابن الاثیرؒ اس روایت کو ان الفاظ سے نقل کرتے ہیں:

مَا اَفْلَحَ قَوْم قَیِّمُھُمْ اِمْرَاَۃ۔ (النہایۃ ج ۴ ص ۱۳۵)

’’وہ قوم کامیاب نہیں ہوگی جس کی منتظم عورت ہو۔‘‘

(8) مسند احمد میں ہے:

لَنْ یُّـفْلِحَ قَوْم تَمْلِکُھُمْ اِمْرَاَۃ۔ (مسند احمد ج ۵ ص ۴۳)

’’وہ قوم ہرگز کامیاب نہیں ہوگی جس کی حکمران عورت ہو۔‘‘

(9) اہل تشیع کی معروف کتاب ’’مستدرک الرسائل‘‘ میں، جو الحاج مرزا حسین نوری طبرسی کی لکھی ہوئی ہے اور قم سے طبع ہوئی ہے، جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک روایت نقل کی گئی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہا السلام کو جنت سے نکلنے کا حکم دیا تو حضرت حوا کو مخاطب کر کے فرمایا کہ میں نے تمہیں ناقص العقل والدین بنایا ہے اور

لَمْ اَجْعَلْ مِنْکُنَّ حَاکِمًا وَّلَمْ ابْعَث مِنْکُـنَّ نَبِـیـًّا۔ (مستدرک الرسائل باب ان المراۃ لا تولی القضاء)

’’میں نے تم عورتوں میں سے کوئی حاکم نہیں بنایا اور نہ تم میں سے کسی کو نبی بنا کر بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘

یہاں حاکم نہیں بنایا کا معنیٰ یہ ہوگا کہ حاکم بننے کی اجازت نہیں دی، اس لیے جو عورتیں کسی دور میں حاکم بن گئی ہیں ان کی حیثیت وہی ہوگی جو نبوت کا دعویٰ کرنے والی عورتوں کی ہے۔

(10) اسی مستدرک الرسائل میں یہ روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن سلامؓ نے جناب رسول اللہؐ سے کچھ سوالات کیے، ان میں سے ایک سوال حضرت آدمؑ کی پسلی سے حضرت حواؑ کو پیدا کرنے کے بارے میں بھی تھا۔ سوال یہ تھا کہ حضرت حواؑ کو حضرت آدمؑ کے پورے وجود سے پیدا کیا گیا یا وجود کے کچھ حصہ سے بنایا گیا تو جناب سرور کائناتؐ نے فرمایا کہ

بَلْ مِنْ بَعْضِہ وَلَوْ خُلِقَتْ مِنْ کُلِّہ لَجَازَ الْقَضَاءُ فِی النِّسَآءِ کَمَا یَجُوْزُ فِی الرِّجَالِ۔

’’بلکہ حضرت حواؓ کو حضرت آدمؑ کے وجود کے بعض حصہ سے پیدا کیا گیا اور اگر انہیں پورے وجود سے پیدا کیا جاتا تو قضا کا منصب عورتوں کے لیے بھی اسی طرح جائز ہو جاتا جس طرح مردوں کے لیے جائز ہے۔‘‘

(11) اہل تشیع کے ہی ایک اور محقق الاستاذ الشیخ جعفر السبحانی اپنی کتاب ’’معالم الحکومۃ الاسلامیہ‘‘ میں، جو مکتبہ الامام امیر المومنین العامۃ اصفہان سے چھپی ہے، امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ جناب نبی اکرمؐ نے عورتوں کے بارے میں احکام بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ

وَلَا تَـوَلَّی الْقَضَآءِ۔ (المیزان ج ۱۸ ص ۹۳۔ معالم الحکومۃ الاسلامیہ ص ۲۷۷)

’’عورت قضا کے منصب پر فائز نہیں ہو سکتی۔‘‘

جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے ان واضح ارشادات کے بعد اس امر میں اب شک و شبہ کی کیا گنجائش باقی رہ جاتی ہے کہ شرعاً کسی عورت کے حکمران بننے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

(۳) اجماع امت

قرآن و سنت کے بعد دلائل شرعیہ میں اجماع کا درجہ ہے اور چودہ سو سال سے امت مسلمہ کا اس پر اجماع و اتفاق چلا آتا ہے کہ عورت شرعاً حکمران نہیں بن سکتی۔

(1) خلفاء راشدین کے مبارک دور سے آج تک امت مسلمہ کا اجماعی تعامل اس امر پر ہے کہ کوئی عورت کسی خطہ میں مسلمانوں کی حکمران نہیں بنی۔ اس لیے ہمارے نزدیک امت کا یہ عمل صرف اجماع نہیں بلکہ ’’تواتر عملی‘‘ کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ عورت کو حکمران نہ بنانے کا یہ عمل اس قدر مسلسل اور متواتر ہے کہ چودہ سو سالہ تاریخ میں کہیں بھی اس کی قابل توجہ خلاف ورزی نظر نہیں آتی۔ بلکہ کسی موقع پر اگر جزوی طور پر اس کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو مسلمانوں نے اس پر گرفت کی ہے جیسا کہ نویں صدی ہجری کا ایک واقعہ تاریخ کی کتابوں میں مذکور ہے کہ مصر میں بنی ایوب خاندان کی ایک خاتون ’’شجرۃ الدر‘‘ حکمران بن گئی۔ اس وقت بغداد میں خلیفہ ابوجعفر مستنصر باللہؒ کی حکومت تھی، انہوں نے یہ واقعہ معلوم ہونے پر امراء کے نام تحریری پیغام بھیجا کہ

اعلمونا ان کان ما بقی عند کم فی مصر من الرجال من یصلح للسلطنۃ فنحن نرسل لکم من یصلح لھا اما سمعتم فی الحدیث عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہ قال لا افلح قوم ولوا امرھم امراۃ۔ (اعلام السناء ج ۲ ص ۲۸۶)

’’ہمیں بتاؤ اگر تمہارے پاس مصر میں حکمرانی کے اہل مرد باقی نہیں رہے تو ہم یہاں سے بھیج دیتے ہیں۔ کیا تم نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نہیں سنا کہ وہ قوم کامیاب نہیں ہوگی جس نے اپنا حکمران عورت کو بنا لیا۔‘‘

خلیفہ وقت کے اس پیغام پر ’’شجرۃ الدر‘‘ منصب سے معزول ہوگئی اور اس کی جگہ سپہ سالار کو مصر کا حکمران بنا لیا گیا۔

(2) امام بغویؒ (شرح السنۃ ج ۷۷) میں فرماتے ہیں کہ سب علماء کا اتفاق ہے کہ عورت حکمران نہیں بن سکتی۔

(3) امام ابوبکر بن العربیؒ (احکام القرآن ج ۳ ص ۴۴۵) حضرت ابوبکرؓ والی حدیث نقل کر کے فرماتے ہیں:

وھذا نص فی الامراۃ لا تکون خلیفۃ ولا خلاف فیہ۔

’’یہ حدیث اس بارے میں نص ہے کہ عورت خلیفہ نہیں بن سکتی اور اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے۔‘‘

(4) امام ولی اللہ دہلویؒ فرماتے ہیں:

اجمع المسلمون علیہ۔ (حجۃ اللہ البالغہ ج ۲ ص ۱۴۹)

’’مسلمانوں کا اس پر اجماع ہے۔‘‘

(5) امام الحرمین الجوینیؒ فرماتے ہیں:

واجمعوا ان المراۃ لایجوز ان تکونا اماما۔ (الارشاد فی اصول الاعتقاد ص ۲۵۹)

’’اور علماء کا اس پر اجماع ہے کہ عورت کا حکمران بننا جائز نہیں۔‘‘

(6) حافظ ابن حزمؒ امت کے اجماعی مسائل کے بارے میں اپنی معروف کتاب ’’مراتب الاجماع‘‘ میں فرماتے ہیں:

واتفقوا ان الامامۃ لا تجوز لامراۃ۔ (مراتب الاجماع ص ۱۲۶)

’’اور علماء کا اتفاق ہے کہ حکمرانی عورت کے لیے جائز نہیں ہے۔‘‘

(7) دورِ حاضر کے معروف محقق ڈاکٹر منیر عجلانی لکھتے ہیں کہ ہم مسلمانوں میں سے کسی عالم کو نہیں جانتے جس نے عورت کی حکمرانی کو جائز کہا ہو۔

فالاجماع فی ھذہ القضیۃ تام لم یشذ عنہ۔ (عبقریۃ الاسلام فی اصول الحکم ص ۷۰)

’’اس مسئلہ میں اجتماع اتنا مکمل ہے کہ اس سے کوئی بھی مستثنیٰ نہیں ہے۔‘‘

(8) پاکستان میں تمام مکاتب فکر کے علماء کرام نے ۱۹۵۱ء میں ۲۲ دستوری نکات پر اتفاق کیا اور ان میں حکومت کے سربراہ کے لیے مرد کی شرط کو لازمی قرار دیا۔

(۴) اجتہاد و قیاس

دلائل شرعیہ میں چوتھا درجہ اجتہاد اور قیاس کا ہے۔ اجتہاد اور قیاس کا اصل محل اگرچہ غیرمنصوص مسائل ہیں کیونکہ جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے انہی مسائل میں اجتہاد کی اجازت دی ہے جن میں قرآن و سنت کی واضح ہدایات موجود نہ ہوں۔ لیکن چونکہ قرآن و سنت کی تعبیر و تشریح اور ان سے احکام و مسائل کا استنباط بھی اجتہاد اور قیاس سے تعلق رکھنے والے امور ہیں اس لیے شاید کسی ذہن میں یہ شبہ پیدا ہو جائے کہ ممکن ہے فقہائے اسلام اور مجتہدین نے احکام و مسائل کے استنباط میں عورت کی حکمرانی کے لیے کوئی گنجائش کسی درجہ میں دیکھ لی ہو۔ لیکن یہ شبہ بھی وہم و تخیل سے زیادہ کچھ حقیقت نہیں رکھتا کیونکہ امت کے تمام مسلمہ فقہی مکاتب فکر کے مجتہدین نے اس امر کی صراحت کی ہے کہ حکمرانی کے منصب کے لیے دیگر شرائط کے علاوہ مرد ہونا بھی ضروری ہے اور عورت کے حکمران بننے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

فقہ حنفی

فقہ حنفی کی معروف و مستند کتاب ’’الدر المختار‘‘ اور اس کی شرح ’’رد المحتار‘‘ میں اس امر کی تصریح ہے کہ حکمران کے لیے دوسری شرائط کے ساتھ مرد ہونا بھی ضروری ہے اور

لا یصح تقریر المراۃ فی وظیفۃ الامامۃ۔ (شامی ج ۴ ص ۳۹۵، ج ۱ ص ۵۱۲)

’’عورت کو حکمرانی کے کام پر مقرر کرنا جائز نہیں ہے۔‘‘

فقہ شافعی

فقہ شافعیؒ کی مستند کتاب ’’المجموع شرح المہذب‘‘ میں لکھا ہے:

القضاء لایجوز لامراۃ۔

’’قضا کا منصب عورت کے لیے جائز نہیں ہے۔‘‘

فقہ حنبلی

فقہ حنبلیؒ کی مستند کتاب المغنی (ج ۱۱ ص ۳۸۰) میں ہے:

المراۃ لا تصلح للامامۃ ولا لتولیۃ البلد ان ولھذا لم یول النبی صلی اللہ علیہ وسلم ولا احد من خلفاء ولا من بعدھم قضاء ولا ولایۃ ولو جاز ذلک لم تخل منہ جمیع الزمان غالباً۔

’’عورت نہ ملک کی حاکم بن سکتی ہے اور نہ شہروں کی حاکم بن سکتی ہے۔ اسی لیے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی عورت کو مقرر نہیں کیا، نہ ان کے خلفاء نے کسی کو مقرر کیا اور نہ ہی ان کے بعد والوں نے قضا یا حکمرانی کے کسی منصب پر کسی عورت کو فائز کیا اور اگر اس کا کوئی جواز ہوتا تو یہ سارا زمانہ اس سے خالی نہ ہوتا۔‘‘

فقہ مالکی

فقہ مالکیؒ کی مستند کتاب ’’منحۃ الجلیل‘‘ میں نماز کی امامت، لوگوں کے درمیان فیصلوں، اسلام کی حفاظت، حدود شرعیہ کے نفاذ اور جہاد جیسے احکام کی بجا آوری کے لیے شرائط بیان کرتے ہوئے لکھا ہے:

فیشترط فیہ العدالہ والذکورۃ والفطنۃ والعلم۔

’’پس اس کے لیے شرط ہے کہ عادل ہو، مرد ہو، سمجھدار ہو اور عالم ہو۔‘‘

فقہ ظاہری

اہل ظاہر کے معروف امام حافظ ابن حزمؒ فرماتے ہیں:

ولا خلاف بین واحد فی انھا لاتجوز لامراۃ۔ (المحلی ج ۹ ص ۳۶۰۔ الملل ج ۴ ص ۱۶۷)

’’اور اس میں کسی کا اختلاف نہیں کہ حکمرانی عورت کے لیے جائز نہیں ہے۔‘‘

اہل تشیع

معروف شیعہ محقق الاستاذ الشیخ جعفر السبحانی لکھتے ہیں:

فقد اجمع علماء الامامیۃ کلھم علی عدم انعقاد القضاء للمراۃ وان استکملت جمیع الشرائط الاخریٰ۔ (معالم الحکومۃ الاسلامیۃ ص ۲۷۸)

’’امامیہ مکتب فکر کے تمام علماء کا اس امر پر اجماع ہے کہ قضاء کا منصب عورت کے سپرد کرنا جائز نہیں ہے اگرچہ اس میں دوسری تمام شرائط پائی جاتی ہوں۔‘‘

اہل حدیث

معروف اہلحدیث عالم قاضی شوکانیؒ حضرت ابوبکرؓ والی روایت کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

فیہ دلیل علی ان المراۃ لیست من اھل الولایات ولایحل لقوم تولیتھا۔ (نیل الاوطار ج ۸ ص ۲۷۴)

’’اس میں دلیل ہے کہ عورت حکمرانی کے امور کی اہل نہیں ہے اور کسی قوم کے لیے اس کو حکمران بنانا جائز نہیں ہے۔‘‘

جامعہ ازہر

عالمِ اسلام کے قدیم علمی مرکز جامعہ ازہر قاہرہ کے سربراہ معالی الدکتور الشیخ جاد الحق علی جاد الحق اور دیگر علماء ازہر کا متفقہ فتوٰی کویت کے معروف جریدہ ’’المجتمع‘‘ نے گزشتہ سال نومبر میں شائع کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ عورت کو حکمران بنانا شرعاً‌ جائز نہیں ہے۔

دارالعلوم دیوبند

ایشیا کی سب سے بڑی اسلامی درسگاہ دارالعلوم دیوبند کے ترجمان ماہنامہ ’’دارالعلوم‘‘ نے نومبر ۱۹۸۹ء کے شمارہ میں مفتی دارالعلوم دیوبند مولانا مفتی حبیب الرحمٰن خیرآبادی کا مفصل فتوٰی شائع کیا ہے جس میں دلائل کے ساتھ واضح کیا گیا ہے کہ عورت کو حکمران بنانے کا کوئی شرعی جواز نہیں ہے۔

الشیخ بن باز

سعودی عرب کے مفتی اعظم معالی الشیخ عبد العزیز بن عبد اللہ الباز کا فتوٰی ہفت روزہ ’’تنظیم اہل حدیث‘‘ لاہور کے ۲۰ اکتوبر ۱۹۸۹ء کے شمارہ میں شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ
ان الاحکام الشرعیۃ العامۃ تتعارض مع تولیۃ النسآء الولایات العامۃ۔
’’شریعت کے عام احکام عورتوں کو حکمرانی کے معاملات سپرد کرنے کی نفی کرتے ہیں۔‘‘
الغرض عورت کی حکمرانی کے بارے میں علماء کا موقف قرآن و سنت اور اجماعِ امت کی روشنی میں اس قدر واضح اور مبرہن ہو کر سامنے آ چکا ہے کہ اب اس میں مزید کلام کی گنجائش نظر نہیں آتی اور نہ ہی اہلِ علم و دانش اور اصحابِ فہم و فراست کے لیے اس مسئلہ میں کسی قسم کا کوئی ابہام باقی رہ گیا ہے کہ قرآن و سنت کے صریح احکام اور امتِ مسلمہ کے چودہ سو سالہ تواتر عملی کی رو سے کسی مسلم ریاست میں خاتون کے حکمران بننے کا کوئی شرعی جواز نہیں ہے۔ البتہ اس موقف اور اس کے مطابق علماء کرام کی اجتماعی جدوجہد کے بارے میں مختلف شکوک و شبہات اور اعتراضات سامنے آ رہے ہیں جن کا ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ جائزہ لینا ہے۔

ملکہ سبا

یہ بات کہی جاتی ہے کہ قرآن کریم میں ملکہ سبا حضرت بلقیس رضی اللہ عنہا کا ذکر موجود ہے جو سبا کی حکمران تھیں اور جنہوں نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا تھا، اگر عورت کی حکمرانی ناجائز ہوتی تو ان کا ملکہ کی حیثیت سے قرآن کریم میں ذکر نہ ہوتا۔ لیکن جب ہم اس واقعہ کے حوالہ سے قرآن کریم کے ارشادات کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ اعتراض بے وزن نظر آتا ہے اس لیے کہ
  • قرآن کریم نے ملکہ سبا کی حکومت کا جس دور کے حوالہ سے ذکر کیا ہے وہ ان کا کفر کا دور ہے اور قرآن پاک کا ارشاد ہے کہ وہ اس دور میں سورج کی پجاری تھیں۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کے ہاتھ پر مسلمان ہونے کے بعد ملکہ سبا کی حکومت کا کہیں تذکرہ نہیں ملتا۔
  • حضرت سلیمان علیہ السلام نے ہدہد کے ہاتھ جو خط ملکہ سبا کو ارسال کیا تھا اس میں اسے مسلمان ہونے کی دعوت ان الفاظ میں دی تھی کہ اَلَّا تَعْلُوْا عَلَیّ وَاْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْن (النمل) ’’مجھ سے سرکشی نہ کرو اور مطیع ہو کر میرے پاس چلے آؤ‘‘۔ یہ دعوت ملکہ سبا اور اس کی قوم کو تھی اور اس دعوت کو قبول کرتے ہوئے ملکہ سبا ایمان لائی تھیں۔ اس لیے سرکشی نہ کرنے اور مطیع ہو کر چلے آنے کا مفہوم یہی تھا کہ اسلام قبول کرنے کے بعد ان کی الگ اور مستقل حکومت باقی نہیں رہی تھی۔
  • اگر بالفرض اسلام قبول کرنے کے بعد ملکہ سبا کی حکومت باقی رہی ہو تو بھی ان کا یہ عمل ہمارے لیے حجت نہیں ہے کیونکہ بنی اسرائیل کے جو احکام اور واقعات قرآن میں مذکور ہوئے ہیں اور قرآن کریم نے مسلمانوں کو ان کے خلاف حکم دیا ہے تو وہ احکام باقی نہیں رہے بلکہ منسوخ ہو گئے ہیں۔ جیسا کہ ملا جیون رحمہ اللہ تعالیٰ نے اصولِ فقہ کی معروف کتاب ’’نور الانوار‘‘ میں صراحت کی ہے اور اسی بنیاد پر معروف مفسر قرآن علامہ آلوسیؒ نے ملکہ سبا کی حکومت کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’اس سے عورت کی حکمرانی کے جواز میں استدلال کرنا درست نہیں‘‘۔ (روح المعانی ج ۱۹ ص ۱۸۹)

ام المؤمنین حضرت عائشہؓ

یہ سوال بھی اٹھایا جاتا ہے کہ اگر عورت کی حکمرانی جائز نہ ہوتی تو ام المؤمنین حضرت عائشہؓ جنگِ جمل میں صحابہ کرامؓ کے ایک گروہ کی قیادت کیوں کرتیں؟ مگر یہ اعتراض بھی غلط اور بے بنیاد ہے اس لیے کہ
  • ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے امارت اور حکمرانی کا کوئی دعوٰی نہیں کیا تھا اور نہ اس کے لیے جنگ لڑی تھی بلکہ وہ صرف حضرت عثمانؓ کے خون کے بدلہ کا مطالبہ لے کر میدان میں آئی تھیں، اس کے علاوہ ان کا کوئی مقصد نہیں تھا۔
  • حضرت عائشہؓ کا یہ عمل ان کی اجتہادی خطا تھی جس پر خود ام المومنینؓ نے کئی بار پشیمانی کا اظہار فرمایا، مثلاً‌ ’’طبقات ابن سعد‘‘ ج ۸ ص ۸۱ میں ہے کہ ام المومنینؓ جب قرآن کریم کی آیت کریمہ ’’وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُم‘‘ کی تلاوت کرتیں تو روتے روتے ان کا آنچل آنسوؤں سے تر ہو جاتا۔ اس آیت کریمہ میں ازواج مطہراتؓ کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ گھروں میں بیٹھی رہیں۔ اسی طرح امام مالکؒ (مستدرک ج ۴ ص ۸) میں نقل کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے وصیت فرمائی کہ انہیں وفات کے بعد جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روضۂ اطہر میں دفن نہ کیا جائے کیونکہ ان سے حضور علیہ السلام کے بعد ایک غلطی سرزد ہوئی تھی۔ علاوہ ازیں ’’مصنف ابن ابی شیبہ‘‘ ج ۱۵ ص ۲۷۷ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ قول منقول ہے کہ ’’اے کاش! میرے دس بیٹے مر جاتے لیکن میں یہ سفر نہ کرتی‘‘۔ اس لیے حضرت ام المومنین کے اس عمل کو دلیل بنانا درست نہیں ہے۔

فقہائے احناف

یہ اشکال پیش کیا جاتا ہے کہ فقہائے احناف عورت کو قاضی بنانے کے حق میں ہیں اس لیے عورت قاضی بن سکتی ہے تو حاکم کیوں نہیں بن سکتی؟ لیکن یہ کہنا بھی درست نہیں ہے اور اس سلسلہ میں فقہائے احناف کے موقف کو سمجھنے میں غلطی ہوئی ہے کیونکہ یہ فتوٰی علی الاطلاق فقہائے احناف نے نہیں دیا کہ عورت کو قاضی بنایا جا سکتا ہے بلکہ ان کا موقف یہ ہے کہ اگر کسی حاکم نے عورت کو قاضی بنا دیا ہے اور اس عورت نے قاضی کی حیثیت سے فیصلے کیے ہیں تو اس کے فیصلے ان مقدمات میں نافذ ہوں گے جن کا تعلق حدود و قصاص سے نہیں ہے، اور حدود و قصاص کے مقدمات میں اس کے فیصلے نافذ نہیں ہوں گے۔ چنانچہ علامہ شامیؒ ’’رد المحتار‘‘ ج ۴ ص ۲۹۵ میں صراحت کرتے ہیں کہ غیر حدود و قصاص میں عورت کی قضا نافذ ہو گی لیکن اس کو قاضی بنانے والا گنہگار ہو گا۔ اس لیے فقہائے احناف کے موقف کی عملی صورت یوں بنتی ہے کہ
  • حدود و قصاص کے مقدمات میں عورت قاضی نہیں بن سکتی اور نہ ہی اس کے فیصلے نافذ ہوتے ہیں۔
  • باقی ماندہ مقدمات میں بھی عورت کو قاضی بنانے والا گنہگار ہو گا لیکن اس کے فیصلے نافذ ہو جائیں گے۔

اس لیے فقہائے احناف کے اس موقف کو عورت کی حکمرانی کے جواز کے لیے دلیل بنانے کی بھی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

امام ابن جریر طبریؒ

مشہور مفسر قرآن امام ابن جریر طبریؒ کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے عورت کو قاضی بنانے کے جواز کا فتوٰی دیا تھا لیکن علامہ آلوسیؒ نے اس کی تردید کرتے ہیں اور ’’روح المعانی‘‘ ج ۱۹ ص ۱۸۹ میں فرماتے ہیں کہ امام ابن جریرؒ کی طرف سے اس فتوٰی کی نسبت درست نہیں ہے۔

حضرت تھانویؒ

حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کا ایک فتوٰی بڑے شدومد کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے جو ’’امداد الفتاوٰی‘‘ میں موجود ہے اور جس میں بھوپال کی بیگمات کی نسبت کے حوالہ سے یہ فتوٰی دیا گیا ہے کہ عورت کو حکمران بنانا جائز ہے۔ لیکن اس فتوٰی کا سہارا لینا بھی بے سود ہے اس لیے کہ حضرت تھانویؒ نے اس فتوٰی سے رجوع کر لیا تھا جس کا ثبوت یہ ہے کہ

  • اس فتوٰی میں ملکہ سبا کی حکومت کو استدلال کی بنیاد بنایا گیا ہے مگر حضرت تھانویؒ نے خود اپنی تفسیر ’’بیان القرآن‘‘ میں اس استدلال کو رد کر دیا ہے اور صراحت کی ہے کہ ہماری شریعت میں عورت کو بادشاہ بنانے کی ممانعت ہے۔ (بیان القرآن ج ۸ ص ۸۵)
  • حضرت تھانویؒ نے آخری عمر میں ’’احکام القرآن‘‘ خود اپنی نگرانی میں تحریر کرائی جس کا سورۃ النمل والا حصہ حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ نے لکھا جو حضرت تھانویؒ کو پڑھ کر سنایا گیا اور ان کی منظوری سے شائع ہوا۔ اس میں دلائل کے ساتھ اس مسئلہ کی وضاحت کی گئی ہے کہ عورت شرعاً‌ حکمران نہیں بن سکتی۔

عورت اور پارلیمنٹ

یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ خواتین کو پارلیمنٹ کی رکنیت دینے کے مسئلہ پر علماء نے مخالفت نہیں کی بلکہ خود علماء کی طرف سے بعض خواتین کو اسمبلیوں کا رکن بنوایا گیا، اس لیے جب عورت اسمبلی کی ممبر بن سکتی ہے تو اسی اسمبلی میں قائد ایوان کیوں نہیں بن سکتی؟ مگر یہ سوال بھی لاعلمی پر مبنی ہے کیونکہ اسمبلی کی رکنیت اور چیز ہے اور حکمرانی کے اختیارات اس سے بالکل مختلف ہیں۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات خلفاء راشدینؓ نے خواتین کو مشاورت میں شریک کرنے سے منع نہیں کیا بلکہ خود بھی متعلقہ امور میں عورتوں سے مشاورت کرتے رہے ہیں۔ اس لیے علمی اور عوامی دونوں امور میں عورت کو اسمبلی کی رکن کی حیثیت سے مشاورت میں شریک کیا جا سکتا ہے البتہ اس کے لیے پردہ کے شرعی احکام کی پابندی ضروری ہو گی مگر حکمرانی کے اختیارات عورت کے حوالے کرنے سے قرآن و سنت میں صراحت کے ساتھ منع کیا گیا ہے اس لیے اس کی گنجائش نہیں ہے۔

سربراہِ مملکت یا سربراہِ حکومت

یہ الجھن بھی پیش کی جا رہی ہے کہ قرآن و سنت میں عورت کو سربراہ مملکت بنانے کی ممانعت کی گئی ہے اور سربراہِ مملکت تو صدر ہوتا ہے جبکہ وزیراعظم سربراہِ حکومت ہوتا ہے، اس لیے اس ممانعت کا اطلاق صرف صدر پر ہوتا ہے وزیراعظم پر نہیں ہوتا۔ لیکن تھوڑے سے غور و فکر کے ساتھ یہ الجھن بھی ختم ہو جاتی ہے اس لیے کہ
  • ابتدائے اسلام میں مملکت اور حکومت کی تقسیم کا کوئی تصور موجود نہیں تھا، سربراہِ مملکت اور سربراہِ حکومت کے عہدے ایک ہی شخصیت کے پاس ہوتے تھے اس لیے قرآن و سنت نے عورت کے حاکم ہونے کی جو ممانعت کی ہے وہ دونوں حیثیتوں کو شامل ہے، اور اگر ان دونوں حیثیتوں کو الگ الگ کر لیا جائے تو اس ممانعت کا اطلاق ہر ایک پر ہو گا۔ اس لیے اس اصول کے مطابق عورت نہ سربراہ مملکت بن سکتی ہے اور نہ ہی سربراہ حکومت کا منصب سنبھال سکتی ہے۔
  • سربراہِ مملکت اور سربراہِ حکومت کی منصبی حیثیتوں کو الگ الگ کر کے بھی تجزیہ کیا جائے تو ممانعت کا پہلا مصداق سربراہِ حکومت کا منصب قرار پاتا ہے کیونکہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات جو اس ضمن میں محدثین نے روایت کیے ہیں ان میں یہ بات فرمائی گئی ہے کہ وہ قوم کامیاب نہیں ہو گی جس نے اپنے امر کا والی عورت کو بنا دیا۔ یا یہ فرمایا کہ جب تمہارے امور عورتوں کے سپرد ہوں گے تو تمہارے لیے زمین کا پیٹ اس کی پشت سے بہتر ہو گا۔ اب یہ دیکھ لیجئے کہ ’’امر‘‘ اور ’’امور‘‘ کا تعلق مملکت اور حکومت میں سے کس کے ساتھ ہے؟ ظاہر بات ہے کہ امور کا طے کرنا تو حکومت کا کام ہوتا ہے۔ اس لیے ان احادیث کی روشنی میں عورت کے لیے حکمرانی کی ممانعت کا مصداق سب سے پہلے سربراہِ حکومت ہے اور کسی عورت کے وزیراعظم بننے کا شرعاً‌ کوئی جواز نہیں ہے۔

جمہوری عمل اور علماء

یہ اعتراض بھی سامنے لایا گیا ہے کہ پاکستان میں خاتون کا وزیراعظم کے منصب پر فائز ہونا جمہوری عمل کا نتیجہ ہے اور یہ وہی جمہوری عمل ہے جس میں خود علماء کی جماعتیں حصہ لیتی رہی ہیں اور اب بھی اس میں شریک ہیں، اس لیے جب علماء اس جمہوری عمل کو تسلیم کرتے ہیں اور خود اس میں حصہ لیتے ہیں تو اس کے نتائج کو تسلیم کرنے میں کیا رکاوٹ ہے؟ اس کے جواب میں عرض ہے کہ علماء نے کسی دور میں بھی آزاد جمہوری عمل کو تسلیم نہیں کیا اور نہ ہی اب وہ اسے قبول کرتے ہیں، بلکہ علماء نے جدوجہد کر کے
  • ’’قراردادِ مقاصد‘‘ کی صورت میں جمہوری عمل کو قرآن و سنت کا پابند قرار دلوایا۔
  • ۲۲ دستوری نکات کی صورت میں اسلامی اصولوں کے پابند جمہوری عمل کا تصور پیش کیا۔
  • ۱۹۷۳ء کے دستور میں اسلام کو سرکاری مذہب قرار دینے اور قرآن و سنت کے خلاف کوئی قانون نہ بنائے جانے کی ضمانت کی دفعات شامل کرائیں۔
اس لیے جب علماء قیامِ پاکستان سے اب تک آزاد جمہوری عمل کو رد کرتے ہوئے قرآن و سنت کے دائرہ میں محدود جمہوری عمل کا پرچم اٹھائے ہوئے ہیں تو انہیں جمہوری عمل کے ہر اس فیصلے کو مسترد کرنے کا حق حاصل ہے جو قرآن و سنت کے احکام کے منافی ہو۔

دستور کی خلاف ورزی

بعض ذمہ دار حضرات کی طرف سے کہا گیا ہے کہ عورت کی حکمرانی کی مخالفت ملک کے آئین کی خلاف ورزی ہے اور اس پر سزائے موت بھی ہو سکتی ہے۔ لیکن ان حضرات کا یہ کہنا مغالطہ پر مبنی ہے بلکہ اگر دستوری دفعات کا تجزیہ لیا جائے تو خود عورت کو حکمران بنانا آئین کی خلاف ورزی قرار پاتا ہے کیونکہ دستور میں کسی عورت کو صدر یا وزیراعظم بنائے جانے کا جواز صریحاً‌ مذکور نہیں ہے، زیادہ سے زیادہ یہ بات ہے کہ دستور اس بارے میں خاموش ہے۔ لیکن جب سے ’’قراردادِ مقاصد‘‘ کو دستور کا باقاعدہ حصہ بنایا گیا ہے آئینی طور پر اس بات کی پابندی ضروری ہو گئی ہے کہ قرآن و سنت کے خلاف کوئی فیصلہ یا حکم نافذ نہ کیا جائے۔ اس لیے جب عورت کو حکمران بنانا قرآن و سنت کی رو سے جائز نہیں ہے تو قراردادِ مقاصد کی روشنی میں خودبخود یہ پابندی ضروری ہو جاتی ہے کہ کسی عورت کو وزیراعظم نہ بنایا جائے۔ اس بنا پر عورت کی حکمرانی کی مخالفت آئین کی خلاف ورزی نہیں بلکہ عورت کو وزیراعظم بنانا ملک کے دستور کی خلاف ورزی قرار پاتا ہے۔
اس ضمن میں ایک اور نکتہ کی وضاحت ضروری ہے کہ ۱۹۷۳ء کے دستور کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کیونکہ عام طور پر یہ کہا جا رہا ہے کہ جب مولانا مفتی محمودؒ، مولانا شاہ احمد نورانی اور دیگر علماء نے اس دستور پر دستخط کر دیے تھے تو انہوں نے اسے اسلامی تسلیم کر لیا تھا اس لیے اس دستور کے مطابق جو کام ہو گا وہ اسلام کے مطابق ہی ہو گا۔ لیکن یہ سراسر مغالطہ ہے کیونکہ ۱۹۷۳ء کا دستور تیار کرنے والی دستور ساز اسمبلی میں جو ارکان تھے انہوں نے اس دستور پر غیر مشروط دستخط نہیں کیے تھے بلکہ طویل مذاکرات کے نتیجہ میں یہ آئینی ضمانت حاصل کی گئی تھی کہ ملک میں تمام قوانین کو سات سال کے اندر قرآن و سنت کے مطابق تبدیل کر دیا جائے گا۔ یہ ضمانت خود اسی آئین میں درج ہے اور اس ضمانت کے حصول کے بعد علماء نے آئین پر دستخط کیے تھے۔ اب بھی صورتحال یہ ہے کہ علماء ملک کے آئین و قانون کو اس طرح غیر مشروط ماننے کے لیے تیار نہیں کہ انہیں قرآن و سنت پر بالادستی حاصل ہو جائے بلکہ بالادستی قرآن و سنت کی ہے اور علماء کی تمام تر جدوجہد کا مرکزی ہدف یہی ہے کہ آئین و قانون کو قرآن و سنت کی بالادستی کا عملاً‌ پابند بنایا جائے۔

محترمہ فاطمہ جناح کی حمایت

یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ جو علماء آج عورت کے حکمران بننے پر مخالفت کر رہے ہیں ان کی اکثریت نے ۱۹۶۴ء کے صدارتی انتخابات میں محترم فاطمہ جناح کی حمایت کی تھی۔ لیکن یہ بات بالکل خلاف واقعہ ہے کیونکہ اس وقت علماء کی تین بڑی جماعتیں تھیں۔ (۱) جمعیۃ علماء اسلام پاکستان جس کی قیادت مولانا عبد اللہ درخواستی، مولانا مفتی محمودؒ اور مولانا غلام غوث ہزارویؒ کر رہے تھے۔ جمعیۃ اہل حدیث پاکستان جس کی قیادت مولانا محمد اسماعیل سلفیؒ کے ہاتھ میں تھی۔ (۳) اور جمعیۃ العلماء پاکستان جس کے سربراہ صاحبزادہ سید فیض الحسنؒ تھے۔ ان تینوں جماعتوں نے باقاعدہ جماعتی فیصلوں کی صورت میں اعلان کیا تھا کہ چونکہ عورت کو ملک کا حکمران بنانا شرعاً‌ جائز نہیں ہے اس لیے وہ محترمہ فاطمہ جناح کی حمایت سے قاصر ہیں۔

علماء پہلے کہاں تھے؟

یہ بات بھی کہی جا رہی ہے کہ علماء کو اچانک یہ بات سوجھی ہے کہ عورت کو وزیر بنانا درست نہیں ہے، اس سے قبل علماء خاموش رہے ہیں، ان کے سامنے دستور بنے ہیں اور ساری باتیں ہوتی رہی ہیں مگر علماء نے کبھی اس قسم کی مہم نہیں چلائی۔ اس سلسلہ میں گزارش ہے کہ یہ بھی محض مفروضہ ہے جو حالات اور واقعات کے تسلسل سے بے خبری کے باعث قائم کر لیا گیا ہے ورنہ
  • جب قراردادِ مقاصد میں یہ بات طے کر دی گئی تھی کہ کوئی کام قرآن و سنت کے منافی نہیں ہو گا تو اس مسئلہ میں بھی علماء کے اطمینان کے لیے یہ بات کافی تھی۔
  • اس کے باوجود تمام مکاتب فکر کے ۳۱ سرکردہ علماء نے ۱۹۵۲ء کے طے کردہ ۲۲ متفقہ دستوری نکات میں یہ طے کر دیا تھا کہ سربراہِ حکومت کے لیے مرد ہونا ضروری ہے۔
  • ۱۹۷۳ء کا دستور جب دستور ساز اسمبلی میں زیربحث آیا تو شیخ الحدیث مولانا عبد الحقؒ (اکوڑہ خٹک) نے اس مسئلہ پر مستقل دستوری ترمیم پیش کی تھی جو دستور ساز اسمبلی کے ریکارڈ میں موجود ہے۔ اس پر مولانا مرحوم نے اسمبلی میں اپنے خطاب کے دوران دلائل کے ساتھ اس مسئلہ کو واضح کیا تھا کہ عورت کو حکمران بنانا شرعاً‌ جائز نہیں ہے۔
  • جنرل ضیاء الحق مرحوم کے دور میں وفاقی مجلس شورٰی نے آئینی ترامیم کے لیے محترم فدا محمد خان کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی تھی، اس کمیٹی کے رکن مولانا قاضی عبد اللطیف نے عورت کی حکمرانی کے مسئلہ کی وضاحت کی اور باقی ارکان کے نہ ماننے کی وجہ سے اپنا اختلافی نوٹ تحریر کرایا جو کمیٹی کے ریکارڈ میں موجود ہے۔
  • حالیہ انتخابات کے بعد جب ایک خاتون کے وزیراعظم بننے کے امکانات واضح ہونے لگے تو جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے سیکرٹری جنرل مولانا سمیع الحق نے صدر جناب غلام اسحاق خان سے ملاقات کر کے ان پر مسئلہ کی شرعی پوزیشن واضح کی اور پورے ملک کے علماء کی طرف سے اتمام حجت کا فریضہ ادا کیا۔ اس لیے یہ بات کہنا غلط ہے کہ علماء اس سے قبل خاموش رہے ہیں اور اب ایک خاص پارٹی کی ضد میں اس کی وزیراعظم کی مخالفت کر رہے ہیں۔

قوتِ فیصلہ پارلیمنٹ کے پاس ہے

یہ بات بھی بعض حلقے پیش کر رہے ہیں کہ جمہوری نظام میں قوتِ فیصلہ پارلیمنٹ کے پاس ہوتی ہے اور وزیراعظم صرف ان فیصلوں کے نفاذ کا ذمہ دار ہوتا ہے اس لیے وزیراعظم پر اس مطلق حکمرانی کا اطلاق نہیں ہوتا جس کی نفی قرآن و سنت میں عورت کے لیے کی گئی ہے۔ لیکن یہ بات بھی اصول کے خلاف ہے اس لیے کہ
  • اکثر جمہوری ممالک بالخصوص ترقی پذیر ممالک میں جمہوریت کی ہیئت کذائیہ یہ ہے کہ اکثریتی پارٹی پارلیمنٹ میں فیصلوں کا محور ہوتی ہے اور اکثریتی پارٹی کے فیصلوں کا محور اس کا لیڈر ہوتا ہے، اس لیے عملاً‌ فیصلوں کی باگ ڈور بھی وزیراعظم کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔
  • معروف مسلمان مفکر علامہ الماوردیؒ نے ’’الاحکام السلطانیہ‘‘ ص ۲۵ میں صراحت کی ہے کہ صرف (طے شدہ فیصلوں کو) نافذ کرنے والی وزارت اگرچہ کمزور وزارت ہے اور اس کی شرائط کم ہیں لیکن عورت کے لیے یہ وزارت بھی جائز نہیں ہے۔

اسلام میں خواتین کی ذمہ داریاں اور حقوق

مولانا قاری محمد طیبؒ

بعد الحمد والصلٰوۃ۔
بزرگانِ محترم! قرآن شریف کی آل عمران کی تین آیتیں اس وقت میں نے تلاوت کیں۔ اس میں حق تعالیٰ شانہ نے حضرت مریم علیہا السلام کا ایک واقعہ ذکر فرمایا جس میں ملائکہ علیہم السلام نے حضرت مریم علیہا السلام کو خطاب فرمایا ہے۔ اس جلسہ کے منعقد کرنے کی غرض و غایت چونکہ عورتوں کو خطاب ہے اس لیے میں نے اس آیت کو اختیار کیا۔
واقعہ یہ ہے کہ عورتوں کے بھی وہی حقوق ہیں جو مردوں کے ہیں بلکہ بعض امور میں مردوں سے عورتوں کے حقوق زیادہ ہیں، اس لیے کہ بچوں کی تربیت میں سب سے پہلا مدرسہ ماں کی گود ہے، اسی سے بچہ تربیت پاتا ہے، سب سے پہلے جو سیکھتا ہے ماں سے سیکھتا ہے، باپ کی تربیت کا زمانہ شعور کے بعد آتا ہے، لیکن ہوش سنبھالتے ہی بلکہ بے ہوشی کے زمانے میں بھی ماں ہی اس کی تربیت کرتی ہے۔ گویا اس کی تربیت گاہ ماں کی گود ہے۔ اگر ماں کی گود علم، نیکی، تقوٰی اور صلاحیتوں سے بھری ہوئی ہے وہی اثر بچے میں آئے گا، اور اگر خدانخواستہ ماں کی گود ہی ان نعمتوں سے خالی ہے تو وہ بچہ بھی خالی رہ جائے گا۔
خشتِ اول چوں نہد معمار کج
تاثر یامی رود دیوار کج
کسی فارسی کے شاعر نے کہا ہے کہ جب عمارت کی پہلی اینٹ ہی ٹیڑھی رکھ دی جائے تو اخیر تک عمارت ٹیڑھی ہوتی چلی جاتی ہے۔ شروع کی اینٹ اگر سیدھی رکھ دی جائے تو اخیر تک عمارت سیدھی چلتی ہے۔ جس چیز کا آغاز اور ابتداء درست ہو جائے تو اس کی انتہا بھی درست ہو جاتی ہے۔ اس واسطے عورتوں کا مردوں سے زیادہ حق ہے اور ہم اسی حق کو زیادہ پامال کر رہے ہیں۔ مرد تو ہر جگہ موجود ہیں اور عورتوں کو سنانے کی کوئی صورت نہیں ہے۔ اگر عورتیں مردوں کے حکم سے آئی ہیں تو مردوں کا شکریہ، اور اگر ازخود آئی ہیں تو پھر ان کے دینی جذبہ کی داد دینی چاہیئے کہ ان کے اندر بھی ازخود ایک جوش و جذبہ ہے کہ دینی باتیں سیکھیں اور معلوم کریں۔ بہرحال سب سے زیادہ خوشی یہ ہے کہ ان کے اندر دین کی طلب ہے۔ اگر خود پیدا ہوئی تو وہ شکرئیے کی مستحق ہیں اور اگر طلب پیدا کی گئی ہے تو اس طلب کے پیدا کرنے والے بھی اور جنہوں نے اس کو قبول کیا وہ بھی شکرئیے کی مستحق ہیں۔ اس واسطے میں نے کہا مردوں سے عورتوں کا حق زیادہ ہے اس لیے کہ زندگی کی ابتداء انہیں سے ہوتی ہے۔

عورتوں کی قوتِ عقل

اس وجہ سے بھی کہ بچوں کا قصہ بعد میں آتا ہے، خود خاوند بھی عورت سے متاثر ہوتا ہے۔ عورتیں جب کسی چیز کو منوانا چاہتی ہیں تو منوا کے رہتی ہیں۔ وہ ضد کریں، ہٹ دھرمی کریں یا کچھ کریں خاوند کو مجبور کر دیتی ہیں۔ اس میں ایک پہلو جہاں عورتوں کے لیے عمدہ نکلتا ہے وہاں ایک بات کمزوری کی بھی نکلتی ہے۔ وہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
ما رایت من ناقصات عقل و دین اذھب للب الرجل الحازم من احدکن۔
(یعنی) یہ عورتیں ہیں تو ناقص العقل، ان کی عقل کم ہے، مگر بڑے بڑے کامل العقل مردوں کی عقلیں اچک کر لے جاتی ہیں، اچھے خاصے عقل مند بھی ان کے سامنے پاگل بن جاتے ہیں۔ جب وہ چاہتی ہیں کہ یہ ہو تو مرد ان کے سامنے مجبور ہو جاتے ہیں۔
ہمارے ہاں اور یہاں آپ کے ہاں بھی ایسا ہی ہو گا اس لیے کہ عورتوں کا مزاج سب جگہ ایک ہی ہے اور مردوں کی ذہنیت بھی ایک ہی ہے، البتہ تمدن کا فرق ہے۔ شادی بیاہ وغیرہ میں جو اکثر رسمیں ہوتی ہیں وہ رسمیں تباہ کن ہوتی ہیں۔ وہ دولت اور دین کو بھی برباد کرتی ہیں۔ جب مردوں سے پوچھا جاتا ہے کہ بھئی! کیوں ان خرافات میں پڑے ہوئے ہو؟ تم سمجھ دار اور عقل مند آدمی ہو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہو کہ دولت اور دین بھی برباد ہو رہا ہے تو کیوں ایسا کرتے ہو؟ کہ جی عورتیں نہیں مانتیں کیا کریں۔ گویا عورتیں حکّام ہیں، وہاں سے آرڈر جاری ہوتا ہے اور یہ غلام و رعایا ہیں ان کا فرض ہے کہ اطاعت کریں۔
تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہیں تو یہ ناقص العقل مگر اچھے بڑے عقل والوں کی عقلیں اچک کر لے جاتی ہیں اور انہیں بے وقوف بنا دیتی ہیں۔ تو جب عورت میں یہ قوت موجود ہے کہ عقل مند کو بھی بے وقوف بنا دیتی ہے اور اچھے بھلے مرد کو مجبور بنا دے، اگر وہ کسی اچھی چیز کے لیے مرد کو مجبور کرے گی تو مرد کیوں نہیں مجبور ہو گا؟
اگر کوئی عورت اپنے خاوند سے یوں کہہ دے کہ جناب سیدھی بات ہے آپ کا حکم واجب الاطاعت ہے، آپ خدا کی طرف سے میرے مربّی سب کچھ ہیں لیکن آپ نماز نہیں پڑھتے، جب تک آپ نماز نہیں پڑھیں گے میں بھی آپ کے حکم کی پابند نہیں ہوں۔ وہ جھک مارے گا ضرور پڑھے گا چاہے خدا کی نہ پڑھے بیوی کی ضرور پڑھے گا۔ جب عورتیں ضد کر کے دنیا کی بات منوا لیتی ہیں کوئی وجہ نہیں کہ دین کی بات نہ منوا لیں۔ عورتوں کی بدولت بہت سے خاندانوں کی اصلاح ہو گئی ہے، عورتوں نے ضد کی، مرد مجبور ہو گئے۔ ہمارے ہاں بعض خاندان ایسے تھے جو کچھ خرافات میں مبتلا تھے، اس واسطے کہ گھر میں دولت تھی، کہیں سینما کہیں تھیٹر وغیرہ، نماز کا تو کہیں سوال ہی نہیں، اتفاق سے عورت نہایت صالح اور دیندار گھرانے کی آگئی۔ چند دن اس نے صبر کیا، بعد میں اس نے کہا صاحب! یہ نبھاؤ بڑا مشکل ہے اس واسطے کہ رمضان آئے گا تو میں روزے سے رہوں گی اور تم بیٹھ کے کھانا کھاؤ گے اور پکانے پر مجھے مجبور کرو گے، میں پکانے کے لیے مجبور نہیں ہوں جہاں چاہے پکواؤ اس گھر میں یہ نہیں ہو گا۔ اس واسطے کہ اس بد دینی میں تمہاری اعانت کر سکوں یہ خود گناہ کی بات ہے۔ یا تو اپنا بندوبست کرو یا پھر ان خرافات کو چھوڑ دو۔ آخر مرد مجبور ہوئے، نماز روزے کے پابند ہو گئے اور ان میں بہت سی اچھی خصلتیں پیدا ہو گئیں۔ اس لیے سب سے بڑا مربّی تو عورت ہے جو گھر کے اندر موجود ہے اس کی تربیت سے آدمی کام لے۔
اس لیے اپنی بہنوں سے یہ خطاب ہے کہ جب وہ ایسا دباؤ ڈال سکتی ہیں کہ مرد ان کے سامنے مجبور ہیں تو جہاں دنیا کے لیے زیور، کپڑے لانے کے لیے، برتن لانے کے لیے، گھر بنانے کے لیے دباؤ ڈالتی ہیں، اگر دیندار گھر بنانے کے لیے دباؤ ڈالیں تو یقیناً‌ وہ دیندار بنیں اور وہ اپنے خاوند کے لیے اصلاح کا ذریعہ بن جائیں گی۔ اس لیے ان کے دل میں نیکی، تقوٰی اور بھلائی کا جذبہ ہونا چاہیئے تاکہ خاوند پر بھی اس کا اثر پڑے۔ تو ایک عورت بچوں پر، خاوند پر اور کنبہ والوں پر بھی بہتر اثر ڈال سکتی ہے۔
عموماً‌ سننے میں آیا ہے کہ خاندانوں میں جو جھگڑے اور تفریقیں پیدا ہوتی ہیں عورتوں کی بدولت پیدا ہوتی ہیں، ایک دوسرے کو اتار چڑھاؤ کر کے بدظن بنا دیتی ہیں۔ دو حقیقی بھائیوں میں لڑائی پیدا کر دیتی ہیں حتٰی کہ خاندانوں میں نزاع اور جھگڑے پیدا ہو جاتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر عورت نیک نہاد اور نیک طینت ہے تو بڑے بڑے جھگڑے ختم کرا دیتی ہے، خاندان مل جاتے ہیں۔ اور اپنی اس طاقت کو نیکی میں کیوں نہ خرچ کیا جائے برائی اور بدی میں کیوں خرچ کیا جائے؟ جب اللہ نے ایک طاقت دی ہے تو اس کو صحیح راستے پر خرچ کیا جائے۔
اس واسطے میں نے یہ آیت تلاوت کی تھی، اس میں خصوصیت سے عورتوں ہی کے واقعات کا ذکر ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ نے ایک بزرگ ترین بی بی کا ذکر فرمایا ہے۔ اور اس وجہ سے بھی اس آیت کے پڑھنے کی نوبت آئی کہ عورتوں کو یہ شکایت پیدا نہ ہو، جب خطاب کیا جاتا ہے مردوں ہی کو کیا جاتا ہے، قرآن مجید میں بھی اللہ نے مردوں ہی کو خطاب کیا۔ تاکہ یہ غلط فہمی ان کی رفع ہو جائے، جیسے مردوں کو خطاب کیا ہے عورتوں کو بھی کیا ہے، کہیں مرد و عورت دونوں کو ملا کر خطاب کیا ہے تاکہ یہ معلوم ہو کہ جو دین کی ترقی مرد کے لیے ہے وہی عورت کے لیے ہے، جیسے فرمایا:
اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمٰتِ وَالْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ وَالْقٰنِتِیْنَ وَالْقٰنِتٰتِ وَالصّٰدِقِیْنَ وَالصّٰدِقٰتِ وَالصّٰبِرِیْنَ وَالصّٰبِرٰتِ وَالْخٰشِعِیْنَ وَالْخٰشِعٰتِ وَالْمُتَصَدِّقِیْنَ وَالْمُتَصَدِّقٰتِ وَالصَّآءِمِیْنَ وَالصّٰئِمٰتِ وَالْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَھُمْ وَالْحٰفِظٰتِ وَالذَّاکِرِیْنَ اللہَ کَثِیْرً‌ا وَالذَّاکِرٰتِ اَعَدَّ اللہُ لَھُمْ مَّغْفِرَۃً‌ وَّاَجْرً‌ا عَظِیْمًا (احزاب ع ۵ پ ۲۲)
’’مسلم مرد مسلم عورت، مومن مرد اور مومن عورت، عبادت گزار مرد اور عبادت گزار عورت، سچا مرد اور سچی عورت، صدقہ دینے والا مرد اور صدقہ دینے والی عورت، روزہ دار مرد اور روزہ دار عورت، حیا کا حفاظت کرنے والا مرد اور حیا کی حفاظت کرنے والی عورت، اللہ کا کثرت سے ذکر کرنے والا مرد اور کثرت سے ذکر کرنے والی عورت، ان کے لیے وعدہ دیا ہے کہ اللہ نے ان کے لیے مغفرت، اجر عظیم اور آخرت کے درجات تیار کیے ہیں۔‘‘
اس سے معلوم ہوا کہ دین کے راستہ پر چل کر جتنی ترقی مرد کر سکتا ہے وہی بعینہٖ عورت بھی کر سکتی ہے۔ اگر ایک مرد ولی کامل بن سکتا ہے تو عورت بھی ولی کامل بن سکتی ہے۔ اسلام میں جیسے مردوں میں اولیاء اللہ کی کمی نہیں ہے ویسے ہی عورتوں میں بھی اولیاء اللہ کی کمی نہیں ہے۔ اس بارے میں بڑی بڑی کتابیں لکھی گئی ہیں جن میں ان عورتوں کا ذکر کیا گیا ہے جو ولایت کے مقام کو پہنچی ہیں اور ولیٔ کامل گزری ہیں۔ ایک دو نہیں سینکڑوں ہزاروں کی تعداد میں ہیں۔ کہیں حضرت رابعہ بصریہؒ، کہیں رابعہ عدویہؒ، اور پھر صحابیاتؓ جتنی ہیں وہ تو ساری اولیائے کاملین میں سے ہیں۔ تو تابعین، تبع تابعین اور بعد کے لوگوں میں بڑی بڑی کامل عورتیں پیدا ہوئی ہیں۔ پھر ہر فن کے اندر پیدا ہوئی ہیں۔ محدث، مفسر، ادیب، شاعر اور مؤرخ بھی گزری ہیں۔ ان کی تصنیفات ہیں اور ہزاروں مرد ان سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اگر عورت دینی ترقی نہ کر سکتی تو یہ عورتیں کہاں سے پیدا ہو گئیں؟
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ پاک ہیں ان کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میری وحی کا آدھا علم میرے سارے صحابہؓ سے حاصل کرو اور آدھا علم تنہا عائشہؓ سے حاصل کرو۔ گویا عائشہ صدیقہؓ اتنی زبردست عالم ہیں۔ گویا نبوت کا آدھا علم صدیقہؓ کے پاس ہے، آدھا علم سارے صحابہؓ کے پاس ہے۔ صدیقہ عائشہؓ ایک عورت ہی تو ہے۔ تو عورت کو اللہ نے وہ رتبہ دیا کہ ہزارہا صحابہؓ ایک طرف اور ایک عورت ایک طرف۔ اس سے معلوم ہوا کہ جب عورت ترقی کرنے پر آتی ہے اتنی ترقی کر جاتی ہے کہ بہت سے مرد بھی پیچھے رہ جاتے ہیں۔ تو اللہ کی طرف سے عورتوں کی ترقی میں رکاوٹ نہیں ہے چاہے دنیا میں ترقی کریں یا دین میں، علم و فضل میں بھی برابر چل سکتی ہیں۔
آپ نے امام ابی جعفر صادقؒ کا نام سنا ہو گا جن کی کتاب ’’طحاوی شریف‘‘ جو حدیث شریف کی کتاب ہے مدارس میں پڑھائی جاتی ہے۔ یہ عورت کا طفیل ہے۔ امام طحاویؒ کی بیٹی نے حدیث کی کتابیں املاء کی ہیں۔ باپ حدیث اور اس کے مطالب بیان کرتے تھے، بیٹی لکھتی جاتی تھی، اس طرح کتاب مرتب ہو گئی۔ گویا جتنے علماء اور محدث گزرے ہیں یہ سب امام ابی جعفر صادقؒ کی بیٹی کے شاگرد اور احسان مند ہیں۔ یہ بھی ایک عورت تو تھی۔ اس لیے کوئی وجہ نہیں ہے کہ امام طحاویؒ کی بیٹی تو محدث بن سکے ہماری کوئی بہو بیٹی نہ بن سکے۔ وہی نسل ہے وہی چیز ہے وہی ایمان وہی دین ہے وہی علم آج بھی موجود ہے۔ توجہ اور بے توجہی کا فرق ہے۔ ان لوگوں نے توجہ دی تو عورتیں بھی ایسی بنیں کہ بڑے بڑے مرد بھی ان کے شاگرد بن گئے۔ آج توجہ نہیں کرتیں کمال نہیں پیدا ہوتا مگر صلاحیتیں موجود ہیں۔

عورت میں ترقی کی صلاحیت

بہرحال علماء اسلام نے ان بڑی بڑی عورتوں کا ذکر کیا ہے جو ولایت کے مقام تک پہنچی اور کامل ہوئی ہیں۔ ہاں البتہ کچھ عہدے اسلام نے ایسے رکھے ہیں جو عورتوں کو نہیں دیے گئے۔ وہ اس بنا پر کہ عورت کا جو مقام ہے وہ حرمت و عزت کا ہے، ایسا نہیں ہے کہ وہ اجنبی مردوں میں خلط ملط اور ملی جلی پھرے، اس سے فتنے پیدا ہوتے ہیں، برائیوں کا بھی اندیشہ ہے، اس لیے عورتوں کو ایسے عہدے نہیں دیے گئے جس سے فتنوں کے دروازے کھلیں، لیکن صلاحیتیں موجود ہیں۔ صلاحیت اس حد تک تسلیم کی گئی ہے کہ علماء کی ایک جماعت اس بات کی بھی قائل ہے کہ عورت نبی بن سکتی ہے، رسول تو نہیں بن سکتی لیکن نبی بن سکتی ہے۔
نبی اسے کہتے ہیں جس سے ملائکہ علیہم السلام خطاب کریں اور خدا کی وحی اس کے اوپر آئے۔ رسول اسے کہتے ہیں جو شریعت لے کر آئے اور خلق اللہ کی تربیت کرے۔ اس لیے تربیت کا مقام تو نہیں دیا گیا مگر ان کے نزدیک نبوت کا مقام عورت کے لیے ممکن ہے (۱)۔ حتٰی کہ ظاہریہ کی ایک جماعت اس کی قائل ہے کہ حضرت مریم علیہا السلام نبی ہیں، فرشتے نے خطاب کیا ہے۔ حضرت موسٰی علیہ السلام کی والدہ نبی تھیں اور فرعون کی بیوی حضرت آسیہ علیہا السلام جو ابتداء سے ہی مسلمان تھیں وہ نبوت کے مقام پر پہنچیں۔ تو نبوت سے بڑا عالم بشریت میں انسان کے لیے کوئی مقام نہیں ہے۔ خدائی کمالات کے بعد اگر بزرگی کا کوئی درجہ ہے تو وہ نبوت کا ہے اس سے بڑا کوئی درجہ نہیں۔ جب عورت کو یہ درجہ بھی مل سکتا ہے تو ظاہر بات ہے کہ عورت کی صلاحیت اتنی بڑھی ہوئی ہے کہ وہ سب مقام طے کر سکتی ہے البتہ رسول نہیں بن سکتی۔ اس لیے محبتِ خداوندی کا مقام پیدا ہو، اس مقام کی عورتیں بھی گزری ہیں جن کے جذبات کا یہ عالم ہے۔
عورتوں نے بڑے بڑے اولیائے کاملین کی تربیت کی ہے۔ حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ تابعی ہیں اور صوفیاء کے امام ہیں اور سلسلۂ چشتیہ کے اکابر اولیاء میں سے ہیں۔ ان کے واقعات میں لکھا ہے کہ حضرت رابعہ بصریہؓ ان کے مکان پر آئیں، کوئی مسئلہ پوچھنا تھا یا کوئی بات کرنی تھی۔ معلوم ہوا کہ حضرت حسن بصریؒ مکان پر نہیں ہیں، پوچھا کہاں گئے ہیں؟ معلوم ہوا کہ دریا کے کنارے پر گئے ہیں اور ان کی عادت یہ ہے کہ اپنا ذکر اللہ یا عبادت وغیرہ دریا کے کنارے پر کرتے ہیں۔ بعض اہل اللہ کا یہ طریقہ رہا ہے کہ انہوں نے ذکر اللہ کے لیے جنگلوں کی راہ اختیار کی یا پہاڑوں میں بیٹھ کر اوراد کرتے ہیں، اس میں ذرا یکسوئی زیادہ ہوتی ہے۔ اور دریا کے کنارے پر بیٹھنے کے بارے میں بھی صوفیاء لکھتے ہیں کہ قلب میں تاثیر زیادہ ہوتی ہے۔ مادی تاثیر اس لیے زیادہ ہوتی ہے کہ پانی کے کنارے پہنچ کر قلب میں فرحت زیادہ ہوتی ہے، جتنی فرحت اور نشاط پیدا ہو گا اتنا ہی قلب ذکر اللہ کی طرف مائل ہو گا۔ بنیادی اور باطنی وجہ اس کی یہ ہے کہ حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ چلتا ہوا پانی خود اللہ کی تسبیح کرتا ہے، اللہ کا نام لیتا ہے اور ذکر کرتا ہے۔ پانی کے ذکر کا اثر بھی انسان کے قلب پر پڑتا ہے تو اس کی طبیعت اور زیادہ ذکر اللہ کی طرف مائل ہو جاتی ہے، ان وجوہ کی بنا پر حضرت حسن بصریؒ اکثر دریا کے کنارے پر جا کر عبادت کرتے تھے۔
بہرحال رابعہ بصریہؒ کو معلوم ہوا کہ حسن بصریؒ اپنی عادت کے مطابق ذکر و عبادت کرنے کے لیے دریا کنارے پر گئے ہیں، یہ بھی وہاں پہنچ گئیں۔ وہاں جا کے یہ عجیب ماجرا دیکھا کہ حسن بصریؒ نے پانی کے اوپر مصلّٰی بچھا رکھا ہے اور اس کے اوپر نماز پڑھ رہے ہیں۔ نہ مصلّٰی ڈوبتا ہے نہ تر ہوتا ہے گویا کرامت ظاہر ہوئی۔ رابعہ بصریہؓ کو یہ چیز ناگوار گزری اور اسے اچھا نہ سمجھا کیونکہ یہ عبدیت اور بندگی کی شان کے خلاف ہے۔ بندگی کے معنی یہ ہیں کہ بڑے سے بڑا بزرگ لوگوں میں ملا جلا رہے۔ کوئی امتیازی مقام پیدا کرنا یہ ایک قسم کا دعوٰی اور صورۃ تکبّر ہے کہ میں سب سے بڑا ہوں اس لیے کہ تم وہ کام نہیں کر سکتے جو میں کر سکتا ہوں۔ گویا میں بڑا صاحبِ کرامت اور صاحبِ تصرف ہوں۔ زبان سے اگرچہ نہ کہے مگر صورتحال سے ایک دعوٰی پیدا ہوتا ہے اور اہل اللہ کے نزدیک سب سے بری چیز جو ہے وہ دعوٰی کرنا ہے اس لیے کہ اس میں تکبر اور کبر کی علامت ہے۔ اور ولایت کا مقام یہ ہے کہ تکبر مٹ کر خاکساری پیدا ہو، تو جس بزرگ میں تکبر یا کبر کی صورت بن جائے وہ بزرگ ہی کیا ہوا؟ حضرت رابعہؓ کو یہ چیز اس لیے ناگوار گزری کہ حسن بصریؒ بزرگوں کے امام اور وہ ایسی صورت پیدا کریں جس سے دعوٰی نکلتا ہو کہ میں بھی کوئی چیز ہوں، میں گویا بڑا کرامت والا ہوں، حسن بصریؒ کے لیے یہ زیبا نہیں تھا، یہ شانِ عبدیت کے خلاف ہے۔ بلکہ درپردہ گویا یہ دعوٰی ہے کہ میں خدائی اختیارات رکھتا ہوں کہ تم اسباب کے تحت مجبور ہو کر پانی پر کشتی سے جاؤ اور میں مجبور نہیں ہوں میں پانی پر ویسے ہی چل سکتا ہوں میرے پاس خدائی قوتیں موجود ہیں۔ جب یہ دعوٰی ہو گیا تو بزرگی کہاں رہی؟ اس واسطے یہ چیز اچھی نہ معلوم ہوئی۔ مگر چونکہ یہ بھی بزرگ ہیں تو انہوں نے اصلاح کی۔ اصلاح کس طرح کی؟ زبان سے کچھ نہ کہا عمل سے اصلاح کی۔ وہ اس طرح کہ انہوں نے پانی کے اوپر مصلّٰی بچھا رکھا تھا۔ انہوں نے یہ کیا کہ اپنے مصلّٰی کو ہوا کے اوپر اڑا کر اس کے اوپر نماز پڑھنی شروع کر دی۔ اب مصلّی ہوا کے اوپر لٹکا ہوا ہے اور نماز پڑھ رہی ہیں، حسن بصریؒ سمجھ گئے کہ مجھے ہدایت کرنی مقصود ہے فورً‌ا اپنا مصلّی لپیٹا اور دریا کے کنارے پر آگئے۔ رابعہ بصریہؒ نے بھی ہوا سے مصلّٰی لپیٹا اور نچے آئیں اور آ کر دو جملے ارشاد فرمائے، وہ کتنے قیمتی اور زریں جملے تھے کہ دین و دنیا کی ساری نصیحتیں ان دو جملوں میں چھپی ہوئی تھیں۔ فرمایا اے حسن بصریؒ
بر آب روی خسے باشیٔ بر ہوا پری مگسے باشی
دل بدست آر کہ کسے باشی
اے حسن بصریؒ! اگر تم پانی پر تیر گئے تو کوڑا کباڑ اور کچرا بھی پانی کے اوپر تیرتا ہے، یہ کوئی کمال کی بات نہیں ہے اور اگر رابعہ ہوا میں اڑی تو مکھیاں بھی تو ہوا میں اڑتی ہیں، یہ کوئی کمال کی بات نہیں ہے۔ اپنے نفس کو قابو میں کرو، اس پر کنٹرول حاصل کرو تاکہ صحیح معنٰی میں انسان بنو۔ انسان بننا کمال ہے مکھی بننا کمال نہیں ہے، آدمی بننا کمال ہے کوڑا کچرا بننا کمال نہیں ہے۔ اگر ہم ہوائی جہاز سے پچاس ہزار فٹ بلندی پر اڑ جائیں بے شک یہ بڑے کمال کی بات ہے مگر یہ حیوانیت کا کمال ہے انسانیت کا کمال نہیں ہے۔ اگر ہم ڈبکتی کشتی کے ذریعے سمندر کی تہہ تک پہنچ جائیں یہ بھی حیوانیت کا کمال ہے اس لیے کہ مچھلیاں بھی تو پہنچتی ہیں۔ آدمی سے ہم اگر مچھلی بن گئے تو کونسا کمال کیا؟ اسی طرح ہوا میں کرگسیں بھی اڑتی ہیں، اگر آدمی سے کرگس بن گئے تو کونسا کمال کیا، یہ حیوانیت کا کمال ہے انسانیت کا کمال نہیں ہے۔ انسانیت کا کمال یہ ہے کہ گھر میں بیٹھا ہوا ہو اور عرش پہ باتیں کر رہا ہو، اپنے مصلّٰی کے اوپر ہو اور خدا سے اسے نیاز حاصل ہو، معاملات وہاں سے چل رہے ہوں۔ وہ فرشی ہو مگر حقیقت میں وہ عرشی ہو، فرش پر بیٹھے ہوئے عرش کے اوپر مقام ہو۔ یہ سب سے بڑا انسانیت کا کمال ہے جس کو انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام نے سکھلایا۔
تو رابعہ بصریہ نے کتنی قیمتی بات کہی کہ حضرت حسن بصریؒ نادم اور شرمندہ ہوئے اور توبہ کی کہ میں آئندہ کبھی ایسا نہیں کروں گا۔ میں اسے بڑا کمال سمجھ رہا تھا مگر آپ نے میری آنکھیں کھول دیں۔ دیکھئے رابعہ بصریہ عورت ہے اور حسن بصریؒ مردوں کے امام ہیں۔ ایک عورت ایک مردِ کامل کو ہدایت کر رہی ہے اور اسے راستہ ہاتھ آجاتا ہے۔ اس لیے عورت اگر کمال پیدا کرنا چاہے تو وہ بڑے بڑے مردوں کی مربّی بن سکتی ہے۔

حضرت عائشہؓ، امت کی استاذ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بڑے جلیل القدر صحابی ہیں، امت میں سب سے بڑے مفسر قرآن ہیں لیکن حضرت عائشہ ؓ کے شاگرد ہیں، علم زیادہ تر انہی سے سیکھا ہے۔ فتوے کی ضرورت ہوتی ہے تو عائشہ صدیقہ ؓ سے فتوٰی لیتے تھے۔ تو ابن عباسؓ ساری امت کے استاذ ہیں اور ان کی استاذ حضرت عائشہ ؓ ہیں۔ گویا حضرت عائشہ ؓ علوم و کمالات کے اندر پوری امت کی استاذ ہیں۔ بعض صحابہؓ حضرت عائشہ ؓ سے کہا کرتے تھے ’’ما ھٰذہٖ باَوّل برکتکم یا ال ابی بکر‘‘ اے آل ابی بکر یہ پہلی برکت نہیں۔ تمہاری تو اتنی برکتیں ہیں کہ امت احسان سے تمہارے سامنے سر نہیں اٹھا سکتی۔ اس لیے کہ حضرت عائشہ ؓ کے سوالات کرنے سے ہزاروں مسئلے کھلے ہیں، بڑی ذہین و ذکی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوالات ایسے کیا کرتی تھیں کہ دوسرے کی جرأت نہیں ہو سکتی تھی۔ جواب میں آپؐ علوم ارشاد فرماتے۔ یہ ساری امت پر احسان تھا، اگر وہ سوال نہ کرتیں تو علم نہ آتا۔
مثلاً‌ حدیث میں ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ اگر کسی شخص کے تین بچے پیدا ہوں اور پیدا ہونے کے بعد دودھ پینے کی حالت میں گزر جائیں۔ برس، دن یا چھ مہینے کے بعد انتقال کر جائیں تو وہ تینوں ماں باپ کی نجات کا ذریعہ بنیں گے، شفاعت کریں گے اور اس طرح سے کریں گے گویا اللہ تعالیٰ کے اوپر اصرار کریں گے کہ ضرور بخشنا پڑے گا۔ حدیث میں ہے کہ ماں باپ کے لیے جہنم کا حکم ہو جائے گا کہ یہ سزا کے مستحق ہیں، جہنم کی طرف لے جائے جائیں گے، یہ تین بچے ملائکہ کے آگے آ کے سامنا روکیں گے کہ یہ ہمارے ماں باپ ہیں آپ ان کو کہاں لے کے جا رہے ہو؟ وہ کہیں گے کہ انہیں جہنم کا حکم ہے، بچے کہیں گے ہم نہیں جانتے یہ ہمارے ماں باپ ہیں، جیسے بچے کی ضد ہوتی ہے اسی طرح ضد کریں گے۔ وہ کہیں گے حکم خداوندی ہے، بچے کہیں گے ہو گا، اللہ نے ہمیں تو معصوم بنایا ہم انہیں نہیں جانے دیں گے ہمارے ہوتے ہوئے نہیں جائیں گے۔ ملائکہ علیہم السلام کو لوٹنا پڑے گا اور عرض کریں گے الٰہی! یہ بچے راستہ روک رہے ہیں جانے نہین دیتے۔ معلوم ہوتا ہے بچوں کی ضد کے آگے فرشتوں کی نہیں چلے گی۔ جیسے باپ اگر بادشاہ بھی ہو اور بچہ ضد کرے تو بادشاہ کو بھی بچے کی ماننی پڑتی ہے، اس کی حکومت کی ساری قوت دھری رہ جاتی ہے اسی طرح فرشتوں کی طاقت بھی رکھی رہ جائے گی اور وہ مجبور ہو جائیں گے بچے انہیں لوٹا دیں گے تو فرشتے عرض کریں گے کہ خداوند! آپ کا ارشاد تھا کہ انہیں جہنم میں ڈال دو یہ بچے روک رہے ہیں ضد کر رہے ہیں جانے نہیں دیتے۔ حق تعالیٰ فرمائیں گے ارے نادان بچو! تمہارے ان ماں باپ نے یہ برائی کی یہ برائی کی یہ گناہ کیا یہ معصیت کی یہ جہنم کے مستحق ہیں۔ یہ کہیں گے ہم نہیں جانتے انہوں نے کیا کیا یہ تو ہمارے ماں باپ ہیں اگر آپ کو انہیں جہنم میں ہی بھیجنا ہے تو ہمیں بھی بھیج دیجیئے۔ اب ظاہر ہے کہ معصوم تو جہنم میں نہیں بھیجے جائیں گے۔ اور اگر آپ نے ہمیں جنت میں بھیجنا ہے تو ہم انہیں بھی لے کے جائیں گے۔ حق تعالیٰ حجت کریں گے جواب دیں گے بچے وہاں بھی ضد کریں گے اخیر میں حق تعالیٰ فرمائیں گے، جاؤ ارے جھگڑالو بچو! ہمارا پیچھا چھوڑو، لے جاؤ ان ماں باپ کو جنت میں۔ چنانچہ ان کو جنت میں لے جائیں گے۔
یہ حدیث آپؐ نے صدیقہ عائشہ ؓ کو سنائی۔ اس پر صدیقہ عائشہ ؓ سوال کرتی ہیں کہ یا رسول اللہ! اگر کسی کے دو بچے اس طرح گزر جائیں؟ فرمایا دو کا بھی یہی حکم ہے۔ پھر سوال کیا اگر ایک بچہ گزر جائے؟ فرمایا ایک کا بھی یہی حکم ہے، حتٰی کہ فرمایا اگر کوئی حمل ضائع ہو جائے بشرطیکہ بچے میں جان پڑ گئی ہو اس کا بھی یہی حکم ہے کہ وہ اس طرح سے ضد کر کے اپنے ماں باپ کو بخشوائے گا۔
اب دیکھئے چھوٹا بچہ جب گزرتا ہے تو ماں باپ پر اور بالخصوص ماں پر کیا گزرتی ہے، اس کے تو وہ جگر کا ٹکڑا تھا، اس نے نو مہینے اسے اپنے پیٹ میں رکھ کے پالا ہے پرورش کیا تھا اور پیدا ہونے کے بعد جب گزر جاتا ہے تو باپ کو تو کچھ جلدی صبر بھی آجاتا ہے مگر ماں کو نہیں آتا۔ اس لیے کہ اس کے لیے تو ایسا ہے جیسے اس کے بدن کا ٹکڑا کٹ کے ضائع ہو جائے، تو ماں بہت زیادہ پریشان ہوتی ہے لیکن جب یہ حدیث سنے گی کہ یہ میری نجات کا سبب بنے گا تو شاید اسے خوشی پیدا ہو جائے کہ میرے لیے کوئی دکھ نہیں، اگر ضائع ہو گیا تو بلا سے ضائع ہو گیا میرے لیے تو جنت اور نجات کا سامان ہو گیا۔
اگر صدیقہ عائشہ ؓ یہ سوال نہ فرماتیں نہ اتنا علم کھلتا نہ اتنی آسانی پیدا ہوتی۔ ہم تو یہی کہتے کہ اگر تین بچے گزریں تو پھر جنت کا وعدہ ہے اور اگر دو یا ایک ہوا تو پھر جنت کا وعدہ نہیں۔ مگر صدیقہ عائشہ ؓ کے سوال کرنے سے معلوم ہوا کہ دو اور ایک کا بھی یہی حکم ہے بلکہ حمل ساقط ہو جائے تو اس کا بھی یہی حکم ہے بشرطیکہ روح پڑ گئی ہو۔ تو صدیقہ عائشہ ؓ کی ذہانت و ذکاوت اور سوال کرنے سے امت کے لیے کتنی بڑی آسانی پیدا ہو گئی کتنے راستے نکلے۔ تو عورتیں ایسی بھی گزری ہیں جنہوں نے ہزاروں مردوں کے راستے درست کر دیے اور ان کے لیے ہدایت کا سبب بن گئیں۔

عورت میں تحمل کی صلاحیت

شادی اور غمی ایسی چیز ہوتی ہے اس میں آدمی کچھ آپے سے باہر ہو جاتا ہے۔ زیادہ غم پڑے جب بھی پاگل سا ہو جاتا ہے۔ زیادہ خوشی آئے جب بھی آپے سے باہر ہو جاتا ہے۔ ایسے میں اگر کوئی سنبھال لے وہ بڑا محسن ہوتا ہے۔ اسلام میں ایسی بھی عورتیں گزری ہیں انہوں نے ایسے وقتوں میں مردوں کو سنبھالا حالانکہ مرد بہ نسبت عورت کے قوی القلب ہوتا ہے، عورت کا دل گو اتنا قوی نہیں ہوتا لیکن عورت میں سمجھ بوجھ اور دین و دیانت ہے تو بڑے بڑے قوی مردوں کو سنبھالنے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ حدیث میں واقعہ فرمایا گیا ہے کہ حضرت جابرؓ ان کا چھ سات برس کا بچہ بڑا ہونہار حسین و جمیل بیمار ہوا۔ اس زمانے کے مطابق دوا دارو کی گئی مگر بچہ اچھا نہ ہوا۔ ادھر حضرت جابرؓ کو اچانک سفر پیش آیا اور انہیں ضروری جانا پڑ گیا تو بیوی سے کہا کہ دیکھو مجھے مجبوری کا سفر پیش آ گیا میرا جانا ضروری ہے اور بچے کی حالت ایسی ہی ہے۔ ذرا دوا اور تیمارداری اچھی طرح سے کرنا اور میں جلدی آجاؤں گا، کوئی زیادہ دیر کے لیے مجھے نہیں جانا۔ یہ فرما کر حضرت جابرؓ چلے گئے۔
جب آنے کا دن ہوا تو بچے کا انتقال ہو گیا۔ آپؓ گھر میں تشریف لائے۔ اور بیوی کی دانش مندی، دیانت داری اور ہوشیاری یہ ہے، ورنہ کوئی اگر آج کی طرح کی بیوی ہوتی جب وہ دیکھتی کہ خاوند آ رہے ہیں تو وہ بڑا رونا شروع کر دیتی تاکہ معلوم ہو بڑا غم پڑا ہوا ہے۔ مگر دانشمند تھیں اس لیے حضرت جابرؓ کے آنے کا وقت ہوا تو اپنے کو سنبھالا اور صورت ایسی بنائی کہ اسے کوئی غم نہیں ہے اور بچے کو اندر لٹا دیا، اس کی لاش پر چادر ڈال دی۔ حضرت جابرؓ آئے تو جیسے عرب کا دستور ہے بیوی نے بڑھ کر استقبال کیا مصافحہ کیا اور اپنے خاوند کے ہاتھ چومے۔ حضرت جابرؓ نے آتے ہی پوچھا کہ بچہ کیسا ہے؟ کہا ’’الحمد للہ بعافیۃ و خیر‘‘ خدا کا شکر ہے عافیت میں ہے اور بڑی خیر ہے۔ غلط بات بھی نہیں کہی اس لیے کہ مرنے کے بعد بڑی عافیت و خیر ہوتی ہے۔ تو ایسا جملہ کہا کہ غلط بھی نہ ہو اور خاوند کو تسلی بھی ہو جائے۔ وہ بھی مطمئن ہو گئے۔ ان کے ہاتھ دھلائے کھانا کھلایا۔ اس لیے کہ آتے ہی صدمے کی خبر سنا دیتی ان پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑتا۔ پھر کہاں کا کھانا ہوتا، وہ اس کے سوگ میں لگ جاتے۔
کھانا کھلاتے کھلاتے کہا، میں آپ سے ایک مسئلہ پوچھنا چاہتی ہوں اس میں شریعت کا حکم کیا ہے؟ فرمایا پوچھو۔ کہا اگر کوئی شخص ہمارے پاس امانت رکھوائے اور اس کی میعاد مقرر کرے کہ برس دن کے لیے رکھواتا ہوں، برس دن کے بعد واپس لے لوں گا۔ تو شریعت کا اس مسئلہ کے بارے میں کیا حکم ہے؟ فرمایا، حکم کھلا ہوا ہے اس کو ٹھیک وقت پر ادا کرنا چاہیئے۔ (پوچھا) اگر امانت کے ادا کرتے ہوئے دل میں گھٹنے لگے اور دل نہ چاہے۔ فرمایا، دل میں گھٹنے کا حق کیا ہے، چیز دوسرے کی ہے، اپنی چیز پر آدمی گھٹے۔ جب دوسرے کی امانت ہے اور دلت مقرر تھا، اب اس نے مانگ لی تو گھٹنے اور غم کرنے کا کیا حق ہے؟ کہا، شریعت کا یہی مسئلہ ہے؟ فرمایا، ہاں مسئلہ یہی ہے۔ کہا، وہ بچہ جو تھا وہ امانت تھا، اللہ نے وہ سات برس کے لیے رکھوایا تھا، کل قاصد پہنچ گیا کہ امانت واپس کر دو، میں نے امانت واپس کر دی، تو ہمیں گھٹنے کا تو کوئی حق نہیں؟ فرمایا نہیں ہے اور بیوی کے ہاتھ چومے اور کہا خدا تجھے جزائے خیر دے، تو نے ایسی تسلی دی کہ مجھے بجائے غم کے خوشی ہے کہ ہم امانت ادا کر چکے اور بوجھ ہلکا ہو گیا۔
یہ عورتیں ہی تھیں جو اس طرح سے تسلی بھی دیتی تھیں۔ مگر یہ ان عورتوں کا کام تھا جن میں حوصلہ اور دین و دیانت کا جذبہ تھا۔ اور اگر عورتیں رواج کے مطابق چلیں تو آنکھوں میں نہ بھی آنسو ہوں گے مگر جب تعزیت کے لیے کوئی آئے تو بنا بنا کے رونا شروع کر دیں گی۔ دوسری آئیں وہ بھی رونا شروع کر دیں گی۔ تیسری آئیں وہ بھی۔ لیکن تحمل کی بات یہ ہے کہ روتے ہوؤں کو تھام لیا جائے، غم زدہ لوگوں کو تھام لیا جائے اور تسلی دی جائے، یہ کام کیا تو مرد کرتے ہیں مگر عورتیں بھی ایسے حوصلے کی گزری ہیں جنہوں نے مردوں کے غموں کو ہلکا کر دیا ہے۔

حضرت خدیجۃ الکبرٰیؓ کا پوری امت پر احسان

حضرت خدیجۃ الکبرٰی رضی اللہ عنہا نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے پہلی زوجہ پاک ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ ساری امت پر حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا احسان ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب پہلی مرتبہ وحی آئی اور عالم غیب سے پہلی بار سابقہ پڑا تو حضرت جبرائیل علیہ السلام کو آپؐ نے اصلی شکل میں دیکھا ورنہ انسانی صورت میں آتے تھے۔ صحابہؓ میں حضرت دحیہ کلبیؓ بہت خوبصورت اور حسین و جمیل صحابی تھے، ان کی شکل میں حضرت جبرائیل’ آیا کرتے تھے۔ صحابہؓ دیکھتے تھے کہ دحیہ بیٹھے ہوئے ہیں۔ ایک اِدھر ایک اُدھر۔ تو دو مرتبہ اصلی شکل میں حضور علیہ السلام نے دیکھا۔ ایک تو جب غار حرا میں سب سے پہلی وحی آئی ہے اس وقت اپنی اصلی شکل میں نمایاں ہوئے اور ایک معراج کی شب میں۔ اور یہ دیکھنا اس شان سے تھا کہ ان کے چھ چھ سو بازو ہیں، مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب تک جتنی فضا ہے سب ان کے بدن سے گھری ہوئی ہے، اتنا عظیم قدوقامت ہے کہ سر آسمان پر ہے، پیر زمین پر ہیں، موڈھے جنوب و شمال میں، چھاتی اور سینہ مشرق و مغرب میں ہے۔ گویا پوری فضا جبرائیل علیہ السلام کے بدن سے بھری ہوئی ہے۔ چہرہ سورج کی طرح چمک رہا ہے، ایک تاج بھی ان کے سر پر رکھا ہوا ہے جو سورج سے زیادہ روشن ہے اس سے شعاعیں پھوٹ رہی ہیں، اور ایک سبز رنگ کا کپڑا ہے جو ان کے بدن پر پڑا ہوا ہے۔ تو اتنی حسین و جمیل شکل مگر اتنی عظیم دیکھ کر ایک دفعہ آپؐ گھبرا گئے اور آپؐ کے اوپر ہیبت اور لرزہ طاری ہوا کیونکہ یہ پہلا موقع تھا کہ رجالِ غیب کو اس طرح سے دیکھا اور دیکھا بھی اتنی عظیم شکل میں۔ آپؐ گھبرا گئے اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا:
زملونی زملونی زملونی لقد خشیت علٰی نفسی۔
’’مجھے کمبل اڑھاؤ، کمبل اڑھاؤ، کمبل اڑھاؤ، مجھے ڈر ہے کہ اب میں زندہ نہیں رہوں گا میری جان نکل جائے گی۔‘‘

حضرت خدیجہؓ نے کہا، کیا واقعہ ہوا؟ آپؐ نے واقعہ بیان کیا تو حضرت خدیجہؓ نے تسلی دی اور فرمایا:

کلا واللہ لا یخزیک اللہ ابدً‌ا۔ انک لتصل الرحم وتکسب المعدوم و تقری الضیف و تحمل الکل وتعین علیٰ نوائب الحق۔

’’خدا کی قسم، اللہ آپ کو کبھی ضائع نہیں کرے گا۔ صلہ رحمی، غریبوں کی مدد اور مہمان نوازی آپؐ کرتے ہیں، مسکینوں کو آپؐ پناہ دیتے ہیں، ساری دنیا کی خیر خواہی میں لگے ہوئے ہیں، ایسے بندوں کو اللہ ضائع نہیں کیا کرتا، آپ بالکل نہ گھبرائیں آپ کی جان نہیں جا سکتی۔‘‘

یہ تو زبان سے تسلی دی اور عمل یہ کیا کہ ہاتھ پکڑ کر ورقہ ابن نوفل کے پاس لے گئیں۔ یہ عرب کے لوگوں میں بہت بوڑھے اور ادھیڑ عمر کے تھے، مذہبًا نصرانی تھے اس لیے انجیل اور تمام آسمانی کتابیں لکھا بھی کرتے تھے اور ان کو یہ کتابیں یاد تھیں اور ان کے علوم سے واقف بھی تھے۔ مشرکین عرب یا خاندانِ قریش میں ایک یہ تھے جو اہلِ کتاب میں شامل ہوئے اور آسمانی کتابوں کے بڑے زبردست عالم ہوئے۔ حضرت خدیجہؓ حضورؐ کا ہاتھ پکڑ کر ان کے پاس لے گئیں کہ ان کے حالات کا صحیح پتہ وہ دے سکتا ہے جو عالم ہو اور دینی و تاریخی علوم سے واقف ہو۔ حضرت خدیجہؓ جب ان کے پاس پہنچیں اور کہا ذرا سنیئے یہ آپ کا بھتیجا کیا کہتا ہے؟ ’’اسمع لابن اخیک‘‘ اپنے بھائی کے بچے سے پوچھیئے یہ کیا کہہ رہا ہے۔ ’’یا ابن اخی ما ذرا ترٰی؟‘‘ میرے بھتیجے! کیا بات تم نے دیکھی؟ کیوں گھبرائے ہوئے ہو؟ آپؐ نے سارا واقعہ سنایا کہ میں اس طرح غارِ حرا میں بیٹھا ہوا تھا، ایسی شخصیت نمایاں ہوئی، یہ اس کی شکل تھی اور یہ اس نے مجھ سے خطاب کیا۔ ورقہ ابن نوفل نے کہا ’’ابشر ابشر‘‘ خوشخبری حاصل کرو، یہ وہ ناموس ہے جو موسٰی علیہ السلام کے پاس وحی لے کر آتا تھا اور دیگر پیغمبروں کے پاس آتا تھا۔ خدا نے تم کو اس امت کا پیغمبر بنایا ہے، جس کی خبریں سننے میں آ رہی تھیں وہ تھیں وہ تم ہی معلوم ہوتے ہو، اس لیے تم مت گھبراؤ، یہ تمہارے لیے بشارت ہے۔ اور کہا کہ کاش جب تم تبلیغ کا نام لے کر کھڑے ہو اور اسلام کی دعوت دو میں اس وقت زندہ ہوتا تو میں تمہاری مدد اور اعانت کرتا لیکن میں تو قبر میں پاؤں لٹکائے ہوئے ہوں۔ سو برس سے زیادہ عمر ہو چکی تھی، بڑے معمر اور بوڑھے تھے۔

آپ نے دیکھا کہ ایک ایسا کٹھن معاملہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش آیا، یہ معاملہ کوئی بدنی بیماری کا نہیں تھا کہ کوئی بخار آگیا ہو، کھانسی آگئی ہو، یہ روحانی معاملہ تھا اور روحانی معاملہ بھی وہ جو پیغمبروں سے پیش آتا ہے، کسی معمولی ولی کا بھی نہیں بلکہ نبی الانبیاءؐ کا معاملہ تھا۔ اس میں تسلی دینے کے لیے ایک عورت کھڑی ہوئی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا۔ ہمارے زمانے کی کوئی عورت ہوتی وہ گھبرا کے کہتی خدا جانے اب کیا ہو گا جلدی سے کمبل اڑھاؤ اور ایک واویلا شروع ہو جاتا۔ لیکن ان کا گھبرانا تو بجائے خود ہے، اس ذات اقدس کو تسلی دی جو پورے عالم کی سردار بننے والی تھی۔ ان کے دل کو تھامنے کی کوشش کی۔ قول سے الگ تھاما، عمل سے الگ تھاما۔ زبان سے یہ تسلی دی کہ آپ وہ نہیں ہیں کہ اللہ آپ کو ضائع کرے، آپ تو سرتاپا بزرگ ہی بزرگ خیر ہی خیر ہیں، عادت اللہ یہ ہے کہ ایسی ہستیوں کو اللہ کھویا نہیں کرتا۔ اور عمل یہ کہ ورقہ ابن نوفل کے پاس لے گئیں۔ یہ ایک عورت ہی تھیں جس کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینا درحقیقت اس پوری امت کو تسلی دینا ہے جو قیامت تک آنے والی ہے۔ گویا اکیلی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا پوری امت پر احسان ہے۔

میرے کہنے کا یہ مطلب ہے کہ عورتیں ایسی ایسی بھی گزری ہیں۔ اس لیے عورتوں کا یہ خیال کرنا کہ ہمارا کام تو بس اتنا ہے کہ گھر میں بیٹھ جائیں، کھانا پکا دیا، زیادہ سے زیادہ بچوں کے کپڑے سی دیے اور زیادہ ہوا ان کی تربیت کر دی، اس سے زیادہ ہم ترقی کرنے کے لیے نہیں ہیں۔ یہ میدان مردوں کا ہے۔ ولی بھی مرد بنے گا، امام بھی مرد بنے گا، مجتہد اور خلیفہ بھی بنے گا، ہم اس کام کے لیے نہیں ہیں۔ تم چاہو تو مجتہد، ولیٔ کامل بن سکتی ہو، اللہ کی طرف سے تمہارے ساتھ الہام کا معاملہ ہو کہ تمہارے اوپر الہام آئے، تم یہ بھی کر سکتی ہو۔ جو ایک بڑے سے بڑے ولی کا حال ہو سکتا ہے وہ ایک عورت کا بھی ہو سکتا ہے بشرطیکہ عورت توجہ کرے، مگر یہ توجہ نہیں کرتیں۔ یہ ساری بات میں نے اس لیے کہی ہے کہ یہ غلط فہمی رفع ہو جائے کہ عورت کے دل میں یہ کھٹک پیدا ہو گئی کہ ہم نہ دینی ترقی کے لیے ہیں نہ علمی ترقی کے لیے، اس کام کے لیے تو مرد ہیں۔

قصور مردوں کا ہے

اگر برا نہ مانا جائے تو میں کہوں گا کہ اس میں زیادہ قصور مردوں کا ہے۔ یہ خیال انہوں نے اپنے عمل سے پیدا کیا ہے۔ زبان سے تو کسی نے نہیں کہا ہو گا مگر غریب عورتوں کے ساتھ جو طریق عمل برتا گیا ہے کہ نہ ان کو تعلیم و ترقی دینے کا بندوبست نہ دین سکھلانے کا بندوبست۔ گویا عملاً‌ زبانِ حال سے آپ نے انہیں باور کرا دیا کہ تم اس لیے پیدا ہی نہیں کی گئی ہو کہ دینی و اخلاقی ترقی کرو۔ یہ کچھ کریں گے تو ہم کریں گے اور ہم بھی افریقہ میں رہ کے نہیں کریں گے کوئی ہندوستان میں رہ کے ترقی کر لے تو کر لے ہم اس لیے پیدا ہی نہیں کیے گئے نہ ہماری عورتیں اس لیے پیدا کی گئی ہیں۔

جب آپ نے اپنے طرزِ عمل سے عورتوں کے راستے بند کر دیے ہیں تو ان غریب عورتوں کا کوئی قصور نہیں۔ یہ قصور اصل میں مردوں کا ہے اور قیامت کے دن ان مردوں سے باز پرس ہو گی کہ تم نے کیوں تربیت کی طرف توجہ نہیں کی؟ کیوں ان کو تعلیم نہ دی؟ حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ

’’کلکم راع و کلکم مسئول عن رعیتہ‘‘

تم میں سے ہر شخص بادشاہ ہے اور قیامت کے دن ہر بادشاہ سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا کہ اپنی رعیت کو کس طرح رکھا؟ آرام و سکھ سے رکھا یا تکلیف سے؟ صحیح تربیت کی یا نہیں کی؟ دین پر لگایا یا دین سے ہٹایا؟ تو فرمایا ہر گھر کا مرد بادشاہ ہے اور جتنے گھر میں رہنے والے ہیں وہ درحقیقت اس کی رعایا ہیں، اس کے زیر عیال ہیں۔ قیامت کے دن سوال ہو گا کہ گھر والوں کے ساتھ تم نے کس قسم کا برتاؤ کیا؟ ملک کا بادشاہ ہے تو پورا ملک اس کی رعیت ہے۔ قیامت کے دن اس سے پوچھا جائے گا کہ تو نے اپنی رعیت کو کس حال میں رکھا، اس کی آسائش کی خبر لی یا انہیں تکلیفیں پہنچائیں؟ ان کو آبرو بخشی یا انہیں بے آبرو اور بے عزت کیا؟ ان کو ایذا پہنچائی یا ان کی راحت رسانی کا سامان کیا۔

یہ ہر بادشاہ سے سوال ہو گا۔ استاذ سے اس کے شاگردوں کی نسبت سوال ہو گا کہ تیرے شاگرد تیرے حق میں بمنزلہ رعیت کے تھے، تو ان کا بادشاہ تھا، وہ تیری حکم برداری کرتے تھے، تو نے ان پر کیا کیا حکم چلایا؟ شیخ سے اس کے مریدین کی نسبت سوال ہو گا کہ مریدین بمنزلہ رعیت کے تھے، تو حکم کرنے والا تھا، تجھے منوانے کا مقام دیا گیا تھا اور وہ ماننے والے تھے، تو نے کیا کیا چیزیں منوائیں؟ تو نے ان سے دین منوایا یا بری چیزیں ان سے منوائیں؟ غرض ہر شخص سے سوال کیا جائے گا، تو آپ سے اور مجھ سے بھی سوال ہو گا۔ عورتوں کے بارے میں بھی سوال ہو گا کیونکہ وہ ہمارے زیرتربیت اور زیرعیال ہیں۔

رسول اللہؐ کی وصیت

اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے زیادہ توجہ عورتوں کی طرف دی ہے حتٰی کہ عین وفات کے وقت جو آخری کلمہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے نکلا وہ یہ تھا کہ

’’اتقوا اللہ فی النسآء‘‘

اے لوگو! عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو، یہ امانتیں ہیں جو تمہارے سپرد کی کی گئی ہیں، ایسا نہ ہو کہ تم امانت میں خیانت کرو اور قیامت کے دن تم سے بازپرس ہو۔ یہ آخری کلمہ ہے جو عین وفات کے وقت فرمایا ہے وہ یہ تھا کہ عورتوں کی فکر کرو کہیں یہ ضائع نہ ہو جائیں، ان کو خراب نہ کر دیا جائے، ان کی تربیت نہ تباہ ہو جائے، ان کا دین نہ برباد ہو جائے اور دنیا نہ خراب ہو جائے۔ تو جس ذاتِ اقدس نے خود عورتوں کے بارے میں اتنی توجہ کی اس کی امت کا بھی فرض ہے کہ وہ توجہ کرے۔ حدیث میں ہے کہ

ان اکرم المؤمنین احسنکم اخلاقا الطفکم اھلا۔

تم میں سب سے زیادہ قابل تکریم وہ مسلمان ہے جس کے اخلاق پاکیزہ ہوں اور عورتوں، بیویوں کے ساتھ لطف و مروّت اور مدارت کا برتاؤ کرتا ہو۔ مطلب یہ کہ جو عورتوں کے ساتھ زیادتی اور سختی سے پیش آئے وہ قابلِ تکریم نہیں ہے، اس حدیث کا حاصل یہی ہے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے توجہ فرمائی اور پوری توجہ فرمائی اور عین وفات کے وقت آپؐ نے جو نصیحت ارشاد فرمائی وہ عورتوں کے بارے میں تھی۔ اس سے اندازہ کیجئے کہ امت کے لیے نبی اکرمؐ نے جہاں اتنا خیال کیا، امت کیا خیال کر رہی ہے؟ امت نے یہ کیا کہ طرزِ عمل سے باور کرا دیا کہ تم نہ دینی ترقی کے قابل، نہ دینی عمل کے قابل، یہ تمہارا کام ہی نہیں۔ بس تمہارا کام یہ ہے اگر تم غریب ہو تو گھر بیٹھ کے کھانا پکاؤ، اور اگر تم دولت مند ہو تو کھانا ملازمہ پکا لے گی، تم اچھے کپڑے پہن لیا کرو، بہترین زیور پہن لیا کرو اور جو جی میں آئے آرائش زیبائش کر لیا کر، بس قصہ ختم ہو گیا، زیادہ سے زیادہ یہ کیا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے بدنوں کو تو سنوار دیا لیکن دلوں کو بھی سنوارا ہے؟ بدن کی آرائش و زیبائش تو چند دن کی بہار ہے، یہ چند دن میں ختم ہونے والی ہے۔ خدا بھلا کرے بخار کا، تین دن میں بتلا دیتا ہے، ساری جوانی ڈھیلی پڑ جاتی ہے، اگر آدمی جوانی کے اوپر ناز کرے اور چہرے کی تازگی اور رونق پر اترائے تو تین دن کا بخار بتلا دیتا ہے کہ جوانی کی یہ حقیقت تھی۔ چہرے کی سرخی بھی ختم، منہ پر جھریاں پڑ گئیں اور تین دن میں بخار سے ایسا حال ہو گیا اور بخار نے بتلا دیا کہ سب سے بڑا مربّی اور ناصح میں ہوں، یہ بتلا دیتا ہے کہ جس کے لیے سارا سب کچھ کیا جا رہا ہے اس کی یہ قدر و قیمت ہے۔ اسی واسطے اہل اللہ نے اس کی خاص طور پر تاکید کی ہے کہ صورتوں کے حسن و جمال میں زیادہ مت گھسو، سیرت کے حسن و جمال کو دیکھو، اخلاق کی پاکیزگی کو دیکھو۔
مؤرخین لکھتے ہیں کہ ایک بزرگ کی خانقاہ میں اللہ اللہ سیکھنے کے لیے ہزاروں آدمی آتے تھے۔ ایک شخص آیا، ابھی بے چارہ نیا تھا، بزرگی نے اس کے دل میں گھر نہیں کیا تھا، شیخ سے بیعت ہوا۔ شیخ نے اسے اللہ اللہ بتا دی، اس نے بھی ذکر اللہ شروع کر دیا۔ اور طریقہ یہ تھا کہ خانقاہ میں جتنے مریدین ٹھہرے ہوئے تھے ان کا کھانا شیخ کے گھر سے آتا تھا۔ ایک باندی تھی جو کھانا تقسیم کر جاتی تھی۔ یہ مرید جو نووارد تھے، باندی انہیں کھانا دینے کے لیے آئی، باندی ذرا اچھی صورت کی تھی، ان کی طبیعت اس کی طرف مائل ہو گئی، اب جب وہ کھانا لے کے آئے یہ اسے گھورنا شروع کریں۔ شیخ کو پتہ چل گیا کہ یہ باندی کی صورت کی طرف مائل ہو گئے ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ وہ جتنا صورت و شکل میں الجھیں حقیقت اتنی کم ہو گی اور ذکر اللہ وغیرہ چھوٹ گیا، بس یہ نگاہ بازی رہ گئی، جب وہ آئے تو اسے گھور رہے ہیں، نہ اللہ کا نام اور نہ ذکر۔ عادت اللہ یہی ہے کہ بندہ صورتوں میں جتنا الجھتا ہے حقیقت سے اتنا ہی بے خبر بن جاتا ہے، جب صورت کے عشق میں مبتلا ہو گیا حقیقت کا عشق ختم ہو جاتا ہے۔ تو وہ صورت کے دیکھنے میں لگ گئے، اور جو حقیقت تھی اللہ اللہ کرنا اور یادِ خداوندی اس سے غفلت شروع ہو گئی۔
شیخ کو پتہ چل گیا کہ ہمارے مرید اس بلا میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ سبحان اللہ انہوں نے بڑی تدبیر سے علاج کیا، انہیں بلا کر یہ نہیں کہا کہ تم نے یہ کیا حرکت کی، ایسا مت کرو۔ بلکہ ایک تدبیر اختیار کی اور ہنسی کی تدبیر اختیار کی اور ان کی اصلاح بھی ہو گئی۔ وہ یہ کہ دستوں کی ایک دوا لا کر اس باندی کو کھلا دی، جمال گھوٹا یا کوئی دوسرا مسہل۔ صبح سے شام تک اسے بڑی تعداد میں دست آ گئے اور باندی کو یہ حکم دیا کہ ایک چوکی رکھ دی گئی ہے اس پر جا کر حاجت کرنا۔ وہ بیچاری ہر دست منٹ کے بعد جاتی۔ شام کو جب وہ چہرے کی سرخی باقی نہ رہی، ہڈی کو چمڑا لگ گیا، صورت دیکھو تو دیکھ کے نفرت آئے اور وہ جو گلاب سا چہرہ کھل رہا تھا وہ سب ختم ہو گیا، ایک زردی سے چھا گئی۔ شیخ نے اب اس کو کہا کہ اس مرید کے پاس کھانا لے کے جا اور تیرے ساتھ جو معاملہ کرے مجھے اس کی اطلاع دینا۔ اب وہ کھانا لے کے آئی تو انتظار میں بیٹھے رہتے تھے کہ کب وہ آئے اور میں اس کو گھوروں۔ اور اب جو آئی تو دیکھا کہ ہڈیاں نکلی ہوئیں، چہرے پر جھریاں پڑی ہوئیں، سرخی کے بجائے زردی چھائی ہوئی، انہیں بڑی نفرت پیدا ہوئی، کہا رکھ دے کھانا اور چلی جا جلدی سے یہاں سے، وہ بیچاری کھانا رکھ کے چلی گئی۔ شیخ سے اس نے جا کے یہ کہا، یہ اس نے کہا۔ اور کہا بجائے اس کے کہ مجھے دیکھے کہا چلی جا یہاں سے۔
شیخ سمجھ گیا کہ علاج ہو گیا۔ شیخ تشریف لائے اور اس مرید سے فرمایا کہ میرے ساتھ تشریف لے چلیئے۔ انگلی پکڑ کے لے گئے۔ وہ جو قدمچہ رکھا ہوا تھا جس میں کثیر تعداد دستوں کی نجاست بھری ہوئی تھی۔ فرمایا یہ ہے آپ کا معشوق، اسے لے جائیے۔ اس لیے کہ جب تک یہ باندی میں موجود تھا باندی سے محبت تھی، اب یہ نکل گیا اور تو کوئی چیز نہیں نکلی، آپ کو نفرت ہو گئی۔ معلوم ہوا اس باندی سے محبت نہیں تھی اس گندگی سے محبت تھی۔ اس گندگی کو احتیاط سے لے جائیے اور صندوق میں رکھیے، یہ آپ کا معشوق و محبوب ہے۔
عشقِ صورت آخرت ننگے بود
حقیقت یہ ہے کہ صورتوں کا عشق گندگی کا عشق ہے، سیرت کا عشق پاکیزگی کا عشق ہے، اعلیٰ ترین سیرت اخلاق ہیں، محبت کے قابل یہ چیز ہے۔

صورت نہیں سیرت

بلکہ دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ صورت کی خوبی فتنے پیدا کرتی ہے اور سیرت کی خوبی امن پیدا کرتی ہے۔ سب سے زیادہ خوبصورت حضرت یوسف علیہ السلام ہیں، حدیث میں فرمایا گیا
فاذا قد اعطی شطر الحسن۔
آدھا حسن اللہ نے ساری دنیا کو دیا اور آدھا حسن و جمال تنہا یوسف علیہ السلام کو عطا کیا۔ حضرت یوسف علیہ السلام اتنے بڑے حسین و جمیل تھے لیکن یوسف علیہ السلام پر جتنی مصیبتیں آئیں وہ صورت کے حسن کی وجہ سے آئیں۔ بھائیوں نے کنعان کے کنویں میں ڈالا، مصر کے بازار میں غلام بنا کر بیچے گئے، نو برس تک جیل خانہ بھگتا، یہ ساری صورت کی مصیبت تھی۔ اور جب مصر کی سلطنت ملنے کا وقت آیا اس وقت خود حضرت یوسفؑ نے کہا ’’اجلعنی علٰی خزآئن الارض‘‘ مجھے مصر کی سلطنت دے دو تو وجہ یہ نہیں بیان کی ’’انّی حسین جمیل‘‘ میں بڑا خوبصورت ہوں اس لیے مجھے بادشاہ بنا دو۔ بلکہ یوں فرمایا ’’اِنّیْ حَفِیْظ عَلِیْم‘‘ مجھے سلطنت بخش دو اس واسطے کہ میں عالم ہوں، میں جانتا ہوں کہ سلطنت کس طرح سے چلتی ہے، میں اپنے علم و کمال سے سلطنت چلا کے دکھاؤں گا۔ تو مصیبتوں کا جب وقت آیا تو حسن و جمال سامنے آیا۔ اور سلطنت ملنے کا وقت آیا تو اندرونی سیرت، علم و کمال سامنے آیا۔ اس لیے صورت کی خوبیاں فتنے میں مبتلا کرتی ہیں اور سیرت کی خوبیاں دنیا میں امن پیدا کرتی ہیں۔
میں اس پر عرض کر رہا تھا کہ اگر غریب گھرانے کی عورت ہے تب تو بڑے سے بڑا کام مردوں کی طرف سے کیا سپرد ہوتا ہے؟ یہ کہ کھانا پکا دے، گھر کی دیکھ بھال اور بچوں کی پال پرورش کر دے، اس کے فرائض ختم ہو گئے۔ اور اگر امیر گھرانے کی عورت ہے تو وہ بچوں کی دیکھ بھال نہیں کرے گی، وہ ملازمہ کرے گی، کھانا بھی وہ پکائے گی، ان کا کام یہ ہے کہ ذرا اچھے کپڑے پہن لیے، اچھا زیور پہن لیا، ذرا اور آزاد ہوئیں تو تفریح کے لیے بازار بھی ہو آئیں، یہ کام کر لیا اور زندگی کے فرائض ختم ہو گئے۔ آگے یہ کہ تمہاری سیرت کیسی ہے؟ تمہارا قلب کیسا ہے؟ اخلاق کیسے؟ اس میں علم ہے یا نہیں؟ آخرت کا تعلق ہے یا نہیں؟ اللہ کے سامنے جانے کا کچھ خطرہ تمہارے سامنے ہے یا نہیں؟ قبر و حشر میں کیا گزرے گی؟ انجام کیا ہو گا؟ اس کا کوئی ذکر نہیں، بس کھا لیا، پی لیا، عمدہ لباس پہن لیا، بہتر سے بہتر زیور پہن لیا اور فرائض ختم ہو گئے۔ یہ تو اللہ کے ہاں سوال ہو گا کہ تمہیں بادشاہ بنایا گیا تھا کیا اس لیے کہ رعیت کو اچھا کھلا دو، پہنا دو، اور ہم سے غافل کر دو؟ اس لیے تمہیں بادشاہ بنایا گیا تھا کہ مقصد کی طرف متوجہ کرو، وہ یہ کہ ہماری طرف متوجہ کرتے، جس کے لیے تمہیں دنیا میں بھیجا گیا ہے۔ یہ نہیں کیا تو تم سزا کے مستحق ہو۔
اس لیے میں سمجھتا ہوں اس میں عورتوں کا کوئی قصور نہیں، یہ سارا مردوں کا قصور ہے کہ نہ ان کی تعلیم کا بندوبست کرتے ہیں نہ ان کی تربیت کا۔ ان کی دلداری کا بڑے سے بڑا طریقہ ان کے ہاں یہ ہے کہ جو اُن کو خواہش ہو وہ پوری کر دو۔ کپڑے زیور دے دو بس فرض ختم ہو گیا۔ یہ نہیں کرتے کہ ان کے دل کو سنواریں، ان کی روح میں آراستگی پیدا کریں۔ کیا قیامت کے دن اس بارے میں ہم سے سوال نہیں ہو گا؟ کیا ہم سے پوچھا نہیں جائے گا؟ ضرور پوچھا جائے گا، ضرور پرسش ہو گی، اس جواب دہی کے لیے تیار ہو جانا چاہیے۔
اس کا نتیجہ یہ ہے کہ جب عورت کی گود علم و کمال سے خالی ہو گی تو بچے میں علم کہاں سے آئے گا؟ بچہ تو ماں کی گود سے علم حاصل کرتا ہے، وہاں جہالت ہے تو وہ بھی جاہل ہو گا۔ وہاں محض ظاہری ٹیپ ٹاپ کی خواہش ہے، بچے میں بھی یہی ٹیپ ٹاپ پیدا ہو گی، اسے بھی دل کے سنوارنے کی کوئی فکر نہیں ہو گی۔ اس پر مجھے ایک واقعہ یاد آگیا اور وہ بڑی عبرت کا واقعہ ہے۔ وہ اس کا ہے کہ اگر عورت دیندار بننا چاہے اور اس کو بنانا چاہیں تو بڑے بڑے آرام اور عیش میں رہ کر بھی دیندار بن سکتی ہے۔ اور بددین بننا چاہے تو فقر و فاقہ میں بھی بددین بن سکتی ہے۔ دین کے لیے یہ ضروری نہیں کہ آدمی بھک منگا بن جائے تو دیندار بنے گا اور اگر کوئی کروڑ پتی ہو گیا تو وہ دین دار ہو ہی نہیں سکتا۔ یہ غلط ہے۔ دیندار بننا چاہے تو کروڑ پتی بن کے بھی دیندار بن سکتا ہے اور نہ بننا چاہے تو فاقہ مست ہو پھر بھی بددین بن سکتا ہے، اس پر میں واقعہ عرض کر رہا ہوں۔
وہ یہ کہ کابل کے بادشاہوں میں امیر دوست محمد خان بہت دیندار بادشاہ گزرے ہیں۔ امیر امان اللہ خان مرحوم کے باپ امیر حبیب اللہ خان تھے اور حبیب اللہ خان کے باپ امیر عبد الرحمٰن تھے، ان کے باپ دوست محمد خان ہیں۔ ان کا زمانہ تھا۔ ان کے زمانے میں کسی دوسرے بادشاہ نے افغانستان کے اوپر حملہ کیا اور فوج لے کر چڑھ دوڑا۔ امیر صاحب کو اس سے صدمہ بھی ہوا اور دکھ بھی کہ ایک بادشاہ نے میری سلطنت پر حملہ کر دیا، ممکن ہے کہ بادشاہت بھی ختم ہو اور آنے والا ملک کو برباد کر دے۔ اسی فکر میں شاہی محل میں اندر تشریف لائے، ان کی بیگم کھڑی ہوئی تھیں، بیگم سے یہ کہا کہ آج ایسی خبر آئی ہے کہ کسی بادشاہ نے حملہ کیا ہے، میں نے اپنے شہزادے کو فوج دے کر بھیج دیا ہے تاکہ وہ جا کے دشمن کا مقابلہ کرے۔ بیگم نے کہا ٹھیک کیا اور گبھرائیے مت، اللہ آپ کی مدد کرے گا۔ غرض اپنے شہزادے کو فوج دے کر بھیج دیا کہ وہ دشمن کا مقابلہ کرے اور اس کو ملک میں نہ آنے دے اور اسے دور دھکیل دے، شہزادہ فوج لے کر چلا گیا۔ دوسرے دن امیر صاحب گھر میں آئے اور چہرے پر غم کا اثر، بیگم سے کہا کہ آج ایک بڑے صدمے کی خبر آئی ہے اور وہ یہ کہ میرا شہزادہ ہار گیا اس نے شکست کھائی، اور دشمن ملک کے اندر چڑھا ہوا آ رہا ہے اور میرا بیٹا شکست کھا کر واپس بھاگتا ہوا آ رہا ہے۔ مجھے اس کا بڑا صدمہ ہے، ملک بھی جا رہا ہے اور یہ بات بھی پیش آگئی۔ بیگم نے کہا یہ بالکل جھوٹی خبر ہے اور آپ اس کا بالکل یقین نہ کریں۔ اس نے کہا جھوٹی نہیں ہے یہ تو سرکاری پرچہ نویس نے اطلاع دی ہے، محکمہ سی آئی ڈی کی اطلاع ہے۔ بیگم نے کہا آپ کا محکمہ بھی جھوٹا ہے اور سی آئی ڈی بھی آپ کی جھوٹی ہے، یہ خبر غلط ہے ایسا نہیں ہو سکتا۔
اب امیر صاحب کہہ رہے ہیں کہ سلطنت کی باضابطہ اطلاع ہے، یہ گھر میں بیٹھ کے کہہ رہی ہے کہ خبر جھوٹی ہے۔ اس نے کہا کہ نہیں، یہ باضابطہ بھی بالکل جھوٹ ہے۔ امیر نے کہا کہ اب اس عورت سے بیٹھ کر کون جھک جھک کرے، وہی مرغے کی ایک ٹانگ، نہ کوئی دلیل نہ کوئی حجت، میں دلائل بیان کر رہا ہوں کہ محکمہ کی اطلاع اور ضابطہ کی خبر، اس نے کہا سب جھوٹے۔ اب اس سے کون بحث کرے۔ جیسے قرآن میں فرمایا گیا ہے:
اَوَمَن یُّنَشَّؤُا فِی الْحِلْیَۃِ وَھُوَ فِی الْخِصَامِ غَیْرُ مُبِیْنٍ۔
فرمایا کہ عورت میں کچھ عقل کی کمی ہوتی ہے، جب بحث ہوتی ہے تو وہی مرغے کی ایک ٹانگ ہانکتی رہتی ہے۔ اس کی وجہ یہ کہ یہ بچپن سے زیوروں کی جھنکار میں پرورش پاتی ہے۔ جب ابتداء ہی سے رات دن سونا چاندی دل میں گھس گیا تو علم اور کمال کہاں سے گھسے گا۔ ایک چیز گھس سکتی ہے، یا سونا گھس جائے یا علم۔ ذرا دودھ پینا چھوٹا تو اس کے کان میں سوراخ کر دیا تاکہ اس میں سونے کی بالی پڑ جائے اور ذرا بڑی ہوئی تو ناک میں سوراخ کر دیا تاکہ اس میں سونے کی بالی بھی ڈال دو اور زیادہ ہوا تو گلے میں سونے کا طوق ڈال دیا۔ ہاتھوں میں سونے کی ہتھکڑیاں ڈال دیں اور پیروں میں سونے کی بیڑیاں ڈال دیں۔ غرض سونے چاندی کی قیدی۔ اور واقعی اگر عورتوں سے یوں کہا جائے کہ تمہارے سارے بدن میں کیلیں ٹھونکی جائیں گی مگر وہ سونے کی ہوں گی، فورً‌ا راضی ہو جائیں گی، جلدی کرو ٹھونک دو مگر کیل سونے چاندی کی ہونی چاہیئے۔ اس درجہ سونے اور چاندی کی محبت میں گرفتار ہیں کہ بدن چھدوانے کو تیار ہیں مگر سونا اور چاندی ہو۔ جب اس درجے پر بات ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے جو قرآن نے فرمایا ’’او من ینشؤا فی الحلیۃ وھو فی الخصام غیر مبین‘‘ وہ جو سونے اور چاندی میں نشوونما پاتی ہے اس کا نتیجہ یہ ہے کہ علمی قوت نہیں پیدا ہوتی، جب خاوند سے بحث ہوتی ہے، وہ تو حجتیں پیش کرتا ہے اور یہ وہی مرغے کی ایک ٹانگ ہانکتی ہے کہ نہیں یوں ہو گا۔
تو امیر صاحب نے دیکھا کہ بھئی میں حجت بیان کر رہا ہوں، سرکاری خبریں دے رہا ہوں، یہ کہتی ہے سب غلط ہیں۔ اب اس عورت سے کون بحث کرے، محل سرائے سے واپس چلے آئے۔ دوسرے دن بڑے خوش خوش آئے اور کہا مبارک ہو، جو تم نے کہا تھا بات وہی سچی نکلی۔ خبر یہ آئی ہے کہ میرا شہزادہ فتح پا گیا اس نے دشمن کو بھگا دیا اور وہ کامیابی کے ساتھ واپس آ رہا ہے۔ بیگم نے کہا الحمد للہ، اللہ تعالیٰ کا شکر ہے اس نے میری بات اونچی کی اور میری بات سچی کر دکھائی۔ امیر نے کہا، آخر تم کہیں کیسے معلوم ہوا تھا جو تم نے کل یہ حکم لگا دیا کہ میرا محکمہ بھی جھوٹا، سی آئی ڈی اور پولیس بھی جھوٹی، تو تمہیں کوئی الہام ہوا تھا؟ اس نے کہا مجھے الہام سے کیا تعلق، اول تو عورت ذات، پھر ایک بادشاہی تخت پر بیٹھنے والی، یہ بزرگوں کا کام ہے کہ انہیں الہام ہو، بھلا مجھے الہام سے کیا تعلق؟ میں ایک معمولی عورت۔ انہوں نے کہا، آخر تم نے اس قوت سے کس طرح کہہ دیا کہ سب بات غلط ہے اور واقعہ بھی وہی ہوا کہ وہ غلط ہی ثابت ہوئی۔ اس نے کہا، اس کا ایک راز ہے جس کو میں نے اب تک کسی کے سامنے نہیں کھولا اور نہ اسے کھولنا چاہتی ہوں۔
امیر نے کہا وہ کیسا راز ہے؟ اب امیر صاحب سر ہو گئے کہ آخر ایسا کونسا راز ہے جو خاوند سے بھی چھپا ہوا رہ جائے۔ اس نے کہا صاحب! کہ ایسی بات ہے کہ میں اس کو کہنا نہیں چاہتی۔ ’’الانسان حریص فی ما منع‘‘ مثل مشہور ہے کہ جس چیز سے روکا جائے اس کی اور زیادہ حرص بڑھتی ہے کہ آخر اس میں کیا ہو گا؟ تو امیر صاحب نے کہا کہ اب تو بتانا پڑے گا۔ جب بہت زیادہ سر ہو گئے تو اس نے کہا آج تک میں نے یہ راز چھپایا اب کھولے دیتی ہوں۔ وہ راز یہ ہے کہ مجھے اس کا کیوں یقین تھا کہ شہزادہ فتح پا کے آئے گا یا قتل ہو گا مگر شکست نہیں کھا سکتا، دشمن کو پیٹھ دکھا کے نہیں آ سکتا۔ یہ میرا یقین کس بنا پر تھا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب یہ میرے پیٹ میں تھا میں نے خدا سے عہد کیا تھا کہ اس نو مہینے میں ایک مشتبہ لقمہ بھی اپنے پیٹ میں نہیں ڈالوں گی، رزقِ حلال کی کمائی میرے پیٹ میں جائے گی۔ اس لیے کہ ناپاک کمائی سے خون بھی ناپاک پیدا ہوتا ہے اور ناپاک خون سے اخلاق بھی گندے اور ناپاک پیدا ہوتے ہیں تو میں نے عہد کیا اور نو مہینے اسے پورا کیا کہ لقمۂ حرام تو بجائے خود ہے میں نے کوئی مشتبہ لقمہ بھی پیٹ میں نہیں جانے دیا، خالص حلال کی کمائی سے پیٹ کو بھرا۔ ایک تو میں نے یہ عہد کیا، اس کو لازم رکھا اور اس پر عمل کیا۔
دوسری بات میں نے یہ کی کہ جب یہ پیدا ہو گیا تو ہزاروں دودھ پلانے والی ملازمات تھیں، میں نے اس کو انہیں نہیں دیا، اپنا دودھ پلایا، دودھ پلانے کا طریقہ یہ تھا، جب یہ روتا، میں پہلے وضو کرتی، دو رکعت نفل پڑھتی، اس کے بعد اسے دودھ پلاتی، دعائیں بھی مانگتی۔ تو ادھر تو اندر پاک غذا پھر اللہ کی طرف توجہ، غرض دودھ بھی پاک، اس سے پیدا ہونے والا خون بھی پاک، اور پاک خون سے پیدا ہونے والے اخلاق بھی پاک۔ اس لیے اس کے اندر بد اخلاقی نہیں ہو سکتی۔ پشت دکھلا کر آنا اور بزدلی کرنا یہ کمینے اخلاق میں سے ہے۔ شجاعت اور بہادری یہ پاکیزہ اخلاق میں سے ہے، جب اس کا خون پاک تھا تو یہ کیسے ممکن تھا یہ بزدل بنتا؟ یہ ممکن تھا یہ قتل ہو جاتا، شہید ہو جاتا۔ مگر یہ ممکن نہیں تھا کہ یہ پشت کے اوپر زخم کھا کر واپس آتا اور بزدلی دکھلاتا، جب اس کے خون میں ناپاکی نہیں تو اس کے افعال میں ناپاکی کہاں سے آئے گی؟ یہ وجہ تھی جس کی بنا پر میں نے دعوٰی کر دیا تھا کہ یہ ناممکن ہے کہ وہ شکست کھا کے آئے۔ ہاں آپ یہ کہتے کہ شہید ہو گیا ہے میں یقین کر لیتی کہ وہ قتل ہو گیا۔ اس بنا پر میں نے یہ دعوٰی کیا تھا آج میں نے یہ راز کھولا۔
آپ اندازہ کریں کہ امیر دوست محمد خان کی بیوی ایک اقلیم کی ملکہ ہیں ہزاروں فوجیں اور سپاہ، حشم و خدم اس کے سامنے ہیں اور وہ جب تختِ سلطنت پر بیٹھ کر اتنی متقی بن سکتی ہے تو ہماری بہو بیٹیاں معمولی گھرانے میں رہ کر کیوں نہیں متقی بن سکتیں؟ ہمارے پاس کون سی ایسی دولت ہے؟ ہم اگر لکھ پتی یا کروڑ پتی بنیں سارے افریقہ کے مالک تو نہیں ہو گئے، ہفت اقلیم کے بادشاہ تو نہیں ہو گئے۔ ایک ملکہ اور بادشاہ کی بیوی جب یہ تقوٰی دکھلا سکتی ہے تو میری بہنیں کیوں نہیں تقوٰی دکھلا سکتیں؟ میری بیٹیاں کیوں نہیں یہ تقوٰی دکھلا سکتیں؟ ان کے پاس تو اتنی دولت بھی نہیں کہ دولت کے قصہ سے کوئی وقت فارغ نہ ہو۔ فارغ وقت بھی ہوتا ہے۔ اس پر میں نے کہا تھا کہ اگر دیندار بننا چاہیں، عورت ہو یا مرد، کروڑ پتی بن کے بھی بن سکتا ہے، نہ بننا چاہے تو فاقہ زدہ ہو کے بھی دیندار نہیں بن سکتا، بددین رہے گا۔ یہ اپنے قلب پر موقوف ہے اور قلب میں یہ جذبہ جب پیدا ہو گا جب اس قلب کی تربیت کی جائے، اس کو تعلیم دی جائے، اس میں علم ڈالا جائے، اس میں اللہ کی عظمت پیدا کی جائے۔ اس میں حلال کی کمائی کی رغبت پیدا کی جائے، ناجائز باتوں سے بچنے کے جذبے پیدا کیے جائیں، تب قلب میں صلاحیت آئے گی، پھر جو اولاد تربیت سے پیدا ہو گی وہ صالحین میں سے ہو گی، وہ خودبخود تقوٰی و طہارت اور نفس کی پاکیزگی لیے ہوئے پیدا ہو گی۔
تو واقعہ یہ ہے کہ بنیاد عورت سے چلتی ہے مگر عورت کو بنانے کی بنیاد مردوں سے چلتی ہے۔ انجام کار ہماری اور آپ کی کوتاہی نکلتی ہے، ہماری بہنوں کا کوئی قصور نہیں۔

بچہ کی تربیت

یہ میں کوئی ان بہنوں کو خوش کرنے کے لیے نہیں کہہ رہا کہ بھئی آج فقط عورتوں کا جلسہ ہے اس لیے ایسی بات کہہ دوں جس سے وہ ناراض نہ ہوں۔ ایسا نہیں بلکہ امر حقیقت ہے کہ اگر ہم صحیح تربیت کریں، یہ ہمارا فرض ہے، چار پانچ برس کی بچی بے چاری کیا جانتی ہے جس راہ پر آپ ڈال دیں گے پڑ جائے گی۔
امام غزالیؒ فرماتے ہیں کہ پیدا ہوا بچہ اسی وقت سے تربیت کے قابل بن جاتا ہے۔ ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ جب چار پانچ برس کا ہو گا جب اس کو تعلیم و تربیت دیں گے، ایسا نہیں ہے، بلکہ امام غزالیؒ فرماتے ہیں کہ پیدا ہوتے ہی تربیت کا وقت آجاتا ہے، اس وجہ سے کہ بچہ مہینے بھر کا ہے اسے ظاہر میں کوئی عقل و شعور اور تمیز کچھ نہیں لیکن اس کے سامنے کوئی برا کلمہ مت کہو اور کوئی بری ہیئت بھی اس کے سامنے مت اختیار کرو، اس لیے کہ اسے ہوش تو نہیں مگر اس کا قلب ایسے ہے جیسے سفید کاغذ، آنکھ کے راستے جو ہیئت جائے گی وہ اس کے قلب کے اوپر جا کے چَھپ جائے گی۔ آپ برا کلمہ کہیں گے یا گالم گلوچ کریں گے وہ کان کے راستے سے جا کر اس کے دل پر چَھپ جائے گا، جب وہ ہوش سنبھالے گا تو وہی باتیں بکتا ہوا ہو گا۔
غرض تربیت وہاں سے شروع ہوتی ہے۔ ہم اس خیال میں رہتے ہیں کہ یہ بچہ ہے اسے کیا شعور ہے؟ جو چاہے اس کے سامنے کہہ دو اور جو چاہو کر گزرو، جو چاہو ہیئت بنالو، اسے کیا شعور؟ یہ درست ہے کہ اسے تمیز اور شعور نہیں ہے مگر یہ چیز کان آنکھ کے راستے سے جا کر دل پر چَھپتی ہے۔ تو امام غزالیؒ لکھتے ہیں کہ دودھ پیتے بچے کے سامنے بات بھی کرو تو تہذیب اور شائستگی کی کرو۔ کوئی بے جا بات مت کرو، وہ بے جا بات اس کے دل میں گھر کر جائے گی اور جب کوئی ہیئت دکھلاؤ تو بری ہیئت مت دکھلاؤ، اچھی ہیئت دکھلاؤ، آنکھ کے راستے سے وہی ہیئت اس کے دل پر چَھپے گی۔ اس بنا پر کہتے ہیں کہ تربیت پانچ برس کی عمر میں نہیں ہوتی، پیدا ہوتے ہی تربیت کا موقع آجاتا ہے۔

بچہ نقال ہوتا ہے

یہ جب ہو گا جب خود ماں باپ میں تقوٰی و پاکیزگی اور احتیاط موجود ہو گی۔ جتنی یہ پاکیزگی برتیں گے اتنی ہی پاکیزگی بچے کے قلب میں بھی پیدا ہو گی۔ یہی وجہ ہے کہ دیہات کے بچے عموماً‌ گالیاں دیتے ہوئے بڑھتے ہیں، شہروں کے تہذیب یافتہ ہوتے ہیں، اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ دیہات میں خود ماں باپ گالیاں بکتے ہیں، بچے کے دل میں بھی وہی چَھپتی رہتی ہیں، شہر میں ذرا تہذیب کے کلمے ہوتے ہیں، وہ چَھپتے رہتے ہیں اس کا اثر پڑتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ شریعتِ اسلام نے آداب میں سے یہ رکھا ہے کہ پیدا ہوتے ہی بچے کے لیے سب سے پہلے بندوبست نہ روٹی کا کیا کہ اسے دودھ پلاؤ، نہ کپڑے کا کیا، خیر یہ بھی پہنا دے، پہلا بندوبست یہ کیا کہ اس کے (غسل دینے اور ظاہری آلودگی سے پاکی کے بعد) دائیں کان میں اذان دو اور بائیں کان میں تکبیر۔ اذان کہنا ایسا ہے جیسے دیوار کے سامنے کہے تو دیوار کو کیا خبر؟ تو یہی بات آتی ہے کہ اسے خبر تو نہیں ہے مگر کان کے راستے جب ’’اشھد ان لا الہ الا اللہ‘‘ پہنچے گا تو دل میں ’’اللہ اکبر‘‘ اللہ سب سے بڑا ہے یہ کلمہ جب پہنچے گا تو دل میں اس کی چھاپ لگ جائے گی۔ جب آپ ’’اشھد ان محمدً‌ا رسول اللہ‘‘ کہیں گے دل پر رسالت پر ایمان لانا چَھپ جائے گا۔ جب ’’حی علی الصلٰوۃ‘‘ کہیں گے کہ آپ نماز کی طرف دوڑو، یہی جملہ چَھپ جائے گا۔ تو دائیں کان کو آپ نے توحید و رسالت، عمل صالح اور اللہ کی عظمت و بڑائی سے بھر دیا اور بائیں کان کو تکبیر سے بھر دیا۔ اس میں اللہ و رسولؐ اور دین کی عظمت دل میں بٹھلائی تو اذان و تکبیر ہو گئی۔
علماء لکھتے ہیں کہ اس اذان اور تکبیر کی نماز کونسی ہے؟ جو جنازہ کی نماز آپ پڑھیں گے اس کی یہ اذان و تکبیر ہے۔ دنیا میں آتے ہی اذان دی گئی، تکبیر بھی کہی گئی اور دنیا سے جاتے ہوئے جنازہ کی نماز پڑھی گئی۔ یہ اس کی اذان و تکبیر تھی تاکہ ایک مومن بچے کی ابتدا اور انتہا دونوں اللہ کے نام پر ہوں۔ تو اللہ اکبر سے زندگی شروع ہوئی اور اسی پر ختم ہو گئی۔ زندگی کا اول و آخر خدا کے نام سے چلا۔ اس کی بنا یہی ہے کہ ابتدا ہی جو اس کے دل میں چَھپے اللہ کا نام چَھپے، کوئی گالم گلوچ اور برا کلمہ نہ چَھپے۔
اب اگر آپ تربیت دیں گے تو دل میں پیدا ہوتے ہی بیچ تو آپ نے ڈال دیا۔ اب نماز کے لیے کہیں گے تو بیج موجود ہے اس میں پھل پھول لگنے شروع ہو جائیں گے، عملِ صالح شروع ہو جائے گا۔ ہاں خدانخواستہ تربیت نہ کی تو وہ جو بیچ ڈالا تھا وہ بھی ضائع ہو جائے گا۔ زمین میں آپ بیج ڈال دیں لیکن نہ پانی دیں نہ دھوپ سے بچائیں، بیج جل کر ختم ہو جائے گا۔ امید بھی نہیں رہے گی کہ اس میں کوئی درخت پیدا ہو۔ اس لیے بیج تو توحید و رسالت کا پیدا ہوتے ہی ڈال دیا جاتا ہے، آگے ماں باپ کو حکم ہے کہ ’’مروا صبیائکم اذا بلغوا سبعًا‘‘ بچوں کو نماز کا حکم دو، جب وہ سات برس کے ہو جاویں، اور مار کر پڑھاؤ جب وہ درس برس کے ہو جائیں۔ یہ گویا تربیت اور آبیاری ہے کہ بیج وہاں ڈالا تھا اب پانی دینا شروع کرو۔ دھوپ سے بچاؤ تاکہ وہ بیج پھل لائے اور درخت بن جائے۔ یہ تربیت ہو گی تو اس کے بچے اور بچیاں بھی مستحق ہیں، لڑکے اور لڑکیاں بھی۔ آگے ماں باپ قصوروار ہیں اولاد قصوروار نہیں ہے۔ اولاد جب قصوروار بنے گی جب وہ عاقل بالغ ہو۔ شریعت کا خطاب متوجہ ہو، پھر اس سے مؤاخذہ ہو گا۔ مگر ابتدائی تعلیم نہ دینے کا مواخذہ ماں باپ سے ہو گا کہ کیوں نہ تم نے صحیح راستے پر ڈالا؟ کیوں غلط راستے پر ڈالا؟

عورتوں کی صحیح تربیت کی ضرورت

تو اس کی ضرورت ہے کہ عورتوں کی تعلیم کا بھی صحیح طریق پر بندوبست کیا جائے مثلاً‌ ہمارے ہاں یہ قدیم زمانے میں دستور تھا بلکہ اب بھی کچھ قصبات میں ہے کہ اسکول یا کالج نہیں قائم ہوتے بلکہ محلے میں جو بڑی بوڑھیاں ہیں اور وہ پڑھی لکھی ہوئی ہیں تو محلے کی بچیاں ایک گھر میں جمع ہو جاتی ہیں۔ وہ گھر کے کام کاج بھی کر رہی ہیں اور قرآن شریف بھی پڑھ رہی ہیں، ترجمہ بھی پڑھ رہی ہیں، مسئلے مسائل کے لیے ان کو بہشتی زیور پڑھایا جا رہا ہے، یہ ان کی گھریلو تعلیم ہو جاتی تھی۔ جب یہ چیز کم ہو گئی تو مدرسے کھلے، بچیاں وہاں پڑھنے چلی جاتی ہیں۔ بہرحال کچھ نہ کچھ اس کی طرف توجہ ہے۔ یہ نہیں کہ انہیں اپنے حال پر چھوڑ دو جیسے خودرو درخت ہوتے ہیں کہ جدھر کو ان کا جی چاہے چلی جائیں۔ بہرحال ان کو گھریلو تعلیم دی جائے، جو عورتیں قرآن شریف پڑھی ہوئی ہیں، یا اردو جانتی ہیں، یا انہیں اپنی زبان میں مسائل معلوم ہوں، یا کوئی کتاب ہے وہ پڑھائیں تاکہ ابتداء سے مسئلے مسائل کا علم ہو۔
اس لیے کہ شریعتِ اسلام نے علم کے سلسلے میں دو درجے رکھے ہیں۔ ایک درجہ ہر انسان پر مرد ہو یا عورت واجب ہے، اور ایک درجہ فرضِ کفایہ ہے کہ سو میں سے ایک ادا کر دے تو سو کے لیے کافی ہے۔
غرض فرضِ کفایہ کی یہ شان ہے کہ پوری قوم مل کر فرض کو چھوڑ دے تو پوری قوم گنہگار ہے لیکن اگر ایک فیصد کو عالم بنا دیا، عمل دکھلا دیا تو ساری قوم کے اوپر سے گناہ ہٹ گیا۔ تو ایک عرض عینی ہے یعنی ہر ہر شخص گنہگار، جو نہیں کرے گا وہی گنہگار ہو گا۔ اس لیے اتنا حصہ عورت اور مرد دونوں کے لیے ضروری ہے جس سے وہ یہ سمجھیں کہ اسلام کسے کہتے ہیں؟ ہم مسلمان کیوں ہیں؟ ہم پر کیا چیزیں فرض ہیں؟ ہم پر کیا ضروریات عائد ہوتی ہیں؟ عورت بھی اور مرد بھی اس کا حقدار ہے۔ اس کا سکھانا فرض ہے خواہ مرد اپنی بچیوں کو سکھلائیں یا مرد کسی ایک عورت کو پڑھا دیں۔ وہ عورت اور عورتوں کو تیار کر دے کہ وہ گھروں میں جا کے یا کسی ایک جگہ مدرسہ قائم کر کے ان بچیوں کو پڑھا دے۔ اس سے زیادہ کوئی قصہ نہیں، ذرا توجہ کی جائے تو یہ معاملہ باآسانی ہو سکتا ہے۔
رہا عالم بنانا، سب کے لیے عالم بننا ضروری نہیں ہے، نہ مردوں کے لیے اور نہ عورتوں کے لیے۔ قوم میں سے ایک دو بھی بن گئے یا باہر جا کے بن گئے، ہندوستان جا کے بن گئے، پوری قوم سے گناہ ہٹ گیا۔ اس عالم کا فرض ہے وہ اپنی قوم کی اصلاح کرے، جو ان کی دینی ضروریات ہیں انہیں پورا کرے۔ انہیں مسائل بتائے، فتوٰی دے، الجھنوں میں شرعی طور پر ان کی راہنمائی کرے، دل وساوس میں الجھ گئے ہوں تو فکر کا راستہ درست کرے، یہ اس کا فریضہ ہے۔
بہرحال مطلب یہ ہے کہ عورتیں بھی علم و اخلاق کی اتنی حقدار ہیں جتنے آپ حقدار ہیں، جتنا حصہ آپ پر ضروری ہے وہ ان پر بھی ضروری ہے، ان کی دیکھ بھال آپ کے ذمہ ہے، اگر آپ نہیں کرتے تو آپ سے مؤاخذہ ہو گا۔ اس واسطے یہ چند جملے میں نے عرض کیے تھے اور آیت یہ تلاوت کی تھی ’’وَاِذْ قَالَتِ الْمَلٰئِکَۃُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللہَ اصْطَفٰکِ وَطَھَّرَکِ وَاصْطَفٰکِ عَلٰی نِسَآءِ الْعٰلَمِیْنَ‘‘ ملائکہ علیہم السلام جب آئے اور انہوں نے حضرت مریم علیہا السلام سے خطاب کیا۔ یہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کی والدہ ماجدہ ہیں۔ نہایت مقدس اور پاک باز بی بی ہیں۔ حتٰی کہ بعض علماء ان کے نبی ہونے کے قائل ہیں، ان سے ملائکہ نے خطاب کیا اور کہا:
اے مریم! بشارت حاصل کر، اللہ نے تجھے منتخب کیا، تجھے پاکباز اور مقدس بنایا اور تیرے زمانے میں جتنی عورتیں ہیں ان سب پر تجھے فضیلت دی، بڑائی اور بزرگی دی، جب اللہ نے یہ انعام تجھے دیا اور برتر و برگزیدہ کر دیا تو تیرا کام یہ ہے ’’یٰمَرْیَمُ اقْنُتِیْ لِرَبِّکِ‘‘ اے مریم! اپنے پروردگار کے سامنے عبادت گزار بندی بن کے رہ ’’وَاسْجُدِیْ‘‘ سجدے اختیار کر ’’وَارْکَعِیْ مَعَ الرَّاکِعِیْنَ‘‘ اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کر۔ رکوع سے مراد نماز ہوتی ہے، جہاں رکوع کا لفظ آتا ہے وہاں نماز کا ذکر ہے، وہاں محض رکوع نہیں بلکہ پوری نماز مراد ہوتی ہے۔ مطلب یہ کہ نماز قائم کرو، عبادتِ خداوندی کو اپنا شعار اور اپنی طبیعت بناؤ
اس لیے میں نے یہ آیت پڑھی تھی کہ مریم علیہا السلام کتنی بڑی پارسا اور پاک بی بی ہیں، ان کو اللہ نے کتنا بڑا مقام دیا کہ فرشتوں نے ان سے خطاب کیا۔ یہ شرف کس کو حاصل ہوا؟ یہ بڑی قسمت کی چیز ہے، یہ ایک عورت کو شرف حاصل ہوا۔ اگر حضرت مریم علیہا السلام کو یہ شرف حاصل ہوا، ہماری بہو بیٹیوں کو کیوں نہیں ہو سکتا بشرطیکہ وہ بھی وہی کام کریں جو حضرت مریمؑ نے کیے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کی کچھ اور خصوصیات تھیں وہ ان کے ساتھ خاص تھیں لیکن جو بڑائی اور کمال اللہ نے دیا تھا اس کے دروازے اللہ نے کسی کے لیے بند نہیں کیے۔ مریم علیہا السلام اگر ولیٔ کامل بن سکتی ہیں تو ہماری عورتیں بھی ولیٔ کامل بن سکتی ہیں۔
نبوت کا بے شک دروازہ بند ہو گیا، نبی اب کوئی نہیں ہو سکتا، ایک ہی نبوت قیامت تک کے لیے کافی ہے، اس نبوت کے طفیل میں بڑے بڑے محدث، امام، مجتہد، اولیائے کاملین اور مجدّد پیدا ہوں گے۔ فیضان قیامت تک اسی نبوت کا کام کرتا رہے گا۔ گویا اتنی کامل نبوت ہے کہ اسے ختم کر کے کسی اور نبوت لانے کی ضرورت نہیں۔ جو مراتبِ نبوت تھے اسی ذات پر ختم کر دیے گئے۔ اب کوئی مرتبہ نبوت کا باقی نہ رہا جس کے لانے کے لیے کسی کو بھیجا جائے کہ اس پر یہ مرتبہ پورا کیا جائے۔ ایک ہی ذات پر سارے مراتب ختم ہو گئے۔ یہ وہی ذات ہے جس کی روشنی قیامت تک چلتی رہے گی۔ روشنی کو پہنچانے والے اللہ تعالیٰ ہزاروں آئینے پیدا کر دے گا کہ آئینہ آفتاب کے سامنے ہو گا اور عکس اندھیرے مکان میں ڈال دے گا۔ تو نبوت کا دروازہ تو بند ہو گیا مگر ولایت کا دروازہ بند نہیں ہوا۔ اس لیے اس نبوت کے نیچے رہ کر جو بڑے سے بڑا کمال مرد کو مل سکتا ہے وہ عورت کو بھی مل سکتا ہے۔
عورتیں مایوس نہ ہوں اور یہ نہ سمجھیں کہ علم وغیرہ تو مردوں کے لیے ہے، ہم صرف گھر میں بیٹھنے کے لیے ہیں۔ گھر میں ہی بیٹھ کر سب کچھ مل سکتا ہے اگر محنت کی جائے اور یہ توجہ کریں۔ اس واسطے میں نے یہ آیت تلاوت کی تھی اس کے تحت یہ تھوڑی سی تشریح عرض کی۔ خدا کرے ہمارے قلوب قبول کریں اور ہمارے دل مائل ہوں اور ہم حقوق کو پہچانیں۔ ہمیں اگر راعی بنایا گیا ہے تو ہم اپنی رعیت کی خبرگیری کریں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق عطا فرما دے، آمین۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

آپ نے پوچھا

ادارہ

عالیجاہ محمد کون تھا؟

سوال: امریکہ کے حوالے سے اکثر عالیجاہ محمد کا نام سننے میں آتا ہے۔ یہ صاحب کون ہیں اور ان کے عقائد کیا ہیں؟ (حافظ عطاء المجید، کبیر والا)
جواب: عالیجاہ محمد سیاہ فام امریکیوں کا ایک لیڈر تھا جس نے اپنے آپ کو مسلم راہنما کی حیثیت سے متعارف کرایا اور سفید فام امریکیوں کے خلاف سیاہ فام طبقہ کی روایتی نفرت کو بھڑکا کر اپنے گرد ایک اچھی خاصی جماعت اکٹھی کر لی، لیکن اس کے عقائد اسلامی نہیں تھے بلکہ اس نے اسلام کا لیبل چسپاں کر کے اپنے خودساختہ عقائد کو دنیا کے سامنے پیش کیا۔ ۱۹۳۵ء میں اس نے اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا اور مرزا غلام احمد قادیانی کی طرح پہلے ہلکے پھلکے دعاوی کے ساتھ لوگوں کا مانوس کیا اور پھر ۱۹۵۰ء میں نبوت و رسالت کا کھلا دعوٰی کر دیا۔
اس نے اسلام کے بنیادی احکام کو بدل دیا۔ تمام سفید چیزوں کو حرام قرار دیا۔ نماز کے بارے میں کہا کہ نماز کھڑے ہو کر دعا کرنے کا نام ہے۔ روزے دسمبر میں رکھنے کا حکم دیا۔ حج منسوخ کر کے شکاگو میں اپنے ہیڈکوارٹر پر آنے کو حج کا قائم مقام قرار دیا۔ اور عمومی چندہ کو زکٰوۃ کا نام دے دیا۔
عالیجاہ محمد نے سفید فام لوگوں کے خلاف اپنے پیروکاروں کا یہ ذہن بنایا کہ سفید فام شیطان کی اولاد ہیں اور کہا کہ حضرت آدم علیہ السلام سیاہ فام تھے اور ان کی ساری اولاد سیاہ فام ہے۔ 
عالیجاہ محمد کے ایک قریبی ساتھی اور دست راست مالکم ایکس نے سب سے پہلے اس کے جھوٹے مذہب سے بغاوت کی اور اہل السنۃ والجماعۃ کے عقائد اختیار کرنے کا اعلان کیا مگر ۱۹۶۵ء میں انہیں شہید کر دیا گیا۔ مالکم ایکس اب مالکم شہباز شہیدؒ کے نام سے متعارف ہیں اور ان کی یاد میں نیویارک میں ’’مالکم شہباز مسجد‘‘ تعمیر کی گئی ہے جو تبلیغِ اسلام کا معروف مرکز ہے۔
مکہ بازی کے سابق عالمی چیمپئن محمد علی کلے نے بھی ابتداء میں جب قبول اسلام کا اعلان کیا تو وہ عالیجاہ محمد کے پیروکار تھے لیکن جلد ہی مالکم شہباز شہیدؒ کے گروپ میں شامل ہو گئے اور اب وہ صحیح العقیدہ مسلمان ہیں۔
عالیجاہ محمد کی موت کے بعد اس کے فرزند وارث دین محمد بھی باپ کے عقائد سے منحرف ہو چکے ہیں اور صحیح العقیدہ مسلمانوں کے ایک بڑے گروپ کی قیادت کر رہے ہیں، جبکہ مالکم شہباز شہیدؒ کا ایک قریبی ساتھی لوئیس فرخان اسلام کے صحیح عقائد سے (معاذ اللہ) منحرف ہو کر اب عالیجاہ محمد کے گمراہ گروپ کی قیادت کر رہا ہے۔

اسلامی نظام میں نمائندگی کا تصور کیا ہے؟

سوال: کیا اسلامی نظام میں حکومت اور عوام کے درمیان نمائندوں کے کسی طبقے کا وجود ہے؟ اور اسلام میں اس کا تصور کیا ہے؟ (حافظ عبید اللہ عامر، گوجرانوالہ)
جواب: کسی مسئلہ پر عوام کی رائے کو صحیح طور پر معلوم کرنے کے لیے نمائندگی کا تصور اسلام میں موجود ہے۔ غزوۂ حنین کے بعد غنیمت کا مال تقسیم ہوا اور مفتوحین کی طرف سے اپنے قیدی واپس لینے کے لیے ایک وفد جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا تو چونکہ قیدی مجاہدین میں تقسیم ہو چکے تھے اس لیے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قیدیوں کی واپسی کے لیے مجاہدین کی رضا اور رائے معلوم کرنا چاہتے تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سب مجاہدین کو جمع کیا جن کی تعداد بارہ ہزار کے لگ بھگ تھی، ان سب کے سامنے مسئلہ پیش کر کے ان کی رائے طلب کی، سب نے اجتماعی آواز سے جواب دیا کہ ہمیں قیدیوں کی واپسی بخوشی منظور ہے لیکن جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اجتماعی جواب پر اکتفاء نہیں کیا اور ارشاد فرمایا کہ
انا لا ندری من اذن منکم فی ذٰلک ومن لم یاذن فارجعوا حتٰی یرفع الینا عرفاءکم امرکم۔ (بخاری ج ۲ ص ۶۱۸)
’’ہم نہیں جانتے کہ تم میں سے کس نے اجازت دی ہے اور کس نے نہیں۔ اس لیے تم سب (اپنے خیموں میں) واپس جاؤ حتٰی کہ تمہارے عرفاء تمہارا معاملہ ہمارے سامنے پیش کریں۔‘‘
چنانچہ مجاہدین اپنے خیموں میں چلے گئے اور عرفاء نے ان سے الگ الگ رائے معلوم کر کے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک اسے پہنچایا اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قیدیوں کی واپسی کا فیصلہ کیا۔
عرفاء ’’عریف‘‘ کی جمع ہے اور عریف عرب معاشرے میں ان لوگوں کو کہا جاتا تھا جو عوام کے مسائل سرداروں اور حکمرانوں تک پہنچاتے تھے۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف اس طبقہ کو اپنے فیصلہ کی بنیاد بنایا ہے بلکہ ایک موقع پر یہ بھی ارشاد فرمایا کہ
ان العرافۃ حق ولابد للناس من عرفاء رواہ ابوداؤد (مشکٰوۃ ص ۳۳۱)
’’عرافہ حق ہے اور لوگوں کے لیے عرفاء کا وجود ضروری ہے۔‘‘
اس لیے اسلامی نظام میں حکومت اور عوام کے درمیان ایک ایسے طبقے کے وجود اور اہمیت کو تسلیم کیا گیا ہے جو عام لوگوں کی نمائندگی کرتے ہوئے ان کے مسائل اور اجتماعی امور پر ان کی رائے حکومت تک پہنچا سکے۔

جمعیۃ العلماء ہند کب وجود میں آئی؟

سوال: جمعیۃ العلماء ہند کا قیام کب عمل میں آیا اور اس کے بنیادی مقاصد کیا تھے؟ (عبد الوحید بٹ، گکھڑ ضلع گوجرانوالہ)
جواب: ۲۲ نومبر ۱۹۱۹ء کو دہلی میں متحدہ ہندوستان کے سرکردہ علماء کرام کا ایک اجلاس مولانا عبد الباری فرنگی محلی کی زیرصدارت منعقد ہوا جس میں ’’جمعیۃ العلماء ہند‘‘ کے نام سے علماء کی ایک مستقل جماعت قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ مولانا مفتی کفایت اللہؒ کو جمعیۃ کا پہلا صدر اور مولانا احمد سعیدؒ کو ناظم منتخب کیا گیا۔ اس کے بعد جمعیۃ کا پہلا اجلاس عام ۲۸ دسمبر ۱۹۱۹ء کو امرتسر میں ہوا جس میں اس کے اغراض و مقاصد اور قواعد و ضوابط کی منظوری دی گئی۔ اور اغراض و مقاصد میں مسلمانانِ ہند کی دینی و سیاسی معاملات میں راہنمائی کے ساتھ ساتھ آزادیٔ وطن کو جمعیۃ کا بنیادی مقصد قرار دیا گیا۔

بنیاد پرست مسلمان کون ہیں؟

سوال: آج کل عام طور پر بعض راہنماؤں کے بیانات میں بنیاد پرست مسلمانوں کا تذکرہ کیا جاتا ہے، اس سے ان کی مراد کون لوگ ہیں؟ (مسعود احمد، لاہور)
جواب: ایک عرصہ سے عالمی اسلام دشمن لابیاں اس منظم کوشش میں مصروف ہیں کہ مسلمانوں کو ان کے بنیادی عقائد و احکام سے ہٹا کر جدید افکار و نظریات کے ساتھ مفاہمت کے لیے تیار کیا جائے اور مسلمانوں کے اندر ایک ایسی لابی منظم کی جائے جو جدید تعبیر و تشریح اور اجتہاد مطلق کے نام پر قرآن و سنت کے احکام کو نئے اور خودساختہ معنی پہنا سکے۔ مگر راسخ الاعتقاد مسلمانوں اور علماء کے سامنے ان کا بس نہیں چل رہا کیونکہ علماء کرام اس موقف پر مضبوطی کے ساتھ قائم ہیں کہ قرآن و سنت کی تعبیر و تشریح وہی قابل قبول ہے جو حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور امتِ مسلمہ کے چودہ سو سالہ اجماعی تعامل کے ذریعے ہم تک پہنچی ہے، اس سے ہٹ کر کی جانے والی کوئی بھی تعبیر سراسر الحاد اور گمراہی ہو گی۔
ان علماء اور راسخ العقیدہ مسلمانوں کو جو قرآن و سنت کی چودہ سو سالہ اجماعی تعبیر و تشریح پر سختی کے ساتھ قائم ہیں، اسلام دشمن لابیوں کی طرف سے مختلف خطابات و القابات سے نوازا جاتا ہے۔ اس سے قبل انہیں دقیانوسی اور رجعت پسند کہا جاتا تھا اور اب ان کے لیے ’’بنیاد پرست‘‘ کی نئی اصطلاح ایجاد کی گئی ہے۔

تعارف و تبصرہ

ادارہ

’’نوادرات ام الکتاب‘‘

حافظ الحدیث والقرآن حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی دامت برکاتہم کے نوااسے اور علمی جانشین حضرت مولانا شفیق الرحمٰن درخواستی کو اللہ تعالیٰ نے بہت سی خوبیوں سے نوازا ہے، وہ ایک اچھے مدرس، با عمل عالم اور بے باک خطیب و واعظ ہیں۔ حضرت درخواستی مدظلہ العالی کی صحبت و تربیت کا رنگ ان پر غالب ہے۔ موصوف ماڈل ٹاؤن خانپور کی جامع مسجد میں روزانہ فجر کے بعد قرآن کریم کا درس دیتے ہیں اور زیرنظر رسالہ ان کے سورۃ الفاتحہ پر چالیس دروس کا مجموعہ ہے جسے جامعہ عبد اللہ بن مسعودؓ خلافتِ راشدہ کالونی خانپور ضلع رحیم یارخان کی طرف سے شائع کیا گیا ہے۔ سورۂ فاتحہ کے علوم و معارف اور اس سے متعلقہ احکام و مسائل کو عام فہم انداز میں ان دروس میں پیش کیا گیا ہے اور علماء و ائمہ کے لیے بالخصوص ان کا مطالعہ بہت مفید ہے۔ایک سو چالیس صفحات کے اس رسالہ کی قیمت بیس روپے ہے۔ 

’’خطبات و مواعظ جمعہ‘‘

از: مولانا مشتاق احمد عباسی
صفحات ۵۸۴  قیمت ۱۲۰ روپے
ناشر: ادارہ صدیقیہ، نزد حسین ڈی سلوا بلڈنگز، ویسٹ نشتر روڈ، کراچی۔
خطباء کرام کے لیے ہر جمعہ پر کسی موضوع کی تلاش اور اس کے لیے مناسب مواد کی فراہمی ایک مستقل مسئلہ ہوتا ہے۔ اس سلسلہ میں مختلف زبانوں میں مشاہیر خطباء کرام کے خطبات وقتاً‌ فوقتاً‌ شائع ہوتے رہے ہیں اور اردو زبان میں بھی خطبات کے بعض مجموعے منظر عام پر آ چکے ہیں۔ زیر نظر ’’مجموعہ خطبات‘‘ اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے جسے ہمارے فاضل دوست مولانا حافظ مشتاق احمد عباسی نے مرتب کیا ہے اور ہجری سال کے بارہ مہینوں کی مناسبت سے ہر ماہ کے لیے پانچ خطبات مرتب کر دیے ہیں۔ اندازِ بیان عام فہم ہے اور موضوعات کے مطابق معلومات کا معتمد بہ ذخیرہ جمع کر دیا گیا ہے۔ خطباء کرام کے لیے یہ مجموعہ ایک اچھا تحفہ ہے جو ان کے لیے موضوع اور مواد کی تلاش میں خاصی آسانی پیدا کر دے گا۔

’’احسان الباری لفہم البخاری‘‘

از: شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر
صفحات ۱۳۲ قیمت ۱۸ روپے۔
شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں بخاری شریف کے آغاز میں حجیت حدیث اور کتاب الایمان کے بعض علمی مباحث دورۂ حدیث کے طلباء کو املا کراتے ہیں۔ حضرت الشیخ مدظلہ کے فرزند مولانا رشید الحق عابد مدرس مدرسہ نصرۃ العلوم نے انہیں مرتب کیا ہے اور مکتبہ حنفیہ اردو بازار گوجرانوالہ نے علماء اور طلبہ کے عمومی استفادہ کے لیے یہ مجموعہ شائع کر دیا ہے۔

شرعی سزاؤں کا فلسفہ

حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ

اعلم ان من المعاصی ما شرع اللہ فیہ الحد و ذلک کل معصیۃ جمعۃ وجوھا من المفسدۃ بان کانت فسادا فی الارض واقتضا با علی طمانینۃ المسلمین و کانت لھا داعیۃ فی نفوس بنی اٰدم لا تزال تہیج فیھا ولھا ضراوۃ لا یستطیعون الا قلاع منھا بعد ان اشربت قلوبھم لھا وکان فیہ ضرر لا یستطیع المظلوم دفعہ عن نفسہ فی کثیر من الاحیان و کان کثیر الوقوع فیما بین الناس فمثل ھٰذہ المعاصی لا یکفی فیھا الترھیب بعذاب الآخرۃ بل لابد من اقامۃ ملامۃ شدیدۃ وایلام لیکون بین اعینھم ذلک فیردعھم عما یریدونہ۔ (حجۃ اللہ البالغۃ مبحث فی الحدود)
ترجمہ: ’’جان لو کہ کچھ گناہ ایسے ہیں جن میں اللہ تعالٰی نے حد (دنیاوی سزا) مقرر فرمائی ہے۔ اس لیے کہ ہر گناہ فساد کے کچھ اسباب پر مشتمل ہوتا ہے جس سے زمین میں خرابی ہوتی ہے اور مسلمانوں کا امن و سکون غارت ہوتا ہے۔ اس گناہ کی خواہش انسانوں کے دلوں میں ہوتی ہے جو برابر بڑھتی رہتی ہے اور دلوں میں خواہش کے جڑ پکڑ جانے کے بعد وہ اس بری عادت سے نکلنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ اور اس میں ایسا ضرر ہے جسے مظلوم اپنے آپ سے دور رکھنے کی اکثر اوقات طاقت نہیں پاتا اور یہ صورت بہت زیادہ لوگوں میں وقوع پذیر رہتی ہے۔ پس اس قسم کے گناہوں میں صرف آخرت کے عذاب سے ڈرانا کافی نہیں بلکہ ضروری ہے کہ شدید قسم کی سزا اور ملامت قائم کی جائے تاکہ وہ (سزا) ان کی آنکھوں کے سامنے ہو اور انہیں ان کے (برے) ارادوں سے باز رکھ سکے۔‘‘

کمیونزم نہیں، اسلام

حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ

نام نہاد کمیونزم میں جس قدر مسکین نوازی ہے اس سے کہیں زیادہ امام ولی اللہ رحمہ اللہ تعالٰی کے فلسفے میں ہے، اور اس میں مزدور اور کاشتکار کے حقوق کا زیادہ خیال رکھا گیا ہے۔ لیکن اس کی بنیاد خدا کے صحیح اور صاف تصور پر ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ایک کارکن اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ اس زندہ تصور کے ساتھ گزارتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے سامنے ہے، یا کم از کم یہ کہ اللہ تعالٰی اسے دیکھ رہا ہے۔وہ یہ تصور بھی ایک زندہ اور پائیدار شکل میں اپنے سامنے رکھتا ہے کہ اگر اس نے کم تولا یا کسی کے حق کو ناجائز طور پر پاؤں تلے روندا تو دنیا میں بھی سزا پائے گا اور مرنے کے بعد بھی اسے اللہ تعالٰی کے سامنے حاضر ہو کر اپنے اعمال کی جواب دہی کرنی ہو گی۔امام ولی اللہ رحمہ اللہ تعالٰی کی حکمت اسے یہ بھی سکھاتی ہے کہ قرآنِ حکیم پر عمل کرنے والے کارکن کو  اللہ تعالٰی کے سوا کسی سے اپنے عمل  کا بدلہ لینا ضروری نہیں۔
انسان بے شک اس لیے پیدا ہوا ہے کہ دنیا میں قرآن حکیم کی حکومت بین الاقوامی درجہ پر چلائے، لیکن وہ اس حکومت کے ذریعے اپنے لیے یا اپنے خاندان کے لیے کوئی فائدہ حاصل کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ قرآن حکیم کی تعلیم کا نتیجہ یہ نکلا کہ صدیق اکبرؓ اور فاروق اعظمؓ کی حکومتیں بے نظیر ثابت ہوئیں اور آج تک دنیا ان کی مثال پیدا نہیں کر سکی۔ اب اس دور میں بھی امیر المومنین سید احمد شہید رحمہ اللہ تعالٰی اور ان کے ساتھیوں نے انہی اصولوں پر اس نمونے کی حکومت پیدا کر کے ایک دفعہ پھر دکھا دی اور ثابت کر دیا کہ اس قسم کی حکومت پیدا کرنا ہر زمانے میں ممکن ہے۔ قرآن حکیم کے ماننے والوں کے لیے اس میں بہت بڑی عبرت اور ذمہ داری ہے۔
(عنوانِ انقلاب ص ۵۹)

فروری ۱۹۹۰ء

عالمِ اسلام میں جہاد کی نئی لہرمولانا ابوعمار زاہد الراشدی
تحریک نفاذ فقہ جعفریہ ۔ نفاذ اسلام کی جدوجہد میں معاون یا رکاوٹ؟مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
سیرتِ نبویؐ کی جامعیتشیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر
عصمتِ انبیاءؑ کے بارے میں اہلِ اسلام کا عقیدہحضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ
علومِ قرآنی پر ایک اجمالی نظرمولانا سراج نعمانی
سخت سزائیں اور کتب و اُمم سابقہمحمد اسلم رانا
نصابِ تعلیم کی تشکیلِ جدید ۔ کیوں اور کیسے؟مولانا سعید احمد پالنپوری
استحکامِ پاکستان کی ضمانتمولانا سعید احمد سیالکوٹی
کیا حضرت عیسٰیؑ کی وفات قرآن سے ثابت ہے؟حافظ محمد عمار خان ناصر
اقبالؒ — تہذیبِ مغرب کا بے باک نقادپروفیسر غلام رسول عدیم
شہادت کا آنکھوں دیکھا حالعدیل احمد جہادیار
آپ نے پوچھاادارہ
تعارف و تبصرہادارہ
زکٰوۃ کا فلسفہ اور حقیقتحضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ
امام ولی اللہ کا پروگرام اور روسی انقلابحضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ
شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کی تعمیر کا آغازادارہ

عالمِ اسلام میں جہاد کی نئی لہر

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

جہاد افغانستان کے منطقی اثرات رفتہ رفتہ ظاہر ہو رہے ہیں کہ نہ صرف مشرقی یورپ نے روس کی بالادستی کا طوق گلے سے اتار پھینکا ہے بلکہ وسطی ایشیا کی ریاستیں بھی اپنی آزادی اور تشخص کی بحالی کے لیے قربانی اور جدوجہد کی شاہراہ پر گامزن ہو چکی ہیں اور فلسطین، کشمیر اور آذربائیجان کے حریت پسند مسلمان جذبۂ جہاد سے سرشار ہو کر ظلم و استبداد کی قوتوں کے خلاف صف آرا ہیں۔ جہاد کے اسی جذبہ سے کفر کی قوتیں خائف تھیں اور اسے مسلمانوں کے دلوں سے نکالنے کے لیے استعماری طاقتیں گزشتہ دو سو برس سے فکری، سیاسی اور تہذیبی سازشوں کے جال بن رہی تھیں لیکن اسلام کی زندہ و متحرک قوت اور جہاد کے ناقابل تسخیر جذبے نے افغانستان کی سنگلاخ وادیوں میں ایک ہی جھٹکے کے ساتھ اس سازش کا تار و پود بکھیر کر رکھ دیا ہے۔ فلسطین میں انتفاضہ کی تحریک فلسطینی مسلمانوں میں آزادی کی تڑپ کے وجود کا احساس دلا رہی ہے، کشمیری حریت پسندوں کی مسلح جدوجہد نے دنیا کو بھولا بسرا مسئلہ کشمیر پھر سے یاد دلا دیا ہے اور آذربائیجان میں روسی ٹینکوں کا نشانہ بننے والے غیور مسلمانوں نے اپنے خون کے ساتھ تاریخ کی یہ حقیقت ایک بار رقم کر دی ہے کہ مسلمان کو اس غفلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کچھ دیر کے لیے مغلوب تو کیا جا سکتا ہے لیکن اسے زیادہ دیر تک قابو میں رکھنا کسی بڑی سے بڑی طاقت کے لیے بھی ممکن نہیں ہے۔

حریت اور غیرت کے یہ شعلے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رہے ہیں مگر استبداد و استعمار کے علم بردار ان شعلوں کی تاب نہ لاتے ہوئے اپنا دامن بچانے کی فکر میں جہاد کی اس نئی عالمگیر لہر کے سرچشمہ ’’جہادِ افغانستان‘‘ کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں اور واشنگٹن، ماسکو اور اسلام آباد جہادِ افغانستان کے منطقی اور نظریاتی نتائج کو روکنے کے لیے گٹھ جوڑ کر چکے ہیں لیکن یہ ان کی بھول اور تاریخ کے عمل سے بے خبری ہے۔ جہاد افغانستان کے منطقی اور نظریاتی اثرات پوری دنیا کو حصار میں لے رہے ہیں تو کابل کو مصنوعی سہاروں کے ساتھ ’’اثر پروف‘‘ رکھنا آخر کب تک ممکن ہوگا؟ماسکو، واشنگٹن اور اسلام آباد کو اس حقیقت کا بالآخر ادراک کرنا ہوگا کیونکہ اب اس کے سوا اور کوئی راستہ باقی نہیں رہ گیا۔

تحریک نفاذ فقہ جعفریہ ۔ نفاذ اسلام کی جدوجہد میں معاون یا رکاوٹ؟

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ہفت روزہ زندگی کے ایک گزشتہ شمارہ (۱۵ تا ۲۱ دسمبر ۱۹۸۹ء) میں ’’ایران اور انقلاب ایران‘‘ پر بحث و تمحیص کے حوالہ سے کالاگوجراں سے جناب جعفر علی میر کا ایک مضمون شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے انقلاب ایران اور اس کے اثرات کے بارے میں اپنے تاثرات قلمبند کیے ہیں۔ راقم الحروف کو ۱۹۸۷ء میں پاکستانی علماء کرام، وکلاء، دانشوروں کے ایک وفد کے ساتھ ایران جانے اور وہاں گیارہ روزہ قیام کے دوران انقلابی راہنماؤں سے ملنے اور انقلاب کے اثرات و نتائج کا مشاہدہ کرنے کا موقع مل چکا ہے اور اس مشاہدے کے بارے میں میرے تاثرات قومی پریس کے ذریعے منظر عام پر آچکے ہیں۔ اسی لیے جناب جعفر علی میر کے مضمون کے اس عنوان نے مجھے چونکا دیا کہ ’’ایران کے سنیوں پر شیعہ قوانین نافذ نہیں ہے‘‘۔ کیونکہ یہ بات واقعات سے قطعاً مطابقت نہیں رکھتی۔ پھر مضمون کے اس حصے نے حیرت و استعجاب کو دوچند کر دیا کہ

’’نفاذ فقہ جعفریہ کا مطالبہ فقط اہل تشیع کے لیے کیا جاتا ہے اور تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کا موقف یہ ہے کہ ہر مسلک کے پیروکاروں کو ان کی اپنی فقہ کے مطابق عمل کرنے کی آزادی ہو جیسا کہ ایران میں ہے۔ وہاں اہل سنت کو مکمل آزادی ہے، ان کے مدارس دینیہ و مساجد موجود ہیں، پارلیمنٹ میں نمائندگی حاصل ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ایران کے کسی قانون کا اطلاق ان پر نہیں ہوتا۔‘‘

یوں محسوس ہوتا ہے کہ جناب جعفر علی میر صاحب ابھی تک خود ایران نہیں گئے ہیں اور اگر انہیں وہاں جانے کا موقع ملا ہے تو انہوں نے تصویر کا ایک ہی رخ دیکھنے پر اکتفاء کیا ہے اور دوسرے رخ پر نظر ڈالنے کی زحمت گوارا نہیں فرمائی، ورنہ ان کے تاثرات اس درجہ خلاف واقعہ اور یک طرفہ نہ ہوتے۔

جہاں تک انقلاب ایران کے سماجی و سیاسی اثرات اور علاقائی و عالمی سیاست میں انقلابی حکومت کے رول کا تعلق ہے اس پر زیر نظر مضمون میں کچھ عرض کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا اور نہ ہی عالم اسلام کے ساتھ ایران کی انقلابی حکومت کے تعلقات اور رویے کو زیر بحث لانا مقصود ہے۔ مگر جعفر میر صاحب کے مضمون کے عنوان اور مندرجہ بالا اقتباس کے حوالہ سے اور ایران میں اپنے گیارہ روزہ قیام کے مشاہدات کی روشنی میں مندرجہ ذیل دو پہلوؤں پر چند ضروری گزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں تاکہ اصل صورت حال قارئین کے سامنے آسکے۔

جہاں تک ایران میں مقیم اہل سنت کا تعلق ہے، اس بارے میں سب سے پہلے ان حقائق کا ادراک ضروری ہے کہ ایران کی مجموعی آبادی میں اہل سنت کا تناسب پچیس فیصد سے کسی طرح کم نہیں ہے۔ دو صوبوں بلوچستان اور کردستان بلکہ ایرانی ترکمانستان میں بھی اہل سنت کی واضح اکثریت ہے اور قابل توجہ بات یہ ہے کہ ایران کے چاروں طرف سرحدی علاقوں میں اہل سنت اکثریت میں ہیں جس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ صفیوں کے اقتدار سے قبل پورا ایران سنی اکثریت کا ملک تھا لیکن صفیوں نے طاقت کے زور سے لوگوں کو زبردستی شیعہ بنانے کا سلسلہ شروع کر دیا اور راسخ العقیدہ سنی مسلمان ان کے ظلم و جبر کی تاب نہ لاتے ہوئے وسطی ایران سے سرحدی علاقوں کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے اور اس طرح ایران کو بالجبر شیعہ ریاست بنا دیا گیا۔

مزید تفصیلات میں جائے بغیر میں ان مسائل کی نشاندہی کرنا ضروری سمجھتا ہوں جن کا اس وقت ایرانی اہل سنت کو سامنا ہے اور جن مسائل کے حل کے لیے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر کسی تحریک اور منظم حمایت کا وجود نہیں ہے جس سے اس طبقہ کی مظلومیت دوچند ہو جاتی ہے۔

  • ایرانی دستور کے ’’اصول کلی‘‘ میں اصل دوازدہم (بارہواں اصول) یوں درج ہے:

’’دین رسمی ایران، اسلام و مذہب، جعفری اثنا عشری است و ایں اصل الی الابد غیر قابل تغیر است و مذاہب دیگر اسلامی اہم از حنفی، شافعی، مالکی، حنبل و زیدی دار ای احترام کامل میباشند و پیر وان ایں مذاہب درانجام مراسم مذہبی طبق فقہ خود شاں آزادند و در تعلیم و تربیت دینی و احوال شخصیہ (ازدواج، طلاق، ارث، و وصیت) و دعاوی مربوط بہ آن در داد گاہ ہا رسمیت دارند و در ہر منطقہ کہ پیروان ہر یک ازیں مذاہب اکثریت داشتہ باشند مقدرات محلی در حدود و اختیارات شوراہا برطبق آں مذہب خواہد بود باحفظ حقوق پیرواں سایر مذاہب۔‘‘

ترجمہ: ’’ایران کا سرکاری دین اسلام اور سرکاری مذہب جعفری اثنا عشری ہے اور یہ اصل ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ناقابل تبدیل ہے۔ دیگر اسلامی مذاہب مثلاً حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی اور زیدی پوری طرح قابل احترام ہوں گے اور ان مذاہب کے پیروکار اپنی مذہبی رسوم کو اپنی فقہ کے مطابق بجا لانے میں آزاد ہوں گے اور دینی تعلیم و تربیت اور شخصی قوانین (نکاح، طلاق، وراثت اور وصیت یعنی پرسنل لاء) اور ان سے متعلقہ دعاوٰی کی سماعت کا عدالتوں میں قانونی حق رکھیں گے اور جن علاقوں میں ان میں سے کسی ایک مذہب کے پیروکاروں کی اکثریت ہوگی وہاں لوکل قوانین مجالس مشاورت کے دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے اپنے مذہب کے موافق بنا سکیں گے بشرطیکہ دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کے حقوق محفوظ ہوں۔‘‘

  • ایرانی دستور کی اصل یک صد و پانزدہم (دفعہ ۱۱۵) میں صدر مملکت کے لیے یہ ضروری قرار دیا گیا ہے کہ وہ ایرانی النسل اور دیگر شرائط کا حامل ہونے کے ساتھ ایران کے سرکاری مذہب (جعفری اثنا عشری) کا پیروکار ہو۔ اور اصل یک صد و بیست و یکم (دفعہ ۱۲۱) میں صدر ایران کے حلف نامہ میں اسے اس حلف کا پابند کیا گیا ہے کہ

’’پاسدار مذہب رسمی و نظام جمہوری اسلامی و قانون اساسی کشور باشم۔‘‘

ترجمہ: ’’میں ریاست کے سرکاری مذہب (جعفری اثنا عشری) جمہوری اسلامی نظام اور دستور کی پاسداری کروں گا۔‘‘

  • دستور کی دفعہ ۷۲ میں مجلس شوریٰ ملی (قومی اسمبلی) کو پابند کیا گیا ہے کہ

’’مجلس شوریٰ ملی نمی تواند قوانینی وضع کند کہ بااصول و احکام مذہب رسمی کشور یا قانون اساسی مغایرت داشتہ باشد۔

ترجمہ: ’’قومی اسمبلی ملک کے دستور اور سرکاری مذہب (جعفری اثنا عشری) کے منافی کوئی قانون نہیں بنا سکتی۔‘‘

ان واضح دستوری دفعات کی روشنی میں یہ بات طے ہے کہ ایران کا سرکاری مذہب شیعہ ہے۔ صدر ایران شیعہ مذہب کی پاسداری کا پابند ہے۔ قومی اسمبلی شیعہ مذہب کے خلاف کوئی قانون نہیں بنا سکتی۔ اور ملک کا عمومی قانون (پبلک لاء) جعفری اثنا عشری مذہب کے مطابق ہے جس کا اطلاق شیعہ سنی سب پر ہوتا ہے۔ اس لیے جناب جعفر علی میر کے اس ارشاد کو مبنی بر حقیقت کس طرح تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ ایران میں سنیوں پر شیعہ قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا۔

جناب جعفر علی میر کے مضمون کے جواب میں دوسری گزارش یہ ضروری سمجھتا ہوں کہ حالات و واقعات کے تسلسل نے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ ایرانی انقلاب کے اثرات پڑوسی ممالک بالخصوص پاکستان میں نفاذ اسلام کی تحریکات کے حق میں مثبت نہیں رہے اور ایرانی انقلاب سے پڑوسی ممالک کی نفاذ اسلام کی تحریکات کو وقتی طور پر جو توقعات وابستہ ہوگئی تھیں، نتائج ان کے برعکس سامنے آئے ہیں۔ راقم الحروف خود ان لوگوں میں سے ہے جنہوں نے ایران کی انقلابی قیادت سے واضح مذہبی اختلاف کے باوجود انقلاب ایران کا خیرمقدم کیا تھا اور اس کے حق میں خیرسگالی کے جذبات کا اظہار کیا تھا، صرف اس خیال اور جذبہ سے کہ عقائد کے اختلاف کے باوجود بہرحال ایران کا انقلاب ایک کامیاب مذہبی انقلاب ہے جو آج کے دور میں کمیونسٹ، سیکولر، اور مغربی جمہوریت کے پرستار سیاسی حلقوں پر ایک ضرب کاری ہے اور مذہبی اختلاف کے باوجود نفاذ اسلام کی جدوجہد میں ایران کی انقلابی قیادت کے تجربات سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ ہمیں یہ توقع تھی کہ انقلاب ایران کے بعد پاکستان کے شیعہ حلقے پہلے سے زیادہ جوش و خروش کے ساتھ نفاذ شریعت اسلامیہ کی جدوجہد میں ہمارے معاون ہوں گے اور ان کا مذہبی جوش و خروش ہمارے لیے تقویت کا باعث ہوگا۔ لیکن بدقسمتی سے ایسا نہ ہو ااور انقلاب ایران کے حوالے سے پاکستان میں جو نئی شیعہ تحریکات ابھریں انہوں نے اہل تشیع کے لیے الگ اور متوازی پبلک لاء کا مطالبہ کر کے نفاذ اسلام کی جدوجہد کو نظریاتی محاذ پر سبوتاژ کر کے رکھ دیا۔

انقلاب ایران سے قبل پاکستان کے شیعہ حلقے نفاذ اسلام کی جدوجہد میں کسی اصولی اختلاف کے بغیر ہمارے ساتھ تھے اور انہیں اس بات پر کوئی اعتراض نہیں تھا کہ ملک کا پبلک لاء ایک ہو۔ چنانچہ ۳۱ علماء کرام کے ۲۲ دستوری نکات میں مندرجہ ذیل اصول (نکتہ ۹) پر مولانا مفتی جعفر حسین اور مولانا مفتی کفایت حسین کے دستخط موجود ہیں کہ

’’مسلمہ اسلامی فرقوں کو حدود قانون کے اندر پوری مذہبی آزادی حاصل ہوگی۔ انہیں اپنے پیرؤوں کو اپنے مذہب کی تعلیم دینے کا حق حاصل ہوگا۔ وہ اپنے خیالات کی آزادی کے ساتھ اشاعت کر سکیں گے۔ ان کے شخصی معاملات کے فیصلے ان کے اپنے فقہی مذاہب کے مطابق ہوں گے اور ایسا کرنا مناسب ہوگا کہ ان کے قاضی یہ فیصلہ کریں۔‘‘

اس طرح سنی اور شیعہ دونوں حلقے اس امر پر متفق تھے کہ پبلک لاء ایک ہوگا اور شخصی قوانین (پرسنل لاء) میں مسلمہ اسلامی فرقوں کو اپنے اپنے مذہبی قوانین پر عمل کا حق حاصل ہوگا۔ لیکن ایرانی انقلاب کے بعد ’’تحریک نفاذ فقہ جعفریہ‘‘ کی بنیاد رکھ دی گئی اور مطالبہ یہ ہوا کہ پرسنل لاء میں نہیں بلکہ پورے قانونی نظام میں فقہ جعفریہ کو متوازی قانون کے طور پر نافذ کیا جائے۔ اس مطالبہ کے لیے تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے دو گروپ کام کر رہے ہیں اور دونوں خود کو انقلاب ایران کا نمائندہ قرار دیتے ہیں۔ دونوں گروپوں نے اس بنیاد پر سینٹ میں زیر بحث ’’شریعت بل‘‘ کی مخالفت کی۔ اور تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے میدان عمل میں آنے کا منطقی اور نظریاتی نتیجہ یہ سامنے آیا کہ شریعت اسلامیہ کی بالادستی اور نفاذ کا مطالبہ فرقہ وارانہ مطالبہ قرار دے دیا گیا۔

انقلاب ایران کے بعد اس حوالہ سے پاکستان میں ابھرنے والی شیعہ جدوجہد کا یہ کردار تاریخ میں اپنے منفی نتائج کے لحاظ سے ہمیشہ ناقابل فراموش رہے گا کہ سیکولر حلقوں کو نفاذ اسلام کی جدوجہد کے خلاف ایسا ہتھیار دے دیا گیا ہے جسے استعمال کرنے میں لادین عناصر اس سے قبل کبھی کامیاب نہیں ہو سکے تھے لیکن اب وہ اسے پوری مہارت اور کامیابی کے ساتھ استعمال کر رہے ہیں۔ اسلامی نظام کے نفاذ کی مخالفت میں سیکولر اور مفاد پرست عناصر پہلے بھی فقہی اختلافات اور فرقہ وارانہ کشمکش کا حوالہ دیا کرتے تھے اور یہ کہتے تھے کہ کس فرقے کا اسلام نافذ کیا جائے؟ لیکن علماء کے ۲۲ دستوری نکات ان کے اس پروپیگنڈے کا مسکت جواب تھے اور دستوری مسائل پر تمام مکاتب فکر کے متفقہ موقف کے سامنے سیکولر حلقوں کی یہ منطق بے اثر ثابت ہو جایا کرتی تھی۔ لیکن اب ایسا نہیں ہے کیونکہ جب ملک میں شریعت اسلامیہ کی بالادستی اور اسلامی قوانین کے نفاذ کے ساتھ ہی فقہ جعفریہ کے متوازی نظام کا مطالبہ کھڑا ہو جاتا ہے تو سیکولر عناصر کے ہاتھ میں ایک مضبوط ہتھیار آجاتا ہے کہ یہ فرقہ وارانہ مسئلہ ہے اور اس سے مذہبی مناقشت بڑھے گی اس لیے نفاذ اسلام کی طرف عملی قدم بڑھانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

یہ مسئلہ راقم الحروف نے ۱۹۸۷ء میں اپنے دورۂ ایران کے موقع پر معروف انقلابی راہنما جناب آیت اللہ جنتی کے سامنے پاکستانی وفد کی موجودگی میں پیش کیا تھا اور انہیں اس مشکل سے آگاہ کیا تھا کہ فقہ جعفریہ کے پبلک لاء کے طور پر متوازی نفاذ کے مطالبہ نے سیکولر حلقوں کے مقابلہ میں نظریاتی محاذ پر ہمیں کمزور کر دیا ہے۔ وفد کے ارکان گواہ ہیں کہ جناب آیت اللہ جنتی نے ہمارے موقف کو درست قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ پبلک لاء ایک ہی ہو سکتا ہے جو اکثریتی آبادی کی فقہ کے مطابق ہونا چاہیے، البتہ پرسنل لاء میں آپ اہل تشیع کو آزادی دیں۔ ہم نے عرض کیا کہ پرسنل لاء میں اہل تشیع کے جداگانہ حق سے ہم نے کبھی ایک لمحہ کے لیے بھی انکار نہیں کیا۔

آج بھی صورتحال یہ ہے کہ ہم پرسنل لاء میں اہل تشیع کا یہ حق تسلیم کرتے ہیں کہ انہیں اپنے مذہبی قوانین پر عمل کرنے کی آزادی ہونی چاہیے لیکن پبلک لاء ایک ہی ہو سکتا ہے۔ یہ دنیا بھر کا مسلمہ اصول ہے اور خود ایرانی دستور میں بھی اس اصول کو تسلیم کیا گیا ہے۔ اس لیے اہل تشیع کو اپنی اس جدوجہد اور موقف پر بہرحال نظر ثانی کرنی چاہیے کیونکہ اس کا فائدہ ملک کی لادین اور سیکولر قوتوں کے سوا کسی کو نہیں ہے۔

آخر میں جناب جعفر علی میر اور ان کے رفقاء سے عرض کروں گا کہ اہل سنت کے موقف میں کوئی ابہام، تضاد، یا نا انصافی نہیں ہے، وہ اپنے لیے وہی حقوق مانگتے ہیں جو ایران میں شیعہ اکثریت کو دستوری طور پر حاصل ہیں اور ان کا یہ مطالبہ بالکل حقیقت پسندانہ اور مبنی بر انصاف ہے کہ

امید ہے کہ تمام سنجیدہ شیعہ حلقے ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ ان مطالبات کا جائزہ لیں گے اور سیکولر حلقوں کی تقویت کا باعث بننے کی بجائے اپنے ملک کی اکثریتی آبادی کا ساتھ دیں گے۔

سیرتِ نبویؐ کی جامعیت

شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر

دنیا میں جتنے بھی رسول اور نبی تشریف لائے ہیں ہم ان سب کو سچا مانتے ہیں اور ان پر سچے دل سے ایمان لاتے ہیں اور ایسا کرنا ہمارے فریضہ اور عقیدہ میں داخل ہے ’’لا نفرق بین احد من رسلہ‘‘۔ مگر اس ایمانی اشتراک کے باوجود بھی ان میں سے ہر ایک میں کچھ ایسی نمایاں خصوصیات اور کچھ جداگانہ کمالات و فضائل ہیں جن کو تسلیم کیے بغیر ہرگز کوئی چارۂ کار نہیں ہے۔ مثلاً‌ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جتنے انبیاء و رسل علیہم السلام تشریف لائے ہیں تو ان سب کی دعوت کسی خاص خاندان اور کسی خاص قوم سے مخصوص رہی۔ حضرت نوح علیہ السلام تشریف لائے تو اپنی دعوت کو صرف اپنی ہی قوم تک محدود رکھا۔ حضرت ہود علیہ السلام جلوہ افروز ہوئے تو فقط عاد کو خطاب کیا۔ حضرت صالح علیہ السلام مبعوث ہوئے تو محض قوم ثمود کی فکر لے کر آئے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی قوم کے پیغمبر تھے۔ حضرت موسٰی علیہ السلام بنی اسرائیل کو نجات دلانے کے لیے بھیجے گئے تھے۔ اور حضرت عیسٰی علیہ السلام تو بس بنی اسرائیل کی کھوئی بھیڑوں کی تلاش اور سراغ میں نکلے تھے۔ جب غیروں نے ان کے روحانی کمالات سے استفادہ کرنے کی اپیل کی تو انہوں نے جواب میں کہا ’’لڑکوں کی روتی لے کر کتوں کو ڈال دینا اچھا نہیں‘‘ (انجیل متی باب ۱۵ آیت ۲۶)
یہی وجہ تھی کہ ان پیغمبروں میں سے کسی ایک نے بھی اپنی قوم سے باہر نظر نہیں ڈالی لیکن جب رحمتِ خداوندی کی وہ عالمگیر گھٹا جو فاران کی چوٹیوں سے اٹھی تھی جس سے انسانیت و شرافت، دیانت و امانت، عدل و انصاف اور تقوٰی و ورع کی مرجھائی ہوئی کھیتیاں پھر سے سرسبز و شاداب ہو کر لہلہا اٹھیں، وہ قوم و جماعت، ملک و زمین، مشرق و مغرب، شمال و جنوب اور بر و بحر کی تمام قیدوں اور پابندیوں سے بالکل آزاد تھی۔ وہ بلا امتیاز وطن و ملت، بلا تفریق نسل و خاندان، بدوں تمیز رنگ و خون، بغیر لحاظ سیاہ و سپید اور بے اعتبار حسب و نسب تا قیامت پوری نسل انسانی کے لیے رحمتِ مہداۃ بن کر نمودار ہوئی اور رب ذوالاحسان نے خود آپ ہی کی زبان فیض رساں سے یہ اعلان کروا دیا کہ
قُلْ یَآ اَیُّھَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعًا (پ ۹ ۔ اعراف ۔ ع ۱۹)
’’آپ کہہ دیجیئے کہ اے لوگو! بے شک میں تم سب کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔‘‘
وہ ابرِ کرم اٹھا تو فاران کی چوٹیوں سے مگر سب روئے زمین پر پھول برساتا اور مژدۂ جانفزا سناتا ہوا چلا گیا اور پوری دھرتی کے چپہ چپہ پر خوب کھلکھلا کر برسا۔ دشت و صحرا نے اس سے آسودگی حاصل کی، بحر و بر اس سے سیراب ہوئے، چمنستانوں نے اس سے رونق پائی، اور ویرانوں کو اس کی فیض پاشی نے لعل و گوہر سے معمور کر دیا۔ اہلِ عرب اس سے مستفید ہوئے، باشندگان عجم نے اس سے اکتسابِ فیض کیا، یورپ نے اس کی خوشہ چینی کی اور ایشیا اس کا گرویدہ بنا۔ دنیا کے تمام گمراہوں کو وادیٔ ضلالت سے نکالنے کی اس نے راہنمائی کی اور آوارگانِ دشت غوایت کی رہبری کی اور نسل انسانی کے سب مایوس مریضوں اور ہر قسم کے ناامید بیماروں کو زود اثر تریاق اور نسخۂ شفا بخشا ؎
اتر کر جراء سے سوئے قوم آیا
اور ایک نسخۂ کیمیا ساتھ لایا
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت و رسالت صرف نسلِ انسانی ہی کے لیے نہیں بلکہ جنّات بھی اس امر کے مکلّف اور پابند ہیں کہ آپؐ کی نبوت و رسالت کا اقرار کر کے آپؐ کی شریعت پر عمل پیرا ہو کر اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور نجاتِ اخروی تلاش کریں۔ ثقلین (انس و جن) کا مکلف ہونا نیز جنات کا قرآن کریم کو غور و فکر سے سن کر اس پر ایمان لانا اور پھر جا کر اپنی قوم کو تبلیغ کرنا قرآن مجید میں مصرّح ہے اور عالمین کے مفہوم میں جنات بھی شامل ہیں اور قرآن کریم میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ آپؐ کو تمام جہانوں کے لیے نذیر بنا کر بھیجا گیا ہے ‘‘لِیَکُوْنَ لِلْعَالَمِیْنَ نَذِیْرً‌ا‘‘۔ اور خود جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ
ارسلت الی الاحمر والاسود قال مجاھد الانس والجن۔ (مستدرک ج ۲ ص ۴۲۴ قال الحاکمؒ والذھبیؒ علی شرطھما)
’’مجھے سرخ اور سیاہ کا رسول بنا کر بھیجا گیا ہے۔ حضرت مجاہدؒ فرماتے ہیں کہ سرخ سے انسان اور سیاہ سے جن مراد ہیں۔‘‘
جو مکارمِ اخلاق آپؐ کو خالقِ کونین کی طرف سے مرحمت ہوئے تھے اور جن کی تکمیل کے لیے آپؐ کو اس دنیا میں بھیجا گیا تھا وہ مکلّف مخلوق کی فطرت کے جملہ مقتضیات کے عین مطابق تھے اور جن کا مقصد صرف یہی نہیں تھا کہ ان کے ذریعے روحانی مریضوں کو ان کے بستروں سے اٹھا دیا جائے بلکہ یہ بھی تھا کہ اٹھنے والوں کو چلایا جائے اور چلنے والوں کو بسرعت دوڑایا جائے اور دوڑنے والوں کو روحانی کمال اور اخلاقی معراج کی غایۃ قصوٰی تک اور سعادتِ دنیوی ہی نہیں بلکہ سعادتِ دارین کی سدرۃ المنتہٰی تک پہنچایا جائے۔ اور ان کی نعمت فقط مریضوں کے لیے قوت بخش اور صحت افزاء نہ ہو بلکہ وہ تمام مکلف مخلوق کی اصل فطری اور روحانی لذیذ غذا بھی ہو۔ اور آپؐ کے مکارمِ اخلاق اور اسوۂ حسنہ نے وہ تمام ممکن اسباب مہیا کر دیے ہیں کہ خلقِ عظیم کی بلند اور دشوار گزار گھاٹی پر چڑھنا آسان اور سہل ہو گیا ہے۔ آپؐ کی بعثت کے اغراض و مقاصد میں سے ایک اہم مقصد یہ بھی تھا جیسا کہ آپؐ نے ارشاد فرمایا ہے کہ
انما بعثت لاتمم صالح الاخلاق و فی روایۃ مکارم الاخلاق (قال الشیخ حدیث صحیح ۔ السراج المنیر ج ۲ ص ۲۷)
’’مجھے تو اس لیے مبعوث کیا گیا ہے تاکہ میں نیک خصلتوں اور مکارمِ اخلاق کی تکمیل کروں۔‘‘
اور یہ ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ جس طرح دیگر انبیاء کرام علیہم السلام خاص خاص جماعتوں اور مخصوص قوموں کے لیے مصلح اور پیغمبر تھے اسی طرح ان کی روحانیت اور اخلاقی آئینے بھی خصوصی صفات اور اصناف کے مظہر تھے۔ مثلاً‌ حضرت نوح علیہ السلام مجرم اور نافرمان قوم کی نجات کے لیے باوجود قوم کی ایذا رسانی کے سعی بلیغ کی زندہ یادگار تھے۔ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام اخلاص و قربانی کی مجسم مثال تھے کہ انہوں نے اپنے اکلوتے اور عزیز ترین لختِ جگر کو خدا تعالیٰ کی خوشنودی اور رضاجوئی کے لیے اپنی طرف سے ذبح کر ہی ڈالا اور اس کے حکم کی تعمیل میں کسی قسم کی کوتاہی اور کمزوری نہ دکھائی، جس کی ایک ادنٰی اور معمولی سی برائے نام نقل آج بھی ہر صاحبِ استطاعت مسلمان اتارتا اور ’’سُنَّۃَ اَبِیْکُمْ اِبْرَاھِیْم‘‘ کی پیروی کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ یہ جدا بات ہے کہ ؎
تیری ذبح ذبحِ عظیم کی ہو مثیل کیوں کر خلوص میں
نہ خلیلؑ کا سا ہے دل تیرا نہ ذبیحؑ کا سا گلا تیرا
حضرت ایوب علیہ السلام صبر و رضا کے پیکر تھے، مصائب و آلام کے بے پناہ سیلاب بہہ گئے مگر وہ مضبوط پہاڑ کی طرح اپنی جگہ ثابت رہے۔ حضرت موسٰی علیہ السلام کی زندگی جرأت حق کا ایک اعلیٰ نمونہ تھی کہ فرعون جیسے جابر اور مطلق العنان بادشاہ کے دربار میں ساون کے بادلوں کی طرح گرج اور صاعقہ آسمانی کی طرح کڑک کر تہلکہ ڈال دیتے تھے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کی صبر آزما حیات یادگارِ دہر تھی کہ اپنے ہی بیٹوں کے ہاتھ سے پیارے یوسفؑ کے سلسلہ میں اذیت اور دکھ اٹھا کر ’’فَصَبْر جَمِیْل‘‘ فرما کر خاموش ہو گئے اور اندر ہی اندر آنسوؤں کے طوفان موجیں مارتے ہوئے ساحل امید سے ٹکراتے رہے اور ناامیدی کو قریب نہیں آنے دیا کہ
نگاہِ لطف کے امیدوار ہم بھی ہیں
حضرت یوسف علیہ السلام کی عفتِ مآب زندگی پاکدامن نوجوان کے لیے باعث صد افتخار ہے کہ انہوں نے ’’امراۃ عزیز‘‘ کی تمام مکّاریوں اور حیلہ جوئیوں کی استخواں شکن زنجیروں کی ایک ایک کڑی کو معاذ اللہ فرماتے ہوئے پاش پاش کر دیا۔ حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیہما السلام کی شاہانہ زندگی ان سب سے نرالی تھی کہ قبائے سلطنت اور عبائے خلافت اوڑھ کر مخلوقِ خدا کے سامنے ظہور پذیر ہوئے اور اس طریقہ سے عدل و انصاف کے مطابق ان کی خدمت کا عمدہ فریضہ انجام دیا۔ حضرت عیسٰی علیہ السلام توکل و قناعت، زہد و خودفراموشی کی ایک پوری کائنات تھے کہ زندگی بھر سر چھپانے کے لیے ایک جھونپڑی بھی نہیں بنائی اور فرمایا ’’اے لوگو! یہ کیوں سوچتے ہو کہ کیا کھاؤ گے؟ فضا کی چڑیوں کے لیے کاشتکاری کون کرتا ہے؟ اور ان کے منہ میں خوراک کون ڈالتا ہے؟ اے لوگو! تمہیں اس کی کیا فکر ہے اور تم یہ کیوں سوچتے ہو کہ کیا پہنو گے؟ جنگل کی سوسن کو اتنی دیدہ زیب پوشاک اور خوبصورت لباس کون پہناتا ہے؟‘‘
یہ تمام بزرگ اور مقدس ہستیاں اپنے اپنے وقت پر تشریف لائیں اور بغیر حضرت مسیح علیہ السلام سب دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ لیکن جب قصرِ نبوت اور ایوانِ رسالت کی آخری اینٹ کا ظہور ہوا جس کی انتظار میں دہر کہن سال نے ہزاروں برس صرف کر دیے تھے، آسمان کے ستارے اسی دن کے شوق میں ازل سے چشم براہ تھے، ان کے استقبال کے لیے لیل و نہار بے شمار کروٹیں بدلتے رہے، ان کی آمد سے محض کسرٰی کے محل کے چودہ کنگرے ہی نہیں بلکہ رسم عرب، شان عجم، شوکت روم، فلسفہ یونان اور اوجِ چین کے قصرہائے فلک بوس گر کر آن واحد میں پیوند زمین ہو گئے تو پورے کرۂ ارض کے لیے ایک عالم گیر سعادت اور ایک ہمہ گیر رحمت لے کر آئی۔ آپؐ کا وجود مقدس روحانیت کے تمام اصناف کی ایک خوشنما کائنات، اخلاق حسنہ کی ایک دلآویز جاذبیت اور رنگ برنگ گل ہائے اخلاق کا ایک پورا چمنستان تھا۔ امتِ مرحومہ کے لیے حضرت نوحؐ کی دلسوزی، حضرت ابراہیمؐ کی خلّت، حضرت ایوبؐ کا صبر، حضرت داؤدؐ کی مناجات، حضرت موسٰیؐ کی جرأت، حضرت ہارونؐ کا تحمل، حضرت سلیمانؐ کی سلطنت، حضرت یعقوبؐ کی آزمائش، حضرت یوسفؐ کی عفت، حضرت زکریاؐ اور حضرت یحیٰیؐ کی تقرب الٰہی کے لیے گریہ و زاری، اور حضرت مسیحؐ کا توکل، یہ تمام منتشر اوصاف آپؐ کے وجود مسعود میں سمٹ کر جمع اور یکجا ہو چکے تھے۔ سچ ہے کہ ؎
حسنِ یوسفؐ دمِ عیسٰیؐ یدِ بیضاداری
آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری
غرض کہ دیگر انبیاء کرام علیہم السلام میں سے ہر ایک کی زندگی خاص خاص اوصاف میں نمونہ اور اسوہ تھی مگر سرور دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اعلیٰ و ارفع زندگی تمام اوصاف و اصناف میں ایک جامع زندگی ہے۔ آپؐ کی سیرت مکمل اور آپؐ کا اسوۂ حسنہ ایک کامل ضابطۂ حیات اور دستور ہے۔ اس کے بعد اصولی طور پر کسی اور چیز کی سرے سے کوئی حاجت ہی باقی نہیں رہ جاتی اور نہ کسی اور نظام و قانون کی ضرورت ہی محسوس ہو سکتی ہے ؎
سب کچھ خدا سے مانگ لیا تجھ کو مانگ کر
اٹھتے نہیں ہیں ہاتھ مرے اس دعا کے بعد
  • اگر آپ بادشاہ اور سربراہِ مملکت ہیں تو شاہِ عربؐ اور فرمانروائے عالمؐ کی زندگی آپ کے لیے نمونہ ہے۔
  • اگر آپ فقیر و محتاج ہیں تو کمبلی والےؐ کی زندگی آپ کے لیے اسوہ ہے جنہوں نے کبھی دقل (ردی قسم کی کھجوریں) بھی پیٹ بھر کر نہ کھائیں اور جن کے چولہے میں بسا اوقات دو دو ماہ تک آگ نہیں جلائی جاتی تھی۔
  • اگر آپؐ سپہ سالار اور فاتح ملک ہیں تو بدر و حنین کے سپہ سالار اور فاتح مکہ کی زندگی آپ کے لیے ایک بہترین سبق ہے جس نے عفو و کرم کے دریا بہا دیئے تھے اور ’’لا تثریب علیکم الیوم‘‘ کا خوش آئند اعلان فرما کر تمام مجرموں کو آنِ واحد میں معافی کا پروانہ دے کر بخش دیا تھا۔
  • اگر آپ قیدی ہیں تو شعبِ ابی طالب کے زندانی کی حیات آپ کے لیے درسِ عبرت ہے۔
  • اگر آپ تارکِ دنیا ہیں تو غارِ حرا کے گوشہ نشین کی خلوت آپ کے لیے قابل تقلید عمل ہے۔
  • اگر آپ چرواہے ہیں تو مقام اجیاد میں آپؐ کو چند قراریط (ٹکوں) پر اہل مکہ کی بکریاں چراتے دیکھ کر تسکینِ قلب حاصل کر سکتے ہیں۔
  • اگر آپ معمار ہیں تو مسجد نبوی کے معمار کو دیکھ کر ان کی اقتداء کر کے خوشی محسوس کر سکتے ہیں۔
  • اگر آپ مزدور ہیں تو خندق کے موقع پر اس بزرگ ہستی کو پھاوڑا لے کر مزدوروں کی صف میں دیکھ کر اور مسجد نبویؐ کے لیے بھاری بھر کم وزنی پتھر اٹھا اٹھا کر لاتے ہوئے دیکھ کر قلبی راحت حاصل کر سکتے ہیں۔
  • اگر آپ مجرّد ہیں تو اس پچیس سالہ نوجوان کی پاکدامن اور عفت مآب زندگی کی پیروی کر کے سرورِ قلب حاصل کر سکتے ہیں جس کو کبھی کسی بدترین دشمن نے بھی داغدار نہیں کیا اور نہ کبھی اس کی جرأت کی ہے۔
  • اگر آپ عیال دار ہیں تو آپ متعدد ازواج مطہرات کے شوہر کو ’’انا خیرکم لاھلی‘‘ فرماتے ہوئے سن کر جذبۂ اتباع پیدا کر سکتے ہیں۔
  • اگر آپ یتیم ہیں تو حضرت آمنہ ؑ کے لعل کو یتیمانہ زندگی بسر کرتے دیکھ کر آپؑ کی پیروی اور تاسّی کر سکتے ہیں۔
  • اگر آپ ماں باپ کے اکیلے بیٹے ہیں اور بہنوں اور بھائیوں کے تعاون و تناصر سے محروم ہیں تو حضرت عبد اللہ  ؑ کے اکلوتے بیٹے کو دیکھ کر اشک شوئی کر سکتے ہیں۔
  • اگر آپ باپ ہیں تو حضرت زینبؓ، رقیہؓ، ام کلثومؓ، قاسمؓ اور ابراہیمؓ (وغیرہ) کے شفیق و مہربان باپ کو ملاحظہ کر کے پدرانہ شفقت پر آمادہ ہو سکتے ہیں۔
  • اگر آپ تاجر ہیں تو حضرت خدیجہؓ کے تجارتی کاروبار میں آپؐ کو دیانت دارانہ سعی کرتے ہوئے معائنہ کر سکتے ہیں۔
  • اگر آپ عابد شب خیز ہیں تو اسوۂ حسنہ کے مالک متورّم قدموں کو دیکھ کر اور ’’افلا اکون عبدً‌ا شکورً‌ا‘‘ فرماتے ہوئے آپؐ کی اطاعت کو ذریعۂ تقربِ خداوندی اختیار کر سکتے ہیں۔
  • اگر آپ مسافر ہیں تو خیبر و تبوک کے مسافر کے حالات پڑھ کر طمانیتِ قلب کا وافر سامان مہیا کر سکتے ہیں۔
  • اگر آپ امام اور قاضی ہیں تو مسجد نبوی کے بلند رتبہ امام اور فصل خصومات کے بے باک اور منصف مدنی جج کو بلاامتیاز قریب و بعید اور بغیر تفریق قوی و ضعیف فیصلہ صادر فرماتے ہوئے مشاہدہ کر سکتے ہیں۔
  • اور اگر آپ قوم کے خطیب ہیں تو خطیبِ اعظم کو منبر پر جلوہ افروز ہو کر بلیغ اور مؤثر خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے اور غافل قوم کو ’’انی انا نذیر العربان‘‘ فرما کر بیدار کرتے ہوئے ملاحظہ کر سکتے ہیں۔
الغرض زندگی کا کوئی قابل قدر اور مستحق توجہ پہلو اور گوشہ ایسا باقی نہیں رہ جاتا جس میں سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معصوم اور قابل اقتداء زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ، عمدہ ترین اسوہ اور اعلیٰ ترین معیار نہ بنتی ہو۔ پس اس وجودِ قدسی پر لاکھوں بلکہ کروڑوں درود و سلام جس کے وجود مسعود میں ہماری زندگی کے تمام پہلو سمٹ کر آجاتے ہیں اور ہماری روح کا ایک ایک گوشہ عقیدت و اخلاص کے جوش سے معمور ہو جاتا ہے جب ہم یہ خیال کرتے ہیں کہ دنیا کے لعل و گوہر کا جو پائیدار خزانہ تمام ارض و سماء اور بحر و بر چھان ڈالنے کے بعد بھی کسی قسمت پر جمع نہیں ہو سکتا تھا وہ انمول خزانہ امت مرحومہ کو اپنے پیارے نبیؐ کے اسوۂ حسنہ، اپنے برگزیدہ رسولؐ کی سنتِ صحیحہ اور اپنے مقبول رسولؐ کے معدنِ حدیث کی ایک ہی کان اور معدن سے فراہم ہو گیا ہے، اور قرآن کریم کے بعد ہماری تمام بیماریوں کا مداوا حدیث پاک میں علیٰ وجہ الاتم موجود ہے ؎
اصل دین آمد کلام اللہ معظم داشتن
پس حدیث مصطفٰی برجاں مسلّم داستن

عصمتِ انبیاءؑ کے بارے میں اہلِ اسلام کا عقیدہ

حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ

یہ ظاہر ہے کہ کوئی کسی کا مقرب جبھی ہو سکتا ہے جبکہ اس کی موافق مرضی ہو۔ جو لوگ مخالف مزاج ہوتے ہیں قربت و منزلت ان کو میسر نہیں آسکتی، چنانچہ طاہر ہے۔ مگر یہ بھی ظاہر ہے کہ اگر کوئی شخص یوسفِ ثانی اور حسن میں لاثانی ہو، پر اس کی ایک آنکھ مثلاً‌ کانی ہو تو اس ایک آنکھ کا نقصان تمام چہرہ کو بدنما اور نازیبا کر دیتا ہے۔ ایسے ہی اگر ایک بات بھی کسی میں دوسروں کے مخالف مزاج ہو تو ان کی اور خوبیاں بھی ہوئی نہ ہوئی برابر ہو جائیں گی۔ غرض ایک عیب بھی کسی میں ہوتا ہے تو پھر محبوبیت اور موافقت طبیعت و رضا متصور نہیں جو امید تقرب ہو، اس لیے یہ بھی ضرور ہے کہ انبیاء اور مرسل سراپا اطاعت ہوں اور ایک بات بھی ان میں خلافِ مرضی خداوندی نہ ہو۔
اسی وجہ سے ہم انبیاء ؑ کو معصوم کہتے ہیں اور اس کہنے سے یہ مطلب ہوتا ہے کہ ان میں گناہِ خداوندی کا مادہ اور سامان ہی نہیں کیونکہ ان میں جب ان میں کوئی صفت بری نہیں تو پھر ان سے برے افعال کا صادر ہونا بھی ممکن نہیں، اس لیے کہ افعال اختیاری تابع صفات ہوتے ہیں۔ اگر سخاوت ہوتی ہے تو داد دوہش کی نوبت آتی ہے، اور اگر بخل ہوتا ہے تو کوڑی کوڑی جمع کی جاتی ہے۔ شجاعت میں معرکہ آرائی اور بزدلی میں پسپائی ظہور میں آتی ہے۔ ہاں یہ بات ممکن ہے کہ بوجہ سہو یا غلط فہمی، جو گاہ بگاہ بڑے بڑے عاقلوں کو بھی پیش آجاتی ہے اور سوائے خداوند علیم و خبیر اور کوئی اس سے منزہ نہیں، کسی مخالف مرضی کام کو موافق مرضی اور موافق مرضی کو مخالف مرضی سمجھ جائیں، اور اس وجہ سے بظاہر خلاف مرضی کام ہو جائے تو ہو جائے (مثلًا اپنا مخدوم اپنے برابر بٹھلائے اور یہ بوجہ ادب برابر نہ بیٹھے) یا بوجہ عظمت و محبت مطاع ہی مخالفت کی نوبت آجائے گی، اس کو گناہ نہیں کہتے۔ گناہ کے لیے یہ ضرور ہے کہ عمدً‌ا مخالفت کی جائے۔ بھول چوک کو لغزش کہتے ہیں گناہ نہیں کہتے۔ یہی وجہ ہے کہ موقعہ عذر میں یہ کہا کرتے ہیں کہ میں بھول گیا تھا یا میں سمجھا نہ تھا۔ اگر بھول چوک بھی گناہ ہی ہوا کرتا تو یہ عذر اور الٹا اقرار خطا ہوا کرتا عذر نہ ہوا کرتا۔
جب یہ بات واضح ہو گئی کہ افعال تابع صفات ہیں تو اب دو باتیں قابلِ لحاظ باقی رہیں۔ ایک اخلاق یعنی صفات اصلیہ، دوسرے عقل و فہم۔ اخلاق کی ضرورت تو یہیں سے ظاہر ہے کہ افعال جن کا کرنا نہ کرنا عبادت اور اطاعت اور فرمانبرداری میں مطلوب ہوتا ہے، ان کا بھلا برا ہونا اخلاق کی بھلائی برائی پر موقوف ہے، اور اس سے صاف ظاہر ہے کہ اصل میں بھلی اور بری اخلاق و صفات ہی ہوتی ہیں۔ اور عقل و فہم کی ضرورت تو اس لیے ہے کہ اخلاق کے مرتبے میں موقع بے موقع دریافت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ افعال میں بوجہ بے موقع ہو جانے کے کوئی خرابی اوپر سے نہ آجائے۔ دیکھیے سخاوت اچھی چیز ہے لیکن موقع میں صرف ہونا پھر بھی شرط ہے، اگر مساکین اور مستحقین کو دیا جائے تو فبہا ورنہ، رنڈیوں اور بھڑووں کو دینا یا شراب خواروں اور بھنگ نوشوں کو عطا کرنا کون نہیں جانتا کہ اور برائیوں کا سامان ہے، وجہ اس کی بجز اس کے اور کیا ہے کہ بے موقع صرف ہوا۔
بالجملہ افعال ہر چند تابع صفات ہیں لیکن موقع بے موقع کا پہچاننا بجز عقلِ سلیم و فہمِ مستقیم ہرگز متصور نہیں۔ اس لیے ضرور ہے کہ انبیاء ؑ میں عقل کامل اور اخلاقِ حمیدہ ہوں۔ ظاہر ہے کہ جب اخلاقِ حمیدہ ہوں گے تو محبت بھی ضرور ہو گی کیونکہ خلقِ حسن کی بنا محبت ہی ہے، اور جب موقع اور محل کا لحاظ ہے اور عقلِ کامل موجود ہے تو پھر خدا سے بڑھ کر اور کونسا موقع سزاوار محبت ہو گا۔ مگر خدا کے ساتھ محبت ہو گی تو پھر عزمِ اطاعت و فرمانبرداری بھی ضرور ہو گا جس کا انجام یہی نکلے گا کہ ارادۂ نافرمانی کی گنجائش ہی نہیں اور ظاہر ہے کہ اسی کو معصومیت کہتے ہیں۔
(انتخاب: حافظ محمد عمار خان ناصر)

علومِ قرآنی پر ایک اجمالی نظر

مولانا سراج نعمانی

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے بکثرت فضائل و خصوصیات قرآن مجید بیان فرمائی ہیں، ان میں سے ایک جامع آیت کریمہ یہ بھی ہے، فرماتے ہیں:
یٰآ اَیُّھَا النَّاسُ قَدْ جَآءَتْکُمْ مَّوْعِظَۃُ مِّن رَّبِّکُمْ وَشِفَآءُ لِّمَا فِی الصُّدُوْر وَھْدً‌ی وَّرَحْمَۃُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ۔
’’اے لوگو تحقیق آ چکی تمہارے پاس نصیحت تمہارے پروردگار کی طرف سے اور شفا ہے جو کچھ دلوں میں ہے اور ہدایت ہے اور رحمت ہے واسطے ایمان والوں کے۔‘‘
گویا قرآن مجید کا پیغام تمام انسانوں کے لیے ہے، یہ پروردگار کی طرف سے نصیحت ہے، قلبی بیماریوں کے لیے شفا ہے، ہدایت ہے اور مومنین کے لیے رحمت ہے۔ قرآن مجید نزول سے قبل لوح محفوظ پر تھا، وہاں سے لیلۃ القدر میں آسمانِ دنیا پر نازل کیا گیا اور وہاں سے پھر وقتاً‌ فوقتاً‌ تئیس سال کے عرصے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوتا رہا۔ علی الترتیب ان کیفیات کا مطالعہ کیجئے۔

نزولِ قرآن

بَلْ ھُوَ قُرْاٰنُ مَّجِیْد۔ فِیْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظ (البروج پ ۳۰)
’’بلکہ وہ قرآن مجید ہے لوح محفوظ میں۔‘‘
شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰن (البقرہ پ ۲)
’’مہینہ رمضان کا وہ ہے جس میں اتارا گیا ہے قرآن مجید۔‘‘
اِنَّا اَنْزَلْنٰہُ فِیْ لَیْلَۃِ الْقَدْر (القدر پ ۳۰)
’’بے شک ہم نے نازل کیا ہے قرآن لیلۃ القدر میں۔‘‘
اِقْرَأ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَق (العلق پ ۳۰)
’’پڑھ اپنے پروردگار کے نام کے ساتھ جس نے پیدا کیا۔‘‘
یہ قرآن مجید نزول کے اعتبار سے دو ادوار میں مکمل ہوا۔ پہلا دور مکی کہلاتا ہے جس میں اصول و کلیاتِ دین اور اقوامِ سابقہ کے واقعات وغیرہ بیان کیے گئے ہیں۔ دوسرا دور مدنی کہلاتا ہے جس میں عموماً‌ مسلمانوں کو خطاب کر کے عبادات و معاملات سے متعلق احکام تفصیل سے بیان کیے ہیں۔ نزولِ قرآن کو وحی کہا جاتا ہے جو دو قسم کی ہوتی ہے۔ وحی متلو اور وحی غیر متلو۔ نزولِ وحی کے طریقے قرآن مجید میں مندرجہ ذیل بیان کیے گئے ہیں۔
وَ مَا کَانَ لِبَشَرٍ اَن یُّکَلِّمَہُ اللہُ اِلَّا وَحْیًا اَوْ مِن وَّرَآءِ حِجَابٍ اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا فَیُوْحِیَ بِاِذْنِہٖ مَا یَشَآءُ اِنّہٗ عَلِیُّْ حَکِیْم (الشورٰی پ ۲۵)
’’اور نہیں طاقت کسی شخص کی کہ بات کرے اس سے اللہ مگر وحی سے یا پردے کی آڑ سے یا بھیجے فرشتہ پیغام لانے والا، پس جی میں ڈالتا ہے اس کے حکم سے جو چاہتا ہے، تحقیق وہ بلند مرتبہ حکمت والا ہے۔‘‘

تدوینِ قرآن

قرآن مجید کی حفاظت اور تدوین دو طریقوں سے کی گئی۔ صدری حفاظت میں حفظ کے ذریعے حفاظت کی گئی، اور تحریری حفاظت میں کتابت کی صورت میں حفاظت کی گئی۔ حفظ کے بارے میں قرآن مجید میں بیان ہے کہ
بَلْ ھُوَ اٰیٰتُْ بَیِّنٰتُْ فِیْ صُدُوْرِ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ ، وَمَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَا اِلَّا الظّٰلِمُوْنَ (العنکبوت پ ۲۱)
’’بلکہ یہ روشن آیتیں ہیں ان لوگوں کے سینوں میں کہ دیے گئے ہیں علم، اور نہیں انکار کرتے ہماری آیتوں کا سوائے ظالموں کے۔‘‘
اس لیے پہلے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حفظ فرمایا اور پھر صحابہ کرامؓ کو حفظ کرایا۔
اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَہٗ وَقُرْاٰنَہٗ (القیامۃ پ ۲۹)
’’بے شک ہمارے ذمہ ہے اس کا جمع کرنا (تیرے دل میں) اور پڑھنا اس کا (تیری زبان سے)۔‘‘
سَنُقْرِئُکَ فَلَا تَنْسٰی (الاعلٰی پ ۳۰)
’’عنقریب ہم آپ کو پڑھائیں گے پھر آپ نہ بھولیں گے۔‘‘
اس کے بعد حضورؐ نے خدا کے حکم سے یہ قرآن مجید صحابہ کرامؓ تک پہنچایا۔
یَآ اَیُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ (المائدہ پ ۶)
’’اے پیغمبر پہنچا دے جو کچھ کہ اتارا گیا ہے آپ کی طرف۔‘‘
اُتْلُ مَآ اُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنَ الْکِتَابِ (پ ۲۱)
’’پڑھ جو کچھ وحی کی جاتی ہے تیری طرف کتاب میں سے۔‘‘
ان احکام پر حضورؐ کے عمل کو نقل کرتے ہوئے قرآن مجید میں ارشاد ہے:
یَتْلُوْا عَلَیْکُمْ اٰیٰتِنَا (پ ۲)
’’پڑھتا ہے تم پر آیتیں ہماری۔‘‘
قرآن مجید پڑھنے والوں کے لیے آداب بھی خود خداوند نے مقرر فرمائے۔
وَاِذَا قَرَأتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْم (النحل پ ۱۴)
’’پھر جب تو پڑھے قرآن تو پناہ مانگ اللہ کی شیطان مردود سے۔‘‘
وَاِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَہٗ وَاَنْصِتُوْا۔ (الاعراف پ ۹)
’’اور جب پڑھا جائے قرآن تو سنو اسے اور چپ رہو۔‘‘
یہ ادب بھی بتایا کہ پڑھتے ہوئے حلاوت، خوش الحانی اور رقت سے پڑھا جائے تاکہ کوئی دوسرا کلام اس کے مقابلے میں ایسی لذت پیدا نہ کرے اور آہستہ آہستہ پڑھے تاکہ آسانی سے یاد ہو جائے۔
وَرَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًا (المزمل پ ۲۹)
شاید اسی لیے سورتوں میں بھی تقسیم کیا گیا کہ حفظ میں آسانی ہو، اور تدریجًا تھوڑا تھوڑا نازل کیا گیا تاکہ صحابہ کرامؓ آسانی سے یاد کر سکیں۔
وَقُرْاٰنًا فَرَقْنٰہُ لِتَقْرَءَہٗ عَلَی النَّاسِ عَلٰی مُکْثٍ وَّنَزَّلْنَاہُ تَنْزِیْلًا (بنی اسرائیل پ ۱۵)
’’اور قرآن، جدا جدا کیا ہم نے اس کو، تاکہ پڑھے تو اسے لوگوں پر آہستگی سے، اور اتارا ہم نے اسے آہستہ آہستہ اتارنا۔‘‘
عربوں کا حافظہ ضرب المثل تھا، انہوں نے اسے بخوبی یاد کیا۔ اسی حفظ کے لیے ترغیب دیتے ہوئے نماز میں بھی قراءت فرض کی گئی تاکہ حفظ کا جذبہ پیدا ہو۔
اَقِمِ الصّلٰوۃَ لِدُلُوْکِ الشَّمْسِ اِلٰی غَسَقِ اللَّیْلِ وَقُرْاٰنَ الْفَجْرِ (بنی اسرائیل پ ۱۵)
’’قائم کر نماز سورج ڈھلنے سے رات کے اندھیرے تک اور پڑھ قرآن فجر میں۔‘‘
وَلَا تَجْھَرْ بِصَلٰوتِکَ وَلَا تُخَافِتْ بِھَا وَابْتَغِ بَیْنَ ذَالِکَ سَبِیْلًا (بنی اسرائیل پ ۱۵)
’’اور نہ بلند کر اپنی نماز میں (تلاوت کی آواز) اور نہ بہت آہستہ کر اسے، اور ڈھونڈ اس کے درمیان کا راستہ۔‘‘
انہی ترغیبات کی وجہ سے اکثر رات کو قرآن مجید کی تلاوت تہجد و نوافل میں کی جاتی ہے۔ خود حضورؐ تلاوت کی کثرت نوافل و تہجد میں فرمایا کرتے تھے۔
اِنَّ رَبَّکَ یَعْلَمُ اَنَّکَ تَقُوْمُ اَدْنٰی مِنْ ثُلُثَیِ اللَّیْلِ وَ نِصْفَہٗ وَثُلَثَہٗ وَطَائِفَۃُْ مِّنَ الَّذِیْنَ مَعَکَ (المزمل پ ۲۹)
’’بے شک رب تیرا جانتا ہے کہ تو کھڑا ہوتا ہے تقریباً‌ دو تہائی رات اور آدھی اور تہائی تک، اور ایک جماعت ان لوگوں کی جو تیرے ساتھ ہیں۔‘‘

مدارسِ قرآن

قرآن مجید سیکھنے کے لیے مساجد کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ خصوصًا مسجد نبویؐ میں اصحابِؓ صُفَّہ، جب کہ مستقل طور پر دینی مدرسہ مخرمہ بن نوفلؓ کے مکان پر دارالقراء کے نام سے مشہور تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعتِ عقبہ اولٰی کے موقع پر حضرت مصعب بن عمیرؓ کو تعلیم قرآن مجید کے لیے بھیجا تھا۔ ایک اور موقع پر ستر قاریوں کو اہل ِ نجد کی تعلیم کے لیے بھیجا جنہیں برمعونہ کے مقام پر شہید کیا گیا۔ یمن کے لشکر کے قاضی کی حیثیت سے حضورؐ نے حضرت معاذ بن جبلؓ کی تقرری کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ وہ لوگوں کو قرآن مجید کی تعلیم دیں بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مشہور حدیث مبارکہ ہے
خَیْرُکُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْاٰنَ وَعَلَّمَہٗ۔
’’تم میں سے بہترین وہ شخص ہے جو قرآن سیکھے اور اس کی تعلیم دے۔‘‘
انہی ترغیبات کی وجہ سے حضورؐ کی حیاتِ مبارکہ میں یہ حالت ہو گئی تھی کہ قرآن مجید کی تلاوت ہر گھر میں ہوا کرتی تھی۔
وَاذْکُرْنَ مَا یُتْلٰی فِیْ بُیُوْتِکُنَّ مِنْ اٰیٰتِ اللہِ وَالْحِکْمَۃِ (الاحزاب پ ۲۲)
’’اور یاد کیا کرو جو کچھ پڑھا جاتا ہے تمہارے گھروں میں اللہ کی آیتوں اور حکمت میں سے۔‘‘

کتابی حفاظت

چونکہ عرب عموماً‌ اَن پڑھ تھے، لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے جیسا کہ ارشاد ہے
ھُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیِّیْنَ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ (الجمعہ پ ۲۸)
’’وہ جس نے بھیجا اَن پڑھوں میں رسول انہی میں سے۔‘‘
اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی اُمّی تھے۔
اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ النَّبِیِّ الْاُمِّیَّ الَّذِیْ یَجِدُوْنَہٗ مَکْتُوْبًا عِنْدَھُمْ فِی التَّوْرَاۃِ وَالْاِنْجِیْلِ (اعراف پ ۹)
’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اُمّی نبی کی جسے پاتے ہیں لکھا ہوا اپنے پاس تورات و انجیل میں۔‘‘
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت مبارکہ کے وقت حالت یہ تھی کہ قریش مکہ میں صرف سترہ کاتبین تھے جو (۱) حضرت عمر بن الخطاب (۲) عثمان بن عفان (۳) علی بن ابی طالب (۴) ابوعبیدہ بن الجراح (۵) طلحہ (۶) ابو سفیان بن حرب بن امیہ (۷) معاویہ بن ابی سفیان (۸) یزید بن ابی سفیان (۹) ابان بن سعید بن العاص بن امیہ (۱۰) خالد بن سعید بن العاص (۱۱) حاطب بن عمرو العامری القریشی (۱۲) ابو سلمہ بن عبد الاسد مخعزومی (۱۳) عبد اللہ بن سعد بن ابی سرم العامری (۱۴) حویطب بن عبد العزٰی عامری (۱۵) جھیم بن ابی الصلت بن مخرقہ بن مطلب بن عبد مناف (۱۶) علاء بن حضرمی (۱۷) اور ابو حذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ رضی اللہ عنھم ہیں۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کتابی صورت کا ذکر فرماتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:
وَالطُّوْرِ ۔ وَکِتَابٍ مَّسْطُوْرٍ ۔ فِیْ رَقٍّ مَّنْشُوْرٍ (طور پ ۲۷)
’’قسم ہے طور کی۔ اور کتاب کی جو کھلی ہوئی ہے۔ کھلے ہوئے کاغذ پر۔‘‘
ن ۔ وَالْقَلَمِ وَمَا یَسْطُرُوْنَ (ن پ ۲۹)
’’قسم ہے قلم کی اور اس چیز کی جو لکھتے ہیں۔‘‘
حضرت ابو رافع  ؓحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں کہ
حَقُّ الْوَلَدِ عَلَی الْوَالِدِ اَنْ یَّعْلَمَہُ الْکِتَابَۃَ وَالسَّاحَۃَ وَالرَّمی۔
’’بیٹے کا باپ پر حق ہے کہ وہ اسے کتابت، تیراکی اور تیر اندازی سکھائے۔‘‘
حضورؐ کو تعلیمِ کتابت کا اتنا اہتمام تھا کہ غزوۂ بدر کے موقع پر غریب کفار کے لیے یہ فدیہ رکھا کہ وہ دس دس مسلمان بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھائیں۔ چنانچہ جب ہم کاتبینِ وحی پر نظر ڈالتے ہیں تو ان کی تعداد تقریبًا بیالیس نظر آتی ہے جو کہ شانے کی چوڑی ہڈیوں، تختیوں، کھجور کی شاخوں کے ڈنٹھل، سفید پتھر کے ٹکڑوں، رقاع کھال یا باریک جھلی یا کاغذ کے ٹکڑے قطع الادیم، چمڑے کے ٹکڑوں اور اونٹوں کی کاٹھیوں پر لکھا کرتے تھے۔ اس طرح قرآن مجید کو کتابی شکل میں محفوظ کرنے کی کوشش کی گئی باوجودیکہ حضورؐ لکھنا نہیں جانتے تھے۔
وَلَا تَخُطُّہٗ بِیَمِیْنِکَ اِذً‌الَّاْرتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ (العنکبوت پ ۲۱)
’’اور نہ ہی لکھتا تھا تو اپنے دائیں ہاتھ سے کہ اس وقت البتہ دھوکا کھاتے یہ جھوٹے۔‘‘
لیکن اس کے باوجود مکی دور میں ہی قرآن مجید کی کتابت عام ہو چکی تھی۔
فِیْ صُحُفٍ مُّکَرَّمَۃٍ ۔ مَرْفُوْعَۃٍ مُّطَہَّرَۃٍ ۔ بِاَیْدِیْ سَفَرَۃٍ ۔ کِرَامٍ بَرَرَۃٍ (عبس پ ۳۰)
’’عظمت والے صحیفوں میں ۔ بلند کیے گئے پاک کیے گئے ۔ لکھنے والے ہاتھوں سے ۔ بزرگ نیکو کاروں کے۔‘‘
دوسری جگہ فرمایا:
وَقَالُوْا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ اکْتَتَبَھَا فَھِیَ تُمْلٰی عَلَیْہِ بُکْرَۃً‌ وَّاَصِیْلًا (الفرقان پ ۱۸)
’’اور کہا انہوں نے یہ کہانیاں ہیں پہلوں کی، لکھ لیا ہے ان کو پھر وہ پڑھی جاتی ہیں اس پر صبح و شام۔‘‘
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے قبولِ اسلام والے واقعہ میں بھی ان کی ہمشیرہ نے ان کو قرآن مجید کے اوراق دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا:
لَسْتَ مِنْ اَھْلِھَا ھٰذَا کِتَابُْ لَّا یَمَسُّہٗ اِلَّا الْمُطَھَّرُوْنَ (بیہقی دلائل النبوۃ)
’’تو اس کا اہل نہیں ہے، یہ وہ کتاب ہے جسے نہیں چھو سکتے سوائے پاکیزہ لوگوں کے۔‘‘
قرآن مجید جب زیر کتابت تھا اس دور میں حضورؐ نے قرآن مجید کے علاوہ دیگر ہر قسم کی تحریرات کی ممانعت کر دی تھی تاکہ قرآن مجید کے ساتھ ان تفاسیر و حواشی یا احادیث کا اضافہ و اختلاط نہ ہو جائے۔ ایک دفعہ ارشاد فرمایا:
مَنْ کَتَبَ عَنِّیْ غَیْرَ الْقُرْاٰنَ فَلْیُمْحِہٗ۔
’’جس نے مجھ سے سوائے قرآن کے کچھ لکھا ہو تو اسے مٹا دے۔‘‘
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَکْتُبُ الْاَحَادِیْثَ فَقَالَ مَا ھٰذَا تَکْتُبُوْنَ؟ قُلْنَا اَحَادِیْثَ سَمِعْنَاھَا مِنْکَ قَالَ اَکِتَابً‌ا غَیْرَ اللہِ تُرِیْدُوْنَ؟ مَا اَضَلُّ مِمَّنْ قَبْلِکُمْ اِلَّا مَا اکْتَتَبُوْا مِنَ الْکِتَابِ مَعَ کِتَابَ اللہِ تَعَالیٰ (الحدیث)
’’آئے ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ہم احادیث لکھ رہے تھے تو فرمایا تم یہ کیا لکھ رہے ہو؟ ہم نے کہا احادیث جو ہم نے آپ سے سی ہیں۔ فرمایا کیا اللہ کی کتاب کے علاوہ کوئی کتاب تم چاہتے ہو؟ نہیں گمراہ ہوئے تھے تم سے پہلے مگر لکھتے تھے اور کتاب اللہ تعالیٰ کی کتاب کے ساتھ۔‘‘

تدوینِ قرآن

قرآن مجید چونکہ نزولی ترتیب کے مطابق نہیں، اس لیے جب تک قرآن مجید نازل ہوتا رہا اس وقت تک قرآن مجید کو صحیفہ کی شکل میں اکٹھا کرنا ممکن نہ تھا کیونکہ بیک وقت مختلف سورتوں کی آیات نازل ہوتی رہتی تھیں۔ حضورؐ کی وفات کے بعد سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے دورِ خلافت میں مختلف نوشتوں سے ہر سورت کی تمام آیات اکٹھی کی گئیں اور قرآن مجید کو مرتب کیا گیا۔
وَقَدْ کَانَ الْقُرْاٰنَ کُتِبَ کُلُّہٗ فِیْ عَھْدِ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لٰکِنْ غَیْرَ مَجْمُوْعٍ فِیْ وَضْعٍ وَاحِدٍ وَلَا مُرَتّب السُّوَرَ (الاتقان)
’’اور البتہ قرآن مجید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں پورا لکھا جا چکا تھا لیکن یکجا شکل میں نہ تھا اور نہ ہی سورتوں کو مرتب کیا گیا تھا۔‘‘
حضرت ابوبکر صدیقؓ نے حضرت زید بن ثابتؓ کی قیادت میں پچیس مہاجر صحابہؓ اور پچاس انصاری صحابہؓ سے قرآن مجید مرتب کرایا۔ اس کے بعد فتح آرمینیا کے موقع پر حضرت حذیفہ بن الیمانؓ نے مدینہ منورہ واپس پہنچ کر حضرت عثمانؓ کو مشورہ دیا کہ قرآن مجید کی قراءتیں ایک قراءت پر مجتمع کی جائے جس پر حضرت عثمانؓ نے صحابہ کرامؓ کے ذریعے ۲۴ھ آخر یا ۲۵ھ کے اوائل میں قرآن مجید کی کتابت مکمل کروائی اور اس کی سات نقلیں کرا کر کوفہ، شام، بحرین، بصرہ، یمن، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں رکھوائیں جن سے نقل شدہ قرآن آج تک دنیا میں صحیح کامل حالت میں موجود ہیں۔

علومِ قرآن

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے قرآنی علوم کو پانچ شعبوں میں تقسیم کیا ہے۔

(۱) علم الاحکام

جس میں فرائض و واجبات، حلال و حرام وغیرہ کا بیان ہے۔ اس علم کی تفصیل بیان کرنا فقہاء اور مجتہدین کا کام ہے۔

(۲) علم المناظرہ

اس میں یہود و نصارٰی، مشرکین اور منافقین سے مناظرہ ہے۔ ان پر بحث کرنا متکلمین کا کام ہے۔

(۳) علم تذکیر بآلاء اللہ

اس میں زمین و آسمان، رزق و عزت، انعاماتِ الٰہی و صفات الٰہی کا بیان ہے۔ ان پر بحث کرنا صوفیاء اور مشائخ کا کام ہے۔

(۴) علم تذکیر بایام اللہ

اس میں ان تاریخی واقعات کا ذکر ہے جن میں اللہ تعالیٰ نے اپنے فرمانبردار بندوں کو بطور انعام کامیاب فرمایا، یا سرکشوں اور نافرمانوں پر عذاب نازل کر کے انہیں عبرت کا سامان بنایا۔

(۵) علم تذکیر بما بعد الموت

اس میں موت اور موت کے بعد آنے والے واقعات، مسئلہ حشر نشر، حساب کتاب، میزان اور جنت و دوزخ کا بیان ہے۔ ان آخری دو علوم پر بحث کرنا واعظین کا طریقہ ہے۔

علومِ تفسیر قرآن

تفسیر لغوی طور پر فَسَّرَ بمعنی کشف سے ہے جیسا کہ قرآن مجید میں بھی ان ہی معانی میں ذکر کیا گیا ہے:
وَالصُّبْحِ اِذَا اَسْفَرَ (المدثر پ ۲۹)
’’اور صبح کی جب روشن ہو۔‘‘
وَلَا یَاْتُوْنَکَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئْنٰکَ بِالْحَقِّ وَاَحْسَنَ تَفْسِیْرً‌ا۔ (الفرقان پ ۱۹)
’’اور وہ نہیں لاتے آپ کے پاس کوئی مثال مگر ہم پہنچا دیتے ہیں آپ کے پاس ٹھیک بات اور اس سے بہتر کھول کر۔‘‘
جبکہ اصطلاح میں تفسیر سے مراد:
عِلْمُْ یُبْحَثُ فِیْہِ عَنْ مَعْنی نَظَمِ الْقُرْاٰن بِحَسْبِ الْقَوَانِیْنِ الْعَرَبِیَّۃِ وَالْقَوَاعِدِ الشَّرْعِیَّۃِ بِقَدَرِ طَاقَۃِ الْبَشَرِیَّۃِ۔
’’ایسا علم جس میں قرآن مجید کے الفاظ کے معنی پر عربی زبان کے قوانین اور شریعت کے قاعدوں کو پیش نظر رکھ کر انسانی طاقت کے مطابق بحث کی جاتی ہے۔‘‘
تاہم اپنی رائے اور سوچ سے تفسیر کرنے کی ممانعت ہے۔ کتاب اللہ کا جو مفہوم کتاب و سنت سے ثابت ہو گا اسے تفسیر کہیں گے اور اسی مفہوم کے موافق مسائل و معارف کے استنباط کو تاویل کہیں گے۔ شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ فرماتے ہیں کہ تفسیر میں تین چیزوں کی رعایت ضروری ہے۔
(۱) ہر کلمہ کو معنی حقیقی یا مجاز معروف پر محمول کرنا۔
(۲) سیاق و سباق کو ملحوظ رکھنا تاکہ کلام بے ربط نہ ہو۔
(۳) حضورؐ اور صحابہ کرامؓ کی تفسیر کے خلاف نہ ہو۔
اگر پہلی شرط فوت ہو گئی تو تاویل قریب ہے۔ اگر دوسری شرط فوت ہو گئی تو تاویل بعید ہے۔ لیکن اگر تیسری شرط فوت ہو گئی تو تحریف ہے اور کفر ہے۔ اسی لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مَنْ فَسَّرَ الْقُرْاٰنَ بِرَایِہٖ فَقَدْ کَفَرَ۔
’’جس نے قرآن کی تفسیر اپنی رائے سے کی تو تحقیق کافر ہو گیا۔‘‘

تفسیر کی ضرورت

اَفَلَا یَتَدَبّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰی قُلُوْبٍ اَقْفَالُھَا (محمد پ ۲۶)
قرآن مجید کے نزول کا مقصد بیان کرتے ہوئے تفسیر کی ضرورت یوں بیان فرمائی:
وَاَنْزَلْنَا اِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْھِمْ (النحل پ ۱۴)
’’اور اتارا ہم نے آپ کی طرف ذکر تاکہ سمجھائیں آپؐ لوگوں کو وہ جو اتاری گئی ہے ان کے لیے۔‘‘
اسی طرح حضورؐ کی بعثت کا مقصد بھی تعلیم کتاب اور حکمت و تفسیر ہی تھا۔
کَمَا اَرْسَلْنَا فِیْکُمْ رَسُوْلًا مِّنْکُمْ یَتْلُوْا عَلَیْکُمْ اٰیٰتِنَا وَیُزَکِّیْکُمْ وَیُعَلِّمُکُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکَمَۃَ وَیُعَلِّمُکُمْ مَّا لَمْ تَکُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ (بقرہ پ ۲)
’’جیسا کہ بھیجا ہم نے تم میں رسول تم ہی میں سے، پڑھتا ہے تم پر آیتیں ہماری اور پاک کرتا ہے تمہیں اور سکھاتا ہے تمہیں کتاب اور حکمت اور سکھاتا ہے تمہیں وہ جو تم نہیں جانتے۔‘‘
حضورؐ نے جو بھی تفسیر بیان فرمائی وہ سب اللہ ہی کی طرف سے ہوتی تھی۔
وَ مَا یَنْطِقُ عَنِ الْھَوٰی۔ اِنْ ھُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰی۔ (النجم ۲۷)

تفسیر کے لیے ضروری علوم

امام سیوطیؒ کے مطابق یہ پندرہ علوم مفسر کے لیے ضروری ہیں۔ (۱) لغت عربیہ (۲) علم نحو (۳) علم صرف (۴) علم اشتقاق (۵) علم معانی (۶) علم بیان (۷) علم بدیع (۸) علم قراءت (۹) علم اصول الدین (۱۰) علم اصول فقہ (۱۱) علم اسباب النزول والقصص (۱۲) علم ناسخ و منسوخ (۱۳) علم فقہ (۱۴) علم حدیث مع علم اسماء الرجال والاسناد (۱۵) اور علم الوھبی۔ جبکہ دیگر علماء کے نزدیک یہ علوم بھی ضروری ہیں (۱۶) علم کلام (۱۷) علم تاریخ (۱۸) علم جغرافیہ (۱۹) علم الزہد والرقاق (۲۰) علم الاسرار (۲۱) علم الجدل والخلاف (۲۲) علم السیرۃ (۲۳) علم الحقائق (۲۴) علم الحساب (۲۵) اور علم المنطق۔

تفسیری ادوار

  1. صحابہ کرامؓ کے دور میں خود جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تفسیر پوچھی جاتی تھی۔ یہ پہلا دور کہلایا۔
  2. حضورؐ کی رحلت کے بعد حضرت علیؓ اور ابن عباسؓ سے تفسیر پوچھی جاتی تھی۔ یہ دوسرا دور کہلایا۔
  3. تیسرے دورِ تابعین میں حضرت سعید بن جبیرؓ نے باقاعدہ کتابی شکل میں تفسیر لکھ کر عبد الملک بن مروان کے دربارِ خلافت میں بھیجی جو کہ آج تفسیر عطاء بن دینار کے نام سے مشہور ہے۔ ان کے علاوہ اس دور میں مجاہدؒ، عکرمہؒ، حسن بصریؒ، ضحاکؒ، اور قتادہؒ وغیرہ مشہور ہیں۔
  4. چوتھے دور میں کتب کی تدوین کے وقت پہلے سے رائج طریقے سے ہٹ کر تفسیری کتابوں کو علیحدہ تحریر کیا جانے لگا اور تفسیری اقوال کے لیے اسناد کی شرط ختم کر دی۔
  5. پانچویں دور میں جو عباسی خلافت سے شروع ہو کر آج تک چلا آ رہا ہے اس دور میں ہر ماہر فن نے اپنے فن کے انداز میں تفسیر لکھی۔ چنانچہ زجاجؒ نے اپنی تفسیر میں، واحدی نے البسیط میں، اور ابوحیان نے البحر المحیط میں نحوی مہارت کا ثبوت دیا۔ جبکہ امام رازی نے تفسیر کبیر میں علوم عقلیہ اور حکماء و فلاسفہ کے اقوال پیش کیے۔

مختصرً‌ا یہ کہ تفاسیر قرآن بنیادی طور پر چھ اقسام میں منحصر ہو گئیں۔

  1. فقہی تفاسیر: جن میں صرف ان آیات کی تفسیر کی گئی ہے جن سے مسائل مستنبط ہوتے ہیں، جیسے احکام القرآن۔
  2. ادبی تفاسیر: ان میں فصاحت و بلاغت کو پیشِ نظر رکھا گیا۔
  3. تاریخی تفاسیر: ان میں تاریخی واقعات کو پیشِ نظر رکھا گیا جیسے ابن عربیؒ اور ابو عبد الرحمٰن السلمیؒ کی تفاسیر۔
  4. نحوی تفاسیر: ان میں نحوی مباحث پیشِ نظر رکھے گئے جیسے اعراب القرآن للرازیؒ۔
  5. لغوی تفاسیر: جیسے مفردات القرآن للامام راغب الاصفہانیؒ۔
  6. کلامی تفاسیر: جن میں عقائد پر بحث کی گئی ہو جیسے امام رازیؒ کی تفسیر کبیر اور زمحشریؒ کی کشاف وغیرہ شامل ہیں۔

سخت سزائیں اور کتب و اُمم سابقہ

محمد اسلم رانا

مغرب زدہ افراد کا ایک طبقہ ہے جو اسلامی حدود کے نفاذ کا خواہاں نہیں ہے۔ اس کا خیال ہے کہ یہ اسلامی سزائیں سخت ہیں، غیر انسانی ہیں اور وحشیانہ ہیں۔ لیکن ظاہر بات ہے کہ یہ خیال و تاثر محض مغرب سے مرعوبیت اور مسحوریت کا نتیجہ ہے ورنہ اسلامی سزائیں جہاں نافذ ہوتی ہیں وہ معاشرہ جرم و گناہ سے تقریباً‌ پاک ہو جاتا ہے۔ علاوہ ازیں سخت سزائیں اسلام ہی نے مقرر نہیں کی ہیں بلکہ اسلام سے قبل آسمانی مذاہب میں بھی اسی نوعیت کی سزائیں تھیں اور یہ سزائیں آج تک ان کی مقدس کتابوں میں موجود ہیں جنہیں اہل مغرب (عیسائی اور یہودی) بھی مذہبی اور مقدس مانتے ہیں۔ اس ضمن میں کتبِ سابقہ کا ایک مختصر سا مطالعہ حسب ذیل ہے۔
کتب سابقہ کے ایک مروّجہ مجموعہ بائبل کی پہلی پانچ کتابیں تورات کہلاتی ہیں۔ یہودی ان کی بہت تعظیم کرتے اور قابلِ عمل سمجھتے ہیں۔ عیسائی بھی ان کی عظمت و تقدس کا ڈھنڈورا پیٹتے نہیں تھکتے۔ یہودی یا بنی اسرائیل حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد کو کہتے ہیں۔ ان کی مقدس کتابوں کی رو سے قومِ یہود خدا تعالیٰ کی برگزیدہ، چنیدہ، اپنی اور مقدس قوم ہے۔ یہ لوگ خدا کے فرزند ہیں، نبوت اور رسالت صرف اسی قوم کے لیے مخصوص ہے، غیر یہودی کتوں کی مثل ہیں، نجات کی بلاہٹ محض یہودیوں کے لیے ہے غیر اقوام کے لیے نہیں (پادری ڈملو کی تفسیر بائبل صفحہ ۸۵)۔
اس عظمت و بزرگی کے ساتھ ساتھ کتب مقدسہ سے یہ حقیقت بھی اظہر من الشمس ہے کہ یہودی ایک بڑی سرکش اور نافرمان قوم ہیں۔ ان کی سرکشی اور باغیانہ خصلتوں کے پیشِ نظر ان کی شریعت بھی بڑی سخت مقرر کی گئی تھی۔ مثلاً‌ ان کے ہاں ذبیحہ کا گوشت پہلے اور دوسرے دن تو کھایا جا سکتا تھا لیکن تیسرے دن کھانے کی ممانعت تھی۔ خلاف ورزی کی سزا جماعت سے کاٹا جانا تھی (کتاب احبار باب ۱۹ آیت ۸)۔ آتشیں قربانی کا گوشت یا اپنی سکونت گاہ میں پرند یا چرند کا خون کھانے (احبار باب ۷ آیت ۲۵) حائضہ کے ساتھ صحبت (احبار باب ۲۰ آیت ۱۸) اور کفارہ کے دن اپنی جان کو دکھ نہ دینے کی سزا بھی جماعت سے کاٹا جانا تھی (احبار باب ۲۳ آیت ۲)۔ جماعت سے کاٹے جانے کا مطلب یہ ہے کہ ایسا شخص بنی اسرائیل کے ساتھ خدا تعالیٰ کے وعدوں اور موعودہ برکتوں میں شامل نہیں رہتا، نامختون اور غیر قوم کا فرد شمار کیا جاتا ہے (پادری ڈملو کی تفسیر ص ۵۹)

سزائے موت

قاتل کا مارا جانا تو بآسانی سمجھ میں آتا ہے (احبار باب ۲۴ آیت ۱۸) لیکن زنا اور لواطت کی سزا بھی موت ہی ہے (احبار باب ۲۰) جانور سے جماع کرنے والا بھی جان سے مارا جائے (احبار باب ۲۰ آیت ۴۵) اگر کسی شخص کا بیل ماروکھنڈا ہو اور مالک اسے باندھ کر نہ رکھے اور وہ بیل کسی مرد یا عورت کو ٹکر مار کر اس کی جان لے لے تو بیل کو سنگسار کیا جائے، مالک کی سزا بھی موت ہے۔ جو کوئی کسی آدمی کو چرائے، خواہ وہ اسے بیچ ڈالے خواہ وہ اس کے ہاں ملے وہ قطعی مارا جائے (خروج باب ۲۱ آیت ۱۶) نقب زنی کرتے ہوئے چور کو اگر ایسی مار پڑے کہ وہ مر جائے تو اس کے خون کا کوئی جرم نہیں (خروج باب ۲۲ آیت ۲) توبہ توبہ وہ کتنی سخت شریعت تھی جس کے مطابق اگر کوئی شخص کاہن (یہودی مولوی) سے گستاخی سے پیش آئے یا قاضی کا کہا نہ مانے تو اسے بھی قتل کر دیا جائے (استثنا باب ۷ آیت ۱۲)

کوڑے

اگر لوگوں میں کسی قسم کا جھگڑا ہو اور وہ عدالت میں آئیں تاکہ قاضی ان سے انصاف کریں، تو وہ صادق کو بے گناہ ٹھہرائیں اور شریر کے خلاف فتوٰی دیں۔ اگر وہ شریر پٹنے کے لائق نکلے تو قاضی اسے زمین پر لٹوا کر اپنی آنکھوں کے سامنے اس کی شرارت کے مطابق اسے گن گن کر کوڑے لگوائے اور اسے چالیس کوڑے لگیں زیادہ نہیں (استثنا باب ۲۵ آیت ۱ تا ۳)

سنگساری

تورات میں کئی جرموں کی سزا سنگساری ہے۔ لکھا ہے جو خداوند کے نام پر کفر بکے ضرور جان سے مارا جائے۔ ساری جماعت اسے قطعی سنگسار کرے (احبار باب ۲۴ آیت ۱۶) اسی طرح جو شخص اور معبودوں سورج، چاند یا اجرام فلکی کی پوجا کرے اس کی سزا شہر کے پھاٹکوں سے باہر لے جا کر سنگسار کرنا ہے کہ وہ مر جائے (استثنا باب ۱۷ آیت ۶) ترغیبِ شرک کی سزا قتل ہے (استثنا باب ۱۲) تورات پڑھتے وقت قاری کے ذہن پر اس کے شرعی احکام کی سختی کا گہرا تاثر قائم ہوتا ہے اور انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ وہ مرد یا عورت جس میں جن ہو یا وہ جادوگر ہو تو وہ ضرور جان سے مارا جائے۔ ایسوں کو لوگ سنگسار کریں (احبار باب ۲۰ آیت ۲۷) ماں باپ کے نافرمان بیٹے کو شہر کے سب لوگ سنگسار کریں کہ وہ مر جائیں (استثنا باب ۲۱ آیت ۲۱) یہودی سبت کو مانتے ہیں یعنی ہفتہ کے روز کچھ کام نہیں کرتے۔ حرمتِ سبت کا حکم نیا نیا تھا، لوگ اس کی عظمت و اہمیت ابھی پوری طرح سمجھ نہیں پائے تھے۔ صحرا نوروی کے دنوں ایک یہودی سبت کے دن لکڑیاں اکٹھی کرتے پکڑا گیا، جماعت نے اسے پکڑ کر حوالات میں بند کر دیا اور حضرت موسٰی علیہ السلام نے بحکم الٰہی اسے لشکرگاہ سے باہر لے جا کر خود سنگسار کرایا اور وہ مر گیا (گنتی باب ۱۵ آیت ۳۶)

آگ میں جلانا

ہمارے بہت سارے معزز قارئین کے لیے یہ امر انتہائی عجیب اور اچنبھا معلوم ہو گا کہ تورات میں بعض جرائم کی سزا آگ میں جلانا بھی مقرر ہے۔ اگر کوئی شخص بیوی اور ساس دونوں کو رکھے تو تینوں جلا ڈالے جائیں۔ (احبار باب ۲۰ آیت ۱۴) کپڑا جتنا سفید ہو گا اس پر داغ اتنا ہی برا لگے گا۔ چنانچہ اگر کاہن کی بیٹی فاحشہ بن کر اپنے آپ کو ناپاک کرے تو وہ عورت آگ میں جلائی جائے کیونکہ وہ اپنے آپ کو ناپاک ٹھہراتی ہے (احبار باب ۲۱ آیت ۹)
تورات کے مذکورہ احکام پر باقاعدہ عمل کیا جاتا تھا۔ حضرت مسیح علیہ السلام کے زمانہ میں بھی زنا کی سزا سنگساری تھی (انجیل یوحنا باب ۸) ؟؟ کو شریعت کی مخالفت اور موسٰیؑ کی رسموں کو بدلنے کے الزام میں سنگسار کیا گیا تھا (کتاب اعمال باب ۶) صدیوں بعد فرانس میں جون آف آرک نامی نوجوان خاتون کو جادوگری کے الزام میں جلا دیا گیا تھا۔ تورات کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جرائم کی سرکردگی پر سزا کا مطلب برائیوں سے پاک معاشرہ کا قیام تھا۔ جب لوگوں کو معلوم ہو کہ فلاں جرم کرنے پر اتنی سخت سزا ضرور ملے گی تو وہ قانون شکنی سے باز رہیں گے اور سزا کے اجراء سے عبرت پکڑیں گے۔ نافرمان بیٹے کو سنگساری کے حکم کے بعد لکھا ہے کہ یوں تو ایسی برائی کو اپنے درمیان سے دور کرنا تب سب اسرائیلی ڈر جائیں گے۔ کچھ اسی طرح کے الفاظ کاہن کی شان میں گستاخی پر سزا دینے کے ضمن میں بھی وارد ہیں کہ سب لوگ سن کر ڈر جائیں گے اور پھر گستاخی نہیں کریں گے (استثنا باب ۱۷ آیت ۱۳)

ہندومت

مشہور ہندو قانون دان منّو کے دھرم شاستر میں ہندوؤں کی چاروں ذاتوں (برہمن، کشتری، ویش، شودر) کا بڑا لحاظ رکھا گیا ہے۔ اعلٰی ذات برہمنوں کو معمولی سزاؤں پر اکتفا کیا جاتا ہے، تاہم سخت سزاؤں کا تصور اپنی جگہ قائم ہے مثلاً‌ برہمن، کشتری، ویش کی عورت شوہر وغیرہ سے محفوظ ہو یا نہ اس سے زنا کرنے والے شودر کا عضو تناسل قطع کرنا، تمام دولت کو چھین لینا اور قتل کی سزا دینی چاہیئے۔ اگر وہ غیر محفوظ عورت سے جماع کرے تو اسے دونوں متذکرہ صدر سزائیں اور قتل کی سزا دینی چاہیئے (منو کا دھرم شاستر ادھیائے ۸ اشلوک ۳۷۴) جس عضو سے دوسرے کی چیز چرائے اسی عضو کو قطع کرنا چاہیے تاکہ پھر ایسا کام نہ کرے (۸ : ۳۳۴)
چند برس پیشتر بھارت کی ایک اعلیٰ عدالت نے نسوانی  مقدمات کے سلسلہ میں کوڑوں کی اسلامی سزا کی حمایت کی تھی۔ اگر جرم کو روکنا مقصود ہے تو پھر مجرم کے ساتھ چہلیں نہیں کی جانی چاہئیں۔ القصہ ہمیں اسلامی شریعت کو ببانگ دہل اپنانا چاہیئے اور ہرگز پرواہ نہیں کرنی چاہیئے کہ اس پر دنیا کیا کہے گی۔ بفضلہٖ تعالیٰ ہم حق پر ہیں (قرآن مجید سورہ یس آیت ۱۴) چنانچہ ہمیں حق پر ڈٹ کر دنیا والوں کی اٹکلوں کی طرف مطلق توجہ نہیں دینی چاہیئے۔ جن قوانین، اقدار اور امور و احکام نے ڈیڑھ ہزار برس پیشتر عالمِ انسانیت سے اپنی صداقت کی مہر لگوائی تھی اگر انہیں خلوصِ نیت سے آج بھی اپنایا جائے تو
آگ کر سکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا

نصابِ تعلیم کی تشکیلِ جدید ۔ کیوں اور کیسے؟

مولانا سعید احمد پالنپوری

(یہ مضمون ’’نصابِ تعلیم میں تبدیلی کی ضرورت‘‘ کے موضوع پر منعقد ہونے والے ایک علمی اجتماع میں پڑھا گیا اور دارالعلوم دیوبند کے ترجمان ’’ماہنامہ دارالعلوم‘‘ میں شائع ہوا۔ ’’دارالعلوم‘‘ کے شکریہ کے ساتھ اسے قارئین ’’الشریعہ‘‘ کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ ادارہ)

نصابِ تعلیم کی تشکیلِ جدید کا مسئلہ بار بار اٹھتا رہتا ہے۔ اخبارات و مجلّات کی سطح سے لے کر عام محفلوں تک اس کا چرچا ہے۔ ہر شخص اپنی جگہ رائج الوقت نصابِ تعلیم میں تبدیلی کی ضرورت محسوس کرتا ہے۔ مگر ضرورت کیوں ہے؟ یہ بات ابھی تک منقح نہیں ہوئی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ پہلے اس نقطہ پر گفتگو کر لی جائے۔ یہ بات سب ہی حضرات جانتے ہیں کہ دینی تعلیم کے تین مرحلے ہیں اور دینی تعلیم دینے والے اداروں کے مقاصد مختلف ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ پہلے تعلیم کے مراحل اور اداروں کے مقاصد سے بحث کر لی جائے، اس کے بعد ہی کوئی لائحہ عمل تجویز کیا جا سکتا ہے۔

تعلیم کے مراحل

دینی تعلیم کے تین مراحل ہیں:

پہلا مرحلہ

پہلا مرحلہ ابتدائی تعلیم کا ہے جو مکاتیب کی تعلیم سے متعارف ہے۔ مکاتیب دو طرح کے ہیں۔ ایک وہ مکاتیب ہیں جن کے ساتھ اسکول کی تعلیم کا موقعہ فراہم ہے۔ دوسرے وہ مکاتیب ہیں جن کے ساتھ یہ سہولت نہیں ہے۔ پہلی قسم کے مکاتیب کا نصابِ تعلیم خالص دینی ہونا چاہیئے اور بہت مختصر ہونا چاہیئے۔ علومِ عصریہ کی اس میں آمیزش نہیں ہونی چاہیئے ورنہ بچوں پر ایک طرف تو تعلیم کا دوہرا بوجھ پڑے گا، دوسری طرف بے ضرورت مضامین کی تکرار ہو گی جس کا نتیجہ انتشار ذہنی کے سوا کچھ نہ ہو گا۔ اور دوسری قسم کے مکاتیب کا نصابِ تعلیم ایسا ہونا چاہیئے کہ وہ دین کی تعلیم کے ساتھ اسکول کی تعلیم کی بھی مکافات کر سکے۔ اس میں ضروری زبانوں کی تعلیم کے علاوہ علومِ عصریہ کی بھی بھرپور رعایت ہونی چاہیئے تاکہ نونہالانِ قوم، اگر ان کو آگے تعلیم کا مزید موقع نہ بھی مل سکے تو بھی وہ دینداری کے ساتھ اپنے دنیوی کام نکال سکیں۔ اور اگر مکاتیب سے نکل کر وہ بچے عصری درسگاہوں میں جانا چاہیں تو بھی ان کو کسی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

دوسرا مرحلہ

دوسرا مرحلہ ثانوی تعلیم کا ہے، اس مرحلہ میں زیادہ تر فارسی اور کچھ ابتدائی عربی پڑھائی جاتی ہے۔ اس مرحلہ میں داخل ہونے سے پہلے خود بچے کو یا اس کے اولیاء کو یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ اب اس کو کونسی راہ اختیار کرنی ہے۔ عصری تعلیم کی یا دینی تعلیم کی؟ چنانچہ مکتب میں تعلیم حاصل کرنے والے بچے اس دوسرے مرحلے میں دو حصوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں۔ بڑی تعداد عصری تعلیم کا رخ کرتی ہے اور بہت معمولی مقدار دینی تعلیم کا عزم کرتی ہے۔
مدارس ثانویہ کے علاوہ عصری درسگاہیں بھی فارسی بحیثیت زبان پڑھاتی ہیں۔ دونوں تعلیموں کا مشترکہ مقصد یہ ہے کہ فارسی سے اردو میں مدد لی جائے کیونکہ اردو میں فارسی کے نہ صرف لغات مستعمل ہیں بلکہ تراکیب بھی رائج ہیں، بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہے کہ کلاسیکل اردو فارسی کے سانچے میں ڈھلی ہے اس لیے ادبیاتِ اردو سے کماحقہٗ استفادہ فارسی زبان کی مہارت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔
اور عصری درسگاہوں اور مدارسِ اسلامیہ کی فارسی کی تعلیم کا ایک دوسرے سے مختلف مقصد یہ ہے کہ عصری درسگاہیں فارسی کو بحیثیت ایک زبان کے پڑھاتی ہیں تاکہ طلباء اس سے اقتصادی فائدہ حاصل کر سکیں، اور مدارسِ اسلامیہ میں فارسی پڑھانے کا مقصد یہ ہے کہ درجاتِ عربی کی جو ابتدائی کتابیں فارسی زبان میں ہیں ان سے استفادہ ممکن ہو سکے۔ نیز فارسی زبان میں بزرگوں کا چھوڑا ہوا جو عظیم ورثہ ہے اس سے فیض حاصل کیا جا سکے۔ مقصد کا یہ اختلاف قدرتی طور پر دونوں کی راہیں مختلف کر دیتا ہے۔ چنانچہ عصری درسگاہوں کے فارسی نصاب کا رخ جدیدیت کی طرف ہوتا ہے کیونکہ ان کے لیے وہی مثمر برکات ہے، اور مدارسِ اسلامیہ کے فارسی نصاب کا رخ قدامت کی طرف ہوتا ہے کیونکہ ان کے لیے وہی مفید ہے۔ جدید فارسی پڑھا ہوا طالب علم قدیم لٹریچر نہیں سمجھ سکتا۔ الغرض نیا نصاب مرتب کرتے وقت نقطہائے نظر کا یہ اختلاف ملحوظ رکھنا ضروری ہے ورنہ شاید نیا نصاب یکساں طور پر قابل قبول نہ ہو سکے۔

تیسرا مرحلہ

تیسرا مرحلہ اعلٰی تعلیم کا ہے جسے تہائی تعلیم بھی کہہ سکتے ہیں۔ یہ تعلیم عربی میں دی جاتی ہے اور مدارسِ اسلامیہ کا اصل کام یہی تعلیم دینا ہے۔ مدارسِ اسلامیہ کے علاوہ یہ تعلیم دیگر مختلف ادارے بھی دیتے ہیں اور عصری درسگاہوں میں بھی اس کا انتظام ہوتا ہے۔ عربی تعلیم کی بنیادی قسمیں دو ہیں۔ لسانی اور دینی۔
بعض ادارے تو عربی کو صرف ایک زبان کی حیثیت سے پڑھاتے ہیں۔ عصری درسگاہوں میں جو عربی کے ڈیپارٹمنٹس ہیں وہ اسی غرض کو سامنے رکھ کر قائم کیے گئے ہیں۔ بعض بڑے مدارس میں تکمیلِ ادب عربی یا تخصص فی الادب العربی کے نام سے جو شعبے ہیں ان کا بھی بنیادی مقصد یہی ہے۔ محض عربی زبان پڑھنے کا مقصد ظاہر ہے کہ محض اقتصادی پہلو ہے اور یہ ایک اچھی بات ہے۔ نیز اگر طالب علم چاہے تو اپنی عربی دانی سے دینی فائدہ بھی حاصل کر سکتا ہے مگر ایسے لوگوں کی تعداد بہت کم ہے۔
دوسرے وہ ادارے ہیں جو دین کو مقصود بنا کر عربی کی تعلیم دیتے ہیں۔ اسی لیے وہ عربی زبان و ادب کے ساتھ دیگر علومِ اسلامیہ کو بھی اپنے نصاب میں جگہ دیتے ہیں۔ یہ ادارے چار قسم کے ہیں:
(۱) وہ عصری درسگاہیں جن میں عربی دینیات کے شعبے قائم ہیں۔
(۲) وہ بورڈ جو عربی تعلیم کے امتحانات کا نظم کرتے ہیں۔
(۳) وہ دینی درسگاہیں جن کے پیشِ نظر دین کی تعلیم کے ساتھ کسی درجہ میں طلبہ کی اقتصادیات کا پہلو بھی رہتا ہے۔ یہ تینوں قسم کے ادارے مقصد میں متحد ہیں۔
(۴) وہ مدارسِ اسلامیہ جن کے پیشِ نظر صرف دین کے تقاضے ہیں، کوئی دوسرا مقصد ثانوی درجہ بھی اس کے پیشِ نظر نہیں ہے یا نہیں ہونا چاہیئے۔ یہ ادارے مقصدِ تعلیم میں پہلے تینوں قسم کے اداروں سے مختلف ہیں۔
جب ان اداروں کے اغراض و مقاصد مختلف ہیں تو ایک نصابِ تعلیم سب کی ضرورتیں پوری نہیں کر سکتا۔ مقصد میں اشتراک یا اتحاد کے بغیر سب کو ایک روش پر ڈالنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ یہ اجتماع نقطہائے نظر کا اختلاف سامنے رکھ کر ہی نصابِ تعلیم پر نظرثانی کرے ورنہ محنت شاید رائیگاں جائے۔

نصابِ تعلیم پر نظرِثانی کیوں ضروری ہے؟

اس کے بعد اس سوال کا جواب دینا ضروری ہے کہ آخر نصابِ تعلیم پر نظرثانی کیوں ضروری ہے؟ وہ کیا اسباب و عوامل ہیں جو تبدیلی چاہتے ہیں؟ جہاں تک میری ناقص معلومات کا تعلق ہے لوگوں کے ذہنوں میں اس کے پانچ وجوہ ہیں جو درج ذیل ہیں:
(۱) واقعہ یہ ہے کہ تعلیم، خواہ دینی ہو یا دنیوی، دن بدن کمزور پڑتی جا رہی ہے۔ آزادی سے پہلے تک صورتحال یہ تھی کہ ہائی اسکول پاس کرنے والے طالب علم کی استعداد آج کے گریجویٹ سے بہتر ہوتی تھی۔ اس وقت کا کافیہ، شرح جامی پڑھا ہوا طالب علم آج کے فاضل علومِ اسلامیہ سے بہتر صلاحیتوں کا مالک ہوتا تھا۔ یہ تعلیم کی زبوں حالی زعمائے قوم، دردمندانِ ملّت اور ماہرینِ تعلیم کی نیند حرام کیے ہوئے ہے۔ یہ سب حضرات سمجھتے ہیں کہ اس ابتری کا سبب نصابِ تعلیم کی فرسودگی ہے، اس لیے جب تک نصابِ تعلیم نہیں بدلا جائے گا موجودہ صورتحال نہیں بدلے گی۔ لیکن یہ خیال کچھ زیادہ مبنی برحقیقت نہیں ہے۔ مجھے اپنے استاذ حضرت علامہ محمد ابراہیم بلیاوی قدس سرہ (سابق صدر المدرسین دارالعلوم دیوبند) کا ارشاد یاد ہے کہ
’’تعلیم میں مؤثر تین عوامل ہیں: (۱) طالب علم کی محنت (۲) استاذ کی مہارت (۳) نصاب کی خوبی۔‘‘
مگر اب طالب علم تو آزاد ہیں، ان کی کسی کوتاہی کی نشاندہی کرنا بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنا ہے۔ رہے اساتذہ تو وہ زبردست ہیں، ان کی کمی ان کو کون سمجھا سکتا ہے۔ اب رہ جاتا ہے بے زبان نصاب، چنانچہ لوگ اسے کان پکڑ کر کبھی اِدھر کرتے ہیں کبھی اُدھر، مگر اس سے مسئلہ حل نہیں ہوتا۔
(۲) زمانہ بلاشبہ ترقی پذیر ہے۔ علوم و فنون بھی ترقی کرتے ہیں اور کتابیں بھی بہتر سے بہتر وجود میں آتی رہتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ مفید سے مفید تر کو اختیار کیا جائے تاکہ تعلیم کا بہتر سے بہتر نتیجہ نکلے۔ نصاب پر نظرثانی کرنے کی یہ وجہ نہایت معقول ہے۔ ضروری ہے کہ یہ اجتماع نصاب کی تشکیلِ جدید میں اس بات کو ملحوظ رکھے تاکہ نئی مفید چیزوں سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
(۳) زمانہ تغیر پذیر بھی ہے۔ چنانچہ زمانہ کے حالات کے ساتھ ساتھ ذہنیت بھی بدلتی ہے۔ ماضی بعید میں لوگ عقلیت پسند تھے اور معقولات سے بہت دلچسپی رکھتے تھے۔ مگر اب محسوسات کا دور شروع ہو گیا ہے، ہر شخص ہر چیز مشاہدہ سے سمجھنا چاہتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ بدلے ہوئے حالات کو پیشِ نظر رکھ کر نصابِ تعلیم میں تبدیلی کی جائے۔ نظرثانی کی یہ وجہ بھی کسی درجہ میں معقول ہے مگر اس کا اثر براہِ راست علومِ عصریہ پر پڑتا ہے۔ مدارسِ اسلامیہ میں جو علوم و فنون پڑھائے جاتے ہیں ان کی بنیادی قسمیں دو ہیں۔ ایک علومِ آلیہ یعنی وہ علوم جو دین فہمی کے لیے ذرائع کا کام دیتے ہیں۔ مثلاً‌ نحو، صرف، لغت، منطق وغیرہ۔ دوسرے علومِ عالیہ یعنی وہ علوم جو مقصود بالذات ہیں جیسے قرآن کریم، احادیث شریفہ اور فقہِ اسلامی۔ پہلی قسم کے علوم میں مفید سے مفید تر کو اختیار کیا جانا چاہیے اور مدارسِ اسلامیہ میں یہ عمل برابر جاری ہے۔ مگر دوسری قسم کے علوم پر تغیر زمانہ کا کوئی اثر نہیں پڑتا، وہ اپنی جگہ محکم ہیں اس لیے ان پر نظرثانی کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
(۴) نصابِ تعلیم پر نظرثانی کا ایک سبب وہ بھی ہے جس کی طرف اس مجلسِ مذاکرہ کے دعوت نامے میں اشارہ دیا گیا ہے یعنی فارسی اور عربی کے رائج الوقت مختلف نصابوں پر نظرثانی اس لیے ضروری ہے تاکہ فارغ شدہ حضرات کو ملک میں مناسب ملازمت مل سکے، یا وہ دوسری غیر دینی درسگاہوں میں بھی تعلیم حاصل کر سکیں۔ نظرثانی کی یہ بنیاد صرف ان اداروں کے نصابوں پر نظرثانی کا جواز فراہم کرتی ہے جن کا بنیادی مقصد طلبہ کی اقتصادیات ہیں، یا جن کے پیشِ نظر کسی درجہ میں اقتصادی پہلو بھی ہے۔
رہے وہ مدارسِ اسلامیہ جن کا بنیادی مقصد ایسے افراد تیار کرنا ہے جو دین کا صحیح فہم رکھتے ہوں، بالفاظ دیگر وہ قرآن و حدیث پر ماہرانہ نظر رکھتے ہوں اور علومِ اسلامیہ کی گہرائی میں پہنچ کر رموز و اسرار نکال سکتے ہوں، وہ حقیقی معنی میں دین کے نبض شناس ہوں اور ان میں دین کو ہر دور کے حالات پر منطبق کرنے کی صلاحیت ہو، یا کم از کم ایسے افراد تیار کرنا مقصد ہے جو مسلمانوں کی دینی قیادت کریں یعنی ان کی روزمرہ کی دینی ضرورت پوری کریں جسے بے باک لوگ ’’ملا گیری‘‘ کہتے ہیں، مگر وہ یہ حقیقت بھول جاتے ہیں کہ مسجد و مکتب کی یہ خدمت موجودہ ہندوستان میں مسلمانوں کی بنیادی ضرورت ہے، اگر یہ خدامِ دین نہ ہوں تو مسلمانوں کی نمازِ جنازہ پڑھانے والا بھی کوئی نہ رہے۔
اور جس طرح یہ مدارسِ اسلامیہ حکومتِ وقت کے تعاون سے بے نیاز ہو کر صرف مسلمانوں کے تعاون سے کام کرتے ہیں، ضروری ہے کہ یہ فضلاء بھی حکومت کی ملازمت سے صرفِ نظر کر کے مسلمانوں کے فراہم کردہ روزگار پر قناعت کریں تاکہ وہ صحیح معنٰی میں دین کی خدمت انجام دے سکیں۔ ورنہ تجربہ شاہد ہے کہ جو فضلاء نیم سرکاری اداروں میں ملازمت کر لیتے ہیں وہ صرف عبد المال ہو کر رہ جاتے ہیں اور ان میں خدمتِ دین کا کوئی جذبہ باقی نہیں رہتا۔
الغرض اس قسم کے مدارسِ اسلامیہ کے نصابِ تعلیم پر نظرثانی کرنے کے لیے بنیاد جواز فراہم نہیں کرتی کیونکہ ان اداروں کا مقصد ملازمت یا دنیا نہیں ہے، نہ دوسرے مدرسوں میں تعلیم حاصل کرنا ہے۔ ہاں مجھے اس سے انکار نہیں ہے کہ ایک دو فیصد فضلاء ایسے ہو سکتے ہیں جو فراغت کے بعد عصری درسگاہوں کا رخ کرتے ہیں جو پوری مدتِ تعلیم میں یا تو اپنا مقصدِ زندگی متعین نہیں کر پاتے یا دنیا ہی کے مقصد سے دینی تعلیم حاصل کرتے ہیں، یا ان کی روشنیٔ طبع ان کے لیے آفت ثابت ہوتی ہے، یا شیطان ان کو راہ سے بھٹکا دیتا ہے۔ ایسے معدودے چند حضرات کی وجہ سے مدارسِ اسلامیہ اپنی غرض و غایت نہیں بدل سکتے۔
البتہ یہ مدارسِ اسلامیہ بھی اپنے مقصد کو پیشِ نظر رکھ کر اپنے نصاب پر نظرثانی کی ضرورت محسوس کرتے ہیں، مستقبل قریب میں دارالعلوم دیوبند ان شاء اللہ اس سلسلہ میں کوئی اجتماع بلائے گا اور اپنے نصاب میں ضروری اصلاح کرے گا۔
(۵) نصاب پر نظرثانی کی ضرورت بعض لوگ اس لیے بھی محسوس کرتے ہیں کہ موجودہ نصاب میں بہت دقیق کتابیں ہیں جو طلبہ کی گرفت میں نہیں آتیں، ایسی کتابیں بدل کر ان کی جگہ آسان کتابیں رکھنی چاہئیں تاکہ طلباء کو نصاب سے خاطرخواہ فائدہ حاصل ہو۔ یہ بات ایک حد تک معقول ہے۔ اگر ان کتابوں کا نعم البدل وجود میں آگیا ہو تو ضرور ان کو اختیار کر لینا چاہیئے۔ لیکن اگر ان کا بدل نہ ہو تو محض دشوار ہونے کی وجہ سے ان کتابوں کو نکال دینا عقل مندی نہیں ہے بلکہ اس بات پر غور کرنا چاہیئے کہ آخر یہ کتابیں اب مشکل کیوں معلوم ہوتی ہیں؟ دشواری کے دو ہی سبب ہو سکتے ہیں۔ یا تو طالبِ علم کی استعداد اس کتاب سے فروتر ہے، یا استاذ تفہیم میں ناکام ہے۔ اور دونوں ہی باتوں کا حل ممکن ہے۔

نصاب پر نظرثانی کیسے کی جائے؟

اس طویل سمع خراشی کا حاصل یہ ہے کہ فارسی اور عربی کا ملک میں کوئی ایک نصاب رائج نہیں ہے بلکہ مختلف النوع نصاب زیر تعلیم ہیں۔ نیز اداروں کے مقاصد میں بھی اشتراک یا اتحاد نہیں ہے اور نہ ممکن ہے۔ اس لیے نصاب پر نظرثانی کرنے کی بہتر صورت یہ ہے کہ ہر نقطۂ نظر کے حاملین الگ الگ سر جوڑ کر بیٹھیں اور سب سے پہلے وہ اسباب متعین کریں جو تبدیلی کا سبب ہیں۔ پھر اس کی روشنی میں نصاب پر نظرثانی کریں۔ اور اگر یہ بات ممکن نہ ہو، اس وجہ سے کہ تمام نقطہائے نظر کی اس مجلس میں بھرپور نمائندگی نہیں ہے، تو پھر اس اجتماع کو سب سے پہلے یہ طے کرنا ہو گا کہ اس کا دائرہ کار کیا ہو؟ اور اسی کی روشنی میں کام آگے بڑھایا جائے۔ اللھم وفقنا لما تحب و ترضٰی۔

استحکامِ پاکستان کی ضمانت

مولانا سعید احمد سیالکوٹی

’’استحکامِ پاکستان‘‘ یہ ایک جاذبِ نظر و فکر ترکیب ہے جس کے وسیع تر مفہوم میں مملکتِ خداداد پاکستان کی داخلی اور خارجی حفاظت و امن کی کفالت ہے۔ اس پُرمغز عبارت کے ناجائز استعمال سے یہ ایک پُرفریب ترکیب بن گئی کیونکہ وطنِ عزیز میں اربابِ حکم کی طرف سے قوتِ اقتدار ہمیشہ پاکستانی عوام کی خدمت و خوشحالی اور وطن کے داخلی اور خارجی استحکام کے بجائے حکمران فرد یا حکمران پارٹی کے طولِ اقتدار اور ذاتی اغراض و مصالح کی تکمیل و حصول کے لیے استعمال ہوتی رہی ہے۔
استحکامِ پاکستان درحقیقت ایک عظیم مقصد ہے جو ہر محبِ وطن پاکستانی کی نہیں بلکہ امتِ اسلامیہ کے ہر فرد کی، پاکستانی ہو یا غیر پاکستانی، تمنا و آرزو ہے۔ استحکامِ پاکستان کی درست تشریح اور اس کے حصول کا ذریعہ کیا ہے؟ استحکام سے مراد تو داخلی امن، اخوت و محبت، وحدتِ قومیت کا ایسا تصور جو علاقائی اور لسانی تعصبات سے پاک ہو اور خارجی طور پر وطن کی سرحدوں کا محفوظ و مامون ہونا ہے۔ اور اس مقصد کے حصول کا راستہ بالکل واضح اور مختصر ہے اور وہ اس نظریہ کا عملی نفاذ ہے جس کے لیے پاکستان معرضِ وجود میں آیا۔
تحریکِ پاکستان کے شریک زعماء کے وردِ زبان یہی کلمہ تھا ’’پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الٰہ الّا اللہ‘‘۔ یہ عظیم کلمہ بندوں اور ان کے رب کے درمیان ایک عہد ہے جس کا تقاضا ہے کہ زندگی کے ہر شعبے میں شریعتِ اسلامیہ کا مکمل نفاذ ہو۔ یہ اہلِ پاکستان کا خدا تعالیٰ کے ساتھ ایسا اقرار ہے اور ان کا قومی فریضہ ہے جس کی رو سے ان کے ملک میں کسی اجنبی نظامِ حیات کی ہرگز ہرگز درآمد کرنے کی اجازت نہیں نہ اس کی گنجائش ہے، کہ ان کے پاس ان کے رب کا بنایا ہوا کامل و مکمل نظامِ حیات، جو بشری نقائص سے پاک و صاف ہے، موجود ہے۔ بلکہ قومی طور پر ان کا فرض ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے نظام کے باغی کو پاکستان کا باغی قرار دیں اور اجنبی نظام کو درآمد کرنے والے کو ملک و قوم کا دشمن قرار دیں جو ان کے ملک کی جڑوں کو کھوکھلا اور بنیادوں کو ہلانا چاہتا ہے، ان کی قومی وحدت کو پارہ پارہ کرنا چاہتا ہے۔ کیونکہ شریعتِ مطہرہ کا مکمل نفاذ ہی بانیانِ پاکستان اور مجاہدینِ آزادی کا اصل ہدف اور ان کے جہاد اور تحریک کی روح تھا۔ اسی اعلیٰ اور متحد مقصد کی خاطر بنگالی، سندھی، بلوچی، سرحدی اور پنجابی یکجان ہوئے اور ہمارے عقیدہ و ایمان کے لاکھوں بھائیوں نے ہجرت کا عظیم عمل سرانجام دیتے ہوئے مال و جان کی قربانی دی۔ سب کے دلوں کی دھڑکن ’’لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ تھی اور یہ مہاجرین و انصار ایک ایسے وطن میں ایک قوم بن کر بس گئے جسے وہ اسلام کا قلعہ اور عالمگیر عدلِ اسلامی کا مظہر دیکھنا چاہتے تھے۔
تقسیم ہندوستان سے کچھ اور پیچھے چل کر دیکھیں تو انگریزی حکومت کے خلاف جہادِ آزادی کرنے والے مسلم مجاہدین کا مقصود بھی اسی برصغیر کے خطہ میں ایک ایسی سرزمین کا حصول تھا جو ہر غیر اسلامی تسلّط سے پاک ہو، اس ارضِ پاک میں خدا رسول کی پاک شریعت کا نفاذ ہو۔ الحمد للہ کہ قیامِ پاکستان کی تحریک اور انگریزی اور ہندو تسلط سے آزادی حاصل کرنے والے مجاہدین کی کوششیں بارآور ہوئیں اور برصغیر میں ارضِ پاک مملکتِ خداداد پاکستان معرضِ وجود میں آگئی۔ خدائے ذوالجلال نے مختلف افراد اور جماعتوں کو اس خطۂ پاک میں زمامِ اقتدار دے کر اس امانت کو ان کے سپرد کیا، اور یہ ان سب کے لیے خدائی آزمائش تھی کہ وہ اس میں کیسے تصرف کرتے ہیں؟
ہر صاحبِ اقتدار خدا کے نام پر حلف اٹھا کر اس ملک کے استحکام کے وعدہ پر قسم اٹھاتا اور اقتدار سنبھالتا رہا۔ ان اربابِ حکم کے ہاتھوں شریعت خداوندی کا نفاذ ہو جاتا تو نہ خدا تعالیٰ کے ساتھ بدعہدی ہوتی، نہ مجاہدینِ آزادی سے بے وفائی، نہ قومی وحدت کو دھچکا لگتا، اور نہ ہی مشرقی پاکستان کے انفصال کا عظیم المیہ پیش آتا، نہ صوبائی تعصبات اور لسانی فسادات جنم لیتے۔ متحدہ ہندوستان کے وقت آخر اسی نظریہ نے ہی سب کو اخوت کے رشتہ میں جوڑا تھا۔ ہماری قومی وحدت اور ہمارے وطن کے استحکام کا ضامن اور عظیم پاکستان کی روح و جاں یہی نظریہ تھا اور ہے۔ اس سے انحراف اور اربابِ حکم کی خدا رسول کے ساتھ عہد شکنی کے نتیجہ میں ہم نہ صرف برکاتِ سماویہ و ارضیہ سے محروم ہوئے بلکہ اپنی قومیت اور شناخت اور خود اپنے آپ کو بھول گئے۔ ارشاد ربانی ہے:
’’تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جو خدا کو فراموش کر بیٹھے اور جس کی سزا ان کو خود فراموشی کی صورت میں ملی۔‘‘
جس کا لازمی نتیجہ داخلی خلفشار اور دیگر وہ حالات ہیں آج جن کا سامنا ہم کر رہے ہیں۔۔۔ ہمارے اربابِ حکم محض اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے ’’استحکامِ پاکستان‘‘ کا لفظ استعمال کرتے ہیں جس سے مراد صرف ان کی ذات یا ان کی حکمران جماعت کو تحفظ ہوتا ہے۔ اس کے لیے مختلف قوانین بھی وضع کرتے ہیں اور ملکی تحفظ کی آڑ میں اپنی کرسی اور مفادات کا تحفظ کرتے رہے ہیں۔ ان کی کوششیں صرف اپنی خدمت اور چند افراد کے ساتھ تعاون تک منحصر ہو جاتی رہی ہیں۔
اربابِ حکم کے سامنے خدا تعالیٰ کی شریعت سے انحراف ہوا، اجنبی نظریات کا پرچار ہوا بلکہ بعض تو خود اس کی دعوت کے علمبردار بن گئے، ملک میں اندرونی خلفشار ہوا، بیرونی طور پر اس کی حدود کو غیر محفوظ و مامون کہہ دیا گیا، اور خود حکمران بھی اس عملِ شر میں شریک پائے گئے۔ اگر شریعت مطہرہ کا نفاذ ہوتا، اسلامی عالمگیر عدالت کے تحت ملک کی سیاست و معاملات کو طے کیا جاتا، اندرون ملک قانونِ خداوندی اور حدود اللہ کی حفاظت کی جاتی، تو پاکستان ایک مثالی رفاہی مملکت بنتا، نہ معاشی پریشانی نہ داخلی خلفشار دیکھا جاتا۔ کیونکہ اسی کلمہ مبارک ’’لا الٰہ الّا اللہ‘‘ نے انہیں متحد کیا تھا اور مشرق و مغرب ایک جھنڈے تلے جمع ہوئے تھے۔ یہی کلمہ ان کے داخلی و خارجی، اقتصادی اور سیاسی تحفظ کا یقیناً‌ ضامن تھا اور آج بھی ہے۔
اہلِ وطن عزیز اور اربابِ حکم آج بھی خدا تعالیٰ سے سابقہ گناہوں پر معافی مانگ کر تجدیدِ عہد کر سکتے ہیں۔ خدا تعالیٰ کے اس خطۂ زمین پر صرف اور صرف اسی کی قائم کردہ شریعت کا مکمل نفاذ اس کو صحیح معنوں میں پاکستان (پاک سرزمین) بنا سکتا ہے۔ ان شاء اللہ اقامتِ شریعت کے سبب ہی ہم آسمانی اور زمینی برکات سے مستفیذ ہو سکتے ہیں۔ ارشاد ربانی ہے:
’’اگر یہ لوگ خدا کی نازل شدہ شریعت کو قائم کرتے تو آسمان و زمین کی نعمتوں سے مالامال ہوتے۔‘‘
اگر کوئی خدائی وعدہ پر یقین نہ کرے تو اس تناظر میں ہم سعودی عرب کو بطور مثال پیش کر سکتے ہیں جہاں کا امن مشرق و مغرب میں مثالی ہے اور جس کی رفاہیت کی نظیر کسی ملک میں نہیں ہے۔ ذرا ماضی کو پلٹ کر دیکھیں تو موجودہ حکومت سے پہلے جزیرہ عرب میں بداَمنی کا دور دورہ تھا، غربت و افلاس کا یہ عالم کہ چند ٹکوں کی خاطر حجاج و زائرین کی جان تک ضائع کر دی جاتی تھی بلکہ بقول شخصے اگر کسی کو گولی کا نشانہ بنانے کے بعد اس سے مال نہ ملتا تو افسوس اس بات پر ہوتا کہ ایک گولی کا خسارہ ہو گیا۔ مگر اللہ کی حدود کے قیام اور شریعتِ مطہرہ کے نفاذ کے بعد خدا تعالیٰ نے اپنی رحمتوں کے دروازے کھول دیے اور اقتصادی خوشحالی اور داخلی امن و امان کا یہ عالم کہ دنیا کی تمام متمدن اور ترقی یافتہ قومیں یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہیں کہ قانونِ خداوندی ہی اللہ کی سرزمین میں امن و امان کا واحد ضامن ہے۔ کیونکہ سعودی عرب میں مغرب و مشرق کی دیگر قوموں کے مقابلہ میں جرائم کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے جس کا مشاہدہ ہر حاجی، زائر اور یہاں پر مقیم ہر شخص کرتا ہے اور تمنا کرتا ہے اور اپنے اربابِ حکم سے یہ پوچھتا ہے کہ کیوں ہمارے پاک وطن کو استعماری نظامِ حیات کی نحوستوں سے نجات نہیں دی جاتی؟ کیوں اسلام کے عادلانہ نظام کو اپنا کر ہمیں برکاتِ ارض و سماء سے مستفیض نہیں ہونے دیا جا رہا؟
پاکستان کے محبِ اسلام عوام اور ان کے پیارے دین کے نفاذ کے درمیان جو لوگ آڑ ہیں وہ صرف خدا رسول کے ہی نہیں بلکہ پاک سرزمین اور اس کے مخلص عوام کے بھی دشمن ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ یہ قوم ایک بنے، یہ قوم خوشحال ہو، یہ قوم خدا رسول کی محبوب بن کر اس کے خزانوں کی وارث بنے، اور ان کے ملک میں داخلی استحکام ہو اور اقتصادی رفاہیت ان کو میسر آئے۔
استحکامِ پاکستان کا ایک پہلو تو یہ تھا کہ داخلی امن اور اقتصادی خوشحالی کی ضمانت اور کفالت صرف اور صرف نظریۂ پاکستان کے عملی نفاذ میں پنہاں ہے۔ اب خارجی طور پر ملک کے سرحدوں کی حفاظت اور اطراف کے اعداء سے ملک کو مامون و محفوظ کرنے کا مسئلہ ہے جو استحکامِ وطن کا لازمی جزء ہے۔ اس سلسلہ میں یہ بات ہمارے ایمان کا حصہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے امتِ مسلمہ کی عظمت جہاد کو قرار دیا۔ اس جذبہ کو مسلمانوں کے دلوں سے نکالنے کے لیے اعداءِ اسلام نے بہت کوششیں کیں، جھوٹے نبی تک کو جنم دیا کہ امت کو شیطانی وحی کے ذریعے یہ درس دیا کہ جہاد کو بھلا دیں۔ اس دجل کا توڑ الحمدللہ اہلِ اسلام نے پورے طور پر کیا اور ادھر حق تعالیٰ شانہٗ نے اس دور میں جہادِ افغانستان کی شکل میں امتِ اسلامیہ کو عموماً‌ اور پاکستانی قوم کو خصوصاً‌ اس درس کی علمی مشق کا موقع فراہم کیا تاکہ اعداءِ اسلام پر اپنی عظمت کی دھاک بٹھانے کے ساتھ ساتھ پاک سرزمین کے استحکامِ خارجی کا عمل بھی مکمل کیا جا سکے۔ لہٰذا ایک سرحد پر اپنے افغان بھائیوں کے جہاد میں اشتراک اور ان کی مکمل کامیابی تک ہمارا تعاون اس جہت سے وطنِ عزیز کے خارجی استحکام کے مترادف ہے۔ جو فرد یا جماعت اس فریضہ میں کوتاہی کرتا ہے وہ اگر ایک طرف ایک اہم دینی فریضہ کی ادائیگی میں کوتاہی کرتا ہے ایک اہم دینی فریضہ کا تارک یا منکر ہے تو دوسری طرف پاکستان کے استحکام کا بہی خواہ نہیں۔
ملک کے خارجی استحکام کا تعلق ایک سمت سے جہادِ افغانستان ہے تو دوسری طرف مسئلہ کشمیر ہے۔ ہمارے عقیدہ و ایمان کے کشمیری بھائی جو عرصۂ دراز سے ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں جنہوں نے اپنی حریت کی تحریک کا آغاز اس جذبہ کے تحت کیا ہے کہ بقائے زندگی قربانی کا دوسرا نام ہے۔ اپنے ان بھائیوں کے ساتھ عملی تعاون حتٰی کہ وہ اپنے فطری انسانی حقِ حریت کو پا لیں، اہلِ پاکستان کا ان حریت پسندوں سے تعاون اور ان کے جہاد میں اشتراک استحکامِ پاکستان کی ہی ایک کڑی ثابت ہو گا، ان شاء اللہ العزیز۔
الغرض اندرون ملک شریعتِ مطہرہ کا نفاذ اور بیرون ملک اپنے مظلوم اور مجاہد بھائیوں سے تعاون امتِ اسلامیہ کی وہ خدمت ہے جس کے ثمرات سے پوری امتِ اسلامیہ کا سر اگر فخر سے بلند ہو گا تو سب سے پہلے ’’استحکامِ پاکستان‘‘ جیسے مقدس الفاظ، پُرمغز عبارت، اور وسیع تر مفہوم کی حامل ترکیب کی درست شرح کی تکمیل بھی ہو گی۔ خوش قسمت ہے وہ حکمران شخصیت، یا حکمران جماعت، یا اربابِ سیاست جن کے ذریعے نظریۂ پاکستان کی حفاظتِ عملی ہو۔ اور بہت ہی مبارک ہاتھ ہیں وہ ہاتھ جن کے ذریعے شریعتِ مطہرہ کا مکمل نفاذ ہو۔ تاکہ خدائے ذوالجلال سے کیا ہوا عہد پورا ہو اور وہ ذاتِ عالی اس کے بدلہ میں اپنے وعدہ کو پورا فرماتے ہوئے ہمارے لیے رحمتوں کے دروازے کھول دیں، اور ہمارے مجاہدینِ آزادی اور تحریکِ پاکستان میں شریک زعماء کی ارواح مطمئن ہوں، اور قربانی دینے والوں اور وطن کے بہی خواہوں کی آنکھوں میں ٹھنڈک پیدا ہو اور وہ امن و امان، رفاہیت اور وحدتِ ملّی کا مشاہدہ کر لیں۔
’’ان تنصر اللہ ینصرکم ویثبت اقدامکم‘‘ اگر تم اللہ کے دین کا ساتھ دو گے تو وہ ذاتِ عالی تمہاری نصرت کرے گی اور تمہارے قدم جما دے گی۔ اور اگر تم انحراف کرو گے تو تمہارے عوض ایسی قوم لے آئے گی جو تمہاری طرح نہ ہو گی۔

کیا حضرت عیسٰیؑ کی وفات قرآن سے ثابت ہے؟

حافظ محمد عمار خان ناصر

جب روح اللہ، کلمۃ اللہ حضرت عیسٰی المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ذکر کسی جماعت، حلقے یا مجلس میں ہوتا ہے تو ان کی حیات و وفات کی متنازعہ حیثیت اور اس سے متعلقہ بحث طلب امور کا زیربحث آجانا ایک لازمی امر ہے خصوصًا یہ کہ کیا حضرت مسیحؑ نے رفع الی السماء سے قبل وفات پائی یا کہ نہیں۔ چنانچہ یہ مسئلہ عیسائی اور مسلم حضرات کے درمیان ہمیشہ سے متنازعہ ہے اور تب تک رہے گا جب تک کہ (اہلِ اسلام کے عقیدہ کے مطابق) حضرت عیسٰیؑ نزول کے بعد صلیب کو نہیں توڑ دیتے (بخاری جلد اول ص ۴۹۰ باب نزول عیسٰی ابن مریمؑ)۔
ازروئے قرآن حضرت عیسٰیؑ کی وفات قبل از رفع ثابت نہیں ہو سکتی بلکہ قرآن پاک نے اس کی شدت سے نفی کی ہے۔ چنانچہ سورہ المائدہ میں ہے
وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَاصَلَبُوْہُ
یعنی انہوں نے نہ تو ان کو قتل کیا اور نہ سولی دی۔
جبکہ عیسائی پادری صاحبان کہتے ہیں کہ سورہ آل عمران کی مندرجہ ذیل آیت سے عیسٰیؑ کی وفات قبل از رفع ثابت و متحقق ہے
اِذْ قَالَ اللہُ یَا عِیسٰی اِنّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَ رَافِعُکَ
جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے عیسٰیؑ میں تجھے پورا (یعنی روح و بدن سمیت) لینے والا ہوں یعنی تجھے اپنے آسمان کی جانب اٹھانے والا ہوں۔
عیسائی پادری ’’متوفی‘‘ سے حضرت عیسٰی علیہ السلام کی وفات ثابت کرتے ہیں لیکن ان کا یہ دعوٰی درست نہیں ہے کیونکہ اس آیت سے قطعًا یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حضرت عیسٰیؑ نے آسمان پر جانے سے قبل موت کا مزہ چکھا بلکہ علامہ آلوسیؒ (المتوفی ۱۲۷۰ھ) کی تصریح ہے کہ
فالکلام کنایۃ عن عصمتہ من الاعداء۔ (روح المعانی ج ۱ ص ۱۵۸)
’’پس کلام کنایہ ہے اس سے کہ وہ دشمنوں (کی سازش) سے بچ گئے۔‘‘
اور علامہ نیشاپوریؒ ’’غرائب القرآن‘‘ میں آیت توفی کے تحت فرماتے ہیں:
یا عیسٰی انی متوفیک الی متمم عمرک و عاصمک من ان یقتلک الکفار الآن بل ارفعک الی سمائی واصونک من ان یتمکنوا من قتلک۔ (ج ۳ ص ۲۰۶)
’’اے عیسٰی! بے شک میں تجھے پورا لینے والا ہوں یعنی تیری عمر کو پورا کرنے والا ہوں اور تجھے اس سے بچانے والا ہوں کہ کفار اب تجھے قتل کر دیں بلکہ میں تجھے اپنے آسمان کی طرف اٹھاؤں گا اور تجھے بچاؤں گا اس سے کہ یہ (یہودی) تجھے قتل کر سکیں۔‘‘
صاحبِ کشاف (زمحشریؒ) اور صاحبِ مدارک کی رائے میں متوفی بمعنی مستوفی اجلک کے ہے۔ چنانچہ ان دونوں تفسیروں میں صراحت ہے کہ:
’’ممیتک حتف انفک لا قتیلا بایدیہم۔ (کشاف ج ۱ ص ۳۶۶ و مدارک ج ۱ ص ۲۵۵)
’’میں تجھے تیری طبعی موت ماروں گا، ان کے ہاتھوں تو قتل نہ ہو گا۔‘‘
قاضی ثناء اللہ پانی پتیؒ اس مسئلہ پر بحث کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ
والظاھر عندی ان المراد بالتوفی ’’ھو الرفع الی السماء بلا موت‘‘۔ (مظہری ج ۲ ص ۵۶)
’’میرے نزدیک یہی ظاہر ہے کہ توفی سے مراد آسمان کی طرف بغیر موت کے چڑھ جانا ہے۔‘‘

امام قرطبیؒ کی رائے بھی یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عیسٰیؑ کو بغیر وفات اور نیند کے اٹھا لیا (قرطبی بحوالہ روح المعانی)۔

قدماء مفسرینؒ میں سے امام ابن جریر طبریؒ اس آیت کے تحت متعدد اقوال نقل کر کے فرماتے ہیں:

واولی ھذہ الاقوال بالصحۃ عندنا قول من قال معنی ذلک انی قابضک من الارض ورافعک الی۔ (طبری ج ۳ ص ۲۰۴)

قرآن کریم کے علاوہ احادیث و روایات سے بھی حضرت عیسٰیؑ کا بغیر موت کے عروج ثابت ہے۔ چنانچہ صاحب روح المعانی روایت نقل کرتے ہیں کہ

قال رسول اللہ للیھود ان عیسٰی لم یمت وانہ راجع الیکم قبل یوم القیامۃ۔ (روح المعانی ج ۱ ص ۱۵۸)

’’رسول اللہؐ نے یہود سے فرمایا کہ بے شک عیسٰیؑ نہیں مرے اور بے شک وہ تمہاری طرف قیامت کے دن سے پہلے لوٹنے والے ہیں۔‘‘

الغرض علماء نے توفی کے مختلف معانی بیان کیے ہیں لیکن کسی کے قول سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حضرت عیسٰیؑ نے قبل از رفع وفات پائی۔ ہاں عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک روایت تفاسیر میں ملتی ہے جس میں متوفیک کا معنی ممیتک کیا گیا ہے لیکن علامہ آلوسیؒ اور علامہ نیشاپوریؒ نے اس کو ’’قیل‘‘ کے ساتھ نقل کیا ہے جس سے اس کا ضعف معلوم ہوتا ہے۔ لیکن ہمارے خیال میں اس صورت میں بھی کوئی قباحت لازم نہیں آتی کیونکہ ضروری نہیں کہ موت رفع سے پہلے متحقق ہو حتٰی کہ حضرت قتادہؒ کی رائے یہ ہے کہ آیت میں تقدیم و تاخیر ہے اور تقدیر یوں ہے:

انی رافعک الی و متوفیک یعنی بعد ذلک۔

یہ قول تفاسیر میں منقول ہے (دیکھئے روح المعانی ج ۱ ص ۱۵۸ و درمنشور ج ۲ ص ۳۶ و ابن کثیر ج ۱ ص ۳۶۶)۔ اور یہ قول عین عرب کے محاورے اور لغت کے مطابق ہے جیسا کہ نحو اور اصول فقہ کی معتبر کتابوں میں تصریح ہے کہ ’’واو‘‘ ترتیب کے لیے نہیں ہے۔ چنانچہ اس جگہ کافیہ کی عبارت مع شرح ملّا جامی کے مرقوم ہوتی ہے:

فالواو للجمع مطلقا لا ترتیب فیھا فقولہ لا ترتیب فیھا بین المطعوف والمطعوف علیہ بمعنی انہ لا یتمم ھذا الترتیب منھا وجودً‌ا او عمدً‌ا۔

اور اصولِ فقہ کی مشہور کتاب نورالانوار میں ہے:

فالواو لمطلق العطف من غیر تعرض لمقازتہ ولا ترتیب یعنی ان الواو لمطلق الشرکۃ۔

اسی طرح ’’المنجد‘‘ میں جو کہ ایک کیتھولک عیسائی کی تصنیف ہے لکھا ہے ’’معناھا مطلق الجمع‘‘۔

اس کے علاوہ متن متین اور حسامی کے علاوہ متعدد تفاسیر میں بھی یہ قاعدہ قرآنی بیان کیا گیا ہے اور رضی میں بادلائل بحث کے ساتھ ثابت کیا گیا ہے کہ واو ترتیب کے لیے نہیں ہے۔ اس لیے ’’متوفیک و رافعک‘‘ میں اگر توفی معنی موت لیا جائے تو بھی اس کا رفع سے پہلے ہونا ضروری نہیں ہے اور اس سے رفع الی السماء سے پہلے حضرت عیسٰیؑ کی وفات پر استدلال درست نہیں ہے۔ لیکن اس معقول تاویل کے باوجود مفسرینؒ نے اس کو پسند نہیں فرمایا جیسا کہ اوپر گزر چکا کہ آلوسیؒ اور نیشاپوریؒ نے اس کو ’’قیل‘‘ کے لفظ کے ساتھ نقل کیا ہے۔ تو اس طرح یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ قرآن پاک سے حضرت عیسٰی علیہ السلام کی وفات ثابت نہیں ہے اور جو لوگ مذکورہ عقیدہ رکھتے ہیں قرآن پاک نے ان کے بارے میں فیصلہ سنا دیا ہے:

مَا لَھُمْ بِہٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ۔

اقبالؒ — تہذیبِ مغرب کا بے باک نقاد

پروفیسر غلام رسول عدیم

مہینوں اور سالوں میں نہیں صدیوں اور قرنوں میں کسی قوم میں کوئی ایسی شخصیت جنم لیتی ہے جس کے لیے نسلِ انسانی عمروں منتظر رہتی ہے اور جب وہ شخصیت منقہ شہود پر جلوہ گر ہوتی ہے تو صدیوں اس کی یاد ذہنوں کو معنبر رکھتی، سوچوں کو اجالتی، فکر کی آبیاری کرتی اور دلوں کو گرماتی اور برماتی رہتی ہے ؎
عمر ہا در کعبہ و بت خانہ می نالد حیات
تاز بزمِ عشق یک دانائے راز آید بروں

یہاں پیغمبرانِ الٰہی خارج از بحث ہیں کہ وہ چیدہ اور برگزیدہ ہوتے اور منصبِ اصطفاء و اجتباء پر فائز ہوتے ہیں، وہ از خود دعوتِ فکر و عمل لے کر نہیں اٹھتے مگر ان کے پاس اپنے بھیجنے والے کی طرف سے ایک بنا بنایا پروگرام ہوتا ہے اور وہ خود بھی بنے بنائے آتے ہیں، اپنی ریاضت و اکتساب سے نہیں بنتے، بھیجنے والے کی مرضی ہے کہ وہ کس کو کس خطہ میں کن لوگوں کی طرف اور کس زمانے میں بھیجے، وہ ایک طرف مامور من اللہ ہوتے ہیں تو دوسری طرف آمر بامر اللہ، خالق کے مطیع، مخلوق کے مطاع، خلیق کے قائد، خالقِ کائنات کے منقاد۔ بات ان شخصیات کی ہو رہی ہے جو الٰہی پروگرام ان معنوں میں رکھتے جن معنوں میں فرستادگانِ الٰہی رکھتے ہیں بلکہ وہ جنہیں خالقِ کائنات دل و دماغ کی بہترین صلاحیتوں سے نوازتا ہے اور پھر ان سے خلق کی اصلاح و فلاح کا کام لیتا ہے۔ ان کا علمی بلوغ، ان کی فکری جولانیاں، ان کی مثبت اور توانا سوچ ایک عالم کو گمراہی اور عملی بے راہروی سے نکال کر جادۂ مستقیم پر لگا دیتی ہے۔

علامہ اقبالؒ کی عظیم شخصیت ایسے ہی اساطینِ عالم میں سے ایک ہے جو درماندہ پا بہ گل ہجوموں کو منظم گروہوں کی شکل دے کر جادہ پیمائی کا شعور بخشتے ہیں۔ اقبال نے بھی اس بلند آہنگی سے اور سوزِ دروں سے حدی خوانی کی۔ صدیوں کے مسافر لمحوں میں منزل شناس ہوتے نظر آئے۔ یہ وہ کارواں تھا جو بطحا کی وادی سے نکلا اور اطرافِ عالم میں ہر چہار جانب پھیل گیا۔ حدودِ برصغیر میں پہنچا تو آٹھویں صدی عیسوی کا آغاز ہو چکا تھا۔ آٹھویں صدی عیسوی سے لے کر انیسویں صدی عیسوی تک برصغیر کی سیادت و قیادت اس جاں سپارگروہ کے ہاتھ میں رہی۔ گردش ایام اور زندگی کے نشیب و فراز نے اسے کبھی فرمانروائی کی مسندِ بالا پر بٹھایا تو کبھی پستی و زوال کے عمیق غاروں میں دھکیل دیا۔

۷۱۳ء میں محمد بن قاسمؒ نے سندھ و ہند میں اسلام کا پھریرا لہرا کر عقائد باطلہ اور توہمات میں جکڑے ہوئے سماج کو فکر و نظر کی آزادی بخشی۔ بعد ازاں منصورہ اور ملتان میں اسلامی حکومت قائم ہوئی۔ اگرچہ اس کا اثر و نفوذ زیادہ دور تک نہ پھیل سکا اور وہ برصغیر کے شمال مغربی حدود و ثغور سے آگے نہ بڑھ سکی تاہم تین سو سال بعد روشنی کا ایسا سیلاب امڈا کہ شمالی دروں کی راہ آنے والے غزنیوں اور غوریوں نے اس کفرستانِ ہند میں غلغلۂ توحید سے دیومالائی اور اساطیری ضعیف الاعتقادی کا تاروپود بکھیر کر رکھ دیا۔

جب ۱۲۰۶ء میں برصغیر میں حکومتِ اسلامیہ کے اصل بانی سلطان قطب الدین ایبک نے دہلی کو مستقل مستقر بنا کر گجرات، کاٹھیاوار، کالنجر اور بنگال تک یلغار کی تو اس امر کا یقین ہو گیا کہ اب صدیوں تک برصغیر میں اسلام کا پرچم لہراتا رہے گا۔

۱۷۰۷ء میں اورنگزیب عالمگیر کی وفات کے بعد اگرچہ ۱۸۵۷ء تک کوئی ڈیڑھ سو برس تک اسلامی حکومت قائم رہی مگر فی الجملہ یہ دور برصغیر کے مسلمانوں کے لیے انحطاط اور تنزل کا دورِ نافرجام تھا۔ سیاسی افراتفری، معاشرتی ناہمواری اور اقتصادی بدحالی نے مسلمانوں کی عظمت کو گئے دن کا قصہ بنا کر رکھ دیا۔ سات سمندر پار سے آنے والے سفید فام مگر سیاہ دل فرنگی کی دسیسہ کاریوں نے مسلمان سے حمیت و غیرت چھین کر اسے تملق و مداہنت کا خوگر بنا دیا۔ اس دور میں بعض دھڑکتے دل والے مصلحین نے وقت کی نبض پر ہاتھ رکھا، مسلمانوں کو ان کی اسلامی عصبیت سے آگاہ کیا، ان میں حضرت شاہ ولی اللہؒ، سید احمد بریلویؒ، شاہ اسماعیل شہیدؒ، سر سید احمد خانؒ، حاجی شریعت اللہؒ، اور تیتومیرؒ جیسے جہد آمادہ پیکرانِ حریت نے فضا میں ایمان و ایقان کی سرمستیاں بکھیر دیں اور مسلمانانِ برصغیر کو خودشناسی کا درس دیا۔

لیکن سچی بات تو یہ ہے کہ مسلمان اس حد تک پستیوں میں اتر چکے تھے کہ اب ان کا تنزل کی اتھاہ گہرائیوں سے ابھرنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور نظر آتا تھا۔ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی نے مسلمانوں کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ یوں بیسویں صدی کے آتے آتے مسلمان اس درکِ اسفل تک پہنچ چکے تھے کہ انہیں انگریزی استیلاء سے نجات دلانے کے لیے اعجازِ مسیحائی رکھنے والی ایسی سحر اثر شخصیت کی ضرورت تھی جو اسے اپنی شناخت کرا سکے۔ نہ صرف عرفانِ ذات بخشے بلکہ یہ باور کرائے کہ تم انہیں اسلاف کے وارث ہو جنہوں نے قیصر و کسرٰی کی عظیم سلطنتوں کو پامال کر کے رکھ دیا تھا۔ جن کے گھوڑوں کی ٹاپوں سے کوہ و صحرا لرزتے تھے، جو ان بلاخیر طوفانوں سے بڑھ کر تھے جن سے دریاؤں کے دل ہل جاتے تھے، اور جن کی یلغاروں سے کوہ پائرنیز کے اس پار ایسا ارتعاش پیدا ہوا کہ مدتوں یورپی اقوام اس کے اثرات محسوس کرتی رہیں۔

اب وقت آن پہنچا تھا کہ وہ عیسٰی نفس غلاموں کے لہو کو گرمائے اور کبوتر کے تن نازک میں شاہیں کا جگر پیدا کر دے۔ چنانچہ بیسیوں صدی نے بڑھ کر اس مسیحا نفس کا استقبال کیا۔ سچ ہے کہ جب تاریکیاں گہری ہو جائیں تو ٹمٹماتا ہوا دیا بھی قندیل بن کر جگمگاتا ہے لیکن اگر واقعی فانوس روشن کر دیا جائے تو اس کی امواجِ نور سے یقینًا تاریکیاں کافور ہو جائیں گی اور پورا ماحول نور میں نہا جائے گا۔ وہ فانوس فروزاں ہوا، تیرگی چھٹی، وہ رجلِ عظیم آیا، اس نے ناقۂ بے زمام کو سوئے قطار کھینچا۔ انبوہ خفتہ کو اپنی بانگِ درا سے جگایا، عروق مروۂ مشرق میں زندگی کا خون دوڑا دیا۔ اس شان سے صورِ اسرافیل پھونکا کہ صدیوں کی مردہ روحیں زندگی کی توانائیوں سے سرشار ہو کر انگڑائیاں لینے لگیں، کارواں کو پھر سے منزل کی طرف گامزن ہونے کا حوصلہ ملا۔

اس رجل رشید کی بوقلموں شخصیت میں یوں تو ایک بیدار مغز سیاستدان کا تدبر، ایک حلیم و بردبار انسان کا جگر، ایک عظیم و جلیل شاعر کا تنوع، اور ایک عظیم تر فلسفی کا ماورائی ادراک تھا مگر حقیقت یہ ہے کہ اقبال کی حقیقی وجہ مجدد شرف اور اصلی اثاثہ وہ اندازِ نظر ہے جس نے اسے ذاتی حیثیت سے اٹھا کر کائناتی فکر کا مالک بنا دیا۔ اس نے ایک خوابِ غفلت میں سوئے ہوئے ہجوم کو جگایا اور منظم جماعت کی صورت دے دی۔ قوم کا وہ تصور دیا جس سے مغرب نابلد تھا ؏

خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمیؐ

اقبال سے پہلے سرسید احمد خان کے عظیم رفقاء میں حالی نے قومی سوچ کی نیو اٹھائی مگر حالی کی آواز میں اس قدر دھیماپن تھا کہ اکثر لوگوں نے سنی اَن سنی کر دی۔ بلاشبہ اس آواز میں سوز تھا مگر گھن گرج نہ تھی، خلوص تھا مگر محدودیت کے ساتھ دردمندی تھی۔ مگر نوحہ و بکا کی لے میں یوں حالی کی قومی فکر مایوسیوں کی نذر ہو گئی۔ وہ ایک گہرے کنویں کی طرح تھی جو کبھی تہہ کے چشموں کے ابلنے سے جوش تو مارتا ہے مگر اس میں سمندر کی طغیانی اور تلاطم انگیز موجوں کی روانی نہیں آسکتی۔ نتیجہ یہ نکلا حالی کی گریہ و زاری یاس خیزیوں تک آ کر رہ گئی۔ تاہم یہ شیونِ قومی اکارت نہیں گیا۔ اقبال نے حالی کی رکھی ہوئی نیو پر ایک فلک بوس ایوان کھڑا کر دیا۔ حالی علومِ جدیدہ سے ناواقفیت کی بنا پر گہرائی کے باوجود گیرائی سے محروم رہے۔ آفاقی وسعت کے فقدان کے باوجود اقبال نے حالی کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا ؎

طوافِ مرقد حالی سزد ارباب معنی را
نوائے او بجانہا افگند شورے کہ من دانم

حالی کے زمانے میں اس شور کو زیادہ نہیں سنا گیا مگر اقبال نے نوائے حالی سے تحریک پا کر فضا میں غلغلہ اندازی کا سامان پیدا کر دیا۔

اقبال کے مجدد شرف کا سب سے بڑا سبب یہی ہے کہ اس نے مشرق و مغرب کو پڑھا، پڑھا ہی نہیں خوب کھنگالا، اس قدر جانچا اور آنکا کہ اپنی مشرقیت کو مغربیت کی زد میں نہ آنے دیا۔ پچھلی دو صدیوں سے عمومًا اور عصرِ حاضر میں خصوصًا مغرب نے اپنے مادی استیلاء اور ظاہری وسائلِ حیات سے پوری دنیا کو خیرہ کر دیا ہے۔ جدید سائنسی پیشرفت اور ٹیکنالوجی نے ہر سطح بیں کے دل میں مغربیت کے علمی بلوغ و نبوع کا نقش جما دیا۔ جو شخص ایک بار لندن کی ہوا کھا آیا فرنگی فکر کا پرستار پایا گیا۔ جس نے پیرس کی ہموار اور گداز سڑکوں پر گھوم پھر لیا اسے دلّی کے وہ کوچے اجنبی سے لگنے لگے جن کے بارے میں شاعر نے کہا ؎

دِلّی کے نہ تھے کوچے اوراقِ مصوّر تھے
جو شکل نظر آئی تصویر نظر آئی

جس شخص نے نیویارک کی ایوے نیوز میں مٹر گشت کر لیا اس نے جانا گویا وہ فردوسِ بریں کی سیر کر آیا۔ اب لاہور کی ٹھنڈی سڑک پر چلتے ہوئے اسے الجھن محسوس ہونے لگی۔ زبانِ حال ہی سے نہیں زبانِ قال سے پکار اٹھا  ؏

افرنگ کا ہر قریہ ہے فردوس کی مانند

مگر زمانہ معترف ہے کہ اقبال ۱۹۰۵ء میں انگلستان گیا، کیمبرج کے محققینِ عصر اور نامورانِ دہر سے خوشہ چینی کی، ان عمائد علم و فضل سے استفادہ کیا جو علوم و فنون میں ماہرانہ دستگاہ ہی نہیں سند کا درجہ رکھتے تھے۔ جرمنی پہنچا، تحقیق و تدقیق اور علم و حکمت کی پرخار وادیوں میں آبلہ پا دیوانوں کی طرح قدم فرسائی کی۔ بلادِ فرنگ میں سہ سالہ قیام کے دوران میں بلا کی سردی میں بھی سحرخیزی کا التزام رکھا ؎

زمستانی ہوا میں گرچہ تھی شمشیر کی تیزی
نہ چھوٹے مجھ سے لندن میں بھی آدابِ سحر خیزی

ایک طرف علم و آگاہی کے جواہر ریزے سمیٹے تو دوسری طرف مغرب کے تمدن کو محققانہ و ناقدانہ نگاہ سے دیکھا۔ سطح بینوں کی طرح نہیں، اندر جھانک کر ان کے آدابِ زیست کا بغور جائزہ لیا۔ ان کے آدابِ معاشرت کے محاسن و معائب پر نگاہ ڈالی، ان کی سیاسی فکر پر پہروں غور کیا، فرنگی اقوام کی مذہبی سطحیت اور دین بیزاری کو آنکا اور پرکھا۔ ان کے اقتصادی نظام کا بغور مطالعہ کیا، غرض ان کے تمدنی نظام کے ایک ایک جزئیے کا استیعابًا مطالعہ کیا۔

اب وہ موقع پرست اور بیرونِ در تک رہنے والا نہ تھا، درونِ در کے ہنگاموں سے بھی باخبر تھا۔ لہٰذا اس کے سینے میں اس تمدن کے خسارت اندوز پہلوؤں کے خلاف لاوا پکتا رہا۔ فرنگی حضارت اور مغربی تہذیب جس پر  مغرب کو خود بہت ناز تھا اور اوپری نظروں سے دیکھنے والے اہلِ مشرق بھی اس پر تحسین کے ڈونگرے برساتے تھے، اقبال کی نظر میں یہ ملمع کاری تھی۔ اس نے کئی موقعوں پر اس تہذیب کے خلاف گہرے معاندانہ جذبات کا اظہار بھی کیا۔

سیاسی فکر میں اقبال نے یورپی تصورِ قومیت کو نہایت ناپسندیدہ اور مکروہ پایا، اس نے اس تصور کو بنی آدم کے حق میں زہرناک خیال کیا۔ چنانچہ پانچ چھ سال بعد دنیا نے کھلی آنکھوں اس نظریے کی تباہ کاریاں بھی دیکھ لیں جبکہ ۱۹۱۴ء میں جنگِ عظیم اول چھڑ گئی اور وہ ۱۹۱۸ء تک جاری رہی جس میں نسلِ انسانی کا اس بڑے پیمانے پر وحشیانہ قتل ہوا کہ دنیا کی تاریخ میں کبھی پہلے اتنی خوں ریزی نہ ہوئی تھی جس کے نتیجے میں آئندہ جنگ کو روکنے کے لیے ’’لیگ آف نیشنز‘‘ کا بے سود قیام عمل میں لایا گیا۔ اقبال نے My Country Right Or Wrong کے انسانیت انسانیت کش نظریے کا سختی سے نوٹس لیا۔ اس نے یورپ کے رنگ، نسل، وطن اور زبان کے عناصر چہارگانہ پر مبنی معیارِ قومیت کو ٹھکرا دیا۔

اقبال نے تہذیب مغرب کی قباحتوں کو بروقت محسوس کر کے ان کے خلاف اس وقت اظہارِ خیال کر دیا تھا جب سلطنتِ انگلشیہ کے حدود وثغور اس قدر پھیلے ہوئے تھے کہ آسٹریلیا، ایشیا، افریقہ اور امریکہ کے وسیع علاقے ان کے زیرفرمان تھے اور کہنے والے سچ کہتے تھے کہ حکومتِ برطانیہ کی قلمرو میں سورج غروب نہیں ہوتا۔ اقبال نے ۱۹۰۷ء میں بڑی حوصلہ مندی سے سچی بات کر دی، فرمایا:

دیارِ مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زرِ کم عیار ہو گا
تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گی
جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہو گا

ملاحظہ کیجیئے کہ کس حزم و تیقن سے اقبال سطوتِ رفتار دریا کے انجامِ نافرجام کی خبر دے رہے ہیں؎

دیکھ لو گے سطوتِ رفتارِ دریا کا مآل
موجِ مضطر ہی اسے زنجیر پا ہو جائے گی

یوں بلا خوفِ تردید کہا جا سکتا ہے کہ اقبال کے مجدد شرف کا راز اس کے اس عظیم کارنامے میں پوشیدہ ہے کہ اس نے مسلم قوم کی کو ملّی تعرف و توسم دیا، قومی شناخت دی، اسے وہ درد عطا کیا جس میں ان کی دو صدیوں کے مرضِ غلامی سے شفایاب ہونے اور پریشاں نظری سے نجات پانے کا مداوا تھا۔

دل توڑ گئی ان کا دو صدیوں کی غلامی
دارو کوئی سوچ ان کی پریشاں نظری کا

ایک طرف اس قوم کو اس کا تابناک و شاندار ماضی یاد دلایا تو دوسری طرف مغرب کی چکاچوند کو جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری  کہہ کر تہذیبِ نو کے منہ پر پورے زور سے تھپڑ رسید کیا۔

نظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیبِ حاضر کی
یہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے

علمی اور فکری سطح پر مغرب کے ڈھول کا پول کھولا، شخصی زندگی میں مغرب زدہ طبقے اور لندن پلٹ لوگوں کے برعکس درویشانہ انداز رکھا۔ تہذیبِ مغرب کا ذرا برابر اثر قبول نہیں کیا بلکہ ’’بانگِ درا‘‘ سے لے کر ’’ارمغانِ حجاز‘‘ تک ان کا سارا اردو اور فارسی کلام پڑھ جائیے، آپ کو معلوم ہو گا کہ ان کا دل دھڑکتا تھا تو اسلامی غیرت سے، ان کی آنکھ دیکھتی تھی تو دیارِ حجاز کا فردوس نظر نظارہ، اور ذہن سوچتا تھا تو قرآنی نقطۂ نگاہ سے۔ بلاشبہ علومِ شرق و غرب پڑھ لیے مگر بایں ہمہ اسے روح میں درد و کرب اترتا دکھائی دیتا ہے ؎

پڑھ لیے میں نے علومِ شرق و غرب
روح میں باقی ہے اب تک درد و کرب

آخر اس کا علاج وہ رومی کے جامِ آتشیں اور قرآن کے پیامِ انقلابِ آفریں کے سوا کہیں نہیں پاتا۔ یورپ سے واپسی پر بجائے مغرب زدگی کے اس نے اپنے افکار کے قرآنی ہونے کا دعوٰی کر دیا اور یہ دعوٰی اس بلند آہنگی سے کیا کہ معلوم ہونے لگا کہ عمر بھر اس نے قرآنی فکر کے پرچار کی ٹھان لی ہے۔ وقت نے ثابت کر دیا کہ ۱۹۱۴ء میں اس کا یہ دعوٰی ۱۹۳۷ء تک اس طرح سوزِ دروں میں ڈھل گیا کہ اس کے کلام کا حرف حرف سرزمین طیبہ کے لیے مچلتے ہوئے جذبات اور گداز عطوفتوں کی آماجگاہ بن گیا۔ آخری مجموعۂ کلام کا نام بھی اسی مناسبت سے ’’ارمغانِ حجاز‘‘ رکھا۔ اسرارِ خودی میں اس دعوٰی کا رنگ، ڈھنگ اور آہنگ ملاحظہ فرمائیے اور پھر سوچیئے کہ سوچ کا یہ دھارا آئندہ سالوں میں کن تلاطم خیزیوں اور گرداب انگریزیوں کا مظہر ہے۔

گر دلم آئنۂ بے جوہر است
گر بحرفم غیر قرآں مضمر است
پردۂ ناموس فکرم چاک کن
ایں خیاباں راز خارم پاک کن
تنگ کن رخت حیات اندر برم
اہل ملّت را نگہ دار از شرم

اور آخری شعر میں تو قیامت ہی ڈھا دی ہے ؎

روز محشر خوار و رسوا کن مرا
بے نصیب از بوسۂ پا کن مرا

اواخر عمر میں تو اس کی دردمندی کا کوئی ٹھکانہ ہی نہیں رہتا۔ ذرا سی ٹھیس پر ابگینے کی طرح پھوٹ بہتا ہے۔ عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے کلام میں حیات آفرینی کے وہ داعیے بھر دیے ہیں اور جذب و رقّت کے وہ طوفاں اٹھائے ہیں کہ ہر لمحہ وارفتگی و سرگشتگی کے بند ٹوٹ ٹوٹ پڑے ہیں۔ ذرا اس سیلاب بلاخیز کا انداز دیکھیئے:

شبے پیش خدا بگریستم زار
مسلماناں چرا زارند و خوارند
ندا آمد نمی دانی کہ ایں قوم
دلے دارند و محبوبے ندارند

تصور ہی تصور میں سفرِ حج درپیش ہے، مکہ سے مدینۃ الرسولؐ کو روانگی کے وقت صحرائے عرب کی مسافتوں کو

سحر با ناقه گفتم نرم تر رو
که راکب خسته و بیمار و پیر است
قدم مستانه زد چنداں که گوئی
بپایش ریگ ایں صحرا حریر است
 ملخصًا کہا جا سکتا ہے کہ اقبال کی کثیر الجہات شخصیت کو جس پہلو سے دیکھا جائے وہ ایک ترشا ہوا بوقلموں ہیرا ہے۔ وہ شاعر ہے، وہ سیاست دان ہے، وہ قانون دان ہے، وہ ماہر اقتصادایت ہے، وہ مفکر  ہے، وہ مصلح ہے، وہ ایک ایسا عالم ہے جس نے علم و ادب کے سرچشموں سے اپنی تشنہ لبی کا سامان کا ہے۔ اس کے کمالات علمی و اصلاحی کا ہر پہلو امتیازی شان کا حامل ہے مگر اس کا سب سے بڑا سرمایۂ حیات اور وجۂ فضیلت و عظمت یہ ہے کہ اس نے مغرب کی ظاہری چمک چمک کی قلعی کھول کر رکھ دی۔ مسلمان قوم کو چودہ صدیوں کی دوری کے باوجود قرنِ اوّل کی دل کش اور دل گداز فضاؤں میں لے گیا۔ تہذیبِ جدید اور تمدنِ مغرب کے بودے کن کو ظاہر کیا۔ فلسفۂ خودی کا خوبصورت تصور دے کر اسلامی فکر کی توانائی اور اسلامی تمدن کے عملی مظاہر کا تفوق کھول کر بیان کیا۔ اور سب سے بڑھ کر یہ بتایا کہ اسلامی فکر میں روح عمل اتر ہی نہیں سکتا جب تک سرکارِ دو جہاںؐ کی ذات والا کو محورِ حیات نہ مان لیا جائے اور اس پیغمبرِ اعظم و آخر سے رابطۂ محبت اس درجہ استوار نہ کر لیا جائے کہ دنیا جہاں کی نعمتیں ہیچ نظر آنے لگیں۔ کیوں نہ ہو سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی تو فرمایا:
لَا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتٰی اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِن وَّالِدِہٖ وَ وَلَدِہٖ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ۔ (بخاری و مسلم)
’’تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اس کے والد، اولاد اور سب لوگوں سے محبوب تر نہ ہو جاؤں۔‘‘
دوسرے شعراء و مصلحین پر یہی وجۂ امتیاز اقبال کے مجدد شرف کی علت نمائی ہے ؎
بمصطفٰی برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
اگر بہ او نہ رسیدی تمام بولہبی است

شہادت کا آنکھوں دیکھا حال

عدیل احمد جہادیار

افغانستان کے شہر خوست کے جنوب کی طرف واقع پہاڑی سلسلہ میں طورہ غاڑہ کے قریب ایک غار میں بڑی بڑی پگڑیوں والے کچھ لوگ بیٹھے تھے۔ غار کے باہر ہر دس پندرہ منٹ کے بعد ایک ڈاٹسن یا جیپ آ کر رکتی اور اس میں سے کچھ افراد نکل کر غار کی طرف بڑھتے۔ ان لوگوں کو دیکھ کر غار کے باہر کھڑے کلاشنکوفوں سے مسلح پہرہ دار ان کو راستہ دے دیتے۔ ڈاٹسنوں اور جیپوں میں آنے والے حضرات خوست جنوبی کے افغان مجاہدین کے کمانڈر تھے اور یہ سب یہاں پر دشمن پر حملہ کرنے کی پلاننگ کرنے کے لیے اکٹھے ہو رہے تھے۔ اسی اثنا میں ایک نیلے رنگ کی ڈبل سیٹر ڈاٹسن اور ایک سرخ پک اپ ڈاٹسن غار کے قریب آ کر رکی۔ ڈبل سیٹر سے لانبے قد کی بڑی سی پگڑی باندھے ایک پر رعب شخصیت نمودار ہوئی۔ یہ خوبصورت چہرے اور گھنی داڑھی والے بزرگ خوست جنوبی کے ہردلعزیز اور تحصیل درگئی کے فاتح مولانا پیر  محمد روحانی صاحب تھے۔ ان کے ساتھ ان کے باڈی گارڈوں کا ایک دستہ بھی تھا۔ سرخ ڈاٹسن پر حرکت الجہاد الاسلامی کی حربی کونسل کے نائب صدر اور کمانڈر نصر اللہ منصور لنگڑیال صاحب تھے۔
مولانا پیر محمد کی آمد پر شورٰی کی کارروائی شروع ہوئی، یہ شورٰی تحصیل درگئی کی فتح (جو کہ مولانا پیر محمد صاحب کی قیادت میں فتح ہوئی تھی) کے بعد اب خوست شہر پر ایک اجتماعی حملہ کرنے کا پروگرام بنانے کے لیے ہو رہی تھی۔ اس شورٰی میں افغانستان میں جہاد کرنے والی تمام تنظیموں کے سرکردہ افراد شرکت کر رہے تھے۔ اتحادِ اسلامی کی طرف سے مولانا پیر محمد روحانی (امیر عمومی قرارگاہ جنوبی)، حزبِ اسلامی (خالص) کی طرف سے مولانا طور، حزبِ اسلامی (حکمت یار) کی طرف سے انجینئر فیض محمد، دیگر کماندانوں میں بادشاہ گل، کمانڈر ڈاکٹر نصرت اللہ، حرکت الجہاد الاسلامی کی طرف سے کمانڈر نصر اللہ لنگڑیال شرکت کر رہے تھے۔
مختلف مشوروں کے بعد طے پایا کہ ۲۹ ستمبر بروز جمعہ کو حملہ کیا جائے اور پہلے حملہ میں شیخا میر علاقہ داری اور اس کی اردگرد کی پوسٹوں پر حملہ ہو اور ان کی فتح کے بعد اس سے آگے واقع پوسٹوں پر یورش کی جائے۔ اس میں اسلحہ کی تقسیم، توپوں کے نصب کرنے کی جگہ اور اہداف بھی زیرغور آئے اور پھر ان کی تقسیم اور توپ خانہ کے اہداف بھی مقرر کیے گئے۔ حملہ ۲۹ ستمبر کی صبح فجر کے وقت شروع ہونا تھا۔ پہلے دو گھنٹے توپ خانہ نے گولہ باری کرنی تھی پھر ایکشن گروپ نے حملہ کرنا تھا۔ ایکشن گروپ میں ہر کمانڈر چالیس چالیس آدمی دے رہا تھا، یہ سب طے کرنے کے بعد سب اپنے اپنے مراکز کی طرف روانہ ہو گئے۔
۲۸ ستمبر ۱۹۸۹ء نسبتًا گرم دن تھا۔ تحصیل درگئی (جو کہ فتح ہو چکی ہے) کی بستی کے سرے پر واقع اونچے پہاڑوں کی ڈھلوان کی طرف جہاں چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں واقع ہیں وہاں ایک بڑے لاغاٹ (برساتی نالے) کے دائیں ہاتھ ایک پہاڑی کی کھوہ میں دو خیمے لگے ہوئے تھے، یہ خیمے حرکت الجہاد الاسلامی کا عارضی مرکز تھے۔ یہ مرکز یشرا میں اس جگہ پر واقع تھا جہاں سے ایک سڑک نیچے میدان خوست کو جاتی ہے اور ایک علاقہ باڑی کی طرف جاتی ہے۔ ایک خیمے میں مجاہدین جمع تھے اور کماندار نصر اللہ لنگڑیال صاحب جنگ کے لیے مجاہدین کا چناؤ کر رہے تھے۔ چونکہ مولانا پیر محمد اور حرکت کا مرکز ایک ہی ہے اس لیے جنگ کے لیے بیس ساتھی حرکت کے ہونے تھے اور بیس مولانا پیر محمد صاحب کے۔ جناب کماندار صاحب نے مجاہدین سے کہا کہ وہ ساتھی ہاتھ کھڑا کریں جو جہانداد غنڈ کی پہلی فتح یا دوسری فتح میں شامل رہے ہیں۔ موجود ساتھیوں کی اکثریت ان جنگوں میں حصہ لے چکی تھی اس لیے بہت سے ساتھیوں نے ہاتھ کھڑے کر دیے۔ 
کماندار صاحب ساتھیوں کا چناؤ کرنے لگے اور مجاہد ظہیر کاشمیری سے کہا کہ وہ ساتھیوں کے نام لکھیں۔ انیس ساتھیوں کے جب نام لکھے جا چکے تو اب ایک ساتھی کا نام رہ گیا۔ کماندار صاحب کشمکش میں تھے کہ کس کا نام لکھیں کہ ایک ساتھی نے کہا کہ بھائی عمران عدیل کا نام تو آپ نے لکھا نہیں، وہ جہانداد غنڈ کی پہلی فتح میں شریک تھے اور انہوں نے ہی سب سے پہلے غنڈ کے اندر داخل ہو کر نعرہ فتح مارا تھا اور اذان دی تھی۔ کماندار صاحب نے پوچھا عمران کہاں ہے؟ تو ساتھیوں نے کہا کہ وہ باہر ہیں۔ کماندار صاحب نے ظہیر کاشمیری سے کہا کہ اس کا نام بھی لکھو۔ تشکیل مکمل ہوئی تو کماندار صاحب نے جنگ کے بارے میں ہدایات دیں اور ان سے کہا کہ گروپ کمانڈر عابد فردوسی صاحب! آپ جنگ کے امیر ہوں گے اور ساتھیوں سے کہا کہ اپنی مکمل تیاری کر لیں کسی وقت بھی روانگی کا آرڈر مل سکتا ہے اور رائفلوں وغیرہ کو صاف کر لیں اور کارتوس وغیرہ بھائی رحمت سے لے لیں۔
اس کے بعد تمام ساتھی اپنی اپنی تیاری کرنے لگے، کئی ساتھی غسل کرنے اور نئے کپڑے پہنے لگ گئے اور بعض ساتھی اپنی رائفلیں صاف کرنے لگے، ہر مجاہد میں جوش اور ولولہ کا ایک نیا منظر دکھائی دے رہا تھا۔ بھائی احسان اللہ کاشمیری غسل کر رہے تھے، راقم نے ان کے پاس جا کر کہا کہ بھائی احسان کیوں شہید یا زخمی ہونے کا سامان کر رہے ہو تو انہوں نے کہا کہ اسی لیے ہی تو آئے ہیں۔ راقم نے یہ جملہ مذاق میں اس لیے کہا تھا کہ اکثر محاذ پر دیکھنے میں آیا ہے کہ جو ساتھی اہتمام کے ساتھ تیار ہو کر جاتے ہیں یعنی غسل کر کے اور سر پر تیل لگا کر پگڑی باندھ کر آنکھوں میں سرمہ ڈال کر اور کپڑوں پر خوشبو لگا کر دلہا بن کر جب جاتے ہیں تو ان شہادت کے متوالوں کی مراد بر آتی ہے اور اللہ تعالیٰ پھر ان کو اپنی بارگاہ میں قبول کر لیتے ہیں، شہادت یا زخمی ہونے کے لیے یہ ضروری نہیں بلکہ یہ تو محاذ کا ایک مشاہدہ ہے۔
۲۸ ستمبر عشاء کے وقت مولانا پیر محمد روحانی صاحب تشریف لائے، ان کے ہمراہ تقریباً‌ تیس مجاہدین تھے اور دو گاڑیاں ان کے ہمراہ تھیں۔ تمام ساتھی چلنے کے لیے تیار تھے۔ ایک ڈاٹسن لیے ظہیر کاشمیری بھی موجود تھے۔ انہوں نے اس گاڑی پر مجاہدین کو باڑی پہنچانا تھا۔ مولانا پیر محمد روحانی صاحب نے ساتھیوں کو کچھ ہدایات دیں اور چلنے کا حکم فرمایا۔ تمام ساتھی ڈاٹسن پر سوار ہونے لگے۔ ڈاٹسن پر سامان بھی کافی لدا ہوا تھا اس لیے تمام ساتھیوں کا اس میں سمانا مشکل ہو رہا تھا اس لیے بھائی شبیر سے کہا گیا کہ وہ جیپ بھی تیار کریں اور کچھ ساتھیوں کو اس پر لے جائیں۔ جیپ بھی تیار کر لی گئی اور پھر تمام ساتھی ایک دوسرے سے ملنے لگے، اور جانے والے ساتھی اور رہ جانے والے ساتھی ایک دوسرے سے کہا سنا معاف کروانے لگے۔ آخر تمام ساتھی دعا کے بعد مرکز سے روانہ ہوئے۔
رات بے حد سیاہ تھی اور آسمان کہیں کہیں سے ابر آلود تھا۔ دور نیچے میدان میں دشمن کی توپیں اور مشین گنیں چل رہی تھیں۔ دشمن تمام دن اور رات اس خوف سے کہ کہیں مجاہدین اچانک اس پر حملہ نہ کر دیں اپنی پوسٹوں کے اردگرد مسلسل توپیں اور گنیں چلاتا رہتا ہے۔ اب جس جگہ سے مجاہدین نے باڑی کی طرف جانا تھا وہ راستہ تھا تو چھپا ہوا لیکن اگر رات کے اندھیرے میں یہاں گاڑیوں کی ہیڈ لائٹیں روشن کی جاتیں تو گولہ باری اور بمباری کا شدید خطرہ تھا۔ اس وقت بھی ایک طیارہ نیچے میدان میں جہاں والیم پوسٹ پر (جو کہ فتح ہو چکی ہے) اتحادِ اسلامی اور حرکت کے مجاہدین موجود تھے بمباری کر رہا تھا۔ راستہ بہت خطرناک تھا اس لیے کہ اردگرد دشمن نے بارودی سرنگیں بچھا رکھی تھیں۔ یہ راستہ بھی کماندار نصر اللہ لنگڑیال نے دیگر مجاہدین کے ساتھ مل کر بنایا تھا۔
خیر رات تین ساڑھے تین بجے کے قریب مجاہدین باڑی پہنچ گئے۔ یہاں پر کچھ دیر آرام کرنے کے بعد مجاہدین کے گروپوں کو ملا کر تشکیل کی گئی۔ حملہ علاقہ داری شیخامیر اور اس کے اردگرد کی پوسٹوں پر تھا۔ اسی طرح شہر خوست کے شمال مغرب کی طرف سے بھی دوسرے مجاہدین نے حملہ کرنا تھا۔ مجاہدین آرام کرنے کے بعد دشمن کی طرف چل پڑے۔ رات کا وقت تھا اور ان لوگوں کو اسی اندھیرے میں دشمن کے نزدیک ہونا تھا۔ ان مجاہدین کو سفر کی وجہ سے نیند کا موقع بھی نہیں ملا تھا لیکن یہ اللہ کے سپاہی محمد عربیؐ کے غلام جانیں ہتھیلیوں پر رکھ کر دشمن کی طرف بڑھنے لگے۔ انہوں نے دشمن کے بالکل نزدیک پہنچ کر مورچے سنبھالنے تھے اور اس کے بعد پھر مجاہدین کے توپ خانے نے دشمن پر گولہ باری کرنی تھی اور اس طرح اس توپ خانے نے مجاہدین کی پیش قدمی کے ساتھ اردگرد کی دوسری پوسٹوں کو مصروف کرنا تھا۔
ان مجاہدین نے نمازِ فجر راستہ میں ادا کی اور پھر دشمن سے نزدیک ہونے لگے حتٰی کہ دشمن سے دو اڑھائی سو میٹر کے فاصلہ پر پہنچ گئے۔ یہاں پہنچ کر یہ لوگ رک گئے کیونکہ ریکی گروپ (ترصد گروپ) کے مطابق آگے بارودی سرنگیں تھیں، ان کے یہاں پہنچنے کے کچھ دیر بعد مجاہدین کے توپ خانے سے اکا دکا میزائل اور توپ کے گولے فائر ہونے لگے۔ آہستہ آہستہ جب میزائل اور گولے ہدف پر لگنے لگے تو پھر ایک دم اکٹھے بارہ بارہ میزائل چھوڑے جانے لگے۔ اسی طرح توپوں کے گولے بھی چلنے لگے۔ ابھی سورج طلوع نہیں ہوا تھا کہ مجاہدین کی طرف سے فائر ہونے کے بعد دشمن کی طرف سے بھی ٹینک کے گولے اور BM13 میزائل فائر ہونے لگے۔ اسی طرح شہر خوست کے شمال مغرب میں بھی یہی حال تھا۔ ادھر گولے چل رہے تھے میزائل پھٹ رہے تھے اور یہاں ایکشن گروپ کے ساتھی ایک دوسرے کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف تھے اور کئی ساتھی ذکر اللہ میں مشغول تھے۔ کسی ساتھی مجاہد کے چہرے سے ایسا محسوس نہیں ہو رہا تھا کہ وہ خوفزدہ یا پریشان ہے۔
اسی اثنا میں اس ایکشن گروپ کے عمومی کمانڈر نے ایک مجاہد کو بارودی رسی ڈالنے کو کہا۔ مجاہدین اس وقت ایک لاغاٹ (برساتی نالہ) میں بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ مجاہد اپنے دو تین دیگر ساتھیوں کے ساتھ بارودی رسی، جو کہ مائن فیلڈ (بارودی سرنگ) کو ناکارہ کرتی ہے، لے کر اس برساتی نالے کے سرے پر چڑھا تو ایک زور دار دھماکہ ہوا، اس مجاہد کا پاؤں مائن پر آ گیا تھا اور وہ دھماکہ مائن پھٹنے کا تھا۔ مائن پر پاؤں آنے کی وجہ سے اس مجاہد کا پنڈلی کے قریب سے پاؤں کٹ گیا اور وہ زخمی ہو گیا۔ زخمی کو فورً‌ا نیچے لاغاٹ میں لایا گیا اور مرہم پٹی کی گئی۔ اس وقت اس کو پیچھے منتقل کرنا مشکل تھا اس لیے اس کو یہیں پر لٹا دیا گیا۔ مجاہدین اور دشمن کی طرف سے گولہ باری ایک دوسرے پر شدید سے شدید تر ہوتی جا رہی تھی۔ خوست کے اس علاقے میں ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے آگ سی لگ گئی ہو۔
دونوں طرف سے گولہ باری ہو رہی تھی کہ اتنے میں ایک میزائل مزاحمتی گروپ والے مجاہدین کے درمیان گرا اور پھر دھوئیں اور مٹی کا ایک بادل سا چھا گیا۔ جب یہ دھواں اور مٹی کچھ کم ہوئے تو ایک لرزہ خیز منظر سامنے تھا۔ ابھی کچھ دیر پہلے جو مجاہدین ٹھیک ٹھاک تھے ان میں سے کئی اب خاک و خون میں لت پت تھے۔ ابھی مجاہدین سنبھلنے بھی نہیں پائے تھے کہ یکے بعد دیگرے دو میزائل اور مجاہدین کے درمیان میں آ کر لگے، پھر تو ہر طرف ایک کہرام سا مچ گیا۔ ہر طرف زخمی اور شہید پڑے تھے۔ پہلے ہی میزائل سے حرکت کے دو مجاہد گروپ کمانڈر عابد فردوسی اور بھائی عمران عدیل شہید ہو گئے۔ دوسرے میزائل سے بھائی مطیع الرحمٰن بھی شہید ہو گئے۔ لاغاٹ میں ہر طرف خون ہی خون تھا، وہ نالہ جو کبھی پانی سے بہتا تھا اب بلامبالغہ شہیدوں اور زخمیوں کے لہو سے بہہ رہا تھا۔ میزائل لگنے سے پینتیس کے قریب مجاہدین شہید اور پچاس کے قریب زخمی ہو گئے تھے۔
اب دشمن پر حملہ تو کیا نہیں جا سکتا تھا اس لیے جو ساتھی بچ گئے تھے انہوں نے زخمیوں اور شہیدوں کو پیچھے منتقل کرنا شروع کر دیا۔ ان شہیدوں اور زخمیوں کو منتقل کرنا بھی کوئی آسان بات نہ تھی جیسے ہی مجاہدین زخمیوں اور شہیدوں کو نکالنے لگے دشمن کی پوسٹوں کے برجوں پر نصب مشین گنیں گرجنا شروع ہو گئیں اور پھر طیارے بھی بمباری کے لیے پہنچ گئے لیکن اس سب کے باوجود مجاہدین نے ہمت نہ ہاری اور ایک ایک کر کے تمام شہیدوں اور زخمیوں کو پیچھے منتقل کر لیا گیا۔ حرکت کے تین مجاہدین زخمی ہوئے تھے جن میں احسان اللہ کشمیری اور بھائی نیاز (متعلم مدرسہ امدادیہ فیصل آباد) کو کافی شدید زخم آئے تھے۔ ان کو باڑی ہی کے راستے میرانشاہ بھیج دیا گیا اور شہداء کو گاڑیوں میں لاد کر مرکز یشرا لایا گیا۔
ہر ساتھی غمگین تھا اور زبانِ حال سے کہہ رہا تھا کہ کاش یہ ساتھی شہید نہ ہوتے بلکہ میں ان کی جگہ شہید ہو جاتا۔ شہداء میں

بھائی عمران عدیل شہید اور بھائی عابد فردوسی شہید کو ان کے گھروں میں پہنچانے کا انتظام کیا گیا۔ شہید عابد فردوسی کے ساتھ راقم نے ان کے گھر فیصل آباد جانا تھا اور بھائی شہید عمران عدیل کے ساتھ بھائی سید احمد صاحب نے جانا تھا۔ میرانشاہ سے ہم اکٹھے بنوں تک گئے۔

جب یہ حضرات جنگ کے لیے جا رہے تھے تو بھائی عمران عدیل مجھ سے ایک عجیب طرح سے ملے اور فرمایا عدیل بھائی! کہا سنا معاف کر دینا۔ حالانکہ اور ساتھی بھی مجھے جاتے ہوئے ملے اور انہوں نے بھی تقریباً‌ یہی الفاظ کہے تھے لیکن جب بھائی عمران نے یہ الفاظ کہے تو نجانے کیوں میرے دل نے کہا کہ یہ ضرور شہید ہوں گے۔ اور جنگ والے دن میں اکثر ان کی سلامتی کی اور زندگی کی دعا مانگتا رہا لیکن ہوتا تو وہ ہے جو اللہ کو منظور ہوتا ہے۔

بنوں پہنچ کر میں نے عمران شہید والی گاڑی رکوائی کیونکہ اب ہمارے راستے جدا جدا تھے، میں نے تابوت کھولا تو ایک نہایت ہی اچھی خوشبو محسوس کی۔ میں نے ان کی پیشانی پر ہاتھ رکھا اور پیشانی پر سے ان کے بال ہٹائے تو مجھے ان کی پیشانی، باوجود ان کے ۱۲ گھنٹے پہلے شہید ہونے کے، گرم محسوس ہوئی۔ اللہ اللہ، جب ان کو اٹھا کر یشرا مرکز میں ہم لائے تھے تو بھی اس وقت ان سے اور دوسرے دونوں شہداء سے خوشبو آ رہی تھی۔ یہ خوشبو اور گرم ماتھا یہ کہہ رہے تھے کہ ؎

بنا کردند خوش رسمے بخاک و خون غلطیدن
خدا رحمت کند ایں عاشقاں پاک طینت را

آپ نے پوچھا

ادارہ

اشتراکیت کا فلسفہ کیا ہے؟

سوال: اشتراک کا فلسفہ کیا ہے اور یہ سب سے پہلے کس نے پیش کیا؟ (محمد غفران، اسلام آباد)۔
جواب: اشتراک کا فلسفہ یہ ہے کہ چونکہ دنیا میں انسانوں کے درمیان زیادہ تر جھگڑے زمین، مال اور عورت کی وجہ سے ہوتے ہیں اس لیے یہ تینوں چیزیں کسی کی شخصی ملکیت نہیں ہو سکتیں بلکہ یہ تینوں تمام انسانوں کے درمیان کسی تعیین کے بغیر مشترک ملکیت ہیں۔ یہ فلسفہ سب سے پہلے پارسیوں (مجوسیوں) کے ایک راہنما مزدک نے پیش کیا اور کہا کہ ایک شخص جو کچھ کماتا ہے وہ اس کی ذاتی ملکیت نہیں بلکہ سب لوگوں کی مشترک ہے۔ اسی طرح کوئی عورت کسی مرد کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ ہر مرد ہر عورت سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
ظہورِ اسلام کے بعد اسی فلسفہ کو عباسی خلیفہ معتصم باللہ کے دور میں بابک خرمی نے دوبارہ پیش کیا اور زن، زر اور زمین کو مشترک ملکیت قرار دے کر اس کا پرچار شروع کر دیا لیکن خلیفہ معتصم باللہ نے اسے قتل کرا دیا۔ موجودہ دور میں انفرادی ملکیت کی نفی کا یہ فلسفہ منظم شکل میں سب سے پہلے کارل مارکس نے پیش کیا اور اسے ’’کمیونزم‘‘ کا نام دیا۔ روس، چین اور مشرقی یورپ کے اشتراکی انقلاب اسی فلسفہ پر برپا ہوئے لیکن کہیں بھی کارل مارکس کا فلسفہ اصلی شکل میں نافذ نہ کیا جا سکا بلکہ ’’سوشلزم‘‘ کے نام سے اس کے قریب قریب ایک جبری نظام ان ممالک پر مسلط کر دیا گیا مگر وہ بھی اب دم توڑ رہا ہے۔

ام المؤمنین سیدہ عائشہؓ اور معراجِ جسمانی

سوال: بعض حضرات کی طرف سے یہ کہا جاتا ہے کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی معراج جسمانی کی قائل نہ تھیں، اس کی کیا حقیقت ہے؟ (عبد الغفور، اوکاڑہ)
جواب: یہ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہتان ہے کیونکہ خود حضرت عائشہؓ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی معراج کا واقعہ روایت کرتی ہیں اور فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سدرۃ المنتہٰی کے پاس حضرت جبریل علیہ السلام کو اصلی شکل میں دیکھا تھا۔ اصل بات یہ ہے کہ صحابہ کرامؓ میں اس امر پر اختلاف تھا کہ معراج کے اس سفر میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی بلاحجاب زیارت کی ہے یا نہیں؟ حضرت عائشہؓ اس کی قائل نہیں تھیں اور ان کا ارشاد یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سدرۃ المنتہٰی کے پاس اللہ تعالیٰ کی نہیں بلکہ حضرت جبریل علیہ السلام کی اصلی شکل میں زیارت ہوئی تھی، جیسا کہ صحیح مسلم ج ۱ ص ۹۸ میں یہ روایت منقول ہے۔
باقی رہی بات معراج جسمانی کی تو جب حضرت عائشہؓ سدرۃ المنتہٰی تک جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لے جانے، جبریل علیہ السلام کو اصلی صورت میں دیکھنے اور اللہ تعالیٰ کی بے حجاب زیارت نہ ہونے کا موقف پیش کر رہی تھیں تو ان کی طرف معراج جسمانی کے انکار کی نسبت کیسے درست ہو سکتی ہے؟

ربوہ کا معنٰی کیا ہے؟

سوال: بعض علماء کی طرف سے ربوہ کے نام کی تبدیلی کا مطالبہ کیا جاتا ہے، ربوہ کا معنٰی کیا ہے اور اس مطالبہ کا پسِ منظر کیا ہے؟ (عبد السلام، فیصل آباد)
جواب: ربوہ عربی زبان میں اونچے ٹیلے کو کہتے ہیں اور قرآن کریم میں حضرت مریم علیہا السلام اور حضرت عیسٰی علیہ السلام کے حوالہ سے ’’ربوہ‘‘ کا لفظ مذکور ہے کہ ’’وَاٰوَیْنَاھُمَآ اِلٰی رَبْوَۃٍ‘‘ ہم نے ان دونوں کو اونچے ٹیلے پر جگہ دی۔ مرزا غلام احمد قادیانی کا چونکہ دعوٰی یہ ہے کہ وہ خود عیسٰی بن مریم ہے اور احادیث رسولؐ میں مسیحؑ اور عیسٰیؑ کی دوبارہ تشریف آوری کی جو بشارت دی گئی ہے وہ اس کے بارے میں ہے، اس لیے قیامِ پاکستان کے بعد قادیانیوں نے ایک سازش کے تحت اپنے نئے ہیڈکوارٹر کا نام ’’ربوہ‘‘ رکھ دیا تاکہ ناواقف لوگ جب قادیانیوں کے ہیڈکوارٹر ربوہ کا نام قرآن کریم میں دیکھیں گے اور حضرت عیسٰی علیہ السلام کے حوالہ سے ربوہ کا تذکرہ ہو گا تو مرزا غلام احمد قادیانی کے بارے میں دھوکہ کا شکار ہو جائیں گے۔
چنانچہ عملًا ایسا ہو بھی رہا ہے۔ افریقی ممالک میں جہاں قادیانیوں کی سرگرمیوں کا دائرہ بہت وسیع ہے، جب علماء اسلام وہاں جا کر قادیانیت کی تردید کرتے ہیں تو بہت سے سادہ لوح لوگ ان سے جھگڑتے ہیں کہ ’’ربوہ‘‘ کا ذکر تو خود قرآن کریم میں ہے، تم اس کی تردید کیوں کرتے ہو؟ اسی وجہ سے علماء اسلام حکومتِ پاکستان پر اس بات کے لیے زور دیتے ہیں کہ ربوہ کا نام سرکاری طور پر تبدیل کر دیا جائے کیونکہ یہ نام بیرون ملک بہت زیادہ لوگوں کی گمراہی کا باعث بن رہا ہے۔

قیامِ پاکستان اور جمعیۃ علماء اسلام

سوال: عام طور پر مشہور ہے کہ علماء دیوبند نے تحریک پاکستان کی مخالفت کی تھی، یہ کہاں تک درست ہے؟ (عبد الکبیر، مانسہرہ)
جواب: یہ بات درست نہیں ہے کیونکہ آل انڈیا جمعیۃ علماء اسلام نے باقاعدہ جماعتی حیثیت سے تحریک پاکستان میں حصہ لیا تھا۔ اس جمعیۃ کا قیام ۱۹۴۵ء میں عمل میں لایا گیا تھا اور شیخ الاسلام حضرت علامہ شبیر احمد عثمانیؒ کو اس کا سربراہ منتخب کیا گیا تھا۔ چنانچہ ان کی قیادت میں علماء کی ایک بہت بڑی تعداد نے تحریک پاکستان میں سرگرم کردار ادا کیا۔ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے تحریکِ پاکستان کی بھرپور حمایت کی۔ علامہ شبیر احمد عثمانیؒ نے صوبہ سرحد کے ریفرنڈم کے موقع پر صوبہ سرحد کا تفصیلی دورہ کر کے رائے عامہ کو پاکستان کے حق میں ہموار کیا۔ جبکہ حضرت مولانا ظفر احمد عثمانیؒ نے سلہٹ کا تفصیلی دورہ کر کے وہاں کے عوام کو مسلم لیگ اور پاکستان کی حمایت کے لیے آمادہ کیا۔
یہی وجہ ہے کہ قیامِ پاکستان کے بعد مسلم لیگی زعماء نے کراچی میں حضرت علامہ شبیر احمد عثمانیؒ اور ڈھاکہ میں حضرت مولانا ظفر احمد عثمانیؒ کے ہاتھوں سب سے پہلے پاکستان کے قومی پرچم کے لہرانے کا اہتمام کیا جو تحریکِ پاکستان میں ان کی خدمات اور جدوجہد کا اعتراف تھا۔

تعارف و تبصرہ

ادارہ

’’تحریف کے یہ مجرم‘‘

تالیف: حافظ محمد اقبال رنگونی
صفحات: ۱۵۲ ۔کتابت و طباعت معیاری
ناشر:ادارہ الہلال اسلامک اکیڈمی، مانچسٹر، برطانیہ
قرآن کریم سے قبل نازل ہونے والی آسمانی کتابوں توراۃ، زبور اور انجیل میں ان کے پیروکاروں نے لفظی اور معنوی تحریف کر کے انہیں اپنی اصل شکل میں باقی نہیں رہنے دیا اور آج بائیبل کے نام سے ان کتابوں کا جو مجموعہ مختلف زبانوں میں شائع کیا جاتا ہے اس کا بیشتر حصہ ان تحریفات، ترامیم اور اضافہ جات پر مشتمل ہے جو مختلف ادوار میں عیسائی علماء نے وقتی مصلحتوں اور اغراض کے تحت ان مقدس کتابوں میں شامل کر دیے ہیں۔
یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا انکار کسی کے بس کی بات نہیں اور تاریخی حقائق اس حقیقت کا مکمل طور پر ساتھ دے رہے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود بعض عیسائی علماء موجودہ بائیبل کو وحی الٰہی ثابت کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں اور مغالطہ آفرینی اور فریب کاری کے ذریعے اپنے عقیدت مندوں کو مطمئن کرنا چاہتے ہیں۔ علماء اسلام نے ہر دور میں عیسائی دانشوروں کی اس فریب کاری کا پردہ چاک کیا ہے اور اس موضوع پر متعدد قابلِ قدر تصانیف موجود ہیں۔
زیرنظر کتابچہ بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے جو اسلامک اکیڈمی مانچسٹر کے ڈپٹی ڈائریکٹر مولانا حافظ محمد اقبال رنگونی کی تصنیف ہے۔ حافظ صاحب موصوف اسلامک اکیڈمی مانچسٹر کے ماہنامہ ’’الہلال‘‘ کے مدیر ہیں، انہوں نے ’’الہلال‘‘ میں بائیبل کے محرف ہونے پر ایک مضمون لکھا جس کے جواب میں اولڈھم برطانیہ کے پادری سٹیون مسعود صاحب نے ایک رسالہ میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ موجودہ بائیبل اصلی ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ رنگونی صاحب نے زیرنظر کتابچہ میں پادری صاحب موصوف کے دلائل کا تجزیہ کیا ہے اور ان کے مغالطوں کے تاروپود بکھیرتے ہوئے ناقابلِ تردید دلائل کے ساتھ ایک بار پھر یہ بات واضح کر دی ہے کہ موجودہ بائیبل اصلی نہیں ہے اور نہ ہی تورات، انجیل اور زبور میں سے کوئی آسمانی کتاب اس وقت اصلی حالت میں دنیا میں موجود ہے۔

’’ہدایہ علماء کی عدالت میں‘‘ (حصہ اول)

مصنف: مولانا حبیب اللہ ڈیروی
ناشر: مکتبہ عزیزیہ، دال بازار، منڈی لوہاراں، گوجرانوالہ
صفحات: ۲۵۶ ۔کتابت و طباعت معیاری۔ قیمت ۳۶ روپے
ہدایہ فقہ حنفی کی مستند اور معروف کتاب ہے جس میں فقہ حنفی کے مسائل کو نقلی اور عقلی دلائل کے ساتھ واضح کیا گیا ہے اور صاحبِ ہدایہ نے اس میں استدلال و استنباط کا ایسا منفرد اسلوب اختیار کیا ہے جس نے ہدایہ کو دنیائے اسلام میں قانونِ اسلامی کے ایک اہم ماخذ کی حیثیت دے دی ہے۔ اور نہ صرف علماء اسلام بلکہ غیر مسلم ماہرینِ قانون بھی اسلامی قوانین کی تعلیم و تشریح کے لیے ہدایہ سے استفادہ ضروری سمجھتے ہیں۔ مگر ہمارے بعض دوست جن کا ذہن صاحبِ ہدایہ کے استدلال کی گہرائی اور لطافت تک رسائی حاصل نہیں کر پاتا وقتًا فوقتًا ہدایہ کے مختلف مسائل پر اعتراض اور اس کے معائب و نقائص کی تلاش میں مصروف رہتے ہیں۔
اس سلسلہ میں حال ہی میں گوجرانوالہ کے ایک دوست نے ’’ہدایہ عوام کی عدالت میں‘‘ کے نام سے ہدایہ پر اپنے اعتراضات کا مجموعہ شائع کیا ہے جس کا جواب مولانا حبیب اللہ ڈیروی نے زیرنظر کتابچہ کی صورت میں دیا ہے اور دلائل کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ ہدایہ پر کیے جانے والے اکثر اعتراضات کم فہمی یا عناد پر مبنی ہیں جن کا حقیقت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔

’’کمیونزم کا فتنہ‘‘

از: مولانا محمد اسحاق صدیقی
ناشر: صدیقی ٹرسٹ، نسیم پلازا، نشتر روڈ، کراچی
صفحات: ۳۶  قیمت: ایک روپیہ
’کمیونزم‘‘ ایک جدید سیاسی اور معاشی نظام کا نام ہے جو یورپ کے سرمایہ دارانہ و جاگیردارانہ نظام کے مظالم کے ردعمل کے طور پر ابھرا اور طبقاتی کشمکش کے حوالہ سے کمزور طبقات و اقوام کو لپیٹ میں لیتے ہوئے مختلف ممالک میں انقلاب کا عنوان بن گیا۔ لیکن اس کی بنیاد چونکہ خدا کے انکار اور اجتماعی جبر کے غیرفطری فلسفہ پر تھی اس لیے زیادہ دیر نہیں چل سکا اور اب بتدریج فکری اور سیاسی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہا ہے۔
زیر نظر رسالہ میں مولانا محمد اسحاق صدیقی نے کمیونزم کے غیر فطری فلسفہ کا پس منظر واضح کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے نقائص کی نشاندہی کی ہے اور اسلام کے ساتھ اس کے فرق و اختلاف کے اظہار کے علاوہ کمیونسٹ تحریک کے مقاصد اور طریقِ کار پر بھی روشنی ڈالی ہے۔

’’اصلی شادی کارڈ‘‘

مرتب: خواجہ محمد اسلام
ملنے کا پتہ: تبلیغی کتب خانہ، اردو بازار، لاہور
صفحات: ۷۲ ۔ کتابت و طباعت عمدہ
خواجہ محمد اسلام بھلے بزرگ ہیں جو دینی عنوانات پر اصلاحی و تبلیغی کتب و رسائل کی طباعت و اشاعت کا اہتمام کرتے ہیں اور انہیں مختلف حلقوں تک پہنچانے کے لیے پبلسٹی کے بھرپور ذرائع استعمال میں لاتے ہیں۔ انہوں نے مختلف زبانوں میں ’’موت کا منظر‘‘ شائع کی اور اس کی اس انداز میں تشہیر کی کہ اس کا شمار دنیا کی کثیر الاشاعت کتابوں میں ہوتا ہے بلکہ خود خواجہ صاحب موصوف کے لیے بھی یہ کتاب تعارف کا حوالہ بن گئی ہے۔
زیرنظر رسالہ میں خواجہ صاحب مسلم معاشرہ کی خواتین سے مخاطب ہوئے ہیں اور انتہائی سادہ اور عام فہم زبان میں یہ بات سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ ایک مسلمان عورت کے حقوق اور ذمہ داریاں کیا ہیں اور اس کی زندگی کس انداز سے بسر ہونی چاہیے۔ ’’اصلی شادی کارڈ‘‘ کا ایک ایڈیشن انتہائی خوبصورت سنہری ٹائٹل کے ساتھ بھی شائع کیا گیا ہے جس کے بارے میں خواجہ صاحب کی خواہش یہ ہے کہ لوگ شادی کے موقع پر مروّجہ رنگین اور مزین شادی کارڈوں کی بجائے اس کتابچہ کے ٹائٹل پر پروگرام چھپوا کر عزیزوں کو بھجوائیں تاکہ خوبصورت شادی کارڈ کا شوق بھی پورا ہو جائے اور اصلاح و دعوت کا ثواب بھی حاصل ہو۔ بہرحال یہ ایک اچھا جذبہ و کوشش ہے جس کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیئے۔

زکٰوۃ کا فلسفہ اور حقیقت

حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ

عبادت کا ایک طریقہ زکٰوۃ ہے۔ زکٰوۃ کی حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے معبود کی خوشنودی کی خاطر مال و دولت خرچ کرنے کی تکلیف برداشت کرنے کو تیار ہو جائے۔ اس طرح معبود کی خاطر غلاموں کو آزاد کرنا اور ذبیحہ کی قربانی دینا بھی زکٰوۃ کے ملحقات میں سے ہیں۔ جب آدمی کو کوئی تکلیف ومصیبت پیش آتی ہے اور اس کو دور کرنے کے لیے اپنے معبودِ حقیقی کی طرف گھبرا کر رجوع کرتا ہے تو پہلے بارگاہِ اقدس میں صدقہ یا اعتاق یا قربانی پیش کرتا ہے۔
زکٰوۃ کی بہترین صورت یہ ہے کہ وہ اموال میں حق معلوم اور حصہ مقرر ہو، یا شرع اس کی تحدید و تعیین کرے۔انسان کے اموال و املاک میں بنیادی چیزیں یہ ہیں:
  1. نقدین (سونا چاندی)
  2. مویشی
  3. اشیاء تجارت، اور
  4. زراعت اور کھیتی باڑی
ان اموال میں نصاب کا تعین بھی ضروری ہے جس کی مقدار اتنی قلیل بھی نہ ہو جس کے نکالنے میں تکلیف و حرج ہو، اور نہ اتنی زیادہ ہو کہ لوگوں کے پاس اس مقدار کے نصاب کا اکٹھا ہو جانا بہت نادر ہو۔ اسی طرح میعاد کا بھی خیال رکھنا چاہیئے، اس میں  بھی اوسط میعاد ملحوظ رکھنی ہو گی۔ یہ سب کچھ اس  لیے ضروری ہے کہ صاحبِ مال سے زکٰوۃ لینے کا کام آسان ہو جائے اور اس کے فوائد زیادہ سے زیادہ رہیں۔
(البدور البازغۃ مترجم ص ۳۰۸)

امام ولی اللہ کا پروگرام اور روسی انقلاب

حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ

لوگ بالعموم یہ جانتے ہیں کہ روسی انقلاب فقط ایک اقتصادی انقلاب ہے، ادیان اور حیاتِ اخروی سے بحث نہیں کرتا۔ ہم ان روسیوں کے پاس بیٹھے ہیں اور ان کے خیالات و افکار ہم نے معلوم کیے ہیں اور ہم بتدریج اور آہستہ آہستہ نرمی اور لطافت سے امام ولی اللہؒ کا پروگرام، جو انہوں نے حجۃ اللہ البالغۃ میں پیش کیا، ان روسیوں کے سامنے رکھا تو انہوں نے اسے نہایت ہی مستحسن خیال کیا اور ہم سے پوچھنے لگے کہ کیا کوئی ایسی جماعت اس وقت ہے جو اس پروگرام پر عمل کرتی ہو؟ جب ہم نے نفی میں جواب دیا تو انہوں نے بہت افسوس کیا اور کہنے لگے کہ اگر کوئی جماعت اس پروگرام پر عمل کرنے والی ہوتی تو ہم ان کے ساتھ شامل ہو جاتے اور ہم بھی ان میں داخل ہو کر ان کا مذہب اختیار کر لیتے، اور یہ بات ہمارے لیے آسان بنا دیتی ہماری ان مشکلات کو جنہوں نے ہمارے پروگرام کو کسانوں میں نافذ کرنے سے روک رکھا ہے۔
یہ ان روسیوں کی بات کا بلا کم و کاست اور بغیر تحریف کے خلاصہ ہے۔ اس کے بعد یقین ہوا کہ یہ لوگ ہمارے قرآنی پروگرام کو قبول کرنے کی طرف مجبور ہوں گے اگرچہ ایک زمانہ کے بعد ہی کیوں نہ ہو۔ ہم آج کے دور میں عالمی تحریکوں میں سے کسی تحریک کو ایسا نہیں پاتے کہ وہ قرآنی تعلیمات کے خلاف اور مناقض ہو جس طرح انقلابی روس کی تحریک قرآنی پروگرام کے مناقض اور مخالف ہے۔ اور باوجود اس کے وہ بھی مجبور اور مضطر ہیں کہ قرآن اور اس کے پروگرام کی طرف رجوع کریں، باقی تحریکات کا کیا پوچھنا! اور اس چیز نے میرے ایمان میں زیادتی اور قوت پیدا کر دی کہ ہدایت و فلاح قرآن کے نزول کے بعد قرآن کے اتباع پر ہی موقوف ہے۔
(الہام الرحمٰن ص ۷۰)

شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کی تعمیر کا آغاز

ادارہ

بحمد اللہ تعالیٰ جمعیۃ اہل السنۃ والجماعۃ گوجرانوالہ کے زیراہتمام شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کے پہلے تعمیری بلاک کی تعمیر کا کام شروع ہو گیا ہے۔ شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کے لیے جی ٹی روڈ پر لاہور کی جانب اٹاوہ کے ساتھ بتیس ایکڑ زمین خریدی گئی ہے اور تعلیمی کمیٹی کی طرف سے دیے گئے پروگرام کے مطابق آرکیٹیکٹس کی مشہور فرم ندیم ایسوسی ایٹس نے ماسٹر پلان تیار کر لیا ہے جس کی منظوری جمعیۃ اہل السنۃ والجماعۃ کی مجلسِ شورٰی کے اجلاس میں دے دی گئی ہے جو گزشتہ دنوں نائب صدر جناب بابو شمیم احمد کی رہائش گاہ پر الحاج محمد رفیق کی زیرصدارت منعقد ہوا۔ اس ماسٹر پلان کے مطابق سردست پہلے دو منزلہ تعلیمی بلاک کی تعمیر شروع کی گئی ہے جس کی ایک منزل میں آٹھ کلاس روم، اساتذہ کے آٹھ کمرے اور دیگر ضروریات شامل ہیں۔ پہلے مرحلہ میں بلاک کی ایک منزل کی تعمیر ایک سال کے اندر کم و بیش تیس لاکھ روپے کی لاگت سے مکمل کی جائے گی اور آئندہ تعلیمی سال سے کالج کی سطح پر تعلیمی کلاسوں کا آغاز کر دیا جائے گا، ان شاء اللہ العزیز۔
ڈسٹرکٹ کونسل گوجرانوالہ نے اٹاوہ ریلوے پھاٹک سے شاہ ولی اللہ یونیورسٹی تک پختہ سڑک کی تعمیر کی منظوری دے دی ہے اور اس کا سروے کا کام کام شروع ہو چکا ہے جس کے لیے یونیورسٹی کی مجلس انتظامیہ کے سرپرست مولانا زاہد الراشدی اور حافظ بشیر احمد، صدر الحاج میاں محمد رفیق، اور سیکرٹری جنرل شیخ محمد اشرف نے ڈسٹرکٹ کونسل کے چیئرمین جناب رانا نذیر احمد ایم این اے اور دیگر متعلقہ حضرات کا  شکریہ ادا کیا ہے۔ تعلیمی کمیٹی کی سفارش کے مطابق سب سے پہلے تعلیمی شعبہ میں کالج کی کلاسیں شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ آئندہ تعلیمی سال سے ایف اے کی کلاسیں شروع کی جائیں گی اور پہلے سال کے لیے میٹرک یا اس کے مساوی وفاق المدارس العربیہ کا سرٹیفکیٹ رکھنے والے طلبہ کو داخلہ مل سکے گا۔ تعلیمی کمیٹی نے درسِ نظامی کے فضلاء کے لیے:
شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کے سربراہ جمعیۃ اہل السنۃ والجماعۃ کے سرپرست اعلٰی شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر مدظلہ العالی نے یونیورسٹی کے تعمیری کام کے آغاز پر اللہ تعالٰی کا شکر ادا کرتے ہوئے جمعیۃ اہل السنۃ کے عہدہ داروں اور ارکان کو مبارکباد پیش کی ہے اور کہا ہے کہ بالآخر مخلص دوستوں کی تمنائیں، کوششیں اور دعائیں رنگ لائی ہیں اور عملی کام کی ابتدا ہو گئی ہے۔ انہوں نے اس سلسلہ میں کسی بھی سطح پر تعاون کرنے والے تمام احباب کا شکریہ ادا کیا ہے اور اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ تمام دوست اور ساتھی پہلے سے زیادہ جوش و جذبہ اور ذوق و شوق کے ساتھ اپنی کوششیں تیز کر دیں گے۔

مارچ ۱۹۹۰ء

اسلامی بیداری کی لہر اور مسلم ممالکمولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مجھے قرآن میں روحانی سکون ملامولانا ابوعمار زاہد الراشدی
آپ نے پوچھاادارہ
قافلۂ معادادارہ
احادیثِ رسول اللہؐ کی حفاظت و تدوینشیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر
مولانا عزیر گلؒعادل صدیقی
نظامِ خلافت کا احیاءمولانا ابوالکلام آزاد
حرکۃ المجاہدین کا ترانہسید سلمان گیلانی
عیسائی مذہب کیسے وجود میں آیا؟حافظ محمد عمار خان ناصر
اخلاص اور اس کی برکاتالاستاذ السید سابق
چاہِ یوسفؑ کی صداپروفیسر حافظ نذر احمد
شمس الائمہ سرخسی رحمۃ اللہ علیہڈاکٹر حافظ محمد شریف
عصرِ حاضر کی پیشانی پر کلنک کا ٹیکہحافظ محمد اقبال رنگونی
اسلامی نظامِ تعلیم کے خلاف فرنگی حکمرانوں کی سازششریف احمد طاہر
حدودِ شرعیہ کی مخالفت - فکری ارتداد کا دروازہمولانا سعید احمد عنایت اللہ
تعارف و تبصرہادارہ
شہیدِ اسلام مولانا سید شمس الدین شہیدؒ نے فرمایاادارہ
وعظ و نصیحت کے ضروری آدابحضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ
قرآنی احکام کا نفاذ آج بھی ممکن ہےحضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ

اسلامی بیداری کی لہر اور مسلم ممالک

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

روزنامہ جنگ لاہور نے ۲۰ فروری ۱۹۹۰ء کی اشاعت میں ہانگ کانگ کی ڈیٹ لائن سے ’’ایشیا ویک‘‘ کی ایک رپورٹ کا خلاصہ خبر کے طور پر شائع کیا ہے جس میں مغربی ممالک میں مسلمانوں کی آبادی اور ان کے مذہبی رجحانات میں روز افزوں اضافہ کو ’’مغرب میں اسلام کی خوفناک پیش قدمی‘‘ کے عنوان سے تعبیر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے چند اہم نکات درج ذیل ہیں:

یہ ایک ہلکی سی جھلک ہے اس دینی بیداری کی جو مغربی ممالک میں مقیم مسلمانوں کے دل و دماغ میں کروٹ لے رہی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام اور کمیونزم کے ستائے ہوئے معاشروں میں اسلامی بیداری کی یہ لہر جہاں اسلام کی صداقت کی دلیل ہے وہاں عالمی معاشرے میں اسلام کے درخشاں مستقبل کی نوید بھی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جن ممالک میں مسلمان اکثریت میں ہیں اور نام نہاد مسلم حکومتیں بھی قائم ہیں، اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی اس عالمی لہر میں خود ان کا رخ کس جانب ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ملا اعلی میں ’’وان تتولوا یستبدل قوماً غیرکم‘‘ کے اٹل قانون پر عمل کا فیصلہ ہو چکا ہو اور ہم اپنے گروہی، طبقاتی، شخصی، نسلی اور علاقائی تشخصات و تعصبات کی بھول بھلیوں میں اندلس کی تاریخ دہرانے کے کردار پر ہی قناعت کر بیٹھیں۔

شاید کہ اتر جائے کسی دل میں مری بات

مجھے قرآن میں روحانی سکون ملا

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

گزشتہ روز امریکہ سے ایک نومسلم خاتون ڈاکٹر مجاہدہ کے ہرمینسن گوجرانوالہ تشریف لائیں، ان کا سابقہ نام مارسیا ہے اور امریکی ریاست کیلی فورنیا میں سن ڈیگوسٹیٹ یونیورسٹی کے شعبہ مذہبی امور کی پروفیسر ہیں۔ان کے خاوند ملک محمد علوی ان کے ہمراہ تھے۔ علوی صاحب وزیر آباد ضلع گوجرانوالہ کے رہنے والے ہیں اور پندرہ سال سے امریکہ میں قیام پذیر ہیں۔ ڈاکٹر مجاہدہ پیدائشی طورپر کنیڈین ہیں اور ایک عرصہ سے امریکہ میں رہائش پذیر ہیں۔ موصوفہ نے کم وبیش دس سال قبل اسلام قبول کیا، عربی زبان سیکھی، ار دو اور فارسی سے بھی آشنائی حاصل کی،امام ولی اللہ دہلویؒ کے مذہبی نظریات پر برکلے یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی اور ان دنوں تذکرہ نویسی کے موضوع پر اپنے ایک مقالہ کی تیاری کے لیے سکالرشپ پر پاکستان آئی ہوئی ہیں۔ شاہ ولی اللہ دہلویؒ پر پی ایچ ڈی کے مقالہ کی تیاری کے دوران انہیں حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی صاحب مہتمم مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کی بعض تصانیف سے استفادہ کا موقع ملا اور اپنے دورۂ پاکستان کے موقع پر انہیں یہ شوق ہوا کہ حضرت صوفی صاحب مدظلہ سے براہ راست ملاقات کریں اور ان سے علمی استفادہ کریں۔

۱۷ فروری کو مدرسہ نصرۃ العلوم کی لائبریری میں ڈاکٹر مجاہدہ موصوفہ کی حضرت صوفی صاحب سے ملاقات ہوئی جس میں ملک محمد علوی صاحب اور راقم الحروف بھی شریک تھے۔ اس موقع پر حضرت صوفی صاحب نے ڈاکٹر مجاہدہ سے سوال کیا کہ آج کے دور میں جبکہ مسلمانوں کی اجتماعی حالت باعث کشش نہیں ہے انہیں اسلام کی طرف رغبت کیسے ہوئی اور انہوں نے کس چیز سے متاثر ہو کر اسلام قبول کیا؟ ڈاکٹر مجاہدہ نے جواب دیا کہ انہیں ایک عرصہ سے روحانی سکون کی تلاش تھی اور وہ روحانی طورپر ایک خلا محسوس کررہی تھی، روح کے لیے سکون کی تلاش میں انہوں نے متعدد سفر کیے، اس دوران جبکہ وہ سپین (اندلس) میں تھیں مراکش ریڈیو سے انہیں متعدد بار قرآن کریم کی تلاوت سننے کا موقع ملا اور انہیں محسوس ہوا کہ وہ جس روحانی سکون کی تلاش میں ہیں وہ اس کلام میں ہے۔ انہیں عربی زبان سے بھی دلچسپی تھی اس لیے انہوں نے قرآن کریم کا مطالعہ کیا اور قرآن کریم کے اس مطالعہ نے انہیں ہدایت کی منزل سے ہمکنار کردیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ایک موقع پر دہلی میں تھیں تو حضرت نظام الدین اولیاء رحمہ اللہ تعالٰی کے مزار پر گئیں وہاں انہوں نے ایک عجیب قسم کے روحانی سکون کی فضا محسوس کی جس سے انہیں تصوف اور سلوک سے دلچسپی پیدا ہوئی۔

ڈاکٹر مجاہدہ نے بتایا کہ انہوں نے شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی معروف تصنیف ’’حجۃ اللہ البالغۃ‘‘ کا انگلش میں ترجمہ شروع کیا ہے، ایک جلد کا ترجمہ وہ مکمل کرچکی ہیں اور دوسری جلد پر کام جاری ہے۔ نیز انہوں نے پی ایچ ڈی کے لیے حضرت شاہ ولی اللہؒ پر چوتھا مقالہ لکھا ہے جسے ’’حجۃ اللہ البالغۃ‘‘ کے انگلش ترجمہ کے مقدمہ کے طور پر شائع کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ انہوں نے انگلش میں حضرت شاہ ولی اللہؒ پر چند مقالات لکھے ہیں جو مختلف جرائد میں شائع ہوئے ہیں۔

حضرت صوفی صاحب مدظلہ کے ساتھ ایک گھنٹہ کی یہ نشست انتہائی معلوماتی اور ایمان افروز تھی۔ نو مسلم کنیڈین خاتون نے حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے فلسفہ اور جدوجہد کے مختلف پہلوؤں پرسوالات کیے جن پر حضرت صوفی صاحب مدظلہ نے تفصیلی روشنی ڈالی۔ ڈاکٹر مجاہدہ حضرت صوفی صاحب سے شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے فلسفہ اور کام پر گفتگو کر رہی تھیں اور میرا ذہن اس سوال کے گرد گھوم رہا تھا کہ اسے اسلام کا اعجاز کہاجائے یا شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی کرامت کہ اللہ رب العزت دہلی سے ہزارہا میل دور کیلی فورنیا کی ایک یونیورسٹی میں شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے فلسفہ اور تعلیمات کی اشاعت اور تعارف کا ایک ایسے دور میں انتظام کر رہا ہے جبکہ دنیا کا معاشرہ مغرب کے سرمایہ دارانہ نظام کی دی ہوئی مادرپدر آزادی اور کمیونزم کے مسلط کردہ اجتماعی جبر کی حشر سامانیوں سے تنگ آچکا ہے، اور کسی ایسے معتدل اور متوازن نظام کی تلاش میں ہے جو بے راہ روی اور جبر کے درمیان صراط مستقیم کی حیثیت رکھتا ہو۔ یہ نظام بلاشبہ اسلام کا عادلانہ نظام ہے اور اسے جس طرح انسانی معاشرے کے لیے اجتماعی نظام کے طورپر شاہ ولی اللہؒ نے پیش کیا ہے یقیناً وہی فلسفہ مغربی جمہوریت، کیپٹل ازم اور کمیونزم کا نظریاتی طور پر سامنا کر سکتا ہے اور وہ وقت قریب آگیا ہے جب ولی اللہی فلسفہ ایک زندہ اور متحرک قوت کے طور پر نظام اسلام کے احیاء ونفاذ کا ذریعہ بنے گا، ان شاء اللہ العزیز۔

ڈاکٹر مجاہدہ کو ’’شاہ ولی اللہ یونیورسٹی‘‘ کے منصوبہ سے آگاہ کیا گیا تو انہوں نے اس پر بے حد مسرت کا اظہار کیا اور اسے وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے اس کی کامیابی کی دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کی انتظامیہ کو اس منصوبہ کے لیے ان سے جس قسم کی تعاون کی ضرورت ہوگی وہ اس میں خوشی اور سعادت محسوس کریں گی۔

آپ نے پوچھا

ادارہ

اسلام میں معاشی مساوات کا تصور

سوال: ایک طالب علم تنظیم (۱) خدا پرستی (۲) انسان دوستی اور (۳) معاشی مساوات کو اپنے بنیادی اصول قرار دیتی ہے۔ کیا معاشی مساوات کا تصور اسلام میں ہے؟ (نیاز محمد ناصر بلوچستانی)

جواب: معاشی مساوات کا معنٰی اگر تو یہ ہے کہ ایک معاشرہ کے تمام افراد ایک ہی جیسی زندگی گزاریں اور خوراک، لباس، رہائش، ملکیت، کاروبار اور دیگر معاملات میں ان میں کسی قسم کا کوئی تفاوت اور ترجیحات نہ ہوں تو یہ قطعی طور پر ایک غیر فطری تصور ہے جو نہ صرف یہ کہ اسلام کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے بلکہ عملاً بھی ناممکن ہے۔ ہر انسان ذہنی صلاحیت، قوتِ کار اور وسائل سے استفادہ کی استعداد کے لحاظ سے دوسرے سے مختلف ہے۔ اور یہ ممکن نہیں ہے کہ آپ اپنے چار یا پانچ لڑکوں کو ایک ایک ہزار روپے کی رقم دیں اور یہ توقع رکھیں کہ سب کے سب اس رقم کو ایک ہی مدت میں خرچ کریں گے، ایک ہی مصرف میں صرف کریں گے اور ایک ہی جیسے نتائج اور منافع حاصل کریں گے۔ یہ قطعی غیر فطری بات ہے اور اسلام میں اس کی گنجائش نہیں ہے۔ البتہ اسلام پیداوار کے قومی ذرائع سے استفادہ کا ہر شہری کو یکساں حق دیتا ہے اور قومی ذرائع سے استفادہ کے باب میں ترجیحات کا قائل نہیں ہے۔ ہاں اگر کوئی شہری اس حق کو استعمال کرنے میں اپنی ذہنی صلاحیت اور قوت کار کے لحاظ سے دوسروں سے بڑھ جائے تو یہ اس کی اپنی محنت اور صلاحیت کا ثمر ہے۔

جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت صدیق اکبرؓ کے دورِ خلافت میں بحرین سے بیت المال میں خاصا سامان اور دولت آئی، اس موقع پر حضرت عمرؓ نے یہ تجویز پیش کی کہ بیت المال سے وظائف اور اموال کی تقسیم میں ترجیحات قائم کی جائیں اور حضراتِ صحابہؓ کرام میں فضیلت کے جو درجات ہیں اس لحاظ سے تقسیم کے درجات قائم کیے جائیں۔ مثلاً بدری صحابہؓ کو سب سے زیادہ دیا جائے، پھر مہاجرینؓ کو، پھر تیسرے نمبر پر انصارؓ کو اور پھر بعد میں مسلمان ہونے والے حضراتؓ کا درجہ رکھا جائے۔ لیکن حضرت ابوبکرؓ نے یہ کہہ کر اس تجویز کو مسترد کر دیا کہ فضیلت کا تعلق آخرت سے ہے، اس کا ثواب زیادہ یا کم آخرت میں ملے گا ’’وھذہ معاش فالأسوۃ فیہ خیر من الاثرۃ‘‘ اور یہ معیشت ہے اس میں برابری ترجیح سے بہتر ہے۔ چنانچہ حضرت صدیق اکبرؓ اپنے دور خلافت میں اسی اصول پر عمل کرتے رہے لیکن جب حضرت عمرؓ خلیفہ بنے تو انہوں نے اس اصول کو بدل کر اپنی تجویز کے مطابق ترجیحات کی بنیاد پر وظائف کی تقسیم کا سلسلہ شروع کر دیا اور دس سالہ دور خلافت میں اسی طریق کار پر عمل کیا۔ البتہ آخری سال انہوں نے اس خیال کا اظہار کیا کہ تجربہ سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ بیت المال سے وظائف کی تقسیم کے بارے میں حضرت ابوبکرؓ کی رائے درست تھی اس لیے آئندہ سال سے میں موجودہ طریق کار کو ترک کر کے حضرت ابوبکرؓ کے طے کردہ اصول کے مطابق برابری کی بنیاد پر وظائف کی تقسیم کا نظام قائم کروں گا۔ لیکن اس کے بعد حضرت عمرؓ کی شہادت ہوگئی اور انہیں اپنے نظام پر نظرثانی کا موقع نہیں مل سکا۔

امام ابو یوسفؒ نے کتاب الخراج میں یہ ساری تفصیل بیان کی ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سرکاری اور قومی ذرائع پر تمام شہریوں کا حق یکساں ہے اور اس میں ترجیحات قائم کرنا بہتر نہیں ہے۔ البتہ یہاں زیر بحث مسئلہ کا ایک اور پہلو بھی ہے جسے نظر انداز کرنا شاید قرین انصاف نہ ہو۔ وہ یہ کہ صدیقی دور میں بیت المال سے وظائف کی تقسیم برابری کی بنیاد پر ہوتی رہی ہے اور فاروقی دور میں ترجیح کا اصول اپنایا گیا ہے۔ اگرچہ حضرت عمرؓ نے اس سے رجوع کا زبانی اظہار فرما دیا تھا لیکن اس کے بعد بھی ترجیحی اصول پر عملدرآمد کا تسلسل قائم رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دراصل دونوں اصول موقع محل کی مناسبت سے قابل عمل ہیں اور حالات کو سامنے رکھتے ہوئے ان میں سے کسی بھی اصول کو اپنایا جا سکتا ہے۔ اصل بات اجتماعی مفاد کی ہے، اگر کسی وقت حالات کا تقاضا قومی ذرائع پیداوار کی برابری کی بنیاد پر تقسیم کا ہو اور اجتماعی مفاد اس میں ہو تو ایک اسلامی حکومت اس اصول کو اپنا سکتی ہے، اور کسی دور میں اگر اجتماعی حالات کا تقاضا اس کے برعکس ہو تو دوسری صورت اختیار کرنے کی گنجائش بھی موجود ہے۔

دینی مدارس کا نصاب اور اکابر کا طرزعمل

سوال: آج مختلف اطراف سے دینی مدارس کے نصاب میں تبدیلی اور اس میں عصری علوم اور تقاضوں کو شامل کرنے کی آواز اٹھ رہی ہے جبکہ ہمارے اکابر نے ایسا نہیں کیا اور نہ ہی کسی بزرگ نے اس مقصد کے لیے کوشش کی۔ کیا موجودہ رجحان اکابر کے طرز عمل سے انحراف نہیں ہے؟ (منظور احمد، سمن آباد، گوجرانوالہ)

جواب: یہ کہنا کہ ہمارے اکابر نے دینی مدارس کے نصاب میں عصری تقاضوں کو شامل کرنے کی طرف توجہ نہیں دی ہے یا اسے پسند نہیں کیا، خلافِ واقعہ بات ہے۔ سب سے پہلے دینی مدارس اور عصری علوم کو اکٹھا کرنے کی بات شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ نے کی تھی اور اس کو عملی جامہ پہنانے کے لیے خود علی گڑھ تشریف لے گئے تھے۔ ندوۃ العلماء لکھنو کا قیام بھی اسی جذبہ کے تحت عمل میں لایا گیا تھا اور اسی مقصد کے لیے جامعہ ملیہ دہلی کی تشکیل ہوئی تھی۔ اس ضمن میں جمعیۃ العلماء ہند کی مندرجہ ذیل قرارداد بطور خاص اہمیت رکھتی ہے جو جمعیۃ کے تیرہویں عمومی اجلاس منعقدہ لاہور بتاریخ ۲۰ تا ۲۱ مارچ ۱۹۴۲ء میں شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کی زیر صدارت منظور ہوئی تھی۔ قرارداد کا متن یہ ہے:

’’جمعیۃ العلماء ہند کا یہ اجلاس مدارس عربیہ دینیہ کے مروجہ نصاب میں دورِ حاضر کی ضرورتوں کے موافق اصلاح و تبدیلی کی ضرورت شدت سے محسوس کرتا ہے اور مدارس عربیہ کے ذمہ دار حضرات اور تعلیمی جماعتوں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ ماہرین تعلیم کی ایک کمیٹی اس پر غور کرنے کے لیے باہمی مشورے اور تعاون سے مقرر کر کے ایک ایسا نصاب مرتب کرائیں جو دینی علوم کی تکمیل کے ساتھ ضروریات عصریہ میں بھی مہارت پیدا کرنے کا کفیل ہو، اور اس سلسلہ میں جمعیۃ العلماء ہند ارباب علم سے رائے لے کر اپنی صوابدید کے مطابق حتی الوسع جلد کوئی مؤثر اقدام کرے۔‘‘

اس سے واضح ہوتا ہے کہ درس نظامی کے نصاب میں عصری تقاضوں کے امتزاج کی ضرورت کا احساس ہمارے اکابر کو بھی تھا، صرف اتنی بات تھی کہ وہ تحریکِ آزادی میں مصروفیات کے باعث اس سمت کوئی نتیجہ خیز عملی پیش رفت نہیں کر سکے۔ اور اس سے یہ بھی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اگر ۱۹۴۲ء میں اس ضرورت کا احساس اس قدر شدت کے ساتھ تھا تو آج ۱۹۹۰ء میں اس کی اہمیت اور ضرورت میں کس قدر اضافہ ہو چکا ہوگا۔

قافلۂ معاد

ادارہ

مولانا حق نواز جھنگوی شہیدؒ

انجمن سپاہِ صحابہؓ پاکستان کے سرپرست اعلیٰ اور تحفظِ ناموس صحابہؓ کے بے باک نقیب مولانا حق نواز جھنگویؒ ۲۲ فروری ۱۹۹۰ء کو جھنگ صدر میں اپنی رہائش گاہ کے دروازے پر سفاک قاتل کی گولیوں کا نشانہ بن کر جام شہادت نوش کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مولانا شہیدؒ جامعہ مدنیہ شورکوٹ کے سالانہ جلسہ میں شرکت کے لیے روانگی کی تیاری کر رہے تھے جہاں انہوں نے رات کی نشست سے خطاب کرنا تھا، اچانک آٹھ بجے کے قریب کسی نے دروازے پر گھنٹی دی، مولانا جھنگویؒ باہر آئے، مبینہ طور پر دو آدمی تھے جن میں سے ایک نے مولاناؒ سے گفتگو شروع کی جبکہ دوسرے نے ریوالور سے پے در پے فائر کر دیے۔ مکان کے سامنے گراؤنڈ میں شادی کی ایک تقریب تھی، انہوں نے شور کوٹ جانے سے قبل اس شادی میں بھی شریک ہونا تھا، فائر کی آواز سے لوگوں نے سمجھا کہ شادی کی خوشی میں نوجوان فائرنگ کر رہے ہیں، یہی اشتباہ حملہ آوروں کے لیے غنیمت ثابت ہوا اور وہ موقع سے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔ گولیاں مولانا جھنگویؒ کے سر، گلے اور پیٹ میں لگیں، وہ وہیں گر گئے۔ انہیں گرتا دیکھ کر اردگرد کے لوگ متوجہ ہوئے، علاقہ میں کہرام مچ گیا، مولانا شہیدؒ کو فورًا ہسپتال لے جایا گیا مگر ہسپتال پہنچنے سے قبل ہی وہ عروسِ شہادت سے ہمکنار ہوگئے۔

راقم الحروف اس روز شورکوٹ میں تھا، ظہر کے بعد جامعہ مدنیہ شورکوٹ کینٹ میں سالانہ جلسہ سے خطاب کیا اور حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود مدظلہ کے ہمراہ مغرب کی نماز جامعہ عثمانیہ شورکوٹ شہر میں ادا کی۔ نماز کے بعد جامعہ عثمانیہ کے مہتمم مولانا بشیر احمد خاکی کے ساتھ ان کے دفتر میں بیٹھے تھے کہ مولانا حق نواز جھنگویؒ کا فون آیا۔ مولانا خاکی کے علاوہ انہوں نے علامہ صاحب اور راقم الحروف سے بھی بات کی۔ کم و بیش سات بجے کا وقت تھا، یہ ہماری آخری گفتگو تھی جو فون پر ہوئی۔ مولانا جھنگویؒ نے جمعیۃ علمائے اسلام پاکستان کے اتحاد اور سنی کاز کی جدوجہد کو سیاسی پلیٹ فارم پر منظم کرنے کے سلسلہ میں مشاورت کے لیے گوجرانوالہ تشریف آوری کی خواہش کا اظہار کیا اور ہمارے درمیان آئندہ ہفتہ کے دوران کسی وقت مل بیٹھنے کی بات طے ہوئی۔ وہاں سے فارغ ہو کر علامہ خالد محمود صاحب اور راقم الحروف واپسی کے لیے بس اسٹاپ پر پہنچے تو بہت سے نوجوان سپاہِ صحابہؓ کا پرچم اڑھائے مولانا حق نواز جھنگویؒ کے استقبال کے لیے ان کے انتظار میں کھڑے تھے۔ ان نوجوانوں نے ہی جھنگ جانے والی ایک ویگن روک کر ہمیں سوار کرایا اور جب ہم جھنگ پہنچے تو یہ روح فرسا خبر اپنی تمام تر حشر سامانیوں سمیت ہماری منتظر تھی کہ عزیمت و استقامت کی شاہراہ کا یہ بلند حوصلہ مسافر شہادت کی منزل کو پہنچ چکا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔

نماز جنازہ اگلے روز جمعہ کی نماز کے بعد اسلامیہ ہائی سکول کی گراؤنڈ میں ادا کی گئی۔ حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی دامت برکاتہم نے نمازِ جنازہ پڑھائی اور جھنگ میں کرفیو کے اعلان اور چاروں طرف باہر سے آنے والوں کو روکنے کے لیے پولیس کی ناکہ بندی کے باوجود ملک کے مختلف حصوں سے عقیدت مندوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اخبارات کی رپورٹ کے مطابق یہ جھنگ کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ تھا۔ نمازِ جنازہ کے بعد مولانا حق نواز جھنگویؒ کے قائم کردہ جامعہ محمودیہ میں انہیں سپردِ خاک کر دیا گیا۔

جھنگ کے احباب کے مطابق چند روز قبل مولانا جھنگویؒ کو دوبئی سے ایک ٹیلی فون کال کے ذریعہ خبر دی گئی کہ انہیں قتل کرنے کی سازش ہو رہی ہے اور خفیہ ذرائع کے مطابق ۲۰ فروری سے ۲۵ فروری کے درمیان مولانا حق نواز جھنگویؒ، مولانا عبد الستار تونسویؒ اور مولانا منظور احمدؒ چنیوٹی کو قتل کرنے کے ایک منصوبہ کا انکشاف ہوا ہے۔ مولانا جھنگویؒ نے گزشتہ جمعہ کے خطبہ میں اس کا ذکر بھی کر دیا اور انتظامیہ کے نوٹس میں بات آگئی لیکن تقدیر کے فیصلوں کو کون ٹال سکتا ہے۔

آج مولانا حق نواز جھنگویؒ ہم میں نہیں ہیں، وہ اپنے عظیم مشن کی خاطر جان کا نذرانہ پیش کر کے خالقِ حقیقی کے حضور سرخرو ہو چکے ہیں۔ لیکن تحفظِ ناموسِ صحابہؓ کے جس مقدس مشن کی خاطر انہوں نے محنت کی اور قربانی و ایثار کی عظیم روایات کو زندہ کیا وہ مشن زندہ ہے اور جب تک یہ مشن زندہ ہے مولانا حق نواز جھنگویؒ کا نام، خدمت اور قربانی و ایثار کی روایات زندہ رہیں گی۔ ہم اس عظیم سانحہ پر انجمن سپاہِ صحابہؓ کے نوجوانوں، جھنگ کے شہریوں اور مولانا شہیدؒ کے اہلِ خاندان سے دلی تعزیت کرتے ہیں اور دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ مولانا شہیدؒ کے درجات بلند فرمائیں اور ان کے رفقاء، پسماندگان اور عقیدتمندوں کو صبر و حوصلہ کے ساتھ ان کا مشن جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائیں، آمین۔

 مولانا محمد رمضان علویؒ

گزشتہ دنوں راولپنڈی کے ایک بزرگ عالم دین حضرت مولانا محمد رمضان علویؒ ٹریفک کے حادثہ میں زخمی ہونے کے بعد انتقال فرما گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مولانا علویؒ بھیرہ کے رہنے والے تھے، دارالعلوم دیوبند کے فاضل تھے۔ باپ دادا سے قرآن کریم کی خدمت کا ذوق ورثہ میں ملا تھا۔ ایک عرصہ سے راولپنڈی میں قیام پذیر تھے۔ امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے ساتھ خصوصی تعلق تھا۔ مجلس احرارِ اسلام میں طویل عرصہ رہے اور جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے ساتھ بھی کچھ عرصہ وابستگی رہی۔ ان دنوں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن تھے۔ خانقاہ سراجیہ شریف کندیاں کے ساتھ روحانی تعلق تھا اور جری، بے باک اور سرگرم عالم دین تھے۔ دینی اور قومی تحریکات میں ہمیشہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ان کی وفات سے ہم ایک شفیق، ہمدرد اور دردِ دل سے بہرہ ور مخلص بزرگ اور عالم دین سے محروم ہوگئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کریں اور ان کے فرزندان مولانا عزیز الرحمان خورشید، مولانا سعید الرحمان علوی، دیگر اہل خانہ اور لواحقین کو صبر جمیل کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

احادیثِ رسول اللہؐ کی حفاظت و تدوین

شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر

بدقسمتی سے آج ایک ایسا طبقہ بھی موجود ہے جو خود کو مسلمان کہلاتا ہے اور بایں ہمہ احادیث کو مشکوک نگاہوں سے دیکھتا اور ان سے گلوخلاصی کے لیے طرح طرح کے بہانے تراشتا ہے۔ کبھی کہتا ہے کہ احادیث ظنی ہیں، کبھی کہتا ہے کہ وہ قرآن کریم سے متصادم ہیں، کبھی کہتا ہے کہ وہ عقل کے خلاف ہیں، کبھی کہتا ہے کہ احادیث دوسری تیسری صدی کی پیداوار ہیں، کبھی کہتا ہے کہ یہ عجمیوں کی سازش ہے، اور کبھی جعلی اور موضوع احادیث کو چن چن کر بلاوجہ درمیان میں لا کر ان کی وجہ سے صحیح احادیث پر برستا ہے، کبھی ان کے معانی میں کیڑے نکالتا ہے۔ الغرض مشہور ہے کہ ’’خوئے بدرا بہانہ ہائے بسیار‘‘۔
حافظ ابن تیمیہؒ نے بجا فرمایا کہ ہر زندیق اور منافق کا اس علم کو باطل کرنے کے لیے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو دے کر بھیجا ہے، یہ عمدہ ہتھیار ہے کہ وہ کبھی تو یہ کہتا ہے کہ ہمیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے پیغمبروں نے ایسا فرمایا ہے؟ اور کبھی کہتا ہے کہ ہم نہیں جانتے کہ اس سے ان کی مراد  کیا ہے؟ اور جب ان کے قول اور اس کے معنی کے علم ہی کی پیغمبر سے نفی ہو گئی اور علم ان کی طرف سے حاصل نہ ہوا تو اس کے بعد احادیث (حضرات انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام) کے معارضہ سے مامون ہو کر زندیق اور منافق جو چاہتا ہے اپنی طرف سے کہتا ہے، کیونکہ اسلام کی سرحدیں ان دو تیروں سے محفوظ ہیں ( ایک الفاظِ حدیث اور دوسرا ان کے معانی)۔ اور پھر آگے لکھتے ہیں اگرچہ زبانی کلامی زندیق اور منافق حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی تعظیم و کمال کا اقرار بھی کرتا ہے (محصلہ نقص المنطق ص ۷۵ طبع القاہرہ) ۔ اور کبھی کہتا ہے کہ اگر احادیث حجت ہیں تو آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور حضرات صحابہ کرامؓ نے وہ کیوں نہیں لکھیں اور لکھوائیں؟ اور کبھی کہتا ہے کہ آپؐ نے اور حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے احادیث کو مٹانے کا حکم کیوں دیا تھا؟
یہاں ہمیں یہ عرض کرنا ہے کہ اہلِ عرب کو اللہ تعالیٰ نے بڑے قوی حافظے دیے تھے اور وہ کتابت سے زیادہ حفظ پر بھروسہ کرتے تھے اور کتابت کو چنداں وقعت نہ دیتے تھے اور نری کتابت پر اعتماد کو وہ ایک کم درجے کی حیثیت دیتے تھے۔ چنانچہ امام ابو عمر یوسفؒ بن عبد البر المالکیؒ (المتوفی ۴۶۳ھ) اس سلسلہ میں چند قیمتی باتیں نقل کرتے ہیں جو اہل عرب اور اربابِ ذوق کے لیے فائدہ سے خالی نہیں۔
(۱) قال اعرابی حرف فی تامورک خیر من عشرۃ فی کتبک (جامع بیان العلم ج ۱ ص ۶۹)
’’بدو کہتا ہے کہ ایک حرف جو تیرے دل میں محفوظ ہے ان دس باتوں سے بہتر ہے جو تیری کتابوں میں درج ہے۔‘‘
اندازہ لگائیں کہ عرب کا بدو کتابوں کا طومار دیکھ کر کس طرح مذاق اڑاتا تھا اور یہ فقرہ بدوؤں میں عام  چلتا ہوا فقرہ تھا اور یہ محض اس لیے تھا کہ وہ دولتِ حفظ سے نوازے گئے تھے۔
(۲) مذھب العرب انھم کانوا مطبوعین علی الحفظ مخصوصین بذالک (جامع بیان العلم ج ۱ ص ۶۹)
’’عرب کا طریقہ ہی یہ تھا کہ حفظ کی دولت ان کی فطرت اور طبیعت میں پیوست تھی اور وہ اس دولت سے مختص تھے۔‘‘
اس عبارت سے ان کی فطری صلاحیت اور حفظ کے ساتھ اختصاص بالکل واضح ہے۔
(۳) قال الخلیل رحمہ اللہ تعالیٰ ؎
لیس العلم ما حوی القمطر
ما العلم الا ما حواہ الصدر
’’امام خلیل بن احمدؒ (المتوفی ۱۷۴ھ) فرماتے ہیں کہ علم وہ نہیں جو کاغذوں اور کتابوں میں درج ہے بلکہ علم وہ ہے جو سینہ میں محفوظ ہے۔‘‘
(۴) یونس بن حبیبؒ نے ایک شخص سے سنا (جامع بیان العلم ج ۱ ص ۶۹) ؎
استودع العلم قرطاسا فضیعہ
و بئس مستودع العلم القراطیس
’’یعنی اس نے علم کو کاغذ کے سپرد کر دیا اور علم کو ضائع کر دیا اور علم کا برا ظرف اور مکان کاغذ ہیں۔‘‘
(۵) منصور فقیہ فرماتے ہیں (جامع بیان العلم ج ۱ ص ۶۹) ؎
علمی معی حیث ما یممت احملہ
بطنی دعاء لہ بطن صندوقی
ان کنت فی البیت کان العلم فیہ معی
او کنت فی السوق کان العم فی السوقٖ
’’یعنی میرا علم میرے ساتھ ہی ہوتا ہے جہاں بھی میں قصد کرتا ہوں اسے اٹھائے پھرتا ہوں۔ میرا پیٹ علم کا برتن ہے نہ کہ صندوق کا پیٹ۔ اگر میں گھر میں ہوتا ہوں تو علم بھی میرے ساتھ گھر میں ہی ہوتا ہے اور اگر میں بازار میں ہوتا ہوں تو علم بھی میرے ساتھ بازار میں ہوتا ہے۔‘‘
(۶) ان حضرات کو اللہ تعالیٰ نے ایسا غضب کا حافظہ دیا تھا کہ غیر ارادی طور پر بھی وہ جو کچھ سن لیتے وہ بھی ان کے سینہ میں محفوظ رہتا۔ چنانچہ امام زہریؒ کا بیان ہے کہ
انی لامر البقیع فاسد اذانی مخافۃ ان یدخل فیھا شئ من الخنافوا اللہ ما دخل اذنی شئ قط خفیتہ۔ (جامع بیان العلم ج ۱ ص ۶۹)
’’میں بقیع کے پاس سے گزرتا ہوں تو اپنے کان بند کر لیتا ہوں اس ڈر کے مارے کہ میرے کانوں میں کوئی فحش قسم کے گانے نہ داخل ہو جائیں۔ بخدا کبھی کوئی چیز میرے کان میں داخل نہیں ہوئی کہ پھر وہ مجھے بھول گئی ہو۔‘‘
جن حضرات کو اللہ تعالیٰ نے ایسے غضب کے حافظے مرحمت فرمائے تھے وہ بھلا اپنے پیارے پیغمبر کی باتوں کو بھول سکتے تھے جب کہ آپؐ کے ایک بال کے متعلق حضرت عبیدہؒ (بن عمرو السلمانیؒ المتوفی ۷۲ھ) یہ فرماتے ہیں:
لان تکون عندی شعرۃ منہ احب الی من الدنیا و ما فیھا۔ (بخاری ج ۱ص ۲۹)
’’یعنی آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بالوں میں سے ایک بال بھی میرے پاس ہو تو دنیا و ما فیھا سے وہ مجھے زیادہ محبوب ہے۔‘‘
خیال فرمائیں کہ جو حضرات صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک بال مبارک کو دنیا و مافیھا سے بہتر سمجھتے تھے وہ آپؐ کی حدیثوں کو کس عقیدت و محبت کی نگاہ سے دیکھتے ہوں گے۔
(۷) امام ابن عبد البرؒ لکھتے ہیں کہ
ان العرب قد خصت بالحفظ کان احدھم یحفظ اشعار بعض فی سمعۃ واحدۃ وقد جاء ان ابن عباسؓ حفظ قصیدۃ عمر بن ابی ربیعۃ امن آل نعم انت عاد فبکر فی سمعۃ واحدۃ الخ۔ (جامع بیان العلم ج ۱ ص ۶۹ و ۷۰)
’’اہل عرب حافظہ کے ساتھ مختص تھے، ان میں ایسے بھی تھے جو ایک ہی دفعہ بعض کے اشعار سن کر یاد کر لیتے تھے اور حضرت ابن عباسؓ نے عمر بن ابی ربیعہ کا قصیدہ امن من آل الخ (یعنی کیا آل نعم سے توکل بہت ہی سویرے چلے گا الخ) ایک ہی دفعہ سن کر یاد کر لیا تھا (یہ قصیدہ تقریبًا ستر یا اسی اشعار پر مشتمل تھا)۔‘‘
(۸) امام شعبیؒ فرماتے ہیں:
ما کتبت سوداء فی بیضاء و ما استعدت حدیثًا من انسان۔ (طبقات ابن سعدؒ دارمی ص ۱۲۵ طبع دمشق و تہذیب التہذیب ج ۵ ص  ۶۷)
’’یعنی میں نے کبھی سیاہی کے ساتھ کاغذ پر کچھ نہیں لکھا (سب سینے میں محفوظ کیا ہے) اور میں نے کبھی کسی انسان سے حدیث دہرانے کی خواہش نہیں کی۔‘‘
یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ جو دینی ذوق ان حضرات کو تھا وہ بعد والوں کو حاصل نہیں ہو سکا اور قرآن کریم کے بعد دین کا منبع حدیث شریف اور آثار حضرات صحابہؓ ہیں اور حفظ کی خداداد دولت بھی ان کو وافر نصیب تھی اور انہوں نے پوری ہمت اور استقلال کے ساتھ اس کا ثبوت بھی دیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا کوئی قول اور فعل بلکہ کوئی حرکت و ادا ان سے اوجھل نہ رہے تو پھر یہ کیسے متصور ہو سکتا ہے کہ اس کو محفوظ رکھنے کے سلسلے میں انہوں نے کسی بھی قسم کی کوئی کوتاہی کی ہو۔ اس دور کے مسلمانوں کی اکثریت قرآن کریم کے  بعد احادیث کی حافظ ہوتی تھی۔ کسی کو کم اور کسی کو زیادہ حدیثیں ازبر ہوتی تھیں اور ہر مسلمان چلتی پھرتی سنت تھا۔
جب خیر القرون سے بُعد ہوتا گیا تو وہ برکات نہ رہیں جو ان مبارک قرون میں ہوتی تھیں اور علم و عمل کا وہ ذوق و شوق بھی کم ہوتا چلا گیا اور جید اور قابل اعتبار علماءِ ملت کو فکر ہوئی کہ کتب حدیث کی باقاعدہ تدوین کیے بغیر یہ قیمتی ذخیرہ محفوظ اور باقی نہیں رہ سکتا۔ اس لیے انہوں نے آنے والی نسلوں کے لیے حدیث کو کتابت کی شکل میں محفوظ رکھنا ضروری سمجھا اور ان کی اس نیک اور مخلصانہ کوشش اور کاوش سے حدیث کی تدوین ہوئی۔
الغرض کتابتِ حدیث تو دورِ زوال و انحطاط کی یادگار ہے اور اس دور کی کارروائی تو منکرینِ حدیث کے نزدیک قابلِ سند اور حجت ہے مگر صد افسوس ہے کہ دورِ کمال اور زمانۂ عروج کی ارفع و معتمد علیہ کارروائی ان کے نزدیک مشکوک ہے اور ان کا یہ عذر لنگ محض حدیث سے رستگاری کے لیے ہے کہ کلیتًا حدیث سے انکار کے بعد دین کی جو صورت ان کے ماؤف ذہن اور نارسا عقل میں آئے گی وہ دین تصور ہو گی ۔۔۔ اور جو کچھ بقول ان کے عقل کے خلاف ہو گا یا ان کے نفسِ امارہ پر شاق اور گراں گزرے گا تو وہ بزعم ان کے عجمیوں کی سازش ہو گی اور ناقابل اعتماد ذخیرہ ہو گا۔ اگر ان کے نزدیک کتابت ہی حجت اور قابل اعتبار حقیقت ہے تو ذیل کے ٹھوس اور مفصل حوالوں سے بخوبی اس کا اندازہ بھی ہو جائے گا کہ ان مبارک ادوار میں کتابت حدیث کی بھی کوئی کمی نہ تھی اور لکھنے والے باقاعدہ لکھا بھی کرتے تھے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک طویل ہدایت نامہ جس میں دین کی بنیادی باتوں کا تذکرہ ہے تحریر کروا کر اور مہر لگا کر بدست حضرت دحیہؓ بن خلیفہ ہرقل روم کو بھیجا تھا (بخاری ج ۱ ص ۴، مسلم ج ۲ ص ۹۷)۔ اور اسی طرح بنام کسرٰی شاہ ایران آپؐ کا دعوت نامہ جو بحرین کے گورنر المنذر بن ساوٰی کی وساطت سے آپؐ نے بھیجا تھا اس کا تذکرہ بخاری ج ۱ ص ۱۵ وغیرہ میں موجود ہے اور مسلم ج ۲ ص ۹۹ کی روایت میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کسرٰی، قیصر، نجاشی اور ہر جابر کو اللہ تعالیٰ (کے دین) کی طرف دعوت دیتے ہوئے خطوط لکھ کر بھیجے اور اس روایت میں نجاشی سے مراد وہ نجاشی نہیں جس کا جنازہ آپؐ نے پڑھایا تھا۔ ان کا نام اصحمہؓ تھا اور وہ مسلمان ہو چکے تھے اور اسی طرح دیگر بعض بادشاہوں اور مقتدر شخصیتوں کو آپ نے اسلام کے دعوت نامے بھیجے۔
حضرت ابو شاہ یمنی ؓ کی درخواست پر جو خطبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر ارشاد فرمایا تھا وہ آپؐ نے لکھوا کر ان کو دیا تھا اور اسی میں آپؐ کے صریح الفاظ ہیں ’’اکتبولا بی شاہؓ‘‘ کہ یہ ابو شاہؓ کو لکھ کر دو (بخاری ج ۱ ص ۲۲ و ج ۱ ص ۳۲۹ و مسند احمد ج ۲ ص ۲۳۸)۔
کتبِ حدیث و تاریخ اور سیر پر گہری نگاہ رکھنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ آپؐ کا حجۃ الوداع کا خطبہ کتنا طویل اصول و فروع کے اہم مسائل پر حاوی اور جامع و مانع تھا۔ اگر آپؐ کے ارشادات کا لکھنا ناجائز ہوتا تو آپؐ صاف طور پر فرما دیتے کہ لکھنے کی اجازت نہیں ہے اس کو صرف زبانی طور پر یاد رکھو اور نیز اگر آپؐ کے ارشادات حجت نہ ہوتے تو اولًا حضرت ابو شاہؓ کو ان کے لکھوا کر محفوظ رکھنے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی، و ثانیًا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود فرما دیتے کہ (معاذ اللہ) میری باتیں تو صرف مجمع کو جمع کرنے اور اس کو خوش کرنے کے لیے ہوتی ہیں اور یہ صرف دماغی اور ذہنی عیاشی ہے تم لکھنے کے بیکار کام  کے پیچھے کیوں پڑے ہوئے ہو؟ غرضیکہ ہر حق جو اس سے حقیقت کو پا سکتا ہے اور یہ ایک خالص حقیقت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک زمانہ میں حضرات صحابہ کرامؓ کے جتنے اجتماعات ہوئے حجۃ الوداع کا اجتماع ان سب سے بڑا، نرالا اور آخری اجتماع تھا۔ اور ابن ماجہ ص ۲۲ کی روایت میں ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بے شمار انسان جمع تھے (بشر کثیر) اور سب یہ چاہتے تھے کہ آپؐ کی پیروی کریں اور آپؐ کے عمل جیسا عمل کریں اور یہی نیک جذبہ ان کو آپؐ کے گرد جمع کیے ہوئے تھا۔
حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت تک جن حضرات نے آپؐ سے حدیثیں سنیں اور آپؐ کو دیکھا جن میں مرد اور عورتیں سبھی شامل ہیں ان کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ تھی (اصابۃ فی تذکرۃ الصحابۃؓ ج ۱ ص ۳)
حضرت عبد اللہ بن عمروؓ (المتوفی ۶۳ھ) حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ میرے بغیر کسی کو اتنی حدیثیں معلوم نہیں ۔۔۔۔۔ (حضرت ابوہریرہؓ سے ۵۳۷۴ حدیثیں مروی ہیں)  جتنی حضرت عبد اللہ بن عمروؓ کو معلوم ہیں کیونکہ وہ لکھ لیتے تھے اور میں نہیں لکھتا تھا (بخاری ج ۱ ص ۲۲ و ترمذی ج ۲ ص ۲۲۴ و دارمی ص ۶۷ و مستدرک ج ۱ ص ۱۰۵)۔ ایسا لگتا ہے کہ حضرت ابوہریرہؓ کا حدیثیں نہ لکھنے (اور نہ لکھوانے) کا واقعہ ابتدائی دور کا ہے، آخر میں حضرت ابوہریرہؓ سے کتابتِ حدیث کا ثبوت بھی ملتا ہے۔ چنانچہ حافظ ابن حجر الحسن بن عمروؒ بن امیہؓ سے سند کے ساتھ روایت نقل کرتے ہیں کہ وہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہؓ کے پاس ایک حدیث بیان کی گئی اور انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور اپنے گھر لے گئے اور انہوں نے ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثوں کی لکھی ہوئی کتابیں دکھلائیں اور فرمایا کہ یہ میرے پاس لکھی ہوئی ہیں۔
امام ابن عبد البرؒ فرماتے ہیں کہ ہمام کی روایت (جس میں عدم کتابت کا ذکر ہے) زیادہ صحیح ہے اور دونوں روایتوں میں جمع اور تطبیق بھی ممکن ہے۔ وہ یہ کہ آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دور میں وہ نہیں لکھتے تھے اور پھر بعد کے زمانہ میں لکھتے تھے (فتح الباری ج ۱ ص ۲۱۷)۔ حضرت ابوہریرہؓ کے ایک مجموعہ کا جو مروان نے حکمتِ عملی سے لکھوایا تھا اور جس میں بہت سی حدیثیں درج تھیں ذکر پہلے ہو چکا ہے اور ان کی کچھ احادیث کا مجموعہ حضرت ہمامؒ بن منبہؒ نے تیارکیا تھا جو صحیفۂ ہمامؒ کے نام سے احادیث میں مشہور ہیں، اس سے کچھ حدیثیں حضرت امام احمدؒ نے مسند ج ۲ ص ۳۴ تا ص ۳۱۸ میں نقل کی ہیں۔ حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں و صحیفۃ ہمام مشہورۃ (تہذیب التہذیب ج ۱ ص ۲۱۶) کہ ہمامؒ کا صحیفہ مشہور ہے۔ اور اسی طرح حضرت بشیر بن نہیکؒ نے بھی حضرت ابوہریرہؓ کی روایتوں کا ایک مجموعہ لکھا ہے اور پھر ان سے اس کی روایت کی اجازت بھی لی (کتاب العلل ترمذی ج ۲ ص ۲۳۹ و دارمی ص ۶۸)

مولانا عزیر گلؒ

عادل صدیقی

حضرت شیخ الہندؒ کے خادم خاص، انتہائی خطرناک اور جوکھم کی ذمہ داریوں کو سنبھالنے سے طبعًا مناسبت رکھنے والے، صوبہ سرحد اور آزاد علاقہ یاغستان میں وطنِ عزیز کی آزادی کا نعرہ بلند کرنے والے، رازداری اور بلند ہمتی کے پیکر جلیل، دوسروں کے لیے خدمت گزاری کا جذبہ رکھنے والے، دوسروں کو راحت اور خود تکلیف اٹھانے میں مسرت محسوس کرنے والے، حق رفاقت کے آداب نبھانے والے، ملکوتی شخصیتوں کے رازداں بننے کی پوری صلاحیت رکھنے والے، دورِ شباب میں ہی آزادیٔ وطن کی خاطر سر اور دھڑ کی بازی لگانے والے، انتہائی جری، بہادر اور غیرت مند، سوجھ بوجھ کے سمندر کے تیراک، صاف گوئی اور بے باکی میں لاجواب انسان حضرت مولانا عزیر گلؒ نے تقریباً‌ ایک سو دس سال کی زندگی گزار کر اس دارفانی سے کوچ کیا۔ آپ کا انتقال اپنے آبائی وطن ایجنسی مالاکنڈ پشاور میں ہوا۔ 
سی آئی ڈی کی رپورٹ کے مطابق آپ کا وطن درگئی ہے لیکن آپ کا آبائی وطن زیارت کاکا صاحب (پشاور) تھا، البتہ آپ کے والد بزرگوار نے درگئی میں سکونت اختیار کر لی تھی۔ آپ نے ابتدائی تعلیم پشاور میں حاصل کی اور اس کے بعد آپ کو دین کی تعلیم کے حصول کے لیے دنیا کی شہرہ آفاق یونیورسٹی ’’مدرسہ دارالعلوم دیوبند‘‘ میں بھیجا گیا۔ آپ کا ابتداء میں ہی رابطہ حضرت شیخ الہندؒ سے ہو گیا تھا اور پھر یہ رشتہ اتنا مضبوط ہوا کہ زندگی بھر نہ ٹوٹا۔ مولانا عزیرگلؒ اپنی سادگی طبع کی وجہ سے اساتذہ کے حلقہ میں بے حد مقبول تھے۔
آپ نے جس دور میں پرورش پائی وہ ہندوستان میں انگریزوں کی سامراجی پالیسی کے خلاف علماء ہند اور بالخصوص علماء دیوبند کی جدوجہد کا زمانہ تھا۔ حضرت شیخ مولانا محمود حسنؒ نے انگریزوں کو ہندوستان سے نکالنے اور آزادی سے ملک کو ہمکنار کرنے کا نعرہ ایسے وقت بلند کیا جبکہ یہاں اس بات کو سوچنا مصائب اور موت کو دعوت دینا تھا۔ یہ انگریزوں کی سلطنت کا عروج تھا اور اس دور میں زمیندار اور امراء انگریزوں کے ساتھ ہو گئے تھے۔ ایسے دور میں انگریزوں کی مخالفت کرنا اور ملک کی آزادی کے بارے میں سوچنا ایسے ہی سرپھرے لوگوں کا کام ہو سکتا تھا جو باطن کی نگاہ رکھتے ہوں اور جن کی ملی غیرت ان کو انگریزوں کا غلام بننے سے روکتی ہو۔ چنانچہ حضرت شیخ الہندؒ سے درس حاصل کرنے کے دوران ان میں جذبۂ حب الوطنی کوٹ کوٹ کر بھر چکا تھا، پھر سونے پر سہاگہ یہ کہ آپ کو حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ جیسا رفیق ملا۔ چنانچہ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ تحریر فرماتے ہیں:
’’مولانا عزیر گل صاحب، حضرت شیخ الہندؒ کے خادم خاص ہیں۔ مشن کے ابتدا سے ممبر رہے اور نہایت مہتم بالشان اور خطرناک کاموں کو انجام دیتے رہے۔ صوبہ سرحد اور آزاد علاقہ یاغستان میں سفارت کی خدمات عظیم انہوں نے انجام دیں۔ عمومًا شیخ الہندؒ ان کو پہاڑی علاقوں میں اپنے ہم خیال اور ہمنوا لوگوں کے پاس بھیجا کرتے تھے۔ دشوار گزار اور خطرناک راستوں کو قطع کر کے نہایت رازادی اور ہمت و استقلال کے ساتھ بار بار آتے جاتے رہے۔ پہاڑی علاقوں اور ہولناک جنگلوں کو رات دن پیدل قطع کرتے رہے۔ حاجی ترنگ زئی اور علماء سرحد یاغستان اور دیگر خواتین کو آپ نے مشن کا ممبر بنایا۔ ان کے پاس پیغام اور خطوط پہنچانا، ان کو ہموار کرنا، ان کا اور مولانا عبید اللہ صاحب مرحوم کا فریضہ تھا جن کو ان دونوں حضرات نے اوقاتِ مختلفہ میں انجام دیا۔ باوجودیکہ سی آئی ڈی ان کے پیچھے لگی رہی مگر انہوں نے کبھی اس کا پتہ چلنے نہ دیا۔ باربار ان کو بھیس بدلنا پڑا اور انجان علاقوں سے گزرنا پڑا مگر نڈر ہو کر ان کو قطع کیا۔ ہر قسم کے خطرات میں بلاخوف و خطر اپنے آپ کو ڈالتے رہے۔‘‘
جب سلطنتِ برطانیہ نے حضرت شیخ الہندؒ کی تحریک سے واقفیت حاصل کی تو اس نے حضرت کو گرفتار کرنے کا پلان بنایا۔ جب اس طرح کی خبریں حضرت شیخ الہندؒ کو معلوم ہوئیں تو حضرت حجاز کے لیے روانہ ہو گئے۔ یہ وہ دور تھا کہ شریف حسین نے مکہ معظمہ میں سلاطین آل عثمان کی خلافت سے انکار کیا اور ترکی قوم کی تکفیر کا فتوٰی بہت سے علماء سے حاصل کیا۔ اس زمانے میں جب یہ فتوٰی حضرت شیخ الہندؒ کے پاس پیش کیا گیا تو آپ نے اس پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ ساری کارروائی انگریزوں کے ایماء پر ہوئی تھی اور اس کا ایک مقصد یہ تھا کہ شریف مکہ کو حضرت شیخ الہندؒ کے خلاف کھڑا کیا جا سکے اور پھر شریف حسین کے ذریعے حضرت شیخ الہندؒ کو گرفتار کیا  جا سکے۔ اس سلسلہ میں حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ نے درمیان میں پڑ کر صلح صفائی کی کوشش فرمائی مگر یہ بے سود رہی۔ یہی نہیں سب سے پہلے حضرت حسین احمد مدنیؒ کو گرفتار کر لیا گیا۔ شریف مکہ کے پاس بہت سے تاجر پہنچے اور کہا کہ شیخ الہندؒ کی گرفتاری کا ارادہ ترک کر دیا جائے مگر شریف مکہ کے دل میں غبار تھا۔ اس نے کہا کہ انگریزوں سے دوستی قائم رکھنے کے لیے حضرت کی گرفتاری ضروری ہے۔ جب یہ معلوم ہوا تو حضرت شیخ الہندؒ کو چھپا دیا گیا مگر مولانا عزیر گلؒ سے، جو اس وقت شیخ الہندؒ کے ساتھ ہی وہاں گئے ہوئے تھے، حضرت شیخ الہندؒ کا پتہ دریافت کیا گیا اور یہ دھمکی دی گئی کہ اگر انہوں نے پتہ نہ بتایا تو ان کو گولی سے اڑا دیا جائے گا۔ حضرت شیخ الہندؒ کو جب یہ معلوم ہوا تو وہ خود ہی باہر آ گئے اور فرمایا کہ مجھے گوارا نہیں کہ میرے باعث میرے دوست کا بال بیکا ہو۔ احباب کے کہنے پر آپ نے احرام باندھا اور کہا کہ احرام باندھنے کی خاطر باہر گئے تھے مگر حضرت شیخ الہندؒ کو گرفتار کر لیا گیا۔ یہاں سے یہ حضرات جدہ بھیج دیے گئے اور وہاں سے مصر کے لیے روانہ کر دیے گئے اور ۱۵ فروری ۱۹۱۷ء کو وہاں سے یہ حضرات مالٹا چلے گئے جو سیاسی اور جنگی قیدیوں کا مرکز تھا۔
ہندوستان سے مکہ معظمہ کی روانگی، وہاں قیام اور پھر وہاں سے مالٹا میں قیدی بنا کر بھیج دینے کے دوران مولانا عزیرگلؒ حضرت شیخ الہندؒ کے رفیق خاص تھے۔ حضرت شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنیؒ تحریر فرماتے ہیں:
’’مولانا عزیر گل خادم خاص کو اپنے وطن جانا اور اپنے اکابر سے ملنا اور اجازت چاہنا ضروری تھا اس لیے ان کی واپسی کا انتظار فرمایا۔ قید کے دوران مولانا عزیر گل کا خیال تھا کہ ان کو پھانسی دی جائے گی۔۔۔۔۔ مولوی عزیر گل تو اپنی کوٹھڑی میں رہ کر اپنی گردن اور گلے کو پھانسی کے لیے ناپتے اور دباتے تھے کہ ذرا مہارت ہو جائے اور پھانسی کے وقت یکبارگی تکلیف سخت نہ پیش آئے اور تجربہ کرتے تھے کہ دیکھوں کس قسم کی تکلیف ہوتی ہے مگر سب کے دل مطمئن تھے گویا کہ نانی کے گھر میں آرام کر رہے ہوں۔‘‘
قید میں رہتے ہوئے مولانا عزیر گلؒ نے قرآن شریف حفظ کرنے کی کوشش کی اور ترکی زبان سیکھی۔ مولانا عزیر گل جس طرح دیوبند میں حضرت شیخ کے خادم خاص تھے، مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، اور اسارتِ مالٹا میں بھی خادمِ خاص رہے۔ دیوبند واپس آئے تو آپ کا مسکن وہ مکان تھا جس میں اس وقت حضرت شیخ الہندؒ کی بھانجی کی اولاد رہتی ہے۔ آپ کی شادی دیوبند میں سابق صدر مدرس فارسی مولانا محمد شفیع حسین کی بہن سے ہوئی تھی اور ان سے دو لڑکے ہیں، ایک کا نام محمد زبیر ہے جنہیں عبد الرؤف بھی کہتے ہیں، دوسرے کا نام محمد زہیر ہے، دو لڑکیاں ہیں جو صاحبِ اولاد ہیں۔
مولانا عزیر گلؒ کی وفات سے نہ صرف ایک عظیم مجاہدِ آزادی اس دنیا سے چل بسا بلکہ حضرت شیخ الہندؒ کی یادگار کی آخری کڑی بھی الٹ گئی ؏
خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را
(بشکریہ دیوبند ٹائمز)

نظامِ خلافت کا احیاء

مولانا ابوالکلام آزاد

انتخاب و ترجمہ: مولانا سراج نعمانی، نوشہرہ صدر
(جناب ابو سلمان شاہجہانپوری کی کتاب ’’تحریکِ نظمِ جماعت‘‘ سے انتخاب)

اجتماعیت کا حکم

اسلام نے مسلمانوں کے تمام اعمالِ حیات کے لیے بنیادی حقیقت یہ قرار دی ہے کہ کسی حال میں بھی فرادٰی، متفرق، الگ الگ اور متشتت نہ ہوں، ہمیشہ موتلف، متحد اور کَنَفْسٍ وَّاحِدَۃٍ ہو کر رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن و سنت میں جابجا اجتماع و وحدت پر زور دیا گیا ہے۔ اور کفر و شرک کے بعد کسی بدعمل سے بھی اس قدر اصرار و تاکید کے ساتھ نہیں روکا جس قدر تفرقہ و تشتت سے۔ اور یہی وجہ ہے کہ اسلام کے تمام احکام و اعمال میں یہ حقیقت اجتماعیہ بمنزلہ مرکز و محور کے قرار پائی اور ۔۔۔۔اسی لیے نظمِ اقوامِ ملت کے لیے منصبِ خلافت کو ضروری قرار دیا گیا کہ تمام متفرق کڑیاں ایک زنجیر میں منسلک ہو جائیں۔ (ص ۲۴)

اعمال کی اقسام

اعمالِ شریعت دو قسم کے ہیں۔ انفرادی اور اجتماعی۔ انفرادی سے مقصود وہ اعمال ہیں جن کو الگ الگ ہر فرد انجام دے سکتا ہے جیسے نماز، روزہ۔ اجتماعی سے مقصود وہ اعمال ہیں جن کی انجام دہی کے لیے جماعت کا ہونا ضروری ہے، الگ الگ ہر فرد انجام نہیں دے سکتا جیسے جمعہ ۔۔۔ مثلاً‌ جمعہ کے لیے صرف اتنا ہی کافی نہ ہو گا کہ ادائے جمعہ کا طریقہ بتلا دیا جائے بلکہ جماعت کا انتظام بھی کرنا چاہیئے تاکہ جمعہ عملاً‌ انجام پا سکے۔ گویا پہلی قسم کے (انفرادی) (ناقل) اعمال کی تبلیغ کے لیے اس قدر کافی ہے کہ ان کے وجوب و عمل کا حکم دے دی جائے اور بتلا دیا جائے کہ لوگ اس طرح انجام دیں۔ لیکن دوسری قسم کے لیے اتنا ہی کافی نہیں ہے، حصول و قیام کا بھی انتظام کرنا چاہیئے کیونکہ انفرادً‌ا وہ اعمال انجام نہیں پا سکتے جب تک جماعت کا انتظام نہ ہو جائے مثلاً‌ جمعہ۔۔۔ (ص ۲۹۱)

ہندوستانی مسلمانوں کی حالت

دس کروڑ مسلمان جو کرۂ ارض میں سب سے  بڑی یکجا اسلامی جماعت ہے ہندوستان میں اس طرح زندگی بسر کر رہی ہے کہ نہ تو اس میں کوئی رشتہ انسلاک ہے نہ وحدتِ ملت کا کوئی رابطہ ہے نہ کوئی قائد و امیر ہے۔ ایک انبوہ ہے ایک گلہ ہے جو ہندوستان کی آبادیوں میں بکھرا ہوا ہے اور یقیناً‌ ایک حیاتِ غیر شرعی و جاہلی ہے جس میں پوری اقلیم مبتلا ہو گئی ہے۔
یہ ساری مصیبت اور نامرادی اس لیے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کا کوئی جماعتی نظام موجود نہیں جس کا انتظام شرعًا ان پر واجب تھا اور نہ ہدایتِ امت کے لیے کوئی صاحبِ امر و سلطان دماغ ہے۔ عہدِ جاہلیت کی سی ایک طوائف الملوکی اور جماعتی اختلافی و برہمی ہے جس میں چھ کروڑ انسان مبتلا ہیں۔ جماعتی زندگی کی اس معصیت کی وجہ سے فوز و فلاح کے تمام دروازے بند ہو گئے ہیں۔ موجودہ حالات میں ان کی جتنی صورتیں شرعًا ہو سکتی ہیں ان سب کے لیے پہلی چیز جماعت ہے۔ چونکہ جماعت مفقود ہے اس لیے کوئی راہ نہیں کھلتی اور خود سرکردگانِ کار حیران ہو کر ایک دوسرے سے پوچھ رہے ہیں کہ اب کیا کرنا چاہیئے۔ (ص ۲۱)

بھیڑ اور جماعت میں فرق

پہلی چیز (بھیڑ) بازاروں میں نظر آتی ہے جب کوئی تماشا ہو رہا ہو۔ دوسری چیز جمعہ کے دن مسجدوں میں دیکھی جا سکتی ہے جب ہزاروں انسانوں کی منظم و مرتب صفیں ایک مقصد، ایک جہت، ایک حالت اور ایک ہی (امام) کے پیچھے جمع ہوتی ہیں ۔۔۔۔ شریعت نے مسلمانوں کے لیے جہاں انفرادی زندگی کے اعمال مقرر کیے ہیں وہاں ان کے لیے اجتماعی نظام بھی قرار دے دیا ہے۔ وہ کہتی ہے زندگی اجتماع کا نام ہے۔ افراد و اشخاص کوئی شے نہیں۔ جب کوئی اس نظام کو ترک کر دیتی ہے تو گو اس کے افراد فردً‌ا فردً‌ا کتنے ہی شخصی اعمال و طاعات میں سرگرم ہوں لیکن یہ سرگرمیاں اس بارے میں کچھ سودمند نہیں ہو سکتیں اور قوم ’’جماعتی معصیت‘‘ میں مبتلا ہو جاتی ہے۔ قرآن و سنت نے بتلا دیا ہے کہ شخصی زندگی کے معاصی کسی قوم کو یکایک برباد نہیں کرتے۔ اشخاص کی معصیت کا زہر آہستہ آہستہ کام کرتا ہے لیکن جماعتی معصیت کا غم ایسا تخمِ ہلاکت ہے جو فورً‌ا بربادی کا پھل لاتا ہے اور پوری کی پوری قوم تباہ ہو جاتی ہے۔ شخصی اعمال کی اصلاح و درستگی بھی نظامِ اجتماعی کے قیام پر موقوف ہے۔ مسلمانانِ ہند جماعتی زندگی کی معصیت میں مبتلا ہیں اور جب جماعتی معصیت سب پر چھا گئی تو افراد کی اصلاح کیونکر ہو سکتی ہے؟ (ص ۳۰)

جماعتی زندگی کی معصیت

جماعتی زندگی کی معصیت سے مقصود یہ ہے کہ ان میں ایک جماعت بن کر رہنے کا شرعی نظام مفقود ہو گیا ہے۔ وہ بالکل اس گلے کی طرح ہیں جس کا انبوہ جنگل کی جھاڑیوں میں منتشر ہو کر گم ہو گیا ہو۔ وہ بسا اوقات یکجا ہو کر اپنی جماعتی زندگی کی نمائش کرنا چاہتے ہیں، کمیٹیاں بناتے ہیں، کانفرنسں منعقد کرتے ہیں لیکن یہ تمام اجتماعی نمائشیں شریعت کی نظر میں بھیڑ اور انبوہ کا حکم رکھتی ہیں، جماعت کا حکم نہیں رکھتی۔ (ص ۲۸)

دین کامل

اسلام کا اعلان ہے کہ دین کامل ہو چکا ’’اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِینْکَمُ‘ْ‘ اور دین کامل وہی ہے جو اپنے پیروؤں کی ہر عہد اور ہر حالت میں رہنمائی کر سکے۔ پس اگر اسلام مسلمانوں کو ایسے اہم اور بنیادی معاملے (اتفاق و اجتماعیت) میں یہ بھی نہیں بتلا سکتا کہ انہیں کیا کرنا چاہیئے؟ حتٰی کہ وہ مہینوں سرگرداں و حیران رہتے ہیں، پے در پے مشوروں کے جلسے کرتے ہیں، متحیر ہو کر ایک دوسرے کا منہ تکتے ہیں اور پھر مجبور ہوتے ہیں کہ کسی غیر شرعی تجویز پر کاربند ہونے کا اعتراف کر لیں تو اس سے بڑھ کر اسلام کی بے مائگی و تہی دستی اور نقصِ شریعت کا کیا ثبوت ہو سکتا ہے؟ (ص ۲۹۳)

یہ کیسی عجیب بات ہے کہ اسلام مسلمانوں کو روزانہ ضروریات و اعمال کی چھوٹی چھوٹی باتیں تک بتلا دے لیکن یہ نہ بتلا سکے کہ چھ کروڑ انسان اپنا ایمان کیونکر محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ پس اگر خلافت کا مسئلہ دینی مسئلہ ہے تو اس کی جدوجہد کی ہر منزل کے لیے شریعت کے احکام کو بھی بالکل اسی طرح صاف اور واضح ہونا چاہیئے جیسے ’’اَقِیْمُوا الصَّلوٰۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ‘‘۔ اگر کہا جائے کہ احکام ہم کو معلوم ہیں مگر ہندوستان میں ہماری حالت ایسی مجبوری اور بے بسی کی ہے کہ ان پر عمل نہیں کر سکتے۔ تو یہ مجبوری دو حالتوں سے خالی نہیں۔ یا واقعی ہے یا غیر واقعی۔ اگر واقعی نہیں ہے تو وہ عذر ہی نہیں اور واقعی ہے تو خدا کی شریعت عادلہ انسان کی فلاح و صلاح کے لیے ہے ۔۔۔۔ اس نے ہر حالت کے لیے حکم دیے ہیں اور ہر طرح کے عذروں کی پذیرائی کی ہے اور ہر قسم کے حالات و مقتضیات کی راہیں باز رکھی ہیں۔ طہارت کے لیے وضو کا حکم دیا ہے لیکن اگر عذر پیش آجائے تو معذور کے لیے تیمم کا حکم بھی موجود ہے۔ معذور کے لیے تیمم کا عمل ویسا ہی صحیح و کامل ہے جیسے غیر معذور کے لیے وضو۔ پس اگر ہندوستان میں مسلمانوں کو واقعی عذرات درپیش ہیں تو عذرات کی صورت میں بھی مثلِ حکمِ تیمم کے کوئی حکم ہونا چاہیئے۔ وہ حکم کیا ہے؟ اس کو بتلایا جائے اور (اس پر) عمل کرنا چاہیئے۔

مسلمان حکومت و سلطنت سے تہی دست ہو جائیں لیکن خدا کے لیے اسلام کو راہنمائی و ہدایت سے تہی دست ثابت نہ کرو۔ چھ کروڑ مسلمانوں میں ایک بھی خدا کا بندہ ایسا نہ رہا جو اسلام کے نورِ علم و ہدایت سے اس ظلمت و کورئ ملت کو دور کر سکے اور مسلمانوں کو یہ کہہ کر بلا سکے کہ ’’عَلٰی بَصِیْرَۃٍ اَنَا وَ مَنِ اتَبَعَنِیْ ‘‘۔ کیا اسلام کی قوتِ تعلیم و تربیت اب اس قدر نامراد ہو گئی ہے کہ نکموں کی اس پوری اقلیم میں ایک بھی کام کا انسان پیدا نہیں کر سکتی۔ کسی زمانے میں ہر دوسرا مسلمان راہنما ہوتا تھا، کیا اب پورے چھ کروڑ مسلمانوں میں ایک بھی ایسا شریعت دان نہیں جو ازروئے شریعت لوگوں کی راہنمائی کر سکے؟ ’’اَلَیْسَ مِنْکُمْ رَجُلٌ رَشِیْدٌ‘‘۔ (ص ۲۹۶)

وقت کا تقاضا

آج وقت کی سب سے بڑی اور ادائے فرضِ اسلامی کی سب سے نازک اور فیصلہ کن گھڑی ہے جو آزادیٔ ہند اور مسئلہ خلافت کی شکل میں ہمارے سامنے آ گئی ہے۔ ہندوستان میں دس کروڑ مسلمان ہیں۔۔۔فی الحقیقت احکامِ شرع کی رو سے مسلمانانِ ہند کے لیے صرف دو ہی راہیں تھیں اور اب بھی دو ہی راہیں ہیں۔ یا تو ہجرت کر جائیں یا نظامِ جماعت قائم کر کے ادائے فرضِ ملت کے لیے کوشاں ہوں۔ (ص ۲۸)

احکامِ شریعت پر کامل ۳۵ برس تک میں نے پوری طرح غور و خوض کیا اور اس ۳۵ سال کے عرصے میں شاید ہی کوئی دن ایسا ہو جس کی کوئی صبح کوئی شام اس فکر سے خالی گزری ہو۔ بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ واضع شریعت کا منشا یہ ہے کہ اس کے احکام یک جماعتی نظام کے تحت اجراء پائیں، لیکن مسلمانوں نے اس جماعتی نظام کی اہمیت کو نہیں سمجھا۔ (ص ۹۴)


حرکۃ المجاہدین کا ترانہ

سید سلمان گیلانی


۲۱ دسمبر ۱۹۸۹ء کو میونسپل کارپوریشن گوجرانوالہ کے جناح ہال میں منعقدہ افغانستان کے مختلف محاذوں پر جہاد میں شریک نوجوانوں کی تنظیم ’’حرکۃ المجاہدین‘‘ کے جلسۂ عام میں سید سلمان گیلانی نے یہ ترانہ پیش کیا۔


حرکۃ المجاہدین، آفرین و آفرین
عَلم اٹھا قدم بڑھا، نہ غیرِ حق سے خوف کھا
تیری مدد کرے خدا، خدا پہ تو بھی رکھ یقیں
حرکۃ المجاہدین، آفرین و آفرین
نہ کوئی عذرِ لنگ کر، تو کافروں سے جنگ کر
زمین ان پر تنگ کر، نہ مل سکے اماں کہیں
حرکۃ المجاہدین، آفرین و آفرین
لگا وہ ضرب کفر پر، اٹھا سکے نہ پھر وہ سر
مٹے گا ایک روز شر، کہ خیر کا ہے تو امیں
حرکۃ المجاہدین، آفرین و آفرین
نجیب سے نہ بات کر، اٹھ اس سے دو دو ہاتھ کر
رسید ایک لات کر، گرے گا یونہی یہ لعیں
حرکۃ المجاہدین، آفرین و آفرین
تو حوصلے بحال کر، تو کفر سے قتال کر
نہ کوئی قیل و قال کر، یہ سوچنے کی جا نہیں
حرکۃ المجاہدین، آفرین و آفرین
تو حق کی ترجمان ہے، تو دیں کی پاسبان ہے
جو تیرا نوجوان ہے، وہ جرأتوں کا ہے امیں
حرکۃ المجاہدین، آفرین و آفرین
حیات کیا ممات کیا، یہ پوری کائنات کیا
نہیں خدا کے ہاتھ کیا، تو پھر یہ کیوں چناں چنیں
حرکۃ المجاہدین، آفرین و آفرین
تو عہدِ رب پر رکھ نظر، کٹے جو راہِ حق میں سر
بہشت اس کا ہے ثمر، ہے صاف آیتِ مبیں
حرکۃ المجاہدین، آفرین و آفرین
کہاں غلط یہ بات ہے، خلیل تیرے ساتھ ہے
خدا کا تجھ پہ ہاتھ ہے، تو اس کے در پہ رکھ جبیں
حرکۃ المجاہدین، آفرین و آفرین
پیامِ حق سنائے جا، ترانہ میرا گائے جا
یہ کفر کو بتائے جا، کہ یہ ہے طرزِ مومنیں
حرکۃ المجاہدین، آفرین و آفرین
خدا کا لطف عام ہو، جہاں میں اونچا نام ہو
تجھے میرا سلام ہو، مجاہدین کی سرزمیں
حرکۃ المجاہدین، آفرین و آفرین

عیسائی مذہب کیسے وجود میں آیا؟

حافظ محمد عمار خان ناصر

عیسائیوں کی کتب مقدسہ کے مجموعہ کو ’’بائیبل‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ دو اجزاء میں منقسم ہے۔ ایک کو عہد نامہ قدیم (اولڈ ٹسٹامنٹ) اور دوسرے کو عہد نامہ جدید (نیو ٹسٹامنٹ) کہا جاتا ہے۔ اہلِ اسلام کے ایمان کے مطابق حضرت عیسٰی علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ نے ’’انجیل‘‘ نام کی ایک کتاب نازل کی تھی اس نے شریعت موسویٰ ؑ کے احکام میں تبدیلیاں کیں (سورہ آل عمران ۵۰)۔ آج کی اناجیل اربعہ (متی، لوقا، مرقس اور یوحنا) اور دیگر کسی بھی موجودہ انجیل کو ’’اصل انجیل‘‘ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ یہ تمام تحریریں حضرت مسیح ؑ کی سوانح عمری پر مشتمل ہیں۔ پادری ولیم میچن لکھتے ہیں کہ:

’’اناجیل اربعہ ۔۔۔۔۔ میں جناب مسیح کی سوانح عمری اور تعلیم مرقوم ہے‘‘۔ (رسالہ تحریف انجیل و صحت انجیل ص ۵)

اور ’’المنجد فی الاعلام‘‘ کا عیسائی مصنف انجیل کا تعارف یوں کرواتا ہے:

والاناجیل مجموعۃ اعمال المسیح واقوالہ۔ (ص ۳۸)

’’اناجیل مسیح ؑ کے اقوال و اعمال (سوانح عمری) کا مجموعہ ہیں۔‘‘

ہمارا اعتقاد ہے کہ عیسائیوں کی موجودہ اناجیل قرآن کی تصدیق کردہ انجیل نہیں ہیں۔ مسیحیوں کے موجودہ عقائد حقائق سے بالکل مطابقت نہیں رکھتے۔ اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ ہم مذہب مسیحی ؑ اور اناجیل پر ایک نظر ڈال لیں۔

عیسائی مذہب کا بانی کون؟

عیسائیوں کا یہ دعوٰی غلط ہے کہ عیسائی مذہب کے بانی حضرت مسیح ؑ ہیں۔ درحقیقت اس مذہب کا بانی ’’پولوس‘‘ ہے۔ عہد جدید میں چودہ خطوط اس کے نام منسوب ہیں۔ یہ شخص ایک یہودی تھا جو کافی عرصہ عیسائیوں کو تکلیف اور ایذا دینے کے بعد حضرت مسیح ؑ پر ایمان لے آیا، یہ حضرت مسیح ؑ کا باقاعدہ شاگرد نہیں تھا۔ چنانچہ پادری جے جے لوکس اعتراف کرتے ہیں کہ:

’’وہ اور رسولوں کی مانند مسیح کے ساتھ نہیں رہا، نہ مسیح سے اوروں کی طرح تعلیم پائی، نہ دوسرے رسولوں کی طرح بلایا گیا‘‘۔ (کرنتھیوں کے پہلے خط کی تفسیر مطبوعہ ۱۹۵۸ تفسیر ص ۲)

اس صورتِ حال میں چاہیئے تو یہ تھا کہ وہ ایمان لانے کے فورً‌ا بعد حضرت مسیح ؑ کے نائبوں کے پاس جاتا اور ان سے تعلیم و تربیت پاتا لیکن ہوا یہ کہ ایمان لانے کے فورً‌ا بعد تین سال کے لیے عرب چلا گیا اور وہاں سے واپس آ کر یروشلم میں صرف پندرہ دن پطرس کے پاس رہا اور پھر تبلیغ کے لیے نکل کھڑا ہوا اور عوام میں بلند ترین مقام حاصل کرنے میں بہت جلد کامیاب ہو گیا۔ اپنی مقبولیت کے ضمن میں لکھتا ہے:

’’تم نے ۔۔۔۔ خدا کے فرشتہ بلکہ مسیح یسوع کی مانند مجھے مان لیا ۔۔۔۔ اگر ہو سکتا تو تم اپنی آنکھیں بھی نکال کر مجھے دے دیتے‘‘۔ (گلتیوں ۴: ۱۴ و ۱۵)

اب اس شخص نے کیا کیا؟ ایسے ایسے گمراہ کن عقائد مسیحیت میں داخل کر دیے جن کا کہیں سے ثبوت نہیں ملتا۔ الوہیت مسیح، موروثی گناہ، کفارہ وغیرہ کا ذکر سب سے پہلے اس کی تحریروں میں پایا جاتا ہے۔ پادری جے پیٹرسن اسمتھ کا یہ جملہ نہایت قابل غور ہے کہ

’’سب سے پہلے مسیحی صحیفے پولوس کے خطوط تھے‘‘ (حیات و خطوط پولس مطبوعہ ۱۹۵۲ء ص ۱۳۸)

اور اسی مصنف کی اس صفحہ پر تصریح ہے کہ پولوس کے خطوط لکھنے کا سلسلہ ۵۰ء میں شروع کیا جا چکا تھا اور ان کے الفاظ یہ ہیں کہ:

’’ہماری اناجیل میں سے ایک بھی کتاب اس وقت سے بیس سال تک ضبطِ تحریر میں نہ آئی‘‘۔ (ایضًا)

یہودیت ایک محدود اور نسلی مذہب تھا۔ حضرت عیسٰی ؑ کی بعثت کا مقصد صرف بنی اسرائیل کو ہدایت کرنا تھا، چنانچہ آپ کا فرمان انجیل متی میں یوں مرقوم ہے کہ:

’’میں اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے سوا اور کسی کے لیے نہیں بھیجا گیا‘‘۔ (۱۵: ۲۴)

یہ رہا اناجیل مروجہ اور مسیحی علماء کا موقف جو انجیل برنباس میں مرقوم ہے:

’’میں نہیں بھیجا گیا مگر صرف اسرائیل کی قوم کی جانب‘‘۔ (۲۱: ۲۱)

قرآن پاک نے فرمایا کہ آپ کی نبویت صرف بنی اسرائیل کے لیے تھی(آل عمران ۹)

مسیح ؑ نے اپنے شاگردوں کو حکم دیا کہ:

’’غیر قوموں کی طرف نہ جانا اور سامریوں کے کسی شہر میں داخل نہ ہونا بلکہ اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے پاس جانا‘‘۔ (متی ۱۰: ۶)

اور پادری لینڈرم لکھتے ہیں:

’’مسیح نے خود صرف بنی اسرائیل کے لیے کام کیا اور اپنی دنیاوی زندگی کے وقت اپنے شاگردوں کو صرف اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے پاس بھیجا‘‘۔ (مسیحی تعلیم کا خلاصہ مصنفہ پادری رابرٹ اے لینڈرم، مترجمہ پادری ولیم میچن، مطبوعہ ۱۹۲۶ء ص ۱۲۳)

ادھر پولوس نے دین مسیح کے نام پر غیر اقوام کو تعلیم دی۔

’’تم سب جتنوں نے مسیح میں شامل ہونے کا بپتسمہ لیا، مسیح کو پہن لیا، نہ کوئی یہودی رہا نہ یونانی، نہ کوئی غلام نہ آزاد، نہ کوئی مرد نہ عورت، کیونکہ تم سب مسیح یسوع میں ایک ہو‘‘۔ (گلتیوں ۳: ۲۶ و ۲۷)

جن غیر یہودیوں کو مسیح ؑ کتا (انجیل متی ب ۱۵) اور کتے کو ان سے افضل (انجلی برنباس ۲۲: ۲) بتا رہے ہیں وہ سب مسیح میں ایک ہو گئے، سارے امتیازات رفع ہو گئے۔ پادری واکر صاحب کا یہ قول بھی سند کو مضبوط تر کر دیتا ہے کہ:

’’مسیحی جماعت کے لیے خطرہ تھا کہ وہ محض ایک یہودی فرقہ نہ بن جائے لیکن پولس کی کوششوں سے عالمگیر کلیسیا بن گئی‘‘۔ (تفسیر بر اعمال کی کتاب، مطبوعہ ۱۹۵۹ء ص ۲۳)

ایک جانب تو پولس نے کلیسیا کو عالمگیر بنایا، دوسری جانب اس نے ایک اور گُل بھی کھلایا۔ مسیح علیہ السلام شریعت موسوی ؑ کے تابع تھے، بائیبل میں قول مسیح ہے:

’’یہ نہ سمجھو کہ میں توریت یا نبیوں کی کتاب کو منسوخ کرنے آیا ہوں۔ منسوخ کرنے نہیں بلکہ پورا کرنے آیا ہوں کیونکہ میں تم سے مسیح کہتا ہوں کہ جب تک آسمان اور زمین ٹل نہ جائیں ایک نقطہ یا ایک شوشہ توریت سے ہرگز نہ ٹلے گا جب تک کہ سب کچھ پورا نہ ہو جائے پس جو کوئی ان چھوٹے سے چھوٹے حکموں میں سے بھی کسی کو توڑے گا اور یہی آدمیوں کو سکھلائے گا وہ آسمان کی بادشاہی میں سب سے چھوٹا کہلائے گا لیکن جو اُن پر عمل کرے گا اور ان کی تعلیم دے گا وہ آسمان کی بادشاہی میں بڑا کہلائے گا‘‘۔ (انجیل متی ۵: ۱۷، ۱۸، ۱۹)

ایک جانب تو شریعت کی یہ فضیلت و منقبت، دوسری جانب پولس کہتا ہے کہ:

’’پہلا حکم (توریت یا شریعت) کمزور اور بے فائدہ ہونے کے سبب سے منسوخ ہو گیا‘‘۔ (عبرانیوں ۷: ۱۸)

پادری اسمتھ لکھتے ہیں کہ:

’’یہودی مسیحی (مختون لوگ) یہ سمجھتے تھے کہ مسیحیت درحقیقت یہودیت کی ایک بہتر اور پاک تر شکل ہے۔ عین اس موقع پر انقلاب پسند پولوس وارد ہوتا ہے۔ وہ یہ کہتا ہے کہ شریعت صرف ایک محدود وقت کے لیے تھی، اس کا کام محض لوگوں کو مسیح کی بادشاہت کے لیے تیار کرنا تھا‘‘۔ (حیات و خطوط پولس، مصنفہ پادری جے پیٹرسن اسمتھ، مترجمہ پادری ایس این طالب الدین، مطبوعہ ۱۹۵۲ء ص ۸۲، ۸۳)

ہم قارئین کے لیے پولس کے ان اقوال کو نقل کرتے ہیں جو اس نے شریعت کی ’’شان‘‘ میں کہے:

(۱) ’’جتنے شریعت کے اعمال پر تکیہ کرتے ہیں وہ سب لعنت کے ماتحت ہیں‘‘۔ (گلتیوں ۳: ۱۰)

(۲) ’’اب جو تم نے خدا کو پہچانا بلکہ خدا نے تم کو پہچانا تو ان ضعیف اور نکمی ابتدائی باتوں (شریعت) کی طرف کس طرح پھر رجوع کرتے ہو جن کی دوبارہ غلامی چاہتے ہو‘‘۔ (گلتیوں ۴: ۹)

(۳) ’’مسیح جو ہمارے لیے لعنتی بنا اس نے ہمیں مول لے کر شریعت کی لعنت سے چھڑایا‘‘۔ (گلتیوں ۳: ۱۴)

(۴) ’’ایمان کے آنے سے پیشتر شریعت کی ماتحتی میں ہماری نگہبانی ہوتی تھی اور اس کے ایمان کے آنے تک جو ظاہر ہونے والا تھا ہم اسی کے پابند رہے۔ پس شریعت مسیح تک پہنچانے کو ہمارا استاد بنی تاکہ ہم ایمان کے سبب سے راست باز ٹھہریں مگر جب ایمان آچکا تو ہم استاد کے ماتحت نہ رہے‘‘۔ (گلتیوں ۳: ۲۳ و ۲۴)

ختنہ کرانا شریعت کا ایک ناقابل تردید حکم تھا، خود مسیح کا ختنہ ہوا۔ پولس نے بھی اپنے مختون ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ پھر آج کل کے مسیحی ختنہ کے کیوں مخالف ہیں؟ دراصل وہ پولس کی پیروی میں مارے گئے۔ پولس کا فلسفہ ہے کہ

(۵) ’’اگر تم ختنہ کراؤ گے تو مسیح میں تم کو کچھ فائدہ نہ ہو گا‘‘۔ (گلتیوں ۵: ۲)

(۶) ’’تم جو شریعت کے وسیلہ سے راستباز ٹھہرنا چاہتے ہو مسیح سے الگ ہو گئے اور فضل سے محروم‘‘۔ (گلتیوں ۵: ۴)

(۷) ’’شریعت کے وسیلہ سے کوئی شخص خدا کے نزدیک راستباز نہیں ٹھہرتا کیونکہ لکھا ہے کہ راستباز ایمان سے جیتا رہے گا اور شریعت کو ایمان سے کچھ واسطہ نہیں‘‘۔ (گلتیوں ۳: ۱۱، ۱۲)

پیغامِ مسیح ؑ تو فقط یہودیوں کے لیے اور شریعتِ موسوی ؑ کی تبلیغ و اشاعت تھا۔ پولوس کے مذکورہ رویہ سے شاگردانِ مسیح ؑ اور پولوس کی راہیں جدا جدا ہو گئیں، پادری بلیکی لکھتے ہیں:

’’رسولوں کے زمانہ میں مسیحی کلیسیا کی تاریخ، جو شاخوں میں منقسم ہو جاتی ہے، ان میں ایک قوم یہود ہے اور دوسری غیر اقوام سے وابستہ ہے۔ یہودی تاریخ کی شاخ دوبارہ رسولوں سے علاقہ رکھتی ہے اور غیر قوموں کی تاریخ زیادہ تر پولوس کی حرکات سے وابستہ ہے۔ کتاب اعمال کا پہلا حصہ پہلی شاخ کا بیان قلمبند کرتا ہے اور باقی ماندہ حصہ دوسری شاخ کا‘‘۔ (تواریخ بائبل، مصنفہ پادری ولیم جی بلیکی ڈی ڈی، مترجمہ پادری طالب الدین، مطبوعہ ۱۹۵۵ء ص ۵۲۵)

اس ضمن میں انجیل برنباس کا بیان حسبِ ذیل ہے:

’’عزیزو! بے شک خدائے عظیم عجیب نے اس پچھلے زمانہ میں اپنے نبی یسوع مسیح کی معرفت ہماری خبر گیری اپنی بڑی مہربانی سے کی۔ ان آیتوں اور اس تعلیم کے بارہ میں جس کو شیطان نے تقوی کے نمائشی دعوے سے بہت سارے آدمیوں کو گمراہ بنانے کا ذریعہ ٹھہرا لیا ہے، وہ سخت کفر کی منادی کرنے والے ہیں۔ مسیح کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں اور ختنہ کرانے سے انکار کرتے ہیں جس کا خدا نے ہمیشہ حکم دیا ہے۔ ہر نجس گوشت کو جائز بتلاتے ہیں۔ یہ ایسے آدمی ہیں کہ ان کے شمار میں پولس بھی گمراہ ہوا۔ وہ کہ اس کی نسبت جو کچھ کہوں افسوس ہی سے کہتا ہوں۔ اس کی وجہ سے میں اس حق کو لکھ رہا ہوں جیسے کہ میں نے اس اثنا میں دیکھا ہے جب کہ میں یسوع کی رفاقت میں تھا۔ اور یہ اس لیے لکھتا ہوں تاکہ تم چھٹکارا پاؤ اور شیطان تم کو ایسا گمراہ نہ کرے کہ اس گمراہی سے تم خدا کا دین قبول کرنے میں ہلاک ہو جاؤ‘‘۔ (انجیل برناباس، مقدمہ آیت ۲ تا ۷)

اس اقتباس کے سیاق میں (اعمال ۱۵: ۳۶ تا ۴۱) اور (گلتیوں ۲: ۱۱ تا ۱۴) پڑھنے سے معلوم ہو گا کہ پولس برناباس اور پطرس کے درمیان غیر قوموں کے بارے میں جھگڑا تھا۔ مختصرً‌ا یہ کہ برنباس اور پولس پہلے اکٹھے تبلیغ کے لیے جاتے رہے۔ ان کا ایک ساتھی ’’یوحنا مرقس‘‘ تھا، ایک سفر کے دوران یہ رستے ہی سے واپس آگیا۔ جب دوبارہ سفر کا موقعہ آیا تو لوقا بیان کرتا ہے کہ دونوں کے درمیان جھگڑا ہو گیا اور اس جھگڑے کی وجہ ’’یوحنا مرقس‘‘ تھا۔ برنباس اسے ساتھ لے جانا چاہتا تھا جبکہ پولس کا موقف یہ تھا کہ ہمیں ایک بے وفا شخص کو ساتھ نہ لے جانا چاہیئے۔ اس پر ان میں ایسی سخت تکرار ہوئی کہ ایک دوسرے سے جدا ہو گئے (اعمال ۱۵: ۳۹)۔ اس کے بعد اعمال کی کتاب میں برنباس کا ذکر کہیں نہیں ملتا۔ پادری جے پیٹرسن اسمتھ اس واقعہ کے ضمن میں لکھتے ہیں کہ وہ اس جھگڑے کے بعد کبھی نہ ملے (ایضًا ص ۹۰)۔

اخلاص اور اس کی برکات

الاستاذ السید سابق

ترجمہ و ترتیب: حافظ مقصود احمد

اخلاص یہ ہے کہ انسان کا قول، عمل اور ہر کوشش صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہو، اس کی رضا کے لیے ہو، اس کے قول و عمل میں طلبِ جاہ و مال یا ریا نہ ہو۔

اسلام میں اخلاص کی اہمیت

قرآن میں متعدد بار اخلاص کی طرف دعوت دی گئی ہے، فرمایا:

وما امروا الا لیعبدوا اللہ مخلصین لہ الدین۔ (البینہ)

’’اور ان کو یہی حکم ہوا کہ صرف اللہ ہی کی بندگی کریں۔‘‘

اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اعمال کی قبولیت کا مدار اخلاص ہی کو ٹھہرایا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (بروایت ابن ابی حاتم، عن طاووس ۔۔۔) ایک شخص آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ! میں حج کرتا ہوں اور مناسک کی ادائیگی کے وقت میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ لوگوں کو میرا ان مناسک کو ادا کرنا معلوم ہو جائے، وہ دیکھیں کہ میں یہ نیک اعمال کر رہا ہوں ۔۔۔ آپؐ نے سن کر کوئی جواب نہ دیا یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی:

فمن کان یرجوا لقاء ربہ فلیعمل عملًا صالحًا ولا یشرک بعبادۃ ربہ احدً‌ا (الکہف)

’’پھر جس کو اپنے رب سے ملنے کی امید ہو وہ نیک کام کرے اور اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے۔‘‘

اخلاص کمالِ ایمان کی دلیل ہے

ابوداؤدؒ اور ترمذیؒ نے سند حسن کے ساتھ روایت کی ہے:

ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: من احب اللہ و ابغض للہ و اعطٰی للہ و منع للہ فقد اتکمل الایمان۔

’’جس نے اللہ کے لیے محبت کی اور اللہ کے لیے بغض رکھا، اسی کے لیے دعا اور اسی کی خاطر روکا، تو اس نے اپنے ایمان کو مکمل کر لیا۔‘‘

اللہ سبحانہ دلوں کو دیکھتے ہیں مظاہر اور اشکال کو نہیں دیکھتے۔ حضرت ابوہریرہؓ نے روایت کی ہے:

ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال ان اللہ لا ینظر الیٰ اجسامکم ولا الی صورکم ولکن ینظر الی قلوبکم۔ (مسلم)

’’اللہ تعالیٰ تمہارے جسموں اور تمہاری صورتوں کو نہیں دیکھتے بلکہ وہ تمہارے دلوں (کی نیتوں) کو دیکھتے ہیں۔‘‘

ابو موسٰی اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا، ایک آدمی اپنی بہادری کے اظہار کے لیے لڑتا ہے، ایک آدمی قومی حمیت کے تحت لڑتا ہے، ایک آدمی دکھاوے کے لیے لڑتا ہے، ان میں سے کون شخص راہِ خدا میں لڑ رہا ہے؟ آپؐ نے فرمایا، جو شخص اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے جہاد کرتا ہے وہ جہاد فی سبیل اللہ کرتا ہے یعنی جس کا لڑنا کلمہ حق کی سربلندی کے لیے ہو وہ مجاہد فی سبیل اللہ ہے۔ (بخاری و مسلم)

عمل کا معیار

کوئی عمل اس وقت تک عمل خیر نہیں کہا جا سکتا جب تک کہ اس کے کرنے میں نیت نیک نہ ہو اور خالص اللہ کے لیے نہ ہو کیونکہ ہر عمل کی ایک غایت ہوتی ہے اور غایت اولٰی ذاتِ باری تعالیٰ ہے۔ اللہ تعالیٰ سوائے خیر کے کسی کام کا حکم نہیں کرتا اور سوائے خیر کے کسی چیز کو پسند نہیں فرماتا۔ لہٰذا انسان کی تمام زندگی کا مقصد اپنے لیے اور تمام بنی نوع انسان کے لیے طلبِ خیر ہونا چاہیئے۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول انما الاعمال بالنیات، وانما لکل امرئٍ ما نوی، فمن کانت ھجرتہ الی اللہ ورسولہ فھجرتہ الی اللہ ورسولہ ومن کانت ھجرتہ الی دنیا یصیبھا او امراۃ ینکحھا، فھجرتہ الی ما ھاجر الیہ۔ (بخاری و مسلم)

’’اعمال کا دارومدار نیت پر ہے۔ ہر آدمی کو اسی کا اجر ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔ لہٰذا جس نے اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہجرت کی تو اس کا اسے ثواب ملے گا اور اگر کسی نے کسی دنیاوی غرض کے لیے ہجرت کی تو اسے وہی کچھ ملے گا اور اگر کسی عورت کے لیے ہجرت کی (تو ہو سکتا ہے کہ) اس سے نکاح کر لے لیکن آخرت میں ان کا اجر مرتب نہ ہو گا۔‘‘

اخلاص کی قیمت

اخلاص اور نیک نیت سے انسان کو رفعت و بلندی عطا ہوتی ہے اور اس کو ابرار کی منازل پر لے جاتی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

طوبٰی للمخلصین: الذین اذا حضروا لم یعرفوا ۔۔۔ اذا غابوا لم یفتقدوا ۔۔۔ اولئک مصابیح الھدی تنجلی عنھم کل فتنۃ ظلماء۔ (رواہ البیہقی عن ثوبانؓ)

’’مخلصین کے لیے بشارت ہو، وہ لوگ کہ جب وہ کسی جگہ موجود ہوں تو کوئی انہیں جانتا نہ ہو، اور جب وہ کسی جگہ موجود نہ ہوں تو ان کی کمی محسوس نہ ہو، یہی لوگ ہدایت کے چراغ ہیں، انہی کی برکت سے انسان پر آئی ہوئی مصیبت ٹلتی ہے۔‘‘

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ تم سے پہلے لوگوں کا واقعہ ہے کہ تین آدمی سفر کے لیے نکلے، دورانِ سفر ایک غار میں پناہ کے لیے ٹھہر گئے، اچانک غار کے دہانے پر ایک بڑا پتھر گرا اور باہر نکلنے کا راستہ بند ہو گیا (پتھر اتنا بڑا تھا کہ ان کے زور لگانے کے باوجود نہ ہلا) پھرآپس میں مشورہ کیا اور کہا کہ یہ پتھر خدا ہی ہٹائے تو ہٹے گا، لہٰذا اپنے نیک اعمال کا واسطہ دے کر اس سے دعا کریں کہ ہمیں اس مصیبت سے نجات دے۔ ان میں سے ایک نے کہا، یا اللہ! میرے ماں باپ بہت بوڑھے تھے، میں کھانے پینے کی ہر چیز پہلے انہیں دیتا اور بعد میں اپنے بیوی بچوں کو کھلاتا، ایک دن ایسا ہوا کہ میں لکڑیاں اکٹھی کرنے کے لیے بہت دور نکل گیا، واپس لوٹا تو وہ سو چکے تھے، میں نے ان کے لیے دودھ دوہا اور لے کر ان کے پاس آیا تو دیکھا کہ وہ سو رہے ہیں، انہیں جگانا میں نے مناسب نہ سمجھا اور ان سے پہلے اپنے بچوں کو دینا بھی مجھے گوارا نہ ہوا حالانکہ وہ میرے قدموں میں بھوک کے مارے بلبلاتے ہوئے سو گئے۔ پیالہ ہاتھ میں پکڑے میں اسی طرح کھڑا رہا اور میرے ماں باپ سوتے رہے حتٰی کہ صبح ہو گئی اور وہ ازخود اٹھے اور دودھ پیا ۔۔۔۔ یا اللہ! اگر میرا یہ عمل خالص تیری رضا کے لیے تھا تو ہمیں اس مصیبت سے نجات عطا فرما۔ (قدرت خداوندی سے) پتھر تھوڑا سا سرک گیا لیکن نکلنے کی جگہ نہ بن سکی۔

دوسرا بولا، یا اللہ! میری ایک چچازاد بہن تھی جو مجھے تمام لوگوں سے زیادہ محبوب تھی (ایک روایت میں ہے کہ میں اس سے شدید محبت کرتا تھا جیسی ایک مرد کسی عورت سے کر سکتا ہے) میں نے اسے اپنے ڈھب پر لانا چاہا لیکن وہ ہر بار میری بات ٹال دیتی یہاں تک کہ اس پر قحط کی نوبت آ گئی۔ میں نے اسے ایک سو بیس دینار دیے اس شرط پر کہ وہ میری حاجت پوری کرے گی۔ وہ (بیچاری بامر مجبوری) میری بات مان گئی۔ یہاں تک کہ جب میں اس پر پوری طرح قادر ہو گیا تو کہنے لگی (اے اللہ کے بندے) خدا سے ڈر اور جس مہر کو اللہ تعالیٰ نے لگایا اس کو ناحق نہ توڑو (عقد شرعی کے بغیر ایسا مت کرو) میں فورً‌ا اس سے علیحدہ ہو گیا حالانکہ وہ مجھے سب لوگوں سے زیادہ محبوب تھی اور جو سونا (بصورت دینار) اسے دیا تھا وہ بھی اسی کے پاس رہنے دیا۔ یا اللہ! اگر میرا یہ عمل خالص تیرے لیے تھا تو تو ہمیں اس مصیبت سے نجات عطا فرما، پتھر تھوڑا سا اور سرک گیا۔

تیسرے نے کہا، میں نے کچھ مزدور کام پر لگائے، سب کو میں نے مزدوری دے دی سوائے ایک مزدور کے جو مزدوری لیے بغیر ہی چلا گیا۔ میں نے اس کی رقم کاروبار پر لگا دی جس سے بہت زیادہ مال و دولت جمع ہو گیا، وہ کچھ عرصے کے بعد آیا اور اپنی مزدوری طلب کی۔ میں نے تمام اونٹ، گائے اور بھیڑ بکریاں اس کے سامنے کر دیں اور کہا کہ یہ سب تمہارے ہیں۔ اتنا مال دیکھ کر وہ کہنے لگا، اللہ کے بندے! میرے ساتھ مذاق مت کرو۔ میں نے کہا کہ یہ مذاق نہیں (بلکہ سب مال تمہارا ہے اور ساتھ ہی تمام ماجرا سنایا کہ میں نے تمہارا مال تجارت پر لگایا اور اس طرح یہ مال بڑھ گیا)۔ اس نے مال لیا اور چلا گیا اور کچھ بھی باقی نہ چھوڑا۔ یا اللہ! اگر میرا یہ عمل خالص تیری رضا کے لیے تھا تو تو ہمیں اس مصیبت سے نجات دے۔ چنانچہ وہ پتھر ہٹ گیا اور وہ (خوش خوش) نکل کر چلے گئے۔ (بخاری و مسلم)

جو شخص صفت اخلاص سے متصف ہو گا اسے کامیابی حاصل ہو گی۔ جس جماعت میں ایسے افراد ہوں گے اس جماعت میں خیر و برکات کا دور دورہ ہو گا، گھٹیا صفات اس میں معدوم ہوں گی۔ دنیاوی شہوات ان سے مرتفع ہوں گی۔ ملت میں اعلیٰ مقاصد کا حصول ان کا مطمع نظر ہو گا اور معاشرے میں امن و سلامتی عام ہو گی۔

یہ اخلاص ہی کی برکت تھی کہ صحابہؓ میں ریا، نفاق اور جھوٹ بالکل معدوم تھا۔ زندگی کے اعلیٰ مقاصد کا حصول ہی ان کا مقصدِ حیات تھا۔ تمام صحابہؓ اقامتِ دین، اعلاء کلمۃ اللہ، عدل و انصاف کو عام کرنے اور رضائے خداوندی کو اصل مقصود سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں حکومت و شوکت عطا فرمائی، دنیا کا مقتدا بنایا اور وہ تمام عالم کے سردار بن گئے۔

عمل میں اگر کچھ کمی بشری کمزوری کی وجہ سے رہ جائے تو اللہ تعالیٰ اخلاص کی برکت سے اس عمل کا پورا پورا اجر فرما دیتے ہیں۔ حضرت جابر بن عبد اللہؓ سے روایت ہے غزوۂ تبوک میں ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے، آپؐ نے فرمایا (ہم تو یہاں جہاد کر رہے ہیں لیکن) مدینہ میں کچھ ایسے بھی ہیں جنہوں نے کوئی سفر نہیں کیا کوئی وادی طے نہیں کی مگر (ثواب میں) وہ تمہارے ساتھ ہیں، انہیں مرض نے گھیر لیا (ورنہ نیت ان کی بھی جہاد کی تھی) ۔ اور ایک روایت میں ہے ’’مگر ثواب میں وہ تمہارے ساتھ شریک ہیں‘‘ (ابوداؤد اور ترمذی)۔

حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جو شخص نیند کے غلبہ کی وجہ سے سحری کو اٹھ کر نماز نہ پڑھ سکے اسے اللہ تعالیٰ نماز کا ثواب دیتے ہیں اور نیند پر اس کو صدقے کا ثواب ملتا ہے۔

سہل بن حنیفؓ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں:

من سأل اللہ الشھادۃ بصدق، بلغہ اللہ منازل الشھداء وان مات علی فراشہ۔

’’جو اللہ تعالیٰ سے شہادت کی دعا مانگے تو اللہ اسے شہداء کا مرتبہ عطا فرماتا ہے اگرچہ وہ اپنے بستر پر ہی کیوں نہ مرے۔‘‘

ریا اور بری نیت

جس طرح صفت اخلاص اور نیک نیت سے متصف ہونے سے انسان کو اعلیٰ مرتبہ نصیب ہوتا ہے اسی طرح سے ریاء سے متصف ہونے سے اور بری نیت کی وجہ سے انسان اسفل سافلین کے درجے میں جا گرتا ہے کیونکہ عمل کا اصل باعث اخلاقی عنصر ہے اور وہی رب تعالیٰ سبحانہ کی نظر کا محور ہے (یعنی اللہ تعالیٰ اسی اخلاقی عنصر کو دیکھتے ہیں، عمل کا درجہ ثانوی ہے) جیسے ایک حدیث ہے کہ حضرت ابوبکرۃؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب دو مسلمان تلواریں سونت کر آمنے سامنے آتے ہیں (اور نتیجے میں ایک قتل ہو جاتا ہے) تو قاتل اور مقتول دونوں دوزخی ہیں۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! قاتل کا دوزخی ہونا تو سمجھ میں آ گیا لیکن مقتول کیونکر دوزخی ہوا؟ آپؐ نے فرمایا، مقتول بھی تو اپنے مدمقابل کو قتل کرنے پر حریص تھا۔ (بخاری و مسلم)

غرضیکہ اپنے ساتھی کو قتل کرنے کا ارادہ بھی اسے دوزخ میں لے گیا۔ اللہ سبحانہ حساب تو نیتوں پر لیں گے خواہ وہ ظاہر کرے یا اسے چھپائے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے:

وان تبدوا ما فی انفسکم او تخفوہ یحاسبکم بہ اللہ (بقرہ ۲۸۴)

’’خواہ تم اپنے دل کی بات چھپاؤ یا اسے ظاہر کرو اللہ تعالیٰ تم سے حساب ضرور لیں گے۔‘‘

اسی فرمان باری تعالیٰ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث قدسی سے واضح فرمایا:

ان اللہ تعالیٰ کتب الحسنات والسیئات ثم بین ذلک۔ فمن ھم بحسنۃ فلم یعلمھا کتبھا اللہ عندہ حسنۃ کاملہ۔ وان ھم بھا فعملھاکتبھا اللہ عشر حسنات الی سبع مائۃ ضعف الی اضعاف کثیرہ۔ وان ھم بسیئۃفلم یعملھا کتبھا اللہ حسنۃ کاملۃ۔ وان ھم بھا فعملھا کتبھا اللہ سیئۃ واحدۃ۔ (رواہ البخاری و مسلم عن عبد اللہ بن عباس)

’’اللہ تعالیٰ نے نیکیوں اور بدیوں کو لکھا اور ہر ایک کو واضح کر دیا۔ پھر جس کسی نے نیکی کا ارادہ کیا لیکن اس نیکی پر عمل نہیں کیا تو اللہ تعالیٰ اس کے نامۂ اعمال میں ایک نیکی لکھ دیتے ہیں۔ اور اگر نیکی کا ارادہ کر کے وہ نیکی بھی کر گزرے تو اسے ایک نیکی کے بدلے دس سے لے کر سات سو گنا بلکہ اس سے بھی کئی گنا زیادہ اجر عطا فرماتے ہیں (یعنی اخلاص میں جتنی قوت ہو گی اتنا ہی اجر زیادہ ہو گا)۔ لیکن اگر برائی کا ارادہ کیا لیکن وہ برائی نہیں کی تو اس (اجتناب) پر بھی ایک کامل نیکی اس کے نامۂ اعمال میں لکھی جائے گی۔ اور اگر بدی کا ارادہ کر کے وہ گناہ بھی کر لیا تو صرف ایک گناہ ہی لکھا جائے گا۔‘‘

یعنی اگر برائی کا ارادہ کر کے خوفِ خدا اور اس پر ایمان کی وجہ سے برائی سے باز رہا تو عند اللہ یہ ایک نیکی گنی جائے گی، لیکن اگر وہ گناہ کسی خارجی سبب سے نہ کر سکا تو یہ کوئی نیکی نہیں لیکن اس پر بھی اسے خدا کا شکر کرنا چاہیئے کہ اس نے گناہ سے بچا لیا۔ مزید براں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

ان اللہ تجاوز عن امتی عما حدثت بہ انفسھا۔

’’اللہ تعالیٰ نے میری امت کے لوگوں کے دلوں کے وسوسوں کو معاف فرما دیا ہے۔‘‘

ریا کی شان (اثر) یہ ہے کہ وہ بندے اور خدا کے درمیان حجاب بن جاتی ہے اور اسے حیوانوں کے زمرے میں لا شامل کرتی ہے، پھر اس کے نفس کا تزکیہ نہیں ہو پاتا۔ اس کا کوئی عمل مقبول نہیں ہوتا کیونکہ دکھلاوے کے کام کرنے والے کی نہ کوئی رائے ہوتی ہے نہ اس کا کوئی عقیدہ ہوتا ہے بلکہ وہ ’’گرگٹ‘‘ کی طرح ہوتا ہے کہ رنگ بدلتا رہتا ہے اور ہوا کے رخ پر چلتا ہے، عمل کی پختگی اس سے زائل ہو جاتی ہے۔ ریا کا مطلب ہے عبادات کے ذریعے جاہ و منزلت کا طلب کرنا اور اللہ سبحانہ نے اس سے بچنے اور اسے ترک کرنے کا صریحًا حکم فرمایا ہے کیونکہ اس سے انفرادی اور اجتماعی برائیاں پھیلتی ہیں، اس لیے فرمایا:

والذین یمکرون السیئات لھم عذاب شدید و مکر اولئک ھو یبور (فاطر ۱۰)

’’اور جو لوگ برائیوں کے داؤ میں ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے اور ان کا داؤ ہے ٹوٹے کا۔‘‘

اور جو لوگ برائی کے مکر کرتے ہیں یہی اہل الریاء ہیں اور ریاء منافقین کی صفت ہے جن کا مبداء و معاد پر ایمان نہیں اور نہ ہی وہ صالح عقیدہ پر یقین رکھتے ہیں۔ اللہ سبحانہ فرماتا ہے:

ان المنافقین یخادعون اللہ وھو خادعھم واذا قاموا الی الصلوٰۃ قاموا کسالیٰ یراءون الناس ولا یذکرون اللہ الا قلیلًا۔ (نساء ۱۴۲)

’’البتہ منافقین دغابازی کرتے ہیں اللہ سے اور وہی ان کو دغا دے گا اور جب نماز میں کھڑے ہوتے ہیں تو محض لوگوں کو دکھانے کے لیے بددلی سے کھڑے ہوتے ہیں اور اللہ کو یاد نہیں کرتے مگر بہت تھوڑا۔‘‘

اور عنقریب اللہ تعالیٰ اس دھوکہ دہی کا پردہ فاش کر دے گا اور یہ چھپانا اس آدمی کے لیے باعث ذلت و رسوائی بنے گا اور دکھلاوے کے لیے دھوکا دینے والے کی جگ ہنسائی ہو گی اور یہی اس کے دکھلاوے کی سزا ہو گی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’من سمع سمع اللہ و من یائی یرائی اللہ بہ‘‘۔جس نے دکھلاوے کے لیے کام کیا اللہ تعالیٰ یہ کام اس کے لیے باعث رسوائی بنا دے گا اور جس نے کوئی نیک کام اس نیت سے کیا کہ لوگوں کو معلوم ہو تو وہ اس کی عزت کریں تو اللہ تعالیٰ ایسے اسباب فرما دیں گے کہ لوگوں پر واضح ہو جائے گا کہ اس کی اصل نیت کیا تھی۔

اور ریا شرک ہی کی ایک قسم ہے جس سے عمل ضائع ہو جاتا ہے۔ محمود بن لبیدؓ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، میں تمہارے بارے میں جس چیز سے سب سے زیادہ ڈرتا ہوں وہ شرک اصغر ہے۔ صحابہؓ نے پوچھا یا رسول اللہ! یہ شرک اصغر کیا ہوتا ہے؟ فرمایا، ریاء۔ جب قیامت کے روز لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دے دیا جائے گا تو اللہ تعالیٰ (دکھلاوے کے لیے کام کرنے والوں کو) فرمائے گا جن لوگوں کو تم دنیا میں دکھا کر کام کرتے تھے ان کے پاس جاؤ، ذرا دیکھو تو تمہیں ان کے ہاں سے کوئی بدلہ ملتا ہے!

اسلام انسان سے یہ توقع رکھتا ہے کہ اس کا باطن اس کے ظاہر کی طرح ہو۔ اس کے رات کی سیاہی دن کی روشنی کی طرح ہو۔ جب ظاہر و باطن میں اختلاف ہو، قول اور فعل میں مطابقت نہ رہے، اور انسان خیر کی بجائے شر کو ترجیح دینے لگے تو سمجھ لو کہ یہ آدمی نفاق کی مرض میں مبتلا ہے۔ اب اس کے اندر حق کی علی الاعلان حمایت کا حوصلہ ختم ہو گیا ہے۔ جرأت و حوصلہ جو ایک مومن صادق کا طرۂ امتیاز ہے یہ اس سے یکسر محروم ہو جاتا ہے۔ امام بخاریؒ نے حضرت ابن عمرؓ کے بارے میں روایت کی ہے کہ لوگوں نے ان سے کہا کہ جب ہم بادشاہوں کے پاس جاتے ہیں تو ان سے ایسی باتیں کرتے ہیں جو ہم آپس میں نہیں کرتے۔ سن کر انہوں نے فرمایا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک میں ہم اسی رویے کو نفاق سمجھتے تھے۔

بعض لوگ دکھلاوے کے لیے ایسے کام کرتے ہیں کہ لوگوں میں ان کا خوب چرچا ہوتا ہے لیکن ان کا کام چونکہ خلوص پر مبنی نہیں ہوتا اس لیے اس پر نیک اثر بھی مرتب نہیں ہوتا۔ امام مسلمؒ نے حضرت ابوہریرہؓ کی حدیث نقل کی ہے، فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت کے روز سب سے پہلے جس شخص کا فیصلہ ہو گا وہ شہید ہو گا۔ اسے دربارِ خداوندی میں حاضر کیا جائے گا پھر سے سوال ہو گا: تو نے دنیا میں کیا کیا؟ وہ جواب دے گا میں نے تیری راہ میں جہاد کیا اور شہید ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تو نے جھوٹ بولا ہے، تو نے جنگ اس لیے لڑی کہ لوگ کہیں کہ فلاں بڑا بہادر تھا۔ چنانچہ لوگوں نے تیری تعریف کر دی (اب ہمارے ہاں تیرے لیے کچھ نہیں)۔ پھر اس کے متعلق فیصلہ صادر ہو گا اور وہ منہ کے بل دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔ پھر دوسرا شخص لایا جائے گا، اس نے علم سیکھا اور سکھایا ہو گا اور قرآن کا قاری ہو گا۔ اسے اللہ تعالیٰ کی نعمتیں یاد دلائی جائیں گی، وہ ان سب کا اعتراف کرے گا۔ پھر سوال ہو گا کہ ان نعمتوں کے بدلے میں تو نے کیا کیا؟ وہ کہے گا، میں نے علم سیکھا اور سکھایا اور تیرے قرآن کی تلاوت کی۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تو نے جھوٹ بولا ہے۔ تو نے تو اس لیے علم سیکھا کہ لوگ تجھے عالم کہیں، پس یہ کچھ کہا گیا اور تو نے قرآن اس لیے پڑھا کہ لوگ تجھے قاری کہیں اور یہ بھی کہا گیا (اب ہمارے پاس اس کا کچھ اجر نہیں) پھر اس کو حسب الحکم منہ کے بل دوزخ میں جھونک دیا جائے گا۔ پھر تیسرا شخص لایا جائے گا، اسے دنیا میں اللہ تعالیٰ نے رزق کی وسعت عطا فرمائی ہو گی۔ ہر قسم کا مال و دولت اسے میسر تھا۔ اللہ تعالیٰ اسے اپنی نعمتیں یاد دلائیں گے، وہ ان کا اعتراف بھی کرے گا، پھر سوال ہو گا، ان نعمتوں کے بدلے میں دنیا میں تو نے کیا کیا؟ وہ جواب دے گا، میں نے تیری رضا کے لیے ہر نیک کام کیا اور ان کاموں میں مال خرچ کیا۔ ارشاد ہو گا، تو جھوٹا ہے۔ تو نے خرچ اس لیے کیا تھا کہ لوگ کہیں کہ فلاں بڑا سخی ہے، پس یہ کچھ کہا گیا (اب تیرے لیے ہمارے پاس کچھ نہیں) پھر اسے حسب الحکم منہ کے بل دوزخ میں جھونک دیا جائے گا (اعاذنا اللہ منھا)۔

حدیثِ مذکورہ سے یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ اگر لوگ تعریف کریں گے تو عمل اکارت جائے گا بلکہ اگر کوئی کام نیک نیت اور اخلاص سے کیا جائے اور لوگوں کو اس کا علم ہو گا اور انہوں نے اس کی تعریف کی (اور اس تعریف پر اس کا اپنا مقصد نہیں تھا) تو اس کا عمل ضائع نہیں ہوگا خواہ ان کی یہ تعریف اسے بھلی ہی معلوم کیوں نہ ہو۔

ترمذیً‌ نے ابوہریرہؓ سے روایت کی ہے، ایک شخص نے کہا ، یا رسول اللہ! ایک شخص لوگوں سے چھپا کر کوئی عمل کرتا ہے لیکن لوگوں کو اس کی اطلاع ہو جاتی ہے، اب وہ شخص اس بات پر خوش ہوتا ہے (تو کیا اس عمل کا اسے ثواب ملے گا؟) آپؐ نے فرمایا اسے دو ثواب ملیں گے، ایک تو چھپانے کا ثواب اور ایک ظاہر ہونے کا ثواب ’’لہ اجران، اجر السر و اجر العلانیۃ‘‘۔ بلکہ لوگوں کی یہ تعریف ایک قسم کی بشارت ہے جو دنیا میں اسے مل گئی۔ ’’کما قال صلی اللہ علیہ وسلم انتم شہداء اللہ علی الارض‘‘۔

امام مسلمؒ نے حضرت ابوذرؓ سے روایت کی ہے، میں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ایک شخص نیک عمل کرتا ہے اور لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں؟ تو آپؐ نے فرمایا، یہ مومن کے لیے دنیا میں ہی بشارت ہے۔

ریاء سے خوف

حضرت ابو موسٰی اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا اے لوگو! اس شرک سے ڈرو کیونکہ یہ چیونٹی کے قدموں کی آہٹ سے بھی زیادہ خفی ہے۔ ایک شخص نے پوچھا، پھر اس سے بچنے کا طریقہ کیا ہے؟ فرمایا یہ کہا کرو ’’اللھم انا نعوذ بک من ان نشرک بک شیئًا نعلمہ، ونستغفرک لما لا نعلمہ‘‘۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ریاء سے محفوظ فرمائے اور اخلاص کی نعمت سے نوازے، آمین۔

چاہِ یوسفؑ کی صدا

پروفیسر حافظ نذر احمد

آ رہی ہے چاہِ یوسفؑ سے صدا
دوست یاں تھوڑے ہیں اور بھائی بہت

ارضِ مقدس (فلسطین) کا یہ کنواں ’’چاہِ یوسفؑ‘‘ اور ’’چاہِ کنعان‘‘ دو ناموں سے مشہور ہے۔ یہ تاریخی کنواں کبھی کا خشک ہو چکا ہے۔ توریت مقدس کا بیان ہے کہ جب ننھے یوسفؑ کو کنویں میں گرایا گیا اس میں پانی نہ تھا لیکن اس کنویں کی عظمت اس کے پانی سے نہیں بلکہ حضرت یوسف علیہ السلام کے ساتھ ایک گونہ نسبت کے سبب سے ہے۔ چاہِ یوسفؑؑ کے محل و وقوع اور حالات و کوائف کے مطالعہ سے قبل ضروری معلوم ہوتا ہے کہ پہلے حضرت یوسف علیہ السلام کے حالات کا مطالعہ کر لیا جائے۔ چونکہ یہ کنواں انہی کی نسبت سے مشہور ہوا، ورنہ کنویں میں اور کوئی ایسی انفرادی خصوصیت نہیں جو اس کی شہرت کا باعث ہوتی۔

حضرت یوسف علیہ السلام

حضرت یوسف علیہ السلام نبی تھے، نبیؑ کے بیٹے تھے، نبیؑ کے پوتے اور نبیؑ کے پڑپوتے تھے۔ ان کے والد ماجد کا نام حضرت یعقوب علیہ السلام تھا، دادا کا نام حضرت اسحاق علیہ السلام، اور پڑدادا کا اسمِ مبارک حضرت ابراہیم علیہ السلام تھا۔ یہ خاندان ہی انبیاءؑ کا خاندان تھا۔ اس خاندان میں حضرت داؤدؑ، حضرت سلیمانؑ، حضرت موسٰیؑ اور حضرت عیسٰیؑ جیسے جلیل القدر نبی ہوئے ہیں، ان سب پر اللہ کا درود و سلام ہو۔

حضرت یوسف علیہ السلام کے گرامیٔ قدر والد حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب ’’اسرائیل‘‘ تھا۔ یہ عربانی لفظ ہے۔ اس کے معنی ہیں عبد اللہ یعنی اللہ کا بندہ۔ ان کے اسی لقب کی نسبت سے ان کی اولاد کو ’’بنی اسرائیل‘‘ کہا جاتا ہے یعنی اولادِ یعقوب ؑ۔ حضرت یوسف علیہ السلام کا زمانہ ۱۸۰۰ تا ۱۹۰۰ قبل مسیح ؑ متعین کیا گیا ہے۔ وطن جدون تھا۔ اس قصبہ کا دوسرا نام ’’الخلیل‘‘ ہے، کیوں نہ ہو ’’خلیل اللہ‘‘ کی اولاد کی نگری ہے۔ یہ بستی ارضِ مقدس کے مشہور شہر بیت المقدس کے قریب ہی واقع ہے۔ چار ہزار سال پرانی یہ بستی آج موجود ہے۔

حضرت یوسف علیہ السلام اپنی پیاری عادات، موہنی صورت اور عمر میں سب سے چھوٹے ہونے کے سبب سب کے منظورِ نظر تھے۔ خصوصًا حضرت یعقوب علیہ السلام کو اپنے اس بچہ سے بے پناہ محبت تھی۔ حضرت یوسفؑؑ کے بھائی ان سے جلنے لگے۔ یوں بھی بن یامین کے سوا ان کا کوئی حقیقی بھائی نہ تھا اور سوتیلے بہن بھائی اکثر رقابت کا شکار ہو جایا کرتے ہیں، پھر حضرت یوسفؑؑ کے خوابوں نے جلتی آگ پر تیل کا کام کیا۔ انہوں نے ننھی عمر ہی میں کچھ خواب دیکھے جو اُن کے روشن مستقبل کا پتہ دے رہے تھے۔ ان کی تعبیر سے سوتیلے بھائیوں کے دلوں میں حسد کی آگ اور بھڑکی۔

برادرانِ یوسفؑؑ کی سازش

یوسف علیہ السلام جیسے معصوم پیارے بھائی کے خلاف ان لوگوں نے ایک خوفناک سازش کی، سب مل کر باپ کے پاس گئے اور یوسفؑؑ کو جنگل ساتھ لے جانے کی اجازت مانگی۔ کہنے لگے ہم بھیڑ بکریاں چرائیں گے، شکار کریں گے، یوسفؑؑ ہمارے ساتھ کھیلیں گے، خوب تفریح رہے گی۔ حضرت یعقوبؑ کی دوربین نگاہیں گویا آنے والے حادثات کو دیکھ رہی تھیں، انہوں نے برادرانِ یوسفؑؑ کی درخواست قبول کرنے میں پس و پیش کیا لیکن بیٹوں کے مسلسل اصرار اور حفاظت کے پختہ وعدوں پر بادلِ نخواستہ راضی ہو گئے اور یوسفؑؑ کو ساتھ لے جانے کی اجازت دے دی۔

گھر سے نکل کر یہ لوگ دریائے اردن کے کنارے پہنچے۔ جنگل میں ’’دوتین‘‘ شہر کے قریب انہوں نے حضرت یوسفؑؑ کے قتل کا منصوبہ بنانا چاہا، روبن نے سخت مخالفت کی، اس نے مشورہ دیا کہ یوسفؑؑ کے خون سے اپنے ہاتھ نہ رنگیں اور اس کا خون اپنے ذمہ نہ لیں بلکہ کنویں میں دھکا دے دیں، ہو سکتا ہے کوئی راہ چلتا مسافر نکال کر یہاں سے دور لے جائے، اس طرح یہ کانٹا راستہ سے ہٹ جائے گا اور اس کا خون بھی سر نہ چڑھے گا۔ روبن کی تجویز ان کی سمجھ میں آگئی، پہلے انہوں ’’بوقلمونی قبا‘‘ یوسفؑؑ کے جسم سے زبردستی، پھر کنویں میں دھکا دے دیا۔ یہ قبا حضرت یعقوبؑ نے خاص طور پر ان کے لیے تیار کروائی تھی۔ یوسفؑؑ کو کنویں میں گرا کر وہ اپنی جگہ بالکل مطمئن ہو گئے، انہیں معلوم نہیں تھا کہ وہ آج جسے اپنی راہ کا کانٹا سمجھ رہے ہیں کل وہی ان کا محسن ہو گا اور پورے خاندان کو فقر و فاقہ سے نجات دلائے گا۔

چاہِ یوسفؑؑ کی تحقیق

قرآن مجید میں اس کنویں کا ذکر موجود ہے۔ عربی زبان میں کنویں کو ’’بیئر‘‘ اور ’’جُب‘‘ کہتے ہیں۔ چنانچہ قرآن مجید میں اس کنویں کے لیے لفظ ’’جُب‘‘ ہی آیا ہے، ارشاد ہے:

قال قائل منھم لا تقتلوا یوسف والقوہ فی غیابۃ الجب۔

’’ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا یوسفؑؑ کو قتل نہ کرو بلکہ اسے کنویں میں گرا دو۔ (سورہ یوسف ۱۰)

لفظ جُب کے دو معنی ہیں (۱) جڑ سے کاٹ دینا (۲) کنواں۔ یہاں یہ لفظ اپنے دوسرے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ دراصل جُب ایسے کنویں کو کہتے ہیں جس کی منڈیر اینٹوں وغیرہ سے باقاعدہ نہ بنائی گئی ہو اور اس کی گہرائی بہت زیادہ ہو۔ جس کنویں کی منڈیر اور دیواریں ہوں اسے عربی میں ’’بئیر‘‘ کہتے ہیں۔ (مفردات القرآن، راغب)

اس کنویں کا محل وقوع جاننے کے لیے ذرا اس کے گرد و پیش پر نظر ڈال لیجئے۔ بیت المقدس فلسطین کا مرکزی شہر ہے۔ ارضِ مقدس کے اس شہر سے کوئی پچیس میل کے فاصلے پر دریائے اردن بہتا ہے۔ یہ دریا اس قدر اہم ہے کہ اس کی نسبت سے پورے ملک کا نام ہی شرقِ اردن پڑ گیا۔ یہی وہ دریا ہے جس پر حضرت مسیح علیہ السلام نے اصطباغ (بپتسمہ) لیا تھا۔ دریائے اردن کے کنارے طبریہ سے دمشق کو جاتے ہوئے تقریباً‌ بارہ میل کے فاصلے پر چاہِ یوسفؑؑ کا مقام آتا ہے۔ طبریہ فلسطین کا ایک تاریخی شہر ہے اور دمشق ملک شام کا دارالخلافہ ہے۔ طبریہ کے دوسری سمت فلسطین کی ایک دوسری قدیم ترین بستی ناصریہ واقع ہے اسے انگریزی میں Nazarath نزرات کہتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں حضرت مسیح علیہ السلام کی ولادت ہوئی تھی۔ اسی نسبت سے انہیں ’’مسیحِ ناصری‘‘ کہتے ہیں اور ان کے ماننے والے عیسائی اور مسیحی کے علاوہ ’’نصرانی‘‘ اور ’’نصارٰی‘‘ بھی کہلاتے ہیں۔

یہ کنواں آبادی سے دور جنگل بیابان میں تھا جیسا کہ بائبل کے اس بیان سے واضح ہے:

’’اور ان سے کہا خونریزی نہ کرو لیکن اسے کنویں ڈال دو جو بیابان میں ہے‘‘۔ کتاب پیدائش ۳۷: ۱۹، ۲۰)

اسی کتاب پیدائش کے باب ۳۷ کی آیت ۲۴ کا بیان ہے:

’’اسے پکڑ کر کنویں میں ڈال دیا۔ وہ کنواں سوکھا تھا، اس میں پانی کی بوند نہ تھی۔‘‘

ہمارے اکثر مفسرین کرام نے اس بیان سے اختلاف کیا ہے۔ چاہِ یوسفؑؑ کا تذکرہ مشہور سیاح ابن بطوطہ نے بھی کیا ہے۔ ابن بطوطہ نے اپنی سیاحت کے دوران اس کنویں کی زیارت کی تھی۔ ابن بطوطہ کے بیان کے مطابق یہ کنواں ایک رہگزر پر تھا اور اگلے وقتوں میں کنویں عام طور پر راستوں پر ہی بنائے جاتے تھے تاکہ مسافروں کو پانی کی سہولت رہے۔ چنانچہ قافلے عام طور پر کارواں سراؤں کے علاوہ کنویں پر ہی پڑاؤ ڈالتے تھے۔

مشہور مفسر امام النسفی نے اپنی کتاب ’’مدارک التنزیل‘‘ میں لکھا ہے کہ یہ کنواں حضرت یعقوبؑ کے گھر سے تین فرسخ یعنی تقریباً‌ بارہ میل کے فاصلے پر تھا اور اس وقت کنویں میں پانی موجود تھا۔ چنانچہ بھائیوں نے جب حضرت یوسفؑؑ کو کنویں میں گرایا تو انہوں نے مینڈھ پر پناہ لی اور کنویں میں سیدھے کھڑے ہو گئے۔

حضرت یوسفؑؑ کنویں میں

جب بھائی یوسفؑؑ کو جنگل ساتھ لے کر چلے تھے انہوں نے باپ سے حفاظت کا وعدہ کیا تھا اور بڑی بڑی قسمیں کھائی تھیں لیکن نیت بد تھی اور ان کے وعدوں کی حیثیت ایک فریب سے زیادہ کچھ نہ تھی۔ وہ حضرت یوسفؑؑ کو کھیل کود اور شکار کے بہانے ’’دوتین‘‘ کے جنگل میں لے آئے جیسا کہ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں، انہوں نے یہاں پہنچ کر قتل کر ڈالنے کا پختہ ارادہ کر لیا، خدا بھلا کرے روبن کا کہ اس نے انہیں اس ارادہ سے روکا، اس کے سمجھانے پر انہوں نے کنویں میں گرا دینے کا فیصلہ کیا جیسا کہ ہم ابتداء میں کہہ چکے ہیں، پہلے انہوں نے حضرت یوسفؑؑ کی بوقلمونی قبا اتاری پھر اس سے باندھ کر کنویں میں دھکا دے دیا۔

حضرت یوسفؑؑ کی عمر کا یہ ابتدائی حصہ تھا۔ بائبل کی روایت کے مطابق اس وقت ان کا سن سترہ برس کا تھا (ملاحظہ ہو ’’توراۃ مقدس‘‘ کتاب پیدائش باب ۳۷ آیت ۳)۔ معلوم نہیں معصوم اور بے گناہ یوسفؑؑ کے دل پر اس وقت کیا گزری ہو گی؟ اور ان کے من میں کیا کیا خیال آئے ہوں گے؟ عین اس مایوسی اور غم کے عالم میں اللہ پاک نے انہیں تسلی دی جیسا کہ قرآن مجید کا ارشاد ہے:

’’ہم نے یوسفؑؑ کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ ہم ان بھائیوں کو یہ بات جتلائیں گے اس وقت ان کو پتہ بھی نہ ہو گا‘‘۔ (سورہ یوسف ۱۵)

چاہِ یوسفؑؑ پر قافلہ کا گزر

حضرت یوسفؑؑ کو کنویں سے نکالنے والا قافلہ کن لوگوں کا تھا؟ یہ مسافر کہاں سے آرہے تھے اور کدھر جا رہے تھے؟ یہ تمام سوال جواب طلب ہیں۔ ہو سکتا ہے اس وقت قافلہ کی آمد کو محض حسن اتفاق سمجھا جائے۔ نہیں، یہ اللہ کی مشیت تھی۔ قافلہ کو یہاں پہنچا کر یوسفؑؑ نبی کو بچانا مقصود تھا اور آگے چل کر ان کے ذریعے کئی قوموں کی تقدیر بدلنی تھی۔ اللہ تعالیٰ جب چاہتے ہیں اپنی قدرتِ کاملہ سے ایسے ’’حسنِ اتفاق‘‘ ظاہر کر دیا کرتے ہیں۔ اللہ کی رحمت سے انسان کو کسی حال میں مایوس نہیں ہونا چاہیئے۔ اس سلسلہ میں بائبل کا بیان ہے کہ جب بھائیوں نے ایک قافلہ اس طرف آتے دیکھا تو یوسفؑؑ کو فروخت کرنے کی سازش کی اور آپس میں یوں کہنے لگے:

’’آؤ اسے اسماعیلیوں کے ہاتھ بیچ ڈالیں کہ ہمارا ہاتھ اس پر نہ اٹھے کیونکہ وہ ہمارا بھائی اور خون ہے (سبحان اللہ کس برادرانہ شفقت کا مظاہرہ ہے) اس کے بھائیوں نے اس کی بات نہ مانی۔ مدیانی سوداگر ادھر سے گزرے تب انہوں نے یوسفؑؑ کو گڑھے سے کھینچ کر باہر نکالا اور اسے اسماعیلیوں کے ہاتھوں بیس روپیہ میں فروخت کر ڈالا اور وہ قافلے والے یوسف کو مصر لے گئے۔ جب روبن گڑھے پر آیا تو اس نے دیکھا کہ یوسفؑؑ گڑھے میں نہیں ہے تو اس نے اپنا پیرہن چاک کر ڈالا‘‘۔ (کتاب پیدائش ۴۷: ۲۷ تا ۲۹)

بائبل کے مندرجہ بالا حوالے میں جن لوگوں کو ’’مدیانی سوداگر‘‘ کہا گیا ہے ان سے حجاز (عرب) کے اسماعیلی عرب مراد ہو سکتے ہیں کیونکہ عبرانی زبان میں اسماعیلیوں کو مدیانی کہتے تھے۔ بعض اصحاب ’’مدیانی‘‘ کو ’’مدین‘‘ سے منسوب کرتے ہیں یعنی وہ علاقہ جو سعیر سے بحر احمر تک اور شام سے یمن تک پھیلا ہوا ہے۔ مدین کا علاقہ حجاز کہلاتا ہے (ملاحظہ ہو ’’ارض القرآن‘‘ ج ۲ ص ۴۷ تا ۴۹)۔ مختصر یہ کہ عرب تاجروں کا ایک قافلہ یمن کے دارالخلافہ صفا شہر سے مصر جا رہا تھا، قافلہ کے اونٹوں پر گرم مصالحہ اور ملبان وغیرہ لدا ہوا تھا، قافلہ والوں کی نظر جب خوبرو اور خوش اطوار یوسفؑؑ پر پڑی تو ان کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔ کلام پاک میں آتا ہے کہ وہ بے ساختہ پکار اٹھے ’’یا بشرٰی ھذا غلام‘‘ ارے واہ واہ! یہ تو ایک لڑکا نکل آیا‘‘۔ (سورہ یوسف ۱۲: ۱۹)

حضرت یوسفؑؑ کنویں سے باہر

قافلے والے ننھے یوسفؑؑ کو یہاں سے مصر لے گئے اور منہ مانگی قیمت وصول کر لی۔ ان کا خوش قسمت خریدار مصر کا باوقار حکمران تھا، اسے فرعون کے دربار میں بڑا مقام حاصل تھا۔ قرآن مجید میں اسے ’’عزیز مصر‘‘ کے لقب سے یاد کیا گیا ہے اور توراۃ مقدس میں اس کا نام فوطیفار بیان ہوا ہے، لکھا ہے:

’’مدیانیوں نے اسے مصر میں فوطیفار کے ہاتھ فروخت کر دیا۔ وہ فرعون کا ایک امیر اور لشکر کمانڈر تھا‘‘۔ (کتاب پیدائش ۳۷: ۳۹)

یوسف کا خریدار عزیزِ مصر لاولد تھا۔ میاں بیوی دونوں کو بچہ کی بے حد خواہش تھی مگر ان کا یہ ارمان پورا نہیں ہو رہا تھا۔ اس حسین و جمیل بچہ سے ان کے گھر میں بہار آ گئی۔ عزیزِ مصر (فوطیفار) کی بیوی کا نام نہ قرآن مجید میں مذکور ہے نہ توراۃ میں۔ البتہ اسرائیلی روایات میں وہ زلیخا کے نام سے مشہور ہے۔ یوسفؑؑ اس کے گھر میں پلے بڑھے اور جوان ہوئے۔ زلیخا کو ان سے محبت ہو گئی، اس نے انہیں اپنے دامِ محبت میں پھنسانا چاہا مگر وہ اس کے دامِ تزویر میں نہ آئے۔ جب اس نے دیکھا کہ اس کی کوئی بات انہیں اس طرف مائل نہیں کرتی تو اس نے کمرے کے دروازے بند کر لیے مگر پاکباز یوسفؑؑ پر اس کا یہ آخری داؤ بھی کارگر نہ ہوا، اللہ کریم نے ان کی حفاظت کی اور صاف بچا لیا۔

کنویں سے جیل کی کوٹھڑی تک

حضرت یوسفؑؑ کنویں سے ضرور نکل آئے تھے مگر قید و بند کی مزید سختیاں ابھی ان کے مقدر میں لکھی تھیں۔ ان کی پریشانیوں اور آزمائشوں کا دور ابھی باقی تھا۔ چنانچہ جب زلیخا اپنی کسی تدبیر کے ذریعے انہیں گناہ میں ملوث نہ کر سکی تو اس نے الٹا ان پر دست درازی کا الزام لگا دیا اور دھاندلی سے حضرت یوسفؑؑ کو جیل میں ڈلوا دیا۔ حضرت یوسفؑؑ پورے صبر و شکر کے ساتھ ایامِ اسیری بسر کرتے رہے، ان کی پُراثر شخصیت سے قیدی بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ وہ ان سے خوابوں کی تعبیریں پوچھتے اور حق و صداقت کا پیغام سنتے۔ اسی دوران بادشاہ نے ایک عجیب و غریب خواب دیکھا، کوئی درباری اس کی تعبیر نہ بتلا سکا، جیل کے آزاد شدہ ایک قیدی کو حضرت یوسفؑؑ کی یاد آ گئی۔ وہ ان کی بتلائی ہوئی کتنی ہی تعبیروں کی صداقت آزما چکا تھا، اس شخص نے بادشاہ کو یوسفؑؑ کا پتہ دیا۔

شاہی فرمان جاری ہوا کہ یوسفؑؑ کو رہا کر کے شاہی دربار میں بلایا جائے مگر انہوں نے جیل سے باہر آنے سے انکار کر دیا۔ فرمایا جب تک الزام سے بریت کا اعلان نہ ہو، رہائی کا کیا مطلب؟ لیکن الزام کی بنیاد ہی کیا تھی جس کی تحقیق کی جاتی۔ وہ تو محض دھاندلی تھی یا زیادہ سے زیادہ ملک کی ’’خاتون اول‘‘ کی عزت کو بچانے اور اس کی بات کو بالا رکھنے کی تدبیر تھی۔ بہرصورت حضرت یوسفؑؑ کی پاکدامنی اور پاکبازی کا اعلان کر دیا گیا اور وہ باعزت جیل سے باہر آگئے۔ اب یوسفؑؑ دربار کے ایک رکنِ رکین تھے۔ شاہی خزانے کی کنجیاں ان کی تحویل میں تھیں اور پورے ملک کی معاشی پالیسی ان کے ہاتھ میں تھی۔ ملک میں قحط پڑا تو غلہ کی فروخت اور تقسیم بھی انہی کے سپرد ہوئی۔

کنویں میں ڈالنے والے

کنعان میں قحط سے حالات بہت خراب ہو چکے تھے، لوگ فاقوں کے باعث بھوکے مر رہے تھے، مصری غلہ ان سب کی امیدوں کا سہارا تھا، یوسفؑؑ کو کنویں میں ڈالنے والے ’’برادرانِ یوسفؑؑ‘‘ بھی اس غلہ کی شہرت سن کر غلہ حاصل کرنے کے لیے چل پڑے۔ آج کا بھائی (جسے اپنے خیال میں) وہ ختم کر چکے تھے خزانوں کا مالک تھا اور نادانستہ اس کے سامنے سوالی بن کر آئے تھے۔ اپنی تمام تر ذہانت کے باوجود وہ حضرت یوسفؑؑ کو نہ پہچان سکے۔ حضرت یوسفؑؑ نے انہیں پہچان لیا مگر حقیقی بھائی کو درمیان میں نہ پایا۔ یوسفؑؑ نے اپنے دشمنِ جان بھائیوں کو خوب خوب غلہ دیا اور ہدایت کی اگر کوئی اور بھائی گھر ہے تو آئندہ اسے بھی ساتھ لانا اور زیادہ غلہ ملے گا۔

یہ لوگ گھر لوٹے، باپ کو سارا ماجرا سنایا، جو نوازشات ہوئی تھیں انہیں بڑھ چڑھ کر بیان کیا اور چھوٹے بھائی بن یامین کو ساتھ بھیجنے کی درخواست کی، اس کی حفاظت کے پختہ وعدے کیے، حضرت یعقوبؑ ان پر اعتبار کرنے کو تیار نہ تھے چونکہ بن یامین کے بھائی یوسفؑؑ کے بارہ میں بھی یہ لوگ ایسے ہی وعدے کر چکے تھے اور پھر کنویں میں گرا کر بہانہ بنایا تھا کہ بھیڑیا کھا گیا، لیکن قحط کے حالات نے اور کچھ ان کے اصرار نے مجبور کر دیا اور حضرت یعقوبؑ نے اجازت دے دی، اس طرح سب گیارہ کے گیارہ بھائی مصر کو چل دیے۔

حضرت یوسفؑؑ نے پہلے سے زیادہ نوازشات کیں اور خوب غلہ دیا مگر ملازمین کو ہدایت کر دی کہ بن یامین کے بورے میں چپکے سے غلے کا پیمانہ چھپا دیں، انہوں نے ایسا ہی کیا۔ جب یہ لوگ چلنے لگے تو منادی ہو گئی کہ سرکاری پیمانہ گم ہو گیا ہے جس کسی کے پاس پیمانہ ہو وہ واپس کر دے۔ ان سب نے لاعلمی کا اظہار کیا اور کہا کہ ہم چور نہیں ہیں کہ ایسا کرتے اور اگر ہم میں سے کسی سے پیمانہ برآمد ہو تو اسے قانون کے مطابق غلام بنا لیا جائے۔ تلاشی لی گئی اور بن یامین کے بورے سے پیمانہ برآمد ہو گیا۔ حضرت یوسفؑؑ نے قانون اور فیصلہ کے مطابق بن یامین کو روک لیا، اس طرح بھائی سے بھائی مل گیا۔ برادرانِ یوسفؑؑ بن یامین کے بغیر روتے دھوتے گھر کو لوٹے، باپ کی دنیا پہلے ہی سونی تھی، بن یامین کو نہ پا کر ان کے دل کی نگری بالکل ہی اجڑ گئی۔ انہوں نے بیٹوں کو دوبارہ مصر بھیجا، یہ لوگ حاضر ہوئے تو اس مرتبہ حضرت یوسفؑؑ نے راز سے پردہ اٹھایا، بولے، کچھ یاد ہے تم نے اس کے بھائی یوسفؑؑ کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا؟ حضرت یوسفؑؑ کے ان لفظوں نے ان کی آنکھیں کھول دیں۔ جس بھائی کو وہ کنویں میں گرا کر دل سے بھلا چکے تھے وہ آج ان کے سامنے تختِ حکومت پر جلوہ افروز تھا اور بڑے اختیارات کا مالک تھا۔ اسے پہچان کر ان کے ہاتھ پاؤں پھول گئے مگر حضرت یوسفؑؑ نے بڑے اطمینان سے فرمایا:

’’نہیں، آج تم پر کوئی الزام نہیں، اللہ تمہیں معاف کرے، وہ سب سے بڑا رحم کرنے والا ہے‘‘۔ (سورہ یوسف ۲۹)

ایک تمثیل

حضرت یوسف علیہ السلام اور حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ایک دوسرے سے بہت مماثلت رکھتی ہے۔ دونوں کی داستانِ حیات کا آغاز مصائب سے ہوتا ہے، اپنوں کے ہاتھوں مصائب، قید و بند، جلاوطنی اور ہجرت دونوں کے ہاں مشترک ہیں۔ کامیابی اور عروج کا انداز بھی ایک جیسا ہے اور آخر دونوں کے دشمن دست بستہ حاضر ہوتے ہیں اور ’’لاتثریب علیکم الیوم‘‘ (سورہ یوسف ۹۲) کا مزدۂ جانفزا سنتے ہیں۔ غالباً‌ اسی لیے حضرت یوسفؑؑ کی داستانِ حیات کو قرآن مجید میں ’’احسن القصص‘‘ کہا گیا ہے ؎

قید میں یعقوب ؑ نے لی گو نہ یوسف کی خبر
لیکن آنکھیں روزنِ دیوارِ زنداں ہو گئیں

شمس الائمہ سرخسی رحمۃ اللہ علیہ

ڈاکٹر حافظ محمد شریف

نام

ابوبکر محمد بن ابی سہل احمد، نہ کہ احمد بن ابی سہل، جیسا کہ بعض مغربی مصنفین کو غلط فہمی ہوئی ہے۔ چنانچہ براکلمان اور ہیفننگ اسی زمرے میں آتے ہیں۔

ولادت

متقدمین سوانح نگار آپ کی تاریخِ ولادت بیان نہیں کرتے، البتہ متاخرین میں فقیر محمد جہلمیؒ اور مولانا عبد الحی لکھنویؒ نے صراحت کی ہے کہ آپ ۴۰۰ھ کے دوران ’’سرخس‘‘ میں پیدا ہوئے۔ سرخس کے بارے میں نواب صدیق حسن خاںؒ فرماتے ہیں:

’’بفتحتین و سکون خاء معجمہ للبلد از خراسان است‘‘۔

اور مولانا عبد الحیؒ فرماتے ہیں:

السرخسی نسبۃ الی السرخسی بفتح السین و فتح الراء و سکون الخاء بلدۃ قدیمۃ من بلاد خراسان وھو اسم رجل سکن ھذا الموضع وعمّرہ و اتم بناء ذوالقرنین۔ (فوائد البیہ ص ۱۵)

یہ شہر تاریخ اسلام میں عرصۂ دراز تک بڑا مردم خیز رہا ہے۔ متعدد نامور فقہاء، طبیب، وزراء وغیرہ یہاں پیدا ہوئے۔ آج کل یہ شہر ایرانی روسی سرحد پر دونوں مملکتوں میں آدھا آدھا بٹا ہوا ہے۔ دریائے ہررود اس کے بیچ میں سے گزرتا ہے۔ (بحوالہ نذر عرشی مقالہ ڈاکٹر حمید اللہ ص ۱۲۱)

تعلیم و تربیت

دس سال کی عمر میں باپ کے ساتھ، جو تجارت پیشہ تھے، بغداد آئے۔ اس کے بعد شمس الائمہ عبد العزیز بن احمد بن نصر بن صالح الحلوانی البخاریؒ کی خدمت میں بخارا حاضر ہوئے۔ حلوانیؒ کے متعلق جمال عبد الناصر فرماتے ہیں:

ھو فقیہ الحنفیۃ کان امام اھل الرائ فی وقتہ ببخارا۔ صنف شرح المبسوط، نوادر فی الفروع والفتاوٰی، ادب القاضی لابی یوسف دفن بخاری ۴۴۸ھج۔

’’وہ احناف کے فقیہ تھے اور اپنے وقت میں بخارا اور اہل رائے کے امام تھے‘‘۔ (فروع الحنفیہ ص ۲۵۳)

حلوانی بخارا میں درس دیتے تھے۔ سرخسیؒ عرصۂ دراز تک ان کے درس میں حاضر ہوئے۔ سرخسیؒ نے اپنی شرح ’’السیر الکبیر‘‘ کے شروع میں صراحت کی ہے کہ میں نے حلوانی کے علاوہ شیخ الاسلام ابوالحسن علی بن محمد بن الحسین بن محمد الغدیؒ متوفی ۴۶۱ھ سے بھی کتاب مذکور کا درس لیا۔ نیز ان کے تیس استادوں میں ابو حفص عمر بن منصور البزار بھی ہیں، لیکن ان سے سرخسیؒ نے ’’السیر الکبیر‘‘ کا درس ان کے اس کی شرح لکھنے سے قبل لیا۔ مگر علامہ سرخسیؒ شمس الائمہ حلوانیؒ کے مشہور ترین و ممتاز ترین شاگرد ہوئے۔ آپ نہ صرف استاد کے درسگاہ ہی میں جانشین ہوئے بلکہ ان کے لقب ’’شمس الائمہ‘‘ کے بھی زبانِ خلق سے وارث قرار پائے۔

فقہی مقام و مرتبہ

فقہاء کے سات طبقات ہیں: (۱) مجتہدین فی الاصول (۲) مجتہدین فی المذہب (۳) مجتہدین فی المسائل (۴) اصحابِ تخریج (۵) اصحابِ ترجیح (۶) متمیزین بین الاقوی والقوی والاضعف والضعیف (۷) مقلدین محض۔

کمال پاشازادہؒ نے سرخسیؒ کو طبقۂ ثالثہ یعنی مجتہدین فی المسائل میں شمار کیا ہے جیسے ابوبکر خصافؒ، طحاویؒ، ابوالحسن الکرخیؒ، شمس الائمہ الحلوانیؒ، فخر الاسلام بزدویؒ، فخر الدین قاضی خاں صاحبؒ، ذخیرہ و محیط شیخ طاہر احمدؒ مصنف خلاصۃ الفتاوٰی، یہ سب حنفی ہیں جو امام کی مخالفت نہ اصول میں کرتے ہیں اور نہ فروع میں بلکہ امام کے قواعد سے ان مسائل کا استنباط کرتے ہیں جن میں امام سے کوئی روایت نہیں ہے۔

سند

فتاوٰی شامیؒ میں علامہ سرخسیؒ کی سند یوں درج ہے:

شمس الائمہ سرخسی عن شمس الائمہ الحلوانی عن القانی ابی علی النسفی عن ابی بکر محمد بن الفضل البخاری عن ابی عبد اللہ المزبونی عن ابی حفص عبد اللہ بن احمد بن ابی حفص الصغیر عن والدہ ابی حفص الکبیر عن الامام محمد بن حسن الشیبانی عن امام الائمہ سراج الامۃ ابی حنیفہ النعمان بن ثابت الکوفی عن حماد بن سلیمان عن ابراہیم النخعی عن علقمہ عن عبد اللہ بن مسعودؓ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم عن امین الوحی جبریل عن الحکم العدل جل جلالہ تعالیٰ و تقدست اسماءہٗ۔ (شامی ص ۴ ج ۱)

کرامات

(۱) مؤرخین لکھتے ہیں کہ جب آپ کو ظالم نے قید کر کے اوزجند کی طرف بھیجا تو راستہ میں جب نماز کا وقت آتا تو آپ کے ہاتھ پاؤں سے خودبخود بند کھل جاتے۔ آپ وضو یا تیمم کرکے پہلے اذان پھر تکبیر کہہ کر نماز شروع کر دیتے۔ اس وقت پہرے دار سپاہی دیکھتے کہ ایک جماعت سبز پوشوں کی آپ کے پیچھے کھڑی ہو کر نماز ادا کر رہی ہے۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوتے تو سپاہیوں کو کہتے آؤ تم مجھے باندھ لو۔ سپاہی کہتے خواجہ ہم نے تمہاری کرامت دیکھ لی ہے اب ہم تم سے ایسا معاملہ نہیں کرتے۔ اس پر خواجہ جواب دیتے کہ میں حکمِ خدا کا مامور ہوں پس میں اس کا حکم بجا لایا تاکہ قیامت کو شرمندہ نہ ہوں، اور تم اس ظالم کے تابعدار ہو پس چاہیئے کہ تم اس کا حکم بجا لاؤ تاکہ اس کے ظلم سے خلاص پاؤ۔

(۲) جب آپ شہر اوزجند پہنچے تو ایک مسجد میں مؤذن نے تکبیر کہی۔ آپ نماز پڑھنے مسجد میں داخل ہوئے، امام نے آستین کے اندر ہی ہاتھ رکھ کر تکبیر تحریمہ کہی، آپ نے پچھلی صف سے آواز دی کہ پھر تکبیر کہنی چاہیئے، امام نے پھر اسی طرح آستین میں ہاتھ رکھ کر تکبیر کہی۔ پس اس طرح تین دفعہ ردومدح ہوا، چوتھی دفعہ امام نے منہ پھیر کر کہا، شاید آپ امام اجل سرخسیؒ ہیں۔ آپ نے کہا، ہاں۔ امام نے کہا کہ تکبیر میں کچھ خلل ہے؟ آپ نے کہا کہ نہیں لیکن مردوں کے لیے ہاتھ آستین سے باہر نکال کر تکبیر کہنا سنت ہے، پس مجھ کو اس کے ساتھ اقتداء کرنے سے عار ہے جو عورتوں کی سنت کے ساتھ نماز میں داخل ہو۔

(۳) ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ طالب علم آپ سے اس کنویں پر جس میں آپ قید تھے سبق پڑھ رہے تھے۔ ایک طالب علم کی آواز آپ نے نہ سنی، پوچھا کہ وہ کہاں گیا ہے؟ ایک نے کہا کہ وہ وضو کرنے گیا ہے اور میں بسبب سردی وضو نہیں کر سکا۔ آپ نے فرمایا ’’عافاک اللہ‘‘ تجھے شرم نہیں آتی کہ اس قدر سردی میں تو وضو نہیں کر سکتا، حالانکہ مجھ کو تو طالبعلمی کے وقت بخارا میں ایک دفعہ عارضہ شکم لاحق ہوا تھا جس سے مجھے بہت دفعہ قضائے حاجت ہوئی، پس ہر دفعہ نالہ سے وضو کرتا تھا۔ جب مکان پر آتا تھا تو میری دوات بسبب سردی کے جمی ہوئی تھی، پس میں اس کو اپنے سینہ پر رکھ لیتا جب وہ سینہ کی گرمی سے حل ہو جاتی تو اس سے تعلیقات لکھتا تھا۔ (حدائق الحنفیہ ص۲۰۵)

تعلیمی رفقاء

دورِ تعلیم میں آپ کے رفقاء یہ تھے: (۱) شمس الائمہ ابوبکر زنجری (۲) محمد بن علی زنجری (۳) ابوبکر محمد بن حسین (۴) فخر الاسلام علی بن محمدبن حسین بزدوی (۵) صدر الاسلام (۶) ابوالسیر محمد بن محمد بزدوی کے بھائی (۷) قاضی جمال الدین (۸) ابو نصر احمد بن عبد الرحمان (۹) علی بن عبد اللہ الخطیبی رحمہم اللہ تعالیٰ۔

تلامذہ

علامہ سرخسیؒ کے تلامذہ میں مشہور بزرگوں کے اسماء گرامی یہ ہیں: (۱) علی بن حسین سغدی (۲) رکن الاسلام مؤلف مختصر مسعودی (۳) ابوالحسن سغدی مؤلف دراوی شرح سیر کبیر۔ سغد، سمرقند کے نواح میں ہے (۴) مسعود بن حسین (۵) عبد الملک بن ابراہیم مؤلف طبقات حنفیہ و شافعیہ (۶) محمود بن عبد العزیز اوزجندی (۷) رکن الدین خطیب (۸) مسعود بن حسین کتانی (۹) محمد بن محمد بن محمد رضی الدین سرخسی مصنف محیط (۱۰) عثمان بن علی بن محمد بن محمد بن علی ۴۴۵ھ تا ۵۵۲ھ (۱۱) حیرۃ الفقہاء عبد الغفور بن نعمان کردری (۱۲) ظہیر الدین حسین بن علی مرغنیانی (۱۳) ابوعمر عثمان بن علی بیکندی (۱۴) برہان الائمہ عبد العزیز بن عمر بن بازہ۔

تصانیف

علامہ سرخسیؒ کی جو کتب چھپ چکی ہیں ان میں سے (۱) المبسوط (۲) شرح السیر الکبیر (۳) کچھ حصہ شرح السیر الصغیر (۴) اصول فقہ للسرخسی (۵) شرح الزیادات۔ اور جو کتب مخطوطوں کی شکل میں محفوظ ہیں ان میں سے (۱) اشراط الساعۃ فی مقامات التیامہ (۲) شرح الجامع الکبیر (۳) شرح الجامع الصغیر۔ اور کچھ ناپید ہیں مثلاً‌ (۴) شرح مختصر الطحاوی (۵) شرح نکت زیادات الزیادات۔ کشف الظنون میں ایک کتاب ’’الفوائد‘‘ کو بھی سرخسیؒ کی تالیف بتایا گیا ہے۔ ’’المبسوط‘‘ کا تعارف انشاء اللہ العزیز ایک مستقل مقالہ کی صورت میں الگ تحریر کیا جا رہا ہے۔ اس مضمون میں دیگر کتابوں کا مختصر تعارف درج ذیل ہے۔

شرح السیر الکبیر

اس کتاب کے متعلق ابن قطلوبغاؒ لکھتے ہیں:

’’ان کی ایک کتاب ’’شرح السیر الکبیر‘‘ دو ضخیم جلدوں میں ہے۔ یہ کتاب انہوں نے اپنے شاگردوں کو اس وقت املاء کرانا شروع کی جب وہ کنویں میں قید کاٹ رہے تھے۔ باب الشروط تک پہنچے تو رہائی ہو گئی اور امام سرخسیؒ آخری عمر میں فرغانہ چلے گئے جہاں کے حکمران امیر حسنؒ نے انہیں مقام و مرتبہ سے نوازا۔ پھر طلباء آپ تک وہاں پہنچے اور باقی ماندہ کتاب انہوں نے فرغانہ میں املاء کرائی‘‘۔ (بحوالہ کتاب التراجم ص ۵۳)

یہ دراصل امام محمد کی ’’السیر الکبیر‘‘ کی، جو قانون بین الممالک کی ایک اہم کتاب ہے جس کا یونیسکو کی جانب سے ترجمہ بھی ہو رہا ہے، شرح ہے۔ جو امام سرخسیؒ نے قید کے آخری دور میں املاء کرانی شروع کی۔ اسے دائرہ المعارف حیدر آباد نے ۱۴۰۸ صفحوں کی چار ضخیم جلدوں میں شائع کیا ہے اور اب ایک نیا ایڈیشن مصر میں بھی چھپ رہا ہے۔

سرخسیؒ کی کتاب الشروط تک جو چوتھی جلد کے ص ۶۰ سے شروع ہوتا ہے یعنی ۱۲۸۰ صفحات کے اختتام تک پہنچے تھے کہ بالآخر انہیں رہائی ملی۔ مابقی املاء کے ۳۲۸ صفحات انہوں نے مرغنیاں پہنچ کر دس دن میں مکمل کرائے۔ اس کتاب میں مصنف نے امام محمدؒ کے اصول و اساسات کے پیشِ نظر فقہی مسائل بیان فرمائے ہیں۔ اس کتاب میں جہاد و قتال اور صلح و جنگ کے طریقے، غیر مسلم اقوام سے تعلقات اور تجارت وغیرہ پر بحث کی گئی ہے۔ اسلام کے بین الاقوامی زاویۂ نگاہ کو معلوم کرنے کے لیے یہ کتاب بڑی ضروری ہے۔

شرح السیر الصغیر

یہ جامع الصغیر فی الفروع محمد بن حسن الشیبانی الحنفی المتوفی ۱۸۷ھ کی شرح ہے جس میں ۱۵۳۲ مسائل ہیں۔ ۱۷۰ اختلافی مسائل، ۲ مسائل میں قیاس و استحسان کا ذکر ہے۔ اس کتاب کے متعلق کہا گیا ہے:

لا یصلح المرء للفتوی ولا للقضاء الا اذا علم مسائلہ۔

’’کوئی شخص فتوٰی اور قضا کی صلاحیت نہیں رکھتا جب تک اس کتاب کے مسائل کا علم حاصل نہ کر لے۔‘‘

اس شرح کی بندہ کو تلاش تھی، الحمد للہ استاذ محترم حضرت مولانا عبد الحمید سواتی مدظلہ العالی نے نشاندہی فرما دی ہے کہ کندیاں شریف کے کتب خانہ میں اس کا نسخہ موجود ہے، یہ کتاب بھی امام سرخسیؒ نے قید کے دوران املاء کرائی۔

اصولِ فقہ

یہ کتاب چھپی ہوئی ہے اور بعض مدارسِ عربیہ میں داخلِ نصاب بھی ہے۔ یہ کتاب بھی آپ نے قید خانہ میں اس لیے املاء کرائی تھی تاکہ امام محمدؒ کی کتابوں کی شرح میں جو باتیں بیان کی گئی ہیں ان کے اصول اور اساسات معلوم ہو جائیں، یہ کتاب دو جلدوں میں احیاء المعارف حیدر آباد نے شائع کی ہے۔

صفۃ اشراط الساعۃ و مقامات القیامۃ

ایک زمانہ میں ان کے استاد حلوانیؒ نے اس کتاب پر درس کا سلسلہ شروع کیا۔ علامہ سرخسیؒ نے اس املاء کو قلمبند کیا۔ خوش قسمتی سے یہ کتاب محفوظ رہ گئی۔ بقول جناب ڈاکٹر حمید اللہ اس کا واحد نسخہ پیرس کے عمومی کتب خانہ میں عربی نمبر ۲۸۰۰ مجموعہ ورق ۴۴۲ ب تا ۴۶۵ ب ۲۱ سطروں والی بڑی تقطیع پر موجود ہے۔ اس کی تمہید کا ایک فقرہ ڈاکٹر حمید اللہ نے یوں نقل کیا ہے کہ:

سئل الامام شمس الائمہ الحلوانی عن مقامات القیامۃ و قیام الساعۃ ھل ورد فیھا حدیث صحیح؟ قال ورد ۔۔۔ وھذا الحدیث الواحد اسلم الاحادیث فی ذلک وھو ما حدثنی الفقیہ ابوبکر محمد بن علی سنۃ خمس و اربع مائۃ ۔۔۔

’’امام حلوانیؒ سے سوال کیا گیا کہ قیامت کی علامات کے بارے میں کیا کوئی صحیح حدیث وارد ہوئی ہے؟ فرمایا، ہاں، اور یہ ایک حدیث اس بارے میں تمام احادیث سے زیادہ سلیم ہے اور یہ وہ روایت ہے جو مجھ سے امام ابوبکر محمد بن علیؒ نے ۴۰۵ھ میں بیان کی۔‘‘

تاریخ سے یہ دقیق اعتنا سرخسیؒ نے اپنے استاد سے سیکھا جسے انہوں نے خود بھی جاری رکھا۔

شرح الجامع الکبیر

اس کا ایک حصہ مصر میں مخطوطے کی شکل میں موجود ہے۔

ان کے علاوہ سرخسیؒ نے امام محمدؒ کی کتاب زیادات اور زیادات الزیادات کی شرحیں بھی اسی قید خانہ میں املاء کرائیں۔ ان میں سے ’’زیادات الزیادات‘‘ احیاء المعارف حیدر آباد کی طرف سے چھپی ہے۔ علامہ سرخسیؒ نے ۴۹۰ نکتے بیان فرمائے اور قید میں املاء کرائے ہیں۔ پہلا جملہ اس کا ہے ’’الحمد لولی الحمد ومستحقہ‘‘۔

شرح مختصر الطحاوی

اس کتاب کا تفصیلی ذکر کہیں نہیں مل سکا۔ یہ نایاب کتاب ہے۔ البتہ سوانح نگاروں نے اس کا ذکر اپنی کتابوں میں کیا ہے۔ چنانچہ حاجی خلیفہؒ فرماتے ہیں ’’شرح مختصر الطحاوی فی خمسۃ اجزاء‘‘ (کشف الظنون ص ۱۶۲۸)

ابن قطلوبغاؒ نے بھی ایک جگہ ذکر کیا ہے کہ میں نے اس کتاب کا ایک حصہ دیکھا ہے (تاج التراجم ص ۵۲)۔ ان کتب کے علاوہ علامہ کی شرح النفقات للخصافؒ شرح ادب القاضی للخصاف، شرح ادب القاضی للخصاف کا ذکر مولانا ابو الوفا افغانی نے کیا ہے۔ نیز مختلف ابواب کی شکل میں بھی تحریری مواد کا ثبوت ملتا ہے جیسے کتاب السرقہ، کتاب الکسب، مگر وہ مبسوط ہی کا حصہ معلوم ہوتی ہیں۔

علامہ کی ان تمام کتب کی ایک مشترکہ خصوصیت یہ ہے کہ عموماً‌ سرخسیؒ جب کبھی امام محمدؒ کی کسی ذاتی رائے کی توجیہہ کرتے ہیں تو فقہ کے اصول کلیہ سے استدلال کرتے ہیں۔ چنانچہ انسائیکلو پیڈیا آف اسلام میں سرخسیؒ سے متعلق مقالہ نگار ہیفننگ کو یہ تسلیم کرنا پڑا کہ سرخسیؒ اپنی اس کوشش کے باعث ممتاز ہیں کہ وہ قانون کے عام اساسات و اصول کلیہ کو نمایاں کرتے ہیں۔

قید و بند کی صعوبتیں

آپ بڑے حق گو تھے۔ آپ نے بادشاہ کے سامنے کلمۂ حق کہا جس سے وہ ناراض ہوگیا اور آپ کو قید کر دیا اور اوزجند میں ایک کنویں کے اندر بند کر دیا جس میں آپ مدت تک رہے۔ علامہ عبد الحیؒ فرماتے ہیں:

وھو فی الجب محبوس بسبب کلمۃ تصلح بھا الامراء۔

’’وہ کنویں میں ایک کلمۂ حق کی وجہ سے بند کر دیے گئے جس کے ذریعے وہ حکام کی اصلاح چاہتے تھے۔‘‘

اور سیر النبلاء میں حضرت ملا علی القاری کے حوالے سے لکھا ہے:

و فی طبقات القاری املا المبسوط نحو خمسۃ عشر مجلدا وھو فی السجن باوزجند محبوس بسبب کلمۃ کان فیھا من الناصحین۔

نیز تاج التراجم، الاعلام خیر الدین زرکلی، تاریخ الفقہ الاسلامی، مفتاح السوادہ میں بھی اسی سے ملتے جلتے الفاظ ہیں۔ لیکن اصل وجہ پر بہت کم روشنی ڈالی گئی ہے۔ انسائیکلو پیڈیا آف اسلام زیر لفظ ’’سرخسی‘‘ میں ہیفننگ نے لکھا ہے:

’’غالباً‌ انہیں اس لیے قید کیا گیا کہ ام ولد کے نکاح کے متعلق انہوں نے حکمرانِ وقت کے فعل پر شرعی نقطۂ نظر سے اعتراض کیا تھا۔‘‘

لیکن بقول ڈاکٹر حمید اللہ یہ وجہ قابل قبول نہیں اس لیے کہ سارے مآخذ صراحت کرتے ہیں کہ ان کا یہ اعتراض رہائی کے بعد کا واقعہ ہے۔ دوسری وجہ قید کا حوالہ ڈاکٹر صاحب دیتے ہیں کہ استنبول کے ’’عمومی ترکی تاریخ‘‘ کے پروفیسر احمد ذکی ولیدی طوغان نے ایک مرتبہ ان سے زبانی گفتگو کے دوران یہ خیال ظاہر کیا تھا کہ اس زمانہ میں ابو نصر احمد بن سلیمان الکاسانی نامی ایک بدطینت شخص تھا۔ وہ قاضی القضاۃ پھر وزیر رہا۔ یہ سب کچھ اسی کا کیا دھرا تھا۔ اس طرح کا حوالہ خود مبسوط میں بھی آتا ہے اگرچہ نام کی تصریح نہیں۔

قال فی اخرہ ’’انتھی املاء العبد الفقیر المبتلی بالھجرۃ الحصیر المحبوس من جھۃ السلطان الخطیر باغراء کل زندیق حقیر‘‘۔

اس سلسلے میں مولانا مناظر احسن گیلانی مرحوم سابق صدر شعبۂ دینیات جامعہ عثمانیہ حیدرآباد دکن کا خیال شاید صحیح ہو۔ وہ لکھتے ہیں کہ اس زمانے میں صلیبی جنگوں کے باعث عالمِ اسلام میں بحران تھا اور ہر روز نئے نئے ٹیکس لگ رہے تھے اور بے پناہ مظالم ہو رہے تھے۔ سرخسیؒ نے بعض ٹیکسوں کو ناجائز قرار دیا۔ گویا ’’عدم ادائیگی محاصل کی تحریک‘‘ کی قیادت کی تھی۔ اس پر قید ناگزیر تھی اور ڈاکٹر صاحب نے سرخسیؒ کے ایک سوانح نگار محمود بن سلیمان الکفوی کا تائیدی حوالہ بھی دیا ہے۔

آپ کتنی مدت قید رہے؟ مبسوط اور دیگر کتب جو آپ نے قید میں املاء کرائیں کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ۴۶۶ھ سے ۴۸۰ھ تک قید میں رہے یعنی تیرہ چودہ سال کی مدت۔ آپ صرف کنویں ہی میں اتنی مدت نہیں رہے بلکہ آپ کی تصانیف سے یہ واضح ہوتا ہے کہ آپ مختلف وقتوں میں مختلف مقامات میں قید رکھے گئے۔ چنانچہ ڈاکٹر حمید اللہ صاحب بھی فرماتے ہیں:

’’ان سارے اقتباسات سے گمان ہوتا ہے کہ اولاً‌ واقعی آپ کو ایک اندھے کنویں میں پھینک دیا گیا تھا، پھر ان کی ریاضت اور صبر سے متاثر ہو کر رفتہ رفتہ حالت میں اصلاحِ عمل آئی ہو گی اور ایک چھوٹے حجرے میں بند رہے۔ اس کے بعد کسی افسر اور معتمد حکومت کے مکان میں زیرنگرانی رکھے گئے اور دوبارہ قلعہ میں لائے گئے شاید اس لیے کہ ملک کی آئے دن کی جنگوں جھگڑوں میں دشمن انہیں نہ لے اڑیں یا برہمی کو کم کرنا مقصود تھا بالآخر رہا کئے گئے۔‘‘ (نذر عرشی ص ۱۲۵)

وفات سرخسیؒ

اعداد کے حساب سے آپ کی تاریخ وفات ’’شمس ملک اور مجتہد اولیاء‘‘ سے نکلتی ہے یعنی ۴۸۳ھ۔ بعض جگہ ’’فی حدود تسعین‘‘ اور بعض جگہ ’’حدود خمس مائۃ‘‘ کا ذکر ہے۔ علامہ خضریؒ آپ کا سنِ وفات ۴۸۲ھ اور نواب محمد صدیق حسن خان بھوپالی ۴۹۴ھ بیان کرتے ہیں۔ جبکہ تحفۃ الفقہاء میں ۴۳۸ھ تک بھی لکھا ہے جو بالکل غلط ہے، شاید کتابت میں بجائے ۸۳ کے ۳۸ لکھا گیا ہے۔ لیکن یہ سب مبہم اور تخمینی الفاظ ہیں۔ ابن قطلوبغا اور کفوی نے صراحت کی ہے ’’فخرج فی اخر عمرہ الی فرغانہ‘‘۔ اور خود علامہ سرخسیؒ کے بیان کے مطابق وہ ۴۸۰ھ میں علاقہ فرغانہ کے شہر مغنیان میں جا ٹھہرے تھے لہٰذا سالِ وفات ۴۸۳ھ زیادہ قرینِ قیاس ہے۔ مولانا عبد الحی نے ماہ جمادی الاولی کی بھی صراحت کی ہے اور ماخذ کشف الظنون ہے۔ مبسوط کے مخطوطوں میں بھی تاریخوں کا یہ اختلاف پایا جاتا ہے مگر بالآخر یہ تین تاریخیں ہی سامنے آتی ہیں، دو تخمینی اور ایک معین۔ ڈاکٹر حمید اللہ صاحبؒ نے بھی ۴۸۳ھ کو ترجیح دی ہے (نذرعرشی ص ۱۳۲)۔

عصرِ حاضر کی پیشانی پر کلنک کا ٹیکہ

حافظ محمد اقبال رنگونی

کچھ عرصہ سے ایڈز نامی بیماری نے دنیا بھر کے ڈاکٹروں اور مفکروں کو پریشان کر رکھا ہے۔ ہر مفکر اس کے سدباب کے لیے کوشاں ہے اور تحقیق اور ریسرچ کے ذریعہ اس پر قابو پانے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے۔ اس بیماری کے پیدا ہونے کی دوسری وجوہات سے قطع نظر تمام ڈاکٹروں کا متفقہ فیصلہ یہی ہے کہ لواطت پرستی اور غیر فطری عمل اس بیماری کو پیدا کرنے کا سبب ہے، اسی لیے تمام ہسپتالوں اور ٹی وی کے اشتہاروں میں خبردار کیا جاتا ہے کہ غیر فطری عمل سے اجتناب کیا جائے۔
لیکن انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ دوسری جانب اس بیماری کو وسیع کرنے کے پروگرام بھی تیار کیے جاتے ہیں جس عمل کو سب سے زیادہ خطرناک قرار دیا گیا تھا۔ برطانوی معاشرہ کے یہ ناسور اسی عمل کے پھیلاؤ کے لیے نہ صرف کوشش کرتے ہیں بلکہ اسے قانونی بنا کر اس کی مالی امداد کا بھی مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ انتہا تو یہ ہے کہ ۱۶ سال کی عمر کو غیر فطری حرکت کے لیے موزوں قرار دے کر سابقہ قانون کو ختم کرنے کے لیے بل بھی پیش کیا جاتا ہے۔ روزنامہ مرر ۴ اکتوبر ۱۹۸۹ء کی اشاعت میں لکھتا ہے کہ:
’’برائیٹن میں لیبر پارٹی کی کانفرنس کے موقعہ پر یہ مطالبہ پیش کیا گیا کہ ہم جنس پرستی کے لیے ۲۱ سال کی عمر کی قید ختم کر کے ۱۶ سال کر دی جائے۔ تقریباً‌ پونے چار لاکھ ووٹ کے ذریعے یہ بات تسلیم کی گئی کہ عمر کا یہ امتیاز ختم کر دیا جائے۔ اس مطالبہ کو برطانوی ایم پی مسٹر کرس اسمتھ نے پیش کیا ہے۔‘‘
اس کانفرنس کو ختم ہوئے چند ہفتے بھی نہ ہونے پائے تھے کہ حزبِ اختلاف کے مشہور ایم پی ٹونی بین نے برطانوی دارالعوام میں بل بھی پیش کر دیا۔ مانچسٹر ایوننگ نیوز ۶ نومبر کی اشاعت میں لکھتا ہے کہ:
’’لیبر پارٹی کے ایم پی مسٹر ٹونی بین نے پارلیمنٹ میں ایک بل پیش کیا ہے جس کا مقصد ہم جنس پرستوں کے لیے عمر کی قید ختم کرنا ہے۔ لیبر پارٹی کی سالانہ کانفرنس کے موقع پر بھی تقریباً‌ ۴ لاکھ لوگوں نے اس کے حق میں ووٹ دیے تھے اور یہ قانون پاس کیا تھا کہ جب لیبر پارٹی برسراقتدار آئے گی تو ایسا ہی کرے گی۔ لیبر پارٹی کے سربراہ حزب اختلاف کے قائد نیل کینک کو اس بل کے پیش کرنے کی وجہ سے سخت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ہے کیونکہ ٹونی بین نے بغیر کسی تبادلۂ خیال کے یہ بل پیش کر دیا تھا۔‘‘
ہمیں لیبر پارٹی کے سربراہ سے صرف یہ کہنا ہے کہ جب سالانہ کانفرنس کے موقع پر یہ مطالبہ پیش کیا تھا اور لاکھوں لوگوں نے اس کی حمایت کی تھی تو اب تبادلۂ خیال کیوں اور کیسا؟ اگر یہ موقف اور مطالبہ انتہائی بے حیا و فحش تھا تو اس وقت اس کے خلاف احتجاج کیا جاتا۔ انہیں چاہیئے کہ شرمندگی کے بجائے اعتراف و اقرار اور کھلے بندوں میدان میں آجائیں، اس لیے کہ اس حمام میں سب ہی ننگے ہیں کیا ایم پی اور کیا عوام۔
؏ بے شرموں کو شرم آئی خدا خیر کرے
لیبر پارٹی کے اس ذلیل موقف اور دوسرے بے حیاؤں کے مطالبات پر مانچسٹر شہر کی کونسل ایسے بدقماشوں کے لیے ایک عظیم ادارہ تعمیر کرنے میں مصروف ہو چکی ہے۔ مانچسٹر ایوننگ نیوز ۹ دسمبر ۱۹۸۹ء کی اشاعت میں خبر دیتا ہے کہ:
’’مانچسٹر شہر کی کونسل نے ۳ لاکھ پونڈ کی مالیت سے ایک ایسی عمارت بنانے کا فیصلہ کیا ہے جو ہم جنس پرستوں کے لیے مخصوص ہو گا۔ کونسل کی ایک ہم جنس پرست کونسلر مس ایڈورڈ کا کہنا ہے کہ مانچسٹر میں ہر ۲۰ عورتوں میں سے ایک اسی گروہ سے ہے اور یہ تعداد ہزاروں میں ہے۔ مالی کمیٹی کے چیئرمین کا کہنا ہے کہ اس خطیر رقم سے بننے والے سنٹر کی وجہ سے ایسے لوگ خطرے میں نہ رہیں گے بلکہ آزاد ہوں گے۔‘‘
اس خبر پر سوائے دو چار کے کسی نے نہ تو تبصرہ کیا ہے اور نہ ہی تنقید۔ اور جس نے تبصرہ کیا بھی تو صرف  اسی بات پر کہ اتنی خطیر رقم سے ہسپتال اور سڑک، سکول اور اساتذہ کی تعداد میں اضافہ کرنا چاہیئے، بس اس سے زیادہ کسی نے تبصرہ کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی اس بات کا مطالبہ کیا کہ اس پر پابندی لگائی جائے۔ جس کا مطلب اس کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے کہ یورپی سوسائٹی میں شرم و حیا، عفت و عصمت نام کی کوئی چیز ہی نہیں۔ یہ تہذیب عصر حاضر کی پیشانی پر کلنک کا ٹیکہ نہیں تو اور کیا ہے؟ بدتہذیبی و بے حیائی کی حد تو یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو سرکاری تحفظ دیا جاتا ہے اور ایک رپورٹ کے مطابق باقاعدہ ان کی شادیوں کو تسلیم کیا جانے لگا۔ برطانوی اخبار ٹائم ۱۵ اکتوبر ۱۹۸۹ء کی یہ خبر پڑھیئے اور یورپی تہذیب کا تماشا دیکھئے۔ اخبار لکھتا ہے کہ:
’’ڈنمارک کی حکومت نے لواطت پرستوں کی شادی کو سرکاری تحفظ دینے کا اعلان کر دیا جو یکم اکتوبر ۱۹۸۹ء سے شروع ہو چکا ہے، اس تحفظ سے فائدہ اٹھا کر دو مردوں نے آپس میں شادی کی۔ اوف کارسن اور این لارسن نے جو ۴۲ سال کے ہیں نے بتایا کہ ہماری یہ شادی کوئی معمولی شادی نہ تھی بلکہ دنیا میں ہم پہلے دو ہیں جن کی شادی کو باقاعدہ حکومتی سطح پر تسلیم کیا گیا اور رجسٹرار کے دفتر سے شادی کا سرٹیفکیٹ بھی جاری کیا گیا۔ یہ شادی کوپن ہیگن کے ٹاؤن ہال میں مزید ۱۰ جوڑوں کے ساتھ رچائی گئی اور بڑے زور و شور سے اس کا اہتمام کیا گیا تھا۔ ان کا خیال ہے کہ آئندہ اس قسم کی شادی عبادت گاہوں میں بھی ہوا کرے گی اور چرچ بھی ایسی شادی کو تسلیم کرے گا۔ انہوں نے اخباری رپورٹر کو بتایا کہ آج کے بعد ہم اپنے دوست احباب اور عزیز و اقارب کو یہ کہہ سکیں گے کہ ہم دونوں قانونی طور پر شادی  شدہ ہیں۔ اخبار کے مطابق یورپی ممالک کے تمام ہم جنس پرستوں نے اس خبر و قانون پر بے پناہ مسرت کا اظہار کرتے ہوئے اس بات کا اعادہ و مطالبہ کیا کہ یورپ کے دوسرے ممالک بھی اسے تسلیم کریں اور اس سلسلے میں یورپی پارلیمنٹ کے دروازے بھی کھٹکھٹائے جائیں گے۔‘‘
یورپی ممالک کے مفکروں، کونسلروں اور ایم پی کی طرف سے غیر اخلاقی حرکت کے نفاذ پر یہ اصرار ان کی بیمار ذہنیت کا پتہ دے رہی ہیں اور پورا معاشرہ عفت و عصمت، شرم و حیا، طہارت و پاکبازی کے معانی و مفاہیم سے بالکلیہ محروم ہو چکا ہے۔ اسی معاشرہ ہی کے وہ افراد ہیں جو رشدی کی شیطانیت کی حمایت میں مصروف و مشغول ہیں کیونکہ یہ حرام کاری اور خلاف وضع فطری عمل دونوں کے دلدادہ ہیں اور ہر اخلاقی امور کی مخالفت ان کا وطیرۂ زندگی بن چکا ہے۔ یہ لوگ فطرتِ سلیمہ اور اخلاقِ عالیہ کے تمام ضوابط سے نہ صرف محروم بلکہ شدت سے ان کی مخالفت کرتے ہیں۔ ایسے شیطانی افراد سے یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ فطرتِ سلیمہ اور اللہ کے دین کے معیار کو سامنے رکھیں گے۔
جب خدا کا تصور اور اس کے احکام کا پاس و لحاظ ختم ہو جائے، زندگی کو حیوانی بلکہ اس سے بھی بدتر طریقے پر گزارنے کا چلن عام ہو جائے تو پھر اخلاقی اقدار باقی نہیں رہتے۔ جب شہوات کی حکمرانی دل و دماغ پر مستحکم ہو جائے تو پھر شرافت، شرم و حیا کا دامن چھوٹ جاتا ہے اور بالآخر فطرت کی خلاف ورزی پر وہ سزا دی جاتی ہے جس سے بچنا ناممکن بن جاتا ہے۔ یہی وہ ایڈز ہے جو عذابِ الٰہی کی صورت میں ظاہر ہو کر ہر بے حیا پر اپنے پنجے گاڑ چکا ہے (العیاذ باللہ)۔
چرچ اور پادریوں کی اخلاقی زبوں  حالی
مانچسٹر کے علاقہ برانزوک کے چرچ کی جانب سے یہ خبر ملی ہے کہ ہفتہ میں دو دن God and Sex کے عنوان پر درس دیا جائے گا۔ اس عنوان کے تحت زنا بالجبر، زنا بالرضا، ہم جنس پرستی، چھوٹے بچوں کے ساتھ غیر اخلاقی حرکات اور طلاق جیسے اہم موضوعات ہوں گے۔ علاوہ ازیں ویڈیو فلم بھی دکھائی جائیں گی اور ایک ماہر جنسیات کو بطور خاص مدعو کیا جائے گا۔ مارٹن گوڈر کا کہنا ہے کہ یہ موضوعات ہماری زندگی کا ایک حصہ بن چکے ہیں۔ جب خدا نے شہوت پیدا کی تو اس نے کوئی غلطی نہیں کی۔ خدا چاہتا ہے کہ ہم اس کی بنائی ہوئی قدرت سے خوب نفع لیں۔ اس کا کہنا ہے کہ جب مجھے اپنی گاڑی کے لیے بہتر سہولت حاصل کرنی ہو تو میں گاڑی بنانے والے کی ہینڈ بک دیکھوں گا۔ اسی طرح زندگی کا صحیح لطف حاصل کرنے کے لیے ہمیں اس کی کتاب یعنی بائبل دیکھنی ہو گی۔ اخبار نے اس پر یہ سرخی جمائی ہے Church Guide to Good Sex (مانچسٹر ایوننگ نیوز)
پادری صاحب کی اس بات سے تو شاید ہی کسی کو اختلاف ہو گا کہ یورپی تہذیب میں Sex کا موضوع بہت ہی سستا اور عام ہے۔ یہاں کے سکولوں میں اس موضوع پر لیکچر کے علاوہ فلم بھی دکھائی جاتی ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ لڑکی سکول جانے کی بجائے ہسپتال پہنچ جاتی ہے اور ’’کنواری ماں‘‘ کے نام سے یاد کی جاتی ہے کیونکہ اس تہذیب میں جو شخص جتنا بے حیا و بے شرم ہو گا اتنا ہی مہذب اور جدت پسند کہلاتا ہے اور کونسل سے لے کر حکومت تک اس کی حوصلہ افزائی میں پیش پیش رہتے ہیں۔ یہاں ایک عام آدمی سے لے کر ایم پی تک محبوبہ اور گرل فرینڈ رکھنے کو معیوب نہیں سمھجتا بلکہ بڑے بڑے ایم پی کے ناجائز تعلقات منظرِ عام پر آ چکے  ہیں، اور برطانوی ٹیلی ویزن کی ایک مشہور و معروف خبرنامہ پڑھنے والی این دائمنڈ تو ناجائز بچے کی ماں بن کر بھی برطانوی ٹی وی پر پوری آن و بان سے موجود ہیں۔ مانچسٹر ایوننگ نیوز نے ۵ نومبر کی اشاعت میں بچوں کی اخلاقی حالت کا سروے کرنے کے بعد رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ سب بچوں کا خیال ہے کہ ان کے والدین کو اس جنس پرستی کے موضوع پر بتانا چاہیئے، اس کے  بعد ٹیچرز کو بتانا چاہیئے، یوں تو دوست احباب، لٹریچر، رسالے سے بہت سی معلومات مل جاتی ہیں۔
اس کا نتیجہ روزانہ سنتے اور پڑھتے ہیں کہ کس خطرناک صورت میں نکلتا ہے، ہزاروں لڑکیاں کنواری مائیں بن جاتی ہیں، بے شمار بچوں میں بیماریاں پھیل جاتی ہیں، راہ چلتی ہوئی عورت کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور ایک ۸۰ سالہ بوڑھی عورت بھی ان کے ہوس کا شکار بن جاتی ہے، مگر حکومت اور برطانوی مفکرین مجبور اور بے بس ہیں کہ اس قسم کی غیر اخلاقی حرکتوں پر پابندی لگا سکیں۔ پادری صاحب اچھی طرح اس بات کو بھی جانتے ہوں گے کہ چرچ اور گرجاگھروں میں کیا کچھ ہوتا رہا اور ہوتا ہے۔۔۔۔
پادری صاحب کی خدمت میں صرف اتنا عرض کریں گے کہ چرچوں اور گرجاگھروں کو غیر اخلاقی حرکات کی آماجگاہ نہ بنائیں۔ یہاں Sex کے موضوعات پر درس دینے کے بجائے اخلاق و شرافت کے اصول سمجھائیں اور برطانوی حکومت کو مجبور کریں کہ وہ اس قسم کی تمام مخرب اخلاق و حیا سوز رسائل و جرائد، کتاب و فلم پر کڑی پابندی عائد کر کے خلافِ قانون قرار دے اور اس کے مرتکب کا خدائی قانون کی روشنی میں فیصلہ کرے تاکہ صحیح معنوں میں ایک اچھی سوسائٹی کہی جائے۔

اسلامی نظامِ تعلیم کے خلاف فرنگی حکمرانوں کی سازش

شریف احمد طاہر

مسلم قوم اس کرۂ ارض پر چودہ سو سال سے جاوداں ہے۔ اس کے سفر کا آغاز نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رہنمائی میں ہوا اور طاقت و توانائی خلفاء راشدینؓ، تابعینؒ، تبع تابعینؒ، علماء کرامؒ، مصلحینِ امتؒ اور صوفیائے عظامؒ سے حاصل ہوتی رہی۔ جب پرچمِ اسلام کو بنو امیہ نے اپنے ہاتھوں میں لیا تو انہوں نے اس کو چین اور اسپین تک لہرایا۔ فرانس (کوہ پارنیز) کی سرحدوں کو عبور کیا۔ کرۂ ارض کے مکینوں کو حیاتِ نو کا پیغام دیا اور علوم و فنون کی سرپرستی کی اور خلفاء بنو امیہ کا اسپینی دور علمی و سیاسی دونوں اعتبار سے عہدِ زریں کہلایا۔
جب یہ شمعٔ فروزاں بنو عباس کے ہاتھ میں آئی تو علوم و فنون کو جلا ملی، نئی نئی ایجادات ہوئیں، جدید اصول مرتب ہوئے، تجربہ گاہیں اور رصدگاہیں تعمیر ہوئیں، بیت الحکمت کی بنیاد پڑی، دارالترجمہ قائم ہوا، اور جو علوم و فنون سربستہ راز تھے اور جسے عیسائی دنیا گمراہی و ضلالت کا پلندہ تصور کرتی تھی اسے مسلمانوں نے نسخۂ کیمیا بنا کر پیش کیا جس سے خود عیسائیوں نے استفادہ کیا۔ بنو عباس نے اپنے دورِ عروج میں خود علمی، دینی، تمدنی اور ثقافتی ہر میدان میں دنیا کی رہنمائی کی۔
اور دورِ زوال جس میں طاقت و قوت کے محور ترک و یالمہ اور سلجوقی ترک بن گئے تھے، شمع کو روشن رکھا، علوم و فنون کو عام کیا، دینی احساس کو بیدار کیا۔ خاص طور سے ساحقہ، ملک شاہ سلجوقی اور اس کا وزیر نظام الملک طوسی اس میدان میں فائق اور عظیم صلاحیتوں کے مالک ثابت ہوئے۔ علم کی شمع روشن رکھنے کے لیے درسگاہیں بنوائیں، فضلاء اور ماہرین کے لیے مسندِ درس قائم کی، طلبہ کے لیے جدید طرز کی سہولتیں، قیام و طعام فراہم کیے، ان کے لیے وظائف مقرر کیے اور مدارس کا جال بچھا دیا۔
الحاکم بامر اللہ نے سب سے پہلا مدرسہ قائم کیا، پھر استاذ ابوبکر فورک کے لیے نیشاپور میں ایک مدرسہ تعمیر ہوا اور دوسرا مدرسہ بہیقیہ کے نام سے تعمیر ہوا جس کے مدرس اعظم ابوالقاسم اسفرائنی تھے اور اس میں امام الحرمین اور امام غزالیؒ کے استاذ اپنے والد کے انتقال کے بعد داخل ہوئے۔ محمود غزنویؒ نے دارالسلطنت غزنین میں مدرسہ قائم کیا اور فتوحاتِ ہند کا ایک قیمتی حصہ اس پر صرف کر دیا۔ جاگیریں وقف کیں، غزنویؒ کے بھائی امیر نصر بن سبکتگینؒ نے بھی نیشاپور میں مدرسہ بنایا جس کا نام سعیدیہ رکھا۔ اس کے بعد ہی نظام الملک نے مدارس کا جال بچھایا اور انہیں نظامیہ بغدادیہ کے ماتحت رکھا۔ ابو نصر صباغؒ، شیخ جمال الدین شیرازیؒ، علی بن مظفرؒ، امام عبد اللہ الحسین طبریؒ، قاضی ابو محمد شیرازیؒ، امام ابو حامد غزالیؒ اور ان کے چھوٹے بھائی احمد غزالیؒ جیسے حکماء اسلام اور ماہرین اس مدرسہ میں تدریس کے فرائض پر فائز رہتے، اس کے ماتحت نظامیہ کا ایک طویل جال بچھا دیا گیا۔ نیشاپور، اصفہانی، مرو، خوزستان، موصل، جزیرہ ابن عمرؓ، آئل، بصرہ، ہرات، بلخ، ملوس قابل ذکر ہیں جس میں ابوالمعالی امام الحرمین ابو حامد غزالیؒ، ابوالمعالی نیشاپوریؒ وغیرہ مسندِ درس پر سرفراز ہوئے۔
جامعہ ازہر کی تعمیر ہوئی، جامعہ قیروان کی اساس پڑی، جامعہ زیتونہ نے نہ مٹنے والے نقوش ثبت کیے۔ ان میں تفسیر، حدیث، فقہ، ادب، طلب، فلسفہ، کیمیا، علمِ نجوم، ریاضی اور جغرافیہ کی تعلیم ہوتی تھی مگر صلیبی حملوں نے اس تسلسل کو ناقابل ذکر نقصان پہنچا دیا اور ان مدارس کا رخ مغرب میں ترکی اور مشرق میں برصغیر کی طرف ہوا اور اس میں مملوک، خلجی، پٹھان، تغلق اور مغلوں نے ایک جوش اور ولولہ اور جمعیت دی اور علوم و فنون کی آبیاری کی۔
ان مدارس کی سرپرستی سیاسی تفوق رکھنے والے افراد کرتے تھے۔ مگر جب مسلمان سیاسی طور پر کمزور ہوئے تو یہ نظام ان اللہ کے مخلص بندوں کے ہاتھ میں آیا جنہوں نے اس کی سرپرستی علمی اور مالی دونوں طرح سے کی اور دینی مدارس کے نظام کی داغ بیل ڈالی اور نہ ختم ہونے والا سلسلہ قائم کیا۔ دینی تعلیم کا رواج ہوا، زبان کو استحکام حاصل ہوا، اسلامی ثقافت و دین کی حفاظت کرنے میں بڑی مدد ملی۔
پھر ایک ایسا دور آیا کہ اس برصغیر پر انگریز قوم نے حیلہ و بہانہ اور مکر و فریب سے قبضہ جما لیا تھا اور اس کے بعد اس نے جس جبر و استبداد اور ظلم و سفاکی سے یہاں حکمرانی کی ہے میں اس کی مختصر داستان آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں کہ گویا ؎
وسعتِ دل ہے بہت، وسعتِ صحرا کم ہے
اس لیے دل کو تڑپنے کی تمنا کم ہے
جبکہ انگریز قوم نے یہاں کی مسلم قوم کو اپنی روایات و ثقافت، تمدن و سیاست، اور ملی جوش و خروش سے اس حد تک نا آشنا کر دیا ہے جس کا رونا علامہ اقبال مرحوم نے یوں رویا ہے ؎
کتابیں دے کے مجھ سے تیغ و خنجر چھیننے والے
تیری تعلیم سے اچھا تھا جوشِ جنوں میرا
۱۸۵۷ء سے جب اس جابر و قاہر، ظالم و کافر اور مکار قوم نے اس ملک پر زبردستی تسلط جما لیا تھا اور یہاں کی دولت، سیاست، ثقافت، معیشت، قومیت تمام چیزوں کو تباہ کر دیا تھا، اس سلسلہ میں کس کس نقصان کا ذکر کیا جائے بلکہ
؏ تن ہمہ داغ داغ شد پنبہ کجا کجا نہم
پھر اس نے جہاں برصغیر کے لوگوں کی جان و مال، دین و مذہب، ضمیر و خمیر اور ذہن و دماغ سب کو نقصان پہنچایا اور مسلمان قوم کو بنیادی اور ذہنی طور پر ناکارہ کرنے کا پروگرام اور جو سامان اس نے مہیا کیا وہاں اس نے اس قوم کو وہ نظامِ تعلیم دیا جس سے ملک و قوم کی دینی و مذہبی کایا پلٹ گئی۔ جبکہ انگریزی اقتدار سے قبل یہاں دینی علوم و فنون کا رواج بھی زوروں پر تھا۔ اس ملک میں سکولوں اور دینی مدارس کا یہ حال تھا کہ اس وقت کے سرکاری گزٹ کے مطابق صرف متحدہ بنگال میں مسلمانوں کے دس ہزار مدارس تھے۔ ادھر مضافاتِ دہلی میں صبح الاعشٰی قلشندی کے حوالے سے ایک ہزار عربی مدارس تھے جن میں سے ایک مدرسہ شوافع کا تھا اور باقی تمام احناف کے تھے۔ اس طرح انگریز سیاح ڈاکٹر ہملٹن جب ۱۴۹۰ء میں سندھ آیا تو اس نے سفر نامہ بعہدِ اورنگزیب میں ٹھٹھہ جیسے قصبہ کے بارے میں لکھا ہے کہ یہاں مذہب اور فلسفے کا خوب چرچا ہے اور چار صد دارالعلوم ہیں۔
پھر جس وقت انگریز نے اس ملک میں اسلامی روایات اور علومِ دینیہ کے مراکز و مدارس کو مختلف تدابیر سے ختم کر دیا اور اپنا وہ مجوزہ نظامِ تعلیم رائج کر دیا جسے لارڈمیکالے نے تیار کر کے کہا تھا ’’ہماری سکولوں کالجوں میں انگریزی تعلیم کا مقصد ایسے نوجوان تیار کرنا ہے جو رنگ و نسل کے اعتبار سے ہندوستانی ہوں اور دل و دماغ سے انگلستانی ہوں‘‘۔ یہ آواز برسرِ اقتدار قوم کی آواز تھی، اس تعلیم سے ایسی نسلیں ابھرنی شروع ہو گئیں جو گوشت پوست کے لحاظ سے یقیناً‌ ہندوستانی تھیں لیکن اپنے طرزِ فکر اور سوچنے کے رنگ ڈھنگ سے خالص انگریز ہی بن چکی تھیں۔ اس عیار و مکار قوم انگریز کے کیا ارادے تھے ان کے اپنے انداز میں ملاحظہ فرمائیں:
پادری جارج ای بوسٹ نے ’’پروٹسٹنٹ‘‘ فرقہ کی صد سالہ جوبلی میں یہ تقریر کی:
’’یہ زندگی کی جنگ ہے، ہمیں مسلمانوں پر فتح حاصل کرنی چاہیئے ورنہ وہ ہم پر فتح پا لیں گے۔ ہم کو عرب جانا چاہیئے، سوڈان جانا چاہیئے، وسط ایشیا کا سفر کرنا چاہیئے اور یہاں کے لوگوں کو عیسائی بنانے کا کام کرنا چاہیئے ورنہ مسلمان صحراؤں کو عبور کر کے آگ کی طرح پھیلیں گے۔‘‘
اور مستشرق مؤرخ دلفریڈ کائن ویل نے یوں لکھا ہے:
’’اسلام ہی پوری مغربی تاریخ اور مغرب کا واحد اور حقیقی حریف ہے۔ ہمیں یہ پتہ لگانا چاہیئے کہ اسلام کا مقابلہ کیوں سخت ہے اور ماضی میں کس طرح اسلام ایک خطرہ بن کر سامنے آیا تھا اور اب وہ تقریباً‌ نصف مسیحی دنیا پر چھایا ہوا ہے۔‘‘
مشن سکول کے بانیوں اور پادری ولیم نے اپنے مشنری مرکز کو ہدایت دی:
’’اس نظامِ تعلیم کا اصل مقصد مسلمان علماء کے وقار کو مجروح کر کے ان کے خلاف مسلم معاشرے میں نفرت و حقارت کا جذبہ پیدا کرنا ہے۔‘‘
اور مشنریوں کے الفاظ میں:
’’جب تک رائے عامہ ان مذہب کے ٹھیکیداروں کے خلاف نہ ہو جائے تب تک ہندوستانیوں کے درمیان مسیح کو پیش کرنا ممکن نہیں۔‘‘
برطانیہ کے وزیراعظم مسٹر گلیڈسٹون نے دارالعوام میں قرآن ہاتھ میں لے کر تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ:
’’جب تک مسلمانوں کے پاس یہ ایسی ویسی کتاب موجود ہے ہم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔‘‘
اس کے بعد قرآن کی مزید (ناقابلِ تحریر و برداشت) توہین کی۔ ایسی خرافات اور اسلام کے خلاف تعلیوں کے بعد یہ گستاخ انگریز جس پہلے بحری جہاز میں سفر کر رہا تھا قرآن والے نے اس جہاز کا بیڑا فرعون کی طرح غرق کر دیا تھا۔ اور لارڈ کچز جیسے مشہور انگریز کی اسلامی دشمنی اور مسلمانوں سے عداوت تو ضرب المثل ہے۔ اسی واسطے حضرت شیخ الہند مولانا محمد حسینؒ فرمایا کرتے تھے کہ:
’’روئے زمین پر عیسائیوں اور انگریزوں سے بڑا کوئی دشمن ہمارا نہیں۔ اس لیے ہم بھی انگریز کے سب سے بڑے مخالف ہیں۔‘‘
اور وہی ہوا کہ ایک طرف تو اس انگریزی نظامِ تعلیم سے قوم و ملک کے اثر پذیر طبقہ کا ذہن اس طرح بنایا گیا جس طرح کہ منصوبہ تھا، اور دوسری طرف علماء پر عرصۂ حیات تنگ کیا گیا۔ ان کے ذرائع تعلیم اور تبلیغ اور مدارس کو برباد کیا گیا اور خاص طور پر ۱۸۵۷ء کے انقلاب میں حصہ لینے والے علماء میں سے جو باقی رہ گئے تھے ان کو نہایت بے رحمی سے ختم کیا گیا۔
۱۸۵۷ء کے جہادِ حریت کے بعد جب حضرات مجاہدین نے دیکھا کہ ملک ہاتھوں سے گیا اور یہ خطرناک سیلاب امڈ آیا تو اب ملت کے تحفظ اور دین کی بقاء اور اس کے استحکام کے لیے کوئی دوسرا محاذ قائم کرنا ضروری ہے، تو حضراتِ شیخین مولانا محمد قاسم نانوتویؒ اور مولانا رشید احمد گنگوہیؒ نے دارالعلوم دیوبند کی بنیاد رکھی اور لارڈ میکالے کے چیلنج کا مقابلہ کرنے اور ایشیا میں مسلمانوں کی عربی زبان کے احیاء، تہذیب و تمدن کے تحفظ، ملک میں دینی استحکام و دوام کے لیے مدارس، دارالعلوم اور جامعات کا نظام قائم کیا اور یہ نعرہ بلند فرمایا:
’’ہماری تعلیم کا مقصد ایسے جوان تیار کرنا ہے جو رنگ و نسل کے اعتبار سے ہندوستانی ہوں اور دل و دماغ کے لحاظ سے مسلمان ہوں جن میں اسلامی تہذیب و تمدن کے جذبات بیدار ہوں اور دین و سیاست کے اعتبار سے ان میں اسلامی شعور زندہ رہے۔‘‘
بلاشبہ دارالعلوم دیوبند ہندوپاک میں ہی نہیں بلکہ دیگر ممالک میں بھی تحفظ ناموس رسالتؐ و صحابہؓ اور بقائے اسلام کا ذریعہ ہے۔ علماء دیوبند کی جماعت مسلک حقہٗ کی ہمہ گیری کی وجہ سے ہر فتنہ کی مداخلت کے لیے سینہ سپر ہے۔ ان علماء نے ہر دور میں اعلاء کلمۃ الحق، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فرض ادا کیا ہے اور اسی اسلوب اور اسی رنگ ڈھنگ میں جس رنگ میں فتنہ نے سر اٹھایا۔ ان مدارس اور درسگاہوں نے مسلمانوں کے نشوونما، اسلامی تشخص کو برقرار رکھنے، اور قوم کو طاقت و توانائی دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ اور جب تک ان مدارس کو طاقت و توانائی ملتی رہے گی اور یہ پودا برگ و بار لاتارہے گا، مسلمانوں کو اپنا تشخص اور اپنی سالمیت برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔ اور ان مدارس ہی کے استحکام میں ان کا وجود، تشخص اور سالمیت مضمر ہے ؎
خودی میں ڈوب جا عامل یہ سرِِ زندگانی ہے
نکل کر حلقۂ شام و سحر سے جاوداں ہو جا

حدودِ شرعیہ کی مخالفت - فکری ارتداد کا دروازہ

مولانا سعید احمد عنایت اللہ

اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ حدود اور بھیانک معاشرتی جرائم، ڈکیتی، بدکاری، شراب نوشی اور قذف وغیرہ پر جو شرعی سزائیں خالقِ بشر نے مقرر فرمائی ہیں وہ پوری کائنات کے لیے سراسر رحمت ہیں۔ انسانی معاشرے میں قیامِ امن اور بشریت کی ہر دو صنف مرد و زن کی عزت و عصمت، ان کے مال و جان کی حفاظت کی ضامن ہیں، بلکہ انسانیت  کے مقامِ شرافت و کرامت کی کفیل یہی حدود اللہ ہیں جن کے مبارک ثمرات کا اولین نتیجہ انسانوں کے اس دنیا میں مکمل تحفظ کی صورت میں ملتا ہے۔ ان سراپائے رحمت حدود کو دہشت گردی گرداننا کفرانِ نعمت اور صرف خدا رسول سے ہی بیزاری کا اعلان نہیں بلکہ انسانیت دشمنی اور خبثِ باطن اور ہوا پرستی کی ظاہر دلیل ہے۔
خصوصًا مملکتِ خداداد پاکستان جو صرف تنفیذِ شریعہ اسلامیہ کے لیے معرضِ وجود میں آئی۔ اس ملک میں حدود اللہ کے خلاف شر انگیزی وطنِ عزیز کی اساس کو ہلانا اور ارضِ پاک کے خلاف بغاوت کی ایک سازش ہے جس کی ابتدائی سزا یہ ہونی چاہیئے کہ پاکستانی شہریت کا حامل جو شخص اسلامی شریعت کے کسی پہلو پر طعن کرے اس سے پاکستانی شناختی کارڈ چھین لیا جائے اور پھر ملت و ملک کے اس باغی کا پورا محاسبہ کیا جانا چاہیئے۔
الحمد للہ تاسیسِ پاکستان کے آغاز سے ہنوز ہمارے عوام کی اکثریت اور ایوانوں کی غالبیت چاہے کسی جماعت سے وابستہ ہو اسلامی شریعت کی برتری پر غیر متزلزل یقین رکھتی ہے اور اپنی ملکی فلاح و بقا صرف اور صرف نظامِ اسلامی میں ہی جانتی ہے۔ کمی اس بات کی ضرور ہے کہ مسلم قومیت  کا نظریہ جس کی عملی مشق کے لیے ہندوستان تقسیم ہوا اس کی عملی مشق کا موقع میسر نہ آسکا، اس کوتاہی کا ہر پاکستانی کو احساس ہے اور اس قصور کا ہر ذمہ دار کو اعتراف بھی ہے مگر اسلام سے بیزاری اور بغاوت یہ عوام اور حکمران ہر دو جہت سے ناقابلِ معافی جرم ہے اور رہا ہے۔
مگر ہمارے ملک میں چند افراد پر مشتمل ایک طبقہ فکری ارتداد کا بھی شکار ہے جو مغرب کو قبلہ و کعبہ جانتے ہوئے کبھی کبھی شرعی احکام کے خلاف بیزاری کا اظہار کرنے کی جرأت کرتا ہے اور حکومت کے بعض وزراء اور مشیر صاحبان بھی اس فتنے میں ان کے شریکِ عمل ہو کر نظریۂ پاکستان پر حملہ آور ہوتے ہیں، ان کا یہ عمل خدا تعالیٰ کے غضب عمومی کو دعوت دیتا ہے۔ اور دوسری طرف یہ طبقہ پاکستان کی اکثریت کی غیرتِ ایمانی کو چیلنج کرتا ہے، ساتھ ساتھ یہ مغرب کے ایجنٹ حکومت کی وسعتِ نظری کی بھی آزمائش کرتے ہیں کہ کس حد تک حکومتِ پاکستان دینِ اسلام اور نظریۂ پاکستان کے خلاف بغاوت کو برداشت کر سکتی ہے۔ ملک و ملت اور انسانیت کا دشمن یہ طبقہ جسدِ ملکی کے لیے وہ ناسور ہے جس کا فوری معالجہ ناگزیر ہے، پاکستانی مسلم معاشرے کی پیشانی پر سے اس بدنما داغ کا ازالہ نہایت ضروری ہے۔ شریعتِ مطہرہ کے کسی پہلو پر طعن کرنے والے اور نظریۂ پاکستان کے خلاف زہر اگلنے والے مفسد عناصر اعدائے اسلام کے کارندے ہیں۔ پاکستانی عوام اور حکومت کو ان کا محاسبہ کرنا ہو گا، آج نہیں تو مستقبل قریب میں انشاء اللہ تعالٰی۔ مذکور الصدر حضرات کی شر انگیزی کی ایک مثال پیش خدمت ہے۔ روزنامہ جنگ ۲۱ دسمبر کے شمارے میں پاکستان ویمنز رائٹس کمیٹی کراچی کے حوالہ سے تحریر ہے کہ:
’’(۱) بچے کی ولادت کے وقت شہریت کے فارم میں ’’باپ‘‘ کے لفظ کے ساتھ ’’ماں‘‘ کا اضافہ ہونا چاہیئے تاکہ پیدا ہوتے ہی ہر بچہ (چاہے اس کا نسب کچھ ہو) شہریت کا حق حاصل کر لے۔
(۲) عورت کو قانون شہادت برائے حدود میں مستثنٰی کرنے کے قانون میں ترمیم ہونی چاہیئے۔
(۳) زنا آرڈیننس معصوم افراد کی زندگیوں میں دہشت پیدا کر رہا ہے۔ـ‘‘
یہ ہیں بحالیٔ حقوقِ خواتین کی اختراعات و اقتراحات جن کی تحلیل کے طور پر عرض ہے کہ ایسی تجاویز پیش کرنے والے قرآن و سنت کی تعلیمات سے اگر بے بہرہ ہیں تو جان لیں کہ:
(۱) حق تعالیٰ شانہ نے تمام بشریت کو بنی آدم کا لقب دیا اور ان کو ان کے باپ کی طرف منسوب کیا۔ قرآن حکیم نے اولاد کو باپ کی طرف منسوب کرنے کی واضح ہدایت دیتے ہوئے ارشاد فرمایا ’’ادعوھم لاباءھم‘‘ اولاد کی نسبت ان کے باپوں کی طرف کرو۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’الولد للفراش وللعاھر الحجر‘‘ بچہ تو اپنے باپ کا  ہے اور بدکار کے لیے پتھر ہیں۔ یہ بھی معلوم رہے کہ صرف لعان کی صورت میں بچہ ماں کی طرف منسوب ہو گا کہ نکاح کے بعد خاوند اپنی منکوحہ بیوی کے حمل کا انکار کر دے اور بیوی حلف کے ساتھ اس سے حمل پر اصرار کرے اور یہ بھی کہے کہ اگر اس کا خاوند سچا ہے تو اس (عورت) پر خدا کا غضب ہو۔ تو انکارِ نسب کی صورت میں بچہ ماں کی طرف منسوب ہو گا اور اس ماں کا وارث بھی ہو گا۔ ایسی کوئی صورت نہیں کہ بحالیٔ حقوق کے نام پر ترویج اور بدکاری کی اشاعت کی خاطر ایسے قانون وضع ہوں کہ شرم و حیا کا جنازہ نکل جائے۔
(۲) یہ بھی جاننا ضروری ہے کہ شہادت ایک مقدس خدائی فریضہ اور عظیم قومی امانت ہے۔ بعض احوال میں خدا تعالٰی نے صنفِ نازک پر کرم فرمائی کرتے ہوئے عورتوں کے اس کے تحمل سے اور کچھ دیگر حالات میں بعض اہم فرائض سے رخصتیں دے رکھی ہیں۔ خواتین کو مولا کریم کا شکرگزار ہونا چاہیے، عورت کے فطری ضعف کی شریعت میں کتنی رعایت رکھی گئی ہے، نہ یہ کہ کفرانِ نعمت کے طور پر عورت کا اصرار ہو کہ وہ ضرور اس بوجھ کو اٹھائے گی۔ یہ عین رحمتِ الٰہی ہے کہ عورت کو امامتِ صغرٰی یعنی نماز کی امامت اور امامتِ مملکت کی ذمہ داری کے تحمل سے مستثنٰی قرار دیا۔
(۳) اسی طرح اسلامی حدود پر غور کریں کہ بدکار کو کوڑے لگانا یا سنگساری، چور کا ہاتھ کاٹنا، ڈاکو کا ساتھ ہی پاؤں بھی کاٹ دینا یا قتل کرنا، قاتل کی گردن اتار پھینکنا، یہ سب دہشت گردی کے خلاف مبارک جہاد ہے اور جرائم کے انسداد کا ایک ایسا سہل نسخہ ہے جسے حکیمِ مطلق نے فطرتِ انسانی کے عین مطابق تجویز فرمایا ہے تاکہ یہ حدود مفسد عنصر کا قلع قمع کر کے پراَمن معاشرے کی تخلیق کرنے میں مدد دے سکیں۔ جن سے مظلوم کی دادرسی ہوتی ہے، مجرمین کے لیے مقامِ عبرت اور شریروں کو ان کے شر سے باز رکھ کر پراَمن انسانوں کی خدمت اور برکاتِ خداوندی کو حاصل کیا جاتا ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کسی حد کے نفاذ کی برکات چالیس سال کی بارش سے بھی بڑھ کر ہیں۔
تو مفسد عنصر کا قلع قمع انسانی معاشرے کے ساتھ عین رحمت ہے جس طرح کہ فاسد عضو کو مریض پر شفقت اور کمالِ رحمت کے تقاضہ سے کاٹ کر بقیہ جسد کو مامون و محفوظ بنایا جائے، اس میں کسی کی حق تلفی کیسے ہے؟ نہ مردوں کی، نہ عورتوں کی، بلکہ اقامتِ حدود میں تو صاحبِ حق کو اس کے حق کے دلانے کا تحفظ ہے۔ البتہ خدائی ضوابط کو موردِ طعن ٹھہرانا اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو خالق کے سراپا رحمت نظامِ حیات سے محروم رکھنا یہ خالق اور مخلوق دونوں کی حق تلفی ہے اور دوہرا ظلم ہے۔ اسی لیے ارشادِ ربانی ہے:
ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الظالمون۔ (المائدہ ۴۴)
’’جو خدا تعالیٰ کے نازل کردہ نظامِ حکومت کا نفاذ نہیں کرتے وہ ظالم ہیں۔‘‘
کیونکہ خدا تعالٰی کے حقِ اطاعت میں کوتاہی کر کے مخلوق کو اس کی رحمت سے محروم کر کے یہ ظالم اپنی ڈھٹائی سے خدا تعالٰی کے نزدیک فاسق بھی بن جاتے ہیں ’’ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الفاسقون‘‘ (المائدہ ۴۵)۔ اور شریعت مطہرہ کے نظام کو غیر صالح سمجھ کر منکر ہو جانے پر یہ کافر بھی گردانے جاتے ہیں ’’ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الکافرون‘‘ (المائدہ ۴۷)۔
انسان کے وضعی قوانین میں نقص اور خالقِ انسان کے وضع کردہ نظام میں کمال اور جامعیت بالکل اسی طرح بدیہی ہے جیسے کہ خالق و مخلوق میں فرق۔ نہ سمجھیں تو دونوں نظاموں میں تقابل کر لیں۔ بشری قوانین کی قیامِ امن میں عدم صلاحیت جاننے کے لیے اقوامِ عالم میں سب سے ترقی یافتہ ملک امریکہ کو دیکھ لیں کہ اعلیٰ اور جدید ترین مادی وسائل کی کثرت کے باوجود بداَمنی اور اخلاقی گراوٹ میں اسفل سافلین میں ہے۔ عفت و پاکدامنی کا تصور معدوم، دن دہاڑے قتل و غارت اور ڈکیتیاں معمولِ زندگی، کوئی  شخص نقدی لے کر جیب میں چلنے کو یوں ہی سمجھتا ہے کہ ایٹم بم ہے جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔ جرائم کی کثرت سے مجرموں کے  لیے بنائی گئی جیلوں میں گنجائش نہیں تو اب بحری جہازوں میں بند کر کے انہیں کھلے سمندر میں کھڑا کر دیتے ہیں۔
اس کے تقابل میں اسلام کے نظامِ حکومت اور اس کی حدود کے قیام سے پراَمن معاشرے کا صدیوں تک انسانوں نے تجربہ کیا اور آج بھی جن ممالک اسلامیہ میں شرعی سزائیں قائم شدہ کی جاتی ہیں ان میں امنِ عامہ کی حالت مشرق و مغرب میں قابلِ رشک ہے۔ کاش کہ ہم بھی پاکستان میں تنفیذِ شریعت کی عملی مشق کر کے اغیار کے لیے قابلِ تقلید بنتے۔ مگر پاکستانی معاشرے کے بعض افراد جو مادر پدر آزادی کے قائل ہیں اسلامی نظام کے خلاف ہمارے معزز معاشرے کے شرف و کرامت اور عفت کو ہم سے چھیننا چاہتے ہیں۔ چاہیئے تو یہ تھا کہ یہ اپنے مغربی آقاؤں کی حالت سے عبرت پکڑتے اور ان کی حالتِ زار پر رحم کے طور پر اور حق نمک خواری کی ادائیگی ان کو اسلام کے جامع نظامِ حکومت کو اختیار کرنے کی دعوت دے کر ان پر احسان کرتے۔ مگر کتنی بے حیائی اور باطل پر ڈھٹائی ہے کہ یہ لوگ الٹا بحالیٔ حقوق کے نام سے شریعتِ مطہرہ کے خلاف ہرزہ سرائی کریں۔ نہ خدا کا خوف مانع ہو نہ مسلم اکثریت کے غیظ و غضب کا ڈر، نہ حکومت کی طرف سے محاسبہ کی فکر۔
حکومت کا فریضہ ہے کہ فکری ارتداد کے حامل، وطن اور ملت کے ان غداروں کا شدید حساب لے، ورنہ پاک وطن کے  غیور مسلمان ان کے محلوں، گلی کوچوں، ان کے گھروں اور دفتروں میں ان کا تعاقب کریں گے، پھر اسلام کے فدایان کی گرفت سے مغرب کے ان ایجنٹوں اور قومی ممبروں کو وہ نہ بچا سکیں گے۔

تعارف و تبصرہ

ادارہ

’’صحبتے با اہلِ حق‘‘

افادات: شیخ الحدیث مولانا عبد الحقؒ
ترتیب و تصنیف: مولانا عبد القیوم حقانی
کتابت و طباعت معیاری۔صفحات ۴۰۶ قیمت مجلد ۷۵ روپے
ناشر: مؤتمر المصنفین دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک ضلع پشاور
شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد الحق نور اللہ مرقدہ کا شمار ہمارے دور کے ان جلیل القدر بزرگوں میں ہوتا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے اسلام کی تبلیغ و اشاعت اور دینی علوم کی ترویج کے میدان میں افادۂ عام کا ذریعہ بنایا اور ملتِ اسلامیہ کے ایک بڑے حصے نے ان سے استفادہ کیا۔ حضرت مولانا عبد الحقؒ کا اٹھنا بیٹھنا اور اوڑھنا بچھونا ہی تعلیم و تبلیغ اور دعوت و ارشاد تھا اور ان کی عام اور نجی مجلسیں بھی علمی استفادہ سے بھرپور ہوتی تھیں۔ مولانا عبد القیوم حقانی نے اپنے شفیق استاذ کی ایسی ہی مجلسوں کے افادات کا احاطہ کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے اور ’’صحبتے با اہلِ حق‘‘ کے نام سے حضرت مولانا عبد الحقؒ کے متنوع ارشادات و فیوضات حسنِ ترتیب کے ساتھ جمع کر کے علوم و معارف کا ایک حسین گلدستہ بنا دیا ہے، اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر دیں اور علماء اور طلباء کو ان کی اس محنت سے فیضیاب ہونے کی توفیق بخشیں، آمین یا رب العالمین۔

’’کشمیر ۔ بارہ کروڑ انسانوں کی زندگی اور موت کا مسئلہ‘‘

تحریر: ریٹائرڈ بریگیڈیر محمد شفیع خان
ناشر: کشمیر اسٹڈیز سنٹر لاہور
صفحات: ۲۴ قیمت دس روپے
ملنے کا پتہ: انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز
کشمیر کا مسئلہ ۱۹۴۷ء سے پاکستان اور بھارت کے درمیان متنازعہ چلا آ رہا ہے اور بھارت اقوامِ متحدہ میں کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کو تسلیم کرنے کے باوجود انہیں عملاً‌ یہ حق دینے کے لیے تیار نہیں ہے اور بھارت کی اس ہٹ دھرمی کے خلاف کشمیری حریت پسندوں کی جدوجہد مسلسل جاری ہے۔ مسئلہ کشمیر کے ساتھ پاکستانی عوام کی جذباتی وابستگی اظہر من الشمس ہے جس کا متعدد مواقع پر پرجوش اظہار ہوتا رہتا ہے لیکن مسئلہ کشمیر کے تاریخی پس منظر اور اس نازک مسئلہ کے بارے میں حقائق و واقعات سے واقفیت کا رجحان عام نہیں ہے جو ہماری ایک اجتماعی کمزوری ہے۔ جناب محمد شفیع خان نے اپنے اس مضمون کے ذریعے اس کمی کو پورا کرنے کی کوشش کی ہے۔ مسئلہ کشمیر کے بارے میں پائی جانے والی موجودہ بیداری کے ماحول میں اس کی زیادہ سے زیادہ اشاعت کی ضرورت ہے۔

’’سیرتِ سیدنا ابوہریرہؓ‘‘

مولف: حافظ محمد اقبال رنگونی
صفحات: ۱۴۴ قیمت ۱۲ روپے
ناشر: دارالمعارف الفضل مارکیٹ اردو بازار لاہور
سیدنا حضرت ابوہریرہؓ تاریخِ اسلام کی وہ عظیم شخصیت ہیں جنہوں نے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ اقدس پر بیعت کرنے کے بعد رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات و فرمودات کو ہی اپنا وظیفۂ حیات بنا لیا اور پھر اس ذوق اور محنت کے ساتھ فرموداتِ نبویؐ کو اپنے سینے میں محفوظ کیا کہ چند سال میں حدیث رسولؐ کے سب سے بڑے راوی کی حیثیت حاصل کر لی۔ حضرت ابوہریرہؓ کی زندگی طلبِ علم اور اشاعتِ دین سے عبارت ہے اور ان کے مجاہدات میدانِ عمل کے راہروؤں کے لیے بلاشبہ سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔
اسلامک اکیڈمی مانچسٹر برطانیہ کے ڈپٹی ڈائریکٹر مولانا حافظ محمد اقبال رنگونی نے انہی نشانہائے راہ کو اس کتابچہ میں یکجا کیا ہے اور حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود صاحب کے وقیع مقدمہ نے کتابچہ کی اہمیت و افادیت کو دوچند کر دیا ہے۔

’’مسلمان کسے کہتے ہیں؟‘‘

مؤلف: مولانا حافظ مہر محمد
صفحات: ۱۰۰ قیمت ۱۰ روپے
ناشر: جامعۃ العلوم الاسلامیۃ، ایف ٹو، میر پور، آزاد کشمیر
آج کے دور میں اس امر کی سب سے زیادہ ضرورت ہے کہ اسلام کے عقائد و اعمال اور اخلاقی احکام و مسائل کو عام فہم انداز میں مختصر طور پر تحریر کیا جائے تاکہ عام پڑھے لکھے لوگ اسلامی احکام و مسائل سے بآسانی واقفیت  حاصل کر سکیں۔ مولانا حافظ مہر محمد نے اس ضرورت کے پیشِ نظر یہ رسالہ مرتب کیا ہے جو اپنے مقاصد کے لیے خاصا مفید ہے اور دینی معلومات کو عام لوگوں تک صحیح طور پر پہنچانے کے لیے اس کی زیادہ سے زیادہ اشاعت کی ضرورت ہے۔

’’ماہنامہ المذاہب لاہور‘‘

مدیر: جناب محمد اسلم رانا
زرتعاون: سالانہ چالیس روپے
خط و کتابت: ایڈیٹر ماہنامہ المذاہب، ملک پارک، شاہدرہ، لاہور
جناب محمد اسلم رانا کو اللہ تعالیٰ نے عیسائیت کے مطالعہ اور تحقیق و تجزیہ کے خصوصی ذوق سے نوازا ہے اور وہ ایک عرصہ سے مختلف جرائد و رسائل کے ذریعے اپنے اس ذوق کا اظہار کرتے آ رہے ہیں اور ان دنوں ماہنامہ ’’المذاہب‘‘ کے نام سے ایک مستقل ماہنامہ کی اشاعت کی ذمہ داری نباہ رہے ہیں۔ عیسائی مشنریاں مختلف عنوانات کے ساتھ اور متنوع پروگراموں کے ذریعے پاکستان کے سادہ لوح عوام کو اپنے جال میں پھنسانے کی جو مسلسل کوشش کر رہی ہیں ان سے عوامی اور دینی حلقوں کی بے خبری بلکہ بے حسی ایک مستقل المیہ ہے جو جناب محمد اسلم رانا کو بے چین کیے ہوئے ہے اور انہوں نے بے سروسامانی کے باوجود اس سلسلہ میں علماء اور عوام کو بیدار کرنے کا مشن سنبھال رکھا ہے۔
’’المذاہب‘‘ کے مضامین علمی اور تحقیقی ذوق کے آئینہ دار اور عیسائیت کے بارے میں معلومات افزا ہوتے ہیں۔ ہم علماء کرام اور طلبہ سے بالخصوص گزارش کریں گے کہ وہ ’’المذاہب‘‘ کے مطالعہ کو معمول بنائیں اور اس مشن میں جناب محمد اسلم رانا کی زیادہ سے زیادہ حوصلہ افزائی کریں۔

شہیدِ اسلام مولانا سید شمس الدین شہیدؒ نے فرمایا

ادارہ

’’افسوس کہ آج ہمارا یہ خطہ جس میں مسلمان بستے ہیں اس میں ہمارا قانون، ہمارا آئین اور ہمارا دن بھر کا اٹھنا بیٹھنا سب کچھ وہی ہے جو انگریز ہمارے اوپر مسلط کر گئے تھے۔ ہم آج بھی ان کے نقشِ قدم پر چل رہے ہیں۔ مگر افسوس کہ اگر ان کے نقش قدم پر بھی ہم صحیح طور پر چلتے تو آج کچھ نہ کچھ انصاف تو ہم میں ہوتا۔ ہم نے اپنے دین کو ترک کر دیا، اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نقشِ قدم پر چلنا ترک کر دیا، اپنے قانون کو ترک کر دیا، ہم نے سب کچھ فراموش کر دیا۔’’
(۱۱ جنوری ۱۹۷۳ء کو بلوچستان اسمبلی سے خطاب)
’’وہ آئین اور دستور اور وہ قانون جو کہ اللہ تبارک و تعالٰی کی طرف سے ہمارے پاس آیا ہے مسلمانوں کے فرائض میں ہے کہ سب سے پہلے اس آئین کو دیکھیں اور عمل پیرا ہوں کیونکہ وہ ہمارا حقیقی آئین ہے۔ وہ دستور ہے جو رب العزت کی طرف سے آیا ہوا ہے۔ یہ ہمارا مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ یہ مستقل آئین ہے، باقی دنیاوی آئین عارضی اور عبوری ہیں، یہ تو آتے جاتے ہیں۔‘‘
(۱۱ جنوری ۱۹۷۳ء کو بلوچستان اسمبلی سے خطاب)
’’جب دین کے نام پر لیے ہوئے پاکستان میں ہمارے حکمرانوں نے دین کو نافذ نہ کیا۔ اللہ تعالٰی سے کیا ہوا وعدہ پورا نہ کیا اور مسلسل ۲۵ برس تک اس کے حکموں کی نافرمانی کرتے رہے، تو پھر قوم و ملک پر اللہ تعالٰی کا عتاب نازل ہوا اور ہمارے ملک کا ایک بڑا حصہ بنگلہ دیش کے نام سے کٹ کر علیحدہ ہو گیا۔ بھارتی فوج نے مشرقی پاکستان کا سب کچھ لوٹا یا تباہ و برباد کر دیا۔ اور سب سے بڑی رسوائی یہ ہوئی کہ ہماری فوج نے دشمن کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے اور نوے ہزار سے زائد سویلین اور فوجی بھارت کے قیدی بن گئے۔ اس کے بعد حالات سے عبرت حاصل کرنی چاہیئے تاکہ دوبارہ ان سابقہ غلطیوں کا اعادہ نہ ہو جن کی وجہ سے ملک و قوم کو یہ دن دیکھنے پڑے۔‘‘
(۱۹ اکتوبر ۱۹۷۳ء کو شیرانوالہ گیٹ لاہور میں جمعۃ المبارک کے اجتماع سے خطاب)
’’ہماری اکثریت کو توڑنے کے لیے ہر حربہ اختیار کیا گیا۔ خود مجھے چیف منسٹری کا عہدہ پیش کیا گیا۔ مگر الحمد للہ میں نے جماعتی منشور، جمہوری اقدار اور اکابر کے ناموس کے پیشِ نظر اس کرسی کو لات مار دی۔ ایک ملاقات میں بھٹو صاحب نے مجھ سے کہا کہ آپ لوگ بڑے اچھے ہیں، با اصول اور دیانتدار ہیں، میں چاہتا ہوں کہ آپ جیسے لوگ میرے ساتھ آئیں اس لیے آپ نیپ کو چھوڑ کر میرے ساتھ تعاون کریں۔ میں نے جواب دیا کہ بھٹو صاحب! کیا ہم اقتدار کی خاطر نیپ سے معاہدہ توڑ کر بھی با اصول اور دیانتدار رہیں گے؟ اس پر بھٹو صاحب خاموش ہو گئے۔‘‘
(مدیر ہفت روزہ ترجمان اسلام لاہور سے خصوصی انٹرویو)
’’جس مقصد کے لیے ہم نے یہ پاکستان تعمیر کیا تھا اور جس مقصد کے لیے پاکستان بنا تھا آج وہ مقصد ہم اس ملک میں نہیں چلا رہے بلکہ الٹا اس مقصد اور اس کتاب اور اس اسلام پر وہ مظالم ہم ڈھا رہے ہیں کہ مخالفین اور اسلام اور دین کے دشمنان سے بھی وہ توقع نہیں کی جا سکتی۔‘‘
(شہادت سے چند روز قبل رحیم یار خان میں آخری تقریر)

وعظ و نصیحت کے ضروری آداب

حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ

(۱) وعظ و نصیحت کا پہلا رکن یہ ہے کہ واعظ سامعین کو ایسے عبرت انگیز واقعات سنائے جن کو سن کر دنیا کی بے ثباتی کا نقشہ آنکھوں کے سامنے آجائے، دنیا کی ہوس رانیوں سے دل بیزار ہو جائے، اور توشۂ آخرت جمع کرنے کا خیال دل میں جم جائے، اور نفسانی خواہشات کے درپے رہنے سے دل ہٹ جائے۔ لیکن قصص بیان کرتے وقت یا ترغیب و ترہیب کی روایات سناتے وقت یہ احتیاط رہے کہ کوئی جعلی قصہ یا موضوع روایت ذکر نہ کی جائے جیسے کہ اس عصر کے واعظین کرتے ہیں۔ کیونکہ یہ تو ہدایت و روشنی کی بجائے گمراہی و تاریکی سے زیادہ قریب ہے۔ یہ ترغیب و ترہیب اس انداز سے ہو کہ زمانہ کی گردش کی سرعت اور اس کے ایک نہج پر عدمِ ثبات کو اچھی طرح واضح کرے۔ اس طرح تذکیر و وعظ سے لوگوں کی جبروتی ذہنیت اور سرکشی پاش پاش ہو جاتی ہے۔
(۲) وعظ کا دوسرا رکن یہ ہے کہ واعظ لوگوں کو نظامِ شرعی کی پابندی کے فوائد اور اس کی خلاف ورزی کے مفاسد و نقصانات سمجھائے۔ معاشرتی زندگی میں نظام کے فوائد اور اس کی خلاف ورزی کے مفاسد بیان کرتے وقت ماوراء العقل کلیات بیان کرنے سے گریز کر کے زیادہ تر جزئیات اور فروعی باتوں کا ذکر کرے، اس طرز خطاب کا فائدہ زیادہ حاصل ہو گا۔
(۳) وعظ کا تیسرا رکن یہ ہے کہ اپنی تقریر و بیان میں دل نشین تشبیہات اور اثر آفرین استعارات اور اصنافِ سخن میں سے مجازات استعمال کرے، اور اپنے بیان میں ایسے بلند و عالی افکار و خیالات کو پیش کرے جو لوگوں کے دلوں کو تسلیم و رضا پر مجبور کریں۔ اسے چاہیئے کہ وہ مسلّمات اور مشہور روایات سے تمسک کرتا رہے۔
لوگوں کو بھلائی کی تعلیم دینے والے کو چاہیئے کہ وہ وعظ و تذکیر میں لوگوں کی سطح فہم کے مطابق بات کرے اور کلام کے دقیق و باریک مسائل میں الجھنے سے گریز کرے کیونکہ اس صورت میں یا تو وہ لوگوں کو سمجھانے کے لیے غلط بیانی سے کام لے گا اور اس سے لوگوں کے اذہان و قلوب منتشر ہوں گے، یا اگر اپنے علم کے مطابق ٹھیک ٹھاک بات کرے گا تو اس کے علم کا فائدہ مخاطبین کو حاصل نہ ہو گا۔ بہرحال یہ مسلّمہ امر ہے کہ وعظ و تذکیر کے سلسلہ میں مؤثر ترین طریقہ اور عوام پر پوری طرح اثر انداز ہونے والا طرز بیان منطقی استدلال نہیں بلکہ خطابیات ہے۔
(البدور البازغہ مترجم (ص ۱۹۳)


قرآنی احکام کا نفاذ آج بھی ممکن ہے

حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ

خلافت اور رئیس کے باب میں صحیح نظریہ یہ ہے کہ خلافت تین باتوں کی طرف تقسیم ہوتی ہے:
(۱) خلافت بغیر جماعت کے قائم نہیں ہو سکتی۔
(۲) رئیس صرف اس جماعت میں سے ہو سکتا ہے۔
(۳) رئیس کا انتخاب صرف یہ جماعت کر سکتی ہے۔
براہ راست اس کا انتخاب نہیں کر سکتے۔ کیونکہ یہ چیز بالآخر نزاع و تنازع و جھگڑا کا رخ اختیار کر لیتی ہے۔ ہمارے نزدیک اس معاملے کا صحیح رخ یہ ہے کہ جب اممِ مسلمہ سے کوئی امت یا جماعت ایسے آدمی کو آگے بڑھاتی ہے جو
(۱) کتاب اللہ کو سب سے زیادہ جاننے والا ہو۔
(۲) حضورؐ کے طور طریقوں اور آپؐ کی سنت و تعلیمات کو سب سے زیادہ جانتا ہو۔
(۳) خلفاء راشدینؓ کے حالات کو سب سے زیادہ جانتا ہو۔
(۴) ضرورت کے وقت مصلحتِ خاصہ کے مقابلہ میں مصلحتِ عامہ کو ترجیح دینے والا ہو۔ یعنی مصالحِ خاصہ کو مصالحِ عامہ کے مقابلہ میں زیادہ سے زیادہ قربان کرنے والا ہو۔
تو ایسا شخص مرکز میں اپنی امت کے لیے نمونہ (نمائندہ) ہو گا۔ اور جب اس قسم کے بہت سے نمائندے مرکز میں جمع ہوں تو ایک اچھی خاصی صالح جماعت مجتمع ہو جائے گی اور اقوام کی اجتماعیت بن جائے گی۔ اور یہ جماعت کتاب اللہ کے اوامر کی تنفیذ کے لیے مسئول ہو گی یعنی قرآن کریم کے قوانین جاری کرنا اس جماعت کی ذمہ داری ہو گی۔
اور قوم اگر ایسی نمائندہ جماعت نہ بنا سکی تو اس کی ایک ذرہ برابر بھی کوئی قدر و قیمت نہیں، خواہ وہ اپنے ماضی کی تاریخ کے پیشِ نظر ’’پدرم سلطان بود‘‘ کہنے والی ہو، یا اپنی باطل آرزوؤں میں مگن ہو۔ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ہندوستانی (پاکستانی)، افغانی، تورانی، عربی یہ سب لوگ شرعی سلطنت کو پسند کرتے ہیں لیکن ایسی حکومت تشکیل نہیں کر سکتے۔ باوجودیکہ اوامرِ قرآنیہ کی تنفیذ آج بھی کوشش کرنے پر اممِ مسلمہ سے ممکن ہے، لیکن اگر سعی و کوشش ہی نہ کی جائے تو پھر کس طرح ممکن ہو سکتا ہے کہ یہ اوامر نافذ ہوں۔ درحقیقت ان اوامر (شرعیہ) کی تنفیذ کے راستہ میں رکاوٹ اور مایوسی اور کوشش نہ کرنا، یہ مستبد سلاطین اور فاجر قسم کے ملوک اور ان کے معاون لوگوں اور عیش پسند علماء کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔
(الہام الرحمٰن ۳۰۰ ج ۱)

اپریل ۱۹۹۰ء

اسلامی نظریاتی کونسل کی رجعتِ قہقرٰیمولانا ابوعمار زاہد الراشدی
فضیلۃ الشیخ مولانا محمد مکی حجازی کی تشریف آوریمولانا ابوعمار زاہد الراشدی
ارشاداتِ نبویؐ کی حفاظت کے لیے صحابہ کرامؓ اور تابعینؒ کی خدماتشیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر
رشاد خلیفہ - ایک جھوٹا مدعئ رسالتپروفیسر غلام رسول عدیم
تحریکِ پاکستان اور شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانیؒمولانا ابوعمار زاہد الراشدی
آیت ’’توفی‘‘ کی تفسیرمولانا رحمت اللہ کیرانویؒ
’’کلمۃ الحکمۃ ضالۃ المؤمن‘‘غازی عزیر
فقہی اختلافات کا پس منظر اور مسلمانوں کے لیے صحیح راہِ عملالاستاذ محمد امین درانی
علمِ نباتات کے اسلامی ماہرین (۱)قاضی محمد رویس خان ایوبی
’’اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی‘‘مولانا سراج نعمانی
مسیحی ماہنامہ ’’کلامِ حق‘‘ کی بے بسیحافظ محمد عمار خان ناصر
بابری مسجد اور اجودھیا - تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کی کوششدیوبند ٹائمز
کرنسی نوٹ، سودی قرضے اور اعضاء کی پیوندکاریادارہ
آپ نے پوچھاادارہ
تعارف و تبصرہادارہ
تختۂ کابل الٹنا چند دن کی بات ہےسرور میواتی
روزے کا فلسفہحضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ
سرمایہ داری کا بتحضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ

اسلامی نظریاتی کونسل کی رجعتِ قہقرٰی

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان ایک آئینی ادارہ ہے جس کے قیام کی گنجائش ۱۹۷۳ء کے دستور میں اس مقصد کے لیے رکھی گئی تھی کہ پاکستان میں مروجہ قوانین کا شرعی نقطۂ نظر سے جائزہ لے کر خلافِ اسلام قوانین کو اسلام کے سانچے میں ڈھالا جائے اور قانون سازی کے اسلامی تقاضوں کے سلسلہ میں قانون ساز اداروں کی راہنمائی کی جائے۔ ۱۹۷۳ء میں دستور کے نفاذ کے موقع پر اس مقصد کے لیے سات سال کی مدت طے کی گئی تھی لیکن ۱۹۷۷ء تک کونسل نے اس سمت کوئی پیشرفت نہ کی تو جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم نے اپنے دورِ اقتدار میں اسلامی نظریاتی کونسل کی تشکیلِ نو کر کے اسے نہ صرف متحرک بنایا بلکہ اسلامی نظریاتی کونسل ہی کی سفارشات کی بنیاد پر حدود آرڈیننس اور دیگر اسلامی قوانین کے نفاذ کا آغاز کیا۔

اس دور میں نافذ ہونے والے اسلامی قوانین کے نامکمل ہونے اور عملدرآمد کا پہلو خاصا کمزور ہونے کے بارے میں دینی حلقے مسلسل آواز اٹھاتے رہے لیکن یہ بات طے شدہ ہے کہ چند اسلامی قوانین جس حد تک بھی نافذ ہوئے وہ تمام مکاتب فکر کے سربر آوردہ علماء کرام کی مشاورت اور اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کی بنیاد پر تھے اور اصولی اور شرعی لحاظ سے درست تھے۔ ہماری معلومات کے مطابق اس دور میں اسلامی نظریاتی کونسل نے اسلامی قانون سازی کے حوالے سے ۸۰ فیصد کام مکمل کر کے قوانین کے مسودات مرتب کر دیے تھے جو نفاذ و عملدرآمد کے لیے حکمرانوں کی میز پر تیار پڑے ہیں۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے موجودہ حکمرانوں کو اسلام کے نفاذ سے کوئی دلچسپی نہیں ہے بلکہ ان کی پالیسیوں کا رخ یہ نظر آرہا ہے کہ اسلام کی جدید تعبیر و تشریح اور نام نہاد اجتہاد کے نام پر مغربی افکار و نظریات کو اسلام کے لیبل کے ساتھ مسلط کر دیا جائے، لیکن اسلامی نظریاتی کونسل کا ٹھوس علمی و فکری کام ان کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ چنانچہ اسلامی نظریاتی کونسل کی تشکیلِ نو کر کے اس میں درباری قسم کے نام نہاد علماء اور ملحدین کو شامل کر دیا گیا ہے اور نئی کونسل کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حکمران پارٹی کی سربراہ بیگم بے نظیر بھٹو نے اسلامی نظریاتی کونسل کو ہدایت کی ہے کہ وہ حدود آرڈیننس اور دیگر اسلامی قوانین پر نظرثانی کرے اور انہیں اجتہاد کے نام پر حکمران پارٹی کے مزعومہ رجحانات اور تقاضوں کے مطابق ڈھالے۔

ہمارے نزدیک اسلامی نظریاتی کونسل کی یہ رجعت قہقرٰی نہ صرف قانون سازی کے اسلامی تقاضوں سے متصادم ہے بلکہ اجتہاد اور تعبیر جدید کے نام پر ملک کو الحاد کی آماجگاہ بنانے کی بھی ایک کوشش ہے جس کا علمی و دینی حلقوں کو سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے۔

فضیلۃ الشیخ مولانا محمد مکی حجازی کی تشریف آوری

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

شاہ ولی اللہ یونیورسٹی (اٹاوہ، جی ٹی روڈ، گوجرانوالہ) کے ابتدائی بلاک کی تعمیر مکمل ہوگئی ہے۔ یہ بلاک جو عارضی طور پر تعمیر کیا گیا ہے یونیورسٹی کے سائٹ آفس کے علاوہ تعمیری ضرورت کے اسٹورز پر مشتمل ہے اور اس میں پانچ کمرے اور ایک برامدہ شامل ہے، جبکہ پہلے تعلیمی بلاک کی بنیادوں کی کھدائی شروع کر دی گئی ہے۔ شاہ ولی اللہ یونیورسٹی نے سلیم آرکیٹیکٹس لاہور کے ساتھ تعمیر کی نگرانی کے لیے باقاعدہ معاہدہ کیا ہے اور مذکورہ فرم کی طرف سے یونیورسٹی کا ماسٹر پلان طے کر لیا گیا ہے جس کے مطابق پہلا تعلیمی بلاک اٹھارہ کلاس رومز، اساتذہ کے چودہ کمروں اور دیگر ضروریات پر مشتمل ہوگا جس کی تعمیر کم و بیش ستر لاکھ روپے کی لاگت سے تقریباً ایک سال میں مکمل ہوگی۔

۱۶ مارچ ۱۹۹۰ء کو صبح ساڑھے دس بجے حرم پاک مکہ مکرمہ کے مدرس اور ممتاز عالم دین فضیلۃ الشیخ مولانا محمد مکی حجازی مدظلہ العالی یونیورسٹی کے سائٹ آفس میں تشریف لائے اور ایک سادہ سی تقریب میں دعا کے ساتھ سائٹ آفس کا افتتاح فرمایا۔ اس موقع پر راقم الحروف، الحاج میاں محمد رفیق، میاں محمد عارف ایڈووکیٹ، شیخ محمد یوسف وزیر آبادی، حاجی شیخ محمد یعقوب، ڈاکٹر محمد اقبال لون، مولانا حافظ گلزار احمد آزاد، جناب حاجی علاء الدین، حاجی نذیر احمد، حافظ محمد یحیٰی میر، شیخ محمد ابراہیم طاہر، جناب محمد سلیم (آرکیٹیکٹ)، مولانا قاری حماد اللہ شفیق، مولانا عبد الرؤف ربانی اور دیگر حضرات بھی موجود تھے۔ مولانا محمد مکی حجازی نے تعلیمی بلاک کی بنیادوں کی کھدائی کا معائنہ کیا اور اس موقع پر اس عظیم تعلیمی منصوبہ کی کامیابی کے لیے دعا فرمائی۔ انہیں شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کے پروگرام کی تفصیلات سے آگاہ کیا گیا جس پر انہوں نے مسرت کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ تعلیمی منصوبہ بہت بڑا ہے جس کی تکمیل کے لیے اَن تھک جدوجہد کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تعلیمی ادارہ امتِ مسلمہ کے ایک بہت بڑے مجدد اور امام کے نام پر قائم کیا جا رہا ہے اور اس کے قیام سے دینی حلقوں میں فکری انقلاب کا آغاز ہوگا۔ انہوں نے یونیورسٹی کے منتظمین کو اس سلسلہ میں بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔

۱۶ مارچ کو رات ساڑھے آٹھ بجے الحاج میر ریاض انجم کی رہائش گاہ کشمیر ہاؤس ماڈل ٹاؤن گوجرانوالہ میں شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کی مجلس منتظمہ کا ایک اجلاس الحاج میاں محمد رفیق کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں تعمیری پروگرام اور دفتری امور کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں تعمیری کام کی نگرانی کے لیے ایک تعمیراتی کمیٹی قائم کی گئی جس میں میاں محمد عارف ایڈووکیٹ، ڈاکٹر محمد اقبال لون اور حاجی شیخ محمد یعقوب شامل ہیں اور باقی ارکان کا اعلان جلد کر دیا جائے گا۔ جبکہ ڈاکٹر محمد اقبال لون کو جمعیۃ اہل السنۃ والجماعۃ کا ڈپٹی سیکرٹری منتخب کر کے یونیورسٹی کے دفتری امور کی نگرانی ان کے سپرد کر دی گئی۔

دریں اثنا شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کے سربراہ شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر نے اصحابِ ثروت سے اپیل کی ہے کہ وہ اس عظیم تعلیمی و دینی منصوبہ کی تکمیل کے لیے انتظامیہ سے بھرپور تعاون کریں اور رمضان المبارک کے دوران اس کارِ خیر میں زیادہ سے زیادہ حصہ ڈال کر اپنے ذخیرۂ آخرت میں اضافہ کریں۔

ارشاداتِ نبویؐ کی حفاظت کے لیے صحابہ کرامؓ اور تابعینؒ کی خدمات

شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر

حضرت عبد اللہ بن عمروؓ کا یہ معمول تھا کہ آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے وہ جو کچھ سنتے تھے وہ سب لکھ لیتے تھے۔ بعض حضرات صحابہ کرامؓ نے فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بشر ہیں، کبھی غصہ کی حالت میں گفتگو فرماتے ہیں اور کبھی خوشی کی حالت میں اور تم سب لکھ لیتے ہو؟ حضرت عبد اللہؓ بن عمروؓ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف مراجعت کی۔ آپؐ نے اپنی زبان مبارک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ بخدا اس سے جو کچھ نکلتا ہے اور جس حالت میں نکلتا ہے وہ حق ہی ہوتا ہے سو تم لکھ لیا کرو۔ (ابوداؤد ج ۲ ص ۱۵۸، دارمی ص ۶۷، مسند احمد ج ۲ ص ۴۰۳ و مستدرک ج ۱ ص ۱۰۶)
حضرت عبد اللہؓ بن عمروؓ نے اپنے اس مجموعہ کا نام صادقہ رکھا تھا (طبقات ابن سعدؒ ج ۲ ص ۱۲۵، قسم اول) اور وہ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے اپنی زندگی کی آرزو دو چیزوں نے پیدا کر دی ہے جن میں سے ایک صادقہ ہے اور یہ وہ صحیفہ ہے جو میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے سن کر لکھا ہے (مسند دارمی ص ۶۹)۔ اور دوسری چیز دہط نامی زمین تھی جس کو حضرت عمروؓ بن العاص نے وقف کیا تھا اور حضرت عبد اللہؓ اس کے متولی تھے (جامع البیان العلم ج ۱ ص ۷۲)۔ حضرت عبد اللہؓ کا یہی صحیفہ ان کے پوتے عمروؒ بن شعیبؒ کے ہاتھ لگ گیا تھا (ترمذی ج ۱ ص ۴۳ و ج ۱ ص ۸۲) اور یہ اسی صحیفہ سے روایت کرنے کی وجہ سے ضعیف سمجھے جاتے تھے (تہذیب ج ۸ ص ۴۹) کیونکہ حضرات محدثین کرامؒ کے بیان کردہ ضابطہ کے مطابق اگر کسی کو کتاب مل جائے اور صاحبِ کتاب نے اس سے روایت بیان کرنے کی اجازت نہ دی ہو تو اس کتاب سے روایت بیان کرنا حجت نہیں ہے (دیکھئے شرح نخبۃ الفکر ص ۱۰۰ وغیرہ)
حضرت مجاہدؒ فرماتے ہیں کہ ہم نے حضرت عبد اللہؓ بن عمروؓ کے پاس ایک کتاب دیکھی، ان سے دریافت کیا گیا کہ یہ کیا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ یہ صادقہ ہے جس میں مندرج روایات کو میں نے براہِ راست آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ میرے اور آپ کے درمیان اور کوئی واسطہ نہیں ہے (طبقات ابن سعدؒ ج ۲ ص ۱۲۵ قسم اول)۔ حضرت عبد اللہؓ بن عمروؓ فرماتے ہیں کہ میں علم کو قیدِ تحریر میں لاؤں؟ آپؐ نے فرمایا، ہاں (مجمع الزوائد ج ۱ ص ۱۵۲ وفیہ عبد اللہؒ بن موملؒ و ثقہ ابن معینؒ و ابن حبانؒ و قال ابن سعدؒ و قال الامام احمدؒ احادیثہ مناکیر و جامع بیان العلم ج ۲ ص ۲۷)
حضرت عائشہؓ (المتوفاۃ ۵۷ھ) فرماتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کے قبضے سے دو تحریریں دستیاب ہوئیں جن میں درج تھا کہ سب سے بڑا نافرمان وہ شخص ہے جس نے اپنے پیٹنے والے کے علاوہ کسی اور کو پیٹا اور قاتل کے علاوہ کسی دوسرے کو قتل کیا، اور وہ شخص جس نے اپنی پرورش کرنے والوں کے علاوہ دوسروں سے اپنا الحاق کر لیا اور ایسا شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا منکر ہے اور اس کی کوئی فرضی اور نفلی عبادت قبول نہ ہو گی (مستدرک ج ۴ ص ۳۴۹ قال الحاکمؒ و الذہبیؒ صحیح)
حضرت نہثلؓ بن مالک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دین کی کچھ باتیں دریافت کیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمانؓ بن عفان کو حکم دیا ’’فکتب لہ کتابا فیہ شرائع الاسلام‘‘ (البدایۃ والنہایۃ ج ۵ ص ۳۵۱ اور تجرید ج ۲ ص ۱۲۲ للذہبیؒ میں بھی اس کتاب کا ذکر ہے) تو انہوں نے ان کو ایک کتاب لکھ کر دی جس میں اسلام کے احکام تھے۔ شرائع الاسلام کا جملہ بڑا واضح اور وسیع ہے۔

مردم شماری

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ طیبہ ہجرت کر کے تشریف لے گئے تو چھ اور سات سو کے درمیان نام قلمبند ہوئے (صحیح ابو عوانہ ج ۱ ص ۱۰۲) اور اس کے بعد ایک موقع پر مردم شماری کرائی گئی تو تعداد پندرہ سو تحریر ہوئی (بخاری ج ۱ ص ۴۲۰) اور اس میں آپؐ کے یہ الفاظ ہیں ’’اکتبوا لی من یلفظ بالاسلام من الناس فکتبنا لہ‘‘ (الحدیث) یعنی مجھے مسلمانوں کی گنتی لکھ کر دو چنانچہ ہم نے لکھ کر دی۔

زکوٰۃ کے متعلق تحریرات

زکوٰۃ کے احکام اور مختلف چیزوں میں زکوٰۃ کا لازم ہونا اور زکوٰۃ کی مختلف شرح کتابی شکل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھوائی تھی جو حضرت عمرؓ کے خاندان کے پاس تھی (ہذہ نسخۃ کتاب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم التی کتب فی الصدقہ وھو عند آل عمرؓ بن الخطاب الخ (دارقطنی ج ۱ ص ۲۰۹) اور یہ کتاب حضرت عمرؒ بن عبد العزیزؒ نے جب کہ وہ مدینہ طیبہ کے گورنر تھے حضرت عبد اللہؒ بن عبد اللہؓ بن عمرؓ اور حضرت سالمؒ بن عبد اللہؓ سے نقل کی تھی اور اپنے ماتحت افسروں کو حکم دیا تھا کہ اسی کتاب کے مطابق عمل کرو اور اسی کے مطابق خلیفہ ولید بن عبد المالک اور دیگر خلفاء عمل کرتے اور حکام سے زکوٰۃ کے بارے میں عمل کرواتے تھے (دارقطنی ج ۱ ص ۲۰۹) اور حضرت عمرؓ بن عبد العزیز (المتوفی ۱۰۱ھ) جب خلیفہ منتخب ہوئے تو انہوں نے
ارسل الی المدینۃ یلتمس عھد رسول اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فی الصدقات فوجد عند آل عمروؓ بن حزم کتاب النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم الیٰ عمرو بن حزم فی الصدقات ووجد عند آل عمرؓ بن الخطاب کتاب عمرؓ الیٰ عمالہ فی الصدقات بمثل کتاب النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم الی عمروؓ بن حزم فامر عمرؓ بن عبد العزیزؓ عمالہ علی الصدقات ان یاخذوا بما فی ذینک الکتابین۔
’’مدینہ طیبہ قاصد بھیجا تاکہ وہ اس تاکیدی فرمان کی تلاش کرے جو آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے صدقات کے بارے میں فرمایا تھا۔ چنانچہ قاصد نے حضرت عمروؓ بن حزم کے خاندان کے پاس وہ کتاب پائی جو صدقات کے بارے میں آپؐ نے جاری فرمائی تھی اور اسی طرح حضرت عمرؓ کے خاندان کے پاس بھی وہ تحریر پائی جو انہوں نے عمّال کو بھیجی تھی اور وہ کتاب اسی طرح کی تھی جس طرح کی کتاب آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت عمروؓ بن حزم کو ارسال کی تھی۔ حضرت عمرؒ بن عبد العزیزؒ نے اپنے عمّال کو انہی دو کتابوں کے بارے تاکید کی کہ وہ صدقات کے بارے انہی کتابوں پر عمل کریں۔‘‘
حضرت عمروؓ بن حزم کو آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے جب یمن کا حاکم بنا کر بھیجا تو ایک تحریر ان کو لکھوا کر دی جس میں فرائض صدقات اور دیات وغیرہا کے متعلق بہت سی ہدایات تھیں (نسائی ج ۲ ص ۲۱۸ و کنز العمال ج ۳ ص ۱۸۳) اسی طرح زکوٰۃ کے متعلق بعض دیگر محصلین کے پاس بھی تحریری ہدایتیں موجود تھیں (دارقطنی ج ۱ ص ۲۰۴)

صحیفۃ علیؓ

حضرت علیؓ (المتوفی ۳۰ھ) کے پاس ایک صحیفہ تھا جو ان کی تلوار کی نیام میں پڑا رہتا تھا۔ اس میں متعدد حدیثیں متعلقہ احکام قلم بند تھیں اور انہوں نے لوگوں کو وہ صحیفہ دکھایا بھی تھا (بخاری ج ۲ ص ۱۰۸۴، مسلم ج ۲ ص ۱۶۱، ادب المفرد ص ۵) اور اس صحیفہ میں متعدد احکام درج تھے جو حقوق اللہ و حقوق العباد پر مشتمل ہیں (دیکھئے بخاری و مسلم صفحات مذکورہ)۔ اور حضرت علیؓ نے ایک موقع پر لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ وہ صحیفہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیا ہے۔ اس میں فرائض صدقات ہیں (مسند احمد ج ۱ ص ۱۱۹)۔ حدیبیہ میں جو صلح نامہ حضرت علیؓ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے لکھا تھا اس کی ایک نقل قریش نے لی اور ایک آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے پاس تھی (طبقات ابن سعدؒ مغازی ص ۷۱)۔ حضرت علیؓ کے فیصلوں کا ایک بڑا حصہ کتابی شکل میں حضرت ابن عباسؓ کے پاس موجود تھا (مسلم ج ۱ ص ۱۰)۔ ایک دن کوفہ میں حضرت علیؓ خطبہ دے رہے تھے، اسی خطبہ میں آپ نے فرمایا کہ ایک درہم میں کون علم خریدنا چاہتا ہے؟ حارث اعور ایک درہم کے کاغذ خرید لائے اور ان کاغذوں کو لیے ہوئے حضرت علیؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت علیؓ نے حارث کے لائے ہوئے اوراق میں ’’فکتب لہ علمًا کثیرًا‘‘ (طبقات ابن سعدؒ ج ۶ ص ۱۱۶) انہیں بہت سا علم لکھ دیا۔
حضرت عبد اللہؓ بن الحکیم کے پاس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک خط پہنچا جس میں مردہ جانور کے متعلق حکم درج تھا (معجم صغیر طبرانیؒ ص ۳۱۷)۔ حضرت وائلؓ بن حجر جب بارگاہِ نبویؐ سے رخصت ہو کر اپنے وطن حضرموت جانے لگے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو خاص طور پر ایک نامہ لکھوا کر دیا جس  میں نماز، روزہ، ربوا، شراب اور دیگر امور کے متعلق احکام تھے (معجم طبرانیؒ ص ۲۴۲)۔ایک دفعہ حضرت عمرؓ نے مجمع سے پوچھا کہ کسی کو معلوم ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے شوہر کی دیت میں سے بیوی کو کیا دلایا؟ تو حضرت ضحاکؓ نے فرمایا کہ مجھے معلوم ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم ہمیں لکھوا کر بھیجا تھا (دارقطنی ج ۲ ص ۴۵۷) اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم کو تحریر کروا کر بھیجنے کا ذکر ابوداؤد ج ۲ ص ۵۰، ترمذی ج ۲ ص ۳۲ اور ابن ماجہ ص ۱۹۳ وغیرہ) میں بھی ہے۔یہودِ مدینہ کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو تحریری معاہدہ کیا تھا اس کا ذکر ابوداؤد ج ۲ ص ۶۶ وغیرہ میں مذکور ہے۔
حضرت عمرؓ (المتوفی ۲۳ھ) کا یہ عام ارشاد تھا کہ علم کو قیدِ تحریر میں لاؤ (مستدرک ص ۱۰۶)۔ حضرت عمرؓ نے حضرت عتبہؓ بن فرقد کو جب کہ وہ آذربائیجان کے محاذ پر تھے، یہ خط لکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشمی لباس پہننے سے منع کیا ہے، ہاں مگر چار انگشت تک کا حاشیہ اور کنارہ ہو تو گنجائش ہے (محصلہ مسلم ج ۲ص ۱۹۱)
حضرت انسؓ (المتوفی ۹۳ھ) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عتبانؓ سے ملاقات کی۔ انہوں نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی جس میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے سچے دل سے کلمۂ شہادت پڑھا تو اس پر آتشِ دوزخ حرام ہے (یعنی صدقِ دل سے پڑھا اور اس کے مطابق عمل بھی کیا)  مجھے یہ حدیث بہت پسند آئی اور میں نے لکھ لی (ابوعوانہ ج ۱ ص ۱۳)۔ حضرت انسؓ اپنے شاگردوں سے فرمایا کرتے تھے کہ علم کو قیدِ تحریر میں لاؤ (تلخیص المستدرک ج ۱ ص  ۱۰۶ و دارمی ص ۶۸ طبع ہند و ص ۱۲۷ طبع دمشق و مجمع الزوائد ج ۱ ص ۱۵۲ رواہ الطبرانی فی الکبیر و رجالہ رجال الصحیح)
حضرت عبد اللہ بن عمروؓ (المتوفی ۷۴ھ) نے بھی فرمایا کہ علم کو قیدِ تحریر میں لاؤ (دارمی) اور خود انہوں نے ایک شخص کو حدیث لکھوائی اور اس نے لکھ لی (مسند احمد ج ۲ ص ۱۹۹)۔ اور حضرت ابن عمرؓ مجوزین کتابِ علم میں شامل ہیں (بخاری ج ۱ ص ۱۵)۔ حضرت امیر معاویہؓ نے حضرت عائشہؓ کو خط لکھا کہ مجھے مختصر طور پر چند نصائح لکھ کر بھیجیں۔ حضرت عائشہؓ نے چند نصیحتیں ان کو لکھ کر روانہ کیں (ترمذی ج ۲ ص ۶۴)۔ حضرت جابرؓ کی روایتوں کا ایک مجموعہ حضرت وہب تابعیؒ نے تیار کیا تھا جو اسمٰعیلؒ بن عبد الکریمؒ کے پاس تھا اور وہ اس سے روایت بیان کرتے تھے اور اسی لیے ضعیف سمجھے جاتے تھے (تہذیب التہذیب ج ۱ ص ۳۱۶)۔ حضرات محدثین کرامؒ کا ضابطہ بیان ہو چکا ہے۔ حضرت جابرؓ کی روایتوں کا ایک مجموعہ حضرت سلیمانؒ بن قیس یشکریؒ نے تیار کیا تھا۔ حضرت ابو الزبیرؒ، حضرت ابو سفیانؒ اور حضرت شعبیؒ جو سب تابعی ہیں حضرت جابرؓ کا صحیفہ انہیں سے روایت کرتے ہیں اور براہِ راست بھی انہوں نے حضرت جابرؓ سے سماعت کی ہے (تہذیب التہذیب ج ۴ ص ۲۱۵)
حضرت عوفؓ بن مالک (المتوفی ۷۳ھ) فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی اور فرمایا ’’ھذا اوان رفع العلم‘‘ یعنی کشفی طور پر جو وقت نظر آ رہا ہے اس میں علم اٹھ جائے گا۔ ایک انصاری نے کہا جن کا نام زیادؓ بن لبید (المتوفی ۴ھ) تھا، یا رسول اللہؐ! علم کیسے اٹھ جائے گا؟ ’’وقد اثبت فی الکتب و رعتہ القلوب‘‘ جب کہ وہ کتابوں میں ثبت کیا گیا ہو گا اور دلوں نے اس کو یاد کیا ہو گا۔ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا علم یہود اور نصارٰی کے پاس لکھا ہوا  نہیں ہے؟ (الحدیث) (مستدرک ج ۱ ص ۹۹ قال الحاکمؒ والذہبیؒ صحیح و مجمع الزوائد ج ۱ ص ۲۰۰)۔ مطلب واضح ہے کہ علم صرف لکھنے اور یاد کرنے ہی سے باقی نہیں رہتا جب تک کہ اس پر عمل بھی نہ ہو اور اس کی عام اشاعت نہ ہو۔ آخر کتابیں تو یہود و نصارٰی کے پاس بھی تھیں لیکن علماء حق کے اٹھ جانے اور بے عملی اور کتب پر علماء سوء اور پیرانِ بدکردار کی اجارہ داری نے کتب میں درج شدہ علم کی روح ختم کر دی ہے۔ حضرت زیادؓ کی یہ روایت مشکوٰۃ ج ۱ ص ۳۸ میں بھی بحوالہ مسند احمد و ابن ماجہ و ترمذی و دارمی نقل کی گئی ہے اور یہ روایت مجمع الزوائد ج ۱ ص ۲۰۰ میں بھی ہے۔ مشکوٰۃ کی روایت میں یہود و نصارٰی کی بے عملی اور تورات و انجیل کا ذکر ہے اور مجمع الزوائد کی روایت میں تورات و انجیل اور یہود و نصارٰی کا تذکرہ ہے لیکن اس میں رفع العلم کا سبب حاملینِ علم کا اٹھ جانا مذکور ہے۔ اور حضرت زیادؓ کی ایک اور روایت ہے جس میں یہود و نصارٰی کے تورات و انجیل پر عمل نہ کرنے کا ذکر ہے (مجمع الزوائد ج ۱ ص ۲۰۱ و اسنادہ حسن) اور اسی مضمون کی ایک روایت حضرت ابوالدرداءؓ سے بھی ہے جس میں حضرت زیادؓ کے سوال کا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس جواب کا تذکرہ موجود ہے کہ یہود و نصارٰی کے پاس بھی تورات و انجیل موجود ہیں ’’فماذا یعنی عنھم‘‘ یعنی ان کے مطابق عقیدہ اور عمل اور اخلاق کے نہ ہونے سے محض کتابوں کے موجود ہونے سے کیا فائدہ؟
یعنی یہ تو ’’تحمل اسفارًا‘‘ کا مصداق ہے۔ اس مفصل روایت کی روشنی میں یہ بات بالکل عیاں ہو گئی ہے کہ جب حضرت زیادؓ نے یہ فرمایا کہ ’’وقد اثبت فی الکتب‘‘ کہ علم جب کتابوں میں لکھا اور درج کیا ہوا ہو گا تو پھر کیسے ضائع ہو گا؟ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر کوئی نکیر نہیں فرمائی۔ اگر علم لکھنا ممنوع ہوتا تو آپؐ اس پر ہرگز خاموشی اختیار نہ فرماتے بلکہ سختی سے تردید فرما دیتے کہ علم کو لکھنے کا کیا جواز ہے؟ اور اگر کسی کے پاس کچھ لکھا ہوا ہے تو اسے مٹا دے۔ بالکل ظاہر امر ہے کہ آپؐ کا اس پر سکوت فرمایا بلکہ صاف الفاظ میں یہ فرمانا کہ آخر تورات و زبور بھی تو لکھی ہوئی ہیں لیکن ان پر عمل کیے بغیر نرے لکھنے سے کیا فائدہ؟ کتابتِ علم کے جواز کی یہ بھی واضح دلیل ہے اور بقول مولانا رومؒ علم تو صرف
؏  علمِ دیں فقہ است و تفسیر و حدیث
ہے اور یہ علوم سرِ فہرست کتابوں میں لکھے جاتے ہیں۔ حضرت زیادؓ بن لبید بیاضی کو جب آنحضرتؐ نے حضرموت کا گورنر بنا کر بھیجا تو ان کو فرائضِ صدقات کے متعلق کتابی ٍشکل میں تحریر لکھوا کر دی (نصب الرایۃ ج ۳ ص ۴۵۱)۔ حضرت براء بن عازبؓ (المتوفی ۷۲ھ) کے پاس لوگ بیٹھ کر ان کی روایتوں کو لکھا کرتے تھے (دارمی ص ۶۹)۔ اہلِ یمن کو آنحضرتؐ نے جو احکام لکھوا کر بھجوائے تھے ان میں یہ مسئلے بھی تھے کہ قرآن کریم کو بغیر طہارت کے ہاتھ نہ لگایا جائے اور غلام خریدنے سے پہلے آزاد نہیں کیا جا سکتا اور نکاح سے پہلے طلاق واقع نہیں ہوتی (دارمی ص ۲۹۳) اور اس کتاب کا اور بغیر طہارت کے قرآن کریم کو ہاتھ نہ لگانے کا ذکر دارقطنی ج ۱ ص ۴۵ وغیرہ میں بھی ہے۔ حضرت رافعؓ بن خدیج (المتوفی ۷۳ھ) مروان نے اپنے خطبہ میں یہ بیان کیا کہ مکہ مکرمہ حرم ہے۔ حضرت رافعؓ بن خدیج نے بلند آواز سے پکار کر فرمایا کہ مدینہ طیبہ بھی حرم (اور عزت و احترام کا مقام) ہے اور یہ حکم میرے پاس لکھا ہوا موجود ہے۔ اگر تم چاہو تو میں اسے پڑھ کر سنا دوں (مسند احمد ج ۴ ص ۱۴۱)۔ حضرت نعمانؓ بن بشیرؓ (المتوفی ۶۴ھ) کو حضرت ضحاکؓ بن قیس نے خط لکھ کر دریافت کیا کہ آنحضرتؐ جمعہ کی نماز میں سورۂ جمعہ کے بغیر اور کون سی صورت پڑھتے تھے تو انہوں نے جواب دیا کہ ’’ھل اتاک حدیث الغاشیۃ‘‘ پڑھتے تھے (مسلم ج ۱ ص ۲۸۸)
حضرت عبد اللہؓ بن عباسؓ کی روایتوں کے مختلف تحریری مجموعے تھے۔ اہلِ طائف میں سے کچھ لوگ ان کا ایک مجموعہ ان کو پڑھ کر سنانے کے لیے لائے تھے (کتاب العلل امام ترمذیؒ ص ۲۳۸) حضرت سعیدؒ بن جبیرؒ ان کی روایتوں کو لکھا کرتے تھے (دارمی ص ۶۹)۔ امام مغازی حضرت موسؒیٰ بن عقبہؒ (المتوفی ۱۴۱ھ) فرماتے ہیں کہ میرے پاس ابن عباسؓ کے غلام  حضرت کریبؒ نے حضرت ابن عباسؓ کی کتابیں رکھوائی تھیں جو ایک بارشتر تھیں (تہذیب التہذیب ج ۸ ص ۴۳۳)۔ حضرت ابن عباسؓ کا یہ حال تھا کہ وہ آنحضرتؐ کے غلام حضرت ابو رافعؓ کے پاس آتے اور سوال کرتے کہ فلاں دن آنحضرتؐ نے کیا کیا؟ اور حضرت ابن عباسؓ کے ساتھ ایک شخص ہوتا جو ان کی ساری باتوں کو جنہیں حضرت ابو رافع بیان کرتے لکھتا جاتا (الکتانی ج ۲ ص ۲۴۷)۔ حضرت ابو رافعؓ کی اہلیہ حضرت سلمٰیؓ فرماتی ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباسؓ کو دیکھا کہ ان کے پاس تختیاں تھیں جن پر حضرت ابو رافعؓ کی بیان کردہ روایتوں کو وہ لکھا کرتے تھے جو آنحضرتؐ کے افعال کے متعلق حضرت ابو رافعؓ بیان کرتے تھے (الکتانی ج ۲ص ۲۴۷) اور حضرت سلمٰیؓ یہ بھی فرماتی ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباسؓ کو دیکھا کہ وہ حضرت ابو رافعؓ سے آنحضرتؐ کے کارنامے لکھا کرتے تھے (طبقات ابن سعدؒ ج ۲ ص ۱۲۳ قسم دوم)۔
حضرت عکرمہؒ (المتوفی ۱۰۷ھ) فرماتے ہیں کہ آنحضرتؐ نے جو خط (بحرین کے سربراہ) المنذر بن ساوٰی کو بھیجا تھا وہ میں نے حضرت ابن عباسؓ کی وفات کے بعد ان کی کتابوں میں پایا اور میں نے وہ لکھ لیا اور اس خط میں دینی اور ملکی باتوں کا ذکر ہے (زاد المعاد ج ۳ ص ۶۱)۔ اس کے علاوہ متعدد بادشاہوں اور اپنے اپنے علاقہ کے سربراہوں کو آنحضرتؐ نے جو خطوط ارسال کیے جن میں دین کا اہم ذخیرہ موجود ہے کتب سیر و تاریخ میں ان کی خاصی تفصیل موجود ہے۔ ان میں مصر کا بادشاہ مقوقس، عمان کا بادشاہ جیفر بن الجلندی، یمامہ کا ہوذہ بن علی، غسان کا حارث بن ابی ثمر خاصے مشہور و معروف ہیں۔ حافظ ابن القیمؒ (المتوفی ۷۵۱ھ) نے زاد المعاد ج ۳ ص ۶۰ تا ۶۳ میں ان کو قدرے تفصیل سے درج کیا ہے اور آپؐ کے ارسال کردہ ان خطوط اور دعوت ناموں کے سلسلہ میں حضرت مولانا محمد حفظ الرحمٰن صاحب سیوہارویؒ کی بے نظیر کتاب البلاغ المبین فی مکاتیب سید المرسلین (علیہ و علیٰ جمیعھم الصلوٰۃ والتسلیمات الف الف مرتٍ) مفید ترین کتاب ہے جو اہلِ علم کے لیے ایک علمی تحفہ ہے جس میں ان خطوط کی پوری تفصیل ہے۔ حضرت کریبؒ (المتوفی ۹۸ھ) فرماتے ہیں کہ چھ باتیں میرے تابوت میں لکھی ہوئی ہیں اور تابوت (وہ صندوق ہے جس) میں حضرت علیؒ بن عبد اللہؓ بن عباسؓ کی کتابیں تھیں (ابوعوانہ ج ۲ ص ۲۱۲)
حضرت امیر معاویہؓ (المتوفی ۶۰ھ) نے حضرت مغیرہؓ کو لکھا کہ وہ دعا (اکثر) آنحضرتؐ نماز کے بعد پڑھا کرتے تھے مجھے لکھ کر بھیجو تو انہوں نے جواب میں لکھا کہ آنحضرتؐ یہ دعا پڑھتے تھے:
لا الٰہ الا اللہ وحدہٗ لا شریک لہٗ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شیء قدیر ۔ اَللّٰھُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا اَعْطَیْتَ وَلَا مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا یَنْفَعُ ذَالْجَدِّ مِنْکَ الْجَدّ (ابوعوانہ ج ۲ ص ۲۴۳ وابوداؤد ج ۱ ص ۲۱۱، ادب المفرد ص ۶۷)
اور اس حدیث میں آتا ہے کہ یہ بھی لکھ کر بھیجا کہ آنحضرتؐ نے قیل و قال کثرت سوال اضاعتِ مال اور ماؤں کی نافرمانی اور لڑکیوں کو زندہ درگور کرنے اور خود نہ دینے اور دوسروں سے مانگنے سے منع فرمایا ہے۔ (ادب المفرد ص ۶۷ و بعضہ فی ص ۵ اور ان میں سے بعض چیزوں کے لکھ کر ارسال کرنے کا ذکر بخاری ج ۱ ص ۲۰۰ میں بھی ہے اور قدرے تفصیل سے بعض مزید چیزوں کا ذکر بخاری ج ۲ ص ۸۸۴ میں ہے)۔ حضرت امیر معاویہؓ نے حضرت عبد الرحمٰن بن شبل الانصاریؓ کو خط لکھ کر بھیجا کہ لوگوں کو حدیث کی تعلیم دو اور جب میرے خیمے کے پاس کھڑے ہو تو مجھے حدیثیں سناؤ (مسند احمد ج ۳ ص ۴۴۴)۔ یہ سننا سنانا شاید اس لیے تھا کہ کہیں ان سے حدیث میں غلطی تو نہیں ہوتی۔
حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ ایک انصاری نے آنحضرتؐ سے شکایت  کی کہ میں بسا اوقات آپؐ سے کوئی حدیث سنتا ہوں اور وہ مجھے پسند آتی ہے لیکن میں اس کو یاد نہیں رکھ سکتا۔ آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ اس کو لکھ لیا کرو (رحمۃ مہداۃ ص ۱۱)۔ حضرت عبد اللہؓ نے حضرت عمرؓ بن عبد اللہ بن ارقم الزہریؓ کو خط لکھا کہ حضرت سبیعہؓ بنت الحارث الاسلمیۃ کے پاس جاؤ اور ان سے (خاوند کی وفات کے بعد عورت کی عدت کے بارے) حدیث دریافت کرو اور ان کو آنحضرتؐ نے جو ارشاد فرمایا ہے وہ بھی دریافت کرو۔ چنانچہ ان سے دریافت کرنے کے بعد وہ حدیث انہیں تحریر کر کے انہوں نے بھیجی (نسائی ج ۲ ص ۹۸)
حضرت عبد اللہؓ بن عمروؓ بن العاص کے سامنے قسطنطنیہ اور رومیہ کی فتح کا تذکرہ ہوا تو انہوں نے ایک صندوق طلب کیا، اسے کھولا اور فرمایا کہ ہم آنحضرتؐ کے پاس تھے اور آپؐ کے ارشادات لکھتے تھے۔ آپؐ نے فرمایا کہ پہلے قسطنطنیہ فتح ہو گا (مستدرک ج ۴ ص ۴۲۲ قال الحاکمؒ والذہبی صحیح والدارمی ص ۶۸)۔ حضرت حجرؒ بن عدیؓ کے سامنے پانی سے استنجا کرنے کا ذکر ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ طاق میں جو صحیفہ رکھا ہوا ہے ذرا اسے مجھے لا کر دو۔ جب وہ صحیفہ لا کر دیا گیا تو حجرؒ بن عدیؓ یہ پڑھنے لگے ’’بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ یہ وہ روایتیں ہیں جو میں نے حضرت علیؓ بن ابی طالب سے سنی ہیں، انہوں نے فرمایا کہ طہور ایمان کا نصف ہے‘‘ (طبقات ابن سعدؒ ج ۶ ص ۱۵۴)۔ ایمانِ کامل طہارتِ باطنی (جو کلمۂ توحید سے حاصل ہوتی ہے) اور طہارتِ ظاہری (جو وضو وغیرہ سے حاصل ہوتی ہے) کا نام ہے۔
محدث عبد الاعلٰیؒ (المتوفی ۵۱ھ) جو روایتیں حضرت محمدؒ بن الحنیفیہؒ سے نقل کرتے تھے وہ دراصل ایک کتاب تھی اور عبد الاعلٰیؒ نے براہِ راست وہ روایتیں حضرت محمدؒ بن الحنیفیہؒ سے نہیں سنی تھیں (طبقات ابن سعدؒ ج ۶ ص ۹۴)۔ امام جعفر صادقؒ (المتوفی ۱۴۸ھ) فرمایا کرتے تھے کہ ہم جو روایتیں اپنے آباؤاجداد سے نقل کرتے ہیں میں نے ان سب کو حضرت امام باقرؒ کی کتابوں میں پایا ہے (تہذیب التہذیب ج ۲ ص ۱۰۴)۔ حضرت سمرہؓ بن جندب (المتوفی ۵۹ھ) سے ان کے بیٹے حضرت سلیمانؒ روایتوں کا ایک نسخہ روایت کرتے ہیں اور ان سے ان کے بیٹے حضرت حبیبؒ (تہذیب ج ۴ ص ۲۳۶)۔ اور حضرت محمدؒ بن سیرینؒ فرماتے ہیں ’’فی رسالۃ سمرۃؓ الٰی بنیہ علم کثیر‘‘ (ایضًا) یعنی اس رسالہ اور تحریر میں جو حضرت سمرۃؓ نے اپنے بیٹوں کو بھیجی بہت بڑا علم ہے۔
مشہور تابعی حضرت ابو سبرۃؒ بن سلمۃ الہذلؒ (جو تابعی کبیر تھے مستدرک ج ۱ ص ۷۶ و سکت عنہ الذہبیؒ) فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہؓ بن عمروؓ سے ملا۔ انہوں نے زبانی مجھ سے حدیث بیان کی اور میں نے اپنے قلم سے اسے لکھا اور اس میں ایک حرف کی کمی بیشی میں نے نہیں کی۔ اس حدیث میں بہت سی باتوں کا ذکر ہے جن میں سے بعض یہ بھی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس وقت تک قیامت برپا نہیں ہو گی جب تک کہ فحش گوئی اور بدکلامی اور قطع رحمی اور پڑوس کے حقوق کو پامال کرنا اور امانت والے کا خیانت کرنا اور خائن کو امین تصور کرنا وغیرہ امور ظاہر نہ ہو جائیں (الحدیث) (مستدرک ج ۱ ص ۷۵ امام حاکمؒ اور علامہ ذہبیؒ دونوں فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے اور علامہ ذہبیؒ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث مسند احمد میں بھی مروی ہے۔ تلخیص المستدرک ج ۱ ص ۷۶)
حضرت عروہؒ بن الزبیرؓ (المتوفی ۹۴ھ) نے غزوۂ بدر کا مفصل حال لکھ کر خلیفہ عبد الملک کو بھیجا تھا (طبری ص ۱۲۸۵)۔ حضرت سعیدؒ بن جبیرؒ (المتوفی ۹۵ھ) فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ بن عمرؓ اور حضرت عبد اللہ بن عباسؓ سے رات کو روایتیں سنتا تھا تو پالان پر لکھتا تھا صبح کو پھر ان کو صاف کر  کے لکھ لیتا تھا (دارمی ص ۶۹)۔ حضرت نافعؒ (المتوفی ۱۱۷ھ) جو حضرت ابن عمرؓ کی خدمت میں تیس برس رہے تھے وہ اپنے سامنے لوگوں کو لکھوایا کرتے تھے (دارمی ص ۶۹)۔ حضرت عبد الرحمٰن بن عبد اللہؓ بن مسعود (المتوفی ۷۹ھ) ایک کتاب نکال لائے اور قسم کھا کر کہا کہ یہ کتاب خود حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کے  ہاتھ کی لکھی ہوئی ہے (جامع بیان العلم ج ۱ ص ۷۲)۔ قاضی ابن شبرمہؒ (عبد اللہؒ بن شبرمہؓ المتوفی ۱۴۴ھ) سے بعض امراء نے سوال کیا کہ یہ حدیثیں جو آپ ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سناتے ہیں یہ کہاں سے آئیں؟ تو انہوں نے فرمایا کہ کتاب عندنا (جامع بیان العلم ج ۱ ص ۷۶) کہ یہ ہمارے پاس لکھی ہوئی ہیں۔
حضرت امام زہریؒ (المتوفی ۱۲۴ھ) محدث ابوالزناؤؒ فرماتے ہیں کہ ہم تو صرف حلال و حرام کے مسائل ہی لکھتے رہتے تھے لیکن امام زہریؒ جو کچھ سنتے وہ سب لکھ لیتے تھے اور بعد کو جب مسائل میں ان کی طرف رجوع کرنے کی حاجت پڑی تو میں نے اس وقت یہ جانا کہ وہ اعلم الناس ہیں (جامع بیان العلم ج ۱ ص ۷۳)۔ محدث کیسانؒ کا بیان ہے کہ میں اور امام زہریؒ طلبِ علم میں ایک ساتھ تھے۔ میں نے کہا کہ میں تو صرف سنن ہی لکھوں گا۔ چنانچہ جو کچھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی تھا وہ میں نے سب لکھ لیا اور امام زہریؒ نے کہا کہ حضرات صحابہ کرامؓ سے جو کچھ مروی ہے وہ بھی لکھو کیونکہ وہ بھی سنت ہی ہے۔ میں نے کہا کہ وہ سنت نہیں۔ غرضیکہ میں نے وہ نہ لکھا اور امام زہریؒ نے وہ بھی لکھ لیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ کامیاب ہوئے اور میں برباد ہو گیا (جامع بیان العلم ج ۲ ص ۱۸۷ و طبقات ابن سعدؒ ج ۲ ص ۱۳۵ قسم دوم)۔ امام زہریؒ ہی وہ پہلے بزرگ ہیں جنہوں نے علم کی تدوین کی اور اس کو لکھا (جامع بیان العلم ج ۱ ص ۷۳)۔
قارئین کرام! آپ ان ٹھوس حوالوں سے بخوبی یہ معلوم کر چکے ہیں کہ علم اور حدیث کی کتابت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات صحابہ کرامؓ اور تابعین عظامؒ کے مبارک دور میں باقاعدہ ہوتی تھی، ہاں مگر مرتب نہ تھی۔ ابواب اور فصول وغیرہا کی صورت میں فقہی رنگ میں تدوین سب سے پہلے حضرت امام زہریؒ نے کی ہے تاکہ مسائل اور احکام کو تلاش کرنے میں بھی کوئی دقت پیش نہ آئے اور اہم سو اہم کی ترتیب بھی برقرار رہے جیسا کہ پہلے باحوالہ یہ بات عرض کی جا چکی ہے۔ 
بعد کے لوگوں میں حفظِ حدیث اور عمل کے جذبہ میں بہ نسبت پہلے مبارک دور کے جب کچھ کمی نظر آنے لگی تو خلیفہ راشد حضرت عمرؒ بن عبد العزیزؒ نے اپنے قابل اور فاضل گورنر حضرت ابوبکرؒ بن حزم کو سرکاری سطح پر حکم لکھ کر بھیجا کہ بغور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثوں کو جمع کر کے لکھو کیونکہ مجھے علم کے مٹ جانے اور علماء کے اٹھ جانے کا خطرہ ہے اور صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث ہی لکھنا اور اہلِ علم کو چاہیئے کہ علم کی خوب اشاعت کریں اور علمی مجالس میں بیٹھ کر تعلیم دیں تاکہ جن کو علم نہیں وہ علم حاصل کریں۔ علم صرف اسی وقت ختم ہو سکتا ہے جب کہ وہ راز بن جائے (اور اس کی نشرواشاعت نہ کی جائے) (بخاری ج ۱ ص ۲۰ و رحمۃ مہداۃ ص ۱۱) اسی طرح حضرت عمرؒ بن عبد العزیزؒ نے اہل مدینہ کو تحریر فرمایا کہ
ان انظروا حدیث رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فاکتبوہ فانی خفت دروس العلم و ذھاب اھلہ (دارمی ص ۶۸)
’’توجہ کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی حدیثیں لکھو کیونکہ مجھے علم کے مٹ جانے اور اہلِ علم کے اٹھ جانے کا خدشہ ہے۔‘‘
خیر القرون کے ذمہ دار اور باشعور حضرات نے تو ازخود آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ذات سے عقیدت اور محبت کی بنا پر اور اپنے دین کی حفاظت کے لیے پوری ذمہ داری محسوس کی اور حفظ و کتابت حدیث کا پورا پورا ثبوت دیا لیکن خلیفۂ راشد اور پہلی صدی کے مجدد حضرت عمرؒ بن عبد العزیزؒ نے سرکاری طور پر جس ذمہ داری کا ثبوت دیا وہ ان کا خالص مجددانہ کارنامہ ہے۔
غرضیکہ یہ ٹھوس حوالے اس بات کو بالکل واضح کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ اور حضرات صحابہ کرامؓ اور تابعینؒ اور تبع تابعینؒ کے زمانہ میں جہاں احادیث کے نوکِ زبان کرنے کا عام رواج اور شوق تھا وہاں کتابتِ حدیث کی بھی کمی نہ تھی گو ان حضرات کے مجموعے فقہی ابواب پر مدوّن اور مرتب نہ تھے لیکن ان میں علمی طور پر بہت کچھ درج تھا اور اس دور میں بھی باقاعدہ حدیثیں اور روایتیں قیدِ تحریر میں لائی جاتی تھیں اور وہی قیمتی ذخیرہ سینوں اور سفینوں میں منتقل ہوتا ہوا نچلے روات اور محدثین تک پہنچا۔
گویا دورِ اول کا سرمایۂ حدیث دوسرے دور کی کتابوں میں ہے۔ اور دوسرے دور کا تحقیقی مواد تیسرے دور کی کتابوں کی زینت ہے۔ اور تیسرے دور کی کتابوں میں جو اول اور دوسرے دور کی کتابیں کھپا دی گئی تھیں وہ ہزاروں اوراق میں فقہی ترتیب اور تدوین کے ساتھ ہمارے سامنے مؤطا امام مالک، صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن نسائی، سنن ابی داؤد، سنن ترمذی، سنن ابی ماجہ، اور طحاوی وغیرہ کتب حدیث کی شکل میں بالکل محفوظ اور موجود ہے اور دنیا کی تاریخ میں سب سے زیادہ باوثوق علمی اور گراں بہا سرمایہ ان معتبر کتابوں میں درج ہے۔
الغرض قرآن کریم کے بعد اس سے زیادہ مستند اور معتبر ذخیرہ دنیا کی تاریخ کے خزانہ میں اور کوئی نہیں ہے۔ اگر تحریری سرمایہ ہی منکرینِ حدیث کے لیے قابلِ وثوق ہو سکتا ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زرین عہد سے تدوینِ کتبِ حدیث کے دور تک اس کی بھی کوئی کمی نہیں رہی جیسا کہ قارئین کرام ٹھوس حوالوں سے یہ پڑھ چکے ہیں۔ علاوہ بریں اسلام میں اصولِ تنقید اور درایت یعنی عقلی اور نقلی حیثیت سے روایت کو پرکھنے کے اصول و ضوابط الگ موجود ہیں اور ان اصول و قواعد کے ذریعے بخوبی احادیث کی تصحیح یا تضعیف کی جا سکتی ہے۔ اور روات کی چھان بین اور تحقیق میں اس درجہ دیانت داری اور حق گوئی سے کام لیا گیا ہے جس کی نظیر دنیا میں نہیں مل سکتی اور یہ کارروائی اہلِ اسلام کے مفاخر میں شامل ہے۔ مشہور عربی دان فاضل ڈاکٹر اس پرنگر جرمنی کا مقولہ آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہے: ’’نہ کوئی قوم دنیا میں ایسی گزری نہ آج موجود ہے جس نے مسلمانوں کی طرح اسماء الرجال سا عظیم الشان فن ایجاد کیا ہو جس کی بدولت آج پانچ لاکھ شخصوں کا حال معلوم ہو سکتا ہے‘‘۔ (بلفظہٖ حاشیہ سیرۃ النبیؐ ج ۱ ص ۶۴ از مولانا شبلیؒ)۔

رشاد خلیفہ - ایک جھوٹا مدعئ رسالت

پروفیسر غلام رسول عدیم

ایک اطلاع کے مطابق امریکہ کے ایک مشہور مدعی رسالت ڈاکٹر رشاد خلیفہ کو ۳۱ جنوری ۱۹۹۰ء رات دو بجے تیز دھار آلے سے قتل کر دیا گیا۔ یہ خبر انٹرنیشنل عربی اخبار ’’المسلمون‘‘ کے حوالے سے ہفت روزہ ختم نبوت کراچی بابت ۹ تا ۱۶ مارچ ۱۹۹۰ء (جلد ۸ شمارہ ۳۸) میں چھپی ہے۔ ڈاکٹر رشاد خلیفہ کا مسکن امریکہ کی ریاست Arizona (اریزونا) کا شہر Tucson (ٹوسان) تھا۔ وہ ایک عرصۂ دراز سے بظاہر قرآن و اسلام کی خدمت کر رہا تھا مگر بباطن اسلام کی جڑیں کاٹ رہا تھا تا آنکہ تین سال قبل رسالت کا دعوٰی کر دیا۔
تاریخ شاہد ہے ملحدین و دین بیزار افراد نے اصلاحِ دین کے پردے میں اپنے ناپاک عزائم کے لیے جو تحریکیں اٹھائیں انہیں پروان چڑھانے کے لیے ابتدائی مراحل میں وہ حمایتِ دین کے علم بردار بن کر ابھرے۔ اسی فریب کاری سے عوام میں مقبولیت حاصل کی اور پھر جب ان کی تجدیدی مساعی کی  ساکھ قائم  ہو گئی تو اپنی دوفطرتی کا اس انداز سے مظاہرہ کیا کہ ان کی مقصد برآری بھی ہونے لگی اور ناپختہ کار لوگوں کا ایک ہجوم بھی ان کے ساتھ گمراہی کی راہوں پر چل نکلا۔ ایسے دسیسہ کاروں کا طرزِعمل یہ رہا ہے کہ وہ اپنے باطل خیالات کی پرورش کے لیے کسی قدر اس میں سچائی بھی شامل کر لیتے کیونکہ اگر وہ ایسا نہ کرتے تو ان کوئی ان کی آواز پر کان نہ دھرتا۔ آغازِکار ہی سے ان کا پول کھل جاتا۔ ایسی تحریکوں کی مثالیں ماضی بعید میں بھی ملتی ہیں اور ماضی قریب میں بھی۔
آغازِ اسلام میں اہلِ تشیع نے بھی کچھ ایسا ہی انداز اختیار کیا۔ اکثر صحابہ کرامؓ کی تکفیر و تفسیق اور ازواجِ مطہرات کی تنقیص کے جراثیم سوسائٹی میں پھیلانے کے لیے اہلِ بیتؓ کی محبت کا سہارا لیا۔ صحابہ کرامؓ سے بے اعتنائی کے نتیجے کے طور پر ان  احادیث نبویہؐ سے گلوخلاصی کرائی جو ان صحابہؓ سے مروی تھیں۔ ان صحابہؓ پر بداعتمادی کا لازمی نتیجہ یہ تھا کہ ان کی مرویات کو رد کر دیا جائے۔ یوں وہ اہلِ بیتؓ سے محبت کے دعوے کے باوجود صحابہؓ کی پاکیزہ سیرتوں اور عملاً سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے مستند اقوال و فرمودات اور آپؐ کی سیرتِ طیبہ سے علمی و عملی استفادے سے محروم رہ گئے۔
انیسویں صدی کے وسط آخر اور پھر بیسویں صدی کے پہلے عشرے میں برصغیر میں مرزا غلام احمد قادیانی دعوٰئ نبوت سے پہلے آریہ سماجیوں اور مسیحیوں کے خلاف مناظرِ اسلام بن کر اٹھا۔ اسلام کی صداقت کی حمایت میں مقالے لکھے، مناظرے کیئے، تقریریں کیں مگر جب اپنی مقصد برآری کے لیے دور تک آگے نکل گیا تو مجدد، محدث، مثیل مسیح حتٰی کہ دعوٰئ نبوت سے بھی گریز نہ کیا۔
کچھ ایسا ہی حال عالیجاہ محمد کا تھا۔ عالیجاہ نے سیاہ فام امریکیوں کو اسلام اور قرآن کی طرف بلایا۔ بظاہر یہ دعوت بڑی خوش آئند تھی مگر امتدادِ وقت کے ساتھ ساتھ وہ ایک نسلی تحریک زیادہ بن گئی اور دینی کم، جس میں سیاہ فام افریقی دیوتا تھے اور سفید فام امریکی ان کے پیدا کردہ شیطان۔
بعینہٖ یہی حال گذشتہ چند برسوں سے ڈاکٹر رشاد خلیفہ کا تھا۔ رشاد خلیفہ نے ایک داعئ اسلام کی حیثیت سے اپنا تعارف کرایا مگر اس کی دعوت ایک خاص نقطہ پر مرکوز تھی، اسے اسلاف کی دینی خدمات اور قرونِ خیر کی خیریت پر اعتماد نہ تھا۔ اس کی تجدد پسندانہ اور ریاضیاتی ساخت و باخت نے دین کی آڑ میں ایک نئی گمراہی کو جنم دیا۔ ۱۹ کا عدد اس کی تمام تر صلاحیتوں کا مرکز تھا۔ ۱۹ کے عدد سے وہ بظاہر نظر اپنے دو مقصد حاصل کرنا چاہتا تھا۔
(۱) قرآن دنیا کی طرف خدا کا آخری پیغام ہے اور ۱۹ کا عدد اس کی تصدیق کرتا ہے۔ خدا کا واحد ہونا حروف ابجد کے اعتبار سے ثابت ہے۔
و + ا + ح + د
۶ + ۱ + ۸ + ۴ = ۱۹
یہی وحدانیتِ الٰہی قرآن کا مقصودِ اصلی ہے۔
(۲) قرآن ہر طرح کی آمیزش، نقص و زیادت سے پاک ہے۔
اس نے اپنے پہلے دعوٰی کی تردید اس تعبیر سے کر دی جو سنت کے انکار پر مبنی تھی، اس نے کہا کہ سنت کی پیروی گمراہی اور بت پرستی ہے۔ یوں منکرِ حدیث ہو کر رشاد خلیفہ قرآنی بصیرت کھو بیٹا۔ اس کی کتاب The Computer Speaks: God's Message to the World نے دنیا کو چونکا دیا اور لوگ اس کی قرآن میں ریاضیاتی کوششوں کے معترف ہو گئے۔
جہاں تک اس کے دوسرے مقصد کا تعلق ہے وہ اس سے بھی انحراف کر گیا۔ جب بعض قرآنی آیات اس کے خودساختہ ریاضیاتی کلیوں کے مطابق نہ نکلیں تو اس نے ان آیات  ہی سے انکار کر دیا۔ مثلاً اس نے سورۂ توبہ کی آخری دو آیتوں کو وضعی اور الحاقی کہہ کر خود ہی قرآن میں عدم نقص و زیادت کی تردید کر دی۔ اس نے کہا:
’’کمپیوٹر نے ایک تاریخی جرم کا اظہار کر دیا۔ خدا کے کلام میں تحریف۔ قرآن میں دو وضعی آیات نکل آئیں۔ قرآن کے ہندسی ضابطے میں نو (۹) نقائص دریافت کر لیے گئے۔ یہ تمام نو نقائص سورت نمبر ۹ کی آخری دو آیتوں میں پائے گئے ہیں۔‘‘
بہت سے نو مسلم رشاد خلیفہ کو سچا رسول سمجھنے لگے کیونکہ وہ بڑے وثوق سے دعوٰی کرتا کہ وہ اپنی اس تحقیق سے قرآن کی زبان و بیان کی پاکیزگی کو ثابت کر رہا ہے۔ اس کے جھانسے میں آنے والے زیادہ تر وہ لوگ تھے جو علمِ دین کا ضروری علم نہیں رکھتے، اسلام تو قبول کر لیتے ہیں، ان کی علمی سطح مبادیات سے اوپر نہیں جاتی۔ تاہم بعض ثقہ قسم کے علماء نے اس کی گرفت کی اور اس کے ان خودساختہ نظریات کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا، باوجودیکہ وہ ان سے قرآن ہی کی حقانیت ثابت کرتا دکھائی دیتا تھا۔
آج سے دس برس پہلے ممتاز عالمِ دین مولانا عبد القدوس ہاشمی نے بجا طور پر کہا تھا کہ عددیات کا باطل علم قدیم اساطیری ادبوں کی پیداوار ہے، اسلام میں اس کی کوئی اہمیت نہیں۔ عوام میں جو ۶۸۷ کے عدد کی بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کی نسبت سے اہمیت تسلیم کی جاتی ہے مولانا ہاشمی نے اس کو بے جواز اور بے کار بتایا۔ قرآنی آیات کو عددی شکلیں دے کر ان سے تعویذ بنانا بھی بیکار مشغلہ اور ضعیف الاعتقادی کا نتیجہ قرار دیا۔
سچی بات تو یہ ہے کہ ۱۹ کے عدد کی اہمیت سب سے پہلے نویں صدی عیسوی میں قرامطہ کے ہاں ملتی ہے، پھر ان قرامطہ کی بگری ہوئی شکل بہائی فرقہ کے ہاں ۱۹ کا عدد بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے  کہ بہائی فرقۂ باطلہ کے بانی محمد علی باب کی تاریخ پیدائش ۱۸۱۹ء ہے۔ ان اعداد کا مجموعہ ۹+۱+۸+۱=۱۹ بنتا ہے۔ بہائیوں نے ۱۹ کے عدد کو مرکزِ کائنات مانا اور اسے اسرارِ کائنات کا اصل سرچشمہ قرار دے لیا ہے۔ بہائیوں نے سال کے ۱۹ مہینے قرار دیے اور ہر مہینے کے ۱۹ دن بنائے، یوں ان کا کیلنڈر بھی ۱۹ کے عدد کے گرد گھومنے لگا۔
یہی ۱۹ کا ہندسہ جو بہائیوں کے ہاں بڑا مقدس اور معنی خیز ہندسہ قرار دیا جاتا تھا اسی پر رشاد خلیفہ نے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کرنے کی ٹھان لی۔ اسے مرکز بنا کر اس نے کئی کتابیں لکھیں جن میں اہم یہ ہیں:
The Perpetual Miracle of Muhammad 1976
Mujiza Al-Quran Al-Karim 1980
The Final Scripture 1981
Quran, Hadith and Islam 1982
Quran: Visual Presentation of the Miracle 1982
عام مسلمانوں کے علاوہ رشاد کے بھرّے میں آنے والوں میں مشہور مناظرِ اسلام احمد دیدات کا نام سرِفہرست ہے۔ وہ اس کی کنجکاری سے بہت متاثر ہوئے۔ ۱۹۷۹ء میں انہوں نے ایک مختصر کتاب Al-Quran an Ultimate Miracle لکھ کر رشاد کے افکار و دلائل کا خلاصہ پیش کیا۔ بعد ازاں اس موضوع پر احمد دیدات کا ایک لیکچر بعنوان Al-Quran a Visual Miracle بھی پوری دنیا میں ٹیپ کر کے مفت تقسیم کیا گیا۔ کچھ عرصہ بعد رشاد خلیفہ نے اس بات کا دعوٰی کیا کہ اس نے ۱۹ کے عدد کی مدد سے قیامت کی  صحیح تاریخ بھی معلوم کر لی ہے۔ جب اس کی جسارت یہاں تک آ پہنچی تو احمد دیدات سمیت بہ سے مسلمان اس سے بدظن ہو گئے۔ اس کے معترفین نے اس کی مخالفت کرنا شروع کر دی، کئی تاثراتی و جذباتی مضمون لکھے گئے۔ اس کی اس دیدہ دلیری کے پیشِ نظر جید علماء سے استفتاء کیا گیا۔ دنیائے اسلام کے معروف ترین عالمِ دین شیخ عبد اللہ بن عبد العزیز بن باز (سعودی عرب) نے اس کے ارتداد کا  فتوٰی دیا۔
اس دوران میں رشاد خلیفہ نے مصری سکونت ترک کر کے امریکہ میں مستقل اقامت اختیار کر لی۔ امریکہ کی ریاست اریزونا کے شہر توسان میں بیٹھ کر ایک ماہانہ خبرنامہ جاری کیا جس کی بے شمار کاپیاں امریکہ اور کینیڈا کے سارے اسلامی حلقوں میں مفت تقسیم کیں۔ محدود علم کے نومسلم اس کی گرفت میں جلد آ جاتے بالخصوص وہ خواتین جو پردے کی حامی نہ تھیں اور اسلامی لباس کے حق میں نہ تھیں وہ اس کے جھانسے میں زیادہ آتیں کیونکہ رشاد خلیفہ نے ساتر لباس کو کوئی اہمیت نہ دی اور اس بات کی بھی اجازت دے دی کہ عورتیں اور مرد ایک ہی صف میں کھڑے ہو کر نماز ادا کر سکتے ہیں۔
رشاد خلیفہ کے عقائدِ باطلہ اور ان کی تردید ایک مستقل مقالے کا متقاضی ہے; تاہم اس مدعئ رسالت کا بنیادی نقطہ یہ ہے کہ ۱۹ حروف پر مشتمل بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کی آیت قرآن کا ایک معجزاتی عددی ضابطہ ہے۔ یہ معجزاتی ضابطہ سورہ مدثر کی آیت ۳۰ کا منبٰی ہے اور یہ آیت ’’علیھا تسعۃ عشر‘‘ پورے قرآن کی عددی و ریاضیاتی معجزنمائی کی اساس ہے۔ اس کا عقیدہ ہے کہ ۱۹ اور اس کی جمعی، تقسیمی اور ضربی شکلیں پورے قرآن کو محیط ہیں۔ جو آیاتِ قرآنی اس ضابطے پر پوری نہیں اترتیں وہ وضعی ہیں۔
حروفِ مقطعات جو قرآن مجید کی ۲۹ سورتوں کی ابتدا میں آتے ہیں ان میں اس نے عددی اسرار تلاش کیے ہیں اور دعوٰی کیا ہے کہ قرآن جیسی ادبی کتاب میں ریاضیاتی صحت ضابطہ اس بات کا پتہ دیتی ہے کہ یہ کام انسانی قوت سے ماوراء ہے۔ چونکہ آج کا دور انسان کے صلبی اولاد کے بجائے اس کی معنوی اولاد معجزاتی چپ (سیلیکون چپ جس کی مدد سے کمپیوٹر کا انقلاب آیا) اور الیکٹرانی ساحروں یعنی کمپیوٹروں کا دور ہے، قرآن اس چیلنج کو قبول کر کے کمپیوٹر کے لوازم پر پورا اترتا ہے، اس سے اس کا معجزہ اور وحی ہونا ظاہر ہے۔ مزید یہ کہ ۱۹ اور اس کی مختلف ہندسی ہیئتیں، وہ ضربی ہوں جمعی ہوں یا تقسیمی، قرآن کی صحیح تعبیر پیش کرتی ہیں۔
رشاد خلیفہ کا یہ بھی دعوٰی ہے کہ وہ رسول ہے نبی نہیں، کیونکہ قرآن کریم نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین کہا ہے خاتم الرسل نہیں کہا۔ رشاد خلیفہ نے اپنی کتاب Quran: Visual Presentation of Miracle کے پہلے ۲۴۷ صفحات میں نام نہاد ’’۵۲ طبعی حقائق‘‘ پیش کر کے اعداد و شمار کے گوشوارے دیے ہیں۔ عام قاری ان سے مسحور ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا لیکن جب ان پر گہرا غور کیا جائے تو اس مدعئ رسالت کے افکار کا تاروپود بکھر کر رہ جاتا ہے۔ اس سلسلہ میں ابو امینہ بلال فلپس کی کتاب The Qur'an's Numerical Miracle: Hoax and Heresy لائق مطالعہ ہے۔

تحریکِ پاکستان اور شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانیؒ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(الشبان المسلمون سیالکوٹ کے زیر اہتمام اسلامک پبلک سکول (باجوہ اسٹریٹ، رنگ پورہ، سیالکوٹ) میں تحریک پاکستان کے عظیم راہنما شیخ الاسلام حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ کی یاد میں ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں مدیر الشریعہ نے حسب ذیل خطاب کیا۔ ادارہ الشریعہ)

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ آج کی یہ تقریب الشبان المسلمون کے زیراہتمام تحریک پاکستان کے عظیم راہنما شیخ الاسلام علامہ شبیر احمدؒ عثمانی کی خدمات اور جدوجہد کے تذکرہ کے لیے منعقد ہو رہی ہے۔ اس سے پہلے پروفیسر محمد عبد الجبار صاحب اور مولانا محمد انذر قاسمی اپنے خیالات کا اظہار کر چکے ہیں جبکہ پروفیسر میاں منظور احمد صاحب جو حضرت علامہ عثمانی کے شاگرد بھی ہیں میرے بعد اظہارِ خیال فرمانے والے ہیں۔ مجھے حکم دیا گیا کہ حضرت مولانا شبیر احمدؒ عثمانی کی جدوجہد اور خدمات کے بارے میں کچھ معروضات پیش کروں۔ تعمیل حکم کے لیے حاضر ہوں، دعا فرمائیں کہ اللہ رب العزت کچھ مقصد کی باتیں عرض کرنے کی توفیق عطا فرمائیں، آمین۔ حضراتِ محترم! شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمدؒ عثمانی کی عملی زندگی کو میں تین حصوں میں تقسیم کروں گا:

  1. ایک حصہ اس دور پر مشتمل ہے جب آپ نے دیوبند اور ڈابھیل میں علمی خدمات سرانجام دیں، ہزاروں تشنگانِ علوم کو قرآن و سنت کے معارف سے سیراب کیا، شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی قدس اللہ سرہ العزیز کے علمی جانشین کی حیثیت سے قرآن کریم کے حواشی مکمل کیے جو قرآن کریم کے اردو تراجم اور حواشی میں آج بھی سب سے زیادہ وقیع اور جامع شمار کیے جاتے ہیں، اور مسلم شریف کی شرح فتح الملہم لکھ کر علمی حلقوں سے خراجِ تحسین وصول کیا۔ جبکہ میرے نزدیک ان کی سب سے بڑی علمی خصوصیت یہ ہے کہ حجت الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کی طرح علامہ عثمانی بھی اپنے دور کے سب سے بڑے متکلم تھے۔ انہوں نے اسلامی نظریات و عقائد اور احکام و قوانین کو جس قوتِ استدلال کے ساتھ پیش کیا اس کی مثال اس دور میں نہیں ملتی۔ اور علامہ عثمانی کی علمی عظمت کے اعتراف کی ایک جھلک اس واقعہ کے حوالہ سے دیکھی جا سکتی ہے جو میں نے حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ کی زبانی سنا۔ انہوں نے بیان فرمایا کہ قطب الاقطاب حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ نے ایک دور میں شیرانوالہ لاہور میں اکابر علماء دیوبند کے اجتماع کا اہتمام کیا۔ اس موقع پر حضرت مولانا حسین علیؒ آف واں بھچراں اور حضرت دین پوریؒ جیسے عظیم اکابر بھی موجود تھے اور شیخ اسلام علامہ شبیر احمدؒ عثمانی بھی تشریف فرما تھے۔ اجتماع میں لاہور کے سرکردہ حضرات کو بھی مدعو کیا گیا تھا جن میں سرفہرست علامہ ڈاکٹر محمد اقبال مرحوم تھے۔ اس اجتماع میں جب حضرت علامہ شبیر احمدؒ عثمانی نے خطاب شروع کیا تو علامہ اقبالؒ اسٹیج پر تشریف فرما تھے لیکن چند لمحوں کے بعد وہ اسٹیج سے اٹھ کر یہ کہتے ہوئے سامعین میں بیٹھ گئے کہ اس پیکرِ علم کا خطاب سامنے بیٹھ کر طالب علموں کی طرح سننا چاہیے۔ یہ علامہ عثمانی کی علمی عظمت کا اعتراف ہے اور اس سے ان کے علمی مقام و مرتبہ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ علامہ شبیر احمدؒ عثمانی کی علمی خدمات اور جدوجہد کے بارے میں بہت کچھ کہا جا سکتا ہے لیکن یہ پہلو میں ان کے شاگرد جناب پروفیسر میاں منظور احمد صاحب کے لیے چھوڑتے ہوئے آگے بڑھتا ہوں اس دور کی طرف جس میں علامہ عثمانی نے تحریک پاکستان میں حصہ لیا بلکہ قائدانہ کردار ادا کیا۔ انہوں نے یہ کردار تنہا نہیں ادا کیا بلکہ علماء کی ایک جماعت کے ساتھ تحریک پاکستان میں شرکت کی اور قیام پاکستان کی جدوجہد کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔
  2. ہمارے ہاں ایک بات تسلسل کے ساتھ کہی جا رہی ہے کہ علمائے دیوبند نے تحریک پاکستان کی مخالفت کی تھی اور وہ قیام پاکستان کے مخالف تھے۔ یہ تاثر ایک سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت عام کیا جا رہا ہے اور اس کے پیچھے ایک مقصد کارفرما ہے۔ اس سلسلہ میں مقالات و مضامین کی اشاعت ہو رہی ہے اور اخبارات میں مہم کے انداز میں کام کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ سال ایک صاحب نے اس تاثر کو بنیاد بنا کر ایک اور مقدمہ کھڑا کیا ہے جو اس مہم کا اصل مقصود ہے۔ انہوں نے اپنے مسلسل مضمون میں یہ مقدمہ قائم کیا کہ علماء نے تحریک پاکستان کی مخالفت کی تھی اور قوم نے پاکستان بنا کر علماء کے موقف کو مسترد کر دیا جبکہ تحریک پاکستان کی قیادت جدید تعلیم یافتہ طبقہ نے کی، اس لیے پاکستان میں نفاذ اسلام کے لیے علماء کی بیان کردہ تعبیر و تشریح کو بنیاد نہیں بنایا جائے گا بلکہ وہ تعبیر و تشریح اختیار کی جائے گی جو ان کے بقول تعلیم یافتہ طبقہ قرآن و سنت کے لیے ازسرنو طے کرے گا۔
    یہ ایک نئی گمراہی کا دروازہ ہے جسے کھولنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اس مقصد کے لیے یہ بات مسلسل کہی جا رہی ہے کہ علماء نے تحریک پاکستان کی مخالفت کی تھی تاکہ اس مفروضے کو نئی گمراہی کی فکری اساس بنایا جا سکے۔ حالانکہ یہ خلاف واقعہ بات ہے اور جھوٹ ہے کیونکہ سب علماء نے تحریک پاکستان کی مخالفت نہیں کی تھی۔ یہ درست ہے کہ علماء کی ایک بڑی جماعت نے قیام پاکستان کی مخالفت کی تھی، ہم اس سے انکار نہیں کرتے اور اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں۔ میں اس موقع پر اس بحث میں نہیں پڑوں گا کہ تحریک پاکستان کی مخالفت کرنے والے علماء نے قیام پاکستان کی صورت میں جن خدشات و خطرات کا اظہار کیا تھا، پاکستان بننے کے بعد کے چالیس سالہ دور نے ان کی تصدیق کی یا ان کو رد کیا ہے۔ میں اس بحث کی طرف بھی نہیں جاؤں گا کہ قیام پاکستان کی مخالفت کرنے والے علماء کا سیاسی تشخص تقسیم ہند کے بعد ہندوستان میں رہ جانے والے مسلمانوں کے لیے کس حد تک سہارا بنا ہے اور ان علماء کے سیاسی تشخص نے ان مسلمانوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے کیا رول ادا کیا ہے۔ ان مباحث میں الجھے بغیر میں کھلے دل سے یہ تسلیم کرتا ہوں کہ علمائے دیوبند کے ایک بڑے طبقہ نے قیام پاکستان کے خلاف کام کیا تھا۔ لیکن اسی طرح یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ علمائے دیوبند ہی کے ایک بڑے طبقے نے قیام پاکستان کی جدوجہد کا ساتھ دیا تھا اور ان کے سرخیل شیخ الاسلام علامہ شبیر احمدؒ عثمانی تھے۔ تحریک پاکستان کا ساتھ دینے والے انہی علماء میں حکیم الامت حضرت شاہ اشرف علی تھانویؒ بھی تھے جن کے بارے میں خود قائد اعظم مرحوم کا یہ مقولہ تاریخ کے ریکارڈ میں موجود ہے کہ ’’ہمارے ساتھ ایک اتنے بڑے عالم ہیں کہ ان کا علم ہندوستان کے تمام علماء کے علم پر بھاری ہے۔‘‘ حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کی ہدایت پر اور حضرت علامہ شبیر احمدؒ عثمانی کی قیادت میں علماء کرام کی ایک بڑی تعداد تحریک پاکستان میں عملاً شریک ہوئی اور فردًا فردًا نہیں بلکہ ایک باقاعدہ جماعت کی صورت میں انہوں نے تحریک پاکستان میں حصہ لیا۔
    آج یہ کہا جاتا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ نے بنایا، میں اسے تسلیم کرتا ہوں لیکن اس وضاحت کے ساتھ کہ تنہا مسلم لیگ نے نہیں بلکہ اس کے ساتھ ایک اور جماعت بھی تھی جو تحریک پاکستان میں شریک تھی اور اس جماعت کا نام جمعیۃ علماء اسلام ہے۔ جمعیۃ علماء اسلام کا قیام ۱۹۴۵ء میں کلکتہ میں عمل میں لایا گیا اور علامہ شبیر احمدؒ عثمانی کو اس کا سربراہ چنا گیا ۔ اس جماعت نے باقاعدہ پلیٹ فارم قائم کر کے مسلم لیگ کے ساتھ تحریک پاکستان میں حصہ لیا۔ اس میں مولانا اطہر علیؒ جیسے بزرگ تھے، علامہ ظفر احمدؒ عثمانی، مولانا غلام مرشدؓ، مولانا راغب احسنؒ، مولانا مفتی محمد شفیعؒ اور دیگر علماء تھے جنہوں نے تحریک پاکستان کا نظریاتی تشخص اجاگر کیا۔ اور مجھے یہ عرض کرنے کی اجازت دیجئے کہ تحریک پاکستان کا نظریاتی اور اسلامی تشخص انہی علماء کی وجہ سے اجاگر ہوا۔ ان کے علاوہ دوسرے علماء بھی تھے۔ مولانا عبد الحامدؒ بدایونی بھی تھے، پیر صاحبؒ آف مانکی شریف بھی تھے اور مولانا محمد ابراہیمؒ سیالکوٹی بھی تھے۔ میں تحریک پاکستان میں ان میں سے ہر کردار کا اعتراف کرتا ہوں اور اس نکتہ کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ تحریک پاکستان کو اگر اسلامی تحریک سمجھا گیا ہے اور اس کے نظریاتی تشخص پر لوگوں کا اعتماد قائم ہوا ہے تو ان علماء کی وجہ سے ہوا ہے اور عوام نے ان علماء پر اعتماد کرتے ہوئے اپنے ذہنوں اور دلوں میں تحریک پاکستان کو ایک اسلامی نظریاتی تحریک کی حیثیت سے جگہ دی ہے۔ ورنہ اگر مسلم لیگی قیادت یہ سمجھتی ہے کہ تحریک پاکستان کا نظریاتی تشخص اس کی وجہ سے قائم ہوا تھا تو یہ بات خود فریبی کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔
    یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ قیام پاکستان کے وقت دو علاقوں کے بارے میں فیصلہ ہوا تھا کہ ان علاقوں کے عوام سے ریفرنڈم کے ذریعے رائے لی جائے گی کہ وہ پاکستان یا بھارت میں سے کس کے ساتھ شامل ہونا چاہتے ہیں۔ ایک صوبہ سرحد تھا جہاں کانگریس کی حکومت تھی اور ڈاکٹر خان مرحوم اس کے وزیر اعلیٰ تھے اور دوسرا سلہٹ کا علاقہ تھا۔ ان علاقوں میں ریفرنڈم جیتنا کوئی آسان بات نہ تھی اور ریفرنڈم کے لیے جب مہم چلانے کا فیصلہ کیا گیا تو علامہ شبیر احمدؒ عثمانی اور ان کے رفیق کار علامہ ظفر احمدؒ عثمانی سے درخواست کی گئی کہ وہ اس مہم کی قیادت کریں۔ چنانچہ علامہ عثمانی نے صوبہ سرحد میں پیر صاحب آف مانکی شریف کے ہمراہ اور مولانا ظفر احمدؒ عثمانی نے سلہٹ میں انتخابی مہم کی قیادت کی۔ ان علاقوں میں مسلم لیگ کی پوزیشن کمزور تھی لیکن یہ ان علماء کی مہم تھی کہ ریفرنڈم کا فیصلہ پاکستان کے حق میں ہوا۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ قیام پاکستان کے وقت کراچی میں علامہ شبیر احمدؒ عثمانی اور ڈھاکہ میں مولانا ظفر احمدؒ عثمانی کے ہاتھوں قومی پرچم لہرانے کا تاریخی واقعہ دراصل ان دو بزرگوں کے اس کردار اور جدوجہد کا عملی اعتراف تھا جو انہوں نے قیام پاکستان میں کی۔
  3. حضراتِ محترم! شیخ الاسلام علامہ شبیر احمدؒ عثمانی کی جدوجہد کا تیسرا دور قیام پاکستان کے بعد دستور ساز اسمبلی میں ان کی جدوجہد کا دور ہے جب انہوں نے دستور ساز اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے پاکستان کی نظریاتی بنیاد کے تعین کی جنگ لڑی۔ اس حوالہ سے یہ بحث الگ گفتگو کی متقاضی ہے کہ جو ملک اسلام کے نام پر لا الہ الا اللہ کے نعرہ پر بنا اور جسے دنیا کی پہلی اسلامی نظریاتی مملکت کا عنوان دیا گیا، اس ملک کے قائم ہوتے ہی اس کی دستور ساز اسمبلی میں یہ مسئلہ کھڑا ہوگیا کہ ملک کا دستور اسلامی ہونا چاہیے یا سیکولر بنیادوں پر ملک کا نظام ترتیب دیا جائے۔ یہ سوال آخر کیسے اٹھا اور اس کا پس منظر کیا تھا؟ اس پر مستقل بحث کی ضرورت ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کے ریکارڈ کا تجزیہ کیا جائے، اسے کھنگالا جائے اور اس ہاتھ کو تلاش کیا جائے جس نے پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کو سیکولرازم کی بحث میں الجھا دیا۔
    بہرحال یہ ایک حقیقت ہے کہ اس دستور ساز اسمبلی میں نظریاتی اسلامی دستور کی مخالفت کی گئی اور مُلااِزم، پاپائیت اور تھیاکریسی کے طعنے کسے گئے ۔ اور یہ بھی امر واقعہ ہے کہ دستور ساز اسمبلی کا عمومی رجحان بظاہر غیر مذہبی نظام کی طرف ہو چکا تھا لیکن شیخ الاسلام علامہ شبیر احمدؒ عثمانی نے اس مہم کا سامنا کیا اور تمام اعتراضات کا منطق و استدلال کے ساتھ جواب دیتے ہوئے بالآخر اسمبلی کو قائل کر لیا اور قرارداد مقاصد منظور کرا کے پاکستان کی نظریاتی اسلامی بنیاد ہمیشہ کے لیے طے کر دی۔ قرارداد مقاصد کی بنیاد اس بات پر ہے کہ حاکم حقیقی اللہ تعالیٰ کی ذات گرامی ہے اور پاکستان کے عوام اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے احکام و قوانین نافذ کریں گے۔ قرارداد مقاصد کو نظرانداز کرنا اب کسی کے بس کی بات نہیں رہی اور اس قرارداد کے ذریعے علامہ شبیر احمدؒ عثمانی نے پاکستان کی اسلامی بنیاد کا ہمیشہ کے لیے تحفظ کر دیا۔

اس موقع پر ایک اور بات کی طرف توجہ دلانا بھی ضروری سمجھتا ہوں۔ تاریخ کے ایک طالب علم کی حیثیت سے ایک بات میرے ذہن میں آتی ہے کہ غلطی اگرچہ خلوص سے ہو مگر اس کے نتائج بہرحال سامنے آتے ہیں۔ مجھے ۱۹۸۷ء میں ایران جانے کا اتفاق ہوا اور وہاں کے لیڈروں سے ایرانی انقلاب کے مراحل کے بارے میں گفتگو کا موقع ملا۔ ایک ایرانی لیڈر نے اس موقع پر مجھ سے سوال کیا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ایرانی علماء نے پندرہ بیس سال کی محنت کے ساتھ انقلاب بپا کر دیا لیکن پاکستان کے علماء کرام جن کی جدوجہد دو سو سال تک آزادی کے لیے تھی اور آزادی کے بعد چالیس سال سے پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے محنت کر رہے ہیں لیکن ان کی جدوجہد کے ثمرات سامنے نہیں آرہے اور انہیں ابھی تک کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ میں نے اس سوال کے جواب میں اپنے ذہن کے مطابق ان اسباب و عوامل کا ذکر کیا جو پاکستان میں نفاذ اسلام کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ اس پر ایرانی لیڈر نے کہا کہ جناب بات یہ نہیں بلکہ اصل قصہ یہ ہے کہ ایرانی علماء نے بادشاہت کے خلاف تنہا جنگ نہیں لڑی، اس جنگ میں ایران کے نیشنلسٹ اور کمیونسٹ حلقے بھی ان کے ساتھ تھے۔ مذہبی قیادت، کمیونسٹ تودہ پارٹی اور ڈاکٹر مصدق کی نیشنلسٹ پارٹی نے مل کر بادشاہت کو شکست دی لیکن شاہِ ایران کے ملک سے باہر چلے جانے کے بعد ایرانی علماء نے اقتدار دوسروں کے حوالے نہیں کیا بلکہ بتدریج انہیں منظر سے ہٹا کر اقتدار پر مکمل قبضہ کر لیا جس کی وجہ سے وہ انقلاب کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے اور اس پر کنٹرول کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ جبکہ پاکستان کے قیام کے بعد وہ علماء جنہوں نے تحریک آزادی اور تحریک پاکستان میں فیصلہ کن کردار ادا کیا تھا وہ ضرورت سے زیادہ خلوص کا شکار ہوگئے اور مدارس و مساجد پر قناعت کرتے ہوئے انہوں نے اقتدار کا راستہ دوسرے لوگوں کے لیے صاف کر دیا۔ اب ظاہر بات ہے کہ جن لوگوں نے اقتدار پر قبضہ کیا ملک کا نظام بھی انہی کی مرضی کے مطابق ہی چلنا ہے۔

یہ ایک ایرانی لیڈر کی بات کا خلاصہ ہے جو میں نے آپ سے عرض کیا ہے۔ ممکن ہے یہ سو فیصد درست نہ ہو لیکن سو فیصد غلط بھی نہیں ہے۔ بلکہ مجھے اگر آپ اس جسارت پر معاف فرمائیں تو عرض کروں گا کہ برصغیر کی تاریخ میں دو بڑی غلطیاں ایسی ہیں جنہوں نے ہماری تاریخ کا رخ موڑ دیا اور دونوں غلطیاں خلوص کے ساتھ ہوئیں۔ ایک غلطی احمد شاہ ابدالیؒ کی ہے جس نے پانی پت کی تیسری جنگ میں مرہٹوں کو شکست دے کر اقتدار انہیں مغل شہزادوں کے حوالے کر کے وطن واپس لوٹ گیا۔ وہ اس حقیقت کا ادراک نہ کر سکا کہ مغل شہزادوں میں اب ہندوستان کا اقتدار سنبھالنے کی صلاحیت نہیں رہی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ مغل شہزادے اقتدار نہ سنبھال سکے اور بالآخر برطانوی استعمار کو یہاں پاؤں جمانے کا موقع مل گیا۔ دوسری بڑی غلطی پاکستان بننے کے فورًا بعد علماء سے ہوئی کہ انہوں نے اقتدار میں شرکت اور حصہ داری پر اپنا دعویٰ نہیں جتایا حالانکہ یہ ان کا حق تھا، لیکن انہوں نے خلوص کے ساتھ یہ فیصلہ کر لیا کہ ہم نے اقتدار میں شریک نہیں ہونا بلکہ باہر رہ کر اقتدار والوں کی رہنمائی کرنی ہے۔ اس کے نتائج آج ہمارے سامنے ہیں اور خدا جانے کب تک ہمیں ان کا سامنا کرنا پڑے گا۔

الغرض علامہ شبیر احمدؒ عثمانی کی جدوجہد کا یہ دور بھی بڑا تابناک ہے کہ انہوں نے اپنی تمام تر صلاحیتیں اور توانائیاں صرف کر کے قرارداد مقاصد منظور کرائی اور پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کو سیکولرازم کی بنیاد پر دستور طے کرنے سے روک دیا۔

حضراتِ گرامی قدر! شیخ الاسلام حضرت علامہ شبیر احمدؒ عثمانی کی یہ جدوجہد ہمارے ذمہ قرض ہے اور یہ قرض ہم نے بہرصورت ادا کرنا ہے۔ قرارداد مقاصد منظور کرا کے ملک کی اسلامی نظریاتی بنیاد کا تعین علامہ عثمانی نے کیا تھا اور ملک کو صحیح معنوں میں اسلامی مملکت بنانا اور مکمل اسلامی نظام کا نفاذ و غلبہ ہماری ذمہ داری ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس ذمہ داری سے پوری طرح عہدہ برآ ہونے کی توفیق ارزانی فرمائیں، آمین یا الہ العالمین۔

آیت ’’توفی‘‘ کی تفسیر

مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ

سورۃ آل عمران کی آیت ۵۵ یوں ہے:
اِذْ قَالَ اللہُ یَا عِیْسٰی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَ رَافِعُکَ اِلَیَّ وَمُطَہِّرُکَ الخ۔
ترجمہ از شاہ عبد القادر صاحبؒ: ’’جس وقت کہا اللہ نے اے عیسٰیؑ! میں تجھ کو پھر لوں گا (یعنی تجھ کو لے لوں گا اور قبض کر لوں گا زمین سے) اور اٹھا لوں گا اپنی طرف (یعنی اپنے آسمان کی طرف جو کرامت کی جگہ اور ملائکہ کا مقام ہے) اور پاک کر دوں گا کافروں (کی ہمسائیگی اور برے قصد) سے‘‘۔

پہلا معنٰی

اس صورت میں لفظ ’’مُتَوَفِّیْکَ‘‘ کا معنی ’’قَابِضْکَ‘‘ کا ہے جیسے کہتے ہیں ’’تَوَفَّیْتُ مَالِی‘‘ یعنی قبض کیا اور واپس لیا میں نے اپنے مال کو اور یہی معنی جلالین میں مذکور ہیں۔

دوسرا معنی

یا لفظ ’’متوفیک‘‘ کا معنی ’’مُسْتَوفِی اَجَلِکَ‘‘ کے ہیں اور معنی یوں ہیں: ’’اے عیسٰی! تجھ کو تیری زندگی کی مدت پوری دوں گا‘‘ (یعنی تو اپنی عمر مقرر تک پہنچے گا اور مخالف تجھے قتل نہ کر سکیں گے)۔

تیسرا معنی

یا بمعنی ’’مُسْتَوفِی عَمَلِکَ‘‘ کے ہے اور اس میں بشارت ہے عیسٰیؑ کو ان کی اطاعت اور اعمال کی قبولیت کا اور معنی یوں ہے: ’’اے عیسٰی! میں پورے اور کامل کروں گا تیرے اعمال کو‘‘۔

چوتھا معنی

یا متوفی بمعنی ’’مستوفی‘‘ کے ہے اور مضاف محذوف نہیں ہے اور معنی یوں ہے: ’’اے عیسٰی! میں پورا اور کامل لے لوں گا تجھ کو (یعنی روح اور بدن سمیت)‘‘۔ اور اس صورت میں ارشاد سے فائدہ یہ ہے کہ آسمان کی طرف عیسٰیؑ کی روح مع بدن کے اٹھائی گئی ہے، کوئی فقط روح کو بغیر بدن کے نہ سمجھے۔

پانچواں معنی

یا متوفی بمعنی ’’اَجْعَلُکَ کَالْمُتَوَفِّی‘‘ کے ہے اور معنی یوں ہے: ’’اے عیسٰیؑ میں تجھ کو مردہ کی مانند کر دوں گا (یعنی زمین سے اثر و خبر کے انقطاع کے اعتبار سے)‘‘۔

چھٹا معنی

یا متوفیک بمعنی ’’مُتَوَفِیْ نَفْسَکَ بِالنَّوم‘‘ کے ہے جیسے سورہ زمر کی آیت ۴۲ یوں ہے:
اَللہُ یَتَوَفَّی الْاَنْفُسَ حِیْنَ مَوْتِھَا وَالَّتِیْ لَمْ تَمُتْ فِی مَنَامِھَا الخ
’’یعنی اللہ کھینچ لیتا ہے جانوں کو جب وقت آتا ہے ان کے مرنے کا (اور کھینچ لیتا ہے) ان جانوں کو نیند میں جو نہیں مریں ۔۔۔‘‘
اس آیت میں لفظ متوفی کا اطلاق نیند کی حالت پر آیا ہے، پس اس صورت میں معنی یوں ہے: ’’اے عیسٰی! میں تجھ کو کھینچ لوں گا سوتے ہوئے (تاکہ آسمان کی طرف عروج کے وقت خوف نہ لگے)‘‘۔ اور ربیع بن انسؓ سے بھی روایت ہے کہ عیسٰیؑ نیند کی حالت میں اٹھائے گئے اور اسی طرح اس کے اور معانی ہیں۔ اور کسی معتبر مترجم یا مفسر نے نہیں لکھا کہ مسیح مر گیا پھر اٹھایا گیا۔ البتہ بیضاویؒ نے آخر میں ایک مجہول شخص کا قول قِیْلَ کے لفظ کے ساتھ نقل کیا ہے جو نصارٰی کے مذہب کے موافق ہے اور ایسے مجہول شخص کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ 
(بتفسیر یسیر از ’’ازالۃ الشکوک ج ۱ ص ۱۵۳)
(انتخاب: حافظ محمد عمار خان ناصر)

’’کلمۃ الحکمۃ ضالۃ المؤمن‘‘

غازی عزیر

مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے شائع ہونے والا اردو ماہنامہ ’’تہذیب الاخلاق‘‘ مجریہ ماہ مئی ۱۹۸۸ء راقم کے پیشِ نظر ہے۔ شمارہ ہٰذا میں جناب مولوی شبیر احمد خاں غوری (سابق رجسٹرار امتحانات عربی و فارسی بورڈ سرشتہ تعلیم الٰہ آباد، یو۔پی) کا ایک اہم مضمون زیرعنوان ’’اسلام اور سائنس‘‘ شائع ہوا ہے۔ آں موصوف کی شخصیت برصغیر کے اہلِ علم طبقہ میں خاصی معروف ہے۔ آپ کے تحقیقی مقالات اکثر برصغیر کے مشہور علمی رسائل و جرائد کی زینت بنتے رہتے ہیں۔ آں محترم نے پیشِ نظر مضمون کے ایک مقام پر بعض انتہائی ’’ضعیف‘‘ اور ساقط الاعتبار احادیث سے استدلال کیا ہے جو ایک محقق کی شان کے خلاف ہے۔ چنانچہ رقم طراز ہیں:
’’اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیروؤں کو جس طرح اللہ تعالیٰ کی عبادت اور نیکوکاری اختیار کرنے اور برائیوں سے بچنے کا حکم دیا ہے اسی طرح ان کو یہ بھی حکم دیا ہے کہ خود کو اوصافِ حمیدہ سے متصف کریں اور ان اوصافِ حمیدہ کے چندن ہار میں واسطۃ العقد علم و حکمت  ہے۔ لہٰذا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیروؤں کو حکم دیا کہ وہ علم حاصل کریں ہر چند کہ اس کے حاصل کرنے کے لیے انہیں انتہائی مشقت حتٰی کہ اقصائے عالم کا سفر ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔
اطلبوا العلم ولو کان بالصین۔
(علم کو تلاش کرو خواہ وہ چین (اقصائے عالم) ہی میں کیوں نہ دستیاب ہو۔)
پھر اس ’’حکم ناطق‘‘ کو مزید مؤکد بنانے کے لیے اسے ’’فریضۃ‘‘ کے لفظ سے تعبیر کیا جس میں کوتاہی یا تہاون کی گنجائش ہی نہیں ہے۔
طلب العلم فریضۃ علٰی کل مسلم و مسلمۃ۔
(علم کو طلب کرنا ہر مسلمان مرد اور ہر مسلمان عورت پر فرض ہے۔)
یہی نہیں بلکہ آپؐ نے فرمایا حکمت مومن کی متاعِ گم گشتہ ہے جہاں ملے وہ دوسروں کے مقابلے میں اسے لے لینے کا زیادہ حق دار ہے۔
کلمۃ الحکمۃ ضالۃ المؤمن اینما وجد ھا فھوا حق بھا۔
شمعٔ رسالت کے پروانوں کو اس حکم کی تعمیل میں کیا پس و پیش ہو سکتا تھا، لہٰذا زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا کہ امت مسلمہ علم و حکمت کے خزانوں کی امین ہو گئی۔‘‘ (ماہنامہ تہذیب الاخلاق، علی گڑھ ج ۷ شمارہ ۵ بمطابق ماہ مئی ۸۸ء ص ۲۹)
افسوس کہ آں محترم کی بیان کردہ یہ تینوں انتہائی ’’ضعیف‘‘ اور قطعًا ناقابلِ اعتبار ہیں۔ پہلی دونوں احادیث پر راقم کا ایک طویل تحقیقی مضمون سہ ماہی مجلہ جامعہ ابراہیمیہ سیالکوٹ عدد شمارہ ۱۱۔۱۲ بمطابق ماہ ذوالحجہ ۱۴۰۶ھ تا محرم ۱۴۰۷ھ ص ۲۶۔۳۸) میں تقریباً ڈھائی سال قبل شائع ہو چکا ہے۔ اب دوبارہ مجلس التحقیق الاسلامی لاہور (پاکستان) اپنے مؤقر علمی ماہنامہ محدث لاہور (ج ۱۸ شمارہ ۱۰ بمطابق ماہ جون ۱۹۸۸ء ص ۴۱۔۶۰) میں اسی مضمون کو بالاقساط شائع کر رہی ہے۔ شائقین کے لیے یہ مضمون بھی لائقِ مراجعت ہے۔ زیر نظر مضمون میں محترم جناب غوری صاحب کی بیان کردہ تیسری حدیث ’’کلمۃ الحکمۃ الخ‘‘ اور اس کے جملہ طرق پر علمی بحث پیش کی جاتی ہے تاکہ واضح ہو جائے کہ عند المحدثین اس روایت کا کیا مقام و مرتبہ ہے۔
اس حدیث کو امام ترمذیؒ نے اپنی ’’جامع‘‘ (جامع الترمذیؒ معہ تحفۃ الاحوذی ج ۳ ص ۳۸۲۔۳۸۳ طبع دہلی و ملتان) کے ’’ابواب العلم‘‘ میں، ابن ماجہؒ نے اپنی ’’سنن‘‘ (ص ۳۱۷ حدیث نمبر ۴۱۶۹) کی ’’کتاب الزہد‘‘ میں، بیہقیؒ نے ’’مدخل‘‘میں اور عسکریؒ نے بطریق ابراہیم بن الفضل عن سعید المقبری عن ابی ہریرہؓ مرفوعاً روایت کیا ہے۔ خطیب تبریزیؒ نے اس حدیث کو ’’مشکوٰۃ المصابیح‘‘ مع تنقیح الرواۃ ج ۱ ص ۴۹ طبع لاہور میں، علامہ سخاویؒ نے ’’مقاصد الحسنہ فی بیان کثیر من الاحادیث المشتھرہ ص ۱۹۱۔۱۹۲ میں، امام ابن الجوزیؒ نے ’’علل امتناہیۃ فی الاحادیث الواہیہ ج ۱ ص ۸۸ میں، ملا علی قاری حنفیؒ نے ’’اسرار المرفوعہ فی الاخبار الموضوعہ‘‘ ص ۱۸۶ میں، علامہ محمد اسماعیل عجلونی الجراحیؒ نے ’’کشف الخفاء و مزیل الالباس عما اشتھر من الاحادیث علی السنۃ الناس ج ۱ ص ۴۳۵ میں، علامہ محمد درویش حوت البیروتیؒ نے ’’اسنی المطالب فی احادیث مختلفہ المراتب ص ۱۳۳ میں، علامہ شیبانی اثریؒ نے ’’تمیز الطیب من الخبیث فیما یدور علی السنۃ الناس من الحدیث‘‘ ص ۱۳۸ میں، امام ابن حبانؒ نے ’’کتاب المجروحین‘‘ ج ۱ ص ۱۰۵ میں، امام عقیلی نے ’’ضعفاء الکبیر‘‘ ج ۱ ص ۶۱، علامہ جلال الدین سیوطیؒ نے ’’الدرر المنتثرة‘‘ ص ۱۹۴، اور ’’جامع الصغیر‘‘ میں، علامہ قضاعیؒ نے ’’مسند شہاب‘‘ میں، عسکری اور علامہ شیخ محمد ناصر الدین الابانی حفظہ اللہ نے ’’ضعیف الجامع الصغیر و زیادتہ‘‘ وغیرہ میں معمولی حک و اضافہ۔ خطیب ترمذیؒ نے ’’مشکوٰۃ‘‘ میں ترمذیؒ اور ابن ماجہؒ والی حضرت ابوہریرہؓ کی روایت میں ’’المؤمن‘‘ کی بجائے ’’الحکیم‘‘ لکھا ہے حالانکہ ترمذیؒ میں ’’المؤمن‘‘ کے الفاظ ہی مروی ہیں۔ (مشکوٰۃ مع تنقیح الرواۃ ج ۱ ص ۴۹)۔ علامہ سخاویؒ نے ترمذیؒ کی روایت کے الفاظ اس طرح نقل کیے ہیں: ’’الکلمۃ الحکیمۃ الخ‘‘ (مقاصد الحسنہ ص ۱۹۲) حالانکہ اصل عبارت میں لفظ ’’الحکیمۃ‘‘ کے بجائے ’’الحکمۃ‘‘ موجود ہے (جامع ترمذیؒ مع تحفہ ج ۳ ص ۳۸) کے ساتھ وارد کیا ہے۔
اس حدیث کو روایت کرنے کے بعد خود امام ترمذیؒ فرماتے ہیں:
ھذا حدیث غریب، لالغرفہ الوجہ وابراھیم بن الفضل المخزومی ضعیف فی الحدیث‘‘ (جامع ترمذیؒ مع تحفۃ الاحوذی ج ۳ ص ۳۸۲۔۳۸۳)۔
امام ابن الجوزیؒ بھی فرماتے ہیں کہ ’’یہ حدیث صحیح نہیں ہے‘‘ (علل المتناہیہ لابن الجوزیؒ ج ۱ ص ۸۸) اس روایت کی سند میں ایک مجروح روای ’’ابراہیم بن الفضل المخزومی المدنی‘‘ موجود ہے جس کے متعلق ابن معینؒ فرماتے ہیں کہ ’’ضعیف ہے، اس کی حدیث نہیں لکھی جاتی‘‘۔ ایک اور مقام پر فرماتے ہیں ’’کچھ بھی نہیں ہے‘‘۔ امام نسائیؒ فرماتے ہیں ’’متروک الحدیث ہے‘‘۔ علامہ ابن حجر عسقلانیؒ فرماتے ہیں ’’متروک ہے‘‘۔ علامہ ذہبیؒ فرماتے ہیں ’’فاحش الخطاء ہے‘‘۔ امام عقیلیؒ فرماتے ہیں ’’امام بخاریؒ کا قول ہے کہ منکر الحدیث ہے‘‘۔ امام احمدؒ فرماتے ہیں کہ ’’حدیث میں قوی نہیں ہے، ضعیف الحدیث ہے‘‘۔ امام ابن الجوزیؒ نے یحیٰیؒ کا قول نقل کیا ہے کہ ’’اس کی حدیث کچھ بھی نہیں ہوتی‘‘۔ ڈاکٹر عبد المعطی امین قلعجی فرماتے ہیں کہ ’’اس کے متروک ہونے پر ائمہ جرح والتعدیل کا اجماع ہے۔ حدیث کے تمام نقاد نے اس کی تضعیف کی ہے۔ مجھے ایسا کوئی فرد نظر نہیں آتا کہ جس نے اس کی توثیق کی ہو‘‘۔
’’ابراہیم بن الفضل المخزومی‘‘ کے تفصیلی ترجمہ کے لیے تاریخ یحیٰی بن معینؒ، علل لابن حنبلؒ، تاریخ الکبیر للبخاریؒ، تاریخ الصغیر للبخاریؒ، معرفۃ والتاریخ للبسویؒ، ضعفاء الکبیر للعقیلیؒ، جرح والتعدیل لابن ابی حاتمؒ، مجروحین لابن حبانؒ، کامل فی الضعفاء لابن عدیؒ، میزان الاعتدال للذہبیؒ، تہذیب التہذیب لابن حجرؒ، تقریب التہذیب لابن حجرؒ، ضعفاء والمتروکان للنسائیؒ، ضعفاء والمتروکون للدارقطنیؒ اور مجموع فی الضعفاء والمتروکین للسیروان وغیرہ ملاحظہ ہوں۔
اب ذیل میں اس باب میں وارد ہونے والی چند اور روایات اور ان کے طرق کا عملی جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔
اس حدیث کو قضاعیؒ نے ’’مسند شہاب‘‘ میں بطریق لیث بن ہشام بن سعد عن زید بن اسلم مرفوعاً روایت کیا ہے۔ اس میں یہ اضافی الفاظ موجود ہیں ’’حیث ما وجد المومن ضالۃ فلیجمعھا الیہ‘‘۔ عسکریؒ کی ایک دوسری حدیث بطریق عنبسہ بن عبد الرحمٰن عن شبیب بن بشیر عن انس مرفوعاً بھی مروی ہے جو اس طرح ہے ’’العلم ضالۃ المؤمن حیث وجدہ اخدہ‘‘۔ قضاعیؒ اور عسکریؒ کی ایک اور روایت ان الفاظ کے ساتھ بھی مروی ہے ’’کلمۃ الحکمۃ ضالۃ کل حکیم فاذا وجد ھا فھو احق بھا‘‘۔ ابن عساکرؒ، ابن لالؒ، اور دیلمیؒ وغیرہ نے بطریق عبد الوہاب عن مجاہد عن علی مرفوعاً اس طرح بھی روایت کی ہے ’’ضالۃ المومن العلم کلما قیہ حدیثاً طلب الیہ اٰخر‘‘۔ دیلمیؒ نے اپنی مسند ج ۱ ص ۲۰ میں اور عفیف الدین ابوالمعالیؒ نے ’’فضل العلم‘‘ ج ۱ ص ۱۱۴ میں ابراہیم بن ہانی عن عمرو بن حکام عن ابوبکر عن زیاد بن ابی حسان عن انسؓ کے مرفوع طریق سے ایک اور حدیث اس طرح روایت کی ہے ’’احسبوا علی المومنین ضالتھم قالوا وما ضالۃ المومنین قال العلم‘‘۔ اسباب میں دیلمی کی ایک اور حدیث جو حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے اس طرح ہے ’’نعم الفائدۃ الکلمۃ من الحکمۃ یسمعھا الرجل فیھد بھا لاخیہ‘‘۔ دیلمیؒ نے اس باب میں ابن عمرؓ سے بھی ایک حدیث روایت کی جو اس طرح ہے ’’خد الحکمۃ ولا یضرک من ای وِعاء خرجت‘‘۔
ان تمام روایات میں سے قضاعیؒ کی زید بن اسلم والی مرفوع حدیث کے متعلق علامہ سخاویؒ اور علامہ عجلونیؒ فرماتے ہیں کہ ’’یہ روایت مرسل ہے‘‘ (مقاصد الحسنہ للسخاویؒ ص ۹۲ و کشف الخفا للعجلونیؒ ج ۱ ص ۴۳۵) لیکن اس میں صرف راوی ’’زید بن اسلم‘‘ ہیں جو کثرت سے ارسال کرتے ہیں (کذا فی التہذیب التہذیب لابن حجرؒ ج ۱ ص ۲۷۲) کی موجودگی ہی اکیلی علت نہیں ہے بلکہ اس کے علاوہ دو اور مجروح راوی بھی اس کی سند میں موجود ہیں یعنی لیث بن ابی سلیم الکوفی اور ہشام بن سعد۔
’’لیث بن ابی سلیم الکوفی‘‘ جن سے صحاح اور سنن وغیرہ میں مرویات موجود ہیں کی نسبت امام نسائیؒ فرماتے ہیں کہ ’’ضعیف ہے‘‘۔ امام ابن حجر عسقلانیؒ کا قول ہے کہ ’’صدوق تھے مگر آخر عمر میں اختلاط کرنے لگے تھے اور اپنی احادیث میں تمیز کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھے تھے‘‘۔ امام احمدؒ فرماتے ہیں ’’مضطرب الحدیث تھے لیکن لوگ ان سے روایت کرتے ہیں‘‘۔ امام ذہبیؒ فرماتے ہیں ’’یحیٰیؒ اور نسائیؒ نے اسے ضعیف کہا ہے لیکن ابن معینؒ کا ایک اور قول ہے کہ ’’اس میں کوئی حرج نہیں‘‘۔ ابن صبانؒ بیان کرتے ہیں کہ ’’آخر عمر میں اختلاط کرتے تھے‘‘۔ امام عقیلیؒ کہ ’’ابن عیینہ لیث بن ابی سلیم کی تضعیف کیا کرتے تھے ۔۔۔ یحیٰی بن سعید لیث سے کوئی روایت بیان نہیں کرتے تھے‘‘۔
’’لیث بن ابی سلیم‘‘ کے تفصیلی ترجمہ کے لیے ملاحظہ فرمائیں: ضعفاء والمتروکون للنسائیؒ، تاریخ یحیٰی بن معینؒ، تاریخ الکبیر للبخاریؒ، ضعفاء الکبیر للعقیلیؒ، جرح والتعدیل لابن ابی حاتمؒ، مجروحین لابن حبانؒ، کامل فی الضعفاء لابن عدیؒ، میزان الاعتدال للذہبیؒ، تہذیب التہذیب لابن حجرؒ، تقریب التہذیب لابن حجر اور مجموع فی الضعفاء والمتروکین للسیروان وغیرہ۔ (ضعفاء والمتروکون للنسائیؒ ترجمہ نمبر ۵۱۱، تاریخ یحیٰی بن معینؒ ج ۲ ص ۵۰۱۔۵۰۲)
اس طریق کا دوسرا مجروح راوی ’’ہشام بن سعد ابو عباد المدنی‘‘ ہے جس کی نسبت امام نسائیؒ فرماتے ہیں ’’ضعیف تھے‘‘۔ امام نسائیؒ کا ایک اور قول ہے کہ ’’قوی نہ تھے‘‘۔ ابن حجر عسقلانیؒ فرماتے ہیں ’’صدوق ہے لیکن اس کو وہم رہتا ہے‘‘۔ اس پر تشیع کا الزام بھی ہے۔ امام ذہبیؒ فرماتے ہیں ’’امام احمدؒ کا قول ہے کہ حافظِ حدیث نہ تھے، یحیٰی القطانؒ ان سے کوئی روایت بیان نہیں کرتے تھے‘‘۔ امام احمدؒ کا ایک قول یہ بھی ہے کہ وہ ’’محکم الحدیث نہ تھے‘‘۔ ابن معینؒ فرماتے ہیں کہ ’’نہ قوی تھے اور نہ ہی متروک‘‘۔ ابن عدیؒ کا قول ہے کہ ’’ضعف کے باوجود ان کی حدیث لکھی جاتی ہے‘‘۔
ہشام بن  سعدؒ کے تفصیلی ترجمہ کے ضعفاء والمتروکون للنسائیؒ، ضعفاء الکبیر للعقیلیؒ، تاریخ الکبیر للبخاریؒ، جرح والتعدیل لابن حاتمؒ، مجروحین لابن حبانؒ، کامل فی الضعفاء لابن عدیؒ، میزان الاعتدال للذہبیؒ، تقریب التہذیب لابن حجرؒ اور مجموع فی الضعفاء والمتروکین للسیروان وغیرہ ملاحظہ فرمائیں۔
عسکریؒ کے ثانی الذکر طریق میں ایک مجروح راوی ’’عنبہ بن عبد الرحمٰن‘‘ ہے جسے امام نسائیؒ اور امام ابن حجر عسقلانیؒ نے ’’متروک الحدیث‘‘ بتایا ہے۔ ابو حاتم الرازیؒ نے اس کو ’’وضع حدیث‘‘ کے لیے متہم کیا ہے۔ امام بخاریؒ نے اسے ’’ترک‘‘ کیا ہے۔ علامہ ذہبیؒ فرماتے ہیں ’’امام ترمذیؒ امام بخاریؒ سے نقل کرتے ہیں کہ وہ ذاہب الحدیث تھا‘‘۔ امام عقیلیؒ فرماتے ہیں ’’یحیٰیؒ کا قول ہے کہ وہ ضعیف تھا‘‘۔
’’عنبہ بن عبد الرحمٰن‘‘ کے تفصیلی ترجمہ کے لیے تاریخ یحیٰی بن معینؒ، تاریخ الکبیر بخاریؒ، تاریخ الصغیر بخاریؒ، ضعفاء الصغیر للبخاریؒ، ضعفاء والمتروکون للنسائیؒ، ضعفاء المتروکون للدارقطنیؒ، معرفۃ والتاریخ للبسویؒ، ضعفاء الکبیر للعقیلیؒ، مجروحین لابن حبانؒ، جرح والتعدیل لابن ابی حاتمؒ، کامل فی الضعفاء لابن عدیؒ، میزان الاعتدال للذہبیؒ، مجموع فی الضعفاء والمتروکین للسیروان، تہذیب التہذیب لابن حجرؒ اور تقریب التہذیب لابن حجرؒ وغیرہ مطالعہ فرمائیں۔
اب دیلمیؒ کی احادیث پر ناقدانہ بحث پیش کی جاتی ہے۔
دیلمیؒ کی اول الذکر (یعنی حضرت علیؓ کی مرفوع) حدیث کی سند میں عبد الوہاب حضرت مجاہد بن جبر یعنی اپنے والد سے روایت کرتا ہے حالانکہ اس کا حضرت مجاہد سے سماع نہیں ہے۔ امام بخاریؒ اور وکیعؒ وغیرہ نے اس امر کی تصریح کی ہے۔ امام نسائیؒ اس کی نسبت فرماتے ہیں ’’متروک الحدیث ہے‘‘۔ امام ذہبیؒ فرماتے ہیں ’’یحیٰیؒ کا قول ہے کہ اس کی حدیث نہیں لکھی جاتی‘‘۔ عثمان بن سعیدؒ یحیٰی کا قول نقل کرتے ہیں کہ ’’وہ کچھ بھی نہیں ہے‘‘۔ امام احمدؒ بھی فرماتے ہیں کہ ’’وہ کچھ بھی نہیں، ضعیف الحدیث ہے‘‘۔ ابن عدیؒ فرماتے ہیں کہ ’’جو کچھ وہ روایت کرتا ہے عموماً اس کی متابعت نہیں ہوا کرتی‘‘۔
’’عبد الوہاب بن مجاہد بن جبیر‘‘ کے تفصیلی ترجمہ کے لیے ملاحظہ فرمائیں: ضعفاء الکبیر للبخاریؒ ضعفاء المتروکون للنسائیؒ، تاریخ یحیٰی بن معینؒ، سؤالات محمد بن عثمانؒ، تاریخ الکبیر للبخاریؒ، ضعفاء الکبیر للعقیلیؒ، جرح والتعدیل لابن ابی حاتمؒ، مجروحین لابن حبانؒ، کامل فی الضعفاء لابن عدیؒ، ضعفاء والمتروکون للدارقطنیؒ، میزان الاعتدال للذہبیؒ، تہذیب التہذیب لابن حجرؒ اور مجموع فی الضعفاء والمتروکین للسیروان وغیرہ۔
حضرت علیؓ کی اس مرفوع حدیث کی تخریج ابن عساکرؒ نے بھی کی ہے جس کے متعلق علامہ سید ابو الوزیر احمد حسن دہلیؒ (م ۱۳۳۸ھ) فرماتے ہیں ’’اس باب میں ابن عساکرؒ نے بھی حضرت علیؓ سے باسناد حسن روایت کی ہے‘‘۔ اور علامہ شیخ عبد الرحمٰن مبارکپوریؒ فرماتے ہیں ’’اور ابن عساکرؒ نے بھی حضرت علیؓ سے اس کی تخریج کی ہے جیسا کہ جامع الصغیر  میں مذکور ہے۔‘‘ علامہ منادیؒ فرماتے ہیں کہ ’’یہ حدیث باسناد حسن مروی ہے‘‘ (تحفۃ الاحوذی ج ۳ ص ۳۸۳)۔ حالانکہ یہ حدیث سندًا ’’ضعیف‘‘ ہے  جیسا کہ اوپر واضح کیا جا چکا ہے۔ غالباً صاحبان ’’تنقیح الرواۃ‘‘ و ’’تحفۃ الاحوذی‘‘ رحمہم اللہ کو علامہ منادیؒ کے قول سے وہم ہوا ہے۔ حضرت علیؓ کے طریق سے وارد ہونے والی اس حدیث کو علامہ شیخ محمد ناصر الدین البانی حفظہ اللہ نے ’’ضعیف الجامع الصغیر و زیادتہ‘‘ میں وارد کیا ہے۔
دیلمیؒ اور عفیف الدین ابوالمعالیؒ کی روایت کردہ حدیث ’’ضعیف‘‘ نہیں بلکہ اصلاً ’’موضوع‘‘ ہے۔ اس روایت کو امام سیوطیؒ نے اپنی ’’جامع‘‘ اور ’’ذیل الاحادیث الموضوعہ‘‘ (للسیوطیؒ ص ۴۲) میں، امام النجارؒ نے اپنی ’’تاریخ‘‘ میں اور علامہ شیخ محمد ناصر الدین البانی نے ’’سلسلۃ الاحادیث الضعیفہ والموضوعہ (ج ۲ ص ۲۲۴۔۲۲۵) میں وارد کیا ہے۔ اس کی سند میں ابراہیم بن ہانی ’’مجہول‘‘ راوی ہے اور اگلے تین روای انتہائی مجروح بلکہ ’’متروک‘‘ ہیں۔
(۱) زیاد بن ابی حسان البصری جس کی نسبت امام حاکمؒ اور نقاش کا قول ہے کہ ’’وہ حضرت انسؓ وغیرہ سے موضوع احادیث بیان کرتا ہے‘‘۔ امام ذہبیؒ فرماتے ہیں ’’شعبہؒ نے اس پر شدید جرح کی اور اس کی تکذیب کی ہے۔ دارقطنیؒ نے اسے متروک قرار دیا ہے۔ ابو حاتم الرازیؒ وغیرہ نے کہا کہ ’’اس کے ساتھ کوئی حجت نہیں ہے‘‘۔
ابن ابی حسان کے تفصیلی ترجمہ کے لیے تاریخ الکبیر للبخاریؒ، تاریخ الصغیر للبخاریؒ، ضعفاء الصغیر للبخاریؒ، ضعفاء والمتروکون للدارقطنیؒ، جرح والتعدیل لابن ابی حاتمؒ، مجروحین لابن حبانؒ، کامل فی الضعفاء لابن عدیؒ، میزان الاعتدال للذہبیؒ، لسان المیزان لابن حجرؒ اور مجموع فی الضعفاء والمتروکین وغیرہ کا مطالعہ فرمائیں۔
(۲) اس سند کا دوسرا راوی ’’بکر ابن خنیس القاضی‘‘ ہے جس کو امام نسائیؒ نے ’’ضعیف‘‘ گردانا ہے۔ دارقطنیؒ نے ’’متروک‘‘ قرار دیا ہے۔ ابن حبانؒ فرماتے ہیں ’’بصریین اور کوفیین سے اشیائے موضوعہ روایت کرتا ہے‘‘۔ امام ذہبیؒ فرماتے ہیں ’’ابن معینؒ کا ایک قول ہے کہ کچھ بھی نہیں ہے، دوسرا قول ہے کہ ضعیف ہے اور تیسرا قول ہے کہ اس میں کوئی حرج  نہیں ہے‘‘۔ ابوحاتمؒ کا قول ہے کہ ’’صلح ہے لیکن قوی نہیں ہے‘‘۔
ابن خنیس القاضی کے تفصیلی ترجمہ کے لیے تاریخ یحیٰی بن معینؒ، تاریخ الکبیر للبخاریؒ، معرفۃ والتاریخ للبسویؒ، ضعفاء الکبیر للعقیلیؒ، جرح والتعدیل لابن عدیؒ، ضعفاء المتروکون للدارقطنیؒ، ضعفاء والمتروکون للنسائیؒ، میزان الاعتدال للذہبیؒ، المغنی فی الضعفاء للذہبیؒ، اور مجموعہ فی الضعفاء والمتروکین للسیروان وغیرہ کی طرف رجوع فرمائیں۔
(۳) اس سند کا تیسرا مجروح راوی ’’عمرو بن حکام‘‘ ہے لیکن مذکورہ بالا دونوں راوی ہی اصلاً اس روایت کی آفت ہیں۔ عمرو بن حکام کو امام نسائیؒ نے ’’متروک الحدیث‘‘ کہا اور امام بخاریؒ نے اس کی تضعیف کی ہے۔ امام احمدؒ نے بھی اس کی حدیث کو ’’ترک‘‘ کیا ہے۔ ابن عدیؒ بیان کرتے ہیں کہ ’’عموماً وہ جو کچھ روایت کرتا ہے اس میں متابعت نہیں ہوتی لیکن باوجود ضعف کے اس کی حدیث لکھی جاتی ہے‘‘۔ امام ذہبیؒ نے ’’میزان‘‘ میں اس سے مروی چند منکر روایات بطور نمونہ نقل فرمائی ہیں۔
عمرو بن حکام کے تفصیلی ترجمہ کے لیے تاریخ الکبیر للبخاریؒ، ضعفاء الکبیر للعقیلیؒ، جرح والتعدیل لابن ابی حاتمؒ، مجروحین لابن حبانؒ، کامل فی الضعفاء لابن عدیؒ، ضعفاء والمتروکون للنسائیؒ، ضعفاء الصغیر للبخاریؒ، میزان الاعتدال للذہبیؒ، اور مجموع فی الضعفاء والمتروکین للسیروان وغیرہ ملاحظہ فرمائیں۔
علامہ منادیؒ اس حدیث پر تعف فرماتے ہوئے لکھتے ہیں ’’اس کی سند میں ابراہیم بن ہانیؒ ہے جسے امام ذہبیؒ نے ’’الضعفاء‘‘ میں وارد کیا ہے اور کہا ہے کہ مجہول ہے اور بواطیل لاتا ہے۔ یہ ایک دوسرے راوی عمرو بن حکام سے روایت کرتا ہے جسے امام احمدؒ اور نسائیؒ نے ترک کیا ہے اور عمرو بن حکام بکر بن خنیس سے روایت کرتا ہے جسے دارقطنیؒ نے متروک بتایا ہے، اور وہ زیاد بن ابی حسان سے روایت کرتا ہے اور اسے بھی ترک کیا گیا ہے۔
تعجب تو علامہ جلال الدین السیوطیؒ پر ہوتا ہے کہ جنہوں نے دیلمیؒ کی اس حدیث کو اس کی تحقیق کے بغیر نہ صرف قبول کیا بلکہ اسے اپنی ’’الجامع‘‘ میں وارد کیا ہے اور پھر طرفۂ تماشہ یہ کہ اسی روایت کو اپنی ’’ذیل الاحادیث الموضوعہ‘‘ میں بھی لکھ ڈالا ہے۔
دیلمیؒ کی آخری دونوں روایتیں چونکہ بلاسند مروی ہیں، لہٰذا ازروئے اصولِ حدیث ان کے معیار کی تحقیق ممکن نہیں ہے۔ البتہ حضرت ابن عمرؓ والی آخری حدیث کے مشابہ ایک قول حضرت علیؓ سے موقوفاً بھی مروی ہے جیسا کہ علامہ سخاویؒ اور علامہ عجلونیؒ وغیرہ نے بصراحت بیان کیا ہے۔
پس ثابت ہوا کہ یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہرگز ثابت نہیں ہے۔ اس کے جملہ طرق انتہائی ’’ضعیف‘‘ اور قطعاً غیر معتبر ہیں۔ البتہ ایسا ممکن ہے کہ علم و حکمت کے حصول کی طرف رغبت دلانے کے لیے یہ حکیمانہ قول ہمارے اسلاف و حکماء میں سے بعض کا ہو۔ علامہ سخاویؒ اور علامہ عجلونیؒ نے اس سلسلہ میں اسلافؒ کے کچھ اقوال بھی نقل کیے ہیں جو راقم کی اس رائے کے لیے شاہد و مؤید ہیں۔ ان میں سے کچھ اقوال اس طرح ہیں:
عسکریؒ نے سلیمان بن معاذ عن عکرمہ عن ابی عباس کے طریق سے حضرت ابن عباسؓ کا یہ قول روایت کیا ہے:
خذ الحکمۃ ممن سمعت فان الرجل یتکلم بالحکمۃ ولیس بحکیم فتکون کالرمیۃ خرجت من غیر رام۔
بیہقیؒ نے سعید بن الجابردہ کا یہ قول بھی نقل کیا ہے:
الحکمۃ ضالۃ المؤمن یأخذ ھا حیث وجدھا۔
اور بیہقیؒ عبد العزیز بن ابی رواد کے حوالہ سے عبد اللہ بن عبید بن عمر کا یہ قول بھی نقل فرماتے ہیں:
العلم ضالۃ المؤمن یغد و فی طلبھا فان اصاب منھا شیئاً حواہ حتٰی یصم الیہ غیرہ۔
خود عسکریؒ کا قول ہے:
اراد صلی اللہ علیہ وسلم ان الحکیم یطلب الحکمۃ ابدا وینشد ھا فھو بمنزلۃ المضل ناقتہ یطلبھا۔
علامہ ملا علی القاری حنفیؒ نے بھی اپنی ’’اسرار المرفوعہ فی الاخبار الموضوعہ المعروف بالموضوعات الکبرٰی‘‘ میں اس حدیث کو وارد کرنے کے بعد اشارہ فرمایا ہے کہ (یہ بعض سلفؒ کا کلام ہے)۔ اگرچہ اسلافؒ کے مندرجہ بالا اقوال میں سے بھی اکثر سندًا معیارِ صحت پر بہت زیادہ پختہ اور قوی ثابت نہیں ہوتے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب کسی غیر مستند قول یا فعل کو منسوب کیا جانا بدرجہا مہلک ہے، بہ نسبت اس بات کے کہ سلف صالحین میں سے کسی کی جانب سے آنے والی کوئی غیر قوی خبر بیان کر دی جائے اور اسے شرعی دلیل کے طور پر نہ اپنایا جائے۔ واللہ اعلم۔

فقہی اختلافات کا پس منظر اور مسلمانوں کے لیے صحیح راہِ عمل

الاستاذ محمد امین درانی

فقہی اختلاف سے مراد شرعی احکام میں علماء امت کا وہ اختلاف رائے ہے کہ کون سا عمل زیادہ درست، زیادہ افضل اور بہتر ہے اور زیادہ مستند ہے۔ اہل السنۃ والجماعۃ کے چاروں مذاہب کا اختلاف بسا اوقات اس پر ہوتا ہے کہ کون سا کام اور کون سا طریقہ سب سے افضل اور بہتر ہے۔ سب کی ایک ہی کوشش ہے کہ ایک اسلامی عمل کو بہتر طریقے سے ادا کیا جائے۔ وہ ہرگز ایسے نہیں کہ وہ ایک دوسرے کو اپنا دشمن تصور کریں یا اسے نیچے دکھانے مغلوب کرنے کی کوشش کریں۔ ہمیشہ دشمنانِ اسلام کا یہ طریقہ رہا ہے کہ وہ دین سے بے خبر سادہ لوح حضرات کو آپس میں لڑاتے ہیں اور ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف نفرت اور دشمنی پیدا کر کے اپنا مطلب حاصل کرتے ہیں۔ اس مصیبت کا اصل سبب دین اور دین کی تاریخ سے بے خبری اور جہل مرکب ہوتا ہے۔
امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ کو امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے خلاف بھڑکایا گیا، وہ اس وقت کے مشہور علماء کو ساتھ لے کر کوفہ پہنچے اور جب ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے موقف کی وضاحت کی، امام جعفرؒ نے آپ کے ہاتھوں کو چوما اور کہا بے شک آپ وہ ہستی ہیں جس نے میرے جد امجد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور تعلیمات کو نشر کر کے اسے صحیح رنگ میں پیش کیا اور آپ کوئی نیا مذہب متعارف نہیں کراتے بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دین باحسن طریق لوگوں کو پڑھاتے ہیں۔

فقہی اختلاف کی ابتدا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں اگر کوئی مسئلہ پیش آتا تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہ اجمعین ان سے دریافت کرتے اور حقیقت معلوم ہو جاتی اور اختلاف کی نوبت نہ آتی کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم اٹل اور فیصلہ کُن ہوتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اگر ہمیں اختلاف کی صورت نظر آتی ہے تو وہ ہر ایک صحابی رضی اللہ عنہ کے فہم کے مطابق ہے جو انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ارشاد کا مطلب لیا ہے۔
مثلاً غزوہ بنی قریظہ کے لیے روانگی کے وقت فرمایا ’’کوئی شخص عصر کی نماز نہ پڑھے مگر بنو قریظہ کے پاس پہنچنے کے بعد‘‘۔ جب صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین چل پڑے تو بعض نے اس حکم پر یوں عمل کیا کہ عصر کے وقت کے داخل ہونے کے بعد راستہ میں نماز نہیں پڑھی اور بنو قریظہ کے علاقہ میں پہنچنے کے بعد نماز ادا کی۔ اور بعض نے اس حکم کا یوں مطلب لیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد یہ ہے کہ ہم راستہ میں دیر نہ کریں اور انہوں نے راستہ میں عصر کی نماز پڑھی اور نماز کے فورًا بعد بنو قریظہ پہنچے۔ جب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے تذکرہ ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو نہیں ڈانٹا۔

فقہی اختلاف کے اسباب

(۱) دعوتِ اسلام اور تبلیغ کے لیے اصحابِ رسولؐ کا مدینہ منورہ سے باہر جانا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر حالات کے مطابق احکام کا نزول ہوتا رہا۔ بعض اوقات یہ نوبت بھی آئی کہ ایک عمل کا حکم مثلاً نماز میں سینہ پر ہاتھ رکھنا نازل ہوا۔ ایک صحابیٔ رسول نے دیکھا کہ ہاتھ رکھنے کا یہ طریقہ ہے۔ جب وہ تبلیغ کے لیے باہر گئے اور انہیں مدینہ سے باہر رہنا پڑا اور واپس آنا نصیب نہیں ہوا، وہ لوگوں کو وہی طریقہ یعنی سینہ پر ہاتھ رکھنے کا حکم دیتے رہے۔
پہلا حکم تبدیل ہوا کہ نماز میں ہاتھ کھلا رکھنا ہے، باندھنا نہیں۔ جن اصحاب کرام رضی اللہ عنہم نے ایسے طریقے پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی جب وہ تبلیغ کے لیے مدینہ منورہ سے باہر چلے گئے تو وہ لوگوں کو یہی درس دیتے تھے کہ نماز میں ہاتھ باندھنا نہیں بلکہ کھلا چھوڑنا ہے۔ ان حضرات کو مدینہ منورہ واپس آنا نصیب نہیں ہوا اس لیے انہیں آخری حکم کا پتہ نہیں چل سکا، اور نہ وہ حضرات اس طریقے کو چھوڑنے کے لیے تیار تھے جس طریقے پر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی تھی۔
اسی عمل کے بارے میں آخری حکم نازل ہوا کہ نماز میں ہاتھوں کو ناف کے نیچے باندھنا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ اصحابؓ جو نبوت کے آخری سالوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رہے انہوں نے نماز کا یہی طریقہ اپنایا۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جو عمر بھر اسلام قبول کرنے کے بعد مکہ اور مدینہ منورہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہے اور اس کے علاوہ اور کوئی کام کاج نہیں کیا، جب تک رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں رہے انہوں نے یہی طریقہ ہاتھ باندھنے کا کوفہ اور مدینہ میں لوگوں کو سکھایا۔
مجتہدین علماءِ امت میں سے ہر ایک نے اپنی تحقیق کے مطابق نماز میں ہاتھ رکھنے یا کھلا چھوڑ دینے کو اپنایا۔ امام ابوحنیفہؒ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری سالوں کے عمل کو ترجیح دیتے ہیں، انہوں نے ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے کے عمل کو افضل قرار دیا۔ جبکہ امام شافعیؒ اور ان کے شاگرد امام احمد بن حنبلؒ نے سینہ پر ہاتھ باندھنے کے عمل کو بہتر قرار دیا۔ اور امام مالکؒ نے ہاتھ کھلا رکھنے کو افضل اور بہتر فرمایا۔ ان ائمہ حضرات نے جس طریقے کو بہتر فرمایا، دوسرے طریقے کو ناجائز قرار نہیں دیا نہ اس کی ممانعت کی۔ کیونکہ یہ سارے طریقے ان کے پاس رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحابِ کرامؓ اور ان کے شاگردانِ عظام سے پہنچے۔ تو ایسا سمجھ لیجئے کہ ان ائمہ حضرات کے آراء ایک ہی درخت کے پھل ہیں اور وہ قرآن و سنت  کا درخت ہے نہ کہ مختلف درختوں کے پھل ہیں جیسا کہ بے خبر لوگ وہم کرتے ہیں۔

(۲) قرآن و سنت کے کلمات (الفاظ) میں ایک سے زیادہ معانی کا احتمال

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو آسان عربی زبان میں نازل فرمایا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات، جس کو سنت سے تعبیر کیا جاتا ہے، وہ عربی زبان میں ہیں۔ عربی زبان کی خصوصیات میں سے ایک یہ خصوصیت بھی ہے کہ ایک لفظ کے کئی معانی بھی ہوتے ہیں۔ اب ایسی صورت میں جب ایک معنی کی تعیین نہ ہو اور آسانی کی خاطر حکمتِ خداوندی نے ایسے لفظ کو استعمال کیا ہو تو ظاہر ہے کہ کوئی اس لفظ کا ایک معنی لیں گے جبکہ دوسرے لوگ اس کے دوسرے معنی لیں گے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد تعیین کے لیے کوئی ذریعہ باقی نہیں رہا۔ پہلے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا جا سکتا تھا اور اللہ تعالیٰ سے احکام کی توضیح وحی کے ذریعے ممکن تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رخصت ہو جانے کے بعد یہ کام ناممکن ہو گیا کیونکہ وحی کا سلسلہ منقطع ہو گیا۔

(۳) فطری صلاحیت و استعداد کا تفاوت

حکمتِ خداوندی نے یہ چاہا کہ انسانوں کی فطری صلاحیت، عقل و فہم میں تفاوت ہو اور علم و عقل کے ذریعے ایک انسان کی دوسرے پر فضیلت ظاہر ہو۔ یہ واضح امر ہے کہ فطری استعداد، عقل و فہم اور علمی تفاوت کا نتیجہ اختلاف رائے کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے؟ ایک طرف اللہ تعالیٰ نے ایسے نصوص نازل کیے جن کے الفاظ ایک سے زیادہ معانی کا احتمال رکھتے ہیں، دوسری طرف انسانوں کو اللہ تعالیٰ نے مختلف فطری استعداد و صلاحیت سے نوازا۔ یہ دونوں فقہی اختلاف کے بنیادی اسباب ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ یہ چاہتا کہ تمام امت اس اختلاف سے دور رہے اور سب کی رائے خدائی احکام میں ایک ہو تو پھر اللہ تعالیٰ قرآن و سنت کے کلمات ایسے منتخب کرتے کہ جن الفاظ کے صرف ایک معنی ہو اور تمام  انسانوں کو ایک ہی قسم کی فطری صلاحیت اور ایک ہی معیار کے عقل سے نوازتے تاکہ تمام لوگ ایک مسئلے میں ایک ہی رائے والے ہوں۔ مثال سے یہ بات واضح ہو جائے گی۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ’’وَالْمُطَلَّقَاتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِھِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوْءٍ‘‘ جن عورتوں کو طلاق ہو جائے وہ تین قروء انتظار کریں گی۔ تین قروء عدت ہے۔ قروء، قرء کی جمع ہے۔ اہلِ عرب کے نزدیک قرء کا معنی حیض بھی ہے اور طہر (پاکی) بھی ہے۔ اور بعض اہلِ زبان قرء کا معنی ’’حیض مع طہر‘‘ لیتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد اس کی تعیین نہیں ہو سکی کہ قرء سے مراد حیض ہے یا طہر۔ چنانچہ حضرت عمر، حضرت علی، عبد اللہ بن مسعود، ابو موسٰی اشعری، مجادہ، قتادہ، الضحاک، عکرمہ رضوان اللہ علیہم اجمعین اور دوسرے تابعین حضرات نے قرء کا مطلب حیض لیا۔ یعنی طلاق کے بعد جب عورت کو تین بار حیض سے واسطہ پڑے تو تیسرے حیض کے بعد وہ آزاد ہو گی، کسی اور سے شادی کر سکتی ہے۔ ان جلیل القدر اصحاب کرامؓ اور بزرگ تابعین کی رائے کو امام ابوحنیفہؒ نے پسند کیا جب کہ دوسرے صحابہؓ حضرت عائشہ، عبد اللہ بن عمر، زید بن ثابت، ابن شہاب الزہری، امام شافعی رضوان اللہ علیہم نے قرء سے مراد طہر لیا۔ جب عورت کو طلاق کے بعد تین بار حیض اور تین بار پاکی (طہر) سے واسطہ پڑے تو چوتھی بار حیض کے دوران یا اس کے بعد وہ آزاد ہو گی اور کسی اور سے شادی کر سکتی ہے۔
اگر اللہ تعالیٰ یہ چاہتے کہ امت اس بارے میں مختلف نہ ہو تو وہ ایسا حکم نازل کر سکتے تھے ’’والمطلقات یتربصن بانفسھن ثلٰثۃ شھور‘‘ جن عورتوں کو  طلاق ہو جائے وہ تین ماہ انتظار کریں گی۔ ظاہر ہے کہ لفظ ’’شھر‘‘ کا معنی عربی زبان میں ایک ہے اور وہ ’’مہینہ‘‘ ہے۔ قرآن مجید میں دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے واضح حکم ایسا بیان فرمایا ’’لِلَّذِیْنَ یُؤْلُوْنَ مِن نِّسَآءِھِمْ تَرَبُّصُ اَرْبَعَۃَ اَشْھُر‘‘ جو لوگ عورتوں سے قسم کریں گے (کہ وہ ان کے قریب نہ ہوں گے) وہ چار ماہ انتظار کریں گے، چار ماہ کے بعد ایک طلاق واقع ہو گی۔ ظاہر ہے کہ یہاں پر شہر کا لفظ ہے جس کے معنی ماہ یا مہینہ ہے۔ یہاں قرء جیسے مشترک المعنے لفظ کو استعمال نہیں کیا گیا۔
اس بات سے یہ بات واضح ہوئی کہ فقہی اختلاف حکمتِ خداوندی کے تحت ظہور میں آیا تاکہ انسان کے اوپر تنگی نہ ہو بلکہ فراخی ہو اور جیسے موقع اور حالات کے لحاظ سے سہولت  ہو، اسی طریقے کو اپنا لیا جائے، انسان کی علمی اور عملی فطرت اس کے متقاضی ہیں۔
پانچویں خلیفہ راشد حضرت عمر بن عبد العزیزؒ نے فرمایا، میں یہ پسند نہیں کرتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحابؓ کے درمیان اختلاف نہ ہوتا کیونکہ اگر سب اصحابؓ کا ایک قول ہوتا تو لوگ تنگی میں ہوتے کیونکہ یہ اصحابؓ ہمارے رہنما ہیں اور ہمیں ان کی اقتداء کرنی ہے۔ اب جس شخص نے کسی صحابیؓ کے قول پر عمل کیا تو وہ حق پر ہے اور فراخی میں ہے۔ ابوبکر صدیقؓ کے جلیل القدر پوتے القاسمؒ بن محمدؓ سے امام کے پیچھے فاتحہ پڑھنے کے بارے میں پوچھا گیا، آپ نے فرمایا، اگر آپ نے امام کے پیچھے فاتحہ پڑھ لیا تو آپ نے اصحابؓ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کی اور اگر آپ نے امام کے پیچھے فاتحہ نہیں پڑھا تو آپ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحابؓ کی پیروی کی۔
چنانچہ مشہور حدیث شریف ہے ’’میرے ساتھی ستاروں کی مانند ہیں جس کی آپ نے پیروی کی آپ نے ہدایت پائی۔‘‘

اختلافی مسائل میں علماء کا موقف

اس بارے میں جمہور علماء متقدمین اور متاخرین کا یہ موقف رہا ہے کہ پہلے وہ ان کے بارے میں علم حاصل کرتے تھے، ان کے بارے میں تحقیق کرتے تھے کہ کون سی بات پہلی ہے اور کونسا حکم بعد میں ہے۔ امام مالکؒ سے جب اس اختلاف کے  بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے جواب دیا ایک بات درست ہو گی اور دوسری خطا، آپ کو تحقیق کرنی چاہیئے۔ امام لیثؒ بن سعد فرماتے تھے، اختلاف میں ہم احتیاط سے کام لیتے ہیں۔
امام ابوحنیفہؒ نے اس کا حل یوں کیا کہ اپنے چار ہزار سے اوپر شاگردوں سے اونچے درجے کے چالیس عالم منتخب کیے اور عالموں کی اس مجلسِ مشاورت و تحقیق کے لیے امام ابویوسفؒ کو سیکرٹری منتخب کیا۔ امام ابوحنیفہؒ نے اس مجلسِ تحقیق سے یوں فرمایا، ’’لوگوں نے مجھے دوزخ کے اوپر پل بنا دیا ہے، آپ میری مدد کریں، جو روایت زیادہ صحیح، قوی اور آخری ہو وہ معلوم کر کے مجلس میں پیش کیا کریں، منظوری کے بعد اسے لکھا جائے گا‘‘۔ امام ابوحنیفہؒ کوئی مسئلہ پیش کرتے اور ان چالیس علماء سے قرآن و حدیث سے دلیل مانگتے۔ وہ علماء دلائل پیش کرتے، کبھی کبھی ایک مہینہ تک ایک ہی حکم پر تحقیق ہوتی رہتی اور جب فیصلہ ہو جاتا تھا تو امام ابویوسفؒ کو لکھنے کے لیے حکم دیتے تھے۔ اس طریقِ کار سے امام ابوحنیفہؒ نے یہ کوشش کی کہ اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال میں سے آخری عمل کون سا ہے جس کو اپنایا جائے اور منسوخ حکم معلوم ہو کہ اس کو ترک کر دیا جائے۔

اختلافی مسائل میں مسلمانوں کا آپس میں برتاؤ

صحابہ کرامؓ اور تابعین میں کچھ ایسے تھے جو نماز میں فاتحہ سے پہلے بسم اللہ پڑھتے تھے اور بعض نہیں پڑھتے تھے۔ کچھ جہر (زور) سے بسم اللہ پڑھتے تھے اور بعض آہستہ چپکے سے پڑھتے تھے۔ اور بعض فجر میں قنوت پڑھتے تھے اور کچھ نہیں پڑھتے تھے۔ اس کے باوجود سب ایک دوسرے کا احترام کرتے تھے اور ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھتے تھے۔ امام ابوحنیفہؒ، امام شافعیؒ اور دوسرے مجتہدین مدینہ منورہ کے علماء کے پیچھے نماز پڑھتے تھے جبکہ وہ نماز میں فاتحہ سے پہلے کبھی بھی بسم اللہ نہیں پڑھتے تھے نہ جہر سے نہ آہستہ۔
خلیفہ ہارون رشید نے نماز پڑھائی اور اس نے فصد کے ذریعے جسم سے خون نکالا تھا۔ خلیفہ کو امام مالکؒ نے فتوٰی دیا کہ اس سے وضو نہیں ٹوٹتا، جبکہ مذہب حنفی میں اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ امام ابویوسفؒ مذہب حنفی کے مجتہد ہیں لیکن انہوں نے نماز نہیں لوٹائی۔
امام شافعیؒ کے نزدیک فجر میں قنوت پڑھنا ہے۔ ایک دن انہوں نے امام ابوحنیفہؒ کی قبر کے نزدیک (مسجد امام اعظم کے جنوبی جانب میں امام اعظمؒ کی قبر ہے) فجر کی نماز پڑھی اور قنوت کی دعا نہیں پڑھی امام ابوحنیفہؒ کے ادب کی وجہ سے اور کہا کہ بسا اوقات ہم عراقی مذہب کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔
خلیفہ ہارون رشیدؒ نے امام مالک سے کہا میں آپ کی کتابِ حدیث ’’المؤطا‘‘ کو کعبہ میں لٹکاؤں گا اور لوگوں سے کہوں گا کہ صرف ان روایات پر عمل کریں۔ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ایسا نہ کرنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحابؓ نے فروعی مسائل  میں اختلاف کیا اور مختلف ملکوں میں چلے گئے اور ہر ایک حکمِ رسولؐ نافذ ہے (کسی کو پابند نہیں کرنا چاہیئے)۔ خلیفہ ہارون الرشیدؒ کو یہ بات پسند آئی۔ اس سے پہلے خلیفہ منصور کے ساتھ بھی امام مالکؒ کا یہی قول تھا۔
اس تمام بحث کا خلاصہ یہی ہے کہ فقہی اختلافی مسائل میں جو روایت زیادہ مستند اور قوی ہو اس کو ترجیح دی جائے۔ ائمہ اربعہ بالخصوص امام ابوحنیفہؒ کی تحقیق سے استفادہ کیا جائے اور ظاہر الروایۃ کے مسائل کو ترجیح دی جائے۔ ان کے خلاف مسائل کو بری نگاہ سے نہ دیکھا جائے۔ وسیع القلبی سے کام لے کر تمام مذاہب اہل سنۃ کے پیروکاروں کو اپنا مسلمان بھائی سمجھ لیا  جائے اور ان کے ساتھ بحث و مناظرہ سے اجتناب کیا جائے۔ سب ہی ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھیں، ان کے ساتھ احترام سے پیش آئیں، اپنے ملک کے اندر بھی مسجد حرام اور مسجد نبویؐ جیسا منظر پیش کرنے کی کوشش کریں جہاں تمام مذاہب کے لوگ حنبلی اماموں کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں۔ اور مسلمانوں کے درمیان جو دشمنانِ اسلام نے نفرت و تعصب کو ابھارا ہے اس کو خیرباد کہہ کر اسلامی اخوت کا منظر پیش کریں۔

علمِ نباتات کے اسلامی ماہرین (۱)

قاضی محمد رویس خان ایوبی

اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ اسلام نے جہاں انسانی اخلاقیات، تہذیب و تمدن، عقیدۂ توحید اور حیات اخروی، انسانی جان و مال، عقیدہ و دین، عزت و آبرو کے تحفظ کے لیے قوانین وضع کر کے ایک مکمل اسلامی ریاست کے خدوخال واضح کیے ہیں، وہیں پیروکارانِ اسلام نے قرآن کریم کے عمیق مطالعہ سے ایسے نئے نئے علوم دریافت کیے جو یورپ کے حاشیۂ خیال میں بھی نہ تھے۔ ’’وَاَرْسَلْنَا الرِّیَاحَ لَوَاقِح‘‘ قرآن کریم نے سب سے پہلے یہ نقطۂ نظر علماءِ سائنس کے سامنے پیش کیا کہ درختوں میں بھی توالد و تناسل کا سلسلہ قائم ہے۔
اسلام چونکہ سب سے پہلے عربوں میں آیا اور اس کے اولین مخاطب عرب تھے اس لیے عربوں نے علمی میدان میں کارہائے نمایاں انجام دیے۔ عربوں میں یوں تو جڑی بوٹیوں کی تحقیق کا سلسلہ عرصۂ دراز سے جاری تھا، وہ جڑی بوٹیوں سے علاج کرتے تھے اور انہیں جڑی بوٹیوں کے خواص معلوم تھے، باقاعدہ تحقیقی کام دوسری صدی ہجری میں شروع ہوا۔ مسلمان محققین نے علمِ نباتات کو باقاعدہ بنانے کے لیے باقاعدہ ڈکشنریاں مرتب کیں اور علمِ نباتات کے سلسلے میں مختلف درختوں، ان کی خصوصیات، جڑی بوٹیوں کی فہرست اور ان کے مختلف اسماء پرمشتمل نصاب مرتب کیں۔ان محققین میں ابو عبیدہ قاسم بن سلام (المتوفی ۸۳۷م)، سعید بن اوس انصاری (متوفی ۸۳۰م) اور عبد المالک الاصمعی (متوفی ۸۳۱م) قابل ذکر ہیں۔
آج کی نشست میں ہم قارئین کے لیے ان مشہور و معروف محققینِ نباتات کا مختصر سوانحی خاکہ پیش کر رہے ہیں جن کی خدمات جلیلہ سے اہلِ یورپ نے فائدہ اٹھا کر دنیائے طب و علمِ نباتات میں نام پیدا کیا اور ہماری کتب چرا کر اپنے دیے جلائے اور مسلمانوں کا نام دنیا کی انسائیکلوپیڈیا سے غائب کر دیا۔

(۱) ابو العباس احمد بن محمد بن مفرج النباتی المعروف ابن الرومیہ

آپ ۱۱۶۵ میلادی میں اشبیلہ میں پیدا ہوئے۔ گھومنے پھرنے کا شوق ابتداء سے ہی تھا، اسی شوق نے انہیں مشرق و مغرب میں تحقیقی سفر اختیار کرنے پر مجبور کیا اور مختلف درختوں کا  مشاہدہ کیا، ان کا خالص نباتاتی نقطۂ نظر سے مطالعہ کیا۔ اس طرح انہوں نے مختلف درختوں کی شاخوں، تنے، جڑوں، پھولوں کے خواص معلوم کیے۔ انہوں نے ہسپانیہ، شمالی افریقہ، مصر، حجاز، عراق اور شام کا سفر کیا اور ’’کتاب الرحلۃ‘‘ کے نام سے اپنا سفرنامہ تصنیف کیا جس میں ان درختوں کا ذکر اور خواص بیان کیے گئے ہیں جن کا انہوں نے دورانِ سفر مشاہدہ کیا۔ اس نے بحر قلزم کے کنارے اگنے والی بعض جڑی بوٹیوں کے خواص معلوم کیے  جن کا اس وقت تک کسی کو علم نہ تھا۔ اختتامِ سفر پر اس نے اشبیلہ میں پنسار کی دکان کھولی۔ ابن ابار کہتے ہیں کہ وہ اپنے تمام ہم عصروں میں سب سے زیادہ لائق اور ماہر عالم تھا۔

تصانیف

احمد بن محمد نے علمی اثار میں اپنی حسب ذیل تصانیف چھوڑیں جو علم کا خزینہ ہیں:
(۱) کتاب الرحلۃ۔ سفرنامہ
(۲) تفسیر اسماء الادویۃ المفردۃ من کتاب دیستوریدس۔ اس کتاب میں مصنف نے مفرد جڑی بوٹیوں کے خواص بیان کیے ہیں۔
(۳) مکالمہ فی ترکیب الادویہ۔ مرکب ادویات بنانے کا طریقہ۔
(۴) ادویۃ جالینوس المستدرکۃ۔ یہ کتب بھی مختلف دواؤں کی خصوصیات سے متعلق ہیں۔

وفات

تاریخ اسلام کا یہ عظیم فرزند ۱۲۳۹م میں اشبیلہ میں داعیٔ اجل کو لبیک کہا اور وہیں دفن ہوا۔

(۲) ابو جعفر احمد بن محمد الغافقی

ہسپانیہ کا یہ عظیم فرزند جس کے تفصیلی حالات معلوم نہیں ہو سکے، بہرحال یہ عظیم فرزند بھی نباتات کا عالم تھا، اس نے ’’الادویہ المفردہ‘‘ کے نام سے ایک کتاب تصنیف کی جس میں حروف تہجی کے اعتبار سے ادویہ کی خصوصیات تحریر کیں۔ اس نے اس تصنیف میں دیستوریدس اور جالینوس کی کتب سے استفادہ کیا۔ اس نے اپنی کتاب میں ادویہ کے نام عربی، لاطینی اور بربری زبان میں دیے۔ اس کی کتاب کی تلخیص ابوالفرج السوری ابن العربی نے ’’جامع المفردات‘‘ کے نام سے لکھی جو ۱۹۳۰م میں قاہرہ میں شائع ہوئی۔ اس کے علاوہ غافقی نے بخار و تپ دق کے بارے میں بھی ایک کتاب تصنیف کی جس کا نام ’’رسالۃ الحمیات والمروق‘‘ رکھا۔

وفات

اشبیلہ میں وفات پائی، صحیح تاریخ معلوم نہیں ہو سکی البتہ سنِ میلادی ۱۱۶۵ تھا۔
(جاری)

’’اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی‘‘

مولانا سراج نعمانی

خطیبِ شہیر مولانا حق نواز صاحب بھی شہید کر دیے گئے۔ آخر کیوں؟ اخبارات نے اس موضوع پر کالم لکھے، اداریے لکھے، مضامین اور خبروں کا ایک لامتناہی سلسلہ جاری ہے۔ ماہنامہ اور ہفت روزہ رسائل میں تبصری، تجزیے اور اندازے تحریر ہو رہے ہیں۔ اس مضمون کی اشاعت تک لاہور میں عظیم الشان دفاعِ صحابہؓ کانفرنس اور تعزیتی احتجاجی جلسہ بھی منعقد ہو چکا ہو گا جس میں جانشین امیر عزیمت مولانا ضیاء الرحمٰن فاروقی اپنی مستقبل کی پالیسیوں کی نشاندہی بھی کر چکے ہوں گے۔
لیکن ان تمام تر تجزیوں، تبصروں، تحریروں اور تقریروں کے باوجود مولانا حق نواز شہید کی اس شہادت سے کیا  ہم نے کچھ سبق لیا ہے؟ کیا ہمارے کردار اور گفتار میں موافقت پیدا ہو چکی ہے؟ کیا اب وہ مقاصد ہمیں آنکھیں بند کیے حاصل ہو جائیں گے جو مولانا شہید کے پیشِ نظر تھے؟ یا ہم اسی طرح حکمِ قرآنی کی مخالفت میں اندھے اور بہرے ہو کر ہر ناحق کو سجدے کرتے رہیں گے؟ کیا ان ظالم طاغوتی طاقتوں کی ریشہ دوانیاں اب ختم ہو جائیں گی جن کے ایما پر مولانا شہید کیے گئے۔ کیا ان طاغوتی اور شیطانی لشکروں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہم نے اس ملک میں علماء اور قائدین کے قتل عام کی چھٹی دے دی ہے؟
لیکن ہماری سطحی نظریں اس پس منظر کو کیسے پہچانیں جس پس منظر کو فراستِ ایمانی سے جانچا جا سکتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے ’’اِتَّقُوْا فَرَاسَۃِ الْمُؤْمِنِ لِاَنَّہٗ یَنْظُرُ بِنُوْرِ اللّٰہِ‘‘ (طبرانی) مومن کی فراست سے ڈرو کیونکہ وہ اللہ کے نورِ ہدایت سے دیکھتا ہے۔ مگر حالت یہ ہے کہ ’’قُلُوْبُنَا فِیْ اَکِنَّۃٍ وَّفِیْ اٰذَانِنَا وَقْر‘‘ ہمارے دل غلافوں میں بند ہو چکے ہیں اس لیے کچھ سوچتے نہیں اور ہمارے کانوں میں ڈاٹ ہیں کسی اور کی نصیحت بھی سننے کے لیے تیار نہیں۔ شاید ہماری ہی حالت کے پیش نظر سابقہ امتوں کی حالت ان الفاظ کے ساتھ بیان کی گئی:
لَھُمْ قُلُوْبُ لَّا یَفْقَھُوْنَ بِھَا وَلَھُمْ اٰذَانٌ لَّا یَسْمَعُوْنَ بِھَا وَلَھُمْ اَعْیُنٌ لَّا یُبْصِرُوْنَ بِھَا اُولٰئِکَ کَالْاَنْعَامِ بَلْ ھُمْ اَضَلّ۔
یقیناً آج ہماری یہی حالت ہے مگر اس ذلت کا اقرار کرتے ہوئے شرماتے ہیں، جھجھکتے ہیں، نہیں تو سوچئے کہ کیا سوئے ہوئے شخص کو بیدار کرنے کے لیے چند آوازیں کافی نہیں؟ اگر کوئی ہوش و خرد سے بھی بیگانہ ہو کر سو جائے تو اس کو بھی جھنجھوڑ کر بیدار کیا جا سکتا ہے لیکن ہماری بدقسمت قوم! آہ ’’اَمْ عَلیٰ قُلُوْبٍ اَقْفَالُھَا‘‘ کیا ان کے دلوں پر تالے پڑ چکے ہیں کہ اتنے عظیم حادثات پے در پے ظہور پذیر ہو رہے ہیں مگر سوائے احتجاجی جلسوں، جلوسوں اور قراردادوں کے کیا ہوا؟ ’’لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَالَا تَفْعَلُوْنَ؟‘‘ کہاں جلسوں اور جلوسوں میں بلند بانگ دعوے اور کہاں جیل کی کوٹھڑی میں چند راتیں گزارنے کے بعد بھیگی بلیاں ’’وَاَنَّھُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا‘‘۔
اب ہم اصل موضوع کی طرف آتے ہیں کہ مولانا کیوں شہید کیے گئے؟ شیطانی طاقتیں جب بھی نیکی کی قوتوں کو بیدار ہوتا دیکھتی ہیں تو وہ اپنا طریق کار چار مراحل میں تقسیم کر کے اس کا راستہ روکتی ہیں۔

پہلا مرحلہ

طعن و تشنیع اور بے عزتی کا ہوتا ہے جس مرحلے میں شیطانی طاقتیں حق پرستوں کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے کرتی ہیں اور حق پرستوں کی اہمیت اور وجود کو زائل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ مختلف القابات اور طعن آمیز گفتگو سے حق پرست طاقت کو ابھرنے سے روکا جاتا ہے۔ کبھی کہتے ہیں ’’سَاحِرٍ اَوْ مَجْنُوْن‘‘ اور کبھی کہتے ہیں ’’مَا لِھٰذَا الرَّسُوْلِ یَاْکُلُ الطَّعَامَ وَیَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاق‘‘ اس پیغمبر کو کیا ہو گیا ہے کہ کھانا بھی کھاتا ہے اور بازاروں میں بھی چلتا ہے۔ کبھی کہتے ہیں ’’اَھٰذَا بَعَثَ اللّٰہُ رَسُوْلًا‘‘ کیا خدا کو اور کوئی نہیں ملتا تھا کہ اسے ہی پیغامبر بنا دیا۔

دوسرا مرحلہ

پھر سودا بازی ہوتی ہے کہ نہ تم ہمیں برا کہو اور نہ ہم تمہیں کچھ کہیں گے۔ اگر آپؐ شادی کرنا چاہتے ہیں تو مکہ کی حسین ترین لڑکی سے شادی کرا دیں گے۔ اگر آپ دولت چاہتے ہیں تو ہم دولت کے انبار لگا کر آپ کو دے دیں گے۔ اور اگر آپ سرداری چاہتے ہیں تو ہم آپؐ کو اپنا سردار بنا لیں گے۔ بشرطیکہ آپ ہمارے خلاف ہونے والا پروگرام ختم کر دیں۔ لیکن امام الرسلؐ جنہوں نے تمام انبیاءؑ سے زیادہ مصیبتیں اور تکلیفیں برداشت کیں انہوں نے قیامت تک کے لیے مثال پیش کر دی کہ اگر میرے داہنے ہاتھ پر سورج رکھ دیا جائے اور بائیں ہاتھ پر چاند رکھ دیا جائے تب بھی میں اپنے اعلانِ حق سے باز نہ آؤں گا۔ فرعون نے بھی سودا بازی کرتے ہوئے کہا تھا ’’اِنَّکُمْ اِذًا لَّمِنَ الْمُقَرَّبُوْن‘‘۔

تیسرا مرحلہ

علاقہ بدری اور سوشل بائیکاٹ کا ہوتا ہے۔ ایسے حالات پیدا کر دیے جاتے ہیں کہ داعیٔ حق ہجرت پر مجبور ہو جائے، یا شعبِ ابی طالب میں نظربند ہو جائے۔ اور صرف اسی پر ہی بس نہیں ہوتا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ معاشرے میں اس کے کردار کو مسخ کر کے پیش کیا جاتا ہے۔ لوگوں کو ان سے متنفر کرنے کے ہر ممکن حربے استعمال کیے جاتے ہیں۔ پہلے مرحلے میں طعن و تشنیع کے جن طریقوں کا ذکر کیا گیا ہے انہیں صرف زبانی حد تک ہی اس مرحلے میں نہیں چھوڑا جاتا بلکہ کبھی تو ان کے پیغام سے دور کرنے کے لیے کہا جاتا ہے ’’لَا تَسْمَعُوْا لِھٰذَا الْقُرْاٰنِ وَالْغَوْا فِیْہِ لَعَلَّکُمْ تَغْلِبُوْنَ‘‘ اور کبھی ’’اِنَّھُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَھَّرُوْنَ‘‘ کہتے ہوئے سرِعام انکارِ حق کر دیا جاتا ہے۔ اسی مرحلے میں یہ بھی کہا جاتا ہے ’’مَتٰی ھٰذَا الْوَعْدُ اِنْ کُنْتُمْ صَادِقِیْنَ‘‘۔

چوتھا مرحلہ

آخری مرحلہ ہوتا ہے  جہاں باطل کے تمام ہتھکنڈے اور حربے ختم ہو جاتے ہیں۔ حق پرستوں کو دبانے اور ختم کرنے سے عاجز آ کر کبھی ’’حَرِّقُوْہُ وَانْصُرُوْا اٰلِھَتَکُمْ‘‘ کے فتوے داغے جاتے ہیں اور کبھی ’’لَاُصَلِّبَنَّکُمْ اَجْمَعِیْن‘‘ کا ورد کیا جاتا ہے اور کہیں ’’لَئِن لَّمْ تَنْتَھُوْا لَنَرْجُمَنَّکُمْ وَلَیَمَسَّنَّکُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ‘‘ کی مالا جپی جاتی ہے۔ ہر ماحول اور ہر معاشرے نے اپنے اپنے حالات کے مطابق داعیانِ حق کو تکلیفیں پہنچانے کے لیے نت نئے ہتھکنڈے ایجاد کیے جن کا نقطۂ اختتام موت یا شہادت ہوتا ہے لیکن وہ شاید نہیں سمجھتے کہ شہید آخری وقت میں بھی اعلانِ حق سے باز نہیں رہتا اور کبھی کہتا ہے ’’فَزْتُ بِرَبِّ الْکَعْبَۃِ‘‘ اور کبھی کہتا ہے ’’یٰلَیْتَ قَوْمِیْ یَعْلَمُوْنَ بِمَا غَفَرَ لِیْ رَبِّیْ وَجَعَلَنِیْ مِنَ الْمُکْرَمِیْنَ‘‘ قیامت کے دن تو باطل پرستوں سے پوچھ گچھ ہو گی لیکن ہم اس دنیا میں بھی ’’بِاَیِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ‘‘کی آواز بلند کرتے ہوئے کہیں گے ’’وَلَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوۃٌ یَّا اُولِی الْاَلْبَابِ‘‘۔
مولانا حق نواز کی شہادت کوئی وقتی اشتعال کا نتیجہ نہ تھا وہ یقیناً ان چاروں مراحل سے گزر گئے لیکن مولانا کی یہ حق گوئی ان وارثانِ علومِ نبوت کا شیوہ تھی جس کا ایک تاریخی تسلسل دنیا میں موجود ہے۔ اگر امت مسلمہ میں ہی اسی تسلسل کو اجمالی نگاہ سے ملاحظہ کریں تو امام حسین رضی اللہ عنہ کا اعلانِ حق یزید کے سامنے، حضرت سعید بن جبیرؓ کا اعلانِ حق حجاج بن یوسف کے سامنے، امام اعظمؒ کا اعلانِ حق منصور کے سامنے، امام احمد بن حنبلؒ کا اعلانِ حق معتصم باللہ کے سامنے، برصغیر میں امام ربانیؒ کا اعلانِ حق دربارِ جہانگیری میں، شاہ عبد العزیز دہلویؒ کا اعلانِ حق کہ ہندوستان دارالحرب ہے، انگریز کے خلاف علماء ہند کا جہادِ آزادی بالاکوٹ کے مقام تک، ۱۸۵۷ء میں دوبارہ جنگِ آزادی، دارالعلوم دیوبند کا قیام، شیخ الہندؒ کا کردار، اسی طرح مفتی کفایت اللہ دہلویؒ، مولانا سیوہارویؒ، مولانا مدنیؒ، مولانا عبید اللہ سندھیؒ، مولانا احمد سعید دہلویؒ اور ان کے بعد حضرت لاہوریؒ اور مولانا غلام غوث ہزارویؒ کے حالات کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ غلبۂ دین کی خاطر انہوں نے اپنے اور پرائے کی تمیز کیے بغیر ظالم کے ظلم کو للکارا اور حق کا اعلان کر کے اس فریضہ سے سبکدوش ہوئے جو بحیثیت اہل الذکر ان پر عائد تھی۔ ’’فَاسْئَلُوْا اَھْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ‘‘۔
آخری گزارش علماء حق سے یہی کی جا سکتی ہے کہ فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے ’’اَلسَّاکِتْ عَنِ الْحَقِّ شَیْطَانٌ اَخْرَسٌ‘‘ اور ’’مَنْ کَتَمَ عِلْمٍ عِنْدَہٗ اَلْجِمَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بِلِجَامٍ مِّنْ نَّارٍ‘‘۔ تو خدا کے لیے کسی ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو جائیں اور متحد اور متفق ہو کر شیطانی قوتوں سے ٹکر لے کر اس دنیا میں نظامِ خلافت کو دوبارہ زندہ کریں ’’وگرنہ داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں‘‘۔ تاکہ آئندہ کے لیے کسی شیطانی قوت کو پنپنے کے لیے کوئی کونا  کھدرا بھی نہ مل سکے جہاں وہ چھپ سکیں اور دنیا میں دینِ حق اسلام کا بول بالا ہو ’’وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِیْنَ‘‘۔

مسیحی ماہنامہ ’’کلامِ حق‘‘ کی بے بسی

حافظ محمد عمار خان ناصر

گوجرانوالہ سے شائع ہونے والا مسیحی ماہنامہ ’’کلامِ حق‘‘ ملقب بہ ’’راسخ الاعتقاد مسیحیت کا واحد علمبردار‘‘ (بابت ماہ فروری ۱۹۹۰ء) رقم طراز ہے:
’’الشریعۃ ماہنامہ میں آپ کے آرٹیکل سے حیرت ضرور ہوئی ہے اس لیے کہ اب خود اسلام کے اندر دشمنِ اسلام و قرآن اور منکرِ عقائد ایمان مفصل پیدا ہو رہے ہیں اور سابقہ علماء پر اسلام کے تراجم قرآن اور دلائل و براہین کے دشمن اٹھ کھڑے ہو گئے ہیں ۔۔۔۔ اب ایک حافظ محمد عمار خان ناصر صاحب گوجرانوالہ میں پیدا ہو گئے ہیں جو قرآن مجید کی ان آیات کے منکر ہو گئے ہیں جو سابقہ الہامی کتب توریت اور زبور اور صحائف الانبیاء اور انجیل مقدس کی تصدیق میں ہیں جن پر ایمان لانا ہر مسلمان کے جزوِ ایمان کا ستونِ اعظم ہے۔
حافظ صاحب کا یہ دعوٰی توہینِ قرآن میں شامل ہے اور وہ قرآن مجید سے اپنے دعوٰی کی تصدیق کے لیے کوئی آیت پیش نہیں کر سکتے۔ کتاب مقدس کی صداقت اور الہامی عظمت کے بارے اور مقابلہ میں یہ ان کی شکست خوردہ ذہنیت ہے۔‘‘ (ص ۱۶)
یاد رہے کہ یہ مضمون ’’پادری برکت اے خان آف سیالکوٹ‘‘ کا تحریر کیا ہوا ہے۔ اس ساری دل جلی عبارت کا لب لباب یہ ہے کہ ’’حافظ صاحب‘‘ نے بائبل کے ازروئے قرآن سچا اور الہامی ہونے کے دعوٰی کے ڈھول کا پول کیوں کھول کر رکھ دیا ہے؟ اور پادری صاحب کو یہ دلسوزی اس لیے کرنی پڑی کہ ’’حافظ صاحب‘‘ نے خود انہی کے حوالوں سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ قرآن نے جس توریت و انجیل کی تصدیق کی ہے، موجودہ مختلف و متضاد تحریفات کے پلندہ اناجیل اربعہ کو اس اصلی اور سچی انجیل سے دور کا واسطہ بھی نہیں ہے۔ ہم اسی بحث کو یہاں نئے پیرائے میں دہرا رہے ہیں۔

اصولِ تنزیل میں فرق

پادری برکت اے خان لکھتے ہیں:
’’تمام مذاہب کے درمیان اختلافات کی دو بڑی اہم وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ تصوراتِ خدا ہے اور دوسری وجہ نزولِ الہامِ الٰہی ہے۔‘‘ (رسالہ اصول تنزیل الکتاب ص ۳)
مزید لکھتے ہیں:
’’مسیحیوں کا ہرگز یہ عقیدہ نہیں کہ توریت کی کتاب آسمان پر کسی خاص زبان میں آسمانی ورقوں پر خدا نے لکھ کر رکھی تھی۔ اسی طرح تمام پاک نوشتوں یعنی زبور کی کتاب، صحائف الانبیاء اور انجیل مقدس کے بارے میں بھی ہمارا ایسا ہی عقیدہ ہے۔‘‘ (ایضاً ص۳)
’’جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ موسٰی پر توریت شریف ایک کتاب کی صورت میں آسمان سے نازل ہوئی تھی ان کی یہ بات خداوند کی کتاب مقدس کے اصولِ الہام کے سراسر خلاف ہے کیونکہ آسمان پر پہلے سے توریت کی کتاب کی موجودگی کو تسلیم کرنے کے بعد ہی اس توریت کی کتاب کے بزرگ موسٰی پر آسمان سے نزول کا سوال پیدا ہوتا ہے۔ اسی طرح زبور اور صحائف الانبیاء اور انجیل مقدس کے متعلق بھی ان کے خیالات خداوند کی کتاب مقدس کے اصول الہام الٰہی کے سراسر منافی ہیں ۔۔۔۔
آسمان پر الہامی کتابوں کی موجودگی اور ان کی آیات کے لفظ بلفظ کسی خاص زبان میں نزول کا جو عقیدہ اہلِ اسلام کے درمیان مروج ہے، کتابِ مقدس کے صحائف کے متعلق نہ یہودیوں میں اور نہ مسیحیوں میں ایسا عقیدہ کبھی مروج ہوا ہے اور نہ انبیاء کرام خدا کی طرف سے وحی و الہام پا کر بصورتِ املا نویس محرر تھے۔‘‘ (ص ۶۰۵)
’’چنانچہ کتاب مقدس کے انبیاء کرام پر کلامِ الٰہی کی باتوں کے الہام و مکاشفہ کی صورت میں نزول کا طریقہ و عقیدہ میں اور حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کے اوپر ایک عجیب حالت و کیفیت میں نزول وحی قرآن کے طریقہ و عقیدہ میں بھی بڑا خاص فرق پایا جاتا ہے۔‘‘ ( ص ۱۰)
’’اگر قرآن مجید اور توریت شریف اور زبور شریف اور صحائف الانبیاء اور انجیل مقدس ایک آسمان اور ایک ہی خدا کی طرف سے نازل ہوئی تھیں تو پھر قرآن مجید نے باقی تمام الہامی کتابوں کی بعض ضروری ضروری باتوں اور اہم تعلیمات کے بارے میں اختلافی تعلیم کیوں پیش کی؟‘‘ (ص ۱۳)
قرآن پاک کا ساتویں صدی عیسوی کے گمراہی و ضلالت سے مرقع دور میں جب مسیحیوں کو دنیا کی سپرپاور کی حیثیت حاصل تھی ان کتبِ موضوعہ کے برخلاف تعلیم دینا ایک معجزہ اور صداقت کی نشانی تھا جسے پادری صاحب نے شرح صدر تسلیم کیا ہے۔ البتہ مندرجہ بالا اقتباسات سے یہ امر اظہر من الشمس ہو جاتا ہے کہ نہ صرف اہل کتاب اور اہل اسلام کے درمیان الہام الہامی کے نزول کے اصول مختلف ہیں بلکہ یہ دونوں کتابیں ایک ہی آسمان اور ایک ہی خدا کی جانب سے نازل شدہ نہیں ہیں۔ اس لحاظ سے قرآن نے موجودہ تورات و انجیل کی تصدیق بھی نہیں کی اور پادری صاحب بیک وقت دو متضاد باتیں کہہ رہے ہیں۔
مقام حیرت و استعجاب ہے۔۔۔ پادری صاحب کو چاہیئے تھا کہ کھسیانی بلی کی طرح کھمبا نوچنے کی بجائے ہمارے ناقابلِ تردید دلائل کا توڑ پیش کرتے ۔۔۔  (۱) دشمنِ اسلام و قرآن (۲) منکرِ عقائد ایمان مفصل (۳) علماء اسلام کی تعلیمات کا دشمن (۴) قرآن مجید کی آیات کا منکر (۵) موہنِ قرآن (۶) شکست خوردہ ذہنیت (۷) بے شعور (۸) بدتمیز اور (۹) بدزبان جیسے القابات دینے کی بجائے کوئی دلیل کی بات کریں ۔۔۔ مزید برآں ’’کلامِ حق‘‘ کے مدیر صاحب کا یہ ارشاد بھی قابل توجہ ہے کہ ’’کلامِ حق کے مدیر نے حافظ صاحب کو اس قابل نہیں سمجھا کہ ان کے مفروضات کا جواب دیا جائے‘‘۔ حقیقت یہ ہے کہ خود پادری صاحب میں یہ حوصلہ نہیں ہے کہ اپنے ’’مفروضات‘‘ کا دفاع کر سکیں یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنے خیالات پر کی گئی تنقید کا خود سامنا کرنے کی بجائے پادری برکت صاحب کو آگے کر دیا ہے اور یہی ان کی قابلیت ہے۔

بابری مسجد اور اجودھیا - تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش

دیوبند ٹائمز

آج کل بابری مسجد رام جنم بھومی کا جو قضیہ چلا ہوا ہے وہ عقائد، اقتدار اور سیاسی مسائل کا مظہر ہے۔ بلاشبہ ہر شخص کو اپنے عقائد اور یقین کے معاملہ میں پوری آزادی حاصل ہے لیکن جب عقائد تاریخ پر غالب آنے لگیں تو مؤرخ کو تاریخ اور عقائد کے درمیان حد قائم کرنی پڑتی ہے۔ فرقہ وارانہ سیاست کے مقصد سے جب فرقہ وارانہ قوتیں تاریخی شہادتوں پر غالب آنے کی کوشش کرتی ہیں تو لامحالہ مؤرخ کو مداخلت کرنی پڑتی ہے۔ تاریخی شہادت پیش کرنے کا مقصد اس قضیہ کو سلجھانے کے لیے کوئی حل پیش کرنا نہیں ہے کیونکہ اس جھگڑے کا تعلق تاریخی شہادتوں سے نہیں ہے بلکہ یہ ہندوستانی سیاست کی فرقہ وارانہ سمتوں سے متعلق ہے، البتہ اس سلسلے میں تاریخی شواہد پیش کرنا پھر بھی ضروری ہے۔
سوال یہ ہے کہ بھگوان رام کی جائے پیدائش کہاں ہے؟ کیا یہ اجودھیا میں ہے؟ دوسرے کیا آج جو اجودھیا ہے وہی وہ مقام ہے جو رامائن کے زمانے کا تھا۔ بھگوان رام کے قصوں کا ماخذ رام کتھا ہے جو آج میسر نہیں ہے۔ اسے دوبارہ رزمیہ نظم کی صورت میں لکھا گیا ہے۔ اس طرح والمیکی نے رامائن لکھی۔ نظم ہونے کی وجہ سے اس میں بہت سی باتیں روایت اور قصے کی شکل میں داخل ہو گئی ہیں۔ بہت سے کردار اور مقامات بھی اسی طرح در آئے ہیں جیسا کہ کسی قصے کے بیان کرنے میں بہت سی باتیں فرضی ہو جاتی ہیں۔ تاریخ داں ان قصوں کے معتبر ہونے پر اس وقت تک شبہ کرتے رہیں گے جب تک کہ دیگر تاریخی حقائق سے ان کا ثبوت نہ مل جائے۔ والمیکی رامائن کے مطابق اجودھیا کے راجہ رام نے ترتیایگ جنم لیا۔ کالی یگ سے ہزاروں سال پیشتر کا ہے جس کے بارے میں خیال ہے کہ یہ ۱۰۲ ق م میں شروع ہوا تھا۔ ایسی کوئی تاریخی شہادت نہیں کہ اس زمانہ میں یہ اجودھیا (جیسا کہ یہ اب ہے) یہاں آباد تھا جہاں آٹھویں صدی ق م میں آباد ہوئی۔ والمیکی رامائن میں زندگی کے جو آثار ملتے ہیں وہ اس اجودھیا کے ساتھ آثار سے میل نہیں کھاتے۔
ظاہر ہے کہ والمیکی رامائن میں جس مقام کا ذکر ہے وہ یہ نہیں ہے جو کہ آج کا اجودھیا ہے۔ پھر اجودھیا کی جائے وقوع کے بارے میں بھی اختلاف رائے ہے۔ ابتدائی دور کی بودھ کتابوں میں شرادستی اور ساکیت کا ذکر ہے مگر اجودھیا کا نہیں۔ جین دھرم کی مذہبی کتابوں میں بھی کوسلہ کی راجدھانی ساکیت بتائی گئی ہے۔ اجودھیا کا ذکر نہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اجودھیا گنگا کے کنارے آباد تھا نہ کہ دریائے سرجو کے کنارے جہاں آج کل اجودھیا ہے۔ ساکیت کا نام بدل کر گپت بادشاہوں نے اجودھیا رکھا۔ سکندر گپت نے یہ پانچویں صدی عیسوی کے آخر میں رہائش ساکیت میں بدل دی اور اسے اجودھیا کا نام دیا۔ اس وکرمادتیہ کا نام اختیار کیا جسے اس نے سونے کے سکوں پر استعمال کیا۔ اس طرح رزمیہ میں جس اجودھیا کا ذکر ہے وہ بہت بعد میں ساکیت سے اجودھیا بنا۔ اس سے یہ بھی واضح نہیں کہ گپت بادشاہ رام کے بھگت تھے۔ رام کا تعلق سوریہ دنش سے تھا۔ چنانچہ ساکیت کو اجودھیا کا نام دینے کا مقصد یہ تھا کہ سوریہ دنش خاندان سے خود کو متعلق کر کے اپنا وقار بلند کیا جائے۔
ساتویں صدی کے بعد رامائن میں اجودھیا کو کوسل کی راجدھانی بتایا گیا۔ اجودھیا ترتیایگ کے بعد گم ہو گیا تھا اور وکرمادتیہ نے اس کا دوبارہ سے پتہ چلایا۔ گمشدہ اجودھیا کی بازیافت کی کوشش میں وکرمادتیہ نے پیاگ سے ملاقات کی جو کہ تیرتھ کا بادشاہ تھا جو اجودھیا کے بارے میں واقف تھا۔ وکرمادتیہ نے اس جگہ کی نشان دہی کر دی تھی لیکن اس کے بعد میں پتہ نہ چلا۔ اس کے بعد وہ ایک جوگی سے ملا جس نے کہا کہ اسے ایک گائے چھوڑ دینی چاہیئے اور اس کے ساتھ ایک بچھیا ہونی چاہیئے۔ یہ گائے اور بچھیا گھومتے رہیں۔ جب یہ رام جنم بھومی پر پہنچیں گے تو اس کے تھنوں سے دودھ ٹپکے گا۔ بادشاہ نے جوگی کی نصیحت مان لی۔ جب ایک مقام پر بچھیا نے دودھ ٹپکایا تو بادشاہ نے سمجھا کہ یہی قدیم اجودھیا ہے۔ یہ ہے کہانی اجودھیا کی بازیافت کی۔
آج کا اجودھیا ساکیت کے نام سے مشہور رہا ہے۔ یہ مختلف مذہبوں کا گہوارہ رہا ہے۔ یہاں محض رام کے ہی بھگت نہ تھے بلکہ یہ رام کی پوجا سے بہت بعد میں مخصوص کر دیا گیا۔ پانچویں صدی عیسوی سے آٹھویں صدی عیسوی تک اور بعد تک کتبوں پر اجودھیا کا ذکر ملتا ہے لیکن یہ نہیں کہ یہ جگہ رام کی پوجا کے لیے مخصوص ہو (جیسا کہ ایپی گرافیکا انڈیکا ۱۰ میں صفحہ ۷۲ پر واضح کیا گیا ہے، اس کے صفحات ۱۵، ۱۴۳ اور صفحہ ۱۴ پر بھی اس کا حوالہ ملتا ہے)۔ ہیونگ سانگ نے اجودھیا بدھ مت کا زبردست مرکز بتایا ہے اور بودھ ستوپ، مٹھ یہاں بکثرت تھے۔ کچھ غیر بدھ لوگ بھی یہاں آباد تھے۔ بودھ اس مقام کو متبرک مانتے ہیں۔ یہاں مہاتما بودھ نے چند روز قیام کیا تھا۔ اجودھیا جینوں کا بھی متبرک اور مقدس مقام رہا ہے۔ جینیوں کا پہلے اور چوتھے تیرتھنکر یہیں پیدا ہوئے۔
گیارہویں صدی کی کتابوں میں اجودھیا میں گویاترو کا ذکر ملتا ہے لیکن رام جنم بھومی نہیں کہا گیا، یا رام جنم بھومی سے اس کا رشتہ نہیں جوڑا گیا۔ تیرہویں صدی عیسوی سے رام کی پوجا کرنے والے فرقے کومقبولیت ملی۔ رامانندی فرقے کے عروج سے اس کا ارتقا وابستہ ہے۔ ہندی میں رام کی کہانی تشکیل دی گئی۔ پندرہویں اور سولہویں صدی میں رامانندی اجودھیا میں آباد نہ تھے۔ اس زمانے میں شیو کی پوجا رام کے مقابلے میں زیادہ ہوتی تھی۔ اٹھارہویں صدی سے رامانندی سادھو بڑے پیمانے پر آباد ہوئے۔ اس کے بعد ہی اجودھیا میں بہت سے مندر تعمیر کیے گئے۔ اب تک ایسا کوئی تاریخی ثبوت نہیں ملا جس کی بنیاد پر یہ کہا جا سکے کہ بابری مسجد اس اراضی پر بنائی گئی جہاں کہ کبھی کسی زمانے میں مندر تھا۔ مسجد کے دروازے پر فارسی کتبے یہ نہیں بتاتے کہ یہ مسجد بابر کی طرف سے بنوائی گئی۔
بابرنامہ کے پہلے انگریز مترجم بیورج یادداشت میں ایک ضمیمہ میں ان اشعار کا ترجمہ شائع کیا گیا ہے۔ بابرنامہ میں، جو کہ ان یادداشتوں کا مجموعہ ہے، لکھا ہے کہ شہنشاہ بابر کے حکم سے جس کا انصار اپنے عروج پر پہنچ چکا ہے میرباقی نے فرشتوں کے اترنے کی ایک جگہ تعمیر کرائی۔ (بابرنامہ مترجم اے ایف بیوریج)۔ ان کتبوں میں صرف یہ دعوٰی کیا گیا تھا کہ بابر کے ایک امیر میرباقی نے مسجد تعمیر کرائی۔ یہ کہیں نہیں کہ یہ مسجد مندر کی جگہ پر تعمیر کرائی گئی۔ بابرنامہ میں بھی اس کا کوئی حوالہ نہیں کہ یہاں اجودھیا میں اس مسجد کی تعمیر کے لیے کسی مندر کو توڑا گیا۔
آئینِ اکبری میں اجودھیا کا ذکر ہے۔ اسے رام چندر کی رہائش گاہ کہا گیا ہے جو کہ ترتیا میں روحانیت اور مادیت کا تھا لیکن اکبر کے دادا نے کسی بھی مندر کی جگہ مسجد تعمیر کرائی ہو اس کا ذکر نہیں ملتا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تلسی داس جو کہ رام کا زبردست بھگت تھا اور جو اکبر کے عہد میں ہوا ہے اور جو اس خطے کا رہنے والا تھا ملیھ کے عروج پر پریشان ہے لیکن رام جنم بھومی کی جگہ مندر توڑے جانے کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔
انیسویں صدی میں اس کی کہانی سرکاری ریکارڈ میں داخل کی گئی اور دوسروں نے اسے تاریخی حوالہ سمجھ کر پیش کرنا شروع کر دیا۔ مندر توڑنے کی کہانی بے بنیاد اور من گھڑت ہے اس کے لیے کوئی تاریخی ثبوت نہیں۔ ملاحظہ ہو ہسٹاریکل اسکیچ آف تحصیل فیض آباد لکھنؤ۔
ایک غلط فہمی یہ ہے کہ مسلمان حکمران ہندوؤں کے مقدس مقامات کے دشمن رہے ہیں لیکن یہ بات تاریخ کی شہادتوں کی روشنی میں بے بنیاد نظر آتی ہے۔ مسلمان نوابوں کی سرپرستی میں اس کی توسیع ہوئی، نوابوں کی سرکار کالیئتھو کے تعاون سے چلتی تھی۔ مسلمان نوابوں کی افواج میں شیودھرم کے ماننے والا ناما تھے، ہندوؤں کے مقدس مقامات کے لیے تحائف اور جاگیریں دینے میں نواب پیش پیش رہے ہیں۔
(بشکریہ دیوبند ٹائمز)

کرنسی نوٹ، سودی قرضے اور اعضاء کی پیوندکاری

ادارہ

(بھارت کے دارالحکومت دہلی میں اسلامی فقہ اکیڈمی کی دعوت پر جدید مسائل کے سلسلہ میں منعقد ہونے والے علماء کے ایک سیمینار کی رپورٹ پندرہ روزہ ’’دیوبند ٹائمز‘‘ کے شکریہ کے ساتھ شائع کی جا رہی ہے۔ اے کاش کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے علماء کرام بھی فرقہ وارانہ مباحث سے بالاتر ہو کر قوم کو درپیش جدید مسائل کے حل کے لیے اجتماعی سوچ اور مشترکہ محنت کا راستہ اختیار کر سکیں ؎ ’’شاید کہ اتر جائے کسی دل میں مری بات‘‘)

اسلامی فقہ اکیڈمی کی دعوت پر دوسرا فقہی سیمینار ہمدرد یونیورسٹی کے کنونشن ہال میں ۸ سے ۱۱ دسمبر تک ہوا جس میں ہندوستان بھر سے ممتاز علماء اور فقہاء کے علاوہ جدید تعلیم یافتہ دانشوروں نے حصہ لیا۔ سیمینار کی امتیازی خصوصیت یہ تھی کہ اس میں حنفی دیوبندی، بریلوی، شافعی، اور مسلک اہلِ حدیث سے تعلق رکھنے والے نمائندہ حضرات نے کھلی فضا میں زیربحث مسائل پر غور کیا اور اتفاق رائے سے فیصلے کیے۔
افتتاحی اجلاس میں کویت سے تشریف لانے والے ڈاکٹر جمال الدین عطیہ نے، جو فقہ کے ممتاز سکالر ہیں، اپنا کلیدی خطبہ پیش کیا اور پاکستان کے ممتاز عالم و مفتی مولانا محمد رفیع عثمانی نے کرسیٔ صدارت سے انتہائی بلیغ اور بصیرت افروز خطبہ دیا۔ اس سے قبل ڈاکٹر منظور عالم (چیئرمین انسٹیٹیوٹ آف آبجیکٹو اسٹڈیز نئی دہلی) نے خطبۂ استقبالیہ پیش کیا اور سیمینار کے داعی مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی (امین عام فقہ اکیڈمی) نے علماء اور فقہاء کے اس نمائندہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ اپریل میں پہلا سیمینار اسی جگہ منعقد ہوا تھا۔ یہ دوسرا موقع ہے کہ ہم یہاں پھر جمع ہوئے ہیں۔ جماعتی اور مسلکی حدبندیوں سے اوپر اٹھ کر ممتاز بالغ نظر فقہاء و اصحاب افتاء کا یہاں سر جوڑ کر بیٹھنا ایک فالِ نیک اور قابلِ ذکر امر ہے۔
سیمینار میں دارالعلوم دیوبند کے مفتی حبیب الرحمٰن خیرآبادی، مفتی محمد ظفیر الدین مفتاحی اور مفتی سعید احمد پالنپوری، جامعہ الارشاد اعظم گڑھ کے مولانا مجیب اللہ ندوی، ندوۃ العلماء کے مولانا عتیق احمد اور مولانا برہان الدین سنبھلی، بدایوں سے مفتی مطیع الرحمٰن رضوی، جامعہ سلفیہ بنارس کے ڈاکٹر مقتدی احسن ازہری، دارالعلوم ماٹلی والا گجرات کے مولانا ابوالحسن علی، اور علی گڑھ کے ڈاکٹر فضل الرحمٰن اور مولانا مسعود عالم کی موجودگی نے مجلس کو اور نمائندہ و باوقار بنا دیا تھا۔ اس سیمینار میں ۷۰ کے قریب علماء اور دانشوروں نے شرکت کی۔ 
اجلاس میں نوٹ کی شرعی  حیثیت، کرنسی پر افراطِ زر کے اثرات، اور سرکاری و غیر سرکاری سودی قرضوں سے پیدا ہونے والے فقہی مسائل پر مقالات پڑھے گئے۔  نیز گذشتہ سیمینار میں پگڑی اور اعضاء کی پیوندکاری کی جو بحث نامکمل رہ گئی تھی اس کی تکمیل کے بعد تجاویز کی منظوری دی گئی۔
اجلاس نے اس پر اتفاق کیا کہ سود قطعی حرام ہے، اور جس طرح سود لینا حرام ہے اسی طرح سود دینا بھی حرام ہے، لیکن سود ادا کرنے کی حرمت بذاتِ خود نہیں بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ سود خواری کا ذریعہ ہے۔ اس لیے بعض خاص حالات میں عذر کی بنیاد پر سود ادا کر کے قرض لینے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ کون عذر معتبر ہے، کون نہیں؟ نیز کون سی حاجت قابلِ لحاظ ہے اور کون سی نہیں؟ اس سلسلہ میں اصحابِ فتاوٰی کے مشوروں پر عمل کیا جائے۔ اجلاس نے اس پر بھی اتفاق کیا کہ بعض سرکاری قرضوں میں حکومت کی طرف سے چھوٹ دی جاتی ہے اور سود کے نام سے زائد رقم بھی لی جاتی ہے۔ اگر یہ زائد رقم سبسڈی کے مساوی یا کم ہو تو یہ زائد رقم شرعاً سود نہیں ہے۔ 
اجلاس نے ہندوستانی مسلمانوں کی معاشی پسماندگی کے مخصوص پس منظر میں سرکاری بینکوں سے ملنے والے ترقیاتی قرضوں اور ان پر وصول کیے جانے والے سود پر بھی غوروخوض کیا اور طے کیا کہ اسلامی فقہ اکیڈمی علماء اور ماہرین کی ایک کمیٹی تشکیل دے جو مسئلے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر ایک رپورٹ پیش کرے تاکہ اگلے سیمینار میں غور کیا جا سکے۔
بحث کے دوران علماء کا عام رجحان تھا کہ ہندوستان اور اس جیسے دوسرے ملکوں کو دارالحرب قرار دے کر سود کے جواز کا فتوٰی نہیں دیا جا سکتا۔ اس میں دارالحرب، دارالامن، اور دارالاسلام پر بحث ہوئی اور مقالات پیش ہوئے، ان کی روشنی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جو اسلام کی دستوری ہدایات اور قانون بین الممالک کی روشنی میں اس بات پر غور کرے گی کہ آج کے دور میں موجودہ ملکوں کو کتنی قسموں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے اور ان کے کیا احکام ہوں گے اور ان میں بسنے والی مسلم آبادی کا کیا  کردار حکومت اور دیگر عوام کے ساتھ ہونا چاہیئے۔
سیمینار میں غیر سودی بینکاری کو بڑھاوا دینے کے لیے ایک جامع خاکہ کی ضرورت سے اتفاق کرتے ہوئے ایک ایسی کمیٹی کی تشکیل کا فیصلہ کیا گیا جس میں علماء کے علاوہ معاشیات و بینکنگ کے ماہرین بھی شامل ہوں گے۔
کرنسی نوٹوں پر بحث کے بعد اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ شریعت میں نوٹوں کی حیثیت زر اصطلاحی و قانونی کی ہے اس لیے ان میں زکوٰۃ واجب ہے۔ سیمینار نے سفارش کی کہ مہر کا تعین سونے اور چاندی  کی مقدار میں کیا جائے تو عورتوں کے حقوق کا تحفظ ہو گا اور کرنسی کی قوتِ خرید میں خسارہ سے ان پر اثر نہ پڑے گا۔ 
سیمینار نے اعضاء کی پیوندکاری اور خریدوفروخت پر بھی بحث کی اور تجاویز منظور کی گئیں۔ اس سیمینار نے نئے مسائل کے حل ڈھونڈنے میں علماء اسلام کی اجتہادی صلاحیت کا ثبوت پیش کیا ہے اور یہ کہ شریعت ہر زمانہ کے مسائل کا بہتر حل پیش کرتی ہے۔

آپ نے پوچھا

ادارہ

شرعی مہر ۳۲ روپے؟

سوال: عام طور پر یہ سننے میں آتا ہے کہ حق مہر شرعی طور پر ۳۲ روپے ہے، اس کی کیا حقیقت ہے؟ (حافظ محمد سعید، کچا دروازہ، گوجرانوالہ)
جواب: اس کی کوئی اصلیت نہیں ہے، مہر کے بارے میں بہتر بات یہ ہے کہ خاوند کی حیثیت کے مطابق ہونا چاہیئے جسے وہ آسانی سے ادا کر سکے۔ کچھ عرصہ قبل تک ایک سو بتیس روپے چھ آنے کو مہر فاطمی کے برابر سمجھا جاتا تھا جو کسی دور میں ممکن ہے صحیح ہو لیکن چاندی کی موجودہ قیمت کے لحاظ سے کسی صورت بھی یہ مہر فاطمی نہیں ہے۔
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا مہر پانچ سو درہم تھا، درہم چاندی کا سکہ تھا جس کا وزن ساڑھے تین ماشے بیان کیا جاتا ہے، اس حساب سے پانچ سو درہم کا وزن ساڑھے ستر سو ماشے بنتا ہے یعنی ایک سو پینتالیس تولے اور دس ماشے۔ اور ان دنوں (۱۹۹۰ء) چاندی کا بھاؤ کم و بیش ستر روپے تولہ ہے، اس طرح چاندی کی موجودہ قیمت کے حساب سے مہر فاطمی دس ہزار روپے سے زائد بنتا ہے۔
اس لیے بتیس روپے کو شرعی مہر قرار دینا درست نہیں ہے بلکہ احناف کے ہاں تو بتیس روپے مہر مقرر کرنا ویسے بھی جائز نہیں ہے کیونکہ احناف کے نزدیک مہر کی کم سے کم مقدار دس درہم متعین ہے جس کی بنیاد جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد پر ہے کہ ’’لَا مَہْرَ اَقَلَّ مِنْ عَشَرَۃ دَرَاھِمْ‘‘ دس درہم سے کم مہر جائز  نہیں ہے۔ دس درہم کا وزن ایک ماشہ کم تین تولے ہے اور قیمت کے اعتبار سے دو سو روپے کے لگ بھگ رقم بنتی ہے۔ اس سلسلہ میں صاحبِ ہدایہؒ نے مہر کے باب میں احناف کے اس موقف کی وضاحت کی ہے کہ اگر کسی نے دس درہم سے کم مہر مقرر کر لیا تو بھی اسے کم از کم دس درہم (یعنی دو سو روپے کے لگ بھگ) ہی ادا کرنا ہوں گے۔

تیتو میر کون تھے؟

سوال: تحریکِ آزادی کے حوالہ سے بعض مضامین میں تیتومیرؒ کا ذکر آتا ہے، یہ کون بزرگ تھے اور تحریکِ آزادی میں ان کا کیا کردار ہے؟ (محمد عاصم بٹ، گکھڑ، ضلع گوجرانوالہ)
جواب: تیتومیرؒ کا نام نثار علی تھا، بنگال کے رہنے والے تھے، اپنے گاؤں نوکل باڑیہ میں لٹھ مار قسم کے نوجوان شمار ہوتے تھے۔ یہ اس دور کی بات ہے جب امیر المؤمنین سید احمد شہیدؒ اور امام المجاہدین شاہ اسماعیل شہیدؒ جہادِ آزادی کی تیاری کے سلسلہ میں حجاز مقدس گئے  ہوئے تھے۔ نثار علیؒ بھی اسی سال حج کے لیے گئے، سید احمد شہیدؒ سے ملاقات ہوئی، ان کی صحبت نے  ذہن کا رخ بدل دیا۔ دل میں آزادی کا جذبہ انگڑائی لینے لگا، واپس آ کر علاقہ کے ہندو زمینداروں اور جاگیرداروں کے خلاف نوجوانوں کو منظم کرنا شروع کر دیا اور دینی اقدار کی ترویج کے لیے جدوجہد کی۔ نثار علیؒ کی محنت سے نوجوانوں کا ایک اچھا خاصا گروہ دینداری کی طرف مائل ہوا۔ نماز کی پابندی کے ساتھ ڈاڑھی کی سنت بھی زندہ ہونے لگی۔ ہندو جاگیرداروں نے دینی بیداری کو خطرہ سمجھتے ہوئے اس رجحان کو قوت کے زور سے دبانا چاہا اور ڈاڑھی پر ٹیکس لگا دیا۔ نثار علیؒ کے گروہ نے ٹیکس دینے سے انکار کر دیا، کشمکش بڑھی، محاذ آرائی کی صورت پیدا ہو گئی۔
نثار علیؒ نے ہزاروں ساتھیوں کے ساتھ اپنے گاؤں میں مورچہ بندی کر لی اور اردگرد کے علاقہ پر علاقہ پر قبضہ کر کے انگریزی اقتدار کے خاتمہ اور مسلمانوں کی حکومت کے قیام کا اعلان کر دیا۔ ہزاروں مجاہدین کے ساتھ نثار علیؒ نے یلغار شروع کی، انگریزی فوج اس کا سامنا نہ کر سکی اور بالآخر کلکتہ سے کمانڈر الیگزینڈر کی قیادت میں انگریزی لشکر مقابلہ کے لیے آیا اور اسے بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے بعد کلکتہ سے دوسرا انگریزی لشکر آیا اور اس سے مقابلہ کرتے ہوئے نثار علیؒ نے جو اب تیتو میر کے لقب سے مشہور ہو چکے تھے جامِ شہادت نوش کیا اور ان کے متعدد ساتھیوں کو گرفتار کر کے بعد میں پھانسی دے دی گئی۔ امیر المؤمنین سید احمد شہیدؒ نے بالاکوٹ میں مئی ۱۸۳۱ء میں جامِ شہادت نوش کیا جبکہ ان کے تربیت یافتہ بنگالی مجاہد نثار علی عرف تیتومیرؒ اسی سال نومبر یا دسمبر میں عروسِ شہادت سے ہمکنار ہوئے۔

فئی اور غنیمت کا فرق؟

سوال: قرآن کریم میں غنیمت اور فئی دونوں کا ذکر کیا گیا ہے، ان دونوں میں فرق کیا ہے؟ (رشید احمد، دوبئی)
جواب: غنیمت اور فئے دونوں کفار سے حاصل شدہ مال کو کہتے ہیں لیکن فرق یہ ہے کہ جو مال اور سامان میدانِ جنگ میں مقابلہ کے ساتھ کفار سے وصول ہو وہ غنیمت کہلاتا ہے، اور جو سازوسامان مسلمانوں کے لشکر سے مرعوب ہو کر لڑائی کے بغیر کفار چھوڑ کر چلے جائیں اسے فئے کہتے ہیں، یا جنگ کی صورت میں کفار کی جو زمین مسلمانوں کے قبضے میں آئے اور اسے بعد میں کفار ہی کے قبضہ میں چھوڑ کر ان پر جزیہ یا خراج عائد کر دیا جائے تو یہ آمدنی بھی فئی شمار ہوتی ہے۔
غنیمت اور فئے میں دوسرا فرق یہ ہے کہ قرآن کریم کے حکم کے مطابق غنیمت کا ایک خمس مال بیت المال کے لیے الگ کر کے باقی مال مجاہدین میں تقسیم کیا جاتا ہے، جبکہ فئی سارے کا سارا بیت المال کا حق ہے اور بیت المال کی تحویل میں جانے کے بعد بیت المال کے مقرر کردہ اصول و ضوابط کے مطابق اسے صرف کیا جا سکتا ہے۔

تعارف و تبصرہ

ادارہ

’’معالم العرفان فی دروس القرآن (سورہ المائدہ)‘‘

افادات: حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی مدظلہ
مرتب: الحاج لعل دین ایم اے۔
صفحات: ۵۱۶ قیمت مجلد ۱۲۵ روپے۔ کتابت و طباعت عمدہ
ملنے کے پتے: (۱) مکتبہ دروس القرآن، محلہ فاروق گنج، گوجرانوالہ (۲) ادارہ نشر و اشاعت مدرسہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ۔
حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی مدظلہ العالی کے دروس قرآن کو اللہ تعالیٰ نے افادیت و قبولیت کے جس شرف سے نوازا ہے وہ حضرت صوفی صاحب مدظلہ کے خلوص، دینی معاملات میں ان کی متوازن سوچ، اظہارِ خیال میں اعتدال اور دینی علوم کے ساتھ ساتھ عصری تقاضوں پر ان کی گہری نظر کی علامت ہے۔ روزانہ نمازِ فجر کے بعد جامع مسجد نور میں دیے جانے والے ان دروس قرآن کو الحاج لعل دین صاحب بڑی محنت کے ساتھ مرتب کر رہے ہیں اور اب تک آخری دو پاروں کے علاوہ سورہ الفاتحہ، سورہ البقرہ، سورہ آل عمران اور سورہ النساء کے دروس سات ضخیم اور خوبصورت جلدوں کی صورت میں منظرِ عام پر آ چکے ہیں۔ اور زیر  نظر آٹھویں جلد سورہ المائدہ کے ۵۴ دروس پر مشتمل ہے جس میں حضرت صوفی صاحب مدظلہ نے اپنے مخصوص انداز میں سورہ المائدہ کے معارف و مسائل کو اس خوبی سے بیان کیا ہے کہ عام پڑھے لکھے لوگ ان سے بخوبی استفادہ کر سکتے ہیں اور اہلِ علم بھی محظوظ ہوتے ہیں۔
سورہ المائدہ میں حلال و حرام کے مسائل کے علاوہ سرقہ، قتل اور ڈاکہ جیسے جرائم کے بارے میں شرعی احکام اور بنی اسرائیل کے مختلف احوال کا ذکر بطور خاص اہمیت کا حامل ہے اور حضرت صوفی صاحب مدظلہ نے ان امور کی وضاحت اس انداز سے کی ہے کہ مختلف حلقوں کی طرف سے ان امور کے بارے میں پھیلائے گئے شکوک و شبہات کا خودبخود ازالہ ہو جاتا ہے۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ رب العزت حضرت صوفی صاحب مدظلہ کو تادیر سلامت رکھیں اور ان کے افادات کو زیادہ سے زیادہ خلقِ خدا کی ہدایت کا ذریعہ بنائیں، آمین یا الٰہ العالمین۔

’’انگریز کے باغی مسلمان‘‘

مصنف: جانباز مرزا
صفحات ۴۸۸ قیمت مجلد ۷۵ روپے۔ سرورق خوبصورت، کتابت و طباعت معیاری
ملنے کا پتہ: مکتبہ تبصرہ ۷/۴ گلشن کالونی، بادامی باغ، لاہور
جانباز مرزا باہمت بزرگ ہیں جو عمر کے اس حصہ میں ماضی، حال اور مستقبل سے بے خبر نئی نسل کو اس کے پرجوش ماضی کی یاد دلانے پر کمربستہ ہیں اور اپنے بڑھاپے اور بے سروسامانی کی پروا کیے بغیر اشاعتی محاذ پر ایک ادارے کا  بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں۔ جانباز مرزا نے آٹھ جلدوں میں ’’کاروانِ احرار‘‘ لکھی، امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی زندگی اور جدوجہد کو ایک مستقل کتاب ’’حیاتِ امیر شریعت‘‘ میں سمویا، جیل کی بلند و بالا دیواروں کے پیچھے انسانیت پر ہونے والے مظالم کا نقشہ ’’بڑھتا ہے ذوق جرم‘‘ میں پورے درد دل کے ساتھ کھینچا، تحریک ختم نبوت کی مرحلہ وار کہانی مرتب کی، اور اب ’’انگریز کے باغی مسلمان‘‘ کے عنوان سے ان مردانِ حر کے احوال و واقعات کو حیطۂ تحریر میں لا رہے ہیں جنہوں نے برٹش استعمار کے دورِ عروج میں اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر دنیا میں اپنے وقت کے سب سے بڑے سامراج کو للکارا اور بالآخر مسلسل جدوجہد اور قربانیوں کے بعد اسے برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش سے بوریا بستر سمیٹنے پر مجبور کر دیا۔
’’انگریز کے باغی مسلمان‘‘ کی پہلی جلد اس وقت ہمارے سامنے ہے جس کے سرورق پر مولانا عبید اللہ سندھیؒ، خان عبد الغفار خانؒ، مولانا حسرت  موہانیؒ، مولانا احمد علی لاہوریؒ، مولانا ابوالکلام آزادؒ اور امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے تصویری خاکے ہیں۔ اور اندرونی صفحات ۱۷۵۷ء سے ۱۸۹۴ء تک کی داستان حریت پر مشتمل ہیں اور ان میں داستانِ حریت کے مرکزی کرداروں نواب سراج الدولہؒ، نواب حیدر علیؒ، ٹیپو سلطانؒ، شاہ عبد العزیزؒ، حافظ رحمت خانؒ، بہادر شاہ ظفرؒ، سید احمد شہیدؒ، شاہ اسماعیل شہیدؒ، تیتو میر شہیدؒ، رائے احمد خان کھرل شہیدؒ، حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ، اور سید جمال الدین افغانیؒ جیسے عظیم مجاہدین آزادی کے معرکہ ہائے حریت و استقلال کا تذکرہ کیا گیا ہے۔
’’اپنی ذات میں ایک انجمن‘‘ کا محاورہ عام طور پر بڑی شخصیات کے بارے میں استعمال کیا جاتا ہے لیکن سچی بات یہ ہے کہ ہمارے سامنے کے لوگوں میں اگر یہ محاورہ کسی شخصیت پر فٹ آتا ہے تو وہ جانباز مرزا ہیں جو اپنی زندگی کے آٹھویں عشرہ کو بھی شاید عبور کر چکے ہیں لیکن لائبریریوں میں گھوم کر خود مواد اکٹھا کرتے ہیں، اسے ترتیب دیتے ہیں، اپنے بڑے اور لائق و فرمانبردار فرزند جناب خالد مرزا کو املاء کراتے ہیں، اپنی نگرانی میں خود کتابت کراتے ہیں، پروف ریڈنگ کرتے ہیں، چھپواتے ہیں، بستی بستی خود پہنچ کر کتاب اپنے دوستوں تک پہنچاتے ہیں اور کتاب کے تعارفی پوسٹر اپنے ہاتھوں سے دیواروں پر چسپاں کرتے ہیں۔ آج ہی صبح وہ ’’الشریعہ‘‘ کے دفتر میں اپنی کتاب دینے آئے تو ان کے ہاتھ میں ایک گٹھڑی تھی، انہوں نے گٹھڑی کھولی، اس میں سے ایک پوسٹر نکالا، ایک پوٹلی کھولی جس میں لئی تھی، پوسٹر پر خود لئی لگائی اور جامع مسجد کے مین گیٹ پر اسے اپنے ہاتھوں سے چسپاں کر دیا۔ یہ منظر دیکھ کر آنکھوں میں آنسو آ گئے مگر جانباز مرزا کی عزت نفس کے احترام نے انہیں پلکوں کی سرحد عبور نہ کرنے دی۔
ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس مردِ درویش کو صحت و سلامتی کے ساتھ اپنے اشاعتی منصوبے مکمل کرنے کی توفیق ارزانی فرمائیں کہ آج کے دور میں جبکہ وسائل و اسباب سے مالامال اشاعتی ادارے تاریخ کا چہرہ مسخ کرنے اور ماضی کی حقیقتوں پر مصلحتوں کے پردے ڈالنے پر تلے بیٹھے ہیں، جانباز مرزا جیسے ٹمٹماتے چراغ بھی اگر بجھ گئے تو ماضی کے حقائق کے ساتھ ہمارا رشتہ آخر کون قائم رکھے گا؟

’’آئینہ قادیانیت‘‘

مصنف: مولانا محمد فیروز خان
صفحات: ۱۴۴
ملنے کا پتہ: دارالعلوم مدنیہ، ڈسکہ، ضلع سیالکوٹ
قادیانیت ہمارے معاشرے کا ایک رستا ہوا ناسور ہے  جس کے جراثیم فرنگی استعمار نے اپنے مخصوص نوآبادیاتی مقاصد کے لیے ملتِ اسلامیہ کے جسم میں داخل کیے اور پھر ان کی ایسے سرپرستی اور پرورش کی کہ اس کی جڑیں عالمِ اسلام کے مختلف حصوں تک پھیل گئیں۔ قادیانیت کے مذہبی، سیاسی اور معاشرتی مفردات و نقصانات پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور علماء امت نے اس فتنہ کے ہر پہلو کو بے نقاب کیا ہے۔ زیرنظر رسالہ میں ہمارے محترم بزرگ مولانا محمد فیروز خان فاضل دیوبند نے قادیانیت کے بارے میں اپنی یادداشتوں کو مرتب کیا ہے۔ معلوماتی رسالہ ہے اور اس موضوع سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے اس کا مطالعہ بے حد مفید ہو گا۔

’’عورت کی سربراہی کا مسئلہ اور شبہات و مغالطات کا ایک جائزہ‘‘

تالیف: حافظ صلاح الدین یوسف
صفحات: ۱۳۰
ملنے کا پتہ: دارالدعوہ السلفیہ، شیش محل روڈ، لاہور
عورت کی حکمرانی کا مسئلہ قرآن و سنت اور اجماع امت کی رو سے طے شدہ امر ہے اور اس بات پر امت کے تمام مکاتبِ فکر کا چودہ سو سال سے اجماع چلا آتا ہے کہ کسی مسلم ریاست میں عورت کو حکمرانی کے منصب پر فائز کرنا شرعاً درست نہیں ہے۔ مگر یورپی سیاست کی  پیروی کا شوق بعض حضرات پر اس درجہ غالب آگیا ہے کہ وہ اس اجماعی اور مسلّمہ مسئلہ کو بھی شکوک و شبہات اور مغالطات پیدا کر کے متنازعہ بنانا چاہتے ہیں۔ اور بالکل اسی انداز سے دلائل کشید کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جیسے ختم نبوت جیسے اجماعی عقیدہ کے خلاف قادیانی علماء قرآن و سنت سے خودساختہ دلائل کشید کر کے امت کو دھوکہ دینے کے درپے رہے ہیں۔
ہفت روزہ الاعتصام لاہور کے فاضل مدیر مولانا حافظ صلاح الدین یوسف نے زیرنظر کتابچہ میں انہی لوگوں کے خودساختہ دلائل کا  جائزہ لیا ہے اور مغرب زدہ عناصر کے پیدا کردہ شکوک و شبہات کے تاروپود بکھیر کر اس حقیقت کا ایک بار پھر اثبات کیا ہے کہ اسلام کے  مسلّمہ اصول اور دلائل کی روشنی میں عورت کی حکمرانی کی کسی صورت میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔

تختۂ کابل الٹنا چند دن کی بات ہے

سرور میواتی

عزم و ہمت کے دھنی، آنِ وطن کے پاسباں
اے مجاہد عظمتِ اسلام کے تاباں نشاں
تیری عظمت کےمقابل سرنگوں ہے آسماں
تو نے استبداد کے ایواں ہلا کر رکھ دیے
روس کے ارمان مٹی میں ملا کر رکھ دیے
پھول فتح و کامرانی کے کھلا کر رکھ دیے
مرحبا صد مرحبا افغاں مجاہد شاد باد
ہے ترا مقصد خدا کی راہ میں کرنا جہاد
کاٹ دے پائے جہاں بیخ و بن شر و فساد
کر دیے مسمار تو نے آمریت کے حصار
بربریت کے نظر آتے ہیں اب ہر سو مزار
ہے ہمیشہ سے یہی اللہ والوں کا شعار
سطوتِ اسلام کے تو نے عَلم لہرا دیے
روس کے نمرود کو ناکوں چنے چبوا دیے
سرد سینوں میں الاؤ جوش کے دہکا دیے
ناک میں دم کر کے چھوڑا تو نے میخائیل کا
توڑ پھینکا زعمِ باطل ہندو اسرائیل کا
پھر گیا نقشہ نگاہوں میں صاحبِ فیل کا
فلیقاتل فی سبیل اللہ ہے مقصد ترا
چشمِ یزداں میں عمل مقبول ہے بے حد ترا
ہو گیا ہے محفلِ عالم میں اونچا قد ترا
راہِ دیں میں جہدِ پیہم جب تری دن رات ہے
فتح و تائیدِ خداوندی بھی تیرے ساتھ ہے
تختۂ کابل الٹنا چند دن کی بات ہے

روزے کا فلسفہ

حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ

عبادت کا ایک طریقہ روزہ ہے۔ روزہ کی حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے معبود کے لیے شدید و ثقیل مشقت اٹھانے کے لیے تیار ہو جائے۔ اس کا فلسفہ یہ ہے کہ انسان جب کسی سے سخت دل بستگی اور قلبی محبت کرتا ہے تو پھر اس بات کی پرواہ نہیں کرتا کہ اس کی اپنی زندگی اور مرافقِ حیات درست ہیں یا نہیں اور وہ عیش و آرام میں ہے یا تکلیف و رنج میں۔
محبوبِ حقیقی کی رضا حاصل کرنے کے لیے اقوامِ عالم نے مختلف مسلک اختیار کیے ہیں، بعض لوگوں نے سخت سے سخت جسمانی تکلیف اٹھانا موجبِ سعادت اور باعثِ رضائے الٰہی سمجھا اور ایسے متاعبِ شاقہ کو ضروری سمجھا ہے جن میں فطرتِ انسانی اور خلق اللہ کی تبدیلی نظر آتی ہے۔ مثلاً وہ کسی عضو شریف کو مثلاً ہاتھ پاؤں وغیرہ کو ایک ہی حالت میں رکھ کر اس کو خشک کر لیتے ہیں، یا عمر بھر تجرد کی زندگی بسر کرتے ہیں بلکہ عضوِ تناسل کاٹ لیتے ہیں اور قوتِ مردمی کا کلی استیصال کرتے ہیں، یا اس قسم کی اور بے شمار دوسری باتیں جو سنتِ الٰہی کے خلاف ہیں۔
یہ یاد رکھو کہ یہ سب طریقے جاہلانہ طریقے ہیں اور ان پر عمل پیرا ہونے والے عابدوں کو معبودِ حقیقی کی خوشنودی حاصل نہیں ہو سکتی کیونکہ ان سے خلق اللہ اور سنتِ الٰہی کی تغیر و تبدیلی آتی ہے۔ اس کی سب سے اچھی اور بہترین صورت وہی ہے جس میں بڑی بڑی نفسانی خواہشات و لذات مثلاً کھانا پینا اور جنسی تعلق کو اتنی دیر کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے جو نہ تو بہت کم ہو جس کا کچھ اثر ظاہر و محسوس نہ ہو، اور نہ اتنی دیر تک خواہشات مذکورہ کو ترک کیا جائے کہ ریاضت کرنے والے کے جسم اور اس کے قوائے بدنیہ پر مضر اثر پڑے اور فساد مزاج کا باعث ہو۔
(البدور البازغہ مترجم ۔ ص ۳۰۶)

سرمایہ داری کا بت

حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ

ہندو جب بھی کوئی نیا نظام پیدا کرتا ہے تو اس کی بنیاد سرمایہ داری پر ہوتی ہے۔ چنانچہ گاندھی جی جیسا شخص بھی انسانیت کا اتنا بڑا نمائندہ بن کر سرمایہ داری سے ایک انچ آگے نہیں بڑھ سکا۔ اسی طرح پنڈت جواہر لال نہرو کمیونسٹ ہیں مگر وہ بھی سرمایہ دار ہیں۔ ان کے مقابلہ میں حسرت موہانی کو لیجئے، جس دن اس نے اشتراکیت قبول کی وہ اپنی تمام جائیداد ختم کر چکا اور اب وہ ایک کوڑی کا بھی مالک نہیں۔ پنڈت جواہر لال نہرو نے یورپ جا کر سوشلسٹوں کے ساتھ رہ کر سوشلزم سیکھا مگر حسرت اپنی ذاتی کاوش سے اس مرتبہ پر پہنچے۔ یہ فرق ہے مسلم سوسائٹی اور ہندو سوسائٹی میں، مسلم جس وقت اپنے اصلی نظام پر آئے گا وہ سرمایہ داری کا بت توڑنے والا ہو گا اور آج دنیا میں سرمایہ داری کے سوا کونسا بڑا بت ہے جسے توڑنے کی ضرورت ہے؟
(خطبات و مقالات ۔ ص ۸۸)
مشاورت کا مسئلہ اسلام میں بہت بڑا مسئلہ ہے لیکن اسلامی حکومتوں کو شورٰی سے خالی کر کے مطلق العنان جاہل حکمرانوں اور امیروں کا کھیل بنا دیا گیا ہے۔ وہ مسلمانوں کی امانت (سرکاری خزانے) سے اپنی شہوت پرستیوں پر خرچ کرتے ہیں اور وہ بڑی بڑی مصلحتوں کے مقابلہ میں خیانت کرتے ہیں اور ان سے کوئی پوچھنے والا نہیں۔ اس قسم کی غلطیوں کا خمیازہ مسلمانوں کو اس غلط تفسیر کی وجہ سے بھگتنا پڑا۔ ورنہ ہر ایک مسلمان ایک حاکم کے اوپر ننگی تلوار ہے، وہ حاکم کیوں قانونِ الٰہی کی اطاعت نہیں کرتا؟ اگر وہ اطاعت نہیں کرتا تو کس بنا پر ہم سے اطاعت کا طلبگار ہوتا ہے؟ یہ طاقت مسلمانوں میں پھر سے پیدا ہو سکتی ہے اور اس سے ان کی جماعتی زندگی آسانی کے ساتھ قرآن کے مطابق بن سکتی ہے۔
(عنوانِ انقلاب ۔ ص ۱۲۶)

مئی ۱۹۹۰ء

مسلم سربراہ کانفرنس ۔ وقت کا اہم تقاضہمولانا ابوعمار زاہد الراشدی
شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کا اجلاسادارہ
مسلم اجتماعیت کے ناگزیر تقاضےمولانا ابوالکلام آزاد
قرآنِ کریم میں تکرار و قصص کے اسباب و وجوہمولانا رحمت اللہ کیرانویؒ
بعثتِ نبویؐ کے وقت ہندو معاشرہ کی ایک جھلکشیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر
امامِ عزیمت امام احمد بن حنبلؒ اور دار و رَسَن کا معرکہمولانا ابوالکلام آزاد
مولانا آزادؒ کا سنِ پیدائش ۔ ایک حیرت انگیز انکشافدیوبند ٹائمز
کیا فرعون مسلمان ہو گیا تھا؟شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنیؒ
دُشمنانِ مصطفٰی ﷺ کے ناپاک منصوبےپروفیسر غلام رسول عدیم
آزاد جموں و کشمیر ۔ پاکستان میں نفاذِ اسلام کے قافلے کا ہراول دستہادارہ
ایسٹر ۔ قدیم بت پرستی کا ایک جدید نشانمحمد اسلم رانا
مسیحی مشنریوں کی سرگرمیاں اور مسلم علماء اور دینی اداروں کی ذمہ داریمحمد عمار خان ناصر
تہذیبِ جدید یا دورِ جاہلیت کی واپسیحافظ محمد اقبال رنگونی
پاکستان میں نفاذ اسلام کی جدوجہد اور علماء کرام کی ذمہ داریاںمولانا ابوعمار زاہد الراشدی
شریعت کا نظام اس ملک میں اک بار آنے دوسرور میواتی
آپ نے پوچھاادارہ
تعارف و تبصرہادارہ
ذیابیطس کے اسباب اور علاجحکیم محمد عمران مغل
دینی شعائر کے ساتھ استہزاء و تمسخر کا مذموم رجحانشیخ التفسیر مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ
والدین اور اولاد کے باہمی حقوقحضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ
سود کے خلاف قرآنِ کریم کا اعلانِ جنگحضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ

مسلم سربراہ کانفرنس ۔ وقت کا اہم تقاضہ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

گزشتہ ہفتے سعودی مملکت کے فرمانروا شاہ فہد کے ساتھ حکومت پاکستان کے ایک وفد کی ملاقات کے حوالے سے یہ خبر اخبارات میں شائع ہوئی ہے کہ شاہ فہد مسئلہ کشمیر پر اسلامی سربراہ کانفرنس بلانے والے ہیں۔ معلوم نہیں اس خبر کی حقیقت کیا ہے لیکن جہاں تک اسلامی سربراہی کانفرنس کا اجلاس طلب کرنے کی ضرورت ہے اس سے انکار یا صرفِ نظر کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔

کشمیری حریت پسند جس جرأت و استقلال کے ساتھ حصولِ آزادی کے لیے اپنے خون کی قربانی دے رہے ہیں اور افغان مجاہدین کے گیارہ سالہ کامیاب جہادِ آزادی کو آخری مراحل میں جس طرح سازشوں کے ذریعے ناکامی میں بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے اس کا تقاضا ہے کہ مسلم سربراہ سر جوڑ کر بیٹھیں اور افغانستان و کشمیر کے ساتھ ساتھ فلسطین، آذربائیجان، مورو، ایریٹیریا، اراکان (برما) اور وسطی ایشیا کی مسلم ریاستوں میں ابھرنے والی آزادی کی تحریکات کے حوالہ سے اپنے اجتماعی کردار کا تعین کریں۔

یہ درست ہے کہ مسلم ممالک کے بیشتر موجودہ حکمرانوں کے شخصی اور گروہی مفادات استعماری قوتوں کے ساتھ وابستہ ہیں اور وہ اس وقت اس دوراہے پر کھڑے ہیں کہ عالم اسلام میں آزادی، غلبۂ اسلام اور دینی بیداری کے بڑھتے ہوئے رجحانات کا ساتھ دیں یا مسلم ممالک کے موجودہ فرسودہ انتظامی، سیاسی اور اقتصادی ڈھانچوں کے تحفظ کی ناکام تگ و دو میں لگے رہیں۔ لیکن مسلم حکمرانوں کو ایک بات نوٹ کر لینی چاہیے کہ عالم اسلام اب خواب غفلت سے بیدار ہو رہا ہے اور اگر ان حکمرانوں نے بیداری اور آزادی کی ان لہروں کے مخالف سمت چلنے کی کوشش کی تو تاریخ میں ان کا یہ جرم کبھی معاف نہیں ہوگا۔

اس پس منظر میں اسلامی سربراہ کانفرنس کے پلیٹ فارم پر جمع ہو کر مسلم حکمران اگر اپنے مثبت اور مؤثر کردار کا تعین کرتے ہیں تو نہ صرف افغانستان، کشمیر، فلسطین اور دیگر خطوں کے مظلوم مسلمان ان کے شکر گزار ہوں گے بلکہ انہیں اپنی گزشتہ غلطیوں اور کوتاہیوں کی تلافی کا راستہ بھی مل جائے گا۔

شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کا اجلاس

ادارہ

شاہ ولی اللہ یونیورسٹی، اٹاوہ، جی ٹی روڈ، گوجرانوالہ کی انتظامیہ اور خصوصی معاونین کا ایک اہم اجلاس ۲۶ مارچ ۱۹۹۰ء مطابق ۲۸ شعبان المعظم ۱۴۱۰ھ شام پانچ بجے سائٹ آفس میں منعقد ہوا جس کی صدارت یونیورسٹی کے سرپرستِ اعلٰی شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر مدظلہ العالی نے کی۔ عصر کی نماز سائٹ آفس کے سامنے گراؤنڈ میں حضرت شیخ الحدیث مدظلہ کی امامت میں ادا کی گئی اور اس کے بعد مولانا زاہد الراشدی، الحاج میاں محمد رفیق، اور جناب محمد سلیم (آرکیٹیکٹ) نے شرکاء اجلاس کو منصوبہ کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔
مولانا زاہد الراشدی نے بتایا کہ گذشتہ پانچ سال کے دوران زمین کی خریداری اور دیگر انتظامی، تعمیری اور اشاعتی امور پر اب تک کم و بیش انتالیس لاکھ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں جس کے تحت اس وقت ساڑھے بتیس ایکڑ (دو سو ساٹھ کنال) زمین حاصل کرنے کے علاوہ آفس بلاک کی تعمیر  مکمل کی جا چکی ہے اور پہلے تعلیمی بلاک کی کھدائی کا کام مکمل ہو گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ سارے اخراجات اصحابِ خیر کے تعاون سے پورے کیے گئے ہیں اور اس سلسلہ میں کسی قسم کی سرکاری گرانٹ نہ لینے کا بنیادی پالیسی کے طور پر فیصلہ کیا گیا ہے۔
الحاج میاں محمد رفیق (صدر انتظامیہ) نے بتایا کہ اٹاوہ ریلوے کراسنگ سے شاہ ولی اللہ یونیورسٹی تک ڈسٹرکٹ کونسل نے جس پختہ سڑک کی منظوری دی تھی اس کا کام شروع ہو چکا ہے اور چند روز تک مکمل ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ گوجرانوالہ کے مخیر احباب نے ہمارے ساتھ اس مشن میں جو مخلصانہ تعاون کیا ہے اس کی برکت سے ہم اس مرحلہ تک پہنچے ہیں اور اب تعلیمی بلاک کی تعمیر کا کام شروع ہو چکا ہے، اس لیے احباب کو پہلے سے زیادہ بڑھ چڑھ کر تعاون کرنا چاہیئے اور اس کارِ خیر میں زیادہ سے زیادہ حصہ لینا چاہیئے۔
یونیورسٹی انتظامیہ کے خازن الحاج شیخ محمد یعقوب نے بتایا کہ اس وقت ہمارے پاس تقریباً تین لاکھ روپے کی رقم موجود ہے جبکہ تعمیری پروگرام کو مکمل کرنے کے لیے اس سے کہیں زیادہ رقم کی ضرورت ہے۔ جناب محمد سلیم (آرکیٹیکٹ) نے بتایا کہ پہلا تعمیری بلاک، جس کی بنیادوں کی کھدائی ہو چکی ہے، دو منزلہ ہو گا جس میں اٹھارہ کلاس رومز اور اساتذہ کے پندرہ کمرے ہوں گے۔ یہ بلاک تقریباً ستر لاکھ روپے کی لاگت سے ایک سال میں مکمل ہو گا۔ انہوں نے یونیورسٹی کے ماسٹر پلان اور تعلیمی بلاک کے بارے میں تفصیلات بیان کیں اور اس سلسلہ میں شرکاء اجلاس کے سوالات کے جوابات دیے۔
شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جمعیۃ اہل السنۃ والجماعۃ کے عہدہ داروں، اراکین اور معاونین کو شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کے منصوبہ میں مرحلہ وار پیشرفت اور تعمیری کام کے باقاعدہ آغاز پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کی تعمیر آج کے دور کی ایک اہم  ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید علوم اور زبانوں سے علماء کا واقف ہونا ازحد ضروری ہے کیونکہ موجودہ دور میں دنیا بھر میں تمام طبقات تک اسلام کا پیغام پہنچانا اس کے بغیر ممکن نہیں ہے۔
حضرت شیخ الحدیث مدظلہ نے اپنے دورۂ برطانیہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مجھے چند سال قبل برطانیہ کے مختلف شہروں میں جانے کا موقع ملا اور متعدد برطانوی باشندوں سے بات چیت ہوئی، ایک انگریز نے مجھ سے پوچھا کہ آپ نے برطانیہ کے معاشرہ کو کیسا پایا ہے؟ میں نے جواب دیا  کہ یہاں جسم کے لیے تو ہر قسم کی سہولت مہیا کی گئی ہے لیکن روح کے لیے کوئی اہتمام نہیں کیا گیا۔ اس بات سے اس نے اتفاق کیا۔ یہ گفتگو ترجمان کے ذریعے ہوئی کیونکہ میں انگریزی زبان سے واقف نہیں۔ اس موقع پر مجھے محسوس ہوا کہ اگر مجھے انگریزی زبان سے واقفیت ہوتی تو میں اسلام کی زیادہ بہتر انداز میں ترجمانی کر سکتا تھا۔ یہ ہمارے اندر کمی ہے جس کا ہمیں احساس کرنا چاہیئے اور شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کے قیام کا ایک مقصد اس کمی کو دور کرنا بھی ہے۔
حضرت شیخ الحدیث نے اصحابِ ثروت پر زور دیا کہ وہ اس اہم مشن کی طرف خصوصی توجہ دیں اور اس منصوبہ کی تکمیل کے لیے انتظامیہ سے بھرپور تعاون کریں۔

مسلم اجتماعیت کے ناگزیر تقاضے

مولانا ابوالکلام آزاد

جناب ابو سلمان شاہجہانپوری کی تصنیف ’’تحریک نظم جماعت‘‘ سے ایک انتخاب۔
ترتیب و انتخاب: مولانا سراج نعمانی، نوشہرہ صدر

۱۹۱۶ء کے لیل و نہار قریب الاختتام تھے جب اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے یہ حقیقت اس عاجز پر منکشف کی اور مجھے یقین ہو گیا کہ جب تک یہ عقدہ حل نہ ہو گا ہماری کوئی سعی و جستجو کامیاب نہ ہو گی۔ چنانچہ اسی وقت سے سرگرم سعی و تدبیر ہو گیا (ص ۳۱)۔
۱۹۱۶ء کی بات ہے کہ مجھے خیال ہوا کہ ہندوستان کے علماء و مشائخ کو عزائم و مقاصدِ وقت پر توجہ دلاؤں، ممکن ہے چند اصحابِ رشد و عمل نکل آئیں۔ چنانچہ میں نے اس کی کوشش کی لیکن ایک شخصیت کو مستثنٰی کر دینے کے بعد سب کا متفقہ جواب یہی تھا کہ یہ دعوت ایک فتنہ ہے ’’اِئْذَنْ لِّیْ وَلَا تَفْتِنِّیْ‘‘۔ یہ مستثنٰی شخصیت مولانا محمود الحسن دیوبندیؒ کی تھی جو اَب رحمتِ الٰہی کے جوار میں پہنچ چکی ہے (ص ۵۴)۔
۱۹۱۴ء میں جب میں نے ہندوستان کے بعض اکابر علماء و مشائخ کو عزم و سعی کی دعوت دی، بعض سے خود ملا اور بعض کے پاس مولوی عبید اللہ سندھیؒ کو بھیجا تو اکثر نے بعینہٖ یہی بات کی تھی جو آپ (مولانا محی الدین قصوری) کہہ رہے ہیں کہ علماء و مشائخ کی اتنی بڑی تعداد ملک میں موجود ہے کسی نے بھی آج تک یہ دعوت نہیں دی، اب سواد اعظم کے خلاف یہ قدم کیوں اٹھایا جا رہا ہے؟ (ص ۵۴)

پروگرام

۱۹۱۴ء سے ۱۹۱۸ء تک کے حوادثِ عالم کا سیلاب اگرچہ نہایت مہیب اور بہت مشکل تھا کہ ارادے اور فیصلے کی دیواریں اس کے مقابلے میں قائم رہ سکیں، عنایت الٰہی کی دستگیری سے میں نے اپنے ارادے اور عزم کو اس وقت بھی پوری طرح قائم و استوار پایا اور ایک لمحے کے لیے بھی میرے دل پر  مایوسی کو قبضہ نہ ملا۔ واقعات کی خطرناکی اور ناکامی میرے دل و جگر کو چیرا دے سکتی تھی اور حوادث کی غم گینی اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر سکتی تھی لیکن وہ اس یقین و عزم کو نہیں نکال سکتی تھی جو اس کے ریشے ریشے میں بسا ہوا ہے اور صرف اسی وقت نکل سکتا ہے جب دل بھی سینے سے نکل جائے۔ وہ زمین کی پیداوار نہیں کہ زمین کی کوئی طاقت اسے پامال کر سکے، وہ آسمان کی روح ہے ’’تَتَنَزَّلُ عَلَیْھِمُ الْمَلَائِکَۃُ اَن لَّا تَخَافُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا‘‘ آسمان کی بلندیوں سے اتری ہے۔ پس نہ تو زمین کی امیدیں اسے پیدا کر سکتی ہیں اور نہ زمین کی مایوسیاں اسے ہلاک کر سکتی ہیں۔
۱۹۱۸ء کے اواخر میں میں رانچی کے ایک گوشۂ عزلت میں بیٹھا ہوا ایک نئی امید کی تعمیر کا سروسامان دیکھ رہا تھا اور گویا دنیا نے ایک دروازے کے بند ہونے کی صدائیں سنی تھیں مگر میرے کان ایک نئے دروازے کے کھلنے پر لگے ہوئے تھے ؎
تفاوت است میان شنیدن من و تو
تو بستن در، و من فتح باب می شنوم
۱۹۱۸ء کے رمضان المبارک کا پہلا ہفتہ اور اس کی بیدار و معمور راتیں تھیں کہ جب میں نے ان ہی ہاتھوں سے امیدوں اور آرزوؤں کے نئے نقشوں پر لکیریں کھینچیں (ص ۶۰)۔
یکم جنوری ۱۹۲۰ء کو جب مجھے چار سال کی نظربندی سے رہا کیا گیا تو میں اپنی آئندہ زندگی، زندگی کے کاموں اور طریق و اسلوب کی نسبت خالی الذہن نہ تھا اور نہ اپنے ارادے کے بہنے کے لیے کسی سیلاب کا منتظر تھا۔ میں نے ہمیشہ بہنے کی جگہ چلنے کی کوشش کی ہے ۔۔۔ میں نے فیصلہ کر لیا کہ آئندہ مجھے کیا کرنا چاہیئے اور میری مشغولیت کا عنوان و طریق کیا ہو گا (ص ۵۷)۔

نقشۂ کار

(۱) رفقاء و طالبین کی ایک جماعت کی تعلیم و تربیت
(۲) تصنیف و تالیف
(۳) جماعتی اعمال یعنی تنظیم جماعت
چنانچہ جنوری ۱۹۲۰ء میں جب میں نظربندی کے گوشۂ قید و بند سے نکلا تو دو سال پیشتر کا یہ نقشۂ عمل میرے سامنے تھا اور اس لیے نہ تو مجھے واقعات کی رفتار کا انتظار تھا نہ مزید غوروفکر کا، بلکہ صرف شغل عمل ہی شروع کر دینا تھا۔ میں نے آئندہ کے لیے جن امور کا ارادہ کیا تھا ان میں ایک بات یہ بھی تھی کہ رانچی سے نکلتے ہی کسی عزلت میں رفقاء و طالبین کی ایک جماعت لے کر بیٹھ رہوں گا اور اپنی زبان و قلم کی خدمات میں مشغول ہو جاؤں گا۔ تصنیف و تالیف کے علاوہ جو جماعتی اعمال پیشِ نظر تھے ان کے لیے بھی سیر و گردش اور نقل و حرکت کی ضرورت نہ تھی، قیام و استقرار ہی مطلوب تھا۔ چنانچہ اس بناء پر رہائی کے بعد سیدھا کلکتہ کا قصد کیا۔ اگرچہ تمام ملک سے پیغام ہائے طلب و دعوت آ رہے تھے اور ہر طرف نظربندوں کی رہائی پر ہنگامہ تہنیت و تبریک گرم تھا لیکن میں کہیں نہ جا سکا اور سب سے عذر خواہ ہوا (ص ۶۱)۔

مولانا آزاد کی دعوتِ اتحاد و تنظیم پر طبقاتی ردِعمل

جدید تعلیم یافتہ طبقے کا ردعمل

مولانا سید سلیمان ندوی مرحوم نے جمعیۃ علماء ہند کے اجلاس کلکتہ میں یہ خدشہ ظاہر فرمایا تھا کہ
’’تعلیم یافتہ حضرات کو شبہ ہے کہ علماء اس پردے میں اپنی کھوئی ہوئی وجاہت کو دوبارہ قائم کرنا چاہتے ہیں۔‘‘
ایک اور مقام پر لکھتے ہیں:
’’۱۹۸۰ء میں معارف میں اس تحریک کو اٹھایا گیا اور اصلاحات کے سلسلہ میں اس کو پیش کیا گیا۔ پھر ۱۹۲۰ء میں یورپ سے واپسی کے بعد چاہا کہ اس کو تمام ہندوستان کا مسئلہ بنا دیا جائے مگر اس عہد کی جدید تعلیم کے علمبرداروں نے اس کو کسی طرح نہ چلنے دیا۔‘‘ (ص ۱۰۳)

پیروں کا کردار

مولانا آزاد کے خلیفہ اور سندھ میں اجتماعیت کے داعی شاہ سائیں مرحوم نے سندھ کی حد تک سندھ پیروں اور مشائخ کو متحد اور متفق کرنے کے لیے اَن تھک کوشش کی جسے علی محمد راشدی کے الفاظ میں پڑھیئے:
’’شاہ سائیں کا خیال تھا کہ ان سادہ لوحوں (پیروں) کو انگریز مداری کے بندر کی طرح نچائے گا۔ انہیں عوامی مصلحت اور مقاصد کے خلاف استعمال کرے گا۔ پھر جب یہ سوا اور بدنام ہو جائیں گے تو ہاتھ کھینچ لے گا۔۔۔ وہ چاہتے تھے کہ پیروں کو سرکار اور عام لیڈروں کے چکروں سے نکال کر عوام کے قریب رکھا جائے اور آزادی کی جدوجہد اور عوامی زندگی میں ان سے کام لیا جائے۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ پیر سرکاری دلّال بن کر عوام سے دور، سیاسی بصیرت سے بے بہرہ، خدمت قومی سے معطل، اور مریدوں کی صرف نذر کو اپنی زندگی کا مقصد سمجھ لیں ۔۔۔ اپنی تحریک کی ناکامی پر افسوس کرتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ اس فرقے کو تو بھیک کی عادت پڑ گئی ہے اور سچے پیر انتقال کر گئے۔ ان کی جگہ گداگر بیٹھتے جا رہے ہیں۔ گداگروں کا کیا اخلاق ہوتا ہے، کسی دن بڑوں کی قبریں بھی بیچ دیں گے۔‘‘ (ص ۱۷۱)

علماء سو کا اعتراف

مولانا آزاد مرحوم اپنی تحریک کی ناکامی کا ذمہ دار علماء سو کے جمود اور وقت کی عدم مساعدت کو قرار دیتے ہیں۔ ایک خط میں لکھتے ہیں:
میں اپنے پندرہ سال کے طلب و عشق کے بعد وقت کی عدم مساعدت و استعداد کا اعتراف کرتا ہوں ۔۔۔ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ موجودہ طبقہ علماء سے میں قطعاً مایوس ہوں اور اس کو قوانین اجتماع کے بالکل خلاف سمجھتا ہوں کہ ان کے جمود میں کسی طرح کا تقلب و تحول پیدا ہو۔ (ص ۱۰۱)

مولانا آزاد مرحوم کی نظر میں قائد و امام کی خصوصیات

ایک صاحبِ نظر و اجتہاد دماغ کی ضرورت ہے جس کا قلب کتاب و سنت کے غوامض سے معمور ہو۔ وہ اصولِ شرعیہ کو مسلمانانِ ہند کی موجودہ حالت پر ان کے توطنِ ہند کی حدیث العہد نوعیت پر، ایک ایک لمحے کے اندر متغیر ہو جانے والے حوادثِ جنگ و صلح پر ٹھیک ٹھیک منطبق کر لے، اور پھر تمام مصالح و مقاصدِ شرعیہ و ملیہ کے تحفظ و توازن کے بعد فتوٰی جاری کرتا رہے۔ آج ایک ایسے عازم امر کی ضرورت ہے جو وقت اور وقت کے سروسامان کو نہ دیکھے بلکہ وقت اپنے سارے سامانوں سمیت اس کی راہ تک رہا ہو۔ مشکلیں اس کی راہ میں گردوغبار و خاکستر بن کر اڑ جائیں اور دشواریاں اس کے جولانِ قدم کے نیچے خس و خاشاک بن کر پس جائیں۔ وہ وقت کا مخلوق نہ ہو کہ وقت کے حاکموں کی چاکری کرے، وہ وقت کا خالق و مالک ہو اور زمانہ اس کی جنبشِ لب پر حرکت کرے۔ اگر انسان اس کی طرف سے منہ موڑ لیں تو وہ خدا کے فرشتوں کو بلا لے۔ اگر دنیا اس کا ساتھ نہ دے تو وہ آسمان کو اپنی رفاقت کے لیے نیچے اتار لے۔ اس کا علم مشکوٰۃ نبوت سے ماخوذ ہو۔ اس کا قدم منہاجِ نبوت پر استوار ہو۔ اس کے قلب پر اللہ تعالیٰ حکمتِ رسالت کے تمام اسرار و غوامض اور معالجہ اقوام و طبابت، عہد و ایام کے تمام سرائر و خفایا اس طرح کھول دے کہ وہ صرف ایک صحیفہ کتاب و سنت اپنے ہاتھ میں لے کر دنیا کی ساری مشکلوں کے مقابلے اور ارواح و قلوب کی ساری بیماریوں کی شفاء کا اعلان کر دے ’’وَمَا ذٰلِکَ عَلَی اللہِ بِعَزِیْز‘‘ (ص ۳۴)۔
موجودہ وقت کسی ایسے مردِ راہ کا طالب ہے جو صاحبِ عزم و امر ہو اور اس لیے نہ ہو کہ دوسروں کی چوکھٹ پر ہدایت و راہنمائی کے لیے سر جھکائے بلکہ دوسرے اس لیے ہوں تاکہ راہنمائی کے لیے اس کا منہ تکیں اور جب وہ قدم اٹھائے تو اس کے نقشِ قدم کو دلیلِ راہ بنائیں ۔۔۔ وہ اپنے اندر مصباح ہدایت کی روشنی رکھتا ہو جو باہر کی تمام روشنیوں سے بے پروا کر دے (ص ۲۹۷)۔ یہ کام صرف ایک صاحبِ نظر و اجتہاد کا ہے جس کو قوم نے بالاتفاق تسلیم کر لیا ہو۔ وہ وقت اور حالت پر اصولِ شریعت کو منطبق کرے گا۔ ایک ایک جزئیہ حوادث و واقعات پر پوری کاروانی اور نکتہ شناسی کے ساتھ نظر ڈالے گا۔ امت و شرع کے اصولی مصالح و فوائد اس کے سامنے ہوں گے۔ کسی ایک گوشے ہی میں ایسا مستغرق نہ ہو جائے کہ باقی تمام گوشوں سے بے پروا ہو جائے۔
؏  حَفِظْتَ شَیْئًا وَ غَابَتْ عَنْکَ اَشْیَآء
سب سے بڑھ کر یہ کہ اعمال مہمہ امت کی راہ میں منہاجِ نبوت پر اس کا قدم استوار ہو گا اور ان ساری باتوں کے بعد علم و بصیرت کے ساتھ ہر وقت، ہر تغیر، ہر حالت کے لیے احکامِ شرعیہ کا استنباط کرے گا (ص ۳۶)
کاش مجھ میں ایسی قوت ہوتی یا وہ شے موجود ہوتی جس کی مدد سے میں تمہارے مقفل قلوب کے پٹ کھول سکتا تاکہ میری آواز تمہارے کانوں میں نہیں بلکہ تمہارے دل میں سما سکتی اور تم اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھ سکتے (ص ۹۵)۔

جماعتی زندگی کی خصوصیات

کتاب و سنت نے جماعتی زندگی کے تین رکن بتائے ہیں:
(ا) تمام لوگ کسی صاحبِ علم و عمل پر جمع ہو جائیں اور وہ ان کا امام ہو۔
(ب) جو کچھ وہ تعلیم دے ایمان و صداقت کے ساتھ قبول کریں۔
(ج) قرآن و سنت کے ماتحت اس کے جو احکام ہوں ان کی بلا چون و چرا تعمیل و اطاعت کریں۔ سب کی زبانیں گونگی ہوں، صرف اسی کی زبان گویا ہو۔ سب کے دماغ بیکار ہو جائیں، صرف اسی کا دماغ کارفرما  ہو۔ لوگوں کے پاس نہ زبان ہو نہ دماغ، صرف دل ہو جو قبول کرے، صرف ہاتھ پاؤں ہوں جو عمل کریں (ص ۳۰)۔

اجتماعیت کے قیام کے لیے شیخ الہند سے رابطہ

شیخ الہندؒ سے ملاقات

مولانا ابوالکلام فرماتے ہیں: حضرت مولانا محمود الحسنؒ سے میری ملاقات بھی دراصل اسی طلب و سعی کا نتیجہ تھی، انہوں نے پہلی ہی صحبت میں کامل اتفاق ظاہر فرمایا تھا اور یہ معاملہ بالکل صاف ہو گیا تھا کہ وہ اس منصب کو قبول کر لیں گے اور ہندوستان میں نظم جماعت کے قیام کا اندازہ کر لیا جائے گا۔ مگر افسوس ہے کہ بعض زود رائے اشخاص کے مشورے سے مولانا نے اچانک سفرِ حجاز کا ارادہ کر لیا اور میری کوئی منت سماجت بھی انہیں سفر سے باز نہ رکھ سکی (ص ۳۲)۔

شیخ الہندؒ کی تائید

مولانا عبد الرزاق ملیح آبادیؒ فرماتے ہیں:
’’میں نے شیخ الہندؒ سے (فرنگی محل لکھنؤ میں) تنہائی میں ملاقات کی۔ رسمی باتوں کے بعد ہندوستان میں مسلمانوں کی امامت کا تذکرہ چھیڑا۔ شیخ الہندؒ نے فرمایا، امامت کی ضرورت مسلّم ہے۔ عرض کیا، حضور سے زیادہ کون اس حقیقت کو جانتا ہے کہ اس منصب کے لیے وہی شخص موزوں ہو سکتا ہے جو زیادہ سے زیادہ ہوش مند، مدبر اور ڈپلومیٹ ہو، جس کی استقامت کو نہ تو کوئی تشویش متزلزل کر سکے نہ کوئی ترہیب۔۔۔ شیخ الہندؒ نے اتفاق ظاہر کیا تو عرض کیا کہ آپ کی رائے میں اس وقت امامت کا اہل کون ہے؟ یہ بھی اشارۃً کہہ دیا کہ بعض لوگ اس منصب کے لیے خود آپ کا نام لے رہے ہیں اور بحمد اللہ اہل بھی ہیں۔ شیخ بڑی معصومیت سے مسکرائے اور فرمایا، میں ایک لمحے کے لیے بھی تصور نہیں کر سکتا کہ مسلمانوں کا امام بنوں۔ عرض کیا کہ کچھ لوگ مولانا عبد الباری صاحب (فرنگی محلی) کا نام لے رہے ہیں۔ موصوف کا تقوٰی و استقامت مسلّم ہے مگر مزاج کی کیفیت سے آپ بھی واقف ہیں۔ شیخ نے سادگی سے جواب دیا، مولانا عبد الباری کے بہترین آدمی ہونے میں شبہ نہیں مگر منصب کی ذمہ داریاں کچھ اور ہی ہیں۔ عرض کیا، اور مولانا ابوالکلام آزاد کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ شیخ نے متانت سے فرمایا، میرا انتخاب بھی یہی ہے، اس وقت مولانا آزاد کے سوا کوئی شخص ’’امام الہند‘‘ نہیں ہو سکتا‘‘۔
مولانا مناظر احسن گیلانی لکھتے ہیں:
’’ایک دفعہ جیسا کہ میں نے سنا ہے لاہور میں دیوبند کی جماعت کے سربرآوردہ حضرات نے مولانا ابوالکلام آزاد کی بیعت کے ساتھ رضامندی کا اعلان کر دیا تھا۔ خیال آتا ہے کہ مولانا انور شاہ (کاشمیری)، مولانا شبیر احمد (عثمانی) اور مولانا حبیب الرحمٰن (دیوبندی) جیسی ممتاز ہستیوں کی طرف سے اس رضامندی کا اعلان کیا جا چکا تھا مگر اعلان سے آگے بات نہ بڑھی۔‘‘ (ص ۸۵)

شیخ الہند

مولانا مرحوم ہندوستان کے گذشتہ دور کے علماء کی آخری یادگار تھے، ان کی زندگی اس دور حرمان و فقدان میں علماء حق کے اوصاف و خصائل کا بہترین نمونہ تھی۔ ان کا آخری زمانہ جن اعمالِ حقہ میں بسر ہوا وہ علماء ہند کی تاریخ میں ہمیشہ یادگار رہیں گے۔ ستر برس کی عمر میں، جب ان کا قد ان کے دل کی طرح اللہ کے آگے جھک چکا تھا، عین جوارِ رحمت میں گرفتار کیا گیا اور کامل تین سال تک جزیرہ مالٹا میں نظربند رہے۔ یہ مصیبت انہیں صرف اس لیے برداشت کرنی پڑی کہ اسلام اور ملتِ اسلام کی تباہی و بربادی پر ان کا خدا پرست دل صبر نہ کر سکا اور انہوں نے اعدائے حق کی مرضات و ہوا کی تسلیم و اطاعت سے مردانہ وار انکار کر دیا۔ فی الحقیقت انہوں نے علماء حق و سلف کی سنت زندہ کر دی اور علماء ہند کے لیے اپنی سنت حسنہ یادگار چھوڑ گئے۔ وہ اگرچہ اب ہم میں موجود نہیں ہیں لیکن ان کی روحِ عمل موجود ہے اور اس کے لیے جسم کی طرح موت نہیں (۱۳۶)۔

شیخ الہندؒ کی فراست

جمعیۃ علماء ہند کا دوسرا سالانہ اجتماع ۱۹، ۲۰، ۲۱ نومبر ۱۹۲۰ء کو دہلی میں شیخ الہندؒ کی وفات سے ایک ہفتہ قبل ہوا تھا۔ صدارت شیخ الہندؒ کی تھی جبکہ ۵۰۰ سے زائد علماء نے اس میں شرکت کی تھی۔ اس اجتماع کا اہم مسئلہ امیر الہند کا انتخاب تھا۔ شیخ الہند اس انتخاب کے لیے ازحد بے چین تھے اور چاہتے تھے کہ یہ انتخاب اسی موقعہ پر کر لیا جائے۔ مولانا عبد الصمد رحمانی صاحب لکھتے ہیں کہ
’’وہ لوگ جو اس میں شریک تھے جانتے ہیں کہ اس وقت شیخ الہندؒ ایسے ناساز تھے کہ حیات کے بالکل آخری دور سے گزر رہے تھے، نقل و حرکت کی بالکل طاقت نہ تھی، لیکن اس کے باوجود ان کو اصرار تھا کہ اس نمائندہ اجتماع میں جبکہ تمام اسلامی ہند کے ذمہ دار اور اربابِ حل و عقد جمع ہیں، امیر الہند کا انتخاب کر لیا جائے اور میری چارپائی کو اٹھا کر جلسہ گاہ میں لے جایا جائے، پہلا شخص میں ہوں گا جو اس امیر کے ہاتھ پر بیعت کرے گا۔‘‘ (ص ۱۳۱)

امیر الہند کون؟

کتاب کے مرتب ابو سلمان شاہجہانپوری آغاز میں ہی جب شیخ الہندؒ کا ذکر مستقل باب میں کرتے ہیں تو اس سے پہلے ان کی یہ تحریر قاری کے سامنے آتی ہے، وہ  لکھتے ہیں کہ
’’تحریک کے امیر کی حیثیت سے شیخ الہند کو پیش کیا گیا ہے۔ بلاشبہ تحریک کے داعی کی حیثیت اور تحریک کی بنیادی اور اہم شخصیت مولانا ابوالکلام آزاد کی تھی لیکن ہندوستان کی امارتِ شرعیہ کی ذمہ داری کے لیے مولانا آزاد کی نگاہِ انتخاب حضرت ہی پر پڑی تھی اور حضرت نے اسے قبول فرما لیا تھا، اس لیے امام الہند کی حیثیت میرے نزدیک شیخ الہند کی ہے۔ یہ دوسری بات ہے کہ بعد میں اپنی نازک صحت کی بنا پر اپنے تئیں حضرت نے اس ذمہ داری سے الگ کر لیا تھا اور مولانا آزاد پر اپنا اعتماد فرما دیا تھا۔‘‘ (ص ۱۰۸)

قرآنِ کریم میں تکرار و قصص کے اسباب و وجوہ

مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ

عرب کے لوگ اکثر مشرک و بت پرست تھے اور خداوند کی توحید اور انبیاء کی نبوت اور قیامت کے آنے کا بالکل انکار کرتے تھے اور ان میں سے بعض کچھ افراط و تفریط کرتے تھے، اس لیے قرآن کے اندر مذکورہ تینوں امور کا بکثرت ذکر  آیا ہے نیز تکرار و قصص کے اور بھی کئی اسباب ہیں۔

سبب اول

یہ کہ قرآن مجید فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے بھی معجزہ ہے اس لیے ان میں ان قصص کو اللہ تعالیٰ نے بار بار ذکر کیا ہے، کہیں طویل اور کہیں مختصر، اور ہر جگہ ان کو بلاغت کے اعلیٰ درجہ پر رکھا اور پچھلی دفعہ سے زیادہ لطف مہیا کیا۔ یعنی اگر قرآن بشر کا کلام ہوتا تو اس بات سے عاری ہوتا (گویا یہ امر اعجازِ قرآن کی دلیل ہے)۔

سبب دوم

یہ کہ مخالفین کو صاف کہا گیا تھا کہ اگر تم کو کچھ شک ہو تو ایک ہی سورت کی مقدار ایسا کلام بنا کر دکھاؤ۔ تو احتمال تھا کہ وہ کہتے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو جو الفاظ آتے تھے ان کو اس نے استعمال کر لیا (یعنی اس کو اور الفاظ میں بیان کرنے سے قاصر  ہے لہٰذا کلامِ الٰہی نہیں ہے)۔ یا یہ کہتے کہ ہر ادیب کا اندازِ بیاں جدا جدا ہوتا ہے، اگر ہم ایک کا انداز اپنا نہیں سکے تو کیا ہوا؟ (یعنی اس (محمدؐ) نے بھی ایک ہی طریقہ اپنایا ہے جو دوسرے ادیبوں سے جدا ہے، تو اگر ہم ایک ہی طریقہ نہ اپنا سکے تو کیا قیامت آن پڑی۔ لیکن قرآن کریم میں قصص کو مختلف اندازوں میں بیان کرنے سے رفع ہو گیا۔ یا یہ کہتے یہ قصہ ہے اور قصص میں بلاغت کا دائرہ تنگ ہوتا ہے اور اس نے ایک دفعہ اس کو جو بلاغت سے بیان کیا ہے سو اتفاقاً ہوا ہے ورنہ ایسا اور الفاظ میں بیان نہ کر سکے گا۔ لیکن جب تکرارِ قصص ظاہر ہوا اور اندازِ بیان میں تشتت واقع ہوا تو ان تینوں اعتراضات کی جگہ نہ رہی۔

سبب سوم

یہ ہے کہ بعض اوقات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم قوم مخالف کی شرارت اور ایذاء سے ملول ہو جاتے تھے۔ سورہ حجر میں ہے:
وَلَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّکَ یَضِیْقُ صَدْرُکَ بِمَا یَقُوْلُوْنَ۔ (آیت ۹۷)
ترجمہ: ’’اور ہم جانتے ہیں کہ آپ کا دل تنگ پڑتا ہے ان کی باتوں سے‘‘۔
لہٰذا اللہ تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم  کی تسلی کے لیے ان قصص کو نقل فرماتے ہیں۔ سورۂ ہود میں ہے:
وَکُلًّا نَقُصُّ عَلَیْکَ مِنْ اَنْبَآءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِہٖ فُؤَادَکَ وَجَآءَکَ فِیْ ھٰذِہِ الْحَقُّ وَ مَوْعِظَۃً وَّذِکْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ۔ (آیت ۱۲۰)
ترجمہ: ’’ہم آپ پر جتنے بھی قصے انبیاء کے بیان کرتے ہیں سو اس کے ساتھ ہم آپ کے دل کو مضبوط کرتے ہیں اور اس میں آپ کو حق بات ملی ہے اور مؤمنوں کے واسطے نصیحت‘‘۔
اس لیے اکثر مقامات پر وقت موجود کے مناسب اسی قدر نقل ہوتا ہے جو تسلی کے لیے کافی ہو اور کچھ نہ کچھ سابقہ ذکر زیادہ مذکور ہوتا ہے۔

سبب چہارم

یہ ہے کہ گزرے ہوؤں کا حال آنے والوں کے لیے نصیحت قبول کرنے اور عبرت پکڑنے کا وسیلہ ہوتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ اکثر جگہوں میں  مسلمانوں کو نصیحت فرماتے ہیں اور منکرین کو عبرت دلاتے ہیں۔ جب مومنوں کو کافروں کے ہاتھوں سے اذیت پہنچتی ہے یا جب کوئی گروہ نیا نیا مسلمان ہوتا ہے تو ان قصوں میں سے کسی کا نقل کرنا مناسب حال ہوتا ہے تو ان کی نقل ظہور پذیر ہوتی ہے۔
(از ازالۃ الشکوک ج ۱ ص ۱۳۲ تا ۱۳۴)
انتخاب و تسہیل: حافظ محمد عمار خان ناصر

بعثتِ نبویؐ کے وقت ہندو معاشرہ کی ایک جھلک

شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر

کہا جاتا ہے کہ ہندوستان کی وہ بابرکت زمین ہے جس میں حضرت آدم علیہ السلام کا آسمان سے نزول ہوا تھا۔ گویا اس لحاظ سے ہندوستان کی زمین وہ اشرف قطعہ ہے جس کو سب سے پہلے نبیؑ کے مبارک قدموں نے روندا جس پر ہزارہا سال گزر چکے تاآنکہ آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا دور نزدیک ہوا۔ اس وقت سرزمینِ ہند میں بدکرداری، اخلاقی پستی اور دنارت کا یہ عالم تھا کہ مندروں کے محافظ اور مصلحینِ قوم بداخلاقی کا سرچشمہ تھے جو ہزاروں اور لاکھوں ناآزمودہ کار لوگوں کو مذہب کے نام اور شعبدہ بازی کے کرشموں سے خوب لوٹتے اور مزے سے عیش اڑاتے تھے (آر سی دت ج ۴ ص ۲۸۳)۔ راجوں اور مہاراجوں کے محلات میں بادہ نوشی کثرت سے رائج تھی اور رانیاں حالتِ خمار میں جامۂ عصمت و ناموس اتار ڈالتی تھیں (ایضاً ص ۳۴۳)۔ سڑکوں اور شاہراہوں پر آوارہ گرد اور جرائم پیشہ افراد کا ہر وقت مجمع لگا رہتا تھا (ایضاً ص ۴۶۹)۔
اس کا نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ کوئی شریف انسان اور خصوصیت سے باحیا عورتوں کا وہاں سے گزرنا وبالِ جان سے کم نہ تھا اور ہر وقت جان و عزت کا خطرہ درپیش رہتا تھا۔ دیوداسیوں اور عورتوں کی بداخلاقی اور جنسی جنون کی دل سوز حرکات اور حالات پڑھنے اور سننے سے بھی شرم محسوس ہوتی ہے اور کوئی شریف اور باحیا انسان ان کو پڑھ کر اپنے نفس کو آمادہ نہیں پاتا الّا یہ کہ دل پر جبر کر کے پڑھے تو اور بات ہے (ملاحظہ ہو سفرنامہ ابوزیدؒ ص ۱۳۰ اور احسن تقاسیم مقدسیؒ ص ۴۸۳)
جوا اس حد تک رائج تھا کہ سونے اور چاندی کے سکے اور زیورات کا تو کیا کہنا، عورتیں بھی جوئے میں ہاری جاتی تھیں اور ازدواجی تعلقات میں ایسی بے راہ روی اختیار کر لی گئی تھی کہ ایک ایک عورت کے کئی کئی شوہر ہوتے تھے۔ اور ان کی روحانیت کا یہ حال تھا کہ بعض فرقوں میں عورتیں مردوں کو اور مرد عورتوں کو ننگا کر کے ان کی شرمگاہوں کی پوجا کرتے تھے (ستیارتھ پرکاش سمولاس گیارہ ص ۳۶۷ طبع لاہور)۔ شاید وہ یہ خیال کرتے ہوں گے کہ شرمگاہ ہی دنیا کی جڑ اور منبع نسلِ انسانی ہے لہٰذا اس بابرکت اور کثیر المنفعت چیز کی پوجا کیوں نہ ہو؟ اور ایسے مردوں اور عورتوں کے ان کے نزدیک خاص القاب ہوتے تھے، چنانچہ لکھا ہے کہ
’’اور جب کسی عورت یا دیشیا کو یا کسی مرد کو ننگا کر کے اور ان کے ہاتھ میں تلوار کر ان کی جائے نہانی کی پرستش کرتے ہیں تو عورت کا نام دیوی اور مرد کا نام مہادیو رکھتے ہیں۔‘‘ (ستیارتھ پرکاش ص ۳۶۸)
شوہر کے مرنے پر بعض عورتوں کو خود ان کے باپ اور بھائی اعزہ و اقارب زندہ نذرِ آتش کر دیتے تھے اور اس شنیع کارروائی کو اپنی اصطلاح میں وہ ’ستّی‘‘ کہتے تھے۔ اور اس کی حکمت اور فلسفہ یہ بیان کرتے تھے کہ یہ عورت اپنے خاوند کے فراق کو گوارہ نہیں کر سکتی اور اس کی محبت و الفت میں اپنی جانِ عزیز کو اس پر قربان کر دینے کے لیے بطیب خاطر رضامند ہے۔ ممکن ہے بعض شوریدہ سر عورتیں اس قومی اور آبائی رسم کی وجہ سے اس کو قربانی ہی تصور کرتی ہوں مگر حتی الوسع موت کو کون پسند کرتا ہے؟ ان کی اس ظالمانہ رسم کا بعض مسلمان اور خدا رسیدہ صوفی شاعروں نے بھی تذکرہ کیا ہے، چنانچہ حضرت امیر خسروؒ یوں ارشاد فرماتے ہیں کہ ؎
خسروا در عشق بازی کم زہندو زن مباش
کز برائے مردہ می سوزند جان خویش را
اور جناب بیدل پشاوریؒ یوں کہتے ہیں کہ ؎
باتو میگویم مباش اے سادہ دل ہندو پسر
در طریق جاں سپاری کم زہندو دخترے
اور برہمنوں نے اپنی قلبی تسکین اور سہولت کے لیے یہ چند نفس پسند قوانین وضع کئے اور تراشے تھے:
  • برہمن کو کسی حالت میں خواہ وہ کتنے ہی سنگین جرائم کا مرتکب رہ چکا ہو، سزائے موت نہیں دی جا سکتی۔
  • کسی اونچی ذات کا مرد اگر کسی نیچی ذات کی عورت سے زنا کرے تو کوئی حرج نہیں۔
  • کسی بودھ راہبہ تک کی عصمت دری کی سزا میں معمولی جرمانہ کافی ہے۔
  • اگر کوئی اچھوت ذات کا شخص کسی اعلیٰ ذات والے کو چھو لے اور ہاتھ لگا دے تو اس کی سزا موت ہے۔
  • اگر کوئی نیچی ذات والا اپنے سے اونچی ذات والے کو مارے تو اس کے اعضاء کاٹ دیئے جائیں، اور اگر اس کو گالی دے تو اس کی زبان قطع کر دینی چاہیئے، اور اگر اسے تعلیم دینے کا دعوٰی کرے تو گرم تیل اس کے منہ میں ڈالنا چاہیئے (آرسی دت کی قدیم ہندوستان ص ۳۴۲)
یہ اصول و ضوابط اور قوانین تھے اہلِ ہند کے جس میں اچھوت اقوام کے لیے خیرخواہی کا ادنٰی جذبہ اور ان کی ہمدردی کا ایک حرف بھی موجود نہ تھا۔ جو بزبانِ حال شاید برہمنوں کے ان خودساختہ ملکی اور قومی قوانین پر آنسو بہاتے ہوئے یہ کہتے ہوں گے ؎
تم جو دیتے ہو نوشتہ وہ نوشتہ کیا ہے
جس میں ایک حرفِ وفا بھی کہیں مذکور نہیں

امامِ عزیمت امام احمد بن حنبلؒ اور دار و رَسَن کا معرکہ

مولانا ابوالکلام آزاد

تیسری صدی کے اوائل میں جب فتنۂ اعتزال و تعمق فی الدین اور بدعۃ مضلۂ تکلم یا مفلسفہ والحراف از اعتصام بالسنہ نے سر اٹھایا، اور صرف ایک ہی نہیں بلکہ لگاتار تین عظیم الشان فرمانرواؤں یعنی مامون، معتصم اور واثق باللہ کی شمشیر استبداد و قہر حکومت نے اس فتنہ کا ساتھ دیا، حتٰی کہ بقول علی بن المدینی کے فتنۂ ارتداد و منع زکوٰۃ (بعہد حضرت ابوبکرؓ) کے بعد یہ دوسرا فتنۂ عظیم تھا جو اسلام کو پیش آیا۔ تو کیا اس وقت علماء امت اور ائمہ شریعت سے عالمِ اسلام خالی ہو گیا تھا؟ غور تو کرو کیسے کیسے اساطین علم و فن اور اکابر فضل و کمال اس عہد میں موجود تھے؟ خود بغداد علماء اہل سنت و حدیث کا مرکز تھا مگر سب دیکھتے کے دیکھتے رہ گئے عزیمۃ دعوۃ و کمال مرتبۂ وراثت نبوت و قیام حق و ہدایت فی الارض والامۃ کا وہ جو ایک مخصوص مقام تھا صرف ایک ہی قائم لامر اللہ کے حصہ آیا یعنی سید المجددین امام الصالحین حضرت امام احمد بن حنبلؒ۔
اپنے اپنے رنگ میں سب صاحب مراتب و مقام تھے لیکن اس مرتبہ میں تو اور کسی کا سانجھا نہ تھا کہ قیام سنت و دین خالص کا قیامت تک کے  لیے فیصلہ ہونے والا تھا اور مامون و معتصم کے جبر و قہر اور بشر مریسی اور قاضی ابنِ ابی داؤد جیسے جبابرہ معتزلہ کے تسلط و حکومت نے علماء حق کے لیے صرف دو ہی راستے باز رکھے تھے۔ یا اصحاب بدعۃ کے آگے سر جھکا دیں اور مسئلہ خلقِ قرآن پر ایمان لا کر ہمیشہ کے لیے اس کی نظیر قائم کریں کہ شریعت میں صرف اتنا ہی نہیں ہے جو رسولؐ بتلا گیا بلکہ اس کے علاوہ بھی بہت کچھ کہا جا سکتا ہے اور ہر ظن کو اس میں دخل ہے، ہر رائے اس پر قاضی و امر ہے، ہر فلسفہ اس کا مالک و حاکم ہے ’’یفعل ما یشاء و یختار‘‘ ۔ اور یا پھر قید خانے میں رہنا، ہر روز کوڑوں سے پیٹا جانا اور ایسے تہ خانوں میں قید ہو جانا کہ ’’لا یرون فیہ الشمس ابدا‘‘ کو قبول کر لیں۔
بہتوں کے قدم تو ابتدا ہی میں لڑکھڑا گئے۔ بعضوں نے ابتدا میں استقامت دکھلائی لیکن پھر ضعف و رخصت کے گوشے میں پناہ گیر ہو گئے۔ عبد اللہ بن عمر القواریری اور حسن بن عماد امام موصوف کے ساتھ ہی قید کیے گئے تھے مگر شدائد و محن کی تاب نہ لا سکے اور اقرار کر کے چھوٹ گئے۔ بعضوں نے روپوشی اور گوشہ نشینی اختیار کر لی کہ کم از کم اپنا دامن تو بچا لے جائیں۔ کوئی اس وقت کہتا تھا ’’لیس ھذا زمان بکاء تضرع و دعا کدعاء الغریق‘‘ یعنی یہ زمانہ درسو اشاعت علوم و سنت کا نہیں ہے یہ تو وہ زمانہ ہے کہ بس اللہ کے آگے تضرع و زاری کرو اور ایسی دعائیں مانگو جیسی سمندر میں ڈوبتا ہوا شخص دعا مانگے۔ کوئی کہتا تھا ’’احفظوا السانکم دعا لجوا قلبکم و خذوا ما تعرفوا و دعوا ما تنکروا‘‘ اپنی زبانوں کی نگہبانی کرو، اپنے دل کے علاج میں لگ جاؤ، جو کچھ جانتے ہو اس پر عمل کیے جاؤ اور جو برا ہو اس کو چھوڑ دو۔ کوئی کہتا ’’ھذا زمان السکوت و ملازمۃ البیوت‘‘ یہ زمانہ خاموشی کا زمانہ ہے اور اپنے اپنے دروازوں کو بند کر کے بیٹھ رہنے کا۔
جبکہ تمام اصحابِ کار و طریق کا یہ حال ہو رہا تھا اور دین الخالص کا بقا و قیام ایک عظیم الشان قربانی کا طلب گار تھا تو غور کرو کہ صرف امام موصوفؒ ہی تھے جن کو فاتح و سلطان عہد ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ انہوں نے نہ تو دعاۃ فتن و بدعۃ کے آگے سر جھکایا نہ روپوشی و خاموشی و کنارہ کشی اختیار کی اور نہ بند حجروں کے اندر کی دعاؤں اور مناجاتوں پر قناعت کر لی بلکہ دین خالص کے قیام کی راہ میں اپنے نقش و وجود کو قربان کر دینے اور تمام خلف امت کے لیے ثبات و استقامت علی السنۃ کی راہ کھول دینے کے لیے بحکم ’’فاصبر اولو العزم من الرسل‘‘ اٹھ کھڑے ہوئے۔ ان کو قید کر دیا گیا۔ قید خانے میں چلے گئے۔ چار چار بوجھل بیڑیاں پاؤں میں ڈالی گئیں۔ پہن لیں۔ اسی عالم میں بغداد سے طرطوس لے چلے اور حکم دیا گیا کہ بلا کسی کی مدد کے خود ہی اونٹ پر سوار ہوں اور خود ہی اونٹ سے اتریں۔ اس کو بھی قبول کر لیا۔ بوجھل بیڑیوں کی وجہ سے ہل نہیں سکتے تھے، اٹھتے تھے اور گر پڑتے تھے۔ 
عین رمضان المبارک کے عشرہ اخیر میں، جس کی طاعت اللہ کو تمام دنوں کی طاعات سے زیادہ محبوب ہے، بھوکے پیاسے جلتی دھوپ میں بٹھائے گئے، اور اس پیٹھ پر جو علوم و معارفِ نبوت کی حامل تھی لگاتار کوڑے اس طرح مارے گئے کہ ہر جلاد دو ضربیں پوری قوت سے لگا کر پیچھے ہٹ جاتا اور پھر نیا تازہ دم جلاد اس کی جگہ لے لیتا۔ اس کو بھی خوشی خوشی برداشت کر لیا مگر اللہ کے عشق سے منہ نہ موڑا اور راہِ سنت سے منحرف نہ ہوئے۔ تازیانے کی ہر ضرب پر بھی جو صدا زبان سے نکلتی تھی وہ نہ تو جزع و فزع کی تھی اور نہ شور و فغاں کی،  بلکہ وہی تھی جس کے لیے یہ سب کچھ ہو رہا تھا یعنی ’’القرآن کلام اللہ غیر مخلوق‘‘۔ اللہ اللہ یہ کیسی مقام دعوۃ کبرٰی کی خسروی و سلطانی تھی اور وراثۃ و نیابۃ نبوۃ کی ہیبت و سطوۃ کہ خود المعتصم باللہ، جس کی ہیبت و رعب سے قیصر روم لرزاں و ترساں رہتا تھا، سر پر کھڑا تھا، جلادوں کا مجمع چاروں طرف سے گھیرے ہوئے تھا اور وہ بار بار کہہ رہا تھا ’’یا احمد! واللہ انی علیک الشفیق، وانی لا شفق علیک کشفقتی علی ھارون ابنی و واللہ لئن اجابنی لا طلقن عنک بیدی ما تقول‘‘ یعنی واللہ میں تم پر اس سے بھی زیادہ شفقت رکھتا ہوں جس قدر اپنے بیٹے کے لیے شفیق ہوں، اگر تم خلق قرآن کا اقرار کر لو تو قسم خدا کی ابھی اپنے ہاتھوں سے تمہاری بیڑیاں کھول دوں۔
لیکن اس پیکر حق، اس مجسمۂ سنت، اس موید بالروح القدس، اس صابر اعظم کما صبر اولوالعزم من الرسل کی زبان صدق سے صرف ہی جواب نکلتا تھا ’’اعطونی شیئا من کتاب اللہ او سنۃ رسولہ حتٰی اقول بہ‘‘ اللہ کی کتاب میں سے کچھ دکھلا دو یا اس کے رسول کا کوئی قول  پیش کر دو تو میں اقرار کر لوں۔ اس کے سوا میں  کچھ نہیں جانتا ؎
چو غلام آفتابم ز آفتاب گویم
نہ شبم نہ شب پرستم کہ حدیث خواب گویم
اگر اس چراغ تجدید و مصباح عزیمۃ دعوۃ کی روشنی مشکوٰۃ نبوۃ سے مستمیز نہ تھی تو پھر یہ کیا تھا کہ جب معتصم ہر طرح عاجز آ کر قاضی ابن ابی داؤد وغیرہ علماء بدعت و اعتزال سے کہتا ’’ناظر و کلموہ‘‘ اور وہ کتاب و سنت کے میدان میں عاجز آ کر اپنے اوہام و ظنون باطلہ کو باسم عقل و رائے پیش کرتے کہ سر تا سر بونانیات ملعونہ سے ماخوذ تھے تو وہ اس کے جواب میں بے ساختہ بول اٹھتے ’’ما ادری ما ھذا؟‘‘ میں نہیں جانتا یہ کیا بلا ہے ’’اعطونی شیئًا من کتاب اللہ او من سنۃ رسولہ حتی اقول‘‘۔ اس تمام کائنات ہستی میں میرے سر کو جھکانے والی صرف دو ہی چیزیں ہیں۔ اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت، اس کے سوا نہ میرے لیے  کوئی دلیل ہے نہ علم۔
امام موصوفؒ کو جب قید کر کے طرطوس روانہ کیا گیا تو ابوبکر الاحول نے پوچھا ’’ان عرضت علیک السیف تجیب؟‘‘ اگر تلوار کے نیچے کھڑے کر دیے گئے تو کیا اس وقت مان لو گے؟ کہا، نہیں۔ ابراہیم بن مصعب کوتوال کہتا ہے کہ میں نے کسی انسان کو بادشاہوں کے آگے احمد بن حنبلؒ سے بڑھ کر بے رعب نہ پایا۔ ’’یومیذ ما نحن فی عینیہ الّا کامثال الذباب‘‘ ہم عمال حکومت ان کی نظروں میں مکھیوں سے زیادہ وقعت نہیں رکھتے تھے اور یہ بالکل حق ہے۔ جن لوگوں کی نظروں میں جلالِ الٰہی سمایا ہو وہ مٹی کی ان پتلیوں کو، جنہوں نے لوہا تیز کر کے کاندھے پر ڈال رکھا ہے یا بہت سا سونا چاندی اپنے جسم پر لپیٹ لیا ہے، کیا چیز سمجھتے ہیں؟ ان کو تو خود اقلیمِ عشقِ الٰہی کی سروری و شاہی اور شہرستان صدق و صفا کا تاج و تخت حاصل ہے۔
ابوالعباس الرتی سے حافظ ابن جوزیؒ روایت کرتے ہیں کہ جب رقہ میں امام موصوف قید تھے تو علماء کی ایک جماعت گئی اور اس قسم کی روایت و نقول سنانے لگی جن سے بخوفِ جان تقیہ کر لینے کی رخصت نکلتی ہے۔ امام موصوف نے سب سن کر جواب دیا ’’کیف تضعون بحدیث جناب؟ ان من کان قبلکم کان ینشر احدھم بالمنشا رثم لا یصدر ذالک عن دینہ۔ قالوا فیئسنا منہ‘‘ یعنی یہ تو سب کچھ ہوا مگر بھلا اس حدیث کی نسبت کیا کہتے ہو کہ جب صحابہؓ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مظالم و شدائد کی شکایت کی تو فرمایا تم سے پہلے ایسے لوگ گزر چکے ہیں جن کے سروں پر آرا چلایا جاتا تھا اور جسم لکڑی کی طرح چیر ڈالے جاتے تھے مگر یہ آزمائشیں بھی ان کو حق سے نہیں پھرا سکتی تھیں۔ ابوالعباس کہتے ہیں کہ جب ہم نے یہ بات سنی تو مایوس  ہو کر چلے آئے کہ ان کو سمجھانا بیکار ہے، یہ اپنی بات سے پھرنے والے نہیں۔
یہ جو میں بار بار کہہ رہا ہوں کہ عزیمۃ دعوۃ، عزیمۃ دعوۃ تو یہ ہے عزیمۃ دعوۃ اور یہ ہے وراثت و نیابت مقام ’’فاصبر کما صبر اولو العزم من الرسل‘‘ کا اور یہ ہے ان ایام فتن کا صبر اعظم و اکبر جن کی نسبت ترمذی کی روایت میں فرمایا ’’الصبر فی ھن کالقبض علی البحمر‘‘ تو یہی وہ لوگ ہیں جو اگر چاہیں تو گوشہ رخصت و بیچارگی میں امن و عافیت کے پھول چن سکتے ہیں لیکن وہ پھولوں کو چھوڑ کر دہکتے ہوئے انگارے پکڑ لیتے ہیں اور اسی لیے ان کا اجر و ثواب بھی ’’مثل اجر خمسین رجلاً یعملون مثل عملکم‘‘ کا حکم رکھتا ہے۔
مانا کہ ضعیفوں اور درماندوں کے لیے رخصت و گلوخلاصی کی راہیں بھی باز رکھی گئی ہوں لیکن اصحابِ عزائم کا عالم دوسرا ہے، ان کی ہمت عالی بھلا میدان عزیمۃ و اسبقیۃ بالخیرات کو چھوڑ کر تنگنائے رخصت و ضعف میں پناہ لینا کب گوارہ کر سکتی ہے؟ جوانانِ ہمت اور مردانِ کارزار اس ننگ کو کیوں قبول کرنے لگے کہ کمزوروں اور درماندوں کی لکڑی کا سہارا پکڑیں؟ جن کے لیے اس میں سلامتی ہے ہوا کرے گی مگر ان کے لیے تو ایسا کرنا ہمت کی موت ہے، ایمان کی پامالی ہے اور عشق کی جبینِ عزت کے لیے داغ ننگ و عار سے کم نہیں۔ ’’حسنات الابرار سیئات المقربین‘‘ رخصۃ و عزیمۃ کی تفریق اور اعلیٰ و ادنٰی کا امتیاز اصحابِ عمل کے لیے ہے نہ کہ اصحابِ عشق کے لیے۔ عشق کی راہ ایک ہی ہے اور اس میں جو کچھ ہے عزیمۃ ہی عزیمۃ ہے۔ ضعف و بیچارگی کا تو ذکر ہی کیا، وہاں رخصت کا نام لینا بھی کم از معصیت نہیں ؎
ملتِ عشق از ہمہ دین ہا جداست
عاشقاں را مذہب و ملّت خداست
ضرب تازیانہ کے لیے حکم دیا تو وہ علماء اہل سنت بھی دربار میں موجود تھے جو شدۃِ محن و مصائب کی تاب نہ لا سکے اور اقرار کر کے چھوٹ گئے۔ ان میں سے بعض نے کہا ’’من صنع من اصحابک فی ھذا لامر ما تصنع‘‘ خود تمہارے ساتھیوں میں سے کس نے ایسی ہٹ کی جیسی تم کر رہے ہو؟ امام احمدؒ نے کہا، یہ تو کوئی دلیل نہ ہوئی ’’اعطونی شیئا من کتاب اللہ و سنۃ رسولہ حتی اقول بہ‘‘۔ عین حالتِ صوم میں کہ صرف پانی کے چند گھونٹ پی کر روزہ رکھ لیا تھا تو تازہ دم جلادوں نے پوری قوت سے کوڑے مارے یہاں تک کہ تمام پیٹھ زخموں سے چور ہو گئی اور تمام جسم خون سے رنگین ہو گیا۔
خود کہتے ہیں کہ جب ہوش آیا تو چند آدمی پانی لائے اور کہا پی لو مگر میں نے انکار کر دیا کہ روزہ نہیں توڑ سکتا۔ وہاں سے مجھ کو اسحاق بن ابراہیم کے مکان میں لے گئے، ظہر کی نماز کا وقت قریب آ گیا تھا۔ ابن سماعہ نے کہا، تم نے نماز پڑھی حالانکہ خون تمہارے کپڑوں میں بہہ رہا ہے؟ یعنی دم جاری و کثیر کے بعد طہارت کہاں رہی؟ میں نے جواب دیا ’’قل صلی عمر وجرحہ یثعب دما‘‘ ہاں مگر میں نے وہی کیا  جو حضرت عمرؓ نے کیا تھا، صبح کی نماز پڑھا رہے تھے اور قاتل نے زخمی کیا مگر اسی حالت میں انہوں نے نماز پوری کی۔
ابن سماعہ کے جواب میں حضرت امامؒ نے حضرت عمرؓ کی جو نظیر پیش کی تو یہ ان کی تسلی کے لیے بس کرتی تھی، مگر میں کہتا ہوں کہ جو خون اس وقت امام احمد بن حنبلؒ کے زخموں سے بہہ رہا تھا گر وہ خون ناپاک تھا اور اس کے ساتھ نماز نہیں ہو سکتی تو پھر دنیا میں اور کون سی چیز ایسی ہے جو انسان کو پاک کر سکتی ہے اور کون سا پانی ہے جو طاہر و مطہر ہو سکتا ہے؟ اگر یہ ناپاک ہے تو دنیا کی تمام  پاکیاں اس ناپاکی پر قربان! اور دنیا کی ساری طہارتیں اس پر سے نچھاور۔ یہ کیا بات ہے کہ پاک سے پاک اور مقدس سے مقدس انسان کی میت کے لیے بھی غسل ضروری ٹھہرا مگر شہیدانِ حق کے لیے یہ بات ہوئی کہ ان کی پاکی شرمندۂ آب غسل نہیں ’’لم یصل علیھم ولم لیغسلھم‘‘ بلکہ ان کے خون میں رنگے ہوئے کپڑوں کو بھی ان سے الگ نہ کیجئے۔ ’’یدفنوا فی ثیابھم ودمائھم‘‘ اور اسی لباس میں گلگوں و خلعت رنگین میں وہاں جانے دیجئے جہاں ان کا انتظار کیا جا رہا ہے اور جہاں خون و عشق کے سرخ دھبوں سے بڑھ کر شاید اور کوئی نقش و نگار عمل مقبول و محبوب نہیں۔ ’’عند ربھم یرزقون۔ فرحین بما اٰتاھم اللہ‘‘ ؎
خونِ شہیداں راز آب اولی تر است
ایں گناہ از حد ثواب اولی تر است
اللہ اللہ! یہاں طہارتِ جسم و لباس کا کیا سوال ہے؟ امام احمد بن حنبلؒ نے اپنی تمام عمر میں اگر کوئی پاک سے پاک اور سچی سے سچی نماز پڑھی تھی تو یقیناً وہ وہی ظہر کی نماز تھی۔ ان کی تمام عمر کی وہ نمازیں ایک طرف جو دجلہ کے پانی سے پاک کی گئی تھیں، اور وہ چند گھڑیوں کی عبادت ایک طرف جس کو راہِ ثبات حق میں بہنے والے خون نے مقدس و مطہر کر دیا تھا۔ سبحان اللہ! جس کے عشق میں چار چار بوجھل بیڑیاں پاؤں میں پہن لی تھیں، جس کی خاطر سارا جسم زخموں سے چور اور خون سے رنگین ہو رہا تھا، اسی کے آگے جبینِ نیاز جھکی ہوئی! اسی کے ذکر میں قلب و لسان لذت یاب تسبیح و تحمید! اسی کے جلوۂ جمال میں چشمِ شوق وقف نظارہ و دید! اور اسی کی یاد میں روح مضطر محو سرشار عشق و خود فراموشی!
؏ یوں عبادت ہو تو زاہد ہیں عبادت کے مزے
امام موصوف کے لڑکے عبد اللہ کہتے ہیں کہ میرے والد ہمیشہ کہا کرتے ’’رحم اللہ ابا الھیثم اغفر اللہ لابی الھیثم‘‘ خدا ابو الہیثم پر رحم کرے، خدا ابوالہیثم کو بخش دے۔ میں نے ایک دن پوچھا، ابوالہیثم کون ہے؟ کہا جس دن مجھ کو سپاہی دربار میں لے گئے اور کوڑے مارے گئے تو جب ہم راہ سے گزر رہے تھے ایک آدمی مجھ سے ملا اور کہا مجھ کو پہچانتے ہو؟ میں مشہور چور اور عیار ابوالہیثم حداد ہوں۔ میرا نام شاہی دفتر میں ثبت ہے، بارہا چوری کرتے پکڑا گیا اور بڑی بڑی سزائیں جھیلیں۔ صرف کوڑوں کی ہی مار اگر گنوں تو سب ملا کر اٹھارہ ہزار ضربیں تو میری پیٹھ پر ضرور پڑی ہوں گی۔ با ایں ہمہ میری استقامت کا یہ حال ہے کہ اب تک چوری سے باز نہیں آیا جب کہ کوڑے کھا کر جیل خانے سے نکلا، سیدھا چوری کی تاک میں چلا گیا۔ میری استقامت کا یہ حال شیطان کی طاعت میں رہا ہے دنیا کی خاطر۔ افسوس تم پر اگر اللہ کی محبت کی راہ میں اتنی استقامت بھی نہ دکھا سکو اور دین حق کی خاطر چند کوڑوں کی ضرب برداشت نہ کر سکو۔ میں نے جب یہ سنا تو اپنے جی میں کہا اگر حق کی خاطر اتنا بھی نہ کر سکے جتنا دنیا کی خاطر ایک چور اور ڈاکو کر رہا ہے تو ہماری بندگی پر ہزار حیف اور ہماری خدا پرستی سے بت پرستی لاکھ درجہ بہتر ؏
منہ منہ سے اپنے آپ کو کہتا ہے عشق باز
اے روسیاہ تجھ سے تو یہ بھی نہ ہو سکا
مامون و معتصم اور الواثق نے جو کچھ کیا وہ معلوم ہے۔ جعفر المتوکل کا یہ حال ہے کہ اس کی خلافت بدعت و اربابِ بدعت کے زوال و خسران اور سنت و اصحابِ حدیث کے امن و عروج کا اعلانِ عام تھی۔ حافظ ابن جوزیؒ لکھتے ہیں کہ متوکل باللہ ہمیشہ اس فکر میں رہتا کہ کسی طرح پچھلے مظالم کی تلافی کرے۔ ایک بار اس نے بیس ہزار سکے بھیجے اور دربار میں بلایا۔ ایک بار ایک لاکھ درہم بھیجا اور سخت اصرار کیا کہ اس کو قبول کر لیجئے لیکن ہر مرتبہ امام موصوف نے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور کہا میں اپنے مکان میں اپنے ہاتھ سے اس قدر کشت کاری کر لیتا ہوں جو میری ضروریات کے لیے  کافی ہے، اس بوجھ کو اٹھا کر کیا کروں گا۔ کہا گیا کہ اپنے لڑکے کو حکم دیجئے وہ قبول کر لیں۔ فرمایا وہ اپنی مرضی کا مختار ہے۔ لیکن جب عبد اللہ سے کہا گیا تو انہوں نے بھی واپس کر دیا۔ آخر مجبور ہو کر لانے والوں نے کہا کہ خود نہیں رکھنا چاہتے تو امیر المومنین کا حکم ہے قبول کر لیجئے اور فقراء اور مساکین کو بانٹ دیجئے۔ فرمایا میرے دروازے سے زیادہ امیر المومنین کے محل کے نیچے فقیروں کا مجمع رہتا ہے، فقیروں کو ہی دینا ہے تو وہیں دے دیا جائے۔ اس ہنگامے کی کیا ضرورت ہے؟ ایک مرتبہ اسحاق بن ابراہیم کے سخت اصرار سے دس ہزار درہم لے لیے تو اسی وقت مہاجرین و انصار کی اولاد میں تقسیم کر دیے۔ ان کے لڑکے راوی ہیں کہ جب خلیفہ متوکل ان کی تعظیم و تکریم میں حد درجہ غلو کرنے لگا تو انہوں نے کہا ’’ھذا امر اشد علٰی من ذلک، ذلک فتنۃ الدین وھذا فتنۃ الدنیا‘‘ یہ معاملہ تو گزشتہ معاملے سے بھی کہیں زیادہ میرے لیے سخت ہے، وہ دین کے بارے میں فتنہ تھا اور یہ فتنہ دنیا ہے۔
یعنی مصائب و محن کی آزمائش کہیں زیادہ پُراَمن ہے بمقابلہ آزمائش افیم دنیا و دعوۃ طمع و ترغیب کے۔ اور یہ بالکل حق ہے۔ کتنے ہی شہسواران ثبات و استقامت ہیں جو پہلے میدانِ آزمائش سے تو صحیح و سلامت نکل گئے مگر دوسری راہ سامنے آئی تو اول قدم ہی ٹھوکر لگی۔ حالانکہ مردِ کامل وہ ہے جس پر ’’یدعون ربھم خوفاً و طمعاً‘‘ کا مقام ایسا طاری ہو جائے کہ دنیا کا خوف اور دنیا کی طمع دونوں قسم کے حربے اس کے لیے بالکل بیکار ہو جائیں۔
مرسلہ: قاری قیام الدین الحسینی

مولانا آزادؒ کا سنِ پیدائش ۔ ایک حیرت انگیز انکشاف

دیوبند ٹائمز

خدا بخش لائبریری پٹنہ کی ریسرچ فیلو شائستہ خان نے اپنی ریسرچ کے ذریعے یہ حیرت انگیز انکشاف کیا ہے کہ امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد ۱۸۸۵ء میں پیدا ہوئے تھے جبکہ آج تک ان کی پیدائش کا سال ۱۸۸۷ء بتایا جا رہا ہے۔ شائستہ خان نے تحقیق کے دوران مولانا آزاد کا انہی کی تحریر میں لکھا ہوا ایک خط دریافت کیا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ۱۸۸۵ء کانگریس کا سال پیدائش بھی ہے اور شائستہ خان نے یہ دھماکہ اس وقت کیا ہے جب مولانا آزادؒ کے یومِ ولادت کی صدی تقریبات منائی جا رہی ہیں۔
خدا بخش لائبریری میں مولانا آزاد پر جو سیمینار منعقد ہوا تھا اس میں اپنا مقالہ پڑھتے ہوئے شائستہ خان نے یہ انکشاف کر کے حاضرین کو چونکا دیا۔ مولانا ابوالکلام آزادؒ نے اپنے ایک عزیز دوست یوسف  رنجور (پٹنہ) کو لکھا تھا۔ رنجور کا تعلق پٹنہ کے اس صدیقی خاندان سے تھا جو جنگِ آزادی میں ہمیشہ پیش پیش رہا۔ یہ خاندان اس صدی کے شروع میں کلکتہ میں جا بسا تھا اور رنجور صاحب کو کلکتہ ہی میں مولانا خطوط لکھا کرتے تھے۔ رنجور کو مولانا نے جولائی ۱۹۰۳ء میں خط لکھا تھا جس میں انہوں نے اپنی پیدائش کی تاریخ ۱۳۰۳ھ بتائی ہے جو ۱۸۸۵ء یا ۱۸۸۶ء کے ابتدائی ماہ ہو سکتے ہیں۔
شائستہ خان مولانا آزادؒ کی سوانح لکھ رہی ہیں جس میں کئی نئے اور نہاں گوشوں کو اجاگر کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس خط سےمولانا آزادؒ کی والدہ کے انتقال کی صحیح تاریخ کا بھی پتہ چلتا ہے اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آزاد کی بہنوں کے صحیح نام کیا تھے۔ شائستہ خان نے دعوٰی کیا ہے کہ آج کل مارکیٹ میں کئی ایسی کتابیں فروخت ہو رہی ہیں جو مولانا آزادؒ کی لکھی ہوئی بتائی جا رہی ہیں حالانکہ عبد الرزاق صاحب ملیح آبادی نے ان کتابوں کو تحریر کیا تھا۔ شائستہ نے مولانا کے کئی ایسے تحریری نسخے اور دستاویزات تلاش کیے ہیں جن سے ان کی زندگی پر نئی روشنی پڑتی ہے۔
مولانا آزاد کا یہ خط کئی زاویوں سے حد درجہ اہمیت کا حامل ہے۔ اول تو یہ کہ مولانا نے اپنی سن پیدائش ۱۳۰۳ھ لکھی ہے۔ اپنی والدہ کا نام انہوں نے زینب لکھا ہے اور بہنوں کا خدیجہ، فاطمہ اور حنیفہ۔ مولانا نے اس خط میں یہ بھی لکھا ہے  کہ ان کی والدہ ان کی بہنوں کی شادیاں ان کے (آزاد کے) چچازاد بھائیوں سے کرنا چاہتی تھیں جو مکہ میں مقیم تھے لیکن وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکیں۔ مولانا آزاد کو اس کا بے حد قلق اور رنج رہا۔
(بشکریہ دیوبند ٹائمز)

کیا فرعون مسلمان ہو گیا تھا؟

شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنیؒ

(امام الصوفیاء حضرت الشیخ محی الدین بن عربی قدس اللہ سرہ العزیز سے منسوب ایک قول میں دعوٰی کیا گیا ہے کہ فرعون نے جب غرق ہوتے وقت اللہ تعالیٰ پر ایمان کا اظہار کیا تو اس کا ایمان قبول ہو گیا تھا اور وہ شہادت سے ہمکنار ہوا۔ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمہ اللہ تعالیٰ ایک استفسار کے جواب میں اس دعوٰی کا تحقیقی جائزہ لیتے ہیں۔ ادارہ)

ایمانِ فرعون کے بارے میں جو کچھ شیخ اکبر رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے وہ جمہور کی رائے کے خلاف ہے۔ استدلال کی سخافت سے شبہ ہوتا ہے کہ غالباً یہ قول ان کا نہیں بلکہ جیسا بعض علماء کا قول ہے کہ ملاحدہ نے ان کی کتاب میں اپنی طرف سے زیادہ کر دیا ہے۔ بہرحال جو کچھ بھی ملّا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس مقالہ پر رد کے لیے ایک مستقل رسالہ تصنیف کیا ہے جس کو عرصہ ہوتا ہے، میں نے مدینہ منورہ زید شرفا میں دیکھا تھا، یہ نہیں  معلوم کہ وہ چھپ گیا ہے یا نہیں۔
(۱) استدلال میں اولاً امراۃ فرعون رضی اللہ عنہا کا قول پیش کیا گیا ہے مگر یہ استدلال نہایت کمزور ہے۔ جس وقت یہ قول ان سے صادر ہوا جب تک وہ خود بھی ایمان نہیں لائی تھیں۔ پھر ان کا عالم الغیب ہونا یا امور مستقبلہ پر مطلع ہونا کسی وقت میں بھی تسلیم نہیں کیا جا سکتا اور نہ ان کا کشف و الہام کسی زمانے شرعی حجت ہو سکتا ہے، پھر کس طرح یہ قول قابلِ استدلال ہو سکتا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر محض ان کے قول کو نقل فرمایا ہے، اس کی تصحیح اور تصدیق نہیں فرمائی۔ یہ عادت اقوالِ صحیحہ اور باطلہ دونوں میں جاری ہے۔ نیز قرۃ العین ہونا محبوبیہ سے کنایہ ہے جو کہ ’’القیت علیک محبۃ منی‘‘ (اور  ڈال دی میں نے تجھ پر محبت اپنی طرف سے) کا نتیجہ تھا۔ اس لیے ہر مومن اور غیر مومن کے اس زمانہ طفولیت میں حضرت موسٰی علیہ السلام محبوب اور قرۃ عین تھے۔ اس سے ایمانِ فرعون پر استدلال نہایت ہی کمزور ہے، بالخصوص جبکہ اس کے خلاف قواعد کلیہ اور آیات جزئیہ دونوں کھلے بندوں دلالت کر رہی ہوں۔
علیٰ ہذا القیاس اس کو آیت قرار دینا بھی اسلام پر دال نہیں۔ ہر وہ شے جس سے جناب باری عز اسمہ کے صفات و افعال و ذات پر کسی وجہ سے استدلال ہو سکتا ہو، وہ آیۃ ہو سکتی ہے۔ اس میں ذی روح ہونے کی بھی شرط نہیں ہے چہ جائیکہ اسلام مشروط ہو۔

قواعدِ کلیّہ شرعیہ جو کہ قطعی طور پر اس کے بطلان کے شاہد ہیں

فلما رأوا بأسنا قالوا اٰمنا باللہ وحدہ وکفرنا بما کنا بہ مشرکین فلم یک ینفعھم ایمانھم لما رأوا بأسنا سنۃ اللہ التی قد خلت فی عبادہ وخسر ھنا لک الکافرون (سورہ مومن  ۸۴ و ۸۵)
(ترجمہ) ’’پھر جب انہوں نے دیکھ لیا ہماری آفت کو، بولے ہم یقین لائے اللہ اکیلے پر اور ہم نے چھوڑ دیں وہ چیزیں جن کو شریک بتلاتے تھے، پھر نہ ہوا کہ کام آئے ان کو یقین لانا ان کا جس وقت دیکھ چکے ہمارا عذاب، رسم پڑی ہوئی اللہ کی جو چلی آئی ہے اس کے بندوں میں اور خراب ہوئے اس جگہ لشکر۔‘‘
اس آیت سے قاعدہ کلیہ اور سنتِ الٰہی کا پتہ چلتا ہے کہ عذابِ الٰہی کے دیکھنے  کے بعد ایمان معتبر نہیں۔ دوسری جگہ ارشاد ہے:
فلما احسوا بأسنا اذا ھم منھا یرکضون لا ترکضوا وارجعوا الٰی ما اترفتم فیہ ومساکنکم  لعلکم تسئلون قالوا یا ویلنا انا کنا ظالمین فما زالت تلک دعواھم حتی جعلناھم حصیدًا خامدین (سورہ انبیاء ۱۲۔۱۵)
(ترجمہ) ’’پھر جب آہٹ پائی انہوں نے ہماری آفت کی تب لگے وہاں سے  بھاگنے، مت بھاگو اور لوٹ جاؤ جہاں تم نے عیش کیا تھا اور اپنے گھروں میں شاید تم کو کوئی پوچھے، کہنے لگے ہائے خرابی ہماری ہم تھے گنہگار، پھر برابر یہی رہی ان کی فریاد یہاں تک کہ ڈھیر کر دیے گئے کاٹ کر بجھے پڑے ہوئے۔‘‘
دوسری جگہ ارشاد ہے:
فلولا کانت قریۃ اٰمنت فنفعھا ایمانھا الا قوم یونس لما اٰمنوا کشفنا عنھم عذاب الخزی فی الحیاۃ الدنیا ومتعناھم الی حین (سورہ یونس۹۸)
(ترجمہ) ’’سو کیوں نہ ہوئی کوئی بستی کہ ایمان لاتی پھر کام آتا ان کو ایمان لانا، مگر یونس کی قوم جب وہ ایمان لائی اٹھا لیا ہم نے ان پر سے ذلت کا عذاب دنیا کی زندگانی میں اور فائدہ پہنچایا ہم نے ان کو ایک وقت تک۔‘‘
الغرض عذاب کے دیکھنے کے بعد ایمان لانا نفع دیتا۔ اس قاعدے کلیے سے صرف قوم یونس علیہ السلام کو مستثنٰی قرار دیا گیا ہے جس کی وجہ یہ تھی کہ حقیقتاً ان پر عذاب نہیں آیا تھا بلکہ حضرت  یونس علیہ السلام کی جلدبازی کی بنا پر صورتِ عذاب نمودار کی گئی تھی۔ ادھر حضرت یونس علیہ السلام پر اس جلدبازی پر متابات متعددہ وارد کیے گئے تھے۔ اس قاعدے کلیے کو سورہ نساء میں مندرجہ ذیل کلمات کے ساتھ مشرح فرمایا گیا ہے:
ولیست التوبۃ للذین یعملون السیئات حتی اذا حضر احدھم الموت قال انی تبت الاٰن ولا الذین یموتون وھم کفار اولئک اعتدنا لھم عذابا الیما۔ (سورہ النساء ۱۸)
(ترجمہ) ’’اور ایسوں کی توبہ نہیں جو کیے جاتے ہیں برے کام یہاں تک کہ جب سامنے آجاوے ان میں سے کسی کو موت تو کہنے لگا میں توبہ کرتا ہوں، اور نہ ایسوں کی توبہ جو کہ مرتے ہیں حالت  کفر میں، ان کے لیے تو ہم نے تیار کیا ہے عذاب دردناک۔‘‘
جس نے صاف طور پر ظاہر کر دیا کہ موت حاضر ہو جانے کے وقت میں (جب کہ علاماتِ موت ظاہر ہو جائیں اور انسان کو عالمِ غیب کی اشیاء دکھائی دینے لگیں) توبہ مقبول نہیں ہے، نہ عذابِ دنیوی دور ہوتا ہے اور نہ عذابِ آخرت سے رستگاری ہوتی ہے۔ نیز ان آیات نے صاف طور پر یہ بھی ظاہر کر دیا کہ فرعون، جس نے ادراکِ غرق اور عذابِ الٰہی کے مشاہدے کے بعد ایمان کے کلمات کہے، وہ ایماندار عند  اللہ اور عند الشرح نہیں ہوا اور اس کی توبہ مقبول نہیں ہوئی۔ ادراکِ غرق کا مرتبہ تو رویتِ عذابِ الٰہی اور رویت یاسِ خداوندی سے بعد کا ہے، جب کہ رویت ہی سے ایمان  کا نفع دینا ممنوع ہو جاتا ہے تو ادراکِ عذاب سے بدرجہ اولٰی ممنوع ہو  گا۔
حضرت موسٰیؑ کا فرعون اور فرعونیوں کے لیے بد دعا میں ارشاد فرمانا ’’فلا یومنوا حتی یروا العذاب الالیم‘‘ خود اس کے لیے شاہد عدل ہے۔ اگر ایسے وقت میں ایمان نافع ہوتا تو اس بددعا کے کوئی معنی نہیں تھے حالانکہ یہ دعا مقبول ہوئی اور فرمایا گیا ’’قد اجیبت دعوتکما‘‘ اور اسی بددعا کا بھی اثر تھا کہ فرعون نے مرتے وقت تک ایمان قبول نہ کیا۔ بہرحال ان آیات سے جو حکم اور قاعدۂ خداوندی مفہوم ہوتا ہے وہ نہایت قوی ہے اور ’’فصوص الحکم‘‘ میں جو استدلال ذکر کیا گیا ہے وہ اس کے مقابلے میں کوئی بھی وقعت اور قوت نہیں رکھتا۔ غور فرمائیے۔ فرعون کے متعلق آیاتِ خصوصیہ بھی جمہور ہی کی تائید کرتی ہیں۔ سورہ ہود میں فرمایا جاتا ہے:
ولقد ارسلنا موسٰی باٰیاتنا وسلطان مبین۔ الٰی فرعون وملئہ فاتبعوا امر فرعون وما امر فرعون برشید۔ یقدم قومہ یوم القیامۃ فاردھم النار وبئس الورد المورود۔ واتبعوا فی ھذہ لعنۃ و یوم القیامۃ بئس الرفد المرفود۔ (سورہ ہود ۹۶۔۹۹)
(ترجمہ) ’’اور البتہ ہم بھیج چکے ہیں موسٰی کو اپنی نشانیاں اور واضح سند دے کر فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس۔ پھر وہ چلے حکم پر فرعون کے اور نہیں بات فرعون کی کچھ کام کی۔ آگے ہو گا اپنی قوم کے قیامت کے دن پھر پہنچائے گا ان کو آگ پر، اور برا گھاٹ ہے جس پر پہنچے۔ اور پیچھے ملتی رہی اس جہاں میں لعنت اور دن قیامت کے بھی، برا انعام ہے جو ان کو ملا۔‘‘
آیت مذکورہ بالا ’’یقدم قومہ الخ‘‘ کے جملے پر غور کریں، اگر اس کا ایمان عند اللہ معتبر ہوتا تو دوزخ کے وارد کرنے میں وہ سب سے آگے آگے کیوں ہوتا اور دنیا و آخرت میں لعنت کیوں اس پر کی جاتی؟ بالخصوص صاحبِ فصوصؒ کے اس قول کی بنا پر
فقبضہ طاھر او مطھر الیس فیہ شیئ من الحیف لانہ قبضہ عند ایمانہ قبل ان یکتسب شیئا من الاثام والاسلام یجب ما قبلہ۔
’’فرعون دنیا سے طاہر اور مطہر مرا، اس کے اندر کوئی گناہ نہیں رہا، کیونکہ اس کی موت قبل اس کے کہ کچھ گناہ کرے ایمان کے ساتھ ہو گئی۔ اور اسلام ما قبل گناہوں کو محو اور قطع کر دیتا ہے۔‘‘
تو اس آیت کے کوئی معنی ہی نہیں رہتے اور بالکل ہی مناقظہ لازم آتا ہے۔
نوٹ: یہ تاویل کرنا کہ ضمیریں صرف ملاء کی طرف راجع ہیں فرعون اس میں داخل نہیں ہے، خلافِ عربیت اور خلافِ لسانِ عربی ہے۔ بالخصوص جبکہ ’’یقدم‘‘ اور ’’قومہ‘‘ کی ضمیر خصوصیت کے ساتھ فرعون ہی کی طرف راجع ہوتی ہے اس لیے آئندہ کی ضمیری مجموعہ کی طرف ہی عائد ہوں گی۔
نیز یہ تاویل کہ وہ اپنی قوم کو تو داخل فی النار کرا دے گا مگر خود داخل نہیں ہو گا، بالکل غلط ہے۔ اگر اس کا امر بالمعصیت معصیت نہیں رہا تھا اور اسلام نے حسبِ ارشاد ’’یجب ما قبلہ‘‘ گزشتہ کو محو کر دیا تھا تو پھر یہ جزا ’’یقدم قومہ الخ‘‘ کیوں دی گئی اور وہ اگواکار کیوں بنایا گیا؟ اور جب کہ وہ طاہر اور مطہر ’’لیس فیہ شیئ من الحیف‘‘ ہے تو قیامت میں یہ معاملہ کیوں ہے؟ ایسے لوگوں کے لیے تو ارشاد کیا گیا ہے ’’لا یسمعون حسیسھا‘‘ نیز دوزخ کی گرمی اور تغیظ زفیر شہیق وغیرہ مسیرۃ سبعین سنہ تک پہنچتی ہے، کیا اس ایراد قوم میں وہ خود عذاب میں مبتلا نہیں ہو گا؟ سورہ قصص میں  ہے:
واستکبر ھو وجنودہ فی الارض بغیر الحق وظنوا انھم الینا لا یرجعون۔ فاخذناہ وجنودہ فنبذناھم فی الیم فانظر کیف کان عاقبۃ الظالمین۔ وجعلناھم ائمۃ یدعون الی النار ویوم القیامۃ لا ینصرون۔ واتبعناھم فی ھذہ الدنیا لعنۃ و یوم القیامۃ ھم من المقبوحین۔ (سورہ قصص۳۹۔۴۲)
’’اور بڑائی کرنے لگے وہ اور اس کے لشکر ملک میں ناحق، اور سمجھے کہ وہ ہماری طرف پھر کر نہ آئیں گے۔ پھر پکڑا ہم نے اس کو اور اس کے لشکر کو پھر پھینک دیا ہم نے ان کو دریا میں سو دیکھ لیا کیسا انجام ہوا گنہگاروں کا۔ اور کیا ہم نے ان کو پیشوا کہ بلاتے ہیں دوزخ کی طرف اور قیامت کے دن ان کو مدد نہ ملے گی۔ اور پیچھے رکھ دی ہم نے ان پر اس دنیا میں پھٹکار اور قیامت کے دن ان پر برائی ہے۔‘‘
ان آیات پر غور فرمائیے، اشک بار کی معصیت میں فرعون کی نسبت خاص طور پر ذکر کی گئی اور پھر مابعد کی ضمیریں مجموعہ کی طرف عائد کی جا رہی ہیں۔ نیز ’’ائمہ یدعون الی النار‘‘ کا حقیقی مصداق خود فرعون ہے، اس کے ملا کے لوگ تو ثانیاً و بالعرض ہوں گے اور ان سب کو قیامت میں مقبوح فرماتے ہیں۔ کیا ایمان اور اس کے اثار کے ہوتے ہوئے یہ جزائیں مترتب ہو سکتی ہیں؟ آیت:
فوقاہ اللہ سیئات ما مکروا وحاق باٰل فرعون سوء العذاب۔ النار یعرضون علیھا غدوًا وعشیا ویوم تقوم الساعۃ ادخلوا اٰل فرعون اشد العذاب۔ (سورہ مومن۴۵۔۴۶)
’’پھر بچا لیا موسٰیؑ کو اللہ نے برے داؤں سے جو وہ کرتے تھے اور الٹ پڑا فرعون والوں پر بری طرح کا عذاب۔ وہ آگ ہے کہ دکھلا دیتے ان کو صبح اور شام، اور جس دن قائم ہو گی قیامت حکم ہو گا داخل کرو فرعون والوں کو سخت سے سخت عذاب میں۔‘‘
حضرت شیخؒ کی یہ تاویل کہ آلِ فرعون میں خود فرعون داخل نہیں ہے، قرآن کے محاورے کے خلاف ہے۔ فرمایا جاتا ہے ’’اعملوا اٰل داود شکرًا‘‘ (الآیۃ) میں بالاتفاق حضرت داؤدؑ مخاطب ہیں۔ اسی طرح آیت ’’ولقد اخذنا ال فرعون بالسنین‘‘ (الآیۃ) میں فرعون بھی بالاتفاق اس مواخذے میں داخل ہے۔ حضرت شیخ اکبرؒ بہت بڑے پائے کے بزرگ ہیں اور بہت بڑے محقق ہیں، اس لیے  یہ قول یا تو درحقیقت ان کا ہے ہی نہیں بلکہ ان کی تصانیف میں ملاحدہ نے چھپا کر داخل کر دیا ہے جیسا کہ امام العارفین شیخ عبد الوہاب شعرانیؒ اور دیگر اکابر کے اقوال سے معلوم ہوتا ہے۔ اور اگر ان کا قول ہی ہو تو یقیناً اس میں ان سے خطا ہوئی ہے، وہ بڑے ہیں مگر معصوم نہیں ہیں، اس لیے جمہور کا قول صحیح ہے۔
حدیث قوی میں وارد ہے کہ اس کے اس قول کے وقت میں حضرت جبرائیلؑ نے دریا سے گارا نکال کر اس کے منہ میں بھر دیا کہ کہیں رحمتِ خداوندی اس کی نگرانِ کار نہ بن جائے ’’مخافۃ ان تدرکہ الرحمۃ‘‘ یہ فعل ان کا یقیناً بغض فی اللہ ہی کی بنا پر ہو سکتا ہے جو کہ اعلیٰ درجات ایمان میں سے ہے۔ مگر جو ہستی کہ ’’لا یعصون اللہ ما امرھم ویفعلون ما یؤمرون‘‘ کے مصادیق کی امام اور عند ذی عرش مکین مطاع اور امین ہو، بغیر مرضی خداوندی کب ایسا فعل اور عمل کر سکتی ہے۔ لہٰذا یہ جملہ تاوییلات غیر مرضی اور غیر قابلِ التفات ہیں، قدرتِ خداوندی میں کلام نہیں، واقعات سے بحث ہے، واللہ اعلم۔ رحمتِ الٰہی کی وسعت اور نصوص سے معلوم ہوتی ہے اسی پر منحصر نہیں ہے۔

دُشمنانِ مصطفٰی ﷺ کے ناپاک منصوبے

پروفیسر غلام رسول عدیم

سچ کڑوا ہوتا ہے، یہ ہر دور کی مانی ہوئی حقیقت ہے۔ عرصۂ دہر میں جب بھی کوئی سچائی ابھری، ہر زمانے کے حق ناشناس لوگوں نے اس پر زبانِ طعن دراز کی بلکہ بسا اوقات مقابلے کی ٹھان لی۔ کیسے ممکن تھا کہ دنیا کی سب سے بڑی صداقت کا ظہور ہو اور وہ بغیر کسی پس و پیش کے تسلیم کر لی جائے۔ یہ صداقت سرزمینِ عرب سے ابھری تو ایک زمانہ اس کے درپے آزار ہو گیا۔ اپنے آپ کو منوانے کے لیے حقیقتِ ابدی کو مہینوں نہیں سالوں لگے تاہم
؏ حقیقت خود منوا لیتی ہے مانی نہیں جاتی
تئیس سال میں یہ عظیم صداقت مانی گئی اور  اس شان سے مانی گئی کہ دنیا انگشت بدنداں رہ گئی
؏ فلک گفت احسن ملک گفت زہ
آفتابِ نبوت جلوۂ طراز ہوا تو اس کی جلوہ ریزیوں نے ایک عالم کو منور کر دیا مگر اس چمکتے اجالے میں بھی بعض شیرہ چشم اسلاف کی اندھی تقلید، ہوائے نفس اور سوسائٹی کی رسومِ باطلہ کے اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں مارتے رہے۔ صرف یہی نہیں کہ وہ اس تیرگی میں بھٹک رہے تھے بلکہ وہ اس خورشیدِ جہاں تاب کو اپنی پھونکوں سے بجھانے پر اتر آئے تھے۔ ان عقل کے اندھوں کو کیا معلوم تھا کہ
؏ پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
یریدون لیطفؤوا نور اللہ بافواھھم واللہ متم نورہ ولو کرہ الکافرون (الصف ۸)
(وہ (کفار) چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے مونہوں سے بجھا دیں (درآنحالیکہ) اللہ اپنے نور کو مکمل کر کے رہے گا خواہ یہ بات کافروں کو ناگوار ہی کیوں نہ گزرے۔)
سرورِ عالمؐ کی مکی زندگی کے تیرہ برس  میں کفار و مشرکین نے انتہائی کوشش کی کہ وہ نخلِ اسلام کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکیں، جب آقائے دو جہاںؐ نے مدینے کو مستقر بنایا تو یہود و منافقین نے اپنی ناپاک سازشوں سے شجرِ اسلام کے استیصال میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا۔ وہ بے بصر نہیں جانتے تھے کہ اس درخت کے مالی نے اسے ہر طرح کی آندھیوں اور طوفانوں سے محفوظ و مصون رکھنے کا عہد کر رکھا ہے
انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحٰفظون۔ (الحجر ۹)
(ہم نے یہ نصیحت اتار دی ہے اور بے شک ہم اس کے نگہبان ہیں۔)
کج فکر معاندین اس نکتے کو سمجھنے سے قاصر تھے کہ جب ایک عظیم الشان انسان کو مامور کیا جا رہا ہے تو کیا اس انسانِ کامل کو دشمنوں کے قبضے میں دے کر اس کی ماموریت کو معرضِ خطر میں ڈال دیا جائے گا۔ دشمنوں کا مامور من اللہ کو ہلاک کرنا اصل میں اللہ کی ماموریت کو کھلا چیلنج ہے، اس لیے آمر نے مامور کی حفاظت کی پوری پوری ذمہ داری کا اعلان فرما دیا
واللہ یعصمک من الناس۔ (المائدہ ۶۷)
(اور اللہ آپ کو لوگوں سے محفوظ رکھے گا)۔
اسی فکری نارسائی کی بنا پر کبھی ایسا ہوا کہ ایک شخص نے انفرادی سطح پر سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے خاتمے کی کوشش کی جیسے مکی دور میں عقبہ بن ابی معیط نے حضورؐ کے گلے میں چادر لپیٹ کر اس زور سے بل دیا کہ گردن مبارک بھنچ گئی۔ قریب تھا کہ دم گھٹ جائے، اتنے میں صدیق اکبرؓ آ پہنچے، عقبہ کو دھکے دے کر الگ کیا اور یہ آیت پِڑھی:
اتقتلون رجلا ان یقول ربی اللہ وقد جاءکم بالبینات (مومن ۲۸)
(کیا تم ایسے شخص کو مار ڈالتے ہو جو یہی تو کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے اور وہ تمہارے پاس روشن دلائل لے کر آیا ہے۔)
کبھی آپ کو گرفتار کر کے اعدائے اسلام کے قبضے میں دینے کی کوشش بھی کی گئی اور یہ گرفتاری جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی تھی جیسے سفرِ ہجرت میں سراقہ بن مالک بن جعشم نے تعاقب کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گرفتار کرنا چاہا۔ شعبِ ابی طالب میں تین سال کی محصوری پورے معاشرے کی طرف سے ہلاکتِ رسولؐ ہی کا ایک حربہ تھا۔ لیکن ان تخریبی سرگرمیوں اور اسلام دشمن کارروائیوں میں سب سے زیادہ گھناؤنے اور مکروہ جرم وہ تھے جو سرورِ کائنات کے قتل کے ناپاک منصوبوں کی صورت میں ظاہر ہوئے۔ ادھر دشمنانِ بداندیش قتل کے منصوبے سوچتے، سازشی میٹنگیں ہوتیں، قاتلانہ حملے کیے جاتے، ادھر شانِ رحمۃ للعالمین اور زیادہ نکھر کر سامنے آتی۔ خنجر بدست قاتل خلقِ محمدیؐ کے گھائل ہو کر لوٹتے۔ شکاری خود شکار ہوتے اور کارکنانِ قضا و قدر پکار اٹھتے
؏ لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا

پہلا منصوبہ

کتبِ سیرت میں یہ واقعات بکھرے پڑے ہیں۔ ان سطور میں انہیں اجزائے پریشاں کو یکجا کیا جا رہا ہے۔ ابھی کوئی چالیس مرد اور گیارہ عورتیں حلقہ بگوش اسلام ہوئی تھیں۔ نبوت کا چھٹا سال تھا۔ ایک روز جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کی چیرہ دستیوں اور مسلمانوں کی کمزوری کے پیشِ نظر بارگاہِ ایزدی میں دعا کی
اللھم اید الاسلام بابی الحکم بن ھشام او بعمر بن الخطاب۔
دعا درِ اجابت تک پہنچی۔ ادھر عمر بن خطاب (جو اس وقت تک مسلمانوں کے سخت دشمن تھے) کی بہن فاطمہ اور بہنوئی سعید بن زید مشرف باسلام ہو چکے تھے۔ عمر اس راز سے واقف نہ تھے، وہ تلوار لٹکائے ہوئے کوہِ صفا کے دامن میں دارِ ارقمؓ کی طرف اس ارادے سے چلے کہ آج محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی زندگی کا خاتمہ کرنے جاتا ہوں۔ راستے میں نعیمؓ بن عبد اللہ سے ملاقات ہوئی۔ یہ بھی درِپردہ مسلمان ہو چکے تھے، تیور دیکھ کر نیت کا فتور بھانپ گئے، پوچھا کہاں کا ارادہ ہے؟ عمر نے مدعا بیان کیا۔ نعیم بولے، پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر تم یہ کام  کر بھی گزرے تو کیا بنی عبد مناف تمہیں یونہی زندہ چھوڑ دیں گے۔ دوسرے یہ کہ پہلے اپنے گھر کی خبر تو لو، تمہاری بہن اور بہنوئی حلقہ بگوش اسلام ہو چکے ہیں۔ عمرؓ کے غیض و غضب کی انتہا نہ رہی، فورًا لوٹے، بہن کے گھر آئے، اندر سے تلاوتِ کلامِ الٰہی کی آواز سنائی دی، دروازہ کھٹکھٹایا تو انہوں نے حضرت خباب بن الارتؓ کو الگ کر دیا، اوراق چھپا لیے۔ عمر نے آ کر پوچھا تو یہ طرح دے گئے، اس پر وہ بہنوئی پر پل پڑے، بہن بیچ میں آئیں تو ان کو بھی لہولہان کر دیا۔ پانی سر سے گزر گیا تو دونوں میاں بیوی نے کھل کر کہہ دیا
قد اسلمنا و اٰمنا باللہ ورسولہ فاصنع بذالک۔
’’ہم تو مسلمان ہو گئے ہیں اللہ اور اس کے رسولؐ پر ایمان لا چکے ہیں، آپ سے جو کچھ ہو سکے کر دیکھیئے۔‘‘
اب عمرؓ پسیجے، دل کی دنیا بدل چکی ت